part 2
میری کن پٹیاں لہو کی گرمی سے سلگنے لگی تھیں۔ رضیہ کچھ بتانے سے گریزاں تھی اور میری لاڈلی بیٹی زلیخا میرے سینے میں منہ چھپائے روتے چلی جا رہی تھی۔ میں نے قہر بھری نظروں کے ساتھ پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھا ، اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا اس کی آنکھوں میں میرے لئے نفرت کا لاوا ابل رہا تھا۔
”رضیہ تو بولتی کیوں نہیں ہے“ میں تقریباً چیختا ہوا بولا ”بتاتی کیوں نہیں ،زلیخا کے ساتھ کیا ہوا ہے۔“
”کک کچھ نہیں ملک صاحب! اللہ سوہنے کی قسم سب خیر میر ہے۔ بچی ہے ذرا گھبرا گئی ہے۔ کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہوئی“ میں نے محسوس کیا رضیہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس سے قبل آج تک ایسا نہیں ہوا۔ اس کا پراعتماد لہجہ مجھے ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔ وہ مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولتی تھی۔ مگر آج اس کا چہرہ صاف صاف چغلی کھا رہا تھا۔
”اٹھ میری بچی …. اپنے باپ کو کیوں پریشان کر رہی ہے“ رضیہ زلیخا کو مجھ سے الگ کرتے ہوئے اپنے شانے کے ساتھ لگانے لگی تو زلیخا ماہی بے آب کی طرح مچلی اور اپنی اس ماں کے شانے کے ساتھ لگنے سے گریزاں تھی جس کی گود میں سر رکھ کے وہ روزانہ سوتی تھی۔
”رضیہ تو مجھ سے کچھ چھپا رہی ہے۔ اگر تو اب خاموش رہی تو اللہ سوہنے کی قسم میں ساری حویلی کو خون میں نہلا دوں گا“ میں نے زلیخا کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ”زلیخا دھی کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں کسی کو زندہ نہیں چھوڑوں گا“
رضیہ کا چہرہ فق ہو گیا۔ زلیخا بھی میری جلالت دیکھ کر یکدم خاموش ہو گئی اور پھر جیسے وہ سنبھلنے لگی رضیہ میرا چہرہ تکے جا رہی تھی۔ پھر ایک دم چیخنے چلانے لگی ”لو…. سب سے پہلے مجھے مار ڈالو ملک صاحب۔ میں بدبخت عورت اپنی بچی کی پریشانی میں مرے جا رہی ہوں۔ میرے پاگل پن کی وجہ سے حویلی میں پیر صاحب آئے ہیں ملک صاحب آپ کو جس بات پر شک ہے آپ اس کی تصدیق کے بغیر غصہ کرتے جا رہے ہیں۔ آپ پیر صاحب کا کرودھ دل میں کیوں پال رہے ہیں۔ مجھ پر غصہ نکالیں اور مجھے ماریں“ زلیخا ماں کی بات سن کر اب سنبھل گئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اس حد تک جا کر غصہ کر رہے ہیں تو وہ اپنی ماں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی
”اماں …. چپ ہو جا۔ خدا کے واسطے چپ ہو جا تو نے جو کرنا تھا کر لیا۔ اب تو تیرے دل کو تسلی ہو گئی ہے کہ مجھ پر کسی قسم کے جن نے قبضہ نہیں کیا ہوا میں خود ہی ایک جننی ہوں“
”ہیں …. میں نے کیا کہا ہے“ رضیہ کولہوں پر ہاتھ رکھ کر زلیخا پر برس پڑی ”تو کہنا کیا چاہتی ہے میں نے تری عزت برباد کر دی ہے۔ تری زبان جل جائے زلیخا تو نے یہ کیا کہہ دیا ہے“
”ماں عورت کی عصمت بڑی قیمتی شے ہوتی ہے۔ کوئی نامحرم بھی اسے چھو لے تو ماں اس کی حیا کو موت آنے لگتی ہے۔ عورت بڑی پاکیزہ اور قیمتی شے ہے ماں …. میں تجھے ہمیشہ کہتی آئی ہوں مجھ پر کسی جن کا سایہ نہیں‘ لیکن تجھے اپنی بیٹی کے دکھ کا صرف ایک ہی وہم کھائے رہتا ہے۔ اللہ کا شکر کرو ماں میں بچ گئی ہوں۔ تو آنکھیں بند کرکے یہاں بیٹھی ہو گی تیری عقیدت نے تجھے آنکھیں نہیں کھولنے دی ہوں گی ماں …. لیکن میں بے ہوش ہو کر بھی جاگ رہی تھی۔ ترے بابا جی میرے پاس تھے ماں اور مجھے ایک شرمناک سبق پڑھا رہے تھے“
”بس کر دے بس کر دے زلیخا …. خدا کے لئے بس کر دے“ رضیہ چیخنے لگی ”اب بابا جی پر الزام لگانے لگی ہے تو“
”رضیہ …. تو عقیدت میں اندھی ہوتی جا رہی ہے۔ تجھے اپنی بیٹی کی بات پر یقین کیوں نہیں آ رہا“ میں نے اپنا غصہ دبا کر اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”آپ دونوں پاگل ہو گئے ہیں۔ اندھی میں نہیں ہوئی ہوں ملک صاحب آپ ایک بزرگ ہستی پر الزام لگا کر ان کو قہر میں ڈال رہے ہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ بابا جی کو غصہ آ گیا تو یہاں قیامت آ جائے گی“
”شاہد پتر …. یہ عورت بھی اللہ کی عجیب مخلوق ہے۔ تری چاچی جو کبھی میرے سامنے نیچی آواز میں نہیں بولتی تھی پیر ریاض شاہ کی وجہ سے مجھ پر دھاڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ وہ پیر ریاض شاہ کو بچانا چاہتی تھی۔ یقیناً اس نے کوئی اوچھی حرکت کی تھی۔ تیرا یار نصیر تو ابھی بچہ ہے وہ مرد کی آنکھ میں تیرتے شیطانی بال کو نہیں دیکھ سکتا۔ مگر میں ریاض شاہ کی آنکھوں میں ابلتی ہوئی ہوس کو صاف طور پر محسوس کر رہا تھا۔ جب ہم دونوں آپس میں جھگڑنے لگے تھے تو پیر ریاض شاہ غصے سے کھولتا رہا۔ میں نے رضیہ سے صاف صاف کہہ دیا کہ اپنے پیر صاحب سے کہو کہ وہ آج اور ابھی میری حویلی سے چلا جائے۔ یہ بات سن کر رضیہ رونا پیٹنا بھول گئی اور اس نے پوری ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ کہا
”ملک صاحب یہ نہیں ہو سکتا۔ میں شاہ صاحب کی بے عزتی نہیں کر سکتی۔ وہ یہیں رہیں گے اور اگر انہیں جانا ہے تو صبح کی روشنی میں جائیں گے“
”جس کو کسی کی عزت کا خیال نہیں ہے اس کی اپنی کوئی عزت نہیں ہوتی رضیہ۔ اسے کہو ابھی میرے گھر سے نکل جائے ورنہ نوکروں سے کہہ کر ابھی نکلوا دوں گا“
”ملک صاحب“ پیر ریاض شاہ گرجدار آواز میں بولا
”ہوش میں آئیں۔ میں آپ کا لحاظ کر رہا ہوں لیکن آپ ہیں کہ مجھے بے عزت کرتے جا رہے ہیں۔ آپ نے ابھی تک میرا صبر دیکھا ہے جبر نہیں۔ میں خود یہاں ایک منٹ نہیں رہنا چاہتا میں جا رہا ہوں ملک صاحب لیکن آپ کو ایک بات کہے دیتا ہوں۔ آپ خود جھک کر مجھے بلانے کے لئے آئیں گے۔ منتیں کریں گے‘ میرے قدموں میں گریں گے لیکن میں نہیں آﺅں گا“
ریاض شاہ کی باتوں سے مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن اس وقت میں نے خود پر قابو پایا۔ رضیہ ریاض شاہ کے سامنے ہاتھ جوڑنے اور انہیں جانے سے روکنے لگی۔ تمہاری چاچی ایک دم اس قدر نیچے گر جائے گی یہ میں نے نہیں سوچا تھا۔ وہ ریاض شاہ کے قدموں میں گر گئی۔
”شاہ صاحب خدا کے واسطے ایسا نہ کریں۔ میں مر جاﺅں گی۔ ملک صاحب کے دماغ پر تو غصہ طاری ہے آپ ہی سمجھ جائیں ناراض ہو کر نہ جائیں“
میں آگے بڑھا اور رضیہ کا بازو پکڑ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی
”حیا کر رضیہ …. تو اس گندے پیر کے پاﺅں پکڑ رہی ہے“
”ملک صاحب“ ریاض شاہ میری بات سن کر کسی زخمی بھینسے کی طرح ڈکرایا۔ غصے کی وجہ سے اس کی آنکھیں ابل پڑی تھیں اور چہرے سے آگ برسنے لگی تھی۔ اس کا پورا بدن شاخ بید کی طرح لرز رہا تھا” حد کر دی آپ نے بہت ہو گیا۔ بس …. اب کچھ نہیں کہنا“
ایک لمحہ کے لئے تو مجھ پر اس کی شخصیت کا ایسا رعب طاری ہو گیا کہ میری زبان گنگ ہو گئی۔ میں بھی ایک بڑا زمیندار تھا۔ میری اپنی عزت تھی ، رعب تھا میں نے آگے سے کہا
”اوئے تم کیا کر لو گے“ یہ کہہ کر میں نے اپنے نوکروں کو آوازیں دینی شروع کر دیں ”اوئے کاموں‘ کرمے ادھر آﺅ“ رضیہ پیر ریاض شاہ کی ڈھال بن گئی تھی۔
”ملک جی شاہ صاحب کو کچھ بھی کہا تو میں اپنی جان دے دوں گی۔ آپ یہ تماشا بند کریں“
زلیخا نے یہ صورتحال دیکھی تو نہ جانے اسے کیا ہوا۔ ایک زوردار کربناک چیخ مار کر بے ہوش ہو گئی ” ہائے میں مر گئی ابا جی“ اس کے یہ الفاظ سن کر میرا دماغ گھوم گیا۔ میں نے فوراً پلٹ کر دیکھا، اس کے منہ سے سفید جھاگ بہہ رہی تھی اور وہ فرش پر تیورا کر گر گئی ۔ رضیہ اس کی طرف لپکی اور میں نے ریاض شاہ کا گریبان پکڑ لیا
”اوئے سچ سچ بتا تو نے میری بچی کے ساتھ کیا کیا ہے۔ اسے کیا کھلایا ہے۔ نہیں تو تیری جان لے لوں گا“
اس سے قبل کہ ریاض شاہ بولتا یکدم کمرے کی روشنی گل ہو گئی البتہ باہر سے آنے والی روشنی سے اندھیرے میں بھی ہلکا ہلکا سا اجالا تھا۔ میرے کچھ سمجھنے سے پہلے ہی باہر زودار آواز سے چیزیں گرنے لگیں کچھ ہی دیر بعد پوری حویلی میں بھونچال سا آ گیا۔ میرے پالتو کتے خوفزدہ ہو کر بھونکنے لگے اور پھر یوں محسوس ہونے لگا جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ ریاض شاہ کے گریبان پر میرے ہاتھ کمزور پڑ گئے۔ رضیہ زلیخا کا سر اپنی گود میں رکھ کر دہائیاں دینے لگی ”ہائے میری بچی شاہ صاحب۔ خدا کے واسطے کچھ کریں۔ بچی کو سانس نہیں آ رہی۔ ملک صاحب بھاگ کر پانی لائیں“
زلیخا کی بگڑتی ہوئی حالت اور حویلی میں برپا ہونے والے بھونچال نے مجھے بوکھلا کر رکھ دیا۔ میں نے قہر آلود نظروں سے ریاض شاہ کو گھورااور بے بسی سے اس کا گریبان چھوڑا تو کمینگی سے بھرپور ایک شیطانی مسکراہٹ اس کے لبوں پر ناچنے لگی۔
”ملک صاحب“ وہ سرسراتی آواز میں بولا ”آپ سے میرا ایک رشتہ ہے جس کی وجہ سے میں آپ پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا“ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو وہ معنی خیز انداز میں مسکراتا ہوا پیچھے کو مڑ گیا
”ملک صاحب پانی لائیں“ میں بے بسی سے باہر نکلنے لگا تو باہر سے کاموں کے چیخنے کی آواز آئی
ملک صاحب جنوں نے حویلی پر حملہ کر دیا ہے“
میں نے باہر نکل کر دیکھا حویلی کی راہداری میں بڑے بڑے گملے کسی نے ا ٹھا اٹھا کر دور دور تک پھینک دئیے تھے اور پوری راہداری مٹی‘ پتھروں اور پودوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں جونہی باہر نکلا کسی نادیدہ وجود نے ایک بڑا سا گملا اٹھایا اور میرے قدموں میں اتنے زور سے پھینکا کہ اگر میں ایک انچ بھی آگے بڑھا ہوتا تو میرا پاﺅں کچل گیا ہوتا۔
”نہیں …. خبردار رک جاﺅ“
عقب سے ریاض شاہ کی آواز آئی۔ اس کے ساتھ ہی مجھے محسوس ہوا میرے پاس سے گرم ہواﺅں کا ایک بگولا تیزی سے گزرا ہے۔ میں ٹوٹے پھوٹے گملوں سے گزر کر پانی لے کر آیا اور بے ہوش زلیخا کو پانی پلانے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کے دانت آپس میں جڑ گئے تھے اور سانس پھولتی جا رہی تھی۔ اس کے دل کی تیز دھڑکن ایسے ہو گئی تھی جیسے کہیں دور سے ڈھول کی آواز آتی ہے۔ آنکھیں ابلی پڑی تھیں اور چہرے پر تناﺅ سے اس کی شکل ہی بگڑ گئی تھی۔ سانس یوں لیتی تھی جیسے خالی گھڑے پر منہ رکھ کر آواز نکالی جاتی ہے۔ میں نے پانی سے بھرا گلاس اس کے چہرے پر چھڑک دیا کہ شاید اس طرح وہ ہوش میں آ جائے مگر وہ ہوش میں نہیں آئی۔
”پتر تمہیں کیا بتاﺅں اس لمحے ہم پر کیا قیامت گزر رہی تھی۔ باہر بھونچال اور شور شرابہ ختم ہو گیا تھا لیکن میرے اندر بھونچال برپا ہو گیا تھا۔ بیٹی کی حالت دیکھ کر میرے اندر کا اعلیٰ نسب ملک اور زمیندار جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔
”مار دیا میری بچی کو آپ نے ملک صاحب۔ میری بچی کو مار دیا کر لیا شوق پورا۔ حویلی کو موت سے بھر دیا ہے آپ نے ملک صاحب“
وہ میرا گریبان پکڑ کر چلانے لگی اور میرے رہے سہے حواس بھی ختم ہو گئے۔ میں نے پیر ریاض شاہ کی طرف امداد بھری نظروں سے دیکھا تو وہ کمرے سے غائب تھا۔ میں جانتا تھا کہ اس نے یا اس کے بابا جی نے میرے غصے کے بدلے میں یہ اوچھی حرکت کی تھی لیکن پتر جی میں ان زمینداروں جیسا سفاک اور کڑیل نہیں ہوں جو اپنی انا اور ضد پر خون بہاتے پھرتے ہیں۔ میں کمزور بھی نہیں تھا لیکن پتر جی اولاد سے میری محبت نے مجھے بہت کمزور بنا دیا تھا۔
”شاہ صاحب“ میں انہیں آوازیں دیتا ہوا کمرے سے نکلا تو دیکھا ریاض شاہ اپنا سامان اٹھا کر حویلی سے باہر جا رہا تھا میری آواز سن کر بھی وہ نہیں رکا۔ میں بھاگتا ہوا اس کے پاس پہنچا تو میری سانس پھول گئی ”شاہ صاحب“ میرے ہاتھ خود بخود آپس میں جڑ گئے اور معافی کے لئے اس کے سامنے بلند ہونے لگے۔ میری آنکھیں بے کسی اور بے بسی سے بھر گئی تھیں۔ لب سل گئے تھے۔ میرا اندر کٹ گیا‘ دل قیمہ قیمہ ہو گیا تھا پتر جی ، میں مر گیا تھا۔ مر گیا تھا اپنی بچی کی زندگی کے واسطے۔
شاہ صاحب کے چہرے پر فتح کا خمار تھا اور میرے جڑے ہوئے ہاتھ کسی گداگر اور کمی کی طرح بلند تھے وہ برابر مسکراتا رہا۔ شاید ابھی اس کی طمع کو قرار نہیں آ رہا تھا۔ میں اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا جھکنے لگا۔ اپنی خودداری کو توڑتے ہوئے‘ اس کے پیروں کو ہاتھ لگانے لگا تو اس بار اس نے مجھے کاندھوں سے پکڑ لیا۔
”نہیں ملک صاحب نہیں‘ آپ کی جگہ تو ہمارے دل میں ہے“ پھر وہ کچھ کہے بغیر ایک فاتح کی طرح واپس ہوا اس نے زلیخا کی طرف دیکھا اور مجھے دوبارہ پانی لانے کے لئے کہا۔ میں پانی لایا تو اس نے کچھ پڑھنے کے بعد دم شدہ پانی زلیخا پر چھڑکا۔ اس کے بے ہوش بدن کو جھٹکا لگا۔ پیر ریاض شاہ پانچ چھ منٹ تک کچھ پڑھتا رہا۔ آخر میں وہ اس کے سر کی جانب بیٹھ گیا اور اس کے ماتھے پر شہادت کی انگلی رکھ کر کچھ لکھنے لگا۔ چند لمحوں بعد وہ بولا تو ایسا لگا جیسے وہ نہیں اس کے اندر سے بابا جی بول رہے ہیں ”اٹھ میری بچی …. اٹھ …. شاباش“
یقیناً وہ باباجی ہی تھے جو ریاض شاہ کے اندر سے بول رہے تھے۔ ایک لمحہ کے لئے تو مجھے پھر یہ گمان ہوا تھا کہ باباجی کا بہروپ ریاض شاہ نے ہی نہ بھرا ہوا ہو۔ وہ اندھیرے میں باباجی کو حاضر کرتا تھا۔ کسی کو کیا معلوم کہ ریاض شاہ ہی آواز بدل کر بول رہا ہوتا ہے یا واقعی اس کے علاوہ کوئی دوسرا تیسرا وجود بھی وہاں ہوتا ہے۔ لیکن میرا یہ وہم اس وقت باطل ہو گیا۔
زلیخا کے چہرے سے تناﺅ ختم ہو گیا۔ آنکھیں معمول پر آ گئیں اور ایسے اٹھی جیسے بے ہوش ہی نہ ہوئی تھی۔ پہلے تو وہ ہم تینوں کے چہروں کو دیکھتی رہی پھر سر پر دوپٹہ درست کرنے لگی۔
”بابا جی کہاں ہیں“ وہ آہستگی سے بولی۔ تو ایک ہلکے سے کھٹکے کے ساتھ باباجی کی آواز آئی
”میری بچی …. میں یہیں پر ہوں“ میں نے دیکھا اب کی بار شاہ صاحب کے لب بند تھے اور ان کے عقب میں ایک سفید رنگ کے لبادے میں ملبوس دراز کشیدہ قامت انسان کھڑا تھا۔ اس نے اپنے سر سفید چادر لی ہوئی تھی اور سر جھکا ہوا تھا۔
”بابا جی سرکار“ پیر ریاض شاہ اٹھنے لگا تو باباجی نے ہاتھ ان کے سر پر رکھ کر انہیں اٹھنے نہیں دیا۔ وہ زلیخا کے پاس گئے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے ”میں نے اپنی بیٹی کہا ہے تجھے زلیخا۔ مجھے تیرے باپ سے زیادہ فکر ہے“ یہ کہتے ہوئے انہوں نے اپنا چہرہ بلند کیا تو چادر سے ان کا چہرہ صاف نظر آنے لگا۔ سانولی رنگت‘ سفید دودھیا لمبی داڑھی‘ موٹی موٹی سیاہ سرمگیں آنکھیں۔ وہ گزرے وقتوں کے کسی اساطیری مرد کی شکل میں میرے سامنے موجود تھے۔
”ملک …. تو نے ہمارے بیٹے پر شک کیا اور ہمیں رسوا کیا۔ شکر کرو ہمارے بیٹے نے تمہیں معاف کر دیا ہے ورنہ جتنا تو نے ہمیں بے عزت کیا ہے اس کا بدلہ لئے بغیر ہم واپس نہ آتے …. بہرحال تو نے ہمارا بہت دل دکھایا ہے“
بابا جی کی شخصیت کا ایسا نورانی رعب مجھ پر طاری ہوا کہ میرے لبوں سے نکلا۔ ”بابا جی مجھے معاف کر دیں۔ بشر ہوں غلطی تو کروں گا“
”آہا …. اے ابن آدم …. تو نے اچھا جواز گھڑا ہوا ہے۔ اوئے تم غلطی عمداً کرتے ہو اس لئے جلدی معافی مانگ لیتے ہو کہ تم خطا کے پتلے ہو۔ اپنی غلطیاں اپنے بزرگوں کے کھاتے میں نہ ڈالا کرو۔ غلطی تو اے ابن آدم تجھ سے بھی ہوئی۔ ابلیس نے بھی غلطی کی …. پچھتاوا تو اسے بھی ہے لیکن تو خوش قسمت ہے اور وہ بدبخت۔ تو معافی مانگتا ہے دل سے تو اللہ تیری خطا معاف کر دیتا ہے۔ مگر وہ ابلیس خلق سے اوپر پچھتاتا ہے۔ اس کے لئے معافی کیسی، ملک …. تو معافی دل سے مانگے گا تو اللہ تجھے معاف کر دے گا۔ ہمارے دلوں میں بھی تمہارے لئے نرمی اور محبت پیدا ہو جائے گی۔ مگر تجھے تیرا وہم اور تری خودداری سکون نہیں لینے دے گی۔ ہاں …. ایک بات یاد رکھنا۔ اب میرے بیٹے کو کوئی تکلیف نہ دینا۔ ریاض شاہ تو بھی ملک کی طرف سے اپنا دل صاف کر لے“
”جی اچھا سرکار“ ریاض شاہ نے ایک سعادت مند بچے کی طرح سر ہلایا۔
”رضیہ پتری …. آج ہماری سیوا نہیں کرے گی“ باباجی خوشگوار انداز میں بولے ”زلیخا …. تیری ماں حلوا بڑا مزے کا بناتی ہے تو بھی حلوہ بنانا سیکھ لے“
زلیخا جواباً مسکرانے لگی ”لیکن باباجی آپ کی دنیا کا حلوہ تو ہمارے حلوے سے زیادہ مزیدار ہے“
”تو نے کھایا ہے“ بابا جی دھیرے سے مسکرائے تو ان کے سفید موتیوں جیسے دانت نمایاں ہو گئے
”ہاں جی …. وہ غازی لے کر آیا تھا۔ اس نے اس وعدہ پر مجھے حلوہ کھلایا تھا کہ میں اسے کوئی اچھی سی شے بنا کر کھلاﺅں گی“ یہ سن کر باباجی نے قہقہہ لگایا اور بولے ”غازی بڑا حرام خور ہے۔ وہ کہیں سے چرا لایا ہو گا حلوہ اور تجھے کھلایا ہو گا“
اسی لمحہ مجھے اپنے عقب میں کسی سرسراتے وجود کا احساس ہوا ”لو آ گیا ہے شیطان“
”بابا جی …. شکر ہے آپ نے مجھے شیطان کا چیلا نہیں کہہ دیا“ غازی کی شرارتوں سے بھری آواز آئی۔ وہ سفید لبادے میں چھپا ہوا تھا اور اس کا چہرہ خاص طور پر ڈھکا ہوا تھا۔
”بابا جی میں وہ حلوہ مدینے سے لایا تھا۔ بھلا میں اپنی بہن کو چوری کا حلوہ کھلا سکتا ہوں“
”تیرا کوئی پتہ نہیں ہے غازی“ بابا جی نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور پھر بولے ”غلام محمد کو بھی بلاﺅ …. سب آ جاﺅ …. رضیہ پتری پوری دیگ چڑھانا حلوے کی“
”لیکن میں تو باﺅلی پیوں گا“ غازی مچل اٹھا۔
”باﺅلی کہاں سے لاﺅں گی میں“ رضیہ بولی
”لیں ماسی …. آپ کو پتہ ہی نہیں آپ کی گائے نے بچھڑا دیا ہے حیرت ہے بھئی“ غازی ہنستے ہوئے بولا ”آپ کا ملازم کرموں ادھر باڑے میں ساری رات سے گائے کی سیوا میں لگا ہوا ہے“
”اچھا یہ تو اچھی خوشخبری ہے“ میں نے کہا ”لے رضیہ میں گائے کا دودھ لاتا ہوں تو اسے باولی بنا کر دے“ یہ کہہ کر میں نے بابا جی سے اجازت لی اور جب میں آدھ گھنٹہ بعد واپس اس کمرے میں پہنچا تو وہاں کا ماحول خاصا گرم ہو چکا تھا نصیر بھی ادھر آ گیا تھا۔ بابا جی پلنگ پر گاﺅ تکیہ کے ساتھ دراز تھے‘ نصیر اور زلیخا ان کی پائنتی جانب بیٹھے تھے اور پیر ریاض شاہ چٹائی پر تکیہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ کمرے میں غازی کے قہقہے گونج رہے تھے۔ کمرے میں اگربتیاں جلا کر ماحول کو خوشگوار بنا دیا گیا تھا
”اجی ملک صاحب مزہ آ گیا ہے۔ غازی تو باولی پئے گا اور ہم حلوے کے ساتھ آم کھائیں گے“
ان کے سامنے بڑی تھالی میں آم کاٹ کر رکھے ہوئے تھے اور بابا جی بڑے مزے سے آم کھانے میں مصروف تھے۔ ایک گھنٹہ بعد رضیہ دیگچے میں حلوہ بھر کر لائی تو دیسی گھی سے تیار کئے گئے حلوے کی خوشبو سے میرے منہ میں بھی پانی آیا۔ رضیہ نے حلوے میں خوب بادام گریاں ڈالی تھیں۔ اس نے پلیٹوں میں حلوہ ڈالا اور چٹائی پر رکھ دیں۔
”نہیں بھئی یوں نہیں …. پہلے ہم غلام محمد سے نعت رسول مقبول ﷺ سنیں گے۔ پھر دعا ہو گی اور اس کے بعد حلوہ کھائیں گے“ بابا جی نے کہا تو غلام محمد بھی حاضر ہو گیا۔ اس نے احرام باندھا ہوا تھا۔ پاﺅں میں نیلے رنگ کی چپلی تھی۔ وہ کسی عرب نوجوان کی شکل اختیار کئے ہوئے تھا۔ اس نے ہم سب کی طرف دیکھا اور نہایت پرسوز آواز میں بولا”آپ سب درود ابراہمی پڑھئے“۔ہم سب نے درود پڑھنا شروع کیا اور پھر کچھ ہی دیر بعد جب غلام محمد نے ایک پنجابی نعت پڑھنی شروع کی تو یوں لگا جیسے عرش تا فرش وجد طاری ہو گیا۔
ماحول پر نور کی بارش ہو رہی تھی۔ کمرہ خوشبویات سے بھر گیا تھا۔ ہم سب آنکھیں بند کئے غلام محمد کی خوش الحانی سے محظوظ ہو رہے تھے۔ مجھے کچھ ہی دیر بعد محسوس ہونے لگا کہ اس کشادہ کمرے میں ہم چند لوگوں کے علاوہ بھی کچھ لوگ موجود ہیں اور کمرہ بھرائی ہوئی گرم سانسوں کے ساتھ بھرتا جا رہا ہے۔ بابا جی کے حکم کے مطابق تو سبھی کو آنکھیں بند رکھنا تھیں لیکن اس سمے میرے دل میں یہ خواہش مچل رہی تھی کہ میں آنکھیں کھول کر کمرے کے ماحول کو دیکھوں۔ لیکن تاب نہیں ہو رہی تھی آنکھیں کھولنے کی۔ حتیٰ کہ میرے دل میں یہ بھی خیال آیا کہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی جب باباجی غازی اور غلام محمد عرب باشندوں کی شکل میں ظاہر ہوئے تھے تو ہم نے آنکھیں بند نہیں کی تھیں۔ اس وقت تو ہمیں نہیں کہا گیا کہ بابا جی کی حاضری ہو گئی ہے لہٰذا آنکھیں بند کر لو۔ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی۔ کچھ دیر پہلے بابا جی بستر پر دراز تھے تو زلیخا اور نصیر ان کی خدمت کر رہے تھے اس وقت بھی سبھی اپنی آنکھوں کے ساتھ انہیں دیکھ رہے تھے۔ میں اپنے دل کو مختلف تاویلوں سے قائل کرنے لگا۔ مجھے آنکھیں کھول کر اس بھرپور نورانی منظر کو دیکھ لینا چاہئے۔ آخر میں ایک زمیندار بھی تو تھا۔ مجھے بے خبر نہیں رہنا تھا۔ میں اس کشمکش میں مبتلا تھا کہ غازی میرے پاس آیا اور کہنے لگا ”چاچا جی دماغ ٹھیک ہو گیا ہے“
اس سے قبل کہ میں کچھ بولتا۔ بابا جی کی آواز گونجی ”غازی خاموش رہو۔ جانتے نہیں اس وقت کس ذات اعلیٰ کے لئے محفل سجی ہوئی ہے“
غلام محمد بابا کی آواز سن کر خاموش ہو گیا۔ بابا جی بولتے رہے ”ادھر میرے پاس آ“ انہوں نے غازی کو بلایا ”بیٹھو آرام اور عقیدت کے ساتھ نعت رسول سنو“ اس بار باباجی کے لہجے میں نرمی تھی۔ میں نے آنکھیں کھول دیں۔ دیکھا کہ بابا جی اسی بستر پر بیٹھے ہیں۔ ان کا چہرہ عریاں تھا اور وہی ہو بہو کامل تصویر جو پہلے دیکھ چکا تھا‘ البتہ اب کی بار ان کی نظریں اٹھی ہوئی تھیں جنہیں دیکھ کر عجیب سا خوف آتا تھا۔ شمس و قمر جیسی روشن آنکھیں۔ ابرو تنے ہوئے ناک ستواں۔ وہ اپنے انسانی روپ میں تھے میں کسی سحرزدہ انسان کی طرح ان کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔ ان کے نقوش میں گزرے وقتوں کے لوگوں کے نقوش تلاش کر رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ باباجی کا یہ روپ گزرے وقتوں کے کسی قدر شجاع اور مردانہ خدوخال کے مالک انسانوں کا ہو گا۔
بابا جی نے میری محویت کو توڑ دیا۔ ان کی نظروں نے میری آنکھوں کے زاوئیے پکڑ لئے۔ سرمگیں نظروں میں دل آویز مسکان ابھری۔ بولے ”ملک کیا دیکھ رہے ہو“ میں گڑبڑا گیا۔
”تم بھی ادھر آ جاﺅ“ بابا جی نے مسکراتے ہوئے مجھے سمجھایا ”محافل کے آداب کرنا سیکھو ملک۔ ہر وقت تجسس کے ہاتھوں بے بس نہ ہو جایا کرو۔ تمہیں کھوجنے کی جستجو رہتی ہے۔ اللہ نے چاہا تو تمہیں ا س کا موقع بھی ملے گا۔“
میں شرمندہ ہو گیا اور باباجی کے قدموں کی طرف جہاں نصیر اور زلیخا بیٹھے تھے اپنی جگہ بنانے گا کہ بابا جی بولے ”تم بھی ادھر غازی کے پاس آ جاﺅ“ غازی بابا جی کے سرہانے کے پاس ایک گٹھڑی کی صورت میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ سفید عمامہ کے پلو سے ڈھکا ہوا تھا۔ میں غازی کے پاس بیٹھا تو بابا جی نے ٹرے سے آم کی قاشیں اٹھائیں اور مجھے پیش کرتے ہوئے بولے ”کبھی کبھی آم کھانے کو دل مچل جاتا ہے میاں۔ آپ جیسے محبت کرنے والے انسانوں کی یہ ہم پر مہربانی ہے کہ اپنی غذا میں سے کچھ ہمیں بھی عطا کر دیتے ہیں“
”یہ سب آپ کا ہی ہے سرکار“ میں نے عقیدت سے آم کی قاشیں پکڑ لیں۔
”اور ہمارے لئے نہیں ہے کیا“ غازی بے ساختہ بولا تو میں نے قاشیں اسے پکڑا دیں۔ اس نے کھانے میں دیر نہیں لگائی۔
”بڑا ہی نادیدہ ہے‘ غازی“ بابا جی اس کی حرکت پر مسکرائے تو ان کے موتیوں جیسے دانت نمایاں ہو گئے۔
”ہاں بھئی غلام محمد ذرا دوبارہ سے ہو جائے“ بابا جی نے اپنا رخ دروازے کی سمت موڑا۔ میں نے بھی ادھر دیکھا۔ غلام محمد اور اس کے عقب میں ایک درجن بھر اس جیسے ستونوں جیسی قامت والے لوگ نظر آئے۔ سبھی عربی قباﺅں میں ملبوس تھے ، ان کے چہرے عماموں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ غلام محمد نعت شریف پڑھنے سے پہلے بولا ”بابا جی مدینہ سے مہمان آئے ہیں اور کچھ تحائف پیش کرنا چاہتے ہیں“
”لاﺅ بسم اللہ کیا لائے ہو بھئی“ بابا جی نے کہا۔ تو غلام محمد کے عقب میں کھڑے دو قامت دراز وجود آگے بڑھے اور کچھ سامان بابا جی کے سامنے رکھ دیا۔
”ماشاءاللہ“ باباجی سامان پر نظریں ڈالنے کے بعد مجھے کہنے لگے” لو بھئی مدینہ کی سوغات آئی ہے۔ یہ ٹوپی تم پہن لو اور نصیر ایک ٹوپی تمہارے لئے ہے۔ یہ تسبیح بھی رکھ لو۔ زلیخا بیٹی یہ آب زم زم ہے۔ اپنی امانت سنبھال لو اور سب کو پلاﺅ“ میں نے ٹوپی اور تسبیح پکڑ لی۔ سنہرے رنگ کی جالی والی ٹوپی اور چھوٹے چھوٹے سفید موتیوں والی تسبیح ہاتھ میں پکڑتے ہوئے مجھ پر خوشی مرگ طاری تھی۔
بابا جی کی یہ عنایات اور روپ دیکھ کر مجھے اب شرمندگی ہو رہی تھی کہ اس قدر ایک بزرگ ہستی کی شان میں گستاخی کرتا رہا ہوں۔ میں سخت شرمندہ ہو رہا تھا۔ شاہد بیٹے …. میں نے جب ٹوپی سر پر پہنی تو روحانی خوشی کی ایک لہرے میرے قلب و نظر میں اتر گئی۔ میرا بے کل اور وسوسوں سے بھرا من پرسکون ہو گیا۔
اس اثنا میں غلام محمد نے نعت شروع کی۔ مجھے اس کے بول صحیح طرح سے یاد نہیں ہیں۔ پنجابی اردو عربی اور ایک اور زبان بھی اس ایک کلام میں شامل تھی۔ مجھے محض ان کے یہ الفاظ یاد رہ گئے ہیں جو غلام محمد کے عقب میں کھڑے جنات کورس میں گاتے تھے
میں تمہارا ہوں سائیں
سائیاں
یہ نورانی محفل ایک ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ میرا اب اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ لیکن مجھ پر نیند بھی طاری ہو رہی تھی۔ میں زیادہ دیر تک جاگ نہیں سکتا۔ بے شک کتنا ہی پریشان اور خوش کیوں نہ ہو رہا ہوں۔ نیند بہرحال مجھ پر غالب آ ہی جاتی ہے۔ گاﺅں کے موذن نے اللہ اکبر کی صدا بلند کی تو بابا جی بولے ”لو بھئی فجر کا وقت ہو گیا ہے اب ہم چلتے ہیں‘
یہ کہتے ہوئے وہ بستر سے نیچے اترے تو مدینے سے آئے جناتی لوگوں نے ان پر گلاب کے پھول برسانے شروع کر دئیے۔ ایسا پرجوش اور پرنور منظر نہیں بھول سکتا ۔
بابا جی میرے دیکھتے ہی دیکھتے اپنے ساتھیوں کے ساتھ غائب ہو گئے تو پیر ریاض شاہ جلدی سے اٹھا اور اس نے بلب روشن کر دیا۔ کمرے میں ابھی تک بابا جی کی خوشبویات بھری ہوئی تھیں۔ حلوے کا دیگچہ خالی پڑا تھا۔ رضیہ‘ زلیخا اور نصیر سحرزدہ نظروں سے ریاض شاہ کو دیکھ رہے تھے۔ اس کی آنکھوں میں اب قدرے بے چینی تھی اور وہ تھکا تھکا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اس کے شانے نیچے کو گرے ہوئے تھے۔
”نصیر یار مجھے لتاڑ کر جانا“ جب ہم کمرے سے نکلنے لگے تو اس نے نصیر کو مخاطب کیا اور پھر زلیخا سے کہنے لگا ”زلیخا میرے لئے گرم گرم دودھ کا ایک پیالہ لے آﺅ“ ریاض شاہ شدید تھکاوٹ کا شکار نظر آ رہا تھا۔
”میں لتاڑ دوں“ میرے دل میں اب ریاض شاہ کے لئے کسی قسم کا شک نہیں رہا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے بابا جی جیسے نیک اور مسلمان جنات کا ایسا روپ دیکھ لیا تھا جس کے بعد ان کی نیت پر شک کرنا سوائے ہلاکت میں ڈالنے کے کچھ نہیں تھا۔
ریاض شاہ نے خمار سے بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا ”ملک صاحب آپ کا شکریہ۔ نصیر ہے ناں۔ آپ جائیں اور آرام کریں غالباً کل آپ کی تاریخ بھی ہے“
معاً مجھے یاد آیا کہ مجھے سیالکوٹ کچہری میں ایک دیوانی مقدمہ کے فیصلہ کی پیشی پر جانا تھا۔ میں نے ریاض شاہ کو اپنی تاریخ کے بارے نہیں بتایا تھا۔ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو وہ آنکھیں بند کئے لیٹ گیا اور ہلکی سی آواز میں بولا ”جب آپ کچہری جائیں تو وہاں شیشم کے پرانے درخت کے نیچے ایک درویش بیٹھا نظر آئے گا۔ گھر سے جاتے ہوئے اس کے لئے شکر گھی اور ایک سوکھی روٹی لے جانا اور اسے دے کر دعا کرنے کے لئے کہنا۔ وہ جو کہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنا“
میں پیر ریاض شاہ کو سلام کرکے اپنے کمرے میں چلا آیا۔ میرے ذہن پر اب اس کی شخصیت کا وہ تاثر حاوی ہو گیا تھا جو رضیہ اور نصیر کے ذہنوں میں تھا۔ یعنی پورے کا پورا اس کی عقیدت میں ڈوب گیا تھا۔ میں سات بجے اٹھا اور کچہری چلا گیا۔ شیشم کا درخت کچہری کی پرانی عمارت کے پاس تھا۔ میں لاری اڈے سے تانگے پر سوار ہوا اور تانگہ پرانی عمارت کے پاس جا کر ٹھہرانے لگا تو ایک نہایت کمزور سا شخص جس کے سر منہ پر نہ بال تھے نہ ہی گوشت۔ ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا وہ۔ بدن پر صرف ایک میلی کچیلی سی لنگی پہنی تھی اس نے۔ چونکہ یہ درخت لب سڑک تھا اور اس کی بڑی بڑی شاخیں سڑک پر ایک چھت کی مانند جھکی ہوئی تھیں لہٰذا جب تانگہ ان شاخوں کے نیچے جا کھڑا ہوا تو گھوڑا یکدم بدک گیا اور الٹے پیروں ہٹنے لگا۔ کوچوان پریشان ہو گیا اور اسے پچکارنے لگا میں نیچے اترنے کی کوشش کرنے ہی لگا تھا کہ گھوڑا بے قابو ہونے کو آ گیا۔ میں تانگے پر ہی جما رہا مبادا تانگہ ہلنے سے گر نہ جاﺅں۔ جوان تو تھا نہیں کہ چھلانگ لگا کر نیچے اتر جاتا۔ اس اثنا میں درویش نے تانگے کی طرف دیکھا اور پھر زیر لب بڑبڑاتا ہوا اٹھ پڑا۔ وہ جوں جوں ہماری طرف بڑھ رہا تھا گھوڑے کی بے قراری بڑھتی جا رہی تھی اور کوئی لمحہ ایسا آنے والا تھا کہ تانگہ الٹ جاتا اور سواریاں یا تو سڑک پر گر جاتیں یا تانگے کے نیچے آ کر دب جاتیں۔
اس اثنا میں درویش گھوڑے کے پاس آ گیا اور مریل سی شکایتی آواز میں بولا ”کیا ہو گیا ہے تجھے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا تجھے۔ آج ہمارا مہمان آیا ہے تو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا“
میرے علاوہ کوچوان اور سواریوں نے بھی یہ بات بڑی واضح سنی تھی جسے گھوڑے نے بھی سن لیا تھا اور پھر اس کی بے قراری کا نشہ اتر گیا۔ اس نے بدکنا چھوڑ دیا اور ایسے کھڑا ہو گیا جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
کوچوان نے دیکھا تو گھوڑے کی لگام چھوڑ کر ایک دم درویش کی طرف جھکتا ہوا گیا اور اس کے پیروں میں گر گیا۔
”سرکار آپ تو بڑی ہستی ہیں ہم نے کبھی آپ کی طرف دیکھا ہی نہیں تھا سرکار“
درویش نے اس سے کچھ نہیں کہا بلکہ اسے نظرانداز ہی کر دیا تھا۔ اس نے پیروں سے اسے ٹھوکر ماری ”چل ابے ہٹ …. کیوں مجھے پلید کر رہا ہے“ پھر وہ میری جانب دیکھتے ہوئے بولا ”تو بھی اب نیچے اترے گا یا میں گود میں اٹھا کر اتاروں“
میں جھٹ سے نیچے اترا اور گھی شکر اور روٹی والی پوٹلی اس کے سامنے کر دی۔
Is page mukamal novel hasal karen
”چل اب …. بھاگ …. تماشا نہ لگا دینا یہاں“ اس نے اپنی مریل آواز میں ڈانٹا
”سرکار …. کوئی نظر کرم عنایت کر دیں۔ میرے دن پھیر دیں“ تانگے والے کے لئے وہ بڑی طاقتور شے بن گیا تھا
”جا دفع ہو جا‘ آخ‘ تھو“ درویش نے نفرت سے منہ سکیڑا اور اس پر تھوک دیا۔
کوچوان بھی خوب ڈھیٹ تھا۔ اس کے چہرے پر تھوک گرا اس نے تھوک کو صاف کرنے کی بجائے ہاتھوں کو چہرے پر یوں پھیرا جیسے گاﺅں کی عورتیں پوچا پھیرتی ہیں
”سبحان اللہ سرکار …. آپ کا یہ تھوک میرے لئے عطر ہے عطر“ ملنگ نے اب اس کی طرف نظریں بھی نہیں اٹھائیں اور واپس شیشم کے درخت کے نیچے اپنی جگہ پر بیٹھنے لگا۔
”سرکار نے تھوک دیا سمجھو میرے بھاگ سنور ہو گئے“ شاہد میاں میں اس کوچوان پر حیران تھا جو حقارت کو بھی محبت اور پاکیزگی سے تعبیر کر رہا تھا۔ وہ تانگے پر سوار ہوا اور باقی سواریوں سے کہنے لگا ”اس ٹاہلی والی سرکار کو کسی نے کھاتے پیتے نہیں دیکھا نہ کسی کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے ہیں۔ بولتے تو کچھ بھی نہیں تھے لیکن آج تو کمال ہو گیا۔ میں نے سنا تھا کہ ٹاہلی والی سرکار جس پر تھوک دے‘ جس کو گالی دے اس کے بھاگ سنور جاتے۔ واہ میرے مولا …. آج تو نے مجھ پر بڑا کرم کیا ہے“ میں نے تانگے والے کو کرایہ دینا چاہا تو وہ ہاتھ جوڑ کر بولا ”جناب چھوڑیں …. میں دو روپے لے کر کیا کروں گا۔ یہ سب آپ کو بدولت ہی ہوا۔ کیا آپ سرکار بابا کو جانتے ہیں“ میں نے نفی میں سر ہلایا ”تو پھر آپ کے ساتھ ان کی یہ شفقت“
”تو جاتا ہے یا ماروں ایک“ عقب سے ٹاہلی والی سرکار کی آواز سنائی دی ”بھونکتا چلا جارہا ہے“
یہ سنتے ہی اس نے گھوڑے کی لگام کھینچی اور چلتا بنا۔
میں واپس ہوا اور ٹاہلی والی سرکار کے پاس جا بیٹھا۔ اس نے پوٹلی کھولی اور روٹی اور گھی شکر میرے سامنے رکھتے ہوئے بولا ”لے کھا رے۔ اپنے لئے اور میر ے لئے روٹی اور گھی شکر بانٹ لے جو تیرا من کرتا ہے وہ تو لے لے اور جو میرے لئے بہتر سمجھتا ہے مجھے دے دے۔“
میں اس کی بات سن کر مخمصہ میں مبتلا ہو گیا۔ معاً مجھے پیر ریاض شاہ کی بات یاد آ گئی۔ اس نے کہا تھا کہ وہ ملنگ جو کہے اس پر عمل کرنا۔
میں نے کہا ”سرکار میرا تو پیٹ بھرا ہوا ہے۔ آپ ہی کھا لیں سب آپ کے لئے لایا ہوں“
”سوچ لے …. بھوک نہیں ہے تو بے شک نہ کھا۔ تو نہ کھائے گا تو تیرا کیا جائے گا۔ میں بھوکا ہوں۔ کھا لوں گا تو میری بھوک ختم ہو جائے گی“
وہ بابا معنی خیز انداز میں بولا
”سرکار …. میں آپ کے لئے ہی تو لایا ہوں“ میں نے عاجزی سے کہا
”سوچ پھر سوچ …. اگر تو چاہے تو یہ گھی شکر رکھ لے اور سوکھی روٹی مجھے دے دے“
میں نے جب دیکھا کہ وہ مجھ سے کھانا تقسیم کرانے پر بضد ہے تو میں نے کہا ”اچھا تو سرکار ایسا کریں …. یہ سوکھی روٹی مجھے دے دیں گھی شکر آپ کھا لیں“
یہ سن کر اس کے چہرے پر ہلکا سا تبسم ابھرا“ ترا پیٹ تو بھرا ہوا ہے سوکھی کھا لے گا تو تجھے فرق نہیں پڑے گا۔ میں شکر گھی کھاﺅں گا تو میرے اندر بھی طاقت آئے گی لے اب اپنا حصہ اٹھا اور جا۔ تری پیشی ہونے والی ہے“ میں نے سوکھی روٹی ہاتھ میں لی اور پھر ایک لقمہ لینے کے بعد اسے جیب میں ڈال لیا کہ اسے بعد میں کھا لوں گا۔ ٹاہلی والی سرکار کی ان باتوں کی مجھے کوئی سمجھ نہیں آئی۔ لیکن جب میں عدالت میں پہنچا اور جج نے میرے کیس پر جو فیصلہ سنایا اسے سنتے ہی میرے ذہن میں اس بابے کی باتوں کی حقیقت سمجھ میں آ گئی۔
جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا ”ملک صاحب آپ بڑے زمیندار ہیں اور آپ کو اللہ نے کسی قسم کی کمی نہیں دی۔ یہ بھاگاں بی بی کا رقبہ ہے ہی کتنا۔ آپ اسے اپنی زمینوں میں شامل کیوں کرنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ گواہوں اور شہادتوں کے بعد فیصلہ آپ کے حق میں جاتا ہے لیکن جب آپ قانون قدرت کو دیکھتے ہیں اور انسانی بھلائی کا سوچتے ہیں تو آپ کو فیصلہ ایسا کرنا چاہئے جو بھلائی کا ہو۔ بھاگاں بی بی اپنے بچوں کی کفیل ہے۔ اس زمین سے اس کو روکھی سوکھی ملتی ہے۔ آپ اگر اس کی زمینوں کو آزاد کر دیں اور اس کو نہری پانی بھی ملنے دیں تو اس کی یہ زمین آباد ہو جائے گی۔ آپ خوشحال ہیں لیکن یہ تنگ دست عورت ہے۔ آپ ہی اس کا سہارا بنیں اور اس کی زمینوں کو آزاد کر دیں۔ یہ بے چاری بھی اپنی بھوک مٹا لے۔ آپ کا تو پیٹ بھرا ہوا ہے“ جج کا آخری جملہ سن کر میں بھونچکا رہ گیا۔ میرا ہاتھ بے اختیار جیب میں گیا اور سوکھی روٹی کو سہلاتے ہوئے میں سوچنے لگا ”ٹالی والے بابے نے بھی تو یہی کہا تھا“ میں خاموش نظروں سے جج کا چہرہ دیکھتا رہا۔ اگرچہ اس نے فیصلہ لکھ دیا تھا لیکن پھر بھی وہ مجھ سے انسانی ہمدردی کی توقعات کی خاطر اخلاقی مدد مانگ رہا تھا۔ اور میں بھاگاں بی بی اور اپنے مقدمے کے بارے سوچنے لگا۔ یہ ہے بھی حقیقت بیٹے۔ بھاگاں کی زمین نہر سے اندر ہماری زمینوں کے بیچ میں ہے۔ دو ایکڑ زمین کے اس رقبہ کی کاشت کاری اور زرخیزی کا راستہ ہماری زمینوں سے ہو کر گزرتا تھا اور اپنی زمینوں کی ہریالی کی خاطر وہ مجھے باقاعدہ حصہ دیتی تھی۔ کئی سال پہلے جب اس کا شوہر زندہ تھا اور اس نے مجھ سے دشمنی مول لے لی تھی تو اشتمال کے دنوں میں پٹواری‘ گرداور اور تحصیلدار سے مل کر میں نے اس کے رقبہ میں ردوبدل کرا دیا تھا جس کے بعد وہ بیچارے میری زمینوں کے جال میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ ان کی اپنی زمین نہر کے کنارے پر تھی لیکن اشتمال کے بعد وہ زمین میری ہو گئی تھی اور ان کا رقبہ ایک میل اندر میری ان زمینوں میں آ گیا تھا جو زیادہ آباد نہیں تھیں لیکن بھاگاں بی بی نے دن رات کی مشقت کے بعد اپنی زمینوں کی خاطر میری زمینوں کو بھی آباد کر دیا تھا۔ میری اس کے شوہر سے دشمنی تھی لیکن اس کے انتقال کے بعد جب بھاگاں بی بی پر اس کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری پڑی تو میں نے کئی بار سوچا کہ اسے اس کا اصلی حصہ دے دوں۔ لیکن میری زمینداری ہمیشہ آڑے آتی۔ دل مانتا تھا کہ میں نے اسکا حصہ غصب کیا ہے مگر زبان سے تو نہیں کہتی تھی۔ اس کے شوہر نے پچھلے پانچ سال سے یہ مقدمہ کیا تھا اور آج خلاف توقع جج اس کا فیصلہ سنا رہا تھا۔ فیصلے کی تاریخ پچھلے ایک سال سے لٹکی ہوئی تھی۔ دیوانی مقدمات کا یہی تو معاملہ ہوتا ہے۔ چلے تو کئی پشتوں تک اور اگر زور لگا لیا تو ایک نسل میں بھی ختم ہو سکتا ہے۔ میں نے جج کی بات سے اکتفا کیا اور جیب سے سوکھی روٹی کو تھتپھاتے ہوئے ٹاہلی والی سرکار سے ملنے چلا گیا۔ مجھے دیکھ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ تیرنے لگی۔
”تو نے خود فیصلہ کیا تھا اب کوئی پچھتاوا تو نہیں ہو رہا“ اس نے کہا تو میں نے جواب دیا
”سرکار …. یہ فیصلہ درست ہوا ہے بھاگاں کا حق بنتا ہے اور میں اسکو اسکا حق دوں گا“
”تو کھرا انسان ہے لیکن کبھی کبھی اتھرے گھوڑے کی طرح مچل جاتا ہے۔ اپنے آپ کو قابو کرنا اور دوسروں پر شک کرنا چھوڑ دے۔“ اس نے کہا ”لیکن ایک بات ذہن میں رکھنا آئندہ مجھ سے ملنے نہ آنا۔ میں اپنی ریاست میں شور پسند نہیں کرتا“ یہ کہہ کر اس نے چہرہ میری طرف سے بدل لیا اور میں سوکھی روٹی لے کر تانگہ تلاش کرنے لگا تو وہی صبح والا کوچوان تانگہ دوڑاتا ہوا میرے پاس آ گیا۔
”آئیں جناب آپ کو لے جاﺅں“ اس کے چہرے پر جوش ابھی تک نمایاں تھا ”آئیے سرکار …. آپ بیٹھیں۔ میں ٹاہلی والی سرکار کو نذر نیاز کر آﺅں“۔ اس نے مٹھائی سے بھرا ہوا ایک ڈبہ پکڑا اور شیشم کے درخت کی طرف بھاگ گیا۔ میں تانگے پر بیٹھ کر سوکھی روٹی نکال کر کھانے لگا۔ اس کی اپنی لذت تھی۔ ملنگ اور دیہاتی سوکھی روٹی کھانے میں بڑی راحت اور لذت محسوس کرتے ہیں۔ میں بھی تو دیہاتی ہوں لیکن زمیندار ہونے کی وجہ سے سوکھی روٹی نہیں کھاتا۔ میں نے جب روٹی کھا لی تو مجھے بے تحاشا لذت محسوس ہوئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد کوچوان واپس آیا تو اس کے حواس اڑے ہوئے تھے۔
”سرکار غائب ہو گئی ہے“ وہ پھولی سانسوں کے ساتھ کہنے لگا۔
”ابھی تو ادھر ہی تھا“ میں نے کہا
”میں نے ساری جگہیں دیکھ ڈالی ہیں۔ لیکن وہ ملے ہی نہیں وہ جگہ دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہاں کوئی صدیوں سے نہیں بیٹھا ہو گا حالانکہ میں پچھلے ایک مہینے سے انہیں وہاں دیکھتا آ رہا ہوں“ کوچوان پریشان ہو کر سوچنے لگا پھر خود ہی سر دھنتے ہوئے بولا ”اللہ کی اللہ جانے …. اس نے ہی بلایا ہو گا تو چلے گئے۔ یہ اللہ کے بندے بھی پرندے ہوتے ہیں۔ ڈال ڈال پر بیٹھتے ہیں اور پھر چل دیتے ہیں۔ میں تو سرکار کے لئے دھنی کی دکان سے لڈو لے کر آیا تھا۔ ان کی دعا سے آج میرا پرائز بانڈ لگ گیا ہے۔ سو روپے کا پرائز بانڈ میں نے پچھلے دو سال سے سنبھال کر رکھا تھا جناب لیکن آج میرا دس ہزار کا پہلا انعام نکلا ہے۔ یہ سب ٹاہلی والی سرکار کی نظر سے ہوا ہے ۔خیر۔۔“ وہ تانگے پر سوار ہوا ”۔۔۔اب تو میں سرکار کے نام کا چڑھاوا چڑھاﺅں گا۔ میں بڑا پریشان تھا جناب۔ ایک ہفتے بعد میری بچی کی شادی تھی۔ اس کے ہونے والے سسر نے کہہ رکھا ہے کہ سو بندوں کا کھانا تیار رکھنا۔ میں بڑا پریشان تھا جناب لیکن اب پریشان نہیں ہوں۔ اللہ نے اپنے نیک بندے کے ذریعے مجھ پر عنایت تو کی“
کوچوان راستے بھر بولتا رہا۔ میں ہوں ہاں اور کبھی اثبات میں سر ہلا دیتا۔ دراصل میں نے زندگی بھر کبھی ایسے لوگوں سے واسطہ نہیں رکھا تھا۔ کسی دربار پر نہیں جاتا تھا کسی پیر فقیر پر اعتبار نہیں آتا تھا لیکن جب سے پیر ریاض شاہ او ر بابا جی سرکار سے واسطہ پڑا تھا میرے ذہن میں تبدیلیاں آنے لگی تھیں۔ میں گم صم سا رہنے لگا ایک بے نام سا اضطراب کہہ لو یا بے بسی۔ میرا خیال ہے بے بسی اور بے کسی مناسب ہے۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ یہ سب عقیدت کا کمال ہے۔ روحانیات کے درجات کو پہنچے لوگوں کی نظر کمال کا اثر ہے۔ لیکن اب ہوش آ رہا ہے کہ یہ سب دکھاوا اور ڈھونگ ہے۔ اسرار اور شرافت کے لبادے میں یہ لوگ نہایت گھناﺅنے اور بدمعاش ہیں۔ میں تو دو دنوں میں اس ریاض شاہ کی حقیقت کو پہچان گیا ہوں لیکن پتر جی لوگ برسوں گزار دیتے ہیں اور اندھی عقیدت میں مست رہ کر اپنا سب کچھ برباد کر دیتے ہیں۔ دنیا اچھے لوگوں سے بھی بھری ہوئی ہے پتر۔ مگر یہ شیطان مت مار دیتا ہے بندے کی۔ میرے بزرگ کہا کرتے تھے شیطان نیکی کی آڑ میں جب بہکاتا ہے تو اچھے بھلے لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں۔
چاچا جی …. آخر کون سی بات ہو گئی ہے کہ آپ بابا جی اور پیر ریاض شاہ کے روحانی درجات کو تسلیم نہیں کرتے“ میں نے ان کی طویل گفتگو کے بعد سوال کیا
”آہ بیٹا“ وہ تاسف سے اپنی مٹھیاں بھینچ کر بولے ”میں نے انہیں پہچان لیا ہے بیٹا۔ میں آج صبح قرآن شریف پڑھ رہا تھا تو میں نے آیات کا ترجمہ پڑھتے ہوئے غور کیا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ میرے سچے بندے صرف وہی لوگ ہوں گے جو اس کی اطاعت ،عبادت کے حق سے ادا کرتے ہیں۔ لیکن پتر جسے تم روحانی بزرگ سمجھتے ہو اور اس سے کائنات کی ایسی مخلوق وابستہ ہو جو کسی کو نظر نہیں آتی لیکن وہ مخلوق اس سے محبت کرتی ہو تو پھر ایسے شخص کو ولی اللہ ہی کہنا چاہئے ناں۔ لیکن وہ شریعت کے مطابق کام نہیں کرتا۔ بیٹے یہ شریعت ہی نیک و بد میں تمیز سکھاتی ہے۔ جو پیر یا روحانی شخصیت نماز اور قرآن سے تعلق نہیں رکھتی میں اسے کسی طور پر عظیم ہستی نہیں سمجھتا۔ میرا خیال ہے کہ پیر ریاض شاہ کے پاس کچھ ایسے علوم ہےں جو اس نے کسی سے سیکھ لئے ہیں اور اس نے جنات کو قابو کر رکھا ہے لیکن اس نے اپنی شخصیت کو روحانی بزرگ کے ایک روپ میں قید کر لیا ہے تاکہ لوگ اس پر شک نہ کریں۔
میرے بیٹے،تم کیا سمجھتے ہو میں بے وجہ اس کے خلاف ہو رہا ہوں۔ ہاں ابھی میں بے بس ہوں۔ مجھے ان لوگوں کی اندھی عقیدت نے باندھ رکھا ہے۔ بابا جی سرکار کا روپ میرے لئے بھی باعث کشش ہے مگر اس کی اصل حقیقت کیا ہے فی الحال میں اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ قرآن پڑھتے درود شریف کا ورد کرتے نعت رسول کی محافل سجاتے ہیں۔ مجھے ان کی بزرگی اور اعمال پر شک نہیں کرنا چاہئے۔ لیکن بیٹے ان کے اس عمل کو کیا کہیں گے جو انہوں نے میری نیک پارسا بیٹی زلیخا کے ساتھ کیا ہے“
”کک …. کیا کیا ہے“ زلیخا کا نام سنتے ہی میرے اندر اتھل پتھل ہونے لگی،”میں کچہری سے جب واپس آیا تھا تو رضیہ نے مجھے یہ کہا کہ بابا جی زلیخا کی شادی پیر ریاض شاہ کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سنتے ہی میرے ذہن کو دھچکا لگا۔ اس سے قبل کہ میں کچھ کہتا ریاض شاہ میرے پاس خود چل کر آ گیا۔
”زلیخا کو بابا جی نے اپنی بیٹی بنا لیا ہے ملک صاحب۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں زلیخا سے شادی کر لوں“ اس کی آنکھوں میں ہوس ناک چمک تھی۔ اس کی بات سن کر میری کن پٹیاں سلگنے لگیں۔ وسوسے وہم نفرتیں سب عیاں ہو گئیں اور عقیدتیں ننگی ہو کر ناچنے لگیں۔
”تو یہی چاہتا تھا ریاض شاہ اور اس کے لئے تم نے یہ کھیل کھیلا“ میں نے کہا ”لیکن میں اپنی معصوم اور بھولی سی بچی کی شادی تم سے نہیں کر سکتا۔“
”زلیخا تیار ہے ملک صاحب“ رضیہ جلدی سے بولی ”وہ کہتی ہے کہ بابا جی جیسے کہیں گے میں ویسے کروں گی“ یہ کہہ کر چاچا جی خاموش ہو گئے۔ ایک کرب بے پناہ تھا جو ان کے چہرے پر عیاں تھا اور ایک حشر برپا ہو رہا تھا میرے اندر …. زلیخا …. پیر ریاض شاہ سے شادی کر لیتی تو میں …. کس کی آس پر یہاں آتا۔ حویلی میرے لئے کیسے بنی سنوری رہ سکتی تھی۔ میری خاموش چاہت کا آبگینہ یوں ٹوٹ جائے گا اور مجھے اسے سنبھالنے کا موقع بھی نہیں ملے گا،میں نے یہ نہیں سوچا تھا۔
٭٭٭
انسان کتنا بے اختیار ہوتا ہے ۔اگر اسے اس بات کا احساس ہو جائے اپنی کم مائیگی، بے وقعتی کا یقین ہو جائے تو وہ امیدوں کی دہلیز پر کھڑے ہو کر ارمانوں کے محلات میں داخل ہوتے وقت ایک بار تو سوچنے لگے۔ لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے ۔انسان سوچتا رہتا ہے بے شک اسے اس کی سوچوں کے مطابق کچھ بھی نہ ملے۔ لیکن بے اختیار سوچوں اور ارمانوں کے پنڈولم میں لٹکتے لٹکتے ہی اس کی عمر کا ایک قیمتی عرصہ گزر جاتا ہے ۔
چاچا جی نے زلیخا اور پیر ریاض شاہ کی شادی کے بارے میں بات کر کے مجھے طوفانوں کی نذر کر دیا تھا۔ میں جو ابھی چاہتوں کا آشیانہ بنا رہا تھا وہ تندو تیز اندھیروں اور جھکڑوں میں تہ وبالا ہو رہا تھا۔
”چاچا جی ….میں حیران ہوں زلیخا کیسے مان گئی؟“ میں نے افسردہ اور حیران نظروں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
”میں بھی حیران تھا پتر جی کہ زلیخانے اس پا جی سے شادی کا اقرار کیسے کر لیا وہ حقہ کی نے ہاتھ میں تھامتے ہوئے کچھ دیر کے لئے خلاﺅں میں گھونے لگے”میرا خیال ہے بلکہ مجھے یقین ہے پتر جی۔ریاض شاہ اور اس کے بابا جی نے زلیخا پر جادو کر دیا ہے “
”چاچاجی…. میں ان پیروں فقیروں کو نہیں مانتا۔پیر اور فقیر وہی ہے جو شریعت اور روحانیت کی اصل روح کے مطابق زندگی گزارے۔ باقی تو کاروباری لوگ ہیں۔لیکن آج رات کو میں نے جو مناظر دیکھے ہیں اس کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پیر ریاض شاہ دوسرے بہت سے پیروں سے مختلف ہے ۔اس کے پاس جنات کی طاقت ہے۔اگر میں نے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا ہوتا تو شاید میں نصیر کی باتوں پر یقین نہ کرتا۔اب آپ نے جس مسئلہ کی طرف نشاندہی کی ہے اس کا حل تلاش کرنا بہت مشکل ہو گا“میں نے کچھ سوچتے ہوئے مگر الجھے ہوئے انداز میں پوچھا ”آپ اتنا سب کچھ جاننے کے باوجود ابھی بھی اس محفل سے اٹھ کر آرہے ہیں“۔
”مجبوری سے پتر جی مجبوری“حقہ گڑ گڑاتے ہوئے انہیں کھانسی کا دورہ پڑ گیا اور وہ کافی دیر تک کھانستے اور ہانپتے رہے۔ میں اٹھا اوران کے لئے پانی کا گلاس لایا۔ یہ کھانسی کی شدت تھی یا سینے میں اٹکے طوفانوں کی شدت کہ ان کی آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔ پانی پی چکنے کے بعد بولے”میں اگر بابا جی کی محفل میں نہیں بیٹھوں گا تو وہ جو چاہیے کر سکتے ہیں۔انہیں کم از کم اس وقت میرا خیال تو ہوتا ہے۔“
”اس سے کیا فرق پڑتا ہے چاچاجی“ میں نے کہا ”اگر اس کے ذہن پر شیطان سوار ہے تو وہ آپ کے جانے کے بعد بھی کچھ کر سکتا ہے ۔وہ آپ کو اپنی طاقتوں سے بے بس بھی تو کر سکتا ہے “۔
”ہاں کر سکتا ہے “چاچا جی شکستہ خاطر ہو گئے او رچار پائی کی ٹیک سے سرٹکا کر زیرلب کچھ بولتے رہے نہ معلوم اس وقت وہ کیا کہنا چاہتے تھے لیکن ان کے چہرے پر آزردگی اور بے بسی دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ ایک طاقتور اسنان پر جب زوال آتا ہے تو بے کسی کا ہتھوڑا اس کے کلیجے کو کیسے پیستا ہے۔اپنے علاقے کے طاقتور ترین زمیندار کو اس کے اپنے ہی گھر میں اس قدر مجبور اور مقہور دیکھ کر مجھے رحم آرہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ میں ان کی مدد کیسے کر سکتا ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے خود بھی خوف محسوس ہو رہا تھا۔کچھ دیر پہلے ہی تو میں نے بابا جی جیسی پر اسرار مخلوق کے درشن کئے تھے۔ یہ کوئی گماں آمیز صورتحال نہیں تھی میں نے جیتی جاگتی آنکھوں اور اپنی پوری حسیات کے ساتھ بابا جی کو دیکھ کر اور محسوس کیا تھا پھر میں کیسے ان کے وجود کی حقیقت سے انکار کر سکتا تھا۔چاچا جی خود بھی بابا جی کے وفود کی حقیقت سے آشنا تھے۔ اگر ان پر بیٹی کی عزت کا سوال نہ آتا تو یقیناً وہ اس کیفیت سے دو چار نہ ہوتے۔وہ زلیخا کو پیر ریاض شاہ سے محفوظ رکھنا چاہتے تھے لیکن زلیخا اور اس کی والدہ دونوں ہی اس شادی پر تیار تھے۔
”آپ کو آرام کرنا چاہیے“ میں نے چاچا جی سے کہا”مجھے یقین ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کسی بڑی مشکل میں نہیں ڈالے گا“۔
”پتر جی“ وہ دکھ سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ مجھے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگے”کیا تم میری مدد کر سکتے ہو“۔
”جی چاچا جی….کہئے میری جان بھی حاضر ہے“میں نے کہا”آپ جیسے شفیق انسان کے لئے اپنی جان قربان کرتے ہوئے مجھے دکھ نہیں ہو گا“۔
”تم زلیخان کو سمجھاﺅ…. میں اسے سمجھا چکا ہوں“ وہ آہستگی سے بولے ”مجھے یقین ہے وہ تمہاری لاج رکھ لے گی“۔
”میری لاج“ میں نے سوچا جو بیٹی اپنے باپ کی لاج نہ رکھ سکی وہ میری لاج کیسے رکھ سکتی تھی۔ میرا اس کے ساتھ رشتہ ہی کیا تھا۔ کس بھروسے پر اس کو سمجھاتا۔ اگر میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتا تو ممکن ہے وہ مجھے برا بھلا کہہ دیتی۔ میری اس کے سامنے حیثیت ہی کیا تھی۔ لازمی تو نہیں تھا وہ اپنے اور میرے خاموش رشتے کوتسلیم بھی کرتی ہو۔ میں کسی خوش فہمی میں بھی مبتلا نہیں رہنا چاہتا لیکن کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ میرے پاس کوئی ایسی طاقت بھی نہیں تھی کہ پیر ریاض شاہ کو اس کے زور پر روک دیتا یا بابا جی کو قائل کر سکتا؟ لیکن ایک اضطراب ہیجان اور برہمگی تھی جو میرے اندر لاوے کی صورت ابلنے لگی تھی۔
میں نے چاچا جی کو تسلی دی اور انہیں کہا کہ وہ آرام سکون سے سوجائیں میں کوئی راستہ تلاش کرتا ہوں۔ایک بھٹکے ہوئے انسان کو جب اپنا ہی راستہ معلوم نہ ہو تو وہ دوسروں کے لئے راستے کیسے تلاش کر سکتاہے۔ لیکن دوسروں کے زخموں کے اندر مال کے لئے یہ تسلیاں تو دینی ہی پڑتی ہیں۔
میں چاچا جی کے کمرے سے نکلنے ہی لگا تھا کہ نصیر ادھر آگیا۔
”تم ادھر کیا کررہے ہو۔ ادھر آجاﺅ ۔بابا جی سرکار بلارہے ہیں“ اس کے چہرے پر اشتیاق تھا۔
”نصیر میری بات سنو“ میں نے اس کا بازو تھام لیا
”کیا بات ہے “ وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا ”خیرت تو ہے“۔
”میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں“میں اسے کچھ کہنا چاہتا تھا کہ وہ یکدم کچھ یاد کرتے ہوئے تڑپ اٹھا “باتیں بعد میں کرنا۔ اس وقت جو محفل سجی ہوئی ہے اگر تم نے اس کا لطف نہ اٹھایا تو ساری زندگی پچھتاﺅ گے۔جلدی کرو۔ میں تو ابا جی کو بھی بلانے آیا تھا لیکن میرا خیال ہے وہ سو گئے ہیں۔بس تم جلدی چلو۔ آج تو بابا جی سرکار نے کمال ہی کر دیا ہے “۔
”کیا کمال کر دیا ہے“میں نے پوچھا۔
”وہ زلیخا کے لئے اپنے دیس سے بری لے کر آئے ہیں“اس کی بات سن کر جامد ہو گیا۔
”کک….کیا….بری….کس لئے…. کیوںذ‘میں نے نصیر کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر خوشیاں رقصاں کررہی تھیں۔اس بے وقوف کو شاید یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ بری کتنی بری شے ثابت ہو گی۔
”نصیر تم ہوش میں تو ہو“میں نے اسے مخاطب کیا ”کیا تم جانتے ہو کہ حویلی میں کیا ہونے جارہا ہے۔ چاچاجی بہت پریشان ہیں۔وہ نہیں چاہتے کہ پیر ریاض شاہ اور زلیخا کی شادی ہو“۔
”ان کا تو دماغ چل گیا ہے“نصیر کے چہرے پر اپنے والد کا ذکر سن کر عجیب سی نفرت ابھرآئی”وہ بے وجہ بابا جی پر شک کرتے ہیں،جب باقی گھر والے راضی ہیں تو ابا جی کو ضد نہیں کرنی چاہیے“۔
”لیکن نصیر….یہ بات مناسب نہیں ہے ۔تم سمجھنے کی کوشش“….میں نے اسے سمجھانا چاہا تو وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا:
”شاہد تم اس مسئلے میں نہ ہی آﺅ تو اچھا ہے ۔یہ میرے گھر کا معاملہ ہے ہمیں کیا کرنا ہے ہم بہتر جانتے ہیں۔تمہیں بولنے کی ضرورت نہیںہے۔ اور ہاں مجھے لگتا ہے اباجی نے تمہیں بھی بابا جی کے بارے بدگماں کرنے کی کوشش کی ہے ۔تمہارے دل میں بابا جی سرکار کے لئے بدگمانی پیدا ہو رہی ہے تو تم ابھی یہاں سے جا سکتے ہو۔میں بابا جی سرکار کو ناراض نہیں کرسکتا۔ ان پر میری سات زندگیاں بھی قربان“ میں نصیر کا منہ دیکھتا رہ گیا۔ وہ شخص جو کبھی میرے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کرتا تھا،میرا سایہ بنا رہتا تھا مجھے یوں مخاطب کررہا تھا
”میں چلا جاتا ہوں لیکن یادرکھنا نصیر تم نے جس آگ کو اپنے ریشم کی حفاظت کے لئے جلا رکھا ہے وہ سب کچھ تباہ کر دے گی“اس سے پہلے کہ نصیر مجھے کچھ کہتا اندر زنان خانے سے کسی کی چیخ سنائی دی۔ نصیر نے میری طرف دیکھا اور پھر جلدی سے زنان خانے کی طرف بھاگا۔ میں بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ اندر ہڑبونگ سی مچھی ہوئی تھی۔ بابا جی با آواز کسی کو ڈانٹ رہے تھے لیکن ایک نسوانی آواز شو مچاتی دہائیاں دیتی ہوئی کمرے سے بھاگ رہی تھی۔
”غازی اس کو پکڑ اور چار چھتر مار کر اس کا دماغ ٹھیک کر دے “بابا جی سخت آواز میں کہہ رہے تھے۔ اسی لمحے میں زنان خانے کے دروازے پر کھڑا تھا کہ ایک عجیب سا سیاہ رنگ کا ہیولا جس کی آنکھیں دہکتے انگاروں جیسی تھیں۔منہ لمبوترا اور دانت باہر کو نکلتے ہوئے تھے۔بال بکھرے ہوئے عجیب ہیئت میں مجھ سے آٹکرائی اورمیں کئی فٹ دور جاگرا۔ میرا دماغ گھوم گیا اور اس مکروہ ہیولے کا عکس میری آنکھوں میں جیسے منجمد ہو کر رہ گیا۔ خوف کی ایک سرد لہر نے میرے بدن کو جکڑ لیا تھا اور میں فرش پر یوں پڑا رہ گیا جیسے چھت سے کوئی چھپکلی زمین پرگرتی ہے۔
”ٹھہروآوارہ کمینی“غازی ہیولے کو پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا۔
”نصیر اپنے دوست کو اندر اٹھا کر لے آﺅ“بابا جی نے نصیر کو میری طرف بھیجا تو وہ مجھے تقریباً گھسیٹتا ہوا اندر لے آیا۔
”دروازہ بند کردو“ بابا جی بولے”اس حرام خور کو آج ہی آنا تھا۔ دیکھا رضیہ…. میں نے کہا تھا تجھے کہ تیرے گھر میں چڑیلوں کی پکھی ہے۔یہ وہی ہیں جنہوں نے تیری حویلی اور تیری بیٹی پر اپنی نحوست پھیلا رکھی ہے۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ یہاں ظاہر ہوں۔میں انہیں مارڈالتا مگر یہ غازی کوئی کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر رہی دیتا ہے کہ تمہیں پریشانی اٹھانی پڑ جاتی ہے ۔ریاض شاہ تم شاہد کو ہوش میں لاﺅ“میرے میرے اعصاب پتھرائے ہوئے تھے لیکن مجھے بابا جی کی باتیں سنائی دے رہی تھیں۔
ریاض شاہ میرے قریب آیا اور اس نے کچھ پڑھنے کے بعد میرے سر پردم کیا اور مجھے پانی پلا کر میرے حواس بحال کرنے لگا۔تھوڑی دیر بعد مجھے مکمل ہوش آگیا۔
”یہ سب کیا تھا “میرے منہ سے بے اختیار نکلا بابا جی بولے”بیٹا یہ ہماری دنیا کی ایک بدکار اور گندی مخلوق ہے ۔ تم انہیں چڑیلیں کہتے ہو۔ یہ کافر جنات میں سے ہیں۔ان کا پورا قبیلہ اس حویلی کے پچھواڑے میں رہتا ہے ۔ یہ وہی چڑیل ہے جس نے ہماری بیٹی زلیخا پر سایہ کیا ہوا ہے بلکہ اس نے نصیر کے والد پر بھی اثر کیا ہوا ہے۔ یہ ان کے دلوں پر بیٹھی ہے اور انہیں بدگماں کرتی رہتی ہے “بابا جی مجھے بتا رہے تھے”آج جب ہم اپنی بیٹی زلیخا کو بری دکھا رہے تھے تو اس نے دیکھ لیا اور ہماری محفل کا ناس مارنے کے لئے یہاں آگئی۔ حالانکہ میں نے غازی سے کہا تھا کہ وہ محفل کی حفاظت کرے لیکن اس حرام خور کو باتوں کا اتنا چسکا لگ چکا ہے کہ اپنے کام پر دھیان ہی نہیں دیتا۔ اس کی ذرا سی چوک سے یہ چڑیل اندر آگئی اور بری کو الٹ پلٹ دیا “
بابا جی کی باتوں کے دوران ہی غازی واپس آگیا۔اس کی سانس پھولی ہوئی تھی اس کے ساتھ ہی کسی کی گھٹی گھٹی چیخیں بھی سنائیں دینے لگیں۔
”تو اسے پھر یہاں لے آیا غازی“ بابا جی غصے سے چلائے۔
”سرکار…. میں نے مار مار کر اس کا دماغ ٹھیک کر دیا ہے “غازی بولا۔”اب کیا حکم ہے اسے جلا دوں“۔
”جاﺅ اور اسے باہر لے جاکر جلا ڈالو“بابا جی گرجدار آواز میں بولے۔
”نہ سرکار مجھے معاف کر دیں۔ غازی نے مجھے بہت مارا ہے“چڑیل چیختی ہوئی التجائیں کرنے لگی تو کمرے میں عجیب سی بو پھیلنے لگی۔
”غازی اسے باہر لے جاﺅ۔ یہ گند پھیلا رہی ہے “بابا جی گرجے اس کی ناپاکی سے سارا کمرہ گندہ ہو گیا ہے“۔
”سرکار “چڑیل چیختی”مجھے معاف کردیں“۔
”تمہیں کوئی معافی نہیں ملے گی….تم نے ہماری محفل کو غارت کر دیاہے“بابا جی بولے۔
”اگر آپ نے مجھے معاف نہ کیا تو میری ساری پکھی حویلی میں جنگ شروع کر دے گی “وہ اپنی جان بچانے کے لئے دھمکیاں دینے لگی۔ ”میں زلیخا کو بھی زندہ نہیں چھوڑوں گی بابا جی…. آپ مجھے چھوڑ دیں ورنہ بہت پچھتائیں گے“
”بکواس کرتی حرامی کی اولاد “اس کے ساتھ ہی زنا ٹے دار تھپڑ کی باز گشت سنائی دی۔”مجھے بلیک میل کرتی ہے ۔دھمکاتی ہے مجھے“بابا جی پر جلال لہجے میں بولے”غازی مارڈال اسے “اتنا سننا تھا کہ غازی نے نہ جانے کیا کیا ہو گا کہ اس جگہ جہاں وہ کھڑے تھے ایک ناریخی رنگ کا شعلہ سا ابھر اور پھر ایک نہایت کریہہ دلدوز چیخ گونجی۔ایسا لگا جیسے کوئی شے گہرے ترین کنویں میں گرتی چلی جارہی ہے ۔اس کے ساتھ ہی کمرے میں ناگواربدبو کا احساس ہوا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے پورا کمرہ کا فور کی مہک سے بھر گیا اور چند ہی منٹ مزید گزرے ہو ں گے کہ کمرے کا ماحول نہایت پر سکون ہو گیا ۔میرے حواس پر یہ منظر نقش ہو کر رہ گیا۔ میرا ذہن جو بابا جی کی باکمال ہستی سے متنفر ہو رہا تھا ایک بار پھر ان کی طاقتور ہستی کے سامنے کمزورپڑگیا۔
بابا جی اور پیر ریاض شاہ کسی غیر مانوس زبان میں گفتگو کرنے لگ گئے ، جب خاصی دیر گزر گئی تو بابا جی نے سب لوگوں کو مخاطب کیا اور کہا
”میں تم لوگوں کو ایک خوشخبری سنانے لگا ہوں “سب ہمہ تن گوش ہو گئے۔
”میں نے جیسا کہ کہا ہے زلیخا میری بیٹی ہے اور اس کی شادی پیر ریاض شاہ سے ہو کر رہے گی۔ اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ شادی اگلی جمعرات کو ہو گی۔نکاح مغرب کے وقت ہو گا اور ہاں رضیہ بیٹی۔ مہمانوں کو بلانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس شادی میں شرکت کے لئے ہمارے مہمان آنے والے ہیں“۔
بابا جی کی بات سن کر میرے اندر بے قراری اور وحشت ابھرنے لگی اور پھر اس لمحہ بابا جی نے مجھے مخاطب کیا۔
”شاہد پتر….اچھا ہوا تم بھی یہاں ہو۔ میرے بچے تمہیں اپنے بھائی ریاض شاہ کی طرف سے گواہ نامزد کرنا ہے ۔ اس لئے تم اتنے دن ادھر ہی رہو اور یہاں رہ کر اپنے امتحان کی تیاری کرو“۔
میں خاموش رہا۔کیا کہتا کہ آپ مجھے کس امتحان سے نکال کر کس امتحان میں مبتلا کررہے ہیں۔
تھوڑی ہی دیر بعد زنان خانے میں روشنی ہو گئی۔دیکھا تو بابا جی بڑے بستر پر گاﺅتکیہ کے سہارے لیٹے ہوئے تھے۔ ان کا بدن سفید چادر سے ڈھکا ہوا تھا مگر چہرہ تھوڑا سا عیاں تھا۔ پورا زنان خانہ شادی بیاہ کے کپڑوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک طرف سونے کے زیورات پڑے تھے اور دوسری طرف خوش پاش لباس۔ میں انہیں حسرت سے دیکھنے لگا۔ زلیخا یہ سب پہنے گی۔ کس کے لئے ۔پیر ریاض شاہ کے لئے۔اس پر کتنا جوبن ہو گا جب وہ دلہن بنے گی۔
”رضیہ….یہ سامان صندوق میں ڈال کر سنبھال دے“بابا جی بولے”ریاض شاہ ان پر دم کر دے، گندی چڑیل نے اس پر چھینٹے گرادئیے ہوں گے“بابا نے اس خیال کے ساتھ ہی نصیر کو مخاطب کیا اور کہا ”نصیر بزرگوں کی عزت ہر حال میں کرنا سیکھو۔ تم اپنے والدسے گستاخی کررہے تھے۔بیٹے کسی دوسرے کی عزت کو بڑھانے کے لئے اپنے بزرگوں کی عزت کو کم نہیں کیا جاتا۔ یہ بے ادبی اور گستاخی ہے۔تمہارے والدکو ان کی سوچ سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ وہ نہیں جانتے کہ ہم کون ہیں اور ریاض شاہ کون ہیں۔یہ تو ان کے نصیب اچھے ہیں کہ ہم نے زلیخا بیٹی کو اپنے لاڈلے بیٹے کے لئے منتخب کیا ہے “۔
”میں معافی چاہتا ہوں بابا جی “نصیر شرمندہ ہو گیا۔
رات خاصی گزر رہی تھی اور ایک بار محفل پہلے بھی برخواست ہو گئی تھی لیکن یہ محفل زلیخا کی شادی کے سامان کو دکھانے کے لئے سجائی گئی تھی۔ اس میں زلیخا شامل نہیں تھی غالباً وہ اپنے کمرے میں تھی۔ میں زلیخا سے ملنا چاہتا تھا اور ایک بار اس سے اس شادی کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا تھا لیکن اب اس بات کا سمے نہیں تھا مجھے صبح کا انتظار کرنا تھا۔
نصیر اور میں دونوں جب سونے کے لئے کمرے میں آئے تو اس نے آتے ہی اشتیاق کے مارے پوچھا”شاہد سناﺅ تمہیں میرے بابا جی کیسے لگے“۔
میں خاموش نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا۔ وہ تو عقل سے پیدل ہو گیا تھا۔اسے کیا کہتا۔ اس کی آنکھوں پر بابا جی طاقت کا پردہ پڑ گیا۔
”تم بتاتے کیوں نہیں“ اس نے دوبارہ کہا تو میں نے کہا”باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن زلیخا کی ریاض شاہ کے ساتھ شادی….یہ اچھی بات نہیں ہے “۔
”یار اس سے کیا فرق پڑتا ہے ”وہ بے حسی سے بولا“زلیخا کی شادی تو ایک دن کرنی ہی تھی۔ تمہیں پتہ ہے ویسے بھی وہ بڑی خاموش رہتی ہے ۔ اس پر سایہ ہے ۔ یہ تم نے دیکھ ہی لیا ہے اس کا علاج بھی یہی ہے ۔ بابا جی کہتے ہیں اگر کسی دوسرے شخص کے ساتھ اس کی شادی کر دی گئی تو وہ شخص زندہ نہیں رہ سکے گا۔“۔
”کیوں ….ایسی کیا بات ہے ؟“میں نے چونکتے ہوئے سوال کیا۔
”میں نے بھی یہی سوال کیا تھا“نصیر بولا ”بابا جی نے کہا تھا کہ جن لڑکیوں پر جنات اور چڑیلوں کی حکمرانی ہوجائے وہ ان کے زیر اثر رہتی ہوں تو ان کی شادیاں کامیاب نہیں ہو سکتیں ہاں کوئی روحانی طورپر طاقتور شخص ہی ایسی عورتوں کو سحری اثرات سے نکال کر انہیں ایک صحت یاب زندگی دے سکتا ہے۔ بابا جی کہتے ہیں کہ زلیخا جب سے پیدا ہوئی ہے اس پر حویلی میں رہنے والی چڑیلوں نے اپنا سایہ ڈال رکھا ہے ۔اس وجہ سے ان کے خون میں ایسے جراثیم داخل ہو چکے ہیں جو کسی دوسرے وجود کو تخلیق نہیں دینے دیں گے۔….اور بھی بہت سی باتیں بابا جی نے بتائیں تھیں مجھے تو ان کی سمجھ نہیں آ سکی“۔
میں بھونچکا رہ گیا۔
”بابا جی کو یقین ہے کہ زلیخا پیر ریاض شاہ کے ساتھ بہت خوشی بھی رہے گی اور محفوظ بھی۔تم نے دیکھ لیا اس چڑیل نے کتنی ہڑبونگ مچائی تھی۔ بابا جی نے ہمیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ حویلی میں جنات کی پکھی موجود ہے جو اس شادی کو کامیاب نہیں ہونے دے گی اور فتنے جگائے گی ان کی یہ بات سچ ثابت ہو گئی ہے“۔
نصیر کی یہ باتیں مجھے خرافات اور اوہام پر ستی لگنی چاہئے تھیں لیکن میں انہیں فی الفور جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ میرے پاس کوئی ایسا پیمانہ نہیں تھا کہ میں بابا جی اور پیر ریاض شاہ کی ہر بات کو پرکھ سکتا اور پھر ان سے بحث و مباحثہ کرتا۔ میں بھی خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑنے پر مجبور ہو رہا تھا۔رات میں نے آیت الکرسی پڑھتے پڑھتے گزار دی۔ میرے بچپن کے اساتذہ جن سے میں نے قرآن شریف پڑھا تھا وہ کہا کرتے تھے کہ آیت الکرسی پڑھنے سے انسان شیطانی وسوسوں اور اس کی دسترس سے محفوظ ہو جاتا ہے لہٰذا میں نے کم و بیش تیس چالیس بار آیت الکرسی پڑھی اور سونے کی کوشش کرتا رہا۔ فجر کے وقت مجھے نیند نے آلیا لیکن نیند کچھ ہی دیر بعد کھل گئی ایسا لگا جیسے میں ابھی اونگھ لے رہا تھا کہ کسی نے مجھے جگا دیا ہے ۔
میں نے غور کیا تو واقعی میں اونگھ رہا تھا۔ اس وقت کمرے میں حویلی کا ملازم نورا داخل ہوا تھا اور نصیر کو اٹھا رہاتھا۔نصیر نے کیا اٹھنا تھا میری آنکھ کھل گئی۔
”کیا بات ہے نورے“میں نے آنکھیں صاف کرتے ہوئے سوال کیا۔
”وہ جی…. بڑے ملک صاحب بلا رہے ہیں اسے“وہ تھوڑا سا گھبرایا ہوا تھا۔
”خیر تو ہے “میں نے سوال کیا۔
”خیر نہیں لگتی۔باہر پولیس آئی ہوئی ہے ۔پورا تھانہ ہی آگیا ہے سرکار“۔
”اس میں کیا پریشانی ہے “میں نے کہا”پولیس کو حویلی میں آتی ہی رہتی ہے “۔
”جناب…. بات ہی کچھ ایسی ہے ۔ملک صاحب بڑے پریشان ہیں۔پولیس نے کہا ہے کہ ساتھ والے گاﺅں کے چودھری سردار حسین کی بیٹی کا سارا جہیز اور بری چوری ہو گئی ہے ۔ اس سلسلے میں پولیس ملک صاحب کے پاس آئی ہے تاکہ ان کی مدد بھی حاصل کی جا سکے“۔
شادی کا سامان چوری ہو گیا۔ تو پولیس یہاں کیوں آئی ہے ۔ملک صاحب نے چوروں کو یہاں چھپا رکھا ہے کیا؟“ میں نے الجھے ہوئے لہجے میں سوچا کہ ملک صاحب اور اس زمیندار کی آپس میں لگتی تھی ممکن ہے اس نے اس خیال کے تحت اس چوری کا شک ملک صاحب پر کیا ہو گا۔ میں نے نصیر کو اٹھایا اور ہاتھ منہ دھوکر باہر بیٹھک آنے لگے تو پیر ریاض شاہ کو راہداری میں ٹہلتے ہوئے دیکھ کر ہم رک گئے اس کی آنکھوں میں عجیب سی تشویش تھی۔ اس نے ہم دونوں کو بلایا اور کہا”پولیس کو میرے بابا جی کے بارے کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔بابا جی نے منع کیا ہے کہ اس طرح ان کی شخصیت کا چرچا ہو جائے گا اور یہ وہ پسند نہیں کرتے۔“۔
ہم دونوں بیٹھک میں پہنچے تو پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود تھی۔ ڈی ایس پی عبداللہ قریشی خود تفتیش کے سلسلے میں آیا ہوا تھا زمیندار چودھری سردار حسین اور ملک صاحب سمیت علاقہ کے بہت سے معززین بیٹھے تھے ملک صاحب خاصے پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ڈی ایس پی مجھے جانتا تھا۔ اس نے دیکھتے ہی کہا”لوجی صحافی بھی پہنچ گئے“۔
”یہ اپنا بچہ ہے“ملک صاحب کہنے لگے”ادھر کل رات سے آیا ہوا ہے “انہوں نے تعارف کرایا تو میں نے اس چوری کے بارے ڈی ایس پی سے پوچھا۔اس کی بات سن کر میرا ماتھا ٹھنک گیا۔ میرے ذہن میں ان گنت مانظر گھومنے لگے وہ کہہ رہا تھا ”چور نے اتنی صفائی سے چوری کی ہے کہ چودھری صاحب کی حویلی کا کوئی دروازہ اندر باہر سے کھلا نہیں پایا گیا۔ بری کے کپڑے اور زیورات ہی چرائے گئے ہیں۔چور کوئی بہت ہی ہوشیار ہے اس نے ایک نشان بھی نہیں چھوڑا۔ اگر اس واقعہ پر غور کروں تو لگتا ہے یہ چوری ہوئی ہی نہیں ہے ۔کھوجیوں کے مطابق اس کمرے میں کسی انجانے بندوں کے قدموں کے نشان بھی نہیں پائے گئے۔گھروالوں سے بھی تفتیش کر لی ہے۔مجھے تو لگتا ہے ۔یہ واردات کسی جن نے کی ہو گی “۔
ڈی ایس پی کا یہ کہنا تھا کہ میرے اعصاب چٹخنے لگے اور میں نصیر کی طرف دیکھنے لگا۔ نصیر کے ذہن میں شاید وہ بات نہیں آئی تھی جو میں نے محسوس کی تھی ۔وہ ڈی ایس پی کی باتوں میں منہک تھا اور میرا ذہن رات والے واقعات کے گرد گھومنے لگا۔زلیخا کی بری….خوش پوش قیمتی سہاگنوں والا لباس اور زیورات سے بھرے ڈبے میری آنکھوں میں ناچنے لگے۔
ملک صاحب نے ڈی ایس پی کو ساری حویلی کا معائنہ کرا دیا مگر انہیں کچھ نہیں ملا۔ وہ مہمان خانے میں‘ حویلی کے پچھواڑے میں‘ باغیچے میں‘ اوپر بالکونیوں اور اندر پرانے تہ خانے میں بھی لے گئے۔ میں ان کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتا تھا۔ ان کے چہرے پر تشویش ابھر رہی تھی۔ وہ میری طرف امید بھری نظروں سے دیکھنے لگے۔ مگر میں خاموش اور بے تاثر رہا۔ آدھ گھنٹہ بعد پولیس واپس بیٹھک میں آ گئی لیکن چاچا جی کے چہرے پر جو کدورت ابھری تھی ابھی تک غائب نہیں ہوئی تھی۔
”چودھری صاحب …. کچھ نہیں ملا۔ ملک صاحب نے بڑی محبت کا ثبوت دیا ہے۔ ایک ایک کونہ‘ صندوق‘ برتن سب کچھ دیکھ لیا ہے۔ اچھا ملک صاحب بڑی مہربانی۔ اگر آپ کو کسی پر کوئی شک ہو یا کوئی اطلاع ملے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔ یہ بیٹی کے جہیز کا مسئلہ ہے۔ بیٹی غریب کی ہو یا امیر کی۔ جب شادی ہو رہی ہوتی ہے تو سب کے ارمان ایک سے ہوتے ہیں۔ اپنی بری اور جہیز سے اس کو عشق ہو جاتا ہے“
ڈی ایس پی اٹھتا ہوا بولا اور پھر جب ملک صاحب اور میں پولیس کو حویلی سے باہر چھوڑ کر آئے تو ملک صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
”پتر وہ“ وہ بولنے لگے تو میں نے آہستگی سے ان کا ہاتھ دبایا اور سرگوشی کی۔ ”چاچا جی کچھ نہیں کہنا۔ خاموشی سے دیکھیں کیا ہوتا ہے“
”حیرت ہے بھئی“ اس کے باوجود وہ پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے۔
ہم حویلی کے اندر پہنچے اور پھر دونوں ہی اکٹھے مہمان خانے کی طرف دیکھنے لگے۔ اسی وقت مہمان خانے کا دروازہ کھلا اور پیر ریاض شاہ اور نصیر باہر آ گئے۔
”ابا جی آپ نے اچھا نہیں کیا“ وہ گستاخ لہجے میں اپنے والد کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ”اور تم نے ….“ وہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے نفرت سے بولا ”تم نے پولیس کو جان بوجھ کر اکسایا تھا‘ ان کی راہ ہموار کی تھی کہ وہ حویلی کی تلاشی لیں“
”دیکھو …. ایسی بات نہیں ہے“ میں نے صفائی دیتے ہوئے کہا ”میں نے تو ان کی کمینگی کو پکڑ لیا تھا کہ دراصل ان کی اپنی نیت کیا تھی“
”ان کی نیت جیسی بھی تھی لیکن تمہاری نیت صاف ظاہر ہو گئی ہے“ نصیر غصے میں بول رہا تھا ”تم اپنا بوریا بستر اٹھاﺅ اور یہاں سے چلے جاﺅ“
”نصیرے“ ملک صاحب غصے سے کھول اٹھے۔ ”تمہاری جرات کیسے ہوئی۔ شاہد حویلی سے نہیں جائے گا۔ اس کی بجائے تمہیں حویلی سے نکال دوں گا۔ خبردار جو اب ایک بھی بات کی“
”ابا جی …. آپ نہیں سمجھتے۔ اس نے۔ اس نے“ وہ پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھ کر بولنے لگا ”اس نے اس لئے پولیس کو حویلی کی تلاشی پر اکسایا تاکہ پیر صاحب اور پولیس کا ٹکراﺅ ہو جائے“
”اوئے تیرے پیر صاحب چور ہیں کیا“ ملک صاحب تیوری چڑھاتے ہوئے کہنے لگے ”ہو جاتا ٹاکرا۔ پھر کیا ہوتا۔ باباجی پولیس کو اٹھا کر باہر پھینک دیتے۔ پاگل دے پتر۔ پولیس کو کیا غرض ہے کہ ہمارے گھر میں کون رہتا ہے اور کب سے رہ رہا ہے اور پھر تمہارے پیر صاحب کو کس بات کا خوف ہے۔ کیوں جی“ وہ پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھنے لگے ”کیوںشاہ صاحب کوئی پریشانی تھی اس میں“
”نہیں …. بس یہ ویسے ہی باﺅلا ہو رہا ہے“ پیر ریاض شاہ نے نصیر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا ”تم بے وجہ شک نہ کیا کرو۔ بابا جی نے تمہیں منع بھی کیا تھا کہ اپنے والد کے ساتھ گستاخی نہ کیا کرو۔ لیکن تم پھر بھی باز نہیں آتے“
تھوڑی دیر بعد چاچا جی ڈیرے پر جانے کے لئے حویلی سے چلے گئے۔ میرا ذہن بہت سے سوالوں کے گرد گھوم رہا تھا۔ نصیر نے کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا۔ میں نے اس غرض سے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کے مصداق پولیس اور پیر صاحب کا آمنا سامنا کرا دینا تھا اور اس کے بعد جب موقع ملتا پولیس کو کچھ باتیں بتائی جا سکتی تھیں کہ پیر صاحب کے ساتھ کچھ چور جنات بھی ہیں۔ لیکن نصیر نے میری چوری پکڑ لی تھی اور مجھے سب کے سامنے بے نقاب کر دیا تھا۔ مجھے اب شرم بھی آ رہی تھی کہ شاہ صاحب میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے۔۔ میں ان کا سامنا کیسے کروں گا۔ کیا مجھے اب حویلی سے چلے جانا چاہئے۔ شرمندگی اور خفت کا احساس اتنا بڑھا کہ میں نے اپنا سامان اٹھایا اور حویلی سے جانے لگا۔ لیکن نصیر کی والدہ نے مجھے واپس نہیں جانے دیا۔
”پتر جمعرات کو زلیخا کی شادی ہے تم یہیں رہو گے۔ نصیرا تو پاگل ہے۔ میں اس کے کان سیدھے کر دوں گی“ وہ بڑے لاڈ سے کہہ رہی تھیں ”بابا جی بھی تم سے محبت کرنے لگے ہیں۔ ابھی کل مجھے کہہ رہے تھے کہ شاہد بہت تابعدار اور مخلص لڑکا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو میرے لئے نصیر جیسا ہے“ چاچی جی کے لہجے میں ماﺅں جیسی شفقت تھی۔ انہوں نے نصیر کو بلایا اور اسے میرے سامنے ڈانٹ دیا۔ اس نے مجھ سے معافی مانگ لی اور جپھی ڈال کر کہنے لگا ”اگر تو میری باتوں پر اسی طرح روٹھنے لگا تو پھر ہماری دوستی جلد ختم ہو جائے گی۔ یار کبھی کبھی میرا غصہ برداشت کر لیا کر“
میں ان جیسے پرخلوص لوگوں کی باتوں میں جلد بہل گیا۔
صبح کی افراتفری کی وجہ سے اس روز حویلی کی صبح خاصی مکدر رہی۔ زلیخا چاچی جی کے ساتھ ہمیں ناشتہ کرایا کرتی تھی لیکن اس روز وہ سامنے نہیں آئی۔
”زلیخا کہاں ہے رضیہ“ ملک صاحب نے ڈیرے سے واپس آ کر جب ناشتے پر اسے نہ پایا تو بولے بغیر نہ رہ سکے۔
وہ پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھ کر بولیں ”اندر ہے آرام کر رہی ہے“
”طبیعت تو ٹھیک ہے اس کی“ چاچا جی بولے
”ٹھیک ہے“ وہ معنی خیز انداز میں شاہ صاحب کی طرف دیکھنے لگیں پھر خود ہی مسکرا دیں ”شرما رہی ہے۔ شاہ صاحب جو یہاں بیٹھے ہیں“ یہ سن کر ملک صاحب اور خود میری طبیعت یکدم مکدر ہو گئی۔ غصہ نفرت اور لاچارگی ہمارے ذہنوں اور قلبوں سے نکل کر پورے بدن میں چیونٹیوں کی طرح رینگنے اور گدگدی کرنے لگی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کا چہرہ تکنے لگے۔
”اچھا میں چلتا ہوں۔ اب مجھے آرام کرنا ہے“ شاہ صاحب نے غالباً ماحول میں پیدا ہونے والے تناﺅ کو محسوس کر لیا تھا۔ان کے جاتے ہی چاچا جی برس پڑے ”رضیہ تم مجھے برباد کر دو گی“
”اللہ نہ کرے ملک صاحب“ وہ گرم دودھ کا پیالہ ان کے سامنے سرکاتے ہوئے بولیں ”بابا جی سرکار نے کہا ہے کہ زلیخا بہت خوش رہے گی“
”کیسے خوش رہے گی۔ اس کا آگے ہے نہ پیچھے۔ یہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے اور تم بیٹی اس کے سپرد کر رہی ہو۔ بڑا ظلم کر رہی ہے تو لیکن میں تمہیں صاف صاف کہہ دیتا ہوں میں یہ ہونے نہیں دوں گا“ ملک صاحب دودھ کا پیالہ پئے بغیر اٹھ کر چلے گئے۔
”پتر میں کیا کروں اب تو زلیخا بھی کہتی ہے جو بابا جی کہیں گے میں وہی کروں گی۔آج رات جن زادیاں اسکی مہندی لیکر آنے والی ہیں۔وہ بڑی خوش ہے“ وہ مجھ سے مخاطب ہوئیں ”تو ایسا کر ایک بار تو زلیخا سے مل لے اور پھر اپنے چاچا جی کو بتا دے کہ وہ کیا چاہتی ہے“
میں ۔۔۔ اور زلیخا سے ۔۔۔۔۔ مل کر۔۔۔ یہ پوچھوں کہ وہ شاہ صاحب سے شادی کیوں کر رہی ہے۔ نہیں نہیں۔ مجھے یہ جرات ہی نہیں ہو سکتی تھی۔ میں کیسے سوال کر سکتا تھا۔
”چاچی یہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن میرا خیال بھی یہی ہے کہ یہ جوڑ مناسب نہیں ہے۔ اگر آپ یہ چاہتی بھی ہیں تو کم از کم ایک بار شاہ صاحب کے بارے پوری چھان بین تو کر لیں۔ آپ لاہور جائیں اور ان کے بہن بھائیوں والدین وغیرہ سے مل لیں۔ ہو سکتا ہے کہ شاہ صاحب پہلے سے شادی شدہ ہوں اور۔۔۔۔۔“
یہ سن کر چاچی کے چہرے پر زردی چھا گئی۔ یہ پچھتاوے کا رنگ تھا۔ ”کہتا تو ٹھیک ہے تو“ وہ ماتھا پکڑ کر بیٹھ گئیں
”ایسا کر“ انہوں نے نصیر کی طرف دیکھا جو خاموشی سے زمین پر کوئلے کی مدد سے لکیریں کھینچ رہاتھا
”تو اور نصیر لاہور جا کر شاہ صاحب کے بارے پتہ کر لو“
”ماں …. اگر شاہ صاحب کو معلوم ہو گیا تو“ نصیر نے اپنا خدشہ ظاہر کیا
”میں بابا جی سے خود بات کر لوں گی“ چاچی نے پہلی بار جرات سے کام لیا ”ملک صاحب کا وہم بھی دور ہو جائے گا“
ادھر ہم یہ باتیں کر رہے تھے اور ادھر ایک اور ہی طوفان اٹھ رہا تھا۔ ناشتہ کرکے میں اپنے کمرے میں پہنچا اور کتابیں لے کر باغیچے میں چلا گیا۔ حویلی کے پچھواڑے میں کھلے رنگ برنگے پھلدار اور پھولدار پودے جنت جیسی راحتوں سے بھرے ہوئے لگتے تھے۔ مجھے یہاں بیٹھ کر بڑا لطف اور سکون آتا تھا۔ حویلی کی شہتیروں والی بالکونی کا چھجا اس باغیچے کی طرف بڑھا ہوا تھا۔ زلیخا عموماً اس چھجے میں آ جاتی تھی اور باغیچے کو دیکھتی رہتی تھی۔ میں نے غیرارادی طور پر اس جانب دیکھا تو چھجا سنسان پڑا تھا۔ میرے دل پر افسردگی طاری تھی لیکن امتحان کا اضطراب بھی اپنی جگہ موجود تھا۔ میں پڑھنے میں منہمک تھا کہ یکدم احساس ہوا جیسے میرے چاروں طرف آنکھیں تیر رہی ہوں۔ گہری‘ خاموش‘ بے کس مگر اپنے اندر ہزاروں شکوے لئے ہوئے۔ باغیچے کی فضا میں بھی مانوس سی مہک بڑھنے لگی۔ زلیخا‘ بے ساختہ اک مہک نے مجھے اس کے وجود کا احساس دلایا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ چھجا اب سنسان نہیں تھا۔ زلیخا کھڑی تھیں اور بے خیال نظروں سے باغیچے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی زلفیں بکھری ہوئی تھیں۔ چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی۔ اس کی یہ حالت احساس دلاتی تھی کہ وہ جیسے برسوں سے سوئی ہی نہیں ہے‘ جاگ رہی ہے‘ صدیوں سے۔ لیکن چاچی تو کہتی تھی وہ اس شادی پر بہت خوش ہے ،تو کیا کوئی لڑکی ایسے خوش نظر آتی ہے،جیسی وہ دکھائی دے رہی تھی۔ میں اس کی جانب تکے جا رہا تھا۔ کتاب میرے ہاتھوں سے پھسل کر نیچے جا گری۔ کوئی احساس ایسا تھا جو مجھے بے ساختہ اس طرف کھینچ رہا تھا۔ میں اٹھا اور باغیچے کے رخ پر ہی چھجے کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو گیا اور ماحول سے بالکل بیگانہ ہو کر زلیخا کی طرف دیکھنے لگا۔ مگر وہ اپنے اندر کہیں کھوئی ہوئی تھی اسے نہیں معلوم تھا کہ کوئی باغیچے میں کھڑا ہو کر اس کو دیکھ رہا ہے۔ میں خاصی دیر تک یونہی اس کو تکتا رہا اور سوچتا رہا۔ کیا زلیخا اور میرے بیچ اس چھجے جتنی مسافتیں ہیں۔ وہ بلندی پر اور میں پستی پر کھڑا اس کے وصل کی تمنا کر رہا ہوں۔ کیا ایک طالب مطلوب کی خواہش ناتمام کو پا سکتا ہے۔ میں اسی ادھیڑ پن میں مستغرق تھا کہ ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور زلیخا کی پریشان سیاہ زلفیں لہرانے لگیں۔ ہوا ایک دم تیز ہو گئی تھی ایسی تیز کہ اس میں خنکی بھی تھی۔ موسم یکبارگی اپنے تیور بدل رہا تھا اور ہوا جیسے آندھی میں بدل کر رہ گئی۔ معاً زلیخا کی ایک دردناک چیخ ابھری اور پھر اس کے ساتھ ہی ہوائیں آندھیاں اور خنکی سب کافور ہو گیا۔ ایسا لگا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔
زلیخا کی چیخ پوری حویلی میں سنی گئی تھی۔ میں تیزی سے اندر گیا لیکن میرے اوپر بالکونی میں پہنچنے سے پہلے ہی شاہ صاحب نصیر اور چاچی وہاں موجود تھے
”وار کر گئے کافر“ شاہ صاحب تیزی سے بولے۔ زلیخا پر تشنج کا دورہ پڑا تھا اور وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی
”شاہ صاحب نظر لگ گئی میری بچی کو“ رضیہ چاچی چلانے لگیں۔
”نظر“ میرے دل سے آہ نکلی ”شاید اسے میری نظر لگ گئی ہے۔ میں ہی تو اسے دیکھ رہا تھا“
”اٹھاﺅ اسے …. اور نیچے لے کر آﺅ“ شاہ صاحب کا چہرہ اس وقت پسینے میں شرابور تھا۔ میں حیران تھا کہ انہیں اس قدر پسینہ کیوں آیا ہوا ہے۔
”جلدی کرو“ وہ بڑے اضطراری انداز میں بول رہے تھے اور بے چینی و بے قراری ان کے انگ انگ سے نمایاں ہو رہی تھی ”وار بڑا سخت کیا گیا ہے۔ اس کا توڑ کرنا ہے جلدی کرو“
”شاہ صاحب میرے بابا جی کو بلاﺅ۔ جلدی کرو۔ باباجی کو بلاﺅ۔ ہائے اللہ میری بچی“ چاچی رونے لگی تھیں۔
”بابا جی سرکار نہیں آ سکتے اس وقت“ شاہ صاحب بولے ”مجھے ہی کچھ کرنا ہو گا“ وہ میری طرف دیکھ کر بولے ”تم میرے ساتھ چلو“ نصیر نے زلیخا کو اٹھایا اور نیچے زنان خانے میں لے گیا اور شاہ صاحب مجھے مہمان خانے میں لے گئے۔
”دیکھو۔ اس وقت مجھ سے سوال جواب مت کرنا۔ زلیخا کی زندگی خطرے میں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم نہیں چاہو گے کہ وہ مر جائے۔ حویلی میں مقیم کافر جنات کی پکھی نے اپنی چڑیل کی موت کا بدلہ لینے کے لئے زلیخا پر وار کیا ہے۔ یہ تو شکر ہے کہ مجھے جلد معلوم ہو گیا“
”آپ کو کیسے معلوم ہو گیا۔ آپ تو آرام کررہے تھے“۔ میں سوال کئے بغیر نہ رہ سکا
”ہم کبھی نہیں سوتے“ وہ بے ساختہ بولا ”سنو ہم لوگوں کی دنیا تمہاری دنیا سے بڑی مختلف ہے۔ ہماری یاریاں اور دشمنیاں بڑی مہنگی ہوتی ہیں اور اس کا ہمیں خراج دینا پڑتا ہے۔ یہ نیند بھی ایک خراج ہے۔ ہم بظاہر سو رہے ہوتے ہیں مگر ہماری روح ہماری حفاظت کر رہی ہوتی ہے۔ اس لئے تو ہمارا سارا بدن دکھتا ہے۔ آگ بدن کو جھلساتی رہتی ہے۔ تم کسی عامل پیر کے بدن کو چھو کر دیکھو۔ تمہیں لگے گا جیسے دہکتے ہوئے گوشت کو چھو لیا ہے۔ میں اس وقت آرام کر رہا تھا جب کافر جنات زلیخا پر حملہ کرنے کے لئے آئے تھے لیکن میری مامور روحانی قوتوں نے مجھے آگاہ کر دیا لیکن افسوس اس وقت تک حملہ ہو چکا تھا خیر“ میں بھونچکا ہو کر ریاض شاہ کی باتیں سن رہا تھا جو نہ جانے کس خیال کے تحت میرے سامنے کھل رہا تھا۔
”دیکھو بابا جی آج دستیاب نہیں ہیں۔ اس لئے میں نے کہا تھا کہ پولیس کو میرے بارے نہ بتانا۔ میں نصیر کے کہنے پر اس وقت پردہ کر گیا تھا۔ اتنی قوت ہے مجھ میں کہ میں عام لوگوں کی نظروں سے پردہ کر جاﺅں لیکن روحانی علوم میں بعض معاملات ایسے ہیں جو پردہ میں چلے جانے کے باوجود عامل کو بے بس کر دیتے ہیں۔ میں زلیخا کو ہوش میں لا سکتا ہوں لیکن کچھ تاخیر ہو جائے گی۔ میں دیر نہیں کرنا چاہتا مجھے اس وقت ایک پیالا خون کا چاہئے تم اس کا فی الفور بندوبست کر دو“
”خخ خون …. کک کس کا“ میں بوکھلا گیا اور پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھنے لگا
”تمہارا“ وہ ٹھہر ٹھہر کر بولنے لگا تو مجھے یوں لگا جیسے میں ایک انسان کے سامنے نہیں کسی درندے کے سامنے کھڑا ہوں اور وہ مجھ کو میری رضا سے مانگ رہا ہے۔
***
پیر صاحب کی فرمائش کو پورا کرنا میرے لئے اتنا آسان نہیں تھا۔
”اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل ہے“ میں نے اپنے اندر کے لرزتے ہوئے انسان کی مجبوری کو ڈھال بناتے ہوئے کہا ”میرا مقصد ہے اگر اس کا کوئی متبادل ….“
”ہو تو سکتا ہے …. مگر اس میں وقت لگ جائے گا تاخیر کا مطلب ہے زلیخا کی موت“ پیر ریاض شاہ کی گہری اور ساحروں جیسی آنکھیں میری آنکھوں میں جھانک رہی تھیں“ میں تمہیں یہ بتا ہی دیتا ہوں کہ زلیخا کو کافر جنات کے حملے سے بچانے کے لئے تمہارے خون کا ایک پیالا کیوں چاہئے؟“ پیر ریاض شاہ کچھ کہتا رہا اور میں سنتا رہا ”جو شخص بھی زلیخا کو دل سے چاہے گا اس کا خون ہی اس مقصد کے کام آ سکتا ہے“ اس کا مطلب تھا کہ پیر ریاض شاہ میرے دل کی گہرائیوں میں بسنے والے کی کھوج پا گیا تھا۔ ایک لحظہ کے لئے تو میرے چہرے پر گھبراہٹ نمودار ہو گئی تھی اور میں شرم سے پانی پانی ہو گیا تھا لیکن چند ہی ثانئے بعد میں کہنے لگا ”شاہ صاحب! چاہتے تو اب آپ بھی ہیں۔ شادی آپ سے ہو رہی ہے اس کی پھر آپ خود“ میں شاید جرات کرکے یہ کہہ دیتا لیکن الفاظ حلق میں ہڈی کی طرح پھنس گئے۔ میرے دل نے کہا کہ شاید یہ کام تمہیں کر جانا چاہئے۔ یہ ریاض شاہ تو فقط اپنی ہوس کی خاطر زلیخا سے شادی کر رہا ہے۔ اس کے دل میں زلیخا کے لئے کیسی محبت۔
”ٹھیک ہے …. لیکن خون کیسے لیں گے“ میں نے رضامندی ظاہر کی ”سرنج تو یہاں نہیں ہو گی“
”فکر نہ کرو اس کا بندوبست ہے میرے پاس“ اس کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ کھلنے لگی۔ اس نے مہمان خانے ہی میں رکھے ہوئے اپنے بیگ کو کھولا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ بیگ اس کے کپڑوں سے بھرا ہو گا مگر یہ کیا۔ اس نے تہ کئے ہوئے کلف شدہ کپڑے نکال کر ایک طرف رکھ دئیے۔ ان کے نیچے کافی سارا ایسا سامان تھا جسے خرافات کے علاوہ کوئی نام نہیں دے سکتا تھا۔ نہ جانے کس کس جانور یا پرندے کی ہڈیاں ایک لفافے میں رکھی ہوئی تھیں۔ ایک کپڑے کی بھدی سی گڑیا تھی۔ ایک نوکدار چھری تھی اور کچھ ایسی ہی جڑی بوٹیاں بڑی احتیاط سے سنبھال کر رکھی ہوئی تھیں۔
”یہ کیا ہے“ میں نہ رہ سکا تو سوال کر ہی دیا۔
پیر ریاض شاہ نے مڑ کر ترچھی نظروں سے میری جانب دیکھا۔ پہلے خاموش رہا پھر کچھ سوچ کر جواب دیا ”یہ عملیات کا سامان ہے“
”عملیات کا سامان“ معاً میرے ذہن میں بجلی کوندی ”اوہ پیر ریاض شاہ تو اصل کھیل یہ ہے“ میں نے سوچا چند سال پہلے سیالکوٹ میں پولیس نے ایک کالا علم کرنے والے عامل کو پکڑا تھا میں نے ایک فیچر تحریر کیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ جب وہ کسی پر جادو ٹونہ کرتے ہیں اور اس کے لئے ہوائی مخلوق سے بھی خدمات لیتے ہیں تو ان پکڑنے اور کام پر مجبور کرنے کے لئے عملیات کا سامان استعمال کرتے ہیں۔ اس نے مجھے الو کے خون سے لکھے تعویذ‘ اونٹ کے کولہے کی ہڈی‘ کافور‘ سندور‘ اگر کا برادہ۔ مردوں کی راکھ‘ نہ جانے کیا کیا اس نے بتایا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ سامان عموماً سندھ سے منگوایا جاتا ہے اور اس کام کے لئے مخصوص لوگ ہی اس کے لئے خدمات انجام دیتے ہیں۔
پیر ریاض شاہ کے اس سامان نے کئی سوال پیدا کر دئیے۔ اگر میں اس عامل کی باتوں کا تجزیہ کرتا تو پیر ریاض شاہ اور اس میں کوئی فرق نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ چاچا جی (بڑے ملک صاحب) کا شک درست تھا کہ یہ پیر صاحب کا دراصل کوئی اور ہی چکر ہے۔ اگر واقعی ان میں حقیقی روحانیت بدرجہ اتم موجود ہوتی تو انہیں اپنی قوتوں کے اظہار کے لئے ایسے حیلے بہانوں کی ضرورت نہ ہوتی۔ ان کی زبان سے ادا ہونے والا کلمہ ہی کسی بھی بگڑے کام کی اصلاح کر سکتا تھا۔ لیکن اس کا مطلب یہی تھا کہ پیر ریاض شاہ عاملوں کی بگڑی ہوئی شکل تھا۔
میں جب یہ سوچ رہا تھا اس دوران پیر ریاض شاہ نے سامان میں سے ایک بلیڈ اور کانسی کا چھوٹا سا پیالا نکالا۔ پیالا کسی پرانے دور کی ایجاد نظر آتا تھا۔ اس کے کناروں پر چھوٹی چھوٹی مورتیاں بنی تھیں۔ اس میں آدھ پاﺅ مائع شے آتی ہو گی۔ اس کی شکل مجھے تو دئیے کی طرح لگی تھی۔ میں زندگی میں بہت سارے لوگوں کو خون کی بوتلیں دے چکا تھا۔ مجھے یاد ہے جب میں ابھی مرے کالج سیالکوٹ میں ایف ایس سی کر رہا تھا تو والدہ محترمہ کے بیمار ہونے پر پہلی بار میں نے انہیں خون کی بوتل دی تھی۔ اس کے بعد تو عادت سی بن گئی سال میں دو تین بار کسی نہ کسی کو خون دے ہی دیتا تھا اور کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوتا تھا لیکن آج …. پیر ریاض شاہ جن حالات اور طریقہ کار کے ذریعے میرا خون لے رہا تھا یہ کسی بھی ہوش مند اور دلیر آدمی کو بھی چونکا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ میرے لئے اب فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
ریاض شاہ نے دائیں کلائی پکڑی اور پیالا اس کے نیچے رکھ کر ک لائی پر کوئی خاص قسم کا سفوف ملنے لگا۔ مجھے کلائی پر ٹھنڈک سی محسوس ہونے لگی او پھر کچھ ہی لمحے بعد جب اس نے اس جگہ پر بلیڈ سے چیرا دیا تو گوشت دو حصوں میں بٹ گیا اور خون پیالے میں گرنے لگا۔ پیالا بھر گیا تو اس نے دوبارہ وہی سفوف میرے زخم پر لگا دیا مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ وہ زخم ایک روز میں یوں مندمل بلکہ غائب ہو گیا تھا جیسے یہاں سے کاٹا ہی نہ گیا ہو۔ بعد میں میرے دل میں کئی مرتبہ یہ خیال آیا کہ ان سے اس دوائی کے بارے میں پوچھ لوں اور اس پر مضمون لکھ دوں زخموں کو حیرت انگیز طور پر مندمل کرنے اور جوڑنے والی دوا سے استفادہ عام کیا جا سکے لیکن اس کا مجھے موقع ہی نہیں ملا تھا۔
پیر ریاض شاہ کے ہاتھ اور لب خون کو دیکھتے ہی تیزی سے حرکت کر رہے تھے۔ اس نے تھیلے میں سے روئی نکالی اور اس کی بتی بنا کر پیالے میں یوں رکھ دی جیسے یہ واقعی کسی دئیے کی لو ہو۔ وہ زیر لب کچھ پڑھنے لگا پھر اس نے بیگ سے کچھ چیزیں نکالیں اور وہ بھدی سی گڑیا بھی میرے سپرد کر دی خون سے بھرا ہوا …….. اس نے خود اٹھایا تھا اور پھر ہم تیزی سے زنان خانے کی طرف ہو لئے۔
زلیخا ماہی بےآب کی طرح تڑپ رہی تھی۔ اس کے گلے سے کسی ذبح ہوتے ہوئے بیل کی طرح آوازیں آ رہی تھیں۔ چاچی اس کی ہر آواز پر تڑپ تڑپ جاتی تھیں۔ اس وقت اگر ملک صاحب یہاں ہوتے تو اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر نہ جانے کیا کر جاتے نصیر کا رنگ بھی زرد تھا۔
”نہیں چھوڑیں گے۔ مار دیں گے اسے۔ تم نے ہماری عورت کو قتل کیا ہے ہم اسے مار دیں گے“
زلیخا کے منہ سے اب کسی کی بھاری بھرکم آواز نکل رہی تھی۔ ”تم جتنے مرضی منتر پڑھ لو مگر یہ نہیں چھوٹے گی“
”شاہ صاحب خدا کے واسطے میری بچی کو بچا لیں“ چاچی اس کی آواز سننے کے بعد شاہ صاحب کے قدموں میں گر گئیں۔
”انشاءاللہ …. میرے مولا نے چاہا تو زلیخا کو کچھ نہیں ہو گا۔ یہ حرام زادہ بکواس کر رہا ہے۔ میں اس کو بھی مار ڈالوں گا اور دیکھتا ہوں کون مجھے روکتا ہے“ شاہ صاحب جب یہ کہہ رہے تھے تو ان کی آنکھیں سرخ اور متورم ہو گئی تھیں۔ انہوں نے جلدی سے کچھ پڑھتے ہوئے زلیخا کے گرد ایک دائرہ (حصار) لگا دیا اور باقی لوگوں کو دائرے سے پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔ دائرہ قائم ہوتے ہی زلیخا کا بدن زمین سے اچھلنے لگا اور وہ شے جو اس کے اندر سے بول رہی تھی اسے پٹخنے لگی چاچی کی تو چیخیں ہی نکل گئیں۔
”باز آ جا …. باز آ جا“ شاہ صاحب گرجے ”تری دم میں نمدہ بھر دوں گا تو تب آرام سے بیٹھے گا چھوڑ دے اس بچی کو“
”بھگوان کی سوگند نہیں چھوڑوں گا“ وہ ڈکراتے ہوئے بولا تھا
”اچھا تو …. ہندو ہے تو“ شاہ صاحب نے سوال کیا۔ اس دوران وہ کچھ پڑھتے جا رے تھے اور اس کے بولنے سے قبل ہی انہوں نے سات بار زلیخا کی طرف پھونک ماری۔ میں نے محسوس کیا کہ پھونک کے ردعمل میں زلیخا کے بدن پر طاری لرزہ ختم ہو گیا تھا۔ شاہ صاحب نے دائرہ سے ایک فٹ کے فاصلہ پر خون سے بھرا دیا رکھا اور اس کی لو کو آگ دکھا دی۔ پھر اس میں انگلی ڈبوئی اور مجھ سے گڑیا لے کر اس کے سر پر خون سے مانگ بھر دی۔
”کھی کھی“ اب کی بار کوئی کھسیانے انداز میں ہنسا تھا اور آواز زلیخا کے اندر سے ہی اٹھی تھی ”میں سب جانتا ہوں مہاراج۔ بے وقوف بنا رہے ہو انہیں اگر انہیں معلوم ہو گیا کہ تم کیا ہو تو …. کیا بنے گا تمہارا“
”بکواس بند کرو“ شاہ صاحب بولے ”تو مکار‘ دغاباز‘ شیطان ہے تو مجھے گمراہ نہیں کر سکتا یہ تیری باتوں سے بدگمان نہیں ہو سکتے“
”کھی کھی کھی“ زلیخا پر قابض ماورائی شے ہنستی رہی۔ اس لمحہ شاہ صاحب نے کچھ پڑھائی شروع کر دی اور بار بار دئیے میں انگلی ڈبو کر گڑیا کے بدن پر نکتے لگاتے رہے اور پھر ایک حیرت انگیز اور دہشت ناک منظر ہمارے سامنے رونما ہو گیا
پیر ریاض شاہ نے ایک ہاتھ میں نوک دار چھری پکڑی اور دوسرے میں خون والا روشن دیہ۔ زلیخا کے اندر مچلنے والا اب خاموش تھا اور اس کی آنکھیں پتھرائی ہوئی تھیں۔ پیر ریاض شاہ نے زلیخا کی کلائی پکڑی اور اس پر زخم لگا کر خون لگانے لگے اور وہ خون بھی انہوں نے دئیے میں شامل کر دیا۔ انہوں نے جیسے ہی چھری سے زلیخا کی کلائی کو چیرا تھا تو اس کے اندر چھپے طاغوت نے بڑی دلدوز چیخ ماری تھی اور وہ اس زور سے لرزنے لگا تھا جیسے اس پر نزع طاری ہو۔ یہ سب ایک آدھ منٹ میں ہی ہو گیا۔ شاہ صاحب خون کی مخصوص تعداد حاصل کر چکے تو انہوں نے زلیخا کی کلائی پر بھی وہی سفوف مل دیا جو میری کلائی پر لگایا تھا۔ اس کا خون بہنا بند ہو گیا۔ وہ دائرے سے باہر نکل آئے اور پھر کچھ پڑھتے ہوئے دائرے کے گرد چکر لگانے لگے۔ معاً کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے زور زور سے بجنے لگے جیسے باہر تیز طوفان آ گیا ہو اور وہ اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو اپنے ساتھ بہا لے جانا چاہتا ہو۔ پوری حویلی جیسے زلزلوں کی زد میں آ گئی تھی۔ چاچی تو اس دہشت ناک منظر سے بے ہوش ہو گئی تھی۔ دیوار گیر الماریوں میں رکھے برتن نیچے گر گئے تھے اور پورا کمرہ یوں ہچکولے لینے لگا تھا جیسے کوئی کشتی پانی کے بھنور میں پھنس جانے کے بعد ہچکولے کھانے لگتی ہے۔
یہ دیکھ کر شاہ صاحب نے دائرے کے گرد چکر تیز کر دئیے۔ ساتواں چکر لگاتے ہی انہوں نے دئیے کو پھونک مار کر بجھا دیا اور پھر سارا خون گڑیا کے اوپر گرا کر گڑیا کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا۔ گڑیا خون میں تروتازہ ہو گئی تھی اور اس کی ہیئت ہی بدل گئی تھی۔ لیکن چند ثانئے بعد یوں لگا جیسے گڑیا کا سارا خون کسی نے چوس لیا۔ یہ منظر ناقابل فہم تھا ادھر خون میں تربتر گڑیا کا خون خشک ہو رہا تھا اور ادھر زلیخا کے مردہ زرد چہرے کے گلابی خدوخال دوبارہ سے تروتازہ ہو رہے تھے۔
پیر ریاض شاہ احساس تفاخر سے میری طرف دیکھ رہا تھا اور میں سمجھ رہا تھا کہ وہ ستائش کا منتظر ہے۔ یہ عقل سے ماورا پراسرار دنیا کے باسیوں اور ایک انسان کے علم میں مجادلہ کے بعد جو نتیجہ نکل کر سامنے آ رہا تھا اسے بار بار جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔ اس نے چاہے جو بھی طریقہ اختیار کیا تھا مگر اس کا مثبت نتیجہ یہ سوچنے پر مجبور کر رہا تھا کہ یہ شخص واقعی مخفی علوم کی قوت رکھتا ہے۔
گڑیا کا رنگ بالکل سفید ہو گیا تھا اور ادھر زلیخا بالکل ہشاش بشاش۔ بالکل ویسی جیسے میں اسے باغیچے میں کھڑے ہو کر کبھی کبھار دیکھتا تھا۔ اس کی نسوانی تمکنت اور معصومیت دیکھ کر میرا دل کف افسوس ملنے لگا کہ اے زلیخا …. تیری قسمت پھر بھی پھوٹ گئی۔ تو پیر ریاض شاہ جیسے فتنہ علم کی بیوی ہونے جا رہی تھی۔
اس دوران زلزلے اور طوفان کی شدت ختم ہو گئی تھی البتہ کھڑکیاں سرسراتی ہوا سے ابھی تک بج رہی تھیں۔ لیکن پھر۔ دس منٹ کے اندر ہی اندر زنان خانے میں سکون لوٹ آیا تھا۔ زلیخا اٹھ پڑی تھی اور بڑی حیرت سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ چاچی بھی ہوش میں آ چکی تھی اور شاہ صاحب نے انہیں منع کر دیا تھا کہ وہ زلیخا کو اس کی بے ہوشی وغیرہ کے بارے میں کچھ نہ بتائیں۔ شاہ صاحب نے چاچی سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگلے چالیس گھنٹے بڑے نازک ہیں لہٰذا زلیخا سے کہہ دیا جائے کہ وہ باغیچے کی طرف نہ جائے۔ اسے نظر لگ جائے گی اور پھر کوئی وار کر دے گا۔
اس شام تک میں شاہ صاحب کے پاس ہی بیٹھا رہا۔ میں ان سے پہلے بھی مرعوب تھا لیکن زلیخا کو جس صورتحال سے انہوں نے نکالا تھا ہزاروں وساوس کے باوجود میں ان کی علمی طاقتوں کا معترف ہو گیا تھا۔ میں پہلے اندر سے بدظن ہو رہا تھا مگر اب بدظنی کو دور کر رہا تھا۔ ملک صاحب کا بھی خیال آ رہا تھا کہ وہ کیا سوچیں گے کہ میں بھی گیا۔ دوسروں کی طرح پیر ریاض شاہ کے تلوے چاٹنے لگوں گا۔ مگر جب کوئی ایسی طاقت جس کے بارے میں آپ نے تمام عمر سن رکھا ہو جب اپنے ساتھ ظہور پذیر ہوتے دیکھتے ہیں تو آپ کے خیالات کا بدل جانا ایک فطری امر ہوتا ہے۔ شاہ صاحب کی عزت میں یکایک نہیں کر رہا تھا بلکہ میں ایسے متعدد حیرت العقول واقعات کا مجھے بھی حصہ بننا پڑا تو میں ان کی مخفی صلاحیتوں کا معترف ہوتا چلا گیا۔ اس روز شاہ صاحب نے مجھے اپنے اور اپنے خاندان کے بارے میں بہت کچھ بتایا حتیٰ کہ یہ بھی بتا دیا کہ بابا جی سرکار ان کے پاس کیسے آئے۔ اس وقت چونکہ وہ فارغ تھے۔ بابا جی کا اس روز ناغہ تھا اس لئے فراغت میں ہم دونوں باتیں کرتے رہے اور زوال کا وقت ہو گیا تو معاً شاہ صاحب چونکے اور کہنے لگے۔
”یار …. میں تو بھول ہی گیا تھا۔ ابھی ایک کام رہتا ہے“ یہ کہہ کر انہوں نے وہی گڑیا نکالی۔ اب اس کا رنگ نیلا پڑ چکا تھا۔
”تم نے دیکھا اس گڑیا نے کتنے رنگ بدلے ہیں“ وہ کہنے لگے ”یہ زہر ہے جو تجھے نظر آ رہا ہے۔ بعض جنات جب کسی پر قابض ہوتے ہیں تو جاتے جاتے اپنا زہریلا مواد انسان کی رگوں میں اتار جاتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ پیر صاحب نے جن تو ان کے سامنے نکالا اور مارا تھا مگر بندہ پھر بھی صحت یاب نہیں ہو رہا اسی لئے اس بندے کو تعویذات‘ دم شدہ پانی اور بعض اوقات کچھ ادویات بھی کھلائی جاتی ہیں۔ لیکن زلیخا کو کوئی دوائی نہیں کھلاﺅں گا۔ میں نے جو عمل کیا ہے اسے کوئی انسان نہیں کر سکتا اس لئے کہ مجھے یہ عمل بابا جی سرکار نے سکھایا ہے۔ اگر مجھے اس عمل پر دسترس نہ ہوتی تو یقین کرو یہ قابض جنات میرا بھرتہ بنا دیتے اور حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے۔ خیر“ وہ کہنے لگے ”مغرب ہوتے ہی یہ گڑیا قبرستان میں دفن کرنی ہے۔ اس کے ساتھ ہمیں بڑا گوشت ایک کلو چاہئے۔ اس کا بندوبست میں نے کر لیا تھا“ یہ کہہ کر انہوں نے دروازے کے پاس رکھا ایک گوشت کا تھیلا اٹھایا اور مجھے پکڑا کر کہنے لگے ”یہ سارا کام تمہیں کرنا ہے“
”مم …. مجھے کرنا ہے میں اور قبرستان جاﺅں گا اور پھر …. یہ گڑیا وہاں دفن کروں گا“ میں گھبرا گیا
”گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نصیر کو نہیں بھیجنا چاہتا میں سمجھتا ہوں کہ اس کام کے لئے تم سے معقول بندہ کوئی نہیں“ انہوں نے مجھے سارا کام سمجھایا اور میرا ان کے لئے اور زلیخا کے لئے حکم بجا لانا بہت ضروری تھا۔
قبرستان نہر کی پٹری سے ایک کوس اندر تھا۔ شیشم بوڑھ اور سرکنڈوں کی بہتات سے ڈھکا ہوا یہ قبرستان چار دیہاتوں کا مشترکہ تھا۔ زوال ہوتے ہی میں نے سارا سامان لیا اور مغرب کی اذانوں سے پہلے ہی میں نے قبرستان میں جا کر گڑیا کو دفن کر دیا اور گوشت اس کے مدفن کے اوپر رکھ دیا۔ میں چور آنکھوں سے قبرستان کے اندھیروں میں اپنے وہم کو تلاش کرتا ہوا قبرستان سے نکل رہا تھا کہ ایک دم پاﺅں کسی گڑھے میں پڑا تو ایسا لڑکھڑایا کہ پاﺅں سیدھا کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا اور میں اس گڑھے میں گر گیا۔ یہ گڑھا نہیں ایک قبر تھی جو جانوروں نے کھود رکھی تھی یا بارش کی وجہ سے نیچے بہہ گئی تھی۔ خوف سے میرا پورا بدن بیل گاڑی پر رکھے خالی برتنوں کی طرح کھنکنے لگا۔ پسینہ سے تربتر میں اضطراری کیفیت میں اٹھا اور جلدی سے قبر سے نکلنے لگا تو مجھے اپنے ہاتھوں میں چپ چپ سی محسوس ہونے لگی تو لگا جیسے گیلی مٹی سے ہاتھ بھر گئے ہیں لیکن پھر جب دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا تو اس میں چپچپاہٹ اور تعفن کا احساس ہوا۔ ناگوار سی بو میرے نتھنوں سے ٹکرائی اور پھر مجھے جس احساس نے جان کے خطرے میں مبتلا کر دیا اس کو بیان کرنا اب میرے بس میں نہیں ہے۔ بس مجھے اتنا یاد ہے کہ میں اتنے زور سے چیخ مار کر چلایا تھا اور میرے لبوں سے نکلا تھا
”یا اللہ میری مدد“ اس کے ساتھ ہی میں نے باآواز بلند درود شریف پڑھنا شروع کر دیا تھا اور میری آواز بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی۔ گڑھا زیادہ گہرا نہیں تھا بھرپور کوشش کرکے جب میں گڑھے سے نکلا تو مجھے احساس ہوا کہ کوئی سایہ بھی گڑھے سے باہر نکل رہا ہے اور آہستہ آہستہ اس کے گہرے سیاہ ہیولے کے وجود سے روشنی پھوٹ رہی ہے اور پھر کچھ ہی دیر بعد وہ سیاہ ہیولہ روشن لبادے میں ظہور پذیر ہو گیا
”بچ گئے تم …. درود پاک نہ پڑھتے تو مارے جاتے تم“ وہ کون تھا یہ میں نہیں جانتا لیکن اس کا استہزائیہ انداز میں یہ کہنا مجھے اس کے متعلق کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کر سکتا تھا
”تم کون ہو“ میں نے سوکھے ہوئے حلق سے آواز نکالی
”جا کر اپنے باباجی سے پوچھ لینا“ وہ کہنے لگا ”تمہارے بابا جی کے بہت سے فرض مجھے چکانے ہیں۔ میرا یہ پیغام انہیں پہنچا دینا“ یہ کہتے ہی روشنی غائب ہو گئی اور وہ سیاہ ہیولہ لہراتا ہوا دوبارہ قبر میں اتر گیا اور پھر میں نے ایسی دوڑ لگائی کہ مجھے یاد ہے اگر میں اس روز کسی دوڑ کے عالمی مقابلے میں بھی شریک ہوتا تو پہلی پوزیشن لے لیتا۔ میں نے حویلی میں جا کر دم لیا اور عین اس وقت مہمان خانے میں داخل ہو رہا تھا جب اندر سے باباجی کی غصے سے بھری آواز آ رہی تھی۔
میں دروازے کے پاس ٹھٹھک گیا
”تم نے یہ حرکت کی کیوں“ بابا جی سخت ناراضگی کے عالم میں گرج رہے تھے۔ ان کی آواز سے کمرہ گونج رہا تھا۔
”غلطی ہو گئی سرکار“ پیر ریاض شاہ نے غالباً نہایت آہستگی سے معافی مانگی ہو گی کہ بابا جی دوبارہ سے گرجے۔
”غلطی ہو گئی …. تم نے کوئی ایک غلطی کی ہو تو میں تمہیں معاف کر دوں۔ دیکھو ریاض شاہ تمہاری غلطیوں کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے۔ میں اپنی مخلوق کو کب تک سمجھاتا رہوں گا۔ تمہاری غلطیاں حد سے بڑھ رہی ہیں اور اس کا نقصان جنات کو اٹھانا پڑتا ہے۔ تمہاری عیاشیوں کے لئے جنات کو اپنا خون بہانا پڑتا ہے۔ تم معصومیت اور سچائی کو قتل کر رہے ہو ریاض شاہ۔ میں اگر تمہاری والدہ محترمہ سے کئے ہوئے وعدے کا پابند نہ ہوتا تو رب ذوالجلال کی قسم تمہیں اس طرح جلا کر راکھ کر دیتا جیسا کہ تم نے آج اس ہندو جن کو جہنم واصل کیا ہے“
”سرکار …. میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں کروں گا۔ بندہ بشر ہوں مجھ سے غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ آپ کی دعاﺅں کا ہی ثمر ہوں میں بابا جی سرکار۔ آپ کا بچہ ہوں۔ آپ کے بھروسے اور زعم میں آ کر ایسے کام کر جاتا ہوں۔”
”ایک تو تم انسان بڑے عجیب ہو۔ ازلی خطا کا سہارا لے کر اپنی غلطیوں کو معاف کرا لیتے ہو“ باباجی ذرا نرم لہجے میں بولے ”اور ایک ہماری مخلوق ہے جو غلطی کرتی ہے تو اسے معافی کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ ان کی خطائیں معاف نہیں ہوتیں“
بابا جی کی تاسف سے بھری آواز سن کر میں چونکا بابا جی کیا کہہ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر اس کو معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ہے جو سچے دل سے معافی مانگتا اور اس کے آگے سرنگوں رہتا ہے۔ مسلمان جنات کو بھی تو معافی مل سکتی ہے۔ ہاں اس کائنات میں صرف ایک شیطان ہے جسے معاف نہیں کیا جائے گا۔ پھر بابا جی نے ایسی کیوں بات کی“ میں یہ سوچتا رہا مگر مجھے سمجھ نہیں آ سکی کہ ایک عبادت گزار مسلمان جن ہوتے ہوئے بھی وہ رب ذوالجلال کے رحم سے امید کیوں نہیں رکھتے۔ میں یونہی کھڑا اندر ہونے والی گفتگو سن رہا تھا کہ یکایک میرے بدن میں سنسنی پھیل گئی۔ کسی نے نہایت نرم و گداز ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا تھا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو سرتاپا سفید لبادے اوڑھا غازی کھڑا تھا۔
”چوری چوری باتیں سننا بری بات ہے بھائی صاحب“ وہ مسکرایا تو گندمی رنگت والے غازی کے کشادہ ہونٹوں کے اندر موتیوں جیسے سفید دانت نظر آنے لگے۔ اس کی زبان سرخ اور دراز تھی۔ لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے بولا ”باباجی کو بتا دوں کہ شاہد میاں چوری چوری باتیں سن رہے تھے تو وہ غصہ کریں گے۔ مجھ سے مک مکا کر لو۔ کچھ کھلا پلا دو۔ میں ان سے نہیں کہوں گا“
بے ساختہ میری ہنسی نکل گئی ”کیا کھاﺅ گے“ میں نے کہا ”میرا بھی بھوک سے برا حال ہے“ مجھے اپنے اندر نقاہت کا احساس ہو رہا تھا۔
”ٹھیک ہے۔ دونوں مل کر کھائیں گے“ وہ سوچنے لگا ”مگر کھائیں کیا۔ ادھر گاﺅں میں کیا ملے گا چلو شہر چلتے ہیں“
”شہر اور اس وقت“ میں نے کہا ”خدا کا کچھ تو خوف کھاﺅ غازی۔ میں اس وقت جا سکتا ہوں شہر اور تم نہیں جانتے میں کن حالات سے گزر کر یہاں پہنچا ہوں“ قبرستان میں پیش آنے والے واقعہ کو یاد کرکے میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے اور میں بے ساختہ حویلی کے گیٹ کی طرف دیکھنے لگا۔ غالباً دور اندھیرے میں درختوں کی شاخیں لہرا رہی تھیں مگر مجھے لگا جیسے قبرستان والا عفریت میرے تعاقب میں یہاں تک آ گیا ہے۔ میرا ماتھا پسینے سے بھیگ گیا
”ہمارے ہوتے ہوئے تمہیں خوف آ رہا ہے“ غازی ہنسا ”واہ بھئی واہ۔ بھائی بھی کہتے ہو اور گھبراتے بھی ہو میاں۔ تم اس دم جلے کی بات کر رہے ہو۔ وہ کیا اس کی اوقات کیا۔ میرے بھائی اس کی یہ جرات ہی نہیں کہ ہمارے باباجی سرکار کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔ ہاں وہ جس بات پر شیر ہوتا ہے اس کی نزاکت ہم جنات کے لئے اہم ترین مسئلہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات مصلحت کی وجہ سے ہم اپنی بگڑی ہوئی مخلوق کی بدمعاشیاں بھی برداشت کر لیتے ہیں۔ لیکن یہ صرف کسی خاص انسان کی وجہ سے برداشت کرنا پڑتی ہیں اور وہ خاص انسان کون ہے جس کی وجہ سے ہم اس دم جلے کو کچھ نہیں کہتے۔ یہ اپنے شاہ صاحب ہیں۔ تم نے سنا ہے بابا جی ان پر برس رہے ہیں“ غازی بولتا چلا گیا
”ایسی کیا بات ہے …. جو شاہ صاحب سے سرزد ہو گئی ہے“ میں نے آہستگی سے کہا اور ساتھ ہی غازی کو بازو سے تھام لیا۔ میں اسے لے کر باغیچے کی طرف نکل آیا مبادا بابا جی ہماری باتیں نہ سن لیں
”مجھے ادھر لے کر آنے کا کوئی فائدہ نہیں“ وہ راستے میں اپنا بازو چھڑا کر بولا۔ ”بابا جی کو معلوم ہے کہ میں اور تم کیا باتیں کر رہے ہیں۔ ان کے ہزاروں کان ہیں“وہ دلچسپ انداز میں مسکرایا ”باتوں میں مجھ سے کیا گیا وعدہ نہ بھول جانا“
”نہیں بھولتا یار۔ اندر اور باہر کی بھوک تنگ کر رہی ہے۔ میں کشمکش میں گرفتار ہو رہا ہوں۔ دیکھو غازی“ میں نے جیب سے سو روپے کا ایک مڑا تڑا سا نوٹ نکالا ”یار میں صحافی ہوں۔ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ ان پر عیاشی کر سکوں۔ یہ رکھ لو اور تم خود ہی شہر سے کھانے کی کوئی شے لے آﺅ“ اس نے نوٹ پکڑا اور اپنی آنکھوں کے سامنے کھول کر لہرانے لگا۔
”بھائی تمہارے پیسوں سے بو آ رہی ہے“ وہ مسکرانے لگا ”انہیں زیادہ دیر تک جیب میں نہ رکھا کرو۔ تم جتنا پیسہ جیب سے نکالو گے تمہارے پاس اسی رفتار سے پیسہ آئے گا“
”اچھا …. یہ بھی کرکے دیکھ لوں گا“ میں نے اپنے مطلب کی بات کرتے ہوئے کہا ”وہ تم بتا رہے تھے کہ شاہ صاحب سے کیا غلطی ہو گئی“
”ایسا کرو“ وہ مجھے چکما دیتے ہوئے بولا۔” کچھ دیر کے لئے تم یہاں ٹھہرو۔ میں شہر سے کھانے پینے کے لئے کچھ لیتا آﺅں۔ پھر کھائیں گے اور باتیں بھی کریں گے“
میں نے اسے جانے دیا اور پھر دو چار منٹ میں ہی وہ واپس آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں کاغذ کا بڑا لفافہ تھا جس میں گرم گرم جلیبیاں رکھی تھیں وہ ندیدوں کی طرح زبان لبوں پر پھیرنے لگا
”گرم گرم جلیبیاں مجھے بہت پسند ہیں۔ آہ تم انسانوں کو اللہ نے کیسی کیسی نعمتوں سے سرفراز کیا ہوا ہے …. کاش میں بھی انسان ہوتا اور جی بھر کر تمہاری نیا کی غذائیں کھایا کرتا۔ کم از کم تمہارا جوٹھا تو نہ کھانا پڑتا“
”کیا مطلب“
”چھوڑو جلیبیاں کھاﺅ۔ پھر کبھی بتاﺅں گا“ اس نے کوئی بات بتانے سے پہلو بچایا مگر میں نے اس کا دامن نہیں چھوڑا
”میں نے سنا ہے تم لوگ ہڈیاں اور فضلہ کھاتے ہو یعنی تمہارے لئے یہ پسندیدہ غذائیں ہیں“
”بھائی کہا ہے نہ چھوڑو یہ باتیں۔ دل کیوں خراب کر رہے ہو۔ اتنا اچھا کھانے کو مل رہا ہے اور تم کیسی چیزوں کا ذکر کر رہے ہو۔ ہاں یہ اور بات ہے“ وہ لفافے سے شیرے میں لتھڑی ہوئی ایک جلیبی منہ میں ڈال کر کھانے لگا اور پھر اپنی انگلیاں چاٹتے ہوئے بولا ”اگر انسان کے روپ میں ہوں تو ہم تمہاری غذائیں کھاتے ہیں لیکن جب اپنے اصل میں ہو تو ایسی ہی اشیا کھانی پڑتی ہیں جو تمہارے ہاں نجس اور فالتو ہیں۔ یہ بھی اللہ کی قدرت ہے۔ ہمارے لئے وہ اشیا لذت اور توانائی کا باعث بنتی ہیں“
غازی کو جلیبی کھاتے دیکھ کر میرے منہ میں بھی پانی بھر آیا۔ میں لفافے میں ہاتھ ڈال کر جلیبی نکالنے لگا تو غازی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا
”میں دیتا ہوں“ یہ کہہ کر اس نے جلیبی کا آدھا ٹکڑا مجھے دیا ”تم بس یہ کھاﺅ تمہارا پیٹ بھر جائے گا‘
”یار بڑے کنجوس ہو تم“ میں نے کہا ”اس سے میرا کیا بنے گا“
”اگر میں نے آپ کو اور جلیبیاں دے دیں تو میرا کیا بنے گا۔ سو روپے کی لایا ہوں غریبوں کی طرح۔ ہائے ہزار دو ہزار کی جلیبیاں ہوتیں تو تب جا کر میرا گلا تر ہوتا پیٹ پھر بھی نہ بھرتا“
”اسی لئے باباجی کہتے ہیں غازی ندیدا ہے“ میں نے کہا ”اگر تم بھی بانٹ کر کھایا کرو تو تمہارے کھانے میں برکت پیدا ہو گی“ میں نے ہنستے ہوئے اسے سمجھانا چاہا تو ایک دم وہ ناراض ہو کر میری طرف دیکھنے لگا
”جا دفع ہو جا“
میں ا س کا منہ دیکھنے لگا
” جاتا ہے یا نہیں“ اس کے چہرے پر ناراضی کے آثار نمایاں ہونے لگے ”تری دم میں نمدہ بھروں گا تو پھر جائے گا“
میں نے اسے ایسی کیا بات کہہ دی تھی کہ وہ ایک دم ناراض ہو گیا تھا۔ اس کے رویہ سے مجھے بڑی ندامت‘ شرمندگی اور خفگی محسوس ہوئی اور میں واپس جانے کے لئے پلٹا تو غازی پیار سے بولا
”بھائی آپ کہاں چل دئیے“ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا ”یار خود ہی تو دفع دفعان کہہ رہے ہو“
”ارے آپ کو تھوڑی کہہ رہا ہوں“ وہ غصہ کے باوجود مسکرایا ”میں تو اسے کہہ رہا ہوں جو ادھر لیموں کے پودے کے پیچھے ندیدوں کی طرح کھڑا ہے۔ مجھ سے جلیبیاں مانگ رہا ہے۔ آپ خود سوچیں کہ آپ کو کھانے کے لئے نہیں دے رہا تو اسے کیوں دوں گا“
میں نے پلٹ کر دیکھا تو مجھے کچھ بھی دکھائی نہ دیا۔ ”یہ آپ کو نظر نہیں آئے گا بڑا شرمیلا مگر ہٹیلا ہے۔ اس کا نام صبور ہے۔ میری منگیتر کا بھائی ہے یہ۔ اپنی بہن کے لئے میری مخبری کرتا رہتا ہے وہ بھی اس کی طرح ہے ندیدی“ غازی کی باتیں میرے لئے دلچسپی اور راحت کا باعث بن رہی تھیں۔
”ارے غازی تم بڑے ظالم ہو۔ اپنی منگیتر کے بارے ایسے کہتے ہو“ میں نے کہا ”یار منگیتر کی خوشنودی کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کر جاتا“
”میں انسان نہیں ہوں۔ ہم اپنی منگیتروں کو سر پر نہیں چڑھاتے۔ ویسے بھی یہ نک چڑھی ہوتی ہیں“ غازی بولا ”مجھ سے پچاس سال بڑی ہے میری منگیتر۔ ہر وقت اس ٹوہ میں رہتی ہے کہ میں اس وقت کہاں ہوں اور کیا کر رہا ہوں۔ دس سال بعد میری اس سے شادی ہو گی“
”کیوں …. اتنی دیر سے کیوں ہو گی شادی“ میں نے کہا
”ابھی میں بچہ ہوں ناں بھائی“ وہ شرمیلے انداز میں بولا
”تم بچے ہو کیا۔۔۔۔۔۔ اور پھر بڑے ہو گے تو کیسے دکھائی دو گے۔ یار تم مجھ سے بھی بڑے قد اور عمر کے دکھائی دیتے ہو“ میں نے اسے چھیڑا ”اتنی عمر میں تو ہمارے ہاں چار بچوں کے باپ ہوا کرتے ہیں“
”یہ میں تھوڑی ہوں“ وہ بولا ”یہ ظاہری جسم میرا تھوڑا ہے۔ ویسے بھی ہمارے اور آپ انسانوں کی عمروں میں اور بلوغت میں فرق ہے۔ ہمارے ہاں پنتالیس پچاس سال کی عمر کا مطلب ہے تمہارے ہاں کی پندرہ سے بیس سال کی عمریں۔ میں ابھی پنتیس سال کا ہوں۔ دس سال بعد پنتالیس کا ہو جاﺅں گا تو تب شادی کے قابل ہوں گا۔ میرے والدین کو جلدی پڑی ہے مگر میں ابھی کچی عمر میں شادی نہیں کرنا چاہتا۔ میں نے باباجی سے بھی کہا ہے کہ میرے والدین کو منع کر دیں لیکن سرکار کہتے ہیں کہ تم جیسے لفنگے اور آوارہ جن کی شادی جلدی ہونی چاہئے۔ ہائے شاہد بھائی۔ میں تو ابھی ساری دنیا دیکھنا چاہتا ہوں۔ موج میلہ اڑانا چاہتا ہوں مگر میرے پاﺅں میں شادی کی بیڑیاں …. نہیں کانٹے چبھوئے جا رہے ہیں۔ یہ صبور کی بہن …. قائمہ۔ بڑی سخت جن زادی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھ جیسے آزاد جن کو کیوں قائمہ جیسی جن زادی سے بیاہا جا رہا ہے لیکن یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ میں قائمہ کو پسند نہیں کرتا لیکن قبائلی رسم و رواج اور میرے والدین کی مجبوریاں قائمہ سے شادی پر بضد ہیں“ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے غازی کی مسکراہٹ کافور ہو گئی اور رنجیدگی کا سحر اس کے چہرے پر چھانے لگا
”صرف تم انسان ہی اپنی سماجی زندگی کی پابندیوں سے مجبور نہیں ہوتے بلکہ میں تو کہوں گا کہ تمہاری دنیا کے رسم و رواج شاید اتنے سخت اور ناقابل حل نہ ہوتے ہوں گے جتنے کہ ہمارے ہیں ہمارے ہاں جو پابندیاں ہیں انہیں تو آنے کا مطلب صرف موت ہے۔ اور موت بھی بڑی عبرتناک۔ تم اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے بھائی۔ اف میرے خدا“ غازی غالباً کسی سزا کا تصور کرکے کانپ اٹھا تھا اور اس نے جلیبیوں سے بھرا لفافہ مجھے پکڑا دیا۔ میرے بڑے بھائی ارمان نے بغاوت کی تھی وہ بڑا شریف اور عالم فاضل جن زادہ تھا۔ وہ بریلی کے ایک مدرسے میں پڑھتا تھا اور اس کو وہاں اپنے معلم کی صاحبزادی سے عشق ہو گیا تھا۔ وہ میری طرح نہیں تھا۔ بڑا حلیم اور بردباد جن زادہ تھا۔ انسانی روپ میں تعلیم حاصل کرتا تھا۔ مولوی فضل الحق نام تھا اس کے استاد جی۔ اور ان کی بیٹی سیدہ رقیہ بڑی ہی معصوم‘ پاکیزہ صوم و صلوٰة کی پابند تھی۔ میرا بھائی مولوی صاحب کی خدمت اور اطاعت میں دوسرے شاگردوں سے ممتاز تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ مولوی صاحب میرے بھائی کی حقیقت کو جانتے تھے اور انہوں نے ارمان کو بہت سی ایسی باتوں سے بھی آگاہ کیا ہوا تھا جو اس کی شخصیت کے بے نقاب ہونے سے اس کو نقصان پہنچا سکتی تھیں۔ بھائی خود بھی ان باتوں کا خیال رکھتا تھا۔ شاہد بھائی مجھے اپنے بڑے بھائی سے بڑی محبت تھی۔ وہ تھا بھی محبت کے قابل“ غازی کی آنکھیں اپنے بھائی کا ذکر کرتے ہوئے اشکبار ہو گئیں اور مجھے اس کے اندر سے ہچکیاں لیتے ہوئے ایک بچے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ میرا دل بھی افسردہ ہو گیا اسی اثنا میں کوئی وجود سرسراتی ہوا کی طرح ہمارے پاس آ کر ٹھہر گیا
”آﺅ یہ لو اور اپنی بہن کو میری طرف سے سلام کہنا اور یہ جلیبیاں اسے دے دینا“ غازی نے لفافہ میرے ہاتھوں سے لیا اور میری دائیں طرف بڑھا دیا۔ لفافہ کسی نادیدہ وجود جو یقیناً صبور تھا اسے تھما دیا اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے لفافہ غائب ہو گیا۔ غازی کا یہ روپ میرے لئے نیا تھا۔ ہر وقت شرارتوں کی بارش میں بھیگا ہوا‘ بے کل و مضطرب اور گلابوں کی طرح کھلتے ہوئے چہرے والا غازی پریشان تھا‘ ادھورا‘ بے کس اور ہجر و وصل میں ڈوبا ہوا۔ میرے اپنے بہت سے غم تازہ ہو گئے لیکن میرے سامنے غازی تھا۔ آج جذبات کے تفاوت کا ایک عجیب منظر تھا میرے سامنے۔ ایک انسان اور جن کے دل میں دھڑکتے دل کی کیفیات کا نظارہ ہو رہا تھا۔ جذبات …. لامتناہی اور ازلی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں صرف انسان ہی دل کے مدوجزر سے جذباتیت کی لہروں کا شکار ہوتے ہیں اور یہ صرف جذبات ہی ہیں جو انسانوں کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتے ہیں مگر جذبات تو ہر دنیا میں موجود ہیں۔ جیسا کہ غازی جذبات سے مغلوب ہو رہا تھا اور اپنی غمناک یادوں کے ریلے میں بہہ کر اپنی بے اختیاری کا اظہار کر رہا تھا
”شاہد بھائی ! ارمان اور سیدہ رقیہ کی داستان عشق و محبت بڑی طویل تو نہیں ہے مگر اتنی مختصر بھی نہیں ہے۔ میرے بھائی نے دو سال تک مولوی صاحب کے پاس رہ کر ایک بار بھی جن زادوں جیسی حرکت نہیں کی تھی بلکہ عام طالب علموں کی طرح مشقت کیا کرتا تھا اور کبھی اپنی قوت کا اظہار نہیں کرتا تھا۔ وہ بھی دوسرے طالب علموں کی طرح آٹا گوندھتا ، جھاڑو لگاتا اور اتنا ہی وقت لیتا جتنا دوسرے طالب علم لیتے تھے۔ وہ بھی انسانوں جتنا کھانا کھاتا‘ مولوی صاحب ناراض ہوتے تو ڈنڈے اور جوتے کھاتا اور اسی طرح تکلیف کے باعث روتا جیسے عام انسان روتے تھے۔ دو سال خیریت سے گزر گئے تھے۔ ایک روز مولوی صاحب بیمار پڑ گئے ایسے کہ پورا ہفتہ اٹھ ہی نہ سکے۔ مولوی صاحب نے ارمان بھائی کو مانیٹر بنا دیا تھا اور وہ انہیں مدرسے کی ساری رپورٹ دیا کرتا تھے۔ مولوی صاحب کو دق کا مرض ہو گیا تھا اور پورے بریلی میں بڑے بڑے ممتاز حکما سے ان کا علاج کرایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ انہوں نے اپنی وفات سے پہلے ارمان بھائی سے ایک وعدہ لیا کہ وہ ان کے مرنے کے بعد ان کی صاحبزادی سیدہ رقیہ کا خیال رکھیں گے۔ وہ ان کی اکلوتی اولاد تھی‘ رشتہ دار تھا نہیں کوئی۔ ارمان بھائی بہت روئے تھے مولوی صاحب کی وفات پر۔ سیدہ رقیہ کا تو برا حال تھا وہ بے آسرا ہو گئی تھی۔ مولوی صاحب نے سیدہ رقیہ کو ارمان کے بارے یہ تو بتا دیا تھا کہ وہ اس کا خیال رکھے گا مگر وہ یہ نہ بتا سکے کہ وہ جن زادہ ہے۔ انہیں نہ جانے ارمان بھائی پر اتنا بھروسہ کیوں تھا کہ وہ ان کی بیٹی کی حفاظت عام انسانوں سے بہتر کر سکتے ہیں۔ انہیں یہ خوف ہو گا کہ سیدہ رقیہ نے اگر ارمان بھائی کی اصلیت جان لی تو وہ ہر وقت خوفزدہ نہ رہا کریں۔ خیر بھائی سیدہ رقیہ کی حفاظت کرتے رہے اور ان کے لئے کھانے پینے کی ہر شے مہیا کرتے رہے۔ اس کے لئے انہوں نے بریلی کے شیر فروش کے پاس ملازمت کر لی اور جو ملتا سیدہ رقیہ کو لا کر دیتے۔ بھائی اور سیدہ رقیہ نے کبھی ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں تھا۔ وہ کوئی شے لاتے‘ دروازہ کھٹکھٹاتے یا کھنکھارتے تو سیدہ رقیہ دروازے کی اوٹ سے اشیا وصول کر لیتیں۔ یونہی کئی مہینے گزر گئے..
ایک روز بھائی کھانے کی اشیا لائے اور دوازہ کھٹکھٹایا تو وہ دروازے پر نہ آ سکیں۔ بھائی نے تین چار بار دستک دی اور تب بھی کوئی جواب نہ آیا تو وہ پریشان ہو گئے پھر انہوں نے آہستہ سیدہ رقیہ کو آوازیں دیں لیکن تب بھی کوئی جواب نہیں آیا تو بھائی گھبرا گئے۔ انہوں نے کچھ دیر انتظار کے بعد دوبارہ زور سے دروازے پر دستک دی تو دروازہ کھل گیا۔ مگر اسے کھولنے والا ہاتھ باہر نہیں آیا
”سیدہ محترمہ خیریت تو ہے“ بھائی نے مخاطب کیا مگر اندر سے پھر کوئی آواز نہیں سنائی دی تو ان کی پریشانی ہزار گنا بڑھ گئی۔ اب ان کے پاس اندر داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ وہ شرماتے ہوئے اندر گئے اور سیدہ رقیہ کو آوازیں بھی دیتے رہے۔ مولوی صاحب کا گھر تھا ہی کتنا بڑا۔ دو کمرے‘ ایک ڈیوڑھی‘ ایک رسوئی گھر اور پانچ چھ گز کا صحن۔ بھائی سیدہ رقیہ کے کمرے میں پہنچے تو دیکھا وہ بستر پر بے ہوش پڑی ہیں۔ پہلی بار انہوں نے سیدہ رقیہ کو دیکھا تھا‘ دودھیا رنگت‘ گہرے سیاہ دراز بال‘ قامت دراز‘ عکس حور و جمال تھیں وہ۔ لیکن اس وقت بیماری نے ان کے چہرے کو خستہ کیا ہوا تھا۔ بھائی کئی ثانئے تک سیدہ رقیہ کو دیکھتے رہ گئے تھے۔ پھر وہ آگے بڑھے اور سیدہ رقیہ کو اٹھانے لگے ۔ پانی سے چھینٹے مارے پھر بھی ہوش نہیں آیا تو بھائی آخر کار اپنی دنیا میں واپس گئے اور جنات کے طبیب خاص سے دوا لے کر واپس آنے لگے تو میرے والدین نے انہیں پکڑ لیا۔ میری والدہ بھائی ارمان سے بڑی محبت کرتی تھیں۔ دو برس بعد اپنے بھائی کو دیکھا تھا۔ ہم ان سے لپٹ گئے۔ مگر بھائی کی واپسی جلدی تھی والدہ اور والد نے ان کی تعلیم کے بارے میں دریافت کیا اور پھر ان کی شادی کا ذکر چھیڑ دیا۔ والد نے کہا کہ اب وہ زیادہ انتظار نہیں کر سکتے اگلے سال تک اپنی تعلیم مکمل کر لو تاکہ تمہاری شادی کر دی جائے۔ اپنی شادی کا ذکر سن کر بھائی کے چہرے پر اکتاہٹ کے آثار نمودار ہو گئے۔ ہم تو نہیں سمجھے تھے کہ انہیں اپنی شادی کا ذکر پسند کیوں نہیں آیا۔ انہوں نے نہایت تابعداری کے ساتھ کہا کہ وہ فی الحال شادی نہیں کرنا چاہتے۔ کیونکہ ابھی وہ بہت زیادہ دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بھائی جنات کے معلم اعلیٰ بننا چاہتے تھے۔ اس لئے وہ اپنی تعلیم پر توجہ دیتے تھے۔ میرے والد تو ان پڑھ جنات میں سے تھے انہیں شوق تو تھا کہ ان کا صاحبزادہ جنات کا معلم اعلیٰ بن جائے گا مگر اپنی جلالی اور افتاد طبع کی وجہ سے وہ فیصلے اپنی خواہشوں کے مطابق کرتے ہیں۔ انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اب وہ ایک سال کا بھی انتظار نہیں کریں گے۔ شادی اگلے مہینے کو ہو گی۔ بھائی کی شادی یہ …. جو صبور ہے نا۔ اس کے قبیلے میں ہی ہو رہی تھی۔ والد کے ان کا ساتھ کاروباری معاملات تھے۔ صبور کا قبیلہ بڑا سخت گیر ہے۔ عزت اور غیرت کے نام پر ہر وقت ان میں لڑائیاں ہوتی ہیں ۔ جناب کی عقلوں پر قہر و غضب کا غلبہ ویسے بھی زیادہ ہے اور پھر ایسے جنات جن کی رسم و رواج اندھی ہوں ان کے قہر و غضب کا کوئی ا ندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ خیر بھائی کسی طرح واپس آئے اور سیدہ رقیہ کو دوا پلائی۔ کچھ دیر بعد انہیں ہوش آ گیا اور جب اس نے آنکھیں کھول کر اردگرد کا جائزہ لیا اور بھائی پر نظر پڑی تو پہلے تو وہ شرم سے گھبرا گئیں پھر دوپٹہ تلاش کرنے لگیں۔ ان کی گھبراہٹ سے پریشان ہو کر بھائی باہر نکلنے لگے تو وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولیں
”آپ کون ہیں“
”میں ارمان قطبی ….“ بھائی نے رخ دروازے کی طرف کئے رکھا۔ ”میں معافی چاہتا ہوں سیدہ۔ اصل وجہ یہ ہے کہ میں کب سے دروازے پر کھڑا دستک دیتا رہا تھا۔ دروازہ بھی کھلا ہوا تھا۔ جب آپ دروازے پر نہیں آئیں تو وسوسے مجھے گھیرنے لگے۔ میں نے اندر آ کر دیکھا تو آپ بے ہوش پڑی تھیں۔ اگر آپ کی طبیعت خراب تھی تو آپ مجھے پیغام بھجوا دیتیں“
”میں معافی چاہتی ہوں۔ اصل میں مجھے خود معلوم نہیں ہو سکا۔ اچانک طبیعت خراب ہوئی اور چکر آنے سے میں بے ہوش ہو گئی“ سیدہ رقیہ شرم سے دہری ہوئی جا رہی تھی
”میں مجبوری کے عالم میں اندر آیا ہوں سیدہ۔ آپ جیسی پردہ پوش کے لئے تو یہ بات ناگوار ہو گی خود میں بھی شرمندگی محسوس کر رہا ہوں کہیں“
”آپ کا قصور کیسا۔ آپ تو فرشتہ بن کر آئے ہیں۔ میں اکیلی گھر میں لاچاروں کی طرح پڑی رہتی ہوں۔ اگر خدانخواستہ مجھے کچھ ہو جائے تو کس سے فوری طور پر کہوں۔ آپ کی یہ عنایت ہے مجھ“ سیدہ رقیہ چارپائی سے اٹھ کر ارمان بھائی کے پاس آ گئیں۔
”آپ سے میرا پردہ اب کیسا۔ آپ تو میرے کفیل ہیں۔ میں نے آج تک کسی غیر مرد کو نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی غیر مرد نے مجھے دیکھا تھا۔ میں نے عہد کیا تھا اگر مجھے کسی غیر مرد نے دیکھ لیا تو میں اس سے عقد کی خواہش کروں گی۔ ارمان قطبی صاحب۔ میرے والد تو آپ سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ آپ نے میرے والد کی بھی بہت خدمت کی تھی اگر آپ کو ناگوار نہ گزرے تو میری اس بات پر غور کر لیجئے گا“ سیدہ رقیہ کا چہرہ حیا نے ڈھانپ لیا اور میرے بھائی ارمان کی کیفیت بدلنے لگی۔ انہوں نے جب سیدہ رقیہ کو پہلی نظر میں ہی اپنے بہت قریب محسوس کیا تھا اور پھر جو احساس ان کے اندر پیدا ہوا تھا اس کو مکمل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا …. مگر یہاں کئی سوال اور اندیشے تھے۔ ارمان ایک جن زادہ اور سیدہ رقیہ انسان تھی۔ یہ شادی کیسے ہو سکتی تھی۔ اگرچہ جن و انس میں شادیوں کا رواج روایات کی صورت میں تو ملتا تھا مگر خود ایک مثال بننے جانا بڑا مشکل امر ہوتا ہے۔ ارمان بھائی سیدہ رقیہ سے شادی کے خواہش مند ہو گئے تھے مگر یہ ملن ناممکنات میں سے تھا۔ ادھر ہمارے والدین ان کی شادی کی تیاری کر چکے تھے اور ادھر یہ معاملہ درپیش تھا۔
ارمان بھائی نے بہت چاہا کہ وہ سیدہ رقیہ کو اپنی اصلیت بتا کر ایک بار ان کو یہ موقع دیں کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کر سکیں۔ مگر یہ چاہت اور عشق کا جو کھیل ہے بہت تنگ کرتا ہے۔ محبوب کے چھن جانے کا خوف سچائی بیان کرنے سے مانع ہوتا ہے۔ بھائی کوشش کے باوجود سیدہ رقیہ کہ یہ نہ بتا سکے کہ ان کی اصلیت کیا ہے۔ بالاخر نتیجہ یہ نکلا کہ بھائی نے سیدہ رقیہ سے شادی کا فیصلہ کر لیا او اس سے اپنے دوسرے معلمین کو بھی آگاہ کر دیا
رمضان المبارک کی ستائیسویں کو نکاح اور رخصتی قرار پائی تھی۔ بدقسمتی سے جس روز بھائی کا نکاح تھا اور وہ نکاح کے لئے تیار بیٹھے تھے‘ میرے والد مدرسے میں آ گئے۔ یہی وہ دن تھا جو میرے والد نے بھائی کی اپنے دوست کی بیٹی کے ساتھ شادی کے لئے رکھا تھا۔ بھائی کو یہ علم نہیں تھا۔ والد نے جب انہیں دلہا بنا دیکھا تو وہ طیش میں آ گئے اور انہوں نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ بھاﺅ کو مسند سے اٹھایا اور زمین پر پٹخ دیا۔ گلاب کے ہار جو ان کے گلے میں تھے پتوں میں بکھر گئے۔ پورے اجتماع پر خوف طاری ہو گیا کیونکہ والد صاحب نے اپنے اصلی روپ میں خفی رہتے ہوئے بھائی پر غصہ ظاہر کیا تھا لوگ حیران تھے کہ ارمان میاں کو یکدم کیا ہوا ہے۔ انہیں ہوا میں اچھلتے اور پھر زمین پر گرتے سبھی نے دیکھا تھا۔ اور سب نے یہ بھی دیکھا تھا کہ جب ارمان بھائی زمین پر سر کے بل گرے اور دوسرے ہی لمحے اٹھ پڑے تو خون کا ایک قطرہ بھی ان کے ناک منہ اور سر سے نہیں بہا تھا۔ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں اور وہ اپنے والد کو دیکھ کر چلائے تھے
”ابا جان یہاں کیوں آئے ہیں“
جواباً جب والد صاحب بولے تو مدرسے کے درودیوار تک ہل گئے۔ انہوں نے بھائی کو لعن طعن کی اور صاف صاف کہہ دیا ”تم ایک جن زادے ہو کر انسانوں میں شادی کر رہے ہو۔ تمہیں معلوم ہے ہماری رسوم اس کی اجازت نہیں دیتیں اور پھر میرے خاندان میں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے“ لوگوں نے یہ سنا تو سب سر پر پاﺅں رکھ کر بھاگنے لگے۔ ارمان بھائی نے بہت کوشش کی کہ ابا جان کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے مگر اب کوئی فائدہ نہیں تھا۔ جس جس نے یہ سنا وہ خوف کے مارے بھاگ گیا۔ سیدہ رقیہ کو یہ معلوم ہوا کہ ارمان قطبی دراصل ایک جن زادہ ہے تو وہ غم کی شدت سے ایسی بے ہوش ہوئیں کہ پھر دوبارہ اس دنیا میں نہ آ سکیں۔ ارمان بھائی کو ان کی موت کا علم ہو گیا تھا ار پھر وہ ایسے تڑپے اور جلال میں آئے کہ ان کی شرافت اور نرمی کے قصے سنانے والے بھی انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے لیکن وہ اکیلے تھے۔ والد صاحب نے انہیں باغی قرار دیا اور پھر میرے بھائی نے جب ان کی کسی بھی قسم کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا تو والد نے اپنے دوست قبیلے کے ساتھ مل کر انہیں ختم کر دیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔شاہد بھائی والد نے سنگدلی کی ایسی لرزہ خیز روایت قائم کر دی تھی کہ آج میں اس بارے سوچتا ہوں تو تڑپ اٹھتا ہوں انہیں برف زاروں میں زندہ دفن کر دیا گیا۔ ان کے بدن کو آہنی میخوں سے برف کے بڑے بڑے ستونوں کے ساتھ گاڑھ دیا گیا اور ان کی آتش آمیز حیات سسک سسک کر بجھتی رہی۔ میرا بھائی مر گیا جنات کی اندھی اور فرسودہ روایات جیت گئیں“۔۔۔ غازی اپنے بھائی کی المناک داستان سناتے ہوئے سسکنے لگا تھا اور خود میری بھی سسکیاں نکل رہی تھیں۔
نہ جانے ہم کتنی دیر تک روتے رہے۔ مجھے آج بھی اپنے سینے میں وہ ہچکیوں بھری آہیں سنائی دیتی ہیں اور میں بے اختیار ہو کر غازی کو یاد کرنے لگتا ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں سارے دکھ درد اور پریشانیاں صرف انسانوں میں ہیں عشق و محبت کی مستی اور ہجر و وصل کا لطف و عذاب صرف ہم انسانوں کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے۔ خاندانی اور قبائلی مکروہ رسم و رواج صرف انسانوں کو لطیف اور آفاقی جذبات کے پنپنے سے روکتے ہیں مگر ہمارے علاوہ بھی ایک مخلوق ہے جسے آگ سے تخلیق کیا گیا اور وہ ہواﺅں اور زمین کے گوشے گوشے میں موجود ہے مگر ہم کو اس کی خوشیوں اور غموں کا ادراک نہیں ہے‘ ہاں صرف ہمارے ذہنوں پر اس کا خوف مسلط ہے۔ غازی کو ایک کھلنڈرا لاابالی اور ہمہ وقت بے چین شرارتی ہی پایا تھا مگر وہ قلبی جذبات کی کیفیات اور غم و اندوہ کی حسیات کو سمجھتا تھا۔ مجھ میں اب حوصلہ نہیں رہا تھا کہ اس سے مزید کچھ دریافت کروں۔
”غازی …. میں بابا جی سے ملنا چاہتا ہوں“ میں نے خاصی دیر بعد اسے مخاطب کیا
”بابا جی اس وقت بہت ناراض ہیں بھیا“ وہ آرزدہ سا ہو کر بولا۔ ”میرا دل چاہتا ہے تم یہیں میرے پاس اس وقت تک بیٹھے رہو جب تک سحری کا تارا ڈوب نہیں جاتا“ وہ ستاروں بھرے آسمان کو دیکھتے ہوئے گویا ہوا۔ وہ خلاﺅں میں گھورتا رہا‘ ایسے لگا جیسے ستارے گن رہا ہے اور کسی خاص ستارے کی کی تلاش میں ہے۔
”کیوں …. وہ مجھ پر بھی ناراض ہیں“ میں نے پوچھا
”کچھ پتہ نہیں …. شاہ صاحب کی تو شامت آئی ہوئی تھی کچھ دیر پہلے۔ اصل بات یہ ہے کہ شاہ صاحب کو معلوم تھا کہ آج بابا جی حاضری نہیں دے سکیں گے لہٰذا انہوں نے آپ سے جو کام لیا ہے وہ اسی غلطی میں لے گئے ہیں۔ اگر انہیں معلوم ہوتا تو شاید وہ آپ کو اس کام پر پھر بھی بھیجتے اور اس کی حفاظت کے لئے ہم میں سے کوئی آپ پر مامور کر دیا جاتا اور آپ کو قبرستان میں ایسے حالات پیش نہ آتے“ اس کی طبیعت اب بحال ہو رہی تھی ”اگر آپ کہو تو میں بابا جی سے آپ کے لئے اجازت کا پروانہ لا سکتا ہوں“
”وہ کیسے“
اس کے لبوں پر شگفتگی کے پھول نئے سرے سے کھل رہے تھے۔ ”جلیبیاں تو ختم …. اب کچھ اور ہونا چاہئے“
میں بے ساختہ مسکرا دیا ”یار…. اب تو یہی کچھ بچا ہے“ میں نے جیب سے پیسے نکال کر اسے دئیے اور وہ اس نے روپے ایسے اچک لئے جیسے چیل مرغی کا بچہ۔
”لو بھیا میں ابھی آیا“ یہ کہہ کر وہ غائب ہو گیا اور میں باغیچے میں تنہا رہ گیا۔ معاً مجھے صبور کا خیال آ گیا۔ اردگرد دیکھنے لگا مگر مجھے نظر نہیں آیا۔ البتہ احساس ہوا کہ پودوں کے سائے بہت زیادہ گھنے اور ان پر لرزہ طاری ہو رہا ہے۔ ایسے لگتا تھا جیسے ان کے اندر ہزاروں وجود داخل ہو چکے ہیں اور یہ سارے سائے ایک دوسرے میں مدغم ہوتے جا رہے ہیں۔ مجھے فضا میں گھٹن کا بھی احساس ہوا۔ فضا کی خنکی اور رومانیت یکسر موقوف ہو رہی تھی۔ مجھے گھبراہٹ اور خوف محسوس ہونے لگا اور میں جلدی سے مہمان خانے کی طرف بھاگنے لگا مگر جونہی میں نے قدم اٹھائے مجھے احساس ہوا جیسے سارے پودے میرا گھیراﺅ کرنے لگے ہیں اور ا ن کا گھیرا لمحوں میں تنگ سے تنگ تر ہونے لگا۔ مجھے یہ سمجھنے میں اب دیر نہیں لگی کہ جنہیں میں پودوں کے سائے سمجھ رہا تھا درحقیقت وہ وجود ماورائی تھے جو سیاہ لبادوں میں اپنے وجود پھیلا کر آگے ہی آگے بڑھ رہے تھے۔ سائے میرے چاروں طرف پھیل گئے اور میں ان کے حصار میں قید ہو کر رہ گیا۔ ابھی تک مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا تھا لیکن ان کے تیور بتا رہے تھے کہ اگر یہ یونہی آگے بڑھتے رہے تو مجھے پیس کر رکھ دیں گے۔ میں نے چیخ کر ان سے پوچھا”کون ہو تم“
مگر مجھے کوئی جواب نہیں ملا اور سائے میرے بالکل قریب آ گئے اور پھر اس سے قبل کہ میں کچھ کرتا محض ایک کربناک چیخ تھی جو میرے اندر سے بلند ہوئی تھی اور میں اتنے زور سے چلایا تھا کہ میری آواز میلوں تک سنی گئی ہو گی۔ اس لمحے چاروں طرف پھیلے سائے ایک دوسرے میں آ کر ضم ہو گئے تھے اور میں ان کے درمیان پس کر رہ گیا تھا مجھے یوں لگا جیسے میرا وجود بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دیا گیا ہے۔ میری روئیں روئیں دہکنے لگی اور یوں لگا جیسے سر سے پاﺅں تک میرے وجود سے شعلے بلند ہونے لگے ہیں۔ دماغ میں چیونٹیاں سی رینگنے لگی تھیں اور دل کے درودیوار پر کوئی بڑی سی چھپکلی رینگنے لگی ہے۔ اس کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا یہ مجھے اس وقت معلوم ہوا جب مجھے بابا جی شفقت بھرے انداز میں پکار رہے تھے۔ ان کی آواز میرے لئے روشنی کی لہر بن رہی تھی اور میرا ذہن تاریکیوں کی پستیوں سے اجالوں کی بلندی کی طرف پرواز کرنے لگا۔ یہ روشنی اور اجالے مجھے اوپر ہی اوپر اس مقام تک لے گئے تھے جہاں مجھے تین چہرے نظر آنے لگے تھے یہ غازی، شاہ صاحب اور بابا جی تھے۔
بابا جی کے چہرے پر مسرت افروز نور پھیلا ہوا تھا۔ احرام میں ان کا پورا وجود گم تھا‘ دودھیا رنگت‘ سفید گیسو ان کے شانوں پر لہرا رہے تھے۔ آج ان کا دیدار پہلے دیدار سے مختلف تھا۔ اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا کر بولے ”میرا ہاتھ تھام لو میرے بیٹے تم ایک بہادر انسان ہو آگے بڑھو“
جونہی انہوں نے مجھے پکارا مجھے احساس ہوا کہ کوئی ایسی قوت اور بھی وہاں موجود ہے جو مجھے اب اجالوں سے پیچھے کی طرف کھینچ کر تاریکیوں میں گم کرنا چاہتی ہے۔ وہ بار بار میرا دامن پکڑ رہی تھی اور مجھے پیچھے کو دھکیلنے کے لئے کوشاں تھی۔
”اس کی پرواہ نہیں کرو …. اپنی پرواز بلند رکھو“ بابا جی نے مجھے حوصلہ دیا۔ مجھے حوصلہ ہوا اور میں زور شور سے اجالوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا رہا مگر میرے ساتھ معاملہ اب اس گاڑی کی طرح پیش آ رہا تھا جس کے پچھلے ٹائر کسی نرم زمین میں دھنس جاتے ہیں اور ڈرائیور گاڑی کا زور لگاتا ہے تو ٹائر باہر نکلنے کی بجائے مزید دھنستے چلے جاتے ہیں۔
میں نے باباجی کو اپنی کیفیت سے آگاہ کرنا چاہا اور لب کھولے تو ایک لفظ بھی زباں سے نہ نکل سکا ۔ لگا جیسے کسی نے میری زبان کو تالو کے ساتھ چپکا دیا ہے اور گلے میں کانٹے چبھو رہا ہے۔ اس شدت زور اور لاچارگی سے میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور میں بہت زور آزمائی اور کوشش کے بعد محض یہ یہ کہنے میں کامیاب ہو گیا۔
”بابا جی سرکار …. میں کیا کروں۔ کوشش کے باوجود یہ اندھیرے مجھے نہیں چھوڑ رہے“
”بیٹے! یہی وہ مراحل ہوتے ہیں جب انسان کو اس کے امتحان میں سرخروئی حاصل ہوتی ہے“ باباجی نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا۔ ” سارے لوگ اندھیروں سے اجالوں میں آنا چاہتے ہیں لیکن قوت موقوف ہونے سے وہ ایسا نہیں کر پاتے اور جانتے ہو تم۔ یہ قوت باطنی‘ روحانی وجدان اور سرشاری کیا شے ہے۔ یہ روح ہی کی طاقت ہوتی ہے جو انسان کو علم و آگہی سے آراستہ کرتی ہے جو لوگ اپنی روح سے ہم کلامی اور اس کی جبلت کو پا لیتے ہیں ان کے لئے اندھیروں یعنی گمراہی سے نکل آنا مشکل نہیں ہوتا۔ یہی معاملہ تمہارے ساتھ پیش آ رہا ہے ۔ تم اندھیروں اور اجالوں میں معلق ہو۔ تمہیں ابھی ان میں تمیز کرنا نہیں آ رہی ۔ جنہیں تم سچائی اور حقیقت سمجھتے ہو حقیقتا وہ بھی گمراہی کا ایک لبادہ ہیں۔ تمہارا دل ابھی تک پراگندہ ہے۔ دوسروں کے لئے اپنے دل کو کشادہ کر لو اور سچائی کی روشنی کو پکڑ لو۔ تم ان اندھیروں سے باہر آ جاﺅ گے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ تم میں یہ خوبیاں ہیں۔ تم اجالوں کے سفر کے مسافر ہو۔ میں نے تمہیں پکارا اور تم لوٹ آئے لیکن اب تم رک گئے ہو میرے بچے آگے بڑھو دیکھو میں ہی نہیں اپنے شاہ صاحب اور تمہارا غازی بھی اپنے ہاتھ تمہاری طرف بڑھا رہے ہیں۔ آﺅ اور میرے بچے ہمارا ہاتھ تھام لو اور اجالوں کی دنیا میں آ جاﺅ“ یہ کہہ کر ان تینوں نے اپنے اپنے ہاتھ میری طرف بڑھا دئیے اور میں جوش کے عالم میں اندھیروں کے ہاتھ اپنے دامن سے ہٹا کر ان کے ہاتھ تھام لینے میں کامیاب ہو گیا۔ تینوں نے مجھے نہایت آہستگی سے اوپر اٹھایا اور مجھے ایک براق بستر پر لٹا دیا جس کے چاروں طرف خوشبوﺅں کا راج تھا۔ فضا میں طراوت اور نغمگی کا احساس تھا۔ نہایت پرسکون روشنی تھی جو قلب و نظر کو لطف و کرم کے احساسات سے دوچار کر رہی تھی۔ میں نے ایسا بستر اور ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا تھا جو اجالوں کی دنیا میں وارد ہو کر پایا۔ بابا جی شاہ صاحب اور غاری میرے بستر کے گرد کھڑے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ میری آنکھوں میں ابھی تک آنسو اٹکے ہوئے تھے۔ میں نے بولنے کی کوشش کی اور پرجوش انداز میں بولا
”بابا جی سرکار مجھے معاف کر دیں۔ میں واقعی شاہ صاحب کے بارے بدگماں تھا مگر اب وعدہ کرتا ہوں کہ یہ میرے بھائی ہیں اور میں ان کی تابعداری میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا“
بابا جی تحسین آمیز انداز میں پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھنے لگے تو ان کے لبوں پر گہری مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ایسی مسکراہٹ جو اکثر فاتح بن کر اور احساس تفاخر سے بھرے لوگوں کے چہروں پر کھلتی ہے مگر لوگ اس مسکراہٹ کا مطلب نہیں جان پاتے کہ اس کے کھلنے میں کتنے قہروںنے اپنا وجود غارت کیا ہو گا۔
”اب تم آرام کرو“ باباجی نے اپنا نرم ریشمی ہاتھ میرے ماتھے پر رکھا تو ان کے لمس کا احساس میرے رگ و پے میں سکون کی لہریں پیدا کر گیا۔ ”جب اٹھو گے تو تمہیں بہت سے کام کرنے ہیں“۔
بابا جی کے لمس کا احساس اتنا بھرپور تھا کہ نیند میری آنکھوں میں اتر گئی اور میں سو گیا۔ بہت ہی گہری ، پرسکون نیند۔ ایسی نیند کہ جب بیدار ہوا تو لگا جیسے اس دنیا کی آلائشوں اور ذہنی و جسمانی تھکاوٹوں کا کبھی شکار ہی نہیں ہوا تھا میں۔ بڑی راحت ملی تھی اور مجھے اپنے وجود میں نئے سرے سے سرشاری اور گرم جوشی محسوس ہونے لگی تھی۔ گویا اس نیند نے مجھے ری چارج کر دیا تھا۔
شاید میں پہروں سویا ہوں گا۔ جب آنکھ کھلی تو میں مہمان خانے میں شاہ صاحب کے بستر پر سویا پڑا تھا۔ میں آنکھیں ملتا ہوا انگڑائی لے کر اٹھ پڑا۔ کمرے میں ہلکا سا اجالا تھا۔ صبح ہو رہی تھی اور نرم رو روشنی کھڑکیوں سے چھن چھن کر اندر آ رہی تھی۔ کمرے کی فضا ابھی تک گماں کی حد تک معطر تھی لیکن جو ماحول اور آسودگی مجھے نیند سے پہلے میسر تھی وہ اب کمرے میں عنقا تھی۔ میں سوچ و بچار میں مبتلا ہو گیا کہ میں تو ایک براق بستر پر سویا ہوا تھا اور اس کمرے کی فضا ایسی تو نہ تھی۔ مجھے خیال آیا کہ غالباً میں نے نیند کی حالت میں یہ لطف و کرم پایا ہے۔ میرا وجود گواہی دے رہا تھا کہ جو آسودگی خواب میں ملی ہے وہ یقیناً اپنی حقیقت رکھتی ہو گی۔ میں ذہنی طور پر الجھنے بھی لگا تھا کہ میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر مجھے یاد آیا کہ باغیچے میں میرے ساتھ کیا ہوا تھا اور پھر لمحہ لمحہ سرکتی ہوئی یادیں مجھے بابا جی کی باتیں یاد دلانے لگیں۔ میں بستر سے اٹھا ہی تھا کہ دروازے پر کھٹکا ہوا اور شاہ صاحب تولئے سے سر کو رگڑتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ وہ غسل کرکے آئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی بولے
”مزے لوٹ لیئے ہیں، بڑے قسمت والے ہو تم“
میں پرجوش مسکراہٹ لیتے ہوئے بولا ”یہ سب آپ کی مہربانی ہے شاہ صاحب ورنہ میں کس کام کا“
”ارے تم بڑے کام کے ہو“ ان کی بات سن کر مجھے بابا جی کی بات یاد آ گئی
”شاہ صاحب میں تو باہر باغیچے میں تھا اور“
”چھوڑو ان باتوں کو شکر کرو کہ تمہاری چیخ سن کر بابا جی نے تمہیں اس عفریت سے جلد بچا لیا ورنہ تمہارا حال بھی وہی ہوتا تو زلیخا کا ہوا تھا“
”وہ کون تھا“ میں پریشان ہو کر ان کربناک لمحوں کو یاد کرنے لگا۔
”وہی حرام خور کالی داس تھا جو تمہیں قبرستان میں ملا تھا“ شاہ صاحب بید کی کرسی پر بیٹھ گئے اور شیشی سے سرسوں کا تیل نکال کر گیلے بالوں میں لگانے لگے۔
”اصل میں اس میں قصور میرا ہے“ وہ بولے ”تمہارے جانے کے بعد مجھے تو احساس نہیں ہوا تھا کہ اس خطرناک عملیاتی کام پر تمہیں نہیں بھیجنا چاہئے۔ بس دماغ پر طاقت کا نشہ تھا اس لئے بھیج دیا کہ تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔ اندازے کی غلطی ہو گئی۔ بابا جی خلاف توقع عین اس وقت آ گئے تھے جب تم قبرستان کی اس قبر میں گرے تھے اور وہ بدکار تم کو قابو کرنے لگا تھا لیکن بابا جی کی حویلی میں آمد نے اس کو یہ جرات نہ ہونے دی۔ تم تو بھاگ کر آ گئے اور ادھر بابا جی کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے کھینچا تانی شروع کر دی۔ پھر جب تم باغیچے میں تھے تو اس بدکار نے تم پر دوبارہ حملہ کر دیا۔ اس نے یہ حملہ حویلی میں موجود کافروں کی پکھی کے ساتھ مل کر کیا تھا۔ اکیلا وہ حویلی میں نہیں آ سکتا تھا۔ وہ میرے دشمنوں کے ساتھ مل گیا تھا“
”وہ کون تھا“ میں نے دوبارہ استفسار کیا
”وہ ہمارا دشمن تھا اب تمہارا بھی بن گیا ہے“ شاہ صاحب نے کہا ”ٹھہرو میں تمہیں بتاتا ہوں اس کا نام کالی داس ہے ۔ ہندو ہے اور ہندو عاملوں کے کام کرتا ہے جس طرح ہمارے ہاں یعنی میرے ساتھ بابا جی پیار کرتے ہیں اسی طرح کالی داس بھی جن ہے مگر کافروں میں سے ہے۔ ڈیڑھ سال پہلے میں میانی صاحب لاہور میں چالیس روزہ وظیفہ کر رہا تھا کہ اس سے ٹاکرہ ہو گیا۔ باباجی ابھی میرے پاس نہیں آئے تھے۔ میں حقیقت میں بابا جی کا قرب حاصل کرنے کے لئے ہی یہ چلہ کاٹ رہا تھا۔ بابا جی میرے بڑے بھائی کے پاس آتے تھے۔ میری والدہ کی وفات کے بعد بابا جی سرکار بھائی سید اقبال حسین شاہ کے پاس حاضری دیتے تھے۔ میری والدہ عبادت گزار خاتون تھیں۔ راتوں کو اٹھ کر عبادت کرتی تھیں۔ بابا جی کی ان کے ساتھ عقیدت تھی۔ یہ الگ داستان ہے کہ بابا جی میری والدہ کے پاس کیوں آتے تھے اور یہ میں تمہیں ابھی نہیں بتا سکتا۔ بہرحال میں جن دنوں چلا کاٹ رہا تھا میری رہنمائی اور سرپرستی کرنے والا کوئی نہ تھا۔ مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ چلہ کاٹنے سے پہلے مرشد کی اجازت چاہئے ہوتی ہے۔ چونکہ باباجی بڑے بھائی کے پاس آتے تھے اور مجھے کسی حد تک ان کی آمد اور روانگی کے طریقہ کار سے آگاہی ہونے لگی تھی بلکہ میں نے کچھ کلمات بھی سیکھ لئے تھے لہٰذا میرے دل میں یہ خیال آنے لگا کہ بابا جی تو ہماری والدہ کے علم کی وراثت ہیں۔ اسے ہم دونوں بھائیوں میں تقسیم ہونا چاہئے۔ بڑے بھائی سے تو میں یہ نہ کہہ سکا لیکن یہ خواہش مجھے بے قرار کرنے لگی اور میں بابا جی قربت کی خواہش سے تڑپنے لگا۔ ایک روز میں نے موقع پا کر بابا جی سے یہ کہہ بھی دیا کہ آپ کبھی مجھے بھی زیارت اور خدمت کا موقع دیں۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ ہماری زیارت اور خدمت کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جاﺅ۔ اس کے لئے مجاہدے کرنے پڑتے ہیں اپنا نفس مطیع کرنا پڑتا ہے تم ابھی بچے ہو۔ میں نے مجاہدے سے مراد یہی لی کہ وہ مجھے کہہ رہے ہیں کہ چلے وغیرہ کرو۔ ایک روز میں نے اخبار میں پڑھا کہ میانی صاحب کے قبرستان میں عاملین چلے کاٹتے ہیں۔ خیر میں نے محلے کے مولوی صاحب سے چلے کے بارے کچھ معلومات حاصل کیں اور کچھ باتیں کتابوں سے پڑھنے کے بعد سمجھے لگا کہ اب اس قابل ہو گیا ہوں کہ قبرستان میں جا کر چلہ کاٹ سکتا ہوں۔ اصل میں میرے دماغ میں جو بات آ جاتی ہے اور جو خواہش تنگ کرتی ہے میں اس کو پورا کرتا ہوں۔ بڑے بھائی کی عادت مختلف ہے۔ میں نے میانی صاحب میں بیس روپے دے کر گورکن سے پچاس سالہ پرانی قبر پر بیٹھ کر چلہ شروع کیا تھا۔ مجھے چلہ کاٹتے ہوئے تین روز ہی گزرے تھے کہ یہ بدکار کالی داس میرے سامنے حاضر ہو گیا۔ میں سمجھا کہ بابا جی آ گئے ہیں۔ مجھے کیا تمیز تھی۔ میں تو اس وقت یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ جنات اشکال بدلنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ میں نے اسے بابا جی کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ اس نے بھی مجھے بابا جی بن کر ہی حوصلہ دیا اور کہا کہ اب مجھے مزید چلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے دل کھول کر بڑے بھائی کے خلاف باتیں کیں اور اس سے اس کی حاضری کے کلمات حاصل کر لئے۔ میں خود کو بڑا خوش قسمت سمجھتا تھا کہ میں دنیا کا واحد عامل ہوں جس نے چالیس روز کی بجائے صرف تین روز میں ایک جن کو قابو کر لیا ہے لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ مجھے پہلے ہی قدم پر گمراہ کر دیا گیا تھا اور میں عامل کی بجائے معمول اور موکل بن کر رہ گیا ہوں۔
میں نے اب گھر جانا چھوڑ دیا تھا۔ کالی داس نے مجھے لاہور کی ایک پرانی بستی کا ایک مکان لے کر دے دیا۔ اس بستی میں ہندو رہتے ہیں۔ میں نے اس بارے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی بلکہ میرے اندر گھمنڈ پیدا ہونے لگا تھا۔ کالی داس روزانہ حاضری دیتا تھا۔ اس نے مجھ پر خود کو آشکار نہیں کیا تھا۔ وہ خود کو مسلمان جن ہی ظاہر کرتا تھا۔ اصل میں وہ بابا جی سرکار کو اچھی طرح جانتا تھا اس لئے وہ مجھے استعمال کر رہا تھا۔ کالی داس آہستہ آہستہ کھلنے لگا تھا۔ میں نے اس بستی میں چند آسیب زدہ مریضوں کا علاج کیا تو لوگ میرے پاس آنے لگے۔ پیسہ بھی آنے لگا اور مریدین بھی ۔ ایک روز کالی داس نے مجھے کہا کہ اگر تم کچھ کالے عمل وغیرہ سیکھنا چاہتے ہو تو میں تمہیں سکھا دوں گا۔ میں اس وقت حیران نہیں ہوا کہ ایک مسلمان جن مجھے شیطانی علم سکھانے کی بات کیوں کر رہا ہے۔ اصل میں جب خواہشات کی تکمیل کا شمار ہو تو انسان کسی ناجائز بات کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔ میں نے حامی بھر لی اور یہ مجھے ہندوﺅں کے مندروں‘ اشنان گھاٹ اور مرگھٹ وغیرہ پر لے جانے لگا۔ پھر ایک روز اس نے مجھے ایک ایسا عمل سکھایا جس کو یاد کرتا ہوں تو میری روح کانپ جاتی ہے۔ یہ عمل سکھانے کے بعد اس نے مجھے کہا کہ اب تم اپنے گھر میںاس وقت یہ عمل کرنا جب تمہارا بھائی بابا جی یعنی میری حاضری لگائیں۔ اس طرح میں ان کی قید سے نکل کر ہمیشہ کے لئے تمہارے پاس آ جاﺅں گا۔ میں نادان تھا یہ نہیں سمجھ سکا تھا کہ جب وہ خود میرے پاس آتا جاتا ہے تو پھر کس قید کی بات کر رہا ہے خیر۔ میں وہ سفلی علم سیکھنے کے بعد گھر گیا۔ بھائی عموماً جمعرات کو بابا جی کی حاضری لگاتے تھے لیکن اس روز بابا جی چند مریضوں کے علاج کے لئے حاضری دے رہے تھے۔ بھائی جب آسیب زدہ مریضوں کا علاج کرکے فارغ ہوئے اور بابا جی کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھے تو میں نے کالی داس کا سکھایا ہوا عمل کرنا شروع کر دیا۔
خدا کی پناہ۔ ایسا حشر برپا ہو گا‘ ایسا قہر رونما ہو گا۔ میرے تو ہوش اڑ گئے۔ بڑے بھائی کو تو سمجھ ہی نہیں آ سکی تھی کہ یہ کیا ہوا ہے اور میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔ اگرچہ وہ مجھ سے شاکی رہتے تھے لیکن وہ یہ بات اپنے ذہن میں نہیں لاتے تھے کہ میں ان سے بدگماں رہتا ہوں۔
میں نے اس عمل کے ابھی دو جاپ ہی کئے ہوں گے کہ کمرے میں بھونچال آ گیا۔ بابا جی اتنے زور سے ڈکرائے تھے کہ گھر کی دیواریں تھرا گئیں۔
”کیا ہوا سرکار“ بھائی پریشان ہو گیا تھا
”کون ہے یہ“ بابا جی قہر و جلال میں چنگھاڑتے تھے ”کس نے لعنتی کوڑا لہرایا ہے“ بابا جی نے فضا میں ہاتھ بلند کئے تو ان کے سینکڑوں شاگرد ٹمٹماتے ستاروں کی طرح فضا میں تیرنے لگے اور پھر دوسرے ہی ثانئے آواز گونجی۔”حضرت …. ریاض شاہ کالا عمل کر رہا ہے“
”ریاض شاہ …. اوئے بدبخت تو کیا کر رہا ہے مجھے جہنمی آگ کے آتش آلود کوڑے مار رہا ہے۔ اوئے بدبخت انسان تو کیسا گناہ کر رہا ہے۔ یہ کالا عمل کرکے مجھے ختم کرنا چاہتا ہے لیکن قسم ہے مجھے خدائے لم یزل کی تو اس میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا“ یہ کہہ کر بابا جی نے اتنے زور سے مجھے تھپڑ مارا کہ میرا سر دیوار سے جا ٹکرایا اور میں بے ہوش ہو گیا
ہوش تو اس وقت آئے جب بڑے بھائی اور بابا جی آپس میں باتیں کر رہے تھے اور مجھ پر یہ عقدہ کھلا کہ دراصل مجھے کالی داس نے گمراہ کیا تھا۔ وہ بابا جی کے بہروپ میں مجھے چکمہ دیتا رہتا تھا۔ بڑے بھائی میرے فعل پر شرمند ہو کر بابا جی سے معافیاں مانگ رہے تھے۔ مجھے ہوش آ گیا تھا لہٰذا میں نے یہی دیکھا کہ اب میرے لئے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے تو میں بابا جی اور بھائی کے قدموں میں گر گیا اور اپنے گناہ اور غلطی کا اعتراف کیا۔ بابا جی نے معاف کر دیا اور کہا کہ وہ ایسے جن ہیں جو چلوں سے اسیر نہیں ہوتے صرف کمزور اور کم علم جنات کو عملیات و وظائف سے قابو کیا جا سکتا ہے۔ کالی داس نے جان بوجھ کر مجھے گمراہ کیا تھا۔ اس کی بابا جی کے ساتھ جنگ رہتی تھی وہ بدی کا محافظ تھا اور بابا جی نیکی کے پرچارک۔ کالی داس اور بابا جی کی لڑائی بھی ایک طویل داستان ہے۔ خیر بابا جی نے مجھے معاف کر دیا اور میں نے بھی انہیں بتا دیا کہ میں ان کی قربت کا متمنی ہوں اور ان کے بغیر جی نہیں سکتا۔ بڑے بھائی تو نہیں چاہتے تھے کہ بابا جی میرے پاس آیا کریں لیکن میں کچھ اس انداز میں اپنی محبت کا اظہار کیا اپنی والدہ کا واسطہ دیا اور کہا کہ اگر انہوں نے میرے سر پر دست شفقت نہ رکھا تو میں بہک جاﺅں گا۔
پس بابا جی نے مجھے کچھ علوم سکھائے اور میرے پاس بھی آنے لگے لیکن کالی داس کا دیا ہوا علم مجھے تنگ کرنے لگا۔ کالا علم گندگی میں زندہ رہتا ہے اور روحانی نورانی علم پاکیزگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ میں کالے علم سے تائب تو ہو گیا ہوں لیکن ابھی تک میری کمر پر اس خبیث کی دستک جاری رہتی ہے۔ کل جب میں نے تمہیں قبرستان بھیجا تھا تو اس کالی داس نے ہی تمہیں پکڑنے کی کوشش کی تھی۔اب تم سوچ رہے ہو گے کہ بابا جی مجھ پر ناراض کیوں ہو رہے تھے۔ بابا جی کی ناراضی کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مجھے ان سے اس قدر شدید محبت ہے کہ شاید ہی دنیا میں کوئی اور رشتہ اس محبت پر غالب آ سکے۔ بابا جی سے عقیدت اور محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ مجھ جیسا ضدی اور ہٹ دھرم انسان ان سے معافیاں مانگ لیتا ہے۔ وہ میرے لاڈ اور بے وقوفیاں برداشت کرتے رہتے ہیں لیکن جب کوئی معاملہ بعض حدود کی قید سے باہر ہو جائے تو بابا جی ناراض ہوتے ہیں“ شاہ صاحب کہہ رہے تھے
”کیا کالی داس کے سامنے آنے کی وجہ سے بابا جی ناراض ہوئے ہیں“ میں نے دریافت کیا۔
”ایک وجہ تو یہ بھی ہے۔ لیکن اصل حقیقت اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے“ یہ کہہ کر سید ریاض شاہ نے اپنا تھیلا کھولا اور اس میں سے ایک تھیلی اور لمبی شیشی نکالی اس میں گہری اور سرخی مائل کوئی مائع شے تھی۔ انہوں نے شیشی کھولی اور مائع شے کے چند قطرے ہتھیلی پر ڈالے تو کمرے میں کافور سے ملتی جلتی مگر قدرے تیز مہک آنے لگی۔ شیشی بند کرکے تھیلی میں ڈال دی اور ہتھیلیوں کو آپس میں رگڑ کر مائع شے اپنے بالوں میں لگانے لگے۔ میری محویت دیکھ کر بولے۔
”یہ تیل مجھے بابا جی نے بنا کر دیا ہے۔ یہ گھنگریالے اور گھنے بال اس تیل کی وجہ سے ہیں۔ بابا جی کا کہنا ہے کہ جس انسان کے پاس جنات قید ہوں یا اس کے پاس آتے ہوں تو وہ خوشبویات لگا کر رکھتا ہے۔ جنات کو خوشبویات بہت پسند ہوتی ہیں بلکہ بعض خوشبوئیں تو انہیں دیوانہ بنا دیتی ہیں جبکہ بہت سی خوشبوئیں تو ایسی بھی ہیں جو جنات اور بدروحوں کو قید کرنے سے قبل استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ تسخیری اور سحری قسم کی خوشبوئیں تیار کرنا دل گردے کا کام ہے۔ بابا جی نے مجھے ایسی ہی خوشبو سے تیل تیار کرکے دیا ہے۔ اس میں کافور بھی ہے اور سانپ کی چربی سے نکلا ہوا جوہر بھی اور بھی بہت سی اشیا اس میں شامل ہیں“
ان دنوں میرے سر کے بال کمزور ہو رہے تھے اور تیزی سے گر رہے تھے۔ میں بے اختیار ہو کر انگلیاں بالوں میں پھیرنے لگا تو شاہ صاحب دھیرے سے مسکرانے لگے۔
”لگاﺅ گے“
”کیا ایک ہی بار لگانے سے گرنا بند ہو جائیں گے“ میں نے تجسس سے پوچھا
”نہیں چند ہفتے تک لگانا ہی پڑے گا یہ تیل …. ویسے بڑا مہنگا اور نایاب ہے۔ بابا جی نے جن اطبا سے یہ نسخہ حاصل کرکے بنایا ہے بابا جی خود بھی حکمت جانتے ہیں“ شاہ صاحب کی باتوں میں میرے لئے دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔ جنات کی دنیا کی حکایات ان کے معمولات اور تہذیب و تمدن سے متعلق بہت سی ان کہی باتیں ان کے ذریعے دریافت کی جا سکتی ہیں۔ پس یہ سوچ کر میں نے فیصلہ کیا کہ جب تک حالات موافق رہیں گے میں ان سے کسی نہ کسی طرح یہ باتیں معلوم کرتا رہوں گا۔
”یہ لو …. تمہارے لئے تو ایک ہی قطرہ کافی ہو گا“ شاہ صاحب نے شیشی دوبارہ نکالی اور میری ہتھیلی پر تیل کا ایک قطرہ ٹپکا کر کہا ”ہاتھوں کو اچھی طرح رگڑ لو اور پھر ہتھیلیاں بالوں سے صاف کر لو۔ یہ بڑا زود اثر تیل ہے“
تیل کی مہک سے میرے دماغ سے بخارات اٹھنے لگے تھے۔ میرے جیسے بندے سے ایسی خوشبو جس میں ذہنی اشتہا اور مخموری بڑھتی ہے وہ کچھ ایسی ہی خوشبو تھی۔
”دماغ بھی روشن ہو جائے گا۔ نظر بھی تیز ہو گی۔ اس تیل کے بہت فائدے ہیں۔ تم خود جان جاﺅ گے۔ اگر کوئی بوڑھا بھی یہ تیل لگائے تو اس کی صحت بہتر ہو جاتی ہے“ شاہ صاحب معنی خیز انداز میں مسکرانے لگے۔ میرے لئے ان کی یہ بات بڑی عجیب تھی مگر میری حیرت اس وقت گم ہو گئی جب مجھے اپنی ہتھیلیوں اور سر پر تپش سی محسوس ہونے لگی۔ یوں لگنے لگا جیسے مارفیا کا ٹیکہ مجھے لگا دیا گیا ہے۔ اک نشہ یا خمار تھا یا تازگی جو جیون کو نئی نئی امنگوں سے بھر دیتی ہے۔ طبیعت میں افتادگی اور اضطرابی حساسیت بڑھ جاتی ہے۔ اچھا بھلا انسان بن پئے جھومنے لگتا ہے۔ میری آنکھوں میں بھی خمار بھری غنودگی اور تپش بڑھنے لگی۔ شاہ صاحب میری کیفیت دیکھتے رہے اور دھیرے دھیرے مسکراتے بھی رہے۔
”میں تمہیں یہ تیل دے دوں گا۔ تمہارے بال ہی نہیں تمہاری عمومی صحت بھی زبردست ہو جائے گی“ وہ بولے تو مجھے بابا جی کی ناراضی یاد آ گئی اور جہاں سے گفتگو منقطع ہوئی تھی وہاں سے دوبارہ شروع کر دی۔
”شاہ صاحب آپ کچھ بتا رہے تھے کہ بابا جی کس وجہ سے ناراض ہوئے تھے“
”ہاں“ وہ یاد کرتے ہوئے بولے ”میں نے تمہیں بتایا تھا کہ میں کالے علم سے تائب ہو گیا تھا لیکن میری کمر پر اب بھی شیطان تھا پڑا دینے آتا ہے۔ شیطان بڑا ڈھیٹ اور کمینہ ہے اس کی عزت نفس نہیں ہے۔ جتنا دھتکارو گے اتنا ہی قریب آنے کی کوشش کرے گا۔ کبھی اپنی بے عزتی محسوس نہیں کرتا۔ زلیخا پر جب حویلی کی چڑیلوں نے حملہ کیا تو اس وقت میرے ذہن میں غیر ارادی طور پر کالا علم استعمال کرنے کا خیال پیدا ہو گیا۔ اس کی شاید یہ وجہ تھی کہ حملہ بڑا زوردار تھا اور میرے پاس بابا جی بھی نہیں آ سکتے تھے۔ میرے پاس اصل طاقت تو بابا جی ہیں۔ میں نے زلیخا کو موت کے منہ سے بچانے کے لئے صرف یہی طریقہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اس کے سوا چارہ بھی نہیں تھا۔ پس میں گمراہ ہو گیا اور کالا علم استعمال کر گیا۔ لیکن مجھے اس وقت ہوش آ گیا جب زلیخا ہوش میں آئی۔ میں نے قبرستان میں تمہیں اس لئے بھیجا تھا کیونکہ میں نہیں جانا چاہتا تھا۔ اس حملے کی کاٹ کا تقاضا تھا کہ بعض عملیاتی اشیا کو قبرستان میں دفن کر دیا جائے۔ جانا تو مجھے ہی چاہئے تھا لیکن میرے جانے سے یہ ہو سکتا تھا کہ کالی داس اور میرے درمیان معاملات بگڑ جاتے اور میں اس سے اپنا انتقام لینے پر تل جاتا۔ بابا جی کو یہ سب بہت برا لگا تھا۔ اگرچہ میں نے ان سے یہ کہا بھی کہ یہ سب مجیوری کے عالم میں کیا ہے مگر وہ نہیں مانے۔ میں نے بابا جی سرکار سے تقاضا کیا کہ یہ صرف اسی صورت ہو سکتا ہے کہ جب مجھے مزید علوم سکھا دیں۔ کسی ناگہانی کیفیت میں کالے علم سے استفادہ کرنے سے باز نہ آ سکوں گا۔ بابا جی یہ بات سمجھتے ہوئے بھی ناراض تھے۔ ان کا فرمانا تھا کہ تم نے شرک اور گمراہی کا راستہ کیوں اختیار کیا۔ میں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ بابا جی کا اندازہ درست تھا کہ کالی داس تمہاری جان لے سکتا تھا۔ مجھ سے اندازے کی بھول ہو گئی تھی“ میں نے محسوس کیا کہ شاہ صاحب اپنی غلطی تسلیم تو کر رہے تھے مگر ان کی آنکھیں چغلی کھا رہی تھیں۔ اس وقت میں اس قدر بھی قیافہ شناس اور جہاندیدہ نہیں تھا کہ کوئی رائے قائم کرکے اس کی سچائی سامنے آنے کا منتظر رہتا۔ میں تو بابا جی اور شاہ صاحب کے سحر میں گرفتار ہوتا جا رہا تھا اور مجھے کوئی ایسی بات جو انسانی رویوں کے منفی پہلوﺅں کو آشکار کرتی تھی بری نہیں لگتی تھی۔
میں شاہ صاحب کے پاس خاصی دیر تک بیٹھا رہا۔ میری پڑھائی شدید متاثر ہو رہی تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ آج رات پیپر کی دہرائی کروں گا لہٰذا میں نے شاہ صاحب سے کہہ دیا کہ آج رات میں دل لگا کر پڑھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے بھی کہا کہ واقعی مجھے پڑھائی پر توجہ دینی چاہئے۔ میں ان سے اجازت لے کر اپنے کمرے میں آیا اور کتابیں لے کر بستر پر بیٹھ گیا اور تکئے سے ٹیک لگا کر کتاب کھول کر ورق گردانی کرنے لگا ۔معاً ایک سفید تہہ شدہ کاغذ کتاب میں سے سرک کر باہر نکل آیا۔ کسی نے نہایت تہذیب کے ساتھ یہ کاغذ تہہ کرکے کتاب میں رکھا تھا۔ مگر کس نے؟ میں نے تو یہ کاغذ نہیں رکھا تھا۔ میں نے کاغذ کھولا تو تحریر پرنظر پڑتے ہی ذہن میں کئی جھماکے ہوئے۔ بدن میں خوشگوار سی سنسنی پھیل گئی۔ یہ زلیخا کی تحریر تھی۔ اس نے پروین شاکر کی ایک نظم ”صرف میں ایک لڑکی ہوں“ تحریر کی تھی۔ نظم کیا تھی زلیخا کے دل کا جوار بھاٹا تھا۔ اس کی بے کسی کا نوحہ اور لاچارگی کا پیرہن تھی۔ میں نظم پڑھنے لگا۔
اپنے سرد کمرے میں
میں اداس بیٹھی ہوں
نیم وا دریچوں سے
نم ہوائیں آتی ہیں
تیرا نام لے لے کر
مجھ کو گدگداتی ہیں
کاش میرے پر ہوتے
ترے پاس اڑ آتی
کاش میں ہوا ہوتی
تجھ کو چھو کے لوٹ آتی
میں نہیں مگر کچھ بھی
سنگ دل رواجوں کے
آہنی حصاروں میں
عمر قید کی ملزم
صرف ایک لڑکی ہوں
میں نے یہ نظم کئی بار پڑھی تھی اور ہر لفظ میں مجھے زلیخا کا مغموم چہرہ نظر آنے لگا تھا۔ اس کی خاموش نگاہوں سے بہنے والے قطرے حرف حرف ٹپک کر اس کاغذ پر منتقل ہو گئے تھے۔ میں نے کتاب بند کرکے ایک طرف رکھ دی۔ میرا دل غم سے بھر گیا تھا۔ زلیخا ریاض شاہ سے شادی کی رضامندی ظاہر کر چکی تھی اور اب تو ایک آدھ روز بعد اس کی شادی تھی۔ پھر اس نے مجھے یہ نظم کیوں لکھ کر بھیجی تھی۔ کیا اس کے دل میں میرے لئے کوئی دلگداز جذبہ موجود تھا۔ مگر اس نے تو کبھی اظہار نہیں کیا تھا۔ شاید ہم دونوں خاموش وہاں سے اپنے قلبی معاملات کو ہواﺅں پر لکھتے رہے تھے جو آج ایک کاغذ پر منتقل ہو کر میرے پاس اڑ آیا تھا۔
میں بے قراری سے کمرے میں ٹہلنے لگا
”زلیخا …. تم نے بہت دیر کر دی ہے“ میں خود کو کوسنے لگا۔
”مگر احمق آدمی۔ تمہارا اس سے کیسا بندھن اور پھر ہماری عمریں ہی کیا ہیں۔ میں اس کے قابل ہی نہیں ہوں“ مجھے اس خیال سے بھی اب شرم آ رہی تھی کہ میں اپنے دوست کے گھر میں ہوں اور اس کی ہمشیرہ کے ساتھ میرے قلبی معاملات بڑھ رہے تھے۔ اگرچہ اس کے اظہار کا کبھی موقع نہیں ملا تھا مگر اب یہ ایسا بھی نہیں رہا تھا کہ میں یہ نہ جان پاتا کہ زلیخا میرے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتی ہے۔
اس وقت میرے لئے زلیخا کی یہ لکھی ہوئی نظم سوالیہ نشان بن گئی تھی اور ذہن میں بار بار یہی خیال آ رہا تھا کہ زلیخا نے یہ نظم اس وقت کیوں لکھی ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے بالاخر فیصلہ کیا کہ مجھے کم از کم ایک بار زلیخا سے سے مل لینا چاہئے۔ لہٰذا میں اس کی طبیعت معلوم کرنے کے بہانے زنان خانے کی طرف چل دیا۔ میرے لئے اس گھر کے سبھی دروازے مہربان تھے اور مجھے کبھی اجنبی نہیں سمجھا گیا تھا۔ مجھ سے کسی کو پردہ بھی نہیں تھا۔ زلیخا اور چاچی باہر والے کمرے میں بڑے پلنگ پر بیٹھی تھیں۔ سامنے ایک ریشمی جوڑا کھلا پڑا تھا اور چاچی اس کی تہیں بٹھا رہی تھیں۔
”زلیخا۔ یہ تجھ پر بڑا سجے گا۔ میری جان تو پری لگے گی پری۔ بابا جی پریوں کے دیس سے تیرے لئے شادی کا جوڑا لے کر آئے ہیں“
زلیخا اپنی ماں کی کسی بات کا جواب نہیں دے رہی تھی۔ ایک ٹک ریشمی جوڑے کو دیکھے جا رہی تھی۔ میں گلا کھنکار کر اندر داخل ہوا اور سلام لی تو چاچی مجھے دیکھتے ہی بولی۔
”آجا پتر …. دیکھ یہ کیسا جوڑا ہے“ چاچی اس کا عروسی جوڑا مجھے دکھاتے ہوئے بولیں۔
”بہت خوبصورت ہے۔ اپنی زلیخا پر خوب سجے گا“ میں نے چاچی کے دل کی بات کہی تو وہ شکوہ کے انداز میں بولی۔
”دیکھ میں نہ کہتی تھی لیکن یہ کچھ بولتی ہی نہیں۔ تو ادھر بیٹھ شاہد پتر …. میں تمہیں اس کے گہنے دکھاتی ہوں“ یہ کہہ کر وہ اندر چلی گئیں۔ میں چارپائی کے پاس کھڑا رہا۔
”کب تک اس بیچارے جوڑے کو گھورتی رہو گی“ میں نے زلیخا کو مخاطب کیا
اس نے چہرہ اٹھایا اداس اداس نظروں سے میری طرف دیکھنے لگی۔ جس میں شکوے حرف حرف بن کر تیر رہے تھے۔
”نظم میں نے پڑھ لی ہے۔ زلیخا“ میں آہستگی سے رنجیدہ لہجے میں بولا ”یہ نظم مجھے بھیجنے کا مطلب؟“
وہ خاموش رہی۔ اس کے لب بے بس تتلی کی طرح پھڑپھڑائے مگر کوئی لفظ زبان سے ادا نہ کیا۔
”زلیخا کب تک خاموش رہو گی۔ بتاتی کیوں نہیں۔ کیا تم جانتی ہو اس کا مطلب کیا ہے۔ زلیخا تم نے مجھے ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے“ یہ بات کہتے کہتے بہت سے آنسو میرے گلے میں اٹک گئے۔ زلیخا مجھے تکے جا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہزاروں شکوے تھے۔
”میری آنکھوں میں تو آنسو بھی نہیں آتے“ وہ گلوگیر اور شکستہ لہجے میں بولی ”جس لڑکی کے آنسو مر جاتے ہیں اس کی باتیں بھی دفن ہو جاتی ہیں۔ میں تم سے صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ تم یہاں سے چلے جاﺅ۔ میری بربادی کا تماشا نہ دیکھو تم۔ یہ سب لوگ نہیں جانتے مگر میں جانتی ہوں تمہیں اس حویلی سے اتنا پیار کیوں ہے۔ میں شاید تم سے آج کے بعد کچھ نہ کہہ پاﺅں گی۔ بس یہی التجا کرتی ہوں کہ واپس چلے جاﺅ اور پھر …. ہو سکے تو مجھے بھول جانا۔ میں ایک مجبور لڑکی ہوں۔ میرا اپنے اختیار میں کچھ نہیں ہے“
”زلیخا کاش …. تم پہلے بول پڑتی۔ کاش تم نے اپنے جذبوں کو زبان دی ہوتی تو میں …. میں اور تم آج اس دوراہے پر کھڑے نہ ہوتے“ میں بمشکل بولا اسی لمحہ چاچی اندر آ گئی اس نے ایک سرخ ڈبے میں زلیخا کے گہنے رکھے تھے وہ ایک ایک گہنا چوڑیاں کڑے مجھے دکھانے لگیں۔
”یہ ہمارا خاندانی گہنا ہے پتر ہے میں سارے زیور اپنی بچی کو دے دوں گی میری زلیخا شہزادی لگے۔“
”بدنصیب نصیبوں جلی شہزادی ماں“ زلیخا آہستہ سے بولی اور پھر اٹھ کر اندر چلی گئی۔
چاچی ایک سادہ عورت تھی اسے کیا معلوم تھا کہ زلیخا کے ان لفظوں میں کیا حکایات اور کیسے کیسے آسودہ ارمان چھپے ہوئے تھے
”چاچی وہ زیور کہاں ہے جو بابا جی لائے تھے“ میں نے پوچھا
”وہ تو شاہ صاحب کے پاس ہیں۔ انہوں نے کل مجھ سے لے لئے تھے کہ میں ان کا ڈیزائن تبدیل کرانا چاہتا ہوں“
”کل کس وقت“ میں نے بے اختیار ہو کر پوچھا
”کل صبح“ وہ بولیں
”جب پولیس آئی تھی اندر …. اس وقت“
”ہاں ہاں …. اس پانچ دس منٹ پہلے ہی آئے تھے مگر تو کیوں پوچھ رہا ہے“
”بس ویسے ہی …. میں نے سوچا کہ یہ گہنے دیکھے ہیں تو زلیخا کے سسرالی زیور بھی دیکھ لوں“ میں نے بات بدل دی۔ میں کچھ دیر بعد اپنے کمرے میں چلا گیا مگر اب پڑھائی میں میرا دل نہیں لگ رہا تھا۔ زلیخا کی شکوہ بھری آنکھیں میرے ذہن پر سوار تھیں اور میں خود کو کوس رہا تھا کہ تم نے بہت دیر کر دی ہے۔ بہت دیر اب تم کبھی زلیخا کو حاصل نہیں کر پاﺅ گے۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری اس بے قراری کا کوئی اور بھی تماشا دیکھ رہا ہے۔ جب خاصی دیر ہو چکی تو مجھے غازی کی چہکتی ہوئی آواز آئی۔
”بھیا …. اب آرام سے بیٹھ بھی جاﺅ۔ کس پریشانی میں غرق ہو“
میں چونک پڑا۔ غازی میرے بستر پر دراز تھا
”بھیا تم کیا سمجھتے ہو میں اس بے قراری کو نہیں سمجھتا۔ میں کب سے تمہارے پیچھے جاسوسی کر رہا ہوں“
”کک کیا مطلب“ میں بڑبڑا گیا۔ ”تم کیا جانتے ہو“
”بھیا …. میں نہیں جانتا۔ تو پھر لعنت ہے میرے جن ہونے پر“ وہ افسردہ سا ہو کر بولا ”میرا بھائی ارمان مر گیا اور کہتے ہو میں نہیں جانتا۔ میں ابھی بچہ ہوں مگر میری عقل اور نظر بچوں جیسی نہیں ہے“
”میں گھبرا گیا دیکھو غازی تم کسی سے یہ بات نہیں کرو گے“ میں اس کے پاس بیٹھ گیا۔
”کس سے نہ کروں …. ملک صاحب سے یا بابا جی سے …. یا پھر شاہ صاحب سے“
”کسی سے بھی نہیں“
”بھیا …. اس بات کا صرف حویلی کے مکینوں کو پتہ نہیں ہے۔ بابا جی اور شاہ صاحب تو سب کچھ جانتے ہیں اور یہ جو نظم تم ابھی پڑھ رہے تھے یہ جب لکھی جا رہی تھی اور جب تمہارے کمرے میں پہنچائی گئی تب بھی وہ سب آگاہ تھے“
میں شرم سے پانی پانی ہو گیا اور میری زبان کو تالا لگ گیا
”بابا جی کیا سوچیں گے“ غازی استفہامیہ انداز میں بولا۔ یہی سوچ رہے ہو“
میں نے اثبات میں سر ہلایا
”مگر وہ تم سے نہیں پوچھیں گے۔ میں جانتا ہوں سرکار کو …. شاہ صاحب بھی اس کا ذکر نہیں کریں گے۔ وہ سب تم پر مہربان ہیں اور آج تمہیں بابا جی اپنے ساتھ کہیں لمبے سفر پر لے جانا چاہتے ہیں۔ میں ان کا پیغام لے کر آیا تھا لیکن تمہیں ہجر و وصل میں گرفتار دیکھ کر میں کچھ دیر کے لئے خاموش ہو گیا
”غازی …. یہ بری بات ہے یار۔ دوسروں کے راز نہیں پڑتے“ میں نے شکوہ کیا
”ہم سے کیا راز …. ہم تو ہوا ہیں۔ ہماری نظریں تو ہر سو ہوتی ہیں۔ ہم سے کیا پردہ بھیا“ وہ بستر پر کھڑا ہو گیا۔ ”چلو اب بابا جی یاد کر رہے ہیں“ میں غازی کی معیت میں مہمان خانے میں پہنچا تو بابا جی سرکار اپنے چند مریدوں کے ساتھ ظاہری خدوخال کے ساتھ موجود تھے۔ شاہ صاحب رنگیلڑی کرسی پر بیٹھے تھے اور وہ سب مجھے اس انداز میں دیکھ رہے تھے جیسے عدالت میں جج اور وکیل کسی ملزم سے جرح کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ میں اندر سے بہت شرم اور خوف محسوس کر رہا تھا
”آﺅ ادھر میرے پاس آﺅ“ بابا جی نہایت مشفق انداز میں بولے
”سناﺅ پڑھائی کیسی جا رہی ہے“
”آپ کی دعا چاہئے۔ پڑھائی تو بس واجبی سی ہے“ میں نے نظریں جھکا کر کہا مجھ میں تاب نہیں تھی کہ بابا جی کی طلسماتی اور گہری سرمگیں نظروں سے نظر ملا سکتا۔ ان کی نظریں میرے اندر اتر جاتی تھیں اور ہر شے اتھل پتھل ہو جاتی تھی۔
”فکر نہ کرو …. انشاءاللہ تم پاس ہو جاﺅ گے۔ ہم سے قریب اور الفت رکھنے والے کسی امتحان میں ناکام نہیں ہوتے“ بابا جی نے میری کمر پر ہاتھ پھیرا اور بولے ”میں تمہیں آج ٹاہلی والی سرکار کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں میں بھی تمہارے ساتھ ہی ہوں گا۔ میں اور غازی تمہارے ساتھ ہوں گے“
”جی سرکار“ میں نے کہا ”کب جانا ہے؟“
”ابھی“ بابا جی نے کہا ”ٹاہلی والی سرکار آج اس قبرستان میں چلہ کاٹ رہے ہیں جہاں تم کل گئے تھے اور کالی داس تم پر حملہ آور ہوا تھا۔ آج ہم تمہارے ساتھ ہوں گے اور ہاں ”شاہ صاحب بارہ سیاہ بکروں کا بندوبست بھی ہو گیا ہے۔ چاولوں کی دس دیگیں میٹھی بھی تیار ہیں۔ ٹاہلی والی سرکار کی نذر نیاز کا اہتمام کرنا ضروری ہے پتر۔ تم نہیں جانتے یہ درویش لوگ کیا شے ہوتے ہیں۔ آج ہم تمہیں ایک درویش کی مجلس اور ہم لوگوں کے معاملات کی ایک جھلک دکھائیں گے“ میں اس رات بابا جی اور غازی کے ساتھ نہر کنارے قبرستان میں چلا گیا۔ بابا جی عام انسانوں کی طرح میرے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ جب ہم گاﺅں سے باہر نکل گئے تو آوارہ کتوں کا ایک غول کہیں سے نمودار ہوا اور پھر اچانک انہیں کیا ہوا وہ خوفزدہ ہو کر بھونکنے لگے یہ دیکھتے ہی بابا جی کچھ دیر کے لئے غائب ہو گئے اور کتے بھی خاموش ہو گئے۔
یہ ایک بڑا عجیب منظر تھا۔ کتے ابھی تک بھونک رہے تھے کتوں کے مسلسل بھونکنے سے گاﺅں کا چوکیدار بھی ہراساں ہو گیا تھا اور اس نے اونچی اونچی آوازیں دینا شروع کر دیں۔
”ہوشیار ہو جاﺅ بھئی۔ ہوشیار …. جاگتے رہو بھی جاگتے“
میں خود بھی پریشان ہو گیا کہ اگر چوکیدار ادھر آ گیا اور اس نے مجھے رات گئے قبرستان کی طرف جاتے ہوئے دیکھ لیا تو میں اسے کیا کہوں گا۔ بابا جی اور غازی غائب تھے ۔ میں اب ایک درخت کے نیچے کھڑا ہو گیا تھا۔ مجھے خوف تھا کتے اکھٹے ہو کر میری طرف نہ آ جائیں۔ یہ آوارہ کتے تھے جو اجنبی کو دیکھ کر اس کو کاٹنے سے باز نہیں آتے۔ میں نے اپنے بچاﺅ کے لئے فیصلہ کیا کہ اگر کتے میری طرف بڑھے میں تو میں درخت پر چڑھ جاﺅں گا۔ اتفاق دیکھئے کہ جب میں نے یہ فیصلہ کیا تو اس وقت تک کم از کم دس بارہ کتے اکٹھے ہو گئے تھے اور گروہ کی صورت میں میری طرف بڑھنے لگے تھے مجھے کبھی درخت پر چڑھنا نہیں آیا۔ اگر کوئی شاخ دار اور ٹنڈ والا درخت ہو اور اس پر اوپر چڑھنے کے لئے کوئی سہارا موجود ہو تو درخت پر چڑھ سکتا تھا۔ میں نے خود کو بچانے کے لئے درخت کی پناہ تو لی تھی مگر جب اس پر چڑھنے کا سوال آیا تو میرے پسینے چھوٹ گئے۔ میں نے اس کے تنے پر ابھرے ہوئے ایک ٹنڈ پر پاﺅں رکھا اور اس سے چمٹ کر اوپر چڑھنے کی کوشش کی تو تھوڑا سا اوپر جاتے ہی میری سانس پھول گئی اور میں درخت کے ساتھ پھسلتا ہوا نیچے آ گرا۔
اس وقت تک کتے میرے بہت قریب آ گئے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ کتے اب خوفزدہ ہو کر نہیں بھونک رہے بلکہ ان کے اندر خوفناکی اور جارحیت آ چکی تھی اسی لمحہ گاﺅں کی ایک گلی سے چوکیدار بھی برآمد ہو گیا۔ وہ اپنی زبان میں کتوں کو پچکارنے لگا تھا۔ اس کے ساتھ اور بھی لوگ نظر آ رہے تھے سب کے ہاتھوں میں لالٹینیں تھیں۔ میرے پاس بچاﺅ کا کوئی راستہ نہیں تھا اور پھر مجھے کچھ نہیں سوجھی تو میں اونچی اونچی آواز میں غازی اور بابا جی کو کوسنے لگا جو مجھے کتوں کے سامنے بے یارومددگار پھینک کر بھاگ گئے تھے۔ میں نے اس لمحہ بھاگنے کا بھی فیصلہ کیا مگر پھر یہ سوچ کر رک گیا کہ میں اتنی تیز نہیں بھاگ سکوں گا، جتنی تیزی میں یہ کتے مجھ تک پہنچ سکتے تھے۔ مجھے بچاﺅ کی کوئی امید نظر نہ آئی تو میں نے اونچی اونچی آواز میں چوکیدار کو پکارنے کا فیصلہ کر لیا لیکن یہی وہ لمحہ تھا جب درخت کے اوپر شور بلند ہوا اور ایسا لگا جیسے درخت کے اوپر عذاب نازل ہو گیا ہے اور کوئی بہت بھاری بھرکم شے درخت پر گری ہے۔ میں بے ساختہ درخت کے نیچے سے ہٹ گیا اور پھر میں نے ایک اور عجیب منظر دیکھا۔
کتے اب درخت کی طرف دیکھ کر بھونکنا شروع ہوئے تھے مگر اب ان کی جارحیت دم توڑ گئی تھی وہ خوفزدہ ہو کر بھونکنے لگے تھے اور الٹے قدموں پیچھے کو ہٹتے جا رہے تھے


