مطلع:
گونجتے سناٹوں میں یہ دل صدا دیتا ہے
زخم پرانا پھر سے کوئی نقشہ دیتا ہے
اشعار:
خواب بجھانے والوں کی محفل خاموش رہی
پھر بھی سکوتِ شب میں کوئی شعلہ دیتا ہے
یاد کے قافلے چلتے ہیں رگِ جاں کے قریب
وقت کا ہر لمحہ اک نیا دھوکا دیتا ہے
آئینے میں خود کو دیکھ کے حیرت ہوتی ہے
چہرہ میرا ہی کیوں اجنبی سا لگتا ہے
خودداری کا بوجھ اٹھایا تنہائی نے
ورنہ سہارا کون یہاں کسے دیتا ہے
دھوپ کے دریا میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کہہ دیں
سایہ بھی ساتھ چھوڑ کے کیا جھٹکا دیتا ہے
خاموش لبوں پر قید ہے طوفاں دل کا
چپ رہنے والا سب سے زیادہ چیختا ہے
دیوار و در پہ لٹکا ہوا ہر عکس پرانا
اک بے صدا کمرہ مجھے قصہ دیتا ہے
مقطع:
مُنیبؔ چراغِ جاں ہے ابھی بجھا تو نہیں
گونجتے سناٹوں کو بھی لہجہ دیتا ہے
عبدالمنیب

