کوہ قاف کا سردار

کوہ قاف کا سردار

اسلام و علیکم سردار ازلان۔۔۔۔ایک جن نے آ کر سردار ازلان کو سلام کیا ۔۔

وعلیکم سلام یاقوت کیا خبر ہے۔۔۔؟؟

ازلان نے خوش دلی سے پوچھا۔۔۔۔اس وقت وہ اپنے کمرے میں ارام کر رہا تھا جب ایک جن اجازت لے کر اندر داخل ہوا جو اس کا وفادار ملازم تھا

سردار کابوت نے شادی سے انکار کر دیا ہے وہ ذبیدہ سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔ وہ مان نہیں رہے ہیں چچا زاد سے شادی پر

یاقوت نے افسردگی سے کہا

اچھا تو یہ بات ہے اسے اپنی ضد چھوڑنی پڑے گی ؟؟

سردار ازلان نے بھنویں سکیڑ کر پوچھا۔۔

سردار ہمیں معلوم نہیں کیا کریں مگر ایک اور بہت بری خبر ہے۔۔۔

یاقوت نے پیشمانی سے سر جھکا کر کہا۔۔

کیا بری خبر ہے ؟؟

ازلان نے حیرت سے یاقوت کو دیکھا

سردار کابوت ذبیدہ کو لے کر انسانی دنیا میں چلا گیا ہے اسے ڈھونڈنے میں ہم سب ناکام ہو چکے ہیں ۔۔یاقوت نے شرمندگی سے سر مزید جھکا کر کہا

کیاا؟؟ تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ہے۔

ازلان نے غصے سے کرسی سے اٹھ کر کہا

سردار ہم نے کوشش کی کہ وہ مل جاے مگر مجبوراََ اپ کو بتانا پڑا ہم اپکو پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔

یاقوت نے سہم کر کہا ازلان کے غصے سے سب ہی خوفزدہ تھے۔۔۔

ضدی تو وہ ہے ہی مگر اب اس کی اور ضد نہیں سنوں گا میں بس بہت ہوا میں خود اسے ڈھونڈوں گا۔۔۔

ازلان کہہ کر غصے سے کمرے سے باہر آیا اور ملکہ کے کمرے کا رخ کیا۔۔

ازلان اپنے قبیلے کا سردار تھا بادشاہ کی وفات کے بعد سرداری اسے سونپ دی گی تھی اس کا چھوٹا بھای کابوت شیاطین کی ایک جننی سے محبت کر بیٹھا تھا اور بسے لے کر انسانی دنیا میں چلا گیا جبکہ اس کی شادی اپنی چچازاد سے طے تھی مگر وہ ذبیدہ سے محبت کرتا تھا جو کہ اسلام قبول کر چکی تھی مگر ازلان کو یہ شیاطین کی ہی کوی سازش لگتی تھی۔۔۔۔اس لیے وہ ذبدہ سے نکاح کے خلاف تھا ۔۔

سلام امی جان…ازلان نے ملکہ کو سلام کیا جو صوفے پر بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی وہ جان گی تھیں ازلان کی امد کے بارے میں

وعلیکم سلام بیٹا

ملکہ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔

امی جان میں خود جا رہا ہوں انسانی دنیا میں کابوت کو ڈھونڈنے اپ اجازت دیں۔۔۔۔ازلان نے ملکہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا

میرے بچے سنبھل کر رہنا اور کامیاب لوٹنا اللہ خیر کرے گا

ملکہ نے ازلان کا غصہ دکھتے ہوے اسے اجازت دے دی ورنہ انسانی دنیا میں اس کا جانا کافی خطر ناک تھا۔۔۔

ازلان ملکہ کے ہاتھ چوم کر کمرے سے نکل آیا اب اسے اپنی سرداری کسی اعتماد والے شخص کو سونپنی تھی۔۔۔

کمینی دفع ہو جلدی کر برتن ویسے ہی پڑے ہیں اور تو ٹھونسنے کے لیے بیٹھی ہوی ہے۔۔۔۔سدرہ نے اپنی معصوم نند زینب کو کوسا بے چاری ذینب نے ابھی پہلا لقمہ بھی حلق سے نہیں اتارا تھا کہ بھابھی نے سلواتیں سنانا شروع کردیں

جی بھابھی ابھی دھوتی ہوں بس کھانا کھا لوں

ذینب نے دوسرا نوالہ منہ میں ڈال کر کہا

بعد میں ٹھونس لینا ہر وقت تو کھاتی رہتی ہے ۔۔سدرہ نے پھر سے اسے کوسا تو وہ کھانا اٹھا کر برتن دھونے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذینب کے والدین اس کے بچپنے میں ہی گزر گے تھے ایک بھی تھا جو زن مرید تھا بیوی جو کہیت وہی کرتا تھا اس لیے ذینب اکیلی ہی تھی

سدرہ نے کوی کسر نہ چھوڑی تھی ذینب کو تنگ کرنے میں

سدرہ کی ایک ہی بیٹی تھی ثنا۶ ۔۔۔بارہ سالہ ثنا۶ بھی اپنی ماں سے کم نہ تھی

ذینب چھبیس کی ہو چکی تھی انتہای حسین مگر بھابھی اس کی شادی نہ کروانے کی قسم کھا چکی تھی

مفت کی کام والی جو ملی تھی ایسے کیسے چھوڑ دیتیں۔۔

ازلان نے چند با اعتماد بزگوں کو اپنے انسانی دنیا میں جانے کا بتایا اور یاقوت کو چند دنوں کے لیے اپنی جگہ چھوڑ گیا۔۔۔پورے قبیلے میں یہی بتایا گیا کہ ازلان چند دنوں کے لیے چلہ کر رہا ہے تا کہ شیا طین کو قابو کر سکے۔۔۔ازلان جانے کی تیاری کرنے لگا ملکہ سے مل کر اور یاقوت کو چند اہم پہلو سمجھا کر اس نے انسانی دنیا کا رخ کیا ۔۔کافی دور جانے کے بعد وہ ایک جگہ بیٹھ گیا۔۔کسی گھر کی چھت تھی ابھی ازلان کو کچھ دیر ہے گزری تھی کہ چھت پر کوی آہستہ اہستہ قدم اٹھا کر آ گیا۔۔ازلان ایک سفید بلے کی شکل میں چھت کے کونے میں بیٹھ گیا۔۔آنے والی کوی حور تھی جس نے ازلان کو چند لمحوں کے لیے ساکت کر دیا تھا۔۔۔زینب ابھی ابھی ٹھنڈے پانی سے برتن دھو کر آٸ تھی۔۔ٹھنڈ سے اس کے ہاتھ سن ہو گے تھے۔۔۔وہ چھت کے ایک کونے میں بیٹھ گی اور رونے لگی۔۔اسے انے حال پر شدید رونا آ رہا تھا۔۔کہیں سے ایک سفید سا بلا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔ذینب نے بلے کو اٹھا کر گود میں رکھا اور پیار کرنے لگی۔۔۔تم بھی میری طرح اکیلے ہو۔۔؟؟ کتنے پیارے ہو تم ۔۔اور تمہاری یہ آنکھیں بلکل سیاہ ہیں۔۔چلو آج سے تمہارا نام کیرو ہے ٹھیک ہے تم میرے ساتھ رہو گے

ذینب بلے سے باتیں کر رہی تھی اور بلا اس کے ہاتھوں پر ذبان سے بوسے دے رہا تھا۔۔او ذینب اوپر جا کر مر گٸ ہے کیا؟ آ بھی جا اب ثنا۶ کو کھانا دے۔۔۔

سدرہ کی آواذ پر ذینب سر پر پیر رکھ کر دوڑی۔۔بلا دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گیا

ہاہا اس کو بھی اور کوی نام نہیں ملا تھا رکھنے کو ۔۔۔کیرو۔۔۔۔

ازلان مسکراتا ہوا ذینب کے پیچھے چلا گیا اس بار وہ نظروں سے اوجھل تھا ۔۔۔نیچے کا منظر دیکھ کر ازلان کو شدید غصہ آیا

ثنا۶ ابھی تم یہ بریانی کھا لو شام کو میں تمہیں کیک بنا دوں گی ابھی میں تھک گی ہوں بہت

ذینب نے ثنا۶ کو پیار سے سمجھایا

امی امی دیکھیں یہ ذینب مجھے مار رہی ہے

ثنا۶ نے ذور ذور سے چلانا شروع کر دیا

ذینب نےبوکھلا کر ثنا۶ کے منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش کرانا جاہا تو ثنا۶ نے اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا

آہہہہ ثنا۶ تم رکو میں ابھی بنا دیتی ہوں

ذینب نےہاتھ سہلاتے ہوے کہا

نہیں اب تو امی سے مار پڑواوں گی میں

ثنا۶ نے منہ بسور کر کہا اور سدرہ کے کمرے کی طرف چل دی

ازلان نے جلدی سے ذینب کے علم میں لاے بغیر ایک کیک کچن کی شیلف پر رکھ دیا

ذینب نے مڑ کر دیکھا توشیلف پر کیک پڑا تھا وہ کافی حیران ہوی مگر تب تک سدرہ گالیاں بکتی نمودار ہو چکی تھی۔۔۔

اے لڑکی کیا مسلہ ہے کیا کہہ رہی ہے ثنا۶ کیک بنا کر دے اسے

سدرہ نے آتے ہی ذینب کے بال پکڑ کر اسے غصے سے کہا

بھابھی وہ کیک بن گیا ہے

ذینب نے بمشکل جملہ پورا کیا تو سدرہ اور ثنا۶ چونک گییں

اتنی جلدی۔۔؟

کہیں کویی یار وار تو نہیں ہے تیرا جو کیک دے گیا ہاں

سدرہ نے دوبارہ اس کے بال پکڑ لیے۔۔۔۔۔اور خوب مار مار کر چھوڑ دیا

ذینب زخموں سے چور بدن لے کر کمرے میں آ کر بستر پر ڈھے گی۔۔اس کا پورا بدن دکھ رہا تھا۔۔۔اس نے دراذ سے پین کلر نکال کر کھای اور روتے روتے نجانے کب سو گی۔۔۔۔۔ازلان اس کے سونے کے بعد کمرے میں نمودار ہوا اور ایک پرچی لکھ کر رکھ دی ساتھ میں ایک ٹرے میں کھانا رکھ کر غایب ہو گیا اسے ابھی بہت دور جانا تھا۔۔۔

بابا کابوت نے اس شیطان جننی سے شادی کر لی اور اپ کہتے ہیں کہ میں صبر کروں ۔؟ کیسے صبر کروں بابا آپ ہی بتاییں میں کیسے اس کے بغیر رہوں گی؟؟ نہیں بس بہت ہوا میں جا رہی ہوں خود ہی اسے ڈھونڈ کر کمینی کے چنگل سے نکالوں گی۔۔۔۔

کابوت کی پہلی منگتر ذنیرہ نے اپنے باپ کو وہیں پریشان چھوڑا اور غصے میں قبیلے کی حد سے باہر آ گی ابھی وہ تھوڑی دور ہی پہنچی تھی جب اسے یاد آیا کہ وہ کافی دور آگی ہے اور اپنی چھڑی بھی گھر چھوڑ آٸ ہے۔۔وہ پریشان سے کھڑی تھی کہ اچانک وہاں شیاطین کے قبیلے کا ایک جن نمودار ہوا اور اسے لے کر اپنے سردار کے پاس پہنچ گیا۔۔

چھوڑو مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو چھوڑو۔۔۔ذنیرہ مسلسل خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی مگر اس کی طاقت ان شیطانوں کے آگے بہت کم تھی۔۔۔ذنیرا کو سردار کے سامنے پیش کیا گیا۔۔سردار نے خباثت سے اسے دیکھا اور قہقہہ لگایا۔۔۔ہاہاہاہا واہ یہ دونوں منگیتر ہمارے قبضے میں ہیں اب تو مزہ ہی آ جاے گا چنبیلی اسے لے جاو اور تیار کرو اب یہ ہمارا بستر گرم کرے گی۔۔

سردار شیطان نے گندی سی نظر ذنیرا کے وجود پر ڈالی اور جنبیلی اسے گھسیٹ کر وہاں سے لے گی۔۔۔۔

مجھے چھوڑ دو خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو۔۔۔ذنیرا چنبیلی کے آگے ہاتھ جوڑ کر بھیک مانگ رہی تھی۔۔۔ارے جا لڑکی چھوڑ کیسے دوں تیرے آنے کے بعد سردار تیرے ساتھ عیاشی کرے گا اور مجھے کچھ دن سکون رہے گا۔۔۔۔ہر وقت مجھے اپنے بستر پر رکھتا ہے تھک چکی ہو میں ۔۔۔چنبیلی نے غصے سے کہا اور ذنیرا کو بستر پر پٹخ کر درواذہ بند کر دیا

ذنیرا پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔اس کی طاقتیں یہاں کام نہیں کر پا رہی تھیں۔وہ بے بسیکی مورت بنے وہیں بیٹھی رہی۔

ذنیرا کی گمشدگی کی خبر پورے قبیلے میں پھیل گی تھی ذنیرا کا والد پریشانی میں ملکہ کے پاس حاضر ہوا ملکہ نے اپنی طاقتوں سے ساری سورت حال دیکھ لی مگر ذنیرا ابھی کہاں موجود ہے یہ بات ان کے لیے جاننا بھی کافی مشکل ہو گیا تھا۔۔ملکہ نے ازلان کے دماغ میں ذنرا کی گمشدگی کا پیغام بھیجا جس کے جواب میں ازلان نے انہیں تسلی دی اور کوشش کرنے کا کہہ کر رابطہ منقطع کر لیا۔۔۔۔

❤

ازلان ہوا میں پرواذ کرتا ہوا ساری طرف گھوما مگر کابوت کی موجودگی اسے کہیں محسوس نہیں ہوی تھی ۔۔ازلان کے لیے کافی مشکل ہو گیا تھا ۔۔ ذبیدہ عرف سندری شیطان نے بہت چالاکی سے کابوت کو اپنے چنگل میں پھنسا کر کہیں غایب کر دیا تھا ۔۔ازلان تھک ہار کر ایک جھیل کے کنارے بیٹھ گیا۔۔اس نے خود کو حفاظتی حصار میں رکھا تھا تاکہ کسی کو اس کی موجودگی محسوس نہ ہو۔۔وہ جھیل پر بیٹھا سچوں میں گم تھا جب ملکہ نے اس کے دماغ پر دستک دی ۔۔انہوں نے ذنیرا کی گمشدگی کی خبر ازلان کو دی تو وہ کافی پریشان ہوگیا ۔۔اس نے ملکہ کو تسلی دی اور رابطہ منقطع کر کے سوچ میں پڑ گیا ۔۔وہ اس معاملے میں بے بس تھا کیوںکہ اس کے پاس اتنی طاقتیں نہیں تھیں کہ وہ کچھ کچھ کر سکتا اپنے قبیلے کی ساری مضبوط طاقتیں کابوت کے پاس تھیں مگر کابوت کے غایب ہونے کے بعد ازلان خود کو کافی بے بس محسوس کر رہا تھا

۔۔۔۔۔ازلان کے پاس اب ایک ہی راستہ تھا کہ وہ اپنے مرشد سے مشورہ کرتا۔۔سو وہ سب کچھ خدا پر چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔۔اب اس کا رخ ذینب کی طرف تھا۔۔۔

ذینب کی آنکھ کھلی تو اس کے بدن کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا ۔وہ مشکل سے اٹھ کر بیٹھی پین کل کے اثر سے وہ کافی دیر سوتی رہی۔اسے کافی کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔بیٹھ کر اس نے بند درواذے پر نظر دوڑاٸ ۔اور ٹیک لگا کر بیڈ کراون کے ساتھ بیٹھ گٸ۔ایک لمبا سانس خارج کیا۔تبھی اسے کھانے کی مزے دار خوشبو آٸ اس کی بھوک بھی چمک اٹھی۔اس نے بے تابی سے سر اٹھا کر اپنے آس پاس دیکھا تو میز پر کھانا پڑا ہوا تھا۔وہ حیرانگی سے اٹھی اور کھانا اٹھا کر دیکھا تو وہ بلکل تازہ کھانا تھا۔اس نے بغیر کچھ سوچے کھانا اٹھایا ۔اسے اچانک کھانے کی ٹرے کے نیچے ایک پرچی پڑی ملی۔اس نے پرچی اٹھاٸ اور درد کرتے جسم کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ کر کھانا کھانے لگی۔کھانا بہت مزے دار تھا ۔جب زینب کھانا کھا چکی تو برتن ایک طرف رکھ کر پرچی کھولی ۔

زینب اپنا خیال رکھنا ۔

پرچی پر لکھا فقرہ پڑھ کر وہ بہت حیران ہوی۔کون تھا جو یہ سب کر رہا تھا۔اسے یاد آیا کہ کچن میں کیک بھی اس نے نہیں بنایا تھا پھر وہ وہاں کیسے پہنچا۔اور حیرت انگیز طور پر کھانے کے بعد اس کے جسم میں کوی درد نہیں تھا جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نا ہو۔ابھی وہ سوچوں میں محو تھی کہ کمرے میں میاوں کی آواذ پر چونکی۔

سامنے ہی کیرو بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ذینب نے لپک کر اسے اٹھایا اور پیار کرنے لگی۔۔۔آذان کی آواذ پر وہ اٹھی اور فجر کی نماذ پڑھنے لگی۔پھر وہ کچن میں گی کیرو اس کے پیچھے ہی تھا۔ابھی وہ کچن میں داخل ہوی تھی کہ سدرہ ٹپک پڑی ۔ناشتہ تیار ہے کیا؟

ججی میں بس ابھی کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔““

ذینب نے ڈرتے ہوے سدرہ کو کہا تو سدرہ اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی میز کی جانب بڑھ گی جہاں ناشتہ تیار پڑا تھا۔

ذینب حیرت میں ڈوبتی چلی گی ناشتہ کس نے بنایا۔؟

ابھی وہ دیکھ دہی رہی تھی کہ ثناہ اور اکبر بھی کھانا کھانے اگے ۔

واہ مہارانی آج تو ناشتہ بڑا مزے دار ہے ۔۔

اکبرنے تعریف کی۔۔

جی آج میں نے ہی بنایا ہے ناشتہ۔سدرہ نے بڑی چالاکی سے کریڈٹ اپنے سر لے لیا۔۔

اگر بھابھی نے ناشتہ بنایا تو وہ ابھی اٹھ کر مجھ سے کیوں کہہ رہی تھی کہ ناشتہ بناو۔۔۔۔۔؟

ذینب حیران سی سوچوں میں محو تھی۔۔

اس نے سر جھٹک کر ادھر ادھر دیکھا تو کیرو غایب تھا۔

ذینب حیران پریشان سی کمرے میں چلی گی

۔۔وہ سوچوں میں گم بستر پر جا کر بیٹھی تو اپنے ساتھ کسی کی موجودگی کو محسوس کر کے چونکی۔

کککون ہے؟؟

جواب میں خاموشی۔۔

دیکھو جو بھی ہے سامنے آ جاو ۔

ذینب کے دوسری بار پکارنے پر ایک دھوان نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک انسان کی شکل اختیار کر گیا۔

❤

ذنیرا کمرے کے کونے میں ڈری سہمی سی بیٹھی تھی ۔۔وہ اس وقت شدت سے اللہ کو یاد گر رہ تھی۔۔

درواذہ کھلا اور جنبیلی کمرے ییں اک ادا سے چلتی ہوی داخل ہوی۔۔

اے !!چل کھانا کھا لے پھر تیار ہو جا سردار کے پاس جانا ہے۔

چنبیلی کے کہنے پر ذنیرا چنبیلی کے پیروں میں گر گی

دیکھو مجھے بچا لو۔۔میری عزت مت تباہ کرو خدارا میری مدد کرو

میں تیری مدد نہیں کر سکتی چل کام نپٹا۔۔

چنبیلی نے اسے ٹھوکر لگای اور کھانا رکھ کر واپس پلٹ گی۔

ذنیرا نے روتے ہوے کھانے کو دیکھا۔بھوک تو اسے لگی ہی تھی سو وہ کھانا اٹھا کر کھانے لگی۔۔کھاتے ہوے اسے ٹرے کے کونے میں ایک پرچی ملی ۔۔ذنیرا نے اسے اٹھا کر کھولا تو وہ چنبیلی کا خط تھا۔۔

“دیکھو یہ کمرہ جادوی ہے اس میں جو بھی بات کی جاے وہ سردار کو سنای دیتی ہے اس لیے میں تم سے کچھ کہہ نہیں سکتی

تم کھانا کھا کر خاموشی سے بیٹھ جاو میں جب تمہیں دوسری بار ملنے آٶں گی تو سارے طرقے کار سے سمجھا کر یہاں سے نکال لوں گی۔۔بس تم ہمت رکھنا۔۔

خط پڑھ کر ذنیرہ کو کچھ ڈھارس ہوی کھانا کھا کر وہ بستر پر لیٹ گی ۔لیٹے لیٹے اسے نیند آگٸ۔۔

اس کی آنکھ چنبیلی کے شور سے کھلی ۔

اے اٹھ جا اب جلدی کر تجھے تیار کرنا ہے۔

ذنیرا ایک جھٹکے سے اٹھی اور بیٹھ گی۔

چنبیلی اسے پکڑکر کمرے سے نکل گی اور ایک دوسرے کمرے میں چلی گی۔اس نے ذنیرا کو خاموش رہنے کا کہا اور ایک دوسری جننی کے ساتھ روانہ کر دیا۔

ذنیرا حیران سی اس کے ساتھ چلتی گی۔وہ ملاذمہ قبیلے کی حد پر آ کر رک گی ۔اور ایک شیشہ ذنیرا کو دے کر واپس لوٹ گی۔ ذنیرا نے اپن گرد حصار کھینچا اور وہاں سے غایب ہوگ

ذینب اس ہیولے کو دیکھ کر خوف سے تھر تھر کانپنے لگی۔اس نے بستر کی چادر و مضبوطی سے پکڑ لیا۔

وہ ہیولہ انسانی شکل میں آنے کے بعد مسکرا کر اسے دیکھنے لگا

گہری کالی آنکھیں جسم پر سفید قمیض شلوار پہنے کندھوں تک لمبے بال وہ کسی شہزادے سے کم نہ تھا ۔۔

ککون ۔؟

ذینب نے ڈرتے ہوے پوچھا۔۔

ازلان

مسکرا ر جواب دیا گیا

بھو بھوت ۔

ذینب کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی تھی۔

ارےچلاو مت میں بھوت نہیں جن ہوں

ازلان نے شرارت سے کہا اور اسے پاس بستر پر بیٹھ گیا

ذینب کو اس کے بدن کی خوشبو سے عجیب لطف آرہا تھا

ازلان نے ذینب کی آنکھوں میں دیکھا اور اسی لمحے ذینب کا سارا ڈر غایب ہو گیا اور وہ پر سکون ہو گی۔۔

تم کون ہو؟؟

ذینب نے سوال دوہرایا

ازلان۔

شرارت سے جواب دیا گیا

ہاہا میرا مطلب تم جن ہو تو یہاں کیاکر رہے ہو

ذینب نے مسکرا کر کہا

تمہارے لیے آیا ہوں۔

ازلان نے مسکرا کر جواب دیا

اچھااا تو یہ سب تم کرتےہو؟؟ کھانا ظاہر کرنا اور کیک وغیرہ

ذینب نے حیرت سے سوال کیا

ہاں میں ہی کرتا ہوں

ازلان نے بھی سنجیدگی سے جواب دیا

مگر کیوں؟؟

حیرت کی انتہا سےپوچھا گیا

بس تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔

ازلان کے جواب پر ذینب حیران ہوی وہ کب کسی کے لیے اتنا اہم تھی۔۔

کچھ کہنے سے پہلے ہی ثناہ نے درواذہ کھٹکھٹایا

ارے رانی صاحبہ بھوک لگی ہے۔

ذینب نے چونک کر درواذے کو دیکھا

پھر اپنے پاس دیکھا تو ازلان وہاں موجود نہںیں تھا۔

❤

تو ریڈرز کیا ناول لکھنا چھوڑ دوں رسپانس اچھا نہیں آ رہا ہے خیر تو ہے نا میری حوصلہ افزای کیا کریں جی اور ہم آپ سے کیا مانگتے ہیں اگر رسپانس اچھا نہیں تو میں لکھنا چھوڑ دوں؟؟؟؟

کیا ذینب کی ذندگی اب سہی ہو جاے گی

ذنیرا رہا ہو گی ہے یا پھر یہ شیاطین کی کوی چال ہے

ازلان ہواٶں میں تیرتا ہوا کافی دور نکل آیا ۔پہاڑوں کے بیچ پہنچ کر وہ ایک جگہ اتر گیا اور آگے چلنے لگا۔ایک غار کے پاس پہنچ کر وہ رک گیا۔کچھ دیر انتظار کے بعد غار کے درواذے سے ایک شخص نمودار ہوا اور ازلان کو اندر لے گیا۔منظر کچھ یوں تھا کہ غار کے ایک کونے میں چشمہ تھا۔ساتھ میں ہی شہد کی مکھیوں کا چھتہ تھا اور دوسرے کونے میں ذمین پر بستر بچھا ہوا تھا۔باہر شدید سردی کے باوجود غار اندر سے گرم تھا۔ایک نورانی چہرے والے بزرگ مصلہ بچھا کر عبادت میں مصروف تھے۔ازلان بزرگ کے پاس بیٹھ گیا اور ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

یہ بزرگ انسانوں میں سے تھے۔یہ پورا سال غار میں اللہ کی عبادت کرتے تھے اور صرف ایک ماں کے لیے باہر نکل کر ساری دنیا میں گھوم کر بیماروں کو دم کرتے جس سے وہ سب صحت یاب ہو جاتے تھے۔ازلان سے ان کی کافی پرانی پہچان تھی۔وہ یہاں بہت کم آتا تھا مگر آج کابوت کا پتا لگانے کے لیے اسے یہاں آنا پڑا تھا۔بزرگ نے فارغ ہو کر ازلان سے مدعا پوچھا ۔ازلان نے ساری تفصیل سے آگاہی کے بعد ان سے کابوت کا پتا لگانے کو کہا۔ازلان وہ سب ٹھیک ہے مگر تم جس لڑکی کے ساتھ رہتے ہو وہ لڑکی انسان ہے اور شیطان اس لڑکی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں تم محتاط رہو گے تو بہتر ہو گا۔بزرگ نے ازلان سے کہا اور تسبیح لے کر آنکھیں موند لیں۔۔۔ازلان نے گہرا سانس چھوڑا ۔اسے ذینب کو محفوظ رکھنا تھا۔کچھ دیر بعد بزرگ نے ازلان کی آنکھوں میں دیکھا۔ایک سفید روشنی ازلان کی آنکھوں میں چلی گی اور سارے منظر ازلان کو دکھای دینے لگے۔۔

❤
❤

ذینب نے کام ختم کیا اور کمرے میں آکر بیٹھ گی۔کل سے ازلان اسے ملنے نہیں آیا تھ۔ذینب کو عجیب بے چینے سی تھی اس نے خود کو آٸینے کے سامنے کھڑا کر کے دیکھا ۔اس کی حالت ملاذمہ سے بھی بدتر تھی۔۔کپڑوں میں پیوند لگے ہوے وہ خود کو صاف ستھرا رکھتی تھی مگر اس کے پاس نہ کپڑے تھے نہ ہی اچھی کوی چیز جو وہ استعمال کرتی ۔۔بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسوو آگے۔۔۔

❤

ذبیدہ جس کا اصلی نام سندری تھا شیطان جننیوں میں سے تھی۔۔کابوت اپنے قبیلے کا سب سے طاقتور جن تھا اس لیے اس نے کابو ت کو اپنے قابو میں کیا اور ڈرامے سے اسلام قبول کر کے اس سے شادی کر لی۔۔اب وہ روزانہ کابوت پر اپنی طاقتوں سے دم کرتی جس سے کابوت کمزور ہوتا جا رہا تھا اور اس کی ساڑی طاقتوں کو ایک شیشی میں رکھ کر وہ لیوسیفر سردار تک پہنچانے والی تھی۔۔اسے چالیس دن کا چلہ مکمل کرنا تھا اس کے بعد وہ کامیاب ہو جاتی اور شیطان سردار طاقتور بن کر مسلم جنوں پر حملہ کرتا۔۔ذنیرا کو رہا کر کے اسے ایک شیشہ پکڑا دیا گیا تھا۔جس کو وہ جیسے ہی لے کر قبیلے میں جاتی قبیلے کا حصار ختم ہو جاتا اس طرح بہت ساے شیطان آسانی سے قبیلے میں داخل ہو سکتے تھے۔۔اور بدقسمتی سے ذنیرا قبیلے میں داخل ہو چکی تھی ۔اس کے ساتھ ہی بہت سے شیطان قبیلے داخل ہو گے اور کچھ مختلف جگہوں پر روپوش ہو کر حملے کا انتظار کرنے لگے تھے۔۔

کابوت اس وقت سندری کے قبضے میں تھا ۔وہ مکمل بے ہوش تھا۔حصار ہونے کی وجہ سے معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ سندری کابوت کو کہاں لے گی ہے مگر اتنا معلوم ہو گیا تھا۔کہ وہ دونوں کسی جنگل میں ہیں جہاں بہت ذیادہ سانپ اور اژدھے موجود ہیں۔۔اور یہ جگہ ازلان پہچانتا تھا مگر اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ ایسی کونسی جہ ہے جہاں ایسے موزی جانور موجود ہیں۔۔۔

ازلان اب آگے کا راستہ تم خود طے کرو اس سے ذیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔۔

یہ رکھ لو کام آۓ گی

بزرگ نے ایک انگوٹھی ازلان کو دی اور عبادت میں مصروف ہ گے۔۔

وہی شخص جو بزرگ کا غلام تھا وہ ازلان کو درواے تک چھوڑ آیا ۔ازلان اڑتا ہوا ۔ذینب کی طرف چلا گیا۔۔

ذینب شیشے میں خود کو دیکھ کر رو رہی تھی۔ازلان اس کی پریشانی سمجھ کر ایک دم غایب ہوا۔کچھ دیر بعد ایک بیگ کے ساتھ کمرے میں آیا۔۔

ذینب ازلان کو دیکھ کر چونکی ۔۔ت تم بھوت۔۔ذینب کے دل میں ڈر نے جگہ لے لی۔۔ہممم میں یہ لو اسے پہن کر آو۔۔

ازلان نے اسے بیگ پکڑایا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔۔اسی لمحے ذینب کا ڈر بھاگ گیا وہ مسکراتی ہوی۔واشروم چلی گی۔۔

واپس آنے پر ازلان اسے دیکھ کر ششدر رہ گیا۔۔۔

ذینب بلیک کلر کی میکسی میں قیامت ڈھا رہی تھی۔

گیلے بالوں کو ایک طرف ڈالے وہ مسکراتے ہوے آگے بڑھی۔۔

واو بہت خوب ۔ازلان نے بڑھ کر اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے۔

ذینب نے شرما کر گردن جھکا لی۔۔ازلان نے کچھ پڑھ کر ذینب کا حصار کھینچا اور اس کے ساتھ بیٹھ کر باتوں میں مگن ہو گیا۔۔

❤
❤
❤
❤
❤

اے اے یہ کپڑے کدھر سے آۓ اتنے مہنگے۔۔

سدرہ نے ذینب کو دیکھ کر کہا

میرے اپنے ہیں۔۔

ذینب نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔

دیکھا اکبر بولا تھا نا میں نے کہ کسی یار سے ملتی ہی دیکھ لو کیسے عیاشی کر رہی ہے۔۔۔

سدرہ نے دانت پیس کر اکبر کو کہا۔۔

ثناہ اس کے کپڑے دیکھ کر حیران ہو گی لالچ سے اس کی انکھیں کھل گی

شرم نہیں اتی کمینی ۔۔۔

اکبر اگے بڑھ کر ذینب کو مارےن لگا تو اچانک اس کا ہاتھ کسی نے ذور سے پکڑ لیا۔۔

اکبر کو کچھ دکھای تو نہ دی مگر اس کا ہاتھ مسلسل کسی کی گرفت میں تھا ارے ذکے کیوں ماریں اس کمینی کو۔۔سدرہ نے اکبر کو کہا

ذینب کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ تھی۔۔

اکبرتھک ہار کر بستر پر بیٹھ گیا۔۔ذینب مسکراتی ہوی چھت کی جانب بڑھ گی۔۔

❤❤❤❤❤❤۔

ذنیرا اپنے والد کے پاس پہنچی اور ساری کہانی سنا ڈالی۔۔اس ک والد ملکہ ملکہکے پاس پہہنچے انہیں کچھ گڑ بڑ لگ رہی تھی۔۔ملکہ نے ایک اور بم پھوڑا کہ قبیلے کا حصار ختم ہو گیا ہے۔۔جس سے سب لوگ خوفزدہ ہو گے۔۔ملکہ نے فوراََ ازلان کو واپس بلایا ۔۔تاکہ کوی حل نکالا جا سکے۔۔۔

👑
❤
❤
❤

ازلان ذینب کے ساتھ چھت پر بیٹھا باتوں میں مصروف تھا۔ذینب کو ازلان کےآنے کے بعد بہت سکون تھا۔وہ ازلان سے دور نہیں رہ سکتی تھی۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کو اپنا سب چھ مان چکے تھے

ملکہ کا پیغام ملتے ہی ازلان نے ذینب کو اپنے جانے کی خبر دی کیوںکہ شاید اب جنگ کا وقت آ گیا تھا۔۔اس نے ذینب کو جلد لوٹنے کا کہا۔ذینب نے رو رو برا حال کیا تھا۔ازلان اسے سمجھا کر واپس لوٹ گیا۔ذینب نے اس کی کامیابی کی دعا کی۔اور کمرے میں چلی گی۔۔

ذینب اپنے کمرے میں بیٹھی سوچوں میں غلطاں تھی اسے ازلان کی فکر ہو رہی تھی ۔ازلان جاتے جاتے اس کے لیے کافی 😒 مہنگے کپڑے اور ضرورت کا سامان چھوڑ گیا تھا۔ذینب نے اٹھ کر الماری کھولی اور کپڑے بیڈ پر ڈھیر کر کے دیکھنے لگی۔اس کا سارا کمرہ بدل گیا تھا۔ازلان نے اس سٹور روم کو بہت خوبصورتی سے سجایا تھا کمرے میں نیا رنگ نیا فرنیچر تھا۔وہ ابھی کپڑے پھیلا کر دیکھ رہی تھی کہ درواذہ کھلا اور ثنا۶ اندر داخل ہوی

اے لڑکی مجھے چپس۔۔۔۔۔۔😦😮

ثنا۶ نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی وہ ذینب کے کپڑے اور کمرہ دیکھ کر دنگ رہ گی تھی۔امی امی ابو ادھر آٶ ۔۔

ثنا۶ چلاتی ہوی باہر بھاگی

ارے کیا ہوا ۔۔سدرہ اور اکبر بھاگے بھاگے آۓ

یہ دیکھیں ذینب کا کمرہ۔۔۔۔ثنا۶ کا منہ مارے حیرت کے کھلا تھا۔سدرہ اور اکبر بھی دنگ رہ گے ۔۔اس کمرے کے آگے گھر کے سارے کمرے پھیکے لگ رہے تھے۔۔

کمینی ۔۔۔دیکھو اکبر بولا تھا نا کوی یار ہے اس کا دکھ لیا اب کیسے عیاشی کر رہی ہے نجانے رات میں کیا کرتی ہو گی چھییی۔۔سدرہ نے آگ لگانا ضروری سمجھا۔۔

اکبر غصے سے آگے بڑھا اور ذینب کے بال کھینچ کر گھسیٹ کر صحن میں لے آیا۔۔ بول کون ہے وہ بتا کون ہے وہ لڑکا۔۔اکبر نے غصے سے ذینب سے پوچھا

کوی نہیں ہے بھای۔۔ذینب نے روتے ہوے کہا

تو یہ سب کون کرتا ہے کون دیتا ہے تجھے چیزیں اور کپڑے ہاں

اکبر نے غصے سے چیخ کر کہا اس کی چیخنے سے سارا گھر دہل گیا تھا۔آس پڑوس کے لوگ باخبر تھے کہ ذینب پر ہی تشدد کیا ہو گا اسی لیے وہ لوگ خاموش تھے

چٹاخ ذور دار تھپڑ سے ذینب ذمین بوس ہو گی

بے غیرت اسی لیے تجھے پالا ہے تا کہ تو میری عزت تباہ کرے؟

بس بھای بس بہت ہوا اب اور نہیں

کیا پالا ہے اپ نے ہاں نہ پڑھایا لکھایا اور نہ ہی کبھی کوی چیز لے کر دی نوکروں سے بھی بدتر ذندگی ہے میری ۔۔اپ بھای نہیں ہو ظالم شیطان ہو اپنی بیوی کے اگے بہن کو بھی کوی اہمیت نہیں دی۔۔

ذنیب نے غصے سے پھٹ کر کہا انسوو اس کے گالوں پر بہہ رہے تھے

تھپڑ کا نشان واضح نظر ارہا تھا اس کے ہونٹ بھی پھٹ گے تھے

ذبان چلاتی ہے کمینی رک ذرا ۔۔سدرہ نے جوتی اتار کر کہا تو اکبر نے اس کا بازو پکڑ لیا

سدرہ اندر جاو تم ثنا۶ کو لے کر ۔۔اکبر نے سدرہ کو حکم دیا

سدرہ بنا کچھ بولے چلی گی

اس کے خیال میں اکبرذینب کی کلاس لینے والا ھے

ذینب تم بھی جاو کمرے میں۔۔

اکبر کے کہنے پر ذینب غصے سے کمرے کی جانب چلی گی۔۔

اکبر وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گیا

غصے میں اپنی بہن کو کتنی اذیت دی میں نے افف یہ کیا ہو گیا مجھ سے

اکبر خود کو کوس رہا تھا۔۔بچپن سے وہ ذینب کو بہت پےار کرتا تھا ہمیشہ لاڈ اٹھاتا مگر بیوی کی باتوں نے اس کے اندر ذہر گھول دیا تھا۔۔اکبر غصے سے سر پیٹتا ہوا گھر سے نکل گیا۔۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤

ازلان جب قبیلے پہنچا تو بزرگ کی انگوٹھی کی وجہ سے اسے تمام شیطان جن محسوس ہو رہے تھے۔۔ازلان نے ملکہ سے ضروری گفتگو کی اور اپنی تلوار لے کر محل سے نکل گیا۔۔۔راستے میں اسے جہاں بھی شطان نظر آتے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے ختم کرتا جاتا۔۔۔شیطان صرف مخبری کے لیے تھے اس لیے وہ بہت کم تھے ۔۔تمام شیطانوں کو جہنم واصل کر کے ازلان نے ملکہ کی طرف رخ کیا

❤
❤
❤

امی حضور نجانے وہ کونسا جنگل ہے جہاں کابوت قید ہے۔۔کابوت کے بغیر ہم ان شیطاونوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔۔

ازلان نے فکر مندی سے کہا

ازلان اس کا ایک اور حل ہے ۔۔تمہیں چلہ کاٹنا ہو گا تا کہ تم قبیلے کے گرد پھر سے حصار قاٸم کر سکو اس طرح تمہیں کابوت سے بھی ذیادہ طاقتیں مل جاییں گی مگر۔۔۔

مگر کیا امی

ازلان یہ چلہ بہت خطرناک ہو گا۔۔بہت مشکلات ہو گی اس میں اور تمہیں یہ چلہ افریکہ کے جنگلات میں جا کر کرنا ہو گا ۔۔

ملکہ کی بات سن کر ازلان سوچ میں پڑ گیا

ٹھیک امی میں کروں گا اپ مجھے طریقہ بتا دیں

ازلان نے ایک فیصلہ کن انداذ میں کہا

ٹھیک ہے جیسا تم کہوملکہ نے گہری سانس لے کر کہا

امی جان مجھے کچھ سپاہیوں کی ضرورت ہے انہیں انسانی دنیا میں بھیجنا ہے

ازلان نے ہچکچاتے ہوے کہا

مگر کیوں اس کی کیا ضرورت ہے؟

ملکہ نے تجسس سے پوچھا

امی مجھے ایک انسانی لڑکی سے محبت ہے اور میں اس کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں میں کامیاب لوٹ کر اسے اپنی دنیا میں لے آٶں گا

ازلان نے تفصیل بتایا

مگر ازلان یہ ممکن نہیں ہے انسانوں اور جنات کاملن نا ممکن ہے۔۔۔

ملکہ نے پیشانی سے کہد۔۔۔۔۔۔امی جان میں جانتا ہوں مگریہ میرے بس میں نہیں ہے ۔۔۔ازلان نے ماں کے ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔ازلان یہ سب بعد میں سوچیں گے ابھی تم چلہ مکمل کرو میں ابھی اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی ۔۔ملکہ نے دوٹوک انداذ میں کہا

جی امی جان جیسا اپ کا حکم۔۔

ازلان کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔

❤
❤
❤
❤

ازلان دیکھو نا بھای نے مجھے مارا ہے تم کہاں ہو مجھے لے جاو یہاں سے ۔۔ذینب شیشے کے سامنے کھڑی ازلان کو پکار رہی تھی۔۔

ذینب۔۔۔عقب سے آتی آواذ پر وہ پلٹی

ازلان۔۔۔۔۔ذینب ازلان کو دیکھ دیکھکر روتے ہوے اس کے گلے لگ گی

ذینب یہ سب کیا ہے۔۔؟ ازلان نے فکر مند سے پوچھا

ازلان۔۔۔ذینب نے اپنے اوپر ہوے ہر ظلم کی داستان ازلان کو سنا ڈالی۔۔کہاں تھے تم ازلان مجھے چھوڑ کر چلے گے۔۔۔

ذینب تم رو مت میں آ گیا ہوں۔۔یہاں بیٹھو۔۔۔ازلان نے ذینب کو پانی پلایا اور کھانا کھلا کر سلا دیا۔۔۔

یہ اچھا نہیں کیا تم سب نے ۔۔ایک بار چلہ مکمل ہو لینے دو پھر سب کو پوچھوں گا۔۔ازلان نے غصے سے دانت پیس پیس کر کہا۔۔چلہ مکمل ہونے سے پہلے وہ کسی انسان کے سامنے ظاہر نہیں ہو سکتا تھا اس طرح اس کی طاقت کم ہوجاتی ۔۔مگر وہ ذینب سے ملے بغیر رہ نہیں سکا۔۔اب اسے جلدی ہی واپس جانا تھا اس لیے وہ ذینب کو سوتا چھوڑ کر لوٹ گیا۔۔جاتے جاتے وہ اس کا حصار کھینچ گیا تھا اس سے وہ دو دن تک نیند میں رہتی ۔۔۔❤۔

ازلان اپنا کچھ ضروری سامان لے کر افریکہ کے جنگلات کی طرف نکل گیا۔ایک دفعہ چلا شروع ہو جانے کے بعد وہ اپنی کوٸ طاقت استعمال نہیں کر سکتا تھا۔اس نے جنگلات کا جاٸزہ لیا ۔ہر طرف خونخوار جانور اور ذہریلے ناگ کیڑے مکوڑے موجود تھے۔مگر ازلان انسان نہیں تھا اس لیے وہ جانور اسے کوٸ نقصان نہیں تہنچا سکتے تھے۔وہ بے فکر ہو کر ایک جگہ منتخب کر کے بیٹھ گیا۔جنگلات اتنے گھنے تھے کہ دن رات کا پتہ لگانا انتہاٸ مشکل تھا۔ہر طرف اندھیرا تھا مگر ازلان کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل تھیں سو وہ سب کچھ اطمینان کر کے آرام کی غرض سے لیٹ گیا۔نیند کی دیوی جلد ہی اس پر مہربان ہو گٸ ۔

💝
💝
💝
💝

ذینب درواذہ کھول دے اٹھ جا بے غیرت کام پڑا ہے ویسے ہی۔سدرہ بالوں کا جوڑا بناتے ہوے کمرے سے نکلی اور ذینب کو آواذ دینے لگی۔اج چھٹی کے باعث وہ سب دیر تک سوتے رہے ۔۔ارے کم بخت اٹھ جا ۔ سدرہ نے دوبارہ آواذ لگاٸ ۔ ۔ذینب کی طرف سے مکمل خاموشی تھی۔سدرہ منہ کے زاویے بگاڑتی ہوی ذینب کے کمرے کی جانب بڑھ گی۔ارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔آہہہہہہہہہہ

سدرہ نے جوں ہی درواذے کو کھولنے کے لیے ہاتھ لگایا ایک زوردار جھٹکے سے وہ دور جا گری ۔۔چیخ کی آواذ سن کر اکبر بھی باہر دوڑ آیا۔۔کیا ہوا سدرہ خیر ہے؟؟

اک اکبر و وہ وہ ۔۔۔۔

کیا وہ وہ بولو بھی۔۔ اکبر نے سدرہ کو اٹھا کر کھڑا کیا۔۔سدرہ کمر پکڑ کر کراہتی ہوی صوفے پر بیٹھ گی

اکبر وہ ذینب کے درواذے میں کچھ ہے اس کمینی نے مجھے دھکا دیا ہے۔۔۔سدرہ نے منہ چڑھا کر کہا۔۔

کیا ہے درواذے میں وہ ۔۔اکبر نے آگے بڑھ کر ہاتھ سے درواذے کا ہینڈل گھمایا تو ایک جھٹکے سے اکبر بھی دور جا گرا۔۔

اکبر اکبر اپ ٹھیک ہیں؟؟ سدرہ دوڑ کر ان کے پاس گی۔۔۔

کیا ہے کیوں صبح صبح شور مچا رہے ہو اج چھٹی ہے سونے بھی نہیں دیتے۔۔ثنا۶ آنکھیں ملتی ہوی باہر آٸ۔۔

اکبر اکبر اپ ٹھیک ہیں نا

ہاں م۶ں ٹھیک ہوں مگر وہ دروازہ۔اکبر نے سنبھل کر درواذے کو دیکھا

پتا نہیں کیا ہے اپ اٹھیں میں کرتی ہوں کچھ ۔۔

سدرہ نے اسے پکڑ کر اٹھایا

ثنا۶ چل چاے بنا ابو کے لیے ۔۔ سدرہ نے ثنا۶ کو حکم صادر کیا

امی مجھ سے نہیں بنتی چاے خود کر لیں۔۔ثنا۶ پیر پٹختی واپس لوٹ گی۔۔

سدرہ غصے سے مڑی اور کچن میں چاے بنانے چلی گی

اکبر کچھ سوچ کر اٹھا اور ذینب کے کمرے کی بچھلی جانب چلا گیا۔۔

کھڑکی سے جانکنے پر ذینب سوتی ہوی نظر آٸ

اکبر کافی دیر وہاں کھڑا رہا۔۔ذینب کے کروٹ لینے پر اکبر نے سکون کا سانس لیا اور واپس مڑ گیا

۔۔۔کہاں چلے گے تھے ۔۔؟ سدرہ نے چاے پکڑاتے ہوے کہا

وہ ذینب کو دیکھنے گیا تھا نجانے کیا ہوا ہے اس درواذے کو شاید کرنٹ ہے میں الیڑیشن کو بلاتا ہوں۔۔.

اکبر نے پرسوچ لہجے میں کہا ۔۔اسے ذینب کی بہت فکر ہو رہی تھی۔جو بھی تھا وہ بہن تھی اس کی اور بیوی کی باتوں میں اکر اس نے بہت غلط کیا تھا۔۔ابر کے ذہن میں سب باتیں چل رہی تھیں ۔۔،کیا واقعی میں میری بہن ایسا کر سکتی ہے؟؟ وہ کسی مرد کے ساتھ کیسے۔۔جبکہ وہ گھر سے نکلی نہیں ہے ۔۔؟

یہی سب سوچتے ہوے اس نے چاے ختم کی اور فوراََ الیکٹریشن کو بلا لایا۔۔

الیکٹریشن نے بغور دیکھا سارے گھر میں کہیں کرنٹ نہیں تھا مگر مشین ذینب کے کمرے کی جانب کرنٹ دکھا رہی تھی۔۔الیکٹریشن نے لکڑی لے کر درواذے پر رکھنا چاہی تو اسے بھی جھٹکا لگا۔۔الیکٹریشن پریشان ہو گیا کہ لکڑی سے کرنٹ کیسے پاس ہوا؟

کافی بار کوشش کی ۔۔مگر ہر بار ناکام ہو کر اس نے معذرت کی اور پیسے لے کر چلا گیا۔۔

عجیب تھا پیسے بھی لے گیا لٹیرا کہیں کا۔۔

سدرہ بڑبڑای۔۔۔

❤
❤
❤
❤

ازلان کی آنکھ کھلی اس نے آخری بار جنگل سے باہر جا کر وقت کا انداذہ لگایا۔۔سورج نکل چکا تھا یعنی صبح ہو گی تھی۔۔اس نے جلدی سے حصار کھینچا اور اپنا عمل شروع کرنے لگا۔۔قرآن پاک مکمل پڑھنے کے بعد اس نے کچھ وظاٸف کیے اور آرام کی غرض سے لیٹ گیا۔۔کچھ دیر بعد اٹھ کر اس نے دوبارہ قران شروع کیا۔۔

اسی طرح اس کا ایک دن مکمل ہوا اور وہ حصار ختم کر کے اپنی جگہ آکر لیٹ گیا۔۔

اسے لیٹے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اسے آس پاس سے جنات کی بو آنے لگی۔۔۔یہ بو انتہای تیز ہوتی جا رہی تھی۔۔۔یعنی یہاں بھی جنات موجود تھے۔۔ازلان اٹھ کر بیٹھ گی۔۔ادھر ادھر نظر دوڑای تو وہاں سینکڑوں کی تعداد سے سانپ رینگ رہے تھے۔۔اتنے بڑے سانپ کوی انسان دیکھ لیتا تو خوف سےبے ہوش ہو جاتا۔۔ازلان نے ان سب کو ایک نظر دیکھا اور مسکرا دیا وہ سب سانپ جنات میں سے تھے۔۔ازلان نے اپنے گرد حصار کھینچ لیا۔۔وہ جانتا تھا کہ وہ اتنی طاقتیں استعمال نہیں کر سکتا اس لیے وہ ان جنات سے لڑ نہیں پاےگا اور یقیناََ یہ جنات مسلم نہیں تھے۔۔ازلان کے حصار کھینچتے ہی وہ سب سانپ ازلان کی طرف تیزی سے بھڑنے لگے ۔۔ازلان نے حیرت سے انہیں دیکھا اور سکون سے ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا۔۔حصار کے باہر وہ سب پھن پھیلا کر بیٹھ گے۔۔ازلان نے خوف سے جھرجھری لی۔۔اور وظاٸف پڑھنے لگا۔۔وظایف پڑھتے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ وہ سب جل کر راکھ ہو گے۔۔اور ایک عجیب سی روشنی نمودار ہوٸ اور ازلان کے جسم میں سرایت کر گی۔۔ازلان کو ایک جھٹکا سا لگا۔اور وہ وہیں بے ہوش ہو گیا۔۔۔۔

❤
❤
❤
❤

اج دوسری صبح تھی ۔۔ذینب بدستور سو رہی تھی۔۔اکبر بہت پریشان ہو چکا تھا۔۔سدرہ بھی اپ تشویش میں لاحق تھی۔۔۔ایک ثنا۶ تھی جو بے نیاذ سی اپنے فون میں گم تھی۔۔

اکبر اپ کسی عالم کو بلا لیں ذینب ذندہ تو ہو گی نا۔۔۔؟

سدرہ نے اکبر کو مشورہ دیا

ہمم میں جاتا ہوں امام صاحب کے پاس۔۔

اکبر نے پریشان کن انداذ میں کہا

………

دوپہر کی نماذ کے بعد امام صاحب کو لیے اکبر گھر ایا۔۔۔

امام صاحب نے گھر کا جایزہ لیا۔۔اور ذینب کمرے کے سامنے رک گے۔۔۔

اکبر اور سدرہ امام صاحب کے پاس دم سادھے کھڑے تھے۔۔۔

تم نے اچھا نہیں کیا بچی کو مار کر اکبر۔۔۔

امام صاحب کی بات پر ابر چونکا اور پھر شرمندگی سے سر جھکا لیا

امام صاحب نے ایک غصیلی نگاہ سدرہ پر ڈالی اور مڑ کر صحن میں اگے ۔۔کرسی پر بیٹھتے کر انہوں نے تسبیح پر کچھ پڑھنا شروع کیا۔۔ان کے پیچھے اکبر اور سدرہ بھی اگے

اکبر کل شام سے پہلے یہ درواذہ نہیں کھلے گا۔۔تم لوگ اس کی فکر مت کرو اپنی کرو ۔اور ہاں دھیان رہے کہ ذینب بیٹی کو کوی تنگ نہ کرے ۔۔۔

امام صاحب نے اخری بات سدرہ کو دیکھ کر کہا

سدرہ دانت پیس کر رہ گی

مگر امام صاحب ہوا کیا ہے بتا دیں۔۔۔

اکبر نے پریشانی سے کہا

ہممم ابھی وقت نہیں آیا بتانےکا اب مں چلتا ہوں۔۔۔۔امم صاحب کہہ کر چلے گے بیچھے اکبر اور سدرہ سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

۔ازلان کو جب ہوش آیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ایسالگ رہا تھا کہ وہ سو کر اٹھا ہے۔۔اس کے جسم میں کافی تواناٸ بھر گی تھی۔ازلان نے ادھر ادھر دیکھا تو وہاں فلحال کوی جانور نہیں تھا۔ازلان نے اٹھ کر حصار کھینچا اور قرآن کی تلاوت شروع کر دی۔اپنے وظایف پورے کر کے وہ حصار سے باہر آ گیا۔حیرت انگیز طور پر اسے بھوک نہیں لگ رہی تھی۔ازلان حیران پریشان سا کچھ دیر آرام کی غرض سے لیٹ گیا۔۔اسے غور کرنے پر انداذہ ہوا کہ اسے واقعی طاقت ملی ہے۔۔ازلان نے وقت پر وظایف پڑھ کر ان خبیث جنوں کو ختم کر دیا تھا اور اسی طرح ان کی طاقیتیں ازلان میں سرایت کر گی تھیں۔۔ازلان کو ذینب کا خیال آیا تو وہ اداس ہو گیا۔۔حصار کے علاوہ وہ اس کی کوی اور حفاظت نہیں کر کے آیا تھا۔نجانے وہ کیسی ہو گی۔۔نیند سے جاگ چکی ہو گی ۔۔ازلان نے گہرا سانس لے کر آنکھیں موند لیں۔۔۔

💝
💝
💝

ذینب نیند سے جاگ چکی تھی۔۔وہ خود کو کافی پر سکون محسوس کر رہی تھی۔فریش ہو کر وہ باہر آٸ تو سدرہ اسے دیکھ کر چونک گی۔۔ذینب کچھ کہے بغیر کچن میں چلی گی اور اپنے لیے کھانا بنانے لگی۔۔شام کے پانچ بج رہے تھے۔۔اکبر ا چکا تھا سدرہ دوڑ کر اکبر کے کمرے میں گی اور ذینب کے اٹھ جانے کا بتایا۔۔اکبر فوراََ اٹھا اور ذینب کے پاس گیا۔۔

ذینب تم ٹھک ہو؟؟

اکبر کی بات پر چاول بکاتی ذینب ٹھٹکی۔۔

جی میں ٹھیک ہوں ۔۔۔

ذینب مختصر جواب دے کر اپنے کام میں جت گٸ ۔۔

اکبر شرمندہ سا واپس اگیا ۔۔جانتا تھا ذینب پر ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں کیا۔۔اور اگلے کچھ گھنٹوں میں سدرہ نے اس کے دماغ سے ذینب کا کیڑا نکال پھینکا ۔۔

سدرہ نے اکبر کو ذینب کے بارے میں بڑھا چڑھا کر باتیں بتایں جس سے اکبر پھر سے سخت ہو گیا۔۔

ذینب سے گھر میں کوی بات نہیں کر رہا تھا۔۔ذینب کو کسی کام کا بھی بولا نہیں جاتا۔۔ازلان بھی کی دنوں سے نہیں آیا تھا۔۔

ذینب کو یہ خاموشی کسی طوفان کا پتا دے رہے تھے۔۔۔دس دن ہو گے تھے۔۔ان دس دنوں میں ازلان کی کوی خبر نہیں تھی۔۔ذینب کو شدید پریشانی تھی۔۔بار بار ازلان کو یاد کر رہی تھی۔۔

اس وقت بھی وہ کمرے میں بیٹھی دعا میں مشغول تھی کہ اسے باہر سے کچھ آواذیں سنای دیں۔۔وہ اٹھ کر باہر گی تو یہ اواذیں سدرہ کے کمرے سے ا رہی تھیں۔۔

ذینب نے بڑھ کر کمرے کے درواذے سے جھانکا تو سدرہ کھڑکی کی طرف منہ کیے کسی سے فون پر مصروف تھی۔

ہاں شکیل اچھی خاصی رقم دے رہا ہے کم ازکم اس منحوس سے جان چھوٹے گی اور پیسے بھی ہاتھی آٸیں گے۔۔

پانچ لاکھ دے رہا ہے۔

ارے نہیں وہ بیویاں بھاگی نہیں تھیں اس نے خود بیچی تھیں۔۔

ہاں ٹھیک ہے رکھتی ہوں خدا خافظ۔۔

سدرہ نے کال کاٹی ذینب جو درواذے پر کھڑی شش وہ پنج میں مبتلا تھی فوراََ اپنے کمرے میں آگی۔۔

یہ بھابھی کس کی بات کر رہی ہیں کہیں میں۔۔۔۔نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔

ذینب کمر میں ٹہل رہی تھی تب ہی اکبر کی آواذ سنای دی۔۔غالباََ اکبر گھر آگیا تھا۔۔ ذینب دوڑ کر باہر گی۔۔سدرہ کے کمرے سے کافی ذور کی آواذیں آ رہی تھیں۔

ارے اکبر کب تک رکھیں گے گھر اور شکیل سدھر گیا ہے اس نے نشہ چھوڑ دیا ہے کاروبار کرتا ہے ۔۔

سدرہ اکبر کو سمجھا رہی تھی

مگر سدرہ اس نے اپنی بیویوں کو بیچا ہے کوٹھے پر دو بیویاں تھیں اس کی

اکبر نے سدرہ کو بتایا مگر سدرہ نفی کر گی

نہیں وہ بھاگی تھی کسی اور کے ساتھ اور سوچو اس نے کسی کے ساتھ چکر چلایا ہوا ہے کل کو اگر یہ بھاگ گی تو ۔۔۔۔؟ ہماری بیٹی بھی ہے۔۔۔اس کا رشتہ کون مانگے گا پھر۔۔۔؟

اور شکیل پانچ لاکھ دے رہا ہے ہم لوگ کہیں اور گھر لے لیں گے اس لڑکی سے ہمیں کیا ملے گا ۔۔۔

سدرہ نے پتا پھینکا ۔۔۔ٹھیک ہے سدرہ مگر ذینب سے پوچھ لینا۔۔

اکبر نے بھی لالچ میں اکر ہاں کر دی

ارے پوچھنا کیا شکیل آرہا ہے اگلے ہفتے نکاح کر کے رخصت کر دیتے ہیں۔۔

سدرہ نے خوش ہو کر کہا

اس سے آگے ذینب سن نا سکی اور مرے قدموں سے کمرے میں آکر ڈھے گی۔۔ازلان۔۔کہاں ہو تم؟؟ ایک آخری امید تھے تم ازلان لوٹ آٶ تمہای ذین بک رہی ہے ازلان لوٹ آٶ

ذینب پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔

❤
❤
❤

ازلان کے چلے کے دس دن گزر چکے تھے۔۔ان دس دنوں میں کوی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔۔ازلان حصار کھینچ کر بیٹھ گیا اور وظایف دوہرانے لگا۔۔ ابھی ابھیکچھ ہی دیر گزری تھی کہ اسے سامنے سے کبوت آتا دکھای دیا۔۔چند لمحے کے لیے ازلان حیران ہو گیا مگر پھر اسے یاد آیا کہ یہ سب اس کا حصار توڑنے کی سازش ہے۔۔اس نے وظایف جاری رکھے۔۔کبوت حصار کے بہر رک گیا۔۔ازلان کی آنکھیں مسلسل بند تھیں۔۔کبوت کہاں ہو۔۔ایک ذنانہ آواذ پر ازلان نے آنکھیں کھولیں۔۔کبوت ذمیں پر چت لیٹا تھا اور اس کے پاس ہی ذبیدہ عرف سندری کھڑی کوی شربت گھول رہی تھی۔۔یہ ایک غار نما چٹان تھی۔۔وہاں اب کوی جنگل نہیں تھا۔۔ازلان حیرت سے یہ سب دیکھ رہا تھا اور وظایف دوہرا رہا تھا۔۔سندری نے بڑھ کر وہ شربت کابوت کے حلق میں انڈیل دیا۔۔کابوت تڑپنے لگا اور کچھ دیر بعد اس کی ناک سے کوی سفید لاوا نکلا جو در حقیقت کابوت کی طاقتیں تھیں۔ازلان یہ سب دیکھ کر برداشت نہ کر سکا اور وظایف روک کر کھڑا ہو گیا جوں ہی وہ کھڑا ہوا منظر بدل گیا اور وہی جنگل وی حصار جس میں ازلان بیٹھا تھا۔۔ازلان سمجھ گیا کہ اس کی مدد ہو رہی ہے وہ پھر سے بیٹھ کر وظایف پڑھنے لگا۔۔منظر پھر سے غار کی طرف نہیں جا سکا۔۔وظایف مکمل کر کے ازلان ارام کرنے لگا۔۔یہ غار اسے دیکھا دیکھا لگ رہا تھا مگر کہاں۔۔۔

❤
❤
❤
❤

جاری ہے

یہ حقیقی کہانی نہیں ہے اس لیے اسے صرف انجواے کرنے کے لیے پڑھیں اصل ذندگی میں یہ سب نہیں ہوتا یہ صرف دماغ کی تخلیق ہے😊

کوہ قاف کا سردار👑👑

قسط 8❤❤

ازقلم مونہ رضوان ✨✨

💝
💝
💝

ازلان کے چلے کا آج پچیسواں دن تھا ۔پچھلے سارے دنوں میں اسے کوی مسلہ پیش نہیں آیا تھا۔ وہ غار کو ڈھونڈنے کی کوشش میں تھا مگر غار اسے نہیں ملا اور نہ ہی اسے معلوم ہوا کہ غار کدھر ہے۔۔ازلان نے حصار ختم کیا اور آرام کرنے لیٹ گیا۔۔ابھی وہ سوچوں میں گم ہی تھا جب وہ ایک دم چونک کر اٹھا۔۔اس کے سامنے دو نوجوان کھڑے تھے۔۔وہ انسان نہیں تھے۔۔ازلان ان کی بو سے محسوس کر سکتا تھا کہ وہ پری زاد ہیں۔۔سردار بولیں کیا حکم ہے۔۔۔؟ ان میں سے ایک پری ذاد نے کہا۔۔تم لوگ ۔۔۔؟ ازلان نے حیرت سے سوال کیا

آقا ہم اپ کے غلام ہیں اپ حکم کریں ۔۔

اچھا کیا تم کابوت کے بارے میں بتا سکتے ہو۔۔ ازلان کے سوال پر پری زادوں نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا ۔۔ سردار ہم غیب نہیں جانتے طاقت کے زور پر کام کر سکتے ہیں آپ کے حکم سے ہم لوگوں کی طاقت آپ کی ہو سکتی ہے مگر اس طرح ہم ختم ہو جاٸیں گے ۔۔۔

پریذاد کی بات پر ازلان سوچ میں پڑ گیا پھر اچانک اس کی آکھیں چمکیں ۔۔کیا ذینب کے بارے میں معلو کر سکو گے۔۔

جی سردار ۔۔۔پری ذاد کے جواب پر ازلان نے انہیں ذینب کے پاس اس کا حال احوال دیکھنے بھیجا۔۔۔

❤
❤
❤
❤

دیکھو ذینب تم خوش رہو گی شکیل کے ساتھ۔۔

اکبر کافی دنوں سے ذینب کو سمجھا رہا تھا مگر وہ شادی کے لیے منع کر رہی تھی۔۔

کس سے کرے گی شادی پھر ہاں بول۔۔

سدرہ نے چیخ کر کہا۔۔

بھابھی شکیل اتنا ہی اچھا ہے تو ثنا۶ کی شادی کروا دیں ۔۔

ذینب نے سکون سے کہا

کیا کہا اچھا؟ سدرہ نے غصے سے ذینب کو دھکہ دیا اور کمرے سے نکل گی۔۔ذینب اٹھی اور واشروم کی جانب بڑھ گی۔۔

❤
❤

ذینب کو مہینہ ہونے والا تھا۔۔ازلان کی کوی خبر نہیں تھی۔۔ذینب اب بھی اس کے انتظار میں تھی۔۔وہ ازلان کو بے وفا نہیں سمجھتی تھی۔۔وہ کمرے میں بیٹھی سوچوں میں غرط تھی جب سدرہ دھڑام سے کمرے میں داخل ہوی۔۔۔

چل بے غیرت دفع ہو ۔۔سدرہ نے ذینب کو گھسیٹ کر صحن میں پھینکا اور ذنڈے سے اس پر برسات شروع کر دی۔۔۔

تیری وجہ سے اکبر نے پہلی بار مجھ سے لڑای کی نجانے بہن کا کیا پیار ا گیا ہے ۔۔تجھے میں جان سے مار دوں گی۔۔

سدرہ بے دردی سے ذینب کو مار رہی تھی۔۔ذینب کو کو چھڑانے کی کوشش میں بے حال ہو گی تھی۔۔ڈنڈا پھینک کر سدرہ اندر کی طرف بھاگی اور ایک چمٹہ گرم کر کے لے ای۔۔ذینب کی انکھیں حیرت سے کھل گی ۔بھابھی خدا کے لیے نہ کریں ایسا اپ کی بھی بیٹی ہے۔۔۔

ذینب نے رو کر فریاد کی ۔۔چپ کر اپنی گندی ذبان سے میری بیٹی کا نام نہ لینا حرام ذادی۔۔۔ سدرہ نے گرم چمٹا اس کی ٹانگ پر رکھ دیا۔۔ذینب کی چیخوں سے اسمان لرز اٹھا تھا۔۔سدرہ نے ذینب کو ایک جگہ باندھا اور بری طرح گرم چمٹا لگانے لگی اس کا جسم نشان ذدہ ہو چکا تھا۔۔

بھابھی اللہ دیکھ رہا ہے وہ پوچھے گا سب کو ۔۔میرا اللہ اپ کو چھوڑے گا نہیں ۔۔میری بد دعا ہے ۔۔تم برباد ہو جاو گی ۔۔

ذینب چیختے چیختے ہی بے ہوش ہو گی۔۔۔

سدرہ نے حقارت سے اسے دیکھا اور چمٹہ پھینک کر اندر چلی گی۔۔

❤
❤
❤

پری ذاد کچھ دیر بعد واپس لوٹے اور ازلان کو ساری صورتحال بیان کی۔۔ارے نادانو تم نے اسے بچایا کیوں نہیں۔۔۔

ازلان نے پریذادوں کی بے وقوفی پر غصے سے سر پیٹا۔۔ سردار اپ نے صرف حال پوچھا تھا بچانے کو نہیں بولا تھا۔۔

پریذاد کی بات پر ازلان نے غصے سے اسے دیکھا ۔۔اس کی انکھیں لال ہ چکی ھی۔وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔۔

تم لوگ جاو اور ذینب کی حفاظت کرو ۔۔کوی پرندہ بھی اسے تکلیف نہ دے سکے اور جو اس کی طرف بڑھے اس کو سبق سکھاو ۔۔ایک پل کے لیے بھی اسے اکیلا مت چھوڑنا۔۔اور اس کا ھر حکم ماننا ہے۔۔سمجھے۔۔۔ازلان نے انہیں روانہ کیا اور خود وہیں بیٹھ گیا

ذینب میری جان بس کچھ دن اور میں چن چن کر بدلہ لوں گا سب سے ۔۔چھوڑوں گا نہیں کسی کو۔۔۔

ازلان خود کلامی کرتا ہوا وہیں غصے سے مٹھیاں بھینچے بیٹھا رہا۔۔۔۔

❤
❤
❤

پری ذادوں نے ذینب کو کھولا اور کمرے میں لے گے۔۔اسے کے جسم پر دوای لگا کر اسے کے کپڑے پل میں بدل دیے۔۔۔اپنی طاقتوں کے انحصار پر انہوں نے یہ سب آسانی سے کر لیا۔۔

سدرہ نے ذینب کو بندھا ہوا نہ پا ک ر کمرے میں دیکھا تو حیران رہ گی۔۔ذینب اپنے بستر پر سو رہی تھی۔۔۔سدرہ نے اگے بڑھ کر اسے اواذ لگای ۔۔ذینب ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔تو اندر کس کی اجازت سے آٸ ہے؟؟ یہ میرا گھر ہے۔۔۔

بھبابھی میں نہیں ای اندر مجھے نہیں معلوم۔۔ذینب کے کہنے پر سدرہ غصے سے اگے بڑھی اور اس کے بال پکڑ لیے۔۔۔

اچھا تو فرشتے۔۔۔۔ابھی اس کی بات مکمل نہیں ہوی تھی کہ اس کے بال کسی نے بری طرح کھینچ کر پیچھے کر دیا۔۔۔ککون ہے ککون۔۔سدرہ نے درد سے چیخ کر کہا۔۔ثنا۶ اپنے کمرے سے ڈوڑ کر باہر ای کیا ہے امی۔۔۔۔

اکبر ابھی ہی گھر داخل ہوا تھا چیخ سن کر ڈوڑا آیا۔۔

کون ہے کس نے پکڑا مجھے ۔۔آہہہ

سدرہ کے منہ پر تھپڑ پڑنے سے اس کے چودہ طبق روشن ہوگے

اچانک دھواں نمودار ہوا اور دو عجیب سی مخلوق برآمد ہوی جن کے پر بھی تھی وہ دو نوجوان تھے۔۔

بھ بھوت۔۔۔سدرہ اور ثنا۶ اکبر سے لپٹ گی۔۔مگر ذینب حیرت سے کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔اسے لگا تھا ازلان لوٹ آیا ہے مگر ۔۔

ہم سردار اذلان کے غلام ہیں ۔۔ ملکہ ذینب کے محافظ کسی نے اگر ان کونقصان پہنچایا تو خیر نھیں۔۔پری ذادوں نے باری باری کہا اور ذینب کی طرف توجہ ہوے۔۔

ازلان کہاں ہے وہ ٹھیک ہے نا؟؟

ذینب نے سوال کیا

جس پر پریذاد نے ازلان کے چلے پر ہونے کا بتایا

کچھ دیر بعد پری ذاد غایب ہو گے۔۔

ذینب۔۔۔

اکبر نے ذینب کو سولایہ نظروں سے دیکھا

بھای اپ جایںں مجھے ارام کرنا ہے۔۔۔

ذینب نے منہ پھیر کر کہا اور ارام کرنے لیٹ گی۔۔

سدرہ اور ثنا۶ حیرت سے یہ سب دیکھ رہی تھیں ۔۔وہ جلدی سے باہر نکل گی۔۔

یہ لڑکی جادو گرنی ہے ۔۔

سدرہ نے ایک اور شوشہ چھوڑا۔۔اکبر سر ہلا کر رہ گیا

ازلان کچھ دنوں سے سکون میں تھا۔اسے دوبارہ کوی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں ایا مگر وہ ہر وقت ذینب اور کبوت کے بارے میں سوچتا رہتا۔۔اپنے قبیلے کی طرف سے وہ مطمٸن تھا کیوںکہ اس کے چلہ پر بیٹھتے ہی قبیلے کے گرد حصار قاٸم ہو چکا تھا۔ازلان نے اپنے بقیہ دن گزارے۔اس کے عمل کا آج 39دن تھا جوں ہی اس نے حصار قاٸم کیا۔۔اسے اپنے ارد گرد سیاہ ہولے دکھای دینے لگے۔۔وہ خاموشی سے بیٹھ کر وظاٸف کرنے لگا۔۔ہیولے اسے دیکھ کر آپس میں باتیں کرنے لگے۔۔ازلان ان کی باتیں سن رہا تھا۔۔

یہ کون ہے یہاں کیوں آیا ہے۔

ایک بوڑھے جن کی آواذ آٸ تھی

نجانے کہن ہے ابھی تو حصار میں ہے اسلیے ہمیں اس کے بارے میں نہیں پتا مگر جو بھی ہے ہمارا خیر خواہ ہی ہے۔۔

دوسرے جن نے کہا تھا

ہاں مگر ہمیں نکلنا چاہیے اسے ان اخری دنوں میں بہت مشکلات پیش ہوں گی۔

کسی دوسرے جن نے کہا

ہاں چلو ساتھیو۔۔۔بوڑھے جن کی آواز پر وہ ہولے ایک طرف کو چل پڑے

ازلان حیران سا انہیں جاتا دیکھنے لگا

ہاہاہا

کسی زنانہ ہنسی پر وہ چونکا۔۔

سامنے ہی سندری کابوت کو لیے کھڑی تھی

کابوت سخت ذنجیروں میں بندھا تھا۔ ازلان میرے شیر ۔۔یہاں آٶ

سندری کی سحر زدہ آواذ سے ازلان اپنے حواس کھونے لگا تھا۔۔

ازلان یہاں آٶ ۔۔

ازلان کسی ٹرانس کی کیفیت میں اٹھا اور حصار توڑنے کے قریب تھا جب کسی نے اسے دھکا دیا ۔۔ازلان اچانک ہوش میں آیا ۔۔کسی صورت آنکھیں مت کھولنا۔۔۔

آواذ بہت بھاری تھی۔۔ازلان نے دیکھا وہ کوی دیو نما جن تھا۔۔

ازلان فوراََ اذکار میں مصروف ہو گیا۔۔اس کی آنکھیں بند تھں

سندری غصے سے لال ہوتی ہوی دیو کی طرف چپٹی ۔۔

سردار آنکھیں مت کھولیے گا اور اذکار تیزی سے دوہرایں ۔۔

دیو کی آواذ پر ازلان نے اذکار میں تیزی لای اور انکھیں زور سے میچ لیں

ازلان مجھے بچاو بچاو ازلان ازلان

کابوت کی آواذ ازلان کو انکھیں کھولنے پر اکسا رہی تھی

زخموں سے چور کابوت چیخ رہا تھا ۔۔ذنجیروں کو توڑنے کی کوشش میں تھا مگر وہ جادوی ذنجیریں بہت مضبوط تھیں

۔۔

دیو سندری کے ساتھ لڑنے میں مصروف تھا۔۔سندری کافی طاقتور تھی مگر دیو اس پر حاوی ہوتا جا رہا تھا۔

ازلان کے ازکار کی تیزی سے دیو میں طاقت بڑھتی جا رہی تھی اور ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ دیو نے سندری کے سر سے بال نوچ ڈالے ایک چیخ سے آسمان تک لرز اٹھا اور سندری وہیں ڈھیر ہو گی۔۔کچھ دیر کے بعد اس کا وجود دھواں بن کر غایب ہو گیا۔۔

ازلان نے انکھیں کھولیں اور ایک سانس کھینچ کر حصار سے باہر آگیا۔۔

کابوت ۔۔۔۔۔

ازلان بے ہوش کابوت کے پس گیا۔۔اس کی ذنجیریں کھل چکی تھیں۔۔

ازلان نے کابوت کو اٹھایا اور ایک طرف لٹا دیا

دیو تم اسے قبیلے لے جاو ۔۔ازلان نے دیو کو حکم دیا

سردار چلہ مکمل ہونے سے پہلے یہ یہاں سے باہر نہیں جا سکتے کیوںکہ سندری کے مرنے کی خبر لیوسفر تک پہنچ چکی ہے وہ دوبارہ حملہ کرے گا۔۔۔

دیو کے کہنے پر ازلان نے سر ہلایا اور کابوت کو فکر مندی سے دیکھا

اپ بے فکر رہیں یہ کچھ گھنٹوں میں ٹھیک ہو جاییں گے میں ادھر ہی ہوں۔۔

دیو کے کہنے پر ازلان نے اس کی طرف غور سے دیکھ

وہ بہت لمبا تھا اور خوفناک بھی

تم میرے غلام ہو؟؟ ازلان نے کھڑے ہوتے ہوے دیو سے پوچھ۔۔

جی سردار جیسے پری زاد تھے ویسے میں ہوں۔۔۔مجھے مارنے سے میری طاقتیں آپ کی ہو جاییں گی۔۔

دیو نے فخر سے کہا

ٹھیک ہے میں ارام کروں گا۔۔کل اخری دن ہے چلہ کا

ازلان کہہ کر اپنی جگہ جا کر لیٹ گیا

وہ اج بہت پر سکون تھا۔۔

اس کی سوچ اب ذینب پر رکی گی تھی ۔۔۔

✨
✨
✨
✨

اکبر گھر لوٹا تو سدرہ غصے سے بھری ہوی صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔

کیا ہوا سدرہ۔۔؟

اکبر کے پوچھنے پر وہ غصے سے اٹھی ۔۔۔کیا نہیں ہوا یہ بولو۔۔اس کمینی نے کوی جادو کیا ہے میری بیٹی میری ثنا۶ وہ بھاگ گی کسی لڑکے کے ساتھ ۔۔

سدرہ نے روتے ہوے کہا

اکبر کے پیروں تلے سے ذمین کھسک گی۔۔

کیا بک رہی ہو پاگل ہو گی ہو کیا؟؟

اکبر نے سدرہ کو جھنجھوڑا۔۔

میں پاگل نہی ہوں نہیں ہوں۔۔

سدرہ نے روتے ہوے کہا

بھای وہ بھاگ گی ہے شکیل کے ساتھ۔۔

ذینب کمرے سے نکلتے ہی بولی۔۔

اکبر نے پتھرای انکھوں سے ذینب کو دیکھا

میں نے اپنے مخافظوں سے پتا کروایا ہے ۔۔۔میرے اچھے کپڑے اور سجا کمرہ دیکھ کر وہ لالچی ہو گی شکیل کے بہکانے پر وہ پھسل گی اور پیسوں کی خاطر اس سے دوستی کر لی۔۔شکیل کا رشتہ میرے لیے ایا تو ثنا۶ نے شکیل کو برا بھلا کہا شکیل نے محبت کا یقین دلانے کے لیے اسے بھاگ کر شادی کرنے پر امادہ کیا اور اسےلے کر طوایفوں کے کھوٹے پر چلا گیا ۔۔رات سے وہ درندوں کا شکار ہو رہی ہے۔۔

ذینب نے پریشانی سے ساری بات بتای ایک انکھ سے انسو گرا تھا

ذینب خدا ک لیے اسے بچا لو وہ میری بچی ہے کیوں تم نے یہ سب کیا جادو گرنی

سدرہ نے اسے کوسا ۔۔۔

چپ بس چپ اب اور نہںں مر گی ہے وہ مر گی وہ کمینی۔۔۔

سدرہ تو نے میری بہن پر الزام لگای نا اس کی بدعا لگ گی ہے ہمییں مجھے معاف کر دو ذینب ۔۔

اکبر نے ذینب سے معافی مانگی وہ رو رہا تھا۔۔ہاں وہ مرد نہیں باپ ہو کر رو رہا تھا۔۔

ہاے یہ بیٹیاں بھی نادان ہیں اپنے باپ کی عزت روند کر کسی اور کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں اور پھر کسی کوٹھے کی یا ہوٹلوں کی ذینت بنتی ہیں

❤

ازلان حصار میں بیٹھا عمل میں مصروف تھا۔۔کابوت دور بیٹھا اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔کابوت اب پہلے سے بہتر تھا وہ دیو اس کا خیال رکھتا اور کوی مرہم اس کے زخموں پر لگاتا جس سے وہ ٹھیک ہو رہا تھا۔دیو نے اس کے گرد حصار بنا دیا تھا۔جس سے کوی بھی مخلوق اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی۔کابوت سے ازلان نے کسی قسم کی کوی بات نہیں کی تھ۔کیوںکہ چلہ کے دوران وہ کسی انسان اور جن سے بات نہیں کر سکتا تھا سواے ان مخلوقات کے جو اس کے عمل کے باعث وجود میں آٸ تھیں۔۔

ازلان کے عمل کا آج آخری دن تھا۔۔اسے ان تمام جنات کو آزاد کرنا تھا جو شیطانوں نے قید کی تھیں۔۔ازلان تیزی سے ازکار میں مصروف تھا کہ اچانک اس کے سامنے ایک ریچھ نمودار ہوا۔وہ ریچھ اتنا خوفناک تھا کہ کوی انسان اسے دیکھ کر ہی بے ہوش ہو جاتا مگر ازلان کا ایسے جنات سے پالا پڑ چکا تھا اس لیے وہ خاموشی سے ازکار کرنے لگا۔۔

ازلان بچاو ازلان ۔۔۔۔

اچانک اس کی سماعت سے ذینب کی آواز ٹکرای

اس نے انکھ کھول کر دیکھا تو ریچھ کے ہاتھوں میں ذینب موجود تھی۔۔وہ بری طرح تڑپ رہی تھی۔۔ایک دم سے وہاں ایک اور انسان نمودار ہوا ۔۔وہ ایک نوجوان تھا۔۔اس نے ذینب کو ذیچھ سے چھڑایا اور ذمین پر پھینک کر کپڑے جسم سے الگ کرنے لگا۔۔ازلان کا جسم غصے سے لال ہونے لگا۔۔وہ انتہای خوفناک شکل میں تبدیل ہونے لگا،،اس نوجوان نے ذینب کو بلکل برہنہ کر دیا۔۔ذینب مدد کے لیے پکار رہی تھی..وہ بری طرح چیخ رہی تھیں

ازلان نے غصے پر قابو رکھا اور ازکار میں مصروف رہا ۔۔وہ جانتا تھا کہ یہ صرف نظر کا دھوکا ہے مگر اپنی محبت کو یوں بڑہنہ دیکھ کر وہ کانپ گیا تھا۔۔

کچھ دیر یوں ہی گزری تو ذینب نے چیخنا بند کر دیا اور مسکرا کر نوجوان کے ساتھ شامل ہو گی۔۔وہ دونوں ازلان کے سامنے بدکاری میں مصروف ہو گے۔۔ازلان کی انکھیں مفلوج ہو گی وہ ہلنے سے قاصر تھد۔۔ذبان ازکار سے تر تھی۔۔وہ تیزی سے ازکار کرنے لگا۔۔

وہ دونوں جب بدکاری سے فارغ ہوے تو ریچھ نے ذینب پر حملہ کر کے اس کے چیتھڑے اڑا دیے۔۔وہ نوجوان غایب ہو گیا۔۔

ازلان نے یک گہرا سانس لیا اور قران پاک کھول لیا۔۔وہ جوں ہ سورت جن پر پہنچا۔منظر تبدیل ہو گیا اور اس کے سامنے قبیلے کا منظر شروع ہو گیا۔۔ملکہ بستر پر سو رہی تھیں ۔۔اور اسکے پاس شیطانوں کا سردار لیسیفر موجود تھا۔۔

ازلان ایک لمحے کے لیے سکتے میں ا گیا۔۔لیوسیفر اگے بڑھا اور ملک کے کپڑے پھاڑ دیے۔۔ملکہ خود کو بچانے کے لیے جدو جہد کرنے لگی مگر بے سود

ازلان غصے میں لال پیلا ہو گیا۔۔اس نے زور سے قران کی تلاوت شروع کر دی ۔۔اس کے لہجے میں غصہ شامل تھد۔۔جنگل کے درخت لرز اٹھے تھے۔۔

دور بیٹھے کابوت اور دیو ازلان کے بدلتے رنگ دیکھ رہے تھے۔۔

ازلان کی تلاوت میں شدت اگی۔۔اس کے سامنے ملکہ کی عزت رونیی گی ۔۔ازلان نے انکھیں بند کر لیں۔۔

خدا خدا کر کے چلہ مکمل ہوا۔۔ایسے ہی شیطانوں نے ازلان کو بھٹکانے کی کوشش کی مگر جیت ازلان کی ہی ہوی۔۔

الان حصار ختم کر کے باہر آیا تو ہر طرف روشنی پھیل گی اور کافی سارے جنات وہاں نمودار ہو گے انہوں نے بڑھ کر ازلان کے ہاتھ چومے ۔۔

دیو اگے بڑھا اور ازلان کے ہاتھ چوم کر اسے تلوار سونپی

سردر اب وقت اگیا ہے کہ اپ ۔۔ہمیں ختم کر کے اپنی طاقت واپس لے لیں ورنہ ہم لوگ کچھ ہی گھنٹوں میں شیاطین کی قید میں چلے جاییں گے۔۔

دیو کے کہنے پر ازلان نے پری زادوں کو طلب کیا۔۔ذینب کی خیریت دریافت کر کے اس نے تلوار پر کچھ پڑھ کر پھنونکا اور اور تلاور سے سب جنات اور پری زادوں کے دل کے مقام پر کراس کا نشان لگایا۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے تمام مخلوقات روشنی میں تبدیل ہو گٸیں اور وہ روشنی ازلان میں سرایت کر گی

۔

ازلان وہیں پر بے ہوش ہو گا۔۔ کابوت نے اسے اٹھایا اور حصار قایم کر کے قیلے روانہ ہو گیا۔۔

❤
❤
❤
❤
❤
❤
❤
😊
😊
😊

ذینب صوفے پر بیٹھی چاے پینے میں مصروف تھیں

سدرہ کمرے میں ارام فرما رہی تھی۔۔پچھلے کچھ دنوں سے سدرہ ذینب کو بہت کوس رہی تھی ۔۔مگر پری زادوں کی وجہ سے ذینب محفوظ تھیں۔۔۔ذینب چاے پی کر اٹھی تو پری زادوں نے اس کو روک کر اپنے جانے کا بتایا۔۔

ازلان سردار کا چلہ مکمل ہو گیا ہے ہمیں جانا ہے اپنا خیال رکھیے گا وہ خود اپ سے ملنے اییں گے۔۔

پری زاد جواب سنے بغیر غایب ہو گے۔۔

ذینب پریشانی سے کچن میں چلی گی۔۔

ازلان کب اے گا ۔؟مجھے کڈ لے جاے گا؟؟

اللہ کا شکر ہے کہ وہ ٹھیک ہے بس اب وہ اے تو میں اس کے ساتھ ہی جاوں گی۔۔

ذینب خود کلامی کرتی ہوی کمرے کی جانب بڑھ گی

ذینب کمرے میں شکرانے کے نفل ادا کر رہی تھی۔۔جاے نماذ اٹھا کر اس نے الماری میں رکھی اور باہر آگی۔۔اکبر صحن میں بیٹھا گم سم سا کچھ سوچ رہا تھا۔۔

اسلام و علیکم بھای۔۔

وعلیکم سلام

اکبرنے گم سم سا ہو کر کہا۔۔

بھای سب ٹھیک ہے نا اپ پریشان کیوں ہیں؟؟

ذینب نے صوفے پر اکبر کے ساتھ بیٹھتے ہوے پوچھا۔۔

ذینب ۔۔کتنے دن ہو گے ہیں ثنا۶ کا کچھ پتا نہیں ہے تم اں پری زادوں سے کہہ کر میری بچی لوٹا دو۔۔وہ جیسی پھی ہے میری اولاد ہے۔۔۔

اکبر نے روتی صورت سے کہا۔۔

بھای میں ایسا نہیں کر سکتی۔۔

ذینب نے شرمندگی سے سر جھکا کر کہا

کیوں نیں کر سکتی۔۔۔

اکبر یہ چاہتی ہی یہی ہے اسی نے جادو تونہ کیا ہے میری بچی پر

سدرہ اچانک صحن میں ٹپک پڑی اور شروع ہو گی

بھابھی ثنا۶ میری بہن ہے میں کیوں اس کے ساٹھ کچھ غلط کروں گی؟

ذینب نے تڑپ کر کہا

تو لے اہ نا واپس اس کو ۔خدا کے لیے میری بچی۔۔۔۔نجانے کن درندوں میں پھنسی ہو گی

سدرہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی

ہاں ذینب خدا کے لیے

اکبر نے بھی ہاتھ جوڑے

بھای بھابھی وہ پری زاد ازلان کے غلام تھے۔۔اور الان نے میری حفاظت کے سوا اور انہیں کوی کام نہیں سونپا تھا اس لیے وہ ازلان کے بولے بنا کچھ نہیں کر سکتے تھے ورنہ وہ جل کر راکھ ہو جاتے۔۔

ذینب نے تفصیل بتای

ذینب ۔۔ازلان کو بولو وہ کہاں کچھ کرو نا

سدرہ نے ذینب کے پیر پڑتے ہوے کہا

بھابھی اپ اٹھ کر اوپر بیٹھیں

ذینب نے سدرہ کو صوفے پر بٹھایا اور پانی پلایا

بھابھی وہ پری زاد جا چکے ہیں کیوںکہ ازلان کا چلہ مکمل ہو گیا ہے وہ لوٹے گا تو میں ضرور کچھ کروں گی اپ پڑیشان نہ اللہ خیر کرے گا ۔۔

اپ پولیس میں کمپلین کرواییں

ذینب نے اکبر کو کہا اور سدرہ کے ہاھ تھام کر تسلی دی

پولیس نے بھی رشوت مانگی ہے میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں شکیل نے پولیس والوں کو بھی بھاری رقم دے رکھی ہو گی وہ ضرور ملے ہوے ہیں

اکبر نے افسردگی سے کہا۔۔

ہممم

ذینب نے سر ہلایا ۔۔سدرہ سر پیٹ پیٹ کر رونے لگی

اسے پچھتاوا تھا کہ اس نے ذینب پر نظر رکھی اسے اذیت دیتی رہی اور اس کی اپنی اولاد ہی اسے دھوکہ دے گی ۔۔۔۔

ہم کبھی کبھار بھول جاتے ہیں کہ اللہ انصاف کر نے والا ہے۔ہم کسی کو اذیت دے کر بے فکر رہتے ہیں ۔مگر انسان یہ بھںل جاتا ہے کہ اللہ کی ذات سب دیکھ رہی ہے ۔۔یہ دنیا مکافات عمل ہے۔۔اپنا کیا ہوا ہر عمل سامنے آتا ہے💔۔

💝💝💝💝۔

ازلان کو ہوش آیا تو وہ اپنے کمرے میں موجود تھا۔دور ملکہ بیٹھی تسبیح پر کچھ پڑنے میں مصروف تھیں۔۔کابوت کرسی پر کسی گہری سوچ میں گم تھا۔

اماں جی۔۔

ازلان نے اٹھ کر بیٹھتے ہوے ملکہ کو اواذ دی

ملکہ بھاگ کر اس کے پاس اییں

ازلان تم ٹھیک ہو ؟

جی اماں جان میں ٹھیک ہوں

میرے بچے مجھے فخر ہے تم پر۔۔

ملکہ نے ازلان کا ماتھا چوما .

کابوت نے بڑھ کر ازلان کو سینے سے لگا لیا

میرے بھای ۔۔

دونوں بھای گلے لگ کر سکون محسوس کر رہے تھے۔

بھیا اب اپ ٹھیک ہیں نا

ازلان نے کابوت کا چہرہ تھام کر پوچھا

ہاں میں ٹھیک ہوں تمہارے اس دیو نے میری بہت خدمت کی دو دن میں ہی ٹھیک کر دیا

کابوت نے ہس کر کہا

ہاہا چلیں سہی ہے اب کیا کرنا ہے اگے

ازلان نے مسکرا کر شرارت سے کہا

بھٸ پہلے میں ذنیرا کے والد سے ملوں گا شادی کے لیے ۔۔ابھی تو خوشی کا موقع ہے ۔۔

کابوت نے ہاتھ اٹھا کر دل کی بات بولی

اچھا اچھا پھر دیر کیسی چلیں چلتے ہیں بھابھی کے پس

ازلان نے لفظ بھابھی پر زور دیا

اور دونوں ہنستے ہوے غایب ہو گے۔۔

ملکہ ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرنے لگیں۔۔۔۔

💝
💝
💝
💝

ذینب کچن میں چاے بنانے میں مصروف تھی۔سدرہ اور اکبر صحن میں بیٹھے سوچوں میں غلطاں تھے۔۔

سدرہ نے ذینب سے اپنے کیے کی معافی مانگ لی تھی اور ذینب نے خوش ہو کر معاف کر دیا تھا۔۔

ذینب خوش تو بہت تھی مگر ازلان کے لیے بہت پریشان تھی۔وہ اسے ملنے نہیں آیا تھا کیسے وہ اسے بھول گیا تھا۔۔۔

چاے بنا کپ میں انڈیلی اور بسکٹ سجانے لگیہ

ذینب ۔۔

جانی پہچانی اواز پر وہ ٹھٹک کر رک گی ۔پلٹ کر دیکھا تو دشمنِ جاں دونوں ہاتھو کو سینے پر باندھے یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔

ازلان۔۔۔

ذینب نے خوشی سے چیخ کر کہا۔۔

صحن میں بیٹھی اکبر اور سدرہ چونک کر اندر آۓ

انہیں وہاں کوی دکھای نہ دیا مگر ذینب ایک جانب خوشی سے دیکھ رھی تھی۔۔

ذینب۔۔

اکبر ابھی اگے بڑھا ہی تھا۔۔کہ ذینب بھاگتی ہوی کسی ان دیکھی قوت کے گلے لگ گی

ازلان کہاں تھے اپ۔۔۔میں نے کتنا انتظار کیا

ذینب نے ازلان کے سینے سے لگے ہوے کہا

میری جان میری پری میں ا گیا ہوں نا اب نہیں جاوں گا کہیں بھی۔۔۔

ازلان نے ذینب کے ماتھے پر ہونٹ رکھے

ذینب تمہارے گھر والے ۔۔۔

ازلان نے ذینب کو اشارہ کیا

اکبر اور سدرہ حیرت سے منہ کھولے ذینب کو دیکھ رہے تھے

وہ وہ بھای ازلان ہیں یہ۔۔

ذینب نے ایسے کہا جیسے وہ ازلان کو دیکھ رہے ہوں

کہاں کککون ہے۔۔؟

سدرہ نے ڈرتے ہے پوچھا

ذینب نے ازلان کی طرف دیکھا تو مسکراتے ہوے ازلان نے اپنا اپ ظاہر کر دیا

ایک دھواں اٹھا اور ایک نوجوان ظاہر ہوافراط

بھبھوت ۔۔سدرہ اکبر کے پیچھے چھپ گی

تم ازلان ہو؟

اکبر نےازلان سے پوچھافراط

جی

ازلان نے مختصر جواب دیا۔۔

میری بچی لا دو مجھے

سدرہ نے اکبر کے یچھے سے جھانک کر کہا

میں نوکر نہیں ہوں اپ کا

ازلان نے قہر الود نظر سدرہ پر ڈالی اور ذینب کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لے گیا۔۔

سدرہ اور اکبر ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے

💝
💝
💝

ازلان اپ مجھے لے جانے اے ہیں نا ؟؟

ذینب نے معصومیت سے پوچھا

میری جان ابھی نہیں مگر بہت جلد میں تمہیں لے جاوں گا۔۔

ازلان نے اس کے سرپر بوسہ دیا

ازان ثنا۶۔۔۔

ذینب نے بات ادھوری چھوڑ دی

ذینب میں سب جانتا ہوں تم کچھ مت کہو کچھ دیر میں سب معلوم ہو جاے گا۔۔

ازلان نے اسے تسلی دی۔۔

وہ دونوں کافی دیر باتیں کرتے رہے۔۔

پھر ازلان اسے کابوت اور ذنیرا کی شادی کی دعوت دے کر واپس چلا گیا۔۔۔

ذینب پرسکون ہو کر لیٹ گی

۔۔۔۔کچھ دیر ہی گزری تھی کہ باہر سے شور کی اواذیں انے لگیں وہ اٹھ کر باہر گی تو عجیب منظر تھا۔

ثنا۶ اکبر اور سدرہ کے گلے لگ کر رو رہی تھی۔۔اور معافی مانگ رہی تھی۔۔

ثناہ تم ٹھیک ہو اللہ تیرا شکر۔۔

ذینب نے ثنا۶ کو سینے سے لگایا

ذینب اپی مجھے معاف کر دیں میں بہت بری ہوں میں نے غل کیا اپ کے ساتھ۔۔

ثنا۶ رو رو کر معافی مانگ رہی تھی۔۔۔

نہیں ثنا۶ چپ ہو جاو مجھے بتاو کیا ہوا۔۔تم کیسے ای یہاں۔

ذینب کے پوچھنے پر ثنا۶ نے بتایا کہ شکیل نے اسے استعمال کر کے کوٹھے پر بیچ دیا وہاں ان درندوں نے اسے خوب نوچہ۔۔اس نے بھاگنے کی بھی کوشش کی مگر ناکام رہی۔۔پھر کل شام اسے ازالان نام کے کسی لڑکے نے وہاں سے نکالا اور ہسپتال بھیج دیا۔۔وہاں علاج کروا کر اسے یہاں کوی بندہ چھوڑ کر چلا گیا۔۔

ذینب نے اللہ کا شکر ادا کیا

سدرہ اور اکبر پھر سے جی اٹھے تھے

ازلان اج ذینب سے ملنے آیا تھا۔کابوت کی شادی بھی آج رات ہی طے پاٸ گٸ تھی۔۔ازلان نے ذینب کو ایک خوبصورت سا جوڑا دیا اور تیار ہونے کا کہہ کر خود انتظار کرنے لگا۔۔

ذینب تیار ہو کر جب باہر آٸ تو ازلان ایک لمحے کو ساکت ہو گیا۔۔

واٸٹ امبریلا فراک پر چاندی کی تاروں سے کام ہوا تھا ا پر سفید موتی جگمگا رہے تھے۔۔فراک پیروں تک جھولتی ہوی آ رہی تھی۔۔ہلکا سا میک اپ کر کے سٹالر کو حجاب کی صورت میں لپیٹے اور فلیٹ میچنگ شوز پہینے وہ کوی پری لگ رہی تھی۔۔

وہ ذندگی میں پہلی بار تیار ہوی تھی۔۔

میک اپ کے نام پر صرف کاجل اور لپس اٹک ہی تھی مگر پھر بھی وہ حسن کے چشمے پھوڑ رہی تھی۔۔

بیوٹیفل۔۔۔ازلان نے بے اختیار تعریف کی۔۔

ازلان بھی کسی سے کم تھوڑی تھا۔۔۔اس نے سفید رنگ کا کرتا شلوار زیب تن کیا ہوا تھا۔۔ہلکی سی داڑھی ۔ایک طرف کو ڈھلکے ہوے بال۔۔اور سفید رنگت ۔۔وہ خود سے لاپرواہ تھا اور اسے لاپرواہی سے وہ ذینب کے دل پر تیر چلا جاتا تھا ۔۔ذینب اس پر دل و جان سے فدا تھی اور ازلان تو جان ہتھیلی پر رکھے پھرتا تھا😊❤

ذینب شرما کر نظریں جھکا گی۔۔۔

اب چلیں۔؟ازلان نےمسرور ہو کر کہا

جی۔ذینب نے مسکرا کر ہامی بھری۔۔

اور وہ دونوں اگلے ہی پل کوہ قاف کے پہاڑوں پر موجود تھے جہاں گرمی کے موسم میں بھی برف موجود تھی۔۔ذینب کو کچھ دکھای نہ دیا تو اس نے سوالہ نظروں سے ازلان کو دیکھا ازلان نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھاما اور انکھیں بند کرنے کو کہا

ذینب نے انکھیں بند کیں اور ازلان کے کہنے پر پھر سے کھولیں تو دنگ رہ گی۔۔

ہر طرف لوگ ہی لوگ نظر ارہے تھے

ایک عظیم عالیشان سا محل سامنے موجود تھا ۔۔ہر طرف لوگ اڑتے ہوے جا رہے تھے۔۔

ایک سے بڑھ کر ایک حسین ۔۔خوبصورت لڑکیاں ۔۔لمبے لمبے فراکوں میں ملبوس اٹھکلیاں کرتیں ادھر ادھر جا رہی تھیں۔۔

ذینب یہ سب دیکھ کر بہت حیران ہوی گی۔۔

ازلان اسے لے کر محل کے اندر چلا گیا

محل اتنا عالیشان تھا۔۔ذینب پلک جھپکنا بھول گی۔۔

ازلان اسے ملکہ کے کمرے میں لے گیا۔۔

ملکہ ذینب سے ملیں اور ازلان کو مثبت جواب دے کر خوش کر دیا

ازلان نے ذینب کو سارے علاقے کی سیر کروای ۔۔

وہ علاقہ عام انسان کی نظروں سے اوجھل مگر بہت حسین تھا ۔۔ازلان اور ذینب جب واپس لوٹے تو وہاں نکاح کی تیاریا شروع تھیں۔۔ازلان نے ذینب کو سجے ہوے تخت پر بٹھایا اور خود اس کے سدتھ بیٹھ گیا

ایک مولوی جن نے کابوت اور ذنیرا کا نکاح پڑھوایا اس کے بعد ذینب کی طرف ا کر اس سے نکاح کی اجازت مانگی

ذینب نے چونک کر ازلان کو دیکھا ازلان نے اشارے سے اسے تسلی دی

ذینب نے ڈرتے ہوے اجازت دی اور اس طرح دو جوڑے شادی کے بندھن میں بندھ گے۔۔

❤
❤
❤

ازلان نے رات کے تقریباََ تین بجے ذینب کو گھر چھوڑا ۔۔

ازلان اپ مجھے ساتھ کب لے جاییں گے اور بھای بھابھی کا کیا ہوگا

ذینب نے ازلان سے سوال کیا

میری جان تم پریشان مت ہو بہت جلد سب ٹھیک ہو جاے گا میں نے سب سوچ کر رکھا ہے کل دن کو میرا انتظار کرنا میں خوشخبری لے کر اوں گا۔۔

ازلان نے ذینب کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔

ذینب نے مسکرا کر سر ہلایا اور ازلان الوداع کہہ کر وہاں سے غایب ہو گیا۔۔

ذینب نے چینج کیا اور خوبصورت سپنے دیکھتی سکون سے سو گی۔۔مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اگے اس کا سکون برباد ہونے والا ہے ۔

ازلان ذینب کو گھر چھوڑ کر لوٹ کر قبیلے آگیا۔۔سب لوگ کابوت کی شادی پر کافی خوش تھے۔ازلان اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا ۔اس کی خوشی کی انتہا ہی نہ تھی۔ذینب اس کی ہو چکی تھی اور اب وہ بہت جلد ذینب کو اپنے پاس لانا چاہتا تھا۔اس نے کافی کچھ سوچ کر رکھا تھا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ جو کچھ اللہ نے سوچ رکھا ہے وہ اس کی سوچ سے بالاتر ہے۔۔

وہ ابھی پوری طرح سویا نہیں تھا کہ اسے ذینب کی پکار سنای دی۔۔اس نے ازلان کو پکارا تھا مطلب وہ مشکل میں تھی۔۔

ازلان نے اپناوہم سمجھا اور انکھیں موند لیں

ایک جھٹکے سے وہ اٹھ بیٹھا۔۔اوہ میرے خدا میں کیسے بھول گیا میں نے ذینب کا حصار نہیں بنایا مطلب شیاطین میری بو سونگھتے ہوے ذینب تک پہنچ سکتے ہیں۔۔۔

یا اللہ بس اج بچا لے ۔۔ازلان دل میں ہی دعاییں کرتا ہوا ذینب کے گھر کی طرف چل پڑا۔۔

❤
❤
❤

ذینب گہری نیند میں سورہی تھی۔۔اسے کسی نے جھنجھوڑ کر جگا دیا۔۔وہ اٹھ کر بیٹھ گی۔۔

اس نے یہاں وہاں دیکھا تو کوی دکھای نہ دیا اس نے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکا اور سونے لیٹ گی۔۔ایک بار پھر کسی نے اسے جھنجھوڑا مگراس بار وہ دیکھ سکتی تھی۔۔کوی انتہای خوفناک چہرے والا شخص کھڑا تھا۔۔

ذینب کے دل سے بے اختیار ازلان کا نام نکلا۔۔

ذینب ساکت سی اسے دیکھ رہی تھی ۔بولنے کی حس ختم ہی ہو گی تھی۔۔

اس خوفناک مخلوق نے ذینب کو بازو سے پکڑا اور ہواوں میں لے کر اڑنے لگا۔۔

ذینب نہ کوی حرکت کر سکی نہ ہی بول سکی اس کا جسم مفلوج ہو گیا تھا ۔خوف سے کانپ رہی تھی۔۔

وہ خوفناک مخلوق اسے لے کر ایک غار میں گیا اور وہاں پھینک کر لوٹ گیا۔۔ذینب کا سر غار کی دیوار کے ساتھ ٹکرایا اور وہ وہیں ہوش سے بے گانہ ہو گی۔۔

❤
❤
❤
❤

ازلان جب ذینب کے کمرے میں پہنچا تو وہاں کوی موجود نہیں تھا۔ازلان نے غصے اور بے بسی سے اپنے سر پر ہاتھ مارا۔

غصے سے اس کی انکھیں لالہو چکی تھیں اور وہ اپنی اصلی روپ میں اگیا تھا۔۔

وہ دوبارہ قبیلے گیااور ملکہ کو پوری بات بتای ۔ملکہ نے اسے ایک گھوری سے نوازہ اور بولی

ازلان تم نے اخر چلہ کیوں کاٹا ہے ؟؟

ملکہ کی بات پر ازلان چونکا ۔۔واقعی وہ بھول گیا تھا کہ اس کے پس چلہ کاٹنے سے جو طاقتیں ای تھیں ان سے وہ اسانی سے ذینب کو ڈھونذ سکتا تھا۔

ازلان نے ملکہ کے ہاتھ چومے اور کچھ جنات سپاہی لے کر روانہ ہو گیا۔۔.

❤
❤
❤

ذینب کی انکھ کھلی تو وہ اسی غار میں موجود تھی۔پتا نہیں وہ کتنے وقت سے غار میں موجود تھی۔اسے پیاس محسوس ہو رہی تھی۔۔اس کا حلق خشک ہو چکا تھا۔۔وہ اٹھی اور درواذہ ڈھونڈنے گی۔۔سر میں درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگیں تھیں۔۔

وہ ابھی درواذہ ڈھنوڈنے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ کسی نے غار کا درواذہ کھولا تیز روشنی سے ذینب کی انکھیں چندیا گی ۔۔ اس نے بمشکل انکھیں کھولیں ۔۔

انے والے کو دیکھ کر اس کی انکھیں حیرت سے کھل گی۔۔

ازلان۔۔

ذینب بھاگ کر ازلان کے سینے سے جا لگی۔۔

تم ٹھیک ہو ذینب۔۔؟ ازلان نے اس کے چہرے کو تھامافراط

ہاں بس وہ سر میں درد ہے۔

ذینب سے سر کو تھام کر کہا

تم فکر مت کرو اج ان سب کا خاتمہ کر کے ہی جاوں گا

الان نے غصے سے دانت پیس کر کہا

اپ یہاں کیسے پہنچے

ذینب نے ازلان سے سوال کیا

میں نے تمہاری بو سونگھی تھی

ازلان اپنی قوتوں سے ذینب کی بو محسوس کر سکتا تھا وہ مضبوط حصار میں تھی مگر وہ حصار توڑنے میں کامیاب ہو گیا تھا اور شیاین کو اس بات کا علم ہو چکا تھا تپھی وہ تیاری کے ساتھ ازلان سے ٹکرانے ا رہے تھے ۔۔وہ نہیں جانتے تھے کہ ازلان نے چلہ کاٹ کر وہ سب طاقتیں حاصل کر لیں ہہیں جن سے وہ چٹکیوں میں ان کو مسل دے گا۔۔۔

ذینب تم جاو ۔۔ازلان نے ذینب کو ایک مخاوظ جن کے حوالے کیا اور جن کو کچھ باتیں بتا کر روانہ کر دیا۔۔

………

لیوسفر اپنی فوج کے ہمراہ جنگ کے لیے تیار تھا۔ازلان نے کابوت کے دماغ کو پیغام بھیجا کہ وہ کچھ فوج لے کر شیاطین کے قبیلے پہنچے ۔کابوت کچھ دیر میں کافی بڑی فوج لے کر پہنچ گیا۔۔یہ غار وہ تھا جس میں کابوت کو قید کیا گیا تھا ۔۔کابوت اور ازلان اپنی فوج لے کر میدان میں پہنچ گے

۔۔شیطانوں نے خوب زور لگایا ۔۔مگر مسلم جنات زیادہ حاوی ہو رہے تھے۔۔ازلان نے کٸ شیطانوں کو ٹھکانے لگایا ۔سب شیطان بوکھلا گے ۔۔کافی سارے مسلم جنات بھی شہید ہوے ۔ کابوت بھی کافی زخمی ہو گیا تھا۔۔۔

❤
❤
❤

ذینب کو مخافظ گھر لے گے ۔۔اس مخافظ نے سدرو اکبر اور ثنا۶ کو ایک جگہ اکھٹا کیا اور انکھیں بند کرنے کا کہا۔۔سب نے انکھیں بند کیں اور کھںولنے پر خود کو ایک عالیشان گھر میں پایا

یہ کس کا گھر ہے۔

سدرہ نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھ کر جن سے پوچھا

سردار ازلان نے حکم دیا تھا کہ اپ کو یہاں پہنچا دوں ۔یہ گھر اپ سب کا ہے وہاں جنگ ختم ہوتے ہی سردار یہاں پہنچ جاییں گے ۔۔

مخافظ نے تفص۶ل بتایا

کیا سچ۔؟؟

اکبر نے حیرت سے پوچھا

جی بھای ازلان نے مجھے بھی رات میں کسی خوشخبری کا بولا تھا شیاید یہی بات تھی۔۔

ذینب نے بھی مسکرا کر کہا اس نے کسی کو اپنے ساتھ ہوے حادثے کے بارے میں نہیں بتایا

سیییی۔۔ذینب کے سر ییں درد کی ٹھیس اٹھنے پر وہ کراہ کر رہ گیہ

کیا ہوا ذینب۔؟اکبر نے گھبرا کر پوچھا

وہ کچھ نہیں بس گر گی تھی باتھ میں تو سر پر چوٹ ا گی

ذینب نے خود کو نارمل کیا

اوہ یہ تو خون پہہ کر خشک ہو گیا ہے سدرہ تم مرہم لگاو ۔۔۔

اکبر نے سدرہ کو مخاطب کیا تو وہ جی کہہ کر ذینب کو ایک کمرے میں لے گی۔۔

تم یہیں ہو؟؟

اکبر نے جن سے پوچھا

جی میں اپ سب کا مخافظ ہوں ۔۔میں ہر وقت موجود رہوں گا کوی بھی کام ہو تو بتایے گا۔۔

جن نے کہا اور غایب ہو گیا

ثنا۶ کافی حیرانگی سے سب دیککھ رہی تھی

ابو یہ کیا تھا؟؟

ثنا۶ کی حیرت میں ڈوبی اواذ ای

وہ وہ بیٹا یہ جن تھا ذینب کا مخافظ مطلب ہمارا مخافظ۔۔۔

اکبر نے ثنا۶ کو ساری بات بتای جس پر ثنا۶ کافی حیران ہوی مگر انکھوں دیکھا وہ بھی جھٹلا نہیں سکتی تھی۔

❤
❤

گھر کافی بڑا اور عالیشان تھا۔۔ان کو وہاں رہتے دو دن ہو گے تھے۔۔اکبر کو جن صاحب نے ایک ہوٹل کھول دیا تھا جس میں اب اکبر نے کام شروع کیا تھا۔۔راتوں رات اس ہوٹل کے وجود پر لوگ کافی حیران تھے مگر کوی حقیقت نہیں جانتا تھا ۔۔اکبر نے سب سے یہی کہا تھا کہ میں نے رات کو کافی سارے مزدور لگاے تھے پیسے سے سب کچھ ممکن ہے۔۔سو لوگوں نے بھی یقین کر لیا۔۔

ذینب ازلان کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی مگر وہ نہیں لوٹا تھا اسے کافی پریشانی لاحق تھی وہ ہروقت دعا میں مصروف رہتی ۔۔

❤
❤
❤

پے در پے وار کرنے پر شیطان دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوے اور ہر بار کی طرح کچھ مسمان بھی ہوے جن میں لیوسیفر کی خاص خادمہ چنبیلی بھی شامل تھی۔۔یہ جنگ تقریباََ دو دن تک جاری رہی تھی۔۔کیوںکہ شیطان تعداد میں کافی ذیادہ تھے۔۔اخر کار

مسلمانوں کی جیت ہوی تھی ۔۔۔

ازلان اپنے ساتھیوں سمیت قبیلے لوٹا ۔۔قبیلے میں خوشی کا سماں تھآ۔جیت پر سب خوش تھے۔۔ازلان کافی حد تک ٹھیک تھا مگر کابوت کافی زخمی ہو چکا تھا۔۔تمام جنات کو طبی امداد دی جا رہی تھی۔۔ازلان اب جلد از جلد ذینب کو قبیلے واپس لانا چاہتا تھا اسلیے اس نے ملکہ سے بات کی ۔۔ازلان نے اپنے ذمہ کے کچھ کام ٹمٹانے تھے ۔۔ذینب کی طرف سے وہ بے فکر تھا کیوںکہ اس نے مخافظ جن مقرر کیے ہوے تھے اس لیے اس نے ارام سے کچھ دن گزارے

ذینب ازلان کے لیے کافی پریشان تھی۔تین دن سے اس کا کچھ پتا نہیں تھا ۔وہ اداس سی لان میں بیٹھی ہوی تھی۔۔سدرہ پاس رکھے بودوں میں پانی ڈال رہی تھی۔۔چھٹی کی وجہ سے سب لوگ گھر پر تھے۔ثنا۶ کچن میں کھٹ پٹ کر رہی تھی اور اکبر کمرے میں سونے میں مشغول تھے۔۔صبح کے تقریبا دس بج رہے تھے۔۔

ذینب ازلان کی کوی خبر نہں ہے ؟؟

سدرہ نے گم سم بیٹھی ذینب سے پوچھا

نہیں بھابھی ابھی تک تو نہیں۔

ذینب نے اپنا لٹکا ہواا چہرہ اور ذیادہ لٹکا لیا۔۔

اچھا اللہ خیر کرے تم اداس نہ اس جن سے پوچھو نا جو ہماری خفاظت پر ہوتا ہے یاد کرو تو حاضر ہو جاتا ہے

سدرہ نے کرسی پر بیٹھتے ہوے انکھیں گھما کر کہا

ذینب مسکرا کر سدرہ کو دیکھنے لگی۔۔

کتنی بدل گی تھی سدرہ جب سے ثنا۶ کے ساتھ وہ حادثہ ہوا تب سے سدرہ کو احساس ہو گیا تھا کہ بیٹیاں سبکی سانجھی ہوتی ہیں ان کی عزت کی خفاظت کرنی چاہیے۔۔

اوہ ذینب تمہیں پتا ہے شکیل کا کیا ہوا؟؟

سدرہ نے کچھ یاد انے پر کہا

نہیں کیوں خیریت۔؟

ذینب نے انکار کیا

ارے اکبر بتا رہے تھے کہ وہ اپنے گھر پرتھا توکسی نے اسے خوب مارا اور مزے کی بت ہے کہ کوی بھوت تھا جس نے شکیل کو مارا اسے کے ہاتھ پیر توڑ دیے بے چارہ اب بھیک مانگتا ہے۔۔ان کے ہوٹل پر ایا تھا تو اس نے بتایا

سدرہ نے منہ ٹیڑھا میڑھا کر کے کہا

ہمم لگتا ہے ازلان نے اسے بھی نہیں چھوڑا

ثنا۶ جو ابھی لان می ای تھی سدرہ کی بات پر جواب دیا

ذینب کسی گہری سوچ میں غرق ہو گی تھی

سلام عرض کرتا ہوں ۔۔

اچانک مخافظ جن نمودار ہوا تو سب نے چونک کر اسے دیکھا

اکبر بھی لان میں اگیا ۔۔

کیا ہوا بھوت جی۔۔۔

سدرہ نے مخبفظ سے پوچھا

جن نے بے زارگی سے سدرہ کو دیکھا اور ایک تھیلا ذینب کے حوالے کیا

یہ لیں سردار ازلان نے بھیجا ہے اج شام کو وہ لینے ا رہے ہیں اس لیے اپ تیار رہیں

جن پیغام دے کر غایب ہو گیا

ہیییں؟

کیا مطلب ذینب؟اکبر نے ذینب کی طرف رخ کر پوچھا

بھای میں ازلان کے ساتھ جا رہی ہوں ان کی دنیا میں

ذینب نے خوش ہوتے ہوے کہا

پاگل ہو کیا وہ انسان نہی ہے کیا تم اس سے شادی کرنا چاہتی ہو ؟

اکبر نے ذینب کو کندھوں سے تھام کر کہا

بھای ہمارا نکاح ہو چکا ہے اور اج وہ مجھے لینے ا رہی ہیں میں ان سے محبت کرت ہوں بسس

ذینب نے تڑپ کرکہا اور کمرے میں چلی گی

سدرہ سمجھاو اسے یہ کیا کر رہی ہے

اکبر نے سدرہ سے کہا

اکبر اپ رہنے دیں وہ جو چاہتی ہے کرنے دیں ویسے بھی وہ بھوت ہیمں مار ہی نہ دیں کہیں

سدرہ نے یہاں وہاں دیکھ کع سرگوشی کی

✨
✨
✨
✨

ذینب بلکل دلہن کی طرح سجی تھی۔۔پنک کلر کا ایک جالی دار لانگ فراک پہنے سر پر ہمرنگ حجاب کیے ہلکے سے میک اپ میں وہ پری سے کم نہیں لگ رہی تھی

ثنا۶ نے اسے تیار ہونے مں مدد کی تھی۔۔

کاف سمجھانے کے بعد اکبر اس شرط پر مانا تھا کہ ازلان ذینب کو ملوبنے ضرور لایا کرے گا ۔۔

ذینب اج بہت خوش تھی رات کے اٹھ بج رہے تھے جب ازلان اپنے ساتھ کچھ ساتھیوں کو لے کر ہال میں نمودار ہوا۔۔

اکبر اور سدرہ نے ان کا استقبال کیا اور کچھ دیر ملنے ملانے کے بعد ازلان ذینب کو باہوں میں بھر کر قبیلے کی جانب بڑھ گیا

ذینب نے چہرہ ڈھکا ہوا تھا ازلان اسےدیکھ نہیں سکا تھا

قبیلے پنچ کر محل کے درواذے پر ان دونوں کا کافی شاندار استقبال ہوا ۔۔ملکہ نے انہیں دعاییں دیں اور ذنیرا ذینب کو ازلان کے کمرے میں چھوڑ آٸ۔۔

❤
❤
❤

کمرہ کافی بڑا اور شاندار تھا۔ذینب بیڈ پر بیٹھی ازلان کا انتظار کر رہی تھی۔۔

کمرے کا درواذہ کھول کر ازلان اندر داخل ہوا۔

اسلام و علیکم ۔۔

وعلیکم سلام۔۔ذینب نے بہت اہستہ سے جواب دیا

ازلان اس کے پاس ا کر بیٹھ گیا

یہ گھونگھٹ کیوں نکالا ہے ؟

ازلان نے منہ پسور کر کہا

تاکہ اپ اٹھایں اور مجھے منہ دکھای دیں

ذینب نے مسکرا کر کہا

اچھا جی یہ لو۔۔ازلان نے اس کا گھونگھٹ اٹھایا۔ایک پل کو وہ ساکت ہو گیآ ذینب پر کافی روپ چڑھا تھا

وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی۔ازلان نے بے اختیار اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے

ذینب نے شرما کر نظریں جھکا لیں

یہ تمہارا تخفہ

ازلان نے ایک ڈبہ سامنے کیا۔۔

ذینب نے جب ڈبہ کھولا تو حیران رہ گی

وہ ہیروں کا خوبصورت سیٹ تھا۔۔

ازلان یہ کتنا پیاراہے اففف

ذینب نے خوش ہو کر کہا

ایسے بہت سارے ذیور الماری میں پڑے ہیں اور بہت ساری کپڑے بھی ہیں جو میں نے خاص تمہاری لیے بنواے ہیں ۔۔

ازلان نے اسے خوش دیکھ کر کہا

سچیی۔۔

ذینب خوشی سے اٹھ اور الماری کھول کر دیکھنے لگی

الماری کافی بڑی تھی اس میں خوبصورت کپڑے اور جیولری تھی ۔۔ایک سے ایک سینڈلز اور میک اپ کا سامان تھا۔۔ذینب خوشی سے سب دیکھ رہی تھی۔۔اس کی نظر ایک چھڑی پر اٹک گی ۔۔وہ ایک سونے کی سنہری چھڑی تھی۔۔

یہ کیا ہے ؟

ذینب نے ازلان کی طرف رخ کر کے پوچھا

یہ میری بیوی کے لیے خاص تخفہ ہے یہ جادوی چھڑی ہے ۔۔تم انسان ہو نا تو ضرورت پڑے گی

ازلان نے انکھ دبا کر کہا

اوہ ازلان اپ کتنے اچھے ہیں ۔۔ذینب بے اختیار ازلان کے گلے لگ گی

۔۔ازلان ذینب کو بچوں کی طرح خوش دیکھ کر سکون محسوس کر رہا تھا۔۔آخر وہ اس کی ذندگی تھی۔۔اور وہ اسے بہت ساری خوشیاں دینا چاہتا تھا ۔۔ذینب ازلان کے سینے میں چھپی ہوی خود کو خوش قسمت ترین لڑکی سجھ رہی تھی۔۔اسے اپنی قسمت پر رشک تھا۔۔ازلان نےاس سے وفا کی تھی ۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کی باہوں میں دنیا جہاں سے بے خبر پر سکون تھے

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *