Part 1
میں کئی دن سے محسوس کر رہا تھا کوئی نادیدہ وجود ہے جوہر وقت میرے آس پاس رہتا ہے خاص کر تنہائی میں۔ چلتے ہوئے لگتا کوئی میرے ساتھ چل رہا ہے۔ اکثر میرے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ، مڑ کر دیکھتا تو کوئی نہ ہوتا۔ گھر سے باہر یہ احساس مزید قوی ہو جاتا۔ رات کے کسی پہر اچانک میری آنکھ کھل جاتی، کمرے سے باہر قدموں کی چاپ سنائی دیتی جیسے کوئی چل پھر رہا ہے۔ دروازہ کھول کر دیکھتا تو کوئی نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ ایک اور تبدیلی بھی میں نے محسوس کی۔ ہر وقت میرے اردگرد گلاب کی مہک موجود رہا کرتی۔ آفس میں۔۔۔گھر میں۔۔۔راہ چلتے ہوئے مسلسل گلاب کی مسحور کن خوشبو میرے آس پاس رہا کرتی۔
یہ سب میرے ملتان سے واپس آنے کے بعد شروع ہوا تھا۔ ہوا یوں کہ ہیڈ آفس نے مجھے ملتان بھیجا۔ وہاں کا ایک بھاری زمیندار ہمارے بینک کی برانچ میں اکاؤنٹ کھولنا چاہتا تھا لیکن اس کے کچھ تحفظات تھے۔ مجھے اسے مطمئن کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ضلع خانیوال کے نواح میں اس کی سینکڑوں ایکڑ اراضی تھی۔ دیہات کے لوگ علی الصبح جاگنے کے عادی ہوتے ہیں اسی لیے ان کا ہر کام بہت صبح شروع ہو جاتا ہے۔ مذکورہ زمیندار علی نواز ڈاھا نے صبح چھ بجے کا ٹائم دیا تھا۔ اسی لیے میں رات ہی کو روانہ ہوگیا۔ بس فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔ آدھی رات کا وقت تھا ۔تقریباً سارے مسافر سو رہے تھے ۔کئی تو باقاعدہ خراٹے نشر کر رہے تھے۔ میری سیٹ ڈرائیور کے بالکل پیچھے تھی۔ دوران سفر مجھے نیند نہیں آتی لیکن نہ جانے اس دن کیسے مجھ پر غنودگی چھا گئی۔
اچانک ڈرائیور نے بریک لگائے ،سو میل فی گھنٹہ سے زیادہ تیز رفتار سے چلنے والی بس تقریباً الٹتے الٹتے بچی۔ میرا سر زور سے ڈرائیور کی سیٹ کی پشت سے ٹکرایا اور آنکھوں کے آگے تارے ناچ گئے۔ جو مسافر سو رہے تھے وہ سیٹوں سے نیچے آرہے۔ ٹائروں کے زمین کے ساتھ رگڑ کھانے کی زوردار آواز کے ساتھ ربڑ کے جلنے کی بو بھی محسوس ہوئی۔
مسافر ڈرائیور کو برا بھلا کہنے لگے۔ بس سڑک کے بیچوں بیچ آڑھی ترچھی رکی ہوئی تھی۔ رات کا اندھیرا ہر سو پھیلا ہوا تھا۔ بس کا انجن بند ہونے کی وجہ سے اس کی لائٹس بھی آف ہو چکی تھیں۔ ڈرائیور دونوں ہاتھ سٹیرنگ پر رکھے یوں ساکت بیٹھا تھا جسے انسان نہیں پتھر کا مجسمہ ہو۔
’’کیا بات ہے استاد! نیند آگئی تھی۔۔۔؟‘‘ میرے ساتھ بیٹھا مسافر جو سیٹ سے لڑھک کے نیچے جا گرا تھا اٹھتے ہوئے بولا۔‘‘یا نشہ کررکھا ہے، ابھی بس الٹ جاتی تو ایک بھی زندہ نہ بچتا۔‘‘ اس نے ڈرائیور کو ڈانٹا۔
دیگر مسافربھی ڈرائیور کو کوس رہے تھے۔ لیکن وہ سب سے بے نیاز سڑک کوگھور رہا تھا۔ بس کا مالک پچھلی سیٹ پر سو رہا تھا۔ جلدی سے لنگڑاتا ہوا آگے آیا شاید اسے بھی چوٹ لگی تھی۔ اس نے جھک کر ڈرائیور کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ یوں اچھلا جیسے بچھو نے ڈنک مار دیا ہو۔ پھر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
’’کیا بات ہے استاد کیا ہوا؟‘‘ اسنے ڈرائیور کی حالت کے پیش نظر آہستہ سے پوچھا۔
’’وہ ۔۔۔وہ ۔۔۔وہاں سامنے ‘‘ ڈرائیور کی آواز خوف سے کانپ رہی تھی۔
’’وہاں کیا۔۔۔شاید تجھے نیند آگئی ہوگی‘‘ اس نے ناگواری سے کہا ’’چل پیچھے آجا۔۔۔میں چلاتا ہوں۔ کئی بار کہا ہے نیند آئے تو بتا دیا کر شرمایا نہ کر۔۔۔چل پیچھے۔ اللہ کا شکر ہے بچت ہوگئی ورنہ تو نے تو مروانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔‘‘
’’سائیں رمضان! میں اللہ پاک کی قسم کھاتا ہوں میں جاگ رہا تھا۔ نیند آئے تومیں کبھی ڈرائیورنگ سیٹ پر نہیں بیٹھتا۔ وہاں سڑک کے درمیان ایک جوان لڑکی کھڑی تھی۔ روشنی پڑی تو میں نے بریک لگائے۔ پر میرے خیال وہ۔۔۔وہ بس کے نیچے آگئی ہے۔‘‘ وہ بری طرح گھبرایا ہوا تھا۔
’’اللہ خیر ۔۔۔رمضان جلدی سے نیچے اتر گیا۔ اس کی دیکھا دیکھی کئی مسافر بھی اتر گئے۔ میں بھی نیچے آگیا۔ رات کی تاریکی میں کچھ دیکھنا مشکل تھا۔ سڑک کی دونوں طرف شاید کھیت تھے کیونکہ دور دور تک کسی عمارت کا ہیولہ تک نظر نہ آرہا تھا۔
اچانک مجھے گلاب کی خوشبو محسوس ہوئی میرا وجود جیسے معطر ہوگیا۔’’شاید قریب ہی گلاب کے پودوں کا فارم ہوگا۔‘‘ میرے دل میں خیال آیا۔
رمضان بس سے ٹارچ نکال لایا تھا اور اس کی روشنی سڑک پر ڈال رہا تھا۔ وہ تھوڑی دور چل کر گیا پھر واپس آگیا۔’’چلو۔۔۔چلو بیٹھوکچھ بھی نہیں ہوا‘‘ اس نے مسافروں سے کہا اورسب پر چڑھ گیا۔ جن میں سے کئی موقع سے فائدہ اٹھا کر رفع حاجت کے لیے سڑک کے کنارے بیٹھ گئے تھے۔ خیر ان کے آنے پر رمضان نے ’’چلو استاد‘‘ کا نعرہ لگایا، ڈرائیور نے بس سٹارٹ کی تو گھر رررگھرررکی آواز آئی لیکن انجن سٹارٹ نہ ہوا۔ کئی بار کوشش کرنے پر بھی نتیجہ وہی رہا۔ ’’ستیاناس۔۔۔‘‘ رمضان بڑبڑایا اور نچیے اتر کر اس نے بونٹ اٹھا دیا کافی دیر ٹارچ کی روشنی میں جائزہ لیتا رہا کچھ پرزوں کو اس نے ٹھوک بجا کر دیکھا۔’’چل استاد! سلف مار‘‘ اس کی چیختی آواز باہر سے سنائی دی۔ لیکن ہر کوشش بے سود ثابت ہوئی۔‘‘
نیچے آکر خود ہی دیکھ اس مصیبت کو‘‘ اس نے ڈرائیور کی کھڑکی کے پاس آکر کہا۔ دسمبر کا مہینہ تھا یخ بستہ موسم میں ا س بے چارے کی قلفی جم گئی تھی۔
’’نن۔۔۔نہیں میں نیچے نہیں اتروں گا۔ میں سچ کہہ رہا ہوں۔ سڑک کے درمیان ایک نوجوان لڑکی کھڑی تھی۔ بریگ لگانے کے باوجود بس اس کے اوپر سے گزر گئی۔‘‘ اس کی گھبراہٹ کسی طور کم ہونے میں نہیں آرہی تھی۔ اس بار رمضان بھی پریشان ہوگیا۔ اس نے ٹارچ کی روشنی میں بس کے آگے والے حصے کوغور سے دیکھا، جھک کر بمپر کو دیکھنے کے بعد اس کا منہ بن گیا۔‘‘تو پاگل تو نہیں ہوگیا استاد! اگرکوئی لڑکی بس سے ٹکرائی ہوتی تو اس کا خون بس کے باڈی پر ضرور لگتا سمجھ میں آئی بات۔۔۔چل نیچے اتر کر انجن دیکھ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔‘‘ اسنے ڈرائیور کو برا بھلا کہتے ہوئے نیچے آنے کو کہا۔ مسافروں کے اصرار پر وہ کپکپاتا ہوا نیچے اتر تو گیا لیکن خوفزدہ نظروں سے دائیں بائیں دیکھا رہا تھا جیسے اس لڑکی کی روح اسے بھی کھا جائے گی۔ مالک کے ڈانٹنے پر وہ چلا تو گیا تھا پر خوف کی اس حالت میں اگر وہ کچھ کرنا بھی چاہتا تو ممکن نہ تھا۔
رمضان نے اس کی سیٹ سنبھال کر انجن سٹارٹ کرنے کی کوشش کی لیکن لا حاصل۔ مسافر بھی پریشان ہوگئے۔ آدھی رات کا وقت ۔۔۔ویران سڑک۔۔۔کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ خاص کر وہ مسافرجن کے ساتھ خواتین تھیں بری طرح ڈرے ہوئے تھے۔
اچانک بجلی زور سے چمکی اورایک لمحے کے لیے آنکھوں کو خیرہ کر گئی۔ اس کے ساتھ ہی موسلا دھار بارش شروع ہوگئی۔’’مصیبت پر مصیبت‘‘ رمضان بڑبڑایا۔ ڈرائیور جلدی سے بھاگتا ہوا اندر آیا اور ڈرائیونگ سیٹ کے پاس سٹول نما سیٹ پر بیٹھ گیا۔ کھڑکیاں دروازے بند ہونے کے باوجود یخ بستہ ہوا نے کپکپا کر رکھ دیا۔ بس خاص نئی اور آرام دہ تھی انجن کی خرابی سمجھ سے باہر تھی۔ شاید ڈیڈ بریک لگانے کی وجہ سے کوئی تار وغیرہ اکھڑ گئی تھی۔ میں نے جب سے سگریٹ نکال کر سلگایا جس سے سردی کا احساس کچھ کم ہوگیا۔ بجلی کی کڑک سے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہورہے تھے۔
’’وہ دیکھو۔۔۔سامنے‘‘ اچانک ڈرائیور زور سے چلایا۔ سب چونک گئے۔ وہ انگلی سے سامنے سڑک کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔
’’کیا ہے سامنے۔۔۔کیا پاگل ہوگیا ہے؟‘‘ رمضان جو پہلے ہی جھنجھلایا ہواتھا ڈرائیور پر برس پڑا۔
’’میں سچ کہہ رہاہوں بجلی چمکی تو میں نے خود دیکھا سامنے وہی لڑکی کھڑی تھی،‘‘ وہ خوفزدہ ہو کر سیٹ سے اٹھ کر پیچھے آنے لگا۔
’’یہ نشہ تونہیں کرتا ۔۔۔؟‘‘ ایک مسافرنے ناگوار لہجے میں پوچھا۔
’’نہیں بھائی! نشہ تو دور کی بات یہ تو سگریٹ اور چائے بھی نہیں پیتا۔ پانچ وقت مسجد میں نماز پڑھتا ہے۔‘‘ رمضان کہنے گا۔ ڈرائیور کو نہ جانے کیا دکھائی دیتا تھا کہ وہ بری طرح خوفزدہ ہو چکا تھا۔ جبکہ اصل خطرہ یہ تھا کہ سامنے یا پیچھے سے آنے والی کوئی اور گاڑی اندھیرے کی وجہ سے ہماری بس سے ٹکرا نہ جائے۔ میں نے اسکا اظہار رمضان سے کیا تو وہ ٹارچ جلا کر بس کی پچھلی سیٹ پر اس طرح رکھ آیا کہ اس کا رخ باہر کی طرف تھا۔ پیچھے کا مسئلہ تو حل ہوگیا پر سامنے سے ٹکرانے کا خدشہ ابھی بھی موجود تھا
ایک مسافر کے بیگ میں ٹارچ تھی وہ آگے کی جانب لگا دی گئی۔ بارش کا زور ٹوٹنے کے بجائے بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ بجلی چمکتی تو ایک لمحے کے لیے ہر طرف خیرہ کن روشنی چھا جاتی پھر گھور اندھیرا۔ بارش نے طوفان کی شکل اختیار کر لی تھی۔
’’شام تک تو ایک بادل بھی نہ تھا۔۔۔اب بارش ہے جیسے آج ہی برسنا ہے اسے ‘‘ ایک مسافر کی بڑبڑاہٹ سنائی دی۔
’’اللہ کے کاموں میں کسے دخل ہے بھائی!۔۔۔بس دعاکرو‘‘ ایک بزرگ نے کہا ۔ پھر جس طرح اچانک بارش شروع ہوئی تھی اسی طرح ختم ہوگئی۔ رمضان جو ڈرائیورنگ سیٹ پربیٹھا ہوا تھا اس نے غیر ارادی طورپر سیلف میں چابی گھمائی تو انجن سٹارٹ ہوگیا۔ اسنے دو تین بار زور زور سے ریس دی جیسے انجن کبھی خراب ہوا ہی نہ ہو۔ سب نے شکر ادا کیا اس طرح تقریبا ایک گھنٹے بعد سفر دوبارہ شروع ہوا۔ اب رمضان خود بس چلا رہا تھا۔ اس نے سپیڈ بڑھا دی تھی اس لیے بیس پچیس منٹ کی تاخیر سے بہرحال ہم ملتان پہنچ گئے۔
میں نے رکشہ پکڑی اور مطلوبہ پتے پر جا پہنچا۔ اللہ ناز ڈاھا بڑے تپاک سے ملا۔ پیٹ بھر کے ناشتہ کرنے کے بعد اسے سے معاملات طے پا گئے۔ وہ ہمارے بینک کی تحصیل برانچ میں اکاؤنٹ کھولنے پر آمادہ ہوگیا۔ گیارہ بجے کے قریب میں نے واپسی کی راہ لی۔ اس نے بہت کہا زیادہ تو نہیں تو ایک دودن ہی اسے میزبانی کا موقع دوں پر میں اس کا شکریہ ادا کرکے نکل آیا۔ دوسرے روز ہیڈ آفس رپورٹ کی تو چیئرمین بہت خوش ہوئے۔ ٹی اے ، ڈی اے کے علاوہ انہوں نے بھاری بونس بھی دیا۔ میرے کولیگز کا خیال تھا میرا پروموشن پکاہ ے۔ مذکورہ زمیندار کے اکاؤنٹ کھولنے سے بینک کو کافی فائدہ تھا۔ دوسرے دن چیئرمین نے مجھے آفس میں بلایا۔ میں خوش خوش گیا کہ ابھی پروموشن لیٹر لے کر آتا ہوں لیکن۔۔۔ہوا اسکے بالکل برعکس۔۔۔مجھے ٹرانفسرلیٹر ملا۔ چیئرمین کا خیال تھا میری صلاحیتوں کی وجہ سے جسطرح یہ اکھڑ شخص راغب ہوا۔ اسی طرح دیگر زمینداروں کو بھی میں اپنے بینک میں اکاؤنٹ کھولنے پرآمادہ کر سکتا ہوں۔ جائننگ کے لیے مجھے دو دن دیئے گئے ۔
اپنی داستان بیان کرنے سے پہلے میں آپ سے متعارف ہوجاؤں۔ میرا نام فاروق احمد خان ہے۔ ایک خوش حال اور خوش قسمت انسان ہوں۔ خوبصورت اور خوب سیرت بیوی صائمہ۔۔۔دو پیارے پیارے بچے سات سالہ احد اور پانچ سالہ مومنہ۔ اچھی ملازمت، شفیق ماں، محبت کرنے والی بہنیں اور بھائی۔ مجھے وہ سب کچھ میسر تھا جس کی ہر کسی کو خواہش ہوتی ہے۔ جب میں نے پروموشن اور ٹرانفسر کی خبر گھر آکر سنائی تو صائمہ جہاں میری پروموشن سے خوش ہوئی وہیں اس بات نے اسے افسردہ کر دیا کہ سب کو چھوڑ کر جانا پڑے گا۔ بڑے بھائی نے کہا ۔
’’اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔۔۔؟ سرکاری ملازمت ہے کچھ عرصہ بعد پھر واپس ٹرانسفر ہو جائے گی۔‘‘ دو دن بعد میں جائننگ کے لیے روانہ ہوا۔ لاہور سے مذکورہ شہر چار پانچ گھنٹے کی مسافت پر تھا اس لیے میں فجر کی نماز کے بعد روانہ ہوا۔ یوں بھی رات کے سابقہ سفری تجربے نے مجھے محتاط کر دیا تھا ۔ تقریبا گیارہ بجے وہاں پہنچ گیا۔ چھوٹا سا شہر تھا تانگے والے نے لگ بھگ بیس منٹ مجھے لاری اڈہ سے بینک کے سامنے پہنچا دیا۔ سٹاف نے نہایت تپاک سے میرا استقبال کیا۔ سابق منیجر بزرگ آدمی تھے اور اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہو رہے تھے۔ باقی عملہ بھی اچھے لوگوں پر مشتمل تھا۔ خاص کر کیشیئر عمران محمود تو مجھے بہت اچھا لگا۔ وہ عمر میں مجھ سے دو تین سال چھوٹا ہوگا ہنس مکھ اور ملنسار انسان تھا۔ ہم تھوری ہی دیر میں بے تکلف ہوگئے۔ دفتر میں میرا پہلا دن بہت اچھا گزرا۔ چھٹی کے بعد عمران اصرار کرکے اپنے گھر لے گیا۔ اس کی بیوی نازش تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے مزاج کی مالک تھی۔ عمران کے تین بچے تھے تینوں بیٹے۔ اس نے شاید دفتر سے نازش کو فون کر دیا تھا اس لیے دستر خوان پر کئی قسم کے کھانے موجود تھے۔ کھانا واقعی لذیذ تھا اس پر میاں بیوی کے خلوص نے اس کی لذت کو دوبالا کر دیا۔ کھانے کے دوران نازش مجھ سے میرے گھر والوں کے متعلق پوچھتی رہی۔ صائمہ اور بچوں کے آنے کا سن کر بہت خوش ہوئیں۔ کھانے اور چائے کے بعد اصل مقصد کی طرف آیا۔
’عمران! مجھے کرائے پر ایک اچھا سا مکان چاہئے۔‘‘
’’خان بھائی! کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔کل ہی مکان کی تلاش شروع کر دیتے ہیں‘‘ پھر کچھ سوچ کر کہنے لگا’’خان بھائی! یہاں سے تھوڑی دور پروفیسر صاحب کا شاندار بنگلہ خالی تو ہے لیکن۔۔۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔
’’لیکن کیا۔۔۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں۔۔۔‘‘ اس نے ایک نظر نازش اور بچوں کو دیکھا پھر کہنے لگا’’اچھا کل جا کر دیکھ لیتے ہیں اگر آپ کو پسند آئے تو ان سے بات کر لیں گے۔‘‘
’’کل کیوں۔۔۔؟ آج ہی چلتے ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ٹھیک ہے خان بھائی!‘‘ وہ فوراً تیار ہوگیا۔
باہر آکر میں نے پوچھا’’تم کچھ کہتے کہتے رک گئے تھے کیا بات ہے؟‘‘
’’آئیے تھوڑی دیر پارک میں بیٹھتے ہیں میں آپ کو ساری بات بتا دیتا ہوں پھر جو آپ کا فیصلہ ہو۔‘‘ اس نے سامنے بنے پارک کی طرف اشارہ کیا۔ مجھے اس کے پراسرار انداز پر حیرت تو ہوئی لیکن اس کے ساتھ چل پڑا۔ شام کا وقت تھا پارک میں اکا دکا لوگ موجود تھے۔ ہم ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر سونے کے بعد کہنے لگا۔
’’خان بھائی! اس بنگلے کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آسیب زدہ ہے ۔۔۔وہاں جو بھی رہائش اختیار کرتا ہے اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی حادثہ ضرور پیش آتا ہے۔‘‘
’’عمران! تم بھی کیسی بچوں جیسی باتیں کر رہے ہو۔ آجکل کے ترقی یافتہ دور میں ان باتوں پر کون یقین کرتا ہے؟‘‘ میں نے کہا۔
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں پر جو کچھ وہاں ظہور پذیر ہوا ہے اسے دیکھتے ہوئے تو۔۔۔‘‘ وہ اپنی بات مکمل نہ کر پایا تھا کہ میں نے ٹوک دیا۔
’’کیا ہوا تھا وہاں؟‘‘ میں نے دلچسپی سے پوچھا۔
وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعدکہنے لگا۔
’’خان بھائی! زیادہ تو مجھے معلوم نہیں ہاں جو کچھ لوگوں سے سنا ہے وہ آپ کو بتا دیتا ہوں۔ پروفیسر صاحب کا پورا نام مرزا عظمت بیگ ہے لیکن پکارے وہ پروفیسر بیگ کے نام سے جاتے ہیں۔ ان کے دو ہی بچے تھے۔ مسعود اور نورین۔ مسعود، امریکہ تعلیم حاصل کرنے گیا پھر وہیں ملازمت اور شادی کرکے مستقل سیٹل ہوگیا۔ نورین۔۔۔سنا ہے نہایت حسین تھی۔ اس کی شادی اس کے خالہ زاد سرجن طاہر سے ہوئی جو خود بھی خوبرو جوان تھا۔ انہیں ’’چاند سورج کی جوڑی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ بنگلہ جو ہم دیکھنے جا رہے ہیں پروفیسر صاحب نے بڑے چاؤ سے تعمیر کروا کے نورین کو جہیز میں دیا تھا۔ ڈاکٹر طاہر کا خیال تھا کہ کہ اس بنگلے میں اپنا چھوٹا سا ہسپتال بنا لیں گے لیکن افسوس زندگی نے ان کو مہلت نہ دی اور دونوں میاں بیوی اس دنیا سے چلے گئے۔‘‘
’کیا ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا؟‘‘ میرے پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’نہیں خان بھائی! میں شروع سے سارا واقعہ آپ کو سناتا ہوں۔ نورین اور طاہر شادی کے چند دن بعد اسی بنگلے میں شفٹ ہوگئے۔ ضرورت کی کونسی شے تھی جو پوفیسر صاحب نے اپنی اکلوتی بیٹی کو نہ دی لیکن افسوس اسے استعمال کرنا اس کی قسمت میں نہ تھا۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد نورین کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ طاہر ایک قابل ڈاکٹر تھا۔ اس لیے پہلے تو خود علاج کرتا رہا لیکن نورین کی حالت دن بدن بگڑتی چلی گئی۔ بہت علاج کروایا گیا۔ قابل سے قابل ڈاکٹرز نے چیک کیا لیکن اس کا مرض کسی کی سمجھ میں نہ آسکا۔ تھوڑے عرصہ بعد نورین سوکھ کر کانٹا ہوگئی۔ وہ ہر وقت بہکی بہکی باتیں کرتی۔ راتوں کو اٹھ زور زور سے چیختی۔
پروفیسر صاحب کے عزیز و اقارب نے ان کو مشورہ دیا۔ نورین کو کسی عامل یا پیر فقیر کو دکھائیں لیکن وہ ان باتوں کو خرافات سمجھتے تھے۔ نورین کی والدہ صابرہ بیگم نے جب بیٹی کی حالت دم بدم بگڑتے دیکھتی تو ایک مولوی صاحب کو بلوایا۔ جس نے نورین کو دیکھ کر کہا اس پرایک زبردست آسیب نے قبضہ جما رکھا ہے۔ لیکن یہ کام اس کے بس سے باہر ہے جو کسی عامل کو بلوا کر اس کا علاج کروائیں۔ اس کے بعد کئی عامل، پیر فقیر آئے لیکن کوئی دعا ، دعا کارگر نہ ہوئی۔ ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ تھک ہار کر انہو نے علاج کروانا چھوڑ دیا۔ کچھ دنوں بعد حیرت انگیز طور پر نورین کی حالت سنبھل گئی۔ سب نے سکھ کا سانس لیا۔ مسز بیگ نے بیٹی کی صحت یابی کی خوشی مکیں ایک چھوٹی سی پارٹی کا اہتمام کیا۔ جس میں ان کے قریبی عزیز مدعو تھے۔ رنگارنگ تقریب جاری تھی کہ یکایک موسم کے تیور بدلنا شروع ہوگئے۔ بارش اور آندھی کا طوفان اس طرح اچانک نازل ہوا کہ سب حیران رہ گئے۔ موسم کے باعث تقریب جلد ختم کر دی گئی۔ مہمان افراتفری میں رخصت ہوگئے۔ نورین نے اپنی والدہ سے کہا۔
’’امی جان! ہم بھی واپس گھر جا رہے ہیں۔‘‘
مسز بیگ نے بہت کہا ’’بیٹا! موسم خراب ہے صبح چلی جانا‘‘
وہ نہ مانی اور دونوں میاں بیوی واپس بنگلے پر آگئے۔ دوسرے دن مسز بیگ نے نورین کی خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا۔ گھنٹی بجتی رہی مگر کسی نے فون نہ اٹھایا۔ کئی مرتبہ فون کرنے پر یہی نتیجہ نکلا تو مسز بیگ کو فکر لاحق ہوئی۔
’’خدا خیر کرے نورین کے گھر سے کوئی فون اٹینڈ نہیں کر رہا میرے دل میں تو ہول اٹھ رہے ہیں چلیں ذرا ان کے گھر ہو آئیں‘‘ انہوں نے پروفیسر صاحب سے کہا۔
’’اللہ کی بندی! تم توخواہ مخواہ پریشان ہو جاتی ہو۔ رات دیر تک پارٹی میں جاگتے رہے ہیں اسی لیے سو رہے ہوں گے۔ اٹھیں گے تو خود ہی فون کر لیں گے۔‘‘ پروفیسر صاحب ہنس پڑے۔
لیکن ممتا کے ہاتھوں مجبور مسز بیگ بار بار فون کرتی رہیں۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے روتے ہوئے پروفیسر صاحب سے نورین کے گھر چلنے کے لیے اصرار کیا۔۔۔بیوی کی پریشانی دیکھتے ہوئے وہ اس بار انکار نہ کر سکے۔ نورین کے گھر جا کر انہوں نے گھنٹی بجائے بار بار بجانے پر بھی دروازہ نہ کھلا تو پروفیسر صاحب بھی پریشان ہوگئے۔ سامنے توقیر صاحب(جن سے پروفیسر بیگ نے یہ پلاٹ خریدا تھا) کا بنگلہ تھا۔ انہوں نے جا کر انکو بتایا نورین کی بیماری کے متعلق وہ بھی جانتے تھے اس لیے جلدی سے اپنے بیٹے ساجد کو لے کر فوراً ان کیساتھ چل پڑے۔ انہوں نے بھی تین چار گھنٹی بجائے لیکن نتیجہ صفر رہا۔
’’انکل! اگرآپ اجازت دیں تو میں دیوار پھلانگ کر اندر سے گیٹ کھول دیتا ہوں۔‘‘ ساجد نے کہا۔
’’بیٹا! جو مناسب سمجھو کرو میرا تو دماغ کام نہیں کر رہا۔‘‘
مسز بیگ چپکے چپکے رو رہی تھی۔ ساجد نے دیوار پھلانگ کر جلدی سے گیٹ کھول دیا۔ سب اندر داخل ہوئے سامنے برآمدے کی لائٹ جل رہی تھی۔ پروفیسر صاحب نے اندر داخل ہوتے ہی آواز دی کوئی جواب نہ اایا۔ وہ جلدی سے نورین کی خواب گاہ کے دروازے پر پہنچے دروازہ کھٹکھٹایا جواب نہ پا کر اسے کھولنے کی کوشش کی تو وہ اندر سے بند تھا۔ مسز بیگ کی سسکیاں تیز ہوگئیں
’ساجد! دروازہ توڑ دیتے ہیں‘‘ توقیر صاحب نے بیٹے سے کہا پھر دونوں نے کندھوں کی پے در پے ضربوں سے دروازہ توڑ دیا۔ پروفیسر صاحب اور ان کی بیگم جلدی سے اندر داخل ہوئے۔ توقیر صاحب اور ساجد نامحرم ہونے کی وجہ سے باہر ہی رک گئے۔ اگلے ہی لمحے مسز بیگ کی ہولناک چیخ سنائی دی اس کے بعد فوراً ہی کسی کے گرنے کا دھماکہ ہوا ۔دونوں باپ بیٹا جلدی سے اندر داخل ہوئے وہاں کا ہولناک منظردیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پروفیسر صاحب خوف اور صدمے سے گنگ کھڑے تھے۔ دل دہلا دینے والا منظر نظروں کے سامنے تھا۔ خوابگاہ کی دیواروں پر جگہ جگہ خون کے چھینٹے اور گوشت کے ننھے ننھے لوتھڑے چپکے ہوئے تھے۔ بیڈ کی چادر خون سے بھری ہوئی تھی اور سامنے ہی دو انسانی ڈھانچے پڑے تھے۔ یوں لگتا تھا کسی درندے نے دونوں کے جسموں کا سارا گوشت نوچ کر کھا لیا ہو۔ چہرے پر جگہ جگہ کسی جانورکے نوکیلے پنجوں کے نشانات تھے ۔ آنکھوں سے خون اور مواد بہہ کر چہرے پر جم چکا تھا۔ نورین کی لاش کوبلکہ ڈھانچہ کہنا ٹھیک ہوگا، طاہر کے ڈھانچے کے بالکل پاس پڑا تھا۔ اس کی آنکھیں اور زبان باہر نکلی ہوئی تھیں۔ جسم کی بیشتر ہڈیاں نظر آرہی تھیں۔ صرف دونوں کے چہرے سلامت تھے اسی وجہ سے ان کی شناخت ہوسکی۔ کوئی بھی زیادہ دیر تک اس منظر کو نہ دیکھ سکا بلکہ توقیر صاحب کو تو ابکائی آگئی وہ جلدی سے کمرے سے باہر بھاگے۔
مسز بیگ قالین پر بے ہوش پڑی تھیں۔ ساجد نے پروفیسر صاحب کے ساتھ مل کر مسز بیگ کو اٹھایا اور انہیں لے کر باہر آگئے۔ بعد میں پولیس آئی بہت تفتیش ہوئی لیکن اس بھیانک واردات کے بارے میں معلوم نہ ہو سکا کہ یہ سب کچھ کس نے اور کیوں کیا؟ پولیس رپورٹ کے مطابق گھر سے کوئی قیمتی چیز غائب نہ تھی۔ حتیٰ کہ نورین کے وہ زیورات بھی ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے ملے جو وہ گزشتہ رات پارٹی میں پہنے ہوئے تھی۔ اس کے علاوہ نورین اور طاہر کے جسموں کی جو حالت تھی۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا تھا جیسے یہ کسی غیر انسانی مخلوق کا کام ہے۔۔۔خان بھائی! یہ سب مجھے نورین کے ایک ہمسایہ لڑکے ماجد نے بتایا تھا وہ میرے پاس ٹیوشن پڑھنے کے لیے آتا تھا۔ پولیس نے بہت سر کھپایا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ان لوگوں کی کسی سے دشمنی نہ تھی۔ آخر تھک ہار کر پولیس نے کیس داخل دفتر کر دیا۔ اس سارے واقعے میں اہم بات یہ تھی کہ کمرہ ہر طرف سے بند تھا۔ پروفیسر صاحب کے سامنے ہی ساجد اور اس کے ابو نے دروازہ توڑا تھا۔ کھڑکیاں اندر سے بند تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے کہا یہ جنات کی کارستانی ہے‘‘ عمران نے تفصیل سے بتایا۔
’’تمہارا کیا خیال ہے یہ سب کس نے کیا ہوگا؟‘‘
’’خان بھائی! اس واقعہ سے کچھ عرصہ قبل یہ بات کافی مشہور ہوئی تھی کہ ایک ڈاکو پولیس مقابلے میں زخمی ہو کر کسی طرح چھپتا چھپاتا ڈاکٹر طاہر کے پاس آیا اور اس سے درخواست کی کہ اس کے جسم سے گولی نکال دے
طاہر نے آپریشن کرکے اس کے جسم سے گولی تو نکال دی لیکن اسے بے ہوشی کی حالت میں پولیس کے حوالے کر دیا۔ ہو سکتا ہے یہ سب کچھ اسی نے کیا ہو۔‘‘
’’تمہارا مطلب ہے ڈاکو ان کو مار کر ان کا گوشت نوچ کر کھا گیا؟‘‘
’’نہیں خان بھائی! میں یہ تو نہیں کہہ رہاجو کچھ لوگوں نے کہا اس پر یقین کرنے کو دل نہیں چاہتا۔‘‘
’’تم نے خود ہی تو بتایا ہے کہ جب پروفیسر صاحب نے نورین کے بیڈ روم کا دروازہ توڑا تو کھڑکیاں بدستور بند تھیں۔ پھر ڈاکو اپنا بدلہ کس طرح لے سکتا تھا؟‘‘ میں نے کہا۔
’’خان صاحب ! آج کل تو چور ڈاکو بھی جدید سائنس سے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس ڈاکو نے بھی کوئی ایسا ہی طریقہ اپنایا ہو۔‘‘ اس نے کہا بات کیا تھی ایک معمہ تھا لیکن میں نے مزید بحث نہ کی۔
’’اب آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ عمران نے میری طرف دیکھا۔
’’وہی جو پہلے تھا۔۔۔بنگلہ اگر اچھا اور رہائش کے قابل ہے تو ابھی چل کر پروفیسر صاحب سے بات کر لیتے ہیں۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
’’ٹھیک ہے خان بھائی! جیسے آپ کی مرضی! اس نے کندے اچکائے۔ ہم پروفیسر صاحب سے ملے۔
بنگل نے کندے اچکائے۔ ہم پروفیسر صاحب سے ملے۔ بنگلہ دیکھا اور کرایے پر حاصل کرلیا انہوں نے بھی دبے دبے الفاظ میں وہی باتیں کیں جو عمران مجھے پہلے ہی بتا چکا تھا پر میں نے ’’جاہل لوگوں کی خرافات‘‘ کہہ کر انہیں مطمئن کر دیا۔
بنگلہ واقعی بہت خوبصورت تھا صرف مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ویران لگ رہا تھا۔ سامنے گیراج، ایک سائیڈ پر لان جو کبھی واقعی خوبصورت اور ہربھرا رہا ہوگا اب اجڑا پڑا تھا۔ لان کے بعد برآمدہ تھا دائیں طرف ڈرائنگ روم، درمیان میں ٹی وی لاؤنج اس کے بعد دو بیڈ رومز۔ لاؤنج سے ہی سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں۔ اوپر والی منزل کا نقشہ بھی اسی جیسا تھا۔ گھر میں مکمل فرنیچر موجود تھا لیکن ہر چیز دھول میں اٹی پڑی تھی۔ دوسری طرف پھر ایک برآمدہ تھا اس کے بعد چھوٹا سا صحن، دائیں طرف کچن تھا۔
ایک ہفتے بعد ہم لوگ اس بنگلے میں شفٹ ہوچکے تھے۔ میں نے صائمہ کو بنگلے سے منسوب باتوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ بتایا کہ بلا وجہ پریشان ہوگی بلکہ سچ پوچھیں تو مجھے خود بھی اس بات پر زیادہ یقینی نہ آیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے اس کی صفائی ستھرائی کروا دی تھی لان سے جھاڑجھنکار ختم ہونے کے بعد وہ بھی اچھا لگ رہا تھا۔ ابھی دو چھٹیاں باقی تھیں اس لئے دوسرے دن صبح ناشتہ کرنے کے بعد ہم سارے گھر میں گھوم پھر اس کا جائزہ لے رہے تھے ۔ گھومتے پھرتے ہم بیڈ روم میں آگئے۔ یہ وہی بیڈ روم تھا جس میں وہ ہولناک واردات ہوئی تھی۔ اچانک مجھے عجیب سی بے چینی سی بے چینی نے گھیر لیا۔ شاید اس واقعہ کا اثر تھا جو عمران نے مجھے سنایا تھا۔ ان باتوں کا میرے دماغ نے کچھ زیادہ ہی اثر لے لیا تھا۔ حالانکہ میں ایک تعلیم یافتہ اور روشن خیال انسان ہوں۔ جنات کے وجود کو تسلیم تو کرتا ہوں کیونکہ ان کا ذکر ہمارے قرآن مجید میں موجود ہے۔ لیکن ایسی باتیں کہ جن فلاں پر عاشق ہوگیا۔ گھر پر قبضہ کر لیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ ان سب کو میں خرافات سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا تھا لیکن ۔۔۔یہ سب کچھ جب ہمارے ساتھ ہوا تو اس نے مجھے ہر بات ماننے پرمجبور کر دیا۔ خیر آگے چل کر آپ کو سب باتوں کا پتا چل جائے گا۔
جب ہم بیڈ روم میں داخل ہوئے تو صائمہ کی خوشی دیدنی تھی۔ بیڈ روم واقعی خوبصورت تھا بڑی بڑی فرنچ ونڈوز، بیش قیمت ایرانی قالین، قیمتی فانوس غرض یہ کہ کمرے کی ہر چیز بہت نفیس اور خوبصورت تھی۔ سارا فرنیچر نہایت قیمتی لکڑی سے بنا ہوا تھا۔ قالین اتنا دبیز اور نرم کہ پاؤں اس میں دھنس جاتے۔ اٹیچ باتھ، دراصل یہ دو کمرے تھے جن کے درمیان ایک دروازہ تھا ایک بڑا بیڈ روم اس کے ساتھ والا کمرہ ذرا چھوٹا لیکن وہ بھی خوبصورت فرنیچر سے مزین تھا۔
’اس میں ہم دونوں اور ساتھ والے بیڈ روم میں بچے سوئیں گے۔‘‘ صائمہ نے فوراً فیصلہ سنا دیا۔
اچانک مومنہ نے ایک طرف دیکھ کر رونا شروع کر دیا پھر دوڑتی ہوئی جلدی سے صائمہ کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔
’’ماما مجھے اٹھا لیں ‘‘ وہ بار بار کمرے کے ایک کونے کو دیکھتی اور رونے لگ جاتی۔ صائمہ اس کے اس طرح اچانک رونے سے پریشان ہوگئی۔
’’کیا بات ہے، کیوں رو رہی ہو؟‘‘ اس نے مومنہ کو اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
لیکن کچھ بتانے کے بجائے وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔ صائمہ نے اس کا سر اپنے کندھے سے لگا لیا۔ وہ ماں کے کندھے سے لگ کر سسکیاں لینے لگی۔ تھوڑی دیر بعد وہ چپ کر گئی تو صائمہ نے اسے نیچے اتار دیا وہ کھیلنے لگی۔ صائمہ اور میں سامان کی ترتیب کے بارے میں باتیں کرنے لگے اسے باغبانی کا بہت شوق تھا کہنے لگی۔
’’آپ مجھے کسی مالی کا انتظام کر دیں اور نرسری سے اچھے اچھے پودے لا دیں میں لان ٹھیک کروالوں‘‘ سارا دن ہم نے گھر کی سیٹنگ میں گزار دیا۔ نازش تھوڑی دیر بعد آگئی تھیں وہ بھی ہمارے ساتھ کام کرواتی رہیں ساتھ ساتھ اپنے مشوروں سے بھی نوازتی رہیں۔ دونوں کو کام کرتا چھوڑ کر میں مارکیٹ چلا گیا۔ میں چاہتا تھا مہینہ بھر کا راشن بے لے لوں اور کھانا بھی بازار سے لے آؤں۔ جب میں واپس آیا تو صائمہ سیٹنگ سے فارغ ہو چکی تھی۔
’’نازش بھابی تو گھر چلی گئی ہیں ان کے بچوں کا سکول سے آنے کا ٹائم ہوگیا تھا صائمہ نے میرے ہاتھ سے شاپر لیتے ہوئے بتایا۔ کھانے اور چائے کے بعد میں نے صائمہ سے کہا۔
’’میں بینک کا ایک چکر لگا آؤں۔‘‘
’’جلدی آجائیے گا‘‘ صائمہ نے کہا۔ میں سر ہلا کر باہر نکل آیا۔ موسم اچھا تھا اس لئے میں پیدل ہی چل پڑا ۔بینک وہاں سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔ عمران مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہنے لگا’’خان صاحب ابھی میں آپ ہی کو یاد کر رہا تھا۔‘‘
’’کیوں خیریت؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’آج رات کا کھانا آپ لوگ ہمارے ساتھ کھائیں۔‘‘
’’بھئی ابھی تو دوپہر کا کھانا کھا کر سیدھا یہیں آرہا ہوں۔‘‘ میں نے جواب دیا کافی دیر تک ہم بینک اور یہاں کے کسٹمرز کے بارے میں باتیں کرتے رہے وہ یہاں کے لوگوں کے رویے اور عادات کے بارے میں مجھے بتاتا رہا۔ اگلے دن میں نے باقاعدہ ڈیوٹی جوائن کر لی۔ وقت پُر سکوں انداز میں گزر رہا تھا کہ ایک دن حسب معمول بینک سے واپس آیا تو صائمہ ڈرائنگ روم میں بیٹھی کچھ پریشان اور الجھی الجھی دکھائی دی۔ میرے پوچھنے پر کہنے لگی۔
’’سمجھ میں نہیں آتا بچوں کو کیا ہوگیا ہے؟‘‘ میں نے اطمینان کی سانس لی۔
’’صائمہ بچے تو شرارتیں کرتے ہی رہتے ہیں تم خواہ مخواہ پریشان ہو جاتی ہو۔‘‘
’’فاروق! یہ بات نہیں ۔۔۔ان کی شرارتیں تو مجھے بوریت سے بچائے رکھتی ہیں‘‘
’’پھر کیا بات ہے؟‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’میں بھی کیسی عجیب عورت ہوں آپ تھکے ہوئے آئے ہیں اور میں نے چائے تک کا نہیں پوچھا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھنے لگی تو میں نے اسے بازو سے پکڑ کر دوبارہ صوفے پر بٹھاتے ہوئے کہا۔
’’نہیں پہلے مجھے بتاؤ کیا بات ہے؟‘‘
’’دو تین دن پہلے کی بات ہے دونوں بچے بیڈ روم میں کھیل رہے تھے میں کچن میں اپنا کام کر رہی تھی۔ اچانک مومنہ کے زور زور سے ہنسنے کی آواز آئی میں نے دونوں کے لیے دودھ بنایا اور انہں دینے کے لیے گئی تو مومنہ کہنے لگی۔
’’ماما! ابھی میں نے نہیں پینا میں آنٹی کے ساتھ کھیل رہی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کہ وہ کمرے میں ایک طرف دیکھنے لگی۔
’’آنٹی بال میری طرف پھینکیں‘‘ پھر حیرت سے کمرے میں چاروں طرف دیکھا’’آنٹی۔۔۔آپ کہاں چلی گئی ہیں؟‘‘
’’میں نے ادھر ادھر دیکھا کمرے میں بچوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔ مومنہ حیران سی متلاشی نظروں سے چاروں طرف دیکھ کر پکار رہی تھی۔
میں نے احد کی طرف دیکھتا تو وہ بیڈ پر بیٹھا کارٹون بنا رہا تھا۔
’’احد بیٹا! مومنہ کس آنٹی کی بات کر رہی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
اس نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا ’’پتہ نہیں ماما میں نے تو کسی آنٹی کو نہیں دیکھا‘‘ اور سر جھکا کر پھر اپنا کام کرنے لگا۔
خیر میں نے اس بات پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ آپ کو تو پتا ہے کہ مومنہ کتنی شرارتی ہے میں سمجھی دودھ نہ پینے کا بہانہ بنا رہی ہے۔ میں جیسے ہی کمرے سے باہر نکلی مومنہ کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔
’’آنٹی! آپ کہاں چلی گئی تھیں؟‘‘ میں فوراً واپس مڑی اور اندر جھانک کر دیکھا تو کمرے میں ان دونوں کے سوا کوئی نہ تھا۔ مومنہ پھر حیران سی چاروں طرف دیکھ کر پکار رہی تھی’’آنٹی۔۔۔آنٹی۔۔۔‘‘
مجھے خوف محسوس ہوا اور میں دونوں بچوں کو لے کر ڈرائنگ روم میں آگئی۔‘‘ وہ خاصی الجھی ہوئی اور پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے اسے تسلی دی کہ ایسی کوئی بات نہیں بچے عموماً ایسی شرارتیں کرتے رہتے ہیں۔
لیکن اسی رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے مجھے مزید الجھا دیا۔ میں اس دن بہت تھکا ہوا تھا اس لئے بے سدھ ہو کر سویا۔ا چانک کسی نے مجھے جھنجھوڑ کر جگا دیا۔ میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا دیکھا تو صائمہ میرے بیڈ کے پاس کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اشارے سے مجھے اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر وہ دبے پاؤں چلتی ہوئی دونوں کمروں کے درمیانی دروازے کے پاس کھڑی ہوگئی میں بھی اس کے پیچھے آگیا۔ اسنے مجھے اندر جھانکنے کا اشارہ کیا۔ میں نے احتیاط سے اندر جھانکا دونوں بچے بے خبر سو رہے تھے۔ میں نے سوالیہ نظروں سے صائمہ کی طرف دیکھا جس نے سختی سے میرا بازو پکڑا ہوا تھا پھر آہستہ سے پوچھا’’کیا بات ہے؟‘‘ اس نے بھی اندر جھانکا اور حیران ہوگی۔ پھر لپک کر اندر گئی اور جا کر سوئی ہوئی مومنہ کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا اور مجھے احد خان کو اٹھانے کا اشارہ کیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ ہم دونوں بچوں کو اٹھائے اپنے کمرے میں آگئے۔ اس نے مومنہ کو اپنے سینے سے چمٹا رکھا تھا۔ میں نے اس سے مومنہ کو لے کر آہستہ سے بیڈ پر لٹا دیا۔ احد کو میں پہلے ہی لٹا چکا تھا۔ پھر کولر سے پانی کا گلاس بھر کر صائمہ کو دیا جسے اس نے ایک سانس میں خالی کر دیا۔ وہ یوں ہانپ رہی تھی جیسے میلوں بھاگتی ہوئی آئی ہو۔ پانی پینے کے بعد اس کے حواس کچھ بحال ہوئے تو میں نے پوچھا۔
’’صائمہ کیا بات ہے کیا تھا کمرے میں؟‘‘
اس نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔
’’مومنہ کے ہنسنے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔ پہلے تو میں سمجھی وہ نیند میں ہنس رہی ہے ۔میں کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگی تھی کہ اچانک مومنہ کی آواز آئی۔
’’آنٹی پھر مجھے جھولا جھلائیں میں فوراً اٹھ کر گئی‘‘ یہ کہہ کر اس نے ا یک جھرجھری لی اور میرے بازو سے لگ گئی۔
’’ہاں۔۔۔ہاں پھر کیا ہوا؟‘‘ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے پوچھا۔’’کیا تھا بچوں کے کمرے میں؟‘‘اس نے ناقابل یقین سی بات بتائی۔
’’فاروق ! آپ یقین کریں بچوں کے بیڈ پر ایک نہایت حسین عورت بیٹھی مومنہ کو اپنے بازوؤں میں جھولا جھلا رہی تھی۔ جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوئی اس نے میری طرف دیکھا‘‘ اتنا کہہ کر صائمہ نے سوئی ہوئی مومنہ پر ہاتھ رکھ دیا’’فاروق آپ شاید میری بات کا یقین نہ کریں، اس عورت نے نظر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور مومنہ کو بیڈ پر لٹا کر اچانک میری آنکھوں کے سامنے غائب ہوگئی۔‘‘
میں نے اس کی بات غور سے سنی لیکن سچ پوچھیں تو اس وقت مجھے صائمہ کی بات پر بالکل یقین نہ آیا۔ میں نے محض اس کی تسلی کی خاطر کہا
’’تم بے فکر ہو کر سو جاؤ میں جاگ رہا ہوں۔‘‘ پھر اس کے اطمینان کے لیے سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ریوالور نکالا اور اسے گودمیں رکھتے ہوئے کہا’’اب اگر کوئی آیا تو بچ کر نہیں جا سکے گا۔‘‘ میری تسلی سے وہ جلد ہی دوبارہ نیند کی وادیوں میں کھو گئی۔
دو یا تین دن بعد کی بات ہے ابھی مجھے بینک پہنچے زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ صائمہ کا فون آگیا۔
’’فاروق آپ فوراً گھر آجائیں‘‘ اس کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔
ضرور پڑھیں:
’’خیریت تو ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’فاروق! میں کہہ رہی ہوں آپ جلدی سے گھر آجائیں۔‘‘
میں اسی وقت گھر پہنچا تو صائمہ دونوں بچوں کے ساتھ باہر لان میں کھڑی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ یقیناً وہ روتی رہی تھی۔ مومنہ کو اس نے اٹھایا ہوا تھا اور احد خان کے ساتھ لگا رکھا تھا۔ جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا وہ تیر کی طرح میری طرف آئی ’’اندر بیڈ روم میں جا کر دیکھیں۔‘‘
میں فوراً بیڈ روم کی طرف لپکا، اندر جا کر دیکھا تو کچھ بھی نہ تھا۔ صائمہ دونوں بچوں کو لیے بالکل میرے پیچھے کھڑی حیرت بھری نظروں سے اندر کی جانب دیکھ رہی تھی۔ میں جھنجھلا گیا۔
’’کیا بات ہے صائمہ! آخر تمہاری پریشانی کیا ہے؟‘‘
وہ رونے لگی مجھے اپنے لہجے کا احساس ہوا۔میں نے نرم لہجے میں دوبارہ اس سے پوچھا۔‘‘ کچھ بتاؤ تو سہی آخر بات کیا ہے؟‘‘ اس نے پھر ایک ایسی بات بتائی جس پر یقین کرنا مشکل تھا
’’فاروق! میں بچوں کے لیے دودھ بنا کر اندر آئی تو دیکھا دونوں بچے مٹھائی کھا رہے ہیں اور رات والی عورت ان کے پاس کھری ہے‘‘ پھر فریادی نظروں سے میری طرف دیکھ کر بولی’’فاروق! مجھے اس گھر سے کہیں دور لے جائیں ہم اس گھر میں نہیں رہیں گے پلیز آپ کوئی اور گھر تلاش کریں۔‘‘
میں نے اس وقت تو اسے کچھ نہیں کہا بلکہ تسلی دی۔
’’ٹھیک ہے کوئی اور گھر تلاش کرتے ہیں‘‘ لیکن مجھے صائمہ کی بات سے اتفاق نہیں تھا شاید بھرے گھر سے آنے کے بعد وہ تنہائی محسوس کرنے لگی تھی۔ میں نے بچوں سے پوچھا ان کا کہنا تھا ایک آنٹی ان کے ساتھ کھیلتی اور ان کوکھانے پینے کی اشیاء لا کر دیتی ہیں۔ خیر میں نے سوچا عمران سے کہہ کر کسی دوسرے گھر کا بندوبست کرتاہوں۔ رات کو صائمہ نے بچوں کو اپنے ساتھ سلایا اور میں دوسرے کمرے میں سو گیا۔ دوسرے دن ناشتے کے بعد میں نے کہا۔
’’میں بینک جاتے ہوئے تمہیں نازش کے گھر چھوڑ دوں گا۔ دفتر کے بعد میں اور عمران مکان تلاش کرتے ہیں انشاء اللہ ایک دو دن میں مکان مل جائے گا اور ہم لوگ شفٹ ہو جائیں گے۔ ‘‘ صائمہ کچھ شرمندہ سی تھی کہنے لگی۔
’’میری وجہ سے آپ بھی پریشان ہوگئے ہیں۔ پتانہیں یہ سب کیا ہے؟ کہیں میرا وہم ہی نہ ہو۔‘‘
’’کچھ بھی ہے اب ہم اس مکان میں نہیں رہیں گے خواہ مخواہ پریشانی پالنے سے کیا فائدہ؟‘‘ میں نے اس کی تسلی کی خاطر کہا۔
صائمہ نے مجھے خدا خافظ کہا اور بینک چلا گیا۔ مصروفیت کی وجہ سے مکان والی بات میرے ذہن سے نکل گئی۔ دوسری رات بھی میں ساتھ والے کمرے میں سو گیا رات نہ جانے کونسا پہر تھا اچانک میری آنکھ کھل گئی ۔یوں محسوس ہوا جیسے میرے ساتھ بیڈ پر کوئی اور بھی موجود ہے۔ کمرے میں زیرو پاور کا نیلگوں بلب جل رہا تھا۔ میں نے کروٹ بدل کر دیکھا تو صائمہ بیڈ کے دوسرے کنارے پر میری طرف پشت کیے بیٹھی تھی۔ سیاہ گھنے بال اس کی پشت پر پھیلے ہوئے تھے۔ اس نے مڑ کر میری طرف خمار آلود نظروں سے دیکھا۔ حسین آنکھوں میں پیار کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں تازہ گلاب تھا جس کی خوشبو سے کمرہ مہک رہا تھا۔ اس نے گلاب میری ناک سے لگا دیا۔ خوشبو سے میرا وجود معطرہوگیا۔ میں نے اسے ہاتھ سے پکڑ ا تو پکے ہوئے پھل کی طرح میری اوپر آن گری۔ یوں تو صائمہ کے انداز میں ہمیشہ خود سپردگی ہوا کرتی لیکن آج اس کی ہر ادا میں ایک خاص قسم کا والہانہ پن تھا۔ وہ جیسے میرے وجود میں چھا گئی۔ کمرہ اسکی معطر سانسوں سے مہک گیا۔ ہم ایک دوسرے میں کھو گئے۔
’’اٹھیں خان صاحب ! کیا بات ہے رات نیند نہیں آئی؟ آپ تو صبح سویرے جاگنے کے عادی ہیں آج کیا ہوگیا؟‘
نہیں آئی؟ آپ تو صبح سویرے جاگنے کے عادی ہیں آج کیا ہوگیا؟‘‘ صائمہ نے مجھے جھنجھوڑ کر جگایا۔
’’یہ خوب کہی تم نے۔۔۔رات کو سونے نہیں دیا۔ اب کہہ رہی ہو رات کو نیند نہیں آئی۔۔۔بڑی چالاک ہو۔‘‘ میری آنکھوں میں ابھی تک گزری رات کا خمار تھا۔
’’خواب پھر کسی وقت دیکھ لیجئے گا اب اٹھ جائیں نماز قضا ہو جائے گی۔‘‘ وہ میری طرف دیکھ کر ہنسی۔
’’کاش ایسے سپنے تو ہر روز آیا کروں ویسے رات جو محبت مجھے تم سے ملی ہے اس کے لیے شکریہ۔‘‘
’’ارے۔۔۔یہ گلاب کا پھول کہاں سے آیا؟‘‘ وہ چونک کر تکیے کی طرف دیکھنے لگی’’لان میں تو ابھی گلاب کے پودوں پر پھول لگے ہی نہیں۔‘‘
اب کی بار میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔’’تم رات کو خود ہی تو لائی تھیں۔‘‘
’’میں۔۔۔؟ میں کہاں سے گلاب لاتی بھلا؟‘‘ وہ حیرت سے گلاب کے پھول کو دیکھ رہی تھی۔ میں اس کی بات سن کر اٹھ بیٹھا۔
’’رات میں بھی حیران تھا کہ تم یہ تازہ پھول کہاں سے لائی ہو لیکن تم نے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا اور۔۔۔‘‘
’’خان صاحب! سنجیدہ ہو جائیں۔ میں یہ پھول نہیں لائی اور رات تو میں آپ کے کمرے میں آئی ہی نہیں بلکہ کچھ جلدی سو گئی تھی۔‘‘
’’صبح صبح اس طرح کا مذاق نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ میں ہنس پڑا۔
’’آپ کی قسم میں سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘
اس کے لہجے کی سنجیدگی سے میں حیران رہ گیا۔
مصنف ۔طارق خان
صائمہ کبھی بھی میری جھوٹی قسم نہیں کھا سکتی تھی۔
’’رات آپ نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا؟‘‘ اس نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
’’اگر میں نے خواب دیکھا ہے تو یہ گلاب کا تازہ پھول کہاں سے آیا؟‘‘
’’واقعی بات تو آپ کی صحیح ہے‘‘ ہم دونوں کچھ دیر بیٹھے یہی سوچتے رہے پھر اٹھ کر ہاتھ منہ دھو کر ناشتے کے ٹیبل پر پہنچ گیا۔ اس واقعے نے مجھے بری طرح الجھا دیا تھا۔ اگر وہ صائمہ نہیں تو پھر کون تھی؟ یہ سوال بار بار میرے ذہن میں ڈنک مار رہا تھا۔ میں اسے خواب ماننے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا۔ ایک تو خواب اتنا واضح نہیں ہوتا پھر وہ گلاب کا تازہ پھول؟ یوں تو صائمہ کے انداز میں ہمیشہ میرے لیے پیار ہوتا تھا لیکن گزشتہ رات اس کے انداز میں ایسی وارفتگی تھی جو پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ صائمہ کا اس بات سے سختی سے انکار کرنا کہ کل رات وہ میرے کمرے میں آئی ہی نہیں یہ سب کیا ہے؟ میں جتنا سوچتا اتنا ہی الجھتا گیا۔
’’صائمہ! تمہیں نیند میں چلنے کی بیماری تو نہیں؟‘‘ میں نے ناشتہ کرتے ہوئے پوچھا۔ اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔
’’ایسا کیوں کہہ رہے ہیں آپ؟‘‘
’’بعض اوقات انسان نیند میں وہ کام کر گزرتا ہے جس کا اسے جاگنے پر احساس بھی نہیں ہوتا۔‘‘ میں نے اسے سمجھایا۔
’’اگر آپ کی بات کو سچ بھی مان لیا جائے تو گلاب کا پھول کہاں سے آیا؟‘‘ اس کی دلیل کافی مضبوط تھی۔ میں نے کندھے اچکائے۔
’’ایسے سر کھپانے سے کوئی فائدہ نہیں پھر کسی وقت بات کریں گے۔‘‘
جب میں بینک کے لیے روانہ ہونے لگا تو صائمہ نے مجھے یاد دلایا۔
’آج ضرور آپ احد اور مومنہ کے ایڈمیشن کے لئے کسی اچھے سے سکول کے بارے میں معلوم کریں۔‘‘
’’ٹھیک ہے آج ضرور یہ کام کر لوں گا۔‘‘ صائمہ نے مجھے مسکراتے ہوئے رخصتکیا۔ اس دن میں بینک جا کر کچھ ایسا مصروف ہوا کہ سر کھجانے کی فرصت نہ ملی۔
’’خان صاحب! کیا سارے سال کا کام آج ہی ختم کرنا ہے؟‘‘ عمران نے اندر داخل ہو کر کلاک کی طرف اشارہ کیا۔ ’’دیکھیں کیا ٹائم ہوگیا ہے؟‘‘
میں نے دونوں ہاتھوں کو سر سے بلند کرکے انگڑائی لی اور دکھتے ہوئے سر کو کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔ سارا سٹاف جا چکا تھا
’’یار! آج تو وقت گزرنے کا احساس ہوا اور نہ لنچ کا ہوش رہا۔ لیکن اب اس وقت کیا کھائیں؟ گھر چل کر ہی رات کا کھانا کھا لیں گے۔ ایسا کرو اسلم (چپراسی) سے کہو جلدی سے دو کپ چائے بنا دے۔‘‘
’’میں نے چائے بھی بنو الی ہے اور ساتھ ہلکا پھلکا کھانے کا انتظام بھی کر لیا ہے۔‘‘اس نے ملازم کو آواز دی۔ ’’جلدی سے چائے لے آؤ۔‘‘ تھوڑی دیر بعد اسلم ٹرالی دھکیتا ہوا اندر آگیا۔
چائے کے ساتھ بسکٹ اور سموسے بھی تھے۔ چائے پی کر عمران نے پوچھا’’چلیں خان صاحب؟ دراصل آج ہوم گورنمنٹ(نازش) کا آرڈر تھا کہ میں ٹھیک پانچ بجے گھر آجاؤں اسے کسی سہیلی کے بیٹھنے کی سالگرہ میں جانا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے تم جاؤ تھوڑا سا کام باقی ہے سوچتا ہوں ختم کرکے ہی اٹھوں‘‘ میں نے سامنے پڑی فائلوں کی طرف دیکھا۔
’’اشرف(سکیورٹی گارڈ) بیٹھا ہے آپ کے جانے کے بعد لاک کر دے گا۔‘‘ اس نے جاتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے تم جاؤ۔‘‘ اس کے جانے کے بعد میں دوبارہ کام میں مصروف ہوگیا۔ اچانک مجھے احساس ہوا جیسے سامنے کوئی کھڑا ہے میں نے چونک کر دیکھا تو ششدر رہ گیا۔
میرے سامنے ایک ہٹا کٹا طویل القامت شخص کھڑا تھا۔ ا سکے جسم پر سوائے ایک دھوتی کے کچھ نہ تھا۔ گلے میں اس نے کئی قسم کی مالائیں پہنی ہوئی تھیں۔ ایک موٹی سی مالا اس کے ہاتھ میں بھی تھی۔ سر انڈے کے چھلکے کی طرح صاف اور درمیان میں ایک موٹی سی چوٹی جسے اس نے سینے پر ڈال رکھا تھا۔ وہ معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا رہا تھا۔ موٹے بھدے ہونٹ ہل رہے تھے اور انگلیاں مالا کے دانوں پر تیزی سے متحرک۔ ننگے جسم پر زرد رنگ ملا ہوا تھا۔ ماتھے پر تلک کا نشان اسے ہندو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ کب آیا مجھے مطلق خبر نہ ہوئی سب سے اہم بات یہ تھی کہ بینک ٹائم ختم ہونے کے بعد اسے اندرکیوں آنے دیا گیا؟ پہلا خیال جو میرے ذہن میں آیا کہیں بینک میں ڈاکو تو نہیں گھس آئے۔ لیکن اس کا حلیہ اس بات کی نفی کر رہا تھا۔ میں چونکہ اس علاقہ میں نیا تھا اس لئے مجھے معلوم نہ تھا یہان ہندو بھی رہتے ہیں۔ میں نے اس کی طرف سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’کون ہو تم ، اندر کیسے آئے؟‘‘وہ کچھ نہ بولا یک ٹک میری طرف دیکھتا رہا۔ اس کے ہونٹ مسلسل ہل رہے تھے بڑی بڑی آنکھوں میں میرے لئے بیک وقت غصہ، نفرت اور عقیدت نظر آرہی تھی۔ میں نے ڈپٹ کر کہا۔
’میں پوچھ رہا ہوں تم کون ہو اور اندر کیسے آئے؟‘‘ وہ اب بھی خاموش رہا۔ میرا پارہ ہائی ہونے لگا۔ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اشرف کو بلا کر اس سے پوچھوں کون ہے یہ شخص اور اسے اندرکیوں آنے دیا گیا؟ کہ اس گونج دار آواز کمرے میں ابھری۔
’’مہاشے! اس مورکھ کو کیوں کشٹ(تکلیف) دیتا ہے؟ اس کا کوئی دوش(غلطی ) نہیں۔ وہ مہاپجاریوں کے آگے روک نہیں بن سکتا۔‘‘
کمرے میں ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی جس کا منبہ شاید وہ سادھو نما شخص تھا۔
’’میں پوچھتا ہوں کون ہو تم اور اندر کیسے آئے؟‘‘ میں نے اپنا سوال دہرایا۔
’’مہاپرشوں سے اس طرح بات نہیں کرتے‘‘ اس کے کشادہ ماتھے پر بل پڑ گئے۔
’’بند کرو اپنی بکواس اور نکلو یہاں سے‘‘ اس مرتبہ میں نے غصے سے کہا’’تمہارے جیسے جعلی پیر فقیر اور سادھو۔۔۔لوگوں کو جھوٹی باتیں بتا کر ان پر رعب ڈالتے اور رقم بٹورتے ہیں‘‘ میں نے اسے بری طرح جھڑک دیا۔ اس کی آنکھوں میں یک دم قہر اتر آیا۔ اس بار وہ بولا تو اس کی آواز غصے اور نفرت سے پر تھی۔
’’یدی دیوی کا دھیان نہ ہوتا تو تم کھد دیکھ لیتے ہم کتنے شکتی مان ہیں؟ پرنتو ہم کسی کارن چپ ہیں۔۔۔مہان ہے دیوی‘‘ اس نے عقیدت سے آنکھیں بند کر لیں۔ میں نے غصے سے بیل بجائی لیکن یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بیل بجانے کے باوجود اس میں سے آواز نہ نکلی۔ میں نے دوبارہ بٹن پر ہاتھ رکھا لیکن وہی نتیجہ نکلا۔ بار بار بٹن پر ہاتھ مارنے کے باوجود جب کوئی آواز نہ آئی تو میں جھنجھلا گیا۔ وہ مضحکہ خیز نظروں سے میری ناکام کوششوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات نے مجھے سیخ پا کر دیا۔ ’’دفع ہو جاؤ یہاں سے نہیں تو ابھی پولیس کو بلواتاہوں۔‘‘
اس کی آنکھوں میں قہر اتر آیا’’مجھے یہاں تیری سہائتا کے کارن(مدد کے لئے) بھیجا گیا تھا پرنتو۔۔۔تو مورکھ ہے۔ تجھے تو اتنی جانکاری بھی نہیں کہ پنڈتوں اور بجاریوں سنگ کس طرح بات کرتے ہیں؟‘‘ غصے سے اس کے منہ سے جھاگ اڑنے لگا۔ اس کی آواز گونج دار اور کافی بلند تھی۔ میں حیران تھا کہ سکیورٹی گارڈ کہاں مر گیا؟ کیا اس نے آواز نہیں سنی ہوگی؟ جب کہ اس کو یہ حکم تھا اگر کوئی شخص ذرا سی بدتمیزی سے پیش آئے تو فوراً پولیس کو فون کرے۔ میں نے شیشے کی کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سامنے دروازے پر سکیورٹی گارڈ گن پکڑے بدستور بیٹھا۔ سادھو نے میری طرف دیکھا اس کے بھدے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔
’’تو واقعی مورکھ ہے اتنی سی بات تیری بدھی(عقل) میں نہیں آئی کہ وہ میری آواج نہیں سن سکتا۔ یدی ایسا ہوتا تو وہ اب تک اندر نہ آجاتا؟ میں حیران تھا کہ یہ سب کیا ہے؟ بالاخر میں نے کہا۔
’’بہتر ہے تم خود یہاں سے چلے جاؤ ورنہ مجھے کوئی دوسرا طریقہ اپنانان پڑے گا۔ تم جیسے بہروپیوں کو میں اچھی طرح جانتا ہوں؟‘‘
’’تو واقعی مورکھ ہے۔۔۔جانے دیوی کو تجھ میں کیا دکھائی دیا جو مجھ جیسے مہان پنڈت کو تیرے پاس بھیج دیا۔‘‘
اس نے اپنہ ہر زہ سرائی جاری رکھی۔’’دیوی کے بھید دیوی ہی جانے۔۔۔وہ مہان ہے‘‘ وہ دوبارہ اپنی کسی دیوی کی تعریف میں لگ گیا۔
’’تم کون ہو اورکیا چاہتے ہو تم؟ اس بار میں نے ذرا نرم لہجے میں پوچھا۔ کسئی سوال میرے ذہن میں کلبلا رہے تھے یہ شخص کون ہے؟ اندر کیسے آیا؟ اسے مجھ سے کیا کام ہے؟ دیوی کون ہے؟ میرے سوالوں کے جواب اگر دے سکتا تھا تو وہ یہی منحوس صورت سادھو تھا۔ اس لیے میں نے لہجہ بدلتے ہوئے پوچھا۔
’’اب تیری بدھی نے کام کرنا شروع کیا ہے۔‘‘ اس کی آنکھوں میں میرے لیے تمسخر تھا۔ مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن ضبط کیے بیٹھا رہا۔
’’سن مورکھ! بہت بری پرکشا(آزمائش) سے گزرنے والا ہے تو۔ تیری پتنی ہمرے کریہ میں روک بنے گی اور دیوی ایسا نہیں چاہتی۔ اس سمے تجھے کچھ بتانے آیا ہوں۔‘‘ اس کاایک لفظ میرے پلے نہ پڑا۔
’’مجھے توتمہاری ایک بات بھی سمجھ نہیں آرہی۔ دیوی۔۔۔پرکشا۔۔۔یہ سب کیا بکواس ہے؟ میں اس قسم کی باتوں میں آنے والا نہیں۔ جا کر کسی اور کو بیوقوف بناؤ۔‘‘ میں نے اسے جھڑک دیا۔ غصے سے اس کا چہرہ سیاہ پڑ گیا۔
’’دیوی کی سوگند، یدی اس کا دھیان نہ ہوتا تو میں تجھے ابی بتاتا کہ میں کون ہوں اور کیا کر سکتا ہوں؟ پرنتو۔۔۔‘‘ وہ غصے سے بل کھا کر رہ گیا۔
۔ اس کی آنکوں سے بیک وقت غصے اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات کا اظہار ہو رہا تھا۔
’’تم جاتے ہو یا میں پولیس کو بلاؤں؟‘‘ میں نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
’’تو بڑا بھاگی شالی ہے جو اتنی بڑی شکتی تجھے بیٹھے بٹھائے مل گئی جسے پراپت کرنے کے کارن کئی سادھو اور پنڈت پرلوک سدھار گئے۔ اس سمے دیوی نے ہی مجھے یہاں بھیجا ہے کہ تجھ جیسے مورکھ کو سمجھاؤں کہ جن کٹھنائیوں میں تو پڑنے والا ہے ان سے بچ جائے‘‘ وہ خلا میں گھورتے ہوئے بڑے پراسرار انداز سے بولا۔
’’تیری اس دیوی کو مجھ سے کیا ہمدردی ہے جومجھے بچانا چاہتی ہے اور تو مجھے کیا سمجھانے آیا ہے؟‘ میں اس کی فضول بکواس سے بیزار ہوگیا تھا۔
’’تو اپنی دھرم پتنی کو طلاق دے دے‘‘ وہ بولا۔
’’بکواس بند کر حرامزادے۔۔۔‘‘ میں نے غصے میں سامنے پڑی پتھر کی وزنی ایش ٹرے اٹھا کر اسے دے ماری۔ صائمہ کے بارے میں اس کی بات سن کر میں غصے سے پاگل ہوگیا۔ ایش ٹرے گولی کی طرح اس کے سر کی طرف گئی لیکن اگلہ لمحہ مجھے حیران کر گیا۔ ایش ٹرے اس کے سر سے ٹکرا کر یوں پاش پاش ہوگئی جیسے اس کا سر نہیں چٹان ہو۔ اس کی آنکھیں لال انگارہ ہوگئیں۔ ان میں بجلیاں سی کوندنے لگیں۔
’’تونے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے مہاراج امر کمار پر۔۔۔؟‘‘ وہ غصے سے کانپنے لگا۔ اسنے اپنا دایاں ہاتھ میری طرف اٹھایا اس کے ہونٹ تیزی سے ہلنے لگے۔ وہ کچھ پڑھ رہا تھا۔ اچانک اس نے چونک کر چھت کی طرف دیکھا کچھ دیر وہ اسی حالت میں کھڑا رہا پھر کسی نادیدہ وجود سے مخاطب ہوا۔
’’دیوی! مجھے مت روک۔۔۔تو جانتی ہے اس مسلے نے مجھ پر وار کیا ہے مہاراج امرکمار پر۔۔۔میں اسی سمے اسے بھسم کر دوں گا۔‘‘ کچھ دیر وہ تذبذب کی حالت میں کھڑا رہا۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولا۔
’’دھن ہوں دیوی کے جس نے اس سمے تجھے میرے شراپ سے بچا لیا۔ پرنتو جو حرکت تو نے کی ہے اس کا بدلہ تجھے اوش ملے گا۔ وہ سمے دور نہیں جب تو میرے چرنوں(قدموں) میں پڑا جیون بھکشا مانگ رہا ہوگا۔ میں تجھے ایسا شراپ دوں گا کہ تو جیون بھر یاد رکھے گا۔ یہ ایک مہمان سادھو کا تجھ سے وچن ہے‘‘ وہ غصے سے کانپ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا۔ وہ مڑا اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا باہر نکل گیا۔ میں فوراً اس کے پیچھے لپکا باہر کوئی بھی نہ تھا۔ ایک لمحے میں وہ غائب ہوگیا تھا۔ میں تیز قدموں سے چلتا ہوا مین دروازے تک گیا۔ اشرف مستعدی سے اپنی ڈیوٹی دے رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ کھڑا ہوگیا۔
’’کدھر گیا وہ خبیث؟‘‘ میں نے اس کے قریب جا کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے غصے سے پوچھا۔ بینک ایک بڑے ہال اورمیرے کیبن پر مشتمل تھا۔ ہال خالی پڑا تھا۔
’’کس کو ڈھونڈ رہے ہیں صاحب؟‘‘ اشرف نے حیرت سے مجھے دیکھا۔
’’تم کس طرح اپنی ڈیوٹی دیتے ہو؟ میری اجازت کے بغیر تم نے اس ہند وکو اندر کیسے آنے دیا؟‘‘ میں نے اس کی طرف گہری نظروں سے دیکھا۔
’’کون ہندو صاحب جی! کس کی بات کر رہے ہیں؟میں تو اس وقت سے یہیں بیٹھاہوں میں نے تو کسی کو نہیں دیکھا‘‘ وہ بری طرح بوکھلا گیا۔
’’جھوٹ مت بولو ابھی ایک ہندو اندر آیا تھا۔ کافی دیر وہ میرے کمرے میں کھڑا باتیں کرتا رہا اور تم کہہ رہے ہو کوئی نہیں آیا۔‘‘
وہ قسمیں کھانے لگا اس نے کسی کو نہیں دیکھا۔میں تھوڑی دیر وہیں کھڑا رہا پھر اسے سختی سے تاکید کی اگر دوبارہ ایسا ہوا تو میں اس کے خلاف شکایت لکھ بھیجوں گا۔ سارے واقعے پر مجھے سخت حیرت تھی ’’کہیں بیٹھے بیٹھے میری آنکھ تو نہیں لگ گئی میں نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا؟‘‘ میں بڑبڑایا لیکن کمرے میں ٹوٹی ہوئی ایش ٹرے کے ٹکڑے اس بات کی نفی کر رہے تھے۔ کافی دیر میں بیٹھا الجھتا رہا پھر سر جھٹک کر ان خیالات سے پیچھا چھڑایا اور بینک اپنی نگرانی میں بند کروا کر گھر آگیا۔ سارا راستہ میں سوچ میں گم رہا۔ سادھو کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آئی تھیں۔ وہ کس شکتی کی بات کررہا تھا۔۔۔؟ دیوی کون تھی۔۔۔؟ وہ صائمہ کو مجھ سے علیحدہ کیوں کرانا چاہتا تھا۔۔۔؟ ان سوالوں کے جواب کون دیتا؟ سوچ سوچ کر میرا سر دکھنے لگا۔ گھر میں داخل ہوا تو صائمہ نے حسب معمول مسکراتے ہوئے میرا استقبال کیا۔
’’آج اتنی دیر کہاں لگا دی؟ روزانہ تو آپ ساڑھے پانچ بجے تک آجاتے ہیں۔ میں نے کی بار بینک فون کیا لیکن گھنٹی بجتی رہی کسی نے فون ریسیو نہ کیا تو میں سمجھی آپ بینک سے نکل چکے ہیں۔ عمران بھائی کی طرف چلے گئے تھے کیا؟‘‘ صائمہ نے بریف کیس میرے ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا۔ میں زبردستی مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے بولا۔
’’سانس تولینے دو یک دم اتنے سوالات؟ میں تو کمرہ امتحان میں بھی کبھی اتنے سوالات کا جواب نہ دے سکا تھا۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے آپ لائق شاگرد نہیں ہیں؟‘‘ گلابی لب مسکرانے لگے۔
’’تم کھانا گرم کرو میں فریش ہو کر آتا ہوں۔‘‘ میں نے باتھ روم کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
بچے سو چکے تھے ہم نے کھانا کھایا کچھ دیر باتیں کیں کام کی زیادتی کی وجہ سے تھکن ہو جایا کرتی اس لیے میں جلد ہی سو گیا۔
دوسرے دن بینک پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد میں نے عمران کو اپنے کمرے میں بلایا اور کل جو کچھ یہاں ہوا تو بتایا۔ وہ منہ کھولے حیرت سے میری بات سنتارہا۔
’’حیران کن بلکہ ناقابل یقین بات ہے خان صاحب!‘‘ وہ میرے خاموش ہونے کے بعد بولا۔
’’اگر یہ سب کچھ میرے ساتھ نہ ہوا ہوتا تومیں بھی یہی کہتا
وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر باہر نکل گیا۔ اس کی واپسی میں زیادہ دیر نہ لگی۔
’’خان صاحب! میں نے اشرف سے پوچھا ہے وہ قسمیں کھاتاہے کہتا بے شک اس سے حلف لے لیں نہ اس نے کسی کو اندر آنے دیا ہے اور نہ کسی کو دیکھا ہے۔ خان صاحب! اسے اس بینک میں ملازمت کرتے ہوئے سات سال ہوگئے ہیں آج تک اس کی کوئی شکایت نہیں آئی۔ پانچ وقت کا نمازی اور اپنی ڈیوٹی کاپابند ہے
’’پھر وہ سب کیاتھا؟‘‘ میں بری طرح الجھ گیا۔
’’میں خود حیران ہوں اس بینک میں مجھے بارہ سال ہوگئے ہیں ملازمت کرتے ہوئے کبھی اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں ہوا نہ اس حلیے کا کوئی آدمی یہاں آیا۔‘‘
’’اچھا یہ بتاؤیہاں ہندو رہتے ہیں کہیں آس پاس؟‘‘
’’یہاں سے تقریباً سات آٹھ کھوس دور سپیروں کی ایک بستی ہے۔ وہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ تو بہت غریب اور بے چارے قسم کے لوگ ہیں گلیوں میں گھوم پھر کر سانپ کا تماشا دکھاتے اور بھیک مانگتے ہیں۔ ہاں چھوٹی موٹی چوریاں ضرور کرتے ہیں اگر داؤ لگ جائے اس کے علاوہ ان کے بارے میں کبھی اور کوئی بات نہں سنی۔‘‘ اس نے بتایا۔
’’اچھا چھوڑو اس بات کو جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا اگر وہ دوبارہ آیا تودیکھ لیں گے۔‘‘ ہم کچھ دیر بیٹھے باتیں کرتے رہے پھر وہ اپنی سیٹ پر چلاگیا میں بھی اپنے کام مصروف ہوگیا۔ فصل کی کٹائی ہو چکی تھی۔ ان دنوں میں بینک میں کام زیادہ ہوتا تھا۔ کام کرتے کرتے پانچ بج گئے۔ چھٹی کے وقت ہم باہر نکلنے لگے تو عمران کہنے گا۔
’’خان بھائی! میں نے ایک مکان آپ کی رہائش کے لیے دیکھا ہے زیادہ بڑا تو نہیں ہے دوکمرے، باتھ روم اورصحن ہے۔ زیادہ خوبصورت تو نہیں بس گزارہ ہے۔‘‘
’’رہنے دو عمران! اتنا خوبصورت بنگلہ چھوڑ کر صائمہ دو کمروں کے تنگ سے مکان میں کبھی نہ جائے گی۔ ویسے بھی اب وہ ایڈجسٹ ہو چکی ہے۔ اور اس کے بعد کوئی ’’ایسی بات‘‘ بھی نہیں ہوئی۔ دراصل مجھے تو پہلے ہی یقین نہ تھا۔ کہ اس گھر میں ایسا کوئی ’’فضول چکر‘‘ ہے لیکن صائمہ کی وجہ سے پریشان تھا۔‘‘ اس کے بعد بات خم ہوگئے۔ دوسرے دن جب میں بینک جانے لگا تو صائمہ نے مجھے یاد دلایا کہ مالی اور پودوں کا بندوبست کرنا ہے۔ شام کو جب ہم آنے لگے تو میں نے عرمان سے مالی اور پودوں کا ذکر کیا وہ کہنے گا۔
’’میرے ایک دوست ہیں رزاق صاحب۔۔۔انہوں نے بہت بڑی نرسری بنائی ہوئی ہے چل کر ان سے پودے بھی لے آتے ہیں وہیں سے مالی کا بندوبست بھی ہو جائے گا۔‘‘
دوپہر کو بارش ہونے کی وجہ سے موسم خوشگوار ہوگیا تھا اس لئے ہم پیدل ہی چل پڑے ۔میرا مقصد شہر کے راستوں سے واقفیت حاصل کرنا بھی تھا۔ ہم دونوں گپ شپ کرتے چلے جا رہے تھے کہ اچانک کسی نے پیچھے سے میری قمیض پکڑ لی۔ میں چونک کر مڑا۔۔۔وہ ایک میلا کچیلا ملنگ تھا۔ اسکے سر اور داڑھی کے بال بے تحاشا بڑھے ہوئے تھے اور وہ لال انگارہ آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس نے ہذیانی انداز سے قہقہہ لگایا۔
’’پکڑا گیا۔۔۔آخر کار پکڑا گیا۔ اس بار اس کا شکار تو ہے سن لیا۔۔۔اس بار اس کا شکار تو ہے ‘‘ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تاکہ اسکوکچھ دے سکوں لوگ ہماری طرفدیکھ کر ہنس رہے تھے۔
’’پاگل ہے بے چارہ‘‘ کسی نے کہا۔ وہ سب سے بے نیاز میری آنکھوں میں دیکھ رہاتھا جن میں عجیب سی کشش تھی۔ میں نے جیب سے دس کانوٹ نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اس نے نوٹ منہ میں ڈالا اور نگل گیا۔ پھر قہقہے لگانے لگا۔ عمران نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا:
’’بابا جی! اب ہمیں جانے دو۔‘‘ اس نے عمران کی بات پر ذرا دھیان نہ دیا۔
’’سادھو کیا کہاتا تھا؟ ‘‘ اسنے میرے کان کے پاس منہ لا کر سرگوشی کی۔ میں بری طرح چونک گیا۔
’’سب کتے اس کے پیچھے پڑے ہیں لیکن وہ تو تجھ پر عاشق ہوگئی ہے‘‘ وہ سیدھا میری آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔’’بیوی کے پلو سے بندھ جا۔۔۔سنا میں کیا کہہ رہا ہوں؟‘‘ اس نے سرگوشی کی۔
’’میں آپ کی بات سمجھا نہیں بابا جی! آپ کیا کہہ رہے؟میں واقعی کچھ نہ سمجھا تھا۔
’’احمق ہے تو۔۔۔کچھ نہیں سمجھ گا۔ آگ سے نہ کھیل۔ وہ تو آگ ہے آگ، جل جائے گا ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ، اس نے ایک وحشیانہ قہقہہ لگایا اور ایک طرف بھاگ کھڑاہوا۔ میں نے عمران کی طرف دیکھا وہ مسکرا کربولا۔
’’بے چارہ پاگل ہے۔‘‘ میں نے نفی میں سرہلایا۔
’’تم نے شاید اس کی بات غور سے نہیں سنی وہ کہہ رہا تھا سادھو کیا کہتا تھا؟‘‘
’’واقعی۔۔۔؟ میں نے نہیں سنا۔‘‘ عمران نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔
’’اس نے میرے کان میں سرگوشی کی تھی‘‘ میں نے کہا ہم دوبارہ چل پڑے۔ میں سارا راستہ یہی سوچتا رہا کہ ملنگ کی باتوں کا کیا مطلب تھا؟ کیا وہ سادھو کوجانتا ہے وہ کس کی بات کر رہا تھا کون آگ ہے؟ بیوی کے پلو سے بندھ جا۔ اسکا مطلب بھی میری سمجھ میں نہ آیا۔ بلکہ سچ پوچھیں تومیں اسکی کوئی بات نہ سمجھ سکا تھا۔ عجیب بے ربط باتیں کر رہا تھا۔ سادھو نے بھی کچھ بے معنی سی باتیں کی تھیں۔ نرسری سے پودوں اور مالی دونوں کا بندوبست ہوگیا تھا۔ واپسی پرمیری نظریں اسی ملنگ کو تلاش کرتی رہیں پر وہ نہ ملا۔ گھر پہنچ کر میں نے صائمہ کو بتایا کل مالی اور پودے پہنچ جائیں گے۔ وہ لان میں جا کر جگہ دیکھنے لگی جہاں کل اس نے مالی سے پودے لگوانے تھے۔ بچے اندر کمرے میں بیٹھے کھیل رہے تھے۔ میں بیڈ پر لیٹ گیا۔ میرے ذہن میں ابھی تک اس ملنگ کی باتیں گونج رہی تھیں۔
’’سادھو کیا کہتا تھا؟‘‘ اس کی سرگوشی جیسے اب بھی مجھے سنائی دے رہی تھی۔
’’کھانالاؤں خان صاحب؟‘‘ صائمہ نے اندر آکر پوچھا۔
’’ہاں لے آؤ۔‘‘ میں نے کہا۔ سب نے وہیں بیٹھ کرکھانا کھایا۔ شام ہونے کو تھی۔ سردی میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد بچے سو گئے۔
’’کیا بات ہے آپ کچھ پریشان ہیں جب سے باہر سے آئے ہیں میں دیکھ رہی ہوں آپ چپ چپ سے ہیں۔ خیریت تو ہے؟‘‘صائمہ نے میرے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں پریشانی کی توکوئی بات نہں بس کام کی زیادتی ہے۔ اس لئے اس کے بارے میں سوچ بچار کر رہا تھا‘‘ میں اسے سادھو اور ملنگ کی باتیں بتاکر پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا۔
’’میں سوچ رہی تھی کہ ہم سب کچھ دنوں کے لیے لاہور چلے چلیں آپ دو تین دن کی چھٹی لے لیں سچ۔۔۔میرا بڑا دل کر رہا ہے سب سے ملنے کو۔
’’مجھے تو شاید چھٹی نہ مل سکے اور اتنی جلدی چھٹی میں لینا بھی نہیں چاہتا۔ تم چلی جاؤ بچوں کو لے کر‘‘ میں نے کہا۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’کیوں؟‘‘ میں نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’کمال کرتے ہیں آپ بھی۔ کھانا کہاں سے کھائیں گے؟ اتنی دورجا کر کم سے کم ایک ہفتہ تو رہنا پڑے گا۔ اتنے دن آپ کی ضروریات کا خیال کون رکھے گا؟‘‘ وہ ایسی ہی تھی ہر دم میرا خیال رکھنے والی۔
’’اسی لیے توکہتاہوں دوسری شادی کرنے دو۔ ایک بیوی اگرکہیں جائے تو دوسری خیال رکھنے کو موجود ہو۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے اسے چھیڑا۔
’’ٹھیک ہے کر لیں دوسری شادی میں چلی جاتی ہوں۔ آپ جی بھر کر اس کے ساتھ رہ لیں۔ آپ کی حسرت پوری ہو جائے گی‘‘ اس نے غصے سے کہا اوراٹھ کر جانے لگی۔ میں نے اسے ہاتھ سے پکڑکر اپنی طرف کھینچا۔ وہ اپنے دھیان میں تھی جھٹکا کھا کر میرے اوپر آن گری۔ سیاہ گھنے ابال میرے چہرے پر پھیل گئے۔ میں نے ایک گہری سانس لی اسکے وجود کی خوشبو سے میں معطر ہوگیا۔ حسین آنکھیں پانیوں سے بھر گئی تھیں۔ اس قسم کامذاق میں بھی اس کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ میں نے اس کا حسین چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔
’’ارے۔۔۔ارے بیوقوف! میں مذاق کر رہا تھا۔ تم تو سیریس ہوگئیں۔‘‘ اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔
’’میں یہ بات مذاق میں بھی برداشت نہیں کر سکتی کہ آپ کسی دوسری عورت کی طرف متوجہ ہوں اس دن میں اپنی جان دے دوں گی۔‘‘
’’اچھا بابا سوری غلطی ہوگئی‘‘ میں نے دونوں ہاتھوں سے کان پکڑ لیے۔ میرے اس انداز پر ہنس پڑی۔
’’ٓآئندہ ایسا مذاق نہیں کرنا۔‘‘ وہ بولی ۔ میں نے اس کی ناک کو چٹکی میں پکڑ کر کہا۔
’’ٹھیک ہے ملکہ عالیہ ! غلام آئندہ اس بات کا دھیان رکھے گا؟‘‘ اس نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا۔ میرے مجبور کرنے پر وہ دوسرے دن بچوں کے ساتھ لاہور چلی گئی۔ انہیں کوچ میں بیٹھا کر میں بینک چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد محمد شریف اجازت لے کر اندر آگیا۔
وہ اسی بینک میں کلرک تھا۔ نہایت متقی اورپرہیز گار، اسم بامسمیٰ تھا۔ چہرے سے پاکیزگی جھلکتی تھی پابند شرع تھا۔ ہر وقت وہ ذکر الٰہی میں مصروف نظر آتا بینک کا سارا عملہ اس کی عزت کرتا تھا۔
’’اندر آسکتا ہوں جناب؟‘‘ وہ دروازے پر کھڑا پوچھ رہا تھا۔
’’آئیں شریف صاحب! آپ بلا اجازت اندر آجایا کریں پوچھا نہ کریں میں اس کے احترام میں کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کہیئے کیا بات ہے؟‘‘ اس نے ادب سے میرے ساتھ مصافحہ کیا اور کہنے گا۔
‘‘خان صاحب! پرسوں میرے بیٹے کا عقیقہ ہے میری خواہش ہے آپ اس میں شرکت کرکے مجھے عزت بخشیں۔‘‘
’’کیوں نہیں محمد شریف! یہ تو میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ آپ جیسا نیک انسان اپنی دعوت میں بلائےَ‘‘
’’جناب ! کیوں شرمندہ کرتے ہیں ۔ آپ بڑے افسر ہیں ہم تو آپ کے خادم ہیں۔‘‘ وہ سراپا انکسار بن گیا۔
’’ایسی بات نہیں۔۔۔بڑی تو صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے اس کے بندے تو سب برابر ہیں۔ یہ درجہ بندیاں بھی اسی کی بنائی ہوئی ہیں تاکہ دنیا کا نظام احسن طریقے سے چلتا رہے۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’بے شک بڑی ذات صرف اللہ کی ہے۔‘‘ وہ ایک جذب کے عالم میں بولا۔
’’تو پھر میں توقع رکھوں کہ آپ تشریف لا کر میری عزت افزائی کریں گے۔‘‘
’’کیوں نہیں شریف! میں بخوشی آؤں گا۔‘‘
’’شکریہ جناب! اسلام علیکم‘‘ اس نے جاتے جاتے سلام کیا۔ ساڑھے پانچ بجے میں بینک سے نکلا اور پیدل ہی گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ میں خراما خراماں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میری نظر اسی ملنگ پر پڑی جو کل ہمیں ملا تھا۔
میں جلدی سے اس کی طرف بڑھا اس کی رفتار خاصی تیز تھی۔ میں تقریباً دوڑ رہا تھا۔ اسنے اچناک پیچھے مڑ کر مجھے دیکھا اور م سکرا کر اپنی رفتار اور تیز کر لی۔ میں جتنا تیز چل سکتا تھا چل رہا تھا لیکن اس کے اور میرے درمیان فاصلہ برقرار رہا۔ بازار سے نکل کر میں نے دوڑنا شروع کر دیا۔ جلد ہی ہم شہر سے باہر آگئے۔ وہ کبھی کبھی مڑ کرمیری طرف دیکھتا مسکراتا پھر اپنی رفتار مزید تیز کر لیتا۔ مجھے اسکی تیز رفتاری پر حیرت ہو رہی تھی۔ اب کھیت شروع ہو چکے تھے۔ چلتے چلتے ہو ایک کھیت کے کنارے رک گیا۔ میں نے اپنی رفتار مزید تیز کر لی اچانک مجھے کسی چیز سے ٹھوکر لگی اور میں منہ کے بل گر پڑا۔ سخت چوٹ آئی گٹھنے بری طرح چھل گئے۔ پینٹ بھی اس جگہ سے پھٹ گئی۔ جلدی سے اٹھ کر ملنگ کی طرف دیکھا لیکن وہ غائب تھا۔ میں نے چاروں طرف نظر دوڑائی اسے تو جیسے زمین کھا گئی تھی۔ کھیتوں میں فصل بھی نہ تھی کہ میں سوچتا وہ فصلوں میں گھس گیا ہوگا۔ میں جلدی سے اس جگہ پہنچا جہاں وہ میرے گرنے سے قبل کھڑا تھا۔ لیکن اس کاکہیں نام و نشان نہ تھا۔ اچانک کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ میں بری طرح اچھل پڑا چونک کر دیکھا تو میرے پیچھے وہی سادھو کھڑا تھا۔ جو بینک کا وقت ختم ہونے کے بعد نہ جانے کس طرح اندر داخ ہونے اور کمرے سے نکلنے کے بعد غائب ہوگیا تھا۔۔۔اب وہ میرے سامنے کھڑا بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
’’کس کارن اتنا بیاکل ہو رہا ہے بالک۔۔۔کسے تلاش رہا ہے ۔۔۔؟‘‘ اس کی آنکھوں میں معنی خیز چمک تھی۔
ملنگ کے نظروں سے اوجھل ہونے سے میں پہلے جھنجھلایا ہوا تھا۔ اس پروہ منحوس سادھو پھر میرے سامنے آکھڑ اہوا۔
’’کسی کو نہیں‘‘میں نے رکھائی سے جواب دیا۔
’’اب تیرے کیا وچار ہیں؟ میں نے اس دن تجھ سے ایک پرشن (سوال) پوچھا تھا مجھے ابھی تک اس کا اتر (جواب) نہیں ملا، اس نے بڑے گھمبیر لہجے میں کہا۔
’’تم کون ہو؟ پہلے تو یہ بتاؤ پھر میں تمہارے سوال کا جواب دوں گا۔‘‘ میں نے کچھ سوچ کر نرم لہجے میں کہا۔ اس کے موٹے بھدے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی
’’دیوی مہان ہے‘‘ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے سے لگائے۔’’تیری بدھی(عقل) اب کام کرنے لگی ہے‘‘ وہ مضحکہ خیز لہجے میں بولا۔
غصہ تو مجھے بہت آیا لیکن میں اس کے بارے میں جاننا چاہتا تھا اس لئے ضبط کرکے اس کی بکواس سنتا رہا۔
’’جانتا ہوں اس سمے تیرے من میں کیا ہے؟ تو کس کھوج میں ہے؟ پرنتو میں تیرے پرشن کا اتر اوش دوں گا۔ میرا نام امر کمار ہے ،کالی ماتا کا سیوک ہوں۔ اس سمے دیوی کی آگیا سے تجھے یہ سمجھانے آیا ہوں کہ میری بات مان لے نہیں تو بڑی کٹھنائیوں میں پڑ جائیگا‘‘ وہ براہ راست میری آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔
’’میں نہیں جانتا جو تو کہہ رہا ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ لیکن میری سمجھ میں ایک بات نہیں آئی کہ تیری دیوی مجھ سے کیا چاہتی ہے؟‘‘ میں نے اس سے متاثر ہوئے بغیر مضبوط آواز میں کہا۔ شام کا اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا۔ ہم دونوں اسی کھیت کے کنارے کھڑے تھے جہاں وہ ملنگ غائب ہوا تھا۔
’’دیوی تیری سہائتا(مدد ) کرنا چاہتی ہے۔ یدی تو نے دیوی کی آگیا کا پالن(حکم کی تعمیل) نہ کیا تو بڑی کٹھنائیوں میں پڑ جائے گا۔‘‘ اس نے کسی استاد کی طرح مجھے سمجھایا۔
’’مجھے تو کوئی ڈھونگی یا بہروپیا لگتا ہے۔ تیری کسی بات کی سمجھ مجھے نہیں آتی۔ اگر تجھے رقم کی ضرورت ہے تو سیدھی طرح بتا میں تیری کچھ نہ کچھ مدد ضرور کروں گا۔‘‘ میری بات سن کر اس کا چہرہ غصے سے تپ گیا، لال انگارہ آنکھوں میں جیسے آگ کے آلاؤ روشن ہوگئے وہ غصے سے تھرتھر کانپنے لگا۔
’’مورکھ۔۔۔! تو نہیں جانتا تو اس سمے کس کے سمانے کھڑا ہے۔ تجھے ابھی میری شکتی کا گیان(علم) نہیں ہے۔ میں چاہوں تو ابھی تجھے بھسم کر سکتا ہوں۔ پرنتو دیوی کی اچھا(خواہش) کچھ اور ہے اور دیوی کی آگیا کا پالن کرنا ہر اچھے سیوک کا دھرم ہے۔ پرنتو تو نے میرا اپمان کیا ہے ایک مہان سادھو کا اپمان۔۔۔اس کا شراپ تو تجھ اوش ملے گا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں قہر اتر آیا۔
’’تو مجھے سزا دے گا؟‘‘ میں نے تمسخر سے کہا’’اگر تجھ میں ہمت ہے تو جو کرنا چاہتا ہے کر لے میں تیرے سامنے کھڑا ہوں۔‘‘ وہ خاموش کھڑا مجھے گھورتا رہا۔ میں نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا’’اتر تو دوبارہ میرے راستے میں آیا تو یاد رکھنا میں تجھے چھوڑوں گا نہیں‘‘ اس کے ہونٹ تیزی سے ہلنے لگے۔ وہ آنکھیں بند کیے کچھ پڑھ رہا تھا۔
’’گھی۔۔۔گھی۔۔۔گھی‘‘
اچانک مجھے اپنے پیچھے کسی کے ہنسنے کی آواز آئی۔ تیزی سے مڑ کر دیکھا تو وہی ملنگ کھیت کے کنارے بیٹھا مٹی کے ڈھیلوں سے بچوں کی طرح کھیل رہا تھا۔
’’بھاگ گیا۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔بھاگ گیا بزدل‘‘ وہ قہقہے لگانے لگا۔ میں نے فوراً مڑ کر دیکھا تو دور دور تک سادھو کا نام و نشان نہ تھا۔ میں حیران رہ گیا کیونکہ ہم چٹیل میدن جیسے کھیت کے پاس کھڑے تھے دور تک کوئی ایسی جگہ نہ تھی جہاں وہ چھپ سکتا۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھار کر چاروں طرف دیکھا لیکن سادھو ہوتا تو ملتا۔ میری حیرت بجا تھی اگر وہ بہت تیز دوڑتا تب بھی کم از کم پانچ منٹ سے پہلے کھیت پار نہ کر سکتا تھا جبکہ وہ تو ایک لمحے میں غائب ہوگیا تھا۔ سادھو کو غائب پا کر میں فوراً ملنگ کی طرف متوجہ ہوا وہ بھی اپنی جگہ سے غائب تھا۔
’’یا خدا یہ کیا ماجرا ہے۔۔۔یہ انسان ہیں یا جن؟ ایک پل میں غائب ہو جاتے ہیں‘‘ حیرت سے میری عقل گم ہوگئی۔ اندھیرا اتنا بھی نہ تھا کہ وہ مجھے دکھائی نہ دیتے۔ میں کافی دیر اسی جگہ پر کھڑا سوچتا رہا پھر بوجھل قدموں سے واپس گھر کی طرف چل پڑا۔ کچھ دنوں سے مجھے عجیب و غریب حالات پیش آرہے تھے۔ جن سے میں خوفزدہ تو نہ تھا ہاں الجھن ضرور محسوس کر رہا تھا۔ جب میں گھر میں داخل ہوا تو اندھیرا اپنے پر پھیلا چکا تھا۔ سارا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں نے گیراج کی لائٹ جلائی اور برآمدے میں آگیا۔ اچانک ایسی آواز آئی جیسے اندر کوئی چل رہا ہو پھر دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ برآمدے میں لوہے کی گرل لگی ہوئی تھی جس کے بند کر دینے سے سارا گھر محفوظ ہو جاتا تھا۔ ایسی ہی ایک گرل پچھلے برآمدے میں بھی تھی۔ یہ حفظ ماتقدم کے طور پر لگائی گئی تھی۔ میں نے گرل کا تالا کھولا اور اندر جا کر ٹی وی لاؤنج کی لائٹ بھی جلا دی۔ بریف کیس رکھ کر میں باتھ روم میں چلا گیا سردیاں گرمیاں مجھے ہر روز نہانے کی عادت ہے۔ جب میں ٹی وی لاؤنج میں آیا تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا۔ ٹی وہ آن تھا۔ ابھی میں کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ کہیں میں نے جاتے ہوئے خود ہی تو ٹی وی آن نہیں کر دیا تھا کہ بیڈ روم سے کسی کے چلنے پھرنے کی آواز آئی جلدی سے اندر کی طرف لپکا بیڈ روم کھول کر دیکھا تو ایک بار پھر عجیب سے بے چینی نے گھیر لیا۔ میں واپس ٹی وی لاؤنج میں آیا تو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔۔۔ ٹی وی بند تھا۔ میں نے اسے آن کیا کوئی ٹاک شو لگا ہوا تھا میرا دل ٹی وی دیکھنے میں نہ لگا اس لئے میں بیڈ روم میں آکر لیٹ گیا تھوڑی دیر بعد مجھے نیند آگئی۔ رات کو میں نے خواب دیکھا۔ صائمہ میرے کمرے میں آئی ہے اس نے بہت گہرا میک اپ کیا ہوا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں گلاب کا تازہ پھول ہے کمرہ گلاب کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ بیڈ پر گلاب کی پتیوں کی سیج سی بنی ہوئی ہے صائمہ پہلے سے زیادہ حیسن نظر آرہی ہے وہ رات بھی میرے ارمانوں کی ر ات ثابت ہوئی ہم دونوں دنیا جہاں سے بے خبر ایک دوسرے میں کھوئے رہے۔ صبح میری آنکھ ذرا دیر سے کھلی۔ میں نے کلاک پر نظر ڈالی سات بج رہے تھے۔ انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھا۔ اچانک میری نظر بیڈ پر پڑی تو میں اچھل کر بیڈ سے نیچے اتر آیا حیرت سے میری آنکھیں پھٹ گئیں۔َ سارا بیڈ گلاب کی پتوں سے یوں ڈھکا ہوا تھا جیسے شب عروسی کے لئے بیڈ پھولوں کی پتوں سے سجایا جاتا ہے۔ پتیاں مسلی ہوئی تھیں تکیے پر گلاب کا ایک پھول بھی رکھا ہوا تھا۔ رات کو خواب میں میں نے دیکھا تھا کہ صائمہ گلاب کا پھول لے کر کمرے میں آئی اور پھول مجھے دے دیا۔ جسے سونگھ کر میرے اندر جذبات کا طوفان امڈ آیا تھا۔ میں نے ایک جھٹکے میں صائمہ کو اپنے اوپر گرا لیا تھا۔ صائمہ کے انداز میں والہانہ پن اور وارفتگی تھی۔ میں حیرت بھری نظروں سے بیڈ کو دیکھ رہا تھا کمرہ گلاب کی خوشبو سے مہکا ہوا تھا۔
’’کیا وہ خواب نہیں تھا؟ لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ سر بری طرح چکرا رہا تھا۔ اگر وہ خواب تھا تو گلاب کی پتیاں اور پھول کہاں سے آئے؟ اگر حقیقت تھی تو یہ کیسے ممکن ہے؟ صائمہ کی غیر موجودگی بلکہ اس شہر میں غیر موجودگی کہنا مناسب ہوگا کے باوجود وہ رات کو میرے ساتھ۔۔۔؟ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہ سب کیا ہے؟ اس قسم کے حالات سے میرا سابقہ پہلے کبھی نہ پڑا تھا۔ کافی دیر میں اسی شش و پنج میں مبتلا رہا پھر سر جھٹک کر باتھ روممیں گھس گیا۔ نہا کر میں جلدی سے بینک روانہ ہوگیا۔ عمران چھٹی پر تھا ورنہ اس سے کہہ کر ہی دل کا بوجھ ہلکا کر لیتا کام کے دوران بھی میں رات والے قصے کے بارے میں سوچتا رہا بلکہ سوچتا کیا رہا خیالات خود بخود میرے ذہن میں آتے رہے۔ تقریبا بارہ بجے محمد شریف کا فون آگیا وہ مجھے شام کو اپنے ہاں آنے کے بارے میں یاد دہانی کروا رہا تھا۔ آج وہ چھٹی پر تھا۔ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں ضرور آؤں گا۔ اس کا گھر یہاں سے تقریبا بیس میل کے فاصلے پر تھا۔ پانچ بجے بینک سے نکلا اور ٹیکسی میں بیٹھ کر روانہ ہوگیا۔ جس نے مجھے آدھ گھنٹے میں شریف کے گھر پہنچا دیا۔ میں پہلی بار اس کے گھرجا رہا تھا لیکن ٹیکسی والا اسی گاؤں کا تھا وہ مجھے سیدھا شریف کے گھر لے گیا۔
جب میں گھر کے سامنے اُترا تو شریف سامنے آرہا تھا۔ بڑے تپاک سے ملا اور مجھے اندر لے گیا۔ لگ بھگ دو کنال کے رقبے پر بنا ہو ایہ گھر سادہ لیکن صاف ستھرا تھا۔ سامنے کی طرف ایک قطار میں کمرے ان کے آگے برآمدہ ، وسیع و عریض صحن اور ایک طرف جانوروں کا باڑہ بنا ہوا تھا۔ جس میں دو بھینسیں اور چند بکریاں بندھی ہوئی تھیں۔ شام ہونے کو تھی۔ صحن میں چار پائیاں بچھا کر بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ بیس پچیس افراد ان چارپائیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ جلدی سے بھاگ کر اندر سے میرے لئے کرسی لے آیا۔
مغرب کی نماز کے بعد کھانا کھایا گیا اس کے بعد وہ کہنے لگا۔ ’’سر! میرے والد محترم آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’ضرور۔۔۔ضرور کیوں نہیں کہاں ہے تمہارے والد صاحب۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
’’وہ معذور ہیں چل پھر نہیں سکتے اندر کمرے میں لیٹے رہتے ہیں۔ انہوں نے ہی مجھے آپ کو یہاں بلانے کے لیے کہا تھا وہ آپ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’ویری سیڈ۔۔۔‘‘ میں نے افسوس سے سر ہلایا۔
’’چلیں سر! اندر چلتے ہیں‘‘ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ مجھے لے کر سامنے بنے ہوئے کمروں کی طرف چل پڑا۔ برآمدہ پار کرکے ہم بائیں طرف بنے ایک کمرے کے سامنے پہنچ گئے۔ شریف نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔
’’محمد شریف آجاؤ دروازہ کھلا ہے‘‘ اندر سے ایک بھاری آواز آئی۔
’’سر! اگر برا نہ مانیں تو جوتی باہر ہی اتار دیں‘‘ اس نے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔ میں نے جوتا اتار دیا۔ شریف نے د روازہ کھولا اور مجھے اندر جانے کے لیے راستہ دیا۔ میں اندر داخل ہوا تو بڑی مسحور کن خوشبو نے میرا استقبال کیا۔ مدہم سبز روشنی کا بلب کمرے کے ماحول کو پاکیزہ بنا رہا تھا۔ شریف نے اندر آکر اپنے پیچھے دروازہ بند کر دیا اور ٹیوب لائٹ جلا دی۔ کمرے میں دودھیا روشنی پھیل گئی۔ ایک نورانی صورت بزرگ سامنے بچھے تخت پوش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک چارپائی فرش پر موٹا سا کپڑا نما قالین یہ تھا کمرے کا کل سامان البتہ دیوار گیر الماری میں کافی تعداد میں کتابیں موجود تھیں۔ ہلکا سا خوشبودار دھواں کمرے میں چکر ارہا تھا۔ جس کا مخرج ایک مٹی کا تھال نما برتن تھا۔
’’آؤ۔۔۔آؤ بیٹا! آگے آجاؤ۔‘‘ انہوں نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ میں نے ان کو سلام کیاا ور آگے بڑھ کر مصافحہ کیا۔ انہوں نے بڑی محبت سے میرے سلام کا جواب دیا۔ اور ہاتھ سے پکڑ کر مجھے اپنے پاس بٹھا لیا۔ مجھے اندر پہنچا کر شریف الٹے پاؤں کمرے سے واپس چلا گیا جاتے جاتے دروازہ بند کرنا نہیں بھولا تھا۔
’’فاروق بیٹا! میں نے تمہیں ایک خاص مقصد کے تحت بلایا ہے۔ جو کچھ میں تم سے کہنے جا رہا ہوں اسے غور سے سننا۔۔۔عمل کرنا نہ کرنا تمہارے اختیار میں ہے لیکن میں تمہیں نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے یہ صرف خدا تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہی ہے جو دلوں کے بھید اور آنے والے وقت کے بارے میں بخوبی جانتا ہے۔ بعض اوقات اپنی منشاء کے مطابق کچھ باتیں وہ مجھ مجھے کسی گناہ گار بندے کو بتا دیتا ہے اس میں بھی اس کی کوئی حکمت ہوتی ہے۔ جس قدر وہ چاہتا ہے اتنا ہی انسان کو معلوم ہو سکتا ہے۔ رات جو کچھ ہوا وہ ایک خواب نہیں تھا‘‘ میں حیرت سے منہ کھولے ان کی بات سن رہا تھا۔ حیران میں اس بات پر تھا کہ سوائے میرے رات والے واقعے کے بارے میں کسی کو پتا نہ تھا کہ کیا ہوا؟ جب کہ شریف کے والد صاحب مجھے اس طرح بتا رہے تھے جیسے وہ خود وہاں موجود رہے ہوں۔’’ یہ سب کیا ہے؟ ابھی میں اس بارے میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا۔ ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ آنے والے وقت میں تمہیں چند مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان مشکلات کو نہایت صبر و استقامت سے برداشت کرنا۔ تمہیں ایک پُر خار وادی سے گزرنا ہے۔ آنکھیں کھلی رکھنا اور نفس کو دنیا کی لذتوں سے بچانا۔ اس طرح تم ان مصائب اور تکالیف پر بہت جلد قابو پا لو گے۔ میرے بچے! دنیا صرف چند روز کھیل تماشہ ہے‘‘
میں سر جھکائے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھی۔’’کچھ عرصہ قبل بھی تم ایک ایسی رات گزار چکے ہو۔ تمہاری اہلیہ سچ کہتی ہے
اس رات وہ تمہارے کمرے میں نہیں آئی تھی‘‘ انہوں نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا۔
’’پھر۔۔۔پھر یہ سب کیا ہے بزرگوار؟ میں نے قطع کلامی کی۔ ’’میں تو خود حیران و پریشان ہوں۔ عقل کام نہیں کر رہی۔۔۔۔سوچ سوچ کر تھک گیا ہوں پر کوئی بات میری سمجھ میں نہیں آتی‘‘ میں نے کہا۔
’’میں تمہاری کیفیت سمجھ رہا ہوں میرے بچے! لیکن جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اسے سمجھو۔ یہ صحیح ہے کہ ابھی تمہیں سب کچھ نہیں بتایا جا سکتا لیکن میری چند ہدایات پرعمل کرکے تم ان مشکلات سے بہتر طورپر چھٹکارہ حاصل کر سکتے ہو‘‘ وہ خاموش ہوئے تو میں نے نہایت ادب سے کہا۔
’’بابا جی ! آپ بتائیں میں آپ کی باتوں پر عمل کروں گا کیونکہ میں خود اس معاملے میں سخت پریشان ہوں‘‘ وہ میری طرف دیکھ کر معنی خیز انداز میں مسکرائے۔
’’چند روز قبل جو ہندو سادھو تمہارے پاس بینک آیا تھا وہ بہت خبیث انسان ہے۔۔۔بہت ہی خطرناک‘‘۔
وہ روشن ضمیر تھے انہیں سب معلوم تھا۔
’’وہ سادھو کون ہے بابا جی!‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔
’’شیطان کا چیلہ ہے وہ خبیث۔۔۔بہت خطرناک آدمی ہے بلکہ اسے تو آدمی کہنا بھی آدمیت کی توہین ہے۔ بہت جلد ان ظالموں کی مہلت ختم ہونے والی ہے‘‘ ان کے نورانی چہرے پر جلال چھا گیا۔
’’وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتاہے؟ مجھے تو اس کی ایک بات بھی سمجھ نہیں آئی‘‘میں نے پوچھا۔
’’قبل از وقت ان باتوں کا جاننا تمہارے لئے نقصان دہ ہوگا۔ جیسا کہ میں کہہ رہا ہوں اگر مناسب سمجھو تو اس پر عمل کرنا ورنہ ہر انسان خود مختار ہے اپنی مرضی سے جو چاہے کرے۔ بہت کم لوگ جو نصیحت سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ جن مصائب کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں تمہارے ساتھ تمہاری بیوی بچے بھی شریک ہوں گے۔ یہ ممکن ہے کہ ان کو وہیں روک دیا جائے جہاں وہ موجود ہیں یا تمہیں بھی ان کے پاس بھیج دیاجائے لیکن اس طرح خدا کی مخلوق ، ان بدبختوں کے ہاتھوں برباد ہوتی رہے گی۔ تمہیں اس احسن کام کے لیے چُن لیا گیا ہے اگر تم نے صراط مستقیم کو نہ چھوڑا تو مخلوق کی بھلائی کا جو کام تم سے لیا جانے والا ہے وہ ایک سعادت ہے جس کے لیے اللہ کے بندے ترستے رہتے ہیں لیکن یہ تو نصیب کی باتہے جس کو یہ سعادت حاصل ہو جائے۔‘‘
’’میں آپ کی بات سمجھ نہیں سکا ہوں بابا جی! کس قسم کی سعادت اور مشکلات کا ذکر کر رہے ہیں آپ۔۔۔اگر مناسب سمجھیں تو وضاحت فرما دیں۔‘‘ خاموشی کے وقفے کے دوران میں نے پوچھا۔
’’وقت آنے پر سب کچھ سمجھ جاؤ گے۔۔۔انہوں نے خلا میں دیکھتے ہوئے کہا’’سنو۔۔۔نماز میں کوتاہی نہ کرنا اور سب سے اہم بات جو میں تمہیں بتانے لگاہوں وہ یہ ہے کہ نامحرم عورتوں سے دور رہنا۔ آزمائش کی گھڑی بہت کٹھن ہوتی ہے لیکن وہ بہت کم وقت کے لیے آتی ہے جو آزمائش کے ان لمحات کو صبر و استقامت سے گزار گیا۔ وہی مرد میدان بھی ہے اور اسی کو انعام بھی ملتا ہے۔ اگر میری ان دو باتوں پر تم نے عمل کیا تو شیطان اور اس کی اولاد تم سے شکست کھا جائیں گے۔ اگر تم بہک گئے تو پھر ۔۔۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئے کچھ دیر سر جھکائے بیٹھے رہے پھر جائے نماز کا ایک کونہ اٹھا کر اس کے نیچے سے ایک ایسی چیز نکالی جو میرے لئے عجیب تھی۔
یہ ایک پڑیا تھی ۔انہوں نے مجھے پکڑا دی۔
’’اس میں ایک تعویز ہے اسے اپنے گلے میں پہن لینا لیکن گھر میں گھسنے کے بعد۔۔۔جب تک میں نہ کہوں اسے خود سے الگ نہ کرنا ،چاہے تمہاری کوئی عزیز ترین اور قریبی ہستی ہی کیوں نہ کہے۔ اس سے زیادہ میں اس وقت تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا۔‘‘
’’بابا جی اتنا تو بتا دیں کہ رات کو جو خواب میں نے دیکھا ہے وہ سب کیا ہے اور گلاب کی پتیاں اور پھول کہاں سے آئے تھے؟‘‘
’’آئندہ ایسا نہ ہو سکے گا اس تعویز کی موجودگی میں تم محفوظ رہو گے۔‘‘
انہوں نے میری بات کے جواب میں کہا۔
’’لیکن۔۔۔‘‘ میں نے کہنا چاہا۔
’’وہ آئندہ ایسا نہ کر سکے گی۔‘‘ جیسے وہ خود سے ہم کلام تھے۔
’’وہ ۔۔۔کون بابا جی؟‘‘ میں نے الجھ کر پوچھا۔
’’آں۔۔۔کیا کہا تم نے؟‘‘
’’آپ ابھی فرما رہے تھے وہ آئندہ ایسا نہیں کر سکے گی۔ میں پوچھ رہا تھا وہ کون ہے؟ آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟‘‘
’’جتنی بات بتانے کی مجھے اجازت تھی میں نے بتا دی کچھ دن اور گزرنے دو پھر میں تمہیں ہر بات بتا دوں گا اگر تم نے میری ان دو نصیحتوں پر عمل کیا تو؟ ‘‘انہوں نے آہستہ سے کہا۔
’’میں آپ کی دونوں نصیحتوں پر حرف بہ حرف عمل کروں گا بابا جی! میں تو آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے میری رہنمائی فرمائی ‘‘ میں نے عقیدت سے کہا۔
’’ہم سب اپنا اپنا فرض ادا کر رہے ہیں کوئی کسی پر احسان نہیں کر رہا‘‘ انہوں نے اپنی بات ختم کرکے آہستہ سے آواز دی۔’’محمد شریف!‘‘ آواز اتنی آہستہ تھی کہ میں بھی بمشکل سن پایا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دروازہ کھلا اور محمد شریف اندر داخل ہوا اور ایک طرف ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’خان صاحب کو گھر چھوڑ آؤ اور گھر کا حصار بھی کر آنا۔ تین دن کے لئے۔‘‘ انہوں نے شریف سے کہا۔
’’بہت بہتر حضور!‘‘ شریف نے ادب سے کہا۔
’’کل تمہاری اہلیہ آجائے گی۔ ایک رات کی بات ہے اس کا میں نے انتظام کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا۔
’’کل۔۔۔‘‘ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا’’بابا جی! وہ تو چھ سات دن کے لئے گئی ہے۔‘‘
’’اللہ بہتر کرے گا۔‘‘ اس بات کوبھی انہوں نے میری بات کا جواب واضح نہ دیا۔
ضرور پڑھیں: وزارت سے ہٹائے جانے کے بعد اسد عمر اپنی حکومت کے خلاف کھل کر بول پڑے
’’انسان کو اپنے دام میں لانے کے لیے شیطان کے پاس بہت خوبصورت جال ہوتے ہیں اس کے داؤ سے بچنے کی کوشش کرنا۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔‘‘
انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی کچھ پڑھ کر پھونکا اور جانے کا اشارہ کیا۔ میں بھی ان کے احترام میں الٹے قدموں واپس نکلا۔ باہر آکر میں نے کلائی بندھی رسٹ واچ پر نظر ڈالی۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ باہر نکل کر میں نے شریف سے پوچھا۔
’’شریف مجھے تمہارے والد محترم کی کافی باتیں سمجھ نہیں آئیںَ‘‘
’’قابل صد احترام ابا جان نے جو کچھ آپ کو بتایا ہے سب کچھ آپ کو خود بخود سمجھ آجائے گا بس آپ تھوڑا انتظار کرلیں‘‘ اس نے بڑے ملائمت سے مجھ سمجھایا پھر موٹر سائیکل باہر نکالی بلند آواز سفر کی د عا پڑھی اور ہم چل پڑے۔
میں پہلے ہی کافی الجھا ہوا تھا۔ شریف کے والد کی باتوں نے میری الجھن میں اور اضافہ کر دیا تھا۔
’’اس سے تو اچھا تھا میں نہ آتا۔‘‘ میں نے دل میں سوچا۔ہم تقریباً آڈھ گھنٹے میں گھر پہنچ گئے ۔ میں نے تالہ کھول دیا شریف نے موٹر سائیکل گیراج کھڑی کی اور میرے ساتھ اندر آگیا۔
’مجھے وہ کمرہ دکھا دیں جہاں کل رات آپ سوئے تھے‘‘ اندر آنے کے بعد اس نے کہا۔ میں اسے بیڈ روم میں لے آیا۔ جیسے ہی ہم کمرے میں داخل ہوئے میں ششدر رہ گیا۔ بیڈ پر ایک بھی گلاب کی پتی موجود نہ تھی۔ نہ وہ گلاب مجھے کہیں دیکھائی دیا جو تکیے پر پڑا تھا۔ صبح جب میں گھر سے نکلا تو سب کچھ ویسے ہی چھوڑ گیا تھا۔ اب بیڈ ایسے صاف تھا جیسے کبھی پھول کی ایک پتی بھی اس کمرے میں نہ لائی گئی ہو۔ محمد شریف نے مجھ سے ایک جائے نمازطلب کی اور اس پر بیٹھ کر کچھ پڑھنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اٹھ گیا۔
’’جناب! میں نے گھر کا حصار کر دیا اب آپ بے فکر ہو جائیں۔‘‘
’’شریف ایک بات بتاؤ۔ بابا جی تو بزرگ ہیں میں کچھ زیادہ پوچھ نہ سکا۔ کہیں ناراض نہ ہو جائیں تم تو میری الجھن رفع کر دو۔۔۔یار!‘‘ میں نے بے تکلفی سے پوچھا کچھ تو وہ میرا ماتحت تھا اور عمر میں بھی وہ مجھ سے سال دو سال چھوٹا ہی دکھتا تھا۔
’’پوچھیں خانصاحب! اگر میں جانتا ہوا تو ضرور بتاؤں گا۔‘‘ وہ بیڈ پر بیٹھ گیا۔ میں نے ا سے رات والا خواب بتانا چاہا۔
’’کچھ کچھ میں جانتا ہوں۔ آپ وہ بات بتائیں جو کہہ رہے تھے‘‘ وہ میری بات کاٹ کر بولا۔
’’یہ سب کیا ہے ؟ صبح جب میں اٹھا تو بیڈ گلاب کی پتیوں سے بھرا ہوا تھا سب کچھ ویسے ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا لیکن اب ایک بھی پتی دکھائی نہیں دے رہی۔ بابا جی کہہ رہے تھے وہ خواب نہیں تھا۔ لیکن یہ کیسے ممکن ہے جبکہ میری بیوی تو مجھ سے میلوں دور بیٹھی ہے؟‘‘ میں نے اپنی الجھن اس پر واضح کی۔ اچانک باہر سے بلی کے رونے کی آواز آئی۔ محمد شریف نے چونک کر دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ چھا گئی۔
’’خالق کائنات نے انسان کے علاوہ کچھ اور مخلوقات بھی پیدا کی ہیں۔ جو اس دنیا میں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ان میں بھی انسانوں کی طرح اچھے بڑے موجود ہیں۔ ہر چند کہ ان پر بھی پابندیاں ہوتی ہیں لیکن انسانوں کی طرح ان میں بھی نیک و بد، نامفرمان و فرمان بردار، اللہ کے بندے اور شیطان کے پیروکار ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ اپنی حدود سے تجاوز کرکے انسانوں کو ستانے کے لیے چلے آتے ہیں جس کی وہ روز آخرت سز پائیں گے ایسے ہی کچھ اثرات میں یہاں دیکھ رہا ہوں۔‘‘ اس نے بڑے رسان سے مجھے سمجھایا۔
۔۔
میرے ذہن میں پروفیسر صاحب کا جملہ گونجا۔’’کچھ جاہل قسم کے لوگوں نے اس گھر کے بارے میں خرافات اور افواہیں پھیلا رکھی ہیں کہ یہ گھر آسیب زدہ ہے۔‘‘
’’تو کیا اس گھر میں ایسی کوئی مخلوق موجود ہے؟‘‘ میں نے شریف کی طرف دیکھا
’’ہے نہیں تھی۔۔۔‘‘ اس نے میری بات کی تصحیح کی۔’’اب میں نے محترم ابا جان کی ہدایت کے مطابق گھر کا حصار کر دیا ہے آپ بے فکر ہو کر سو جائیں۔ اگر آپ کو کسی قسم کا خوف ہے تو میں آپ کے ساتھ رکنے کے لئے تیار ہوں۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ارے نہیں شریف! میں جنات وغیرہ سے قطعی نہیں ڈرتا نہ ہی میں خوفزدہ ہوں لیکن ان سب واقعات سے الجھن محسوس ضرور محسوس کر رہا ہوں۔ میری تو خواہش ہے کہ کبھی جنات کو دیکھوں کہ وہ کس قسم کے ہوتے ہیں؟‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔ ایک بار پھر بلی کے رونے کی آواز آئی۔
’’اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے‘‘ اس نے بالکل اپنے والد صاحب کی طرح کہا۔’’اب مجھے اجازت ہے؟‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
’’ٹھیک ہے محمد شریف تمہارا شکریہ اس نا وقت زحمت کے لئے‘‘ اس نے سلام کیا اور باہر نکل گیا میں نے گیٹ بند کیا اور بیڈ روم میں آگیا۔ کچھ دیر جاگتا رہا پھر نیند کی دیوی مجھ پر مہربان ہوگئی۔ دوسرے دن میری آنکھ دیر سے کھلی میں جلدی سے تیار ہو کر بینک پہنچ گیا۔ شریف کے والد صاحب کا کہا سچ ثابت ہوا۔ صائمہ دوسرے دن واپس آگئی تھی۔ وجہ اس نے یہ بتائی کہ وہ میرے بارے میں پریشان تھی کہ نہ جانے میں وقت پر کھاتا پیتا بھی ہوں کہ نہیں۔ صائمہ کی غیر موجودگی میں جو کچھ ہوا تھا میں نے اس کا ذکر اس سے نہ کیا تھا۔ وقت اپنی مخصوص رفتار سے گزرتا رہا۔ ایک دن میں حسب معمول بینک سے گھر پہنچا تو گیراج میں گاڑی کھڑی تھی ڈرائنگ روم سے باتوں کی آواز
آرہی تھی میں نے سوچا نازش اور عمران آئے ہوں گے۔ ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو مالک مکان پروفیسر عظمت بیگ ایک سو برسی خاتون کے ہمراہ موجود تھے۔ صائمہ نے ٹیبل پر چائے اور دیگر لوازمات سجا رکھے تھے۔ اس معاملے میں وہ بہت حساس تھی کہ اس کے گھر سے کوئی کھائے پئے بغیر نہ چلا جائے۔ میں نے ادب سے سلام کیا تو وہ ہنس کر بولے
’’برخوردار! تم تو ٹھہرے بڑے افسر ہم نے سوچا کیوں نہ خود ہی مل آئیں۔‘‘
’’پروفیسر صاحب ! بس کچھ نکما پن ہے ورنہ تو کئی بار سوچا آپ سے ملاقات کرنے کے بارے میں‘‘ میں ان کے خلوص کے سامنے شرمندہ ہوگیا۔ وہ کافی دیر بیٹھے رہے پھر ہمیں آنے کی تاکید کرکے رخصت ہوگئے۔
میں نے یہاں تبادلے کے فوراً بعد ہی گاڑی کے لئے لون اپلائی کیا تھا جو منظور ہوگیا۔ دوسرے دن میں جا کر شو روم سے گاڑی لے آیا۔ بچے بہت خوش تھے کہ اب وہ روزانہ سیر کے لیے جا سکیں گے۔ کچھ دن بعد مجھے کسی آفیشل کام کے لئے ملتان جانا پڑا جو شام چار بجے کے قریب ختم ہوا۔ میرا خیال تھا میں ایک دو گھنٹے میں گھر پہنچ جاؤں گا۔ لیکن اس دن ملتان میں کسی مذہبی تنظیم نے جلوس نکالا تھا جس کی وجہ سے سارے راستے بند تھے۔ جو ایک آدھ کھلا تھا وہاں پر بھی ٹریفک کا اتنا رش تھا گاڑی تو کجا پیدل جانے کے لیے بھی راستہ نہ تھا۔ ایک جگہ ٹریفک جام میں پھنس گئے۔ خیر خدا خدا کرکے راستہ کھلا۔ میں نے گھڑی دیکھی شام کے پانچ بج رہے تھے۔ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی میں محتاط انداز سے گاڑی چلاتا رہا۔ آگے سڑک کچھ ٹھیک تھی میں نے سپیڈ بڑھائی نئی گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ میں جلد از جلد گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔ اچانک میری نظر سڑک کنارے کھڑے ایک مرد اور برقع پوش عورت پر پڑی جو ہاتھ ہلا ہلا کر گاڑی روکنے کا اشارہ کر رہے تھے۔
ٹریفک بلاک کی وجہ سے بسیں رکی ہوئی تھیں نہ جانے وہ بے چارے کتنی دیر سے بس کا انتظار کر رہے تھے۔ پہلے تو میں نے سوچا گزر جاؤں پھر میں نے بریک پر پاؤں رکھ دیا۔ گاڑی ان کے قریب جا کر رک گئی۔ شام کا دھندلکا پھیلنے لگا تھا لیکن ابھی روشنی تھی۔ برقع میں ملبوس عورت جلدی سے آگے بڑھی کھڑکی پر جھک کر بولی۔
’’آپ کی مہربانی ہوگی اگر مجھے لفٹ دے دیں۔ ہم کافی دیر سے انتظار کر رہے ہیں لیکن پتہ نہیں بسیں کیوں نہیں آرہیں؟‘‘ وہ خاصی پریشان دکھائی دے رہی تھی۔ آدمی ایک طرف کھڑا رہا۔ نقاب اس نے چہرے کے گرد اس طرح لپٹا ہوا تھا کہ اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ بڑی بڑی جھیل سی آنکھوں میں عجیب سا سحر تھا۔ جیسے ہی میں نے اس کی طرف دیکھا بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔
’’کوئی بات نہیں آپ جہاں کہیں میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔‘‘ نہ جانے اس کی آنکھوں میں کیسا جادو تھا کہ میں انکار نہ کر سکا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر پچھلا دروازہ کھولنا چاہا تاکہ وہ دونوں بیٹھ سکیں کہ اس نے پیچھے مڑ کر اس آدمی سے کہا۔
’’تم جاؤ‘‘ وہ آدمی خاموشی سے واپس چلا پڑا۔ پھر وہ مڑی اور اطمینان سے اگلا دروازہ کھول کر میرے برابر بیٹھ گئی۔ اس نے کوئی بہت اعلیٰ قسم کا پرفیوم لگایا ہوا تھا گاری مسحور کن خوشبو سے مہک اٹھی۔ میں نے ایک لمبا سانس لے کر اس مہک کو اندر اتارا میرا سارا وجود معطر ہوگیا۔ مسحور کن خوشبو نے واقعی مسحور کر دیا تھا۔ لیکن اندر سے میں بری طرح پچھتا رہا تھا کہ کیوں گاڑی روکی؟ اکیلی عورت تھی اگر مجھے معلوم ہوتا کہ وہ اکیلی میرے ساتھ سفر کرے گی تو میں کبھی گاڑی نہ روکتا۔ لیکن جو ہونا تھا وہ توہو چکا تھا میں نے گاڑی کو آگے بڑھایا۔
’’یہاں سے بیس پچیس میل دور میرا گاؤں ہے آپ کی بڑی مہربانی کہ آپ نے گاڑی روک دی میں تقریباً دو گھنٹے سے کھڑی انتظار کر رہی ہوں۔ کھڑے کھڑے میری تو ٹانگیں تھک گئیں۔‘‘ کافی باتونی معلوم ہوتی تھی حالانکہ میں نے اس سے کچھ نہیں پوچھا تھا لیکن اس نے تفصیل بتائی۔
’’کیا نام ہے آپ کے گاؤں کا؟‘‘ میں نے یوں ہی برسبیل تذکرہ پوچھ لیا۔
’’مادھو پور‘‘ اس نے جھٹ جواب دیا اور چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ غیر ارادی طور پر میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تو ہٹنا بھول گئی۔ وہ بے پناہ حسین تھی۔ بڑی بڑی سیاہ جھیل سی آنکھیں ، ستواں ناک، ہونٹ جیسے گلاب کی ادھ کھلی کلی۔ اس کی گلابی رنگت اتنی پیاری تھی کہ اس کے چہرے سے نظر ہٹانا مشکل ہو گیا تھا۔ ایسا حسن صرف کتابوں میں پڑھا۔ یا قصے کہانیوں میں سنا تھا۔ میں نے بڑی مشکل سے اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر سڑک کی طرف دیکھا۔ اس نے میری کیفیت کو محسوس کر لیا تھا۔ دل آویز مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر چھا گئی۔ میں نے کنکھیوں سے اس کی طرف دیکھا وہ میری طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ جسم کا سارا خون سمٹ کر میرے چہرے پر آگیا۔تھوڑی دیر پہلے میں سوچ رہا تھا اسے گاڑی میں بٹھا کر میں نے غلطی کی ہے اب میرے ہوش و حواس کام نہیں کر رہے تھے۔ نہ تو میں کوئی دل پھینک قسم کا انسان ہوں اور نہ آوارہ کہ کسی لڑکی کو دیکھ کر میری نیت خراب ہو جائے لیکن وہ اتنی حسین تھی کہ اگرمیں مکمل طور پر اس کی تعریف بیان کروں تو شاید الفاظ میرا ساتھ نہ دیں اور پڑھنے والوں کو مبالغہ آمیزی لگے۔
’’آپ کہاں جارہے ہیں؟‘‘اس کی مدھر آواز گاڑی میں گونجی۔ میں نے اپنے شہر کا نام بتایا۔
وہاں تو میرے چچارہتے ہیں آپ کا گھر کہاں ہے؟ میں نے کافی عرصہ اس شہر میں گزارا ہے۔ وہاں کی ایک ایک گلی محلے کو اچھی طرح جانتی ہوں‘‘ اس نے پلکوں کی جھالر اٹھا کر میرے دل پر بجلی گرائی۔
’’لیکن میں نہیں جانتا‘‘ بمشکل میں اس کے حسین چہرے سے نظریں ہٹا پایا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ بڑی بڑی حسین آنکھوں میں حیرت در آئی۔ ایک تو اس کا حسن مجھے بے قرار کر رہا تھا اس پر اس کے جسم سے اٹھتی خوشبو اور آواز بھی اس کی بہت مدھر تھی۔ اس میں کسی کو بھی دیوانہ بنانے کی پوری صلاحیت موجود تھی۔
’’دراصل میں حال ہی میں لاہور سے اس علاقے میں شفٹ ہوا ہوں۔ ابھی شہر سے میری کوئی خاص واقفیت نہیں ہوئی۔ ہاں اتنا جانتاہوں کہ میرے گھر سے ذرا آگے ایک بہت خوبصورت پارک واقع ہے جسے ’’لیڈی باغ‘‘کہتے ہیں۔ میں بہانے ہانے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اب مجھے اس سے باتیں کرنے میں مزا آرہا تھا۔ کبھی بات کرنے کے بہانے اور کبھی اس سے کوئی بات پوچھنے کے بہانے میں اس کے حسین چہرے پر ایک نظر ڈال لیتا تھا۔
’’اچھا تو آپ’’سعود آباد‘‘ میں رہتے ہیں کسی زمانے میں یہاں ایک شمشان گھاٹ ہوا کرتا تھا‘‘ اسنے میرے علم میں اضافہ کیا۔’’یہ ساری آبادی ہندوؤں کی تھی میرا مطلب ہے یہاں ہندو آباد تھے۔ تقسیم کے بعد کافی لوگ تو ہندوستان چلے گئے جو رہ گئے ان کو بھی وہاں سے آنے والے مسلمانوں نے یہاں سے نکال دیا۔ ان کے گھر چھین لیے۔ بہت سوں کوقتل کر دیا ان میں سے وہی لوگ بچ پائے جو یہاں سے فرارہوگئے تھے۔‘‘ اس کی آواز میں عجیب سا درد امڈ آیا۔ حسن سوگوار ہوگیا تھا۔
’’تمہیں یہ سب باتیں کس نے بتائیں؟ میرا مطلب ہے تم تو تقسیم کے وقت پیدا بھی نہیں ہوئی ہوگی‘‘ میں نے کہا۔
’میں اتنی بھی کم عمر نہیں ہوں‘‘ وہ کھکھلا کر ہنسی۔
’’اچھا تو تم تقسیم کے وقت موجود تھیں۔‘‘ میں نے بھی ہنس کرکہا۔
’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘اس نے ایک ادا سے چہرے پرآئی بالوں کی لٹک وجھٹکا دیا۔
’’فاروق خان۔۔۔ تمہارا؟‘‘ میں نے اپنانام بتاکر اس سے پوچھا۔
’’چمپا۔۔۔کیا یہ نام مجھ پر جچتا ہے؟‘‘ اسنے عجیب ساسوال کیا۔
’’بالکل تم تو اسم با مسمیٰ ہو۔ بلکہ پھول بھی تمہیں دیکھ لے تو شرما جائے۔‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا ۔ میں نے چورنظروں سے اپنی بات کا ردعمل دیکھنے کے لیے اس کی طرف دیکھا تو وہ بڑی والہانہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔
’’یونہی مجھے بنا رہے ہیں۔‘‘ وہ اٹھلا کر بولی۔
’’تم تو قدرت کی صناعی کا کامل شاہکار ہو تمہیں مالک کائنات نے اتنا خوبصورت بنایا ہے کہ جواب نہیں۔‘‘ الفاظ خود میری زبان سے ادا ہو رہے تھے۔ میری بات سن کر اسکی آنکھوں میں وارفتگی بڑھ گئی۔
’’آپ بھی کچھ کم خوبصورت نہیں‘‘ حیا سے اس کاچہرہ گلنار ہوگیا۔
اب ہم برسوں پرانے دوستوں کی طرح بے تکلفی سے باتیں کر رہے تھے۔ میں نے گاڑی کی رفتار آہستہ کر دی تھی۔ مقصد زیادہ سے زیادہ وقت اس کی معیت میں گزارناتھا۔ میرے ان جذبوں میں ارادے کا کوئی دخل نہ تھا۔ نہ جانے میں اسے دیکھ کر کیوں بے خود ہوا جا رہا تھا۔ اسے خود ستائشی نہ سمجھا جائے تو میں کہوں گاکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دل کھول کر وجاہت عطا فرمائی ہے۔ میں جہاں بھی جاتا کواتین کی نظریں میرا طواف کرتیں۔ صائمہ تو اکثر میری نظر اتارا کرتی۔
’گاڑی دائیں طرف موڑ لیجئے۔‘‘ اس کی آواز مجھے خیالوں سے باہر کھینچ لائی۔ میں نے دیکھا سڑک کے دائیں طرف ایک کچا راستہ جا رہا تھا۔ گاری کی رفتار آہستہ کرکے میں نے اسکے بتائے ہوئے راستے پر موڑ دیا۔ کہاں تو مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی اور اب مجھے کسی بات کا ہوش نہ تھا۔
اوائل سردیوں کا موسم تھا ہوا میں ہلکی ہلکی سی خنکی شروع ہو چکی تھی۔ میں نے گاڑی کے شیشے بند کر دیئے۔ اس نے اپنا پرس کھول کر اس میں سے ایک کیسٹ نکالی اور گاڑی میں لگے سٹیریوں میں لگا دی۔ یہ سب کچھ اس نے اتنی اپنائیت سے کیا کہ میں اسے ٹوک بھی نہ سکا۔ لتا کی مدھر آوازگاڑی میں گونجنے لگی۔ گانا تو مجھے یاد نہیں کچھ عشقیہ قسم کا تھا۔ اسکا کافر اداحسن اس پر لتا کی رسیلی آواز مجھ پر اس ماحول کا جادو چھا گیا۔ اچانک اس نے سٹیرنگ پر رکھے میرے ہاتھ پر اپنانرم نازک ہاتھ رکھ دیا۔ اس کی انگلی میں ہیرے کی قیمتی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا سحر کارآنکھوں کی کشش نے مجھے جکڑ لیا۔ میراپاؤں بے اختیار بریک پرچلا گیا۔ اسکے گداز اور گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹوں پر بڑی دل آویز مسکراہٹ تھی۔ میں جیسے اسکی جھیل سی آنکھوں میں ڈوب گیا۔ ہم دنیا ومافیا سے بے خبر ایک دوسرے میں کھو سے گئے۔ پھر اس کی خمار آلود مدھر آواز آئی۔
’’بابو! تو نے تو پل بھرمیں موہے دیوانہ بنادیا۔۔۔نہ میں تو ہے جانوں نہ تو موہے، پرنتویوں لاگے ہے جیسے ہم جنم جنم سے ایک دوجے کو جانت ہیں۔‘‘
میں اسکی آواز کے سحرمیں کھو گیا۔ تھوری دیر پہلے وہ بڑی شستہ اردو بول رہی تھی اب عجیب سے لہجے اور زبان میں بات کرنے لگی۔ لیکن میں اسے بھی اسکی کوئی ادا سمجھا اور اس وقت کس کمبخت کو ان باتوں کا ہوش تھا۔ بڑی بڑی حسین آنکھوں میں پیار کا ساغر ہلکورے لے رہا تھا۔ آنکھیں کیا تھیں مے سے بھرے دوپیالے تھے۔ مجھ پر نشہ سا چھانے لگا۔ حسین چہرہ میرے چہرے کے قریب ہوگیا۔ اس کی گرم سانسں اور قرب نے مجھ سے سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں چھین لیں۔ قریب تھا گلاب کی ان پنکھڑیوں سے میرے لب چھو جاتے۔
اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر‘‘
اچانک قریبی مسجد سے آذان کی آواز آئی۔ وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ میں بھی جیسے سحر سے آزاد ہوگیا۔ چونک کر اردگرد دیکھا ۔ رات کی تاریکی پوری طرح پر پھیلا چکی تھی۔ چمپا چہرہ دوسری طرف کیے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔ میں جیسے نیند سے جاگ گیا۔ خود سے شرمسار تھا۔
اللہ کی بڑائی بیان کی جا رہی تھی’’اللہ اکبر۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔‘‘
’’حی الصلاح ۔۔۔حی افلاح‘‘ لوگوں کو نماز اور فلاح کی طرف بلایا جا رہا تھا۔’’آؤ نماز کی طرف ۔۔۔آؤ بھلائی کی طرف‘‘
میں نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور کچے راستے پر چل پڑا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ چمپا بالکل خاموش بیٹھی تھی اور میرے پا س بھی کہنے کو کچھ نہ تھا۔ گاڑی میں سکوت چھایا ہوا تھا۔ راستہ کچا اور اونچا نیچا تھا۔ سڑک کی دونوں اطراف کھیت تھے جن میں فصل لہلہا رہی تھی۔ جی تو چاہ رہا تھا اسے یہیں اتار کر اپنی راہ لوں لیکن ضمیر نے گوارہ نہ کیا رات کی تاریکی اور تنہائی میں اسے کس کے سہارے چھوڑتا۔۔۔؟ بادل نخواستہ گاڑی اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلاتا رہا ۔ آگے سے کچا راستہ بائیں جانب طرف مڑ رہا تھا۔ اچانک موڑ پر تیز روشنی دکھائی دی۔ شاید سامنے سے کوئی گاڑی آرہی تھی۔ راستے کی چوڑائی اتنی نہ تھی کہ بیک وقت دو گاڑیاں اس پر گزر سکتیں۔ موڑ سے ذرا پہلے میں نے گاڑی روک دی اور انتظار کرنے لگا کہ سامنے سے آنے والی گاڑی گزر جائے۔ گاری اب موڑ مڑ کر سامنے آگئی تھی۔ اچانک اس کی چھت پر لگی سرچ لائٹ جلنے بجھنے لگی۔ ساتھ ہی گاڑی سے سائرن کی آواز سے چند سپاہی باہر نکلے جن کے ہاتھوں میں اسلحہ تھا۔ انہوں نے اترکر میری گاڑی کو گھیر لیا۔ پولیس وین کی اگلی سیٹ سے ایک باوردی پولیس والا اترا اور کرخت آواز میں مجھے گاڑی سے نیچے اترنے کے لئے کہا۔ میرا دل تیز تیز دکھڑکنے لگا۔ میں نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا اور سر باہر نکال کر اس سے پوچھا۔
’’کیا بات ہے انسپکٹر صاحب؟‘‘
’’بات کے بچے ! تو نے سنا نہیں صاحب نے کیا کہا ہے؟‘‘ سپاہی جس نے مجھ پر گن تان رکھی تھی گرج کر بولا۔ غصہ تو مجھے بہت آیا لیکن میں ضبط کیے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آگیا۔ جیسے ہی میں نیچے اترا دوسری طرف کا دروازہ کھول کر چمپا بھی گاڑی سے نکل آئی۔ کندھے پر لگے اسٹارز سے انسپکٹر نظر آنے والے آفیسر نے اپنی گاڑی کی طرف دیکھ کر کسی کو پکارا۔
’’رام داس باہر آؤ۔‘‘ ڈبل کیبن پولیس موبائل کا پچھلا دروازہ کھلا اور دھوتی کرتے میں ملبوس ایک شخص نیچے اتر آیا۔ میں حیرت سے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جیسے ہی وہ شخص باہر آیا چمپا تیر کی طرح اس کی طرف لپکی اور ’’باپو‘‘ کہہ کر اس کے گلے لگ گئی
’’باپو ! یہ دھشٹ (ظالم) موہے پھریب(فریب) سے اپنی موٹر میں بٹھا کر لایا ہے کہے تھا منے تہار باپو نے بھیجا ہے تو کے لانے واسطے‘‘(ابو یہ ظالم دھوکے سے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا کر لایا ہے کہہ رہا تھا کہ مجھے تمہارے والد نے بھیجا ہے تمہیں لانے کے لیے) وہ سسکیاں لینے لگی۔ میں بری طرح چونک گیا۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہو چمپا! تم نے خو دہی تو مجھے کہا تھا کہ شام ہونے کو ہے اور کوئی بس وغیرہ نہیں آرہی۔ برائے مہربانی مجھے میرے گھر پہنچا دو‘‘ حیرت سے میری عقل گم تھی۔ ’’انسپکٹر! صاحب میں سچ کہہ رہا ہوں۔ میں ملتان سے آرہا تھا کہ اس لڑکی کو ایک آدمی کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑے دیکھا۔ انہوں نے مجھے ہاتھ دے کر روکا اور لفٹ کے لیے کہا۔ دراصل آج ملتان میں کسی مذہبی تنظیم نے جلوس نکالا تھا اس لئے ٹریفک بلاک ہوگیا۔ بسیں نہیں آرہی تھیں میں نے تو انسانی ہمددی کے ناطے گاڑی ان کے لئے روک دی تھی۔ اس لڑکی نے اس آدمی کو جانے کے لیے کہا اور مجھ سے کہنے لگی کہ میں اسے اس کے گاؤں پہنچا دوں جو یہاں سے بیس پچیس میل دور ہے۔ میں نے اس بات کے پیش نظر کہ اکیلی لڑکی ہے اور شام کا وقت ہے نہ جانے اور کتنی دیر بس نہ آئے گاڑی میں بٹھا لیا۔ میں ایک معزز اور پڑھا لکھا انسان اور مقامی بینک میں بطور منیجر تعینات ہوں‘‘ میں نے جلدی جلدی سارے واقعات انپسکٹر کو بتا دیئے۔ لڑکی بدستور اس آدمی سے چپکی کھڑی تھی جسے اس نے باپو کہا تھا۔
’تیری تقریر ختم ہوگئی یا ابھی باقی ہے۔‘‘ انسپکڑ کی سرد آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔’’بچو! یہ تو تھانے چل کر معلوم ہوگا کہ تو کون ہے؟ ہمیں تو کوئی دن سے تیری تلاش تھی۔ بروقت پہنچنے سے تیسری لڑکی قتل ہونے سے بچ گئی ورنہ تو نے اسے بھی عزت لوٹ کر ٹھکانے لگا دیا ہوتا۔‘‘ اس نے طنزیہ انداز سے کہا۔
’’یی۔۔۔یہ۔۔۔آ۔۔۔آپ کیا کہہ رہے ہیں انسپکڑ صاحب! آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں تو اس لڑکی کو جانتا تک نہیں اور نہ ہی میں نے کسی کا قتل کیا ہے‘‘ حیرت اور صدمے سے میں بری طرح بوکھلا گیا۔
’’تیری تو۔۔۔‘‘اس نے ایک نہایت فحش گالی دی ’’چل گاڑی میں بیٹھ، تھانے چل کر تیری ساری کہانی نویسی نکالتا ہوں۔ آج رات تھانے میں گزرے گی تو تُو سب کچھ قبول کر لے گا‘‘ اس نے ایک سپاہی کو اشارہ کیا جس نے مجھے دھکا دے کر گاڑی کی طرف دھکیلا۔ دھکا کھا کر میں گرتے گرتے بچا۔
’’ہے بھگوان تیری بڑی کرپا(مہربانی) تو نے میری پتری کو اس پاپی(گناہ گار) سے بچا لیا۔ نہ جانے یہ دھشٹ میری کومل پتری سنگ کیا کرتا؟ اری مورکھ! تنجھے کونو کہے تھا اس پاپی سنگ موٹر مابیٹھ‘‘ اس نے شکر ادا کرنے کے بعد اپنی بیٹی کو جھڑکا۔ انسپکٹر نے لڑکی اور آدمی کی طرف دیکھا۔
’’تم لوگ بھی صبح تھانے آجانا تمہارا بیان ہوگا۔ اسے تو میں اب ایسی جگہ پہنچاؤں گا کہ یہ ساری زندگی یاد رکھے گا۔ بچو! اب تجھے پھانسی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔‘‘ انسپکٹر نے آخری فقرہ میری طرف دیکھ کر کہا۔
’’چمپا میں نے تمہارے اوپر مہربانی کی ہے اور تم مجھے اس کا یہ صلہ دے رہی ہو۔‘‘ کوئی چارہ نہ پا کر میں نے اس لڑکی کی طرف دیکھا جس نے اپنا نام چمپا بتایا تھا۔ اس نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ ایک سپاہی نے میرا کالر پکڑ کر مجھے زوردارجھٹکا دیا۔
’’چل اوئے چمپا کے بچے! تو تو مجھے کوئی عادی مجرم لگتا ہے۔۔۔تیری زبان تو قینچی سے بھی زیادہ تیز چلتی ہے۔۔۔چل ذرا تھانے، تجھے پتا چلے گا۔ کیسے معصوم لڑکیوں کی عزت لوٹ کر انہیں قتل کیا جاتا ہے؟‘‘ اس نے مجھے زور سے گاری کی طرف دھکا دیا۔
’’دیکھیں! آپ لوگ میری بات سنیں میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔‘‘ ابھی میں اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ میرے سر کے پچھلے حصے پر شدید ضرب لگی اور میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
گرتے گرتے آخری فقرہ جو میری سماعت سے ٹکرایا وہ تھا۔۔۔’’اس حرامی کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالو‘‘ اس کے بعد میں ہوش و خرد کی دنیا سے دور چلا گیا۔ درد کی ایک تیز لہر مجھے دوبارہ ہوش کی دنیا میں کھینچ لائی۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔ ایک تنگ سے کمرے میں فرش پر بچھی چٹائی پر پڑا تھا۔ مدہم روشنی والا بلب کمرے کی تاریکی کو دور کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو سر میں اٹھتی درد کی تیز لہر نے بے اختیار کراہنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے درد والی جگہ پر ہاتھ رکھا تو میرا ہاتھ چپچپانے لگا۔ بے ہوشی کا سبب بننے والی غالب بندوق کے بٹ کی وہ ضرب تھی جو سر کے پچھلے حصے پر لگائی گئی تھی۔ اس سے میرا سر پھٹ گیا تھا اور کچھ خون رس کر جم چکا تھا۔
’’یہ سب کیا ہے۔۔۔؟؟اگر کوئی سازش ہے تو کسی کو میرے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟‘‘ میں نے دکھتے سر کے ساتھ سوچ اور ہمت کرکے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی۔ بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ سر سے ٹیسیں نکل رہی تھیں۔ نظر گھما کر دایءں بائیں دیکھا سلاخوں والا دروازہ دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ میں تھانے میں بند ہوں۔
رات کی تاریکی اور خاموشی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ مجھے لانے والے نہ جانے کہاں چلے گئے تھے؟ میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر اس وقت کو کوسنے لگا جب میں نے اس لڑکی کو لفٹ دی تھی ۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ چمپا نے یہ کیوں کہا کہ میں دھوکے سے اسے گاڑی میں ڈال کر لے جا رہا تھا اور انسپکٹر دو لڑکیوں کا قتل میرے کھاتے میں ڈال رہا تھا۔ یہ سارا گورکھ دھندا میری سمجھ سے باہر تھا۔ نہ جانے کتنی دیر میں اپنے خیالوں میں کھویا رہا۔ اچانک مجھے باہر سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی جو آہستہ آہستہ قریب آرہی تھی۔ تالہ کھلنے کی آواز آئی اور کوئی اندر آگیا۔ میں نے سر گھما کر دیکھا اور بری طرح اچھل پڑا۔ اندر آنے والا وہی خبیث صورت سادھو تھا۔ سادھو امرکمار۔جو مجھے پہلے بینک، دوسری بار کھیتوں کے پاس ملا تھا۔ جب میں ملنگ کے پیچھے جا رہا تھا۔ اب وہ میرے سامنے کھڑا بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کے بدن پر آج بھی صرف ایک دھوتی تھی۔ پاؤں میں اس نے لکڑی کے کھڑاؤں پہن رکھے تھے اور انگلیاں حسب معمول موٹی موٹی سی مالا کے دانوں پر حرکت کر رہی تھیںَ۔
کمرے میں ناگوار بو پھیل گئی تھی۔ جس کا منبع یقیناً یہی مردود تھا۔ ایک سپاہی اس کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ پل بھر میں ساری بات میری سمجھ میں آگئی۔ اب ہم دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔
’’تو یہ سب کچھ تیرا کیا دھرا ہے‘‘ غصے سے میرا چہرہ تپ گیا۔ کچھ دیر وہ خاموش کھڑا مجھے گھورتا رہا پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’تو واقعی مورکھ ہے تیرے سر میں بدھی(عقل) کے بجائے بس بھرا ہے۔ اس سمے میں دیوی کے کارن تیری سہائتا کرنے آیا ہوں اور تو ہے کہ مجھے ہی دوش(الزام) دے رہا ہے‘‘ اس نے افسوس سے سر ہلایا۔ ’’یدی میں اس سمے یہاں نہ آتا تویہ لوگ تیرے سنگ جانے کیا کرتے؟ میرے اپکار(احسان) کو ماننے کے بجائے تو الٹا مجھے ہی دوشی ٹھہرا رہا ہے تو واقعی مورکھ ہے ۔ جانے دیوی کو تجھ میں کیا نجر آیا ہے جو مجھے بار بار تیری سہائتا کے واسطے بھیج دیتی ہے؟‘‘ وہ مجھے یوں دیکھ رہا تھا جیسے میں نے نہایت احمقانہ بات کہہ دی ہو۔ میری کنپٹیاں سلگ اٹھیں۔ اب تک جو کچھ میرے ساتھ ہوا۔۔۔میری جتنی تذلیل ہوئی تھی اس کا باعث یہی منحوس تھا۔ رگوں میں خون جوش مارنے لگا۔ اچانک میرا ہاتھ گھوما اور سادھو کے چہرے پر زناٹے سے پڑا جو کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ تھپڑ مارتے ہوئے میں نے سارے جسم کی قوت استعمال کی تھی باوجود بھاری تن و توش کے وہ بری طرح لڑکھڑا گیا اور گرتے گرتے بچا۔ کچھ تو وہ اپنے دھیان کھڑا تھا اورمیں بھی مارتے ہوئے پوری طاقت استعمال کی تھی۔
’’تو کیا سمجھتا ہے اس قسم کی دھکمیوں سے میں ڈر جاؤں گا؟ یاد ہے میں نے تجھ سے کہا تھا میرے سامنے نہ آنا ورنہ وہ حشرکروں گا کہ یاد رکھے گا‘‘ غصے سے میرا بھرا حال ہوگیا۔ تھپڑ کھا کر اس کا چہرہ غصے سے تپ گیا۔ آنکھیں جو پہلے ہی لال تھیں انگارہ بن گئیں۔حیرت اور صدمے سے وہ گنگ ہوگیا۔
اسے شاید مجھ سے اس قسم کے سلوک کی توقع نہ تھی۔ وہ سمجھ رہا تھا میں اسے دیکھتے ہی منتیں کروں گا اور اس سے مدد کی بھیک مانگوں گا۔ مالا کے دانوں پر حرکت کرتی انگلیاں ساکت ہوگئی تھیں۔ وہ کسی سانپ کی طرح پھنکارا۔
’’پاپی تو نے سادھو امر کمار پر ہاتھ اٹھا کر گھور پاپ(بہت بڑا گناہ) کیا ہے۔ اس دن بھی میں نے دیوی کارن تجھے شما کر دیا تھا۔ پرنتو آج جو پاپ تو نے کیا ہے یدی دیوی بھی چاہے تو اب تجھے میرے شراپ (سزا) سے نہ بچاپائے گی۔میں تجھے ایسا شراپ دوں گا کہ تو نرکھ (جہنم) میں جا کر بھی مجھے نہ بھول پائے گا۔‘‘
وہ مڑا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ سپاہی جو اس دوران بالکل خاموش کھڑا تھا وہ بھی جلدی سے باہر نکلا اور دروازہ بند کرکے تالا لگا دیا۔ کچھ دیر تو میں کھڑا غصے میں پیچ و تاپ کھاتا رہا پھر آہستہ آہستہ پر سکون ہو کر دوبارہ چٹائی پر بیٹھ گیا۔ میرے بڑے بھائی کے چیف منسٹر صاحب کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے۔ میں فقط اس انتظار میں تھا کہ صبح ہو اور میں کسی سپاہی کو کچھ ’’دے دلا‘‘ کر اس بات پر آمادہ کر لوں کہ وہ میرے گھر فون کرکے ان کو ساری صورتحال بتا دے۔ مجھے یقین تھا کہ فوراً سے پہلے علاقے کا ایس پی خود یہاں آکر مجھ سے معافی مانگے گا اور تھانہ انچارج کو عملے سمیت معطل کر دے گا۔
سردی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں صرف پینٹ شرٹ پہنے ہوئے تھے۔ سادھو سے میری نفرت دو چند ہوگئی تھی۔ اس حرام زادے کی وجہ سے میں یہاں اس حال میں پڑا تھا۔ وہ بڑا کینہ توز انسان تھا۔ آج اس سے نے مجھ سے اس دن کی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے یہ سب کچھ کروایا تھا۔ غلطی میری بھی تھی میں نے خواہ مخواہ گاڑی روک کر چمپا کو بٹھایا۔
مجھے خود پر شدید غصہ آرہا تھا۔ کردار کے لحاظ سے میں ایک صاف ستھری زندگی گزارتا آیا تھا۔ آج میں قصر مذلت میں گرنے کی پوری تیاری کر بیٹھا تھا۔ یہ تو اس رحیم و کریم اللہ تعالیٰ کی مہربانی تھی کہ میں گناہ کبیرہ سے بچ گیا۔ میرا ضمیر مجھے بار بار ملامت کر رہا تھا لیکن میرا قصور بھی نہ تھا۔ نہ جانے اس لڑکی کی آنکھوں میں کیسا سحر تھا کہ میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ انہی سوچوں میں گم بیٹھا تھا کہ دوبارہ مجھے قدموں کی آواز سنائی دی جو دم بدم قریب آرہی تھی
اس بار آنے والے ایک سے زیادہ معلوم ہو رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد حوالات کا دروازہ کھلا اور تین سپاہی اندر آگئے۔
’’چل اٹھ۔۔۔! تجھے صاحب نے بلایا ہے‘‘ ان میں سے ایک گالی دے کر بولا۔
’’تم لوگ ٹھیک نہیں کر رہے ہو، مجھے جانتے نہیں میں کون ہوں؟ میرے بڑے بھائی صاحب وزیر اعلیٰ کے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔ انہیں جب معلوم ہوگا کہ تم لوگوں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے تو تم سب کی شامت آجائے گی۔‘‘ میں کھڑا ہوگیا۔
’’ہاں۔۔۔ہاں تو صدر پاکستان کا سالا ہے ہم جانتے ہیں۔ تیرا بھائی تو جو کچھ کرے گا بعدمیں دیکھی جائے گی جو تیرے ساتھ ہمارے ’’صاحب‘‘ نے کرنا ہے تو اس کی خیر منا۔ تو نے صاحب کے استاد پر ہاتھ اٹھایا ہے جس کے لئے اس نے اپنا مذہب تک بدل لیا۔ وہ اس کی اپنے باپ سے بھی زیادہ عزت کرتا ہے لگتا ہے تیری موت کا وقت آگیا ہے۔ صاحب تو اتنا ظالم ہے کہ معمولی چور کو مار مار کر قبر میں اتار دیتا ہے تو نے جرم ہی بہت بڑا کیا ہے بچو!‘‘ ایک سپاہی جو ان سب سے زیادہ چالاک لگتا تھا ہنس کر بولا۔ میں ان کے ساتھ باہر نکل آیا۔ وہ مجھ لے کر ایک بڑے سے کمرے میں آگئے جہاں صرف ایک کرسی کے علاوہ کچھ نہ تھا ۔ ہاں ۔۔۔دیواروں پر عجیب و غریب قسم کی رسیاں اور لاٹھیاں لٹکی ہوئی تھیں۔ کمرے کے وسط میں چھت کے ساتھ ایک رسی لٹکی نظر آئی۔ اندر داخل ہوتے ہی میں سمجھ گیا کہ یہ کمرہ تھانے کا ’’ٹارچر روم‘‘ ہے۔
ئے
میرے ذہن میں پولیس کی روایتی تفتیش کے بارے میں سنی سنائی باتیں گھومنے لگیں، دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ دو سپاہیوں نے مجھے زبردستی کرسی پر بٹھا دیا۔ تیسرے نے پیچھے سے آکر میرے دونوں ہاتھ ایک رسی سے باندھ دیے۔ اسی طرح دونوں ٹانگوں کو کرسی کے پایوں کے ساتھ باندھ دیا۔ کرسی فرش میں گڑی ہوئیت ھی میرے ہلانے جلانے کے باوجود نہ ملی۔ میں نے ایک بار پھر ان کو دھمکایا اور ان پر کچھ اثر نہ دیکھ کر ان کی رقم کی آفر کی۔ میری اس بات پر سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ایک نے آگے بڑھ کر میری تلاشی لینی شروع کر دی۔ پینٹ کی جیب سے پرس نکال کر اسے کھولا۔ خوشی سے اس کے منہ سے کلکاری نکلی کیونکہ پرس میں اچھی خاصی رقم موجود تھی۔ اس نے معنی خیز نظروں سے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور ہنسنے لگا۔
’’یہ ساری رقم تم رکھ لو اور مجھے یہاں سے جانے دو۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ صرف تمہارے تھانیدار کے خلاف کارروائی ہوگئی تم لوگوں کو معافی مل جائے گی کیونکہ مجھے معلو م ہے کہ تم صرف اس کے حکم کے غلام ہو‘‘ میں نے اس سپاہی کی طرف دیکھا جس نے میری جیب سے پرس نکالا تھا۔
’’رقم تو ویسے ہی ہماری ہوگئی ہے۔‘‘ وہ ہنسا’’جہاں تک تجھے چھوڑنے کا سوال ہے اسے بھول جا ۔۔۔تیرا بھائی کچھ بھی کر لے وہ صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ صاحب کا استاد جسے تھپڑ مار کر تو نے اپنے لئے موت خریدی ہے بہت بڑا جادوگر ہے۔ اگرہم نے تجھے چھوڑ دیا تو وہ تیرے بدلے میں ہمیں پھانسی پر چڑھا دے گا‘‘ اسی سپاہی نے جواب دیا باقی دونوں سپاہی خاموشی سے ایک طرف کھڑے تھے۔ میں کرسی سے بندھا بیٹھا تھا۔ اس کمبخت نے رسیاں اتنی سختی سے باندھی تھیں کہ میرا دوران خون رک گیا۔ بازوؤں اور ٹانگوں میں شدید درد ہو رہا تھا۔ میں نے ایک بار پھر انہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن نتیجہ صفر رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ خبیث صورت تھانے دار اور سادھو کمرے میں داخل ہوئے۔ سادھو تو ایک طرف کھڑا ہوگیا جبکہ تھانے دار بالکل میرے سامنے پہنچ گیا۔ اس کے ہاتھ میں سٹک تھی۔ وہ قہر آلود نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔
’’تو نے میرے استاد کی بے عزتی کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ استاد جی چاہتے تو تجھے ایک پل میں جہنم میں پہنچا دیتے۔ لیکن انہوں نے دیوی سے اجازت لینا تھی جس میں تھوڑا وقت لگ گیا۔ دیوی نے تجھے مارنے کی اجازت تو نہیں دی لیکن۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ میری موت کی اجازت نہ پا کر پیچ و تاپ کھا رہا ہے’’لیکن میرا تجھ سے وعدہ ہے کہ آج کے بعد تو کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو پائے گا ‘‘ اس نے دروازے کی طرف دیکھ کر آواز دی ’’رامو۔۔۔!اندر آجا‘‘
ایک سیاہ کالا پہلوان اندر آگیا۔ سات فٹ کے قریب قد اور سانڈ کی طرح پلا ہوا۔ وہ سردی کے باوجود ایک دھوتی اور بنیان میں ملبوس تھا۔ بازوؤں کی مچھلیاں دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ کسرت کرنے کا عادی ہے۔ اس کے ایک ہاتھ میں چمڑے کا کوڑا اور دوسرے ہاتھ میں بید نما لمبی اور پتلی سی چھڑی تھی جس کی لمبائی چار فٹ کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ اندر آکر سب سے پہلے سادھو کے سامنے جھکا اور اپنے دونوں ہاتھ ماتھے سے لگا کر بولا۔
’’گرو جی !آگیا ہو تو میں اپنا کر یہ آرمبھ (کام شروع) کروں؟‘‘ سادھو نے ایک قہر بھری نظر میرے اوپر ڈالی پھر اسے سر کے اشارے سے اجازت دے دی۔ وہ چلتا ہوا میرے پاس آیا اور تن کر میرے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے کسی درندے کی آنکھوں میں اپنے شکار کو بے بس دیکھ کر ہوتی ہے۔ میرا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ اس کا کوڑے والا ہاتھ بلند ہوا، میں نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں، میری بری طرح کانپ رہا تھا۔ اچانک میرے نتھنوں سے گلاب کی تیز خوشبو ٹکرائی۔ میں آنکھیں بند کیے اس انتظار میں تھا کہ ابھی کوڑا میرے جسم پر پڑے گا کہ معاً مجھے رامو کی کربناک چیخ سنائی دی۔ جلدی سے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ناقابل یقین منظر میرے سامنے تھا۔ سانڈ نما رامو ہوا میں سر کے بل الٹا لٹکا ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ کوڑا اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا جس کا سرا زمین کو چھو رہا تھا۔ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں۔ ابھی ہم سب اسے دیکھ ہی رہے تھے کہ وہ ایک دھماکے سے سر کے بل زمین پر آرہا۔ اس کا سر پھٹ گیا۔ جس سے بھل بھل خون بہنے لگا۔ وہ پانی سے نکل مچھلی کی طرح زمین پر پڑا تڑپ رہا تھا۔ پھر اس کے منہ سے بھی گاڑے خون کا اخراج ہونے لگا۔ گلے سے ذبح ہوتے بکرے جیسی خرخراہٹ نکل رہی تھی۔
کمرے میں موجود ہر شخص پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ میں نے سادھو کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔ وہ چاروں طرف سر گھما کر یوں دیکھ رہا تھا۔ اب سانڈ نما رامو کسی مردہ چھپکلی کی طرح زمین پر پڑا تھا غالباً روح اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ اچانک فضاء میں ایک اور چیخ گونجی۔ یہ اس سپاہی کی تھی جس نے میری جیب سے پرس نکالا تھا۔ اب وہ زمین سے آہستہ آہستہ بلند ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں وہ خوفزدہ نظروں سے چارو طرف دیکھ کر ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ اسے بھی کسی نادیدہ وجود نے گردن سے پکڑ کر ہوا میں معلق کر دیا تھا۔ اس کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں۔ کچھ دیر وہ ہوا میں لٹکا رہا پھر دھڑام سے زمین پر آگرا۔ اس کا حشر بھی رامو جیساہوا۔ تھوڑی دیر وہ منہ سے خون خارج کرتا رہا پھر ساکتہوگیا۔ سادھو نے اپنے دو چیلوں کا یہ حشر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ کمرے میں موجود باقی دو سپاہی چیختے ہوئے باہر بھاگ گئے۔ تھانے دار اب مجھ سے ہٹ کر کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا تھا بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے استاد کے قریب ہوگیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے بھی خوف جھانک رہا تھا۔ میں سخت حیران تھا۔ سادھو کچھ دیر تذبذب کے عالم میں کھڑا رہا پھر اسکی غضبانک آواز کمرے میں گونجی۔
’’تو بھی دو شبد (لفظ) جانتا ہے۔ پرنتو تجھے میری شکتی سے جانکاری نہیں ہے۔ میں چاہوں تو اسی سمے تجھے نرک میں بھیج دوں پرنتو۔۔۔مجھے دیوی کا دھیان ہے۔ اس کی آگیا کا پالن کرنا میرا دھرم ہے۔۔۔پرنتو تجھے کشٹ نہ دینا اب میرے بس سے باہر ہے ‘‘ یہ کہہ کر اس نے منہ ہی منہ میں کچھ بدبدانا شروع کردیا۔ اس کے موٹے بھدے ہونٹ ہل رہے تھے۔ ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کہ میری آنکھوں نے ایک اور حیرتناک منظر دیکھا۔ تھانے دار ہاتھ میں چھڑی لئے ایک طرف کھڑا اپنے استاد کی طرف دیکھ رہا۔ اچانک اس کے ہاتھ سے چھڑی نکلی اور اسی کے جسم پر پڑنے لگی۔ چھڑی مارنے والا ہاتھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن کوئی چھڑی سے تھانے دار کی پٹائی کر رہا تھا۔ چھڑی ہوا میں لہرا لہرا کر اس کے جسم کے مختلف حصوں پر پڑ رہی تھی۔
جیسے ہی چھڑی اس کے جسم سے ٹکراتی اس کے منہ سے کربناک چیخ نکلتی۔ وہ کمرے میں بھاگ رہا تھا۔ چھڑی سے بچنے کے لیے کبھی وہ ہاتھ اپنے چہرے کے سامنے کرتا کبھی انہیں اپنی پیٹھ پر رکھ لیتا۔
سادھو پڑھنا بھول کر اپنے چیلے کی درگت بنتی دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر وہ آنکھیں کھولے دیکھتا رہا پھر دوبارہ آنکھیں بند کرکے پڑھنا شروع کر دیا۔ تھانے دار دوڑتے دوڑتے سادھو سے جا ٹکرایا۔ اچانک اس کے جسم میں آگ لگ گئی۔ وہ کسی ذبح ہوتے بکرے کی طرح ڈکرایااور زمین پر گر پڑا۔ آناً فاناً آگ نے اسے پوری طرح گھیر لیا ۔کمرے میں گوشت جلنے کی چراند پھیل گئی۔ اس کے منہ سے دلخراش چیخیں نکل رہی تھیں۔ سادھو اسے بے بسی سے جلتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنی جگہ بالکل منجمد ہوگیا تھا۔ گوشت جلنے کی بدبو ناقابل برداشت ہوگئی تھی۔ میں بری طرح کھانس رہا تھا۔ تھانے دار کے منہ سے اب کراہیں نکل رہی تھیں۔ چند لمحوں کے بعد وہ ساکت ہوگیا۔ اس کا دھواں دیتا جسم بے جان پڑا تھا۔ سادھو نے اپنا ہاتھ ہوا میں بلند کیا اور تھانے دار کی طرف کرکے جھٹک دیا لیکن وہ ہر قسم کی مدد سے بے نیاز ہو چکا تھا۔ کمرہ گوشت کی چراند سے بھر چکا تھا۔
میرے پیٹ میں گرہیں پڑنی شروع ہوگئیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ابھی قے ہو جائے گی کہ ایک بار پھر گلاب کی خوشبو کمرے میں پھیل گئی ۔اب گوشت جلنے کی بدبو کے بجائے گلاب کی مہک میری نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی۔ اچانک میں نے سادھو کو بری طرح چونکتے دیکھتا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے گردن گھما کر کمرے میں چاروں طرف دیکھا۔
’’تو مجھے یوں جل دے کرنہیں جا سکتا۔۔۔میرے چیلے کی ہتھیا کرکے کہاں بھاگ رہا ہے پاپی! میرے سامنے آ۔۔۔ آج معلوم پڑے گاگوکن بلوان ہے؟ یدی تجھ میں ہمت ہے توسامنے آ۔۔۔تو جانتا تھا وہ تونے کر لیا اب۔۔۔میری باری ہے‘‘ وہ کمرے میں چاروں طرف دیکھ کر بری طرح دھاڑ رہا تھا۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا وہ کسے ڈھونڈ رہا ہے ۔ شاید وہ اسی ہستی کو تلاش کر رہا تھا جس نے اس کے چیلوں اور سپاہی کی یہ حالت کی تھی۔
’’فاروق خان! آج تو مجھ سے بچ کر نہیں جا سکتا‘‘ وہ جز بز ہو کر بولا۔ میں اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا لیکن وہ شاید مجھے دیکھنے سے قاصر تھا۔
’’یدی تو اتناہی بلوان(طاقت ور) ہے تو بھاگ کیوں رہا ہے قائر(بزدل) میں کیول دیوی کے کارن تجھے کشٹ نہیں دے رہا ورنہ کبھی کا تجھے نرکھ میں بھیج دیتا۔‘‘ وہ چلایا۔
کمرے میں گلاب کی خوشبو بڑھتی جا رہی تھی ۔ اچانک مجھ پر غنودگی طاری ہونے گلی سارا منظر دھندلا گیا پھر مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔
دوبارہ جب میری آنکھ کھلی تو میں اپنے کمرے بیڈ پرلیٹا ہوا تھا۔ صائمہ کارپٹ پر بچھی جائے نماز پر بیٹھی کچھ پڑھ رہی تھی۔ میں جلدی سے اٹھ بیٹھا۔ مجھے اٹھتے دیکھ کر وہ لپک کر میرے پاس آگئی۔
’’اب کیسی طبیعت ہے؟ فاروق‘‘ وہ میرے اوپر جھکی پوچھ رہی تھی۔
’’مم ۔۔۔میں یہاں کسیے آگیا؟ میں تو تھانے میں تھا وہ۔۔۔وہ کمبخت سادھو۔۔۔‘‘ اچانک میں بولتے بولتے رک گیا۔ صائمہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھ رہی تھی۔ اس نے میرے چہرے پر پھونک ماری اور پیار سے کہنے لگی۔
’’فاروق! آپ جلد اچھے ہو جائیں گے، انشاء اللہ‘‘
’’مجھے کیا ہوا تھا؟‘‘
’’آپ کو بخار ہوگیا تھا۔ شاید آپ ٹھنڈ میں پھرتے رہے ہیں۔ جب موسم بدلتا ہے تو بہت احتیاط کرنا پڑتی ہے آپ تو اپنی صحت کی طرف سے بالکل بے پرواہ ہو جاتے ہیں‘‘ وہ پیار سے میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔
’’صائمہ کچھ بتاؤ تو سہی میں تویہاں سے کئی میل دور ایک قصبے کے تھانے میں تھا۔ یہاں مجھے کون لایا ہے؟‘‘ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ صائمہ نے جواب دینے کے بجائے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر ایک بوتل اٹھائی اور اس میں سے دو چمچ میں ڈال کر میرے منہ کے قریب لے آئی۔ میں نے دیکھا بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر دواؤں کی کافی ساری بوتلیں پڑی تھیں۔ میں نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا۔
’’دوا پی لیں انشاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ آپ دماغ پر زیادہ بوجھ نہ ڈالیں دیکھیں کتنے کمزور ہوگئے ہیں۔‘‘ اس نے بجائے میرے سوال کا جواب دینے کے مجھے تسلی دی۔ میں نے منہ کھول کر دوا پی لی۔ آنکھیں بری طرح جل رہی تھیں۔
’’بچے کہاں ہیں؟‘‘ میں نے ادھر ادھر دیکھا۔
’’سو رہے ہیں اس کمرے میں‘‘ اس نے دوسرے بیڈ روم کی طرف اشارہ کیا۔
’’شکر ہے آپ کا بخار ہلکا ہوا۔ دو دن سے تو میری جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔‘‘
’’دو دن سے۔۔۔؟‘‘ میں حیران رہ گیا۔
’’ہاں جب پرسوں آپ آئے تو بخار میں پھنک رہے تھے۔ میں تو بری طرح گھبرا گئی تھی۔ اللہ بھلا کرے پروفیسر صاحب کا ، اسی وقت ڈاکٹر کو لے آئے۔ اس نے ٹمپریچر چیک کیا تو105تھا۔ وہ بھی پریشان ہوگئے اور آپ کو ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔ ہم لوگ فوراً آپ کو ہسپتال لے گئے۔ آپ پورے دو دن بے ہوش رہے۔ کسی طور آپ کا بخار نہیں اتر رہا تھا۔ ساری رات سسٹرز آپ کو ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرتی رہیں۔ ڈاکٹرز آپ کی بے ہوشی کی وجہ سے سخت پریشان تھے۔ میرا تو رو رو کر برا حال ہوگیا تھا۔ نازش کو جیسے معلوم ہوا فوراً آگئیں۔ بچوں کو سنبھالا۔ آنٹی بھی میرے ساتھ تھیں تھوڑی دیر پہلے گئی ہیں۔ عمران بھائی اور نازش نے اس مشکل وقت میں بڑا ساتھ دیا ہے۔ رات بخار کچھ ہلکا ہوا تو ڈاکٹرز مطمئن ہوئے اور انہوں نے آپ کو گھر لے جانے کی اجازت دے دی۔‘‘
وہ بتا رہی تھی۔۔۔دوا میں شاید نشہ تھا مجھے تھوڑی دیر بعد نیند آگئی۔ دوسرے دن میں اٹھا توطبیعت پہے سے بہتر بس سر میں ہلکا سا درد تھا۔ میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو صائمہ میرے پاس ہی کرسی پر بیٹھی سو رہی تھی۔ نہ جانے وہ بے چاری کتنے دنوں سے نہیں سوئی تھی۔ میں نے پیار سے اسکی طرف دیکھا۔ سوتے ہوئے وہ بہت معصوم اور حسین لگ رہی تھی۔ اتنی خوبصورت بیدی کے ہوتے ہوئے بھی میں کن خرافات میں الجھ گیاتھا؟ چمپا کا ملنا، پھر پولیس کا مجھے گرفتار کرنا اس کے بعد تھانے اور سپاہیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا۔ وہ سب میرے ذہن میں تازہ ہوگیا گزرے واقعات پر میں اب تک حیران تھا؟ ہو سکتا ہے بخار کی وجہ سے مجھے لاٹے سیدھے خواب دکھائی دیتے رہے ہوں۔ میرے دل میں خیال آیا۔ مجھے ہلکی سی کھانسی ہوئی جس کی آواز سے صائمہ کی آنکھ کھل گئی۔ وہ لپک کر میرے قریب آگئی۔
’’آپ جاگ گئے؟ کیسی طبیعت ہے اب آپ کی؟‘‘ اس نے میرے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔’’شکر ہے آپ کا بخار تو اترا۔‘‘
سارے واقعات ایک بار پھر میرے ذہن میں تازہ ہوگئے۔ میں نے سوچا کہیں ایسا تو نہیں کہ بخار کی وجہ سے میں نے کوئی خواب پریشان دیکھا؟سر کو جھٹک کر میں نے خیالات سے پیچھے چھڑایا۔ شام تک بخار مکمل طور پر اتر گیا۔ رات کو میں جلدی ہی سو گیا شاید نیند کی دوا کا اثر تھا۔ دوسرے دن میں پوری طرح فریش تھا صائمہ نے بتایا کہ اس نے عمران سے کہہ کر ایک ہفتے کے لیے چھٹی کی درخواست بھجوا دی ہے۔‘‘
’’اگر آپ کی طبیعت ٹھیک نہ ہو تو میں بچوں کو سکول چھوڑ آتی ہوں‘‘ اس نے کھڑی پر جھکتے ہوئے کہا۔
’’نہیں میں اب بالکل ٹھیک ہوں تم پہلے ہی میری وجہ سے بڑی پریشانی اٹھا چکی ہو‘‘ میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور باہر نکال لایا۔ احد نے سٹیریو کا بٹن دبایا تو میں بری طرح چونک گیا۔ وہی کیسٹ تھی جو چمپانے لگائی تھی شاید وہ جلدی میں نکالنا بھول گئی تھی۔
۔ کیا وہ سب کچھ حقیقت تھا جسے میں بخار کی حالت کی وجہ سے خواب سمجھ رہا تھا۔ میں نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر ٹیپ بند کر دی۔
’’بابا آپ نے ٹیپ کیوں بند کر دیا‘‘ احد نے دوبارہ ٹیپ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
’’بیٹا! صبح صبح گانے نہیں سنتے‘‘ میں نے بات بنائی۔ اتنے میں ان کا سکول آگیا وہ مجھے خدا حافظ کہہ کر بھاگتے ہوئے سکول میں داخل ہوگئے۔ مومنہ کا پانی والا فلاسک گاڑی میں رہ گیا تھا۔ میں نے سوا اسے دے آؤں جیسے میں نے فلاسک اٹھایا میری نظر انگوٹھی پر پڑی۔ جو سیٹ کے آگے پائیدان پر پڑی تھی۔ یہ انگوٹھی چمپا کی انگلی میں تھی۔ میں سن ہو کر رہ گیا۔ جلدی سے انگوٹھی اٹھائی اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔ دیکھنے میں انگوٹھی کافی قیمتی نظر آرہی تھی لیکن غور کرنے پر پتا چلا آرٹیفشل ڈائمنڈ ہے۔ میں نے انگوٹھی کھڑکی سے باہر پھینک دی اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
اگر وہ سب کچھ خواب نہیں تھا تو پھر۔۔۔؟ ان وحشیوں سے میری جان بچانے والا نادیدہ نجات دھندہ کون تھا؟ خدا جانے کیا ہو رہا تھا؟ اس شہر میں آنے کے بعد پے در پے ایسے واقعات ہوتے آئے تھے کہ میری عقل سلب ہو کر رہ گئی تھی۔ ذہن کے پردے پر ایک بار پھر سارے واقعات کسی فلم کی طرح چلنے لگے۔ چمپا کا ملنا یقیناً اس منحوس سادھو کا حسین جال تھا جسمیں میں پھنستا چلا گیا۔ سادھو کے جنگل سے مجھے چھڑانے والاکون تھا؟ اگر وہ نادیدہ ہستی جو میری محسن تھی۔ اس کڑے وقت میری مدد نہ کرتی تو نہ جانے وہ بھیڑئیے میرا کیا حشر کرتے؟
یہ سوچ کر میں کانپ اٹھا ۔ سارا دن انہیں خیالات نے ذہن پراگندہ کیے رکھا پر کسی بات کی سمجھ نہ آئی ہاں سر درد بڑھ گیا۔ میں نے سر جھٹک کر خیالات سے پیچھا چھڑایا۔ ابھی میری چند چھٹیاں باقی تھیں۔ دو دن بعد کی بات ہے کوئی آدھی رات کا عمل ہوگا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ کوئی میرے اوپر جھکا ہوا تھا ۔ کمرے میں زیرو پاور کا بلب جل رہا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا ، صائمہ تھی۔ میں چونک کر اٹھنے لگا تو اس نے پیار سے میرے کندھوں کو تھام کر مجھے دوبارہ لٹا دیا۔ کمرے کی خاموشی میں اس کی تیز سانسوں کی آواز مجھے واضح طور پر سنائی دے رہی تھی۔
’’کیا بات ہے صائمہ! نیند نہیں آرہی؟‘‘ میں نے بمشکل آنکھیں کھولتے ہوئے پوچھا۔۔
’’آپ کے بغیر مجھے کہاں نیند آتی ہے؟‘‘ اس کی آواز خمار آلود تھی۔
’’تو آؤ۔۔۔آکر میری بانہوں میں سو جاؤ۔‘‘ میں اب مکمل طور پر جاگ گیا تھا۔ وہ جیسے اشارے کی منتظر تھی۔ یکدم میرے سینے پر گر گئی۔ اچانک کمرے میں اس کی گھٹی گھٹی چیخ گونج اٹھی۔ وہ جھٹکے سے یوں پیچھے ہٹی جیسے اسے کرنٹ لگ گیا ہو۔ اب وہ بیڈ سے کچھ فاصلے پر کھڑی سینے کو یوں مسل رہی تھی جیسے اسے شدید تکلیف ہو رہی ہو۔ میں جلدی سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھا۔
’’دور رہو مجھ سے ۔۔۔‘‘ وہ بدک کر مجھ سے دور ہٹ گئی۔
’’کیا بات ہے صائمہ! کیا ہوا؟‘‘ میں نے حیران رہ گیا۔
’’یہ تم نے گلے میں کیا پہناہوا ہے؟‘‘ اس نے کراہتے ہوئے پوچھا۔ میں نے اپنے گلے کی طرف دیکھا۔ بینک میں شریف کے تاکید کرنے پر گھر آکر میں نے وہ تعویز پہن لیا تھا جو مجھے شریف کے والد صاحب نے دیا تھا۔
’’اوہ۔۔۔میں تمہیں بتانا بھول گیا۔۔۔یہ تعویز مجھے ایک بزرگ نے عطا کیا ہے نظر بد و آفات سے حفاظت کی خاطر‘‘ میں نے سچ اور جھوٹ کر ملایا۔
’’اسے اتار دو ‘‘ صائمہ نے بڑی بیزاری سے کہا۔ میں چونک گیا آج وہ بار بار مجھے ’’تم‘‘ کہہ کر مخاطب کر رہی تھی حالانکہ میری معاملے میں اسے ادب آداب کا بہت خیال رہتا۔
’’صائمہ! آخر کیا وجہ ہے تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟‘‘ میں الجھ گیا۔
’’میرے ساتھ زیادہ بحث نہ کرو جیسا کہہ رہی ہوں ویسے ہی کرو ۔ اس نے کسی قدر سختی سے کہا۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کے شانے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی تو وہ چیخ کر بولی۔
’’فاروق ! میں کہہ رہی ہوں میرے قریب آنے کی کوشش نہ کرو‘‘ ایک بار پھر وہ مجھ سے دورہٹ گئی۔ اس بار مجھے بھی غصہ آگیا۔
’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہیں یہ تعویز کیا تکلیف دے رہا ہے؟‘‘
’’جب تک تم اسے اپنے سے دور نہیں کرو گے میں تمہارے پاس نہیں آؤں گی‘‘ وہ غصے سے بولی اور دھڑ سے دروازہ بند کرکے باہر نکل گئی۔ میں حیران رہ گیا۔ صائمہ نے آج تک کبھی ایسا رویہ میرے ساتھ نہ اپنایا تھا۔ دیر تک مجھے نیند نہ آئی۔’’صائمہ کو کیا ہوگیا ہے ایسے تو اس نے کبھی نہ کیا؟‘‘ میں یہی سوچتا رہا۔’’صبح اس سلسلے میں ضرور اس سے بات کروں گا۔ ‘‘ یہ سوچ کر میں مطمئن ہوگیا۔ نہ جانے کب مجھے نیند آئی۔ دوسرے دن جب صائمہ نے مجھے جگایا تو دن کے گیارہ بج رہے تھے۔ اس کے ہونٹوں پر حسب معمول دلآویز مسکراہٹ تھی چہرہ کسی تازہ گلاب کی طرح کھلا ہوا تھا.
’’خان صاحب! بہت دیر سو لیا اب اٹھ جائیں۔ رات بھی آپ نے تھوڑی سی کچھڑی کھائی تھی اس طرح پیٹ خالی رہے گا تو کمزوری کیسے رفع ہوگئی؟ اس کے لہجے میں میرے لئے وہی پیار اور خلوس تھا جو ہمیشہ ہوتا تھا۔ میں بری طرح الجھ گیا کل رات اس کا اصرار کرنا کہ مٰں تعویز اتار دوں میری سمجھ سے باہر تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ صائمہ اس بات سے خوش ہوتی کہ بغرض حفاظت میں نے اسے پہنا ہوا ہے الٹا وہ ناراض ہو کر اسے اتار دینے پر اصرار کر رہی تھی۔ نہ سمجھ آنے والی بات تھی۔ اسی ایک بات پر کیا موقوف اب تک پیش آنے والے سارے واقعات میری سمجھ سے باہر تھے۔ میں نے سر جھٹک کر خیالات سے پیچھا چھڑایا اور باتھ روم میں گھس گیا۔ غسل سے فارغ ہو کر میں ناشتے کی میز پر پہنچا جہاں دیسی گھی کے پراٹھوں سے اٹھتی اشتہا انگیز خوشبو میرا استقبال کر رہی تھی۔
’’آج سے پرہیزی کھانا ختم‘‘ صائمہ مجھے حیرت سے پراٹھوں کو تکتے دیکھ کر مسکرائی۔
’’ہر قسم کا پرہیز ختم۔۔۔؟‘‘ میری معنی خیز نظروں کا مفہوم جان کر وہ شرم سے گلابی ہوگئی۔
’’بہت خراب ہیں آپ‘‘ گلابی گال دہک اٹھے۔
میری بیماری کی وجہ سے وہ مجھ سے گریزاں رہی تھی اس پر میں نے کہا تھا۔ بے چاری ان دنوں گھر کاکام بھی سنبھالتی اور بچوں کو سکول لانے لے جانے کی ڈیوٹی بھی نبھا رہی تھی۔ دوسرے دن سے میں نے ڈیوٹی پر جانا شروع کر دیا۔ اس دن میں شام کو میں بینک سے واپس آیا تو دیکھا بچے لان میں ایک خوبصورت سی سفید رنگ کی بلی سے کھیل رہے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی دونوں اکٹھے چلائے۔
’’بابا! دیکھیں کتنی پیاری کیٹی ہے یہ اب ہماری ہے‘‘ میں نے دیکھا بلی واقعی بہت خوبصورت تھی۔ سفید رنگ پر اس کی نیلی آنکھیں بہت بھلی لگ رہی تھی بالکل کانچ کی طرح۔ روئی کے گالوں جیسے ملائم بال۔ وہ بڑے غور سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ پھر آہستہ سے چلتے ہوئے میرے قریب آئی او ٹانگوں سے لپٹنے لگی۔ وہ بار بار منہ اٹھا کرمیری طرف دیکھتی اور منہ سے آواز نکالتی ’’میاؤں۔‘‘ میں نے بچوں سے پوچھا۔’’بیٹا ! یہ بلی کہاں سے آگئی؟‘‘
’’بابا یہ ہماری فرینڈ بن گئی ہے۔ ‘‘ انہوں نے معصومیت سے جواب دیا۔ اتنے میں صائمہ اندر سے نکل آئی۔ مسکرا کر میری طرف دیکھا اور میرے ہاتھ سے بریف کیس لیتے ہوئے کہا۔
’’بچے سکول سے آنے کے بعد کھانا کھا کر لان میں کھیلنے لگے تو یہ کہیں سے نکل کے ان کے پاس آگئی۔ پہلے تو میں ڈری کہ کہیں ان کو نقصان نہ پہنچا دے لیکن جب اسے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو مطمئن ہوگئی۔‘‘
میں نے مسکرا کر بچوں کو دیکھا اور اندر کی طرف دقدم بڑھائے کہ بلی نے اچانک چھلانگ لگائی اور میرے کندے پر سوار ہونے کی کوشش کرنے لگی میں چونکہ اپنے دھیان میں تھا اس لی گرتے گرتے بچا۔ بڑی مشکل سے خود آپ کو سنبھالا۔ اسکے بنچوں پر لگی مٹی سے میرا کوٹ خراب ہوگیا۔ اس کا وزن عام بلیوں سے کہیں زیادہ تھا۔ میں نے اسے اتارنا چاہا لیکن وہ میرے ساتھ چمٹ گئی۔ اب صورتحال یہ تھی کہ وہ بنجوں کے بل میری ٹائی سے لٹکی ہوئی تھی۔ مجھے بہت الجھن ہو رہی تھی۔ میں جتنی کوشش اسے اتارنے کے لیے کرتا وہ اتنی چپکی جا رہی تھی۔ بچوں کیلئے یہ ایک تماشا تھا وہ تالیاں بجا رہے تھے۔ اور بار بار ’’کیٹی کیٹی‘‘ کہہ کر اسے پکار رہے تھے۔ میں عجیب الجھن میں پھنس گیا تھا۔ صائمہ بھی ہنس پڑی’’لگتا ہے اسے آپ پسند آگئے ہیں۔‘‘
’’بلی نے مزید ہمت کی اور میرے کندھے پر یوں چڑھ کر بیٹھ گئی جیسے مداری کے کندھے پر بندر۔ وہ بڑے پیار سے میرے چہرے سے اپنا منہ مل رہی تھی۔ مجھے بلیوں یا کتوں سے کوئی خاص لگاؤ کبھی نہیں رہا آخر کار نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اسے زبردستی پکڑ کر نیچے اتار دیا۔ وہ پھر میری ٹانگوں سے لپٹنے لگی۔ اسے دوبارہ اوپر چڑھنے کی کوشش کرتے دیکھ کرمیں جلدی سے پیچھے ہٹ گیا۔ لیکن بلی میرا پیچھا چھوڑنے کے لیے تیار ہی نہ تھی۔ میں سختی سے اسے مارنے سے اس لئے گریز کر رہا تھاکہ میں نے ایک حدیث شریف کا مفہوم پڑھا تھا کمی بیشی پر اللہ کریم معاف کرے۔
’’اگر بلی تمہارا کوئی بہت زیادہ نقصان کر دے اور تمہیں غصہ آئے تو اسے روئی کے گالے سے مارو۔‘‘
غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کوئی ضرب بھی نہ پہنچے گی اور تمہارا غصہ بھی اتر جائے گا۔ بلی بغور میری طرف دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔ وہ پھر چھلانگ لگانے کی تیاری کررہی تھی کہ صائمہ نے جلدی سے آگئے بڑھ کر اپنے پاؤں سے اسے پیچھے دھکیلا اسے صائمہ کی حرکت شاید بری لگی تھی وہ یکدم مڑی اور کسی خونخوار درندے کی طرغرا کر صائمہ پر جھپٹی۔ صائمہ چیخ کر میرے پیچھے چھپ گئی۔ اب بلی اسے بڑی قہر آلود نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’نہیں ماما! ہم کیٹی سے کھیلیں گے‘‘ مومنہ نے بلی کے قریب بیٹھ کر اسکی پیٹھ پرہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ صائمہ ڈر رہی تھی کہ وہ کہیں وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا دے لیکن بلی نے بچوں کو کچھ نہ کہا بلکہ وہ آرام سے میرے قدموں میں بیٹھ گئی اور اپنی دم یوں میری ٹانگ سے لپیٹ لی جیسے وہ نہ چاہتی ہو میں کہیں جاؤں۔ بچے بالکل اس کے پاس بیٹھے اسکی پیٹھ پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور وہ بڑے آرام سے بیٹھی ہوئی تھی محسوس ہی نہ ہو رہا تاکہ ابھی کچھ دیر پہلے اس نے صائمہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہو۔
’’کھیلنے دو انہیں تھوڑی دیر بعد آجائیں گے‘‘ میں اندر کی طرف بڑھا۔ میرے پیر ہلاتے ہی بلی کھڑی ہوگئی اور میرے ساتھ اندر کی طرف بڑھنے لگی صائمہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اندر داخل ہو۔ اس لئے جیسے ہی میں اندر داخل ہوا اس نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا۔ بلی نے اس سے زیادہ پھرتی دکھائی اور جمپ لگا کر مجھ سے پہلے ہی اندر داخل ہوگئی۔ بچے بھی ہمارے پیچھے آگئے۔ وہ بھاگتی ہوئی ڈرائنگ روم میں چلی گئی۔ بچے اس کے پیچھے بھاگ گئے۔ میں فریش ہونے کے لئے باتھ روم میں گھس گیا۔ نہا کر نکلا تو صائمہ حسب معمول چائے بناکر لے آئی تھی۔
ڈرائنگ روم سے بچوں کے چلانے اور کھیلنے کی آوازیں آرہی تھیں۔’’چلو بچوں کے ہاتھ ایک اچھا کھلونا آگیا ہے یہ اس کے ساتھ مصروف رہیں گے۔‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
”کہیں بچوں کو کاٹ ہی نہ لے“ صائمہ نے خدشہ ظاہر کیا۔
”ارے نہیں بھئی، بلیاں اتنی خونخوار نہیں ہوتیں“ میں نے اسے تسلی دی۔
”ابھی دیکھا نہیں تھا کیسے مجھے کاٹنے لگی تھی….؟“
میں چائے پی کر بیڈ پر لیٹ گیا صائمہ چائے کے برتن کچن میں رکھ آئی اور میرے پاس بیٹھ گئی ۔ کچھ دیر بعد بچے بلی سمیت اندر آگئے۔
”ماما! کیٹی بھی ہمارے ساتھ سوئے گی“ مومنہ نے کہا۔
”نہیں بیٹا! چلو اسے باہر نکالو ، بلیاں بیڈ پر نہیں رات کو اپنے گھر میں سوتی ہیں۔ اس بے چاری کے بچے اس کا ویٹ کر رہے ہوں گے۔“ صائمہ نے ان کو سمجھایا۔ بلی نے میاﺅں کی آواز نکالی اور وہیں کارپٹ پر بیٹھ گئی۔ اسکا یہاں سے جانے کا موڈ بالکل نہیں تھا۔
”کتنی ڈھیٹ بلی ہے“ صائمہ نے اسے گھورا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا بلی نے بالکل انسانوں کے انداز سے صائمہ کو گھورا اور باقاعدہ غرانے لگی۔ شاید اسے صائمہ کی بات سن کر غصہ آگیا تھا۔ وہ صائمہ کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے غصے اور نفرت کا ملا جلا اظہار ہو رہا تھا۔ میں نے آج تک ایسی بلی نہ دیکھی تھی۔ اس کے چہرے سے باقاعدہ تاثرات کا اظہار ہو رہا تھا۔ صائمہ نے آتش دان سے راکھ کریدنے والی سلاخ اٹھائی اور جیسے ہی بلی کے قریب آئی وہ کھڑی ہو کر غرانے لگی۔ صائمہ نے زور سے سلاخ فرش پر ماری تاکہ بلی بھاگ جائے لیکن وہ بجائے ڈرنے کے اپنی جگہ پر کھڑی رہی۔
”کس قدر ڈھیٹ ہے یہ تو“ صائمہ نے دوبارہ سلاخ کو کارپٹ پر مارا۔ مجھے بلی کی آنکھوں سے قہر ٹپکتا نظر آیا۔ چھٹی حس نے جیسے مجھے خطرے سے آگاہ کیا بجلی کی تیزی سے میں نے صائمہ کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ وہ اپنے دھیان اسے بھگانے پر لگی ہوئی تھی میرے اوپر آن گری۔ اچانک بلی نے صائمہ پر چھلانگ لگا دی تھی اگر میں ایک لمحہ بھی دیر کرتا تو وہ اس کے حسین چہرے کو اپنے نوکیلے پنجوں سے ادھیڑ کر رکھ دیتی۔
بلی اپنے زور میں بیڈ کی دوسری طرف جا گری اب مجھے بھی غصہ آگیا۔ صائمہ کو ایک طرف کرکے میں نے سلاخ اس کے ہاتھ سے لے لی اور بلی کو ڈرانے کے لیے اسے بلند کیا۔
”فاروق دھیان سے یہ تو بہت خطرناک بلی ہے۔“ صائمہ کی سہمی ہوئی آواز آئی۔ بلی فوراً میری ٹانگوں سے لپٹ گئی۔ میں جلدی سے پیچھے ہٹا کہ کہیں یہ میری ٹانگ پر نہ کاٹ لے لیکن اس کے انداز میں پیار تھا وہ بار بار اپنا جسم میری ٹانگوں سے رگڑتی تھی اور منہ سے میاﺅں میاﺅں بھی کر رہی تھی۔
دونوں بچے بھی سہم کر اس کی طرف دیکھ رہے تھے جس انداز سے اس نے غراتے ہوئے صائمہ پر حملہ کیا تھا اس بات سے بچے ڈر گئے تھے۔ میں نے سلاخ ایک طرف رکھ کر اسے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور باہر لے گیا۔ جب میں اسے لان میں چھوڑ کر واپس آنے لگا تو اس نے بڑے زور سے میاﺅں کیا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اندھیرے میں اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ یوں تو سب ہی جانوروں کی آنکھیں اندھیرے میں چمکتی ہیں لیکن وہ چمک اور طرح کی ہوتی ہے۔ اس بلی کی آنکھوں سے جو روشنی نکل رہی تھی وہ بالکل سفید تھی۔ چاندنی جیسی اور عجیب بات یہ تھی کہ روشنی اس کی آنکھوں سے بالکل ایسے خارج ہو رہی تھی جیسے ٹارچ سے نکلتی ہے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کی آنکھوں سے نکلنے والی روشنی کی شعاع میرے چہرے پر یوں پڑ رہی تھی جیسے دودھیا روشنی والی ٹارچ جلا کر کوئی میرے چہرے پر روشنی ڈال رہا ہو۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ مجھے اردگرد کا کوئی ہوش نہ تھا۔ صائمہ کی آواز نے مجھے بری طرح چونکا دیا۔ وہ میرے پیچھے کھڑی کہہ رہی تھی
”فاروق اندر آئیں کیوں سردی میں کھڑے ہیں؟“ میں جلدی سے اندر آگیا صائمہ اور بچوں کے سونے کے بعد میں بھی دوسرے کمرے میں جا کر سو گیا۔ آدھی رات کا عمل ہوگا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ ابھی میں جاگنے کی وجہ سمجھ نہ پایا تھا کہ مجھے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا میں نے چونک کر دیکھا تو صائمہ تھی۔
”صائمہ وہاں کیوں کھڑی ہو؟ ادھر آﺅ میرے پاس“ میں نے اسے آواز دی۔ اس نے مڑ کر میری طرف دیکھا پھر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
”صائمہ….!“ میں نے دوبارہ اسے پکارا۔ وہ اسی طرح کھڑی رہی۔ میں بیڈ سے اتر کر اس کی طرف بڑھا۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔
”میں نے تم سے کل بھی کہا تھا کہ اس تعویز کو اتار دو جو تمہیں اس بوڑھے نے دیا ہے لیکن تم نے میری بات نہیں مانی“ اس نے بڑی رکھائی سے کہا۔
”یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے صائمہ! تم کس طرح بات کر رہی ہو؟ تمہیں معلوم ہے وہ کس قدر نیک انسان ہیں؟ میں نے کل بھی تمہاری بات کو نظر انداز کر دیا تھا آج پھر تم وہی بات کر رہی ہو۔ مجھے بتاﺅ یہ تعویز تمہیں کیا تکلیف دے رہا ہے؟“ اس بار میں برداشت نہ کر سکا اور شاید زندگی میں پہلی بار بڑے تلخ لہجے میں اس سے مخاطب ہوا۔
”میں کچھ نہیں جانتی مجھے اس قسم کی چیزوں سے الجھن ہوتی ہے جب تک یہ تمہارے گلے میں ہے میں تمہارے قریب نہیں آﺅں گی۔“ اس نے تلخی سے کہا اور کل رات کی طرح دروازہ دھاڑ سے بند کرکے باہر چلی گئی۔ میں گنگ سا کھڑا دیکھتا رہا لیکن نہ اسے روکا اور نہ پیچھے گیا سوچا صبح اس معاملے میں اس سے تفصیل سے بات کروں گا۔
دوسری صبح آنکھ دیر سے کھلی بچوں کے سکول کا ٹائم ہو رہا تھا تاس لیے میں نے اس معاملے کو شام تک ملتوی کرتے ہوئے باہر کی راہ لی۔ شام کو میں بھول گیا یوں یہ بات ٹل گئی۔ صائمہ بچوں کو ہوم ورک کروا رہی تھی اور میں شام کا اخبار دیکھ رہا تھا۔
”ارے یہ منحوس ابھی تک یہیں ہے۔“ صائمہ نے اچانک کہا۔
میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا۔ بلی جسے میں نے کل زبردستی کمرے سے باہر نکالا تھا شیشے سے چہرہ چپکائے بڑے غور سے صائمہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں صائمہ کے لیے اب بھی غصہ تھا۔ جب صائمہ نے اسے منحوس کہا تو وہ بڑے زور سے غرائی کھڑکی بند ہونے کی وجہ سے آواز تو سنائی نہیں دی لیکن اس کے نوکیلے دانت یہاں سے صاف دکھائی دے رہے
میں نے غور سے دیکھا اس کے دانت بھی عام بلیوں سے زیادہ لمبے اور نوکدار تھے۔ اس نے بڑے زور سے اپنا پنجہ شیشے پر مارا۔ مجھے ہنسی آگئی۔
ضرور پڑھیں:
’’تم سے سخت ناراض ہے۔‘‘
’’کیوں میں نے اس کا کیا بگاڑا ہے جو یہ مجھ سے ناراض ہے۔‘‘ صائمہ نے خفگی سے کہا۔
’’یہ تو تم دونوں ہی بہتر جانتی ہو کیونکہ تم بھی فی میل ہو اور یہ بھی‘‘ میں نے اسے چھیڑا۔ میری بات پر وہ مسکرا دی۔ دوسرے دن میں بچوں کو سکول چھوڑ کر بینک جا رہا تھا چانک پچھلی سیٹ سے کھڑپھڑکی آواز سنائی دی میں نے بیک مرر میں دیکھا تو دنگ رہ گیا۔
رات والی بلی بڑے مزے سے پچھلی سیٹ پر کھڑی تھی جیسے ہی میری نظر اس پر پڑی وہ کود کر اگلی سیٹ پر آئی اور میرے قدموں میں بیٹھ گئی۔ مجھے کچھ الجھن تو محسوس ہوئی لیکن میں نے اسے کچھ نہ کہا اور گاڑی چلاتا رہا۔ راستے میں ایک سڑک ایسی بھی آیا کرتی جس کے کنارے آبادی کی بجائے کھیت تھے۔ میں اسی سڑک پر جا رہا تھا کہ اچانک ایک موڑ مڑاتو بری طرح چونک گیا۔
سڑک کے بیچوں بیچ وہی منحوس سادھو کھڑا تھا۔۔۔سادھو امر کمار۔۔۔میں نے بریک پر پاؤں رکھا گاڑی بڑی مشکل سے اس سے چند گز کے فاصلے پر رک گئی۔ اگر میں بروقت بریک نہ لگاتا تو شاید وہ گاڑی کے نیچے آکر کچلا جاتا۔ اس کے ہونٹوں پر پراسرار مسکراہٹ تھی۔ لمبی سی مالا کے دانوں پر انگلیاں تیزی سے حرکت کر رہی تھیں۔ مجھے شدید غصہ آیا ابھی میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ بلی اچانک اچھل کر میرے پاؤں سے نکلی اور ساتھ والی سیٹ پر کھڑی ہوگئی۔ اس کے جسم کے سارے بال کھڑے ہوگئے تھے۔ وہ یک ٹک سادھو کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظر جیسے ہی بلی پر پڑی وہ بری طرح چونک اٹھا۔ مالا کے دانوں پر حرکت کرتی اس کی انگلیاں رک گئیں۔ ساتھ ہی بھدے ہونٹ بھی ساکت ہوگئے۔ وہ تیر کی طرح گاڑی کی طرف آیا اور دوسری طرف آکر شیشے کے ساتھ یوں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا جیسے ہندو لوگ عبادت کے وقت بتوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
’’دھن بھاگ(خوش قسمتی) ہمرے دیوی جی! آج تمارے درشن ہوگئے‘‘ اس کے ہونٹوں سے الفاظ نکلے۔ گاڑی کے شیشے بند ہونے کے باوجود اس کی آواز مجھے صاف سنائی دی وہ بلی سے مخاطب تھا۔ بلی ہلکے سے غرائی اس کے بڑے بڑے نوکیلے دانت خوفناک لگنے لگے۔ یکدم وہ خونخوار دکھائی دینے لگی۔ سادھو نے انگلی سے اشارہ کیا۔ حیرت انگیز طور پر گاڑی کا شیشہ یوں نیچے کھسک گیا جیسے الیکٹراک سسٹم والی گاڑی کا شیشہ بٹن دبانے پر نیچے ہو جاتا ہے۔ یہ سادھو کا دوسرا کرشمہ تھا جو میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس سے پہلے جب میں نے غصے میں آکر پتھر کی وزنی ایش ٹرے اس کے سر پر مارنے کے لیے پھینکی تھی تو وہ اس کے گنجے سر سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگئی تھی۔ آج اس نے صرف انگلی کے ایک اشارے سے شیشے کو نیچے کر لیا تھا۔ سادھو اور بلی ہر طرف سے بے نیاز ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ سادھو کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی جیسے اسے اس کی من پسند چیز دیکھنے کو مل گئی ہو۔ اس کے برعکس بلی کی آنکھوں سے قہر برس رہا تھا۔ اس قسم کی بلی میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی جو بالکل انسانوں کی طرح اپنے جذبات کے اظہار پرقادر تھی۔
گاڑی سڑک کے بیچ میں رکی ہوئی تھی۔ اس سڑک پر ٹریفک کا رش نسبتاً کم ہوتا تھا لیکن ایسا بھی نہ تھا کہ یہ بالکل ویران رہتی ہو۔ ہمیں اس حالت میں رکے ہوئے تقریبا پانچ منٹ ہوگئے تھے لیکن اس طرف کوئی گاڑی تو کیا پیدل انسان بھی نہ آیا تھا۔ہر طرف سکوت مرگ طاری تھا۔ اچانک بلی غرائی اور اس نے اپنا منہ شیشے سے باہر نکال کر سادھو کے چہرے کے قریب کر لیا۔ سادھو نے اس کی غراہٹ کوبغور سنا اور کہنے لگا۔
بہت تھوڑا سمے رہ گیا ہے دیوی جی! پھر تمہیں کالی ماتا کے اس سیوک کی داسی بننا ہی پڑے گا۔ جانے کب سے میں تیری راہ تک رہا ہوں؟ ورشوں میں نے تجھے پراپت(حاصل) کرنے کے کارن جاپ کیے ہیں۔ کتنے سادھو، سنت تیرے کارن جوگ لئے بیٹھے ہیں؟ پرنتو۔۔۔کالی ماتا نے مجھے وچن دیا ہے تو کیول سادھو امر کمار کی ہے۔ دیوی! کیوں اپنے اس داس کو اتنا تڑپا رہی ہے تیرا میرا تو جنم جنم سنگ رہنا بھاگیہ میں لکھا ہے۔‘‘ بلی ایک بار پھر غرائی۔
’’چلا جاؤں؟ تیرے ایک درشن کے کارن نہ جانے کتنی بار میں نے اس مسلے سے اپنا اپمان (بے عزتی) کرایا ہے۔ تھوڑا سمے رہ گیا ہے پھر تو میرے چرنوں میں ہوگی اور پورے سنسار میں سادھو امر کمار جیسا بلوان کوئی نہ ہوگا۔ ماتا نے مجھے وچن دیا ہے کہ وہ جلد ہی تجھے میری جھولی میں ڈال دے گی‘‘ سادھو بلی کی غراہٹ کے جواب میں بولا۔ وہ بلی سے یوں مخاطب تھا جیسے کسی انسان سے ہم کلام ہو۔ میں ہونقوں کی طرح دیکھ رہا تھا۔ اب بلی غرانے لگی تھ۔ سادھو غور سے سن رہا تھا اس کے ہونٹوں پر بڑی ہی معنی خیز مسکراہٹ تھی۔
’’دیوی جی ! اس مسلے میں کچھ نہیں رکھا۔ تیری قدر تو ہم جیسے سادھو جانت ہیں۔ اس مورکھ کو کیا کھبر کہ توکیا ہے؟‘‘
مجھے سادھو کی بات سن کر بہت غصہ آیا اس سے پہلے کہ میں اسے کچھ کہتا اچانک بلی نے سادھو پر حملہ کر دیا۔ شاید سادھو کا مجھے احمق کہنا اس کی ناراضگی کس سبب بنا تھا۔ وہ بجلی کے کوندے کی طرح لپکی اور اس سے جا ٹکرائی۔ ہٹا کٹا سادھو اچھل کر کئی فٹ پیچھے جا گرا۔ بلی نے زمین پر لوٹ لگائی۔ ایک بار پھر وہ اس پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔سادھو کی آنکھوں میں جیسے آگ کے الاؤ روشن ہوگئے۔ وہ پھرتی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اس کا سر اور جسم مٹی سے اٹ گئے تھے۔ مالا اسکے ہاتھ سے نکل نہ جانے کہاں جا گری۔ اس کی حالت کافی مضحکہ خیز ہو چکی تھی۔ جب وہ اٹھا تو غصے سے کانپ رہا تھا۔ اچانک اس نے اپنے ہاتھ کا رخ بلی کی طرف کر دیا جس میں سے آگ کا شعلہ نکل کر بلی کی طرف بڑھا۔ بلی نے چھلانگ لگائی اور سادھو کا وار خالی جانے دیا پھر ایک لمبی چھلانگ لگا کر کھیتوں میں اگی فصل میں غائب ہوگئی۔ سادھو بھی بجلی کی سی تیزی سے اس کے پیچھے لپکا۔ آناً فاناً دونوں میری آنکوں سے اوجھل ہوگئے۔ میں حیران و ششدر سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ ان کے غائب ہونے کے بعد مجھے ہوش آیا میں نے دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی اور چل پڑا۔
یہ سب کیا تھا؟ سادھو ایک معمولی سی بلی کو دیوی کیوں کہہ رہا تھا؟ اول تو اس کا بلی سے مخاطب ہونا ہی کچھ کم عجیب بات نہ تھی کجا کہ وہ اس سے باقاعدہ گفتگو کر رہا تھا۔ بلی کا طرز عمل بھی کچھ کم حیران کن نہ تھا۔
میں سارا راستہ یہی کچھ سوچتا رہا بینک پہنچنے تک میں نے اس سارے گھورک دھندے کا یہ حل نکالا کہ سادھو اپنے کسی ذاتی فائدے کے لئے بار بار میرے سامنے آتا ہے اور یہ سب جو میرے سامنے ہوا مجھے مرعوب کرنے کے لئے تھا۔
’’آگ کا وہ شعلہ جو اس کے ہاتھ نکلا تھا وہ کیا تھا؟‘‘میرے اندر سے سوال ابھرا۔ ’’اس قسم کے شعبدے یہ لوگ جاتنے ہیں‘‘ میں نے خود کو مطمئن کیا۔ میں نے بینک کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی اور اندر داخل ہوگیا۔ سٹاف کے سلام کا جواب دیتے ہوئے میں اپنے کیبن میں آگیا۔ تھوڑی دیر بعد چپراسی چائے لے کر آیا۔ چائے پی کرمیں اپنے کام میں ایسا منہک ہوا کہ صبح والا واقعہ میرے دماغ بالکل نکل گیا۔دو بجے میں نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل آیا۔ جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ بلی بڑے مزے سے پچھلی سیٹ پر محو خواب تھی۔ ’’یہ بند گاڑی میں کہاں سے آگئی۔‘‘ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا اور میاؤں کی آواز نکالی۔ میں نے اسے ہاتھوں میں اٹھایا اور دروازہ کھول کر باہر نکال دیا۔ اس نے فریادی نظروں سے میری طرف دیکھا نہ جانے مجھے کیوں اس پر ترس آگیا۔ میں نے دروازہ کھول کر پچکارا تو وہ چھلانگ لگا کر گاڑی میں آگئی۔ میں نے دروازہ بند کیا وہ آرام سے میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
میں غیر ارادی طور پر اسی راستے سے واپس آیا جس پر آج صبح میرا سادھو سے ٹکراؤ ہوا تھا۔ سڑک پر اکا دکا گاڑیاں آ جا رہی تھیں بلی بڑے اطمینان سے ساتھ والی سیٹ پر آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔ میں نے دیکھا وہ ہر طرح سے ایک عام بلی دکھائی دے رہی تھی۔ اچانک گاڑی بری طرح لہرائی اور خود بخود رک گئی۔ سڑک پر ٹائروں کے رگڑنے کی آواز آئی۔ میں نے گھبرا کر سامنے دیکھا تو سڑک پر ملنگ کھڑا تھا۔ گاڑی اس سے بمشکل چند انچ کے فاصلے پر خود بخود رک گئی تھی۔ وہ فقیروں جیسا لمبا جھولا پہنے سڑک کے بیچوں بیچ لمبی سی لاتھی زمین سے ٹکائے کھڑا تھا۔ آج اس کے چہرے پر مسکراہٹ کے بجائے سنجیدگی طاری تھی۔ وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے میری ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی بلی کو دیکھ رہا تھا جو ہڑ بڑا کر سیٹ پر کھڑی ہو گئی تھی۔ مجھے اس کی آنکھوں سے خوف نظر آیا۔ اس نے ایک نظر ملنگ کو دیکھا پھر باہر کی طرف چھلانگ لگا دی۔ ایک چھنا کے سے بائیں سائیڈ کی کھڑی کا شیشہ ٹوٹ کا باہر جا گرا ۔ بلی نے ایک لمبی زقند بھری اور کھیتوں میں جا کر غائب ہوگئی۔
’’ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا بھاگ گئی ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ڈر گئی‘‘ ملنگ قہقہے لگا رہا تھا۔
’’دیکھا تو نے ۔۔۔کیسے مجھ سے ڈر کر بھاگ گئی ہے؟‘‘ وہ یک بیک سنجیدہ ہو کر مجھ سے مخاطب ہوا میں جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکا۔
’’بابا جی! آپ ایک جھلک دکھا کر کہاں غائب ہو جاتے ہیں میں کئی دن سے آپ کو تلاش کر رہا ہوں۔ آئیں گاڑی میں بیٹھیں آپ جہاں کہیں گے میں آپ کو پہنچا دوں گا پلیز آئیں‘‘ میں نے ملنگ کے سامنے پہنچ کر عاجزی سے کہا۔ کئی سوالات تھے میرے ذہن میں اور مجھے یقین تھا ملنگ ان سوالوں کا جواب دے سکتا ہے۔
’’سادھو کے چکر میں مت پھنسنا۔۔۔بہت مکار ہے وہ، اس سے بچ کر رہنا۔ اور سن ۔۔۔بزرگوں کے دیے ہوئے تحفے کی قدر کرنا سیکھ۔۔۔نفس پر قابو رکھ۔ وہ تیری ہر رات خریدنا چاہتی ہے۔۔۔اس سے بچ‘‘ جیسے اس نے میری بات سنی ہی نہ ہو۔
’’بابا جی! آپ جیسے کہیں گے میں کروں گا براہ کرم آپ مجھے کچھ وقت دیں مجھے آپ سے بہت سی باتیں کرنا ہیں‘‘ میں نے پھر التجا کی۔
’’اس نے میری بات سنی ان سنی کرتے ہوئے پھر قہقہے لگانے شروع کر دیے’’ہا۔۔۔ ہا۔۔۔ سب کتے اس کے پیچھےپڑے ہیں لیکن وہ تجھ پر ریجھ گئی ہے۔ آگ سے مت کھیل۔۔۔سن رہا ہے نا ۔۔۔آگ تیرے گھر کو جلا دے گی۔‘‘
ضرور پڑھیں: سیشن کورٹ کاشہباز شریف کے بینک ڈیفالٹر چچازاد بھائیوں کیخلاف رہن شدہ چینی چوری کرنے کا مقدمہ درج کرنے کا حکم
کبھی وہ قہقہے لگانے لگتا کبھی بے معنی باتیں کرتا رہا۔
’’پیچھے مڑ کر دیکھ‘‘ اس بار وہ سنجیدگی سے بولا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا سڑک سنسان پڑی تھی۔
’’پیچھے تو کچھ۔۔۔‘‘ میں نے مڑ کر کہنا شروع کیا لیکن دیکھا تو ملنگ غائب تھا۔ اس نے جان بوجھ کر مجھے پیچھے دیکھنے کو کہا تھا۔ میں نے دائیں بائیں دیکھا لیکن وہ کہیں بھی نہ تھا۔ میں نے کھڑی کے ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرف دیکھا اور گاڑی میں بیٹھ گیا


