عبدالمنیب
ہر انسان کے دل میں
ایک پہلا سورج چھپا ہوتا ہے—
وہی جو بچپن کے آسمان پر
پہلی بار اُگا تھا۔
یہ سورج
مٹی کی خوشبو میں کِھلتے ہوئے کھیل،
بارش میں بھیگتے ہوئے قہقہے،
اور تتلی کے پیچھے بھاگتے ہوئے خواب
یاد دلاتا ہے۔
یہ سورج
اُس صحن کی دیوار پر چمکتا ہے
جہاں ماں کی آواز
بلاتی تھی دوپہر کے کھانے کے لیے،
جہاں باپ کی مسکراہٹ
سایہ بن کے پھیلتی تھی۔
بچپن کا سورج
آنکھوں میں روشنی بھرتا ہے،
دل کو بے وجہ خوشی دیتا ہے،
اور یہ یقین دلاتا ہے
کہ دنیا کبھی اتنی سخت نہ تھی۔
مگر پھر…
وقت کے صحراؤں میں چلتے چلتے
یہ سورج دھندلا جاتا ہے،
ذمہ داریوں کے بادل
اسے ڈھانپ لیتے ہیں۔
پھر بھی،
ہر رات کی تنہائی میں
یا ہر تھکن کے لمحے میں
یہ پہلا سورج یاد آتا ہے—
اک جلتی ہوئی تصویر کی طرح،
جو دل کے پردے پر
ہمیشہ روشن رہتی ہے۔

