قدیم لاشوں کی نمائش

قدیم لاشوں کی نمائش

قدیم لاشوں کی نمائش – انڈونیشیا کے ٹوراجا قبیلے کی منفرد رسم

دنیا میں مختلف قوموں اور قبیلوں کے رسم و رواج ہمیشہ حیرت انگیز رہے ہیں۔ کچھ رسوم ایسی بھی ہیں جو عام انسان کے لیے ناقابلِ یقین معلوم ہوتی ہیں۔ انڈونیشیا کے ٹوراجا (Toraja) قبیلے کی ایک رسم انہی میں سے ایک ہے، جسے “ما نینے” (Ma’nene)” کہا جاتا ہے۔ یہ رسم مرنے والوں کو بھلا دینے کے بجائے انہیں یاد رکھنے اور دوبارہ زندہ لمحوں میں شامل کرنے کے لیے منائی جاتی ہے۔


یہ رسم کب اور کیسے شروع ہوئی؟

ماہرین کے مطابق یہ روایت سینکڑوں سال پرانی ہے اور ٹوراجا قبیلے کے بزرگوں سے نسل در نسل منتقل ہوتی رہی ہے۔ ٹوراجا لوگ یہ مانتے ہیں کہ موت ایک آخری انجام نہیں بلکہ زندگی کے تسلسل کا حصہ ہے۔ ان کے نزدیک روح مرنے کے بعد بھی قبیلے کے قریب رہتی ہے، اس لیے مردوں کو بار بار یاد کرنا اور ان سے تعلق برقرار رکھنا لازمی ہے۔

یہ رسم ہر تین سال بعد منعقد کی جاتی ہے، جب پورے گاؤں کے لوگ مل کر اپنی قبروں سے اپنے پیاروں کی لاشیں نکالتے ہیں اور انہیں دوبارہ زندگی کے جشن میں شامل کرتے ہیں۔


رسم کے دوران کیا ہوتا ہے؟

  1. قبریں کھول کر مرنے والوں کی لاشیں باہر نکالی جاتی ہیں۔
  2. انہیں نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور اکثر زیورات یا عینک بھی لگائی جاتی ہے۔
  3. خاندان والے ان کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور تصاویر کھینچتے ہیں۔
  4. گاؤں کے لوگ مل کر ناچتے، گاتے اور اپنے مرحومین کے ساتھ دن گزارتے ہیں۔
  5. آخر میں انہیں دوبارہ عزت و احترام کے ساتھ دفنا دیا جاتا ہے۔

لاشیں محفوظ کیسے رہتی ہیں؟

ٹوراجا قبیلے کی تدفین عام دفن کرنے جیسی نہیں ہوتی۔ وہ اپنے مردوں کو یا تو:

خاص طرح کے پتھریلے پہاڑوں میں بنے غاروں میں رکھتے ہیں،

یا لکڑی کے تابوتوں میں بلند مقامات پر محفوظ کرتے ہیں۔

قدرتی طور پر ان علاقوں کی آب و ہوا نسبتاً خشک ہے جس سے لاشیں جلدی گلنے سے بچ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ خاندان مخصوص جڑی بوٹیوں اور قدرتی بامبو/لکڑی کے تیل سے لاشوں کو محفوظ کرنے کے روایتی طریقے بھی استعمال کرتے ہیں۔


ان کے عقائد کے مطابق موت کیا ہے؟

ٹوراجا لوگوں کا عقیدہ ہے کہ موت فوراً رونما نہیں ہوتی، بلکہ مرنے والا شخص کئی دنوں یا ہفتوں تک “زندہ” سمجھا جاتا ہے۔ ان کے لیے وہ “سویا ہوا” یا “بیمار” ہے۔ اسی لیے وہ موت کے فوراً بعد تدفین نہیں کرتے، بلکہ کئی دن یا مہینے تک گھر میں لاش کو رکھتے ہیں تاکہ قبیلے کے سب افراد آخری بار شرکت کر سکیں۔


تدفین کا عمل

ٹوراجا قبیلہ عام قبروں کے بجائے چٹانوں میں بنے مقامات یا اونچی قبریں استعمال کرتا ہے۔

بعض جگہوں پر لکڑی کے تراشے ہوئے “ٹاﺅ تاﺅ” (Tau Tau) نامی پتلے بنائے جاتے ہیں جو مردے کی نمائندگی کرتے ہیں اور قبر کے پاس رکھے جاتے ہیں۔

یوں مرنے والا صرف مٹی میں دفن نہیں ہوتا بلکہ پورے گاؤں کی یادداشت اور عقیدت کا حصہ بنا رہتا ہے۔


اس رسم کا مقصد

یہ روایت صرف مردے کو یاد رکھنے کے لیے نہیں بلکہ پورے خاندان اور قبیلے کو اکٹھا کرنے کے لیے بھی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ دن:

مرحومین کی روح کو خوش کرتا ہے،

خاندان کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے،

اور آنے والی نسلوں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں۔


نتیجہ

دنیا کے اکثر مذاہب اور تہذیبیں موت کو ایک جدائی کے طور پر دیکھتی ہیں، لیکن انڈونیشیا کے ٹوراجا لوگ اسے ایک نئے تعلق کے آغاز کے طور پر مناتے ہیں۔ ان کے نزدیک مرحومین کے ساتھ تصویریں بنانا یا انہیں نئے کپڑے پہنانا بے ادبی نہیں بلکہ ایک محبت اور عقیدت کا اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ رسم آج بھی قائم ہے اور دنیا بھر کے سیاح اسے دیکھنے کے لیے ٹوراجا کا رخ کرتے ہیں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *