part 2
آگ میں ابھرنے والے چہرے جیسے آگ ہی کا حصہ تھے۔ ان کے نقوش بھڑکتی آگ کے ساتھ بڑھتے اور سکڑتے۔ خیام، وشاء ، فواد اور حوریہ بخوبی جانتے تھے کہ اب انہیں کیا کرنا ہے۔
وشاء نے شیشے کا جار اپنے ہاتھ پر رکھا جس میں ایک خوبصورت تتلی کا Stuffed تھا۔
وہ بلند آواز میں بولی۔
’’تتلی کے روپ میں ایک خوبصورت بلا۔‘‘
حوریہ بلند آواز میں بولی
’’ایک خوبصورت ایسی آواز جو اس قدر دلفریب ہو کر لوگ اس کے پیچھے دوڑتے دوڑتے موت کی آغوش میں چلے جائیں۔‘‘
فواد نے سگریٹ کا کش لیا اور اس کا دھواں فضا میں اڑایا۔
‘‘اس کا روپ لے کر اس ہوا میں بکھر جاؤں، کسی بھی وقت کوئی بھی روپ لے سکوں۔‘‘
خیام بھی بلند آواز میں بولا
’’پراسرار قوتوں کی حامل بس ایک روشنی کی شعاع جو کسی بھی وقت کہیں بھی نمودار ہو سکے کوئی بھی روپ لے سکے۔‘‘
خیام کی بات ختم ہوتے ہی جیسے بھیانک شیاطین و جنات آگ سے باہر آگئے۔ ان چاروں کی چیخ و پکار فضا میں گونجتی رہی پھر ایک بھونچال میں ان کی آوازیں بھی کھو گئیں اور ان کے وجود بھی غائب ہوگئے۔
بھونچال ختم ہونے کے بعد نہ وہاں آگ تھی نہ لکڑیاں۔
اس طرح کی کوئی نشانی نہیں تھی جس سے پتہ چلے کہ کیا ہوا تھا مگر چند ساعتوں کے بعد ایک خوبصورت تتلی اڑتی ہوئی نظر آئی جو کیاری میں لگے پودوں میں چھپ گئی۔
ایک خوبصورت آواز فضا میں گونجنے لگی جس کے ساتھ ہی روشنی کی ایک شعاع اور سیاہ دھواں آسمان کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیا جو دیو ہیکل پہاڑوں کی طرف بڑھتا ہوا غائب ہوگیا۔ جس کے ساتھ ہی نسوانی آواز بھی ختم ہوگئی۔
اس گمبھیر سناٹے میں دلخراش قہقہہ سنائی دیا ۔بدہیت بوڑھا آدمی قہقہے لگاتا ہوا درخت کے پیچھے سے چوپائیوں کی طرف چلتا ہوا سامنے آگیا۔ وہ بمشکل سیدھا کھڑا ہوا۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو پیچھے باندھا اور وہ بدہیت بوڑھا آدمی وجیہہ نوجوان میں بدل گیا۔
اس نوجوان نے فاتحانہ انداز میں اپنے بازو پھیلا لیے۔
’’طلسمانی دنیا کا ساحر زرغام، شیاطین وجنات پر راج کرنے والا آج اور طاقتور ہوگیا۔ خیام، وشاء ، فواد اور حوریہ پُراسرار روپ لے کر تم کیا کرنا چاہتے تھے مجھے اس سے غرض نہیں مگر میں تم سے کیا کراؤں گا یہ میں بخوبی جانتا ہوں۔‘‘
اس نے ایک بار پھر قہقہہ بلند کیا
’’تم لوگ مجھے آسیب سمجھ بیٹھے جبکہ میں انسان کا ہی روپ ہوں۔‘‘
یہ کہتے ہی زرغام اندر ریسٹ ہاؤس میں چلا گیا۔
***
پروفیسر حسنان نے اریبہ کو تو واپس بھیج دیا تھا مگر وہ خود اور ان چاروں کے والد نے ایک خاص ٹیم کی مدد سے ان چاروں اسٹوڈنٹس کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
بہت دونوں کی تگ و دو کے بعد وہ سب واپس اپنے شہروں کو لوٹ گئے۔ اس مایوسی کے بعد ان چاروں کے گھر ماتم کدہ بن گئے۔
چھ ماہ گزر گئے مگر خیام، وشاء فواد اور حوریہ کا کہیں کوئی پتہ نہ چلا سکا۔ ان کے والدین نے ملک کا چپہ چپہ چھان مارا مگر کوئی ایسی نشانی تک نہ ملی جس سے ان کا کوئی سراغ مل سکے یہ سانحہ ان چاروں کے والدین کے لیے ایک روگ بن کے رہ گیا۔
***
ٹی وی چینل پر وشاء کی تصویر کے ساتھ Missing کا اشتہار دیکھ کر اس کے والد ظفر کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس کی سوتیلی ماں نے بیزاری سے سر کو جھٹکا دیا۔ وہ دھیرے دھیرے اس صوفے کے قریب بڑھ رہی تھی جہاں ظفر بیٹھا تھا۔وہ من ہی من میں بڑبڑائی
’’یہ لڑکی جب اس گھر میں تو بھی آفت تھی اور اب گمشدہ ہو کر عذاب بن گئی ہے نہ جانے زندہ ہے یا مر گئی ہے۔‘‘
وہ جھوٹے ٹسوے بہاتی ہوئی ظفر کے قریب بیٹھ گئی۔
’’نہ جانے وشاء کس حال میں ہوگی۔ آخر کیا ضرورت تھی اسے ایسے نکمے دوست بنانے کی۔‘‘
وشاء کی گمشدگی کے بعد ہی ظفر ماریہ سے اکھڑا اکھڑا سا رہتا تھا۔ اس نے طنزیہ نظروں سے ماریہ کی طرف دیکھا۔
’’وشاء کے گمشدہ ہونے میں تمہارے رویے کا بہت دخل ہے تم نے اسے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ تم کیسی ماں ہو جو اپنی بیٹی کے ذہن میں پیدا ہونے والی منفی سوچوں کو نہ پڑھ سکیں۔ میں تو کاروبار کے سلسلے میں ملک سے باہر ہوتا تھا مگر تم اس قدر بے خبر رہی کہ وشاء نے ڈرگز لینا شروع کر دیا اور تمہیں خبر نہ ہوئی۔ میں نے تم سے اس لیے شادی کی تھی کہ وشاء کو ماں کی ضرورت تھی۔‘‘
ماریہ غصے سے کھڑی ہوگئی۔
’’آپ یہ بھول رہے ہیں کہ جب میں اس گھر میں آئی تو وشاء عمر کے اس حصے میں تھی جب ایک بچی کی شخصیت بن جاتی ہے۔ اس کی خامیوں اور خوبیوں میں اس کی اپنی ماں کا ہاتھ تھا۔‘‘
’’مگر تمہارے آنے کے بعد اس کی شخصیت میں جو بدلاؤ میں نے دیکھا تھا وہ غیر معمولی تھا۔‘‘
’’تو پھر اس وقت اپنی بیٹی کو کیوں نہیں سنبھالا اب کیوں تاؤ کھا رہے ہو۔‘‘
’’تم اس وقت میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔‘‘ ظفر نے ماریہ سے کہا اور پھر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
اس نے ٹی وی بند کیا اور اپنے کمرے کی طرف گیا۔ اس نے الماری سے ایک بیگ نکالا جس میں اس نے وہ ساری خاص خاص چیزیں رکھی تھیں جو اسے وشاء کی الماری سے ملی تھیں اس نے وہ بیگ بیڈ پر رکھا اور پھر سے وہ ساری چیزیں دیکھنے لگا۔ وہ تمام چیزیں کسی کی بربادی کی داستان سنا رہی تھیں۔ وہ اس کی چیزوں کو چھو کر بیٹی کی قربت کو محسوس کرنے لگا۔
’’ماریہ کو میں باتیں سنا آیا ہوں مگر اپنے آپ کو کیسے سزا دوں۔ کیوں نہ میں نے اپنی بیٹی کو وقت دیا۔۔۔پردیس میں رہ کر جس کے لیے دولت جمع کرتا رہا۔۔۔آج وہی میرے پاس نہیں رہی۔ میں اس کی محرومی کو نہ سمجھ سکا۔ اس کی ترجیحات نہ جان سکا۔ وہ میرے ساتھ کے لیے ترستی رہی اور جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو خود وہ مجھ سے دور ہو گئی۔‘‘
***
حوریہ کی والدہ رخسانہ بیٹی کے غم میں سخت بیمار تھی اس کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک کم ہوگیا تھا۔ وہ ایک گھریلو عورت تھی۔ حوریہ کے والد توقیر کی شوگر مل تھی، زمینیں بھی تھیں۔ جہاں انہوں نے مختلف قسم کی فصلیں اگائی ہوئی تھیں۔ زمینداری کے کام کے لیے ڈیروں پر کسانوں کو رہائش بھی دی ہوئی تھی۔
حوریہ ہی ان کی واحد اولاد تھی۔ وہ لے پالک تھی، رخسانہ اور توقیر نے اسے بہت پیار دیا۔ اس کے لیے وہ سب کچھ کیا جو انسان اپنی سگی اولاد کے لیے کرتا ہے مگر اسے کہیں سے علم ہوگیا کہ وہ لے پالک ہے اس وقت وہ نہم جماعت کی طالبہ تھی اپنی ذات کی تلاش کی کھوج نے اسے بے راہ کر دیا۔ فواد کا تعلق بھی امیر باعزت گھرانے سے تھا۔ فواد کے والد شاہ انڈسٹریز کے مالک وقار احمد جن کے پاس سب کچھ تھا سوائے وقت کے۔
فواد کی والدہ ایمن جو ایک ویمن این جی او کی جنرل سیکرٹری تھی۔ عورتوں کی فلاح و بہبود کا بیڑا اٹھانے والی خاتون جو کبھی اپنے گھر کو گھر نہ بنا سکی میاں بیوی کے تعلقات سے لے کر اولاد کے جذبات تک سب کچھ پیسہ اور شہرت کے نشے میں پامال ہورہے تھے
فواد کو چار سال کی عمر سے ہی بورڈنگ ہاؤس میں ڈال دیا گیا تھا۔
خیام بھی اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کے والد شہر کے مشہور سرجن تھے۔ ڈاکٹر زبیر اور اس کی بیوی ماہین نے خیام کی پرورش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی مگر جس راستے پر خیام چل پڑا تھا وہ سب اس کے والدین ماننے کو تیار نہیں تھے۔ خیام کی گمشدگی کے بعد ان کا جیسے سب کچھ ہی لٹ گیا تھا۔ عیش و آرام بھی ان کے لیے سزا بن کے رہ گیا تھا کہ نہ جانے ان کا بیٹا کس حال میں ہوگا۔ وہ خیام کے گمراہ ہونے کی وجہ اس کی صحبت کو ہی جان رہے تھے یا پھر کوئی ایسی وجہ تھی جس سے وہ غافل تھے ۔
اس سانحہ کو پورا ایک سال گزر گیا۔ کسی کے جانے کے بعد معمولات کے کام نہیں رکتے۔ وقت کے بے لگام گھوڑے پر سواری کرنا ہی پڑتی ہے۔
وقت غموں اور خوشیوں کے لمحوں کو سینچتا ہوا نہ جانے کب گزر گیا۔ آنکھوں سے بہنے والے اشک نہ جانے کیسے تھم گئے۔ کسی کے نام سے دھڑکنے والے دل کسی کے بغیر بھی دھڑکتے رہے۔
یہ ساری گہما گہمی اس سناٹے کو ختم نہ کر سکی جو اکلوتی اولاد کے جانے کے بعد گھروں میں ٹھہر گیا، امیدیں مایوسی میں بدل گئیں کوششیں دم توڑ گئیں۔
چار گھروں کا عمر بھر کا خزانہ لٹ گیا۔
***
رات کے سناٹے میں جب سب لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔ جب رات کی سیاہ زلفوں پر جگمگاتی روشنیاں ٹمٹمانے لگی تھیں تب شہر کا ایک حصہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ جہاں زندگی کا سورج طلوع نہیں ہوتا۔ جہاں موت کا راج ہے۔ جہاں مردہ جسم تو ابدی نیند سو رہے ہیں مگر ان کی ارواح اسی قبرستان میں بھٹک رہی ہیں۔
کوئی اہل دل سنے تو روح فرسا سناٹے میں کسی کے سسکنے کی یا غموں میں ڈوبے قہقہوں کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ جیسے کوئی اُس مان پر ہنس رہا ہو جو اسے اپنی زندگی پر تھا۔
رات بارہ بجے کے بعد اس سناٹے میں مہین سی آوازیں کئی راز افشاں کرتی ہیں۔ کئی قبروں کے کتبے نہیں ہیں اور کئی قبریں نیست و نابود ہو چکی ہیں اسی اندوہناک وادی میں کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔
قدموں کی آہٹ واضح ہوتی جا رہی ہے مگر کوئی وجود نمایاں نہیں ہوتا۔ پھر انتہائی پرانی خستہ حال قبروں کی طرف کوئی بڑھتا ہے۔ رات کی سیاہی میں اس کا سراپا وجود بہت مدھم تھا۔
اس نے دیا جلایا تو اس سیاہ پوش کا معمولی سا خاکہ دکھائی دیا۔ اس نے جلا ہوا چراغ اس پرانی قبر کے قریب رکھ دیا۔ اسی طرح اس نے چراغ دوسری قبر کے قریب کر دیا۔ دو زانو بیٹھ گیا اور کسی منتر کا جاپ کرنے لگا۔ وہ تقریباً آدھا گھنٹہ اسی کیفیت میں رہا پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔
اس کے جانے کے بیس منٹ کے بعد وہ دونوں قبریں ایک دھماکے کے ساتھ پھٹیں۔ جن قبروں میں ڈھانچے بھی گل سڑک چکے تھے۔ ان میں سے جیتے جاگتے انسانوں کے سے وجود نمایاں ہوئے اور پھر ان کے منخنی وجود ہوا میں تحلیل ہوگئے۔
***
حوریہ کے والد توقیر کے دوست کی جوان بیٹی کا انتقال ہوگیا۔ حوریہ کی والدہ رخسانہ تعزیت کے لیے ان کے گھر گئیں۔
میت صحن کے وسط میں رکھی ہوئی تھی۔ لڑکی کی ماں اور بہنیں رو رو کے بے حال ہو رہی تھیں۔رخسانہ نے انہیں دلاسہ دینے کی بہت کوشش کی مگر وہ غم سے نڈھال تھیں۔
رخسانہ میت کے قریب بیٹھ گئی۔ اس نے مری ہوئی لڑکی کا چہرہ دیکھا تو ایک تکلیف دہ احساس نے اس کا سینہ چیر کے رکھ دیا۔ اسے حوریہ کا خیال آیا کہ نہ جانے وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس نے ممتا کے پیار سے بھری آنکھوں سے اس لڑکی کی طرف دیکھا اور اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھ دیا۔ اس کی نظریں اس لڑکی کے چہرے پر ٹھہر گئیں۔ رخسانہ کو محسوس ہوا کہ لڑکی کے سر نے حرکت کی ہے۔ اس کے جسم میں تھر تھراہٹ دوڑ گئی۔ اس نے خوفزدہ ہو کے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔
مردہ لڑکی نے اپنے اکڑے ہوئے چہرے اور ساکت آنکھوں کے ساتھ رخسانہ کی طرف دیکھا۔ اس کی سرد آنکھیں رخسانہ کے چہرے پر گڑی ہوئی تھیں۔ اس کے خشک سلیٹی مائل لبوں میں جنبش ہوئی۔ وہ حوریہ کی آواز میں بولی۔
’’مما ! کہاں ڈھونڈوگی مجھے، زندوں میں یا مردوں میں، آسمان میں یا زمین میں۔۔۔‘‘ جس کے ساتھ ہی جھٹکے سے اس نے اپنا سر سیدھا کر لیا۔
رخسانہ کے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی۔ وہ چیخنے لگی۔
’’حوریہ! کہاں ہو تم، اس نے مجھ سے حوریہ کی آواز میں بات کی ہے۔‘‘ وہ لاش کے قریب ہونے لگی تو دو عورتوں نے اسے پکڑ لیا۔
’’بیٹی کی جدائی نے اس کے دماغ پر اثر ڈال دیا ہے۔ ہم سب یہاں بیٹھے ہیں اور یہ کہہ رہی ہے کہ میت نے اس سے بات کی ہے۔‘‘
رخسانہ رو رو کے بتانے لگی
’’میرا یقین کریں، اس نے مجھ سے حوریہ کی آواز میں بات کی ہے۔‘‘ لڑکی کی ماں نے رخسانہ کی حالت دیکھی تو توقیر کو بلا لیا۔
توقیر، رخسانہ کو اٹھانے لگا تو وہ لاش کے پاس جم کے بیٹھ گئی۔
’’میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔‘‘
توقیر اسے زبردستی وہاں سے گھر لے آیا۔ گھر آنے کے بعد بھی وہ یہی کہتی رہی کہ میت نے اس سے بات کی تھی مگر کوئی بھی اس کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا۔
حوریہ کی والدہ رخسانہ اس واقعے کے بعد بہت خوفزدہ ہوگئی ، عجیب عجیب سے واہمے اس کے سینے پر خنجر گھونپنے لگے۔
’’ایک روح ہی مردہ جسم میں سرایت کر سکتی ہے۔ نہ تو مردہ بول سکتا ہے اور نہ ہی ایک زندہ انسان مردے میں سرایت کر سکتا ہے۔ کہیں میری حوریہ۔۔۔‘‘
اس خیال سے وہ کانپ اٹھی۔
’’نہیں میری حوریہ کو کچھ نہیں ہوسکتا۔ وہ ضرور واپس آئے گی۔‘‘ اس نے اگلے روز ہی گھر میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا۔ قرآن خوانی میں اس نے وشاء، فواد اور خیام کے گھر والوں کو بھی بلایا۔
وشاء کے گھر سے کوئی نہیں آیا مگر خیام اور فواد کے گھر سے ان دونوں کی والدہ آئی تھیں۔ جو خود غم سے نڈھال تھیں۔ وہ بھی اس مذہبی تقریب میں شامل ہو کے اپنے غموں کا مداوا کرنے لگیں۔ درس دینے والی عورت قرآن پاک کی آیتوں کے ترجمے کی تفسیر کرتے ہوئے عورتوں کو سنت رسول صلی اللہ علی وسلم پر عمل کرنے کی ہدایت دے رہی تھی۔ اس کے درس کا موضوع فانی زندگی سے جب ابدی زندگی کی طرف گیا تو وہ موت کے بعد کے تلخ حقائق بیان کرنے لگی۔
فواد کی والدہ ایمن اور خیام کی والدہ ماہین تو زار و قطار رو رہی تھیں۔
خوف میں پس پردہ ایک احساس جسے ان کا دل ماننے کو تیار نہیں تھا، انہیں رلا رہا تھا۔ ایسی ہی حالت رخسانہ کی بھی تھی۔
درس ختم ہوا تو وہ تینوں رخسانہ، ایمن اور ماہین درس دینے والی عورت کے پاس جا بیٹھیں۔ عورت نے ان تینوں کی طرف بغور دیکھا۔
’’کیا بات ہے آپ تینوں بہت پریشان لگ رہی ہیں۔‘‘
رخسانہ نے اسے باری بات بتائی اور اس واقعہ کا ذکر کیا جو اس سے گزشتہ دنوں پیش آیا۔ ان کی ساری بات سننے کے بعد عورت سوچ میں پڑ گئی۔
’’آپ تینوں کی باتیں بہت حیران کن ہیں مگر ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کے کہنے کے مطابق آپ کے بچے کالے جادو کی طرف راغب تھے۔ پولیس کی انتھک کوشش کے باوجود ان کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ پولیس کے ذریعے تو ان کی تلاش جاری ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے لاپتہ ہونے میں کالے جادو کا ہی چکر ہو۔ عملیات کا توڑ عملیات سے ہی کیا جاتا ہے۔ آپ ان کا حساب نکلوائیں۔ میں آپ کو ایک عامل کا ایڈریس لکھ کر دیتی ہوں۔ وہ بہت قابل ہیں لیکن آپ کو شہر سے باہر جانا ہوگا۔‘‘
رخسانہ گلوگیر لہجے میں بولی
’’ہم ہر جگہ جانے کے لیے تیار ہیں، ہمارے بچے مل جائیں۔‘‘
ایمن نے عورت کے ہاتھ سے ایڈریس کی پرچی لی۔
’’ہم تینوں وہی ان کے پاس جائیں گی۔ میں نے تو اپنے خاوند کو کئی بار کہا مگر انہوں نے اس چیز کو توہمات پرستی اور شرک کا نام دیا۔‘‘
عورت مؤدبانہ انداز میں بولی
’’بی بی! یہ فقیر تو وسیلے ہیں جو قرآن پاک کی آیتوں کے ذریعے کالے علوم کا توڑ کرتے ہیں۔ آپ جلد ہی اس بزرگ سے رابطہ کریں۔ میں آپ تینوں کے لیے دعا کروں گی ۔ان شاء اللہ آپ کے بچے خیریت سے گھر واپس آجائیں گے۔ آپ امید کا دامن نہ چھوڑنا، مایوسی بنتے کام بگاڑ دیتی ہے۔ بس درود شریف کے ساتھ اللہ الصمد کی تسبیح کا ورد کرتی رہیں لیکن ایک بات میں آپ سے ضرور کہوں گی ۔ اولاد کو اخلاقی تعلیم والدین دیتے ہیں۔ والدین کو اپنے بچوں کی ہر عادت، نظر اور روزمرہ کے معمولات پر نظر رکھنی چاہئے۔ ان کی ترجیحات کا بھی دھیان رکھنا چاہئے۔ جرم وہاں ہوتا ہے جہاں محرومی ہوتی ہے اور بری سوچ ان کے ذہنوں میں آجاتی ہے۔ جہاں خلا ہوتی ہے اپنے بچوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘ وہ تینوں سرجھکائے خاموشی سے عورت کی باتیں سنتی رہیں۔
’’آپ ہمارے لئے دعا ضرور کیجئے گا۔‘‘ رخسانہ نے کہا۔
***
ڈاکٹر زبیر ہاسپٹل سے تقریبا گیارہ بجے گھر آئے۔ ملازمہ نے دروازہ کھولا۔ زبیر عقبی دروازے سے لاؤنج میں آگیا۔
ماہین ہمیشہ اس کا لاؤنج میں ہی انتظار کرتی تھی۔ لاؤنج میں اندھیرا تھا بس فینسنی لائٹ کی ملگجی سی روشنی مدھم سی پھیلی ہوئی تھی۔
’’ماہین بھئی کہاں ہو۔‘‘ وہ ماہین کو پکارتا ہوا بیڈ روم تک چلا گیا۔ ماہین بیڈ روم میں نہیں تھی۔ وہ دوبارہ لاؤنج میں آگیا اس نے لائٹ آن کی تو ماہین اپنی ٹانگیں سیکٹرے صوفے پر براجمان تھی۔ زبیر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا پھر وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔
ماہین نے اپنا چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔ وہ زبیر سے اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ زبیر نے اس کا چہرہ دھیرے سے اپنی طرف کیا۔
’’یہ کیا تم رو رہی ہو اور اس طرح اندھیرے میں کیوں بیٹھی ہو۔‘‘
ماہین نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھیں زبیر کی آنکھوں میں گاڑ دیں۔
’’یہی ہم دونوں کی زندگی کی حقیقت ہے ہماری زندگیاں اندھیروں میں ڈوب گئی ہیں۔ ہمارے گھر کا چراغ کہاں ہے۔۔۔‘‘
ماہین، زبیر کے شانوں سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
زبیر کی بھی آنکھیں بھر آئیں۔
’’میں نے اسے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا، میں اور کیا کر سکتا ہوں۔ یہ آزمائش ہے خدا کی طرف سے، مگر مجھے یقین ہے کہ میرا بیٹا زندہ ہے۔ وہ ان شاء اللہ ضرور واپس آئے گا۔‘‘
’’آپ نے جو کرنا ہے آپ کریں مگر میں کسی بزرگ سے حساب نکلوانا چاہتی ہوں آپ نے کئی طریقوں سے انہیں ڈھونڈا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ ہم ان طریقوں سے بھی انہیں تلاش کریں۔‘‘ ماہین نے اپنے دل کی بات کہی۔
زبیر نے ماہین کے شانوں پر ہاتھ رکھے۔
’’اگر تم خیام اور اسکے دوستوں کو روحانی طریقوں سے ڈھونڈنا چاہتی ہو تم عبادت کرو جتنی ہو سکے۔ ہمیں خدا کی ذات سے امید کی ڈوری باندھے رکھنی چاہئے۔ یہ پیر فقیر ایسی ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جو ہم برداشت نہیں کرسکیں گے۔‘‘
ماہین نے زبیر کا ہاتھ تھام لیا۔
’’آپ یہ ساری باتیں چھوڑیں۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں رخسانہ اور ایمن ہم تینوں بزرگ کے پاس جائیں گی۔‘‘
زبیر نے اس کے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔
’’ٹھیک ہے اگر اس طرح تمہاری تسلی ہوتی ہے تو چلی جانا۔‘‘
ایمن اور خسانہ نے بھی اپنے اپنے خاوند سے بات کر لی۔ توقیر ان تینوں کے ساتھ جانے کے لیے رضا مند ہوگیا۔ جمعہ کے روز وہ چاروں فجر کی نماز کے فوراً بعد سفر پر روانہ ہوگئے۔
***
وشاء کی والدہ گھر پر نہیں تھیں ۔ ظفر ایک روز پہلے ہی بیرون ملک سے لوٹا تھا۔ اس نے ملازمہ سے چائے بنانے کو کہا اور بک شیلف سے بک ڈھونڈنے لگا۔ اسے چند شاعری کی بکس نظر آئیں۔ اس کی آنکھوں کے سامنے وشاء کا چہرہ آگیا۔ یہ کتابیں وشاء کی تھیں۔ اس نے ان میں سے ایک کتاب اٹھائی اور باہر لان میں بیٹھ گیا۔
ملازمہ چائے باہر لان میں ہی لے آئی۔ اس نے چائے میز پررکھی اور اندر چلی گئی۔
ظفر نے کتاب کھولی اور پڑھنے لگا۔ اس کتاب میں رومینٹک شاعری تھی۔ وہ صفحات پلٹ رہا تھا کہ کتاب سے کچھ نکل کر اس کے قدموں میں گرا۔ وہ غالباً کسی کی تصویر تھی۔ ظفرنے وہ تصویر اٹھائی۔ ’’ساحل! وشاء کی بک میں ساحل کی تصویر۔۔۔‘‘ اس نے تصویر کے پیچھے دیکھا تو وشاء نے اپنی ہینڈ رائٹنگ میں ساحل کے لیے غزل لکھی ہوئی تھی۔ ظفرنے تذبذب سی کیفیت میں تصویر واپس کتاب میں رکھ دی۔
’’اس کا مطلب ہے کہ وشاء میری بہن کے بیٹے ساحل کو پسند کرتی تھی۔ مگر اس نے کبھی مجھے کیوں نہیں بتایا۔ میری بیوہ بہن غریب ہے تو کیا ہوا۔ میں وشاء کے لیے ساحل کو قبول کر لیتا۔ وہ تو ویسے بھی CSS کے امتحان کی تیاری کر رہا ہے۔‘‘
مگر اسکے ذہن کے کسی کونے سے کوئی سرگوشی آئی کہ ایسی باتیں تو بیٹیاں ماؤں سے کرتی ہیں۔ ظفر کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ عجیب سی گھبراہٹ سے اس کا سر چکرا کے رہ گیا۔
’’کاش میں اپنی بیٹی کے قریب ہوتا تو یہ بات ضرور جان لیتا۔‘‘
اس نے چائے ایسے ہی چھوڑ دی اور تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھا اور گاڑی لے کر پورچ سے نکل پڑا۔
شہر کے پرانے علاقے کی ٹوٹی پھوٹی بوسیدہ گلیوں میں گاڑی چلاتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا کہ وہ ان گلیوں میں شاید پانچ سال کے بعد آیا ہے پیسہ اور جھوٹی شان و شوکت کی دیوار ان بہن بھائیوں میں حائل رہی۔ وشاء کی گمشدگی کا سن کر وہ تڑپ کے رہ گئی تھی، کتنے ہی چکر بھائی کے گھر کے لگائے۔
مگر اب غم کے کسی شکنجے میں وہ بے اختیار بہن کے گھر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اینٹوں پر سیمنٹ کی لپائی سے بنے پرانے سے گھر کے قریب اس نے گاڑی روکی۔ ٹین کی پتلی چادر سے بنے دروازے پر دستک دی۔
اندر سے نسوانی آواز ابھری۔’’کون۔۔۔‘‘
’’میں ہوں۔۔۔‘‘
ساحل کی بہن ردا نے ماموں کی آواز پہچان لی اور جھٹ سے دروازہ کھول دیا۔
ظفر نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر پیار دیا۔ وہ دوڑتی ہوئی اندر بھاگی۔’’امی جان!ً دیکھئے کون آیا ہے؟‘‘
راحت کچن سے باہر نکلتے ہوئے دوپٹے سے ہاتھ پونچھتی ہوئی باہر آئی۔’’کون آیا ہے؟‘‘
بھائی کو کمرے میں دیکھ کر اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ آگے بڑھ کر بھائی سے ملی۔’’آج بہن کی یاد کیسے آگئی۔‘‘
ظفر خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے ردا کی طرف دیکھا۔
’’ادھر آؤ میرے پاس۔‘‘
ردا ماموں کے قریب بیٹھ گئی۔
’’تمہاری پڑھائی کیسی چل رہی ہے۔‘‘
’’فرسٹ ٹرم کے امتحان میں سیکنڈ آئی ہوں۔‘‘ ردا نے خوشی سے بتایا۔
راحت بھی مسکراتے ہوئے بولی۔
’’سیکنڈ ٹرم کے بعد بارہویں جماعت میں ہو جائے گی۔‘‘
ظفر نے پیار سے ردا کے سر پر تھپکی دی۔
’’اتنی بڑی ہوگئی ہو مجھے تو وہی چھوٹی سی ردا لگتی ہو۔‘‘
’’وشاء کا کچھ پتہ چلا۔‘‘ راحت کے چہرے پر یکلخت سنجیدگی چھا گئی۔
ظفر نے سر جھکا لیا۔
’’نہ جانے تمہارے بھائی سے ایسی کون سی خطا ہوئی ہے جس کی اسے یہ سزا ملی ہے۔ میری جان سے پیاری بیٹی نہ جانے کہاں کھو گئی۔ میں نے اسے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔‘‘
’’آپ ہمت رکھیں بھائی جان! وشاء کو کچھ نہیں ہوگا۔ وہ بخیریت مل جائے گی۔‘‘
ظفر ادھر ادھر نظر دوڑانے لگا ’’ساحل کہاں ہے؟‘‘
’’وہ اپنے دوست کی طرف گیا ہے۔‘‘
’’کب تک آجائے گا۔‘‘
’’اگر آپ کو کوئی کام ہے تو اسے فون کر دیتی ہوں۔‘‘
’’نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے تم ایسا کرنا کہ رات کو اسے میرے گھر بھیج دینا۔‘‘ ظفر نے کہا۔
’’میں ساحل کی وجہ سے بے حد پریشان ہوں۔‘‘ راحت نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
’’کیوں۔۔۔ایسی کیا بات ہے۔‘‘ ظفر نے پوچھا۔
راحت نے مرے مرے سے لہجے میں کہا
’’میرا بیٹا بہت خوش مزاج تھا اس کی زندگی کے معمولات زندہ دلی سے بھرپور تھے مگر ایک سال ہونے کو ہے۔ ساحل پہلے جیسا نہیں رہا۔۔۔بالکل بدل گیا ہے ۔۔۔چپ سی لگ گئی ہے اسے۔۔۔ایسا حال ہوگیا ہے جیسے اس کی کوئی چیز کھو گئی ہو۔ میں نے تو دم درود بھی کروائے مگر وہ ایسا ہی ہے بدمزاج اداس اپنے آپ میں گم رہتا ہے۔‘‘
’’وہ تو سی ایس ایس کی تیاری کر رہا تھا نا۔‘‘ ظفر نے پوچھا۔
راحت نے لمبی آہ بھری۔
’’پتہ نہیں کیسے پڑھتا ہے مجھے نہیں لگتا کہ وہ تعلیم کی طرف دھیان دے پا رہا ہے۔‘‘
’’تم رات کو اسے میرے پاس بھیجنا۔ میں اس سے بات کروں گا۔ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ اسے کیا پریشانی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھنے لگا۔
’’اب مجھے اجازت دیں۔‘‘
’’یہ کیا بھائی جان! آپ نے تو کچھ کھایا پیا ہی نہیں۔ ردا نے چولہے پر چائے رکھی ہے آپ چائے تو پی کر جائیں۔‘‘
پھر راحت ردا سے مخاطب ہوئی
’’جا جلدی سے ماموں کے لیے چائے بنا کر لاؤ۔‘‘
ردا پھرتی سے کچن میں گئی اور چائے کے ساتھ بسکٹ لے آئی۔
’’بھابی ٹھیک ہیں۔‘‘ راحت نے پوچھا۔
’’ہاں۔۔۔وہ ٹھیک ہے لیکن تمہارا بھائی پچھتاوے کے ایسے کرب سے گزر رہا ہے کہ رات بھر نیند نہیں آتی۔‘‘ راحت سر جھکائے خاموشی سے سب سن رہی تھی جیسے اس صورت حال کا اسے پہلے سے اندازہ ہو۔
ظفر کے من کا جوالا مکھی پھٹ گیا۔
’’میں اپنی بیٹی کو وقت نہ دے سکا۔ میں نے اسے ماں لا کر دے دی مگر یہ نہ سمجھ سکا کہ سوتیلی ماں اسے وہ توجہ نہیں دے سکتی جس کی وہ مستحق تھی۔ اس کی شخصیت میں ہونے والی توڑ پھوڑ کا میں ذمہ دار ہوں۔ میں نے اپنی بیٹی کی ترجیحات جاننے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اندر ہی اندر سلگتی رہی اور میں اس کے دل کے حال سے غافل رہا۔مثبت سوچوں کی مالک کب منفی انداز میں سوچنے لگی۔ اس کے من میں کیسا تصادم تھا کہ اس کی سوچ کے دریچوں سے شیطانی وسوسوں نے اس کے من میں گھر کر لیا۔ وہ کس طرح شیطانی علوم کی طرف مائل ہوگئی۔‘‘
راحت نے شفقت سے بھائی کا ہاتھ تھام لیا۔
’’آپ وشاء کے شیطانی علوم کی طرف مائل ہونے کی بات کر رہے ہیں تو کسی عامل سے رابطہ کیوں نہیں کرتے۔‘‘
ظفرنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
’’میں ان باتوں پر یقین نہیں کرتا۔‘‘ یہ کہہ کر ظفر وہاں سے چلا گیا۔
ظفر کے جانے کے ایک گھنٹے بعد ہی ساحل آگیا
’’آج ماموں آئے تھے۔‘‘ ردا نے ساحل کو بتایا۔
’’آج کیسے راستہ بھول گئے ماموں۔۔۔‘‘ ساحل نے اپنا لیدر کا بیگ الماری میں رکھتے ہوئے کہا۔ راحت سبزی کی ٹوکری اور پلیٹ میز پر رکھتے ہوئے تھکی تھکی سی کرسی پر بیٹھی اور ساحل سے گویا ہوئی۔
’’بہت پریشان تھے تمہارے ماموں، اب تک وشاء کا کچھ پتہ نہیں چلا۔‘‘
ساحل آنکھیں جھکائے کسی غم کے احساس میں ڈوب گیا۔
’’اب کیا پتہ چلے گا، پورا ایک سال بیت گیا ہے اس حادثہ کو۔‘‘
’’رات کو تمہارے ماموں نے تمہیں بلایا ہے۔‘‘ راحت نے کہا۔
’’مجھے نہیں بتایا۔ کوئی کام ہوگا۔ اپنا تو کوئی بیٹا ہے نہیں۔ میرا بھائی بہت تنہا ہوگیا ہے۔‘‘ سبزی کاٹتے ہوئے راحت کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
’’میں چلا جاؤں گا۔۔۔‘‘ اس نے ماں کے گلے کے گرد بانہیں حائل کر لیں۔
’’آپ کیوں رو رہی ہیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
رات آٹھ بجے ظفر کے گھر کی بیل بجی، ماریہ نے کیمرے میں ساحل کی تصویر دیکھی تو بیزاری سے بولی۔
’’یہ اس وقت کیوں آیا ہے۔‘‘
اس نے دروازہ کھولا تو ساحل نے آگے بڑھ کر کہا
’’السلام علیکم ممانی۔۔۔‘‘
’’وعلیکم السلام۔‘‘
’’ماموں گھر پر ہی ہیں۔‘‘
’’ہاں اندر آجاؤ۔‘‘
ظفر لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ساحل کو دیکھ کر وہ اس سے ملا۔ ’’ٹھیک ہو۔‘‘
’’جی خدا کا شکر ہے۔‘‘
’’باہر لان میں بیٹھتے ہیں، باہر موسم بہتر ہے۔‘‘ اس نے ترچھی نظر سے ماریہ کی طرف دیکھا۔
’’ہماری چائے باہر بھجوا دینا۔‘‘
ماریہ ہونٹوں کو بھنچیتے ہوئے بولی۔’’بہتر۔‘‘
گارڈن لائٹس کی ہلکی سی روشنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔وائٹ کلر کے Chairs set پر بھی دھیمی دھیمی روشنی پڑ رہی تھی۔ وہ دونوں کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
ساحل ، ظفر سے گویا ہوا۔
’’وشاء کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہو سکا۔ میں جانتا ہوں کہ آپ نے اس کی تلاش میں کوئی کمی نہیں چھوڑی مگر تلاش تو ختم نہیں کی جا سکتی۔ زندگی کا مالک تو خدا ہے وہ اگر کسی کو زندہ رکھنا چاہئے تو کیسے ہی حالات ہوں وہ زندہ رکھتا ہے۔ میں وشاء کو جانتا ہوں وہ بہت ضدی ہے۔ اگر کسی بات کی ٹھان لے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ زندہ و خیریت سے ہوگی۔‘‘
’’خدا کرے ایسا ہی ہو۔ میری بیٹی مجھے مل جائے تو میں اس کی ہر خواہش پوری کروں گا۔‘‘ ظفر کے لفظوں کی ان ساعتوں میں ساحل کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
’’کبھی کبھی انسان اپنی خواہشوں کی قبر میں بھی دفن ہو جاتا ہے۔‘‘
ظفر نے گہری نظر سے ساحل کی طرف دیکھا
’’تم نے اپنا کیا حال بنا رکھا ہے۔ میں نے ایک نظر میں تمہیں پہچانا بھی نہیں تھا۔‘‘ پھر ٹھہر کا کہا
’’آج صبح ایک بہت بڑی حقیقت مجھ پر آشکار ہوئی۔‘‘
ظفر کی بات پر ساحل نے پوچھا۔ ’’کیسی حقیقت؟‘‘
ظفر نے گہری نظر سے ساحل کی طرف دیکھا۔
’’وہ تمہیں پسند کرتی تھی کیا تم اس بات سے واقف تھے؟‘‘
ماموں کے سامنے ساحل کا رنگ فق پڑ گیا۔ دل جیسے تیزی سے دھڑکنے لگا، زبان پر بل آگیا۔ مگر اس نے بے خوفی سے وہی کہا جو اس کے دل نے کہا۔
’’جی۔۔۔‘‘
ظفر نے ساحل کی گھبراہٹ محسوس کرتے ہوئے کہا۔
’’تھوڑی دیر کے لیے یہ بھول جاؤ میں تمہارا ماموں ہوں سمجھ لو کہ میں تمہارا دوست ہوں۔ مجھے سب کچھ تفصیل سے بتاؤ۔ میری بیٹی زندگی کے کن مراحل سے دوچار تھی۔ میں سب جاننا چاہتا ہوں۔‘‘
ساحل کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اس کے چہرے پر دکھ کے تاثرات بہت نمایاں تھے۔ اس نے ایک لمبی سانس کھینچی۔
’’ماموں! جتنا وشاء کی گمشدگی پر آپ پریشان ہیں، میری کیفیت اس سے مختلف نہیں ہے۔ جب آپ اور آپ کا گروپ وشاء کی تلاش کرتے کرتے اس پہاڑی علاقے سے مایوس ہو کر واپس آئے تو میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اس پہاڑی علاقے میں گیا۔ میں اپنے طور پر وشاء کو ڈھونڈنا چاہتا تھا میں نے اسے ہر جگہ ڈھونڈا، یہاں تک کہ مقامی لوگوں سے ان کے گھروں میں جا کے پوچھا۔ مگر جب مایوسی ہوئی تو اس غم نے جیسے مجھ سے میرے جینے کی خواہش ہی چھین لی۔ اب جی رہا ہوں مگر غم کے بوجھ تلے دبا جا رہا ہوں۔
ماموں! وشاء آپ سے بہت پیار کرتی تھی۔ وہ آپ سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر آپ کے پاس وقت نہیں تھا اور ممانی کے اندر ممتا کے جذبات نہیں تھے آپ ہمارے گھر بہت کم آتے تھے مگر امی اور میں اور ردا تو وشاء کے لیے اس سے ملنے آجاتے تھے۔ وشاء بھی اکثر ہمارے گھر آجاتی تھی۔ اس نے کبھی ہم لوگوں کو کمتر نہیں سمجھا۔ وشاء اور ردا کی گہری دوستی میں جیسے میں بھی شامل ہو گیا۔ مجھ سے بھی وہ دل کی باتیں کرنے لگی۔ کتنے ہی عرصے تک میں اس کے دل کی بات نہیں جان سکا۔ وہ امیری غریبی کے فرق کو بھول کر مجھے چاہنے لگی تھی۔ وہ گھر میں عجیب ماحول سے دوچار تھی۔ ممانی سے اس کی بنتی نہیں تھی۔ ممانی اپنے آوارہ بھتیجے شمعون سے وشاء کا رشتہ کرنا چاہتی تھی۔ اس کا گھر میں آنا جانا بڑھ گیا تھا۔ردا نے وشاء کو بار بار سمجھایا کہ آپ کو اس بات سے آگاہ کر دے مگر وہ کہتی کہ وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ایک روز وشاء نے مجھ سے محبت کا اقرار کر لیا۔ میری کیفیت وشاء سے مختلف نہیں تھی مگر میں نے حقیقت پسندی سے کام لیا اور اپنے جذبے کو وشاء کی بہتری کے لیے چھپا لیا۔ میں جانتا تھا کہ میں وشاء کو وہ سب آسائشیں نہیں دے سکتا۔ جسکی وہ عادی ہے پھر یہ بھی جانتا تھا کہ آپ حیثیت کے اس فرق کو کبھی نظر انداز نہیں کریں گے۔ اور بیوی کے پیشے پر حیثیت بنانا میرے مزاج کے خلاف تھا۔
میں نے دل پر پتھر رکھ کے وشاء سے کہہ دیا کہ میں نے کبھی اس کے بارے میں اس طرح نہیں سوچا وہ میرا خیال دل سے نکال دے۔ اس وقت وہ بہت ٹوٹ چکی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنا آخری سرمایہ بھی لٹا چکی ہو۔ دو ماہ تک میں اس سے نہیں ملا۔ ایک روز جب ردا نے مجھے بتایا تو میں سٹپٹا کے رہ گیا۔‘‘
’’ساحل! وشاء کو نہ جانے کیا ہوگیا ہے وہ تو بالکل بدل گئی ہے۔‘‘ ردا نے مجھے بتایا۔
’’کسی سے نہیں ملتی، اپنے کمرے میں بند رہتی ہے۔ اس کے چہرے کی حساسیت آنکھوں کی معصومیت کہیں غائب ہوگئی ہے۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے وہ کہیں خود کو کچھ کر نہ لے۔‘‘
میں نے ردا کا ہاتھ تھام لیا
’’ردا میں اس سے ابھی ملنا نہیں چاہتا مگر تم اس کے گھر جاؤ۔ اسے سمجھاو۔ ماموں بھی اس ملک میں نہیں ہیں۔ امی جان کے ساتھ چلی جانا۔‘‘ ردا امی کے ساتھ وشاء سے ملنے چلی گئی۔ ممانی امی اور ردا سے باتیں کرتی رہیں مگر وشاء کا برتاؤ بہت عجیب تھا وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ ردا بھی وشاء کے کمرے میں چلی گئی۔ وشاء اپنے بیڈ پر لیٹی تھی۔ ردا اس کے قریب بیٹھ گئی۔ وشاء کاچہرہ پیلا پڑا ہوا تھا۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے تھے۔ ردا نے حیرت سے وشاء کی طرف دیکھا
’’وشاء تمہیں کیا ہوگیا ہے ۔تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا، یا تمہیں کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ، میں تمہارا مسئلہ حل کروں گی۔‘‘
وشاء نے بیگانے پن سے ردا کی طرف دیکھا۔
’’مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے میں ٹھیک ہوں۔‘‘
ردا چلا کر بولی’’کیسے ٹھیک ہو چہرہ دیکھا ہے اپنا تمہارا کیا حال ہوگیا ہے۔‘‘
وشاء نے ردا کے شانوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اپنی پھٹی پھٹی آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑ دیں۔
’’مجھے سانپ نے ڈس لیا ہے، میرے پورے جسم میں زہر پھیل گیا ہے مگر میں زندہ ہوں۔ کیونکہ میں نے اس سانپ کا سر کچلنا ہے۔ پھر میں آرام سے مر جاؤں گی۔‘‘
ردا نے اپنے شانوں پر سے اس کے ہاتھوں کو ہٹایا۔ ’’وشاء میری جان یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو تمہیں کسی نے تنگ کیا ہے تو مجھے بتاؤ میں اور ساحل تمہاری مدد کریں گے۔‘‘
وشاء نے اطمینان کے ساتھ پشت لگا لی۔
’’نہیں مجھے تم دونوں کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود اپنے مجرم سے بدلہ لوں گی۔ اس نے میرا مان میرا غرور توڑ دیا مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ نفرت کی طاقت کیا ہوتی ہے اگر لڑکی نفرت کرنے میں آئے تو بلا بن جاتی ہے۔‘‘
وشاء کی اس طرح کی باتیں سن کر ردا رونے لگی
’’وشاء میرا دل گھبرا رہا ہے مجھے بتاؤ کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے۔‘‘
وشاء نے ردا کے آنسو صاف کیے اور دھیرے سے بولی۔
’’میری پیاری سہیلی مجھے تنہا چھوڑ دو۔ مجھے بہت نیند آرہی ہے مجھے سونے دو۔‘‘
ردا اپنے آنسو پونچھتی ہوئی کمرے سے باہر آگئی۔ اس نے امی سے جانے کے لیے کہا۔ امی نے ممانی سے اجازت لی اور وہ دونوں گھر آ گئیں۔ جب مجھے ردا نے یہ سب کچھ بتایا تو میں بہت پریشان ہوگیا۔ میں وشاء سے ملنے اس کی یونیورسٹی چلا گیا۔ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد گاڑی وشاء کو لینے آئی تو میں اپنی موٹر بائیک پر وشاء کے قریب آیا۔
’’آج میں تمہیں ڈراپ کر دوں۔‘‘
”میری گاڑی آگئی ہے۔ مجھے جانا ہے۔‘‘ وشاء نے کہا
’’مجھے تم سے بات کرنی ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’جو کہنا ہے یہیں کہہ لو۔‘‘ وشاء تلخ روی سے بولی۔ میں نے اس سے التجا کی کہ وہ ایک بار میری بات سن لے۔
اس نے ڈرائیور سے رکنے کے لیے کہا اور ہم دونوں سامنے گراؤنڈ میں بیٹھ گئے۔
رداکی بات ٹھیک تھی، واقعی وہ چہرے سے بیمار لگ رہی تھی۔ میں نے اسے بہت کریدنے کی کوشش کی مگر اس نے اپنے دل کی بات مجھے نہیں بتائی۔ جب میں نے اس سے اپنے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا۔
’’تمہیں اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا پورا حق ہے۔ میں تم سے ناراض نہیں ہوں۔ بس تم مجھ سے دوبارہ ملنے کی کوشش مت کرنا۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔‘‘
’’میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کون ہے جس نے تمہیں اذیت دی ہے جس سے بدلہ لینے کی بات تم ردا کے سامنے کر رہی تھی۔‘‘
میرے ایسے کہتے ہی وشاء بھڑک اٹھی۔
’’وہ جو بھی ہے۔ میں خود اسے دیکھ لوں گی۔ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تم میری مدد کرنا چاہتے ہو تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ پلیز مجھ سے دوبارہ ملنے کی کوشش مت کرنا‘‘
یہ کہہ کر وشاء کھڑی ہوگئی اور تیز تیز قدم چلتے ہوئے گاڑی تک چلی گئی۔
اس بات کے کچھ ہی دنوں کے بعد آپ واپس آگئے۔ آپ کے آنے سے ہم گھر والوں کو وشاء کی طرف سے تسلی ہوگئی۔ مگر انہی دنوں یہ واقعہ ہو گیا۔ وشاء ہم سب کو چھوڑ کر نہ جانے کہاں چلی گئی۔‘‘
ظفر جہاں بیٹھا تھا وہیں جیسے پتھر کا ہوگیا۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا گئی تھیں۔ دل پر غم کا بوجھ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ دھڑکنیں ڈوب رہی تھیں۔
’’ماموں آپ اگر مجھ سے خفا ہیں تو مجھے معاف کردیں۔ میں نے تو وہی کیا جو مجھے ٹھیک لگا۔‘‘ ساحل نے ماموں کا ہاتھ تھام لیا۔
’’اور اب تم کیا کر رہے ہو۔‘‘ ظفر نے رندھی ہوئی آواز میں پوچھا۔
ساحل کی نظریں ہوا میں ہی ٹھہر گئیں۔
’’اب وہ کر رہا ہوں جو میرا دل کہہ رہا ہے۔‘‘
ظفر کھڑا ہوگیا اور بے چینی سے چہل قدمی کرنے لگا۔ ’’تمہیں مجھ سے رابطہ کرنا چاہئے تھا۔‘‘
’’بہت کوشش کی ماموں! نہ جانے خدا کو کیا منظور تھا کہ آپ سے رابطہ نہ ہو سکا۔ آپ ہمت رکھیں۔‘‘
’’تمہاری باتوں نے میری پریشانی بڑھا دی ہے۔ نہ جانے وشاء کن کن مراحل سے گزری ہوگی۔ میری بیٹی کو کہیں کچھ ہوگیا تو میں کیسے جیوں گا۔ نہ جانے کون سا راز اپنے سینے میں چھپائے وہ یہاں سے چلی گئی۔’’ظفر نے ساحل کے کندھے پر سر رکھ لیا وہ کسی شکستہ پتھر کی طرح چور چور ہو رہا تھا۔
تھوڑی دیر کے بعد ساحل وہاں سے چلا گیا۔ مگر ساحل کی بتائی ہوئی باتیں رات بھر اس کے سینے پر ڈنگ مارتی رہیں۔
توقیر جب سفر سے واپس لوٹا تو رات کے بارہ بج چکے تھے۔ رخسانہ، ایمن اور ماہین بھی بہت تھک چکی تھیں۔
توقیر نے پہلے ایمن اور ماہین کو گھر ڈراپ کیا اور جب وہ دونوں اپنے گھر آئے تو تقریباً ایک بجنے والا تھا۔ وہ بس بیڈپر ڈھیر ہوگئے ۔ توقیر نے اپنا سر دھیرے دھیرے دباتے ہوئے کہا۔
’’رخسانہ میرے لیے چائے بنا دو۔ میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے۔‘‘
رخسانہ بھی ڈھیلے ڈھیلے قدموں سے کچن کی طرف گئی اور چائے کے دو کپ بنا کے لے آئی۔ توقیر نے چائے کا کپ لیا۔
’’اگر سفر آرام دہ ہو تو انسان جہاں مرضی چلا جائے مگر اس طرح کا سفر ہو تو بہت تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔ اور پھر کیا فائدہ، کیسی کیسی باتیں کر رہا تھا وہ بزرگ۔۔۔میں اسی لیے تمہیں منع کرتا تھا۔ مجھے ان پیروں فقیروں کی باتوں پر بھروسا نہیں ہے۔‘‘
رخسانہ آنکھیں جھکائے جیسے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ توقیر کی بات کا اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد وہ گویا ہوئی
’’تم نے اس کی باتوں پر غور نہیں کیا وہ کہہ رہا تھا کہ وہ جہاں ہیں۔ وہاں اس کا حساب کام نہیں کر رہا۔ وہ چاروں اپنے مادی وجود میں کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے نہ زمین کے اوپر اور نہ ہی زمین کے نیچے۔‘‘
توقیر جیسے تپ گیا
’’یہ باتیں کس باشعور انسان کی ہیں۔ احمق تھا وہ بزرگ ہمیں بیوقوف بنا رہا تھا۔‘‘
رخسانہ گلوگیر لہجے میں بولی
’’بیوقوف بنا رہا ہوتا تو ہم سے پیسے لیتا، اس نے ہم سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔‘‘
’’یہ طریقے ہوتے ہیں ان پیروں کے لوگوں کو پھانسنے کے۔‘‘ توقیر پھر بھڑک کر بولا۔
رخسانہ رونے لگی۔’’تو میں کیا کروں، کہاں ڈھونڈوں اپنی حوریہ کو۔‘‘
توقیر رخسانہ کے قریب آگیا
’’قرآن پاک پڑھو، نماز پڑھو اور خداوند کریم سے دعا کرو۔ باقی رہی تلاش کی بات تو میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا میں ڈھونڈ رہا ہوں ۔ خدا کا کرم ساتھ ہوگا تو وہ ضرور مل جائے گی۔ تم خدا پر بھروسا رکھو اور آرام کرلو۔‘‘
رخسانہ آنسو پونچھتی ہوئی بستر پر دراز ہو گئی۔ دل میں دعا کرکے سوئی کہ اسے اس کی بیٹی جس حال میں ہے خواب میں نظر آجائے۔ ایسے ہی سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ نیند گہری ہوئی تو وہ شعور کی گرفت سے نکل کر لاشعور کی گرفت میں چلی گئی۔ اس کی آنکھیں خواب دیکھنے لگیں۔
وہ پھولوں سے بھرے لان میں حوریہ کو ڈھونڈتی پھر رہی ہے۔ اچانک اسے حوریہ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ وہ چاروں طرف نظر دوڑاتی ہے مگر اسے حوریہ دکھائی نہیں دیتی۔ ایک بار پھر حوریہ کی آواز کی سماعت سے ٹکراتی ہے وہ آواز کی سمت کی طرف دیکھتی ہے تو اسے حوریہ فضا میں معلق دکھائی دیتی ہے۔
حوریہ نے سفید گاؤن پہنا ہوا تھا۔ اس کے بال ہوا میں لہرا رہے تھے وہ پریوں جیسی دکھائی دے رہی تھی۔ آنکھوں میں خلوص کی چمک، لبوں پر مسکراہٹ بکھیرے اس نے دونوں بازو ماں کی طرف بڑھائے۔ رخسانہ جو مبہوت نظروں سے حوریہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ پاگلوں کی طرح بیٹی کی طرف دوڑی۔ اس کے قریب پہنچی تو پریشانی سے اس کے پیروں کی طرف دیکھنے لگی
’’میری جان! تم اس طرح ہوا میں معلق کیوں ہو۔ میرے پاس کیوں نہیں آتی۔‘‘ اس نے بیٹی کے ہاتھوں کو چھونے کے لیے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے۔
اس سے پہلے کہ وہ حوریہ کو چھوتی، پری جیسی حوریہ بھیانک روپ دھار گئی۔ اس کے چہرے کی جلد کسی کریلے کی طرح سلیٹی مائل کھر دری ہوگئی آنکھوں کا ہالہ بڑا ہوگیا اور وہ گولائی میں سرخ انگارہ ہوگئیں۔ اس کے چہرے کے نقوش بدل گئے جلد سلوٹوں میں بدلنے لگی۔ اس کے حلق سے خوفناک غرغراہٹوں کی آواز ابھر رہی تھی۔ وہ کسی شیرنی کی طرح چنگھاڑی تو اس کے سامنے کے اطراف کے دو دانت کسی ویمپائر کی طرح بڑھ گئے تھے۔ ہاتھوں کے ناخن بھی چار انچ تک بڑھ گئے تھے اس نے سلیٹی مائل سلوٹوں والے ہاتھ رخسانہ کی طرف بڑھائے تو رخسانہ پر رعشہ طاری ہوگیا۔
وہ چیختی ہوئی ہڑبڑا کر بستر پر اٹھ بیٹھی۔ توقیر بھی اس کی چیخ کی آواز سے اٹھ گیا۔ رخسانہ کا سانس پھولا ہوا تھا۔ چہرہ پسینے سے تر تھا۔ آنکھیں سرخ ہو کر سوجی ہوئی تھیں۔ وہ سر تاپا کانپ رہی تھی۔
’’وہ میری حوریہ نہیں ہو سکتی۔‘‘ وہ مسلسل بول رہی تھی۔ توقیر نے اسے پانی پلایا۔
’’تم نے کوئی برا خوب دیکھ لیا ہے آیت الکرسی پڑھ کر سو جاؤ۔‘‘ توقیر نے اسے بستر پر لٹایا اور اس کا سر دبانے لگا۔
’’جب طرح طرح کے وہم ذہن پر مسلط ہوں تو ایسے خواب آجاتے ہیں۔ اس طرح خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہماری حوریہ کو کچھ نہیں ہوگا تم بھروسا رکھو خدا پر۔‘‘
رخسانہ کا سانس پھولا ہوا تھا۔ اس کی گھبراہٹ دور نہیں ہو پا رہی تھی۔ وہ اکھڑے اکھڑے سانس کے ساتھ بولی
’’میں حوریہ کے قریب گئی تو وہ بھیانک روپ اختیار کر گئی۔‘‘
’’میں تمہیں اسی لیے منع کرتا تھا کہ پیروں فقیروں کے پاس نہ جاؤ۔ تمہارے ذہن میں اس پیر کی باتیں گونج رہی ہیں اور کچھ بھی نہیں بس اب تم خدا کا نام لے کر سو جاؤ۔‘‘ توقیر کو جیسے غصہ آگیا تھا۔
یونیک ٹاؤن کی خوبصورت کوٹھی کا قفل چھ ماہ کے بعد کھلا تھا۔ کوٹھی کے ساتھ سرونٹ کوارٹر میں رہنے والا ساجد بابا دوسرے نوکروں سے کوٹھی کی صفائی کرا رہا تھا۔
ساجد بابا بھی تنہا تھے اور ان کا وہ مالک بھی جو چھ ماہ پہاڑی علاقے کے فلیٹ میں گزارتا اور چھ ماہ اس کوٹھی میں۔ ساجد بابا سرونٹ کوارٹر میں تنہا رہتے تھے۔ دوسرے ملازمین اپنا کام کرکے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے۔
’’جلدی جلدی ہاتھ چلاؤ، صاحب آنے والے ہیں۔‘‘ ساجد نوکروں کو ہدایت دے رہا تھا۔ فرش پر پوچا مارنے والی ملازمہ نے کراری آواز میں کہا۔
’’چھ ماہ کی گندگی اکٹھا کرکے صفائی کراتے ہو صاحب سے چابی لے لیا کرو۔ تین روز بعد صفائی کرایا کرو۔‘‘
ساجد تپ کر بولا۔
’’مجھے سبق پڑھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مالک کا حکم ماننا میری ڈیوٹی ہے۔ صاحب نے کہا ہے کہ جب وہ واپس آئے تو ہی یہ گھر صاف کروائیں۔ تم اب زیادہ باتیں نہ بناؤ۔ جلدی کام کرو۔‘‘ یہ کہہ کر ساجد کچن کے لیے بازار سے لایا ہوا سامان کچن میں سیٹ کرنے لگا۔ اسے زرغام کے لیے کھانا بھی تیار کرنا تھا۔ اس نے کچن کی ضروری صفائی کی اور کھانا پکانے کی تیاری کرنے لگا۔ وہ ساتھ ساتھ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتا رہا۔
’’بس اب اس کوٹھی میں اس خناس کے ناپاک قدم پڑیں گے اور یہ کوٹھی برائیوں کی آماجگاہ بن جائے گی۔ جوا چلے گا، شہر کے غیر مہذب لوگوں کی دعوتیں ہوں گی اور وہ اپنے ناجائز کام اس سے کروائیں گے۔ زرغام ان ناجائز کاموں کے عوض ڈھیروں پیسہ وصول کرے گا۔ پتہ نہیں کیوں میں اس گھر میں نوکری کر رہا ہوں۔ کیوں حرام کھا رہا ہوں۔‘‘
ملازمہ کے بلانے پر اس نے ہنڈیا ڈھانپ دی اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔’’کیا بات ہے؟‘‘اس نے ملازمہ سے پوچھا۔
’’وہ اوپر والا کمرہ تو کھول دو صفائی کرنی ہے۔‘‘
ساجدنے ہاتھ لہرا دیا ’’نہیں اس کمرے کی صفائی نہیں کرنی۔ اس کی چابی صاحب کے پاس ہے وہ خود یہ کمرہ کھولتے ہیں۔‘‘
’’مرضی ہے۔۔۔‘‘ ملازمہ اپنے کاموں میں مصروف ہوگئی۔
کچھ ہی دیر بعد ملازم دوڑتا ہوا ساجد کے پاس آیا۔
’’زرغام صاحب آگئے ہیں۔‘‘
ساجد پھرتی سے کمرے کی چیزیں درست کرنے لگا۔ دراز قد، چھریرے بدن والا سانولا سا نوجوان گھر میں داخل ہوا۔ ملازمین نے آگے بڑھ کر اسے سلام کیا سوائے ساجد کے، اس نے ہاتھ ہوا میں لہرایا اور زینہ پھلانگتا ہوا بالائی منزل کی طرف بڑھا۔
آف وائٹ تھری پیس میں وہ گریس فل دکھائی دے رہا تھا، وہ ہمیشہ پینٹ شرٹ زیب تن کرتا تھا اسے قمیض شلوار قطعا پسند نہیں تھی۔
نچلے پورشن کے سارے کمرے خالی تھے مگر وہ اوپری منزل کے دو کمرے ہی استعمال کرتا تھا، ایک اس کا بیڈ روم اور دوسرا وہ خاص کمرہ جو اس کے علاوہ کوئی نہیں کھول سکتا تھا۔ اس کے اپنے کمرے میں جانے کے بعد ساجد دوسرے نوکروں سے مخاطب ہوا۔
’’اسے سلام نہ کیا کرو۔ یہ تو نام کا مسلمان ہے یہ کیا کسی کو سلام کا جواب دے گا۔ یہ تو خناس ہے شیطان کا دوسرا روپ۔‘‘
ایک ملازم نے تمسخرانہ انداز میں کہا
’’اس قدر ناپسند کرتے ہو تو اس کی ملازمت چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔‘‘
ساجد نے ندامت سے سر جھکا لیا۔
’’پتہ نہیں، تم لوگوں کا کام ختم ہو جائے تو چلے جانا۔ میں صاحب کے لیے چائے بنا دوں۔‘‘
دوسرے ملازمین اپنا کام نپٹا کے چلے گئے۔ ملازمہ روبینہ سے ساجد نے کہا کہ جب تک زرغام یہاں ہے وہ برتن دھونا، صفائی اور کپڑے دھونے کا کام کر لیا کرے۔ یہ سارے کام وہ اکیلی ہی کیا کرے صاحب کو زیادہ ملازم پسند نہیں ہے۔ ملازمہ نے کراری آواز میں کہا
’’ہر بار مجھے کیوں بتاتا ہے چار سالوں سے یہی روٹین ہے میں جانتی ہوں کل سے کام پر آجاؤں گی۔ آج کا کام ختم ہوگیا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ملازمہ بھی چلی گئی۔
ساجد چائے لے کر زرغام کے کمرے میں گیا اس نے دروازہ نوک کیا۔ اندر سے آواز آئی۔ ’’آجاؤ۔۔۔‘‘
ساجد نے چائے میز پر رکھی۔’’بابا! ٹھیک ہو؟ کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی میری غیر موجودگی میں۔‘‘
’’نہیں صاحب! پریشانی کیسی، آپ ہو یا یا نہیں میرا رب میرے ساتھ ہوتا ہے۔‘‘ ساجد نے دھیرے سے کہا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔
رات دس بجے ساجد اپنے سرونٹ کوارٹر میں چلا گیا جو کوٹھی سے باہر تھا۔ زرغام نے کوٹھی کا دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ وہ زینہ چڑھتا ہوا بالائی منزل کی طرف بڑھنے لگا۔ اس کے ہاتھ میں چابی تھی۔ اس نے اپنا خاص کمرہ کھولا۔
وہ ہال نما کمرہ کافی بڑا تھا۔ اس کمرے میں پڑا ہوا سامان انتہائی ہولناک اور پراسرار تھا ۔ سامنے دیوار پر شیشے کی بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں جہاں سے گھر کا لان اور باہر کا حصہ دکھائی دیتا تھا۔ اس کمرے میں سہولت کے لیے کسی قسم کا فرنیچر موجود نہیں تھا۔
دیواروں پر الماریاں نصب تھیں اور چاروں اطراف اس طرح ٹیبلز تھے جیسے کوئی سائنسی لیبارٹری ہو۔ ان ٹیبلز کے بڑے بڑے درازوں میں نہ جانے کیا کچھ تھا۔ حیرت کی بات تو یہ تھی یہ چھ ماہ کے بعد کھلنے والا کمرہ اس طرح صاف تھا۔ اس کی ہر چیز اس طرح تھی جیسے کوئی باقاعدگی سے اس کمرے کی صفائی کرتا رہا ہو۔
زرغام ایک میز کی طرف بڑھا۔ اس میز پر الگ ڈبے پڑے تھے۔ جن میں مختلف جانوروں کی ہڈیاں تھیں۔ اس نے جانوروں کی ہڈیوں میں سے سور کی کچھ ہڈیاں لیں اور دوسرے ڈبے سے انسانی کھوپڑی اٹھائی۔
کمرے کے وسط میں جیسے کسی نے پہلے سے ہی آگ جلانے والا سامان رکھا ہوا تھا۔ وہ ہڈیاں لے کر اس جگہ بیٹھ گیا جہاں آگ جلانے کا سامان پڑا تھا۔ لوہے کی ایک ٹرے تھی جس میں چار لکڑیاں ایک دوسرے کے اوپر رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے جانور کی ہڈیاں ٹرے کے اردگرد جوڑ دیں۔ اس نے انسانی کھوپڑی کو اپنے ہاتھ کے اوپر رکھا اور اسے لکڑیوں کے اوپر لے گیا۔ آگ خود بخود بھڑک اٹھی۔ اس نے اپنا ہاتھ جس میں اس نے انسانی کھوپڑی پکڑی ہوئی تھی۔ آگ کے اوپر کیا اور ہونٹوں سے تیز جنبش کے ساتھ کچھ پڑھنے لگا۔
ہر میز پر کینڈل اسٹینڈ میں سولہ موم بتیاں لگی ہوئی تھیں۔ چند ہی ساعتوں میں ساری موم بتیاں خود بخود جل اٹھیں۔ کمرے میں سرخی مائل سی روشنی پھیل گئی۔ زرغام نے آنکھیں بند کرلیں اور وہ کچھ پڑھتا رہا وہ جوں جوں پڑھ رہا تھا کمرے کے ماحول میں تبدیلی ہوتی جا رہی تھی۔زمین میں گڑگڑاہٹ سی پیدا ہونے لگی زلزلے کی سی کیفیت میں کمرے کی ہر چیز ہلنے لگی۔
مگر موم بتیاں ٹیبلز کی تیز حرکت کے باوجود جلتی رہیں پھر یک دم سامنے کی کھڑکیوں کے شیشے کھل گئے۔ بھونچال کی طرح ہوا کا تیز جھونکا کمرے میں داخل ہوا ساری موم بتیاں بجھ گئیں۔ زرغام نے آنکھیں کھولیں اور اس طرح گویا ہوا جیسے سامنے اسے کوئی دکھائی دے رہا ہے۔
’’حوریہ، وشاء، خیام اور فواد تمہیں اس ماورائی و سنسناتی دنیا میں خوش آمدید۔ میں نے تمہاری مدد کا وعدہ پورا کیا اور اب مجھے تم لوگوں سے کیا چاہئے یہ میں تمہیں ابھی نہیں بتاؤں گا۔ میری طرف سے تمہیں اجازت ہے۔ جو چاہتے ہو کرو۔ ہار اور جیت کے ذمہ دار تم خود ہو گے۔ میری مدد کی امید مت رکھنا۔ یوں سمجھ لو کہ تمہاری شیطانی قوتوں کی آزمائش شروع ہو گئی ہے۔‘‘
یہ کہہ کر زرغام نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں اور کچھ پڑھنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد کمرے سے بھونچال کی کیفیت ختم ہوگئی ا ور کھڑکیوں کے شیشے خود بخود بند ہوگئے۔
زرغام نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں کھول دیں۔
ظفر اپنی پیکنگ میں مصروف تھا اسے صبح کی نو بجے کی فلائٹ سے بیرون ملک جانا تھا۔ ماریہ اس کے لیے ناشتہ بنانے میں مصروف تھی۔ اس نے ناشتہ میز پر لگایا۔ ظفر بریف کیس اٹھائے ٹیبل کے پاس سے گزر گیا۔
ماریہ جلدی سے اس کے قریب آئی۔
’’یہ کیا ناشتہ نہیں کریں گے۔‘‘
ظفر نے اپنی ہینڈ واچ کی طرف دیکھا۔
’’مجھے ناشتہ نہیں کرنا۔ میں لیٹ ہو جاؤں گا۔‘
ماریہ نے اس کے ہاتھ سے بریف کیس لے لیا
’’ابھی صرف آٹھ بجے ہیں آپ کی فلائٹ دس بجے کی ہے۔‘‘
’’مجھے راستے میں کسی سے ملنا ہے اور ائیرپورٹ پر بھی کچھ فارمیلٹیز پوری کرنی ہوتی ہیں۔‘‘ ظفر نے ہاتھ بڑھا کر بریف کیس لے لی۔
ماریہ غصے سے بولی
’’میرا قصور کیا ہے نہ مجھ سے ٹھیک طرح سے بات کرتے ہیں نہ گھر میں کھانا کھاتے ہیں۔ اس طرح کے رویے کا کیا مطلب ہے۔‘‘
ظفر بھی بھڑک اٹھا
’’تمہیں سمجھ آگیا ہوگا کہ میں تمہارے وجود سے بھاگ رہا ہوں۔ مجھے تمہاری قربت گوارہ نہیں۔‘‘
’’سزا دینے سے پہلے قصور تو بتایا جاتا ہے۔ آخر میں نے کیا کیا ہے؟‘‘
ظفر کا لہجہ گلو گیر ہو گیا اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
’’تم نے میری بیٹی وشاء سے بُرا برتاؤ رکھا تھا تم نے یہ کیسے سوچ لیا تھا کہ تم اپنے آوارہ بھتیجے شمعون کے لیے وشاء کا ہاتھ مانگو گی۔ تم نے وشاء سے یہ بات پوچھی تھی یا نہیں؟‘‘
ماریہ گھبرا گئی اس کی زبان پر بل آگیا۔
’’تت۔۔۔تمہیں یہ بات کس نے بتائی۔‘‘
’’صرف ہاں یا ناں میں جواب دو۔‘‘ ظفر نے اپنی آنکھیں ماریہ کے چہرے پر گاڑ دیں۔
ماریہ نظریں چراتے ہوئے دھیرے سے بولی
’’میں نے اس سے اس کی رائے پوچھی، جب اس نے انکار کر دیا تو میں نے آپ سے پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ میں جانتی تھی کہ جو رشتہ وشاء کو پسند نہیں اس کے لیے آپ کبھی رضا مند نہیں ہوں گے۔ اس میں اس قدر غصہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جہاں لڑکی ہوتی ہے وہاں رشتے آتے ہیں مگر یہ بات تو صرف میرے اور وشاء کے درمیان تھی۔ آپ کو کس نے بتایا۔‘‘
’’ماریہ بیگم! بات صرف اتنی نہیں ہے جتنی تم بتا رہی ہو۔ میں اس معاملے کی تہہ تک جاؤں گا۔ پندرہ روز کے بعد واپس آؤں گا تو پھر تسلی سے اس معاملے کا جائزہ لوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر ظفر وہاں سے چلا گیا۔ ماریہ جہاں کھڑی تھی وہیں ساکت ہو کر رہ گئی۔
’’شمعون تو یہ بات ظفر کو بتا نہیں سکتا تو پھر کس نے ظفر کو یہ سب بتایا۔‘‘ وہ خود کلامی میں بڑبڑاتی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔
اس نے اپنا موبائل لیا اور شمعون کا نمبر ملایا۔ شمعون نے موبائل اٹینڈ کیا۔
’’جی آنٹی! ہیلو۔۔۔ہلیو۔۔۔آپ کی آواز ٹھیک طرح سے نہیں آرہی ہے۔‘‘
ماریہ بھی شمعون کی آواز ٹھیک طرح سے نہیں سن پا رہی تھی۔ فون پر بہت شور تھا جیسے وہ ہجوم میں کھڑا بول رہا ہو۔
شمعون اپنی جگہ سے اٹھ کر تھوڑا پیچھے چلا گیا اور پھر ماریہ سے بات کرنے گا۔
’’آنٹی میں ریس کورس میں ہوں۔ میرے گھوڑوں کی ریس چل رہی ہے اس وقت مصروف ہوں فارغ ہو جاؤں پھر آپ سے بات کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر شمعون نے فون بند کر دیا۔
شمعون واپس اپنی جگہ پر بیٹھا اور تجسس سے ریس دیکھنے لگا۔
شمعون کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس کے دونوں گھوڑے جیت کے قریب تھے۔ وہ گھوڑوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ وہ اس قدر تیز دوڑ رہے تھے کہ تھوڑی ہی دیر میں وہ سب سے آگے جانے والے تھے۔
شمعون اور اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے دوست بھی اس ریس سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اچانک شمعون کے گھوڑوں کی حالت عجیب ہوگئی۔ وہ اس طرح اچھلنے لگے جیسے کوئی ان پر چابک برسا رہا ہو۔
وہ ہنہناہٹ کی آواز سے پچھلی ٹانگوں پر کھڑے ہو کے اگلی ٹانگیں ہوا میں زور زور سے مارنے لگے۔ وہ بری طرح بپھر گئے تھے یا ڈر گئے تھے۔ انہوں نے آگے دوڑنے کے بجائے پیچھے کی طرف دوڑنا شروع کر دیا۔ گھوڑوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
تماشائی پریشان ہو کے اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔ کتنے ہی گھوڑے زخمی ہوگئے۔ ماہر گھوڑ سوار میدان میں اتر گئے اور صورتحال کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
شمعون اپنے دوستوں کے روکنے کے باوجود میدان میں کود پڑا۔ دوسرے گھڑ سواروں کے ساتھ مل کر اس نے اپنے گھوڑوں کو قابو کیا اور گھمبیر صورت حال کو کنٹرول کر لیا۔ ریس ادھوری چھوڑ دی گئی۔
شمعون نے گھوڑے اپنے ملازمین کے حوالے کیے۔
’’لے جاؤ انہیں کسی کو بیچ دو۔ مجھے اپنے فارم ہاؤس میں یہ گھوڑے نظر نہیں آنے چاہئیں۔‘‘
ملازم نے انکساری سے کہا
’’سرکار ان گھوڑوں نے کتنی ہی ریسیں جیتی ہیں۔ یہ معمولی گھوڑے نہیں ہیں۔‘‘
شمعون تپ کر بولا۔
’’مالک میں ہوں یا تم، اونے پونے دام میں بیچ دو۔ میں نئے گھوڑے خریدوں گا۔‘‘
شمعون بے دلی سے گاڑی میں بیٹھا اور جلد ہی وہاں سے نکل گیا۔
گھر آیا اور دھڑام سے صوفے پر براجمان ہوگیا۔ اسی دوران اسے ماریہ کے فون کا خیال آیا۔ اس نے اپنا موبائل نکالا اور ماریہ کا نمبر ملایا۔
’’جی آنٹی کیا کہہ رہی تھیں؟‘‘
’’ظفر نے آج کل بہت پریشان کر رکھا ہے نہ جانے وہ وشاء کہاں مر کھپ گئی ہے اور ظفر انٹیلیجنس کے آفیسر کی طرح تفتیش میں لگا ہوا ہے۔ وشاء سے تمہاری شادی کے متعلق جو بات میں نے کی تھی، وہ نہ جانے کیسے ظفر کو معلوم ہوگئی ہے پندرہ روز کے لیے بیرون ملک گیا ہے۔ جاتے جاتے دھمکی دے گیا ہے کہ میں واپس آکے سارے معاملے کا جائزہ لوں گا۔‘‘
ماریہ کی بات پہ شمعون نے قہقہہ لگایا۔
’’کیا ہوگیا ہے آنٹی! ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہو جاتی ہیں نہ ہی وشاء نے ملنا ہے اور نہ ہی حقائق انکل ظفر کو معلوم ہونے ہیں۔ خوامخواہ سٹریس کا شکار ہو رہی ہیں۔ آپ ان کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔‘‘
’’تم دوسرے شہر میں رہتے ہو ورنہ ابھی تمہیں گھر بلا لیتی۔ کل کوئی وقت نکال کر میرے گھر آؤ۔‘‘ ماریہ نے کہا۔
’’کل نہیں۔۔۔کل میرا دوستوں کے ساتھ شکار کا پروگرام ہے۔‘‘
شمعون کی اس بات پر ماریہ خفگی سے بولی۔
’’بھائی جان اور بھابی تو گاؤں میں ہوتے ہیں۔ تم شہر میں اکیلے رہتے ہو۔ اس لیے من مانی کرتے ہو اگر بھابی تمہارے ساتھ ہوتیں تو بات کرتی۔ تو اپنی مرضی کا مالک ہے۔ ٹھیک ہے میں خود بھابی سے بات کر لوں گی۔‘‘
’’شوق سے کر لیں بات۔ مجھے انہیں شیشے میں اتارنا اچھی طرح سے آتا ہے۔‘‘
’’تم نہیں سدھرو گے ، چلو پرسوں آجاؤ، بیٹھ کے بات کریں گے۔‘‘ ماریہ نے کہا۔
شمعون نے لمبا سانس کھینچا۔
’’ٹھیک ہے آپ اس قدر زور دے رہی ہیں تو میں پرسوں آجاؤں گا۔ آج کا دن تو میرے لیے اچھا نہیں ہے، دعا کریں کہ کل شکار میں کوئی بیڈ لک نہ ہو۔‘‘
فون سے ماریہ کے ہنسنے کی آواز آئی
’’کیوں۔۔۔آج کیا بیڈ لک ہوئی ہے؟‘‘
’’آنٹی میرے گھوڑے جیت کے بالکل قریب تھے۔ اچانک ڈر گئے اور مخالف سمت میں دوڑنے لگے، جس سے گھوڑوں میں بھگدڑ مچ گئی اور کافی گھوڑے زخمی ہوگئے، یہ صورت حال بمشکل کنٹرول ہوئی‘‘ شمعون نے تجسس سے بھرپور انداز میں ماریہ کو ساری صورت حال بتائی۔
ماریہ نے اس بات کو بہت سنجیدگی سے لیا۔
’’جانور کا کب ذہنی توازن بگڑ جائے کیا پتا ہوتا ہے کل کسی قسم کا خطرہ مول نہ لینا۔‘‘
’’کچھ نہیں ہوتا، میں پہلی بار تو نہیں جا رہا آپ کے لیے مرغابیاں لاؤں گا اور پکا کر بھی آپ ہی دیں گے۔‘‘
’’اچھا بابا! اپنا خیال رکھنا۔‘‘ یہ کہہ کر ماریہ نے فون بند کر دیا۔
شمعون اپنے دو دوستوں کے ہمراہ صبح صبح ہی شکار کے لیے روانہ ہوگیا۔ جیسا شمعون خود تھا ویسے ہی اس کے آوارہ دوست تھے۔
’’اپنی رائفلز ٹھیک سے چیک کی ہیں نا، یہ نا ہو کہ رائفلز ٹھیک چلے نا اور ہم شکار کرنے کے بجائے شکار ہو جائیں۔‘‘ شمعون کے پوچھنے پر اس کے دوست نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ایسے بیوقوف نہیں ہیں سب کچھ اے ون ہے۔ ہاں البتہ کھانے پینے کے لیے کچھ نہیں لیا، بازار سے لیتے جائیں گے۔‘‘
شمعون نے بازار پہنچ کر جیپ روکی اور کچھ کھانے پینے کی اشیاء خریدیں۔ وہ جونہی شہر سے باہر نکلا اس نے جیپ کی سپیڈ تیز کر لی۔ ایک دوست تو موبائل کا ہیڈ فون کانوں سے لگا کر میوزک سننے میں محو ہوگیا اور دوسرا شمعون سے گپ شپ میں مصروف ہوگیا۔
’’یار شمعون! تو جلدی سے شادی کرلے ہمیں بھی گھر کے پکے ہوئے کھانے ملیں، بازار کے کھانے کھا کھا کر تو دل بھر گیا ہے۔‘‘
شمعون نے اسٹیئرنگ سے نظر گھماتے ہوئے دوست کی طرف دیکھا
’’یار اپنی خیر مناؤ، اگر میری شادی ہوگئی نا تو تم دونوں کی چھٹی ہو جائے گی۔ پنچھی کو قید کرنے کے لیے سب سے پہلے اس کے پر کاٹے جاتے ہیں اور ابھی میں یہ آزادی ختم نہیں کرنا چاہتا۔ تم کیوں نہیں شادی کر لیتے۔‘‘
’’یار تیری طرح ہمارے پاس جائیدادیں تو نہیں ہیں کہ بیٹھ کے عیش کریں ہمیں تو پہلے پیروں پر کھڑا ہونا ہے پھر جا کے شادی ہوگی۔‘‘
’’یار تم تو سنجیدہ ہوگئے، زندگی کو انجوائے کرو۔‘‘ شمعون نے یہ کہہ کر ڈیک میں سی ڈی ڈالی اور تینوں دوست موسیقی کے مزے لوٹنے لگے۔
تین گھنٹے کے طویل سفر کے بعد وہ تینوں بہاولپور پہنچ گئے۔ اب ان کی منزل زیادہ دور نہیں تھی۔ چولستان اب تیس کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے دوست نے ٹھنڈی آہ بھری۔
’’یار تم نے وشاء کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔‘‘
شمعون بڑبڑایا۔
’’تمہیں اچانک وشاء کا خیال کیسے آگیا۔ اس قدر پُر مزہ سفر خراب مت کرو۔‘‘
پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا دوسرا دوست تاسف بھرے انداز میں بولا
’’ہاں یار! تین دن اسے بھوکا پیاسا فارم ہاؤس میں جانور کی طرح زنجیروں سے باندھ کر رکھا۔ وشاء کے نام لگی جائیداد کے پیپرز پر سائن لینے کے لیے تم نے اسے کاویے سے ٹارچر کیا۔ تم تھک گئے مگر ایک لڑکی ہونے کے باوجود اس نے ہار نہ مانی اور جائیداد تمہارے نام نہ کی۔ تم نے ہار مان کر اسے آزاد کر دیا اور یہ دھمکی دی کہ اس نے کسی کو تمہارے بارے میں بتایا تو تم اس کے باپ کی جان لے لو گے۔‘‘
شمعون غصے سے گرج کر بولا
’’میں نے تو اسے شادی کی آفر دی تھی مجھ سے شادی کر لیتی تو خودبخود سب کچھ میرا ہو جاتا۔ جب وشاء نے مجھ سے شادی سے انکار کیا تو میں نے اسے اغوا کیا اس معاملے میں تو پھپھو بھی میرے ساتھ تھی انہیں اس بات کا غصہ تھا کہ ایک گھر اور کچھ زمین کے علاوہ ساری جائیداد انکل نے وشاء کے نام لگا دی تھی۔‘‘
فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے دوست نے نصیحت کے انداز میں کہا
’’چھوڑو یار تم تمہاری آنٹی کے پاس بہت کچھ ہے اس طرح کے غلط کاموں سے بچا کرو۔ آخر تم عزت دار ماں باپ کے بیٹے ہو اگر ان کو تمہارے ان کاموں کی بھنک پڑ گئی تو تمہیں عاق کر دیں گے۔‘‘
شمعون نے فخریہ انداز میں سر اکڑا لیا۔
’’عاق کریں گے تو کرتے رہیں شمعون کسی سے نہیں ڈرتا، کوئی ایسا پیدا نہیں ہوا جو شمعون کو نقصان پہنچا سکے۔چل یار پیپسی نکال موڈ اچھا کریں۔‘‘
ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ پکڑ کر وہ دوسرے ہاتھ سے پیپسی پینے لگا۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد وہ لوگ چولستان پہنچ گئے۔
یہ بہت بڑا صحرا تھا۔ ریت کے بڑے بڑے ٹیلے بے ترتیبی سے پھیلے ہوئے تھے۔ شمعون ریت پر گاڑی بہت مہارت سے چلا رہا تھا۔ ریتلے راستوں کے نشیب و فراز پر جیپ ہچکولے کھاتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ یہ چولستان کے قرب میں گھنا جنگل تھا۔ دور دور تک کوئی انسانی آبادی نہیں تھی۔انہوں نے اپنی رائفلیں تیار کر لیں۔ شمعون نے اپنے دوست کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھایا اور خود رائفل لے کر کھڑا ہوگیا۔
’’جیپ آہستہ آہستہ چلاتے رہو، جیپ کو روکنا خطرناک ہو سکتا ہے۔‘‘ شمعون نے اپنے دوست کو ہدایت کی۔
راستے کے دونوں اطراف کانٹے دار خشک جھاڑیاں تھیں خشک جھاڑیاں ختم ہوئیں تو انہیں ہرنوں کا غول دکھائی دیا۔ فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ فائر نہ کر سکے۔ جیپ کو دیکھ کر ہرنوں نے تیز بھاگنا شروع کر دیا اور نزدیک ٹیلہ کراس کرکے دوسری طرف کو نکل گئے۔ اب وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
’’اوہ شٹ۔۔۔‘‘ شمعون نے رائفل کا دستہ جیپ کے دروازے پر دے مارا۔ ابھی دور دور تک انہیں کوئی شکار دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اچانک ایک انتہائی خوبصورت تتلی کہیں سے اُڑتی ہوئی آئی اور ان کی جیپ کے اوپر اُڑنے لگی۔ شمعون کے دوست نے مسکراتے ہوئے تتلی کی طرف دیکھا۔
’’شمعون دیکھو کس قدر خوبصورت تتلی ہے صحرا میں تتلی کتنی پیاری لگ رہی ہے۔ یہ غیر معمولی بات ہے یہاں پر تو پھول بھی نہیں ہیں‘‘ اس نے اس کو پکڑنے کے لیے ہاتھ اوپر کیا تو وہ جیپ کے سامنے اُڑنے لگی۔
شمعون نے ترچھی نظر سے اپنے دوست کی طرف دیکھا
’’ہم یہاں تتلیاں پکڑنے نہیں آئے شکار کرنے آئے ہیں۔‘‘
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوا دوست اونچی اونچی آواز میں ہنسنے لگا
’’ہمیں اس کاکے کو ساتھ ہی نہیں لانا چاہیے تھا۔‘‘
’’بکواس مت کرو۔ ‘‘ پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہوا دوست غصے سے بڑبڑایا۔
ان تینوں کو علم ہی نہ ہوا وہ تتلی ایک ہی ساعت میں خوبصورت غزال کا روپ دھار گئی۔ شمعون نے خوشی سے نعرہ لگایا
’’وہ دیکھو لگتا ہے کہ وہ ہرن اپنے غول سے بچھڑ گیا ہوگا۔‘‘
شمعون نے بڑی مہارت سے ہرن پر فائر کیا، نہ جانے کیسے نشانہ خطا ہوگیا اور ہرن تیز بھاگتا رہا۔ شمعون کے دوست نے بھی اس پر فائر کیا مگر نشانہ بار بار خطا ہوتا رہا۔ کچھ سوچے سمجھے بغیر وہ جیپ اس غزال کے پیچھے دوڑاتے رہے۔
ہرن بیچ دار راستوں سے دوڑتا ہوا صحرا کے خطرناک ترین حصے تک پہنچ گیا۔ اس بار شمعون کی رائفل کا فائر غزال کے پیٹ میں جا کے لگا اور وہ پھڑک کر گر گیا۔ انہوں نے جیپ روکی اور خوشی سے اچھلتے ہوئے جیپ سے اترے۔اکتوبر کا مہینہ تھا مگر سورج اس طرح دہک رہا تھا جیسے جون یا جولائی کا مہینہ ہو۔ دھوپ میں چمکتی ریت حرارت دے رہی تھی۔ شمعون جونہی ہرن کے قریب گیا۔ ہرن کا جسم ہوا میں تحلیل ہو کے اس تتلی کا روپ دھار گیا جو انہیں تھوڑی دیر پہلے دکھائی دے رہی تھی۔
تینوں اس تحیر آمیز منظر پر حواس باختہ تتلی کی طرف دیکھنے لگے جو اپنی خوبصورتی اور معصومیت میں کوئی بھیانک راز چھپائے ہوئے تھی۔ جس کے نازک پروں کے پیچھے روح فرسا حقیقت تھی۔ تتلی ہوا میں ایک جگہ ساکت ہوگئی اور پھر وشاء کے روپ میں بدل گئی۔
سنسناہٹ کی ایک لہر تینوں کے وجود سے گزر گئی۔ وہ سرتاپا کانپ کے رہ گئے۔ ماحول کی جادوگری نے خوف و ہراس پھیلا دیا تھا۔ وشاء کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔ شمعون کو اپنے گرد موت کی سرسراہٹیں محسوس ہونے لگی۔
شمعون نے حوصلے کا لمبا سانس کھینچا اور وشاء کے قریب گیا
’’وشاء کچھ نہیں سمجھ آرہا مجھے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے مگر میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہوں مجھے معاف کر دو۔‘‘
شمعون کے منہ سے یہ الفاظ ادا ہی ہوئے تھے کہ وشاء کے چہرے کے تاثرات ایک دم بدل گئے۔ اس کی آنکھوں سے غصے کے شعلے لپکنے لگے چہرے پر اکڑاؤ سا آگیا۔ وہ منہ کھول کر چیخی تو اس کے سامنے کے دو دانت لمبے ہوگئے اس کے بازوؤں کی جگہ پروں نے لے لی۔ وہ خوبصورت بلاشمعون کی طرف بڑھی۔
شمعون کے جسم سے اس کی جیسے جان نکل گئی وہ بھاگنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ اس کی اعصابی طاقت کسی خوف کے دباؤ سے ختم ہوگئی۔ وہ خوبصورت بلا ایک جھٹکے سے شمعون کی طرف بڑھی اور اس کی گردن پر اپنے خونخوار دانت پیوست کر دیئے۔ شمعون کی چیخیں صحرا کے سناٹے میں گونجنے لگیں۔
اس کے دونوں دوست اپنی بے جان سی ٹانگوں کو گھسیٹتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے مگر اس خوبصورت بلا نے ان دونوں کو بھی نشانہ بنا لیا۔ وہ تینوں گرم ریت پر گرے تڑپ رہے تھے۔
وشاء نے ریت کی طرف پھونک ماری اور وہ تینوں ریت کے طوفان بگولے کی لپیٹ میں آگئے ایسی ریت جس کے ذرے انگاروں کی طرح دہک رہے تھے۔ ان تینوں کے جسم جھلستے رہے، صحرا کے سناٹوں میں ان کی چیخیں گونجتی رہیں۔ شکار کھیلنے والے اجل کا شکار ہوگئے۔
وشاء کے بھیانک روپ نے پھر اس تتلی کا روپ لے لیا اور وہ ہوا میں کہیں گم ہوگئی۔ صحرا کے لوگوں نے مردہ خور گدوں کے غول دیکھے تو ان کا ماتھا ٹھنکا اور وہ جیپ کے ٹائروں کے نشانات پر چلتے ہوئے اس جگہ پہنچ گئے۔ تین نوجوانوں کی جھلسی ہوئی لاشیں دیکھیں تو وہ دم بخود ہوگئے۔
کچھ نوجوانوں نے آگے بڑھ کر لاشوں کی تلاشی لی ان کے موبائلز سے ان کے رشتے داروں کو ان کی ہلاکت کے بارے میں مطلع کیا۔ چولستان کے کچھ لوگوں نے ان لاشوں کو ان کے والدین تک پہنچانے کا بندوبست کر لیا۔
لاشوں کو کفن میں لپیٹ کر تابوت میں بند کیا جا رہا تھا تو ایک بزرگ جو کسی گہری سوچ میں گم لاشوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ شمعون کی لاش کے قریب آئے
’’سمجھ نہیں آرہا کہ ان تینوں کو کس نے مارا ہے۔ ان تینوں کی موت بہت عجیب طریقے سے ہوئی ہے۔ اگر ان کا قتل کسی انسان نے کیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے۔ کیونکہ ان کی لاشیں ان کی جیپ کے قریب ملی ہیں۔ جنگل کے اس خطرناک ترین حصے میں نہ تو کسی اور گاڑی کے نشانات ملے اور نہ ہی کسی انسان کے۔ کوئی جنگلی جانور ہوتا تو ان کی چیڑ پھاڑ کرکے رکھ دیتا مگر ان کو تو کسی نے جلا دیا۔‘‘
لاش پر کفن لپیٹتے ہوئے نوجوان نے شمعون کی گردن سے کپڑا پیچھے کیا
’’یہ دیکھیں کسی جانور نے اس کی گردن پر دانت گاڑ کے اسے ہلاک کیا ہے۔‘‘
بزرگ نے آگے بڑھ کر شمعون کی گردن کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔ اس نے دانتوں کے دو نشانوں کے درمیان انگلی رکھ کے پیمائش کی اور پھر اپنے سامنے کے دانتوں کے اطراف کے بڑے دانتوں کے درمیان میں وہی انگلی رکھی پیمائش ایک جیسی تھی۔
بزرگ کے ہاتھ کانپنے لگے، آنکھیں باہر کو ابل پڑیں وہ بے خود چلانے لگا
’’لے جاؤ جتنی جلدی ہو سکے ان لاشوں کو اس صحرا سے یہ کسی بھٹکی ہوئی شیطانی روح کا شکار ہوئے ہیں۔ لوگوں کو اکٹھا کرو، میلاد کا اہتمام کرو۔ ہم قرآن پاک پڑھ کر اجتماعی دعا مانگیں گے۔ ہمارے صحرا سے کسی شیطانی روح کا گزر ہوا ہے۔‘‘
نوجوان نے ہڑبڑا کے کہا
’’یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں بابا جی!‘‘
’’میں جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔ اس سے پہلے کہ وہ روح کسی اور کا شکار کر لے۔‘‘
بوڑھا بیساکھی کا سہارا لیتے ہوئے سرد خانے سے باہر آگیا۔ نوجوان نے جلد از جلد لاشوں کو ان کے ورثاء تک پہنچا دیا۔ تین گھروں پر صدمے کی بجلیاں گر گئیں۔ شمعون کی لاش پر ماتم کرتی ہوئی ماں نیم بیہوشی کی حالت میں چارپائی پر سر رکھے رو رہی تھی۔ خبر سن کر جب ماریہ وہاں پہنچی تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔
شمعون سے ایک روز پہلے ہی تو اس کی بات ہوئی تھی اور یہ سب کیسے ہوگیا۔ رات کے بارہ بج رہے تھے۔ سوگواری ماحول میں بین کرتی عورتوں کی دل خراش آوازیں گونج رہی تھیں۔
ماریہ نے شمعون کی میت کو قریب سے دیکھا تو وہ بری طرح جھلسا ہوا تھا۔
ماں کو تو اپنی ہوش نہیں تھی مگر لاش کے قریب بیٹھی ہوئی عورتیں سرگوشی کے انداز میں کھسر پھسر کر رہی تھیں۔
’’اس کے علاوہ اس کے دو دوست بھی مرے ہیں تینوں کی اموات ایک ہی انداز میں ہوئی ہیں گردنوں پر دو دانتوں کے نشان اور جسم جھلسے ہوئے اگر تینوں جنگلی جانوروں کا شکار ہوئے تو ان کے جسم کیسے جھلس گئے۔‘‘
دوسری عورت نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔
’’استغفار پڑھو مجھے تو یہ کوئی کالے جادو کا چکر لگتا ہے۔‘‘ ماریہ نے عورتوں کی باتیں سنیں تو گھبراہٹ سے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اس نے آگے بڑھ کر کفن کا کپڑا شمعون کی گردن سے پیچھے کیا تو اس کی گردن پر واقعی دو دانتوں کے نشان تھے جس سے نکلنے

فواد کے والد حسب معمول رات کو آٹھ بجے آفس سے آئے، ایمن کے ساتھ کھانا کھایا اور اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گئے اور نیٹ پر اپنے شیئرز چیک کرنے لگے۔
ایمن کچھ پیکٹس لے کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ وقار احمد نے لیپ ٹاپ پر نظر جمائے ہی ایمن سے بات کی
’’کیا بات ہے، آج کل تمہاری این جی او کی کوئی مصروفیت نظر نہیں آرہی کیا عورتوں کے مسائل ختم ہوگئے ہیں۔‘‘
ایمن سرسری سے لہجے میں بولی
’’میرا اپنا دل نہیں لگتا اب ان کاموں میں عجیب سا ادھورا پن آگیا ہے میرے اندر۔۔۔میری اپنی فرسٹریشن ختم ہوگی تو ہی دوسروں کے مسائل حل کروں گی۔‘‘
وقار احمد نے لیپ ٹاپ چھوڑ کر ایمن کی طرف دیکھا
’’یہ کون سے پیکٹس لے کے بیٹھی ہو، کیا ہے ان میں؟ ‘‘
ایمن پیکٹس کو ہاتھوں سے چھونے لگی
’’ان میں فواد کے نئے سوٹ ہیں۔ جب میں فواد کے لیے وینا کا ہاتھ مانگنے اپنے بھائی کے گھر گئی تھی تو میں نے پہلے ہی فواد کی منگنی کے لیے نئے سوٹ لے لیے تھے۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ بھائی جان انکار کر دیں گے۔ پتہ نہیں بھائی جان نے مجھ سے ایسا کیوں کیا۔ انہوں نے وینا کا رشتہ عارفین سے طے کر دیا ہے عارفین بھی تو ان کی بہن کا ہی بیٹا ہے۔ حیثیت میں بھی ہم دونوں بہنوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے پھر ایسا کیوں؟‘‘
وقار احمد اٹھ کر ایمن کے قریب بیٹھ گئے۔
’’کیسی باتیں کر رہی ہو۔ صرف حیثیت اور تعلق ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ بیٹی کے معاملے میں بہت کچھ دیکھنا پڑتا ہے۔‘‘
ایمن سر جھکائے رونے لگی۔
’’میرا فواد یہاں ہوتا تو میں جیسے تیسے بھائی کو منا ہی لیتی۔ میں بھی اپنے بیٹے کے ارمان پورے کرتی۔ کس قدر بضد تھا وہ وینا کے رشتے کے لیے اور آج وینا کسی اور کی ہوگئی ہے ۔ اگلے جمعہ وینا اور عارفین کی منگنی ہے۔‘‘
وقار احمد نے اس کے آنسو پونچھے۔
’’تم اس طرح پریشان مت ہو، خدا کو یہی مظور ہوگا۔ میں ابھی مایوس نہیں ہوا۔ ان شاء اللہ ہمارا فواد ضرور واپس آئے گا اور ہم اس کے لیے وینا سے بھی اچھی لڑکی ڈھونڈیں گے۔‘‘
ایمن نے وقار احمد کے شانے پر سر رکھ لیا۔ اس کی بھیگی آنکھوں میں خواب تلملاتے رہے۔ کہ ایک دن اس کا بیٹا واپس آئے گا اور وہ اپنے سارے ارمان پورے کرے گی۔ وینا اپنی ہونے والی ساس یعنی پھپھو کے ساتھ منگنی کے لیے شاپنگ میں مصروف تھی۔ اسکی والدہ نے عذرا کی بات رد نہ کی کہ وہ اپنی ہونے والی بہو کو خود شاپنگ کرائے گی۔
عذرا اور وینا نے پہلے بوتیک سے منگنی کا جوڑا لیا اور اس کے بعد وہ دونوں جیولر کے پاس چلی گئیں۔ وینا کو کافی دیر لگی اپنے لیے سیٹ پسند کرنے میں۔ اس نے سونے کا سیٹ اپنے گلے سے لگا کر دیکھا۔
’’یہ کیسا لگ رہا ہے آنٹی! مجھے تو یہی اچھا لگا ہے‘‘ عذرا نے مسکراتے ہوئے وینا کی طرف دیکھا۔
’’ہاں۔۔۔پیارا لگ رہا ہے یہی پیک کروا لیتے ہیں۔‘‘
وینا بہت خوش تھی۔ فواد کو اس نے ایک کزن سے زیادہ کبھی کچھ نہیں جانا۔ عارفین سے بھی شادی کا فیصلہ اس کے والدین کا تھا اور وہ اس فیصلے پر خوش تھی۔ عارفین اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں منیجر تھا۔ ان دنوں وہ دو ہفتے کے لیے گھر آیا تھا۔ منگنی کے بعد اسے واپس جانا تھا۔ عذرا اور وینا کے گھروں میں منگنی کی تیاریاں زور و شور سے ہو رہی تھیں۔
تیاریوں میں ایک ہفتہ کیسے گزرا پتہ ہی نہ چلا۔ منگنی کا دن آن پہنچا۔ رات کا فنگشن تھا۔ ایمن کے بھائی اعجاز اور بھابی صائمہ کے خوشی کے مارے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ مہمانوں کو آٹھ بجے کا وقت دیا گیا تھا۔ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب گھر مہمانوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔ وینا بھی بیوٹی پارلر سے تیار ہو کے آگئی مگر ابھی تک اس کے سسرال والے نہیں پہنچے تھے۔
ایمن اور وقار احمد بھی ابھی تک اپنے گھر میں ہی تھے
’’بیگم جلدی کرو، ہم لیٹ ہوگئے ہیں۔‘‘ وقار احمد گاڑی کی چابی گھماتا ہوا گیرج کی طرف بڑھا۔ ایمن تیار ہوکے اپنے بیڈ روم سے نکلی تو اسنے اپنے بیڈ روم کی لائٹ آف کر دی اور بیڈ روم کا دروازہ بند کرکے کچن کی طرف بڑھی جہاں ملازم کام میں مصروف تھا۔
وہ ملازم کو سمجھانے لگی
’’بابا! گھرکا خیال رکھنا۔ رات کا فنگشن ہے ہمیں دیر ہو سکتی ہے۔‘‘
’’جی بی بی جی آپ بے فکر رہیں۔‘‘ ملازم نے کہا اسی دوران ایمن کے بیڈ روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔
ایمن نے فوراً کمرے کی طرف دیکھا۔ کمرے کی لائٹ آن ہوئی۔ ایمن نے تعجب سے اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی بیڈ روم کی چابی کی طرف دیکھا۔
’’چابی تو میرے پاس ہے تو اندر کوئی کس طرح جا سکتا ہے۔‘‘ اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اسے خدشہ ہوا کہ کوئی چور اندر گُھس گیا ہے۔ وہ دوڑتی ہوئی وقار کے پاس گئی۔ اس کی سانس پھول گئی۔’’وہ۔۔۔وہ۔۔۔‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘ وقار احمد نے پوچھا۔
’’اندر ہمارے بیڈ روم میں کوئی ہے۔‘‘
’’ملازم ہوگا۔‘‘
’’نہیں وہ تو کچن میں ہے۔‘‘ ایمن گھبرائی ہوئی بولی۔
’’میں دیکھتاہوں۔‘‘ وقار احمد نے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ ایمن نے اسے روک لیا۔
’’تم نہ دیکھو، پولیس کو فون کرو۔‘‘
’’مجھے دیکھنے تو دو۔‘‘ وقار احمد بیڈ روم تک گیا بیڈ روم کا دروازہ باہر سے لاک تھا اور کمرے کی لائٹس بھی آف تھیں۔
وقارا حمد نے سوالیہ نظروں سے ایمن کی طرف دیکھا تو ایمن بلا تامل بولی۔
’’میں نے لائٹ آف کر کے دروازہ لاک کر دیا تھا۔ مگر جب میں ملازم سے بات کر رہی تھی تو اسی دوران کسی نے کمرے کا دروازہ کھولا اور لائٹ آن کی۔ میں دوڑتی ہوئی آپ کے پاس چلی گئی۔‘‘
وقار احمد چڑ کر بولا
’’کیسی احمقوں جیسی بات کر رہی ہو۔ چابی تمہارے پاس ہے اور تم کہہ رہی ہو کہ دروازہ کسی نے کھولا تھا۔‘‘
ملازم وقار احمد کے قریب آیا
’’صاحب جی! بیگم صاحبہ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں نے بھی دیکھا ہے۔‘‘
’’چابی دو۔‘‘ وقار احمد نے ایمن سے چابی لی اور دروازہ کھول کر کمرے کی لائٹ آن کی ہر چیز اپنی جگہ سلیقے سے پڑی تھی۔ ایمن کی تسلی کے لیے اس نے نقدی اور زیور چیک کیا۔ سب کچھ پورا تھا۔
اس نے تحمل سے ایمن کو سمجھایا
’’کمرے سے کوئی چیز نہیں غائب ہوئی اور اگر کوئی شخص کمرے سے بھاگتا تو مجھے دکھائی دے دیتا، تم نے کسی کو کمرے کے آس پاس یا کمرے سے نکلتے دیکھا ہے؟‘‘
’’نہیں۔۔۔‘‘ ایمن کھوئی کھوئی سو بولی۔
’’پھر بھی ایک دفعہ میں اور ملازم سارا گھر چیک کر لیتے ہیں۔‘‘ وقار احمد یہ کہہ کر ملازم کے ساتھ چھت پر چلا گیا اس نے چھت سے سڑک پر دور دور تک نظر دوڑائی۔ اسے ایسی کوئی نشانی نہ ملی جس سے پتہ چلے کہ گھرمیں کوئی آیا تھا۔
وقار احمد اور ایمن ملازم کو گھر میں چھوڑ کر وینا کی منگنی میں چلے گئے۔
وینا اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کی منگنی کی تقریب میں اس کے والدین نے کوئی کسر نہ چھوڑی منگنی کا انعقاد میرج ہال میں کیا گیا تھا۔
میرج ہال خوبصورت انداز میں ڈیکوریٹ کیا گیا تھا۔ ہال کی آرائش و زیبائش میں تازہ پھولوں کااستعمال کیا گیا تھا اس لیے فضا تازہ پھولوں کی خوشبو سے مہک رہی تھی۔ سبھی مہمان پہنچ گئے تھے مگر وینا کے سسرال والے ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔
وینا سجی ہوئی کرسی پر بیٹھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ ایمن نے وینا کو دیکھا تو اس کی آنکھیں اس کے چہرے پر ہی ٹھہر گئیں، وینا کو دیکھتے ہی فواد کے خیال نے اس کی آنکھیں بھر دیں۔ عذرا نے ایمن کو دیکھا تو بہن کے دل کے جذبات کو بھانپ گئی۔ وہ اس کے قریب آئی اور اس کے شانوں پر بانہیں حائل کرتے ہوئے اسے وینا کے پاس لے گئی۔ وینا کے ساتھ صوفے پر دونوں بہنیں بیٹھ گئیں۔
”عذرا نے ایمن کا ہاتھ وینا کے ہاتھ کے اوپر رکھا اور بہت پیار سے بولی
’’آپ سمجھیں عارفین ہی آپ کا فواد ہے اور یہ آپ کی بہو ہے۔‘‘
ایمن اپنے آنسو پونچھتے ہوئے مسکرانے لگی۔
’’خدا تمہیں اور عارفین کو ہمیشہ خوش رکھے۔‘‘
اس نے وینا کے سر پر پیار دیا۔ اور پھر عذرا سے مخاطب ہوئی۔
’’عارفین اور اس کے والد کہاں رہ گئے ہیں۔ سب مہمان پہنچ گئے ہیں اور دونوں ابھی تک نہیں پہنچے۔‘‘
’’بازار سے کچھ چیزیں لینی تھیں بس وہی لیتے ہوں گے میری بات ہوئی ہے بس آجائیں گے کچھ دیر تک۔‘‘ عذرا نے بتایا تو ایمن ہنس پڑی۔
’’یہ معاملے ہی ایسے ہوتے ہیں عین وقت تک ہی چیزیں بازار سے آتی رہتی ہیں۔‘‘ لڑکوں نے ریکارڈ آن کر دیا اور پاپ میوزک پر محو رقص ہو کے منگنی کی تقریب کو پُرمزہ بنانے لگے۔ خاندان کے سب لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں وہ سب ڈانس کرنے والے لڑکوں کے گرد دائرے میں جمع ہوگئے اور تالیاں بجا بجا کر ان کی حوصلہ افزائی کرنے لگے۔
وینا اپنی جگہ اکیلی بیٹھی مسکرا رہی تھی۔ وہ دائرے کی صورت میں جمع لوگوں کی طرف دیکھ رہی تھی اسے لڑکوں کا ڈانس نظر نہیں آرہا تھا۔
اس نے فیروزی کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا۔ جس پر نگینوں کا کام تھا۔ اس نے لہنگے سے میچ کرکے نگینوں کا سیٹ پہنا ہوا تھا۔ تالیاں بجاتے ہوئے لوگوں کے ہجوم میں وینا کو فواد دکھائی دیا جس نے بادامی رنگ کی شیروانی اور پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ شیروانی پر زری کا کام تھا گویا کہ وہ دولہا کا لباس تھا۔
وینا کی سراسیمہ نظریں اس طرف ہی ٹھہر گئیں فواد کا وہ سراپا وجود لوگوں میں سے اس طرح گزر گیا جیسے ہوا۔۔۔گویا وہ صرف وینا کو ہی دکھائی دے رہا تھا۔ لوگوں کے ہجوم میں سے نکلا تو وہ زندہ انسان کی طرح مادی وجود دکھائی دے رہا تھا۔
سنسناہٹ کے جھٹکے سے وینا کا پورا جسم تھرتھرا گیا۔ وہ جوں جوں وینا کے قریب آرہا تھا اس کی تھرتھراہٹ بڑھ رہی تھی۔ وہ وینا کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ وینا بھی فواد کی طرف مبہوت نظروں سے دیکھتی ہوئی کھڑی ہوگئی۔
’’فواد ۔۔۔‘‘ وینا کی کانپتے لبوں سے آواز ابھری۔ فواد کے چہرے پر تناؤ اور آنکھوں میں نمی تھی، غصہ و غم کے یکجا تاثرات نے اس کی آنکھوں میں بہت کچھ لکھ دیا تھا۔
فواد نے وینا کے چہرے پر اپنی آنکھیں گاڑ دیں۔
’’کیا سوچ رہی ہو۔ یہی نا کہ میں زندہ ہوں یا مردہ۔۔۔میں زندہ ہوں تمہاری خوشیوں میں، تمہارے احساسات میں تمہارے دل میں مگر یہ یاد رکھنا کہ اگر تم نے عارفین سے شادی کی تو میں اسے زندگی سے آزاد کر دوں گا۔‘‘
وینا کی ماں اس کے قریب آئی تو فواد کا وجود دھویں میں تحلیل ہو کر ہوا میں بکھر گیا۔ وینا کی ماں چلا اٹھی۔
’’وینا! یہ دھواں کیسا تھا، تم ٹھیک تو ہونا۔‘‘
وینا پھٹی پھٹی آنکھوں سے فضا کو گھورتی رہی پھر چکرا کر گر گئی۔ وینا کی والدہ صائمہ نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا اور اس کا چہرہ تھپتپھانے لگی۔
’’وینا آنکھیں کھولو کیا ہوا۔‘‘
وینا نے آنکھیں کھولیں تو ایک انجانا سا خوف اس کی آنکھوں میں سرایت تھا۔ اس کی متلاشی نگاہیں اپنے گرد جمع مہمانوں میں کسی کو ڈھوند رہی تھیں۔ ایمن اور عذرا اس کے قریب آئیں ’’کس کو ڈھونڈ رہی ہو۔‘‘
’’فواد ! ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے سامنے فواد کھڑا تھا۔۔۔؟‘‘
’’فواد! یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو۔ ہم نے تمہارے پاس تو کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘
وینا اپنے ہاتھوں پر زور ڈالتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس نے عذرا کی طرف دیکھا۔ ’’آنٹی میں سچ کہہ رہی ہوں۔ میں نے اپنے پورے ہوش و حواس میں اسے دیکھا ہے اس نے بادامی رنگ کی زری کے کام والی شیروانی اور پاجامہ پہنچا ہوا تھا۔ مگر اسکا جسم ہوائی تھا۔ اس کا جسم ہوا کے ہیولے کی طرح آپ لوگوں میں سے گزر گیا تھا۔‘‘
ایمن سٹپٹا کے رہ گئی۔ وہ وینا کے قریب بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی آنسوؤں سے ڈبڈباتی آنکھوں سے وینا کی طرف دیکھا
’’ا س کی شیروانی پر براؤن دھاگے کے ساتھ گولڈن تلے کا کام تھا اور بٹنز بھی گولڈن تھے۔‘‘
’’جی آنٹی۔۔۔مگر آپ کو کیسے پتہ، کیا آپ نے بھی فواد کو دیکھا ہے۔‘‘ وینا نے حیرت میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا۔
ایمن کی آنکھوں میں رکے ہوئے آنسو اس کے رخساروں پر جھلک پڑے۔
’’میں نے اسے نہیں دیکھا مگر تم یہ کیوں کہہ رہی ہو کہ اس کا جسم ہوائی تھا۔‘‘
شور سن کر وقار احمد بھی وہاں آگئے ’’کیا بات ہے۔‘‘
ایمن وقار کی طرف لپکی۔
’’میں نے کہا تھا کہ میرا فواد ضرور آئے گا۔ ہمارے بیڈ روم میں کسی کا ہونا میرا وہم نہیں تھا۔ میرا فواد گھر آیا تھا۔ وینا بتا رہی ہے اس نے وہی شیروانی اور پاجامہ پہنا ہوا تھا جو آپ کو دکھا رہی تھی۔ اس نے ہمارے کمرے کی الماری سے وہی ڈریس لیا ہوگا۔‘‘
وقار احمد نے وینا کی طرف دیکھا
’’یہ سب کیا کہہ رہی ہیں۔ تم صرف اتنا بتاؤ کہ تم نے فواد کو دیکھا ہے اس حال میں۔‘‘
’’جی انکل! میں نے اسے دیکھا، اس نے مجھ سے بات بھی کی۔‘‘
وقار احمد نے کچھ اور مزید نہیں پوچھا اس نے برقی سرعت سے اپنا موبائل نکالا اور کسی سے تیز تیز بولنے لگا۔ باہر سکیورٹی کو الرٹ کر دو۔ کچھ لوگ ادھر ہال میں بھی بھیجو کچھ لوگوں نے یہاں فواد کو دیکھا ہے۔ ہر ایک کو چیک کرو، اگر فواد یہاں ہے تو وہ ہوٹل سے باہر نہ نکل پائے۔
سپیکر پر اناؤنسمنٹ ہونے لگی۔
’’اس ہال سے کوئی باہر نہ جائے۔ فواد! تم جہاں کہیں ہو ہمارے سامنے آجاؤ۔‘‘
ہال میں جیسے سکوت چھا گیا لوگ اپنی جگہ پر جامد ہوگئے۔ پولیس سولجرز ہال کے دروازے پر کھڑے ہوگئے فضا میں سیاہ دھویں کی بدلی سی نمودار ہوئی۔ ہال میں کسی قسم کی آتشزدگی استعمال نہ ہونے کی وجہ سے وہ دھواں لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔
دھویں کی وہ بدلی ہوا میں تیرتی ہوئی ہال کے دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ وقار احمد کی بھی نظر اسی پر تھی، دھویں کی وہ بدلی ہوا میں پھیلتی ہوئی دروازے سے باہر چلی گئی اور پھر وہ سیاہ دھواں ہوا میں بکھر کر کہیں غائب ہو گیا۔
اسی دوران وینا کی آواز وقار احمد کی سماعت سے ٹکرائی
’’انکل آپ نے میری پوری بات نہیں سنی، میں آپ کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ فواد کا جسم ہوائی تھا۔‘‘
وقار احمد کے پورے جسم سے جھرجھری دوڑ گئی۔
’’کیا کہہ رہی ہو؟‘‘
’’جی انکل میرا یقین کریں جب امی میرے قریب آئیں تو فواد کا ہوائی روپ ایسی ہی سیاہ بدلی میں تحلیل ہوگیا تھا جیسی ابھی فضا میں نمودار ہوئی تھی۔‘‘ وقار احمد خاموش کھڑا وینا کی طرف دیکھ رہا تھا اس کا ذہن وینا کی بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
ایمن جذباتی انداز میں وینا سے بولی
’’میرا فواد زندہ ہے۔ اس کا جسم ہوائی کیسے ہو سکتا ہے۔ تم کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو۔‘‘
وقار احمد ایمن کے شانوں پر بازو حائل کرتے ہوئے اسے صوفے تک لے گیا
’’وینا کو کوئی وہم ہوا ہے تم خود کو سنبھالو۔ ہمارا بیٹا ہمیں ضرور مل جائے گا۔‘‘
کچھ دیر کے بعد عارفین اور اعجاز بھی آگئے۔ ان کے سامنے کسی نے فواد کی بات نہیں کی بلکہ اس واقعہ کو نظر انداز کرکے رسم کی تیاری میں مصروف ہوگئے۔ عارفین اور وینا نے ایک دوسرے کو منگی کی انگوٹھی پہنائی۔ عزیز و اقارب نے دوسری رسومات نبھائیں۔ فنکشن رات گئے جاری رہا۔ دوسرے رشتہ داروں نے تو اس تقریب میں بہت انجوائے کیا مگر وینا جس کی منگنی تھی، وہ بجھی بجھی سی تھی ایسی ہی حالت ایمن اور وقار احمد کی بھی تھی۔ ایک عجیب سا خدشہ ان کا سینہ چیر رہا تھا۔ رات کے ایک بجے تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ تمام رشتہ دار اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے ایمن اور وقار احمد بھی اپنے گھر آئے تو ملازم نے دروازہ کھولا۔
وقار احمد تو باتھ روم میں کپڑے چینج کرنے چلا گیا مگر ایمن الماری کھول کر برقی سرعت سے کچھ ڈھونڈنے لگی۔ وہ بوکھلائی سی کپڑوں کو الٹ پلٹ کر رہی تھی۔ وہ سارے کپڑے نکال نکال کر زمین پر پھینکنے لگی۔ وقار احمد نے اپنے کف کا بٹن بند کرتے ہوئے تعجب سے ایمن کی طرف دیکھا۔
’’یہ کیا طریقہ ہے الماری سے کپڑے نکالنے کا۔‘‘
”ایمن کو جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ اپنے کام میں محو تھی اس نے سارا خانہ خالی کر دیا پھر الماری کے باقی خانوں سے کپڑے نکال نکال کر باہر پھینکنے لگی۔ اس نے ساری الماری خالی کر دی اور پھر اپنے دونوں بازو سیدھے کرکے اپنے ہاتھ اکڑا لیے اور گلوگیر لہجے میں بولی۔
’’وہ بادامی شیروانی الماری میں نہیں ہے جو میں نے فواد کے لیے خریدی تھی۔ میرا بیٹا فواد گھر آیا تھا اسی نے یہاں سے وہ شیروانی لی اور زیب تن کی۔‘‘
’’کیسی باتیں کر رہی ہو ایمن ! خود کو سنبھالو۔۔۔‘‘ وقار احمد نے ایمن کو شانوں سے پکڑتے ہوئے صوفے پر بٹھا دیا۔
ایمن نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں سے وقار احمد کی طرف دیکھا
’’وینا نے تو وہ شیروانی نہیں دیکھی تھی۔ تو پھر کیسے اس نے بتایا کہ فواد نے بادامی شیروانی پہنی تھی اور اس پر براؤن دھاگے اور گولڈن تلے کا کام تھا۔‘‘
وقار احمد سوچ میں پڑ گیا۔ یہ سب باتیں اس کی سمجھ سے بالا تر تھیں۔ اس نے ایمن کے بالوں کو سہلایا۔
’’خدا پر بھروسا رکھو، جاؤ جا کے چینج کر لو۔‘‘
ایمن دھیرے دھیرے قدموں سے چلتی ہوئی باتھ روم تک پہنچ گئی۔ وقار احمد کے ذہن میں وینا کا جملہ بار بار گونج رہا تھا۔
’’انکل ! فواد کا جسم ہوائی تھا۔۔۔اس کا جسم سیاہ دھویں میں تبدیلی ہوگیا تھا۔‘‘
وقار احمد کے ذہن میں سیاہ دھویں کی اس بدلی کا خیال بھی آنے لگا پھر اس کا ذہن ماضی کے دریچوں سے کسی بات کو دہرانے لگا۔ جب چرس بھرے سگریٹ پینے پر وقار احمد نے فواد کے چہرے پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا تھا تو چیخ کر بولا تھا۔
’’ڈیڈی اس دھویں میں کبھی آپ کا بیٹا بھی دھواں ہو جائے گا۔‘‘
اس خیال سے اس کے جسم میں جھرجھری دوڑ گئی۔ اس نے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے۔ ’’یااللہ جو میں سوچ رہا ہوں وہ نہ ہو میرا بیٹا زندہ ہو۔‘‘
ظفر اپنے باہر کے معمولات نبٹا کے اپنے ملک واپس آگیا۔ وہ ماریہ کے ساتھ شمعون کے گھر والوں سے تعزیت کے لیے ان کے گھر گیا۔ شمعون کی بے وقت اور عجیب موت سب کے لیے پہیلی بنی ہوئی تھی۔ ظفر کو ماریہ کی حالت پر تشویش ہو رہی تھی کہ شمعون کی موت سے وہ اس قدر خوفزدہ کیوں ہے۔
’’پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا آیا ہے۔‘‘ ظفر نے شمعون کے والد سے پوچھا۔
شمعون کے والد نے گلوگیر لہجے میں کہا
’’ہمیں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے کیا، پولیس قاتل کو ڈھونڈ بھی لے تو ہمیں کون سا ہمارا بیٹا واپس مل جائے گا۔‘‘
’’مجھے آپ سے ہمدردی ہے مگر میں جاننا چاہتا ہوں کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کیا بات سامنے آئی ہے۔‘‘
شمعون کے والد نے لمبا سانس کھینچا۔
’’رپورٹ میں دو باتیں سامنے آئی ہیں ایک یہ کہ کسی جنگلی جانور نے ان کے جسموں سے خون چوس لیا اور دوسری بات یہ کہ ان کے جسم جھلسنے سے ان کے دل سکڑ گئے ان کے جسموں پر کوئی آتش گیر مواد استعمال نہیں ہوا۔ ان کے جسموں سے صرف ریت ملی ہے۔ گویا کہ ریت اس قدر گرم ہوگئی تھی کہ ان کے جسم جھلس گئے۔ ایسا کیسے ممکن ہے۔ چولستان کے اس جنگل کے قریبی علاقوں کے لوگوں کے کہنے کے مطابق جب ان لوگوں نے لڑکوں کی لاشیں اٹھائیں تو ریت اس قدر گرم نہیں تھی اور نہ ہی ایسا ممکن ہے کہ ریت سے کوئی جھلس جائے اور پھر دور دور تک نہ کوئی ایسا جنگلی جانور نظر آیا اور نہ ہی ایسی نشانی ملی جس سے معلوم ہو کہ ان تینوں کے علاوہ وہاں کوئی اور بھی تھا۔‘‘
یہ سب بتاتے ہوئے شمعون کے والد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ظفر نے ان کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ لیا
’’ہمت رکھیں خدا کو یہی منظور ہوگا۔ تینوں لڑکوں کی موت واقعی بہت عجیب طریقے سے ہوئی ہے مگر آپ پولیس کی تفتیش میں ان کی مدد کریں۔ معاملے کی تہہ تک جائیں۔ مجھ سے جو کچھ ہو سکا میں کروں گا۔‘‘
ظفر اور ماریہ دو گھنٹے ان کے گھر گزارنے کے بعد گھر آگئے۔
************************************************
رات بارہ بجے کے بعد زرغام اپنی گاڑی میں گاؤں سے نکلا۔ شہر کے محلے اور گلیاں سنسان تھیں۔ لوگ گھروں میں گہری نیند سو رہے تھے۔
سڑکوں پر بہت کم گاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ مگر جس ٹوٹی پھوٹی سڑک والا راستہ زرغام نے اختیار کیا وہاں اس کی گاڑی کے علاوہ کوئی اور گاڑی نہیں تھی۔
تھوڑے سے سفر کے بعد وہ جس سڑک پر آگیا تھا وہ سڑک شہر کے وسیع قبرستان کی طرف جاتی تھی۔ وہ سڑک تو ہمیشہ سے ہی رات بارہ بجے کے بعد سنسان ہو جاتی تھی۔
قبرستان کے قریب پہنچ کر زرغام نے گاڑی روک لی۔ وہ گاڑی سے اترا ،اس نے پینٹ شرٹ زیب تن کی ہوئی تھی۔ اس نے گاڑی سے کالا شاپر نکالا اور وہ شاپر لے کر قبرستان میں داخل ہوگیا۔ قبرستان کے شروع میں ہی ایک مدھم سی لائٹ لگی تھی جو قبرستان کے اندھیرے کو دور کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔
زرغام نے سیاہ شاپر سے ٹارچ نکالی اس نے ٹارچ آن کی اور شاپر سے سیاہ چوغہ نکال لیا۔ اس نے شاپر زمین پر رکھا اور سیاہ چوغہ پہن لیا۔ چوغے کی کمر کی طرف ایک ٹوپی سی لٹک رہی تھی جسے اس نے اپنے سر پر پہن لیا۔
سیاہ گاؤن کے ساتھ لگی ہوئی اس ٹوپی نے نہ صرف اس کا سر چھپا دیا بلکہ اس کی آنکھوں تک لٹکنے لگی۔ وہ ٹارچ کی دھیمی سی روشنی کی مدد سے آگے بڑھ رہا تھا۔
یہ قبرستان کئی سو سال پرانا تھا کئی سو سال پرانی قبریں نیست و نابود ہو چکی تھی اور ان میں نئے مردے بھی دفنائے جا چکے تھے۔۔۔ان کئی سو سال پرانے مردوں کی روحیں اب بھی اس قبرستان میں بھٹک رہی تھیں۔ وہ خاص نظریں جو ان روحوں کو دیکھ سکیں عام انسانوں کے پاس نہیں تھیں مگر زرغام جیسا شیطان اپنی طاقت اپنے علوم اور تجربے کی بنیاد پر اپنے آس پاس بھٹکنے والی روحوں کو محسوس کر سکتا تھا۔ بظاہر محسوس ہونے والے سناٹے میں کتنی آہ و بکا کتنی چیخیں اور کیسی کیسی دل سوز آوزیں زرغام کی قوت سماعت سے ٹکرا رہی تھیں۔
وہ بے خوف مختلف قبروں پر ٹارچ کی روشنی ڈالتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا کچھ قبریں انتہائی خستہ حال تھیں جن میں پڑے ہوئے انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے صاف دکھائی دے رہے تھے۔
زرغام ایک ایسی ہی خستہ حال قبر کے قریب رک گیا اس نے سیاہ شاپر سے ایک روئی کی بنی ہوئی گڑیا نکالی اور زمین پر آلتی پالتی مار کے بیٹھ گیا۔ اسنے کُھرپے کی مدد سے خستہ حال قبر کے پاس تھوڑی سی زمین کھودی اور اس گڑیا کو زمین میں اس طرح دفن کیا کہ اس کا سر باہر رہ گیا باقی دھڑ مٹی میں دفن ہوگیا۔ اس نے لوہے کی ایک پن لی اور اس گڑیا کے ماتھے پر گھسیڑ دی۔ اس عمل کے بعد وہ آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے لگا کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں۔ اس نے گڑیا پر پھونکا اور اس کے اون سے بنے ہوئے بالوں کو آپس میں گرہ لگا دی۔ اورپھر بھیانک انداز سے مسکراتا ہوا وہاں سے اٹھ گیا۔
وہ تیز قدم پھلانگتا ہوا قبرستان سے باہر نکلنے لگا جیسے اس خاص عمل کے بعد قبرستان سے باہر نکلنے کا وقت اس کے پاس بہت کم ہے۔ اس نے کئی قبروں کو اپنے پیروں تلے روند دیا۔ وہ برقی سرعت سے قبرستان سے باہر نکلااور پھر اپنی گاڑی میں سوار ہو کے جلد از جلد اس علاقے سے باہر نکل گیا۔
******
”رخسانہ اور توقیر نے صبح اٹھ کر فجر کی نماز ادا کی اور پھر وہ دونوں چہل قدمی کے لیے نکل گئے۔ وینا کی منگنی میں ہونے والے واقعے کی خبر ان دونوں تک بھی پہنچ گئی تھی۔ وہ واک کرتے ہوئے اسی موضوع پر بات کر رہے تھے۔
’’جو کچھ مجھے ایمن نے بتایا وہ سب کیسے ہو سکتا ہے۔‘‘ رخسانہ نے توقیر سے پوچھا۔ توقیر جوگِنگ کرتا ہوا ایک لحظہ کے لیے ٹھہر گیا اور لمبے لمبے سانس لینے گا۔
’’کبھی کبھی خدشات ہمارے شعور پر حاوی ہو جاتے ہیں اور ہمیں وہی کچھ دکھائی دیتا ہے جس سے ہم ڈرتے ہیں۔ وینا کو ڈر تھا کہ وہ کبھی فواد کی جیون ساتھی نہ بنے کیونکہ وہ فواد کو پسند ہی نہیں کرتی تھی اس کا خدشہ فواد بن کر اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اور ایمن کی دیرینہ خواہش کہ فواد اس کا خریدا ہوا جوڑا پہنے حقیقت کا روپ دھار گئی۔ یہ سب سائیکالوجی ہے اور کچھ بھی نہیں۔‘‘
رخسانہ نے توقیر کی طرف گہری نظر سے دیکھا
’’کتنی آسانی سے تم نے ان سب کو انسانی نفسیات کا نام دے دیا۔ دل دماغ جسم یہ سب جس کے بغیر بے معنی ہیں وہ ہے روح ۔ جسے ربّ گوشت کے اس پتلے میں پھونکتا ہے۔ روح جو جسم کے مردہ ہوتے ہی احساسات جذبات شعور سب کچھ ساتھ لے جاتی ہے۔ کیا تم روح کی حقیقت کو جھٹلا سکتے ہو۔‘‘
توقیر بھی خاموشی سے رخسانہ کی ساری بات سن رہا تھا دھیرے سے بولا۔
’’تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ فواد مر چکا ہے کیا ہم یہ بھی تسلیم کر لیں کہ ہماری حوریہ۔۔۔‘‘ ابھی توقیر پوری بات نہ کہہ پایا تھا کہ رخسانہ اس کے کندھے سے لگ کر رونے لگی
’’ایک سال ہوگیا ان چاروں کو لاپتہ ہوئے ہم کیا سمجھیں کہ وہ زندہ ہیں یا مردہ۔‘‘
توقیر نے اس کے شانے پر اپنی بانہیں دراز کر لیں۔‘‘ اس طرح کے خدشات اپنے ذہن میں مت لاؤ۔ میرا دل نہیں مانتا مجھے لگتا ہے کہ ایک دن حوریہ اچانک ہمارے سامنے آجائے گی۔‘‘
وہ دونوں دھیرے دھیرے چلتے ہوئے گھر آگئے توقیر آفس جانے کی تیاری کرنے لگا اور رخسانہ اس کے لیے ناشتہ تیار کرنے میں مصروف ہوگئی۔ توقیر پُھرتی سے تیار ہو کر کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’بیگم جلدی ناشتہ لاؤ دیر ہو رہی ہے۔‘‘
رخسانہ نے سینڈوچ میکر کا بٹن آف کیا اور سینڈوچ نکال کر ٹرے میں رکھے اور ساتھ میں چائے کے دو کپ بھی ٹرے میں رکھ لیے وہ توقیر کے قریب آئی ا ور ناشتہ سرو کرنے لگی۔
اس دوران توقیر کے موبائل کی رنگ ہوئی۔ سکرین پر انسپکٹر کا نمبر دیکھ کر توقیر نے موبائل کان سے لگایا۔
’’جی انسپکٹر صاحب!‘‘
انسپکٹر کی بات سن کر توقیر جہاں تھا وہیں جیسے منجمد ہوگیا۔ چند ساعتوں کے لیے جیسے وہ پلکیں جھپکنا ہی بھول گیا۔ وہ بوکھلائے ہوئے انداز میں بولا
’’ہم بس ابھی پہنچتے ہیں۔‘‘
توقیر کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر رخسانہ بھی گھبرا گئی
’’کیا ہوا؟کس سے بات کر رہے تھے؟‘‘ توقیر کے چہرے پر خوشی اور پریشانی کے یکجا تاثرات تھے مگر الفاظ جیسے اس کی زبان پر ہی اٹک گئے تھے وہ بمشکل بولا
’’حوریہ مل گئی ہے مگر وہ شفا ہسپتال میں ہے۔ وہ بیہوشی کی حالت میں ملی تھی اور ابھی تک بیہوش ہے۔ انسپکٹر کے پاس حوریہ کی تصویر تھی اس لیے انہوں نے اس کی شناخت کر لی۔ وہی حوریہ کو ہسپتال لے کر گئے ہیں۔‘‘
’’میری حوریہ مل گئی ہے۔‘‘ رخسانہ کی آنکھیں بھیگ گئیں مارے خوشی کے وہ اپنا دل تھام کے بیٹھ گئی۔ دونوں میاں بیوی جلد از جلد گھر سے نکل کر شفاء ہاسپٹل پہنچ گئے۔
دونوں روم نمبر 46 میں پہنچے تو انہیں اپنی آنکھوں پریقین نہیں آیا کہ حوریہ ان کے سامنے بیڈ پر لیٹی ہے۔ وہ دونوں دھیرے دھیرے چلتے ہوئے حوریہ کے بستر کے قریب آگئے حوریہ ابھی تک بیہوش تھی۔ اس کے معصوم سے چہرے پر بے شمار خراشیں تھیں۔ رخسانہ تو بے خودی میں بیٹی سے لپٹ گئی۔ توقیر بیٹی کا ہاتھ تھامے اپنے آنسوؤں پر قابو نہ پا سکا۔
لیڈی ڈاکٹر نے رخسانہ کے شانے پر ہاتھ رکھا
’’پلیز۔۔۔آپ تھوڑی دیر کے لیے کمرے سے باہر چلے جائیں۔ میں آپ کے احساسات سمجھ سکتی ہوں مگر آپ کی بیٹی کا ٹریٹمنٹ ابھی پورا نہیں ہوا۔ ابھی تک ان کو ہوش نہیں آیا یہ خطرے سے باہر نہیں ہے۔ آپ باہر بیٹھ کر دعا کریں۔ جونہی ان کو ہوش آیا ہم آپ کو بلا لیں گے۔‘‘ انسپکٹر بھی توقیر اور خسانہ کے ساتھ کمرے سے باہر آگیا۔
’’آپ کو حوریہ کہاں ملی اور اس کی یہ حالت۔۔۔‘‘ توقیر نے پوچھا۔
انسپکٹر نے لمبا سانس کھینچا۔
’’صبح صبح ہی قبرستان کے گورکن نے مجھے اطلاع دی کہ قبرستان میں کوئی لڑکی بیہوش پڑی ہے۔ اطلاع ملتے ہی میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ قبرستان پہنچا۔ حوریہ چند خستہ قبروں کے قریب بیہوش زمین پر پڑی ہوئی تھی۔ سوائے سر کے حوریہ کا سارا جسم گیلے گارے سے لت پت تھا۔ بالکل ایسے جیسے گیلی مٹی کے کسی گڑھے سے نکلی ہو۔ اس کے سر کے سامنے پیشانی سے خون بہہ رہا تھا۔ ہم نے اسے بمشکل ہسپتال پہنچایا۔ نرسوں نے اس کے جسم کو صاف کیا اور اسے دوسرے کپڑے پہنائے۔ حوریہ کو ہوش آجائے تو یہ سب علم ہو جائے گا کہ اسے اس حالت تک کس نے پہنچایا ہے۔‘‘
رخسانہ ہاتھ میں تسبیح تھامے اوپر کی طرف دیکھنے لگی
’’کس ظالم نے میری بیٹی کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ خدا اسے نہیں چھوڑے گا۔‘‘
توقیر نے رخسانہ کی طرف دیکھا۔
’’بس دعاکرو کہ ہماری بیٹی کو ہوش آجائے۔‘‘
دونوں میاں بیوی تسبیح پڑھنے لگے اور دعائیں مانگتے رہے تھوڑی دیر کے بعد ایمرجنسی روم سے نرس باہر آئی اور توقیر سے مخاطب ہوئی
’’حوریہ کو ہوش آگیا ہے۔ آپ لوگ اس سے مل سکتے ہیں۔‘‘
توقیر اور خسانہ کمرے میں چلے گئے۔ انسپکٹر بھی ان دونوں کے ساتھ کمرے میں چلا گیا۔ حوریہ نے آنکھیں کھولی ہوئی تھیں۔ لیڈی ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے رخسانہ کی طرف دیکھا ’’اب آپ کی بیٹی خطرے سے باہر ہے۔‘‘
رخسانہ اور توقیر حوریہ کے بیڈ کے قریب آگئے۔ حوریہ نے انجان سی نظروں سے اپنے والدین کی طرف دیکھا اور پھر کوئی تاثر دیئے بغیر لیڈی ڈاکٹر کی طرف دیکھنے لگی
’’میں کہاں ہوں؟ اور یہ لوگ کون ہیں؟‘‘
لیڈی ڈاکٹر نے توقیر اور رخسانہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’تم ان لوگوں کو نہیں جانتی۔۔۔‘‘
حوریہ نے ایک بار اجنبیت سے دونوں کی طرف دیکھا
’’میں نے ان کوپہلی بار دیکھا ہے۔‘‘ رخسانہ کچھ کہنے لگی تو لیڈی ڈاکٹر نے انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ پھر اسنے ان سب کو اپنے ساتھ باہر آنے کو کہا کہ وہ کمرے سے باہر آگئے۔
’’ڈاکٹر صاحبہ! حوریہ ہمیں کیوں نہیں پہچان رہی۔‘‘ رخسانہ نے پوچھا۔
ڈاکٹر کچھ دیر خاموش رہی پھر گویا ہوئی
’’ہم نہیں جانتے کہ حوریہ کن حالات سے گزری ہے۔ مجھے لگ رہا ہے کہ وہ اپنی یادداشت کھو بیٹھی ہے۔ مگر یہ بات میں وثوق سے نہیں کہہ سکتی پہلے کچھ ٹیسٹ لینے ہوں گے۔ ایک بات تو مجھے آپ لوگوں کو سمجھانی ہے وہ یہ ہے کہ جب تک یہ بات ثابت نہیں ہو جاتی کہ حوریہ اپنی یادداشت کھو بیٹھی ہے۔ آپ لوگوں نے اسے کچھ یاد دلانے کی کوشش نہیں کرنی۔ اس کے ذہن پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو۔ایک بار ٹیسٹ ہو جائیں رپورٹ آجائے پھر آپ کو سمجھاؤں گی کہ اسے کیسے ٹریٹ کرنا ہے۔‘‘
پھر وہ انسپکٹر سے مخاطب ہوئی۔
’’آپ اسے ایک ذہنی مریض کی طرح سمجھیں اس لیے ابھی اس سے کوئی سوال جواب مت کریں۔ آپ کی تفتیش ہمارے علاج میں رکاوٹ پیدا کرے گی۔ مہربانی فرما کر آپ حوریہ کے ٹھیک ہونے کا انتظار کرلیں۔‘‘
لیڈی ڈاکٹر کی بات سن کر انسپکٹر توقیر سے مخاطب ہوا
’’ٹھیک ہے میں جاتا ہوں آپ حوریہ کے ٹیسٹ وغیرہ کروا لیں پھر اسے صورت حال سے آگاہ کر دیجئے گا۔‘‘
’’میں آپ سے رابطہ رکھوں گا۔ آپ کی بڑی مہربانی جو آپ نے حوریہ کو ہسپتال تک پہنچایا۔‘‘
’’یہ تو میرا فرض تھا‘‘ یہ کہہ کر انسپکٹر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں سے چلا گیا۔ ایک دو روز میں حوریہ کے ٹیسٹ کی رپورٹ بھی آگئی۔ توقیر اور رخسانہ لیڈی ڈاکٹر کے آفس میں آئے۔
’’آجائیں بیٹھیں۔۔۔‘‘
پھر وہ رپورٹس ان کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی
’’حوریہ کی ذہنی حالت بالکل ٹھیک ہے۔ اس کا یہ برتاؤ تشویشناک ہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اسے کچھ یاد نہیں۔ شاید اس کی یہ حالت عارضی ہو۔ کچھ روز آپ کے ساتھ گزارنے کے بعد اسے شاید سب یاد آجائے۔ اس لیے یہ بہتر ہوگا کہ اسے ساری صورت حال سے آگاہ کردیا جائے پھر اسے اپنے ساتھ گھر لے جائیں۔ کسی قسم کی Complicationsہو تو آپ مجھ سے رابطہ کریں میں کچھ دوائیاں لکھ رہی ہوں یہ آپ اسے باقاعدگی سے دیں۔‘‘
توقیر نے ادویات کی پرچی لیتے ہوئے کہا
’’ہم ماضی کی کچھ باتیں دُہرا کے اسے اپنی زندگی یاد دلانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلایا
’’جی بالکل اسے اس کی پسند نا پسند میں ایسا ماحول بنائیں کہ جس سے اسے کچھ یاد آئے۔‘‘
توقیر اور رخسانہ، حوریہ کو لے کر گھر آگئے حوریہ کو رخسانہ اس کے کمرے میں لے کر آئی حوریہ اپنے کمرے کے در و دیوار کو انجان نظروں سے دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی گویا اس کے لیے کمرے کی ہر چیز نئی تھی
رخسانہ نے اسے اس کے بیڈ پر بٹھایا۔
’’تم آرام کرو، میں تمہارے لیے کچھ کھانے کے لیے لاتی ہوں۔‘‘ رخسانہ حوریہ کے لیے کچھ کھانے کے لیے لینے چلی گئی۔ توقیر، حوریہ کے پاس آیا۔ بیٹی کو اپنے گھر دیکھ کر اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔
وہ حوریہ کے قریب بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا
’’میرے گھر کی خوشیاں لوٹ آئی ہیں تم نہیں جانتی کہ تمہارے بغیر ایک سال ہم نے کیسے گزارا کیسے کیسے خدشات دل میں لے کر ہم انگاروں پر چلتے رہے۔ تم ہماری اکلوتی بیٹی ہو۔ تمہیں آہستہ آہستہ سب یاد آجائے گا۔‘‘
حوریہ جذبات سے عاری سرد آنکھوں سے توقیر کی طرف دیکھتی رہی پھر اس نے توقیر کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
’’جب یاد آئے گا تب دیکھا جائے گا۔ ابھی یہ زبردستی کی محبت مجھ پر مسلط نہ کریں۔‘‘
توقیر سکتے کی سی کیفیت میں کھڑا ہوگیا۔ ایک بار تو دل نے یہ کہا کہ یہ لڑکی اس کی حوریہ نہیں ہوسکتی۔ پھر لیڈی ڈاکٹر کی بات یاد آئی کہ حوریہ کو ایک ذہنی مریض کی طرح ٹریٹ کریں۔ اس نے خود کو سنبھالا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد رخسانہ اس کے لیے کچھ کھانے کے لیے لے آئی۔
رخسانہ نے ٹرے میں کچھ پھل اور سوپ رکھا ہوا تھا۔ رخسانہ نے پھل سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیئے اور سوپ لے کر حوریہ کے قریب بیٹھ گئی۔ اس نے چمچ میں سوپ لیا اور حوریہ کے منہ کے قریب لے کر آئی۔
حوریہ نے اپنے ہاتھ سے چمچ پیچھے کر دیا
’’پلیز آنٹی مجھے بچے کی طرح ڈیل مت کریں۔ آپ یہ سوپ رکھ کے چلی جائیں میں پی لوں گی۔‘‘ آنٹی کا لفظ سن کر رخسانہ کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’ٹھیک ہے بیٹی! میرے ہاتھ سے سوپ نہیں پینا نہ پیو مگر مجھے آنٹی مت کہو میں تمہاری مما ہوں۔‘‘ رخسانہ نے انتہائی پیار سے کہا۔
’’سوری! کوشش کروں گی یہ غلطی دوبارہ نہ ہو۔‘‘ حوریہ نے آنکھیں جھکاتے ہوئے کہا۔
رخسانہ نے اس کے سر پر پیار دیا اور کمرے سے باہر آگئی۔
حوریہ کے ملنے کی خبر نے وشاء ، فواد اور خیام کے گھر والوں میں افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا۔ امید کی ایک لہر نے ان کے دلوں میں ہلچل مچا دی۔ مگر اس خبر نے انہیں ایک بار پھر اداس کر دیا کہ حوریہ اپنی یادداشت کھو چکی ہے۔ وہ سب حوریہ سے ملنا چاہتے تھے مگر توقیر اور رخسانہ نے انہیں کہا تھا کہ جب حوریہ گھر آجائے گی اس وقت وہ اس سے مل لیں۔
اتوار کے روز ظفر، وقار احمد، ایمن، زبیر اور ماہین رخسانہ کے گھر آئے۔ توقیر نے ان سب کو مہمان خانہ میں بٹھایا۔ رخسانہ ان سب سے ملی اور پھر کچن میں جا کے چائے کے اہتمام میں مصروف ہوگئی۔ رخسانہ کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ دیکھنے میں بھی کافی چست لگ رہی تھی۔
ایمن نے توقیر کی طرف دیکھا
’’توقیر بھائی ! بیٹی کے آتے ہی رخسانہ کیسے کھل اٹھی ہے۔ اولاد میں تو جان پھنسی ہوتی ہے ہمارے لیے بھی دعا کریں کہ ہماری اذیتیں بھی ختم ہو جائیں۔‘‘
توقیر احمد نے پر امید لہجے میں کہا
’’کیوں نہیں بہن! خدا کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں۔ جس طرح ہماری حوریہ لوٹ آئی ہے اسی طرح خیام، وشاء اور فواد بھی لوٹ آئیں گے۔ حوریہ کے زندہ سلامت ملنے کا یہی مطلب ہے کہ وہ تینوں بھی کہیں روپوش ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ خود ہی گھر نہ آنا چاہتے ہوں یا کہیں پھنسے ہوئے ہوں کچھ بھی ہو سکتا ہے ہمیں اپنی تلاش جاری رکھنی چاہئے۔‘‘
ظفر جو سر جھکائے خاموشی سے سب کچھ سن رہا تھا، تھکے تھکے لہجے میں بولا
’’خدا کا شکر ہے کہ حوریہ آپ کو زندہ سلامت مل گئی۔ میرے من میں طرح طرح کے خدشات جیسے پھن پھیلائے بیٹھے ہیں جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے امید بھی ٹوٹتی جا رہی ہے۔‘‘
ظفر کی اس بات پر زبیر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا
’’مایوسی کی باتیں مت کرو۔
ڈاکٹر نے امید دلائی ہے کہ حوریہ کی یادداشت بہت جلد واپس آسکتی ہے کیونکہ اس کی ذہنی حالت نارمل ہے۔ اس کی یہ حالت کسی حادثے کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ جونہی حوریہ کی یادداشت واپس آئے گی تو وہ بتا سکتی ہے کہ اس کے دوست فواد ، خیام اور وشاء کہاں ہیں۔ امید کی اس کرن نے ہم سب میں حوصلہ پیدا کر دیا ہے۔‘‘
ماہین نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا
’’حوریہ سے اسکے کمرے میں مل لیتے ہیں۔‘‘
توقیر فوراً کھڑا ہوگیا
’’آپ ادھر ہی بیٹھیں، میں حوریہ کو بلا کے لاتا ہوں۔‘‘
توقیر کے جانے کے ساتھ ہی رخسانہ چائے لے کر آگئی اس نے سب کو چائے پیش کی۔ ایمن نے رخسانہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا
’’چھوڑو یہ تکلفات ادھر ہمارے پاس بیٹھو، بیٹی کی واپسی کی مبارک ہو، یہ سب تمہاری دعاؤں کا نتیجہ ہے۔‘‘
رخسانہ نے مسکراتے ہوئے ایمن کی طرف دیکھا۔
’’خدا کا فضل ہے میں خوش تو بہت ہوں مگر ۔۔۔‘‘
’’مگر کیا۔۔۔؟‘‘ ایمن نے پوچھا۔
اتنی دیر میں حوریہ توقیر کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی۔ حوریہ کو سب تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ اس نے انتہائی سادہ لباس زیب تن کیا ہوا تھا بڑے دوپٹے کے ساتھ اس نے سکارف سے اپنے سر کو اس طرح ڈھانپا ہوا تھا کہ اس کا ایک بھی بال نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے انتہائی احترام سے سب کو سلام کیا اور ایمن اور ماہین کے پاس بیٹھ گئی۔
ایمن اور ماہین نے آنکھوں آنکھوں میں رخسانہ کو اشارتا کہا کہ حوریہ کی شخصیت تو بالکل بدل گئی ہے۔ حوریہ وہ حوریہ نہیں رہی اس کا یہ روپ بالکل نیا ہے۔ رخسانہ نے اسے سب سے ملوایا اور اسے اس کے دوستوں کے بارے میں بھی بتایا مگر وہ ہر بات سے انجان تھی۔ وہ انتہائی شائستگی سے سب سے باتیں کرتی رہی پھر جونہی عصر کا وقت ہوا وہ نماز کے لیے وہاں سے چلی گئی۔
ایمن نے حیرت میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا
’’حوریہ کو تو کچھ بھی یاد نہیں اس کے ذہن میں تو اس کے اپنوں کی دوستوں کی دھندلی تصویریں بھی نہیں ہیں۔ اس کی یادداشت گم ہوگئی ہے یہ تو مانتے ہیں مگر حوریہ کی شخصیت میں یہ بدلاؤ کیسے۔۔۔‘‘
رخسانہ کی پیشانی پہ سوچ کی لکیریں نمایاں ہوگئیں۔ وہ تذبذب کی سی کیفیت میں بولی
’’میں خود بہت الجھی ہوئی ہوں۔ حوریہ کا یہ روپ میں خود آج پہلی بار دیکھ رہی ہوں۔ میرے اور توقیر کے ساتھ حوریہ کا برتاؤ ناقابل برداشت تھا۔ وہ جب سے گھر آئی ہے کِھچی کِھچی سی ہے۔ بات بات پر غصہ کرنا، کمرے میں تنہا بند رہنا اور آج اس طرح ایک دم بدل جانا۔ جو کچھ حوریہ کو پسند تھا اسے وہ سب پسند نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے چہرہ حوریہ کا ہے اور وہ کوئی اور ہے۔‘‘
توقیر جو ظفر کے ساتھ بیٹھا تھا، رخسانہ سے مخاطب ہوا
’’تم جانتی ہونا کہ حوریہ اس وقت ایک ذہنی مریض ہے جب تک وہ مکمل ٹھیک نہیں ہو جاتی تم اس کی عادات و اطوار اس کی حرکات کا اتنا نوٹس مت لو۔ ٹھیک ہے اس پر نظر رکھو مگر خود پریشان مت ہو اسے ذہنی مریض کی طرح ڈیل کرو کہ ہمیں اس کا علاج کرنا ہے۔ ڈاکٹر نے کیا کہا تھا ذہن میں رکھو۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ حوریہ کو اب ادویات کی ضرورت نہیں اسے ہماری ضرورت ہے۔ اسے وہ واقعات یاد دلائیں جو اس کی زندگی میں اہم تھے۔ ان مقامات پر اسے لے جایا جائے جو اسے پسند تھے۔‘‘
ماہین، توقیر کی طرف متوجہ ہوئی
’’میرے خیال میں اسے اس کی یونیورسٹی کو بھی Visit کروانا چاہئے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ رخسانہ نے بتایا تھا کہ چھٹیوں میں وہ پہاڑی علاقوں میں جانے کی ضد کرتی تھی۔‘‘
رخسانہ نے بے چینی سے اپنے ہاتھوں کو ہلایا
’’پہاڑی علاقوں سے وحشت ہونے لگی ہے اس حادثہ کے بعد۔۔۔‘‘
توقیر نے رخسانہ کی بات کاٹ دی۔
’’میرے خیال میں ماہین ٹھیک کہہ رہی ہے۔ تم اس حادثہ کو بھول جاؤ۔ پہاڑی علاقے میں جانے سے حوریہ کو اچھا ماحول بھی ملے گا اور اس کا دل بھی خوش ہو جائے گا۔‘‘
’’اگر اس نے پھر کوئی ایسی ویسی حرکت کر دی تو ۔۔۔‘‘ رخسانہ نے پریشانی سے بھنویں سکیڑتے ہوئے کہا۔
ایمن نے رخسانہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا
’’وہم نہ کرو ہم میں سے کوئی تم لوگوں کے ساتھ چلا جائے گا تم حوریہ کو تنہا مت چھوڑنا۔‘‘
ظفر نے ایمن کی بات سنتے ہی توقیر کا کندھا تھپتھپایا۔
’’یار تم پروگرام بناؤ میں اور ماریہ تمہارے ساتھ چلیں گے۔‘‘
توقیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
’’چلو پھر ٹھیک ہے پروگرام بناتے ہیں باقی رہی میری بیگم کی بات تو اسے میں منا لوں گا۔‘‘
ماہین جو کافی دیر سے خاموش بیٹھی تھی بولی
’’حوریہ کی صحت کے ساتھ ہماری بھی امیدیں جڑی ہیں ہمیں بھی اپنے بچوں کا پتہ چل جائے کہ وہ کہاں ہیں کس حال میں ہیں۔‘‘
رخسانہ نے اسے حوصلہ دیا
’’ہمت رکھو جس طرح خدا نے ہم پر کرم کیا ہے اسی طرح وہ تمہیں بھی تمہارے بیٹے سے ضرور ملوائے گا۔ پھر میں تمہارے گھر آؤں گی مبارکباد دینے۔‘‘
ماہین نے سر جھکائے مایوسی بھرے لہجے میں کہا
’’خدا کرے کہ ایسا ہو۔‘‘
توقیر نے ڈاکٹر سے حوریہ کو پہاڑی علاقے میں لے جانے کی اجازت لی۔ ظفر اور ماریہ کے ساتھ ساحل نے بھی ان کے ساتھ پہاڑی علاقے میں جانے کا پروگرام بنا لیا۔ توقیر اور رخسانہ نے جمعہ کی صبح روانہ ہونے کا ارادہ کیا۔ ساری پیکنگ رخسانہ نے رات کو ہی کر لی۔ حوریہ نے کوئی خاص خوشی کا اظہار نہ کیا۔ رخسانہ کے کہنے پر اس نے بھی پیکنگ شروع کر دی۔ رخسانہ کپڑے اٹیچی کیس میں رکھتے ہوئے توقیر سے مخاطب ہوئی۔
’’میں نے حوریہ سے کہا تھا کہ مجھے اپنے کپڑے نکال کے دے دو میں اٹیچی کیس میں رکھ لوں گی مگر وہ کہتی ہے کہ وہ اپنا بیگ الگ لے کر جائے گی۔‘‘
’’ٹھیک ہے اسے اس کی مرضی کرنے دو، کسی بھی معاملے میں اسے مجبور مت کرو۔‘‘ توقیر نے ریموٹ سے ٹی وی آن کرتے ہوئے کہا۔
’’دیکھ کر تو آؤں کہ کیا کیا رکھ رہی ہے۔‘‘ رخسانہ اٹیچی کیس کھلا چھوڑ کر حوریہ کے کمرے میں چلی گئی۔ حوریہ بیگ میں کپڑے رکھنے میں مصروف تھی۔
رخسانہ اس کے قریب آئی تو اس نے حیرت سے بیگ میں رکھے ہوئے کپڑوں کی طرف دیکھا اور کپڑے اٹھا کے سارے کپڑے چیک کرنے لگی
’’یہ کیا حوریہ! اسکرٹس اور پینٹ شرٹس، تم نے تو کہا تھا کہ یہ سارے کپڑے اٹھا کر باہر پھینک دیں، میں اس طرح کے کپڑے نہیں پہنتی، تمہارے لیے میں نے بوتیک سے سادے مبلوسات منگوائے۔‘‘
حوریہ تیز ترار آواز میں بولی
’’کون سے سادے ملبوسات، میں تو سکرٹس اور پینٹ شرٹ ہی پہنتی ہوں۔‘‘
رخسانہ کی حیرت بڑھتی جا رہی تھی
’’تم نے پانچ مختلف رنگوں کے سکارف منگوائے تھے جو تم دوپٹے کے ساتھ اوڑھتی تھی۔‘‘
حوریہ دونوں ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے چڑ کر بولی’’What Rubish میں اور سکارف اوڑھوں گی۔‘‘
’’حوریہ تمہاری مرضی۔۔۔بس اتنا بتا دو کہ میری مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ رخسانہ نے بات ختم کرنے کی کوشش کی۔
حوریہ نے ہینگر سے کپڑے اتارتے ہوئے کہا
’’آپ اپنی اور پاپا کی پیکنگ کریں میں اپنی ضرورت کی تمام چیزیں رکھ لوں گی۔‘‘
/////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////
یہ سن کر رخسانہ خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔ جب حوریہ سو گئی تو رخسانہ نے چپکے سے الماری سے اس کے سارے ملبوسات اٹھا لیے اور اپنے بیگ میں ڈال لیے۔ جمعہ کی صبح ظفر اور ساحل حوریہ کے گھر پہنچ گئے۔ تقریباً سات بجے دونوں گاڑیاں کوٹھی سے باہر نکلیں۔ ایک گاڑی میں توقیر رخسانہ اور حوریہ سوار تھے اور دوسری گاڑی میں ظفر ماریہ اور ساحل سوار تھے۔
پُر خطر اور پُرمزہ پانچ گھنٹے کے سفر کے بعد وہ لوگ مری پہنچ گئے۔ انہوں نے ہوٹل میں کمرہ لینے کے بجائے نتھیا گلی میں دو فلیٹ دو ہفتے کے لیے رینٹ پر لے لیے۔ ان دونوں فلیٹس میں ہر طرح کی سہولت موجود تھی۔ سب سے اچھی بات تو یہ تھی کہ یہ دونوں فلیٹس بلند ترین چوٹی پر تھے جہاں سے نیچے کے مناظر بہت خوبصورت دکھائی دیتے تھے۔
دونوں فیملیز اپنا اپنا سامان اٹھائے اپنے اپنے فلیٹس میں چلی گئیں۔ دوپہر کا کھانا تو انہوں نے ہوٹل سے کھا لیا تھا۔ ماریہ اور رخسانہ نے اپنے اپنے کچن میں چائے بنائی اور سب باہر لان میں دراز ہوگئے۔ پھولوں سے سجے اس لان میں تین جگہ چھ چھ کرسیوں کے سیٹ رکھے گئے تھے۔ لان کے چاروں طرف لوہے کی خوبصورت گرل تھی۔ جہاں سے اطراف کے نظارے دیکھے جا سکتے تھے۔
نشیبی پہاڑوں پر خوبصورت آبادی تو یوں دکھائی دیتی تھی جیسے ہم ہیلی کاپٹر سے آسمان کی بلندیوں سے نیچے جھانک رہے ہیں۔ ان پہاڑی علاقوں میں ان کے بعد دیکھنے والی آنکھ سے لے کر ذہن میں بکھری سوچوں کا انداز یکسر بدل جاتا ہے۔ کبھی ہم اپنے کھوئے ہوئے وجود کو پا لیتے ہیں اور کبھی اپنے موجود کو ہی کہیں کھو دیتے ہیں۔
معاشرتی مسائل کی ہمارے گرد بڑی بڑی سلاخیں ان بادلوں میں کہیں غائب ہو جاتی ہیں اور ہم کسی مست پنچھی کی طرح ان بادلوں کے قریب قریب اڑنے لگتے ہیں۔ ظفر نے مسکراتے ہوئے توقیر کی طرف دیکھا
’’یار یہ دو دو کچن کا مزہ نہیں ہے ہم ایک ہی جگہ پکاتے اور مل کر کھاتے ہیں۔‘‘
رخسانہ نے توقیر کی جگہ جواب دیا۔
’’ظفر بھائی! بے شک دو کچن ہوں ہم اکٹھے ہی کھائیں پئیں گے۔‘‘
رخسانہ کی اس بات پر سب کھکھلا کے ہنس پڑے۔ مگر حوریہ سب باتوں سے بے نیاز خاموشی سے چائے پی رہی تھی۔
ساحل ہاتھ میں چائے کا کپ لیے خاموشی سے حوریہ کی طرف مسلسل دیکھ رہا تھا۔ وشاء کی سہیلی ہونے کی وجہ سے وہ حوریہ سے کئی بار ملا تھا مگر جس حوریہ کو وہ اب دیکھ رہا تھا وہ حوریہ جیسے کوئی اور تھی۔
حوریہ اپنے والدین اور دوسروں کی باتوں سے بور سی ہو کر وہاں سے اٹھ گئی اور اپنی چائے لے کر گرل کے قریب جا کر کھڑی ہو گئی۔ جہاں سے اردگرد کا نظارہ بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔ ساحل بھی حوریہ کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ ساحل نے اردگرد کے نظاروں کی ٹھنڈک جیسے اپنی آنکھوں میں بھر لی۔
’’ان خوبصورت نظاروں کو دیکھ کر سفر کی ساری تھکان دور ہو جاتی ہے۔‘‘
حوریہ نے طنزیہ نگاہوں سے ساحل کی طرف دیکھا
’’دلفریب نظارے تو حساس لوگوں کو متاثر کرتے ہیں پتھروں نے ان کی دلکشی کو کب سے محسوس کرنا شروع کر دیا۔‘‘
ساحل نے سوالیہ نظروں سے حوریہ کی طرف دیکھا
’’ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔۔۔‘‘
حوریہ نے ہنستے ہوئے بات گول کر دی
’’مذاق کر رہی ہوں۔ میں تو کسی کے بارے میں بھی نہیں جانتی۔ اچھا ہی ہوا میری یادداشت چلی گئی۔ میری زندگی میں یاد رکھنے کے لیے کچھ اچھا تھا ہی نہیں۔‘‘
چند لمحوں کے لیے تو ساحل کو یوں لگا کہ حوریہ بالکل ٹھیک ہے وہ سب کو بیوقوف بنا رہی ہے۔ ساحل نے حوریہ سے کہا
’’کاش تم مجھے وشاء کے بارے میں بتا سکتی۔‘‘
حوریہ نے ایک بار پھر ساحل کو تمسخرانہ انداز میں دیکھا
’’تھوڑا سا تو میں بتا سکتی ہوں وشاء کے بارے میں۔‘‘
’’کیا۔۔۔بتاؤ۔۔۔‘‘ ساحل تذبذب سی کیفیت میں بولا۔
حوریہ تصورانہ انداز میں آنکھوں کو فضا میں گھمانے لگی۔
’’وہ بہت مزے میں ہے پہلے سے خوبصورت ہے۔ اس کے پروں میں اتنے خوبصورت رنگ ہیں کہ انسان ان میں کھو جاتا ہے۔ تم بھی بچ کر رہنا نظر آنے والے خوبصورت رنگ کب خون کے رنگ میں بدل جاتے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا۔‘‘
ساحل من ہی من میں سوچنے لگا۔
’’آنٹی ٹھیک کہتی ہیں حوریہ کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ دل میں ایک امید جاگی تھی مگر یہ تو میرے جذبات کا مذاق اڑا رہی ہے۔‘‘
حوریہ نے ساحل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
’’میں تمہارے جذبات کا مذاق نہیں اڑا رہی سچ کہہ رہی ہوں۔‘‘
ساحل کے تو جیسے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔’’حوریہ نے اس کا ذہن کیسے پڑھ لیا۔‘‘
ظفر بھی اٹھ کر ساحل کے قریب آگیا۔
’’بھئی کیا باتیں ہو رہی ہیں۔‘‘
حوریہ کوئی جواب دیئے بغیر وہاں سے چلی گئی۔ ساحل بھی سکتے کی سی کیفیت میں خاموش کھڑا تھا۔ ظفر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا
’’تم سے بات کر رہا ہوں کہاں کھو گئے ہو۔‘‘
ساحل نے ظفر کی طرف دیکھا
’’انکل حوریہ میں کچھ ایسا ہے جو ہم سمجھ نہیں پا رہے۔‘‘
’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘
’’وہ ہم سے کچھ چھپا رہی ہے جس طرح کی باتیں اس نے مجھ سے کیں مجھے لگتا ہے کہ کوئی بہت بڑا راز ہے۔‘‘
’’ایسا کیا کہہ دیا حوریہ نے ۔۔۔‘‘ ظفر نے پوچھا ساحل نے ظفر کو ساری بات بتائی اور بے چینی سے اپنے ہاتھوں کو حرکت دینے لگا۔
’’اس نے میرا ذہن پڑھا، یہ ٹیلی پیتھی ہے یہ عمل یا تو کوئی ذہین انسان کر سکتا ہے یا پھر کوئی روح جو ہمارے جسم کے آر پار جا کے ہماری سوچیں پڑھ لے۔‘‘
ظفر نے بے یقینی کی کیفیت میں کہا
’’یہ محض اتفاق بھی تو ہو سکتا ہے۔۔۔پھر بھی تم حوریہ کے ساتھ زیادہ وقت گزارو۔ اس نے پہلی بار کسی سے باتیں کی ہیں۔ اس طرح ہمیں اس کی ذہنی حالت کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔‘‘
ظفر جا کے دوسرے لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔ مگر ساحل ادھر ہی کھڑا سوچ میں ڈوب گیا کچھ دیر گپ شپ کے بعد سب آرام کے لیے اپنے اپنے فلیٹس میں چلے گئے۔ سفر کی تھکاوٹ تھی کچھ دیر آرام بہت ضروری تھا۔ عصر کی نماز کے بعد سب دوبارہ باہر آگئے۔ سب نے جوگرز پہنے ہوئے تھے ان کا واک پر جانے کا پروگرام تھا۔
شام کے وقت سردی بڑھ رہی تھی اس لیے سب نے گرم کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے۔ جیکٹس اور جرسیاں بھی پہنی ہوئی تھیں حوریہ نے خوبصورت فراک کے اوپر کوٹ پہنا ہوا تھا اور اوپر گرم شال اوڑھ لی تھی۔ وہ سب لان سے باہر نکل ہی رہے تھے کہ چلتے چلتے رک گئے۔
ان کے فلیٹ کے ساتھ والے فلیٹ کے قریب ایک گاڑی کھڑی تھی۔ ایک لڑکا اور لڑکی اس میں اپنا سامان نکال رہے تھے۔ شاید وہ نوبیاہتا جوڑا تھا۔ دبلی پتلی لڑکی نے ان کی طرف دیکھا تو مسکرا دی۔ رخسانہ اور ماریہ نے بھی مسکراتے ہوئے ہاتھ سے ہلیو کا اشارہ کیا اور پھر وہ لوگ واک کے لیے نکل گئے۔
’’یہ لوگ بھی ہماری طرح آج ہی آئے ہیں۔ ان سے بھی گپ شپ لگائیں گے۔‘‘ رخسانہ نے ماریہ سے کہا۔
ظفر کو فوراً موقع مل گیا
’’توبہ ہے یہ عورتیں گپیں مارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔‘‘
ماریہ نے فوراً جواب دیا
’’اور آپ خوایتن کو ٹوکنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔‘‘ توقیر نے ظفر کا ہاتھ کھینچا۔’
’آگے بھی دیکھو یار! کسی کھائی میں نہ گر جانا۔‘‘
سب سے پیچھے رخسانہ اور ماریہ تھیں ان سے آگے ظفر اور توقیر تھے اور سب سے آگے ساحل اور حوریہ تھی۔اب سڑک پر چڑھائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا سب کا سانس پھولنے لگا تھا۔ وہ درختوں کے قریب ٹھہر گئے۔
’’تھوڑا سا اور آگے جائیں گے اور پھر واپس چلیں گے کیونکہ اندھیرا ہو جائے گا۔ کل صبح ان شاء اللہ اپنی اپنی گاڑیوں پر سیر کے لیے نکلیں گے۔ جو کچھ ساتھ لے کر جانا ہے میرا مطلب ہے کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری رات کو ہی کر لینا۔‘‘ توقیر نے رخسانہ سے کہا۔
کچھ دیر کے بعد وہ سب دوبارہ واک کے لیے چل پڑے اور جب واپس فلیٹ تک پہنچے تو اندھیرا ہو چکا تھا۔
’’ماریہ! ہم دونوں نئے پڑوسیوں سے مل کر آتے ہیں۔‘‘ رخسانہ نے ماریہ سے کہا۔
ماریہ نے حوریہ سے پوچھا۔’’تم آؤ گی ہمارے ساتھ؟‘‘
’’نہیں میرا موڈ نہیں۔‘‘ حوریہ نے جواب دیا۔ ماریہ اور رخسانہ دروازے سے باہر جانے لگیں تو ساحل ان کی طرف بڑھا۔
’’میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں‘‘ وہ تینوں ساتھ والے فلیٹ میں گئے تو دونوں میاں بیوی ان کی آمد پر خوش ہوئے۔
’’وہ سب لیونگ روم میں بیٹھ گئے ماریہ نے لڑکی سے پوچھا ’’کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’میرا نام مہک ہے اور یہ میرے شوہر تابش ہیں۔‘‘ لڑکی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
ماریہ بھی مہک سے مخاطب ہوئی
’’کتنا عرصہ ہوا ہے شادی کو؟‘‘
’’چار ماہ ہوئے ہیں۔ آپ سب آپس میں رشتہ دار ہیں؟‘‘ مہک نے پوچھا۔
ماریہ نے رخسانہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
’’ان کے شوہر توقیر اور میرے شوہر ظفر آپس میں گہرے دوست ہیں اور ساحل میری نند کا بیٹا ہے۔‘‘ ساحل اور تابش بھی کافی دیر اچھی گپ شپ میں مصروف رہے۔
’’کل کا کیا پروگرام ہے۔‘‘ ساحل نے تابش سے پوچھا۔
’’کل کا ہمارا بھوربن کا پروگرام ہے آپ لوگ بھی ہمارے ساتھ ہی چلیں۔‘‘ تابش نے کہا۔
’’کل کا تو ہمارا ادھر مری میں ہی سیر کا پروگرام ہے۔ پرسوں سوچیں گے کہ کہاں جائیں۔‘‘ یہ کہہ کر ساحل نے جانے کی اجازت مانگی۔ وہ تینوں واپس اپنے فلیٹ میں آگئے۔
صبح جب رخسانہ توقیر اور دوسرے لوگ لان میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے تو مہک اور تابش ان کے سامنے اپنی گاڑی میں روانہ ہوئے۔ مہک نے ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کا اشارہ کیا۔ ظفرنے ماریہ سے کہا
’’جلدی جلدی اپنے کام نبٹاؤ ہم بھی نکلتے ہیں۔‘‘
ماریہ اٹھ کر برتن سمیٹنے لگی
’’ہم سب تو تیار ہیں بس یہ برتن کچن میں رکھ دوں۔‘‘
رخسانہ بھی ماریہ کی مدد کرنے لگی۔ ظفر نے ترچھی نظر سے حوریہ کی طرف دیکھا جو سب کی باتوں سے بے نیاز موبائل میں مصروف تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ سب بھی سیر و تفریح کے لیے نکل گئے۔ آسمان پر سرمئی رنگ کے گھنے بادل چھا گئے تھے جس سے موسم مزید خوشگوار ہوگیا تھا۔
پہاڑوں کے نشیب و فراز پر بادلوں کو چھوتے چیڑ کے درخت بہت خوبصورت دکھائی دے رہے تھے ظفر اور توقیر نے مناسب جگہ دیکھ کر گاڑیاں پارک کیں اور کھانے پینے کی ہلکی پھلکی اشیاء لے کر گاڑیوں سے اتر گئے۔
’’آگے گاڑیوں کا راستہ نہیں ہے پیدل چلتے ہیں آگے کے مناظر دیکھنے والے ہیں۔‘‘ ظفر نے کہا۔
ظفر نے اپنا ہینڈی کیم ساحل کو دیا۔ ساحل نے اپنے ہاتھ پر ہینڈی کیم کی پوزیشن کو سیٹ کیا۔ چھوٹے چھوٹے بچے پہاڑی پھولوں سے ہار اور تاج بنا بنا کر سیاحوں کو بیچ رہے تھے۔ ساحل نے مسکرا کر ان بچوں کی طرف دیکھا اور ان کی ویڈیو بنانے لگا۔
’’بابو جی یہ ہار خریدو گے۔‘‘ پٹھان بچہ ساحل کی طرف بڑھا۔
ساحل نے کچھ پیسے بچے کو دیئے اور اس سے پھولوں کا ہار لے لیا۔ جیسے ہی ساحل نے پھولوں کو چھوا، وشاء کا چہرہ اس کی نگاہوں میں جھلملا گیا۔ وہ مسکرایا تو پھولوں نے اس کا لمس محسوس کر لیا۔ اس نے پھولوں کو اپنے چہرے سے لگایا تو حوریہ کے ہنسنے کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ ’’جب کوئی تمہارے قریب ہوتا ہے تو اسے زخم دیتے ہو اذیت دیتے ہو اور جب وہ دور چلا جاتا ہے تو اس کی یاد میں جھوٹے ٹسوے بہاتے ہو۔‘‘
ساحل اور حوریہ چڑھائی پر کھڑے تھے جس کے ساتھ ہی گہری کھائیاں تھیں۔ ساحل، حوریہ کی باتوں میں محو اس کی طرف بڑھنے لگا تو گول پتھروں پر سے اس کا پاؤں پھسل گیا۔ حوریہ نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا اور اسے اوپر کھینچ لیا، وہ ایک بار پھر تضحیک آمیز انداز میں مسکرائی
’’میں تمہیں نہ تھامتی تو تم سیدھے نیچے کھائی میں گرتے تمہاری چیخیں نکل جاتیں تم بہت بزدل ہو کبھی کھائی میں چھلانگ مار کر دیکھو یوں لگتا ہے جیسے کمر سے پیرا شوٹ باندھ کر ہیلی کاپٹر سے چھلانگ لگا دی ہو۔‘‘
سنسناہٹ کا ایک جھٹکا ساحل کے وجود سے گزر گیا۔ وہ حوریہ سے کچھ کہنے لگا تو رخسانہ حوریہ کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے ساتھ لے گئی۔
آسمان پر سرمئی بادلوں کی تہیں گہری ہوتی جا رہی تھیں تھوڑی ہی دیر میں ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوگئی۔
لوگ اس ہلکی ہلکی بارش سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ تھوڑے فاصلے پر نیشنل پارک تھا جہاں بہت سی فیملیز اپنے بچوں کو لے کر آئی ہوئی تھیں۔ پارک میں تفریح کے لیے بہت کچھ تھا۔ سوئمنگ پول، جھولے، طرح طرح کے کھانوں کے سٹال گو کہ وہاں ہر طرح کی تفریح میسر تھی۔
پارک کی لوکیشن بھی خوب صورت تھی۔ منزل در منزل یہ پارک پہاڑوں کی تین تہوں پر مشتمل تھا ظفر اور توقیر کی فیملیز بھی اس پارک میں آگئیں۔
ساحل نے رخسانہ اور ماریہ کو چھیڑا۔ ’’آپ جھولے نہیں لیں گی۔‘‘
رخسانہ نے حوریہ کی طرف دیکھا
’’تم اور حوریہ کیوں نہیں لیتے ، حوریہ کو تو جھولے بہت پسند ہیں۔‘‘
ساحل نے حوریہ سے پوچھا ’’چلو آؤ ڈریگن پر بیٹھتے ہیں۔‘‘
حوریہ نے منہ بسور کے جواب دیا۔
’’مجھے جھولے پسند نہیں ہیں۔‘‘
رخسانہ اس کی طرف حیرت سے دیکھتی ہی رہ گئی
’’کتنی بدل گئی ہے حوریہ ۔۔۔‘‘
ماریہ نے رخسانہ کے شانے پہ ہاتھ رکھا
’’موسم کو انجوائے کرتے ہیں وہ سامنے بیٹھ کر چائے پیتے ہیں ساتھ میں گرم گرم پکوڑے بھی لیتے ہیں۔‘‘
’’چلو۔۔۔ادھر ہی چلتے ہیں۔‘‘ رخسانہ نے کہا۔
میز کرسیوں کے درمیان میں بڑی سی چھتری آویزاں تھی۔ وہ سب ادھر ہی بیٹھ گئے۔ ساحل پکوڑے اور چائے کا آرڈر دینے چلا گیا۔
’’مما میں ذرا واش روم سے ہو کر آتی ہوں۔‘‘ حوریہ نے رخسانہ سے کہا۔
تھوری ہی دیر کے بعد ساحل چائے اور پکوڑے لے کر آگیا۔ سب نے گرما گرم پکوڑے کھائے تو توقیر نے حوریہ کے بارے میں پوچھا
’’حوریہ کہاں ہے پکوڑے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔‘‘
رخسانہ نے پکوڑا اٹھاتے ہوئے کہا
’’وہ واش روم میں گئی ہے۔‘‘
’’اچھا ہوتا اگر وہ نئے پڑوسی بھی ہمارے ساتھ ہی آجاتے۔‘‘ ظفر نے کہا۔
’’آپ تابش اور مہک کی بات کر رہے ہیں؟ انہوں نے بھوربن جانا تھا ابھی تک تو نہیں پہنچے ہوں گے۔‘‘
ساحل کی بات سن کر ظفر نے کہا
’’وہ ہم سے کافی پہلے نکلے تھے وہ بھوربن پہنچ گئے ہوں گے۔‘‘
ظفر کا خیال درست تھا۔ تابش اور مہک بھوربن کے دلفریب نظاروں کا مزہ لوٹ رہے تھے۔ اپنی گاڑی مناسب جگہ پارک کرکے وہ دونوں لونگ ٹریک پر چل پڑے۔ بھوربن میں بارش نہیں تھی مگر بادل جیسے سیاحوں کا تعاقب کر رہے تھے۔
’’مہک میرا کیمرہ دو، میں تمہاری تصویر بناتا ہوں۔‘‘ تابش نے مہک کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
مہک نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا
’’اوہ۔۔۔وہ تو گاڑی میں ہی رہ گیا ہے۔
’’اوہ شٹ۔۔۔اتنے مشکل راستے سے ہم اوپر تک آئے ہیں۔ اب پھر گاڑی تک جائیں۔‘‘
’’چھوڑو خیر ہے۔‘‘
’’نہیں کیمرے کے بغیر کیا مزہ تم ایسا کرو ادھر ہی بیٹھو کہیں مت جانا۔ میں کیمرہ لے کر آتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر تابش کیمرہ لینے چلا گیا۔
دو درخت اس طرح ملے ہوئے تھے کہ بینچ کی شکل بن گئی تھی۔ مہک وہاں بیٹھ گئی، اسی جگہ تابش اس کی تصویر بنانا چاہتا تھا۔ بڑے بڑے پہاڑوں کے نشیب و فراز میں لگے لمبے لمبے درختوں نے سورج کی روشنی لینے کے لیے جیسے پہاڑوں سے بغاوت کر دی تھی۔ ان کی جڑیں تو پہاڑوں میں تھیں مگر ان کے تنے مختلف اشکال میں پہاڑوں سے دور نکل گئے تھے۔
تابش پہاڑ کے غیر ہموار حصوں کو پھلانگتا ہوا تیزی سے نیچے اتر رہا تھا۔ کافی راستہ اسی طرح کا تھا پھر ہموار سڑک آگئی۔ اب اسے اپنی گاڑی سامنے دکھائی دے رہی تھی۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھنے لگا کہ اچانک ایک دل کو چھو جانے والی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ اس کے قدم جہاں تھے وہیں رک گئے۔
وہ سحر انگیز اور خوبصورت آواز کسی لڑکی کی تھی جو کچھ اس طرح سر میں گا رہی تھی کہ تابش کے دل کی دھڑکنوں میں ہلچل مچ گئی تھی وہ گا رہی تھی کس زبان میں گا رہی تھی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا مگر کوئی ایسا سحر تھا کہ تابش سب کچھ بھول کے اس آواز کی سمت کی طرف بے اختیار بڑھنے لگا۔
اس آواز کی سمت بڑھتا ہوا وہ کسی اور جانب نکل گیا۔ چیڑ کے درختوں سے بھرا پہاڑ کا یہ حصہ بالکل ویران تھا۔ تابش آواز کے پیچھے بھاگتا رہا پھر ایک جگہ اس کے قدم رک گئے۔ گانا گانے والی لڑکی سامنے درخت کے ساتھ دوسری طرف منہ کیے کھڑی تھی۔ اس نے سفید جالی والا فراک پہنا ہوا تھا۔ اس نے تابش کی موجودگی کو محسوس کر لیا اور خاموش ہوگئی۔
تابش اس کے قریب آیا’’آپ خاموش کیوں ہوگئیں گاتی رہیں۔‘‘
لڑکی نے تابش کی طرف چہرہ کیا۔ تابش حیرت سے بولا
’’آپ تو حوریہ ہیں نا، آپ یہاں کیسے؟‘‘
ابھی تابش نے یہ سوال ہی کیا تھا کہ حوریہ کا چہرہ یک دم بدل گیا۔ اس کے نقوش حوریہ کے ہی تھے مگر اس کے چہرے کی رنگت میں نیلاہٹ آگئی۔ ہونٹ سیاہی مائل ہوگئے۔ آنکھیں زندگی کی رونق سے بے نیاز ہوگئیں۔ وہ کسی خستہ حال مردے کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔
موسم بھی ایک ساعت میں ہی بدل گیا۔ تیز آندھی کے جھکڑ میں دراز قد درخت ادھر ادھر جھولنے لگے۔ تابش کو اس بھونچال میں عجیب عجیب سی بھیانک آوازیں سنائی دینے لگیں۔ وہ الٹے قدموں سے حوریہ سے پیچھے ہٹنے لگا۔
حوریہ نے وہی گانا گانا شروع کیا جو تابش کے لیے مسحور کن تھا مگر اب اسی گانے کے بول تابش کے جسم پر خنجر کی طرح وار کر رہے تھے۔ وہ اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ کے اذیت سے چلانے لگا۔
’’بند کر دو یہ آواز۔۔۔‘‘
وہ آواز اس کے کانوں کو چیرتی ہوئی اس کی شریانوں کو کاٹنے لگی۔ اس کے کانوں سے خون بہنے لگا۔
تابش کے نہ پہنچنے پر مہک بھی اسے ڈھونڈنے نکل گئی تھی۔ اس نے گاڑی کے پاس جا کے دیکھا کہ تابش وہاں نہیں ہے۔ وہ آگے جانے کے بجائے اسی راستے کی طرف چل پڑی جہاں تابش گیا تھا۔ ایک عجیب سا احساس اسے اس راستے کی طرف لے گیا۔
ایک انجانے سے خوف سے اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔ وہ تابش کو پکارنے لگی۔’’تابش کہاں ہو تم۔۔۔‘‘
وہ آگے بڑھتی رہی مگر اسے دور دور تک تابش دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔معاً اسے تابش کی کرب آمیز چیخ سنائی دی۔ وہ دیوانہ وار دوڑتی ہوئی اس جگہ جا پہنچی جہاں تابش زندگی اور موت کے بیچ تڑپ رہا تھا۔ اس نے تابش کو اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا۔
تابش کا پورا وجود خون میں لت پت تھا۔
’’تابش! یہ تمہیں کیا ہوگیا۔‘‘ مہک پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ وہ تابش کو کھینچنے کی کوشش کرنے لگی۔
’’میں تمہیں اس طرح مرنے نہیں دوں گی۔‘‘ تابش اسے خود سے دور کر رہا تھا۔
’’مجھے بچانے کی کوشش مت کرو میرے پاس وقت نہیں ہے ادھر بد روح کا راج ہے وہ تمہاری جان بھی لے لے گی تم یہاں سے بھاگ جاؤ‘‘
مہک نے سہمی سہمی نظروں سے اوپر دیکھا تو اس کے سامنے کوئی لڑکی تھی جس کا جسم ہوائی تھا اور وہ ہوا میں معلق تھی۔ مہک نے اس کے بگڑے ہوئے چہرے میں حوریہ کا چہرہ ڈھونڈ لیا۔ کانپتے لبوں سے بولی’’حوریہ۔۔۔‘‘
حوریہ کا نام لینا ہی اس کی موت کی وجہ بن گیا۔ تابش کو خون کی الٹی آئی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مہک کو چھوڑ کے چلا گیا۔
حوریہ نے مہک کو بھی موت کی نیند سلا دیا۔ کسی سیاح کو ان دونوں کی نعشیں ملیں تو اس نے لوگوں کو اکٹھا کر لیا۔ ادھر رخسانہ اور توقیر پارک میں حوریہ کو ڈھونڈ رہے تھے۔ ساحل ، ظفر اور ماریہ بھی حوریہ کو ڈھونڈ رہے تھے۔
ابھی وہ اسے پارک میں ہی ڈھونڈ رہے تھے کیونکہ منزل در منزل پارک کافی بڑا تھا۔ کافی دیر تک وہ واش روم سے نہ آنے پر جب رخسانہ نے واش رومز چیک کیے تو حوریہ وہاں نہیں تھی سب اپنا کھانا پینا چھوڑ کر پریشانی کے عالم میں حوریہ کی تلاش میں نکل گئے تھے۔ کسی گھنی باڑ کے قریب کھڑی ہو کے رخسانہ چلانے لگی۔ ’’توقیر ادھر آؤ۔۔۔‘‘
توقیر دوڑتا ہوا رخسانہ کی طرف بڑھا۔ گھنی باڑ کے قریب کیاری میں حوریہ بیہوش پڑی تھی۔ توقیر نے حوریہ کو کیاری سے باہر نکالا اور اس کے منہ پہ پانی کے چھینٹے مارے۔ اس نے دھیرے سے سر ہلایا۔ پھر توقیر نے اس کی ناک اپنے ہاتھ سے بند کر دی۔ سانس میں گھٹن ہوتے ہی اس نے منہ کھول کر تیز سانس لیا جس کے ساتھ ہی اس نے آنکھیں کھول دیں۔
توقیر نے ساحل کو فون کیا اور حوریہ کے بارے میں بتایا۔ ساحل ، ظفر اور ماریہ بھی ادھر ہی آگئے۔ انہوں نے حوریہ کو جوس پلایا ۔ وہ حوریہ کو لے کر اسی ٹیبل پر بیٹھ گئے جہاں وہ پہلے بیٹھے تھے۔
تابش اور مہک کے سامان کی تلاشی لی جا رہی تھی جس سے ان کے وارثوں کا کچھ علم ہو سکے۔ ساحل نے تابش کو اپنا کارڈ دیا تھا جس میں اس کا موبائل نمبر بھی تھا۔ ایک شخص نے ساحل کا موبائل نمبر ملایا۔ اس نے ساحل کو ساری بات بتائی۔ ساحل کا سر چکرا کے رہ گیا۔
ساحل نے کہا
’’ہم ابھی پہنچتے ہیں۔‘‘
’’کیا بات ہے تم اس قدر پریشان کیوں ہو اور کہاں جانے کی بات کر رہے ہو۔‘‘ ظفر نے پوچھا۔
ساحل نے انہیں اشارہ کیا اور حوریہ سے دور چلا گیا۔ ظفر اٹھ کر اسکے پاس چلا گیا۔ توقیر اور ماریہ نے ساحل کو اس طرح پریشان دیکھا تو وہ بھی اس کے پاس چلے گئے۔
توقیر نے ساحل کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ ’’کیا بات ہے۔‘‘
ساحل نے جبیں پیمائی کرتے ہوئے سر کو بے چینی سے ادھر ادھر ہلایا۔ ’’تابش اور مہک کا قتل ہوگیا ہے۔‘‘
سب کی سانسیں ان کے حلق میں ہی اٹک کے رہ گئیںَ ’’مگر کیسے۔۔۔‘‘ رخسانہ نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔
’’ابھی یہ بتانے کا وقت نہیں ہے تم حوریہ کو لے کر فلیٹ پہنچو اور رخسانہ کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ۔ میں اور ساحل بھوربن کی طرف نکلتے ہیں۔‘‘ ظفر نے کہا خوشی دل سوز غم میں بدل گئی۔
توقیر خواتین کو لے کر وہاں سے نکل گیا۔ ظفر اور ساحل بھوربن کی طرف روانہ ہوگئے۔ وہ جائے حادثہ پر پہنچے تو تابش اور مہک کی خون میں لت پت لاشیں دیکھ کر ان کے دل بھینچ کے رہ گئے۔ ان کی آنکھیں یہ کربناک نظارہ دیکھ نہ پا رہی تھیں۔ پولیس نے نعشوں کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ پولیس انسپکٹر نے بھاری بھرکم آواز میں پوچھا۔
’’آپ ان کے کون ہیں؟‘‘
’’ہم ان کے رشتے دار نہیں ہیں۔ ان کا اور ہمارا تعلق بس اتنا ہے کہ ہم اور یہ کل ایک ہی دن نتھیا گلی کے فلیٹس میں شفٹ ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کی میتوں کو ان کے فلیٹ میں لے جایا جائے۔ فلیٹ کے مالک سے ان کے ایڈریس کا علم ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے۔ ان کے گھر والوں کے پہنچنے کے بعد ہی آپ قانونی کاروائی کیجئے گا۔‘‘
ظفر کی بات سن کر انسپکٹر نے اثبات میں سر ہلایا۔‘‘ دیکھتے ہیں فی الحال تو میتوں کو ان کی رہائش گاہ تک پہنچانے کا بندوبست کرتے ہیں اگر ان کے ورثاء، جلدی پہنچ گئے تو ٹھیک ہے ورنہ لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی جائیں گی۔‘‘
ظفر اور ساحل دل کو مضبوط کرکے لاشوں کے قریب بیٹھ گئے۔ ساحل کی پیشانی پہ شکنیں ابھر آئیں اس نے ابروئیں سیکڑتے ہوئے ظفر کی طرف دیکھا۔ دونوں کی ناک اور کان سے خون بہہ رہا ہے اور منہ سے یقیناً انہیں خون کی الٹی آئی ہے۔ ان کا جسم خون میں لت پت خون کے بہہ جانے سے ہوا ہے۔


