part 5
اس کے ماں باپ بھی اس کی حرکت پر مجھ سے معافیاں مانگنے لگے۔
میں نے کہا ’’اس بے چاری کا کیا قصور تھا۔ شکر کریں یہ جلدی قابو میں آ گئی۔ ورنہ نہ جانے یہ میرے ساتھ کیا سلوک کرتی‘‘ میں نے خوشگوار لہجے میں کہا اور پھر انہیں حویلی کے باہر تک چھوڑ آیا۔ وہ تانگہ لے کر آئے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ بلقیس یکدم خاموش ہو گئی تھی اور بار بار چپکے چپکے میری طرف دیکھ لیتی تھی۔ اللہ حافظ کہہ کر میں ریاض شاہ کے پاس گیا۔ وہ تھیلے سے کوئی شے نکال رہا تھا۔
’’آ گئے ۔۔۔ اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر‘‘ وہ مجھے دیکھ کر ہنسنے لگا مجھے غصہ آ گیا
’’شاہ صاحب ۔۔۔ آپ نے اچھا نہیں کیا‘‘
’’میرے چاند ۔۔۔ میں کیا کرتا مجھے موقع ہی نہیں ملا بڑی تیزی سے اس نے وار کیا تھا‘‘ ریاض شاہ نے میرے غصہ کو انجوائے کرتے ہوئے کہا ’’دیکھا بے چاری کو اب تم پر کتنا رحم آ رہا تھا‘‘
’’رحم نہیں افسوس ہو رہا تھا‘‘ میں نے کہا
’’ہوش میں آنے کے بعد جب اسے بتایا کہ تم نے شاہد میاں کا کیا حال کر دیا تھا تو پریشان ہو گئی۔ کہنے لگی میں تو اب ان سے ملوں گی۔ مجھے تو کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے‘‘
’’کیسی گڑبڑ‘‘ میں نے استفہامیہ لہجے میں پوچھا
’’اس کے دل میں تمہارے لئے ایک جذبہ پیدا ہوتا ہوا محسوس کیا ہے میں نے‘‘ ریاض شاہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا
’’خبردار ۔۔۔ خبردار ۔۔۔ دیکھیں شاہ جی۔ بالکل نہیں۔ ایسی بات نہیں کرنی۔ بڑی معصوم لڑکی ہے۔ اس کی شرمندگی کو کسی اور جذبہ سے منسوب نہ کریں‘‘ میں نے ناراضگی کے ساتھ کہا
’’پہلے اس پر جن سوار تھے۔ وہ تو اتر گئے۔ یہ مکھن شاہ کی چھوڑی اس کی موکلہ ہے۔ یہ بھی دفعان ہو جائے گی لیکن مجھے ڈر ہے اگر اس پر عشق کا بھوت سوار ہو گیا تو کیا بنے گا۔ نہ بابا۔ مجھ سے یہ بھوت نہیں اتارا جائے گا‘‘ اس روز ریاض شاہ بہت زیادہ خوشگوار دکھائی دے رہا تھا۔
’’شاہ صاحب ۔۔۔ یہ زیادتی ہے۔ آپ جانتے ہیں۔۔۔میں‘‘ میں کہتے کہتے رک گیا۔
’’بولو ۔۔۔ رک کیوں گئے‘‘ ریاض شاہ کی آنکھیں میرا تمسخر اڑا رہی تھیں۔ ’’کیا میں نہیں جانتا۔ مجھے اب بتاؤ گے کہ تم ان جذبوں سے ناآشنا ہو‘‘
میں کچھ نہ بولا کہنے لگا ’’اپنے وعدے کا پاس رکھنا شاہد میاں۔ آگ میں کودو گے تو جل جاؤ گے‘‘
’’آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں‘‘ میں نے اپنے لہجے کی ناگواری کو محسوس کرائے بغیر بمشکل کہا’’سمجھا رہا ہوں۔ تم نے جن بزرگوں کے سامنے وعدہ کیا تھا اسے نبھانا ہے تمہیں‘‘ ریاض شاہ کی آنکھوں میں اب سرخ ڈورے نظر آنے لگے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے کس آگ میں کودنے سے باز رہنے کی تلقین کر رہا تھا۔ اس نے زلیخا کو جس والہانہ انداز میں مجھے بلقیس سے بچاتے ہوئے دیکھا تھا وہ اس کے لئے ناقابل برداشت منظر تھا۔ زلیخا کے جذبات کھل کر سامنے آ گئے تھے ریاض شاہ جیسے شاطر اور گہرے آدمی سے یہ سب کیسے چھپا رہ سکتا تھا۔
’’شاہ صاحب ۔۔۔ آپ جانتے ہیں میں ایک محتاط انسان ہوں۔ اپنے وعدے نبھاتا ہوں لیکن آپ مجھے دھمکیاں نہ دیا کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ مجھے سمجھا رہے ہیں یا ڈرا رہے ہیں۔ میں آج آپ کو ایک بات عرض کر دینا چاہتا ہوں‘‘ میں نے سنبھلتے ہوئے اپنی جبلت کا اظہار کرنا مناسب سمجھا۔ ’’میں ایک حد تک برداشت کرتا ہوں۔ جب میرا پندار صبر لبریز ہو جاتا ہے تو پھر میں نفع نقصان نہیں دیکھتا۔ اس سمے مجھے زندگی اور موت میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ میں ضدی اور ہٹ دھرم نہیں ہوں لیکن جب میری توہین کی جائے اور مسلسل یہ رویہ اختیار کیا جائے تو میرا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں نے بزرگوں سے جو وعدہ کیا ہے اسے کیسے نبھانا ہے لیکن میں آپ سے بھی ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں۔ آپ آگ کو بھڑکائیں نہیں۔ آگ کو جگہ جگہ نہ پھیلائیں۔ اکثر اوقات اپنی جلائی آگ میں اپنا دامن اور ہاتھ بھی جل جاتے ہیں۔ یہ مکافات عمل ہے۔ ہاں اس میں دیر سویر ہو جاتی ہے لیکن یہ ہوتا ضرور ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی انسان نے شیطانیت کا لبادہ اوڑھا ہے، اس نے آسمانوں پر اپنا تخت بچھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کا پردہ چاک ہوا ہے اور وہ زمین کی پستیوں میں آ کر دفن ہو گیا ہے‘‘ میں بولتا چلا گیا۔ ریاض شاہ کے چہرے پر کئی رنگ آئے اور چلے گئے لیکن وہ اپنے جذبات کو چھپانے کی قدرت رکھتا تھا۔
’’بول لیا ۔۔۔ بس ۔۔۔ دیکھو تم میرے بھائی ہو مجھے تم سے بڑی محبت ہے۔ کوشش کروں گا کہ تمہاری بدگمانیاں ختم کر دوں ۔لو ۔۔۔ صلح ۔آج کے بعد میں تمہیں دھمکی نہیں دوں گا۔ اگر کوئی ناگوار بات لگے گی تو پیار سے سمجھا دیا کروں گا‘‘ ریاض شاہ نے مجھے گلے لگاتے ہوئے کہا ’’آؤ میں تمہارے زخموں پر مرہم لگا دوں‘‘
’’شکریہ دوا تو لگا لی ہے‘‘ میں نے کہا
’’جانتا ہوں کہ تم دوا لگا چکے ہو لیکن چندا ۔۔۔ یہ زخم اس دوا سے ٹھیک نہیں ہوں گے۔ یہ تو سحری زخم ہیں۔ شاید تمہیں پہلے بھی بتایا تھا کہ جب کسی سحرزدہ انسان کے اندر طاغوتی و شیطانی جنس ہلچل مچاتی اور قہر میں آ کر کسی کو زخمی کرتی ہے تو اس کے دئیے زخموں میں عملیاتی زہر اتر جاتا ہے۔ اسی لئے ہم لوگوں نے ایک عملیاتی دوا بنائی ہوتی ہے۔بعض اوقات کوئی کیس کرتے ہوئے ہمیں ہاتھا پائی ہونا پڑتا ہے اور کوئی زخم آ جائے تو ہم یہ دوا لگاتے ہیں۔ مجھے یہ دوا بابا جی سرکار نے بنا کر دی تھی‘‘ ریاض شاہ نے ایک ڈبیہ سے سفید سفوف نما دوا نکال کر میرے زخموں پر لگا دی۔ دوا کے لگتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے کوئی ٹھنڈی شے زخموں پررکھ دی گئی ہے۔ پورے بدن میں راحت آمیز ٹھنڈک کا احساس ہوا اور میرے ذہن پر چھایا اضمحلال ختم ہو گیا۔ میں شاہ صاحب سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن میں نے اپنے امتحان کی تیاری کی خاطر اس وقت ان سے کچھ سوالات نہ کئے۔
میں کچھ دیر بعد دوبارہ کمرے میں چلا گیا۔ دوا لگنے سے ذہن تازہ ہو گیا تھا۔ کتاب کھول کر اسباق دیکھنے لگا اور پھر کتاب پڑھتے پڑھتے ہی مجھے نیند نے آ لیا۔ میں بہت گہری نیند سویا تھا لیکن ایک خواب نے میری نیند منتشر کر دی۔ خواب انتہائی خوفناک تھا۔ جب اس سے بیدار ہوا تو احساس ہوا کہ خواب کی دہشت تو مجھ پر ابھی تک طاری ہے۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں فضا میں اڑتا چلا جا رہا ہوں۔ ہرے بھرے کھیت‘ گاؤں‘ پہاڑ‘ آبشاریں اور شہروں کے اوپر سے اڑتا بادلوں میں تیرتا انتہائی مسرور دکھائی دیتا تھا۔ پھر میں ایک بلند عمارات والے شہر کے اوپر پہنچتا ہوں کہ یکایک ایک اژدھا میرے پیچھے لگ جاتا ہے۔ سر آسمان کو چھو رہا تھا اور دم نیچے زمین کے پندار کو چھو رہی تھی۔ اژدھے کے منہ سے آگ نکل رہی تھی۔ میں ڈر گیا کہ کہیں یہ مجھے کھا نہ جائے۔ میں تیزی سے اپنا رخ بدل کر لیتا ہوں۔ اژدھا کروٹ لے کر میری طرف پلٹتا ہے۔ وہ مجھ پر آگ پھینکتا ہے میں خوفزدہ ہو کر آگ سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ آگ میرے پورے جسم کو چھوتی ہے لیکن مجھے ہلکی سی تپش تو محسوس ہوتی ہے جسم جھلستا نہیں ۔ اژدھا میرے بہت قریب آ جاتا ہے اور مسلسل آگ پھینکتا ہے لیکن آگ سے میرا بدن پھر بھی نہیں جھلستا۔ خوف کے مارے میرا دل بری طرح دھڑکنے لگتا ہے اور میں اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پھر اژدھے کا سر میرے منہ سے دو فٹ قریب آ جاتا ہے۔ وہ اپنا جبڑا کھولتا ہے تو لگتا ہے اس میں پوری دنیا سما سکتی ہے لیکن کوشش کے باوجود وہ مجھے ہڑپ نہیں کر سکتا۔ میں کچھ نہیں سمجھتا اور اپنے بچاؤ کے لئے چیخنے چلانے لگتا ہوں۔ میری چیخ و پکار سن کر اژدھا قہقہے لگانے لگتا ہے اور پھر اس کے کھلے ہوئے جبڑوں سے نکلتی آگ میں ایک خوفناک انسان کا ہیولہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ میں غور سے دیکھتا ہوں تو اس کی شکل مکھن سائیں سے مشابہ ہوتی ہے۔ یہ دیکھ کر میں جان لیتا ہوں کہ یہ اژدھا مکھن سائیں کا چھوڑا ہوا ہے اور اس نے اسے مجھے ہلاک کرنے کے لئے مامور کیا ہوا ہے۔ میں زور زور سے کہتا ہوں۔
’’مکھن سائیں تمہاری مجھ سے کیا دشمنی ہے‘‘
آگ کے شعلوں میں بھڑکتے ہوئے ہیولے کی آواز آئی ’’جو ہمارے منہ سے نوالا چھینتا ہے ہم اس کا منہ بند کر دیتے ہیں۔ مکھن سائیں سے دشمنی ٹھان کر تم نے اچھا نہیں کیا۔ تم میرے انتقام کی آگ میں جھلس کر راکھ ہو جاؤ گے‘‘ یہ کہہ کر مکھن سائیں آگ کا ایک بڑا سا گولا میری طرف پھینکتا ہے۔ جوں جوں آگ کا گولا میر ے قریب آتا ہے اس کے اندر سے بہت سے گولے پھیل کر میرے گرد جال سا بن دیتے ہیں اور پھر مجھے محسوس ہوتا ہے میری پرواز کی سکت ختم ہو جاگئی ہے اور میں آسمان کی بلندیوں سے پاتال کی طرف گرتا چلا جاتا ہوں۔ آگ کے گولے شہاب ثاقب بن کر میر ے تعاقب میں ہیں‘ اور اژدھے کے جبڑے میں کھڑا مکھن سائیں میری حالت دیکھ کر قہقہے لگاتا چلا جا رہا ہے۔ میری آواز دہشت سے پھٹ جاتی ہے اور دل دھڑکنا رک جاتا ہے۔ یونہی ہاتھ پاؤں مارتے مارتے میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ میں بستر سے نیچے گر جاتا ہوں۔ آنکھ کھلنے کے باوجود میں ہاتھ پاؤں مارتا جا رہا ہوں۔ گلے سے خرخر کی آوازیں نکال رہا ہوں اور پھر بے سدھ ہو کر پڑا رہتا ہوں۔ میرا پورا جسم پسینے میں شرابور ہے۔ دل ڈھول کی طرح بج رہا ہے۔ آنکھیں جب کمرے میں چلے بلب پر مرکوز ہوتی ہیں تو ہوش واپس آنے لگتے ہیں اور پھر مجھے خواب سے حقیقت کی دنیا میں لوٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ میں نے اٹھ کر وضو کیا۔
تہجد کا وقت ہو رہا تھا۔ نوافل ادا کرنے کے بعد میں ٹاہلی والی سرکار اور بابا جی سرکار کا دیا وظیفہ پڑھنے بیٹھ جاتا ہوں۔ یہ وظیفہ سجدے میں گر کر پڑھنا شروع کیا تھا۔ آدھ گھنٹہ یونہی سجدے میں پڑے رہنے میں اپنے رب سے اس کی حفاظت و وکالت اور رحمت مانگتا رہا۔ پھر خشیت الہٰی کو اپنے رگ و پے میں محسوس کرنے لگا۔ میرا رواں رواں خواب کے اذیت ناک احساس سے نجات پانے لگا۔ ٹاہلی والی سرکار نے سچ کہا تھا۔ تہجد کے وقت ایک مسلمان کو اپنے رب سے جو قربت میسر آتی ہے شاید وہ کسی اور وقت کی عبادت و ریاضت میں نصیب نہ ہو۔ قبولیت کی گھڑی کے اوقات کا تعین اس رب کائنات کے اختیار میں ہے‘ اس کا فضل اور رحمت ساعتوں کی پابند نہیں ہے۔ لیکن جو نزاکت و لطافت تہجد کی ان ساعتوں میں محسوس ہوتی ہے یہ اس بندے سے پوچھا جا سکتا ہے جو شب گزاری کا عادی ہو۔ جسے عبادت و ریاضت میں سرخروئی حاصل ہو۔ یہ تو وہ لمحات ہوتے ہیں جب میرا مولائے کل اپنے بندے کی سسکیوں کو تھپتھپاتا ہے۔ اپنے بندے سے خوش ہو کر اپنے فرشتوں سے کہتا ہے دیکھو تو میرے اس بندے کو۔ اس نے رات آنکھوں میں گزار دی صرف میرے لئے۔ یہ مجھ سے جو مانگے گا میں اسے دوں گا۔ اللہ اللہ۔ کیا شان ہے میرے سوہنے اللہ کی۔ وہ بندے سے کبھی دور نہیں ہوا۔ وہ بڑی محبت سے اپنے بندے کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن افسوس بندہ غفلت سے بیدار ہی نہیں ہوتا۔ میں نے اس رات ۔۔۔ اپنی برسوں کی عبادت کا ایک نیا ہی لطف اٹھایا۔ میں نے عہد کیا کہ اب میں روزانہ رات کے اس لمحے جب ساری دنیا سو رہی ہوتی ہے میں صرف اور صرف اپنی جان کے مالک اللہ کے لئے جاگا کروں گا لیکن افسوس ۔۔۔ اس ذات کامل نے اپنی ایک رات کی عبادت سے اتنا فیض دے دیا کہ میں اس کی لاج نہ رکھ سکا اور ناشکروں کی طرح یہ بھول گیا کہ میں نے اس رات جو عہد کیا تھا اس کا کیا ہوا۔۔۔ میں بھی ان بندوں کی طرح دنیا کے پیچھے لگ گیا جو اللہ سے قربت محض دنیا کی طلب کے لئے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگلی صبح میں جلد بیدار ہو گیا تو ریاض شاہ کو اپنا خواب سنایا۔ اس نے مجھے تسلی دی اور کہا آج رات بابا جی سرکار آئیں گے تو ان سے بات کرنے کے بعد میں مکھن سائیں کا بندوبست کرتا ہوں‘‘ ریاض شاہ نے کچھ پڑھ کر میرے سینے پر پھونک ماری اور کہا ’’بابا جی نے تمہیں جو وظیفہ دیا ہوا ہے اسے پڑھتے ہوئے جانا۔ اللہ خیر کرے گا‘‘
اس روز خلاف توقع میرا پرچہ بہت اچھا ہوا تھا حالانکہ میں پریشان تھا۔ اللہ نے میرے لئے پرچہ آسان بنا دیا تھا۔ میں ملکوال آنے کے لئے لاری اڈے پر پہنچا اور بس پر سوار ہو کر میں سیٹ پر دبک کر بیٹھ گیا۔ میں نے خالی الذہن بیٹھنے کی بجائے اللہ کا ذکر کرنا مناسب سمجھا اور بزرگوں کا دیا وظیفہ پڑھنے لگا۔ میں اس وقت وظیفہ پڑھنے میں اتنا مگن تھا جب کنڈیکٹر نے مجھ سے ٹکٹ کے پیسے مانگے میں نے پیسے نکال کر دئیے تو اس نے پوچھا ’’کہاں جانا ہے‘‘
میں نے سمبڑیال کی نہر کے سٹاپ کا بتایا تو وہ بولا ’’باؤ جی یہ بس سمبڑیال نہیں جا رہی‘‘
’’ہیں ۔۔۔ تو پھر کہاں جا رہی ہے‘‘ میں نے چونک کر پوچھا اور پھر میری نظریں بس سے باہر کا منظر دیکھنے لگیں۔ بس شیخ مولا بخش کے تالاب کے قریب سے گزر رہی تھی۔
’’جناب بس ظفروال کی طرف جا رہی ہے‘‘
’’تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا‘‘ میں نے غصے سے کہا۔ سواریاں میری طرف دیکھنے لگیں۔ ظفروال سیالکوٹ کے بارڈر کی طرف ایک قصبہ تھا۔ دیہاتی لوگ اور طالب علموں سے بس کھچا کھچ بھری تھی۔
’’آپ کو نہیں پتہ بس کہاں جا رہی ہے حیرت ہے۔میں تو دھائی دے دے کر سواریاں اکٹھی کر رہا ہوں سب کو پتہ ہے بس کدھر جا رہی ہے‘‘
کنڈیکٹر الٹا مجھے غصے سے دیکھنے لگا
’’اچھا تو مجھے اتار دو‘‘ میں سیٹ سے نکلنے لگا۔ وہ بس رکوانے لگا تھا کہ معاً ایک قریب بیٹھی سواری نے دوسرے سے سوال کیا
’’سیداں والی یہاں سے کتنی دور ہے‘‘
’’اورے ۔۔۔۔۔۔ سے اگلا سٹاپ ہے‘‘ دوسری سواری نے بتایا
’’سیداں والی‘‘ یہ نام سنتے ہی جیسے میرے ذہن میں ہلچل سی مچ اٹھی۔ بابا تیلے شاہ نے مجھے سیداں والی آنے کے لئے کہا تھا اور میں وعدہ کرنے کے باوجود بھول گیا تھا۔ کئی روز بیت گئے تھے۔ میں دوبارہ سیٹ پر بیٹھ گیا اور کنڈیکٹر سے کہا ’’مجھے سیداں والی اتار دینا‘‘ میں نے اسے کرایہ دیا تو وہ عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا۔ اس وقت میری اضطراری حالت ہی ایسی تھی۔ میں کئی برسوں سے سیداں والی جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ہمیشہ کوئی نہ کوئی رکاوٹ ایسی آتی تھی کہ میں اپنے ارادے پر عمل نہ کر سکتا تھا لیکن آج تقدیر نے خود مجھے اس راہ پر ڈال دیا تھا۔
***
بس اورے جا کر ٹھہری تو میں جلدی سے نیچے اتر گیا۔ ’’ پل ایک ‘‘ کے پہلو میں واقعہ یہگاؤں خاصا قدیم تھا۔ اورے سے سیداں والی شریف زیادہ دور نہیں تھی۔ میرے والدین میری پیدائش سے بہت پہلے یہاں رہ چکے تھے۔ والدہ کی زبانی میں پیر کاکے شاہ کے بارے بہت سی حکایات سن چکا تھا میرے ذہن کے ایک گوشے میں اس مجذوب ولی کی کرامات کا بسیرا تھا۔ بس سے اترتے ہی میرے قلب و ذہن پر ان کی نورانی پرچھائیاں رینگنے لگیں۔ اس وقت دھوپ پھیلی ہوئی تھی لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے بس سے اتر کر اندازہ ہوا کہ میں نے غلط سٹاپ کا انتخاب کیا ہے۔ سیداں والی جانے کے لئے بس قصبہ کے قریب سے ہو کر گزرتی تھی لیکن میں ایک سٹاپ پہلے ہی اتر گیا تھا۔ میں نے ایک دیہاتی سے سیداں والی کا راستہ پوچھا تو اس نے بتایا کہ دو کوس دور ہے ۔ مجھے بھوک بھی ستا رہی تھی۔ میں نے ہوٹل پر کھانے کا سوچا۔ ایک ٹوٹے پھوٹے کھوکھے میں ایک دیہاتی بوڑھا جس نے بنیان اور دھوتی پہنی تھی نان پکوڑے بیچ رہا تھا ۔ دس بارہ لوگ وہاں بیٹھ کر نان پکوڑے کھا رہے تھے۔ اس کے سوا دور دور تک کوئی ہوٹل نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں کھوکھے والے کے پاس گیا اور پانچ روپے دے کر نان پکوڑے مانگے تو وہ میری طرف دیکھنے لگا۔’’پتر پردیسی ہو‘‘
’’پردیسی‘‘ مجھے اس لفظ میں بڑی اپنائیت محسوس ہوئی۔ دیہاتی لوگ دوسرے شہروں سے آنے والوں کو پردیسی ہی کہتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں تو پردیسی سے مراد دوسرے دیس سے آئے ہوئے انسان کو کہا جاتا ہے۔ ہماری دیہی زندگی میں دور دراز کے دیہاتوں اور شہروں کو بھی دوسرا دیس ہی سمجھا جاتا ہے۔ کھوکھے کے پاس ایک ٹوٹی پھوٹی چوکی پڑی تھی ۔ میں اس پر بیٹھ گیا۔
’’ہاں بابا ۔۔۔ میں پردیسی ہوں لیکن آپ کو کیسے معلوم ہوا‘‘ میں نے پوچھا۔
’’پتر جی جمعرات کو میں نان پکوڑے پیسے لے کر نہیں بیچتا۔ یہ نذر نیاز کا دن ہوتا ہے۔ دور دور سے لوگ اس روز میرے نان پکوڑے کھانے آتے ہیں اس لئے میں جان گیا کہ تم پردیسی ہو۔ بابا بوٹے کی دکان کا رواج نہیں جانتے‘‘
’’سوری بابا ۔۔۔ میں نہیں جانتا تھا‘‘ میں نے کہا تو اس نے ایک ٹھنڈے نان کے اوپر چند گرم گرم پکوڑے رکھ کر دے دئیے۔ میں نے ایک لقمہ ہی لیا تھا کہ خشک نان کا ٹکڑا میرے گلے میں پھنس گیا ۔میں نے بابا بوٹے سے پانی مانگا تو ان نے ایک صراحی کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے پاس مٹی کا ایک پختہ گلاس پڑا تھا۔ میں نے جلدی سے صراحی سے پانی لیا اور غٹاغٹ پی گیا۔ پانی پیتے ہی نان کا ٹکڑا میرے معدے میں اتر گیا ۔ میری حالت دیکھ کر پاس بیٹھے دیہاتی ہنسنے لگے۔ بابا بوٹے نے یہ دیکھا تو وہ انہیں ڈانٹ کر بولا ’’اوئے پاگلو ۔۔۔ اس بیچارے نے پیر کاکے شاہ کا لنگر پہلی بار کھایا ہے اس لئے گلے میں پھندہ لگ گیا تھا‘‘
پیر کاکے شاہ کا نام سن کر میں چونکا اور میری نظر پانی والی صراحی پر جا لگی۔ اس پر لکھا تھا ’’کاکے شاہ دی سبیل‘‘ مجھے بابا بوٹے کی ذات میں دلچسپی محسوس ہونے لگی۔ میں جب نان پکوڑے کھا چکا تو بابا بوٹے نے میری طرف دیکھا۔ ’’اور دوں‘‘
’’شکریہ بابا پیٹ بھر گیا ہے‘‘
’’کہاں سے آئے ہو اور کہاں جانا ہے‘‘ اس نے پوچھا
میں نے اپنے قصبے کا نام بتایا اور کہا ’’پیر کاکے شاہ کے مزار پر حاضری دینے جا رہا ہوں‘‘
’’ماشاء اللہ ۔۔۔ دیکھو میرے پیر کی کرامت۔ لوگ دور دور سے مزار پر دعا کرنے آتے ہیں‘‘ بابا بوٹا پکوڑوں کی کڑاہی چھوڑ کر میرے پاس آ گیا۔ اس کے جھریوں زدہ چہرے پر عجیب سی چمک آ گئی تھی۔ میرے ہاتھ اپنے استخوانی ہاتھوں میں لے کر لرزتی آواز میں بولا ’’پتر مزار پر جا کر دعا کرنا۔ میری چھوٹ ہو جائے۔ میرے لئے دو نفل پڑھ دینا۔ سورہ یسین کی تلاوت ضرور کرنا۔ اللہ سے دعا کرنا میری چھوٹ ہو جائے‘‘ بابا بوٹے کی آنکھوں سے دو آنسو جھریوں میں راستے بناتے ہوئے نیچے گرنے لگے تو میں نے ہاتھ آگے بڑھا کر اسکے آنسو زمین پر گرنے سے بچا لئے‘
’’بابا ۔۔۔ میں دعا کروں گا‘‘ میں نے ہاتھ اس کے کاندھے پر رکھ کر اسے تسلی دی۔
’’بابا ایک بات پوچھوں‘‘
’’جی پتر ۔۔۔ سو بار پوچھو‘‘ میری تسلی نے اس کے دل کو سکون بخش دیا تھا۔
’’بابا ۔۔۔ کب سے یہ نذر و نیاز کر رہے ہو۔ کیا آپ نے کبھی پیر کاکے شاہ کو دیکھا ہے‘‘
بابا بوٹے کے ماتھے کی سلوٹیں سمٹنے لگیں آنکھیں سکڑ گئیں اور ہونٹ کھنچ گئے۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولا‘‘ پتر ایک بار دیکھا ہے اس گناہ گار نے ۔۔۔ پتر آج تک کسی نے مجھ سے یہ سوال نہیں کیا تھا۔ میں نے بھی کسی کو نہیں بتایا۔ آج تو نے پوچھا ہے تو میں تجھے بتاؤں گا۔ لیکن کچھ دیر ٹھہر جا میں نیاز بانٹ لوں۔ فارغ ہو کر تمہیں بتاتا ہوں‘‘
بابا بوٹے نے بیس پچیس منٹ میں ساری نیاز بانٹ دی۔ چھابے میں ایک نان اور دو پکڑے بچ گئے تھے ۔اس نے ایک رنگین کپڑے میں نان پکوڑے تہ کرکے کھوکھے کے اندر رکھ دئیے۔
’’بابا آپ بھی کھا لو۔ باتیں بعد میں کر لیں گے نان پکوڑے ٹھنڈے ہو جائیں گے‘‘۔ میں نے کہا۔
’’پتر ۔۔۔ میں رات کو کھاؤں گا‘‘ وہ بولا ’’یہ تو کسی کی امانت ہیں۔ جو میں نے سنبھال کر رکھ دی ہے‘‘
باہر دھوپ بڑھ گئی تھی بابا بوٹا فارغ ہو گیا تو ہم دونوں کھوکھے کے اندر بیٹھ گئے۔ ۔ بابا کہنے لگا ’’پتر جی! کیا تم بتا سکتے ہو میری عمر کتنی ہو گی‘‘ میں نے اس کے چہرے پر غور کیا‘ ماتھے کی سلوٹوں کو شمار کیا۔ دھندلائی آنکھوں کے عقب میں جھانک کر دیکھا۔ اس کے ہاتھوں میں ابھری بے گوشت رگوں کو دیکھا۔’’ یہی کوئی ستر اسی سال ہو گی‘‘ میں نے اس بوڑھے برگد کے درخت کی مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہا جس کی عمر جاننے کے لئے جب اس کے تنے کو کاٹا جاتا ہے تو اس کا ہر پرت سالوں کی کہانیاں سناتا ہے۔
’’ایک سو سال عمر ہے میری‘‘ بابا بوٹا بولا ’’شاید دو چار سال زیادہ ہی ہو‘‘
میں نے حیرت سے اسے ایک بار پھر غور سے دیکھا۔ ستر اور سو کے پھیر میں اس کی زندگی کا حساب لگانا بڑا مشکل لگا ۔
’’میں اس وقت گبھرو جوان تھا‘‘ وہ پرخیال انداز میں بولا تو اس کے لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھر آئی۔’’میں بھینس اور گھوڑیاں چوری کیا کرتا‘‘
’’یعنی چور تھے آپ‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا
’’ہاں چور تھا میں ۔۔۔ آج کے چوروں میں اور ہمارے دور کے چوروں میں بڑا فرق ہوتا تھا۔ آج کا چور ہمیشہ کی طرح بزدل اور ہمارے دور کا چور بڑا جی دار ہوتا تھا۔ ہم دو طرح سے چوری کیا کرتے تھے۔ ایک تو ڈھاٹا باندھ کر چوری کرتے تھے اور دوسری قسم کے چور لنگوٹا کس کر پورے بدن میں تیل کی مالش کرکے چوری کرتے تھے۔ لنگوٹے والے چور عموماً گھروں کے اندر گھس کر سامان اٹھا کر بھاگ جاتے تھے۔ تیل کی مالش اس لئے کرتے تھے اگر کوئی پکڑ لے تو اس کے ہاتھوں سے پھسل کر نکل جانے کا موقع مل جاتا۔ ڈھاٹا باندھنے والے چور جنس کی چوری کرتے تھے۔ بھینس‘ بکریاں‘ گھوڑے‘ بیل ۔۔۔ میں بھی ڈھاٹا باندھ کر چوری کرتا تھا۔ بڑے بڑے چودھری اور ملک مجھ سے کام لیتے تھے۔ ایک بار مجھے ایک ملک نے سیداں والی سے ایک گھوڑی کھول کر لانے کی فرمائش کر دی۔ ان دنوں سیلاب آیا ہوا تھا اور ایک (نالہ ایک) چڑھی ہوئی تھی۔ آگے پیچھے کے گاؤں اور فصلیں پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ میں نے ملک کو بتایا کہ سیلاب کے دنوں میں چوری کرنا مشکل تو نہیں ہے لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ ان دنوں پانی کے ڈر سے گھوڑی کو کسی اور جگہ لے جایا گیا ہو، کیونکہ جو گھوڑی وہ چوری کرانا چاہتا تھا وہ ایک سیدزادے کی تھی اور اسے پاکپتن کے بزرگوں نے تحفہ میں دی ہوئی تھی۔ میں نہیں جانتا لیکن میں نے یہ سن رکھا تھا کہ وہ گھوڑی اصیل نسل تھی اور گھوڑوں کی اس نسل میں سے تھی جس نے کربلا میں اپنا خون بہایا تھا۔ میں مذہبی طور پر باغی قسم کا نوجوان تھا۔ مجھے کھانے پینے اور پہلوانی کا شوق تھا۔ راتوں کو چوری کرتا‘ دنوں کو کبوتر اڑاتا۔ نماز روزہ کا کوئی خیال نہیں تھا مجھے ۔۔۔ خیر ۔۔۔ ملک کے اصرار پر میں سیداں والی چلا آیا ۔ ادھر جہاں ہم دونوں بیٹھے ہیں‘ اس وقت سڑک نہیں بھی تھی۔ کچا اور نشیبی علاقہ تھا۔ درخت بھی پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ میں شام سے پہلے ادھر آ گیا تھا۔ کوئی انسان ادھر نظر نہیں آ رہا تھا۔ سیداں والی کو جانے والا سارا راستہ پانی میں گم تھا۔ میں نے اچھا کام یہ کیا کہ نالہ ایک کی پٹری پر چلا گیا ۔کئی جگہ سے پٹری سے اوپر بھی پانی آیا ہوا تھا۔ پانی میں تیزی تھی۔ میں نے جب دیکھا کہ ٹوٹی پٹری کی وجہ سے میں سیداں والی کی طرف نہیں جا سکوں گا تو میں نے نالہ تیر کر عبور کر لیا۔ مجھے بڑی مشکل آئی۔ کئی بار تو ڈوبتے ڈوبتے بچا۔ بالاخر میں نالے کی دوسری طرف پہنچا تو مجھے ایک مجذوب سا آدمی ملا۔ وہ نالہ کے اندر اترنے کی کوشش کر رہا تھا اس نے صرف تہبند باندھ رکھا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ شخص نالہ میں ڈوب جائے گا لہٰذا میں نے اس کا بازو پکڑ لیا اور کہا ’’ڈوب مرنے کا ارادہ ہے‘‘
وہ کچھ نہ بولا اور جھٹکے سے بازو چھڑوا کر نالہ کے اندر اتر گیا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سا جلال تھا۔ اس دوران چار پانچ مرد بھی ادھر آ گئے۔ میں نے انہیں بھی کہا ’’اس کو روکو یہ ڈوب جائے گا پانی بڑا تیز ہے‘‘
وہ مجھے کہنے لگے ’’لگتا ہے تو نہیں جانتا یہ کون ہیں۔ یہ کاکے شاہ سرکار ہیں جب تک یہ نالہ ایک میں نہیں اتریں گے اس کا زور ختم نہیں ہو گا‘‘
میں ہنس دیا ’’پاگل ہو گئے ہو تم۔ پانی نے بڑے بڑے بند توڑ دئیے ہیں یہ کیسے روکے گا‘‘
’’یقین نہیں آتا تو دیکھ لو‘‘ ایک شخص نے کہا ’’ہر سال جب سیلاب آتا ہے تو سرکار نالہ ایک میں کھڑے ہو جاتے ہیں‘‘ اس کی بات سن کر میں ہنسنے لگا۔ دیہاتیوں نے میری اس حرکت پر منہ بنا لیا میں بھی ازراہ تفریح وہاں ٹھہر گیا کہ دیکھوں پانی کیسے ٹھہرتا ہے۔
شام ہونے میں ابھی خاصا وقت تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اندھیرا ابھی سے چھانے لگاہے۔ آسمان کی طرف دیکھا تو سیاہ بادل بڑی تیزی سے پھیلتے ہوئے روشنیوں کو نگل رہے تھے۔ کچھ ہی لمحے میں آناً فاناً موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ بجلیاں کڑکنے لگیں سمجھئے دوپہر میں رات کی سیاہی گھل مل گئی تھی۔ اس موسم میں گھوڑی کھول کر لے جانا مشکل تھا۔ کیونکہ طوفانی بارش کے اندھیرے میں لالٹین نہیں جلائی جا سکتی تھی۔ میں نے سوچا کہ میں واپس چلا جاتا ہوں لیکن جب ارادہ کیا تو مجھے اس طوفان میں واپسی کا راستہ ملنا مشکل نظر آیا۔ سو میں نے خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور پیر کاکے شاہ کی طرف دیکھنے لگا جو نالہ ایک کے بپھرے پانیوں میں اتر گئے تھے۔ ان کے ہاتھ اور چہرہ آسمان کی طرف بلند تھا وہ پانی میں یوں چل رہے تھے جیسے وہ پانی میں نہیں پختہ راستے پر چل رہے ہوں۔ میرے لئے یہ بات حیرانی سے کم نہیں تھی۔ گہرے پانیوں میں چلا نہیں جاتا بلکہ تیرنا پڑتا ہے۔ پانی ان کے کندھوں تک نظر آ رہا تھا حالانکہ میرے اندازے کے مطابق نالہ بیس پچیس گز گہرا تھا۔ میں نے دیہاتیوں کی طرف دیکھا تو وہ میری طرف دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ گویا مجھے سمجھا رہے تھے کہ دیکھا تم ہم پر ہنس رہے تھے لو اب اپنی عقل پر ہنس لو میرے بچے۔ روحانی لائن میں عقل محو تماشا ہوتی ہے۔ اس کو ضعف آ جاتا ہے یہ تو دل کی دنیا ہے اس میں عقل کا کیا کام۔ پیر کاکے شاہ آدھ گھنٹہ پانی میں کھڑے رہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ پانی ان کے کاندھوں سے نیچے ہو رہا ہے اور پھر ان کی کمر سے ہوتا ہوا ان کے گھٹنوں تک آ گیا۔ میرے سامنے کناروں کو اپنی وحشت میں غرق کرنے والا پانی پیر کاکے شاہ کے پیروں تک بیٹھ گیا تھا۔ میں بار بار اپنا سر جھٹکتا ہوہا کہ کہیں میں نیند کی حالت میں تو نہیں ہوں۔ لیکن میرے سامنے ایک سربستہ راز حقیقت بے نقاب ہو رہی تھی۔ میں دم بخود حیرت کے سمندروں میں غوطے کھا رہا تھا۔ جب ایک دیہاتی نے میرا کاندھا تھپتھپایا اور کہا ’’تم کہاں سے آئے ہو‘‘
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور کہا ’’میں بہت دور سے آیا تھا راستہ بھول گیا ہوں‘‘ میں اسے کیا بتایا کہ میں ان کے گاؤں میں چوری کرنے آیا ہوں۔
کچھ دیر بعد پیر کاکے شاہ نالہ ایک سے باہر آئے اور شان بے نیازی سے ایک اچٹتی نگاہ مجھ پر ڈالی اور سیداں والی کی طرف چل دئیے۔ دیہاتی ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ میں اپنی جگہ بت بنا کبھی نالہ ایک کو دیکھتا اور کبھی پیر کاکے شاہ کی طرف۔ تھوڑا سا آگے جا کر وہ پلٹے اور میری طرف دیکھ کر زور سے ہاتھ ہلا کر بولے ’’جا ۔۔۔ جا ۔۔۔
ان کی بات سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔
پیر کاکے شاہ میرے اندر کے چور کو پہچان گئے تھے۔ میں سر سے پاؤں تک لرز گیا۔ بارش میں بھی پسینہ آ گیا۔ میں اس جگہ جیسے زمین میں دفن ہو گیا تھا۔ وہ میری نظروں سے غائب ہو گئے۔ بارش کا زور تھم گیا لیکن میں بھیگتا رہا ۔خاصی دیر گزر گئی تو میں نے واپسی کا ارادہ ملتوی کر دیا اورسیداں والی کی طرف چل دیا۔ راستے میں بانسوں کا ایک گنجان جھنڈ تھا۔ اسے عبور کیا تو دور دور تک فصلیں پانی میں ڈوبی نظر آئیں۔ وہاں مجھے ایک بوڑھی عورت ملی ۔ اس نے ہاتھ میں دودھ سے بھرا ڈول اٹھایا تھا۔ میں نے اس سے سیدزادے کے گھر کا پتہ پوچھا تو وہ بولی۔
’’پتر میں بھی ادھر ہی جا رہی ہوں میرے ساتھ چل‘‘
میں اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتا تھا لیکن اس کی ایک بات سن کر میں اس کے ساتھ ہو لیا۔ کہنے لگی ’’پتر راستے میں گار اور پانی ہے۔ میں بوڑھی عورت ہوں۔ ڈرتی ہوں میرے گر جانے سے دودھ کا ڈول نہ گر جائے۔ پتر دودھ گر گیا تو آج کاکے شاہ کو دودھ نہ پلا سکوں گی‘‘
’’ماں جی ۔۔۔ یہ کاکے شاہ کون ہیں‘‘ میں نے اس کی بات سن کر اپنے تجسس کو بے نقاب کیا۔
’’لے پتر تو نہیں جانتا، اللہ کے سائیں ہیں۔ انہیں دنیا داری سے کوئی غرض نہیں ہے۔ بس اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں۔ بولتے بہت کم ہیں۔ جو بات کہتے ہیں وہ پوری ہو جاتی ہے۔ تم نے جس سیدزادے کا پوچھا ہے اس کا گھر ان کے گھر کے قریب ہے‘‘ میں نے بوڑھی عورت کو ان کے نالہ ایک میں اترنے کا قصہ سنایا تو وہ بولی۔
’’پتر ہر سال کاکے شاہ نالے میں اتر کر سیلاب کو روکتے ہیں۔ اگر وہ یہ نہ کریں تو ہمارا گاؤں اور سارا شہر ڈوب جائے۔ پچھلے دو دن سے وہ گاؤں میں نہیں تھے۔ آج آئے ہیں تو لوگوں نے بتایا کہ سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے تو وہ اسی وقت نالہ ایک پر چلے گئے ۔ اب میں انہیں دودھ پلانے جا رہی ہوں۔ وہ کسی سے لے کر نہیں کھاتے لیکن انہیں میرے ساتھ بڑا پیار ہے۔ مجھے ’’سائیں شاہ دی رکھی‘‘ کہتے ہیں۔ ایک دن انہوں نے مجھے کہا کہ سائیں شاہ دی رکھی مجھے دودھ پلاؤ۔ میں نے کہا شاہ جی ہمارے پاس بھینس نہیں ہے۔ پتر ہم بڑے غریب لوگ ہیں۔ کہنے لگے اللہ دے گا۔ شاہ صاحب بہت کم باتیں کرتے ہیں۔ میں نے گھر جا کر اپنے خاوند کو یہ بات بتائی تو وہ بڑا خوش ہوا۔ کہنے لگا کہ اس کا مطلب ہے ہمیں بھینس مل جائے گی۔ وہ اسی وقت باہر نکل گیا اور رات گئے واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک بھینس کی رسی تھی۔ میرے پوچھنے پر کہ وہ یہ بھینس کہاں سے لایا تو وہ بتانے لگا کہ یونہی ایک خیال کے تحت کھیتوں میں چلتا جا رہا تھا کہ اسے ایک آدمی مل گیا یہ بھینس اس کے ساتھ تھی۔ کہنے لگا کہ اسے تھوڑے پیسوں کی ضرورت ہے۔ اگر وہ یہ بھینس خرید لے تو اس کا کام بن سکتا ہے۔ میرے خاوند کے پاس صرف دو روپے تھے۔ اس اجنبی نے دو روپے میں بھینس بیچ دی۔ میں نے صبح سویرے بھینس کا تازہ دودھ گرم کیا اور کاکے شاہ کی خدمت میں پیش ہو گئی۔ اب میں ایک وقت کے دودھ میں سے ایک پیالہ روزانہ انہیں پلانے جاتی ہوں ۔یہ سب ان کی دعاؤں کا اثر ہے۔ پچھلے سال میری بیٹی کو دورے پڑنے لگے تو میں اسے کاکے شاہ کے پاس لے کر گئی۔ میری بیٹی کو دیکھتے ہی ان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ اس کے سر پر پیار کرکے دو تین چپتیں ماریں اور دوبارہ مسکرانے لگے اور کہا ’’سائیں شاہ دی رکھی۔ دودھ کہاں ہے‘‘ پتر جی کاکے شاہ بڑا پیار کرنے والے انسان ہیں۔ کسی کو دکھ نہیں دیتے۔ اس روز کے بعد میری بچی کو کبھی دورہ نہیں پڑا۔‘‘
ہم باتیں کرتے ہوئے سیداں والی کے اندر داخل ہو گئے۔ اس نے ایک گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’یہ کاکے شاہ کا گھر ہے۔ دو گھر چھوڑ کر گلی میں داخل ہو جانا۔ اس سے پہلا گھر سیدزادے کا ہے‘‘پیر کاکے شاہ کے گھر کا دروازہ کھلا تھا۔ بوڑھی عورت اندر چلی گئی۔ میں نے سیدزادے کا گھر دیکھا اور پھر میں لوگوں سے پوچھتا ہوا اس کی حویلی تک چلا گیا۔ اس کی گھوڑی وہاں بندھی ہوئی تھی۔ میں رات ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ بارش رک چکی تھی اور آسمان صاف ہو گیا تھا۔ عشا کی نماز کے بعد میں نے گھوڑی کھولی اور اسے پچکار کر حویلی سے باہر لے جانے میں کامیاب ہو گیا اور پھر میں اس پر سوار ہو کر نالہ ایک کی طرف چل دیا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ گھوڑی ان راستوں سے آشنا ہے۔ میں جب بانسوں کے جھنڈ کے پاس سے گزرنے لگا تو یکایک ایک آواز نے گھوڑی کے اٹھتے قدموں کو جیسے زنجیریں ڈال دی تھیں۔
’’چورا ۔۔۔ تو باز نہیں آیا‘‘ پیر کاکے شاہ کی آواز میں قہر تھا۔ میں نے ان کی بات کا جواب نہ دیا اور گھوڑی کو ایڑھ لگاکر بھگانے لگا ۔ نالہ ایک پر پہنچا تو اس وقت چاند آسمان پر اپنی روشنیاں بکھیر رہا تھا۔ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور گھوڑی سمیت نالہ ایک عبور کرنے لگا۔ پانی اب اتر چکا تھا لیکن جونہی گھوڑی ’’ایک‘‘ میں اتری پانی کا ایک زوردار ریلا اٹھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پانی میرے سر تک آ پہنچا۔ ایک طوفانی لہر نے مجھے گھوڑی سمیت اٹھا کردور پھینک دیا۔ اس وقت میرا سر ایک بھاری پتھر سے ٹکرایا اور میں بے ہوش ہو گیا۔ اگلی صبح میری آنکھ کھلی دیکھا تو میرا سارا بدن آگ میں تپ رہا تھا۔ سر پر خون جما ہوا تھا اور بدن ٹوٹ رہا تھا۔ بڑی مشکل سے اپنے گاؤں پہنچا۔ گھر پہنچتے ہی میں بے ہوش ہو گیا۔ وید‘ حکیم‘ پیر فقیر سبھی آئے میرا علاج کرنے ۔۔۔ مگر مجھے ہوش نہ آیا۔ مجھ پر دیوانگی طاری ہو گئی۔ کئی مہینے تک میں بے ہوش پڑا رہا۔ کبھی کبھی میرے منہ سے پیر کاکے شاہ کا نام بھی نکل جاتا۔ لیکن ان دنوں ان کی زیادہ شہرت نہیں تھی۔ کوئی بھی نہ سمجھ سکا کہ میں ان کا نام کیوں لیتا ہوں۔ ایک روز ایک فقیر ہمارے گھر آیا۔ اس نے خیرات مانگی تو میری ماں نے اسے کہا کہ میرے بیٹے کے لئے دعا کرو۔ میں تمہارا منہ گھی شکر سے بھر دوں گی۔ فقیر نے جب مجھے دیکھا تو وہ زیرلب کچھ بدبدانے لگا۔ پھر ایک دم بولا ’’جن بھوت کا سایہ نہیں ہے۔ اسے کسی کی بددعا لگی ہے‘‘ اس وقت میرے منہ سے پیر کاکے شاہ کا نام نکل گیا تو فقیر چونک پڑا اور بولا ۔۔۔ ’’اسے پیر کاکے شاہ کے مزار پر لے جاؤ اور اس کی صحت کی منت مانگو‘‘۔ میری ماں اور بھائی مجھے سیداں والی لے آئے۔ معلوم ہوا کہ ان کا وصال ہو چکا ہے۔ میری ماں نے وہاں منت مانگی اور چند ہفتوں بعد میں صحت یاب ہونا شروع ہو گیا۔ میری دیوانگی اتر گئی۔ جونہی ذہن میں شعور کی بتیاں روشن ہونے لگیں میں کاکے شاہ کے مزار کی طرف بھاگ اٹھا۔ میں جانتا تھا کہ میں ایک بزرگ کی گستاخی کرکے عذاب میں مبتلا ہوا ہوں، اس کا علاج بھی ان کے پاس ہی ہے۔ لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔ میں ان کی قبر پر جا کر بہت رویا لیکن مجھے سکون نہ ملا۔ پھر میں ان کے مزار پر ہی رہنے لگا۔ ہر جمعرات کو لنگر تقسیم کرتا۔ ایک روز پیر کاکے شاہ مجھے خواب میں ملے اور کہا ’’چورا ۔۔۔ میرے مزار سے چلا جا‘‘
پتر جی میری تو دنیا ہی لٹ گئی۔ میں اپنی قسمت کو روتا پیٹتا اس جگہ آ بیٹھا اور ساری عمر یہاں گزار دی۔ مجھے ان کے مزار پر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ برسوں سے ہر جمعرات کو یہاں نان پکوڑے نذر نیاز کرتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میری سختی دور ہو جائے‘‘
بابا بوٹا داستان حزن و ملال سنا کر ہچکیاں بھرنے لگا ’’پتر اس چوٹ کا درد وہی جانتا ہے جو اس درد سے گزرا ہو پتر جی میں تم سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں کہ میری سفارش کرنا۔ ہو سکتا ہے سرکار کسی پردیسی کی لاج رکھ لیں‘‘
’’بابا‘‘ میرا دل اندر سے کٹنے لگا۔ میں بزرگوں سے انتہا درجے کی عقیدت تو رکھتا تھا مگر ان سے کچھ طلب کرنے کی جسارت نہیں کرتا تھا۔ صرف اپنے اللہ سے مانگتا تھا۔ میں نے انہیں تسلی دینا چاہی مگر الفاظ میرا ساتھ چھوڑ گئے۔ اس اثنا میں ایک گڈری پوش جس نے سر تک چادر اوڑھی ہوئی تھی ہمارے پاس آ گیا۔ بابا بوٹا اسے دیکھتے ہی عقیدت سے اٹھا اور ان کے ہاتھ چوم کر کپڑے میں رکھے نان پکوڑے انہیں دے کر بولا ’’بابا ۔۔۔ دعا کی ہے ناں‘‘
گدڑی پوش نے اثبات میں سر ہلایا اور واپس چلنے لگا تھا کہ چند قدم چلنے کے بعد وہ رک گیا اور پلٹ کر ہماری طرف دیکھنے لگا۔ پھر سر سے چادر سرکا کر میری طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر نگاہ پڑتے ہی میں تڑپ کر رہ گیا۔
’’بابا آپ‘‘ میں بھاگ کر اس چادرپوش کے پاس پہنچا اور بے اختیار ہو کر ان کے چہرے سے نقاب ہٹائی۔ ان کی آنکھیں اور چہرہ مسکراہٹ کی تابانی سے منور تھا۔ بابا تیلے شاہ کا یوں بابا بوٹے کے پاس آ جانا میرے لئے اچنبھے کی بات تھی۔
’’یاد آ گئی ہماری‘‘ بابا تیلے شاہ نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ شکوہ بھرے لہجے میں کہا۔
’’دیر ہو گئی بابا‘‘ میں عاجزی اور شرمندگی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بولا ’’سچ تو یہ ہے کہ آج بھی میں ارادتاً نہیں آیا بلکہ لایا گیا ہوں‘‘
’’میں سمجھتا ہوں ۔ اگر تم آج بھی نہ ہوتے تو پھر تمہارا آنا نہ آنا ایک برابر ہوتا‘‘ وہ بولے
’’میں سمجھا نہیں‘‘ میں نے پریشان ہو کر پوچھا۔
تم جن سرابوں میں بھٹک رہے ہو ایک روز ان میں گم ہو کر رہ جاؤ گے اور تمہیں واپسی کا راستہ نہیں ملے گا‘‘ بابا تیلے شاہ نے کہا ’’آؤ ۔۔۔ مزار پر چلتے ہیں پھر باتیں کریں گے‘‘
میں ان کے ساتھ چلنے لگا تو بابا بوٹا دوڑتا ہوا میرے پاس آ گیا اور ہانپتی کانپتی آواز میں مجھے یاد دلانے لگا ’’پتر جی اپنا وعدہ نہیں بھولنا میرے لئے دعا کرنا‘‘ پھر وہ بابا تیلے شاہ کی طرف ملتجی نگاہوں سے دیکھنے لگا ’’سرکار یہ بچہ آپ کا پہچانو ہے تو میرا کام اب کی بار کر دیں۔ میری خلاصی کرا دیں۔ گناہ پہاڑوں سے اوپر ہو گئے ہیں۔ دل کو سکون نہیں ملتا سرکار ۔جب تک پیر کاکے شاہ معاف نہیں کریں گے میرا دم سکون سے نہیں نکلے۔‘‘
’’بابا‘‘ میں نے بابا بوٹے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا ’’تم بھی ہمارے ساتھ آ جاؤ۔ مل کر نوافل ادا کریں گے اور اللہ سے دعا کریں گے کہ تمہارے دل کو سکون مل جائے‘‘
’’ناں ۔۔۔ ناں ۔۔۔ ناں پتر‘‘ وہ ایک دم پیچھے ہٹ گیا‘‘۔ میں ایسی گستاخی نہیں کر سکتا جب مرشد نے اپنے مزار سے نکال دیا ہے تو میں وہاں کیسے جا سکتا ہوں۔ جب تک بلاوا نہیں آتا میں نہیں جا سکتا۔ پتر جی ۔۔۔ پہلے ہی ایک بار گستاخی کرکے سزا بھگت رہا ہوں۔ اب دوبارہ گناہگار نہیں ہونا چاہتا‘‘
’’حوصلہ رکھ بوٹے ۔۔۔ اللہ نے چاہا تو بوٹا دوبارہ ہرا بھرا ہو جائے گا‘‘ بابا تیلے شاہ نے اسے تسلی دی تو وہ آنسوؤں سے رونے لگا۔ میرا دل بڑا مکدر ہوا لیکن اسے تسلی دینے کے لئے میرے پاس مزید الفاظ نہیں تھے۔
میں بابا تیلے شاہ کے ساتھ ہو لیا۔ ان سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا لیکن وہ راستہ بھر خاموش رہے۔ میں نے ایک بات خاص طور پر محسوس کی تھی۔ ان کی چال میں وقار تھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے تھے۔ سرنگوں چل رہے تھے۔ میں حیران تھا کہ وہ راستہ کو بغور دیکھے بغیر کیسے آرام سے چل رہے تھے۔ شاید اس لئے کہ اللہ والوں کو ظاہری آنکھوں کے بغیر بھی راستے نظر آتے ہیں۔ ان کے اندر ہزاروں آنکھیں روشن ہوتی ہیں جو پاتال سے آسمان کی بلندیوں تک قدرت کے حجابات کے اندرتک دیکھ لیتے ہیں۔ قلب و نظر کے کثیف معاملات ان سے چھپے نہیں رہتے۔ وہ زیر لب کچھ پڑھ بھی رہے تھے لیکن مجھے ہلکی ہلکی بھنبھناہٹ کے سوا کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ میں ان کے قدموں کا ساتھ دینے سے عاجز آ گیا تھا۔ مجھے باقاعدہ دوڑ کر ان کے ساتھ ساتھ چلنا پڑ رہا تھا اورے سے سیداں والی کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا لیکن جس شخص کو کبھی لگاتار پیدل چلنے کی عادت نہ ہو اور پھر وہ بھی جوگنگ کے انداز میں چلنا پڑے تو وہ جلد ہانپ جاتا ہے۔ ہم جب اونچائی سے اتر کر پکی سڑک سے سیداں والی کی طرف جانے والی سڑک پر پہنچے تو سامنے مجھے بانس کے درختوں کا ایک جھنڈ نظر آیا۔ مجھے بابا بوٹے کی بات یاد آ گئی۔ سالہا سال سے یہ جھنڈ اسی طرح نظر آ رہا تھا۔ اس وقت میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور مجھ سے چلنا مشکل ہو گیا۔ میرے دل میں آیا کہ میں کچھ دیر کے لئے سستا لوں لیکن یہ بات زبان پر لاتے ہوئے مجھے گھبراہٹ سی ہونے لگی۔
’’تھک گئے‘‘ بابا تیلے شاہ نے میری طرف دیکھے بغیر رفتار کم کی اور میرے دل کا بھید جانتے ہوئے سوال کیا
’’ہاں بابا ۔۔۔ اب چلا نہیں جاتا‘‘ پیاس سے میرا برا حال ہو گیا۔ ہونٹ خشک ہو گئے۔ بابا تیلے شاہ کی بات سنتے ہی میں راستے کے ساتھ گزرتی ایک کھالی کے کنارے بیٹھ گیا۔ میرے عقب میں دھان کی سرسبز فصل لہلہا رہی تھی۔ کھیتوں کی اپنی ہی خوشبو ہوتی ہے ۔ دور تک لہلہاتے سرسبز کھیت انسان کی روح کو تروتازہ کر دیتے ہیں لیکن اس وقت میرے دل پر لہلہاتی فصلوں کے سحر انگیز ماحول نے بھی کوئی اثر نہ ڈالا۔ کھلی فضا میں بھی مجھے گھٹن محسوس ہو رہی تھی
بابا تیلے شاہ بھی میرے پاس آ بیٹھے اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے
’’میرے بچے یہ راستہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ ادھر دیکھو میرے پیروں کی طرف دیکھو۔ میں پچھلے بیس برسوں سے ننگ پا ہزاروں لاکھوں میل پیدل چل چکا ہوں لیکن اپنی منزل پانے کے لئے میں نے اپنے پیروں کی کبھی نہیں مانی۔ تو جوان ہے‘ ابھی سے بیٹھ گیا ہے۔ اٹھ اور ہمت کر۔ ادھر دیکھ۔ مجذوب بابا کے مزار کا گنبد تجھے اپنی طرف بلا رہا ہے۔ وہ دیکھو گنبد کے اوپر۔ بابا سرکار کھڑے مسکرا رہے ہیں‘‘ میں نے اس طرف دیکھا اور مزار کا گنبد نظر آ رہا تھا۔ سورج عین اوپر چمک رہا تھا مگر مجھے وہاں کوئی نظر نہیں آیا۔
’’بابا مجھے تو کچھ دکھائی نہیں دے رہا‘‘ میں نے کہا
’’ْتمہیں نظر آئے گا بھی نہیں۔ میں جو دیکھ رہا ہوں۔ اٹھو۔ میری ریاضت کا وقت ہو رہا ہے۔ مجھے وہاں پہنچنا ہے‘‘
بابا تیلے شاہ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں غیر ارادی طور پر کسی معمول کی طرح اٹھ پڑا۔ ان کی رفتار اب بھی پہلے جیسی تھی ۔ اب کی بار میں ان کے قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا۔ میں اپنے اوپر حیران تھا کہ میرا تو پورا بدن تھکاوٹ سے چور چور تھا لیکن اب میں یوں چل رہا ہوں جیسے پہلی بار قدم اٹھا رہا ہوں۔ میں نے محسوس کیا کہ مجھے اپنی رفتار پر کوئی اختیار نہیں رہا تھا۔
کچھ دیر بعد ہم پیر کاکے شاہ کے مزار کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ پرانی عمارت نما مزار تھا۔ ایک طرف ان کا تکیہ اور دوسری طرف چھوٹے چھوٹے کمرے تھے۔ ایک بھی ذی حس وہاں موجود نہیں تھی۔ مزار کی ویرانی دیکھ کر میں حیران ہوا کہ یہ روحانی درگاہ عقیدت مندوں سے خالی کیوں ہے۔ میں نے مزار پر دھڑکتے دل کے ساتھ دعا کی۔ بابا تیلے شاہ قبر کے سرہانے بیٹھ گئے اور اپنی عبادت و ریاضت میں مصروف ہو گئے۔ میں نے مزار کے اندر ہی ایک جائے نماز پر نوافل ادا کئے اور بابا بوٹے کے لئے خاص طور پر دعا کی۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے مزارات پر عبادت اور دعا کا سلیقہ نہیں آتا تھا۔ دو نوافل پڑھنے کے بعد میں فارغ ہو گیا اور سوچنے لگا کہ اب کیا کروں۔ پہلے تو دل چاہا کہ مزار کے سجادہ نشین سے مل لوں لیکن پھر اس خیال سے جائے نماز پر ہی بیٹھا رہا کہ اگر بابا تیلے شاہ نے مناسب خیال کیا تو وہ مجھے خود ملوا دیں گے۔ میں کچھ دیر فارغ رہنے کے بعد سوچنے لگا کہ مجھے یوں خالی الذہن نہیں بیٹھنا چاہئے ۔ لہٰذا نے درود شریفؐ کا ورد شروع کر دیا۔ ٹاہلی والی سرکار کے دئیے وظائف بھی پڑھنے لگا۔ اول اول تو میں ارتکاز توجہ سے غافل ہو کر پڑھتا رہا لیکن جوں جوں وظائف کی گردان بڑھتی گئی میرا انہماک بہتر ہوتا گیا اور ظہر کی نماز ہونے تک میرا یہ عالم تھا کہ مجھے گردوپیش کی خبر نہیں رہی تھی۔
اذان سنتے ہی بابا تیلے شاہ مزار سے باہر آئے اور مجھے نماز پڑھنے کے لئے کہا۔ ہم دونوں نے نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں ایک بار پھر مزار کے درودیوار کی طرف دیکھنے لگا۔ برسوں پہلے میرے والدین یہاں میرے نام کی نذر چڑھانے آئے تھے۔ سالہا سال سے مزار کے نقوش اس طرح برقرار تھے ۔ بابا تیلے شاہ میرے انہماک کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے۔
’’ان دیواروں پر ہمارے بابا کی یادیں نقش ہیں۔ میں اس وقت سے یہاں آ رہا ہوں جب بابا سرکار کے بہنوئی پیر مظفر شاہ نے گدی سنبھالی تھی۔ اس مزار کے درودیوار کے سوا مجھے یہاں کوئی نہیں جانتا۔ میں آتا ہوں تواپنے بابا کے پاس بیٹھ کر عبادت کرتا ہوں‘‘
’’بابا‘‘ میں نے جرات کرکے ایک سوال کیا ’’بابا مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ آپ ایک مجذوب کے مزار پر آ کر عبادت کیوں کرتے ہیں۔ آپ کسی مسجد میں بیٹھ سکتے ہیں۔ عبادت کے لئے کیا مزارات پر آنا ضروری ہے‘‘
بابا تیلے شاہ بولے۔ ’’میرے بچے ۔اپنے دل کو اتنا سخت کرکے سوال نہ کرو۔ ویسے میں تمہیں یہ بتادوں کہ عبادت کے لئے مقامات کی بھی اہمیت ہوتی ہے۔ یہ بڑے نازک معاملات ہیں۔ جو ہر کسی کو سمجھ نہیں آسکتے ۔ہم یہاں آتے ہیں تو قلب ونظر کو گہرا سکون ملتا ہے۔ ہم غیر اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔‘‘
لیکن آخر کیوں۔۔۔‘‘ میں ان کے جواب کو نظر انداز کرکے اپنے سوال پر بضد ہوگیا ۔
’’صبر کرو۔۔۔تحمل سے سنو۔۔۔‘‘ بابا تیلے شاہ شفقت اور ملائمت سے بولے اور پھر زیر لب کچھ پڑھنے لگے۔ اس بار ان کے الفاظ صاف سنائی دے رہے تھے۔ وہ سورۃ اخلاص اور دوسرا کلمہ پڑھنے کے بعد میرے سینے پر پھونک مار کر بولے۔ ’’شاہد میاں ایک بات ذہن میں رکھ لو۔ اللہ تعالی اپنے عبادت گزار بندوں کو، اپنے محبوب انسانوں کو اپنی رحمت سے دورنہیں رکھتا۔ وصال کے بعد ان کی قبور پر اللہ کی رحمت برستی رہتی ہے تم نے دیکھا ہے۔ اللہ کے حقیقی بندوں کے مزارات پر ایک گونا سکون ملتا ہے۔ ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے بچہ آغوش مادر میں آ بیٹھا ہے ۔ یہ سب کیوں ہوتا ہے۔ ایسے احساسات کیو ں پیدا ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں اللہ کی رحمت برستی ہے اور اللہ تبارک تعالی کی رحمت کا احساس بہت بڑی نعمت ہے۔ ہم لوگ جب ایسی جگہوں پر آتے ہیں تو بنیادی طور پر یہی احساس اور یقین ہمیں یہاں لے کر آتا ہے۔ اس بزرگ کی قبر پر رحمت خداوندی سایہ فگن ہوتی ہے اور ہم اس کی قبر کے پاس بیٹھ کر عبادت کرتے ہیں تاکہ اللہ کی رحمت کا سایہ ہم کو اپنی پناہ دے۔ جہاں اللہ کی رحمت برستی ہے وہاں دعائیں‘التجائیں بہت جلد قبول ہوتی ہیں۔‘‘
’’بابا مگر مجھے‘تو۔۔۔‘
’’میں جانتا ہوں ۔۔۔ تجھے یہ سکون نہیں ملا ہو گا‘‘ بابا تیلے شاہ میری زبان پکڑ کر بولے ’’اگر تم اپنے دل کوآزاد کر دو۔ اس پے پڑا سختی اور غفلت کا پردہ پھاڑ دو تو تمہیں بھی یہ احساس ہو گا‘‘
’’لیکن بابا ۔۔۔ آپ جانتے ہیں میں بزرگوں سے عقیدت رکھتا ہوں۔ مجھے ان کی محبت بھی حاصل رہی ہے اور پھر ۔۔۔ مجھے اس مزار پر آنے کی تمنا بھی تھی۔ کوئی ایسی کشش تھی جو مجھے یہاں بلاتی تھی مگر میں یہاں آیا ہوں تو میرے دل سے ہر قسم کا احساس جاتا رہا ہے۔ دل خالی ہو گیا ہے ۔۔۔ میں اپنے دل کی بات زبان پر لے آیا۔
’’ہو سکتا ہے ایسا ہو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ تم جن چکروں میں پڑ گئے ہو اس کی وجہ سے سرکار ناراض ہیں۔ اللہ کے ولی کی ناراضگی بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی‘‘ بابا تیلے شاہ کی بات سن کر سنسنی کی ایک لہر میرے پورے بدن میں پھیل گئی۔ ’’میاں تمہیں برسوں پہلے یہاں حاضری دینی چاہئے تھی۔ جس بزرگ کی دعا کو اللہ نے قبول کرکے تمہارے ماں باپ کو اولاد نرینہ عطا کی تھی اس کا شکریہ تو ادا کرنا چاہئے تھا‘‘ یہ سن کر میں شرمندہ ہو گیا۔
’’ہاں بابا دیر ہو گئی ہے لیکن اب میں ان کی ناراضگی ختم کر دوں گا۔لیکن بابا ان کی ناراضگی کیسے ختم ہو سکتی ہے ۔ مثلاً مجھے کیا کرنا چاہئے۔‘‘
’’بچے ۔۔۔ انہیں دھن دولت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس تم یہاں نوافل ادا کرو۔ عبادات کرو اور اللہ سے ان بزرگوں کی شفا کے لئے دعا کرو ۔۔۔ اور کیا مانگتے ہیں یہ۔ بس اتنی سی بات ہے‘‘ بابا تیلے شاہ کی بات سن کر میرے دل کو قدرے تقویت پہنچی۔ ان کی ہدایات اور رہنمائی کے مطابق میں پیر کاکے شاہ کے مزار پر مغرب کی نماز تک نوافل ادا کرتا رہا اور اللہ سے گڑگڑا کر اپنی نالائقیوں اور کوتاہیوں کی بخشش کے لئے دعا کرتا رہا۔ مغرب اور پھر عشا کی نماز بھی میں نے بابا تیلے شاہ کے ساتھ ادا کی۔ مجھے وقت گزرنے اور بھوک پیاس کا احساس ہی نہ رہا تھا۔
یہ عشا کے بعد کی بات ہے۔ میں نے بابا تیلے شاہ سے اپنے معاملات کی باتیں کیں۔ انہیں جنات‘ ٹاہلی والی سرکار اور مکھن سائیں کے بارے بھی سب کچھ کہہ سنایا۔ وہ بولے۔
’’میں جانتا ہوں کہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ شاہد میاں ایک بات ذہن میں بٹھا لو۔ ابلیس مردود نیکی کی آڑ میں بدی پھیلاتا ہے۔ وہ سلطان الملائکہ تھا لیکن تکبر نے اسے ابلیس مردود بنا دیا۔ لہٰذا وہ کمزور عقیدہ کے ہمارے انسانوں کو نیکی کے بہکاوے میں گناہوں کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ یہ مکھن سائیں بھی ایسا ہے۔ ٹاہلی والی سرکار اللہ کے ولی ہیں۔ لیکن ابھی وہ اپنی منزل سے بہت دور ہیں۔ ریاض شاہ ایک خراب اور دنیا کی طلب کا مارا ہوا شخص ہے۔ اس کے پاس آنے والے جنات ہیں تو مسلمان لیکن وہ اس کے احکامات ماننے پر مجبور ہیں۔ ریاض شاہ نے علوم کی طاقت سے انہیں پابند کیا ہوا ہے۔ تمہیں یاد ہے میں نے غازی کو سبزی منڈی میں پکڑ لیا تھا لیکن تم نے چھڑوا دیا۔ میں اس وقت بھی یہی چاہتا تھا کہ تم میرے پاس آؤ کیونکہ تم ایک کام کر سکتے ہو۔ ہر انسان کے بس میں ہر کام نہیں ہوتا لیکن اگر تم ہمت کرو تو ریاض شاہ کو شیطانی حرکات سے روک سکتے ہو۔ اس کے لئے ہمت اور حسن تدبر چاہئے۔ اب اگر تم یہ سوچنے لگ جاؤ کہ ایک غلط کار انسان کو روکنے کے لئے ہم کیوں نہیں کچھ کرتے تو میرے بچے ۔۔۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر کام ہم نہیں کر سکتے۔ یہ کام تم جیسے نوجوانوں کے ذمہ ہے۔ برائی روکنا ایک جہاد ہے جو ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ہمارا کام نیکی کی تبلیغ کرنا ہے۔ سو ہم کرتے رہتے ہیں۔ تمہیں اس کام پر آمادہ کرنے کے بعد میں تمہیں کچھ وظائف دوں گا جو تمہاری حفاظت کریں گے ۔۔۔ اللہ اکبر ۔۔۔ اللہ کے فضل و کرم سے تم ہر برائی کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے اندر ہمت مرداں پاؤ گے‘‘ اس رات بابا تیلے شاہ نے مجھے روحانی دنیا کے اسرار رموز سے آگاہ کیا اور کچھ قرآنی وظائف بھی یاد کرائے۔ میں رات بھر وظائف پڑھتا رہا۔ فجر کی نماز بھی مزار پر ہی ادا کی اس کے بعد مجھے نیند نے آ لیا۔ میں بہت پرسکون نیند سویا تھا۔ کسی قسم کا خواب نہیں آیا۔ حالانکہ میرے دل کے اندر یہ خواہش بھی تھی اور امید بھی تھی کہ خواب میں پیر کاکے شاہ آئیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
صبح جب میری آنکھ کھلی تو سورج سر پر آیا ہوا تھا۔ آنکھ کھلتے ہی میں بابا تیلے شاہ کو دیکھنے لگا۔ وہ مزار کے اندر موجود تھے اور جھاڑو دے رہے تھے۔ میں نے ان کے ہاتھ سے جھاڑو لینے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگے کہ پہلے منہ ہاتھ تو دھو لو۔ میں ہاتھ منہ دھو کر واپس آیا اور ان سے جھاڑو لے کر مزار میں صفائی کرنے لگا۔ آدھ گھنٹہ بعد میں فارغ ہو گیا۔ بابا تیلے شاہ کہنے لگا۔
’’اب ہمیں شائیں بابا کے مزار پر جانا ہے‘‘
اس وقت مجھے بھوک لگ رہی تھی۔ میں نے کھانے کی خواہش کا اظہار کیا تو مزار کے اندر سے پوٹلی اٹھا لائے اور کل دوپہر کے نان پکوڑے نکال کر مجھے تھما دئیے۔
’’لو ۔۔۔ کھا لو‘‘
میں نے ایک بار تو نان پکوڑوں کی طرف نظر ڈالی اور پھر بابا تیلے شاہ کی طرف دیکھا۔ وہ بولے
’’کبھی کبھی روکھی سوکھی بھی کھا لیا کرو۔ پھر ساری عمر گھی کی چپڑی روٹیاں کھانی ہیں تم نے ۔۔۔ اس وقت تمہیں فقیروں کا یہ کھانا نہ ملے گا‘‘
ان کے کہنے پر میں نان پکوڑے کھانے لگا ۔سچ تو یہ ہے کہ انہیں کھانا میرے لئے مشکل ہو گیا تھا صرف ایک لقمہ ہی کھا سکا تھا۔
’’بابا ۔۔۔ نہیں کھایا جاتا‘‘
’’میں جانتا ہوں تو ابھی یہ نہیں کھا سکے گا‘‘ بابا تیلے شاہ نے نان پکوڑے واپس لئے اور بڑے سکون سے ایک ایک نوالہ کرکے کھا گئے۔
ہم دونوں الوداعی سلام کے بعد سیالکوٹ کی طرف چل دئیے
’’بابا ۔۔۔ اب بھی پیدل چلنا ہو گا‘‘
’’نہیں آج تمہیں سواری ملے گی‘‘ بابا تیلے شاہ نے کہا۔ ہم دونوں قصبے سے باہر نکلے تو ہمیں ایک خالی تانگہ مل گیا۔ ہم اس پر سوار ہو گئے تو کوچوان کچھ پوچھے بغیر تانگہ لے کر چل دیا۔ جب ہم اورے پہنچے تو میری نظریں بے اختیار بابا بوٹے کے کھوکھے کی طرف اٹھ گئیں۔ اس کی دکان پر لوگوں کا ہجوم لگا ہوا تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ یہ نان پکوڑے کھانے والے لوگ ہوں گے لیکن پھر احساس ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا‘ بابا تیلے شاہ نے انا للہ پڑھی اور میرے منہ سے بے اختیاہ آہ نکل گئی۔ بابا تیلے شاہ نے کوچوان کو رکنے کا اشارہ کیا اور بابا بوٹے کے کھوکھے کی طرف چل دئیے۔ میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ ہجوم کو چیر کر ہم آگے بڑھے تو بابا بوٹا بان کی ٹوٹی پھوٹی چارپائی پر ہمیشہ کی نیند سو رہے تھے۔ ان کے چہرے پر گہرا سکون تھا مگر آنکھیں کھلی تھیں ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے کسی کا انتظار ہو۔ بابا تیلے شاہ نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور بڑے پیار سے انہیں بند کر دیا۔
’’اللہ مغفرت کرے، بوٹے تیری سنی گئی‘‘ وہ اپنا منہ اس کے کان کے قریب کرکے بولے
ہم دونوں نے بابا بوٹے کی نماز جنازہ پڑھنے کے بعد شائیں بابا کے مزار پہنچے تو اس وقت شام ڈھل رہی تھی۔ دربار کے پاس ایک سفید باریش بزرگ دیگ تقسیم کر رہے تھے۔ دیگ کے اوپر سیاہ بھاری کپڑا ڈالا ہوا تھا۔ ایک لمبی قطار بڑے سکون سے ان سے نیاز لے رہی تھی۔ بابا تیلے شاہ نے مجھے کہا
’’تو بھی قطار میں لگ جا‘‘ میں نے ایک نظر قطار پر ڈالی۔ کم از کم سو لوگ کھڑے تھے۔ اونچے ٹیلے پر مزار تھا اور اترائی تک قطار جاتی تھی۔ میں نے سوچا کہ میرے وہاں پہنچتے پہنچتے دیگ ختم ہو جائے گی۔ یوں کھڑا رہنے کا کیا فائدہ۔ میرا خیال پر لگا کربابا تیلے شاہ تک جا پہنچا بولے ’’حجتی ۔۔۔ ہر وقت دلیل کی گانٹھ دے کر اپنے دل کی وسعتوں کو قید کرنے کی کوشش نہ کیا کرو ۔۔۔ صبر و تحمل سے کام لو‘‘
ان کے کہنے پر میں قطار میں لگ گیا۔ باریش بزرگ نے ہاتھ میں ایک تھالی پکڑی ہوئی تھی۔ وہ کپڑا ذرا سا سرکاتے اور تھالی بھر کر چاولوں کی نیازمندوں کو دیتے۔ میرے اندازے سے دیگ کو اب تک ختم ہو جانا چاہئے تھا لیکن میں ان کے قریب جا پہنچا تھا اور اب میرے پیچھے اب لمبی قطار لگ چکی تھی لیکن دیگ تھی کہ ختم ہونے کو نہ آ رہی تھی۔ میں پاس پہنچا تو میں نے اپنی جھولی پھیلا دی۔ باریش بزرگ نے تھالی چاولوں سے بھر کر میری جھولی میں ڈال دی۔ میں چلنے لگا تو وہ بولے ’’شوہدے ۔۔۔ ایک تھالی اور لے جا اپنے بابا کو بھی کھلا دینا‘‘
میں حیران ہو کر انہیں دیکھنے لگا۔ ان کی آواز مجھے جانی پہچانی لگی لیکن میں انہیں پہچان نہ سکا
میرے دماغ میں کھدبد سی ہونے لگی کہ یہ آواز تو میں نے کئی بار سنی ہے لیکن یہ شکل و صورت پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔ میں نیاز لے کر کونے میں بیٹھ گیا۔ بابا تیلے شاہ تو مزار کے اندر چلے گئے تھے لیکن بھوک کی وجہ سے میں چاول کھانے لگ گیا۔ اصولی طور پر تو یہ بداخلاقی تھی لیکن بھوک کی ننگی تلوار میرے سر پر ضربیں لگا رہی تھی اس لئے میں ”شوہدا اور ندیدا“ بن کر نیاز کے چاول کھاتا رہا۔ میری نظریں ابھی تک سفید باریش بزرگ پر تھیں۔ ان کا ہاتھ دیگ کے اندر جاتا تھا اور بھری پلیٹ باہر آ جاتی تھی مگر دیگ تھی کہ ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ میں اس عجیب اسرار پر حیران تھا اور شاید میری حیرانی کبھی ختم نہ ہوتی کہ ایک مجہول سا نوجوان لڑھکتا ہوا میرے پاس آ بیٹھا۔ اس کی ناک بہہ رہی تھی۔ بال گندے تھے۔ تن پر صرف ایک چیتھڑا تھا اس سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ مجھے ناگوار تو لگا لیکن کراہت کے باوجود میں کچھ نہ کہہ سکا۔ مزار کی روشنیاں جل اٹھیں۔ وہ لڑکا میری جھولی میں ہاتھ ڈال کر چاول کھانے لگا۔ میرے اندر ناگواری کی لہر اٹھی لیکن میں نے ضبط کیا اور سارے چاول اس کے سامنے کر دئیے۔ لڑکا بھوکوں کی طرح چاولوں پر ٹوٹ پڑا۔ اس نے چاول کا ایک دانا بھی نہیں چھوڑا تھا۔ جب کھا چکا تو میری طرف دیکھ کر ہنس دیا۔ میرے چہرے پر اندر کی ناگواری رینگ کر باہر نکلتی نظر آ رہی تھی۔ وہ بولا
”بھیا …. سواد آیا ہے“
اس کی بات سنتے ہی میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔
”غازی تم“
”ہاں میں …. اور وہ …. بابا جی سرکار“ اس نے دیگ والے باریش بزرگ کی طرف اشارہ کیا تو اس لمحہ انہوں نے نگاہ اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ میں اس عجیب اتفاق پر ابھی حیران ہو ہی رہا تھا کہ بابا جی سرکار نے مجہول لڑکے کے روپ میں غازی کو آواز دی تو وہ پھدکتا ہوا ان کی طرف بڑھ گیا اور ان کے اشارے پر دیگ کو یوں اٹھا کر ایک طرف کو چل دیا جیسے وہ دیگ نہ ہو پیالی ہو۔ میں جھولی جھاڑتا ہوا بابا جی کی طرف بڑھا تو انہوں نے ہاتھ سے ادھر ہی مجھے رک جانے کا اشارہ کیا۔
بابا جی کا یہ روپ مجھے اچھا لگا تھا۔ لیکن میں حیران تھا کہ انہوں نے مجھے قریب آنے سے کیوں روکا ہے۔ میں گومگو کی کیفیت میں مبتلا تھا کہ کیا کروں۔ بابا جی کے قریب نہیں جا سکتا تھا۔ اس اثنا میں غازی دیگ رکھ کر آ گیا۔
”بابا جی نے مجھے پاس آنے سے منع کر دیا ہے“ میں نے شکوہ کے انداز میں غازی سے کہا۔
”اس کی وجہ ہے“ غازی نے کہا
”کیا وجہ ہو سکتی ہے“ میں نے دریافت کیا۔
”آج سرکار کے ساتھ ایک اور مہمان ہستی آئی ہے۔ اس لئے وہ نہیں چاہتے کہ تم ان کے قریب جاﺅ اور کوئی بات کرو“
”کون سی ہستی ان کے ساتھ آئی ہے“ میں نے پراشتیاق لہجے میں پوچھا۔
”بتا دوں گا …. لیکن پہلے ایک وعدہ کرو“
”وعدہ“ میں نے سوچے سمجھے بغیر کہہ دیا۔
”ادھر تمہارے شہر میں قلفیوں کی ایک بڑی مشہور دکان ہے۔ مجھے قلفیاں لا دو پھر تمہیں بتاﺅں گا“
غازی کی فرمائش سن کر میں نے بے اختیار قہقہہ لگایا
”بس …. اتنی سی بات تھی“ یہ کہہ کر میں نے جیب سے پیسے نکال کر اسے تھما دئیے۔ ”یہ لو اور موج اڑاﺅ“
”بھیا میں فقیر تو نہیں ہوں خود لا کر دو ناں“
”چھوڑ یار …. شکل سے تو آج فقیر ہی لگ رہا ہے“ میں نے اسے چھیڑا اور کہا ”ویسے غازی تمہیں یہ عجیب و غریب روپ بھرنے کا خیال کیسے آتا ہے“
”مجھے مزہ آتا ہے ایسے سوانگ بھرنے سے۔ لوگ مجھے پاگل مجہول سمجھ کر مجھ سے بھاگتے ہیں اور میں اندر ہی اندر انجوائے کرتا ہوں“
”غازی تمہیں معلوم ہے ہمارے ہاں بہت سے ایسے مجہول ملنگ ٹائپ بچے جوان اور بوڑھے لوگ موجود ہیں جنہیں لوگ بزرگ ہستی مان کر ان سے دعائیں کراتے ہیں“
”جانتا ہوں میں …. میں خود بھی یہ کام کرتا ہوں۔ کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ مل کر کسی علاقے میں چلا جاتا ہوں کسی کو گالی دیتا ہوں‘ کسی کو جوتے مارتا ہوں۔ کسی پر پتھر اٹھا مارتا ہوں مجذوب بن کر۔ اپنے پاگل پن سے لوگوں کو ڈراتا ہوں۔ پھر ایسے شعبدے بھی دکھاتا ہوں جنہیں لوگ ایک مجنوں کی کرامت سمجھ کر اس کا احترام کرنے لگ جاتے ہیں۔ مجھے بڑا مزہ آتا ہے۔ تمہیں ایک بات بتاﺅں“
”ہوں۔۔ کہو“ میں نے کہا
”ہو سکتا ہے تم غصہ کرو۔ لیکن ایک بات ہے ہمارے جد امجد ابلیس نے اپنے چیلے چانٹوں کو یہ سبق پڑھایا ہے کہ لوگوں کا اعتقاد کمزور کرنے کے لئے انہیں ایسے شعبدے دکھایا کرو جنہیں دیکھ کر لوگ کرامت سمجھنے لگ جائیں اور لوگ ۔۔۔۔ میرا مطلب ہے مسلمان ، ایسے لوگوں کو اپنا نجات دہندہ سمجھ کر اللہ کی حقیقی عبادت سے دور ہو جاتے ہیں۔ شریعت کے احکامات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ بھیا …. میں سوچتا ہوں کہ اللہ نے ہر مسلمان کو اس کے کردار اور اس کی عبادات کی وجہ سے معاف کرنا ہے لیکن ہم یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہماری نجات کا باعث ہوں گے۔اگرچہ اخلاقیات اور حقوق کے حوالے سے ہمارے اعمال دوسروں سے منسلک ہوتے ہیں مگر یہ اعمال نیکی پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ہم مسلمان نیکی کے اسباب اور طریقہ کار کو بھول جاتے ہیں۔ ظلم تو یہ ہے بھیا کہ مسلمان اب شیطان سے بھی نیکی کرنے لگے ہیں۔ اس پر بھی رحم کھاتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ نیکی کے لباس میں چھپا ہوا شیطان ہماری ہمدردی کا مستحق نہیں ہے جیسا کہ میں اعتراف کر رہا ہوں کہ مجھ جیسے شرارتی جنات اور شیاطین بھی ایسے کراماتی روپ دھار کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ یہ دیکھیں کہ جس شخص کی کرامات سے وہ متاثر ہو رہے ہیں کیا وہ شریعت کا پابند ہے۔ شریعت کے دائرہ عمل سے باہر نکل جانے والا کبھی بھی اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا۔ البتہ یہ مجذوب قسم کے لوگ جو ہوش و حواس سے بیگانہ ہوں ان کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔“
”غازی …. تم نے بڑے کام کی بات بتائی ہے لیکن کیا تم مجھے کوئی ایسا نکتہ بتا سکتے ہو جس سے جنات یا شیاطین کی پہچان ہو جائے“
”یہ بڑا مشکل کا م ہے۔ انہیں پہچاننے کا ایک طریقہ تو شریعت کا آئینہ ہے جس میں ہر کسی کے ا صلی چہرے کو پہچانا جا سکتا ہے۔ دوسرا طریقہ وظائف کا ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی ایسا وظیفہ ہے جسے آپ پڑھ کر اس شخص کی طرف پھونک ماریں گے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ وہ شخص خاکی ہے یا آتشی۔ ہم جنات اور شیاطین آتشی مخلوق ہیں۔ یہ نورانی آیات ان کے بدن کی کھال ادھیڑ دیتی ہیں“
غازی کی بات سن کر میرے ذہن میں بہت سے سوالات سر ابھارنے لگے۔ میں نے غازی کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور ہم دونوں مزار سے چند قدم دور پتھروں سے بنی قبور کے پاس جا بیٹھے۔ میں نے اس سے پوچھا ”غازی …. تم مجھے بہت کارآمد باتیں بتا رہے ہو لیکن ایک سوال مجھے تنگ کر رہا ہے“
”وہ کیا“ اس نے پوچھا
”سچی بات تو یہ ہے میں سوچ رہا ہوں کہ مجھے بہت سے وظائف یاد ہیں لیکن میں نے جب بھی یہ وظائف پڑھے ہیں میں اپنے سامنے حاضر ہونے والے جنات کی پہچان نہیں کر پایا“
”میں تمہاری بات نہیں سمجھا“ غازی نے الجھے لہجے میں سوال کیا۔
”مثلاً یہ کہ …. جب بابا جی اور آپ لوگوں کی حاضری ہوا کرتی تھی تو میں اس شک میں مبتلا رہتا تھا کہ آپ لوگ شیطان ہیں۔ حقیقی جنات نہیں ہو سکتے۔ میں دل ہی دل میں بہت کچھ پڑھتا تھا مگر آپ لوگ پھر بھی میرے سامنے سے غائب نہیں ہوتے تھے۔ اب تم کہہ رہے ہو کہ وظائف کی نورانی طاقت سے جنات و شیاطین کا اصلی چہرہ سامنے آ جاتا ہے اور وہ غائب ہو جاتے ہیں“
میری بات سن کر غازی نے قہقہہ لگایا اور پھر دیر تک ہنستا رہا۔
”ہنس کیوں رہے ہو“
”بابا …. وہ میں …. تمہاری سادگی پر ہنس رہا ہوں“
غازی ہنستا ہی چلا جا رہا تھا۔ اس اثنا میں ایک شخص ہمارے پاس سے گزرنے لگا تو غازی اسی طرح قہقہے لگاتا اس سے لپٹ گیا۔ وہ شخص پریشان ہو گیا۔ غازی نے ہنستے ہوئے ایسا پنیترا بدلا کہ میں حیران ہو کر رہ گیا۔ وہ اس کے گلے میں بازو ڈال کر جھولا جھولنے کے انداز میں لٹک گیا اور منمناتے ہوئے گنگنانے لگا۔
ترے من کی مراد
بابا شاہ کرے پوری
رکھ لاج فقیر کی
بابا شاہ کرے پوری
وہ شخص خاصی عمر کا تھا۔ اس کے چہرے پر حزن و ملال ڈیرے ڈالے نظر آ رہا تھا۔ اس نے جب ایک مجہول لڑکے کو یوں اپنے ساتھ لپٹے دیکھا اور پھر اس کے نعرہ مستانہ کو سنا تو وہ اس سے گھبرانے کی بجائے خود اس سے لپٹ گیا۔
”میں مر جاﺅں گا سرکار …. میرے لئے کچھ کریں“ وہ شخص بلک بلک کر رونے لگ گیا۔ میں حیرت میں گم سم غازی کی اس حرکت کو دیکھ رہا تھا اس نے اپنی بات کو سچ ثابت کر دکھایا تھا۔
غازی نے کن اکھیوں سے میری طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر معصوم مسکراہٹ تیر رہی تھی۔ مجھے ایسے لگا جیسے کہہ رہا ہو دیکھا بھیا میں نے اس کو پھانس لیا ہے۔
غازی اب اس کو دلاسہ دینے کے انداز میں زور زور سے پیٹھ پر تھپکیاں دینے لگا۔
”بابا شاہ تری مراد پوری کرے گا“ غازی مجہول سے لہجے میں اسے کہنے لگا یہ بات کرتے ہوئے اس کا ڈھیر سارا لعاب دہن اس شخص کے چہرے پر گرا۔ میں نے اس وقت کراہت سے آنکھیں میچ لیں۔ اس شخص نے بڑی عقیدت سے سارا لعاب دہن دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے پر یوں مل لیا جیسے لوشن لگا رہا ہو۔ مجھے ابکائی آتے آتے رہ گئی۔
”شاہ بابا …. شاہ بابا ۔۔دھم دھما دھم…. شاہ بابا …. دھم دھما دھم…. شاہ بابا“ غازی اب لہک لہک کر دھمال کے انداز میں نام لیتا جا رہا تھا۔ وہ شخص بھی دیوانہ وار اس کا ساتھ دینے لگا۔ اس لمحہ ایک ڈھولچی کہیں سے ادھر آ نکلا۔ اس نے ڈھول کو ایسی تھاپ دی کہ کچھ ہی دیر بعد ایک پرکیف‘ وجدانی اور سرفروشانہ ماحول پروان چڑھ گیا۔ مزار کی نکڑوں سے‘ قبروں کے آس پاس لیٹے بھنگ کے نشہ میں غرق ملنگ اور عقیدت مند ادھر آ نکلے اور ایسے سرمست ہو کر دھمال ڈالنے لگے کہ میرا انگ انگ بھی ڈھول کی تھاپ پر مچلنے لگا۔پہلے ایک ڈھولچی‘ پھر دوسرا اور اس کے بعد تیسرا میدان میں اتر آیا۔ ایک طرف دھمال ڈالنے والے اور دوسری طرف ڈھول کو تھاپ کے نئے نئے آہنگ دینے والے۔ میرے لئے اب بیٹھنا دوبھر ہو گیا تھا مجھے لگا جیسے یہ تھاپ مجھے مدہوش کئے جا رہی ہے۔ ایک سرور ہے جو میرے ذہن پر تسلط جما رہا ہے۔ میرے پیر مچلنے لگے،،، پورا بدن پھڑکنے لگا اور پھر میں ڈھول کی تھاپ کے سمندر میں غرق ہو گیا۔ میں دیوانہ وار دھمال ڈالنے لگا۔ مجھے نہیں معلوم کب تک میں دھمال ڈالتا رہا تھا اور پھر میں تھک کر جیسے گر گیا۔ شاید بے ہوش ہو گیا تھا۔ میری آنکھ کھلی تو میرے گرد بہت سارے لوگ اکٹھے تھے۔ میرا سر غازی کی گود میں تھا ۔ قریب ہی وہ شخص بھی بیٹھا میرے چہرے پر پانی چھڑک رہا تھا
”غغ …. غاز“ میں غازی کو پکارنے ہی لگا تھا کہ اس نے میرے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا ”شاہ بابا …. شاہ بابا شاہ بابا“ مجھے ہوش میں آتے دیکھتے ہی اس نے خفیف انداز میں مجھے اپنا اصلی نام لینے سے روک دیا تھا۔ لیکن اس کی حرکت سے اس کا ڈھیروں تھوک میرے چہرے پر گر گیا اور میں یکدم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اپنی قمیض کے پلو سے فوراً چہرہ صاف کیا اور غصے سے اس کی طرف دیکھنے لگا لیکن غازی سرمست ہو کر شاہ بابا ، شاہ بابا کی گردان کئے جا رہا تھا۔ مگر وہ شخص میرے پاس آ گیا اور بولا ”بیٹے غصہ نہ کرو یہ سائیں بچہ ہے۔ میں نے بزرگوں سے سن رکھا ہے کہ ایسے بچے کی بددعائیں نہیں لینی چاہئے یہ کسی پر تھوک دیں تو اس کے غم دھل جاتے ہیں ، تم غصہ نہ کرنا مجھے تو لگتا ہے اس سائیں کو تم سے کوئی خاص نسبت ہے“
”مم …. میری کوئی نسبت نہیں ہے اس سے“ میں ناراض ہو کر اپنے گرد کھڑے لوگوں کو دیکھنے لگا تو اس شخص نے ملنگوں اور عقیدت مندوں کو وہاں سے جانے کے لئے درخواست کی۔ لوگ تتر بتر ہو گئے۔ اب صرف وہ شخص اور غازی ہی میرے پاس تھے۔
”اگر تمہاری نسبت نہیں ہے تو دھمال کے بعد جب تم نیچے گرنے لگے تھے تو اس نے تمہیں نیچے کیوں نہیں گرنے دیا۔ اس نے تمہیں یوں اٹھا لیا تھا جیسے نومولود بچے کو اس کی ماں سینے سے لگا کر چارپائی پر لٹاتی ہے۔ میں ہی نہیں ان سب لوگوں نے یہ منظر دیکھا تھا۔ اس نے بڑی چاہت سے تمہیں اٹھایا تھا۔ خود سوچو یہ اللہ والا ہے۔ کیا تمہارا وزن اس سے زیادہ ہے۔ اس نے بغیر کسی تردد کے تمہیں اٹھا لیا تھا۔ اس کا مطلب ہے اس کے اندر اتنی روحانی قوت ہے کہ تمہیں اٹھاتے ہوئے اسے کوئی دقت پیش نہیں آئی۔ جس انداز میں تم گرنے لگے تھے تمہیں چوٹ لگ سکتی تھی مگر اللہ کے اس سائیں نے تمہارا بال بیکا نہیں ہونے دیا“
”آپ کون ہیں“ وہ خاموش ہوا تو میں نے دریافت کیا۔ غازی اب اٹھ کر اس قبر کے پاس جا بیٹھا تھا جہاں کچھ دیر پہلے ہم باتیں کر رہے تھے۔
”میں تو اس مزار پر آتا رہتا ہوں مجھے بڑا سکون ملتا ہے یہاں برسوں سے ادھر آتا ہوں اور سکون بھر کر لے جاتا ہوں“ اس نے عقیدت سے مزار کے گنبد پر روشن رنگین ٹیوب لائٹس کی طرف دیکھا اور پھر حسرت بھرے لہجے میں بولا ”سکون تو مل جاتا ہے لیکن من کی مراد پوری نہیں ہو رہی۔ میرے دکھوں کی چادر ابھی تک میلی ہے۔یہ نہیںدھلے ۔ اصل مراد پوری نہیں ہو رہی“
”آپ کا نام کیا ہے“
”بیٹے …. میرا نام اصغر شیخ ہے۔ میں ایک معلم ہوں۔ یہاں کالج میں اردو پڑھاتا ہوں۔ بیٹا ایک وقت تھا جب میں مزاروں پر نہیں آتا تھا۔ پھر مجھے ایک بزرگ ملے۔ وہ بھی اس صاحب مزار کے عقیدت مند تھے۔ ان کے وصال کے بعد میں بھی یہاں آنے لگا۔ ان کے ساتھ آتا تھا‘ تو یہاں بزرگوں کی کرامات سنتا۔ نذر نیاز کرتا۔ میری اولاد نہیں ہوتی تھی۔ پانچ سال بعد اللہ نے ایک بیٹی دی۔ میں نے منت یہاں چڑھائی۔ اب دس سال ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ میرے دل میں اولاد نرینہ کی خواہش جڑ پکڑ چکی ہے۔ میں ہر جمعرات کو خاص طور پر یہاں آتا ہوں اور جو بھی اللہ والا ملتا ہے اس سے دعا کراتا ہوں۔ ڈاکٹروں نے تو جواب دے دیا تھا کہ اب میری بیوی کے ہاں اولاد نہیں ہو سکتی۔ عزیز رشتہ داروں نے کہا دوسری شادی کر لو۔ میں نے دو سال پہلے دوسری شادی کی تھی لیکن اس سے اولاد نہیں ہوئی۔ اب احساس جرم بھی رہتا ہے کہ میں نے پہلی بیوی کی بے قدری کی اور اولاد نرینہ کے لئے دوسری بیوی کر لی لیکن ہری بھری شاخ بھی سوکھ گئی۔ میں اب اس امید پر دئیے جلاتا ہوں کہ ایک دن میری شاخ مراد پھر سے ہری ہو جائے گیِِِ“۔ اصغر شیخ کے لہجے میں امید بھی تھی اور احساس جرم بھی۔ دونوں ہاتھ تھام کر بولا ”بیٹے اگر تمہارا اس سائیں سے کوئی تعلق واسطہ ہے تو اسے کہو میرے لئے دعا کرے“
”محترم! میں اس سائیں کو نہیں جانتا“ میں نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا اور کہا ”میں بھی آپ کی طرح عقیدت مند ہوں میں ادھر بیٹھا ہوا تھا کہ یہ بچہ بھی ادھر آ گیا“
”تمہیں معلوم ہے اس صاحب مزار کی کرامات اور تصوف میں پہنچ کا یہ عالم ہے کہ جنات بھی ان کے مزار پر حاضری دیتے اور جاروب کشی کرتے ہیں۔ ان کے خدمت گاروں میں بھی جنات ہوا کرتے تھے۔ صاحب مزار جب درس تصوف دیتے تھے تو جنات قطار باندھ کر کھڑے رہتے تھے“
”کیا آپ نے صاحب مزار کو دیکھا ہے“ میں نے پوچھا
”نہیں بیٹے وہ تو ایک صدی پہلے وصال فرما گئے تھے۔ مجھے یہ باتیں میرے بزرگ سنایا کرتے تھے‘ ‘ اصغر شیخ نہایت ادب سے کہنے لگے ”حق مغفرت کرے میرے بزرگ دوست آغا حامدی خود بھی صاحب کرامت تھے تہجد اور شب گزار تھے۔ شریعت کے پابند ایسے ولی اللہ تھے کہ ہر وقت ان کے چہرے پر بشاشت کا نور چمکتا نظر آتا۔ جودوسخا کے مالک تھے“
اس دوران غازی دوبارہ بابا شاہ کی گردان کرنے لگا۔ میں اور اصغر شیخ اس کے پاس چلے گئے۔ نہ جانے میرے دل میں کیا آیا میں نے غازی سے کہا ”بابا شاہ۔ یہ ہمارے استاد ہیں ان کے لئے دعا کرو اللہ انہیں بیٹا عطا کرے“
غازی نے مجذوبانہ نظروں سے اصغر شیخ کو دیکھا پھر ایک شان سے سر ہلا کر بولا ”جا …. جا …. وہ دے گا“
اصغر شیخ یہ سن کر خوشی سے پاگل ہو گیا آگے بڑھا اور والہانہ انداز میں غازی کے میلے کچیلے ہاتھوں پر بوسے دینے لگا۔ غازی نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی اور ایک بار پھر میری طرف دیکھ کر ہنسنے لگا ”اب جا …. دفع دور ہو جا“ غازی نے اسے ایک طرح سے دھتکار کر اٹھایا …. اصغر شیخ بڑا خوش تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اسے قارون کا خزانہ مل گیا ہو
”ہاں بھیا اب سناﺅ ۔ دیکھا ایک پروفیسر بھی شرع و شریعت کو بھول گیا۔ تم ایک عام سیدھے سادھے مسلمان کو کیا کہو گے“
”غازی اس میں اس بیچارے کا زیادہ قصور نہیں ہے۔ تم نے بہروپ بھر کر اسے اکسایا“
”میں نے اکسایا ۔ ارے بھیا یہ لوگ تو اکسنے پر ہر وقت تیار ہوتے ہیں۔ انسان کی مجبوریاں‘ خواہشیں‘ بے قراریاں اور مایوسیاں اس کو قبروں پر ماتھے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ہیں“ غازی بولا
”یہ تو اندھیروں کے مارے لوگ ہیں۔ جہاں روشنی ملے گی یہ اس سراب کی طرف چل دیں گے۔ تم انہیں روشنی بن کر اپنی طرف نہ بلایا کرو۔ وہ ذات کبریا …. جو مشعل راہ ہے انہیں اس طرف ہی جھکنا چاہئے۔ ہاں بزرگوں کی مغفرت اور ان کی دعاﺅں کے لئے حاضریاں ہو جائیں تو غلط نہیں“ یہ کہتے کہتے مجھے ایک گھن آلود خیال آ گیا ”کمبخت تو نے میرے چہرے پر بھی تھوک دیا تھا“ یہ سن کر غازی ایک بار پھر ہنسنے لگا اور بولا ”بھیا میں مجذوب جو ٹھہرا …. مجھے تو معلوم ہی نہیں ہوتا“
”تو باز آ جا غازی …. تری انہی شرارتوں کی وجہ سے یہاں کے بزرگ خفا ہیں“ میں نے اسے بتایا ”سرکار تیلے شاہ اس وقت مزار کے اندر عبادات میں مصروف ہیں“
”میں جانتا ہوں لیکن آج وہ مجھے کچھ نہیں کہیں گے۔ کیونکہ آج جنات اپنے بزرگوں کے ساتھ یہاں حاضری دے رہے ہیں۔ ان کی بیبیاں بھی ساتھ آئی ہیں“
”کن کی بیبیاں ….“ میں نے اشتیاق بھرے لہجے میں پوچھا۔اس کے چہرے پر عجیب سی چمک پیدا ہوئی۔
”جنات کی …. ہماری بیبیاں“ وہ بولا
”یعنی جن زادیاں“ میں نے استفسار کیا
”جی ہاں …. لیکن وہ ظاہر نہیں ہو سکتیں۔ البتہ ایک دو بزرگ جن زادیاں ملنگنیوں کے روپ میں ہوں گی“
”باقی انسانوں کے روپ میں کیوں نہیں ظاہر ہوتیں“
”نہیں …. انہیں اس کی اجازت نہیں ملی“
”اجازت …. کیوں نہیں ملی“ میں نے حیرت سے سوال کیا
”بابا جی سرکار نے منع کیا تھا۔ میں تو برسوں سے یہاں اسی روپ میں آ رہا ہوں اس لئے بابا جی سرکار نے مجھے کچھ نہیں کیا۔ بابا جی سرکار کے علاوہ دوسرا کوئی بھی جن انسانی روپ میں نہیں ہے۔ اس وقت ہمارا پورا گروہ اس درخت اور مزار کے اردگرد موجود ہے“ میں نے غازی کے اشارہ کرنے پر چند قدم دور بیری کے ایک بوڑھے درخت کی طرف دیکھا جس کی شاخوں پر رنگ برنگے دھاگے اور کپڑوں کے چیتھڑے لٹکے ہوئے تھے۔
”بھیا یہ بیری کا درخت بھی کراماتی درخت ہے“ غازی نے کہا ”جو اس کا بیر کھاتا ہے اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔ اس لئے زیادہ تر عورتیں ہی اس بیری پر آ کر دھاگے اور کپڑے باندھتی ہیں۔ کچھ تو اس کی جڑوں میں چاول اور چینی ڈال جاتی ہیں۔ ان کے خیال میں درخت پر چڑھنے والے کیڑے مکوڑے یہ خوراک کھائیں گے تو ان کی شجر مراد کی لاج بڑھ جائے گی اس لئے تو صاحب مزار کو بیری والا پیر بھی کہا جاتا ہے“
”بیری والا پیر“ میں زیر لب بڑبڑایا۔ یہ نام پہلی بار سن رہا تھا۔
”ہاں …. صاحب مزار بڑے روشن ضمیر ولی اللہ تھے۔ وہ اس کے نیچے بیٹھ کر عبادت اور تبلیغ کرتے تھے جس کی وجہ سے یہ درخت بھی معتبر بن گیا۔ اس درخت پر پھل بہت کم لگتا ہے۔ یہ بھی ایک کرامت ہے کہ اگر اسے پھل لگ بھی جائے تو ہر کسی کو نظر نہیں آتا۔ صرف وہ انسان ہی اس پھل کو دیکھ سکتا ہے جس کی مراد پوری ہونے کا وقت آ پہنچا ہو“
”اللہ تیری شان“ میں غازی کی بات سن کر بیری والے درخت کی طرف جانے کے لئے اٹھنے لگا کہ ایک ادھورا سوال پھر میرے ذہن میں کلبلانے لگا۔
”غازی تم نے میرے پہلے سوال کا جواب نہیں دیا تھا“
”اچھا …. ہاں …. وہی سوال …. ہاں میں تمہیں بتا دیتا ہوں“ غازی اب کی بار سنجیدہ ہو کر بتانے لگا ”بھیا آپ نے پوچھا تھا کہ وظائف پڑھنے کے باوجود جنات اور شیطان دفع دور کیوں نہیں ہوتے۔ اس کا ایک جواب تو آپ کو مل چکا ہے۔ دوسرا سوال ہماری ذات سے متعلقہ تھا۔ آپ کا کہنا ہے کہ جب ہماری حاضری ہوتی تھی تو آپ وظائف پڑھتے تھے اس پر میں ہنس پڑا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم مسلمان جنات ہیں۔ ہمارے من میں ابلیس کی گندگی نہیں اس لئے ایک سچا مسلمان جن بشرطیکہ کوئی غلط حرکت نہ کر رہا ہو تو اسے ان وظائف سے نقصان نہیں پہنچتا لیکن میں تمہیں ایک وظیفہ بتاتا ہوں۔ اگر تم یہ پڑھ کر مسلمان جنات پر بھی پھونک مارو گے تو تمہیں اس کا ثبوت مل جائے گا کہ تمہیں جس شخص پر جن ہونے کا شبہ ہے وہ اپنی اصلیت ظاہر کر دے گا“ غازی نے مجھے وظیفہ بتایا یہ قرآن پاک کی آیت تھی جسے میں بچپن سے پڑھتا آ رہا تھا لیکن اس کے ساتھ غازی نے مجھے ایک اور آیت مبارکہ پڑھنے کے لئے کہا۔
”اب میں یہ وظیفہ پڑھ کر تم پر پھونک ماروں گا“ میں نے غازی کو چھیڑا ”تاکہ تم اپنی شکل میں ظاہر ہو جاﺅ“
”ارے بھیا یہ حرکت نہ کرنا ورنہ بابا جی سرکار اتنے جوتے ماریں گے کہ پھر ترستے ہی رہ جاﺅ گے اور میں تمہارے سامنے نہ آﺅ ں گا“ غازی نے میرے ہاتھ پکڑ لئے۔
”کیوں ایسی بھی کیا بات ہے“ میں نے کہا
”ہے ناں مسئلہ“ وہ زور دے کر بولا ”بابا جی سرکار کا کہنا ہے کہ انسان وعدہ کرکے مکر جاتا ہے اور وظائف کا غلط استعمال شروع کر دیتا ہے۔ اس لئے وہ کسی کو ایسا وظیفہ پڑھنے کے لئے نہیں دیتے۔ جب تک کوئی انسان ریاضت کی بھٹی میں پک کر کندن نہیں ہو جاتا تب تک اسے وظائف کی حقیقی معراج نہیں ملتی“ غازی کی بات میں واقعی بڑی دلیل تھی۔ میں نے اس کی بات مان لی اور پھر ہم دونوں مزار کے اندر جانے کے لئے اٹھ پڑے۔ میرے ذہن میں ان لوگوں کو دیکھنے کی خواہش مچل رہی تھی جو بیری والا پیر کے عقیدت مندوں کے روپ میں مزار کے احاطے میں محو عبادت تھے۔
مزار کے احاطے میں اگربتیوں کی سحرانگیز مہک نے ہمارا استقبال کیا۔ کالی شیشم کے منقش دروازے سے اندر داخل ہونے کے لئے تقریباً سر اور کاندھے جھکا کر اندر داخل ہونا پڑتا تھا۔ دروازے پر مغلائی خطاطی سے بیری والے پیرر کا نام اور القابات لکھے ہوئے تھے۔ میں اندر داخل ہونے لگا تو ایک مجاور کہیں سے نکل کر ادھر آ گیا۔ اس نے غازی کو قیمض کے کالر سے پکڑ لیا اور درشت لہجے میں بولا۔
”تو کدھر جاتا ہے سائیں۔ چل ادھر دیگوں کے پاس“
غازی نے غیر محسوس انداز میں مجھے آنکھ ماری اور منہ کھول کر مجاور کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کے ہونٹوں کے کناروں سے رالیں ٹپکنے لگیں۔ آنکھیں کھچ گئیں۔ بدن پر تشنج کے آثار نظر آنے لگے۔ وہ ہمک ہمک کر مجاور سے غیر مانوس زبان میں کچھ کہنے لگا۔ مجاور کو اس کی باتوں کی سمجھ نہ آئی تو اس نے پاس سے گزرنے والے دربار کے ایک ملنگ کو بلایا اور کہا ”سائیں کو لنگرخانے میں لے جاﺅ۔ ناپاک حالت میں مزار کے اندر جانا چاہتا ہے
مجھے مجاور کا یہ انداز پسند نہ آیا۔ میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ غازی خاموشی سے ملنگ کے ساتھ لنگرخانے کی طرف چل دیا۔ اس اثنا میں ایک عقیدت مند مزار کے اندر جانے کے لئے مجھ سے راستہ مانگنے لگا۔ میں نے اسے اندر جانے کے لئے راستہ دیا اور خود ایک طرف ہو گیا۔ اس نے مزار کے دروازے کو عقیدت و احترام سے دونوں ہاتھوں سے چھوا۔ انہیں چوما اور آنکھوں سے لگایا۔ پھر زیر لب بولا ’’یا پیر دستگیر اس گناہگار کی حاضری قبول فرما‘‘
میں بغور اسے دیکھتا رہا۔ اندر داخل ہوتے ہی وہ صاحب مزار کی قبر کے قدموں کی طرف جھکتا چلا گیا۔ قبر سنگ مرمر کے پتھروں سے بنی تھی اور زمین سے تین فٹ اونچی تھی۔ سبز رنگ کی چاندی کے تاروں سے کشیدہ آیات و عربی القابات سے سجی ایک چادر قبر کے اوپر رکھی تھی۔ اطراف میں گلاب کے پھولوں کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں۔ قبر کے سرہانے بابا تیلے شاہ سر گھٹنوں میں دے کر ہولے ہولے ہل رہے تھے۔ دائیں طرف بابا جی سرکار انسانی روپ میں کھڑے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں مورچھل تھا اور وہ دھیرے دھیرے قبر کے اوپر اس سے ہوا دے رہے تھے۔ مزار کے اندر سرہانے سے کوئی ایک دو فٹ پرے ایک کھڑکی کھلی تھی جس کی دوسری طرف بہت سی خواتین نظر آ رہی تھیں۔ کالی قباؤں میں ملبوس اجلے چہرے‘ غزالی اور سرمگیں آنکھوں والی خواتین مقامی ہرگز نہیں تھیں۔ لگتا تھا زمیں پر حوریں اتر آئی ہیں۔ میں نے باہر دیکھ لیا تھا یہاں آنے والے متوسط نچلے طبقہ کے لوگ تھے۔ لیکن ان خواتین کے شاداب پرسکون اور امارت کی چمک سے خیرہ کرنے والے چہرے دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ یہ پوش علاقے کی خواتین ہیں۔ ایک لمحہ میں مجھے ان پر عربی و ایرانی خواتین ہونے کا شبہ ہوا۔ قامت قیامت خیز اور حسن آتش نوا تھا۔ گلابوں کی سرخیاں شہد اور دودھ سے دھلے ان کے چہرے انہیں مقامی عورتوں سے ممتاز کرتے تھے۔ اس سمے مجھے خیال آیا کہیں یہ جنات کی بیبیاں تو نہیں ہیں۔ یہ خیال آتے ہی میں جسارت کرکے انہیں دوبارہ دیکھنے لگا۔ ان کی آنکھوں میں ایسی جاوداں برق اور کشش تھی کہ انسان کے دل کا آبگینہ اس حسن آتش نوا کی ایک جھلک سے پگھل جاتا۔ اس سمے مجھے یہ احساس بھی ہوا کہ مجھے مزار پر کھڑے ہو کر ایسی تاک جھانک نہیں کرنی چاہئے لیکن میرے سامنے ایک ایسی مخلوق کھڑی تھی جسے دیکھے بغیر رہا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ من چاہتا تھا بس انہیں دیکھتا رہوں۔ ان کی عمروں کا یقین نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ہر ایک اس قدر جاذبیت اور نسوانیت سے گوندھی ہوئی تھی کہ یہ طے کرنا مشکل ہو رہا تھا کون دوشیزگی کے پہروں میں ہے اور کون عمر کی سیڑھیاں چڑھ چکی ہے، کس کی جوانی کا سورج ڈھل چکا ہے گویاہر ایک جوانی کے ماہتاب کی بھرپور کرن تھی۔
شاید میں یونہی بے حس و حرکت کھڑا رہتا لیکن اس عقیدت مند کی ایک حرکت سے میں چونک پڑا۔ وہ اونچی اونچی آواز میں آیات قرآنی کی تلاوت کرنے کے بعدہاتھ اٹھا کر مناجات کرنے لگا۔ چند ثانئے بعد ہی وہ قبر کے قدموں میں اپنا سر رکھ کر رونے لگا۔ زاروقطار اس کی ہچکیاں سن کر بابا جی سرکار نے اس کی طرف دیکھا اور پھر ان کی نظریں مجھ پر مرکوز ہو گئیں۔ ان کے لبوں پر خفیف سی مسکان نمودار ہوئی۔ انہوں نے مورچھل اس عقیدت مند کے سر پر مارا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اس کا رونا دھونا عجز و انکساری یکدم کافور ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نظر نہیں آ رہا تھا لیکن اس کی آہ و فغاں سے لگتا تھا جیسے اس کے دل پر کرب و اذیت کے آرے چل رہے ہیں اور آنکھوں سے ساون بھادوں جاری ہو گی۔ عقیدت مند فوراً بابا جی سرکار کی طرف بڑھا ،جھک کر ان کے قدم چھونے لگا تھا کہ بابا جی پرے ہٹ گئے اور مورچھل اس کے کاندھے پر مار کر بھاری بھرکم آواز میں بولے
’’جاؤ بیٹا ۔۔۔ اللہ تمہاری مراد پوری کرے گا‘‘
عقیدت مند الٹے قدموں سے پیچھے ہٹا۔ قبر کو ہاتھ لگا کر ہاتھوں کو چوما اور آنکھوں سے لگایا اور اسی عقیدت و احترام سے مزار سے باہر نکل گیا۔
میں بھی اندرداخل ہو گیا اور کھسکتا ہوا اس بغلی کھڑکی کے پاس چلا گیا۔ میرے ذہن پر ان حوروں کا عکس لہرا رہا تھا۔ لیکن عقیدت و احترام کا تقاضا تھا کہ میں کوئی اوچھی حرکت نہ کروں۔ پس میں نے اپنے بے لگام دل کو قابو کیا اس کی سرکشی کی لگام کھینچی اور زور سے آنکھیں میچ کر صاحب مزار کے لئے دعا کرنے لگا۔
’’بیٹھ جاؤ‘‘ اس دوران بابا تیلے شاہ کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ میں نے آنکھیں کھول کر ان کی طرف دیکھنا چاہا لیکن غیرارادی طور پر نظریں کھڑکی کی طرف اٹھ گئیں۔
کھڑکی بند ہو چکی تھی دوسری طرف ایک بھی چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ میرا دل انتظار کی سوئی پر اٹک گیا۔ بابا تیلے شاہ نے میرے من کی کمزوری کو بھانپ لیا اور سرزنش کرنے کے انداز میں بولے ’’میں نے کہا ہے بیٹھ جاؤ ۔۔۔ لوگ دنیا کو چھوڑ کر یہاں آتے ہیں لیکن تیری نظریں یہاں بھی بھٹک رہی ہیں‘‘
’’سرکار ۔۔۔ میں تو‘‘ میں نے کسی عذر کا سہارا لے کر شرمندگی سے بچنے کی ناکام کوشش کی مگر پھر میں نے سوچا کہ بصیرت رکھنے والے بزرگ کے سامنے جھوٹ بولنا دوہری شرمندگی ہو گی۔ ان سے چھپانا بے سود ہے۔ وہ تو دل کی ہر دھڑکن کے اندر دھڑکتے احساس کو پا لیتے ہیں‘‘ سرکار ۔۔۔ میں دراصل‘‘
’’میں جانتا ہوں تو کیا کہنا چاہتا ہے‘‘ بابا تیلے شاہ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی بول پڑے۔ ’’جو تو نے دیکھا ہے کسی اور نے نہیں دیکھا‘‘
’’کک ۔۔۔ کیا مطلب‘‘ میں نے چونک کر ۔۔۔ مگر احتیاط سے پوچھا
’’یہ جلوہ صرف تمہاری نظروں کو دکھایا گیا ہے ورنہ وہ بیبیاں تو اسرار کے پردوں میں ملفوف ہو کر آتی ہیں۔ کوئی دوسری عورت ان جن زادیوں کو نہیں دیکھ سکتی۔ یہ دربار کی خادمائیں ہیں۔ صاحب مزار کا فیض ہے کہ انسانوں سے بڑھ کر مسلمان جنات ان کی خدمت بجا لاتے تھے اور آج بھی وہ یہاں آتے ہیں‘‘
درباروں مزاروں پر جنات کی حاضریوں کے حوالے سے ہمارے ہاں بہت سی حکایات مشہور ہیں۔ شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو جس نے اللہ کے کسی ولی سے متعلق ایسی انہونی حکایات نہ سنی ہوں کہ ان کے پاس جنات بھی تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ جنات کے وجود کی حقیقت کو تسلیم کرنے اور جھٹلانے والے دو گروپوں میں تقسیم ہیں جو جنات پر یقین رکھتے ہیں ان کے ہاں اولیا سے وابستہ جنات کی کہانیاں بہت معروف ہیں۔ ہمارے ہاں اہل سنت کا ایک بڑا مکتبہ فکر دیوبندی کہلاتا ہے۔ اس کے اسلاف سے متعلق بھی ایسی کہانیاں میں نے سن رکھی تھی۔ میں نے جن قاری صاحب سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی تھی وہ بھی دیوبندی تھے۔ وہ اکثر بتایا کرتے تھے کہ دیوبند کے مدرسہ میں جنات بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ مولانا قاسم ناناتوی جنہوں نے چھتہ مسجد دیوبند کی بنیاد رکھی، اسلامی علوم یکتا تھے۔ جنات بھی ان سے فقہی مسائل دریافت کرنے آتے تھے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ جنات انہیں اٹھا کر ایک ایسی مجلس میں لے گئے جہاں بہت سے جنات پہلے سے موجود تھے۔ انہیں ایک فقہی مسئلہ درپیش تھا۔ جنات نے مولانا قاسم ناناتوی سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے بیان کر دیا۔ جنات کی مجلس میں ایک سن رسیدہ جن بھی تھے۔ ان کے بارے کہا جاتا تھا کہ وہ صحابی رسولؐ ہیں۔ مولانا قاسم ناناتوی نے جب مسئلہ بیان کیا تو اس صحابی رسولؐ نے ان کے شرعی مسئلہ کی تصدیق کر دی کہ ہاں یہ مسئلہ جو بیان کیا گیا ہے درست ہے۔
میں جب سے بابا جی سرکار اور ریاض شاہ کے ساتھ وابستہ ہوا تھا مجھے ایسے واقعات سنائے جا رہے تھے کہ جنات اللہ کے بزرگوں کی بے حد تکریم کرتے اور ان سے شرعی فقہی مسائل بھی دریافت کرتے ہیں۔ اگرچہ جنات علم و فضل میں یکتا ہوتے ہیں لیکن ایک عالم دین جنات کے علما پر فوقیت رکھتا ہے۔ میرے مشاہدے اور تجربے میں بھی یہ بات آ رہی تھی کہ جنات اولیاء اللہ کے مزارات پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ بیری والے پیر کے مزار پر بابا جی سرکار ،غازی اور جنات کی بیبیوں کی موجودگی بھی ان حقائق کی تصدیق کرتی تھی۔
بابا تیلے شاہ ساری رات مزار پر عبادت و ریاضت میں مصروف رہنا چاہتے تھے۔ دل تو چاہتا تھا کہ میں بھی ان کے ساتھ ہی شب گزاری کروں لیکن اپنے امتحان کی فکر تھی مجھے۔ عشا کی نماز ادا کرنے کے بعد میں نے بابا تیلے شاہ سے گزارش کی کہ مجھے واپس جانے کی اجازت دی جائے۔
’’میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم واپس چلے جاؤ۔ لیکن جانے سے پہلے میں تمہیں ایک تحفہ دینا چاہتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے سلوکے میں سے ایک مڑا تڑا کاغذ نکالا اور مجھ سے قلم مانگ کر اس پر کچھ لکھنے لگے۔ پھر میرے سینے پر انگشت شہادت سے کچھ لکھنے کے بعد کاغذ مجھے دے کر بولے۔
’’بیٹے یہ تعویذ اپنے بازو پر باندھ لیا۔ اللہ ہی تمہارا کفیل وکیل اور محافظ ہے۔ بس میں یہ چاہتا ہوں تم جنات کے کسی بہکاوے میں نہ آنا اور انہیں یہ درس دیتے رہنا کہ وہ انسانی آبادیوں میں نکل کر شرارتیں نہ کیا کریں۔ خاص طور پر اس غازی کے بچے کو سمجھا دینا۔ بنیادی طور پر وہ نیک جنات میں سے ہے لیکن ہے تو آتشی مخلوق۔ بچہ ہے۔ شرارت کرنے سے باز نہیں آتا۔ اس نے تم سے آج جو کچھ کہا ہے وہ صحیح کہتا ہے۔ لیکن اسے سمجھا دو کہ انسانوں کے اعتماد کو مجروح نہ کیا کرے‘‘
’’سرکار اب آپ سے ملاقات کہاں ہو گی‘‘ میں نے ان کے ہاتھ چوم کر سوال کیا
’’اللہ نے چاہا تو بہت جلد ملاقات ہو گی اور ۔۔۔ اچانک وہ گفتگو کرتے ہوئے رک گئے اور وعلیکم السلام۔ مرحبا یا سیدی ۔۔۔ وعلیکم السلام کہنے لگے۔ اس لمحہ مجھے سرسراتی ہوا کے گزرنے کا احساس ہوا۔ ٹھنڈی ہوا کا وہ جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا اور صندل کی خوشبو جیسی مہک نتھنوں سے ٹکرائی۔ کچھ ہی دیر بعد پورے ماحول میں صندل اور اگر کے جلنے سے خوشگوار مہک پھیل گئی۔ میں نے پھیپھڑوں تک مسحور کن مہک کو اندر کھینچ لیا۔
’’سرکار لگتا ہے جنات خوشبویات لے کر آئے ہیں‘‘
’’ہاں آج ساری رات وہ یہاں محفل جمائیں گے۔ اس لئے میں نے تمہیں جانے دیا ہے۔ صرف میں یہاں رہ سکتا ہوں چند اور بزرگ بھی آنے والے ہیں کوئی عام انسان آج کی رات یہاں نہیں ٹھہرے گا۔ ہر مہینے میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جب ہم سب لوگ اسرار کے پردوں میں ملفوف ہو جاتے ہیں یہ دنیا اس دنیا سے بڑی مختلف ہوتی ہے۔ بڑی سہانی مجالس سجتی ہیں۔ واللہ تمہیں کیا بتاؤں اس روح پرور وجد والی محافل کی خواہش میں ہی تو ہم نے اس دنیا کا ذائقہ چھوڑ دیا‘‘
یہ سن کر میری نیت بدل گئی۔ میں نے کہا ’’سرکار ۔۔۔ وہ کیا ہے ناں ۔۔۔ میں کسی طرح یہاں رہ سکتا ہوں اب میں چاہتا ہوں کہ اس رات کے روحانی مناظر دیکھ سکوں‘‘
’’بڑا مشکل ہے یہ ۔۔۔ اللہ نے چاہا تو کبھی ایسا موقع بھی آئے گا۔ میں تمہیں خود بلواؤں گا لیکن یہ موقع تمہیں اس وقت ملے گا جب تم لاہور چلے جاؤ گے‘‘
’’لاہور ۔۔۔ مگر کہاں؟‘‘
’’وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے۔ جب تم راوی سے اس پار ایک صاحب کرامت کی نگری میں چلے جاؤ گے۔ جب تو بے یارومددگار ہو کر اس آستانے کی چوکھٹ پر خالی دامن بیٹھا کرو گے ۔۔۔ وہیں سے تمہیں یہ فیض ملے گا۔ وہ وقت دور نہیں ہے۔ میرے اللہ نے چاہا تو ہو سکتا ہے میری تم سے اب ملاقات لاہور میں ہی ہو۔ یہ ملاقات کب ہو گی۔ فی الحال اس کا تعین نہیں ہو سکتا۔ ہو سکتا ہے سال‘ دو سال‘ دس سال‘ بیس سال بعد ۔۔۔ شاید اس وقت جب تمہارا تیلے شاہ تیلا تیلا ہو کر بکھر جائے گا۔ اس کی یہ سوکھی مڑی تڑی ہڈیاں خاک میں مل جائیں۔ شاید تب تم سے ملاقات ہو‘‘
’’اللہ نہ کرے بابا آپ سلامت رہیں۔ ایسی باتیں نہ کریں‘‘ ان کی بات سن کر میں روہانسا ہو گیا ’’بابا اگر یہ بات ہے آج کے بعد ہماری ملاقات طے نہیں ہے تو میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ میں آپ کے پاس ہی رہوں گا۔ میں برسوں ہجر و وصل کے عذاب نہیں سہہ سکوں گا۔ مجھے اپنے سے جدا نہ کریں‘‘
’’بیٹے تمہیں جانا ہی ہو گا۔ میں تمہیں ا س لئے یہاں نہیں رکھ سکتا کہ تم یہ سب برداشت نہیں کر پاؤ گے۔ تمہارے دماغ کی طنابیں ٹوٹ جائیں گی۔ تم نے روحانی نشہ چکھ لیا تو غرق ہو جاؤ گے۔ خرد سے بیگانہ ہو جاؤ گے۔ دنیا تمہیں پاگل سمجھے گی۔ دنیاوی شعور ختم ہو جائے گا اور تم اللہ کے سائیں بن کر رہ جاؤ گے۔ بیٹے تمہیں اپنے ہم جنسوں کے درمیان رہ کر ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ رہا سوال ملاقات کا تو ۔۔۔ میں نے تمہیں اپنے وجود کا احساس دے دیا ہے۔ یہ تعویذ تمہارے پاس رہے گا تو سمجھو میرا تعلق تم سے جڑا رہے گا۔ اس لئے اب تم واپس جاؤ‘‘ یہ کہہ کر بابا تیلے شاہ نے میرا ماتھا چوما اور نصیحت کرتے ہوئے بولے ’’میرے بچے تم دنیاداری میں پڑ جاؤ گے۔ جاہ و حشم کے طلبگار ہو جاؤ گے۔ اللہ تمہیں کامرانیاں دے گا لیکن میرے بچے ۔۔۔ اگر تم نے بزرگوں کے عطا کردہ وظائف اور اللہ کی عبادت سے رخ نہ موڑا تو تمہیں فیض ملتا رہے گا اب جاؤ کوئی تمہارا انتظار کر رہا ہے‘‘
’’بابا‘‘ ان سے جدا ہونے کے تصور سے میرا کلیجہ پھٹنے لگا۔ میری مرادوں کا گوہر چھلکنے لگا۔ میں ان سے لپٹ گیا ’’بابا آپ سے جدا ہو کر میں مر جاؤں گا‘‘
میری یہ حرکت دیکھ کر وہ ہنس دئیے اور میری پیٹھ تھتھپا کر بولے ’’حوصلہ کرو اب واپس سیدھے حویلی چلے جانا۔ تمہارے ملک صاحب بری امام سے ہو کر آ گئے ہیں‘‘
’’جی بابا‘‘ میں یہ خبر سن کر ان کا منہ دیکھنے لگا ’’ہمیں ابھی ابھی اطلاع ملی ہے اس لئے تم حویلی جاؤ اور اپنے ملک صاحب کے ساتھ مل کر شیطان کے خلاف جہاد کرو‘‘
’’شیطان ۔۔۔ کک کون شیطان‘‘ میں نے ہڑبڑا کر پوچھا
’’مکھن سائیں ۔۔۔ پورے کا پورا شیطان ہے۔ اس خبیث نے صاحب مزار پر آ کر ڈیرہ جمانے کی کوشش کی تھی لیکن ایک ہی چوٹ کھا کر بھاگ گیا۔ ریاض شاہ پورے کا پورا شیطان تو نہیں ہے لیکن کبھی کبھی اس کے زیر اثر آ جاتا ہے۔ وہ حد سے گرا ہوا برا شخص نہیں ہے چونکہ ابھی اس کے پاس تازہ تازہ طاقت آئی ہے اسے برسوں کشٹ نہیں جھیلنے پڑے۔ بلکہ تھالی میں رکھ کر اسے یہ طاقت عطا کر دی گئی تھی اس لئے وہ گھمنڈی ہو گیا ہے۔ یاد رکھنا یہ گھمنڈ شیطان کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ انسانوں کو ان کے اعلیٰ و ا رفع مقام سے نیچے اتارتا ہے۔ اچھا اب جاؤ ہمارا بلاوا آ رہا ہے۔ اب ہم چلتے ہیں۔ ہاں ایک اور بات یاد رکھنا ہر مہینے کی پہلی جمعرات کو ایک دیا جلانے یہاں آنا اور نوافل بھی ادا کرتے رہنا‘‘
’’ٹھیک ہے بابا‘‘ میں چلنے لگا تو ایک دم ایک خیال ذہن میں آ گیا ’’بابا کیا میں اس بیری کا بیر کھا سکتا ہوں‘‘
یہ سن کر وہ ہنس دئیے ’’تمہیں بیر کھانے کی ضرورت نہیں ہے‘‘
’’کیوں بابا‘‘
’’بیٹے ۔۔۔ تم اپنا اعتقاد کبھی کمزور نہیں ہونے دیتے۔ اس لئے تمہیں بیر کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لوگ شارٹ کٹ کی تلاش میں آتے ہیں۔ جیسی نیت ہوتی ہے ویسا پھل مل جاتا ہے انہیں‘‘ یہ کہہ کر بابا تیلے شاہ مزار کے اندر چلے گئے۔ میں انہیں حسرت و یاسیت سے دیکھتا رہا۔
میں مزار سے نکل کر باہر سڑک پر آ گیا۔ مزار کی نسبت سڑک پر کم روشنی تھی۔ ایک کوچوان اپنے گھوڑے کو گھاس کھلا رہا تھا۔ میں نے اسے اشارہ کرکے پاس بلایا تو اس نے گھاس کی بوری گھوڑے کے منہ سے ہٹا کر تانگے میں رکھی اور میرے پاس آ کر بولا ’’بابو کہاں جانا ہے‘‘
’’لاری اڈے جانا ہے‘‘
’’سالم چلو گے‘‘
’’ظاہر ہے اب سواری تو ہے نہیں کوئی ،سالم ہی چلو‘‘ میں نے اس سے پیسے پوچھے تو بولا ’’بابو جی تیس روپے لوں گا‘‘
’’تیس روپے ۔۔۔ کیا بات کرتے ہو۔ اڈہ دور ہی کتنا ہے۔ دو روپے سواری بنتی ہے۔ تین پیچھے تین آگے۔ کل ملا کر چھ سواریوں کے بارہ روپے بنتے ہیں‘‘ میں نے سخت انداز میں حساب کتاب کرکے بتایا۔
’’بابو رات کا وقت ہے واپس بھی خالی آنا پڑے گا اور اوپر سے گھوڑا بھی تھک چکا ہے۔ جانا ہے تو پچیس روپے ہوں گے۔ بابو جی مہنگائی بہت ہو چکی ہے گھا دس کلو سبزہ خریدنے کے لئے بیس روپے دینے پڑتے ہیں۔ دال دانہ الگ سے خریدنا پڑتا ہے۔ یہ گھوڑا پچاس روپے کھا جاتا ہے۔ مجھے کیا بچتا ہے صرف چالیس پچاس۔ سارا دن سڑکوں پر گھوڑوں کی لید‘ گاڑیوں کا دھواں پھانک کر صرف چالیس پچاس۔ مجھ سے اچھا تو گھوڑا ہے ۔
پچاس روپے صرف ایک ہی کام کے لیتا ہے۔ تانگے میں جوتا اور پھر ٹھک ٹھک ۔۔۔ نہ بال نہ بچہ۔ نہ بیوی کی تڑتڑ۔نہ بجلی پانی کا بل۔۔۔‘‘
’’اچھا ۔۔۔ اچھا ۔۔۔ یار پچیس طے‘‘ اس کی باتیں سن کر میں بے اختیار ہنس دیا۔ حالانکہ اس ستم ظریف کی حالت پر مجھے ہنسنا نہیں چاہئے تھا۔ حالات کا ستایا سماجی بدگمانیوں کا شکار یہ شخص ہمارے پورے معاشرے کی عکاسی کر رہا تھا۔ مجھے تو رونا چاہئے تھا لیکن میں اس کی غربت پر کیوں روتا۔ صرف ہنس دیا۔ بے حسی پرکبھی کبھار ہنس دینا بھی ہزاروں آنسوؤں سے افضل ہوتا ہے۔
**
رات کافی گہری ہو چکی تھی۔ میں اس وقت ملکوال نہیں جانا چاہتا تھا لیکن بابا تیلے شاہ نے مجھے اشارہ دے دیا تھا کہ حویلی میں میرا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ایک ولی کامل کی رہنمائی کو اشاروں کی زبان سے سمجھ لینا دانائی کی بات ہوتی ہے۔ میں دانا تو تھا نہیں مگر میں نے جب غور کیا تو دل نے یہی فیصلہ کیا کہ مجھے اس وقت ہی ملکوال چلے جانا چاہئے۔ نہر کی پٹری پر لٹ جانے کا خدشہ بہرحال رہتا تھا۔ گھپ اندھیرے میں راستوں کی پہچان‘ بھوت پربت کا خوف ایک فطری سی بات تھی مگر اب مجھے بھوت پریتوں سے خوف کی بجائے زیادہ خطرہ انسانی روپ میں رات کی سیاہی میں لوٹ مچاتے ہوئے ان درندوں سے تھا جو خنجر کی اور گولی سے بات کرتے تھے۔ اگر مجھے درندوں میں سے کسی ایک کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا تو میں اپنے بچاؤ کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میرے پاس بارہ بور کی بندوق تھی جس کا باقاعدہ لائسنس بھی میرے پاس تھا۔ بندوق لینے کے لئے مجھے گھر جانا پڑتا اور میں گھر جانے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔ والدین مجھے اس وقت ملکوال جانے نہ دیتے لہٰذا اس کے سوا میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں خالی ہاتھ ہی ملکوال چلا جاؤں۔
لاری اڈے سے پشاور اور راولپنڈی کو جانے والی بسیں رات گئے تک چلتی تھیں لیکن ان میں سے کوئی بھی بس تھوڑے فاصلے کی سواری نہیں بٹھاتی تھی۔ گجرات وزیرآباد کی طرف جانے والی بسیں بھی جا چکی تھیں۔ لاری اڈے سے نہر کا فاصلہ کم و بیش دس پندرہ کلومیٹر پر محیط تھا۔ اگر میں پیدل بھی چل پڑتا تو صبح ہونے سے پہلے نہر تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ ویسے بھی اتنا فاصلہ پیدل نہیں طے کیا جا سکتا تھا۔ اس سمے مجھے بابا تیلے شاہ کا خیال آیا۔ وہ ہزاروں لاکھوں میل پیدل چل کر ریاضتوں کی اس منزل تک جا پہنچے تھے جہاں سے بندہ اپنے خالق کی قربت کو گہرے سکون سے محسوس کرتا ہے۔ مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ میں پیدل چل کر نہر کے کناروں کو چھو لیتا۔ ویسے بھی یہ میلوں کا سفر پیدل طے کرنے کا معاملہ ایک دن پر تھوڑا ماقوف ہوتا ہے۔ یہ تو مسلسل چلتے رہنے کا کام ہے۔ اور اس وقت تک میں نے یہ طے نہیں کیا تھا کہ مجھے پیدل سڑکوں کے کناروں‘ بیابانوں‘ قبرستانوں‘ صحراؤں‘ نالوں‘ کوہساروں کو طے کرنا ہے۔ سلوک کی یہ سبھی مسافتیں ایک آدھ دن میں تھوڑی طے ہوتی ہیں۔ اس کے لئے بھی من میں پختگی ضروری ہوتی ہے اور ایسی پختگی سے فی الحال میں محروم تھا۔ روحانیت کی لذت سے آشنائی تو ہو رہی تھی۔لیکن میں دنیا سے کنارہ بھی نہیں کرنا چاہتا تھا،سمندر میں غرق نہیں ہونا چاہتا تھا۔ میں تو ساحلوں کے کنارے چلتے چلتے سمندروں کی ہواؤں اور ان کے جوار بھاٹا کو دیکھنا چاہتا تھا۔ پس یہی میری سوچ اور یہی میرا عمل تھا۔
ان دنوں گندم کی کٹوائی ہو رہی تھی۔ مجھے یاد آیا کہ رات کے اس پہر ٹریکٹر ٹرالی والے عموماً شہر سے واپس جاتے ہیں۔ ملکوال اور دوسرے دیہاتوں سے بھی ٹریکٹر ٹرالیاں گندم کی بوریاں لاد کر لاتی تھیں۔ میں اس امید پر لاری اڈے سے نکل کر باہر بڑی سڑک پر آ گیا کہ کسی ٹریکٹر والے سے لفٹ لیکر نہر تک چلاجاؤں گا۔ میرے بائیں طرف کوٹلی بہرام اور گلستان سنیما، دائیں جانب صدر کینٹ۔ میں صدر سے آنے والے راستے پر نظریں لگائے کھڑا رہا۔ آدھ گھنٹہ گزر گیا لیکن ایک بھی ٹریکٹر ٹرالی نہ آئی۔ اس دوران میں نے لانگ روٹ کی گاڑیوں میں لفٹ لینے کی بے سود کوشش کی۔ اس انتظار کے بعد میں نے سوچا کہ میرا یہاں ٹھہرنا فضول ہے۔ میں ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کوٹلی بہرام کے سٹاپ پر پہنچ گیا۔ ادھر سے ایک سڑک سبزی منڈی کی طرف جاتی تھی۔ عموماً گندم منڈی سے آنے والے ٹریکٹر ٹرالیاں بھی یہی راستہ اختیار کرتی تھیں۔ میرے عقب میں گلستان سینما تھا۔ اس وقت ایک بجے کا شو ٹوٹا تھا۔ شائقین باہر آ رہے تھے۔ اس وقت مجھے امید ہوئی کہ ممکن ہے اس وقت کوئی لوکل بس آ جائے کیونکہ سیالکوٹ کے نواحی علاقوں کے علاوہ سمبڑیال تک سے یہاں فلمیں دیکھنے آنے والے آتے تھے لیکن میری یہ امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔ اس وقت نہ تو کوئی تماشائی بس سٹاپ پر ٹھہرا تھا اور نہ ہی کوئی بس اورویگن آئی تھی۔ غالباً کوئی فلاپ قسم کی فلم چل رہی تھی جس کی وجہ سے شو میں رش نہیں تھا۔ دوسرے علاقوں کا ایک بھی شخص فلم دیکھنے نہیں آیا تھا۔
میں یونہی ایک گھنٹہ وہاں کھڑا رہا۔ میری ٹانگیں پتھر ہو گئی تھیں۔ اس وقت مجھے تھکن کا شدید احساس ہوا۔ صبح سے رات گئے تک میں مسلسل حرکت میں تھا اور اب تھکان سے ٹوٹ کر گر جانا میرے لئے عجیب نہ تھا۔ میں ایک بند کھوکھے کے پاس رکھے لکڑی کے ایک ٹوٹے بنچ پر بیٹھ گیا۔ بنچ کے پائے کو کھوکھے والے نے سنگل سے باندھا ہوا تھا۔ اسے خدشہ ہو گا کہ کوئی چور یہ بنچ نہ اٹھا کر لے جائے۔شاید بنچ کی کیلیں ابھری ہوئی تھیں جونہی میں نے پہلو بدلا ایک بے رحم کیل میری ران میں چبھ گیا۔ تڑپ کر اٹھا اور ران دبانے لگا۔ شدید درد کا احساس ہونے لگا۔ ہاتھ لگانے پر احساس ہوا کہ ران سے خون نکلنے لگا ہے۔ میں نے چلنے کی کوشش کی تو دقت محسوس ہونے لگی۔
’’یا الہٰی میری مدد فرما‘‘ میرے دل سے فغاں نکلی اور احساس کی سوئی نے میری آنکھوں میں چھید کر دئیے۔ نہ جانے کیوں میں اس وقت خود کو تنہا اور بے بس محسوس کرنے لگا تھا۔
’’اللہ میاں جی آج ہی یہ سب کچھ ہونا تھا‘‘ میں شکوہ کے انداز میں سوچنے لگا۔ سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے۔ وہم و خیال کے یہ سوتے ذہن سے پھوٹتے رہتے ہیں۔ سوچوں کو روکنا کسی بھی عام انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ ٹاہلی والی سرکار نے ایک بار فرمایا تھا کہ صرف وہی لوگ اپنی سوچوں کو روک سکتے ہیں جو ظاہر باطن میں اللہ کے قرب کے متمنی ہوتے ہیں۔ ان کی فکر کا محور صرف ایک ذات ہوتی ہے۔ عشق محمدؐ اور عشق الہٰی پر قلب و نظر کی قوتیں مرکوز کرکے ایک نقطہ میں سمٹ جاتے ہیں اور وہ نقطہ بظاہر بہت خفیف نظر آتا ہے لیکن اس کے اندر داخل ہونے والے کو احساس ہوتا ہے کہ ساری کائناتیں اور اسرار اس نقطہ کے اندر بس رہے ہیں۔ جو لوگ اس ارتکاز فکر کو حاصل کر لیتے ہیں وہ دنیاوی وہم و خیال کے جال توڑ کر نکل جاتے ہیں۔ انہیں کسی قسم کے گزند کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کے پیروں میں چھالے اور ان چھالوں سے رستا ہوا لہو ۔۔۔ انہیں قطعی درد کا احساس نہیں دلاتا۔ ان کی تمام حسیات صرف ایک مرکز پر ٹھہری ہوتی ہیں ۔ اس لمحے میں جب مجھے ٹاہلی والی سرکار کی بات یاد آئی تو مجھے اپنی کتابوں میں پڑھا ہوا ایک سبق بھی یاد آ گیا۔ حضرت علیؓ کو ایک بار تیر لگا تو آپؓ نے فرمایا ’’ٹھہرو ۔۔۔ مجھے نماز میں کھڑے ہو لینے دو پھر تیر نکال لینا‘‘ حضرت علیؓ نماز پر کھڑے ہوئے تو آپؓ کے شانے سے تیر نکال لیا گیا۔ تیر گہرا پیوست ہوا تھا لیکن باب الاعلم حضرت علیؓ کے چہرہ مبارک پر ایک لمحہ کے لاکھویں حصہ میں بھی تیر کے کھینچے جانے کا احساس نہ ہوا۔ میں سمجھ گیا اور جان گیا۔ یہ وہ احساس ہے۔ یہی وہ ارتکاز ہے جو اللہ کے ایک برگزیدہ انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کا انہماک اپنے رب کی طرف اتنا گہرا اور مضبوط ہوتا ہے کہ اسے اردگرد کا کوئی ہوش ہی نہیں ہوتا۔ یہی احساس اولیا میں منتقل ہوا۔ چلے‘ شب و روز کی ریاضتیں‘ عبادتیں دراصل اس ارتکاز کی طرف منزل پانے کے لئے کئے جاتے ہیں ۔جب کوئی انسان اپنے ذہن کو یکسوئی پر مائل کر لیتا ہے تو اس پر اندر باہر کی دنیا کے بھید آشکار ہونے لگتے ہیں۔ یہ ذہن بھی کیا بلا ہے کیسا سپر کمپیوٹر ہے۔ یہ ارتکاز اور یکسوئی اس سپر کمپیوٹر کی ٹیکنالوجی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ جو سمجھ گیا اس نے پا لیا۔ یہ وظائف بھی تو یہی چیز ہیں۔ آپ پڑھتے رہیں گے مگر شاید ہی کوئی رزلٹ نکلے۔ لاکھوں لوگ کہتے ہیں وظائف پڑھتے ہیں مگر اثر نہیں ہوتا۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے۔ ادھر مال پر نظریں اور انگلیاں تسبیح پر۔ لبوں پر وظائف مگر دل اور گمان سڑکوں کے کنارے چلتے لوگوں کی طرف مائل۔ حساب کتاب میں مستغرق۔ نہیں۔ منزل اور گوہر مراد یوں حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے لئے انہماک چاہئے اور یہ انہماک رات کے سناٹے میں خلوت نماز پر بیٹھ کر۔ جائے نماز بچھا کر۔ پانچوں پہر کی نمازوں میں حاصل ہوتا ہے۔ ذہن کو قابو کیجئے۔ یکسوئی سے وظائف پڑھئے۔ آپ کا روحانی کمپیوٹر چل پڑے گا اور مشکلات دھیرے دھیرے ختم ہوتی جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔کیل چبھا، ران میں درد اٹھا اور میرے ذہن میں فکر اور سلوک کے نئے معنی وارد ہونے شروع ہو گئے۔ اس احساس کو پانے کے بعد میں نے اپنے درد سے سمجھوتہ کر لیا۔ اسے بھولنا تو دوبھر تھا لیکن دل کو سمجھا لیا۔ ’’شاہد میاں یہ درد ایک آزمائش ہے بلکہ نعمت ہے۔ کیل تمہاری ران میں چبھا اور درد نے تمہارے ذہن کے مقفل دریچے کھول دئیے۔ اپنے رب کا شکر ادا کرو۔ وہ شافع مطلق ہے۔ علم یوں بھی عطا کرتا ہے۔ اس کا شکر ادا کرو‘‘
حقیقت یہ ہے کہ میں اس قدر صابر و شاکر کبھی نہ تھا۔ لیکن اللہ پاک کا ناشکرا کہلوانا مجھے کبھی بھی پسند نہیں آتا تھا۔ میرا ہاتھ ران سے بہتے خون پر تھا اور ذہن علم و آگہی کے اس نئے معنی پر اس علیم اور خبیر ذات کا شکر ادا کرنے لگا تھا۔
مجھے یاد آیا کہ یہاں سے کچھ دور ہی ایک مسجد ہے۔ میں لنگڑاتا ہوا مسجد میں چلا گیا لیکن باہر دروازے پر تالا پڑا دیکھ کر رک گیا۔
’’اللہ میاں جی ۔۔۔ آپ کے گھر پر تالے پڑے ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا میری نیت کیا تھی۔ میں ساری رات حمد و ثنا کرتا۔ سجدے میں گرا پڑا رہتا۔ اللہ میاں جی آپ کے گھر پر تو تالے ہیں‘‘
میں خودکلامی کے انداز میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔ سنگ مرمر کی بڑی بڑی ٹائیلوں سے بنی یہ سیڑھیاں بڑا ہی ٹھنڈا احساس دلا رہی تھیں۔ بیٹھتے ہی ران میں اٹھنے والا درد آہستہ آہستہ دب گیا۔ ٹھنڈی ٹائیلوں نے درد کی آگ کو سرد کر دیا تھا لیکن اکڑاؤ بہرحال محسوس ہو رہا تھا
دروازے کے عین اوپر ایک سبز رنگ کا زیرو کا بلب روشن تھا۔ ادھرآسمان پر گہرا سناٹا اور اندھیارا۔۔۔ اور ادھر سبز روشنی میرے قلب و نظر میں ملجگے اجالے پیدا کر رہی تھی۔ میں نے دیوار سے ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کرکے اپنے اللہ کا ذکر کرنے لگا۔ درود پاکؐ پڑھتا رہا۔ وظائف جو یاد تھے تکرار سے پڑھتا رہا پھر اپنا اسم اعظم پڑھنے لگا چند لفظوں پر مشتمل یہ کلمات بہت ہی زود اثر ہوتے ہیں۔ یہ اسم اعظم جو اسمائے الہٰی سے بنائے جاتے ہیں اگر فٹ بیٹھ جائیں تو سمجھ لیں آپ کے روحانی کمپیوٹر کو وہ پاس ورڈ مل گیا جو کمپیوٹر کے رابطے عرش پر رکھی لوح محفوظ سے جوڑ دیتا ہے۔ استغراق اور انہماک کے ساتھ پڑھنے سے رب ذوالجلال بندے کو اپنی عطا اور رحمت سے نوازتا ہے۔ اس کی مردہ تقدیر میں جان ڈال دیتا ہے گویا تقدیر بدل دیتا ہے۔ یہ صرف میرے اللہ کے اختیار میں ہے اور اللہ سے رابطہ کے لئے اس کا ذکر ہی کافی ہے۔ میں ذکر الہٰی کے خمار میں اس قدر کھو گیا تھا کہ معلوم ہی نہ ہو سکا کہ جاگ رہا ہوں یا سو رہا ہوں۔ میں ساعتوں کے گزرنے سے بے خبر تھا۔ دھیرے دھیرے بے چاپ گزرتے لمحوں نے مجھے قرب الہٰی کے احساس سے مالامال کر دیا تھا۔ میرے قلب و نظر پر چھائی کدورتوں کی میلی چادر ہٹ گئی تھی۔ میں نے اس وقت آنکھیں کھولیں جب مسجد کے موذن نے ہلا جلا کر مجھے بیدار کیا لیکن وہ خمار پھر بھی آنکھوں سے چھلک رہا تھا۔ موذن نے اسے کوئی اور ہی معنی دیا۔ درشت لہجے میں بولا
’’ابے نشہ کرکے اللہ کے گھر پر ڈیرہ کیوں ڈالے پڑا ہے کوئی اور جگہ نہ ملی تھی تجھے‘‘
میں موذن کو بس ایک ٹک دیکھتا رہا۔ اسے غصہ آ گیا
’’گھورتا کیا ہے ابے۔ چل اٹھ بھاگ یہاں سے‘‘
’’مولوی صاحب غصہ کیوں کرتے ہو۔ میں تمہارے گھر پر چوکی لگا کر نہیں بیٹھا۔ یہ میرے اللہ کا گھر ہے۔ اس نے برا نہیں منایا تو کیوں غصہ کرتا ہے‘‘
موذن میرا ٹوٹا ہوا اورخمار آلود لہجہ دیکھ کر تپ گیا۔
’’اپنی ناپاک زبان سے اللہ کا نام لیتا ہے۔ شرم نہیں آتی۔ شکل سے تو پڑھا لکھا لگتا ہے لیکن کرتوت نشیوں جیسے‘‘
’’مولوی صاحب میری زبان پاک ہے ۔تم اپنی زبان کو چیک کراؤ میرے ساتھ مغز ماری نہ کرو اور تالا کھولو‘‘ موذن نے میرے لہجے کی کاٹ کومحسوس کیا کہ یہ کوئی بگڑا ہوا نوجوان ہے۔ اس کے دل میں نہ جانے کیا آیا کہ پھر نہیں بولا اور مجھے گھورنے پر اکتفا کرکے دروازہ کھول کر مسجد میں چلا گیا۔
میں بھی اٹھا۔ لڑکھڑاتا ہوا مسجد میں داخل ہو گیا۔
’’تو اندر آ گیا۔۔۔ نجاست پھیلانا چاہتا ہے۔ چل باہر نکل۔۔۔‘‘ موذن نے مجھے دیکھا تو زور سے میرا بازو پکڑ کر دھکیلنے لگا۔ اکڑاؤ کی وجہ سے مجھ سے سیدھے ہو کر چلنا مشکل تھا۔ موذن نے میری لڑکھڑاتی چال دیکھ کر سمجھا کہ میں نشہ کی حالت میں ہوں۔۔۔ وہ میری باطنی کیفیت نہیں سمجھ سکتا تھا۔۔۔
’’مولوی صاحب۔۔۔ میں نشہ میں نہیں ہوں۔۔۔ آپ اندر جائیں اور اذان دیں۔ میں نماز پڑھ کر چلا جاؤں گا۔۔۔‘‘ مسجد کے آداب ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے نرم انداز میں کہا۔
’’نشہ میں نہیں ہے۔۔۔‘‘ موذن نے گھور کر دیکھا۔ ’’ابے تری آنکھیں چڑھی ہوئی ہیں اور یہ بہک بہک کر چلنا۔ استغفراللہ۔ اللہ کے گھر میں آ کر جھوٹ بولتے ہو۔۔۔ لاحول ولا قوۃ۔۔۔‘‘ موذن نے میرا بازو نہ چھوڑا اور مجھے باہر دھکیلنے سے باز نہ آیا۔۔۔ اس اثنا میں اندر سے کسی کی گھمبیر آواز آئی۔
’’قادر بخش کس سے جھگڑ رہا ہے۔۔۔‘‘
’’علامہ صاحب ایک نشئی مسجد میں گھس آیا ہے۔۔۔‘‘
’’کیا کہتا ہے۔۔۔‘‘
’’کہتا ہے نماز پڑھنے آیا ہوں۔ لیکن مجھے تو یہ چور لگتا ہے۔ ٹوٹیاں کھول کر اور جوتیاں اٹھا کر بھاگ جائے گا۔۔۔ اس لئے باہر نکال رہا ہوں مگر یہ نکلتا ہی نہیں۔۔۔‘‘
’’قادر بخش اسے اندر آنے دو۔۔۔ نماز سے نہ روکو۔۔۔ اس کی نیت کیا ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے۔ تو آ کر اذان دے، وقت ہو رہا ہے۔‘‘ موذن قادر بخش نے مجھے بے بسی سے گھور کر دیکھا مگر جاتے جاتے دانت چبا کر بولا۔ ’’اگر تو نے کوئی گڑبڑ کی تو ترا چم ادھیڑ دوں گا۔‘‘ وہ کھلے ڈیل ڈول والا شخص تھا۔ ہاتھ سخت اور وزنی تھے۔ وہ واقعی میری چمڑی ادھیڑ سکتا تھا۔۔۔ میں اس سے الجھ نہیں سکتا تھا۔ بے وجہ ایک وہم میری ظاہری حالت سے دغا کھا رہا تھا۔۔۔ ویسے اسکی بات صحیح تھی مگر صرف اتنی۔۔۔ میں تو اپنے آپ کے ذکر کا خمار لئے بیٹھا تھا۔ میں نے اسکی بات کا پھر برا نہیں منایا۔ وہ نشئی سمجھتا تھا مجھے اور میں نے قبول کر لیا کہ ہاں میں واقعی نشہ میں ہوں مگر یہ نشہ اسکی سمجھ سے بالاتر تھا۔ میں وضو کر چکا تو اس دوران فجر کی اذان ہو چکی تھی۔ مسجد بہت بڑی نہیں تھی۔ ایک کنال رقبہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ اسکا ایک بڑا ہال تھا۔۔۔ جس طرف غسل خانے تھے اس سے چند قدم کے فاصلہ پر ایک حجرہ کے آثار دکھائی دیتے تھے۔ گھمبیر آواز ادھر ہی سے سنائی دی تھی۔
میں وضو کر کے مسجد کے ہال میں پہنچا تو وہاں موذن کے علاوہ ایک عمر رسیدہ بزرگ نظر آئے۔ سفید لمبی ریش۔ سر پر سفید عمامہ‘ سفید ململ کا کرتہ اور نیچے تہبند۔ وہ نوافل ادا کر رہے تھے۔ میں نے فجر کی سنتیں ادا کیں اور ایک طرف بیٹھ کر ذکر کرنے لگا۔ نماز کا وقت ہونے پر دس بارہ نمازی حضرات آ گئے۔ اس بزرگ نے امامت کرائی۔ نہایت خشوع و خضوع رقت آمیز انداز میں تلاوت کی۔ نماز کے بعد ان کے دعا کرنے کے انداز نے مجھے مسحور کر دیا۔ نماز کے بعد لوگ چلے گئے۔ مگر میں انہیں دیکھتا رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ انہوں نے ایک آدھ بار مجھے طائرانہ نظروں سے دیکھا تھا۔ موذن بھی دیکھ چکا تھا کہ میں نے نماز پڑھی ہے۔ اسکے چہرے کا تناؤ اور نفرت بھی ختم ہو گئی تھی۔
نماز کے بعد بزرگ وضع شخص قرآن پاک پڑھنے کے لئے بیٹھ گئے۔ میں ان کے قریب ہو گیا۔ مجھے دیکھ کر دھیرے سے بولے۔
’’قادر بخش کا تجربہ اپنا ہے۔ ایک دو بار نشئی مسجد سے ٹوٹیاں اور سٹیل کے لوٹے چوری کر کے لے گئے تھے۔ اس لئے یہ تالا لگا کر جاتا ہے۔۔۔ معاف کرنا بیٹے۔ قادر بخش نے تمہیں بہت کچھ کہہ دیا۔۔۔‘‘ وہ بزرگ بولے۔
’’علامہ صاحب۔ اس میں ان کا کیا قصور۔ میری حالت دیکھ کر انہیں یہی گمان ہونا تھا۔۔۔‘‘ میں نے کہا۔
’’کہاں سے آئے ہو۔۔۔‘‘ انہوں نے پوچھا۔ میں نے مختصر الفاظ میں بتا دیا کہ سواری نہ ملنے کی وجہ سے یہ رات یونہی گزر گئی ہے۔
’’ہوں۔۔۔‘‘ وہ گہرے انداز میں سانس لیکر میری طرف دیکھنے لگے۔
’’اللہ تمہیں اس مشقت اور تکلیف پر صبر اور اجر فرمائے۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ قرآن پاک کی سورۃ جن پڑھنے لگے۔ میں کامل توجہ سے تلاوت سننے لگا۔ اس وقت موذن اور صرف میں ہی مسجد میں موجود تھے۔ لیکن نہ جانے مجھے کیوں احساس ہونے لگا کہ تلاوت سننے کے لئے فرشتے اور جنات بھی جوق در جوق یہاں کھنچے چلے آئے ہیں اور مسجد کا ہال اور صحن ان کے خفیف اور لطیف وجود سے بھر چکا ہے۔ ایک گھنٹہ تک میں تلاوت کلام پاک سے محظوظ ہوتا رہا۔ اجالا اب پھیل چکا تھا۔ میں ان سے اجازت لیکر اٹھنے لگا کہ عین اس وقت ایک عورت سات آٹھ سال کے بچے کو سینے سے لگائے بھاگتی ہوئی ان کے پاس آئی۔
’’علامہ صاحب میرے لعل کو بچا لیں۔ اسے پھر دورہ پڑ گیا ہے۔‘‘
بچے کے ہا تھ پیر تشنج کے انداز میں اندر کو مڑے ہوئے تھے۔ چہرہ ایک طرف کو کھچا ہوا تھا اور سانس اٹک اٹک کر آ رہی تھی۔ ہونٹوں کے کناروں سے رالیں بہہ رہی تھیں۔
علامہ صاحب نے بچے کو چٹائی پر لٹانے کے لئے کہا اور آیات قرآن پاک پڑھ کر بچے پر پھونکنے لگے۔
***
علامہ صاحب کی شخصیت سے میں پہلے ہی مرعوب ہو چکا تھا۔ ان کی آنکھوں میں دیکھنا بہت مشکل کام تھا۔ گہری سیاہ اور جگ رتوں سے تھکی ہوئی آنکھیں تھیں ان کی۔ لیکن چہرے پر ایسا اطمینان تھا جو صرف اللہ کے شاکر بندوں کو نصیب ہوتا ہے۔ پہلے وہ زیرِلب کچھ پڑھتے رہے تھے۔ پھر انہوں نے سورہ جن میں سے مخصوص آیات پڑھ کر بچے پر پھونک ماری تھی۔ ایک بار‘ دو بار‘ تین بار۔ بچے کو کوئی افاقہ نہ ہوا۔ علامہ صاحب یہی آیات بار بار پڑھتے رہے۔ کچھ ہی دیر بعد بچے کے تشنج شدہ ہاتھ پاؤں پھڑکنے لگے۔ اس کی حالت ایسی تھی جیسے پانی سے نکالی ہوئی مچھلی پھڑک پھڑک کر آخری دم لیتے ہوئے وقفے وقفے سے پھڑکتی ہے۔ یہ دیکھ کر علامہ صاحب کے ماتھے پر شکنیں پیدا ہوئیں۔
میں کئی روز سے اللہ کے بندوں اور عملیات کرنے والوں کو نہایت قریب سے دیکھ رہا تھا۔ ایک ولی‘ عامل‘ ملنگ‘ مجذوب اور امام مسجد کے درمیان روحانی استقامت کا بنیادی فرق جو محسوس کیا ہے وہ علامہ صاحب کے ہاں دیکھنے کو ملا۔ انہوں نے کسی تعویذ دھاگے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ لگتا تھا بچہ ماں کے ہاتھوں میں تڑپ تڑپ کر جان دے ڈالے گا۔ اس پر قابض شے نے اس کی رگوں میں اپنے پنجے بری طرح گاڑھ رکھے تھے۔ علامہ صاحب کی جبیں تفکر سے صرف ایک بار آلودہ ہوئی تھی۔ انہوں نے بچے کی حالت اور وظائف کو بے اثر دیکھا تو بچے کی ٹیڑھی میڑھی انگشت شہادت کو اپنے انگوٹھے اور انگشت شہادت میں دبا کر دوبارہ سے آیات قرآنی پڑھنے لگے تھے۔ بچے کو جھٹکے لگنے بند ہو گئے اور وہ آنکھیں جھپکنے لگا۔ خدا کی پناہ۔ اس کی آنکھیں کسی بھیڑئیے کی مانند نظر آ رہی تھیں۔ اس نے ایک نظر اپنی ماں کی طرف دیکھا پھر دوسری نظر مجھ پر ڈالنے کے بعد علامہ صاحب کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اس کے چہرے کے خدوخال بدلنے لگے اور گلے سے غراہٹ پیدا ہونے لگی۔ یوں لگا جیسے بھیڑیا کسی طاقتور جانور کے سامنے بے بس ہو کر متاع عزیز بچانے کے لئے غرا رہا ہو۔
علامہ صاحب کے چہرے پر اب جلالی آثار پیدا ہونے لگے۔ انہوں نے سورہ جن کی آیات اور آیت الکرسی پڑھ کر اس کی آنکھوں پر پھونک ماری تو بچے کے حلق سے بھیڑئیے کی آخری غراہٹ سنائی دی اور آنکھوں میں جیسے شعلہ سا بلند ہو کر بجھ گیا تھا۔ بچہ نڈھال ہو کر ماں کی گود میں گر گیا۔ اس کے ہاتھ پاؤں اور چہرہ معمول کی حالت میں آ گیا۔
علامہ صاحب نے قادر بخش کو آواز دی ’’مولانا ٹوٹی سے پانی لے آؤ‘‘ قادر بخش جلدی سے اٹھا اور پلاسٹک کی ایک بوتل میں پانی بھر کر لے آیا۔ علامہ صاحب نے پانی کو دم کیا اور خاتون کو دے کر بولے ’’بچے کو ایک ہفتہ تک بوتل سے پانی پلانا۔ کم ہو جائے تو بسم اللہ پڑھ کر تازہ پانی شامل کر لینا‘‘
خاتون علامہ صاحب کو دعائیں دینے لگی ۔اس نے بچے کو اٹھا کر سینے سے لگایا اور واپس چلی گئی۔ نہ اس نے کوئی نذرانہ دیا نہ علامہ صاحب نے اسے صدقہ اور ہدیہ دینے کے لئے کہا۔ میرے لئے یہ حیرت کی بات تھی ورنہ اب تک تو میں یہی دیکھتا اور سنتا آ رہا تھا۔ تعویذ دھاگے کے نام پر کاروبار منبر پر بیٹھ کر بھی ہو رہا ہے۔ ایک صحافی کی حیثیت میں میرے لئے اس کاروبار کے گھناؤنے پہلو اب پوشیدہ نہیں رہے تھے۔ جنات‘ بھوت‘ پریت‘ کالا جادو، نظر وغیرہ جیسے سحری معاملات کے علاج معالجے اور روحانیت کے درپردہ خانقاہوں میں کاروبار کا چراغ جلانے والے بہت سے چہرے میرے سامنے بے نقاب ہو رہے تھے۔ میں ان تلخ حقائق سے کبھی نظریں نہیں چرا سکتا تھا۔ یہ سب کاروبار اور ڈھکوسلا بھی ہو رہا تھا اور پراسرار دنیا کے راز بھی مجھ پر آشکار ہو رہے تھے۔ لیکن ایک عالم دین کو یوں صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر ایک سحری عمل کا توڑ کرتے دیکھ کر مجھے حیرت آمیز خوشی ہو رہی تھی۔ حیرت تو اس بات پر تھی کہ انہوں نے ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا تھا اور خوشی اس بات کی تھی کہ انہوں نے سحری توڑ کے لئے قرآن پاک کی آیات مبارکہ کے علاوہ کوئی ایسی غیر اسلامی حرکت نہیں کی تھی جسے دیکھ کر میرے دل میں چبھن ہوتی۔ میں اپنے دلی جذبات کا علامہ صاحب سے اظہار کئے بغیر نہ رہ سکا۔
’’حضرت آپ نے اس دکھیاری عورت کے بچے کو ایک عذاب ناک مرض سے بچا لیا ہے۔ حیرت ہے آپ نے اس سے صدقہ خیرات کے نام پر کچھ بھی طلب نہیں کیا‘‘
’’ہوں‘‘ میری بات سن کر وہ گہری سانس بھر کر بولے۔ قبل اس کے وہ کچھ بولتے۔ تین نوجوان اندر داخل ہوئے اور قطار بنا کر علامہ صاحب سے ہاتھ ملا کر ان کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر نہایت عقیدت سے دو تین قدم پیچھے ہو کر بیٹھ گئے۔ ان میں سے ایک نے مٹھائی کا بڑا ڈبہ ان کے قدموں میں رکھ دیا۔
’’بھئی یہ کیوں لے آئے۔ اس کی کیا ضرورت تھی۔ خیرت سے ہو ناں‘‘ علامہ صاحب نے آنے والوں سے پوچھا
’’جی حضرت جی ۔اللہ پاک کا کرم ہے۔ اس کے فیض سے ابا جی کی ضمانت ہو گئی ہے۔ طبیعت خراب تھی اس لئے خود زیارت کے لئے حاضر نہیں ہو سکے حالانکہ ضد کر رہے تھے کہ جب تک حضرت جی کی زیارت نہیں کر لیتے انہیں سکون نہیں ملے گا‘‘
’’اللہ تیرا شکر ہے‘‘ علامہ صاحب جنہیں آنے والے حضرت جی کہہ رہے تھے اب میری طرف متوجہ ہوئے اور نہایت شفقت کے ساتھ بولے ’’میرا اللہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جس نے اس کے دامن کو تھام لیا وہ طوفانوں سے نکل جاتا ہے۔ مصائب کی تلوار ان کا بال بھی بیکا نہیں کرتی۔ اللہ جل شانہ ہر شے پر قادر ہے۔ اس کی رضا کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس نے وعدہ کیا ہے اور اللہ کا وعدہ حق ہے۔ وہ ذات اعلیٰ مقام فرماتی ہے مجھ سے خلوص دل سے مانگو میں تمہیں عطا کر دوں گا۔ کیا نام ہے آپ کا‘‘ حضرت جی نے اچانک رک کر میرا نام پوچھا ’’شاہد‘‘ میں نے نام بتایا تو بولے ’’سبحان اللہ‘ یعنی محبوب اور عزیز‘ گواہی دینے والا۔ میرے بچے اللہ تمہیں اس نام کی صداقت سے مالا مال کرے اور تمہیں حق گوئی اور حق شناسی کی قوت سے سرفراز کرے۔ ہاں تو میں عرض کر رہا تھا اس کائنات میں جو کچھ ہے رب ذوالجلال کے ’’کن‘‘ کی محتاج ہے۔ ہر حرف میں اس کی عطا اور حکمت ہے۔ اس لئے تو قرآن پاک مطہر و موثر ہے۔ یہ کلام الہٰی ہے۔ اللہ پاک جس زبان میں کلام فرماتا ہے وہ یہی زبان ہے۔ قرآن پاک اعجاز ربی ہے اور جو اس کلام ربی کو سمجھ لیتا ہے اس نے گویا شفا کے دست قدرت کو حاصل کر لیا۔ کلام الہٰی طالب اور مطلوب کو اپنی شفا بخشتا ہے۔ تم نے جو پوچھا وہ میں نے کہہ دیا۔ اللہ کے کلام سے اس بچے کو شفا مل گئی‘ ان کے بے گناہ باپ کی ضمانت ہو گئی۔ اب بھلا میں اس کلام کے نام پر صدقہ خیرات اور نذرانہ کیوں طلب کروں۔ میں وہ والا تاجر نہیں ہوں جو جنس بیچتا ہے۔ تاجر تو ہوں۔ میرا سودا میرے اللہ سے طے ہوتا ہے۔ میرے کاروبار میں نفع ہی نفع ہے۔ میں اس کے کلام سے بدعقیدہ لوگوں کو بھی شفا کے راستہ پر لاتا ہوں تو وہ میری سختیاں دور کر دیتا ہے۔ سنو میاں‘ اللہ کا کلام سوائے اللہ کے کسی اور کو نہیں بیچا جا سکتا۔ اللہ سے یہ کاروبار کرنا اچھی بات ہے۔ یہ دس بیس روپے کا تیل خرید کر دئیے جلانے کا عمل اللہ کی شریعت نہیں ہے۔ یہ عقائد ہو سکتے ہیں۔ میں اور تم کون ہو سکتے ہیں۔ مجھے بتاؤ اللہ کے انبیاءؑ ‘ صحابہ کرامؓ‘ خلفائے کرام‘ آئمہ کرام‘ اولیا کرام میں سے کسی نے اس روایت کی بنیاد رکھی ہے۔ میاں یہ کام ممنوعہ ہے۔ گمراہ مسلمانوں نے نعوذ باللہ قرآن پاک کی مقدس آیات کو غلط کاموں کے لئے استعمال کیا ہے وہ جہنمی ہیں اور جہنم کی آگ میں جلتے رہیں گے۔ یہ عمل باندھنے اور توڑنے والے لوگ ہیں۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں اللہ کا کثرت سے ذکر کرنے والے کو کشف حاصل ہو جاتا ہے۔ اس کی دعا میں تاثیر ہوتی ہے۔ اللہ اپنے محبوب کلام کی مدد سے مانگی گئی دعا رد نہیں کرتا‘‘
حضرت جی کی باتیں میرے دل میں اتر گئیں۔ ایسا لگا جیسے شریعت اور روحانیت کے راستے جدا جدا ہیں مگر منزل ایک ہے۔ ایک قاعدے کی پابند ہے ایک راہ فنا کی مسافر ہے۔ ان باتوں کو سمجھنے کے لئے دماغ سکندری کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن ذرا سے غور نے مجھے یہ نکتہ سمجھا دیا تھا کہ اصل روحانیت شریعت کے بطن سے جڑی ہوئی ہے۔
میں جنہیں صرف ایک امام مسجد سمجھ رہا تھا ان کے کاسہ دامن کو اللہ نے روحانیت کی دولت سے بھرا ہوا تھا۔ آنکھوں میں جگ رتوں کے دیپ شب بیدار ہونے کی علامت تھے۔ ساری رات اللہ کا ذکر کرتے رہتے۔ فجر کی نماز کے بعد قرآن پاک کی تعلیم دیتے اور سائلوں کے مسائل سنتے۔ آٹھ نو بجے صبح سے لیکرنماز ظہر تک نیند لیتے اور پھر بیدار ہونے کے بعد مصیبت زدہ لوگوں کی داد رسی کرتے۔ اس کے سوا ان کی کوئی مصروفیت نہیں تھی۔
ان کی تعلیمات دیکھ کر مجھے خود پر ندامت محسوس ہوئی اور دل سے اقبال کے شعر کا یہ مصرعہ نکلا۔ ’’نور سے دور ہوں ظلمت میں گرفتار ہوں‘‘ ایک طرف قرآن بمثل مینارہ نور تھا اور دوسری طرف عملیات کے ظلمت کدے میں کھڑے اپنے دیئے جلانے والے کھڑے نظر آ رہے تھے۔ ایک فطری اور ازلی روشنی اور اجالا اور دوسری طرف بے ثبات چراغ۔ میری مثال بالکل اس شعر کی مانند تھی۔
نور کا طالب ہوں گھبراتا ہوں اس بستی میں
طفلکِ سیماب پا ہوں مکتب ہستی میں
میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں۔ روحانیت کی منزل میری جستجو تھی لیکن میں اس راہ کی بھول بھلیوں میں پڑ گیا تھا اور سیدھے راستے پر جو قرآن دکھاتا اسے نہیں اپنا رہا تھا۔ نہ جانے کیوں۔ ایمان کی کمزوری کی وجہ سے۔ یا پھر دنیا کی لذت نے مجھے اپنا گرویدہ بنایا ہوا تھا۔ دنیا کے گل و گلزار دیکھ کر میں خلد کی تمنا سے عاجز آ گیا تھا۔ دنیا شفق کی لالیوں جیسی بھلی لگ رہی تھی مجھے۔ اس کی نظارگی نے مجھے نیم بسمل کر دیا تھا حالانکہ میں جانتا تھا اگر میں خیال و عمل کی اس پگڈنڈی پر چلتا رہا تو صبح خزاں مجھے راستے میں ہی پکڑ لے گی اور میں عمر رسیدہ برگد کی طرح ادھر کہیں گم ناک راستوں میں بکھر جاؤں گا۔
حضرت جی نظربیں انسان تھے۔ آفرین ہے انہوں نے میرے اندر کے ایک کوڑھ مادہ پرست انسان کو دیکھ لیا لیکن انہوں نے مجھے کچھ نہیں کہا البتہ دو لفظوں میں سب کچھ سمجھا دیا تھا ’’بہتر عمل اور راہبر قرآن پاک ہے‘‘
میں نے ان کے اس ارشاد کو نصیحت سمجھا اور عہد کیا کہ اس پر قائم رہوں گا۔ لیکن میں ابنِ آدم کی اس صف میں کھڑا تھا جو ناصح کی باتوں پر کان نہیں دھرتے۔
دس بجے کے قریب میں ملکوال چلا گیا۔ بڑے ملک صاحب کھیتوں میں گئے ہوئے تھے۔ نصیر اور شاہ صاحب ابھی تک سوئے پڑے تھے۔ چاچی نے مجھے دیکھتے ہی ہاتھوں ہاتھ لیا وہ سخت ناراض تھیں۔
’’کہاں چلا گیا تھا تو ۔۔۔ تیرے لئے دیسی گھی سے حلوہ بنایا تھا۔ دو پہرتیرا انتظار کرتی رہی ہوں‘‘
’’اچھا اب کھا لیتا ہوں چاچی‘‘ چاچی کے ہاتھوں کا بنا ہوا حلوہ نہایت لذیذ ہوتا تھا۔ ویسے بھی بھوک سے نڈھال تھا۔ حلوے کا سن کر پیٹ میں آنتوں نے ندیدوں کی طرح اچھل کود شروع کر دی۔
’’ایک لقمہ بھی نہیں باقی بچا۔ تمہارے حصے کا حلوہ تو غازی کھا گیا ہے‘‘
’’وہ کیوں کھا گیا ۔۔۔ کہاں ہے وہ‘‘
’’رات کو آیا تھا۔ ادھر باورچی خانے میں گھس گیا اور ضد کرکے کھا گیا ۔۔۔۔۔۔ یہ جن کا بچہ بھی بڑا شوہدا ہے‘‘ چاچی غازی کا ذکر کرتے ہوئے ہنسنے لگی۔
’’چاچی غازی کب آیا تھا‘‘ میرے ذہن میں کھلبلی سی مچی
’’یہی کوئی عشا کے بعد کی بات ہے۔ کہتا تھا چاچی آج تو تمہیں دیگ پکانی چاہئے۔ میں نے کہا دیگ بھی پکا دوں گی لیکن پھر کبھی۔ کہنے لگا ہائے چاچی اگر تو آج حلوے کی دیگ پکا کر مجھے دے دیتی تو تیری ساری مرادیں پوری ہو جاتیں۔ ہاں مجھے یاد آیا شاہد پتر ۔۔۔ اگر میں غازی کو حلوے کی دیگ پکا کر دے دوں تو کیا میری ساری مرادین پوری ہو جائیں گی‘‘
’’چھوڑ چاچی ۔۔۔ تو غازی کی باتوں میں آ گئی ہے۔ وہ شرارتی ہے۔ ابھی رات کو وہ مجھے کہہ رہا تھا ۔۔۔‘‘ کچھ کہتے کہتے میں بوکھلا گیا
’’ہیں ۔۔۔ تو رات بھر آیا نہیں تجھے کہاں مل گیا‘‘ چاچی نے میری بات پکڑ لی۔
’’نہیں ۔۔۔ دراصل وہ دو روز پہلے ملا تھا‘‘ میں نے بات بدل ڈالی ’’کہتا تھا میں چاچی کے ہاتھوں سے حلوہ کھانا چاہتا ہوں۔ ممکن ہے اس نے آپ کو لالچ دینے کے لئے یہ کہہ دی ہو کیونکہ وہ بابا جی اور شاہ صاحب کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا‘‘
’’ہاں یہ تو ہے‘‘ چاچی کو جیسے سمجھ آ گئی۔
’’چاچا جی کب تک آ جائیں گے‘‘ میں نے پوچھا
’’اب تک انہیں آ جانا چاہئے‘‘ چاچی نے بتایا۔ اس اثنا میں حویلی کے گیٹ پر کسی نے زور زور سے کنڈی کھٹکھٹائی۔
’’لگتا ہے ملک صاحب آ گئے ہیں‘‘ چاچی نے سر پر چادر سیدھی کی لیکن پھر رک گئیں
’’لیکن وہ کیوں کنڈی کھٹکھٹائیں گے‘‘
’’دے خیر سخیا ۔۔۔ بری امام سرکار کے نام کی خیرات ۔۔۔ دے ملکانی‘‘
باہر سے آنے والی آواز کے ساتھ بھاری گھنگھرو کی چھن چھن سنائی دینے لگی۔ ایسے لگا جیسے بہت سارے بیل اپنے گلے میں لٹکائے ٹل کھٹکھٹاتے ہوئے بھاگ رہے ہیں
’’آئی بابا ۔۔۔ آئی‘‘ چاچی نے فقیر کی صدا سنتے ہی کہا اور جلدی سے اندر سے ایک رنگدار بڑی سی بیل بوٹوں والی چادر اور کچھ روپے مجھے تھما کر بولیں ’’جاؤ انہیں دے آؤ‘‘
مگر یہ سب کیا ہے‘‘ میں ہاتھ میں پکڑے روپے اور چادر کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔ چادر سے مجھے زلیخا کی مہک آ رہی تھی
’’پہلے دے آؤ پھر بتاؤں گی‘‘ وہ آہستہ سے بولیں جیسے انہیں ڈر ہو کوئی سن نہ لے۔ چاچی کی اس رازداری سے میرے کان کھڑے ہو گئے۔
میں حویلی کے دروازے پر گیا۔ باہر چار ملنگ کھڑے تھے۔ انہوں نے ایک بڑی سی سبز چادر کو چاروں کونوں سے پکڑا ہوا تھا۔ ان کی رانوں پر اور کمر پر بڑے بڑے سے پیتل کے گھنگھرو اور زنجیریں بندھی تھیں۔ وہ ہلتے تو گھنگھرو زوردار آواز سے بجنے لگتے۔ مجھے دیکھ کر ملنگ نے چادر آگے کی۔ میں نے روپے اس میں ڈال دئیے۔ ایک کہنہ سال ملنگ نے مجھ سے چادر لے لی اور جاتے جاتے بولا ’’ملک صاحب کو ہمارا سلام بول دینا۔ گٹھالی کے ملنگ آئے تھے نذرانہ پہنچ جائے گا‘‘ میں اندر آ گیا۔
’’دے آئے ۔۔۔ کچھ کہا تو نہیں‘‘ چاچی نے راہداری میں سراسیمہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں نے ملنگ کا پیغام چاچی کو دے دیا اور پوچھا ’’چاچی یہ کیا معاملہ ہے‘‘
چاچی نے میرے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا ’’چپ کر ۔۔۔ ملک صاحب آنے والے ہیں ان سے پوچھ لینا‘‘
ایک گھنٹہ بعد ملک صاحب آ گئے۔ چاچی نے انہیں ملنگوں کی بابت بتا دیا۔ مجھ سے کہنے لگے ’’یہ بری امام صاحب سرکار کے شاگردوں کے مریدوں کا جتھا تھا۔ اس کو یہ لوگ اپنی زبان میں ڈالی کہتے ہیں‘‘
’’ڈالی ۔۔۔ کیا مطلب؟‘‘ ’’یعنی اردو زبان میں جسے شاخ کہتے ہیں‘‘
’’مجھے نہیں پتہ‘‘ ملک صاحب کہنے لگے ’’میں زیادہ نہیں جانتا۔ مجھے صرف معلوم ہے کہ جب میں راولپنڈی سے نورپور شاہاں حضرت شاہ لطیفؒ کے مزار پر حاضری دینے گیا تو مجھے وہاں ان کے بارے میں معلوم ہوا۔ میں نے تمہیں بتایا تھا کہ وہاں ایک میرے عزیز دوست کے پیرومرشد رہتے ہیں۔ میں وہاں پہنچا تو معلوم ہوا وہ پشاور گئے ہیں اور ’’ڈالی‘‘ کے ساتھ آئیں گے۔ میرے دوست نے مجھے بتایا ہے کہ ڈالی دراصل کسے کہتے ہیں۔ پشاور میں سرائے جہاں بیگم صاحبہ جو گور گٹھڑی کے نام سے معروف ہے وہاں حضرت بری سرکار کی گھٹالی ہے۔ یہاں بری امامؒ صاحب نے کچھ عرصہ قیام کیا تھا۔ ان کے مریدین نے اس مقام کو محفوظ کر لیا اور وہاں بری امامؒ کے ملنگ اور عقیدت مند سارا سال آتے رہتے ہیں۔ جن دنوں بری امامؒ میں عرس ہوتا ہے اس سے آٹھ نو دن پہلے پشاور میں گھٹالی کے ملنگ اور مرید جلوس نکالتے اور خیرات اکٹھی کرتے ہیں۔ اس جلوس کو بری امام کی ڈالی کہا جاتا ہے۔ سرحد کے کونے کھدروں سے مریدین ’’ڈالی‘‘ میں شریک ہوتے اور آٹھ دن کا پیدل سفر کرکے بری امام کے مزار پر اس وقت پہنچتے ہیں جب عرس کا پہلا سورج طلوع ہوتا ہے۔ ان کے راستے میں آٹھ پڑاؤ ہوتے ہیں۔ اردگرد کے مقامی لوگ اس ڈالی کا استقبال کرتے ہیں۔ ابھی ڈالی کے نورپور شاہاں پہنچنے میں آٹھ دن باقی تھے کہ میں واپس آ گیا۔ میرے دوست نے پیرومرشد کی عدم موجودگی میں مجھے ایک مجذوب سے ملوایا تھا۔ وہ دربار سے باہر ایک جھگی میں بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھتے ہوئے وہ کہنے لگے کہ
’’پرچھائیاں تیرا پیچھا نہیں چھوڑیں گی جا پہلے سلام کرکے آ‘‘
میرے دوست نے مجھے سلام کرنے کے آداب سکھائے۔ بری امام صاحب کے روضہ کے قریب ان کے شاگرد اور مریدین بھی دفن ہیں بری امام کے دربار میں پہنچنے سے پہلے ان کی قبور پر جا کر دعا کرنی ہوتی ہے۔ لہٰذا میں دعا کرکے آیا تو مجذوب بابا نے مجھے کہا کہ تم اپنے علاقے کی ڈالی کے ذریعے نذرانہ بھیج دو۔ پرچھائیاں پیچھا چھوڑ دیں گی۔ مجذوب کے ساتھ ایک مرید تھا جس نے میرا مسئلہ سن کر مجھے نذرانے کی رقم اور زلیخا کی استعمال شدہ چادر ارسال کرنے کے لئے کہا۔ ہمارے علاقے کے یہ چاروں ملنگ ہر سال پیدل بری امام صاحب کے مزار پر جاتے ہیں۔ میں نے آتے ہی ان سے درخواست کی تو آج وہ سوغات لے کر چلے گئے۔
’’لیکن چاچا جی ۔۔۔ یہ سب کچھ کرنے کا مقصد ۔۔۔ ہم نے وعدہ کیا‘‘
’’چپ کر جا پتر‘‘ ملک صاحب نے مجھے قدرے ناگواری سے روک دیا۔ ’’میں اپنی بیٹی کو آگ میں نہیں جھونکنا چاہتا اس کے لئے اب مجھے جہاں سے آسرا ملے گا میں اس کو تھام لوں گا‘‘
’’آپ کا یہی فیصلہ ہے‘‘ میں نے پوچھا
’’ہاں ۔۔۔ میں اس فیصلہ پر پہنچا ہوں کہ اب میں بے شک تباہ و برباد ہو جاؤں میں اس شیطانی جال کو توڑ دوں گا‘‘
’’ٹھیک ہے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں‘‘ میں نے ان کے لہجے میں استقامت دیکھی تو انہیں بابا تیلے شاہ اور حضرت جی سے ملاقات کا ماجرہ سنایا اور کہا ’’چاچا جی وہ دنیاوی طمع میں مبتلا نہیں ہیں۔ حضرت جی اور بابا تیلے شاہ کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ہمیں ان سے مدد حاصل کرنی ہو گی‘‘
میری بات سن کر ملک صاحب کے چہرے پر زندگی ہویدا ہونے لگی۔ میرا کاندھا تھام کر بولے
’’تو پھر انتظار کس بات کا۔ ابھی ان کے پاس چلتے ہیں‘‘
میں نے گھڑی دیکھی حضرت جی کے اٹھنے کا وقت ہونے کو تھا ’’ہم ظہر کی نماز ان کے ساتھ پڑھیں گے۔ انشاء اللہ

