part 3
گاﺅں کے چوکیدار کو اللہ نے بڑی خصوصیات سے نوازا ہوتا ہے۔ اس کی حسیات بڑی تیز ہوتی ہیں۔ رات کو اس کے ساتھ گاﺅں کے کتے ہی نہیں چوکیداری کر رہے ہوتے بلکہ مرغیاں بکریاں اور دوسرے جانور بھی اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ جب بھی گاﺅں پر کوئی افتاد نازل ہوتی ہے چور‘ ڈاکو آتے ہیں اجنبی گاﺅں میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے کتے بھونکنا شروع کرتے ہیں ۔ اگر کوئی کسی کے گھر میں داخل ہو جائے تو کتے اس کا تعاقب بھی کرتے ہیں۔ چوکیدار جانوروں کی آوازوں سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کس سمت میں کیا ہو رہا ہے لہٰذا وہ آفت کی طرح اس طرف پہنچ جاتا ہے۔ پس اس وقت گاﺅں کے چوکیدار نے بھی بھانپ لیا تھا کہ کتے کسی شے سے خوفزدہ ہو گئے ہیں لہٰذا اس نے اپنے ساتھ آنے والے لوگوں کو خبردار کر دیا ہو گیا …….. اس وقت ان میں سے کسی نے بندوق کا فائر کر دیا تھا اور پھر لالٹین کی روشنی میں مدافعت سے نپٹنے کے لئے بکھر گئیں۔ اس کا مطلب تھا لوگ دائرہ بنا کر کسی غیر متوقع صورتحال سے نپٹنے کے لئے تیار ہو چکے ہیں۔ مجھے اس وقت شدید خطرہ محسوس ہوا کہ ان لوگوں کے پاس بندوقیں بھی ہیں اور نہ جانے کون بغیر دیکھے مجھ پر گولی چلا دے۔ کتوں کے شور اور درخت کے اوپر برپا ہونے والے عجیب و غریب حالات نے میری قوت گویائی چھین لی تھی اور میں زمین پر بیٹھ گیا۔ اس لمحہ غازی کی آواز بہت قریب سے آئی
”بھیا …. ادھر بھاگ آﺅ“
”مجھ سے بھاگا نہیں جائے گا“ میں اچانک اٹھ پڑا تو مجھے اپنی ٹانگیں بے جان سی محسوس ہونے لگیں۔ خوف نے میرے اندر سے ساری قوت ختم کر دی تھی چونکہ ایک رات پہلے بھی میں ادھر قبرستان میں آیا تھا تو کالی داس سے خوفزدہ ہو کر میں بہت تیز بھاگا تھا مگر اب مجھ میں اتنی قوت ہی نہیں رہی تھی۔
”غازی …. میرے اندر بھاگنے کی سکت نہیں ہے“ میں نے اپنی بے بسی کا اظہار کیا میری بات سن کر غازی بولا
”بھیا کوشش کرو میں تمہارے پاس نہیں آ سکتا تمہارے گرد کالی داس نے سحری دائرہ پھیلا رکھا ہے۔ اس وجہ سے تہمارے اندر ہمت نہیں رہی“
غازی کی بات سن کر میں مزید خوفزدہ ہو گیا اور مجھے حویلی کے باغیچے میں پیش آنے والا واقعہ یاد آ گیا۔
”میں کیسے ہمت کروں غازی“ میں لاچارگی کے مارے بولا ”اگر تم لوگ اس قدر بے بس ہو سکتے ہو تو میں کیا شے ہوں۔ میں کالی داس کا سحری دائرہ کیسے توڑ سکتا ہوں“
”میرے بھائی یہ تم کر سکتے ہو بابا جی سرکار نے درخت کے اوپر اپنی فوج اتاری تو ہے جس سے کتے خوفزدہ ہو کر بھاگنے والے ہیں مگر یہ معاملہ اب اتنا آسان نہیں رہا۔ حرام خور کالی داس نے اپنے ہرکاروں کو کتوں کو ادھر لانے پر مجبور کیا تھا اور اس نے جہاں تم کھڑے ہو وہاں تک سحری دائرہ قائم کر رکھا تھا ۔تمہیں پہلے بھی بتایا تھا بھیا کہ ہمارے اور کافر جنات کے درمیان جنگ چھڑنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا مگر تم لوگوں کی یہ بستیاں اس جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ اگر ہم نے کالی داس پر حملہ کر دیا تو پورے گاﺅں کی چھتیں اڑ جائیں گی۔ گھر تباہ ہو جائیں گے اور پالتو جانور دہشت سے مر جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ پورے علاقے میں جہاں اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں وہ جلال میں آ جائیں گے اور بابا جی سرکار کو اپنے جلال کا شکار بنا دیں گے۔ یہ ہستیاں کبھی نہیں چاہتیں کہ جنات چاہے وہ مسلمان ہوں یا کافر انسانی بستیوں میں جنگ و جدل کریں۔ اس لئے ہم مجبور ہیں بابا جی سرکار مصلحت اور حکمت کے تحت کالی داس کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جبکہ کالی داس ان کی مصلحت کو سمجھتے ہوئے اسے اپنے حق میں فائدہ مند بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تمہیں شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ کتے جنات کو دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتے ہیں جنات کو یہ حکم ہے کہ جب کسی انسانی بستی میں جائیں تو کتوں کے سامنے سے نہ گزریں۔ اللہ نے کتوں کو یہ قوت عطا کی ہوئی ہے کہ وہ جنات کی حقیقت بھانپ لیتے ہیں تم نے دیکھا ہے کہ جن گھروں میں کتے رکھے جاتے ہیں اگر وہاں کسی بھی قسم کی غیبی مخلوق جائے گی تو وہ بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔ مسلمان جنات اپنی حدود و قیود کے پابند ہوتے ہیں“۔
مجھے پہلی بار غازی کی باتیں سن کر افسوس ہوا۔ میں انہیں بے حد طاقتور سمجھتا تھا مگر وہ بھی بے بس تھا۔ اگر مجھے اس لمحہ کوئی نقصان پہنچ جاتا تو وہ میری کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتے تھے لہٰذا میں نے کہا۔
”غازی۔ میں تمہاری باتوں کا مطلب کیا سمجھوں۔ تم مجھے کالی داس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر عجیب باتیں سن رہے ہو“۔
”میرے بھائی ناراض کیوں ہوتے ہو“۔ غازی بولا۔ میں تمہیں ایک وظیفہ بتا رہا ہوں۔ اگر تم یہ پڑھ لو تو اس سحری دائرے سے باہر نکل سکتے ہو۔ یہ کہہ کر غازی نے مجھے آیت الکرسی کی چند آیات کو ایک خاص ترتیب اور تعداد کے ساتھ پڑھنے کی ہدایت کی۔ اس وقت بھی میرے ذہن میں کئی سوال اٹھے کہ غازی ان آیات کو خود پڑھ کر مجھے اس آفت سے کیوں نہیں بچا رہا۔ جنات بھی تو قرآن پاک پڑھتے ہیںانہیں بھی ثواب ملتا ہے۔ جنات بھی قرآن سے وظائف لے کر پڑھتے ہیں پھر اس نے مجھے ہی یہ وظیفہ پڑھنے کی ہدیات کیوں کی ہے۔ میں نے سوالات کو م¶خر کیا اور وظیفہ پڑھنے لگا تو کچھ ہی دیر بعد میرے اندر قوت و توانائی پیدا ہونے لگی۔ میں تیزی سے اٹھا اور غازی کی طرف بھاگ گیا۔ مجھے یوں لگا جیسے کچھ دیر پہلے میں نہ مقہور تھا نہ مجبور۔ غازی نے میرا ہاتھ پکڑا اور تیز تیز قدموں سے قبرستان کی طرف چل دیا۔ میں نے عقب میں دیکھا گاوں والوں کی آوازیں اس درخت کے گرد محسوس ہو رہی تھیں۔ درخت پر ابھی تک افتاد نازل تھی اور ماحول میں عجیب سی بھنبھناہٹ کا احساس بڑھ رہا تھا۔
غازی بولا۔ ”بھیا اب تو بھاگو“۔
وہ تیز تیز چل رہا تھا اور میں نے باقاعدہ دوڑنا شروع کر دیا۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا مگر مجھے اس کے قدموں کا ساتھ دیتے ہوئے پسینہ آ رہا تھا۔ راستے میں ہی میں نے اپنے سوالات کی پٹاری کھول دی اور شکوہ کے انداز میں کہا۔ ”غازی سچ تو یہ ہے کہ مجھے تمہارے رویہ نے کشمکش میں مبتلا کر دیا تھا“۔
”میں سمجھتا ہوں جو تمہارے دل میں خیال پل رہا ہے“۔ غازی بولا۔
یہ فطری سی بات ہے لیکن ایک بات یاد رکھو شاہد بھیا۔ تم انسان اللہ کی بہترین مخلوق ہو۔ ہم سے بھی افضل اور اعلیٰ۔ قرآن کریم کی آیات کا ورد جب تم مسلمان کرتے ہو تو اس کے اثرات کی قوت ہماری استعداد سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ جنات یعنی ہم لوگ علم میں تم سے کم تر ہیں۔ اللہ کے راز اللہ ہی جانتا ہے بھیا۔ لیکن اللہ کریم نے جو فضیلت تم انسانوں کو دی ہے اور جو قوتیں تمہیں عطا کی ہیں اگر ہم جنات کو بھی حاصل ہو جائیں تو فرشتوں میں شمار ہونے لگیں۔ مگر ہمارے خمیر اور تمہارے خمیر کا امتیاز ہمیں ایک دوسرے کے علم کی فضیلت سے مختلف بنا دیتا ہے۔ تم نے کبھی سنا ہے۔ جیساکہ میں نے تمہیں اپنے بھائی ارمان کا قصہ سنایا تھا کہ وہ ایک مولوی صاحب کے پاس جا کر دینی تعلیم حاصل کرتا تھا۔ ہمارے بہت سے جنات علم و فضل حاصل کرنے کے لئے تمہاری دنیا میں آتے ہیں۔ میں نے تمہیں اس وقت وظیفہ پڑھنے کے لئے کہا تو اس کا مقصد یہی تھا کہ تمہاری بشری اور عقلی طاقتیں تمہیں سحری دائرے سے نکال دیں گے۔ تم نے اس وقت پورے یقین اور یکسوئی کے ساتھ وظیفہ پڑھا تو تم کامیاب ہو گئے۔ بابا جی بخوبی جانتے ہیں کہ تمہارے اندر روحانیت موجود ہے جس انسان کے اندر روحانی وجدان ہو اگر وہ وظائف اور ذکر اذکار کرتا رہے تو اس کا روحانی وجدان بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تمہارے انہی اوصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے بابا جی سرکار تم پر مہربان ہیں اور تمہیں ٹاہلی والی سرکار کے پاس بلایا ہے“۔
ہمارے عقب میں اب شور کم ہو رہا تھا۔ ہم قبرستان پہنچ گئے ہر طرف گھپ اندھیرا تھا۔ کہیں سے جھینگروں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ غازی نے میرا ہاتھ نہ تھام رکھا ہوتا تو میں ٹھوکریں کھا رہا ہوتا لیکن وہ میرے لئے ایک مشعل بردار راہبر بن گیا تھا۔ وہ مجھے قبرستان کے اندر لیکر داخل ہو گیا تو معاً قبرستان کے اندر سے آواز بلند ہوئی۔
”حق…. حق…. اللہ“
”یہ ٹاہلی والی سرکار ہیں“۔ غازی نے مجھے بتایا۔ ”ادھر دائیں جانب ڈیرہ لگا کر بیٹھے ہیں“۔
ہم نے اسی طرف کا رخ کیا تو سامنے جھاڑیوں اور قبروں کے درمیان ایک دیا روشن نظر آیا۔ غازی مجھے ٹاہلی والی سرکار کے پاس لے گیا۔ ملک نصیر کے والد نے مجھے ان کا جو حلیہ بتایا تھا وہ ہوبہو وہی تھے۔ دیئے سے قدرے دور وہ ایک دری بچھا کر قبر کے سرہانے بیٹھے تھے۔
”یہ سرکار کے والد کی قبر ہے۔ وہ بھی بڑے بزرگ تھے“۔ غازی نے مجھے بتایا۔ ”سرکار مہینے میںایک بار یہاں آتے اور دیا روشن کرتے ہیں“۔
بات سن کر ٹاہلی والی سرکار نے نظریں اٹھائیں اور ہمیں دیکھنے لگے۔
”اوئے غازی۔ تم نے کیا بکھیڑا ڈال رکھا ہے“۔ ٹاہلی والی سرکار کی آواز گونجی۔
”سرکار بکھیڑا کیسا۔ ہم تو آپ کی زیارت کے لئے آ رہے تھے اور ادھر کالی داس نے ہمیں پکڑ لیا تھا۔ آپ تو جانتے ہی ہیں سرکار ہم مجبور ہو جاتے ہیں۔“
”اوئے تمہیں کیسی مجبوری ہے۔ تمہیں کس کا خوف ہے“۔ ٹاہلی والی سرکار سر دھنتے ہوئے وجدان میں بولتے چلے گئے“۔ کس کا خوف کالی داس سے ڈرتے ہو تم۔ ہمارے دوستوں کو ایک کافر جن سے خوف آتا ہے تو لعنت ہے تمہارے پر۔ تم کسی وجہ سے اس سے ڈرتے ہو“۔
”سرکار۔ آپ خود تو کہہ رہے ہیں کہ ہم نے کیسا بکھیڑا ڈال رکھا ہے۔ اگر ہم نے اس پر ہاتھ ڈال دیا تو بات بڑھ جائے گی۔“ غازی بھی بڑا دلیر اور جرات مند تھا۔ اس نے نہایت ادب سے بات کرنے میں مضائقہ نہیں سمجھا۔
”بکھیڑا۔ بکھیڑا ہی تو ہے۔ اتنے دن ہو گئے ہیں۔ وہ تم پر حملے کرتا جا رہا ہے اور تم اس کا منہ تک رہے۔ یہ بکھیڑا نہیں ہے تو کیا ہے۔ جا¶ اور بابا جی سے کہو اس کا کام ختم کر دیں۔ میں سنبھال لوں گا جو ہو گا۔ دیکھا جائے گا“۔
”سرکار۔ بس آپ کے حکم کی دیر تھی“۔ غازی چہکنے لگا۔ ”یہ ہمارا مہمان آپ کے پاس ہے۔ بابا جی سرکار کے پاس جاتا ہوں“۔ یہ کہہ کر غازی غائب ہو گیا اور میں ٹاہلی والی سرکار کی طرف دیکھنے لگا۔
”آ¶ بیٹھو“۔
میں ایک کچی قبر کے پاس بیٹھنے لگا تو وہ بولے۔ ”ادھر چٹائی پر آ جا¶“۔ میں نے جوتا اتارا اور چٹائی پر بیٹھ گیا۔ لیکن میرے دل میں نہ جانے کیا خیال آیا کہ میں نے ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور جس قبر کی طرف رخ کر کے وہ بیٹھے تھے میں ان کی مغفرت کے لئے دعا کرنے لگا۔ میری ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ جب بھی میں کسی بھی قبرستان کے پاس سے گزرتا ہوں چاہے میرے راستے میں جتنے بھی قبرستان آئیں ہر بستی ہر شہر کے قبرستانوں میں دفن شدہ لوگوں کے لئے دعا کرنا میری عادت ہے۔ غازی کے ساتھ افراتفری میں قبرستان میں آنے کی وجہ سے میں چوک گیا تھا لیکن اب میں دعا کر رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا ٹاہلی والی سرکار نے بھی ہاتھ اٹھائے تھے اور وہ بھی میرے ساتھ دعا میں شامل ہو گئے میں نے دعا ختم کی تو وہ میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگے۔
”اچھی عادت ہے تمہاری۔ تم اپنا انجام سامنے رکھتے ہو۔ اس لئے قبرستان کے مکینوں کے ایصال ثواب کے لئے دعا کرتے ہو۔ کل کو ہم نے اور تم نے بھی یہاں آنا ہے۔ آج اگر تم ان کے ساتھ بھلائی کرو گے تو کل تمہارے ساتھ بھی بھلائی ہو گی۔ کل کوئی تم جیسا یہاں سے گزرے گا اور وہ دعا کرے گا تم دیکھو گے۔ اس لمحے میں تم قبر کی دنیا میں زندگی گزار رہے ہو گے تمہیں ان دعا¶ں کی بڑی ضرورت ہو گی۔ یہ تو وہی جانتے ہیں جو ان قبروں میں ہیں اور روز محشر کو اٹھائے جائیں گے مگر روز محشر سے پہلے انہیں قبر کی راحتوں اور عذابوں میں سے بھی تو گزرنا ہے۔ پس اے نوجوان۔ تمہارا یہ عمل پسندیدہ عمل ہے“۔
ٹاہلی والی سرکار نے بے حد خوش ہو کر چٹائی کا ایک کونہ اٹھایا اور کوئی شے نکال کر مجھے دی۔
”لو یہ تبرک کھا لو“۔
میں نے ہاتھ آگے بڑھایا تو روٹی کا ایک چھوٹا سا سوکھا سا ٹکڑا تھا۔ پھر انہوں نے قبر کے پاس رکھا آب خورہ اٹھایا اور وہ بھی میرے سامنے کر دیا۔
یہ ٹکڑا جنت کا میوہ ہے۔ درویشوں اور ولیوں کی غذا ہے یہ۔ کھا لو۔ نفس پاکیزہ ہو جائے گا۔ اس میں بھگو کر اسے نرم کر لو۔ میں نے ان کے کہنے پر عمل کیا اور جب وہ پورے کا پورا ٹکڑا پانی میں بھگو کر منہ میں ڈالا تو مجھے ایک ایسے ذائقہ کا احساس ہوا جس کا یہاں ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے چاچا جی کی وہ بات یاد آ گئی جو انہوں نے بھی سوکھی روٹیاں کھائی تھیں اور اس کے ذائقے کے معترف ہو گئے تھے۔ آج ٹاہلی والی سرکار نے مجھے اس لذت سے آشنا کیا تھا۔ ہم دنیا والے سمجھتے ہیں کہ یہ فقیر درویش بھوکے ننگے لوگ سوکھی روٹیوں جیسی بدمزہ غذائیں کھاتے ہیں تو اس لئے کہ انہیں تازہ روٹیاں اور انواع و اقسام کے کھانے نہیں ملتے۔ یہ ہماری غلط فہمی ہے۔ ان کی یہی روکھی سوکھی روٹیاں جنت کے میوے ہوتی ہیں مگر ہمیں اس کا احساس نہیں۔ ہم درویشوں کی ظاہری غذا¶ں کے مغالطے میں رہتے ہیں۔ ویسے بھی ہماری عقلوں کو ان غذا¶ں کی روحانی فضیلت کا احساس نہیں ہوتا۔ جو لذت اور قوت ان سوکھے ٹکڑوں میں ہوتی ہے شاید ہی کسی دوسری دنیاوی غذا میں ہو۔ اللہ نے اپنے اولیاءاور دریشوں کی ان غذا¶ں میں بہشتی غذا¶ں کی لطافت اور قوت پنہاں رکھی ہے۔ اللہ اپنے پسندیدہ لوگوں کو بھوکا اور ننگا نہیں رکھتا۔ انہیں دنیا کے ذائقوں سے بے نیاز کر کے اپنے لطف و کرم کی مٹھاس اور قوت سے فیض یاب کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے اللہ کے کامل اولیاءہمیشہ تزکیہ نفس اور معمولات زندگی نبھاہتے ہوئے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے روکھی سوکھی روٹیاں کھاتے آئے ہیں۔ ٹاہلی والی سرکار کی دی ہوئی وہ روٹی بہشت کے میوے جیسی تھی۔ میں نے اس کھانے کی لطافت محسوس کی اور میرا پیٹ بھر گیا۔ مجھے اپنے اندر روحانی بالیدگی کا احساس ہوا۔
میں نے اس وقت سے فائدہ اٹھانے کا سوچا اور یہ خیال میرے دل میں آنے لگا کہ یہ موقع اچھا ہے۔ مجھے ٹاہلی والی سرکار سے زلیخا کے بارے بات کرنی چاہئے۔ ممکن ہے وہ میری مدد کر دیں۔ میں ان سے یہ بات کہنے ہی والا تھا کہ وہ خود بول پڑے۔
”میاں۔ بعض اوقات انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے۔ وہ جس شے کو اپنے لئے معتبر سمجھتا ہے، قدرت اسے اس کیلئے حقیر جانتی ہے اور وہ اس کو عطا نہیں کی جاتی۔ میری بات سمجھ رہے ہو“۔
”جی سرکار“۔ میں نے سر ہلایا۔
”سورج چاند ستارے، دنیابھر کے پھول، آبشاروں کا پانی، ان کی لطافتیں بھی ہیں اور ان میں قہر بھی ہے، زہر بھی ہے۔ ہر انسان ان کو اپنے اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے لیکن انسان اس وقت یہ بھول جاتا ہے کہ ان کی لطافتوں میں چھپے زہر اور قہر کو اپنے اندر اتارنے سے وہ خود ہی زہریلا بن جاتا ہے۔ اس کے اندر بھی قہر عود آتا ہے۔ وہ حسن کا رسیا ہوتا ہے مگر یہی حسن جب مجازی ہوتا ہے تو اس کا سرایہ اسکے نفس کو قہر پر مائل کرتا ہے۔ میاں۔ یہ قہر گناہ سے جنم لیتا ہے۔ گناہ اور قہر کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تمہیں جس حسن نے اپنا اسیر بنا رکھا ہے اس میں بڑا قہر ہے۔ مگر تم نے ابھی صرف جمال دیکھا ہے جلال نہیں دیکھا۔ وہ تمہارے لئے نہیں بنائی گئی۔ وہ جہاں کا خمیر ہے وہیں اچھا رہے گا۔ تمہاری منزلیں اور ہیں، اسکی منزلیں اور“۔
”مگر سرکار۔ میں اسے زیادتی سمجھتا ہوں“۔ میں ان کی بات سمجھ چکا تھا مگر انسانی ہمدردی کے ناطے میں پھر بھی کہنے سے نہیں رکا۔
”یہ زیادتی ظاہری ہے۔ تم نہیں سمجھ سکو گے۔ وہ اپنی رضا سے تمہارے شاہ صاحب سے شادی کر رہی ہے“۔ ٹاہلی والی سرکار نے پوچھا۔ ”کیا تم اس صورتحال کو بدلنا چاہتے ہو“۔
میں خاموش ہو گیا اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ ان سے کیا کہوں۔
”دیکھو۔ فطرت کے راستے میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہئے۔ زلیخا جس کی امانت ہے اسکے پاس جائے گی اور یہ عمل بھی ایک فطری عمل ہے۔ وہ ایک سحر زدہ لڑکی ہے۔تمہاری ہوجاتی تو تم سے کبھی سنبھالی نہ جاتی۔ تمہارا اور اس کا جذبہ محض وقتی ہے۔ تم اسے بہت جلد بھول جا¶ گے اور وہ بھی سب کچھ بھول جائے گی۔ ہاں کچھ لوگوں کو اس کی کھسک رہے گی۔ باقی سب لوگ مطمئن ہیں۔ تم بھی مطمئن ہو جا¶ گے اورتمہارے چاچا جی بھی ایک روز۔ اس روز جب تمہیں میری باتوں کی سمجھ آ جائے گی۔ وہ مجھے اشاروں کنایوں میں سمجھا رہے تھے کہ معاً قبرستان کے سناٹے میں ایک چیخ ابھری
چیخ سنتے ہی ٹاہلی والی سرکار کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ تیرنے لگ
ی اور وہ مجھے دیکھ کر بولے ”بھاگ گیا ہے“
”کون بھاگ گیا ہے سرکار“ میں نے پوچھا
وہ قہقہ لگا کر بولے ”کالی داس بڑا کمینہ ہے وہ۔ شیطان کا پجاری ہے۔ ان کے ہاتھ سے آج پھر نکل گیا ہے“ اس دوران غازی آ گیا۔ اس نے اپنے ہاتھ میں ایک تھیلا پکڑا ہوا تھا جس میں کوئی شے بری طرح تڑپ رہی تھی۔ اس نے تھیلا ٹاہلی والی سرکار کے سامنے رکھ دیا تو تھیلا پھدکنے لگا۔ چیخوں کی آواز اس تھیلے میں سے آ رہی تھیں۔
ٹاہلی والی سرکار نے غازی کی طرف دیکھا اور بولے ”تو اسے کیوں پکڑ لایا ہے۔ لے جا اسے اور کسی قبر میں اسے دفن کر دے“
”سرکار یہ کالی داس کا چیلا ہے کتا بن کر اس نے ہی گاﺅں کے سارے کتے اکٹھے کئے تھے۔ آپ کی اجازت ملتے ہی جب ہم نے ان کے گرد گھیرا ڈالا تو یہ کتے کی شکل میں ہی بھاگنے لگا تھا لیکن بابا جی نے اسے پہچان لیا اور مجھے کہا کہ اسے پکڑ کر آپ کے پاس لے جاﺅں۔ وہ خود کالی داس کے پیچھے گئے تھے لیکن وہ ان کے ہاتھ نہیں آیا“
”وہ بڑی حرامی شے ہے۔ اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آنے والا غازی“ ٹاہلی والی سرکار نے کہا۔
ان کی بات سن کر مجھے تعجب ہوا اور میں نے کہا ”سرکار آپ جیسے اللہ والے درویش اور بابا جی سرکار کے ہوتے ہوئے وہ کیسے بھاگ سکتا ہے“
ٹاہلی والی سرکار کے لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی ”تم نہیں جانو گے یہ راز کی باتیں“ انہوں نے اپنی کھڑاﺅں اتاری اور تھیلے میں بند کالی داس کے چیلے کے سر پر مارنے لگے تو وہ چیخنے چلانے لگا اور ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا
”سرکار آپ کچھ بتائیں گے تو میں کچھ جان پاﺅں گا ناں“ میں نے کہا
”دیکھو میاں“ انہوں نے کھڑاﺅں پاﺅں میں پہنیں اور بولے ”یہ جو شے ہے ادھر“ وہ دل کے مقام پر انگلی رکھ کر بولے ”ایک طاقت ادھر ہے اور ایک طاقت ادھر“ انہوں نے دوسرا اشارہ دماغ کی طرف کیا۔
”ان دو مقامات پر نیکی اور بدی …. حق و باطل کی قوتیں جمع ہوتی ہیں۔ حق پرست کے پاس ان دل و دماغ کی قوتیں ہوتی ہیں اور اس کا دل نور الہٰی سے بھرا ہوتا ہے۔ یہ عطا اور قوت صرف اللہ کے بندوں یعنی صرف انسانوں کے پاس ہے جنات کو بھی علم و حکمت پر قدرت حاصل ہے مگر جو علم الہٰی انسانوں کو عطا کیا گیا ہے اس نے کائناتوں کی تمام مخلوق کو انسان سے کم تر بنایا ہے۔ یہ جنات …. تماہی نظریں بہت طاقتور ہیں ان کے پاس بھی علم کی قوت ہے مگر ان کے قلوب میں وہ گزرگاہ نہیں ہے جو ایک انسان کے دل کو مسخر کئے ہوئے ہے۔ تمہارے بابا جی بلاشبہ بہت طاقتور ہوں گے مگر ان کی قوتیں بھی محدود ہیں۔ کالی داس کے پاس بھی علم کی قوتیں ہیں۔ وہ برابری کرتا ہے تمہارے بابا جی کی …. مگر اس کا علم باطل ہے‘ وہ اندھیروں کا مسافر ہے۔ تمہارے بابا جی کا علم حق ہے‘ وہ روشنی کے سفیر ہیں مگر افسوس …. جنات صاحب علم ہونے کے باوجود غضب کے ہاتھوں مار کھا جاتے ہیں۔ تمہارے بابا جی بڑی کڑوی اور جلالی طبیعت کے مالک ہیں۔ وہ جب کالی داس کو مارنے گئے تھے تو کالی داس کو ان کی ذرا فکر نہیں تھی۔ وہ مکر و فریب سے ان کو جل دے گیا اور تمہارے بابا جی مات کھا گئے۔ مگر اب دیکھو ایک قلندر کیا کرتا ہے“ یہ کہہ کر ٹاہلی والی سرکار نے اپنی سوکھی استخوانی انگشت شہادت تھیلے میں بند کالی داس کے چیلے کے سر کے اوپر رکھ دیں تو اس کی چیخ و پکار بند ہو گئی۔ انہوں نے تھیلے کا منہ کھول دیا اور اس کے چیلے کو باہر نکالا یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ اس کی شکل انتہائی بدہیبت اور کراہیت آمیز تھی۔ اس کا دھڑ کتے کی طرح تھا مگر چہرہ کسی بگڑے ہوئے خدوخال والے انسان جیسا تھا۔ سر سے گنجا‘ سر زبان باہر کو نکلی ہوئی تھی اور وہ کتے کی طرح ہانپ رہا تھا۔ منہ میں صرف دو دانت تھے جو باہر نکلے ہوئے تھے۔ آنکھیں کتوں جیسی تھی مگر پیشانی اندر کو دھنسی ہوئی تھی۔ ناک چپٹی تھی جس کی کوئی تمیز نہیں کی جا سکتی تھی کہ یہ انسان کی ہے یا کسی جانور کی۔
”سرکار شما کر دیں۔ میں تو ابھی بالکا ہوں۔ آپ مہان ہستی ہیں۔ مجھے شما کر دیں میں آپ کی سیوا کروں گا سرکار …. مجھے پہلے ہی اس نے بہت مارا ہے“ اس نے رونی صورت بنا کر غازی کی طرف دیکھا تو غازی کی ہنسی چھوٹ گئی۔
”سرکار …. یہ بڑا بکواسی اور چاپلوس ہے۔ مجھے راستے بھر کہتا رہا کہ ا گر میں اسے معاف کر دوں تو یہ مجھے اپنے قبیلے کی خوبصورت لڑکیاں لا کر دے گا“
ٹاہلی والی سرکار کی بھی ہنسی چھوٹ گئی اور وہ بولے ”اوئے کم ذات تم کافروں کے پاس خوبصورت لڑکیاں کہاں سے آ گئیں۔ تم پر تو میرے اللہ کی مار ہے۔ تمہاری شکلیں اتنی کریہہ ہوتی ہیں کہ خود جنات تمہارے لوگوں کے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے۔ اوئے یہ جو کتے جیسی شکلیں بھرتے پھرتے ہو اسے تم خوبصورتی کہو گے“
”نہیں …. نہیں سرکار …. میں اپنی مخلوق کی بات نہیں کر رہا۔ اگر آپ مجھے شما کر دیں تو میں غازی کو ان لڑکیوں تک پہنچا دوں گا جو کالی داس مہاراج سے شکتی لینے مندروں میں آتی ہیں“ کالی داس کے چیلے کی بات سن کر میرے کان کھڑے ہو گئے اور میں ٹاہلی والی سرکار کی طرف دیکھنے لگا۔
”حرام خور …. ہم لوگ ان عیاشیوں سے بے نیاز ہوتے ہیں اور پھر یہ غازی تو ابھی بچہ ہے“
”یہ بچہ ہے“ اس کا چیلا رونی صورت بنا کر کہنے لگا ”اس نے مار مار کر میری کھال ادھیڑ دی ہے“
”بکواس کرتا ہے۔ ابھی میں نے اس کو ایک تھپڑ بھی نہیں مارا اور یہ چلانے لگا تھا۔ مکار اور فریبی اسی طرح رو رو کر یوں دہائی دیتے ہیں جیسے انہیں بہت مارا پیٹا گیا ہے۔ میں نے تو ا س کو صرف چٹکیاں کاٹی ہیں اور یہ کتے کی طرح بھونکنے لگا تھا“
غازی کی بات سن کر میری بھی ہنسی نکل گئی ”تمہاری چٹکی بھی تو کھال ادھیڑ دیتی ہے غازی“
”حرام خور“ ٹاہلی والی سرکار نے اسے مخاطب کیا ”تم نے جن لڑکیوں کا ذکر کیا ہے وہ مسلمان ہیں یا کافر“
”مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی“ اس نے بتایا
”تمہارا نام کیا ہے“ انہوں نے پوچھا
”مرلی …. مجھے مرلی کہتے ہیں“
”کالی داس نے تجھے کیا کام سونپا ہوا ہے“ ٹاہلی والی سرکار نے پوچھا
”مہاراج نے …. “
”لعنت تیرے مہاراج پر …. خبردار میرے سامنے اس کو مہاراج نہ کہنا“ ٹاہلی والی سرکار نے مرلی کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
”اچھا سرکار …. اب کالی داس مہاراج کو مہاراج نہیں کہوں گا“ اس کی بات سن کر میں ہنسنے لگا تو غازی میری طرف دیکھنے لگا
”کیا ہوا بھیا“
”کچھ نہیں“ میں نے ہنسی ضبط کرتے ہوئے کہا
مرلی دوبارہ بولا ”جی سرکار تو مہاراج۔ نہیں نہیں وہ کالی داس مہاراج“ میں نے ہنسی بمشکل ضبط کرتے ہوئے دوبارہ غازی کی طرف دیکھا تو وہ غصے میں آ گیا اور اس نے ایک زوردار تھپڑ مرلی کے سر پر مارا تو وہ بلبلانے لگا
”خبردار اب کالی داس کو مہاراج کہا ورنہ چٹکیاں کاٹ کاٹ کر تری کھال کاٹ ڈالوں گا“ غازی اب میرے ہنسنے کی وجوہ جان گیا تھا
”یہ باز نہیں آئے گا۔ یہ کالی داس ہے۔ اس نے خود اسے تیار کیا ہے“
”سرکار یہ موکل کیا ہوتا ہے“ میں نے یہ لفظ کئی جگہ پڑھا تھا اور اس کے بارے میں بہت سی عجیب و غریب باتیں بھی سن رکھی تھیں۔
”میاں …. یہ موکل وغیرہ جو ہوتے ہیں ناں …. عامل لوگ تیار کرتے ہیں۔ جادو اور اپنے علم کے زور پر ایک انڈہ تیار کرتے ہیں اور اس سے کام لیتے ہیں۔ یہ علم بڑی ظالم شے ہے میاں۔ حق اللہ جو حق کی طرف گیا اسے موکلوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور جو یہ کام کرتے ہیں اللہ کی ان پر پھٹکار ہوتی ہے۔ ہاں تو مرلی۔ تو کیا بتا رہا تھا“
”میں عرض کر رہا تھا کہ ان لڑکیوں میں مسلمان بھی ہیں اور یہ کالا علم سیکھنے کے لئے کالی داس کے پاس آتی ہیں۔ آپ تو جانتے ہی ہیں سرکار کے مندروں میں پوجا کرنے والے پنڈت کالا علم سیکھتے ہیں۔ ادھر اس شہر میں رہنے والے پنڈت جی کے پاس کالی داس اور ہم سب چیلے موجود ہوتے ہیں۔ کالی داس نے ہی پنڈت کو کالا علم سکھایا ہوا ہے“ اس نے شہر کا نام بتایا تو میں چونک گیا اور پھر جب اس نے باقی تفصیلات بھی بتائیں تو میں حیرت و استعجاب کے سمندر میں غوطے کھانے لگا۔ اس نے جس پنڈت کا ذکر کیا تھا وہ بظاہر بڑا پرامن ہندو تھا۔ وہ زیادہ معروف تو نہیں تھا لیکن مٹھی بھر کمیونٹی کا مذہبی رہنما ہونے کی وجہ سے اس کی شخصیت نمایاں تھی۔ مرلی کی زبانی یہ سن کر مجھے بے حد دکھ ہوا کہ بعض مسلمان لڑکیاں اور عمر رسیدہ عورتیں بھی مکروہ علم سیکھنے میں دلچسپی لیتی ہیں اور ان علوم کو سیکھتے ہوئے انہیں اپنی عزت و آبرو سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ کالا علم سیکھنے والے کو شیطانی احکامات پر عمل کرنا ہوتا ہے اور ان احکامات میں سب سے نمایاں حکم یہی ہے کہ وہ جنس و ہوس کا غلام بن کر زندگی گزارے گا۔ اس کی نظر میں خونی اور انسانی رشتوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔ اگر وہ کسی مقام پر ان احکامات سے روگردانی کرے تو اس سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میں کف افسوس مل رہا تھا کہ اللہ نے انسانوں کو کیسی کیسی نعمتوں سے سرفراز کیا ہوا ہے مگر وہ شیطانی احکامات پر عمل کرکے غلیظ ترین جانوروں سے بدتر ہو جاتے ہیں۔ کالا علم کرنے والوں کی بھی یہی زندگی ہوتی ہے۔
ٹاہلی والی سرکار نے میرے چہرے کے تغیر و تبدل کو دیکھا تو بولے ”تو ٹھیک سوچ رہا ہے۔ ہم انسانوں کی بستیوں میں جانوروں جیسے کام ہی کرتے ہیں۔ میں تو جدھر دیکھتا ہوں مجھے انسان کم کم نظر آتے ہیں اور چاروں طرف خونی بھیڑئیے‘ کتے‘ بندر‘ لومڑ‘ گیدڑ اور سور نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاتھ پاﺅں ٹانگیں انسانوں جیسی ہیں مگر چہرے جانوروں جیسے ہیں۔ افسوس صد افسوس۔ ان کا کوئی فعل انسانوں جیسا نہیں ہے اور پھر ان کافروں کو تو ویسے ہی اللہ کی مار ہے یہ اپنے بھگوان پوجتے ہیں۔ ان کے بھگوان اوتار تو شیطان کے تراشے ہوئے خدا ہیں ظاہر ہے یہ شیطان پوجیں گے تو گندے کام ہی کریں گے۔ مگر دکھ ہوتا ہے بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی مسلمان کو کافروں سے بدتر دیکھتا ہوں۔ اللہ نے مسلمانوں کو کتنی محبوب امت بنایا ہے لیکن یہ مسلمان اللہ سے طلب کرنے کی بجائے ان شیطانوں کے در پر جا کر غلامی اختیار کرتے ہیں۔ کوئی جنات سے مانگتا ہے اور کوئی شیطان سے۔ کوئی دریشوں کے در پر آتا ہے تو کوئی پنڈتوں کی سیوا کرکے اپنی مرادیں پانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہائے یہ مسلمان کتنے کمزور ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس اللہ کا کلام ہے۔ اس سے بڑی طاقت دنیا میں کوئی اور نہیں ہے۔ یہی علم کی وہ کتاب ہے جس نے دین و دنیا میں کامیابی اور خوشیوں کے دروازے کھولنے ہیں۔ مگر کوئی اسے کھول کر تو دیکھے“ میں تو ٹاہلی والی سرکار کو ایک ملنگ اور درویش سمجھتا تھا ایک ایسا ملنگ جس کی زندگی قرآنی تعلیمات سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ اس کی اپنی دنیا اور اپنا فلسفہ ہوتا ہے۔ اس کا علم رمز و کنایہ میں پوشیدہ ہوتا ہے مگر اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ وہ ہماری جیتی جاگتی دنیا کا ہی فرد ہے۔ میں بڑا گنہگار ہوں میاں“ وہ مجھے گم صم دیکھ کر بولے ”میں واقعی تمہاری دنیا کا آدمی تھا۔ میں نے چار ایم اے کئے تھے لیکن کیا ہے کہ جب میں نے اللہ کی کتاب سے لو لگائی تو میں دنیا کے قابل نہیں رہا تھا۔ میں نے قرآن کو سمجھ کر حفظ کیا تھا لیکن میں پھر بھی دنیا سے کنارہ کر گیا۔ یہ میرے والد صاحب کی محبت کا اثر تھا یا درویش ہستیوں کا قرب کہ اللہ کی راہ پر چلتے چلتے میں شہروں سے نکل کر ان قبرستانوں میں پہنچ گیا۔ مجھے ان منزلوں اور راستوں کی تلاش تھی جو جاگتی آنکھوں سے نظر نہیں آتے اور اندھیرے جن کی آنکھوں میں روشنیاں کر دیتے ہیں۔ پس میں ان راستوں پر چلتا رہا اور ان ہستیوں نے میرا سپنہ قرب الہٰی کی مٹھاس سے بھر دیا جو اس شہر کی حفاظت پر مامور ہیں۔ میاں تمہاری اس دنیا کے اوپر بھی ایک غلاف ہے اور اس غلاف کے پیچھے اللہ کی محبوب ہستیاں پہرے دیتی ہیں۔ اچھائی کا پرچار کرتی ہیں۔ میں تو بہت معمولی انسان ہوں۔ ابھی تک قبرستانوں میں بھٹکتا رہتا ہوں۔ تمہارے جیسے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ہمارے جیسے مجذوب لوگ قبرستانوں میں ڈیرے کیوں لگاتے ہیں۔ تو سنو میاں یہاں انہیں پہچان ملتی ہے۔ دنیا کی حیثیت یہ جادہ حشمت اور دولت کی ہوس کا اندازہ انہیں یہاں آ کر ہوتا ہے جب گوشت اور ہڈیاں مٹی میں خاک ہو جاتی ہیں تو تب احساس جاگتا ہے کہ ہم جس دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اس کا انجام تو یہ مٹی کی ڈھیری ہے۔ پس یہ اللہ والے ان قبرستانوں میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں“
باتیں کرتے ہوئے ٹاہلی والی سرکار کے چہرے پر عجیب طرح کا تناﺅ تھا۔ وہ کہہ رہے تھے ”اگر یہ اللہ کے بندے ان قبرستانوں اور غلاف کی دنیا میں مامور نہ ہوں تو یہ شیطان ان بستیوں کو تاراج کر دیں۔ تمہارے بابا جی جیسے نیک جنات ان بدکاروں کا قلع قمع کرتے رہتے ہیں مگر جب کالی داس جیسے حرام خور حد سے بڑھتے ہیں تو ہمیں بھی کچھ کرنا پڑتا ہے۔ پس آج اس کا یوم آخرت آ پہنچا ہے“
یہ کہہ کر ٹاہلی والی سرکار نے مرلی کے سر کے اوپر اپنی انگشت شہادت رکھی تو اس کا بدن شاخ بید کی طرح لرزنے لگا ”اے کالی داس میں ترے داس کے ذریعے تجھ تک پہنچوں گا“ یہ کہہ کر انہوں نے غازی کی طرف دیکھا اور کہا ”جاﺅ اپنے بابا جی کو بلا کر لاﺅ اور ہاں اپنے شاہ صاحب کو بھی لیتے آﺅ اور نذر نیاز کا سامان جلدی سے لے آﺅ۔ ہمارے بہت سے مہمان آنے والے ہیں“ یہ سنتے ہیں غازی غائب ہو گیا۔ میرے احساسات پر ایک طرح سے نشہ سا طاری تھا۔ میں اللہ کی بنائی ہوئی اس مخلوص کو جو اسرار کے پردوں میں پوشیدہ ہے اسے بہت قریب سے دیکھ رہا تھا۔ میں اس عطا پر مسرور تھا کہ دنیا میں میرے جیسے کتنے لوگ ہیں جو ایسے لوگوں کو بہت قریب سے دیکھتے ہوں گے جن کے سامنے کائنات اپنے حجاب اٹھا لیتی ہے۔
ٹاہلی والی سرکار نے مرلی کے سر پر ہنوز انگلی رکھی تھی اور وہ تڑپتا جا رہا تھا۔ وہ زیر لب بھی کچھ پڑھ رہے تھے۔ چند ثانئے بعد انہوں نے کچھ پڑھا اور مرلی کے سر پر پھونک ماری تو اس کی اذیت ناک کراہ نکل گئی۔ ٹاہلی والی سرکار کی آنکھوں کا رنگ سرخ ہوتا جا رہا تھا اور پورے بدن میں اکڑاﺅ سا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ تن کر بیٹھ گئے تھے انہوں نے ایک بار پھر مرلی پر پھونک ماری تو اس بار اس کی کراہ آخری ثابت ہوئی۔ وہ تڑپنے لگا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے وجود سے دھواں اٹھنے لگا۔ مرلی بری طرح تڑپ رہا تھا۔ میں خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنے لگا تو ٹاہلی والی سرکار نے غضب ناک نظروں سے میری طرف دیکھا اور اسی جگہ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میری نظریں مرلی پر جمی ہوئی تھیں جس کی شکل تیزی سے بدل رہی تھی۔ اس کا چہرہ اب کتے جیسا ہو گیا تھا مگر اس کا بدن پگھل کر دھوئیں میں تحلیل ہو رہا تھا۔ چند لمحوں میں ہی جہاں کچھ دیر پہلے مرلی بیٹھا تھا وہاں دھوئیں کا ایک غبار بیٹھتا ہوا نظر آیا اور جب یہ غبار بھی چھٹ گیا تو وہاں تھوڑی سی راکھ نظر آئی۔ ٹاہلی والی سرکار نے راکھ اپنی ہتھیلی پر رکھی اور پھر دری کے نیچے سے ایک پرانے کپڑے کا ٹکڑا نکالا اور راکھ اس میں باندھ کر کپڑے کو مٹھی میں دبا کر بولے ”اب دیکھتا ہوں کالی داس …. تو کہاں تک بھاگے گا“
اس دوران غازی شاہ صاحب اور بابا جی کو بھی اپنے ساتھ لے آیا۔ بابا جی اور شاہ صاحب ٹاہلی والی سرکار کے ساتھ ایک مختلف زبان میں باتیں کرنے لگے۔ میں حیران ہو رہا تھا کہ یہ کون سی زبان بول رہے ہیں۔ نہ عربی‘ نہ فارسی‘ نہ سنسکرت‘ نہ اردو نہ جانے کون سی زبان تھی مگر مجھے احساس ہو رہا تھا کہ وہ جو بھی زبان بول رہے تھے اس میں عربی فارسی جیسی نرمی اور فصاحت و بلاغت بھی تھی اور کسی قبائلی علاقے کی زبان جیسی کرختگی بھی تھی۔ گفتگو کے دوران وہ زلیخا کا نام بھی لیتے تھے۔ ان کے چہروں کے تاثرات سے لگتا تھا کہ وہ کسی بات پر پریشان بھی ہیں اور ان کے اندر تناﺅ پایا جاتا ہے مگر میں نہیں سمجھ سکا کہ انہیں یہ تشویش کس بات کی ہو سکتی تھی۔ خاصی دیر بعد وہ میری مانوس زبان میں بولنے لگے تھے۔ شاہ صاحب نے نذرانے کی تمام اشیا ٹاہلی والی سرکار کے سامنے رکھوا دی تھیں جنہیں دیکھ کر وہ بولے
”ہمارے مہمان بہت زیادہ آنے والے ہیں ان سے کیا بنے گا“
شاہ صاحب بولے ”سرکار فی الحال تو اتنا ہی بندوبست ہو سکا ہے“
”خیر …. آئندہ خیال رکھا کرو ہمارے مہمانوں کے لئے تمہارا ہاتھ تنگ نہیں ہونا چاہئے“ ٹاہلی والی سرکار کے چہرے پر قدرے خفگی نظر آ رہی تھی۔ ”میں نے مرلی کا مسان پکڑ لیا ہے اور اب کالی داس کو حاضر کرنے لگا ہوں۔ تم لوگ اپنے اپنے حصاروں میں چلے جاﺅ نہ جانے وہ غیرت مرتے مرتے کس کو مار ڈالے۔ شاہ صاحب اس کو اپنے ساتھ ہی بٹھائیں“ انہوں نے میری طرف اشارہ کیا تو شاہ صاحب نے کچھ پڑھ کر میرے اور اپنے گرد ایک دائرہ کھینچ دیا اور ہم حصار میں بیٹھ کر ٹاہلی والی سرکار کی طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے ہتھیلی کھولی اور راکھ کپڑے سے نکال کر خالی آب خورے میں ڈال دی اور پھر زیر لب ایک غیر مانوس سی زبان میں کچھ پڑنے لگے۔ معاً مجھے یاد آیا کہ یہ تو وہی زبان ہے جو شاہ صاحب کبھی کبھار بابا جی سرکار کی حاضری کے لئے بولتے تھے۔ ٹاہلی والی سرکار بھی اسی زبان میں بڑی تیزی سے مگر جلالت آمیز انداز میں بلند آواز میں پڑھنے لگے اور پھر کچھ دیر بعد انہوں نے آب خورے کے اوپر اپنی ہتھیلی رکھی اور دوسرا ہاتھ شاہ صاحب کی طرف بڑھا دیا۔ شاہ صاحب نے اپنی جیب سے ایک چھری نکال کر انہیں پکڑا دی۔ ٹاہلی والی سرکار نے چھری کی نوک آب خورے پر ہتھیلی میں چبھوئی تو خون کی چند بوندیں ٹپک کر اس میں گرنے لگیں اور اسی لمحہ پورے قبرستان میں شدید زلزلے کا احساس پیدا ہوا۔ یوں لگتا جیسے قبروں میں دفن سارے مردے جیسے یک دم قبریں پھاڑ کر باہر نکل پڑے ہوں۔ ہر طرف مکروہ خوفناک اور لرزہ خیز قہقہے سنائی دینے لگے۔ خون کی بوندوں سے آب خورے میں نارنجی رنگ کا شعلہ سا بلند ہونے لگا تھا اس لمحے میرے کانوں کی لوئیں جھلسنے لگی تھیں۔ میں نے عجیب نظروں سے اپنی اس کلائی کی طرف دیکھا جس کو کاٹ کر شاہ صاحب نے خون نکالا تھا اور ایک کالا علم پڑھ کر زلیخا کو چڑیلوں کے حملہ سے بچایا تھا۔ میں نے شاہ صاحب کی طرف دیکھا تو مجھے ان کا چہرہ دھندلا دھندلا سا نظر آنے لگا۔ ان کے چہرے پر مجھے کسی انسان کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ان کا دھڑ تو انسان کا تھا مگر چہرہ ایک ہیبت ناک درندے کا تھا۔
٭٭٭
شاہ صاحب کے چہرے کو دیکھ کر مجھے ٹاہلی والی سرکار کی باتیں یاد آنے لگی تھیں اور میرا ذہن بڑے ملک صاحب کی دوراندیشی کو داد دینے لگا تھا۔ مگر یہ سمے داد واد دینے کا نہیں تھا۔ میں تو ایسے لوگوں میں گھر چکا تھا جو اپنی ہی دنیا کے باشندے تھے۔ ہیں کواکب کچھ …. نظر آتے ہیں کچھ کے مصداق صورتحال تھی۔ میں حیران تھا کہ ٹاہلی والی سرکار کے بقول اگر اس دنیا میں انسانوں کا قحط الرجال تھا تو وہ اپنے شاہ صاحب بھی ان میں شامل تھے اور پھر یہ ٹاہلی والی سرکار جنہیں میں ایک بہت ہی بزرگ ہستی سمجھنے لگا تھا وہ خود بھی تو اسی صف میں کھڑے نظر آ رہے تھے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کسی اللہ والے کو دنیاوی اور سفلی علوم کی ضرورت نہیں ہوتی مگر یہ ٹاہلی والی سرکار بھی تو میرے نزدیک ایک پارسا ہستی تھی لیکن وہ بھی سفلی علم کی طاقت سے مرلی کی راکھ پر کوئی عمل کر رہے تھے۔ مجھے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اور میرا ایمان ڈگمگانے لگا تھا۔
دراصل جب آپ کسی معتبر اور پارسا ہستی کی باتوں سے گھائل ہو جاتے ہیں لیکن جب اس کے قول فعل میں تضاد پاتے ہیں تو آپ کے ذہن میں بارود پھٹنے لگتا ہے۔ قلب و نظر میں کہرام مچ جاتا ہے اور آپ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ یا الہٰی یہ کیسا اسرار ہے۔اس جیسے یہ تیرے بندے جو سب کے سامنے نیکی و پارسائی اور تیری طاقتوں کی تبلیغ کرتے ہیں مگر جب ان کو عملی زندگی میں دیکھتے ہیں تو ان کا کردار بہت ہی پست نظر آتا ہے۔ ایک بے عمل عالم اور مبلغ یقیناً بہت سے لوگوں کے عقائد اور ایمان کو متاثر کر دیتا ہے۔ قول و فعل کا تضاد میرے جیسے کچے ذہنوں کو بے رحمی سے کچل دیتا ہے۔ میری یہ کیفیت ان بہت سے نوجوانوں سے مختلف نہیں تھی جو سچائی کی تلاش میں نکلتے ہیں تو گمراہی کے گڑھوں میں گرا دئیے جاتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ جنہیں معتبر سمجھ کر ان کی تقلید میں لگ جاتا ہے وہ کس قدر حقیر ہوتے ہیں۔ میں اگر صحافی نہ ہوتا تو شاید میرے ذہن پر ٹاہلی والی سرکار اور شاہ صاحب کے متعلق بدگمانی اور شکوک و شبہات پیدا نہ ہوتے۔ میں شاہ صاحب اور ٹاہلی والی سرکار کی حقیقتوں کو پا چکا تھا مگر پھر بھی ایک لمحہ کے لئے میرے دل میں خیال آیا کہ کہیں میں مسمریز تو نہیں ہو چکا۔ میں نے اپنے بدن پر زوردار چٹکیاں کاٹ کر اپنے ہوش و حواس کو چیک کیا اور ایک بار پھر ماحول کا اندازہ کرنے لگا تو میرا گماں ایک تلخ حقیقت اور پختہ یقین کی طرح سچ ثابت ہوا۔ شاہ صاحب کا چہرہ کسی ہیبت ناک اور سفاک بن مانس جیسا تھا۔ میں نے ٹاہلی والی سرکار کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی تو اس لمحے ان کے گرد گہرے دھوئیں کا غبار سا پیدا ہو چکا تھا اور دھوئیں کی ایک گہری چادر نے ان کا چہرہ ڈھانپ لیا تھا۔
خوف سے میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور کن پٹیوں پر سنسنی رینگتی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے اس وقت خود کو بہت تنہا محسوس کیا اور دل میں آیت الکرسی پڑھنے لگا۔ دل ہی دل میں اللہ سے دعا کرنے لگا یا اللہ یہ تیری دنیا کے کیسے اسرار ہیں اور یہ لوگ کون ہیں۔ یا اللہ میں تجھ سے رہنمائی چاہتا ہوں اگر یہ لوگ واقعی میرے یقین کے مطابق برے ہیں تو مجھے ان سے تو ہی بچا سکتا ہے۔ مجھے ان کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دینا۔ میں جوں جوں آیت الکرسی پڑھ رہا تھا میرے اندر ایک قوت سی بیدار ہو رہی تھی۔ رگ و پے میں جیسے اطمینان عود آیا تھا اور نظروں کے سامنے بے نقاب ہونے والے حجاب اور گہرے ہوتے چلے گئے۔ اب مجھے ٹاہلی والی سرکار کا چہرہ بھی دکھائی دینے لگا تھا۔ ان کے چہرے پر اب تازگی اور نورانیت سی نظر آنے لگی تھی۔ دھواں غائب ہو چکا تھا اور ان کے سامنے اس کے پیالے میں نارنجی شعلے اب بلند ہو رہے تھے۔ میں قدرے حیران ہوا کہ ٹاہلی والی سرکار کا چہرہ ہنوز ایک مطمئن بزرگ کا تھا مگر جب ریاض شاہ کی طرف دیکھا تو انکے چہرے پر ابھی تک بن مانس کا چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔ میرے دل سے اب ٹاہلی والی سرکار کے بارے پیدا ہونے والے شکوک شبہات ختم ہونے لگے تھے اور میں یہ سوچنے لگا تھا کہ نہ جانے انہوں نے کس ضرورت کے تحت یہ عمل کیا تھا اور انہیں کیا مجبوری تھی۔ اور پھر میرے ذہن میں یہ بھی خیال آیا کہ میں جس عمل کو ایک کالا علم سمجھ رہا تھا نہ جانے وہ عمل واقعی سفلی علم میں سے تھا یا کوئی اور تھا۔ اس تاویل کے باوجود میرے ذہن میں یہ تکرار بار بار پیدا ہو رہی تھی کہ کسی اللہ والے کو روحانیت کے ماہر کو ہرگز ہرگز کالا علم نہیں کرنا چاہئے نہ ہی اس کا سہارا لینا چاہئے خواہ اسے کیسی ہی مجبوری کیوں نہ ہو۔ میں اپنے اندر اٹھنے والے ہیجان و تذبذب میں مبتلا تھا کہ ٹاہلی والی سرکار کے آب خورے میں پیدا ہونے والی آگ کے شعلے بلند ہو کر گہرے دھوئیں میں تبدیل ہونے لگے اور قبرستان میں شدید قسم کی آندھیاں چلنے لگیں۔ میرے بہت ہی قریب بہت سی قبریں ایک دھماکے سے شق ہو گئیں اور ان میں سے گہرا دھواں نکلنے لگا ۔ میں چاروں طرف دیکھنے لگا۔ قبروں سے نکلنے والا دھواں بلند ہوتا چلا گیا اور پھر اس نے ہماری طرف رخ کر لیا۔ دھوئیں کی شکل کسی بے ڈھنگے اور ڈیل ڈول والے انسان جیسی تھی۔ جوں جوں وہ دھواں پوش عفریت قریب آ رہے تھے ان کے چہرے نمایاں ہو رہے تھے جب وہ ہمارے حصار کے قریب پہنچے تو ٹاہلی والی سرکار کی آواز بلند ہوئی۔
”ریاض شاہ دیگیں ان کے سامنے پہنچا دو غازی بکرے بھی لے آﺅ“
شاہ صاحب اٹھے اور دائرے سے باہر قدم رکھنے ہی لگے تھے کہ ٹاہلی والی سرکار کی دھاڑ سنائی دی“ ریاض شاہ یہ حماقت نہ کرنا اپنے حصار میں بیٹھ کر یہ کام کرو“
”جی سرکار“ شاہ صاحب بولے ” لیکن کیسے؟“
ٹاہلی والی سرکار نے میری طرف گہری نظروں سے دیکھا تو شاہ صاحب کی بھنویں تن گئیں۔ ان کا چہرہ اب عام انسانوں جیسا ہی تھا
شاہ صاحب تو ٹاہلی والی سرکار کی بات سمجھ گئے تھے لیکن مجھے اس وقت سمجھ آئی جب شاہ صاحب نے مجھے مخاطب کیا۔
”شاہد میاں اٹھو اور دیگیں ان کے سامنے رکھ دو“
”مم …. میں“ میں گھبرا کر بولا اور ان دھواں پوش عفریتوں کو دیکھنے لگا جن کے چہرے گز گز لمبے ہو گئے تھے اور جن کی سیاہ رنگ کی زبانیں ہانپتے کتوں کی طرح باہر کو نکلی ہوئی تھیں۔ ان کی زبانوں سے بچھوﺅں جیسے کیڑے ٹپک ٹپک کر نیچے گر رہے تھے۔ میںنے یہ منظر دیکھا تو کر جھرجھری لے کر رہ گیا۔
”ہاں تم“ یہ کہہ کر شاہ صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا اور کچھ پڑھنے کے بعد مجھ پر پھونک مار دی اور ایک کند سی چھری میرے ہاتھ میں پکڑا دی۔ ”جاﺅ اور دیگیں ان کے سامنے رکھ دو“ میرے ذہن میں سوالوں کا طوفان اٹھا کہ دیگیں جب ان کے سامنے پڑی ہیں تو یہ عفریت خود آگے بڑھ کر دیگیں چاٹ کیوں نہیں لیتے۔ اسی اثنا میں ٹاہلی والی سرکار کی سنسناتی آواز سنائی دی۔
”دیر نہ کرو میرے بیٹے۔ جلدی سے یہ دیگیں ان کے سامنے رکھ دو“
”مگر سرکار میں دیگ کیسے اٹھا سکتا ہوں“ میں نے اپنی کمزوری کو بہانہ بناتے ہوئے کہا
”تمہارے اندر اتنی قوت ہے۔ ایک ایک دیگ اٹھا کر ان کے سامنے رکھ دو وقت ضائع نہ کرو“ ٹاہلی والی سرکار کا لہجہ تیز مگر گھمبیر ہو گیا تھا۔
میں نے دوبارہ دھواں پوش عفریتوں کی طرف دیکھا تو وہ اب کی بار اپنے بازو اوپر اٹھا کر چیخنے لگے تھے ۔ ان کے بدن سے بھی بچھو نما کیڑے گرنے لگے تھے۔ میں نے ان کے پیروں کی طرف دیکھا جہاں ان کیڑو ں کا ایک ہجوم ہوتا جا رہا تھا
”اگر تم نے دیر کر دی تو یہ زہریلے کیڑے ہمیں کھا جائیں گے“ شاہ صاحب نے میرے بہت قریب آ کر کہا ”یہ ماس خورے ہیں انہیں انسانوں کا گوشت بہت پسند ہے۔ یہ ہڈیاں بھی چبا ڈالتے ہیں۔ اب جلدی سے اٹھو“ میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور پھر جونہی میں نے حصار سے باہر پاﺅں رکھے ماس خورے میری طرف بھاگے اور میں ان سے بچنے کے لئے دیگوں کے پاس جا پہنچا۔
دیگیں چند قدم پر اونچی قبر کے پاس رکھی تھیں۔ وہاں ایک بڑا سا کپڑے کا ڈھیر بھی پڑا تھا جس میں ہلچل سی ہو رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے اندر کوئی شے موجود ہے۔ میں نے ایک دیگ کو پکڑا اور اسے اٹھانے لگا تووہ میرے حساب سے خاصی وزنی ثابت ہوئی۔ میں نے اس کو اوپر سے پکڑا اور دیگ کو پہئے کی طرح گھما کر دھواں پوش عفریتوں کے پاس لے گیا۔ ایک آدھ ماس خورہ دیگ کے نیچے آ گیا اور اس کی کربناک چیخ بھی سنائی دی۔ میں نے جلدی سے دیگ چھوڑ دی اور بھاگ کر دوسری دیگ بھی دھکیلتا ہوا لے گیا۔ دیکھا تو سارے ماس خورے پہلی دیگ پر چڑھ گئے تھے اور جب تک میں دوسری دیگ لے کر پہنچا وہ ساری دیگ چٹ کر چکے تھے وہ دیگ پر جس دھینگا مشتی کے ساتھ یلغار کرتے تھے اس سے عجیب سا شور بلند ہو رہا تھا۔ میں نے جب تک دس دیگیں ان تک پہنچا دیں اس وقت تک غازی بھی بکروں کو لے کر آ گیا تھا۔ سارے بکرے سیاہ رنگ کے تھے۔ وہ خوف سے منمنا رہے تھے۔ ایک طرف ماس خور کیڑوں کا شور اور دوسری جانب بکروں کی منمناہٹ سے قبرستان میں ایک طلسم کا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔
میں جب آخری دیگ دھکیل کر واپس حصار میں جانے لگا کسی نے پیچھے سے میری قمیض کا کونہ کھینچ لیا اور میری قمیض پھٹ گئی۔ اسی لمحہ ایک زوردار تھپڑ کی آواز گونجی اور ساتھ ہی کوئی خوفزدہ بچے کی طرح چلایا تھا۔ میں جلدی سے حصار میں بیٹھ گیا ۔میری سانس پھول گئی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے کسی پہاڑ کو سر کرکے میں آیا ہوں۔ میں نے اس طرف جدھر دیکھا میری قمیض کھینچی گئی تھی وہاں اب غازی کھڑا تھا۔ پاس ہی کپڑوں کی وہ ڈھیری پڑی تھی مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میری قمیض کس نے کھینچی تھی۔ شاہ صاحب نے میرا یہ مسئلہ حل کر دیا بولے
”اس حرام خور نے تمہیں پکڑنے کی کوشش کی تھی“ انہوں نے کپڑوں کی ڈھیری کی طرف اشارہ کیا ”غازی اور بابا جی سرکار نے کالی داس کے بہت سے چیلوں کو پکڑ کر بوری میں بند کیا ہے۔ اس میں سے ایک نے تمہیں پکڑنے کی کوشش کی تھی۔ غازی نے اس کے منہ پر تھپڑ مارا تھا“
اس دوران غازی نے سارے بکرے دھواں پوش عفریتوں کے سامنے کھڑے کر دیئے تو وہ ندیدوں کی طرح ان پر ٹوٹ پڑے۔ بکرے منمناتے ہی رہ گئے۔ عفریتوں نے درندوں کی طرح بکروں کو چیڑ پھاڑ کھایا اور ان کی کھینچا تانی میں بہت سے بکروں کے لوتھڑے دور دور تک جا گرے تھے ۔ ماس خورے ان لوتھڑوں کی طرف بھاگ گئے۔
اس لمحہ غازی کی حسرتناک آواز بلند ہوئی۔
”آہ …. ہم سے تو یہ بھوت اچھے ہیں“
”منہ بند کرکے بیٹھ غازی“ بابا جی سرکار کی آواز سنائی دی
”جی بابا جی“ یہ کہہ کر غازی میرے حصار میں آ بیٹھا اور منہ میرے کان کے قریب لا کر بولا ”ایک آدھ بکرا مجھے دے دیتے تو میں ان کے سارے کام کر دیتا“
”غازی …. غازی“ بابا جی کی آواز اب بہت قریب سے آئی تھی۔ میں نے اس جانب دیکھا تو وہ ٹاہلی والی سرکار کے عقب میں کھڑے تھے۔ غازی نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔ اس قدر خوف و ہراس کے باوجود میں مسکرا دیا اور اس ایک لمحے کی مسکراہٹ نے مجھے بے حد تقویت دی۔ غازی دوبارہ سرگوشی کرنے سے باز نہیں آیا ”بھیا اب تو طبیعت ٹھیک ہو گئی ہے ناں …. میں تو آپ کو نارمل کرنے کے لئے بول رہا تھا“ غازی کا نسخہ واقعی میرے لئے جانفزا ثابت ہوا تھا۔
دھواں پوش عفریت بکرے اور دیگیں چٹ کر چکے تھے اور دوبارہ اپنے ماس خور کیڑوں سمیت قبروں میں چلے گئے تھے۔ قبرستان پر اب خاموشی طاری ہو رہی تھی۔ قرب و جوار میں صرف جھینگروں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں یا پھر غازی کی بھاری بھرکم سانسوں کا زیر و بم محسوس ہو رہا تھا۔ جنات کی خاصیت ہے کہ جب یہ انسانی وجود میں متشکل ہوتے ہیں تو ان کی سانسیں بھاری اور گرم ہو جاتی ہیں اگر آپ نے کسی ہائی بلڈ پریشر کے مریض کی بگڑتی ہوئی حالت کو قریب سے دیکھا ہے تو یہ جان جائیے کہ جنات کا یہ روپ اس سے سو گنا زیادہ بگڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر وہ قریب نہ بھی بیٹھے ہوں تو ان کی بھاری اور گرم سانسوں کی حدت یوں محسوس ہوتی ہے جیسے کوئی انسان تندور کے قریب بیٹھا ہوا اس کی تپش کو محسوس کرتا ہے۔ غازی جب بھی میرے قریب آتا تھا تو مجھے پسینہ آ جاتا تھا۔
”یار غازی مجھے گرمی لگ رہی ہے“ میں نے اسے ذرا پرے ہٹاتے ہوئے کہا ”اگر میرے پاس بیٹھے رہے تو میں جل جاﺅں گا“ وہ میری بات سمجھ گیا اور بولا
”تو پھر آپ شاہ صاحب کی حالت کا اندازہ لگا لیں۔ بیچارے ایک نہیں سینکڑوں جنات کی قربت برداشت کرتے ہیں۔ اب تو وہ بھی کندن بن گئے ہیں۔ اس تندور کی طرح جو روٹیاں سینکتا ہے اور خود بھی جل رہا ہوتا ہے لیکن اپنا روپ کبھی نہیں کھوتا“ غازی ایک عجیب ماہر نفسیات ثابت ہوا تھا۔ اس نے مجھے یہ ایک بات سمجھانے کے لئے بہت ہی پرلطف طریقہ اختیار کیا تھا اور میں واقعی اس بات کو سمجھ گیا کہ عملیات کی پراسرار دنیا میں رہنے والے اتنے جلالی کیوں ہوتے ہیں۔ دراصل ان کا اندر بھی تپ چکا ہوتا ہے۔ آگ سے کھیل کھیل کر ان کے پورے بدن کا لہو آتش نوا ہو چکا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا نفس اسی آگ سے بھڑکتا رہتا ہے۔ روحانیت آگ نہیں ہوتی ایک نور کی ٹھنڈی کرنوں جیسی قوت ہوتی ہے۔ اس میں جلال ہوتا ہے لیکن یہ جلال قہر کی صورت میں متشکل نہیں ہوتا۔ نفس اس ٹھنڈی آگ کے ہاتھوں بے موت مر جاتا ہے۔
جب غازی مجھے یہ سمجھا رہا تھا تو اس لمحہ ٹاہلی والی سرکار کی مسرت آمیز آواز سنائی دی ”لو بھئی ہم کامیاب ہو گئے“
آب خورے پر بلند دھواں اب سمٹنا شروع ہو گیا تھا اور اس کے اندر ایک کوتاہ قامت انسان مینڈک کی طرح پھدکتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ وہ دھوئیں سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کی تمام کوششیں بے سود تھیں۔
”تو اب بھاگ نہیں سکے گا کالی داس“ ٹاہلی والی سرکار نے چھری کی نوک دھوئیں میں گھسیڑ دی تو کالی داس نے پھدکنا بند کر دیا ۔ اس کی باریک لرزتی ہوئی آواز سنائی دی۔
”سرکار …. میں وچن دیتا ہوں آج کے بعد میں کبھی غلط کام نہیں کروں گا مجھے شما کر دیں“
”سرکار …. اس کو معاف نہیں کرنا“ بابا جی کی غصہ میں بھری ہوئی آواز سنائی دی۔
”سنو ذرقان شاہ مجھے مروا کر تمہیں کچھ نہیں ملے گا اگر تم بھی مجھے شما کر دو تو میں کبھی تمہارے راستے میں نہیں آﺅں گا“ میری بات یاد رکھنا ذرقان شاہ ۔ابلیس کی نسل سے ہوں اورتم بھی اسی میں سے ہو ۔میں تم نے جوبہروپ بھرا ہے یہ کھل کررہے گا“۔
اس لمحے میں نے ریاض شاہ کے چہرے پر خوفزدگی کے سائے محسوس کئے اور وہ تیزی سے بولے ”سرکار اس کو جلدی سے جہنم واصل کر دیں یہ بکواس کررہا ہے “
”ریاض شاہ خاموش بیٹھو۔ میں سمجھتا ہوں تمہیں کس بات کا خوف ہے تم بھی ایک عامل ہو اپنے اندر صبر کرنا سیکھو۔ اس نے اگر تمہارے بابا جی کو ان کے اصلی نام سے پکار لیا ہے تو تمہیں کیا پریشانی ہے۔ زیادہ پریشان ہونے سے اب کچھ نہیں ہو گا‘
ریاض شاہ خاموش تو ہو گئے مگر ان کی ہیجانی کیفیت ختم نہ ہوئی انہوں نے کن اکھیوں سے میری طرف بھی دیکھا تھا مگر میں یوں صم بکم ہو گیا تھا جیسے مجھے گرد و پیش کی خبر ہی نہیں تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔کالی داس کے الفاظ میرے ذہن میں گھوم رہے تھے اور بابا جی کا تقدس سے بھرا نورانی چہرہ میری نظروں کے سامنے آکر ٹھہرگیا۔
”کالی داس میں دشمنوں اور برے لوگوں کو مارنے کے آداب بھی جانتا ہوں لیکن افسوس میں گندگی کو پاکیزگی کی جگہ پر نہیں رکھ سکتا۔ میں تمہیں معاف نہیں کر سکتا“ یہ کہہ کر ٹاہلی والی سرکار نے چھری کالی داس میں گھسیڑ دی تو آناً فاناً قبرستان کے اوپر بجلیاں سی کڑکنے لگیں۔ درخت طوفانی انداز میں ہلنے لگے اور ہر سو بین کرتی آوازیں سنائی دیں۔
”او بابا …. تم نے کیا کر دیا۔ ہمارے پربھو کو مار دیا۔ ہم کو بھی مار دے“ بین کرتی آوازیں کبھی درختوں سے آ رہی تھیں اور کبھی قبروں سے۔ اب میں خاموش تماشائی کی طرح بیٹھا تھا مجھے اس صورتحال کی خاصی سمجھ آ چکی تھی اور مجھے تحفظ کا بھی احساس تھا کہ یہ طاقتیں میری حفاظت کریں گی۔ یہ شور خاصی دیر تک برپا رہا۔ کالی داس اب دھوئیں میں تحلیل ہو گیا تھا اور جوں جوں دھواں سکڑتا ہوا آب خورے میں واپس جا رہا تھا بین کرتی بدروحوں کی آوازیں بھی کم ہو رہی تھیں۔ کچھ ثانئے بعد دھواں آب خورے میں بیٹھ گیا اور وہاں چٹکی بھر خاک نظر آ رہی تھی۔ ٹاہلی والی سرکار نے وہ راکھ پوٹلی میں باندھ لی تو اس کے ساتھ ہی قبرستان میں سکون لوٹ آیا۔ سب کے چہرے مسرور تھے۔ شاہ صاحب نے کالی داس کی راکھ لینے کے لئے ٹاہلی والی سرکار کے آگے ہاتھ بڑھا دیا تو بابا جی (ذرقان شاہ) کی آواز سنائی دی۔
”ریاض شاہ ندیدے نہ بنو جو کچھ تمہارے پاس ہے اگر اسے ہی سنبھال کر رکھ لو تو بہت بڑی بات ہے“
”یہ ٹھیک کہتا ہے“ ٹاہلی والی سرکار نے کہا ”ریاض شاہ تم پر کچھ قوتیں مہربان ہیں تو اس کی لاج رکھو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تمہارا مقدر اچھا ہے
آﺅ…. ہم اور تم نماز پڑھ لیتے ہیں۔ وہ اپنی عبادت کر چکے ہیں۔ اس وقت وہ استراحت فرما رہے ہیں….“ شاہ صاحب نے کہا اور ہم دونوں نے باغیچے میں نماز فجر ادا کی۔
”آج صبح مجھے پرچہ دینے جانا ہے….“ میں نے نماز کے بعد انہیں بتایا
”اللہ تمہیں کامیابی عطا فرمائے…. شاہ صاحب نے پرخلوص انداز میں دعا فرمائی۔ ان کا رویہ اب تبدیل ہو گیا تھا۔ ٹاہلی والی سرکار کی سرزنش نے انہیں صراط مستقیم کی راہ پر ڈال دیا تھا اور لگتا تھا کہ اب وہ کبھی سفلی علم کو استعمال نہیں کریں گے۔ انہوں نے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کی اور پھر مجھے اپنے ساتھ مہمان خانے میں لے گئے۔ کمرے میں گہرے سبز رنگ کا زیرو کا بلب روشن تھا۔ ان کے بستر پر بابا جی سرکار دراز تھے۔ باہر کی نسبت اندر خاصی گرمائشتھی۔
مجھے اندر آتے ہوئے دیکھ کر بابا جی سرکار کے بدن میں جنبش ہوئی۔ انہوں نے اپنے سر سے کپڑا سرکایا تو ان کی روشن روشن آنکھیں مجھ پر مرکوز ہو گئیں۔ شاہ صاحب نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بابا جی کے بستر کی پائنتی جانب لے گئے۔ وہ ان کے قدموں میں بیٹھ گئے اور ان کے پاﺅں دبانے لگے۔ بابا جی کی آنکھوں میں طلسمات کے سارے چراغ روشن تھے۔ ان کی نظریں مجھے اپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہونے لگیں اور میرے دل کے راستوں پر جمی کرچیاں پگھلنے سی لگیں۔ میری آنکھیں ان کی عقیدت کے خیال سے جھک گئیں اور میں بھی شاہ صاحب کی تقلید کرتے ہوئے ان کے پاﺅں دبانے لگا۔
بابا جی کے پاﺅں انتہائی نفیس تھے۔ پاﺅں کی انگلیاں برابر تھیں۔ پیر آئینے کی طرح شفاف نظر آتے تھے۔ رگوں میں دوڑتا ہوا گرم گرم لہو پارے کی طرح رواں دکھائی دیتا تھا۔ ان کے پیروں پر جب میں نے ہاتھ رکھا تو یوں لگا جیسے کسی تپے ہوئے فولاد پر انسانی گوشت کی کھال چڑھا دی گئی ہے۔ ان کے پیر دباتے ہوئے بڑا عجیب سا سکون محسوس کر رہا تھا۔
”آج چائے نہیں پلاﺅ گے ہمیں….“ بابا جی نے مجھے مخاطب کیا۔
”جی سرکار…. میں ابھی لاتا ہوں….“ یہ کہہ کر میں اندر گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ چاچی اس وقت اٹھ پڑتی ہیں اور دودھ بلو رہی ہوتی ہیں۔ وہ باورچی خانے میں ہی تھیں۔ حویلی کی بوڑھی نوکرانی اوپلوں کو انگیٹھی میں ڈال کر پھونکنی سے آگ دہکا رہی تھی چاچی رنگیلڑی چوکی پر بیٹھی دودھ بلو رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی چاچی بولیں۔ ”بسم اللہ۔ پتر خیر ہے آج سویرے سویرے۔ بھوک لگ گئی ہے….“
”نہیں چاچی…. وہ بابا جی چائے مانگ رہے ہیں….“
”میں صدقے جاﺅں۔ سرکار نے چائے مانگی ہے۔ لیکن پتر۔ ابھی تو بھینسوں کا تازہ دودھ بھی نہیں آیا۔ رات کے دودھ کو میں نے جاگ لگا دی تھی۔ اب کیا کروں…. حمیداں دیکھ ادھر کٹورے میں دودھ رکھا ہوا ہے کہ نہیں….“ بوڑھی نوکرانی کی آنکھیں آگ سلگاتے ہوئے اوپلوں کے دھوئیں سے سرخ ہو رہی تھیں۔
”اچھا ملکانی جی دیکھتی ہوں….“ وہ اٹھی اور کٹورے کو دیکھ کر بولی۔ ”دودھ کا ایک گھونٹ بھی نہیں ہے۔“
”اچھا تو پھر…. حمیدے کو ڈیرے پر بھیج اور اسے کہو کہ بھوری بھینس کا دودھ دھو کر لائے۔ جلدی کرو….“
حمیداں باہر کو لپکی اور میں بھی واپس ہونے لگا تو چاچی کہنے لگی۔
”پتر باباجی کو لسی میں مکھن ڈال کر کیوں نہیں دیتے…. یہ لو اور سرکار سے کہو کہ تازہ لسی پی لیں….“ چاچی نے بڑے سے پیالے میں تازہ بنی ہوئی لسی میں تازہ مکھن کا پیڑہ ڈال کر مجھے دیا۔ میں نے مہمان خانے میں پہنچ کر بابا جی کو صورتحال بتائی تو وہ مسکرانے لگے۔
”میاں۔ ہم ٹھنڈی اور بادی اشیا کھا ہی نہیں سکتے…. چائے بن جائے تو لے آنا….“
یہ سن کر غازی بھی اسرار کے پردوں سے باہر نکل آیا اور بولا۔ ”سرکار اگر اجازت ہو تو میں پی لوں….“
”تو کبھی سدھر نہیں سکے گا غازی….“ بابا جی ہنس دئیے۔ ”کبھی تو جلیبیاں کھاتا ہے اور کبھی آئس کریم…. جس دن تو پکڑا گیا اس دن پٹے گا….“
”بابا جی سرکار…. آپ کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی فکر نہیں ہے۔“ غازی نے میرے ہاتھ سے لسی کا پیالا لیا اور گھونٹ بھر کر بولا۔ ”سواد آ گیا سرکار….“
”شاہد میاں….“ بابا جی نے مجھے مخاطب کیا۔ ”ہم جیسے جنات یہ چھوٹی چھوٹی عیاشیاں کرتے رہتے ہیں لیکن ہمیں اسکی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ ہمارے لئے تمہاری دنیا کی غذائیں جنت کی غذاﺅں جیسا درجہ رکھتی ہیں۔ ہمیں ان کی اشتہابہت تنگ کرتی ہے۔ ہائے۔ تمہیں کیا بتاﺅں میاں…. اللہ نے جب بنو اسرائیل کو من و سلویٰ عطا کیا تھا تو اسکی لذت کس درجہ کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ مگر افسوس اس بدبخت قوم نے اس جنتی غذا کو ٹھکرا دیا۔ ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ جنات بھی من و سلویٰ کھاتے تھے۔ وہ بڑے فخر سے ہمیں بتاتے تھے کہ من و سلویٰ حاصل کرنے کے لئے وہ کیا کیا طریقے اختیار کرتے تھے۔ میں تمہیں ایک راز کی بات بتا دوں۔ اس من و سلویٰ کی ایک جھلک عربوں کے کھانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر رسول اکرم کی امت اور سرزمین کو من و سلویٰ کی لذت سے بھی آشنا کیا تھا۔ کیا تم نے کبھی عربوں کے روایتی کھانے کھائے ہیں….“
میں نے انکار میں سر ہلایا۔
”نہیں کھائے ہوں گے۔ اگر تم کھا بھی لو تو ہضم نہ کر سکو گے۔ تم آج کل کے ان انسانوں میں سے ہو جو خالص غذا نہیں کھا سکتے….“ بابا جی کہہ رہے تھے۔ ”یہ چائے جو تم یہاں پیتے ہو اس میں کسی قسم کی لذت نہیں ہے۔ …. تمہیں کیا بتاﺅں ….بڑی سرکار…. میرے پیر و مرشد بتایا کرتے تھے کہ فرعونوں کے محلات میںجو قہوہ پکتا تھا آج کی دنیا اس کی لذت سے محروم ہے۔ یہ قہوہ جڑی بوٹیوں کو شہد میں گھول کر پکایا جاتا اور پھر یہ مہمانوں کو پینے کے لئے دیا جاتا تھا۔ فرعون جس پر مہربان ہوتے یہ قہوہ اسکو پلاتے تھے۔ میری بڑی سرکار صاحب ایمان ہونے سے پہلے مشرک تھے اور وہ ایک فرعون زادی کے عشق میں مبتلا ہو کر اس کے محل میں رہتے تھے۔ یہ داستان بڑی رنگین اور دلچسپ ہے میاں…. کبھی وقت ملا تو ہم تمہیں سنائیں گے۔ تم داستان گو ہو۔ تمہارے لئے یہ داستان بڑی اہم ہو گی۔ زلیخا کی شادی ہو لینے دو…. اگر تم نے ہمارے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائی تو ہم تمہیں یہ داستان ضرور سنائیں گے….“
بابا جی کی باتوں میں اس قدر سحر اور اثر تھا کہ میں ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
”سرکار…. مجھے آپ پر اعتماد ہے اور میں آپ کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاﺅں گا….“
”ٹھیک ہے۔ پرسوں رات کے بعد ہم تمہیں اپنے پیر و مرشد کی یہ داستان سنائیں گے۔ اب تم جاﺅ اور چائے لے آﺅ…. حمیدا دودھ لے آیا ہے….“ میں باورچی خانے میں گیا تو واقعی حمیدا واپس آ چکا تھا۔ چاچی نے مجھے چائے بنا کر دی میں نے بابا جی کو اپنے ہاتھوں سے چائے پلائی۔ یہ بڑا دلچسپ تجربہ تھا۔ وہ چھوٹی چھوٹی چسکیاں بھرنے لگے۔
”تمہاری حاچی اس میں الائچی ڈال دیتی تو زیادہ لطف آتا….“ بابا جی کہنے لگے ”بہرحال تازہ اور خالص دودھ میں بنی چائے کا بھی اپنا ہی لطف ہے۔“
بابا جی چائے پی چکے تو میں ان سے اجازت لیکر شہر جانے کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ رات تیزی سے گزر گئی تھی۔ مجھ پر جگ رتے کا ذرا بھی اثر نہیں تھا۔ اس روز میرا پرچہ بہت اچھا ہوا۔ میں اس روز بہت زیادہ مضطرب تھا۔ رات کو مجھے ٹاہلی والی سرکار سے بھی ملنا تھا اور اگلے روز زلیخا کی شادی کا بھی بندوبست کرنا تھا۔ شادی میں صرف گھر کے ہی لوگوں نے شریک ہونا تھا۔ میں جب واپس آیا تو بڑے ملک صاحب کو بہت زیادہ غمگین پایا۔ ان کے کاندھے جھکے ہوئے تھے اور وہ ایک دو راتوں میں ہی بوڑھے ہو گئے تھے۔
”ٰپتر تم بھی میری مدد نہیں کر سکے۔ میں تو تمہیں اپنا ہمدرد سمجھتا تھا….“
چاچا جی کی بات سن کر میں مجرموں کی طرح سر جھکا کر خاموش کھڑا رہا۔ میرا دل چاہا کہ یہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں غرق ہو جاﺅں۔ بے کسی سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں منہ موڑ کر بھاگ گیا۔
”پتر کب تک یونہی بھاگتے رہو گے….“ مجھے چاچا جی کی آواز سنائی دی…. میرے پاس ان کی کسی بات کا جواب نہیں تھا۔ میں انہیں کیا بتاتا کہ میں خود کن حالات سے گزر رہا ہوں۔ اور میرے بس میں اب کچھ نہیں رہا۔
میں ڈیوڑھی سے گزر رہا تھا کہ مجھے عقب سے زلیخا کی آواز سنائی دی۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ اس نے سرخ رنگ کا جوڑا پہنا تھا اور زنان خانے کی دہلیز پر کھڑی تھی۔
”شاہد۔ میرے لئے شہر سے گلاب کے پھول منگوا دینا….“
میں کسی ساکت شے کی طرح اسکو دیکھتا رہ گیا۔ ”اور یہ پھول کل میری تربت پر ڈال دینا…. اپنے ہاتھوں سے….“
”زلیخا….“ میرے اندر رواں کرچیاں دوبارہ اکٹھی ہو کر میرے حلق میں پھنس گئیں اور میری رگ و پے زخم زخم ہو گئی…. کوئی بہت ہی اذیت سے میرے اندر چیخا تھا….
میں نے اسکی طرف سے رخ موڑ لیا اور ڈیوڑھی میں بھاگتا ہوا حویلی سے باہر نکل گیا۔ عقب سے زلیخا کی آواز میرا تعاقب کرتی رہی۔ ”شاہد یہ پھول تم میری تربت پر ڈال دینا….“
میں حویلی سے بھاگتا ہوا ہانپتا کانپتا ہوا قبرستان کی طرف دوڑتا چلا گیا ۔میرا پورا وجود زخموں سے چور چور تھا۔ میری سانسیں بھی اکھڑ چکی تھیں۔ میں سیدھا ٹاہلی والی سرکار کے والد گرامی کی قبر کے پاس جا گرا۔ میرا دل چاہا کہ یہ قبر شق ہو جائے اور میں اسکے اندر دفن ہو جاﺅں۔ ابھی تک چاچا جی اور زلیخا کی آوازیں میرا تعاقب کر رہی تھیں۔ میں نے شدت سے مغلوب ہو کر اپنے کان بند کر لئے اور زور زور سے چیخنے لگا۔
”خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو…. میں بے بس ہوں۔ میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے…. کچھ نہیں ہے میرے اختیار میں….“
میں روتا جا رہا تھا اور میری چیخوں سے قبرستان کے مردے بھی عاجز آ گئے تھے۔ معاً کسی نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور دہشت زدہ ہو کر نم آنکھوں سے پلٹ کر دیکھنے لگا۔ ٹاہلی والی سرکار کھڑی تھی۔ انکے ہاتھ میں دانوں کی ایک بڑی سی مالا تھی۔
”پتر۔ تم بھول گئے۔ ہم نے کہا تھا جب دکھ بڑھ جائیں تو اللہ کو یاد کرنا۔ تمہاری ساری آزمائشیں وہی ذات کامل آسان کر سکتی ہے۔ آﺅ۔ میرے پاس بیٹھ جاﺅ اور اپنے اسم اعظم کو پڑھو۔ خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے قلب کے اندر عشق حقیقی کا چراغ روشن کرو اور اپنی ساری ذہنی قوتیں اس چراغ کی لو پر مرکوز کر دو…. اور دل و جان سے یکتا ہو کر پڑھو۔ پھر دیکھنا عبادت و ریاضت کا اثر…. آﺅ…. اچھے مرد روتے نہیں ہیں….“
”مرد کیوں نہیں روتے۔ مرد تو بہت روتے ہیں سرکار….“ میں گلوگیر لہجے کے ساتھ بولا۔ ”سرکار جب مرد آہ زاری کرتے ہیں تو سمندروں اور پہاڑوں میں جوار بھاٹا اٹھتے ہیں۔ زمین کا کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ سرکار جب مرد روتا ہے تو آسمان بھی اسکے ساتھ روتا ہے۔ اس وقت مرد بڑا بے بس ہوتا ہے سرکار۔ بڑا دکھی ہوتا ہے….“
”ہاں…. مگر یہی دکھ اور بے کسی اسے اپنے کمزور ہونے اور اس ذات کامل کی طرف راغب کرتا ہے۔ مرد ہمیشہ اپنی طاقت کے زعم میں رہتا ہے مگر جب اس کا زعم ختم ہوتا ہے تو وہ عشق حقیقی کی آغوش میں پناہ لیتا ہے۔“
ٹاہلی والی سرکار کی باتیں میرے دل پر اثر کرنے لگیں اور میں نے انکی ہدایت پر اپنے دل کو ذکر الٰہی سے معمور کرنا شروع کر دیا۔ میں اپنے دل میں عشق حقیقی کا چراغ روشن کرنے لگا۔ میری باطنی دنیا کے گہرے اندھیروں میں ذکر الٰہی کے نور سے سیاہی چھٹنے لگی۔
٭٭
میں نور کی کرنوں میں کھڑا تھا اور سرتاپا ایک دبیز اور انتہائی کیف آور روشنی میرے پورے بدن سے پھوٹ رہی تھی۔ میری آنکھیں ہنوز بند تھیں مگر قلب و ذہن کی راہداریوں میں سرگرداں روح اپنی بصیرت کے جلوے دکھا رہی تھی۔ میرے اندر حقیقی انسان گوشت پوست سے مبرا ہو کر ایک لطیف وجود کی شکل میں اس نظارے سے لطف اٹھا رہا تھا۔ میرے اختیار میں ہوتا تو اپنی روح کے دیدار اور لطف و کرم کی سنہری بارش سے ملاقات کا ناطہ کبھی نہ توڑتا۔ مگر یہ ابتدا کے دن تھے۔ ارتکاز ابھی پختہ نہیں ہوا تھا۔ کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ گیا تھا اور میں بیدار ہو گیا۔ میری آنکھیں بوجھل اور کن پٹیاں بھاری ہو رہی تھیں۔ دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی تھی اور سانس میں گرماہٹ اور اکتاہٹ کا احساس ہو رہا تھا۔
ٹاہلی والی سرکار نے میری حالت دیکھی تو اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور پھر پہلے دائیں اور پھر بائیں کندھے پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
”میاں …. دیکھا یہ لطف و کرم۔ وجدان کی یہ دنیا بڑی نرالی ہے۔ سچ بتاﺅ۔ اگر تمہارے اختیار میں ہوتا تو کیا تم اس دنیا سے واپس آنا پسند کرتے۔ اپنی آنکھیں کھول کر اس عارضی دنیا کی کراہتوں کو سہنا پسند کرتے“
”سرکار …. آپ صحیح فرماتے ہیں سرکار۔ میں نے چند گھڑیوں میں جو لطف اٹھایا ہے روح کی سرشاری اور اس کے نور کی لطافت میں جو راحت پائی ہے خود کو ایک جیتا جاگتا اور محسوسات سے بھرا ہوا انسان پایا ہے میں اس دنیا سے بالکل واپس آنا پسند نہ کرتا“
”حق اللہ …. حق اللہ“
ٹاہلی والی سرکار نے انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی اور سر دھنتے ہوئے کہنے لگے ”یہ راز حقیقت کی ایک بہت ہی چھوٹی سی جھلک تھی میاں …. اب کہو تمہاری دنیا اور ہماری دنیا میں کتنا فرق ہے۔ میرے مرشد نے جب مجھے یہ منظر دکھایا تھا تو میں نے دنیا تیاگ دی تھی۔ اپنے سکول کالج اور یونیورسٹی کی ساری ڈگریاں جلا دی تھیں۔ میں اپنے رب سے شرمندہ تھا۔ اتنے برسوں ایسی تعلیم اور علم حاصل کرتا رہا جو مجھے اس ذات کبریا سے دور لے گیا تھا۔ بابا …. یہ دنیاوی علم اپنے رب کی پہچان کسی کسی کو ہی دیتا ہے۔ یہ بڑا سطحی علم ہے۔ ہم جیسے ملنگ اور مجذوب لوگ اپنی روح کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنے ظاہری بدن کے قید خانے میں عمریں کاٹ رہے ہوتے ہیں مگر بدن کے اس پنجرے میں طائر روح کہیں اور پرواز کر رہا ہوتا ہے۔ ہم اپنی پروازوں اور لطافتوں کی دنیا سے ہرگز واپس نہیں آنا چاہتے۔ تم جیسے لوگ ان ملنگوں درویشوں مجذوبوں اور بابوں کا مذاق اڑاتے رہتے ہو۔ ان کے بدن پر لٹکتے غلیظ چیتھڑے نما ملبوسات کو دیکھ کر ناک بھوں چڑھاتے ہو۔ ہائے تم کیا جانو۔ ان کے قلب و ذہن کس بیداری میں رہتے ہیں“
ٹاہلی والی سرکار کی باتیں میرے دل پر نقش ہو رہی تھیں اور میرا دل بار بار اسی دنیا کی لطافتوں کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ میرے دل میں آیا کہ ان کے ہاتھوں بیعت ہو جاﺅں مناسب الفاظ تلاش کرکے اپنا مدعا بیان کرنے کی کوشش میں تھا کہ وہ بولے
”تم جس شش و پنج میں مبتلا ہو یہ تمہیں کوئی بہتر حل نہیں بتا سکے گا۔ تم ہماری دنیا کے آدمی ہو مگر تمہیں ہماری دنیا سے فی الحال دور ہی رہنا ہے۔ تم پر بھی بزرگوں کا سایہ ہے۔ تم کسی کی دعا کی لاج ہو۔ جاﺅ پہلے اپنا کھوج لگاﺅ۔ تمہاری کمر پر کسی ہستی نے مہر لگائی تھی اسکے سلسلہ میں بیعت ہونا ہے تجھے “ میں نے چونک کر ان کی طرف دیکھا
”میں کچھ سمجھا نہیں سرکار“
”اپنے گھر جاﺅ …. اور اپنے والدین سے پوچھنا۔ تم بڑی دعاﺅں اور منتوں کے بعد اس دنیا میں آئے ہو۔ اللہ ذوالجلال نے اپنے کسی ولی کی دعا کو قبول فرمایا اور تمہارے والدین کے حق میں دعا فرمائی تھی۔ جاﺅ اور اپنی شناخت تلاش کرو“ میں ان کی باتیں سن کر سوچنے لگا کہ نہ جانے وہ کس وہم و گماں میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ میں نے اپنے والدین سے ایسی کوئی بات نہیں سنی تھی کہ میری پیدائش سے پہلے انہوں نے کسی بزرگ سے دعا کرائی تھی۔ ٹاہلی والی سرکار نے میرے ماتھے پر نظریں جمائیں جیسے کسی دستاویز کو پڑھ رہے تھے۔ ان کے لبوں پر مسکان تھی۔
”میاں …. میں نے شریعت کے خلاف کوئی بات نہیں کی …. تم کس گماں میں ہو۔ یہ طریقت کا سلیقہ ہے۔ طریقت شریعت پر رہے تو کسی بدگمانی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے اور تم تو ویسے بھی بڑے خوش بخت ہو ،تمہارے لئے ایک صاحب طریقت نے دعا کی تھی۔ جاﺅ اور اب ان کی دعاﺅ ں کا حق ادا کرو اور ان کے لئے بھی دعا کرو۔ میاں …. دعا تقدیر کو بدل دیتی ہے۔ بس دعا کا سلیقہ سیکھ لو۔ اپنے اللہ سے محبت کرو۔ اس قدر محبت سے اس کو چاہو کہ وہ تمہیں چاہنے لگے۔ رب ذوالجلال سے اس کا فضل مانگ کر اپنے حق میں دعا کرو گے تو فیض پاﺅ گے …. جاﺅ اور اپنی منزل کے نشان تلاش کرو“
ٹاہلی والی سرکار کی باتوں سے میرے اندر کشمکش جاری ہو گئی تھی کہ وہ کون سی ہستی ہے جس کی دعاﺅں کا میں ثمر ہوں۔ مجھے اپنے متعلق جاننے کی کھدبد ہونے لگی تھی اور یہ رات میرے لئے کاٹنا بڑی مشکل ہو رہی تھی۔ میں واپس حویلی چلا گیا تو شاہ صاحب نے مجھے دیکھتے ہی بتایا کہ شادی کچھ دنوں کے لئے موخر کر دی گئی ہے۔ ان کا چہرہ ستا ہوا تھا مگر مجھے اس خبر سے آگاہ کرتے ہوئے وہ خاصے ہیجان میں تھے۔
”کیا ہوا“ میں نے دریافت کیا
”زلیخا کی طبیعت خراب ہے۔ چاچی نے بابا جی سے بات کی ہے کہ شادی کچھ دنوں کے لئے موخر کر دی جائے“
یہ پہلا موقع تھا جب یہ خبر سن کر مجھے کچھ عجیب نہیں لگا نہ ہی اس شادی کے موخر ہونے کی خبر سن کر میرے اندر لڈو پھوٹے تھے اور نہ ہی میں نے زیادہ استفسار کیا۔ میں تو اپنی کھوج کے بھنوروں میں غرقاب ہو رہا تھا۔ میں نے چاچی سے بھی یہ پوچھنا گوارا نہ کیا اور کمرے میں پہنچ کر کتابیں کھول کر بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ نصیر کمرے میں آ گیا اور اس نے اطلاع دی کہ بابا جی سرکار نے مجھے یاد کیا ہے۔
یہ وہی رات تھی جب بابا جی سرکار نے مجھے افیون لانے کے لئے کہا تھا اور اگلے روز میں دو رتی افیون کے لئے دیہاتوں کی خاک چھانتا پھرا تھا۔ اس سے اگلے روز میرا پرچہ تھا۔ میں نے جس ذہنی الجھن اور غیر متوقع حالات میں انگریزی کا پرچہ دیا تھا اس کا ذکر آغاز میں کر چکا ہوں اور یہ بھی بتا چکا ہوں کہ اس روز سبزی منڈی میں غازی کی حماقتوں اور شرارتوں کے نتیجہ میں ایک درویش۔۔۔۔۔۔ بابا تیلے شاہ کی کٹیا میں پہنچ گیا تھا۔ بابا تیلے شاہ میرے لئے ایک معمہ سے کم نہیں تھا۔ اس کا یہ کہنا کہ وہ مجھے خود اپنے پاس کھینچ کر لایا ہے ایک عجیب سی بات تھی۔ میں تو ایک غیر اہم اور عام سا نوجوان تھا۔ میرے اندر ایسے کون سے لعل جڑے ہوئے تھے کہ یہ بابے اور ملنگ مجھے اہمیت دے رہے تھے۔ ایک طرف ٹاہلی والی سرکار اور دوسری طرف بابا تیلے شاہ …. تیسری جانب شاہ جی او ر بابا جی سرکار تھے۔ میں تو ایک ہجوم اسرار میں گھر چکا تھا۔ میں نے غازی کو بابا تیلے شاہ سے بڑی مشکل سے بچایا تھا مگر اب ہم دونوں اپنی اصلیت بھی ظاہر کر چکے تھے۔ بابا تیلے شاہ نے بتایا تھا کہ جنات کی پکھیوں کی سرگرمیوں نے پورے علاقے کے بزرگوں کو بے زار کر دیا ہے اور اس سے دوسری ہوائی اور کافر مخلوق میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ ان کے استفسار پر میں نے اپنے گزشتہ چار دنوں کی پوری داستان سنا دی تھی کہ میں بابا جی سرکار سے کیسے ملا۔ غازی سے میرا تعلق کیا تھا ۔ اب تک ہونے والے تمام حالات کی پٹاری کھول کر رکھ دی۔
”پھر تم کہتے ہو کہ میں اتنا غیر اہم کیسے ہو گیا“ بابا تیلے شاہ نے معنی خیز انداز میں میری طرف دیکھا ”جو بھی انسان اس آتشی مخلوق سے تعلق واسطہ رکھے گا وہ خود بخود اہم ہو جاتا ہے۔ میری ایک بات یاد رکھو۔ مقناطیس ہی مقناطیس کو کھینچتا ہے اور یہ لوہے کا برادہ …. اس مقناطیسی ڈنڈے کے ساتھ کھنچا چلا آتا ہے۔ کبھی تم نے دیکھا ہے ان منگتوں کو۔ وہ مزدوری بھی کرتے ہیں اور لوہے کا برادہ بھی اکٹھا کرتے ہیں۔ وہ خاک اور گندگی میں بھی مقناطیسی ڈنڈا پھیرتے رہتے ہیں۔ جہاں جہاں لوہا چھپا ہو گا ڈنڈے کے ساتھ کھنچا چلا آئے گا۔ تمہیں بھی اس روحانی ڈنڈے نے کھینچ نکالا۔ چاہے تم پاتال میں ہوتے۔ تمہاری باری آنی تھی اور تمہیں ظاہر ہونا تھا“میں انہماک سے بابا تیلے شاہ کی باتیں سن رہا تھا مگر میں پھر بھی اس نکتہ کو نہ جان سکا جو وہ مجھے سمجھانا چاہتے تھے۔
”تم میرے ساتھ چلو گے“ انہوں نے رمز و کنایہ کی گفتگو سے باہر نکلتے ہوئے پوچھا
”کہاں“ میں نے استفسار کیا
”ادھر سیداں والی …. پیر کاکے شاہ کے مزار پر جانا ہے چلو گے“ انہوں نے کہا۔اور کچھ سوچنے لگا
میں نے سیداں والی کا نام تو سنا ہوا تھا مگر آج تک وہاں جانا نہیں ہوا تھا۔ میرے والدین بہت سال پہلے وہاں کچھ عرصہ گزار کر آئے تھے۔ سیداں والی سیالکوٹ شہر سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلہ پر ”نالہ ایک“ کے کنارے ایک قدیمی قصبہ تھا۔ وہاں بزرگوں کی قبور تھیں اور ان کے اعلیٰ حضرت پیر جماعت علی شاہ کے ساتھ خاندانی مراسم بھی تھے۔ اس سے زیادہ میں نہیں جانتا تھا۔ اگلے روز بھی میرا پرچہ تھا اس لئے میں وہ دن کسی اور مصروفیت میں نہیں گزارنا چاہتا تھا۔ میں نے اپنے امتحان کا عذر پیش کیا اور کہا
”سرکار اگر اجازت دیں تو دو چار روز بعد میں حاضر ہو جاﺅں گا۔ میں ان دنوں امتحان میں مصروف ہوں“
وہ مجھے گہری نظروں سے دیکھنے لگے ”تجھے اس امتحان کی پڑی ہے اور اس امتحان کی تجھے کوئی فکر نہیں ہے جو ترے سر پر کھڑا ہے“ میں خاموش ہو کر انہیں دیکھتا رہا اور زبان سے کچھ نہیں بولا۔”میری خاموشی دیکھ کر وہ دوبارہ بولے
”ٹھیک ہے تم دوبارہ آنا۔ ہم تمہارا سیداں والی میں انتظار کریں گے“
میں نے موقع غنیمت جانا اور جلدی سے وعدہ کرکے اپنے گھر چلا گیا۔ میں نے اپنی والدہ کو بھی خود پر گزرنے والے حالات سے آگاہ کیا تو وہ پریشان ہو گئیں ۔ انہوں نے مجھے منع کر دیا کہ اب میں ملکوال ہرگز نہیں جاﺅں گا۔ میں نے جب ٹاہلی والی سرکار کی رمزیہ گفتگو سے انہیں آگاہ کیا تو وہ سوچ بچار میں پڑ گئیں۔ پھر بتانے لگیں ممکن ہے وہ درست ہی کہہ رہے ہوں۔ ہم نے بیٹیوں کی پیدائش کے بعد اولاد نرینہ کے لئے سیداں والی کے بزرگ پیر کاکے شاہ کے مزار پر جا کر دعا کرائی تھی اور منت مانگی تھی کہ اگر اللہ ہمیں اس بار بیٹا عطا کرے گا تو ہم پاکپتن شریف جا کر دیگیں چڑھائیں گے۔ تمہاری پیدائش کے بعد ہم نے اپنی منتیں پوری کی تھیں۔ ممکن ہے ٹاہلی والے بزرگ کا یہی منشا ہو۔ تم کبھی سیداں والی گئے بھی نہیں ہو گے اور نہ ہی پاکپتن شریف جا کر خواجہ فرید الدین گنج شکر کے مزار پر تم نے حاضری دی ہے۔ والدہ کی باتیں سن کر مجھے بابا تیلے شاہ کی باتیں یاد آ گئیں۔ وہ مجھے سیداں والی لے کر جانا چاہتے تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ ٹاہلی والی سرکار اور بابا تیلے شاہ دونوں مجھے ایک نئے راستے اور منزل کی تلاش میں ڈال رہے تھے۔
میں نے والدہ سے وعدہ کر لیا تھا کہ میں اب ملکوال نہیں جاﺅں گا مگر جب شام ہونے لگی تو میرے اندر بے تابیوں کے الاﺅ بھڑکنے لگے اور میں خود پر قابو نہ رکھ سکا۔ میرے ذہن پر ان ہستیوں کی عقیدت کا اس قدر تسلط ہو چکا تھا کہ مجھے اب امتحان کی فکر ہی نہیں رہی تھی۔ اللہ نے مجھے اپنی پراسرار دنیاﺅں کے مکینوں سے ملا دیا تھا اور میں اس موقع کو ہاتھ سے کھونا نہیں چاہتا تھا۔ اس وقت میرے اندر عقیدت کا سمندر موجزن ہو چکا تھا ۔ایک صحافی کا فطری تجسس بھی مجھے اس بات پر آمادہ کر رہا تھا کہ مجھے ان لوگوں سے دور نہیں رہنا چاہئے۔ پس میں والدہ کو بمشکل قائل کرکے ملکوال چلا گیا۔
وہ رات میرے لئے بڑی اہمیت اختیار کر گئی تھی۔ بابا جی سرکار مہمان خانے میں ہی تشریف فرما تھے اور خاصے مسرور تھے۔ میں جب پہنچا تو دیکھتے ہی فرمائش کی ”شاہد میاں …. غازی کو آئس کریم اور جلیبیاں کھلاتے رہتے ہو مگر ہمارے لئے آم نہیں لے کر آ سکے“
میں شرمندہ ہو گیا۔ شہر سے خالی ہاتھ ہی گاﺅں پہنچا تھا۔ ذہن میں ایک لحظہ کے لئے بھی خیال نہیں آیا تھا کہ ان کے لئے کو ئی شے ہی لے جاﺅں” میں کل شہر سے آم لے کر آﺅ ں گا سرکار“ بابا جی کو جلدی تھی اس لئے وہ چلے گئے اس روز شاہ صاحب بھی بڑے مسرور تھے۔
”تم نے خاصی دیر لگا دی واپس آنے میں“
میں نے انہیں دن بھر کی ساری تفصیلات سے آگاہ کیا مگر یہ نہیں بتایا کہ بابا تیلے شاہ سے کیا بات چیت ہوئی۔
”اگر تم وقت پر آ جاتے تو تمہیں ایک کیس میں اپنے ساتھ لے جاتا“
”کیسا کیس“ میں نے استفسار کیا ”پولیس پھر آ گئی تھی“
”نہیں یار“ وہ ہنس دئیے ”ہم لوگ جب کسی کا کوئی مسئلہ حل کرنے جاتے ہیں تو اسے کیس بولتے ہیں“ وہ بتانے لگے ”ادھر ساتھ ایک بڑے قصبہ میں ملک صاحب کے ایک دوست کی بیٹی پر جن قابض ہو گیا تھا لڑکی بھی اس کی گرفت میں آ چکی تھی اور وہ اس جن کو چھوڑنے پر راضی نہیں تھی۔ وہ اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ اللہ کا شکرہے کہ میں نے بابا جی کی موجودگی کے بغیر اس لڑکی کو جن سے آزاد کرا دیا ہے“
یہ سن کر مجھے اس کہانی میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ شاہ صاحب کہنے لگے ”یہ بڑی عجیب اور متنازعہ سی بات ہے۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے اور اس کو کسی اور وقت پر اٹھا دیتے ہیں کہ جنات اور انسانوں میں شادیاں ہو سکتی ہیں کہ نہیں …. فی الحال اس لڑکی اور جن کی داستان سن لو جو شادی پر آمادہ تھے …. مگر میں نے یہ خلاف فطرت اور خلاف شریعت حرکت سرزد نہیں ہونے دی۔
اس لڑکی کی منگنی ہو چکی تھی لیکن جب سے وہ جن اس پر عاشق ہوا تھا اس نے منگنی توڑنے کا اعلان کر دیا۔ پہلے پہل تو اس کے گھر والوں کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ ان کی لڑکی یکایک باغی کیوں ہو گئی ہے۔ حالانکہ یہ شادی اس کی پسند کے لڑکے سے ہو رہی تھی۔ لڑکی کا چہرہ روز بروز پیلا ہوتا جا رہا تھا اور اس کے خوبصورت چہرے پر جھریاں پڑنے لگی تھیں۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے اور وہ کھوئی کھوئی سی مدہوش سی نظر آتی۔ ماں کو شک ہوا کہ وہ بیمار ہے۔ اس نے بیٹی سے بہت پوچھا مگر اس نے کچھ نہیں بتایا۔ ماں اس کی ٹوہ میں لگ گئی۔ اس نے بیٹی کے معمولات پر نظر رکھی۔ اس نے غور کیا کہ وہ رات ہونے کا بے چینی سے انتظار کرتی ہے اور اس کے سونے کے معمولات و عادات بدل رہی ہے۔ لڑکی پہلے کمرے سے باہر گھر کے باقی افراد کے ساتھ صحن میں سوتی تھی۔ اسے اندر سوتے ہوئے ڈر لگتا تھا لیکن اب وہ باہر سونے سے گھبراتی اور کمرے کے اندر اکیلی سوتی تھی۔ اس کمرے کے پیچھے ایک پرانی طرز کا سٹور نما بڑا کمرہ تھا۔ ایک روز اس کی ماں اس کے پہرے پر بیٹھ گئی گھر کے لوگ جونہی سوئے وہ کمرے کے دروازے کے ساتھ بیٹھ گئی اور اندر کی سن گن لینے لگی۔ رات آدھی سے زیادہ بیتی تو اسے محسوس ہوا کہ اندرکوئی نہایت بھاری بھرم آواز والا شخص دبی زبان میں بول رہا ہے۔صبح ہوئی تو وہ عورت اندر داخل ہوئی۔ اس نے پورا کمرہ اور سٹور چھان مارا مگر اندر کوئی مرد دکھائی نہیں دیا۔ اس نے ایک نظر بیٹی پر ڈالی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور چہرے پر اذیت کے آثارتھے۔ اس نے بیٹی کو ہلا جلا کر اٹھایا تو اس نے خوابیدہ حالت میں نظریںکھولیں۔ماں اس کی سرخ سرخ آنکھیں دیکھ کر ڈر گئی۔ بیٹی بھرائی آواز میں بولی۔
”جا ماں سو جا مجھے بھی سونے دے“۔
ماں اس کی حالت دیکھ کر کچھ سمجھی کچھ نہ سمجھی۔ دوپہر کے وقت وہ اٹھی تو اس کی حالت اب نارمل تھی۔ ماں نے بڑی رازداری سے اس سے پوچھا کہ اس کی یہ حالت ایسی کیوں ہو رہی ہے۔ لیکن اس نے کچھ نہیں بتایا۔ عورت نے محسوس کیا اس کی بیٹی نہایت لاغر ہو گئی ہے۔ اس نے کئی راتیں لگاتار بیٹی کی جاسوسی کی۔ اس روز اس نے بیٹی کو بڑی واضح آواز میں کسی سے شکایت کے لہجے میں بات کرنے سنا تھا وہ کہہ رہی تھی
”تم دو دنوںسے کہاں تھے؟“
کسی نے بھاری بھرکم مردانہ آواز میں کہا ”میں بہت دور اپنے گھر والوں سے ملنے چلا گیا تھا“۔
”تجھے میری کوئی فکر نہیں ہے میری نظروں سے دور ہو جاﺅ۔ میں تم سے نہیں بولوں گی“۔
جو اباً وہ بڑے پیار بھرے انداز میں بولا ” میں تم سے دور کہا جا سکتا ہوں۔ دیکھو میں تمہارے لئے یہ انگوٹھی لے کر آیا ہوں۔ یہ ہیرے کی انگوٹھی پہن کر دیکھو۔ تمہیں کتنی سجتی ہے“۔
اس کی بیٹی انگوٹھی پکڑ کر بولی ”واقعی بہت خوبصورت ہے ۔تمہاری آنکھوں کی طرح چمک ہے اس میں“
”نہیں یہ چمک تمہارے چہرے کی چاندنی کے آگے ماند پڑ جاتی ہے۔ تم وہ ہیراہو جس کی تلاش میں میں برسوں بھٹکتا رہا ہوں۔“
”چل جھوٹے! تم جن لوگ بڑے ہی جھوٹے دغا باز اور باتونی ہوتے ہو۔ بالکل ہمارے مردوں کی طرح عورتوں کو جھانسہ دیتے ہو“۔
اس کے بعد اس کی بیٹی اور اس شخص نے کیا کہا تھا‘ وہ عورت سننے کی تاب نہ لا سکی۔ اس پر یہ عقدہ کھل گیا تھا کہ وہ مرد…. دراصل ایک جن ہے جو اس کی بیٹی کی زندگی بربادکر رہا تھا۔ وہ خوف زدہ ہو گئی۔ پاکباز عورت تھی۔ اللہ اور قرآن پاک پر پورا پورا یقین رکھتی تھی۔ اس نے جلدی سے چاروں قل اورآیت الکرسی پڑھی اور کمرے پر پھونک مار دی۔ جواب میں اندر سے وہ جن اس قدر اذیت ناک انداز میں چیخا کہ پورا کمرہ اس کی دہشت سے تھرا گیا اور صحن میں سوئے مرد عورتیں سبھی جاگ پڑے۔ جن نے بڑی غلیظ گالی دی اور چیخ کر لڑکی سے بولا!
”تیری ماں نے یہ اچھا نہیں کیا۔ میں اسے مار ڈالوں گا“ یہ کہہ کر وہ غائب ہو گیا اور اسی لمحہ لڑکی دندناتی باہر آئی اور ماں کا گریبان پکڑ کر چلائی۔”تو نے کیا کیا ہے۔ وہ کیوں تڑپا ہے‘ بتا ورنہ میں تجھے مار ڈالوں گی“۔
گھر کے مردوں نے فوراً لڑکی کو قابو کیا….مگر اس میں جناتی قوت داخل ہو چکی تھی۔ عورت بدحواس اور خوفزدہ ہو کر بے ہوش ہو گئی تھی۔ اسے قطعی توقع نہیں تھی کہ اس کے دم کرنے کا نتیجہ اتنا خوفناک ہو سکتا ہے۔
ساری صورتحال گھر والوں پر کھل گئی تھی۔ عورت نے جن اور بیٹی کے دوستانہ تعلق کا عقدہ تو نہ کھولا۔ البتہ یہ کہا وہ اسے گمراہ کر رہا ہے۔ پورا گھر محلے کے مولوی صاحب اور پیروں فقیروں کی طرف بھاگا۔ اس دوران روزانہ گھر میں آیت الکریمہ پڑھایا جانے لگا۔ اس کا یہ فائدہ ہوا کہ جتنے روز آیت کریمہ پڑھایا جاتا رہا وہ عفریت نما جن دوبارہ نہیں آیا۔ مگر ان کی بیٹی کی حالت بہت خراب ہو گئی تھی ، دنوں میں سوکھ کر کانٹا ہو گئی۔ چہرہ سیاہ پڑ گیا اور اس سے چلنا پھرنا دوبھر ہو گیا‘ اوپر سے مختلف عاملوں اور پیروں فقیروں نے اسے تعویذ پلا پلا کر پاگل کر دیا تھا۔ پھر آج اسکا باپ حویلی آگیا۔میں نے اس کی داستان سنی ۔میں اسکے ساتھ اسکے گھر گیا۔ وہ ساڑھے پانچ فٹ کی اچھے نین نقش والی لڑکی تھی لیکن اس کی حالت اب انتہائی بدتر ہو چکی تھی۔ میں نے لڑکی سے سوال جواب کئے تو وہ کہنے لگی۔
”شاہ صاحب! آپ جو مرضی کر لیں‘ مگر یہ بات طے ہے کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی“وہ بے قراری سے اٹھ پڑی تھی۔” میں اس سے شادی کروں گی“
اس کی ماں پریشان ہو کر میرا منہ تکنے لگی۔ میں نے اسے سمجھایا ”تم ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو اس لئے میری بات جلد سمجھ جاﺅ گی۔ ادھر آرام سے بیٹھ جاﺅ اور غور سے میری بات سنو….“ وہ بے دلی سے بیٹھ گئی تو میں نے اس دوران ایک عمل پڑھا اور اس کے گرد حصار قائم کر دیا اور کہا ”تم اس دائرے سے باہر نہیں نکلو گئی“۔
پھر میں نے اسے سمجھایا ”تم کہتی ہو کہ اس بدذات جن سے تم شادی کر نا چاہتی ہو۔۔۔۔میرے بات یاد رکھو لڑکی۔ اسلام میں کسی عورت کو جن کے ساتھ شادی کی اجازت نہیں ہے۔ وہ تمہیںگمراہ کر رہا ہے۔ تمہارا خون چوس رہا ہے‘ وہ شیطان ہے شیطان وہ آگ سے بنا ہے اور تم مٹی سے۔ تم کبھی گرم کوئلے کو کاغذ پر رکھ کر دیکھو‘ جہاں رکھو گی وہ اسے دھیرے دھیرے جلا ڈالے گا۔ یہی تمہارے ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ جن زادہ آگ ہے۔ آگ انسان کی دشمن ہے۔ یہ جنات ہوں یا شیاطین ان کی انسان سے ازل سے دشمنی ہے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ اس بات سے سختی سے منع فرماتے ہیں۔“
میں نے پہلے اسے واعظ کیا تووہ سٹپٹا کر بولی ”وہ آگ نہیں ہے“
”میری بہن وہ آگ ہی ہے مگر تمہیں اس کا شعور نہیں ہے“
”وہ راحت اور سرور ہے‘ ٹھنڈک اور پیار کا سمندر ہے“ لڑکی مخمور لہجے میں بولی اور انگلی میں پہنی انگوٹھی کو سہلانے لگی۔ انگوٹھی پر نظر پڑتے ہی میں چونکا اور اس کی ماں سے پوچھا ”یہ انگوٹھی اس کے منگیتر نے دی ہے“
ماں کے بولنے سے پہلے لڑکی بولی ”وہ مسکین مجھے چاندی کی انگوٹھی لے کر نہیں دے سکا تو ہیرے کی یہ انگوٹھی کہاں سے خرید پاتا“ اس کے لہجے میں تفاخر تھا ”یہ تو میرے جن زادے نے دی ہے“
مجھے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ اس جن نے لڑکی کو پوری طرح اپنے قابو میں کیا ہوا ہے۔ میں نے لڑکی سے کہا ”کیا میں یہ انگوٹھی دیکھ سکتا ہوں“ مجھے لگتا ہے یہ اصلی ہیرے کی نہیں ہے“
اس کی بھنوئیں تن گئیں سخت لہجے میں بولی ”تمہیں ہیرے کی پہچان کیا ہو گی“
”مجھے پتھروں کی پہچان ہے“ میں نے اسے سمجھایا کیونکہ میں اس انگوٹھی کو اپنی دسترس میں کرکے اس جن تک پہنچنا چاہتا تھا۔ یہ جنات کی کمزوری ہوتی ہے ۔جب وہ کوئی شے تحفہ میں کسی انسان کو دیتے ہیں تو اس میں ان کی مانوس خوشبو شامل ہو جاتی ہے۔ اس طرح انہیں یہ احساس رہتا ہے کہ وہ اپنے معمول کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ میں نے بڑی مشکل سے اس سے انگوٹھی حاصل کی اور پھر اس پر دم کرکے انے پاس رکھ لی۔
٭٭
لڑکی سٹپٹائی اور حصار سے نکل کر انگوٹھی لینے کے لئے مجھ پر جھپٹی مگر میں نے اسے حصار میں ہی بند کر دیا اور پھر دھونی سلگا کر اور پانی دم کرکے اس کے اوپر چھینٹے مارے اس کے بعد میں نے اسے زیادہ مہلت نہیں دی۔ میں نے انگوٹھی کو سلگتی دھونی کے اندر پھینک دیا تو کچھ ہی دیر بعد وہ جن آگ بگولا ہو کر حاضر ہو گیا۔ لڑکی کی حالت بگڑ گئی اس کا پیلا چہرہ سرخ ہو گیا۔ آنکھیں خون اگلنے لگیںاس کی آنکھوں کی پتلیوں میں مجھے اس جن کا اصلی چہرہ نظر آنے لگا۔ پھر مجھے یہ معلوم کرنے میں دیر نہ لگی کہ اس جن کی حقیقت کیا ہے۔ میں نے حسب روایت اس سے مکالمہ شروع کیا۔ کوئی بھی اچھا عامل سب سے پہلے جنات کا حدوداربعہ اور ان کے مقاصد معلوم کرتا ہے پھر اسے موقع دیتا ہے کہ وہ مغلوب کی جان چھوڑ کر چلا جائے۔ اگر وہ سرکش اور ہٹ دھرم ہو تو پھر عامل اس سے مقابلہ کرتا ہے اور اسے اپنے قابو میں کر لیتا ہے۔ اس موقع پر اگر وہ جن عامل سے طاقتور ہو تو پھر عامل کی خیر نہیں ہوتی۔ نہ صرف عامل بلکہ مغلوب کے گھر والوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
میں نے اس سے اس کا نام پوچھنا چاہا تو وہ زخمی درندے کی طرح ڈکرایا اور بولا ”میں نام نہیں بتاﺅں گا“۔
”تم کہاں کے رہنے والے ہو“؟
اس پر وہ مجھے دھمکی دے کر بولا ” میں جہاں بھی رہتا ہوں تمہیں اس سے کیا؟ یاد رکھو اگر تم نے کوئی عمل پڑھا تو میں اس لڑکی کو بھی مار ڈالوں گا اور تمہیں بھی اور اس بڈھی کو بھی“
لڑکی کی ماں سہم کر دیوار سے لگ گئی۔ میں نے دم شدہ پانی اس پر چھڑکا اور جن سے مخاطب ہوا۔
”بس ایک موقع تمہیں دے رہا ہوں۔ لڑکی کی جان چھوڑ دو اور چلے جاﺅ میں جان گیا ہوں کہ تم یہاں کے رہنے والے نہیں ہو“۔
”تمہیں کیسے پتہ چل سکتا ہے کہ میں یہاںکا رہنے والا نہیں ہوں“۔ وہ خونخوار نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بولا۔
”یہاںرہنے والے جنات میرے نام سے آگاہ ہیں۔ تمہارا رنگ اور بو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ تمہاراپنجاب سے تعلق نہیں ہے۔ میں پنجاب کے جنات کی بو پہچان لیتا ہوں …. کیا میں غلط کہہ رہا ہوں“۔
جواب میںوہ مجھے گھور کر رہ گیا۔
میں نے اسے زیادہ موقع نہیں دیا اور اس پر گھیرا تنگ کرنے کے لئے وظیفہ پڑھنے لگا اور جنات کو تسخیر کرنے والا عمل پڑھ کر اسے حصار کے اندر ہی قید کر لیا۔ وہ بہت بھنبھنایا‘ چلایا‘ دھمکیاں دیتا رہا‘ اکڑ دکھاتا رہا لیکن میں نے اسے بے بس کر دیا۔ وہ سرکش جن تھا جو اس کے باوجود جلدی قابو میں آ گیا۔ اس کی عمر ابھی 70سال تھی اور تازہ تازہ بالغ ہوا تھا اس لئے میرے علوم کے آگے زیادہ دیر تک نہ ٹھہر سکا۔ میں نے اسے لڑکی کے اندر سے باہر نکالا اور دھونی تیز کرکے اسے دھوئیں کے اندر قید کر دیا۔ اب وہ اپنی اصلی شکل میں مردہ چھپکلی کی طرح دھوئیں میں بیٹھا تھا۔ عورت صرف اس کی آواز سن سکتی تھی۔ وہ اسے دیکھتی تو غش کھا کر گر جاتی۔ لڑکی بے ہوش ہو کر حصار میں گر گئی تھی۔ عورت اس کی طرف بڑھی تو میں نے اسے روک دیا۔
”ہاں اب بتاﺅ کہ تم کون ہو“ میں نے پورے جلال کے ساتھ اس سے پوچھا
وہ گھگھیا کر ہاتھ جوڑنے لگا بولا ” آپ کو یسوع مسیح کا واسطہ آپ کو اپنے رسولﷺ کا واسطہ مجھے چھوڑ دیں“
”میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا تم بدکردار اور کافر ہو‘ تم نے ایک مسلمان لڑکی کو تباہ کیا ہے میں تمہیں مار ڈالوں گا“۔
وہ کہنے لگا ”میں عیسائی ہوں اور سکھر سے آیا ہوںمیں لاہر کے گوراقبرستان میں اپنے عزیزوں سے ملنے آیا تھا۔ ان کی پوری پکھی یہاں کئی سالوں سے رہ رہی ہے۔ ایک روز میں نے اس لڑکی کو اس کے منگیتر کے ساتھ لاہور کے باغ جناح میں دیکھا۔ میں تب اس پر بیٹھ گیا مجھے اس لڑکی کی خوشبوبڑی اچھی لگتی تھی میرے دوست نے مجھے سمجھایا بھی کہ اسے خراب نہ کروں لیکن میں بہک گیا تھا“۔
میں نے اس کافر جن کو گدی سے پکڑا اور ایک دم شدہ کیل اس کی پیٹھ میں ٹھونک دی۔ وہ دہشت ناک چیخ مار کر بولا ”ہائے میں مر گیا۔ تم نے مجھے اپاہج کر دیا ہے“ پھر میں نے دھونی کو تیز کیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ اس کے بعد بہت سے وظائف پڑھے‘ کمرے کو پاکیزہ کیا اور صدقہ خیرات کیا۔ کسی جن چاہے وہ کافر ہی ہو۔ اسے مارنے کے بعد عامل کو بہت سے حفاظتی وظائف پڑھنے پڑھتے ہیں۔ آدھ گھنٹہ تک میں اپنے وظائف میں مصروف رہنے کے بعد لڑکی کو ہوش میں لایا۔ اسے دم شدہ پانی اور تعویذ دیا۔ جن کے اثرات نے اسے کئی بیماریوں میں مبتلا کر دیا تھا میں نے اس کی ماں کو سمجھایا کہ اسے ٹھیک ہونے میں کم از کم تین ماہ لگیں گے۔
”میں اس لڑکی سے مل سکتا ہوں“ شاہ صاحب خاموش ہوئے تو میں نے تجسّس کے مارے سوال کیا۔
”میں پرسوں دوبارہ وہاں جاﺅں گا۔ یا ہو سکتا ہے وہ لوگ خود ہی کل ادھر حویلی میں آ جائیں۔“ شاہ صاحب کے چہرے پر بڑی جاندار اور معنی خیز مسکراہٹ بار بار نمودار ہو رہی تھی۔
”آپ بہت خوش ہیں۔“ میں نے ان کی اندرونی کیفیت کو بھانپتے ہوئے پوچھا۔
”خوش تو ہوں۔“ وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکے۔ ”تمہارے چاچا جی بھی اب نرم ہو گئے ہیں….“
”کیا مطلب….“ میں نے کہا۔ ”پتھر میں گلاب کیسے کھل سکتا ہے….“
”یہ لڑکی انکے دوست کی بیٹی تھی…. اس نے انہیں میرے متعلق بتایا ہے۔ میرا شکریہ ادا کرنے آئے تھے….“
”چلیں یہ تو بہت اچھا ہوا۔“ میرے ذہن سے جیسے منوں بوجھ اتر گیا۔
اور میں سوچنے لگا کہ زلیخا بھی تو ایک سحر زدہ لڑکی ہے۔ اگر کسی پہنچے ہوئے بزرگ سے مشورہ کر کے اسکو بھی سحری اثرات سے آزاد کرا لیا جائے تو ممکن ہے اسکی شخصیت بحال ہو جائے۔ اس وقت بھی میرے دل میں شاہ صاحب کے بارے میں بدگمانی بھری ہوئی تھی۔ یہ بات اپنی جگہ درست تھی کہ میں ان کی پراسرار قوتوں سے متاثر تھا بلکہ یہ سمجھئے کہ خائف اور اس وجہ سے انکی عزت کرتا تھا۔ لیکن زلیخا کا معاملہ جب بھی سامنے آتا میری روح کی بے کلی بڑھ جاتی تھی اور مجھے چاچا جی کی طرح ایک خلش اور بے سکونی کا احساس ہوتا تھا۔ میرا دل بار بار یہ کہتا تھا کہ کہیں نہ کہیں اس سچائی میں کھوٹ ہے۔ مگر یہ کھوٹ کس نے بھری تھی۔ میرے لئے یہ پہچاننا بہت مشکل تھا۔ اس وقت میں نے دل میں طے کر لیا کہ میں ٹاہلی والی سرکار کی بجائے بابا تیلے شاہ کے سامنے یہ معاملہ رکھوں گا اور ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر التجا کروں گا کہ مجھے میری زلیخا واپس لوٹا دیں۔ اسے طاغوتی قوتوں سے آزاد کرا دیں۔ میرے ذہن سے بوجھ کی بھاری چادر تو سرک گئی تھی مگر دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں بند کر لیا تھا۔
رات ہو چکی تھی۔ نماز مغرب پڑھنے کے بعد زنان خانے میں چلا گیا۔ چاچی نماز پڑھنے کے بعد تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ مجھے دیکھا تو اشارے سے اپنے پاس بلا لیا۔ میں انکے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ تسبیح کے دانے ان کی انگلی کی گردش سے آگے آگے سرک رہے تھے‘ زیر لب وہ کچھ پڑھ رہی تھیں‘ مگر انکی آنکھوں میں سرخ ڈورے بہت نمایاں تھے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے خون اور نمکین پانی پتلیوں کے گرد منڈلا رہا ہے۔ چہرے سے رنجیدگی مترشح تھی۔ بوڑھے عارض تھرتھرا رہے تھے۔
میں خاموش نظروں سے انہیں دیکھتا رہا۔ تسبیح مکمل کر چکیں تو میرے اوپر پھونک مار کر بولیں۔
”شاہد پتر تو بھی میرے لئے نصیر جیسا ہے۔ میں نے تجھ میں اور اس میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔“ ان کی آواز میں ارتعاش تھا۔
”چاچی۔ خیریت تو ہے۔ کیا بات ہوئی ہے….“ میں نے چاچی کو کبھی اس قدر دل گرفتہ اور بجھا ہوا نہیں دیکھا تھا۔
”پتر میں تمہیں کیا بتاﺅں۔ کس مصیبت میں پھنس گئی ہوں۔ میں تو دو کشتیوں کی سوار ہوں۔ ایک طرف تمہارے چاچا جی اور دوسری طرف شاہ جی۔ ایک کی بات مانتی ہوں تو دوسرا ناراض ہوتا ہے۔ ایک طرف سہاگ ہے تو دوسری جانب میرا ایمان…. اور“
”چاچی….“ میں نے بے اختیار ہو کر انکے لبوں پر انگلی رکھ دی۔“ نہیں چاچی…. بالکل نہیں۔ یہ آپ کا ایمان نہیں ہے۔ یہ دین بھی نہیں مذہب بھی…. نہیں چاچی…. ایسا بالکل نہیں سوچنا…. وہ جو دوسری طرف ہے ناں…. تمہارا سہاگ وہ سب سے مقدم ہے۔ یہ جسے آپ دین سمجھتی ہو۔ یہ شیطانی چرخہ ہے جو دکھوں کو کات رہا ہے۔ سچائی کو ادھیڑ رہا ہے چاچی۔ تو مصلے پر بیٹھی ہے۔ ترے ہاتھ میں تسبیح ہے۔ چاچی۔ مانگ۔ اس ذات کبریا سے مانگ چاچی جو ادھر…. تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ ایسا نہیں کرتا اس کا دین یہ نہیں کہتا جو شاہ صاحب کرتے اور دکھاتے ہیں۔“ نہ جانے مجھے کیا ہوا تھا۔ یہ چاچی کی کم علمی‘ معصومیت اور اندھی عقیدت کا دباﺅ تھا کہ میرے اندر کا طوفان اسکی ایک ضرب سے پھوٹ پڑا…. اور پھر میں اپنی زبان کو نہ روک سکا۔ چاچی کے لب کھلے رہ گئے۔ آنکھوں کا پانی خشک ہو گیا اور اسکے بوڑھے عارضوں کا ارتعاش تھم گیا۔
”پتر…. تو کیا کہہ رہا ہے…. یہ شیطانی چرخہ…. اور پھر یہ بابا جی….“
”چاچی…. میں بابا جی کی بات نہیں کر رہا۔ وہ اللہ اور اسکے رسول کا نام لیتے اور ساری ساری رات عبادت کرتے رہتے ہیں۔ میں انہیں نہیں سمجھ سکا چاچی…. مگر یہ جو ہیں اپنے شاہ صاحب۔ ان کے اندر مجھے کھوٹ نظر آتی ہے۔ چاچی وہ جو کہتے ہیں سچ نہیں دکھتا۔ انہوں نے ملک صاحب کی بیٹی کو جن سے آزاد کرا دیا ہے لیکن چاچی ہماری زلیخا کو نارمل کیوں نہیں کر سکے۔ اس لئے…. اس لئے کہ انکے اندر ہوس ہے۔ وہ زلیخا کو اپنی دلہن بنانا چاہتے ہیں اور ہم لوگوں کو اسکی صحت سے ڈرا دھمکا کر خوفزدہ رکھنا چاہتے ہیں…. اور چاچی آپ سمجھتی ہیں کہ زلیخا کے دکھوں کا مداوا صرف شاہ صاحب کر سکتے ہیں…. نہیں چاچی‘ بالکل نہیں…. خدا کے لئے چاچی کچھ کرو…. اور اس مکار شخص کو گھر سے نکال دو…. ورنہ یہ ہمیں برباد کر دے گا…. اور تو اپنی جس زلیخا کے سکھ کے لئے یہ سب کر رہی ہے ناں…. پھر ساری عمر روگ میں گزار دے گی۔“ جذبات سے میری آواز کانپ رہی تھی اور میرا لہجہ بہت تیز ہو گیا تھا۔ چاچی میری حالت دیکھ کر گھبرا گئی۔
”پتر ہوش کر….“ وہ میرا ہاتھ تھام کر سہلانے لگیں۔ اسی لمحہ بڑے ملک صاحب کی آواز سنائی دی۔
”اسکو ہوش نہ دلا رضیہ۔ یہ ٹھیک کہتا ہے۔ ہوش دلانا ہے تو اپنے آپ کو دلا۔ تیرا ضمیر منوں مٹی تلے دبا ہوا ہے۔ شاہد پتر اسے کھود کر باہر نکال رہا ہے…. رضیہ ابھی بھی وقت ہے۔ اپنے آپ کو عقیدتوں کے سراب سے باہر نکال لا….“
پھر تو جیسے برسوں کا پانی چاچی کی آنکھوں سے سیل رواں کی طرح رواں ہو گیا۔ وہ تڑپ تڑپ کر رونے لگیں۔ ملک صاحب اور میرا دل بھی بھر آیا۔
”ٹھیک ہے۔ میں ہی اندھی ہوں۔ بے رحم اور کم عقل ہوں۔ اپنی بیٹی کی دشمن بن گئی تھی۔ مگر اب میں اسکو جوتے مار کر گھر سے نکال دوں گی….“
”نہیں بالکل نہیں چاچی….“ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔
”تو اب خاموش ہو جا پتر…. میں نے ہی آگ لگائی تھی میں ہی اسے بجھاﺅں گی۔“ چاچی نے اپنے آنسو صاف کئے اور مصلیٰ لپیٹ کر اضطراری حالت میں جوتی پہننے لگیں۔
”چاچی…. اس طرح معاملہ بگڑ جائے گا۔ ہم اس وقت آتش فشاں کے منہ پر بیٹھے ہیں۔“ میں نے سمجھایا۔ ”شاہ صاحب کے پاس پراسرار قوتیں ہیں۔ وہ ہمیں پریشان کر سکتے ہیں۔ زلیخا کو مار ڈالیں گے….“
”یہ ٹھیک کہتا ہے۔ رضیہ سمجھداری سے کام لو….“ ملک صاحب بھی انہیں سمجھانے لگے۔
”چاچی۔ اللہ نے ہماری مدد کی ہے۔ یہ شادی کچھ دنوں کے لئے ملتوی ہو چکی ہے لہٰذا اس التوا کو مزید آگے کر دیں۔ ہمیں اللہ سے دعا کرنی چاہئے۔ وہ ہی ہمیں اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔ ہم خود بھی اس ذات کریم کے سہارے سے کچھ کرتے ہیں۔“ میں نے چاچی کو مزید مشورے دئیے اور انہیں سمجھا دیا کہ اگر اب بابا جی سرکار بھی کہیں تو زلیخا کی بیماری کو آڑ بنا کر اس معاملے کو مزید آگے لے جایا جائے۔
ہم اپنے طور پر بہت مطمئن ہو گئے تھے مگر ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہماری آزمائشوں کے ابھی اور بھی امتحان تھے۔ میں کمرے میں سونے چلا گیا تھا۔ ابھی میری آنکھ لگی تھی کہ باہر گولی کی آواز سنائی دی۔ میں دہشت زدہ ہو کر اٹھ پڑا۔ باہر شور برپا تھا۔ میں جھٹ سے باہر نکلا…. راہداری میں نوکر نصیر کو قابو کر رہے تھے۔ اسکے ہاتھ میں بارہ بور کی بندوق تھی اور وہ اس سے چھیننے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں انکی طرف بھاگا۔
”کیا ہو رہا ہے یہ….“
”شاہد پتر یہ پاگل ہو گیا ہے….“ چاچی دروازے کے پاس کھڑی تھیں۔ ”اپنے باپ کو قتل کرنا چاہتا ہے یہ….“
”کک۔کیا….“
”ہاں میں قتل کر دوں گا اسے۔ تم سب کو مار ڈالوں گا میں۔ سب کچھ ختم کر دوں گا….“ نصیر بپھرا ہوا تھا، تین نوکروں کے قابو میں نہیں آ رہا تھا۔ اسی چھینا جھپٹی میں گولی چل گئی تھی۔ یہ تو خدا کا شکر تھا کہ نالی کا رخ باہر باغیچے کی طرف ہو گیا تھا ورنہ اب تک کسی ایک کا خون ہو چکا ہوتا۔
”نصیر میرے بھائی…. ہوش میں آﺅ….“ میں نے آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ سے بندوق چھین لی۔ سنگل نالی کی بندوق تھی۔ اس میں ایک ہی کارتوس استعمال ہوتا تھا اور اب یہ خالی ہو چکی تھی۔
”تم بھی انکے ساتھ ملے ہوئے ہو۔ میں تمہیں بھی مار ڈالوں گا….“ نصیر مجھے گالیاں بکتے ہوئے چلانے لگا۔“ تم سب نے میرے بابا جی سرکار سے کیا ہوا وعدہ توڑا ہے۔ تم سب نے دھوکا کیا ہے۔ میرے شاہ صاحب کو ٹھیس پہنچائی ہے تم لوگوں نے….“ اسکے منہ سے جھاگ بہہ رہی تھی اور آنکھیں کسی طاغوتی انسان کی طرح سرخ ہو کر الٹ رہی تھیں۔ اسکے پورے بدن پر رعشہ طاری تھا۔
”ایسا کچھ نہیں ہوا نصیر…. ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں نے نوکروں سے کہا۔ ”پیچھے ہٹو تم…. چھوڑ دو اسے…. جاﺅ اور پانی لیکر آﺅ….“ میں نے اس دوران راہداری میں دور تک دیکھا۔ شاہ صاحب دکھائی نہیں دئیے۔ میرے ذہن میں دھماکے ہو رہے تھے کہ نصیر کو یکایک کیا ہو گیا ہے۔ ہم نے تو اسے اپنے منصوبے سے آگاہ نہیں کیا تھا۔ مجھے شک ہوا کہ ممکن ہے شاہ صاحب کو اس منصوبے کی خبر ہو گئی ہو اور انہوں نے اپنے اندھے عقیدت مند نصیر کو ورغلا لیا ہو۔
میرا شک صحیح ثابت ہوا۔ نوکروں نے نصیر کو چھوڑا تو وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپنے کے بعد بے ہوش کر گر پڑا۔ مجھے میرے وجدان نے احساس دلایا کہ شاہ صاحب نے لازماً اپنے کسی عمل کے ذریعے نصیر کو قابو کر کے اپنے والد کے قتل پر اکسایا ہو گا۔ اگر واقعی ایسی بات تھی اور نصیر انکے کسی ”عمل“ کا شکار ہوا تھا تو اسے ہوش میں لانا بہت مشکل تھا۔ اگر اسے کوئی ہوش میں لا سکتا تھا تو یہ صرف شاہ صاحب ہی تھے…. یا پھر بابا جی سرکار یا ٹاہلی والی سرکار…. مگر اس وقت بابا جی اور ٹاہلی والی سرکار ہمیں میسر نہیں ہو سکتے تھے میں نے سوچا کہ اگر وہ میسر ہوتے بھی تو لازماً وہ شاہ صاحب کی ہی طرف داری کرتے۔
پتر شاہ صاحب کو بلاﺅ۔ اس کو ہوش میں لائیں….“ چاچی نے اپنے لخت جگر کو تڑپ تڑپ کر بے ہوش ہوتے دیکھا تو ان کی ممتا ایک بار پھر ہارنے لگیں۔
”چاچی۔ انہیں نہیں بلانا۔“ میں نے انکے کان میں سرگوشی کی۔ ”وہ یہی تو چاہتے ہیں۔ انہوں نے نصیر پر جادو کر کے اسکی عقل باندھ دی ہے۔ اس لئے تو یہ اپنے باپ کے خون کا پیاسا ہو گیا تھا۔“
”کچھ کرو…. میں مر جاﺅں گی۔ میرا پتر تڑپ رہا ہے۔ اس کو ہوش میں لاﺅ….“ چاچی اس وقت کچھ بھی سننے کو تیار نہیں تھیں۔ بڑے ملک صاحب بھی اندر سے باہر آ گئے تھے۔ وہ نصیر کو ہوش میں لانے لگے۔ نصیر کی آنکھیں کھلی پڑی تھیں اور پتھرانے لگی تھیں…. میرا دماغ بڑی تیزی سے حرکت کر رہا تھا۔ معاً میرے ذہن میں جھماکا ہوا ٹاہلی والی سرکار کی بہت سی باتیں میرے ذہن میں تازہ ہو گئیں۔ انہوں نے مجھے کچھ وظائف عطا کئے تھے۔ میں کوئی عامل کامل تو تھا نہیں۔ لیکن میرا اسلامی علوم پر پختہ یقین تھا۔ یہ آیات ربانی پر مشتمل چند آیات اور اسمائے ربی تھے۔ میں نے فوراً وضو کیا اور پانی لیکر ان وظائف کو پڑھ کر پانی پر دم کیا اور پھر دم شدہ پانی نصیر کے پورے بدن پر چھڑک دیا۔ اللہ کا ہم پر کرم ہو اور کچھ ہی دیر بعد نصیر کی حالت بہتر ہونے لگی اور کچھ ہی دیر بعد وہ ہوش میں آ گیا۔ وہ خالی خالی نظروں سے سب کو دیکھنے لگا…. لیکن ابھی اس کی حالت سنبھلی نہیں تھی۔ اس کا پورا بدن لرز رہا تھا اور آواز میں کپکپاہٹ تھی۔
”مجھے کیا ہوا ہے….“ وہ سب کے چہرے دیکھنے لگا۔
چاچی اس کا منہ چومنے لگی۔ ”میرے لال۔ ماں تجھ پر واری…. کچھ نہیں ہوا تجھے۔“
”نہیں ماں….“ وہ کچھ کہتے کہتے رکا اور اسکی نظریں راہداری میں گری پڑی بندوق پر پڑیں۔” یہ بندوق یہاں کیوں پڑی ہے ماں….“
”میں بتاتا ہوں تجھے….“ میں نے کہا ”لیکن ابھی تیری حالت ٹھیک ہے۔“ میں نوکروں کی مدد سے اسے اٹھا کر کمرے میں لے آیا اور بستر پر لٹا دیا۔
”تم بتاتے کیوں نہیں…. مجھے کیا ہوا ہے….“ وہ بار بار مجھے پوچھ رہا تھا اسکے بدن پر ابھی تک لرزہ طاری تھا۔ اور پھر جیسے اسے کچھ یاد آ گیا….
”اوہ میرے خدایا…. میں کیا کرنے جا رہا تھا….“ اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا اور پھر اسکی نظریں ندامت سے جھک گئیں۔
”شاہ صاحب۔ آپ نے اچھا نہیں کیا….“ وہ نظریں گرا کر آہستہ آہستہ کہنے لگا۔ ”یہ اچھا نہیں ہوا….“وہ سر تھام کر رونے لگا۔
”کیا ہوا تھا…. مجھے بتاﺅ….“ میں نے اسے سہارا دیا۔ ”خدا کا شکر ہے کہ تم بہت بڑے گناہ اور جرم سے بچ گئے ہو…. مجھے بتاﺅ شاہ صاحب نے کیا کیا تھا….“
”وہ….“ نصیر کچھ کہتے کہتے رک گیا اور نوکروں کا منہ تکنے لگا۔
”تم باہر جاﺅ….“ نوکر باہر چلے گئے…. تو وہ بولا۔ ”مجھے شاہ صاحب نے کہا تھا کہ تم لوگوں نے‘ بابا جی اور شاہ صاحب کی توہین کی ہے اور انکے خلاف بڑی گندی باتیں کی ہیں۔ شاہ صاحب نے مجھے کہا تھا کہ وہ مجھے بابا جی جیسے بزرگ جنات کو قابو کرنے کے لئے علوم سکھانا چاہتے تھے۔ رشتہ داری کے بعد وہ مجھ پر ہی انحصار کرتے لیکن میرے والد ایسا نہیں چاہتے…. انہوں نے مجھے اور بھی بہت کچھ کہا تھا…. جس سے مجھے غصہ آ گیا اور میں نے اپنے والد کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا“ اس سے آگے وہ نہ بول سکا۔
میں سناٹے میں آ گیا
”شاہ صاحب نے قتل عمد کی کوشش کی ہے نصیر۔ انہوں نے قتل پر اکسایا ہے۔ اف میرے خدایا۔ یہ کیسا پیر عامل ہے جو اولاد کو اپنے باپ کے قتل پر اکساتا ہے۔“ میں نے سر تھام لیا۔ میرے ذہن میں شاہ صاحب کی عبادتیں ریاضتیں اور نمازیں تازہ ہو گئیں۔ رات کے آخری پہر خدا کے حضور سر جھکا کر ان کی گڑگڑاتی صدائیں گونجنے لگیں۔ مجھے ان کا وہ روپ بھی یاد آ گیا جب قبرستان میں ان کے دھڑ پر کسی انسان کی بجائے درندے کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔
”میں تو کہتا ہوں پولیس کو اطلاع کر دیتے ہیں“ ملک صاحب کہنے لگے ”مجھے شک ہے چودھری کے گھر میں چوری بھی اسی نے کرائی ہے“
”مگر چاچا جی اس طرح تو آگ بھڑک اٹھے گی“ مجھے ریاض شاہ کی شیطانی قوتوں کا بھی خوف تھا۔ اگرچہ اس وقت میرے دل کو اتنی تقویت پہنچ چکی تھی اور میرا ایمان بھی تازہ ہو چکا تھا کہ اگر میں بھی وظائف پڑھتا رہوں تو اس کے سحری اثرات سے محفوظ رہ سکتا ہوں لیکن میں کوئی عامل نہیں تھا اور نہ ہی عامل بننا چاہتا تھا۔ مجھے ان کی روحانی قوتوں کو پڑھتے ہوئے ایک انجانا سا خوف بھی لاحق ہو رہا تھا۔
”ہمیں کسی سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج کا دن ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اور کیا کچھ کر سکتا ہے۔ میں شہر جا رہا ہوں۔ وہاں مجھے ایک بزرگ ملے تھے ممکن ہے وہ ہماری کچھ مدد کر دیں“ میں نے جان کر بوجھ کر بابا تیلے شاہ کے بارے زیادہ باتیں نہیں بتائی تھیں۔
ملک صاحب سوچ میں پڑ گئے پھر بولے ”ایسا نہ ہو کہ ہم ایک اور مصیبت میں پڑ جائیں“
”اس کے سوا چارہ بھی تو نہیں“ میں نے نصیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ”میں اسے ابتدائی مدد دے کر ہوش میں لے آیا ہوں مگر یہ اس کا علاج نہیں ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ رہ کر میں نے یہ بات جان لی ہے کہ وظائف اور عملیات پر قدرت حاصل کرنے کے لئے بہت زیادہ ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے تب کہیں جا کر ان سے حسب توقع نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ نصیر کا علاج نہ کیا گیا تو یہ بھی زلیخا کی طرح بیمار ہو جائے گا“
چاچی نے سنا تو تڑپ اٹھی ”اللہ نہ کرے پتر“ ممتا کی ماری اپنے بیٹے سے لپٹ گئی ”سوہنے پروردگار میرے لعل کی حفاظت فرما“
”تو نے یہ عمل کس سے سیکھا ہے پتر“ ملک صاحب نے مجھ سے سوال کیا
میں نے انہیں مختصر بتایا کہ کسی بزرگ نے پڑھنے کے لئے دیا تھا۔ میں نے انہیں ٹاہلی والی سرکار کے بارے اس لئے نہیں بتایا کیونکہ وہ انہیں جانتے تھے۔ اگر میں انہیں یہ وظیفہ حاصل کرنے کی داستان سناتا تو ان کے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہو جاتے جن کے جواب دینا میرے لئے مشکل ہو جاتا۔
”پتر جی اس وظیفے میں اتنی طاقت ہے تو یہ نصیر ہوش میں آ گیا ہے ناں۔۔۔۔ تو کسی اور کے پاس جانے کی بجائے خود اس کا علاج کیوں نہیں کرتے“
”نہیں چاچا جی۔ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ میری مثال تو اس شخص جیسی ہے جو چند دواﺅں کے نام جانتا ہے اور کسی عام مرض کے لئے دوا تجویز کر سکتا ہے لیکن مکمل علاج نہیں کر سکتا۔ علاج کے لئے کسی ماہر معالج سے ہی رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ یہ عامل کامل وغیرہ ڈاکٹر ہیں جس طرح ایک ڈاکٹر کئی سال تک شب و روز پڑھائی اور تربیت کے بعد علاج معالجہ پر دسترس حاصل کرتا ہے اسی طرح روحانی معالج بننے کے لئے مجاہدے اور چلے کاٹنے پڑتے ہیں۔ میں تو اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا“
”تم ٹھیک کہتے ہو پتر جی …. لیکن میرا ایمان کہتا ہے کہ اگر ہمارا ایمان پختہ ہے اور کتاب الہٰی سے ہماری محبت بے پناہ ہے تو پھر کوئی بھی شیطانی قوت ہم پر غالب نہیں آ سکتی“ چاچا جی نے میرے دل کی بات چھین لی تھی۔
”آپ صحیح کہتے ہیں“ میں نے ان کی بات کی تائید کی ”ہمارا ایمان مضبوط اور اللہ کا ذکر ہمارے لبوں اور قلبوں پر بہتے پانیوں کی طرح رواں دواں رہے تو یہ جادو ٹونے کی کثافتیں ہمیں کبھی آلودہ نہیں کر سکتیں۔ لیکن چاچا جی یہاں ایک لطیف پردے نے معاملات کو مختلف بنا دیا ہوا ہے۔ یہی معاملہ ہماری عقلوں سے ماورا ہے۔ ایمان کمزور پڑ جائے تو انسان ڈھے جاتا ہے لیکن اگر ایمان کی پختگی برقرار رہے تو انسان گرتا نہیں ہے۔ ہمیں اپنے ایمان کی مضبوطی کے ساتھ اپنے معاملات کو چلانا ہے۔ کمزور نہیں ہونا ہمیں“
میں نے ان سب سے اجازت لی اور اسی وقت شہر کے لئے حویلی سے نکلنے لگا۔ میں شاہ صاحب سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔ ان سے نظریں بچا کر میں جا رہا تھا کہ معاً ان کی آواز نے میرے قدم روک لئے۔ میں نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا
”ادھر آﺅ“ ان کے لہجے میں سختی تھی۔ میں اسی جگہ ٹھہرا رہا۔
”میں کہتا ہوں ادھر آﺅ“ وہ جلال میں بولے
اس بار میں ان کے پاس چلا گیا
”تم کیا سمجھتے ہو میں کچھ نہیں جانتا“ وہ غصے میں کھولتے ہوئے مجھے دھمکی دینے لگے ”تم نے دیکھ لیا نصیر کو کس طرح بے بس کر دیا تھا میں نے …. تم کیا چیز ہو۔ ایک دو لفظ سیکھ لئے خود کو طرم خاں سمجھنے لگے ہو۔ یاد رکھو میں اگر چاہوں تو تمہارے سینے میں انگلی ڈال کر تمہارا دل نکال دوں“ وہ انگشت شہادت میرے دل کے مقام پر چبھونے لگے ”تمہیں بڑا مان ہے ناں خود پر“
میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر خاموش کھڑا رہا۔
”تمہاری ساری ہوا نکال دوں گا“ ان کے اندر کا درندہ میرے سامنے عریاں ہو رہا تھا۔ ”میں اتنی جلدی ہار ماننے والا نہیں ہوں“
”میں آپ کی شکایت باباجی سے کروں گا“ میں نے کہا
وہ قہقہے لگانے لگے ”بابا جی سے کہوں گا …. ارے جاﺅ اور انہیں تلاش کرکے بتاﺅ کہ ریاض شاہ نے تم لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے“ انہوں نے انگلی میری ناک پر رکھی اور زور سے دبا کر بولے ”میرے لعل ۔۔۔۔۔بابا جی میری بات مانتے ہیں …. تم لاکھ ان کی منتیں کرو۔ جب تک میں نہیں چاہوں گا وہ کچھ نہیں کر سکتے ۔اگر نہیں یقین تو اب بابا جی سے ملاقات ہو تو آزما کر دیکھ لینا“
”اچھا دیکھ لوں گا“ میں نے اکھڑے لہجے میں جواب دیا۔ میں ان سے الجھنا نہیں چاہتا تھا۔ مجھے خدشہ تھا اگر میں الجھ پڑا تو وہ کوئی شیطانی حرکت کر سکتے تھے۔
”اب جاﺅں میں“ میں نے کہا
”جاﺅ …. لیکن اپنے کمرے میں“ وہ مجھے تنبیہ کرتے ہوئے بولے ”اگر تم نے اپنے کمرے سے نکلنے کی کوشش کی تو اس کے بعد جو ہو گا اس کے ذمہ دار تم خود ہو گے …. جاﺅ اور اپنے یار کی تیمارداری کرو“
میں جان گیا تھا کہ انہوں نے لازماً کوئی ایسی پیش بندی کر دی ہو گی کہ میں اب حویلی سے باہر نہ جا سکوں۔ میں واپس اپنے کمرے میں گیا تو نصیر چارپائی پر لیٹا ہوا تھا اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ چاچی ، زلیخا اور ملک صاحب اس کے پاس غمزدہ سے بیٹھے تھے مجھے دیکھا تو ان کے چہروں پر سراسیمگی سی پیدا ہو گئی۔
”تم گئے نہیں“ چاچی بولیں
”میں جانا چاہتا تھا لیکن شاہ صاحب نے روک دیا ہے“ میں نے لاچارگی سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے جواب دیا ”اسے کیا ہوا ہے؟“ میں نصیر کے پاس پہنچا
”تمہارے جاتے ہی اس کی حالت خراب ہو گئی تھی“ ملک صاحب پریشانی کے عالم میں بولے ”اب کیا ہو گا بیٹا“
میں نصیر کے سرہانے بیٹھ گیا
”اللہ ہمارے ساتھ ہے“
”کہاں ہے اللہ ….“ زلیخا آہستگی سے بولی۔ اس کا لہجہ شکووں شکایتوں سے بھرا ہوا تھا۔
”وہ بے کسوں سے دور کیوں ہے“ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے
”اللہ ہمارے ساتھ ہے زلیخا“ میں اس کے قریب گیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے سمجھایا ”زلیخا …. دل چھوٹا نہ کرو …. مایوسی کفر ہے“
وہ خاموش ہو گئی ہمیشہ کی طرح ۔۔۔گو اس کی آنکھوں میں شکوے شکایات حزن و ملال تیرتے رہے۔
میں نصیر کے سرہانے بیٹھ گیا۔ پاس ہی پانی سے بھرا گلاس رکھا تھا۔ میں نے ان تین آیات
٭وَاللّٰہُ خَی±ر’‘ حٰفِظًا وَ ھُوَ اَر±حَمَ الرّٰاحِمِی±ن
٭ َواتَّبَعُو± مَا تَت±لُوا الشَّیٰطِی±نُ سے لَو± کَانُو± یَع±لَمُو±ن
٭حَس±بُنَا اللّٰہُ وَ نِع±مَ ال±وَکِی±ل
کو ایک خاص طریقہ سےپڑھا اور پانی پر پھونک کر نصیر پر چھڑک دیا تو کچھ ہی دیر بعد اس کی حالت سنبھلنے لگی۔ ایک گھنٹے تک میں اس کے سرہانے بیٹھا وظائف پڑھتا رہا۔ اس کی طبیعت کچھ بحال ہو گئی تھی مگر لگتا تھا اس کا خون کسی نے چوس لیا ہے۔ سرخ و سپید رنگت زرد اور مٹیالی ہو گئی تھی۔ آنکھوں کے گرد سیاہی مائل حلقے نمایاں ہو رہے تھے۔ یہی حالت میں نے زلیخا کی بھی دیکھی تھی۔ اس کی حالت قدرے سنبھلی تو میں نے ایک بار پھر حویلی سے نکلنے کی کوشش کی اس بار میں پچھواڑے سے باہر جانا چاہتا تھا۔ میں نے جونہی کمرے سے باہر پاﺅں رکھے‘ نصیر کی کربناک آواز سنائی دی اور جلدی سے واپس لوٹ آیا۔
”او مائی گاڈ“ میں سمجھ گیا تھا۔ شاہ صاحب نے ہمیں اپنے شیطانی جال میں بری طرح پھنسا دیا تھا انہوں نے نصیر کو اپنے قابو میں کیا ہوا تھا۔ جونہی میں اس سے پرے ہٹتا تھا تو اس کی حالت بگڑ جاتی تھی۔ میں جان گیا تھا کہ انہوں نے ایک تیر سے کئی شکار کئے ہیں۔ میں بے بسی سے کمرے میں چکر لگانے لگا۔ سوائے اللہ کے ہمارا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ ہم سب ایک دوسرے کے منہ تکتے اور دلاسے دیتے رہتے تھے۔ یونہی شام ڈھل گئی۔ اس رات ہم سب ایک ہی کمرے میں بند ہو کر رہ گئے تھے۔ نہ چولہا گرم ہوا نہ کوئی برتن کھٹکا۔ میں کمرے میں نصیر کے پاس ایک چوکیدار کی طرح بیٹھ کر رہ گیا۔
یہ عشا کے قریب کا وقت تھا جب غازی ہمارے کمرے میں آ گیا۔ وہ انسانی روپ میں ہی تھا اور اس کا لہجہ بھی بگڑا ہوا تھا کہنے لگا ”تمہیں شاہ صاحب نے بلایا ہے“
میں نے غازی کی آنکھوں میں دیکھنے کی کوشش کی مگر تاب نظر برداشت نہ کر سکا۔ اس سے قبل اس نے مجھے کبھی تو اور تم کہہ کر مخاطب نہیں کیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں جنات کی روایتی وحشت اور غضب تھا۔ وہ غائب ہو گیا اور میں شاہ صاحب کے کمرے میں چلا گیا۔ کمرہ گھپ اندھیرے میں غرق تھا میں چوکھٹ کے پاس ہی کھڑا ہو گیا
”اندر آ جاﺅ“ بابا جی کی بھاری بھرکم آواز سنائی دی۔
”میں اندھیرے میں داخل ہو گیا اور چند قدم چلنے کے بعد رک گیا۔
”تمہارا خون بڑا گرم ہو رہا ہے“ بابا جی میرے سامنے کھڑے تھے اور ان کی تیز گرم سانسیں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ اس وقت وہ اپنے جناتی روپ میں ہی تھے۔ میں نے آنکھیں بند کر لی تھیں مگر میری ساری حسیات چوکس ہو گئی تھیں۔ دل بھی بے اختیار ہو کر دھڑکنے لگا تھا لیکن اس لمحے بھی میں اپنے اللہ کو نہیں بھولا۔ متلاطم دل کے ساتھ درود شریف پڑھنے لگا۔ اپنے اندر کے جواربھاٹا کو اس سے قرار آ سکتا تھا۔ بابا جی جب جناتی روپ میں آتے تھے تو اسی طرح گھپ اندھیرا کیا جاتا تھا تاکہ ان کے اصلی خدوخال نظر نہ آ سکیں۔
”تم نے ہمارے بیٹے ریاض شاہ کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرکے سب کو ان کے خلاف کر دیا ہے“ باباجی غضب ناک لہجے میں بول رہے تھے
”سرکار …. میں نے کچھ نہیں کیا“ میں نے جرات کرکے لب کھولے۔
”بکواس کرتے ہو ۔ہم سب جانتے ہیں“ وہ دھاڑے تو میرا دل سینے کی دیواریں توڑ کر باہر پھدک جانے لگا۔ کمرے کے درودیوار تھرا اٹھے۔ انہوں نے اپنے لطیف روئی جیسے ہاتھ سے میرے بازو پر تھپڑ مارا اور میں کانپ کر رہ گیا۔
”سرکار! آپ سب کچھ جانتے ہیں اور پھر بھی خاموش ہیں“ میں بولنے سے باز نہیں آیا۔ ”آپ کو ہر بات کی خبر ہے مگر آپ یہ نہیں جان سکے کہ یہ شاہ صاحب اندر سے کتنے گھناﺅنے ہیں۔ یہ پاپی ہیں سرکار۔ انہوں نے آج ایک معصوم اور آپ کے عقیدت مند نوجوان کو اس کے باپ کے قتل پر اکسایا۔ سرکار آپ اگر یہ سب جانتے ہیں تو مجھے بتائیں کیا ہمارا مذہب ہمیں یہ آداب سکھاتا ہے“ میں روہانسا ہو گیا ”اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ شاہ صاحب سیاہ کریں یا سفید‘ ان کا ہر فعل درست ہے تو پھر مجھے یہ کہنے دیجئے کہ آپ کا اسلام اور سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہے“ میری بات سن کر بابا جی کی سانسیں تیز ہو گئیں ۔ میں اب ہر طرح کے عذاب کو سینے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو چکا تھا۔ ہر طرح کی فکر اور نتائج سے بے پرواہ ہو کر میں بولتا رہا ”سرکار! ہم تو آپ جیسی ہستیوں کے عقیدت مند تھے لیکن آپ نے …. ہماری ساری عقیدت کو پشیمانی میں بدل دیا ہے۔ یہ انتقام لے رہے ہیں ہم سب سے۔ مجبور اور بے بس لوگوں کا ایمان خراب کرکے انہیں کمزور بنا کر اپنی اطاعت کرانا کہاں کا اسلام ہے۔ میں نے دیکھا ہے اور سنا ہے آپ اور آپ کے جنات پیروکار پہروں قرآن پاک پڑھتے رہتے ہیں۔ میرے پیارے رسول کی ثنا بیان کرتے ہیں۔ سرکار ۔۔۔۔۔۔۔ ایک طرف آپ کا یہ مقام ہے اور دوسری طرف آپ ایک ایسے شخص کے ہاتھوں مجبور نظر آ رہے ہیں جو ایمان فروش ہے“
”شاہد …. خاموش ہو جاﺅ“ باباجی دھاڑے ”خاموش ہو جاﺅ تم …. …. “
”ریاض شاہ …. تم نے سنا یہ کیا کہہ رہا ہے“ باباجی گھمبیر آواز میں بولے
”سنا ہے سرکار …. یہ بکواس کرتا ہے صحافی ہے ناں …. زبان بہت چلاتا ہے“ ریاض شاہ بابا جی کا نبض شناس تھا۔ اس نے جب دیکھا کہ میری حقیقت کشائی نے بابا جی کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے تو اسے صورتحال بدلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ “
”بکواس نہیں کر رہا یہ “ باباجی نے تیز لہجے میں کہا ”تم اپنے ساتھ ہمیں بھی ذلیل کراتے ہو میں نے تم سے کہا تھا کہ ہم تمہاری والدہ کی وجہ سے تمہیں رعایت دیتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم لوگوں کا ایمان بیچتے پھرو اور ہم تمہیں معاف کر دیں۔ میں تمہیں چھوڑ کر چلا جاﺅں گا“
”سرکار …. میری بات تو سنیں“
”اب سننے کو رہ ہی کیا گیا ہے“ بابا جی بولے ”روشنی جلا دو تم نے معاملات کو جس حد تک خراب کیا ہے اسے اب درست کرنا ہو گا۔ تمہیں میں شروع دن سے یہ بات سمجھا رہا ہوں کہ اگر ایک عامل منتقم مزاج ہو جائے تو اس سے بڑا ظالم انسان کوئی نہیں ہوتا۔ تم نے اپنی ہوس اور انتقام کی خاطر یہ گھناﺅنا کھیل کھیلا ہے“
”میں معافی چاہتا ہوں سرکار“ ریاض شاہ نے لائٹ جلا دی تھی اور پھر میں نے اسے بابا جی کے قدموں میں جھکے دیکھا۔ بابا
”میرے پاس بیٹھو“ وہ پلنگ پر بیٹھ گئے”غازی …. تم جاﺅ اور باقی سب لوگوں کو بھی بلا لاﺅ“ غازی چلا گیا تو وہ مجھ سے مخاطب ہوئے ”شاہد میاں یہ شاہ صاحب ابھی نادان ہیں۔ جوانی کا عالم ہے۔ میاں تم جانتے ہو۔ ندی ، دریا کے کنارے کمزور ہوں تو پانی میں ذرا سی تیزی آ جانے سے کنارے ٹوٹ جاتے اور پانی بہہ نکلتا ہے۔یہ ریاض شاہ کے اندر علوم کی طغیانی برپا رہتی ہے لیکن اس کا ظرف کمزور ہے۔ اس میں برداشت بہت کم ہے۔ کینہ بھرا ہوا ہے اس میں۔ حالانکہ یہ بات معروف ہے کہ جنات میں کینہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں غضب کی شرح انسانوں کی نسبت زیادہ ہے لیکن ہم بھی اس وقت دنگ رہ جاتے ہیں جب کسی انسان کو کینہ اور غضب کی حالت میں دیکھتے ہیں۔ معاف کرنا ، یہ جنات کا روایتی غضب ہی تھا کہ میں ریاض شاہ کی باتوں میں آ گیا“ ان کے لہجے سے شرمندگی جھلک رہی تھی ”میں اب اسے سمجھا دوں گا تو بھی ملک صاحب اور دوسرے لوگوں کے دلوں سے اس کے لئے نفرت کم کر دو۔ اب تم لوگوں کو اس سے کوئی شکایت نہیں ہو گی“
”جی سرکار …. جیسے آپ کہیں گے ویسا ہی ہو گا“ میں اب بے حد خوش تھا۔ ریاض شاہ پر میری یہ فتح تھی۔ میں نے باطل کو حق سے تہ تیغ کر دیا تھا۔ میرا انگ انگ مسرور تھا۔
کچھ دیر بعد ملک صاحب نصیر کو سہارا دیتے ہوئے اندر لے آئے۔ چاچی اور زلیخا بھی ساتھ تھے۔ بابا جی نے ان کے شکوے شکایات بھی سنیں اور ریاض شاہ کی طرف سے معافی مانگ لی اور وعدہ کیا کہ وہ چند روز تک یہاں سے چلے جائیں گے۔ ہم سب مطمئن ہو گئے تھے۔ نصیر اسی رات بھلا چنگا ہو گیا تھا اور زلیخا کی حالت بھی سنبھل گئی تھی۔
لیکن یہ اطمینان تو ایک طفل تسلی تھی۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ طوفان گزر چکا ہے منافقت اور مکر و فریب نے سچائی کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ روشنی کو اندھیروں کے اژدھے نے ڈس لیا تھا۔ اگلے روز میں شہر امتحان دینے چلا گیا۔ میرے دل میں آیا کہ بابا تیلے شاہ سے مل آﺅں۔ لیکن میں نے ارادہ بدل دیا کیونکہ اب حویلی کے حالات تبدیل ہو گئے تھے۔ میں شام کے قریب حویلی پہنچا تو اس کا جہازی دروازہ خلاف توقع کھلا ہوا تھا۔ ہر طرف ویرانی اور وحشت کا راج تھا۔ میں اندر گیا تو ملک صاحب چاچی اور نصیر نڈھال سے زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی دہائی دینے لگیں۔
”ہم لٹ گئے برباد ہو گئے شاہد پتر“
میں پریشان ہو گیا ”کیا ہوا ہے“
ملک صاحب نے سوجھی ہوئی نظروں سے میری طرف دیکھا۔
”وہ لے گیا ہے زلیخا“
”کون لے گیا ہے“
”ریاض شاہ …. اسے اپنے ساتھ لے گیا ہے“ وہ سرجھکا کر رونے لگے۔
میری ٹانگوں سے جیسے کسی نے جان نکال لی تھی۔ میں نیچے بیٹھ گیا۔
”کک …. کب کیسے …. وہ تو“ میں ہکلا کر رہ گیا۔
”بیٹے یہ سب جھوٹ تھا‘ فریب تھا۔ انہوں نے ہمہیں پھر دھوکا دیا ہے“ چاچی چلانے لگیں ”رات کو رام رام کہہ رہے تھے۔ ہم ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ گئے۔ بابا جی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اب کسی سے زیادتی نہیں کرے گا …. لیکن آج وہ بابا جی کے کہنے پر اسے لے گیا ہے۔ ہم تو برباد ہو گئے پتر جی ہم برباد ہو گئے“ وہ اپنا سر پیٹنے لگیں
”میں اس بے غیرت کو قتل کر دوں گا خدا کی قسم ایک بار مجھے اس کا پتہ مل جائے“ نصیر کی حالت پھر بگڑی ہوئی تھی لیکن وہ اپنی قوتوں کو مجتمع کرکے بول رہا تھا۔
”بابا جی نے کہا تھا کہ زلیخا ہماری امانت ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے اسے اپنی بہو بنا کر لے جائیں“ چاچی کہہ رہی تھیں ”اسے کہیں سے ڈھونڈو پتر جی …. ہم تو بہت کوشش کر چکے ہیں“
”میں کہاں تلاش کروں انہیں“ میں سوچنے لگا۔ ”بابا جی آپ نے اچھا نہیں کیا۔ آپ مجھے کس امتحان میں مبتلا کر گئے ہیں۔ ان کی رات کو کی ہوئی ساری باتیں میرے ذہن میں گونجنے لگیں۔ میر ے لبوں پر اب ایک ہی سوال بار بار آ رہا تھا
”بابا جی …. وہ سب کیا تھا۔ کیا آپ بھی جھوٹ اور مکاری اور ہوس کے غلام تھے۔ ایک اسلام پرست جن ایسی گھناﺅنی حرکت کیسے کر سکتا ہے۔ کیا آپ ریاض شاہ کے ہاتھوں اتنے مجبور ہو چکے ہیں کہ اپنے وعدے پر قائم نہیں رہ سکے“ مگر کوئی میرے اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا تھا۔ میں نڈھال سے بدن کے ساتھ اٹھا معاً میرے ذہن میں ایک خیال آیا میں نے موٹر سائیکل نکالی اور قبرستان کی طرف چلا گیا۔
موٹر سائیکل قبرستان کے پاس روکی اور بھاگ کر اس قبر کے پاس چلا گیا جہاں ٹاہلی والی سرکار رونق افروز ہوتی تھی۔ ان کے والد گرامی کی قبر پر وہی بوسیدہ بوری کا ٹکڑا پڑا تھا جس پر وہ بیٹھا کرتے تھے۔ وہ پیالا بھی رکھا ہوا تھا جس میں خون ٹپکا کر کالی داس کو پکڑا تھا۔ ٹاہلی والی سرکار وہاں موجود نہیں تھی۔ انہیں اردگرد تلاش کرنے لگا۔ پھر اونچی اونچی آواز میں انہیں پکارنے لگا۔ آواز سن کر درختوں پر پرندے پھڑپھڑا کر اڑ گئے مگر ٹاہلی والی سرکار کی موجودگی کے آثار نہیں ملے۔ میں نیم دلبرداشتہ ہو کر واپس ہونے لگا تو معاً مجھے بہت قریب کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی مصیبت میں پھنسا ہوا ہے۔ میں نے اسے نظرانداز کیا اور قبرستان سے نکلنے لگا تھا کہ کتا دردناک آواز میں بھونکنے لگا۔ اس کے فوراً بعد کسی عورت کی ہذیانی چیخیں سنائی دینے لگیں۔ میں نے آواز کی سمت کا اندازہ لگایا۔
آوازیں شیشم کے ایک بوڑھے درخت کی طرف سے آ رہی تھیں۔ میں ادھر پہنچا تو یہ دیکھ کر لرز کر رہ گیا۔ ایک عورت کا درخت کی کھو میں سر پھنسا ہوا تھا اور اس کا پورا بدن باہر لٹکا ہوا تھا۔ بازو کمر کے پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ چیخیں اس عورت کی تھیں
”کک کون ہو تم“ میں اس کے قریب پہنچا تو معاً درخت کی کھو سے کتے کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔ میں گھبرا گیا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ معاملہ کیا ہے۔
میں نے بسم اللہ پڑھ کر عورت کے بازﺅں کی رسیاں کھولیں اور اس کا سر کھو کے شکنجے سے بمشکل نکالا۔ اس کا چہرہ دیکھ کر میں دہشت زدہ ہو گیا۔ اس کی آنکھیں سرخ انگارے کی طرح دہک رہی تھیں۔ زبان کتے کی طرح باہر لٹکی ہوئی تھی اور ابرو کمان کی طرح تنے ہوئے تھے۔ وہ سانسیں یوں لے رہی تھی جیسے کتا ہانپتا ہے۔ اس کی عمر چالیس برس ہو گی، رنگت سانولی اور چہرے پر کرختگی نمایاں تھی۔ ہاتھوں کے ناخن گندے اور بڑھے ہوئے تھے۔ کپڑے قدرے صاف ستھرے تھے۔
”کک کون ہو تم“ میں نے بمشکل پوچھا
”تم نے میری مدد کی ہے۔ بولو میں تمہاری کیا مدد کر سکتی ہوں“ اس کے چہرے سے اب تناﺅ کم ہو رہا تھا مجھے اس سے بے حد خوف محسوس ہو رہا تھا اس سے قبل کہ میں کچھ بولتا ، ٹاہلی والی سرکار کی آواز فضاﺅں کا سینہ چیرتے ہوئے میری سماعتوں سے ٹکرائی۔
”یہ تم نے کیا کر دیا۔ اس خرافہ جادوگرنی کو آزاد کرا دیا ہے تو نے …. غضب کر دیا“
اس سے پہلے کہ میں صورتحال کو سمجھتا۔ وہ عورت کسی عقاب کی طرح اڑتی ہوئی میرے پاس آئی اور اپنے آہن نما ہاتھوں میں میری گردن دبوچ لی۔
”خبردار …. اب جو مجھے ہاتھ لگایا ورنہ میں اسے مار ڈالوں گی“ وہ ہذیانی انداز میں چلائی۔
اس کی آواز سنتے ہی ٹاہلی والی سرکار شیشم کی کھوہ سے باہر نکلنے لگے۔ میں حیران و پریشان تھا اور اس ناقابل بیاں منظر کو دیکھنے لگا۔ وہ کھوہ جس میں اس عورت کا سر پھنسا ہوا تھا اس سے ٹاہلی والی سرکار اپنے پورے وجود اور جاہ وجلال کے ساتھ باہر آ رہے تھے۔
٭٭٭٭
میں اسے کیا لکھوں۔ پاگل پن‘ وہم ، خلجان، جہالت۔۔۔۔۔ لیکن میرے سامنے قفس کے پردوں میں تہہ جما کر ایک وجود کھوہ سے نمودار ہو رہا تھا۔ میں اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتا تھا۔میرے دیدے پھٹ چکے تھے اور پلکوں کے غلاف کو پھاڑ کر نکل جانا چاہتے تھے۔ وہ خرافہ تھی، چڑیل تھی۔۔۔۔۔ یا کوئی جادوگرنی…. اسکے نوکیلے اور زہریلے ناخن میری گردن میں دھنسے ہوئے تھے۔ میری شاہ رگ پر اس کا استخوانی ہاتھ جما ہوا تھا، نتھنوں سے اٹکتی ہوئی گہری گرم سانسیں کسی نیم مردہ انسان کی طرح نکل رہی تھیں۔ پیشانی کی رگیں کانوں کی لوﺅں تک تن گئی تھیں۔ مگر اس عذاب کنی اور جان کنی سے بے پرواہ ہو کر اس حیران کن منظر کو دیکھ رہا تھا جس کی لطافت نے مجھے ہر اس درد سے بے گانہ کر دیا تھا جو میرے رگ و ریشہ میں سما کر بے کار ہو گیا تھا۔
”ٹھہرو اے بدذات…. چڑیل۔ اسے آنچ بھی نہ آنے پائے۔ خدائے لم یزل کی قسم۔ جس کے قبضہ قدرت میں اس مریل انسان کی جان ہے۔ جو اس کی متاع کل کا مالک ہے۔ اے خنّاس ٹھہر جا۔ افسوس کہ میں تجھے ایک عورت نہیں کہہ سکتا۔ تو نے ایک نرم و لطیف وجود زن میں اپنی شیطانی جبلت کا ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔ پس میں تجھے چڑیل ہی کہوں گا۔ میری بات سن لے۔ اگر تو زندہ رہنے کی تمنا رکھتی ہے تو اسکی شہہ رگ سے شیطانی انگلیاں ہٹا لے۔ ورنہ ترے بدن کے ایک ایک ریشہ میں موت کا بارود بھر دوں گا….“
شیشم کی کھوہ سے نکلتے ایک وجود نے اسے تنبیہ کی۔ میں قدرت کی اس کرامت کی ایک جھلک سے مخمور ہو چکا تھا۔ میری پلکوں پر صرف ایک ہی چہرہ محو خواب تھا۔ ٹاہلی والی سرکار…. ان کی آواز میری سماعتوں سے مسلسل ٹکرا رہی تھی اور وہ جسے میں نے کچھ لمحے پہلے اسی کھوہ کے عذاب سے نکالا تھا‘ اس بھونکتی عورت نے مجھے موت کے شکنجوں میں جکڑ دیا تھا۔
”بابا مجھ سے پکا وعدہ کر۔ کچھ نہیں کہے گا تو میں چلی جاﺅں گی…. میں اسے کچھ نہیں کہوں گی۔ اس نے تو میرا بھونکنا بند کرایا۔ میں اسے نہیں مارنا چاہتی…. لیکن تو نے کچھ کہا تو میں اسے مار ڈالوں گی۔ میں تو مروں گی یہ بھی نہیں بچے گا….“
”ٹھہرو…. ٹھہرو….“ ٹاہلی والی سرکار کا غضب کے چولے سے جلالی چہرہ نمودار ہو رہا تھا۔” نہ میں تجھے چھوڑوں گا اور نہ تو اسے کچھ کہے گی…. میں نے اسے تمناﺅں کی پوشاک میں چھپا کر رکھا ہے تو میری پوشاک کو کیسے پھاڑ سکتی ہے۔ تو علم کی صداقتوں اور اسکی پنہائیوں سے غافل ہے۔ تو کیا سمجھتی ہے۔ شیطانی علم تجھے اللہ کی مار سے بچا لے گا…. یہ علم میرا محافظ ہے اور اس کا بھی محافظ ہے تو اسے مار نہیں سکے گی….“ ٹاہلی والی سرکار اس جگہ جم کر کھڑے ہو گئے اور …. پھر انہوں نے دائیں ہاتھ کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور زیر لب کچھ پڑھ کر اسکی طرف جھٹک دی…. ایک لمحہ کے نہ جانے کس ثانیے میں یہ ہوا تھا۔ ایک برق سی کوندتی محسوس ہوئی تھی۔ کوئی تیز شے میری گردن میں چبھی تھی اور ساتھ ہی اس خرافہ عورت کی دلدوز چیخ ابھری ۔
”سرکار….“ میرے حلقوم سے آہ نکلی اور میں گردن پر ہاتھ رکھ کر نیچے بیٹھ گیا۔
”میرے بچے تجھے کچھ نہیں ہو گا….“ ٹاہلی والی سرکار نے میرے سر پر اپنا مہربان ہاتھ رکھا۔ میری گردن سے ٹیس اٹھ رہی تھی۔ اس جگہ سے بوند برابر لہو نکلا تھا۔ ٹاہلی والی سرکار نے میرا ہاتھ گردن سے ہٹایا اور زیر لب کچھ پڑھنے لگے۔ پھر اپنا لعاب دہن انگلی پر لگا کر ٹیس والی جگہ پر لگایا تو ایک تیز مگر کیف آور ٹھنڈی سی لہر میرے ریشے ریشے میں رینگ گئی۔ کچھ لمحے بعد درد کافور ہو گیا۔
”میرے بچے۔ اس خرافہ نے ترے اندر اپنا زہر اتار دیا تھا۔ لیکن شافی مطلق کے فضل سے اب اسکا یہ سحری زہر تجھ پر اثر نہیں کرے گا….“ وہ میرے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگے۔ ”جو مبارک کلمات تجھے سکھائے تھے اسے پڑھتے ہو ناں….“ ان کی آنکھوں میں ایک مخصوص قسم کا مسرت آمیز استفسار تھا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اگر تو چاہے تو اپنی روح کی بیٹری کو چارج کر سکتا ہے….“
میں نے غور سے ان کی نظروں میں دیکھا۔
”یہ مبارک کلمات پڑھتے رہا کرو۔ میرا رب ہے ناں جو…. ادھر…. تیری شہ رگ کے قریب رہتا ہے۔ اگر تو اپنے قلب کے محراب میں سربسجود ہو کر ذکر الٰہی کرتے رہو گے تو رب کریم تری دعاﺅں کوسنے لگا۔ لیکن میرے بچے…. لیکن میرے بچے…. یہ سب تمہیں پاکیزہ دامنی سے نصیب ہو گا۔ تری پاکیزہ روح ترے بدن کو مطہر دیکھنا چاہتی ہے۔ میرے بچے…. جس گھر کے مکیں خوش ذوق ہوں اس کے در و بام بھی صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ اس گوشت پوست کی عمارت کو آلودگی سے بچائے رکھو گے تو روحانی بالیدگی حاصل کر جاﺅ گے۔“ جب ٹاہلی والی سرکار فلسفہ روحانیت پر بول رہے تھے اس خرافہ عورت کی کراہ سنائی دی تھی۔
”میں جانتا ہوں تو ابھی زندہ ہے….“ ٹاہلی والی سرکار کے لبوں پر مسکراہٹ ابھری۔
”تو جانتا ہے یہ کوئی ہے….“
میں نے نفی میں سر ہلایا
”یہ ان کم ذات اور مرتد عورتوں میں سے ہے جو نام کی مسلمان ہیں۔ مگر شیطان کی آلہ کار بن کر اپنی عزت آبرو اور ایمان بیچ دیتیں اور اپنی غلاظتیں کوچے کوچے میں لے جا کر بکھیرتی ہیں….“
”میں سمجھا نہیں سرکار….“ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
”وہ کالی داس…. کا چیلہ۔ یاد ہے۔ جب اسکی حاضری لگائی تھی تو اس نے بتایا کہ ادھر تمہارے شہر میں کچھ مسلمان عورتیں ایک ہندو پنڈت کے پاس جاتی ہیں۔ اور اس سے شیطانی علم سیکھتی ہیں۔ یہ خرافہ ان میں سے ایک ہے۔ دیکھو تو…. اسکی شکل…. لگتا ہے یہ انسانوں کی نسل میں سے ہے۔“
میں نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا تو گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔ وہ اکڑوں بیٹھی تھی۔ اسکی حالت کسی باﺅلے کتے جیسی تھی۔
”اسکا باطن ظاہر ہو رہا ہے…. میرے بچے….“ ٹاہلی والی سرکار نے نفرت سے اس پر تھوک دیا تو لعاب جونہی اسکے سر پر گرا اسکے اسکے بالوں میں آگ لگ گئی…. وہ باﺅلے کتے کی طرح ادھر ادھر سر مارنے لگی۔ وہ اپنے طور پر چیخ رہی تھی مگر اسکے حلق سے کتے جیسی آواز نکل رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی نادیدہ قوت نے اسکے سر کے سوا پورا بدن جکڑ رکھا ہے۔
”یہ شیطانی علم ہے۔ اس نے جو گند کھا کر اور کھلا کر یہ علم سیکھا ہے اب وہ نکل رہا ہے۔ تم نے سنا ہے۔ کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا۔ سو یہ گھی کھانے آئی تھی…. مگر اب اسے نگلا نہیں جا رہا۔ یہ یہاں ادھر…. میرے والد گرامی کی قبر پر آ کر شیطانی عمل کرنے آئی تھی۔ بدبخت کو اسکے جلے نصیب یہاں کھینچ لائے…. اس کا وقت پورا ہو گیا ہو گا۔ تبھی تو یہ یہاں آ گئی….“
میں نے سن رکھا تھا کہ میرے شہر سیالکوٹ میں بعض پیشہ ور کالا جادو کرنے والوں نے ایسی عورتیں پال رکھی تھیں جو ان کے لئے کام کرتی تھیں۔ مکھن سائیں کے بارے میں بھی یہی مشہور تھا۔ اسکے نشئی پیروکار گلی کوچوں میں جا کر اسکے شعبدوں کو کرامات بیان کر کے ڈراتے تھے۔ مگر یہ عورت ایک دوسرے قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی۔ مجھے صرف اتنا ہی معلوم تھا کہ بہت سی اوہام پرست عورتیں تعویذ دھاگے اور باقاعدہ کالا جادو سیکھنے کے لئے ایک ہندو پنڈت کے پاس جاتی تھیں۔ ٹاہلی والی سرکار نے اس عورت کو اسکی شیطانی طاقتوں سمیت بے بس کر کے رکھ دیا تھا اور اب وہ اپنی بے بسی پر چلا رہی تھی۔ مجھ سے اسکی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔
”سرکار یہ بھونک کیوں رہی ہے….“ میں نے اسکے کراہت آمیز چہرے سے نظریں ہٹاتے ہوئے سوال کیا۔
”بھونکنا تو اس کا کام ہے۔ بھونکتے بھونکتے مر جائے گی یہ۔“ ٹاہلی والی سرکار نے نفرت سے منہ موڑ لیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی چلہ گاہ کی طرف جاتے ہوئے گویا ہوئے۔ ”میرے بچے…. جو مسلمان عورت یا مرد کالا جادو سیکھتا ہے اور پھر اس گندگی میں پورے کا پورا داخل ہو جاتا ہے اپنے آخری ایام میں باﺅلا ہو جاتا ہے۔ کتوں کی طرح بھونکنے لگتا ہے۔ پانی میں اپنی شکل دیکھتا ہے تو اسے اپنے اندر جانور نظر آنے لگتے ہیں۔ اس کی روح مردہ ہو جاتی ہے۔ بلکہ یہ کہوں گا کہ شیطان لعین اس کے اندر ڈیرہ ڈال لیتا ہے۔ اس عورت کی عقل پر اب شیطان سوار ہے تم جانتے ہی ہو شیطان اور جنات کو کتوں کے روپ میں متشکل ہونے کی بھی قدرت حاصل ہے۔ اس لئے تو یہ عام کتے بھی ان کو پہچان لیتے ہیں۔ اس عورت کو اب باﺅلے کتوں کی طرح تڑپ تڑپ کر مر جانا ہے….“
”یہ ہے کون….“ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں کس ماحول میں سانس لے رہا ہوں میرے اندر کے صحافی کا تجسس انگڑائیاں لینے لگا۔
”تمہیں بتایا تو ہے۔ یہ کون ہے کہاں سے آئی ہے‘ اس کو چھوڑو۔ صرف یہ جان لو کہ یہ خرافہ اور بدذات اپنے اصل کو پہنچ رہی ہے….“
”سرکار….“ میں دبے لفظوں میں بولا۔ ”میری خواہش ہے کہ میں اسکے بارے میں جانکاری کروں کہ یہ کون تھی اور پنڈت تک کیسے پہنچی…. میں دراصل….“
”جانتا ہوں میں۔ جانتا ہوں کہ تمہیں کون سی شے تنگ کر رہی ہے….“ ٹاہلی والی سرکار کے لبوں پر مسکان ابھری….“ میں نے حیرت سے ملے جلے تاثرات کے ساتھ دریافت کیا۔ ٹاہلی والی سرکار نے پہلے میری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں وہی مسرت آمیز مسکراہٹ تھی جو نہ جانے کس خوشی یا اطمینان کو ظاہر کرتی تھی پھر انہوں نے سر آسمان کی طرف اٹھایا اور نعرہ مستانہ بلند کرنے لگے….
”حق اللہ…. حق اللہ…. وہ ذات ۔۔۔خالق دوجہاں…. اگر چاہے تو اپنے لطف و کرم سے اس گناہگار کو یہ توفیق دے سکتی ہے میرے بچے….مگر بہت سے حجابات مانع ہیں۔ ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے کہ ہم کیا جانتے ہیں۔ کتنے جہانوں کے اسرار ہویدا ہیں ہم پر۔ تم ایسا کرو کہ اس خرافہ سے خود پوچھ لو…. وہ اپنی موت مر رہی ہے۔ کالے جادو کا ناسور اسکے پورے جسم میں پھیل چکا ہے….“
”سرکار….“ میرے ذہن میں جھماکے ہونے لگے۔ اور میں ان کا چہرہ تکنے لگا۔
”کیا ہوا ہے….“
”وہ ریاض شاہ…. سرکار وہ بھی تو کالا جادو کرتے تھے….“ میں اٹک اٹک کر بولنے لگا۔
”مجھے یقین تھا کہ تم یہ بات کرو گے۔ ہاں۔ وہ بھی کرتا تھا۔ لیکن اس نے توبہ کر لی تھی۔ اگرچہ مجھے یہ یقین ہے کہ وہ مکمل طور پر تائب نہیں ہوا تھا…. لیکن اس نے میرے سامنے توبہ کی تھی۔ اور یہ جو توبہ ہے ناں…. یہ اللہ اور بندے کے مابین ایک معاہدہ ہے۔ ہم اس کے درمیان نہیں آ سکتے۔ اگر میں اسکی ”توبہ“ کو منافقت کہتا تو میری سرکار سردار الانبیائ ناراض ہو جاتے۔ دلوں کے حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ اگرچہ ہم انسان اپنی دور اندیشی سے کسی انسان کے حالات سمجھ لیتے ہیں مگر اللہ عزوجل کے معاملات میں اس دور اندیشی کا تقاضا ہوتا ہے کہ ہم اس خالق دوجہاں کی حکمت و اسرار پر بحث اور حجت نہ کریں…. اور اسکے درمیان توبہ کے معاہدہ پر خاموش ہو جائیں…. میرے بچے…. میں نے کہا تھا کہ بہت سے حجابات مانع ہیں۔ ہم بے لاگ نہیں بول سکتے۔ اشاروں کنائیوں میں کچھ کہہ گزرتے ہیں۔ جو سمجھ لیتے ہیں ان کا بھلا اورجو نہ سمجھیں ان کا بھی بھلا۔ ہر پیٹ کا اپنا اپنا ہضم ہوتا ہے میرے بچے۔ میں جانتا تھا تو ریاض شاہ کے بارے میں دریافت کرے گا….“
”سرکار…. وہ زلیخا کو لے گیا ہے….“
”لے گیا ہے۔“ ٹاہلی والی سرکار نے ٹھنڈے لہجے میں کہا ”وہ اس کی امانت تھی۔ سو وہ لے گیا۔“
”نہیں سرکار…. وہ اسے نکال کر لے گیا ہے۔ اس نے اسے مجبور کیا ہو گا۔ اس نے نکاح نہیں کیا زلیخا سے….“ میں تڑپ اٹھا۔ میرے اندر حد سے بڑھی بے بسی پیچ و تاب کھانے لگی تھی اور پھر میں نے گذشتہ روز کے واقعات ٹاہلی والی سرکار کو بیان کر دئیے کہ کس طرح اس نے نصیر کو بے بس کر کے اپنے باپ کے قتل پر اکسایا تھا۔ میرا خیال تھا ٹاہلی والی سرکار یہ سنتے ہی غضب ناک ہو جائیں گے اور وہ کسی طور یہ پسند نہیں کریں گے کہ ریاض شاہ اپنی پراسرار طاقتوں کو اپنے نفس کی تسکین کے لئے استعمال کرتا پھرے۔ مگر وہ یخ ہواﺅں کی طرح سرد تھے۔ کرب و پشیمانی یا قہر و جلال کی ایک پرچھائی بھی ان کے چہرے پر نظر نہیں آئی تھی۔
”یا الٰہی یہ تیرے کیسے بھید ہیں۔ یہ ترے نیکوکار بندے بھی نیکی اور بدی میں تمیز نہیں کر سکتے…. اور کیا…. یہ کسی بدکار کو روک نہیں سکتے…. ادھر…. یہ خرافہ…. چڑیل‘ بھونکتی عورت تو ان کے غضب سے ہلاکت تک پہنچ رہی ہے مگر جب معاملہ ریاض شاہ کی شیطانیت کا آتا ہے تو یہ خاموش ہو جاتے ہیں۔ میرے مولا…. یہ سب کیا ہے۔ یہ کون سے بھید اور کونسی حکمت ہے۔ یہ کیسی مصلحت ہے جو کسی معصوم لڑکی کو بے آبرو ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ ماں باپ اور ایک بھائی لاچارگی سے شیطان صفت کو ان کی عزت کے ساتھ کھیلتے ہوئے خاموش ہے….“ میرے اندر کوئی چیخ چیخ کر اپنے رب کریم سے سوالات کر رہا تھا‘ التجائیں پیش کر رہا تھا…. مجھے یاد ہے…. جب شہہ رگ سے بھی بہت زیادہ قریب میرے اللہ کریم نے میرے سسکتے ہوئے سوالات سنے تو ادھر…. اس لمحے کرب نادیدہ کی چوٹ دار لہر ٹاہلی والی سرکار کے چہرے پر نظر آئی اور وہ ایک فلک شگاف کرب و ابتلا میں ڈوبی چیخ مار کر بے ہوش ہو گئے تھے….
۔۔۔۔۔ میرے اندر سوالات کا تلاطم تھم گیا اور ٹاہلی والی سرکار کی طرف دیکھنے لگا۔ ان کی پلکوں میں چند آنسو دبے ہوئے تھے اور سانسیں تیز سے تیز ہو رہی تھیں۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں انہیں ہوش میں کیسے لاﺅں…. میرا دل اپنے دکھوں اور پھر ٹاہلی والی سرکار کی حالت غیر دیکھ کر رونے لگا تھا۔
”سرکار…. اٹھیں…. آپ تو سو گئے۔ سرکار….“ میں ان کے سر کو اپنی گود میں رکھ کر اس ماں کی طرح سہلانے لگا جو بھوک سے نڈھال ہو کر اپنے روتے پیٹتے بچے کو نیند میں دلاسوں سے تھپکیاں دیتی ہے۔ یونہی جب خاصی دیر ہو گئی تو ٹاہلی والی سرکار کے لبوں کے تالے کھلنے لگے۔
”حق اللہ…. حق اللہ…. اللہ…. اللہ….“ وہ زیر لب رب ذوالجلال کو پکار رہے تھے…. اس اثنا میں مجھے محسوس ہوا کہ ہم سے کچھ دور بیٹھی بھونکتی عورت خاموش ہو چکی ہے۔ میں نے سوچا کہ وہ مر گئی ہو گی اسی لئے اسکی آواز دم توڑ گئی ہے۔ میں پورے انہماک سے ٹاہلی والی سرکار کی طرف متوجہ تھا۔ جب انہوں نے بولنا شروع کیا اور پھر ان کے لبوں سے ذکر الٰہی کے کلمات ادا ہونے لگے تو مجھے قرار آ گیا۔
”میرے مولا…. تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے….“ مجھے اب پورا یقین تھا کہ ٹاہلی والی سرکار کے قلب و نظر پر جو بھی حجا بات مانع تھے انہیں میری التجاﺅں نے پاش پاش کر دیا تھا اور میرے رب ذوالجلال نے انہیں آگہی بخش دی تھی۔
”تو نے…. کیا کر دیا ہے۔“ ٹاہلی والی سرکار جاگ اٹھے اور پھر میرے سامنے بیٹھ گئے….‘ میرے بچے۔ تو نے میرے مولا کو مجھ سے ناراض کر دیا ہے….“ ان کی پلکوں پر ٹھہرے آنسو اب ساون بھادوں کی طرح برسنے لگے تھے۔
”تو نے میری عمر بھر کی کمائی لٹا دی…. مجھے معاف کر دینا میرے بچے…. نہ جانے تو نے کیا کیا ہے۔ کہ مجھ پر کوڑے برسنے لگے….“
میں نے انہیں بتا دیا کہ میں اپنے رب کریم سے کیا کہہ رہا تھا۔
”سرکار ہم جیسے انسان تو بے بس ہوتے ہیں…. وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اللہ ان کی شہہ رگ سے بھی قریب ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آپ جیسے لوگ جو اس ذات اعلیٰ و برتر کے ولی ہیں وہ ان کی مناجات‘ حاجات کو بہتر طریقے سے طلب کرنے کا سلیقہ سکھا دیں گے…. انہیں اندھیروں سے اجالوں کی طرف لے آئیں گے۔ ان کی آشاﺅں اور محرومیوں کے دلدر دور کر دیں گے۔ آپ لوگ اللہ کے ولی جو ٹھہرے‘ اسکے قرب کی نگری میں جو بستے رہتے ہیں۔ آپ کو ہم جیسے انسانوں سے زیادہ سلیقہ آتا ہے مانگنے کا…. آپ اپنے کام کے ماہر ہیں۔ مگر سرکار جب یہ بھرم ٹوٹتا ہے۔ جیسا کہ میرا ٹوٹا…. میرے جیسے انسان اتنے بھی اندھے نہیں ہوتے کہ اچھائی اور برائی کو نہ سمجھ سکتے ہوں۔ مگر اختیار و کاملیت سے تہی ہوتے ہیں۔ ہم تو شعور کی دنیا میں رہتے ہوئے بھی لاشعور کے وجود سے غافل نہیں ہوتے۔ اسی لئے تو سرکار ہمارے اندر تجسس‘ استغفار اور اظہار کے الاﺅ بھڑکتے ہیں۔ کبھی آپ کو اچھے لگتے ہیں کبھی برے‘ سرکار…. یہی الاﺅ مجھے جلا رہا تھا….“ میری بات ابھی جاری تھی کہ ٹاہلی والی سرکار کے چہرے پر ناگواری ابھر آئی۔
”دفع ہو جاﺅ….“ میں ان کی طبیعت کے اس میلان پر حیران رہ گیا۔ اسی اثناءمیں مجھے اپنے عقب میں کتے کے بھونکنے کی آواز آئی تو میں نے پلٹ کر دیکھا۔ وہی عورت اپنی بدہیتی کے سارے لوازمات کے ساتھ خود کو گھسیٹتی ہوئی ہماری طرف آ رہی تھی۔ اس کی زبان کتے کی طرح باہر لٹک رہی تھی اور سیاہ رنگ کا لعاب اس کے دہن سے نیچے ٹپک رہا تھا۔
”تو پھر آ گئی….“
بابا…. اس کی لرزتی ہوئی آواز سنائی دی۔ مجھے معاف کر دے میں…. اپنے گناہوں کو جھیل رہی ہوں۔ میں سچی توبہ کرنا چاہتی ہوں…. مجھے ایک موقع لے دے بابا“ وہ ہانپتی کانپتی ہوئی قریب سے قریب ہو رہی تھی۔ وہ سانس لیتی تو ایسے لگتا جیسے کتا ہانپتا ہے۔
ٹاہلی والی سرکار کے چہرے پر سے تناﺅ کافور ہونے لگا۔
”توبہ…. اے میرے مولا…. ایک شیطان تجھ سے توبہ طلب کر رہا ہے…. میرے مولا…. یہ تیرے اختیار میں ہے جسے تو چاہے معاف کر دے“۔ ٹاہلی والی سرکار زیرلب کہنے لگی” میں کون ہوتا ہوں۔ تیرے اور اس کے بیچ میں آنے والا…. تو چاہے تو اس کی توبہ قبول کر لے…. آخر یہ تیری ہی بندی ہے“ ٹاہلی والی سرکار نے اس کی طرف اب کی بار دیکھا تو ان کی آنکھوں میں ایک بار پھر مسکان اپنے دیئے جلانے لگی تھی۔
”تو ادھر ہی ٹھہر جا…. میں تجھے اپنی بندشوں سے آزاد کرتا ہوں…. اور ادھر….جا…. ادھر جو نلکا ہے ناں…. وہاں جا کر اپنی غلاظتوں کو دھو اور پاکیزگی اختیار کر۔ وضو قائم کر اور اپنے اللہ کے حضور سجدے میں گر کر روتی جا…. اپنی اکھیوں کے سارے آنسو اس کے در کی چوکھٹ پر گرا دے…….. وہ ذات اپنے بندے کے آنسوﺅں سے اس کی خطاﺅں کے داغ دھو دےتی ہے…. “یہ کہتے ہوئے ٹاہلی والی سرکار کی آواز رندھ گئی اور پھر انہوں نے کچھ پڑھ کر اس عورت کی طرف ہاتھ جھٹکا تو اس کے بدن کے گرد قائم گرفتیں ڈھیلی پڑ گئیں۔آہستہ آہستہ پہلے اس کی سانس نارمل انسانوں جیسی ہو گئی اور پھر اس کے چہرے کے خدوخال معمول پر آنے لگے۔ اس نے تشکر آمیز نظروں سے ہماری طرف دیکھا اور پھر آہستہ آہستہ چلتی ہوئی پانی کے نلکے کے پاس چلی گئی۔ مگر کچھ لمحے بعد ہی اس کے بھونکنے کی آواز آنے لگی۔


