وجیہہ اقبال
بنارس کی رات تھی۔ گنگا کے کنارے واقع مانیکا رنیکا شمشان گھاٹ پر ہر وقت کی طرح دھواں اٹھ رہا تھا۔ درجنوں چتائیں جل رہی تھیں، آگ کی لپٹیں آسمان کو چھو رہی تھیں اور فضا جلے ہوئے گوشت کی بدبو سے بوجھل تھی۔ جلتی لکڑیوں کی چٹخ اور شعلوں کی لپک میں انسان کے وجود کی بے بسی چیخ رہی تھی۔ادھر راجیش اپنی ماں کی لاش لے کر آیا۔ لکڑیاں مہنگی تھیں، اس لیے چتا آدھی ہی جلی کہ پنڈت نے بانس سے دھکا دے کر لاش کو گنگا میں بہا دیا۔ آدھی جلی کھوپڑی پانی پر ابھری اور پھر لہروں میں ڈولنے لگی۔ قریب ہی درجنوں لاشیں تیر رہی تھیں۔اگلی صبح وہی پانی یاتریوں نے اپنے جسم پر ڈالا، پیا اور “پاپ دھونے” کے نعرے لگائے۔ لیکن شام ڈھلے شہر میں بخار، کھانسی اور خون کی خبریں پھیلنے لگیں۔ جو صبح گنگا میں اشنان کر کے “پاک” ہوئے تھے، شام کو لاشوں کے ڈھیر میں بدل گئے۔ اور اس رات… کچھ سایے گھاٹ پر نظر آئے جو انسانوں کے نہیں تھے۔انہی لمحوں میں ایک سادھو نمودار ہوا۔ وہ اگھوری فرقے سے تعلق رکھتا تھا — وہ لوگ جو شمشان کو اپنا گھر بناتے، مردہ گوشت کھاتے، اور کھوپڑیوں سے اپنے عمل کرتے۔ سادھو کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ شیو کا وارث ہے۔ اکثر ادھ جلی لاشوں کے ٹکڑے نکال کر الاؤ کے پاس کھاتا۔ اس کی آنکھوں میں ایک وحشی غرور تھا جیسے موت کو بھی مات دے دے۔لیکن ایک رات اس کے سامنے ایک اور ہستی نمودار ہوئی۔ ایک بدروح، جو کسی عام انسان کی نہیں تھی بلکہ ایک دانترک کی تھی۔ وہ دانترک جس نے اپنی پوری زندگی کھنڈرات میں کالے عملیات کرتے گزار دی، شادی نہ کی، اولاد نہ ہوئی، بس ایک ہی خواب رکھا — سب سے طاقتور بننے کا۔ مگر ایک دن اس کا عمل الٹا پڑا، اور وہ وہیں ہلاک ہو گیا۔ اس کی لاش کھنڈرات کے پاس پڑی رہ گئی، اور روح قید ہو گئی۔روح نے سرگوشی کی:”سادھو… تجھے لگتا ہے تو سب سے بڑا ہے؟ اگر مجھے آزاد کرنا چاہتا ہے تو میری شرطیں مان۔”سادھو نے قہقہہ لگایا:”میں کیوں مانوں تیری؟ میں شیو کا وارث ہوں، روحوں کا مالک ہوں!”سادھو نے غرور سے اس بھٹکتی ہوئی روح کو تڑپانے کا سوچا لیکن اس وقت اسکے خوف سےاس کے حواس مدھم پڑ گئے جب اس نے دیکھا کہ دانترک پہ اسکا پر عمل بیکار ہے وہ چاہ کے بھی بھاگ نا سکا ایک شیطانی طاقت میں جکڑا گیا اب مرتا کیا نا کرتا زندگی بچانے کی خاطر اس نے دانترک کی ساری شرائط ماننے کا وعدہ کرلیا اس نے سوچا تھا کہ وہ یہاں سے نکل کے کوئی ایسی ودھی (رسم) تلاش کرے گا جس سے اس کا توڑ ہو سکے گا اور وہ اس سے باآسانی چھٹکارا حاصل کر لے گا ٹھیک ہے میری زندگی بخش دو مجھے منظور ہے تمہاری تمام شرائطروح کی آواز گونجی:میں نے اپنی زندگی میں تمام شیطانی کام کیے ہیں میں نے بہت لوگوں کے خاندان اجاڑے ان کے گھر برباد کی ہے میرے پاس بہت لوگ آتے تھے جو حسد یا نفرت کی وجہ سے اپنے رشتے داروں سے یا جن سے بدلہ چاہتے ان پہ مجھ سے برا عمل کرواتے تھے اور اس کے معاوضے میں مجھے بہت کچھ پیش کیا جاتا تھا جو میں ایک کھنڈر میں جمع کرتا رہا تمہیں اس سارے مال کو کھنڈر سے واپس جانا ہوگا وہاں محض وہ مال نہیں جو میں نے ان لوگوں سے معاوضے کے طور پر لیا تھا بلکہ میں نے بہت سے لوگوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر بھی وہاں مال جمع کر رکھا ہے لوگوں کے سسکیاں اج بھی میری روح کو مکتی نہیں ملنے دے رہی مجھے ازاد کرواؤ میں بہت دنوں سے یہاں پہ ہوں لیکن تمہارے علاوہ اور نہ مجھے کوئی سن سب کا نہ دیکھ سکا یہ طاقت محض تمہارے پاس ہے”پہلی شرط: وہ خزانہ جو میں نے عملیات سے جمع کیا، وہ غریبوں کو دینا ہوگا کیونکہ تم جتنے بھی طاقتور ہو جاؤ تم چاہ کے بھی اس بات کا پتہ نہیں کرسکتے کہ جن خاندانوں پہ میں نے شیطانی عمل کیے ہیں وہ کون ہے کہاں ہے زندہ ہے یا نہیں ہےیہ جملہ سنتے ہی سادھو کے جسم میں غصے سے کرنٹ دوڑا لیکن یہ حقیقت بھی تھی جس نے اسے پہلی مرتبہ غرور سے باہر کھینچا اس جملے کا وار اس کی روح تک ہو چھلنی کر چکا تھا وہ جو خود کو طاقتور سمجھتا تھا اج اسے کسی نے کمزور ثابت کر دیادوسری شرط: جن خاندانوں پر میں نے جادوئی سائے ڈالے، انہیں آزاد کرنا ہوگا۔تیسری اور آخری شرط: میری لاش، جو آج بھی حادثے کی جگہ پر موجود ہے میں ایک ایسی وی تھی کر رہا تھا جو میرے لیے جان لیوا ثابت ہوئی میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا مجھے لگتا تھا میں موت کو ٹکر دے سکتا ہوں کیونکہ شیطان میرا ساتھی ہے جس کی طاقت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا لیکن میں غلط ثابت ہوا میری ودھی مجھے پر الٹی پڑ چکی تھی شاید کسی نیک انسان پر اس کا اثر نہ ہواسادھو کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے یہ محض ایک روح کے آخری سفر کی کہانی نہیں تھی بلکہ سادھو کی ساری طاقتوں کے خاتمے کی کہانی تھی اور وہ اس بات سے انجان تھا وہ جیسے ہی واپس گیا اس نے اپنا ساتھی سادھو سے اس معاملے پر بات کی اس وقت اس کے پاس کئی دانترک اور سادھو موجود تھے جو سب اس روح کے سامنے بے بس تھے ان کی ہر کوشش ہر عمل ناکام رہا اور ساتھی اس بات سے انجان تھا کہ اس کی ہر حرکت پر دانتریک کی نظر ہے اسے اندازہ ہی نہیں تھا جس سے وہ شمشان گھاٹ پر چھوڑ کے ایا اور واپس جا کر وہیں ملے گا وہ تو ہر وقت اس کی پرچھائی بن کر گھوم رہا ہے اب وہ بے بس تھا اخر اسے دانتری کی بات ماننی ہی پڑی اور یہاں سے اسے اپنا پہلا سفر شروع کیا کھنڈرات کی جانبکھنڈرات کا سفروہ کھنڈرات کی طرف نکلا۔ جگہ سنسان تھی، ویرانی اور سڑاند سے بھری۔ جوں ہی اس نے قدم رکھا تو اسے علم ہوا وہ کھنڈرات محض ایک سنسان جگہ نہیں بلکہ شیطانی قوتوں کا گھر ہے وہاں سے اسے وہ مال نکالنا تھا جسے خود دانترک نے اپنے عمل سے باندھ رکھا تھا کوئی بھی جانے انجانے میں اسے ہاتھ نہ لگا سکے کھنڈرات کے ماحول میں ایک عجیب سی سرگوشی تھی کہ اچانک عجیب و غریب واقعات شروع ہوئے ہوا میں عورتوں کے رونے کی آوازیں گونجنے لگیں۔تو کبھی کسی زہریلے جانور کے روپ میں پرچھائی دکھائی دیتی ہر سایہ کہہ رہا تھا:”یہ مال ہمارا ہے… لوٹا دے…”سادھو لرز گیا مگر آگے بڑھا۔بالاخر خزانہ مل گیا — سونے کے سکے اور نایاب جواہرات۔ وہ اسے تکتا رہا۔ دل میں ایک جنگ چھڑ گئی۔اس کے غرور نے کہا:”یہ دولت تیری پہچان ہے، اگر یہ نہ رہی تو تو کچھ بھی نہیں۔”اس کی روح نے کہا:”طاقت نے تجھے سکون نہیں دیا، دولت نے تجھے بے چین کیا۔ چھوڑ دے۔”پسینہ اس کے ماتھے سے بہنے لگا۔ یادیں لوٹ آئیں — ماں باپ، بہن بھائی، جنہیں چھوڑ کر وہ سادھو بنا تھا۔ اس نے ایک سادہ زندگی کی بجائے شیطانی قوتوں کا سہارا لیا، لیکن آج وہی قوتیں اس کے لیے آزمائش بن چکی تھیں۔ دوسرے سادھو اور دانترک بھی اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے، کیونکہ سب اس دانترک کی روح سے خائف تھے۔اب کا مور سادھو کی زندگی بدل دینے والا تھا جہاں ساری شیطانی قوتیں اس کو تنہا چھوڑ کر جا رہی تھی وہ قوتیں جس کی خاطر اس نے اپنے خاندان سے بغاوت کی پوری دنیا کے رسم و رواج کو چھوڑاوہ بہت ہمت کر کے مندر میں گیا اور پنڈت کو پوری روداد سنادیوہ چاہ کہ بھی مال تقسیم نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہ تمام رسومات اب پنڈت کے ہاتھوں ہونا لازمی تھیآخرکار اس نے خزانہ پنڈت کے حوالے کیا۔ پنڈت نے وہ سب غریبوں میں بانٹ دیا۔ جیسے جیسے دولت بانٹی گئی، سادھو کی طاقت تحلیل ہوتی گئی۔—آخری شرطاب صرف ایک شرط باقی تھی — دانترک کی لاش۔مہینوں کی جستجو کے بعد وہ ملی۔ آدھی سڑی ہوئی، چہرے پر خوفناک جمی ہوئی مسکراہٹ۔ وہ لاش سادھو کو گھسیٹ کر لانی پڑی۔ جب وہ پنڈت کے سامنے پہنچا تو پنڈت نے گھاٹ پر چتا سجائی۔ آگ جلائی گئی، شعلے آسمان کو چھونے لگے۔ دھواں اٹھا اور اس کے ساتھ دانترک کی روح آزاد ہو گئی۔سادھو وہیں زمین پر گر پڑا۔ اس کے پاس نہ شکتی رہی نہ غرور۔ لیکن ایک عجیب سکون اس کے دل میں اتر گیا۔—نیا جنماب وہ زیادہ تر مندر کی سیڑھیوں پر بیٹھنے لگاتو کبھی عام لوگوں میں۔ کوئی مسلمان آتا، کوئی ہندو، کوئی عیسائی، سکھ ، سب کے لیے مددگار بنتا۔ بھوکوں کو روٹی دیتا، مسافروں کو پانی پلاتا۔وہ جان گیا تھا کہ اصل طاقت روحوں کو قید کرنے میں نہیں، دوسروں کے لیے جینے میں ہے۔اب وہ جا کے بھی نا اپنے خاندان سے مل سکتا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ سب کہاں ہے اور نہ ہی اپنے لیے اس عمر میں نیا گھر بسا سکتا تھا وہ لوگ جو عام زندگی جیتے تھے اسے کبھی بےقوف لگتے تھے اج اسے خوش قسمت دکھائی دیتےلوگ کہتے ہیں کہ وہ بے چین سادھو آخرکار جوگی بن گیا۔ اور یہ کہ کبھی کبھی بڑے خزانے چھوڑنے کے بعد ہی اصل سکون ملتا ہے


