مصنف : ظہیر احمد عمرو عیار سردار امیر حمزہ کے لشکر جنگل کی طرف جا رہا تھا۔ پچھلے دنوں سردار امیر حمزہ نے اسے ایک جادوگر کی ہلاکت کی خوشی میں بے شمار سرخ مہر والی اشرفیاں دی تھیں۔ سردار امیر حمزہ نے عمرو عیار کو دس بڑی بڑی تھیلیاں دی تھیں جن میں ہزاروں
رائٹر: فریاد فاروق ہاں میں ایک ڈائن ہوں اس دنیا کی سب سے طاقتور ڈائن سائرہ کی آواز گونجی کیوں آئی ہو ہماری زندگی میں کیوں تباہ کرنا چاہتی ہو ہماری زندگی اب کی بار رفعت بولی تھی نہیں میں کسی کی زندگی برباد نہیں کرنے آئی میں ڈائن ضرور ہوں مگر بری نہیں سائرہ
مصنف : ظہیر احمد عمرو عیار سو کر اٹھا ہی تھا کہ شاہی خادم اس کے کمرے میں داخل ہوا اور اس نے جھک کر عمرو کو سلام کیا۔“خواجہ عمرو عیار! نہا دھو کر نیا لباس پہن لیں اور ناشتہ کر لیں۔ کچھ ہی دیر میں بادشاہ سلامت آپ سے ملنے کے لیے یہاں آنے
ازار شاد حسین عمرو عیار اور دیونگر مشہور کہانی : شام کا وقت تھا عمر و عیار سردار امیر حمزہ سے ملنے کے بعد ٹہلنے کی غرض سے لشکر سے ذرا دور آ گیا تھا۔ یہ ایک ویران جگہ تھی دور دور تک کوئی انسان نہیں تھا عمر و اپنی مستی میں گم آگے بڑھ
کسی گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا ۔ غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر ایک روز اس نے شہر جانے کا فیصلہ کر لیا ۔اس کی بیوی نے اسے سات روٹیاں پکا کر دیں جنھیں اس نے ایک دستر خوان میں باندھا اور شہر چل پڑا ۔کئی گھنٹے مسلسل چلتے رہنے کی وجہ سے
کہتے ہیں کسی زمانے میں ایک بادشاہ کا بیٹا وزیر کے بیٹے کے ساتھ پڑھتا تھا ۔ ایک روز پڑھائی میں مصروف تھے کہ اچانک شہزادہ وزیر زادے سے کہنے لگا: ’’اگر ہم پڑھتے پڑھتے یہیں سو گئے تو ہم میں سے جو پہلے اٹھے وہ دوسرے کو بھی جگا دے۔‘‘ پڑھتے پڑھتے آخر کار
پارٹ 2 پیسوں کی گٹھڑی اس نے اپنی سیٹ کے نیچے رکھ لی تھی۔ اس نے اپنے رشتے دار کو فون کر دیا تھا کہ وہ کل دن کے وقت رقم لے کر آئیگا، وہ سیدھا اس کے آفس میں پہنچا۔ ان لوگوں نے محض دکھاونے کے لئے امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار شروع کر رکھا
یوں تو بادشاہ سلامت بہت اچھے اور نیک تھے مگر ان کا وزیر ان کی ایک بات سے بہت پریشان تھا اور دل ہی دل میں کڑھتا رہتا تھا۔ بادشاہ سلامت اپنی رعایا سے بہت محبّت کرتے تھے اور انہوں نے ان کی خدمات کے لیے اپنے خزانوں کا منہ کھول رکھے تھے۔ ملک میں
کافی عرصے پہلے ایک ملک پر بہت خوبصورت بادشاہ کی حکومت تھی ۔اس بادشاہ کا نام ”مائیڈس“تھا۔اس بادشاہ کے پاس بے حساب سونا تھا جس سے وہ شہروں کے شہر خرید سکتا تھا۔وہ اپنے سونے کو جان سے بھی زیادہ چاہتا تھا۔ کسی کو بھی نہیں پتا تھا کہ اس کے پاس اتنا سونا کہاں
part 2 حسن سے عشق کی فطرت کو ملتی ہے تحریک اس سے سرسبز ہوئے میری امیدوں کے نہال سرمگین آنکھیں، صراحی دار گردن، گلابی ہونٹ، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے گلابی نرم گال اور پھر گالوں پر ہونٹوں کے قریب بنتے خوبصورت ڈیمپل اور گردن پر پیدا ہوتی نمی کی چمک اور گردن کو سینے
ابنِ آدم رات کی تاریکی میں وہ مسلسل بل کھاتی ہوئی پہاڑ سے نیچے گہرئی کھائی کی طرف گرتی جا رہی تھی پہاڑ پر بنی مضبوط چٹانوں کی وجہ سے اس کا سر کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا ہزار کوشش کے باوجود وہ خود کو اس کھائی میں جانے سے روکنے میں ناکام ہو
کسی ملک کا ایک بہت نیک دل بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ وہ عوام سے محبت کرتا تھا اور پورے ملک کے عوام اس سے محبت کیا کرتے تھے۔ اس کے گھر دو شہزادے تو ضرور تھے لیکن اسے ایک بیٹی کی بہت تمنا تھی لیکن کافی عمر گزر جانے کے باوجود بھی اس کی یہ
ایس ایچ انصاری کیا محبت مرنے کے بعد بھی زندہ رہ سکتی ہے؟ کیا کسی روح سے محبت زندہ انسان کو تباہ کر سکتی ہے؟وہ رات عام راتوں جیسی نہیں تھی۔ ہوا میں بوجھل پن تھا، جیسے کسی پرانے راز نے سانس روک رکھی ہو۔ چاند آدھا چھپا ہوا تھا، بالکل انامیکا کے دل کی
عمران سیریز ابوبکر یہ جنوری کے آخری دنوں میں سے ایک سرد دن تھا سردی فل شباب پر تھی سردی ہونے کے باعث سڑکیں سر شام ہی سنسان ہو جاتی تھیں رات کی تقریباً دو ڈھای بج رہے تھے سارے اپنے لحافوں میں دبکے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے سڑکوں پر کبھی کوئ
از مختار احمد راجْو ایک لکڑ ہارا تھا۔ اس کی عمر اٹھارہ انیس سال کی تھی۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ روز جنگل سے لکڑیاں کاٹتا اور انھیں فروخت کر کے ان سے ملنے والی رقم اپنی ماں کو لا کر دے دیتا جس سے وہ گھر کا خرچ
*روشی* اسے بہت دیر سے دیکھ رہی تھی! وہ سر شام ہی ہوٹل میں داخل ہوا تھا اور اب سات بج رہے تھے۔ سمندر سے آنے والی ہوائیں کچھ بوجھل سی ہو گئی تھیں۔ جب وہ ہوٹل میں داخل ہوا تو روشی کی میز کے علاوہ اور ساری میزیں خالی پڑی تھیں۔ لیکن اب ہوٹل
رائیٹر.. عبدالرب بھٹی تیمور کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا ، اچھی نوکری ، اچھا گھر اور نیک سیرت و وفا شعار بیوی جس کی اچھی اور بہترین تربیت کا عکس ان کے تینوں بچوں میں صاف جھلکتا تھا ۔ بڑی بیٹی فائز تھی جو بی اے کر چکی تھی اور آج کل
Part 3 ’میں تمہاری گندی کمائی میں سے ایک پیسہ لینا حرام سمجھتاہوں‘‘ میں نے نفرت سے کہا۔ اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ پھر وہ لجاجت سے بولا۔ ’’جناب ! ایک گزارش ہے اگر آپ مان لیں؟‘‘’جلدی بک‘‘ مجھے حقیقتاً اس شخص سے نفرت ہوگئی تھی۔ ’’اگر آپ مجھے اپنا شاگرد بنا لیں
part 2 ’’یا خدا ! یہ بلی ہے یا کوئی جن بھوت، بند گاڑی میں گھس آتی ہے ، سادھو اس سے باتیں کرتا ہے کھڑکی کا مضبوط شیشہ اس سے ٹکرا کر ٹوٹ جاتا ہے‘‘ یہ سب کیا ہے؟ ‘‘ میں نے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ اچانک مجھے کسی گاری کا
Part 1 میں کئی دن سے محسوس کر رہا تھا کوئی نادیدہ وجود ہے جوہر وقت میرے آس پاس رہتا ہے خاص کر تنہائی میں۔ چلتے ہوئے لگتا کوئی میرے ساتھ چل رہا ہے۔ اکثر میرے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ، مڑ کر دیکھتا تو کوئی نہ ہوتا۔ گھر سے باہر یہ احساس
Last part 6 میرے اندر طمانیت کے لڈو پھوٹنے لگے تھے خدشہ بہرحال تھا کہ اگر شاہ صاحب کو معلوم ہو گیا تو کیا ہو گا۔ لیکن جب ملک صاحب اٹل فیصلہ کر چکے تھے تو مجھے اپنی جاں سے گزر کر اپنی جاں تک پہنچنے کا حق حاصل ہو گیا تھا۔ بہت سے جذبات
part 5 اس کے ماں باپ بھی اس کی حرکت پر مجھ سے معافیاں مانگنے لگے۔ میں نے کہا ’’اس بے چاری کا کیا قصور تھا۔ شکر کریں یہ جلدی قابو میں آ گئی۔ ورنہ نہ جانے یہ میرے ساتھ کیا سلوک کرتی‘‘ میں نے خوشگوار لہجے میں کہا اور پھر انہیں حویلی کے باہر
part 4 میں نے ٹاہلی والی سرکار کی طرف دیکھا تو انہوں نے اپنے والدکی قبر پر رکھے آب خورے کو پکڑا۔ اس میں دو گھونٹ پانی تھا۔ انہوں نے کچھ پڑھا اور پھر پانی پر دم کرکے مجھے دیا اور کہا: جاﺅ…. اور اسے کہو یہ پانی پی لے…. ابھی اس کا باﺅلا پن
part 3 گاﺅں کے چوکیدار کو اللہ نے بڑی خصوصیات سے نوازا ہوتا ہے۔ اس کی حسیات بڑی تیز ہوتی ہیں۔ رات کو اس کے ساتھ گاﺅں کے کتے ہی نہیں چوکیداری کر رہے ہوتے بلکہ مرغیاں بکریاں اور دوسرے جانور بھی اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ جب بھی گاﺅں پر کوئی افتاد نازل ہوتی
part 2 میری کن پٹیاں لہو کی گرمی سے سلگنے لگی تھیں۔ رضیہ کچھ بتانے سے گریزاں تھی اور میری لاڈلی بیٹی زلیخا میرے سینے میں منہ چھپائے روتے چلی جا رہی تھی۔ میں نے قہر بھری نظروں کے ساتھ پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھا ، اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا
part 1 صرف دو رتی افیون حاصل کرنے کے لئے اس قدر خوار ہونا پڑے گا، یہ میں بھی نہیں تھااور اب مجھے اس عذاب سے جان چھڑانے اور فرار کا کوئی رستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔اس تپتی دوپہر میں نہر کنارے موٹر سائیکل دوڑاتے ہوئے میں سوچ رہا تھا ، یہ لالو قصائی
بلونت سنگھ ماجھا کے علاقے میں بھیکن ایک چھوٹا سا غیر معروف گاؤں تھا ۔ مشکل سے سو گھر ہوں گے ۔ زیادہ تر سکھوں کی آبادی تھی۔ یہاں کی ایک بات تھی ۔ وہ یہ کہ بعض اوقات یہاں کوئی غیر معمولی طور پر حسین لڑکی وجود میں آتی جس کے ساتھ کسی نوجوان
وجیہہ سحر Last part رات کے گیارہ بج رہے تھے مگر عمارہ اپنا لیپ ٹاپ گود میں رکھے google سرچ میں مصروف تھی۔ وہ اس شہر کے اسامہ نام کے اشخاص کے ایڈریسز اور فون نمبرز پر سرچ کر رہی تھی۔ اس نے ان ناموں کی spread sheet پر ایڈریسز اور فون نمبرز کے ساتھ
پارٹ 3 ظفر نے مہک کی لاش کی طرف بغور دیکھا ’’مگر دونوں کا ایک ہی طریقے سے مرنا پھر ان کے چہرے دیکھو، اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کی موت بھیانک ترین طریقے سے ہوئی ہے۔‘‘ انسپکٹر نے ظفر کی بات کاٹ دی۔ ’’وہ تو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چل جائے گا
part 2 آگ میں ابھرنے والے چہرے جیسے آگ ہی کا حصہ تھے۔ ان کے نقوش بھڑکتی آگ کے ساتھ بڑھتے اور سکڑتے۔ خیام، وشاء ، فواد اور حوریہ بخوبی جانتے تھے کہ اب انہیں کیا کرنا ہے۔ وشاء نے شیشے کا جار اپنے ہاتھ پر رکھا جس میں ایک خوبصورت تتلی کا Stuffed تھا۔