وہ کون تھا ؟ ایک خنّاس کی پُر اسرار کہانی

وہ کون تھا ؟ ایک خنّاس کی پُر اسرار کہانی

پارٹ 3

ظفر نے مہک کی لاش کی طرف بغور دیکھا

’’مگر دونوں کا ایک ہی طریقے سے مرنا پھر ان کے چہرے دیکھو، اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کی موت بھیانک ترین طریقے سے ہوئی ہے۔‘‘

انسپکٹر نے ظفر کی بات کاٹ دی۔

’’وہ تو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چل جائے گا کہ موت کیسے ہوئی ہے۔‘‘

پھر انسپکٹر نے لاشوں کو ان کے فلیٹ تک پہنچانے کا بندوبست کیا۔

ظفر نے فلیٹ کے مالک سے تابش اور مہک کے گھر والوں کا پتہ معلوم کیا اور پھر انہیں سارے معاملے سے آگاہ کیا۔ تابش اور مہک کی لاشیں ان کے فلیٹ تک پہنچا دی گئیں۔

حوریہ کے علاوہ سب ساحل ، ظفر، توقیر اور ماریہ رخسانہ ان کے فلیٹ میں ہی تھے۔ جو فلیٹ پیار بھری مسکراہٹوں سے مہک رہا تھا اب وہاں سسکیوں کی سر سراہٹیں تھیں۔ تابش اور مہک کے گھر والوں کے پہنچنے پر پورا فلیٹ درد میں ڈوبی ہوئی چیخ و پکار سے گونج اٹھا۔

رخسانہ ساحل کے پاس آئی

’’حوریہ فلیٹ میں بالکل اکیلی ہے۔ تم میرے ساتھ چلو، توقیر اور ظفر ادھر ہی ٹھہر جائیں گے۔‘‘

ساحل ظفر کو بتا کر رخسانہ کے ساتھ فلیٹ سے باہر آگیا۔ رخسانہ ساحل سے باتیں کر رہی تھی۔

’’ہمارے اردگرد بہت عجیب سے واقعات ہو رہے ہیں۔ ایمن اور وینا کی عجیب عجیب سی باتیں ، وینا کا منگنی کے روز فواد کو دیکھنا۔ ایمن کی الماری سے فواد کا سوٹ غائب ہو جانا اور پھر اسی لباس میں وینا کو فواد کا نظر آنا، وینا کے کہنے کے مطابق فواد سیاہ دھویں کی شکل میں تحلیل ہوگیا۔ وقار نے بھی ہال میں ہوا میں سیاہ دھویں کی بدلی سی دیکھی۔ شمعون اور اس کے دوستوں کا پُراسرار انداز میں قتل حوریہ کے دو دو روپ اور اب یہ قتل۔‘‘

’’حوریہ کا اس طرح ملنا بھی ایک پُراسرار بات ہی ہے۔‘‘ ساحل نے کہا۔

’’کیا مطلب۔۔۔‘‘ رخسانہ نے پوچھا۔

’’آنٹی آپ میری بات کا بُرا نہ منانا، مجھے ایسا لگتا ہے جیسے حوریہ کو سب یاد ہے وہ سب جانتی ہے۔ وہ ہم سب کو بیوقوف بنا رہی ہے۔‘‘ ساحل نے بغیر سوچے سمجھے دل کی بات کہہ دی۔ رخسانہ چلتے چلتے رک گئی۔

’’ایسا نہیں ہے تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے مگر جو بات میرے مشاہدے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ حوریہ کے دو روپ ہیں، کبھی ایسا لگتا ہے جیسے کوئی مذہبی، خوش اخلاق سلجھی ہوئی لڑکی اس میں آبستی ہے اور کبھی وہ انتہائی موڈی لڑکی کے روپ میں دکھائی دیتی ہے‘‘

’’ان میں سے آپ کی حوریہ کا روپ کون سا ہے۔‘‘ ساحل نے پوچھا۔

’’میری حوریہ ماڈرن خیالات کی مالک تھی۔ مگر اس کی جدت پسندی نے اسے گمراہ کر دیا تھا۔ میں اس حوریہ میں اپنی حوریہ کو ڈھونڈ رہی ہوں ایک بار حوریہ کی یادداشت واپس آجائے۔ میں اسے پھر گمراہ ہونے نہیں دوں گی۔‘‘

باتیں کرتے کرتے وہ دونوں اپنے فلیٹ کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا۔ حوریہ باہر لان میں درخت کے قریب کھڑی کسی سے باتیں کر رہی ہے۔ ساحل نے رخسانہ کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کے آہستہ آہستہ چلتا ہوا انجیر کے درخت کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ رخسانہ بھی اس کے ساتھ درخت کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔ حوریہ کی آواز بدلی ہوئی تھی۔ آواز نسوانی ہی تھی مگر تھوڑی موٹی تھی یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی اور لڑکی بول رہی ہے۔

وہ کسی سے باتیں کرنے میں مشغول تھی جبکہ سامنے کوئی نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ وہ کہہ رہی تھی

’’یہ رونے کی چیخوں کی آوازیں سن رہے ہو۔ مجھے یہ آوازیں ترنم جیسی لگتی ہیں میرا ان آوازوں پر رقص کرنے کو دل چاہتا ہے۔ آج میری طاقت بڑھ گئی ہے۔ مجھے اندھیرا بہت پسند ہے دن کی چلچلاتی روشنی میں میرا دم گٹھتا ہے۔ جب سورج غروب ہوتا ہے تو مجھے جیسے نئی سانسیں ملتی ہیں۔ سجے ہوئے کمرے نہیں اچھے لگتے۔ مجھے تو رنگ اتری ٹوٹی پھوٹی دیواریں اجڑے ہوئے خالی گھر اور زنگ آلود دروازے اچھے لگتے ہیں تم بھی تو کچھ کہو فواد صرف میں ہی بولتے جا رہی ہوں۔‘‘

پھر وہ مسکراتے ہوئے جیسے کسی کی باتیں سننے لگی۔ رخسانہ چکرا کے رہ گئی۔ اس سے پہلے کہ حوریہ پیچھے پلٹ کر دیکھتی۔ ساحل اور رخسانہ وہاں سے دبے پاؤں چلے گئے۔ اندر فلیٹ میں جاتے ہی رخسانہ نے پانی مانگا۔ ساحل نے اسے پانی دیا۔ رخسانہ نے لب تر کیے اور بولی

’’ساحل۔۔۔حوریہ یہ کیسی باتیں کر رہی تھی۔ اور تم نے سنا اس نے فواد کا نام لیا میں یہ سب باتیں توقیر کو بتاؤں گی تو وہ صرف یہ کہیں گے کہ حوریہ ذہنی مریض ہے۔‘‘

ساحل تذبذب سی کیفیت میں ٹہلنے لگا۔

’’انکل توقیر حقیقت سے دُور بھاگ رہے ہیں۔ میں ان سے بات کروں گا۔ جوباتیں حوریہ کر رہی تھی ان کے پیچھے کوئی ایسا راز ہے جس کے افشاء ہوتے ہی کئی دوسرے رازوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا۔ اس وقت سب سے قابل غور بات یہ ہے کہ حوریہ نے فواد کا نام لیا جبکہ وہ کہتی ہے کہ اسے کچھ یاد نہیں، صرف یہی نہیں اس نے اشاروں اشاروں میں مجھ سے وشاء کے بارے میں بھی بات کی۔‘‘

رخسانہ نے بے چینی سے ہاتھ ہلایا۔

’’میں کچھ نہیں جانتی توقیر سے بات کرتی ہوں کہ کل صبح ہی واپس چلیں، پہلے تابش اور مہک کے قتل نے اس قدر پریشان کر دیا کہ میری تو طبیعت ہی خراب ہوگئی اوپر سے حوریہ کی باتیں میرا تو سر چکرا گیا ہے۔‘‘

اسی دوران حوریہ کمرے میں داخل ہوئی۔ اس نے مشکوک نظروں سے رخسانہ اور ساحل کی طرف دیکھا اور پھر خاموشی سے اندر کمرے میں چلی گئی۔ اس نے تابش اور مہک کے قتل کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا۔ اتنا بڑا حادثہ اس کے لیے غیر اہم تھا۔

تھوڑی ہی دیر میں ظفر، توقیر اور ماریہ بھی آگئے۔

’’آپ لوگ تو تدفین و تکفین تک ادھر ہی رُکتے۔‘‘

رخسانہ نے توقیر کی طرف دیکھا۔ توقیر نے ٹھنڈی آہ بھری اور صوفے پر براجمان ہوگیا۔

’’پولیس لاشوں کو ان کے لواحقین کے حوالے کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد لاشوں کو یہیں اسی شہر میں دفنا دیا جائے کیونکہ پوسٹ مارٹم کے بعد لاشوں کی حالت ایسی نہیں ہوگی کہ انہیں دوسرے شہر لے جایا جائے لیکن تابش اور مہک کے لواحقین نے پوسٹ مارٹم کے لیے منع کر دیا۔ وہ نعشوں کو اپنے شہر لے گئے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ان کے شہر میں ہی دفنایا جائے۔ دل ایسا پریشان ہوگیا ہے کہ ایک پل بھی یہاں رکنے کو دل نہیں چاہتا مگر حوریہ کی خاطر ٹھہرنا پڑے گا۔‘‘

رخسانہ نے توقیر کی بات سنی تو اس نے ساحل کی طرف دیکھا اور اسے اشارہ کیا کہ وہ حوریہ کے بارے میں بات کرے۔

ساحل، توقیر اور ظفر کے قریب بیٹھ گیا اور سرگوشی کے انداز میں ساری بات بتائی۔ تھوڑی دیر کے لیے ظفر اور توقیر جیسے سن ہی ہوگئے۔

پھر توقیر ظفر سے مخاطب ہوا۔

’’تم منفی پہلو دیکھ رہے ہو، یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس پہاڑی علاقے میں آنے کے بعد حوریہ کو کچھ یاد آنے لگا ہو۔ اگر اس نے وشاء اور فواد کا نام لیا ہے تو یہ تو بہت بڑی پراگریس ہے۔‘‘

ظفر نے توقیر کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا

’’میرا خیال ہے کہ تم وہی دیکھ رہے ہو، جو دیکھنا چاہتے ہو تم میں کوئی تلخ حقیقت فیس کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ تم نے یہ نہیں سنا کہ حوریہ کس قسم کی باتیں کر رہی تھی۔‘‘

توقیر بلاتامل بولا

’’ایسی باتیں وہ اپنی ذہنی حالت کے سبب بھی تو کر سکتی ہے۔‘‘

ظفر نے دائیں ہاتھ کو سیدھا اکڑاتے ہوئے کہا۔

’’تم نے جو سمجھنا ہے سمجھو مگر آج سے حوریہ پر ہماری خاص نظر ہوگی۔ جو واقعات ہمارے اردگرد ہو رہے ہیں جو غیر معمولی اور بھیانک ہیں۔ اگر ہم نے ان کی وجہ معلوم نہیں کی تو اموات کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ تم ابھی اپ سیٹ ہو۔ مناسب وقت دیکھ کر میں تم سے تفصیل سے بات کروں گا اور رہی بات یہاں سے جانے کی تو ابھی ہم یہاں سے نہیں جائیں گے اچھا ہو یا بُرا ،حوریہ نے بولنا تو شروع کیا۔‘‘

توقیر نے ساحل اور ظفر کی طرف خفگی بھرے انداز میں دیکھا۔

’’میں تم دونوں سے کسی بحث میں الجھنا نہیں چاہتا ۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں کچھ دن اور یہاں رکنا چاہئے ہمیں اس فلیٹ کو چھوڑ کر کسی ہوٹل میں کمرے لے لینے چاہئیں۔ یہاں رہیں گے تو تابش اور مہک کا خیال آتا رہے گا۔‘‘

’’جگہ بدلنے سے کیا ہوگا مجھے تو ہر جگہ موت کی سرسراہٹیں سنائی دیتی ہیں۔‘‘ رخسانہ یہ کہہ کر رونے لگی۔

ساحل اس کے قریب آگیا

’’آنٹی ہمت رکھیں انکل توقیر صحیح کہہ رہے ہیں۔ یہ فلیٹس سناٹے میں ہیں ہوٹل کی گہماگہمی میں شاید ہمیں بُرے خیال نہ آئیں۔ ہمیں حوریہ کو وقت دینا ہوگا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے بارے میں بتا سکے۔‘‘

وہ سب لوگ مناسب سے ہوٹل میں شفٹ ہوگئے۔ سب نے باہر جانے کا پروگرام بنایا تو رخسانہ نے باہر جانے سے انکار کر دیا۔

’’تم لوگوں نے جانا ہے تو چلے جاؤ۔ میں ادھر ہی رہوں گی۔ میرا من نہیں ہے کہیں بھی جانے کو۔‘‘

توقیر نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے کھڑا کیا

’’اگر کمرے میں بند ہو جاؤ گی تو طرح طرح کے خیالات تمہیں ستائیں گے۔ باہر چلتے ہیں ہمیں اپنا ذہن بدلنا چاہئے اور یہ حوریہ کہاں ہے۔‘‘

’’وہ کپڑے بدل رہی ہے۔‘‘ رخسانہ نے کہا ۔کچھ دیر بعد حوریہ ڈریسنگ روم سے نکلی تو سب اسے ایک بار دیکھتے ہی رہ گئے۔

اس نے قمیص شلوار کے ساتھ بڑا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا اور ساتھ حجاب بھی پہنا ہو اتھا۔ اس نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور انتہائی شائستگی سے گویا ہوئی۔

’’آپ لوگ تیار ہیں تو چلتے ہیں۔‘‘

رخسانہ نے ساحل کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا کہ وہ حوریہ کا یہ روپ بھی دیکھ لے۔ ساحل کی نظروں میں حیرانی تھی اس نے پہلی بار حوریہ کو اس روپ میں دیکھا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ حوریہ ہے ہی نہیں۔ توقیر نے رخسانہ کو ساتھ جانے کے لیے منا لیا اور وہ سارے سیر و تفریح کے لیے نکل گئے۔

لونگ ٹریک پر چہل قدمی کرتے ہوئے وہ جوڑوں میں تقسیم ہوگئے ان کے پاس ایک دوسرے سے رابطے کے لیے موبائل تھے اس لیے جس کو جو سائیڈ پسند آئی وہ اس طرف نکل گیا۔ ہینڈی کیم ساحل اور حوریہ کے پاس تھا وہ دونوں چڑھائی کی طرف چڑھتے ہوئے کسی پہاڑ پر پہنچ گئے یہاں سے اطراف کا نظارہ بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا۔

ساحل ہینڈی کیم سے ویڈیو بنا رہا تھا نچلی سڑک پر چلتے ہوئے ظفر نے اسے ہاتھ سے اشارہ دیا۔’’Take care۔‘‘

ساحل کیمرہ پیچھے کرکے مسکرا دیا۔ اس نے حوریہ کی طرف دیکھا جو اردگرد کے نظاروں کی خوبصورتی میں محو تھی۔ ساحل نے کیمرہ اس کی طرف بڑھایا۔

’’یہ لو اپنی پسند کے نظارے کو اس میں محفوظ کر لو۔‘‘

حوریہ کندھے اچکا کر انتہائی معصومیت سے بولی

’’مجھے اسے استعمال کرنا نہیں آتا۔‘‘

ساحل نے حیرت سے کہا

’’کیا۔۔۔تم تو ویڈیو بنانے میں بہت مہارت رکھتی تھی۔۔۔‘‘

حوریہ متذبذب سی کیفیت میں گھاس پر بیٹھ گئی۔

’’پتہ نہیں میں کیا تھی اور کیا بن گئی ہوں مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آتا۔‘‘

ساحل نے دیکھا کہ حوریہ باتیں کرنے کے موڈ میں ہے تو وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔

’’کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی چیز یا جگہ دیکھ کر تمہارے ذہن میں دھندلے سے سائے ابھرنے لگے ہوں۔‘‘

حوریہ نے ساحل کی طرف دیکھا۔

’’امی ابو کہتے ہیں کہ میں اپنی یادداشت کھو چکی ہوں مگر میرے ذہن میں کوئی تو ایسا عکس ہو جس سے مجھے لگے کہ یہی میرے ماں باپ ہیں۔‘‘

’’تمہیں کون سی چیز اپنی طرف کھینچتی ہے مجھے بتاؤ شاید میں تمہاری مدد کر سکوں۔‘‘

ساحل کی بات سن کر حوریہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی

’’مجھے ایسا لگتا ہے کہ انکل توقیر اور آنٹی رخسانہ میرے والدین نہیں ہیں۔ وہ گھر بھی میرا نہیں ہے۔ مگر مجھے اپنے والدین اپنا گھر صاف صاف یاد کیوں نہیں آتا۔ میں کہیں کوئی لکڑی کٹتے دیکھتی ہوں تو لکڑی کے آرے کا دھندلا سا منظر میرے ذہن میں دکھائی دینے لگتا ہے پھر ایک گاؤں میں کچا سا مکان اس میں ہنسنے اور رونے کی آوازیں اور پھر کلہاڑی سے لکڑی پر ضرب لگانے کی مسلسل آوازیں میرے ذہن میں گونجنے لگتی ہیں۔ میں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر سر پر تکیہ رکھے اس تکلیف دہ کیفیت سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتی ہوں۔‘‘

حوریہ نے اپنے گُھٹنوں پر سر رکھ لیا۔ ساحل نے اس کا ہاتھ تھاما

’’تم زیادہ نہ سوچو ادھر آئی ہو تو انجوائے کرو۔ واپس جائیں گے تو ڈاکٹر سے یہ ساری باتیں کریں گے۔‘‘

حوریہ کو سمجھا کے ساحل خود سوچ میں پڑ گیا۔ حوریہ جو کچھ کہہ رہی ہے وہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حوریہ کی شخصیت کے دو پہلو اور پھر یہ باتیں ضرور، ان کے پیچھے کوئی بڑا راز ہے۔ ساحل نے حوریہ کی آنکھوں میں جھانکا جن میں وہ سفاکی نہیں تھی جو اکثر حوریہ کی آنکھوں میں نظر آتی تھی۔

’’کبھی خود میں اچانک بدلاؤ محسوس کیا ہے۔‘‘

حوریہ نے اپنے خشک لبوں کو تر کیا

’’ہاں اچانک ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنے لگتا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ میں یکسر بدل گئی ہوں پلیز آپ مجھ سے اور کچھ نہ پوچھیں میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔‘‘

’’اوکے۔۔۔آؤ آگئے چلتے ہیں۔‘‘ ساحل نے حوریہ کا ہاتھ تھام کر اسے کھڑے ہونے کے لیے سہارا دیا کیونکہ پہاڑ کی سطح غیر ہموار تھی۔

رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ سبحان ہوٹل کے باہر ابھی تک لوگوں کی گہما گہمی تھی۔ ظفر توقیر اور دوسرے لوگوں کے ساتھ اسی ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ ساحل نے بالائی منزل میں کمرہ لیا تھا۔ اس کی کھڑکی سے باہر کا نظارہ بہت خوبصورت تھا۔

آسمان ٹمٹماتے ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ ساحل کھڑکی کھولے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ان ستاروں کو چُھو سکتا ہے اپنی اس ناممکن سی خواہش پر اسے وشاء کا خیال آگیا۔ باہر کے نظارے اچانک غائب ہوگئے اور اس کی نظروں کے سامنے وشاء کا چہرہ چھا گیا۔ ساحل خود سے باتیں کرنے لگا۔

’’ہماری آنکھوں کے کچھ خواب بس خواب ہی رہتے ہیں کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھارتے۔‘‘ میں نے وشاء کی خوشی کے لیے اسے ٹھکرایا اور تقدیر نے مجھ سے میری خوشیاں ہی چرالیں۔ حوریہ کی باتیں کوئی راستہ دکھانے کے بجائے ہمیں الجھا دیتی ہیں۔

’’کیوں ہمیں کوئی نشان نہیں مل رہا۔ ہمارے اردگرد ہونے والے واقعات کے پیچھے کوئی تلخ حقیقت چھپی ہے۔‘‘

ایسے ہی سوچوں میں کھوئے کھوئے ساحل بستر پر لیٹ گیا۔ اسے کافی تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی۔ آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔ جلد ہی وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔ کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی ہوٹل کے بارہ اور مال روڈ پر لوگوں کی گہما گہمی تھی۔ رات میں بھی دن کا سا سمان تھا۔ رنگوں سے بھری ایک خوبصورت تتلی کھڑکی سے اڑتی ہوئی کمرے میں آئی۔

ساحل گہری نیند سو رہا تھا۔ چیڑ کے درختوں سے جنگلی جانوروں کی مہین سی آوازیں مل کر عجیب سا تاثر دے رہی تھیں جیسے وادی نے اپنے سیاہ بال کھولے ستاروں کو آنچل میں سجائے ماتھے پر چاند کی بندیا سجائے اپنی سریلی آواز میں گا رہی ہو۔ خوبصورت تتلی ساحل کے چہرے کے قریب اڑنے لگی پھر اس کی دونوں بھنوؤں کے درمیان میں بیٹھ گئی۔

ساحل نے جھرجھری سی لی مگر اس نے آنکھیں نہیں کھولیں پھر اس کی آنکھیں کوئی خواب دیکھنے لگیں۔ وہ ایک خوبصورت وادی میں ہے ۔جہاں ہر سُو سبزہ ہی سبزہ ہے جو خوبصورت پھولوں سے بھرا ہوا ہے۔ تاحد نظر باغات ہی باغات ہیں۔ اس خوبصورت ماحول میں ساحل کو اپنے علاوہ کوئی دوسرا دکھائی نہیں دے رہا۔ پھر اچانک ہی پازیب کی جھنکار کی آواز اس کی سماعت سے ٹکراتی ہے۔ وہ آواز کی سمت کا تعین کرنے لگتا ہے۔

پھولوں سے بھری باڑ کے قریب ایک لڑکی دکھائی دیتی ہے۔ ساحل خود کو مالٹے کے درخت کے پیچھے چھپا لیتا ہے اور چوری چوری اسے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ لڑکی سفید لباس میں ملبوس تھی اس نے سفید باریک کپڑے کا فراک پہنا ہوا تھا اس نے بڑا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا اور نقاب میں تھی اس کے ہاتھ میں چار مختلف رنگوں کے پھول تھے۔ وہ اور پھول ڈھونڈ رہی تھی شاید وہ سات رنگوں کے پھول اکٹھے کرنا چاہتی تھی۔ ساحل کی جانب اس کی پشت تھی۔

پھول ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ سامنے آئی تو ساحل کی دل کی دھڑکنیں جیسے ایک بار رک گئیں۔ یہ وہی آنکھیں تھیں جو خیال بن کر اس کی راتوں میں دیپ کی طرح جلتی تھیں۔

ساحل بے چین ہوگیا اس کے دل میں آیا کہ وہ آگے بڑھ کر اس لڑکی سے بات کرے۔ وہ ایک دو قدم آگے بڑھا تو ایک سحر انگیز نظارے نے اس کے قدم روک دیئے۔ لڑکی نے سات رنگ کے پھول اپنے بالوں میں سجائے اس کے ساتھ ہی کسی جادوئی کرشمے کی طرح اس کا سفید لباس سات رنگ کی دھاریوں والے ڈیزائن میں بدل گیا۔ اسی ساعت میں تیز ہوا چلنے لگی۔ درختوں کی ٹہنیاں ادھر ادھر جھولنے لگیں۔

لڑکی کا آنچل ہوا میں لہرانے لگا جس سے اس کے چہرے سے نقاب اتر گیا۔ وشاء نے پلٹ کر ساحل کی طرف دیکھا۔۔۔اس کے چہرے کے تاثرات یک دم بدل گئے۔۔۔اس کی آنکھوں میں ساحل کے لیے بے پناہ شکایتیں تھیں۔

اس نے بھاگنا شروع کر دیا۔۔۔ہوا بہت تیز تھی اس کا آنچل اڑ کر ہوا میں لہرانے لگا۔ ساحل نے بھی اس کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیا۔

’’وشاء! میری بات تو سنو۔‘‘مگر وشاء ایک پل بھی رکنا نہیں چاہتی تھی۔ بھاگتے بھاگتے وشاء کا آنچل ساحل کے ہاتھ میں آگیا۔

جیسے ہی ساحل نے اسے تھاما آنچل کسی روشنی کی طرح سات رنگوں کی قوس قزح میں تبدیل ہو کے ہوا میں بکھر گیا۔ ساحل نے وشاء کی طرف دیکھا تو اس کا بھی جسم کسی ہوائی وجود کی طرح سات رنگوں کی روشنی میں تحلیل ہو کے ہوا میں بکھر گیا۔

ساحل ہڑبڑا کے نیند سے بیدار ہوگیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے جھلملاتے سات رنگوں والی تتلی اپنے خوبصورت پروں کو لہرا رہی تھی اس کے نازک سے پروں میں وہی سات رنگ تھے جو خواب میں ساحل نے وشاء کے لباس میں دیکھے تھے۔

اس کی نگاہیں تتلی کے ساتھ ساتھ حرکت کرنے لگیں۔ تتلی اڑتی ہوئی کھڑکی سے باہر چلی گئی۔ ساحل بے چینی سے کھڑکی کی طرف لپکا۔ تتلی ہوا میں کہیں غائب ہوگئی۔ ایک عجیب سا شائبہ اس کے من کو چھو گیا۔ دل اس طرح دھڑک رہا تھا جیسے کوئی اپنا مل کر بچھڑ گیا ہے۔

ماریہ اور رخسانہ دونوں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں، دوسرے کمرے میں ظفر اور توقیر شطرنج کی بازی کھیل رہے تھے۔ رخسانہ بہت پریشان تھی۔ وہ ماریہ کو حوریہ کے متعلق بتا رہی تھی۔

’’تم نے وہ ساری باتیں سنی تھیں نا جو میں اور ساحل توقیر کو بتا رہے تھے۔‘‘

’’ہاں۔۔۔میں خود پریشان ہوگئی تھی۔‘‘ ماریہ نے کہا۔

’’توقیر کا خیال ہے کہ حوریہ ذہنی مریضہ ہے مگر میرے ذہن میں عجیب عجیب سے خدشات آتے ہیں۔‘‘ رخسانہ نے کہا۔

ماریہ نے رخسانہ کا ہاتھ تھاما۔

’’تم فی الحال حوریہ پر نظر رکھو۔ ہم چند دن ہی یہاں ہیں۔ واپس جا کے سوچیں گے کہ کیا کیا جائے خود کو پریشان مت کرو۔ میں اب چلتی ہوں ظفر سے بھی کہتی ہوں کہ اب چلیں، بہت تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے۔‘‘

رخسانہ، ماریہ کے ساتھ ہی کھڑی ہوگئی۔

’’تم ظفر بھائی سے بات کرو۔۔۔میں ذرا حوریہ کو دیکھ کر آتی ہوں کہ وہ کیا کر رہی ہے۔‘‘ یہ کہہ کر رخسانہ، حوریہ کے کمرے میں داخل ہوئی۔

اس کے کے کمرے میں داخل ہوئی تو حوریہ اپنے بستر پر بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔ رخسانہ مسکراتی ہوئی حوریہ کے قریب آئی’’میری بیٹی کیا پڑھ رہی ہے۔‘‘

حوریہ کوئی جواب دیئے بغیر کتاب پڑھنے میں مصروف رہی۔ رخسانہ نے کتاب کی طرف دیکھا تو حیرت سے بولی’’پراسرار ناول۔۔۔تمہیں تو پراسرار ناول پسند نہیں تھے۔‘‘

حوریہ تمسخرانہ انداز میں مسکرائی۔ پھر اس نے گہری نظر سے رخسانہ کی طرف دیکھا اور مہین سی آواز میں بولی

’’تمہاری حوریہ کھو گئی ہے مما! اب اسے کہاں ڈھونڈو گی، زمین میں یا آسمان میں؟‘‘

رخسانہ سرتاپا کانپ کے رہی گئی۔ اس کی پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا۔ حوریہ نے سہمی ہوئی رخسانہ کی طرف دیکھا۔

’’کیا ہوا کچھ یاد آگیا یہی کہ یہ بات میں نے آپ سے پہلے بھی کہی تھی۔۔۔ڈر لگ رہا ہے، کیا وہ مردہ لڑکی یاد آگئی۔ میں نے اس مردہ لڑکی کے جسم میں گھس کر آپ سے بات کی تھی۔ تم گوشت کے لوگ ہوتے ہی نا سمجھ ہو تمہیں بات جلدی سمجھ نہیں آتی۔‘‘

رخسانہ الٹے قدموں سے چلتی ہوئی دیوار سے جا لگی پھر روتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ ظفر ماریہ اور توقیر ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے۔ ماریہ ظفر سے گیم چھوڑنے کے لیے کہہ رہی تھی۔

’’بس تھوڑی دیر اور پھر چلتے ہیں‘‘ ماریہ ظفر کی بات پر وہیں بیٹھ گئی۔ رخسانہ روتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ توقیر اور ظفر کھیل چھوڑ کر اس کی طرف بڑھے۔ وہ انتہائی خوفزدہ اور گھبرائی ہوئی تھی صحیح بول نہ پا رہی تھی’’وہ۔۔۔وہ۔۔۔حوریہ۔۔۔‘‘

’’کیا ہوا حوریہ کو۔۔۔‘‘ توقیر نے رخسانہ کو شانوں سے پکڑا۔

اس نے اپنی خوف سے پھٹی پھٹی آنکھیں توقیر کے چہرے پر گاڑدیں۔

’’حوریہ کہہ رہی ہے کہ اس نے مردہ لڑکی کے جسم میں گھس کر مجھ سے بات کی تھی۔‘‘

توقیر جہاں کھڑا تھا وہیں سن ہوگیا۔۔۔کمرے میں خاموشی چھا گئی۔۔۔کمرے میں موجود سبھی لوگوں کے لب سلب ہوگئے جیسے خوف سے سنسناتے ہوئے سائے کمرے میں منڈلانے لگے۔

توقیر نے لمبا سانس کھینچا اور پھر اوپر کی طرف دیکھا

’’یا اللہ یہ سب کیا ہے ہمیں راستہ دکھا۔‘‘

ظفر، توقیر کے قریب آیا

’’تم پریشان نہ ہو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔جو بھی حقیقت ہے۔ ہمارے سامنے آجائے گی۔ پھر ہم واپس جاتے ہی کسی عامل سے رجوع کریں گے۔ حوریہ کا مسئلہ سائیکاٹرسٹ کا نہیں ہے۔۔۔اسے عامل کی ضرورت ہے۔‘‘

توقیر خاموش ہوگیا۔۔۔اس بات کے بعد اسے بھی یقین ہونے لگا تھا کہ کوئی ایسا راز ہے جس سے وہ سب غافل ہیں۔

ماریہ اور ظفر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ ظفر نے ماریہ سے اپنا رشتہ نہیں توڑا تھا۔ مگر ماریہ کے لیے اس کے دل میں جو رنجش تھی وہ رنجش ابھی ختم نہیں کر سکا تھا۔ وہ ماریہ کے وشاء کے ساتھ بدترین سلوک کو کبھی فراموش نہ کر سکا۔ مگر شمعون کی موت کے بعد اس احساس سے کہ اس کو اس کے کیے کی سزا مل گئی ہے اس نے ماریہ سے اپنا سلوک کچھ بہتر کر لیا تھا۔ ماریہ بھی شمعون کی موت کے بعد خاصی بدل گئی تھی۔ اس نے ظفر سے کئی بار معافی مانگی لیکن ظفر اسے دل سے کبھی معاف نہ کر سکا۔ وہ وشاء کے بارے میں جاننا چاہتا تھا اور ابھی اصل حقیقت پر پردہ پڑا ہوا تھا اس لیے میاں بیوی کے فاصلے ابھی ختم نہیں ہوئے تھے۔

ماریہ بستر پر دراز ہوگئی اور ظفر صوفے پر اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا۔

ماریہ کو تھکاوٹ تھی مگر اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ ایک عجیب سا خوف اس کے حواس پر طاری تھا۔۔۔بے چینی سے کروٹیں بدلتے بدلتے اس کی آنکھ لگ گئی۔

ظفر اپنے کام میں مصروف تھا تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد ماریہ نیند سے ہڑبڑا کے اٹھ گئی۔ ظفر اپنا لیپ ٹاپ چھوڑ کر جلدی سے اس کی طرف بڑھا ’’کیا ہوا؟‘‘

ماریہ کا حلق سوکھ رہا تھا۔۔۔ظفر نے اسے پانی پلایا

’’کیا کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ لیا ہے۔‘‘ ظفر نے پوچھا۔

’’ڈراؤنا خواب کیا دیکھنا، پورے ہوش و حواس میں اردگرد ہونے والے جو خوفناک واقعات دیکھ رہی ہوں باربار ان کا خیال سونے نہیں دیتا۔ مشکل سے آنکھ لگی تھی تو شمعون کی جلی ہوئی لاش سامنے آگئی۔‘‘

ظفر نے ٹھنڈی آہ بھری’’ہاں۔۔۔اب تو مجھے بھی دہشت محسوس ہونے لگی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی شیطانی مخلوق ہمارے آس پاس ہے۔ وہ مختلف روپ دھار کر ہم پر حملہ بھی کر رہی ہے مگر ہم کچھ بھی نہیں کر رہے۔‘‘

ماریہ ظفر کے قریب ہو کے بیٹھ گئی۔

’’تمہیں یاد ہے جب تابش اور مہک کا قتل ہوا تو حوریہ اس وقت ہمارے ساتھ نہیں تھی وہ اچانک کہیں غائب ہوگئی تھی اور پھر وہ ہمیں بیہوشی کی حالت میں ملی۔ اس وقت تابش اور مہک کے قتل کی خبر بھی ملی۔ میں تو کہتی ہوں، واپس چلتے ہیں اس سے پہلے کہ کوئی اور واقعہ ہو ۔ ہمیں فوراً حوریہ کو کسی Exorcistکو دکھانا چاہئے، مزید دیر نہیں لگانی چاہئے۔‘

ظفر ، ماریہ کی بات سن کر سوچ میں پڑگیا۔

’’بس آپ صبح ہی توقیر بھائی سے بات کریں۔ ہم کل ہی واپس چلتے ہیں۔‘‘ ماریہ نے کہا۔

’’ابھی تم سو جاؤ۔ میں کل توقیر سے بات کرتا ہوں۔ شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔‘‘ ظفر نے کہا۔

ماریہ آنکھیں موند کر لیٹ گئی مگر ظفر، تابش اور مہک کی اموات کے بارے میں سوچتا رہا۔

’’مجھے بھی یہ بات غیر معمولی لگی تھی کہ تابش اور مہک کے قتل کے وقت ہی حوریہ ہمارے بیچ نہیں تھی۔‘‘ صبح ہوتے ہی ظفر نے توقیر سے بات کی اور ان سب نے طے کیا کہ دوپہر کے بعد وہ واپسی کے لیے نکل جائیں گے۔

رخسانہ اس فیصلے سے کافی مطمئن تھی۔ وہ اور ماریہ واپسی کے لیے پیکنگ کرنے لگیں۔ پیکنگ کے بعد وہ سب سیر و تفریح کے لیے نکل گئے۔ دوپہر کا کھانا بھی انہوں نے باہر سے ہی کھایا۔۔۔تقریباً چار بجے وہ واپس ہوٹل پہنچے۔ انہوں نے ہوٹل کا بل ادا کیا اور ساڑھے چار بجے وہ ہوٹل سے واپسی کے لیے روانہ ہوئے۔

کسی کے چہرے پر بھی واپسی کے لیے اداسی کے تاثرات نہیں تھے۔۔۔سوائے حوریہ کے۔ وہ سب ایسے تھے جیسے کسی مصیبت سے بری الذمہ ہو رہے ہیں۔ حوریہ تو جیسے خوشی اور غم ہر طرح کے تاثرات سے بے نیاز تھی۔ وہ تو جیسے اپنے آپ میں ہی الجھی رہتی تھی۔

وہ خوبصورت پہاڑوں کی وادی سے گزر رہے تھے۔ ماریہ اور رخسانہ اس طرح سہمی بیٹھی تھیں۔ جیسے ان پہاڑوں پر آسیب بستے ہیں جو کسی وقت ان پر حملہ کر دیں گے۔ دونوں گاڑیاں پہاڑوں کے وسط سے گزر رہی تھیں۔ سانپ جیسی لہریہ سڑک جس نے ایک پہاڑی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا بھول بھلیوں جیسی معلوم ہو رہی تھی۔

توقیر نے ماحول کو خوشگوار بنانے کے لیے ڈیک لگا لیا۔ توقیر کی گاڑی آگے تھی اور ظفر کی گاڑی اس سے پیچھے تھی۔ توقیر نے ونڈو سکرین سے باہر جھانکا۔

’’واہ۔۔۔کیا خوبصورت نظارہ ہے۔ رخسانہ دیکھو کتنی خوبصورت آبشار ہے یہاں کچھ دیر کے لیے اترتے ہیں۔‘‘

رخسانہ نے کھڑکی سے باہر دیکھے بغیر نفی میں سر ہلایا۔ ’’ہمیں بس کہیں نہیں رکنا۔‘‘

’’جیسا آپ کا حکم۔۔۔‘‘ توقیر گاڑی چلاتا رہا۔ اس نے سائیڈ مرر سے دیکھا کہ ظفر نے آبشار کے قریب گاڑی روک دی۔

اب تو ان کے ساتھ گاڑی روکنا توقیر کی مجبوری تھی۔ اس نے گاڑی ریورس کی اور اپنی گاڑی ان کی گاڑی کے ساتھ ہی پارک کر لی۔ توقیر اور اس کی فیملی گاڑی سے باہر نکلے تو ظفر نے توقیر کی طرف دیکھا

’’یار! اتنی پیاری جگہ چھوڑ کر تم آگے بڑھ رہے تھے۔‘‘

’’دل میں تو آیا تھا کہ رک جائیں لیکن جب واپسی کا ارادہ کر لیا ہے تو اس طرح ہمیں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ توقیر نے ظفر کے قریب آتے ہوئے کہا۔

ماریہ اور ساحل گاڑی سے باہر نکلے۔

’’کیا بات ہے ان جاذب نظر نظاروں کو کون نظر انداز کر سکتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر ساحل گاڑی سے اپنا ہینڈی کیم نکال کر لے آیا۔

رخسانہ اور حوریہ بھی گاڑی سے باہر آگئیں۔ رخسانہ نے پہاڑی کی چوٹی تک دیکھا جہاں سے تیز رفتار پانی کے دھارے کٹاؤ دار پتھروں کے نشیب و فراز سے چھن چھن کی آواز سے ٹکراتے ہوئے پورے جوش کے ساتھ گول پتھروں پر برس رہے تھے۔

’’قدرت کے کرشمے دیکھو کیسے ان خشک پتھروں سے پانی کے دھارے نکلتے ہیں۔‘‘

ظفر اور توقیر رخسانہ کے قریب آئے۔

’’یہ پہاڑ کافی پیچھے تک پھیلا ہوا ہے۔ جہاں پہاڑ کے مختلف حصوں سے چھوٹی چھوٹی آبشاریں پھوٹ رہی ہیں۔‘‘

’’رخسانہ نے ساحل اور ماریہ کو پکارا۔

’’آؤ۔۔۔پہاڑ کے دوسری طرف چلتے ہیں۔‘‘

ماریہ نے ہاتھ سے نفی کا اشارہ کیا۔ آپ لوگ جائیں، میں اور ساحل ادھر ہی ٹھہریں گے۔‘‘

ساحل جو مووی بنانے ہیں مصروف تھا اس نے بھی کہا

’’آنٹی آپ لوگ جائیں ہم کچھ دیر بعد آتے ہیں۔‘‘

ظفر ، توقیر، رخسانہ اور حوریہ دوسری جانب چلے گئے۔ ماریہ ساحل سے مخاطب ہوئی۔

’’جاؤ ذرا گاڑی سے موبائل تو لے آؤ۔‘‘

’’آپ میرا یہ کیمرہ پکڑیں۔ ویڈیو بن رہی ہے Stopمت کرنا بس اسی ویو پر سیٹ رکھیں۔’’ساحل ماریہ کو کیمرہ تھما کر گاڑی سے موبائل لینے چلا گیا۔ اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور موبائل ڈھونڈنے لگا


جس جگہ ماریہ نے بتایا تھا وہاں موبائل نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ہاتھ لگنے سے نیچے گر گیا ہو۔ ساحل فرنٹ سیٹ کے نیچے ہاتھ سے موبائل ڈھونڈنے لگا۔ اسی دوران ماریہ کے پاس ایک بچی آئی جو چھ یا سات سال کے لگ بھگ تھی۔ اس نے پٹھانی فراک پہنا ہوا تھا جس پر شیشے جڑے تھے۔

’’بیگم صاحبہ! یہ خریدیں گی میری امی نے بڑی محنت سے بنائے ہیں۔‘‘

ماریہ نے کیمرہ سٹاپ کیے بغیر پتھر پر رکھ دیا اور بچی کی چیزیں دیکھنے لگی۔ بچی کی چیزوں کو چھوئے ایک ساعت بھی نہ گزری کہ وہ بچی خوبصورت جوان لڑکی کا روپ دھار گئی۔ ماریہ کے ہاتھ سے صندل کی لکڑی کا پرس چھوٹ گیا، اس کے حلق سے بے اختیار نکلا۔ ’’وشاء!‘‘

وشاء سفید لباس میں اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے اپنے سامے کے دانت ماریہ کی گردن میں پیوست کر دیئے۔ ماریہ کی کرب ناک چیخیں فضا میں بلند ہوگئیں۔ ساحل تیزی سے گاڑی سے باہر نکلا اور ماریہ کی طرف بڑھا۔

جونہی ماریہ کا خون وشاء کے نوکیلے دانتوں میں لگا وشاء کا سفید لباس سات رنگوں میں بدل گیا۔ ساحل کو دیکھتے ہی وہ لڑکی کسی روح کی طرح ہوا میں اڑی اور سات رنگوں والی خوبصورت تتلی کا روپ دھار گئی۔ ساحل نے یہ منظر تو دیکھا مگر وشاء کا چہرہ نہ دیکھ سکا۔

اس نے ماریہ کو بانہوں کے حصار میں لے لیا اس نے اوپر دیکھا۔ تتلی ، ابھی تک ہوا میں اڑ رہی تھی وہ بالکل ایسی ہی تھی جیسی اسے خواب میں دکھائی دی تھی۔ پھر وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔

ماریہ دم توڑ چکی تھی۔ ساحل نے ظفر کو فون کیا وہ سب دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے۔ سب کے ہوش اڑ گئے۔ رخسانہ چیخ چیخ کر رونے لگی۔۔۔توقیر نے اسے سنبھالا۔ ظفر سکتے کی سی کیفیت میں ماریہ کی لاش کے قریب بیٹھا تھا۔ پچھتاوے کے احساس سے اس کا سر چکرا رہا تھا کہ کاش ہم یہاں نہ رُکتے۔

اس نے ماریہ کے چہرے پر اس کا دوپٹہ ڈال دیا اور سوالیہ نظروں سے ساحل کی طرف دیکھا جو کسی بڑے سے پتھر پر خود بھی پتھر بنا بیٹھا تھا۔

’’یہ سب کیسے ہوا ساحل۔۔۔‘‘

ساحل ڈھیلے ڈھیلے قدموں سے ماریہ کی لاش کے قریب آیا اس نے ماریہ کے چہرے سے دوپٹہ اٹھایا اور اس کے چہرے کو ترچھا کیا۔ ماریہ کی گردن پر وہی وہ دانتوں کے نشان تھے جو شمعون کی لاش پر تھے۔

************************************************

زرغام اپنے گھر کی چھت پر کھڑا تھا۔ وہ سیدھا کھڑا تھا اس کا چہرہ آسمان کی طرف تھا۔ اس کی کیفیت ایسی تھی جیسے وہ کسی کی بات سن رہا ہو، بظاہر سامنے کوئی نظر نہ آرہا تھا۔ اس سے تھوڑے فاصلے پر ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا۔ اس کا حلیہ بہت عجیب تھا۔ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں مختلف پتھروں کی انگوٹھیوں سے بھری ہوئی تھیں۔ گلے میں سیاہ ڈوری کے ساتھ کسی جانور کی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں لٹک رہی تھیں۔

زرغام نے ہوا میں ہاتھ لہرا کر کسی کو جانے کا اشارہ کیا پھر اس نے اپنا رخ بوڑھے شخص کی طرف کیا اور فاتحانہ انداز میں دونوں بازو پھیلا کر قہقہہ لگایا۔

’’واہ۔۔۔میرے ویمپائرز کے تین خطرناک حملے۔۔۔اپنی اولاد کو ڈھونڈنے والے والدین اب اپنی زندگیوں کی کھوج میں نکل جائیں کیونکہ زندگیاں تو سمجھو ان کے ہاتھوں سے گئیں۔‘‘

سامنے بیٹھے ہوئے بوڑھے شخص نے اسے اس کی کامیابی پر مبارکباد دی۔

’’اس کا مطلب ہے کہ تمہاری کٹھ پتلیاں ٹھیک کام کر رہی ہیں۔ ان اموات کے بعد تو ان کی شیطانی طاقت کافی بڑھ گئی ہوگئی۔ تم ان سے وہ کام کیوں نہیں لیتے جن کے لیے تم نے یہ سب کیا ہے۔‘‘

’’ان کاموں کا ابھی وقت نہیں آیا، ویسے بھی ایک پریشانی ہے جس میں میں الجھا ہوا ہوں۔‘‘

’’وہ کیا۔۔۔؟‘‘ بوڑھے شخص نے پوچھا۔

’’خیام۔۔۔‘‘ زرغام اپنی پھٹی پھٹی آنکھوں سے فضا کو گھورنے لگا۔

’’خیام۔۔۔کیا مطلب؟‘‘ بوڑھے شخص نے پوچھا۔

’’میرے گیان کے مطابق فواد، حوریہ، وشاء اور خیام پر میرا عمل کامیابی سے پورا ہوا ہے۔ مگر جب سے میں نے ان چاروں کو اپنی قوتیں استعمال کرنے کا اختیار دیا اس روز سے خیام کا مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ میں نے اپنے مؤکلوں کے ذریعے بھی خیام کو تلاش کیا مگر اس کا پتہ نہیں چلا، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ میرا عمل بھی اسے ڈھونڈ نہیں پا رہا۔ میں نے اسے یہ روپ دیا اور وہ مجھے ہی بے خبر کر گیا۔‘‘

بوڑھا شخص تمسخرانہ انداز میں ہنسنے لگا۔

’’تم پھر کس بات پر اپنی فتح کا جشن منا رہے ہو۔ کالا علم کرنے والے کا کِیا ہوا ایک غلط عمل اسے موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ خیام کو ڈھونڈو ورنہ اپنی بربادی کی تیاری رکھو۔یقیناً اس روز جب تم نے ان چاروں پر عمل کیا تو خیام کے معاملے میں کوئی گڑ بڑ ہوگئی ہوگی۔ اگر اس کی ڈور تمہارے ہاتھ میں نہیں تو یہ بات بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘

زرغام بوڑھے شخص کی بات پر مزید پریشان ہوگیا

’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، کالے علوم کی دنیا میں آپ کا تجربہ بہت زیادہ ہے میں آج رات کو چلہ کاٹوں گا۔‘‘

بوڑھا شخص کھڑا ہوگیا

’’تمہیں میری مدد کی ضرورت ہو تو بتا دینا اور یاد رکھو ایک ہمزاد کی طاقت کے آگے سینکڑوں آسیب بھی کچھ نہیں تم نے ان چاروں کے ہمزاد مسخر تو کرلیے ہیں لیکن انہیں قابو میں رکھنا بہت مشکل کام ہے۔‘‘ یہ کہہ کر بوڑھے شخص نے اپنا لاکٹ اتار کر زرغام کوپہنا دیا اور پھر وہاں سے چلا گیا۔

ماریہ کی لاش لے کر ظفر اور توقیر گھر پہنچ گئے تھے۔ ظفر کا بھی گھر ماتم کدہ بن گیا۔ توقیر اور رخسانہ ، حوریہ اور ساحل ، ظفر کے گھر پر ہی تھے۔ یکے بعد دیگرے اموات کے سلسلے نے ان کے دماغ شل کر دیئے تھے وہ لٹے پٹے بیٹھے تھے جیسے ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا۔ راحت اور ردا ظفر کی ڈھارس بندھا رہی تھیں۔ زبیر اور ماہین بھی پہنچ گئے تھے۔ وینا اور عارفین بھی وہاں موجود تھے۔ سب پر جیسے سکتہ طاری تھا۔ اس دلخراش حادثہ پر سب کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ آخری رسومات کے بعد توقیر ، رخسانہ ، حوریہ اور ساحل کے ساتھ ساتھ زبیر اور ماہین بھی رات گئے تک ظفر کے ساتھ ہی رہے۔

تقریباً رات کے دو بجے وہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹے ،اگلے روز صبح آٹھ بجے انہیں قُل کے لیے پھر آنا تھا۔ ساحل اپنے گھر گیا تو ظفر کا ہینڈی کیم اس کے بیگ میں ہی تھا۔

راحت اور ردا ظفر کے گھر ہی تھیں۔ ساحل کپڑے بدلے بغیر بستر پر دراز ہوگیا۔ اس کا دل جتنا شکستہ تھا ذہن اتنا ہی الجھا ہوا تھا۔ واقعات اور حالات نے انہیں کیسے موڑ پر لا کھڑا کیا تھا۔

موت ان کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہی تھی۔ ان کے اپنے ان کی آنکھوں کے سامنے لقمہ اجل ہو رہے تھے۔ مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ وار کون کر رہا ہے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ہم اپنے دفاع کے لیے لڑیں مگر کس سے اسے ہینڈی کیم کیمرے کا خیال آیا کہ جس وقت وہ موبائل لینے گیا تو اس کا کیمرہ آن تھا جس وقت ماریہ کا قتل ہوا اس وقت وہ کیمرہ بڑے سے پتھر پر پڑا تھا۔

اس خیال کے ساتھ ہی وہ برقی سرعت سے اٹھا اور اپنے کپڑوں کے بیگ سے کیمرہ تلاش کرنے لگا۔ کیمرہ ملتے ہی اس نے کیمرہ آن کیا۔ وہ ویڈیو ڈھونڈی اور پلے کا بٹن دبایا۔ آبشار کے خوبصورت مناظر کے سامنے ماریہ کھڑی مسکرا رہی تھی۔

ساحل بہت بے چین تھا وہ خوبصورت مناظر کی ویڈیو فارورڈ کرنے لگا اسے جو دیکھنا تھا وہ ابھی تک اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں آیا تھا۔ پھر کیمرے کی تصویر بری طرح ہلنے لگی۔ ساحل نے وہیں پر بٹن چھوڑ دیا۔ اس کی نظریں کیمرے کی سکرین پرجم گئیں پھر جیسے کیمرہ کسی جگہ گرا اور پھر ماریہ کی طرف کیمرے کا رخ ٹھہر گیا۔

ماریہ خوف سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے فضا کو گھور رہی تھی ساحل کو اس کے آس پاس کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اس کی آنکھیں بے چینی سے کسی دوسرے وجود کو ڈھونڈ رہی تھیں اس بچی کو جو ایک جواں لڑکی کا روپ دھار گئی تھی۔ جس نے ماریہ پر حملہ کیا تھا۔ پھر ساحل کی آنکھوں میں ایک ستارہ سا جھلملایا۔ وہ روشنی کا ایک ڈاٹ تھا جو ماریہ کی گردن کے قریب تھا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد ماریہ کی گردن سے خون بہنے لگا اور وہ دھڑام سے زمین پر گر گئی۔

روشنی کا وہ ڈاٹ فضا میں اسی جگہ ادھر ادھر اڑنے لگا جہاں ساحل نے اس تتلی کو پھڑپھڑاتے دیکھا تھا پھر اسی تتلی کی مانند روشنی کا وہ ڈاٹ ہوا میں کہیں غائب ہوگیا۔

ساحل کے پورے جسم میں جھرجھری دوڑ گئی۔

’’اس کا مطلب ہے کہ وہ لڑکی جس نے آنٹی ماریہ پر حملہ کیا اور جو بعد میں تتلی کے روپ میں بدل گئی کوئی عجیب الخلقت ہوائی مخلوق تھی جس کے وجود کو یہ کیمرہ دکھا نہیں پا رہا اور روشنی کا یہ ڈاٹ اس ماوراء وجودکی نشاندہی کر رہا ہے۔‘‘

ساحل نے خود کلامی کرتے ہوئے اپنا سر پکڑ لیا۔ مگر وہ لڑکی تو بالکل اس لڑکی جیسی تھی جسے میں نے خواب میں دیکھا تھا اس کے بھی سفید فراک میں سات رنگ کی دھاریاں ابھر آئی تھیں مگر وہ لڑکی تو وشاء تھی کیا یہ لڑکی ۔۔۔اپنے اس سوال پر اسے حوریہ کی بات یاد آئی۔ جب میں نے اس سے پوچھا۔

’’کاش تم مجھے وشاء کے بارے میں بتا سکتیں۔‘‘

حوریہ تصورانہ انداز میں آنکھوں کو فضا میں گھماتے ہوئے بولی’’وشاء بہت مزے میں ہے پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہے۔۔۔ اس کے پروں میں اتنے خوبصورت رنگ ہیں کہ انسان ان میں کھو جاتا ہے۔ تم بھی بچ کے رہنا، نظر آنے والے خوبصورت رنگ کب خون کے رنگ میں بدل جاتے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا۔‘‘

ساحل کھویا کھویا سا اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا

’’میں نے حوریہ کی اس بات کو محض مذاق سمجھا مگر اس کی اس بات میں پُراسرار حقیقت پنہاں ہے، حوریہ نہ صرف وشاء کے بارے میں جانتی ہے بلکہ وہ فواد کے بارے میں بھی جانتی ہے۔ یقیناً ان سب کا خیام سے بھی تعلق ہوگا۔ مگر یہ سب وہی ہیں جو لاپتہ ہوئے تھے یہ کس روپ میں ہمارے سامنے آرہے ہیں۔‘‘

ساحل سوچ کی بھول بھلیوں میں کھویا جا رہا تھا پھر اچانک اسے کالے جادو کی کتابوں کا خیال آیا جو ان سب کے لاپتہ ہونے کے بعد ان کے کمروں سے ملی تھیں ساحل کی پیشانی پہ پسینہ چمکنے لگا۔

’’اوہ مائی گاڈ! یہ ساری باتیں کسی ناگہانی آفت کا پیش خیمہ ہیں۔‘‘ اس نے جلدی سے ظفر کا نمبر ملایا۔

’’انکل آپ انکل توقیر، انکل زبیر، انکل وقار کو لے کر اسی وقت میرے گھر آئیں۔‘‘

ظفر حیرت سے بولا

’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے آدھی سے زیادہ رات گزر گئی ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ میں کن حالات میں ہوں۔‘‘

’’انکل اس سے پہلے کہ صبح کا سورج ایک اور زندگی کا چراغ بجھا دے، ہمیں کچھ کرنا ہوگا۔‘‘

’’مگر رات کے اس پہر میں ہم تمہارے گھر آکے کیا کریں گے۔‘‘

’’انکل کوئی ہمارے راستوں پہ شکنجے پھیلا رہا ہے ہمارے ساتھیوں کو دھیرے دھیرے موت کے گھاٹ اتار رہا ہے اور ہم اپنے اس دشمن سے ناواقف ہیں پلیز آپ ان سب کو لے کر ابھی میرے گھر آئیں میرے پاس آپ کو دکھانے کے لیے ایک خوفناک حقیقت ہے۔‘‘

ظفر نے لمبی سانس کھینچی

’’اچھا ان سب سے بات کرتا ہوں۔‘‘

تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد وہ سب ساحل کے گھر پہنچ گئے۔ ساحل بہت گھبرایا ہوا اور پریشان تھا۔ اس نے سب کو اپنے کمرے میں بٹھایا۔

’’ایسی کیا چیز ہے تمہارے پاس جو تم نے اس وقت ہمیں یہاں بلایا ہے۔‘‘ ظفر نے کہا۔

ساحل ان سب کے قریب کرسی رکھ کر بیٹھ گیا

’’میں نے آپ سب کو یہاں اس لیے بلایا ہے کہ جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں وہ ایک ہی وقت میں آپ سب کے لیے جاننا بہت ضروری ہے وہ بھی بہت جلد کیونکہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔‘‘

’’تم کیا کہنا چاہتے ہو تفصیل سے بیان کرو۔‘‘ توقیر نے کہا۔

ساحل نے بے چینی سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بات شروع کی۔

’’میں آپ کو جو بتانا چاہتا ہوں۔ وہ آپ کو اس طرح سمجھ نہیں آئے گا جس وقت آنٹی ماریہ کا قتل ہوا تو میں گاڑی سے ان کا موبائل نکال رہا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لڑکی کو جو سفید فراک میں ملبوس تھی ان کے قریب دیکھا، میں اس لڑکی کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔ اس لڑکی نے آنٹی ماریہ کی گردن پر اپنے دانت نصب کر دیئے جونہی خون اس کے منہ سے لگا۔ اس کی فراک سات رنگ کی دھاریوں کے ڈیزائن میں بدل گئی اور پھر اچانک غائب ہوگئی۔ میں نے آنٹی کو سنبھالا تو میں نے ہوا میں کسی تتلی کو پھڑپھڑاتے ہوئے دیکھا اس کے پروں میں وہی سات رنگ تھے جو اس لڑکی کے فراک میں تھے۔

وہ بہت پُراسرار تھی، وہ میری آنکھوں کے سامنے غائب ہوئی۔ جب اس لڑکی نے آنٹی پر حملہ کیا تو میرا ویڈیو کیمرہ ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا وہ کیمرہ آن تھا اس وقت جو ویڈیو بنی میں آپ کو دیکھانا چاہتا ہوں۔‘‘

یہ کہہ کر ساحل نے ہینڈی کیم کی ویڈیو کمپیوٹر پر چلائی۔ا س نے غیر ضروری سین پاس کرتے ہوئے وہیں سے ویڈیو چلائی جہاں سے ماریہ کا قتل ہوا۔ اس روح فرسا منظر پر سب کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ ظفر کی بے چین آنکھیں سکرین ٹٹولنے لگیں۔

’’مگر یہ سب کس نے کیا، کوئی دکھائی کیوں نہیں دے رہا اور کہاں ہے وہ لڑکی تم جس کی بات کر رہے تھے۔‘‘

’’آپ نے وڈیو غور سے نہیں دیکھی۔‘‘ یہ کہہ کر ساحل نے ویڈیو کو تھوڑا سا ریورس کیا۔

اس نے سکرین پر انگلی رکھی

’’یہ دیکھیں آنٹی ماریہ کی گردن کے قریب یہ ستارہ ٹمٹما رہا ہے تھوڑی ہی دیر میں ان کی گردن سے لہو بہنے لگتا ہے۔ آپ اپنی نظریں روشنی کے اس ڈاٹ پر مرکوز رکھیں۔‘‘ اس نے ایک بار پھر روشنی کے اس ڈاٹ کی طرف اشارہ کیا

’’یہ دیکھو یہ ہوا میں حرکت کرتا ہوا اسی جگہ اوپر نیچے حرکت کر رہا ہے جہاں میں نے اس تتلی کو دیکھا تھا۔‘‘

زبیر اور توقیر کی آنکھوں میں حیرت اور خوف تھا ۔

زبیر نے توقیر کی طرف دیکھا اور معنی خیز انداز میں کہا

’’یہ نظر انداز کیا جانے والا کوئی روشنی کا ڈاٹ نہیں یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دور سے دکھائی دینے والا ٹمٹماتا ہوا ستارہ۔ جس میں آگ دہک رہی ہو مگر یہ ہے کیا؟‘‘

ساحل ویڈیو بند کرکے ان کے قریب بیٹھ گیا

’’میں جو کہنے جا رہا ہوں آپ کے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہے لیکن یہ سب سچ ہے۔

میں نے خود ایک لڑکی کو سفید فراک میں آنٹی ماریہ کے قریب دیکھا تھا جیسا کہ میں نے آپ کر پہلے بتایا ہے کہ جونہی اس لڑکی کے دانتوں پر لہو لگا اس کا لباس سات رنگوں میں بدل گیا اور پھر وہ ایک خوبصورت تتلی کا روپ دھار گئی اس تتلی کے پروں پر بھی وہی سات رنگ تھے جو اس لڑکی کے لباس پر تھے۔ یہ ڈاٹ اسی پراسرار لڑکی کے وجود کی نشاندہی کر رہا ہے۔‘‘

توقیر نے ساحل کی بات کا مفہوم بیان کرنے کی کوشش کی۔

’’تمہارا کہنے کا مطلب ہے کہ جو قتل ہو رہے ہیں ان کے پیچھے کسی انسان کا ہاتھ نہیں بلکہ مافوق الفطرت مخلوق ہے جیسے آسیب یا روح یا کوئی شیطانی طاقت۔‘‘

ظفر بھی کسی گہری سوچ میں کھویا کھویا بولا

’’ساحل ٹھیک کہہ رہا ہے کیونکہ میں نے شمعون کی گردن پر وہی دو دانتوں کے نشان دیکھے تھے جو ماریہ کی گردن پر تھے۔ شمعون کی اور اس کے ساتھیوں کی اموات بھی بہت پراسرار تھیں ان کے جسم بھی جھلس گئے تھے کوئی ان کی موت کی وجہ نہیں جان سکا اور تابش اور مہک کی اموات بھی اسی طرح سے بہت عجیب تھیں اور پھر حوریہ کا اس واقعہ کا ذکر کرنا جب ایک مردہ لڑکی میں رخسانہ نے حوریہ کی آواز سنی۔۔۔کسی بڑے راز کی طرف اشارہ ہے۔‘‘

زبیر جو خاموشی سے سب کی باتیں سن رہا تھا ظفر سے مخاطب ہوا

’’کوئی رائے قائم کرنے کے لیے یہ سب باتیں کافی نہیں ہیں۔۔۔یہ سب قتل کرنے والا کوئی انسان ہے درندہ ہے یا کوئی ہوائی مخلوق یہ جاننے کے لیے ہمیں کوئی ٹھوس ثبوت ڈھونڈنا ہوگا۔‘‘

ساحل نے زبیر کی طرف دیکھا

’’قتل کرنے والا چاہے انسان ہو یا روح، ہمیں ایک ٹیم بنانی ہوگی۔ پولیس پر بھروسا کرکے ہم نے کتنا وقت برباد کیا، ہم خود اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔‘‘

ظفر نے بھی ساحل کی تائید کی

’’میرا خیال ہے کہ ساحل بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ہمیں مزید دیر نہیں کرنی چاہئے۔ ہمیں ایک ٹیم بنانی ہوگی یہ کام پر خطر بھی ہے اور پیچدہ بھی۔ میں توقیر اور زبیر تو اتنے پھرتیلے نہیں میرا خیال ہے کہ ساحل اور عارفین کو ہم بھاگ دوڑ کا کام سونپیں گے باقی جو ہم کر سکے کریں گے۔‘‘ توقیر کسی سوچ میں کھویا ہوا تھا۔

ظفر نے اسے ٹوکا

’’تم سن رہے ہو نا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں تم کس سوچ میں گم ہو۔‘‘

’’میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ساحل اور عارفین کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے تو مجھے پروفیسر حسنان کا خیال آیا ہے۔ ہمیں ویسے بھی سارا معاملہ ان سے ڈسکس کرنا چاہئے ہم نے انہیں بالکل لاتعلق کر رکھا ہے وہ ہماری بہت مدد کر سکتے ہیں۔‘‘

توقیر کی اس بات پر ظفر نے کہا

’’یہ تو تم نے بڑی اچھی بات کہی ہے۔ ویسے بھی میرے ذہن میں کتنے ہی سوال اٹھے ہیں جس کا جواب پروفیسر حسنان ہی دے سکتا ہے۔ تمہیں یاد ہے کہ پروفیسر کو شک تھا کہ ہمارے بچوں نے میوزیم سے کچھ Stuffedچرائے ہیں۔ اگر وشاء ، خیام ، فواد اور حوریہ نے Stuffedچرائے ہوں تو انہوں نے اس کا کیا ہوگا۔‘‘

ایک جھرجھری سی جیسے ساحل کے پورے وجود سے گزر گئی وہ تھرتھراتی آواز میں بولا

’’ہاں۔۔۔ان Stuffedمیں ایک تتلی بھی تھی۔‘‘

ظفر نے سوالیہ نظروں سے ساحل کی طرف دیکھا

’’تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘

’’ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا ۔ ہمیں ان ویمپائرز کا پتہ لگانا ہوگا جو لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔‘‘ ساحل نے کہا۔

’’مگر ہم کس طرح ان ویمپائرز تک پہنچ سکتے ہیں۔‘‘ زبیر نے پوچھا۔

’’حوریہ کے ذریعے ہم ان تک پہنچ سکتے ہیں۔‘‘ ساحل نے پُر یقین لہجے میں کہا۔

’’مگر حوریہ۔۔۔؟‘‘ توقیر پریشانی میں کچھ کہنے لگا۔

ظفر اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا

’’تم نے کہا تھا نا کہ ہم حوریہ کو عامل کے پاس لے جائیں گے۔ تم اپنی بات پر قائم رہو، عامل جو کچھ بھی کرے گا ہمارے سامنے کرے گا حوریہ کو کچھ نہیں ہوگا۔ یہ سب بہت ضروری ہے تم اس بات پر یقین کر لو کہ حوریہ ذہنی مریض نہیں ہے۔‘‘

توقیر سر جھکائے خاموشی سے بیٹھ گیا۔ ظفر نے دوبارہ بات شروع کی۔

’’ہم خواتین کو اس مشن سے دور ہی رکھیں گے۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کل ہی پروفیسر حسنان اور عارفین سے ساری بات کریں گے۔ یہاں سے تقریباً تین گھنٹوں کے فاصلے پرایک گاؤں ہے وہاں ایک بزرگ ہیں ہم نے کافی سنا ہے ان کے بارے میں۔ہم حوریہ کو وہاں لے جائیں گے حوریہ کو شک نہ ہو اس لیے رخسانہ اور توقیر کو جانا ہوگا ساتھ میں بھی چلا جاؤں گا۔‘‘

توقیر رضا مند ہوگیا۔ وہ سارے آدھا گھنٹہ اور گفتگو میں مصروف رہے پھر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ اگلی صبح ماریہ کے قُل تھے۔ دوپہر تک ظفر اور راحت مہمانوں میں اور کچھ مذہبی رسومات میں مصروف رہے۔ توقیر، زبیر اور وقار احمد کی فیملیز بھی وہیں تھیں۔

دوپہر کے بعد ظفر نے ان سب کو رکنے کے لیے کہا اور سارے وسوسے اور خدشات بیان کیے جو ان اموات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ جو کچھ ظفر کہہ رہا تھا وہ بھیانک حقائق سب کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔

بحرحال عارفین ان کی ٹیم میں شامل ہوگیا۔ تقریباً چار بجے وہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ گئے مگر توقیر اور رخسانہ ، حوریہ ، ظفر کے گھر ہی تھے۔ آدھے گھنٹے کے بعد توقیر، رخسانہ اور حوریہ کے ساتھ ظفر اس گاؤں کے لیے روانہ ہوگئے جہاں اس بزرگ کی حویلی تھی۔

تین گھنٹے کا سفر کافی زیادہ تھا۔ ظفر پچھلی سیٹ پر حوریہ کے ساتھ بیٹھا تھا حوریہ اس طرح منہ بنائے بیٹھی تھی جیسے اسے شک ہوگیا ہو۔ حالات اور واقعات کی وجہ سے سب ویسے ہی پریشان تھے اوپر سے حوریہ کی مسلسل خاموشی ایک خوف سا پھیلائے ہوئے تھی۔ سفر میں خوامخواہ کی رکاوٹیں پیدا ہو رہی تھیں، تین گھنٹے کا سفر چار گھنٹے کا بن گیا تھا۔ بزرگ رحمان سائیں کی حویلی پہنچے تو انہوں نے ان سب کو مہمان خانہ میں بٹھایا۔ ملازم نے چائے پیش کی تو رخسانہ نے ملازم سے پوچھا۔

’’سائیں کی فیملی بھی یہیں رہتی ہے۔‘‘

’’نہیں۔۔۔بیگم صاحبہ! یہاں سائیں جی اور ان کے ملازم رہتے ہیں۔ سائیں جی کے گھر والے تو دوسرے گاؤں میں رہتے ہیں آپ بس یہ چائے پئیں،سائیں جی آرہے ہیں۔‘‘

ملازم کے جانے کے تھوڑی دیر بعد سائیں جی مہمان خانہ میں داخل ہوئے۔ سائیں جی کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہی حوریہ نے دروازے پر ٹکٹکی باندھ لی تھی۔ اسے جیسے سائیں جی کی آمد کا پہلے ہی پتہ چل گیا تھا۔ سائیں جی بھی کمرے میں داخل ہوتے ہی جیسے پتھر کے ہوگئے ۔وہ مسلسل حوریہ کی طرف دیکھتے رہے اور حوریہ بھی ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے اس طرح گھور رہی تھی جسیے اسے دھمکی دے رہی ہو کہ وہ اس کا راز افشا نہ کرے۔

توقیر نے حوریہ کو ٹوکا۔ ’’حوریہ نظریں نیچے کرو بزرگوں کو اس طرح دیکھتے ہیں۔‘‘

سائیں رحمان مسکراتے ہوئے تحمل سے بیٹھ گئے

’’اسے کچھ مت کہیں یہ آپ کی تابع ہے۔‘‘ ظفر نے اور رخسانہ نے سائیں کو سلام کیا اور پھر اپنا موقف بیان کیا۔ بزرگ نے انہیں اشارہ کیا کہ حوریہ کے سامنے مزید کچھ اور نہ بتائیں۔ پھر انہوں نے حوریہ کی آنکھیں دیکھیں۔ اس کی نبض چیک کی اور رخسانہ سے مخاطب ہوا۔

’’آپ بیٹی کو حویلی دکھائیں۔‘‘

رخسانہ سمجھ گئی کہ سائیں ظفر اور توقیر سے اکیلے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ حوریہ کو لے کر باہر چلی گئی۔ سائیں، توقیر سے مخاطب ہوا

’’اب آپ مجھے سب تفصیل سے بتائیں۔‘‘

توقیر نے سب کچھ سائیں کو بتایا۔ سائیں ساری صورت حال جان کر پریشان ہوگئے

’’میں حوریہ کو دیکھ کر کچھ باتیں تو جان گیا ہوں لیکن ابھی میں آپ سے کچھ نہیں کہوں گا آپ مجھے حوریہ کی تاریخ پیدائش لکھوا دیں۔ میں اس کا حساب نکال لوں تو پھر میں خود آپ لوگوں سے رابطہ کروں گا آپ سب بہت بڑی مصیبت میں گھر گئے ہیں۔ بہت اچھا کیا جو میرے پاس آگئے مجھ سے جو کچھ ہوسکا میں کروں گا۔‘‘

یہ کہہ کر اس نے مٹی کی ہانڈی سے کچھ تعویذ نکالے اور وہ تعویذ ظفر کے ہاتھ میں دے دیئے۔

’’میں آپ کو ایک مشورہ دوں آپ سب دوست اپنی فیملیز سمیت ایک ہی جگہ ٹھہر جائیں۔ یہ تعویذ پانی میں بھگو کر گھر کے سارے کونوں میں چھڑک دیں۔ خدا کے فضل سے جو بھی ہے وہ اس گھر میں آپ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ جب تک کوئی واضح حقیقت سامنے نہیں آجاتی آپ لوگوں کو ایک ہی جگہ رہنا چاہئے آج رات حوریہ کا حساب نکال کر میں کل خود آپ کے گھر آؤں گا۔ آپ مجھے اپنا گھر سمجھا دیں۔‘‘

ظفر نے بزرگ کو اپنا گھر سمجھا دیا اور پھر وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوگئے۔

اگلے روز توقیر اور رخسانہ ، حوریہ کے ساتھ ظفر کے گھر پر ہی تھے۔ حوریہ اندر لیونگ روم میں بیٹھی تھی۔ ظفر نے توقیر اور رخسانہ کو باہر لان میں بیٹھنے کے لیے کہا، ابھی صبح کے نو بج رہے تھے۔ باہر بیٹھنے کے بعد رخسانہ نے پیچھے کی طرف دیکھا کہ کہیں حوریہ ان کے پیچھے باہر تو نہیں آرہی پھر اس نے ظفر سے بات شروع کی

’’ظفر بھائی رات توبہم آپ کے گھر اس لیے ٹھہر گئے تھے کہ سفر میں دیر ہوگئی تھی مگر اب ہمیں چلنا چاہئے۔۔۔بزرگ کی یہ بات ہمارے لیے ناممکن ہے کہ ہم سب اپنے گھر چھوڑ کر ایک ہی جگہ پر رہیں۔‘‘

’’مگر بھابی اس بزرگ نے کوئی ایسی بات محسوس کی ہوگی تب ہی تو ایسا کہا ہے یہ ضروری ہے کہ ہم کسی بڑی مصیبت میں گرفتار ہوں تو ہی ہوں۔۔۔ہم احتیاط تو کر سکتے ہیں۔‘‘

توقیر جو خاموشی سے ظفر کی بات سن رہا تھا رخسانہ کی طرف متوجہ ہوا۔

’’ہم یہ بھی کر سکتے ہیں کہ ظفر اور ہم لوگ اور زبیر اور وقار احمد کی فیملی ایک ساتھ رہ لیں۔‘‘

رخسانہ نے نفی کے اندازمیں سر ہلایا۔

’’کوئی تمہاری بات نہیں مانے گا، کس بنا پر کوئی یہ فیصلہ لے گا صرف ایک وہم کی بنیاد پر۔‘‘

ظفر نے ہاتھ سے بحث کو ختم کرنے کا اشارہ کیا

’’یہ فیصلہ ہم بعد میں کر لیں گے ابھی تو میں سائیں رحمان کو اپنے گھر آنے کے لیے کہہ چکا ہوں جب تک وہ نہیں آتے آپ لوگ یہیں ٹھہریں دوپہر تک باقی سب بھی آرہے ہیں ایک بار بزرگ کی بات سن لیں پھر آگے کا سوچیں گے۔‘‘

رخسانہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی

’’وہ بزرگ میری حوریہ کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچائیں گے۔‘‘

ظفر نے اسے تسلی دی

’’وہ صرف حوریہ سے بات کریں گے، ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

توقیر خاموشی کی گہری سوچ میں گم تھا

’’تم کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ ظفر نے توقیر سے پوچھا۔

’’ویسے یہ عجیب بات ہے ، سائیں نے یہ کیوں کہا کہ فواد اور خیام کے گھر والے بھی موجود ہوں، عامل تو ایسے کاموں میں تنہائی چاہتے ہیں اور حوریہ بھی شاید پسند نہ کرے۔“ توقیر نے کہا۔

’’اس میں اتنا سوچنے والی کیا بات ہے۔ وہ جو کچھ پوچھنا چاہتے ہوں گے اس کا تعلق وشاء، فواد اور خیام سے بھی ہوگا شاید ان کے بارے میں ہمیں علم ہو جائے گا۔ ویسے بھی جب بزرگ چاہیں گے تو ہی ہم ان کے پاس جائیں گے۔‘‘

توقیر جلدی سے بولا

’’رخسانہ اور میں حوریہ کے پاس ہی رہیں گے۔‘‘

’’ہاں۔۔۔تم لوگ حوریہ کے پاس ہی رہنا۔‘‘ ظفر نے توقیر کو تسلی دی۔

دوپہر تک ان کے دوسرے دوست اور ان کی فیملیز بھی آگئیں۔ تقریباً چار بجے تک قرآن خوانی ہوتی رہی۔ پانچ بجے کے قریب سائیں جی کے خاص بندے کا فون آیا کہ سائیں جی تقریباً سات بجے کے قریب آپ کے گھر پہنچ جائیں گے۔

ظفرکو یہ جان کر تسلی ہوگئی کہ سائیں جی کے آنے تک خاص دوستوں کے علاوہ باقی سب لوگ جا چکے ہوں گے۔ ظفر کے گھر ایک بڑا سانحہ ہوا تھا وہ خود ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں آسکا تھا مگر ان کی چھٹی حس انہیں اشارہ کر رہی تھی کہ خطرہ ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے اس لیے وہ اس خطرے سے نبرد آزما ہونے کی تیاری کرنے لگے تھے۔

سورہ یاسین الماری میں رکھنے کے بعد رخسانہ بجھی بجھی سی توقیر کے پاس آبیٹھی۔

’’حوریہ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا بس گم صم سی بیٹھی ہے ۔۔۔یہی کہتی ہے کہ مجھے بھوک نہیں ہے۔ نہ ہاتھ منہ دھویا ہے نہ بال سنوارے ہیں عجیب سی حالت بنائی ہوئی ہے۔‘‘

’’کوئی جوس وغیرہ دے دو یا پھل دے دو۔‘‘ توقیر نے کہا۔

’’جوس بھی لے گئی تھی اور پھل بھی کمرے میں رکھ دیئے ہیں مگر وہ کچھ نہیں لے رہی۔۔۔آپ جائیں شاید وہ آپ کی بات مان لے۔‘‘

توقیر اندر کمرے میں حوریہ کے پاس گیا۔ وہ واقعی عجیب سی حالت میں دیوار سے سر ٹکائے بیٹھی تھی۔ توقیر اس کے قریب بیٹھ گیا۔

’’کیا بات ہے حوریہ اپنا کیا حال بنا رکھا ہے۔‘‘

حوریہ نے غصیلی نظروں سے توقیر کی طرف دیکھا

’’آپ لوگ مجھ سے جھوٹی ہمدردیاں نہ کیا کریں۔‘‘

’’بیٹی تم کیسی بات کر رہی ہو۔ تمہارے اندر تو ہماری جان پھنسی ہے۔‘‘

’’جھوٹ بولتے ہیں آپ اگر مجھ سے پیار کرتے ہیں تو سائیں کو کیوں بلا رہے ہیں۔ وہ مجھے اذیتیں دے گا۔‘‘

’’وہ تمہیں بھلا کیوں اذیتیں دے گا۔ میں اور تمہاری امی تمہارے پاس ہوں گے۔ وہ بس تم سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘ رخسانہ اورنج جوس لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔

’’یہ لیں اپنی بیٹی کو خود اپنے ہاتھ سے جوس پلائیں۔“ توقیر نے جوس کا گلاس لیا اور حوریہ کی طرف بڑھایا۔ حوریہ نے آرام سے جوس پی لیا۔

توقیر نے اس کے سر پر پیار دیا۔ ’’گڈ گرل‘‘ رخسانہ کو بھی کچھ تسلی ہو گئی۔ توقیر اور رخسانہ سب کے ساتھ باہر لان میں بیٹھ گئے۔ لان میں فواد کے والدین وقار احمد اور ایمن اور خیام کے والدین زبیر اور ماہین سب موجود تھے۔ اتنے لوگوں کی موجودگی میں بھی خوف کا سناٹا محو گشت تھا


کسی کے پاس جیسے کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ ان کے ذہنوں میں بے شمار سوالات تھے مگر ان کے جواب کسی کے پاس نہ تھے۔ سب کے من کو ایک کھٹکا لگا تھا۔۔۔جیسے کچھ ہونے والا ہے۔

کچھ دیر کے بعد ملازم نے ظفر کو بتایا کہ باہر کوئی بزرگ آئے ہیں۔ ظفر نے ملازم سے انہیں اندر بلانے کو کہا۔ سائیں رحمان اپنے دو مریدوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے۔

ظفر نے انہیں باہر لان میں ہی بٹھایا۔ اس نے گھنے درختوں والی سائیڈ کی طرف ایک چارپائی بچھا دی۔ انہوں نے ان کی خاطر تواضع کرنی چاہی تو انہوں نے ہر چیز سے منع کر دیا صرف سادہ پانی مانگا۔۔۔اور بہت جلد ہی وہ اصل بات کی طرف آگئے’’مجھے حوریہ سے ملنا ہے۔‘‘

توقیر اور رخسانہ، سائیں کے قریب ہو کے بیٹھ گئے۔ ’’سائیں جی آپ نے حوریہ کا حساب نکالا تھا کوئی پریشانی کی بات تو نہیں ہے۔‘‘

سائیں نے تشویش بھری نظروں سے رخسانہ کی طرف دیکھا

’’آپ مجھے بتائیں کہ آپ نے حوریہ کی تاریخ پیدائش اور دوسری معلومات درست دی تھیں۔‘‘

’’جی سائیں۔۔۔ بالکل صحیح بتائی تھی‘‘ توقیر نے کہا۔

بزرگ نے تاسفانہ انداز میں نگاہیں جھکا لیں۔

’’میرے حساب کے مطابق تو حوریہ کو مرے ایک سال ہوگیا ہے۔‘‘

رخسانہ تڑپ کر رہ گئی جیسے کسی نے اس کے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہو۔

’’آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔‘‘

بزرگ کی اس بات سے سب چونک گئے۔ ساحل بزرگ کے قریب آیا اور حیرت سے پوچھنے لگا۔

’’جو حوریہ ہمارے ساتھ رہ رہی ہے وہ کون ہے۔‘‘

’’میں اسی کا تو پتہ لگانے آیا ہوں۔۔۔؟‘‘

توقیر اشتعال انگیزی میں اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا۔

’’یہ بزرگ کیسی باتیں کر رہے ہیں، میں اسی لیے کہتا تھا کہ ان بزرگوں کے چکر میں نہ پڑیں۔ میری حوریہ زندہ ہے اور ہمارے ساتھ ہے۔‘‘

ظفر نے توقیر کو شانوں سے پکڑتے ہوئے بٹھایا۔

’’سائیں جی کو حوریہ سے بات تو کرنے دو، اس طرح بولو گے تو سائیں جی اپنا کام کیسے کریں گے۔‘‘

توقیر چیخ چیخ کر بولنے لگا۔

’’یہ میری حوریہ کو اذیتیں دیں گے مجھے حوریہ کو انہیں نہیں دکھانا۔‘‘

سائیں جی نے اپنا ہاتھ ہوا میں اکڑا لیا

’’اسے بچانے کی کوشش کر رہے ہو جو زندہ ہی نہیں ہے۔‘‘

ظفر نے توقیر کو سمجھایا اور زبیر اور ماہین نے رخسانہ کو سمجھایا اور انہیں بمشکل آمادہ کیا کہ سائیں جی کو حوریہ سے بات کرنے دیں۔ سائیں جی درخت کے قریب بچھی چارپائی پر بیٹھ گئے اور ظفر سے گویا ہوئے۔

’’حوریہ کو ادھر لے آؤ۔ کھلی ہوا میں، درختوں کے قریب اس سے پوچھنا زیادہ بہتر ہو گا۔‘‘ رخسانہ اندر سے حوریہ کو لے آئی۔

سائیں جی کی چارپائی کے قریب رکھی ہوئی کرسی پر حوریہ بیٹھ گئی۔

سائیں جی نے سب کی طرف نظر دوڑائی۔ رخسانہ ، توقیر ، ساحل اور ظفر ان کے قریب ہی بیٹھے تھے باقی لوگ کچھ فاصلے پربیٹھے تھے۔ بابا جی نے کسی کو بھی جانے کے لیے نہیں کہا۔

انہوں نے حوریہ سے بہت پیار سے پوچھا

’’آپ کا کیا نام ہے بیٹی۔۔۔‘‘

حوریہ نے انتہائی معصومیت سے کہا

’’یہ سب کہتے ہیں کہ میرا نام حوریہ ہے اس لیے آپ بھی سمجھ لیں کہ میں حوریہ ہوں۔‘‘

’’آپ کے ذہن میں کیسا خاکہ ہے آپ کے گھر آپ کے والدین کا۔۔۔‘‘

’’میرے والدین اور میرے گھر کا جس طرح کا خاکہ مدھم سا میرے ذہن میں ہے وہ نہ تو ان لوگوں جیسا ہے اور نہ اس گھر جیسا۔‘‘ حوریہ نے اداس لہجے میں کہا۔

سائیں جی نے اپنے تھیلے سے سفید رنگ کی پانی کی بوتل نکالی اور توقیر سے ایک کرسی منگوا لی۔ توقیر کرسی لے آیا۔ سائیں جی نے وہ کرسی حوریہ کی کرسی کے قریب رکھی اور پانی کی بوتل لے کر حوریہ کے پاس بیٹھ گیا۔

’’میں جو پڑھ رہا ہوں اسے غور سے سنو۔‘‘ یہ کہہ کر سائیں جی نے سورہ بقرہ کی آیت پڑھنا شروع کی۔

وہ بوتل کو اپنے منہ کے قریب لے جا کے اس طرح آیتیں پڑھ رہے تھے کہ آواز سے بوتل کے پانی میں ارتعاش پیدا ہو رہا تھا۔

حوریہ سکتے کی سی کیفیت میں آیتیں سنتی رہی پھر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ سائیں نے لمحہ بھر کے لیے پڑھنا چھوڑا اور توقیر سے کہنے لگا

’’دو خواتین حوریہ کے قریب کھڑی ہو جائیں۔‘‘

رخسانہ اور ایمن حوریہ کی کرسی کے قریب کھڑی ہوگئیں۔ سائیں جی نے پھر دوبارہ اسی انداز سے پڑھنا شروع کر دیا۔

رخسانہ کی نظر حوریہ کے بازوؤں پر پڑی بوتل کے پانی جیسی تھرتھراہٹ اس کے جسم میں بھی تھی۔ اس کے بازوؤں کی جلد اس طرح کانپ رہی تھی کہ رخسانہ نے خوفزدہ ہوتے ہوئے ایمن کی طرف دیکھا۔۔۔ایمن نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ رفتہ رفتہ حوریہ کے پورے جسم میں تھرتھراہٹ محسوس ہونے لگی مگر اس نے آنکھیں نہیں کھولیں۔ پھر اس کا جسم کرسی پر سے پھسلتا ہوا زمین کی طرف ڈھیر ہونے لگا۔

رخسانہ آگے بڑھ کر حوریہ کر پکڑنے لگی تو سائیں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسے ابھی کوئی ہاتھ نہ لگائے وہ مسلسل اونچی آواز میں سورۃ بقرہ کی آیتیں پڑھتے رہے۔ اسی دوران انہوں نے اپنے مرید کو کچھ اشارہ کیا۔

مرید اپنی جگہ سے اٹھا اس نے تھیلے سے ایک چاک نکالا اور جہاں سب لوگ کھڑے تھے وہاں منہ میں کچھ پڑھتے ہوئے چاک سے دائرہ کھینچ دیا اور ظفر سے مخاطب ہوا

’’سائیں جی چاہتے ہیں کہ جو یہاں رکنا چاہتا ہے وہ اس دائرے میں آجائے۔‘‘

ان سب نے سائیں کی بات مانی ا ور سب ایک ہی دائرے میں کھڑے ہوگئے۔ حوریہ زمین پر لیٹی کانپ رہی تھی۔ پھر ایک دم اس کے جسم سے کپکپاہٹ ختم ہوگئی۔ جس کے ساتھ ہی سائیں نے پڑھنا چھوڑ دیا اور حوریہ کو ہاتھوں اور پیروں میں زنجیریں ڈال کر اس زنجیر کا سرا درخت سے باندھ دیا۔ توقیر چلا کر بولا’’یہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟‘‘

سائیں نے سختی سے اپنا ہاتھ اکڑایا

’’دائرے سے باہر مت آنا، میں اسے کوئی اذیت نہیں دے رہا، اب میرے عمل کے دوران مت بولنا ورنہ نقصان کے ذمہ دار تم خود ہو گے‘‘

ظفر نے توقیر کو شانوں سے پکڑ کے روکا اور اسے سمجھایا۔ سائیں زمین پر حوریہ کے قریب بیٹھ گیا۔ اس نے حوریہ کی پیشانی پر انگوٹھا رکھا تو حوریہ اس طرح تڑپنے لگی جیسے کسی نے اس کی پیشانی پر دہکتا کوئلہ رکھ دیا ہو۔

سائیں اپنی بھاری آواز میں بولا

’’کون ہو تم؟‘‘ حوریہ نے آنکھیں کھولیں تو اس کی آنکھوں میں بے حسی اور جارحانہ پن تھا۔

’’کون ہو تم۔۔۔؟‘‘ سائیں نے اپنا سوال دہرایا۔

’’میں حوریہ ہوں۔‘‘ وہ ڈبل آواز میں بولی۔ ایک موٹی اور ایک باریک۔ اس کی آواز میں سیٹی کی سی چیخ تھی جو بات ختم ہونے کے بعد بھی فضا میں گونجتی رہتی تھی۔

’’مجھے سچ سچ بتاؤ ورنہ میں تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہوں۔‘‘

سائیں کی اس دھمکی پر وہ اونچا اونچا ہنسنے لگی

’’میں حوریہ ہی ہوں مگر میرے پاس وہ ناتواں کمزور جسم نہیں جسے تم نقصان پہنچا سکو، میں تو ہوا ہوں، شیطانی طاقتوں کی ملکہ، کسی بھی وقت کہیں بھی کوئی بھی روپ دھار سکتی ہوں۔ میرے معاملات میں دخل اندازی مت کرو ورنہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گے۔‘‘

حوریہ کی زبان سے یہ سب سن کے رخسانہ اور توقیر پر سکتہ طاری ہوگیا۔

دائرے میں کھڑے ہوئے سب لوگ ہی حواس باختہ تھے۔ سائیں نے ایک بار پھر پانی کی بوتل میں پڑھنا شروع کر دیا۔ حوریہ کسی جانور کی طرح دھاڑیں مارنے لگی اور اپنے جسم کو زور زور سے پٹختے ہوئے زنجیریں توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ رخسانہ تو منہ پہ دوپٹہ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

سائیں جی جوں جوں پڑھتے جا رہے تھے حوریہ کی تڑپن بڑھتی جا رہی تھی۔ سائیں نے بوتل میں سے تھوڑا سا پانی نکال کر اس کے چہرے پہ چھڑکا تو اس کی دلخراش چیخیں فضا میں گونجنے لگیں۔ اس نے انگاروں کی طرح دہکتی آنکھیں سائیں کے چہرے پر گاڑ دیں۔

’’تو نے زنجیریں اس لڑکی کے جسم پر ڈالی ہیں، مجھ پر نہیں، ایک بار مجھے اس جسم سے باہر آنے دے، مجھ پر سے اپنا عمل ختم کر دے، ورنہ میں اس لڑکی کو ختم کر دوں گی۔‘‘

سائیں نے اپنے لہجے کی تلخی تھوڑی کم کی اور تحمل سے کہا

’’تم میرے چند سوالات کے جواب دے دو پھر تم اس جسم سے چلی جانا۔ اگر تم ہوا ہو تو اس ناتواں جسم کی مالک لڑکی کون ہے اور اسکا چہرہ تمہارے جیسا کیسا ہے۔‘‘

حوریہ سرگوشی کے انداز میں بولی

’’یہ ثناء ہے میں نے اپنی طاقت کے بل پر اس کے چہرے کو اپنا روپ دے دیا۔ میں اور کیا کچھ کر سکتی ہوں، تمہیں اندازہ نہیں ہے۔‘‘

سائیں نے پھر دوبارہ ہونٹوں کی تیز جنبش کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیا۔ سائیں کے دونوں مرید بھی کتابیں کھولے خاص کلام پڑھ رہے تھے۔ پورے ماحول میں خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔

حوریہ کے چہرے کی جلد پتھریلی اور بے جان دکھائی دے رہی تھی۔ کسی مردے کی طرح اس کے پورے جسم کی رنگت سیاہی مائل ہو رہی تھی۔

’’خیام ، فواد اور وشاء کہاں ہیں؟‘‘

سائیں کے پوچھنے پر حوریہ نے قہقہہ لگایا

’’ہم چاروں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ تھوری دیر تک وہ تینوں خود یہاں آجائیں گے پھر دیکھ لینا کہ وہ کیسے ہیں۔۔۔جب بھی ہم میں سے کوئی مصیبت میں ہوتا ہے ہمیں خبر ہو جاتی ہے اور ہم وہاں پہنچ جاتے ہیں۔‘‘

تھوڑی دیر کے لئے تو سائیں کے چہرے پر خوف کے تاثرات عیاں ہوگئے مگر اس نے خوف کو خود پہ حاوی کیے بغیر پانی کی بوتل پر آیات پڑھنا شروع کر دیں۔ پانی کے ارتعاش کے ساتھ ساتھ حوریہ کے جسم کی کپکپاہٹ بھی بڑھ گئی۔

اس کا مقصد حوریہ کی روح کو اس معصوم لڑکی کے جسم سے باہر نکالنا تھا۔ سائیں کا عمل جاری تھا۔ دائرے میں کھڑے ہوئے لوگ سکتے کی سی کیفیت میں یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے۔اچانک لان کے پھولوں پر ایک خوبصورت تتلی منڈلانے لگی اور ساتھ سیاہ دھویں کی بدلی ہوا میں نمودار ہوئی۔ پڑھتے پڑھتے جیسے سائیں کی زبان پہ بل آگیا، ان کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوگئیں۔

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگے کسی پُر اسرار غیبی طاقت کی آمد کا انہیں احساس ہوگیا۔ چند ساعتوں کے لیے ہی ان کا حوریہ پر سے دھیان ہٹا تو حوریہ کی روح اس لڑکی کے جسم سے نکل گئی اور وہ لڑکی ثناء اب اپنی اصل شکل میں تھی۔ سائیں نے جلدی سے اٹھ کر اسے چیک کیا تو وہ مر چکی تھی۔

حوریہ اسے ختم کرکے اس کے جسم سے نکل چکی تھی۔ سائیں کے منہ سے بے اختیار نکلا

’’یہ تو مرچکی ہے۔‘‘

توقیر اور رخسانہ حقیقت سے بے خبر چیختے ہوئے لڑکی کی لاش کی طرف بڑھے۔

سائیں آہنی دیوار کی طرح لاش کے آگے کھڑا ہوگیا

’’تم لوگوں کو دائرے سے باہر نہیں آنا چاہئے تھا۔ ادھر بہت زیادہ خطرہ ہے۔‘‘

توقیر حسب عادت طیش میں بولنے لگا

’’نہ جانے کیا جادو منتر کرکے تم ہمیں بیوقوف بنا رہے ہو اور اب تم نے ہماری بیٹی کو ہی مار ڈالا۔‘‘

سائیں لاش سے پیچھے ہٹ گیا

’’یہ دیکھو کیا یہ تمہاری بیٹی ہے؟‘‘

توقیر اور رخسانہ نے اس لڑکی کو قریب سے دیکھا

’’یہ تو ہماری حوریہ نہیں ہے۔ مگر یہ سب ۔۔۔‘‘ رخسانہ نے پریشانی میں کہا۔

سائیں نے ٹھنڈی آہ بھری

’’یہ ثناء ہے جس کے جسم میں حوریہ کی روح داخل ہوئی تھی اور اسے اپنا روپ دے دیا تھا۔ اب وہ اس کے جسم سے نکلی تو اسے قتل کرکے۔‘‘

اچانک ہی رخسانہ کی آنکھیں باہر کو ابل پڑیں وہ چیخنے لگی۔ توقیر نے اسے شانوں سے پکڑتے ہوئے سنبھالا تو اس نے انگلی سے سامنے کی طرف اشارہ کیا۔ سامنے حوریہ سفید لباس میں ملبوس ہوا میں معلق تھی اس کا جسم ہوائی تھا۔ توقیر رخسانہ کا ہاتھ کھینچتا ہوا اسے دائرے میں لے گیا۔

سائیں اپنے عمل کو دھرانے لگا تو حوریہ شیطانی انداز میں ہنسنے لگی۔۔۔

”اب تمہارا یہ عمل کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ اب میں اکیلی نہیں ہوں‘‘ چند ہی ساعتوں میں حوریہ کے ہوائی جسم کے دائیں طرف ایک تتلی پھڑپھڑانے لگی اور بائیں جانب سیاہ دھویں کی بدلی سی نمودار ہوگئی۔ سب کی آنکھوں کے سامنے تتلی وشاء کے روپ میں بدل گئی اور سیاہ دھواں فواد کے روپ میں۔

تینوں کے چہروں کے نقوش وہی تھے مگر ان کے چہرے اس طرح بھیانک تھے جیسے قبر کے گلے سڑے مردے۔

وشاء اپنے ہوائی وجود کیساتھ ہوا میں پرواز کرتی ہوئی سائیں کے قریب آئی اور اس نے اپنے سامنے کے دو لمبے نوکیلے دانت سائیں کی گردن میں پیوست کر دیئے۔ سائیں کی چیخیں فضا میں گونجنے لگیں۔ فواد نے اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھا اور پھر ہاتھ سے سائیں کے مریدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہوا میں پھونکا۔

دونوں آدمی نہ دکھائی دینے والی آگ میں جھلسنے لگے۔ کچھ لوگ بے اختیار دائرے سے باہر نکلنے لگے تو سائیں نے تڑپتے تڑپتے بھی انہیں رکنے کا اشارہ کیا اور زمین پر گرتے گرتے بھی اس نے اپنی قوت مجتمع کی اور چیخ چیخ کر کہنے لگا

’’دائرے سے مت نکلنا یہ وشاء ، فواد اور حوریہ کی روحیں۔۔۔ان کے ہمزاد ہیں۔ جن کی طاقت عام روح اور جنات سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ان کی اموات کے بعد کی رسومات پوری کرو۔‘‘ زندگی نے سائیں کو اتنی ہی مہلت دی کہ وہ اتنا ہی بتا سکے پھر لقمہ اجل ہوگئے۔ ان کے مرید بھی جھلس کر زمین پر ڈھیر ہوگئے۔

حوریہ، فواد اور وشاء نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا اور غائب ہوگئے۔

اس بھیانک واقعہ کو دو روز گزر گئے۔ سب کا ایک جگہ پر رہنا ممکن نہیں تھا۔ وہ زندگی کے معمولات سے ہٹ کر اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو گئے تھے۔ ایک انجانا سا خوف ہر لمحے ان کے جسموں میں لہو کے ساتھ دوڑنے لگا تھا۔

اپنی اولادوں کو اس طرح شیطانی روپ میں دیکھ کر وہ جیتے جی ہی مر گئے تھے مگر ایک سوال کے سب کے ذہنوں میں گونج رہا تھا۔ خیام کہاں ہے حوریہ کے مطابق وہ چاروں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں تو خیام ان لوگوں میں کیوں نہیں تھا۔

ساحل اور ظفر بیٹھے تھے۔ ظفر جبیں پیمائی کرتے ہوئے کہنے لگا

’’اتنا بڑا شیطانی کھیل، یہ سب تو میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم ٹیم بھی بنا لیں تو بھی ہم اس جنگ میں جیت نہیں سکتے۔ کون ہے جو ان شیطانی طاقتوں سے مقابلے میں ہماری مدد کرے گا۔ سائیں رحمان اور اس کے مرید ہمیں بچاتے بچاتے خود موت کے منہ میں چلے گئے۔‘‘

ساحل نے ظفر کاہاتھ مضبوطی سے تھاما

’’جنگ لڑنے سے پہلے ہی آپ نے شکست قبول کر لی۔ بے شک ہمیں شیطانی طاقتوں سے لڑنا نہیں آتا مگر کوشش کر رہے ہیں۔ آپ جانتے ہیں نا کہ کالے جادو کا توڑ قرآن پاک سے کیا جاتا ہے۔ ہم بھی ہمت نہیں ہاریں گے۔ آپ کی پروفیسر حسنان سے بات ہوئی تھی؟‘‘

’’ہاں۔۔۔میں نے عارفین سے بھی بات کی ہے۔ پروفیسر حسنان اور عارفین ابھی کچھ دیر میں یہاں آنے والے ہیں۔ پورا ایک سال ہم ان چاروں کو ڈھونڈتے رہے۔ کیا معلوم تھا کہ وہ اس روپ میں ہمارے سامنے آئیں گے۔ میں تو اس آس پہ زندہ تھا کہ میری وشاء واپس ضرور آئے گی۔ میں نے تو ایک پل کے لیے بھی اپنے ذہن کو یہ سوچنے کی جسارت نہیں دی کہ میری بیٹی مر گئی ہے۔ ‘‘ ظفر کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور وہ چہرہ چھپائے دوسری طرف منہ کرکے بیٹھ گیا۔

ساحل نے ان کے شانے کو تھپتھپایا۔

’’ہمت کریں انکل۔۔۔انکل توقیر، آنٹی رخسانہ ، انکل زبیر، آنٹی ماہین، انکل وقار احمد اور آنٹی ایمن، ان سب کا اور آپ کا دکھ ایک ہے، ان کی بھی امید آپ کی طرف ٹوٹی ہے۔ وہ بھی خود کو سنبھال نہیں پا رہے مجھے تو اس بات کا شک اسی روز ہوگیا تھا جب آنٹی ماریہ کا قتل ہوا کہ وشاء اور اس تتلی کا کوئی تعلق ہے مگر میرا ذہن اس محیر العقول سچ کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھا کہ وہ تتلی وشاء کا ہی روپ ہے۔‘‘ بات کرتے کرتے ساحل کسی خیال سے چونک گیا

’’ہمزاد۔۔۔کے بارے میں سائیں رحمان کیا کہہ رہے تھے۔‘‘

’’ہمزاد کے بارے میں، میں بھی کچھ نہیں جانتا میں نے کل پروفیسر حسنان سے اس بارے میں بھی بات کی تھی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ان کے پاس کچھ ایسی کتابیں ہیں جن کے مطالعہ سے کچھ معلومات حاصل ہو سکتی ہیں‘‘ اسی دوران باہر بیل ہوئی ساحل نے دروازہ کھولا تو پروفیسر حسنان اور عارفین تھے۔

ساحل انہیں اندر لیونگ روم میں لے آیا جہاں ظفر بیٹھا تھا۔ وہ دونوں ظفر کے ساتھ ہی بیٹھ گئے۔ انہوں نے سارے معاملے پر انتہائی رنج اور افسوس کا اظہار کیا۔ ساحل ان کے لیے کولڈ ڈرنکس لے آیا۔

پروفیسر حسنان نے ہاتھ سے نہیں کا اشارہ کیا

’’ہمارا اس وقت کچھ بھی کھانے پینے میں دل نہیں ہے۔ اتنے لوگوں کی اموات ہوگئی مگر آپ نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔‘‘

پروفیسر کے اس گلے پر ظفر نے بتایا

’’ہم خود اس خوفناک حقیقت سے بے خبر تھے۔ ہم تو اسی امید پر حوریہ کو پہاڑی علاقے میں لے گئے کہ وہ ہمیں وشاء ، خیام اور فواد کے بارے میں کچھ بتائے گی۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ جسے ہم حوریہ سمجھ رہے ہیں وہ حوریہ کی روح ہے۔ ہم تو اپنے بچوں کے زندہ و سلامت واپس آنے کا انتظار کر رہے تھے ہمیں کیا معلوم تھا کہ وہ نہیں بلکہ ان کی روحیں بھٹک رہی ہیں۔‘‘

ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ پروفیسر حسنان نے ظفر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔

’’ہمت رکھو یہ دکھ صرف تمہارے ساتھ نہیں خیام ، فواد اور حوریہ کے و الدین بھی اسی کیفیت سے دوچار ہیں۔ مگر اس وقت آپ اپنے اس دکھ کو نظر انداز کرکے یہ سوچیں کہ دوسرے لوگوں کی زندگیوں کو ہم ان شیاطین سے کیسے بچائیں۔‘‘

سائیں کے کہنے کے مطابق فواد، حوریہ اور وشاء جنہیں تم لوگوں نے دیکھا ہے اصل میں وہ ان کے ہمزاد ہیں اور یہ معمولی بات نہیں۔ کسی بڑے عامل نے ان کے مردہ جسموں سے ان کے ہمزاد مسخر کیے ہیں۔ وہ عامل جب چاہے جس طرح چاہے ہمزاد سے کام کروا سکتا ہے۔ جس طرح حوریہ کے ہمزاد نے ثنا کے جسم میں داخل ہو کے حوریہ کا روپ لے لیا اسی طرح کسی بھی وقت یہ ہمزاد ہمیں دھوکہ دے سکتے ہیں۔

ہمارے جسم میں برائی کی ترغیب دینے والے جن ہمزاد کو موت کے بعد اگر کوئی عامل مسخر کرلے تو وہ ہمزاد سینکڑوں کی طاقت رکھتا ہے۔ اگر کسی عامل کا کنٹرول ہمزاد پر سے ختم ہو جائے تو وہ ہمزاد عاملوں کو بھی ختم کر دیتا ہے۔‘‘

’’آپ ہمیں کچھ تفصیل سے بتائیں گے ہمزاد کے بارے میں‘‘ ساحل نے بے چینی سے پوچھا۔

پروفیسر حسنان نے لمبا سانس کھینچا۔

’’ہمزاد جسے عبرانی میں ’’طیف‘‘ عرابی میں ’’قرین‘‘ یا ہمزات، فارسی میں ہمزاد، اردو میں ہمسایہ یا ہمنام سنسکرت میں ”سایہ“ اور انگریزی میں

”Duplicat Spiritual Body“۔

جبکہ اسلامی ماہرین روحانیت اسے’’جسم لطیف‘‘ یا ’’جسم مثالی‘‘ کہتے ہیں۔

روحانیت کی رو سے ہر کسی کے دو جسم ہوتے ہیں ۔ ایک مادی، مرئی ، کثیف اور ظاہری جبکہ دوسرا روحانی غیر مرئی لطیف اور باطنی جسم ہوتا ہے اسی روحانی، غیر مرئی لطیف اور باطنی جسم کو ہمزاد کہتے ہیں۔۔۔جو مادی، مرئی، کثیف اور ظاہری جسم کی موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے۔

کیونکہ ہمزاد جسم لطیف ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ زمان و مکان’’Timed and Space‘‘ کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ اپنی اس خوبی کی وجہ سے ہمزاد دنیا کے کسی بھی گوشہ میں پہنچ سکتا ہے اور ہر قسم کی خبر اپنے عامل کو لا کے دے سکتا ہے۔ بعض عملیات کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے ہمزاد اس قدر طاقتور ہوتے ہیں کہ وزنی سے وزنی چیز اٹھا سکتے ہیں۔ عامل کو دنیا کی سیر کراسکتے ہیں۔ جو چاہے روپ لے سکتے ہیں۔

لہٰذا ہر دور میں لوگ ہمزاد کی تسخیر کرتے آئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ہمزاد مسخر کرلے تو وہ دنیا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ساری صورت حال کا جائزہ لو تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ خیام، فواد اور وشاء اور حوریہ نے سپر پاور بننے کے لیے زندگی کو نظر انداز کر دیا۔ لوگوں کے دل و دماغ پر حکومت کرکے اپنا آپ منوانے کے لیے وہ کالے جادو جیسے علم کی طرف مائل ہوگئے۔ اس بھیانک علم کی گرفت نے انہیں گمراہ کر دیا انہوں نے میوزیم سے کچھStuffedچرائے۔ جن میں ایک تتلی بھی تھی۔ ان کی گمراہی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی عامل نے ان کے ہمزاد مسخر کر لیے اور ان کے مادی وجود کو موت کی نیند سلا دیا۔ ہمیں کسی طرح اس عامل کو ڈھونڈنا ہوگا۔‘‘

’’ابھی فی الحال ہمیں کیا کرنا ہوگا۔‘‘ ظفر نے اپنے دونوں ہاتھ اکڑا لیے۔

پروفیسر نے ساحل اور ظفر کی طرف دیکھا

’’سب سے پہلے وہ کام کرو جو سائیں نے کہا تھا۔‘‘

’’کیا۔۔۔؟‘‘ ساحل نے پوچھا۔

پروفیسر نے متاسفانہ انداز میں آنکھیں جھکالیں۔

’’اپنے بچوں کی اموات کو دل سے تسلیم کرکے ان کی آخری رسومات ادا کرو۔ پھر سوچیں گے۔ آگے کیا کرنا ہے۔‘‘

’’ان سارے واقعات میں ہم نے خیام کو کہیں بھی نہیں دیکھا یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ خیام زندہ ہو۔‘‘ ساحل نے پروفیسر حسنان سے کہا۔

پروفیسر حسنان گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ عارفین ساحل سے مخاطب ہوا

’’میرے خیال سے ہمیں اس چکر میں نہیں پڑنا چاہئے کہ خیام زندہ ہے یا نہیں، ہمیں اس کی آخری رسومات ادا کر دینی چاہئیں۔‘‘

حسنان نے عارفین کی تائید کی

’’عارفین درست کہہ رہا ہے اگر خیام زندہ ہوتا تو حوریہ یہ کیوں کہتی کہ ہم چاروں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں یقیناً وہ انہی میں سے ہوگا۔ ہمارے مذہب کے مطابق مردے کی تدفین و تکفین کی خاص رسومات سے روح بھٹکتی نہیں بلکہ اپنے خاص مقام پر پہنچ جاتی ہے ان چاروں کے ہمزاد کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں آخری رسومات کا کچھ نہ کچھ اثر ان پر ضرور ہوگا۔ جتنا سوچتے جائیں گے، اتنا ہی بھٹکتے جائیں گے، ہمیں فی الحال ان چاروں کی آخری رسومات کی تیاری کرنی چاہئے۔ ہمیں فوری کسی عامل سے رجوع کرنا چاہے۔ ان آخری رسومات میں کسی عامل کا ہونا ضروری ہے۔

میں عاملوں کے بارے میں زیادہ تو نہیں جانتا لیکن ایک سائیکاٹرسٹ ہیں مس عمارہ، وہ عاملہ بھی ہیں۔ ان کا اپنا کلینک ہے وہ اپنے کام میں مصروف رہتی ہیں مگر میں نے سنا ہے کہ اس طرح کے روحانی معاملات وہ بخوبی حل کر لیتی ہیں۔ میں ان سے ملا تھا اور انہیں ساری صورت حال سے آگاہ بھی کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ جب اس کی ضرورت ہو اسے فون کر لیا جائے۔‘‘

ساحل نے متعجب نظروں سے حسنان کی طرف دیکھا

’’اس قدر خطرناک معاملات سے ایک لڑکی کیسے نبزد آزما ہو سکتی ہے۔‘‘

پروفیسر حسنان نے ٹھنڈی آہ بھری اور معنی خیر انداز میں بولے۔

’’یہ معاملات جسمانی طاقت سے نہیں ذہانت سے لڑے جاتے ہیں۔ پرسوں جمعہ کے روز ہم ایک ہی گھر میں ان چاروں کی آخری رسومات ادا کر لیتے ہیں۔ میں مس عمارہ کو اطلاع دے دوں گا۔‘‘

ظفر نے اثبات میں سر ہلایا

’’ٹھیک ہے ہمیں سب سے بات کرنی ہوگی، ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔‘‘ تقریبا ایک گھنٹہ وہ سب گفت و شنید میں مصروف رہے پھر عارفین اور حسنان وہاں سے چلے گئے۔

حسنان کے جانے کے بعد ظفر نے فون کرکے خیام، فواد اور حوریہ کے والدین کو کل اپنے گھر آنے کے لیے کہا۔

ظفر کے گھر اکٹھے ہو کر باہم مشورے سے سب نے یہ طے کیا کہ ظفر کے گھر ہی سارا انتظام کیا جائے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس طرح سسکنے اور تڑپنے کے بجائے اپنے بچوں کی اموات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی آخری رسومات ادا کر دی جائیں۔

ویسے بھی خدا کے احکامات میں بے پناہ راز پوشیدہ ہیں، تدفین و تکفین کی خاص رسومات کے بعد لواحقین کو خدا کی طرف سے ڈھارس مل جاتی ہے۔ بروز جمعہ ظفر کے گھر میں رونے کی بین کرنے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ عزیز و اقارب بھی جمع تھے۔ جان پہچان والے لوگوں میں جس جس کو فواد، حوریہ، وشاء اور خیام کی اموات کا پتہ چل رہا تھا وہ غمزدہ ہو کے چلے آرہے تھے۔ لوگوں کا ایک ہجوم تھا ظفر کے گھر پر۔ لوگ دریوں پر بیٹھے تسبیحات اور قرآن پاک پڑھنے میں مصروف تھے۔

اس ساری صورت حال کا علم زرغام کو ہو چکا تھا۔ وہ بے چینی سے اپنے گھر کے لان میں ٹہل رہا تھا۔ پھر درخت کے قریب کھڑے ہوکے کسی سے باتیں کرنے لگا شاید نہ دکھائی دینے والے لطیف جسم سے۔

’’پہلے ہی میں خیام کی وجہ سے پریشان ہوں اوپر سے یہ ان چاروں کی اموات کی آخری رسومات، اس کا اثر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ دل تو چاہتا ہے کہ ان چاروں کے گھر والوں کو موت کی نیند سلادوں مگر ابھی وقت نہیں۔ سب سے پہلے تو میں ظفر اور ساحل کو ٹھکانے لگاؤں گا، ابھی میری ساری توجہ خیام کی طرف ہے۔۔۔تم کسی بھی طریقے سے خیام کا پتہ لگاؤ ورنہ میری ساری محنت رائیگاں جائے گی۔‘‘

یہ کہہ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا اس نے ڈریسنگ ٹیبل کے دراز سے پتھروں کی انگوٹھیاں نکالیں اور تیزی سے اپنی ساری انگلیوں میں پہن لیں اور بیڈ پر بیٹھ کر کچھ سوچنے لگا۔ پھر اس کے شیطانی دماغ نے کچھ طے کیا اور وہ نہانے کے لیے باتھ روم چلا گیا۔

فواد، حوریہ، وشاء اور خیام کے گھر والوں کے آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ ایک سال سے درد و غم کا رکا ہوا آتش فشاں لاوا برسا رہا تھا۔ آج امیدا ور آس کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔ سینے میں سوائے درد کے اور کچھ نہیں تھا۔ ایک دوسرے سے لپٹ لپٹ کر رو کے اپنا غم بانٹ رہے تھے۔۔۔مگر غم تھا کہ نڈھال کیے جا رہا تھا۔۔۔ان کے گھروں کے چراغ بجھ گئے تھے، آنکھیں مایوسیوں کے اندھیروں میں ڈوب گئی تھیں۔

ان کے پیاروں کی میتیں بھی ان کے سامنے نہیں تھیں ایک دوسرے کے شانے پر سر رکھ کر رو کے وہ اپنے غم کا کچھ بوجھ کم کر سکتے تھے۔

باہر لان میں مردوں کے لیے بندوبست کیا گیا تھا اور اندر گھر میں زمین پر دریاں بچھا کے خواتین بیٹھی تھیں اور قرآن پاک پڑھنے میں مشغول تھیں۔ ظفر بھی دوسرے مردوں کے ساتھ قرآن پاک پڑھنے میں مشغول تھا۔ ساحل بھی اس کے قریب بیٹھا تھا۔

ظفر کے موبائل کی رنگ بجی، اس نے موبائل سنا۔

’’جی بہتر میں باہر آتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے موبائل بند کر دیا۔

’’کس کا فون تھا۔‘‘ ساحل نے تسبیح پڑھتے ہوئے پوچھا۔

’’عمارہ کا فون تھا، وہی سائیکا ٹرسٹ جس کا میں نے تم سے ذکر کیا تھا وہ باہر آگئی ہیں۔ میں انہیں گھر کی خواتین سے ملوا کے آتا ہوں۔‘‘

ظفر نے اپنا پارہ میز پر رکھا اور چلا گیا۔ عمارہ ابھی تک گاڑی پارک کر رہی تھی۔ اس نے مناسب جگہ دیکھ کر گاڑی پارک کی اور پھر گاڑی سے باہر نکلی۔ 28 سالہ عمارہ دبلی پتلی اور انتہائی خوبصورت تھی۔ چہرے کی رنگت صاف اور نقوش تیکھے اور پرکشش تھے۔ اس نے ریز لائن قمیص اور ٹراؤزر کے ساتھ سکارف اوڑھا ہوا تھا۔ اس نے سکارف سے اپنے بال چھپا رکھے تھے سیاہ سکارف نے اس کی خوبصورتی کو بڑھا دیا تھا اس نے ظفر کو سلام کیا۔

’’وعلیکم السلام! بہت شکریہ آپ کے آنے کا۔۔۔میں تو سوچ رہا تھا کہ شاید آپ ہمارے لیے وقت نہ نکال سکیں۔‘‘ ظفر نے اس کے ہاتھ سے اس کا سامان لیتے ہوئے کہا۔

عمارہ نے ایک نظر پوری کوٹھی پر ڈالی اور پھر مسکراتے ہوئے گویا ہوئی

’’میں اپنی زبان کی پکی ہوں، میں نے آپ سے کہا تھا کہ میں آؤں گی۔‘‘

’’آئیے میں آپ کو اندر کا راستہ دکھاتا ہوں۔‘‘ ظفر اسے رخسانہ اور ایمن کے پاس لے گیا عمارہ ، رخسانہ کے پاس بیٹھ گئی۔

ظفر نے رخسانہ سے کہا

’’یہ عمارہ ہیں۔۔۔میں تفصیل سے ان کے بارے میں آپ کو بعد میں بتاؤں گا۔۔۔فی الحال یہ ہماری مہمان ہیں‘‘ یہ کہہ کر ظفر باہر چلا گیا۔

رخسانہ اور ایمن رو رو کے نڈھال تھیں۔ ان کی آنکھوں کے نیچے زخم بن گئے تھے۔ عمارہ نے ان کا حال دیکھا تو اس کی بھی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے میز سے پارہ لیا اور پڑھنا شروع کر دیا۔

عارفین، حسنان اور ساحل کو اردگرد کے ماحول پر نظر رکھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ وہ گھر سے باہر لان میں ٹہل رہے تھے۔ انہیں خاص تاکید کی گئی تھی کہ کوئی مشکوک شخص دیکھیں یا کوئی عجیب الخلقت مخلوق تو فوراً الرٹ ہو جائیں۔ وہ ایک ٹیم کی طرح کام کر رہے تھے ان کے موبائل ایک دوسرے سے منسلک تھے۔

عمارہ کے ہاتھ میں دسواں پارہ تھا۔ تمام خواتین قراان پاک پڑھنے میں مشغول تھیں۔ قرآن پاک کی تلاوت کی مسحور کن آوازوں نے فضا میں ایسا سکون سرایت کر دیا تھا کہ کسی کے بھی ذہن میں خوف نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔

عمارہ نے اپنا پارہ مکمل کیا تو اس نے رخسانہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔’’جو غم دیتا ہے وہ مرہم بھی رکھتا ہے۔ حقیقت تو یہی تھی مگر آپ لوگوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں بہت وقت لگا دیا۔ شاید اگر یہ سب پہلے ہو جاتا تو وہ شیطانی طاقتیں اس قدر نہ بڑھتیں۔‘‘

’’آپ۔۔۔؟‘‘رخسانہ نے سوالیہ نظروں سے عمارہ کی طرف دیکھا۔

’’میں ایک سائیکاٹرسٹ ہوں اور Exorcistبھی ہوں۔ میں زیادہ دعوے نہیں کرتی مگر جو کچھ بھی مجھ سے ہوسکا میں کروں گا۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں آپ کا گھر دیکھ لوں۔‘‘

’’ہاں کیوں نہں، میں بھی آپ کے ساتھ چلتی ہوں۔‘‘ رخسانہ اپنا پارہ میز پر رکھ کر کھڑی ہوگئی۔ عمارہ نے اپنے بیگ سے چھوٹی سی کتاب اور تسبیح نکالی۔’’آپ مجھے صرف وشاء کا کمرہ دکھا دیں باقی میں خود دیکھ لوں گی۔‘‘

رخسانہ، عمارہ کے ساتھ گئی اور اسے وشاء کے کمرے میں لے گئی۔ وشاء کے کمرے میں داخل ہونے پر عمارہ کے چہرے کے تاثرات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اسے سب کچھ نارمل لگ رہا تھا۔ اس نے تسبیح پڑھنا شروع کی اور ساتھ پورے کمرے کا جائزہ لیتی رہی۔

رخسانہ نے ٹھنڈی آہ بھری۔ ’’وشاء جو جو چیز جہاں جہاں رکھتی تھی۔ سب کچھ ویسے ہی ہے۔ ظفر بھائی نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔‘‘

عمارہ نے سائیڈ ٹیبل سے ایک فوٹو فریم اٹھایا۔ رخسانہ نے عمارہ کے ہاتھ میں تصویر دیکھی تو تاسف بھرے انداز میں بولی۔’’یہ ان چاروں کی تصویر ہے۔‘‘ پھر اس نے تصویر پر انگلی رکھتے ہوئے بتایا۔

’’یہ وشاء اور حوریہ ہیں اور یہ دونوں فواد اور خیام ہیں۔‘‘

عمارہ نے وشاء کی تصویر پر انگشت رکھی۔’’میری معلومات کے مطابق وشاء ، حوریہ اور فواد کو آپ لوگوں نے دیکھا ہے مگر خیام کو نہیں دیکھا’’پھر اس نے خیام کی تصویر پر انگلی رکھی۔‘‘ یہی خیام ہے؟‘‘

رخسانہ نے اثبات میں سر ہلایا۔’’ہاں یہی خیام ہے۔‘‘

’’یہ تصویر میں اپنے پاس رکھ سکتی ہوں۔‘‘

’’رکھ لیں۔‘‘

عمارہ نے تصویر فریم سے نکالی اور اپنے بیگ میں ڈال لی، پھر وہ رخسانہ سے مخاطب ہوئی۔ ’’اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کچھ دیر کے لیے مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔‘‘

رخسانہ اسے وشاء کے کمرے میں چھوڑ کر دوبارہ خواتین کے ساتھ بیٹھ کر قرآن پڑھنے لگی۔ عمارہ، وشاء کے کمرے سے باہر آگئی اور تسبیح کا ورد کرتے ہوئے گھر کے باقی کمروں کا جائزہ لیے لگی۔ وہ پورے گھر میں پھری مگر اس نے ایسی کوئی غیر معمولی حرکت محسوس نہیں کی۔ ظفر اور حسنان گھر میں داخل ہوئے تو عمارہ پورچ میں کھڑی تھی۔

وہ عمارت کے قریب آئے۔’’سب ٹھیک ہے۔‘‘

’’فی الحال تو آپ کے گھر میں کوئی عجیب الخلقت مخلوق نہیں ہے مجھے ان چیزوں کا کوئی اثر بھی محسوس نہیں ہوا۔۔۔مگر ان بدروحوں کا کوئی بھروسا نہیں۔۔۔لیکن یہ تسلی رکھیں۔ گھر میں قرآن پاک پڑھا جا رہا ہے کوئی شیطانی مخلوق آپ کو ایذا نہیں دے سکتی۔۔۔اس ناگہانی آفت سے نبرد آزما ہونے کے لیے جتنا ہو سکے قرآن پاک پڑھیں۔ میں شام تک ادھر ہی ہوں۔ آپ بلا خوف اپنی رسومات پوری کریں۔‘‘

اس نے اپنے بیگ سے دو A-meterنکالے۔ ایک اس نے داخلی دروازے کے قریب پڑھے ہوئے گملے کے پیچھے نصب کر دیا اور دوسرا اس نے ظفر کو دیا’’اسے باہر لان میں کسی درخت کے ساتھ لگا دو، جونہی کوئی عجیب الخلقت مخلوق اس گھرمیں داخل ہوگیA-meterکی سوئیاں ہلنے لگیں گی۔‘‘

اس کے کہنے پر ظفر نے باہر لان میں انار کے درخت کے ساتھ A-meterلگا دیا۔ عمارہ رخسانہ کے پاس آئی۔’’خیام کی والدہ کہاں ہیں؟‘‘

’’وہ سامنے انگوری رنگ کے جوڑے میں جو خاتون ہیں وہ ماہین ہیں خیام کی والدہ۔۔۔‘‘ رخسانہ نے انگلی سے اشارہ کیا۔

عمارہ ماہین کے پاس گئی۔ ماہین گٹھلیاں پڑھ رہی تھی۔ وہ اس کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس کے ساتھ گٹھلیاں پڑھنے لگی’’آپ کیا پڑھ رہی ہیں۔‘‘

’’دوسرا کلمہ۔‘‘ ماہین دھیمے سے لہجے میں بولی۔ عمارہ بھی گٹھلیوں پر دوسرا کلمہ پڑھنے لگی۔ ٹوکری میں پڑی ہوئی گٹھلیاں پڑھی گئیں تو عمارہ، ماہین سے مخاطب ہوئی۔’’آپ خیام کی والدہ ہیں۔‘‘

ماہین نے اثبات میں سر ہلایا۔ خیام کا نام سنتے ہی اس کی آنکھیں بھیگ گئیں، اس نے بھیگی آنکھوں سے عمارہ کی طرف دیکھا’’معذرت چاہتی ہوں میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔‘‘

عمارہ نے اپنی مہین سی آواز میں کہا’’کیسے پہچانیں گی میں آپ سے پہلی بار مل رہی ہوں۔ میرا نام عمارہ ہے، پروفیشن میں ایک سائیکاٹرسٹ ہوں مگر عاملہ بھی ہوں شاید میں آپ لوگوں کے کام آسکوں۔‘‘

’’اب کیا کسی نے ہمارے کام آنا ہماری تو دنیا ہی لٹ چکی ہے۔‘‘

’’اس حادثہ کے بعد کیا آپ کو کبھی خیام دکھائی دیا جس طرح باقی لوگوں نے وشاء ، فواد اور حوریہ کو دیکھا۔‘‘

ماہین کی نظریں کسی ایک جگہ پہ ٹھہر گئیں۔’’سب کہتے ہیں کہ وہ چاروں دوست ایک ہی کڑی میں بندھے ہیں۔ خیام کو کسی نے نہیں دیکھا مگر سب کا کہنا ہے کہ خیام بھی ان تینوں جیسا ہوگا۔‘‘

عمارہ نے ماہین کے شانوں پر ہاتھ رکھا اور فضا میں نظریں گھمانے لگی’’اگر خیام ان جیسا نہیں ہوگا تو پتہ چل جائے گا اس کا ہمزاد اگر نیکی کے کاموں کا نمائندہ ہوا تو وہ یہاں ضرور آئے گا۔‘‘

ماہین نے بے چین ہو کر عمارہ کا ہاتھ پکڑ لیا’’میں اسے دیکھ سکوں گی؟‘‘

عمارہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا’’روح کو دیکھنا آتنا آسان نہیں ہوتا مگر کسی نہ کسی چیز کی غیر معمولی حرکت روح کی موجودگی بتا دیتی ہے۔‘‘

یہ کہہ کہ عمارہ دوبارہ گٹھلیاں پڑھنے لگی۔

لان میں اشخاص کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ خواتین بھی کمروں میں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں ۔ ابھی مزید اور لوگ بھی آرہے تھے۔ ساحل اور عارفین کی ڈیوٹی میں یہ بھی شامل تھا کہ گیٹ سے داخل ہونے والے لوگوں پر نظر رکھیں۔

لیکن یہ کام ان کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ ظفر ، وقار، زبیر اور توقیر کے جان پہچان والے سب ادھر ہی آرہے تھے جن میں سے زیادہ تر لوگوں کو ساحل اور عارفین نہیں جانتے تھے۔۔۔بس وہ اتنا ہی خیال رکھ رہے تھے کہ اگر کوئی مشکوک شخص نظر آئے تو چوکنا ہو جائیں۔

تقریباً ایک بجے کے قریب ایک بوڑھا شخص کوٹھی میں داخل ہوا۔ ساحل اور عارفین نے اسے بھی ان لوگوں کی طرح نظر انداز کیا جنہیں وہ جانتے نہیں تھے۔ وہ بوڑھا شخص دوسرے مردوں کے ساتھ دری پہ بیٹھ گیا اور گٹھلیاں پڑھنے لگا۔

جس جگہ وہ بوڑھا شخص بیٹھا تھا، اس کے بالکل سامنے ساحل اور عارفین کرسیوں پر بیٹھنے آپس میں کوئی بات کر رہے تھے۔ بوڑھے شخص کی نظریں ان دونوں پر ٹھہر گئیں۔ وہ اپنے دانے اٹھا رہا تھا اور پھینک رہا تھا مگر اس کی زبان پہ کوئی لغزش نہیں تھی اور کچھ نہیں پڑھ رہا تھا مگر اس کی آنکھوں میں عجیب سی بے چینی تھی۔

ساحل نے تاسف بھرے انداز میں اردگرد کے ماحول پر نظر دوڑائی اور ٹھنڈی آہ بھر کر تھکے تھکے لہجے میں بولا’’ہم کیسے ان شیطانی طاقتوں کا مقابلہ کریں گے جو کچھ ہو چکا ہے وہ سب اس قدر اذیت ناک ہے کہ اس کا خیال ایک پل کو سونے نہیں دیتا اور نہ جانے آگے کیا ہونے والا ہے۔مادی وجود رکھنے والے حریف کو تو ہتھیار سے چھلنی چھلنی کیا جا سکتا ہے مگر یہ سفید ہیولے جوموت کے سائے بن کے ہمارے اردگرد منڈلا رہے ہیں انہیں کیسے ختم کیا جا سکتاہے۔‘‘

عارفین نے آسمان کی طرف دیکھا

’’جنگ صرف ہتھیار سے نہیں لڑی جاتی۔۔۔جنگ تو جذبوں کی بھی ہوتی ہے ۔۔۔قلم کی بھی۔۔۔تصورات کی بھی۔۔۔مگر ہر جنگ میں راہ رکھانے والی ذات اس پروردگار کی ہی ہے۔۔۔اس پر بھروسا رکھو۔ مایوسی ہمت توڑتی ہے۔ خدا پر بھروسا ہی راہ دکھاتا ہے۔ ہمیں بھی کوئی نہ کوئی راہ مل جائے گی۔ جس سے ہم ان بدروحوں سے نجات حاصل کر سکیں گے۔‘‘ ساحل اور عارفین کی نظر اس بوڑھے شخص کی طرف نہیں تھی۔

بوڑھا شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر ایسی جگہ پر بیٹھا جہاں سے ہال کا داخلی دروازہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ہال میں خواتین بیٹھی تھیں۔ ساحل عارفین سے باتیں کر رہا تھا اور عارفین خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ اس کی نظریںA-meterکی طرف تھیں۔ A-meterکی سوئیاں بالکل ساکن تھیں۔ اچانک ہی A-meterکی سوئیاں جنبش کرنے لگیں۔

عارفین کے دل کی دھڑکن یک تیز ہوگئی اس نے ساحل کے شانے کو جھٹکا دیا اور A-meterکی طرف اشارہ کیا۔ ساحل نے جنبش کرتی ہوئی سوئی کی طرف دیکھا تو اس نے موبائل نکالاا ور فوراً عمارہ کو فون کیا۔

عمارہ نے فون سنا اور آہستگی سے بولی

’’ٹھیک ہے تم ظفر اور حسنان کو بتا دو اور بہت محتاط ہو کے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھو۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ نے موبائل بند کردیا۔

وہ تیز تیز قدموں سے ہال کے داخلی دروازے کی طرف بڑھی۔

وہ اس جگہ پہنچی جہاںA-meterلگا تھاA-meterکی سوئیاں جامد تھیں۔ اسے اس بات کی تسلی ہوئی۔ مافوق الفطرت مخلوق جس کا اشارہ باہر ہوا ہے وہ ابھی ہال میں داخل نہیں ہوئی۔

مشکوک بوڑھا شخص اپنی جگہ پر اس طرح کھڑا ہوگیا جیسے اسے کوئی خاص اطلاع مل گئی ہے۔ وہ تیز قدم چلتا ہوا لوگوں کے بیچ میں سے نکلتا ہوا ٹینٹ سے باہر آگیا۔

اس کی متلاشی نگاہیں چاروں اور گھومنے لگیں۔ اس وقت وہ لوگوں کی نظروں سے بے نیاز بے خوف و خطر کسی کی تلاش میں تھا۔ وہ کسی جوان کی طرح مستعد تھا۔ ایک دم سے اس کے بوڑھے جسم میں کسی نوجوان جیسی توانائی اور پھرتی آگئی تھی مگر وہ ابھی تک کسی کی نظر میں نہیں آیا تھا۔ وہ باربار اپنی جیب میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتا جیسے اس کے پاس کوئی ہتھیار ہو مگر اردگرد لوگوں کی موجودگی میں وہ کچھ کر نہیں کر پا رہا تھا۔

دروازے کے قریب ہی وہ کھڑی تھی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔اس کی سب سے بڑی قوت اس کا خدا پر بھروسا اور حوصلہ ہی تھا ورنہ اس طرح کے معاملات کا اس کے پاس کوئی خاص تجربہ نہ تھا۔

وہ جس طرح بے چینی سے ٹہل رہی تھی۔ عورتوں کی نظریں اس پر ٹھہر گئی تھیں۔ ان میں سرگوشیاں ہونے لگی تھیں۔

ماہین اور رخسانہ اس کے پاس آئیں۔’’خیریت ہے۔۔۔‘‘ رخسانہ نے پوچھا۔

عمارہ کے چہرے سے پریشانی صاف عیاں ہو رہی تھی اس نے نفی کے انداز میں سر ہلایا۔’’نہیں خیریت نہیں ہے۔ باہر A-meterکی سوئیاں بتا رہی ہیں کہ کوئی غیبی مخلوق لان میں موجود ہے۔ شاید گھر کے دوسرے حصوں میں بھی ہو۔‘‘

پھر اس نے گملے کے پیچھے لگے ہوئے A-meterکی طرف اشارہ کیا، اگر وہ غیبی مخلوق اس کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی سوئیاں جنبش کرنے لگیں گی۔

ماہین اور رخسانہ کی خوف سے آنکھیں پھیل گئیں۔’’اب کیا ہوگا، اگر ان شیطانی طاقتوں نے ادھر حملہ کر دیا تو یہاں تو لوگوں کا ہجوم ہے۔ ہم کیسے لوگوں کو ان بدروحوں سے بچائیں گے۔‘‘

رخسانہ کے لہجے میں بھی کپکپاہٹ تھی۔ عمارہ نے تسبیح پڑھتے ہوئے ایک نظر رخسانہ کی طرف دیکھا’’اس طرح کی باتیں کرکے آپ میرا حوصلہ کم نہ کریں بس دعا کریں۔ سورۃ الناس پڑھیں وہ شیطانی مخلوق ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔ ویسے بھی یہ ضروری نہیں کہ وہ غیبی مخلوق شیطانی مخلوق ہی ہو۔‘‘

اس دوران میں A-meterکی سوئیاں جنبش کرنے لگیں۔ کپکپاہٹ کا جھٹکا رخسانہ کے وجود سے گزر گیا اور ماہین بھی خوف سے جیسے پتھر کی ہوگئی۔ عمارہ نے فوراً ظفر کو فون کیا۔ چند ساعتوں میں ہی ظفر اور حسنان ہال میں پہنچ گئے۔

توقیر اور وقار گھر کے دوسرے حصوں میں چلے گئے۔ وہ سب پورے گھر میں تقسیم ہوگئے ابھی تک غیبی مخلوق کا بس اشارہ ملا تھا مگر کوئی عجیب حرکت سامنے نہیں آئی تھی۔ ظفر عمارہ کے پاس آیا تو عمارہ نے گھبراہٹ سے کہا’’وہ غیبی مخلوق ہال میں داخل ہوگئی ہے۔‘‘

’’ہمت سے کام لیں، عورتوں پر نظر رکھیں ہم دونوں ادھر ہی ہیں۔‘‘

عورتوں تک یہ بات پہنچ گئی۔ ان میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بوڑھا شخص تیزی سے ہال کی طرف بڑھنے لگا تو ساحل کی نظر اس پر پڑ گئی۔ ساحل تیزی سے اس کی طرف بڑھا’’بابا جی آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘‘

’’اندر میری بیوی ہے، اسے بلانا تھا۔‘‘

’’آپ اپنی بیوی کا نام بتائیں، میں بلا لاتا ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہی ساحل نے اسے قریب سے دیکھا تو اسے بوڑھے کا چہرہ مصنوعی سا لگا۔ اس نے بہت ہوشیاری سے اس کے چہرے پر چٹکی بھر دی۔ بوڑھے نے ساحل کا ہاتھ پیچھے کیا تو اس کے چہرے کا ماسک ساحل کے ہاتھ میں آگیا۔ زرغام بے نقاب ہوگیا۔

زرغام برقی سرعت سے وہاں سے بھاگا، ساحل اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ زرغام لوگوں کو دھکیلتا ہوا، گرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔ساحل بھی لوگوں کو دھکیلتا ہوا اس کا تعاقب کر رہا تھا۔ لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے ساحل کے لیے اسے پکڑنا مشکل تھا لیکن وہ ساحل کی نظروں سے دور نہیں گیا تھا۔ ساحل مسلسل اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔

پھر اچانک ہی وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہوگیا

’’اوہ شٹ‘‘ ساحل نے درخت سے مکا ٹکرایا۔ وہ کچھ دیر تک اسے ڈھونڈتا رہا پھر اسے ہال کا خیال آیا کہ خواتین کسی مشکل میں نہ ہوں۔ وہ تیزی سے واپس ہال کی طرف بڑھا۔ اندر ہال میں سکوت چھایا ہوا تھا۔ ساری خواتین کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا

ظفر، وقار احمد اور عارفین بھی اندر ہال میں ہی تھے۔ باقی ساتھی باہر لان میں تھے۔ عمارہ ہونٹوں کی تیز جنبش کے ساتھ کچھ پڑھتے ہوئے ہال میں گشت کر رہی تھی۔ پھر وہ ہال کے وسط میں کھڑی ہوگئی اور اوپر کی طرف دیکھتے ہوئے چلائی’’کون ہو تم، ہمارے سامنے آؤ۔۔۔‘‘

عمارہ نے یہ بات تین بار دہرائی مگر کوئی جواب نہ ملا۔ اس نے لمبا سانس کھینچا اور ایک بارپھر بلند آواز میں بولی۔’’میں جانتی ہوں کہ تم یہاں ہال میں موجود ہو اگر سامنے نہیں آنا چاہتے تو ہمیں اپنی موجودگی کا ثبوت دو۔۔۔‘‘

ہال کی چھت پر لگا ہوا کرسٹل کا فانونس بری طرح جھولنے لگا۔ جو خواتین ا س فانوس کے نیچے تھیں، وہ تیزی سے وہاں سے پیچھے ہٹ گئیں۔ فانوس زور دار دھماکے کے ساتھ زمین پر آگرا۔ اس پر لگی کرسٹل کی گولیاں دور دور تک بکھر گئیں۔

عورتیں چیختی چلاتی ہال سے باہر بھاگنے لگیں عمارہ انہیں روکنے کی کوشش کرتی رہی۔’’آپ اس طرح باہر نہ جائیں باہر بھی آپ کی جان کو خطرہ ہے آپ اسی جگہ پر رہیں تو میں آپ کی جانیں بچانے کی کوشش کروں گی۔‘‘

مگر عورتیں عمارہ کی بات سننے کو تیار نہیں تھیں۔ پانی کے ریلے کی طرح باہر نکلتی عورتوں میں کب زرغام اندر گھس آیا کسی کو بھی خبر نہ ہوئی۔ کچھ خواتین نے عمارہ کی بات سمجھ لی اور وہیں رک گئیں۔ زرغام بے خوف سب کے سامنے آگیا اس نے اپنی جیب سے لوہے کی چمٹی نکالی۔

’’کون ہو تم۔۔۔؟‘‘ ساحل اشتعال میں زرغام کی طرف بڑھنے لگا تو ظفر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔’’وہ جو کوئی بھی ہے کرنے دو وہ جو کر رہا ہے ۔اگر کوئی ایسی ویسی بات ہوئی تو وہ ہماری دسترس سے باہر نہیں ہے۔‘‘ وہ لوہے کی چمٹی کو مختلف زاویوں میں حرکت دینے لگا۔

ایک خاص سمت کی طرف وہ لوہے کی چمٹی اپنے آپ بجنے لگی۔ زرغام نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا ڈبہ نکالا۔ اس نے جلدی سے اس ڈبے سے چٹکی بھر راکھ نکالی اور اسے اس سمت میں اچھال دیا۔

چمٹی بجنا بند ہوگئی اور اس کا رخ خود بخود دوسری جانب ہوگیا اور وہ پھر سے بجنے لگی۔ زرغام نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر اس سمت میں راکھ اچھال دی۔۔۔راکھ کے ذرات میں غیر مرئی وجود ظاہر ہوگیا۔

ماہین چیخ اٹھی’’خیام ! میرا بیٹا۔۔۔‘‘ فضا سے راکھ جھڑتے ہی وہ روحانی جسم غائب ہوگیا۔ زرغام نے پھر اپنی چمٹی کو حرکت دی اور خیام کی موجودگی ظاہر ہونے پر اس نے مٹھی بھر راکھ ہوا میں اچھال دی۔

خیام کا ہوا میں معلق روحانی جسم ایک بار پھر ظاہر ہوگیا۔ اس بار اس کی نظریں ماہین کی طرف تھیں۔ چہرے پر وفا کے احساسات اور آنکھوں میں چاہت کی تڑپ تھی۔ ماں کو سامنے دیکھ کر وہ زرغام جیسے حریف کو بھول گیا تھا۔

ماہین جذبات کی رو میں بہتی ہوئی اس سپید سائے کی طرف بھاگی جو چند ساعتوں میں ہی غائب ہویگا۔ وقار احمد آگے جا کے اسے لے آیا۔’’خود پر قابو رکھو۔ تمہاری غفلت سب کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔‘‘

زرغام تفتیش میں اپنے اصل روپ میں آگیا۔

’’جن طاقتوں پر تجھے اتنا گھمنڈ ہے یہ میری ہی دی ہوئی ہیں مجھ سے آنکھ مچولی نہ کھیل اگر واقعی طاقتوں کا حامل ہے تو آمجھ سے مقابلہ کر۔‘‘ ہوا میں ایک روشنی کی شعاع ظاہر ہوئی اور چھت کی طرف بڑھتی ہوئی غائب ہوگئی۔

زرغام سمجھ گیا کہ خیام نے اس کا چیلنج قبول کر لیا ہے۔ وہ ہال کے دروازے کی طرف بھاگا اور ہال سے باہر نکل کر کھلے میدان میں کھڑا ہوگیا۔ روشنی کی شعاع ایک بار پھر ظاہر ہوئی اور زرغام کے سامنے زمین کی طرف بڑھتی ہوئی خیام کے وجود میں تبدیل ہوگئی۔ اطراف میں کھڑے ہوئے لوگ چیختے چلاتے پیچھے ہٹنے لگے۔ ہال میں موجود تمام لوگ باہر آگئے۔

یہ سنسنی خیر منظر دیکھ کر لوگ خوف زیدہ ہوگئے۔ بیٹے کو سامنے دیکھ کر ماہین اور وقار احمد تڑپ کر رہ گئے۔ عمارہ نے تذبذب سی کیفیت میں ساحل کی طرف دیکھا’’یہ سب کیا ہو رہا ہے یہ دوسرا شخص کون ہے ہم ان دونوں میں سے کس کو اپنا دوست سمجھیں۔‘‘

’’ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بہرحال آج بہت بڑے راز سے پردہ ہٹ جائے گا۔‘‘

زرغام نے قہقہہ بلند کیا’’مجھے پوری امید تھی کہ تم مجھے یہاں ضرور ملو گے۔ تمہیں میری طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔۔۔ورنہ تم میرے اشاروں پہ چلنے پر کبھی انکار نہ کرتے۔‘‘

’’میرا راستہ وہ نہیں جو تو نے وشاء، فواد اور حوریہ کو دکھایا تھا میرا ہمزاد مسخر کرکے بے شک تم نے مجھے بہت سی طاقتیں دی ہیں مگر مجھ پر تیرا عمل الٹا ہوگیا میرے ساتھ جو روحانی طاقتیں ہیں وہ شیطانی نہیں ہیں۔ مجھے رب نے تیری موت کے لیے چنا ہے شاید اسی لیے مجھ سے میرا مادی وجود لے لیا ہے۔‘‘

زرغام نے تمسخرانہ انداز سے خیام کے روحانی جسم کو دیکھا جس میں سے آرپار کی چیزیں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔

’’اگر مجھ سے مقابلہ کرنا ہے تو مادی وجود میں آؤ۔۔۔‘‘ خیام نے مسکراتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑا اور اپنی پیشانی پر رکھ لیا۔ وہ ایک بھیانک بھیڑئیے کی صورت اختیار کر گیا ایسا بھیڑیا جس کا جسم تو انسان جیسا تھا مگر اس کی بالوں والی جلدا ور چہرہ بالکل بھیڑئیے جیسا تھا۔ زرغام نے بھی وہی عمل دہرایا اور ویسا ہی روپ دھار گیا۔ دو خونخوار بھیڑئیے ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے۔

لوگوں نے خوفزدہ ہو کر بھاگنا شروع کر دیا۔ وہ ظفر کے گھر سے جلد از جلد باہر نکلنا چاہتے تھے لوگ اپنی اپنی سواریوں میں برقی سرعت سے وہاں سے نکل گئے۔ تھوڑے سے لوگ جو بچ گئے تھے وہ دہشت سے ایک دوسرے سے چپکے کھڑے تھے۔

دو خون آشام بھیڑئیے دھاڑتے ہوئے اپنے لمبے لمبے نوکیلے دانت ایک دوسرے کے جسم میں پیوست کر رہے تھے۔ ظفر نے ساحل سے اپنی پسٹل لانے کے لیے کہا ساحل جلدی سے اس کی پسٹل لے آیا اور اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ اس نے پینٹ کی جیب میں پسٹل ڈال لی اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ ان خونخوار بھیڑوں کے قریب پہنچ کے ظفر نے اپنی پسٹل نکال لی ا ور بہت احتیاط سے لوگوں کے پیچھے چھپتے ہوئے اس نے اپنی پسٹل کا نشانہ سیٹ کیا۔ وہ بھیڑئیے بن مانسوں کی طرح چھلانگیں مارتے ہوئے ایک دوسرے پر جھپٹ رہے تھے۔ وہ خنجر جیسے نوکیلے پنجوں سے ایک دوسرے کو زمین پر پٹختے۔

ظفر تذبذب سی کیفیت میں ساحل کی دیکھنے لگا۔’’پتہ ہی نہیں چل رہا کہ ان دونوں میں زرغام کون ہے۔‘‘

ساحل نے ان کی پسٹل کی نال کو پیچھے کر دیا’’آپ اپنی پسٹل جیب میں واپس ڈال لیں ہمیں زرغام کو زندہ سلامت پکڑنا ہوگا۔’’ایک خونخوار بھیڑیا ہوا میں اڑتا ہوا گھر کی چھت پر جا کھڑا ہوا۔ دوسرا بھی دھاڑتا ہوا ہوا میں اڑتا ہوا چھت پر چلا گیا اور پھر ان کی خوفناک جنگ شروع ہوگئی۔ فضا میں خوفناک غرغراہٹ اور دلخراش چیخیں گونجنے لگیں بالکل ایسے ہی جیسے ایک درندہ مارے تکلیف کے تڑپتا ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ساحل اور ظفر بے چینی سے انہیں ڈھونڈنے لگے مگر اب وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ ساحل دوڑتا ہوا پورا پورچ کی طرف بڑھا۔ وہاں گاڑیوں کی لمبی قطار تھی۔ وہ ظفر کی گاڑی میں کاموشی سے بیٹھ گیا۔ اس کی نظر کبھی بائیں اطراف کی گاڑیوں کی طرف جاتی تو کبھی بائیں طرف کھڑی گاڑیوں کی طرف جاتی۔

کچھ ہی دیر بعد زرغام زخمی حالت میں اسے گاڑیوں کے قریب نظر آیا۔ وہ سلور کلر کی کلٹس میں بیٹھا اور اپنی گاڑی پارکنگ سے نکال کر وہاں سے نکل پڑا۔ ساحل نے فوراً اپنی گاڑی پارکنگ سے نہیں نکالی تھوڑی دیر کے بعد اس نے اپنی گاڑی وہاں سے نکالی اور بہت ہوشیاری کے ساتھ زرغام کی گاڑی کے پیچھے لگا دی۔

وہ زرغام کا ٹھکانا جاننا چاہتا تھا جہاں پر رہ کے وہ یہ شیطانی کھیل کھھیلتا تھا۔ زرغام کی گاڑی کے پیچھے ایک گاڑی تھی اس کے پیچھے ساحل کی گاڑی تھی۔ اس لیے زرغام کو شائبہ تک نہ ہوا وہ کافی دور تک زرغام کا پیچھا کرتا رہا۔

مگر اشارے کے لیے ٹریفک سگنلز پر گاڑیاں رکیں تو زرغام کو سائیڈ مرر سے ساحل کی گاڑی نظر آگئی۔ گرین سنگل کا اشارہ ملتے ہی گاڑیاں دوڑنے لگیں زرغام انتہائی تیز سپیڈ سے وہاں سے نکل گیا ساحل نے دوسری گاڑیوں کو کراس کرکے گاڑی اس کے پیچھے لگا دی۔

سی این جی ریڈ لائٹ اشارہ دینے لگی اور گاڑی جھٹکے کھانے لگی اور پھر بند ہوگئی ساحل نے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر گاڑی توجیسے جام ہوگئی۔اس نے اسٹیئرنگ پر زور سے ہاتھ مارا۔’’اوہ میرے خدایا! یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔‘‘

زرغام وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ عمارہ نے وہاں پر موجود مردوں اور خواتین کو تسلی دی’’آپ سب اطمینان سے بیٹھ جائیں خطرہ ٹل گیا ہے۔‘‘

اس نے خواتین سے التماس کی کہ وہ ہال میں بیٹھ کر قرآن پاک پڑھیں۔ ’’یہ قرآن پاک کی برکت ہی ہے کہ ہم لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ہم سب محفوظ ہیں۔ آئیے ہم سب خدا کی عبادت کرکے دعا مانگتے ہیں کہ خدا ہمیں ان شیطانی طاقتوں سے بچنے کا راستہ بتائے۔‘‘

رخسانہ اور ایمن نے بھی خواتین کو حوصلہ دیا اور وہ سب دوبارہ ہال میں بیٹھ کرقرآن پاک پڑھنے لگیں۔

کوئی نہیں جان سکا کہ جیت خیام کی ہوئی یا زرغام کی۔ سب کے دل و دماغ میں بس تجسس بھرا خوف رہ گیا۔ بچنے کی راہ ملی بھی اور گم بھی ہوگئی۔ خیام کی جھلک دیکھنے کے بعد سے ہی ماہین کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ ڈیپریشن سے اس کا بلڈ پریشر ہائی ہوگیا۔ وقار احمد نے اسے بیڈ پر لٹایا۔ اسے میڈیسن دی۔ عمارہ بھی ماہین کے قریب بیٹھ گئی۔ اس نے خلوص سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا’’آپ پریشان کیوں ہو رہی ہیں۔ یہ بات تو آپ نے تسلیم کر لی تھی نا کہ خیام اب دنیا میں نہیں ہے مگر آپکو اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ خیام کی روح نیک مقصد کی طرف مسخر ہے۔ وہ ان بدروحوں میں سے نہیں ہے جو لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہیں بلکہ شاید وہ ہم سب کے لیے مسیحا بن کے آیا ہے۔‘‘

پھر عمارہ نے ساحل کی طرف دیکھا’’تم کہہ رہے تھے نا کہ ہم بغیر ہتھیارکے جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمیں وہ راہ بھی معلوم نہں جس سے ہم دشمن تک پہنچ سکیں۔ اب ہمارے پاس ہتھیار بھی ہوں گے اور وہ راستے بھی جن سے ہم اپنے دشمن تک پہنچ سکیں گے میں دھیان گیان کے ذریعے خیام کی روح سے رابطہ کروں گی۔‘‘

’’تم روح کا نام لیتی ہو تو میرا کلیجہ کٹتا ہے میری آنکھوں میں میرا جیتا جاگتا خیام ہی بسا ہے۔ رب میری جان لے لیتا مگر میرے بیٹے کو کچھ نہ ہوتا۔‘‘ ماہین پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وقار احمد اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ ظفر اور عمارہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑے ، وقار احمد نے ٹھنڈی آہ بھری۔’’ناسمجھ عورت، خدا سے گلے کر رہی ہے۔ فواد، حوریہ، وشاء اور خیام تو حرام موت مرے ہیں۔۔۔ان کی موت خودکشی ہی ہے نہ ہی ان کی روحوں کو چین آئے گا اور نہ ہمیں۔‘‘

ظفر نے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھا’’ماہین تو عورت ہے کمزور ہے تم تو حوصلہ رکھو۔‘‘

پھر ظفر، عمارہ سے مخاطب ہوا۔’’تم جو بات کہہ رہی تھی وہ ٹھیک ہے لیکن میرے خیال میں ہمیں دیکھنا چاہئے کہ آج کے عمل کے بعد وہ روحیں ہمیں نقصان پہنچاتی ہیں یا نہیں۔ ہمیں انہیں خود سے چھیڑنا نہیں چاہئے۔ اگر ہمیں ان کی طرف سے کوئی خطرہ محسوس ہو تو ہم کوئی اقدام کریں گے۔‘‘

عمارہ تمسخر آمیز انداز میں مسکرائی’’روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والی بدروحیں ہمیں اتنی مہلت نہیں دیں گی کہ ہم کوئی اقدام کر سکیں۔ آپ لوگ بس اتنا کریں کہ روزانہ قرآن پاک پڑھیں نماز باقاعدگی سے ادا کریں۔مجھے جو کرنا ہے وہ مین نے سوچ لیا ہے۔ جب بھی آپ کو کوئی خطرہ محسوس ہو آپ نے مجھ سے رابطہ کرنا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ نے اپنا کارڈ ظفر کی طرف بڑھایا’’اس میں میرے کلینک کا بھی نمبر ہے اور گھر کا بھی۔‘‘

ساحل، عمارہ کی طرف بڑھا’’آپ تو ابھی کچھ دیر رکیں گی نا۔۔۔‘‘

’’نہیں۔۔۔مجھے جانا ہوگا۔ میں نے ایک Patientکو وقت دیا ہے۔ وہ کلینک میں میرا ویٹ کر رہا ہوگا آپ لوگ مجھ سے ہر وقت رابطہ رکھیں جب کہیں گے، میں آجاوں گی۔ میں سمجھ سکتی ہوں کہ آپ لوگ کس قدر گمبھیر صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ اب میں چلتی ہوں۔‘‘

عمارہ نے جاتے ہوئے پلٹ کر ساحل کی طرف دیکھا’’تم نے زرغام کا پتہ لگانا ہے ہمارا اس تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔‘‘

’’اس شیطانی درندے کا پتہ تو میں ضرور لگاؤں گا۔ میں اور عارفین مل کر یہ کام کریں گے۔‘‘ ساحل نے کہا۔

عمارہ وہاں سے چلی گئی۔ رخسانہ، ماہین کے پاس بیٹھ گئی اور اس کا سردا بنے لگی۔ رخسانہ کی اپنی بھی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ ان سب کا درد مشترک تھا۔

عمارہ کے والد فوت ہوئے نو برس ہو چکے تھے۔ وہ اپنی والدہ کا واحد سہارا تھی۔ ظفر کے گھر سے وہ سیدھی اپنے کلینک گئی۔ دو خواتین مریضہ اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ اس نے ان دونوں کو باری باری چیک کیا۔ فارغ ہونے کے بعد اس نے اپنی اسٹنٹ سے چائے منگوانے کو کہا۔ اس کی اسسٹنٹ عنبر اس کے لئے چائے لائی تو عمارہ سر پکڑے بیٹھی تھی۔

’’خیریت ہے آپ پریشان لگ رہی ہیں۔‘‘ عنبر نے پوچھا۔

عمارہ نے اپنی انگلیوں کی پوروں سے اپنی آنکھوں کے پپوٹوں کو دھیرے دھیرے سے دباؤ دیا اور اپنے سر کو کرسی کی پشت سے ٹکا لیا۔

’’بہت پیچیدہ مسئلہ ہے، میں نے اپنی آٹھ سال کی پریکٹس میں ایسا مسئلہhandleنہیں کیا۔ مگر وہ خاندان اتنی مشکل میں ہے کہ میں ہر حال میں ان کی مدد کروں گی۔‘‘

’’آخر ایسا کیا معاملہ ہے؟‘‘

’’بتاؤں گی تمہیں۔۔۔کیونکہ مجھے تمہاری مدد بھی چاہئے ہوگی۔‘‘

اسی دوران عمارہ کے گھر سے فون آگیا۔ اس کی والدہ رابعہ آن لائن تھیں۔

’’جی امی جان۔۔۔‘‘ عمارہ نے فون ریسیو کیا۔

’’امی کی جان! تم نے پورے سات بجے گھر آجانا ہے۔۔۔کسی مریض کو چیک نہیں کرنا۔۔۔تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری امی بالکل اکیلی ہوتی ہے۔‘‘

عمارہ نے ہونٹوں کو چباتے ہوئے عنبر کی طرف دیکھا اور بھنوؤں کو اچکاتے سوچنے لگی کہ ماں کو کیسے مناؤں کہ آج اسے نو بجے تک کلینک میں ہی رہنا ہے۔ اس نے ہمت کرکے بات شروع کی۔

’’امی جان! آپ کی بات درست ہے۔ میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ سات بجے آپ کے پاس پہنچ جاؤں مگر کبھی کوئی ایسا مریض آجاتا ہے کہ رکنا پڑتا ہے آپ سے بڑی معذرت چاہتی ہوں۔ مجھے نو بجے تک کلینک میں رکنا ہوگا۔میں گھر آکے آپ کو سب کچھ سمجھا دوں گی پلیز امی جان۔۔۔آپ کے پاس ملازمہ ہے نا، آپ اسے نو بجے سے پہلے گھر سے مت بھیجنا۔‘‘

’’جو مرضی کرو، تمہارے پاس اپنی ماں کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔‘‘ رابعہ نے خفگی سے فون بند کر دیا۔

’’امی۔۔۔‘‘ عمارہ بس بولتی ہی رہ گئی۔ اس نے رسیور رکھا اور بک شیلف سے کوئی کتاب ڈھونڈنے لگی۔

اسے اپنی مطلوبہ کتاب مل گئی ۔ وہ کتاب لے کر پڑھنے بیٹھ گئی۔ عنبر الماری کی کتابیں ترتیب سے رکھنے لگی توعمارہ نے ترچھی نظر سے عنبر کی طرف دیکھا۔’’تم ایسا کرو سٹور روم میں جتنی بھی ہمزاد سے متعلق کتابیں ہیں سب لے آؤ۔۔۔‘‘

عنبر نے بھنوؤں کو اچکاتے ہوئے پھٹی پھٹی آنکھوں سے عمارہ کی طرف دیکھا’’ہمزاد۔۔۔؟ عمارہ باجی! آپ کس قسم کا کیس ہینڈل کر رہی ہیں۔‘‘

’’فی الحال میں نے جو تم سے کہا ہے وہ کرو، باقی باتیں میں تمہیں بعد میں سمجھا دوں گی۔‘‘ عمارہ کتاب کے صفحات تیزی سے پلٹ رہی تھی شاید اسے وہ موضوع نہیں مل رہا تھا جس کی اسے تلاش تھی۔ عنبر کمرے سے جا چکی تھی اسے سٹور روم میں کتابیں ڈھونڈنے میں کافی وقت لگ گیا۔ عمارہ نے اتنی دیر میں بک شیلف سے دو کتابیں اور نکال لیں۔

عنبر دھول سے اٹی ہوئی چار کتابیں لے کر آفس میں داخل ہوئی تو عمارہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔ عنبر خود دھول سے اٹی آثار قدیمہ کا کوئی مجسمہ دکھائی دے رہی تھی۔

’’ہنس لیں آپ اتنا تو ہوتا نہیں کہ ملازمہ سے کہہ کے سٹور روم کی صفائی کروالیں۔‘‘

اس نے ٹھپ سے دھول سے اٹی کتابیں میز پر رکھ دیں عمارہ بیزاری سے کھانسنے لگی۔ ’’کتابیں تو صاف کر دیتیں، سارا ٹیبل گندا ہوگیا ہے۔ مجھے پکڑا دو میں صاف کر دیتی ہوں۔ تم جا کے اپنا حلیہ ٹھیک کرو۔‘‘

عنبر وہاں سے چلی گئی۔ عمارہ نے کتابیں صاف کیں اور پھر ان کا مطالعہ شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد عنبر بھی آگئی۔ عمارہ نے ایک کتاب عنبر کی طرف بڑھائی۔’’تم یہ کتاب پڑھو، کوئی خاص بات نظر آئے تو مجھے بتانا۔’’عنبر بھی عمارہ کی ساتھ مطالعہ میں مصروف ہوگئی۔

عمارہ نے اپنا لیپ ٹاپ آن کیا اور خاص خاص معلومات جو اس نے کتابوں سے اکٹھی کیں، لیپ ٹاپ میں Saveکرنے لگی۔

عنبر نے کتاب عمارہ کی طرف بڑھائی’’یہ دیکھو ہمزاد مسخر کرنے کا طریقہ۔‘‘

عمارہ نے کتاب سامنے رکھی اور وہ معلومات بھی Save کرلی۔ اس نے کتاب عنبر کی طرف بڑھائی۔‘‘ اس کتاب میں ڈھونڈو کہ شیطانی عملوں میں سرگرم ہمزاد کو کس طرح قابو کیا جا سکتا ہے۔‘‘

عنبر نے کتاب لی اور دوبارہ پڑھنے میں مصروف ہوگئی۔ اس نے تقریباً ہر کتاب کا مطالعہ کیا مگر اسے ایسی کوئی معلومات نہ ملی۔ اس نے کتاب بند کی اور عمارہ سے مخاطب ہوئی’’تم نیٹ پر ڈھونڈو۔۔۔‘‘

’’نیٹ پرکام تو میں گھر جا کے بھی کر سکتی ہوں۔ مجھے بس آفس کی کتابیں چیک کرنی ہیں۔‘‘ عمارہKey boardپر انگلیوں کو جنبش دیتے ہوئے بولی۔ اسی مصروفیات میں کب اٹھ بج گئے پتہ ہی نہیں چلا۔ عمارہ اپنے کلینک کا چکر لگا کے دوبارہ آفس میں آکر بیٹھ گئی۔

عنبر نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا’’ہم دونوں اکیلے اس کلینک میں کیا کریں گے تم نے Receptionوالوں کو اورGate Keeperکو بھیج دیا ہے۔ یہاں تک کہ میڈیسنز کے سٹور میں بھی کوئی نہیں ہے۔‘‘

عمارہ اپنی کرسی سے اٹھی اور دھیرے دھیرے سے چلتی ہوئی اس کے قریب آئی’’جو کام ہم نے کرنا ہے اس کے لیے تنہائی بہت ضروری ہے۔ تم نئی ہو اس لیے گھبرا رہی ہو تم نے تو اسی کمرے میں رہنا ہے بس یہ خیال رکھنا ہے کہ مجھے کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔ کلینک کو کھلا دیکھ کر کوئی بھی آسکتا ہے۔۔۔اور پھر جو کام میں کرنے جا رہی ہوں اس میں کوئی بھی گڑ بڑ ہو سکتی ہے۔‘‘

عمارہ نے اپنا کوٹ اتارا اوراپنا دوپٹہ سر پر اوڑھ لیا اسنے آفس کی دیوار میں لگا دروازہ کھولا اور اس کمرے میں داخل ہوگئی۔ جو اس نے خاص طور پر روحانی علاج کے لیے مخصوص کیا تھا۔

کمرے کی دیواروں پہ قرآنی آیات آویزاں تھی۔ کمرے میں کوئی الیکٹرک لائٹ آن نہیں تھی۔ بڑی کینڈلز پینل کے اور لکڑی کے اسٹینڈز پر لگی ہوئی تھیں۔ زمین پر بھی دائروں میں بے شمار دیے اور کینڈلز پڑی ہوئی تھیں کمرے میں خاص فرنیچر نہیں تھا۔

ایک دیوان سیٹ تھا اور ایک سنگل پلنگ جس پر مریض کو لٹا کے عمارہ روحانی اور نفسیاتی دونوں طرح کے علاج کرتی تھی۔ عمارہ کینڈلز جلانے لگی۔ عنبر اس کے کہنے کے مطابق اس دوسرے کمرے میں ہی بیٹھی تھی۔ کمرے میں کچھ روشنی ہوگئی تو عمارہ نے دروازہ بند کرلیا اور باقی کینڈلز بھی جلانے لگی۔ کمرے میں اس کی ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔

ساری کینڈلز جلانے کے بعد وہ دائرے میں پڑے ہوئے دیوں اور کینڈلز کی طرف آئی۔ اس نے دیے روشن کیے اور کینڈلز بھی جلا دیں۔ پورے کمرے میں موم بتیوں کی ملگجی سی پراسرار روشنی پھیل گئی۔

عمارہ موم بتیوں اور دیوں کی روشنی سے جگمگاتے ہوئے دائرے میں داخل ہوگئی اور پھر زمین پر بیٹھ گئی۔ اس کے پاس ہی ایک شیشے کا گلاس اور تاش کے پتے پڑے ہوئے تھے۔اس نے ایک نظر اس سامان کی طرف دیکھا اور پھرآنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے لگی۔ وہ کافی دیر تک اسی طرح کچھ پڑھتی رہی پھر اس نے آنکھیں کھول دیں۔

اس نے زمین پر ایک چھوٹی سی شیٹ بچھائی۔ شیٹ پر کچھ زائچے سے کھینچے ہوئے تھے۔ اس نے شیٹ کے درمیان میں شیشے کا گلاس رکھ دیا اور اس کے چاروں طرف تاش کے پتے رکھ دیئے تاش کے پتوں کو اس نے اس طرح رکھا کہ Kingsکی تصاویر اوپر تھیں اور تاش کے نمبر اور پان والی سائیڈ نیچے تھی۔

اسنے تاش کے پتوں کے اوپر اپنی انگلیاں رکھیں اور پتوں کے اوپر اپنی انگلیوں کو اس طرح حرکت دینے لگی گویا کہ وہ پیانو بجا رہی ہو۔ اس عمل کے ساتھ ساتھ وہ کچھ پڑھ بھی رہی تھی۔ اس کے عمل کے مطابق اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کی حرکت کے ساتھ تاش کے پتوں میں بھی حرکت ہونی چاہئے تھی مگر تاش کے پتے ساکت ہی رہے۔ پھر اس نے الٹے رکھے ہوئے گلاس کے اوپر اپنی انگشت رکھی اور آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے لگی وہ خاصی دیر تک اپنا خاص عمل پڑھتی رہی مگر گلاس میں بھی کوئی حرکت نہیں آئی۔ اس نے آنکھیں کھولیں اور مبہوت نظروں سے گلاس اور تاش کے پتوں کی طرف دیکھنے لگی۔

’’اس طریقے سے میں نے کئی بار روحوں سے بات کی ہے مگر آج کیا بات ہے میرا عمل کام نہیں کر رہا۔‘‘

اس نے وہی سارا عمل دوبارہ دہرایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا آخر کار وہ مایوس ہو کے اٹھ گئی۔ اس نے کمرے کا دروازہ کھول دیا اور ساری کینڈلز بجھا دیں۔ وہ بجھی بجھی سی کمرے سے باہر نکلی تو عنبر نے حیرت سے پوچھا’’اتنی جلدی عمل ختم ہوگیا۔‘‘

’’بات نہیں بنی، سات دن کے بعد دوبارہ کوشش کروں گی۔ اب گھر چلتے ہیں۔‘‘ عمارہ نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھا لیا۔

عنبر نے سکھ کا سانس لیا’’شکر ہے۔۔۔‘‘ عمارہ نے اسے گھور کر دیکھا۔

’’پلیز اس طرح گھور کر مت دیکھو یوں لگتا ہے کہ آپ کے اندر کوئی روح آگئی ہے۔‘‘ عنبر نے آفس کا سامان سمیٹتے ہوئے کہا۔

’’بکواس بند کرو اور جلدی چیزیں سیمٹو۔‘‘ عمارہ نے کہا اور پھر خود بھی اس کی مدد کرنے لگی۔

دونوں نے مل کر ساری چیزیں سمیٹیں اور پھر آفس بند کرکے دونوں گاڑی میں بیٹھ گئیں، عمارہ گاڑی ڈرائیور کر رہی تھی۔۔۔وہ سارے راستے خاموش ہی رہی۔ اس نے پہلے عنبر کو ڈراپ کیا اس کے بعد اپنے گھر کے راستے کی طرف چل پڑی۔

اس کے ذہن میں سوچوں کا ایک جال سا بن گیا تھا جس میں وہ الجھی جا رہی تھی۔

عمارہ اپنے دھیان میں گاڑی چلا رہی تھی کہ اچانک اس کا ذہن سو گیا۔۔۔اس کے اعصاب جیسے کسی اور کے ذہن کے تابع ہوگئے۔ اس نے گاڑی کسی اور سمت موڑ لی۔

شہر کی آبادی سے دور اس کی گاڑی دھول اڑاتی ہوئی کچی زمین میں رک گئی۔ خواب سے بیدار ہونے جیسی کیفیت میں اس کے ذہن کو جھٹکا سا لگا۔

اس نے اپنے چاروں اور دیکھا تو خوف و تھرتھراہٹ کی جھرجھری اس کے پورے وجود سے گزر گئی۔ وہ قبرستان میں تھی۔ اس نے اسٹیئرنگ پر رکھے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا’’میں یہاں کیسے آگئی ۔۔۔‘‘

اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور ریورس گیئر لگایا مگر اس کے ذہن میں خیال سا ابھرا۔’’کہ کوئی طاقت ہے جو اسے یہاں تک لائی ہے اسے کچھ دیر یہاں رکنا چاہئے۔‘‘

اس نے گاڑی روک لی اور گیئر نارمل کرتے ہوئے ہینڈ بریک کھینچ لیا۔ وہ گاڑی سے اتری تو ایک بار پھر قبرستان کے خوفناک سناٹے نے اس کے قدم روکے۔

اس نے حوصلے کا لمبا سانس کھینچا اور چل پڑی۔ قبرستان میں خوف سے تھرتھراتی خاموشی، گمبھیر تاریکی اور چھوٹے چھوٹے جانوروں کی سناٹے کو چیرتی ہوئی بری بری آوازیں گونج رہی تھیں۔

چاند کی چودھویں رات تھی۔ اتنی روشنی تھی کہ عمارہ باآسانی چل سکتی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ٹارچ تھی مگر اسے ابھی اس کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی تھی۔ وہ فضا میں سہمی سہمی نظریں گھماتے ہوئے دھیرے دھیرے چل رہی تھی ۔ تنگ کچا راستہ تھا جس کے دونوں اطراف قبریں تھیں۔۔۔وہ بہت احتیاط سے چل رہی تھی۔ وہ ذہنی طور پر کسی بھی پراسرار قوت کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھی جو اسے یہاں تک لے آئی تھی۔

اسے کسی لڑکی کے چیخنے کی آواز آئی۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ لمبے لمبے سانس لیتی ہوئی بوکھلائی ہوئی بولی’’کون ہے وہاں۔۔۔؟‘‘

وہ آواز قبرستان کے دائیں جانب سے آئی تھی۔ وہ دائیں جانب کی قبروں کی طرف بڑھنے لگی۔ اس جگہ چلنا بہت مشکل تھا۔ قبریں بہت قریب قریب تھیں اس کا پاؤں کبھی کسی قبر پر اور کبھی کسی قبر پر رکھا جاتا۔

وہ اپنے قدموں کو سکیڑ کر احتیاط سے چلنے لگی۔ کافی دیر چلنے کے بعد اسے ایک قبر دکھائی دی جس کے اوپر چراغ جل رہا تھا۔ اس قبرکے آس پاس کافی کھلی جگہ تھی۔ وہ قبر عمارہ کی توجہ کا مرکز بن گئی وہ اس قبر کے قریب گئی۔ قبر کے اوپر تازہ پھول کی پتیاں تھیں۔

اس نے پھول کی پتیوں کو ہاتھ میں لیا’’لگتا ہے کہ یہ قبر آج ہی بنی ہے۔ مگر لڑکی کے چیخنے کی آواز کہاں سے آئی تھی۔‘‘

یہ سوال اس کے ذہن میں گونج ہی رہا تھا کہ لڑکی کی چیخ کی آواز ایک بار پھر اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ اس بار وہ آواز اس کے پیروں کے پاس سے زمین سے آرہی تھی۔

وہ لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے اپنے قدموں کو پیچھے سکیڑنے لگی کہ اچانک اس کے قدموں کے قریب زمین کے نیچے سے درجنوں بلیاں نکلنے لگیں۔ یہ سب کچھ اس قدر تیزی سے ہورہا تھا کہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ بلیاں زمین سے سوراخ کرکے نکل رہی ہیں یا زمین سے ابھر رہی ہیں وہ خونخوار بلیاں اس پر جھپٹ پڑیں۔ عمارہ سر کے بل زمین پر گر پڑی۔ بلیوں کے ناخن چھری کی دھار جیسے تیز تھے۔

کچھ بلیاں اس کے پیروں کو چمٹی ہوئی تھیں کچھ اس کے بازوؤں پر اور دو بلیاں اس کی گردن پر جھپٹ پڑیں۔ عمارہ نے اپنے بازوؤں پر چمٹی بلیوں کو جھٹکے سے دور پھینکا اور اپنے گلے میں چمٹی ہوئی بلیوں کو ہاتھوں سے کھینچنے لگی۔ اس کے گلے سے خون بہنے لگا اور پاؤں بھی زخمی ہوگئے۔

عمارہ ساتھ ساتھ خاص آیتیں پڑھنے لگی، آہستہ آہستہ وہ خونخوار بلیاں غائب ہوگئیں۔

عمارہ کھانستی ہوئی اٹھ بیٹھی۔ وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ اس کے جسم کے سارے زخم اس طرح بھر گئے تھے گویا کہ زخم لگے ہی نہ ہوں۔ اس نے سہمی سہمی نظروں سے اپنے اردگرد دیکھا اور اسی جگہ یوگا کے سٹائل میں آلتی پالتی مار کے اپنے بازوؤں کو گٹھنوں سیدھا کرکے اپنی بڑی انگلی اور انگوٹھے کو آپس میں جوڑ لیا اور آنکھیں بند کرلیں۔ اس سے پہلے کہ اس پر کوئی اور حملہ ہوتا اس نے دھیان لگانا شروع کر دیا۔

اس نے اپنی کمر اور سر کو سیدھا کیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ اس نے اپنا سارا دھیان اپنی سانسوں کی طرف کر دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوگئی اور روحانی دنیا میں داخل ہوگئی۔ اس کا مادی وجود بے وقعت ہوگیا اور لطیف وجود حرکت میں آگیا۔ اس نے اپنے من کی آواز سے کسی سے بات کی’’تم جو کوئی بھی ہو، میرے سامنے آؤ۔ مجھ سے بات کرو اس طرح چھپ چھپ کر مجھ پر وار نہ کرو۔۔۔میں تم سے بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

عمارہ کی آنکھیں بند تھیں مگر اس کی وجدانی آنکھ کھل گئی تھی۔ وہ جس جگہ بیٹھی تھی اس جگہ کو دیکھ رہی تھی۔ اس کی اس بات کے جواب میں کوئی سامنے نہیں آیا۔ اس نے ایک بار پھر سب کچھ ایسے ہی دہرایا۔

اس کے سامنے درخت سے ایک شعاع زمین کی طرف بڑھی اور پھر وہ شعاع خیام کے روحانی وجود میں تبدیل ہوگئی۔ ایسا روشنی کا وجود جس سے اس کے پیچھے کی چیزیں بھی دکھائی دے رہی تھیں۔۔۔جس سے آر پا جایا جا سکتا تھا۔ عمارہ دھیرے سے مسکرائی۔

’’اچھا تو یہ تم ہو۔۔۔‘‘خیام تمسخرانہ انداز میں مسکراتا ہوا عمارہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔

’’مجھ پر اس طرح حملہ کرانے کا مقصد۔۔۔؟‘‘ عمارہ نے سوال کیا۔

خیام ابھی بھی تمسخرانہ انداز میں عمارہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ عمارہ نے اپنا سوال پھر دہرایا ’’مجھ پر حملہ کیوں کرایا۔‘‘

خیام نے مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا’’آپ اس چھوٹے سے واقعے کو حملہ کیوں کہہ رہی ہیں۔۔۔میں تو صرف دیکھ رہا تھا کہ جس لڑکی نے زرغام سے مقابلہ کرنے کی ٹھانی ہے وہ کتنی حوصلہ مند ہے۔‘‘

عمارہ نے اپنی سانسوں کی مشق جاری رکھی’’میں حوصلہ مند ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ بس ایک ارادہ لے کر نکلی ہوں اور پر امید ہوں کہ خدا میرا ساتھ دے گا۔ کوشش ہے اور تمہارے لیے بس اتنا ہی بتا سکتی ہوں کہ مجھے اپنی زندگی پیاری نہیں۔ نیک مقصد کے لیے جان چلی جائے تو چلی جائے۔ تم بتاؤ کہ زرغام کے خلاف اس جنگ میں ہمارا ساتھ دو گے۔‘‘

خیام کچھ دیر کے توقف کے بعد بولا’’میں تو اس میدان جنگ میں اس وقت سے ہوں جب آپ نہیں آئی تھیں۔ میں زرغام کے خلاف کیسے لڑتا ہوں کیسے نہیں۔ یہ کسی کو معلوم نہیں ہوگا۔ یہ نیک ہمزاد کی شیطان ہمزاد سے جنگ ہے۔ آپ سے میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ مجھے آپ اور آپ کی ٹیم کی ہر لمحے کی خبر ہے جس وقت آپ کو میری ضرورت ہوگی میں خود آجاؤں گا۔۔۔آپ مجھے بلانے کی کوشش مت کرنا۔‘‘

’’کیوں۔۔۔؟‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

’’روحانی دنیا بہت پیچیدہ ہے ، راز و گیان کی باتیں آپ نہیں سمجھ سکتیں۔ آپ اب گھر جائیں۔‘‘ یہ کہہ کر خیام غائب ہوگیا۔

عمارہ نے بھی آنکھیں کھول لیں۔ وہ جلد از جلد قبرستان سے نکل گئی اور گھر کی طرف روانہ ہوگئی۔چھ ماہ گزر گئے۔ سب دوست معمولات زندگی میں مصروف رہے۔ اس دوران کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہوا۔ عمارہ نے بھی ان دوستوں کے ہاں کئی چکر لگایا مگر کسی غیبی مخلوق یا روحانی اجسام کی موجودگی کے کوئی اثرات نہیں ملے۔

ان سب کو ایک اطمینان سا ہوگیا کہ شاید وشاء، فواد، حوریہ کی روحیں آخری رسومات کے بعد کسی خاص مقام پر چلی گئی ہیں۔ ان کے دل و دماغ پر محیط ڈر ابھی ختم نہیں ہوا تھا لیکن انہوں نے خود فریبی کے احساس میں اپنا دھیان روزمرہ کے کاموں میں لگا لیا تھا۔ عمارہ انہیں یہی سمجھاتی تھی کہ وہ کبھی بھی لاپروانہ ہوں وہ تین ہمزاد کسی بھی وقت دوبارہ ان کی زندگی میں آسکتے ہیں۔

مگر وہ جیسے ڈر کے احساس سے نکل کر دوبارہ اس میں مبتلا ہونا نہیں چاہتے تھے۔ اتنے عرصے میں انہوں نے زرغام کا پتہ لگانے کی کوشش بھی نہیں کی۔

خیام کے منع کرنے کی وجہ سے عمارہ نے بھی ا سے بلانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ بھی اپنے کلینک میں مصروف ہوگئی۔ عمارہ اپنے کلینک میں مصروف تھی۔ کوئی خاتون تھیں جو اپنے کسی نفسیاتی مسئلے کے سلسلے میں آئی تھیں۔ عمارہ اس خاتون کی گفتگو بہ توجہ سے سن رہی تھی کہ اس کی دوست کا فون آیا۔

عمارہ نے فون سنا’’میں ابھی مصروف ہوں کچھ دیر کے بعد خود فون کرلوں گی۔‘‘

’’پلیز فون بند نہ کرنا میں تمہارا زیادہ ٹائم نہیں لوں گی صرف تمہیں یہ بتاناکہ رومان ہوٹل میں مصوری کی نمائش ہے۔۔۔سنا ہے کہ بہت اچھی اچھی پینٹنگز لگانی ہیں انہوں نے نمائش میں۔۔۔شام چار بجے کا وقت ہے بس تم نے میرے ساتھ چلنا ہے۔‘‘

عمارہ نے دوست سے معذرت کے ساتھ کہا’’آج تو رات تک میرے پاس وقت ہیں ہے۔۔۔تم کسی اور کو لے جاؤ۔‘‘

اس کی دوست نے غصے سے فون بند کر دیا۔ عمارہ نے خفیف سے انداز میں سر کو جھٹکا اور پھر اس خاتون کے ساتھ مصروف ہوگئی۔

رومان ہوٹل شہر کا مہنگا ترین ہوٹل تھا اس لیے یہ نمائش بھی خاص تھی۔ باذوق لوگوں کے لیے جنہیں آرٹ سے خاص لگاؤ تھا۔ لوگ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس نمائش میں جانے کے لیے تیار تھے۔ نمائش کا وقت شام چار بجے سے لے کر رات دس بجے تک تھا۔

چار بجے تک تو ہوٹل میں دو یا تین لوگ ہی پہنچے تھے مگر آٹھ بجے ہال لوگوں سے فل تھا۔

نمائش میں تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ تھی۔ شائقین بہت دلچسپی سے پینٹنگ دیکھ رہے تھے۔ پینٹنگز مختلف موضوعات کی عکاسی کر رہی تھیں کچھ کا مطلب صاف اور واضح تھا مگر کچھ تصاویر مخفی خصوصیات کی حامل تھیں۔ جنہیں دیکھ کر لوگ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے ان میں زیادہ تر ایبسٹریکٹ آرٹ کا نمونہ تھی۔

چائے کا بندوبست ہوٹل والوں کی طرف سے تھا جس کے ساتھ sweetsاور بیکری کی اشیاء تھیں۔ باقی لوگوں کی اپنی مرضی تھی وہ ہوٹل سے کچھ بھی آرڈر کرسکتے تھے۔ تین پینٹنگز خاص طور پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔

ایک پینٹنگ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے فیشن کی عکاس تھی۔ جس کا عنوان ینگ ایج تھا۔ رنگوں کو مختلف زاویوں سے پھینک کر ایک لڑکی کا سراپا وجود ظاہرکیا گیا تھا۔ مصور کی تخلیقی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آرہی تھیں۔دوسری پینٹنگ میں غروب آفتاب کا منظر تھا جس میں زندگی کی رعنائیاں دم توڑتی دکھائی گئی تھیں۔ کیسے سورج اپنی چلچلاتی روشنی سمیٹ کر بھیگی آنکھوں جیسی سرخی فضا میں بھر دیتا ہے۔ سرخی مائل سورج کا عکس جھیل پر پڑ رہا تھا گویا جھیل اس کی غم گسار تھی۔ نزدیک ہی ایک چھوٹی سی کٹیا تھی جس کے آس پاس سرکنڈے کی فصل تھی۔ اس نظارے میں خاس مقناطیسیت تھی۔

تیری خوبصورت پینٹنگ میں صبح کا منظر تھا۔ اس کلچر پینٹنگ میں گاؤں کا ماحول دکھایا گیا تھا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ پرندوں کے غول کے غول مستی میں مخمور محو پرواز تھے۔ تصویر بول نہیں سکتی مگر مصور نے فضا میں سروں کے نشان دے کر ظاہر کیا تھا کہ پر مسرت صبح پرندوں کی چہچہاہٹ سے بھرپور ہے۔ بھرے بھرے کھیتوں میں لوگوں کو اپنے کاموں میں مشغول دکھایا گیا تھا۔

خواتین بھی مختلف کاموں میں مشغول دکھائی گئی تھیں۔ اس نمائش میں دو اخباروں کے صحافی بھی موجود تھے جو ان پینٹنگ کی تصاویر لے رہے تھے۔ عمارہ کی دوست نوشی بھی اس نمائش میں موجود تھی۔ پانچ منزلہ عمارت کا یہ ہوٹل روشینوں سے جگمگا رہا تھا۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے حوالے سے امریکی رپورٹ پر پاکستانی دفتر خارجہ کا ردعمل بھی سامنے آگیا

سب سے اوپر کی منزل بالکل خالی تھی وہاں باتھ روم اور سٹور روم کے علاوہ کوئی کمرہ نہیں تھا کھلی چھت میں خوبصورت پودوں کی بہترین کولیکشن تھی۔ چھت پر بے شمار گملے تھے۔ اس بلند بالا عمارت کے اس حصے سے شہر کا نظارہ بہت خوب دکھائی دیتا تھا۔ مگر رات کے اس پہر میں یہ حصہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔

ہوٹل کے نچلے حصوں میں لوگوں کی چہل پہل اور رونق تھی جبکہ اس حصے میں سناتے کی سرسراہٹیں تھیں۔ صحافی مائیک لے کر نوشی کی طرف بڑھا’’آپ کا نام۔‘‘

’’میرا نام نوشی ہے۔‘‘

’’آپ کیا کرتی ہیں۔‘‘

’’جی میں بی کام کر رہی ہوں۔‘‘

’’بہت خوب۔۔۔ہم ایکسپریس نیوز کے لیے ریکارڈنگ کر رہے ہیں۔ آپ کا اس نمائش کے بارے میں کیا خیال ہے۔‘‘

نوشی نے مسکراتے ہوئے کہا’’آج کی نمائش بہت زبردست ہے۔ مجھے ساری پینٹنگز ہی بہت اچھی لگی ہیں لیکن حامد صاحب اور وجاہت صاحب کی پینٹنگز منفرد ہیں۔ خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ان میں ایک پیغام بھی ہے۔‘‘

’’آپ ہماری ٹیم کے ذریعے کوئی پیغام لوگوں تک پہنچانا چاہتی ہیں۔‘‘

نوشی نے کیمرے کی طرف دیکھا’’اس طرح کی exibitions منعقد کرکے ہمیں آرٹسٹوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اس طرح نیا ٹیلنٹ بھی سامنے آئے گا بلاشبہ یہ لوگ بھی معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرداں ہیں۔‘‘

’’۔۔۔‘‘ ایکسپریس نیوز کا نمائندہ تھینکس کہہ کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے ان کی رائے معلوم کرنے لگا۔ نوشی کے موبائل کی رنگ بجی۔ نوشی نے موبائل دیکھا تو سکرین پر عمارہ کا نام تھا۔۔۔اس نے منہ بسورتے ہوئے کال کاٹ دی۔

عمارہ نے پھر نمبر ملایا۔۔۔نوشی نے ہونٹ بھینچتے ہوئے اس کا فون سنا’’اب کیوں فون کیا ہے جب میں نے آنے کو کہا تو صاف انکار کر دیا۔‘‘

عمارہ نے ٹھنڈی آہ بھری۔’’اتنی جلدی خفا ہو جاتی ہو میں جونہی فارغ ہو جاؤں گی تھوڑی دیر کے لیے آجاؤں گی۔‘‘

’’ہاتھ لگانے آؤ گی تو ایسے آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘

’’ابھی مریض بیٹھے ہیں، میں کوشش کروں گی۔‘‘

’’اچھا ٹھیک ہے میں ایک گھنٹے تک ادھر ہوں اگر تم آگئی تو ٹھیک ہے ورنہ میں گھر چلی جاؤں گی۔‘‘ نوشی نے موڈ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔

عمارہ نے فون بند کر دیا اور اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ کچھ لوگ نمائش دیکھ کر جا رہے تھے اور کچھ آرہے تھے۔ دھیمی دھیمی موسیقی نے فضا میں سرور بھر دیا تھا۔ لوگ خوشگوار ماحول میں اس تقریب سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

ہوٹل کی آخری منزل جہاں سناٹے اور تاریکی کا راج تھا دیوار پر لگے الیکٹرک ساکٹ سے شعلے نکل رہے تھے۔۔۔جس کا تعلق نچلی منزلوں سے تھا۔

سب سے نچلے حصے کا میٹر الگ تھا مگر اوپر کی منزلوں میں بجلی کم تیز ہونے لگی تھی۔ چھت پر لگے الیکٹرک ساکٹ کے شعلے بڑھنے لگے تھے ہوٹل کے فرنٹ پر چھت کی طرف لگی ہوئی ڈیکوریشنز لائیٹز بجھ گئی تھیں۔ ہوٹل کا اوپر کا حصہ باہر سے بھی اندھیرے میں ڈوب گیا تھا۔

اندھیرے میں ڈوبی ہوئی چھت کے اوپر آسمان میں عجیب پراسرار سی حرکات ہو رہی تھیں۔ روشنی کے تین دائرے ایک دوسرے کے آگے پیچھے تیزی سے حرکت کر رہے تھے۔ رفتہ رفتہ روشنی کے وہ دائرے چھت کی طرف بڑھنے لگے اور پھر چھت کے وسط میں روشنی کے تین ہالے نمودار ہوئے۔

ہوٹل کی درمیانی منزل میں بجلی کبھی بند ہوجاتی اور کبھی آجاتی۔ ان جلتی بجھتی روشنیوں میں لوگوں نے شور مچا دیا۔ الیکٹریشن اپنے اوزار لے کر چھت پر پہنچے اور ساکٹ بورڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ الیکٹرک ساکٹ سے چنگاریاں نکل کر دور دور گر رہی تھیں۔

بالآخر مین سوئچ زور دار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ نچلی دونوں منزلیں اندھیرے میں ڈوب گئیں۔ ان حالات میں نہ تو جنریٹر چلایا جا سکتا تھا اور نہ ہی UPSاستعمال ہو سکتا تھا۔ ایمرجنسی لائٹس استعمال کرکے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جانیلگی۔

ہوٹل کے دوسرے حصوں میں لوگوں کو منتقل کیا جائے گا۔ الیکٹریشن اپنے کام میں مصروف تھے مگر اب ان کا کام لمبا ہوگیا بجلی کی دوبارہ بحالی کے لیے اب انہیں خاصا وقت درکار تھا۔ پینٹنگز کی نمائش اسی طرح جاری تھی لوگ بہت دلچسپی سے یہ تصاویر دیکھ رہے تھے۔ پینٹنگز کے ساتھ ان کی قیمت بھی درج تھی۔ بہت سی پینٹنگز لوگوں نے خرید لی تھیں مگر نمائش ختم ہونے تک وہ پینٹنگز اپنی جگہ پر ہی رہنی تھیں ۔

دو لڑکیاں ینگ ایج کے عنوان سے لگی پینٹنگ کے بارے میں اظہار خیال کر رہی تھی۔ اچانک دونوں اپنے منہ پر ہاتھ رکھے چیخنے لگیں۔ لوگ ان کی چیخ و پکار سن کر ان کی طرف متوجہ ہوگئے۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے پینٹنگ کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔

لڑکیوں کے گرد جمع ہونے والے لوگ بھی اپنی جگہ جامد ہوکے رہ گئے تھے۔ پینٹنگ میں جو ایک لڑکی کا محض سراپا دکھایا گیا تھا وہ ایک خوبصورت لڑکی کی تصویر میں بدل گیا تھا جس کے پر بھی تھے۔۔۔پوری تصویر میں خون کے چھینٹے تھے۔ نمائش میں آئے ہوئے تقریباً سبھی لوگ اس پینٹنگ کے گرد جمع تھے۔

صحافی بھی اس پینٹنگ کی تصاویر لے رہے تھے لوگ خوفزدہ سہمے سہمے کھڑے تھے۔ مگرنوشی جس پینٹنگ کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کے قدم وہیں منجمد ہوگئے تھے۔ اس کا چہرہ پسینے سے تر تھا۔ اس کی قوت گویائی سلب ہوگئی تھی۔ اسے کچھ ہوش نہیں تھی کہ آرٹ گیلری میں کیا ہو رہا ہے اس کی تو نظریں اپنے سامنے والی پینٹنگ میں جڑی تھیں۔ کسی خوفناک مصور نے اس پینٹنگ کا منظر ہی بدل دیا تھا۔

وہ پینٹنگ جس میں غروب آفتاب کا منظر تھا یک لخت دہکتی آگ کے منظر میں بدل گیا۔ سر کنڈے کی فصل کو آگ لگی ہوئی تھی اور اس کا سیاہ دھواں پوری فضا میں پھیلا ہوا تھا۔ جس نے ہر جگہ سیاہی بھر دی تھی۔

وہ تھرتھر کانپ رہی تھی۔ ایک شخص کی نظر اس پر پڑی تو اس نے اس کے قریب آکر وہ پینٹنگ دیکھی۔ وہ بے ساختہ چلایا۔ ’’یہ دیکھو اس پینٹنگ کا منظر بھی تبدیل ہوگیا ہے۔‘‘

پچھلی پینٹنگ کو چھوڑ کے لوگ اس پینٹنگ کے گرد جمع ہوگئے مگر نوشی پتھر کی بنی اپنی جگہ پر ہی کھڑی تھی۔ لوگوں کے دلوں میں تجسس بھی تھا اور خوف بھی صحافی بھی دھڑا دھڑ تصاویر کھینچ رہے تھے۔ ابھی لوگ اپنے دلوں کو سنبھال بھی نہ پائے تھے کہ ہال میں دل کو مدہوش کرنے والی خوبصورت نسوانی آواز گونجنے لگی۔

کوئی لڑکی اپنی مسحور کن آواز میں کوئی گیت گا رہی تھی جو لوگوں کے دلوں کو کھینچ رہا تھا مگر وہ زبان سمجھ میں نہیں آرہی تھی جس میں وہ گیت گا رہی تھی۔ اس آواز میں ایسی کشش تھی کہ لوگ دیوانوں کی طرح اس آواز کی طرف کھنچے جا رہے تھے۔

اس آواز کے پیچھے چلتے ہوئے لوگ اس پینٹنگ تک پہنچ گئے جس میں گاؤں کے فطری ماحول کی عکاسی کی گئی تھی مگر اب اس پینٹنگ کا منظر ہیبت ناک تھا۔ پینٹنگ میں اپنے اپنے کاموں میں مصروف دکھائے گئے لوگ خون میں لت پت گرے ہوئے تھے۔ پرندے بھی زخمی حالت میں آسمان سے زمین کی طرف گر رہے تھے۔

یہ خوفناک بدلا ہوا منظر لوگوں کو حیران نہیں کر رہا تھا کیونکہ وہ سب لوگ جادوئی آواز کے سحرمیں مبتلا تھے۔

عمارہ اپنی مریضہ کے ساتھ مصروف تھی۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد اس نے نوشی کے نمبر پر فون کیا۔ بیل جارہی تھی مگر کوئی فون نہیں اٹھا رہا تھا۔’’کیسی لاپروا لڑکی ہے۔‘‘

عمارہ نے دوبارہ فون ملایا مگر اب بھی یہی صورتحال تھی۔ اس نے موبائل پر ٹائم دیکھا ’’اوہ نو بج گئے ہیں آج تو وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔‘‘ اس نے عنبر کی مدد سے آفس کا سامان سمیٹا اور پھر وہاں سے نکل گئی۔ عنبر بھی اس کے ساتھ تھی حسب معمول اس نے پہلے عنبر کو ڈراپ کیا پھر اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔

گھر پہنچ کر اس نے پھرتی سے اپنے کپڑے چینج کیے۔ اپنا ہینڈ بیگ لیا اور اپنی والدہ کو بتا کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ رابعہ اس کے پیچھے پیچھے پورچ تک آگئیں۔’’اتنی دیر سے جا رہی ہو اب وہاں زیادہ وقت نہ لگانا اور گاڑی آہستہ آہستہ چلانا۔‘‘

’’اوکے مما!‘‘ عمارہ نے مسکراتے ہوئے گاڑی ریورس کی اور پھر تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔ اسے بھی پینٹنگ سے خاصا لگاؤ تھا۔ وہ ہوٹل کی طرف جا رہی تھی۔ وہ ہوٹل کے قریب پہنچی تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔

ہوٹل کے آگے لوگوں کاہجوم تھا۔ 1122کی گاڑیاں، پولیس کی گاڑیاں، ایمبولینس گاڑیاں لوگوں میں گھری کھڑی تھیں۔لوگوں کے ہجوم کو پولیس والوں نے لوہے کی زنجیر سے روکا ہوا تھا۔

کچھ لوگ جو امدادی کارروائیوں میں مدد کررہے تھے کسی نہ کسی طریقے سے اندر چلے گئے تھے۔ عمارہ کا چہرہ پسینے سے تر ہوگیا وہ گاڑی بند کرکے لوگوں کے ہجوم کی طرف بڑھی۔ وہ لوگوں کو دھکیلتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی۔ درد میں ڈوبی ہوئی آوازیں اس کی سماعت سے ٹکرا رہی تھیں۔

’’میرا بیٹا اندر ہے۔۔۔پلیز آپ مجھے اندر جانے دیں‘‘ کوئی اپنی بہن کے لیے رو رہا تھا۔ اس کا تو بس دل گھبرا رہا تھا جو کسی خطرے کی طرف اشارہ تھا۔ وہ لوگوں کوپیچھے دھکیلتی ہوئی لوہے کی زبجیر کے قریب پہنچ گئی اور انسپکٹر سے کہنے لگی۔

’’یہ سب کیا ہے؟ اندر کیا ہوا ہے؟‘‘

’’ابھی ہم آپ کو کچھ نہیں بتا سکتے۔‘‘ انسپکٹر نے جواب دیا۔

عمارہ نے التجا کی’’پلیز آپ مجھے اندر جانے دیں۔‘‘

انسپکٹر نے نفی میں سر ہلایا’’ہم کسی کو اندر نہیں بھیج سکتے، پولیس کی کارروائی ہو رہی ہے۔‘‘

عمارہ نے اپنا کارڈ دکھایا۔’’میں ایک ڈاکٹر ہوں۔ آپ لوگوں کی مدد کر سکتی ہوں۔‘‘

انسپکٹر نے اسے اندر آنے کی اجازت دے دی اور اسے بمشکل زنجیر میں سے گزار دیا۔ عجیب افراتفری کا عالم تھا۔۔۔کوئی کہیں بیٹھا رو رہا تھا اور کوئی کہیں مگر عمارہ کو کوئی کچھ نہیں بتا رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے ایک پولیس سولجر عمارہ کے پاس سے گزرا تو عمارہ نے اسے بلایا۔’’ایکسکیوزمی!‘‘

وہ عمارہ کے قریب آیا۔’’جی فرمائیے۔‘‘

’’میں اندر جانا چاہتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ نے اسے اپنا کارڈ دکھایا۔

سولجر نے وہ کارڈ لے لیا’’آپ ادھر ہی رکیں میں پرمیشن لے کر آتا ہوں۔‘‘

عمارہ اسی جگہ کھڑی رہی۔ کچھ دیر کے بعد وہ سولجر عمارہ کے قریب آیا۔’’آپ آئیں میرے ساتھ۔‘‘

عمارہ اس شخص کے پیچھے یچھے چل پڑی۔ وہ شخص ہال کے قریب جا کے رک گیا۔’’آپ اندر جائیں۔‘‘

یہ کہہ کر وہ شخص وہاں سے چلا گیا۔ اندر کا ہولناک منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں دھندلاگئیں۔ سر چکرایا اور وہ لڑکھڑا کے رہ گئی۔ ہال میں لوگوں کی لاشیں بچھی ہوئی تھیں۔ دیواروں پر پینٹنگ لگی تھیں مگر فرش لوگوں کے خون سے رنگا ہوا تھا۔

ہال میں انویسٹی گیشن کے لیے پولیس کے چار افراد اور دو ڈاکٹرز تھے۔

لوگوں کی اموات بہت عجیب طریقے سے ہوئی تھیں۔ کسی کے کانوں سے خون بہہ رہا تھا۔اور ساتھ ساتھ ناک سے بھی بہہ رہا تھا جس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ان کی موت دماغ کی رگیں پھٹنے سے ہوئی ہے۔ کسی کی گردن پر دو دانتوں کے نشان تھے جس سے اس کا جسم اس طرح نیلا پڑ گیا تھا جیسے کسی نے اس کا خون چوس لیا ہو اور کوئی جھلسا ہوا تھا۔

عمارہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے مگر وہ دل پرہاتھ رکھ کے آگے بڑھ رہی تھی۔چلتے چلتے ایک دم اس کے قدم رک گئے وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی اور اونچا اونچا رونے لگی۔ نوشی خون میں لت پت زمین پر ڈھیر تھی۔ اس کی بھی موت دماغ کی رگیں پھٹنے سے ہوئی تھی۔


عمارہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے مگر وہ دل پر ہاتھ رکھ کے آگے بڑھ رہی تھی۔ چلتے چلتے ایک دم اس کے قدم رک گئے وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی اور اونچا اونچا رونے لگی۔ نوشی خون میں لت پت زمین پر ڈھیر تھی۔ اس کی بھی موت دماغ کی رگیں پھٹنے سے ہوئی تھی۔ وہ اس لاش کے قریب دوزانو بیٹھ گئی۔

’’مجھ سے ایسی بھی کیا ناراضگی کہ اتنی دور چلی گئی‘‘ ایک آفیسر عمارہ کے قریب آیا

’’یہ آپ کی کیا لگتی ہیں۔‘‘

’’یہ میری دوست ہے۔‘‘ عمارہ گلوگیر لہجے میں بولی۔

’’آپ خود کو سنبھالیں۔ آپ جیسے لوگ بھی ہمت چھوڑ دیں گے تو کمزور دل لوگوں کو کون سنبھالے گا۔ آپ ان کے گھر والوں کو بھی اطلاع کر دیں۔ پچاس لوگوں کا مرڈر ہوا ہے۔ صورت حال بہت گمبھیر ہے۔ پولیس کی ضروری کارروائی پوری ہو جائے تو لاشیں ان کے لواحقین کے سپرد کر دی جائیں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ آفیسر اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ دوبارہ مصروف ہوگیا۔ نوشی کی آوازیں ابھی بھی عمارہ کے ذہن میں گونج رہی تھیں کہ کس طرح وہ اسے نمائش میں آنے کے لیے مجبور کر رہی تھی۔

وہ کچھ دیر نوشی کی لاش کے پاس بیٹھی رہی پھر اٹھ کر باقی لاشوں کی طرف دیکھنے لگی۔ اسے صرف اپنی دوست کی موت کا غم نہیں تھا مرنے والے تمام لوگوں کے لیے اس کا دل چُور چُور تھا۔ جسم اس طرح نڈھال تھا جیسے وہ اپنے قدموں کو گھسٹیتے ہوئے چل رہی تھی۔ اس نے اپنا زمین پر لٹکتا ہوا دوپٹہ اکٹھا کیا تو اس کا دوپٹہ سیاہ راکھ سے بھر گیا۔ اس نے اپنے دوپٹے کو چھوا تو اس کے ہاتھ بھی سیاہ ہوگئے۔

اس نے سراسیمہ نگاہوں سے چاروں اور دیکھا۔ ہال کی کتنی ہی چیزیں سیاہ دھویں سے کالی ہوگئی تھیں۔ اس نے گروہ کی شکل میں کھڑے ہوئے آفیسر سے بلا تامل پوچھا

’’ادھر آگ لگی تھی؟‘‘

آفیسرنے فوری جواب دیا ’’نہیں‘‘ پھر وہ عمارہ کے قریب آیا

’’اس طرح معلوم ہو رہا ہے جسیے سیاہ دھواں کھڑکیوں اور دروازوں سے اندر داخل ہوا ہے جبکہ نہ تو باہر آگ لگی ہے اور نہ ہی اس ہوٹل کے آس پاس اور نہ ہی الیکٹرک تار جلی ہے ۔ کوئی ایک شخص بھی نہیں بچا جس سے پوچھا جائے کہ آخر ہوا کیا تھا اس کیس میں بہت ایسی چیزیں ہیں جس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے ابھی کچھ دیر پہلے آرٹسٹ آئے تھے جن کی پینٹنگ کی نمائش تھی۔ ان میں سے ایک دو اشخاص نے تو سب کو حیران کر دیا ان کا کہنا تھا کہ تین پینٹنگز کے مناظر چینج ہو گئے ہیں۔ یہ کام اس قدر صفائی سے کوئی انسان نہیں کر سکتا۔ آپ ایک عاملہ بھی ہیں آپ ہماری مدد کریں۔‘‘

وہ آفیسر عمارہ کو ان پینٹنگز کے پاس لے گیا۔ عمارہ نے وہ تینوں پینٹنگز دیکھیں تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ تینوں پینٹنگز میں ایک خوفناک پیغام تھا۔ پروں والی لڑکی، آگ سے اُٹھتا سیاہ دھواں اور موت کی نیند سُلا دینے والی خوبصورت آواز۔

عمارہ کھوئے کھوئے سے انداز میں بولی

’’مارنے والوں نے ان پینٹنگز کے ذریعے پہلے ہی موت کا اعلان کر دیا تھا۔‘‘

آفیسر بوکھلا سا گیا

’’کیاآپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ یہ قتل کیسے ہوئے؟‘‘

’’میں فی الحال کچھ نہیں بتا سکتی سوائے اس کے کہ یہ سب کالے جادو سے کیا گیا ہے

’’یہ کہہ کر وہ تیز تیز قدموں سے داخلی دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔ گروپ میں کھڑا ہوا ایک آفیسر تضحیک آمیز انداز میں مسکرایا۔

’’ہم یہاں قاتل ڈھونڈ رہے ہیں کہ اسے ہتھکڑی پہنائی جائے اور آپ کالے جادو کی بات کر رہی ہیں۔‘‘

عمارہ نے باہر کی طرف جاتے ہوئے قدم روک لیے اور پلٹ کر آفیسر کی طرف دیکھا اور معنی خیز انداز میں بولی

’’قتل کرنے والا کوئی انسان نہیں جسے آپ ہتھکڑی پہنا دیں، وہ ایک ہمزاد ہے۔‘‘

عمارہ خوف سے تھرتھراتا ہوا اس فقرے کا تیر ہوا میں چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی۔ اس ساری صورتحال میں ٹی وی چینل کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی، کیمرہ آن تھا۔ میڈیا کے ذریعے یہ خبر لوگوں میں پھیل گئی۔ لوگ خوفزدہ ہو کے من گھڑت کہانیاں گھڑنے لگے۔ ہمزاد موت کا سایہ بن کر ہر ایک کے حواس پر سوار ہوگیا۔

ظفر، توقیر اور اس کے دوسرے دوستوں نے بھی یہ ریکارڈنگ دیکھی، ان کی تو جیسے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ظفر نے عمارہ سے رابطہ کیا۔ عمارہ نے موبائل اٹھایا اور تھکے تھکے لہجے میں بولی

’’وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ زرغام نے ان تینوں کے ہمزاد کو اپنے خطرناک مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ خوف و ہراس ایک شیطان کی طاقت کو بڑھا دیتا ہے اتنے لوگوں کے قتل کے بعد بھی ان کی طاقتیں بڑھ گئی ہوں گی۔ آپ وشاء ، فواد اور حوریہ کے گھر والوں کو یہ ہدایت کریں کہ وہ محتاط ہو کے رہیں آپ اور ساحل میرے گھر آئیں۔‘‘

یہ کہہ کر عمارہ نے فون بند کر دیا۔ عمارہ نے صوفے سے پشت لگا لی اور سر کر جھٹکے سے پیچھے کی طرف رکھ دیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد ظفر اور ساحل اس کے گھر آ گئے۔ عمارہ نے انہیں مہمان خانہ میں بٹھایا۔ عمارہ کی والدہ بھی وہیں آگئیں۔

وہ بھی اس خوفناک واقعہ پر بہت رنجیدہ تھیں مگر اصل حقائق سے بے خبر تھیں۔

’’تم عمارہ سے باتیں کرو میں ملازمہ کے ہاتھ چائے بھیجتی ہوں۔‘‘

یہ کہہ کر عمارہ کی والدہ وہاں سے چلی گئیں۔ ساحل نے عمارہ کے پریشان چہرے کی طرف دیکھا

’’آپ کی دوست کے بارے میں سن کر بہت افسوس ہوا۔‘‘

عمارہ کانپتی آواز میں بولی۔ ’’وہ پچاس لاشیں ابھی بھی میری آنکھوں کے سامنے آرہی ہیں ان کے لواحقین کے بین ابھی بھی میری سماعتوں میں گونج رہے ہیں۔ میں نے آپ دونوں کو اس لیے بلایا ہے کہ کسی بھی طریقے سے ہمیں زرغام تک پہنچنا ہے۔ ہمارے لیے ہمزاد سے مقابلہ کرنا مشکل ہے مگر مادی وجود رکھنے والے ایک انسان کو تو ہم قابو کر سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اس شخص کو ختم کر دیا تو یہ قتل و غارت بھی ختم ہو جائے گی۔‘‘

ساحل کی پیشانی پہ شکنیں ابھر آئیں۔

’’اس خبیث کو میں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘

ظفر نے فوراً ساحل کو ٹوکا

’’یہ معاملے جوش سے نہیں ہوش سے ہینڈل کیے جاتے ہیں۔‘‘

ساحل ایک بار پھر تپ کر بولا

’’ہم ہاتھ پر ہاتھ دھیرے بیٹھے ہیں اور خون آشام درندہ سرِعام پھر رہا ہے۔ ایک دفعہ ہی موقع ملا تھا زرغام کے ٹھکانے تک پہنچنے کا نہ جانے کیسے وہ چند منٹوں میں نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ان پچاس لوگوں کا قتل وشاء، فواد اور حوریہ نے کیا ہے مگر کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘

عمارہ نے پریشان کن لہجے میں کہا

’’ساحل یہ بھی یاد رکھو کہ وہ تینوں مر چکے ہیں اور مرے ہوئے لوگوں پر پولیس کیس نہیں کرتی۔ مجھے آپ لوگوں سے بس یہی کہنا ہے کہ کچھ بھی تدبیر سوچیں مگر ہمیں زرغام تک پہنچنا ہے۔ اتنے بڑے واقعہ کے بعد کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ان کا اگلا نشانہ کون ہوگا۔‘‘

’’ایک اور پریشانی کی بات ہے۔‘‘ ظفر نے کہا۔

’’کیا۔۔۔؟‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

ظفر نے ٹھنڈی آہ بھری۔

’’وینا کے والدین نے وینا اور عارفین کی شادی کی تاریخ رکھ دی ہے اسی مہینے کی پندرہ تاریخ۔‘‘

’’اوہ میرے خدایا! آج جمعرات ہے اور اگلے جمعہ کو وینا کی شادی ہے۔ ان حالات میں انہیں تاریخ رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ ہم اس مسئلے کا کوئی حل تو ڈھونڈ لیتے۔‘‘

’’وہ لوگ کہتے ہیں کہ عارفین نے انگلینڈ جانا ہے۔ شادی جلدی کرنا ان کی مجبوری ہے۔‘‘ ساحل نے کہا۔

عمارہ بے چینی سے چہل قدمی کرنے لگی

’’بے شک عارفین شادی کے بغیر انگلینڈ چلا جاتا، وہ لوگ کوئی بھی حل نکالتے مگر ابھی وینا کے نکاح کا مطلب ہے فواد کو للکارنا۔‘‘

ساحل نے بے چینی سے اپنے ہاتھوں کو حرکت دی

’’کیا ہم بدروحوں کے خوف سے اپنی زندگی کے معاملات ہی ختم کر دیں۔‘‘

عمارہ نے اپنا ہاتھ میز پر مارا

’’جب تک ہم ان کے شیطانی ہمزاد کو قابو نہیں کر لیتے ہم لاپروا نہیں ہو سکتے۔ ہماری تھوڑی سی غفلت کئی لوگوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے۔‘‘

ظفر نے عمارہ کی تائید کی

’’ساحل! عمارہ ٹھیک کہہ رہی ہے میں وینا کے گھر والوں سے بات کروں گا کہ فی الحال اس شادی کا ارادہ ترک کر دیں نمائش میں ہونے والے واقعے سے وہ پہلے ہی بہت خوفزدہ ہیں یقینا! میری بات سمجھنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

ساحل اور ظفر کچھ دیر کے بعد عمارہ کے گھر سے چل پڑے۔ دونوں بے حد پریشان تھے۔ حالات نے سنگین ترین صورت اختیار کر لی تھی۔

ظفر نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے ساحل کی طرف دیکھا جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں

’’میرے گھر ہی چلو مل کر کچھ سوچتے ہیں اس مسئلے کے بارے میں۔‘‘

ساحل نے ظفر کی طرف دیکھے بغیرجواب دیا

’’میں باتیں کر کر کے تھک گیا ہوں اب کچھ عملی طور پر کرنا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے میرے گھر چھوڑ دیں پلیز آپ سب سے رابطہ کریں۔ ہمیں مل کر اس مصیبت سے نبرد آزما ہونا ہے۔ ہمارے پاس اب وقت نہیں ہے جس سے جو ہوتا ہے وہ کریں۔‘‘

ظفر، ساحل کی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا۔ پھر اچانک اس نے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارا۔

’’ایک تجویز ہے میرے ذہن میں۔‘‘

’’عمارہ کے منہ سے ’’ہمزاد‘‘ کا نام سن کر ہر طرف میڈیا میں سنسنی خیز خبریں پھیل گئی ہیں۔ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ پولیس اور رینجرز تو اسے محض توہمات پرستی سمجھتے ہیں مگر کچھ ایسے عالم ہوں گے جنہوں نے اس بات کو سنجیدگی سے لیا ہوگا۔ کیوں نہ ہم ایک پریس کانفرنس کریں اور میڈیا کے ذریعے کسی کو مدد کے لیے پکاریں۔‘‘

ساحل نے اثبات میں سر ہلایا

’’آپ کی بات میں دم ہے مگر میڈیا والے ہمارے لیے مسائل پیدا کر دیں گے۔ ہماری مدد کرنے کے بجائے اس معاملے کوIntertainmentکے لیے استعمال کریں گے۔ مرچ مصالحے لگا کر سنسنی خیز خبروں کے ذریعے لوگوں کی دلچسپی حاصل کریں گے۔ ہمیں اپنا کام نہیں کرنے دیں گے۔ ہمیں لوگوں کے سامنے نہیں آنا چاہئے۔

عمارہ تو لوگوں کے سامنے آچکی ہے اگر کسی نے ہماری مدد کرنی ہوگی تو وہ خود سامنے آجائے گا ہمیں صرف یہ سوچنا ہے کہ زرغام کو کیسے ڈھونڈا جائے۔ کس طرح انسانوں کا قتل عام روکا جائے۔‘‘ انہی باتوں میں ساحل کا گھر آگیا۔

ظفرنے گاڑی روک دی۔ ساحل گاڑی سے اتر گیا۔ اس نے گاڑی کے دروازے پر بازو رکھا۔’’کل دس بجے آپ سب کو بلا لیں۔‘‘

ظفر نے اثبات میں سر ہلایا’’ٹھیک ہے۔‘‘

ساحل گھر میں داخل ہوا تو اس کی والدہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی

’’کہاں تھے تم، کب سے میں تمہیں فون کر رہی ہوں۔‘‘

’’کیوں خیریت تھی؟‘‘ ساحل نے پلنگ پر بیٹھتے ہوئے کہا

راحت اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔

’’جب تم موبائل رسیو نہیں کرتے تو طرح طرح کے وہم میرا سینہ چیرتے ہیں۔ کتنے لوگ لقمۂ اجل ہوگئے ہیں۔ مجھے تو اس فکر میں نیند نہیں آتی کہ میرا بیٹا خود ان بد روحوں سے مقابلہ کر رہا ہے خدا نہ کرے کہ میرے بیٹے۔۔۔‘‘

ساحل نے ماں کو اپنی بانہوں کے حصار میں لے لیا

’’آپ کو تو فخر ہونا چاہئے کہ آپ کا بیٹا لوگوں کےکام آ رہا ہے۔ یہ شیطانی مخلوقات کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، قرآن پاک اور نماز پڑھنے والے مومن یا مومنہ کا کچھ نہیں بِگاڑ سکتیں۔ آپ آیتیں پڑھ کر مجھ پر پھونک دیا کریں اور اپنے بیٹے کو اللہ کے سپرد کرکے مطمئن ہو جایا کریں۔ یہ بد روحیں آپ کے بیٹے کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔‘‘

ردا کھانا لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔

’’اماں ! بھائی ٹھیک کہہ رہا ہے آپ خدا پر بھروسا رکھیں اور دعا کریں کہ خدا کوئی ایسا راستہ دکھائے کہ ہم سب کو ان شیطانی ہمزاد سے نجات مل جائے۔‘‘

ردا نے کھانا ساحل کے سامنے رکھا اور راحت کے پاس بیٹھ گئی

’’آپ کی دعا اس وقت ساحل کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔‘‘

راحت نے ٹھنڈی آہ بھری

’’ماں ہوں نا اس لیے پریشان ہو جاتی ہوں۔ نہ جانے کیسی آزمائشیں آگئی ہیں ہم سب کے لیے ۔‘‘ یہ کہہ کر راحت وہاں سے اٹھ گئی۔

ساحل اور ردا اسی موضوع پر آپس میں باتیں کرتے رہے۔ ردا سے باتیں کرکے ساحل کے دل کا بوجھ کچھ کم ہوا۔

اکتوبر کا مہینہ تھا۔۔۔موسم خوشگوار تھا۔۔۔نہ ہی سردی تھی اور نہ ہی گرمی۔۔۔خصوصاً راتیں ٹھنڈی تھیں۔ رات کے دس بج رہے تھے، راحت اور ردا اندر کمرے میں اپنے اپنے بستر میں لیٹ گئی تھیں۔

ساحل اپنے کمرے میں لیٹا گہری سوچ میں گم تھا نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ عجیب سی بے چینی تھی جو ذہن کو الجھائے جا رہی تھی ۔ اسے گھٹن سی محسوس ہونے لگی۔ وہ کمرے سے نکل کر صحن میں آگیا۔ اسے باہر کھلی ہوا میں قدرے سکون محسوس ہوا۔ اس نے صحن میں چارپائی بچھا لی اور اندر سے تکیہ بھی لے آیا۔

سرہانہ چارپائی پہ رکھ کر وہ چت لیٹ گیا۔ آسمان پر ستارے کسی سیاہ چادر پر چمکتے نگینوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ اس کی بے خواب آنکھوں میں وشاء کا خوبصورت چہرہ جھلملانے لگا۔ اس کی خوبصورت مسکراہٹ کے خیال نے ساحل کے لبوں پر بھی مسکراہٹ بکھیر دی۔ ایک خوبصورت خیال نے ساحل کے دل کے دھڑکنوں میں ہلچل سی مچا دی۔

جب وشاء ان کے گھر آئی تھی۔ باتوں ہی باتوں میں اسے علم ہوا کہ مجھے گاجر کا حلوہ بہت پسند ہے اس نے ضد کی کہ ردا اسے گاجر کا حلوہ بنانا سکھائے۔

ردا نے مجھ سے حلوے کا سامان منگوایا۔ میں سامان لے تو آیا مگر من ہی من میں ہنس رہا تھا ک جس لڑکی نے کبھی چولہا نہیں جلایا۔ وہ حلوہ کیسے بنائے گی۔ امی نے گاجریں کش کر دیں۔۔۔ردا اور وشاء کچن میں چلی گئیں حلوہ بنانے کے لیے۔

ردا نے کڑاہی چولہے پر رکھی اور اس میں گھی ڈال دیا گھی کڑکڑانے کے بعد اس میں کش کی ہوئی گاجریں ڈال دیں اور وشاء کو چمچ دے کر چوہلے کے پا س کھڑا کر دیا۔ میں بھی ان دونوں کی کارستانیاں دیکھنے کے لیے کچن میں ہی آگیا’میں نے سوچا کہ میں بھی حلوہ بنانا سیکھ لوں۔‘‘

میں نے وشاء کے قریب کھڑے ہوئے ہوئے جو حلوہ میں چمچ بھی پین کی طرح چلا رہی تھی ردا کسی کام سے باہر چلی گئی تھی۔ میری ہنسی چھوٹ گئی۔

’’یہ تم حلوہ بنا رہی ہو یا کڑاہی میں نقش و نگار بنا رہی ہو۔‘‘

وشاء نروس ہوکے چمچ ٹھیک طرح سے چلانے لگی تو اس کا ہاتھ کڑاہی سے لگ گیا۔ وشاء چیخ کو پیچھے ہٹی تو مجھ سے جا لگی۔ میں نے چولہا بند کیا اور جلدی سے ٹیوب لے آیا میں نے اس کا ہاتھ تھاما اور زخم پہ ٹیوب لگانے لگا۔ میں اس سے تلخ روئی سے بولنے لگا۔’’کیا ضرورت تھی چولہے کا کام کرنے کی جبکہ تم نے گھر میں کبھی کام نہیں کیے۔‘‘

وشاء کی آنکھوں میں آنسو تھے، معمولی زخم سے بھی وہ چھوٹی سی بچی کی طرح رونے لگی تھی۔ میں اس کی ڈریسنگ کر رہا تھا اور وہ بھیگی آنکھوں سے میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگی جیسے کہہ رہی ہو کہ ایسا زخم تو بار بار لگے۔ ڈریسنگ پوری ہوئی تو وہ تیز تیز قدموں سے وہاں سے چلی گئی۔ راحت کی آواز سے ساحل اپنے خیال سے چونک گیا۔

’’ساحل بیٹا! باہر کیا کر رہے ہو اندر آجاؤ۔‘‘ ساحل نے اونچی آواز سے کہا

’’تھوڑی دیر بعد آجاؤں گا۔ اندر گھٹن ہو رہی تھی باہر کافی سکون ہے۔‘‘

’’تھوڑی دیر بعد آجانا۔۔۔‘‘ راحت نے کہا ۔ ساحل نے پھر سے ستاروں پر نظر ٹکا دی۔ اس کی آنکھوں میں دلکش رنگ سے چمکائے اس نے ستاروں سے نظر ہٹالی تو ایک خوبصورت تتلی اس کے قریب قریب اڑ رہی تھی۔

تتلی کے دیدہ زیب رنگوں پر تو نظریں جمانے کو دل چاہ رہا تھا مگر من میں خوف کی ایک ٹیس بھی اٹھ رہی تھی۔۔۔دھڑکنیں کسی انجانے سے خوف کا احساس دلا رہی تھیں۔ وہ تتلی اڑتے اڑتے انار کے درخت پر بیٹھ گئی۔ ساحل کچھ دیر خاموشی سے تتلی کی طرف دیکھتا رہا پھر اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا۔

’’ہر تتلی وشاء تو نہیں ہوسکتی۔‘‘

’’میں وشاء ہی ہوں۔‘‘ ساحل کو اپنے عقب سے آواز آئی۔ وہ خوف کے جھٹکے سے پیچھے پلٹا مگر جونہی اس نے وشاء کو دیکھا اس کا خوف ہوا ہوگیا۔

وشاء انار کے درخت کی شاخ کو تھامے اس کے قریب کھڑی تھی۔ جو خیال ساحل دیکھ رہا تھا وشاء جیسے اس خیال سے نکل کر باہر آگئی تھی کیونکہ اس نے وہی لباس زیب تین کیا ہوا تھا۔ اس کے چہرے پہ وہی معصومیت آنکھوں میں وہی وفا کی چمک تھی۔ وہ دھیرے سے بولی۔

’’پہلے تو میرے معمولی سے زخم سے تڑپ اٹھتے تھے اور اب مجھے اس طرح میرے حال میں چھوڑ دیا ہے۔ تم ہی تو میرے پرسان حال تھے مگر تم نے ایک بار بھی نہ پوچھا کہ میں کس اذیت سے گزر رہی ہوں۔‘‘

اس کے لہجے میں عجیب سی مقناطیسیت تھی۔ ساحل اس کی طرح کِھچتا ہوا اس کے قریب چلا گیا۔ ساحل نے اس کی بھیگی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔

’’تم اذیت کی بات کر رہی ہو تم تو خوبصورت بلا ہو جو لوگوں کو اپنے رنگوں میں محو کر کے انہیں سرخ خون میں نہلا دیتی ہو۔‘‘

وشاء نے ایک ساعت میں ہی ساحل کے شانے پر سر رکھ دیا

’’تمہارے پاس اس وقت وہی وشاء ہے۔ جو تمہیں اپنی جان سے زیادہ پیار کرتی تھی۔ بڑی مشکل سے اپنے ہمزاد سے کچھ دیر کے لیے یہ روپ چرایا ہے۔ صرف ایک سوال پوچھنے کے لیے۔‘‘

ساحل جذبات سے سلگتی کسی موم کی طرح پگھلنے لگا۔ اس نے وشاء کے شانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے پیچھے کیا۔ وشاء کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے ساحل نے خود کو اور وشاء کو اسی مقام پر محسوس کیا جب ان دونوں کے دل ایک ہی جذبے کے لیے دھڑکتے تھے۔

ساحل نے رندھی ہوئی آواز میں پوچھا ’’کیسا سوال؟‘‘

’’تم نے مجھ سے شادی کرنے سے انکار کیوں کیا تھا۔ کیا کمی تھی میرے اندر۔۔۔کیا تم میری وفا کی حدت سے واقف نہیں تھے؟‘‘

ساحل نے وشاء کے آنسو پونچھے۔

’’اگر تم وہی وشاء بن کر مجھ سے یہ سوال کر رہی ہو تو میں بھی وہی ساحل ہوں۔ کمی تم میں نہیں تھی مجھ میں تھی۔ میں تمہیں تمہارے ملازموں کے کوارٹرز جیسی جگہ پر نہیں رکھ سکتا تھا۔ معاشی طور پر اس قدر بدحال تھا کہ وہ آسائشیں تمہیں نہیں دے سکتا تھا جس کی تم عادی تھیں۔

کیا فائدہ ایسی محبت کیا جو اپنے محبوب کو مشکل میں ڈال دے۔ تم تو سردی کی وہ دھوپ تھی جو جس کے آنگن میں بھی اترتی ہر طرف تسکین بھر دیتی۔ غریب تو اپنے جذبات امیروں سے چھپا چھپا کے رکھتا ہے تاکہ کوئی اس کی ہنسی نہ اڑا دے۔‘‘

وشاء نے ساحل کا ہاتھ تھام لیا

’’آؤ میرے ساتھ میں جس دنیا میں رہتی ہوں وہاں رشتے دولت کی ڈور سے نہیں بندھتے۔ وہاں احساسات کے رنگ ہیں۔ وفاؤں کی خوشبو ہے ادھر کی فضا محبت کے گہنوں سے مہکتی ہے۔ ہم ایک نئی زندگی شروع کریں گے۔‘‘

اندر راحت کو اچانک خیال آیا کہ اس نے مولوی صاحب سے ساحل کے لیے تعویذ بنوایا تھا۔ وہ تعویذ اسے ساحل کو پہنا دینا چاہئے۔ وہ اپنے بستر سے اٹھی۔ اس نے الماری سے تعویذ نکالا اور باہر صحن میں آگئی۔

ساحل جیسے اس ساحرہ کی باتوں کے طلسم میں گم تھا۔ راحت نے دیکھا کہ ساحل انار کے درخت کے قریب کھڑا ہے۔ وہ تعویذ لے کر اس کی طرف بڑھی۔ وشاء ساحل کے اور قریب ہوگئی۔ اس نے اپنا چہرہ ساحل کی گردن کے قریب کیا تو اس کی نظر راحت کے ہاتھ میں تھامے ہوئے تعویذ پر پڑی وہ ایک ساعت میں ہی وہاں سے غائب ہوگئی۔

’’ساحل۔۔۔‘‘ راحت نے اسے پکارا مگر وہ جیسے کچھ سن ہی نہیں رہا تھا۔

راحت اس کے قریب آئی اور اس کے گلے میں تعویذ پہنا دیا۔ ساحل نے جھرجھری سی لی اور گھبراہٹ سے انار کے درخت کے آس پاس دیکھنے لگا

’’وشاء ! کہاں گئی۔‘‘

راحت نے اس کے منہ پرہاتھ رکھ دیا۔

’’کس چڑیل کا نام لے رہا ہے چل اندر چل۔۔۔‘‘

اس نے ساحل کا ہاتھ پکڑا اور تیز تیز قدم چلتی ہوئی اسے اندر لے گئی اور آیت الکرسی پڑھ کر اس پر دم کرنے لگی۔

اگلے روز دس بجے ظفر نے اپنے سارے دوستوں کو اپنے گھر بلایا۔ ساحل کے نہ پہنچنے پر اسے تشویش ہوئی۔ اس نے ساحل کے گھر فون کیا

’’ہیلو۔۔۔‘‘ راحت نے فون سنا۔

’’میں ظفر بول رہا ہوں۔ ساحل کو میں نے اپنے گھر بلایا تھا کہاں ہے وہ۔‘‘

بھائی کی آواز سن کر راحت رونے لگی

’’کیا بات ہے خیریت ہے۔۔۔؟‘‘

’’ساحل کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ راحت نے گلوگیر لہجے میں جواب دیا۔

’’میں ایک گھنٹے کے بعد چکر لگاؤں گا‘‘ یہ کہہ کر ظفر نے فون بند کر دیا۔

مہمانوں سے فارغ ہونے کے بعد ظفر، ساحل کے گھر گیا ، ردا کالج گئی ہوئی تھی۔ ظفر، ساحل کے پلنگ کے قریب بیٹھا

’’یہ کیا بھئی ہمارا سولجر بیمار ہوگیا ہے۔‘‘

ساحل مسکراتا ہوا پلنگ سے پشت لگا کے بیٹھ گیا

’’میں بیمار نہیں ہوں۔ بس معمولی سی کمزوری محسوس ہورہی ہے اور سر میں درد ہے امی خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہیں۔‘‘

’’کہاں ہے راحت؟‘‘ ظفر نے پوچھا۔

’’امی کچن میں ہیں۔‘‘ ساحل نے بتایا۔

ظفر وہاں سے اٹھ کر کچن میں چلا گیا۔

راحت اس کے لیے چائے بنا رہی تھی

’’تم کن تکلفات میں پڑ گئی ہو۔ ابھی تھوری دیر پہلے ہی میں نے چائے پی تھی۔ اور تم رو کیوں رہی تھی۔ ساحل تو ماشاء اللہ ٹھیک ہے۔ معمولی سی کمزوری ہے۔ یخنی وغیرہ دو ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ ظفر نے کہا۔

راحت کی آنکھیں ابھی بھی اشکبار تھیں اس نے ظفر کی طرف دیکھا

’’ظفر بھائی! میں کسی اور وجہ سے پریشان ہوں۔‘‘

’’کس وجہ سے‘‘ ظفر نے پوچھا۔

راحت نے پیالیوں میں چائے ڈالی اور ہاتھ میں ٹرے اٹھائے کہنے لگی

’’آئیے ساحل کے پاس بیٹھتے ہیں وہ آپ کو خود بتائے گا کہ رات کو اس نے کسے دیکھا ہے۔‘‘

راحت چائے لے کر ساحل کے پاس آگئی۔ اس نے چھوٹے سے میز پر چائے رکھی۔ ظفر بھی ادھر ہی بیٹھ گیا۔

ساحل بے حد الجھا ہوا اور پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ ظفر نے اس کے چہرے پر گہری نظر ڈالی’’کوئی پریشانی ہے؟‘‘

ساحل جیسے پہلے سے ہی بیتاب تھا وہ بلا تامل بولا

’’انکل رات میں نے وشاء کودیکھا۔‘‘

’’خواب میں؟‘‘ ظفر نے پوچھا۔

’’نہیں انکل میں نے اسے پورے ہوش و حواس میں دیکھا ہے وہ انار کے درخت کے قریب کھڑی تھی رات کے گیارہ بج رہے تھے میں صحن میں تنہا تھا۔‘‘

ساحل کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی اس نے آگے بڑھ کر ظفر کے ہاتھ تھام لیے۔

’’انکل وہ وہی وشاء تھی حساس اورجذبات سے بھرپور۔۔۔‘‘

ظفر نے ساحل سے اپنے ہاتھ چھڑا لیے۔

’’تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ دل میں احساسات رکھنے والی وشاء مر چکی ہے جسے تم نے دیکھا ہے وہ اس کا شیطانی ہمزاد ہے۔‘‘

ساحل ایک بار پھر جذبات کی رو میں بہنے لگا

’’انکل میرا یقین کریں وہ رو رہی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ اس کا یہ روپ شیطانی ہمزاد میں کہیں گم ہوگیا ہے وہ بمشکل اس روپ میں مجھ سے ملنے آئی تھی۔‘‘

ظفر نے ساحل کے شانوں پر ہاتھ رکھے اور اسے سمجھانے لگا

’’دیکھو بیٹا! میں نے تسلیم کر لیا ہے کہ میری وشاء مر چکی ہے۔ جسے تم نے دیکھا ہے وہ ایک خوبصورت بلا ہے جو کتنے ہی لوگوں کو اپنا شکار بنا چکی ہے۔ وہ تمہیں دھوکہ دے رہی ہے ہمزاد یا تو اچھا ہوتا ہے یا برا دونوں خصوصیات ایک ہمزاد میں نہیں ہوتیں۔ کالے علم کرنے والے عامل کسی مرے ہوئے انسان کے اسی شیطانی ہمزاد کو قابو کرتے ہیں جو زندگی میں اسے برے کاموں کے لیے اکساتا ہے۔ عامل اس شیطانی ہمزاد کو سفلی کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں تم نے آئندہ یہ غلطی نہیں کرنی اگر تمہیں وشاء نظر آئے تو سورۃ الناس پڑھنا شروع کر دینا اور اس کے قریب مت جانا۔‘‘

ساحل پر جیسے ظفر کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا وہ ابھی تک اپنی ہی بات پر قائم تھا، اس کی سوچیں وشاء کے خیال میں ہی غرق تھیں۔

’’میں نے وشاء کے بھیانک روپ دیکھے ہیں مگر اس بار جس طرح میں نے اس کو دیکھا ہے وہ دھوکہ نہیں ہے۔ وہ واقعی اذیت میں ہے۔‘‘

ظفر غصے سے کھڑا ہوگیا

’’اذیت میں وہ نہیں ہے، وہ دوسروں کو اذیتیں دے رہی ہے۔ اپنی سوچ تبدیل کرو ورنہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی موت کی طرف دھکیل دو گے۔‘‘

راحت، ظفر کو باہر تک چھوڑنے گئی’’دیکھا ہے بھائی آپ نے ساحل کی انہی باتوں کی وجہ سے میں پریشان تھا۔‘‘

ظفر نے راحت کے سر پر ہاتھ رکھا

’’ابھی تازہ بات ہے ٹھیک ہو جائے گا۔ کوشش کرنا کہ وہ اکیلا نہ رہے۔ قرآنی آیات پڑھ کر پانی دم کرکے اسے پلایا کرو اس ناگہانی آفت سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمارے پاس بس یہی راستہ ہے۔ تم دعا کرنا کہ لوگوں کو ہم ان بد روحوں سے بچانے میں کامیاب ہو جائیں۔ ہم سب نے تو سروں پر کفن باندھ لیے ہیں۔ ہم میں سے کون کب لقمہ اجل ہو جائے کوئی نہیں جانتا۔‘‘

راحت نے بھائی کا ہاتھ تھام لیا ’’ایسی باتیں نہ کریں ، جب اس کے بندوں پر ایسی مصیبت آجائے جس سے مقابلے کی سکت نہ رہے تو وہ کسی نہ کسی کو مسیحا بنا کے بھیجتا ہے آپ ایک کام کریں۔‘‘

’’کیا؟‘‘ ظفر نے پوچھا۔

’’میڈیا میں اس خبر نے سنسنی پھیلا دی ہے نمائش میں ہونے والے قتل کسی انسان نے نہیں بلکہ ہمزاد نے کیے ہیں۔ آپ اس بات سے نہ ڈریں کہ میڈیا والے آپ لوگوں کو پریشان کریں گے۔ آپ اور عمارہ ایک پریس کانفرنس کریں آپ سارا مسئلہ لوگوں کے سامنے بیان کریں اور مدد مانگیں کہ کوئی ایسا عامل یا کوئی بھی شخص جو اس معاملے میں ان کی مدد کر سکتا ہے۔ آپ لوگوں سے رابطہ کرے۔‘‘

ظفر نے اثبات میں سر ہلایا

’’ہاں۔۔۔یہ مشورہ مجھے توقیر نے بھی دیا ہے۔ میں نے یہ سوچ کر اس بات پر دھیان نہیں دیا کہ میڈیا والے ہمیں ہمارا کام نہیں کرنے دیں گے مگر صورت حال اس قدر گمبھیر ہے کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور ہمارے پاس سوائے ارادے کے اور کچھ نہیں ہے۔ اس لیے سوچ رہا ہوں کہ پریس کانفرنس کر لینی چاہئے۔ شاید کوئی راستہ نکل آئے۔‘‘

’’آپ بس دیر نہ لگائیں، خدا کرم کرے گا۔ اب معاملہ آپ لوگوں کے بس کا نہیں رہا اور عمارہ تو خود اس فیلڈ میں نئی ہے۔ اس کا تجربہ محدود ہے۔‘‘ راحت نے ظفر کو ایک بار پھر سمجھایا۔

’’ٹھیک ہے میں توقیر اور زبیر سے بات کرتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر ظفر وہاں سے چلا گیا۔

ساحل کو کوئی بیماری نہیں تھی مگر ایسی نقاہت تھی کہ اس کے اعصاب شل ہو گئے تھے۔ وہ چار روز تک ایسی ہی کیفیت میں رہا۔ پانچویں روز وہ خود کو کافی بہتر محسوس کرنے لگا۔

۔۔۔

میجر اسامہ اپنے کلب میں لڑکوں کو مارشل آرٹ کی ٹریننگ دے رہا تھا، صبح کے دس بج رہے تھے اس نے لڑکوں کو دو گروپوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ دونوں گروپ ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے تھے۔ ایک طرف سے ایک لڑکا آگے بڑھتا تو اس سے مقابلے کے لیے مخالف گروپ سے دوسرا لڑکا میدان میں آتا پھر ان کے درمیان کراٹے کا چھوٹا سا مقابلہ ہونے لگتا۔

میجر اسامہ ان کے قریب کھڑا انہیں مختلف داؤ پیچ یاد کر رہا تھا۔ دو لڑکے کراٹے کے خاص سفید لباس میں ننجا کے خاص انداز میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ لڑکوں نے اپنے پیروں کو ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر کرتے ہوئے اپنی ٹانگوں کو پھیلا لیا۔ انہوں نے بازوؤں کا کراس بناتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو سیدھا کرتے ہوئے انگوٹھے سمیت آپس میں جوڑ لیا، اور پھر کیٹ سٹائل میں اچھلتے ہوئے ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے۔ چھوٹے سے مقابلے کے بعد انہوں نے سیدھا کھڑا ہو کے سروں کو جھکا کے ایک دوسرے کو دوستی کا پیغام دیا۔

اسامہ نے ایسے ہی چھوٹے چھوٹے تین مقابلے اور کرائے پھر اس نے انہیں بریک دے دی۔ وہ کرسی پر بیٹھ کے اپنا پسینہ پونچھنے لگا۔ دو لڑکے کولڈ ڈرنک لے کر اس کی طرف بڑھے۔ ان کے پاس پیپسی کے تین ٹِن پیک تھے۔ ایک انہوں نے اسامہ کو دیا اور سامنے پڑی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

’’سر! آپ نے دس سال آرمی میں گزارے ہیں ہمیں کوئی دلچسپ واقعہ سنائیں۔‘‘

اسامہ نے اپنا کٹے ہوئے ہاتھ والا بازو ان لڑکوں کے سامنے کیا ’’یہ تمغہ ہے میری شجاعت کا ‘‘

لڑکے نے سر جھکاتے ہوئے معذرت کی ’’سوری سر! ہم آپ کو ہرٹ کرنا نہیں چاہتے تھے۔۔۔ ‘‘

اسامہ نے ٹھنڈی آہ بھری’’اسی بات کا تو افسوس ہے کہ میری طاقت میں اور تجربے میں کوئی کمی نہیں مگر میں لوگوں کے اس طرح کام نہیں آسکتا جس طرح پہلے فوج میں رہ کر ان کا تحفظ کرتا تھا۔‘‘

دوسرے لڑکے نے معنی خیز انداز میں کہا

’’سر اس کلب کے ذریعے بھی آپ اپنا فن دوسروں کو دے کر لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔‘‘

ایک لڑکے نے ریموٹ سے دیوار پر لگا Led Tvآن کر دیا۔ نیوز چینل چل رہا تھا ایک سنسنی خیز خبر نے ان سب کو اپنی طرف متوجہ کر دیا۔

نیوز کاسٹر ہاتھ میں مائیک لیے رومان ہوٹل کے باہر اپنی باتوں سے لوگوں کو چونکا رہی تھی۔

’’آرٹ کی نمائش میں ہونیو الے پچاس لوگوں کے قتل کی تحقیقات کے لیے بہت سی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ پولیس، سی بی آئی، رینجرز سب اس Crimnelکو ڈھونڈ رہے ہیں جس نے معصوم لوگوں کی جانیں لیں۔ ہمارے چینل پر ایک خبر نے لوگوں کو نیند یں اڑا دیں۔ سائیکاٹرسٹ اور exorcistڈاکٹر عمارہ کا کہنا ہے کہ ان سب اموات کے پیچھے کسی انسان کا ہاتھ نہیں ہے لوگوں کی جانیں لینے والا کوئی انسان نہیں بلکہ ایک ہمزاد ہے۔ ڈاکٹر عمارہ اور مسٹر ظفر نے ایک پریس کانفرنس کی ہے دیکھتے ہیں کہ وہ ہم سب سے کیا کہنا چاہتے ہیں۔‘‘ اسامہ سمیت سب کی کولڈ ڈرنکس ان کے ہاتھوں میں ہی رہ گئیں۔

عمارہ سامنے آئی۔ ظفر اور وہ وہیں بیٹھے تھے۔ عمارہ نے اپنی بات شروع کی۔’’ہمارا مقصد لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانا نہیں بلکہ ہم تو اس شیطان کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں جو معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔ ہم پولیس کی بات کو رد نہیں کر رہے۔ انہیں جس پر شک ہے وہ اپنے طور پر تحقیقات کریں مگر جو کچھ ہم جانتے ہیں ہم اس کے مطابق اس قاتل کو ڈھونڈیں گے۔‘‘ میرے پاس ٹھوس ثبوت ہیں جس کے مطابق نمائش میں لوگوں کا قتل جنہوں نے کیا ہے وہ تین ہمزاد ہیں۔

ہمزاد انسان کا ہی ایک روپ ہے۔ جو مرنے کے بعد انسان کے مردہ جسم سے الگ ہو جاتا ہے وہ ایک انسان کا ہی روپ ہے تو ہم کیوں اس کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔ ہمیں ان شیطانوں سے مقابلہ کرنا ہے۔۔۔ہمیں آپ لوگوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی ہماری مدد کرنا چاہتا ہے تو آگے بڑھے اور اس جنگ میں ہمارا ساتھ دے۔‘‘

سکرین پر عمارہ کا موبائل نمبر اور گھر کا ایڈریس لکھا تھا۔ اسامہ نے اپنے موبائل پر وہ سب نوٹ کر لیا۔ اس خبر کے بعد مختلف لوگوں کے Comentsآنے لگے ۔ کسی نے عمارہ کی بات کا مذاق اڑایا اور کسی نے عمارہ کی باتوں کو سچ مانتے ہوئے اسے گہرائی سے لیا۔ اسامہ نے ٹی وی بند کر دیا اور گہری سوچ میں پڑ گیا۔

اس کی ٹیم کے کئی لڑکے عمارہ کی باتوں پر ہنس رہے تھے اور کئی خاموش بیٹھے اس کی باتوں کے متعلق سوچ رہے تھے اسامہ واش روم گیا۔ اس نے سِنک کا نل کھولا اور مُنہ دھونے لگا۔ اس نے ایک ہاتھ سے ہی منہ دھویا اور اپنی آنکھوں میں چھینٹے مارنے لگا۔ اس نے تولیہ اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو وہاں تولیہ نہیں تھا۔ اس نے دوسرے اسٹینڈ سے تولیہ اٹھایا اور آئینے میں دیکھتے ہوئے چہرہ خشک کرنے لگا۔ اسے نل میں سے پانی گرنے کی آواز آئی۔ اس نے چونکتے ہوئے نل کی طرف دیکھا کیونکہ اس نے اچھی طرح سے نل بند کر دیا تھا۔ نل پوری طرح کھلا ہوا تھا اور اس سے کافی پانی نکل رہا تھا۔

اسامہ سِنک کی طرف بڑھا اور دوبارہ نل بند کرنے لگا مگر اس کا وال اس قدر سخت تھا کہ اپنی جگہ سے ہل نہیں رہا تھا۔ سِنک کے سوراخ میں ربڑ نہیں لگا تھا اس کے باوجود سِنک میں پانی جمع ہو رہا تھا، پانی پائپ کی طرف نہیں جا رہا تھا۔

’’یہ کیا گڑ بڑ ہوگئی ہے۔‘‘ اسامہ سِنک کی جالی چیک کرنے لگا۔ کہ اچانک سے واش روم کا دروازہ خود بخود بند ہوگیا اور چٹخنی بھی لگ گئی۔ اسامہ کو خوف محسوس ہونے لگا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھنے لگا۔

’’کون ہے ۔۔۔‘‘

سِنک اوپر تک پانی سے بھر گیا اور پانی اچھل اچھل کر باہر گرنے لگا۔ وہ ایک بار پھر سِنک کا سوراخ کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ اچانک زلزلے کی سی گڑگڑاہٹ کے ساتھ باتھ روم کے دروازے اور کھڑکیاں ہلنے لگیں۔ باتھ روم کی کھڑکی جو باہر کی طرف کُھلتی تھی چٹاخ سے کھل گئی۔

اسامہ کو محسوس ہوا جیسے آئینے میں کسی کا عکس ہے اس نے سر اوپر کرتے ہوئے آئینے کی طرف دیکھا تو پلک جھپکتے ہی وہ عکس غائب ہوگیا اور روشنی کی ایک تیز شعاع باہر سے کھڑکی کی جالی کو چیرتی ہوئی آئینے کی طرف بڑھی اور اس سے منعکس ہو کر اسامہ کی بائیں آنکھ میں داخل ہوگئی۔

اسامہ جیسے پتھر کا ہوگیا۔ قدموں کو تھوڑا تھوڑا موڑتے ہوئے اس نے کھڑکی کی طرف منہ کر لیا کھڑکی کے ساتھ دیوار پر کوئی سایہ تھا جو اس کا نہیں تھا کیونکہ سائے کے دونوں ہاتھ تھے۔ وہ سایہ دھیرے دھیرے اسامہ کی طرف بڑھتا گیا اور پھر اس کے جسم میں داخل ہوگیا۔ جس کے ساتھ ہی اسامہ بیہوش ہوگیا۔

دروازے کی چٹخنی خود بخود کھل گئی۔ کافی دیر اسامہ کے باہر نہ آنے پر شاگردوں کو تشویش ہوئی۔ ایک لڑکا باتھ روم کی طرف بڑھا۔ اس نے دروازے پر ہاتھ رکھا تو دروازہ کھل گیا۔ سامنے میجر اسامہ بیہوش پڑا تھا۔ لڑکے نے آگے بڑھ کر چیک کیا پھر اس نے دوسرے لڑکوں کو بلایا۔ تین لڑکوں نے مل کر اسامہ کو اٹھایا۔ وہ اسے اندر ہال میں لے گئے۔ انہوں نے اسے صوفے پر لٹایا۔ ایک لڑکا جلدی سے میڈیکل باکس لے آیا۔ انہوں نے اسے معمولی سی ٹریٹمنٹ دی جس سے اسے ہوش آگیا۔

اس نے کانپتے ہونٹوں سے چاروں اور دیکھا جیسے تھوڑی دیر کے لیے اس کا ذہن سو گیا ہو، کچھ دیر بعد اس کی آنکھوں میں شناسائی سی جھانکنے لگی۔

’’مجھے کیا ہوا تھا؟‘‘ اسامہ نے لڑکوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’سر آپ بیہوش پڑے تھے۔ شکر ہے خدا کا کہ آپ کو ہوش آگیا ہے۔ اوپر جا کے آپ آرام کر لیں۔ ہم سب خود ہی پریکٹس کر لیں گے۔‘‘ ایک لڑکے نے کہا۔

اسامہ اٹھنے لگا تو اسے خاصی کمزوری محسوس ہو رہی تھی۔ ایک لڑکا آگے بڑھا

’’سر میں آپ کو اوپر تک چھوڑ آتا ہوں۔‘‘

لڑکا اسامہ کو سہارا دیتا ہوا بالائی منزل تک چھوڑ آیا۔ سارے شاگرد دوبارہ اپنی پریکٹس میں مشغول ہو گئے۔ اسامہ اپنے بستر پر لیٹ کر سوچتا رہا کہ واش روم میں کیا تھا وہ کون سی پُراسرار طاقت تھی۔ جسنے اس کے فولاد جیسے وجود کو ایک ہی جھٹکے میں نڈھال کر دیا۔ ایسے ہی سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ وہ اس وقت جاگا جب ایک لڑکے کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’سر۔۔۔‘‘

اسامہ نے آنکھیں کھولیں

’’سر ہم سب جا رہے ہیں ہماری پریکٹس مکمل ہوگئی ہے۔‘‘ لڑکے نے بتایا۔

’’ٹھیک ہے تم لوگ جاؤ۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

لڑکے کے جانے کے بعد اسامہ اپنے بستر سے اٹھا اب وہ خود کو تندرست و توانا محسوس کر رہا تھا۔ وہ کھڑکی کی طرف بڑھا۔ اس نے پردے پیچھے کیے۔ شہر کا خوبصورت نظارہ اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ اس کا ذہن ایک بار پھر اس خبر کی طرف چلا گیا۔ اس بار اسے یہ خبر کسی پہیلی کی طرح نہیں لگ رہی تھی بلکہ اس کا ذہن اسے بار ہا یقین دلا رہا تھا کہ واقعی ہمزاد یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اس خبر میں کہیں بھی کوئی جھوٹ نہیں ہے یہ ایک خوفناک حقیقت ہے۔

یہ ایک ناگہانی آفت ہے جو دھیرے دھیرے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس نے وال کلاک کی طرف دیکھا۔ دوپہر کے تین بج رہے تھے۔’’میں اتنی دیر تک سوتا رہا۔‘‘

اس نے خود کلامی کی۔ اسے بھوک لگ رہی تھی۔ اس نے فریج سے برگر نکالا اور اسے اوون میں گرم کر لیا۔ اس نے فریج سے کیچپ بھی نکال لیا۔ وہ اپنا یہ مختصر سا لنچ لے کر صوفے پر بیٹھ گیا۔

اگلی صبح ہونے سے پہلے جب لوگ فجر کی نماز کی تیاری میں مصروف تھے۔ زرغام اپنے ناپاک ارادوں کی تکمیل میں مصروف تھا۔ وہ دریا کے کنارے ایک نوجوان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ نوجوان کے ہاتھ میں ایک الو تھا۔ سورج طلوع نہیں ہوا تھا اس لیے ابھی اندھیرے کا ہی راج تھا۔

لڑکے نے ایک ہاتھ میں ایمرجنسی لائٹ پکڑی ہوئی تھی۔ دھیرے دھیرے یہ اندھیرا چھٹ رہا تھا اور مدھم مدھم روشنی ہونے لگی تھی۔ زرغام نے جینز اور شرٹ کے ساتھ لانگ کوٹ پہنا ہوا تھا جبکہ لڑکا قمیص شلوار میں تھا۔

زرغام کے ہاتھ میں ایک گڑیا تھی جس نے سرخ رنگ کا دلہن کا لباس پہنا ہوا تھا۔ زرغام کے پاس ایک ڈبیہ میں بہت سی سوئیاں تھیں۔ اس نے ڈبیہ کھول کر زمین پر رکھ دی۔ اس نے گڑیا زمین پر لٹائی اور ڈبیہ سے سوئیاں نکالنے لگا۔

اس نے ہنستے ہوئے نوجوان کی طرف دیکھا

’’ایک سوئی دلہن کے دماغ پر اور ایک سوئی دلہن کے دل پر‘‘ یہ کہہ کر اسنے ایک سوئی گڑیا کے سر پر لگائی اور ایک سوئی گڑیا کے سینے پر لگا دی۔ پھر زرغام نے وہ گڑیا ایک طرف رکھ دی اور ایک بڑی سی پلیٹ نکالی ساتھ ہی ایک چھوٹا سا شاپر نکالا۔ شاپر میں آٹا تھا اس نے آٹا پلیٹ میں ڈال دیا۔

نوجوان نے الو کو بمشکل قابو کر کے اس کے گلے پر چُھری پھیر دی۔ الو تڑپنے لگا۔ نوجوان نے سر کٹے تڑپتے الو کو خشک آٹے کے اوپر لٹکا دیا۔ الو کے پنجے نوجوان کے ہاتھوں میں تھے، وہ اسے آٹے پر دائرے میں گھمانے لگا جس سے الو کے جسم سے نکلتا خون آٹے پر دائرے بنانے لگا۔ ساتھ ساتھ وہ نوجوان اپنا ناپاک منتر بھی پڑھتا جا رہا تھا۔


زرغام کا یہ شاگرد اپنا کام بڑی مہارت سے کر رہا تھا۔ ان دونوں کو اپنا یہ کالا جادو طلوع آفتاب سے قبل مکمل کرنا تھا۔ زرغام نے تھوڑا سا پانی ڈال کر اس خون ملے آٹے کو گوند دیا۔ پھر اس نے لکڑی کی ایک ٹرے پر اس آٹے کو رکھ کر اس کا ایک پُتلا بنا دیا۔ اس نے اس پُتلے کے جسم پر بہت سی سوئیاں لگا دیں۔

اس نے دلہن بنی گڑیا اس پتلے کے ساتھ رکھ دی۔ اس نے وہ لکڑی کی ٹرے دریا میں بہا دی اور انتہائی سفاکی سے ہنسنے لگا۔

’’جاؤ دلہن اپنا دُلہا ساتھ لے جاؤ۔ اس بار کام اُلٹا ہے۔ دُلہا، دلہن کو لے کر نہیں جائے گا بلکہ دلہن دُلہے کو لے جائے گی مگر دھیان رہے کہ کچھ دیر بعد یہ کشتی ڈوب جائے گی اور آٹے کا دولہا پانی میں گھل جائے گا۔‘‘

نوجوان کے لبوں پہ بھی شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے زرغام کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ ’’سر! اپنا سامان سمیٹتے ہیں، سورج نکلنے والا ہے۔‘‘ ان دونوں نے اپنا سامان سمیٹا اور وہاں سے نکل گئے۔

اسامہ حسب معمول صبح کے چھ بجے واک کے لیے گھر سے نکلا۔ گھر کے قریب ہی ایک کُھلا میدان تھا۔ واک کے بعد وہ میدان میں ورزش کرنے لگا۔ وہ خود میں غیر معمولی تبدیلی محسوس کر رہا تھا۔ سرچ کیے بغیر کچھ معلومات اس کے ذہن میں خود بخود جمع ہوگئی تھیں۔

اس کا ذہن اسے مجبور کر رہا تھا کہ وہ ان سب حقائق پر یقین کرے۔ ایک رات میں وہ اسامہ، اسامہ نہیں رہا تھا۔ وہ یوگا کے انداز میں ہاتھوں کی انگلیوں اور پیروں کے پنجوں پر وزن ڈالتے ہوئے جُھکا ہوا تھا۔

اچانک سے اس کا پھولا ہوا سانس بحال ہوگیا۔ اس کی جسمانی قوت بڑھ گئی۔ آنکھوں کی پتلی کا رنگ سیاہ سے نیلا ہوگیا۔ وہ سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اس کا ذہن اپنے کسی ادھورے کام کی طرف مائل ہو گیا۔ وہ بے چینی سے اپنے ٹراؤزر کی جیبیں ٹٹولنے لگا۔ اس کے ہاتھ ایک چیز لگی۔ یہ کپڑے کا پاؤچ تھا اسنے وہ باہر نکالا اسے کھولا تو اسمیں نگینوں سے جڑا پنجا لگا تھا۔ جس میں عقیق، نیلم اور یاقوت کے پتھروں کو باریک باریک زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ یہ زنجیریں ایک طرف ایک انگوٹھی سے منسوب تھی جس میں زرقون لگا تھا اور دوسری طرف وہ ایک کڑے سے جڑی تھیں۔ اسامہ کے لیے وہ نئی چیز تھی مگر اس کے ذہن میں اس چیز کی یادداشت موجود تھی۔ وہ اسے پہچانتا تھا۔ اس نے وہ پنجا اپنے ہاتھ میں پہن لیا۔

گھر سے نکلتے ہوئے اس کے ٹراؤزر میں کوئی چیز نہیں تھی مگر اس کا وقت لمحہ بہ لمحہ بدل رہا تھا۔ اس نئی تبدیلی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے موجود وقت سے بھی نہیں کٹا تھا مگر کوئی تھا جو اس کے ذہن میں داخل ہو کے اسے نئے راستے پر چلا رہا تھا۔

عمارہ اپنے کلینک میں گم صم سی بیٹھی تھی۔ صبح کے نو بج رہے تھے اس لیے وہ ابھی فارغ تھی ابھی اس کے کلینک میں کوئی مریض نہیں تھا۔ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی کہ فون کی بیل بجی۔ اس نے فون اٹھایا تو ظفر لائن پر تھا۔

’’کیسی ہو۔۔۔؟‘‘ ظفر نے پوچھا۔

’’بس ٹھیک ہوں۔۔۔‘‘ عمارہ نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔

ظفر نے ٹھنڈی آہ بھری

’’ہم ابھی تک کچھ بھی نہیں کر سکے۔ ابھی مل کر کچھ کرنے کا وقت ہے اور ساحل۔۔۔‘‘

’’ساحل کو کیا ہوا۔۔۔؟‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

’’تم تو سائیکاٹرسٹ ہو تم اس کا علاج کر سکتی ہو۔۔۔‘‘

’’لیکن مسئلہ کیا ہے۔۔۔؟‘‘

ظفر نے عمارہ کو ساری بات بتائی کہ کس طرح ساحل کو وشاء نظر آئی۔ عمارہ سب سن کر سخت پریشان ہوگئی۔

’’یہ تو بہت خطرناک بات ہے۔ ساحل کو تو سمجھایا جا سکتا ہے مگر وشاء اس کا پیچھا اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ساحل کی جان کو خطرہ ہے۔‘‘ ظفر بھی پریشان ہوگیا۔

’’اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔‘‘

’’فی الحال تو آپ ساحل کو میرے پاس بھیجیں۔ میں اسے سمجھا دوں پھر دیکھتے ہیں کہ کیا کرنا چاہئے۔ مجھے بہت امید تھی کہ خیام ہماری مدد کرے گا مگر پچاس لوگوں کی اموات کے بعد مجھے اس سے بھی کوئی امید نہیں رہی۔‘‘

ظفر نے عمارہ کی بات کی تردید کی

’’یہ بہت پیچیدہ اور راز کی باتیں ہیں۔ ہم نہیں جان سکتے ہیں کہ خیام نے ایسا کیوں کیا تم اس سے روحانی عمل کے ذریعے سے بات کرو۔‘‘

’’اس نے مجھے منع کیا تھا کہ ا سے عمل سے بلانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس نے کہا تھا کہ جب ہمیں اس کی مدد کی ضرورت ہوگی تو وہ آجائے گا۔‘‘ عمارہ نے بتایا۔

ظفر نے اسے تسلی دی

’’خدا پر بھروسا رکھو وہ ضرور کسی نہ کسی کو مسیحا بنا کے بھیجے گا ہم نے جو میڈیا کے ذریعے مدد کی اپیل کی ہے اس سے ہمیں فائدہ ضرور ہوگا۔ ہم خیام کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگا سکتے کیونکہ وہ کوئی انسان نہیں ہمزاد ہے۔ ہماری سوچ اور ہمارا علم محدود ہے۔‘‘

عمارہ نے لمبا سانس کھینچا۔

’’شاید میں زیادہ جذباتی ہو رہی ہوں بہر حال ساحل والا مسئلہ تو پریشان کن ہے۔ آپ جتنی جلدی ہو سکے ساحل کو میرے پاس بھجیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے میں آج ہی ساحل سے بات کرتا ہوں۔‘‘ ظفر نے فون بند کر دیا۔

ساحل اپنے کپڑے استری کر رہا تھا ، ردا کالج جا چکی تھی۔ راحت ساحل کے پاس آئی۔ ’’چھوڑو! میں استری کرتی ہوں۔‘‘

ساحل نے بہت پیار سے ماں کا ہاتھ پیچھے کیا

’’میری پیاری امی جان میں کر لوں گا۔ آپ میری جرابیں اور شوز نکال دیں۔‘‘

’’کہاں جا رہے ہو؟‘‘ راحت نے پوچھا۔

’’ایک جاب کے لیے اپلائی کیا ہے اسی کے انٹرویو کے لیے جا رہا ہوں۔‘‘

’’اور تمہاریCSSکی تیاری۔۔۔؟‘‘

’’وہ تیاری بھی ہوتی رہے گی۔۔۔میرے لیے چھوٹی سی جاب بہت ضروری ہے۔ جس سے میں گھر کا کچھ خرچہ بھی نکال سکوں اور پڑھائی کے لیے بھی وقت نکال سکوں۔ آپ بے فکر رہیں۔ پہلے جو بھی ہوا اس پر میرا بس نہیں تھا میں CSSکی تیاری نہیں کر سکا۔ مگر اب میں نے سوچ لیا ہے کہ کسی کے جانے سے زندگی ختم نہیں ہوتی۔ آپ اور ردا بھی میری ذمہ داری ہیں۔ میں پوری محنت سے اب CSS کی تیاری کروں گا۔‘‘ ساحل نے استری کی ہوئی پینٹ ہینگر پر لٹکاتے ہوئے کہا۔

راحت کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اس نے ساحل کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔

’’خدا تمہیں کامیاب کرے۔‘‘ پھر وہ کمرے میں گئی اور وہاں سے تعویذ اٹھا کے لے آئی۔

اس نے تعویذ ساحل کے گلے میں ڈالا

’’تم سے میں نے کتنی بار کہا ہے کہ یہ تعویذ گلے میں پہن کے رکھو۔ خدا تمہیں ہر مصیبت سے بچائے گا۔‘‘

ساحل نے مسکراتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا

’’نہ اتنا وہم نہ کیا کریں۔۔۔مجھے کچھ نہیں ہو گا‘‘ یہ کہہ کر ساحل دوبارہ اپنی شرٹ استری کرنے لگا۔

راحت گھر کے کاموں میں مصروف ہوگئی۔ ساحل کپڑے تبدیل کرنے لگا تو اس نے اپنے چہرے کو چھوا۔

’’اوہ میں نے تو شیو کی ہی نہیں۔‘‘

اس نے کپڑے استری اسٹینڈ پر رکھے اور واش روم کی طرف بڑھا۔ اسے تعویذ کا خیال آیا واش روم میں جانے سے کہیں تعویذ کی بے ادبی نہ ہو اس خیال سے اس نے تعویذ گلے سے اتار کر استری اسٹینڈ پر رکھ دیا۔

اس نے شیو کی اور پھر کپڑے تبدیل کر لیے۔ پھر وہ تیزی سے اپنی موٹر بائیک کی طرف بڑھا

’’امی دروازہ بند کر لیں، مجھے دیر ہو رہی ہے، میں جا رہا ہوں۔‘‘

راحت، بیٹے کی آواز سن کر سارے کام چھوڑ کر باہر آگئی۔ ساحل جا چکا تھا ’’اللہ کے حوالے‘‘ یہ کہہ کر اس نے دروازہ بند کر دیا۔

تقریباً بیس منٹ کے بعد ساحل مین روڈ پر تھا جہاں خاصی ٹریفک تھی۔ اس کی موٹر بائیک بھی اب آہستہ چل رہی تھی۔ اس نے ہینڈل پر زور سے ہاتھ مارا۔

’’کیا مصیبت ہے، سارا وقت تو میرا یہیں لگ جائے گا۔ مجھے ذرا پہلے نکلنا چاہئے تھا۔ کچھ دیر بعد گاڑیوں کی بھیڑ ذرا کم ہوئی تو اس نے اپنی بائیک کی سپیڈ دوبارہ تیز کر دی۔

نہ جانے کہاں سے اچانک سفید چادر اوڑھے ایک لڑکی ہاتھ کو لہراتی ہوئی اس کی بائیک کے آگے آگئی۔ فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے ساحل نے بمشکل بریک لگائی ممکن تھا کہ بائیک اس لڑکی سے جا ٹکراتی۔ ساحل غصے میں بائیک سے اترا اور لڑکی پر برس پڑا۔

’’اندھی ہو یا مرنے کا شوق ہے۔ جانتی ہو جس طرح میں نے بریک لگائی ہے یا میں مرتا یا تم۔‘‘ لڑکی کے ہاتھ میں دوائی کی بوتل تھی اور وہ مسلسل رو رہی تھی۔

اس نے دوا کی بوتل ساحل کو دکھائی اور گلوگیر لہجے میں بولی

’’میری ماں سخت بیمار ہے اگر میں نے یہ دوا بروقت نہ پہنچائی تو وہ مر جائے گی۔ میں نے کتنے لوگوں کو روکنے کی کوشش کی مگر کوئی نہیں رکتا۔ دور دور تک کوئی راستہ بھی نہیں ملا۔‘‘

لڑکی نے روتے روتے ساحل کے آگے ہاتھ جوڑ لیے

’’میں آپ کی منت کرتی ہوں، آپ مجھے میرے گھر تک چھوڑ دیں۔‘‘

ساحل نے گھڑی دیکھی

’’مجھے تو انٹرویو کے لیے جانا ہے مجھے دیر ہو جائے گی۔‘‘

’آپ کو تو نوکری اور بھی مل جائے گی مگر مجھے میری ماں نہیں ملے گی‘‘ لڑکی نے پھر منت کی۔

ساحل نے ٹھنڈی آہ بھری

’’اچھا۔۔۔آجاؤ بیٹھ جاؤ میرے ساتھ۔‘‘

ساحل نے بائیک سٹارٹ کی تو لڑکی جلدی سے اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔ ادھر راحت گھر کی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔ اس نے استری اسٹینڈ سے کپڑے اٹھائے تو اس کی نظر تعویذ پر پڑی اس نے تعویذ اٹھایا

’’یہ لڑکا کبھی میرے بات سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ میرے کہنے کے باوجود اس نے تعویذ اتار دیا۔‘‘

وہ تعویذ اٹھا کے اندر لے گئی۔

ساحل لڑکی کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہا تھا مگر اس کا ذہن اس نوکری کی طرف ہی تھا۔

’’میں اب اس انٹرویو کے لیے نہیں پہنچ سکتا نہ جانے ایسی نوکری دوبارہ ملے گی بھی یا نہیں۔‘‘ اس نے بیزاری سے راستے کی طرف دیکھا

’’اور کتنی دور ہے تمہارا گھر۔۔۔‘‘

’’بس نزدیک ہی ہے۔۔۔آپ سیدھا جا کے دائیں طرف مُڑ جائیں۔‘‘ لڑکی نے انتہائی معصومیت سے کہا۔

ساحل نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا

’’وہ سڑک تو قبرستان کی طرف جاتی ہے۔‘‘

’’کیوں کیا ہوا؟ کیا قبرستان کے پاس لوگ نہیں رہتے۔‘‘

لڑکی نے ساحل کو خاموش کر دیا۔ ساحل سیدھا جا کے دائیں طرف مڑ گیا۔ تھوڑے ہی فاصلے کے بعد سڑک کے ساتھ ساتھ قبرستان کی دیوار شروع ہو گئی۔ لڑکی نے ساحل سے قبرستان کے داخلی دروازے کے قریب بائیک روکنے کے لیے کہا۔ ساحل نے بائیک روک دی۔ لڑکی بائیک سے اتری تو ساحل بھی بائیک سے اتر گیا۔

’’یہ تم قبرستان میں کہاں جا رہی ہو۔۔۔؟‘‘ گندمی رنگت والی دبلی پتلی سی وہ لڑکی اٹھارہ یا انیس سال کے لگ بھگ معلوم ہو رہی تھی۔ اس نے اپنی لمبی لمبی غزالی آنکھوں سے ساحل کی طرف دیکھا۔

’’اندر تو آؤ میں تمہیں سب سمجھا دوں گی۔‘‘

ساحل کے من میں سوال اٹھ رہا تھا کہ ماں کی بیماری کو لے کر اس قدر بے چین اور گھبرائی ہوئی لڑکی میں اچانک تحمل کیسے آگیا۔ ا س لڑکی کی بات میں نہ جانے ایسا کیا تھا کہ ساحل اسے منع نہ کر سکا اور اس کے ساتھ ساتھ چل پڑا۔

وہ دونوں چھوٹے سے تنگ سے راستے پر چل رہے تھے۔ اس راستے کے دونوں طرف قبریں تھیں۔ اکثر قبرستان میں کوئی نہ کوئی شخص دکھائی دیتا ہے مگر اس قبرستان میں مکمل سناٹا تھا۔ دور دور تک سوائے ان دونوں کے کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

’’یہ قبریں جو عبرت کی کہانیاں سناتی ہیں۔ کبھی ڈراتی ہیں، کبھی رلاتی ہیں۔ انسان کے غم سے نڈھال چور چور وجود کو دنیا سے چھپا کے خود میں سمو لیتی ہیں۔‘‘ ساحل اپنے دھیان میں بول رہا تھا۔

لڑکی نے پلٹ کر پوچھا ’’تم بھی ڈرتے ہو ان قبروں سے۔‘‘

’’نہیں۔۔۔! میں نہیں ڈرتا۔‘‘

’’اچھا۔۔۔آج پتہ چل جائیگا۔‘‘ لڑکی نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

لڑکی نے جواب دینے کے بجائے اپنی انگلی سے سامنے کی طرف اشارہ کیا

’’وہ سامنے کوٹھڑی دیکھ رہے ہو۔۔۔وہی میرا گھر ہے۔‘‘

’’تمہارا بھائی یا والد گورکن ہوں گے اس لیے تم لوگ قبرستان میں رہتے ہو۔۔۔اور تم تو بہت پریشان اور جلدی میں تھیں۔ اب کیوں اتنا آہستہ چل رہی ہو، جا کے ماں کو دوا دو۔‘‘

لڑکی چلتے چلتے رک گئی۔ اس نے دوا کی بوتل ہوا میں اچھال دی۔

’’دوا کا تو بہانہ تھا۔۔۔مجھے تو تم سے کسی کو ملوانا تھا۔‘‘

ساحل گھبرا سا گیا ’’کیا بکواس کر رہی ہو۔‘‘

’’اندر کوٹھڑی میں کوئی تمہارا بے چینی سے انتظار کر رہا ہے۔‘‘

ساحل کو تعویذ کا خیال آیا جو اس کے گلے میں نہیں تھا۔ وہ واپس پلٹنے لگ ’’مجھے کسی سے نہیں ملنا۔‘‘

اچانک وشاء کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’کہاں جا رہے ہو۔ صرف ایک بار مجھے اپنی جھلک دکھا دو۔‘‘

ساحل نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تو وہ آواز کوٹھڑی کی طرف سے آرہی تھی۔ وشاء کی آواز نے ساحل کو بے چین کر دیا۔ اس پر عجب سا سحر طاری ہوگیا جس میں اس کے ذہن میں اسی وشاء کا خیال ابھرنے لگا جو اسے چاہتی تھی۔

اس کے قدم بے خودی میں اس کوٹھری کی طرف اٹھنے لگے۔ جونہی ساحل کو ٹھری میں داخل ہوا۔ جیسے اس کی سانسیں تھم گئیں۔ اس پر دل کے احساسات کا فسوں چھا گیا۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تکمیل کا روپ لیے اس کے سامنے بیٹھی تھی۔

وشاء دلہن کے سرخ لباس میں ایک پرانی سی چارپائی پر اس کے سامنے بیٹھی تھی۔

’’وشاء۔۔۔‘‘ جونہی ساحل کے منہ سے وشاء کا نام نکلا۔ کمرے کا ماحول کسی طلسم سے چند ہی ساعتوں میں بدل گیا۔ مٹی کی کوٹھری کسی شاندار کمرے میں تبدیل ہوگئی۔ وشاء دلہن بنی مخملی بستر کے خوبصورت پلنگ پر بیٹھی تھی۔ساحل نے مبہوت نظروں سے اپنے لباس کی طرف دیکھا، اسکا لباس بھی تبدیل ہو چکا تھا۔ اس نے براؤن شیروانی اور چوڑی دار پاجامہ پہنا ہوا تھا اس کے سر پر کلاہ تھا۔ یہ مبہم سی تبدیلی اسکی سماعت میں سرگوشیاں کر رہی تھی کہ آج اس کی اور وشاء کی شادی ہے آج وہ اور وشاء ایک ہونے والے ہیں۔ جس محبوب کا غم اس کے لیے عمر بھر کا روگ بن گیا تھا۔ آج وہ غم اسکی عمر بھر کی خوشی میں بدلنے جا رہا تھا۔

خوشی کے ایک خوبصورت احساس کے ساتھ ساتھ دماغ کی کوئی قوت تھی جو اسے وہاں سے جانے کے لیے کہہ رہی تھی مگر آہستہ آہستہ اس کی سوچیں کسی کی تابع ہوتی جا رہی تھیں۔

وہ دھیرے دھیرے وشاء کی طرف بڑھنے لگا اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہی کم سن لڑکی چادر اوڑھے دروازے پر کھڑی تھی۔

وہ لڑکی ساحل کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگی پھر اس نے آنکھیں بند کرلیں ایک ہی پل میں اس کا سادہ سا لباس سبز رنگ کی کرتی اور لہنگے میں بدل گیا۔ اس کا چہرہ بھی بدل گیا۔ ساحل کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ حوریہ تھی۔ جس کے لبوں پہ شیطانی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔

اس بار اس کے ذہن نے اسے پوری طرح جھٹک دیا۔ اسے ہوش آنے لگا کہ وہ یہاں سے نکل جائے، وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا تو وشاء کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔’’مجھے اس طرح چھوڑ کر جا رہے ہو۔‘‘

ایک بار پھر ساحل اپنے ہوش کھو گیا۔ وہ دوبارہ وشاء کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ وشاء کے قریب بیٹھ گیا۔ وہ پری جیسی دِکھ رہی تھی۔ خوبصورت اور معصوم۔۔۔وہ حُسن اس دنیا کا تھا ہی نہیں۔۔۔وہ کسی کے خوابوں کی شہزادی تھی یا کسی مصور کا تخیل۔۔۔جو بھی تھی وہ ساحل کی تھی۔

اس نے اپنی دمکتی آنکھوں سے ساحل کی آنکھوں میں جھانکا۔

’’اب یہ وشاء تم سے کبھی دور نہیں جائے گی۔ کچھ دیر کے بعد ہماری شادی ہو جائے گی اور ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک ہو جائیں گے۔‘‘

ساحل کی نظریں وشاء کے چہرے پر ٹھہر گئی تھیں خود پر رشک کرنے کو دل چاہ رہا تھا مگر کوئی شائبہ تھا جو دماغ میں کروٹیں بدل رہا تھا، ایسے سراپا حُسن کا مالک بننے جا رہا تھا مگرخوشی کے اس احساس میں دبی چنگاریوں کو بھی محسوس کر رہا تھا۔

عجیب سا اضطرار تھا۔ وشاء نے آنکھوں ہی آنکھوں میں حوریہ کو کوئی اشارہ کیا حوریہ وہاں سے چلی گئی کچھ دیر کے بعد وہ کاغذ کی سجی ہوئی پلیٹ میں ایک گہنا لے کر آئی۔

وہ مسکراتی ہوئی ساحل کی طرف بڑھی۔ وہ پلیٹ لے کر اس کے قریب بیٹھ گئی۔

’’اپنا ہاتھ اوپر کرو، میں تمہیں یہ گہنا پہنا دوں۔‘‘

وشاء نے شرماتے ہوئے پلکیں جھکا دیں۔ ساحل نے حوریہ سے موتیے کے پھولوں کا گہنا پہن لیا۔ گہنا پہنتے ہی اس کی مدہوشی کو جھنجھوڑتی ہوئی اس کی ذہنی قوتیں سو گئیں۔ اسے وشاء کے علاوہ کچھ یاد نہیں رہا۔ وہ اپنی زندگی کے دوسرے رشتوں سے بے خبر ہوگیا۔

وشاء پلنگ سے نیچے اتری اور اپنے بھاری بھر کم عروسی جوڑے کو سنبھالتی ہوئی ساحل کے پاس کھڑی ہوگئی۔ اس نے ہاتھ ساحل کی طرف بڑھایا۔

’’آؤ میرے ساتھ میں تمہیں ایک ایسی جگہ دِکھاتی ہوں جسے دیکھ کر تم دنگ رہ جاؤ گے۔‘‘

ساحل مسکراتا ہوا وشاء کا ہاتھ تھام کر کھڑا ہوگیا۔ وشاء دروازے کی طرف بڑھی اور وہ دونوں کمرے سے باہر چلے گئے۔ باہر ایک خوبصورت لان تھا بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ باغ تھا جس میں بے شمار پھل دار درخت تھے۔ وہ ٹہلتے ٹہلتے مالٹوں کے درختوں کے قریب آگئے۔ وشاء نے ایک لمحے کے لیے بھی ساحل کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔ درختوں کے بیچ میں ہی نیچے جانے کا راستہ بنا ہوا تھا وہاں ایک سیڑھی بھی دکھائی دے رہی تھی۔ وشاء اس سیڑھی کی طرف بڑھی تو ساحل نے تعجب سے پوچھا۔

’’یہ ہم نیچے کہاں جا رہے ہیں۔۔۔؟‘‘

وشاء نے مسکراتی آنکھوں سے ساحل کی طرف دیکھا

’’جو جگہ تمہیں دکھانا چاہتی ہوں، وہ یہیں تو ہے۔‘‘

ساحل بھی وشاء کے ساتھ ساتھ اس زینے سے نیچے اترنے لگا۔ حوریہ بھی ان کے ساتھ ساتھ تھی۔

سیڑھی زیادہ لمبی نہیں تھی، وشاء نیچے اتر گئی۔ ساحل آخری زینے تک پہنچا تو کافور کی خوشبو اس کے حلق تک اتر گئی۔ وہ نیچے اُترا تو اس کے پیروں تلے کچی زمین تھی۔ ساحل نے چاروں اوڑ نظر دوڑائی۔ تو سنسناہٹ کے جھٹکے سے اس کا پورا وجود کانپ اٹھا۔

جس آسمان کو وہ اوپر دیکھ کر آیا تھا وہی آسمان یہاں بھی دکھائی دے رہا تھا مگر یہاں رات کا اندھیرا تھا۔ آسمان میں ستارے ٹمٹما رہے تھے۔ اس کے دماغ کی رگیں ٹس ٹس کرنے لگیں ،ایک سیڑھی اترنے سے وہ کس دنیا میں آگیا جہاں اس وقت رات ہے۔ دور دور تک سبزے کا نام و نشان نہیں بس ہر طرف مٹی ہی مٹی ہے۔ مٹی کے اونچے نیچے ٹیلوں کے درمیان میں پانی کی ایک جھیل دکھائی دے رہی ہے۔

لفظ بہ مشکل اٹک اٹک کے ساحل کی زبان سے نکلے

”دہشت ناک اور پُراسرار جگہ ہی دکھانا چاہتی تھی….جہاں پھولوں کی خوشبو کے بجائے کافور کی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔“

وشاء تمسخرانہ انداز میں بولی

”پھولوں کی خوشبو تو ایک فریب ہے جذبوں جیسا فریب۔ جس میں مدہوش ہوکے انسان اپنے آپ کو کھو دیتا ہے۔ لمبا سانس کھینچ کر اس کافور کی خوشبو کو خود میں سرایت کر لو۔ یہی اصل حقیقت باقی سب فریب ہے۔“

”کیا مطلب….؟“ ساحل بوکھلا سا گیا۔

وشاء ہنستے ہوئے ساحل کے قریب آگئی

”تم تو خوفزدہ ہوگئے۔ میں تو تمہیں یہ جھیل دکھانا چاہتی تھی۔ آﺅ جھیل کے پاس چلتے ہیں پھر واپس اوپر چلے جائیں گے۔ تمہیں یہ جگہ اچھی نہیں لگ رہی تو ہم یہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہریں گے۔“

”ٹھیک ہے مگر تم میرا ہاتھ چھوڑ دو میں خود چلنا چاہتا ہوں۔“

وشاءنے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ساحل کی طرف دیکھا اور نفی کے اشارے میں اپنی انگشت ہلائی۔

”ایسی جگہ میرا ہاتھ چھوڑنا ٹھیک نہیں۔ تمہیں ایسا کچھ بھی نظر آسکتا ہے جس سے تم اپنا ہوش کھو دو۔“

”تم مجھے مزید ڈرا رہی ہو….“ ساحل کا حلق خشک ہونے لگا۔

”کیا کروں، یہ جھیل ہے ہی ایسی جگہ اور میں تمہیں یہ جھیل دکھانا چاہتی ہوں….جھیل دیکھتے ہی ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔“

ساحل نے لمبا سانس کھینچا اور حوصلہ کرتے ہوئے وشاءکے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

مٹی اس قدر نرم تھی کہ وہ جس جگہ پاﺅں رکھتا وہاں اس کے قدموں کا نشان بن جاتا، وہ جھیل کے قریب گئے تو عجیب سا شور ساحل کی سماعت سے ٹکرایا۔ جیسے بہت سی عورتیں اور مرد آپس میں سرگوشیاں کر رہے ہوں۔ اس نے آوازوں کی سمٹ میں پلٹ کر دیکھا تو اس کا سانس اس کے حلق میں ہی اٹک گیا۔ آنکھیں باہر کو ابل پڑیں۔

سفید کفن میں بہت سے مرد اور عورتیں ہوا میں معلق ادھر ادھر اڑتے پھر رہے تھے ان کے وجود غیر مرئی اور باطنی تھے۔ وہ کسی بھی کثیف چیز سے ہوا کی طرح گزر جاتے۔

ساحل کو جھرجھڑیاں آنے لگی تھیں….اس کی روح کپکپا رہی تھی…. اس کی وجدانی اور لاشعور کی سوئی ہوئی قوتیں بھی دھیرے دھیرے جاگ رہی تھیں۔

وشاء نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا

”تم ادھر ادھر کیا دیکھ رہے ہو، سامنے جھیل کی طرف دیکھو جو تمہاری آنکھوں جیسی گہری ہے۔“

ساحل نے کسی سہمے ہوئے بچے کی طرح فوراً ہی جھیل کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ جھیل کا پانی شفاف اور چمکدار تھا۔ ساحل نے جھیل میں اپنا عکس دیکھا تو اسکے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔

ساحل نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا

”تم میرے شانے پر سر رکھے کھڑی ہو مگر جھیل میں تمہارا عکس کیوں نہیں دکھائی دے رہا۔“

وشاء تمسخرانہ انداز میں ہنسنے لگی

”کیونکہ تم انسان ہو اور میں ہمزاد فکر مت کرو آج میں انسان اور ہمزاد کا یہ فرق ختم کر دوں گی۔“

یہ کہہ کر وشاءنے ساحل کو جھیل کی طرف دھکا دے دیا۔ ساحل چیختا ہوا گہری جھیل میں جا گرا۔ اسے تیراکی نہیں آتی تھی۔ جھیل کا گہرا پانی اسے نیچے کی طرف کھینچتا مگر وہ کوشش کرکے بار بار پانی کی سطح پر آتا اور لمبے لمبے سانس لے کر موت سے لڑنے کی کوشش کرتا۔

موت اور زندگی کی اسی کشمکش میں ساحل نے دیکھا کہ ایک جوان وشاءاور حوریہ کے سامنے کھڑا ہے۔ وشاءکی آواز ساحل کی سماعت سے ٹکرائی

”خیام تم یہاں کیوں آئے ہو؟“

جبکہ اس جوان کا چہرہ خیام کا نہیں تھا۔ ساحل بس اتنا ہی سن سکا پھر وہ گہرے پانی کے آگے بے بس ہوگیا۔

جونہی اس کے ہاتھ پاﺅں بے جان ہوئے وہ پانی کی تہہ کی طرف گرتا چلا گیا۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں سانس کی جگہ منہ سے بلبلے نکل رہے تھے۔ وہ اپنی موت کو بالکل سامنے دیکھ رہا تھا۔ اس وقت وہ اپنے پورے ہوش و حواس میں تھا۔

اسے خیال میں اپنی ماں جائے نماز پر بیٹھی نظر آرہی تھی۔ موت سامنے بانہیں پھیلائے کھڑی تھی اور سماعت میں ردا اور ماں کی باتیں گونج رہی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ہاتھ سے پھسلتی زندگی کی ڈور کو کیسے تھامے رکھوں، شاید اب چند لمحوں کا فاصلہ تھا اس کی زندگی اور موت میں۔

اس کا جسم تیزی سے تہہ کی طرف گر رہا تھا۔ اچانک اس کا سر کسی سخت چیز سے ٹکرایا ایک ساعت میں ہی سب کچھ بدل گیا….وہ جھیل میں نہیں تھا۔

وہ جس جگہ پر تھا….وہ تنگ سی جگہ تھی اس کے چاروں طرف مٹی ہی مٹی تھی۔ اس نے اوپر کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ کسی کھلی ہوئی قبر میں لیٹا ہے۔ اس کھلی ہوئی قبر کے دہانے پر وہی جوان کھڑا ہے۔ جس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا۔

جوان نے اپنا دایاں ہاتھ ساحل کی طرف بڑھایا ساحل بمشکل قبر سے باہر نکلا۔ وہ مبہوت نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا۔ قبرستان میں سوائے اس کے اور اس جوان کے اور کوئی نہیں تھا اس نے قبر کے قریب کوٹھری کی طرف اشارہ کیا۔

”وہاں کون رہتا ہے؟“

جوان سیخ پا کر بولا

”اندر تمہاری دلہن بیٹھی ہے اس کوٹھری میں کوئی نہیں رہتا۔ ابھی تک تمہیں سمجھ نہیں آتی کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا تھا۔ آﺅ میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آﺅں۔“

”تم کون ہو“

”اسامہ “

ساحل کا جسم نڈھال تھا۔ اسامہ اسے سہارا دیتے ہوئے اپنی گاڑی تک لے گیا۔

”میری موٹر بائیک….“ ساحل نیم غنودگی کی حالت میں بمشکل بولا۔

”وہ میں منگوا لوں گا۔ تمہاری حالت ٹھیک نہیں ہے۔ تمہیں گاڑی میں ہی جانا ہوگا۔“ یہ کہہ کر اسامہ نے اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا۔ اسامہ ساحل کے گھر پہنچا تو راحت نے دروازہ کھولا۔

”کیا ہوا میرے بیٹے کو….؟“ بیٹے کو اس طرح اسامہ کے کندھے سے لٹکے ہوئے دیکھا تو وہ تڑپ کے رہ گئی۔

”کچھ نہیں ہوا۔ بس غنودگی ہے۔“ یہ کہہ کر اسامہ ساحل کو اس کے کمرے تک لے گیا۔ اس نے ساحل کو بستر پر لٹا دیا۔

ساحل کو کچھ ہوش نہیں تھا کہ اس کی ماں کیا کہہ رہی ہے اس نے تو جیسے نشہ آور چیز کھائی ہوئی تھی۔ وہ بستر پر لیٹتے ہی سو گیا۔

راحت کچھ بولنے لگی تو اسامہ نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ وہ دونوں کمرے سے باہر آگئے۔

راحت مسلسل رو رہی تھی۔ اس نے اسامہ کا بازو پکڑا

”بیٹے تم مجھے بتاتے کیوں نہیں کہ آخر ہوا کیا تھا۔“

ساحل نے راحت کی بے چین آنکھوں میں جھانکا

”جائے نماز بچھالیں اور اپنے رب کا شکر ادا کریں جس نے آپ کے بیٹے کو اس شیطان کے شکنجے سے بچا لیا جس کے کالے جادو کے کھیل میں آج ساحل نے اپنی زندگی ہار دینی تھی۔ جس وشاء کے لیے ساحل دیوانہ ہوا پھر رہا ہے وہ زرغام کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہے۔ جو زرغام کے اشارے پر ساحل کے لیے جال بچھاتی ہے اگر میں وقت پر نہ پہنچتا تو آپ کا بیٹا اس دنیا میں نہ ہوتا۔“

راحت نے اس کا ہاتھ تھام لیا

”تم کون ہو، میں تمہیں نہیں جانتی مگر جو احسان تم نے اس بے بس ماں پر کیا ہے اس کا بدلہ تمہیں خدا دے گا۔“

”آپ مجھے شرمندہ مت کریں۔ آپ ساحل کے پاس بیٹھیں مجھے کسی ضروری کام سے جانا ہے۔ ساحل کی موٹر بائیک بھی منگوانی ہے۔“ یہ کہہ کر اسامہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا دروازے سے باہر نکل گیا۔ راحت ساحل کے پاس جا کے بیٹھ گئی۔ ساحل گہری نیند سویا ہوا تھا۔ راحت اس کے بال سہلانے لگی

’’میں تو بے خبر اپنے بیٹے کی نوکری کے لیے دعائیں مانگ رہی تھی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میرا بیٹا کسی مصیبت میں گرفتار تھا۔‘‘

راحت اپنے آنسو پونچھتی ہوئی وہاں سے اٹھی اور الماری سے سورہ یسین نکال کر لے آئی۔ وہ ساحل کے پاس بیٹھ کے سورۃ یسین پڑھنے لگی۔ سورۃ یسین پڑھنے کے بعد اس نے ساحل کی طرف پھونکا اور پھر جائے نماز بچھا کر شکرانے کے نفل پڑھنے لگی۔ خود کو کتنا ہی سمجھاتی مگر اس کے آنسو نہیں تھم رہے تھے۔

اس نے نفل پڑھ کر خدا کا شکر ادا کیا اور اسامہ کے لیے دعائیں مانگنے لگی۔ اسی دوران ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ راحت نے دعا مکمل کی اور جائے نماز تہہ کرکے رکھ دیا اور فون کی طرف بڑھی۔

’ہیلو۔۔۔‘‘ راحت نے ریسیور کان سے لگایا۔

’’السلام علیکم آنٹی!‘‘ عمارہ کی آواز راحت کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’کیسی ہو بیٹی!‘‘ راحت نے گلوگیر لہجے میں پوچھا۔

عمارہ اس کی آواز سن کر پریشان ہوگئی۔

’’آنٹی آپ رو رہی ہیں۔‘‘

عمارہ بے چین ہوگئی اس نے ایک بار پھر پوچھا

’’آپ کس بات پر پریشان ہیں ساحل تو ٹھیک ہے نا۔‘‘

راحت نے عمارہ کو آدھی بات ہی بتائی تو عمارہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ’’میں آپ کے گھر آرہی ہوں۔‘‘

بیس یا پچیس منٹ کے بعد عمارہ راحت کے گھر پہنچ گئی۔ وہ ساحل کے پاس آئی۔ ساحل بے سدھ سویا ہوا تھا۔ وہ اس کے قریب بیٹھ گئی۔ اس نے اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔’’ٹمپریچر تو نہیں ہے۔‘‘

عمارہ نے سرگوشی کے انداز میں کہا اور پھر وہ اور راحت دوسرے کمرے میں چلے گئے۔ عمارہ نے راحت کو سمجھایا۔

’’آنٹی! آپ ہمت رکھیں ساحل کو کچھ نہیں ہوگا۔ خطرے کا سامنا اس وقت ہم سب کو ہے، ہم میں سے کون کب ان ہمزاد کا شکار ہو جائے۔ یہ کوئی نہیں جانتا۔ بس ایک بات ہم سب کو ذہن نشین کرنی چاہئے کہ وہ ہمزاد روپ بدل کر ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے۔ ہمارے لیے جال بچھائیں گے مگر ہمیں محتاط ہو کے رہنا ہے۔ آپ مجھے پوری بات بتائیں۔‘‘

راحت عمارہ کو ساحل کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ تفصیل سے بتانے لگی۔ یہ واقعہ سن کر عمارہ کے ذہن کی رگیں جیسے سکڑ کے رہ گئیں مگر اس نوجوان کے ذکر نے جس نے ساحل کی جان بچائی، عمارہ کو چونکا دیا۔ وہ جلدی سے بولی۔’’کچھ بتایا اس جوان نے کہ وہ کہاں رہتا ہے۔‘‘

’’نہیں۔۔۔بس اتنا ہی بتایا کہ اس کا نام اسامہ ہے۔‘‘ راحت نے ذہن پر زور ڈالتے ہوئے کہا۔

’’اوہ شِٹ! آپ کو اس سے پوچھنا چاہئے تھا کہ وہ کہاں رہتا ہے کیا کرتا ہے۔‘‘

’’ساحل کی ایسی پریشانی لگی کہ میرے ذہن میں ہی نہ آیا کہ اس سے یہ سب پوچھوں۔‘‘ راحت نے بتایا۔

’’اچھا آپ مجھے اس کا حلیہ بتائیں کہ وہ کس طرح کا دکھائی دیتا ہے۔‘‘ عمارہ نے اپنے ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے پوچھا۔

راحت جیسے کھو سی گئی

’’بھلا خوبصورت تھا۔۔۔لمبا قد چوڑا سینہ، چھریرے بدن والا تھا۔ بس ایک کمی ایسی تھی کہ مجھے بہت دُکھ ہوا ۔‘‘

’’کیا۔۔۔؟‘‘ عمارہ نے پوچھا

’’اس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا‘‘ راحت نے تاسف بھرے انداز میں کہا۔

اسی دوران ساحل کی آواز آئی

’’اماں۔۔۔راحت تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی بیٹے کے پاس پہنچ گئی۔“

عمارہ بھی ساحل کے پاس آگئی

’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘

ساحل نے بستر سے اُٹھتے ہوئے تکیے سے پشت لگا لی۔

’’کچھ پتہ نہیں کہ مجھے کیا ہوا ہے۔ جیسے جسم سے جان سی نکل گئی ہے۔ عجیب نڈھال جسم ہے۔‘‘

’’کمزوری ہے آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاؤ گے۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ، راحت سے مخاطب ہوئی۔’’آنٹی آپ اسے گرم دودھ لا دیں۔‘‘

ساحل نے ہاتھ سے نفی کا اشارہ کیا

’’میرا کسی بھی چیز میں دل نہیں ہے۔‘‘

’’دل ہو یا نہ ہو تمہیں دودھ پینا پڑے گا۔‘‘ یہ کہہ کے راحت دودھ لینے چلی گئی۔

عمارہ ساحل کے قریب بیٹھ گئی

’’تم جانتے ہو کہ تمہاری وشاء مر چکی ہے تو پھر کیوں ہر دفعہ فریب کھاتے ہو۔‘‘

ساحل کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی

’’وشاء کو پانے کا جنون، میری ہجر کی راتوں میں یادوں کے جلتے دیے میں ہی ختم ہو گیا تھا۔ نہ جانے پھر کیوں میں اس فریب میں مبتلا ہو جاتا ہوں ۔ وہ بد روح میری وشاء بن کر بار بار میرے سامنے آتی ہے اور میرے سوئے ہوئے جذبات جگا دیتی ہے۔‘‘

عمارہ پختہ لہجے میں بولی

’’اس بار جو ہوا سو ہوا مگر اب تمہیں خود کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگا کہ وہ بدروح تمہیں اب اپنے جال میں نہ پھانس سکے اور وہ نوجوان جو تمہیں گھر تک چھوڑ گیا ہے اس نے تمہیں کچھ بتایا اپنے بارے میں۔‘‘

ساحل نے حیرت سے عمارہ کی طرف دیکھا

’’کیسا احمقانہ سوال کر رہی ہو۔ اس نے مجھے کن حالات میں بچایا، وہ مجھے کس طرح گھر چھوڑ گیا۔ وہ بھلا اپنے بارے میں کیسے بتاتا۔‘‘

راحت دودھ کا گلاس لے کر آئی اس نے ساحل کو دودھ کا گلاس پکڑایا۔ ساحل نے بُرا سا منہ بنایا۔’’پی لو بیٹا!‘‘ راحت نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

’’میں چلتی ہوں آنٹی! پھر دوبارہ چکر لگاؤں گا۔‘‘ وہ اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھی، ساحل کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’ایک بہت عجیب بات مجھے اب یاد آئی۔‘‘

عمارہ ساحل کی طرف واپس پلٹ آئی۔’’کیا۔۔۔؟‘‘

’’میں جس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں گہرے پانی میں غوطے کھا رہا تھا تو میں نے وشاء کی آواز سنی وہ کہہ رہی تھی خیام تم۔۔۔؟ تم یہاں کیوں آئے ہو۔ اس کے بعد میں پانی کی تہہ میں گرتا چلا گیا میں نے کچھ اور نہیں سنا۔‘‘

عمارہ حیرت میں ڈوبی ہوئی ساحل کے قریب بیٹھ گئی

’’اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں خیام نے بچایا ہے۔‘‘

ساحل نے فوراً نفی میں سر ہلا

’’نہیں۔۔۔مجھے نہیں لگتا، اس جوان کے علاوہ وہاں اور کوئی نہیں تھا یقیناً اسی نے مجھے بچایا ہے۔‘‘

عمارہ گہری سوچ میں گاڑی کے Key ring کو گھمانے لگی

’’اس کا مطلب ہے ساری صورت حال وہ نہیں ہے جو ہمیں نظر آرہی ہے۔ کوئی گہری بات ہے جو چھپی ہوئی ہے بہرحال میں اس جوان کا پتہ لگا لوں گی۔ اس سے مل کر ساری بات سمجھ میں آجائے گا۔ ‘‘ عمارہ یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔

۔۔

عشاء کی اذان ہو رہی تھی۔ اسامہ گاڑی میں اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا، وہ مسلسل صبح کے واقعہ کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ کس طرح ساحل کی مدد کے لیے پہنچ گیا۔ وہ اس لڑکے سے پہلی بار ملا تھا مگر وہ اس لڑکے کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا اس کا ذہن اسے ان تین ویمپائرز سے جنگ پر اکسا رہا تھا۔ وہ ان بدروحوں کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا۔ اور ان لوگوں کو بھی جانتا تھا جو ان ہمزاد کے خلاف جنگ میں سرگرم ہیں۔۔۔یہ سب کیسے ہوگیا؟‘‘

اس سوچ میں اس نے گاڑی مسجد کی طرف موڑ لی اس نے با جماعت عشاء کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد کچھ دیر تک مولوی صاحب نے خطبہ دیا پھر لوگ یکے بعد دیگرے مسجد سے جانے لگے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے مسجد میں صرف امام صاحب اور اسامہ ہی رہ گئے۔ سب نمازی چلے گئے۔

اسامہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔ امام صاحب نے اس کی طرف دیکھا اور دھیمے سے لہجے میں گویا ہوئے

’’کیا بات ہے بیٹا! کوئی پریشانی ہے۔‘‘

اسامہ نے امام صاحب کی طرف دیکھا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے پاس جا بیٹھا۔

’’آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں پریشان ہوں۔‘‘ اسامہ نے پوچھا۔

بزرگ مولوی صاحب مسکراتے ہوئے تسبیح پھیرنے لگے

’’انسان جب زیادہ پریشان ہو جاتا ہے تو خدا کو ہی یاد کرتا ہے۔ اس کے حضور اس وقت تک سر جھکائے بیٹھا رہتا ہے جب تک پروردگار اس پریشانی سے نبٹنے کا حوصلہ اس کے دل میں پیدا نہیں کرتا۔‘‘

اسامہ خاموشی سے مولوی صاحب کی باتیں سنتا رہا پھر اس نے مولوی صاحب کے پر نور چہرے کی طرف دیکھا

’’شاید پروردگار نے ہی میرے دل میں یہ خیال پیدا کیا ہے کہ میں آپ سے کچھ سوال کروں۔ جو میری پریشانی کا سبب ہیں۔‘‘

’’ضرور بیٹا! پوچھا میرے علم کی جتنی وسعت ہوگی میں تمہارے سوالوں کا جواب دے دوں گا۔‘‘ مولوی صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔

اسامہ کچھ دیر خاموش رہا پھر اس نے پوچھا

’’آپ کیا کالے جادو پر یقین ہے؟‘‘

مولوی صاحب نے بلا تامل اثبات میں سر ہلایا۔

’’ہاں جادو ایک حقیقت ہے۔ جادو ٹونے یہ سب شیطان کے ہی پھیلائے ہوئے جال ہیں۔ کالا جادو کرنے والا اور کروانے والا دونوں ہی کار ہیں۔ ایسے لوگوں کے دل و دماغ شیطان کے قابو میں ہوتے ہیں۔ پھر وہ وہی کچھ کرتے ہیں جو ان سے شیطان کرانا چاہتا ہے۔ بُری راہ میں پڑنے کی وجہ سے وہ لوگ نماز اور قرآن پاک سے دُور ہو جاتے ہیں جبکہ نماز اور قرآن پاک ہی انسان کے دل و دماغ کو وہ تقویت دیتا ہے جس سے انسان شیطانی حملوں سے بچا رہے مگر تم کیوں پوچھ رہے ہو، کیا تم پر بھی کسی نے جادو کیا ہے۔‘‘ مولوی صاحب نے پوچھا۔

اسامہ اصل موضوع کی طرف آگیا

’’آپ آرٹ گیلری میں ہونے والے حادثہ کے متعلق تو جانتے ہوں گے اور اس حادثے کے بعد شہر میں پھیلی ہوئی سنسنی خیز خبریں بھی سنی ہوں گی۔‘‘

مولوی صاحب نے آنکھیں بند کر کے اثبات میں سر ہلایا۔

’’ہاں جانتا ہوں۔‘‘

’’ پولیس کے کہنے کے مطابق وہ سب کچھ دہشت گروہ نے کیا ہے۔ مگر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سب اموات کالے جادو کے تحت ہوئی ہیں جس کا ذمہ دار ایک ہمزاد ہے۔‘‘ اسامہ نے بے چینی سے کہا۔

’’دونوں میں سے کوئی بات بھی ہو سکتی ہے۔ مگر دوسری بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس خیال کو محض وہم یا توہمات پرستی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ شیطان ہمزاد کچھ بھی کر سکتا ہے۔‘‘ مولوی صاحب نے معنی خیز لہجے میں کہا۔

اسامہ کے ذہن میں سوچوں کی گرہیں دھیرے دھیرے کھل رہی تھیں اور الفاظ پھسل پھسل کر اس کے منہ سے باہر نکل رہے تھے۔

’’مولوی صاحب! میں اپنے اندر ایک عجیب سی تبدیلی محسوس کر رہا ہوں جیسے میرے اندر کوئی دوسرا انسان آ بسا ہو۔ شہر میں ہونے والے پُراسرار واقعات میرے لیے محض ایک خبر کی طرح ہی تھے مگر اب میری سوچوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ کبھی کبھی میں ایک ہی وقت میں دو لوگوں کی طرح سوچتا ہوں۔‘‘

مولوی صاحب ہنسنے لگے

’’میاں! یہ تو معمولی سی بات ہے جسے تم خواہ مخوہ اپنے اوپر حاوی کر رہے ہو انسان تو ازل ہی سے دوہری سوچ کا مالک ہے۔ کیونکہ اس کے دو روپ ہوتے ہیں اگر ایک نفس اسے اچھائی کی طرف مائل کرتا ہے تو دوسرا نفس اسے برائی کی طرف مائل کرتا ہے۔‘‘

اسامہ نے بے قراری سے سر کو جھٹکا

’’مولوی صاحب! آپ میری پوری بات تو سنیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے میری Memoryمیں وہ تمام یادداشتیں ڈال دی ہیں جو میری نہیں ہیں میں ان تمام جگہوں کے بارے میں جانتا ہوں جو میں نے نہیں دیکھیں ان تمام لوگوں کے بارے میں جانتا ہوں جنہیں میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ جیسے میرے جسم میں کسی اور کی روح سرایت کر گئی ہے۔‘‘

مولوی صاحب نے مبہوت نظروں سے اسامہ کی طرف دیکھا۔’’ان لوگوں کو اور ان جگہوں کا تعلق کس سے ہے؟‘‘

اسامہ نے جواب دینے میں ذرا دیر نہ لگائی۔’’انہی شیطان ہمزاد سے جن کے خلاف جنگ کے لیے میرے اندر ہی کوئی مجھے اُکسا رہا ہے۔ میں ان چاروں کے بارے میں اس طرح جانتا ہوں جیسے یا تو میں ان میں سے ایک ہوں یا ان کا انتہائی قریبی رشتہ دار ۔۔۔‘‘

مولوی صاحب سر جھکا کے سوچ میں پڑ گئے۔ کافی دیر تک انہوں نے اسامہ کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا پھر ایک لمبا سانس کھینچتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑ لیا

’’میری معلومات محدود ہیں تمہارے سوال بہت مشکل ہیں۔۔۔لیکن پروردگار کے کرم سے میں تمہیں اتنا سمجھا سکتا ہوں کہ تم صحیح راستے کا تعین کر سکو۔ جس طرح کئی خطرناک کام ہمارے مادی وجود کی وجہ سے ہمارے لیے ناممکن ہو جاتے ہیں اسی طرح ہمزاد بھی اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے کسی وجود میں داخل ہو کے اس شخص کے ذریعے اپنے مقاصد پورے کرتا ہے۔

سفلی علوم کرنے والے عامل کسی کے کہنے پر شیطان ہمزاد کو کسی انسان کے جسم میں داخل کر دیتے ہیں۔ اس انسان کی شخصیت اور کردار کا بدلاؤ لوگوں کو حیران کر دیتا ہے۔ وہ شیطان ہمزاد اسے برائی پر اکساتا ہے اور اچھائی سے روکتا ہے۔ اس شخص کی زندگی کے معمولات اس قدر بگڑ جاتے ہیں کہ اس شخص کی بے چینی ہی اسے مار ڈالتی ہے۔ مگر تمہارا معاملہ الگ ہے۔ میرے خیال سے تمہیں اس چیز کی تصدیق کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ واقعی تمہارے جسم میں کوئی روح سرائیت کر گئی ہے یا نہیں تمہیں صرف یہ سوچنا چاہئے کہ تمہارے ذہن میں اٹھنے والی سوچیں تمہیں بہت نیک کام کی طرف مائل کر رہی ہیں۔ تم میں کوئی خاص بات ضرور ہوگی جو رب نے تمہارے ذہن میں نہ صرف یہ خیال پیدا کیا بلکہ تمہارے لیے چھپے ہوئے رازوں کو بھی آشکار کیا۔ تم زیادہ نہ سوچو اور اسی گروپ میں شامل ہو جاؤ جنہوں نے ان شیطانی بدروحوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے۔ لوگوں کو شیطان ہمزاد کے حملوں سے بچانے کے لیے اپنی جان پر بھی کھیل جاؤ۔ تم کسی عامل کے چکر میں مت پڑنا۔ تم دیکھ لینا اس نیک کام کی تکمیل کے بعد تم پہلے جیسے ہو جاؤ گے۔‘‘

اسامہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔

’’آپ نے کتنی آسانی سے اس الجھے ہوئے مسئلے کو سلجھا دیا۔ میں وہی کروں گا جس کے لیے میرا ذہن مجھے آمادہ کر رہا ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *