ولید کامران۔ کتھک

ولید کامران۔ کتھک

کتھک میں تتکار اور چکر کا مایہ ناز رقاص۔۔

کتھک کے کسی جید گرو نے کہا تھا کہ۔۔

کتھا کہے سو کتھک کہارے۔۔
یعنی کہانی کہنے والا کتھک ہے
اور
کتھک رقص وہ شعبہ فن ہے جس کے ذریعے ایک انجانہ احساس شائقین کے دل و دماغ میں رچ جاتا ہے۔۔
بلکہ کتھک ایسا رقص ہے جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ رقاص اعضاء کی شاعری سے ایسی فضا قائم کرتا ہے کہ دیکھنے والا جنبش بدن سے ہر بول سمجھنے لگتا ہے اور کہانی کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے البتہ دیکھنے والے کا ذی شعور ہونا بھی شرط ہے۔
ولید کامران کی خوش بختی سمجھیں کہ اسے مشاق اساتذہ کی صحبت صالح مقدر ہوئی۔
کتھک کی دنیا میں زریں ثناء اور ذاکر اقبال کو گراں قدر گرو تسلیم کیا جاتا ہے جو حق بحقدار رسید کے مصداق ہے۔۔
ایسے کہنہ مشق اور منجھے ہوئے اساتذہ کی زیر سرپرستی ولید کامران کا مشق سخن کرنا اور انہی نامور کلاکار اساتذہ کے ٹھنڈے سایہ میں سیکھ کر خود کو منوانا نیک بختی نہیں تو اور کیا ہے۔

اب ہم رقص پر مختصر سے گفتگو کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔

کتھک میں تتکار اور چکر بنیادی جز ہیں۔

تتکار پاؤں اور گھنگھروں کی تاپ سے پیدا ہونے والی آواز ہےجس سے رقاص سامع کو عجیب نوع کے کیف سے آشنا کرتا ہے
اور
اس کے ساتھ ساتھ کہانی بھی عیاں کرتا ہے۔۔

کتھک کی خوبیاں ان حرکات کی مرہون منت ہیں جیسے۔۔

کوا سورتی
بگ دیانی
بین کوئل بکتا
الب ہاری
مند گتی
پانچ لکشن کھتکا

کتھک کے بہت سے ٹھاٹ ہیں مگر۔۔
آمد
جامد
دھرن
مرن
سے ہی کتھک نکلتا ہے۔۔

ولید کامران دور حاضر کا کہنہ مشق رقاص ہے اگر انھیں ریاضت کی بدولت ماسٹر یا گرو کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کیونکہ۔
ولید کامران نے زندگی کے سنگلاخ راستوں سے گزر کر اساتذہ کی ماہرانہ تربیت کے موافق مسلسل ریاضت کی ہے اور آج گرو کے منصب پر فائز ہوئے ہیں۔۔

ادراک و آگہی کے لئے تپسیاوں کے جنگل میں آبلہ پائی کرنے والا ولید کامران کتھک کی تمام اصناف اور رموز سے بخوبی واقف ہے۔۔

یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ۔۔
کلاسیکل رقص کی أٹھ اقسام ہیں جن میں کتھک کو دائمی شہرت حاصل ہے۔
فارسی رسم و رواج سے جڑا یہ جاذب توجہ رقص دو گھرانوں جئے پوری اور لکھنوی گھرانے کی اٹوٹ محبت کی وجہ سے آج بھی مقبول عام ہے البتہ وقت کے ساتھ ساتھ اردو روایات بھی کتھک میں ضم ہوتی چلی گئیں۔۔

ولید کامران کو جب بھی کتھک پرفارم کرتے دیکھا تو گویا کتھک کے عمیق سمندر میں غوطہ زن دیکھا۔۔یوں لگا جیسے وہ اٹھ سال کا بچہ تر و تازہ جذبے کے ساتھ کلاکار بننا چاہتا تھا آج اس کا وہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور اب اس کے جسم میں اک لہر اٹھی ہے جو نبض کی جنبش سے رقص کا روپ دھار چکی ہے۔

ایسی رواں دواں اور متوازن جنبش کہ جس میں ولید کا جذبہ تخلیق تو مطمئن دکھائی دیتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی دیکھنے والے بھی طلسم کے حصار میں مقید ہوتے نظر آئے۔۔
پھر بے ساختہ تماشائیوں کی ذوق نظر کو داد و تحسین دیتے دیکھ کر دل مسرتوں سے ہمکنار ہوا اور راقم الحروف نے بھی دل کھول کر داد دی۔۔
اور بے ساختہ لبوں سے نکلا کہ ولید کامران کتھک کا جادوگر ہے۔۔

آخر میں انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ۔۔۔اب تو پاکستان میں کتھک کے چند ایک اساتذہ رہائش پذیر ہیں اور ان کے معیار کے کوئی رقاص بھی نہیں ہیں پھر بھی آرٹ کے سب سے بڑے اداروں میں کتھک کے اساتذہ کو ان کے منصب کے مطابق عزت و تعظیم نہیں دی جاتی جو لمحہ فکریہ ہے۔

حکومتی اداروں سے استدعا کی جاتی ہے کہ ولید کامران اور ان جیسے دیگر اہم کلاکاروں کے فن سے استفادہ کرنے کے لیے منظم حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ نوجوان نسل اس کلا سے واقف ہو سکے۔

برائے کرم ولید کامران جیسے انمول رتن کی قدر کیجئے تاکہ ان کا حوصلہ بلند رہے اور پھر یہ خوب جی لگا کر اپنے فن کی بڑھوتری کے ساتھ مملکت خداداد پاکستان کا پرچم بھی سر بلند کریں۔۔۔

یاد رکھیں۔۔ایک دن ولید کامران کا فن دنیا کے کونے کونے تک پہنچے گا۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *