جمال میرا دوست جو گزشتہ سال سے میرا ساتھی تھا وہ شہر اپنے کسی دوست کے ساتھ گھومنے گیا ہوا تھا۔اس لئے جاتے ہوئے مجھے بھی چلنے کی دعوت دی مگر میں نے اپنی طبعیت میں گرانی محسوس کرکے اس کا ساتھ دینے سے انکار کردیا اور آکر اپنے بستر پر لیٹ گیا اور لیٹے لیٹے بانو کے بارے سوچنے لگا اس کا پر خلوص مسکراتا ہوا چہرہ تصویر کی دنیا آباد کرنے لگا۔۔۔
اور اس کے ساتھ ہی میرے سخت گیر اور حریص طبعیت کے مالک ماموں کا چہرہ بھی ابھرا مرتے وقت جن کی سر پرستی میں دے کر مجھے والدین موت کی بھیانک سر زمین کے باسی بن چکے تھے۔۔سخت گیر ماموں بے اولاد ہونے کی وجہ سے میرے والدین کی چھوڑی ہوئی جائیداد اکیلا ہڑپ کرنے کی فکر میں رہتے اور آئے دن طرح طرح کی سازشیں کرتے رہتے۔میں ان دنوں بائیس سال کا ہوچکا تھا۔میرے ماموں نے میرے قتل کی سازش کی جا کی مجھے بر وقت خبر ہوگئی۔میں نے اس سازش سے بے خبر ہوکر اپنی اور ماموں جوکہ بوڑھے آدمی تھے اور قبر میں پاوں لٹکائے بیٹھے تھے۔ان کے نزدیک میری کوئی حثیت نہ تھی۔وہ مجبورا مجھے برداشت کررہے تھے حلانکہ میں اپنے خاندان کا آخری واحد فرد تھا۔جو کہ ان کے برے بھلے میں کام آسکتا تھا۔مگر کسی نے سچ کہا ہے کہ ہوس انسان کو تباہی اور بربادی کے راستے پر لے جاتی ہے اور میرا خیال تھا کہ میرے ماموں بھی اپنے کو بڑی تیزی سے تباہی کے راستے کی طرف دھکیل رہے تھے ۔۔۔
پھر میں نے سوچ کر اس حویلی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا کہ میرے ماموں مجھے اپنی راہ کا پتھر سمجھ کر مجھے ٹھکانے لگانے کے چکر میں حویلی کے ملازموں سے ماموں نے ساز باز کرلی تھی۔سوائے ایک بوڑھے مالی سلیم بابا کے۔باقی تمام لوگ میری جان کت دشمن تھے بابا ستر سال سے اوپر کے تھے۔ان کی وائف کو گزرے چالیس سال گزر چکے تھے۔انہوں نے میرے والد کو اپنی گود میں کھلایا تھا اور مجھے بھی۔صرف وہی ایسے تھے جو میرے سچے ہمدرد تھے۔ایک دن انہوں نے مجھے میرے قتل کی سازش سے آگاہ کرتے ہوئے مجھے کچھ زیورات لا کر دئیے اور مجھے رانی پور سے چلے جانے کو کہا۔میں نے ان زیورات کو لیتے ہوئے پوچھا۔سلیم بابا یہ زیورات کس کے ہیں ل۔۔؟؟
اور اتنے قیمتی زیورات آپ کو کہاں سے ملے؟
میرے سوال کے جواب میں ان کے چہرے پر لاتعداد سائے پھیل گئے۔پھر ایک سرد آہ بھر کے کہنے لگے۔یہ میرے پاس گزشتہ پچاس سال سے کسی کی امانت پڑے ہیں۔جنہیں امانتار رکھنے والا پچاس سال کے عرصے میں ایک بار بھی نہیں آیا۔اتنا طویل عرصہ ان کی حفاظت کے صلے میں مجھے یہ حق پہنچتا ہے۔انہیں جس طرح چاہوں استعمال کروں اور میں تمہیں اس کا صحیح حقدار سمجھتا ہوں اس لئے انہیں تمہارے سپرد کر رہا ہوں اور ساتھ ہی یہ نصیحت کر رہا ہوں۔چاہے تم کتنے ہی بڑے آدمی کیوں نہ بن جاو اور خود کو کتنے ہی طاقتور کیوں نہ محسوس کرو اپنی زندگی میں اپنے ماموں سے ملنے کی کوشش نہ کرنا۔میں جانتا ہوں کہ ان سے رابطہ نہ کرنے کی صورت میں تم کروڑوں کی جائیداد سے ہاتھ دھولو گے ۔
جاو میرے بچے کسی دور دراز علاقے میں جاکر اپنی نئی زندگی کا آغاز کرو اور ایک بار پھر تاکید کررہا ہوں۔کھبی بھول کر بھی اپنے ماموں اے ملنے کی کوشش نہ کرنا۔اس میں تمہاری زندگی کی بھلائی ہے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی اشکبار آنکھوں سے کہا۔جاو میرے عزیز بچے خدا تم پر ہمیشہ امن اور سلامتی کا سایہ رکھے۔
میں گریجویشن کر چکا تھا۔۔باشعور تھا۔۔میں بزدل نہیں تھا جو موت کے خوف سے بھاگ کر ساری زندگی کے لئے خود کو جلا وطن کرنے پر آمادہ ہو جاتا۔مگر میں سلیم بابا کا کہنا نہ ٹال سکا اور خاموشی سے رانی پور سے چلا آیا اور پھر میری ملاقات جمال سے ہوئی پہلی ہی ملاقات میں۔میں نے اپنی ذات کے لئے اس میں بے پناہ خلوص محسوس کیا اور بہت جلد ہم گہرے دوست بن گئے۔جمال ایک خوشحال گھرانے کا آزاد انسان تھا۔کراچی میں اس کا ایک فور اسٹار ہوٹل تھا۔اس کی دوستی نے روحانی طور پر مجھے تقویت دی ایسے عالم میں جبکہ میں دنیا میں تنہا تھا۔جمال کی پر خلوص ذات نے تنہائی کے اس زخم پر دوستی کا مرہم رکھ دیا تھا اور پھر جب اسے پتا چلا کہ میں ایک ہوٹل میں رہائش پذیر ہوں تو وہ زبردستی اصرار کے بعد مجھے اپنے گھر لے آیا۔مجھے رہنے کے لیے ایک کمرہ دے دیا گیا۔پھر وہیں میری ملاقات بانو سے ہوئی بانو جمال کی چچا زاد بہن تھی اور اس کے اخلاق و حسن کا میں گرویدہ ہوگیا اور میں رفتہ رفتہ ہم دونوں محبت کا شکار ہوگئے اور پھر جمال کی تجربہ کار نگاہوں سے ہمارے جذبے پوشیدہ نہ رہ سکے میں یہ جان چکا تھا کہ جمال خود بھی یہی چاہتا تھا۔اس نے ہماری محبت کا خیر مقدم کیا اور ہم دونوں ایک چھوٹی سی تقریب میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے…
ایک سال پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔میں نے کراچی میں ایک اسٹور کھول لیا تھا جس سے ہمیں معقول آمدنی ہوجاتی تھی۔زندگی بڑے سکون سے گزر رہی تھی۔ایک سال بعد خدا نے مجھے ایک پیاری سی بچی کا باپ بنا دیا جس کی آمد سے زندگی کی خوشیوں میں اضافہ کردیا۔۔
ایک دن میں اپنےضروری کاغذات تلاش کررہا تھا کہ کاغذات کے نیچے زیورات کی تھیلی نظر آئی جسے میں تقریبا بھول چکا تھا اور آج تک اسے کھولنے کی کھبی ضرورت ہی پیش نہیں آئی تھی۔جب میں اسے ہاتھوں سے پکڑے کھڑا سوچ رہا تھا کہ اس کا کیا کروں۔اچانک پشت پر میں نے کسی کے گہرے گہرے سانس لینے کی آواز سن کر مڑنا چاہا دیکھا تو بانو میرے سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی۔اچانک بانو کو سامنے پاکر خیال آیا کہ کیوں نہ یہ زیورات بانو کو گفت کردوں۔تو اسے خوشی ہوگی کیونکہ زیورات ہمیشہ سے عورت کی کمزوری رہے ہیں۔۔
چنانچہ اسی خیال کے تحت میں نئ زیورات کی تھیلی میز پر الٹ دی۔بانو اچانک ان پیش قیمت زیورات کو دیکھ کر حیرت سے گنگ رہ گئی اس نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔تم نے یہ زیورات کہاں سے حاصل کیے ہیں یہ تو کسی شاہی خاندان کے لگتے ہیں۔۔یہ ہماری خاندانی یادگار ہیں میں نے بات بنائی بانو ان زیورات کو پاکر بیت خوش تھی۔چند منٹ وہ انہیں حیرت اور مسرت بھری نگاہ سے دیکھتی رہی پھر ایک نیکلس نکال کر گلے مین پہن لیا۔نیکلس اس کی خوبصورتی میں اضافہ کررہا تھا اس نے پوچھا۔میں کیسی لگ رہی ہوں ۔۔؟
نیکلس اس کی صراحی دار گردن میں خوبصورت لگ رہا تھا اور مجھے رہ رہ کر خیال آرہا تھا کہ آج تک کیوں میں نے ان زیورات کو بانو کی نظروں سے دور رکھا جبکہ ایک نیکلس کی وجہ سے اس کی خوبصورتی میں چار چار چاند لگ گئے تھے۔۔ابھی میں اس نیکلس کو بانو کی خوبصورت گردن میں پہنے ہوئے تعریفی نظروں سے دیکھ رہا تھا کہ اچانک ملازمہ کی چیختی ہوئی آواز ہمارے کانو میں پڑی ہم دونوں آگے پیچھے بھاگتے ہوئے راہداری کی جانب لپکے جہاں ملازمہ زخمی حالت میں خون مین کے بچی ہاتھ میں اٹھائے لڑکھڑاتی ہوئی ہماری طرف آرہی تھی۔
ہم دونوں ملازمہ کو اس حالت میں دیکھ کر ٹھٹھک گئے ملازمہ اور بچی دونوں خون میں نہائے ہوئے تھے بانو چیختی ہوئی اس کی طرف بڑھی اور بے تابی سے اس زخمی بچی کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا بچی کے ساکت جسم کو دیکھ کر میں اندازہ لگا چکا تھا کہ بچی ہم سے بہت دور جاچکی ہے بچی ہاتھ سے نکلتے ہی ملازمہ زمین پر گر پڑی اور بھی آواز نکالے بغیر دنیا کی الجھنوں سے نجات پاگئی
میں اس ہولناک منظر کو دیکھ کر سکتے کے عالم میں کھڑا بت بن کر رہ گیا پھر اچانگ بانو کی چیخیں سن کر میرا سکتہ خوف ناک خیال ٹوٹا میں ٹھہرے ہوئے بوجھل قدموں کے ساتھ بانو کے قریب پہنچا اور ہاتھ بڑھا کر بچی کی لاش کو لینا چاہا مگر بانو نے بڑے وحشیانہ انداز میں مردہ بچی کو سینے سے لگا لیا اور ہذیانی انداز میں چیختی رہی اور چیختے چیختے ملازمہ کی طرح گر کے بے ہوش ہوگئی۔
میں نے فورا ڈاکٹر کو بلایا۔ڈاکٹر نے آتے ہی نیا المناک انکشاف کیا کہ ملازمہ اور بچی کی طرح بانو بھی اس صدمے کو برداشت نہ کرسکی اور بے ہوشی کی حالت میں اس جہاں فانی سے کوچ کرگئی۔اتنی دیر میں جمال کو اس سانحہ کی اطلاع دے دی گئی۔میں دیر تک اس کے شانےپر سر رکھ کر روتا رہا۔۔
بانو اور بچی کی اچانک موت سے سارا نظام زندگی معطل ہوکر رہ گیا تھا اس سانحے نے میرے جسم سے توانائی چھین لی تھی۔پولیس کے علاوہ ذاتی طور پر میں نے بھی اس المناک حادثے کی پوری تحقیق کرنے کی کوشش کی مگر کسی طرح بھی اس رازسے پردہ نہ اٹھ سکا کہ میری ملازمہ اور میری بچی کی موت کے کہا اسباب تھے اور کن حالات میں انہیں موت نے دبوچ لیا مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا اس حادثے کو چار ماہ گزر گئے۔ایک دن جمال آیا اس کا چہرہ معمول سے زیادہ چمک رہا تھا اس نے انکشاف کیا کہ اس کے دور کے چاچہ مرتے ہوئے اسے ایک وسیع جائیداد کا مالک بنا گئے تھے اور اب وہ مجھے لے کر ورلڑ ٹور پر جائے گا
تم ابھی تیاری شروع کر دو یہ کہہ کر اس نے بڑے بڑے نوٹوں کی ایک گڈی میرے ہاتھوں میں پکڑادی میں نے نرمی سے اسے سمجھایا ۔۔۔
دیکھوں اگر قدرت نے تمہیں ایک بڑی جائیداد کا مالک بنا دیا ہے تو اسے ضائع نہ کرو۔۔میں نے کہا۔۔
میں اس وقت تم سے تقریر سننے نہیں آیا ہوں اپنا پروگرام بتانے آیا ہوں۔ہم آج سے بیس دن بعد یہاں دے روانہ ہو جائیں گئے اب تمہاری کوئی دلیل نہیں سنوں گا اور نہ مانوں گا۔اس نے سختی سے کہا۔۔۔خیر دیکھا جائے گا میں نے لاپرواہی سے بات ٹال دی میرے دل میں ابھی تک اس بات کی کرید لگی ہوئی تھی کہ آخر بچی اور ملازمہ کیسے زخمی ہوئی تھیں۔اور بانو کے بارے میں تو کہا جا سکتا تھا کہ وہ اچانک بچی کی موت کا صدمہ نہ سہہ سکی اور گزر گئی ایسے پریشان کن حالات سے الجھتے رہنے والا انسان کسی تفریح میں بھلا کیا حصہ لے سکتا ہے۔جمال بینکاک کے لئے سیٹ بک کرواچکا تھا۔۔۔
اس کے پروگرام کے مطابق ہمارے اس سفر پر روانہ ہونے میں صرف دو دن رہ گئے تھے کہ ایک دن کوریئر کے ذریعے مجھے ایک خط موصول ہوا میں نے تجسس سے خط کھولا اور پڑھنے لگا ۔۔
بیٹے۔۔خدا تمہاری عمر دراز کرے ۔۔
میرا یہ خط جب تم کو موصول ہوگا تو تم اس خط کو پڑھ کر حیران ضرور ہوگے۔مگر نہیں شاید تمہیں اس بات کا بھی احساس نہیں ہوگا کہ میں تم سے سینکڑوں میل دور بیٹھا ہوا بھی ہمیشہ روحانی طور پر تمہارے قریب رہا ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ان دنوں تم پریشان اور اداس ہو خدا گواہ ہے اگر میرے بس میں ہوتا رو میں تمہیں پریشانیوں سے بچا لیتا مگر بیٹے تمہارے دشمن کے ہاتھ بہت لمبے ہیں اس وقت تم جس حال میں ہو اور جیسے بھی ہی فورا میرے پاس چلے آو تاکہ میں تمہیں اس خطرناک خطرے سے آگاہ کو سکوں جوکہ ان دنوں تمہاری زندگی پر اپنا منحوس سایہ ڈال رہا ہے۔
فقط تمہارا ہمدرد ۔۔
خط ختم ہوگیا۔۔خط کو لکھنے والے نے اپنا نام نہیں لکھا تھا مگر جس انداز سے اس بے میرے ماضی کے چھپے ہوئے گوشے کی نقاب کشائی کی تھی۔اس نے مجھے آگاہ کردیا تھا کہ اس خط کو لکھنے والا بابا سلیم کے علاوہ اور کوئی نہیں اس دوران جمال بھی آگیا میں نے اس سے کہا۔۔
تم بینکاک کو ٹور کینسل کرکے میرے ساتھ رانی پور چلو بڑی مشکلوں سے وہ رانی پور جانے پر راضی ہوا تھا دوسرے دن ہم دونوں بینکاک جانے کی بجائے رانی پور آگئے ۔ایک طویل مدت کے بعد جب میں جمال کے ساتھ رانی پور کی زمین پر قدم رکھا تو میرے دل کی عجیب حالت تھی ہم نے ایک قریبی ہوٹل میں اپنا سامان رکھا اور سفر کی تھکان اتارنے کےلیے بستر ہر دراز ہوگیا ۔۔
سہ پہر کے تین بج رہے تھے اچانک دروازے پر کسی کی مسلسل تین دستک سن کر میری آنکھ کھل گئی جمال بدستور گہری نیند سورہا تھا میں الجھن مخن پڑ گیا یہ سارہ دینے والا کون ہوسکتا ہے ؟؟؟
چند لمحوں بعد میں نے دروازہ کھولا تو حیرت اور مسرت سے میرا منہ کھلا رہ گی۔سلیم بابا میری آنکھوں کے سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔۔سلیم بابا۔۔میں نے حیرت سے چیختے ہوئے کہا اور لپک کر ان کے گلے لگ گیا۔آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں رانی پور میں پہنچ گیا ہوں۔۔؟
جواب میں سلیم بابا کے چہرے پر ایک پرسرار مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ کہنے لگے بیٹا شاید مجھے تمہارے خون کی خوشبوں یہاں تک کھینچ لائی ہے میرا جسم بوڑھا ہوگیا ہے مگر ابھی تک بھی اتنی طاقت ضرور رکھتا ہوں کہ اپنے مالک کا اسقبال کر سکوں
مگر یہ بتاو اتنے عرصے تم کیسے رہے بہت نڈھال نظر آرہے ہو کہا بیمار ہو؟
یہ ساری گفتگو دروازے میں کھڑے کھڑے جاری تھی کہ میرے عقب میں جمال نے اپنی موجودگی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا۔تم ان بزرگوں کو اندر آنے کا نہیں کہا گے اوہ۔۔۔میں یکدم چونکا۔معاف کرنا بابا اتنے عرصے کے بعد آپ کو سامنے پاکر آپنے آپ پر قابو نہیں رہا۔اور اندر آنے کے لیے راستہ چھوڑ دیا چند لمحے بعد جب ہم چائے پی رہے تھے اور سلیم بابا کہہ رہے تھے۔۔
مجھے اس بات کا ہمیشہ افسوس رہے گا کہ میں نے آپ کو اپنے سے جدا کر کے بہت زیادتی کی ہے۔مگر میرے بچے تم نہیں جانتے تمہارا ماموں شیطان کا پیروکار ہے۔اگر تم یہاں آس کی آنکھوں کے سامنے رہتے تو شاید وہ تمہیں اب تک موت کے گھاٹ اتار چکا ہوتا مگر بیٹے مجھے یہ بتاوں کیا وہ زیورات ابھی تک تمہارے پاس محفوظ ہیں ؟؟
ہاں بابا۔۔میں نے جواب دیا۔۔مگر وہ میرے لئے منحوس ثابت ہوئے۔ان زیورات میں سے ایک نیکلس میری بیوی نے اپنے گلے میں ڈالا۔میرے گھر میں آنا فنا تین جانیں ضائع ہوگئیں۔میں نے صدمے سے کہا۔ہاں میرے بچے سلیمبابا نے سرد آہ کھنچتے ہوئے کہا۔مجھے ان تمام باتوں کا علم ہے ضرور ایسا ہی ہوا ہوگا۔۔تو کیا آپ کو ان تمام واقعات کا علم پہلے سے تھا جن کی وجہ سے میری بچی اور بیوی اور ملازمہ کی جانیں ضائع ہوگئیں میں نے صدمے سے کہا۔۔
بدقسمتی سے مجھے اس کا علم تھا مگر میں اس وقت کو نہیں ٹال سکتا تھا۔اب اس کو صرف ایک پی ہستی ختم کرسکتی ہے وہ ہے نواب زادی شمع۔سلیم بابا نے انکشاف کیا مگر یہ شمع کون ہے اور یہ کیا سلسلہ ہے آپ کھل ایک ہی مرتبہ کیوں نہیں مجھے بتا دیتے۔میں نے نارضگی سے کہا
ابھی نہیں میرے بچے ابھی نہیں مگر وہ وقت اب بہت جلد آرہا ہے جب تم پر کچھ انکشافات ہوں گے کہ تمہاری خاندانی اموات کا کیا سبب ہے ایسا کیوں ہوا وہ پس پردہ شیطانی قوت کون سی ہے جو تمہارے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔۔۔
سلیم بابا کی باتیں سن کر میرے سینے میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی سلیم بابا جا چکے تھے مگر میں سوچوں کے بھنور میں ڈوبا ہوا ماضی کی یادوں کو کرید رہا تھا شام کو میں اور جمال شہر کی طرف نکلے راستے میں جمال کہنے لگا کیا تم اپنی حویلی کی جانب نہیں جاو گے دل تو بہت چاہتا ہے کہ پہلے حویلی جاوں۔سلیم بابا کے مطابق حالات بہت سنگین ہیں وہاں قدم قدم پر احتیاط کی ضرورت ہے میں نے جواب دیا خیر جیسے تمہاری مرضی جمال نے کہا مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اکیلے وہاں جاکر وہاں کی صورتحال کا اندازہ لگانے کی کوشش کروں ویسے بھی مجھے یہاں کوئی نہیں جانتا ۔۔
میرا خیال ہے ایک دو روز رک جاو میں بابا سلیم سے بغیر مشورہ کئے تمہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دے سکتا میں نے اسے نرمی سے سمجھایا تقریبا دو گھنٹے تک ہم پیدل رانی پور کی گلی کوچوں میں گھومتے رہے بچپن کی یادیں دل میں بے بسی کے زخموں کو گہرا کرتی رہیں۔واپسی میں آپنے وجود کو بہت تھکا ہوا محسوس کرنے لگا۔۔
چلتے چلتے ایک جگہ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اب مجھ سے چند قدم بھی نہیں چلا جائے گا ہم لوگ بمشکل اپنے کمرے تک پہنچے وہاں پہنچتے ہی میری طبعیت مزید خراب ہوگئی۔مجھے اپنے ہاتھ پاوں حرکت سے محروم ہوتے ہوئے محسوس ہورہے تھے جمال اچانک میری طبعیت دیکھ کر گھبرا گیا اور پوچھنے لگا تمہیں کیا ہوتا جارہا ہے؟؟؟
جمال میں نے بمشکل اپنے حواس برقرار رکھتے ہوئے کہا۔پتہ نہیں کیوں میری طبعیت خراب ہوتی جارہی ہے مجھے آرام سے بستر پر لٹا دو اور کسی ڈاکٹر کو بلاو۔۔۔؟
جمال نے خاموشی سے مجھے بستر پر لٹا دیا اور کاونٹر کلرک کئ طرف بھاگا تاکہ فون کر کے کسی ڈاکٹر کو بلا سکے مگر ڈاکٹر ے آنے تک مجھ پر گہری بے ہوشی طاری ہوچکی تھی۔جب میرا شعور بیدار ہوا تو میں خود کے بے حد کمزور پارہا تھا چند لمحے پہلے آنکھیں کھول کر حیران پریشان نظروں سے کمرے کے درو دیوار کو تکتا رہا۔پھر اچانک ادویات کے مانوس خوشبو نے مجھے چونکا دیا اور مجھے یاد آیا یہ وہ کمرہ نہیں ہے۔جس میں بے ہوش ہونے سے پہلے میں بستر پر لیٹا تھا۔
زیرو پاور کے بلب کی ملگجی روشنی میں دیواروں پر خوفناک سائے رقص کرتے دکھائی دے رہے تھے اور مجھے محسوس ہوا جیسے یہ سائے مجھے اپنی گرفت میں لے لیں گے۔میں نے گھبرا کر دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔پھر اچانک جب میری آنکھ کھولی تو مجھے اپنا وجود پہلے سے زیادہ کمزور محسوس ہوا میرا جسم کسی نا معلوم بیماری کی وجہ سے گھلتا جارہا تھا اور دن کا اکثر وقت نقاہت آمیز بے ہوشی میں گزر جاتا۔۔ایک طویل وقفے کے بعد ہوش آیا تو میری دھندلائی ہوئی نظروں نے جمال کو اپنے بیڈ کے قریب پایا۔اس نے پر خلوص نظروں سے دیکھتے ہوئے ایک ہاتھ میرے شانے پر رکھ دیا میں نے کچھ کہنا چاہا مگر یوں لگا جیسے قوت گویائی سلب ہوکر گئی ہے۔بمشکل اتنا ہی کہہ سکا جمال تمہیں میری وجہ سے بہت پریشان ہونا پڑا میں شاید اپنی لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں اسے کچھ اور بھی کہتا مگر اس نے مجھے ٹوکتے ہوئے کہا۔۔
ڈاکٹر نے تمہیں زیادہ بولنے سے منع کیا ہے تم اس وقت میرا دل بھر کر شکر ادا کر دینا جب تم مکمل طور پر صحت مند ہو جاو اور ہاں تمہارے لئے ایک گڈ نیوز ہے۔۔وہ کیا۔۔۔؟
میں نے کمزور آواز میں پوچھا پچھلے ہفتے تمہارے ماموں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس قانون کی رو سے تم اس جائیداد کے تنہا مالک ہو۔۔اچھا کیا واقعی اور وہ سلیم بابا کہاں ہیں میرے اس سوال کو سن کر جمال خاموشی سے کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر کہنے لگا اب تم سے اصل بات چھپانا مشکل ہے تمہارے ماموں کو سلیم بابا ختم کرنے میں کامیاب ہوگئے مگر وہ خود بھی اتنا زخمی ہوگئے کہ زخموں سے زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے موت کا شکار ہوگئے ؟
سلیم بابا کی موت کا سن کر مجھے گہرا صدمہ ہوا وہ خوشگوار حساس جو ایک لمحہ پہلے میری روح میں بیدار ہوا تھا۔پھر مجھے مایوسی کے گہرے سمندر میں غرق کر گیا چند روز بعد میں مکمل طور پر صحت مند ہو کر ایک طویل عرصے بعد جمال کو اپنے ساتھ کر اپنی خاندانی حویلی جا پہنچا۔۔۔
تقریبا پندرہ دن تک میں اپنے مزاج کے مطابق حویلی میں مخلتف تبدیلیاں کرتا رہا۔ایک دن جب میں لائبریری میں بیٹھا ہوا مطالعہ میں مصروف تھا کہ ملازم نے ایک ملاقاتی کو آنے کی اطلاع دی۔میں سوچ میں پڑ گیا۔ملازم سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے ۔۔۔؟؟
صاحب اس نے کہا ہے آپ مجھے نہیں جانتے مگر میرا ملنا آپ سے ضروری ہے۔ملازم بولا۔۔اچھا تم اسے ڈرائنگ روم میں بٹھاو میں آرہا ہوں۔چند لمحوں بعد میں جب ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو ادھیڑ عمر کا شریف وضع قطع سا آدمی میرا منتظر تھا مجھے ڈرائنگ روم مے داخل ہوتے دیکھ کر وہ مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے اٹھا میں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور رسمی علیک سلیک کے بعد پوچھا فرمائیے میرے لائق کیا خدمت ہے؟
میں نے بڑی غور سے اس کا جائزہ لیا ادھیڑ عمر اجنبی چند لمحے میری طرف خاموشی سے دیکھتا رہا پھر میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔اس ناچیز کو انور کہتے ہیں میں آپ سے ملنے کا شائق تھا میں یہ دیکھنا چاہتا تھا جب اچانک کسی نوجوان کو بڑی جائیداد مل جاتی ہے تو اس میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔پھر میں آپ کا پڑوسی بھی ہوں یہاں سے قریب ہی میری رہائش گاہ ہے کسی دن وہاں تشریف لائیے اور غریب خانے کو عزت بخشے مگر میری چھٹی حس رہ رہ کر یہ کہہ رہی تھی یہ شخص آیا تو کسی اور مقصد کے لئے ہے مگر بات بنانے کے لئے معنی باتوں کا سہارا لے رہا ہے شکل سے یہ ادھیڑ عمر کا شخص مجھے عجیب سا محسوس ہوا۔۔۔
میں نے ان سے پوچھا کیا میرے یہاں آنے سے پہلے بھی آپ کا یہاں آنا جانا تھا۔میں نے اسے کریدا۔نہیں میں بہت تنہائی پسند ہوں آج خدا جانے یکا یک میرا دل چاہا کہ میں آپ سے ملوں اور آپ کے پاس چلا آیا اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔
یہ آپ نے بہت اچھا کیا جو اس ناچیز سے ملنے کی زحمت اٹھائی میرے گھر کے دروازے دوستوں کے لئے ہمیشہ کھولے رہتے ہیں۔میں نے فرخدالی کا اظہار کیا۔۔
شکریہ شکریہ اچھا اب اجازت دیں۔وہ جانے کے لیے کھڑا ہوگیا اس کے جانے کے بعد میرا ذہن الجھ کر رہ گیا۔انور خطرناک ہو یا نہ ہو مگر پرسرار ضرور تھا۔وہ یونہی اپنا وقت برباد کرنے کے لیے نہیں آیا ہوگا میں نے سوچا میں سوچتے سوچتے ایک اضطرابی کیفیت میں اٹھا اور پائیں باغ میں آگیا دیر تک ٹہلتا رہا پھر آکر بستر پر دراز ہوگیا
میں گہری نیند میں تھا کہ اچانک میں نے اپنے سینے پر کسی نرم شے کا دباو محسوس کیا۔میں نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں وہ دباو ابھی تک میرے سینے پر موجود تھا مگر یہ کس شے کا دباو ہے۔میں نے گھبرا کر اٹھنا چاہا تو یوں لگا میرا جسم حرکت کرنے سے محروم ہوچکا ہے۔میرا جسم فالج زدہ ہوگیا تھا مگر ذہن بیدار تھا میں نے اپنی پوری قوت ارادی سے متعدد مرتبہ اپنے اعضاء کو حرکت دینا چاہی مگر ہر بار میری کوشش ناکام ہوگئی سینے پر دباو اتنا نہ تھا کہ ایک دم ناقابل برداشت ہو جاتا مگر جسم کے تمام اعضاء حرکت سے محروم ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔تقریبا دس منٹ اسی اذیت کی کیفیت میں گزر گئے ذہن میں ہزاروں خدشات جنم لے رہے تھے پھر اچانک میں نے محسوس کیا کہ وہ دباو جو دس منٹ پہلے میرے سینے پر تھا اب ہٹ چکا تھا اور رفتہ رفتہ میرے اعضاء نارمل کیفیت میں آتے جارہے ہیں۔۔
میں اٹھا اس وقت مجھے بہت پیاس لگ رہی تھی حلق خشک تھا میں نے جگ سے پانی انڈیل کر گلاس ہونٹوں سے لگایا اور ایک ہی سانس میں پانی پی گیا مگر ابھی پیاس بجھی نہیں تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے جہنم کی آگ میرے سینے میں جل رہی ہو۔دوسرا گلاس پینے سے اپنے آپ کو پرسکون محسوس کیا اور سگریٹ سلگا کر دوبارہ بستر پر دراز ہوگیا اور سوچوں کی لامحدود سمندر میں اترتا چلا گیا اچانک میرے اندر یہ کس بیماری نے جنم لیا ہے جو ایک دم میرے جسم کو فالج زدہ کردیتی ہے۔اب پہلی فرصت میں مجھے کسی ڈاکٹر دے رجوع کرنا پڑے گا۔رات بہت دیر تک جاگتا رہا تھا صبع دیر سے آنکھ کھولی۔۔
جمال میرے انتظار میں ناشتے کی میز پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔مجھے اپنے قریب بیٹھا دیکھ کر طنزیہ لہجے میں کہنے لگا اب تم بڑے آدمیوں کی طرح مجھے ناشتے کی میز پر انتظار کروانے لگے ہو۔؟
جواب میں میرے چہرے پر ایک نڈھال مسکراہٹ نمودار ہوئی جمال اور چڑگیا اب تم میری باتوں کا جواب دینے کی بجائے صرف منفرد انداز میں مسکرا کر رہ جاتے ہو آخر تمہارے کیا ارادے ہیں؟۔۔اس نے غصے سے کہا۔میں نے نرمی سے ایک اپنی رات کی کیفیت کے بارے میں بتایا۔ہم دونوں ایک قابل ڈاکٹر کے پاس گئے اس نے دو گھنٹے تک میرے جسم کے ہر عضو کا گہرا مشاہدہ کیا اور کیا آپ جو کیفیت بیان کرتے ہیں اور جس بات کا خدشہ آپ کے ذہن میں موجود نہیں اعصاب غیر معمولی متاثر ہیں۔یہ کوئی ایسی بات نہیں جو تشویش کے قابل ہو۔ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق مجھ میں ایسا کوئی جسمانی نقص نہیں تھا جو فالج کی علامت ظاہر کرتا ہو مگر جب رات کے بھاری اور بوجھل دس منٹ مجھے یاد آئے تو میرے ذہن میں نا معلوم سے خدشات سر اٹھانے لگتے۔زندگی آہستہ آہستہ پرسرار ہوتی جارہی تھی میں میڈیکل اسٹور سے میڈیسن لے کر نکل رہا تھا کہ دوکان پرچانور صاحب مل گئے مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے کہیئے صاحب مزاج ٹھیک ہیں؟؟
میں ان کے الفاظ سے چونک سا گیا اور انہیں حیرت سے دیکھنے لگا ایک دوست کے ساتھ جارہا تھا آپ ہر نظر پڑگئی اور حال احوال کے لیے چلا آیا وہ بولے اس عزت افزائی کا بہت شکریہ میں نے کہا اور گاڑی کی طرف چل دیا رات کے تین بجے کلاک کی ٹن ٹن کی آواز کے ساتھ اچانک میری آنکھ کھل گئی میں احتیاطہ ملازم کو ہدایت کردی کہ وہ رات کے ایک ایک گھنٹے کے وقفے سے میرے کمرے میں چکر لگا کر دیکھ لیا کرے۔ممکن ہے مجھے کسی چیز کی ضرورت پڑ جائے آنکھ کھلتے ہی مجھے ایک لمحے کے لئے ایسا لگا جیسے میرا وجود آج بھی کل رات کی طرح حرکت سے محروم ہوگیا ہے مگر کل کی طرح میرا ذہن بیدار تھا اور اس وقت میرا ذہن اور میری آنکھیں ہی زندگی کی سب سے بڑی اور تھیں مگر چند لمحے بعد لگا جیسے میری آنکھیں بھی روشنی سے محروم ہوتی جارہی ہیں میری آنکھیں خود بخود بند ہوگئیں میرے ذہن کے ساتھ میری سماعت بیدار تھی میں نے متعدد بار آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتا رہا لیکن دیگر اعضاء کی طرح اس کو بھی حرکت دینے سے محروم ہوگیا میں نے پوری قوت لگا کر بولنے کی کوشش کی مگر آواز نہ نکل پائی۔ ۔
اچانک کسی کے قدموں کی مدہم چاپ میری سماعت سے ٹکرائی اس کے ساتھ ہی ایک عجیب سی خوشبوں سے سارہ کمرہ معطر ہوگیا اس تیز خوشبوں کو محسوس کرکے مجھے اپنا ذہن تاریکیوں میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا پھر آہستہ آہستہ میرا ذہن اندھیرے کی تاریکیوں میں ڈوب گیا جب دوبارہ میرا شعور بیدار ہوا تو سورج کی کرنیں میرے کمرے میں جھانک رہی تھیں۔آنکھیں کھولتے ہی چند لمحات حیرت اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اپنے کمرے کے درو دیوار کو دیکھتا رہا گیا کہ میں اپنے ہاتھوں دی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ میں اپنے ہاتھوں کو حرکت دے سکتا ہوں میں بازووں کے سہارے اٹھا اور بلند آواز میں ملازم کو آواز دی۔چند لمحوں بعد جب ملازم نے کمرے میں جھانکا میں نے اسے غصیلی نظروں سے گھورتے ہوئے ڈانٹا میں نے تمہیں ہدایت دی تھی کہ رات بھر ہر ایک گھنٹے بعد میرے کمرے میں جھانک کر ضرور دیکھ لینا کیونکہ میری طبعیت خراب ہے ممکن ہے مجھے تمہاری ضرورت پڑ جائے ۔۔
وہ بولا میں نے آپ کی ہدایت کے مطابق رات بارہ بجے کے بعد ہر ایک گھنٹے کے بعد آپ کے کمرے میں جھانکتا رہا۔
رات تین بجے آپ کے کمرے سے ایک عورت نکلی جو دلہن لگ رہی تھیں اور پھر پلک جھپکتے ہی راہداری کا ایک موڑ گھوم کر غائب ہوگئی۔۔
جیسے اس کا وجود ہوا میں بکھر گیا ہو۔اس کے غائب ہوتے ہی میں نے آپ کے کمرے میں جھانکا سارا کمرہ اس طرح مہک رہا تھا جیسے کسی نے پرفیوم کا اسپرے کیا ہو
پھر اپنے ہونٹوں پر ایک پرسرار مسکراہٹ لاتے ہوئے بولا۔صاحب اتنی پیاری دلہن پانے کی مبارکباد دیتا ہوں۔اور پھر وہ کچھ کہتے کہتے اچانک رک گیا۔میں حیرت سے اس کی داستان سن رہا تھا جس سوچ میں پڑ گیا میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ اس کمرے میں کسی دلہن کا وجود نہیں تھا تو یہ بھی ممکن ہے خوشبوں میں نہائی ہوئی اس دلہن کو اور لوگوں نے بھی دیکھا ہوگا۔۔
اور پھر میں نے نیند میں ڈوبتے ہوئے کسی کے قدموں کی چاپ کے ساتھ ساتھ ایک تیز قسم کی خوشبوں کو بھی محسوس کیا تھا۔خس نے مجھے غفلت کی نیند سو جانے پر مجبور کیا تھا چند لمحے کے بعد بولا جاو اور جمال کو بلا کر لاو۔میرا ذہن مسلسل الجھنوں کی دلدل میں دھنستا جارہا تھا اچانک جمال کے قدموں کی مانوس چاپ سن کر میں چونکا وہ آتے ہی بے تکلفی سے میرے بستر پر بیٹھے ہوئ بولا۔کیا بات ہے اس ناچیز کو کیسے یاد کیا۔؟
میں غصے سے بولا۔پہلے تم مجھ پر اپنے طنز کے زہریلے نشتر چلا لو۔پھر اس کے بعد ہی کچھ کہوں گا۔ارے یار تم دن بدن کتنے حساس ہوتے جارہے ہو معمولی سا مذاق برداشت نہیں کرسکتے اس نے پر خلوص لہجے میں گلہ کیا۔
میری بات بہت سنگین ہے اور سنجیدگی سے پوری توجہ چاہتی ہے اگر تم بھی ابھی تک تفریح کے موڈ میں ہو تو جاو پھر کسی اور وقت آنا اور زیادہ پریشان نہ کرو۔میں نے کرب سے بھری ہوئی آواز میں کہا۔جمال یکا یک سنجیدہ ہوگیا معاف کرنا شائد میرے مذاق سے تمہارے دل کو ٹھیس پہنچی اب میں پوری طرح سنجیدہ ہوں تمہیں جو کچھ کہنا ہے فورا کہہ دو کیونکہ میں اپنی زندگی میں تمہیں پریشان نہیں دیکھ سکتا اسے سنجیدہ پاکر میں نے سارے حالات اسے سنادئیے ان تمام واقعات کو سن کر وہ رحم انگیز نظروں سے مجھے دیکھتا رہا۔جیسے اسے میری ذہنی صحت پر کوئی شک ہو۔تمام واقعات سننے کے بعد کہنے لگا کہیں تم مذاق تو نہیں کررہے۔مجھے یقین نہیں آرہا جو کچھ تم کہہ رہے ہو کیا یہ سچ ہے ؟؟؟
جمال۔۔۔میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا میں اس وقت خو کچھ بھی تمہیں بتا رہا ہوں وہ سچ ہے اگر یقین نہیں تو ملازم کو بلا کر پوچھ لو۔۔جمال نے ملازم کو بلوایا ملازم نے آتے ہی رات کا تمام واقعہ اس طرح بیان کردیا۔جیسے وہ مجھ سے پہلے بیان کرچکا ہو۔جمال نے تمام واقعات سن کر کہا وہ اچانک تمہاری نگاہوں لے سامنے غائب ہوگئی تم نے اسے تلاش نہیں کیا؟
صاحب میں نے حویلی کو کونا کونا چھان مارا حویلی کے گیٹ تک مگر اس دلہن کا پتا ناں چلا۔اس نے جواب دیا ملازم کے جانے کے کچھ دیر بعد جمال بولا معاف کرنا یار اس جدید دور میں کسی ایسی قوت کا وجود ماننے کے لئے میرا ذہن ابھی تک تیار نہیں میں دو روز سے اپنی پراسرار بیماری کی وجہ سے بہت پریشان ہوں اور یہ پرسرار دلہن نازل ہوگئی خیر چھوڑوں ان باتوں کو میں نے کہا۔
ناشتے کے دوران جمال نے کہا آج سے تم میرے کمرے میں سویا کرو میں بھی تو دیکھوں کہ آخر وہ کیا شے ہے
ناشتہ کرنے کے بعد میں نے جمال کے ساتھ ڈاکٹر کی جانب روانہ ہوگیا۔آج میں نے اپنا ڈاکٹر بدل دیا تھا۔میرا خیال تھا پہلے والا ڈاکٹر میری صحیح تشخیص نہ کرسکا مگر دوسرے ڈاکٹر کا تجزیہ بھی پہلے والے ڈاکٹر سے مختلف نہ تھا ڈاکٹر کے پاس سے واپسی پر سارا دن ہم دونوں پریشانی سے اس الجھن کا حل تلاش رہے۔ہم دونوں۔ پائیں باغ میں چائے پی رہے تھے کہ اچانک میری قوت شامہ نے پھر سے کسی تیز خوشبو کو محسوس کیا میں نے سوالیہ نظروں سے جمال کی طرف دیکھا خوشبو اس قدر تیز تھی کہ مجھے اس بات کا یقین ہوگیا کہ جمال بھی اسے محسوس کیے بغیر نہیں رہا ہوگا۔۔۔
شاید تمہاری سنائی ہوئی داستان حقیقت کی حدوں کو چھو رہی ہے۔اف میرے خدایا یہ خوشبو کا قدر تیز ہے جیسے کسی نے باغ پر پرفیوم کا چھڑکاو کیا ہو اور۔۔پھر وہ جملہ مکمل نہ کرسکا اچانک میری طرح اس کی نظریں بھی کھلتے ہوئے دروازے کی جانب اٹھ گئیں۔اچانک خوشبوں میں نہائی ہوئی دلہن ہماری نظروں کے سامنے کھڑی تھی اس دیکھتے ہی میرا ذہن حیرت کی شدت سے سن ہوگیا تھا
اس کی دلفریب سراپا میرے حواس پر چھانے جارہا تھا اس کی دلفریب مسکراہٹ پر مجھے پرسرار دھاندلکوں کی طرف کے جارہی تھی میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر دو دن پہلے کی طرح اپنے جسم کے تمام اعضاء کو حرکت دینے سے محروم ہوچکا تھا۔میں نے سوچا کہ اپنی نظریں اس کے دلفریب سراپا سے ہٹا کر جمال کی جانب دیکھوں تاکہ اس کے حسن کا سحر ٹوٹ جائے مگر ناکام رہا۔۔
یہ خواہش دل ہی دل میں رہ گئی کہ دونوں میں سے کوئی اس سے دریافت کرسکتا کہ وہ کون ہے ؟
باوجود متعدد بار کوشش کرنی چاہی مگر میں اپنے اعضاء کو حرکت نہ دے سکا خبر نہیں کتنے ہی لمحات یونہی بے حس و حرکت گزر گئے اچانک اس کے ہونٹوں کو جنبش ہوئی مگر جو کچھ اس نے کہا وہ میری سماعت کی گرفت میں نہ آسکا۔بے بسی سے ایک ساکت بت کی مانند اسے دیکھتے رہنے پر مجبور تھا پھر اچانک مجھے ایسا لگا جیسے میری آنکھوں کے پردے نیند سے بھاری ہوکر بند ہورہے ہیں چند لمحات بعد مجھ پر غفلت کی نیند طاری ہوگئی جب آنکھیں کھولی تو اپنے کمرے کے بستر پر پڑا تھا میرے اردگرد ادویات کی بو پھیلی ہوئی تھی۔رات کے اس سناٹے میں روشنی ایک عجیب پرسرار ماحول پیدا کررہی تھی
چند لمحے بعد آنکھیں کھولی تو حیران حیران نظروں سے میں چاروں طرف دیکھتا رہا حلق میں کڑواہٹ سی تھی مشکلوں سے اٹھا اور میز پر رکھے پانی کے جگ کو منہ لگانا ہی چاہا کہ اچانک کسی نے غائب کی چھڑی لہرائی اور پانی سے بھرا جگ میرے ہاتھوں سے نکل کر فرش پر گر کر چور چور ہوگیا۔میں نے غصیلی انداز میں اس چھڑی کو لہرانے والے کی جانب دیکھا تو ایک لمحہ اسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا۔
وہ انور تھا۔۔۔وہ پرسرار انسان جو پہلے بھی دو مرتبہ میرا وقت ضائع کرچکا تھا۔تم نے میرے گھر آکر میرے ساتھ ایسا کیوں کیا۔میں نے غصیلی نظروں سے اسے گھورا؟
انور خو غصیلی نظروں سے گھورنے والا ہمیشہ اس دنیا میں ذلیل و خوار ہوا ہے۔اس نے ٹھہرے ہوئے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا۔یہ بات تم اپنی گرہ میں باندھ لو کہ جب تک تم میرے کہنے پر عمل نہیں مرو گے دنیا کا ہر سکھ چین تم سے دور رہے گا ذرا اپنے ماضی کو ٹٹولو یہ بات تم پر واضح ہوجائے گی کہ کوئی نہ کوئی ایسا حادثہ ضرور تمہاری زندگی میں رونما ہورہا ہے جس نے تم سے زندگی کا ہر سکھ چین لیا تمہاری بچی اور تمہاری بیوی میرے مشن کی سب سے بڑی رکاوٹیں تھیں جن کو میں اوپر پہنچا چکا ہوں اور تمہاری ملازمہ میرے راستے میں آگئی لہذا اسے بھی ٹھکانے لگانا پڑا اور اسی طرح میں تمہارے جگری دوست جمال کو بھی موت کے گھاٹ اتار سکتا ہوں۔تم اس وقت تک پرسرار بیماری میں مبتلا رہو گے اگر ۔۔۔۔وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر خاموش ہوگیا۔۔
اگر کیا ذرا اس کی بھی وضاحت ہوجائے۔۔میں نے کہا۔۔
اگر تم نے مذہبی عقائد کے مطابق میری بیٹی سے شادی نہ کی اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا شادی ؟؟
میں نے حیرت سے پوچھا۔۔ہاں شادی وہ سنجیدہ تھا۔۔
میری حسین بیٹی شمع سے شادی جو برسوں سے تمہاری راہ دیکھ رہی ہے۔کہیں تم اس پرسرار دلہن کے کے بارے تو نہیں کہہ رہے ہو جسے دیکھ کر میری جسمانی قوت ختم ہوجاتی ہے ؟؟؟
ہاں وہی۔۔جسے تم اور جمال بھی دیکھ چکا ہے میں سوچ میں پڑگیا کہ ایسے آدمی کو میں کیا جواب دوں جو اپنی حسین و جمیل بیٹی کی شادی کے لئے خون کے دریا سے بھی گزرنے خو تیار تھا۔۔مگر محترم۔۔میں نے جواب دیا
آپ کی بیٹی دنیا کی حسین ترین عورت سہی مگر پھر بھی یہ کچھ اچھا معلوم نہیں ہوتا کہ زبردستی اس مقدس رشتے کی توہین کی جائے؟؟
یہ صرف اس لیے ہے کہ ابھی تک کچھ باتیں پردہ راز میں رہیں۔ایک حسین عورت تمہاری دلہن کہلانا چاہتی ہے اس نے جواب دیا۔بات کچھ سمجھ میں نہیں آرہی۔میں نے کہا
کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ شادی سے پہلے میں تمہاری بیٹی سے ایک ملاقات کرلوں میرا خیال تھا کہ وہ ملاقات کا موقع دینے کے بجائے اس سے گریز کرے گا میرا خیال ہے بہتر یہی ہے کہ تم میری بات مان لو تمہارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے بیکار اپنے آپ کو ادھر ادھر الجھا رہے ہو یہ بھی میں صرف اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میری بیٹی تمہاری سفارش کررہی ہے۔اس کی پرزور سفارش ہے کہ تمہیں زندگی میں کھبی کسی تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے میں اس لئے آج تم سے کھل کر بات کررہا ہوں۔
میں اس مشورے پر غور کرو گا۔آپ پھر کسی وقت تشریف لے آنا میں نے لاپرواہی سے کہا۔میری اس بات کو سن کر اس کے چہرے پر غصے کے آثار پھیل گئے اور وہ غصے کی حالت میں دروازہ کھول کر باہر نکل گیا اس کے بارے ہی مجھے یوں لگا جیسے مجھ پر اچانک پھر نقاہت نے غلبہ پانا شروع کردیا ہے۔۔
ایک لمحے ے لیے یوں لگا جیسے میری جسمانی حالت بگڑرہی ہے میں گھبرا کر بستر پر لیٹ گیا اس سے پہلے کہ میں جمال کو اپنی اور انور کی پرسرار گفتگو سے آگاہ کرتا میرا ذہن تاریکیوں میں ڈوبتا ہوا محسوس ہوا…
ہر طرف سے ایک اتھاہ تاریکیوں کا سمندر مجھے نگلنے کے لیے بڑھ رہا تھا ایک بار پھر میرے کمرے میں تاریکی جھانک رہی تھی اور باہر سورج کا سفر ختم کرکے مغرب کے کسی گوشے میں روپوش ہورہا تھا۔۔
میں آنکھیں بند کئیے پڑا تھا کہ اچانک ایک ملازم نے اندھیرا پاکر میرے کمرے میں لائٹ آن کردی اور چلا گیا اچانک میرے ذہن کے پردوں پر اس شریف صورت بوڑھے کا چہرہ ابھرا جو اپنی بات منوانے کے لیے مجھ پر کوئی سحر طاری کر رہا تھا ایسا محسوس ہوا کہ اپنی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر مجھے اس کی بات ماننا ہی پڑے گی چلو اس بہانے یہ بھی دیکھ لیں گئے کہ ان پرسرار کی تہہ میں کیا ہے اس فیصلے پر پہنچ کر میں نے خود کو پرسکون محسوس کیا اس فیصلے پر پہنچے مجھے ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ میرے ملازم نے انور کے آنے کی اطلاع دی اس کے آنے کی اطلاع پاکر مجھے اس کی پرسرار قوتوں کو ماننا پڑے گا خدا جانے یہ عجیب و غریب انسان کون سی قوتیں اپنے اندر پوشیدہ رکھتا ہے وہ آتے ہی کہنے لگا۔۔
مجھے یقین ہے کہ تم کسی فیصلے پر پہنچ گئے ہو اس نے اعتماد بھرے لہجے میں کہا۔میں تمہاری بیٹی کے ساتھ شادی کرنے کے لیے تیار ہوں کوئی راستہ نا پاکر مجھے اپنی رضامندی کا اظہار کرنا پڑا وہ مجھے راضی دیکھ کر بہت خوش ہوا تو یہ نیک کام آج ہی ہوجانا چاہیے وہ بولا۔۔
اتنی جلدی کیوں۔۔؟؟
شادی بیاہ کوئی گڑیا گڈے کا کھیل تو نہیں ہے میں نے جلدی سے کہا شاہد صاحب یہ بات پہلے بھی تم سے کہہ چکا ہوں اور ایک بار پھر کہتا ہوں تمہاری شادی تمہاری شادی ہمارے رسم رواج کے مطابق ہوگی اس نے اپنی بات پر زور دیا مگر ابھی تو اس کے منہ سے آگ کی چنگاریاں پھوٹتی ہوئی محسوس ہوئیں دفعتا ایسا لگا جیسے میرا جسم پھیل رہا ہو مگر جلدی ہی نارمل ہوگیا تھا چند لمحوں کے بعد انور نے میرے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا چلو اب چلتے ہیں میں سحر زدہ پتلے کی مانند خاموشی سے اس کے ساتھ چل پڑا وہ حویلی کے صدر دروازے کی طرف جانے کے بعد بجائے حویلی کے پیچھے کی جانب چل دیا چلتے چلتے ملازمین کی ایک کوٹھڑی کے سامنے گیا جو میری معلومات کے مطابق ایک طویل عرصے سے غیر آباد تھی اس نے کواڑوں کو دھکا دیا اور مجھے اندر لے گیا اندر ایک دیوار کے ساتھ نصب کنڈے کو باہر کی جانب کھینچا دیوار میں ایک خلا پیدا ہوگیا اور سیڑھیاں نظر آنے لگیں یہ منظر دیکھ کر میرا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا یہ حویلی صدیوں سے ہمارے خاندان کی ملکیت چلی آرہی تھی اور کسی کو آج تک یہ خبر نہ ہوسکی کہ کوئی تہہ خانہ بھی یہاں ہے ؟؟
وہ چند لمحے روکنے کا اشارہ کرکے سیڑھیاں اتر کر اندھیرے میں غائب ہوگیا جب نمودار ہوا تو اس کے ہاتھوں میں دو روشن مشعلیں تھیں ایک میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولا آو اور سیڑھیاں اترنے لگا سیڑھیاں کافی گہرائی تک چلی گئی تھیں فرش پر پاوں رکھتے ہی ایک عجیب و غریب خوشبو کا احساس ہوا جیسے عنبر سلگ رہا ہو پھر اچانک مجھے یاد آیا وہ بھی اسی طرح کی خوشبوں تھی۔جب ایک خوبصورت عورت دلہن کے رویے میں میرے اور جمال کے سامنے آئی تھی اس کے ساتھ ہی ایک عجیب و غریب سا سناٹا مجھے اپنی ہڈیوں میں اترتا ہوا محسوس ہوا اور انجانا سا خوف روح کے ہر گوشے میں گونجنے لگا۔تہہ خانہ بہت وسیع معلوم ہورہا تھا مختلف راہداریوں سے گزرتے ہوئے ہم ایک ہال نما کمرے میں پہنچ گئے جہاں۔ ہر طرف عنبر کی تیز خوشبوں پھیلی ہوئی تھی مگر اس بار یہ خوشبوں میرے حواس پر نا چھا سکی ہمارے رکتے ہی خوشبوں اور دھوئیں میں اضافہ ہوگیا ایک لمحے کے لیے مجھے یوں لگا جیسے میں پھر حواس کھو رہا ہوں مگر میں جلد ہی سنبھل گیا انور میرے ہاتھ پکڑے ہال میں بڑھتا گیا پھر اچانک ایک ہولناک کر یہہ المنظر ہماری نگاہوں کے سامنے آگیا جس کے پیٹ میں ایک آتش دان دہک رہا تھا مجھے رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے انور اس دہکتی آگ میں اتر گیا اور آگ کے دہکتے شعلوں میں کہیں جاکر غائب ہوگیا چند لمحوں بعد جب وہ دوبارہ نمودار ہوا تو خوشبووں میں لپٹی ہوئی ایک سرخ انگارے کی دہکتی ہوئی دلہن آگ کے اس آتش دان سے انور کے ہمراہ اس آگ سے باہر قدم رکھ رہی تھی میں نے حیرت اور خوف کی شدت سے اپنی دونوں آنکھوں کو زور زور سے مسلا ایک لمحے کے لیے مجھے اپنی بصارت ہر یقین نہیں آرہا تھا مگر نہیں وہ دونوں واقعی جلتے ہوئے آتش دان سے نکل کر میرے برابر کھڑے تھے میری نظریں اس دلہن کت چہرے کی جانب اٹھیں جس میں دہکتے ہوئے انگارے کی تپش تھی انور اسے میرے قریب کھڑا کر کے ایک بار پھر لپک کر آتش دان میں گھس گیا اور دونوں ہاتھوں میں دہکتے ہوئے انگارے اٹھا کر لے آیا شمع اور تم اس نے اپنی نظریں میری جانب گاڑتے ہوئے کہا۔
دونوں اس مقدس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اس بات کا عہد کرو کہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے وفادار ہوگے شمع نے اپنا ہاتھ بڑھا کر دہکتے ہوئے انگارے پر رکھ دیا اور کہا

قسم ہے مجھے اس آگ کی جو دل سے روشن ہے اور ہمیشہ روشن رہے گی میں اس مقدس آگ کی قسم کھا کر کہتی ہوں کے اپنے ساتھی کی ہمیشہ وفادار رہوں گی اس کے کہتے ہی اچانک میں نے اضطرابی طور پر اپنا ہاتھ پتلون کی جیب میں ڈال لیا اور اچانک میرئ ہاتھوں میں حمائل شریف آگئی مگر اتنے میں انور میری طرف متوجہ ہوچکا تھا اس مجھے اشارہ کیا کہ میں بھی اس آگ پر ہاتھ رکھ کر شمع کے ساتھ وفادار رہنے کا عہد کروں میں نے اپناخالی ہاتھ شمع کے ہاتھ پر رکھ دیا جس نے ابھی تک انور کے ہاتھوں میں تھامے ہوئے انگاروں پر اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا ابھی میرا ہاتھ شمع کو چھونے کی دیر ہوئی تھی کہ اچانک ایک تیز اور دل دہلادینے والا دھماکہ ہوا اور اس دھماکے کئ ساتھ ہی دو شعلے اڑ کر فضا کی طرف لپکے اور ساتھ ہی وہ دونوں خوفزدہ انداز میں پیچھے ہٹ گئے مگر اس عرصے میں دونوں کے جسموں کو آگ لگ چکی تھی اور وہ دونوں آگ کی لپیٹ میں آکر جل رہے تھے اچانک آگ نے شدت پکڑلی میرا سارا جسم پسینے میں نہا گیا تھا میں خوف سے ایک طرف سہما ہوا اس ہولناک منظر کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے دونوں کی لاشیں جل کر کوئلے کی طرح سیاہ ہوگئیں میں اس خوفناک منظر سے گھبرا کر لڑکھڑاتے پوئے قدموں سے سیڑھیاں چڑھ کر کوٹھڑی میں آگیا جہاں ایک اور انکشاف میرا منتظر تھا۔۔؟؟
سیڑھیوں کے قریب ایک کونے میں کھڑے سلیم بابا مجھے گھورہے تھے۔۔۔کیا۔۔۔کیا آپ۔۔۔سلیم بابا ہیں؟؟؟
میں نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا ہاں میں وہی بدنصیب ہوں جو جب تک زندہ رہا ہمیشہ اپنے مالک حفاظت کرتا رہا اور بالآخر حق نمک ادا کرتے ہوئے موت کی سنگین وادیوں میں گم ہوگیا انہوں نے غم زدہ لہجے میں جواب دیا اگر آپ مر چکے ہیں تو زندہ کیسے ہوگئے؟۔۔میں نے حیرت سے پوچھا اس کائنات کے راز انسانوں کی نظروں سے آوجھل رہے ہیں انہوں نے پرسرار انداز میں جواب دیا خیر چھوڑوں سلیم بابا نے کہا۔۔
لاو وہ حمائل شریف مجھے واپس لوٹا دو جس کی برکت سے تم شیطان کے ہپجاریوں کو ان کے اصل مقام تک پہنچا دیا ہے۔۔کیا مطلب۔؟میں سمجھا نہیں ۔۔۔میں نے الجھتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔۔
مطلب یہ کہ میں نے وہ حمائل شریف اپنے مرشد کے کہنے کے مطابق تمہیں دی تھی جب تم شیطانوں کر قلعے کے دروازے ہر دستک دے رہے تھے۔۔سلیم بابا بولے۔۔مگر وہ تو محض ایک خواب تھا میں نے حیرت سے کہا نہیں وہ خواب نہیں تھا بلکہ ایک ٹھوس حقیقت کا ایک ہلکا سا عکس تھا جسے تم نے خواب سمجھ کر نظر انداز کردیا۔۔ اگر وہ خواب تھا تو پھر جاگنے پر وہ حمائل شریف جو میں نے تمہیں خواب کی حالت میں دی تھی عالم بیداری میں تمہارے پاس کہاں سے آئی۔۔سلیم بابا بولے اور میں سوچ میں پڑگیا ۔۔
اب زیادہ سوچ کر اپنے ذہن کو پریشان نہ کرو؟؟؟
تم یہ سمجھ لو کہ تمہارے لیے یہی فرض تھا جس سے تم سبکدوش ہوگئے یہ حمائل شریف کی برکت تھی کہ وہ آتشی مخلوق تمہارے ہاتھ کا لمس کرتے ہی جہنم رسید ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی ایک صدی کا وہ شیطانی کھیل بھی ختم ہوگیا جس نے تمہارے خاندان پر اپنی نخوستوں کا سایہ ڈال رکھا تھا میں نے بے اختیار وہ حمائل شریف سلیم بابا کے ہاتھ میں پکڑا دی حمائل شریف تھامتے ہی سلیم بابا بولے جاتے جاتے یہ نصیحت ضرور کرو گا کہ آج کے بعد تم یہ ہمیشہ کے لیے بھول جاو کہ تمہاری اس حویلی میں شیطان کے ہپجاریوں کا کوئی خفیہ مسکن تھا اور اگر تم دوبارہ جاکر اس تہہ خانے کا راستہ تلاش کروگئے تو یہ نشانات مٹ چکے ہوں گے مجھے حیرت زدہ چھوڑ کر سلیم بابا تہہ خانے میں اتر کر کہیں غائب ہوگئے اور زمین برابر ہوگئی ؟
اس کے بعد میں نے جمال نے متعدد بار کوششیں کیں مگر ہر دفعہ ناکامی ہمارہ مقدر ٹھہری اور ہمیں تہہ خانے کا دروازہ نہ مل سکا ۔۔؟؟
بابر انصاری


