اعتراف گناه

اعتراف گناه

دھرم پال پانڈے

مقدس باپ اپنی زندگی میں پہلی بار میں آپ کے حضور ایک گناہ کے اعتراف کی خاطر حاضر ہوئی ہوں۔ میں اس لئے نہیں آئی ہوں کہ عام عیسائیوں کی طرح گناہ کا اقبال م کر کے خدائے پاک سے آپ کی معرفت معانی کی التجا کروں۔ میں تو آپ سے صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا میں نے جو کیا وہ ٹھیک تھا ؟ میں آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ میں نے جو کچھ کیا، خدائے پاک کو حاضر ناظر جان کر کیا یہ سوچ کر کیا کہ ان حالات میں وہی میرا فرض تھا لیکن کیا وہ واقعی صحیح راستہ تھا میں نے جو کیا وہ گناہ تھا جرم تھا یا ایک مقدس فرض ؟

قادر۔ میرا نام شیلا جونس ہے۔ میں برسنگ سٹر ہوں میرے خاوند ایک نرسنگ

ہوم میں کمپاؤنڈر ہیں وہ بڑے نیک اور خدا ترس انسان ہیں اور مجھ سے بے حد محبت کرتے ہیں میرا ایک آٹھ سالہ بیٹا اور ایک چھ سالہ بیٹی ہے میں ان ہی کا منہ دیکھ کر جیتی ہوں۔“ جس واقعہ کا میں ذکر کرنے والی ہوں اس کے رونما ہونے سے پہلے میں اپنی

زندگی سے پوری طرح مطمئن اور ہر لحاظ سے ایک سکھی عورت تھی لیکن اس واقعہ کے بعد سے میرا صبر و قرار کھو گیا ہے مجھے نیند نہیں آتی اور میں اپنے گناہ کی آگ میں جل رہی ہوں خدا را میری کہانی سنئے مجھے راہ دکھائیے اور اس آگ سے بچائیے ۔”

میں تقسیم ہوں ، نہیں یوں کہنا چاہیے کہ یتیم تھی مجھے نہیں معلوم کہ میرے ماں باپ

کون تھے فسادات کے دوران لاہور میں سیکر ڈہارٹ کانونٹ کی راہباؤں نے مجھے سڑک سےاٹھایا تھا میں کانونٹ میں ہی پہلی بڑھی اور جوان ہوئی۔

وہیں مجھے شیلا بروکس کا نام دیا گیا۔ لاہور کے میو ہسپتالوں میں ہی مجھے نرس کی زینگ ملی شادی کے بعد میرا نام شیلا جونس ہو گیا میں اپنے خاوند کے ساتھ پاکستان سے : بھارت چلی آئی اور اب یہاں کے ملٹری ہسپتال میں نرسنگ سٹر ہوں ۔

مجھے خوابوں میں اکثر نسوانی چہرہ دکھائی دیتا ہے شاید وہ میری مرحوم ماں کا چہرہ ہے وہ مجھے بار بار اپنے سینے سے لگانے کی کوشش کرتی ہے لیکن جیسے ہی وہ میرے قریب آتی ہے میرا خواب ٹوٹ جاتا ہے اور میں پسینے میں شرابور جاگ جاتی ہوں تو وہ ہنس پڑتے ہیں کہتے ہیں میری جان تم نے ضرور سونے سے پہلے آئینہ دیکھا ہوگا ان کا خیال ہے کہ مجھے خواب میں بھی اپنے ہی حسن کا پر تو دکھائی دیتا ہے۔

لگ بھگ ایک مہینے پہلے مجھے ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ نے بلایا اور کہا کہ برابر کی

عمارت میں چلی جاؤ جہاں فوج کے جاسوسی کے محکمہ کا دفتر ہے مجھے ہدایت کی گئی کہ میں اس فوج کے ہے کیانی : بات کو راز میں ہی رکھوں گا اور کسی کو یہاں تک کہ میرے خاوند کو بھی اس کا علم نہ ہو۔

میں وہاں گئی تو ایک میجر ڈیوٹی پر تھا اس نے بھی یہی تنبیہ دہرائی مجھے ایک ایسے مریض کی دیکھ بھال کرنے کیلئے بلایا گیا تھا جو آخری دم پر تھا اور جس پر غیر ملکی جاسوس ہونے کا شبہ تھا۔

میجر مجھے ایک اور کمرے میں لے گیا جہاں ایک آہنی اسپرنگ دار پلنگ پر ایک ضعیف بوڑھا لینا تھا اس کے چہرے پر مردنی چھائی تھی سر کے بال استرے سے صاف کر دیئے گئے تھے مختلف اعضا میں تار بندھے ہوئے تھے جو قریب رکھی ہوئی دو مشینوں سے جڑے ہوئے تھے ان میں سے ایک ای ای جی کا آلہ تھا جو اس کے دماغی فعل کو ریکارڈ کر رہا تھا دوسری مشین اس کا بلڈ پریشر نبض کی رفتار اور سانسیں گن رہی تھی اس کے چھوٹے سے اسکرین

پر ہرے رنگ کا چھوٹا سا نقطہ لکیریں ہی بنارہا تھا ان سے اس کے دل کی حرکت کا پتہ چل رہا تھا پیشاب کیلئے پیٹ کے نچلے حصہ میں ایک ٹیوب لگا دی گئی تھی۔

کمرے میں سفید کوٹ پہنے ہوئے ایک ڈاکٹر بھی موجود تھا اس نے مجھے بتانا سفیر کوٹ شروع کیا کہ مریض کی حالت کیسی ہے اور اسے کون کون سی دوائیں اور انجکشن دینے ہیں فادر میں ٹیکنیکی لحاظ استعمال کے آپ کا وقت نہیں برباد کرنا چاہتی قصہ مختصر یہ ہے کہ مریض کےگردے جواب دے گئے تھے مگر نے کام بند کردیا تھا چہرے کی زردی اس بات کا اودھے تھی کہ وہ چراغ سحری ہے میں آسانی سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ اس کی ابتر حالت کیلئے کون واصدار ہے نہاتے وقت پاؤں پھسل جانے سے گردے پہٹ نہیں جایا کرتے۔

ڈاکٹر نے سرد لہجے میں مجھ سے کہا دیکھوسٹر مریض کو نیند لانے والی دوائیں بھاری مقدار میں دی گئی ہیں درد اتنا سخت ہے کہ ان دواؤں کے بغیر کوئی چارہ نہیں پارٹ میں لکھا ہے کہ کون سا اللہ ین درد کی شکایت کرے تو مارفیا کا انجکشن دے دینا کے کہنے لگے تو تم سر آجائیں گے ۔ اگر کوئی نہ آئے تو اس ٹیپ ریکارڈر کا بٹن دبا دینا اور مائیکروفون اس کے منہ کے پاس لے جاتا ۔ اس بات کا خاص خیال رہے کہ اس کے متعلق کسی سے کوئی بات نہ کرنا اس کمرے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں کوئی اطلاع باہر نہ جائے ورنہ تم ذمہ دار ہو گی اور دیکھو او لکھنا نہیں۔۔۔”

مجھے غصہ آگیا اور میں نے اسے حج میں ہی نوک دیا ” ڈاکٹر نرس کی حیثیت سے میرا کیا فرض ہے اس سے میں اچھی طرح واقف ہوں میں نے آج تک کسی ایسی ہدایت کی خلاف ورزی نہیں کی جو مریض کے فائدے کیلئے ہو۔

اچھا وہ ٹھر سے بولا دیکھو لڑ کی زیادہ باتیں نہ بناؤ اپنے کام سے کام رکھو۔” یہ کہہ کر ڈاکٹر تو چلتا بنا اور میں اپنے مریض کے ساتھ اکیلی رہ گئی ۔۔ میں نے اس

کا چارٹ دیکھا تو دنگ رہ گئی اس کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہ تھا جسے ضرب نہ پہنچی ہو ایک گردہ کچل دیا گیا تھا اور دوسرا ویسے ہی ناکارہ ہو گیا تھا اس کے دماغ کو بھی باہر ) ، ضرب سے گہرا دھکا لگا تھا چہرے رے پر ڈاڑھی کے خش خشی بال کمرے کی روشنی میں ہلکے پیلے دکھائی دے رہے تھے لیکن چیرہ بڑے مضبوط آدمی کا چہرہ تھا اس کی ٹھوڑی اس کے استقلال کو ظاہر کر رہی تھی جسم کسی زمانے میں کرتی جسم رہا ہوگا مگر اب زوال کی آخری منزل میں تھا۔

مجھے گلوکوز کی سوئی اور اس کی ناک میں لگی ہوئی آکسیجن کی تلی کو بار بار سنبھالنا پڑ رہا رب کی تھا ہر آدھے گھنٹے کے بعد میں اس کے بلڈ پریشر سانسوان وغیرہ کی گنتی کا اندراج اس کے چارٹ میں کر رہی تھی لگ بھگ دو گھنٹے بعد مریض نے آنکھیں کھولیں اور انتہائی کرب کی حالت میں کر رہی تھی لگ بھگ دو گھنٹے بعد مریض نے آنکھیں کھولیں اور انتہائی کرب کی حالت میں کر رہا پھر اچانک اس نے آنکھیں کھولیں ۔
گردے جواب دے گئے تھے جگر نے کام بند کر دیا تھا چہرے کی زردی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ چراغ سحری ہے میں آسانی سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ اس کی ابتر حالت کیلئے کون ذمہ دار ہے نہاتے وقت پاؤں پھسل جانے سے گردے پھٹ نہیں جایا کرتے ۔

ڈاکٹر نے سرد لہجے میں مجھ سے کہا دیکھوسٹر مریض کو نیند لانے والی دوائیں بھاری مقدار میں دی گئی ہیں درد اتنا سخت ہے کہ ان دواؤں کے بغیر کوئی چارہ نہیں چارٹ میں لکھا ہے کہ کون سا انجکشن کب دینا ہے اگر مریض درد کی شکایت کرے تو مارفیا کا انجکشن دے دینا کچھ کہنے لگے تو گھنٹی بجادینا میں اور اس کیس کا انچارج افسر آجائیں گئے ۔ اگر کوئی نہ آئے تو اس ٹیپ ریکارڈر کا بٹن دبا دینا اور مائیکروفون اس کے منہ کے پاس لے جانا ۔ اس بات کا خاص خیال رہے کہ اس کے متعلق کسی سے کوئی بات نہ کرنا اس کمرے میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں کوئی اطلاع باہر نہ جائے ورنہ تم ذمہ دار ہوگی اور دیکھو اونگھنا نہیں۔۔۔

مجھے غصہ آگیا اور میں نے اسے بیچ میں ہی ٹوک دیا ڈاکٹر، نرس کی حیثیت سے میرا کیا فرض ہے اس سے میں اچھی طرح واقف ہوں میں نے آج تک کسی ایسی ہدایت کی خلاف ورزی نہیں کی جو مریض کے فائدے کیلئے ہو۔

اچھا وہ طنز سے بولا ”دیکھولڑ کی زیادہ باتیں نہ بناؤ اپنے کام سے کام رکھو۔“

یہ کہہ کر ڈاکٹر تو چلتا بنا اور میں اپنے مریض کے ساتھ اکیلی رہ گئی ۔۔ میں نے اس کا چارٹ دیکھا تو دنگ رہ گئی اس کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہ تھا جسے ضرب نہ پہنچی ہو ایک گردہ کچل دیا گیا تھا اور دوسرا ویسے ہی نا کارہ ہو گیا تھا اس کے دماغ کو بھی باہر کی ضرب سے گہرا دھکا لگا تھا چہرے پر ڈاڑھی کے خش خشی بال کمرے کی روشنی میں ہلکے نیلے دکھائی دے رہے تھے لیکن چہرہ بڑے مضبوط آدمی کا چہرہ تھا اس کی ٹھوڑی اس کے استقلال کو ظاہر کر رہی تھی جسم کسی زمانے میں کسرتی جسم رہا ہو گا مگر اب زوال کی آخری منزل میں تھا۔

مجھے گلوکوز کی سوئی اور اس کی ناک میں لگی ہوئی آکسیجن کی پہلی کو بار بار سنبھالنا پڑ رہا تھا ہر آدھے گھنٹے کے بعد میں اس کے بلڈ پریشر سانسوان وغیرہ کی گنتی کا اندراج اس کے چارٹ میں کر رہی تھی لگ بھگ دو گھنٹے بعد مریض نے آنکھیں کھولیں اور انتہائی کرب کی حالت میں کر رہی تھی لگ بھگ دو گھنٹے بعد مریض نے آنکھیں کھولیں اور انتہائی کرب کی حالت میں کراہا پھر اچانک اس نے آنکھیں کھولیں
کیسے کیسے ہیں؟ میں نے پوچھا۔

وہ نہایت نحیف آواز میں بولا ” آملا – آملا – کہاں ہو؟”

میں سنٹر جونس ہوں“ میں نے واضح الفاظ میں کہا۔

اس کی آواز کسی قدر سنبھل گئی لیکن تم بالکل آملا جیسی لگتی ہو ۔

کیا کہیں درد ہے ؟ میں نے پوچھا۔

نہیں ۔۔۔ وہ کچھ بھو کا اتنا ہی کہ برداشت سے باہر ہو جائے۔

اچھا میں بولی تو کیا کچھ پئیں گے؟”

یا کھانے کیلئے کچھ منگواؤں ؟“

کھانا ؟ پینا ؟ ۔ ایک طنز آمیز مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی ۔ ”میرے کھانے پینے کے دن تو لد گئے آملا ۔ وہ کراہا ۔ اب تو بس چل چلاؤ کا وقت ہے دیکھنا ہے کہ روح اس خاکی پنجرے سے کب آزاد ہوتی ہے۔

وہ مجھے بار بار آملا کہہ کر پکار رہا تھا انتہائی کرب کی حالت میں بھی اس کے ہوش دحواس درست معلوم ہوتے تھے ایسا ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ وہ بہک رہا ہے ۔ ” فادر آپ چاہے یہ ” کہیں کہ عام عورتوں کی طرح میں بھی اپنے فرض کو بھول گئی اور اس کی باتوں میں کھوگئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں جاننا چاہتی تھی کہ وہ کیسے اس حالت کو پہنچا میں نے سوچا کہ ٹیپ ریکارڈر کا بٹن بعد میں دباؤں گی پہلے اس کی کہانی سن نوں شاید میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اس کا ردعمل بھی یہی ہوتا میں نے اسکے دل میں جھانکنے کا فیصلہ کر لیا۔

آپ مجھے بار بار آملا کیوں کہہ رہے ہیں ۔“

میں بتا تو چکی ہوں کہ میرا نام شیلا جونس ہے اور میں یہاں نرس ہوں ۔“

ہوگی ۔“ وہ بولا مگر میں کیا کروں تمہاری شکل میری مرحوم بیوی سے اتنی ملتی ہے کہ

بار بار دھوکا ہو جاتا ہے اور میں آج سے تیس برس پہلے کے دنوں میں پہنچ جاتا ہوں اسے مرے ہوئے کئی برس ہو گئے ہیں لیکن اس کی تصویر آج بھی میرے دل میں پہلے کی طرح موجود ہے تمہیں دیکھ کر مجھے بار بار یہی محسوس ہو رہا ہے کہ موت کی وادی سے واپس آکر نرس کی وردی میں میرے سامنے آگئی ہے ۔“

آپ کا خیال غلط ہے۔ میں نے ذرا درشتی سے کہا۔ آپ جاسوسی کے محکمے

کے ایک کمرے میں ہیں کم سے کم مجھے یہی بتایا گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی اس بات
سے واقف ہیں ۔“

جانتا ہوں مسٹر اچھی طرح جانتا ہوں ۔ اس نے ٹھنڈی سانس بھری ۔ مجھے اس روزخ میں آئے چار ہفتے سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ میں نے رو رو کر چلا چلا کر چیخ چیخ کر خدا کو پکارا ہے ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعا کی ہے کہ مجھے اس جہنم سے نجات دلا دے لیکن اس نے نہیں سنا میں نے اس شیطان سیرت ڈاکٹر کے سامنے گڑ گڑا کر گھٹنے ٹیک کر درخواست کی ہے کہ مجھ سے یہ چند سانسیں چھین لے لیکن وہ بھی مجھے نہیں بخشا جب بھی درد کی شدت سے بے ہوشی طاری ہوئی ہے اس نے مجھے پھر سے زندہ کر دیا ہے وہ مجھے مرنے نہیں دیتا اور رہا جینے کا سوال ۔۔ یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ انسان میرے دشمن ہیں اور خدا دور دور آسمان پر ہے۔ ہائے ۔ وہ پھر

کر رہا۔

میں نے اس کے دل کی حرکت ریکارڈ کرنے والے آلے کی طرف دیکھا ہرے رنگ کا ننھا سا نقطہ رقص کر رہا تھا اور کبھی غائب بھی ہو جاتا تھا۔ نبض دیکھی تو ہتھوڑے کی مانند چل رہی تھی ۔

سانس تیز تھی مجھے تشویش ہو رہی تھی لیکن میں نے ڈاکٹر کو بلانے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ مریض ہانپتے ہوئے بولا ۔ ” خدا کیلئے اسے نہ بلاؤسٹر اس کے ساتھ ہی وہ شیطان چلے آئیں گے جو مجھے اتنے دن سے اذیتیں دے رہے ہیں مجھے آرام سے مرنے دوسٹر میں تمہیں کچھ کہ تو نہیں رہا ہوں۔“

اس کے لجاجت آمیز لہجے نے میرے دل کو محسوس کر رکھ دیا وہ مجھ سے رحم کی بھیک مانگ رہا تھا میرا ہاتھ رک گیا اور میں تذبذب کے عالم میں کرسی پر بیٹھ گئی۔

وہ شکر یہ سر مریض نہایت مدھم آواز میں بولا۔ چند لمی لمبی سانسیں لینے کے بعد وہ پھر گویا ہوا۔ مسٹر جانتی ہو کہ موت کے قریب پہنچ کر ہر شخص کو اپنا ماضی اس طرح دکھائی

دیتا ہے جیسے کوئی پردے پر فلم دیکھ رہا ہو مجھے بھی اپنی ساری زندگی یاد آرہی ہے ۔ میں بھی کبھی جوان تھا کیا سنہرا زمانہ تھا ۔ یہ ۱۹۴۷ ء کی بات ہے جب اس برصغیر

کے دو ٹکڑے ہوئے ہیں میں لاہور ( پاکستان ( میں تھا دو برس پہلے میری ترقی ہوئی تھی اور میرا تبادلہ لاہور ہو گیا تھا میں اپنے ہیڈ کوارٹر سے دو میں دور کرشن نگار کے ایک مکان میں رہتا تھا کام

زیادہ نہ تھا اور میں اپنی بیوی اور دو سالہ بچی سیتا کے ساتھ امن چین کی زندگی بسر کر رہا تھا ۔ ان ہی دنوں سارے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑک اٹھی ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے صدیوں تک بھائیوں کی طرح مل جل کر ۔ رہنے کے بعد وہ ایک دوسرے کو موت کے گھاٹ اتارنے میں ذرا بھی جھجک نہیں دکھاتے تھے ملک کی تقسیم کا فیصلہ ہوا تو سارے دفاتر سارے ملازمین بٹ گئے کچھ ہندوستان کے حصے میں آئے کچھ پاکستان کے ۔ مجھے ہندوستان کے عملے میں لے لیا گیا اور میں وہاں پہنچنے کیلئے تیار ہو کر بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ تم بور تو نہیں ہو رہی ہوسٹر ؟“

نہیں میں نے جواب دیا۔ ساری ہدایتوں کو بھول کر میں اس کی زندگی کا افسانہ سنے کیلئے ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ گئی ۔

میرا نام مکھل چکروتی ہے اور میں بنگال کا رہنے والا ہوں۔ میں فوج میں افسر تھا۔ میری تعیناتی جاسوسی کے محکمے میں ہوئی تھی اپنے کام کے سلسلہ میں مجھے کئی برس تک لاہور میں قیام کرنا پڑا ۔

دیکھئے میں نے کہا آپ زیادہ نہ بولئے تھک جائیں گے ۔“

فکر نہ کروسٹر ۔ وہ بولا میں بڑے مزے میں ہوں ہاں تو میں ۱۹۴۷ء کی بات کر رہا تھا میری ہندوستانی عملے میں شمولیت کا فیصلہ ہوتے ہی میرے افسر نے جواب دیا پاکستان کے عملے میں تھا میرے ہتھیار مجھ سے واپس لے لئے ایک رات کو اندھیرے میں ایک شخص نے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس سے پہلے کہ میں کچھ کہہ سکتا وہ ایک لفافہ میرے ہاتھ میں تھما کر غائب ہو گیا اس لفافہ میں میرے ہندوستانی افسر اعلیٰ کا حکم نامہ تھا کہ میں پاکستان میں ہی رہوں مناسب وقت آنے پر کوئی مجھ سے رابطہ قائم کرے گا۔ میں نے لیمپ کی روشنی میں یہ کم پڑھا تو حیرت اور پریشانی میں پڑ گیا لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات میں مجبوری کے عالم میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔

آملہ اور میں کافی رات گئے تک بات چیت کرتے رہے میرا ایک دوست جیپ لے کر ہندوستان جا رہا تھا میں آملہ اور سنیتا کو اس کے ساتھ بھیجنے کا فیصلہ کر چکا تھا وہ واہگہ کے ہارے جا کر آمادہ کو چھوڑ دیتا اور وہ وہاں سے بنگال پہنچ کر اپنے مائیکے چلی جاتی ہیں فیصلہ کر کے ہم سو گئے۔
سارے شہر میں مار دھاڑ ہو رہی تھی لہذا ہم نے یہ طے کیا تھا کہ منہ اندھیرے ہی اٹھ کر چل دیں گے ہم اپنے گھر سے نکلے ہی تھے کہ ایک مشتعل بھیڑ نے ہمیں گھیر لیا ان کے ہاتھوں میں مشعلیں اور چھری چاقو تھے ان میں سے دو ہماری طرف بڑھے اس سے پہلے کہ میں آملہ کو بچاتا ایک چھکتی ہوئی لمبی چھری دستے تک اس کے مہینے میں پیوست ہو چکی تھی آملہ وہیں ڈھیر ہوگئی اس کے منہ سے صرف اتنا نکلا اصل سنیتا کو بچاؤ اور پھر اس نے دم توڑ دیا۔

میں نے ایک ہی ہاتھ سے ان قاتلوں کا مقابلہ شروع کیا کیوں کہ میرا دوسرا بازو سنیتا کو سنبھالے ہوئے تھا وہ بے چاری بہت دہشت زدہ تھی اور برابر چھینے جارہی تھی لیکن کہاں ایک ، کہاں اتنی بھیڑ کچھ ہی دیر میں میری بچی مجھ سے چھن گئی اور میں زخموں کی تاب نہ لاکر

بے ہوش ہو گیا ۔

جب مجھے ہوش آیا تو میں نے اپنے آپ کو ایک ہسپتال میں پایا ایک عیسائی راہبہ میری مرہم پٹی کر رہی تھی میں نے پوچھا کہ میں کہاں ہوں تو اس نے صرف اتنا کہا ” خدا کے گھر میں اب چپکے سے پڑے رہو اور پھر میرے زخم سینے میں مصروف ہوگئی۔

میں دو ہفتے تک بستر پر رہا میری بیوی میرے سامنے قتل ہو گئی تھی بچی کا پتہ نہ تھا گھر بارلٹ چکا تھا زندگی بے معنی ہوگئی تھی کئی بار میں نے خودکشی کا ارادہ کیا لیکن یہ بے حیا جان جسم ا

سے چپکی ہی رہی۔

مجھے ایک ہی کام آتا تھا جاسوسی کا۔ میں اس میں لگا رہا لیکن ایک سال میں ہی پاکستانی حکام کے ساتھ لگ گیا اور پھر میرا وہی حشر ہوا جو غیر ملکی جاسوسوں کا عموماً ہوا کرتا ہے پہلے خوب پٹائی ہوئی اور پھر مجھے جیل میں ڈال دیا گیا اپنی زندگی کے اگلے میں برس تک میں جیل میں ہی سڑتا رہا۔ میری فائل پر لکھ دیا گیا تھا کہ میں بھارتی جاسوس ہوں اور مجھ پرسختی سے نگاہ رکھی جائے ۔ جیلر بھول گئے کہ مجھے رہا بھی ہونا ہے۔ مجھے قید تنہائی میں ڈال دیا گیا اور میں وہیں کا ہو کر رہ گیا۔

پھر ایک دن وارڈن سے غلطی ہوگئی اور میں فرار ہو گیا ۔ مریض اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ نقاہت اور تھکن نے اسے خاموشی پر مجبور کیا ہے۔

چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے پھر زبان کھولی ۔

جانتی ہوسٹر کہ میں سال کے بعد قید سے آزادی کیسی لگتی ہے؟ باہر نکلا تو دنیا بدل

گئی تھی میں کسی طرح یہاں پہنچ گیا اور اپنے ہیڈ کوارٹر میں جاکر رپورٹ دی لیکن یہاں ایک نئی میت میر کی منتظر تھی میرا پرانا افسر ایک حادثے میں مارا جا چکا تھا اور نئے افسر کی خفیہ فہرست میں میرا نام نہیں تھا چنانچہ مجھ پر پاکستانی جاسوس ہونے کا شبہ کیا گیا اور میری خوب مرمت کی گئی یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

یہ شیطان ساری انسانی قدروں کے مخالف ہیں ان کی لغت میں رحم جیسا کوئی لفظ نہیں جب میں موت کے قریب پہنچ جاتا ہوں تو یہ جھے واپس بھی لاتے ہیں کبھی بھی درد کم ہوتا ہے تو میں جان بوجھ کر اور بھی زور زور سے کر اپنے لگتا ہوں تاکہ وہ مجھے مارفیا دے کر سلا دیں اگر دیر تک سوتا رہوں تو بھی یہ دوائیں دے کر جگا دیتے ہیں میں اکثر نیند کا بہانہ کر کے پڑا نا ہوں آج تم آئیں تو ڈاکٹر کے ساتھ تمہاری ساری گفتگو سن لی تھی۔
سسٹر میں نے تمہیں جو کچھ بتایا حرف بہ حرف صحیح ہے۔ یہ شیطان نہ مجھے جینے دیتے ہیں اور نہ مرنے دیتے ہیں کیا تم میری مدد کر سکتی ہو؟ دیکھو انکار نہ کرنا میں جانتا ہوں کہ خودکشی ب
گناہ ہے لیکن میری زندگی کوئی زندگی ہے؟ تم اگر میری بیٹی ہوتی تو کیا مجھے اس عذاب سے نجات پانے میں مدد دینے سے انکار کر دیتی؟ خودکشی گناہ ہے تو کیا میری جیسی زندگی کو برقرار رکھنا اس سے بڑا گناہ نہیں ہے؟ کیا تم بھی اس گناہ میں شامل ہو جاؤ گی؟ کیا تمہارا ضمیر اس گناہ کو برداشت کر سکے گا ؟ بولو سسٹر خاموش کیوں ہو ۔؟“

نقاہت کے مارے اس کی آواز بند ہوگئی اور دو موٹے موٹے آنسو اس کی آنکھوں
میں جھلکنے لگے۔۔۔

فادر“ جب وہ اپنی کہانی سنا رہا تھا تو میں سکتے کے عالم میں بیٹھی تھی جب اُس نے اس ہسپتال اور راہبہ کا ذکر کیا جہاں اس کی مرہم پٹی ہوئی تھی تو میں چونک اٹھی تھی کیوں کہ وہ اہتمال اس کانونٹ کا حصہ تھا جہاں میں نے پرورش پائی تھی اس کی بیوی کی موت فسادات کا ذکر اور میری شکل کی اس کی بیوی سے مشابہت ۔۔ یہ سب باتیں مجھے اس نتیجے پر پہنچنے کیلئے مجبور کر رہی تھیں کہ وہی میرا باپ ہے جسے میں نے بچپن میں کھو دیا تھا مجھے وہاں کی راہباؤں نے بتایا تھا کہ ان ہی دنوں مجھے ایک سڑک پر پایا گیا تھا اور ایک راہب مجھے اس کا نونٹ میں چھوڑ گئے تھے مجھے یقین ہو گیا کہ میں اپنے باپ سے ہی مخاطب ہوں ۔

میں نے اس مشین کی طرف دیکھا جس پر اس کے دل کی حرکت ریکارڈ ہورہی تھی
ننھا سا نقطہ اچھل رہا تھا اور لمحہ بہ لمحہ مدھم ہوتا جارہا تھا ایک بارمیں نے سوچا کہ اس کو بتاؤں کہ شاید میں ہی اس کی گم شدہ بیٹی ہوں لیکن میرے پاس ثبوت کیا تھا اور ہوتا بھی تو لازمی موت سے ہم آغوش ہوتے ہوئے انسان کے دل میں جینے کی خواہش پیدا کرنا مناسب نہ ہوتا وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوسکتا تھا کہ اب اسے اپنی بیٹی کیلئے زندہ رہنا ہے چنانچہ میں سکتے کے عالم میں بیٹھی رہی۔

نرسنگ کی ٹریننگ کے دوران میں نے ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ دنیا بھر کے ڈاکٹر اس مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں کہ لاعلاج مریضوں کو زندہ رکھنے کی بجائے کوئی انجکشن دے کر انہیں جسمانی تکلیف سے نجات دینا اچھا ہوگا یا نہیں۔ یہ بحث میرے ذہن میں پھر تازہ ہوگئی دوسری طرف یہ بھی سوال تھا کہ اگر میں واقعی اس کی بیٹی ہوں تو کیا اس کی مدد کرنا میرا مقدس فرض نہیں کیا ؟ اسے ان اذیتوں سے بچانا کار ثواب نہیں؟

مریض ٹکٹکی باندھے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اسے یہ احساس ہو گیا ہے کہ میں اس کی مدد کرنے کیلئے تیار ہوں۔ اتنے میں پھر اس کے جسم میں شدید درد کی لہر دوڑی اور وہ کراہا۔ آملہ کہاں ہو تم؟ بولتیں کیوں نہیں؟“ پھر آدھ کھلی آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے وہ گڑ گڑانے لگا۔ آملہ خدا کیلئے میری مدد کرو مجھے نجات دلاؤ۔“

اور فادر میں اس سے زیادہ سہہ نہیں سکی میں نے فیصلہ کر لیا سوچا کہ چاہے وہ سچ مچ ایک چالاک جاسوس ہی کیوں نہ ہو چاہے وہ واقعی میرا باپ نہ ہو مگر انسان ہونے کے ناطے بھی وہ میری مدد کا حقدار تھا۔ درد اس زندگی کا حصہ بن گیا تھا اس حالت میں اول تو وہ زیادہ دن تک زندہ نہیں رہ سکتا تھا اور اگر رہتا بھی تو دوزخ کی زندگی ہوتی ۔ پتہ نہیں اسے اور کتنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ .

اور فادر میں میں نے آکسیجن کی نلی اس کی ناک سے الگ کر دی اس کے پھیپھڑے اوپر کو اٹھے اور آنکھوں کی پتلیاں پھر گئیں۔ مرتی ہوئی آنکھوں میں میں نے دیکھا کہ شاید میرا شکر یہ ادا کر رہا ہے۔ کوشش بھی کی لیکن آواز نہیں نکی بس چہرے پر ایک پر اسراری مسکراہٹ ضرور پھیل گئی۔

مشین کے اسکرین پر لپکتا ہوا ہرے رنگ کا نقطہ غائب ہو گیا۔ اس کے دل کی حرکت بند ہو گئی اور میں دھاڑ مار مار کر اس کی چھاتی پر گر پڑی جیسے بچپن میں لگی رہتی

تھی اور جس کے لمس سے میں بعد میں محروم رہی۔

گرتے وقت میرا ہاتھ اس بٹن سے چھو گیا جو گھنٹی بجاتا تھا۔ ڈاکٹر اور فوجی افسر روڑتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔ وہ حیران تھے کہ ایک نرس مریض کی چھاتی پر نڈھال ہو کر کیوں پڑی ہے اور کیوں زار و قطار رو رہی ہے۔ مجھے کمرے سے باہر لے جایا گیا۔ ان لوں کو میری کارگزاری کا پتہ نہیں چلالیکن میں تو جانتی ہوں اور خدا بھی جانتا ہے اور اب قادر آپ بھی جان گئے ہیں۔

بتائیے فادر کیا میں گناہ گار ہوں؟ کیا میں قتل کی مجرم ہوں؟ کیا میں نے جان بوجھ کر اپنے باپ کا خون کر کے سنگین گناہ کیا ہے؟ بتائیے فادر بتائیے ۔۔۔“

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *