وہ کون تھا

وہ کون تھا

part 1

وجیہہ سحر

گریجوایٹ پوسٹڈ کلاسز کے فائنل ائیر کے اسٹودنٹس کے ٹرِپ کی بس بھرپور ہلے گلے کے ساتھ موٹر وے پر دوڑ رہی تھی۔ چیک پوسٹ پر تھوڑی دیر رکنے کے بعد بس مری کے روٹ کی طرف روانہ ہوگئی۔ اسٹوڈنٹس نے بھرپور انداز میں نعرے لگائے’’ہرے! مری کا سفر شروع ہو چکا ہے۔‘‘

میڈم اریبہ اور سر حسنان لڑکے لڑکیوں کی ان شرارت بھری حرکتوں پر مسکرائے جا رہے تھے۔

’’مجھے اس وقت بہت اچھا لگتا ہے جب گاڑی گول چکر کاٹتی ہوئی پہاڑ پر چڑھتی ہے اور ہم زمین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں۔‘‘

مس اریبہ نے سیٹ سے پشت ٹکاتے ہوئے لمبا سانس کھینچا۔

’’واقعی من تمام تفکرات سے آزاد ہو کے خوشیوں کی فضا میں جھومنے لگتا ہے۔ ‘‘ سر حسنان نے بھی اپنی رائے دی۔

پیچھے سے ایک اسٹوڈنٹ نے سر حسنان کی بات سن کر کہا۔

’’ تھوڑا سا انتظار کر لیں سر! ہم ہوا میں پرواز کرنے والے ہیں۔‘‘

سرحسنان نے مسکراتے ہوئے مِس اریبہ کی طرف دیکھا۔ مس اریبہ بس کی آخری سیٹ پر بیٹھے چار اسٹوڈنٹ کی طرف دیکھ رہی تھی۔

سر حسنان نے محسوس کیا کہ مس اریبہ یک دم سنجیدہ ہوگئی ہیں۔

’’کیا بات ہے، آپ وہاں پیچھے کیا دیکھ رہی ہیں۔‘‘

’’جو میں محسوس کر رہی ہوں کیا وہ تم محسوس نہیں کر رہے۔ میں ان چار اسٹوڈنٹس کی بات کر رہی ہوں جو آخری سیٹ پربیٹھے ہیں۔‘‘

’’ہاں دیکھ رہا ہوں کہ دوسرے اسٹوڈنٹس کے شور شرابے میں وہ چاروں مسلسل خاموشں ہیں لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں۔ امیر زادوں کی یہ بگڑی ہوئی اولاد ایسی ہی ہے۔ یہ چاروں بہت موڈی ہیں۔ ان کی اپنی ہی دنیا ہے۔ تم ان کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہو کیا تم انہیں جانتی نہیں۔‘‘

’’انہیں جانتی ہوں اس لیے تو پریشان ہوں، پر رونق ماحول میں کسی ایک انسان کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ تمہارا واسطہ تو ان کے ساتھ رہتا ہے تم ان کے بارے میں کتنا جانتے ہو۔‘‘

’’چھوڑو! اس قدر پر مزہ سفر کو میں بور نہیں کرنا چاہتا۔‘‘

’’ابھی چڑھائیوں کا سفر شروع نہیں ہوا، ابھی بات کر لیتے ہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے اگر تمہیں بہت شوق ہے تو بتاتا ہوں۔ حوریہ، وشاء، خیام اور فہرجادیہ، چاروں کلاس کے نالائق ترین اسٹوڈنٹ ہیں۔‘‘

’’یہ تو میں اچھی طرح جانتی ہوں مجھے تو اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ چاروں یونیورسٹی تک کیسے پہنچ گئے۔ ان کی تعلیمی حالت دیکھ کر تو بالکل نہیں لگتا کہ یہ فائنل ایئر کے اسٹوڈنٹس ہیں۔ میں نے ان چاروں میں کچھ عجیب سی باتیں محسوس کی ہیں۔ اس لیے میں تم سے ان کے بارے میں پوچھ رہی ہوں۔‘‘

’’تم بتاؤ کہ تم نے کیا محسوس کیا ہے۔ پھر میں تمہیں مزیدکچھ بتاؤں گا۔‘‘

اریبہ نے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالی اور پھر آہستگی سے کہنے لگی۔ ’’یہ چاروں ہمیشہ ہی ساتھ رہتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کی پل پل کی خبر ہوتی ہے۔

گزشتہ کچھ دنوں سے یہ چاروں کلاسز جوائن نہیں کر رہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ آج حوریہ کلاس میں نہیں ہے اور کل وشاء نہیں ہے۔ یہ چاروں ہی کلاس سے غائب ہوتے ہیں۔میں نے ایک اسٹوڈنٹ کو ان چاروں کا تعاقب کرنے کو کہا۔ اس اسٹوڈنٹ نے بتایا کہ وہ چاروں بار بار یونیورسٹی کے میوزیم میں جاتے ہیں اور کبھی کبھی یونیورسٹی کے ایسے حصے میں جاتے ہیں جہاں انہیں تنہائی میسر آئے۔‘‘

حسنان کی تمام تر توجہ اریبہ کی طرف مرکوز ہوگئی۔

’’میوزیم میں وہ چاروں کیا کررہے تھے۔ تم نے اس اسٹوڈنٹ سے پوچھا۔‘‘

’’اس اسٹوڈنٹ کا کہنا تھا کہ ان چاروں نے میوزیم سے کچھ چرایا ہے۔ کچھ چھوٹے چھوٹے سٹفڈ، مگر جب میں نے ان چاروں کی تلاشی لی تو مجھے ان سے کچھ نہیں ملا اور میوزیم کی اشیاء میں کچھ کمی نہیں لگی۔‘‘

حسنان نے اریبہ کی سیٹ پر ہاتھ رکھا ’’مگر مجھے کچھ ملا تھا، میں نے بھی ان کی مشکوک حرکات کا نوٹس لیتے ہوئے حوریہ کو کسی کام سے بھیج کے اسکے بیگ کی تلاشی لی تھی مجھے اسکے بیگ سے کالے جادو کی کتاب ملی۔ میں نے وہ کتاب اسکے بیگ میں واپس رکھ دی۔ اسی طرح سے میں نے خیام کے بیگ کی تلاشی لی، اسکے بیگ سے مجھے ہیروئن بھرے سگریٹ ملے۔ میں نے پرنسپل صاحب کو وہ سگریٹ دکھائے تو انہوں نے اس پر کچھ ایکشن نہ لیا۔ بس خیام کو بلا کر ڈانٹ دیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے یہ چاروں ہی ڈرگز لیتے ہوں۔‘‘

وہ دونوں جوں جوں ان چار اسٹوڈنٹس کی بات کرتے جا رہے تھے وہ تفریح بھرے ماحول سے کٹتے جا رہے تھے۔

ایک اسٹوڈنٹ بندر کی طرح چھلانگ لگا کر ان دونوں کے درمیان آگیا۔

’’سر! آپ کیوں اس قدر سنجیدہ بیٹھے ہیں۔ آپ نے جو کہا تھا کیا وہ بھول گئے ہیں۔ آپ نے کہا تھاکہ ٹرِپ پر جائیں گے تو میں تمہارا استاد نہیں تمہارا دوست بن کر رہوں گا۔‘‘

حسنان نے مسکراتے ہوئے اریبہ کی طرف دیکھا۔ ’’اور مِس اریبہ، یہ بھی تمہاری ٹیچر نہیں ہیں۔‘‘

اریبہ نے گھور کر حسنان کی طرف دیکھا۔

’’جی نہیں۔۔۔میں نے ان سے کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی۔‘‘

تین اسٹوڈنٹ مزید کھڑے ہوگئے۔

’’ہم کچھ نہیں جانتے آپ دونوں ہمارے ساتھ گیم کھیلیں۔ ایک اسٹوڈنٹ کا گانا جس حرف پہ ختم ہوگیا دوسرے کو اسی حرف سے گانا شروع کرنا ہوگا۔‘‘

اریبہ نے منہ بنایا۔ ’’حسنان!۔۔۔‘‘

’’کوئی بات نہیں اریبہ! ان کا ساتھ دیتے ہیں۔‘‘

پھر حسنان خیام سے مخاطب ہوا۔ ’’تم چاروں بھی کھیلو۔‘‘

خیام کی جگہ جواب وشاء نے دیا۔ ’’ہمارا موڈ نہیں ہے۔‘‘

اریبہ نے سر کو خفیف سا جھکایا۔

’’یہ لڑکی وشاء مجھے تو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ناک میں نتھنی اور جینس کے ساتھ شارٹ شرٹ، مہذب گھروں کی لڑکیوں کے یہ طور طریقے نہیں ہوتے۔‘‘

’’باغی لوگ ہر اس روایت سے بغاوت کرتے ہیں جو ان پر زبردستی مسلط کی جائے۔ چاہے وہ ان کے فائدے کے لئے بھی ہو۔ تم انہیں چھوڑو گیم کھیلتے ہیں۔‘‘ حسنان نے کہا۔

جب گانوں کا کھیل شروع ہوا تو ہنسی اور مذاق میں کب بیس کلو میٹر کا سفر طے ہوگیا پتہ بھی نہ چلا

حسنان نے شیشے سے باہر جھانک کے زوردار نعرہ لگایا۔

’’بس اب کھیل ختم، پہاڑی سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ لیٹس انجوائے اِٹ، مجھے یہ سب بہت پسند ہے“.

اریبہ نے مسکراتے ہوئے لمبا سانس کھینچا۔

’’دل چاہتا ہے کہ قدرت کے بنائے ان دلفریب مناظر کو آنکھوں میں جذب کر لوں۔‘‘

دیوہیکل پہاڑوں پر لگے چیڑ کے درخت جیسے آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے تھے۔ کچھ فاصلے کے بعد بس ایک ناہموار تنگ سڑک پر گولائی میں چکر کاٹتی ہوئی پہاڑی پر چڑھنے لگی۔

’’سانپ کی طرح لہریں بناتی ہوئی سڑک کو پیچھے چھوڑ کر ہم آسمان کو چھو رہے ہیں۔‘‘

ایک لڑکے نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے نعرہ لگایا۔

پہاڑی سلسلوں کا پر لطف سفر سبھی لڑکے لڑکیوں کے لیے خوشی بھری تفریح کا باعث تھا۔ تقریباً سبھی قدرت کے ان شاہکاروں کی پراسرار خوبصورتی میں محو تھے۔ پُرمزہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سفر انتہائی پُر خطر بھی تھا۔ کچھ سفر کے بعد اب بس بلند ترین چڑھائیوں کی طرف رواں دواں تھی۔

ونڈو سکرین سے کھائیوں کی طرف دیکھتے تو سر چکرا جاتا۔ پروفیسر حسنان نے اسٹوڈنٹس سے کہا

’’یہاں پر لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہوتا ہے اور یہ راستہ بھی دشوار گزار ہے۔ خاص طور پر ایک بھری ہوئی بس کے لیے ،اس لیے تم سب درود شریف کا ورد کرتے رہو۔‘‘

بلند ترین چڑھائیوں کے بعد مری سے پہلے آنے والے چھوٹے چھوٹے قصبوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پہاڑوں پر لوگوں کے بےترتیب گھروں کی آبادی حیران کن تھی۔ کہیں گھر پہاڑوں کی چوٹیوں پر دکھائی دیتے اور کہیں کھائیوں میں پہاڑوں کے کناروں پر آویزاں دکھائی دیتے۔ جس علاقے سے ان کی بس گزر رہی تھی وہ بلند ترین پہاڑی سلسلہ تھا۔

خیام اور فواد نے اپنے اپنے بیگ سنبھالے اور بس کے دروازے کے قریب بس کا راڈ پکڑ کے کھڑے ہوگئے۔

’’تم لوگ اپنی سیٹ پر بیٹھ جاؤ یہ سفر اس طرح کھڑے ہو کر کرنے والا نہیں ہے۔‘‘ حسنان نے ان دونوں سے کہا۔

خیام نے دھیرے سے پوچھا۔ ’’یہ پڑوکسل کا علاقہ ہے؟‘‘

’’ہاں‘ حسنان نے سرسری سا جواب دیا۔ خیام کے قریب بیٹھے ہوئے لڑکے نے مضحکہ آمیز انداز میں کہا۔

’’کیوں؟ تم نے یہاں سے چھلیاں لینی ہیں۔‘‘

سارے اسٹوڈنٹس ہنس پڑے وشاء اور حوریہ بھی خیام اور فواد کے ساتھ کھڑی ہوگئیں۔ اس بار انہیں مِس اریبہ نے ڈانٹا۔ ’’تم لوگوں کو بات سمجھ نہیں آتی۔ جاؤ جا کے اپنی اپنی سیٹس پر بیٹھو۔‘‘

فواد کے چہرے پر مکروہ مسکراہٹ بکھر گئی جس کے ساتھ ہی اس نے چلتی ہوئی بس کا دروازہ کھول دیا۔ پھر ان چاروں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے گہری کھائی میں اس طرح چھلانگ لگا دی جیسے انہوں نے پیرا شوٹ باندھ رکھے ہوں اور انہیں گرنے کا خطرہ نہ ہو۔

’’روکو۔۔۔گاڑی روکو‘‘ پروفیسر حسنان نے چلا کر ڈرائیور سے کہا۔

ڈرائیور نے ایمرجسنی بریک لگائی اور بس کے کنارے پر زور دار جھٹکے سے جا رکی۔

’’پروفیسر صاحب اس سڑک پر بس روکنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمارے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔‘‘

’’مگر ہمارا اس جگہ اترنا ضروری ہے تم ایسا کرو کہ مجھے اور اریبہ کو اور تین لڑکوں کو ادھر چھوڑ دو۔ باقی طالب علم گاڑی میں ہی بیٹھے رہیں۔ دو کلو میٹر کے فاصلے پر ہوٹل ہے۔ وہاں اسٹوڈنٹس کو چھوڑ کر واپس آنا۔‘‘

جیسا پروفیسر حسنان نے کہا۔ ڈرائیور نے ویس ہی کیا۔

پروفیسر حسنان اریبہ کے ساتھ عارفین ، حیدر اور بلال وہیں اتر گئے۔

اس اچانک پریشانی نے پروفیسر اور اریبہ کے ہوش اڑا دیئے۔ٹرِپ کے ساتھ جانے کی ساری خوشی ہوا ہوگئی۔ وہ پانچوں سڑک کے ساتھ پہاڑی سلسلے میں بکھر گئے۔

’’وہ چاروں انسان تھے یا آسیب، اس کھائی میں کس طرح کھو گئے۔ یہاں تو اس قدر گہرائی اور خوفناک پہاڑ ہیں کہ کوئی زندہ ہی نہیں بچ سکتا۔‘‘ حسنان نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔

عارفین، حیدر اور بلال بھی تھک ہار کے واپس آگئے۔

’’سر ان چاروں کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ ہمیں تو لگتا ہے ان چاروں نے خودکشی کی ہے۔‘‘ عارفین نے اپنی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ اپنی رائے دی۔

اریبہ تذبذب کی کیفیت میں بولی۔’’تم لوگوں کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ وہ یہاں کیا خودکشی کرنے آئے تھے۔‘‘

حسنان جو فرسٹریشن میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا چڑ کر بولا۔ ’’اگر خودکشی کرنی بھی تھی تو ہمارے ساتھ آنے کی کیا ضرورت تھی۔ کہیں پر بھی اپنا شوق پورا کر لیتے۔ اب ہم یونیورسٹی والوں کو اور ان چاروں کے پیرنٹس کو کیا جواب دیں گے۔‘‘

’’حسنان باتیں کرکے وقت برباد نہ کرو۔ ہمیں پولیس اور ریسکیوکی مدد لینی ہوگی۔‘‘ حسنان نے اریبہ کی بات سنتے ہی پولیس اور ریسکیو کے نمبر ملائے اور ان سے مدد مانگی۔اریبہ نے ان چاروں اسٹوڈنٹس کے والدین کو فون کرکے ساری صورت حال بتائی اور یونیورسٹی کے پرنسپل کو بھی ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔

یہ خبر ملتے ہی ان چاروں کے والدین نے کہرام برپا کردیا۔

پروفیسر حسنان اریبہ سے جھگڑ پڑا۔’’ابھی یہ خبر بتانے کی کیا ضرورت تھی۔ فون کالز کی وجہ سے ہم اپنا کام ٹھیک طرح سے نہیں کر پائیں گے۔‘‘

’’یہ خبر سننے کے بعد ان لوگوں کا ردعمل کچھ بھی ہو مگر انہیں حالات سے آگاہ کرنا ضروری تھا۔ ’’تم پولیس اور ریسکیو سے رابطہ کرو۔‘‘ اریبہ نڈھال ہو کر بڑے سے پتھر پر بیٹھ گئی۔

حسنان بھی اس کے قریب بیٹھ گیا۔ ’’یہ واقعہ ایسی جگہ پر ہوا ہے کہ جب تک ریسکیو یا پولیس یہاں تک پہنچے گی بہت دیر ہو چکی ہوگی۔‘‘

’’کتنی ہی دیر کیوں نہ لگ جائے وہ چاروں ملیں یا نہ ملیں لیکن ہمیں ان کی تلاش میں کوئی کمی نہیں چھوڑنی ہوگی۔‘‘

اریبہ کی بات سنتے ہی حسنان نے ریسکیو سے رابطہ کیا۔

اس کے بعد وہ اریبہ سے گویا ہوا۔’’میں نے فون کر دیا ہے تھوڑی دیر تک ریسکیو کی ٹیم روانہ ہو جائے گی۔ ہم سب مل کر ان چاروں کو ڈھونڈیں گے۔ ہمیں دوسرے اسٹوڈنٹس کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ میں ڈرائیور سے کہہ دیتا ہوں وہ تمہیں لے جائے گا۔‘‘

’’میں تمہارے پاس ہی رکوں گی۔‘‘

’’سمجھا کرو دوسرے اسٹوڈنٹس کے پاس بھی کسی کو ہونا چاہئے۔‘‘

حسنان نے ڈرائیور کو فون کیا۔ تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد ڈرائیور وہاں پہنچ گیا۔ حسنان کے کہنے پر وہ کچھ کھانے پینے کی اشیاء بھی لے آیا تھا۔

اریبہ اس کے ہمراہ چلی گئی۔

گہری کھائی کے گھمبیر پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کی تاریک غار سے سرگوشیوں کی آوازیں آرہی تھیں۔

سامنے سے اس غار کا منہ چھوٹا تھا مگر اندر سے وہ وسیع اور گہری تھی۔

ٹارچ کی دھیمی روشنی میں حوریہ ، فواد، خیام اور وشاء پتھر سے پشت لگائے غار کے اندر ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے۔

وشاء کے بازؤوں پر شدید چوٹ آئی تھی۔ خیام اس کے زخم پر مرہم لگا رہا تھا۔

وشاء کے حلق سے سی سی کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ اس نے خیام کی طرف دیکھا۔

’’مجھے تو تمہارا اور فواد کا پلان بالکل سمجھ میں نہیں آرہا۔ ہم یہاں سے کس طرح نکلیں گے۔ ایک تو راستہ دشوار اور دوسری طرف پروفیسر حسنان۔۔۔جس گھر کی تم بات کر رہے ہو وہاں تک ہم کیسے پہنچیں گے۔‘‘

خیام نے دھیرے سے وشاء کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ’’یہ تمہارا مسئلہ نہیں، تم صرف اپنا خیال رکھو۔ میں اور فواد سب سنبھال لیں گے۔ ہم دونوں نے سب کچھ پلان کر رکھا ہے۔ بس تم اور حوریہ اس بات کا خیال رکھو کہ پروفیسر حسنان ہم تک نہ پہنچے۔‘‘

فواد اور حوریہ نے اپنے بیک بیگ کے بیلٹس ٹائٹ کیے اور خیام کے قریب آئے۔’’خیام، جلدی ڈریسنگ کرو ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔‘‘ فواد نے کہا۔

خیام نے فواد کی طرف دیکھا۔ ’’پروفیسر حسنان اور اس کے ساتھ بہت سے لوگ ہمیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ ابھی باہر نکلنا ٹھیک نہیں ہوگا۔‘‘

’’لیکن ہمارا اس طرح کسی ایک جگہ رکنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ جو ہماری منزل ہے۔ وہاں تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اس جگہ پہنچنے کے بعد کوئی ہمیں ڈھونڈ نہیں سکتا۔‘‘

خیام نے اپنا بیک بیگ اٹھایا اور فواد کے سامنے کھڑا ہوگیا۔’’تم جلد بازی سے کام لے رہے ہو۔ اس غار میں ہم محفوظ ہیں۔ یہ غار باہر سے اس قدر تنگ ہے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہاں کوئی چھپ بھی سکتا ہے۔ یہ جگہ بہت خطرناک ہے۔ پروفیسر حسنان اور اس کے آدمی، زیادہ دیر تک ہمیں نہیں ڈھونڈیں گے۔ یقیناً وہ مغرب سے پہلے چلے جائیں گے اور پھر ہم رات کے اندھیرے میں اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔‘‘

’’تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ تم جانتے ہو تمام راستے کس قدر دشوار گزار ہیں اور اندھیرے میں۔‘‘

حوریہ نے فواد کی بات کاٹ دی۔’’آئی تھنک خیام ٹھیک کہہ رہا ہے۔ رات کے اندھیرے میں ہمیں کتنی ہی دشواری کیوں نہ ہو، ہمیں دن کی روشنی میں باہر جانے کا رسک نہیں لینا چاہئے۔‘‘

’’یہاں ٹھہرنا بھی تو رسک ہے۔ ‘‘ فواد نے کہا۔

’’دیکھا جائے گا۔‘‘ حوریہ نے اپنا بیک بیگ پھینک دیا۔

فواد بھی اپنا بیگ پھینک کر ان کے پاس بیٹھ گیا۔

ادھر پروفیسر حسنان ریسکیو کی ٹیم کی مدد سے ان چاروں کو تلاش کررہا تھا۔

غار کی گھمبیر تاریکی میں وہ اپنے سارے کام ٹارچ کی معمولی سی روشنی میں کر رہے تھے۔

حوریہ نے اپنے بیگ سے برگرز نکالے اور اپنے دوستوں کو دیئے۔

خیام نے برگر کا ایک لقمہ لیا اور فواد سے گویا ہوا، ’’جس ریسٹ ہاؤس کی تم بات کر رہے ہو تم نے مجھے اس کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا بس یہی بتایا ہے کہ وہ سالوں سے بند پڑا ہے۔ وہاں کوئی نہیں جاتا اور وہ لوگوں کی نظروں سے چھپا ہوا بھی ہے۔‘‘

فوادنے مسکراتے ہوئے کیچپ برگر پر ڈالا۔ ’’اس ریسٹ ہاؤس کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ دو سال پہلے میری ایک لڑکے سے دوستی ہوئی تھی۔ اس نے مجھے اس ریسٹ ہاؤس کے بارے میں بتایا تھا۔ وہ اس کے دادا کا تھا۔ لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تو اس ریسٹ ہاؤس کے ساتھ تین ریسٹ ہاؤس نیست و نابود ہوگئے۔ اس ریسٹ ہاؤس کے اوپر لینڈ سلائیڈنگ سے دو اطراف سے پہاڑ اس طرح سرک گئے ہیں کہ وہ ریسٹ ہاؤس نہ صرف چھپ گیا ہے بلکہ رہائش کے قابل بھی نہیں ہے۔ مگر ہمیں جو عمل کرنا ہے اس کے لیے وہ جگہ ٹھیک ہے۔ ہماری وہاں موجودگی کے بارے میں کوئی بھی شک نہیں ہو سکتا۔‘‘

وشاء نے دلچسپی سے پوچھا ’’کسی نے تو کوشش کی ہوگی اس ریسٹ ہاؤس کی نئی کنسٹرکشن کی۔‘‘

’’ہاں۔۔۔میرے دوست کے چچا نے کوشش کی تھی۔ مگر ان کی اس ریسٹ ہاؤس سے لاش ملی اس کے بعد کسی نے اس ریسٹ ہاؤس کی کنسٹرکشن ہی نہ کی۔‘‘

’’اور وہ تمہارا دوست۔۔۔؟‘‘ وشاء نے پوچھا۔

’’اس کی پچھلے مہینے ڈیتھ ہوگئی ہے۔‘‘

’’مگر کیسے۔۔۔!‘‘ وشاء چونک گئی۔

’’میں نے معلوم نہیں کیا وہ میرا اتنا قریبی دوست نہیں تھا۔ بس اس کا وقت پورا ہو چکا ہوگا۔‘‘

حوریہ نے سراسیمہ نگاہوں سے فواد کی طرف دیکھا۔

’’کہیں اس ریسٹ ہاؤس میں آسیب کا سایہ تو نہیں۔‘‘

’’اگر آسیب کا سایہ نہیں ہے تو وہاں ہم جا رہے ہیں نا آسیب کا سایہ ہو جائے گا۔‘‘ خیام اونچی آونچی آواز میں ہنسنے لگا۔

فواد نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ ’’آواز بند کرو اپنی، ہم سب کو مروانے کا ارادہ ہے۔‘‘ وشاء نے طنزیہ نگاہ سے فواد کی طرف دیکھا۔

’’تم الٹ بول رہے ہو۔ ہم تو زندگی سے بھاگ رہے ہیں اور موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘‘

فواد چڑ گیا ’’ہم تمہیں اپنے ساتھ زبردستی نہیں لائے تم خود آئی ہو۔ ابھی بھی وقت ہے اگر ہمارے ساتھ نہیں جانا چاہتی تو پروفیسر حسنان کے ساتھ چلی جاؤ۔‘‘

’’نہیں مجھے اس دنیا میں واپس نہیں لوٹنا جس نے مجھے سوائے غموں کے اور کچھ نہیں دیا مجھے اپنے ایک ایک دکھ کا حساب لینا ہے اس دنیا سے۔‘‘ وشاء سنجیدہ ہوگئی۔

۔۔۔

پروفیسر حسنان نے ریسکیو کی ٹیم کے ساتھ ان چاروں کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ان چاروں کے گھر والے بھی پہنچ گئے تھے۔ وہ بھی اپنے طور پر ان چاروں کو ڈھونڈتے رہے مگر وہ سب ناکام رہے۔ بالآخر اندھیرا ہونے پر ان سب کو واپس لوٹنا پڑا۔ ان چاروں کے گھر والے بھی پروفیسر حسنان کے ساتھ ہوٹل لوٹ گئے

رات کا اندھیرا ہونے پر فواد، خیام ، وشاء اور حوریہ غار سے نکلے اور انتہائی مشکل سے سڑک تک پہنچ گئے اور ریسٹ ہاؤس کی طرف چل پڑے۔ بہت مہارت اور ہوشیاری سے وہ ریسٹ ہاؤس کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

رات کے اندھیرے میں پہاڑوں میں چھپا ہوا ریسٹ ہاؤس بالکل بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ انہیں ریسٹ ہاؤس ڈھونڈنے میں کافی دیر لگی۔

فواد اور خیام اپنی اپنی ٹارچ سے ریسٹ ہاؤس کے اندر داخل ہونے کا راستہ ڈھونڈنے لگے۔

وشاء اور حوریہ بہت تھک گئی تھیں۔ وہ دونوں ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گئیں۔

خیام نے فوادکو آواز دی۔’’ادھر آؤ فواد دروازہ مل گیا ہے۔‘‘

فواد ، خیام کے پاس گیا۔ اس نے دروازے کو چھوا۔

’’اس پر تو قفل لگا ہوا ہے۔‘‘

ان دونوں نے دروازے کا قفل توڑا۔

حوریہ اور وشاء بھی سامان اٹھائے ان دونوں کی طرف بڑھ گئیں۔

جونہی خیام نے دروازہ کھولا۔ دُھول سے اسے کھانسی آنے لگی۔

حوریہ نے آگے بڑھ کر مکڑی کے بڑے بڑے جالے صاف کیے اور وہ چاروں اندر داخل ہو گئے۔ اندر داخل ہوتے ہی فواد نے دروازہ بند کر دیا اور وہ چاروں خود کو قدرے محفوظ سمجھنے لگے۔

وہ جوں جوں آگے بڑھ رہے تھے دھول اوربڑے بڑے جالوں سے انہیں سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔

یہ چھوٹا سا ریسٹ ہاؤس تین کمروں ، ایک کچن اور ایک باتھ روم پر مشتمل تھا۔

ساری عمارت انتہائی خستہ حال تھی۔ دراڑیں، چھتیں جگہ جگہ سے ٹوتی ہوئی، فرش دھول، مٹی اور پتھروں سے بھرا ہوا تھا۔

وشاء اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے اکتاہٹ میں بولی۔’’یہ ریسٹ ہاؤس نہیں کھنڈر ہے۔‘‘

خیام فرش سے نوکدار پتھر اٹھا کے راستہ صاف کرنے لگا۔ ’’جیسا بھی ہے ایک کمرہ تو مل کر صاف کرنا ہوگا تاکہ ہم رات گزار سکیں۔‘‘

حوریہ نے کمرے کے چاروں اطراف میں ٹارچ گھمائی۔ ’’تھوڑا بہت صاف کر لیتے ہیں باقی دن کی روشنی میں صاف کریں گے۔ یہاں پرکون سا بجلی ہے ۔ اندھیرے میں اس طرح چیزوں کو الٹ پلٹ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘

وہ چاروں جس کمرے میں کھڑے تھے وہ ہال نما بڑا کمرہ تھا۔

کمرے کے فرنیچر کوکپڑوں سے ڈھانپا ہوا تھا۔ سفید کپڑوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ دیمک نے اس فرنیچر کا کیا حال کیا ہوگا۔

دیوار پرانتہائی پرانی طرز کی وال کلاک لگی تھی۔ دیوار کے ساتھ آتش دان تھا۔ جس پر سفید جالی کے پردوں کی طرح جالے لٹک رہے تھے۔ وہ چاروں سردی سے تھرتھر کانپ رہے تھے۔

حوریہ اپنے کندھے سُکیڑے آتش دان کے قریب آئی۔

‘‘کاش یہاں آگ جل جائے ہم سارے ادھر ہی رات گزار لیں گے۔‘‘

وشاء بھی حوریہ کے قریب آگئی’’اگر ایسا ہو جائے تو کیا ہی بات ہے لیکن ہمیں لکڑیاں کہاں سے ملیں گی۔‘‘ فواد نے ایک کرسی سے کپڑا اتارا۔

’’یہ گلا سڑا فرنیچر کس کام آئے گا۔‘‘ یہ کہہ کر فواد نے کرسی کو جس کو دیمک نے جگہ جگہ سے کھوکھلا کر دیاتھا دو تین ضربیں لگائیں کرسی دو تین حصوں میں ٹوٹ گئی۔ آتش دان صاف کرنے کے بعد خیام اور وشاء وہاں لکڑیاں رکھ کر آگ جلانے لگے اور فواد اور حوریہ کمرے کی تھوڑی بہت صفائی کرنے لگے۔ خیام نے لکڑیاں ترتیب سے رکھ کے اپنے لائٹر سے ان میں آگ لگا دی۔ آگ جل گئی تو وہ چاروں آتش دان کے قریب بیٹھ گئے۔

حوریہ اپنے کندھے سکیڑے چھت کی طرف دیکھ رہی تھی۔’’فواد! یہ چھت اس قدر خستہ حال ہے نہ جانے کب ہمارے اوپر آ گرے۔‘‘

’’گرتی ہے تو گر جائے ہرجنگ جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ تم ہر طرح کا ڈر اپنے اندر سے نکال پھینکو، آسانیوں بھری زندگی بھی کوئی زندگی ہے۔ زندگی میں اینڈونچر ہونا چاہئے۔ چیلنجز ہونے چائیں۔‘‘

حوریہ جیسے تپ گئی’’تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں بزدل نہیں ہوں۔ لڑکی ہونے کے باوجود سینے میں پتھر جیسا دل رکھتی ہوں۔ مگر کسی غیر محفوظ جگہ کو محفوظ کہنا حماقت ہے اور میں احمق نہیں ہوں۔‘‘

’’میں تو یونہی کہہ رہا تھا تمہارا اس مِشن میں ہونا ہی تمہاری بہادری کی دلیل ہے۔ اس مِشن میں آنے والے ہر فرد کا سینہ پتھر کا ہی ہے جس پر احساسات چھید نہیں کر سکتے۔ ہمارے والدین خوامخوہ ہمیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ ہمیں مردہ تصور کر کے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔‘‘

خیام نے بھی فواد کی تائید کی۔’’اب ہمیں وہ ہمارے حال پر چھوڑ دیں۔ ہم ان کی اولاد تھوڑی ہیں ہم تو ان کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں ہیں۔ اب ہم وہی کچھ کریں گے جو ہمارا دل چاہے گا۔‘‘

حوریہ نے فواد کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔’’ہمیں ان جیسا عام انسان نہیں ہمیں تو خاص بننا ہے‘‘ اس ساری گفتگو میں وشاء خاموش تھی۔

بیٹھے بیٹھے کہیں کھوگئی تھی۔ سو چکے دریچوں سے اپنے ماضی میں جھانکنے لگی تھی۔ جہاں اس کی ماں اس پر اپنی محبتیں نچھاور کررہی تھی وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ڈیڈی انتہائی مصروف رہتے تھے مگر ماں کی محبت جیسے اسکی ہر کمی پوری کر دیتی تھی۔ ڈیڈی کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھا۔ وہ زیادہ بیرون ملک ہی رہتے۔ اگر گھر پر ہوتے تو اپنے آفس میں نیٹ پر مصروف رہتے۔

وہ سولہ برس کی ہوئی تو تقدیر نے اس سے جیسے اس کی ساری خوشیاں چھین لیں۔ اس کی والدہ کاانتقال ہوگیا۔ ڈیڈی نے تو دو ماہ بھی صبر نہ کیا اور نئی شادی رچا لی۔سوتیلی ماں کے برتاؤ نے وشاء کی شخصیت میں جو تبدیلیاں پیدا کیں۔ اس سے اس کی راہیں گم ہو گئیں۔ اپنے ہی گھر میں انجان ہونے کے احساس نے اسے بے گھر کر دیا۔

خیام نے وشاء کے سرپر تھپکی دی۔’’تم کہاں کھوگئی ہو۔‘‘ وشاء کے لبوں پرپھیکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔

’’کچھ نہیں میں یہ سوچ رہی تھی کہ جب ہم والدین کے گھر میں اپنے مجسم وجود میں اپنا آپ کھو دیتے ہیں تو وہ ہمیں ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کرتے مگر جب ہمارا وجود ان کی آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے تو ہمیں تلاش کرتے ہیں۔‘‘

خیام نے اپنی جیکٹ اتار کر وشاء کے کندھوں پر ڈال دی۔’’اب وہ ہمیں جتنا بھی ڈھونڈ لیں ہم تک نہیں پہنچ سکتے۔‘‘

باتیں کرتے کرتے کب ان کی آنکھ لگ گئی۔ انہں پتہ ہی نہ چلا۔

چھت کی دراڑوں میں سے اور بند کھڑکیوں کے چرے ہوئے دروازوں سے سورج کی روشنی چھن چھن کر ان کے چہروں پر پڑی تو وہ نیند سے بیدار ہوئے۔

فواد ، حوریہ اور خیام دھیرے دھیرے آنکھیں کھول رہے تھے مگر وشاء کو پانی کی طلب ہو رہی تھی۔ وہ آنکھیں ملتی ہوئی اٹھ بیٹھی۔ اسنے اپنے قریب پڑی ہوئی پانی کی بوتل اٹھائی اور اس کا ڈھکن کھول کر بوتل منہ سے لگا لی۔ اس کی نظر اردگرد کے ماحول پر پڑی تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کمرے کا ماحول تبدیل ہو چکا تھا۔ فرش صاف ستھرا تھا۔ اس پر گندگی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔

گندے کپڑوں سے ڈھانپا ہوا بوسیدہ فرنیچر نئے فرنیچر کی طرح دمک رہا تھا۔

پانی وشاء کے منہ میں ہی رہ گیا اسنے بہ مشکل پانی حلق میں اتارا تو خیام کو جھنجھوڑتے ہوئے اٹھانے لگی۔’’ خیام اٹھو۔۔۔‘‘

’’کیا بات ہے۔۔۔سخت نیند آرہی ہے۔ ایک سورج سونے نہیں دے رہا اوپر سے تم۔۔۔‘‘وشاء نے ایک بار پھر اسے جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔

’’اٹھو خیام۔۔۔‘‘

وشاء کی گھبرائی ہوئی آواز سے فواد اور حوریہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئے۔

خیام بڑبڑاتا ہوا اٹھ بیٹھا۔’’اب بتاؤ کیا مصیبت آگئی ہے۔‘‘

’’’میری طرف نہیں سامنے دیکھو۔‘‘ وشاء نے اس کا چہرہ سامنے کی طرف موڑ دیا۔

خیام کے ساتھ ساتھ فواد اور حوریہ کی بھی حیرت میں ڈوبی ہوئی آواز نکلی’’اوہ مائی گاڈ! یہ سب کیسے ہوگیا۔‘‘

فواد نے پھرتی سے اپنے بیگ سے اپنی پسٹل نکال لی۔‘‘اس کا مطلب ہے کہ یہاں پرکوئی ہے۔‘‘

’’ہاں بلا شبہ ہمارے آنے سے پہلے یہاں کوئی رہتا ہوگا۔‘‘

وہ چاروں یک دم چوکنے ہو گئے۔

حوریہ اور وشاء دھیرے دھیرے چلتے ہوئے فرنیچر کے قریب آئیں۔ حوریہ نے صوفے کو چھوا۔

’’ایک رات میں کوئی انسان اتنی صفائی کیسے کر سکتا ہے۔‘‘ وہ بھی تب جب یہاں بجلی بھی نہ تھی۔‘‘

’’صفائی کی بات تو ذہن مان سکتا ہے مگر یہ گلا سڑا فرنیچر، یہ کیسے نیا بن گیا۔‘‘ وشاء صوفے کے قریب آئی۔

خیام نے بھی اپنی گن نکالی اور وشاء سے مخاطب ہوا۔ ’’تم دونوں یہیں ٹھہرو ہم ابھی آتے ہیں۔‘‘ وہ دونوں ریسٹ ہاؤس کے سارے کمروں میں گئے۔ باقی کمرے بھی ہال کی طرح صاف ستھرے تھے اور ان کے فرنیچر چمک رہے تھے۔

کھنڈر نما ریسٹ ہاؤس ایک خوبصورت رہائش گاہ میں تبدیل ہوگیا تھا۔

فواد اونچی اونچی آواز میں چلا رہا تھا ’’کون ہے یہاں سامنے آؤ۔‘‘ مگر ہر طرف سناٹے یہ سرگوشی کر رہے تھے کہ یہاں برسوں سے کوئی نہیں آیا۔ ان چاروں کے علاوہ اس ریسٹ ہاؤس میں کوئی نہیں تھا۔

وہ دونوں کچن میں داخل ہوئے تو ہر چیز اپنی جگہ سلیقے سے سیٹ تھی۔

ڈائننگ ٹیبل پر گرم گرم ناشتہ لگا ہوا تھا اور اس کے ساتھ تازہ پھل پڑے تھے۔

فواد نے حیرانی سے خیام کی طرف دیکھا۔’’یار! ان غیر آباد پہاڑوں پر اور اس کھنڈر میں یہ سب کچھ کیسے۔ اور پورے ریسٹ ہاؤس میں کسی انسان کا نام و نشان تک نہیں ہے۔‘‘

خیام نے اپنا سوکھا ہوا حلق تر کیا ’’ہو سکتا ہے کہ وہ شخص باہر گیا ہو۔‘‘

’’باہر جانے کا دروازہ تو اندر سے بند ہے اس کے علاوہ باہر جانے کا کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں۔‘‘ فواد نے اپنی گن بیلٹ میں ڈال لی۔

’’جو کچھ بھی ہے کسی نے یہ ناشتہ ہمارے لئے ہی بنایا ہے۔ میز پر پوری چار پلیٹیں پڑی ہیں۔‘‘ خیام نے کہا۔

’’مگر ہم یہ چیزیں نہیں کھا سکتے۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ آخر یہ سب کیا ہورہا ہے۔’’فواد نے بے چینی سے اردگرد دیکھا تو اس کی نظر کچن کی دیوار پر ٹھہر گئی جہاں کسی نے خون سے لکھا تھا۔

’’طلسماتی اور سنسناتی دنیا میں تمہارا خیر مقدم۔‘‘

’’وشاء ، حوریہ، جلدی آؤ۔‘‘ خیام کے پکارنے پر وشاء اور حوریہ کچن میں داخل ہوئیں۔

دونوں تحریر پڑھ کر دم بخود رہ گئیں۔ ’’یہ تحریر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس ریسٹ ہاؤس میں کسی ماورائی قوت کا بسیرا ہے۔‘‘ وشاء نے کہا۔

حوریہ نے دیوار کے قریب جا کے دیوار کو چھوا تو خون میں چپچپاہٹ ابھی تک موجود تھی۔’’یہ تحریر تازہ خون سے لکھی گئی ہے۔ کسی نے واقعی ہمیں خوش آمدید کہا ہے مگر ہمیں بہت محتاط رہنا چاہئے۔‘‘

یہ کہہ کر حوریہ نے اپنے دونوں بازو مشرق و مغرب کی سمت کی طرف پھیلا لیے۔ آنکھیں بند کر لیں اور بلند آواز میں گویا ہوئی۔

’’ہم تمہارے مہمان ضرور بنیں گے مگر ہمیں ثبوت دو کہ تم کوئی ماورائی قوت ہو یا انسان ہو۔‘‘

’’حوریہ یہ تم کیا کر رہی ہو۔‘‘ فواد ، حوریہ کی طرف بڑھنے لگا تو جسم کو جھلسا دینے والی تیز حرارت نے اسے حوریہ سے دور کر دیا۔

حوریہ جس حالت میں کھڑی تھی اسی حالت میں جیسے پتھر کی ہوگئی۔

وشاء اور خیام بھی اسے پکارتے رہے مگر اس نے کسی کی طرف بھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔ کچھ دیر کے بعد جب وہ اپنے دوستوں کی طرف پلٹی تو اسکے چہرے کے خدوخال تبدیل ہو چکے تھے۔ چہرے کی جلد سلیٹی مائل ہوکے سلوٹوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔ وشاء چیخ کر خیام کے کندھے سے لگ گئی۔

حوریہ مردانہ گرج دار آواز میں بولی۔’’طلسماتی اور سنسناتی دنیا میں خوش آمدید۔ تم فانی دنیا کے کمزور لوگوں کو چھوڑ کر ہماری دنیا میں شامل ہونے آئے ہو۔ اپنے دل سے انسانوں کے ڈر کو نکال پھینکو۔ میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ایک ویمپائر کی طاقت اس کا ارادہ ہوتی ہے۔ جس مِشن پر آئے ہو صرف اس پر دھیان دو۔ مجھے اپنا دوست سمجھو۔ تمہاری ہر مشکل تمہارے پکارنے سے پہلے حل کر دوں گا۔ میں ولہان ہوں، بار بار ظاہر نہیں ہو سکتا۔ میری پوروں میں بھی آگ ہے اور میری سانسوں میں بھی، کچھ دیر یہاں اور رکا تو یہ ریسٹ ہاؤس جل کر راکھ ہو جائے گا اور ساتھ میں تمہاری دوست بھی۔‘‘

آواز کے ختم ہوتے ہی حوریہ کا جسم بجلی کے سے جھٹکے لینے لگا۔ ایک سفید ہیولہ اس کے جسم سے نکل کر ہوا میں تحلیل ہوگیا۔

حوریہ زمین پر اس طرح گری جیسے کسی نے اسے پٹخ کر زمین پر دے مارا ہو۔

فواد نے اسے سہارا دے کر بیٹھایا۔ وہ نڈھال تھی۔ اسے پانی پلایا۔

’’مجھے کیا ہوا تھا۔۔۔؟‘‘ حوریہ نے اپنے بکھرے ہوئے بالوں کو سمیٹتے ہوئے فواد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

’’کچھ نہیں۔۔۔تمہیں چکر آگیا تھا۔‘‘ فواد نے حوریہ کو سہارا دیتے ہوئے کھڑا کیا۔

وہ چاروں ڈائننگ ٹیبل کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ بھوک تو بہت لگی ہے، کیا خیال ہے۔‘‘خیام نے فواد سے پوچھا۔

فواد نے لاپروائی سے کہا ’’دیکھا جائے گا۔ شروع کرو۔‘‘

حوریہ نے پلیٹوں کے اوپر ہاتھ رکھ لیے۔‘‘ یہ کسی کی سازش بھی ہو سکتی ہے۔‘‘

خیام نے تمسخرانہ انداز میں حوریہ کی طرف دیکھا۔ ’’خود ہمیں ناشتے کی پیشکش کرکے اب منع کر رہی ہو۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘ حوریہ نے حیرت سے خیام کی طرف دیکھا۔

فواد نے مسکراتے ہوئے حوریہ سے کہا ’’تم ناشتہ کرو۔ ہم تمہیں بعد میں ساری بات بتا دیں گے۔‘‘

ان چاروں نے ناشتہ کر لیا اور اس کے بعد چاروں اپنے مِشن کی تیاریوں میں مصروف ہوگئے

پروفیسر حسنان اور اریبہ خیام، وشاء ، حوریہ اور فواد کے والدین کے ساتھ مسلسل ان چاروں کی تلاش میں مصروف تھے۔

جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا۔۔۔ان چاروں کے والدین کے خدشات بڑھتے جا رہے تھا۔۔۔جس کی وجہ سے پروفیسر حسنان اور اریبہ پر دباؤ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔

تقریبا پورا دن ہی وہ لوگ تلاش میں مصروف رہے۔ رات کو تھک ہار کے واپس ہوٹل آئے تو گمشدہ اسٹوڈنٹس کے والدین اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔

پروفیسر حسنان اور اریبہ اپنے اپنے کمروں میں جانے کے بجائے باہر بینچ پر ہی بیٹھ گئے۔ رات کے اندھیرے میں اس پہاڑ کا منظر بہت ہی خوبصورت تھا۔

آسمان پر ٹمٹماتے ہوئے ستارے اتنے قریب محسوس ہو رہے تھے کہ یہ گمان ہو رہا تھا جیسے وہ اس آسمان میں ہی کہیں موجود ہیں۔

پہاڑوں کے نشیب و فراز پر جگمگاتے ہوئے گھر بھی اس طرح دکھائی دے رہے تھے جیسے قدرت نے کچھ ستارے ان پہاڑوں پر بھی پھینک دیئے ہوں مگر یہ ساری خوبصورتی حسنان اور اریبہ کے لیے بے معنی ہو گئی تھی۔

اریبہ کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔

’’حسنان! یہ سب کیا ہوگیا۔ ہم کتنے شوق سے اسٹوڈنٹس کو تفریح کے لیے لے کر آئے تھے اور اس پریشانی کا شکار ہوگئے۔ مجھے تو بار بار اس غلطی کا احساس ہوتا ہے کہ ہم نے ان چاروں پر نظر کیوں نہیں رکھی۔ ان کا عجیب برتاؤ دیکھ کر ہمیں انہیں اپنے ساتھ ہی نہیں لانا چاہئے تھا۔ ہمارے سٹاف کی ، یونیورسٹی کی کس قدر بدنامی ہوئی ہے۔‘‘

پروفیسر حسنان نے لمبا سانس کھینچا

’’یہ سب باتیں تو قابل برداشت ہیں مگر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر ان چاروں کو کچھ ہوگیا تو ان کے والدین پر کیا گزرے گی۔ مری کا کوئی ہوٹل ہم نے نہیں چھوڑا۔ مری کے قریب علاقوں کے ہوٹلوں میں بھی ڈھونڈا۔ دور دراز کے علاقوں میں تو وہ اتنی جلدی نہیں پہنچ سکتے۔ مگر پھر بھی وہاں پر فون کے ذریعے ہوٹلز کے مالکان سے رابطہ ہے۔ ٹریفک پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پورے شہر میں پولیس پھیلی ہوئی ہے۔ وہ چاروں آخر گئے کہاں؟‘‘

اریبہ مسلسل کچھ سوچ رہی تھی پھر اس نے حسنان کی طرف دیکھا۔ ’’میرا خیال ہے کہ ہمیں ان کے والدین کو ان چاروں کی گزشتہ دنوں کی حرکات سے آگاہ کرنا چاہئے۔ اس سے بھی ان چاروں کی تلاش میں مدد ملے گی۔ آخر ان چاروں کے ذہن میں چل کیا رہا تھا۔ انہوں نے کھائی میں چھلانگ لگا دی۔ ان چاروں کی غیر اخلاقی حرکات کا نوٹس نہ لینے کے جس قدر ذمے دار ہم ہیں۔ اتنے ہی ذمےدار ان کے والدین ہیں۔‘‘

صبح ہوتے ہی اریبہ اور حسنان نے ان چاروں کے والدین کو باہر لان میں بلایا۔

وہ سب باہر لان میں کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ پریشانی سے سب کی حالت بہت خراب تھی۔ ایک رات مزید گزر جانے کے بعد ان کا حوصلہ ٹوٹنے لگا تھا۔

فواد کے والد ہائی بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ حسنان کے بات شروع کرنے سے پہلے ہی وہ بول اٹھے۔

’’اب یہاں پر ہمیں کیوں بلایا ہے۔ آپ لوگ باتیں کرنے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں۔ ہمارا وقت برباد نہ کریں۔ ہم اپنے طور پر اپنے بچوں کو ڈھونڈیں گے۔‘‘

’’پلیز انکل آپ تحمل سے ہماری بات تو سنیں۔‘‘ اریبہ نے انہیں کرسی پر بٹھایا اور پھر حسنان کو خاموش رہنے کا اشارہ کرکے خود بات شروع کی۔

’’دیکھئے کسی بھی منزل تک پہنچنے کے لیے راستے کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح چاروں تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ گمشدہ ہونے سے قبل وہ چاروں کس قسم کے حالات سے دوچار تھے۔ ان دنوں ان کی حرکات کیا تھیں وہ کس قسم کے لوگوں سے مل رہے تھے۔ میرا مطلب ہے کہ وہ کس راستے پر چل رہے تھے۔ ایسا کیا ہوا تھا انہوں نے اتنا بڑا قدم اٹھایا۔ اگر ان سب باتوں کا علم ہو جائے تو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ وہ کہاں گئے ہوں گے۔‘‘

خیام کی والدہ کو اریبہ کی بات معنی خیز لگی، وہ باقی لوگوں سے مخاطب ہوئی۔’’میرا خیال ہے کہ آپ مرد حضرات یہیں ٹھہریں اور ہم خواتین اپنے گھروں میں جا کے ان کے کمروں کی تلاشی لیتی ہیں، ان کے کمپیوٹرز سے بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان کا میل جول کن لوگوں سے تھا۔‘‘

وشاء کے والد نے بھی اس کی بات کی تائید کی اور کہا

’’اس علاقے کا تو ہم نے چپہ چپہ چھان مارا ہے۔ ویسے بھی ادھر پولیس انہیں تلاش کر رہی ہے۔ ہمیں انہیں دوسری جگہوں پر تلاش کرنا چاہئے۔ مِس اریبہ کے کہنے کے مطابق ہمیں انکی چیزوں کی تلاش بھی لینی ہوگی۔ میں آج ہی گھر کے لیے روانہ ہو جاؤں گا۔‘‘

حسنان نے اریبہ سے سرگوشی کے انداز میں کہا۔

’’میرا خیال ہے کہ تم جو بات کہنا چاہتی تھیں وہ کہہ دو۔ تمہاری بات یہ سب زیادہ غور سے سنیں گے۔‘‘ اریبہ نے بات شروع کی تو بولتے بولتے خاموش ہوگئی۔

ندامت کے احساس سے اس کی زبان میں جیسے بل آگیا کیونکہ وہ جو کچھ بتانے جا رہی تھی اس کا ذمہ دار اس کا سٹاف بھی تھا۔

پھر بھی اسنے ہمت کرکے دوبارہ بات شروع کی۔

’’یونیورسٹی کے دوسرے اسٹوڈنٹس کی نسبت ان چاروں کا برتاؤ بہت عجیب تھا۔ تعلیمی حالت کا تو آپ لوگوں کو علم ہے۔ وہ کلاس میں سب سے پیچھے تھے حیرت کی بات تو یہ تھی کہ ان کا ہر عمل ایک جیسا تھا۔ ایک بات کا مجھے بہت افسوس ہے کہ ان کی کچھ باتیں جو ہمیں آپ لوگوں کے علم میں لانی چاہئے تھیں۔ ان سے ہم آپ کو آگاہ نہیں کر سکے۔

پروفیسر حسنان نے ایک بار حوریہ کے بیگ کی تلاشی لی تو انہیں اس کے بیگ سے Black Magic کی کتاب ملی۔ اسی طرح سے انہوں نے خیام کے بیگ کی تلاشی لی تو انہیں اس کے بیگ سے ڈرگز ملی۔

حسنان نے پرنسپل صاحب کو ان باتوں سے آگاہ کیا تو انہوں نے حوریہ اور خیام کو اپنے آفس میں بلا کر سمجھا دیا۔ مگر آپ لوگوں کو اس ساری صورت حال سے آگاہ نہیں کیا۔‘‘

حوریہ اور خیام کے والدین کسی قسم کا سخت ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے سر جھکائے خاموش تھے۔ جیسے وہ خود بھی اپنے بچوں کی ان حرکات سے واقف تھے۔

حوریہ کی والدہ نے ٹشو سے اپنے آنسو پونچھے۔’’ان سب باتوں کا جتنا ذمہ دار آپ کا سٹاف ہے اس سے کہیں زیادہ یہ ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ یہ تو اساتذہ کی کاوشوں کا نتیجہ تھا کہ وہ یونیورسٹی تک پہنچ گئے۔ مگر رشتوں کے معاملات میں وہ اس قدر باغی کیسے ہوگئے۔ ان کا برتاؤ ایسا جارحانہ ہوگیا کہ انہیں ہر طرف سے دھتکار اور نفرت ملنے لگی۔ ایسا کیا ذہنی انتشار تھا کہ وہ ڈرگز کی طرف مائل ہوگئے۔‘‘ حوریہ کی والدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

***

ان چاروں کے والدین ایک روز کے لیے اپنے اپنے گھروں کولوٹ گئے۔ انہوں نے ان چاروں کے کمروں کی اچھی طرح تلاشی لی۔

ان کے Contactچیک کیے اور جو اشیاء خاص لگیں انہیں ایک بیگ میں ڈال لیا۔

خواتین اپنے گھروں میں رہ گئیں۔ اور ان چاروں کے والد دوبارہ مری پہنچ گئے۔

انہوں نے پولیس کی مدد سے تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا اور دور دراز کے علاقوں میں بھی تلاش شروع کر دی۔

حسنان اور اریبہ نے باقی سٹوڈنٹس کو ان کے گھروں تک پہنچا دیا اور خود وہیں ٹھہر گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیوہیکل پہاڑوں کی خاموشں وادی میں چیڑ کے درختوں میں گونجتی بندروں کی چیخ دار آوازیں سناٹے کو دہلا رہی تھیں۔ چھوٹے چھوٹے جانوروں کی آوازیں ساتھ شامل ہو جاتیں تو یوں محسوس ہوتا گویا دو قبیلوں میں جنگ چھڑ گئی ہے۔ بندروں کا غول اچانک پھوٹنے والے فوارے کی طرح نمودار ہوتا اور وہ ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگوں کے تبادلے میں مصروف نظر آتے۔

مادائیں اپنی پیٹھ پر بچوں کو چڑھائے اس سلسلے میں بہت پھرتیلی نظر آتیں۔ فواد اور خیام صحن میں بیٹھے اپنے ہتھیاورں کی صفائی میں مصروف تھے۔ وشاء بڑی سی شال اوڑھے دھیرے دھیرے ٹہل رہی تھی۔ وہ صحن میں لگے خوبصورت گول پتھروں پر پاؤں رکھتے ہوئے مسلسل سوچ رہی تھی کہ جب ہم لوگ یہاں آئے تھے تو یہ عمارت کھنڈر تھی اور یہ فرش نہیں تھا۔ یہاں بس مٹی ہی مٹی تھی۔ یا توکسی ماورائی قوت نے جادو سے یہ سب کچھ بدل دیا پھر ہم کئی سال پیچھے ماضی میں پہنچ گئے ہیں۔ جب یہ ریسٹ ہاؤس نیا نیا بنا تھا۔

وہ چلتے چلتے کب کیاری کے پاس پہنچ گئی اسے معلوم ہی نہ ہوا۔ ہرے ہرے تازے پتوں کی ڈالی نے اس کے ہاتھ کو چھوا تو وہ ہڑبڑا کے رہ گئی۔ اس نے سہمی سہمی نظروں سے پودوں سے بھری کیاری کی طرف دیکھا۔

’’اس سنگلاخ زمین پر یہ جیتے جاگتے سانس لیتے پودے کہاں سے آگئے۔‘‘ اس نے سرخ گلاب کی پتیوں کو ہاتھوں سے چھوا تو اس کی انگلیاں لہو سے بھر گئیں۔ وہ چیخ کر دوسری طرف پلٹی تو خیام سے ٹکرا گئی۔

’’خیام یہ دیکھو میرے ہاتھ۔۔۔‘‘ اس نے خیام کے سامنے ہاتھ پھیلا دیئے۔

خیام نے اس کے ہاتھوں کو چھوا۔’’کیا ہوا تمہارے ہاتھوں کو یہ تو صاف ہیں۔‘‘

وشاء نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔ ’’میں نے گلاب کے پھول کو چھوا تو میرے ہاتھوں میں خون لگ گیا۔‘‘

’’کون سا گلاب! وہاں کیاری میں تو گلاب کے پودے ہیں ہی نہیں۔‘‘

وشاء نے کیاری کی طرف دیکھا تو واقعی وہاں گلاب کا پودا نہیں تھا۔

وشاء نے خیام کا ہاتھ پکڑا اور اسے اندر کمرے میں لے گئی۔

’’یہاں بیٹھو! مجھے تم سے بات کرنی ہے۔‘‘ وشاء اس کے قریب بیٹھ گئی۔

’’خیام! مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔ یہ جگہ بہت عجیب ہے۔ ہم میں سے کوئی یہ کیوں نہیں سوچ رہا کہ جب ہم یہاں آئے تو یہ جگہ کھنڈر تھی۔ پھر ایک دم سب کچھ بدل گیا۔ یہ ریسٹ ہاؤس کسی شیطانی طاقت کی آماجگاہ ہے۔

یقیناًیہ کئی سال پہلے ایسا ہی ہوگا۔ جب اس میں انسانوں کی گہما گہمی ہوتی ہوگی۔ مگر لینڈ سلائیڈنگ میں جن لوگوں کی جان چلی گئی۔ کیا پتہ ان کی روحیں بھی اس ریسٹ ہاؤس میں بھٹکتی ہوں۔‘‘ خیام نے وشاء کے سہمے ہوئے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

’’ان سب باتوں سے وہ لوگ ڈرتے ہیں۔ جن کی آنکھوں میں زندگی کے خواب ہوتے ہیں۔ مگر ہم جس منزل کے مسافر ہیں اس کی راہ میں ڈر خوف کو ہم نے اپنے پیروں کی دُھول میں روندتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔‘‘

فواد کمرے میں داخل ہوا۔’’خیام! آج مغرب کے بعد ہی ہم اپنا عمل شروع کریں گے۔‘‘ فواد نے خیام کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا۔

حوریہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔ خیام نے فواد کی طرف دیکھا۔ ’’ابھی یہ ٹھیک نہیں۔‘‘

’’کیوں؟‘‘ فواد نے پوچھا۔

’’ہمیں یہ عمل پہاڑوں کے وسط میں کرنا ہے اور آگ بھی جلانی ہے۔ ہماری تلاش میں پولیس کے آدمی چپے چپے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ دو روز تک دیکھ لیتے ہیں۔ ان لوگوں کو یقین ہو جائے کہ ہم اس علاقے میں نہیں ہیں۔‘‘

’’مگر ہم تو بہت لیٹ ہو جائیں گے۔ دو دن کے بعد بھی تو وہ لوگ اس علاقے میں ہو سکتے ہیں۔ ویسے بھی وہ عمل ایسا ہے کہ اس کے پورے ہونے کے بعد کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘ فواد کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ خیام بول پڑا۔

’’اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ہم پہلی بار میں ہی اس عمل میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘‘

فواد نے اٹھ کر خیام کا گریبان پکڑ لیا۔ ’’تم کمزور ہو تو دفع ہو جاؤ ہمارے گروپ میں سے۔‘‘

حوریہ نے فواد کو خیام سے پیچھے کیا۔ ’’یہ وقت آپس میں جھگڑنے کا نہیں ہے۔ تحمل سے بیٹھ کر کچھ سوچتے ہیں تم دونوں کی بات اپنی جگہ ٹھیک ہے۔ ہم کوئی اور راستہ نکال لیں گے۔‘‘

فواد، حوریہ کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا۔ خیام بھی غصے سے سر کو جھٹک کر بیٹھ گیا۔

سارے خاموشی سے سر جھکائے کچھ دیر بیٹھے رہے پھر حوریہ، خیام سے گویا ہوئی۔’’ہمارے عمل کے لیے یہی شرط ہے ناکہ جس جگہ عمل کیا جائے وہ جگہ پہاڑوں کے وسط میں ہو جہاں سے کھلا آسمان دکھائی دے۔ تو یہ عمل ہم ریسٹ ہاؤس کے صحن میں کر سکتے ہیں۔‘‘

خیام بلا تامل بولا ’’تم نے تو دیکھا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے صحن کا آدھا حصہ ڈھک گیا ہے۔ تھوڑے سے حصے سے ہی آسمان دکھائی دیتا ہے۔‘‘

حوریہ فوراً بولی۔ ’’دکھائی تو دیتا ہے نا۔ تم لوگ خوامخواہ وہم کر کے کسی مصیبت میں پھنس جاؤ گے۔‘‘ وشاء نے بھی حوریہ کی تائید کی۔

’’مجھے بھی حوریہ کی بات سے اتفاق ہے ہمیں وقت ضائع کیے بغیر آج ہی مغرب کے بعد وہ عمل کر لینا چاہئے۔‘‘

فواد خاموشی سے سب کی باتیں سنتا رہا۔ پھر وہ اٹھ کر کمرے سے باہر صحن میں چلا گیا۔ خیام بھی اس کے پیچھے پیچھے صحن میں چلا گیا

خیام کو دیکھتے ہی فواد نے صحن کے اطراف میں بلند ترین پہاڑوں کی طرف اشارہ کیا ’’ان بلند ترین پہاڑوں پر کوئی بھی نہیں چڑھ سکتا۔۔۔جو ہمیں کوئی دیکھ سکے۔۔۔اس لیے حوریہ کی بات ٹھیک ہے۔۔۔ہم صحن میں ہی عمل شروع کریں گے۔‘‘

خیام مسلسل پہاڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا

’’وہ لوگ ہمیں تلاش کرنے کے لیے ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کر سکتے ہیں۔‘‘

فواد سر جھٹک کر بولا ’’اتنے روز سے ایسا کچھ کیا نہیں، ایک دن میں کیا کر لیں گے۔ بس زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ہم آج مغرب کے بعد اپنا عمل شروع کریں گے۔‘‘

خیام نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر وہ دونوں اندر کمرے میں چلے گئے۔

خیام، وشاء کے قریب بیٹھ گیا ’’فواد کیا کہہ رہا ہے۔‘‘ وشاء نے خیام سے پوچھا۔

خیام نے انتہائی سنجیدگی سے کہا

’’ہم نے طے کر لیا ہے ہم مغرب کے بعد ہی عمل کریں گے۔‘‘

وشاء نے گہری نظر سے خیام کی طرف دیکھا۔

’’تم بات پلان کی کر رہے ہو اور تمہارا لہجہ تمہارے دل کی کیفیت کی چغلی کھا رہا ہے۔‘‘

’’کیا مطلب ۔۔۔؟‘‘ خیام نے سوالیہ نظروں سے وشاء کی طرف دیکھا۔

وشاء نے مسکراتے ہوئے نظریں جھکا لیں۔

’’مجھے بتاؤ کیا سوچ رہے ہو۔‘‘

خیام نے گہری نظر سے وشاء کی طرف دیکھا

’’وہی سوچ رہا ہوں جو ایک پل کے لیے تم بھی سوچوگی، آج جو ہم کرنے جا رہے ہیں نہ جانے ہم ایک دوسرے کے دوست رہیں گے بھی یا نہیں۔ نہ جانے اس عمل کا انجام کیا ہوگا۔۔۔‘‘

’’جوکچھ بھی ہو موت سے برا انجام تو نہیں ہو سکتا۔ اور ہم اپنی یہ زندگی نہیں چاہتے۔ مگر یہ ضرور چاہیں گے کہ ہم جو روپ بھی لیں ایک دوسرے سے ضرور ملیں۔‘‘ وشاء نے خیام کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

خیام نے وشاء کے ہاتھ پر دھیرے سے ہاتھ رکھا

’’چلو پھر ڈھیر ساری باتیں کرتے ہیں۔‘‘

حوریہ اور فواد بھی اداس بیٹھے تھے۔ ایک عجیب سا اضطراب تھا ان کے اندر، بالکل ایسے ہی جیسے دیے کی لو بجھنے سے پہلے بھڑکتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دل کی دھڑکنوں کو محسوس کرنا چاہتے تھے۔

اپنی زندگی کو شکستوں سمیت خدا حافظ کہہ کے خود کو ایک نئی جنگ کے لیے آمادہ کر رہے تھے۔

ایک دوسرے سے باتیں کرتے کرتے کب مغرب کا وقت ہوگیا انہیں علم ہی نہ ہوا تھا۔ وہ چاروں پھرتی سے اٹھے اور کتابیں اٹھائے اس خوفناک عمل کی تیاری کرنے لگے۔ عمل کے طریقے کار کو دہرانے کے بعد خیام اور فواد نے لکڑیاں جمع کرنا شروع کیں۔

پھر وہ لکڑیاں لاکر کے صحن کے درمیان میں رکھیں اور انہیں آگ لگا دی۔ ان لمحوں میں انہوں نے اپنے دل سے ہر طرح کے ڈر کو نکال پھینکا اور اپنی پوری توجہ اپنے عمل کی طرف مرکوز کر دی۔

چند ساعتوں کے بعد وہ چاروں آگ کے اردگرد آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئے۔ وشاء کے ہاتھ میں شیشے کی بوتل تھی جس میں ایک خوبصورت تتلی تھی جو Stuffed تھی۔ اس کے نازک پر خوبصورت رنگوں سے بھرے ہوئے تھے۔

ان چاروں نے آنکھیں بند کر لیں، اور ایک خاص عمل ایک ساتھ اونچی آواز میں پڑھنے لگے وہ جوں جوں عمل پڑھتے جا رہے تھے آگ مزید بھڑکتی جا رہی تھی۔

تھوڑی دیر بعد ان چاروں نے آنکھیں کھولیں۔ تو ان کی آنکھیں دہک کے انگارہ ہو رہی تھیں۔ فواد نے آگ کے قریب Pig کی ہڈیاں اور انسانی کھوپڑی رکھی اور خیام سے گویا ہوا۔

’’اب ہم منتر نمبر 5 پڑھیں گے۔‘‘

وشاء اپنے حلق کو چھو کر نڈھال ہو رہی تھی۔ خیام نے اس کی طرف دیکھا۔’’تمہیں کیا ہوا ہے۔‘‘

’’پتہ نہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کسی نے مجھے تپتی ریت پر پھینک دیا ہو۔ پورے جسم پر جلن کا احساس ہو رہا ہے۔ حلق بھی سوکھ رہا ہو۔‘‘

اس سے پہلے کہ خیام کچھ کہتا فواد سفاکی سے بولا

’’کچھ بھی ہو۔ ہمیں یہ عمل درمیان میں نہیں چھوڑنا۔ تمہیں منتر نمبر 5 ہمارے ساتھ پڑھنا ہوگا گلا سوکھ رہا ہے تو آہستہ آواز میں پڑھ لو۔‘‘

وشاء نے دھیرے سے کہا ’’کوشش کرتی ہوں۔ان چاروں نے ایک بار پھر آنکھیں بند کیں اور منتر پڑھنا شروع کر دیا۔

رات کے گمبھیر سناٹے میں یہ منتر بھیانک ماورائی مخلوق کے لیے بلاوا تھا۔

اچانک سے تیز ہوا کا جھکڑ آیا اور آگ بجھ گئی۔ آگ بجھنے کا مطلب تھا کہ ان کا منتر ناکام ہو گیا ہے ان کا عمل ادھورا رہ گیا، ہر طرف دُھول ہی دُھول ہو گئی۔

ان چاروں نے آنکھیں کھولیں۔ دُھول میں تیز جھکڑ کے ساتھ باریک باریک کنکریاں ان چاروں پر اس طرح برسنے لگیں کہ ان کے جسموں پر زخم ہوگئے۔

پھر ان کی سماعت سے وہی گرج دار آواز ٹکرائی جس نے انہیں خوش آمدید کہا تھا۔ اس آواز کے ساتھ طوفانی صورت حال بھی ختم ہوگئی۔

’’تم لوگ میری مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو غلط کر رہے ہو۔ تمہارے مخنی وجود جل کر راکھ ہوجائیں گے اور یہ راکھ مٹی میں مٹی ہو جائے گی۔ اگر ماورائی قوتیں حاصل کرنی ہیں تو جیسا میں کہوں ویسا کرو۔‘‘

فواد فضا میں گونجتی آواز کی سمت کا تعین کرنے لگا

’’تم کون ہو، کیوں ہمارے کام میں دخل دے رہے ہو۔ تم ہمارے سامنے کیوں نہیں آتے۔‘‘

گرج دار آواز فضا میں پھر سے گونجنے لگی۔’’میں ایک آسیب ہوں۔ تم لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ کالا جادو صرف کتابوں سے نہیں سیکھا جاتا۔ اس کے لیے گھناؤنے جرم کرنے ہوتے ہیں۔ انسانیت کی تذلیل کرکے شیطان کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ اگر ان چیزوں سے بچ کر اپنے مقاصد میں کامیاب ہونا ہو توکسی بڑے عامل کی ضرورت ہوگی یا میرے جیسے آسیب کی۔‘‘

وشاء نے فواد کو آنکھوں سے اشارہ کیا کہ اس پر بھروسا کیا جائے پھر وہ بلند آواز میں بولی۔ ’’ہم تمہاری بات تب مانیں گے جب تم کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہو گے۔‘‘

فضا میں دل دہلا دینے والا قہقہہ گونجا۔

’’میرا ہر روپ بھیانک ہوگا ویسے جو عمل تم کرنے جا رہے ہو اس میں فولاد کا کلیجہ چاہئے جو مافوق الفطرت مخلوق کا ہر روپ سہہ سکیں۔ چلو اب تو ظاہر ہونا پڑے گا۔‘‘

اس کے خاموش ہوتے ہی فضا میں خوفناک غرغراہٹ کی آواز گونجنے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد آواز کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔

وہ آواز چاروں طرف گونج رہی تھی۔ وہ چاروں پاگلوں کی طرح چاروں طرف دیکھ رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ کسی ماورائی مخلوق نے ان پر ہلہ بول دیا ہے۔ جیسے کسی غیبی مخلوق نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہو۔

حوریہ اور وشاء چیختی ہوئی فواد اور خیام کی طرف بڑھنے لگیں تو فواد نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ ’’جہاں کھڑی ہو وہیں رہو۔ اپنے ڈر پر قابو رکھو کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘

وشاء اور حوریہ سہمی سہمی نظروں سے اردگرد دیکھ رہی تھیں کہ وہ آسیب کس روپ میں رونما ہوتا ہے کہ اچانک انہیں اپنے قریبی درخت سے آہٹ محسوس ہوئی۔ان دونوں نے ایک ساتھ پیچھے دیکھا تو وہ سر تاپا کانپ کے رہ گئیں، ان کے حلق سے کریہہ چیخ نکلی۔

ایک بدہیت ضعیف آدمی چوپائیوں کی طرح چلتا ہوا ان کی طرف آرہا تھا۔ اس کا جسم چار ٹانگوں والے جانور کی طرح تھا اور عجیب طرح مڑ تڑ گیا تھا۔ جسم کی ہڈیاں جگہ جگہ سے بڑھی ہوئی تھیں۔ کندھوں کی دونوں ہڈیاں اونٹ کی کوہانوں کی طرح کھڑی تھیں اور جب وہ اپنے دونوں بازوؤں اور ٹانگوں سے کسی جانور کی مانند چلتا ہوا انکی طرف بڑھ رہا تھا تو گویا اس کے جسم کی ساری ہڈیاں ہل رہی تھیں۔

فواد کے کہنے کے مطابق دونوں لڑکیوں نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی۔ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتی رہیں۔

وہ بدہیت شخص فواد اور خیام کی طرف بڑھنے لگا فواد اور خیام نے اپنے ڈر پر قابو رکھا۔

وہ ان دونوں کے قریب سے گزرتا ہوا ان کے سامنے آگیا۔ اس کا چہرہ اور اس کاجسم بالکل ایسا ہی تھا جیسے قبر سے مردہ اٹھ آیا ہو۔ وہ ان دونوں کی طرف دیکھ کرہنسا

’’کیوں اپنے آپ کو دیکھ کر ڈر گئے۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘ خیام نے اپنے خشک لبوں کو تر کیا۔

’’اگر تم کمزور انسان ڈیڑھ سو سال تک نہ مرو تو تمہارا ایسا حال ہوگا۔ میں اس وقت ڈھائی سو سال کے ضعیف انسان کے روپ میں تمہارے سامنے ہوں۔‘‘

’’ت۔۔۔ت۔۔۔تمہارا اپنا روپ کون سا ہے۔۔۔؟‘‘

’’میرا روپ اگر دیکھ لیتے تو اپنا عمل بھول جاتے اسلیے تمہارے سامنے تمہارے ہی روپ میں آیا ہوں۔ ویسے بھی میرا تم لوگوں کے سامنے اصلی روپ میں آنا ضروری نہیں تھا مگر جو شیطانی عمل تم کرنے جا رہے ہو اس میں کسی بھی وقت کوئی شیطانی طاقت تمہارے سامنے آسکتی ہے۔ اس لیے ایک بار پھر سوچ لو اتنی ہمت ہے تمہارے اندر۔‘‘

’’ہمت ہو یا نہ ہو ہم سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اگر تم واقعی ہماری مدد کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے ہم تو پر بھروسا کرتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر فواد نے خیام کا ہاتھ پکڑا اور حوریہ اور وشاء کے قریب چلا گیا۔

’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔؟‘‘ حوریہ نے اپنے دونوں ہاتھ سوالیہ انداز میں پھیلا دیئے۔

فواد سرگوشی کے انداز میں گویا ہوا۔

’’میرا ذہن کہتا ہے کہ ہمیں اس پر بھروسا کر لینا چاہئے۔‘‘

’’اس پر بھروسا کرنے کا مطلب ہے کہ ہمیں وہی سب کچھ کرنا پڑے گا جو یہ کہے گا۔‘‘ خیام نے کہا۔

’’تو کر لیتے ہیں جو یہ کہتا ہے۔۔۔جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ اگرہمیں کچھ ٹھیک نہ لگا تو ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔ تم صرف یہ سوچو کہ ہم جو کچھ کرنے جا رہے تھے۔ وہ بھی تو آسان نہیں تھا اور یہ ایک غیبی مخلوق ہے۔ ماورائی قوتوں کی حامل ہے میرے خیال میں ہمیں اس کی مدد لے لینی چاہئے۔‘‘

فوادکی بات سن کر وشاء نے گھبراہٹ سے اس عجیب الخلقت مخلوق کی طرف دیکھا ’’جو کچھ یہ کہے گا اگر وہ سب ہم سے نہ ہو سکا۔‘‘

’’تو ہم منع کردیں گے کوئی زبردستی نہیں ہے، اس کو ایک موقع دے دیتے ہیں۔‘‘ خیام نے وشاء کو سمجھایا۔

پھر وہ چاروں اس بوڑھے آدمی کی طرف بڑھے۔ فواد نے ایک نظر اپنے تینوں دوستوں کی طرف ڈالی پھر وہ اس سے گویا ہوا۔ ’’ٹھیک ہے ہمیں منظور ہے تم جیسا کہو گے ہم کریں گے۔‘‘

چند ساعتوں میں وہ بوڑھا آدمی ان چاروں کو بغور دیکھنے لگا پھر گرج دار آواز میں بولا۔

’’جس طرح آگ کے گرد پہلے بیٹھے تھے اسی طرح بیٹھ جاؤ۔ آگ دوبارہ بھڑک اٹھے گی۔ اپنے ادھورے عمل کو پھر سے شروع کردو۔ بس اس بات کا دھیان رکھنا کہ جب تک تمہاری آنکھوں میں جلن محسوس نہ ہو تم نے آنکھیں نہیں کھولنی۔ آنکھیں کھولنے کے بعد تمہیں جلتی آگ میں جنات و شیاطین کے بھیانک چہرے دکھائی دیں گے۔ اس وقت بلند آواز میں جو روپ لینا چاہتے ہو وہ سب کہنا لیکن اس سے پہلے ایک اہم بات ہے ۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہوگیا۔

خیام نے پوچھا ’’کون سی اہم بات۔۔۔؟‘‘

خوفناک آدمی اپنی گردن کو چاروں طرف گھمانے لگا

’’یوں کہہ لو کہ ایک اہم سوال ہے۔۔۔جو میں تم لوگوں کے آنکھیں کھولنے سے پہلے کروں گا۔ اگر وہ جواب ٹھیک ہوا تم نے سچ بولا تو یہ سارا عمل آگے چلے گا اگر جھوٹ بولا تو یہ عمل وہیں رک جائے گا۔‘‘

’’ٹھیک ہے ہم اپنا عمل شروع کرتے ہیں۔‘‘ خیام نے کہا اور وہ چاروں آگ کے گرد آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئے۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں تو آگ خود بخود بھڑک اٹھی۔

انہیں آگ بھڑکنے کا احساس ہوا تو انہوں نے عمل پڑھنا شروع کر دیا۔ وہ جوں جوں عمل پڑھتے جا رہے تھے ۔ اردگردکے ماحول سے غافل ہوتے جا رہے تھے۔ ان کا دماغ جیسے ان کے کنٹرول سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔

اس سے پہلے کہ وہ اپنی ہر سوچ سے بے نیاز ہو جاتے، بھیانک آدمی کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’اپنے ذہن کی وسعتوں میں اس ایک جذبے کو ڈھونڈو، جس کا احساس دوسرے تمام جذبوں پر غالب ہو۔‘‘

وہ چاروں اپنی سوچ کے دریچوں سے اپنے دل کے محسوسات میں کھو گئے۔

وشاء کی بند آنکھوں سے آنسو نکل کر اسکے رخسار پرچھلک گئے وہ کانپتے لبوں سے بولی۔

’’ساحل میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتی۔‘‘

فواد نے کانپتے لبوں سے کہا ’’جس زندگی میں وینا نہیں ، مجھے وہ زندگی نہیں چاہئے۔‘‘

خیام اپنے لبوں کو اپنے دل کے محسوسات بتانے سے روک نہیں سکا۔’’اگر میں ایک عام انسان کی طرح جیتا تو اپنی خوشیاں وشاء کی آنکھوں میں ڈھونڈتا۔‘‘

حوریہ اپنے آنسوؤں سے بھرے چہرے کے ساتھ چیخ کر بولی۔’’نفرت ہے مجھے محبت کے اس احساس سے، جس کے نام پر لوگ دوسروں کو استعمال کرتے ہیں۔‘‘

یہ جملے ادا کرتے ہی جیسے ان کی میموری گم ہونے لگی۔ کسی کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک کی طرح ان کا برین واش ہونے لگا۔

وہ عمل مسلسل پڑھ رہے تھے، وہ کیا پڑھ رہے تھے کیوں پڑھ رہے تھے انہیں کوئی ہوش نہیں تھی۔ مگرجب ان آنکھوں میں جلن ہونے لگی تو انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔

ان کی آنکھوں کے سامنے دل دہلا دینے والا ایک بھیانک منظر تھا۔ بھڑکتی ہوئی آگ میں جنات و شیاطن کے ہولناک چہرے نمودار ہونے لگے جن کے ساتھ ہی فضا میں خوفناک غرغراہٹوں کی آوازیں گونجنے لگیںخیام کو دیکھتے ہی فواد نے صحن کے اطراف میں بلند ترین پہاڑوں کی طرف اشارہ کیا ’’ان بلند ترین پہاڑوں پر کوئی بھی نہیں چڑھ سکتا۔۔۔جو ہمیں کوئی دیکھ سکے۔۔۔اس لیے حوریہ کی بات ٹھیک ہے۔۔۔ہم صحن میں ہی عمل شروع کریں گے۔‘‘

خیام مسلسل پہاڑوں کی طرف دیکھ رہا تھا

’’وہ لوگ ہمیں تلاش کرنے کے لیے ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کر سکتے ہیں۔‘‘

فواد سر جھٹک کر بولا ’’اتنے روز سے ایسا کچھ کیا نہیں، ایک دن میں کیا کر لیں گے۔ بس زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ہم آج مغرب کے بعد اپنا عمل شروع کریں گے۔‘‘

خیام نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر وہ دونوں اندر کمرے میں چلے گئے۔

خیام، وشاء کے قریب بیٹھ گیا ’’فواد کیا کہہ رہا ہے۔‘‘ وشاء نے خیام سے پوچھا۔

خیام نے انتہائی سنجیدگی سے کہا

’’ہم نے طے کر لیا ہے ہم مغرب کے بعد ہی عمل کریں گے۔‘‘

وشاء نے گہری نظر سے خیام کی طرف دیکھا۔

’’تم بات پلان کی کر رہے ہو اور تمہارا لہجہ تمہارے دل کی کیفیت کی چغلی کھا رہا ہے۔‘‘

’’کیا مطلب ۔۔۔؟‘‘ خیام نے سوالیہ نظروں سے وشاء کی طرف دیکھا۔

وشاء نے مسکراتے ہوئے نظریں جھکا لیں۔

’’مجھے بتاؤ کیا سوچ رہے ہو۔‘‘

خیام نے گہری نظر سے وشاء کی طرف دیکھا

’’وہی سوچ رہا ہوں جو ایک پل کے لیے تم بھی سوچوگی، آج جو ہم کرنے جا رہے ہیں نہ جانے ہم ایک دوسرے کے دوست رہیں گے بھی یا نہیں۔ نہ جانے اس عمل کا انجام کیا ہوگا۔۔۔‘‘

’’جوکچھ بھی ہو موت سے برا انجام تو نہیں ہو سکتا۔ اور ہم اپنی یہ زندگی نہیں چاہتے۔ مگر یہ ضرور چاہیں گے کہ ہم جو روپ بھی لیں ایک دوسرے سے ضرور ملیں۔‘‘ وشاء نے خیام کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

خیام نے وشاء کے ہاتھ پر دھیرے سے ہاتھ رکھا

’’چلو پھر ڈھیر ساری باتیں کرتے ہیں۔‘‘

حوریہ اور فواد بھی اداس بیٹھے تھے۔ ایک عجیب سا اضطراب تھا ان کے اندر، بالکل ایسے ہی جیسے دیے کی لو بجھنے سے پہلے بھڑکتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دل کی دھڑکنوں کو محسوس کرنا چاہتے تھے۔

اپنی زندگی کو شکستوں سمیت خدا حافظ کہہ کے خود کو ایک نئی جنگ کے لیے آمادہ کر رہے تھے۔

ایک دوسرے سے باتیں کرتے کرتے کب مغرب کا وقت ہوگیا انہیں علم ہی نہ ہوا تھا۔ وہ چاروں پھرتی سے اٹھے اور کتابیں اٹھائے اس خوفناک عمل کی تیاری کرنے لگے۔ عمل کے طریقے کار کو دہرانے کے بعد خیام اور فواد نے لکڑیاں جمع کرنا شروع کیں۔

پھر وہ لکڑیاں لاکر کے صحن کے درمیان میں رکھیں اور انہیں آگ لگا دی۔ ان لمحوں میں انہوں نے اپنے دل سے ہر طرح کے ڈر کو نکال پھینکا اور اپنی پوری توجہ اپنے عمل کی طرف مرکوز کر دی۔

چند ساعتوں کے بعد وہ چاروں آگ کے اردگرد آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئے۔ وشاء کے ہاتھ میں شیشے کی بوتل تھی جس میں ایک خوبصورت تتلی تھی جو Stuffed تھی۔ اس کے نازک پر خوبصورت رنگوں سے بھرے ہوئے تھے۔

ان چاروں نے آنکھیں بند کر لیں، اور ایک خاص عمل ایک ساتھ اونچی آواز میں پڑھنے لگے وہ جوں جوں عمل پڑھتے جا رہے تھے آگ مزید بھڑکتی جا رہی تھی۔

تھوڑی دیر بعد ان چاروں نے آنکھیں کھولیں۔ تو ان کی آنکھیں دہک کے انگارہ ہو رہی تھیں۔ فواد نے آگ کے قریب Pig کی ہڈیاں اور انسانی کھوپڑی رکھی اور خیام سے گویا ہوا۔

’’اب ہم منتر نمبر 5 پڑھیں گے۔‘‘

وشاء اپنے حلق کو چھو کر نڈھال ہو رہی تھی۔ خیام نے اس کی طرف دیکھا۔’’تمہیں کیا ہوا ہے۔‘‘

’’پتہ نہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کسی نے مجھے تپتی ریت پر پھینک دیا ہو۔ پورے جسم پر جلن کا احساس ہو رہا ہے۔ حلق بھی سوکھ رہا ہو۔‘‘

اس سے پہلے کہ خیام کچھ کہتا فواد سفاکی سے بولا

’’کچھ بھی ہو۔ ہمیں یہ عمل درمیان میں نہیں چھوڑنا۔ تمہیں منتر نمبر 5 ہمارے ساتھ پڑھنا ہوگا گلا سوکھ رہا ہے تو آہستہ آواز میں پڑھ لو۔‘‘

وشاء نے دھیرے سے کہا ’’کوشش کرتی ہوں۔ان چاروں نے ایک بار پھر آنکھیں بند کیں اور منتر پڑھنا شروع کر دیا۔

رات کے گمبھیر سناٹے میں یہ منتر بھیانک ماورائی مخلوق کے لیے بلاوا تھا۔

اچانک سے تیز ہوا کا جھکڑ آیا اور آگ بجھ گئی۔ آگ بجھنے کا مطلب تھا کہ ان کا منتر ناکام ہو گیا ہے ان کا عمل ادھورا رہ گیا، ہر طرف دُھول ہی دُھول ہو گئی۔

ان چاروں نے آنکھیں کھولیں۔ دُھول میں تیز جھکڑ کے ساتھ باریک باریک کنکریاں ان چاروں پر اس طرح برسنے لگیں کہ ان کے جسموں پر زخم ہوگئے۔

پھر ان کی سماعت سے وہی گرج دار آواز ٹکرائی جس نے انہیں خوش آمدید کہا تھا۔ اس آواز کے ساتھ طوفانی صورت حال بھی ختم ہوگئی۔

’’تم لوگ میری مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔ جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو غلط کر رہے ہو۔ تمہارے مخنی وجود جل کر راکھ ہوجائیں گے اور یہ راکھ مٹی میں مٹی ہو جائے گی۔ اگر ماورائی قوتیں حاصل کرنی ہیں تو جیسا میں کہوں ویسا کرو۔‘‘

فواد فضا میں گونجتی آواز کی سمت کا تعین کرنے لگا

’’تم کون ہو، کیوں ہمارے کام میں دخل دے رہے ہو۔ تم ہمارے سامنے کیوں نہیں آتے۔‘‘

گرج دار آواز فضا میں پھر سے گونجنے لگی۔’’میں ایک آسیب ہوں۔ تم لوگوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ کالا جادو صرف کتابوں سے نہیں سیکھا جاتا۔ اس کے لیے گھناؤنے جرم کرنے ہوتے ہیں۔ انسانیت کی تذلیل کرکے شیطان کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ اگر ان چیزوں سے بچ کر اپنے مقاصد میں کامیاب ہونا ہو توکسی بڑے عامل کی ضرورت ہوگی یا میرے جیسے آسیب کی۔‘‘

وشاء نے فواد کو آنکھوں سے اشارہ کیا کہ اس پر بھروسا کیا جائے پھر وہ بلند آواز میں بولی۔ ’’ہم تمہاری بات تب مانیں گے جب تم کسی نہ کسی شکل میں ظاہر ہو گے۔‘‘

فضا میں دل دہلا دینے والا قہقہہ گونجا۔

’’میرا ہر روپ بھیانک ہوگا ویسے جو عمل تم کرنے جا رہے ہو اس میں فولاد کا کلیجہ چاہئے جو مافوق الفطرت مخلوق کا ہر روپ سہہ سکیں۔ چلو اب تو ظاہر ہونا پڑے گا۔‘‘

اس کے خاموش ہوتے ہی فضا میں خوفناک غرغراہٹ کی آواز گونجنے لگی۔ تھوڑی دیر کے بعد آواز کی شدت میں اضافہ ہوگیا۔

وہ آواز چاروں طرف گونج رہی تھی۔ وہ چاروں پاگلوں کی طرح چاروں طرف دیکھ رہے تھے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ کسی ماورائی مخلوق نے ان پر ہلہ بول دیا ہے۔ جیسے کسی غیبی مخلوق نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہو۔

حوریہ اور وشاء چیختی ہوئی فواد اور خیام کی طرف بڑھنے لگیں تو فواد نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ ’’جہاں کھڑی ہو وہیں رہو۔ اپنے ڈر پر قابو رکھو کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔‘‘

وشاء اور حوریہ سہمی سہمی نظروں سے اردگرد دیکھ رہی تھیں کہ وہ آسیب کس روپ میں رونما ہوتا ہے کہ اچانک انہیں اپنے قریبی درخت سے آہٹ محسوس ہوئی۔ان دونوں نے ایک ساتھ پیچھے دیکھا تو وہ سر تاپا کانپ کے رہ گئیں، ان کے حلق سے کریہہ چیخ نکلی۔

ایک بدہیت ضعیف آدمی چوپائیوں کی طرح چلتا ہوا ان کی طرف آرہا تھا۔ اس کا جسم چار ٹانگوں والے جانور کی طرح تھا اور عجیب طرح مڑ تڑ گیا تھا۔ جسم کی ہڈیاں جگہ جگہ سے بڑھی ہوئی تھیں۔ کندھوں کی دونوں ہڈیاں اونٹ کی کوہانوں کی طرح کھڑی تھیں اور جب وہ اپنے دونوں بازوؤں اور ٹانگوں سے کسی جانور کی مانند چلتا ہوا انکی طرف بڑھ رہا تھا تو گویا اس کے جسم کی ساری ہڈیاں ہل رہی تھیں۔

فواد کے کہنے کے مطابق دونوں لڑکیوں نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی۔ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتی رہیں۔

وہ بدہیت شخص فواد اور خیام کی طرف بڑھنے لگا فواد اور خیام نے اپنے ڈر پر قابو رکھا۔

وہ ان دونوں کے قریب سے گزرتا ہوا ان کے سامنے آگیا۔ اس کا چہرہ اور اس کاجسم بالکل ایسا ہی تھا جیسے قبر سے مردہ اٹھ آیا ہو۔ وہ ان دونوں کی طرف دیکھ کرہنسا

’’کیوں اپنے آپ کو دیکھ کر ڈر گئے۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘ خیام نے اپنے خشک لبوں کو تر کیا۔

’’اگر تم کمزور انسان ڈیڑھ سو سال تک نہ مرو تو تمہارا ایسا حال ہوگا۔ میں اس وقت ڈھائی سو سال کے ضعیف انسان کے روپ میں تمہارے سامنے ہوں۔‘‘

’’ت۔۔۔ت۔۔۔تمہارا اپنا روپ کون سا ہے۔۔۔؟‘‘

’’میرا روپ اگر دیکھ لیتے تو اپنا عمل بھول جاتے اسلیے تمہارے سامنے تمہارے ہی روپ میں آیا ہوں۔ ویسے بھی میرا تم لوگوں کے سامنے اصلی روپ میں آنا ضروری نہیں تھا مگر جو شیطانی عمل تم کرنے جا رہے ہو اس میں کسی بھی وقت کوئی شیطانی طاقت تمہارے سامنے آسکتی ہے۔ اس لیے ایک بار پھر سوچ لو اتنی ہمت ہے تمہارے اندر۔‘‘

’’ہمت ہو یا نہ ہو ہم سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اگر تم واقعی ہماری مدد کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے ہم تو پر بھروسا کرتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر فواد نے خیام کا ہاتھ پکڑا اور حوریہ اور وشاء کے قریب چلا گیا۔

’’یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔؟‘‘ حوریہ نے اپنے دونوں ہاتھ سوالیہ انداز میں پھیلا دیئے۔

فواد سرگوشی کے انداز میں گویا ہوا۔

’’میرا ذہن کہتا ہے کہ ہمیں اس پر بھروسا کر لینا چاہئے۔‘‘

’’اس پر بھروسا کرنے کا مطلب ہے کہ ہمیں وہی سب کچھ کرنا پڑے گا جو یہ کہے گا۔‘‘ خیام نے کہا۔

’’تو کر لیتے ہیں جو یہ کہتا ہے۔۔۔جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ اگرہمیں کچھ ٹھیک نہ لگا تو ہم پیچھے ہٹ جائیں گے۔ تم صرف یہ سوچو کہ ہم جو کچھ کرنے جا رہے تھے۔ وہ بھی تو آسان نہیں تھا اور یہ ایک غیبی مخلوق ہے۔ ماورائی قوتوں کی حامل ہے میرے خیال میں ہمیں اس کی مدد لے لینی چاہئے۔‘‘

فوادکی بات سن کر وشاء نے گھبراہٹ سے اس عجیب الخلقت مخلوق کی طرف دیکھا ’’جو کچھ یہ کہے گا اگر وہ سب ہم سے نہ ہو سکا۔‘‘

’’تو ہم منع کردیں گے کوئی زبردستی نہیں ہے، اس کو ایک موقع دے دیتے ہیں۔‘‘ خیام نے وشاء کو سمجھایا۔

پھر وہ چاروں اس بوڑھے آدمی کی طرف بڑھے۔ فواد نے ایک نظر اپنے تینوں دوستوں کی طرف ڈالی پھر وہ اس سے گویا ہوا۔ ’’ٹھیک ہے ہمیں منظور ہے تم جیسا کہو گے ہم کریں گے۔‘‘

چند ساعتوں میں وہ بوڑھا آدمی ان چاروں کو بغور دیکھنے لگا پھر گرج دار آواز میں بولا۔

’’جس طرح آگ کے گرد پہلے بیٹھے تھے اسی طرح بیٹھ جاؤ۔ آگ دوبارہ بھڑک اٹھے گی۔ اپنے ادھورے عمل کو پھر سے شروع کردو۔ بس اس بات کا دھیان رکھنا کہ جب تک تمہاری آنکھوں میں جلن محسوس نہ ہو تم نے آنکھیں نہیں کھولنی۔ آنکھیں کھولنے کے بعد تمہیں جلتی آگ میں جنات و شیاطین کے بھیانک چہرے دکھائی دیں گے۔ اس وقت بلند آواز میں جو روپ لینا چاہتے ہو وہ سب کہنا لیکن اس سے پہلے ایک اہم بات ہے ۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہوگیا۔

خیام نے پوچھا ’’کون سی اہم بات۔۔۔؟‘‘

خوفناک آدمی اپنی گردن کو چاروں طرف گھمانے لگا

’’یوں کہہ لو کہ ایک اہم سوال ہے۔۔۔جو میں تم لوگوں کے آنکھیں کھولنے سے پہلے کروں گا۔ اگر وہ جواب ٹھیک ہوا تم نے سچ بولا تو یہ سارا عمل آگے چلے گا اگر جھوٹ بولا تو یہ عمل وہیں رک جائے گا۔‘‘

’’ٹھیک ہے ہم اپنا عمل شروع کرتے ہیں۔‘‘ خیام نے کہا اور وہ چاروں آگ کے گرد آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئے۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں تو آگ خود بخود بھڑک اٹھی۔

انہیں آگ بھڑکنے کا احساس ہوا تو انہوں نے عمل پڑھنا شروع کر دیا۔ وہ جوں جوں عمل پڑھتے جا رہے تھے ۔ اردگردکے ماحول سے غافل ہوتے جا رہے تھے۔ ان کا دماغ جیسے ان کے کنٹرول سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔

اس سے پہلے کہ وہ اپنی ہر سوچ سے بے نیاز ہو جاتے، بھیانک آدمی کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’اپنے ذہن کی وسعتوں میں اس ایک جذبے کو ڈھونڈو، جس کا احساس دوسرے تمام جذبوں پر غالب ہو۔‘‘

وہ چاروں اپنی سوچ کے دریچوں سے اپنے دل کے محسوسات میں کھو گئے۔

وشاء کی بند آنکھوں سے آنسو نکل کر اسکے رخسار پرچھلک گئے وہ کانپتے لبوں سے بولی۔

’’ساحل میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتی۔‘‘

فواد نے کانپتے لبوں سے کہا ’’جس زندگی میں وینا نہیں ، مجھے وہ زندگی نہیں چاہئے۔‘‘

خیام اپنے لبوں کو اپنے دل کے محسوسات بتانے سے روک نہیں سکا۔’’اگر میں ایک عام انسان کی طرح جیتا تو اپنی خوشیاں وشاء کی آنکھوں میں ڈھونڈتا۔‘‘

حوریہ اپنے آنسوؤں سے بھرے چہرے کے ساتھ چیخ کر بولی۔’’نفرت ہے مجھے محبت کے اس احساس سے، جس کے نام پر لوگ دوسروں کو استعمال کرتے ہیں۔‘‘

یہ جملے ادا کرتے ہی جیسے ان کی میموری گم ہونے لگی۔ کسی کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک کی طرح ان کا برین واش ہونے لگا۔

وہ عمل مسلسل پڑھ رہے تھے، وہ کیا پڑھ رہے تھے کیوں پڑھ رہے تھے انہیں کوئی ہوش نہیں تھی۔ مگرجب ان آنکھوں میں جلن ہونے لگی تو انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔

ان کی آنکھوں کے سامنے دل دہلا دینے والا ایک بھیانک منظر تھا۔ بھڑکتی ہوئی آگ میں جنات و شیاطن کے ہولناک چہرے نمودار ہونے لگے جن کے ساتھ ہی فضا میں خوفناک غرغراہٹوں کی آوازیں گونجنے لگیں

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *