مطلع:
چیختی خاموشی بھی اک پیغام دیتی ہے
سناٹے کی دیوار کو الزام دیتی ہے
اشعار:
آنکھوں میں چھپا لیتی ہے طوفان کی شدت
لب بند مگر ہر صدا انجام دیتی ہے
خاموش لبوں سے بھی کوئی شور اٹھتا ہے
یہ چیخ دلِ زار کو گلفام دیتی ہے
ہر لفظ کا بوجھ اپنے اندر نگل کر بھی
خاموش زباں آگ کا اک جام دیتی ہے
زخموں کی کہانی نہ سنی، دیکھنی چاہی
خاموشی حقیقت کو ہی انجام دیتی ہے
رشتوں کی حقیقت ہے یہ ٹوٹے ہوئے لہجے
خاموش نظر بھی دل کو تہہِ دام دیتی ہے
مقطع:
مُنیبؔ یہ خاموشی کبھی پتھر کو کاٹ دے
کبھی تو فقط آنکھ کو ہی نم نام دیتی ہے


