انارکلی: حقیقت اور افسانہ

انارکلی: حقیقت اور افسانہ

انارکلی کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک رومانوی کہانی اور قدیم مغلیہ محل کا تصور آ جاتا ہے۔ لیکن حقیقت اور افسانہ میں فرق واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

1️⃣ انارکلی کا وجود

تاریخی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ انارکلی نامی شخص یا محبوبہ واقعی موجود نہیں تھی۔

جس شخصیت کو انارکلی کہا جاتا ہے، وہ زیادہ تر کہانیوں، افسانوں اور انڈیا کی مشہور فلم “مغل اعظم” سے جڑی ہوئی ہے۔

فلم میں دکھایا گیا کردار اور قصہ بعد میں ہر جگہ مشہور ہو گیا، اور عوام نے اسے حقیقی سمجھنا شروع کر دیا۔

2️⃣ مقبرہ اور دیواریں

لاہور میں جو جگہ “انارکلی کا مقبرہ” کہلاتی ہے، اس کی کھدائی سے کوئی انسانی فوسلز نہیں ملے۔

دیواروں پر سونے کے نقش و نگار اور رومانوی شاعری موجود ہیں، لیکن یہ زیادہ تر شاہی محل کی آرائش دکھاتی ہیں، نہ کہ کسی قبر کی حقیقت۔

کہا جاتا ہے کہ شاید دیواریں ایک لمبی سٹرنگ کی شکل میں بنائی گئی تھیں، نہ کہ کسی فرد کو قبر میں لٹا کر دفنایا گیا۔

اس لیے یہ بات بھی واضح ہے کہ انارکلی صرف کہانی اور افسانہ ہے، حقیقی وجود نہیں۔

3️⃣ انڈیا اور پاکستان کے اختلافات

انڈیا کے لوگ اسے اپنے ملک کی کہانی سمجھتے ہیں، جبکہ پاکستانی روایت میں لاہور کی ایک جگہ سے جوڑا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ کہانی دونوں ملکوں میں رومانوی افسانہ کے طور پر مشہور ہے، لیکن کوئی مستند تاریخی ثبوت نہیں۔

4️⃣ فتح پور سیکری میں دعویٰ

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انارکلی کا مقبرہ فتح پور سیکری، بھارت میں ہے۔

فتح پور سیکری مغل بادشاہ اکبر کا شہر تھا، جہاں شاہی محل اور عمارتیں موجود تھیں۔

مگر یہاں بھی کوئی واضح تاریخی ثبوت نہیں کہ انارکلی دفن ہوئی ہو۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ کہانی نویسوں یا فلم کی تخلیق ہے۔

5️⃣ لاہور سیکٹریٹ اور تاریخی پس منظر

لاہور سیکٹریٹ کی عمارت ایک اہم شاہی یا سرکاری مقام ہے، جہاں مغل دور میں محل نما تعمیرات ہو سکتی تھیں۔

یہاں کی کھدائی سے سونے کی دیواریں اور شاہی آرائشیں ملیں، لیکن انسانی فوسلز نہیں۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جگہ شاہی محفل، محل یا آرٹ کی نمائندگی کے لیے بنائی گئی تھی، نہ کہ کسی ایک شخص کی قبر کے لیے۔


🔹 نتیجہ

انارکلی کی کہانی:

حقیقت میں محض افسانہ اور رومانوی روایت ہے۔

لاہور اور فتح پور سیکری میں جو مقبرے یا آثار موجود ہیں، وہ شاہی محل اور آرائش کی یادگار ہیں، انسانی قبر نہیں۔

عوام نے کہانی اور فلموں کی وجہ سے اسے محبت کی علامت کے طور پر قبول کر لیا۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *