رادھا

رادھا

Part 3

’میں تمہاری گندی کمائی میں سے ایک پیسہ لینا حرام سمجھتاہوں‘‘ میں نے نفرت سے کہا۔ اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ پھر وہ لجاجت سے بولا۔

’’جناب ! ایک گزارش ہے اگر آپ مان لیں؟‘‘’جلدی بک‘‘ مجھے حقیقتاً اس شخص سے نفرت ہوگئی تھی۔

’’اگر آپ مجھے اپنا شاگرد بنا لیں تو۔۔۔‘‘’اس سے پہلے کہ میں اپنا وعدہ بھول جاؤں کہ میں نے تجھے معاف کر دیا ہے یہاں سے دفع ہو جا۔۔۔میں تجھ جیسے گندے شخص کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا اور تو یہ بکواس کو رہا۔۔۔‘‘ اس نے میری پوری بات بھی نہیں سنی تھی کہ الٹے قدموں بھاگ گیا۔ مجھے جاوید کے ہنسنے کی آواز آئی جو نہ جانے کب میرے پیچھے آکھڑا ہوا تھا۔

’’ہم نے ابھی شرجیل کے گھر جانا ہے لیکن میں بچوں کو ساتھ نہیں لے جانا چاہتا کیا کیا جائے؟‘‘ میں نے جاوید سے مشورہ کرنا مناسب سمجھا۔’بچوں کو گوری کے پاس چھوڑ جاتے ہیں‘‘ اس نے کہا۔

’’نہیں۔۔۔گوری نے بھی ہماری ساتھ جانا ہے ‘‘ وہ چونک کر مجھے دیکھنے لگا ’’اس کی وجہ میں تمہیں وہیں چل کر بتاؤں گا۔‘‘ میں نے اسے سمجھایا۔ناعمہ باجی بھی ہمارے ساتھ ہوں گی؟‘‘

میں نے ابھی کوئی جواب نہ دیا تھا کہ رادھا نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ فی الحال ناعمہ کو لے جانا مناسب نہیں۔’نہیں ناعمہ کو بعد میں بلائیں گے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’ٹھیک ہے ناعمہ باجی کو بچوں کے پاس چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘ اس نے کہا۔

تھوڑی دیر بعد ہم سب شرجیل کی طرف جا رہے تھے۔ گیٹ پر پہنچ کر جاوید نے بیل دی۔ بڑی بڑی مونچھوں اور بھاری بھر کم چہرے والے چوکیدار نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا۔ جاوید اور آنٹی پر نظر پڑتے ہی اس نے سلام کیا اور گیٹ کھول دیا لیکن وہ بری طرح بوکھلایا ہوا تھا۔ مجھے اس کی بوکھلاہٹ کا انداز تھا۔ شرجیل نے سپنا کی موجودگی کی وجہ سے چوکیدار کو ہدایت دی ہوگی کہ کسی کو اندر نہ آنے دے۔ پر آنٹی کو تو وہ کسی طور نہ روک سکتا تھا۔ شرجیل کے والدین آجکل جج پر گئے ہوئے تھے۔ ادھر صاحب جی یہ گلچھرے اڑا رہے تھے چوکیدار نے گیٹ بند کرکے تیزی سے ہمارے آگے چلتے ہوئے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول دیا ’’بی بی صاحب! آپ ادھر بیٹھو ہم صاحب کو بتانا ہے۔‘‘ اس نے اپنے تئیں بڑی دانشمندی دکھائی۔

’’موہن! سپنا اس سمے شرجیل کے کمرے میں ہے ۔‘‘ رادھا نے مجھے بتایا۔

وہ کس حالت میں ہیں؟ ‘‘ میں نے احتیاطاً پوچھ لیا۔ جس قسم کی وہ عورت تھی اس سے کسی اچھی بات کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔

’’کیول پریم کی باتیں کر رہے ہیں‘‘ رادھا نے بتایا۔ میں مطمئن ہوگیا۔

’نہیں۔۔۔ہمیں سیدھا اپنے صاحب کے بیڈ روم میں لے چلو۔‘‘ میں نے چوکیدار سے کہا۔ وہ مجھے نہ پہنچانتا تھا اسلیے اس کے ماتھے پر بل پڑگئے۔ اس نے ناخوشگوار نظروں سے میری طرف دیکھا لیکن کوئی سخت بات کہنے سے گریز کیا۔ اتنا تو جانتا تھا کہ آنٹی کے ساتھ کوئی اجنبی آدمی نہیں ہو سکتا۔

’’تم لوگ ادھر بیٹھو۔۔۔ام صاحب کو بلاتا ہے ‘‘ اس نے آنٹی کی طرف دیکھتے ہوئے حتی الامکان نرمی سے جواب دیا۔

’’جو تم سے کہا جا رہا ہے وہ کرو ، سمجھے۔۔۔؟‘‘ صائمہ نے اسے جھڑک دیا۔ اس کے گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ حرافہ شرجیل کے کمرے میں ہے فقط اسے ہتک محسوس ہوئی تھی کہ ملازم ہونے کے باوجود وہ اکڑ دکھا رہا ہے۔

رادھا اس وقت مجسم حالت میں ہمارے ساتھ تھی۔ چوکیدار نے کچھ کہنا چاہا لیکن رادھا نے اپنا کومل ہاتھ اس کی طرف کرکے جھٹک دیا۔ وہ یکدم فدوی بن گیا اور ہماری راہنمائی شرجیل کے کمرے کی طرف کرنے لگا۔

’’گوری کو ابھی باہر ہی بیٹھا رہنے دو، اسے بعد میں بلا لیں گے۔‘‘ رادھا نے کہا۔

’’تم ادھر ڈرائنگ روم میں بیٹھو‘‘ میں نے گوری سے کہا۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا لیکن بغیر کچھ کہے چلی گئی۔

ہم سب چوکیدار کی معیت میں چلتے ہوئے اس کمرے کے دروازے پر جا پہنچے جہاں دو پیار کے پنچھی دنیا سے بے نیاز ہو کر ایک دوسرے میں گم تھے۔ میں نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور ہم سب اندر داخل ہوگئے۔ یہ ایک پر تعیش بیڈ روم تھا جسے ناعمہ نے بڑے ارمانوں سے سجایا تھا۔ شرجیل صوفے پر بیٹھا تھا جبکہ وہ قتالہ عالم بیڈ پر نیم دراز تھی۔ مختصر لباس میں اس کا حسین جسم چھپائے نہ چھپتا تھا۔ واقعی رادھا کا کہنا درست تھا۔ وہ تھی ہی ایسی کہ انسان اسے دیکھ کر ہوس و حواس کھو بیٹھے۔ ہمیں دیکھ کر دونوں بری طرح اچھل پڑے۔ شرجیل کا رنگ فق ہوگیا۔ سب سے آگے میں تھا پھر آنٹی اس کے بعد صائمہ اور جاوید، سب حیرت سے منہ کھولے دیکھ رہے تھے ان کے گمان میں بھی نہ تھا کہ شرجیل ایسی حرکت کر سکتا ہے۔

شرجیل فوراً صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’آ۔۔۔آ۔۔۔آپ آنٹی ی ی ی ۔‘‘ اس کے منہ سے بمشکل نکلا۔ سپنا بڑی ادا سے ہم سب کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی پوزیشن میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ جس سے اس کے کردار کا پتا چلتا تھا۔ وہ نیم باز آنکھوں سے ہمیں دیکھ رہی تھی۔ سب کو دیکھ کر اس کی نظریں مجھ پر ٹک گئیں۔ شرجیل کی یہ حالت تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ وہ بری طرح بوکھلا گیا تھا۔ سپنا بڑی ادا سے لہر ا کر اٹھی اور اپنے جسم کو کچھ اور نمایاں کرکے بڑی نخوت سے بولی۔

’’آپ کو کسی کی تنہائی میں آنے سے پہلے دروازے پر دستک دینی چاہئے تھی۔ ‘‘ اس کی ڈھٹائی پر صائمہ کا چہرہ غصے سے انگارہ بن گیا۔ قریب تھا کہ وہ کچھ بولتی میں نے اسے اشارے سے خاموش رہنے کے لئے کہا۔

’’معذرت چاہتے ہیں ہمیں معلوم نہ تھا کہ آپ تشریف فرما ہیں ہم تو شرجیل سے ملنے آئے تھے۔‘‘

’’آ۔۔۔آئیے بیٹھئے فاروق بھائی!‘‘ شرجیل نے مجھ سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔ اس کے ہاتھ ٹھنڈے برف ہو رہے تھے۔ اس کے بعد اس نے آنٹی کو آداب کہا جس کا انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ ان کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں۔ جاوید بھی غصے میں بھرا ایک طرف کھڑا تھا۔ صائمہ قہر بھری نظروں سے سپنا کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا بس نہ چل رہا تا ورنہ اس کا منہ نوچ لیتی۔ میں نے صوفے پر بیٹھے ہوئے بڑے اخلاق سے سپنا کو بیٹھنے کے لیے کہا۔

’’تشریف رکھئے آپ کھڑی کیوں ہوگئیں؟‘‘ اس نے بڑی دلچسپی سے میری طرف دیکھا۔ پھر آگے بڑھ کر اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ میں نے اٹھ کر تپاک سے اس کے ساتھ مصافحہ کیا۔ صائمہ کا چہرہ مزید تپ گیا۔ لیکن وہ کچھ بولی نہیں قہرمیں بھری ایک طرف بیٹھ گئی۔

’’آپ کی تعریف؟‘‘ سپنا نے خمارآلود نظروں سے میری طرف دیکھا۔

’’خادم کو فاروق احمد خان کہتے ہیں‘‘ میں نے بڑی نیاز مندی سے کہا۔ مجھے معلوم تھا میرا یہ عمل صائمہ کو ایک آنکھ نہ بھایاہوگا۔ اس نے ابھی تک میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ میں نرمی سے اس سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ سبک خرامی سے چلتی ہوئی دوبارہ بیڈ پر جا بیٹھی۔ باقی لوگوں کی طرف اس نے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تھا

شرجیل ابھی تک نظریں جھکائے کھڑا تھا۔

’’آنٹی آپ بھی بیٹھیں اور جاوید تم یہاں آجاؤ میرے پاس ‘‘ وہ کسی حد تک اپنے اعصاب پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ میری ساس منہ بنائے ایک طرف بیٹھ گئیں۔

’’فاروق بھائی! کب آئے آپ؟‘‘ اس نے کھسیانے انداز سے پوچھا۔

’’آج ہی آیا ہوں تم سے ملنے کو دل چاہا تو چلا آیا پر شاید میں مخل ہوا ہوں نا وقت‘‘ میں نے سپنا کی طرف دیکھا۔ جو نیم باز آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں واقعی شراب کی سی مستی تھی۔ اس کے حُسن کا جادو ہی کسی کو پاگل کرنے کے لئے کافی تھا اس پر وہ جنتر منتر بھی جانتی تھی،

اعتماد اس کا قابل دید تھا۔ یوں اکڑی بیٹھی تھی جیسے وہ اس گھر کی مالکن ہو اور ہم سب اس کے نوکر۔ ہاں باقیوں کی بہ نسبت وہ میری ذات میں کچھ دلچسپی لے رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی۔ وہ حُسن کے سارے ہتھیاروں سے لیس تھی۔ رادھا ایک کونے میں کھڑی دلچسپی سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ پھر بادصبا کی طرح چلتی وہ میرے قریب آکر بیٹھ گئی

’’کیا وچار ہیں ہے نا سندر؟‘‘ اس کی آنکھوں میں شوخی تھی۔

’’اس کے حسن کو پھر کسی وقت دیکھ لیں گے ابھی تو جس کام آئے ہیں اسے پورا کرنا ہے۔‘‘ میں نے دل میں سوچ کر رادھا کو جواب دیا۔ پھر شرجیل کی طرف متوجہ ہوا جو پاؤں کے انگوٹھے سے قالین کو کرید رہا تھا۔

’’شرجیل مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنا ہے‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔

’’جی فرمائیے‘‘ وہ ابتدائی جھٹکے سے سنبھلنے کے بعد اب کافی حد تک نارمل نظر آرہا تھا۔ میں نے ایک نظر سپنا کی طرف دیکھا جس کے ہونٹوں پر بڑی دلآویز مسکراہٹ تھی۔

’’فاروق بھائی! میں معذرت چاہتا ہوں آپ کا تعارف کروانا بھول گیا۔ یہ سپنا ہیں۔۔۔جلد ہی ہم دونوں شادی کرنے والے ہیں۔‘‘ شرجیل نے مجھے سپنا کی طرف دیکھتے پا کر جلدی سے کہا۔

’’واقعی۔۔۔یہ اسم با مسمیٰ ہیں ان کو سپنوں میں دیکھنا تو ہر کسی کی خواہش ہو سکتی ہے۔ ‘‘ میں نے ہونٹوں پر بڑی میٹھی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔ کمرے میں سپنا کا مد ہر قہقہہ گونج اٹھا۔ اس کے موتیوں جیسے دانتوں کی چمک بڑی ہی مسحور کن تھی۔ صائمہ جو پہلے ہی تپی بیٹھی تھی غصے سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔

’’جب آپ لوگ شعر و شاعری سے فارغ ہو جائیں تو مجھے بلا لیجئے گا۔‘‘ وہ تنتاتی ہوئی باہر نکل گئی۔ جاوید بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔ سپنا نے حقارت سے صائمہ کی طرف دیکھا پھر کندھے اچکا کر دوبارہ نیم دراز ہوگئی۔ خوب کھائی کھیلی ہوئی عورت تھی۔ صائمہ نے نا وقت باہر جا کر غلطی کی تھی سپنا کی تعریف سے میری وہ مرادنہ تھی۔ جو صائمہ سمجھ رہی تھی میں اسے اچھی طرح گھسنا چاہتا تھا لیکن صائمہ سے برداشت نہ ہو سکا۔ خیر اسے بعد میں بلایا جا سکتا تھا۔ میں شرجیل کی طرف متوجہ ہوا۔

’’شرجیل تم نے ناعمہ کے متعلق کیا سوچا ہے؟‘‘ میں نے سنجیدگی سے پوچھا۔

’فاروق بھائی! میں آنٹی کو بتا چکا ہوں۔ پہلے تو میں نے کوشش کی کہ ناعمہ اس بات پر راضی ہو جائے کہ میں سپنا سے دوسری شادی کر لوں لیکن اس کی ضد تھی کہ میرے ہوتے تم سپنا تو کیا کسی سے بھی شادی نہیں کر سکتے۔ ہر شخص کو دوسری شادی کا حق حاصل ہے میں کوئی غیر قانونی یا غیر شرعی کام تونہیں کر رہا نا؟‘‘ شرجیل نے کہا۔

’’تم نے بالکل صحیح کہا دوسری شادی کی قانون اور شریعت میں اجازت ہے بلکہ دوسری کیا تیسری اور چوتھی کی بھی ہے۔ لیکن میں نے تو سنا ہے کہ تم ناعمہ کو طلاق دے رہے ہو‘‘ میں نے ملائمت سے پوچھا۔

’’پہلے تو میں ناعمہ کی منتیں کرتا رہا لیکن ایک دن اس نے میری موجودگی میں سپنا کی بہت بے عزتی کی۔ ہر کسی کی عزت ہوتی ہے فاروق بھائی! اب سپنا بضد ہے اگرمیں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو پھر مجھے ناعمہ کو طلاق دینا ہوگی۔ اس میں بھی غلطی ناعمہ کہ ہے سپنا نے پہلے اس قسم کی کوئی شرط نہیں لگائی تھی بلکہ اس کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ اس نے بڑے کھلے دل سے اس بات کو قبول کر لیا تھا کہ ٹھیک ہے میں ناعمہ کے ہوتے ہوئے تمہارے نکاح میں آنے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن ناعمہ نے ایک دن ملازموں کے سامنے سپناکو بہت برا بھلا کہا بلکہ کچھ الفاظ ایسے بھی کہے جو میں آنٹی کے سامنے دہرا بھی نہیں سکتا۔‘‘ اس نے وضاحت سے ساری بات بتائی۔

’’اب محترمہ سپنا صاحبہ کا کیا خیال ہے؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ وہ اب بھی حسین مسکراہٹ ہونٹوں پر چپکائے یک ٹک میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں میرے لئے پسندیدگی کے آثار صاف نظر آرہے تھے بلکہ اتنے واضح تھے کہ شرجیل نے بھی محسوس کیا اور اسکے ماتھے پر بل پڑ گئے۔

’’اب سپنا اس بات پر راضی نہیں‘‘ شرجیل نے آہستہ سے کہا۔

’’کیوں سپنا صاحبہ؟‘‘ میں نے مسکرا کر سپنا کی طرف دیکھا۔

اس کے خوبصورت ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوگئی ’’اگر آپ کا حکم ہو تو میں اب بھی اس بات پر کمپرومائز کر سکتی ہوں لیکن صرف آپ کے لئے‘‘ اس نے اپنی مخروطی انگلی کا رخ میری طرف کیا۔ میں نے دیکھا شرجیل کے ماتھے کی تیوریاں گہری ہوگئی تھیں لیکن وہ خاموش رہا۔

’’بہت شکریہ اس عزت افزائی کے لئے۔۔۔لیکن میں چاہتا ہوں آپ اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے ناعمہ کے لئے یہ گھر خالی کر دیں تو بہت ممنون ہوں گا۔‘‘ میں نے متانت سے کہا۔

’’یہ تو خیر ممکن نہیں۔۔۔ہم نے آپ کا اتنا ریگارڈکیا یہ کیا کم ہے؟‘‘ اس نے بڑی ادا سے ماتھے پر آئی زلفوں کی لٹ کو پیچھے جھٹکا۔ میں نے رادھا کی طرف دیکھا۔

’’گوری کو اندر بلا لو۔‘‘ رادھا نے کہا۔ میں نے جاوید کو آواز دی وہ فوراً ہی اندر آگیا ساتھ میں صائمہ بھی۔ شاید دونوں بہن بھائی دروازے کے باہر ہی کھڑے تھے۔

’’باہر سے گوری کو بلا لاؤ‘‘ میں نے کہا۔ اس دوران میری ساس بالکل خاموشی بیٹھی رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد جاوید گوری کو لے آیا۔ سپنا، گوری کو دیکھ کر بری طرح چونک گئی بلکہ کہنا چاہئے چوکنی ہوگئی۔ گوری نے حیرت سے سب کو دیکھا اور پریشان سی ایک طرف کھڑی ہوگئی جیسے اسکی چوری پکڑی گئی۔ اسکی سراسیمہ نظریں بار بار آنٹی کی طرف اٹھتیں اورجھک جاتیں۔

’’بیٹھ جاؤ‘‘ میں نے ایک صوفے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ صوفے کے کنارے پر ٹک گئی۔ سپنا تیزی سے نارمل ہوگئی۔ اس کی نظریں ایک بار پھر مجھ پر ٹک گئیں۔

’’یہ کلٹا بھی تمری سندرتا پر ریجھ گئی ہے۔۔۔معلوم ہے اس سمے اسکے من میں کیا ہے؟‘‘ رادھا نے جل کر کہا۔ صائمہ کے بعد اب رادھا بھی اس بات سے چڑ گئی تھی۔ سپنا بڑی بے باکی میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔

’’صائمہ کے بعد تم کہیں ناراض ہو کر باہر نہ چلی جانا ورنہ میری خیر نہیں‘‘ میں نے چھیڑا جسے رادھا نے سمجھ کر تیکھی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’کہیں تمرے من کو بھا تو نہیں گئی؟‘‘

’’تم دو کیا کم ہو کر ایک اور بلا اپنے سر منڈھ لوں‘‘ میں نے شوخ نظروں سے رادھا کی طرف دیکھا۔ بظاہر میں بظاہر اپنے دائیں طرف دیکھ رہا تھا لیکن میری نظریں رادھا پر تھیں۔ رادھا کے گلاب کی پنکھڑیوں سے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔ پھر اچانک میں نے اسے بری طرح چونکتے دیکھا۔ کچھ دیر وہ خلا میں دیکھتی رہی پھرآنکھیں بند کرلی

۔ میں بھی چونک گیا۔ رادھا پوری طرح آنکھیں بند کئے کھڑی تھی۔ سب میرے بولنے کے منتظر تھے اور میں رادھا کے بولنے کا۔ تھوڑی دیر بعد رادھا نے آنکھیں کھولیں۔۔۔جو انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔

’’کیا بات ہے رادھا ‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھ کر دل میں سوچا۔

’کھیل شروع ہونے والا ہے۔ جاوید سے کہو وہ جا کر ناعمہ بھیج دے اور کھد تمری سنتان کے پاس بیٹھ جائے، اسکو سختی سے سمجھا دینا کہ وہ ان کو کمرے سے باہر نہ نکلنے دے میں دو پل میں آتی ہوں کچھ پر بند کرنا ہے‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

میں نے جاوید کو اپنے پاس بلا کر اسے سمجھایا کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ وہ اسی وقت چلا گیا۔ کمرے میں گہرا سکوت چھا گیا تھا۔ شرجیل میری طرف دیکھ رہا تھا کہ میں کچھ کہوں لیکن جب تک رادھا نہ آجاتی میں کچھ بھی نہ کہہ سکتا تھا نہ جانے اس نے کیا خطرہ محسوس کیا تھا کہ چلی گئی تھی ۔اندر سے میرا دل ڈر بھی رہا تھا کہیں پہلے کی طرح رادھا نہ آسکی تو کیا ہوگا؟ لیکن دل کڑا کرکے بیٹھا رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس آگئی۔۔۔میری جان میں جان آئی۔

’’موہن! کچھ سمے کیلئے سپنا کو اپنی باتوں میں الجھائے رکھو۔‘‘ اس نے آتے ہی ہدایت دی۔ وہ کچھ پریشان اورالجھی ہوئی دکھائی دی۔

ضرور پڑھیں: لاہورایئرپورٹ پرفائرنگ،2 افرادجاں بحق ،ملزم گرفتار

’’میں نے سنا ہے آپ کچھ جادو ٹونے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں؟‘‘ مجھے اور کچھ نہ سوجھا تو ایسے ہی میں نے سپنا سے ایک سوال کر دیا۔

’’فاروق بھائی! کیسی باتیں کر رہے ہیں، کہاں سپنا جیسی تعلیم یافتہ خاتون اور کہاں جادو ٹونے۔۔۔؟ یہ تو جاہلوں کے ڈھکوسلے ہوتے ہیں‘‘ شرجیل نے اس طرح کہا جیسے میں نے نہایت احمقانہ بات کہہ دی ہو۔

’’اگر یہی بات میں آپ سے پوچھوں تو؟‘‘ سپنا نے بڑے تیکھے لہجے میں سوال کیا۔

’’چونکہ سوال پہلے میں نے کیا ہے اس لحاظ سے اخلاقاً میں جواب سننے کا حقدار بھی پہلے ہوں‘‘ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

’’میں نے کچھ عرصہ ہندوستان میں گزارا ہے اس دوران ایک جوگی سے دو لفظ سیکھ لئے تھے‘‘ اس نے بے پراہی سے کہا’’لیکن آپ پر میں جادو قطعاً نہیں کروں گی کیونکہ آپ کے لیے میرے حسن کا جادو ہی کافی ہے‘‘ اس کی بات نے سب کو حیران کر دیا۔۔۔اور تو اور شرجیل کا منہ بھی کھلا کا کھلا رہ گیا۔

اسے اندازہ ہی نہ تھا کہ سپنا اس قدر بے باکی سے اس کے سامنے ایسی بات کہہ دے گی۔ پھر بھی اس نے خجالت مٹانے کی خاطر کہا۔

’’سپنا بہت بزلہ سنج واقع ہوئی ہیں‘‘ پھر بڑے لاڈ سے اسے دیکھا۔

’’سپنا ہر کسی میں حس ظرافت اتنی نہیں ہوتی۔ خان بھائی ایک سیدھے سادھے ینگ آفیسر ہیں جن کا سارا وقت فائلوں کو دیکھتے اور ان پر دستخط کرتے گزرتا ہے۔ کیوں فاروق بھائی؟‘‘ اس نے آخری فقری میری طرف دیکھ کر کہا۔

میں نے کچھ کہنے سے پہلے صائمہ کو نظروں میں تنبیہہ کی وہ بالکل خاموش رہے۔ اس سے پہلے کہ میں شرجیل کی بات کا جواب دیتا سپنا نے شرارت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔

’’خیر اتنے سیدھے بھی نہیں ہیں۔ بہت گہرے انسان ہیں۔ کیا آپ مجھے اپنا ہاتھ دکھائیں گے؟ دراصل مجھے تھورا بہت شغف پامسٹری سے بھی ہے‘‘ وہ ایک ادا سے لہراتی ہوئی اٹھی اور میرے قریب آکر صوفے پر بیٹھ گئی۔ بیٹھتے ہوئے اس نے اپنے اور میرے درمیان کوئی زیادہ فاصلہ نہ رکھا تھا۔ اگر میں نے صائمہ کو اشارہ نہ کیا ہوتا تو شاید وہ اٹھ کر اس کے منہ پر تھپڑ مار دیتی۔ وہ چپ چاپ بیٹھی رہی لیکن اس کا چہرہ کسی تنور کا منظر پیس کر رہا تھا۔ میں نے رادھا کی طرف دیکھا وہ آنکھیں بند کیے کچھ پڑھ رہی تھی۔ ایک لمحے کے لئے اس نے آنکھیں کھول کر مجھے اشارے سے اسے ہاتھ دکھانے کے لئے کہا پھر آنکھیں بند کرکے پڑھنے لگی۔ معاملہ کچھ زیادہ ہی گھمبیر دکھائی دیتا ورنہ رادھا نے تو کالی داس جیسے طاقتور انسان کو ایک منٹ میں زمین چانٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ میں نے اپنا ہاتھ سپنا کے سامنے کر دیا۔اس نے بڑے پیار سے میرا ہاتھ اپنے نرم و نازک ہاتھ میں تھام لیا۔ میرے بدن میں بجلیاں سی دوڑنے لگیں اس کا ہاتھ تپ رہا تھا وہ مخمور نگاہوں سے میری طرف دیکھ کر مسکرائی اور میری ہتھیلی پر اپنی نظریں جما دیں۔ آہستہ آہستہ اس کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی۔ وہ غور سے میرا ہاتھ دیکھ رہی تھی۔ کبھی کبھار وہ نظریں اتھا کر اپنی بڑی بڑی حسین آنکھوں سے مجھے دیکھ کر مسکراتی پھر آنکھیں ہتھیلی پر مرکوز کر دیتی۔ صائمہ پیج و تاپ کھا رہی تھی سب خاموش بیٹھے تھے۔ آنٹی کے چہرے پر بھی ناگواری کے تاثرات تھے۔ اگر جاوید نے انہیں پیر کے ساتھ میرے سلوک کے بارے میں بتا نہ دیا ہوتا تو شاید وہ قطعاً اس بات کوپسند نہ کرتیں۔ قریباً دس منٹ سپنا میرے ہاتھ کو دیکھتی رہی پھر ایک گہری سانس لے کر چھوڑ دیا۔

’’کچھ مجھے تو بتائیں آپ کو کیا پتا چلا، میرے ہاتھ کی لکیروں میں کیا لکھا ہے؟‘‘ میں نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔

’خان صاحب! کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو سب کے سامنے کرنے والی نہیں ہوتیں۔ مثلاً ۔۔۔شکنتلا‘‘ اس نے معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا۔ اس کا خیال تھا میں گھبرا جاؤں گا۔ بہرحال وہ کچھ نہ کچھ جانتی ضرور تھی ورنہ اسے کیسے معلوم ہوتا کہ شکنتلا کا کیا معاملہ ہے۔ میں ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ باہر شور سنائی دیا۔ کوئی زور زور سے بول رہا تھا۔ چوکیدار شاید اسے آنے سے روک رہا تھا۔ ایک بھاری سی آواز آئی۔

’’مجھے جانے دے ۔۔۔سنتا ہے مجھے جانے‘‘

جواباً چوکیدار نے کچھ کہا لیکن اس کی آواز میں التجا تھی۔ ابھی شرجیل اٹھنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ دروازہ ایک دھماکے سے کھلا اور ایک کالا بھجنگ شخص اندر گھس آیا۔ وہ اس قدر سیاہ تھا جیسے توا ۔ جسم پر اس نے کالا سیاہ لباس پہن رکھا تھا جو ایک کرتے اور دھوتی پر مشتمل تھا۔ اس کی شکل اس قدر مکروہ تھی کہ ایک بار دیکھ کر دوسری بار اس پر نظر ڈالنے کو دل نہ کرتا تھا۔ اوپری ہونٹ کٹا ہوا تھا اور سامنے کے اوپر والے دانت کافی بڑے اور منہ سے باہر نکلے ہوئے تھے۔ اس نے دونوں کلائیوں میں کافی سارے لوہے کے کڑے پہن رکھے تھے ہاتھ ہلانے کے ساتھ وہ بری طرح جھنجھنا اٹھتے۔ سیاہ چہرے پر اس کی لال سرخ آنکھیں اسے کافی ڈراؤنا بنا رہی تھیں۔ اس نے سب سے پہلے سپنا پر نظر ڈالی اور پوچھا۔

’’تو ٹھیک تو ہے نا ۔۔۔کسی نے تجھے کچھ کہا تو نہیں؟‘‘ سپنا کی آنکھوں میں اس کے لئے اجنبیت تھی۔ لیکن وہ اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی ’’میں تجھ سے پوچھ رہا ہوں تو ٹھیک تو ہے نا؟‘‘ اس نے سپنا کو خاموش پا کر دوبارہ پوچھا۔ رادھا بڑی دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

’’مجھے کیا ہونا ہے اور تم کون ہو؟‘‘ سپنا نے جواب دے کر سوال کیا۔

’’مجھے میرے دوست نے تیری حفاظت کے لئے بھیجا ہے‘‘ اس نے ہم سب پر نظرڈال کرکہا۔ اچانک اسکی آنکھیں چمکنے لگیں۔ وہ بڑی دلچسپی سے اس طرف دیکھ رہا تھا جہان رادھا کھڑی تھی۔

’’اچھا تو یہ بات ہے‘‘ اسکے کٹے ہوئے ہونٹ مسکرا کر اور بھیانک منظر پیش کرنے لگے۔ صائمہ منہ دوسری طرف پھیر کر کھڑی ہوگئی تھی۔

’’آ۔۔۔چل‘‘ اس نے بے پرواہی سے ایک نظر رادھاپر ڈال کر کہا۔ سب اس بات پر حیران تھے کہ سپنا نے اسے دیکھ کر نہ تو نفرت کا اظہار کیا تھا نہ اس سے زیادہ سوال و جواب کیے تھے۔

ضرور پڑھیں: ن لیگ کے رہنما احسن اقبال آج نیب راولپنڈی میں پیش ہوں گے

’’کہاں؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’یہ نہ پوچھ۔۔۔تو نہیں جانتی تو اس وقت کس مصیبت میں پھنسنے جا رہی تھی۔ یہ تو میں بروقت پہنچ گیا۔۔۔نہیں تو تو برباد ہو جاتی‘‘ وہ ننگے پاؤں تھا۔ قیمتی قالین اس کے گندگی سے لتھڑے پاؤں سے خراب ہو چکا تھا

’’کون ہو تم اور سپنا کو کہا لے جانا چاہتے ہو؟‘‘ شرجیل جو حیران و ششدر کھڑا تھا اسنے کالے بھجنگ سے پوچھا۔ اس کی لال انگارہ آنکھیں شرجیل پر ٹک گئیں۔

’’نادان چھوکرے ! تو نہیں جانتا۔۔۔تیرے آستین کے سانپ ہی تجھے ڈسنا چاہتے تھے۔ میں اس وقت اس سے زیادہ تجھے کچھ نہیں بتا سکتا۔ میرا دوست واپس آجائے پھر دیکھ لوں گا‘‘ اس نے میری اور رادھا کی طرف دیکھ کر بڑی حقارت سے کہا ’’چل جلدی کو میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے میں ایک بہت ضروری کام چھوڑ کر تجھے لینے آیا ہوں‘‘ اس بار وہ سپنا سے مخاطب ہوا۔

سپنا کچھ دیر گومگوکی کیفیت میں کھڑی رہی پھر کسی فیصلے پر پہنچ کر بولی ’’شرجیل میں جا رہی ہوں کل آؤں گی جب تک تم ان کے ساتھ اپنے معاملات طے کر لو اب زیادہ دیر کرنا ٹھیک نہیں‘‘ اتنا کہہ کر اس نے ایک نظر کالے بھجنگ پر ڈالی اور باہر کی جانب قدم بڑھا دیے۔

’’موہن تم تھوڑی دیر کے لئے مجھے اپنے اندر آنے دو۔ تمسے یہ معاملہ سنبھالا نہیں جائے گا ۔یہ پاپی بہت کچھ جانتا ہے ۔کالی داس نے اس سے سہائتا کی بنتی کی ہے‘‘ رادھا نے ایک عجیب سی فرمائش کی۔

’’میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا‘‘ میں نے سوچ کر ذریعے کہا۔

’’تم کیول اتناکہہ دوکہ میں تمہیں آگیا دیتا ہوں کہ تم میرے شریر میں پرویش کرلو‘‘ رادھا نے جلدی سے کہا۔ وہ برابر سپنا اور اس کالے پر نظر رکھے ہوئے تھی۔

’’لیکن سپنا! میرے منہ سے عورت کی آواز اور ہندی کے الفاظ نکلیں گے تو یہ لوگ کیا کہیں گے؟‘‘

’’میں دھیان رکھوں گی تم چنتانہ کرو۔‘‘ اس نے مجھے تسلی دی۔

ٹھیک ہے تمہیں اجازت ہے‘‘ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہ آیا لیکن موقع کی نزاکت کے لحاظ سے میں نے ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اچانک رادھا میری نظروں سے اوجھل ہوگئی اس کے فوراً بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے گرم ہوا کا جھونکا میرے جسم میں داخل ہوگیا ہو ،میرا جسم کپکپا اٹھا۔ اور بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔

’’یہ اتنا آسان نہیں بے وقوف! تیرا کیا خیال ہے میں یہاں جھک مارنے آیا ہوں؟‘‘ میں جیسے خود پر اختیار رکھے بیٹھا تھا۔ میرے اندر رادھا بول رہی تھی۔ ایک نظارہ اس کا میں پہلے بھی دیکھ چکا تھا جب رادھا مومنہ کے جسم میں داخل ہو کر میرے ساتھ ہمکلام ہوئی تھی۔ اتنا سننا تھا کہ کالا بھجنگ بجلی کی سی تیزی سے مڑا۔ اس کے بدنما کٹے ہوئے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ اس کی نظریں مجھ پرجمی ہوئی تھیں۔

’’تو مجھے روکے گا۔۔۔جانتا ہے میں کون ہوں؟ مجھے کھیڈؤ چوہڑا کہتے ہیں‘‘ (چوہڑے جو پہلے زمانے میں لوگوں کے گھروں سے غلاظت اٹھایا کرتے) ۔ وہ بڑی حقارت سے بولا اور سپنا کا ہاتھ پکڑکرباہر جانے لگا۔ یک بیک میرا ہاتھ اٹھا اور سپنا ایک چیخ مارکر نیچے گر گئی۔ اس کی آنکھیں چڑھ گئیں اور ہاتھ پاؤں بری طرح مڑ گئے تھے۔ وہ اس مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی جسے پانی سے نکال کر باہر پھینک دیا گیاہو۔کالے کی آنکھوں کی سرخی مزید بڑھ گئی۔

’تم سب کمرے سے باہر چلے جاؤ‘‘ اچانک میرے منہ سے نکلا۔ مخاطب صائمہ، آنٹی اور گوری وغیرہ تھیں۔ صائمہ کے انداز میں ہچکچاہٹ تھی لیکن وہ بغیر کچھ کہے سب کے ساتھ باہر جانے لگی تو میں نے کہا۔

’’اگرجاوید ناعمہ کولے آیاہ و تو اسے اندربھیج دینا‘‘ اس نے سر ہلایا اور باہر چلی گئی۔ میں کیا میرے اندر رادھا بول رہی تھی۔ ان کے جانے کے تھوڑی دیر بعد ناعمہ اندر آگئی۔ شرجیل حیرت سے منہ کھولے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

’’آج میں تمہیں اس حسین بلا کے کالے کرتوت دکھاؤں گا جسے تم اپنا سب کچھ بنائے بیٹھے ہو۔اس ناگن کی خاطر اپنی وفا شعار اور پیاری بیوی کو ٹھکرا رہے ہو؟‘‘ میں نے سپنا کی طرف اشارہ کرکے شرجیل کو مخاطب کیا۔ وہ تھوک نگل کر رہ گیا۔ سپنا ابھی تک تڑپ رہی تھی کھیڈو چوہڑے کے چہرے پر کشمکش کے آثار تھے وہ کوئی فیصلہ نہ کر پا رہا تھا۔ بالآخر اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔

’میرا تمہارا کوئی براہ راست جھگڑا نہیں ہے۔ میرے دوست نے کچھ عرصے کے لئے اس چھوکری کو بطور امانت میرے سپرد کیا ہے۔ اور جب تک وہ نہ آجائے میں اس کی حفاظت کروں گا۔ میں تجھ سے صرف اتنا کہتاہوں کہ اس کے آنے تک چھوکری کو مجھے لے جانے دے۔۔۔بعد میں تو اس کے ساتھ کیا کرتا ہے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔‘‘

میں نے بڑے تحمل سے اس کی بات سنی پھر میرے منہ سے نکلا۔

’’میں بھی تمہارے جیسے ذی علم کے ساتھ جنگ کرنا نہیں چاہتا لیکن اس لڑکی کو جب تک اس کے کیے کی سزا نہیں مل جاتی تم اسے نہیں لے جا سکتے۔ دوسرے اسے یہ بھی وعدہ کرنا ہوگا کہ یہ دوبارہ اس گھر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گی اور اپنے ناپاک عزائم لے کر ہمیشہ کے لئے دفع ہو جائے گی‘‘ میں نے کالے سے کہا۔

وہ کچھ دیر کھڑا ہونٹ چباتا رہا پھر بولا ’’یہ وعدہ تو میں کر سکتا ہوں کہ میرے دوست کے آنے تک یہ دوبارہ اس گھرمیں نہیں آئے گی لیکن اس کے آنے کے بعد یہ کیا کرتی ہے یا تم کیا کرتے ہو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں

’’کیا دوست دوست کی رٹ لگا رکھی ہے۔ سیدھی طرح اس منحوس کالی داس کا نام کیوں نہیں لیتا۔۔۔؟‘‘ میں نے گرج کر کہا۔ وہ بری طرح چونک گیا۔

’’تمہارا کیا خیال تھا کہ وہ بدبخت مجھ سے چھپ جائے گا میں تو شدت سے اس دن کا انتظار کر رہا ہوں کہ وہ زنکا ، نامرد ، اپنے دائرے سے نکلے اور میں اسے قبر میں اتاروں‘‘ میری دھاڑ کمرے میں گونج اٹھی۔

’’اس کے آنے کے بعد تو اسے قبرمیں اتاریا وہ تجھے ۔۔۔اس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں، میں صرف اس وقت تک اس لڑکی کو بچاؤں گا جب تک وہ آنہیں جاتا۔‘‘ اسنے بڑے اٹل لہجے میں کہا۔

’’تم اس لعنتی کی مدد کیوں کررہے ہو، تم نہیں جانتے وہ کتنا شیطان صفت ہے؟‘‘ میں نے غصے سے کہا۔’اس نے ایک بار میری جان بچائی تھی۔ اس کا بہت بڑا احسان ہے مجھ پر، میں کسی صورت اس لڑکی کو نقصان نہیں پہنچنے دوں گا۔ میں ایک بار پھر تجھ سے کہہ رہا ہوں باز آجا نہیں تو بعدمیں معافی مانگتا رہے گا لیکن میں معاف نہیں کروں گا۔‘‘ اس نے قہر بار نظر مجھ پر ڈالی۔

ناعمہ تصویر حیرت بنی ایک طرف کھڑی تھی۔ سپنا بے سدھ قالین پر پڑی تھی تڑپنا تو اس نے بند کردیا تھا لیکن اس کے منہ سے کراہیں نکل رہی تھی۔

’’اٹھ چھوکری۔۔۔!‘‘کھیڈو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا ۔ جیسے ہی کھیڈو کا ہاتھ سپنا کے ہاتھ سے لگا وہ بھلی چنگی ہوکر کھڑی ہوگئی۔ اب وہ نفرت بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔

’’میں جا رہاہوں اگر اس بار تم نے کوئی حرکت کی تو میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔‘‘

اس نے قدم باہر کی طرف بڑھائے لیکن رادھا اسے جانے دیتی یہ کیسے ممکن تھا؟ میرا ہاتھ خود بخود اٹھا اور اس کے پاؤں کی طرف کرکے جھٹک دیا۔ لوہے کا باریک کڑا کھیڈو کے دونوں پاؤں کے گردپڑ گیا۔ وہ دھڑام سے قالین پر گر گیا۔ لیکن گرتے ہی وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اسکے کٹے ہوئے ہونٹ حرکت کرنے لگے۔ اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے میرے بدن میں آگ بھڑک اٹھی ہو۔ میرے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔ شرجیل اور ناعمہ نے چونک کر مجھے دیکھا ا

’’کیول ایک پل کے لیے سہن کر لو میرے میت!‘‘ رادھا کی آواز میرے کان میں آئی۔ اذیت میری برداشت سے باہر تھی۔ یوں محسوس ہو رہاتھا جیسے کسی نے مجھے تپتے ہوئے تنور میں ڈال دیاہو۔ رادھا فوراً میرے جسم سے نکل کر ایک طرف کھڑی ہوگئی۔ اس کے نکلتے ہی میرا جسم پرسکون ہوگیا۔ رادھا کی آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

اس نے قہر بار نظروں سے کھیدو کی طرف دیکھا پھر کسی بگولے کی طرف گھومتی ہوئی کھیڈو کی طرف بڑھی اور اس کے اندر سما گئی۔ دوسرے ہی لمحے وہ کسی ذبح کیے ہوئے بکرے کی طرح ڈکرایا اور زمین پر گر کر بری طرح تڑپنے لگا۔ اس کے ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے دونوں ہاتھوں سے گلا پکڑے وہ بری طرح ڈکر ا رہا تھا جسیے کوئی اس کا گلا کاٹ رہاہو۔ اس کے منہ سے خون کی دھار نکل کرقالین میں جذب ہونے لگی۔ سپنا خوفزدہ ایک طرف کھڑی تھی اسکا رنگ ہلدی کی طرح زرد ہوچکا تھا۔

’’مم۔۔۔مج۔۔۔مجھے۔۔۔معاف کر۔۔۔دو‘‘ کھیڈو کے منہ سے الفاظ بمشکل نکلے۔ خون مسلسل اس کے منہ سے جاری تھا۔ تھوڑی دیر بعد رادھا اس کے جسم سے نکل آئی۔

’تو نے میرے موہن کو کشٹ دیا۔ تجھے شما کر دوں؟ یدی کوئی میرے پریتم کو بری نجر سے دیکھے تو میں اسے سنسار سے پرلوک بھیج دیتی ہوں تونے گھور پاپ کیا ہے تو شما کے یووک نہیں۔‘‘

رادھا کی قہر بار آواز آئی۔ صرف مجھے اور کھیڈو کو ہی اس کی آواز سنائی دے رہی تھی اور یہ تو میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ جسے وہ چاہتی وہی اسکی آواز سن پاتا۔ ناعمہ اور شرجیل پھٹی پھٹی آنکھوں سے کھیڈو کی طرف دیکھ رہے تھے جو دونوں ہاتھوں سے گلا پکڑے بے سدھ پڑا تھا۔ رادھا نے میری طرف دیکھا وہ میری مرضی معلوم کرنا چاہ رہی تھی۔ میں نے دل ہی دل میں اسے کہا اگر اسے مارنا ہی تویہاں یہ کام نہ کرنا کہیں یہ لوگ کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں۔

’’چنتا نہ کرو موہن! میں اس دھشٹ کا کریہ کرم کسی اور استھان پر کروں گی‘‘ رادھا نے مجھے تسلی دی پھر ہاتھ اس کی طرف کرکے جھٹک دیا۔ اچانک کھیڈو چوہڑ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ خون کی ایک لکیر اب بھی اس کے ہونٹوں سے جاری تھی۔ وہ دائیں ہاتھ سے اپنا گلا سہلا رہا تھا۔ اس کا چہرہ خوف سے پیلا پڑ چکا تھا۔ سب غرورو تنتنا غائب ہوگیا۔ اس نے فریادی نظروں سے رادھا کی طرف دیکھا اور کپکپاتے ہاتھ اس کے سامنے جوڑ دیے۔

’’مجھے معاف کر دو۔۔۔آئندہ میں کبھی ایسی گستاخی نہیں کروں گا۔ تم جانو اور یہ لڑکی۔ میری جان بخشی کر دو۔ ۔۔۔میں تمہارا احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا‘‘ وہ باقاعدہ منتوں پر اتر آیا۔ چونکہ رادھا میرے ساتھ کھڑی تھی اسلیے سب سمجھے کھیڈو مجھ سے معاف مانگ رہا ہے۔ سپنا اور گوری کے رنگ لٹھے کی طرح سفید ہو چکے تھے۔

’’یدی جیون چاہتا ہے تو ترنت بھاگ جا‘‘ رادھا نے نفرت سے اس پر تھوک دیا اتنا سننا تھا کہ وہ سر پرپاؤں پر گڑ گئیں۔ اچانک وہ لڑکھڑائی اور دونوں ہاتھوں سے سرکو تھام لیا رادھا آہستہ سے چلتی ہوئی اس کے پاس چلی گئی اور اپنا ہاتھ اس کے سر پر پھیرا۔۔۔اس کے بعد وہ گوری کے پاس آئی اور اس کے ساتھ بھی وہی حرکت دہرانے کے بعد آکر میرے پاس کھڑی ہوگئی۔

’’موہن! گوری سے کہو وہ سب کچھ بتا دے نہیں تو اس کا حال بھی کھیڈو جیسا ہی ہوگا۔‘‘

میں سمجھ گیا رادھا کیا چاہتی ہے؟ میں نے غصے سے گوری کی طرف دیکھا جس کے چہرے پرموت کی زردی چھائی ہوئی تھی۔

’’جو چکھ تو نے آج تک سپنا کے کہنے پرکیا ہے سب کچھ سچ سچ بتا دے نہیں تو ۔۔۔جو حال میں نے اس کالے بھجنگ کا کیا ہے اس سے بھی برا تیرا کروں گا‘‘ وہ لرزنے لگی۔

’مم۔۔۔میں۔۔۔سب۔۔۔کچھ بتا دوں گی خدا کے واسطے مجھے معاف کر دیں۔‘‘ وہ ہاتھ جوڑ کر بولی ساتھ ہی رونے لگی۔ میں نے رادھاکے کہنے پرصائمہ وغیرہ کو بھی اندر بلا لیا۔ گوری کسی بھرے ہوئے ٹیپ ریکارڈ کی طرح بجنے لگی۔ کہ کس طرح سپنا بی بی نے اسے تعویز لا کر دیئے جو وہ ناعمہ باجی کو چائے اور دودھ وغیرہ میں پلاتی رہی۔

’’سپنا بی بی نے کہا تھاجب ناعمہ باجی مرجائے گی تو میں تمہیں اپنے رکھ لوں گی اور ۔۔۔اور۔۔۔‘‘ اتناکہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔

’بولتی ہے یا پھر‘‘ میری گرج دار آواز سن کر وہ لرزرنے لگی۔

’’سپنا بی بی نے کہا تھا جب میں شرجیل بابو سے شادی کر لوں گی تو کبھی کبھی رات کو مم۔۔۔میں تمہیں بھی شرجیل بابو کے کمرے میں بھیج دیا کروں گی‘‘ گوری نے جھجکتے ہوئے بتا دیا۔ شرجیل کا چہرہ خفت سے سرخ ہوگیا۔ ناعمہ اور صائمہ نے جلدی سے دوپٹوں میں منہ چھپا لیے۔ سپنا کا رنگ دھلے ہوئے لٹھے کی طرح سفید ہو چکا تھا۔ وہ پاس پڑی کرسی پر ڈھیر ہوگئی۔

’’سن لیا تم نے ۔۔۔؟‘‘ میں نے حیرت سے منہ کھولے شرجیل کو مخاطب کیا۔

’’فا۔۔۔فاروق۔۔۔بھائی میں کیا کہوں میری تو عقل خبط ہو چکی ہے‘‘ پھر وہ سپنا سے مخاطب ہوا۔’’سپنا میں نے تمہیں کیا سمجھا تھا اور تم کیا نکلیں؟ یہ سب کچھ تم نے کیوں کیا؟‘‘ اس کے چہرے پر دکھ اور تاسف کے گہرے بادل چھا گئے تھے۔

سپنا نظریں نیچی کیے بیٹھے تھی۔ اس کا سارا تنتنا ختم ہو چکا تھا۔ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مسلتے ہوئے وہ شرجیل کی طرح دیکھتی پھر منہ نیچے کر لیتی۔

’’اس کلٹا کے کارن کئی گھر برباد ہوئے ہیں۔ نسیم نامی ایک ناری کے پتی کو اسنے اپنے منتروں سے ایسا بس میں کیا کہ وہ اپنا سارا دھن اس پر لٹابیٹھا، کیول یہی نہیں اس ابھاگی نے اپنی پتنی کو بھی چھوڑ دیا۔ اس دکھیاری نے اپنی کومل سپتری کی ہتھیا کرکے آتم ہتھیا کر لی‘‘ رادھا نے مجھے معلومات پہنچائیں۔

’’تمہاری وجہ سے کتنے گھر برباد ہوئے۔۔۔؟ کتنی عورتوں نے خو دکشی کرلی؟ تم ایک ڈائن ہو، تمہیں معاف کرنا انسانیت پر ظلم‘‘ میں نے نفرت بھری نظر سپناپر ڈالی۔

’’نسیم نامی وہ عورت تو تمہیں یاد ہوگی جس کے شوہر کو تم نے اپنے حسن کے جال میں پھنسا کر اس سے سب کچھ لوٹنے کے بعد اس کی بیوی کو طلاق دلوا دی تھی۔ اس بے چاری نے اس غم میں اپنے ہاتھوں سے اپنی ننھی سی بیٹی کو مار کر خود کشی کر لی تھی۔ یاد ہے یا بھول گئیں۔۔۔؟ تمہارے گناہوں کی فہرست خاصی طویل ہے میں نے تو صرف ایک واقعہ بتایا ہے۔‘‘

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس سے زیادہ حیران شرجیل تھا۔

’’اس پاپن نے تمرے شریر کو اپنے پلید ہاتھوں سے چھوا تھا اس کارن راپ تو اسے او ش ملے گا۔‘‘ رادھا کو اپنی جلن ستائے جا رہی تھی۔

ھر کیا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے سوچ کے ذریعے رادھا سے پوچھا۔

’’دیکھتے جاؤ۔‘‘ رادھا چلتی ہوئی سپنا کے پاس کھڑی ہوگئی۔ میں سمجھ گیا تھا کہ وہ سپنا کو کچھ سزا دینا چاہتی ہے۔ صائمہ کو خوش کرنے کا یہ ایک اچھا موقع تھا۔

’تم نے اپنے گندے ہاتھوں سے میرا ہاتھ تھامنے کی جرأت کی تھی۔۔۔کیا سمجھی تھیں میں بھی دوسرے احمقوں کی طرح تم پر ریجھ گیا ہوں؟‘‘ میری بات سن کر شرجیل کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ میں نے ڈائریکٹ اس پر چوٹ کی تھی۔

’’تمہیں اس گناہ کی سزا تو ضرور ملے گی‘‘ میں نے کنکھیوں سے صائمہ کی جانب دیکھا جس کا چہرہ خوشی اور فخر سے چمک رہا تھا۔ رادھا میری چالاکی سمجھ گئی تھی اس کے گلابی لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ آگئی۔ اس نے سپنا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ میری باتوں سے پہلے ہی ڈری بیٹھی تھی بری طرح چونک کر اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگی جو کسی نادیدہ گرفت میں آگیا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے تھانیدار والا واقعہ گھوم گیا جب رادھا نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا اور ا س کا خوبصورت ہاتھ انگارے کی شکل اختیار کر گیا تھا جس سے تھانیدار کے جسم کو آگ لگ گئی تھی۔ میں لرز گیا۔ رادھا کی آنکھوں سے قہر ٹپکنے لگا۔ میں نے جلدی سے رادھا کی طرف دیکھا۔

’رادھا! دھیان رکھنا صائمہ کے گھر والوں کے لئے کوئی مصیبت نہ کھڑی نہ لینا۔‘‘ میں نے سوچ کے ذریعے اسے مخاطب کیا۔ اس نے میری طرف دیکھ کرمطمئن ہونے کا اشارہ کیا۔ اچانک سپنا اپنا ہاتھ جھٹکنے لگی۔ وہ بری طرح چیخ رہی تھی سب کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھٹ گئیں۔ سپنا کے ہاتھ پر موٹے، موٹے آبلے پڑ چکے تھے۔ اس کے خوبصورت شفاف ہاتھ پر بدنما داغدار آبلے نکل آئے۔ رادھا ایک طرف کھڑی دلچسپی سے سپناکو دیکھ رہی تھی۔ اچانک سپنا میرے قدموں میں گر پڑی۔ میں بری طرح بوکھلا کر پیچھے ہٹ گیا۔

’’خداکے واسطے مجھے معاف کر دو۔۔۔تمہیں اللہ کا واسطہ۔۔۔ہائے میں مر گئی مجھے معاف کر دومجھ سے یہ تکلیف برداشت نہیں ہو رہی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے‘‘ رادھا کے ہونٹ ہلے اس نے کچھ پڑھ سپنا پر پھونک دیا۔

میں نے دیکھا سپنا کسی معمول کی طرح اٹھی اور جا کر ناعمہ کے قدموں میں گر گئی۔

’’مجھے معاف کر دو ناعمہ۔۔۔مجھ سے بڑی بھول ہوئی کہ میں نے تمہارے خاوند پر جادو کرکے اسے اپنے قبضے میں کرلیا تھا۔ میں مانتی ہوں کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے لیکن تم ایک شریف خاندان سے تعلق رکھتی ہو مجھے یقین ہے تم مجھے معاف کر دو گی‘‘ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

ناعمہ جلدی سے پیچھے ہٹ گئی۔ رادھا میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ سب سے زیادہ خوشی صائمہ کو ہو رہی تھی۔ سپنا اٹھ کر دوبارہ میرے پاس آگئی۔

’’خان صاحب! میں آپ سے بھی معافی مانگتی ہوں آپ بہت علم والے ہیں، میں دو چار جنتر منتر سیکھ کرسمجھ بیٹھی تھی کہ میں ہی سب کچھ ہوں لیکن سچ کہتے ہیں ہر سیر کو سوا سیر ہوتا ہے۔ براہ کرم مجھے معاف کر دیں۔‘‘ اس کا ہاتھ سوج کا کپا ہو گیا تھا جس پر بڑے بڑے چھالے بن گئے تھے۔ اس کی چہرے کی بے چارگی دیکھ کر میرا دل پسیج گیا۔ شاید میں اسے معاف کر دیتا لیکن رادھانے میرے کان میں سرگوشی کی۔

’’یہ کلٹا اس سمے کیول اپنی جان بچانے کے وچار میں ہے۔ اس کے ہر دے میں کھوٹ ہے یہ اپنے اس پاپی گرو کے انتجار میں ہے کہ وہ آکر تم سب کو کشٹ دے سکے۔‘‘

’’تمہارے یہ مگر مچھ کے آنسو میرے اوپر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ میں خوب جانتا ہوں تمہارے دل میں کہا ہے؟ تم اس منحوس کالی داس کے انتظار میں جو تمہارا انتقام لے سکے۔ اس بات کا تو مجھے ذرا بھر خوف نہیں ہے کیونکہ تمہارا وہ مکروہ اور لعنتی استادمجھے اچھی طرح جانتا ہے۔ لیکن جو کچھ تم نے بے گناہ لوگوں کے ساتھ کیا ہے اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی‘‘ میرے کہنے پر اس کا چہرہ ایک بار پھر سفید پڑ گیا۔ اس نے بے چارگی سے میری طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں بے بسی کا احساس بڑا واضح تھا۔

’آپ بے فکر ہو جائیں فاروق بھائی! میں اسے ابھی پولیس کے حوالے کرتا ہوں وہ خود ہی اس سے سب کچھ اگلوالیں گے اگر یہ قاتلہ ہے تو میں اسے پھانسی کی سزا دلوا کر چھوڑوں گا‘‘ شرجیل نے اے سی ہونے کے زعم میں کہا۔ غصہ تو مجھے بہت آیا لیکن آنٹی اور ناعمہ وغیرہ کا لحاظ مانع تھا پھر بھی میں نے کہا۔

’’بچو! یہ تمہارے بس کی نہیں اور یہ سارا کیا دھرا تمہاری نادانی کی وجہ سے ہوا ہے اگر تمہیں کسی فاحشہ سے شادی کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو پورا کر لو۔‘‘ میری آواز خوبخود بلند ہوگئی تھی۔ شرجیل کو توقع نہیں تھی کہ میں اس سے اس لہجے میں بات کروں گا۔ شرمندگی سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ لیکن کچھ تو میں اس سے بڑا تھا دوسرے وہ اپنی آنکھوں سے کھیڈے چوہڑے اور پھر اپنی معشوقہ کا حال دیکھ چکا تھا اس لئے کچھ نہ بول سکا، خاموشی سے سر جھکا لیا۔ صائمہ فخر سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ سپنا اپنی سزا سننے کے انتظار میں خوفزدہ کھڑی تھی۔

’’موہن! اس کلٹا کو جانے کا کہہ دو۔ اس کا ماس کھا کر میری سکھیوں کو بڑا سودا(مزہ) آئے گا‘‘ رادھا نے کہا۔ میں سمجھ گیا تھا رادھا کیا چاہتی ہے؟ ہو سکتا ہے میں اس کی سفارش کرتا لیکن جب رادھا نے مجھے بتایا کہ یہ کینہ پرور عورت ہم سے بدلہ لینے کا پروگرام بنا رہی ہے تو میں نے بھی یہی مناسب سمجھا اسے اس کے انجام تک پہنچ جانا چاہئے۔ کالی داس کے آنے کے بعد یہ ناعمہ کو ضرور نقصان پہنچاتی۔

’’ٹھیک ہے تم جاؤ۔۔۔تمہارے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا‘‘ میں نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔

’’مم ۔۔۔میرا ہاتھ‘‘ وہ خوفزدہ نظروں سے اپنے بدنما ہاتھ کی طرف دیکھ کر گھگھیائی۔

’’یہ تمہیں یاد دلاتا رہے گا کہ تم نے کتنے لوگوں پر ظلم کیا ہے۔۔۔؟ اس کے علاوہ اس ہاتھ کے ساتھ تم کسی کو اپنے حسن کا شکار نہ بنا سکو گی‘‘ میں نے سنگدلی سے جواب دیا۔ وہ کچھ نہ بولی آہستہ قدموں سے جانے لگی۔

’’اپنے استاد سے کہنا اگر اسے تم سے محبت ہے تو دائرے سے باہر آکر تمہارا ہاتھ ٹھیک کر دے‘‘ میں نے پیچھے سے آواز لگائی۔ اس نے مڑ کر زخمی نظروں سے میری طرف اور باہر نکل گئی۔

’’چلو چلیں‘‘ میں نے صائمہ کی طرف دیکھ کر کہا۔

’’فاروق بھائی! بیٹھیں نا ابھی تو میں نے آپ کی کوئی خاطر مدارت بھی نہیں کی۔‘‘ شرجیل کے سارے کس بل نکل چکے تھے اب وہ بالکل فدوی بنا ہوا تھا۔ جب دیکھا کہ اس کی بات کا جواب بھی کسی نے نہیں دیا تو بری طرح شرمندہ ہوگیا۔

ہم سب باہر نکل آئے۔ وہ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح ہمارے پیچھے آرہا تھا۔ جب ہم گیٹ تک پہنچے تو اس نے آہستہ سے مجھے پکارا۔

’فاروق بھائی۔۔۔! رات کو اگر تھوڑا سا ٹائم نکال سکیں میرے لئے تو بہت مہربانی ہوگی‘‘ اس نے التجا کی۔

’’اچھا دیکھیں گے‘‘ میں نے بے پرواہی سے کہا اور باہر نکل آیا۔ میں دراصل اسے اچھی طرح سبق دینا چاہتا تھا کہ دوبارہ وہ ایسی حرکت نہ کرے۔ جب ہم گھر پہنچے تو گوری جو کہ بالکل بھیگی بلی بنی ہوئی تھی اچانک روتے ہوئے میری ساس کے قدموں میں گر گئی۔

’’مجھے معاف کر دیں بیگم صاحبہ! مجھے معاف کر دیں ، اگر دوبارہ مجھ سے کوئی غلطی ہو تو بے شک مجھے جان سے مار دیں‘‘ وہ بری طرح رو رہی تھی۔ میں نے رادھا کی طرف دیکھا۔

’’اس پاپن کا اس گھر میں رہنا ٹھیک نہ ہے۔ یدی اسے اوسر ملا تو یہ کچھ بھی کر سکتی ہے یوں بھی اس کے پریمی بہت ہیں اس شہر میں ’’ رادھا نے مجھے سمجھایا۔

’’دفع ہو جاؤ یہاں سے، اگر میں نے تمہیں اس گھر کے آس پاس پھٹکتے بھی دیکھ لیا تو تمہاری خیر نہیں‘‘ میں نے گوری کو بری طرح لتاڑ دیا۔ اس نے ایک نظر سب کو دیکھا اور باہر نکل گئی۔ سب خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ صائمہ آج بہت خوش تھی وہ بار بار میری طرف دیکھ کر مسکراتی۔

’’موہن! میں جا رہی ہوں یدی کسی کارن میری جرورت ہو تو من میں میرا دھیان کر لینا میں آجاؤں گی‘‘ رادھانے میرے کان میں کہا۔

’’دل میں تو ہر وقت تمہارا ہی خیال رہتا ہے‘‘ میں نے اسے خوش کرنے کے لئے کہا۔ اسکا احسان کچھ کم نہ تھا۔ بڑی دلآویز مسکراہٹ اس کے نازک لبوں پر آگئی۔

’’یہ بات ہے تو میں رات کو آکرتم سے ڈھیر سارا پریم کروں گی‘‘ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

’’ناعمہ تم اپنے کمرے میں جاؤ‘‘ صائمہ نے اس سے کہا

’’اچھا باجی‘‘ یہ کہہ کر وہ چلی گئی۔

’’فاروق ! شرجیل کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ صائمہ نے میری رائے جانناچاہی۔

’’جو آپ لوگ مناسب سمجھیں‘‘ میں نے مختصر ساجواب دیا۔

’’بیٹا! اگر مناسب ہو تو اسے معاف کرکے ناعمہ کو اس کے گھر بھیج دیاجائے۔ بیٹیاں اپنے گھر میں ہی اچھی لگتی ہیں‘‘ میری ساس کہنے لگیں۔

’’پہلے آپ ناعمہ سے پوچھ لیں وہ کیا چاہتی ہے ؟ اگر اس کا خیال بھی یہی ہے تو ٹھیک ہے‘‘ میں نے کہا۔

بات ختم ہوگئی۔ رات کا کھانا کھا کر میں اور صائمہ باہر لان میں آبیٹھے۔ بچوں کو جاوید کے حوالے کرکے میں مطمئن تھا یوں بھی وہ دونوں سے بہت پیار کرتا تھا۔ صائمہ نے چائے بنانے کی ذمہ داری ناعمہ کے سپرد کی اور اسے کہا چائے وہ وہیں لے آئے۔ہم دونوں لان میں بچھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد ناعمہ چائے لے آئی وہ بالکل خاموشی تھی۔ مجھے اس پر ترس آیا کتنی شوخ ہوا کرتی، ہر وقت ہنستی رہتی۔ گیٹ پر بیل ہوئی چوکیدار نے بتایا شرجیل صاحب آئے ہیں۔ میں نے دیکھا ناعمہ کے چہرے پر ایک رنگ سا آگیا۔ میں نے صائمہ کی طرف دیکھا۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

’اسے اندر بھیج دو‘‘ میں نے چوکیدار سے کہا۔

’’میں نے کہا تھا جی، وہ کہہ رہے ہیں فاروق صاحب کو بلادو‘‘ چوکیدار نے بتایا۔

’’صائمہ! تم جا کر اسے لے آؤ‘‘ تھوڑی دیر بعد شرجیل سر جھکائے آگیا۔

’’اسلام علیکم!‘‘ اس نے آتے ہی سلام کیا۔

’’وعلیکم اسلام! آؤ شرجیل بیٹھو‘‘ میں نے ایک کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ چپ چاپ سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ شرمندگی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

’’شرجیل! غلطی تو تم نے بہت بڑی کی ہے ۔۔۔اگر تم اپنے کیے پر نادم ہو اور ناعمہ تمہیں معا ف کرتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ میں نے کہا۔

اس نے ایک نظر ناعمہ کی طرف دیکھا جو چہرہ جھکائے لان کی گھاس کو اپنے پاؤں کے انگوٹھے سے کرید رہی تھی۔

’’ناعمہ! جو غلطی میں نے کی ہے اس کے لئے اگرمیں سوبار بھی معافی مانگوں تو کم ہے ۔۔۔لیکن غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے اور میں بھی ایک انسان ہوں۔ اگر تم مجھے معاف کر دو تو میں وعدہ کرتاہوں ساری زندگی دوبارہ ایسی غلطی نہیں کروں گا‘‘ شرجیل نے کھلے دل سے اپنی غلطی تسلیم کرکے ناعمہ سے معاف مانگلی۔

’’انکل اور آنٹی آجائیں پھر بیٹھ کر بات کر لیں گے‘‘ صائمہ نے شرجیل سے کہا ’’اگر وہ تمہاری ضمانت دے دیں کہ تم دوبارہ ایسی حرکت نہ کرو گے تو ہمیں ناعمہ کو بھیجنے میں کوئی اعتراض نہیں‘‘ صائمہ بہت دانشمند تھی۔ اس نے یہ بات محض شرجیل کو ڈرانے کے لئے کہی تھی۔ شرجیل کا رنگ اڑ گیا۔

’’باجی! خدا کے لئے مجھے مزید ذلیل نہ کریں، اگر پایا اور مما کو معلوم ہوگیا تو مجھے ہمیشہ کے لئے گھرسے نکال دیں گے۔ آپ تو جانتی ہی ہیں پایا کو وہ کس قدر سخت اور اصولوں کے پابند ہیں‘‘ شرجیل نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ دیے۔ صائمہ نے میری طرف دیکھا اور میں نے ناعمہ کی طرف وہ میرا اشارہ سمجھ کر بولی۔

’’فاروق بھائی! آپ میرے بڑے ہیں جیسا آپ کا حکم ہوگا میں ویسا ہی کروں گی۔‘‘

’’شرجیل اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کل کو تم دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرو گے‘‘ صائمہ نے کہا۔

’’باجی! جس قدر شرمندگی مجھے ہو رہی ہے اگر میں اس بات پر قادرہوتا کہ اپنا دل آپ کھول دکھا سکوں تو یہ بھی کر دیتا لیکن اس وقت تو میں اتناہی کہہ سکتاہوں کہ فاروق بھائی علم والے ہیں اگر یہ سمجھتے ہیں کہ میں سچ کہہ رہاہوں تو مجھے معاف کر دیا جائے‘‘ اس نے بڑی متانت سے کہا۔

دل تو تم اپنی ان محترمہ کو دکھاناہمیں تو تمہاری باجی کا دل سنبھالنے میں ہی خاصی مشکل پیش آتی ہے دوسرا دل کہاں سے دیکھتے پھریں‘‘ میں نے ماحول کا تناؤ ختم کرنے کے لیے کہا۔ میری بات پرصائمہ نے گھور کر مجھے دیکھا پھر ہنس پڑی۔ ماحول کچھ خوشگوا ر ہوگیا تھا۔ میں نے اٹھتے ہوئے صائمہ کو ساتھ آنے کا اشارہ کیا کچھ دور جاکرمیں نے کہا’’تھوڑی دیر دونوں کو تنہا چھوڑ دو اگر ان کا آپس میں کمپرومائز ہو جاتاہے تو بہتر ہے۔‘‘

’’آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہے فاروق!‘‘ اس نے میری تائید کی۔ تھوڑی دیر لان میں چہل قدمی کرنے کے بعدہم دوبارہ کرسیوں پر آبیٹھے۔ ناعمہ بھیگی آنکھیں لیے مسکرا رہی تھی۔

’’فاروق بھائی!آپ نے جتنا بڑا احسان کیا ہے میں چاہوں بھی تو اس کا بدلہ ساری زندگی نہیں اتار سکتا‘‘ شرجیل نے میرا ہاتھ پکڑ کر عقیدت سے کہا

’’اتار سکتے ہو اگر تم ناعمہ کوخوش رکھو تو سمجھو میرے احسان کا بدلہ اتر گیا۔مٰں ناعمہ کی آنکھوں میں آئیندہ آنسو نہیں دیکھ سکوں گا، اورہاں اس کے ساتھ ہی تمہیں جرمانہ بھی ہوگا۔‘‘ میں نے کہا۔

’’جان حاضرہے خان صاحب!‘‘ وہ جذباتی ہو رہا تھا۔

’’جان تو تم سنبھال کر رکھو اپنی ناعمہ کے لیے ہمیں تو بس آئس کریم کھلا دو‘‘ میں نے ہنس کرکہا۔ ناعمہ شرما کر اندر بھاگ گئی۔ بچے آئس کریم کا سن کر بھاگتے ہوئے آگئے۔ میری ساس کا بس نہ چلتا تھا کہ مجھے اپنی آنکھوں پر بٹھا لے۔ بہرحال مزید ایک دن رک کر ہم واپس آگئے۔

گھر آکر صائمہ نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔

’’فاروق! ایک بات کی سمجھ نہیں آئی‘‘ اس نے میری طرف دیکھا۔ ایک چھٹی باقی ہونے کی وجہ سے میں گھر پر تھا بچے سکول جاچکے تھے۔

’’کونسی بات؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔

’’جب آپ اتنا کچھ جانتے تھے تو وہ منحوس پنڈت اور اس کا استاد کیسے آپ پر حاوی ہوگئے‘‘ اس کی بات بالکل ٹھیک تھی۔

’’اس وقت میرے وظائف ابھی مکمل نہیں ہوئے تھے۔ تمہیں یاد ہوگا کہ میں اکثر بیمار ہو جاتا تھا۔ یہ سب کچھ اسی وجہ سے تھا۔ لیکن میں مجبور تھا کسی کو کچھ بھی نہ بتا سکتاتھا۔ کیونکہ میرے استاد نے مجھے سختی سے تاکید کی تھی اگرکسی کوکچھ بتاؤں گا سب کچھ ختم ہو جائے گا اور تم جانتی ہو۔ جس قسم کے حالات ہمیں اس گھر میں پیش آرہے تھے اس وجہ سے بہت ضروری تھا کہ میں کچھ علم سیکھ لوں‘‘ میں نے اسے مطمئن کرنے کے لئے فوراً کہانی گھڑ لی جس میں اب میں کافی ماہر ہوتا جا رہا تھا۔

’’لیکن رادھا نے جب ہمیں تکلیف دینا شروع کی تھی اس وقت بھی آپ نے کچھ نہ کیا‘‘ وہ کسی طور مطمئن ہونے میں نہ آرہی تھی۔ میں پہلے بھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ صائمہ حد درجہ ذہین ہے۔

’’کہا توہے اس وقت میرا وظیفہ مکمل نہیں ہوا تھا اسی وجہ سے وہ ہمیں ستانے کے قابل ہوئے۔ اب دیکھو اس کے بعد توکچھ بھی نہیں ہوانا‘‘ میں نے دلیل دی۔

اس کے بعد صائمہ نے اس بارے میں کوئی سوال نہ کیاتھا۔ میں حسب معمول بینک جانے لگا۔ ایک ہفتے تک کوئی خاص بات نہ ہوئی صائمہ نے بتایا کہ ناعمہ کا فون آیا تھا۔ وہ شرجیل کے ساتھ بہت خوش ہے

میں حیران تھا کہ کھیڈو چوہڑے اور سپنا کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اس کے باوجود کالی داس منڈل سے باہر نہ آیا۔ میں سمجھ رہا تھا شاید وہ بری طرح خوفزدہ ہوگیا ہے لیکن یہ میری بھول تھی۔ وہ خیبث اپنی طاقت بڑھانے کے لیے مزید جادو سیکھ رہا تھا۔ جس کا علم رادھا کو بھی نہ ہو سکا۔ ملنگ بھی غائب تھا۔ رادھا ایک دو دن بعد رات کو آجاتی اور ہم دنیا و مافیھا سے بے خبر ایک دوسرے میں کھو جاتے۔

میں۔۔۔جو کھبی ایک نماز قضا کرنا گناہ کبیرہ سمجھتا تھا اب اکثر میری نمازیں قضا ہونے لگی تھیں۔ صبح کی نماز تو اکثر نکل جاتی۔ جس رات رادھا آتی تو صبح تک ہم ایک دوسرے کے ساتھ مصروف رہتے ایسے میں صبح نماز کے لئے اٹھنا مشکل کام تھا۔ یوں بھی جب انسان برے اور بے حیائی کے کاموں میں پڑ جائے تو اس کے دل سے نیکی کا خیال نکل جاتا اور گناہ پر اس کے دل میں کوئی افسوس نہیں ہوتا۔ میں جو کچھ رادھا کے ساتھ کر رہا تھا اس فعل کے بارے میں اسلام میں اتنی سخت سزا ہے کہ سنگسار کیے بنا چھوٹ نہیں۔ لیکن میں رادھا کے عشق میں اندھا ہو چکاتھا۔ صائمہ ایک دو بار مجھ سے اس بات پر ناراض ہوئی تھی کہ میں نمازوں کی پابندی نہیں کرتا۔ میں ڈھٹائی سے سن لیتا لیکن کرتا وہی جو میرا دل چاہتا۔

ایک دن میں بینک میں حسب معمول اپنے کام مصروف تھا کہ رادھا آگئی۔ اسکا آنا کوئی غیر معمولی بات نہ تھی بلکہ شاید ہی کوئی دن ایسا ہوتا جب وہ نہ آتی۔ اس دن کے چہرے پر غیر معمولی سنجیدگی تھی۔

’’کیا باتہے رادھا! آج تم کچھ پریشان دکھائی دے رہی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’موہن! مجھے کچھ دن کہیں جانا ہوگا۔ اور مجھے تمری چنتا ہے کہ کہیں تمہیں کوئی کشٹ نہ بھوگناپڑے‘‘ اس نے کہا۔

’’کون مجھے نقصان پہنچا سکتا ہے؟‘‘ میں حیران ہوگیا۔

’’تم کالی داس کو بھول گئے ہو‘‘ اس نے کہا۔

’’ہاں۔۔۔رادھا! یاد آیا تم نے کھیڈو اور سپنا کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟‘‘ اکثر میرے ذہن میں یہ بات آتی لیکن رادھا جب سامنے ہوتی تو سوائے عشق و محبت کے اور کچھ نہ سوجھتا۔

’’میری سکھیوں کوبھوجن مل گیا تھا‘‘ اس نے بڑے آرام سے کہا۔

’’اس بار میں دھیان رکھا تھا ان کے بن ماس(بغیر گوش) کے شریر(ڈھانچے) کسی کو مل نہ جائیں اسی کا رن ان کو ایک گپھا (غار) میں لے جایا گیا تھا۔‘‘

’’اچھا ٹھیک ہے لیکن تمہیں کتنے دنوں کے لئے جانا ہوگا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ٹھیک چار دن بعد پور نماشی ہے مجھے اگلے پور نماشی تک سوریہ دیوتا(سورج دیوتا) کا جاپ کرنا ہوگا‘‘

’’یہ کیا ہوتا ہے؟‘‘ میں کچھ بھی نہ سمجھ سکا۔

’’اپنی شکتی کو بڑھانے کے کارن مجھے ایسے جاپ کرنا پڑتے ہیں‘‘ اس نے سمجھایا۔

’’کیا تم ہر سال یہ جاپ وغیرہ کرتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔ہر ورش کرنا جروری ہے‘‘ اس کے حسین چہرے پر سوچ کی گہری لکیریں ظاہر کر رہی تھی کہ وہ بہت فکر مند ہے۔

’’پھر کیا مسئلہ ہے؟ اس بار بھی کر لو‘‘ میں نے کہا۔

پچھلے ورش تو بات کچھ اور تھی میں نے کسی سے مس نہیں لگایا تھا پرنتو اس بار میرا من نہیں کرتا کہ جاؤں پرنتو نہ گئی تو ۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگی۔

’’یعنی کہ پوراایک ماہ تم مجھ سے دوررہو گی‘‘ میں بھی اداس ہوگیا تھا۔

’’ہاں‘‘

’’لیکن تم جانتی ہو کہ دشمن میری تاک میں ہے ایسا نہ ہو تمہاری غیر موجودگی میں وہ کوئی وار کر جائے‘‘ میں نے خدشہ ظاہر کیا۔

’’اسی بات کی چنتا تو مجھے بیاکل کر رہی ہے موہن!‘‘ وہ پر خیال انداز سے بولی۔ کافی دیر ہم دونوں اپنی اپنی سوچوں میں غرق رہے۔ خاصا سنجیدہ مسئلہ تھا۔ اور کسی کی طرف سے تو شادی اتنی فکر نہ ہوتی لیکن کالی داس ابھی زندہ تھا اور اس کمینے سے ہر قسم کی قبیح حرکت کی توقع کی جا سکتی تھی۔

’’کیا یہ جاپ تمہارے لئے بہت ضروری ہے؟‘‘ میں نے دوبارہ پوچھا۔

’’ہاں موہن!یدی میں ایسا نہ کروں تو میری شکتی کم ہو جاتی ہے۔ جس طرح کھیڈو تیار ہو کر آیا تھا یدی میں نے اپنا جاپ نہ کیا ہوتا تو تمرے واسطے کٹھنا یاں بڑھ سکتی تھیں وہ دھشٹ پوری تیاری کرکے آیا تھا۔ پرنتو وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی یدھ رادھا سے ہے‘‘ کچھ دیر وہ خاموش بیٹھی رہی پھر سر پرہاتھ مارکربولی۔

’’دھت تیرے گی۔۔۔میں بھی کتنی مورکھ ہوں۔ اس سمسیا کا سما دھان ہے‘‘ اس کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا۔

’’وہ کیا؟‘‘ میں نے بے تابی سے پوچھا۔

’میری سکھیاں۔۔۔‘‘ اسکے لہجے سے اطمینان کا اظہار ہو رہا تھا۔

’’کیا مطلب میں سمجھا نہیں‘‘

’’جب تک میں واپس نہ آجاؤں میری سکھیاں تمری رکھشا کریں گی‘‘

’’کیا تمہاری سہلیاں بھی تمہاری طرح مجھے نظر آیا کریں گی؟‘‘ میں نے کسی خیال کے تحت پوچھا۔

’’نہیں۔۔۔پرنتو جب بھی تم اپنے من میں ان کا وچارکیا کرو گے وہ تمری سہائتا کرنے آجائیں گی۔ پرنتو ایک بات کا دھیان رکھنا، کہیں کسی سے من نہ لگا بیٹھنا‘‘ وہ آج حد سے زیادہ شوخ ہو رہی تھی۔

’’تمہیں دیکھنے کے بعد کسی اور طرف دیکھنے کا ہوش ہی نہیں رہتا۔ کیا تمہاری سہلیاں تم سے بھی خوبصورت ہیں؟‘‘ میں نے اسے چھیڑا

’’ہاں۔۔۔یوں تو ساری ہی سندرہیں پرنتو بسنتی۔۔۔اپسراؤں سے بھی جیادہ سندر ہے‘‘ رادھا کے لہجے میں کوئی ایسی بات تھی کہ میں چونک گیا

’موہن! میرے سنگ وشواش گھات نہ کرنا میں نے تمہیں اپنا سب کچھ مان لیا ہے اب میرے من میں کسی کی پرچھائیں بھی نہیں آسکتی۔ تمری پتنی کی بات دو جی ہے پرنتو کسی اور کا دھیان بھی من مین نہ لانا، وہ از حد سنجیدہ تھی۔

م نے یہ بات کرکے میرا دل دکھایا ہے رادھا! کیا میں تمہیں اس قسم کا انسان نظر آتا ہوں کہ جسے دیکھا اس پر مر مٹا۔ یاد ہے شروع شروع میں تم سے بھی زیادہ لگاؤ نہیں رکھتا تھا یہ توپتا نہیں تمنے مجھ پر کیا جادو کیا ہے کہ میں تمہارا ہی ہو کر رہ گیاہوں‘‘ میں نے خفگی سے کہا۔

’’بھگوان کی سوگندکھا کر کہتی ہوں ناراج ہو کر تم اور سندر دکھتے ہو۔‘‘ وہ ہنسی’’مجھے تم پر پورا وشواس ہے پر نتویہ جو بنستی ہے نا۔۔۔بہت نٹ کھٹ ہے۔ اس پر سندربھی اتنی کہ میں تمہیں بتا نہیں سکتی۔ اسی کارن ہم دونوں کے پیچھے سارے سنسارکے سادھو، پنڈت ، پجاری پڑے ہیں۔ مجھے تو اس کارن اپنی بندی بنانا چاہتے ہیں جو منش مجھے پراپت کرنے میں سپھل ہوجائے گا وہ سنسار کا سبسے بلوان منش بن جائے گا۔ پرنتو بسنتی کے پیچھے کیول اسکی سندرتا کے کارن پڑے ہیں ‘‘ رادھانے تفصیل بتائی۔ میرے دلمیں یونہی خیال آیا کہ رادھا خود بھی بہت حسین ہے جب یہ اس لڑکی ’’بنستی‘‘ کی تعریف کرہی ہے تو وہ کیا بلا ہوگی؟

’’ابھی دیکھا نہیں اور یہ وچار ہیں دیکھنے کے بعد کیا ہوگا؟‘‘ رادھا کے لہجے سے حسد کی بو آرہی تھی۔ وہ حسب معمول میرے دل میں آئی بات جان گئی تھی۔

’’ارے نہیں۔۔۔میں تو بس یونہی سوچ رہا تھا‘‘ میں خجل ہوگیا۔

’’موہن! کل کیا ہوگا یہ توکیول دیوتا ہی جانتے ہیں پرنتو اتنا دھیان رکھنا رادھا تم بن جی نہ پائے گی‘‘ اس نے بڑی حسرت سے کہا اور میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ میں نے اس کی حسین آنکھوں میں موتی چمکتے ہوئے دیکھ لیے تھے۔ میں اسے تسلی دینا چاہتاتھا لیکن اس نے موقع ہی نہیں دیا اور غائب ہوگئی۔

ایک دن میں بینک سے آیا تو صائمہ کہنے لگی ’’کل سے بچوں کو سکول سے چھٹیاں ہورہی ہیں اگر آپ بھی دوچار چھٹیاں لے لیں تو ہم لاہور ہو آئیں۔‘‘

’’آجکل کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے تم لوگ چلے جاؤ میں بھی ایک ہفتے بعد آجاؤں گاپھر اکٹھے واپس آجائیں گے۔‘‘

’’ٹھیک ہے اس طرح بچے کچھ دن سیربھی کر لیں گے۔‘‘ صائمہ نے کہا۔

میں نے دوسرے دن انہیں بائی ائر لاہور بھیج دیا۔ میں بینک پہنچا ہی تھا کہ کچھ دیر بعد رادھا آگئی۔ اسنے بتایا سارا بندوبست ہوگیا ہے دو دن بعد اسے ایک ماہ کے لئے جانا ہے۔

’’پریم! میں جانے سے پہلے ساری رینا تمری بانہوں میں بتانا چاہتی ہوں۔‘‘ اسکی حسین آنکھوں میں نشہ اتر آیا۔ میرا دل بھی دھڑکنے لگا۔ رات کے حسین تصور نے میرے رگ و پے میں سرور کی لہریں دوڑا دیں۔

’’ٹھیک ہے تم آجانا‘‘ میں نے کہا۔

’’موہن! میں جانے سے پہلے تمہیں بسنتی سے ملانا چاہتی ہوں یدی کوئی کٹھن سمے آئے تو وہ تمہری سہائتا کر سکے‘‘ وہ کہنے لگی۔ یک بارگی میرا دل زور سے دھڑکا۔ میں نے جلدی سے خیالات کی رو دوسری طرف پھیرتے ہوئے اس سے پوچھا۔

’تم کتنے بجے آؤ گی؟‘‘

’’کیوں۔۔۔؟‘‘

’’یونہی پوچھ رہاتھا۔‘‘

’’جس سمے ہر روج آیا کرتی ہوں اسی سمے ہی آؤں گی‘‘ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے انوکھی سی فرمائش کی۔

پریتم! جس کوٹھے میں تم سوتے ہو اسے بندکر دینا اورکچھ سمے تم کسی استھان پر بتا لینا‘‘

’’کیوں۔۔۔؟‘‘ میں چونک گیا۔

’’اس پرشن کا اتر میں تمہیں سمے آنے پر دوں گی۔‘‘

’’تمہاری تو ہر بات ہی ایک معمہ ہوتی ہے۔‘‘میں ہنس دیا۔ سفید رنگ کی ساڑھی میں وہ جنت کی حور لگ رہی تھی۔ واقعی اس کا حسن بے مثال تھا۔ ابھی تک میں نے اپنی زندگی میں اس قدر حسین عورت نہ دیکھی تھی۔

’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ اس کی حسین آنکھوں میں خمار اتر آیا۔

’’تم بہت حسین ہو‘‘ تعریف سن کر اس کا چہرہ گلاب کی پھول کی طرح کھل اٹھا۔

’’پریتم! اسی طرح سارا جیون پریم کرتے رہنا‘‘ اس کی آواز بوجھل ہوگئی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کہنے لگی

’’اچھا پرتیم! جاتی ہوں اپنے سمے پر میں آجاؤں گی۔ میری اچھا کادھیان رکھنا۔ جہاں ہم نے آج کی رینا بتانی ہے اسے کچھ سمے کے واسطے بند کردینا۔ بھولنا نہیں۔‘‘ جاتے ہوئے اس نے ہدایت کی۔

’’نہیں بھولوں گا‘‘ میں نے کہا لیکن مجھے حیرت تھی کہ وہ ایسی فرمائش کیوں کر رہی ہے۔ خیر وقت آنے پر معلوم ہو جائے گا میں نے زیادہ نہ سوچا اور کام میں مصروف ہوگیا۔

شام کو عمران مجھے اپنے گھر لے گیا اور زبردستی کھانا کھلایا۔ ساڑھے گیارہ بجے میں گھر آگیا۔ رادھا تقریباً بارہ بجے آیا کرتی تھی میں اس سے پہلے پہنچ گیا۔ میں شدت سے رادھا کا منتظر تھا اور خود اپنی حالت پر حیران بھی۔ کچھ دیر لان میں ٹہلتا رہا پھر آکر لاؤنج میں بیٹھ گیا۔ بیڈم روم اسی طرح بند تھا جیسے صائمہ اسے کر گئی تھی۔ وقت گزارنے کے لئے میں نے ٹی وی آن کر لیا لیکن اس میں بھی دل نہ لگا۔میری حالت اس لڑکے جیسے تھی جس سے پہلی بار اس کی محبوبہ نے ملنے کا وعدہ کیا ہو۔ وقت کاٹے نہ کٹ رہا تھا۔ ہر آہٹ پریوں محسوس ہوتاجیسے وہ آگئی ہے۔ دو تین بار میں نے باہر جاکربھی دیکھا پھر خود ہی اپنی حالت پر ہنسی آگئی۔ رادھا کوئی عام عورت تو تھی نہیں کہ اسے دروازے سے آنا تھا۔ وہ تو جہاں چاہتی پہنچ سکتی تھی۔ جب بے چینی حد سے بڑھی تو میں باہر نکل آیا۔ سردی اب بھی تھی لیکن اس میں وہ شدت نہ رہی تھی۔ ہوا رات کو خنک ہو جاتی جبکہ دھوپ کی وجہ دن گرم۔ بارہ بج گئے رادھا نہ آئی۔ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اب مجھ پر جھنجھلاہٹ سوار ہوگئی تھی۔’کہیں پھر توکوئی مسئلہ نہیں ہوگیا‘‘ میں اسی سوچ میں الجھا رہا۔ دو بجے کے قریب تو میں تقریباً مایوس ہونے کو تھا۔ میرا خیال تھا وہ اب نہیں آئے گی۔ میں اس شش و پنج میں تھا کہ بیڈ روم میں جاؤں یا نہ جاؤں۔ اچانک میرے کان میں رادھا کی آواز آئی اور میں اچھل پڑا۔

’’پریم ! میں تمہرا انتجار کر رہی ہوں۔‘‘ اس کی آواز سے خمار ٹپک رہا تھا۔

’’تم کہاں ہو؟‘‘ میں نے بے چینی سے پوچھا۔

’’وہیں جہاں میں تمہرے آنے سے پہلے رہتی تھی۔ ترنت اسی کوٹھے میں چلے آؤ جہاں تم اپنی پتنی سنگ سوتے ہو۔‘‘ میں جلدی سے اٹھا اور بیڈ روم کی طر ف چل پڑا۔ جیسے ہی میں نے دروازہ کھولا میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔

خوابگاہ حجلہ عروسی بنی ہوئی تھی۔ ہر طرف گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں جن کی خوشبو سے کمرہ مہک رہا تھا۔ نہایت خوشنما اور خوشبودار پھولوں کی لڑیاں بیڈ کے اردگرد لٹکی ہوئی تھی۔ کمرہ کسی دلہن کی طرح سجاہوا تھا۔ یہ وہی کمرہ تھا جہاں میں ہر رات سویا کرتا لیکن آج اسکی حالت ہی بدلی ہوئی تھی۔ میں دروازے میں کھڑا آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا۔ کمرے کے بیچوں بیچ رادھا کھڑی تھی۔ آج وہ پہلے سے کہیں زیادہ حسین نظر آرہی تھی۔ نرم نازک پنکھڑیوں جیسے ہونٹوں پر ملکوتی مسکراہٹ رقصاں تھی۔ سارے جہاں کا حسن اس کے اندر سمٹ آیا تھا۔ سرخ رنگ کی ساڑھی میں وہ شلعہ جوالہ بنی بانہیں پھیلائے میری منتظر تھی۔

’آؤ پریم!۔۔۔میری بانہوں میں سما جاؤ‘‘ اسکی خمار آلود آواز آئی تو میں یوں اس کی طرف کھنچا چلا گیا جیسے لوہامقناطیس کی طرف۔ میں نے اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔ اسکی سانسیں دہک رہی تھیں۔ نیم باز آنکھوں سے جیسے شراب بہہ رہی تھی۔ ہم ایک دوسرے میں گم ہوگئے۔

’’پریم! آج کی رینا مجھے اتنا پریم کرو کہ میری بیاکل آتما کو شانتی مل جائے۔‘‘ اس کی بہکی ہوئی سرگوشی میرے کانوں میں گونجی۔ میرے پیروں کے نیچے گلاب کی نرم و نازک پتیاں بکھری ہوئی تھیں اور بانہوں میں رادھا کا ریشمی وجود۔ میں جیسے کوئی خواب دیکھ رہاتھا۔

ریم‘‘ وہ خود کومیرے اندر جذب کرتے ہوئے بولی۔

’’ہوں‘‘ میری آواز بھی بہکنے لگی تھی۔

’’پریم! من کرتاہے تمرے شریر میں سما جاؤں‘‘

’’روکا کس نے ہے؟‘‘ میں نے کہا۔ اس کے بعدکیا ہوا۔۔۔قلم میں اتنی طاقت نہیں کہ لکھ سکے۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ اس رات کی روداد بیان کر سکوں۔ بس یوں سمجھءئے ساری رات خوابوں کی وادی میں سفر جاری رہا۔ صبح دم اس نے کہا۔

’’پریم ! میرا انتجار کرنا۔ اگلی پور نماشی کو میں دوبارہ آؤں گی۔‘‘

’’اتنا طویل انتظار؟‘‘ میں نے تڑپ کر رہ گیا۔ میں اپنے ہوش میں کب تھا؟

’’پریم! میں نے تمری رکھشا کا پربند کر دیا ہے۔ میری سکھیاں ہر پل تمرے سنگ رہیں گی۔ یدی کوئی مشکل گھڑی آپڑے تو کیول بنستی کو پکارلینا وہ تمری سہائتا کرنے آجائے گی‘‘ پھر میری طرف دیکھ کر بولی۔

’’میں بنستی کو تم سے ملوانے کے کارن بلانے لگی ہوں‘‘ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ رادھا نے آنکھیں بند کرکے کسی اجنبی زبان میں کچھ کہا تھوڑی دیر بعد جیسے کمرے میں چاند نکل آیا۔ اچانک میری نظروں کے سامنے ایک نہایت حسین بلاؤز اور گھاگر اپہنے نمودار ہوئی۔ لڑکی کیا تھی پرتی تھی۔ ہاں وہ اتنی ہی حسین تھی کہ اس پر پریوں کا گمان ہوتا تھا۔ اس کے سامنے رادھا کا حسن بھی مانند پڑ گیا۔ میں گنگ رہ گیا۔ پلک جھپکنے کا ہوش بھی نہ رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ باندھ کرپہلے رادھا کے آگے جھکی پھر میرے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔

’پرنام مہاراج!‘‘ جیسے کسی مندر میں گھنٹیاں بج اٹھیں ہوں۔ اسکی بڑی بڑی حسین و سحر کار آنکھیں مجھے اپنی طرف کھنچ رہی تھیں۔ میں ہر چیز سے بے نیاز اسے دیکھا رہا تھا۔ اتنا خیال بھی نہ رہا کہ رادھا مجھے دیکھ رہی ہے۔ بے اختیار میرے ہاتھ بالکل اسی انداز سے اٹھ گئے اور میرے منہ سے نکلا ’’پرنام دیوی!‘‘

پیازی رنگ کی ساڑھی میں وہ کافر ادا رات سے بھی کہیں زیادہ حسین نظر آرہی تھی۔ مجھے اس طرح اپنی طرف دیکھتے پا کر اسکے ہونٹوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ آگئی۔

’پرنام مہاراج‘‘ اسنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مجھے سلام کیا۔میں جو اس کے حسن کے ضیا پاشیوں میں کھویا ہوا تھا بے اختیار دونوں ہاتھ جوڑ دیئے۔ اس کی بڑی بڑی حسین آنکھیں مجھ پر ٹکی تھیں۔ رادھا نے سچ کہاتھا وہ حد درجہ حسین تھی۔ اسکی آنکھوں میں جیسے ستارے کوٹ کوٹ کربھرے ہوئے تھے۔ بالوں میں اس نے چمبیلی کے پھول گوندھ رکھے تھے۔ ہاتھوں میں گجر ے جھیل سی کاجل بھری آنکھیں غضب ڈھا رہی تھیں۔ مختصر بلاؤز اس کی جوانی کواپنے اندر سمونے میں ناکام ہورہا تھا۔ میری آنکھوں میں وارفتگی دیکھ کر وہ شرما گئی۔ مجھے اسکی یہ ادا بہت بھلی لگی۔ وہ دھیرے سے مسکرائی۔ موتیوں جیسے دانت میرے دل پر بجلیاں گرا رہے تھے۔ دنیا جیسے ختم ہو گئی تھی۔ اس کے سوا مجھے کچھ نظر نہ آرہا تھا۔

’’آگیا(حکم) مہاراج!‘‘ اسنے میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔

’میرے سامنے بیٹھ جاؤ‘‘ مجھے اپنی آواز کہیں دور سے آتی محسوس ہوئی۔ شاخ گل کی طرح اسکاحسین بدن بل کھا کر کرسی میں سما گیا۔ اس کی آنکھوں میں اپنے لئے پسندیدگی دیکھ کرمیرا حوصلہ اور بڑھ گیا۔

سنتی! تم ہر وقت میری آنکھوں کے سامے رہا کرو جیسے رادھا رہتی تھی‘‘ وہ بری طرح شرما گئی۔

’’یدی ، یہ تمری آگیا ہے تو میں اس کا پالن کروں گی‘‘ اسکے لہجے سے اندازہ ہورہا تھا وہ خود بھی یہی چاہتی ہے۔

’’بسنتی! میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں کیاتم میرے سوالوں کا جواب دوگی؟‘‘ میں نے کہا۔

’’رادھا دیوی، نے مجھے تمری ہر آگیا کاپالن کرنے کوکہا ہے پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم کچھ کہو اورمیں منع کر دوں؟‘‘ مسکراہٹ جیسے اس کی شخصیت کا حصہ تھی۔

’’اگر رادھا نہ کہتی تو تم میری باتنہ مانتیں؟‘‘ میں نے شوخی سے پوچھا۔

’’میرے بس میں ہو تو تم تمرے کارن اپنے پر ان بھی دے دوں‘‘ اس کی آنکھوں میں حسرت تھی۔

ٹھیک ہے رات کو میں تمہیں بلاؤں گا پھرہم باتیں کریں گے‘‘ میں نے کہا۔

’’یدی مجھے آگیا ہو تو میں جاؤں؟‘‘ اسنے پوچھا۔

ل تونہیں چاہتا لیکن اگر تم جانا چاہتی ہو تو میں تمہیں روکوں گا نہیں‘‘ میں نے بے دلی سے کہا۔

’’من تو میرا بھی نہیں کرتا مہاراج! پرنتو میرا جیا دہ دیریہاں ٹھہرنا ٹھیک نہیں‘‘ اس نے دل کی بات کہہ دی۔

’’کیوں۔۔۔کیوں ٹھیک نہیں؟‘‘

’’تمر بیری تم پرکوئی وار کرجائیں تو رادھا دیوی مجھے کبھی شما نہیں کرے گی۔۔۔وہ تم سے ادھیک پریم کرتی ہے ‘‘ اس نے کہا۔ میں اسکے دل کی حالت جان رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پکار پکارکر کہہ رہی تھی‘‘ کاش میں رادھا کی جگہ ہوتی۔‘‘

الی داس کسی ایسے اوسرکی تاک میں ہے کہ وہ پلید تم پر وار کرسکے‘‘ اس نے انکشاف کیا۔

’’لیکن وہ تو خود رادھا کے خوف سے کسی دائرے میں چھپا بیٹھا ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’پرنتو اس سمے رادھا بھی منڈل میں بیٹھی ہے اور وہ پاپی یہ بات جانتا ہے۔‘‘ بسنتی نے بتایا۔

’’لیکن رادھا نے تو کہا تھا کہ اسکی غیر موجودگی میں تم میری حفاظت کرو گی۔۔۔کیاکالی داس تمہارے ہوتے ہوئے مجھ پر وار کر سکتا ہے؟‘‘

’وہ پاپی ایسا نہیں کر سکتا پرنتو دھیان تو رکھنا ہی پڑے گا۔‘‘ اسنے کہا۔

’’ٹھیک ہے اگر تمہارا جانا ضروری ہے تو چلی جاؤ۔‘‘ میں نے اس پیش نظر کہا کہیں کالی داس پھر کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے۔ وہ بڑی میٹھی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔

ٹھیک ہے تم جاؤ رات کومیں تمہیں بلالوں گا۔۔۔۔آؤ گی نا؟‘‘ میں نے اس کی جھیل سی آنکھوں میں جھونکا۔

’جب بھی پکارو گے داسی چرنوں میں آجائے گی‘‘ اس کے پنکھڑی سے لبوں پر بڑی دلآویز مسکراہٹ آگئی۔ کھڑے ہو کر اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلام کیا اور غائب ہوگئی۔ عمران کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ محمد شریف اب میرے کمرے میں اشد ضروری کام کے تحت آتا۔ وہ جیسے مجھ سے خفا تھا۔ میں نے بھی زیادہ پرواہ نہ کی۔ میں بالکل ہی بدل گیا تھا۔ پانچ بجے چھٹی کرکے میں حسب معمول عمران کے ساتھ اس کے گھر چلا گیا۔ کھانے کے بعد ہم کافی دیربیٹھے باتیں کرتے رہے۔

’’اوہ بارہ بج گئے مجھے چلنا چاہئے۔‘‘ اچانک میری نظر کلاک پر پڑی تو میں بری طرح چونک گیا۔ آج رات میرا پروگرام بسنتی کو اپنی خلوت میں بلانے کا تھا۔ اس کے تصور سے ہی میرے بدن میں سرور کی لہریں دوڑنے لگیں۔ گھر پہنچ کر میں نے لباس تبدیل کیا اور خوبگاہ میں چلاگیا۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ گزشتہ رات کا نشہ ابھی تک مجھ پرطاری تھا۔ بسنتی تورادھا سے زیادہ حسین اور جوان تھی۔ اس کا بدن ایک قیامت تھا۔ اس کے علاوہ میں بسنتی سے وہ راز جاننا چاہتا تھا جن سے رادھا نے آج تک پردہ نہ اٹھایا تھا۔ میں نے بیڈ پر درازہو کر بسنتی کو آواز دی۔

’’جی مہاراج‘‘ دوسرے لمحے اس کی خمار آلود آواز میرے کانوں میں آئی۔

’بسنتی سامنے آؤ۔‘‘ میں نے بے چینی سے کہا۔

’’وہ فوراً میرے سامنے ظاہر ہوگئی۔ پھولوں کے زیورسے سجی بسنتی کے قیامت خیز بدن کی مسحور کن خوشبو سے کمرہ مہک اٹھا۔

میں بے خود سا اسے دیکھا گیا۔ تراشیدہ لبوں پر بڑی ہی دلآویز مسکراہٹ تھی۔ دعو ت آمیز مسکراہٹ جو کسی کو بھی پاگل بنا دے۔ اوپری ہونٹ پر پسینے کے قطرے ایسی شبنم کی مانندچمک رہے تھے جن پر سورج کی رو پہلی کرنیں پڑی رہی ہوں۔ ماتھے پر لگا تلک ہیرے کی طرح دمک رہا تھا۔ مجھے یوں وارفتگی سے دیکھتے پاکر اسکی نیم باز آنکھیں شراب کے پیالے بن گئے۔

’’بسنتی!‘‘ میں نے دھیرے سے کہا۔

’’جی مہاراج‘‘ اس کی سرگوشی نما آواز آئی۔

’’تم مجھے مہاراج نہ کہا کرو۔‘‘’’پھر کیا کہا کروں؟‘‘ وہ اٹھلائی۔

’’جیسے رادھا مجھے بلاتی ہے تم بھی ایسے ہی بلایا کرو۔‘‘ میں نے مسکرا کرکہا۔

’ہائے رام۔۔۔وہ تودیوی ہے۔ میری اتنی مجال کہاں کہ تمہیں اس شبھ نام سے پکاروں جس سے رادھا دیوی پکارتی ہے۔‘‘ اس کے انداز میں گھبراہٹ کے ساتھ ساتھ حسرت بھی تھی۔

’’رادھا تمہاری کیا لگتی ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’مہاراج ! شما کرنا کچھ ایسی باتیں ہیں جو میں رادھا دیوی کی آگیا کے بنا نہیں بتا سکتی۔ میری آشا ہے تم مجھے شما کر دو گے۔‘‘ اس نے منت بھرے لہجے میں کہا۔

’’ایک طرف تو تم کہتی ہو کہ میراحکم ماننا تمہارا فرض ہے پھر جب کوئی بات پوچھتا ہوں توکوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی ہو‘‘ میں نے کسی قدرخفگی سے کہا۔

’’اچھا یہ بتاؤ کیا تم رادھا کی کنیز ہو؟‘‘ میں نے اپنا سوال گھماکر دوسرے طریقے سے کیا۔ اس بار وہ میرے داؤ میں آگئی۔

’’نہیں۔۔۔!‘‘ اس کالہجہ تیز ہوگیا۔

’’وہ کیول شکتی میں مجھ سے مہان ہے اور اس میں بھی میری خطا ہے‘‘

’’وہ کیا۔۔۔تم نے کیا غلطی کی؟‘‘ میری دلچسپی بڑھ گئی۔

’’جس طرح آج کل وہ سوریہ دیوتا کا جاپ کر رہی ہے اسی طرح وہ ہر ورش ادھیک جاپ کرتی رہتی ہے کبھی چندر ماکا جاپ، کبھی کسی دیوتاکا کبھی کسی دیوتا کا۔ اسی کارن دیوتاؤں نے اسے ادھیک شکتی دان کر دی ہے۔ یدی میں بھی یہ جاپ کرتی تو آج اتنی ہی شکتی مان ہوتی جتنی کہ رادھا دیوی ہے۔‘‘ اس بار بڑی تفصیل سے جواب ملا۔

’’پھر تم اسے دیوی کیوں کہتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

‘‘اسی کارن کہ وہ مجھ سے جیادہ شکتی مان ہے‘‘ اسنے بڑے سادہ لہجے میں بتایا۔

تمہارا تعلق کس مخلوق سے ہے؟‘‘ بالآخر میں نے بسنتی سے وہ سوال کر دیا جس کے جواب سے رادھا نے ابھی تک مجھے محروم رکھا تھا۔ اس کی حسین آنکھوں سے کشمکش کا اظہار ہو رہا تھا۔

’’میں تو سمجھا تھا تم بھی رادھا کی طرح میری دوست ہو لیکن۔۔۔خیر چھوڑو دراصل رادھا مجھ سے بہت پیار کرتی ہے اگر یہی سوال میں اس سے پوچھتا تو وہ ایک منٹ سوچے بغیر اس کا جواب دے دیتی۔ ہو سکتا ہے وہ تم سے زیادہ عقلمند ہو‘‘ میں نے لوہا گرم دیکھ کر وار کیا ساتھ ہی اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا۔

’’یہ بات نہیں مہاراج! میں تو کیول اس کارن نہ بتا رہی تھی کہ رادھا دیوی ناراج نہ ہو جائے پرنتو میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ تم مجھ سے ناراج ہو۔‘‘

’’پھر تو تمہیں میرے سوال کا جواب دینا چاہئے‘‘ میں نے اسے اکسایا۔

اس کے چہرے سے کشمکش کا اظہار ہو رہا تھا۔

’بھگوان نے ہمیں اگنی سے بنایا ہے اور تمہیں ماٹی سے ‘‘ بالآخر اس نے کہا۔

میرا انداز صحیح تھا۔ رادھا اور بسنتی کا تعلق قوم جنات سے تھا۔ صائمہ کی پھوپھو جمیلہ اور محمد شریف نے بھی یہی کہا تھا کہ ہمارے گھر میں جنات بستے ہیں حالانکہ مجھے پہلے سے اندازہ تھا لیکن یہ جان کر کہ اس وقت ایک جن زادی میرے سامنے کھڑے ہے میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ کچھ بھی تھا وہ چاہے جانے کے قابل تھی۔ اس کا حسن ایسا ہی تھا کہ اس کے لیے ملکوں میں جنگ ہو سکتی تھی۔

’’اتنی دیر کیوں سے کھڑی ہو؟ یہاں آؤ میرے پاس‘‘

وہ لجاتی ہوئی میرے پاس آگئی۔ میں نے اس کا نرم نازک ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ سرخ ہوگئی۔ آنکھوں میں گلابی ڈورے تیرنے لگے۔ سانسوں کا زیرو بم اس کے اندر کے ہیجان کا پتا دے رہا تھا۔ ہاتھ کی حدت سے اس کے جذبات سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد میں نے اس کے ہاتھ کو ذرا سا جھٹکا دیا وہ مجھ پر آن گری۔ اس کی گھٹاؤں جیسی زلفوں نے مجھے ڈھک دیا۔ نازک وجود سے اٹھتی بھینی بھینی مہک نے میرے ہوش و حواس چھین لیے۔ میری بے تابی مزید بڑھ گئی مجھے خود پر اختیار نہ رہا۔ اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ جذبات کی حدت سے اس کا حسین بدن تپ گیا۔ وہ مچل کر میری آغوش سے نکل گئی اور مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہانپنے لگی۔ میں ایک بار پھر اس کی طرف بڑھا۔

’’نن۔۔۔نہیں ۔۔۔مہاراج! یہ ۔۔۔تھیک نہیں‘‘ اس نے اپنی سانسوں پر قابو پانے کی ناکام کوشش کی۔

’’کیوں۔۔۔؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’رادھا دیوی نے تمرے شریر کے گرد کڑا پھیر رکھا ہے جس کارن تم سے شریر کا سمبندھ نہیں ہو سکتا‘‘ اس نے مجبوری ظاہر کی۔

’’کچھ بھی ہو میں تمہارے بنا رہ نہیں سکتا‘‘ میں ضدی لہجے میں کہا۔

’’یدی ہم نے ایسا کیا تو میں بھسم ہو جاؤں گی۔‘‘

’’اس مشکل کا کوئی حل نکالو‘‘ میں بے قرار ہوگیا۔

’’اس سمسیا کا ایک ہی سمادھان ہے‘‘ اس نے کہا۔

وہ کیا‘‘ میں نے بے تابی سے پوچھا۔ وہ میری بے چینی پر مسکرا دی۔

’’پہلے تم کسی ناری سے اپنے شریر کا سمبندھ جوڑ لو اس کے بعد ہم ایک دوجے سے مل سکتے ہیں‘‘ اس نے حل بتایا جس سے پتا چلتا تھا ’’ہے دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی‘‘اگر میں اس کے تیر نظر کا شکار ہوا تھا تو وہ بھی میری دیوانی ہو چکی تھی۔

’’یہ توکوئی مسئلہ ہی ہیں میں صائمہ کو بلوا لیتا ہوں‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔

’’نہیں مہاراج! پتنی سنگ پریم کرنا تو پنے (ثواب) کا کام ہے۔ اس کارن تو تمہیں کسی ایسی کنیا کا پربند کرنا پڑے گا جس کے شریر کو پہلے کسی پرش(مرد) نے نہ چھوا ہو‘‘ اسنے کہا۔

’’یعنی کوئی کنواری لڑکی۔۔۔؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔‘‘

’’ایسی لڑکی کہاں سے ڈھونڈی جائے؟‘‘ میں نے کہا۔

’’ایسی کنیا ہے تو سہی۔۔۔‘‘ وہ کچھ دیر سوچ کر بولی۔

’’کون ؟‘‘ میں نے بے چینی سے پوچھا۔

’’اس کا شبھ نام سبین ہے‘‘ وہ شوخ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔

’’۔۔۔لیکن کیا وہ مان جائے گی؟‘‘

’’مہاراج تم اتنے سندر ہو کہ کوئی بھی کنیا تمرے کارن جیون دان کر سکتی ہے۔‘‘ اس نے بڑی اپنایت سے کہا۔ آنکھوں سے مستی جھانک رہی تھی۔

’’کیا اس سلسلے میں تم میری مدد کر سکتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں میں اسے یہاں تک لا سکتی ہوں پرنتو اس کے بعد سب کچھ تمہی کو کرنا ہوگا۔‘‘ اس نے بتایا۔

’’ٹھیک ہے تم اسے لے آؤ باقی میں دیکھ لوں گا‘‘ میں بسنتی کے قرب کے لئے پاگل ہو رہا تھا۔

’’مہاراج اب مجھے آگیا دو کہیں تمرے بیری کوئی وار نہ کر جائیں‘‘ اس نے اندیشہ ظاہر کیا۔

’’اس لڑکی سبین کو تم کس وقت میرے پاس لاؤ گی؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’کل دن کو کسی سمے۔‘‘

ٹھیک ہے تم جاؤ کل یہ کام ضرور کر لینا اب مجھ سے مزید صبر نہیں ہوتا۔‘‘میں نے اس کے پر شباب بدن کو دیکھتے ہوئے کہا۔ دوسرے ہی لمحے وہ غائب ہوگئی۔

میرا بس نہ چل رہا تھاکہ کس طرح رات گزر جائے اور میں سبین کو اپنے بیڈ روم میں لے آؤں۔ ساری رات میں جاگتا رہا۔ مجھے یقین تھا کہ سبین کو ایک اشارہ ہی کافی ہوگا کیونکہ اس کی آنکھوں میں میں اپنے لئے پسندیدگی دیکھ چکا تھا۔

دوسرے دن بینک پہنچ کر سب سے پہلے میں نے عمران اور محمد شریف کو باہر کسی کام سے بھیج دیا۔ یہ نہیں کہ وہ مجھے روکنے پر قادر تھے لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ انہیں کسی بات کی خبر ہو۔ ایک بے ضمیر انسان ایسا ہی کرتا ہے اسے خدا تعالیٰ کا خوف تو نہیں ہوتا لیکن انسانوں سے وہ ڈرتاہے ۔ان دونوں کے جانے کے بعد میں نے سبین کو بلایا اور اس سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ وہ بھی بہت باتونی لڑکی تھی۔ اس سے بڑی بہن ماہین کی شادی اس کے کزن سے ہو چکی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں اس نے مجھے سب کچھ بتا دیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اسے کسی طرح گھر لے جاؤں؟ اچانک مجھے خیال آیا کہ بسنتی نے کہا تھا وہ اس سلسلے میں میری مدد کر سکتی ہے۔ میں نے یونہی کسی کام سے سبین کو باہر بھیج کر بسنتی کو پکارا۔جی مہاراج‘‘ فوراً اس کی آواز آئی۔

’’تمہیں اپنا وعدہ یاد ہے نا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ہاں مہاراج تم آگیا دو‘‘ اسنے کہا۔

’’ٹھیک ہے لیکن یہ سب کیسے ہوگا؟‘‘ میں نے مطمئن ہوکر پوچھا۔

’’تم اسے اندر بلا کر اپنے سنگ جانے کا کہو وہ منع نہیں کرے گی‘‘ اس نے بتایا۔

’’ٹھیک ہے میں اسے ابھی کہتا ہوں‘‘ بسنتی کی یقین دہانی کے باوجود مجھے خدشہ تھا کہ کہیں وہ انکار نہ کر دے۔ میں نے چپراسی کے ذریعے اسے بلوایا پھر دو ایک باتیں کرکے میں نے کہا۔

’’آؤ۔۔۔آج میں تمہیں اپناگھر دکھاؤں‘‘

’’چلیں سر‘‘ وہ تو جیسے تیار بیٹھی تھی۔

’’تم باہر میرا انتظار کرو میں ابھی آتا ہوں۔‘‘ میں نے اس پیش نظر کہا کہ سٹاف کو معلوم نہ ہو سکے۔ وہ مسکراتی ہوئی اٹھی اور باہر نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد میں نے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور باہرآگیا۔ وہ بینک سے تھوڑی دور سڑک کے کنارے میرا انتظار کر رہی تھی۔ میں نے گاڑی اس کے نزدیک روک کر اگلا دروازہ کھول دیا۔ وہ مسکراتی ہوئی بیٹھ گئی۔میں تیزی سے ڈرائیو کرتا ہوا گھر پہنچ گیا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ کچا چور تھا اس سے پہلے کبھی ایسا کام نہ کیا تھا۔ میں اسے سیدھا بیڈ روم میں لے آیا۔ وہ بغیر کسی اعتراض کے چلی آئی۔ اندر پہنچ کر میں نے اسے بیٹھنے کے لیے کہا۔ وہ کسی معمول کی طرح میرا ہر حکم مان رہی تھی۔ میں چاہتا تھا کہ جلد از جلد اس مرحلے سے گزر جاؤں کیونکہ ضمیر کی خلش بڑھتی جا رہی تھی۔

جب وہ بیڈ پر بیٹھ گئی تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا جیسے وہ نیند سے جاگ گئی۔ پہلے تو اس نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا پھر جیسے ہی اسکی نظر مجھ پر پڑی وہ بری طرح گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔

’’یہ۔۔۔یہ مم۔۔۔میں کہاں آگئی ہوں؟‘‘ ا س کا رنگ زرد ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت جیسے منجمد ہوگئی۔

’’مم۔۔۔میں تو بینک میں تھی پھر ۔۔۔یہ۔۔۔یہاں کیسے آگئی۔‘‘ اس کے منہ سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نکلنے لگے۔ اس کا نرم و نازک ہاتھ ابھی تک میرے ہاتھ میں تھا۔ اچانک اسے احساس ہوا تو اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔

‘‘سس۔۔۔سر! یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟‘‘ وہ بدک کر پیچھے ہٹ گئی۔ اس کی حالت اس ہرنی جیسی ہوگئی تھی جسے شکاریوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہو۔ بڑی بڑی آنکھوں سے خوف جھانکنے لگا۔ اس نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا اس بند پا کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مجھے اس کی طرف سے اتنے شدید ردعمل کی توقع نہ تھی۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ وہ مجھ پر ریجھ گئی ہے لیکن وہ ایک شریف لڑکی تھی ہنس مکھ اور باتونی ضرور تھی لیکن بدکردار نہ تھی۔ وہ سب کچھ سمجھ چکی تھی۔

سر! مجھے جانے دیں۔۔۔آپ کو خدا کا واسطہ سر! میری منگنی ہو چکی ہے سر۔۔۔!! اگلے ماہ میری شادی ہے‘‘ وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر بولی۔

میرا دل اندر سے لرز گیا ۔ اسی لمحے بسنتی کی آواز آئی۔

’’مہاراج! سمے برباد نہ کرو‘‘ میں جو سبین کی حالت سے بری طرح گھبرا گیا تھا ہمت کرکے اٹھا اور دوبارہ اسکا ہاتھ پکڑ لیا ،وہ رونے لگی۔

’’سبین! یہ کیا۔۔۔؟تم خود ہی تو اپنی مرضی سے میرے ساتھ آئی ہو پھر ایسے کیوں کر رہی ہو؟‘‘

’’مم۔۔۔مجھے نہیں معلوم میں کیسے یہاں تک آگئی ہوں سر ! پلیز آپ کو خدا کا واسطہ مجھے جانے دیں‘‘ رو روکر اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ اسے واپس چھوڑ آؤں بسنتی کی بے چین آواز سنائی دی۔

’’اس سے اچھا اوسر پھر نہیں ملے گا۔ مہاراج !یدی اسے تم نے ایسے ہی جانے دیا تب بھی یہ سب کچھ اپنے گھر جا کر بتا دے گی‘‘ بسنتی کی بات سن کرمیرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

’’اب کیا ہوگا اگر اسنے گھر جا کر بتا دیا تو میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ جاؤں گا؟‘‘ اس سوچ نے مجھے لرزا دیا۔

’’میں اس کا پربند کر لوں گی کہ یہ کسی کو کچھ نہ بتا پائے پرنتو اس کے لیے تمہیں اس کا بلات کار کرناہوگا‘‘ بسنتی کی بے چین آواز سنائی دی۔

سبین ملتجی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔

’’سبین تم نے مجھے مایوس کیا میں تو سمجھ رہا تھا تم مجھے پسند کرتی ہو تبھی میرے ساتھ چلی آئیں‘‘ میں نے منہ بنا کر کہا۔

سر ! میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں صرف آپ کے ساتھ اس لئے ہنس بول لیتی ہوں کہ آپ کی شکل میرے بہنوئی سے بہت ملتی ہے اور وہ مجھے اپنی بہنوں سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں‘‘ آنسو تواتر سے اس کی آنکھوں بہہ رہے تھے۔

’’سمے برباد نہ کرو مہاراج! دوبارہ ایسا اوسر نہ ملے گا۔‘‘ بسنتی نے ایک بار پھر دخل اندازی کی۔

میں نے دل میں فیصلہ کیا اور آگے بڑھ کر اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ وہ بری طرح مچلی اور میری گرفت سے نکلنے کے لیے زور لگانے لگی۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ اس جانور کی منت کرنا بیکار ہے۔ اس نے شدت سے مزاحمت کی۔ اپنے بڑے بڑے نوکیلے ناخنوں سے میرے چہرے کو نوچنا چاہا۔چہرہ بچانے کی خاطر جیسے ہی میں پیچے ہٹا اس نے مجھے دھکا دیا اور باہر کی طرف لپکی۔ میں نے کسی بھپرے ہوئے درندے کی طرح زقند بھری اور اسے جا لیا۔ اس کے نازک وجود کو اٹھائے میں بیڈ پر آگیا۔ اسنے ایک بار پھر میری منتیں کرنا شروع کر دیں۔ وہ مجھے واسطے دے رہی تھی لیکن میں تو ایک جانور تھا اور جانوروں کو کہاں اتنی تمیز کہ وہ کسی کی منتوں پر کان دھریں۔ آج بھی جب مجھے وہ وقت یاد آتاہے تو میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ میں اسے کسی کتے کی طرح بھنبھوڑ رہا تھا۔ اب اس کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھی بے بسی سے اس نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا۔ اسکا جسم ایک بے جان مورت کی طرح میرے سامنے پڑا تھا جسے میں اپنے ناپاک وجود سے گندا کر رہا تھا۔

وقت گزرتا رہا۔

وہ سسکتی رہی۔

میں اپنی ہوس پوری کرتا رہا۔

اچانک دروازہ ایک دھماکے سے کھلا۔ میری بری طرح اچھل پڑا۔ دروازے کے بیچوں بیچ میرا بدترین دشمن کالی داس کھڑا تھا۔

میں بے اختیار نیم بے ہوش سبین کو چھوڑ کر کھڑا ہوگیا۔ اسنے مضمحل سے انداز سے دروازے کی طرف دیکھا پھر بے سدھ ہوگئی۔ اس کی دوشیزگی لٹ چکی تھی۔ میں بیڈ کے پاس فطری لباس میں کھڑا تھا۔ کالی داس کے ہونٹوں پر بڑی معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ اچانک مجھے بسنتی کا خیال آیا۔

’’بسنتی۔۔۔!‘‘ میں نے زور سے آواز دی کوئی جواب نہ آیا۔

’’بسنتی ی ی ی ی ی ۔۔۔!‘‘ میں نے وحشت سے اسے دوبارہ پکارا۔

اس بار بھی کمرے میں خاموشی چھائی رہی۔ کالی داس مسلمان دیہاتی کے روپ میں کھڑا یک ٹک میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس کے پیچھے مجھے کچھ لوگ نظر آئے۔

’’وہ کمرے میں گھس آئے تھے۔ میں بری طرح بدحواس ہوگیا۔ ستر پوشی کے لئے میں نے اپنے لباس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو مجھ پر حقیقت کھلی کہ میرا وجود حسب معمول بے حس و حرکت ہو چکا ہے۔ کوئی دس بارہ افراد کمرے میں گھس آئے تھے۔ سب سے آگے کالی داس کھڑا تھا۔میرے حواس معطل ہو چکے تھے۔ کسی بت کی طرح کھڑا آنے والوں کی طرف دیکھ رہاتھا جن کی نظروں میں حیرت جیسے منجمند ہوگئی تھی۔ وہ کبھی میری طرف دیکھتے کبھی سبین کی طرف جس کا لباس تار تار ہو چکا تھا۔

’’میں نہ کہتا تھا یہاں ضرور کوئی گڑ بڑ ہے۔‘‘ میرے کانوں میں کالی داس کی آواز آئی۔ اندر آنے والے افراد میں زیادہ تر میرے ہمسائے تھے۔ سب سے آگے سامنے والی کوٹھی میں رہائش پذیر ریٹائرڈ ڈی ایس پی عمر حیات جس سے میری اچھی صاحب سلامت تھی۔ اس کے ساتھ جمال صاحب جن کا زرعی آلات بنانے کا کارخانہ تھا۔ ان کا چھوٹا بیٹا احد خان کا کلاس فیلو تھا۔ ان کے پیچھے توقیر صاحب اور ان کا بیٹا ساجد تھا۔ دیگر افراد سے کچھ کو میں بائی فیس پہچانتا تھا کیونکہ وہ بھی اس سڑک پر رہتے تھے جہاں میرا بنگلہ تھا۔ باقی افراد اجنبی تھے۔ وہ سب گم سم میری طرف دیکھ رہے تھے۔

’’میں نہ کہتا تھا کہ میں نے کسی لڑکی کی چیخوں کی آواز سنی ہے‘‘ کالی داس مقامی زبان میں ان افراد سے ہمکلام تھا۔ ایک بزرگ آدمی نے صوفے پر پڑے بیڈ پوش سے سبین کے بے ہوش جسم کو ڈھک دیا۔ ساجد نے آگے بڑھ کر زور دار تھپڑ میرے منہ پر مارا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے محسوس ہوا جیسے میرا جسم جکڑن سے آزاد ہوگیا ہے۔ میں الٹ کر پیچھے جا پڑا۔

’’بے غیرت انسان! ہم تو تجھے نیک اور شریف آدمی سمجھتے تھے۔ تو تو بہت گھٹیا نکلا۔ اس کے ساتھ ہی چند اور نوجوان آگے آئے اور مجھے مارنے لگے۔

میں برہنہ حالت میں قالین پر پڑا تھا۔ مجھ پر لاتوں کی بارش شروع ہوگئی۔ بے اختیار میں نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔ مارنے والے کئی تھے۔ ساجد ان میں پیش پیش تھا۔ لاتوں اور گھونسوں کی ضربوں نے مجھے بے حال کر دیا۔

’’اسے پولیس کے حوالے کر دیں۔‘‘ ایک آواز میرے کانوں میں پڑی۔

’’پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔بس کرو۔۔۔کہیں بدبخت مر ہی نہ جائے‘‘ یہ آواز ڈی ایس پی عمر حیات کی تھی

’ایسے بے حیا انسان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں انکل!‘‘ ساجد نے نفرت سے کہا اور ایک زور دار ٹھوکر میری کنپٹی پر رسید کی۔ اس کے ساتھ ہی میں ہوش کی دنیا سے دور چلا گیا۔ سر پر لگی ضرب نے مجھے بے ہوش کر دیا تھا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں سلاخوں والے دروازے کے پاس ننگے فرش پر پڑا تھا۔ سامنے ایک سنگین بردار سپاہی کی موجودگی یہ ظاہر کر رہی تھی کہ میں تھانے کی حوالات میں ہوں۔ شعورمیں آتے ہی میں نے اپنے جسم کی طرف دیکھا۔ ایک دھوتی بندھی تھی اوپری جسم ننگا تھا۔ مجھے چکر آرہے تھے۔ دائیں آنکھ سوج کر کپا ہو چکی تھی جس میں سوزش کے ساتھ درد ہو رہا تھا۔ میں نے واحد آنکھ سے دیکھا کمرے میں میرے علاوہ کوئی نہ تھا۔ سب کچھ ایک بھیانک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ میں سبین کو روندنے میں مصروف تھا کہ کالی داس کچھ لوگوں کے ساتھ اندر آگیا۔ حالانکہ بیڈ روم کا دروازہ اندر سے لاک تھا لیکن اس کے لئے اسے کھولنا کیا مشکل تھا؟ وہ موقع کی تلاش میں تھا اور آج اسے میں نے وہ موقع فراہم کر دیا تھا۔ اسنے مجھ سے اچھا بدلہ لیا تھا۔

’کاش بے ہوشی ہی میں میں اس دنیا سے جہنم کی طرف چلا جاتا۔ کاش لوگوں نے مجھے موقع پر ہی مار دیا ہوتا‘‘ میں نے چکراتے ذہن کے ساتھ سوچا۔ آنکھوں کے سامنے وہ بھیانک منظر دوبارہ ابھر آیا۔ آس پاس رہنے والے لوگوں کی آنکھوں میں شدید حیرت تھی۔ اورکیوں نہ ہوتی وہ کبھی مرکر بھی یقین نہ کر سکتے تھے کہ میرے جیسا انسان اس طرح کی قبیح حرکت کر سکتا ہے۔ میری شہرت اپنے علاقے میں بہت اچھی تھی۔ اس پرصائمہ گھر میں آنے والی خواتین کو نماز پڑھنے کی تلقین کرتی۔ ان کے ساتھ نہایت اخلاق سے پیش آتی، اس کے علاوہ بچیوں کو وہ قرآن پاک بھی پڑھاتی تھی۔ صائمہ نے خود کبھی اس معاملے پرمیرے ساتھ تفصیل سے بات نہ کی تھی میں کچھ پوچھتا بھی تو کہتی۔

’’فاروق! ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے ملنے جلنے والوں کو دین کی تبلیغ کرے۔ میں اس کام کی تشہیر اس لئے نہیں کرتی کہ کہیں ریا کاری نہ ہو جائے‘‘ کس قدر عظیم اور نیک تھی میری بیوی اورمیں۔۔۔؟

مجھے اپنے وجود سے گھن آنے لگی۔ دل چاہا میں خود کشی کرلوں۔ لوگوں نے اس شدت سے مجھے مارا تھا کہ میرا جسم لہولہان ہوگیا تھا۔ اگر ڈی ایس پی عمر حیات ان کو نہ روکتا تو وہ شاید مجھے مار کر ہی دم لیتے۔ کاش وہ ان لوگوں میں شامل نہ ہوتا۔

ایک طرف پڑے پڑے میرا جسم شل ہو چکا تھا۔ میں نے اپنے جسم کو ہلایا توبے اختیار میرے منہ سے کراہ نکل گئی۔ سارا جسم زخموں سے چور تھا۔ آنکھ کی تکلیف الگ مارے ڈال رہی تھی۔ منہ کا ذائقہ نمکین ہو رہا تھا اور دائیں جبڑے میں سخت درد۔ کالی داس نے مجھ سے کیا خواب انتقام کیا تھا، وہ تاک میں تھا۔ مجھے یقین تھا کہ لوگوں کو بھی وہی اکٹھا کرکے لایا تھا۔

سبین چیخی ضرور تھی لیکن بنگلہ اتنا بڑا تھا کہ اسکی ایک دو چیخیں کسی طور باہر سڑک پر نہیں سنی جا سکتی تھیں۔ یہ کار ستانی اس منحوس کالی داس کی تھی۔ مجھے حیرت اس بات پرتھی کہ بسنتی میری مدد کرنے کیوں نہیں آئی؟ میں نے کئی بار اسے پکارا تھا۔ ہو سکتا ہے کالی داس نے اسے کسی طرح بے بس کر دیا ہو۔ ایک بار جب رادھا جاپ میں مصروف تھی تو اس کمینے نے مجھے گھیر کر اپنا بدلہ لینے کا بندوبست کر لیا تھا لیکن اس دن بھلا ہو ملنگ کا کہ اس نے میری مدد کی تھی۔ تب میں بے قصور تھا جبکہ آج تو میں نے وہ جرم کیا تھا جس کی دنیا اور آخرت میں بدترین سزا مقرر کی گئی ہے۔ کاش لوگ مجھے موقع پر ہی سنگسار کر دیتے۔ میں اہل علاقہ کی نظروں سے گر گیا تھا۔ جب صائمہ کو معلوم ہوگا تو وہ کیا سوچے گی؟ کیا وہ زندہ رہ پائے گی؟ میں نے اس کے اعتماد کو دھوکہ دیاتھا۔

اونگھتا ہوا سپاہی اچانک کھڑا ہوگیا ۔مجھے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ میں نے اکلوتی آنکھ کھول کر دیکھا تو بری طرح لرز گیا۔ ایک سپاہی کے ساتھ دو آدمی سلاخوں والے دروازے کے قریب پہنچ گئے۔ ایک کے ہاتھ میں کیمرہ تھا دوسرے کے ہاتھ میں چھوٹی سی ڈائری اور پین ۔وہ کسی اخبار کے رپورٹر تھے۔ میں نے ان کو دیکھ کر چہرہ چھپا لیا۔ جانتا تھا وہ میری تصویریں بنانے آئے ہیں انہیں اپنے اخبار کے لئے ایک دلچسپ سٹوری مل گئی تھی۔

’ایک معروف بینک کے منیجر نے اپنی ماتحت لڑکی کی عزت لوٹ لی‘‘

’’جو رہی سہی عزت رہ گئی تھی اس کا بھی جنازہ نکلنے والا تھا۔ اگریہ خبر اخبار میں آجاتی تو کیا میں معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل رہ جاتا؟ جلدی سے میں تقریباً اوندھا ہوگیا۔کیمرے کی فلش چمکی۔ میں جس حد تک خودکو کیمرے سے بچا سکتا تھا میں نے کوشش کی۔ ان کے ساتھ آنے والے سپاہی نے ایک گندی سی گالی دے کر مجھے منہ اوپر کرنے کو کہا۔

’’حرامی! جس وقت اس معصوم کے ساتھ منہ کالا کررہا تھا اس وقت تجھے شرم نہ آئی اب منہ چھپا رہا ہے منہ اوپر اٹھا۔۔۔‘‘ وہ ایک اور گالی دے کر کڑک کر بولا۔

لیکن میں اسکی بات کیسے مان سکتا تھا؟ شدت سے رادھا کا منتظر تھا۔ اب اس معاملے کو وہی سلجھا سکتی تھی۔ کاش وہ آجائے اچانک مجھے رادھا کی بات یاد آگئی اسنے کہا تھا۔

’’اگر بات بسنتی کے بس سے باہر ہوجائے تو تم اس طرح مجھے پکارنا میں آجاؤں گی۔ دیوتاؤں کے کارن میری سہائتا کرو‘‘ حالانکہ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ صریح شرک ہے لیکن اس وقت عزت بچانے کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ شیطان نے مجھ پر اس قدر غلبہ پا لیا تھا کہ مجھے یہ خیال تک نہ آیا اگر میں سچے دل سے اللہ تعالیٰ کو پکارلوں جو شہہ رگ سے بھی قریب ہے تو وہ میری مدد ضرور کرے گا۔ بے شک میں نے ایک کبیرہ گناہ کیا تھا لیکن وہ تو غفور الرحیم ہے اپنے بندوں کی خطائیں معاف کر دیتا ہے۔ اور یہی اس کی شان کریمی ہے لیکن مجھ فاسق کو یہ خیال نہ آیا بلکہ میں شیطان کی اس چیلی کو پکارنا چاہتا تھا جسکی وجہ سے مجھے آج یہ دن دیکھنا پڑا تھا۔

’’دروازہ کھول ! میں ابھی اس بے شرم کی شرم اتارتا ہوں کیسے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے حرامزدہ۔۔۔تمہارے کرتوت جان کرتوہمیں شرم آرہی ہے‘‘ جو سپاہی صحافیوں کے ساتھ آیا تھا اسنے گرج کر سامنے بیٹھے سپاہی سے کہا۔ اب لمحوں کی بات رہ گئی تھی۔ اس کے بعد اگر میں چاہتا بھی تو دنیا والوں کی زبان نہ روک سکتا تھا۔ صرف ایک دھوتی میں حوالات کے فرش پر اوندھا پڑا تھا۔ کوئی لمحہ جاتا تھا کہ وہ دروازہ کھول کر اندر آجاتے پھر میں کسی طرح بھی ان کے سامنے مزاحمت نہ کر سکتا تھا۔

’رادھا تمہیں دیوتاؤں کا واسطہ میرے پاس آجاؤ‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ آنے والوں میں سے ایک کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ یہ یقیناً فوٹو گرافرتھا۔

’’چھوڑیں بھٹی صاحب! اگریہ تصویر نہیں بنوانا چاہتا توکوئی بات نہیں آئیں چلتے ہیں‘‘

مجھے اپ کانوں پر یقین نہ آیا کہ واقعی اسنے وہی کچھ کہا جو میں سن رہا ہوں۔‘‘

’’مراد۔۔۔! یہ تم کیا کہہ رہے ہو کہیں تم پاگل تو نہیں ہوگئے؟‘‘ دوسرے کی حیرت زدہ آواز سنائی دی۔ ساتھ ہی سپاہی جس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا تھا کہ آواز آئی۔

’’اسکی کیا مجال کہ یہ تصویر نہ بنوائے میں اس کی ۔۔۔‘‘ اسنے ایک ناقابل اشاعت قسم کی گالی دے کر کہا’’۔۔۔نہ کر دوں گا۔‘‘

’’جب میں کہہ رہا ہوں کہ اسکی ضرورت نہیں توبس بات ختم‘‘ فوٹوگرافر جھنجھلا گیا۔

’’جانتے ہو ایڈیٹر تمہارا کیاحال کرے گا؟‘‘ یہ اس کا ساتھی تھا۔

میں ان کی شکلیں تو نہیں دیکھ سکتا تھا ہاں آوازوں سے اندازہ لگا رہا تھا

’’تو میرا باپ نہ بن۔۔۔میں خود ایڈیٹر کو جواب دے لوں گا‘‘ فوٹو گرافر نے اس بار تلخ لہجے میں جواب دیا۔ ساتھ آنے والا سپاہی خاموش کھڑا ان کی بحث سن رہاتھا۔

’’بچو! ایک منٹ میں ایڈیٹر تمہیں نوکری سے نکال دے گا۔‘‘ ساتھی نے اسے ڈرایا۔

’’میں نے کہا ہے نا تومیرا باپ نہ بن سالے۔۔۔!میں خود دیکھ لوں گا ایڈیٹر کو بھی‘‘فوٹوگرافر چیخ اٹھا۔

’’تو میرا ماتحت ہے میری بات کیسے نہیں مانے گا؟‘‘ اس کا ساتھی بھی غصے میں آگیا۔ اسکے فوراً بعد دھماکے سے کسی چیز کے زمین پر گرنے کی آواز آئی۔

’’یہ لے ۔۔۔کھنچوا لے تصویر۔‘‘

میں نے چونک کر دیکھا فوٹوگرافر نے کیمرہ زمین پر مار کر توڑ دیا تھا۔ سب ہکا بکا کھڑے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس نے اسی پر بس نہ کیا بلکہ اپنے ساتھی کے منہ پر ایک زور دار مکا جڑ دیا۔ سپاہی آگے بڑھا تو اس نے اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا۔ مکا کھا کر سپاہی پیچھے کی طرف الٹ گیا۔ سنگین بردار سپاہی نے فوراً فوٹو گرافر پر گن تان لی لیکن وہ تو جیسے پاگل ہو چکا تھا

بندوق کی پرواہ کیے بغیر وہ اس سپاہی کے ساتھ الجھ پڑا۔ میں سب کچھ بھول کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ کالے رنگ اور دہرے بدن کا پچیس چھبیس سالہ شخص بڑا دلیر واقع ہوا تھا۔ مکا کھانے والا سپاہی گالیاں بکتا ہوا اٹھا اور فوٹو گرافر سے لپٹ گیا۔تھوڑی دیر میں اچھا خاصا ہنگامہ ہوگیا۔ فوٹو گرافر بڑی بے جگری سے تینوں کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی وہ اکیلا ان پر بھاری تھا۔ اس نے تھوڑی ہی دیر میں ان تینوں کو لہو لہان کر دیا۔ شور سن کر چند اور سپاہی بھاگے آئے اور آکر اسے قابو کرکے لے گئے ۔

حیران تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ لیکن وقتی طور پر ہی سہی یہ مصیبت ٹل گئی تھی۔ اگرمیری تصویر اخبار میں چھپ جاتی تو۔۔۔؟ یہ خیال ہی میرے لیے سوہان روح تھا۔ کچھ روز قبل شرجیل نے سپنا نامی لڑکی کو اپنے بیڈ روم میں صرف بلایا تھا اس پر بھی ہم سب نے اس کی کیا حالت کی تھی؟ کھیدو چوہڑے اور سپنا کا حشر دیکھ کر آنٹی میرا بہت زیادہ احترام کرنے لگی تھیں۔

اب پولیس سے جان چھڑانے کا مسئلہ تھا۔ انہیں کچھ نہ کچھ دے دلا کر جان چھڑائی جا سکتی تھی۔ میں نے باہر کی طرف دیکھا سامنے کوئی بھی نہ تھا۔ میں نے سلاخوں کے ساتھ سر ملا کر باہر دیکھنے کی کوشش کی مجھے ایک سپاہی نظر آیا۔ میں چاہتا تھا اس کے ذریعے عمران کو بلواؤں اور ان خبیثوں سے جان چھڑا کر باہر نکلوں۔۔۔

جو کچھ کالی داس نے میرے ساتھ کیا تھا اگر وہ میرے ہاتھ آجاتا تو ہو سکتا تھا میں انجام کی پرواہ کیے بغیر اسے جان سے مار دیتا۔ لیکن کیا میں اس کی پراسرار قوتوں کا مقابلہ کر سکتا تھا؟ میری اب تک کی جیت سے رادھا اور ملنگ کی مدد شامل رہی تھی لیکن میں خود کیا تھا؟ کیا میں اس شیطان کی گندی جادوئی قوتوں کے باوجود اسے زیر کر سکتاتھا؟ یہ سوال بار بار میرے ذہن میں چکرا رہا تھا۔

چوٹیں ٹھنڈی ہونے کے بعد مزید اذیت کا باعث بن گئی تھیں۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سب کچھ اس منحوس بسنتی کی وجہ سے ہوا تھا۔ نہیں یوں کہنا چاہئے کہ ان حالات کے پیچھے میری ہوس کارفرما تھی۔ بسنتی کے حسن نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔ میں برے بھلے کی تمیز کھو بیٹھا تھا۔ کاش میں نے اس بدبخت کی بات نہ مانی ہوتی۔ لیکن۔۔۔بدبخت وہ نہیں میں خود تھا۔ حسین اور وفا شعار بیوی کے ہوتے ہوئے میں کن راستوں پر چل پڑا تھا؟

جسم کے ساتھ ساتھ میرا ذہن بھی دردکرنے لگا تھا۔ میں شدت سے کسی سپاہی کا منتظر تھا جس کے ذریعے عمران کو بلوا سکوں۔ پیاس کی شدت سے میرے حلق میں کانٹے چبھ رہے تھے۔ گلا خشک ہو رہا تھا۔ دو گھونٹ پانی کے لئے میں ترس رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ایک سپاہی ٹہلتا ہوا کمرے کی جانب آیا۔

’بھائی! دو گھونٹ پانی پلا دو میرا دل ڈوب رہا ہے‘‘میں نے اسے مخاطب کیا۔

’’بیٹا! ابھی صاحب تجھے ٹھنڈا شربت پلاتا ہے فکر نہ کر‘‘ اس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

’’بھ۔۔۔بھائی! تمہیں خدا کا واسطہ میری بات سن لو‘‘ اسے جاتا دیکھ کرمیں نے منت کی۔ وہ رک کر میری طرف دیکھنے لگا۔

’’اگر تم ایک چھوٹا ساپیغام ایک شخص تک پہنچا دو تو میں تمہیں ایک ہزار روپیہ دوں گا‘‘ میں نے اسے لالچ دیا۔

’’کونسی جیب میں رکھے ہیں ایک ہزار روپے؟‘‘ وہ میرے نیم برہنہ جسم کو دیکھتے ہوئے تمسخر سے بولا۔

’’مم۔۔۔میں تمہیں جس شخص کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں وہ تمہیں ایک ہزار روپیہ دے دے گا ۔ میری بات پریقین کرو‘‘ میں نے بے چارگی سے کہا۔

وہ سوچ میں پڑ گیا۔ اسکی مہینہ بھر کی سات آٹھ سوسے زیادہ نہ ہوگی۔ ان دنوں ایک ہزار روپے کی کافی اہمیت تھی۔

’’میں سچ کہہ رہا ہوں اگر تم میرا ایک پیغام اس تک پہنچا دو تو وہ اسی وقت تمہیں پیسے دے دے گا‘‘ میں نے اپنی بات پر زور دے کر کہا۔

’’بتاکہاں جانا ہے لیکن ایک بات سن لے۔۔۔میں پہلے اس سے پیسے لوں گاپھر تیرا پیغام دوں گا ، دوسرے یہ کہ اس نے رقم نہ دی تو آج رات جن سپاہیوں نے تیری ’’خدمت‘‘ کرنی ہے میں ان سب میں آگے ہوں گا۔‘‘ اس نے کہا۔

’’نہیں۔۔۔نہیں ایسا نہیں ہوگا وہ میرا بھائی ہے جب تم اسے بتاؤ گے تو وہ فوراً تمہیں پیسے دے دے گا۔‘‘ میں نے اس کی منت کی۔

’شکل سے تو توپڑھا لکھا لگتا ہے پھر تو نے ایسی حرکت کیوں کی؟‘‘ وہ مجھے گہری نظروں سے دیکھ کربولا۔

’’میں نے کچھ نہیں کیایہ سب میرے دشمنوں کی سازش ہے‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔

’’ہاں تو اپوزیشن لیڈر ہے نا اسلئے تیرے خلاف سازش کی گئی ہے‘‘ اس نے طنزکیا۔ مجھے اس سے کام تھا اس لئے اس کی بات صبر سے برداشت کرگیا۔

’’میں تمہارا یہ احسان ساری زندگی نہ بھولوں گا میرے بھائی میرا اتنا سا کام کر دو‘‘ میری آواز بھرا گئی۔ وہ کچھ دیر مجھے دیکھتا رہا پھر ہنس کربولا۔

ضرور پڑھیں: اپوزیشن کی کل جماعتی رہبر کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو طلب، اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف حکومتی کارروائیوں اور سیاسی صورتحال پر غور کیا جائے گا

’’اوئے۔۔۔تو تو زنانیوں کی طرح رونے لگا۔ ابھی سے تیری یہ حالت ہے ابھی توکسی نے تجھے کچھ کہا ہی نہیں۔ رات کو صاحب تیرا جو حشر کرنے والا ہے اسکا تو تجھے پتا ہی نہیں جلدی سے بتاکہاں جانا ہے اورکیا پیغام دینا چاہتا ہے تو اپنے اس بھائی کو؟‘‘ وہ تیز لہجے میں بولا۔

’’میں نے اسے بینک کانام اور ایڈریس سمجھا کر بتایا کہ وہاں ایک صاحب ہوں گے عمران محمود انہیں باہر بلا کرکہنا کہ وہ ابھی مجھے تھانے آکرملیں۔ علیحدگی میں بلا کربات کرنا سب کے سامنے نہیں‘‘

’’ابے ماں کے خصم۔۔۔! تو کیا سمجھتا ہے کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ سارے شہر میں تیرے کرتوتوں کا چرچاہو رہا ہے اور تو مجھے راز و نیاز کا مشورہ دے رہا ہے ۔۔۔‘‘ اس نے ایک اور گالی میری طرف لڑھکائی۔

اس کی بات سن کر میں دنگ رہ گیا۔ اسکے جانے کے بعد میں کافی دیر تک اسی الجھن میں مبتلا رہا کہ اتنی جلدی یہ خبر کیسے پھیل گئی؟ کیونکہ فوٹوگرافر جو میری تصویریں بنانے آیا تھا اس نے کیمرہ زمین پرمار کر توڑ دیا تھا۔ میرے ذہن میں کالی داس کا نام ابھرآیا۔ یقیناً یہ اسی حرام کے نطفے کی کارستانی ہوگی۔ اپنی پراسرار قوتوں سے کام لے کر اسی نے بات پھیلائی ہوگی۔ اب کیا ہوگا؟ میں سخت پریشان ہوگیا۔ میرا خیال تھا عمران آئے گا تو میں اسے کہوں گا تھانے والوں کو ان کی منہ مانگی قیمت دے کر میری جان چھڑائے۔ میں نے سوچا تھا سب کچھ کھیڈو چوہڑے اور سپنا پر ڈال دوں گا۔ مجھے یقین تھا کہ میرے گھر والے مجھ پر اندھا اعتماد کرتے ہیں اور صائمہ تو کبھی مر کربھی یقین نہ کر سکتی تھی کہ میں اتنی گری ہوئی حرکت کر سکتا ہوں۔ اس وقت مجھے کچھ معلوم نہ تھا کہ باہر کیا کچھ ہو چکا ہے سپاہی کی بات پر میں چونکاضرور تھا۔

’’تیرے کرتوتوں کا چرچا سارے شہر میں پھیلا ہوا ہے‘‘ اس کا فقرہ میرے ذہن میں گونجا۔ اس وقت میرا خیال تھا وہ محض مجھے ڈرانے کی خاطر کہہ رہا ہے۔ یہ تو مجھے بعد معلوم ہواکہ سب کچھ اتنا آسان نہیں جتنامیں سمجھ رہاتھا۔ سپاہی کو گئے ایک گھنٹہ سے زیادہ ہوگیا تھا ،ابھی تک عمران نہ آیا تھا۔ میں سبین کو تقریباً بارہ بجے گھر لے کر گیا تھا۔ اس حساب سے اب شام چار بجے کا وقت ہونا چاہئے تھا۔ مجھے خطرہ تھا اگر سپاہی وقت پر نہ گیا تو بینک میں چھٹی ہو جائے گی پھر عمران کا ملنا ناممکن تھا۔ سپاہی کی بات کا مجھے اس لئے بھی یقین نہ تھا اگر بات سارے شہرمیں پھیل چکی تھی تو عمران ابھی تک کیوں بے خبر تھا؟ یہ تو ناممکن تھا کہ اسے معلوم ہوتا اور وہ نہ آتا۔ اسکے ساتھ ہی ایک لرزہ خیز خیال میرے ذہن میں آیا

’کیا انکل بیگ اور آنٹی کو بھی معلوم ہو چکا ہوگا؟‘‘یہ سوچ بھڑکتی چنگاری جیسی تھی۔ چونکہ ان کا گھر ہم سے زیادہ دور نہ تھا اور ایسی بات توجنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ کیسے کیسے مہربان اور شفیق لوگوں کا ساتھ مجھے میسر رہاتھا کہ مجھے ایک دن بھی اجنبیت کا احساس نہ ہوا۔ اگربات ان کے علم میں آگئی اور انہوں نے یہاں آکرمجھے اس حالت میں دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے؟

سوچوں نے میرے حواس معطل کردیئے تھے۔ میں دعا کر رہا تھا کہ کسی طرح عمران آجائے۔

اب میں رادھا کی آمد سے مایوس ہو چکا تھا۔ اسے آنا ہوتا تو اب تک وہ آچکی ہوتی فاصلے اس کے لئے کوئی اہمیت نہ رکھتے تھے وہ پل بھر میں دنیا کے جس کونے میں چاہتی پہنچ سکتی تھی۔ تو کیا اس نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا؟لیکن اسے کیا ضرورت تھی ایسی بات کہنے کی؟ اسے مجھ سے کیا خوف تھا کہ میرے ساتھ جھوٹا وعدہ کرتی؟ کیا اسے کالی داس نے روک دیا تھا؟ کیاکالی داس سب پر حاوی ہوگیا تھا؟ میں اپنی سوچوں میں اتنا گم تھا کہ عمران کونہ دیکھ سکا جو سلاخوں کے پاس غمگین حالت میں کھڑا تھا۔

’خان بھائی!‘‘میں نے چونک کر دیکھا۔ اس کے احساسات کا اظہار اس کے پرخلوص چہرے سے ہو رہا تھا۔ مجھے اپی طرف دیکھتا پا کر اس نے آہستہ سے کہا۔

’خان بھائی! یہ سب کیا ہوگیا میں تو سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ کبھی یوں بھی ہو سکتاہے؟‘‘

زمین پھٹ جاتی اور میں اس میں سما جاتا اگر میرے بس میں ہوتا تو کہاں تومیں شدت سے عمران کامنتظر تھا اورجب وہ آیا تو میں شرم کے مارے نظر نہ اٹھا سکا۔ وہ میری کیفیت کو جان گیاتھا۔

’خان بھائی! مجھے یقین ہے کہ یہ سب کچھ حقیقت نہیں ہے اس میں ضرور کسی کی سازش ہے لیکن باہر جو حالات ہیں ان کو دیکھتے ہوئے میں بہت فکر مند ہوں۔ مجھے جیسے ہی معلوم ہوا میں اسی وقت تھانے آگیا تھا لیکن ڈی سی پی صاحب کی موجودگی میں مجھے اندر نہیں آنے دیا گیا۔ یہ تو تھانہ محرر میرا کلاس فیلو اور دوست ہے اسی وجہ سے آپ سے ملاقات ممکن ہوسکی۔ بہرحال آپ فکر نہ کریں میں کچھ کرتاہوں۔‘‘

’’عمران تم تو جانتے ہو میں کیسا انسان ہوں؟کیا تم سوچ سکتے ہوکہ میں ایسی قبیح حرکت کر سکتا ہوں؟‘‘ میں نے جھوٹ بول کراپنے صفائی پیش کی۔

’’خان بھائی! سب ٹھیک ہو جائے گا میں ابھی آتا ہوں‘‘ کہہ کر وہ سامنے سے ہٹ گیا۔ جتنی شرمندگی مجھے ہو سکتی تھی اس کا اندازہ بھی کوئی نہیں لگا سکتا۔ لیکن یہ حقیقت تھی اور میں اپنے کرتوت کی سزا بھگت رہا تھا ۔مجھے اپنے ایک ایک گناہ یاد آنے لگے۔ اگر میں رادھاکے حسن کو دیکھ کر پاگل اور اندھا نہ ہوا ہوتا تو آج مجھے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔

’’کہیں ایسا تو نہیں کہ بسنتی نے کالی داس سے مل کر یہ سب کچھ کیاہو؟۔ ہوسکتاہے اسے رادھا کے ساتھ کوئی پرخاش ہو‘‘ مختلف سوچوں نے میرے دماغ کو گھیر رکھا تھا۔ کسی سوال کا جواب میرے پاس نہ تھا۔ تھوڑی دیر بعد عمران دوبارہ نظر آیا اس بار اس کے ساتھ سادہ لباس میں ایک شخص بھی تھا جس نے کپڑوں کا ایک جوڑا ہاتھ میں تھاما ہوا تھا۔ جیسے کسی اندھے کو آنکھوں کی خواہش ہو سکتی ہے اسی طرح مجھے اس وقت کپڑوں کی ضرورت تھی۔ سادہ لباس والے نے کپڑے اندر پھینک دیئے۔

’انہیں پہن لو اگر کوئی پوچھے تو کہنا یہیں حوالات کے کمرے میں پڑے تھے‘‘ اتناکہنے کے بعد وہ دونوں سامنے سے ہٹ گئے۔

کپڑے میرے اوپر آگرے، ان سے پسینے کی بدبو آرہی تھی۔ میں نے جلدی سے کپڑے پہن لیے۔ تھوڑی دیر بعد وہی سادہ لباس والا آیا، اسکے ہاتھ میں جوس کا ڈبہ تھا۔ وہ بھی اس نے کپڑوں کی طرح اندر پھینک دیا۔ شاید وہ دروازہ کھولنے پر قادر نہ تھا۔ میں نے جلدی سے ڈبہ کھول کر منہ سے لگا لیا۔ زندگی میں سینکڑوں بار میں نے کئی قسم کے مشروبات پئے ہوں گے لیکن اس وقت جوس کا ڈبہ میرے لئے آب حیات سے کم نہ تھا۔ میرے حواس کچھ بحال ہوئے۔عمران ایک بار پھر سامنے آیا۔

’’خان بھائی!معاملہ بہت بگڑ چکاہے۔سبین ہسپتال میں ہے۔ ڈی ایس پی صاحب خود اسکابیان لینے گئے تھے اس نے سب کچھ انہیں بتا دیا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ وہ کس کے اشارے پر یہ سب کچھ کررہی ہے؟‘‘

میں جیسے زمین میں گڑ گیا۔ جس حالت میں عمران نے مجھے حوالات کے اس کمرے میں دیکھا تھا اسے سو فیصد یقین ہونا چاہئے تھا کہ میں مجرم ہوں لیکن وہ اللہ کابندہ مجھ پر اندھا اعتمادکرتا تھا،ابھی تک وہ یہی سوچ رہاتھاکہ یہ سب کچھ میرے خلاف ایک سازش ہے۔

’ڈی ایس پی باقر حسین، سبین کے والد کا شاگرد ہے۔ اسنے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ آپ کوکیفرکردار تک پہنچا کررہے گا۔ سبین کا منگیتر فوج میں میجر ہے وہ بھی آپہنچا ہے۔ اسنے قسم کھائی ہے کہ آپکو ساری زندگی جیل سے نکلنے نہیں دے گا ۔ان کے علاوہ خواتین کی ایک تنظیم نے بھی اس معاملے کو اچھالنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ جسکی صدر میڈم ستارہ کا تعلق اپوزیشن پارٹی سے ہے اور اس قسم کے کسی بھی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتی جس میں اسے حکومت کوبدنام کرنے میں مدد ملے۔ استادہونے کے ناطے سبین کے والد صاحب کی اس شہر میں بہت عزت ہے ۔علاقے کے سرکردہ افراد کے بچے ان کے پاس تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ طلباء نے بھی تھوڑی دیرپہلے جلوس نکالا ہے۔ انہوں نے ٹائر جلاکر سڑک بند کر دی تھی۔ لوگ بری طرح بھپرے ہوئے ہیں جگہ جگہ سے لوگوں کی ٹولیاں جلوس میں شامل ہورہی ہیں۔ میڈم ستارہ کے اکسانے پر خواتین مشتعل ہوکرگھروں سے باہرنکل آئی ہیں۔‘‘

عمران بتارہا تھا مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری رہائی کی ساری راہیں مسدورہو چکی ہیں۔

’’خان بھائی! میں یہ سب کچھ خدانخواستہ آپ کو اسلئے نہیں بتا رہاکہ میں آپ کومجرم سمجھتاہوں بلکہ میرا مقصد آپ کو حالات کی سنگینی سے آگاہ کرنا ہے۔ آپ فکر نہ کریں مجھ سے جو ہو سکا میں کروں گا‘‘ اس نے مجھے تسلی دی۔ لیکن اس کا لہجہ اعتماد سے خالی تھا ۔اتنا کہہ کر وہ چلاگیا۔ میں جانتا تھاکہ محض طفل تسلی ہے۔ میری بد نصیبی کادور شروع ہو چکاتھا۔ میں سر جھکائے بیٹھا ان حالات پر غورکر رہاتھا جو سراسر میرے خلاف تھے۔ مایوسی بڑھ گئی تھی۔ جب اتنے سارے لوگ میرے خلاف تھے تو اکیلا عمران کیا کر سکتاتھا؟

اس وقت مجھے یہ بھی خیال آیا کہ فوٹو گرافرکا رویہ رادھا کی پراسرار طاقت کاکرشمہ ہوگ لیکن اس کی غیرموجودگی اس بات کی نفی کر رہی تھی۔۔۔فوٹوگرافر کے رویے کی وجہ کچھ بھی ہولیکن میرے سر سے وقتی طور پروہ مصیبت ٹل گئی تھی۔ بقول عمران میرے خلاف پرچہ کٹ چکاتھاجسے سبین کے بیان نے اورموثر بنادیاہے۔ اس نے کھل کرمیرے خلاف بیان دیاتھا لیکن وہ یہ نہ بتا سکی تھی کہ وہ میرے ساتھ گھر کیوں گئی تھی؟ عمران کو یہ معلومات محرر سے حاصل ہوئی تھیں۔ ابھی تک ایک دو سپاہیوں کے علاوہ کوئی اس طرف سے نہ گزرا تھا۔ عمران سے ملنے والی معلومات کے بعد صحیح معنوں میں مجھے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا۔میرے ہاتھ پر خراش بھی آتی تو صائمہ تڑپ کررہ جاتی۔ اب میرا جسم لہولہوتھالیکن ہمدردی کے دوبول کہنے والابھی کوئی نہ تھا۔ لیکن میں تو اس سے بھی بدتر سلوک کامستحق تھا۔ بے بس وبے یارومددگار۔سبین نے کتنی منتیں کی تھیں؟ لیکن میرے کان پر جوں نہ رینگی تھی۔ اب۔۔۔میری فریادکون سنتا؟ اب تو شاید ساری زندگی مجھے جیل میں گزارنا تھا۔ سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔

شام کا ملگجااندھیرا اب گہری تاریکی میں تبدیل ہورہا تھا۔ اس حالت میں تو میں اپنے رب کے حضورجھک بھی نہ سکتا تھا۔ جنابت کی حالت میں کوئی دعا بھی نہیں مانگ سکتاتھا۔ کاش مجھے غسل کی سہولت میسر آجاتی تو سر سجدے میں رکھ دیتا۔ آہ۔۔۔بدقسمت اور بد بخت فاروق خان سوائے آہیں بھرنے کے کچھ نہ کر سکتاتھا۔ میں سرجھکائے بیٹھا تھا کمرے میں اچھا خاصا اندھیرا ہوگیا تھا۔ بیٹھے بیٹھے میری کمر دہری ہو گئی تومیں وہیں فرش پر لیٹ گیا۔کہ اچانک ایک منحوس آواز کانوں میں پڑی۔

یہ آواز کیا تھی سیسہ تھا پگلا ہوا۔

’’بہت نراش دکھائی دے رہا ہے ۔۔۔بالک!‘‘

میں اس بری طرح اچھلاجیسے کسی بچھو نے ڈنک ماردیا ہو۔ ساتھ ہی کمرے میں مدہم روشنی پھیل گئی جسکا مخرج حسب معمول نظر نہ آرہا تھا۔ تیزی سے اٹھ کر بیٹھنے سے میرے زخموں سے ٹیسیں نکلنے لگیں۔ بے اختیار میرے منہ سے چیخ نکل گئی جسے میں نے بمشکل ہونٹوں میں دبایا۔

کالی داس مجھ سے کچھ فاصلے پر دیوار سے ٹیک لگائے بڑے اطمینان سے بیٹھاتھا۔ اس وقت اس کے نحیف جسم پرایک دھوتی تھی۔ جب وہ لوگوں کو لے کرمیرے بیڈ روم میں آیاتھا تو اس نے مقامی لوگوں کی طرح دھوتی کرتہ پہن رکھا تھا۔ لمبے سفیدبال اس کی پشت پر پھیلے ہوئے تھے۔ ایسا حلیہ ہمارے ہاں اکثر درویش قسم کے لوگ اپناتے ہیں لیکن وہ اس کا بہرروپ تھا۔ وہ توشیطان صفت آدمی تھا بلکہ اسے آدمی کہنا آدمیت کی توہین تھی۔

’’اور تم کیا ہو۔۔۔؟‘‘ ضمیر کی ملامت سے میرا سرجھک گیا۔

’’ابھی تیری پریمیکا آکر تجھے اس کشٹ سے بچاکرلے جائے گی‘‘ اسنے میرا مضحکہ اڑایا۔

میری رگوں میں خون کی بجائے لاوا دوڑنے لگا۔ زخمی جسم لے کر میں تیزی سے کھڑا ہوگیا۔ چاہتا تھا زمین کو اس کے گندے وجودسے پاک کر دوں۔ وہ بڑے اطمینان سے مجھے اپنی طرف بڑھتے دیکھتا رہا آج اس نے میرے جسم کو بے حس و حرکت نہ کیا تھا۔ میں تیزی سے اس پر جھپٹا۔ قریب تھا کہ اس بوڑھے ڈھانچے کا گلا دبا دیتا، کسی نے مجھے اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔ زخموں سے چور جسم جیسے ہزاروں ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ منہ سے بے ساختہ چیخ نکل گئی۔

’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔‘‘ کمرہ سادھو کے خوفناک قہقہے سے گونج اٹھا۔ میں چاروں شانے چت پڑا تھا۔

’’تو نے پچھلی بارکہا تھا یدی میں تمرے شریرکو اپنی شکتی سے نہ باندھتا تو مجھے نشٹ کر دیتا۔ اسی کارن اس بارمیں نے تیرے شریر کو نہ باندھا کہ تو اپنے من کی حسرت نکال لے آ۔۔۔آگے بڑھ اور میرا کریہ کرم کر دے کس بات کی دیر ہے؟‘‘ اس نے میری حالت دیکھتے ہوئے مضحکہ اڑایا۔

’’میں بھی تو دیکھوں تو کتنابلوان ہے؟‘‘ اس کی ہرزہ سرائی جاری رہی۔ میں ہمت کرکے دوبارہ اٹھا۔ اس بار میں محتاط انداز میں اس کی طرف بڑھا۔ وہ معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا جیسے ہی میں اس کے قریب پہنچا اس کے ہونٹ دائرے کی صورت میں سکڑ گئے۔ میں بجلی کی سی تیزی سے ایک طرف ہٹ گیا۔ اس کے منہ سے نکلا ہوا تھوک مجھ سے دوانچ کے فاصلے سے گزر کرفرش پر جا پڑا۔ اسکے گندے تھوک کی اذیت میں ابھی بھولانہیں تھا۔ میرے اور اس کے درمیان چار پانچ قدموں کافاصلہ رہ گیا تھا۔ میں ہوا میں اچھلا اور اس پرچھلانگ لگا دی۔ لیکن کسی نادیدہ ہاتھ نے مجھے ہوا میں معلق کر دیا۔ چھت کے قریب جا کرمیں سرکر بل گرنے لگا۔ زمین تیزی سے میری طرف بڑھ رہی تھی اس عالم میں اگر میں زمین پر گرتا تومیرا سر پاش پاش ہو جاتا لیکن اب جینے کی خواہش کسے تھی؟جس قدر ذلت میں اٹھا چکاتھا اس کے بعدمیں خود بھی جینا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن موت بڑی ظالم چیز ہے انسان زندگی سے جس قدر بھی تنگ ہومرنا نہیں چاہتا۔ قریب تھا کہ زمین سے ٹکراکرہمیشہ کی نیندسو جاتا مجھے محسوس جیسے میرا پاؤں کسی کی گرفت میں آگیا ہے۔ خوفناک جھٹکے نے میرے اوسان خطا کردیے۔ دردکی شدید لہرنے احساس دلایا جیسے ٹانگ کولہے کے جوڑسے نکل گیا ہو۔جیسے ہی میرے حواس بحال ہوئے میں نے دیکھا میں بالکل کالی داس کے اوپرمعلق تھا۔ میرے ہاتھ اس کے سر سے انچ دو انچ کے فاصلے پر ہوا میں لہرا رہے تھے۔ میں چاہتا تھا اسکا گلادبوچ لوں تاکہ اسکے گندے جسم سے بدروح پروازکرجائے۔ اس کے مکروہ ہونٹوں پرموجودہ طنزیہ مسکراہٹ نے مجھے مزید مشتعل کردیا۔

’کاش میں بھی پراسرار قوتوں کاماہر ہوتا تو اس خبیث کوابھی مزا چکھادیتا۔‘‘

’’کیوں بالک! اب کیا وچارہیں یدی اب بھی تومیرا کہامان لے تومیں تجھے شماکر سکتا ہوں‘‘ اس بار اس کا لہجہ بدلہ ہوا تھا۔ پھر چھت کی طرف دیکھ کر اس نے اجنبی زبان میں کچھ کہا۔ میں آہستہ آہستہ نیچے آنے لگا۔میری دائیں ٹانگ کسی نادیدہ گرفت میں تھی۔ کسی نے مجھے آرام سے نیچے اتار کرپشت کے بل لٹادیا۔

’’اٹھ کر بیٹھ جا‘‘ کالی داس کی آواز آئی۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔

’’ابھی سمے گیانہیں۔۔۔مورکھ نہ بن میری آگیا کا پالن کرکے تو ایک بارپھر عجت (عزت) سے سنسار میں رہ سکتا ہے‘‘

میں اس کی بات سن کر چونک گیا۔ وہ گہری نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اس وقت میری سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ میں ایک بار پھر معاشرے میں عزت کی زندگی جینا شروع کر دوں۔

’’میرے بارے اپنے وچار ٹھیک کر، میں اتنا برا نہیں۔۔۔متروں کا متر ہوں۔پرنتو بیریوں کے سنگ تو کوئی منش اچھا برتاؤ نہیں کرتا۔ تیری پریمیکا اور تو نے میرے سنگ کیا کیا تھا۔۔۔یاد ہے؟‘‘

’’کیا یہ اس خبیث کی کوئی نئی چال ہے؟‘‘ میں سوچ میں پڑ گیا۔

’’تیرے وچار غلط ہیں۔۔۔میں نے کہا نا، میں تیری سہائتاکر سکتا ہوں پرنتو تجھے میری آگیا کا پالن کرناہوگا‘‘ اسنے ایک بار پھر مجھے یقین دلایا۔

’’توکیا چاہتاہے؟‘‘ میں نے کچھ سوچ کر پوچھا۔ اس وقت اگر خبیث کی بات مان کرمیرا چھٹکارا ہو سکتا تھا تو دانشمندی اسی میں تھی کہ اسکی بات مان لی جائے۔

’’میں کالی ماتا کی آگیا کے انوسار رادھا کوحاصل کرنا چاہتا ہوں‘‘ اسنے اپنا مطالبہ دہرایا۔

’’رادھا کو حاصل کرناچاہتا ہے؟ یاد ہے اسنے کس طرح تجھے زمین چاٹنے پر مجبور کر دیاتھا؟‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی میرا لہجہ طنزیہ ہوگیا۔ یکبارگی اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔

’’ایسی باتیں نہ کر کہ ایک بار پھر تجھے کشٹ بھوگنا پڑے۔‘‘

’لیکن اس سلسلے میں میں تمہاری کیا مددکرسکتا ہوں؟‘‘ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا اس لئے میں نے جلدی سے پوچھا۔

’’جیسا میں کہوں کرتا جا پھر دیکھ۔۔۔سنسار کو میں تیرے واسطے سورگ(جنت) بنا دوں گا تیری ہرمنو کا منا (خواہش) پوری ہوگی۔ تو جس اچھا کاوچاراپنے من میں لائے گا اوش پوری ہوگی‘‘ وہ مجھے لالچ دے رہاتھا۔

’’میں ابھی تک تمہاری بات نہیں سمجھا‘‘ اسکی باتوں سے میں بری طرح الجھ گیاتھا۔

’’رادھا کا جاپ پورا ہونے میں ابھی کچھ سمے باقی ہے ۔یدی مجھے وچن دے کہ تو سمے آنے پر میری آگیا کاپالن کرے گا تو میں تیری سہائتاکرنے پرتیار ہوں‘‘ اس نے بڑے اطمینان سے کہا۔

’’کھل کر بات کرو تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے کہا۔ کچھ دیر وہ مجھے دیکھتا رہا پھر آہستہ سے بولا۔

’’رادھا تجھ سے پریم کرتی ہے میں جانتاہوں تم دونوں کے بیچ کیسا سمبندھ ہے؟ تجھے کیول اتناکرنا ہوگا کہ جب وہ تجھ سے ملنے آئے تومجھے کھبر کردے۔‘‘

اس بار اس نے وضاحت کی۔ مجھے رادھا کی بات یاد آئی۔

’’سنسارکے سارے پنڈت پجاری مجھے پراپت کرنے کے کارن دھونی رمائے بیٹھے ہیں‘‘ میں اچھی طرح سمجھ رہاتھاکہ یہ منحوس کیا چاہتاہے؟ اس سے قبل اس کا چیلا امر کماربھی اس قسم کامطالبہ کرچکاتھا لیکن اسنے شرط رکھی تھی کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں۔ میرے چہرے پرکشمکش دیکھ کروہ بولا۔

’’تو اپنی پتنی کوچھوڑے بنا بھی میری سہائتاکر سکتا ہے امرکمارمیرا چیلا تھا اس نے ابھی اتنی شکتی پراپت نہ کی تھی اسی کارن اس نے تجھ سے تیری پتنی کوچھوڑنے کو کہا تھا پرنتو۔۔۔میں ایسی کوئی بات نہ کہوں گا۔ میری اچِھا تو کیول یہ ہے تو من سے میری بات مان لے۔ پرنتو اس بات کا اوش دھیان رکھنا

ا یدی تونے میرے سنگ چھل کپٹ کیا توتوجانتا ہے کالی داس کس شکتی کا نام ہے؟‘‘ کچھ دیر وہ میرے چہرے کے تاثرات کاجائزہ لیتا رہا پھر کہنے لگا‘‘ میں یہ بھی جانتاہوں رادھا کے آنے کے بعد تو ایک بارپھر میرے آڑے آنے کی اوشکتا کرے گا۔ پرنتو اس بار وہ مجھے کشٹ دینے میں سپھل نہ ہوپائے گی۔‘‘

’’لیکن اس دن تو ایسا ہی ہواتھا۔‘‘ میں نے کہا۔

’’میں تجھے بتا چکا ہوں اس دن کچھ اور شکتیاں بھی تیری سہائتا کر رہی تھیں اسی کارن وہ مکت(کامیاب) ہوگئی تھی۔ نہیں تو رادھا کالی داس کی شکتی کوجانتی ہے۔‘‘ اس نے گردن اکڑا کرکہا۔

’’اگر میں ایسا کرنے کا وعدہ کربھی لوں تو اب تم میرے لیے کیا کر سکتے ہو؟یہ معاملہ تو اتناالجھ چکا ہے کہ اب تم چاہو بھی تو نہیں سلجھا سکتے‘‘ میں مایوس ہو چکا تھا۔

’’تو نے ابھی کالی داس کی شکتی دیکھی ہی کہاں ہے بالک! مجھے وچن دے پھر دیکھ میں کرتا ہوں؟‘‘ اس کے لہجے سے اندازہ ہورہا تھا وہ سچ بول رہا ہے۔

’’لل ۔۔۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟ سارے شہر میں میرے خلاف ہنگامے ہو رہے ہیں؟پرچہ کٹ چکا سبین نے اپنا بیان بھی دے دیا ہے اب تو۔۔۔‘‘

’’تو یہ باتیں چھوڑ کیول اس بات پردھیان دے جو میں کہہ رہا ہوں تجھے بچانا میرا کام ہے۔ پرنتو دھیان رہے یدی۔۔۔تو وچن دے کر پھر گیا تو تجھے میرے شراپ سے بچانے والا اس سنسارمیں کوئی نہ ہوگا۔ میں جانتا ہوں اس سمے من میں رادھا کے واسطے کرودھ ہے پرنتو اس کے آنے کے بعد ہو سکتا ہے تیرے من میں اس کا پریم پھر جاگ جائے اور تو اپنے وچن سے پھر جائے۔ یدی ایسا دھیان بھی تو اپنے من میں لایا تو اتنا یاد رکھنا کالی داس تجھے کبھی شما نہ کرے گا۔‘‘

یہ ایساموقع نہ تھا کہ اس کی باتوں کا برا مانا جاتا۔ میں اس کی دھمکی کو زہرکے گھونٹ کی طرح پی گیا۔ ضبط سے میرا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ میری کیفیت دیکھ کر وہ نرمی سے بولا۔

’’کالی داس کا متربن کر دیکھ۔۔۔کالی داس تیرے چرنوں میں سندرکنیاؤں کا ڈھیر لگا دے گا۔ رادھا سے بھی سندر کنیائیں۔ یدی تجھے میری بات پروشواس نہ ہو تومیں تجھے ابھی چمتکاردکھا سکتاہوں‘‘ مجھے اپنی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے پاکر وہ معنی خیز انداز سے مسکرایا۔

’’میں جانتاہوں تو کیول میرے کہے پر وشواس نہ کرے گا اب دیکھ کالی داس کیاکرسکتاہے؟‘‘

وہ منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگا ۔اس کے ہونٹ ہلے لیکن آواز نہ نکلی۔ دوسرے ہی لمحے حوالات کے کمرے میں بسنتی ظاہر ہوگئی۔ وہی بسنتی جس کی بات مان کر میں اس حال کوپہنچا تھا۔ میں آپ کوپہلے بھی بتا چکاہوں کہ وہ اس قدر حسین تھی کہ اس پر سے نظر ہٹانا مشکل ہو جاتا۔ میری اس حالت کی ذمہ دار بسنتی ہی تھی پھر بھی اسے دیکھ کرایک لمحے کے لیے میں ڈول گیا۔ اس نے نہایت مختصر لباس پہن رکھا تھا جس سے اس کاکندن بدن دمک رہاتھا۔

’’پرنام مہاراج‘‘ اس نے کالی داس کوہاتھ باندھ کر سلام کیا۔ اس کے بعد وہ میری جانب مڑی اور ہاتھ جوڑ دیئے اس کے ہونٹوں پر بڑی ہی شوخ مسکراہٹ تھی۔

حسین آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔ اچانک مجھے اپنی تذلیل یاد آگئی جسکی ذمہ دار صرف اور صرف بسنتی ہی تھی ۔میرا چہرہ تپ گیا۔ رگوں میں خون کی گردش تیز ہوگئی ۔میرا خیال درست تھا کالی داس کی اس سازش میں بسنتی پوری طرح شریک تھی۔

’’مجھ ابھاگن پرکس کارن خفا ہو مہاراج؟ میں نے تو کیول مہاراج کالی داس کی آگیا کاپالن کیا ہے‘‘ اسکی مدہر آوازآئی۔ میرے چہرے سے دلی کیفیات عیاں تھیں۔

’’بسنتی تم نے دھوکہ دیا ہے۔ رادھا تجھے کبھی معاف نہیں کرے گی‘‘ میرا لہجہ خود بخود سرد ہوگیا۔

’’اب چھوڑو بھی پرانے جھگڑے فاروق خان! ہم متر بن چکے ہیں اور متروں کے واسطے من میں کرودھ رکھنا پاپ ہے‘‘ کالی داس کے ہونٹوں پردوستانہ مسکراہٹ تھی۔ لیکن مجھے اس خبیث کی کسی بات پر اعتبار نہ رہا تھا۔

’’یدی تمرا من صاف نہیں ہے تو میں جاتاہوں اسکے بعد تیرے سنگ جوہوگا وہ تو بھگت نہ پائے گا‘‘ایک بار پھر اس نے مجھے دھمکایا۔ دل تو چاہ رہا تھا ان دونوں کو جان سے مار دوں لیکن یہ میرے اختیارمیں نہ تھا۔

’’ٹھیک ہے وعدہ کرتا ہوں میں تمہاری بات مانوں گالیکن تم بھی یہ وعدہ کرو کہ مجھے اس مصیبت سے چھٹکارا دلاؤ گے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح ہوناچاہئے کہ یہ سب کچھ کس طرح ممکن ہوگا۔ اور رادھاکے سلسلے میں میں تمہاری کیامددکر سکتاہوں؟‘‘ بالآخر میں نے کہا۔

’’تو بڑا بھاگی شالی ہے کالی داس نے تجھے اپنامترمان لیا ہے۔ اب دیکھنا کالی داس تجھے اس کشٹ سے کیسے نکالتاہے؟‘‘ اس کے لہجے میں تکبر بول رہاتھا۔

’’رہی بات رادھا کی ‘‘ کچھ دیر وہ پُر خیال نظروں سے میری طرف دیکھتا رہاپھر کہنے لگا’’جب رادھاجاپ سے واپس آکر تجھ سے شریر کاسمبندھ جوڑنے آئے تو تو کیول مجھے کھبر کردینا‘‘ اس نے بڑے آرام سے مجھے سمجھایا۔

’’لیکن میں تمہیں کیسے بتاؤں گا؟‘‘ میں نے وضاحت چاہی۔

’’سمے آنے پر میں تجھے سمجھا دوں گا۔ پرنتو اس سمے کیول اتنا جان لے جب رادھا تجھ سے شریرکا سمبندھ جوڑنے کو کہے تو تو کہنا آج نہیں کل۔ اس کے بعد تو میری آگیاکاپالن کرتے ہوئے مجھے کھبرکردینا۔ باقی میں کھد دیکھ لوں گا۔ ‘‘ اس نے اپنامدعا واضح کیا۔ اسکی بات سے میں یہ سمجھا کہ جب میں اور رادھا ملتے ہیں تو وہ کوئی ایسا بندوبست کرلیتی ہے جس سے کالی داس کو ہمارے ملنے کی خبر نہیں ہوسکتی۔

’ٹھیک ہے کالی داس! میں تمہاری بات ماننے پر تیار ہوں‘‘ میں نے کہا۔ اس کے مکروہ ہونٹوں پر فاتحانہ مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ اس دوران بسنتی بالکل خاموش کھڑی رہی ۔میری بات ختم ہونے پر اس نے کالی داس سے کہا۔

’’مہاراج مجھے جانے کی آگیا دو ۔میرے بھوجن کا سمے ہو رہا۔‘‘

’ہاں تو جا۔۔۔جب تیری جرورت ہوگی میں بلا لوں گا‘‘ کالی داس نے لگاوٹ بھری نظروں سے بسنتی کو دیکھا۔

’’مہاراج ! اپنا وچن یاد رکھنا۔ یدی تم بھول گئے تو بسنتی بھی اپنے وچن سے پھر جائے گی‘‘ دوسرے ہی لمحے وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ اس کے جانے کے بعد کالی داس میری طرف متوجہ ہوا۔

’’تجھے کس بات کی چنتا ہے؟ میں نے جو کہہ دیا کہ اب ہم متر ہیں اور کالی داس کے متر کو کشٹ بھوگنا پڑے یہ اسمبھو(ناممکن) ہے جانتا ہوں اتنی جلدی تو مجھ پر وشواس نہ کرے گا۔ ٹھہر۔۔۔تجھے ایک اور چمتکار دکھاتا ہوں۔ پرنتو دھیان رہے کسی کے سامنے مجھے آواج نہ دینا۔‘‘

میں ابھی اس کی بات کا مطلب پوچھنے ہی والا تھا کہ باہر سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ میں نے گھبرا کر کالی داس کی طرف دیکھا جو بڑے اطمینان سے اپنی جگہ نیم دراز تھا۔ کمرے میں یکدم اندھیرا چھا گیا۔

’کمرے میں اندھیرا کیوں ہے؟‘ دروازے کے باہر سے آواز آئی۔

’’سر جی! شاید بلب فیوز ہوگیا ہے‘‘ جواب ملا۔ اس کے بعد تالا کھلنے کی آواز آئی۔

’’جا بھاگ کر ایمرجنسی لائٹ لے آ‘‘ پہلے والے نے کہا۔ تیز قدموں سے کسی کے جانے کی آواز آئی۔ اندھیرا اتنا بھی گہرا نہ تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا ہو۔ دروازے کے سامنے ایک درازقد شخص کا ہیولا دکھائی دے رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہی آدمی ہاتھ میں جلتی ہوئی ایمرجنسی لائٹ پکڑے آگیا۔ اس نے دروازہ کھولا اور دونوں اندر آگئے۔ ایک نے وردی پہنی ہوئی تھی جبکہ ایمرجنسی لائٹ پکڑے ہوئے آدمی سادہ لباس میں تھا۔

’’سر جی! ذرا اسے پکڑیں میں بلب لگا دوں‘‘ سادہ لباس نے وردی والے سے کہا پھر بلب لگا کر لائٹ آن کر دی۔ کمرہ روشنی سے بھر گیا۔ وردی میں ملبوس شخص کے کندھے پر لگے سٹارز اسے انسپکٹر ظاہر کر رہے تھے جبکہ دوسرا شاید سپاہی تھا۔ انسپکٹر نے مجھے غور سے دیکھا۔

’’کھڑے ہو جاؤ‘‘ اس نے کہا۔ میں بمشکل اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میں نے کالی داس کی طرف دیکھا وہ بڑے اطمینان سے نیم دراز تھا۔ مجھے اس کی ہدایت یاد تھی کسی کے سامنے میں اسے مخاطب نہ کروں۔ انسپکٹر میرا سر سے پاؤں تک جائزہ لے رہا تھا۔

’’مجھے یقین ہے کہ تم بے گناہ ہو۔ میں تو شکل سے مجرم کو پہچان لیتا ہوں‘‘ پھر سپاہی کی طرف مڑا۔

’’اسے کچھ کھانے کو بھی دیا ہے یا نہیں؟‘‘

’’سر جی! صاحب جی کا آرڈر تھا کہ اسے کچھ نہیں دینا‘‘ سپاہی نے کہا۔

’’وہ تو پاگل ہے اس کی نظر میں ہر شخص مجرم ہے ۔۔۔جاؤ اس کے لئے کچھ کھانے پینے کو لے آؤ‘‘ اس نے ’’صاحب جی‘‘ کو برا بھلا کہتے ہوئے سپاہی کو حکم دیا۔ وہ فوراً باہر چلاگیا

’’میرا نام انسپکٹر عادل ہے۔ میری پولیس سروس کو پچیس سال ہوگئے ہیں۔ میں شکل سے ہی مجرم کو پہچان لیتا ہوں۔ میں یقین سے کہہ سکتاہوں کہ تم مجرم نہیں لیکن یہ بات بھی میری سمجھ سے باہر ہے سب لوگ تمہارے خلاف کیوں ہیں؟کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ اصل معاملہ کیا ہے؟‘‘ اس نے بڑے مہذب انداز میں سوال کیا۔

’اس سے کہہ تجھے کسی بات کی جانکاری نہیں۔ جی اچھا نہ ہونے کے کارن تو گھر پر تھا کچھ منش آئے۔ انہوں نے تیرے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور تجھے مار مار کر تیری یہ دشا بنا دی۔ اس کے بعد تجھے کچھ کھبر نہ رہی۔ جب ہوش آیا تو یہاں حوالات کے کمرے میں پڑا تھا‘‘ کالی داس نے کہا۔ میں نے چونک کر پہلے کالی داس پھر انسپکٹر کی طرف دیکھا۔ وہ کالی داس کے وجود سے بے خبر مجھے دیکھ رہا تھا ’’یہ مجھے نہیں دیکھ سکتا‘‘ کالی داس میری پریشانی بھانپ کر بولا۔ میں نے اس کی ہدایت کے مطابق تھانیدار کو وہی کہانی سنا دی۔

’’کون لوگ تھے اور انہیں تم سے کیا دشمنی ہے؟‘‘ میں نے پھر کالی داس کی طرف دیکھا۔

’’کچھ اپنی بدھی سے کام لے لے ‘‘ اس کی بیزار آواز آئی۔

’’یہ تم بار بار پیچھے کیوں دیکھنے لگتے ہو؟‘‘ تھانے دارنے نرمی سے پوچھا۔ وہ ایک سلجھا ہوا شخص تھا۔

’’میرے گھر کے سامنے ریٹائرڈ ڈی ایس پی عمر حیات رہتا ہے ۔وہ اس گھر کو خریدنا چاہتا تھا لیکن پروفیسر صاحب جو اس مکان کے مالک ہیں انہوں نے مجھے کرایہ پر دے دیا ۔اس بات کا اسے بہت رنج ہے۔ اس نے مجھے دھمکی دی تھی کہ میں تمہیں یہاں زیادہ دیر تک ٹکنے نہیں دوں گا‘‘ میری جو سمجھ میں آیا میں نے کہہ دیا۔

’’ہوں۔۔۔یہ بات ہے جبھی وہ بڑھ بڑھ کربول رہا تھا‘‘ اس نے کہا۔

’’سامنے والی کوٹھی میں ساجد نامی ایک شخص رہتا ہے ۔وہ عمر حیات کا گہرا دوست ہے۔ اس نے بھی کئی بار مجھے دبی دبی زبان میں کہا تھا کہ میں یہ گھر چھوڑ دوں نہیں تو پچھتاؤں گا‘‘ میں نے اپنی بات میں اضافہ کیا۔ لاشعوری طور پر میں نے ساجد سے بدلہ لیا تھاکیونکہ مجھے مارنے والوں میں وہ پیش پیش تھا۔

’’ٹھیک ہے میں دیکھ لوں گا تم بالکل بے فکر ہو جاؤ ۔ابھی کرم دین کھانا لاتا ہے وہ کھا لو۔ چارپائی اور بسترمیں بجھوا دیتا ہوں آرام سے سو جاؤ کسی بات کی فکر نہ کرنا صبح عدالت سے ضمانت ہو جائے گی۔ اگرمیرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہیں ابھی گھر جانے کی اجازت دے دیتا لیکن تمہارے خلاف پرچہ کٹ چکا ہے تمہیں صبح میں خود عدالت میں لے کر جاؤں گا۔ کسی بات کی فکر نہ کرنا جس درندگی سے انہوں نے تمہیں مارا ہے اس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا۔ اسی وجہ سے میں نے تمہاری مرہم پٹی نہیں کروائی کہ جج صاحب کے سامنے میں تمہیں اسی حالت میں پیش کرنا چاہتا ہوں‘‘۔اس نے ملائمت سے مجھے سمجھایا۔

’اچھا اب میں چلتا ہوں تم کسی بات کی فکر نہ کرنا میں تمہارا دفاع بھرپور طریقے سے کروں گا‘‘ اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گیا لیکن اس باراس نے دروازہ بند کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ ابھی وہ گیا ہی تھا کہ سپاہی کرم دین میرے لئے کھانا لے آیا۔ کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو نے مجھے بھوک کا احساس دلایا۔صبح سے اب تک میں نے سوائے ایک جوس کے ڈبے کے کچھ کھایا پیا نہ تھا۔

’’صاحب جی! پیٹ بھر کر کھاؤ اور کسی بات کی فکر نہ کرو ہمارا صاحب بہت اچھا آدمی ہے۔ وہ تمہاری مدد کرے گا‘‘ اس نے کھانا میرے سامنے رکھتے ہوئے کہا اور باہر نکل گیا۔ جاتے ہوئے اس نے دروازہ بند تو کر دیا لیکن اس میں تالا نہیں لگایا۔

’’بھوجن کر لو پھر باتیں کریں گے‘‘ کالی داس کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ کھانا دیکھ کر میں اس کی موجودگی کو فراموش کر بیٹھا تھا۔

’’آجاؤ تم بھی کھا لو‘‘ میں نے اسے دعوت دی۔ اس میں وقت اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خاطر اسکی ہر بات ماننے کے لئے تیار تھا اور اس کا اعتماد حاصل کرنا چاہتا اس نے گہری نظروں سے دیکھا ۔

”تم کھاﺅ….میں بھوجن کرکے آیا تھا“ اس نے کہا۔ جب میں کھانے سے فارغ ہوا تو اس نے کہا۔”دیکھا مہاشے! کیسے ایک پل میں میں نے کایا پلٹ دی؟ یہی منش آج کی رینا تمری ہڈیوں سے گودا نکالنے والا تھا پرنتو اب کیسے تمرا داس بنا کھڑا تھا؟“ اس نے بڑے فخر سے کہا۔

”کالی داس! میں تم سے اپنے پچھلے رویے کی معذرت چاہتاہوں دراصل رادھا کی محبت میں میں اندھا ہوگیا تھا“ میں نے کہا۔ اگر کالی داس مجھے اس مصیبت سے چھٹکارہ دلوا دیتا تو اسکا بہت بڑا احسان ہوتا۔ اس وقت اس کی جس قدر ہمدردی میں حاصل کر سکتا میرے لئے بہتر تھا۔

”اب چھوڑ بھی پرانی باتیں جب ہم متر بن چکے ہیں تو کاہے کی چنتا؟“ اس نے بے پرواہی سے کہا۔

”تو نے جو کتھا(کہانی) اس کو مورکھ کو سانئی ہے میرا من بہت پرسن ہوا ہے آج کی رینا جوکشٹ تجھے بھوگنا پڑے گا۔ اس کے لئے مجھے شما کرنا کل ساری کٹھنائیوں سے تیری جان چھوٹ جائے گی“ اسنے معذرت بھرے لہجے میں کہا۔

معافی تو مجھے مانگنی چاہئے کہ میں نے رادھا کے ساتھ مل کر تمہیں بہت دکھ دیا ہے ہاں ایک اور بات بھی مجھے تم سے کہنا ہے جب تم ….“

جانتاہوں تو کیا کہنا چاہتا ہے کھیدو چوہڑے اور سپنا کی ہتھیا کو میں بھول نہیں پایا۔ پرنتو وہ رادھا کا اپر ادھ ہے تو نردوش ہے“ اس نے میری بات کاٹ کر کہا۔ وہ بھی رادھا کی طرح دل کی بات جان لیتا تھا۔

”کیول اتنا جان لے ، یدی رادھا کے آنے پر تو نے میرے سنگ چھل کیا تو ….“ اس کی ادھوری بات میں دھمکی پوشیدہ تھی۔

”کیا تم اب بھی یہ سمجھتے ہو کہ میں رادھا کا ساتھ دوں گا جس کی وجہ سے آج میں اس حالت میں حوالات میں پڑا ہوں؟ یہ سب کچھ اس بدبخت کی وجہ سے ہی تو ہوا ہے ورنہ میں تو ایک سیدھی سادھی زندگی بسر کرنے والا انسان ہوں۔ نہ رادھا مجھے ملتی نہ یہ دن دیکھنا پڑتے“ میں نے اس کا اعتماد حاصل کرنے کی خاطر رادھا کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ بات تھی بھی سچ، ان حالات کی ذمہ دار رادھا ہی تھی۔

”تو بہت بدھی مان ہے۔ یدی تو ستیہ کہہ رہا ہے تو سن اب کالی داس کی شکتی تجھے ان کٹھنائیوں سے یوں نکال کر لے جائے گی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور کالی داس کا متر بن کر توگھاٹے میں نہیں رہے گا۔ رادھا تو کچھ بھی نہیں ایسی ایسی سندرکنیائیں تیرے چرنوں میں بٹھا دوں گا کہ تو آکاش کی اپسراﺅں کو بھی بھول جائے گا“ اسنے مجھے لالچ دیا۔ٹھیک ہے کالی داس! اگر تم نے اپنا وعدہ پورا کیا تو مجھے ہمیشہ اپنا دوست پاﺅ گے“میں نے اسے یقین دلایا اور دل میں اسی بات کو دہرانے لگا۔وہ کچھ دیر میری آنکھوں میں دیکھتا رہا۔

”دھن باد خان صاحب! تم ایک گھر سے منشہور جو کچھ تمرے من میں ہے ۔وہ میں جانتا ہوں اب تو کسی بات کی چنتا نہ کر دیکھ کالی داس کیا کرتا ہے۔ تجھے ابھی کالی داس کی شکتی سے جانکاری نہیں کیول آج کی رینا اس کوٹھڑی میں بتا لے پھر سب ٹھیک ہو جائے گا“ اس نے مجھے تسلی دی۔ میں نے منہ سے کچھ نہ کہا بس سر ہلا کر اس کی بات کی تائید کی۔

تھوڑی دیر بعد سپاہی کرم دین چارپائی اور بسترلے آیا۔ اس کے جانے کے بعد کالی داس بولا۔

”اب مجھے آگیا دے….ابھی جا کر بہت کچھ کرنا ہے پرنتو تو چنتا نہ کرناسب ٹھیک ہو جائے گا۔“

میں نے ایک بار پھر اسکا شکریہ ادا کیا۔اچانک وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ رادھا نے مجھے بتایا تھا کہ کالی داس زبردست پراسرار قوتوں کا مالک ہے۔ اس کے لئے نظروں سے اوجھل ہونا یا ہزاروں کوس دور پہنچ جاتا کوئی مشکل بات نہیں۔

میری چوٹوں میں بہت درد ہو رہا تھا۔ کمبختوں نے بری طرح میری دھنائی کی تھ۔

”کیا کالی داس واقعی میری مدد کرے گا؟“ لیکن اس وقت اس پر اعتبار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ عمران دوبارہ نہیں آیا تھا میں دکھتے جسم کے ساتھ لیٹ گیا۔ سارے واقعات ایک بار پھر میرے ذہن میں تازہ ہوگئے۔ مجھے خود سے شرم آرہی تھی۔ جو کچھ میں نے اس مجبور اور بے بس لڑکی کے ساتھ کیا تھا اور اس کی سزا تویہی تھی کہ مجھے پھانسی پر لٹکا دیا جاتا۔ لیکن میں خود غرض ہوگیا تھا۔ میرے سامنے صائمہ اور بچوں کے چہرے آگئے۔ مجھے اپنی سزا کی اتنی فکر نہ تھی ،جو کچھ میں نے کیا تھا میں واقعی سزا کا حقدار تھا۔ لیکن صائمہ اور بچے….ان کا قصور کیا تھا؟ اگرمیں جیل چلا جاتا تو ان کا پرسان حال کون ہوتا؟ میں انہی سوچوں میں غرق تھا کہ کمرے میں ایک بار پھر اندھیرا چھا گیا۔ شاید بلب پھر فیوز ہوگیا تھا۔ اچانک میرے نتھنوں سے خوشبو کا جھونکا ٹکرایا۔ کمرے میں کسی اورکی موجودگی کا احساس ہوا۔

”رادھا….؟“ میرے ذہن میں فوراً خیال آیا۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن رادھا جب آتی تو گلاب کی مہک سے کمرہ بھر جاتا۔ خوشبو تو اب بھی آرہی تھی اور بہت ہی مسحور کن مہک تھی لیکن یہ گلاب کی خوشبو نہ تھی۔

مہاراج ! مجھے شما کر دو۔“ کمرے میں بسنتی کی مدہر آوازآئی۔

”بسنتی….؟“ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔

ہاں مہاراج ! میں ابھاگن بسنتی ہی ہوں“ اس کی مغموم آواز آئی۔

”مجھے شما کر دو۔ میں نے گھور پاپ کیا ہے پرنتو میں تمرے پریم میں پاگل ہوگئی تھی۔ تم ہو ہی اتنے سندر کہ کوئی بھی ناری تمہیں دیکھ کرکچھ بھی کر سکتی ہے۔“

اچانک کمرے میں دودھیا روشنی پھیل گئی جیسے چاند نکل آیا ہو۔ واقعی کمرے میں چاند نکل آیا تھا۔ بسنتی میری چارپائی کے بالکل پاس کھڑی تھی۔ اس کے وجود سے اٹھتی مہک میرے مشام جان کو معطرکیے دے رہی تھی۔ گہرے نیلے رنگکے مختصر گھاگرے چولی میں اس کا جسم قیامت ڈھا رہا تھا۔ پیار سے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کراس نے مجھے لٹا دیا اور میرے اوپر جھک آئی۔ اس کی گرم سانسیں میرے چہرے کو چھونے لگیں۔ میں ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ حدت سے اس کا پنڈا تنور بنا ہوا تھا۔

”آج کی رینا مجھ سے اتنا پریم کرو کہ میری بیاکل آتما شانت ہو جائے“ اس کی خمار آلود سرگوشی ابھری۔

ضرور پڑھیں: ’’سندھ کے لاکھ اساتذہ تو یہ مضامین ہی نہیں پڑھا سکتے اور ۔ ۔ ۔‘‘ صوبائی وزیرتعلیم نے اعتراف کرلیا

”جس سمے میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا میرا من میرے بس میں نہیں ر ہاتھا۔ تم تو دیوتاﺅں سے بھی جیادہ سندرہو۔ میں نے آج تک تمرے جیسا سندر منش نہیں دیکھا“ وہ میرے اوپر چھا گئی ۔ گھنے سیاہ بالوں نے مجھے ڈھک دیا۔ میں یہ بھی بھول گیا کہ اس وقت حوالات کے کمرے میں سزا کا منتظر ہوں کل میرے ساتھ کیا ہوگا میں یہ نہیں جانتا تھا؟ بسنتی کے قرب نے جیسے دنیا سے بیگانہ کر دیا تھا۔

”پریم“ وہ میرے اندر جذب ہونے لگی۔ اس کی خود سپردگی دیکھ کر میں بھی زیادہ دیر بے حس نہ رہا سکا۔ خود بخود میرے ہاتھ حرکت میں آگئے۔ اس کی نرم و نازک انگلیاں میرے بالوں میں الجھ گئیں۔ ماتھے پر ہاتھ لگا تو زخم میں درد کے باعث میرے منہ سے سسکاری سی نکل گئی۔

کیا ہوا میرے میت؟ مجھ سے پریم کرونا“ اس کے چین آواز آئی۔

”تمہارا ہاتھ لگنے سے زخم میں درد شروع ہوگیا ہے میرا سارا جسم زخموں سے چور ہے اس حالت میں میں کیسے تمہاری”خواہش پوری کر سکتا ہوں؟“ میں نے کراہتے ہوئے کہا۔

”پریتم! ابھی تمرے سارے دکھ سکھ بدل دیتی ہوں، یدی تم آگیا دو تو میں اس سمےان پاپیوں کے گھربھسم کر دوں جنہوں نے تم پر انیائے کیا ہے“ اس کے لہجے میں اپنائیت تھی۔ شاید وہ میرے زخموں کو ٹھیک کرنا چاہتی تھی کہ مجھے انسپکٹر کی بات یاد آئی اس نے کہا تھا کہ وہ اسی حالت میں مجھے جج صاحب کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔ یہ میرے حق میں بہتر تھا۔ جج کی ہمدردی میرے ساتھ ہوتی۔ یہ خیال آتے ہی میں نے بسنتی کو روک دیا۔

”ٹھیک ہے پرتم! سب کچھ ایسے ہی رہے گا پرنتو تمہیں درد نہیں ہوگا“ اس نے کہہ کر میرے جسم پر اپنا کومل ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ آپ یقین کریں اس کے ہاتھ کا میرے جسم پر پھرنا تھا کہ یکدم درد سے نجات مل گئی۔

”بسنتی ! میں جانتا ہوں کہ تم ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کر سکتی ہو لیکن کالی داس چاہتا ہے کہ میں باعزت طور پر بری ہو جاﺅں، اگر تم نے ان کے گھر جلائے تو ہو سکتا ہے میں ساری زندگی جیل کی سلاخوں سے نہ نکل سکوں“ میں نے وضاحت کی۔ مجھے خطرہ تھا کہ یہ جن زادی کہیں ان سب کے گھروں کو نہ جلا دے۔ اس کے لئے ایسا کرنا کیا مشکل تھا؟

”پرنتو پاپیوں نے جو تمرے سنگ کیا ہے اس کا بدلہ تو انہیں ملنا ہی چاہئے نا“ اس کے لہجے میں اپنایت تھی۔

”لیکن یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے تو ہوا ہے جس وقت وہ لوگ مجھے مار رہے تھے تو میں نے کئی بار تمہیں پکارا تھا لیکن تم نہ آئیں“ میں نے گلہ کیا۔

”وہ سب میں نے کالی داس کی اچھا کے انوسار کیا تھا وہ رادھا کو پراپت کرنا چاہتا ہے اس نے مجھے وچن دیا ہے یدی میں اس سمے اس کی سہائتا کروں تو وہ رادھا کو اپنے بس میں کر لے گا پھر ہمیں ایک دو جے سے پریم کرنے میں کوئی روک نہ ہوگی“ وہ میری بانہوں میں سما گئی۔ اس رات کی کہانی بھی عجیب ہے۔ حوالات کے کمرے میں اس قسم کی رات شاید ہی کسی نے بسر کی ہو۔ ٹھیک ہے میں اس وقت مجبور تھا لیکن سچ پوچھیں تو بسنتی کے وصال کے لئے میں خود بھی بے چین تھا۔ مجبوری اپنی جگہ لیکن اس میں میری نفسانی خواہش کو بھی دخل تھا۔ صبح دم جب وہ جانے لگی تو بڑے پیار سے مجھے تسلی دی۔

”چنتا نہ کرنا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا“ اس کے جانے کے بعد لائٹ خود بخود آن ہوگئی۔ لیکن اب میں ان باتوں کا عادی ہو چکا تھا۔ حیران ہونا میں نے چھوڑ دیا تھا۔ روشنی میں میں نے اپنے زخموں کا جائزہ لیا جن سے خون نکل کر جم گیا تھا۔ زخم ویسے ہی تھے لیکن درد یا تکلیف کا نام و نشان نہ تھا۔ یہ بھی ایک عجیب تجربہ تھا۔ تھکن سے میرا برا حال تھا۔ بسنتی جو کچھ میرے لئے کر رہی تھی اس کا اس نے پورا پورا ”معاوضہ “ وصول کیا تھا ۔ نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔ کسی نے جھنجھوڑ کر مجھے جگا دیا۔ نیند بھی کتنی مہربان شے ہے ہر دکھ تکلیف خواہ وہ جسمانی ہو یا ذہنی، اس سے نجات دلا دیتی ہے۔ میں آنکھیں کھول کر دیکھا سپاہی کرم دین مجھے آوازیں دے رہا تھا۔

”بھئی سچ پوچھ تو میں نے کسی کو حوالات کے کمرے میں اتنے آرام سے اور گہری نیند سوتے ہیں دیکھا۔ مجھے بھی پولیس میں آئے ہوئے دس سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے“ اس نے حیرت سے کہا۔ دن کا اجالا ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔

”میں ناشتہ لاتاہوں“ وہ جانے لگ تو میں نے کہا مجھے رفع حاجت کے لئے جانا ہے۔ کچھ دیر وہ سوچتا رہا پھر بولا ”اچھا آﺅ میرے ساتھ۔“ میں اس کے پیچھے باہر نکل آیا۔ وہ مجھے لے کر ایک طرف چل پڑا

ایک قطار میں بیت الخلاء بنے ہوئے تھے۔

’’فٹا فٹ فارغ ہو جاؤ‘‘ اس نے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ میں اندر داخل ہوگیا۔ فارغ ہو کرمیں نے اس سے کہا۔

’’کرم دین ایک اور احسان میرے اوپر کر دو‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھنے لگا۔

’’میں روزانہ غسل کرتا ہوں برسوں سے عادت ہے اگر مہربانی کر سکو تو ۔۔۔‘‘ اسنے مشکوک نظروں سے میری طرف دیکھا۔

’’تم توکہتے تھے میں نے ’’کچھ نہیں کیا‘‘ پھر نہانے کی ضرورت کیوں پڑ گئی۔‘‘ میں شرم سے کٹ کر رہ گیا۔

’’مم۔۔۔میں نے بتایا ہے ناکہ مجھے روزانہ نہانے کی عادت ہے۔‘‘ میں نے جھجکھتے ہوئے کہا۔

’’اچھا آؤ تم بھی کیا یاد کرو گے کس سخی سے واسطہ پڑا تھا‘‘ پھر میری جیب پر نظر ڈالی۔

’’جیب میں کچھ مال پانی بھی ہے یا خالی خولی ہو۔‘‘

’’تم تو جانتے ہو کہ مجھے کس حالت میں لوگ تھانے لائے تھے میرے ۔۔۔‘‘ میں اسے بتانے ہی لگا تھا کہ یہ کپڑے بھی مجھے تھانے میں ہی میسر آئے ہیں لیکن فوراً ہی بات بدل لی۔ مجھے معلوم تھا کہ محرر نے چھپ کر لباس فراہم کیا ہے۔ وہ جلدی میں تھا اس لئے اس نے میری بات پر توجہ نہ دیا ور مجھے ایک طرف لے چلا۔ اسی طرح ایک قطارمیں حمام بنے ہوئے تھے بنیان اور دھوتی پہنے کئی سپاہی جا بجا مسواک کر رہے تھے کچھ ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے۔ چار غسل خانے تھے لیکن خالی کوئی بھی نہ تھا۔

’’اوئے کرم دین!‘‘ ایک سپاہی نے اسے آواز دی۔

’’ہاں بھئی افضل کیا بات ہے؟‘‘ کرم دین نے کہا۔

’’اوئے اس پھٹل (زخمی) بندے کو کدھر لیے پھر رہے ہو؟ اسکی پٹی شٹی نہیں کرائی۔ یہ تو بہت زخمی ہے‘‘ اس نے میری طرف دیکھ کرپوچھا۔ کرم دین چونک گیا جیسے اسے کچھ یاد آگیا ہو۔

’اوئے سر جی!۔۔۔صاحب نے کہا تھاکہ تمہیں اسی حالت میں جج صاحب کے سامنے پیش کرنا ہے اگر تم نہا لو گے تو زخموں پرسے سارا خون شون تو صاف ہو جائے گا نا‘‘ اس نے مجھے سمجھایا۔

’’چلو۔۔۔چلو پیشی بھگتنے کے بعد نہا لینا گھرجا کر‘‘ یہ کہہ کر وہ جلدی سے واپس چل پڑا۔ سپاہی مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ جو لباس میں نے پہنا ہوا تھا شاید وہ کسی سپاہی کاتھا۔۔۔سفید رنگ کا کرتا شلوار، جو میرے زخموں سے نکلنے والے خون سے سرخ ہو رہا تھا۔ میں تیز تیز چل رہا تھا حالانکہ جتنے زخم میرے جسم پر لگے تھے انکی موجودگی میں ہلنا جلنا بھی مشکل تھا۔ اور یہی بات ان کے لئے باعث حیرت تھی لیکن وہ تونہیں جانتے تھے کہ یہ کرشمہ بسنتی کا ہے۔ وہ مجھے بڑا جی دار سمجھ رہے تھے جو اسقدر زخمی ہوکر بھی میں بالکل نارمل انداز میں چل پھر رہا تھا۔ جب ہم واپس حوالات کے کمرے میں پہنچے تو چارپائی اور بستر غائب تھے کرم دین مجھے چھوڑ کرچلا گیا اس بار اسنے باہر سے تالا لگا دیا تھا۔ مجھے بیٹھے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ باہر سے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ آنے والے کئی تھے۔ کرم دین دروازہ کھول کر ایک طرف ہٹ گیا۔ سب سے پہلے وہی انسپکٹر اندر داخل ہوا جس نے مجھے رات کھانا چارپائی اور بستر فراہم کیا اور اپنا نام عادل بتایا تھا۔ اس کے پیچھے ڈی ایس پی تھا۔ اسکی نظریں برچھی کی طرح میرے جسم کے آر پار ہو رہی تھی۔ شکل سے ہی وہ تند خو اور غصیلا لگتا تھا۔

’’سر! بہت بری طرح ان لوگوں نے اسے مارا ہے‘‘ انسپکٹر نے دبے دبے لہجے میں کہا۔

’’اگرمیرے بس میں ہوتا تو میں اسے جان سے مار دیتا۔ یہ سزا تو اسکے لئے کچھ بھی نہیں آج مجھے اس کا ریمانڈ لینے دو پھر دیکھنا میں اسکا کیا حشر کرتا ہوں۔‘‘ وہ زہریلے لہجے میں بولا۔

’سر! اس کے بقول یہ سب شرارت ریٹائرڈ ڈی ایس پی عمر حیات کی ہے۔ رات میری پروفیسرصاحب کے ساتھ بھی بات ہوئی تھی انہوں نے بڑے وثوق سے کہا ہے کہ وہ اسے بڑی اچھی طرح جانتے ہیں یہ اس قسم کا انسان نہیں۔۔۔پانچ وقت کا نمازی اور نیک آدمی ہے۔‘‘

انسپکٹر بھرپور طریقے سے میرا دفاع کر رہا تھا۔ نہ جانے یہ سب کچھ وہ اپنی فطرت کی باعث کہہ رہا تھا یا اس میں کالی داس کی پراسرار قوتوں کو دخل تھا۔

’پروفیسر صاحب آج عدالت میں بھی آئیں گے‘‘ انسپکٹر نے بتایا۔

’’تمہاری تقریر ختم ہوگئی یا ابھی باقی ہے؟‘‘ ڈی ایس پی کی سرد آواز کمرے میں گونجی۔ انسپکٹر کا چہرہ سرخ ہوگیا۔

سر! میں تو آپ کو رپورٹ پیش کر رہاتھا کہ اب تک میں نے کیا معلوم کیا ہے؟‘‘ وہ جز بزہو کر بولا۔

’’اس کی مرہم پٹی وغیرہ کیوں نہیں کرائی گئی‘‘ ڈی ایس پی نے مجھے گھورتے ہوئے انسپکٹر سے سوال کیا۔

’’سر !آپ نے خود ہی توکہا تھا کہ اسکے قریب بھی کوئی نہ پھٹکے‘‘ انسپکٹر نے کہا۔

’’گدھے ہو تم سب‘‘ اسنے ایک قہر بھری نظر مجھ پر ڈالی اور تیز تیز قدموں سے باہر نکل گیا۔ اس کے جانے کے بعد کرم دین نے دروازے کو تالا لگادیا۔میں دوبارہ فرش پر بیٹھ گیا۔

’’کیوں چنتا کرتا ہے؟‘‘ اچانک میرے پیچھے کالی داس کی آواز آئی۔ میں بری طرح اچھل پڑا۔ مڑ کر دیکھا وہ بڑے اطمینان سے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ اسکے ہونٹوں پر دوستانہ مسکراہٹ تھی۔

’’ڈی ایس پی بہت غصے میں ہے‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔

’یہ حرامی کیا شے ہے اس کے تو بڑے بھی تیری سیوا کریں گے‘‘ کالی داس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ پھر ایک طرف منہ کرکے آواز دی۔

’’بسنتی!‘‘

’’جی مہاراج‘‘ فورا بسنتی کی مدہر آواز کمرے میں گونجی۔ وہ نظروں سے اوجھل تھی۔

’’ساراپربندہوگیا؟‘‘ کالی داس نے نرم لہجے میں پوچھا۔

’ہاں مہاراج! تمری اچھا کے انوسار، سمے آنے پر سب وہاں پہنچ جائیں گے‘‘ بسنتی نے جواب دیا۔

’’عدالت میں تو نے وہی کچھ کہنا ہے جو کل تھانے دار سے کہہ چکا ہے‘‘ کالی داس نے مجھے خاطب کیا۔

’’کیا تم عدالت میں موجود ہو گے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’سب تیری اچھا کے انورسار ہوگا نشچنٹ رہ‘‘ اس نے میرے سوال کا جواب دینے کے بجائے مجھے تسلی دی۔ اس کے بعد وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا۔‘‘ کاش میں بھی کالی داس کی طرح پراسرار قوتوں کا ماہرہوتا ‘‘ میں دل میں خواہش جاگی۔

’’خان بھائی!‘‘ میں اپنی سوچوں میں گم تھا کہ عمران کی آواز آئی۔ میں نے چونک کردیکھا۔ عمران سلاخیں پکڑے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے سے افسردگی ظاہرہورہی تھی۔ میں جلدی سے اٹھ کر اسے پاس چلا آیا۔

’’پروفیسر صاحب نے ایک بہت قابل وکیل کا بندوبست کیا ہے آپ فکر نہ کریں انشاء اللہ تعالیٰ آپ باعزت بری ہو جایں گے‘‘ وہ آہستہ سے بولا۔

’’عمران!میں کس منہ سے تمہارا شکریہ ادا کروں؟ تم نے دوست ہونے کا حق ادا کر دیا‘‘ میری آواز بھراگئی۔ عمران کو دیکھ کر مجھے صائمہ اور بچے یاد آگئے تھے۔ اسکی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔

’’خان بھائی! فکرنہ کریں انشاء اللہ فتح ہماری ہوگئی۔ میں نے اسے بھی وہی کہانی سنا دی جوانسپکٹر کو کالی داس کے کہنے پر سنائی تھی۔ وہ حیرت سے منہ کھولے سنتا رہا۔

’’لوگ دنیاوی مفادکے لئے اتنا بھی گر سکتے ہیں مجھے گمان تک نہ تھا۔ خیر کوئی بات نہیں دشمنوں کو شکست اور ہمیں فتح نصیب ہوگئی انشاء اللہ۔ دکھ اس بات کاہے کہ آپ نے مجھے ہر بات سے بے خبر رکھا۔ اگر اس حرامزادے نے آپ کودھمکی دی تھی تو آپ مجھے بتاتے‘‘ اس نے مجھے یقین دلانے کے بعد گلہ کیا۔

پھر کہنے لگا’’وکیل صاحب بہت قابل ہیں۔ ہو سکتاہے پہلی پیشی پر ضمانت نہ ہو سکے لیکن آپ فکر نہ کریں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں‘‘ اس نے مجھے تسلی دی۔

’’ایسی بات نہیں ہے عمران ! میں بے قصور ہوں مجھے یقین ہے جب جج صاحب کو اصل حالات کا علم ہوگا تووہ مجھے باعزت بری کردیں گے‘‘ میں نے یقین سے کہا۔

’’اللہ کرے ایسا ہی ہو‘‘ عمران نے کہا۔

’’اچھا میں چلتا ہوں بڑی مشکل سے محررکی جیب گرم کرکے میں نے ملاقات کا وقت لیا ہے ۔ عدالت میں ملاقات ہوگی۔‘‘

اسکے جانے کے تھوڑی دیر بعد انسپکٹر عادل کرم دین کے ساتھ آیا۔ مجھے عدالت نے جانے کا وقت آگیا تھا۔

’’جی تو نہیں چاہتا کہ میں تمہیں ہتھکڑی پہناؤں لیکن مجبوری ہے ڈی ایس پی ساتھ جائے گا‘‘ اسنے معذرت کی۔ میں نے ا س کی ہمدردی پر اسکا شکریہ اداکیا۔ کرم دین نے میرے ہاتھوں میں آہنی زیورپہنا دیا۔ باہر لاکر مجھے بند گاڑی میں بٹھا دیا گیا۔ گاڑی تھانے کی حدود سے نکل کر میری جانی پہچانی سڑکوں پر دوڑنے لگی۔ گاڑی کی باڈی میں جالیاں لگی ہوئی تھیں۔ میں یونہی باہر جھانکنے لگا میرے ساتھ چار سپاہی تھے۔ پندرہ منٹ کے سفر کے بعدہم عدالت پہنچ گئے۔ جیسے ہی گاڑی عدالت کے احاطے میں داخل ہوئی میری آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ لوگوں کا ایک جم غفیر عدالت میں موجود تھا۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے جن پرمیرے خلاف مختلف عبارتیں درج تھیں۔ اس کے علاوہ لوگ نعرے لگا رہے تھے ۔ عورتوں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہ چیخ چیخ کر میرے خلاف نعرے لگا رہی تھیں۔

’’عزتوں کے لٹیرے کو پھانسی دو۔ ایسے درندوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

گاڑی پر نظر پڑتے ہی ان کے نعروں میں تیزی آگئی۔ کئی جو شیلے تو پولیس کا گھیرا توڑ کر گاڑی پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن پولیس نے بڑے منظم طریقے سے ان کو کنٹرول کر رکھا تھا۔ گاڑی کو بالکل عدالت کے کمرے کے سامنے لے جایا گیا۔ جب میں گاڑی سے اترا تو ایک بار پھر لوگوں کا جوش بڑھ گیا۔ میرے چہرے کو ایک تولیے سے ڈھک دیا گیا تھا۔ یہ کام انسپکٹر نے کیا تھا۔ جس کی وجہ اس نے یہ بتائی تھی

کہ پریس فوٹو گرافرز میری تصویر بنانا چاہتے ہیں۔ کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ کالی داس کے یقین دلانے کے باوجود میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ان پراسرار قوتون کے مالک لوگوں کی مجبوریاں بھی بعض اوقات آڑے آجاتی تھیں جیسا کہ رادھا کسی جاپ کی وجہ سے نہ آسکتی تھی۔ میرے سینے سے ایک آہ نکل گئی ۔اگر وہ ہوتی تو نوبت یہاں تک کبھی نہ پہنچتی۔

سارامیڈیامنہ تکتا رہ گیا۔ کیونکہ صحافیوں کو اندر داخل نہ ہونے دیا گیا تھا۔ کٹہرے میں کھڑا کرکے میری ہتھکڑی کھول دی گئی۔ جج صاحب اپنی کرسی پر تشریف فرما تھے۔ صبح تھانے میں پروفیسر صاحب کا بھیجا ہوا وکیل مجھ سے وکالت نامے پر دستخط کروا گیا تھا۔ وہ جنگلے کے ساتھ کھڑا تھا۔ جیسے ہی میری نظر اس پر پڑی اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اشارے سے مجھے حوصلہ دیا۔ اسکے ساتھ ڈسکس کرنے کا موقع مجھے نہیں دیا گیا تھا۔ اس کام میں رکاوٹ ڈی ایس پی نے ڈالی تھی جو سبین کے والد صاحب کا شاگرد تھا اور سبین کو اپنی بہنوں کی طرح چاہتا تھا۔ وہ بھی ایک طرف کھڑا تھا۔ انسپکٹر عادل کی موجودگی سے مجھے کچھ حوصلہ تھا۔ میری نظریں چاروں طرف کالی داس کو تلاش کر رہی تھیں۔ اس نے کہا تھا وہ بروقت عدالت پہنچ جائے گا۔ اگر وہ نہ آسکا تو؟ میرے دل میں یہ خدشہ بہرحال موجود تھا۔ کہیں وہ مجھے دھوکہ تو نہیں دے دے گا؟ مختلف قسم کے دسو سے میرے دل میں چکرا رہے تھے۔ کمرے میں لوگوں کی دبی دبی سرگوشیں گونج رہی تھیں۔ جج صاحب نے ہتھوڑا میز پر مارا۔

’آرڈر۔۔۔آرڈر مقدمے کی کارروائی کا آغاز کیا جائے‘‘ ایک پختہ عمر وکیل اٹھ کر جج کے آگے جھکا اور اپنا تعارف سبین کے وکیل کی حیثیت سے کرواتے ہوئے اجازت چاہی۔ کالی داس ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔ اس نے مجھے کچھ خاص ہدایت نہیں تھی کہ مجھے عدالت میں کیا بیان دینا ہے۔ اس سے پہلے زندگی میں اس قسم کے حالات کا سامنا نہ ہوا تھا مجھے کچھ معلوم نہ تھاکہ کیا کہنا ہے؟ بس لے دے کر وہی ایک کہانی تھی جو میں نے انسپکٹر عادل کو سنائی تھی۔ جج نے ایک سرسری نظر میرے اوپرڈالی پھر چونک گیا۔ بغور میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’اسے کس نے اس بری طرح مارا ہے؟‘‘

میرا وکیل فوراً اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔’’جناب عالی! آپ دیکھ رہے ہیں کہ کس بری طرح میری موکل کو زدوکوب کیا گیا۔ ابھی تو اس کا جرم ثابت نہیں ہوا اس کے باوجود اس اسے کس بری طرح تشدد کانشانہ بنایا گیا ہے۔ یورآنر! درندگی کی انتہا ہے کہ میرے موکل کو ادھوموا کرکے تھانے لے جا کر بند کر دیا گیا‘‘ میرے وکیل نے بڑے مضبوط لہجے میں کہا۔

’’اس کا یہ حال کس نے کیا۔۔۔؟‘‘ جج نے ڈی ایس پی کی طر ف دیکھ کر سوال کیا ۔

’’یور آنر! جس درندگی کا مظاہرہ اس شخص نے کیا ہے جس طرح اس نے ایک معصوم کنواری لڑکی کی عزت لوٹ کر اسے تباہ کر دیا، اس کے مقابلے میں تو اسے کچھ بھی نہیں کہا گیا۔ اگر میرے اختیار میں ہوتا تو اس درندے کو موت کی سزا دیتا‘‘ اس کے لہجے میں میرے لئے زہر بھرا ہوا تھا۔ اسکی بات سن کرجج کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ وہ سخت نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولا۔

میرا خیال ہے میں یہ کرسی چھوڑ کر اس پر آپ کو بٹھا دوں کیونکہ آپ کے اندر مجھ سے بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ کیا قانوناً آپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جرم ثابت ہوئے بغیر کسی بھی شخص کو اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا جائے؟ کیا آپ کو وردی اسلئے دی گئی ہے کہ انسانوں کی حفاظت کرنے کے بجائے انہیں موت کے منہ میں پہنچا دیں؟‘‘ آہستہ آہستہ جج کا لہجہ تیز ہوتا گیا۔

’’میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ اس عہدے کے لائق نہیں ہیں۔ کیوں نہ آپ کو معطل کر دیا جائے یا آپ کی ترقی معکوس کرکے آپ کو دوبارہ تھانے دار بنا دیا جائے۔‘‘ ڈی ایس پی کے الفاظ نے جج کو چراغ کردیاتھا۔

’جج۔۔۔جنا۔۔۔جناب! میں معافی چاہتا ہوں دراصل جس لڑکی پر اس درندے نے ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں وہ میری منہ بولی بہن ہے‘‘ وہ اپنی چوکڑی بھول گیا۔

’’جس وقت ملزم اس لڑکی کی عزت رہا تھا آپ وہاں موجود تھے؟ کیا آپ نے اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے؟‘‘ جج نے سخت لہجے میں پوچھا۔

ضرور پڑھیں: شہبازشریف کی نیب پیشی کے موقع پر گرفتاری کا خدشہ لیکن کیا وہ ضمانت قبل از گرفتاری کروائیں گے یا نہیں ؟ فیصلہ کرلیا گیا

’’نن۔۔۔نہیں جناب! لیکن میرا تجربہ کہتا ہے یہ واقعی مجرم ہے‘‘ وہ بری طرح بدحواس ہوگیا تھا۔

’’اگر آپ کا تجربہ اتنا وسیع ہے تو آپ واقعی میری اس سیٹ کے حقدار ہیں‘‘ جج کے طنزیہ لہجے سے اس کا چہرہ خفت سے سرخ ہوگیا۔

’’آئندہ خیال رہے یہ عدالت ہے اس قسم کے الفاظ بولنے سے پرہیز کریں درندے کی اصطلاح آپ نے ملزم کے لئے کیوں استعمال کی جبکہ آپ نے اسے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘‘ جج نے اسے ایک بار پھر لتاڑا۔

’’کیسے کیسے نکمے اور جاہل لوگ پولیس میں بھرتی ہو کر آجاتے ہیں‘‘ اس کی واضح بڑبڑاہٹ سنائی دی۔ ڈی ایس پی پیچ و تاپ کھا رہا تھا لیکن ظاہر ہے کچھ کر نہ سکتا تھا یہ عدالت تھی۔۔۔تھانہ نہیں ایک منٹ میں اسکی وردی اتر سکتی تھی۔ اچانک جج کے پیچھے کالی داس نمودارہوا۔ اسے دیکھ کر میں نے اطمینان کی سانس لی۔ ظاہر ہے وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا ورنہ اسے وہاں کون ٹھہرنے دیتا۔ وہ جج کی کرسی کے پیچھے بالکل خاموش کھڑا تھا۔ حسب معمول اس نے ایک دھوتی لنگوٹی کی صورت میں باندھ رکھی تھی۔ سامنے والی کرسیوں کی قطار میں ڈی ایس پی عمرحیات، ساجدا ور میرے دیگر محلے دار بیٹھے تھے۔ میرے وکیل نے جج سے گواہوں سے سوال پوچھنے کی اجازت چاہی جج نے سر ہلا کراجازت دے دی۔سب سے پہلے اس نے میرے پہلے قریبی ہمسائے کوکٹہرے میں بلایا۔ اس نے سچ بولنے کا حلف اٹھایا۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد میں یقین سے تونہیں کہہ سکتا۔ غالباً میرے وکیل کانام امجدصدیقی تھا۔ وہ ایک معمر اور تجربہ کاروکیل تھا۔ اس نے غور سے میرے ہمسائے کودیکھا۔

’’آپ کانام؟‘‘ اس کی بھاری آواز کمرہ عدالت میں گونجی جہاں سکوت مرگ طاری تھا۔

’’محمد اسلم‘‘ اس نے جواب دیا۔

کیاکام کرتے ہیں؟ میرا مطلب ہے آپ کاذریعہ معاش کیا ہے؟‘‘ وکیل نے دوسرا سوال کیا۔

’’میں امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس کرتاہوں؟‘‘

’’عدالت کو مختصر الفاظ میں بتائیے کہ آپ نے میرے مؤکل فاروق خان کو کس حالت میں دیکھا جب آپ وہاں پہنچے۔ ساتھ میں یہ بھی واضح کیجئے کہ آپ کو کس طرح معلوم ہوا کہ میرا موکل اس وقت کسی لڑکی کی عزت لوٹ رہا ہے؟‘‘

کالی داس نے اسلم کی طرف منہ کرکے پھونک ماری۔

’’جناب! میں نے سچ بولنے کی قسم کھائی ہے اس لئے مزید جھوٹ نہیں بول سکتا۔‘‘ اسلم کی بات نے سب کوچونکا دیا۔

میں نے کچھ نہیں دیکھا ۔مجھے تو عمر حیات صاحب نے کہا تھا کہ فاروق ایک لڑکی کی عزت لوٹ رہاتھاکہ ہم نے اسے موقع پر پکڑ لیا۔ تم نے کل عدالت میں گواہی دینا ہے کہ تم نے ایسا ہوتے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ جناب! میں نے تو اپنی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھا ۔پھر میں کیسے کہہ سکتاہوں؟‘‘ اس پرانہوں نے مجھے دھمکی دی اگر تم نے ایسا نہ کیا تو میں تم پر کوئی الزام لگا کر تمہیں تھانے بند کروا دوں گا ۔میری بڑی پہنچ ہے۔ علاقے کا ایس پی میرا دوست ہے۔ جناب میں سیدھا سادہ بزنس مین ہوں ۔ان الجھنوں میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن چونکہ ہمارے معاشرے میں پولیس کے اختیارات کوسبھی جانتے ہیں اس لئے میں چلا آیا۔ لیکن جب یہاں آکر میں نے قسم کھائی تو میرے ضمیرنے مجھے اجازت نہ دی کہ میں جھوٹ بولوں ‘‘ اتناکہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔

’’کیا بکواس کر رہے ہو اسلم؟ جب ہم فاروق کے بیڈ روم میں داخل ہوئے تو کیا تم میرے ساتھ موجود نہ تھے؟‘‘عمر حیات حلق کے بل چیخا۔ اسے گمان ہی نہ تھا اسلم اس طرح جھوٹ بولے گا۔

’’آرڈر۔۔۔آرڈر۔۔۔مسٹر اس بات کو دھیان میں رکھو یہ کمرہ عدالت ہے۔ اگر اب تم نے اخلاق سے گری ہوئی کوئی بات کہی تو میں تمہیں توہین عدالت کے جرم میں سزا دوں گا‘‘ جج نے برہمی سے کہا۔

’سر! یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اس نے خود اپنی آنکھوں سے سب کچھ ہوتے دیکھا تھا۔ اسکے علاوہ یہ سب لوگ(اس نے اپنے دائیں بائیں بیٹھے افراد کی طرف اشارہ کیا) بھی اس بات کے گواہ ہیں۔ اس نے احتجاج جاری رکھا۔

’’ان کی باری آنے پر ان سے بھی پوچھا جائے گا۔ فی الحال آپ خاموش رہیں‘‘ جج نے اس کو جھڑک دیا۔ لوگوں کے منہ حیرت سے کھلے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ میرے وکیل کی آنکھوں میں بھی حیرت تھی۔ گواہ منحرف ہونا اس کے لئے کوئی نئی بات نہ تھی لیکن جس اطمینان سے اسلم نے عمر حیات کی بات کو جھٹلایا تھا وہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔

’’مجھے کچھ اورنہیں پوچھنا جناب عالی‘‘ میرے وکیل نے سرکو خم کرکے کہا اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔

’’آپ گواہ سے کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ جج نے سبین کے وکیل سے پوچھا۔

’’نہیں جناب‘‘ اس کالہجہ شکست خوردہ تھا۔

جج صاحب نے میرے وکیل کو باقی گواہان پر جرح کرنے کی اجازت دے دی۔ وہ باری باری گواہان کو بلاتا گیا سب نے ہی ایک جیسا بیان دیا کہ ڈی ایس پی نے انہیں دھمکایا تھا کہ اس کے کہنے پر گواہی نہ دو گے تو تم لوگوں کو تھانے میں بند کروا دوں گا۔ عمرحیات کی حالت دیدنی تھی۔ حیرت، غصے اور بے چارگی کی تصویر بنا وہ سیٹ پرپہلو بدل رہا تھا۔

وکیل مخالف نے اپنی فیس حلال کرنے کی خاطر کچھ گواہان سے سوالات کئے بلکہ کافی بحث بھی کی لیکن کسی بھی طرح انہیں اپنے پہلے بیان سے نہ ہٹا سکا۔ جج کی ہمدردی میری حالت دیکھ کر ہی مجھے سے ہوگئی تھی۔ اس پرجب گواہان بھی مکرگئے تو اس نے خشمگیں نظروں سے دونوں، آن ڈیوٹی اور ریٹائر ڈی ایس پیز کو دیکھا۔ سب سے آخرمیں میرے وکیل نے سبین کو کٹہرے میں بلانے کی اجازت چاہی جس پر جج صاحب نے سبین کے وکیل کی طرف دیکھا اس نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ سبین کو بلایا گیا۔ جب وہ کٹہرے میں آئی تو اس کا چہرہ ترو تازہ گلاب کی طرح کھلاہوا تھا۔ کسی طور وہ ایسی لڑکی نہ دکھائی دے رہی تھی جس کے ساتھ ایک روز قبل ایسا اندوہناک سانحہ گزارا ہوا۔ یہ بھی کالی داس کی جادوئی قوت کا کرشمہ تھا۔ جج صاحب کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ کٹہرے میں آنے کے بعد میرا وکیل اس کے سامنے پہنچ گیا۔

’’آپ کا نام؟‘‘

’’جی میرا نام سبین امجد ہے امجدمیرے والد ہیں‘‘ اس نے واضح کیا۔

’’کٹہرے میں کھڑے صاحب کو آپ جانتی ہیں؟‘‘ وکیل نے میری طرف اشارہ کیا۔

جی ہاں جناب! یہ فاروق صاحب ہیں میرے باس‘‘ اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ جج بڑی گہری نظروں سے سبین کی طرف دیکھ رہاتھا۔

’’کیاآپ عدالت کو بتانا پسندکریں گی کل آپ کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا؟‘‘ وکیل نے اس کے چہرے پر نظر جما کر سوال کیا۔

’ڈی ایس پی جمال قریشی میرے منہ بولے بھائی ہیں اور میرے ابوکے شاگرد بھی ۔ ان کا ہمارے گھر آناجانا ہے۔ تین چار دن پہلے شام کے وقت آئے اور کہنے لگے مجھے کچھ شاپنگ کرنا ہے میرے ساتھ بازار چلو‘‘ اس نے ایک نظر جمال قریشی پر ڈالی جو الجھی ہوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھا رہا تھا پھر سلسلہ کلام جوڑا۔

’’میں ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر بازار چلی گئی۔ انہوں نے کچھ شاپنگ اپنے لئے کی۔ ایک دو چھوٹی چھوٹی چیزیں مجھے لے کر دیں ۔اس کے بعد ہم ایک ہوٹل میں کھانا کھانے چلے گئے ۔ کھانے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا۔ میرا ریٹائرڈ ڈی ایس پی عمر حیات ایک بنگلہ خریدنا چاہتا ہے لیکن اس میں تمہارے باس فاروق خان رہائش پذیر ہیں۔ہم نے ان سے کئی بار درخواست کی ہے کہ اگر آپ کوئی دوسرا مکان تلاش کرلیں تو پروفیسرصاحب یہ بنگلہ ہمیں فروخت کرنے پر تیار ہیں لیکن وہ نہیں مانتے۔ اگر تم ہماری مدد کرو تویہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا بھائی ! اس سلسلے میں میں آپ کی کیا ہیلپ کر سکتی ہوں؟ اس پر یہ کہنے لگے اگر تم ان سے کہو تو وہ ضرور مان جائیں گے۔ میں نے کہا یہ مناسب بات نہیں۔ ابھی مجھے بینک آئے دو روز ہوئے ہیں پھر میں کیسے ان سے یہ بات کہہ سکتی ہوں؟انہوں نے کہا اگر تمہارے کہنے پر بھی وہ نہ مانے تو میں اپنے دوست کو سمجھا لوں گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ۔میں کل ان سے بات کرلوں گی۔ کہنے لگے کل ہم ان کے گھر چلے جائیں گے وہاں بیٹھ کراطمینان سے بات ہو جائے گی۔ مجھے حیرت تو ہوئی لیکن میں نے زیادہ بحث نہ کی۔ کل دوپہرکے قریب انہوں نے مجھے فون کیا کہ میں تھوڑی دیر کے لئے چھٹی لے کر آجاؤں۔ جب میں گھرپہنچی تو یہ ابو کے پاس بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے چلوتمہارے افسر کے گھر چلیں۔ میں نے کہا لیکن وہ تو اس وقت ڈیوٹی پر ہیں۔ کہنے لگے تھوڑی دیر پہلے وہ گھر چلے گئے ہیں۔ میں ان کیساتھ چل پڑی پہلے ہم ان صاحب کے گھر گئے۔ ‘‘ سبین نے عمر حیات کی طرف اشارہ کیا جو حیرت سے منہ کھولے سن رہا تھا

’’ان کے ساتھ جو صاحب بیٹھے ہیں یہ بھی وہاں موجود تھے‘‘ اس بار سبین نے ساجدکی طرف اشارہ کیا۔

’’مجھ سے کہنے لگے تم فاروق سے بات کرنا کہ وہ یہ بنگلہ خالی کر دیں تاکہ ہم اسے خرید سکیں۔ مجھے ان کی بات کی سمجھ تونہ آئی لیکن جمال بھائی پر چونکہ مجھے اندھا اعتماد تھا اس لئے میں نے حامی بھر لی۔ ہم سب فاروق صاحب کے گھر پہنچے توانہوں نے کہا تم جاکربات کروہو سکتا ہے ہمیں دیکھ کر وہ نہ مانیں‘‘ اسنے ایک بارپھر عمر حیات کی طرف اشارہ کیا۔

’دودنوں کی سروس میں میں نے سر فاروق کو اچھا اور سلجھا ہوا شخص پایاتھا اس لئے بے دھڑک اندر چلی گئی اسکے علاوہ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس وقت گھرمیں تنہا ہیں۔ سر فاروق نے مجھے حیرت سے دیکھا؟ میں ابھی انہیں بتانے ہی لگی تھی کہ میں کس مقصد کے تحت آئی ہوں کہ اچانک جمال بھائی اور یہ دونوں (اسنے عمر حیات اور ساجد کی طرف اشارہ کیا) چند اور افرادکے ساتھ اندر آگئے۔ آتے ہی انہوں نے سر فاروق کو مارنا شروع کردیا اور اس درندے نے‘‘ اس نے ڈی ایس پی جمال قریشی کی طرف اشارہ کیا اسکی آواز بھرا گئی۔ کمرہ عدالت میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ سبین کی سسکیاں تیز ہوگئیں کچھ دیر بعد اسنے آنسوصاف کیے۔

’’جناب! اس درندے نے مجھے دوسرے کمرے میں لے جاکرمیری عزت لوٹ لی۔ ایک بھائی نے بہن کی عزت کو تارتار کر دیا۔‘‘ ایک بارپھر اسکی آواز رندھ گئی۔

’میں نے منتیں کیں واسطے دیے لیکن یہ جانوربن چکاتھا‘‘ دونوں ڈی ایس پیز کے ساتھ ساجدبھی حواس باختہ نظر آرہا تھا۔ اتنا حیران وہ زندگی میں کبھی نہ ہوئے ہوں گے جتنے اس وقت نظر آرہے تھے۔

’’سبین! یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘ جمال قریشی نے چیخ اٹھا۔ جج جو سبین کی باتوں سے آبدیدہ نظر آرہا تھا اسنے قہربارنظروں سے جمال قریشی کی طرف دیکھا اور انسپکٹر عادل کو حکم دیا کہ اسے گرفتار کرلے۔ جمال قریشی بری طرح بوکھلاگیا۔

’’سس۔۔۔سر۔۔۔یور آنر! یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے‘‘ وہ گڑ بڑا کرچیخا۔

’’شٹ اپ۔۔۔تم نے اپنے مطلب کے لیے ایک شریف لڑکی کو استعمال کرکے معاشرے کے ایک باعزت فرد پرگھناؤنا الزام لگایا ۔ اس کے گھر میں گھس کر اسے زدوکوب کیا اور سب سے اہم بات یہ کہ تم نے ایک شریف لڑکی کی عزت لوٹی۔ ان الزامات کے تحت میں تمہاری گرفتاری کا حکم دیتاہوں۔‘‘ انسپکٹر عادل نے سپاہیوں کو حکم دیا ۔انہوں نے جلدی سے آگے بڑھ کر جمال قریشی کو گرفتارکرلیا۔ اسکا حشر دیکھتے ہوئے عمر حیات اور ساجد نے کھسکنے کی کوشش کی جس پر انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا۔ تھوڑی دیر ہنگامہ رہا پھر جج صاحب کے کہنے پر لوگ پرسکون ہوگئے۔ دبی دبی سرگوشیاں اب بھی ہو رہی تھیں۔ سبین اطمینان سے کٹہرے میں کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر سکون تھا۔

کالی داس واقعی زبردست قوتوں کا مالک تھا۔ اس نے سارا معاملہ ایسے سلجھا دیا تھا کہ حیرت سے میری اپنی عقل گم تھی۔ ایک دوبارہ میرے ضمیر نے مجھے ملامت کیا کہ میں نے بے گناہ لوگوں کو پھنسا دیا اور خود بری ذمہ ہوگیا۔ لیکن یہ موقع ضمیر کی آواز پر کان دھرنے کانہ تھا۔ مجھے باعزت بری کردیاگیا۔

کالی داس اپنا کام کرکے غائب ہو چکا تھا۔ جب میں کمرہ عدالت سے باہر آیا تو صحافیوں نے مجھے اور سبین کوگھیرلیا جومیرے ساتھ ہی باہر نکلی تھی۔ جب لوگوں کو اصل صورت حال معلوم ہوئی تو وہی لوگ میرے حق میں نعرے لگانے لگے۔ تھوڑی ہی دیر بعدمیں دوبارہ معاشرے کا باعزت فرد بن چکا تھا۔ جیسے ہی سپاہیوں نے ہمیں صحافیوں کے نرغے سے نکالا عمران مجھ سے لپٹ گیا۔ پھر میرے زخموں سے چور جسم پرنظر پڑتے ہی وہ الگ ہو کربولا۔

’چلیں خان بھائی گھر چلیں‘‘ وہ بدوقت مجھے لوگوں کے نرغے سے نکال کر ٹیکسی میں بٹھانے میں کامیاب ہوا۔ جب ہم گھر پہنچے اورنازش مجھے اس حالت میں دیکھ کر رونے لگیں۔ عمران نے جلدی سے ڈاکٹر کوفون کیا جس نے آکرمیری مرہم پٹی کر دی۔ تھوڑی دیر بعد صائمہ اور بھائی صاحب پہنچ گئے۔ عمران کل ہی انہیں فون کرکے سارے حالات بتا چکا تھا۔ گھر آکرمیں نے اسکے کپڑے پہن لیے تھے سوائے سر کی ایک پٹی کے باقی پٹیاں لباس میں چھپ گئی تھی۔ آنکھ کی سوجن بھی کافی حد تک کم ہو چکی تھی۔ اس کے باوجود صائمہ کا رو رو کر برا حال تھا۔ اگر وہ مجھے کل دیکھ لیتی تو نہ جانے اس کا کیا حال ہوتا۔ بھائی صاحب میری حالت دیکھ کر طیش میں آگئے اسی وقت انہوں نے فون پر حکام بالا سے بات کی۔ میرا خیال تھا ڈی ایس پی جمال قریشی ، عمر حیات اور ساجد تولمبی مدت کے لئے گئے تھے۔ رات کا کھانا کھا کر ہم اپنے گھرآگئے۔ بھائی صاحب اور بچوں کے سونے کے بعدصائمہ میرے ساتھ لپٹ گئی۔

’اگر مجھے معلوم ہوتاکہ میرے جانے کے بعد یہ کچھ ہونا ہے تومیں کہیں نہ جاتی‘‘وہ بلک پڑی۔

’’ارے۔۔۔تم تو بالکل بچوں جیسی باتیں کر رہی ہو۔ جو مصیبت آنی ہوتی ہے وہ آکر رہتی ہے۔ میں تو خوش ہوں اگر تم یہاں ہوتیں تو رو رو کر نہ جانے کیا حال کرلیتیں؟‘‘ میں نے ہنس کرکہا۔ کافی دیر رونے کے بعد جب اس کا جی کچھ ہلکا ہو اتوکہنے لگی۔

’’فاروق! کہیں یہ سب رادھاکی شرارت تو نہیں؟‘‘ اس نے خدشہ ظاہر کیا۔

’’یہ خیال تمہیں کیسے آیا؟‘‘ اسکی بات پرمیں چونک گیا۔

’’ہو سکتا ہے اپنے مکروہ عزائم میں ناکام ہو کر وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اترآئی ہو۔‘‘

’’کیا کہا جا سکتا ہے؟‘‘ میں نے مبہم سا جواب دیا۔

’’یہ بھی ہوسکتا ہے ساری شرارت کے پیچھے کھیدو چوہڑے کا ہاتھ ہو۔‘‘

اس نے شرمندگی سے سرجھکا لیا۔’’فاروق !ہماری وجہ سے آپ کو اس قدر تکلیف سہنا پڑی۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں یہ شرارت ضرور اس کالے بھجنگ ہوگی کچھ دیر اور باتیں کرنے کے بعد وہ سو گئی جس قدر ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا میں نے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کیا تھا میرا دل ہی جانتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے کالی داس اور بسنتی کا خیال آیا۔ دونوں نے رادھا کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مکروہ سازش کی اور مجھے پھنسا دیا۔۔۔ہاں اس میں قصور وار میں بھی تھا جو بسنتی کو حاصل کرنے کی خاطر انسانیت کی سطح سے نیچے گر گیا۔

کچھ بھی ہو کالی داس نے بہرحال مجھے اس مشکل صورتحال سے یوں نکال دیا تھا جیسے مکھن میں سے بال۔ ہر چند کہ مجھے اس مصیبت میں پھنسانے والا بھی وہی تھا لیکن اگر وہ میری مدد نہ کرتا تومیں اس کا کیا بگاڑ لیتا۔ لیکن رادھانے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا۔ اچانک مجھے رادھا کی یاد آئی کہ اگرمیں نے کسی عورت سے جسمانی مراسم اختیار کیے تو وہ میری مدد نہ کر پائے گی اورمیرے دشمن ایسے ہی کسی موقع کے انتظار میں ہیں۔ اس نے مجھے وقت سے پہلے ہی خبردار کردیا تھا لیکن میری ہوس آہ۔۔۔

سرد آہ میرے سینے سے خارج ہوگئی۔ میں نے ایک نظر صائمہ پر ڈالی اس کا معصوم چہرہ دنیا جہاں کی فکروں سے آزاد تھا۔ قصور وارکون تھا۔

میں خود۔۔۔

کالی داس اور بسنتی

یا پھر رادھا۔۔۔؟

سوچنے سے میرے سر میں درد ہونے لگا تو میں نے سر جھٹک کر خیالات سے چھٹکارہ حاصل کیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔ مہربان نیند نے اپنی آغوش وا کر دی۔ دوسرے دن سارا سٹاف سوائے سبین کے میرے گھر آیا۔ مجھے باعزت طور پر بری ہونے پر مبارکباد دی اور اس مصیبت پر افسوس کا اظہار کیا جو بلا وجہ مجھے پیش آئی تھی۔ اب میں کیا کہتا؟ بھائی صاحب دو دن رہ کر واپس چلے گئے جاتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ ہم لوگ ان کے ساتھ واپس چلے جائیں لیکن پروفیسر صاحب جن کے ساتھ بھائی صاحب کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی نے سمجھایا اس طرح چلے جانے پر وہ شرمندگی محسوس کریں گے کہ میرے بنگلے کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔ بچوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ بابا ایکسیڈنٹ کی وجہ سے زخمی ہوگئے۔ یہ بات انہیں صائمہ نے خود ہی سمجھا دی تھی۔ سبین ایک ہفتے کی چھٹی پر تھی۔ اسی دوران ہی اس نے اپنی ٹرانسفر کسی اور شہرکرالی۔ اس میں بھی یقیناً کالی داس کی پراسرار قوتوں کو دخل تھا۔

دن ایک بار پھر پرسکون انداز سے گزرنے لگے۔ میں نے بینک جانا شروع کر دیا تھا۔ اس واقعہ کو تقریباً پندرہ دن گزرے تھے کہ ایک دن میں جب بینک سے واپس آرہا تھا مجھے راستے میں کالی داس نظر آیا۔ وہ سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ میری گاڑی دیکھ کر اس نے رکنے کا اشارہ کیا۔ میں خود بھی رکنے کا ارادہ کر چکا تھا کچھ بھی ہو وہ میرا محسن تھا۔

’تم تو اپنے متر کو بھول ہی گئے‘‘ اس نے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے شکوہ کیا۔

’’کالی داس! ایسی بات نہیں مجھے تمہاری کسی ٹھکانے کا علم ہی نہیں پھر میں تم سے کیسے ملتا؟‘‘ میں نے کہا۔

’’اب ہم متربن چکے ہیں میرے سارے استھان اب تمہرے ہیں، میں کچھ سمے بعد تمہیں کھد ہی اپنے سنگ لے جاکردکھا دوں گا۔ اس سمے تو میں تمہیں تمہرا وچن یاد دلانے آیا ہوں‘‘ اس نے بے پرواہی سے کہا۔

’’کالی داس میں جب کسی سے وعدہ کر لوں تو اسے بھولتا نہیں ہوں۔‘‘

’’وچن دے کر پھرنا بھلے مانسوں کا کام نہیں۔ رادھا کا جاپ کھتم ہونے میں تھوڑا سمے رہ گیا ہے۔ وہ آتے ہی ضرور تم سے ملے گی تم کیول اتنا کرنا کہ مجھے کھبر کر دینا‘‘ وہ مجھے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا شاید اسے بھی یقین نہ تھا کہ میں اپنا وعدہ پورا کروں گا۔

لیکن میں تمہیں بتاؤ ں گاکیسے؟مجھے توپتا ہی نہیں تم کہاں رہتے ہو میرا مطلب ہے میں تم سے رابطہ کیسے کروں گا؟‘‘

’’تم سچے من سے میرا وچارکرلینا میں کھد آجاؤں گا۔ پرنتو اتنا دھیان رہے کہ رادھا کو دیکھ کرہمیں بھول نہ جانا‘‘ اسنے معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا۔

’’کالی داس میں نے تمہیں کہا تو ہے کہ جب میں کسی سے وعدہ کر لیتا ہوں تو اسے نبھانامجھے آتا ہے۔‘‘ میں نے اسے یقین دلایا۔

’’دھن باد خان صاحب!‘‘ اسنے کہا۔ گاڑی کی رفتار خودبخود آہستہ ہونا شروع ہوگئی۔ بالآخر وہ رک گئی۔ کالی داس نے اپنی قوت سے اسے روک دیا تھا مقصد مجھ پر اپنی برتری ثابت کرنا تھا۔ اسنے دروازہ کھولا اور باہر نکل کر ایک طرف چل پڑا۔ میں کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس واقعہ کے بعد بسنتی نے بھی کوئی رابطہ نہ کیا تھا۔ مجھے حوالات کی وہ رات بھولی نہ تھی جب بسنتی نے مجھے عنائیتوں سے نوازا تھا۔ اس کا والہانہ پن دیوانگی کی حد تک تھا۔ وہ بلا شبہ آگ تھی۔ جوانی کے جوبن سے بھرا جسم ایسا نہ تھا کہ اسے بھلا دیاجاتا۔ یہی سوچتا میں گھر میں داخل ہوا۔ بچے حسب معمول اپنا ہوم ورک کر رہے تھے۔ کھانا کھانے کے بعد ہم کچھ دیر کے لئے پروفیسر صاحب کی طرف چلے گئے۔ واپس آکر رات دیر تک میں اور صائمہ باتیں کرتے رہے پھر سو گئے۔

رات کو جانے کونسا پہر تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ میں ابھی جاگنے کی وجہ سے سوچ ہی رہا تھا کہ میرے کانوں میں بسنتی کی مدہر آواز آئی۔

’مہاراج! اپنی داسی کو اتنی جلدی بھول گئے؟ کچھ جیادہ سمے تو نہیں ہوا کہ میں نے تمری سہائتاکی تھی؟‘‘ اسکی شوخ آواز میرے کانوں میں پڑی۔ میرے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ ایک نظر خوابیدہ صائمہ کی طرف دیکھ کرمیں نے دبی دبی آواز میں پوچھا۔

’’تم کہاں ہو بسنتی؟َ‘‘

’’اپنے من میں جھانک کر دیکھو۔۔۔بسنتی کا استھان تمرے ہردے میں ہے‘‘ وہ کھکھلا کر ہنسی۔

’’اپنی داسی کو درشن نہ دو گے مہاراج! اتنے کھٹور کب سے ہوگئے؟‘‘ وہ حد سے زیادہ شوخ ہو رہی تھی۔

’تم ہوکہاں؟‘‘میں نے بے چینی سے پوچھا۔

’’وہیں جہاں تمرا اور رادھا کا ملن ہوتا تھا‘‘ اسکی خمار آلود سرگوشی میرے کان میں ابھری ۔ میں نے آہستہ سے دراز کھول کر سگریٹ کاپیکٹ نکالا اور دبے قوموں سے دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ بہار کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ فضامیں بھینی بھینی خوشبو رچی ہوئی تھی۔ لان میں آکر میں نے ادھر ادھر دیکھا۔

’’میں یہاں ہوں‘‘ لان کے نیم تاریک گوشے سے بسنتی کی آواز آئی۔ وہ چمبیلی کی بیل کے پاس کھڑی تھی۔ قریب پہنچتے ہی وہ لپک کرمیرے گلے لگ گئی۔ اس کے وجود سے اٹھتی خوشبو مجھے مدہوش کر دیا کرتی تھی۔ کافی دیر ہم ایک دوسرے سے لپٹے رہے پھر وہ میرا چہرہ اپنے کومل ہاتھوں کے پیالے میں تھام کر بولی۔

’’تم سے دور رہ کر میں کتنی بیاکل رہی ہوں تم وچاربھی نہیں کر سکتے۔‘‘

’’تم سے کس نے کہا تھا کہ دور رہو۔تم تو خود ہی چلی گئی تھیں۔ کہاں رہیں انتے دن؟‘‘ میں نے اس کے نرم و ملائم ہاتھ تھام لئے۔

’’سمے کتنا سندر ہے ایسے میں کوئی دو جی بات نہ کرو پریتم! کیول پریم کرو‘‘ اس کی آواز بوجھل ہو چکی تھی۔

وہ میرا سوال بڑی خوبصورتی سے ٹال گئی تھی۔ اس کے بعد محبت کی زبان میں باتیں ہونے لگیں۔ صبح دم جب وہ واپس جانے لگی تو میرا ہاتھ تھام کر بولی۔ رادھا کے آنے میں تھوڑا سمے رہ گیا ہے۔ یدی تم نے مہاراج کالی داس کی آگیا کا پالن نہ کیا توبڑی کٹھن گھڑی آپڑے گی‘‘ مجھے لگا وہ اندر سے خوفزدہ ہے۔

’’رادھا کب آئے گی؟‘‘ میرا دل دھڑک اٹھا۔

’کیول آٹھ دن رہ گئے ہیں اس کا جاپ پورا ہونے میں مجھے وشواس ہے وہ سب سے پہلے تمرے درشن کرنے آئے گی۔‘‘ بسنتی کے لہجے میں کوئی ایسی بات تھی کہ میں چونکے بغیر نہ رہ سکا۔ میں نے اسکی طرف مستسفرانہ نظروں سے دیکھا وہ کسی سوچ میں گم تھی۔

’’بسنتی! میں نے کالی داس کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ میں اپنا قول نبھاؤں گا لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ وہ خود اتنا طاقتور ہے پھربھی وہ رادھا کو قابو نہیں کر سکتا جبکہ میں تو ایک عام سا انسان ہوں میں اس سلسلے میں اس کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ نہ تو میں پراسرار قوتوں کا ماہر ہوں نہ اس کام کا مجھے کوئی تجربہ ہے۔ پھر یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوگا؟‘‘ میں بری طرح الجھ کر رہ گیا تھا۔

’یدی تم اس کام کو کرنے میں سپھل نہ ہوئے تو ۔۔۔؟‘‘ اس کے حسین چہرے پر تفکرات کی پرچھائیاں رقص کر رہی تھیں۔’’میرا کام توصرف اتنا ہے کہ جب رادھا مجھ سے ملنے آئے میں کالی داس کو بتا دوں اس کے بعد وہ کیا کرتا ہے یہ میرا نہیں اس کا درد سر ہے۔‘‘ میں نے بے پرواہی سے کہا۔

’’یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا تم وچار کر رہے ہو۔ تمہیں ابھی رادھا کی شکتی بارے جانکاری نہیں‘‘ بسنتی کی آواز کانپ رہی تھی۔

’تم رادھا سے خوفزدہ ہو؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔

’’یہ بات نہیں‘‘ اس کالہجہ اسکی بات کی نفی کر رہا تھا۔’’ یدی کالی داس اسے اپنے بس میں کرنے سے ناکام رہا تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے‘‘ اس کے لہجے میں اندیشے لپک رہے تھے۔

ضرور پڑھیں: ’’ فرعون 3 سے 4 ماہ میرے گھر پر رہا، میرا شوہر جیل میں ہے اور۔ ۔ ۔‘‘ کراچی سے خطرناک ترین عورت پکڑی گئی

کسی بات کی فکر نہ کرو‘‘ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔

’’مہاراج! مجھے وچن دو کہ تم کالی داس سنگ وشواس گھات نہ کرو گے‘‘ وہ ملتجی نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔

خر تم لوگوں کو میری بات پر یقین کیوں نہیں آتا؟‘‘ اس کے بار بار کہنے سے میں چڑ گیا۔

’’وشواش تو ہے پرنتو ایسا نہ ہوا تو گجب ہو جائے گا۔‘‘ اس کی ساری شوخی ختم ہوگئی تھی۔ میں نے اس کی ریشمی زلفوں سے کھیلتے ہوئے تسلی دی۔ ایک بار پھر نشہ مجھ پر سوار ہونے لگا تھا۔ لیکن جب بسنتی کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملا تو میں بھی خاموش ہوگیا۔ اس کے جانے کے بعدمیں دبے قدموں اندر داخل ہوا۔ صائمہ محو خواب تھی۔ آٹھ دن ۔۔۔صرف آٹھ دن رہ گئے تھے رادھا کے آنے میں۔ بسنتی کا کہنا تھا کہ وہ کسی طور رادھا سے کم نہیں اس کے علاوہ کالی داس بھی اس کے ساتھ تھا پھر ۔۔۔پھر وہ کیوں خوفزدہ تھی۔۔۔

یہ گھورکھ دھندا میری سمجھ سے باہر تھا۔ بسنتی نے رادھا کو دھوکہ دیا تھا۔ وہ اسے میرا نگہبان بناکرگئی تھی لیکن اس نے دوست بن کر اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ بسنتی کو شاید کالی داس کی پراسرار قوتوں پر کچھ زیادہ بھروسہ نہ تھا۔ رادھا کے آنے کے بعد اگر میں اپنے وعدے سے پھر جاؤں تو؟ اچانک میرے ذہن میں خیال آیا۔ لیکن فوراً ہی میں نے اسے رد کردیا۔ رادھا حسن میں بسنتی کے مقابل نہ تھی البتہ طاقت میں وہ اس سے زیادہ تھی۔ رہی بات محبت کی تو وہ دونوں مجھ سے کرتی تھیں۔ میں دونوں میں موازنہ کرتا رہا۔ دماغ رادھا کی طرفداری کرتا تھا لیکن کمبخت دل بسنتی کے راگ الاپ رہاتھا۔ رادھا نے کئی مواقع پرمیری مدد کرکے مجھے موت کے منہ سے نکالا تھا اور اب تو وہ صائمہ کے سلسلے میں بھی مفاہمت اختیار کرچکی تھی۔ اگر دیکھا جائے تو رادھا ہر لحاظ سے میرے لئے بہتر تھی۔ لیکن بسنتی کا انداز محبت اتنا دلکش تھا کہ میرا دل اسی کی جانب کھنچا جا رہا تھا۔ خیر رادھاکے آنے کے بعد فیصلہ ہوگاکہ کیا کیا جائے؟ یہ سوچ کر میں مطمئن ہوگیا۔

سات دن اور گزر گئے رات بارہ بجے کے قریب مجھے بسنتی نے آواز دے کر باہر بلایا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں خود بھی اس کا منتظر تھا۔ تھوڑی دیر پہلے میں اور صائمہ باتیں کر رہے تھے میں نے آہستہ سے سر گھما کر اس کی طرف دیکھا وہ سو چکی تھی پھر بھی میں نے ہلکے سے اسے آواز دی۔ جواب نہ پا کر میں مطمئن ہوکرباہر نکل آیا

’بسنتی‘‘ میں نے لان میں آکر پکارا۔

’’جی مہاراج!‘‘ بسنتی کے آواز مجھے اپنے پیچھے سے سنائی دی۔ میں جلدی سے مڑا۔ وہ فتنہ گربالکل میرے پاس کھڑی تھی۔ گلابی رنگ کی مختصر سے کھاگر یچولی میں وہ ہمیشہ سے زیادہ حیسن لگی۔ میں سحر زدہ سا اسے دیکھتا رہا گلاب کی پنکھڑیاں واہوئیں۔

’’پریم۔۔۔‘‘ وہ مجھ سے لپٹ گئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے میں جذب ہوگئے۔ اسکی چڑھتی سانسیں اس کے اندر کے حال کاپتا دے رہی تھی۔ تپتے بدن کی آنچ مجھے پگھلائے جا رہی تھی۔

’’پریم!‘‘ اسکی بوجھل سرگوشی میرے کانوں میں رس گھول گئی۔

’’ہوں‘‘ مجھ پر خمار چھانے لگا۔

اس کے بعد باتیں ختم ہوگئیں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔

’’کیول ایک دن رہ گیا ہے رادھا کے واپس آنے میں‘‘ جب طوفان تھما تو بسنتی نے کہا۔

’’رادھا کے آنے کے بعد ہمرا ملن نہ ہو پائے گا‘‘ اس کے لہجے میں حسرت تھی۔

’’کیا تم رادھا سے خوفزدہ ہو؟‘‘

’’نہیں۔۔۔پرنتو میں نے رادھا سے وشواس گھات کیا ہے۔ یاد ہے اس نے جاتے سمے کیا کہا تھا؟‘‘

’’کیا کہا تھا؟‘‘ میں نے ماتھے پر آئی شریر سی لٹ کوانگلی پر لپیٹتے ہوئے پوچھا۔

’’مہاراج!کیا واقعی تم کالی داس کی آگیا کا پالن کرو گے؟‘‘ اسکی آنکھوں سے بے یقینی کا اظہارہورہا تھا۔

’’کہہ جو دیا کہ میں ہر صورت میں اپنا وعدہ پورا کروں گا پھر باربار تم لوگ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو؟‘‘اسنے میرا ہاتھ تھام کر اپنے سر پر رکھا لیا۔

’’میرے سرکی سوگندکھاؤ کہ تم رادھا کے کارن میرے سنگ وشواس گھات نہ کرو گے‘‘ اس کی آنکھوں میں موتی چمکنے لگے۔ میں نے زور سے اسے بھینچ لیا۔

’’میری جان! یقین کرو میں تمہارے اعتماد کو دھوکہ نہ دوں گا‘‘ وہ میرے سینے سے لگ کر سسکنے لگی۔’’پریم !یدی تم نے کالی داس کی سہائتانہ کی تو۔۔۔‘‘ اسکی ہچکیاں بندھ گئیں۔ میں سوچتا تھا بسنتی کیوں خوفزدہ ہے۔ اسنے رادھا کی محبت پر ڈاکا ڈالاتھا۔ اس کا حق استعمال کیا تھا۔ رادھا کو یہ کسی طورگوارا نہ تھاکہ مجھے اس کے علاوہ کوئی چاہے اور بسنتی کو تو وہ میرا نگہبان مقرر کر کے گئی تھی۔ جاپ پر جانے سے پہلے اس نے بسنتی کو بلا کر اسے میری حفاظت کرنے کا حکم دیا تھا۔ پہلی ملاقات میں میں نے بسنتی کی آنکھوں میں اپنے لئے محبت چھلکتی دیکھ لی تھی۔ رادھا کے جانے کے بعد بسنتی کی حوصلہ افزائی سے میرے قدم ڈگمگا گئے تھے۔ وہ بھی مجھے حاصل کرنے کے لئے بے چین تھی۔ اسی دوران شاید اسکی ملاقات کالی داس سے ہوئی جو خود بھی رادھا پر خار کھائے بیٹھا تھا۔ دونوں نے مل کر سازش سے میرے گرد رادھا کا بندھا ہوا حصار ختم کروایا۔ جس کے لیے کسی کنواری لڑکی سے جسمانی تعلقات قائم کرنا ضروری تھا۔ اس سلسلے میں سبین کو قربانی کا بکرابنایا گیا۔ میں خود بھی بھی بسنتی کے قرب کے لئے مرا جا رہا تھا بلا سوچے سمجھے بسنتی کے اشاروں پر چل کر اس معصوم کی عزت لوٹ لی۔ جسکا خمیازہ مجھے بھگتناپڑا۔ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا تھا۔

رادھاکی غیر موجودگی نے اسے کالی داس اور بسنتی کے لئے آسان بنا دیا۔ کالی داس تو شاید کسی طور پر رادھا کا مقابلہ کر لیتا یا چھپ کر اسکے قہر سے بچ جاتا لیکن بسنتی۔۔۔؟ اگر کالی داس اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہتا تو بسنتی کی خیر نہ تھی۔ رادھا اسے کسی طور پر معاف نہ کرتی۔

’’اگر میں سفارش کروں تب بھی وہ معاف نہ کرے گی؟‘‘ میرے ذہن میں خیال آیا جس کا جواب مجھے فوراً ہی مل گیا ۔

’’نہیں قطعی نہیں‘‘ میرے بارے میں رادھا حد سے زیادہ حساس تھی۔ وہ کسی طور گوارانہ کر سکتی تھی کہ ہم دونوں کے درمیان کوئی آئے۔ صائمہ اس کی مجبوری تھی میں نے واضح میں کہہ دیا تھا اگر صائمہ کو کچھ ہوا تومیں خود کشی کرلوں گا اسی لیے وہ صائمہ کے معاملے میں مجبور تھی۔ لیکن بسنتی کو وہ کبھی نہ چھوڑتی۔ خود میرے ضمیر کی خلش مجھے کبھی کبھی اس بات پر بے چین کر دیتی کہ میری وجہ سے بے گناہ لوگوں کو سزا ملی۔

’’کس وچارمیں گم ہو مہاراج!‘‘ سوچوں کے بھنورمیں پھنس کر میں بسنتی کی موجودگی کو فراموش کر بیٹھا تھا جومیری گود میں سر رکھے اداس لیٹی تھی۔

’’بسنتی! کالی داس اور تم نے جس طرح میری مدد کی ہے میں یہ احسان ساری زندگی نہیں بھول سکتا۔ لیکن اس بات کا مجھے بہت دکھ ہے کہ میری وجہ سے بے گناہ لوگ پھنس گئے۔ میرا مطلب ، عمرحیات ، ساجد اور جمال قریشی سے ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’اس سمے ان کادھیان تمرے من میں کیسے آگیا؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔

’’اکثر یہ خیال میرے دل میں آجاتا ہے۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔

’’یدی تم ان کے کرموں کی کتھا(کارناموں کی کہانی) سن لو تو پھر کبھی ایسی بات نہ کہو‘‘ وہ منہ بناکر بولی۔

’’کیا مطلب؟‘‘ میں حیران رہ گیا۔

’’وہ تینوں منش راون سے بھی برے ہیں۔ نہ جانے کتنی ہی ناریوں سنگ بلات کار کیا ہے ان لوگوں نے۔ اس پاپی عمر حیات کی بیٹھک میں ہر رات یہ تینوں اکٹھے ہو کر مدھ پیتے اور مجبور ناریوں کی عجت سنگ کھلواڑ کرتے۔‘‘ بسنتی کی بات سن کر میں شششدر رہ گیا۔

’اور وہ پاپی ساجد۔۔۔اس نے تو ایک ہتھیا بھی کر رکھی ہے۔ ایک کنیا اس کے پاس آئی جس کا باپو (قیدی) تھا۔ یہ نردئی اس کی سہائتا کرنے کے بہانے اسے عمر حیات کے پاس لے آیا۔ جب وہ آگئی تو ان دونوں نے اس کا بلات کار کیا اور اس کی ہتھیا کردی۔ انہیں اس بات کی چنتا تھی یہ کسی سے کہہ نہ دے‘‘بسنتی نے اپنی بات جاری رکھی میرے ضمیرپر سے بوجھ ہٹ گیا تھا۔

’’اگر یہ بات ہے تو پھر تو ان کے ساتھ ٹھیک ہوا‘‘ اطمینان بھری سانس میرے سینے سے خارج ہوگئی۔

’’پریم ! تم پاپ اورپن کے چکر کو چھوڑو کیول اس بات پر دھیان دو کہ رادھا کے آنے پر تم کالی داس سنگ کیا وچن پورا کرو گے‘‘ وہ دوبارہ اصل موضوع پر آگئی۔

’’کیا رادھا کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم کیا کرتے رہے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

ضرور پڑھیں: صبح سویرے ڈالر مہنگا ہو گیا

’’ترنت اس نے جواب دیا۔

’’یہی چنتا تو مجھے بیاکل کر رہی ہے جیسے ہی وہ منڈل سے باہر آئے گی۔ سب سے پہلے تمرے کارن بیاکل ہوگی۔ جب اسے میرے بارے جانکاری ہوگئی وہ ترنت اس کا پربند کر لے گی کہ کالی داس سپھل نہ ہو پائے۔‘‘

اس کی پریشانی بجا تھی رادھا کی قوتوں کا مجھے اندازہ تھا۔ کہیں رادھا مجھ سے بھی ناراض نہ ہو جائے؟ میرے ذہن میں خیال آیا اگر ایسا ہوا تو میرے لئے مشکلات بڑھ سکتی تھیں۔ پریشانی نے مجھے بھی آگھیرا تھا۔

’’پریم! اس بات کا اوش دھیان رکھنا کہ کالی داس کے سپھل ہونے میں ہم سب کا بھلا ہے‘‘ بسنتی میرے دل کی بات جان گئی تھی۔

’’اچھا پریتم! چلتی ہوں کل رادھا آجائے تو اس کے آنے سے پہلے کالی داس تمہیں بتائے گا کیا کرنا ہے؟‘‘ اس نے کہا اور حسرت بھری نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے غائب ہوگئی۔ میں اندر آگیا۔ صائمہ محو خواب تھی۔ بسنتی کی باتوں سے میں بھی پریشان ہوگیا تھا۔ دوسری صبح جب میں جاگا تو صائمہ ناشتہ تیار کر چکی تھی۔ اس کے چہرے سے خفگی ظاہر ہو رہی تھی۔ میں نے حیرت سے دیکھا رات کو تو اسکا موڈ بالکل ٹھیک تھا۔

’’کہیں میرے باہر جانے کے بعد صائمہ جاگ تو نہیں گئی تھی؟‘‘ یہ خیال ہی میرے لئے سوہان روح تھا۔ میرے دل میں چورتھا اس لئے میں خاموشی سے ناشتہ کرتا رہا۔ میں جانتا تھا اگر کوئی بات ہوگی تو صائمہ ضرور کرے گی وہ دل میں بات رکھنے کی قائل نہ تھی۔ اور ہوا بھی یہی۔

’’فاروق! آپ سے مجھے یہ امید نہ تھی ‘‘میرا دل یکبارگی زور سے دھڑکا۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ بچے ناشتہ کرکے سکول جانے کی تیاری کر رہے تھے۔

’’آپ تو نماز پڑھنا یوں بھول گئے ہیں جیسے مسلمان ہی نہ ہوں‘‘ اطمینان بھری ایک سانس میرے سینے سے خارج ہوگئی ۔ جو کچھ میں سمجھ رہا تھا وہ بات نہ تھی۔ اب میں اسے کیا بتاتا کہ میں کن راہوں پر چل پڑا تھا۔ اگر اسے میری حرکتوں کا پتا چل جاتا تو زندہ درگور ہو جاتی۔ میں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

’’مجھے حیرت ہوتی ہے کہ آپ تو اسلامی تعلیمات پر سختی سے عمل کرنے والے تھے لیکن۔۔۔جب سے ہم یہاں آئے ہیں میں آپ کے اندر خاصی تبدیلی دیکھ رہی ہوں۔ خاص کر جب سے اس منحوس جن زادی والا معاملہ شروع ہوا آپ کافی بدل گئے ہیں۔ کئی دن سے آپ نے ایک نماز بھی نہیں پڑھی‘‘ اس کی آواز دکھ سے بھرا گئی۔ خفت سے میرا سر جھک گیا۔

’’کیا میں یقین رکھوں کہ آپ دوبارہ نماز شروع کر دیں گے؟‘‘ وہ میرا ہاتھ تھامے پیار سے پوچھ رہی تھی۔

ا

’’انشاء اللہ‘‘ میں نے مضبوط لہجے میں کہا۔ پیار سے میرا ہاتھ تھپتھپا کر وہ بچوں کے پاس چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد میں بیٹھا یہی سوچتا رہا کہ مجھے کیا ہوگیا ہے صائمہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔صراط مستقیم سے بھٹکنے کے بعد مصائب نے مجھے گھیرلیا تھا۔ شریف کے مرحوم والد صاحب کے الفاظ مجھے یاد تھے انہوں نے تاکید کی تھی کہ نماز سے غافل نہ رہوں میں نے دل میں تہیہ کر لیا کہ آج کے بعد خرافات سے بچنے کی کوشش کروں گا اور باقاعدگی سے نماز اور تلاوت قرآن کا اہتمام کروں گا۔ یہ سوچ کر دل کو کچھ سکون ملا۔ بچوں کو سکول چھوڑ کر میں بینک روانہ ہوگیا۔ آنے جانے کے لئے میں وہی راستہ استعمال کرتا جس پر میری سادھو امر کمار اور ملنگ سے ملاقات ہوئی تھی۔ صائمہ کی باتیں ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ ایسی نیک بیویاں قسمت سے ملا کرتی ہیں اور میں اس معاملے میں خوش قسمت تھا۔

اچانک میری نظر ملنگ پر پڑی۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھا زمین پر انگلی سے لکیریں بنا رہا تھا۔ میں نے گاڑی اس کے پاس روک دی۔ وہ بدستور اپنے شغل میں مصروف رہا۔ میں نیچے اترکر اس کے پاس بیٹھ گیا۔

’’بابا جی!‘‘ میں نے بڑے ادب سے اسے پکارا۔ کچی زمین پر آڑھی ترچھی لکیریں بنی ہوئی تھی۔

’’کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں؟‘‘ میں نے آہستہ سے پوچھا۔ اس کی حالت میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ ہر طرف سے بے نیاز اپنے کام میں مصروف تھا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا ،ابھی میری انگلیاں اس کے ہاتھ سے مس ہوئی ہی تھیں کہ اس نے ایک زناٹے دار تھپڑ میرے گال پر جڑ دیا۔ اس تھپڑ کی قوت مجھے آج بھی یاد ہے۔ میں اچھل کر دو فٹ دور جا گرا تھا۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ زمین پر گرنے کی وجہ سے کپڑے مٹی سے بھر گئے۔ دکھ سے زیادہ مجھے حیرت تھی۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ وہ قہر بار نظروں سے مجھے گھور رہا تھا۔ اس کا پُر جلال چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا۔ آنکھوں میں بجلیاں کڑک رہی تھی۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ شفقت اور مہابنی سے پیش آتا رہا تھا۔ بلکہ جب کالی داس نے مجھے گھیر لیا تھا تو اسنے مجھے اس کی گرفت سے نہ صرف آزاد کرایا تھا بلکہ میرے پیٹ کے زخم کو اپنے لعاب سے ٹھیک بھی کر دیا تھا۔ لیکن آج وہ سراپا قہر بنا مجھے گھور رہ اتھا۔

’غلاظت میں لتھڑے حقیر کیڑے۔۔۔‘‘ تیری جرات کس طرح ہوئی کہ مجھے ہاتھ لگائے‘‘ اس کی قہر بار آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ بس کے حادثے سے مجھے بچانے والا آج نہ جانے کس بات پر اتنا ناراض تھا۔

’’جا۔۔۔جا کر اپنی راتیں رنگین بنا۔۔۔بدکاریاں کرتا پھر ۔۔۔جن زادیوں کے لئے عیش و عشرت کا سامان پیدا کر۔۔۔اندھے گڑھے میں جا کر گرجا۔۔۔جہنم کا ایندھن بن جا۔۔۔ناعاقبت اندیش۔۔۔گندگی کھا اور اپنی ہوس پوری کر۔۔۔تجھے کیا مطلب ہے ہم فقیروں سے کیوں آجاتا ہے بار بار میرے سامنے؟ اگر آئندہ میرے پاس آیا تو یاد رکھ زمین پر چلنے کے قابل نہ رہ جائے گا‘‘ اس کی آواز میں وہ گھن گرج تھی کہ میں سوکھے پتے کی طرح کانپنے لگا۔ میرے گال پر جیسے کسی نے مرچیں بھر دی تھیں۔ کان میں شدید درد ہو رہا تھا۔ ملنگ نے مجھے بری طرح لتاڑ کر رکھ دیا تھا۔ صبح صائمہ کی بات سے میں کافی شرمندگی محسوس کر چکا تھا۔ لیکن اس کے اور ملنگ کے سمجھانے میں بہت فرق تھا۔ میں ملنگ کی باتوں کا مطلب اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ جن راہوں کا مسافر میں بن چکا تھا ملنگ اس سے بے خبر نہ تھا۔ وہ بہت پہنچا ہوا بزرگ تھا۔ اس کی کرامات کا مشاہدہ کئی بار مجھے ہو چکا تھا۔

کالی داس پراسرارقوتوں کا مالک ہونے کے باوجود اس سے خوفزدہ تھا۔ رادھا جب بلی کے روپ میں تھی وہ بھی ملنگ کو دیکھ کر بھاگ گئی تھی۔ اچانک میرے دماغ میں جیسے بجلی سی چمکی۔ جس رات رادھا مومنہ کے جسم کا سہارا لے کر مجھ سے مخاطب ہوئی تھی تو احد نیند سے جاگ گیا تھا ۔اس کے منہ سے کسی مرد کی گرجدار آواز نکلی تھی۔۔۔ہاں یہ وہی آواز تھی۔ اس سے پہلے بھی ملنگ کئی بار میرے ساتھ مخاطب ہوا تھا لیکن ہمیشہ وہ بے معنی باتیں کرکے قہقہے لگاتا رہا تھا۔ آج پہلی بار وہ مجھ پر غضبناک ہوا تھا اس کی آواز بالکل بدلی ہوئی لگ رہی تھی۔ عام حالت میں اسکی آواز کچھ باریک سی ہوتی لیکن جب وہ غضب میں ہوتا تو اس کی آواز گرجدار ہو جاتی۔ قہر میں ڈوبی نظریں مجھ پر جمی ہوئی تھیں۔ میں زیادہ دیر تک اس کی پُر جلال نظروں کی تاب نہ لا سکا خود بخود میری نظریں جھک گئیں۔ دل چاہ رہا تھا وہ مجھے اور برا بھلا کہے۔ مجھے ڈانٹے۔ میں سر جھکائے منتظر تھا کہ وہ کچھ اور کہے لیکن آواز آنا بند ہو چکی تھی میری آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔ دل چاہا ملنگ سے معافی مانگوں۔ نظر اٹھا کر دیکھا لیکن اب وہاں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ جا چکا تھا مجھے گردوپیش کا کوئی ہوش نہ رہا۔ آنکھیں پھاڑے اس جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے ملنگ موجود تھا۔

’’کیا بات ہے بھائی صاحب!‘‘ اچانک ایک مہربان سی آواز میرے کانوں میں آئی۔ میں نے چونک کر دیکھا۔ ایک خوش پوش سا شخص میرے اوپر جھکا پوچھ رہا تھا۔ میں زمین پر پڑا تھا۔ ملنگ نے اس زور سے مجھے مارا تھا کہ میں اوندھے منہ زمین پر گر گیا تھا اور ابھی تک اسی حالت میں تھا۔ وہ شخص آنکھوں میں حیرت لیے مجھے دیکھ رہا تھا ۔ قریب ہی میری گاڑی کھڑی تھی۔ میں نے شفیق سے چہرے والے شخص کو دیکھا۔ میری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ میرے پاس بیٹھ گیا۔

’کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں؟ لگتا ہے آپ کی طبیعت خراب ہوگئی ہے‘‘ اس نے ایک بار پھر پوچھا۔ میں نے ہتھیلیوں سے آنکھوں کو پونچا اور سر نفی میں ہلا کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔ وہ حیرت بھری آنکھوں سے میری طرف دیکھنے لگا۔ پھر کاندھے اچکا کر چل پڑا۔ میں پژمردگی سے گاڑی چلانے لگا۔ دل بھر آیا تھا۔ زمین پر گرنے کی وجہ سے میرے کپڑے مٹی سے خراب ہو چکے تھے گھٹنے کے پاس پینٹ پر گوبر کا داغ لگ گیا تھا ۔اس حالت میں نہ تو میں بینک جا سکتا تھا نہ گھر واپس۔ اگر چلا بھی جاتا تو صائمہ کا سامنا کرنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔ میرا دل ہر شے سے اچاٹ ہوگیا اور میں نے گاڑی یونہی ایک کچے راستے پر موڑ لی۔ موسم گرم ہونا شروع ہو چکا تھا۔ دن کودھوپ میں خاصی گرمی ہو جایا کرتی۔ ملتان اور اس کے گردونواح کی گرمی تو ویسے بھی مشہور ہے۔ میں نے ایک درخت کے سائے میں گاری روک لی اور باہر نکل کر کچی زمین پر بیٹھ گیا۔

’’کس وچار میں گم ہے بالک! ‘‘ اچانک میرے پیچھے سے کالی داس کی آواز آئی۔ میں اپنی سوچوں میں غرق تھا۔ بری طرح اچھل پڑا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو کالی داس ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ لیے گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔

’’کس بات کی چنتا بیاکل کر رہی ہے؟‘‘ اس نے ایک بار پھر پوچھا۔ میں نے نفی میں سر ہلایا لیکن منہ سے نہ بولا۔’’کیا اپنے متر کو بھی نہ بتائے گا؟‘‘ اس نے اصرار کیا۔

’’ایک بہت مخلص دوست مجھ سے ناراض ہوگیا ہے۔‘‘ نہ جانے کس طرح یہ الفاظ میرے منہ سے نکل گئے۔ وہ کچھ میری آنکھوں میں دیکھتا رہا۔ پھر اسکے ہونٹوں پر حقارت بھری مسکراہٹ چھا گئی۔

’’اس مورکھ کی بات کا کیا برا منانا وہ تو ۔۔۔‘‘

’’بکواس بند کر کالی داس! تو کیا جانے وہ کون ہے؟‘‘ میں اس کی بات کاٹ کر غرایا۔’’اگر ایک لفظ بھی اس کے بارے میں کہا تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔‘‘ میری بات سن کر کالی داس کی آنکھوں میں آغ بھڑک اٹھی۔ غیض و غضب سے چہرہ تپ گیا۔ کچھ دیر وہ مجھے قہر بھری نظروں سے دیکھتا رہا پھر اس کی سرد آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔

’’شاید تو جانتا نہیں اس سمے کس سے بات کررہا ہے؟ کیا اتنی جلدی سب کچھ بھول گیا۔ جیادہ سمے تو نہیں بیتا ابھی۔۔۔کیا ایک بار پھر میں تجھے بتاؤں میں کون ہوں؟‘‘

’’جانتا ہوں تو گندی قوتوں کا ماہر ہے۔ لیکن تو بھی یہ بات یاد رکھ میں تیرا غلام نہیں ہوں کہ ہر وقت تیرے آگے ہاتھ باندھے کھڑا رہوں۔‘‘ گناہ کا احساس نے مجھے پاگل کر دیا تھا۔ پچھتاوے بری طرح مجھے گھیر چکے تھے۔ انجام سے بے خبر میں کالی داس کو بری طرح لتاڑ کر رکھ دیا۔ مجھے کالی طاقت والے ان وحشیوں سے سخت نفرت محسوس ہوئی۔ انہی بدبختوں کی وجہ سے آج میں انسان سے جانور بن چکا تھا۔ اب مجھے کسی بات کی پرواہ نہ رہی تھی۔ ملنگ نے جیسے میری آنکھیں کھول دی تھیں۔ میں اس غفور الرحیم اللہ سے ڈرنے کی بجائے ان شیطانوں سے خوفزدہ ہوگیا تھا۔

کالی داس غضبناک نگاہوں سے مجھے گھور رہا تھا۔

’’تجھ جیسے مورکھ بڑی جلدی اپنی جاتی(ذات)بھول جاتے ہیں۔ تجھے کوئی شکشا دینا ہی پڑے گی۔‘‘ وہ گرج کر بولا۔

میرے دل سے کالی داس کا خوف نکل چکا تھا۔ اللہ تعالیٰ بڑا غور الرحیم ہے انسان ساری زندگی گناہ کرتا رہے پھر بھی اگر سچے دل اسے یاد کرلے تو وہ معاف کرنے میں دیر نہیں کرتا۔ میں نے بڑی دلیری سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا جن میں شیطانی قوتوں کا رقص جاری ہو چکا تھا۔

’’اب تو دیا کی بھکشا بھی مانگے گا تو میں تجھے شما نہیں کروں گا۔‘‘ وہ غرایا۔

’’تجھ جیسے بدکار سے بھیک مانگوں گا؟ جا چلا جا نہیں تو میرا تیرا گلادبا کر زمین کو تیرے گندے بوجھ سے چھٹکارا دلا دوں گا۔‘‘ میں نے بے خوفی سے کہا۔ کچھ دیر وہ مجھے قہر آلود نظروں سے گھورتا رہا پھر اس کے موٹے ہونٹ ہلنے لگے۔ میرے کان کے پاس سرگوشی سی ہوئی۔

’’آیۃ الکرسی کا ورد شروع کر دو۔‘‘ اس کے ساتھ ہی میرے ہونٹ خود بخود حرکت میں آگئے۔ کالی داس نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کے چہرے سے کشمکش کااظہار ہو رہا تھا متحرک ہونٹ ساکت ہوگئے۔ میرا حوصلہ بڑھ گیا۔ وہ متذبذب سا مجھے دیکھ رہاتھا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے۔ میرے ہونٹ مسلسل حرکت کر رہے تھے۔ کچھ دیر وہ غیض و غضب کی حالت میں کھڑا مجھے دیکھتا رہا پھر بری طرح چونک اٹھا۔ وہ خوفزدہ نظروں سے میرے پیچھے کسی کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک وہ کسی چھلاوے کی طرح نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ کسی نے میری پشت پر ہاتھ رکھ دیا۔ میں بجلی کی سی تیزی سے مڑا اور ہاتھ رکھنے والے کو دیکھ کر ششدر رہ گیا۔

میرے پیچھے ملنگ ہونٹوں پر شفیق مسکراہٹ لیے مجھ دیکھ رہاتھا۔

’’آج وہ مجھ سے نہیں تجھ سے خوفزدہ ہو کر بھاگا ہے۔ دیکھا اللہ پاک کی کلام کا کرشمہ‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی بانہیں وا کر دیں میں بے اختیار اس کے مہربان سینے سے لگ گیا۔ میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔ ہچکیاں بندھ گئیں۔ ملنگ میری پشت پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ میں اسکے شانے پر سر رکھے روتا رہا۔ ملنگ کا کندھا میرے آنسوؤں سے تر ہوگیا۔

’’بس کر میرے بچے! جب انسان سچے دل سے اس غفور الرحیم سے معافی مانگے تو وہ معاف کرنے میں ذرا دیر نہیں کرتا‘‘ اس نے نرم لہجے میں مجھے سمجھایا۔ تھوڑی دیر پہلے وہ مجسم قہر لیکن اب اس کی آنکھوں میں شفقت کا دریا موجزن تھا۔

’’شیطان ، انسان کا کھلا دشمن ہے اس نے مالک کائنات سے وعدہ کیا ہے کہ وہ قبر تک انسان کا پیچھا کرے گا اور اسے ہر صورت بہکائے گا۔ وہ اپنے کام میں مگن ہے افسوس تو یہ ہے کہ ہم اپنا فرض بھول چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس مقصد کے لئے زمین پر اپنا نائب مقرر کیا ہے؟ جو اس بات کو سمجھ لیتا ہے وہی کامیاب انسان ہے۔ یہاں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے اسے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک اور بات یاد رکھنا جب انسان راہ راست سے بھٹک جاتا ہے تو وہ رحمت خداوندی سے مایوس ہوتا ہے محروم نہیں۔ اس غفور الرحیم کا در تو ہر وقت کھلا رہتا ہے وہ پکارتا ہے ، ہے کوئی جو مجھ سے رحمت و مغفرت طلب کرے؟ لیکن میرے بچے! سیدھے راستے پر چلنے والوں کو کچھ آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے جس سے ان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور درجات میں بلندی عطا ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو۔ لیکن اس بار تم ثابت قدم رہنا۔‘‘اس کی آواز نرم اور شفیق تھی۔

ہمیشہ قہقہے لگانے والا آج سنجیدگی سے مجھے ایمان کی باتیں سمجھا رہا تھا۔ دیوانہ آج فرزانوں جیسی باتیں کر رہا تھا۔ میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ کافی دیر تک مجھے سمجھاتا رہا۔ پھر نماز کی پابندی اور ذکر الٰہی کی تاکید کی۔ میں خاموشی سے سر جھکائے اس دانا کی باتیں سنتا رہا58

’’صراط مستقیم پر چلنا سیکھ‘‘

’’بابا جی! آپ تو مجھے وقت ہی نہیں دیتے۔ میں چاہتا ہوں آپ میری انگلی پکڑ کر مجھے سیدھے راستے پر چلنا سکھا دیں‘‘ میں نے رقت آمیز لہجے میں کہا۔

’’قرآن پڑھو اور اس پر عمل کرو خود بخود سیدھے راستے کی نشاندہی ہو جائے گی‘‘ اتنا کہہ کر وہ چل پڑا۔میں اس سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن میری ہمت نہ پڑی کہ اسے آواز دوں اس کے جانے کے بعد میں گاڑی میں بیٹھ کر واپس روانہ ہوگیا۔ ایک جگہ رک کر میں نے کپڑے ٹشو پیپر سے اچھی طرح صاف کیے۔ گھٹنے کے قریب لگا گوبر کا داغ پانی سے دھویا اور بینک روانہ ہوگیا۔ کیبن میں بیٹھ کر میں نے سب سے پہلے محمد شریف کو بلوایا۔ وہ مسکراتا ہوا اجازت لے کر اندر داخل ہوا اور سلام کرکے کرسی پر بیٹھ گیا۔

’’محمد شریف میں۔۔۔‘‘

’’میں جانتا ہوں جناب! آپ کیا کہنا چاہتے ہیں شکر ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو اپنی رحمت سے نواز دیا ہے۔‘‘ وہ میری بات کاٹ کر بولا۔

’’محمد شریف میں چاہتا ہوں کہ تم دوبارہ میرے گھر اور دفتر کا حصار کر دو‘‘ میں نے جھجکھتے ہوئے کہا۔ اس کے چہرے پر افسردگی پھیل گئی۔ وہ سر جھکائے خاموشی سے بیٹھا رہا۔

’’محمد شریف! تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔‘‘ میں نے اسے چپ دیکھ کر سوال کیا۔

’’جناب عالی! معذرت چاہتا ہوں اب یہ ممکن نہیں ‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔

’’تم شاید میرے رویے سے ناراض ہو‘‘

’’ایسی بات نہیں جناب! میں تو آپ سے خفا ہونے کا تصوّر بھی نہیں کر سکتا۔ دراصل عملیات میں کچھ اصول ہوتے ہیں اگر انہیں توڑ دیا جائے تو بہت مشکل پیش آتی ہے۔ جب آپ نے حصار ختم کرنے کے لیے کہا تھا تو میں نے انہی بزرگ شخصیت سے گزارش تھی۔ وہ بہت برہم ہوئے تھے۔ لیکن میری درخواست انہوں نے رد نہیں کی۔ دوبارہ میں ان سے اس معاملے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ آپ میری مجبور کو سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ جناب!‘‘

محمد شریف کے چہرے سے اس کی سچائی کا اندازہ ہو رہا تھا۔ میرا سر جھک گیا۔ اپنی نادانی سے میں نے سب کچھ گنوا دیا تھا اب خود ہی کچھ کرنا تھا۔ میں نے دل میں تہیہ کر لیا مزید ان پُر اسرار قوت رکھنے والوں کے حکم کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا۔ میں خود کو بدلا ہوا شخص پا رہا تھا۔ شریف کے جانے کے بعد کافی دیر اسی معاملے پر سوچتا رہا لیکن میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ آخر کار میں نے سوچا صائمہ کو سارے حالات بتا کر اس سے مشورہ کروں۔

’’لیکن کیا میں سب کچھ اسے بتا سکتا تھا؟ وہ مر کر بھی گوارانہ کرتی کہ اس کی موجودگی میں کسی اور کے ساتھ تعلقات رکھوں۔ کیا وہ رادھا یا بسنتی کے ساتھ گزرے دنوں کے باوجود مجھے اسی طرح چاہتی رہے گی؟‘‘

سوچوں نے میرے دماغ کو تھکا کر رکھ دیا۔ کالی داس ایک بار پھر میرا دشمن بن چکا تھا۔ بسنتی نے بار بار مجھ سے درخواست کی تھی کہ میں کالی داس کی مدد ضرور کروں۔ شام پانچ بجے جب میں گھر پہنچا تو تھکن سے برا حال تھا۔ ابھی تک میرے دائیں جبڑے میں سخت درد ہو رہا تھا۔ ملنگ کے ایک تھپڑ نے میری آنکھیں کھول دی تھیں۔

میں واقعی صراط مستقیم سے بھٹک گیا تھا۔ ’’رادھا کے آنے کے بعد تم دوبارہ تو ان راہوں کے مسافر نہیں بن جاؤ گے؟‘‘ میرے ضمیر نے سوال کیا؟میرا یقین مضبوط تھا۔ اس لئے مجھے اپنے ضمیر کی تنقید بری نہ لگی۔

رادھا کے واپس آنے میں ایک دن رہ گیا تھا۔ اس کے تصور سے میرے دل کی دھڑکنیں ایک بار پھر اتھل پتھل ہونے لگیں لیکن میں نے خود کو سختی سے سمجھایا کہ اب کچھ بھی ہو میں کسی کا ناجائز مطالبہ تسلیم نہ کروں گا۔ مغرب کی نماز با جماعت ادا کی صائمہ بہت خوش تھی۔ اس دن میں نے زیادہ وقت بچوں کے ساتھ کھیلتے گزارا۔ یوں محسوس ہوا جیسے میں کافی عرصے بعد گھر واپس آیا ہوں۔ رات دیر تک میں اور صائمہ باتیں کرتے رہے۔ دوسرے دن میں علی الصبح جاگ گیا۔ فجر کی نماز کے لیے بھی میں مسجد گیا۔ یہ سب کچھ بتانے سے میرا یہ مقصد قعطاً نہیں کہ میں خود کو نیک اور پرہیز گار ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ میری مراد فقط یہ ہے کہ میری داستان پڑھنے والوں کو اصل حقائق کا علم ہو سکے کہ جب ہم سدھے راستے پر چلنا شروع کرتے ہین تو کوئی بھی شیطانی قوت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

ان خرافات کی وجہ سے کام پر بھی کوئی خاص توجہ نہ رہی تھی۔ میں فائلز کے ڈھیر سامنے رکھے اپنے کام میں مصروف تھا۔ چاہتا تھا کافی سارا کام نپٹا لوں۔

’’کیسے ہو پریتم‘‘ رادھا کی آواز سن کر میں اچھل پڑا۔ دیکھا تو وہ قتالہ عالم میرے سامنے والی کرسی پر براجمان تھی۔ میں یک ٹک اسے دیکھتا رہا۔ اس کا حسن مزید نکھرآیا تھا۔ اسے دیکھ کر گلاب کی نو شگفتہ کلی کا احساس جاگ پڑتا تھا۔

’’کن و چاروں میں گم ہو پریم؟‘‘ اس کی مدھر آواز آئی۔

’’کچھ بدلے بدلے سے جان پڑتے ہو‘‘ اس کی کھوجتی نظریں میرے چہرے پر مرکوز تھیں۔

جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

’’کیا اتنی جلدی اپنی داسی کو بھول گئے، میں کوئی اور نہیں وہی رادھا ہوں‘‘ اس کے نرم و نازک لبوں پر بڑی دلآویز مسکراہٹ رقصاں تھی۔ میں نے سر جھٹک کر سفلی جذبات سے پیچھا چھڑایا۔

’’جانتا ہوں تم وہی رادھا ہو لیکن ۔۔۔اب وہ فاروق خان نہیں رہا‘‘ میرا لہجہ مضبوط تھا۔

’’ہاں میں دیکھ رہی ہوں کچھ شکتیاں تمرے سنگ ہیں۔ پرنتو پرائی شکتی پر کیا مان کرنا۔ اور ہم کونسے بیری ہیں ہم تو ایک دوجے کے سجن ہیں۔‘‘

’’اسلام میں اس کی گنجائش نہیں کہ غیر محرم مرد و عورت خواہ ان کا تعلق انسانوں سے ہو یا قوم جنات سے ایک دوسرے کے دوست بنیں‘‘ میری دلیل سے اس کے چہرے پر غصے اور حیرت کی ملی جلی کیفیت نظر آئی۔ وہ کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی پھر بولی۔

’یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے مومن!؟‘‘

’’میرا نام فاروق خان ہے‘‘ میرا لہجہ خشک تھا۔

’’اچھا۔۔۔؟‘‘ اس نے اچھا کو خاصا کھینچ کر ادا کیا۔

’’کیا تم سب کچھ بھول گئے؟ کیا تم نے اپنی رادھا کو بھی بھلا دیا۔ یا تم مجھ سے کسی بات پر ناراج ہو؟ مجھے یہ جانکاری مل چکی ہے میرے نہ ہونے سے تم کشٹ میں پڑ گئے تھے۔ پرنتو میں تمہیں بتایا تو تھا کہ جاپ کرتے سمے میں کسی دوجی اور (طرف) دھیان نہیں دے سکتی۔ اور یہ بات تو تم اوش نہیں بھولے ہوگے کہ میں نے تمہیں کیا اپدیش دیا تھا؟ یدی تم نے کسی ناری سے شریر کا سمندھ جوڑا تو میں تمری سہائتا نہیں کر پاؤں گی اور تمرے بیری ایسے ہی کسی اوسر کی تاک میں ہیں‘‘ اس نے مجھے یاد دلایا۔

’’پرنتو اب میں آگئی ہوں جو کچھ بسنتی اور کالی داس نے تمرے سنگ کیا ہے جانتی ہوں۔ دیکھنا رادھا انہیں کیسی شکشا دیتی ہے؟‘‘ اس کا لہجہ نرم تھا۔

’’جس نے جو بھی کیا اچھا نہیں کیا لیکن میں کسی کو قصور وار نہیں ٹھہراتا کیونکہ غلطی میری تھی۔ میں ہی اپنی راہ سے بھٹک گیا تھا۔ سب کچھ میری نادانی کی وجہ سے ہوا۔ میں تمہیں بھی قصور وار نہیں سمجھتا رادھا! تم نے کئی بار مشکل وقت میں میری مدد کی ہے میں تمہارا احسان کبھی نہ بھول پاؤں گا‘‘ وہ حیرت سے آنکھیں کھولے میری طرف دیکھ رہی تھی۔

اس کا حیران ہونا بجا تھا کہاں تو میں اسی کی قربت کے لئے بے چین رہا کرتا اور آج خود ہی اجتناب برت رہا تھا۔

’’جو ہو چکا وہی کافی ہے۔‘‘ میں نے بیزاری سے کہا۔

’’موہ۔۔۔‘‘ وہ شاید موہن کہنے جا رہی تھی لیکن میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔

’’یہ آج تم کیسی غیروں جیسی باتیں کر رہے ہو؟ کیا تم اپنی داسی سے اتنے ناراج ہو؟ میں جانتی ہوں کالی داس اور بسنتی نے بہت انیائے کیا ہے پرنتو میں تمہیں اس کا کارن بتا چلی ہوں کہ اس سمے کیوں نہ آپائی۔ بسنتی نے میرے سنگ و شواس گھات کیا ہے ۔یدی مجھے کھبر ہوتی کہ وہ کلٹا من میں کیا ٹھانے بیٹھی ہے تو میں جاپ چھوڑ کر آجاتی۔ پرنتو۔۔۔‘‘اتنا کہہ وہ سوچ میں کھو گئی۔

’’موہن! جب کوئی داسی اپنے دیوتاؤں کے چرنوں میں جاتی ہے تو اسے سنسار سے واسطہ توڑنا پڑتا ہے یدی وہ ایسا نہ کرے تو دیوتاؤں کے شراپ سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ پھر بھی مجھے کھبر ہو جاتی تو میں ترنت تمری سہائتا کرنے پہنچ جاتی‘‘ اس کے لہجے میں تاسف تھا۔ وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ میں اس سے خفا ہوں۔

’’یہ سب فضول باتیں ہیں میں ایسی خرافات پر یقین نہیں رکھتا۔ جہاں تک تعلق ہے بسنتی کے دھوکے کا۔۔۔تو تم خود ہی اسے میرا نگہبان مقرر کر گئی تھیں۔ تمہیں کیا پتا اس بدبخت کی وجہ سے میں کتنی بڑی مصیبت میں پھنس گیا تھا؟ اگر کالی داس میری مدد نہ کرتا تو آج شاید میں زندہ نہ ہوتا۔‘‘

’’بھگوان نہ کرے تمہیں کچھ ہو۔‘‘ وہ تڑپ کر بولی۔

’’مجھے جانکاری مل گئی تھی تم کشٹ بھوگ رہے ہو۔ پرنتو کالی داس نے مجھے پراپت کرنے کے کارن یہ سارا سوانگ رچایا تھا۔ اس نے کھد ہی سب کچھ کیا پھر تمرا متر بننے کے کارن تمری سہائتا کی۔ میں سب جانتی ہوں پرنتو اس سمے میں جاپ چھوڑ کر آتی تو دیوتا میری شکتی چھین لیتے اور وہ دھشٹ کالی داس ایسے ہی کسی اوسرکی تاک میں تھا، اسی کارن میں نے جاپ نہ چھوڑا‘‘ میرے چہرے پر بیزاری کی کیفیت دیکھ کر وہ بولی۔

’یدی تمہیں وشواس نہیں تو یہ بتاؤ جو منش تمری پھوٹو (تصویر) بنانے آیا تھا وہ ایسا کیے بنا کیوں چلا گیا؟ میں کھد تو نہ آسکی پرنتو اپنی شکتی کے جور سے میں نے ایسا نہ ہونے دیا۔ یدی کالی داس تمری سہائتا نہ کرتا تو میں اپنی شکتی سے سب کچھ ٹھیک کر لیتی‘‘ اس نے مجھے یقین دلانے کے لیے دلائل دینا شروع کر دیے۔

’’میں تمہاری کسی بات سے انکار نہیں کرتا لیکن اب میں ان سب باتوں سے تنگ آچکا ہوں۔ تم لوگوں کے آپس کے جھگڑوں نے مجھے کہیں کا نہ رکھا۔ کالی داس تمہیں حاصل کرنا چاہتا ہے اس لئے وہ میرے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ یہ بات تم نے ہی مجھے بتائی تھی۔ اگر تم میرا پیچھا چھوڑ دو تو وہ بدبخت بھی مجھ سے کوئی واسطہ نہ رکھے گا۔ اس لئے میری گزارش ہے کہ تم اپنی دنیا میں واپس لوٹ جاؤ اور مجھے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش رہنے دو‘‘

حسین آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں۔

’’یدی مجھے وشواس ہوتا وہ دھشٹ میرے جانے سے تمرا پیچھا چھوڑ دے گا تو میں تمرے پریم کی کھاطر یہ بھی کر لیتی پرنتو میں جانتی ہوں وہ پاپی تمہیں سکھی نہ رہنے دے گا۔ اسی کارن میرا تمرے سنگ رہنا جروری ہے‘‘ اس کی آواز بھرا گئی۔ میرے رویے سے وہ بہت دکھی ہوگئی تھی۔

ی

’’جب تم چلی جاؤ گی تب میرا پیچھا کیوں کرے گا؟‘‘ مجھے حیرت ہوئی۔

’’اس پاپی نے یہ سب کچھ اس کارن کیا تھاکہ تمہرے من میں استھان بنا کر مجھے پراپت کر سکے پرنتو تم نے اس کی بات نہ مان کر اسے بہت دکھ دیا ہے۔ اس نے کالی کے مندرمیں سوگندکھائی ہے کہ جب تک وہ تمرا بلیدان کالی کے چرنوں میں نہ کرے گا شانتی سے نہ بیٹھے گا۔‘‘ اس نے بتایا۔

یا

’’یہ کونسی نئی بات ہے وہ تو کب سے اس بات کی آس لگائے بیٹھا ہے لیکن زندگی دینا اور لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔وہ شیطان میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ رہی بات دیوی دیوتاؤں کی تو میں تمہیں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ میں ان خرافات پر یقین نہیں رکھتا۔ ‘‘ میں نے بڑے ٹھوس لہجے میں کہا۔ اس کے چہرے پر غصے کی ایک لہر آکر گزر گئی۔

’’میں تم سے دھرم پر کوئی بات نہ کروں گی؟ میرا وشواس کرو میں کیول تم سے پریم کرتی ہوں تم ہی میرا سب کچھ ہو۔ میرے مندر بھی تم اور دیوتا بھی تم‘‘ اس نے بڑے میٹھے لہجے میں کہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ واقعی مجھ سے پیار کرتی تھی میری ذرا سی تکلیف پر وہ بے چین ہو جایا کرتی۔ میری خاطر اس نے کالی داس کو زمین چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔

’اگر رادھا کی مدد سے اس منحوس ڈھانچے کو قبر میں اتار جا سکتا ہے تو مجھے سمجھداری سے کام لینا چاہئے‘‘ میرے اندر سے آواز آئی۔ میں نہیں جانتا یہ خیال خود ہی میرے دل میں آیا تھا یا رادھا کی پراسرار قوت کا کرشمہ تھا۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد اب مجھے خیال آتا ہے کہ شاید دوسری بات صحیح ہو لیکن اس وقت یہ سوچ کرمیں نے اپنا رویہ کچھ نرم کرلیا۔

’’لیکن میں تمہاری وجہ سے کیسی مصیبت میں مبتلا ہوگیا تھا تمہیں کچھ پتا بھی ہے؟‘‘

’’اس سمے میں تم سے شما مانگنے آئی تھی پرنتو تم تو۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ بڑی اداس اور ملول دکھائی دے رہی تھی۔ کافی دیر ہم دونوں خاموش بیٹھے رہے۔

’’موہن! تم مجھ سے ناراج ہو اس بات کا دکھ نہیں۔ جو پریم کرتے ہیں وہ ایک دوجے پر ادھیکا رکھتے، کیول میری ایک بنتی سوئکار کر لو‘‘ اسکے لہجے میں التجا تھی۔

’’کیا۔۔۔؟‘‘

’’تھوڑا سا سمے نکال میرے سنگ ایک استھان پر جانا ہوگا‘‘ میری آنکھوں میں شک دیکھ کر وہ جلدی سے بولی’’مانتی ہوں تمہیں مجھ پرواش نہیں رہا۔ پرنتو تمہیں میری اور سے کوئی دکھ پہنچے یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔‘‘

ا

’’لیکن کس لئے اورکہاں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’یہ میں ابھی نہیں بتا سکتی۔ کل میں اسی سمے آؤں گی‘‘ وہ میری طرف ملتجی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس سے پہلے جب بھی میں کوئی بات سوچتا وہ مجھے بتا دیتی کہ میں کیا سوچ رہا ہوں بلکہ سپنا کے معاملے میں تو میں بذریعہ سوچ اس سے باتیں بھی کرتا رہا تھا لیکن آج وہ مجھے صرف ٹٹولنے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے میرے دل کا حال اس پر ظاہر نہ ہو۔

’’یدی تمہیں مجھ پر اتنا بھی وشواس نہیں رہا تو میں نہیں کہتی‘‘ وہ آبدیدہ ہوگئی۔

’’ایسی بات نہیں رادھا! میں تمہارے ساتھ ضرور جاؤں گا بس یہ بتا دو کہاں جانا ہے اور وہاں کتنا وقت لگے گا تاکہ میں اسی حساب سے چلوں‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔

’’کل اسی سمے۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔

’’کتنا سمے لگے گا یہ تو میں بھی نہیں جانتی پرنتو جس کارن میں تمہیں لے جا رہی ہوں وہ سب دیکھ کر تمرا من جرور پرسن ہوگا‘‘ اس نے مبہم سے بات کہی۔

’’ٹھیک ہے کل تم آجانا، اس کے احسانات بہرحال مجھے پرتھے مجھ سے انکار نہ ہوسکا۔

’’جب تم تیار ہو جاؤ تو مجھے آواج دے دینا میں آجاؤں گی‘‘ وہ خوش ہوگئی۔ ’’اچھا اب میں جاتی ہوں کچھ پربند کرنا ہے۔‘‘ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ دوسرے دن بچوں کو سکول چھوڑ کر میں اسی سنسان راستے پر پہنچا تو میں نے رادھا کو آواز دی۔ دوسرے ہی لمحے وہ میری ساتھ والی سیٹ پر ظاہر ہوگئی۔ اس کے ہونٹوں پر بڑی میٹھی مسکان تھی۔

ا

’’کیسے ہو پریم؟‘‘ اس نے میری جانب دیکھا۔

’’تمہارے سامنے ہوں ‘‘ اس کی راہنمائی میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے میں نے کہا۔ تھوڑی دیر بعد ہم ایک گاؤں میں پہنچ گئے۔ جگہ دیکھی بھالی سی لگ رہی تھی غور کرنے پر میں ے پہچان لیا۔ یہ وہی گاؤں تھا جس کے قریب میری گاڑی خراب ہوئی تھی اور میں ایک شخص کی مدد سے کسی مکینک کی تلاش میں کالی داس کے چنگل میں پھنس گیا تھا۔ آج بھی اس اذیت کو محسوس کرکے میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اگر ملنگ اپنے لعاب سے میرا علاج نہ کرتا تو نہ جانے میرا کیا حال ہوتا؟‘‘

’اس استھان کو جانتے ہو؟‘‘ میں اپنی سوچوں میں غرق تھا کہ رادھا کی آواز سن کر چونک گیا۔

’’اس جگہ کو میں کیسے بھول سکتا ہوں؟‘‘ مجھے جھرجھری سی آگئی۔ آج بھی گاؤں میں کوئی متنفس دکھائی نہ دے رہا تھا۔ انسان تو کجا ایک جانور بھی نہ تھا۔ عجیب سی وحشت ہر سو برس رہی تھی۔

’’کیا یہاں کوئی نہیں رہتا؟ اس دن بھی میں نے کسی انسان کی صورت نہ دیکھی جب کالی داس مجھے گھیر کر لایا تھا۔ آج بھی صورت حال ویسی ہی ہے‘‘ میں نے حیرت سے چاروں طرف دیکھ کر پوچھا۔

’’ تھوڑا سمے اور انتجار کر لو‘‘ رادھا مسکرا کر بولی۔ رادھا کے کہنے پر میں نے اسی مکان کے سامنے گاڑی روک لی۔ وہ یکدم میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

میں نے گاڑی سے نیچے اتر کر اسے لاک کیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔

’’اندر آجاؤ پریتم!‘‘ رادھا دروازہ کھولے کھڑی تھی۔ میں اس کے پیچھے اندر داخل ہوگیا۔ ہر شے اسی طرح پڑی تھی۔ سامنے وہی کچا کمرہ تھا جہاں مجھے کالی داس نے بے پناہ اذیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ میں خاموش سے رادھا کے پیچھے چلتا کمرے میں داخل ہوگیا۔ دن کے اجالے کے باوجود کمرے میں تاریکی تھی۔ دھوپ سے آنے کی وجہ سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں کچھ دیر دروازے میں کھڑا آنکھوں کو اندھیرے سے ہم آہنگ کرتا رہا۔ رادھا نے اپنا خوبصورت ہاتھ ہلایا اس کے ساتھ ہی کمرے میں روشنی پھیل گئی جو چاروں طرف سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔ کمرے کا ماحول آج بھی ویسا ہی تھا۔ رادھا بڑی تمکنت سے چلتی کمرے میں بچھی واحد چارپائی پر بیٹھ گئی۔

’’یہاں آجاؤ میرے پاس‘‘ اس نے کہا۔ تنہائی میں اس کا قرب مجھے پاگل بنا رہا تھا۔ میں نے بمشکل اس کے سراپے سے نظریں ہٹا کر کمرے کا جائزہ لیا۔

’’پریم۔۔۔‘‘ اس نے بانہیں وا کر دیں۔

’’آؤ میری بانہوں میں سما جاؤ‘‘ آنکھوں میں پیار کی جوت لیے وہ میری منتظر تھی۔

’’رادھا! میں تم سے کہہ چکا ہوں ہمارے مذہب میں غیر محرم مرد عورت کا تعلق حرام ہے۔ اگر تم س مقصد کے لیے مجھے لائی ہو تو میں واپس جا رہا ہوں۔‘‘ میں نے بمشکل دل پر جبر کرکے کہا۔ میرے انکار پر اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ کچھ دیر وہ غصے کی کیفیت میں مجھے دیکھتی رہی پھر ٹھنڈی سانس اس کے منہ سے خارج ہوگئی۔

’یدی !کوئی دوجا رادھا کی آگیا کا پالن کرنے سے منع کرتا تو رادھا کا شراپ اسے نشٹ کر دیتا۔ پرنتو رادھا اپنے پریمی کو کشٹ نہیں دے سکتی‘‘ اس کا لہجہ شکست خوردہ ہوگیا۔ میرے انکار نے اسے دکھی کر دیا تھا۔ میں جانتا تھا وہ ہر بات برداشت کر سکتی ہے میری بے اعتنائی نہیں لیکن توبہ کرنے کے بعد ان خرافات سے بچنا چاہتا تھا۔

ہم دونوں میں اپنی سوچوں میں گم تھے کہ باہر سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ آنے والا ایک نہایت خوبرو نوجوان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی بہت وجاہت عطا فرمائی ہے لیکن وہ جوان بھی کچھ کم نہ تھا۔ اسنے آتے ہی پہلے رادھا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر ماتھے سے لگائے پھر میری طرف مڑا۔

’پرنام مہاراج‘‘ اس نے گھمبیر آواز میں کہا۔ مجھے اور توکچھ نہ سوجھا بس سر ہلا کر اسکے سلام کا جواب دے دیا۔

’’یہ پرتاب ہے جیسے میں تمرے بن بیاکل رہتی ہوں ایسے ہی پرتاب بھی میرے نام کی مالا جپتا رہتا ہے‘‘ رادھا نے مسکرا کر کہا۔

میں نے حیرت سے دیکھا نوجوان کی بڑی بڑی سحر انگیز آنکھوں میں اداسی تھی۔ رادھا کی بات سن کر اس کا سرجھک گیا۔ مجھے حیرت ہوئی رادھا نے پہلے اس کا ذکر کبھی نہ کیا تھا۔ وہ رادھا کے سامنے اس طرح ہاتھ باندھے ادب سے کھڑا تھا جیسے غلام ملکہ کے سامنے۔ بسنتی بھی رادھا کی تابعدار تھی لیکن اس نے کالی داس کے ساتھ مل کر اسے دھوکہ دیا تھا۔ اگر وہ میری حوصلہ افزائی نہ کرتی تو شاید میں اتنا آگے نہ بڑھتا۔ ہر چند کہ قصوروار میں بھی تھا لیکن بسنتی کی نیت میں شروع دن سے فتور تھا۔ بقول اس کے وہ مجھے دیکھتے ہی بے اختیار ہوگئی تھی۔ رادھا غور سے میری جانب دیکھ رہی تھی۔

’’کس و چار میں گم ہو پریمی!‘‘ اس نے بڑے پیار سے پوچھا ۔ نوجوان کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ ماتھے پر پڑنے والے بل اس کی ناگواری کو ظاہر کر رہے تھے۔ جاپ پر جانے سے پہلے رادھا میرے دل کا حال جان لیتی تھی لیکن اب شاید وہ اس پر قادر نہ رہی تھی۔ اس لئے وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ میں کیا سوچ رہا ہوںَ اس بات کو جانچنے کے لیے میں نے یونہی کہا۔

’’میں کالی داس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔‘‘

’’اس دھشٹ کے نشٹ ہونے میں بہت تھوڑا سمے رہ گیا ہے جس یدھ کی شروعات اس پاپی نے کی تھی میں اس کا انت کردوں گی۔‘‘ اس کا حسین چہرہ یک بیک قہر ناک ہوگیا۔ آنکھوں میں آگ کے الاؤ روشن ہوگئے۔ اس نے جوان کی طرف دیکھا

’’پرتاب ! جانتا ہے میں نے اس سمے تجھے کس کارن بلایا ہے؟‘‘

’’نہیں دیوی جی! پرنتو تم جو آگیا بھی ہو گی پرتاب اپنا جیون دان کرکے بھی اس کا پالن کرے گا۔‘‘ اس کے لہجے میں رادھا کے لیے پیار کا سمندر موجزن تھا۔

’میں اسی پل بسنتی کو یہاں دیکھنا چاہتی ہوں‘‘ اس نے حکم کے منتظر پرتاب سے کہا۔

’’جو آگیا دیوی جی‘‘ اس نے سر جھکایا اور غائب ہوگیا۔

’یہ سب لوگ تمہیں دیوی کیوں کہتے ہیں؟‘‘ میں نے رادھا کی طرف دیکھا۔

’’میں ان کی دیوی جو ہوں‘‘ اس نے سادہ لہجے میں کہا۔

’’میرے کہنے کا مطلب ہے کیا وہ تمہارے غلام ہیں؟‘‘

’’سنسار کے سارے منش رادھا کے داس ہیں اور رادھا تمری داسی‘‘ ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں نشہ چھا گیا۔ خود میرے دل کی حالت بھی عجیب ہو رہی تھی۔ ساتھ بیتے لمحات کے تصور نے خون کی گردش بڑھا دی۔ اس کی سحر کار آنکھوں سے بمشکل اپنا دھیان ہٹا کر میں نے دوسری طرف دیکھا۔ رادھا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔

’’ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’میں تو تمہیں ایسے ہی دیکھا کرتی ہوں کوئی نئی بات ہے؟‘‘ اس کے ساتھ ہی وہ اٹھ کر میرے قریب آگئی۔ دل کی دھڑکن اسی کا نام جپنے لگی۔ ایمان ڈونوا ڈول ہونے لگا۔ بے اختیار میرا دل چاہا اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لوں۔ وہ مجھ سے کچھ فاصلے پر آکر بانہیں پھیلا کر کھڑی ہوگئی۔ قریب تھا کہ میں اس کی جانب کھچتا چلا جاتا کہ پرتاب ظاہر ہوگیا۔ اس کے چہرے پر ندامت تھی۔

’’بسنتی کہاں ہے؟‘‘ رادھا نے کڑی نظروں سے پرتاب کو گھورا۔

’’دیوی اس کی رکھشا کالی داس کر رہا ہے‘‘ پرتاب نے جھجکھتے ہوئے بتایا۔

’’کیا میں یہ سمجھوں تیرے پریم میں کھوٹ ہے؟‘‘ رادھا کی سرد آواز کمرے میں گونجی۔

’’ی۔۔۔یہ۔۔۔بات نہیں دیوی!‘‘ پرتاب بری طرح گڑ بڑا گیا۔

’’میں نے اسے لانے کی اوشکتا کی تو کالی داس کے بیر میرے آڑے آگئے ۔مجھے تھوڑا سمے دو میں اسے اوش یہاں کھینچ لاؤں گا‘‘ اس نے بڑے یقین سے کہا۔

’’ٹھیک ہے جاؤ۔۔۔پرنتو دھیان رہے یہ تیری پریکشا(آزمائش) ہے یدی تو اس میں سپھل نہ ہوا تو من میں میرے پریم کا دھیان بھی نہ لانا‘‘ اس کی بے اعتنائی سے پرتاب کا چہرہ دھلے ہوئے لٹھے کی طرح سفید ہوگیا۔

’دیوی! ایسا انیائے نہ کر ، نہیں تو تیرا یہ داس جیوت نہ رہے گا‘‘ پرتاب تڑپ کر بولا۔

’’میں کچھ نہیں جانتی مجھے کیول بسنتی چاہئے ابھی‘‘ رادھا نے بڑی بے مروتی سے کہا۔

’’جو آگیا دیوی‘‘ اس نے دونوں ہاتھ جوڑے اور دوبارہ غائب ہوگیا۔ اس کے آنے سے ایک فائدہ ہوا تھا کہ رادھا پر جو محبت کا بھوت سوار ہوا تھا وہ اتر گیا۔ اس کا موڈ بگڑ چکا تھا۔ دوبارہ چارپائی پر بیٹھ کر وہ سوچوں میں گم ہوگئی۔

تقریباً دس منٹ ہم دونوں اسی حالت میں بیٹھے رہے۔ رادھا نے دوبارہ میری طرف بڑھنے کی کوشش نہ کی تھی۔ خود سے کیا عہد بچ جانے پر میں نے شکر ادا کیا۔ رادھا پرتاب کی ناکامی پر بری طرح جھلائی ہوئی تھی۔ اچانک کمرے کا دروازہ ایک دھماکے سے کھلا اور پرتاب بسنتی کو کاندھے پرلادے لے آیا۔ اس کے چہرے اور جسم پر لگے زخموں کے نشانات سے لگ رہا تھا وہ کسی درندے سے نبرد آزما رہا ہے۔ کاندھے پر لدی بے ہوش بسنتی کو اس نے کسی بوری کی طرح کچی زمین پر پھینک دیا۔

وہ فتنہ گر ایک بار پھر میرے سامنے تھی۔ ساتھ بتائے پل میری آنکھوں میں لہرا گئے۔ آج تک میرا جتنی لڑکیوں سے تعلق رہا تھا۔ رادھا سمیت بسنتی ان سب پر سبقت لے گئی تھی۔ رادھا کا چہرہ چمکنے لگا۔ اس نے پرتاب کے زخموں پر سرسری نظر ڈالی۔

’’ٹھیک ہے پرتاب! تم جا کر سرسوتی دیوی کا وہ جاپ کر لو جو میں نے تمہیں بتایا تھا اور ہاں’’پرولنگی‘‘ بوٹی کا جل پی لینا‘‘ اس نے کسی بوٹی کا نام لیا۔ پرتاب کی آنکھوں کی اداسی بڑھ گئی ۔وہ شاید رادھا کی نظر التفات کی توقع کر رہا تھا۔ مجھے اس پر ترس بھی آیا لیکن اس وقت تو خود میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ اگر بسنتی رادھا کو سب کچھ بتا دیتی تو شاید وہ مجھے بھی سزا دیئے بغیر نہ رہتی۔ ہر چند کہ اسے مجھ سے عشق تھا پر کیا پتا اس جن زادی کا موڈ کب بدل جاتا؟ پرتاب بوجھل قدموں سے باہر نکل گیا۔

رادھا کے ہونٹ متحرک ہوگئے اس نے کچھ پڑھ کر بسنتی پر پھونک دیا۔ اس کے جسم نے حرکت کی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ پہلے تو وہ حیران سی چاروں طرف دیکھتی رہی جیسے اس کی نظر رادھا پر پڑی ،اس کا رنگ فق ہوگیا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ رادھا کی آنکھوں میں فتح کا نشہ ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ، دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں پر رکھے بسنتی کے سر پر کھڑی تھی ۔ جیسے ہی بسنتی کی نگاہ اس پر پڑی وہ بری طرح گڑ بڑا گئی۔

’’دو ۔۔۔دی۔۔۔دیوی جی تم؟‘‘ اس کے ہونٹ لرز کر رہ گئے۔

’’ہاں میں۔۔۔تمری سکھی‘‘ رادھا زہر خند سے بولی۔’’شما چاہتی ہوں تمرا سواگت ٹھیک طرح نہ کر سکی‘‘ وہ مسلسل طنز کے تیر برسا رہی تھی

’’دیوی جی! شما کر دو مجھ سے بھول ہوگئی۔ میں اس منش کو دیکھ کر سب کچھ بھول گئی تھی۔ بھگوان کے لیے مجھے شما کر دو‘‘ بسنتی نے اچانک آگے بڑھ کر رادھا کے پاؤں پکڑ لئے۔ وہ خزاں رسیدہ پتے کی طرح کانپ رہی تھی۔

’’چچ۔۔۔چچ۔۔۔چچ۔۔۔کالی داس جیسے مہان گرو کی چیلی ہو کر بھی تو مجھ سے شما مانگ رہی ہے اٹھ۔۔۔مجھ کشٹ دے۔۔۔میں نے تجھ سے تیرا پریمی چھین لیا ہے کیا تو مجھے یونہی چھوڑ دیگی؟‘‘ رادھا اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔ اس کا ایک ایک لفظ زہر میں ڈوبا ہوا تھا۔ بسنتی نے بے بسی سے مجھے دیکھا۔

’’رادھا دیوی! تجھے تیری پریمی کی سوگند مجھے شما کر دے‘‘ اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ پھر اس نے میری طرف دیکھ کر التجا کی۔

’’مہاراج! مجھے رادھا دیوی کے شراپ سے بچا لو مجھ سے بھول ہوگئی میں وچن دیتی ہوں پھر کبھی تمری اور نجرا اٹھا کر نہ دیکھوں گی۔‘‘

’’پاپن! ‘‘ رادھا غضبناک ہو کر دھاڑی۔ اس کے آواز کی گھن گرج آج بھی مجھے یاد ہے۔

’’تجھے شما کر دوں۔۔۔؟ تو نے میری بیری، کالی داس کے کہے پر میرے سنگ وشواس گھات کیا۔ جانتی ہے تیرے کارن میں نے کتنا کٹھن سمے بتایا ہے؟ تو نہیں جانتی تھی۔ رادھا کے پریمی کو چھو کر تو کتنا بڑا پاپ کر رہی ہے؟ بلا اپنے گرو کو وہ تجھے اس سمے میرے شراپ سے بچائے‘‘ اس کی غضبانک آواز آئی۔ سچ پوچھیں تو میں بھیا س وقت خوفزدہ ہوگیا تھا۔ کالی داس اور کھیدو چوہڑے کا حشر مجھے یاد تھا۔ رادھا اس وقت سخت غصے میں تھی۔ کالی داس تو اس کے ہاتھ نہ آیا تھا۔ سارا قہر اب بسنتی پر نکلنے والا تھا جو مسلسل رادھا سے گڑ گڑا کر معافیاں مانگ رہی تھی۔ اس کی حالت غیر ہو چکی تھی۔ رادھا کے پاؤں پکڑے وہ منتیں کر رہی تھی۔ یک بیک رادھا کی آنکھیں سرخ انگارہ ہوگئیں۔ بسنتی جو رادھا کی طرف فریادی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی کانپ گئی۔

’’دو۔۔۔دیو۔۔۔دیوی! مجھے شما کر دے۔ دیوی! تجھے بھگوان کی سوگند اپنی داسی کو شما کر دے۔ مجھ ابھاگن پر دیا کر دیوی میں تجھ سے جیون بھکشا مانگتی ہوں۔ تیرا یہ اپکار میں جیون بھر نہ بھلا پاؤں گی سدا تیری آگیا کا پالن کروں گی۔‘‘ روتے ہوئے وہ فریاد کر رہی تھی۔

غیض و غضب میں بھری رادھا پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اس نے چھت کی طرف دیکھا۔ اچانک چھت سے گاڑھا گاڑھا بدبو دار مادہ نکل کر بسنتی پر گرا۔ اس کی کربناک چیخ فضا کو مرتعش کرگئی۔ نالی سے نکلنے والے گارے جیسا وہ مواد جس میں سے آگ کی چنگاریاں نکل رہی تھیں نے بسنتی کو ڈھک دیا۔ اس کی کربناک چیخیں کمرے کے درو دیوار ہلا رہی تھی۔ وہ کیچڑ نما مواد میں لت پت ہاتھ پاؤں مار رہی تھی۔ خوف سے میری ٹانگیں لرزنے لگیں۔ کافی دیر گزر گئی۔ رادھا کے غیض و غضب میں کمی نہیں آئی تھی۔ وہ قہر بار نظروں سے بسنتی کودیکھ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کی چیخیں مدہم پڑنے لگیں۔ رادھا نے دوبارہ چھت کی طرف دیکھا اس بار چھت سے صاف شفاف پانی کسی آبشار کی طرح بسنتی کے اوپر گرنے لگا جس نے اسے اچھی طرح دھو دیا۔ لیکن یہ کیا۔۔۔کیا یہ وہی بسنتی تھی؟ میری آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ گنجے سر کی کالی سیاہ عورت زمین پر پڑی تھی۔ اس کا حال دیکھ کر میں لرز گیا۔ حسین و جوان بسنتی کی جگہ ایک مکروہ صورت بڑھیا نظر آرہی تھی۔ گلاب کے پھول سے زیادہ شگفتہ چہرہ، جھریوں بھرے سیاہ چہرے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ کھال لٹک کر بدوضع ہوگئی تھی۔ سیاہ رنگت پر بڑی بڑی سفید آنکھیں عجیب خوفناک منظر پیش کر رہی تھیں۔ ہونٹ غائب ہونے سے دانت جھانکنے لگے تھے۔ ناک کی صرف ہڈی رہ گئی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے اس کی ناک کاٹ دی گئی ہو۔ لباس جل کر راکھ ہو چکا تھا۔ ایک نہایت بدوٖضع اور بدصورت بوڑھی عورت اس کی جگہ لے چکی تھی۔ میں زیادہ دیر تک یہ خوفناک منظر نہ دیکھ سکا اور منہ پھیر لیا۔

’’چمارو‘‘ رادھا نے کسی نادیدہ وجود کو پکارا۔

جی دیوی جی!‘‘ ایک کھرکھراتی ہوئی مردانہ آواز آئی۔

’’بسنتی کو اسی شریر میں رہنا ہے۔ دھیان رہے یہ کلٹا اس شریر کو چھوڑنے نہ پائے۔‘‘ رادھا نے نفرت بھری نظر بسنتی پر ڈال کر کسی نادیدہ وجود کو حکم دیا۔

’’اوش تمری آگیا کا پالن ہوگا دیوی!‘‘ وہی آواز دوبارہ آئی۔ بسنتی کے منہ سے دبی دبی کراہیں نکل رہی تھیں۔

’’اپنی سندرتا پر بڑا مان تھا نا تجھے۔۔۔؟ اسی کارن تو نے میرے پریمی کی اور دیکھا تھا۔ میں نے تیری اس سندرتاکو رہنے ہی نہ دیا۔ اب دیکھتی ہوں کون تجھ سے پریم کرتاہے؟‘‘ رادھا زہریلے لہجے میں بولی۔

’’جا اپنے گرو سے کہہ وہ تیری سندرتا لوٹا دے جس کی سہائتا کرتے سمے تو رادھا کی شکتی کو بھول گئی تھی۔‘‘ بسنتی اپنے بدوضع وجود کو گھسیٹتی باہر نکل گئی۔ میرا دل زور زورسے دھڑک رہا تھا۔ گھبرائی ہوئی نظروں سے رادھا کی طرف دیکھا جس کا چہرہ آہستہ آہستہ معمول پر آرہا تھا۔ تھوڑی دیر وہ آنکھیں بند کیے لمبے لمبے سانس لیتی رہی پھر تھکے ہوئے لہجے میں بولی۔

’’پریم۔۔۔!چلو چلیں‘‘ میں کسی معمول کی طرح اس کے پیچھے چل پڑا ،سچ پوچھیں تو میں ڈر گیا تھا۔ کیا پتا اس جن زادی کا موڈ بدل جاتا اور میں مارا جاتا۔ باہر نکل کر ہم گاڑی میں بیٹھ گئے۔ رادھا نے چپ سادھ رکھی تھی۔ میں بھی اس کے موڈ کے پیش نظر خاموشی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔

ریم! دوشی تم بھی تھے پرنتو میرا من نہیں کرتا کہ میں تمہیں کوئی کشٹ دوں، کیول اتنا یاد رکھنا رادھا تم سے ادھیک پریم کرتی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

میں سکول کے پاس پہنچ چکاتھا۔ چھٹی ہونے میں تھوڑا وقت باقی تھا میں گاڑی میں بیٹھا رہا۔ رادھا کی بات کا مطلب میں اچھی طرح سمجھ گیا تھا۔ اس نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر مجھے معاف کر دیا تھا۔ ایک بار پھر میں انہی چکروں میں پھنسنے جا رہا تھاجن سے پیچھا چھڑانے کا خواہش مند تھا۔ اگر تھوڑی دیر اور پرتاب نامی نوجوان نہ آتا تو شایدمیں ایک بار پھر پھسل جاتا۔ کیا میں ساری زندگی ان پراسرار قوتوں کے حامل انسانوں اور جنات میں گھرا رہوں گا؟ میرے ذہن میں خیالات کا ہجوم تھا۔ محمد شریف نے مجبوری ظاہر کی تھی کہ اب وہ میری مدد نہیں کر سکتا۔ میرا ارادہ تھا کہ صائمہ سے اس سلسلے میں مشورہ کروں۔ لیکن اس کے لیے اسے سب کچھ بتانا پڑتا جبکہ میں ایسا نہیں چاہتا تھا۔ وہ کسی طور پر گوارا نہ کرتی کہ میرا تعلق کسی اور سے ہو۔ بڑی مشکل سے اس کا ذہن صاف ہوا تھا۔ رادھا کے سلسلے میں وہ بہت دکھی ہوگئی تھی۔ میں نہیں چاہتا تھا دوبارہ وہ پریشان ہو۔

’’کیا کیا جائے؟‘‘ رادھا کے ساتھ تعلقات بحال رکھنا میری مجبوری سہی لیکن میرا دل ان خرافات سے اچاٹ ہو چاک تھا۔ شیطان کے جال بہت حسین ہوتے ہیں۔ انسان کو اپنے

شکنجے میں جکڑنے کی خاطر وہ ہر داؤ آزماتا ہے۔ بار بار رادھا کے سامنے آنے سے میرا ایمان متزلزل ہوسکتا تھا۔ میں چاہتا تھا وہ اپنی دنیا میں لوٹ جائے لیکن وہ کسی طور اس بات پر آمادہ نہ تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کی بات ماننے پر مجبور تھا۔ بچوں کو سکول سے لے کرگھر پہنچا۔

ہارن دیا تو گیٹ فوراً ہی کھل گیا۔ مجھے حیرت تو ہوئی پھر میں نے سوچا چونکہ چھٹی کا وقت تھا اسلئے صائمہ گیٹ کے پاس ہی انتظار کررہی ہوگی۔ میں گاڑی سے نیچے اترا تو آنکھوں میں حیرت لیے وہ میرے پاس آگئی۔

’آپ ملتان نہیں گئے؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔

’’ملتان۔۔۔یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ اب حیران ہونے کی باری میری تھی‘‘ تم سے کس نے کہا میں نے ملتان جانا ہے؟‘‘

’’ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ ہی نے تو کہا تھا‘‘ اس کے چہرے پر الجھن تھی۔

’’ابھی کب؟ میں تو صبح سے کہیں گیا ہوا تھاآج بینک سے بھی چھٹی لی تھی۔‘‘

’’وہ تو آپ نے صبح بتایا تھا جب آپ بچوں کو سکول چھوڑ کر واپس آئے تو کہا نہیں تھا کہ میں کسی کام کے سلسلے میں ملتان جا رہا ہوں‘‘ وہ بے یقینی سے پوچھ رہی تھی۔ میں نے غور سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا کہیں وہ مذاق تونہیں کر رہی لیکن وہ بالکل سنجیدہ تھی۔

’’فاروق! کیا بات ہے ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔ ہم ابھی تک گیراج میں ہی کھڑے تھے بات میری سمجھ سے باہر تھی میں بچوں کو سکول چھوڑ کر رادھا کے ساتھ چلا گیا تھا۔ ابھی تو میرا ذہن بسنتی کا حشر دیکھ کر الجھا ہوا تھا کہ یہ نئی الجھن سامنے آگئی۔

’اچھا چھوڑیں اندر آئیں‘‘ صائمہ کہتی ہوئی اندر چلی گئی۔ لیکن اس کے چہرے پر فکر کے سائے منڈلا رہے تھے۔ میں خود بھی حیران تھا یہ کیا معاملہ ہے؟ کھانا کھانے کے بعد بچے سو گئے تو میں نے صائمہ کو باہر آنے کا اشارہ کیا۔ ہم دونوں لاؤنج میں آکر بیٹھ گئے۔

’’اب بتاؤ کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘ میں نے سنجیدگی سے پوچھا۔

’’جب آپ بچوں کو سکول چھوڑ کر واپس آئے تو۔۔۔تو آ۔۔۔آپ۔‘‘

’’بتاتی کیوں نہیں میں نے کیا کہا تھا؟‘‘ خون کی گردش میری رگوں میں تیز ہوگئی چہرہ تپ گیا۔ وہ کون تھا جو میری شکل بناکر صائمہ کے ساتھ۔۔۔؟ وہ میرے چہرے کے تاثرات دیکھ کر گھبرا گئی۔

’’پہلے یہ بتاؤ تم کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘ میں نے جھنجھلا گیا۔ اس نے حیرت سے مجھے دیکھا پھر کہنے لگی۔

’’آپ مجھے حق زوجیت ادا کرنے کے لیے کہہ رہے تھے جس پرمیں نے کہا میں مخصوص ایام میں ہوں لیکن شاید آپ بہت بے تاب تھے کہنے کوئی بات نہیں۔ مجھے حیرت تو بہت ہوئی لیکن میں نے آپ کو سمجھایا کہ یہ بہت بڑا گناہ ہوگا۔ اسوقت بھی آپ اسی طرح جھنجھلا گئے تھے اور بار بار مجھ سے اصرار کر رہے تھے کہ میں اپنی خوشی سے اجازت دے دوں لیکن۔۔۔‘‘

’’یہ بتاؤ میں نے تمہیں چھوا تھا میرا مطلب ہے میں نے تمہیں ہاتھ لگایا تھا؟‘‘ میں نے اس کی بات کاٹ کر پوچھا۔

’’نہیں اسی بات پر تو مجھے حیرت ہوئی تھی کہ جب میں آپ کے پاس آکر بیٹھنے لگی تو آپ کہنے لگے نہیں ابھی مجھے مت چھونا جب تک تم منہ سے یہ نہ کہہ دو کہ میں تمہیں اجازت دیتی ہوں‘‘ اس کا چہرہ گلنار ہوگیا۔ اطمینان بھری ایک سانس میرے سینے سے خارج ہوگئی۔

’’فاروق! یہ۔۔۔یہ سب کیا ہے؟ آپ کہہ رہے ہیں آپ اس کے بعد واپس گھر آئے ہی نہیں تو پھر۔۔۔؟‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔

’دراصل بیماری کی وجہ سے میری یادداشت کچھ کمزور ہوگئی ہے مجھے کچھ یاد نہیں رہتا ۔وہ مطمئن تو نہ ہوئی ہاں اس سلسلے میں مزید کچھ نہ پوچھا۔ میں بری طرح الجھ گیا تھا۔ میں تو صبح سے رادھا کے ساتھ تھا پھر وہ کون تھا جو میری شکل میں صائمہ کے پاس آیا۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *