zonash

zonash

پیسوں کی گٹھڑی اس نے اپنی سیٹ کے نیچے رکھ لی تھی۔ اس نے اپنے رشتے دار کو فون کر دیا تھا کہ وہ کل دن کے وقت رقم لے کر آئیگا، وہ سیدھا اس کے آفس میں پہنچا۔ ان لوگوں نے محض دکھاونے کے لئے امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار شروع کر رکھا تھا مگر اندر سے وہ بلیک منی کا کاروبار کرتے تھے۔ اس کا رشتے دار دفتر میں ہی تھا۔ پرویز نے دس لاکھ کے نوٹوں والا لفافہ اس کی میز پر رکھ دیا اور کہا۔ ”میں رقم لے آیا ہوں۔ پورے دس لاکھ روپے ہیں، گن لیجئے”

وہ شخص بولا۔ “کوئی بات نہیں۔” اس نے نوٹ نکال کر گنے، پورے دس لاکھ تھے۔ اس نے نوٹوں کی گڈیاں دراز میں بند کر لیں اور پرویز کو اپنے خاص پیڈ پر لندن والے ایک آدمی کے لئے چار سطریں لکھ دیں کو ان صاحب کو دس لاکھ روپے کے عوض برٹش کرنسی دے دینا۔۔

نیچے اپنے دستخط کر کے ایک خاص نشان بنا دیا۔ وہ نشان پرویز کو دکھا کر کہنے لگا ” یہ ہمارا مخصوص نشان ہے۔”

پھر اس نے لفافے کے باہر لندن والے آدمی کا نام لکھا۔ اس شخص کے آفس کا پورا ایڈریس اور لندن آفس کا فون نمبر ایک الگ کاغذ پر لکھ کر پرویز کو دیا اور کہا۔ جاتے ہی اس نمبر پر فون کر لینا۔ ملک صاحب دن کے دس بجے سے چار بجے تک آفس میں ہی ہوتے ہیں۔ میں تمہیں ان کا فوٹو دکھائے دیتا ہوں۔” اس نے اپنے بٹوے میں سے ملک صاحب کی فوٹو نکال کر ڈاکٹر پرویز کو دکھائی

“یہ ہمارے لندن آفس کے انچارج ملک صاحب ہیں۔ میرا رقعہ ان کو جاکر دے دینا۔ وہ تمہیں رقم ادا کر دیں گے۔”

ڈاکٹر پرویز نے ملک صاحب کے نام والا خط لفافے میں ڈالا اور سنبھال کر اپنے پاس رکھ لیا پھر اپنے رشتے دار سے ہات ملا کر وہاں سےچلا گیا ۔

اس کا سارا کام ہو گیا تھا، اب اس نے برٹش ایئرویز میں سیٹ کی بکنگ کروانی تھی۔ تین دن بعد کی فلائٹ پر اسے سیٹ مل گئی۔

اسے زوناس کی لاش کی سیٹ بک کروانے کی ضرورت ہی نہیں تھی، نہ اس کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کی ضرورت تھی کی وہ تو غیبی لاش تھی اور کسی کو نظر ہی نہیں آتی تھی اور نہ اسے کوئی ہاتھ لگا سکتا تھا۔

اس کی فلائٹ لاہور سے لندن کی تھی اور شام کے وقت کی فلائٹ تھی۔ دارا کو اس نے اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ دونوں جہاز کی فلائٹ سے دو گھنٹے پہلے قلعے کی لیبارٹری میں زوناش کی لاش کو لینے کے لیے آگئے۔ لیبارٹری میں داخل ہونے سے پہلے دونوں نے آنکھوں پر عینکیں چڑھالی تھیں۔ انہوں نے دیکھا کہ لاش اسی طرح سٹریچر پر لیٹی ہوئی تھی اور گہری نیند میں تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے اپنی تسلی کے لیے عینک کو اتار کر دیکھا۔ لاش غائب تھی اور سٹریچر خالی تھا۔ اس نے دوبارہ عینک لگا لی۔ ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول نکال کر لاش کو حکم دیا۔ “زو ناش! اٹھو اور میرے پیچھے پیچھے آجاؤ۔”

لاش اسی طرح ایک جھٹکے کے ساتھ اٹھی اور سٹریچر سے اتر کر ڈاکٹر پرویز کے پیچھے چل پڑی۔ وہ لاش کو لیبارٹری اور پھر آسیبی قلعے سے باہر لے آئے۔ لیبارٹری کو انہوں نے اچھی طرح سے تالا لگا دیا تھا۔ لاش کو گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہو گئی۔

اس وقت سورج غروب ہو چکا تھا اور شام کی تاریکی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ سردی کی وجہ سے ہلکی دھند بھی آسمان سے اتر کر شہر کے کھیتوں اورگلی کوچوں میں پھیل گئی تھی۔ ڈاکٹر دارا پنجابی زبان میں باتیں کرنے لگا۔ اس لئے کہ لاش اُردو سمجھنے لگی تھی۔ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ زوناش کی لاش کا دماغ نشو نما پا رہا ہے اور دماغ کا وہ خانہ کھل رہا ہے جس میں دنیا کی تمام زبانوں یہاں تک کہ جنگل کے جنگلی لوگوں کی زبان سمجھے کی بھی صلاحیت ہوتی ہے اور اس وجہ سے لاش اب پنجابی زبان بھی سمجھنے لگی تھی مگر لاش ابھی کسی زبان میں بات کرنے کے قابل نہیں تھی۔۔

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ” پرویز! اگر سفر میں اور خاص طور پر برٹش ایئرویز کے جہاز میں لاش اچانک دکھائی دینے لگی تو کیا ہو گا؟”

پرویز نے کہا۔ “ایسا ہو گا تو پھر میں کیا کر سکتا ہوں؟ دیکھا جائے گا۔ ویسے میرا نہیں خیال کہ لاش اب دکھائی دینا شروع کر دے گی اگر اس نے دکھائی دینا ہوتا تو اب تک دکھائی دے جاتی۔ مگر وہ اسی طرح غائب ہے۔”

اسی طرح باتیں کرتے وہ ایئر پورٹ پر پہنچ گئے۔

ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں لے لیا۔ اس نے لاش سے کہا۔ زوناش! تم میری آواز سن رہے ہو ؟”.

لاش کے حلق سے ہلکی سی آواز نکلی۔ جیسے اس نے کہا ہو” یس۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” تم میری زبان سمجھ رہے ہو ؟”

لاش نے حلق سے پھر ویسی ہی آواز نکالی جیسے کہہ رہی ہو کہ میں سمجھ رہا ہوں۔

ڈاکٹر نے کہا۔ ” تم میرے پیچھے پیچھے رہو گے۔ میں کھڑا ہو گیا تو تم بھی کھڑے ہوجاؤگے میں چل پڑا تو تم بھی چل پڑو گے۔ میں جہاں کہوں گا تم بیٹھ جاؤ گے جہاں کہوں گا تم کھڑے رہو گے۔ تم سن رہے ہو سمجھ رہے ہو؟”

زوناش کی لاش کے حلق سے پھروہی ہلکی سی آواز نکلی۔ یہ آواز غراہٹ کی آواز نہیں تھی بلکہ ایسی آواز تھی جیسے کسی آدمی کا گلا بیٹھ گیا ہو وہ بول کر کچھ کہنے کی کوشش کر رہا ہو۔

ڈاکٹر دارا کہنے لگا۔ وہ پنجابی میں بات کر رہا تھا۔ “اچھا پرویز! میں چلتا ہوں۔ لندن پہنچ کر مجھے خط لکھ دینا کہ تم پہنچ گئے ہو اور میں تمہیں ایک بار پھر کہوں گا کہ اگر ہو سکے تو لاش کو وہیں یورپ میں کسی عجائب گھر چھوڑ آنا، اسے واپس پاکستان نہ لانا۔”

ڈاکٹر پرویز نے پنجابی زبان میں ہی جواب دیا ” میں کوشش کروں گا۔ “

اور لاش کو اپنے پیچھے پیچھے چلاتا ایئر پورٹ کے گیٹ میں داخل ہو گیا۔ اس کے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ بس زوناش کی لاش ہی تھی اور وہ کسی کو دکھائی نہیں دے سکتی تھی۔ اس کے علاوہ اس کے پاس ایک اٹیچی کیس کے لیے تھا جس میں اس کے دو گرم سوٹ اور دوسرا ضروری استعمال کا سامان تھا۔ سامان چیک کروانے کے لیے اس نے اٹیچی کیس سکریننگ کے خانے میں ڈال دیا۔ اس کا بعد ڈاکٹر کے لباس وغیرہ کی چیکنگ ہوئی۔ لاش اس کے پیچھے کھڑی ادھ کھلی ساکت آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ صرف ڈاکٹر پرویز ہی اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ بھی اس لئے کہ اس نے عینک لگا رکھی تھی۔ عینک اس نے اس لئے لگا لی تھی کہ وہ لاش پر نظر رکھ سکے کہ لاش کہیں ادھر ادھر نہ ہو جائے۔ کیونکہ لاش کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا۔ ریموٹ کنٹرول ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے بورڈنگ کارڈ لے لیا تھا۔ وہ ٹرانزٹ ہال میں جاکر لندن جانے والے دوسرے مسافروں کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھ والی سیٹ پر زوناش کی لاش بھی بیٹھ گئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایک انگریز عورت آئی اور چونکہ اس قطار میں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی وہ اس سیٹ پر بیٹھ گئی۔ عورت کو بیٹھتے دیکھ کر ڈاکٹر پرویز اٹھ کھڑا ہوا اور بولا۔ “میڈم ! یہ سیٹ خالی نہیں ہے۔”

انگریز عورت نے حیران ہو کر ڈاکٹر پرویز کی طرف دیکھا۔ کہنے لگی۔ “تم کیا کہہ رہے ہو کہ سیٹ خالی نہیں ہے؟ سیٹ تو خالی ہے اور میں اس پر بیٹھ بھی گئی ہوں۔

تب ڈاکٹر پرویز نے آنکھیں پھاڑ کر اپنی ساتھ والی سیٹ کی طرف دیکھا، جہاں زوناش کی لاش بیٹھی ہوئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ زوناش کی لاش کی گود میں بلکہ اسکی سیٹ پر انگریز عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ تب ڈاکٹر پرویز پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ لاش ٹرانس پیرنٹ ہے یعنی وہ ایک سائے کی طرح بھی ہے اور سخت پتھر کے انسانی جسم کے گوشت کی طرح بھی ہے یا پھر ایسا تھا کہ لاش جس وقت چاہے ٹرانس پیرنٹ ہوجاتی تھی اور جاب چاہے پتھر کی طرح سخت ہو جاتی تھی اور جب چاہے انسانی گوشت کی طرح بن جاتی تھی۔

انگریز عورت کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی محسوس نہیں ہوا تھا کہ وہ ایک قوی ہیکل بھوت نما انسان کی گود میں بیٹھی ہے۔ اگر اسے محسوس ہو جاتا تو وہ چیخ مار کر بے ہوش ہو جاتی۔ ڈاکٹر پرویز اپنی آنکھوں پر عینک ٹھیک کرتے ہوئے بیٹھ گیا اور انگریز عورت سے معذرت کرنے لگا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے ساتھ والی سیٹ خالی ہے۔ در اصل یہاں ابھی ابھی ایک مسافر بیٹھا ہوا تھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ باتھ روم گیا اور

واپس آجائے گا۔”

انگریز عورت نے کہا۔ “کوئی بات نہیں مسٹر ایسی غلط فہمی ہو جایا کرتی ہے۔ تم کہاں جا رہے ہو ؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “میں لندن جا رہا ہوں۔”

“اوہ آئی سی” عورت بولی۔ ”میں بھی لندن جا رہی ہوں۔”

اس کے بعد عورت بھی خاموش ہو گئی اور ڈاکٹر پرویز نے بھی کوئی بات نہ کی تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ ادھر اُدھر دیکھنے کے بہانے زوناش کی لاش کو ضرور دیکھ لیتا تھا کیونکہ لاش کو پہلی بار وہ سائے کی حالت میں دیکھ رہا تھا۔ یعنی لاش کی شکل اور جسم پورے کا پورا دکھائی دے رہا تھا مگر لاش سائے کی طرح نرم اور شفاف ہو گئی تھی اور انگریز عورت اس کے اوپر بیٹھی ہوئی تھی مگر بالکل ایسے بیٹھی کا جیسے آدمی کسی ایسی کرسی پر بیٹھ جائے جس پر کسی آدمی کا سایہ پڑ رہا ہو۔ ڈاکٹر کو اس انکشاف پر خوشی بھی ہوئی کیونکہ اب جہاز میں وہ لاش کی طرف سے بے فکر ہو کر سفر کر سکتا تھا کیونکہ لاش کھڑی کھڑی اگر تھک جائے تو وہ جہاز میں کسی کی سیٹ بلکہ مسافر کے اوپر بھی بیٹھ سکتی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اعلان ہوا کہ لندن جانے والے مسافر برائے مہربانی جہاز پر آکر بیٹھ جائیں۔ دوسرے مسافروں کے طرح ڈاکٹر پرویز بھی اٹھا۔ عورت ابھی بیٹھی ہوئی تھی کہ زوناش کی لاش پرویز کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی۔ ڈاکٹر پرویز کو ایسے لگا جیسے لاش کا سایہ عورت کے جسم کے اندر سے نکل کر باہر آگیا ہو۔ زوناش کی لاش ڈاکٹر کے پیچھے قطار میں کھڑی تھی۔ اسی طرح وہ دوسرے مسافروں کے ساتھ برٹش ایئرویز کے جہاز پر سوار ہو گیا۔ اس کی سیٹ جہاز کی بیضوی کھڑکی کے پاس ہی تھی۔ اس نے لاش کے بالکل قریب ہو کر کہا۔ ”میری ساتھ والی سیٹ خالی ہے۔ اس پر بیٹھ جاؤ۔”

زوناش کی لاش اس کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اپنے وقت پر جہاز لاہور ایئر پورٹ سے پرواز کر گیا۔ جہاز کو کراچی تھوڑی دیر کے لیے رکنا تھا۔ وہاں سے ایک اور انگریز عورت جہاز میں سوار ہوئی تو اس کی سیٹ وہی تھی جس پر زوناش کی لاش بیٹھی ہوئی تھی۔

ایئر ہوسٹس نے عورت کو لاش والی سیٹ دکھاتے ہوئے کہا۔” میڈم یہ ہے آپ کی سیٹ۔”

ڈاکٹر پرویز نے عینک لگا رکھی تھی۔ وہ زوناش کی لاش کو سیٹ پر بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ وہ گھبرا گیا مگر زوناش کی لاش اطمینان سے بیٹھی رہی۔ انگریز عورت بھی بڑے اطمینان سے زوناش کی لاش کی گود میں آکر بیٹھ گئی کیونکہ اسے تو سیٹ خالی ہی نظر رہی تھی۔ اسے تو لاش بالکل نظر نہیں آ رہی تھی۔ جہاز کراچی سے پرواز کر گیا۔ ساتھ بیٹھی ہوئی عورت نے ڈاکٹر پرویز سے باتیں شروع کر دیں۔ وہ عورت فرینکفرٹ جا رہی تھی اور جرمن خاتون تھی۔ وہ انگریزی میں بات کر رہی تھی زرناش کی لاش کا دماغ چونکہ لندن کے رہنے والے دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ تھا اس لئے وہ عورت کی انگریزی زبان سن بھی رہی تھی اور سمجھ بھی رہی تھی کچھ دیر کے بعد ڈاکٹر پرویز کو ایسی آواز سنائی دی جیسے کسی نے بیٹھے ہوئے گلے ساتھ بولنے کی کوشش کرتے انگریزی میں YES کہا ہو۔ اس نے گھبرا کر عورت کی طرف دیکھا۔ عورت نے بھی گھبرا کر ڈاکٹر پرویز کی طرف دیکھا اور بولی۔ “کیا یہ تمہاری آواز تھی؟ تمھارا گلا خراب ہے کیا”

ڈاکٹر پرویز نے گلے کی ٹائی درست کرتے ہوئے بولا۔” نو میڈم ! میرا گلا بالکل ٹھیک ہے۔”

وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ آواز زوناش کی لاش کی آواز تھی۔ اب اسے یہ فکر پڑ گئی کہ اگر لاش نے بولنا شروع کر دیا تو کیا ہوگا۔ جہاز میں تو لوگ یہی سمجھیں گے کہ جہاز میں کسی کی بد روح داخل ہو گئی ہے۔ مگر لاش نے اس کے بعد بولنے کی بالکل کوشش نہ کی مگر تھوڑی تھوڑی دیر بعد زوناش کی لاش کی گود میں بیٹھی عورت بے چینی سے پہلو بدلنے لگی۔

ڈاکٹر پرویز . گھبرایا کہ کہیں لاش کوئی شرارت تو نہیں کر رہی۔ اس نے منہ کھڑکی کی طرف کر لیا۔ انگریز عورت تھوڑی دیر بعد بے چین ہو کر پہلو بدلتی۔ آخر تنگ آکر اس نے ایئر ہوسٹس کو بلا کر کہا۔ ” پلیز! مجھے کسی دوسری سیٹ پر بٹھا دو۔ میں اس سیٹ پر نہیں بیٹھ سکتی۔”

ایر ہوسٹس نے مسکرا کر پوچھا۔ ”کیوں میڈم ! اس سیٹ میں کیا خرابی ہے؟”

عورت نے انگریزی میں کہا۔ ” مجھے اس سیٹ پر سے لاشوں کی سی بو آرہی ہے۔”

ایئر ہوسٹس نے ادھر اُدھر دیکھ کر کہا۔ “میڈم جہاز میں کوئی سیٹ خالی نہیں ہے۔ آپ میری والی سیٹ پر آجائیں۔” ایر ہوسٹس کی دروازے کے پاس ایک الگ سیٹ تھی۔

ق عورت جلدی سے اٹھ کر ائیر ہوسٹس کے ساتھ چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد ڈاکٹر پرویز نے دھیمی آواز میں زوناش کی لاش سے کہا۔ “ایسا کیوں ہوا ہے؟”

زوناش کی لاش نے کوئی جواب نہ دیا۔ صرف ذرا سا غرا کر خاموش ہو گئی۔ اس کی غراہٹ کی آواز تیسری سیٹ پر بیٹھے ہوئے مسافر نے بھی سنی۔ اس نے حیرانی سے ڈاکٹر پرویز کی طرف دیکھا۔ وہ سمجھا کہ ڈاکٹر پرویز نے کوئی آواز نکالی ہے۔ پرویز نے یونہی گلا صاف کرنا شروع کر دیا۔ جہاز کئی ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا اور اس کا پہلا سٹاپ دوبئی تھا۔ جہاز دوبئی تھوڑی دیر رک کر وہاں سے روانہ ہو گیا۔

فرینکفرٹ پہنچ کر ڈاکٹر پرویز نے زوناش کی لاش سے کہا۔ ”میں جہاز سے تھوڑی دیر کے لیے باہر جا رہا ہوں۔ تم اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہنا۔”

لاش خاموش رہی۔ پرویز اتر کر فرینکفرٹ ایئر پورٹ کے لاؤنج میں آگیا اور ٹہلنے لگا۔ وہ بیٹھے بیٹھے تھک گیا تھا۔ عینک لگائے وہ کبھی کبھی جہاز کے دروازے کی طرف دیکھ لیتا تھا کہ کہیں لاش جہاز سے باہر تو نہیں نکل آئی مگر لاش اپنی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ جب وہ جہاز میں واپس آیا تو لاش اسی طرح ساکت و جامد پتھر کی مورتی کی طرح سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ جہاز ٹیک آف کر گیا اور پھر لندن جا کر رکا۔ یہاں آدھا جہاز خالی ہو گیا۔ یہ جہاز آگے پیرس جا رہا تھا۔

ڈاکٹر نے زوناش کی لاش سے کہا۔ “میرے پیچھے پیچھے آجاؤ۔”

لاش اس کے پیچھے پیچھے چلتی جہاز سے باہر آگئی۔ کسٹم وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد ڈاکٹر پرویز لندن ایئر پورٹ سے باہر نکلا تو ایک طرف سے اس کا چچا مسکراتا ہوا اسی کی طرف بڑھا۔ ”ارے بھئی جہاز کا سفر کیسا رہا پرویز؟”

چچانے پر ویز کو گلے لگا لیا۔

پرویز نے کہا۔ ” چچا جان جہاز کا سفر تو آدمی کو تھکا دیتا ہے۔ آٹھ گھنٹوں کا سفر ہوتا ہے۔”

” تمہاری چچی جان تو بچوں کو لے کر ہو نو لولو گئی ہوئی ہے۔ لندن کی سردی اسے بھی راس نہیں آتی۔ نہیں تو میں تمہیں تمہاری چچی کے ہاتھ کی بنائی ہوئی گرم گرم کریم کافی پلاتا۔ اب ایسا ہے کہ میں نے ریسٹ ہاؤس، بالکل ٹھیک ٹھاک کروا دیا ہے۔ میں دوسری گاڑی ساتھ لایا ہوں میں تو دفتر جا رہا ہوں، تمہیں ڈرائیور ریسٹ ہاؤس لے جائے گا۔ وہاں تمہاری خدمت کو بوڑھی خادمہ موجود ہے۔ اسے پاکستانی کھانے بنانے تمہاری چچی نے سکھا دیئے ہیں، کریم کافی بھی وہ بنالیتی ہے۔ اس بار اچھا کیا کہ دس گیارہ مہینے کی چھٹی لے کر آئے۔

پرویز نے کہا۔ ” چچا جان! میں کچھ ریسرچ کا کام بھی کرنا چاہتا ہوں، اس کے لیے مجھے تنہائی کی ضرورت ہے۔ وہاں پاکستان میں اتنی مصروفیت ہوتی ہے کہ تنہائی کم ہی میسر آتی ہے۔”

چچانے کہا۔” ارے میاں! یہاں تمہیں کوئی ڈسٹرب نہیں کرے گا۔”

وہ باتیں کرتے ایئر پورٹ کے پارکنگ کی طرف آگئے۔ یہاں چچا کی دوسری گاڑی بھی کھڑی تھی۔ چچانے اس کے بوڑھے انگریز ڈرائیور سے کہا۔ ”انکل ولیم! میرے بھتیجے کو ریسٹ ہاؤس پہنچا دو۔ خیال رکھنا یہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے۔”

بوڑھے ڈرائیور ولیم نے ڈاکٹر پرویز سے ہاتھ ملایا اور دروازہ کھول دیا۔ زوناش کی لاش اس دوران بڑی سعادت مندی سے ڈاکٹر پرویز کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ جب وہ گاڑی میں بیٹھا تو لاش بھی اس کے ساتھ ہی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ گاڑی ریسٹ ہاؤس کی طرف روانہ ہو گئی جہاں اس سے پہلے بھی ڈاکٹر پرویز آ کر رہا کرتا تھا۔ یہ ریسٹ ہاؤس، جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں لندن شہر کے جنوب میں کچھ فاصلے پر بڑی پر فضا اور پر سکون جگہ پر واقع تھا۔ ریسٹ ہاؤس میں آکر ڈاکٹر پرویز نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ زوناش کی لاش کو کاٹیج کے بیسمنٹ یعنی تہہ خانے کے پلنگ پر لٹا دیا اور اسے کہا کہ وہ سو جائے۔ لاش حکم ملتے ہی گہری نیند سو گئی۔

ڈاکٹر پرویز کو اس بات کی بڑی خوشی تھی کہ زوناش کی لاش ابھی تک اس کے کنٹرول میں تھی اور ایک ڈاکٹر سرجن کی حیثیت سے اسے یقین تھا کہ لاش کا دماغ کا اب اس کے کنٹرول میں ہی رہے گا۔ اس انکشاف نے ڈاکٹر کے لیے جعل سازی اور ناجائز ذرائع سے دولت کمانے کے امکانات کے کئی دروازے کھول دیئے تھے کہ لاش ٹرانس پیرنٹ تھی یعنی اس کا وجود وقت آنے پر سائے کی طرح ہو جاتا تھا اور سائے کی طرح لوہے کی سلاخوں کے درمیان سے بھی گزر جاتی تھی۔ اب اس کی سمجھ میں یہ نقطہ آگیا تھا کہ زوناش کی لاش صدر تھانے کی حوالات میں لوہے کی سلاخوں میں سے کس طرح گزر گئی تھی۔ اب ڈاکٹر صرف یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ کیا زوناش کی لاش وقت آنے پر دیوار کے درمیان میں سے بھی گزر سکتی ہے یا نہیں۔ !؟

بالکل اسی طرح جس طرح سے پتھر اور لوہے کی دیواروں میں سے آواز کی لہریں گزر جاتی ہیں۔ وہ رات کو اس کا تجربہ بھی کرنا چاہتا تھا۔ شام ہو رہی تھی۔ لندن کی فضا نم آلود اور دھندلی اور یخ بستہ تھی جیسی کہ اس شہر کی فضا سردیوں کے موسم میں ہوا کرتی ہے۔ ریسٹ ہاؤس کے کمرے سنٹرلی ہیٹڈ یعنی سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈے رہا کرتے تھے۔ ڈاکٹر نے جب غسل وغیرہ کرنے کے بعد کپڑے بدلے تو بوڑھی ملازمہ نے اسے کریم کافی بنا کر دی۔ کافی پی کر ڈاکٹر پرویز نے ڈاکٹر دارا ” کے نام خط لکھ کر لفافے میں ڈالا اور بوڑھی ملازمہ کو خط دے کر کہا کہ وہ اسے صبح پوسٹ بکس میں ڈال آئے۔

اس کے بعد اس نے کھانا کھایا۔ فوراً ہی لندن شہر میں رات کا اندھیرا چھا گیا جسے جگہ جگہ لگی ہوئی بجلی کی بتیاں روشن کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں۔ لندن کا اندھیرا گیلا اور بھاری ہوتا ہے اور آدمی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اس اندھیرے میں شہر کی آلودگی کا دھواں بھی شامل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر پرویز تہہ خانے میں آ گیا۔ اس نے عینک لگالی اور ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں لے کر اس کا بٹن دبایا اور لاش سے کہا۔ ” زوناش !! اٹھو جاگنے کا وقت ہو گیا ہے”

لاش ایک ہلکے سے جھٹکے سے اپنی پلنگ پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔

ڈاکٹر نے کہا۔ “زوناش ! کیا تم میری آواز سن رہے ہو ؟”

لاش کے حلق سے گھٹی گھٹی غراہٹ نما آواز نکلی جیسے YES کہنے کی کوشش کر رہی ہو۔

ڈاکٹر نے کہا۔ ” زوناش! میں تمہیں جو کچھ اردو زبان میں کہہ رہا ہوں وہ تم سمجھ رہے ہو ؟ “

زوناش کی لاش نے حلق سے پھر وہی آواز نکالی۔ اچانک ڈاکٹر کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس لاش کے سر میں جو دماغ کام کر رہا ہے وہ دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ ہے اور یہ قاتل لندن کا رہنے والا انگریز تھا۔ اگر زوناش کی لاش اردو زبان سمجھ لیتی ہے تو وہ انگریزی بھی ضرور سمجھ لیتی ہوگی۔ چنانچہ ڈاکٹر پرویز نے لاش کو انگریزی میں کہا۔ ” زوناش ! کیا تم انگریزی زبان سمجھ رہے ہو ؟”

زوناش کی لاش کے حلق سے پھر ویسی ہی آواز نکلی کہ ہاں میں سمجھ رہا ہوں، اگرچہ لاش نے یہ جملہ نہیں بولا تھا مگر اس کے کہنے کا انداز یہی تھا کہ میں انگریزی سمجھ رہا ہوں۔ یہ بھی ڈاکٹر پرویز کے لیے ایک حوصلہ بخش بات تھی کہ زوناش کا دماغ آہستہ آہستہ ترقی کی منزلیں طے کر رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اگر اس کا دماغ اسی طرح ترقی کرتا رہا تو اس کے دماغ کے خلئے اس میں اتنی صلاحیت پیدا کر دیں گے کہ زمین کے اندر چھپی ہوئی دولت اور مدفون خزانے اور زمین کی تہوں میں چھپا ہوا تیل اور گیس دیکھ سکے گی۔ ڈاکٹر پرویز کی جدوجہد کی آخری منزل یہی تھی۔ اس نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ وہ لندن آفس کی لائبریری میں جا کر اس موضوع پر مزید کتابوں کا مطالعہ کر کے یہ معلوم کرے گا کہ انسانی دماغ کے وہ پوشیدہ خلئے جو ساری زندگی خوابیدہ رہتے ہیں اور جن میں اتنی زبر دست طاقت ہوتی ہے کہ وہ انسان کو زمین کے اندر کے مدفون خزانے دکھا سکتے ہیں، ان کو کیسے بیدار کیا جا سکتا ہے۔ وہ زوناش کی لاش کے دماغ کی خوابیدہ صلاحیت کو بہت جلدی بیدار کرنا اور اس کے ان کے خوابیدہ خلیوں کی ترقی کے عمل کی رفتار کو تیز تر کرنا چاہتا تھا خواہ اس کے لیے اسے زوناش کے دماغ میں کوئی انجکشن ہی کیوں نہ لگانا پڑے۔ وہ سرجن بھی تھا اور ایم بی بی ایس ڈاکٹر یعنی فزیشن بھی تھا۔ وہ یہ کام کر سکتا تھا۔ اس وقت وہ لاش پر صرف یہ تجربہ کر کے دیکھنا چاہتا تھا کہ اگر لاش سلاخوں میں سے سائے کی طرح گزر سکتی ہے تو کسی ٹھوس دیوار میں سے اس طرح سے نہیں گزر سکتی جس طرح کہ کسی دیوار میں سے آواز کی لہریں گزر جاتی ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا وقت آنے پر یا اگر کوئی دیوار لاش کے سامنے آجائے تو کیا لاش اس کے اندر سے گزر سکے گی؟

اس نے زوناش کی لاش کو کہا۔ ” زوناش! پلنگ پر سے اٹھ کر میرے پیچھے پیچھ اوپر آجاؤ۔”

وہ تہہ خانے کے دروازے کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ زوناش کی لاش حکم ملتے ہی پلنگ پر سے اٹھ کر ڈاکٹر کے پاس آگئی۔ ڈاکٹر زینے پر سے ہوتا ہوا لاش کو اپنے ساتھ اوپر کمرے میں لے گیا۔ اس وقت وہ ریسٹ ہاؤس میں اکیلا تھا۔ بوڑھی ملازمہ کھانا وغیرہ دے کر جا چکی تھی۔ اب اس نے صبح آنا تھا۔

ڈاکٹر پرویز نے لاش سے کہا۔ ” زوناش! اس صوفے پر بیٹھ جاؤ۔”

لاش آہستہ آہستہ چلتی ہوئی صوفے پر آکر بالکل ساکت ہو کر بیٹھ گئی۔ ڈاکٹر نے اٹھ کر کمرے کا دروازہ جو مضبوط لکڑی کا تھا بند کر دیا۔ پھر لاش کو ریموٹ کا ایک بٹن دبا کر کہا۔ “زوناش ! سامنے جو بند دروازہ ہے اس میں سے گزر جاؤ۔ دردا کھولنا مت۔ بند دروازے میں سے گزر جاؤ۔ کیا تم میری بات سمجھ گئے ہو؟”

لاش کے حلق سے مخصوص آواز نکلی۔ گویا لاش سب کچھ سمجھ رہی تھی۔

ڈاکٹر پرویز نے اسے حکم دیا۔ ” اٹھو اور سامنے والے بند دروازے میں سے گزر کر دوسری طرف جا کر کھڑے ہو جاؤ۔”

زوناش کی لاش اٹھ کر ایک ایک قدم اٹھاتی دروازے کی طرف بڑھی اور دروازے کے پاس آکر ایک سکنڈ کے لیے رک گئی۔ لاش کے حلق سے عجیب قسم کی غراہٹ کی ہلکی ہلکی آواز نکلنے لگی۔ پھر لاش بے دھڑک بند روازے کی طرف بڑھی اور بند دروازے کے لکڑی کے کواڑ میں سے گزر گئی اور ڈاکٹر کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ ڈاکٹر پرویز خوشی سے اچھل پڑا۔ جلدی سے اس نے دروازہ کھولا اور دوسری طرف جا کر دیکھا۔ لاش دوسرے کمرے میں جا کر وہیں کھڑی تھی۔ اب ڈاکٹر اینٹ پتھر کی دیوار پر تجربہ کرنا چاہتا تھا۔ اگر لاش پتھر کی دیوار میں سے گزر جاتی ہے تو وہ لوہے کی دیوار میں سے بھی گزر سکتی تھی۔ اس نے ریموٹ کنٹرول پر ایک اور بٹن کو دبا کر کہا۔ ” زوناش! پیچھے کی طرف مڑ جاؤ۔”

لاش وہیں کھڑی کھڑی آہستہ آہستہ گھوم گئی۔ اب لاش کا منہ دوسرے کمرے کی دیوار کی طرف تھا۔ انگلستان کے مکانوں کی دیواروں میں پتھر کی اینٹیں زیادہ استعمال ہوتی ہیں کیونکہ بنیادی طور پر یہ سارا علاقہ نیم پہاڑی ہے۔ ڈاکٹر نے زوناش کو حکم دیا۔

“زوناش ! اب سامنے والی دیوار میں سے گزر جاؤ۔”

زوناش کی لاش دیوار کی طرف چل پڑی۔

وہ دیوار کے پاس جا کر رک گئی۔

ڈاکٹر نے کہا۔ ” زوناش ! کیا تم میری بات سمجھ رہے ہو ؟”

زوناش کی لاش نے حلق سے آواز نکالنے کی بجائے اوپر سے نیچے کی طرف کا ایک سر کو ہلکی سی جنبش دی۔ جیسے کہہ رہی ہو کہ میں سمجھ رہا ہوں۔ یہ ایک نئی ترقی ہوئی تھی۔ لاش کی ذہنی نشود نما کا ایک نیا قدم تھا۔ اب وہ اثبات میں سر ہلا کر ہاں کہنے لگی تھی۔ ڈاکٹر پرویز کے لئے یہ خوشی کی بات تھی۔

اس نے حکم دینے کے انداز میں کہا۔ “تو پھر میرا حکم مانو اور سامنے والی دیوار میں سے گزر جاؤ۔”

لاش بڑے آرام سے آگے بڑھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پتھر کی دیوار میں سے گزر گئی۔ ڈاکٹر نے فتح مندی میں سرشار ہو کر زور سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔ لاش پتھر کی دیوار میں سے نکل گئی تھی..

” اب میں اس کی مدد سے حیرت انگیز کام لوں گا میں ساری دنیا کو حیران کر دوں گا۔” ڈاکٹر پرویز خوشی سے چیخا اور دروازے میں سے گزر کر کمرے کی دوسری طرف گیا

لاش وہاں بڑے سکون کے ساتھ کھڑی تھی۔

ڈاکٹرنے لاش سے کہا۔ ” زوناش! میرے ساتھ نیچے تہہ خانے میں آؤ۔”

لاش کھڑی کھڑی گھوم گئی اور وہ ڈاکٹر کے ساتھ اتر کر نیچے تہہ خانے میں آگئی۔ ڈاکٹر نے لاش کو واپس لوہے کے پلنگ پر سلا دیا اور ریموٹ کنٹرول جیب میں رکھ کر عینک اپنی آنکھوں پر سے اتار کر لاش کو دیکھا، لاش غائب تھی۔ اس نے عینک لگا کر دیکھا، لاش نظر آ رہی تھی۔ ڈاکٹر نے عینک کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھی اور تہہ خانے کا دروازہ بند کر کے تالا لگا دیا اور گاڑی لے کر لندن کے سب سے بڑے عجائب گھر میں آگیا۔ یہاں دنیا کے نایاب ترین نوادرات رکھے ہوئے تھے جن میں ایک لعل یمن بھی تھا۔ یہ لعل اس قدر قیمتی تھا کہ آج تک کوئی اس کی قیمت نہ لگا سکا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لعل کسی زمانے میں یمن کی ملکہ صبا کے تاج میں لگا ہوا تھا۔ ملکہ صبا کو یہ قیمتی پتھر فرعون مصر نے تحفے کے طور پر دیا تھا۔ مختلف کے بادشاہوں سے ہوتا ہوا یہ لعل یمن فرانس کے بادشاہ کے پاس آگیا۔ جب فرانس میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا تو یہ لعل انگلستان کی ملکہ کے ہاتھ آگیا جس نے یہ قیمتی نایاب اور تاریخی لعل لندن کے عجائب گھر کے حوالے کر دیا۔ لندن کے عجائب گھر میں یہ سرخ لعل مخمل کی گدی پر رکھا ہوا تھا اور عجائب گھر کے ایک کمرے کے وسط میں شیشے کی ایک میز پر پڑا تھا جس کے ارد گرد مضبوط شیشے کی موٹی چار دیواری بنادی گئی تھی کہ جس میں سے پستول کی گولی بھی ہو۔ نہیں گزر سکتی تھی۔ ایک مسلح گارڈ اس قیمتی لعل کی حفاظت کے لیے ہر وقت وہاں موجود رہتا تھا۔ لوگ دو قدم پیچھے ہٹ کر لوہے کے سبز جنگلے کے پاس کھڑے ہو کر اسے شیشے کی دیوار میں سے لعل یمن کا نظارہ کرتے تھے اور آگے گزر جاتے تھے۔ ڈاکٹر پرویز ایک کاپی اور پنسل ساتھ لے کر گیا تھا۔ وہ لعل یمن والے شیشے کے چبوترے کی ایک جانب مسلح گارڈ کے قریب کھڑے ہو کر لعل یمن کو دیکھنے لگا۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ انگریزی میں کچھ پوائنٹ لکھنے لگتا تھا۔ اس نے مسلح گارڈ سے کہا ” میں ایک ڈاکٹر ہوں ،اور انگلستان کے عجائب گھر پر ایک تحقیقی مقالہ لکھ رہا ہوں جس کی تیاری کے لیے مجھے عجائب گھر کی سب سے قیمتی شے لعل یمن پر خاص طور پر ریسرچ کرنی ہے۔ اس لئے اجازت دیجئے میں یہاں کھڑے ہو کر اس نایاب لعل کو دیکھ کر اس کے بارے میں اپنے تاثرات لکھ سکوں۔”

انگریز گارڈ نے جو پولیس کا سینئر سارجنٹ تھا ڈاکٹر پرویز کو اجازت دے دی کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ وہاں ایک طرف کھڑے ہو کر ریسرچ ورک کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر کا حربہ کامیاب ہو گیا تھا۔ دوسرے دن وہ زوناش کی لاش کو ساتھ لے کر عجائب طرف چل پڑا۔ زوناش کی لاش گاڑی میں اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔ لاش کو پرویز نے پوری طرح سے سب کچھ سمجھا دیا تھا۔ عجائب گھر کے باہر گاڑی کھڑی کرکے ڈاکٹر پرویز نے ایک بار پھر لاش سے مخاطب ہو کر کہا۔ “زوناش! میں نے جو کچھ سمجھایا ہے کیا تم اسے پوری طرح سمجھ گئے ہو ؟”

زوناش کی لاش نے سر ہلا دیا۔ ساتھ ہی حلق سے آواز بھی نکالی۔ جس کا مطلب تھا کہ میں سب کچھ سمجھ گیا ہوں۔

ڈاکٹر نے کہا۔ “تم میرے ساتھ عجائب گھر جاؤ گے اور جہاں شیشے کا چوکور بکس بنا ہوا ہے اس کے پاس جا کر کھڑے ہوجاؤگے ۔ جب میں تمہیں اشارہ کروں گا اور سگنل دوں گا تم شیشے کی دیوار کے اندر جاؤ گے اور میز پر پڑی ہوئی مخمل کی گدی پر سے سرخ رنگ کا پعل اٹھا لوگے اور اس کی جگہ یہ سرخ ہیرا رکھ دو گے۔”

ڈاکٹر نے جیب سے ایک نقلی سرخ لعل نکال کر لاش کی طرف بڑھایا اس لعل اور اس کی چمک دمک بالکل اصلی لعل یمن کی سی تھی مگر وہ نقلی تھا۔ زوناش نے نقلی لعل اپنا ہاتھ بڑھا کر اپنی مٹھی میں بند کر لیا۔ ڈاکٹر نے کہا۔ ”یہ نقلی لعل یمن کی جگہ رکھ کر تم میرے سگنل کے اشارے پر وہاں سے واپس مڑوگے اور شیشے کی دیوار میں سے گزر کر باہر کھڑی اسی گاڑی میں آ جاؤ گے اور میرا انتظار کرو گے۔”

زوناش کی لاش کے حلق سے آواز بھی نکلی اور اس نے سر ہلا کر یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ سب کچھ سمجھ گیا ہے۔ ڈاکٹر نے کہا۔ “گاڑی سے نکل کر میرے پیچھے آؤ”

زوناش کی لاش گاڑی میں سے نکلی اور اس کے پیچھے آکر کھڑی ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر نے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور لاش کو ساتھ لے کر عجائب گھر کی عمارت میں داخل ہو گیا۔ اس نے ایک سیکنڈ کے لئے عینک کو صاف کرنے کے بہانے آنکھوں پر سے اتارا تو اسے لاش بالکل نظر نہیں آئی وہ یہی تسلی کرنا چاہتا تھا کہ لاش لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہی ہے نا۔۔؟

اس نے عینک واپس لگالی۔ لاش اسے نظر آنے لگی تھی۔

وہ لاش کو ساتھ لے کر اس کمرے میں آگیا جہاں شیشے کے چھوٹے سے چبوترے کے اندر شیشے کی میز پر لعل یمن مخمل کی گدی پر پڑا تھا۔ ڈاکٹرنے کاپی ہاتھ میں لے لی تھی۔ اس نے مسلح گارڈ کو ہائے کہا اور ایک طرف کھڑے ہوکر نوٹس وغیرہ لکھنے لگا۔ لاش اس کے پاس ہی کھڑی تھی۔ ڈاکٹر نے ایک ہاتھ جیب میں ڈال لیا۔ اس جیب میں ریموٹ کنٹرول تھا۔ اس نے ایک خاص بٹن دباکر سگنل دیا۔ لاش کو اب کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ سگنل ملتے ہی چبوترے کی طرف چل پڑی۔ وہ لوہے کے سنہری جنگلے کو اٹھائے بغیر اس میں سے گزر گئی۔ سامنے مضبوط شیشے کی دیوار آگئی۔ جس میں سے پستول اور بندوق بھی نہیں گزر سکتی تھی مگر لاش اس میں سے گزر گئی۔ ڈاکٹر پرویز دھڑکتے دل کےساتھ ایک طرف کاپی پنسل لئے کھڑا لاش کو دیکھ رہا تھا۔ لاش کی کارکردگی حیران کن تھی۔ نقلی لعل زوناش کی مٹھی میں تھا۔ڈاکٹر نے عینک اتار کے دیکھا اسے لاش نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ کاپی پنسل لئے لعل یمن کو تکتا رہا۔ دوسرے لمحے مخمل کی گدی پر رکھا لعل سیکنڈ کے لیے غائب ہو گیا اور پھر فوراً ہی اس کی جگہ بالکل اسی سائز اور اسی اور صورت کا نقلی لعل یمن مخمل کی گدی پر ظاہر ہو گیا۔ زوناش کی لاش نے اصلی لعل یمن اٹھا کر اس کی جگہ نقلی لعل یمن رکھ دیا تھا۔ یہ کام لاش نے اتنی سرعت سے کیا تھا کہ اسے ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت لگا ہو گا۔ ڈاکٹر نے جلدی سےعینک اپنی آنکھوں پر لگالی۔ اسے لاش شیشے کی دیوار میں سے باہر آتی نظر آئی۔ وہ دنیا کا سب سے قیمتی موتی اور پتھر لعل یمن اٹھا کر لے آئی تھی اور اسے ایسا کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ اصلی لعل یمن کی جگہ نقلی لعل یمن پڑا آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ شیشے کے باکس کے ارد گرد جو مقناطیسی لہریں تھیں انہوں نے بھی لاش کو کمپیوٹر کی سکرین پر ظاہر نہیں کیا تھا۔ یہ لاش کے بارے میں ایک نیا اور بڑا حوصلہ افزا انکشاف تھا۔ ورنہ یہ اتنی طاقتور ترین لہریں تھیں کہ اگر شیشے کے باکس کے قریب سے کوئی مکھی یا مچھر بھی گزرتا تھا تو مانیٹر روم کے ڈیوٹی گارڈ کو سکرین پر وہ مکھی یا مچھر نظر آ جاتا تھا۔ مگر لاش دو بار شیشے کے سامنے سے گزری تھی اور ایک لمحے کے لیے بھی سکرین پر دکھائی نہیں دی تھی۔لاش ڈاکٹر کے قریب سے ہو کر گزر گئی۔ اب ڈاکٹر لاش کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا ، لاش نے ایک اور ترقی کی تھی۔ اب لاش کے قریب جا کر اسے حکم نہیں دینا پڑتا تھا۔ اب وہ الگ بیٹھ کر صرف ریموٹ کا بٹن دبا کر اور حکم کے الفاظ آہستہ یا دہرا کر لاش سے کام لے سکتا تھا۔ لاش کے دماغ میں کئی نئی نئی باتیں پیدا ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر لاش کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ لاش عجائب گھر کے کمرے میں سے آہستہ آہستہ قدم به قدم چلتی عجائب گھر کے دروازے میں سے گزر کر سیڑھیاں اتر کر باہر آگئی۔ پھر وہ قدم به قدم چل کر پارکنگ کی جگہ پر کھڑے ڈاکٹر کی کے پاس آئی۔ لاش نے اپنے آپ پچھلا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ کر دروازہ بند کردیا۔

ڈاکٹر پرویز کی خوشی کی کوئی حد نہیں رہی تھی۔ لاش نے اس قدر ترقی کرلی تھی کہ وہ دور رہ کر بھی لاش کو اپنے حکم کے مطابق چلا سکتا تھا۔ وہ جلدی جلدی قدم

اٹھاتا گاڑی میں آکر بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر بعد اس کی گاڑی اس کے چچا کے ریسٹ ہاؤس کی طرف تیزی سے رواں دواں تھی۔

ریسٹ ہاؤس پہنچ کر ڈاکٹر نے لاش سے کہا۔ ” زرناش! جو پتھر تم عجائب گھر سے اٹھا کر لائے ہو وہ مجھے دے دو۔”

لاش نے لعل یمن والا ہاتھ ڈاکٹر کی طرف بڑھا دیا اور مٹھی کھول دی، لاش کی مٹھی میں سرخ لعل بڑی آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ ڈاکٹر نے لعل یمن لاش کی ہتھیلی سے اٹھا کر جیب میں رکھ لیا اور ریموٹ کا بٹن دبا کر لاش سے کہا

“زوناش! اب تم نیچے تہہ خانے میں جا کر پلنگ پر سو جاؤ۔”

لاش آہستہ آہستہ چلتی زینہ اتر کر نیچے تہہ خانے میں چلی گئی۔ ڈاکٹر اس کے پیچھے گیا تو اس نے دیکھا کہ لاش پلنگ پر بے حس و حرکت ہو کر لیٹی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر نے تہہ خانے کو بند کر کے دروازے پر تالا لگا دیا اور اوپر ڈرائنگ میں آکر بیٹھ گیا۔ اس نے جیب سے لعل یمن نکال کر سامنے میز پر رکھ دیا اور ب حیرت انگیز نگاہوں سے دیکھنے لگا۔ اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن وہ دنیا کے اس سب سے قیمتی لعل کا مالک بن جائے گا۔ اس نے لعل کو ٹیلی سٹیل کی ڈبی میں بند کیا اور ڈبی کو الماری کے سب سے اوپر والے خانے میر فائلوں اور ڈبوں کے پیچھے چھپا کر رکھ دیا اور الماری کو تالا لگا کر چاہی اپنے پاس رکھ لی۔ اس وقت شام ہو رہی تھی۔

عجائب گھر جب بند ہونے کا وقت آیا تو عجائب گھر کے ماہرین کی پارٹی چیکنگ کے لیے آئی۔ یہ پارٹی ہر روز جب شام کو عجائب گھر بند ہونے لگتا تھا تو عجائب گھر کی انسپکشن ٹیم آکر عجائب گھر کی بعض نایاب اور بے حد قیمتی چیزوں کو چیک کرتی تھی کہ وہ اپنی جگہ پر اصلی حالت میں موجود ہیں یا کسی نے اصلی کی جگہ اٹھا کر نقلی چیز رکھ دی ہے۔ کیونکہ انگلستان اور سارے یورپ میں نوادرات کی اس قسم کی چوریاں عام تھیں۔۔

عجائب گھر کی انسپکشن ٹیم ہیروں کے تین انتہائی ماہر اور تجربہ کار بوڑھے جوہریوں پر مشتمل تھی۔ پولیس ان کے ساتھ تھی۔ ان کی آمد پر شیشے ایک دیوار ہٹا دی گئی۔ تینوں جوہری مخمل کی گدی پر پڑے ہوئے لعل یمن کے پاس گئے اور اسے اٹھا کر باری باری دیکھنے لگے۔ تینوں جوہریوں نے عینکیں لگا رکھی تھیں اور ہاتھوں پر باریک سفید دستانے چڑھائے ہوئے تھے۔ جیسے ہی پہلے جوہری نے محدب شیشے میں سے لعل یمن کو دیکھا تو مارے حیرت کے اس کی آنکھیں اور منہ کھلے کا کھلا رہ گیا کیونکہ لعل یمن کے سرخ پتھر کے اندر بے شمار لہریں نظر آ تھیں۔ یہ اصلی نہیں تھا۔ یہ نقلی لعل یمن تھا جس کی قیمت دس پندرہ روپے زیادہ نہیں تھی۔ اس نے لعل یمن دوسرے جوہری کو دکھایا۔ لعل یمن کو محدب شیشے میں دیکھتے ہی اس پر بھی جیسے سکتہ سا طاری ہو گیا۔ کیونکہ اسے فوراً پتہ چل گیا تھا کہ یہ اصلی لعل یمن نہیں ہے بلکہ نقلی دو ٹکے کا سرخ پتھر ہے۔ اسی وقت عجائب گھر کا خطرے کا الارم بجا دیا گیا اور پولیس نے سارے عجائب گھر کی عمارت کو گھیرے میں لے لیا۔ سب کو معلوم ہو گیا کہ لعل یمن چوری ہو گیا ہے۔ لعل یمن باکس کے پاس جو گارڈ ڈیوٹی دیتا تھا اسے پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا۔ اس وقت ڈاکٹر پرویز ریسٹ ہاؤس کے ڈرائنگ روم میں کافی کی پیالی ہاتھ میں پکڑے ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھا تھا اور ٹی وی پر برٹش کولمبیا کے بارے میں کوئی دستاویزی فلم دکھائی جا رہی تھی، اچانک روک کر انگریزی میں بریکنگ نیوز لکھا ہوا آیا دوسرے ہی لمحے اناؤنسر نے اعلان کیا کہ ابھی ابھی ہمیں خبر ملی ہے کہ لندن عجائب گھر میں سے لعل یمن کا تاریخی ہیرا چرا لیا گیا ہے جس نے ہیرا چرایا ہے، اسنے اصلی کی جگہ نقلی ہیرا رکھ دیا ہے۔ اس کے فوراً بعد عجائب گھر کا منظر دکھایا جانے لگا۔ عجائب گھر میں پولیس ہی پولیس تھی۔ سارے عجائب گھر کو سیکیورٹی گارڈز نے گھیرے میں لے لیا تھا اور ایک ایک شخص کی تلاشی لی جارہی تھی اور ساتھ ہی معذرت بھی کی جا رہی تھی کہ ہم ایسا کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ پولیس کو یقین ہے کہ لعل یمن کا چور ابھی تک عجائب گھر کی عمارت میں موجود ہے۔ یہ پروگرام ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ عجائب گھر میں موجود تمام لوگوں کی تلاشی لی گئی، مگر کسی کے پاس سے لعل یمن بر آمد نہ ہوا۔ اناؤنسر نے سکرین پر آکر کہا۔ لندن کی پولیس سکاٹ لینڈ یارڈ اس بات پر حیران ہے اور ابھی تک اس کو زیادہ کوئی جواز مہیا نہیں کر سکی کہ یہ کیسے ہو گیا کہ چور شیشے کے مضبوط ترین باکس میں داخل ہوا، داخل ہونے کے بعد اس نے اصلی لعل اٹھا کر اس کی جگہ نقلی لعل رکھا ۔ اور کسی گارڈ نے اسے نہ دیکھا۔ کسی گارڈ کو وہ دکھائی نہ دے سکا۔ اور کمپیوٹر مانیٹر روم میں کنٹرول پینل پر بیٹھے گارڈ کو بھی سکرین پر کچھ دکھائی نہ دیا۔ اناؤنسر نے کہا کہ لعل یمن کا چور یا تو کوئی انتہائی عیار سائنس دان ہے اور یا پھر کوئی بھوت ہے جو سخت جدید سائنس کے آلات کو بھی دھوکا دے کر سب کی آنکھوں میں دھول جھونک کر انگلستان کا سب سے قیمتی اور تاریخی ہیرا چرا کر لے گیا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی۔۔

پولیس مصروف تفتیش ہے اور اس سلسلے میں سدھائے ہوئے کتوں سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔ اب اس بارے میں لندن کے لارڈ میئر اپنے تاثرات بیان کریر گے۔

لندن کے لارڈ میئر نے ٹیلی ویژن پر آکر اپنے تاثرات بیان کرنے شروع کر دیئے۔ ڈاکٹر پرویز نے ٹی وی کی آواز بہت مدہم کر دی اور کافی کا گھونٹ نگل کر فاتحان انداز میں اپنا سر صوفے کی پشت سے لگا دیا۔

اسی وقت ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے ڈاکٹر کا لندن والا انکل

بول رہا تھا۔ اس نے کہا۔ “پرویز! تم نے ٹیلیویژن پر خبر سنی ہے؟ عجائب گھر کا سب سے قیمتی ہیرا لعل یمن چوری ہو گیا ہے۔” پرویز نے کہا۔ “جی ہاں انکل! میں نے ابھی ابھی یہ خبر سنی ہے۔ میں تیرا پیر ہوں کہ اتنی زبردست سیکیورٹی کے باوجود لعل یمن چرا لیا گیا ہے۔”

انکل بولے۔ ” اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ چور کسی گارڈ کو نظر نہیں آیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کام کسی بھوت کا ہی ہوسکتا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “انکل آج کل کے زمانے میں بھوت نہیں ہوتے۔”۔۔

انکل نے کہا۔ ”بھائی! تمہیں معلوم نہیں، انگلستان میں اس وقت سب سےزیادہ بھوت پائے جاتے ہیں۔ جتنی یہ قوم بھوت پریت کی قائل اور تو ہم پرست ہے اتنے ہم بھی نہیں ہیں۔ تم ٹھیک ہو ناں؟”

”ہاں انکل میں بالکل ٹھیک ہوں۔ میرا آدھا دن لندن کی بڑی لائبریری میں گزر جاتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی پر بھی ریسرچ کر رہا ہوں۔”

انکل نے کہا۔ “شاباش! میاں محنت کرو گے تو کچھ حاصل ہوگا۔ یہ عمر تمہاری محنت کرنے کی ہے۔ یہاں لندن میں ایک ہی آرام ہے کہ تمہیں کوئی ڈسٹرب نہیں کرے گا۔ اچھا بھی خدا حافظ۔ کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے فون پر بتا دینا۔ شرمانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ اوکے۔”

“تھینک یو انکل۔ خدا حافظ!”

ڈاکٹر پرویز نے فون بند کر دیا۔۔۔

اب جو اہم مرحلہ ڈاکٹر پرویز کے سامنے تھا وہ لعل یمن کو فروخت کرنے کا مرحلہ تھا۔ ظاہر ہے اس نے یہ قیمتی لعل اپنے پاس رکھنے کے لیے تو نہیں چرایا تھا۔

لندن میں لعل یمن کو فروخت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کے لئے یورپ کوئی نیا براعظم نہیں تھا۔ اس سے پہلے وہ لندن پیرس اور جرمنی کے شہروں کے کافی چکر لگا چکا تھا اور چونکہ ڈاکٹر پرویز کا مزاج شروع ہی سے مجرمانہ ذہنیت کا حامل تھا اس لئے وہ اکثر جرم و سزا کے ناول اور ڈرگ ٹریف کنگ مافیا کے بارے میں لکھی گئی کتابیں اور فلموں کا بہت شوقین تھا اور دو سال پہلے اس نے پیرس کے زیر زمین کام کرنے والے بڑے پڑھے لکھے مگر انتہائی خطرناک جرائم پیشہ لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ تھوڑے سے تعلقات بھی پیدا کر لئے تھے

ان میں پیری نام کا ایک دوائیوں کا ایجنٹ تھا جو بظاہر تو دوائیوں کی ایک کمپنی کے لئے کام کرتا ما مگر در پردہ وہ زیر زمین مافیا گروپ کا ممبر تھا اور منشیات کی سمگلنگ بھی کرتا تھا پیری تیس، پینتیس سال کا ایک جوان آدمی تھا جو فرانسیسی زبان میں شاعری بھی کر لیتا تھا اور ڈاکٹر پرویز کا دوست بن گیا تھا۔

چنانچہ ڈاکٹر پرویز نے سوچا کہ پیرس جا کر پیری سے ملنا چاہئے اور ذرا اندازہ لگانا چاہئے کہ وہ آج کل کیا کر رہا ہے اور یہ کہ کیا لعل یمن کی فروخت کے سلسلے میں اس کی مدد لی جا سکتی ہے۔ کیونکہ پیری کے فرانس اور جرمنی کے بڑے بڑے ناجائز کاروبار کرنے والے مگرمچھوں کے ساتھ بھی تعلقات تھے اور وہ ان کے لیے بھی کام کرتا تھا۔ پیرس لندن سے زیادہ دور نہیں تھا۔ پیری کا ٹیلی فون نمبر اور اس کے فلیٹ کا ایڈریس اس کی ڈائری میں لکھا ہوا تھا۔ اس نے سب سے پہلے فون پر نمبر ملایا۔ دوسری طرف سے آپریٹر نے کہا کہ جس نام سے یہ نمبر ایشو کیا گیا تھا اس کا نمبر بدل گیا ہے۔ دوسرا نمبر نوٹ کر لیں۔ ڈاکٹر پرویز نے فوراً دوسرا نمبر لکھ لیا اور پھر اس پر فون کر دیا۔ دوسری طرف گھنٹی بجتی رہی۔ کچھ دیر بعد کسی نے ریسیور اٹھا کر فرانسیسی میں پوچھا۔ “کس سے ملنا ہے؟“

ڈاکٹر پرویز کو تھوڑی بہت فرانسیسی زبان آتی تھی۔ اس نے کہا۔ ”کیا میں مسٹر پیری فرانویل سے بات کر سکتا ہوں؟”

دوسری طرف سے کہا گیا۔ ”ہولڈ کرو۔ میں پیری کو فون دیتا ہوں۔”

دوسرے ہی لمحے ڈاکٹر پرویز کے کانوں میں ایک مانوس آواز آئی۔ ”ہیلو! میں پیری فرانویل بول رہا ہوں۔”

ڈاکٹر پرویز نے فرانسیسی میں ہی کہا۔ ”

پیری! میں ڈاکٹر پرویز بول رہا ہوں مجھے پہچانا۔ ڈاکٹر پرویز فرام لاہور ۔”

پیری کے قہقہے کی آواز آئی۔ ”ہیلو ڈاکٹر! تم کیسے ہو؟ اتنے دن کہاں رہے، کہاں سے بول رہے ہو ؟”

پرویز نے کہا۔ “میں لندن سے بول رہا ہوں۔ یہاں ریسرچ ورک کے سلسلے میں آیا ہوا ہوں، تم سے ملنا چاہتا ہے، کیا اسے کی پیرس میں ہی ہوتے ہو ؟”

پیری نے کہا۔ ”بھائی میں کہاں جاؤں گا۔ پیرس مجھے نہیں چھوڑ سکتا، میں پیرس کو نہیں چھوڑ سکتا ، تم آجاؤ، آنے سے پہلے مجھے فون کر کے بتادینا”

ڈاکٹر پرویز کو اچانک زوناش کی لاش کا خیال آگیا۔ وہ اسے ریسٹ ہاؤس میں اکیلے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا۔ اس نے پیری سے کہا۔ ” پیری ڈیر! کیا ایسا ہو سکتا کہ تم ایک دن کے لیے لندن میرے پاس آجاؤ دوپہر کا کھانا میرے ساتھ کھانا۔ تم سے ایک بڑی ضروری بات کرتی ہے۔”

پیری نے پوچھا۔ “کس سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہو ؟”

پرویز نے کہا۔ ”بس تم سے ایک چھوٹا سا کاروباری مشورہ لینا ہے۔ تمہارے علاوہ میں کسی اور سے اس قسم کا مشورہ نہیں لے سکتا۔ کیونکہ میں تمہارے سوا کسی کو لائق نہیں سمجھتا۔”

ڈاکٹر پرویز دوسروں سے کام نکالنا خوب جانتا تھا۔ پیری اس خوشامد سے بڑا خوش ہوا۔ کہنے لگا۔” میں کل دس بجے آ سکتا ہوں۔ تم کہاں پر ہوتے ہو؟”

ڈاکٹر پرویز نے اسے اپنا فون نمبر اور ریسٹ ہاؤس کا پورا ایڈریس لکھوا دیا۔ دوسرے دن

گیارہ بجے کے قریب پیری فرانویل ریسٹ ہاؤس کے ڈرائنگ روم میں پرویز کے ساتھ بیٹھا کافی پیتے ہوئے بڑی گرمجوشی سے باتیں کر رہا تھا۔ دونوں اٹھے لنچ کیا۔ بوڑھی انگریز ملازمہ نے بڑا عمدہ لنچ بنایا تھا جس میں دو فرنچ ڈشیں رکھی تھیں۔ لنچ کے بعد انہوں نے ایک ایک پینگ برانڈی کا پیا اور پھر ملازمہ کافی لے کر آئی اور دونوں کافی ٹیبل پر آکر بیٹھ گئے۔ پیری نے سگریٹ سلگانے کے بعد پوچھا

” ڈاکٹر ! اب بتاؤ تم کس سلسلے میں مجھ سے بات کرنے والے تھے”؟؟

ڈاکٹر پرویز نے پہلے ہی سے سوچ لیا تھا کہ پیری کے ساتھ مطلب کی بات کس طرح کرنی ہے۔ ڈاکٹر پرویز اندر سے بڑا کائیاں آدمی تھا۔ اس نے پیری سے کہا

” بات یہ ہے کہ میرا ایک دوست انڈیا کے عجائب گھر سے چرائی ہوئی ایک قیمتی مورتی لا رہا ہے کیا تمہارا کوئی ایسا جانے والا ہے کہ اس مورتی کو فروخت بھی کردے اور بات باہر بھی نا جائے؟؟”

پیری بولا۔ ” تم تو جانتے ہی ہو کہ ہمارا سارا کاروبار رازداری سے ہوتا۔ اگر رازداری نہ برتی جائے تو ہم پر اعتبار کون کرے گا۔ تمہارا دوست یہ تاریخی مورتی کب لا رہا ہے؟”

پرویز نے کہا۔ “بس ایک دو دن میں آجائے گا۔”

پیری بولا۔ ”ٹھیک ہے۔ جس وقت وہ آئے۔ تم مجھے پیرس فون کر دینا میں اپنے آدمی کو لے کر آجاؤں گا اس جگہ پر بیٹھ کر سودا ہو جائے گا۔“ اس کے بعد پیری واپس پیرس چلا گیا۔

ڈاکٹر پرویز اس آدمی کو دیکھنا چاہتا تھا جس کو پیری اپنے ساتھ لانے والا تھا اس نے سوچ رکھا تھا کہ اگر وہ تیسرا آدمی قابل اعتبار دکھائی دیا تو وہ پیری کو درمیان میں سے نکال دے گا اور اس تیسرے آدمی سے ہی بزنس کرے گا۔

اس روز لندن کا موسم ابر آلود تھا۔ شام کو ہلکی ہلکی بارش شروع ہو گئی۔اس کے ساتھ ہی سردی بھی بڑھ گئی اور دھند نے سارے لندن شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ڈاکٹر پرویز بیڈ روم میں گرم ہو کر بیٹھا تھا کہ اس کے انکل کا فون آگیا۔

انکل نے کہا۔ “پرویز بیٹا! تم سے ایک ضروری مشورہ کرنا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے آجاؤ، گاڑی بھیج رہا ہوں۔”

ڈاکٹر کا باہر نکلنے کو بالکل جی نہیں چاہتا تھا لیکن انکل کے اس پر بڑے احسانات تھے۔ وہ انکار نہیں کر سکتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی آگئی۔ ڈاکٹر پرویز گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔ پیچھے بوڑھی ملازمہ تھی جو رات کا کھانا بنانے میں لگی ہوئی تھی۔ تیز بارش ہو رہی تھی۔ بارش اور دھند نے سردی میں اضافہ کر دیا تھا۔ بادل دھند کی وجہ سے شام کا اندھیرا بڑی جلدی پھیل گیا۔ بارش میں بھیگتی سڑکیں خالی ہو گئیں۔ کسی کسی وقت کوئی گاڑی تیزی سے گزر جاتی تھی۔ ڈاکٹر پرویز کو انکل کے ہاں کچھ زیادہ وقت لگ گیا۔

انکل نے کہا۔ “کھانا کھا کر جانا۔ میں ملازمہ کو ریسٹ ہاؤس فون کر دیتا ہوں۔”

اس نے ریسٹ ہاؤس کا نمبر ملا کر بوڑھی انگریز ملازمہ سے کہا کہ ڈاکٹر رات کا کھانا میرے ساتھ ہی کھائے گا۔ تم نے اگر کھانا تیار کر لیا ہے تو اسے ریفریجریٹر میں رکھ دینا اور تالا لگا کر چلی جانا۔ ڈاکٹر پرویز کے پاس ڈپلیکیٹ چابی ہے۔ بوڑھی انگریزی خادمہ نے کھانا تیار کر لیا ہوا تھا اور ڈاکٹر پرویز کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی۔ جب انکل کا فون آگیا تو اس نے کھانا ریفریجریٹر میں رکھا اور ریسٹ ہاؤس کو تالا لگا کر چلی گئی۔ شام کا اندھیرا رات کی تاریکی میں تبدیل ہو چکا تھا۔ سڑکوں پر کپکپا دینے والی سرد دھند کی چادری پھیل گئی تھی۔ ریسٹ ہاؤس کے سب کمروں کی بتیاں بجھی ہوئی تھیں۔ صرف کچن کی اور ریسٹ ہاؤس کے باہر دروازے والی بتی روشن تھی۔ تہہ خانے میں زوناش کی لاش سٹریچر پر بالکل سیدھی پڑی سو رہی تھی۔ ریموٹ کنٹرول جاتی دفعہ ڈاکٹر پرویز اسی الماری میں رکھ گیا تھا جس کے اوپر والے خانے میں اس نے فائلوں کے پیچھے لندن کے عجائب گھر سے چرایا ہوا قیمتی لعل ڈبی میں بند کر کے چھپایا ہوا تھا۔

ریسٹ ہاؤس کے تاریکی میں ڈوبے ہوئے کمروں پر سرد اور گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ باہر سڑک پر بھی سناٹا تھا۔ سخت سردی بارش اور دھند کی وجہ سے کاؤنٹی کے علاقے میں پراسرار سکوت چھایا ہوا تھا۔ ریسٹ ہاؤس لندن سے دور ایک پر فضا مقام پر واقع تھا۔ تہہ خانے میں زوناش کی لاش کو ڈاکٹر پرویز ریموٹ کنٹرول کے ذریعے سو جانے کا حکم دے گیا تھا۔ لیکن جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ لاش کا دماغ جو لندن کے نامی گرامی قاتل والڈروف کا دماغ تھا اور اسے کسی دوسرے مردے کی کھوپڑی میں لگا دیا گیا تھا اب آہستہ آہستہ بہت کچھ سوچنے لگا تھا۔ اس کے دماغ نے زوناش کی لاش کو بتا دیا تھا کہ اس میں ایک ایسے آدمی کا دماغ فٹ کر دیا گیا جو کسی زمانے میں اپنی محبوبہ مارگریٹ کی بے وفائی کی وجہ سے قاتل بن گیا تھا۔ اس نے مارگریٹ کو بھی قتل کر دیا تھا اور اس کے سارے خاندان کو بھی ہلاک کر ڈالا تھا اور اس کے بعد اس نے سینکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ،پولیس نے اسے گرفتار کر لیا تھا۔ اس پر مقدمہ چلا تھا اور اسے عدالت نے پھانسی کی سزا سنا دی تھی۔ پھانسی دینے کے بعد حکومت نے اس کے دماغ کو والڈروف کی کھوپڑی میں سے نکال کر لندن کے عجائب گھر میں رکھ دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر پرویز اور اس کے دوست ڈاکٹر دارا نے یہ دماغ چرا لیا تھا اور چرا کرا اپنے ملک میں لے گئے تھے اور اسے اپنی بنائی ہوئی لاش کی کھوپڑی میں اس طرح سے لگادیا تھا کہ دماغ کی ساری رگیں جسم کی دوسری رگوں سے جوڑ دی تھی ،وہ لندن کے عجائب گھر سے دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا دماغ چرانے تھے لیکن غلطی سے دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ چرا کر لے آئے تھے رگوں کے ایک دوسرے سے منسلک ہو جانے کی وجہ سے اندر ہی اندر زوناش کی لاش کے دماغ نے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ اسے اپنا سارا ماضی یاد آگیا تھا۔ اسے محبوبہ مارگریٹ بھی یاد آگئی تھی۔ لاش کو یہ بھی احساس ہو چکا تھا کہ ڈاکٹر پرویز اسے اپنا غلام بنا کر اس سے اپنی مرضی کے مطابق لوگوں کو قتل کروانا اور ڈاکے ڈلوانا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر پرویز نے زوناش کی لاش کی مدد سے کچھ لوگوں کو قتل بھی کروایا تھا اور بینکوں میں ڈا کے بھی ڈلوائے تھے۔

اس وقت بھی نیم روشن تہ خانے کے سٹریچر پر لیٹی ہوئی لاش یہی سوچ رہی تھی۔ لاش کا دماغ کسی شریف آدمی کا دماغ نہیں تھا۔ وہ ایک خوفناک قاتل کا دماغ تھا۔ چنانچہ لاش کے دماغ نے ڈاکٹر پرویز کی غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنے اور اپمی محبوبہ مارگریٹ کی قبر کو تلاش کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسے اتنا یاد تھا کہ اس کی محبوب مارگریٹ کو لندن کے جنوب میں ایک پرانے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔ لاش نے دو، ایک بار دیکھا تھا کہ ڈاکٹر پرویز ریموٹ کنٹرول ڈرائنگ روم والی الماری میں چھپا کر رکھتا ہے۔ زوناش کی لاش کا دماغ سوچنے لگا کہ وہ اپنی محبوبہ کی قبر پر جائے تو اس کے لیے کیا تحفہ لے کر جائے۔ وہ کوئی بڑا قیمتی تحفہ لے کر جانا چاہتا تھا۔ اچانکاسے خیال آگیا کہ وہ لندن کے عجائب گھر سے جو قیمتی لعل چرا کر لایا ہے اور جو اس نے پرویز کو دے دیا تھا کیوں نہ وہی لعل اپنی محبوبہ کو پیش کرنے کے لیے لے جائے؟؟۔

یہ بات ہم بتا دیں کہ زوناش کی لاش پر ریموٹ کنٹرول کی گرفت وقت کے ساتھ ساتھ ڈھیلی پڑتی جا رہی تھی۔ چونکہ لاش کا دماغ بیدار ہو رہا تھا اس وجہ سے اس کی اپنی قوت ارادی نے بھی کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے باوجود زوناش کی لاش ریموٹ کنٹرول کو اپنے قبضے میں کر لینا چاہتی تھی۔ زوناش کی لاش یہ سب کچھ سوتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ پھر اچانک لاش نے اپنی بے نور مردہ آنکھیں کھول دیں۔ ڈاکٹر پرویز اب لاش کو سٹریچر پر چمڑے کی پیٹ سے باندھا نہیں کرتا تھا۔

لاش بالکل کھلی حالت میں سٹریچر پر پڑی تھی۔ اگر اسے چمڑے کی بیلٹ یا نجیروں سے باندھا بھی ہوتا تو لاش میں اتنی زبر دست طاقت آگئی تھی کہ وہ ایک ہی جھٹکے سے آہنی زنجیروں کو توڑ سکتی تھی۔ زوناش کی لاش کی آنکھیں نیم وا تھیں اور اس کا دماغ تیزی سے اپنے منصوبے پر کام کر رہا تھا۔ زوناش کو پتہ چل گیا تھا کہ اس پر ریموٹ کنٹرول کا اثر کمزور پڑگیا ہے، لاش نے اپنی قوت ارادی سے آنکھیں کھولی ہیں۔ وگر نہ پہلے اسے ڈاکٹر پرویز ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر حکم دیتا تھا کہ آنکھیں کھول کر بیدار ہو جاؤ اور لاش بیدار ہو جاتی تھی۔ اب ایسا نہیں ہوا تھا۔ پھر بھی لاش ڈاکٹر پرویز کے ریموٹ کنٹرول کو اپنے قبضے میں لے لینا چاہتی تھی۔ لاش آہستہ سے سٹریچر پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔ لاش کے سانس کی آواز ایسی آرہی تھی جیسے کسی سٹیم انجن میں سے دھیمی آواز میں بھاپ خارج ہو رہی ہو۔ لاش سٹریچر سے اتر کر آہستہ آہستہ چلتی تہ خانے کے دروازے کی طرف بڑھی۔ ڈاکٹر پرویز نے تہ خانے کے دروازے پر باہر سے تالا لگایا ہوا تھا۔ مگر لاش کو دروازہ توڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے اندر جو کیمیاوی انقلاب برپا ہو چکا تھا اس نے لاش کو اس قابل بنا دیا تھاکہ وہ پتھر کی دیوار میں سے بھی گزر سکتی تھی جس طرح آواز کی لہریں بغیر کسی رکاوٹ کے گزر جاتی ہیں۔ چنانچہ لاش بڑے آرام سے چلتے ہوئے دروازے میں سے گزر گئ ۔

لاش اندھیری سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر آگئی۔ لاش کو معلوم تھا کہ وہ الماری کہاں ہے جہاں ڈاکٹر پرویز ریموٹ کنٹرول اور اپنی دوسری قیمتی چیزیں رکھتا ہے۔ اس نے انمول لعل بھی وہیں رکھا تھا۔ یہ ڈرائنگ روم کی الماری تھی۔ لاش تاریک ڈرائنگ روم میں آگئی۔ لاش اندھیرے میں بھی دیکھ سکتی تھی۔ وہ سیدھی الماری کے پاس گئی۔ اس نے اپنا سر بند الماری کے اوپر والے خانے میں ڈال دیا۔ خانے میں اسے ایک طرف ریموٹ کنٹرول پڑا نظر آگیا۔ اس نے ریموٹ کنٹرول اٹھا لیا۔ اس کے بعد لاش نے فائلوں کو ایک طرف ہٹایا تو اسے ڈبی میں بند عجائب گھر سے چرایا ہوا قیمتی لعل یمن بھی مل گیا۔ لاش نے یہ دونوں چیزیں اپنے بوسیدہ لمبے کرتے میں چھپا کر رکھ لیں اور راہ داری میں سے ہوتی ہوئی ریسٹ ہاؤس کے بند دروازے پر آگئی۔ یہ دروازہ بھی باہر سے مقفل تھا۔ لاش بڑے آرام سے بند دروازے میں سے گزر کر باہر دھند میں ڈوبی پر آگئی۔ لاش کے دماغ کو سارا علاقہ یاد آگیا تھا۔ وہ والڈروف قاتل کا دماغ تھا اور والڈروف قاتل انگلستان کا رہنے والا تھا۔ وہ لندن اور اس کے دیہات کی ایک ایک جگہ سے واقف تھا۔ وہاں سے اسے لندن شہر کے جنوب میں پرانے قبرستان جانا تھا۔ لاش غیبی حالت میں تھی اور کسی کو نظر نہیں آرہی تھی۔ لاش نے لندن کے جنوب کی طرف رخ کر لیا اور سڑک کے کنارے کنارے چل پڑی۔ اس وقت اگر لاش کسی کو نظر آجاتی تو وہ اسے دیکھتے ہی دہشت کے مارے بے ہوش ہو جاتا۔۔ سات سوا سات فٹ کی دراز قد لمبے بوسیدہ کوٹ نما کرتے اور کٹے پھٹے سئیے ہوئے مردہ سپاٹ چہرے والی لاش کو اندھیری سرد دھند میں ڈوبی سڑک پر جاتے دیکھ کر کون بےہوش نہیں ہوگا۔

زوناش کی لاش کو احساس ہوا کہ وہ آہستہ آہستہ چل رہا ہے اور اس نے رفتار سےچلتے ہوئے وہ صبح کے وقت ہی لندن پہنچے گا۔ جبکہ وہ اپنی محبوبہ کی قبر پر بڑی جلدی پہنچنا چاہتا تھا۔ اسے اپنے پیچھے موٹر کار کے ہارن کی آواز سنائی دی۔ لاش نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔ دھند میں دور سے آنے والی موٹر کار کی بتیوں کی روشنی پڑ رہی تھی، کوئی گاڑی آرہی تھی۔ لاش سڑک کے کنارے کھڑی ہو گئی۔ اتنے میں ایک ٹرک دھند کی وجہ سے بہت دھیمی رفتار سے آتا نظر آیا۔ جب ٹرک زوناش کے قریب سے گزرنے لگا تو لاش بڑے آرام سے ٹرک پر چڑھ گئی۔ وہ کھلے ٹرک کے پیچھے جا کر کھڑی ہو گئی تھی۔ چونکہ لاش کو علم تھا کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا اس لئے وہ بڑی بے نیازی کے ساتھ ٹرک میں کھڑی تھی۔ یہ ٹرک لندن جا رہا تھا۔ اندھیرے اور دھند میں بھی لاش نے ٹرک پر لکھا ہوا نمبر پڑھ لیا تھا۔ زوناش کی لاش کا دماغ بڑی تیزی سے اپنے ماضی کو یاد کر رہا تھا، پچاس سال پہلے زوناش یعنی والڈروف کو سینکڑوں انسانوں کے قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔ پچاس سال میں انگلستان کا ماحول بہت بدل گیا تھا۔ ٹرک شہر میں داخل ہو گیا تھا۔ لندن بارش اور دھند میں ڈوبا ہوا تھا۔ شہر کی بے شمار روشنیاں ستاروں کی طرح اس دھند میں جھلملا رہی تھیں۔ پچاس برس پہلے لندن میں اتنی روشنیاں نہیں تھیں۔ والڈروف کو سب کچھ یاد آنے لگا تھا۔ سڑکیں ، پارک، باغ وہی تھے۔ کہیں کہیں اونچی اونچی بلڈ نگیں کھڑی ہو گئی تھیں۔ ٹرک شہر کے گنجان علاقے میں ایک جگہ پہنچ کر رک گیا۔ لاش بڑے آرام اس ٹرک سے نیچے اتر گئی۔ بہت جلد اس نے علاقے کو پہچان لیا۔ یہ جنوبی لندن کا علاقہ تھا، یہاں سے پرانا قبرستان کوئی ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ دھند میں ڈوبی ہوئی سڑک پر گاڑیاں آجا رہی تھیں مگر ان کی رفتار بہت دھیمی تھی اور ان کی پوری بتیاں روشن تھیں تاکہ دھند کی وجہ سے کوئی حادثہ نہ ہو جائے۔ زوناش کی لاش سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر ایک طرف کو چل دی تھی۔

ایک بلی سردی میں دیوار کے ساتھ لگ کر سمٹی ہوئی بیٹھی تھی۔ اس نے زوناش کی لاش کو دیکھ لیا تھا۔ بلی نے ایک ڈراؤنی چیخ ماری اور ایک طرف کو بھاگ گئی۔ لاش نے گردن موڑ کر بلی کو دیکھا بلی سڑک کی دوسری طرف دھند میں غائب ہو چکی تھی ۔۔

لاش دوبارہ آہستہ آہستہ چل پڑی۔ لاش آبادی سے باہر آگئی تھی۔ اس کے ایک جانب ایک اجڑا ہوا سیب کا باغ تھا جس کے بے برگ و بار ننگی ٹہنیاں سرد کہرے ٹھٹھر رہی تھیں، دوسری طرف کھیت ہی کھیت تھے۔ جس کچی سڑک پر لاش جارہی تھی وہ سیدھی قبرستان کے گیٹ کی طرف چلی گئی تھی۔ قبرستان کے گیٹ کو زوناش یعنی والڈروف کی لاش نے پہچان لیا۔ گذشتہ پچاس سالوں میں قبرستان کا گیٹ اور زیادہ بوسیدہ ہو گیا تھا۔ اس کی ایک دیوار جنگلی بیل کی شاخوں میں چھپ گئی تھی۔ گیٹ کا کوئی دروازہ نہیں تھا۔ ایک جانب گورکن کی کوٹھڑی تھی جس کی کھڑکی کے شیشے میں سے دھیمی دھیمی روشنی باہر نکل رہی تھی۔ شاید گورکن رات کا کھانا پکا رہا تھا۔ قبرستان گہری خاموشی میں غرق تھا۔ کہرے کی ٹیڑھی میڑھی چادر بادل کی طرح قبروں کے اوپر پھیلی ہوئی تھی۔ خاموشی اس قدر تھی کہ زوناش کی لاش کو بھی اپنے کان سنسناتے محسوس ہونے لگے تھے لیکن لاش کو ڈر خوف بالکل محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ ڈر خوف اسے کیسے لگ سکتا تھا۔ اس لاش کا جسم مختلف مُردوں کے اعضا جوڑ کر بنایا گیا تھا۔ لاش کا کوئی بھی عضو اپنا نہیں تھا، اپنا صرف اس کا دماغ ہی تھا۔

یہ دماغ ہی تھا جو لاش کو اس کی زندہ حالت میں چلا پھرا رہا تھا اور اس سے اپنی مرضی کے مطابق کام لے رہا تھا۔

لاش کو اپنی محبوبہ مارگریٹ کی قبر کی تلاش تھی۔ اس نے مارگریٹ کی قبر نہیں دیکھی تھی۔ جب لاش یعنی والڈروف نے مارگریٹ اور اس کے سارے گھر والوں کو قتل کیا تھا تو وہ لندن میں روپوش ہو گیا تھا۔ ویسے بھی اسے مارگریٹ کے جنازے میں شرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ وہ تو اسے بے وفا سمجھ رہا تھا حالانکہ وہ لڑکی ایسی نہیں تھی۔ وہ اپنے چچا کی وجہ سے مجبور تھی۔

اس کے بعد لاش یعنی والڈروف نے قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا۔ اس نے لندن میں پچاس ساٹھ خون کئے اور پیرس۔بھاگ گیا وہاں بھی اس نے سو کے قریب فاحشہ عورتوں یعنی طوائفوں کو قتل کیا اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھاگتا پھرتا رہا اور قتل و غارت گری جاری رکھی۔ آخر پکڑ لیا گیا۔ چنانچہ اسے مارگریٹ کی قبر دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ مارگریٹ کی قبر پر اس کے نام کا کتبہ ضرور لگا ہوا ہو گا۔ ۔ زوناش ٹوٹی پھوٹی قبروں کے درمیان شبنم اور بارش میں بھیگی ہوئی لمبی لمبی گھاس پر چلتا ایک ایک قبر کو جھک کر دیکھ رہا تھا۔ آخر اسے ایک کتبہ نظر آیا جو ایک طرف کو جھکا ہوا تھا۔ زوناش نے کتبے کو سیدھا کر کے پڑھا تو اس پر لکھا تھا۔ “مس مارگریٹ ڈنکن”

اس کے نیچے مارگریٹ کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات لکھی ہوئی تھی۔ زوناش کچھ دیر قبر کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔ مارگریٹ کے سارے خاندان کو زوناش نے قتل کر ڈالا تھا۔ وہیں ساتھ ہی مارگریٹ کے خاندان کے دوسرے افراد کی قبریں تھیں۔

قبروں پر گھاس اگ آئی تھی۔ ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں بچا تھا۔ زوماش کے حلق سے عجیب سی آواز نکلی جیسے مارگریٹ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا ہو۔ اچانک لاش یعنی زوناش کو کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے آہستہ آہستہ گھوم کر پیچھے دیکھا۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔ اس کو اس طرح محسوس جیسے کوئی آہیں بھرتا اس کے قریب سے گزر گیا ہو۔ زوناش قبرستان کی تاریک دھند میں دیکھ رہا تھا۔ اسے قبرستان کے جھکی ہوئی شاخوں والے درخت ایسے لگ رہے تھے جیسے وہ قبروں پر جھک کر مرنے والوں کا ماتم کر رہے ہوں۔

اس کے دماغ نے اسے یقین دلایا تھا کہ اس کے قریب سے کوئی آہیں بھرتا گزر گیا ہے۔ زوناش کو یہ خیال بھی آیا کہ کہیں یہ مارگریٹ کی روح تو نہیں تھی۔ مارگریٹ اس سے بہت محبت کرتی تھی مگر اس نے اتنی پیاری محبت کرنے والی نوجوان لڑکی کو قتل کردیا تھا، زوناش کا دماغ اپنے اس گناہ پر بہت پچھتا رہا تھا۔ اسے مارگریٹ کے رشتہ داروں کے قتل کا ذرا سا بھی پچھتاوا نہیں تھا مگر مارگریٹ کے قتل کا اسے افسوس تھا۔ وہ خود بھی مارگریٹ سے بڑی محبت کرتا تھا۔ یہ اس کی محبت ہی تھی جو اسے کھینچ کر قبرستان لے آئی تھی۔

زوناش کچھ دیر مارگریٹ کی قبر پر بالکل خاموش اور ساکت کھڑا رہا۔ پھر سامنے کی طرف چل پڑا۔ وہ قبرستان کے گورکن کی کوٹھڑی کے پاس آکر رک گیا۔

گورکن سٹول پر بیٹھا پیالے میں سوپ پی رہا تھا۔ کوٹھڑی کی بتی روشن تھی۔

زوناش پیچھے ہٹا تو اس کا ہاتھ کھڑکی کے شیشے سے ٹکرا گیا۔ اس آواز پر گورکن نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔ وہ اٹھ کر آیا اور اس نے کھڑکی کھول کر باہر جھانک کر دیکھا اور پوچھا۔ “کون ہے ؟”

زوناش چند قدم کے فاصلے پر خاموش کھڑا تھا اور گورکن کو دیکھ رہا تھا۔ گورکن نے کھڑکی بند کر دی اور پیچھے ہٹ کر سٹول پر بیٹھ گیا اور سوپ پینے لگا۔ زوناش قبروں کی طرف مڑگیا۔ ایک جگہ بہت سی قبرس بنی ہوئی تھیں۔ اچانک زوناش کو مارگریٹ کے لباس کی دھیمی سی خوشبو آئی۔ یہ خوشبو مارگریٹ کے کپڑوں سے اکثر آیا کرتی تھی۔ زوناش نے چونک کر دائیں بائیں اندھیرے میں دیکھا، مارگریٹ اسے نظر نہیں آرہی تھی۔ مگر اس کے دماغ کو یقین تھا کہ مارگریٹ کی روح وہیں کہیں موجود ہے اور اسے دیکھ رہی ہے۔ زوناش اپنے حلق سے مارگریٹ کا نام نہیں پکار سکتا تھا۔ اس نے حلق میں سے عجیب سی ڈراؤنی آواز نکالی۔ وہ مارگریٹ کو آواز دے رہا تھا۔ اس نے دو تین بار اس قسم کی آوازیں نکالیں مگر مارگریٹ کی روح نے کوئی جواب نہ دیا۔ خوشبو آہستہ آہستہ اس سے دور ہونے لگی، زوناش کی لاش اس خوشبو کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔

خوشبو قبرستان سے نکل کر ایک ویران علاقے کی طرف جا رہی تھی۔ کسی وقت خوشبو تیز ہو جاتی اور پھر اچانک دھیمی ہو جاتی۔ جیسے مارگریٹ کی روح کبھی زوناش کے پاس آجاتی ہو اور کبھی دور ہوجاتی ہو۔۔ زوناش اپنے حلق سے تھوڑی تھوڑی دیر بعد سمجھ میں نہ آنے والی آواز میں مارگریٹ کو آواز دے رہا تھا اور چلتا بھی جا رہا تھا۔ مارگریٹ کی خوشبو جیسے اس کی رہ نمائی کر رہی تھی۔ زوناش ویران علاقے میں سے گزر گیا۔ سرد رات مہیب خاموشی کی دھند میں ڈوبی ہوئی تھی۔

آگے ایک بہت بڑے تاریخی قلعے کے کھنڈر آگئے۔ زوناش کا دماغ اس قلعے کی تاریخ سے واقف تھا۔ یہ ہنری ہشتم کے زمانے سے بھی پہلے کا قلعہ تھا اور رومنوں نے تعمیر کرایا تھا۔ اب یہ بالکل کھنڈر بن چکا تھا اور وہاں چھپکلیاں، خرگوش اور چوہے رہتے تھے۔ مارگریٹ کی خوشبو اسی قلعے کی طرف جا رہی تھی۔ زوناش خوشبو کا پیچھا کرتا چلا جا رہا تھا۔ وہ قلعے کے اندر داخل ہو گیا۔ وہ کسی کو دکھائی نہیں دیتا تھا مگر ایک جنگلی بلی نے اسے دیکھ لیا تھا اور اسے دیکھتے ہی بلی نے خوف زدہ ہو کر ایک چیخ ماری اور وہاں سے دیوانہ وار بھاگ گئی۔ زوناش کے ایک ہاتھ میں ڈاکٹر پرویز کا ریموٹ کنٹرول اور دوسرے ہاتھ میں لندن کے عجائب گھر سے چرایا ہوا قیمتی لعل تھا۔

مارگریٹ کی روح کی خوشبو اچانک غائب ہو گئی۔ زوناش ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اس نے حلق سے عجیب ڈراؤنی آوازیں نکال کر مارگریٹ کو آوازیں دیں مگر مارگریٹ کی روح ظاہر نہ ہوئی۔ پھر زوناش نے آسمان کو طرف منہ کر کے ایک ڈراؤنی چیخ ماری اور اس کے ساتھ ہی مارگریٹ کی روح کی خوشبو آنا شروع ہو گئی۔ یہ خوشبو قلعے کے کھنڈر کی سیڑھیوں میں سے آرہی تھی جو اوپر قلعے کی دوسری منزل کو جاتی تھیں۔ زوناش دوسری منزل پر آگیا۔ دوسری منزل پہلی منزل سے زیادہ ویران اور ڈراؤنی تھی۔ زمین پر انسانی جسموں کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں۔

اچانک زوناش کو مارگریٹ کی آواز سنائی دی۔ زوناش نے چونک کر جدھر سے آواز آئی تھی اس طرف دیکھا۔ آواز ایک بند کو ٹھڑی میں سے آ رہی تھی۔ زوناش کو ٹھڑی کے بند دروازے میں سے گزر گیا۔ دوسری جانب ایک کھلا کمرہ تھا جس کے فرش پر مٹی جمی ہوئی تھی۔ بالکونی پر پھول دار بیل چڑھی ہوئی تھی۔ بالکونی باہر کی جانب کھلی ہوئی تھی۔ زوناش کو اندھیرے میں بالکونی میں ایک انسانی سفید سایہ نظر آیا۔ زوناش کی لاش بالکونی کے قریب آگئی۔ زوناش نے حلق سے آواز نکال کر کچھ کہا۔ وہ مارگریٹ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا۔ اچانک اسے مارگریٹ کی دھیمی آواز سنائی دی۔ مارگریٹ کہہ ” تم نے صرف مجھے قتل کیا ہوتا تو میں تمہیں معاف کر دیتی مگر تم نے میرے پورے خاندان اور معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کر ڈالا۔ میں تمہیں معاف نہیں کروں گی۔”

زوناش کے دماغ نے ایک مدت کے بعد مارگریٹ یعنی اپنی محبوبہ کی آواز سنی وہ بے تاب ہو گیا۔ اس کے حلق سے عجیب عجیب آوازیں نکلنے لگیں۔

مارگریٹ کی روح کی دھیمی آواز آئی۔ “والڈروف! میں جانتی ہوں تمہارا جسم مختلف جسموں کے اعضا جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ تمہارا جسم تمہارا اپنا نہیں ہے، اس جسم میں صرف تمہارا دماغ تمہارا اپنا ہے۔ میں تمہارے دماغ سے مخاطب ہوں۔ تم اپنی زبان بند رکھو’ بولنے کی کوشش نہ کرو۔ تم بول نہیں سکتے۔ جو کچھ تمہارا دماغ مجھے کہنا چاہتا ہے وہ میں سن سکتی ہوں۔ تمہیں جو کچھ کہنا ہے وہ تم اپنے دماغ میں سوچو۔ اسے میں سن لوں گی۔”

زوناش کے دماغ نے سوچا۔ “مارگریٹ! مجھ سے بڑا ظلم ہو گیا ہے۔ مجھے معاف کردو۔”

مارگریٹ نے جواب دیا۔ ”میں تمہیں کہہ چکی ہوں کہ میں تمہیں معاف نہیں کروں گی۔ خدا سے معافی مانگو۔”

زوباش کے دماغ نے سوچا۔” پتہ نہیں خدا مجھے معاف کرے گا یا نہیں ، لیکن تم معاف کر دو۔ دیکھو، میں تمہارے لیے قیمتی لعل کا تحفہ لایا ہوں۔”

اور زوناش کی لاش نے مٹھی کھول کر اسے آگے کر دیا۔ اس کی مٹھی میں قیمتی لعل رات کے اندھیرے میں چمک رہا تھا۔

مارگریٹ کی آواز آئی۔ “یہ چوری کیا ہوا تحفہ ہے۔ میں چوری کیا ہوا تحفہ ہرگز قبول نہیں کروں گی۔ اس کو واپس گھر میں جا کر رکھ دو۔”

زوناش کے دماغ نے کہا۔ ”میں اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے بتاؤ کہ میں یہ کفارہ کیسے ادا کر سکتا ہوں؟ مارگریٹ! میری پیاری مارگریٹ ! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔”

مارگریٹ کی روح نے کہا۔ “محبت کے پاکیزہ نام پر تم نے سیاہی مل دی ہے، اس کے نام کو دھبہ لگایا ہے۔ تمہارا میرا حساب قیامت کے روز میدان حشر میں ہو گا۔”

اس کے فوراً بعد مارگریٹ کی روح کی خوشبو آنی بند ہو گئی۔ زوناش کی لاش نے بیچ بیچ کر مارگریٹ کی روح کو پکارا مگر وہ وہاں سے جاچکی تھی۔ زوناش کی لاش پر غیض و غضب کا عالم طاری ہو گیا۔ اس نے دھکا دے کر قلعے کی ایک بوسیدہ دیوار کو نیچے گرا دیا۔ دیوار دھڑام کی آواز کے ساتھ نیچے گر پڑی،

زوناش کے دیکھتے ہی دیکھتے گری ہوئی دیوار کے کھنڈر میں سے ایک باریش سفید پوش نمودار ہوا اور زوناش کی لاش سے مخاطب ہو کر بولا۔ ” زوناش ! تم نے بڑے گناہ کئے ہیں۔ تم نے سینکڑوں انسانوں کو قتل کیا ہے۔ تمہیں معافی نہیں مل سکتی، تمہیں اپنے گناہوں کی سزا اس دنیا میں بھگتنی پڑے گی۔ یہ سزا تمہارے دماغ کو مل رہی ہے کیونکہ تمہارا دماغ زندہ ہے۔ اس نے تمہیں اذیت میں مبتلا کیا ہوا ہے۔”

زوناش کے دماغ نے کہا۔ “اے نیک روح ! میں اپنے گناہوں پر سخت پچھتارہا ہوں۔ مجھے کوئی ایسا ذریعہ بتائیں کہ جس پر عمل کرنے سے میرے گناہ بخشے جائیں اور میرے دماغ کو میری روح کو سکون نصیب ہو۔“

بزرگ نے کہا۔ ”یہاں سے ملک ہندوستان میں جاؤ۔ وہاں ایک شہر ہے جسکا نام بھوپال ہے۔ بھوپال شہر سے پچاس میل جنوب میں ایک جنگل ہے۔ اس جنگل میں ایک ٹیلہ ہے جس کا نام اندھا کھائی کا ٹیلہ ہے۔ اس ٹیلے پر ایک سادھو کی مڑھی ہے۔ اس مڑھی میں سادھو کی ہڈیاں دفن ہیں۔ وہاں جا کر تین بار سادھو کو آواز اسے کہو “اے جسپال کی آتما ! میں قاتل ہوں، میری مدد کرو”

اگر سادھو کی آتما ظاہر ہو گئی تو صرف وہی تمہاری مدد کر سکتی ہے، یہاں سے چلے جاؤ۔ یہاں تم قیامت تک بھی بھٹکتے رہے تو تمہاری نجات نہیں ہوگی کیونکہ تم گناہ گار ہو۔ جن لوگوں کو بے گناہ قتل کر چکے ہو ان کی بددعائیں تمہارا پیچھا کر رہی ہیں۔”

یہ کہہ کر بزرگ کی روح غائب ہو گئی۔ زوناش کی لاش کے دماغ نے سب کچھ سن لیا تھا۔ اب اس کا دماغ پوری طرح سے بیدار تھا اور اس کی راہنمائی کر رہا تھا۔ اس کے دماغ نے اسے بتایا کہ وہ فوراً ملک ہندوستان کی طرف روانہ ہو جائے۔ زوناش کو ایک بڑا فائدہ حاصل تھا کہ وہ کسی کو دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس نے پہلا کام یہ کیا کہ وہاں سے نکل کر سیدھا لندن عجائب گھر میں پہنچا اور جس جگہ سے اس نے قیمتی لعل چرایا تھا، وہاں جا کر لعل اسی جگہ واپس رکھ دیا۔ اس کے بعد اس نے ڈاکٹر پرویز کا ریموٹ کنٹرول توڑ کر ایک کھائی میں پھینک دیا اور لندن کے ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہو گیا۔ زوباش کے دماغ کو اچھی طرح سے علم تھا کہ لندن سے دوسرے ملکوں کی طرف ہوائی جہاز جاتے ہیں۔ وہ ہوائی جہاز کے ذریعے ہی انڈیا پہنچ سکتا تھا۔ اس وقت رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ زوناش کی لاش لندن کے ہیتھرو ائرپورٹ پر آگئی۔

ائر پورٹ پر بڑی رونق تھی۔ چونکہ زوناش کو کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اس لئے وہ بڑی بے فکری سے ائرپورٹ پر چل پھر رہی تھی۔ زوناش کا دماغ ایک انگریزی پڑھے لکھے آدمی والڈروف کا دماغ تھا۔ وہ انگریزی پڑھ سکتا تھا۔ اس نے ایک جگہ لکھا ہوا دیکھا کہ لندن سے ایک پرواز انڈیا کے شہر دلی رات کے دو بجے جانے والی ہے۔ زوناش کو ٹکٹ خریدنے اور سیٹ وغیرہ بک کرانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ وہ ٹرانزٹ روم میں آکر ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا اور رات کے دو بجنے کا انتظار کرنے لگا۔ جب رات کا ڈیڑھ بجا تو انڈیا جانے والے مسافر وہاں آنے شروع ہو گئے۔ زوناش خاموشی سے بیٹھا رہا۔ پھر اعلان ہوا کہ دلی جانے والا جہاز پرواز کے لیے تیار ہے، مسافروں سے گزارش ہے کر جہاز پر سوار ہو جائیں ۔ دوسرے مسافروں کے پیچھے پیچھے زوناش بھی گیٹ میں سے گزر کر بس میں سوار ہو گیا۔ بس رن وے پر جہاں جہاز کھڑا تھا ایک طرف آکر کھڑی ہو گئی۔

یہ ٹی او اے سی کا جہاز تھا۔ دوسرے مسافروں کے ساتھ زوناش بھی جہاز میں سوار ہو گیا۔

جہاز میں تمام سیٹوں پر مسافر بیٹھے ہوئے تھے۔ زوناش کی لاش کو بیٹھنے کی حاجت نہیں تھی۔ وہ سارا دن ساری رات کھڑی رہ سکتی تھی۔ جہاز ٹیک آف کر گیا۔ زوناش کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ جہاز کے کونے میں ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ جہاز ایک خاص بلندی پر جاکر انڈیا کی طرف روانہ ہو گیا۔ لندن سے پرواز کرنے کے بعد جہاز دوبئی آکر رکا تو وہاں کئی مسافر اتر گئے۔ نشستیں خالی ہو گئیں۔ تب زوناش بھی ایک سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس طرح ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہوئے زوناش دلی پہنچ گیا۔ دلی سے زوناش نے بھوپال کے شہر جانا تھا۔ اس سے پہلے وہ انڈیا کبھی نہیں آیا تھا۔ وہ ائر پورٹ پر ہی بیٹھا رہا اور جہاں جہازوں کی آمدو رفت کا بورڈ لگا تھا اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ وہاں شہروں کے نام اور ان کے آگے جانے والے جہازوں کے نمبر اور ٹائم لکھا ہوا بار بار آ رہا تھا۔ زوناش نے بھوپال شہر کے آگے لکھا ہوا جہاز کا نمبر اور اس کا وقت نوٹ کر لیا۔ یہ جہاز سہ پہر کے چار بجے جانے والا تھا۔ زوناش وہیں ائر پورٹ پر ایک طرف ہو کر بیٹھا رہا۔ جب بھوپال جانے والا جہاز رن وے پر آکر رکا اور اس کا اعلان ہوا تو زوناش بھی دوسرے مسافروں کے ساتھ اس جہاز پر سوار ہو گیا اور پھر جہاز بھوپال کی طرف ٹیک آف کر گیا ۔۔۔

اب ہم تھوڑی دیر کے لیے لندن واپس چلتے ہیں جہاں صبح کے وقت جب ڈاکٹر پرویز بیدار ہوا تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ زوناش کی لاش جس کے ذریعے وہ دنیا کا سب سے دولت مند شخص بننا چاہتا تھا اور جس کی مدد سے اس نے دنیا کا سب سے قیمتی لعل چرایا تھا وہ دونوں اس کے مکان سے غائب ہو چکے ہیں اس نے معمول کے مطابق ناشتہ کیا اور اخبار کا مطالعہ کرنے لگا۔ اچانک ایک خبر نے اسے چونکا دیا۔ خبر میں لکھا تھا کہ لندن کے عجائب گھر سے جس چور نے دنیا کا سب سے قیمتی پتھر یعنی لعل یمن چوری کیا تھا وہ چور اس لعل کو عجائب گھر میں واپس رکھ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تصویر بھی چھپی ہوئی تھی جس میں شیشے کی چار دیواری کے اندر میز کی مخملیں گدی پر لعل رکھا ہوا صاف نظر آ رہا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کے تو ایک لمحے کے لیے ہوش و حواس گم ہو گئے۔ اس نے اخبار ایک طرف پھینکا اور دوڑ کر ڈرائنگ روم کی اس الماری کے پاس آگیا جس کے اندر اس نے لعل ایک ڈبی میں بند کر کے چھپایا ہوا تھا۔ جلدی جلدی اس نے الماریکا تالا کھولا اور الماری کے اوپر والے خانے کی فائلوں کو نیچے گرا دیا۔ وہاں ڈبی موجود تھی مگر ڈبی میں جو لعل اس نے رکھا تھا وہ غائب تھا۔ ڈاکٹر پرویز چکرا کر رہ گیا۔ اسکی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ڈبی میں سے لعل کون نکال کر عجائب گھر میں رکھ گیا ۔ اچانک اسے زوناش کا خیال آیا۔ وہ تیز تیز دوڑتا نیچے تہہ خانے میں آگیا۔ اس نے جیب سے عینک نکال کر لگالی۔ جیسے ہی اُس کی نظر سٹریچر پر پڑی اُس کا دل بیٹھ گیا۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ سٹریچر خالی تھا۔ لاش فرار ہو چکی تھی۔

ڈاکٹر پرویز تیز تیز چلتا واپس اوپر الماری کے پاس آگیا۔ اس نے اوپر والے خانے میں دیکھا۔ ساری فائلیں اس نے پہلے ہی خانے میں سے نیچے گرا دی تھیں۔ الماری کے خانے میں وہ ریموٹ کنٹرول بھی غائب تھا جس کے ذریعے سے وہ زوناش کی لاش کو کنٹرول کرتا تھا۔ وہ نیچے فرش پر گری ہوئی فائلوں کو ادھر اُدھر ہٹا کر دیوانوں کی طرح ریموٹ کو تلاش کرنے لگا مگر وہاں ریموٹ ہوتا تو اسے ملتا۔ ریموٹ تو زوناش نے توڑ مروڑ کر لندن کی ایک کھائی میں پھینک دیا تھا۔ ڈاکٹر پرویز وہیں فرش پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اس نے ناجائز دولت حاصل کرنے کا جو محل بنایا تھا وہ دھڑام سے نیچے گر پڑا تھا۔ اس نے لاش کی مدد سے بینکوں میں ڈاکے بھی ڈلوائے تھے اور اپنے دشمنوں کو قتل بھی کروایا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کا حلق خشک ہو گیا، چہرے پر مردنی چھا گئی۔ جس لاش کو اس نے دوسرے مردوں کے اعضا جوڑ جوڑ کر خود بنایا تھا اور دوسری میتوں کو قبروں سے نکال کر اُن کے اعضا کاٹ کر اُن کی بے حرمتی کی تھی اور سخت گناہ کیا تھا وہ لاش اب اس کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔

لیکن ڈاکٹر پرویز ایک سنگدل انسان تھا۔ وہ اتنی جلدی ہار ماننے والا نہیں تھا۔ دوسرے کمرے میں جا کر وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے کا فی کے دو گھونٹ بھرے۔ ذرا طبیعت سنبھلی تو وہ سوچنے لگا کہ لاش کیسے اٹھ کر نکل گئی؟ اس کو کیسے خیال آگیا کہ چرایا ہوا لعل عجائب گھر میں واپس رکھ دینا چاہئے اور پھر لاش نے ریموٹ کنٹرول بھی اپنے قبضے میں کر لیا تاکہ ڈاکٹر پرویز اس پر اپنا حکم نہ چلا سکے۔ اس کا مطلب تھا کہ لاش نے ڈاکٹر پرویز کے قبضے سے نکلنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ لاش کا دل جو ایک بے رحم قاتل کا دماغ تھا پوری طرح سے بیدار ہو گیا تھا اور وہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کو لاش کے دماغ کی اس انقلابی تبدیلی سے کوئی غرض نہیں تھی۔ وہ اس بات پر غور کرنے لگا کہ لاش تہہ خانے سے نکل کر کس طرف گئی ہوگی اور اسے کہاں تلاش کرنا چاہئے۔ اس بات کا اسے احساس تھا کہ زوناش کی لاش کو اتنے بڑے لندن شہر میں تلاش کرنا بھوسے کے بہت بڑے ڈھیر میں سے سوئی تلاش کرنے کے برابر ہے۔ لیکن زوناش کی لاش ہی ڈاکٹر پرویز کی زندگی کی آخری امید تھی۔ اس کے ذریعے اس نے اپنے دشمنوں کو قتل بھی کروایا تھا اور اسی کے ذریعے اس نے ارب پتی بننا تھا۔ لاش کے بغیر ڈاکٹر پرویز دو کوڑی کا آدمی بھی نہیں تھا۔

اس نے زوناش کی تلاش شروع کر دی۔ وہ گاڑی لے کر سڑکوں پر نکل آیا۔ اس کا خیال تھا کہ لاش ہو سکتا ہے کسی قریبی قبرستان میں جا کر چھپ گئی ہو۔ چنانچہ وہ سب سے پہلے قصبے کے قبرستان میں آگیا۔ اس نے وہ عینک آنکھوں پر لگا رکھی تھی جس کی مدد سے وہ لاش کو دیکھ سکتا تھا۔ کیونکہ لاش غائب تھی۔ قصبے کا قبرستان چھوٹا سا تھا، چند ایک قبریں تھیں۔ تقریباً سبھی قبریں پکی تھیں۔ لاش کسی قبر کے اندر گھس کر نہیں چھپ سکتی تھی۔ دوپہر تک ڈاکٹر پرویز نے سارا علاقہ چھان مارا کھیت دیکھے ، گھاس کے میدان میں بھی دیکھا، پارک دیکھے ، ایک دو اونچے ٹیلوں پر بھی چڑھ کر دیکھا۔ اسے زوناش کی لاش کسی جگہ نظر نہ آئی۔

دوپہر کو اس نے تھوڑا بہت کھانا زہر مار کیا اور گاڑی لے کر لندن کی طرف نکل گیا۔ اس نے سوچا۔ لاش نے قیمتی لعل عجائب گھر میں لے جا کر واپس رکھا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ لاش لندن شہر یا اس کے گردو نواح میں ہی ہوگی۔

سب سے پہلے اس نے لندن کے عجائب گھر کے ارد گرد کا علاقہ چھان مارا۔ وہاں بھی اسے کسی جگہ لاش کے آثار نہ ملے تو وہ عجائب گھر کے قریب جو دو قبرستان تھے ان قبرستانوں میں جا کر لاش کا سراغ لگانے کی کوشش کی مگر لاش کہیں نہ ملی۔ لاش غائب ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر پرویز تھک ہار کر ریسٹ ہاؤس میں واپس آگیا۔ شام کے قریب پیرس سے پیری کا فون آگیا۔

اس نے کہا۔ “میں ایک بھروسے والے اور مالدار ایجنٹ کو لے کر آرہا ہوں۔”

مگر اب اس کے آنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ جو لعل ڈاکٹر پرویز نے پیری کہ ذریعے فروخت کروا کر کروڑوں پاؤنڈ حاصل کرنے تھے وہ تو عجائب گھر والوں کو واپس مل چکا تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے ٹیلی فون پر پیری سے کہا کہ مجھے ایک ضروری کام سے اٹلی جانا پڑ رہا ہے، تم کچھ روز ٹہر جاؤ۔ دوسرے دن بھی ڈاکٹر پرویز لاش کی تلاش میں عینک چڑھائے لندن کی سڑکوں، باغوں ، پارکوں اور قبرستانوں میں دربدر پھرتا رہا مگر لاش کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اب وہ یہ انتظار کرنے لگا کہ شاید لاش کوئی واردات کرے۔ کسی کو قتل کرے یا کسی گھر میں یا کسی کلب میں گھس کر کوئی افراتفری مچائے اور اس کی خبر ٹی وی اور اخباروں میں آئے تو وہ وہیں جا کر لاش کو قابو کرنے کی کوشش کرے گا۔ ڈاکٹر کو یہ خیال بلکہ فکر بھی لگی ہوئی تھی کہ لاش اب اسکے کنٹرول سے باہر ہو گئی ہے۔ ایک تو اس کو دوبارہ قابو کرنا بہت مشکل ہوگا اور دوسرے عین ممکن ہے کہ لاش اس سے بدلہ لینے کے لئے اس پر قاتلانہ حملہ بھی دے۔ اگر لاش نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا تو وہ اس سے بچ نہیں سکے گا کیونکہ لاش تو بند دروازوں سے بھی گزر کر اس کے بیڈ روم میں آجائے گی۔ ڈاکٹر پرویز عجیب مشکل میں گرفتار ہو گیا تھا۔ وہ زوناش کی لاش کو قابو میں بھی نہیں کر سکا تھا اور اسے چھوڑنا بھی نہیں چاہتا تھا اور اس سے اپنی جان بھی بچانا چاہتا تھا۔ رات کو وہ دروازے بند کر کے لیٹ گیا۔ اس نے بیڈ روم کی بتی بالکل نہ بجھائی۔ آنکھوں پر لاش کو دیکھنے والی عینک بھی لگائے رکھی اور ایک کھڑکی کو چٹخنی بھی نہ لگائی۔ اس خیال سے کہ اگر رات کو کسی وقت لاش اس کو قتل کرنے کے ارادے سے بیڈ روم میں داخل ہوئی تو وہ اسے دیکھ کر کھڑکی میں سے باہر چھلانگ لگا کر بھاگ جائے گا۔ ساری رات وہ سو نہ سکا۔ کسی وقت تھوڑی دیر کے لیے آنکھیں بند کر لیتا اور پھر جلدی سے کھول دیتا کہ کہیں لاش بیڈ روم میں داخل نہ ہو گئی ہو۔

صبح اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر پرویز نے سوچا کہ ایک تو اتنے بڑے شہر میں لاش کو تلاش کرنا ناممکن ہے، دوسرے لاش سے اسے جان کا بھی خطرہ ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ واپس پاکستان چلا جائے اور لاش کو بھول جائے۔ وہاں کم از کم لاش اسے ہلاک تو نہیں کرسکے گی۔ آخر اس نے یہی فیصلہ کیا کہ وہاں دو ایک دن رہ کر اخبار اور ٹی وی کی خبریں سنتا رہے۔ اگر اس دوران لاش نے کسی جگہ کوئی واردات نہ کی تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان واپس چلا جائے گا۔ یہ بات تو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ لاش ہوائی جہاز میں بیٹھ کر اس سے پہلے انڈیا پہنچ چکی ہے۔

اب ہم واپس زوناش کی طرف چلتے ہیں۔ زوباش کی لاش بھوپال پہنچ گئی تھی۔ بھوپال پہنچنے کے فوراً بعد اس نے بھوپال سے بچاس میل دور اندھا کھائی والے ٹیلے کی طرف جانے کا ارادہ کیا جس پر جسپال نامی سادھو کی مڑھی تھی اور جس کی مدد سے لاش کے دماغ نے اپنے گناہوں کی اذیت سے نجات حاصل کرنی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ لاش کسی کو نظر نہیں آتی تھی۔ وہ کسی سے بات بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ لاش نے ابھی بولنا شروع نہیں کیا تھا۔ تیسری مشکل یہ تھی که لاش ایک اجنبی شہر میں تھی۔ اسے کچھ علم نہیں تھا کہ اندھا کھائی کا ٹیلہ کون سے جنگل میں ہے؟ اور اس جنگل کو کون سا راستہ جاتا ہے؟

لیکن زوناش کی لاش کی کھوپڑی میں ایک پڑھے لکھے اور ماڈرن ملک انگلستان کے نامی گرامی قاتل کا دماغ فٹ تھا اور یہ دماغ وقت کے ساتھ ساتھ پوری طرح سے بیدار ہو چکا تھا۔ اب لاش سوچ بھی سکتی تھی اور غور و فکر کر کے کسی مشکل مسئلے کو حل کرنے کی کوشش بھی کر سکتی تھی۔ بھوپال کے ائر پورٹ پر ایک طرف بینچ پر زوناش کی لاش اکیلی بیٹھی ان باتوں پر غور و فکر کر رہی تھی۔ اسے خیال آیا کہ ہر شہر میں سیاحوں کے لیے محکمے کی جانب سے گائیڈ بک شائع کی جاتی ہے جس میں علاقے کے نقشے بھی ہوتے ہیں۔ انڈیا میں بے شمار سیاح آتے رہتے ہیں اور بھوپال کے جنگل شیر اور دوسرے جانوروں کے شکار کے واسطے بڑے مشہور ہیں اور دور دور کے ملکوں سے شکاری یہاں شکار کھیلنے آتے ہیں۔ چنانچہ انڈیا کے محکمہ ٹورازم نے ضرور اس علاقے کی گائیڈ بکس چھاپی ہوں گی۔ اگر ایسی گائیڈ بک مل جائے تو اس میں سے بھوپال کے جنگل کا اندھا کھائی کا ٹیلہ دریافت کیا جا سکتا ہے۔

یہ سوچ کر زوناش کی لاش ایک بک سٹال پر آگئی۔ وہاں دو ایک سیاح پہلے سے کھڑے کتابیں رسالے دیکھ رہے تھے۔ لاش نے کاؤنٹر پر پڑے ہوئے رسالوں اور کتابوں کا جائزہ لیا۔ ایک طرف اسے شیلف کے اوپر چھوٹی سی چٹ لگی ہوئی دکھائی دی جس پر گائیڈ بکس لکھا ہوا تھا۔ لاش ذرا آگے بڑھ کر شیلف میں لگی کتابوں کو دیکھنے لگی۔ ایک گائیڈ بک پر شیر کی تصویر تھی اور اوپر بھوپال لکھا ہوا تھا۔ لاش نے وہ کتاب شیلف میں سے نکال لی۔ چونکہ وہ کسی کو نظر نہیں آرہی تھی اس لئے بک سٹال والے کو پتہ بھی نہ چلا کہ اس کے شیلف میں سے ایک کتاب غائب ہو گئی ہے

زوناش کی لاش کتاب لے کر ایک الگ جگہ پر بیٹھ کر اس کو پڑھنے لگی۔

کتاب میں بھوپال سے جنگل کی طرف جانے والی محفوظ سڑکوں کے نقشے بنے ہوئے تھے۔ کافی تلاش کے بعد زوناش کی لاش نے کتاب کے ایک صفحے پر ٹیلہ اندھا کھائی لکھا ہوا دیکھ لیا۔ نیچے انگریزی میں لکھا تھا کہ یہ ٹیلہ بھوپال سے پچاس میل جنوب کی طرف جنگل کے پہلے حصے میں واقع ہے اور اس کے اوپر ایک بڑے رشی منی سادھو کی مڑھی بھی ہے۔ زوناش کا گوہر مراد مل گیا تھا۔ نقشے پر اس نے بڑے غور سے وہ سڑک دیکھی جو ائر پورٹ سے اندھا کھائی کے ٹیلے کی طرف جاتی تھی اور جسے ایک سیاہ لکیر کے ذریعے واضح کیا گیا تھا۔ زوباش کی لاش نے گائیڈ بک کا صفحہ پھاڑ کر اپنے پاس رکھ لیا اور کتاب پھینک دی۔ اس کے بعد لاش ایئرپورٹ سے نکل کر اس سڑک پر آگئی جس کا نام نقشے پر لکھا تھا اور جو سیدھی پچاس میل کی دوری پر جا کر اندھا کھائی کے جنگل کی طرف چلی گئی تھی۔ چلتے چلتے زوناش جنگل میں پہنچ گیا۔ لاش کو تھکان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ جنگل کے درمیان چھوٹا سا ٹیلہ تھا جس کے اوپر ایک کوٹھڑی بنی ہوئی تھی۔

لاش ٹیلے پر چڑھ گئی۔ کوٹھڑی جھونپڑی نما تھی، اس کے باہر ایک ہٹا کٹا سادھو آلتی پالتی مارے بیٹھا چلم پی رہا تھا۔ لاش سادھو کے سامنے کھڑی تھی۔ والڈروف نے سن رکھا تھا کہ انڈیا کے جوگی اور سپیرے اپنے جادو ٹونے سے نظر نہ آنے والی چیزیں بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اس کا خیال تھا کہ شاید سادھو نے بھی اسے دیکھ لیا ہو، اس لئے وہ سادھو کے بالکل سامنے کھڑا تھا مگر سادھو کو اس کی موجودگی کا بالکل علم نہیں ہوا اور وہ بڑے مزے سے چلم پی رہا تھا۔ زوناش کی لاش ابھی سادھو کے ساتھ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی بابت بات کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے آہٹ سنائی دی۔ لاش نے پلٹ کر دیکھا ایک خوبصورت عورت بڑی بنی سنوری، ہاتھ میں پیتل کی تھالی لئے چلی آرہی تھی۔ سادھو نے چلم اپنے منہ سے نکالتے ہوئے کہا۔ “آؤ آؤ در گیانی آؤ۔ ہم تمہاری ہی راہ دیکھ رہے تھے۔ کہو تمھارے پتی دیو کا کیا حال ہے؟”

درگیانی اس بنی سنوری جوان ہندو عورت کا نام تھا۔ اس نے پیتل کی تھال میں مٹھائی اور پھل رکھے ہوئے تھے۔ در گیانی نے تھالی سادھو کے سامنے رکھتے ہوئے سادھو کے قدموں کو چھوا اور ہاتھ باندھ کر عرض کی۔ “مہاراج! آپ کی کرپا سے میرے پتی دیو (خاوند) کی حالت پہلے سے اچھی ہے۔ اب وہ مجھ سے بات کرنے لگا ہے پرنتو وہ چل پھر نہیں سکتا۔ “

سادھو نے کہا۔ ”بالکے! تو گھبراتی کیوں ہے۔ ہم بڑا جی لگا کر اس کا علاج کر رہے ہیں۔”

ہندو عورت کہنے لگی۔ ”مہاراج! اس سنسار میں میرے لئے میرا پتی ہی میرا سب کچھ ہے۔ مجھے اس سے بڑی محبت ہے۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں زندہ نہیں رہ سکوں گی۔”

زوناش کی لاش کا دماغ سوچ رہا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ عورت بڑی پاکباز اپنے خاوند کی وفادار ہے۔

سادھو نے کہا۔ ” در گیانی ! اگر تم چاہتی ہو کہ تمہارا پتی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اچھا ہو جائے اور ایک بار پھر چلنا پھرنا دوڑنا شروع کر دے تو تمہیں ایک کام کرنا ہو گا۔ ایک شرط پوری کرنی ہوگی۔”

عورت نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ “مہاراج! آپ حکم کریں۔ آپ جو کہیں گے میں اوش کروں گی۔ میں اپنے خاوند کو صحت مند دیکھنے کے لیے اس ٹیلے سے بھی چھلانگ لگا سکتی ہوں۔”

سادھو نے کہا۔ ”نہیں، اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ شرط یہ ہے کہ تمہیں صرف ایک رات میری کٹیا میں میرے ساتھ گزارنی ہوگی۔ میں تمہیں سامنے بٹھا کر ایک چلہ کاٹوں گا۔”

پاکباز اور اپنے خاوند کی وفادار ہندو عورت نے کہا۔ “مہاراج! میرا بیاہ میرے پتی کے ساتھ ہوا ہے۔ میں اپنے خاوند کے علاوہ اور کسی کے ساتھ رات گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ مجھے معاف کر دیجئے گا مہاراج! میں ایسا نہیں کر سکتی۔ “

سادھو کو غصہ آگیا۔ ایک ہاتھ اٹھا کر آواز میں رعب پیدا کرتے ہوئے بولا

“تو پھر یاد رکھ در گیانی! تیرا خاوند کبھی اچھا نہیں ہو گا۔ وہ بہت جلد مرجائے گا۔”

ہندو عورت در گیانی رونے لگی۔ “مہاراج! مجھ پر یہ ظلم نہ کریں۔ کرپا کریں۔ میں اپنے تمام برتن کپڑے بیچ کر آپ کو سارے پیسے لا کر دے دوں گی ،جو کام میں نہیں کر سکتی اسکے لئیے مجھے مجبور نہ کریں۔”

زوناش کی لاش ایک طرف کھڑی ان دونوں کے مکالمے بڑی دلچسپی سے سن رہی تھی۔ سادھو کا موڈ بگڑتا جا رہا تھا۔ عورت نے اس بدمعاش سادھو کی ہوس کا شکار ہونے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

زوناش کی لاش اس عورت کو عزت و احترام کی نظروں سے دیکھ رہی تھی اور بد معاش شیطان صفت سادھو کو نفرت سے دیکھ رہی

جب در گیانی نے صاف انکار کر دیا تو ہٹے کٹے سادھو نے عورت کو بازو سے پکڑ اپنی طرف کھینچا۔ عورت نے گھبرا کر اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی تو سادھو نے اسے بازوؤں میں اٹھالیا اور اسے لے کر کٹیا کی طرف چلا۔

اب ناممکن تھا کہ زوناش کی لاش تماشا دیکھتی رہتی۔ لاش کے دماغ میں اس نیک کردار والی عورت کے لیے بڑی عزت اور احترام پیدا ہو گیا تھا۔ سادھو اوباش اور بدمعاش تھا اسے اس کی سزا ملنی چاہئے تھی۔ چنانچہ زوناش کی لاش نے آگے بڑھ کر سادھو کی گردن کو دونوں ہاتھوں کی گرفت میں لے کر اوپر اٹھا لیا۔ عورت اس کے بازوؤں سے نیچے گر پڑی اور ایک طرف ہو کر حیرانی سے دیکھنے لگی ہیں۔ سادھو کو کس نے زمین سے دو تین فٹ اوپر اٹھا لیا ہے۔ لاش کے آہنی پنجے سے سادھو کی گردن کا نکل جانا ناممکن تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے لاش نے ایک ہی جھٹکے میں سادھو کی گردن اس کے جسم سے الگ کر دی۔ در گیانی نے سادھو کا سر اس کے جسم سے الگ ہو کر زمین پر اس کے دھڑ کے ساتھ ہی گرتے دیکھا تو دہشت سے اس کے ہونٹ کانپنے لگے۔ اس کا رنگ سفید پڑ گیا۔ وہ سب کچھ وہیں چھوڑ چھاڑ کر جس طرف سے آئی تھی اسی طرف بھاگ گئی۔ زوناش کی لاش کو ایک قسم کا سکون نصیب ہوا تھا۔ اس کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے اس نے عرصہ دراز کے بعد کوئی نیک کام کیا ہے۔ اس نے سوچا کہ جوسادھو خود بد کردار اور گناہ گار ہے وہ اس کے گناہوں کا بوجھ ہلکا کرنے میں اس کی کیا مدد کر سکتا ہے۔؟ زوناش نے اپنے دل سے کسی سادھو کی مدد سے گناہوں کا کفارہ کرنے کا خیال نکال کر پھینک دیا اور پہاڑی سے نیچے اتر آیا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ صرف ایک بدمعاش کو مار دینے سے صرف ایک بھلائی کا کام کرنے سے ، ایک پاکباز عورت کی عزت بچانے سے اسے اتنا ذہنی سکون ملا تھا تو اسے ایسے اور بھی کام کرنے چاہیں۔ شاید اسی طرح سے اس کے گناہوں کا اپنے آپ کفارہ ہو جائے۔ اس خیال کے آتے ہی زوناش کی لاش نے گناہ کرنے کا خیال اپنے دل سے نکال دیا اور اسی قسم کے کچھ بھلائی کے کام کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسے یقین تھا ایسے نیک کام کرنے سے اس نے جتنے قتل کئے ہیں، جتنے گناہ کئے ہیں ان کا کفار ہو جائے گا اور اس کی محبوبہ مارگریٹ کی روح اس کے پاس آجائے گی۔ ۔ زوناش کی لاش اندھا کھائی کے ٹیلے سے اتر کر بھوپال شہر میں آکر سڑکوں پر پھرنے لگی۔ وہ سب کو دیکھ رہا تھا۔ کوئی اسے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ بھوپال شہر بڑی آبادی والا شہر تھا اور اس زمانے میں زیادہ تر آبادی شہر کی چاردیواری کے اندر ہی رہتی تھی۔

زوناش شہر کے گلی کوچوں میں گھوم پھر رہا تھا۔ وہ بھوک پیاس کھانے پینے اور کسی بھی قسم کی حاجت سے بے نیاز تھا۔ ابھی دن کا وقت ہی تھا۔ زوناش شہر سے نکل کر جنگل کی طرف آگیا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا جنگل میں کافی دور نکل گیا۔ یہاں اسے ایک طرف سے کچھ آدمیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ زوناش وہیں رک۔گیا۔

وہ گھنے درختوں کے درمیان ایک پگڈنڈی پر کھڑا تھا۔ کیا دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ آرہے ہیں۔ دو آدمیوں نے ایک ڈولی اٹھا رکھی ہے۔ وہ چلتے ہوئے کچھ گا بھی رہے تھے۔ ڈولی کے پیچھے پانچ چھ آدمی پیدل ہی چلے آ رہے تھے۔ ان میں ایک آدمی گھوڑے پر سوار تھا اور ڈولی کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ زوناش ایک طرف ہٹ گیا۔ ڈولی اس کے قریب سے گزری تو اس نے دیکھا کہ ڈولی کے اندر سونے کے زیورات سے لدی پھندی ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ زوناش سمجھ گیا کہ یہ لوگ دلہن کو بیاہ کر لے جا رہے تھے۔ زوناش نے جب وہ زندہ تھا تو انگلستان میں گرجا گھروں میں شادیاں ہوتے دیکھیں تھیں۔ اس قسم کی شادی وہ پہلی بار دیکھ رہا تھا کہ دلہا گھوڑے پر سوار ہے اور دلہن ڈولی میں بیٹھی ہے، ڈولی کہاروں نے اٹھا رکھی ہے اور وہ گیت گاتے چلے جا رہے تھے ۔۔

زوناش خالی اور سپاٹ آنکھوں سے دلہن کی ڈولی کو پگڈنڈی پر سے گزرتے دیکھتا رہا۔ دلہا نے بڑے اجلے کپڑے پہن رکھے تھے اور وہ گھوڑے پر سوار تھا۔ اس کے پیچھے گاؤں کے چند ایک آدمی تھے جنہوں نے برتن صندوق اور ایک پلنگ اٹھا رکھا تھا۔

یہ دیہاتی برات ذرا آگے گئی ہوگی کہ جنگل بندوق کے فائر کی آواز سے گونج اٹھا،

زوناش نے چونک کر جدھر سے فائر کی آواز آئی تھی اس طرف دیکھا۔ اسے چار گھڑسوار نظر آئے جن میں سے ایک کے ہاتھ میں بندوق تھی اور باقی تین گھوڑ سواروں نے ننگی تلواریں تھام رکھی تھیں۔ انہوں نے ڈولی کو گھیر لیا۔ وہ گھوڑوں پر سے اتر آئے ۔۔

بندوق والے ڈاکو نے بڑے رعب سے کہا۔ ”ڈولی نیچے رکھ دو اور پیچھے ہٹ جاؤ۔ جو آگے آیا اس کو گولی سے اڑا دوں گا۔“

کر جا زوناش فوراً سمجھ گیا کہ یہ لوگ ڈاکو ہیں اور دلہن کو زیورات سمیت اٹھانے آئے ہیں۔ کہاروں نے ڈولی نیچے رکھ دی اور ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے۔ باقی براتی برتن صندوق پلنگ وغیرہ وہیں پھینک کر بھاگ گئے۔۔

دلہا نے ذرا بہادری دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے ڈاکوؤں سے کہا۔ “خبردار کسی نے بھی دلہن کو ہاتھ لگایا تو۔”

بندوق والے ڈاکو نے بندوق کی نالی کا رخ دلہا کی طرف کر دیا جو گھوڑے پر بیٹھا ہوا تھا۔ ڈاکو فائر کر کے دلہا کو ہلاک کرنے ہی لگا تھا کہ اتنی دیر میں زوناش ان کے سرپر پہنچ چکا تھا۔ ڈاکو کے ہاتھ سے بندوق اچھل کر دور جھاڑیوں میں جا کر گر گیا۔ ڈاکو نے حیران ہو کر ادھر ادھر دیکھا کہ اس کی بندوق کو کس نے اسکے ہاتھ سے اچھال دیا ہے۔

زوناش کی لاش بول تو سکتی نہیں تھی۔ اس کے حلق سے انتہائی غصیلی آوازیں نکلنے لگی تھیں۔ زوناش نے ایک ڈاکو کے ہاتھ سے تلوار چھین کر ایک ہی وار سے پہلے اس کی گردن اڑا دی اور اس کے بعد بندوق والے ڈاکو کی گردن اڑا دی۔ زوناش کی کھوپڑی میں ایک ایسے سنگدل قاتل کا دماغ ڈالا گیا جو سینکڑوں لوگوں کو بے دردی سے قتل کر چکا تھا۔

باقی دونوں ڈاکو یہ خوفناک منظر دیکھ کر فرار ہونے لگے مگر زوناش کی لاش نے انہیں اتنی مہلت نہ دی۔ دوسرے ہی لمحے ان دونوں ڈاکوؤں کی سرکٹی لاشیں پڑی تڑپ رہی تھیں۔ کہار سہم کر وہیں ڈولی کے پاس بیٹھ گئے تھے۔ دلہا گھوڑے سے اتر کر ڈولی میں دلہن کے پاس دبک گیا تھا جو پہلے ہی خوف کے مارے کانپ رہی تھی۔ انہیں یقین تھا کہ دیوتا ان کی مدد کو پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے ڈاکوؤں کو ہلاک کر ڈالا ہے۔

زوناش کی لاش بول نہیں سکتی تھی۔ خون آلود تلوار اپنے ہاتھ میں لے کر زوناش زوناش ایک طرف چپ چاپ کھڑا تھا۔ اس کے حلق سے دھیمی دھیمی آوازیں نکل رہی تھیں جیسے کہہ رہا ہو کہ میں نے ڈاکوؤں سے تمہاری عزت اور جان بچالی ہے۔ اب تم لوگ یہاں سے نکل جاؤ۔

زوناش کے حلق میں سے خرخراہٹ کی آوازیں سہمے ہوئے کہاروں اور دلہا دلہن نے بھی سنی تھیں۔ اتنے میں جو براتی بھاگ گئے تھے وہ بھی آگئے۔ سامنے چار ڈاکوؤسث کی لاشیں پڑی دیکھ کر انہوں نے نعرہ لگایا۔ ” جے بھونیشوری دیوی کی جے۔”

اس علاقے کے دیہاتی ہندوؤں کا یہ عقیدہ تھا کہ شادی کے بعد دلہن جب ڈولی میں بیٹھ کر اپنے سسرال جاتی ہے تو بھونیشوری دیوی اس کی حفاظت کرتی ، زوناش کی جانے بلا کہ یہ بھونیشوری دیوی کون تھی۔ وہ تو صرف اسی بات پر خوش تھا کہ اس نے ایک نو بیاہتا دلہن کو ڈاکوؤں کے ہاتھوں بےآبرو ہونے سے بچالیا اس کی وجہ سے زوناش کے دماغ کو بڑا سکون ملا تھا اور اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اسکے ضمیر پر سے مزید کچھ گناہوں کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔ اب اسے وہاں ٹھرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔

لاش وہاں سے واپس چل پڑی۔

چلتے چلتے وہ جنگل کے دوسرے کنارے سے باہر نکل آئی۔ یہاں آتے اسے کسی عورت کی آواز سنائی دی جو مدد کے لیے پکار رہی ہی۔ وہ کہہ رہی تھی۔ ” مجھے باہر نکالو ، بھگوان کے لیے مجھے باہر نکالو۔ نہیں تو رات کو آدم خور آکر مجھے کھا جائیں گے”

زوناش چونک کر ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ اس نے دیکھا کہ چند قدموں کے فاصلے پر ، جھاڑیوں کے پیچھے ایک کوٹھڑی تھی۔ آواز اس کوٹھڑی کی طرف سے آ رہی تھی۔ زوناش کوٹھڑی کے پاس آ گیا۔ کوٹھڑی کا دروازہ بند تھا اور اس پر موٹا سا تالا پڑا ہوا تھا، کوئی لڑکی اندر سے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی۔ ”بھگوان کے لیے مجھے باہر نکالو۔ وہ آئیں گے اور مجھے کھا جائیں گے۔ وہ بھوت ہیں۔”

زوناش کے لیے دروازہ کھولنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ وہ زبان سے بول کر اس لڑکی کو یہ کہہ کر تسلی نہیں دے سکتا تھا کہ گھبراؤ نہیں۔ میں تمہاری مدد کرنے آگیا ہوں ،

زوناش نے تالے کو پکڑ کر ایک جھٹکا دیا۔ تالا کنڈے سمیت ٹوٹ کر اس کے ہاتھ میں آگیا۔ اس نے دروازہ کھول دیا۔ اندر سے پندرہ سولہ برس کی ایک سانولے رنگ کی دیہاتی لڑکی گھبرائی ہوئی باہر نکلی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ کس نے دروازہ کھول کر اسے بچایا ہے۔ زوناش اسے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ لڑکی کو جب وہاں کوئی دکھائی نہ دیا تو اس نے ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف دیکھا اور بولی۔ “ہے بھگوان تیری کرپا ہو گئی ہے۔ تو نے اپنے دیوتا کو میری مدد کے لیے بھیجا، پرنتو جنگل کے آدم خور مجھے ہڑپ کر جاتے۔”

زوناش کو ٹھڑی کے باہر ایک طرف چپ چاپ کھڑا لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔ لڑکی نے آسمان کی طرف ہی منہ اٹھائے کہا۔ ” ہے بھگوان اگر تیرا بھیجا ہوا دیوتا ابھی تک یہاں کھڑا ہے۔ تو اسے کہو کہ مجھے میرے گوروجی کی کٹیا میں پہنچا دے۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ جنگل میں اکیلی گئی تو آدم خور جنگلی مجھے اٹھا کر لے جائیں گے۔”

زوناش اسے بول کر تو کہہ نہیں سکتا تھا کہ میں یہاں پر موجود ہوں۔ چلو میں تمہیں تمہارے گورو کی کٹیا تک چھوڑ آتا ہوں۔ اگرچہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتیں مگر گھبرانا ہرگز مت ……. لیکن اس نے حلق سے تین چار آوازیں ضرور نکالیں لڑکی نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا۔ “بھگوان میں نے تیرے دیوتا کی آواز سن لی ہے۔”

پھر سامنے دیکھتے ہوئے بولی۔ “اے آکاش کے دیوتا میں نے تمہاری آواز سن لی ہے۔ میں جان گئی ہوں کہ تم یہاں موجود ہو۔ تم نے مجھے کوٹھڑی سے نکال کر بڑی کرپا کی ہے۔ اب مجھے میرے گورو دیو کی کٹیا تک بھی پہنچا دو، میرے ساتھ رہنا میں تمہارے آگے آگے چلتی ہوں۔”

اور لڑکی نے جنگل میں ایک طرف چلنا شروع کر دیا۔ زوناش اس کے پیچھے چلنے لگا۔ کوئی ایک فرلانگ کی دوری پر اس نے دیکھا کہ درختوں کے درمیان ایک جھونپڑی ہے جس کے باہر ایک بھاری بدن والا جٹادھاری سادھو آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے۔ لڑکی نے قریب جا کر کہا۔ “پرانام گورو دیو! میں آگئی ہوں۔”

گورو دیو نے آنکھیں کھول کر لڑکی کو دیکھا اور پوچھا۔ ” ساوتری بیٹی، تم کہاں گم ہو گئی تھی؟”

لڑکی نے کہا۔ “بابا! مجھے جنگلی لوگ اٹھا کر لے گئے تھے۔ انہوں کوٹھڑی میں بند کر دیا تھا۔ بھگوان نے آکاش کے دیوتا کو میری مدد کو بھیجا جس نے مجھے اس کوٹھڑی میں سے نکالا۔ بابا! بھگوان کا بھیجا ہوا دیو تا تمہیں دکھائی نہیں دے گا، میں نے اس کی آواز سن لی تھی۔ وہ میرے ساتھ ہی آیا ہے۔”

بھاری بدن والے جٹادھاری سادھو نے اُس طرف نگاہ اٹھائی جس طرف زوناش کھڑا تھا۔

موٹے جٹا دھاری سادھو نے کہا۔ ”ہاں بیٹی! میں آکاش کے دیوتا کو دیکھ رہا ہوں۔ “

زوناش کے حلق سے عجیب سی آواز نکلی۔ اس نے اس نیم ڈراؤنی آواز میں جٹادھاری سادھو سے پوچھا تھا کہ “وہ کیسے اسے دیکھ سکا ہے؟

جٹادھاری سادھو نے زوناش کی آواز بھی سن لی تھی اور وہ حقیقت میں اسے دیکھ بھی رہا تھا۔ اس نے زوناش سے کہا۔

“اے نیک دل دیو تا! میں نے بارہ سال اس جنگل میں بیٹھ کر تپسیا کی ہے۔ اس کی بدولت میرے اندر اتنی طاقت پیدا ہو گئی ہے کہ میں غیبی چیز کو دیکھ سکتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے تمہیں دیکھ لیا ہے۔ بھگوان کے بھیجے ہوئے نیک دل دیوتا میں غیبی چیز کو تو دیکھ سکتا ہوں لیکن ابھی میرے اندر اتنی شکتی پیدا نہیں ہوئی کہ جس کی مدد سے میں گم شدہ انسانوں اور گم شدہ چیزوں کا بھی سراغ لگا سکوں۔ ورنہ میں ساوتری کو خود جا کر کوٹھڑی میں سے نکال کر لا سکتا تھا۔”

زوناش خاموشی سے جٹا دھاری سادھو کی باتیں سن رہا تھا اور دل میں بڑا خوش ہو رہا تھا کہ اس نے ایک اور نیک کام کیا ہے۔ اس کے دماغ پر سے اس کے گناہوں کا تھوڑا سا اور بوجھ ہٹ گیا تھا۔ وہ وہاں سے چلنے لگا تو جٹا دھاری سادھو نے کہا۔ “اے آکاش کے نیک اور پوتر دیوتا ؟؟ جانے سے پہلے میرا ایک اور کام کرتے جاؤ۔ یہ وہ کام ہے جو سوائے تمہارے دنیا کا کوئی انسان نہیں کر سکتا۔”

زوناش چلتے چلتے وہیں رک گیا۔ اب اس کو یقین ہو گیا تھا کہ یہ جٹادھاری سادھو اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ سادھو سے یہ تو نہیں پوچھ سکتا تھا کہ اس کا کام کیا ہے لیکن وہ اس کی مدد کرنے کو تیار ہو گیا اور سادھو کی طرف دیکھنے لگا۔

جٹا دھاری سادھو نے کہا۔ “اے پوتر دیوتا ؟! اے شکتی کے ساگر ہنومان جی کے او تار میری بیوی یعنی میری ساوتری کی ماں کو مجھ سے زیادہ طاقتور اور میرے دشمن راکشس نے سامنے والے ٹیلے کے غار میں قید کر رکھا ہے۔ میری مدد کر ، میری بیوی اور میری بیٹی کی ماں کو راکھشس کی قید سے نکال کر ہمیں پھر سے ملا دے۔ میری اتنی شکتی نہیں ہے کہ میں اپنے سے دس گنا زیادہ شکتی والے راکھشس کا مقابلہ کر سکوں۔ بھگوان کے لیے ہم پر کرپا کرو”.

زوناش جٹادھاری سادھو کو یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ چلو مجھے دکھاؤ وہ غار کہاں ہے جہاں تمہاری بیوی قید ہے، مگر اس نے حلق سے آوازیں ضرور نکالیں ،

جٹادهاری سادھو نے اپنی بیٹی سے کہا۔ ” ساوتری بیٹی ! تو یہاں میری کٹیا میں بیٹھ، میں ہنومان جی کے اوتار کے ساتھ جاتا ہوں اور تمہاری ماتا جی کو ساتھ لے کر آتا ہوں”

جٹادھاری سادھو اٹھ کر زوناش کے قریب آیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر پر نام کیا اور کہا۔ “مہاراج! آئیے۔”

اس وقت زوناش کے دماغ کو پورا یقین ہو گیا کہ یہ جٹادھاری سادھو اسے دیکھ سکتا ہے کیونکہ اس نے زوناش کی نیم وا نیم مردہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے پر نام کیا تھا۔ جٹادھاری سادھو آگے آگے چل پڑا زوناش اس کے پیچھے چلنے لگا۔ وہ ایک ندی کے پل پر سے گزر کر جھاڑیوں اور اونچی گھاس کے میدان میں سے گزرتے ہوئے ایک ٹیلے کے پاس آگئے۔ ٹیلے کے اوپر ایک چھتری دار قلعے کا کھنڈر تھا۔ جٹا دھاری سادھو نے زوناش کو جھک کر ہاتھ جوڑ کر ایک بار پھر پر نام کیا اور آنکھوں میں آنسو بھر کر بولا۔ ”مہاراج! میری بچی کو اس کی ماتا جی سے ملا دیں مجھے میری دھرم پتنی واپس دلا دیں۔ میں جنم جنم ل آپ کا داس بن کر رہوں گا۔”

زوناش اس غم زدہ سادھو کی بیوی کو راکھشس کی قید سے رہائی دینے کو بے تاب تھا۔ وہ اپنے ضمیر پر پڑے ہوئے گناہوں کے کچھ اور بوجھ ہلکے کرنا چاہتا تھا ، اس نے حلق سے آواز نکالی۔ گویا اسے کہا کہ فکر نہ کرو۔ جس راکھشس نے تمہاری بیٹی کی ماں کو قید میں ڈال رکھا ہے میں اس کی گردن اڑا کر تیری بیوی اور تیری بیٹی کی ماں کو واپس لے آؤں گا۔ جٹا دھاری سادھو ٹیلے کی چڑھائی چڑھنے لگا۔ زوناش اس کے پیچھے پیچھے تھا۔۔

ٹیلہ زیادہ بلند نہیں تھا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ ٹیلے کی چوٹی پر چھتری دار قلعہ کے کھنڈر کے دروازے پر کھڑے تھے، زوناش رک گیا۔

جٹا دھاری سادھو بولا “مہاراج! میرے ساتھ آجائیں۔ اس قلعے کے اندر وہ غار ہے جہاں راکھش نے میری بچی کی ماتا کو قید میں ڈال رکھا ہے۔”

زوناش کے حلق سے عجیب سی آواز نکلی اور ہاتھ سے اشارہ کیا کہ چلو، مجھے وہاں لے چلو۔ چھتری دار قلعے کا کھنڈر بھوتوں کا مسکن لگتا تھا۔ اتنی ڈراؤنی خاموشی چھائی ہوئی تھی کہ کسی پرندے تک کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ جٹادھاری سادھو کھنڈر کے اندر داخل ہو گیا۔ وہ ایک تنگ ڈیوڑھی میں سے نکل کر ایک چھوٹے سے صحن میں سے ہوتے ہوئے سامنے والے دوسرے دروازے کے قریب آگئے۔ وہاں ایک ٹوٹا پھوٹا زینہ تھا۔ زوناش کو لے کر جٹا دھاری سادھو زینہ چڑھ کر دوسری منزل کے ایک بوسیدہ کمرے میں آگیا جس کی دیواروں اور چھت پر جالے لگے ہوئے تھے۔ یہاں پہنچ کر جٹادھاری سادھو ایک طرف کھڑا ہو گیا اور دھیمی آواز میں اپنے ہاتھ جوڑ کر بولا۔ “مہاراج! اس فرش کے نیچے وہ غار ہے جہاں راکشس نے میری پتنی کو قید میں ڈال رکھا ہے۔”

زوناش نے غور سے دیکھا تو اسے فرش کے درمیان لوہے کا ایک گول ڈھکنا دکھائی دیا۔

جٹادھاری سادھو نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ “مہاراج! اس کے نیچے غار ہے۔ مہاراج! مجھے وہاں تک جاتے ڈر لگتا ہے۔ راکھشس کو میرا پتہ چل گیا تو وہ مجھے اسی جگہ اپنے منتروں سے بھسم کر ڈالے گا۔ مہاراج! آپ خود ہی جا کر دیکھ لیں۔”

زوناش کو اپنی طاقت پر ناز تھا۔ اس نے حلق سے دو بار ایک عجیب سی آواز نکالی اور فرش کے وسط میں جا کر جھک کر لوہے کے وزنی ڈھکن کو اٹھا لیا۔ نیچے اندھیرا تھا۔ جیسے ہی زوناش اندھیرے میں جھانکنے کے واسطے جھکا ،جٹادھاری سادھو جیسے اس گھڑی کے انتظار میں تھا۔ وہ دوڑ کر آیا اور اس سے پہلے کہ زوناش پیچھے مڑکر دیکھ سکے، جٹا دھاری سادھو نے اپنی پوری طاقت سے زوناش کو دھکا دیا اور وہ اندھیرے کنوئیں میں گر پڑا۔

اسکے گرتے ہی جٹادھاری سادھو نے گڑھے کے دہانے پر کھڑے ہو کر بلند آواز میں کہا۔ ”سن او شیطان کے چیلے! اندھا کھائی کے ٹیلے پر جس سادھو کا سرکاٹ کر تم نے در گیانی کی عزت بچائی تھی وہ میرا چیلا تھا۔ میں نے اسی وقت قسم کھائی تھی کہ میں اپنے چیلے کے قاتل سے بدلہ لوں گا۔ میں نے بدلا لے لیا ہے۔ اب تو ایک ہزار سال تک بھی اگر کوشش کرتا رہے، اپنی ساری طاقت کا زور بھی لگالے تو بھی اس اندھے کنوئیں سے باہر نہ نکل سکے گا۔”

جٹادھاری سادھو نے گڑھے کے اوپر لوہے کا ڈھکنا ڈال کر اس کا دہانہ بند کر دیا اور وہاں سے چلا گیا۔

زوناش ایک اندھیرے کنوئیں میں جا گرا تھا۔ اس کنوئیں میں زوناش کی کمر تک پانی تھا۔ پانی سخت گندا اور بدبودار تھا۔ زوناش نے گرنے کے فوراً بعد اپنے آپ کو سنبھالا اور اوپر دیکھا۔ اوپر اسے سوائے اندھیرے کے اور کچھ نظر نہ آیا۔

کنواں کافی گہرا تھا۔ اس نے جٹادھاری سادھو کا جملہ سن لیا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ کھیل اس سادھو نے اسے اپنے جال میں پھنسانے کے لیے کھیلا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ میں اس طرف آرہا ہوں، اپنی شکتی سے اس نے معلوم کر لیا تھا کہ زوناش اس جگہ کی طرف چلا آ رہا ہے۔ اس نے ایک لڑکی کو جان بوجھ کر ایک کوٹھڑی میں بند کرکے تالا لگا دیا اور لڑکی کو سمجھا دیا کہ جب زوناش اسے باہر نکالے تو وہ اسے کسی بہانے میرے پاس لے آئے۔ جٹادھاری سادھو اپنی سازش میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اس نے زوناش سے اپنے چیلے کی موت کا بدلہ لے لیا تھا مگر زوناش کے دماغ میں انتقام کی ایسی آگ بھر دی تھی کہ جو ایک بار پھر سینکڑوں ہزاروں انسانوں کو قتل کرنے کے بعد بھی بجھنے والی نہیں تھی۔

جٹادھاری سادھو کی اس حرکت سے زوناش کا انسانوں پر سے ایک بار پھر اعتماد اٹھ گیا تھا اوراب وہ کسی بھی سادھو کو زندہ نہ چھوڑنے کا عزم کر چکا تھا۔ اب صرف اسے کسی طرح اس کنوئیں سے باہر نکلنا تھا۔

یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ زوناش کی لاش اندھیرے میں بہت حد تک دیکھ سکتی تھی۔ لیکن جس کنوئیں میں اسے جٹادھاری سادھو نے دھوکے سے پھینک دیا تھا ،اس میں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ زوناش بھی ایک لاش ہی تھا۔ وہ کمر تک کنوئیں کے پانی میں ڈوبا کھڑا رہا۔ اس میں اور ایک عام نارمل انسان میں بڑا فرق تھا۔ عام انسان کو اندھیرے کنوئیں میں گرا دیا جائے تو ویسے ہی دہشت زدہ ہو کر چیخنا شروع کر دے لیکن زوناش ایک سرد بے حس لاش تھا۔ اس کا دماغ ضرور پوری طرح سے کام کر رہا تھا لیکن باقی جسم کا احساس نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس کے باوجود وہ اس اندھے کنوئیں سے نکلنا چاہتا تھا۔ اس کے دماغ نے وہاں سے نکلنے کے بارے میں غور کرنا شروع کر دیا۔ کنوئیں میں گھپ اندھیرا تھا۔ زوناش کو اس اندھیرے میں بہت کچھ دکھائی دے رہا تھا۔ اس کو کنوئیں کی دیوار کی اینٹیں دکھائی دے رہی تھیں۔ جن پر کائی جمی ہوئی تھی اور یہ کہیں سے باہر نکلی ہوئی تھیں اور کہیں سے اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔

زوناش کی لاش نے ہاتھ لگا کر کنوئیں کی دیوار کی اینٹوں کو ٹٹولا۔ ہر اینٹ اپنی جگہ پر پختگی سے لگی ہوئی تھی۔ اچانک اسے ایک باریک سیٹی کی آواز سنائی دی۔ یہ آواز تھوڑی دیر بلند ہو کر خاموش ہو گئی۔

زوناش اپنی نیم وا نیم مردہ آنکھوں سے کنوئیں کی دیوار کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں سے اس کے خیال میں سیٹی کی آواز آئی تھی۔ تیسری بار سیٹی کی آواز آئی تو لاش نے اس جگہ نگاہیں مرکوز کردیں جہاں سے اس کے اندازے کے مطابق سیٹی کی آواز آئی تھی۔ اسے اندھیرے میں دو چھوٹی چھوٹی گول انار کے دانوں ایسی آنکھیں چمکتی دکھائی دیں۔ زوناش نے اس طرف ہاتھ بڑھایا تو ایک زبردست پھنکار کے ساتھ ایک سانپ نے اینٹوں کے سوراخ میں سے سر باہر نکال کر زوناش کے ہاتھ پر ڈس دیا۔ زوناش پر سانپ کے زہر کا اثر بالکل نہ ہوا۔ اسے صرف سانپ کے دو دانتوں کی چبھن ہی محسوس ہوئی۔ اس نے دوسری بار سانپ کو پکڑنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا تو سانپ نے دوبارہ اسے ڈس دیا، لیکن اب زوناش نے سانپ کو پکڑ لیا تھا۔ اس نے سانپ کو آنکھوں کے سامنے لا کر غور سے دیکھا۔ یہ سبز اور سرخ رنگ کا سانپ تھا۔ جو بار بار اپنی پتلی زبان باہر نکال کر لہرا رہا زوناش کی لاش کے دل نے سانپ کو کچلنا پسند نہ کیا۔ اس نے سانپ کو دیوار کی اینٹوں کے سوراخ میں بٹھادیا۔ سانپ نے فوراً اپنا پھن کھول لیا اور ایسی نظروں سے زوناش کو تکنے لگا جیسے اس کا شکریہ ادا کر رہا ہو کہ اس نے اسے ہلاک نہیں کیا ۔ زوناش بھی ٹکٹکی باندھے سانپ کو تک رہا تھا۔ سانپ جلدی سے سوراخ کے اندر رینگ گیا۔ تھوڑی دیر بعد جہاں سے سانپ دیوار کے اندر گھسا تھا وہاں سے دیوار کی ایک اینٹ آہستہ آہستہ باہر کی طرف نکلنے لگی۔ زوناش بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اینٹ ایسے آگے آرہی تھی جیسے اسے کوئی پیچھے سے دھکیل رہا ہو۔ پھر اینٹ دیوار سے نکل کر کنوئیں کے پانی میں گر پڑی۔ اس کے بعد دوسری اینٹ نے بھی اپنی جگہ سے کھسکنا شروع کر دیا۔ زوناش دوسری اینٹ کو غور سے دیکھنے لگا۔ دوسری اینٹ بھی پیچھے سے دھکیلی جا رہی تھی اور وہ دیوار سے نکل کر کنوئیں میں گر گئی۔ اس وقت زوناش کو سوراخ کے اندر سانپ دکھائی دیا۔ ان اینٹوں کو سانپ نے اندر سے دھکیل کر نیچے گرایا تھا۔ زوناش ساکت ہو کر کمر تک کنوئیں کے پانی میں کھڑا تھا اور ٹکٹکی باندھ کر سانپ کو دیکھ رہا تھا جو سوراخ کے اندر ایک اور اینٹ کو باہر کی طرف دھکیل رہا تھا۔

زوناش کے دماغ میں خیال آیا کہ یہ سانپ کیا کر رہا ہے؟

وہ دیوار کی اینٹیں کیوں نیچے گرا رہا ہے۔ سانپ نے تیسری کے بعد چوتھی اینٹ کو بھی نیچے گرایا تو زوناش نے دیکھا کہ وہاں ایک چوکور شگاف نمودار ہو گیا ہے جس کی دوسری جانب پانی کے بہنے کا ہلکا ہلکا شور سنائی دے رہا ہے۔ زوناش نے شگاف میں جھانک کر دیکھا۔ سانپ غائب ہو چکا تھا۔ شگاف کے اندر پتھروں کے درمیان ایک نالہ بہہ رہا تھا۔ زوناش نے دونوں ہاتھوں کی مدد سے دیوار کی دس بارہ اینٹیں گرا دیں۔ شگاف چوڑا ہو گیا۔ اب دیوار میں ایک شگاف بن گیا تھا۔ زوناش شگاف کے اندر داخل ہو کر دوسری طرف نالے میں آگیا۔ نالے میں پانی اس کی پنڈلیوں تک تھا۔ یہ ایک تنگ سرنگ تھی ۔ نالے کا پانی سرنگ میں آگے کی طرف جا رہا تھا۔ زوناش بھی آگے دیوار کی طرف چلنے لگا۔ سرنگ کی چھت زیادہ اونچی نہیں تھی۔ زوناش کو جھک کر چلنا پڑ رہا تھا۔ سرنگ کبھی دائیں طرف مڑ جاتی، کبھی بائیں طرف مڑ جاتی تھی۔ زوناش اکیلا آہستہ آہستہ پانی میں چلتا چلا جا رہا تھا۔ سرنگ چوڑی ہونے لگی۔ اس کی چھت بھی اونچی ہونے لگی۔ پھر سرنگ ایک ایسی جگہ پہنچ گئی جہاں کافی کشادہ دالان سا تھا۔ نالہ اس دالان کے کنارے کنارے دیوار کے ساتھ بہتا ہوا آگے دیوار کی تنگ سرنگ میں داخل ہو رہا تھا۔ زوناش نالے سے باہر نکل آیا۔

اس نے کھڑے ہو کر آہستہ آہستہ اپنا سر اوپر اٹھا کر چھت کی طرف دیکھا۔ چھت کافی اونچی تھی۔ اس کا دماغ سوچ رہا تھا کہ یہ سرنگ کس نے بنائی ہے اور یہ کون سی پراسرار جگہ ہے۔ دالان میں پتھر کے ناتراشیدہ ستون تھے جو زمین سے لے کر چھت تک چلے گئے تھے۔ فضا میں ہلکا ہلکا اندھیرا تھا۔ اس اندھیرے میں زوناش بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ اس نے دالان کی پتھریلی دیواروں کا جائزہ لیا۔ ایک جگہ دیوار میں گزرنے کے لیے خالی جگہ تھی۔ زوناش اس کی طرف بڑھا، یہ بغیر کواڑوں کے دیوار میں ایک تنگ سا دروازہ بنا ہوا تھا۔ اس کی دوسری جانب ایک اور سرنگ تھی۔ زوناش اس سرنگ میں داخل ہو گیا۔ وہ باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کر رہا تھا۔ یہ سرنگ ایک تنگ و تاریک گلی کی طرح تھی۔ زوناش قدم قدم بیماروں کی طرح چلتا سرنگ کا ایک اور موڑ گھوم گیا۔ آگے سرنگ بند تھی۔ سامنے دیوار آگئی۔

زوناش رک گیا اور سرنگ کی دیوار کو تکنے لگا۔ اچانک اسے ایک آواز سنائی دی۔ زوناش نے آواز پر کان لگا دیئے۔ یہ آواز کسی عورت کی تھی جو آہستہ آہستہ رو رہی تھی۔ زوناش نے دیوار کے ساتھ کان لگایا۔ عورت کے رونے کی آواز دیوار کی دوسری جانب سے آ رہی تھی۔ زوناش حیران ہوا کہ یہ کون عورت ہے جو رو رہی ہے۔ عورت کا انداز ایسا تھا جیسے وہ سخت بے ایک کیا اور سخت بے بسی اور اذیت کی حالت میں ہو۔ اس کے ساتھ ہی زوناش کو ٹھک ٹھک کی ہلکی سی آواز بھی سنائی دی۔ زوناش کی لاش نے دونوں ہاتھوں سے دیوار کو ٹٹول کر دیکھا کہ شاید وہاں دوسری طرف جانے کے لیے کوئی خفیہ راستہ بنا ہوا ہو مگر اسے کوئی سوراخ کوئی ہلکا سا شگاف بھی نہ ملا۔ زوناش نے دونوں ہاتھ دیوار کے ساتھ لگا کر دیوار کو دوسری طرف دھکا دیا۔ دیوار اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلی۔ زوناش کے دماغ کو یقین ہو گیا تھا کہ دوسری طرف باہر نکلنے کے لیے کوئی راستہ موجود ہے۔ اس کے اندر دس بارہ آدمیوں کی طاقت تھی۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے دیوار کو پورا طاقت سے دھکا دیا۔ دیوار درمیان میں سے ٹوٹ کر گر پڑی۔ وہاں ایک شگاف نمودار ہو گیا۔

زوناش کی لاش نے شگاف میں سے دوسری طرف دیکھا۔ دوسری جانب ایک وسیع دالان تھا جس کے وسط میں ایک چھوٹا سا تالاب تھا اندھیرے میں زوناش کو تالاب کی سطح پر ایک عورت کی لاش دکھائی دی۔

رونے کی آواز اسی لاش کی تھی۔ دیوار کے گرنے سے عورت کے رونے کی آواز ایک لمحے کے لیے رک گئی۔ زوناش شگاف میں سے دوسری طرف آگیا۔ تالاب کے کنارے پتھروں کی بڑی بڑی سلوں کے اوپر بڑے بھیانک چہروں والے بت رکھے ہوئے تھے۔ عورت کے رونے اور بین کرنے کی آواز ایک بار پھر شروع ہو گئی روتے روتے عورت نے کہا۔ ” زوناش! میری مدد کرو مجھے بچالو ، مجھے بچالو۔”

زوناش نے تالاب کے کنارے آکر غور سے عورت کی طرف دیکھا۔ عورت ایک بے حس و حرکت لاش کی طرح پانی کی سطح پر پڑی ہوئی تھی۔ اس کے سر پر ایک کالا سانپ کنڈلی مارے بیٹھا تھا اور عورت کے ماتھے پر بار بار ڈس رہا تھا اس کے ڈسنے سے ہلکی سی ٹھک ٹھک کی آواز پیدا ہو رہی تھی۔ عورت کی لاش نے زوناش کو دیکھ لیا تھا۔ اس نے کراہتے ہوئے کہا۔ ” زوناش! مجھے اس سانپ سےنجات دلاؤ۔ میں سخت تکلیف میں ہوں”

زوناش نے اپنا ہاتھ سانپ کی طرف بڑھایا تو سانپ نے پھنکار مار کر زوناش کے ہاتھ پر ڈس دیا۔ مگر اس کے زہر کا زوناش کی لاش پر کوئی اثر نہ ہوا۔ زوناش نے سانپ کو گردن سے پکڑ کر عورت کے سر کے اوپر سے اٹھا لیا اور دونوں ہاتھوں میں لے کر اسے کچل کر تالاب سے باہر پھینک دیا۔ عورت نے ایسے سانس لیا جیسے ایک عرصے کے بعد اسے سکون اور راحت نصیب ہوئی ہو۔”.

زوناش بول نہیں سکتا تھا۔ صرف حلق سے عجیب و غریب ڈراؤنی آواز ہی نکال سکتا تھا، مگر ان آوازوں کا ایک مفہوم ہوتا تھا۔ اس نے غور سے عورت کے چہرے کو دیکھا۔ عورت خوش شکل تھی مگر سانپ کے زہر سے اس کا چہرہ سیاہ پڑ چکا تھا۔ سانپ کے ہلاک ہونے کے بعد عورت کی لاش میں جان پیدا ہو گئی تھی۔

اس نے زوناش سے کہا۔ ” زوناش! میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تالاب سے باہر نکالو۔”

زوناش نے اپنا لمبا بازو عورت کی طرف بڑھایا۔ عورت نے اس کے ہاتھ کو پکڑ لیا۔ زوناش نے عورت کو تالاب سے باہر نکال دیا۔ عورت تالاب کے کنارے لیٹ گئی۔ اس نے ساڑھی پہن رکھی تھی جو اس کے جسم کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔ عورت کے بال بھی گیلے اور الجھے ہوئے تھے۔ زوناش نے حلق سے آواز نکال کر عورت سے پوچھا کہ تم کون ہو اور کیا یہاں سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ ہے۔ یہ جملہ زوناش کی لاش کی زبان سے ادا نہیں ہوا تھا بلکہ اس کے دماغ نے یہ جملہ سوچا تھا۔ زوناش کی لاش زبان سے کوئی جملہ ادا نہیں کر سکتی تھی۔

عورت نے کمزور آواز میں کہا۔ ” زوناش! تم جو کچھ کہنا چاہتے ہو وہ میں نے سن لیا ہے۔ فکر نہ کرو تم نے میری جان بچائی ہے اور مجھے ایک بہت بڑے عذاب سے نجات دلائی ہے۔ اس لئے میں تمہیں یہاں سے ضرور باہر نکال کر لے جاؤں گی۔”

اب جب زوناش کے دماغ پر یہ انکشاف ہوا کہ یہ عورت اس کے دماغ میں آئے ہوئے خیالات اور جملوں کو پڑھ لیتی ہے تو زوناش نے اپنے دماغ میں دہرایا۔

” تم کون ہو؟ تمہیں میرا نام کیسے معلوم ہوا؟ یہاں سے باہر جانے کا راستہ کس طرف ہے “؟؟

یہ جملے بھی عورت نے سن لئے تھے۔ عورت آہستہ سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ کہنے لگی “میں کون ہوں؟ یہ بڑی لمبی کہانی ہے۔ مجھے تمہارا نام کیسے معلوم ہوا؟ یہ بھی نہیں بتا سکتی لیکن میں تمہیں یہاں سے باہر ضرور نکال دوں گی۔”

اُس پراسرار عورت نے دیوار کے ایک طاق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زوناش سے کہا۔ ” اس طاق میں ایک پیالہ رکھا ہے۔ وہ مجھے لا کر دے دو۔”

زوناش طاق کے پاس گیا۔ طاق میں سیاہ رنگ کا ایک پیالہ پڑا تھا۔ پیالے ایک بچھو تیر رہا تھا۔ زوناش نے پیالے کو نیچے سے پکڑا اور عورت کو دے دیا۔ عورت پیالے کو دیکھ کر ایسے خوش ہوئی جیسے اسے آب حیات کا پیالہ مل گیا ہو۔ اس نے پیالے کے پانی میں ہاتھ ڈال کر بچھو کو پکڑا اور اسے اپنے منہ میں ڈال کر چبانا شروع کر دیا۔ زوناش نیم وا ساکت آنکھوں سے عورت کو دیکھ رہا تھا۔

عورت بچھو کو کھا گئی۔ کھانے کے بعد وہ پیالے کا سارا پانی بھی پی گئی۔ اس نے پیالہ تالاب میں پھینک دیا۔ اس کے بعد عورت کے جسم میں ایک دم سے توانائی آگئی ، وہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی۔ ” زوناش ! تم نے مجھے پھر سے زندہ کر دیا ہے،

آؤ میرے ساتھ میں تمہیں اس اذیت خانے سے باہر لے جاتی ہوں۔”

عورت دیوار کے پاس ایک جگہ جا کر کھڑی ہو گئی۔ اس نے دیوار میں سے اینٹ اکھاڑ کر باہر نکالی اور ہاتھ اندر ڈال کر کسی سلاخ کو زور سے اپنی طرف کھینچا، سلاخ کھینچتے ہی دیوار زبردست گڑگڑاہٹ کے ساتھ ایک طرف کو ہٹ گئی ، وہاں ایک زینہ نمودار ہو گیا جو اوپر کی طرف جاتا تھا۔

عورت نے زوناش سے کہا۔ “میرے پیچھے آجاؤ۔”

زینہ اوپر ایک ایسی کوٹھڑی میں نکل آیا جس میں گھپ اندھیرا تھا۔

زونثکے علاوہ شاید وہ پراسرار عورت بھی اندھیرے میں دیکھ سکتی تھی

وہ اندھیرے میں بڑی آسانی سے چل کر کوٹھڑی کی سامنے والی دیوار کے پاس جا کر رک گئی۔ اس نے ایک جگہ سے دیوار کی اینٹ باہر نکالی اور ہاتھ ڈال کر ایک سلاخ کو کھینچا ، دیوار میں گڑ گڑاہٹ کے ساتھ ایک شگاف نمودار ہو گیا۔ دوسری طرف سے دن کی روشنی اندر آنے لگی۔ عورت زوناش کو لے کر دوسری طرف آگئی۔

پتھروں کے درمیان سرنگ میں پانی بہہ رہا تھا۔

عورت نے کہا۔ ” یہ نالہ ہمیں سرنگ سے باہر نکال دے گا۔”

وہ نالے میں پڑے ہوئے بڑے بڑے پتھروں کے درمیان چلتے سرنگ میں آگے بڑھے۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہے تھے سرنگ میں دن کی روشنی زیادہ ہو رہی تھی۔ آخر ایک جگہ سرنگ کا دہانہ آگیا۔ یہاں سے وہ سرنگ سے باہر آئے۔

باہر جنگل کے درمیان ایک کھلی جگہ تھی۔ نالہ ایک طرف کو گھوم گیا جہاں وہ کھڑے تھے وہاں ان کی تین جانب اونچے اونچے درخت خاموش کھڑے تھے،

چوتھی جانب ان کے بالکل سامنے ایک قبرستان تھا۔ قبرستان میں بے شمار قبریں جن میں سے کسی پر بھی کوئی کتبہ نظر نہیں آرہا تھا۔ کسی کسی قبر کے سرہانے ڈراؤنی شکل والی مورتی دکھائی دے رہی تھی۔ قبرستان کے عقب میں ایک دو منزل عمارت تھی جس کی دیواروں کو جنگلی بیلوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔

پر اسرار عورت نے کہا۔ ” زوناش! یہ بت پرست جادوگروں کا قبرستان ہے، یہ مرے ہوئے جادوگر مردوں اور عورتوں کی قبریں ہیں۔ ان میں ایک میری قبر ہے۔ آؤ میں تمہیں اپنی قبر دکھاتی ہوں”

اس وقت دن ڈوب رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے آسمان پر کالے سیاہ بادل چھاگئے بجلی چمکنے لگی اور بادل گرجنے لگے۔

عورت زوناش کو ایک قبر پر لے گئی جو کھلی ہوئی تھی۔ قبر کے اندر لکڑی کا ایک تابوت تھا جو خالی تھا۔ عورت نے تابوت کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ” یہ میرا تابوت ہے۔”

بجلی بار بار چمک رہی تھی، بادل گرج رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی بارش ہو گئی۔

پراسرار عورت نے زوناش سے کہا۔ “بارش آگئی ہے۔ میرے ساتھ سامنے والے مکان میں آجاؤ۔ میں تمہیں وہاں سب کچھ بتا دوں گی کہ یہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ میں کون ہوں اور ہم یہاں سے کس طرح باہر نکل سکتے ہیں”؟

سیاہ بادلوں میں کڑکتی چمکتی بجلی اور بادلوں کی گرج اور بارش میں بھیگتے زوناش اور اسرار عورت سامنے والے مکان میں آگئے جو کوئی آسیب زدہ مکان لگتا تھا۔ فرش اکھڑا ہوا تھا، دیواروں کا چونا گر رہا تھا۔ پراسرار عورت زوناش کے ساتھ آسیبی مکان کی ڈیوڑھی میں بیٹھ گئی۔

زوباش کے دماغ نے پراسرار عورت سے پوچھا۔ “کیا ابھی ہم اس جگہ قید ہیں؟”

پراسرار عورت نے کہا۔ ”ہاں اس قبرستان کے اردگرد گرو جٹادھاری سادھو نے زبردست کالا جادو کر رکھا ہے۔ یہ وہی جٹادھاری سادھو جس نے اپنے چیلے کا بدلہ لینے کے لیے تمہیں اندھے کنوئیں میں پھینک دیا تھا۔ تمہیں یاد ہے اندھے کنوئیں میں جب تم دیوار کو ٹٹول رہے تھے تو تمہیں ایک سانپ نے دیوار کے سوراخ میں سے نکل کر دو بار ڈس دیا تھا۔ اگر تم اس سانپ کو وہیں مار ڈالتے تو اس اندھے کنوئیں میں سے کبھی باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ وہیں پانی میں پڑے پڑے تمہارا جسم گل سڑ جاتا لیکن نہ جانے تمہارے دماغ میں کیا بات آگئی تھی کہ تم نے سانپ کو معاف کر دیا اور اسے ہلاک نہیں کیا۔ اس کے جواب میں سانپ نے تم ے یہ سلوک کیا کہ تمہیں وہاں سے نکلنے کا راستہ بتادیا”

زوناش کے دماغ نے پوچھا۔ ” تم فضول باتیں مت کرو۔ یہ بتاؤ کہ میں یہاں سے باہر کس طرح نکل سکتا ہوں؟”

پراسرار عورت نے کہا۔ ” تم اکیلے یہاں سے قیامت تک نہیں نکل سکے اگر نکلو گے تو میرے ساتھ ہی نکلو گے۔ جٹادھاری سادھو بڑا خطرناک کالا جادوگر ہے۔ اس کے پاس اتنی شکتی ہے کہ وہ کھڑے کھڑے ہم دونوں کو آگ لگا کر بھسم کر سکتا ہے۔ میں اس کی دیوداسی ہوں۔ اس نے اپنے جادو کے ذریعے مجھے یہاں قید کر رکھا تھا۔ مگر ایک بار میں نے یہاں سے نکلنے کی کوشش کی تو جٹادھاری سادھو نے مجھے ایک قبر میں زندہ دفن کر دیا لیکن چونکہ مجھے بھی اس نے اپنے کالے جادو کی آدھی شکتی دے رکھی تھی اس لئے میں قبر کے اندر بھی زندہ تھی۔ جٹادھاری سادھو ہر روز رات کو اس بھوت محل میں آتا مجھے قبر سے نکالتا اور میرا رقص دیکھتا۔ میں نرتکی بھی ہوں۔ وہ میرے رقص سے خوش ہوتا۔ اس کے بعد وہ مجھے قبر میں بند کر دیتا تھا۔ ایک دفعہ میں نے اپنی طلسمی شکتی سے کام لیتے ہوئے قبر میں سے نکل کر فرار ہونے کی ایک اور کوشش کی مگر اس قبرستان کے ارد گرد سادھو نے جادو کی زبردست لہریں چھوڑ رکھی ہیں ان کی وجہ سے قبرستان کے دروازے کے پاس ہی مجھے زبردست جھٹکا لگا اور میں بے ہوش ہو گئی۔ جٹادھاری مجھے وہاں سے اٹھا کر بھوت محل لے آیا۔ اس نے کہا میں تمہیں ایسی سزا دوں جسے تم جنم جنم یاد رکھو گی۔ اس نے میرے سارے جسم کو ایک لاش میں تبدیل کردیا اور مجھے سرنگ کے اندر والے تالاب میں پھینک دیا۔ اس کے بعد میرے ماتھے پر ایک سانپ بٹھا دیا جو مجھے ڈستا رہتا تھا۔ میں نے اپنے جادو کی شکتی سے معلوم کیا کہ تالاب کے کنارے دیوار میں ایک طاق ہے جس میں ایک پیالے میں پانی ہے اور اس میں ایک بچھو ہے اور اگر وہ بچھو میں کھا جاؤں تو مجھے اس عذاب سے نجات مل سکتی ہے لیکن میرا جسم بےحس تھا۔ میں نہ ہاتھ ہلا سکتی تھی، نہ پاؤ چلا سکتی تھی۔ جب تم وہاں آئے تو مجھے اتنی طاقت مل گئی کہ میں اٹھ سکتی تھی، اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تمہیں معلوم ہی ہے۔”

زوناش کی لاش کے دماغ نے پراسرار عورت سے سوال کیا۔ ”یہ بتاؤ کہ اب یہاں سے کس طرح نکل سکیں گے؟”

پراسرار عورت نے کہا۔ ” مجھے اپنی جادو کی شکتی سے پتہ چل گیا ہے کہ ابھی جٹادھاری سادھو کو معلوم نہیں ہوا کہ میں تالاب سے باہر نکل آئی ہوں اور میں نے طاق والا بچھو کھا لیا ہے اور میرے اندر پھر سے طاقت پیدا ہو گئی ہے۔ اب محریث بات غور سے سنو۔ جس روز رات کو بادل چھا جاتے ہیں۔ بجلیاں کڑکتی ہیں ،بادل گرجتے ہیں اور بارش ہوتی ہے تو اس قبرستان میں چار سادھو ایک مردے کا بھوپان (جنازہ) لے کر آتے ہیں۔ وہ مردے کے بھوپان کو ایک تازہ کھدی ہوئی قبر پاس رکھ دیتے ہیں اور خود ہاتھ باندھ کر ایک طرف ہو کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسکے بعد چمکتی بجلی اور گرجتے بادلوں اور موسلادھار بارش میں جٹادھاری سادھو ایک طرف سے نمودار ہوتا ہے۔ وہ ایک تخت پر بیٹھا ہوتا ہے جس کو چار جادوگروں نے اٹھایا ہوتا ہے۔ تخت مردے کے بھوپان (جنازے) کے پاس رکھ دیا جاتا ہے۔ جٹادھاری سادھو تخت سے اتر کر مردے کے بھوپان کے گرد چھ چکر لگاتا ہے۔ پھر تخت پر رکھے تھیلے میں سے دو چھریاں نکال کر مردے کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور مردے کا شریر کاٹ کاٹ کر کھانا شروع کر دیتا ہے۔ وہ دیکھتے ہی دیکھتے سارے کا سارا مردہ کھا جاتا ہے۔ اس کے بعد مردے کی ہڈیاں اور کھوپڑی قبر میں دفن کر دیتا ہے اور تخت پر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کے غلام جادو گر تخت اٹھاتے ہیں اور اسے واپس اس کی کٹیا میں لے جاتے ہیں۔”

زوناش کے دماغ نے کہا۔ ” مجھے تمہاری اس کتھا کہانی سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ مجھے یہ بتاؤ کہ ہم یہاں سے کیسے فرار ہو سکتے ہیں؟”

پراسرار عورت نے کہا۔ “یہی میں تمہیں بتانے لگی تھی کہ تم بیچ میں بول پڑے،

سنو یہاں سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے،

کہ جب جٹادھاری سادھو مردے کا ماس کھا کر اس کی ہڈیاں اور کھوپڑی قبر میں دبا کر چلا جائے تو ہم دوبارہ قبر کو کھود کر مردے کی کھوپڑی نکال کر لے آئیں۔ میں اس کھوپڑی میں ایک خاص منتر پڑھ کر پھونکوں گی جس کے بعد مردے کی کھوپڑی پھٹ جائے گی اور اس کے دو ٹکڑے ہو جائیں گے۔ کھوپڑی کا ایک ٹکڑا میں اپنے پاس رکھ لوں گی اور دوسرا تم اپنے پاس رکھ لو گے۔ جب تک کھوپڑی کے ٹکڑے ہمارے پاس رہیں گے جٹادھاری سادھو کا بڑے سے بڑا جادو بھی کوئی اثر نہیں کر سکے گا اور اس طرح ہم قبرستان کے ارد گرد کھنچے ہوئے جٹادھاری سادھو کے طلسمی دائرے سے آسانی کے ساتھ نکل جائیں گے۔ اب ہم یہاں بیٹھ کر مردے کے بھوپان کا انتظار کریں گے ۔ کیونکہ آکاش پر سیاہ بادل ہیں، بجلی کڑک رہی ہے، بادل گرج رہے ہیں اور بارش ہو رہی ہے۔ ایسی ہی رات کو جٹادھاری سادھو مردہ کھانے کے لیے قبرستان میں آتا ہے”

زوناش اس پراسرار عورت کی بات سمجھ گیا تھا۔ اس کے آگے اس کی عقل کام بھی نہیں کرتی تھی کیونکہ وہ آدھا مردہ اور آدھا زندہ تھا۔ یہ صرف اس کا دماغ تھا جو پوری طرح سے بیدار ہو کر اسے چلا پھرا رہا تھا اور وہ سوچ بھی سکتا تھ دوسرا اُس کے دماغ میں پیدا ہونے والی باتوں اور خیالات کو سمجھ جائے تو وہ اسے بات سمجھا بھی سکتا تھا۔ زوناش کے دماغ میں ایک سوال بار بار آ رہا تھا۔ اس نے سوال اپنے دماغ میں دہرایا۔ پراسرار عورت کے دماغ تک زوناش کے دماغ کی لہریں آواز بن کر پہنچ گئیں۔

زوناش نے پوچھا تھا۔ ” یہ بتاؤ کہ میں غائب ہوں، کوئی مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ پھر تم نے مجھے کیسے دیکھ لیا تھا ؟”

پر اسرار عورت نے کہا۔ میں نے تمہیں اس جادو کی طاقت کی وجہ سے لیا تھا جو جٹادھاری سادھو نے مجھے دے رکھی ہے۔ اس جادو کے ذریعے مجھے تمہارا نام بھی معلوم ہو گیا تھا اور مجھے یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ تمہیں کئی مردہ آدمیوں کے جسم کے ٹکڑے جوڑ کر بنایا گیا ہے “

زوناش نے اپنے دماغ میں ایک خیال کے ذریعے پوچھا۔ “کیا تمہی پتہ ہے کہ میری کھوپڑی میں کس کا دماغ ڈالا گیا تھا؟“

پر اسرار عورت نے کہا۔” نہیں، یہ میں نہیں جانتی۔ ظاہر ہے جن لوگوں نے تمہیں مردوں کے ٹکڑے کاٹ کر اور جوڑ کر بنایا ہے۔ انہوں نے تمہارے دماغ میں بھی کسی مردے کا دماغ ڈالا ہو گا۔ میں تم سے یہ بالکل نہیں پوچھوں گی کہ وہ لوگ کون تھے جنہوں نے تمہیں بنایا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ کوئی بہت بڑے جادوگر ہیں۔”

زوناش نے اپنے دماغ کے ذریعے پراسرار عورت کے اس گمان کا کوئی جواب نہ دیا۔ وہ اسے بلکہ کسی کو بھی یہ نہیں بتانا چاہتا تھا کہ اس کی کھوپڑی میں دنیا کے سب سے زیادہ سنگ دل قاتل کا دماغ ڈالا گیا ہے۔

پراسرار عورت نے کہا۔ ”یہ بتاؤ زوناش! جٹادھاری سادھو یعنی میرے دشمن نے تو تمہیں دیکھ لیا ہو گا، جس طرح میں تمہیں دیکھ سکتی ہوں۔”

زوناش نے اپنے دماغ کی لہروں سے اسے بتایا کہ” جٹادھاری سادھو نے پہلی نظر میں ہی اسے دیکھ لیا تھا”۔

پراسرار عورت بولی۔ ” تو پھر ہمیں یہاں بیٹھنا نہیں چاہئے۔ اوپر آ جاؤ

ہم بھوت محل کی بالکونی میں بیٹھ کر مردے کے بھوپان کا انتظار کریں گے۔”

وہ زوناش کو اوپر لے گئی۔ دوسری منزل پہلی منزل سے زیادہ بوسیدہ اور آسیب زدہ تھی۔ اس منزل کی ایک ٹوٹی پھوٹی بالکونی تھی جس کا رخ قبرستان کی طرف تھا۔ بارش ہو رہی تھی، بادل اسی طرح گرج رہے تھے۔ بجلی رہ رہ کر کڑک رہی تھی۔ وہ دونوں بالکونی میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ ان کی نظریں قبرستان کے شکستہ گیٹ کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ شاید رات کے دس ساڑھے دس بجے کا وقت ہوگا کہ قبرستان کے گیٹ کی طرف سے ایسی آوازیں سنائی دیں جیسے کچھ لوگ بین کرتے آ رہے ہوں۔

پر اسرار عورت نے زوناش سے کہا۔ ”ہوشیار ہو جاؤ۔ کسی مردے کا بھوپان آرہا ہے”

زوناش کی نگاہیں پہلے ہی قبرستان کے گیٹ پر لگی ہوئی تھیں۔ اس طرف بڑا گہرا اندھیرا تھا۔ اچانک بجلی زور دار کڑک کے ساتھ چمکی۔ زوناش نے دیکھا کہ قبرستان کے دروازے سے چار آدمی ایک جنازہ اٹھائے چلے آرہے تھے۔ ان کے لباس سیاہ تھے۔ وہ جنازہ اٹھائے قبروں کے درمیان میں سے ہوتے چلے آرہے تھے اور ساتھ ساتھ بڑی درد ناک اور دہشت ناک آوازوں سے بین بھی کر رہے تھے۔ زوناش اپنی نیم وا آدھی زندہ آدھی مردہ آنکھوں سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بارش میں ان کے لباس بھیگ رہے تھے۔ جنازہ بھی بھیگ رہا تھا۔ بجلی رہ رہ کر چمک رہی تھی جس کی روشنی میں جنازہ لانے والوں کے بھیگے ہوئے سیاہ لبادے اور بھیگے ہوئے چہرے تھوڑی تھوڑی دیر بعد بالکل صاف نظر آ جاتے تھے۔ انہوں نے آسیب زدہ کھنڈر سے تھوڑے فاصلے پر مردے کا جنازہ قبروں کے درمیان رکھ دیا۔ یہ کافر اور بت پرست لوگ تھے۔ یہ لوگ اپنے مردوں کو جلاتے نہیں تھے بلکہ زمین میں دبا دیتے تھے۔ مردے کے جنازے کو قبروں کے درمیان ایک کھدی ہوئی قبر کے پاس رکھنے کے بعد چاروں آدمی ایک طرف ہاتھ باندھ کر بارش میں کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے بین کرنا بند کر دیا تھا۔

اتنے میں قبرستان کی سرنگ والی جانب سے ایک تخت آتا نظر آیا جس کو چار آدمیوں نے اٹھا رکھا تھا۔ بجلی چمکی تو زوناش نے دیکھا کہ تخت پر جٹادھاری سادھو بیٹھا ہوا تھا۔ تخت ذرا قریب آیا تو بجلی کی چمک میں زوناش نے جٹادھاری سادھو کو پہچان لیا۔ یہ وہی جادوگر تھا جس نے اپنے چیلے کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے زوناش کو اپنے جال میں پھنسا کر اندھے کنوئیں میں پھینک دیا تھا۔ اسے دیکھ کر زوناش کے دماغ نے لاوے کی طرح ابلنا شروع کر دیا۔۔

پراسرار عورت نے زوناش کے قریب ہو کر سرگوشی میں کہا۔ ”یہ ہے تمہارا اور میرا دشمن جٹادھاری سادھو اور قبیلے کا سب سے خطرناک قاتل، تم نے اسے پہچان لیا ہو گا ۔ “

زوناش کے دماغ کی ایک لہر نے پراسرار عورت کو بتایا کہ ہاں میں نے ضرور اسے پہچان لیا ہے۔ یہ وہی سادھو ہے جس نے مجھے اندھے کنوئیں میں پھینکا تھا۔

اس کے جواب میں پراسرار عورت نے کہا۔ اب خاموشی سے دیکھتے رہو کہ یہاں کیا ہوتا ہے”؟

جادوگروں نے جٹادھاری سادھو کا تخت اس جگہ لا کر رکھ دیا جہاں مردے کا بھوپان یعنی جنازہ رکھا ہوا تھا۔ چاروں کہاروں نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا اور وہ بارش میں بھیگ رہے تھے۔ جٹادھاری سادھو بھی بارش میں بھیگ رہا تھا اور رہ رہ کر چمکتی اور کڑکتی بجلی میں اس کا سیاہ اور منحوس چہرہ بار بار دکھائی دیتا تھا۔

چند لمحوں تک جٹادھاری سادھو تخت پر خاموش بیٹھا اپنے سامنے پڑے مردے کو غور سے دیکھتا رہا۔ پھر وہ ایک دم اٹھا۔ اس نے بازو کھول کر بادلوں کی طرف دیکھا۔ بجلی زور سے کڑکی۔ اس کی دہشت ناک کڑک میں جٹادھاری سادھو کے حلق سے ایک بھیانک چیخ نکل کر غائب ہو گئی اور اس نے چیخ کر کچھ منتر پڑھے۔

پراسرار عورت نے سرگوشی میں زوناش سے کہا۔ ” یہ مرگ منتر یعنی موت کے منتر ہیں۔ یہ منتر اگر کسی بیمار آدمی کے کان میں پھونکے جائیں تو وہ فوراً ان کے اثر سے مرجاتا ہے۔”

منتر پڑھنے کے بعد جٹادھاری سادھو نے تخت پر رکھے ایک تھیلے میں سے دو چھریاں نکال کر ہاتھوں میں پکڑ لیں۔ بجلی کی چمک میں چھریوں کے پھل چمک رہے تھے۔ اس نے چھریاں ہاتھوں میں لے کر مردے کے بھوپان کے گرد چھ چکر لگائے۔ ہر چکر پر وہ کوئی نیا منتر پڑھتا تھا۔ جب چھ چکر پورے ہو گئے تو جٹادھاری سادھو مردے کے قریب بیٹھ گیا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے مردے کے جسم پر چھریوں کے وار کرنا شروع کر دیئے۔ وہ اس طرح دیوانوں کی طرح وار کر رہا تھا جیسے قیمہ کوٹ رہا ہو۔ اس کے حلق سے عجیب ڈراؤنی اور غیرانسانی آوازیں نکل رہی تھیں۔ جب مردے کے جسم کی ایک ایک بوٹی الگ ہو گئی تو جٹادھاری آدم خور سادھو نے چھریاں تخت پر پھینک دیں اور دونوں ہاتھوں سے مردے کے جسم کی بوٹیاں کھانی شروع کر دیں۔ وہ جانوروں کی طرح مردے کا گوشت کھا رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ مردے کے جسم کا سارا گوشت ہڑپ کر گیا۔ پھر اس نے چھری پکڑ کر مردے کے بازو اور ٹانگوں کی ہڈیاں کاٹ کر الگ لگ کر دیں۔ سب سے آخر میں مردے کی گردن کاٹ کر اس کی کھوپڑی الگ کر دی۔ اس کے بعد وہ اٹھ کر کھڑا ہوا۔ اس نے ایک بار پھر دونوں بازو کھول کر آسمان کی طرف دیکھا۔ بارش میں اس کے منہ پر لگا ہوا مردے کا خون صاف نظر آ رہا تھا۔ اس نے ایک چیخ مار کر کچھ منتر پڑھے اور تخت پر آکر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ اس کے ساتھ جو چار آدمی مردے کا بھوپان اٹھا کر لائے تھے انہوں نے مردے کی ساری ہڈیاں اور کھوپڑی کھدی ہوئی قبر میں ڈال دیں اور بیلچوں سے قبر کے اندر مٹی ڈال کر اسے بند کر دیا۔

بارش اور طوفانی رات اور بجلی کی چمک اور بادلوں کی گرج میں یہ سارا منظر بڑا ہولناک تھا مگر پراسرار عورت اور زوناش کی لاش بڑے سکون کے ساتھ یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے۔ کیونکہ ان کا تعلق خود اسی دنیا سے تھا۔ قبر کو بند کرنے کے بعد کہاروں نے جٹادھاری سادھو کا تخت اٹھایا اور اسے لے کر سرنگ کے دہانے کی طرف چل پڑے۔ ان کے پیچھے پیچھے مردے کو لانے والے چاروں آدمی سر جھکائے ہاتھ سینوں پر باندھے دھیمی آواز میں بین کرتے چلے جا رہے تھے۔ جب یہ سارے لوگ جٹادھاری سادھو کے تخت سمیت سرنگ کے دہانے میں داخل ہونے کے بعد زوناش اور پراسرار عورت کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے تو پراسرار عورت نے زوناش سے کہا۔ ” زوناش! تم یہیں بیٹھے رہو۔ میں جاتی ہوں اور قبر میں سے مردے کی کھوپڑی نکال کر لاتی ہوں۔”

یہ کہہ کر پراسرار عورت بالکونی سے اٹھ کر نیچے چلی گئی۔ زوناش بالکونی میں ہی بیٹھا رہا۔

بارش اسی طرح ہو رہی تھی۔ بجلی چمک رہی تھی، بادل گرج رہے تھے۔ لگتا تھا آج ساری رات یہ طوفان جاری رہے گا۔ بجلی ایک بار چمکی تو زوناش نے پراسرار عورت کو دیکھا۔ وہ آسیب زدہ کھنڈر سے نکل کر قبر کی طرف جارہی تھی۔ قبر کے پاس جا کر وہ بیٹھ گئی اور لمبے لمبے ہاتھ چلا کر قبر کی تازہ مٹی کھودنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے ایک جانب سے قبر میں گہرا سوراخ کر لیا۔ پھر ہاتھ ڈال کر اندر سے کھوپڑی نکالی اور اسے اپنی ساڑھی کے پلو میں چھپا کر کھنڈر میں لے آئی۔

اس نے آتے ہی زوناش سے کہا۔ ” میں کھوپڑی لے آئی ہوں۔ اب میں اس کے دو ٹکڑے کرنے لگی ہوں۔ اگر تمہیں کوئی ڈراؤنی آواز سنائی دے تو ڈرنا نہیں۔”

اس نے کھوپڑی فرش پر رکھ دی۔ ایک پتھر قریب سے اٹھایا اور اسے پوری طاقت سے کھوپڑی پر مار دیا۔ کھوپڑی کے اندر سے ایک دلدوز آواز بلند ہوئی اور کھوپڑی دو ٹکڑے ہو گئی۔ پراسرار عورت نے اس پر منتر پڑھا پھر کھوپڑی کا ایک ٹکڑا اپنے پاس رکھ لیا اور ایک ٹکڑا زوناش کو دے دیا اور کہا۔

“اسے اپنے پاس سنبھال کر رکھنا۔ اور میرے ساتھ یہاں سے نکل چلو۔”

وہ آسیب زدہ کھنڈر سے نکل کر بارش میں بھیگتے ہوئے رات کی تاریکی میں قبروں کے اوپر سے گزرتے قبرستان کے شکستہ دروازے کی طرف تیز تیز چلنے لگے۔ قبرستان کے دروازے پر وہ جیسے ہی پہنچے ان دونوں کو ایک جھٹکا لگا۔ پراسرار عورت اپنی جگہ پر رک گئی۔ زوناش کو اپنے جسم میں بجلی کی لہریں سرایت ہوتی محسوس ہوئی۔

پر اسرار عورت نے کہا۔ گھبرانا مت۔ یہ جٹادھاری سادھو کے جادو کی لہریں ہیں۔ اس کے جادو نے ہم پر حملہ کیا ہے۔ اگر تمہارے پاس مردے کی کھوپڑی نہ ہوتی تو ہم دونوں اس جگہ بھسم ہو کر رہ جاتے۔ اب دروازے سے نکل کر جتنی تیز چل سکتے ہو میرے ساتھ چل پڑو۔”

پراسرار عورت آگے آگے تھی۔ قبرستان کے شکستہ دروازے سے نکلتے ہی وہ تیز تیز چلنے لگی۔ زوناش جتنا تیز چل سکتا تھا اس کے پیچھے چل پڑا۔ دونوں اندھیری رات میں چمکتی بجلیوں اور بارش میں بھیگتے ہوئے جا رہے تھے۔ جب وہ قبرستان سے کافی دور نکل گئے تو آگے ایک ندی آگئی۔ پراسرار عورت ندی میں اتر گئی۔ پانی اس کی کمر تک تھا۔ زوناش بھی پانی میں اتر گیا۔ چونکہ زوناش کا قد کافی لمبا تھا۔ اس لئے ندی کا پانی اس کے گھٹنوں سے بھی نیچے تھا۔ وہ ندی پار کر گئے۔ ندی کے دوسرے کنارے پر آکر پراسرار عورت نے دونوں بازو پھیلا کر اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا اور اس کے حلق سے ایک ڈراؤنی چیخ نکلی۔ زوناش کی جگہ کوئی عام آدمی وہاں ہوتا تو چیخ کی آواز سن کر ضرور ڈر کر بے ہوش ہو جاتا۔ پراسرار عورت نے کہا ” زوناش! اب ہم آزاد ہیں۔ ہم جٹادھاری ملیچھ سادھو کے طلسم سے آزاد ہو گئے ہیں۔ اب اس کا خطرناک سے خطرناک جادو اور کوئی منتر ہم پر کوئی اثر نہیں کرسکتا “

زوناش کے دماغ نے ایک خیال کی لہر کے ذریعے عورت سے سوال کیا۔ “جٹادھاری سادھو کو پتہ چل گیا ہو گا اور وہ ضرور ہمارے پیچھے ہمیں ہلاک کرنے آئے گا۔”

پر اسرار عورت نے کہا۔ “اب اس کا کوئی منتر کوئی جادو ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اگر اس نے ہم پر کوئی جادو کیا یا منتر پھونکا تو وہ الٹا اس پر جاکر اثر کرے گا اور وہ خود ہلاک ہو جائے گا۔ اس لئے اب اس کا ہمارے پیچھے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا۔”

ندی پار کرنے کے کچھ دیر بعد بارش تھم گئی۔ بادل چھٹ گئے اور چاند نکل آیا۔ دونوں جنگل کے کنارے کنارے ایک پگڈنڈی پر چلے جارہے تھے۔

پر اسرار عورت کہنے لگی۔ “یہاں سے چھ کوس کے فاصلے پر ایک ریلوے اسٹیشن ہے وہاں رات کے بارہ بجے ایک گاڑی آکر تھوڑی دیر کے لئے ٹھہرتی ہے۔ یہ گاڑی بمبئی جاتی ہے۔ میں اس گاڑی میں بیٹھ کر چلی جاؤں گی۔ بمبئی میں سمندر کے کنارے ایک ویران جگہ پر سنتھاپلی جی کا ایک پرانا مندر ہے۔ میں اس مندر کی دیوداسی تھی جہاں سے یہ جٹادھاری سادھو مجھے اغوا کر کے لے آیا تھا تم کہاں جاؤ گے؟”

زوناش نے پراسرار عورت کی پوری بات سن لی تھی۔ اس نے اپنے دماغ کی لہروں کے ذریعے پر اسرار عورت کو بتایا کہ وہ انگلستان کے ملک میں جانا چاہتا ہے جہاں اس کی محبوبہ کی قبر ہے۔ وہ باقی زندگی اپنی محبوبہ کی قبر کے پاس بسر کر دینا چاہتا . ہے۔

پراسرار عورت نے کہا۔ “کسی مردہ عورت کے ساتھ تم زندگی کیسے بسر کرو گے۔”

زوناش نے اپنے دماغ کی لہر کے ذریعے پراسرار عورت کو بتایا کہ “جس عورت کی قبر کا وہ ذکر کر رہا ہے وہ اس کی محبوبہ تھی”۔

پراسرار عورت نے فوراً کہا۔ “اور تم نے اس کو قتل کر دیا تھا۔ زوناش! مجھے اپنی طلسمی شکتی کے ذریعے تمہاری ساری زندگی کا پتہ چل چکا ہے۔ مگر میں تمہارے سامنے اس کا ذکر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اب تم نے خود ہی بات کی ہے تو میں نے یہ سب کچھ کہہ دیا ہے۔”

زوناش کو ایکدم غصہ آگیا کہ یہ عورت کون ہوتی ہے اسے قاتل کہنے والی مگر فوراً اس نے اپنے دماغ کی مدد سے غصے پر قابو پالیا۔ وہ اس عورت کو قتل کر کے اپنے گناہوں میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے پہلے گناہوں پر ہی بہت پچھتا رہا تھا۔ زوناش نے عورت کو کوئی جواب نہ دیا۔ خاموش رہا اور اس کے ساتھ ساتھ چاندنی رات میں چلتا رہا۔ وہ جنگل میں سے نکل آئے تھے اور چھوٹی سی کچی سڑک پر چلے جا رہے تھے۔ دور اس شہر کی روشنیاں نظر آنا شروع ہو گئیں تھیں۔

پراسرار عورت نے روشنیوں کی طرف دیکھا اور کہا۔ “یہ روشنیاں ریلوے اسٹیشن کی ہیں۔ ٹرین آدھی رات کے بعد آتی ہے۔ ابھی کافی وقت ہے ہمارے پاس ۔ ۔ “

آدھے گھنٹے کے بعد وہ سٹیشن پہنچ گئے ۔

زوناش کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ ٹرین میں بغیر ٹکٹ کے سفر کر سکتا تھا۔ لیکن پراسرار عورت نظر آ رہی تھی ۔

زوناش نے اپنے دماغ کی لہروں کے ذریعے اس سے پوچھا کہ ” کیا اس کے پاس ٹکٹ خریدنے کے پیسے ہیں؟

پراسرار عورت مسکرائی اور کہنے لگی۔ زوناش! میرے پاس جو طلسمی طاقت ہے ابھی تم اس سے واقف نہیں ہو۔ میرے لئے ٹکٹ پیدا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔”

اُس نے اپنی ساڑھی کے اندر ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو اس کے ہاتھ میں ریلوے کا ایک ٹکٹ تھا۔

کہنے لگی۔ “یہ ٹکٹ بھوپال سے بمبئی کا ہے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے بھی ایک ٹکٹ پیدا کر سکتی ہوں مگر تم غائب ہو۔ تمہیں ٹکٹ کی ضرورت نہیں ہے تم بغیر ٹکٹ کے بھی سفر کر سکتے ہو۔”

وہ پلیٹ فارم کے ایک بینچ پر بیٹھ گئے۔ پراسرار عورت کا چہرہ جو سانپ کے مسلسل ڈسنے سے سیاہ پڑ گیا تھا۔

بچھو کو کھانے سے اس کی سیاہی کافی حد تک دور ہو گئی تھی۔ پراسرار عورت ایک خوش شکل جوان عورت تھی۔ پلیٹ فارم رات کی خاموشی میں خالی پڑا تھا۔ صرف وہی دونوں وہاں پر بیٹھے ٹرین کا انتظار کر رہے تھے۔ اگر دو سرا آدمی کوئی انہیں دیکھتا تو اسے صرف ایک جوان عورت ہی بینچ پر بیٹھی نظر آتی۔ زوناش کو وہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ٹرین کے آنے میں ابھی ایک ڈیڑھ گھنٹہ پڑا تھا۔ یہ چھوٹا سا اسٹیشن تھا جس کا بکنگ آفس بھی بند پڑا تھا۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ چاند ایک بار پھر بادلوں میں چھپ گیا تھا۔ جس کی وجہ سے اندھیرا سا چھا گیا تھا۔ اتنے میں پلیٹ فارم کے گیٹ کی طرف سے ایک آدمی آتا دکھائی دیا۔ زوناش اس طرف دیکھنے لگا۔

پراسرار عورت نے بھی اس آدمی کو دیکھا اور بولی۔ “شاید ریلوے کا کوئی قلی ہے۔”

آدمی قریب آیا تو معلوم ہوا کہ ہٹا کٹا جوان آدمی ہے۔ وہ سگریٹ پی رہا تھا۔ اس نے پراسرار عورت کو کھڑے ہوکر گھور کردیکھا اور بولا۔ کہاں جا رہی ہو میری جان!”

پر اسرار عورت نے کہا۔ “بمبئی جارہی ہوں۔ بھوپال سے آئی ہوں۔ گاڑی چھوٹ گئی ہے۔ یہ دیکھو میرے پاس ٹکٹ ہے۔”

پراسرار عورت نے اسے ٹکٹ دکھایا۔ یہ کوئی اوباش قسم کا آدمی تھا۔ زوناش پرسرار عورت کی بائیں جانب بیٹھا تھا۔ وہ آدمی عورت کے دائیں جانب بینچ پر بیٹھ گیا۔ پراسرار عورت زوناش کی طرف کھسک گئی۔ اوباش آدمی نے پراسرار عورت کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے اپنی طرف کھینچ کر بولا۔ “میری جان! میرے ساتھ چلو۔ آج کی رات آرام کرو۔ صبح والی گاڑی میں چلی جانا ۔”

اس آدمی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کس عورت کے ساتھ اس قسم کی باتیں کر رہا ہے۔ اسے یہ بھی خبر نہیں تھی کہ وہ اپنی موت کے پاس آکر بیٹھ گیا ہے۔ زوناش ، اوباش آدمی کی طرف اپنی ادھ کھلی مردہ اور سنگدل آنکھوں سے خاموشی سے دیکھ رہا تھا.

پر اسرار عورت نے اوباش آدمی سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا۔ “میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی۔ جدھر سے آئے ہو اسی طرف واپس چلے جاؤ “

لیکن اس بد معاش کی موت اس کے سر پرمنڈلا رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ نوجوان ان عورت ہے، رات کا وقت ہے۔ پلیٹ فارم خالی پڑا ہے۔ اس نے پراسرار عورت کو بازوؤں سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگانے کی کوشش کی تو اس سے پہلے کہ پراسرار عورت اس پر کوئی منتر پڑھ کر پھونکتی زوناش کے حلق سے غراہٹ کی غصیلی آواز نکلی اور وہ پھر سے سینکڑوں انسانوں کا قاتل والڈروف بن گیا۔ اس نے بد معاش آدمی کو گردن سے پکڑ کر چوہے کیا طرح اوپر اٹھا لیا۔ بد معاش آدمی حیران و پریشان رہ گیا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ اسے کسی نے زمین سے چارفٹ اوپر اٹھالیا ہے۔ زوناش تو اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پراسرار عورت دیکھ رہی تھی کہ زوناش نے بدمعاش کو چوہے کی طرح اوپر اٹھا لیا ہے۔ زوناش نے بد معاش کو اوپر اٹھائے اٹھائے دو زبردست جھٹکے دیے۔ یہ جھٹکے ایسے ہی زبردست تھے جس طرح پھانسی والے قاتل کو اس وقت لگتے ہیں جب تختہ اس کے پاؤں کے نیچے سے پھسل جاتا ہے۔ بد معاش کی گردن کی ہڈی کے سارے مہرے ٹوٹ گئے تھے۔ زوناش نے دماغ کی لہروں سے پر اسرار عورت کو سمجھایا کہ وہ اس بد معاش کو ٹھکانے لگا کے آتا ہے۔

زوناش نے بد معاش آدمی کی لاش اپنے کاندھے پر ڈالی اور پلیٹ فارم کے سامنے والے ویران میدان کی طرف چل پڑا۔ کچھ دور آگے جاکر ایک گڑھا نظر آیا۔ جس میں جھاڑ جھنکاڑ بھرا ہوا تھا۔ زوناش نے بدمعاش کی لاش کو گڑھے میں پھینک دیا اور واپس آکر پر اسرار عورت کے پاس پیج پر بیٹھ گیا۔ پراسرار عورت نے کہا۔

” تمہیں سچ سچ میرا اتنا خیال ہے کہ تم نے اس بد معاش کو قتل کر دیا جسنے میری عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی .”

زوناش کو پُر اسرار عورت کی بات سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ اس نے حلق سے ایک ہلکی سی غراہٹ کی آواز نکالی اور خاموش رہا۔ اس نے اپنے دماغ میں بھی یہ بات نہ سوچی۔ اتنے میں ریل کے آنے کا وقت ہو گیا۔ پلیٹ فارم پر دو تین مسافر بھی آگئے۔ ریلوے کے ایک ملازم نے پلیٹ فارم پر آکر گھنٹی بجا دی۔ اس کے ساتھ ہی دور سے ریل گاڑی کے انجن کی وسل کی آواز سنائی دی۔ ٹرین آکر پلیٹ فارم پر رک گئی۔ پُراسرار عورت اور زوناش ایک ڈبے میں سوار ہو گئے۔ زیادہ سے زیادہ تین منٹ کے بعد ٹرین چل پڑی۔

بمبئی پہنچ کر پراسرار عورت زوناش کو اپنے ساتھ بمبئی کی سنتھاپائی کے پرانے مندر میں لے گئی۔ جہاں کی وہ دیوداسی تھی، یہاں اس کی ایک کٹیا بھی تھی۔

زوناش کو اس نے کٹیا میں بٹھایا اور بولی۔ “تم یہیں رہنا۔ میں بڑے پجاری سے مل کر آتی ہوں۔”

بڑا پجاری اور مندر کے دوسرے تینوں پجاری پراسرار عورت کو زندہ اور پاس دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ بڑے پجاری نے کہا۔

“سوپرنا! جٹادھاری کی قید سے تو کیسے چھوٹ کر آگئی۔”

ہر کوئی مندر میں پراسرار عورت سے یہی پوچھ رہا تھا۔ اس عورت کا نام سوپرنا تھا۔

اس نے یونہی ایک من گھڑت کہانی سنا کر بات ٹال دی۔ وہ اپنی اصلیت کسی کو بتانا نہیں چاہتی تھی۔ کیونکہ وہاں کسی کو علم نہیں تھا کہ سوپرنا یعنی پر اسرار عورت کالا جادو جاتی ہے۔ اور اس کے پاس بے پناہ طلسمی طاقت ہے۔ اور وہ اپنی اس طلسمی طاقت کی مدد سے جو چاہے روپ دھار سکتی ہے۔ یہ بات پُر اسرار عورت نے زوناش کو بھی نہیں بتائی تھی۔

جب زوناش نے سوپرنا یعنی پراسرار عورت سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ واپس اپنے وطن انگلستان جانا چاہتا ہے تاکہ وہاں اپنی محبوبہ کی قبر پر جاکر اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو سوپرنا کہنے لگی۔ تم اکیلے گئے تو راستے میں تمہیں کوئی پریشانی پیدا ہو سکتی ہے۔ کیا یہ بہتر نا ہو کہ میں تمہارے ساتھ جاؤں اور تمہیں تمہاری محبوبہ کی قبر پر چھوڑ کر واپس آجاؤں۔ اس طرح میں تمہاری محبوبہ کی قبر بھی دیکھ لوں گی۔”

زوناش نے اپنے دماغ کی لہروں کے ذریعے سوپرنا سے کہا۔” اس کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر تم ضرور میرے ساتھ جانا چاہتی ہو تو چلو، لیکن تم میری طرح غائب نہیں ہو۔ تمہیں بمبئی سے لندن تک کا جہاز کا ٹکٹ خریدنا پڑے گا اور تمہارے پاس پاسپورٹ ویزا وغیرہ بھی نہیں یہ سب چیزیں تم کہاں سے لاؤ گی؟”

پر اسرار عورت سوپرنا ہنس پڑی ” زوبلناش! تم ابھی تک میری طلسمی طاقت سے ناواقف ہو۔ اس کی فکر مت کرو۔ یہ باتیں میرے لئے بڑی معمولی باتیں ہیں۔ میں پتہ کرواتی ہوں کہ لندن کی طرف جہاز کس وقت جائے گا۔”

سوپرنا نے مندر کے ایک ملازم کو شہر بھجوا کر لندن جانے والے جہاز کا پتا کروا لیا۔ اس نے زوناش سے کہا۔

“ایک بڑا ہوائی جہاز آج رات ایک بجے لندن کی طرف جانے والا ہے, ہم اسی جہاز میں سوار ہوں گے .

دن بھر سو پرنا مندر میں پوجا پاٹھ کرتی رہی۔ زوناش اس کی کٹیا میں ساکت پتھر کی مورتی کی طرح بیٹھا رہا۔ اس کا دماغ صرف اپنی محبوبہ مارگریٹ کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ زوناش کو اس بات کا بڑا دکھ ہوا تھا کہ اس نے مارگریٹ کو بھی اس کے گھر والوں کے ساتھ قتل کر دیا تھا۔ مگر اب اس بھیانک غلطی کا کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ باقی جن سینکڑوں انسانوں کو اس نے قتل کیا تھا ان سب سے ایک ایک کر کے معافی مانگنا ناممکن تھا۔ اور زوناش یعنی والڈروف کو اب یاد نہیں رہا تھا کہ اس نے کس کس کو قتل کیا ہے۔ وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ مارگریٹ کی روح اسے معاف کر دے کیونکہ وہ مارگریٹ سے محبت کرتا تھا اور اب تک کر رہا تھا۔

پراسرار عورت نے عام عورت کی طرح ایک ساڑھی پہن لی تھی۔ ہندو عورتوں کی طرح تلک لگا لیا تھا اور زوناش کو ساتھ لے کر وہ رات کے ٹھیک 1 بجے مندر سے نکلی اور ٹیکسی میں سوار ہو کر بمبئی کے ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوگئی۔ زوناش نے اس سے بالکل نہیں پوچھا تھا کہ اس نے پاسپورٹ اور دوسرے ضروری کاغذات کا انتظام کر لیا ہے یا نہیں۔؟

سوپرنا زوناش کے پاس بڑے سکون کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ ٹیکسی بمبئی کی کشادہ سڑکوں پر بھاگی جارہی تھی، آدھے گھنٹے میں وہ لوگ ائیر پورٹ پہنچ گئے۔

سوپرنا نے زوناش سے کہا۔ “مجھ سے کوئی سوال نہ کرنا۔ بس دیکھتے جانا کہ میں کیا کرتی ہوں “۔

زوناش نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔ ٹیکسی ائیرپورٹ کے باہر رک گئی۔ سوپرنا نے اپنے رومال میں سے پیسے نکال کر ٹیکسی کا کرایہ ادا کیا اور زوناش کو لے کر ائیرپورٹ کی عمارت میں داخل ہو گئی۔ جس گیٹ پر چیکنگ ہو رہی تھی اور ٹکٹ دیکھے جارہے تھے، سوپرنا زوناش کے ساتھ اس گیٹ میں سے گزر گئی اور کسی نے اس کی توجہ ہی نہ دی۔

زوناش نے اپنے دماغ کی لہر کے ذریعے سوپرنا سے پوچھا کہ “کسی نے اس سے ٹکٹ کا کیوں نہیں پوچھا۔ “

سوپرنا نے مسکرا کر کہا۔ “اس لئے کہ کسی نے مجھے نہیں دیکھا۔ میں کسی کو دکھائی ہی نہیں دی۔ تم یہ مت سمجھنا کہ صرف تم ہی غائب ہو سکتے ہو، میرے اندر بھی اتنی طاقت ہے کہ میں چاہوں غائب ہو سکتی ہوں اور جب چاہوں ظاہر ہو سکتی ہوں۔”

زوناش خاموش رہا۔ اسے سوپرنا کی جادو گری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ اپنی محبوبہ مارگریٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا اور اس کی قبر پر جاکر اس سے ملاقات کرنا اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا چاہتا تھا۔ وہ سوپر نا کو ساتھ نہیں لانا چاہتا تھا لیکن نہ جانے کیوں جب اس نے کہا کہ وہ اس کے ساتھ آئے گی تو وہ انکار نہ کر سکا۔

اب وہ دونوں غائب تھے۔ زوناش اس طرح غائب تھا کہ سوپرنا کو بھی نظر نہیں آ رہا تھا لیکن سوپرنا اس طرح غائب ہوئی تھی کہ زوناش اسے دیکھ سکتا تھا۔ سوپرنا نے اسے بتا بھی دیا کہ اسے صرف زوناش دیکھ سکتا ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں دیکھ سکتا۔ وہ بڑے آرام سے ڈیپارچر لاؤنج میں آکر آرام سے بیٹھ گئے۔ جس وقت مسافر جہاز پر سوار ہونے کے لئے چلے تو وہ بھی ان کے ساتھ چلتے جہاز میں آگئے۔

جہاز پیچھے سے آ رہا تھا اور اس کی اکثر سیٹیں خالی تھیں۔ چنانچہ وہ دونوں ایک جگہ ساتھ ساتھ بیٹھ گئے۔ جہاز ٹیک آف کرگیا اور وہ لندن پہنچ گئے۔

” لندن زوناش یعنی والڈ روف کا آبائی وطن تھا۔ اس نے مارگریٹ سے محبت کی تھی۔ اس کے ساتھ پیار محبت کے بڑے خوبصورت دن گزارے تھے۔ اگرچہ زوناش کا جسم والڈروف کا جسم نہیں تھا لیکن زوناش والڈروف کا دماغ ہی تھا۔ اور دماغ ہی سب کچھ سوچتا اور یاد کرتا ہے۔ اس نے اپنی محبوبہ کو اس کے سارے خاندان کو اور دوسرے سینکڑوں لوگوں کو قتل کیا تھا۔ لندن پہنچنے کے بعد سوپرنا نے زوناش سے کہا۔ ” مجھے اپنی محبوبہ مارگریٹ کی قبر پر لے چلو میں اسے تو نہیں دیکھ سکتی پر اس کی قبر ایک نظر ضرور دیکھنا چاہتی ہوں۔”

زوناش نہیں چاہتا تھا کہ وہ سوپرنا کو لے کر مارگریٹ کی قبر پر جائے . اب وہ اس کو ساتھ لے آیا تھا۔ چنانچہ وہ مجبور تھا کہ اسے مارگریٹ کی قبر پر لے جائے۔ زوناش نے اپنے دماغ کی لہروں کے ذریعے سوپرنا سے کہا کہ وہ ایک ٹیکسی پکڑے۔

سوپرنا بولی۔ “میں کیسے ٹیکسی لے سکتی ہوں۔ میں سوائے تمہارے کسی کو نظر نہیں آتی۔”

زوناش کے دماغ نے سوپرنا کو جواب دیا۔ “ٹھیک ہے۔ ہم پیدل چلتے ہیں قبرستان زیادہ دور نہیں ہے۔”

لندن شہر میں بڑی سخت سردی پڑ رہی تھی۔ بازاروں، باغوں اور پارکوں میں دھند پھیلی ہوئی تھی۔ چونکہ زوناش اور سوپرنا سردی گرمی کے احساس سے عاری تھے اس لئے انہیں سردی نہیں لگ رہی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے اس موسم میں لندن کہرے اور دھند میں ڈوب جاتا ہے۔ ابھی برف گرنی شروع نہیں ہوئی تھی۔ قبرستان بھی کہرے اور دھند میں ڈوبا ہوا تھا لیکن زوناش کو معلوم تھا کہ مارگریٹ کی قبر کس جگہ پر ہے وہ اس کی قبر پر آگیا۔

سوپرنا نے پوچھا ” کیا یہی مارگریٹ کی قبر ہے؟”

زوناش کے دماغ نے جواب دیا۔”ہاں”

قبر کے کتبے پر مارگریٹ کا نام اور اس کی پیدائش اور موت کی تاریخ اور سن لکھا ہوا تھا۔ سوپرنا قبر کے پاس بیٹھ گئی۔ زوناش بھی خاموشی سے بیٹھ گیا۔ سوپرنا نے کہا “زوناش! اگر تم چاہو تو میں مارگریٹ کی روح کو بلا سکتی ہوں۔”

زوناش کے دماغ نے سوچا کہ سوپرنا کی مدد سے مارگریٹ کی روح کو بلوا لیتا ہوں،

کیونکہ ویسے کچھ پتہ نہیں مارگریٹ کی روح آتی بھی ہے یا نہیں۔ کیونکہ وہ مجھ سے ناراض تھی۔

زوناش کے دماغ نے جواب دیا کہ “ہاں، اگر تم مارگریٹ کی روح کو بلا سکتی ہو تو ضرور بلاؤ۔”

سوپرنا قبر کے سرہانے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی اور اس نے منتر پڑھنے شروع کر دیئے۔ زوناش قبر کے پاس بیٹھا نیم وا اور نیم مردہ آنکھوں سے سوپر نا کو منتر پڑھتے دیکھ رہا تھا۔ سوپر نا جب منتر پڑھ چکی تو اس نے بلند آواز میں کہا۔

“مارگریٹ کی روح! مارگریٹ کی روح! تم جہاں کہیں بھی ہو یہاں کچھ دیر کے لئے آجاؤ۔ میں تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں۔”

اچانک قبر کے قریب دھند کا بادل ایک جگہ سے چھٹ گیا اور اس میں سے مارگریٹ کی روح نمودار ہوئی۔ زوناش مارگریٹ کی روح کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگا۔۔۔”

سوپرنا نے زوناش سے پوچھا

“زوناش کیا تم مارگریٹ کی روح دیکھ رہے ہو؟ میں اسے دیکھ رہی ہوں “

زوناش نے کوئی جواب نہیں دیا اسکی ساری توجہ مارگریٹ کی روح کی طرف تھی وہ سوپرنا کو بھول چکا تھا مارگریٹ کی روح دھندلی سی دکھائی دے رہی تھی ،

مارگریٹ نے زوناش کے دماغ سے مخاطب ہو کر روح کی لہروں کی زبان میں کہا۔

” زوناش! تم اس عورت کو یہاں کیوں لائے ہو ؟ یہ مت سمجھنا کہ اس عورت کی طلسمی طاقت مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔ نہیں، میں خود تم سے ملنے آگئی۔

مجھے بتاؤ۔ کیا تم انڈیا میں جسپال سادھو سے ملے تھے؟”

زوناش کے دماغ نے جواب میں اپنی ساری مصیبت کی کتھا مارگریٹ کی روح کو مختصر کر کے بیان کی اور کہا کہ “وہ سادھو اسے ہلاک کرنے لگا تھا مگر اس عورت سوپرنا نے اسے بچا لیا اور وہاں سے زندہ نکال کر لے آئی۔”

مارگریٹ کی روح نے پوچھا “کیا تم اس عورت سے محبت کرنے لگے ہو۔”؟

زوناش کے دماغ نے جواب دیا کہ” نہیں۔”

مارگریٹ کی روح نے پوچھا ” کیا یہ عورت تم سے محبت کرتی ہے؟”

زوناش کے دماغ نے جواب میں بتایا کہ “اس کی مجھے خبر نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے یہ عورت مجھ سے محبت کرنے لگی ہو ، لیکن میں اس سے محبت نہیں کرتا۔ میں نے صرف تم سے محبت کی ہے اور تم ہی سے کرتا ہوں۔”

مارگریٹ کی روح نے پوچھا “تو پھر تم نے مجھے قتل کیوں کیا تھا؟ جب تم میری گردن پر چھری چلا رہے تھے تو اس وقت تمہاری محبت کہاں چلی گئی تھی ؟”

اس کا زوناش کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے دماغ نے کہا۔ “خدا کے لئے مجھے اور میرا گناہ دونوں کو معاف کر دو۔ میں اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوں۔”

مارگریٹ کی روح نے کہا۔ “جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ تم مجھے قتل کر چکے ہو۔ اب مجھے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتے۔ اس لئے میں تمہیں معاف نہیں کر سکتی۔ میں جارہی ہوں، آئندہ میری قبر پر مت آنا۔ تم بڑی سے بڑی جادوگرنی کو بھی ساتھ لے آؤ گے تو بھی میں تم سے ملنے نہیں آؤگی۔”

اس کے ساتھ ہی مارگریٹ کی روح غائب ہو گئی اور دھند کے بادل ایک دوسرے سے مل گئے۔ اس دوران سوپرنا قبر کے سرہانے بالکل خاموش بیٹھی تھی جب مارگریٹ کی روح چلی گئی تو سوپرنا نے زوناش سے کہا۔

تمہارے اور مارگریٹ کے درمیان جو باتیں ہوئیں ہیں۔ وہ میں نے ساری اس عمر کی ساری سن لی ہیں۔ مارگریٹ کو میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگا۔ اس لئے میں نے فیصلہ کی روح کیا ہے کہ اب میں یہاں نہیں آؤں گی۔ میری خواہش تھی کہ میں تمہاری محبوبہ کی تبر دیکھوں اور اب میں نے قبر کے علاوہ خود تمہاری محبوبہ کو بھی دیکھ لیا ہے۔ تم نے اسے قتل کر کے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔”

سوپرنا کے اس جملے نے زوباش کے دماغ کو مشتعل کر دیا۔ اس کے حلق سے ڈراؤنی آواز نکلی۔ سوپرنا سمجھ گئی کہ زوناش کے اندر سینکڑوں آدمیوں کا قاتل ابھی تک موجود ہے۔ یہ پورا آدمی نہیں ہے صرف اس کا دماغ زندہ ہے۔ باقی سارا جسم مردہ ہے اور صرف اتنا ہی زندہ ہے کہ اس کی مدد سے زوناش چل پھر لیتا تھا۔ سوپر نا نے فوراً کہا۔ “لیکن مجھے معلوم ہے کہ تم ان لوگوں کو قتل کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔ میں تمہیں قصور وار نہیں سمجھتی۔”

لیکن سوپر نا کی باتیں اب زوناش کے دماغ کو اچھی نہیں لگ رہی تھیں۔

اس نے اپنے دماغ کی ایک سخت لہر کی مدد سے سوپرنا سے کہا کہ ” اگر اس نے مارگریٹ کی قبر پر نہ آنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو بے شک قبرستان سے چلی جائے۔ وہ خود بھی یہی چاہتا ہے کہ سوپرنا اب مارگریٹ کی قبر پر نہ آئے۔ سوپرنا نے یہ سنا تو اُٹھ کھڑی ہوئی۔ زوناش کی طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا “زوناش! اگر تم بھی یہی چاہتے ہو تو میں واپس جا رہی ہوں اور تمہاری محبوبہ کی قبر پر دوبارہ نہیں آؤں گی۔”

اتنا کہنے کے بعد سوپرنا زوناش کی نگاہوں سے ایکدم غائب ہو گئی۔ زوناش ابھی تک اس جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں چند سیکنڈ پہلے سوپرنا بیٹھی تھی۔ اس کے دماغ نے خیال کی لہر کے ذریعے پوچھا۔ “کیا تم چلی گئی ہو سوپرنا؟”

کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ زوناش کو یقین ہو گیا کہ سوپرنا چلی گئی ہے۔ تب اس نے مارگریٹ کی قبر سے مخاطب ہو کر کہا۔

“مارگریٹ! میں نے اس عورت کو یہاں سے واپس بھیج دیا ہے۔ اب وہ تمہاری قبر پر کبھی نہیں آئے گی۔ اب تمہیں مجھ سے ناراضگی ختم کر دینی چاہیئے اور مجھے انسانی جسم میں اپنا دیدار کرانا چاہیئے۔”

زوناش مارگریٹ کی روح کے جواب کا انتظار کرتا رہا۔ مگر مارگریٹ کی روح کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ زوناش نے اپنے دماغ کی لہروں کے ذریعے مارگریٹ کی روح سے دوبارہ رابطہ پیدا کرنے کی کوشش کی مگر اسے کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ مارگریٹ کی روح ایسا لگتا تھا کہ قبرستان سے ہزاروں لاکھوں میل دور جا چکی ہے۔ زوناش مارگریٹ کی قبر کے پاس بیٹھ گیا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ مارگریٹ کی روح کو بلانے کی کوشش کرتا مگر اسے کوئی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ زوناش کا دماغ غصے سے گرم ہو گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اگر وہ اس پراسرار جادوگرنی عورت سوپرنا کو اپنے ساتھ وہاں نہ لاتا تو ہوسکتا تھا کہ مارگریٹ کی روح اس سے پیار محبت کی باتیں کرتی اور یہ بھی ہو سکتا تھا کہ وہ اس کے گناہ معاف کر دیتی مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ زوناش کے دماغ میں پرانا سنگدل قاتل پھر سے زندہ ہونا شروع ہو گیا تھا۔ لیکن زوناش نے اپنے دماغ کو بہت حد تک کنٹرول کیا ہوا تھا۔ اس کا دماغ اب بھی یہی چاہتا تھا کہ مارگریٹ کی روح اس کا گناہ معاف کر دے اور پھر سے اس سے پہلے کی طرح محبت کرنے لگے۔

محبت انسان کی بنیادی کمزوری بھی ہے اور اس کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔

اس کا ثبوت یہ تھا کہ زوناش یعنی والڈروف ایک انتہائی سفاک اور سنگدل قاتل تھا لیکن اس کی یہی خواہش تھی کہ کسی طرح مارگریٹ کی روح اس کے گناہ معاف کر دے اور اس سے پھر محبت کرنے لگے۔ زوناش کے دماغ نے پہلے بھی یہی سوچا تھا کہ وہ انڈیا سے واپس انگلستان جاکر مارگریٹ کی قبر پر بیٹھ جائے گا اور اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے گا۔ اب اس نے فیصلہ کر لیا کہ جب تک مارگریٹ کی روح اس کے پاس واپس نہیں آتی اور اسے معاف نہیں کر دیتی وہ قبرستان سے باہر نہیں جائے گا۔

زوناش کو لندن کے دھند میں ڈوبے آسیبی قبرستان میں چھوڑ کر ہم ڈاکٹر پرویز کی طرف واپس چلتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر پرویز کو یقین ہو گیا تھا کہ زوناش کی لاش لندن میں ہی ہے۔ چنانچہ وہ پاکستان واپس نہیں گیا تھا اور وہیں اپنے انکل کے ریسٹ ہاؤس میں ہی رہ رہا تھا اس دوران اس نے زوناش کی لاش کو جگہ جگہ تلاش کیا تھا۔ وہ عینک لگا کر شہر کے بازاروں سٹوروں، پارکوں، تھیٹروں اور سینما گھروں کے چکر لگاتا۔ اس نے کئی قبرستان بھی دیکھ ڈالے مگر اسے زوناش کی لاش کہیں دکھائی نہ دی اس نے پاکستان میں اپنے ساتھی اور دوست ڈاکٹر دارا کو ٹیلی فون کر کے کئی بار پوچھا کہ زوناش کی لاش آسیبی قلعے والی لیبارٹری میں واپس تو نہیں آئی۔ ڈاکٹر دارا نے ہر بار یہی جواب دیا کہ زوناش کی لاش لیبارٹری میں نہیں آئی۔ لیبارٹری ویران پڑی ہے۔

ڈاکٹر پرویز نے اس سے پوچھا۔ “تمہارے پاس زوناش کی غیبی لاش کو دیکھنے والی عینک موجود ہے۔ اس عینک کی مدد سے شہر میں زوناش کو تلاش کرو۔ میں بھی اسے لندن میں تلاش کرتا ہوں۔ میں نے اسے پیرس اور ویانا میں بھی جا کر تلاش کرنے کی کوشش کی ہے مگر زوناش کی لاش ابھی تک کہیں نظر نہیں آئی۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ زوناش لندن میں ہی ہے اور واپس پاکستان نہیں گیا۔”

ڈاکٹر دارا نے ٹیلیفون پر جواب دیا۔ “تم اپنی تلاش جاری رکھو۔ میں بھی یہاں اس کی تلاش جاری رکھوں گا۔ زوناش کی لاش کا ملنا ضروری ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ پاکستان آکر پھر سے قتل و غارت کا سلسلہ شروع کر دے۔ میری بات مانو اگر تمہیں زوناش کی لاش کہیں نظر آ گئی تو اسے وہیں ختم کر دینا۔ اسے وہیں ہلاک کر ڈالنا۔ یہ عفریت ایک خونی قاتل ہے۔ وہ تمہارے ہاتھ سے نکل گیا ہے تو کچھ بھی کر سکتا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے جواب دیا۔ فکر نہ کرو۔ میں ایسا ہی کروں گا “..

لیکن ڈاکٹر پرویز کے دماغ میں خود ایک شیطانی عفریت داخل ہو چکا تھا اور وہ زوناش کی لاش سے اپنے مطلب کے ہزاروں کام لینا چاہتا تھا۔ وہ کسی حالت میں بھی اسے ہلاک کرنے پر تیار نہیں تھا۔ وہ اسے دوبارہ اپنے قبضے میں لے کر اس سے اپنے مطلب کے کام لینا چاہتا تھا۔ لندن اور پیرس اور ویانا کے کلبوں اور جواخانوں اور بینکوں میں ڈاکے ڈلوا کر دنیا کا سب سے بڑا دولت مند بننا چاہتا تھا۔ اس دوران ڈاکٹر پرویز نے ایک اور کام شروع کر دیا تھا۔ اس نے جدید ترین الیکٹرانک آلات کی مدد سے ایک نیا ریموٹ کنٹرول تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔ لندن میں اسے ہر قسم کی ٹیکنیکل سہولت میسر تھی۔ یہاں اسے ہر قسم کے نازک سے نازک آلات مل گئے تھے۔ چنانچہ وہ ریسٹ ہاؤس کے تہہ خانے میں خفیہ طور پر ایک نیا اور پہلے سے زیادہ طاقتور ریموٹ کنٹرول تیار کر رہا تھا۔ جس روز زوناش کی لاش سوپرنا کے ساتھ لندن میں وارد ہوئی تھی اس روز ڈاکٹر پرویز کا ریموٹ کنٹرول تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔ صرف ایک باریک چپ لگانے کی کسر باقی تھی۔ چنانچہ اسی روز شام کو ڈاکٹر پرویز الیکٹرانک انجینئرنگ کے ایک سٹور میں گیا اور وہاں سے اپنا مطلوبہ چپ خرید کر لے آیا۔ تہہ خانے میں آکر اس نے ریموٹ کنٹرول میں وہ چپ لگادیا۔ اب ریموٹ کنٹرول بالکل تیار تھا۔۔

ڈاکٹر پرویز جانتا تھا کہ زوناش کی لاش کی گردن کی ہڈی میں اس نے ایک انتہائی چھوٹا اور انتہائی حساس الیکٹرانک چپ لگایا ہوا ہے۔ جو اب بھی اس کی گردن کی ہڈی میں لگا ہوا ہو اور اس کی مدد سے وہ ریموٹ کنٹرول کے ساتھ لاش کو بڑی آسانی سے اپنے کنٹرول میں کرسکے گا۔ ریموٹ کنٹرول کے تیار ہونے کے بعد ڈاکٹر پرویز نے زوناش کی لاش کی تلاش کے لئے باقاعدہ ایک پروگرام بنایا۔ پروگرام یہ تھا کہ ریموٹ کنٹرول لے کر وہ ایک دن شہر کے سینما گھروں میں جائے گا۔ دوسرے دن شہر کے پارکوں میں جاکر زوناش کی تلاش کرے گا اور ایک دن لندن کے پرانے قبرستانوں کی خاک چھانے گا۔ اب اسے یقین تھا کہ اگر زوناش لندن میں ہے تو اس سے بچ کر نہیں جائے گا۔ پروگرام کے مطابق اس نے ایک دن لندن شہر کے سینما گھروں میں زوناش کی لاش تلاش کرنے میں گزار دیا۔ دوسرے دن اسے شہر کے پارکوں میں تلاش کرنے جانا تھا، مگر اس نے اچانک اپنا ارادہ بدل لیا اور شہر کے قبرستانوں میں جانے کا پروگرام بنا لیا۔ چنانچہ اپنے پروگرام کے مطابق وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ کر لندن آیا اور سب سے پہلے اس قدیمی قبرستان میں جانے کا فیصلہ کیا جہاں مارگریٹ کی قبر تھی اور جہاں زوناش کی لاش موجود تھی۔ زوناش کے دماغ میں یہ خیال ایک لمحے کے لئے بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کا دشمن ڈاکٹر پرویز ابھی تک اس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ اور اس نے ایک نیا اور پہلے سے زیادہ طاقتور ریموٹ کنٹرول تیار کر لیا ہے۔ وہ مارگریٹ کی محبت میں سب کچھ بھلا بیٹھا تھا اور قبرستان سے ایک لمحے کے لئے بھی باہر نہیں جاتا تھا۔

وہ سارا دن مارگریٹ کی قبر کے پاس بیٹھا اسے یاد کرتا رہتا تھا اور اپنے دماغ کی لہروں کے ذریعے اس کو آوازیں دیتا رہتا تھا۔ جس وقت ڈاکٹر پرویز قبرستان کی طرف آ رہا تھا۔ اس وقت بھی زوناش قبرستان میں موجود تھا۔ اس روز بڑی گہری دھند تھی اور سردی بھی بڑی شدید ہو رہی تھی۔ مگر زوناش کی لاش سردی، دھند اور ہر قسم کے موسمی اثرات سے بےنیاز تھی ۔۔

زوناش کافی دیر تک مارگریٹ کی قبر کے پاس بیٹھا رہا تھا۔ کچھ دیر کے لئے وہ اٹھا اور قبرستان میں دوسری قبروں کے درمیان پھرنے لگا۔ اس کو کوئی دیکھ تو سکتا نہیں تھا۔ چنانچہ وہ بڑی آزادی کے ساتھ چل رہا تھا۔ پھرتے پھراتے وہ گورکن کی کوٹھڑی کے پاس آگیا۔ کوٹھڑی کا دروازہ کھلا تھا۔ زوناش نے اندر جھانک کر دیکھا۔ کوٹھڑی خالی تھی۔ نہ جانے زوناش کے جی میں کیا آئی کہ وہ کوٹھڑی میں داخل ہوا اور گورکن کی چارپائی پر بیٹھ گیا۔

اتنے میں ڈاکٹر پرویز قبرستان میں داخل ہو چکا تھا۔ وہ قبرستان میں قبروں کے درمیان پھرنے لگا۔ طاقتور نیا ریموٹ کنٹرول اس کے ہاتھ میں تھا۔ آنکھوں پر وہی عینک لگائی ہوئی تھی جس میں سے وہ زوناش کی لاش کو غیبی حالت میں بھی دیکھ سکتا تھا۔ پھرتے پھراتے وہ گورکن کی کوٹھڑی کے قریب آیا تو ایک دم سے اس کے کان کھڑے ہو گئے۔ اسے زوناش کی لاش کے سانس لینے کی آواز سنائی دی۔ وہ وہیں جلدی سے دیوار کے ساتھ لگ گیا۔ وہ پوری آنکھ کھولے قبرستان کی دھند میں زوناش کو دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے لاش کے سانس لینے کی آواز پر اپنی ساری توجہ مذکور کر دی۔ اچانک اسے محسوس ہوا کہ سانس لینے کی آواز گورکن کی کوٹھڑی کے اندر سے آرہی ہے۔ ڈاکٹر پرویز نے زوناش کو خود بنایا تھا وہ اس کی ایک ایک آواز سے اچھی طرح واقف تھا۔ وہ دیوار کے ساتھ کھسکتا ہوا کوٹھڑی کی کھڑکی کے پاس آگیا۔ کھڑکی بند تھی۔ اس نے کھڑکی کے ساتھ کان لگا دیا۔ یہ محسوس کر کے اس کا دل خوشی سے اچھل پڑا کہ زوناش کے سانس لینے کی آواز اسی کوٹھڑی میں سے آ رہی تھی۔

وہ آہستہ آہستہ سرکتا ہوا کوٹھڑی کے دروازے کے پاس آگیا۔ دروازہ کھلا تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے پہلے سوچا کہ وہ اچانک کوٹھڑی میں گھس کر ریموٹ سے زوناش کو اپنے قبضے میں کرے گا۔ پھر اس نے یہ ارادہ ترک کر دیا اور دبے پاؤں چلتا کو ٹھڑی سے ہٹتا گیا اور دروازے سے بیس، پچیس فٹ کے فاصلے پر قبروں کے درمیان بیٹھ گیا۔ اس کی نگاہیں کوٹھڑی کے دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔ ہاتھ میں ریموٹ کنٹرول تھا۔ وہ اس انتظار میں تھا کہ لاش کوٹھڑی سے باہر آئے تو وہ اس پر ریموٹ کنٹرول سے حملہ کر دے۔ ریموٹ کنٹرول کے ساتھ ایک سرخ رنگ کی چھوٹی سی سوئی لگی ہوئی تھی۔ یہ سوئی لرزنے لگی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ زوناش کی لاش کوٹھڑی میں حرکت کر رہی ہے۔ زوناش کو چارپائی پر بیٹھے بیٹھے کچھ بےچینی سی محسوس ہوئی۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ بےچینی اسی طرح تھی۔ وہ دروازے سے باہر نکل آیا۔ جیسے ہی وہ کوٹھڑی سے باہر نکلا ..

ڈاکٹر پرویز نے اسے دیکھ لیا اور ریموٹ کنٹرول کا رخ اس کی طرف کر کے جلدی سے ایک بٹن دبایا اور بولا۔” زوناش! میرا حکم مانو۔ سو جاؤ ،سو جاؤ۔”

زوناش کو ایسے لگا جیسے کسی نے اس کے اوپر پندرہ بیس من کا بوجھ لاد دیا ہے۔ اس نے اپنے دشمن ڈاکٹر پرویز کو پہچان لیا تھا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی مگر اس کے دونوں پاؤں چار چار من بھاری ہو گئے تھے۔ وہ ایک قدم بھی نہ اٹھا سکا۔ وہ سمجھ گیا کہ وہ دشمن کے پھندے میں پھنس گیا ہے۔ اس کے حلق سے ایک بھیانک چیخ نکلی۔ ڈاکٹر پرویز نے طاقتور ریموٹ کنٹرول کا دوسرا بٹن بھی دبا دیا اور اونچی آواز میں زوناش کو حکم دیا۔

“زوناش! سو جاؤ۔ سو جاؤ۔ سو جاؤ۔”

اس کے ساتھ ہی زوناش کی لاش دھڑام سے زمین پر گر پڑی۔ ڈاکٹر پرویز ریموٹ پکڑے وہیں قبروں کے پاس بیٹھا رہا۔

وہ زوناش کی لاش کو بے حس و حرکت زمین پر پڑے دیکھ رہا تھا۔ اسے ابھی تک خطرہ تھا کہ کہیں لاش ایک دم سے اٹھ کر اس پر حملہ نہ کر دے اسے اپنے نئے ریموٹ کی کارکردگی پر اتنا یقین نہیں تھا۔ لیکن جب دو تین منٹ گزر گئے اور زوناش کی لاش نے کوئی حرکت نہ کی تو ڈاکٹر پرویز اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ دبے پاؤں چلتا لاش کے قریب آیا، زوناش کی لاش گہری نیند سورہی تھی اور اس کے حلق سے ویسی ہی خرخراہٹ کی آواز نکل رہی تھی جیسی اس وقت نکلا کرتی تھی جب وہ اسے سلا دیا کرتا تھا۔

تب اسے یقین ہو گیا کہ اس کے ریموٹ کنٹرول نے اسے دھوکا نہیں دیا اور لاش اس کے کنٹرول میں آگئی ہے۔ اس نے پانچ منٹ تک پھر انتظار کیا۔ اس کے بعد ریموٹ کا تیسرا بٹن دبا کر زوناش کو حکم دیا۔

” زوناش! زوناش! میرا حکم مانو جاگو اور اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ۔”

اس کی آواز سن کر اور ریموٹ کنٹرول کی طاقتور لہروں کے زیر اثر زوناش کی

لاش نیند سے بیدار ہو کر کھڑی ہو گئی۔ ڈاکٹر پرویز ایک منٹ تک بے حس و حرکت اپنی جگہ پر کھڑا زوناش کو دیکھتا رہا۔ لاش نے جب اپنی مرضی سے کسی قسم کی حرکت نہ کی تو ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول کا ایک اور بٹن دبا دیا اور لاش کو حکم دیا۔

” زوناش! قبرستان کے گیٹ کی طرف چلو۔”

زوناش اپنے بو جھل قدم اٹھا تا آہستہ آہستہ بالکل ایک لاش کی طرح قبرستان کے گیٹ کی طرف چل پڑا۔ ڈاکٹر پرویز جلدی سے اس کے پیچھے آگیا۔ اب زوناش پوری طرح سے اس کے کنٹرول میں تھا۔

اس نے کہا۔ ” زوناش! قبرستان کے گیٹ کے باہر میری گاڑی کھڑی ہے اس میں بیٹھ جاؤ۔”

زوناش کی لاش پورح طرح سے ڈاکٹر پرویز کے حکم کی پابند ہو چکی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی قبرستان کے دھند میں ڈوبے ہوئے شکستہ دروازے سے نکل کر باہر کھڑی ڈاکٹر پرویز کی گاڑی کے پاس آکر رک گئی۔ ڈاکٹر پرویز لاش کے پیچھے کوئی دس قدموں کے فاصلے پر آکر رک گیا۔ اس نے ایک بار پھر ریموٹ کا بٹن دبایا اور لاش کو حکم دیا۔

“زوناش! گاڑی کا پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاؤ”

زوناش بڑے آرام سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ڈاکٹر پرویز نے جلدی سے دروازہ بند کر کے لاک کر دیا۔ خود ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔ انجن اسٹارٹ کیا اور گاڑی کو لے کر تیزی سے بھگاتا لندن شہر کی اس سڑک پر آگیا جو اس کے انکل کے ریسٹ ہاؤس والے قصبے کی طرف جاتی تھی۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد سامنے والے آئینے میں زوناش کی لاش کو دیکھ لیتا تھا۔ زوناش سیٹ پر پتھر کے بت کی طرح خاموش اور ساکت بیٹھا تھا۔

لندن شہر سے باہر ہائی وے کی سڑک پر دھند بہت کم تھی۔ چنانچہ ڈاکٹر پرویز پوری رفتار سے سڑک پر گاڑی چلا رہا تھا اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ اسے وہ شے مل گئی تھی جس کے ملنے کی اسے کوئی امید نہ تھی۔ دور سے اسے ریسٹ ہاؤس کی ڈھلواں چھت والی سادہ سی عمارت نظر آئی۔ اس نے گاڑی کی رفتار اور تیز کر دی۔ ریسٹ ہاؤس کے قریب آکر اس نے رفتار کم کی اور تیزی سے گاڑی کو گھما کر کھلے گیٹ کے اندر لے آیا۔ اندر آتے ہی اس نے گاڑی بند کی اور گاڑی سے باہر نکل کر ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا اور ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر زوناش کی لاش کو حکم دیا۔

“زوناش! گاڑی سے نکل کر ریسٹ ہاؤس کے دروازے کی طرف بڑھو۔”

زوناش پوری طرح ڈاکٹر پرویز کے قبضے میں آچکا تھا۔ اس کے حکم نہ مانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ جیسے ہی زوناش کی لاش ریسٹ ہاؤس کے صدر دروازے کی طرف بڑھی، ڈاکٹر پرویز نے دوڑ کر دروازے کو چابی لگا کر کھول دیا۔ زوناش ایک بے جان روبوٹ کی طرح ایک ایک قدم اٹھاتا دروازے میں سے گزر گیا۔ ڈاکٹر پرویز اس کے پیچھے ہو گیا۔ اس نے صدر دروازہ بند کر دیا۔ دروازے کے بند ہوتے ہی آٹو میٹک تالا خود بخود لگ گیا۔ ڈاکٹر پرویز نے زوناش سے کہا “زوناش ! سٹریچر پر لیٹ کر سو جاؤ۔”

زوناش نے ایسا ہی کیا۔ وہ سٹریچر پر جاکر لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس کے خراٹوں کی ہلکی ہلکی ڈراؤنی آواز آنی شروع ہو گئی۔ ڈاکٹر پرویز نے جو نیا ریموٹ کنٹرول بنایا تھا اس نے دھوکا نہیں دیا تھا اور اس کا تجربہ کامیاب رہا اس نے عینک اتار دی۔ زوناش کی لاش اس کی نگاہوں سے غائب ہو گئی۔ اس نے دوبارہ عینک لگائی۔ زوناش کی لاش اسے پھر سے نظر آنے لگی۔ لاش گہری نیند سو رہی تھی ۔

ڈاکٹر پرویز نے تہہ خانے کی لائٹ جلتی رہنے دی اور دروازہ بند کر کے باہر تالا لگا دیا۔ وہ اپنے کمرے میں آکر بیٹھ گیا۔ اس کا سب سے بڑا مرحلہ طے ہو گیا تھا۔

اچانک اسے عجائب گھر والے قیمتی لعل کا خیال آ گیا جو زوناش الماری میں سے ریموٹ کنٹرول کے ساتھ ہی اڑا کر لے گیا تھا۔ اس نے سوچا کہ شایدہ قیمتی لعل ابھی بھی زوناش کے پاس ہی ہو۔ وہ جلدی سے نیچے تہہ خانے میں آگیا۔ اس نے زوناش کی نیند میں سوئی ہوئی لاش کے لباس کی جگہ جگہ سے تلاشی لی اور ٹٹول ٹٹول کر دیکھا۔۔ لعل اسے کہیں نہ ملا۔ وہ سمجھ گیا کہ زوناش نے جہاں ریموٹ کو توڑ پھوڑ کر پھینکاہو گا وہیں لعل بھی ضائع کر دیا ہو گا اب اس کا ملنا بہت مشکل تھا اس نے یہ خیال ذہن سے نکال دیا اور واپس اپنے کمرے میں آکر کسی دوسرے منصوبے پرسوچنا شروع کر دیا۔ اس کے پاس دولت حاصل کرنے کے کئی ایک منصوبے تھے، ان میں سے ایک لندن کے مشہور جوا خانے سٹار کلب پر ڈاکہ مارنے کا منصوبہ بھی تھا۔ وہ اکثر اس کلب میں جایا کرتا تھا۔ جوا کھیلنے نہیں بلکہ اس بات کا جائزہ لینے کہ وہاں ایک دن میں کتنی دولت اکٹھی ہوتی ہے۔ اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ سٹار کلب کے جوئے کی ایک رات کی آمدنی کم از کم اسی لاکھ پاؤنڈ ہے۔ یہ بہت بڑی رقم تھی، اس میں یہ قباحت بھی نہیں تھی کہ کسی دوسرے کو اس میں شامل کیا جائے۔

اگر وہ کوئی قیمتی ہیرا چراتا تو اسے بیچنے کے لئے اسے اپنے پیرس والے دوست پیری کو ساتھ شامل کرنا پڑتا اور اسے کمیشن دینی پڑتی۔ لیکن اگر وہ سٹار کلب میں زوناش کے ذریعے ڈاکہ ڈلواتا ہے تو ساری کی ساری رقم کا اکیلا مالک بن جاتا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلنا تھا۔ چنانچہ اس نے اسی رات سٹار کلب پر ڈاکا مارنے کا پروگرام طے کر لیا۔

سٹار کلب کے بارے میں اس نے تقریباً تمام معلومات اکٹھی کر رکھی تھیں۔ اسے معلوم تھا کہ کلب کی سارے دن اور رات تک کی کمائی ایک بڑے بکس میں بند کر کے شہر سے باہر کلب کے مالک کے بنگلے پر پہنچادی جاتی ہے۔ وین میں چار اسلحہ بردار سیکورٹی گارڈ جاتے ہیں۔ کلب کے انگریز مالک کا نام وکٹر تھا۔ وکٹر ایک چھٹا ہوا تجربہ کار بوڑھا جواری تھا۔ اس نے اپنے بنگلے میں تہہ خانہ بنایا ہوا تھا جہاں آمدنی والا بکس لے جاکر رکھ دیا جاتا تھا اور اگلے دن رقم بینک میں جمع کرا دی جاتی تھی۔ پرویز نے کلب کے مالک کے بنگلے کو بھی دیکھا ہوا تھا اور اس کے اندر جانے کے تمام راستوں سے واقف ہو گیا ہوا تھا۔ چنانچہ رات کو کھانا کھانے کے بعد وہ کاپی پنسل لے کر بیٹھ گیا اور نقشہ بنا کر منصوبے کی تیاری شروع کردی۔ سٹار کلب کی دن بھر کی کمائی والا بکس ویگن میں ڈال کر اسلحہ بردار سیکورٹی گارڈ کی حفاظت میں رات کے ٹھیک دو بجے روانہ کر دیا جاتا تھا۔ یہ ویگن آدھے گھنٹے میں ٹھیک ڈھائی بجے کلب کے مالک بوڑھے وکٹر کے بنگلے پر پہنچ جاتی تھی جہاں وکٹر اپنی نگرانی میں پاؤنڈ سے بھرے ہوئے بکس کو نیچے تہہ خانے میں جاکر رکھوا دیتا تھا۔ تہہ خانے کے دروازے پر ایک مشین گن والا سیکورٹی گارڈ پہرہ دیتا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کے مکان سے کلب کے مالک کے بنگلے تک کا فاصلہ گاڑی میں ایک گھنٹے میں طے ہو جاتا تھا۔

پرویز نے اس کا بھی تجربہ کر کے دیکھ لیا تھا۔ چنانچہ رات کو ٹھیک ڈیڑھ بجے ڈاکٹر پرویز نے کپڑے تبدیل کئے سیاہ اوورکوٹ اور سیاہ گرم ہیٹ پہنا۔ جیب میں بھرا ہوا پستول رکھا اور ریموٹ کنٹرول لے کر تہہ خانے میں آگیا۔ اس نے آنکھوں پر عینک چڑھالی تھی ۔ تہ خانے میں سٹریچر پر زوناش کی لاش بے سدھ ہو کر اسی طرح سو رہی تھی۔ تہہ خانے کی فضا میں اس کے ہلکے ہلکے رونگھٹے کھڑے کردینے والے خراٹوں کی آواز سنائی دے رہی تھی، ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول کا رخ زوناش کی طرف کر کے ایک بٹن دبا دیا

” زوناش! میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اٹھو اور میرے ساتھ باہر آؤ”

زوناش کی ریڑھ کی ہڈی کو ایک جھٹکا سالگا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اس نے نیم وا، نیم مردہ آنکھوں سے ڈاکٹر پرویز کی طرف دیکھا۔ اس وقت زوناش کی آنکھوں میں بجلیاں سی چمک رہی تھیں۔ زوناش کی لاش کا دماغ بھی پوری طرح بیدار ہوگیا تھا اور اس کو معلوم تھا کہ یہی آدمی اس کی ساری ذہنی اذیتوں کی جڑ ہے۔

وہ لندن کے عجائب گھر کے شیشے کے بڑے مرتبان میں دنیا جہان کی فکر سے بےنیاز پڑا تھا کہ یہ شخص اسے وہاں سے اٹھا کر لے آیا اور اس کے (زوناش کے) کے دماغ کو اپنی بنائی ہوئی لاش کی کھوپڑی میں ڈال کر اس کو پھر سے زندہ کر دیا۔ اس کے بعد زوناش کی ذہنی اذیتوں کا دور شروع ہو گیا تھا۔ اس سنگدل لالچی شخص نے زوناش سے کئی آدمیوں کو قتل بھی کروایا تھا جس کا پچھتاوا زوناش کو رات دن کچوکے لگاتا رہتا تھا۔ مگر وہ اس کے قبضے میں بری طرح جکڑا ہوا تھا۔ وہ بے بس تھا۔ سوائے شخص کے حکم ماننے کے اور کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

زوناش ڈاکٹر پرویز کا حکم سن کر سٹریچر پر سے اتر کر تہہ خانے کے دروازے کی طرف چل پڑا۔ ڈاکٹر اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ ریموٹ کنٹرول اس کے ہاتھ میں تھا ، عینک اس کی آنکھوں پر چڑھی تھی۔ وہ زوناش کی لاش کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا اور اسے برابر دیکھ رہا تھا۔ زوناش تہہ خانے کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر والے کمرے میں آگیا۔

ڈاکٹر پرویز نے اسے حکم دیا کہ”اب مکان کے باہر چلو۔ باہر میری گاڑی کھڑی ہے۔ اِس کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاؤ۔”

زوناش نے حکم کی تعمیل کی اور مکان کے دروازے میں سے نکل کر صحن میں کھڑی گاڑی کی طرف بڑھا اور اس کی پچھلی سیٹ پر ںیٹھ گیا۔ زوناش کو اب پورا احساس ہونے لگا تھا کہ ڈاکٹر پرویز نے اس کا دماغ ایک ریموٹ کے ذریعے قبضے میں کر رکھا ہے اور وہ اس سے مجرمانہ کام کروا رہا ہے۔ یہ کام کرنے کو دل نہیں چاہتا تھا مگر وہ مجبور تھا۔ کوشش کے باوجود وہ ڈاکٹر پرویز کی الیکٹرانک طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔

ڈاکٹر پرویز نے مکان کے دروازے کو تالا لگایا اور گاڑی میں بیٹھ کر سٹار کلب کے مالک بوڑھے وکٹر کے بنگلے کی طرف روانہ ہو گیا جو شمالی لندن میں شہر سے پچیس میل کے فاصلے پر ایک جھیل کے کنارے واقع تھا۔ جس وقت ڈاکٹر زوناش کی لاش کو لے کر سٹار کلب کے مالک کے بنگلے کے قریب پہنچا تو اس وقت وہاں کیش کا بکس لے کر ویگن پہنچ چکی تھی اور دو آدمی بکس کو اٹھا کر بنگلے کے تہ خانے میں رکھنے کے لئے جا رہے تھے۔ چار سیکورٹی گارڈ اسلحہ لئے وہاں اٹین شن کھڑے تھے۔ کلب کا مالک بوڑھا وکٹر اپنی نگرانی میں کیش کا بکس نیچے لے کر جارہا تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے گاڑی بنگلے سے کچھ فاصلے پر درختوں کے اندھیرے میں کھڑی کی ہوئی تھی۔ جب سب لوگ ویگن میں بیٹھ کر چلے گئے اور کلب کا مالک بھی اپنے بیڈ روم میں چلا گیا اور بنگلے کے باہر ایک مشین گن والا سیکورٹی گارڈ کھڑے ہو کر پہرہ دینے لگا تو ڈاکٹر پرویز نے گاڑی کے اندر بیٹھے بیٹھے ریموٹ کنٹرول کا رخ زوناش کی طرف کر کے بٹن دبایا اور کہا۔ ” زوناش! تم یہاں سے سامنے والے بنگلے کی طرف جاؤ گے۔ باہر جو سیکورٹی گارڈ کھڑا ہے۔ خاموشی سے اس کے قریب سے گزر جاؤ گے، وہ تمہیں دیکھ نہیں سکے گا ،آگے مکان کا دروازہ ہے جو بند ہے۔ تم اس بند دروازے میں سے گزر جاؤ گے آگے بائیں جانب ایک اور بند دروازہ آئے گا تم اس میں سے بھی گزر جاؤ گے۔ اس دروازے کی دوسری جانب ایک زینہ نیچے تہہ خانے میں جاتا ہے۔ تم زینہ اتر کر تہہ خانے میں جاؤ گے۔ اگر وہاں کوئی گارڈ موجود نظر آئے تو تم وہیں اس کا سر تن سے جدا کر کے ہلاک کر دو گے۔ تہہ خانے میں تمہیں ایک بڑا بکس نظر آئے گا۔ تم وہ بکس اٹھا کر میرے پاس لے آؤ گے اور گاڑی میں رکھ دو گے۔ اور اپنی سیٹ پر اسی طرح بیٹھ جاؤ گے جس طرح تم اس وقت بیٹھے ہو۔ اب جاؤ اور میرا حکم بجا لاؤ۔”

زوناش کی لاش یہ کام ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اس کا دماغ اور جسم ڈاکٹر پرویز کے قبضے میں تھا اور وہ اس کی مرضی کے مطابق کام کرنے پر مجبور تھا۔ چنانچہ اپنی مرضی کے خلاف زوناش گاڑی سے باہر نکل آیا اور سٹار کلب کے بوڑھے مالک کے بنگلے کی طرف چل پڑا۔ بنگلے کے باہر ایک اسلحہ بردار سیکورٹی گارڈ پہرہ دے رہا تھا چونکہ وہ زوناش کو نہیں دیکھ سکتا تھا، اس لئے زوناش اس کے قریب سے گزر کر بنگلے کے برآمدے والے دروازے پر آگیا جو اندر سے بند تھا۔ زوناش کو ڈاکٹر پرویز کی طرف سے جو ہدایات اس کے دماغ میں ڈال دی گئی تھیں ان کے مطابق روناش کی لاش کو اس بند دروازے میں سے گزر کر نیچے تہہ خانے میں جانا تھا جہاں سٹار کلب کی دن بھر کی دولت پاؤنڈ کے کرنسی نوٹوں کی شکل میں پڑی ہوئی تھی۔

زوناش بند دروازے میں سے بغیر کسی رکاوٹ کے گزر گیا۔ آگے بائیں جانب ایک اور دروازہ تھا جس کا زینہ نیچے تہہ خانے میں جاتا تھا۔ زوناش اس بند دروازے سے بھی گزر گیا وہ نیچے تہہ خانے میں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں دو سیکورٹی گارڈ بیٹھے تھے۔ ان کے درمیان نوٹوں سے بھرا ہوا بکس پڑا تھا۔ سیکورٹی گارڈ زوناش کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ زوناش جیسے ہی بکس اٹھانے کے لئے آگے آیا اس کو ایک ہلکا سا جھٹکا لگا اور اسے محسوس ہوا جیسے اس کی گردن میں سے کوئی چیز اپنی جگہ سے ہل گئی ہے۔ اس کے دماغ کی جیسے ایک نئی کھڑکی کھل گئی تھی۔ وہ بکس کے پاس خاموش کھڑا تھا کہ اسے ایک اور جھٹکا لگا اور کسی نے اسے پیچھے کی طرف ہلکا سا دھکا دیا۔ جیسے کوئی طاقت اسے چوری کرنے کے گناہ سے روک رہی ہو۔ اس دھکے نے زوناش کی لاش کو ایک دم پیچھے کر دیا۔ اس کے بعد زوناش کے دماغ سے ڈاکٹر پرویز کی ساری ہدایات غائب ہوگئیں۔ اسے یوں لگا جیسے اس کی گردن میں ڈاکٹر پرویز نے جو زنجیر ڈال رکھی تھی اور جس کی مدد سے وہ اسے جدھر چاہے ہانکتا پھرتا تھا، وہ ٹوٹ گئی ہے۔ زوناش نے کرنسی نوٹوں سے بھرا ہوا بکس وہیں رہنے دیا اور الٹے قدموں زینے کی طرف آگیا۔ زینہ چڑھ کر وہ اوپر والے کمرے میں آگیا۔ یہاں سے بند دروازے میں سے گزر کے برآمدے میں آگیا۔ ڈاکٹر پرویز عینک لگائے ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں لئے کچھ فاصلے پر درختوں کی آڑ میں اپنی گاڑی میں بیٹھا دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی اس نے زوناش کی لاش کو دیکھا کہ وہ بغیر کرنسی نوٹوں کے بکس کے واپس چلی آ رہی ہے تو وہ جلدی سے گاڑی سے باہر نکل آیا۔ وہ حیران تھا کہ زوناش بغیر کرنسی نوٹوں کے بکس کے کس طرح واپس آگیا ہے۔ زوناش سیدھا ڈاکٹر پرویز کی طرف آرہا تھا۔ ڈاکٹر پرو نے فوراً محسوس کر لیا کہ کوئی گڑ بڑ ہو گئی ہے۔ اسے دال میں کچھ کالا نظر آیا

اسنے فوراً ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبایا اور زوناش کو حکم دیا۔ “زوناش! وہیں کھڑے رہو۔ ایک قدم بھی آگے نہ بڑھانا۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔

مگر زوناش پر ڈاکٹر پرویز کے حکم اور ریموٹ کنٹرول کی شعاعوں کا کوئی اثر نا ہوا۔ زوناش برابر اس کی طرف بڑھتا چلا آ رہا تھا۔ اس کے حلق سے غصیلی آوازیں نکل رہی تھیں۔ ڈاکٹر پرویز نے ایمر جنسی بٹن دبا کر زوناش کو حکم دیا۔

“زوناش ! وہیں رک جاؤ۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔ وہیں رک جاؤ۔”

اس حکم اور ریموٹ پر ایمرجنسی بٹن دبانے کا بھی زوناش پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ برابر حلق سے خوفناک آوازیں نکالتا ڈاکٹر پرویز کی طرف بڑھتا جارہا تھا، پرویز کو اپنی جان خطرے میں نظر آنے لگی۔ وہ لپک کر گاڑی میں سوار ہو گیا۔ زوناش کی لاش کار سے صرف چھ سات قدموں کے فاصلے پر رہ گئی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے گاڑی سٹارٹ کردی۔ اس کے ساتھ ہی زوناش نے دونوں بازو اوپر اٹھائے اور جیسے ڈاکٹر پرویز کی گردن دبوچنے کے ارادے سے اس کی طرف دوڑا۔ جو نہی ہی وہ گاڑی کے قریب آیا ڈاکٹر پرویز کی گاڑی ایک جھٹکے سے آگے بڑھ کر تیزی سے نکل گئی۔ زوناش حلق سے انتقامی آوازیں نکالتا دونوں بازو آگے کئے کچھ دیر اندھیرے میں ویسے ہی کھڑا رہا۔ جب گاڑی کی سرخ بتی اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی تو وہ یک طرف کو چل پڑا۔

ڈاکٹر پرویز سخت ذہنی پریشانی میں مبتلا گاڑی کو ہائی وے پر لندن کی طرف بھگائے جا رہا تھا۔ ایک بار پھر اس کا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا تھا۔ زوناش کی لاش جس کی مدد سے اس نے ابھی کئی ڈاکے ڈلوانے تھے اور کئی لوگوں کو قتل کروانا تھا اور دنیا کا امیر ترین آدمی بننا تھا، ایک بار پھر اس کے کنٹرول سے باہر ہو گئی تھی۔ اس دفعہ زوناش میں جو خطرناک تبدیلی آئی تھی وہ یہ تھی کہ زوناش کی لاش ڈاکٹر پرویز کو قتل کرنا چاہتی تھی۔ یہ ایک ایسی تبدیلی اور ایسا خونخوار قسم کا انقلاب تھا، جس کی ڈاکٹر پرویز کو بالکل توقع نہیں تھی۔ اب اس کی اپنی جان خطرے میں تھی اور زوناش کسی بھی وقت کسی بھی جگہ اچانک اس کے سامنے نمودار ہو کر اس کی گردن مروڑ سکتا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کی زندگی کا سارا دارو مدار اب صرف اس کی عینک پر تھا جس کی مدد سے وہ لاش کو دیکھ سکتا تھا۔ اگر یہ عینک گم ہو جاتی ہے تو جب تک وہ دوسری عینک تیار کرتا ، زوناش اچانک اس پر جان لیوا حملہ کر سکتا تھا۔ ڈاکٹر پرویز عجیب عذاب میں مبتلا ہو گیا تھا۔

“اگر وہ لندن چھوڑ کر واپس پاکستان بھی چلا جاتا ہے تو زوناش کی لاش جو اب اسکی جانی دشمن بن چکی تھی وہاں کبھی نہ کبھی آکر اسے ہلاک کر سکتی تھی۔ اپنے ریسٹ ہاؤس کے تہہ خانے میں آکر ڈاکٹر پرویز نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنا بستر اٹھا کر اوپر والی منزل کے چھوٹے کمرے میں آگیا۔ مگر یہ احتیاطی تدابیر بیکار تھیں۔

زوناش کی لاش بند دروازہ تو کیا دیوار میں سے بھی گزر سکتی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول کو چیک کیا۔ پوری چیکنگ کے بعد معلوم ہوا کہ ریموٹ کنٹرول میں کوئی خرابی نہیں ہے وہ بالکل صحیح کام کر رہا تھا۔ یہ کوئی طاقت تھی جس نے زوناش کو نہ صرف یہ کہ ریموٹ کنٹرول کی قید سے آزاد کر دیا تھا بلکہ اسے ڈاکٹر پرویز کا موت جانی دشمن بھی بنا دیا تھا۔ اس وقت رات کا پچھلا پہر ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر پرویز غور کرنے لگا کہ اگر زوناش لندن سے اس کے مکان تک پیدل آئے تو دو گھنٹوں میں وہاں پہنچے اسے گا۔ اگر راستے میں وہ کسی ٹرک وغیرہ میں بیٹھ جائے تو زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے میں وہاں آ جائے گا۔ ڈاکٹر پرویز کے سامنے اس وقت صرف یہی سب سے اہم مسئلہ تھا کہ کسی طرح زوناش سے اب جان بچائی جائے۔ اس کے بعد ہی کسی اور منصوبے پر غور کیا جا سکتا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کے پاس بینک کے لوٹے ہوئے کافی نوٹ تھے جنہیں اس نے لندن کے ایک بینک میں جمع کروا رکھا تھا۔ اس کے پاس اپنی بھی کافی رقم موجود تھی۔ اس نے مکان کو تالا لگایا اور گاڑی لے کر تیزی سے لندن کی طرف چل پڑا۔ لندن کے شمال مشرقی علاقے میں ایک بہت بڑا فائیو سٹار ہوٹل تھا۔ اس نے وہاں ایک کمرہ کرائے پر لے لیا اور کمرے میں آکر بستر پر لیٹ کر سوچنے لگا کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے۔ وہ عینک جس کو آنکھوں پر لگا کر وہ زوناش کو دیکھ سکتا تھا اور جس پر اب اس کی زندگی کا دارومدار تھا اس نے اتاری نہیں تھی، اسی طرح آنکھوں پر لگا رکھی تھی۔ وہ اس عینک کو سوتے ہوئے بھی آنکھوں سے اتارنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا۔ آخر سوچ سوچ کر ڈا کٹر پرویز اس نتیجے پر پہنچا کہ اگر وہ زندہ ہے اور اس کی نہ جان سلامت ہے تو وہ دولت سے عیش بھی کر سکتا ہے۔ اگر جان ہی سلامت نہ رہی اور وہ مرگیا تو دولت کس کام کی۔

چنانچہ بہتر یہی ہے کہ زوناش کی لاش کو مار ڈالا جائے۔ کیونکہ اس پر اب کسی ایسی زبر دست طاقت کا اثر ہوگیا تھا کہ واپس ریموٹ کنٹرول کے قبضے میں آنا ڈاکٹر پرویز کو ناممکن نظر آتا تھا اور زوناش کسی بھی وقت کسی بھی جگہ اچانک نمودار ہو کر ڈاکٹر پرویز کا سر تن سے جدا کر سکتا تھا۔

زوناش کی لاش کو ڈاکٹر پرویز کے خیال کے مطابق صرف ایک ہی طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا تھا۔ کہ گولیوں کی بوچھاڑ سے اس کی کھوپڑی کے پرنچے اڑا دیئے جائیں۔ کیونکہ زوناش کا دماغ ہی اس سے سب کچھ کروا رہا تھا اور صرف اپنے دماغ کی وجہ سے وہ زندہ تھا۔ اگر اس کا دماغ اڑا دیا جائے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ ڈاکٹر پرویز دوسرے ہی دن لندن کی ایک اسلحہ کی دکان پر گیا اور وہاں سے ایک سٹین گن اور کافی میگزین خرید کر لے آیا۔ ڈاکٹر پرویز نے واپس پاکستان جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ لیکن پاکستان جانے سے پہلے وہ زوناش کی لاش کا کام تمام کر دینا چاہتا تھا تا کہ پاکستان میں اسے زوناش کے قاتلانہ حملے کا کھٹکا نہ لگا رہے۔

ڈاکٹر پرویز نے اپنی جان بچانے کا بندوبست بھی اپنی طرف سے پوری طرح کر لیا تھا اور زوناش کو ہلاک کرنے کے لئے بھری ہوئی مشین گن بھی اپنے پاس رکھ لی تھی۔ ہوٹل میں دوسرا آدھا دن اس نے سو کر گزارا اور دوپہر کے وقت زوناش کو دیکھنے والی عینک لگا کر گاڑی میں بیٹھا اور زوناش کی تلاشی میں لندن کی سڑکوں باغوں اور پارکوں کی طرف نکل کھڑا ہوا۔

اب ہم دوبارہ زوناش کی لاش کی طرف آتے ہیں۔ رات کی تاریکی میں جب ڈاکٹر پرویز زوناش سے اپنی جان بچا کر بھاگ گیا اور زوناش اسے ہلاک نہ کر سکا تو وہ ایک طرف کو چل پڑا۔ لندن کے مضافات کی سرد دھند میں ڈوبی اندھیری رات میں زوناش ایک اونچی لمبی لاش کی طرف آہستہ آہستہ چلتا جا رہا تھا۔ اس کے دماغ میں ایک زبر دست تبدیلی رونما ہو چکی تھی مگر اس کا دماغ اس تبدیلی کا تجزیہ نہیں کر سکتا تھا کہ ایسا اس کے ساتھ کیوں ہوا ہے اور کونسی طاقت تھی جس نے اس کو ایک ہلکا سا دھکا دے کر چوری کرنے سے باز رکھا۔ اس تبدیلی کی وجہ سے زوناش کے دماغ میں یہ احساس شدت سے بیدار ہو گیا تھا کہ اس سارے عذاب کی وجہ ڈاکٹر پرویز ہے۔ اگر یہ شخص لندن کے عجائب گھر سے اس کا دماغ مرتبان سے نکال کر نہ لاتا اور اسے کسی دوسرے مردے کی کھوپڑی میں نہ ڈالتا تو زوناش یعنی والڈروف اس ذہنی اذیت اور اپنے گناہوں کے پچھتاوے کے عذاب سے محفوظ رہتا۔ وہ ڈاکٹر پرویز کا جانی دشمن ہو گیا تھا اور اس نے اسے ہلاک کرنے کی پوری کوشش کی تھی لیکن عین وقت پر ڈاکٹر کو پتہ چل گیا اور وہ گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہو گیا۔

عجیب بات ہے کہ ڈاکٹر پرویز کے فرار ہونے کے بعد زوناش کے دماغ سے ڈاکٹر پرویز کا خیال بھی نکل گیا تھا۔ زوناش کو محسوس ہونے لگا تھا کہ کوئی ان دیکھی غیر مرئی طاقت اسے خود کی طرف لئے جا رہی ہے۔ یہ کام زوناش کی خیر خواہ اور دوست دیوداسی سوپر نا یعنی پر اسرار عورت کا بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ کیونکہ سوپرنا زوناش سے جدا ہونے کے بعد واپس انڈیا اپنے بمبئی والے سنتھاپائی کے پرانے مندر میں جاچکی تھی۔ اس نے زوناش سے کہا تھا کہ میں تمہاری محبوبہ کی قبر دیکھنا چاہتی ہوں۔ اس کے بعد میں واپس آ جاؤں گی۔ چنانچہ زوناش کی محبوبہ مارگریٹ کی اس نے قبر دیکھ کر اپنی خواہش پوری کر لی تھی۔ ممکن ہے وہ زوناش کے ساتھ لندن میں کچھ روز اور ٹھہر جاتی لیکن جب اسے علم ہوا کہ زوناش کی محبوبہ مارگریٹ کی روح نے سوپرنا کی وہاں موجودگی کو پسند نہیں کیا تو اس نے واپس انڈیا جانے کا فیصلہ کر لیا اور اسی روز زوناش سے جدا ہو کر انڈیا واپس چلی گئی۔

زوناش کے دماغ میں یہ خیال بھی آیا کہ شاید مارگریٹ کی روح نے اسے چوری کرنے کے گناہ سے روکا ہے اور اس کو ڈاکٹر پرویز کے ریموٹ کنٹرول کے اثر سے نکال دیا ہے۔ لیکن زوناش کو اس کے ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ اگر مارگریٹ ایسا کرتی تو اس کی روح ضرور تھوڑی دیر کے لئے ظاہر ہوتی لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔ اس سے زیادہ زوناش کی لاش کا دماغ سوچنے کی مشقت ہی نہیں کر سکتا تھا۔چنانچہ وہ اپنی کیفیت میں ڈوبا سرد رات کی تاریکی میں چلا جا رہا تھا۔ یہ لندن کے شمال کا علاقہ تھا۔ زوناش غیبی حالت میں تھا اور کسی کو دکھائی نہیں دے سکتا تھا۔ چلتے چلتے وہ ایک چھوٹی سی جھیل کے پاس آگیا۔ اندھیرے میں جھیل کے دوسرے کنارے پر اسے ایک عمارت نظر آئی جس کی ایک دیوار جھیل کے پانی میں سے اٹھائی گئی تھی رات کا اندھیرا ، سرد کہرا اور دھند زوناش کی نگاہ کے راستے میں اتنی زیادہ حائل نہیں ہو رہی تھی۔ وہ اس اندھیرے اور دھند میں بھی چیزوں کو دیکھ سکتا تھا۔

زوناش کی لاش کو اچانک ایک اور ہلکا سا جھٹکا لگا۔ وہ چلتے چلتے رک گیا۔ اس جھٹکے کے ساتھ ہی اس کے دماغ کو چکر سا آگیا۔ زوناش کی لاش کو پہلی بار کمزوری سی محسوس ہوئی۔ اسے ہلکی سی گڑ گڑاہٹ سنائی دی۔ زوناش نے چہرہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان پر بادل تھے جن میں ہلکی ہلکی بجلی چمکنے لگی تھی اس کے ساتھ ہی بارش شروع ہو گئی۔ زوناش کے دماغ کے چکر تو ختم ہو گئے مگر اسے کمزوری کا اسی طرح احساس ہو رہا تھا۔ اس نے جھیل کے کنارے پر پرانی عمارت کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا اور پھر اس کی طرف چلنے لگا۔ وہ کسی جگہ کچھ دیر بیٹھ جانا چاہتا تھا۔ بارش تیز ہونے لگی زوناش نے پرانی عمارت کے پاس آکر دیکھا کہ یہ پرانی عمارت ایک قدیم زمانے کا کھنڈر تھا۔ اس کے بالکل سامنے ایک اور کھنڈر تھا جس کی دوسری منزل کی ایک چھجے والی گیلری باہر کو نکلی ہوئی تھی۔ دونوں کھنڈرات کے درمیان کثرت سے جنگلی جھاڑیاں اور قسم قسم کے بھوت نما ڈراؤنی صورت والے درخت کھڑے تھے۔ بجلی چمکی تو زوناش کو سامنے والے کھنڈر کا دروازہ دکھائی دیا جس کے تین ستون تھے۔ ایک ستون جھک کر ٹیڑھا ہو گیا تھا۔ کھنڈر کا دروازہ درختوں کی لٹکی ہوئی ٹہنیوں کے درمیان اندھیرے اور بارش میں انتہائی ڈراؤنا منظر پیش کر رہا تھا۔ آج سے دو ہزار سال پہلے یہ ایک عالیشان محل ہوا کرتا تھا۔ یہ دونوں کھنڈر اسی عالیشان محل کے حصے تھے جو باقی بچ گئے تھے اور جنہیں وقت کی آندھیوں اور طوفانی موسموں نے توڑ پھوڑ کر عبرت ناک کھنڈر بنا دیا ہوا تھا۔ زوناش کو ڈر وغیرہ تو لگتا نہیں تھا وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا سامنے والے کھنڈر میں داخل ہو گیا اور وہیں بیٹھ گیا۔ بادلوں میں دھیمی دھیمی بجلی رہ رہ کر چمک رہی تھی۔ کسی کسی وقت بادلوں کی ہلکی گرج بھی سنائی دے جاتی تھی۔ بارش اسی طرح ہو رہی تھی۔ زوناش کھنڈر کے دروازے میں ایک ستون سے لگ کر پتھر کے بت کی طرح بیٹھا بالکل سامنے دیکھ رہا تھا۔ وہ کچھ نہیں سوچ رہا تھا اس کے دماغ کی اب ایسی حالت ہو گئی تھی کہ کچھ دیر سوچنے کے بعد جیسے ایک دم بند ہو جاتا تھا۔ آہستہ آہستہ اس کے جسم کی کمزوری دور ہو رہی تھی۔ کچھ دیر کے بعد اس کے جسم کی پوری توانائی بحال ہو گئی۔ وہ اٹھ کر واپس جانے لگا تو اسے ایک آواز سنائی دی۔ یہ آواز کسی عورت کی آواز سے ملتی جلتی تھی۔ زوناش نے اپنے پورے جسم کو گھما کر پیچھے دیکھا۔ پیچھے اندھیرے میں اسے ایک اندھیرا راستہ نظر آیا جو کھنڈر کی دیواروں کے درمیان بنا ہوا تھا، زوناش اسی طرح بیٹھا اندھیرے میں دیکھتا رہا۔ اتنے میں چیخ کی وہی آواز سنائی دی۔ زوناش اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ آواز دبی دبی سی تھی اور کھنڈر محل کے اوپر والی منزل سے آئی تھی۔ زوناش یہ معلوم کرنے کے لیے یہ عورت کس مصیبت میں گرفتار ہے اندھیری راہداری میں چلنے لگا۔ راہداری جہاں ختم ہوتی تھی وہاں ایک زینہ اوپر والی منزل کو جاتا تھا۔ یہاں چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا۔ زوناش نے اس اندھیرے میں ایک سیاہ فام حبشی کو دیکھا جس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی۔ اس نے صرف ایک لنگوٹ باندھا ہوا تھا اور اس کا سیاہ بدن اندھیرے میں اور زیادہ سیاہ ہو رہا تھا، مگر زوناش کی آنکھیں سارا منظر اچھی طرح سے دیکھ رہی تھیں۔ یہ اونچی چھت والا والان تھا۔ دالان کی حالت بے حد شکستہ تھی۔ کچھ ستون کھڑے تھے اور کچھ گرے ہوئے تھے۔ دالان کے درمیان میں ایک تابوت پڑا تھا جو بند تھا۔ تلوار ہاتھ میں لئے حبشی تابوت کے چاروں طرف چکر لگا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد عورت کی دبی ہوئی چیخ پھر سنائی دی۔ یہ چیخ تابوت کے اندر سے آرہی تھی۔ زوناش کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ یہ کالا حبشی کون ہے اور اس نے تابوت کے اندر عورت کو کیوں بند کر رکھا ہے۔ مگر زوناش معلوم کرنا چاہتا تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے۔ وہ اندھیرے میں ستون کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ تماشہ دیکھ رہا تھا۔ کالا حبشی تلوار لہراتا تابوت کے گرد چکر لگاتے ہوئے اب اچھلنے لگا تھا۔ پھر اس نے رک کر تلوار والا ہاتھ بلند کیا اور حلق سے ایک ڈراونی آواز نکالی۔ اس آواز کے ساتھ ہی چار حبشی عورتیں جو کالی سیاہ تھیں اور جنہوں نے کچھ نہیں پہنا ہوا تھا اور جن کے بال کھلے تھے، دیواروں میں سے نکل کر تابوت کے پاس آگئیں اور تابوت اور کالے حبشی کے گرد دائرہ بنا کر دیوانہ وار رقص کرنے لگیں۔ ان کی سرخ آنکھیں اندھیرے میں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ کالا حبشی اسی طرح تلوار والا ہاتھ بلند کئے کھڑا تھا۔ حبشی عورتیں جو چڑیلیں لگ رہی تھیں پاگلوں کی طرح اچھل اچھل کر رقص کر رہی تھیں۔

کالے حبشی نے ایک دم اپنا تلوار والا ہاتھ نیچے کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی چاروں سیاہ فام حبشی عورتوں کا چڑیلوں والا رقص تھم گیا۔ چاروں عورتیں تابوت کے چاروں کونوں پر آکر کھڑی ہو گئیں۔ حبشی آدمی نے تلوار سے تابوت کی طرف اشارہ کیا۔ تلوار کے اشارے سے تابوت کا ڈھکنا کھل گیا۔ تابوت کے اندر سے نیلے رنگ کا دھواں اٹھنے لگا۔ چاروں حبشی عورتوں کے حلق سے کراہنے کی دبی دبی آوازیں نکلنے لگیں۔ تابوت میں سے نیلا دھواں اوپر اٹھ کر ایک گولا بن گیا۔ پھر اس

گولے نے گھومنا شروع کر دیا۔

گھومتے گھومتے گولے نے ایک انسانی شکل اختیار کرلی۔ اور نیلے دھوئیں کا یہ جسم تابوت میں کھڑا ہو گیا۔ حبشی نے تلوار والا ہاتھ ایک بار پھر بلند کر کے حلق سے ایک بڑی ڈراونی غضبناک آواز نکالی۔ نیلے دھوئیں والا انسانی جسم لرزنے لگا۔ لرزتے لرزتے اس کے جسم سے دھواں الگ ہونا شروع ہو گیا اور پھر وہ ایک زندہ عورت کی شکل اختیار کر گیا۔ زوناش نیم مردہ آنکھوں سے ٹکٹکی باندے دھوئیں سے نمودار ہونے والی عورت کو دیکھ رہا تھا۔ یہ زردی مائل سفید رنگ کی ایک جوان عورت تھی جس کے لمبے سنہری بال اس کے شانوں پر گرے ہوئے تھے۔ اس عورت کے چہرے پر موت کی زردی چھائی ہوئی تھی۔ وہ خوف کے مارے کانپ رہی تھی۔ وہ کھلے تابوت میں کھڑی تھی۔ اس عورت کے بدن پر بھی کوئی لباس نہیں تھا ،جیسے ہی نیلے دھوئیں نے عورت کی شکل اختیار کی چاروں حبشی عورتیں تابوت سے چار چار قدم پیچھے ہٹ گئیں۔ کالا حبشی جلاد اسی طرح تلوار والا ہاتھ بلند کئے تابوت والی خوبصورت نازک اندام سنہری بالوں والی عورت کو گھور رہا تھا۔ ایک دم سے عورت نے دونوں ہاتھ باندھ کر انگریزی زبان میں کہا۔ مجھ پر رحم کھاؤ۔ مجھ پر رحم کھاؤ۔

زوناش کا دماغ چونکہ ایک انگریز قاتل والڈروف کا دماغ تھا اس وجہ سے وہ انگریزی زبان پوری طرح جانتا تھا۔ انگریزی اس کی مادری زبان تھی۔ خدا جانے کیا بات تھی کہ زوناش ابھی تک اپنی جگہ پر بالکل ساکت کھڑا تھا۔ اس کے دیکھتے دیکھتے کالے حبشی کا تلوار والا ہاتھ نیچے آیا اور اس نے چشم زدن میں تلوار سنہری بالوں والی عورت کے سینے میں گھونپ دی۔ عورت کے حلق سے ایک بھیانک چیخ بلند ہوئی۔ کالے حبشی نے تلوار کھینچ لی۔ سنہری بالوں والی عورت کا مردہ جسم تابوت میں گر پڑا۔ چاروں حبشی عورتوں نے دیوانہ وار چیختے چلاتے ہوئے تابوت کا ڈھکنا بند کر دیا اور حبشی جلاد کے گرد رقص کرنے لگیں۔ حبشی جلاد بھی رقص کرنے لگا۔ رقص کرتے کرتے وہ سامنے والی دیوار کی طرف بڑھے اور اندھیرے میں غائب ہو گئے۔

اس کے بعد وہاں موت جیسا سکوت طاری ہو گیا۔ باہر سے بادلوں کے گرجنے کی آواز بھی اب نہیں آ رہی تھی۔ زوناش لاش کی طرح ساکت کھڑا تھا۔ یہ سب کچھ اتنی جلدی اس کی آنکھوں کے سامنے ہو گیا تھا کہ اسکا محدود سوچ والا دماغ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا کہ یہ لوگ کون تھے اور جو خون آلود واقعہ وہاں گزرا ہے وہ کیوں وقوع پذیر ہوا۔ آیا یہ کوئی بھوت پریت تھے یا چڑیلیں تھیں یا کیا تھا۔ تابوت کا ڈھکن بند ہو گیا تھا۔ دالان کے چاروں طرف سناٹا چھا گیا تھا۔ زوناش وہاں سے واپس پلٹنے ہی والا تھا کہ اچانک کسی عورت نے درد ناک دبی ہوئی آواز میں اس کا نام لے کر پکارا۔

والڈروف! والڈ روف ۔۔۔ میرے پاس آؤ۔ پھانسی پانے کے بعد اور جب سے والڈ روف قاتل کا دماغ کسی دوسرے کی کھوپڑی میں لگایا گیا تھا یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے اس کو اس کے اصلی نام سے پکارا تھا۔

زوناش نے اپنے دماغ میں ایک جھنجھناہٹ سی محسوس کی اور اس کے اٹھتے ہوئے قدم وہیں رک گئے۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ آواز تابوت میں سے آئی تھی۔ زوناش کسی بے اختیار جذبے کے تحت تابوت کی طرف بڑھا۔ عورت نے اسے انگریزی زبان میں مخاطب کیا تھا۔ آواز میں بڑا درد اور کرب تھا۔ یہ اس عورت کی آواز تھی جس کو حبشی جلاد نے تلوار گھونپ کر قتل کیا تھا۔ زوناش تابوت کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ تابوت کے اندر سے آواز آئی۔

” والڈروف! میرا نام ایلزبتھ ہے۔ میں ایک نیک دل پادری کی بیٹی ہوں۔ میرا باپ لندن کے بڑے گر جا گھر کا فادر تھا۔ یہ ڈیڑھ سو برس پہلے کی بات ہے، ہم لوگ لندن میں بڑی سادہ اور ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے کہ اچانک مجھے بخار چڑھ گیا۔ میرے والد اور والدہ نے میرا بہت علاج کرایا لیکن میرا بخار نہ اترا بلکہ دن بدن زیادہ ہو تا گیا۔ آخر ایک دن میں مرگئی۔ میرے ماں باپ کو میری موت کا سخت صدمہ ہوا۔ لیکن انسان کا جب وقت پوار ہو جاتا ہے تو پھر اسے اس دنیا سے سفر کرنا ہی پڑتا ہے۔ میرے باپ نے مجھے بڑے گرجا گھر کے قبرستان میں دفن کر دیا۔ ابھی میری شادی نہیں ہوئی تھی، میں کنواری تھی اور ساری زندگی میں نے بڑی پاکبازی میں بسر کی تھی۔ مرنے کے بعد میری روح کو بہت سکون نصیب ہوا تھا۔ میری روح بڑے سکون کے ساتھ تھی کہ آج سے چار سال پہلے نہ جانے قدرت نے مجھے میرے کس گناہ کی سزا دینی تھی اور سزا کا وقت بھی آ گیا تھا کہ ایک روز میری قبر پر ایک نیگرو آیا۔ اس کے ساتھ چار نیگرو عورتیں بھی تھیں۔ وہ خاموشی سے میری قبر کے پاس بیٹھ گئے۔ انہوں نے میری قبر پر موم بتی جلائی۔ پھول رکھے اور آپس میں دھیمی آواز میں باتیں کرنے لگے۔

نیگروحبشی مرد نے کہا۔ “ہم نے جو چلہ کاٹنا ہے اس کے مطابق ہمیں اس بڑے قبرستان میں آنا چاہیے تھا اور چلے کی دوسری شرط پوری کرنے کے واسطے ہمیں ایک کنواری لڑکی کی قبر کو تلاش کرنا تھا۔ ہم نے دونوں شرطیں پوری کر لی ہیں۔ ہم لندن کے ایک بڑے گرجا گھر کے قبرستان میں ہیں اور اس سارے قبرستان میں صرف یہی ایک کنواری لڑکی کی قبر ہے۔۔”

حبشی عورت نے کہا “اگر ہم نے دونوں شرطیں پوری کر لی ہیں تو پھر کس چیز کا ہمیں انتظار ہے۔ آج رات ہم قبرستان میں آکر اس قبر کی کنواری لڑکی کی ہڈیاں نکال کر لے جائیں گے اور اپنا چلہ شروع کر دیں گے تاکہ ہم پانچوں کو ہمیشہ کی زندگی مل جائے اور ہم میں سے کسی کو موت نہ آسکے۔ “

میں نے یہ سنا تو میری روح بے چین ہو گئی۔ لیکن جب کوئی سزا خداوند کی طرف سے انسان پر یا کسی روح پر نازل ہوتی ہے تو وہ آدمی بے بس ہوتا ہے۔ اسے ہر حالت میں خداوند کی طرف سے دی گئی سزا کو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے۔ میں محض ایک لڑکی کی روح تھی۔ میں کسی انسان کو یا پولیس کو یہ بتانے سے قاصر تھی کہ آج رات میری قبر پر کچھ نیگرو آئیں گے جو قبر کھود کر تابوت میں سے میری ہڈیاں نکال کر لے جائیں گے اس لئے انہیں گرفتار کیا جائے۔ میری روح اپنے اعمال کی وجہ سے احکام خداوندی کی پابند ہے۔ جس کی وجہ سے میں اس قبرستان کی حدود سے باہر نہیں جا سکتی۔ جو کام میں نہیں کر سکتی وہ میں تمہاری مدد سے سر انجام دینا چاہتی ہوں تاکہ اس حبشی جلاد نے جس اذیت میں مجھے مبتلا کر رکھا ہے اس سے میری روح کو نجات ملے۔ ایلزبتھ کی روح خاموش ہو گئی۔ اس نے پوچھا۔ والڈروف! جو کچھ میں کہہ رہی ہوں، کیا تم اسے سن رہے ہو؟”

زوناش کی لاش نے حلق سے دو تین بار ایسی آوازیں نکالیں جیسے کہہ رہی ہو میں سن رہا ہوں۔ ایلزبتھ کی روح نے اپنی داستان غم جاری رکھتے ہوئے کہا۔

“اس رات حبشی جلاد اپنے ساتھ چاروں حبشی عورتوں کو لے کر میری قبر پر آپہنچا، انہوں نے میری قبر کھود کر اندر سے تابوت باہر نکالا اور اسے رات کی تاریکی میں اپنے بھوت ٹمپل کے تہہ خانے میں لے گئے۔ ایک دن اور ایک رات میرے تابوت کو اس حبشی نے جو حقیقت میں بڑا زبردست جادوگر ہے اور جس کے قبضے میں کئی چڑیلیں ہیں، اپنے تہہ خانے میں رکھا اور میرے تابوت پر اپنے طلسمی منتر پڑھ کر پھونکتا رہا۔ اس کے بعد وہ تابوت کو اٹھا کر اس قدیم رومن کھنڈر میں لے آئے، جہاں تم اس وقت موجود ہو۔ اس آسیبی کھنڈر میں حبشی جادوگر اور اس کی بدروح چڑیلوں نے ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کے لئے مجھ پر اپنا چلہ یا طلسمی عمل شروع کر دیا، اس خونی عمل کا ایک منظر شاید تم بھی دیکھ چکے ہو۔ آج پانچویں رات ہے ہر ہفتے ایک خاص رات کو حبشی جلاد جادوگر اپنی چاروں چڑیلوں کے ساتھ ویران کھنڈر میں آتا ہے، طلسمی منتر پھونک کر مجھے نیلے دھوئیں کے ہیولے کی شکل میں تابوت سے بر آمد کرتا ہے۔ پھر دوسرے عمل سے مجھے جسمانی شکل میں تبدیل کرتا ہے اور چڑیلوں کے وحشیانہ رقص کے دوران میرے پیٹ میں تلوار گھونپ کر میری لاش کو تابوت میں ڈال کر تابوت بند کر کے اگلے ہفتے کی رات تک کے لئے وہاں سے چڑیلوں سمیت غائب ہو جاتا ہے۔ آج رات میرے ساتھ یہ اذیت ناک خونی واقعہ پانچویں بار ہوا ہے۔ ابھی انہوں نے چھ ماہ کا عمل مکمل کرنا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے میری روح ایک انتہائی تکلیف دہ عذاب میں مبتلا ہے۔ اس عذاب سے صرف تم ہی مجھے نجات دلا سکتے ہو۔ کیونکہ تم غیبی حالت میں ہو اور تمہارے اندر زبردست طاقت ہے۔ اس کالے حبشی جادوگر نے مشرقی لندن کے ایک مکان کے تہہ خانے میں اپنا بھوت مندر بنا رکھا ہے۔ وہ اسی جگہ لوگوں کے مختلف مسائل اور بیماریوں کا انہیں طلسمی حل بتاتا ہے۔ وہ سارا دن لندن سے غائب رہتا ہے، صرف شام کو آتا ہے اور آدھی رات تک بھوت مندر میں ضعیف الاعتقاد لوگوں کو بیوقوف بناتا ہے۔ اس کی چاروں ساتھی چڑیلیں لندن کے اولڈ کیسل کے نیچے غار میں چار سیاہ بلیوں کی مورتیوں کی شکل میں رہتی ہیں۔ حبشی جادوگر نے انہیں پتھر کی بلیاں بنا کر قلعے کے تہہ خانے میں بند کر رکھا ہے۔ والڈروف یہ بڑے سنگدل ظالم لوگ ہیں۔ انہوں نے اپنے مطلب کے واسطے کئی معصوم عورتوں اور آدمیوں کو قتل کیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ تم انسانیت کے دشمن اس حبشی جادوگر اور اس کی ساتھی چاروں چڑیلوں کو موت کے گھاٹ اتار دو تاکہ بنی نوع انسان کو بھی اور مجھے بھی ایک درد ناک روحانی عذاب سے نجات ملے۔”

زوناش کی لاش بڑی توجہ سے ایلزبتھ کی روح کی باتیں سن رہی تھی۔ اس نے اپنے دماغ میں سوچا کہ وہ اس خطرناک حبشی جادوگر اور چاروں خونی چڑیلوں کو کس طرح ہلاک کرے گا۔ کیا اس پر بھی حبشی جادوگر کے جادو کا اثر نہیں ہو گا؟

ایلزبتھ کی روح فوراً سمجھ گئی کہ زوناش کیا سوچ رہا ہے۔ اس نے کہا۔

”میں نے تمہارے دماغ کے خیالات کو پڑھ لیا ہے۔ تم پر حبشی جادو گر کے جادو کا اثر نہیں ہو گا۔ دوسرے تم غائب ہو ، تمہیں حبشی جادوگر دیکھ نہیں سکتا، لیکن تمہیں حبشی جادوگر کے سامنے جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ حبشی جادو گر نے اپنا ایک کپڑے کا چھوٹا سا پتلا بنارکھا ہے۔ یہ پتلا چاروں چڑیلوں والے اولڈ کیسل کے تہہ خانے میں ایک لوہے کے بکس میں بند ہے جس پر شیطان کی خیالی شکل بنی ہوا ہے۔ اگر تم اس پتلے کو صندوق میں سے نکال کر اس کی گردن مروڑ دو گے تو جادو گر اپنے آپ مر جائے گا اس کے بعد یا اس سے پہلے تم چاروں چڑیلوں کی بلیوں کا شکل والے بتوں کی گردنیں توڑ دو گے۔ گردنیں توڑ ڈالنے سے چاروں چڑیلیں مر جائیں گی۔ کیا تم انسانیت کی بھلائی کے لئے ایسا کرنے پر تیار ہو ؟”

زوناش کے دماغ نے جواب دیا۔

”ہاں۔ اگر اس میں انسانوں کی بھلائی ہے اور تمہاری روح کو ایک عذاب سے نجات ملتی ہے تو میں اس جادو گر اور اس کی چاروں چڑیلوں کو موت کے گھاٹ اتار کر رہوں گا۔ میں اولڈ کیسل سے اچھی طرح واقف ہوں۔ جب میں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا تو اپنے دوستوں کے ساتھ اس قلعے کے میدان میں لوگ کرکٹ کھیلنے جایا کرتا تھا۔ میں آج رات کو ہی ان لوگوں کا کام تمام کردوں گا۔”

ایلزبتھ کی روح کہنے لگی “والڈروف ! تم سب سے پہلے حبشی جادوگر کے پتلے کی گردن توڑ کر اسے ختم کرنا یہ بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اگر اسے پتہ چل گیا کہ کوئی اولڈ کیسل میں اسے قتل کرنے کے ارادے سے داخل ہوا ہے تو وہ اپنے آپ کو غائب کر دے گا۔”

زوناش کے دماغ نے ایلزبتھ کی روح سے مخاطب ہو کر اسے کہا کہ “وہ فکر نہ کرے۔ اسے معلوم ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور ان انسانیت کے قاتلوں کو کس طرح سے ختم کرنا ہے۔ اب میں جاتا ہوں اور تمہارے پاس اس وقت آؤں گا جب تمهاری روح ان جادو گروں اور چڑیلوں کے لائے ہوئے عذاب سے نجات حاصل کر چکی ہو گی”

ایلزبتھ کی روح نے ایک گہرا سانس لیا اور بولی “والڈ روف! تم مجھے اپنے بھائی کی طرح پیارے ہو تمہارا یہ احسان میں ساری زندگی فراموش نہ کر سکوں گی۔”

ابھی تھوڑی رات ہی گزری تھی۔ زوناش نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ان بنی نوع انسان کے دشمنوں کو صبح ہونے سے پہلے پہلے ختم کر ڈالے گا۔ وہ جھیل کنارے اس تاریخی قلعے کے کھنڈر سے باہر نکل آیا اور لندن کے اولڈ کیسل کی طرف روانہ ہو گیا۔ زوناش اس سارے علاقے سے اچھی طرح واقف تھا۔ وہ سرد ابر آلود رات کی تاریکی میں کھیتوں، فارموں اور چٹیل میدانوں میں چلتا گیا۔ جب رات کا پچھلا پہر شروع ہوا تو اسے دور سے پرانے قلعے کے برجیاں نظر آئیں۔

قلعے کے قریب پہنچ کر زوناش محتاط ہو گیا۔ وہ سیدھے رخ پر قلعے کے دروازے کی طرف جانے کی بجائے ایک چکر کاٹ کر قلعے کے عقبی دروازے کی طرف آگیا۔ والڈ روف اپنے طالب علمی کے زمانے میں اس دروازے سے قلعے میں داخل ہوا کرتا تھا۔ کیونکہ کرکٹ کی گراؤنڈ اس دروازے کے سامنے تھی۔

بارش رکی ہوئی تھی۔ آسمان پر بادل جھکے ہوئے تھے مگر نہ بجلی چمک رہی تھی نہ بادل گرج رہے تھے۔ بارش کی وجہ سے گیلی دھند نے سارے قلعے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا مگر زوناش کو سردی کا کوئی احساس نہیں ہو رہا تھا۔ قلعے کا عقبی دروازہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ زوناش دروازے میں سے قلعے کے اندر چلا گیا۔ قلعے کے اندر راہداری تھی جو تاریکی میں چھپی تھی۔ مگر زوناش کو دھندلی دھندلی ہر شے نظر آرہی تھی۔ اسے قلعے کے نیچے جانے والے راستے کا بھی علم تھا۔ چنانچہ زوناش آہستہ آہستہ چلتا اس جگہ آگیا جہاں اندھیری سیڑھیاں نیچے تہہ خانے کو جاتی تھیر زوناش ایک لمحے کے لئے رک گیا، پھر اندھیرے میں ٹوٹی پھوٹی پتھریلی سیڑھیاں اترنے لگا۔

جیسے جیسے وہ سیڑھیاں اتر رہا تھا اس کو گرمی کا احساس ہو رہا تھا۔ جیسے کوئی لہریں اس کے جسم میں داخل ہو رہی ہیں۔ وہ سمجھ گیا کہ حبشی جادوگر نے وہاں اسکا طلسمی جال پھیلا رکھا ہے۔ مگر زوناش پر اس عمل کا بڑا معمولی اثر ہو رہا تھا۔ طلسم کی لہریں بڑی طاقتور تھیں۔ جب وہ آخری سیڑھی پر آیا اور اس نے جادوگر کے خفیہ غار نما تہہ خانے میں قدم رکھا تو اسے یکے بعد دیگرے دو تین ہلکے جھٹکے لگے ۔ مگر زوناش کی غیبی طاقت نے اسے گرنے نہ دیا۔ زوناش نے اپنے آپ کو سنبھال لیا۔

اس کے دماغ نے اسے کہا۔ ” زوناش ! خطرہ تمہارے اردگرد منڈلانے لگا ہے۔ تم نے جو کام کرنا ہے اسے فوراً کرڈالو۔ حبشی جادوگر کو اپنے جادو کے ذریعے پتہ چل گیا ہو گا کہ کوئی اجنبی قلعے کے تہہ خانے میں داخل ہو گیا ہے۔”

زوناش نے تہہ خانے کی غار میں آکر چاروں طرف غور سے دیکھا۔ غار کی دیواروں پر مختلف چڑیلوں اور بھوتوں کی شکلیں بنی ہوئی تھیں۔ اسے وہاں بلی کی کالی مورتیاں کہیں نظر نہ آئیں۔ وہ غار میں آگے چلنے لگا۔ چند قدموں کے فاصلے پر ایک چھوٹی سی کوٹھڑی آگئی جس کی دیواروں پر مختلف جانوروں کے سینگ اور پنجے لٹک رہے تھے۔ زوناش کو اندھیرے میں چڑیلوں کی کالی بلیوں کی مورتیاں بھی نظر آ گئیں۔ یہ چاروں سیاہ بلیاں پتھر کی مورتیوں کی شکل میں ایک دیوار کے ساتھ بنے ہوئے کارنس پر ساتھ ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔ زوناش کو اس آہنی صندوق کی تلاش تھی جس میں حبشی جادوگر نے اپنا پتلا بنا کر بند کیا ہوا تھا۔ اس پتلے میں جادوگر کی جان بند تھی۔ زوناش نے ساری کوٹھڑی میں اسے تلاش کیا مگر وہ صندوق اسے کہیں نہ ملا۔

اس دوران طلسمی لہروں کی حرارت بڑھ گئی تھی اور زوناش کو ہلکے ہلکے جھٹکے بھی لگنا شروع ہو گئے تھے۔ زوناش کا دماغ پوری طرح بیدار ہو چکا تھا اس نے زوناش کو ہوشیار کر دیا کہ کوٹھڑی کے کونے میں جو پتھروں کا ڈھیر پڑا ہے اس کو ہٹا کر دیکھے۔ زوناش جلدی سے پتھروں کے ڈھیر کی طرف بڑھا۔ اس نے پتھروں کو ادھر ادھر ہٹایا تو نیچے سے ایک چھوٹا سا آہنی صندوق نکل آیا۔ زوناش نے صندوق کو غور سے دیکھا۔ اس کے اوپر دو سینگوں والے شیطان کی خیالی تصویر بنی ہوئی تھی۔ زوناش سمجھ گیا کہ یہی وہ صندوق ہے جس کی اسے تلاش تھی۔ صندوق کو تالا لگا ہوا تھا۔ زوناش نے ایک ہی جھٹکے سے تالا توڑ ڈالا۔ جیسے ہی تالا ٹوٹا غار کی فضا میں ایک بھیانک چیخ بلند ہوئی۔ یہ چیخ اس قدر تیز تھی کہ کوٹھڑی کے درو دیوار ہل گئے۔ زوناش نے ڈھکن اٹھا کر ایک ہی جھٹکے میں اسے صندوق سےالگ کر دیا۔ صندوق کے اندر کپڑے کا ایک چھوٹا پتلا رکھا ہوا تھا جسکی آنکھوں میں سرخ پتھر جڑے ہوئے تھے۔ یہ سرخ پتھر کسی چڑیل کی سرخ آنکھوں کی طرح اندھیرے میں چمک رہے تھے۔ زوناش نے پتلے کو باہر نکال لیا۔

پتلے کو صندوق میں سے نکالتے ہی کو ٹھڑی میں زلزلہ سا آگیا، کوٹھڑی کے دروازے والے غار کی جانب سے ایسی بھیانک اور ڈراؤنی آوازیں بلند ہوئیں جیسے وہاں انسانوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہو۔

یہ آوازیں بڑی تیزی سے کو ٹھڑی میں داخل ہو گئیں اور ایک سیاہ ہاتھ جس نے تلوار پکڑ رکھی تھی زوناش کی طرف بڑھا۔ سیاہ ہاتھ زوناش پر تلوار کا بھر پور وار کرنے ہی والا تھا کہ زوناش نے پتلے کی گردن مروڑ کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ جیسے ہی پتلے کا سر تن سے جدا ہوا فضا میں ایک بھیانک چیخ بلند ہوئی اور باقی ساری ڈراؤنی آوازوں کے ساتھ آہستہ آہستہ بین کرنے کے انداز میں دور سے دور ہوتی چلی گئی اور آخر کار فضا میں گم ہو گئی۔ کوٹھڑی میں دہشت ناک سناٹا چھا گیا زوناش سمجھ گیا کہ اس نے حبشی جادوگر کا کام تمام کر دیا ہے۔ اب اسے چاروں چڑیلوں کو ٹھکانے لگانا تھا۔ جو سیاہ بلیوں کے مجسموں کی شکل میں کارنس پر رکھی ہوئی تھیں۔

حبشی جادوگر کی موت سے ان بلیوں میں کسی قسم کی کوئی حرکت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ زوناش نے جادو گر کے پتلے کو پرزے پرزے کر دیا۔ تا کہ جادوگر کے پھر سے زندہ ہو جانے کا امکان ہی پیدا نہ ہو سکے۔ اس سے فارغ ہو کر زوناش چڑیلوں کی مورتیوں کی طرف آگیا۔

چاروں مورتیاں کارنس پر ساتھ ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔ کوٹھڑی کی فضا میں جو طلسمی گرم لہریں تھیں اب وہ بھی غائب ہو چکی تھیں۔ اور زوناش کو جھٹکے بھی نہیں لگ رہے تھے۔ زوناش نے ایک بلی کی مورتی کو ہاتھ میں پکڑا تو اسے اپنے جسم میں بجلی کا کرنٹ سرائیت کرتا محسوس ہوا، اس کی جگہ کوئی عام انسان ہو تا تو اسے زبر دست جھٹکا لگتا اور وہ شاید ہلاک بھی ہو جاتا لیکن زوناش کی غیبی طاقت نے اسے کچھ نہیں ہونے دیا تھا۔

زوناش نے کالی بلی کی مورتی کو زور سے فرش پر پٹخ دیا۔ فرش سے بلی کی مورتی کے ٹکراتے ہی کسی عورت کی فلک شگاف چیخ بلند ہوئی۔ کوٹھڑی کے درو دیوار لرز گئے۔ زوناش اپنی جگہ پر کھڑا رہا۔ یہ اس چڑیل کی آخری چیخ تھی جس کا مورتی کے چکنا چور ہوتے ہی خاتمہ ہو گیا تھا۔ زوناش نے دوسری چڑیل کی مورتی کو پکڑ کر اسے بھی فرش پر پٹخ دیا۔ دوسری چڑیل کی بھی غیبی چیخ بلند ہوئی اور پھر سناٹا چھا گیا۔ دوسری چڑیل بھی جہنم میں پہنچ گئی تھی۔ اس طرح زوناش نے باری باری چاروں چڑیلوں کی مورتیاں چکنا چور کر کے چاروں کی چاروں چڑیلوں کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔ جادوگر اور اس کی چڑیلوں کی موت کے بعد کوٹھڑی میں امن اور سکون کی فضا چھا گئی۔ زوناش کوٹھڑی سے نکل کر راہ داری میں چلتا عقبی دروازے سے قلعے کے باہر آگیا۔ اس وقت سیاہ بادلوں میں صبح کی ہلکی ہلکی نیلی روشنی نمودار ہونا شروع ہو گئی تھی ۔ زوناش کو واپس جھیل کنارے والے پرانے کھنڈر میں جاکر ایلز تھ کی روح کو یہ خوشخبری سنانی تھی کہ اس نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ وہ جس راستے سے قلعے میں آیا تھا اسی راستے سے ہوتا ہوا دو اڑھائی گھنٹے کے بعد جھیل کنارے والے پرانے تاریخی کھنڈر میں پہنچ گیا۔ کھنڈر کی دوسری منزل میں آکر اس نے دیکھا کہ فرش پر ایلز بتھ کا تابوت غائب تھا۔ وہ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ ایلزبتھ کی روح کی آواز آئی “والڈ روف! میرے پیارے بھائی! تم نے وہ کام کر دکھایا ہے جو سوائے تمہارے دوسرا کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ میری روح کو ایک بار پھر سکون نصیب ہو گیا ہے اور میں اپنے تابوت کے ساتھ اپنی آخری آرام گاہ میں واپس جا چکی ہوں۔

مجھے قبرستان کی حدود سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے لیکن میں خاص طور پر اجازت لے کر یہاں آئی ہوں، کیونکہ مجھے تمہارا شکریہ ادا کرنا تھا۔ اور مجھے معلوم تھا کہ تمہیں میری قبر کا علم نہیں ورنہ میں وہیں تمہارا انتظار کرتی۔ اب میں جارہی ہوں اور جاتے جاتے اتنا کہوں گی کہ تم اپنی حفاظت کرنا۔ ایک دشمن تمہیں ہلاک کرنے کے لئے تمہارا تعاقب کر رہا ہے۔ مجھے اس کا نام بتانے کی اجازت نہیں ہے، لیکن تمہیں خبردار کرنا میرا فرض ہے۔ خدا حافظ!”

ایلزبتھ کی روح جا چکی تھی۔ زوناش کھنڈر کے ویران دالان میں بالکل ساکت کھڑا تھا۔ اس کے دماغ میں ایلزبتھ کی روح کی باتیں گونج رہی تھیں۔ زوناش کے دماغ نے اسے بتا دیا کہ جو شخص اس کو ہلاک کرنے کے لئے اس کے پیچھے لگا ہے وہ ڈاکٹر پرویز ہے جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ زوناش خود اپنے اس دشمن کو ہلاک کرنے کی فکر میں تھا۔ لیکن زوناش کے دماغ کو اس حقیقت کا بھی احساس تھا کہ اگر چہ اسے دنیا کا کوئی انسان دیکھ نہیں سکتا لیکن ڈاکٹر پرویز اسے دیکھ سکتا ہے۔ کیونکہ اس کے پاس اسے دیکھنے والی خاص عینک ہے۔ زوناش کو یہ بھی علم تھا کہ وہ ڈاکٹر پرویز کے کنٹرول سے آزاد ہو چکا ہے مگر اس کی عینک کی زد میں ہے۔ عینک کی مدد سے وہ جہاں کہیں بھی ہو گا جہاں کہیں سے بھی گزرے گا یا چھپے گا ڈاکٹر پرویز اسے دیکھ لے گا۔

زوناش کے دماغ میں خیال آیا کہ جس طرح سے اس نے ڈاکٹر پرویز کی الماری سے اس کا پہلا ریموٹ کنٹرول نکال کر اسے تباہ کر دیا تھا اسی طرح اسے چاہیے کہ کسی طریقے سے ڈاکٹر پرویز کے قصبے والے مکان میں داخل ہو کر اسے غیبی حالت میں دیکھنے والی عینک بھی اٹھا کر لے آئے اور اسے ریزہ ریزہ کردے۔ صرف اسی صورت میں وہ ڈاکٹر پرویز کی قاتلانہ نگاہوں سے چھپ سکتا تھا۔ لیکن ڈاکٹر پرویز کے مکان تک جانا اپنے آپ کو اس کے جال میں پھنسانے کے برابر تھا۔ زوناش کی اگر اس نے ایک جھلک بھی دیکھ لی تو وہ پستول کا فائر کر کے زوناش کی کھوپڑی اڑا دے گا اگر اس کا دماغ ہی ختم ہو گیا تو وہ اپنے آپ مر جائے گا اور زوناش اپنے دشمن کو ہلاک کئے بغیر مرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کے دماغ میں والڈروف قاتل اپنی تمام خونخواری کے ساتھ ہے ںیدار ہو چکا تھا۔ یہ سارا عذاب جو زوناش پر نازل ہوا تھا ڈاکٹر پرویز کی لالچ ،خود غرضی اور اس کی مجرمانہ ذہنیت کی وجہ سے نازل ہوا تھا۔ نہ وہ اس کے دماغ کو لندن کے عجائب گھر سے اٹھا کر لاتا نہ اس کو زوناش کی کھوپڑی میں ڈالتا اور نہ زوناش اس عذاب میں مبتلا ہوتا۔ اس اعتبار سے ڈاکٹر پرویز زوناش یعنی والڈروف کا دشمن نمبر ایک تھا۔ اور ہر حالت میں ڈاکٹر پرویز کو اس کے اس فعل کی عبرت ناک سزا دینا چاہتا تھا جس طرح انگلستان کے قانون نے والڈروف کو عبرت ناک سزا دی تھی اور اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ لیکن ایلزبتھ کی روح کے انتباہ کے بعد زوناش کو اپنی جان کی بھی فکر پڑ گئی تھی۔ اب اسے ایک ایک قدم بڑی احتیاط کے ساتھ اٹھانے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ سارا دن زوناش نے وہیں جھیل کنارے کھنڈر کے ایک غار میں بیٹھ کر گزار دیا۔ جب دن گزر گیا اور شام کا اندھیرا پڑ گیا اور لندن شہر ایک بار پھر سرد کہرے میں ڈوب گیا تو زوناش اپنی کمین گاہ سے نکلا اور رات کے اندھیرے میں ڈاکٹر پرویز کے مکان کی طرف روانہ ہو گیا۔ رات کے وقت پیدل سفر کرنے میں زوناش کے دماغ نے اسے خطرے کا سگنل دے دیا۔ زوناش بجائے سیدھا چلنے کے الٹے رخ چلتے ہوئے وہاں سے ایک چھوٹے سے مضافاتی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے نکل آیا۔ زوناش کو علم تھا کہ اس اسٹیشن سے رات کے وقت مال گاڑی چلتی ہیں۔ جس وقت زوناش ریلوے اسٹیشن کے عقب میں ایک مال گودام کے گیٹ پر آیا تو پلیٹ فارم پر ایک مال گاڑی کھڑی تھی۔ وہ مال گودام کی دوسری طرف سے آکر مال گاڑی کے ایک ڈبے میں چڑھ گیا۔ جس میں ایک موٹر کار لدی ہوئی تھی۔ موٹر کار کو رسیوں کی مدد سے باندھ دیا گیا تھا۔ زوناش اس کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا۔ یہ مال گاڑی اس قصباتی اسٹیشن سے ہی مال اٹھاتی تھیں، جہاں ڈاکٹر پرویز کے انکل کا ریسٹ ہاؤس تھا اور جہاں ڈاکٹر پرویز مقیم تھا۔ زوناش کی لاش کے سوار ہونے کے تھوڑی دیر بعد مال گاڑی چل پڑی اور آدھے گھنٹے کے بعد ڈاکٹر پرویز کے مکان والے قصباتی ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر رک گئی۔

زوناش خاموشی سے مال گاڑی سے اترا اور اپنے دشمن ڈاکٹر پرویز کے مکان کی طرف چل پڑا۔ مین روڈ کی بجائے وہ کھیتوں میں سے ہوتا ہوا ڈاکٹر پرویز کے مکان پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مکان میں اندھیرا تھا اور مکان کے گیٹ پر تالا پڑا ہوا تھا۔ زوناش کی لاش کو تالا توڑنے یا دروازہ کھولنے کی حاجت نہیں تھی۔ وہ اس میں سے گزر کر مکان میں داخل ہو گیا۔ مکان سنسان پڑا تھا۔

زوناش سیدھا اس کمرے میں گیا جہاں لکڑی کی بڑی الماری تھی، الماری آدھی کھلی تھی۔ زوناش نے ساری الماری کی تلاشی لی اسے وہ عینک کہیں نہ ملی جس کو آنکھوں پر لگا کر ڈاکٹر پرویز غیبی زوناش کو دیکھ سکتا تھا۔ اس نے سارے مکان کو کھنگال ڈالا۔ ایک ایک شے کی تلاشی لی لیکن اسے عینک کہیں دکھائی نہ دی۔ زوناش سمجھ گیا کہ ڈاکٹر جہاں بھی گیا ہے، عینک اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ زوناش اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر اس کو ڈاکٹر پرویز سے جان کا خطرہ ہے تو ڈاکٹر پرویز بھی اس سے جان بچاتا پھرتا ہے۔ کیونکہ کلب کے بوڑھے مالک کے بنگلے کے باہر زوناش اس پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کر چکا تھا اور ڈاکٹر پرویز گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہو گیا تھا

ساری رات زوناش مکان کے باہر ایک طرف چھپ کر اس انتظار میں بیٹھا رہا که شاید اس کا دشمن ڈاکٹر پرویز مکان پر آجائے۔ صبح ہو گئی مگر ڈاکٹر پرویز نہ آیا۔ زوناش مایوس ہو کر وہاں سے اٹھا اور لندن شہر کی طرف جانے والی سڑک کے کنارے کنارے چل پڑا۔ چونکہ اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا اس لئے وہ بے خطر ہو کر ایک طرف چلا جا رہا تھا۔ خطرہ صرف ڈاکٹر پرویز سے تھا۔ کیونکہ صرف وہی اسے عینک کی مدد سے دیکھ سکتا تھا۔

لندن کا ارد گرد کا علاقہ بھی دھند اور کہر کی زد میں تھا۔ دن کی روشنی ضرور تھی مگر سورج غائب تھا اور شدید سردی پڑ رہی تھی۔ لندن شہر تک پہنچتے پہنچتے ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی میں بہت محتاط ہو کر چل رہا تھا اسے خطروں تھا کہ سڑک پر جو گاڑیاں گزر رہی ہیں اگر کسی گاڑی میں ڈاکٹر پرویز موجود ہوا تو وہ اسے ضرور دیکھ لے گا اور پھر اسے زندہ نہیں چھوڑے گا۔ زوناش ساری دنیا والوں کی نگاہوں سے بچ سکتا تھا مگر اپنے دشمن ڈاکٹر پرویز کی نگاہوں سے نہیں چھپ سکتا تھا اوپر سے یہ مصیبت بھی تھی کہ سڑک پر ہر جگہ بجلی کے بلب روشن تھے اور اس روشنی میں قریب سے گزرتی ہوئی گاڑی میں بیٹھا اس کا دشمن اسے آسانی سے دیکھ کر اس پر فائرنگ کر سکتا تھا۔

زوناش نے یہی سوچا کہ وہ بارونق اور ٹریفک والی سڑکوں سے دور رہ کر چلے تو بہتر ہے۔ لیکن زوناش کو بھی ڈاکٹر پرویز کی تلاش تھی۔ وہ بھی ڈاکٹر پرویز کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ جہاں سے گاڑیاں بار بار گزرتی ہیں اس سڑک پر رہے اور اگر کسی گاڑی میں اس کا دشمن سوار ہو تو اس پر حملہ کردے۔ لیکن زوناش نہتا تھا اور ڈاکٹر پرویز کے پاس زوناش جانتا تھا کہ کچھ نہیں تو آٹومیٹک پستول ضرور ہو گا۔ زوناش بہرحال سڑک سے ہٹ کر چلنے لگا۔ وہ لندن شہر پہنچ چکا تھا۔ لندن کی مشہور و معروف سرخ رنگ کی دو منزلہ بس اس کے قریب سے ہو کر گزر گئی۔ زوناش کو ایسے لگا جیسے ڈرائیور نے دو منزلہ بس کو اس کے اوپر چڑھانے کی کوشش کی ہو۔ اگر بس کے ڈرائیور نے ایسا کیا تھا تو وہ ہی سچا تھا کیونکہ اسے زوناش تو نظر آہی نہیں رہا تھا۔ یہ سوچ کر روناش کے دماغ میں سنسنی سی دوڑ گئی کہ اگر ڈرائیور بس کو اس کے اوپر سے گزار دیتا تو پھر کیا ہو تا۔۔۔۔۔۔۔۔!

زوناش فٹ پاتھ پر آگیا ہلکی بوندا باندی میں فٹ پاتھ کے پتھر گیلے ہو رہے تھے اور لوگ برساتیوں میں ملبوس کالر اوپر اٹھائے تیز تیز قدموں سے آجا رہے تھے۔ وہ سردی سے ٹھٹھر رہے تھے اور پتلونوں اور اوور کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے جھک کر چل رہے تھے۔

زوناش فٹ پاتھ پر چلتے چلتے ایک عالی شان ہوٹل کے قریب آیا تو ایک سیاہ رنگ کی گاڑی ہوٹل کی لابی کے آگے آکر رکی۔ زوناش چلتے چلتے ایکدم رک گیا اور جلدی سے ایک طرف ہوگیا اس نے ڈاکٹر پرویز کی گاڑی کو پہچان لیا تھا۔ یہ ڈاکٹر پرویز ہی کی گاڑی تھی اس نے دیکھا کہ ڈاکٹر پرویز گاڑی میں سے نکلا تو ہوٹل کے ملازم نے اس سے چابی لی اور گاڑی کو پارکنگ کی طرف لے گیا۔ ڈاکٹر پرویز لابی میں سے گزر کر اس طرف گیا جہاں لفٹیں اوپر کو جاتی تھیں۔ ڈاکٹر پرویز نے وہ عینک آنکھوں پر لگا رکھی تھی جس میں سے وہ زوناش کی لاش کو دیکھ سکتا تھا زوناش بھی اس کے پیچھے پیچھے مگر ایک طرف ہو کر ہوٹل کی لابی میں داخل ہو گیا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ ڈاکٹر پرویز نے اس ہوٹل کے کسی کمرے میں رہائش اختیار کر رکھی ہے، وگر نہ ہوٹل کا ملازم خود اس کی گاڑی چلا کر نیچے پارکنگ کرنے نہ لے جاتا۔ چونکہ ڈاکٹر پرویز نے مخصوص عینک لگائی ہوئی تھی اس لئے زوناش نه تو اس کے سامنے جا سکتا تھا اور نہ ہی اس کے قریب ہو سکتا تھا۔ زوناش کو اس بات کا یقین تھا کہ ڈاکٹر نہتا نہیں ہے۔ اس نے اپنے پاس بھرا ہوا پستول ضرور رکھا ہو گا۔ لابی میں بڑی روشنی تھی۔ اگر زوناش اس کی طرف جاتا تو ڈاکٹر پرویز اسے آسانی سے دیکھ سکتا تھا اور جیب سے پستول نکال کر اس پر فائرنگ کر سکتا تھا۔ اگر اس کے پاس پستول نہیں بھی تھا تب بھی وہ جان بچانے کے لئے وہاں سے بھاگ سکتا تھا۔

چنانچه زوناش مجبور ہو گیا کہ وہ ڈاکٹر سے کافی فاصلے پر رہ کر اس کی نگرانی کرتا رہے۔ اس نے لفٹ کے لئے بٹن دبا دیا تھا۔ اوپر سے ایک لفٹ آکر رکی۔ اس کا دروازہ کھلا۔ ایک مرد اور ایک عورت اندر سے نکلے۔ ڈاکٹر پرویز لفٹ میں داخل ہو گیا۔ اس نے کسی منزل کا بٹن دبایا۔ دروازہ بند ہو گیا اور لفٹ کے باہر اوپر لگے ہوئے ہند سے روشنی سے چمکنے لگے۔ زوناش اس شہر کا رہنے والا تھا۔ وہ ان تمام ہوٹلوں کے کلچر سے واقف تھا۔ وہ جلدی سے اوٹ میں سے نکل کر لفٹ کے دروازے کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا اور اوپر لکھے ہوئے نمبروں کو جلتے بجھتے دیکھنے لگا۔ لفٹ ساتویں منزل پر جاکر رک گئی، دروازے کے اوپر سات کا ہندسہ ابھی تک روشن تھا۔ اس کے بعد سات کا ہندسہ بجھ گیا اور پانچ کا ہندسہ روشن ہو گیا۔ پھر چار کا ہندسہ روشن ہو گیا۔ لفٹ نیچے آرہی تھی۔ زوناش جلدی سے ایک طرف چھپ گیا۔ تھوڑی دیر میں لفٹ کا دروازہ کھلا۔ اندر سے کچھ لوگ باہر نکلے، ان میں ڈاکٹر پرویز نہیں تھا۔ زوناش کا دماغ سمجھ گیا کہ ڈاکٹر پرویز ہوٹل کی ساتویں منزل کے کسی کمرے میں رہتا ہے۔ لیکن جب تک اسے یہ معلوم نہیں ہو جاتا کہ ڈاکٹر پرویز کس کمرے میں رہائش پذیر ہے، وہ اوپر جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ اس کا علم کاؤنٹر پر رکھے رجسٹر ہی سے لگ سکتا تھا۔ زوناش چونکہ غائب تھا اس لئے وہ آسانی سے رجسٹر کھول کر دیکھ سکتا تھا۔ وہ کاؤنٹر پر آگیا رجسٹر کی بجائے سامنے شیلف پر چھوٹے چھوٹے خانوں میں پیتل کے حروف سے ہر منزل کے کمروں کے نمبر اور وہاں کے رہنے والوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ ساتویں منزل کے A-5 والے خانے میں ڈاکٹر پرویز کا نام لکھا ہوا تھا۔ زوناش کے حلق سے ہلکی سی ڈراؤنی آواز نکلی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ ڈاکٹر پرویز کی موت کا وقت آن پہنچا ہے۔

زوناش کاؤنٹر سے الگ ہو کر لفٹ میں آکر سوار ہو گیا اور اس نے ساتویں منزل کا بٹن دبا دیا۔ لفٹ ساتویں منزل پر پہنچ کر کھڑی ہو گئی۔ زوناش لفٹ سے باہر آ گیا۔ آمنے سامنے کمرے بنے ہوئے تھے۔ درمیان میں تنگ سی راہ داری تھی۔ کمروں کے دروازے بند تھے۔ زوناش کمروں کے نمبر دیکھتا ایک طرف کو آگے بڑھا۔ ایک جگہ روم نمبر A-1 لکھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے A-2 تھا۔ زوناش روم نمبر 5 کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔ کمرے کے باہر جو چٹ لگی ہوئی تھی اس پر ڈاکٹر پرویز کی بجائے صرف DP لکھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے زوناش سے بچنے کے لئے یہ ایک احتیاطی تدابیر اختیار کی تھی۔ لیکن اگر وہ اپنے کمرے کے اندر ہی تھا تو اسے موت سے اب کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔ زوناش نے بند دروازے کے ساتھ کان لگا دیا، کمرے کے اندر سے ٹیلی ویژن کے کسی پروگرام کی دھیمی دھیمی آواز آرہی تھی۔ زوناش بڑی آسانی سے گردن, بند دروازے میں ڈال کر اندر دیکھ سکتا تھا، مگر احتیاطاً اس نے ایسا نہیں کیا تھا۔ کیونکہ ایسا کرنے سے اس بات کا خدشہ تھا کہ اگر ڈاکٹر پرویز اندر ہوا اور اس نے زوناش کے چہرے کو بند دروازے میں سے نمودار ہوتے دیکھ لیا تو وہ اس پر ضرور گولی چلا دے گا۔ اتنے میں ہوٹل کا ملازم لڑکا ہاتھ میں ٹرے لئے وہاں آگیا۔

ٹڑے میں چائے کا سامان رکھا ہوا تھا۔ اس نے کال بیل کا بٹن دبایا اور اندر سے ایک مردانہ آواز آئی۔ “کون ہے؟”

یہ ڈاکٹر پرویز ہی کی آواز تھی۔ ملازم لڑکے نے کہا۔ کافی سرا”

اندر سے ڈاکٹر پرویز نے انگریزی ہی میں کہا۔ ایک سیکنڈ ٹھہرو۔”

اب ڈاکٹر پرویز نے دروازے کے پاس آکر دروازے کا قفل کھولنا تھا۔ روناش جلدی سے دیوار کے ساتھ لگ گیا۔ کیونکہ اگر ڈاکٹر نے عینک لگائی ہو گی تو وہ اسے دیکھ سکتا تھا۔ دوسرے سیکنڈ دروازہ کھل گیا۔ راہداری کی دھندلی روشنی میں زوناش نے دیکھا کہ ڈاکٹر پرویز نے عینک نہیں لگائی ہوئی تھی۔ یہ دیکھتے ہی زوناش جلدی سے دروازے کے سامنے آگیا اور ہوٹل کے ملازم لڑکے کے ساتھ ہی ڈاکٹر پرویز کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ ڈاکٹر پرویز اس وقت تک پلنگ پر جا کر ٹیک لگا کر نیم دراز ہو گیا تھا۔ اس نے لڑکے سے کہا۔

“ٹھیک ہے۔ تھینک یو۔”

زوناش نے اتنی دیر میں بڑی بے چینی سے کمرے کا جائزہ لے لیا تھا۔ اسے ڈاکٹر کی عینک اس کی ٹیبل پر نظر نہیں آرہی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے اٹھ کر دروازے کو اندر سے تالا لگایا اور پلنگ پر بیٹھ کر چائے بنانے لگا۔ زوناش کو اگرچہ یقین تھا کہ ڈاکٹر پرویز اسے نہیں دیکھ سکتا۔ اس کے باوجود وہ بے حد محتاط اور کمرے میں دبے پاؤں چل کر عینک کو تلاش کر رہا تھا۔ وہ الماری کے اندر دیکھنا چاہتا تھا۔ الماری کے اندر ڈاکٹر پرویز کے کپڑے لٹکے ہوئے تھے۔ زوناش کی لاش نے ایک نظر ڈاکٹر پرویز کو دیکھا۔ وہ پلنگ پر نیم دراز بڑے مزے سے ٹیلی ویژن کا کوئی پروگرام دیکھ رہا تھا۔ زوناش کی لاش کو الماری کھولنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ بند

الماری کے اندر منہ ڈال کر سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ زوناش جیسے ہی میز سے ہٹ کر الماری کی طرف بڑھا اس کا ہاتھ میز پر رکھے ہوئے گلاس سے ٹکرا گیا اور گلاس نیچے گر پڑا۔ ڈاکٹر پرویز نے چونک کر گلاس کی طرف دیکھا۔ چشم زدن میں وہ سمجھ گیا کہ کوئی غیبی وجود کمرے میں موجود ہے اور یہ غیبی وجود زوناش کی لاش کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے چائے کی پیالی ایک طرف پھینک دی اور چشم زدن میں سرہانے کے نیچے ہاتھ ڈالا کہ سرہانے کے نیچے رکھی ہوئی مشین گن نکال کر کمرے میں گولیوں کی بوچھاڑیں فائر کر دے۔ کیونکہ اسے زوناش کی لاش نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس نے عینک نہیں لگائی ہوئی تھی اور عینک اس کے کوٹ کی جیب میں تھی اور کوٹ الماری میں ٹنگا ہوا تھا مگر زوناش ڈاکٹر پرویز کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے اسے اتنی مہلت ہی نہ دی کہ وہ سرہانے کے نیچے سے اسلحہ نکال سکتا۔ ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں زوناش ڈاکٹر پرویز کے سر پر پہنچ چکا تھا اور دوسرے لمحے ڈاکٹر پرویز کی گردن زوناش کے دونوں ہاتھوں کی آپنی گرفت میں تھی اور وہ نیم مردہ چوہے کی طرح زوناش کے ہاتھوں کی گرفت میں لٹک رہا تھا۔ زوناش نے زور سے ڈاکٹر پرویز کو ایک جھٹکا دیا۔ زوناش کو ڈاکٹر پرویز کی گردن کے مہروں کے ٹوٹنے کی آواز سنائی دی اور ڈاکٹر پرویز کے دونوں بازو اور ٹانگیں بے جان ہو کر کٹی ہوئی شاخوں کی طرح لٹکنے لگیں۔ زوناش نے ڈاکٹر پرویز کی بے جان لاش کو بستر پر ڈال دیا اور اسے اپنی نیم وا نیم مردہ آنکھوں سے غور سے تکنے لگا۔ ڈاکٹر پرویز کی گردن تین جگہوں سے ٹوٹ چکی تھی۔ وہ مر گیا تھا۔ زوناش کے حلق سے عجیب سی خرخراہٹ کی آواز نکلی۔ اور وہ الماری کی طرف بڑھا۔ بند الماری میں منہ ڈالنے کی بجائے اس نے الماری کو ایک ہی جھٹکے سے کھول دیا۔ اندر ڈاکٹر پرویز کا گرم سوٹ اوور کوٹ لٹک رہا تھا۔ زوناش اس کے کپڑوں کی تلاشی لینے لگا۔ کوٹ کی اندرونی جیب سے اسے وہ منحوس عینک مل گئی جس کی مدد سے وہ زوناش کو غیبی حالت میں بھی دیکھ لیا کرتا تھا۔ زوناش نے عینک اپنے لمبے کرتے کے جیب میں ڈال لی۔ پھر وہ ڈاکٹر پرویز کی لاش کو اٹھا کر باتھ روم میں لے گیا۔ ہاتھ روم میں اس نے لاش کو نہانے والے ٹب میں لٹا دیا۔ خود ٹب کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ سب سے پہلے زوناش نے ڈاکٹر پرویز کی لاش کی گردن مروڑ کر اس کا سر دھڑ سے جدا کیا۔ اس کے بعد باری باری اسکے دونوں بازو جسم سے الگ کر دیئے۔ ان اعضا کو جسم سے الگ کرنے کے لئے زوناش کے ہاتھ کا ایک جھٹکا ہی کافی تھا۔ زوناش کو کسی چھرے کی ضرورت نہیں تھی۔ ڈاکٹر پرویز کی گردن اور دونوں بازو جسم سے الگ کرنے کے بعد زوناش نے اسکی دونوں ٹانگیں بھی اس کے جسم سے الگ کر دیں۔ اس کے دونوں ہاتھ ڈاکٹر پرویز کے خون سے بھر گئے جو ابھی گرم ہی تھا اور اس کے مردہ جسم میں جما نہیں تھا۔ نہانے والے ٹب میں بھی خون پھیل گیا تھا۔ زوناش ٹکٹکی باندھے ٹب میں پڑی ہوئی خون آلود لاش کے ٹکڑے دیکھ رہا تھا۔ یہ اس شخص کی لاش کے ٹکڑے تھے جس نے زرو مال کے لالچ میں گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ اس نے نہ جانے کتنی قبریں کھود کر ان کی میتوں کے اعضا کاٹ کر ان کی بے حرمتی کی تھی اور ان کے مردہ اعضا کاٹ کر زوناش کی لاش تیار کی تھی۔ زوناش کی آنکھوں میں اکٹر پرویز کے ساتھی ڈاکٹر دارا کی شکل پھرنے لگی۔ وہ بھی ان گھناؤنے جرائم میں پرویز کے ساتھ تھا۔ یہ ننگ انسانیت لوگ تھے۔ یہ وہ بدکردار لوگ تھے جنہوں نے ڈاکٹری جیسے مقدس پیشے کو بدنام کیا تھا۔ انہوں نے اس حالت میں انسانوں کے کا جسموں کے ٹکڑے کئے تھے جب وہ دنیا کے غم و آلام سمیٹنے کے بعد اپنی آرام گاہوں میں سکون کی نیند سو رہے تھے۔ یہ قاتلوں سے بھی بد تر قاتل تھے۔ انہوں نے مرے ہوؤں کو مارا تھا۔ اس نے بد کردار قاتل کو ختم کر دیا تھا لیکن اس کا ساتھی زندہ تھا۔ ابھی ڈاکٹر دارا زندہ تھا۔ زوناش اسے بھی اس کے انجام تک پہنچانا چاہتا تھا تا کہ اس کے بعد کوئی شخص اس قسم کے گھناؤنے جرم کا ارتکاب نہ کر سکے۔ ان لوگوں نے نسانیت اور ڈاکٹری کے مقدس پیشے کی پیشانی پر کلنک تو لگایا ہی تھا لیکن یہ لوگ زوناش کی ذہنی اذیتوں اور ذہنی عذابوں کا باعث بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی خود غرضیوں کی خاطر زوناش کو عالم عدم کے پر سکون عالم سے کھینچ کر جہنم کے آتش فشاں میں پھینک دیا تھا۔

ڈاکٹر دارا کی پوری شکل اس وقت زوناش کی آنکھوں کے سامنے تھی۔ اس کے دماغ کو سب کچھ یاد آگیا کہ کس طرح ان شیطان صفت انسانوں نے اپنے شہر سے باہر ایک ویران قلعے میں خفیہ لیباٹری قائم کر رکھی تھی جہاں یہ دونوں ڈاکٹر قبرستان کے گورکن کی مدد سے اپنے پسند کے مردے قبروں سے کھدوا کر منگواتے اور پھر ان کی چیر پھاڑ کرتے اور اپنی پسند کا کوئی عضو کاٹ کر الگ رکھ لیتے اور باقی کا مردہ ضائع کر دیتے تھے۔ اس طرح کئی مردوں کے جسم کاٹ کاٹ کر ان لوگوں نے ایک لاش تیار کی جو اس وقت زوناش کی لاش کی حیثیت سے لندن کے ایک فائیو سٹار ہوٹل کے کمرے کے غسل خانے میں کھڑی ٹب میں پڑی ہوئی پرویز کیلاش کے خون آلود ٹکڑوں کو دیکھ رہی تھی۔

زوناش کسی حالت میں بھی ڈاکٹر دارا کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا جو ڈاکٹری کے مقدس پیشے پر کلنک کا داغ لگانے کی مذموم کوشش کر رہا تھا۔ زوناش کو یقین تھا کہ یہ ڈاکٹر کسی دوسرے ڈاکٹر سے مل کر ایک اور لاش تیار کرنے کی کوشش کرے گا۔ چنانچہ اس کا قتل بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے ضروری ہو گیا تھا۔ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔

زوناش اپنے خیالات سے چونک گیا۔ گھنٹی دوسری بار بجی۔ زوناش آہستہ آہستہ چلتا باتھ روم سے نکل کر کمرے کے دروازے تک آیا۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھول دیا۔ باہر ہوٹل کا ملازم لڑکا کھڑا تھا۔ شاید وہ خالی برتن لینے آیا تھا۔ لڑکے نے کھلے دروازے میں سے جھانک کر دیکھا۔ وہ بڑا حیران ہوا کہ دروازہ کس نے کھولا تھا کیونکہ اسے وہاں کوئی انسان نظر نہ آیا تھا۔ زوناش کو وہ دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ لڑکا حیران ہوکر کمرے میں داخل ہو گیا۔ زوناش بڑے آرام سے باہر نکل گیا۔ راہداری دھندلی روشنی میں خالی پڑی تھی۔ آمنے سامنے کمروں کے دروازے بند تھے زوناش راہداری میں سے گزر کر لفٹ کے پاس آکر رک گیا۔ اس نے ایک بٹن دبایا۔ اتنے میں ہوٹل کا ملازم لڑکا جو ڈاکٹر پرویز کے کمرے میں داخل ہوا تھا گھبرایا ہوا راہداری سے باہر نکلا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اسنے کمرہ نمبر 5 میں ڈاکٹر پرویز کی کٹی ہوئی خون آلود لاش دیکھ لی تھی۔ وہ اسی طرح گھبرایا ہوا سیڑھیاں اتر کر نیچے کو بھاگ گیا۔ زوناش لفٹ کے ذریعے گراؤنڈ فلور پر آیا اور لابی میں سے ہوتا ہوا ہوٹل سے باہر چلا گیا۔ لندن شہر زوناش کے لئے کوئی اجنبی شہر نہیں تھا۔ اس شہر میں کچھ برس پہلے اس نے والڈروف کی حیثیت سے بہت وقت گزارا تھا۔ یہ اس کا وطن تھا۔ اگرچہ اب لندن شہر بہت ترقی کر گیا تھا اور نئی نئی بلند و بالا ہائی رائیز بلڈنگیں تعمیر ہو گئیں تھیں لیکن زوناش اس شہر کے سب علاقوں سے واقف تھا۔

ہوٹل سے نکل کر وہ فٹ پاتھ پر ایک طرف چلنے لگا۔ وہ بڑے سکون کے ساتھ آہستہ آہستہ چل رہا تھا جس طرح روبوٹ چلتا ہے۔ لیکن اس کا ذہن پر سکون تھا۔ اس کے ذہن میں اپنے دشمنوں سے انتقام کا جذبہ آتش فشاں لاوے کی طرح کھول رہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے بار بار ڈاکٹر پرویز کے ساتھی ڈاکٹر دارا کی شکل آجاتی تھی۔ اس وقت اس کے سامنے سب سے اہم مشن جو تھا وہ انسانیت کے خلاف ڈاکٹری کے مقدس پیشے کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والے ڈاکٹر دارا کو قتل کرنا تھا۔ زوناش کے دماغ کو احساس تھا کہ ڈاکٹر دارا ایک دور دراز ملک یعنی پاکستان میں ہے جہاں تک زوناش نہ پیدل جا سکتا تھا نہ ٹرین کے ذریعے ممکن تھا۔ وہاں وہ صرف ہوائی جہاز کے ذریعے ہی پہنچ سکتا تھا۔ ہوائی جہاز میں سفر کرنے کے لئے ضروری تھا کہ وہ ائیر پورٹ پر پہنچ کر یہ معلوم کرے کہ لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ سے پاکستان کے شہر لاہور کے لئے ہوائی جہاز کب اور کس وقت پرواز کرے گا۔ اس کے بعد زوناش نے طیارے میں سوار ہو جانا تھا اور طیارے نے اسے لاہور پہنچا دینا تھا۔ اس وقت رات کے نو ساڑھے نو بجے کا وقت تھا۔ لندن کا ائیر پورٹ وہاں سے کافی دور تھا۔ اگرچہ زوناش جسم کی تھکان اور بھوک پیاس سے بے نیاز تھا لیکن وہ جلدی ائیر پورٹ پہنچنا چاہتا تھا۔ کیا خبر کہ وہاں پاکستان کی طرف جانے والا کوئی جہاز اسے تیار مل جائے۔ اسے نہ تو کوئی ٹکٹ خریدنی تھی، نہ سیٹ بک کروانی تھی، نہ بورڈنگ کارڈ لینا تھا۔ اسے تو بس سیدھے گیٹ میں سے گزر کر جہاز پر چڑھ جانا تھا۔ وہ چوک میں آکر رک گیا۔ قریب ہی ایک بس سٹاپ تھا۔ اتنا زوناش کو معلوم تھا کہ وہاں سے ہوائی اڈہ کس طرف ہے۔ وہ بس سٹاپ پر آگیا۔ اتنے میں ایک دو منزلہ بس آکر رک گئی۔ اس پر ائیر پورٹ لکھا ہوا زوناش نے پڑھ لیا تھا۔ وہ بس میں سوار ہو گیا۔ جس نے اسے آدھ گھنٹے میں ائیرپورٹ پر پہنچا دیا۔

ائیر پورٹ کی بلڈنگ میں داخل ہونے کے بعد وہ سیدھا بیرون ملک روانگی والے سیکشن میں آگیا۔ یہاں کمپیوٹرائزڈ سکرین جگہ جگہ لگی تھیں جہاں ملکوں کے نام اور ان کی طرف جانے والی فلائیٹوں کے نمبر لکھے ہوئے بار بار آ رہے تھے۔ زوناش ایک بورڈ کے پاس آکر غور سے شہروں کے نام پڑھنے لگا۔ بہت جلد اسے معلوم ہو گیا کہ ملک پاکستان کے شہر لاہور کو بی او اے سی کی ایک فلائیٹ تین گھنٹے بعد روانہ ہو گی۔

زوناش سیدھا ڈیپار چر لاؤنج میں آکر بیٹھ گیا۔لاؤنج اس وقت تقریباً خالی تھا۔ ڈاکٹر پرویز کی عینک جس کو لگا کر زوناش کی لاش کو دیکھا جا سکتا تھا، زوناش کے لمبے کرتے کی جیب میں موجود تھی۔ مگر زوناش اس سے بے نیاز تھا اور اسے تقریباً بھول چکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد لاؤنج میں کئی مسافر آکر بیٹھ گئے۔ یہ کسی دوسرے ملک جانے والے لوگ تھے۔ ان کی فلائیٹ کی پرواز کا اعلان ہوا تو وہ اٹھ کر جہاز کی طرف چل دیئے۔ اس کے بعد ایک اور فلائیٹ کے مسافر آکر بیٹھ گئے اسی طرح دو رین فلائٹوں کی پرواز کے بعد زوناش کی فلائیٹ کا نمبر آگیا۔ یہ فلائیٹ پاکستان کے شہر لاہور سے ہوتی ہوئی سنگاپور جا رہی تھی۔ زوناش بالکل ایک روبوٹ کی طرح ساکت اور خاموش بیٹھا رہا۔ جب سنگا پور جانے فلائیٹ کا اعلان ہوا کہ سنگا پور جانے والے مسافر جہاز پر سوار ہو جائیں تو زوناش اٹھا اور دوسرے مسافروں کے ساتھ قطار میں سب سے آخر میں کھڑے جہاز میں جا کر سوار ہو گیا۔

جہاز اپنے وقت پر ٹیک آف کر گیا۔

آٹھ نو گھنٹوں کی پرواز کے بعد جہاز نے جب لاہور کے ائیر پورٹ پر لینڈ کیا تو زوناش خاموشی سے جہاز سے اتر کر ائیر پورٹ سے باہر نکل آیا۔ اس شہر سے زوناش اچھی طرح واقف ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا نے زوناش سے اس شہر میں قتل کروائے تھے اور اسے کئی جگہوں پر اپنے ساتھ لئے لئے پھرتے رہے تھے خاص طور پر زوناش اس پرانے آسیبی کھنڈر نما حویلی کو تو خوب جانتا تھا جس کے تہ خانے والی لیبارٹری میں زوناش کی لاش کو دوسرے مردوں کی ٹانگیں بازو اورمنہ کان جوڑ کر بنایا گیا تھا۔ اس لیبارٹری میں زوناش کی کھوپڑی میں والڈروف کا دماغ ڈالا گیا تھا۔ زوناش شہر سے باہر سے گزرتا ہوا آسیبی حویلی کے سامنے آگیا۔ یہ نے حویلی قلعہ نما تھی۔ زوناش حویلی کے تہہ خانے کی راہداریوں سے بخوبی آشنا تھا۔ اسکا خیال تھا کہ ڈاکٹر دارا حویلی کی لیبارٹری میں ہی ہو گا اور شاید کسی نئی لاش کا تجربہ کر رہا ہو گا۔ وہ حویلی کی لیبارٹری میں آگیا۔ لیبارٹری ایک تہہ خانے میں تھی۔ لیبارٹری خالی تھی۔ دیوار کے ساتھ وہ سٹریچر اسی طرح پڑا تھا جس پر لیٹ کر سو جانے کا حکم ڈاکٹر پرویز زوناش کو دیا کرتا تھا۔

زوناش نے ساری حویلی دیکھ ڈالی۔ وہ اوپر چھت پر بھی گیا مگر ڈاکٹر دارا اسے کہیں نہ ملا۔ زوناش کا دماغ سوچنے لگا کہ اس کا دشمن اور کئی بے گناہ انسانوں کے قاتل ڈاکٹر پرویز کا ساتھی ڈاکٹر دارا کہاں ہوگا؟

لیبارٹری میں ہر شے اسی طرح موجود تھی،

ایسا لگتا تھا جیسے یہاں کوئی آتا جاتا رہا ہو

زوناش کا دماغ اتنا زیادہ غور نہیں کر سکتا تھا۔ وہ یہ سوچ کر لیبارٹری کے سٹریچر پر لیٹ گیا کہ کسی نہ کسی وقت ڈاکٹر دارا وہاں ضرور آئے گا۔ پہلے زوناش کی لاش سٹریچر پر لیٹتی تو ڈاکٹر پرویز اسے ریموٹ کنٹرول سے حکم دیتا تھا کہ “زوناش! سو جاؤ۔ جب تک میں نہ کہوں، ہر گز نہ اٹھنا”

اور زوناش سو جاتا تھا۔ مگر اب ڈاکٹر پرویز مرچکا تھا۔ اور اس کی روح عدل خداوندی کے کنٹرول میں تھی اور اگلے جہان میں اپنے ۔ اعمال کی سزا و جزا پا رہی تھی۔ چنانچہ زوناش آنکھیں کھولے لیٹا تھا اور ڈاکٹر دارا کا انتظار کر رہا تھا۔

دوسری طرف ڈاکٹر پرویز کے قتل کی خبر لندن والے انکل نے ٹیلی فون پر اس کے گھر والوں تک پہنچادی تھی اور بتایا تھا کہ ڈاکٹر کو کسی نامعلوم شخص نے قتل کر دیا ہے۔ اور پولیس قاتل کو تلاش کر رہی ہے۔ یہ خبر ہسپتال میں بھی پہنچ گئی تھی۔ ڈاکٹر دارا کو پتہ چلا تو وہ سکتے میں آگیا۔ لیکن یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ آیا کہ ڈاکٹر پرویز کو ان کے بنائے ہوئے اپنے عفریت نے قتل کیا ہے۔ وہ یہی سمجھا کہ ڈاکٹر پرویز کا کسی سے لڑائی جھگڑا ہو گیا ہو گا جس نے شدت اختیار کرلی اور وہ قتل ہو گیا۔ اسے بہت صدمہ ہوا۔ اسے بالکل خبر نہیں تھی کہ موت اس کے سر پر بھی منڈلارہی ہے۔۔”

حویلی کے کھنڈر میں موت زوناش کی لاش کے روپ میں ڈاکٹر دارا کا ساری رات انتظار کرتی رہی مگر دارا نہ آیا۔ زوناش اسی طرح سٹریچر پر لیٹا رہا۔ زوناش کے جسم میں آٹھ دس آدمیوں کی طاقت اور توانائی تھی مگر اس کے جسم کا گوشت مردہ لاشوں کا تھا۔ اس گوشت میں کوئی احساس نہ تھا۔ وہ ایک مہینہ بھی بغیر تھکاوٹ محسوس کئے سٹریچر پر پڑا رہ سکتا تھا۔ رات گزر گئی۔ اس کے بعد دن بھی گزر گیا کہ جب لیبارٹری کے روشندان میں سے آتی دن کی روشنی دوسری شام کے اندھیرے میں تحلیل ہونے لگی تو زوناش کو احساس ہوا کہ جس مقصد کو لے کر وہ اس ملک میں اتنی دور سے آیا ہے۔ وہ اس سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر دارا ابھی تک لیبارٹری میں نہیں آیا۔ اسے خود چل کر دارا کو تلاش کرنا چاہیے۔ زوناش سٹریچر پر لیٹا رات کا اندھیرا ہو جانے کا انتظار کرنے لگا۔ وہ رات کے وقت اپنے شکار پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔

جب روشندان میں آتی روشنی اندھیرے میں تبدیل ہو گئی تو زوناش آہستہ سے سٹریچر پر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ روشندان میں سے باہر کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں اندھیرا چھایا ہوا نظر آیا۔ لیبارٹری کی لائٹ پہلے ہی سے بجھی ہوئی تھی۔ یہ لائٹ ڈاکٹر پرویز نے لندن جاتے وقت جلتی رہنے دی تھی مگر اس کے جانے کے تین دن بعد ڈاکٹر دارا کسی ضروری کام سے لیبارٹری میں آیا تھا تو اس نے لائٹ بجھا دی تھی۔ زوناش کے حلق سے سانس لینے کی خرخراہٹ کی آواز آرہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا لیبارٹری کے دروازے میں سے گزر کر اوپر والے بند دروازے پر آگیا۔ اس دروازے کو باہر سے تالا لگا ہوا تھا۔ زوناش کی لاش بند دروازے میں سے گزر کر اندر آئی تھی۔ وہ اس وقت بھی بند دروازے میں سے گزر گئی۔ آسیبی حویلی کے کھنڈر کے باہر چاروں طرف رات کا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ دور شہر کی طرف جانے والی سڑک پر سے کسی کسی وقت کوئی موٹر گاڑی یا ٹرک کے گزرنے کی آواز سنائی دے جاتی تھی۔ زوناش کا دماغ کچھ سوچنے لگا۔ اس نے زوناش کو ہدایت کی کہ ابھی رات کا پہلا پہر ہے۔ ابھی وہ اپنے شکار کی تلاش میں نہ جائے۔ ہو سکتا ہے اس کا شکار کسی پارٹی وغیرہ میں گیا ہوا ہو۔

زوناش وہیں سے واپس ہو کر حویلی کی سیڑھیاں چڑھتا اوپر چھت پر آگیا۔ چھت پر ایک چبوترہ سا بنا ہوا تھا۔ زوناش اس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ وہ بت بن کر بیٹھا تھا اور رات آہستہ آہستہ گزر رہی تھی۔ وقت کے گزرنے کا زوناش کو کوئی احساس نہیں تھا۔ وہ پتھر کے مجسمے کی طرح بیٹھا تھا۔ وقت اپنی معمول کی رفتار سے گزر رہا تھا۔ آدھی رات بھی گزر گئی، سڑک کی طرف سے گاڑیوں کی جو آوازیں سنائی دیتی تھیں وہ خاموش ہو گئی تھیں۔ زوناش کو محسوس ہوا کہ اب اسے چل دینا چاہیئے۔ چنانچہ وہ اٹھ کر آسیبی حویلی کے کھنڈر سے باہر آیا اور ایک تاریک راستے پر شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔ زوناش کو معلوم تھا کہ ڈاکٹر دارا ہسپتال میں رات کی ڈیوٹی پر بھی ہوتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اسے ہسپتال میں تلاش کرنا چاہتا تھا۔ یہ شہر لاہور بھی اس کا دیکھا بھالا شہر تھا۔ جس ہسپتال کی طرف وہ جا رہا تھا وہ شہر سے کچھ فاصلے پر ایک خاموش اور پر سکون جگہ پر بنا ہوا تھا۔ اس طرف سر شام ہی خاموشی چھا جاتی تھی۔ چلتے چلتے زوناش ہسپتال کے قریب آگیا۔ ڈاکٹر پرویز اسے ایک بار غیبی حالت میں ساتھ لے کر اس ہسپتال میں لاچکا تھا۔ زوناش نے ہسپتال سے کچھ دور اس ہسپتال کا مردہ خانہ بھی دیکھا ہوا تھا۔ زوناش نے ہسپتال میں ڈاکٹر دارا اور ڈاکٹر پرویز کا کمرہ بھی دیکھ رکھا تھا۔ زوناش نے سیدھا ہسپتال میں ڈاکٹر دارا کے کمرے کا رخ کیا۔ کمرے کا دروازہ بند تھا۔ اندر روشنی ہو رہی تھی اور کسی عورت کی آواز آرہی تھی۔ وہ ٹیلی فون پر کسی سے گفتگو کر رہی تھی۔

زوناش دروازہ کھولے بغیر کمرے میں داخل ہو گیا۔

ڈاکٹر دارا وہاں نہیں تھا۔ اس کی سیٹ پر ایک نرس بیٹھی مسکرا مسکرا کر کسی سے فون پر باتیں کر رہی تھی۔ زوناش اس خیال سے کہ ڈاکٹر دارا کو اوپر وارڈ میں دیکھا جائے مڑا ہی تھا کہ نرس نے فون پر کسی سے کہا۔

“ڈاکٹر دارا! آج نائیٹ ڈیوٹی پر ضرور ہیں لیکن وہ اس وقت اپنے کمرے میں نہیں ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ اپنے ہوسٹل میں چلے گئے ہیں۔ اب کل ہی آئیں گے۔”

زوناش یہ سن کر ایک لمحے کے لئے کچھ سوچنے لگا۔ پھر مڑا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ ڈاکٹر دارا جس ہوسٹل میں رہتا تھا وہ ہوسٹل ہسپتال کے احاطے کے اندر ہی واقع تھا۔ زوناش کو ڈاکٹر دارا کے ہوٹل کے کمرے کا نمبر معلوم نہیں تھا۔ لیکن وہ اسے تلاش کر سکتا تھا۔ وہ ہسپتال کے آرتھوپیڈک وارڈ کے پیچھے سے ہوتا ہوا ہوسٹل کی عمارت کے پاس آگیا۔ رات آدھی گزر چکی تھی۔ ہوسٹل پر گہری خاموشی طاری تھی۔ کسی کسی کمرے کے روشندانوں میں روشنی نظر آ رہی تھی۔ یہ دو منزلہ ہوٹل تھا۔ ہوسٹل کے گیٹ پر چوکیدار سٹول پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔ زوناش غیبی حالت میں تھا۔ چوکیدار اسے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وہ آرام سے چلتا چوکیدار کے قریب سے گزرا گیا۔ چوکیدار نے ایک لمحے کے لئے چونک کر پیچھے کی طرف دیکھا۔ اسے ایسے محسوس ہوا تھا جیسے کوئی شخص اس کے قریب سے گزرا ہے۔ اسے کسی انسان کے سانس لینے کی آواز صاف سنائی دی تھی۔ مگر جب چوکیدار کو وہاں کوئی انسان دکھائی نہ دیا تو اس نے اسے اپنا وہم سمجھا اور سگریٹ پینے لگا۔ زوناش اس دوران ہوٹل کی پہلی منزل کے برآمدے میں آگیا۔ ہوٹل کے کمرے ساتھ ساتھ بنے ہوئے تھے۔ ہر کمرے کا دروازہ بند تھا۔ زوناش نے پہلے بند کمرے میں منہ ڈال کر دیکھا کمرے میں اندھیرا تھا۔ وہ اتنا دیکھ سکتا تھا کہ اپنے دشمن کو پہچان سکے۔ کمرے میں ڈاکٹر دارا نہیں تھا، کوئی اور لڑکا سو رہا تھا۔ اس طرح جھانک جھانک کر اس نے پہلی منزل کے سارے کمرے دیکھ ڈالے۔ اس کا شکار پہلی منزل میں نہیں تھا۔ زوناش دوسری منزل پر آگیا۔ دوسری منزل کے آخری کمرے سے ایک کمرہ پہلے ڈاکٹر دارا کا کمرہ تھا۔ وہ اس وقت جاگ رہا تھا۔ اور بستر پر لیٹا ٹیبل لیمپ کی روشنی میں کوئی کتاب پڑھ رہا تھا۔ اچانک اسے باہر برآمدے میں کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ ڈاکٹر پرویز کے قتل کے بعد قدرتی طور پر ڈاکٹر دارا محتاط ہو گیا تھا۔ اگرچہ اسے یقین تھا کہ ڈاکٹر پرویز کا لندن میں کسی بد معاش کے ہاتھوں قتل ہوا ہے مگر اس کے باوجود اس کے دل میں ہلکا سا شک ضرور تھا کہ عین ممکن ہے اسے زوناش کی لاش نے قتل کر ڈالا ہو ۔ اسے وہم ہو گیا تھا کہ ڈاکٹر پرویز کو قتل کرنے کے بعد زوناش اسے قتل کرنے پاکستان ضرور آئے گا چنانچہ اسی دن سے ڈاکٹر دارا اپنے پاس احتیاط کے طور پر دو چیزیں ضرور رکھتا تھا۔ ایک بھرا ہوا پستول اور دوسری وہ عینک جس کو آنکھوں پر لگا کر وہ زوناش کی غیبی لاش کو دیکھ سکتا تھا۔ اس وقت بھی یہ دونوں چیزیں اس کے پاس تھیں۔ بھرا ہوا پستول اس کے سرہانے کے نیچے تھا اور عینک اس نے اپنے سلیپنگ سوٹ کی سامنے والی جیب میں رکھی ہوئی تھی۔ برآمدے میں سے جب دوسری بار کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی تو ڈاکٹر دارا نے کتاب ایک طرف رکھ دی۔ جیب سے عینک نکال کر آنکھوں پر لگائی اور ٹیبل لیمپ بجھا کر سرہانے کے نیچے سے پستول نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔ وہ آہستہ سے بستر پر سے اٹھا اور دروازے کے پاس آگیا۔ دروازے کو اندر سے کنڈی لگی ہوئی تھی۔ اس نے بہت آہستہ سے کنڈی کھولی اور دروازے کا ایک پٹ ذرا سا کھول کر باہر جھانک کر دیکھا۔

باہر برآمدے کی بتی روشن تھی۔ چونکہ ڈاکٹر دارا نے عینک لگا رکھی تھی۔ اسے برآمدے میں تین کمرے چھوڑ کر اچانک زوناش کی لاش نظر آگئی۔ ڈاکٹر دارا کا جسم دہشت کی وجہ سے لرز کر ایکدم سرد بے جان ہو گیا۔ زوناش کی لاش کمرے کے بند دروازے میں منہ ڈال کر دیکھ رہی تھی۔ ڈاکٹر دارا نے بھاگنا چاہا مگر اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاؤں من من بھر کے ہو گئے ہیں۔ زوناش کی ہیبت ناک لاش قریب آ رہی تھی۔ ڈاکٹر دارا کو اس کے سانس لینے کی ڈراؤنی آواز صاف سنائی دے رہی تھی اور اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر دارا سمجھ گیا کہ زوناش نے ہی ڈاکٹر پرویز کو قتل کیا تھا اور اسے قتل کرنے کے کے بعد اب ڈاکٹر دارا کی تلاش میں ہے تاکہ اسے بھی قتل کر ڈالے۔ اس خیال کے آتے ہی ڈاکٹر دارا کمرے سے چھلانگ لگا کر برآمدے میں آگیا۔ اب زوناش کی لاش نے بھی ڈاکٹر دارا کو دیکھ لیا تھا۔ ڈاکٹر دارا کو دیکھتے ہی زوناش کے سینے سے اور اس کے حلق سے دھیمی دھیمی ڈراؤنی آوازیں نکلنے لگیں۔ لاش کے دونوں بازو پھیل گئے اور ڈاکٹر دارا کی طرف بڑھی۔ موت کو اچانک سامنے دیکھ کر ڈاکٹر دارا کے جسم میں اپنے آپ کو بچانے کے لئے مدافعتی قوت آگئی تھی۔ زوناش حلق سے ڈراؤنی آوازیں نکالتا ڈاکٹر دارا کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ڈاکٹر دارا نے پستول کا رخ زوناش کی طرف کیا اور اوپر تلے چھ سات گولیاں فائر کر دیں۔ فائرنگ کے دھماکوں سے ہوسٹل کی خاموش فضا گونج اٹھی۔

ساری کی ساری گولیاں زوناش کے سینے اور گردن میں سے پار ہو گئیں۔ ڈاکٹر کو یقین تھا کہ اتنی گولیاں کھانے کے بعد زوناش کی لاش گر پڑے گی مگر ایسا نہ ہوا۔ زوناش کو پے در پے پانچ دھکے لگے اور وہ پیچھے کو لڑکھڑایا اور ایک طرف کو جھک گیا۔ ڈاکٹر دارا کو جان بچانے کا موقع مل گیا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ زوناش کی لاش پر گولیوں کا اثر نہیں ہوا اور اسے گولیاں لگنے کے صرف دھکے محسوس ہوئے ہیں۔ وہ زوناش کی لاش کے پیٹ اور سینے پر مزید گولیاں برساتا دیوانہ وار وہاں سے دوڑ پڑا۔ زوناش کے جسم سے کتنی ہی گولیاں نکل گئی تھیں ، مگر اس کے جسم سے خون کا ایک قطرہ بھی نہ نکلا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا جسم مردہ لاشوں کے ٹکڑے جوڑ کر بنایا گیا تھا۔ زوناش کو معمولی سا درد بھی محسوس نہیں ہوا تھا۔ لیکن گولیوں کی اتنی رفتار کے ساتھ ٹکرانے سے اس کو ہلکے ہلکے اوپر تلے کئی دھکے محسوس ہوتے تھے۔ جن کی وجہ سے وہ ایک طرف کو ذرا سا لڑکھڑا گیا تھا۔ جب زوناش سنبھلا تو اتنے میں ڈاکٹر دارا نے بھی دیکھ لیا تھا کہ گولیوں کا زوناش کے جسم پر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ بدستور زندہ ہے اس لئے اس کا وہاں رکنا اپنے آپ کو موت کے حوالے کرنا تھا۔ فائرنگ کے دھماکوں کی وجہ سے ہوٹل کے تقریباً سارے کمروں کی بتیاں روشن ہو گئی تھیں اور لڑکے کمروں سے باہر نکل آئے تھے۔ زوناش ان کے درمیان میں سے گزرتا نیچے اتر آیا۔ ہوسٹل کی عمارت کے باہر رک کر اس نے اندھیرے میں ڈاکٹر دارا کو تلاش کرنے کی کوشش کی مگر دارا اس وقت تک اپنی گاڑی میں بیٹھ کر ہسپتال سے دور نکل چکا تھا۔

زوناش وہاں سے سیدھا آسیبی کھنڈر والی لیباٹری کی طرف چل پڑا۔ زوناش کے علم میں یہ بات آچکی تھی کہ ڈاکٹر دارا اسے غیبی حالت میں بھی دیکھ سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس اسے دیکھنے والی عینک موجود ہے۔ چنانچہ وہ اس پر قاتلانہ حملہ کر سکتا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ زوناش کے جسم پر گولیوں کا اثر نہیں ہو تا تھا اور گولیاں جسم میں سوراخ ڈالتے ہوئے جہاں سے گزر جاتی تھیں، اس جگہ کا گوشت اپنے آپ مل جاتا تھا۔ لیکن ڈاکٹر دارا کسی تیز دھار آلے سے زوناش کا سر قلم کر سکتا تھا۔ اس کی ٹانگیں کاٹ سکتا تھا اور یوں زوناش کو بے بس و مجبور کر سکتا تھا۔ ان حقائق کی روشنی میں زوناش کو ڈاکٹر دارا سے بے حد محتاط رہنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ آسیبی حویلی کے کھنڈر میں آکر زوناش تہہ خانے میں نہ گیا۔ کیونکہ ڈاکٹر دارا اس کی تلاش میں تہہ خانے میں آسکتا تھا۔ وہ کھنڈر کی ڈیوڑھی میں سے گزر کر بائیں جانب زمین پر گرے ہوئے ستونوں کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا۔ یہاں سے وہ ڈاکٹر دارا کو کھنڈر میں داخل ہوتے دیکھ سکتا تھا اور اس پر جھپٹ کر ایک ہی جھٹکے میں اس کا سر تن سے جدا کر سکتا تھا۔

لیکن دارا بھی اتنا احمق نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ زوناش کی لاش اسے قتل کرنے کے لئے اس کا پیچھا کر رہی ہے اور وہ کسی بھی وقت کسی بھی جگہ نمودار ہو سکتی ہے۔ چنانچہ وہ بھی محتاط ہو گیا تھا۔ سب سے پہلی احتیاط ڈاکٹر دارا نے یہ کی کہ ہسپتال سے ایک ماہ کی چھٹی لے لی اور ہوسٹل کو چھوڑ دیا۔ اس کے ایک دوست نے شہر سے دور نہر کے کنارے ایک چھوٹا سا فارم بنایا ہوا تھا۔ ڈاکٹر دارا نے اس فارم کے ایک کمرے میں آکر ڈیرا لگالیا۔ اسے صرف زوناش سے اپنے آپ کو چھپانا ہی نہیں تھا بلکہ زوناش کو تلاش کر کے اسے موت کے گھاٹ بھی اتارنا تھا۔ زوناش سارا دن آسیبی حویلی کے بوسیدہ ستونوں کے پیچھے چھپ کر بیٹھا ڈاکٹر دارا کا انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہ آیا۔

زوناش کو کیا خبر تھی کہ ڈاکٹر دارا شہر سے باہر نہر کنارے ایک فارم میں بیٹھا زوناش کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا منصوبہ تیار کر رہا ہے۔ دن چڑھا تو زوناش وہیں چھپا رہا۔ سارا دن اس نے وہیں گزار دیا۔ جب دن کی روشنی ماند پڑنے لگی اور سورج مغرب کی جانب غروب ہونے کی تیاریاں کرنے لگا تو زوناش آسیبی حویلی کے کھنڈر سے نکل کر شہر کی طرف جانے کی بجائے کھیتوں کی طرف روانہ ہو گیا۔ زوناش آسیبی حویلی کے کھنڈر سے ڈاکٹر دارا کا کام تمام کرنے کے لئے اس کے ہسپتال جانے کے ارادے سے نکلا تھا۔ اسے یقین تھا کہ ڈاکٹر دارا رات کی ڈیوٹی پر ہوتا ہے اور وہ ہسپتال میں اسے کہیں نہ کہیں ضرور نظر آجائے گا۔ اسے یہ علم نہیں تھا کہ ڈاکٹر دارا ایک مہینے کی چھٹی لے کر شہر سے باہر نہر کے کنارے والے فارم میں چلا گیا ہے جہاں وہ زوناش کی لاش کو ہمیشہ کے لئے تلف کر دینے کا خطرناک منصوبہ تیار کر رہا ہے۔

زوناش دن کے وقت ڈاکٹر دارا کے سامنے جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ کیونکہ ڈاکٹر کے پاس اسے دیکھ لینے والی عینک موجود تھی اور وہ اسے دیکھ کر نہ صرف اپنا بچاؤ کر سکتا ہے بلکہ زوناش پر گھات لگا کر حملہ بھی کر سکتا تھا۔ چنانچہ زوناش سورج غروب ہونے کے کچھ دیر بعد جب اندھیرا چھا گیا تھا تو آسیبی حویلی سے نکلا۔ ابھی رات کا پہلا پہر ہی تھا۔ زوناش شہر سے باہر باہر ایک لمبا چکر کاٹ کر ہسپتال پہنچنا چاہتا تھا تا کہ اس وقت تک رات بھی گہری ہو جائے اور ڈاکٹر دارا بھی اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گیا ہو۔ زوناش کا رخ شہر کے اس علاقے کی طرف ہی تھا جدھر بڑا ہسپتال تھا۔ مگر وہ شہر کی آبادی سے ہٹ کر کھیتوں کھیت چلا جارہا تھا۔ تاکہ اگر ڈاکٹر دارا شہر میں کسی جگہ موجود بھی ہو تو وہ زوناش کو سڑک پر چلتے نہ دیکھ سکے۔

زوناش آہستہ آہستہ چلا جا رہا تھا۔ کھیتوں میں سے نکل کر وہ ایک اونچے بند پر چڑھ گیا۔ یہ کوئی بند نہیں تھا بلکہ اوپر ایک نہر بہ رہی تھی جو اونچائی پر تھی۔ نہر کے ساتھ ساتھ بڑا ہموار کچا راستہ بنا ہوا تھا۔ زوناش نہر کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ نہر پانی سے لبالب بھری ہوئی تھی۔ رات کی تاریکی میں نہر کا پانی دھندلا دھندلا نظر آ رہا تھا۔ کافی آگے جا کر ریل کا پل آگیا۔ نہر کے اوپر سے ریلوے لائن گزرتی تھی۔ زوناش نے ریلوے لائن عبور کی اور نہر کے اوپر جھکے ہوئے درختوں کے نیچے سے گزرنے لگا۔ رات گہری ہوتی جاری تھی۔ یہ شہر سے باہر کا علاقہ تھا۔ یہاں خاموشی چھا رہی تھی۔ کسی کسی وقت نہر کنارے کی جھاڑیوں میں سے کسی جھینگر کی آواز سنائی دیتی تھی۔ ایک جگہ نہر میں سے ایک نالہ نکل کر کھیتوں کی طرف چلا گیا تھا۔ ان کھیتوں کی جانب دور کافی فاصلے پر شہر کی چند ایک روشنیاں جھلملا رہی تھیں۔ زوناش کو ان روشنیوں کی طرف ہی جانا تھا۔ وہ نہر کے کنارے کو چھوڑ کر نالے کے ساتھ ساتھ ہو کے چلنے لگا۔ نالے کی دونوں جانب کھیت ہی کھیت تھے جو رات کے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ زوناش ایک باغ کے قریب سے گزرا، اسے باغ میں سے مالٹوں کی خوشبو آئی۔ یہ پھلدار باغ تھا۔ اس کے آگے پھر ایک باغ آگیا۔ زوناش کو لگا کہ یہ کوئی پھلوں کا فارم ہے۔ اس قسم کے فارم زوباش یعنی والڈروف کے وطن لندن کے دیہات میں بہت ہوا کرتے تھے۔ زوناش کے دماغ کو اپنا وطن یاد آنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی اسے یہ بھی خیال آگیا کہ اس نے اپنے وطن میں اپنی محبوبہ کے علاوہ سینکڑوں بے گناہ انسانوں کو قتل کیا تھا اور اسے پھانسی دے دی گئی تھی۔ زوناش کا دماغ جو حقیقت میں قاتل والڈ روف کا دماغ تھا اپنے وطن کی یاد میں گم تھا اور زوناش فارم کے پھلدار باغ کے ساتھ ساتھ چلا جا رہا تھا۔ باغ ختم ہوا تو زوناش کو ایک مکان دکھائی دیا جس کی کھڑکی کھلی تھی اور اس میں روشنی ہو رہی تھی۔ زوناش جس کچی پگڈنڈی پر سے گزر رہا تھا یہ مکان اس کے کنارے پر ہی تھا۔ زوناش کو اس مکان کے قریب سے ہو کر گزرنا تھا۔ پہلے اس نے سوچا کہ مکان سے ہٹ کر باغ میں سے ہو کر آگے نکل جائے۔ پھر اسے خیال آیا کہ وہ تو غائب ہے اسے کوئی دیکھ ہی نہیں سکتا۔ کھڑکی کے اندر اگر کوئی شخص موجود بھی ہوا تو وہ اسے نہیں دیکھ سکے گا۔ یہ سوچ کر زوناش پگڈنڈی پر ہی چلتا رہا۔ وہ کھڑکی کے سامنے سے گزر گیا لیکن فوراً رک گیا۔ اس نے کھڑکی کے قریب سے گزرتے وقت کھڑکی میں یوں ہی سرسری نظر ڈالی تھی۔ اندر کھڑکی ایک آدمی میز کے آگے کرسی پر بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا۔ زوناش جیسے ہی کھڑکی سے آگے نکلا کسی طاقت نے اس کے قدم ہے وہیں روک دیئے۔ زوناش کے حلق سے دھیمی سی ڈراؤنی آواز نکلی۔ زوناش کی نگاہ کبھی دھوکا نہیں کھا سکتی تھی۔ اس نے جس آدمی کو دیکھا تھا وہ ڈاکٹر دارا کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ زوناش وہیں سے واپس پلٹا۔

“اب وہ بڑی احتیاط سے قدم اٹھا رہا تھا کہ اس کے قدموں کی آہٹ پیدا نہ ہو۔ کھڑکی کے پاس آکر اس نے ذرا سا آگے ہو کر کھڑکی میں دوبارہ جھانک کر دیکھا۔ اس کے دماغ میں جیسے شعلے سے بلند ہونے لگے۔ میز کے سامنے بیٹھا ہوا آدمی ڈاکٹر دارا ہی تھا۔ زوناش ڈاکٹر دارا کو پہچاننے میں کبھی دھوکہ نہیں کھا سکتا تھا۔ دوسری خوش قسمتی کی بات یہ تھی کہ ڈاکٹر دارا نے آنکھوں پر وہ عینک نہیں لگائی ہوئی تھی جس کی مدد سے وہ زوناش کی لاش کو دیکھ سکتا تھا۔ ایک حیرت انگیز اتفاق سے زوناش کو یہ سنہری موقع مل گیا تھا۔ زوناش اس سنہری موقع کو ضائع کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ زوناش کو یہ خدشہ بھی تھا کہ اس نے ڈاکٹر دارا پر اچانک حملہ کیا تو کہیں وہ میز کی دراز یا اپنی جیب میں سے پستول نکال کر زوناش کی کھوپڑی نہ اڑا دے۔ پھر اسے خیال آیا کہ زوناش تو نظر نہیں آ رہا ہو گا اس لئے ڈاکٹر دارا اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے زوناش کی کھوپڑی کو نشانہ نہیں بنا سکے گا۔ کیونکہ زوناش کی اگر کھوپڑی اڑادی جاتی تو اس کا بھیجہ بکھر جاتا اور عین ممکن ہے کہ وہ مرجاتا۔ زوناش نے جو کچھ بھی کرنا تھا وہ اسے پلک جھپکنے میں کر ڈالنا چاہتا تھا۔ زوناش کو کھڑکی پر چڑھ کر اندر داخل ہونے کی ضرورت نہیں تھی، وہ بڑی آسانی کے ساتھ دیوار میں سے گزر سکتا تھا۔ زوناش کھڑکی کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔ ڈاکٹر دارا ٹیبل لیمپ روشن کئے میز کے آگے کرسی پر بیٹھا کاپی پر کچھ لکھنے میں منہمک تھا۔ ویسے بھی وہ زوناش کو نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ اس نے عینک نہیں لگائی ہوئی تھی۔ زوناش نے ایک آخری بھر پور اور انتقامی نگاہ ڈاکٹر دارا پر ڈالی اور دیوار میں سے گزر گیا۔ خدا جانے کیسے ڈاکٹر دارا کو احساس ہو گیا کہ زوناش وہاں پہنچ چکا ا ہے۔ شاید اس کی چھٹی حس نے اسے خبردار کر دیا تھا۔ مگر اب دیر ہو چکی تھی۔ زوناش کے حلق سے غراہٹ کی ایک بھیانک آواز نکلی اور اس نے اتنی تیزی کے ساتھ اپنا لمبا بازو آگے بڑھا کرکے ڈاکٹر دارا کی گردن کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑا کہ ڈاکٹر دارا کے حلق سے کوئی آواز تک نہ نکل سکی۔ ڈاکٹر دارا زوناش کی لاش کو دیکھ تو نہیں سکتا تھا لیکن اسے معلوم ہو گیا تھا کہ موت زوناش کی شکل میں آگئی ہے۔

زوناش نے ڈاکٹر دارا کو اپنے مخصوص انداز میں فرش سے تین فٹ اوپر اٹھا کر زور سے جھٹکا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹر دارا کا دھڑ نیچے گر پڑا۔ اس کا سر زوناش کے ہاتھ میں رہ گیا تھا۔ میز پر اور نیچے فرش پر خون ہی خون بکھر گیا تھا۔ زوناش نے ڈاکٹر دارا کے کٹے ہوئے سر کو فرش پر پٹخ دیا۔ ڈاکٹر دارا کی کھوپڑی کھل گئی اور اس کا بھیجا بکھر گیا۔ زوناش کے حلق سے ایک بھیانک چیخ بلند ہوئی جس کو سن کر فارم کے گیٹ پر سویا ہوا کتا ہڑبڑا کر اٹھا اور زور زور سے بھونکنے لگا۔ زوناش اسی طرح کمرے کی دیوار میں سے باہر نکل گیا۔ اب اسے ہسپتال کی طرف جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ وہیں سے واپس مڑ گیا۔ نالے کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا نہر پر چڑھ گیا اور نہر کے کنارے کنارے چلنے لگا۔ اس نے ڈاکٹر دارا سے بھی اپنے ذہنی عذابوں کا بدلہ لے لیا تھا اور ڈاکٹر دارا کو اپنے گناہوں کی سزامل چکی تھی۔ اگر وہ اور ڈاکٹر پرویز ڈا کٹڑی پڑھنے کے بعد دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا شعائر بناتے تو ان کا یہ انجام نہ ہوتا۔ لیکن انہوں نے گھناؤنے جرم کی راہ اختیار کر لی تھی اور نہ صرف یہ کہ ڈاکٹری کے مقدس پیشے کو بدنام کیا تھا۔ بلکہ کئی بے گناہ انسانوں کے قتل کا بھی ارتکاب کیا تھا۔ زوناش کا رخ آسیبی حویلی کے کھنڈر کی طرف تھا۔ زوناش ایک ایسی زندہ لاش کی طرح چلا جا رہا تھا جس نے اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ہو۔ لیکن زوناش کو معلوم نہیں تھا کہ ابھی اسے اپنے کچھ اور گناہوں کا حساب بھی بے باق کرنا تھا۔ ابھی اس کے کچھ ایسے گناہوں کا حساب باقی تھا جو اس کے ان گناہوں سے کہیں زیادہ گھناؤنے تھے جن کا کفارہ وہ اپنی طرف سے ادا کر چکا تھا۔ اس کی چاروں جانب ہولناک خاموشی اور سناٹا تھا۔ ڈاکٹر دارا نے ایک رات پہلے ہسپتال کے ہوسٹل میں اس کی ران پر جو اوپر تلے تین گولیاں فائر کیں تھیں ان کی وجہ سے اس کی بائیں ٹانگ کا جوڑ اپنی جگہ سے ہل گیا تھا۔ زوناش بائیں ٹانگ کو تھوڑا سا گھسیٹ کر چل رہا تھا۔ جس وقت وہ آسیبی حویلی کی لیبارٹری کے تہہ

خانے میں پہنچا رات آدھی گزر چکی تھی۔ آسمان پر چمکتے ستاروں کو بادلوں کے ٹکڑوں

نے چھپانا شروع کر دیا تھا۔ زوناش نے تہہ خانے میں آکر الماری اور شیلف اور میز پر لگی ہوئی بوتلوں اور سرجری کے آلات کو شعلہ بار نگاہوں سے دیکھا۔ اس کے حلق سے غراہٹ کی آواز مسلسل نکل رہی تھی۔ یہ آواز ایسی تھی جیسے رات کی تاریکی میں کوئی زخمی چیتا کسی جھاڑی میں چھپا غرا رہا ہو۔ اچانک زوناشن الماری کی طرف بڑھا۔ اس نے الماری کا دروازہ کھول دیا۔ الماری کے خانوں میں مختلف میڈیکل سائنس کی کتابیں اور مصنوعی انسانی لاشیں تیار کرنے والے فارمولوں کے تجربات پر مشتمل فائلیں بھری ہوئی تھی۔ زوناش نے ساری کتابیں ساری فائلیں نکال کر فرش پر بکھیر دیں۔ پھر الماری کو دونوں بازوؤں سے اٹھا کر زور سے فرش پر پٹخ دیا۔ الماری فرش پر گرتے ہی چکنا چور ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے میز پر سے دوائی کی شیشیاں اور بوتلیں اٹھا کر دیوار کے ساتھ پٹخنی شروع کر دیں۔ تھوڑی دیر بعد لیبارٹری کا سارا سامان تباہ و برباد ہو چکا تھا۔ یہاں سے نکل کر زوناش کی لاش اوپر والے کمرے میں آگئی۔ یہاں بھی کافی سامان پڑا تھا۔ زوناش پر جیسے کوئی بھوت سوار ہو چکا تھا۔ اس نے وہاں بھی سارے سامان کو تہس نہس کر دیا۔ اوپر والی منزل کے سائنسی سامان کو تباہ کرنے کے بعد وہ واپس پہلی منزل میں آگیا۔ یہاں سپرٹ کی تیز بو پھیلی ہوئی تھی۔ سپرٹ کے بہت بڑے مرتبان کے ٹوٹ جانے سے ساری سپرٹ فرش پر بہہ رہی تھی۔ زوناش کی نیم وا نیم مردہ آنکھوں کی نگاہیں لیبارٹری کے کونے میں مرکوز ہو گئیں۔ کونے میں پٹرول سے بھرا ہوا ایک چوکور ڈبہ پڑا تھا۔ زوناش نے اسے اٹھایا اور ساری لیبارٹری میں اور لیبارٹری کے فرش پر بکھرے ہوئے تباہ شدہ سامان پر پٹرول چھڑک دیا۔ اب اس کی نیم مردہ آنکھیں دیا سلائی کا بکس ڈھونڈ رہی تھیں۔ اسے یاد آگیا کہ سپرٹ لیمپ جلانے کے لئے ڈاکٹر پرویز دیوار کے ایک طاق میں سے ماچس اٹھایا کرتا تھا اور سپرٹ لیمپ جلانے کے بعد ماچس وہیں رکھ دیتا تھا۔

زوناش دیوار والے طاق کی طرف بڑھا۔ اس نے طاق میں ہاتھ ڈالا ماچس وہاں موجود تھی۔ زوناش نے ماچس اٹھائی اور لیبارٹری کے دروازے کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔ اس نے بکھرے ہوئے سامان میں سے ایک چیتھڑا اٹھا کر اسے آگ لگائی اور زور سے اسے پٹرول اور سپرٹ میں بھیگے ہوئے سامان پر پھینک دیا۔ ایک ہلکے سے دھماکے کے بعد تمام چیزوں نے آگ پکڑ لی اور شعلے بلند ہونے لگے۔ زوناش تہہ خانے سے نکل کر اوپر والی منزل پر آگیا۔ ماچس اس کے ہاتھ میں تھی دوسری منزل میں بھی اس نے آگ لگا دی۔ جب شعلے بلند ہونے لگے تو وہ دروازے سے نکل کر آسیبی حویلی کے صحن میں آگیا۔ آسیبی حویلی کے روشندانوں میں سے دھواں باہر نکلنے لگا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد روشندانوں میں سے شعلے باہر نکلنے لگے۔ اس منحوس لیبارٹری اور آسیبی کھنڈر میں لگی ہوئی آگ لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جارہی تھی جہاں دو انسان دشمن جرائم پیشہ ڈاکٹروں نے اپنی طرف سے ایک مصنوعی انسان بنانے کے گناہ کا ارتکاب کیا تھا اور جس کے لئے انہوں نے نہ جانے کتنی قبریں کھود کر میتوں کی بے حرمتی کی تھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے آسیبی کھنڈر کی لیبارٹری میں بھڑ کی ہوئی آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ زوناش نے آخری بار دو گناہگار انسانوں کے بنائے اس جنم کی آگ کے شعلوں کو دیکھا اور ایک طرف روانہ ہو گیا۔ زوناش کی لاش اب اس شہر اس ملک سے دور نکل جانا چاہتی تھی۔ وہ رات کی تاریکی میں ایک ویران میدان میں سے گزر رہا تھا۔ میدان میں اگی ہوئی جنگلی جھاڑیاں اس کے پاؤں تلے کچلی جا رہی تھیں۔ وہ بائیں ٹانگ ذراسی گھسیٹ کر چل رہا تھا۔ گولیاں لگنے کے بعد سے اس کی ٹانگ کے جوڑ کی ٹوٹی ہوئی ہڈی کا یہ عیب کچھ دیر پہلے ہی نمودار ہوا تھا۔ اس کی ٹانگ درد نہیں کر رہی تھی۔ درد کا احساس تو اس کے جسم سے غائب تھا۔ کیونکہ اسکا سارا جسم مردہ لاشوں کے اعضا کاٹ کر بنایا گیا تھا۔ مگر اس کی بائیں ٹانگ کے اوپرکی ٹوٹی ہوئی ہڈی میں سے چلتے وقت ایسی آواز نکل رہی تھی جیسے لوہے کے دو ٹکڑے آپس میں رگڑ کھا رہے ہوں۔ زوناش کا ارادہ وہاں سے سیدھا لاہور ایئر پورٹ کی طرف جانے کا تھا جہاں سے وہ کسی نہ کسی جہاز میں سوار ہو کر لندن پہنچ جانا چاہتا تھا۔ اس نے چلتے چلتے چہرہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان پر اتنے زیادہ بادل جمع ہو گئے تھے کہ ایک ستارہ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ ان بادلوں کی وجہ سے رات کی تاریکی اور گہری ہو گئی تھی۔ زوناش جنگلی جھاڑیوں والا میدان عبور کرنے کے بعد کھیتوں میں داخل ہو گیا تھا۔ کھیتوں میں پانی دیا ہوا تھا۔ ان کھیتوں میں چلنے سے زوناش کی ٹانگیں پنڈلیوں تک کیچڑ سے بھر گئی تھیں۔ مگر وہ ان چیزوں سے بے نیاز بے بائیں ٹانگ تھوڑی سی گھسیٹ گھسیٹ کر چلا جا رہا تھا۔ اچانک کھیت کے کیچڑ میں سے ایک سانپ پھنکار مار کر اچھلا اور اس نے زوناش کی ٹانگ پر ڈس دیا۔ زوناش نے سانپ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ وہ رک گیا۔ اس نے جھک کر اپنا لمبا بازو نیچے کیا اور کیچڑ میں رینگتے ہوئے سانپ کو پکڑ کر اٹھالیا۔ سانپ نے دوسری بار اس کے ہاتھ پر ڈس لیا ۔ زوناش کو غصہ آگیا۔ اس کے حلق سے ڈراونی آواز نکلی اور اس نے سانپ کے تین ٹکڑے کر ڈالے اور ان ٹکڑوں کو اپنے منہ میں ڈال کر چبانے لگا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ زوناش کی لاش نے کوئی چیز اپنے منہ میں ڈال کر چبائی تھی۔ سانپ کے کو اچھی طرح چبانے اور حلق سے غصیلی آوازیں نکالنے کے بعد زوناش نے سانپ کو باہر تھوک دیا اور آگے چل پڑا۔کھیتوں سے نکل کر وہ درختوں کے درمیان سے گزرتی ایک سڑک پر آگیا۔ کچی سڑک تھی۔ اس پر اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ زوناش کو اندازہ تھا کہ یہ کچی سڑک آگے جاکر اس بڑی سڑک سے مل جاتی ھے جو اسے سیدھی ائیر پورٹ پہنچا دے گی ہر طرف ہو کا عالم طاری تھا۔ کائنات گہری نیند سو رہی تھی۔ درخت ساکت و خاموش تھے۔ زوناش کو چلتے چلتے اچانک محسوس ہوا جیسے اسے دائیں جانب سے ہلکا سا دھکا لگا ہو۔ پہلے تو اس نے کوئی خیال نہ کیا۔ جب چند قدم چلنے کے بعد اسے پھر ہلکا سا دھکا لگا تو اس نے رک کر دائیں جانب دیکھا۔ اندھیرے میں اسے کوئی چیز نظر نہ آئی۔ وہ پھر چل پڑا۔ دو قدم چلا تو اسے پھر دائیں جانب سے ہلکا سا دھکا لگتا محسوس ہوا، ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی اسے سڑک سے اتار کر بائیں جانب لے جانا چاہتا ہے۔ یہ کوئی غیبی ہستی تھی جو اسے تھوڑی تھوڑی دیر بعد آہستہ سے بائیں جانب دھکیل دیتی تھی۔ زوناش سڑک سے اتر کر بائیں جانب ہو گیا۔ آگے بائیں جانب ایک پگڈنڈی تھی۔ کسی غیبی ہستی نے اسے ایک بار پھر ہلکے ہلکے دو تین دھکے دیئے۔ زوناش غصہ کھا کر وہیں کھڑا ہو گیا۔ اس کے حلق سے غراہٹ کی آوازیں نکلنے لگی اور اچانک اس کے کانوں میں ایک جانی پہچانی محبت بھری آواز آئی۔ وہ اس آواز کو فوراً پہچان گیا۔ یہ اس کی محبوبہ مارگریٹ کی آواز تھی۔ آواز میں زوناش نے مرنے کے بعد پہلی بار محبت کی شیرینی محسوس کی تھی۔ مارگریٹ نے ایک آہ بھر کر جیسے انگریزی زبان میں سرگوشی کے انداز میں کہا تھا۔ “والد روف! میں تم سے ملنے اتنی دور سے آئی ہوں۔ کیا تم مجھ سے نہیں ملوگے”؟؟

زوناش کے دماغ میں خوشی کی لہریں جوش مارنے لگیں۔ اس نے ان لہروں کی زبان میں مارگریٹ سے کہا۔

“مارگریٹ ! تم کہاں ہو؟ میں تمہیں ملنے کو بے تاب ہوں۔ مجھے اپنی شکل دکھاؤ پلیز!”

مارگریٹ کی آواز آئی۔ “والڈ روف! یہاں سے دو کوس دور ایک قبرستان ہے، میں اس قبرستان میں تمہارے دیدار کی منتظر ہوں۔ مجھے اپنی صورت دکھاجاؤ، اس قبرستان سے مجھے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔”

زوناش وہاں سے فوراً چل پڑا۔ ڈیڑھ کوس کا فاصلہ طے کرنے کے بعد رات کی تاریکی میں بھی اس نے اندازہ لگا لیا کہ یہ علاقہ اس کا دیکھا بھالا ہے۔ جب وہ قبرستان کے دروازے پر پہنچا تو اس نے وہ قبرستان دیکھا جن کی مختلف قبریں کھود کر ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا نے گورکن کی مدد سے مردے نکلوا کر اپنی پسند کے اعضاء کاٹ کر الگ کروائے تھے۔ وہ مردے اسی قبرستان کی قبروں کے تھے جن کے بازو ٹانگیں اور کھوپڑیاں کاٹ کر اور پھر ان میں سے طاقتور اور صحت مند اعضا چن کر دونوں ڈاکٹروں نے جوڑے تھے اور زوناش کا عفریت نما جسم تیار کیا تھا۔ وہ گور کن بھی اسی قبرستان کا تھا جس کو ایک رات زوناش نے ہلاک کر ڈالا تھا۔ مگر اس وقت زوناش کے دماغ پر اس کی محبوبہ مارگریٹ کا خیال چھایا ہوا تھا

اور وہ اس سے ملاقات کرنے کو بے تاب تھا۔ قبرستان میں اندھیرا اور دہشتناک سناٹاچھایا ہوا تھا۔ زوناش رک گیا اور آہستہ آہستہ گردن موڑ کر دائیں بائیں دیکھا۔ اسے اپنی محبوبہ کی روح کا ہیولا کہیں نہ دکھائی دیا۔ اتنے میں اسے ایسی آوازیں سنائی دیں جیسے کوئی اس کے قریب کھڑا سرد آہیں بھر رہا ہو۔ زوناش نے خاموشی کی زبان میں پوچھا۔ “کیا یہ تم ہو مارگریٹ؟”

مارگریٹ کی سرد آہوں میں دبی ہوئی آواز آئی۔ ”میرے محبوب! یہ میں ہی ہوں۔ تمہاری محبوبہ میری طرف دیکھو۔”

زوناش نے دیکھا اس سے چند قدموں کے فاصلے پر تاریکی میں ایک سفید دھوئیں کا انسانی ہیولا کھڑا تھا۔ زوناش اپنے دماغ کی لہروں کی مدد سے اپنی محبوبہ سے ہم کلام تھا۔ وہ بول نہیں سکتا تھا۔

اس نے کہا۔ ” تم مجھ سے اتنی دور کیوں ہو؟ میں تمہارے پاس آنا چاہتا ہوں۔”

مارگریٹ کی روح کے ہیولے نےسرگوشی میں کہا۔

“زوناش! مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو بارہ دری والی قبر کے احاطے میں جاؤ۔ میں صرف اسی جگہ تمہارے سامنے آسکتی ہوں۔”

بارہ دری والی قبر، قبرستان کی عقبی دیوار کے پاس تھی۔ زوناش پہلے بھی اس قبر کو دیکھ چکا تھا۔ وہ قدم قدم چل کر بارہ دری والی قبر کے احاطے کے دروازے کے پاس آکر رک گیا۔ زوناش کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہاں پہنچ کر اس کے قدم اپنے آپ کیوں رک گئے ہیں۔ ابھی وہ یہ سوچ کر حیران ہی ہو رہا تھا کہ کسی غیبی طاقت نے اسے پیچھے سے دھکا دیا۔ زوناش بارہ دری والی قبر کے احاطے میں داخل ہو چکا تھا۔ جیسے ہی وہ احاظے میں داخل ہوا۔ اسے اپنے سارے بدن پر ایک دباؤ سما محسوس ہونے لگا۔ یہ دباؤ زوناش کے جسم پر چاروں طرف پڑ رہا تھا۔ اس کے دماغ کی محدود سوچ اس بوجھ کی وجہ کو نہ سمجھ سکی۔ ویسے بھی اس وقت وہ اپنی محبوبہ کے خیال میں سرشار تھا۔ اس نے چہرہ سامنے کی طرف اٹھاکر بارہ دری کی قبر کو دیکھا۔ یہ قبر بارہ دری کے وسط میں بنی ہوئی تھی۔ قبر کے اوپر اسے اپنی محبوبہ کا دھندلا دھندلا انسانی ہیولا دکھائی دیا۔ زوناش بارہ دری کی طرف بڑھا۔ چاروں طرف کے دباؤ کی وجہ سے زوناش کو ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنے ساتھ کسی بوجھ کو لے کو چل رہا ہے۔

اپنے دماغ کی لہروں کے ذریعے اپنی محبوبہ کی روح کے ہیولے سے مخاطب ہوا۔ ” تم نے مجھے معاف کر دیا ہے ناں مارگریٹ؟”

زوناش کی نیم وا نیم مردہ آنکھیں مارگریٹ کی روح کے ہیولے پر جمی ہوئی تھیں۔ ہیولا ایک دائرے کی شکل میں گردش کرنے لگا۔ گھومتے گھومتے دھوئیں کا ہیولا بارہ دری سے باہر نکل آیا اور آہستہ آہستہ زوناش کے قریب ہونے لگا۔ زوناش اپنی جگہ پر کھڑا ہیولے کو قریب آتے دیکھ رہا تھا۔ ہیولے نے پہلے پہلے تو اس کی محبوبہ کی شکل اختیار کی۔ جب زوناش اپنی محبوبہ کی طرف بڑھا تو دھوئیں کا ہیولا اچانک غائب ہو گیا اور اس کی جگہ ایک انسانی لاش قبر کے پاس اس حالت میں کھڑی تھی کہ لاش کا سینہ حلق سے لے کر نیچے ناف تک کھلا ہوا تھا، انتڑیاں لٹک رہی تھیں۔ زوناش حیران ہوا کہ یہ لاش کہاں سے نمودار ہو گئی ہے اور اس کی محبوبہ کی روح کا ہیولا کہاں غائب ہو گیا ہے۔ کیوں غائب ہو گیا ہے۔ اس کے دماغ کی لہروں نے مارگریٹ کو آواز دی۔ کوئی جواب نہ آیا۔ اس نے دوسری تیسری بار اپنی محبوبہ کو آواز دی۔ کسی طرف سے بھی زوناش کی محبوبہ نے کوئی جواب نہ دیا۔ لاش دونوں بازو لٹکائے اپنے پھٹے ہوئے سینے کے ساتھ زوناش کے سامنے کھڑی تھی اور اس کے حلق سے کراہنے کی بڑی درد ناک اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی آوازیں نکل رہی تھیں۔ جیسے وہ شدید درد اور اذیت کے عالم میں ہو۔

زوناش کے دماغ نے کہا۔ “زوناش! یہاں سے بھاگ جا۔۔”

جیسے ہی زوناش نے وہاں سے فرار ہونے کے لئے قدم اٹھانا چاہا اس کے پاؤں نے زمین چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ اس نے دوسرا پاؤں اٹھانا چاہا۔ دوسرا پاؤں بھی زمین نے جکڑ لیا تھا۔ زوناش نے بازو اٹھانے کی کوشش کی۔ اس کے دونوں بازو جیسے پتھر بن چکے تھے۔ زوناش کے حلق سے ایک لمبی غراہٹ کی آواز نکلی۔ دوسرے لمحے چند قدموں کے فاصلے پر کھڑی کٹی پھٹی لاش نے اپنا بازو اٹھایا۔ زوناش نے دیکھا کہ لاش کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا جس کا پھل چمک رہا تھا۔ لاش کراہتی دردناک آوازیں نکالتی اس کی طرف بڑھنے لگی۔ زوناش نے اپنے جسم کا پورا زور لگا کر اپنے آپ کو پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔

کٹی پھٹی خون آلود لاش پھٹے ہوئے پیٹ کے ساتھ اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ زوناش اپنی جگہ پر کھڑا بےبسی کی حالت میں لاش کو اپنی طرف آتا دیکھ رہا تھا۔ لاش زوناش کے بالکل سامنے آکر رک گئی۔ زوناش نے نیم وا نیم مردہ آنکھوں سے دیکھا کہ لاش کا دل غائب تھا۔

اس وقت لاش نے اذیت ناک آواز میں کہا۔ “میں قبر میں سکون کی نیند سو رہا تھا۔ میرا مردہ باہر نکال کر میرا سینہ چیر دیا گیا اور میرا دل نکال کر تمہارے سینے میں لگا دیا گیا۔ میں تم سے اپنا دل واپس لینے آیا ہوں۔اس کے ساتھ ہی لاش نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا خنجر زوناش کے سینے میں گھونپ دیا۔ زوناش کے دماغ نے پہلی بار شدید درد کی ٹیسیں محسوس کی۔ اس کے منہ سے بلبلاہٹ کی آوازیں نکلنے لگیں۔ لاش نے خنجر باہر نکال کر دوسرا وار کیا، پھر تیسرا وار کیا۔ زوناش کا سینہ کھل گیا۔ لاش نے زوناش کے سینے میں ہاتھ ڈال کر اس کا دل ایک جھٹکے سے نوچ کر باہر نکال لیا۔ زوناش کا دل خون سے بھرا ہوا تھا۔ وہ دھڑک رہا تھا اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا تھا۔ کٹی پھٹی لاش نے دل والا ہاتھ بلند کر کے ایک فلک شگاف چیخ ماری اور غائب ہو گئی۔

زوناش نے گردن جھکا کر اپنے سینے پر نگاہ ڈالی۔ اس کے سینے کے شگاف میں سے خون بہہ رہا تھا۔ اور دھونکنی کی طرح پھولتے سکڑتے اسے اپنے پھیپڑے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ زوباش نے اپنی پوری طاقت اپنے دماغ میں مرکوز کر کے اپنے بدن کو ایک زور دار جھٹکا دیا۔ لاش نے اس پر جو طلسم کیا تھا وہ ٹوٹ گیا اور اس کے جسم کی طاقت واپس آگئی۔ زوناش کے سینے کے شگاف میں سے خون ابل ابل کر باہر آ رہا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ سینے کے شگاف پر رکھا اور بارہ دری کے احاطے سے نکل گیا۔

وہ بھاگنا چاہتا تھا تاکہ اس قبرستان سے جتنی تیزی سے نکل سکتا ہے اپنے آپ کو نکال کر لے جائے مگر وہ ایک خاص رفتار سے زیادہ تیز نہیں چل سکتا تھا۔ بارہ دری والی قبر کے احاطے سے نکلنے کے بعد زوناش قبروں کے درمیان سے گزرتا قبرستان کے گیٹ کی طرف بڑھا۔

گھبراہٹ میں زوناش کا پاؤں ایک قبر پر پڑ گیا۔ قبر اندر سے کھوکھلی تھی۔ وہ اپنے پورے جسم کے ساتھ قبر کے اندر گر پڑا۔ جیسے ہی وہ قبر کے فرش پر گرا اُسے اپنے اردگرد چیخوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ عورتوں اور مردوں کی ملی جلی آوازیں تھیں۔ آوازیں کبھی زوباش کے بالکل قریب آجاتیں اور کبھی دور ہو جاتیں۔

زوناش جلدی سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے پھٹے ہوئے سینے کا گہرا اور لمبا زخم سخت درد کر رہا تھا۔ زوناش کو پہلے کبھی درد کا احساس نہیں ہوا تھا۔ شاید قدرت اسے اس کے گناہوں کی سزا دے رہی تھی اور اس نے زوناش کے جسم میں درد کا احساس پیدا کر دیا تھا۔ زوناش کے چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا۔ اس نے ایک ہاتھ اپنے سینے کے زخم پر رکھا ہوا تھا، جہاں سے ابھی تک خون ابل رہا تھا۔ اس نے دوسرے ہاتھ کو آگے کر کے اندھیرے میں ٹٹولا اس کے آگے کوئی دیوار وغیرہ نہیں تھی۔ زوناش بائیں ٹانگ کو گھسیٹتا آگے بڑھا۔ اس کے سینے کے زخم میں سے درد کی ٹیسیں لہروں کی شکل میں اٹھ رہی تھی۔ اس کے حلق سے تکلیف دہ آوازیں نکلنے لگی تھیں، جیسے کسی آدمی کا خنجر سے سینہ چاک کیا جارہا ہو۔ یہ اس قسم کا اندھیرا تھا کہ زوناش کو بھی کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ اس گھپ آسیبی اندھیرے میں اپنے آپ کو گھسیٹتا ہوا ایک ایک قدم کر کے چلا جا رہا تھا۔

المناک چیخوں کی بھی قریب آتی، کبھی دور ہوتی آوازیں اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔ اس کے سینے کے گہرے زخم کی ٹیسیں اس کے سارے بدن میں پھیل گئی تھیں۔ اس کا سارا بدن پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ زوناش شدید عذاب کی حالت میں تھا۔ اسے ایک ایک کر کے اپنے سارے گناہ یاد آنے لگے تھے۔ ان سارے مردوں، عورتوں اور بچوں کی شکلیں اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر رہی تھیں جن کو اس نے بے دردی سے قتل کیا تھا۔

اندھیرا آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گیا۔ اندھیرے نے دھوئیں کی شکل اختیار کرلی۔ اس دھوئیں میں مردہ لاشوں کی بدبو تھی۔ زوناش نے پہلی بار اپنا دم گھٹتا محسوس کیا۔ اس کا ایک ہاتھ سینے کے زخم پر تھا جس پر اس کے سینے کے زخم سے نکلتا ہوا خون جم چکا تھا۔ دوسرے ہاتھ کو وہ دھوئیں میں ٹٹولنے کے انداز میں دائیں بائیں اور آگے ہلاتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ اچانک اس کا ہاتھ کسی بالوں بھرے جسم سے ٹکرایا۔ زوناش ہانپتے ہوئے وہیں رک گیا

اس نے بالوں بھرے جسم کو ٹٹولا،

بالوں کے اندر ایک سانپ چھپا ہوا تھا۔ زوناش کا ہاتھ سانپ سے ٹکرایا تو سانپ نے پھنکار ماری اور اس کے ہاتھ پر ڈس دیا۔ زوناش نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔

اس کے ہاتھ میں سے درد کی ٹیس اٹھی اور زوناش کے حلق سے ایک ڈراؤنی چیخ نکل گئی۔ وہ پاگلوں کی طرح دیوانہ وار آگے بڑھا۔ مگر وہ زیادہ تیز نہیں چل سکتا تھا۔ اس کی بائیں ٹانگ کا زخم جہاں گولی لگی تھی اب وہ بھی درد کرنے لگا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے زوناش کے سارے گناہ بیدار ہو گئے تھے اور زخموں کے درد کی شدید ٹیسیں بن کر اس کے سارے جسم کو ہچکولے لگا رہے تھے۔

دھوئیں کے کثیف بادل چھٹ گئے۔ زوناش نے دیکھا کہ وہ دہکتے ہوئے سرخ لاوے کے بہت بڑے گڑھے کے کنارے پر کھڑا ہے۔ گڑھا لاوے سے بھرا ہوا تھا۔ لاوا کھول رہا تھا۔ اس میں سے سسکار کی لرزہ خیز آواز کے ساتھ گندھک کا دھواں اٹھ رہا تھا۔ کھولتے ہوئے سرخ لاوے کی تپش سے زوناش کو اپنا جسم جلتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ لاوے کے گڑھے کے کنارے کنارے اپنے آپ کو گھسیٹ کے کچھ دور لے گیا۔ وہاں ایک تاریک غار کا دہانہ تھا۔ غار کے اندر سے دل پر دہشت طاری کر دینے والی دبی دبی چیخنے کی آواز آ رہی تھیں۔ زوناش غار کے دہانے کے قریب سے ہو کر آگے نکل جانا چاہتا تھا۔ وہ گھسٹ گھسٹ کر چلتا غار کے قریب سے گزرا تو اسے سامنے سے ایک دھکا لگا اور وہ پیچھے کو گرتا گر تا سنبھل گیا۔ کسی غیبی طاقت نے اسے دھکا دیا تھا۔ جس نے اسے دھکا دیا تھا وہ اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اچانک غار کے تاریک دہانے میں سے چیخ کی آواز بلند ہوئی۔ زوناش نے غار کی طرف دیکھا یہ کسی بچے کی چیخ کی آواز تھی۔ غار میں سے دھوئیں کا ایک چھوٹا سا مرغولا نمودار ہوا۔ دھوئیں کے مرغولے نے گھومتے گھومتے ایک بچے کی شکل اختیار کرلی۔ یہ بچہ فضا میں چکر لگاتا گھومتا زوناش کی آنکھوں کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔ بچے کا گلا آدھا کٹا ہوا تھا۔ اس میں سے خون ابل ابل کر اس کے سارے جسم پر بہہ رہا تھا۔ بچے کے منہ سے بڑی درد ناک آوازیں نکل رہی تھیں۔ بچے کی شکل اور اس کی خون آلود آدھی کٹی ہوئی گردن دیکھ کر زوناش کو یاد آگیا یہ وہی بچہ تھا جس کو اس نے قتل کیا تھا۔ ماضی میں جب وہ بڑا سفاک قاتل تھا اور لوگوں کو بے دریغ قتل کر رہا تھا تو وہ ایک طوفانی بارش والی رات کو ایک گھر میں داخل ہوا۔ گھر میں صرف ایک عورت اور ایک بچہ ہی تھا۔ عورت بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ زوناش پر خون سوار تھا۔ اس نے سب سے پہلے عورت کو بالوں سے پکڑ کر ایک طرف گھسیٹا اور خنجر کے پے در پے وار کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بچہ فرش پر پڑا زور زور سے رو رہا تھا۔ زوناش نے غصے میں آکر بچے کو اٹھا کر اس کی گردن پر خنجر کا وار کیا اور اسے فرش پر پٹخ دیا۔ بچے کی آدھی گردن کٹ چکی تھی اور اس میں سے خون فوارے کی طرح ابل رہا تھا۔ زوناش کو بچے کی شکل یاد تھی جب وہ بچے کی گردن پر خنجر کا وار کرنے لگا تھا تو عجیب بات ہوئی تھی۔ بچہ روتے روتے ایک دم چپ ہو گیا تھا اور اس نے حیرت زدہ آنکھوں سے زوناش کی طرف دیکھا تھا۔ زوناش نے دوسرے ہی لمحے اس کی گردن پر خنجر کا وار کر دیا تھا اور اس کو فرش پر پھینک دیا تھا۔ یہ وہی بچہ تھا۔ زوناش کا دماغ اس بچے کو دیکھ رہا تھا۔ بچے کی گردن اسی طرح آدھی کئی ہوئی تھی۔ خون فوارے کی طرح ابل رہا تھا۔ زوناش کے سامنے آکر بچہ ایک دم چپ ہو گیا۔ اس نے حیرت زدہ آنکھوں سے زوناش کی طرف دیکھا اور پھر اس نے اپنا چھوٹا سا بازو فضا میں بلند کیا۔ خدا جانے کہاں سے بچے کے ہاتھ میں ایک خنجر آگیا تھا۔ زوناش نے خنجر کو بھی پہچان لیا۔ یہ وہی خنجر تھا جس سے اس نے بچے کو قتل کیا

زوناش کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا تھا۔ وہ بھاگ جانا چاہتا تھا مگر اس کے پاؤں زمین نے جکڑ لئے تھے۔ بچے کے حلق سے ایک چیخ بلند ہو گئی اور خنجر کے ایک ہی وار سے زوناش کی آدھی گردن کاٹ ڈالی۔ زوناش کی کئی ہوئی گردن سے خون کا فواره ابل پڑا۔ زوناش کے حلق سے ایسی آواز بلند ہوئی جیسے کسی ایسے اونٹ کے حلق سے نکلتی ہے جب اس کو زبح کیا جارہا ہو۔

بچہ غائب ہو گیا۔ اس کا سارا کٹا پھٹا جسم جھنجھنا اٹھا۔ وہ گھسٹنے لگا۔ آگے ایک اور غار کا تاریک دہانہ آگیا۔

اس غار میں سے دھواں نکل رہا تھا۔ اچانک اس دھوئیں میں سے ایک بوڑھی عورت باہر نکلی۔ اس کی کمر جھکی ہوئی تھی۔ وہ لاٹھی ٹیک کر چل رہی تھی۔ بوڑھی عورت نے زوناش کی طرف لاٹھی کا اشارہ کیا۔ زوناش اسے دیکھنے لگا۔ عورت کو دیکھتے ہی زوناش کا جسم دہشت اور عذاب کے خوف سے برف کی ماند سرد ہو گیا۔ اُس نے اس عورت کو پہچان لیا تھا۔ اس عورت کا دریا کے کنارے ایک مکان ہوا کرتا تھا۔ یہ بیوہ عورت تھی اور محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتی تھی۔ اپنی سنگ دلی اور سفاکی کے ایام میں زوناش ایک رات اس عورت کے مکان میں داخل ہوا۔ عورت سو رہی تھی۔ زوناش نے عورت کو ٹھوکر مار کر جگایا اور کہا کہ “تمہارا آخری وقت آن پہنچا ہے۔”

زوناش بغیر کسی وجہ کے لوگوں کو قتل کرتا پھرتا تھا۔

عورت ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ قضا سر پر پہنچ گئی ہے تو اس نے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہا۔ ” مجھے نہ مارو۔ میرا بیٹا پردیس گیا ہوا ہے اور کل گھر واپس آ رہا ہے۔ مجھے اپنے بیٹے سے مل لینے دو۔ اس کے بعد بے شک مجھے قتل کر دیا۔ ” مگر زوناش اس وقت پورا خونی درندہ بن چکا تھا۔ اس نے خنجر نکال کر بوڑھی عورت کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ بوڑھی عورت سکتے میں آگئی۔ زوناش نے خنجر کھینچ لیا اور دوسرا وار اس کی گردن پر کیا۔ اس کی گردن آدھی کٹ کر ڈھلک گئی۔ بوڑھی عورت کا خون آلود جسم ذرا سا تڑپا اور ٹھنڈا ہو گیا۔

یہ وہی عورت تھی۔ زوناش نے اسے پہچان لیا تھا۔ عورت بالکل سیدھی کھڑی ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ عورت سے ایک چھوٹا سا چمگادڑ بن گئی۔ چمگادڑ نے ہوا میں غوطہ لگایا اور باریک چیخ کی آواز نکالتی ہوئی زوناش کے سینے کے شگاف میں سے اس کے کٹے پھٹے جسم کے اندر داخل ہو گئی۔ اس نے زوناش کے جسم کے اندرونی اعضا کھانے اور خون پینا شروع کر دیا۔ زوناش شدت درد سے کراہنے لگا۔ چمگادڑ اس کے جسم کے اندر اعضا کو نوچ رہی تھی۔

وہ اس کے دونوں گردے اور پھیپڑے کھا گئی۔ اس کے بعد وہ زوناش کے سینے کے شگاف سے نکلی اور اس کی گردن کے خون آلود زخم سے چمٹ گئی اور اس کا خون پینا شروع کر دیا۔ زوناش کا سارا جسم ایک جگہ جیسے ساکت ہو گیا تھا۔ درد کی شدید لہریں اس کے جسم کے ذرے ذرے سے اُٹھ رہی تھیں۔ مگر اس میں اتنی سکت بھی نہیں تھی کہ ہاتھ ہلا کر اپنی گردن سے چمٹی ہوئی چمگادڑ کو پرے ہٹا سکے۔ جب زوناش کے جسم کے گوشت اور اس کے خون سے چمگادڑ کا پیٹ بھر گیا تو وہ غوطہ لگا کر غار کے دھانے کی تاریکی اور دھوئیں میں گم ہو گئی۔

” زوناش جس کے جسم میں دس آدمیوں کی طاقت تھی نقاہت سے گرنے لگا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن وہ گر پڑا۔ نہ جانے کتنی دیر اسی طرح زمین پر پڑا رہا اور درد کے عذاب سے تڑپتا رہا۔ پھر جیسے کسی نی اسے پکڑ کر اٹھا دیا۔ وہ اپنے پاؤں کے سہارے کھڑا ہو گیا۔ مگر اس کا جسم خوف عذاب اور درد کی شدت سے ڈول رہا تھا۔ اس کے پھٹے ہوئے پیٹ، سینے کے شگاف اور کٹی گردن کے زخم میں سے درد کی چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں۔ زوناش خود کشی کر کے اس ناقابل برداشت عذاب سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا مگر عدل کرنے والی ہستی نے زوناش کی ساری طاقتوں اور اس کے ارادوں کو سلب کر لیا تھا۔ وہ جو چاہتا تھا، نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اپنے عبرت ناک انجام کا خود تماشائی بن گیا تھا۔ معصوم بچوں، سینکڑوں بے گناہ انسانوں کو قتل کرنے والا انسان اس جہنم سے باہر نکل کر بھاگ جانا چاہتا تھا، مگر وہ بھاگ نہیں سکتا تھا۔ ایک جہنم ختم ہوتا تھا تو دوسرا شروع ہو جاتا تھا۔ ایک دوزخ ختم ہوتی تو دوسری دوزخ شروع ہو جاتی تھی۔

یہ اس کے اپنے پیدا کئے ہوئے جہنم تھے جس کے عذابوں میں وہ مبتلا تھا۔ یہ اس کی اپنی لگائی ہوئی آگ تھی جس کے شعلوں میں وہ جل رہا تھا۔ اس کی ٹانگوں میں تھوڑی سی طاقت آگئی تھی۔ وہ اسی طاقت کے سہارے آہستہ آہستہ اپنی ایک ٹانگ کو گھسیٹ گھسیٹ کر چلنے لگا۔ اُس کے ارد گرد ایک بار پھر اندھیرا چھانے لگا تھا۔ اس اندھیری فضا میں ہر قسم کی دبی دبی گھٹی گھٹی رونگٹے

کھڑے کر دینے والی آوازیں آرہی تھیں۔ آہستہ آہستہ اندھیرا دنیا کی تاریک ترین رات سے بھی زیادہ سیاہ ہو گیا۔ اس اندھیرے میں سینکڑوں انگاروں جیسی دہکتی شعلہ بار آنکھیں گھومتی گردش کرتیں اس کے قریب آتیں اور پھر واپس چلی جاتیں۔ اس آسیبی اندھیرے میں اچانک ایک چڑیل کا ڈراؤنا چہرہ نمودار ہوا۔ اس کے بال کھلے تھے۔ اس کے کان کندھوں تک لٹک رہے تھے۔ اس کی آنکھوں سے لال دہکتے ہوئے انگارے تھوڑی تھوڑی دیر بعد جھڑ رہے تھے۔ اس کی ناک غائب تھی۔ ناک کی جگہ ایک تکونا گڑھا پڑا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ اس کے پاؤں الٹے تھے۔ وہ اندھیرے میں الٹے پاؤں چلتی چیختی چلاتی خنجر لہراتی زوناش کے سامنے آئی اور خنجر کے ایک ہی وار سے زوناش کی ناک کاٹ کر اندھیرے میں غائب ہو گئی۔ زوناش اپنی جگہ پر لڑکھڑا گیا۔ اس کی ناک سے خون نکل نکل کر اس کے حلق میں گرنے لگا اور پھر اس کے منہ سے باہر بنے لگا۔ درد اذیت اور عذاب ایک خاص انتہا تک پہنچ گیا تھا، مگر ایک خاص انتہا تک پہنچنے کے بعد پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔ وہ اس ہیبت ناک ماحول سے نکلنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔۔

اسے اپنی ٹانگوں کی طاقت ختم ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔

پھر بھی وہ کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو گھسیٹتا ہوا آگے چل پڑا۔ ٹیلے کے غار ختم ہو گئے تھے۔ تاریکی چھٹ گئی تھی۔ وہ ایک ویران بے آب گیاہ چھوٹے سے میدان میں آگیا تھا۔ یہاں جگہ جگہ چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں سی بنی ہوئی تھیں۔ ڈھیریاں مٹی کی تھیں۔ وہ قبریں نہیں تھیں مگر قبریں لگتی تھیں۔ زوناش ان ڈھیریوں میں سے گزر کر ذرا آگے گیا تو بادلوں میں بڑے زوردار کڑا کے کے ساتھ بجلی چمکی۔ اس کے دو سکینڈ بعد بادلوں میں اتنے زور کا دھماکہ ہوا کہ لگتا تھا آسمان پھٹ پڑا ہے۔ زوناش کانپ گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے بائیں جانب سے سیاه آندھی اٹھی جس نے آناً فاناً ساری فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہر طرف تاریکی چھا گئی۔ طوفانی بگولے زوناش کے چاروں طرف چیختے چلاتے شور مچاتے گردش کر رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے زمین کے نیچے سے تمام بلائیں چڑیلیں نکل آئی ہیں۔ زوناش کو ایک گردش کرتے بگولے نے زمین سے اٹھا لیا اور اس کے ساتھ زوناش بھی گردش کرنے لگا۔ بگولا زوناش کو لے کر اوپر ہی اوپر چلا جا رہا تھا۔ پھر وہ نیچے اترنے لگا۔ بگولے کے اندر اس کی گردش انتہائی تیز تھی۔ نیچے آتے آتے بگولے کی رفتار اور تیز ہوتی گئی اور اس نے زوناش کو زمین پر گرا دیا۔ زوناش جیسے ہی زمین پر گرا سیاہ آندھی اور طوفانی ہوائیں چیختی چلاتی غائب ہو گئیں۔ زوناش نے دیکھا کہ رات کا وقت ہے۔ آسمان کو سیاہ بادلوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ زمین پر کہرے کی یخ بستہ چادر پھیلی ہوئی ہے۔ بادلوں میں اچانک بجلی چمکی تو زوناش نے دیکھا کہ وہ اسی قبرستان میں ہے جس قبرستان کے مردوں کے ٹکڑے کاٹ کر اسے بنایا گیا تھا اور اسے عفریت نما انسانی شکل دی گئی تھی۔ زوناش بڑی مشکل سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا پیٹ پسلیوں سے لے کر ناف تک کھلا ہوا تھا۔ انتڑیاں پیٹ سے باہر نکل کر مردہ سانپوں کی طرح لٹک رہی تھیں۔ سینے اور گردن کے شگاف پر خون بہہ بہہ کر جم چکا تھا۔ وہ اپنی بائیں ٹانگ کو آہستہ آہستہ گھسیٹتا ہوا چل پڑا۔ سرد رات میں کہرے کی باریک چادر نے قبروں کو پتلے کفن کی چادر کی طرح ڈھانپ رکھا تھا۔ قبروں کے کتبے اور سلیبیں کہیں کہیں سے باہر کو نکلی ہوئی تھیں۔ اچانک قبرستان کی تاریک سرد رات کی خوفناک خاموشی میں ایک طرف سے عورتوں مردوں کے بین کرنے کی دھیمی دھیمی آوازیں سنائی دیں۔ آواز دور سے آ رہی تھیں، جیسے کوئی جنازہ لایا جا رہا ہو۔ بجلی ایک دم سے چمکی۔

قبرستان کی ویران فضا روشن ہو کر بجھ گئی۔ بین کرنے کی آوازیں آہستہ آہستہ زوناش کے قریب آرہی تھیں۔ زوناش دیوانوں کی طرح دائیں بائیں سرمارنے لگا۔ آوازیں تیز سے تیز تر ہو گئیں اور پھر گرجتے شور مچاتے بادل کی طرح اس کے اوپر سے ہو کر گزر گئیں۔ زوناش کے حلق سے فلک شگاف چیخ نکل گئی۔ یہ خوف اور دہشت کی چیخ تھی۔ زوناش کا جسم اپنے گناہوں کے عذابوں کے زخموں سے چور چور ہو چکا تھا۔ اس کی

شخصیت اس کا جسم ہر چیز مسخ ہو چکی تھی۔ وہ موت کا طلب گار تھا مگر اسے موت نہیں آرہی تھی۔ کہرے اور تاریکی کی ملی جلی فضا میں زوناش نے دیکھا کہ ایک قبر ہے جس کے پاس ایک ایسی لاش کھڑی ہے جس کے دونوں بازو غائب ہیں۔ لاش کے پہلو میں ایک سیاہ فام دوسری لاش کھڑی ہے جس کے ایک ہاتھ میں چمکتی ہوئی تلوار ہے۔ دونوں لاشیں آہستہ آہستہ چل کر زوناش کو دیکھ رہی تھی۔

پھر لاش ڈراؤنی آواز میں بولی “میں وہ مردہ ہوں جس کے بازو کاٹ کر تمہیں لگائے گئے تھے۔ میں اپنے بازو واپس لینے آیا ہوں۔”

لاش نے اپنی ساتھی لاش کو اشارہ کیا۔ دوسری لاش نے تلوار کے پہلے وار سے زوناش کا پہلا بازو اور دوسرے وار سے اس کا دوسرا بازو کاٹ دیا۔ لاش نے دونوں بازو اٹھائے اور دونوں لاشیں اپنی اپنی قبروں کی طرف واپس چلی گئیں اور تاریکی میں غائب ہو گئیں۔

زوناش کے دونوں بازو کٹ چکے تھے۔ اس کی ساری توانائیاں، ساری طاقتیں، ساری مدافعتیں ختم ہو چکی تھیں۔ وہ اپنی حالت زار کا آپ تماشائی بن چکا تھا۔ وہ بے بسی کی حالت میں اپنی ٹانگ کو گھسیٹتا ہوا دو قدم آگے گیا تھا کہ ایک اور قبر کے پاس ایک لاش ہاتھ میں لاٹھی پکڑے کھڑی تھی۔ وہ لاٹھی کے سہارے چلتی زوناش کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی۔ زوناش نے اپنی نیم مردہ نیم وا آنکھوں سے دیکھا کہ لاش کی دونوں آنکھیں غائب تھیں۔ آنکھوں کی جگہ وہاں دو گڑھے پڑے ہوئے تھے۔

لاش نے زوناش سے مخاطب ہو کر کہا۔ “زوناش! میں وہ مردہ ہوں جس کی آنکھیں نکال کر تمہیں لگا دی گئی ۔ میں اپنی آنکھیں واپس لینے آیا ہوں۔”

زوناش بے حس و حرکت کھڑا رہا تھا۔ وہ سوائے دیکھنے کے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ لاش نے لاٹھی پھینک دی اور دونوں ہاتھ آگے کر کے چہرے کو ٹٹولا اور پھر فوراً اس کی دونوں آنکھوں کے ڈھیلے اپنی مٹھی میں سنبھالے اور لاٹھی ٹیکتی اپنی قبر کی طرف واپس چلی گئی اور چلتے چلتے اپنی قبر کے پاس پہنچ کر غائب ہو گئی۔ زوناش اندھا ہوچکا تھا۔ وہ حواس باختہ کچھ دیر وہیں ایک لاش کی طرح کھڑا رہا۔ پھر گھسٹ گھسٹ کر چلنے لگا اور دو تین قبروں کے قریب سے گزر گیا۔ اچانک اندھیرے میں ایک اور لاش نمودار ہوئی۔ وہ بیساکھیوں کے سہارے کھڑی تھی۔ اس کی دونوں ٹ

ٹانگیں غائب تھیں۔

زوناش کو ایک ڈراؤنی آواز سنائی دی “زوناش! رک جاؤ۔ میں وہ مردہ ہوں جس کی ٹانگیں تمہیں لگائی گئی تھیں۔میں اپنی ٹانگیں واپس لینے آیا ہوں۔”

زوناش وہیں رک گیا۔ لاش کے ایک ہاتھ میں تلوار تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر تلوار کے دو وار کئے اور زوناش کی دونوں ٹانگیں کٹ کر گر پڑیں۔ زوناش ساتھ ہی نیچے گر پڑا۔ لاش نے دونوں ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھوں پر ڈالیں اور بیساکھیوں کے سہارے چلتے ہوئے اپنی قبر کے پاس جا کر غائب ہو گئی۔ زوناش زمین پر اس حالت میں پڑا تھا کہ نہ چل سکتا تھا، نہ اٹھ سکتا تھا، نہ یکھ سکتا تھا، صرف سوچ سکتا تھا۔ اس کا دماغ ابھی تک کام کر رہا تھا۔ اسے محسوس رہا تھا کہ وہ ایک اندھے کنوئیں میں گرا ہوا ہے اچانک اسے ایک اور لاش کی آواز سنائی دی۔ یہ لاش اس کے بائیں جانب سے قبرستان کے اندھیروں میں سے نکلی کر آئی تھی۔ اس لاش کا سر غائب تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں تلوار تھی۔

لاش نے ڈراونی آواز میں کہا۔

“زوناش میں وہ مردہ ہوں جس کا سرکاٹ کر تمہیں لگایا گیا تھا۔ میں اپنا سر واپس لینے آیا ہوں۔”

اس کے ساتھ ہی زوناش کی گردن پر تلوار کا ایک زور دار وار پڑا اور اس کا سر تن سے جدا ہو گیا۔ لاش نے زوناش کا کٹا ہوا سر اٹھایا اور جدھر سے آئی تھی اس طرف اندھیرے کی طرف چل۔پڑی۔ زوناش کا باقی بچا ہوا بےجان مردہ جسم زمین پر بے حس و حرکت پڑا تھا اور لاش اس کے کٹے ہوئے سر کو بغل میں دبائے اپنی قبر کی طرف جا رہی تھی اور زوناش کے دماغ سے نکلتی ہوئی لہریں جو اسے لوگوں کے قتل پر آمادہ کیا کرتی تھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اُس کا ساتھ چھوڑ چکی تھیں

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *