وہ کون تھا ؟ ایک خنّاس کی پُر اسرار کہانی

وہ کون تھا ؟ ایک خنّاس کی پُر اسرار کہانی

Last part

رات کے گیارہ بج رہے تھے مگر عمارہ اپنا لیپ ٹاپ گود میں رکھے google سرچ میں مصروف تھی۔ وہ اس شہر کے اسامہ نام کے اشخاص کے ایڈریسز اور فون نمبرز پر سرچ کر رہی تھی۔ اس نے ان ناموں کی spread sheet پر ایڈریسز اور فون نمبرز کے ساتھ ایک لسٹ تیار کی۔

’’عمارہ بس کرو، بہت رات ہوگئی ہے اب سو جاؤ۔‘‘ دوسرے کمرے سے اس کی والدہ بار بار کہہ رہی تھیں۔ عمارہ نے دوسری بار بلند آواز میں کہا

’’امی جان! بس تھوڑا سا کام رہ گیا ہے۔‘‘ عمارہ کی تیار کردہ لسٹ میں ریٹائرڈ میجر اسامہ کا نام اور ساتھ ایڈریس کی جگہ رینجرز مارشل آرٹ کلب کا نام تھا۔

لسٹ بنانے کے بعد عمارہ نے اسے سیو کیا اور پھر لیپ ٹاپ بند کر کے کمرے کی لائٹ بھی آف کر دی اور ٹیبل لیمپ جلا لیا۔

وہ بستر پر لیٹ تو گئی مگر اس کے ذہن میں سوچوں کا تانتا سا بندھ گیا۔ وہ اپنے ذہن کو جھٹک کے سیدھا لیٹ گئی اور چھت کی طرف آنکھیں ٹکا دیں۔

’’یا اللہ کب صبح ہوگی۔۔۔آج کی رات تو بہت مشکل سے گزرے گی ساحل کو اپنے ساتھ پک اپ کر لوں گی وہ میری خاصی مدد کر سکتا ہے۔‘‘ نصف رات کے بعد ہی اسے نیند آئی۔

صبح عمارہ کلینک کے لیے وقت سے پہلے ہی تیار ہو گئی۔ رابعہ، عمارہ کے کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے حیرت سے عمارہ کی طرف دیکھا

’’آج تو بہت جلدی تیار ہو گئی اور یہ کیا ڈھونڈ رہی ہو۔‘‘

رابعہ نے عمارہ سے پوچھا جو بیڈ کے کُشن ادھر ادھر پھینک رہی تھی۔

’’مجھے میرا Cell نہیں مل رہا۔۔۔‘‘ عمارہ نے تذبذب سی کیفیت میں کہا۔

’’اوہ۔۔۔اتنی پریشان کیوں ہو رہی ہو میں اپنے موبائل سے بیل دیتی ہوں.“ یہ کہہ کر رابعہ وہاں سے چلی گئی۔ اس نے عمارہ کے موبائل پر بیل دی تو ring tone کی آواز بیڈ کے نیچے سے آئی۔ عمارہ نے بیڈ کے نیچے سے بمشکل اپنا Cell نکالا۔ رابعہ کمرے میں داخل ہوئی۔

’’تمہارا بھی کوئی حال نہیں ہے۔ اپنی چیزیں تو ٹھکانے سے رکھا کرو۔‘‘

عمارہ نے ماں کی بات پر کان دھرے بغیر اپنا موبائل ہینڈ بیگ میں رکھا اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی۔

’’کہاں جا رہی ہو عمارہ۔۔۔؟ ابھی تو میں نے ناشتہ بھی تیار نہیں کیا۔‘‘ رابعہ نے جاتی ہوئی عمارہ کو روک کر کہا۔

عمارہ نے ماں کا ہاتھ تھاما

’’مما!آج میں آفس میں ہی ناشتہ کر لوں گی مجھے جلدی جانا ہے۔ بہت ضروری کام ہے۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی تو اسے ساحل کا خیال آیا۔

’’ایک بار اسامہ کا پتہ چل جائے۔ ابھی ساحل کو لے کر نہیں جاتی۔ جب ضرورت ہوگی تو اس سے رابطہ کر لوں۔‘‘ اس نے پہلا گیئر لگایا اور گاڑی پورچ سے باہر نکال لی۔

کلینک پہنچ کر اس نے عنبر کو فون کرکے بلا لیا اور باقی سٹاف کو بھی جلدی آنے کی ہدایت کر دی۔ اس نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور آفس ورلڈ ایکسل کی مطلوبہ سپریڈ شیٹ اوپن کی۔ اسامہ نام کے افراد کے موبائل نمبرز اور ایڈریسز کی لسٹ ڈیسک ٹاپ پر آگئی۔ وہ اپنے موبائل سے یکے بعد دیگرے تمام نمبرز پر Contact کرنے لگی۔ بہت سے نمبرز سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ کسی کا موبائل آف تھا۔ کسی کا بیزی اور کہیں نیٹ ورک پرابلم۔

تین اشخاص سے رابطہ ہوا جن کی عمر 50 سے اوپر تھی۔ عنبر بھی آچکی تھی اور سٹاف کے ممبرز بھی پہنچ چکے تھے۔ عمارہ دو گھنٹے تک موبائل سے رابطہ کرنے میں مصروف رہی مگر اسے اپنا مطلوبہ نمبر نہیں ملا وہ اکتا گئی۔ اس نے اپنا موبائل عنبر کو دیا تم یہ نمبر ملاؤ میرا تو سر درد کرنے لگا ہے۔

عنبر نے نمبر ملایا تو ایک شخص نے کال اٹینڈ کی۔۔۔

’’جی میں اسامہ ہوں، آپ کون ہیں؟‘‘

عنبر نے موبائل عمارہ کو دے دیا۔

’’السلام علیکم!‘‘ عمارہ نے کہا۔

’’وعلیکم السلام!‘‘ شخص نے جواب دیا۔

’’آپ کو ہم نے زحمت دی۔۔۔ہمیں دراصل ایک شخص کی تلاش ہے جس کا نام اسامہ ہے۔۔۔اس کی عمر35یا 36سال کے لگ بھگ ہے ۔۔۔اس کا ایک ہاتھ نہیں ہے۔‘‘

ابھی عمارہ اپنی بات پوری بھی نہ کر پائی تھی کہ وہ تمسخرانہ انداز میں بولا۔

’’آپ نے غلط نمبر پر فون کیا ہے کیونکہ میرے تو دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہیں اور دونوں کان بھی نہیں ہیں۔‘‘

’’سٹوپڈ (بدتمیز)!‘‘ عمارہ نے موبائل میز پر دے مارا۔

’’موبائل پر غصہ کیوں نکال رہی ہو۔‘‘ عنبر نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا۔

ٹیلی فون کی بیل بجی تو عنبر نے فون ریسو کیا

’’تم ایسا کرو کہ ان کہ ہسٹری فائل تیار کرو میں ڈاکٹر صاحبہ کو بتاتی ہوں۔‘‘

فون رکھنے کے بعد عنبر، عمارہ سے مخاطب ہوئی

’’باہر دو مریض آئے ہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے تم باہر جاکے دونوںPatientsکی ہسٹری فائل لے آؤ پھر انہیں باری باری اندر بلا لینا۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ اپنا لیپ ٹاپShut downکرنے لگی۔ Patientsچیک کرنے کے بعد عمارہ ایک بار پھر اپنا لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گئی اور اسامہ نام کے اشخاص کے موبائل نمبرز اور Addresses چیک کرنے لگی۔ اس نے تین نمبرز اور ڈائل کیے مگر مایوسی ہوئی اسی دوران دو مریض اور آگئے۔ عمارہ اپنے کام کے ساتھ ساتھ مریضوں کو بھی چیک کرتی رہی۔ دوپہر کے تین بج گئے۔ عمارہ کافی تھک چکی تھی اس نے نقاہت سے کرسی سے پشت لگاتے ہوئے عنبر سے پوچھا۔

’’اور توکوئی مریض نہیں ہے باہر۔۔۔‘‘ عنبر بھی سکون سے کرسی پر بیٹھ گئی۔

’’مریض تو کوئی نہیں ہے مگر کچھ دیر تک مجھے کھانا نہیں ملا تو میں مریضہ بن جاؤں گی۔ تمہیں تو کچھ ہوش نہیں ہے۔‘‘

’’کیوں۔۔۔آج کیا بات ہے ۔۔۔کیا اپنا لنچ بھول آئی ہو۔۔۔؟‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

عنبر نے بالوں کی لٹ کو اپنی انگلی سے لپیٹتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا۔ ’’آج بھول آئی ہوں۔‘‘

عمارہ الرٹ ہوکے بیٹھ گئی

’’پہلے کیوں نہیں بتایا کہ آج میں اپنا لنچ نہیں لائی۔‘‘

عمارہ نے فون کر کے باہر سے ملازم کو بلایا۔ ملازم اس کے آفس میں داخل ہوا

’’جی میڈم!‘‘

عمارہ نے اس سے کچھ کھانے کے لیے منگوایا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ ملازم دو بریانی کی پلیٹیں اور رائتہ لے آیا۔

’’ایک شہر میں ایک شخص کو ڈھونڈنا اتنا سہل نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہی ہو۔‘‘ عنبر نے چاولوں کا لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔

’’ان Contact میں سے کوئی تو نمبر اس کا ہوگا ابھی میں نے سارے نمبر چیک نہیں کیے۔ ان شاء اللہ رابطہ ہو جائے گا۔‘‘

عنبر نے تمسخرانہ انداز میں عمارہ کی طرف دیکھا

’’جو شخص ساحل کو ملا وہ انسان ہی تھا یا۔۔۔‘‘

عمارہ نے گھور کر عنبر کی طرف دیکھا

’’فضول میں میرا دماغ مت خراب کرو۔ میں نے سارا غصہ تم پر نکال دینا ہے۔‘‘

’’بہرحال جو کچھ بھی کرنا ہے کھانا ٹھیک طرح سے کھا لو پھر کرنا۔‘‘ عنبر نے کہا۔

عمارہ کا لیپ ٹاپ آن ہی تھا۔ اسامہ نام کے اشخاص کی لسٹ سامنے ڈیسک ٹاپ پر تھی۔ عمارہ نے لنچ سے فارغ ہوتے ہی ایک PTCL کا نمبر ملایا جو رینجرز کلب کے چیف میجر اسامہ کا تھا۔

کلب کے اسٹوڈنٹ نے کال ریسیو کی۔’’جی! ہمارے چیف میجر اسامہ ہیں۔ جی آپ کی معلومات درست ہیں۔ ان کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے۔‘‘

’’آپ مجھے ذرا سمجھا دیں کہ یہ کلب کدھر ہے۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

اسٹوڈنٹ نے عمارہ کو کلب کا ایڈریس سمجھایا

’’آپ کے چیف اس وقت کلب میں موجود ہیں۔‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

’’جی نہیں۔۔۔اس وقت تو وہ باہر گئے ہیں شام کو پانچ بجے وہ کلب میں ہی ہوں گے کیونکہ شام کو ہمارا Competition ہے۔‘‘ اسٹوڈنٹ نے بتایا۔

’’آپ مجھے ان کا موبائل نمبر دے سکتے ہیں؟‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

’’سوری میڈم! ہم ان کی اجازت کے بغیر کسی کو بھی ان کا موبائل نمبر نہیں دے سکتے۔‘‘ اسٹوڈنٹ نے کہا۔

’’اچھا۔۔۔ٹھیک ہے۔ آپ کا بہت بہت شکریہ‘‘

یہ کہہ کر عمارہ نے فون بند کر دیا۔ عنبر نے جلدی سے پوچھا۔ ’’کیا بات بن گئی؟‘‘

ایک امید نے عمارہ کے لہجے میں تازگی بھر دی

’’لگتا ہے کہ بات بن جائے گی۔ خدا کے فضل سے ہمیں مایوسی نہیں ہوگی۔‘‘

’’میں چلوں گی تمہارے ساتھ۔۔۔‘‘ عنبر نے کہا۔ عمارہ نے نفی کے انداز میں ہاتھ ہلایا۔

’’نہیں۔۔۔میں وہاں اکیلی جاؤں گی۔ جب تمہارے ضرورت ہوگی تو بتا دوں گی۔‘‘

عنبر نے کھانے کے برتن سمیٹے اور اٹھا کے آفس سے باہر لے گئی۔ عنبر واپس آئی تو میز پر بکھری ہوئی فائلز سمیٹنے لگی عمارہ بھی اس کی مدد کرنے لگی اور فائلز اٹھا کے بک شیلف میں رکھنے لگی۔

ساڑھے پانچ بجے کے قریب عمارہ نے رینجرز کلب کے قریب گاڑی پارک کی۔ وہ گیٹ کی طرف بڑھی۔ اس نے لیمن کلر کی لانگ شرٹ کے ساتھ بلیو جینز پہن رکھی تھی۔

اس نے اپنے براؤن گلاسز اپنے سر کی طرف ٹکا لیے۔ وہ گیٹ کیپر سے مخاطب ہوئی۔’’اسامہ صاحب ہیں اندر۔۔۔؟‘‘

’’جی ! سر اندر موجود ہیں مگر اس وقت آپ اندر نہیں جا سکتی کیونکہ دو ٹیموں کے درمیان competition چل رہا ہے۔ اس وقت وہ بہت مصروف ہیں۔‘‘ چوکیدار نے معذرت سے کہا۔

عمارہ نے اپنے ہینڈ بیگ سے اپنا کارڈ نکالا اور چوکیدار کی طرف بڑھایا۔

’’تم یہ کارڈ سر کو دکھاؤ اور بتاؤ کہ میں ان سے ملنا چاہتی ہوں۔‘‘

’’کوشش کرکے دیکھ لیتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر چوکیدار نے عمارہ کے ہاتھ سے کارڈ لے لیا اور اسامہ کے پاس چلا گیا۔

تھوڑی دیر کے بعد وہ واپس آیا۔

’’آپ اندر آجائیں۔‘‘ اس نے عمارہ سے کہا۔

عمارہ گیٹ سے اندر داخل ہوگئی۔’’آپ میرے ساتھ آئیں۔‘‘ چوکیدار نے کہا۔

عمارہ چوکیدار کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ گیٹ کے قریب سے ہی سامنے گراؤنڈ میں فنکشن کا نظارہ دکھائی دے رہا تھا۔

گراؤنڈ میں دو ٹیموں کے درمیان مقابلہ جاری تھا۔ ٹیموں کے چیف اپنی کرسیوں پر براجمان تھے۔ چوکیدار عمارہ کو جم ہال میں لے گیا۔ آپ یہاں بیٹھیں۔ اسامہ صاحب تھوڑی دیر میں آجائیں گے۔ چوکیدار نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

عمارہ بلیک کلر کے صوفے پر بیٹھ گئی۔ یہ صوفہ سیون سیٹر تھا۔ جم کا یہ حصہ آفس کی طرح ہی ڈیزائن کیا گیا تھا۔ جس کا دوسرا حصہ ایک وسیع ہال پر مشتمل تھا۔ جس میں ایکسر سائز کی مشینیں نصب تھیں۔ عمارہ کو اس قدر بڑے ہال میں اس طرح تنہا بیٹھنا بہت عجیب لگ رہا تھا۔

’’شاید مجھے آج یہاں نہیں آنا چاہئے تھا۔۔۔‘‘ اس نے خود کلامی کی۔

وہ کافی دیر بیٹھی رہی۔ اسامہ کا تقریب سے نکلنا مشکل تھا۔ عمارہ نے ٹیبل سے کچھ میگزین اٹھائے اور پڑھنے لگی اس کا خاصا دھیان بدل گیا۔

وہ مطالعہ میں اس قدر مگن ہوگئی کہ اسے علم ہی نہ ہوا کہ کوئی اس کے قریب کھڑا ہے۔ کسی کے کھنگھورنے کی آواز سے اس نے چونک کر اوپر دیکھا تو ایک دراز قد اور چوڑی قامت والا خوبرو جوان اس کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ جلدی سے اٹھی تو رسالے اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئے۔

وہ جھک کے رسالے اٹھانے لگی۔ وہ جوان بھی جھک کے اس کی مدد کرنے لگا۔ عمارہ نے دیکھا کہ وہ ایک ہاتھ سے اس کی مدد کر رہا ہے اس کا دوسرا ہاتھ نہیں ہے۔ عمارہ نے رسالے سمیٹ کر میز پر رکھ دیئے۔

’’میں اسامہ ہوں۔۔۔آپ کو مجھ سے کیا کام ہے۔‘‘ اسامہ نے صوفے پر براجمان ہوتے ہوئے کہا۔

عمارہ نے مسکراتے ہوئے اسامہ کی طرف دیکھا

’’مجھے اپنا تعارف کرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں آپ کو اپنا کارڈ بھیج چکی ہوں۔‘‘

اسامہ نے اپنائیت سے بھرپور نظروں سے عمارہ کی طرف دیکھا۔

’’اگر آپ مجھے اپنا کارڈ نہ بھی بھیجتیں تو بھی آپ کو دیکھ کر میں بتا دیتا کہ آپ عمارہ ہیں سائیکاٹرسٹ اور exorcist لیکن اتنی بہادر نہیں ہیں جتنی باتیں کرتی ہیں۔‘‘

’’آپ کیا آنکھوں سے ذہن پڑھنے کا علم جانتے ہیں۔‘‘ عمارہ نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

’’یہی سمجھ لیں کیونکہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ مجھ سے کس سلسلے میں ملنا چاہتی تھیں۔‘‘

اسامہ ابھی اپنی بات پوری نہیں کر پایا تھا کہ ملازم ٹی ٹرالی میں چائے اور فاسٹ فوڈز لے آیا اسامہ نے چائے بنائی اور عمارہ کو پیش کی۔

’’کیا جانتے ہیں آپ کہ میں آپ سے کس سلسلے میں ملنا چاہتی تھی۔‘‘ عمارہ نے چائے کا کپ لیتے ہوئے کہا۔

’’وشاء حوریہ اور فواد کے بارے میں بات کرنا چاہتی تھیں آپ۔‘‘ اسامہ نے اپنے کپ میں چینی ڈالتے ہوئے کہا۔

عمارہ کے پورے جسم میں جھرجھری دوڑ گئی، کپ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گیا۔ ’’سوری۔۔۔‘‘ وہ اپنے کپڑے سمیٹتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔

’’کوئی بات نہیں میں ملازم سے صاف کروا دیتا ہوں آپ کے کپڑے تو خراب نہیں ہوئے۔‘‘ اسامہ بھی کھڑا ہوگیا۔

’’نہیں۔۔۔میرے کپڑوں پر کوئی داغ نہیں لگا۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

اسامہ نے ملازم کو آواز دی۔ تھوڑی دیر کے بعد ملازم آگیا۔ ملازم نے فرش صاف کیا اور کپ کے ٹکڑے بھی اٹھا لئے۔

ملازم کے جانے کے بعد اسامہ نے عمارہ کے پریشان چہرے کی طرف دیکھا۔’’آپ بیٹھ جائیں۔۔۔‘‘

عمارہ گھبرائی سی دوبارہ بیٹھ گئی’’آپ کہیں کہ کیا کہنا چاہتی ہیں۔‘‘

عمارہ یکدم بولی

’’آپ مجھے حیرت کے جھٹکے پہ جھٹکے لگائے جا رہے ہیں۔ میرا تو جیسے دماغ ہی سن ہوگیا ہے کہ میں آپ سے کیا بات کروں۔‘‘

’’ٹھیک ہے پھر آپ مجھ سے کوئی بات نہ کریں۔ آپ مجھے کوئی مناسب وقت دے دیں۔ جب آپ فارغ ہوں میں آپ کے کلینک آجاؤں گا۔ دراصل میں خود بھی آپ سے ملنا چاہتا تھا۔ میرا خیال ہے کہ جو بات ہم نے کرنی ہے اس کے لیے یہ جگہ مناسب نہیں ہے۔‘‘

’’اچھا تو پھر آپ کل شام چار بجے میرے کلینک پر آجائیے گا۔ وہیں تفصیل سے بات ہوگی۔ کارڈ میں میرے کلینک کا ایڈرس۔۔۔‘‘ عمارہ اپنی بات پوری نہ کر پائی تھی کہ اسامہ نے کہا

’’میں جانتا ہوں کہ آپ کا کلینک کہاں ہے۔‘‘

عمارہ نے اپنی آنکھوں کو چاروں طرف گھماتے ہوئے اپنی بھنویں اچکائیں۔

عمارہ نفی کے انداز میں سر ہلاتی ہوئی کھڑی ہوگئی۔’’نہیں کوئی ایسی بات نہیں، آپ مجھے اجازت دیں ان شاء اللہ کل ملاقات ہوگی۔‘‘

’’آپ چائے تو پی لیں۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’شکریہ۔۔۔میرا ابھی دل نہیں ہے۔‘‘

اسامہ، عمارہ کو گیٹ تک چھوڑنے گیا۔

عمارہ نے جاتے ہوئے ایک بار پھر کہا

’’مجھے آپ کا انتظار رہے گا۔‘‘

’’ان شاء اللہ ۔۔۔کل آپ سے ملاقات ہوگی۔‘‘ اسامہ نے اسے یقین دلایا۔

اگلی صبح عمارہ حسب معمول ناشتہ کرکے کلینک کے لیے روانہ ہوگئی۔ اس کی والدہ رابعہ گھر کی چیزیں سمیٹنے لگی۔ آدھے گھنٹے کے بعد ملازمہ بھی آگئی۔ رابعہ ملازمہ کو کام سمجھانے میں مشغو ل ہوگئی۔

ملازمہ کو کام سمجھانے کے بعد رابعہ نے چولہے پر دودھ کی دیگچی رکھ دی اور دودھ پکانے لگی۔ ملازمہ برتن دھو رہی تھی۔

’’تمہیں میں نے کتنی بار سمجھایا ہے کہ برتن دھونے کے بعد کیبنٹ پہ کپڑا ضرور مارا کرو مگر تم پر تو کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔ دیکھو ذرا کتنی چکناہٹ جم گئی ہے۔ آج ضرور صاف کر دینا۔‘‘ رابعہ نے ملازمہ سے کہا۔

’’جی بی بی جی!آج صاف کردوں گی۔‘‘ ملازمہ نے جوب دیا۔

رابعہ کچن کی باقی چیزیں سمیٹنے لگی۔ کچھ چیزیں اس نے فریج میں رکھیں۔ باقی مصالحہ جات ڈبوں میں سنبھال دیئے اتنی دیر میں دودھ کو بھی ابال آگیا۔

رابعہ کچن سے لیونگ روم میں آگئی اس نے میگزینز کے اسٹینڈ سے میگزین اٹھایا اور صوفے پر براجمان ہوگئی۔ تقریباً گیارہ بجے کے قریب عمارہ کا فون آیا۔

رابعہ نے فون رسیو کیا۔’’ہیلو۔۔۔‘‘

’’مما! آپ نے دوپہر کا کھانا نہیں بنانا۔ میں اپنے لیے اور آپ کے لیے ہوٹل سے کھانا منگوا لوں گی۔ آپ بس آرام کرنا۔‘‘ عمارہ نے ماں کو سمجھایا۔

’’عمارہ بیٹی! جب میں بیمار ہوں ہی نہیں تو پھر کیوں تم مجھے بیمار بنا رہی ہو۔ کوکنگ تو میں شوق سے کرتی ہوںَ میرا وقت اچھا گزر جاتا ہے۔ فارغ ہوتی ہوں تو طرح طرح کی سوچیں ستاتی ہیں بس میں نے کہہ دیا ہے کہ تم نے بازار سے کھانا نہیں منگوانا، میں کھانا بنا لوں گی۔‘‘ رابعہ نے دو ٹوک بات کی۔

عمارہ نے ٹھنڈی آہ بھری۔

’’آپ سے کون جیت سکتا ہے ٹھیک ہے جیسا آپ کو اچھا لگے لیکن آج میں اپنا لنچ یہیں منگوالوں گی ۔ کام زیادہ ہے گھر نہیں آسکوں گی۔‘‘

’’اچھا ٹھیک ہے۔ ٹائم پر کھانا منگوا لینا۔ اللہ حافظ۔ ‘‘ یہ کہہ کر رابعہ نے فون بند کر دیا اور دوبارہ میگزین پڑھنے میں مصروف ہوگئی۔

ملازمہ گھر کی صفائی کرنے کے بعد ڈسٹنگ کر رہی تھی۔ ڈسٹنگ کرنے کے بعد وہ رابعہ کے پاس آئی۔

’’بی بی جی! سارا کام ختم ہوگیا ہے اور کوئی کام ہے تو بتا دیں۔‘‘

رابعہ نے صحن کی طرف اشارہ کیا

’’میں نے وہاں صحن میں دو جوڑے رکھے ہیں وہ دھو دینا۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر ملازمہ کپڑے دھونے صحن میں چلی گئی۔

نوکرانی نے کپڑے دھونے میں زیادہ دیر نہ لگائی۔ فٹافٹ کپڑے دھوکے وہ دوبارہ رابعہ کے پاس آئی۔

’’بی بی جی! کپڑے بھی دھل گئے ہیں اب میں جاؤں۔‘‘

’’ہاں جاؤ۔۔۔دروازہ ٹھیک طرح سے بند کرنا۔‘‘ رابعہ نے رسالے پر سے نظریں اٹھائے بغیر کہا۔

’’جی اچھا جی۔۔۔‘‘ملازمہ چلی گئی۔

رابعہ نے وال کلاک میں وقت دیکھا۔

’’گیارہ بج گئے ہیں گوشت تو میں نے فریزر سے باہر نکالا ہی نہیں۔‘‘

رابعہ ڈھیلی ڈھیلی چال سے چلتی ہوئی فریج تک گئی اس نے گوشت کا شاپر نکالا اور کچن میں چلی گئی۔ کچن کی کھڑکی لان کی طرف کھلتی تھی جہاں سے باہر کا گیٹ بھی دکھائی دے رہا تھا۔

رابعہ گھرمیں بالکل اکیلی تھی۔ اس نے ٹوکری سے لہسن اور پیاز اٹھائے اور کاٹنے لگی۔ ویجی ٹیبل شیٹ پر چھری کی کٹ کٹ کی آواز کے ساتھ رابعہ کو گیٹ کھلنے کی آواز آئی اس سے پہلے کہ وہ پلٹ کر دیکھتی جیسے کسی نے گیٹ بند بھی کر دیا رابعہ کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ وہ پیاز چھوڑ کر کچن کی کھڑکی کی طرف بڑھی۔ا س نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ دور دور تک سناٹا تھا اس کے ذہن میں وسوسے سے آنے لگے ۔ اس نے لان کے چاروں طرف قطاروں میں لگے التاپوش اور گلچیں کے پودوں کی طرف دیکھا

’’کوئی ان پودوں میں بھی تو چھپ سکتا ہے۔‘‘

وہ اس خیال سے کچن سے باہر جانے لگی تو کچھ سوچ کر اس نے ذہن جھٹک دیا

’’میرا وہم ہوگا۔۔۔‘‘ وہ دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگئی۔

اچانک چھوٹے چھوٹے بچوں کی ہنسنے کھیلنے کی پرمسرت آوازیں اس کی سماعت سے ٹکرائیں۔ وہ ایک بار پھر کھڑکی کی طرف لپکی مگر اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ یہ اندازہ ہوگیا کہ بچوں کی آوازیں لان سے ہی آرہی ہیں۔

’’یہ بچے کہاں سے آئے ہیں۔ ہمارے تو قریبی پڑوسیوں کے سب بچے بڑے ہیں شاید ان کے گھر مہمان آئے ہوں۔‘‘ رابعہ سوچتی ہوئی کچن سے باہر نکل گئی۔ لیونگ روم سے ہوتی ہوئی وہ عقبی دروازے سے باہر لان میں آگئی جو منظر اس نے دیکھا، اس کی آنکھیں دنگ رہ گئیں لان میں رنگ برنگی سینکڑوں تتلیاں پودوں کے اوپر منڈلا رہی تھیں۔

اتنی زیادہ تتلیاں تھیں کہ ان کا نظروں میں سمانا مشکل تھا، انہوں نے فضا کو رنگوں سے بھر دیا تھا تین بچے جن میں دو لڑکیاں اور ایک لڑکا تھا، بے تحاشہ شور مچا رہے تھے۔ وہ ان تتلیوں کو پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

رابعہ اس دلفریب منظر میں جیسے کھو گئی، وہ بچوں کی طرف بڑھی۔ یہ منظر جتنا خوبصورت تھا۔ اتنا ہی حیران کن بھی تھا کہ اتنی زیادہ تتلیاں کہاں سے آگئیں۔

’’ارے بچو! آپ کہاں سے آئے ہو۔‘‘

رابعہ کے بولتے ہی سب کچھ غائب ہوگیا۔ تتلیاں بھی اور بچے بھی۔ رابعہ کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ خوف کا احساس اس کے ذہن میں وسوسے ڈالنے لگا۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی لیونگ روم میں چلی گئی اور چٹخنی لگا لی۔

سامنے ٹیبل پر اس کا موبائل پڑا ہوا تھا اس نے موبائل اٹھایا اور عمارہ کا نمبر ملایا۔ عمارہ کے کمرے کی طرف سے موبائل کی رنگ کی آواز آنے لگی۔

’’یہ لڑکی تو اپنا موبائل گھر پرہی بھول گئی ہے۔‘‘

اس نے موبائل اپنے ہاتھ ہی میں تھاما ہوا تھا۔ وہ سہمی سہمی صوفے پر بیٹھ گئی۔ تقریباً پندرہ منٹ گز ر گئے، اسے کوئی پراسرار حرکت محسوس نہ ہوئی اور نہ ہی کسی غیبی چیز کے اثرات محسوس ہوئے۔ اس نے یہی بہتر سمجھا کہ اپنا دھیان کام پر لگائے۔ وہ کچن میں گئی گوشت ڈی فراسٹ ہو چکا تھا۔ اس نے جلدی جلدی پیاز اور لہسن کاٹا اور ہنڈیا چولہے پر چڑھا دی۔

اس نے مٹر اٹھائے اور لیونگ روم میں آگئی، خوف ختم کرنے کے لیے اس نے ٹی وی آن کر لیا۔

پورے کمرے میں سکوت چھایا ہوا تھا کہ اچانک سیٹی کی سی نسوانی آواز میں کسی نے رابعہ کی سماعت میں سرگوشی کی۔

’’تتلیوں کے رنگ دیکھے ہیں۔۔۔‘‘

مٹروں کی ٹرے رابعہ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور وہ حواس باختہ ہو کے کھڑی ہوگئی۔

’’کو۔۔۔کون ہو تم۔۔۔‘‘ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھنے لگی مگر کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ ایک بار پھر اسکی قوت سماعت میں سیٹی کی سی آواز میں سرگوشی ہوئی

’’وہ سب رنگ موت کے ہیں۔‘‘

رابعہ کی قوت گویائی سلب ہوگئی اس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ وہ بوکھلائی ہوئی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی پھر اسے خیال آیا کہ وہ گھر سے باہر چلی جائے۔ وہ ہمت کرکے دروازے کی طرف بڑھی تو ایک دم سیاہ غبار جالی والے دروازے سے چھن چھن کر کمرے میں آنے لگا۔ اس نے جلدی سے بڑا دروازہ بند کیا تو سیاہ دھواں دروازے کے شگافوں اور دروازے کے نیچے سے نکلتا ہوا پورے کمرے میں پھیل گیا۔ جس جس جگہ سے وہ سیاہ دھواں گزرتا جاتا، چیزوں کو جھلساتا جاتا۔

رابعہ پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ اسے دم کشی کی شکایت بھی ہو رہی تھی اور سیاہ دھویں کی حرارت بھی محسوس ہو رہی تھی۔ رابعہ کو اپنی موت کا یقین ہوگیا تھا۔ اسی دوران ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔

رابعہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ ڈھیلے ڈھیلے قدموں سے ٹیلی فون کی طرف بڑھنے لگی، اسے موت کی گمبھیر تاریکی میں جیسے زندگی کی کرن دکھائی دی۔ جونہی اس نے رسیور اٹھایا بھیانک سیاہ دھویں نے اس کا ہاتھ جھلسا دیا اس کے حلق سے چیخ نکلی اور رسیور اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ عمارہ لائن پر تھی، ماں کی چیخ سنی تو اس کے ہوش اڑ گئے۔

اس نے تیزی سے گاڑی کی چابی اٹھائی اور دروازے کی طرف دوڑی۔ عنبر پریشانی میں اس کی طرف بڑھی

’’خیریت ہے اس طرح کہاں جا رہی ہو۔‘‘

’’تم بس کلینک کا خیال رکھنا، اِٹس ارجنٹ۔‘‘ عمارہ بس اتنا کہہ پائی اور تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔

عمارہ کی پیشانی پیسنے سے تر تھی۔ وہ شدید گھبراہٹ میں ماں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔

جبکہ رابعہ کے ہاتھوں زندگی ریت کی طرح سرک رہی تھی کوئی ایسا کمرہ نہیں تھا جہاں رابعہ خود کو چھپا لے، پورا گھر اس بھیانک سیاہ دھویں کی لپیٹ میں تھا۔ رابعہ کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی تھیں وہ ہار گئی تھی۔

وہ اپنے بوڑھے ناتواں وجود کو گھسیٹتی ہوئی کبھی کسی کمرے کی طرف دوڑتی اور کبھی کسی کمرے کی طرف۔

اس کی نظر الماری میں رکھے ہوئے قرآن پاک پر پڑی۔ اس نے آگے بڑھ کر قرآن پاک اٹھایا اور اسے اپنے سینے سے لگا کر بیٹھ گئی۔ اس نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں چند ہی ساعتوں میں پوری کوٹھی کو اپنی لپیٹ میں لینے والا سیاہ دھواں ختم ہو گیا۔ رابعہ کو سیاہ دھویں کی حرارت محسوس نہیں ہوئی تو اس نے آنکھیں کھولیں۔

اسے اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آیا کہ اسے شیطان ہمزاد سے چھٹکارا مل گیا ہے۔ اسی دوران عمارہ کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’مما۔۔۔مما! کہاں ہیں آپ۔۔۔‘‘

’’عمارہ۔۔۔‘‘ رابعہ نے اسے پکارا تو عمارہ دوڑتی ہوئی اس کمرے میں پہنچ گئی۔ اس نے ماں کو اپنے سینے سے لگا لیا۔

۔

’’شکر ہے خدا کا آپ ٹھیک ہیں۔‘ ‘‘ عمارہ نے کہا۔

رابعہ نے قرآن پاک کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا

’’اللہ کی اس کتاب کے آگے اس شیطان کی چل نہ سکی ورنہ تمہاری ماں تو کب سے لقمہ اجل ہو جاتی۔‘‘

’’ایسے نہ کہیں۔‘‘ عمارہ نے ایک بار پھر ماں کو اپنے سینے سے لگا لیا۔

اس نے قرآن پاک الماری میں رکھا اور ماں کو سہارا دیتے ہوئے اس کے کمرے تک لے جانے لگی، وہ ساتھ ساتھ کمروں کی دیواروں کی طرف دیکھتی جا رہی تھی جو سیاہی مائل ہو گئی تھیں۔ بھیانک سیاہ دھواں تو ختم ہوگیا تھا مگر اس کے اثرات ایسے ہی تھے جیسے کسی گھر میں شدید آتشزدگی کے بعد ہوتے ہیں۔ اس نے ماں کو بستر پر لٹایا اور کچن سے گرم دودھ لے آئی۔

’’بیٹی میرا کسی بھی چیز میں دل نہیں ہے۔‘‘ رابعہ نے دودھ پینے سے منع کر دیا۔

عمارہ نے سہارا دے کر ماں کو بیٹھایا۔’’مما! آپ دودھ پی لیں۔ میری بات مان لیں ورنہ میں ناراض ہو جاؤں گی۔‘‘

رابعہ نے بُرا سا منہ بناتے ہوئے دودھ پی لیا۔ اور پھر بستر پر براجمان ہوگئی۔ اس نے عمارہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔’’مجھے چھوڑ کر مت جانا۔‘‘

عمارہ نے ماں کے ہاتھ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھ لیا اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ ماں سے نظریں چراتے ہوئے اس نے آنکھیں جھکا لیں۔’’یا اللہ میں کیا کروں۔‘‘ وہ سر جھکا کے گہری سوچ میں گم ہوگئی۔ پھر اسے اسامہ کا خیال آیا اس نے اپنے موبائل سے اسامہ کا نمبر ملایا۔

’’ہیلو۔۔۔کیا حال ہے آپ کا؟‘‘

’’خدا کا شکر ہے ٹھیک ہوں۔۔۔‘‘ اسامہ نے جواب دیا۔

’’اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو آپ میرے گھر آسکتے ہیں۔‘‘

عمارہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔

’’جی آپ ایڈریس بتا دیں۔‘‘ اسامہ نے کہا۔ عمارہ نے اسے اپنے گھر کا ایڈریس سمجھایا اور پھر فون بند کر دیا۔

’’تم نے کسے بلایا ہے۔‘‘ رابعہ نے تھکے تھکے لہجے میں پوچھا۔

’’اسامہ کو۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

’’کون اسامہ‘‘رابعہ نے سوالیہ نظروں سے عمارہ کی طرف دیکھا۔

’’یہ تو میں بھی نہیں جانتی کہ وہ کون ہے۔‘‘ عمارہ نے تذبذب سی کیفیت میں جواب دیا۔

رابعہ پریشان سی ہوگئی۔’’تم اسے اس طرح گھر کیوں بلا رہی ہو؟‘‘

’’کوئی ایسی خاص بات ہے وقت آنے پر آپ کو بتا دوں گی۔‘‘ اس نے ماں کے ہاتھ کو خفیف سا دبایا۔

رابعہ کے حواس پر ابھی تک دہشت طاری تھی۔

’’تم نے گھر کا حال دیکھا ہے۔‘‘ رابعہ نے کہا۔

’’آپ زیادہ نہ سوچیں، بس آرام کریں۔ میں آپ کے پاس ہی ہوں۔ ابھی تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ وہاں سے اٹھ گئی۔

اس نے ماں کو ظاہر نہیں کیا وہ مبہوت نظروں سے کمرے کی دیواروں کی طرف دیکھ رہی تھی۔

وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی لیونگ روم میں داخل ہوگئی۔ گھر کی دیواروں فرنیچر اور گھر کی دوسری اشیاء کو سیاہ دھویں نے اس طرح لپیٹ میں لیا ہوا تھا جیسے پورا گھر ہی خوفناک آگ کی لپیٹ میں آگیا ہو۔ دیواروں پر لگے ہوئے ACاور پلاسٹک کی اشیاء تو بالکل پگھل چکی تھیں۔

یہ سب دیکھ کر عمارہ کا سر چکرا رہا تھا، دل میں جیسے ہول اٹھ رہے تھے۔ سارے ہی کمروں کی حالت ایسی ہی تھی۔ وہ باہر لان میں گئی تو لمبے لمبے سانس لینے لگی۔ اس نے گھر کا فرنٹ دیکھا تو اپنا سر پکڑ لیا۔ بھیانک سیاہ دھویں نے کھڑکیوں اور دروازوں سے اندر داخل ہوتے ہوئے ہر جگہ سیاہی بھر دی تھی۔ عمارہ اسی طرح پریشان کھڑی تھی کہ اسامہ گیٹ سے اندر داخل ہوا۔

وہ عمارہ کے قریب آیا تو عمارہ کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ اس سے پہلے کہ عمارہ اس سے کچھ کہتی اس نے گھر کے فرنٹ کو ایک نظر دیکھا۔

’’فواد۔۔۔‘‘ اس بار عمارہ کی بھیگی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

’’تم اتنا سب کیسے جانتے ہو۔‘‘

’’اندر آنے کے لیے نہیں کہو گی۔‘‘ اس نے عمارہ کو شرمندہ سا کر دیا۔

’’اوہ سوری۔۔۔آئیے اندر آئیں۔‘‘

اسامہ نے گھر کی حالت دیکھی تو وہ خاصا پریشان ہوگیا۔ وہ کچھ دیر رابعہ کے پاس بیٹھا پھر وہ دونوں دوبارہ باہر لان میں بیٹھ گئے کیونکہ اندر کے حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ تسلی سے کوئی بات کر سکتے۔

’’میں آپ کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں۔‘‘ عمارہ نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔

’’آپ پلیز بیٹھیں گھر کے کوئی حالات ہیں کہ آپ میرے لیے چائے بنائیں جو بات ہم نے شام کو چار بجے کرنی تھی اچھی بات ہے کہ وہ بات ہم ابھی کر لیں۔‘‘

’’میں نے بھی آپ کو اسی لیے بلایا ہے کہ آپ دیکھیں کہ ہم کس طرح ان بدروحوں کے حملے کی زد میں ہیں، نہ جانے کیوں مجھے آپ سے مل کر ایک امید سی ہوگئی ہے کہ آپ ہمارے کام آسکتے ہیں۔ ہماری آنکھوں کے سامنے وہ شیطان ہمزا د لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں اور ہم بے بس تماشہ دیکھ رہے ہیں اور اگر آج میں اپنی ماں کو بھی کھو دیتی تو شاید خودکشی کر لیتی۔‘‘ عمارہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ کے رونے لگی۔

’’آپ اس طرح رونے کے بجائے خدا کا شکر ادا کریں کہ اس نے آپ کی والدہ کی جان بچائی اور یہ سوچ اب اپنے ذہن سے نکال پھینکیں کہ اب بھی ہم لوگوں کی اموات کا تماشہ دیکھیں گے۔ زرغام کا یہ شیطانی کھیل اب زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا۔ ہم لوگوں کو اس شیطان ہمزاد سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو مجھ پر بھروسا کرنا ہوگا میں جیسا کہوں ویسا کرنا ہوگا۔‘‘

’’تمہارے ذہن میں کیا پلان ہے تم مجھے تفصیل سے بتاؤ۔ میں خود ہی سب کو منا لوں گی۔‘‘عمارہ نے کہا۔

اسامہ اس کے قریب ہو کے بیٹھ گیا

’’سب سے پہلے تو مجھے تمہاری اس ’’سب‘‘ والی بات پر اعتراض ہے۔ تم نے جہاد کا اعلان تو کر دیا مگر معقول افراد کی ٹیم نہیں بنا سکی۔ ہماری جنگ ان ویمپائرز سے ہے جو شیطانی قوتوں کے حامل ہیں۔ جس وقت فوجی محاذ کے لیے روانہ ہوتے ہیں تو وہ اپنے گھر والوں کو خدا کے سہارے چھوڑ جاتے ہیں۔ ہمیں بھی یہی کرنا ہے ہماری ٹیم میں صرف چار لوگ ہوں گے۔ میں تم ساحل اور عارفین ہم چاروں سر پر کفن باندھ کر محاذ کے لیے نکلیں گے۔ باقی سب کو خدا کے سہارے چھوڑ جائیں گے ان خونخوار شیطان ہمزاد کے خاتمے کے لیے ہمیں یہ کرنا ہوگا۔ اگر میری بات منظور ہے تو تم سب سے بات کر لو۔‘‘

عمارہ کچھ دیر سر جھکائے خاموش بیٹھی رہی پھر مہین سے لہجے میں بولی’’مما! اکیلی کیسے رہیں گی اور گھر کی حالت۔۔۔‘‘

اسامہ جذباتی سے انداز میں بولا

’’عمارہ! ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ زرغام کئی خطرناک منصوبے تیار کر چکا ہے۔ تم آنٹی کو انکل ظفر کے گھر چھوڑ دینا اور اپنے گھر کو فی الحال ایسے ہی رہنے دو۔۔۔تم آج شام کو ہی سب کو اکٹھا کرو۔ مجھے جہاں آنا ہوگا بتا دینا۔۔۔یاد رہے آج شام کو ہی فیصلہ کر لوکل ہمیں مشن کے لیے نکلنا ہوگا۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔ میں تمہیں فون کرکے بتا دوں گی۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

اسامہ اپنی کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھتا ہوا کھڑا ہوگیا۔

’’مجھے کلب جانا ہے کچھ دنوں کے لیے ایک اسٹوڈنٹ کو اپنی جگہ چیف بنانا ہے۔‘‘

’’تمہارا ارادہ اس قدر پختہ ہے۔‘‘ عمارہ نے بھنویں اچکائیں۔

’’ہاں۔۔۔تم لوگ نہ مانے تو اس مشن کے لیے اکیلا نکل جاؤں گا۔‘‘ اسامہ نے اثبات میں سر ہلایا۔

عمارہ اسے باہر تک چھوڑنے لگی۔’’شکریہ۔۔۔میرے لیے وقت نکالنے کا۔‘‘

’’اللہ حافظ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اسامہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔

زرغام کا ملازم ساجد اپنے کوارٹر میں قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول تھا۔ تلاوت کے بعد جب اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اس کے ہاتھ کانپنے لگے ندامت کا ایک احساس اس کے اور اس کے رب کے درمیان میں آجاتا۔ یہی تکلیف دہ احساس کہ وہ ایک کافر کی غلامی کر رہا ہے اس کی ذات کا نا سور بن چکا تھا مگر ہمیشہ کی طرح وہ اپنے پروردگار سے اپنا حال دل بیان کیے بغیر رہ نہ سکا۔

”میرے رب! وراثت کی طرح آباﺅ اجداد سے منتقل ہوتی ہوئی یہ غلامی میرے حصے میں آگئی۔ میرا ابا کہتا تھا کہ مالک جو مرضی کریں ہمیں اس سے کیا لینا ہمیں تو اپنی نوکری پوری ایمانداری سے نبھانی ہے۔ تیری جان بھی تیرے مالک کی ہے۔ میں حرام کھاتا ہوں حرام دیکھتا ہوں….میں نفرت کرتا ہوں زرغام سے….بس اپنے ابا سے کیا وعدہ نبھا رہا ہوں….مجھ گناہگار کو معاف کر دے۔ معاف کردے یا رب….“

زرغام کی گاڑی کے ہارن کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔ اس نے دعا پوری کی اور قرآن پاک کو الماری میں رکھ دیا۔ سب ملازم کام کرکے چلے گئے اس لیے اس نے کوٹھی کے دروازے لاک کرکے باہر گیٹ کو بھی قفل چڑھا دیا تھا اس کا کوارٹر کوٹھی کے ساتھ ہی تھا۔

اس نے جلدی سے اپنی جیب سے چابی نکالی اور تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے کوارٹر سے باہر نکلا زرغام نان سٹاپ ہارن بجا رہا تھا۔

ساجد نے آگے بڑھ کر گیٹ کا قفل کھولا گاڑی گیراج میں داخل ہوگئی۔ ساجد نے گھر کے دروازے بھی کھول دیئے۔

زرغام گھر میں داخل ہوتے ہی ساجد پر برس پڑا

”کہاں مر گئے تھے اتنی دیر لگا دی گیٹ کھولنے میں۔“

”صاحب جی! میں نے تو بڑی کوشش کی تھی گیٹ جلدی کھولنے کی۔“

زرغام نے اپنا کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکا ، بوٹ اور جرابیں اتار کے بے ترتیبی سے پھینکیں۔

”تمہیں ضرورت کیا ہے دن کے وقت گھر بند کرکے اپنے کوارٹر میں جانے کی اس گھر میں دل نہیں لگتا۔“

”صاحب جی! سارے ملازم کام کرکے چلے گئے تھے آپ بھی گھر پر نہیں تھے….“

زرغام کا موڈ پہلے سے ہی خراب تھا، ساجد کی بات سن کر وہ مزید تپ گیا۔

”میں تو کئی کئی دن گھر پر نہیں ہوتا تم کیا گھر بند رکھو گے۔ا ٓئندہ رات سے پہلے تم کوارٹر میں نہیں جاﺅ گے۔“

ساجد کی زبان سے بے اختیار نکل گیا۔

”بہت خوف آتا ہے مجھے اس گھر سے۔“

زرغام کا چہرہ غصے سے پھولا ہوا تھا مگر ساجد کی بات سن کے اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔

”تمہیں ڈر لگتا ہے، زرغام کے ملازم کو زرغام جو ماورائی دنیا کا بادشاہ ہے جنات جس کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔“

ساجد کانپنے لگ گیا

”صاحب جی!بس دن میں کسی بھی وقت تھوڑی دیر کے لیے اپنے کوارٹر میں جانے کی اجازت دے دیں۔“

”اچھا….اچھا اب زیادہ میرا دماغ مت کھاﺅ۔“

ساجد دھیرے دھیرے قدموں سے کچن کی طرف بڑھنے لگا۔ زرغام نے اسے پیچھے سے پکارا۔”جلدی سے میرے لیے کھانا بنا دو۔ مجھے ضروری کام کرنا ہے۔“

”کھانا تو میں نے صبح ہی بنا دیا تھا، بس چپاتی توے پر ڈالنی ہے۔“ ساجد نے بتایا۔

”اچھا پھر جلدی کرو ، میں اتنی دیر میں فریش ہو جاتا ہوں۔“

زرغام یہ کہہ کر واش روم چلا گیا۔ اس نے کپڑے تبدیل کیے اور ڈائننگ ٹیبل پر آکے بیٹھ گیا۔ ساجد نے سالن اور روٹی زرغام کے آگے رکھ دی اور ساتھ میں پانی اور پھل بھی رکھ دیئے سارے لوازمات پورے کرکے وہ کچن میں ہی بیٹھ گیا۔

”تم بھی کھانا کھالو….“ زرغام نے اونچی آواز میں کہا۔

”ابھی بھوک نہیں ہے صاحب جی….جب بھوک ہوگی تو کھا لوں گا۔“ ساجد نے کہا۔

زرغام نے جلدی میں کھانا کھایا اور ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے ساجد کی طرف بڑھا

”میں اوپر والے کمرے میں جا رہا ہوں۔ میں نے تین گھنٹے کا چلہ کاٹنا ہے۔ مجھے ڈسٹرب نہیں کرنا، کوئی بھی ملنے آئے یا فون آئے یہی کہنا کہ میں گھر پر نہیں ہوں۔“

”ٹھیک ہے صاحب….“ ساجد نے کہا۔

زرغام زینہ چڑھتا ہوا گیلری میں چلا گیا۔ اس نے اپنی جیب سے کمرے کی چابی نکالی اور قفل کھولا۔ کمرے میں داخل ہونے کے بعد اس نے چٹخنی لگا لی اور کمرے کی ساری کھڑکیاں کھول کر پردے پیچھے کر دیئے۔

۔

عمارہ، اسامہ کی بات سن کر بہت الجھ گئی۔ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اتنی جلدی سب کو کس طرح تیار کرے اس نے ظفر کو فون کیا اس نے ظفر کو ساری بات بتائی۔

ظفر نے اسے سمجھایا۔

”اس میں اس قدر سوچنے والی کیا بات ہے ۔اگر تم نے زرغام کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے تو تمہیں فیصلہ لینے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ اسامہ اگر چار لوگوں کی ٹیم بنانا چاہتا ہے تو ایسے ہی سہی، ہم ادھر ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے تم لوگ بس اپنا خیال رکھنا۔ سب لوگوں کو اکٹھا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں سب سے فون پر بات کر لیتا ہوں۔ تم اپنی والدہ کو میرے گھر چھوڑ دو۔ تمہارا گھر بھی سیٹ کرا دوں گا۔“

”ہمیں آج رات کو ہی سب پلان کرنا ہے۔“ عمارہ نے گھبراہٹ میں کہا۔

”ایسا کرو کہ تم رات کے آٹھ بجے اپنی والدہ کے ساتھ میرے گھر آجاﺅ۔ اسامہ کو بھی بلا لینا۔ ساحل اور عارفین کو میں بلا لوں گا۔“ ظفر نے کہا۔

عمارہ، ظفر کے سمجھانے کے باوجود الجھی ہوئی تھی۔

”ہم اسامہ کو ٹھیک طرح سے جانتے نہیں، اس کی شخصیت انتہائی پیچیدہ ہے اور اوپر سے اس کی یہ جلد بازی….“

”تم تو سائیکاٹرسٹ ہو، تم نے کیا اندازہ لگایا ہے کہ وہ کس طرح کا انسان ہے؟“ ظفر نے پوچھا۔

”مخفی خصوصیات کا مالک ہے ریٹائرڈ میجر ہے، ظاہری بات ہے کہ بہادر اور ذہین ہے۔ جو بات مجھے پریشان کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ زرغام اور اس کے مسخر کیے ہوئے ہمزاد کے بارے میں اتنا کچھ جانتا ہے کہ جتنا ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا وہ کہتا ہے کہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ انہیں کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے۔“ عمارہ نے کہا۔

”ہمارے لیے تو بہت بڑی بات ہے کہ کوئی شخص اس طرح کے دعوے کر رہا ہے۔ وہ کیا کہتا ہے رات کو اس کی بات سنتے ہیں باقی تم ذہنی طور پر تیار ہو تم عارفین اور ساحل کے ساتھ مل کر اس کے ساتھ مشن پر چلی جانا۔

تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ساحل اور عارفین تو تمہارے ساتھ ہیں۔“

ظفر کی بات سن کے عمارہ کو کچھ تسلی ہوئی

”باقی باتیں رات کو ہوں گی۔ اچھا اللہ حافظ۔“ یہ کہہ کر عمارہ نے فون بند کر دیا۔

ظفر نے تاخیر کیے بغیر ساحل اور عارفین سے بات کر لی ساری بات کا جب راحت کا علم ہوا تو وہ انتہائی پریشان ہوگئی مگر ساحل نے کسی نہ کسی طرح ماں کو منا ہی لیا۔ اسی طرح کی صورت حال عارفین کے گھر والوں کی بھی تھی مگر اس کے گھر والوں کو بھی اس کی ضد کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اس نے اپنی اور وینا کی شادی کا ارادہ بھی فی الحال ترک کر دیا۔

عمارہ نے اسامہ کو بھی رات آٹھ بجے کا وقت دیا کہ وہ ظفر کے گھر پہنچ جائے۔ ساحل اور عارفین نے اپنی اپنی پیکنگ کر لی۔

زرغام اپنے چلے میں مصروف تھا ساجد برتن دھو رہا تھا ساتھ ساتھ اس کا ذہن عجیب طرح کی سوچوں میں الجھا ہو ا تھا۔

”نہ جانے یہ شیطان کس کی موت کے منصوبے تیار کر رہا ہے، ویسے اتنا پریشان تو یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی کوئی چال کارآمد نہ ہو۔ اس خناس کے چہرے پہ پھیلی ہوئی مسکراہٹ کے پیچھے نہ جانے کتنے لوگوں کی آہیں ہوتی ہیں۔کبھی کوئی چلہ اس پر ہی الٹا پڑ جائے۔“

ساجد انہی سوچوں میں الجھا گھر کے کام کرتا رہا اس دوران باہر بیل ہوئی ساجد نے دروازہ کھولا تو باہر کوئی شخص زرغام کا پوچھ رہا تھا۔

”صاحب تو گھر پر نہیں ہیں۔“ ساجد نے کہا۔

وہ شخص گاڑی میں آیا تھا۔

”زرغام نے کچھ منگوایا تھا۔ میں ان کا سامان اندر رکھ دیتا ہوں۔“

”مگر مجھے تو صاحب نے کسی سامان کے بارے میں نہیں بتایا۔“ ساجد نے کہا۔

”بھول گئے ہوں گے بتانا، سامان رکھنا ہے تو رکھوا لو۔ میں اتنی دور سے بار بار نہیں آسکتا۔“ باہر کھڑے ہوئے شخص نے کی رنگ گھماتے ہوئے کہا۔

وہ شخص اپنی گاڑی کی طرف بڑھا اور گاڑی سے ایک پنجرہ اٹھا کے لایا جس کی لمبائی اور چوڑائی تقریبا دو دو فٹ تھی۔ وہ شخص پنجرا اٹھا کے گیراج میں داخل ہوا تو ساجد لرز کے رہ گیا۔

”یہ تم کیا لے کر آئے ہو۔“

”نظر نہیں آتا بابا جی! یہ سانپ ہیں۔ کوبرا نسل کی جوڑی ہے۔ جس کو ڈس لے اس کی موت چند سکینڈز میں ہو جاتی ہے۔“ اس شخص نے پنجرا ساجد کے قریب کرتے ہوئے کہا۔

”یار پرے کرو….میری کیوں جان نکالتے ہو ادھر رکھ دو کہیں۔“ ساجد نے کہا۔

اس شخص نے نفی کے انداز میں سر ہلایا۔ ”زرغام صاحب نے کہا تھا یہ پنجرے لیونگ روم میں رکھنے ہیں۔“

”پنجرے….“ ساجد نے حیرت سے پوچھا۔

”ہاں ایک اور پنجرا بھی ہے“ اس شخص نے کہا۔

”لے آﺅ اندر….“ ساجد نے اندر جا کر لیونگ روم کا دروازہ کھول دیا۔ وہ شخص سانپوں کا پنجرا اٹھا کے لیونگ روم میں آگیا اور اس نے پنجرا دیوار کے ساتھ رکھ دیا پھر دوسرا پنجرا لینے کمرے سے باہر چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ شخص ایک اور پنجرا لے کر کمرے میں داخل ہوا۔

ایک بار پھر ساجد کے جسم سے جھرجھری دوڑ گئی۔ اس پنجرے میں چھپکلیاں کچھا کھچ بھری ہوئیں تھیں۔ پنجرا رکھنے کے بعد وہ شخص دوبارہ کمرے سے باہر گیا اور کچھ دیر کے بعد دو چھوٹے چھوٹے ڈبے لے آیا اس نے وہ ڈبے ساجد کی طرف بڑھائے۔

”یہ ان کی خوراک ہے جس ڈبے کے اوپر سانپ کی تصویر ہے یہ سانپوں کی خوراک ہے اور جس کے اوپر Lizardsکی تصویر ہے یہ ان کی خوراک ہے ۔ سانپوں کو دودھ بھی دینا ہے۔ باقی یہ تو زرغام صاحب جانتے ہیں کہ انہوں نے یہ کس مقصد کے لیے منگوائے ہیں۔“ یہ کہہ کر وہ شخص چلا گیا ساجد نے گیٹ بند کر دیا۔


ساجد بڑبڑاتا کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوا لیونگ روم میں داخل ہوا۔

’’نہ جانے یہ خطرناک جانور زرغام صاحب نے کس لیے منگوائے ہیں اب مجھے ان جانوروں کو بھی برداشت کرنا پڑے گا۔ چلہ ختم ہونے تک تو اس سے کوئی بات نہیں کر سکتا۔ فارغ ہوکے باہر آئے گا تو پوچھ لوں گا۔‘‘

چلہ مکمل ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی تھا۔ ساجد نے خود بھی کھانا کھا لیا تھا۔ اس کا نچلی منزل کا تقریبا سارا کام ختم ہوگیا تھا اسے خیال آیا کہ اوپری منزل کے دو کمروں کی ڈسٹنگ چیک کر لوں نہ جانے ملازمہ نے ٹھیک طرح سے وہ کمرے صاف بھی کیے ہوں گے کہ نہیں زرغام کا خاص کمرہ تو ہمیشہ بند ہی رہتا تھا اسے تو زرغام ہی کھولتا تھا۔

اس نے ڈسٹنگ کا کپڑا لیا اور زینہ چڑھتا ہوا اوپری منزل پہنچ گیا۔ ساجد زرغام کے خاص کمرے کے قریب سے گزرا تو اس کے پورے وجود میں کپکپی دوڑ گئی۔ اس کمرے سے خوفناک غرغراہٹوں کے ساتھ مردانہ اور نسوانی بہت سی آوازیں آرہی تھیں جبکہ اس کے سامنے زرغام تنہا اس کمرے میں گیا تھا یقیناًوہ پراسرار قوتوں سے ہم کلام تھا۔

ساجد کے دل کو گھبراہٹ سی ہونے لگی تھی۔ وہ خوفزدہ تھا مگر اسکے دل میں چھپی ہوئی اچھائی کی طاقت اسے مجبور کرنے لگی کہ وہ زرغام کی باتیں سنے کہ وہ کون ساشیطانی کھیل کھیلنے والا ہے۔ وہ ہمت کرکے دروازے کے آگے رک گیا۔ زرغام ترش روئی سے چلا رہا تھا۔

’’تمہاری تو شیطانی طاقتیں بڑھ گئی تھیں تو پھر وہ عام انسان تمہارے چنگل سے کیسے نکل گئے۔‘‘

جواب میں کسی لڑکی کی آواز ابھری

’’ساحل کی موت تو یقینی تھی وہ تو کسی بھی طرح سے میرے بچھائے ہوئے جال سے نہیں بچ سکتا تھا مگر خیام۔۔۔‘‘

’’تم تین ہو اور خیام ایک پھر کس طرح کی طاقت تمہاری شیطانی طاقتوں پر حاوی ہو گئی۔‘‘ زرغام کا غصہ مزید بڑھ گیا۔

اسی دوران ایک اور مردانہ آواز گونجی وہ آواز زرغام کی نہیں تھی۔

’’میں خود اس بات پر حیران ہوں کہ عمارہ کی ماں موت کی دسترس سے کیسے نکل گئی۔‘‘

زرغام ایک بار پھر تپے ہوئے انداز میں چلایا۔

’’تم نے جو کیا میں اس کی تمہیں سزا دینا نہیں چاہتا مگر تم تینوں سے کچھ ایسا چاہتا ہوں کہ ہر طرف خوف و ہراس پھیل جائے۔‘‘

’’ہمیں کیا کرنا ہوگا؟‘‘ مردانہ آواز میں کسی نے پوچھا۔

کچھ دیر خاموشی رہی پھر زرغام نے کہا

’’کل صبح نو بجے برٹش سکول کے نرسری کلاس کے بچوں کی بس وادی سون سکیسر کے ٹرپ کے لیے روانہ ہوگی۔ سب بچوں کو موت کی نیند سلا دو اور ان کی موت ایسی ہو کہ والدین اپنے بچوں کو نہ پہچان سکیں سکیسر کی وادی میں قہقہوں کے بجائے آہ و بکا گونجے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی ساجد کو کمرے سے زوردار دھماکے کی آواز آئی۔ وہ تیز تیز قدموں سے زینہ پھلانگتا ہوا نیچے آگیا۔

اسکا چہرہ پسینے سے تر تھا۔ سانس پھولی ہوئی تھی۔ ہاتھ پاؤں تو جیسے بے جان ہوگئے تھے اسنے کچن سے پانی کی بوتل لی اور گلاس بھر کے غٹاغٹ پی گیا۔ مگر اس کا حلق ابھی بھی خشک تھا۔ اس نے ایک گلاس اور پانی پیا۔ وہ بے چینی سے ادھر ادھر پھرنے لگا وہ سخت پریشان تھا۔ اس نے رب کے آگے ہاتھ پھیلائے۔

’’ان معصوم بچوں نے اس شیطان کا کیا بگاڑا ہے میرے رب مجھے کوئی راستہ دکھا کہ میں ان معصوم بچوں کی جان بچا سکوں۔

‘‘یہ کہہ کر ساجد نے اپنی جیب سے تسبیح نکالی اور ‘ اللہ الصمد ‘ کا ورد کرنے لگا۔

چلہ مکمل ہونے کے بعد زرغام اپنے خاص کمرے سے باہر آیا۔

نیچے آتے ہی اس نے ساجد کو پکارا۔ ساجد ڈھیلے ڈھیلے قدموں سے چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔’’جی صاحب۔‘‘

’’ایک کپ چائے بنا کر لاؤ میں بہت تھک گیا ہوں۔’’

زرغام نے اپنے پلنگ پر براجمان ہوتے ہوئے کہا۔ ساجد کچن میں گیا اور اس کے لیے چائے بنا کے لے آیا۔

’’صاحب اگر اجازت ہو تو اپنے کوارٹر میں چلا جاؤں۔‘‘

’’ہاں چلے جاؤ۔‘‘ زرغام نے چائے کا کپ لیتے ہوئے کہا۔

ساجد اپنے کوارٹر میں جا کے بھی سر پکڑے بیٹھا رہا اسے زرغام کی طرف سے موبائل رکھنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ زرغام بہت خطرناک ہے اگر وہ حویلی سے باہر جا کے کسی کی مدد لینا چاہے تو زرغام اسے زندہ نہیں چھوڑے گا اور اگر کسی طریقے سے بچوں کے ٹرپ کی بس رکوا دی جائے تو زرغام اپنے حملے کا طریقہ بدل لے گا۔ ایسا کیا کِیا جائے کہ زرغام اپنے ناپاک ارادے سے باز آجائے۔

اسی سوچ میں گم وہ پریشان بیٹھا تھا۔ اس کا ذہن ماؤف ہوگیا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔

تقریباً رات آٹھ بجے کے قریب اسامہ عمارہ کے گھر پہنچ گیا۔ عمارہ نے اپنا بیگ پیک کر لیا تھا۔ رابعہ بھی تیار تھی۔ اسامہ باہر گاڑی میں ہی بیٹھا رہا۔ عمارہ اور رابعہ نے گھر لاک کیا اور اپنا سامان اٹھا کے اپنی گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ عمارہ اور اسامہ کی گاڑیاں ایک ساتھ وہاں سے روانہ ہوئیں۔ وہ ظفر کے گھر پہنچے تو ساحل اور عارفین وہاں پہلے سے موجود تھے۔ وہ دونوں بھی اپنا اپنا بیگ ساتھ لائے تھے ظفر نے ان سب کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا۔

ظفر نے ان سب کو مخاطب کیا

’’میں نے آپ سب کو اپنا اپنا بیگ لانے کی تلقین اس لیے کی کہ میرا خیال ہے کہ اپنے مشن پر آپ سب ایک ساتھ میرے گھر سے ہی روانہ ہوں۔‘‘

’’میرا خیال ہے کہ پہلے میں امی کو ان کے کمرے تک چھوڑ آؤں پھر ہم تسلی سے بات کرتے ہیں۔‘‘ عمارہ نے رابعہ کو سہارا دیتے ہوئے اٹھایا۔

’’میں تمہیں کمرہ دکھاتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر ظفر عمارہ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

عمارہ نے رابعہ کو بستر پر لٹایا۔ ظفر نے ملازمہ کو رابعہ کے پاس رکنے کو کہا۔

عمارہ مطمئن ہو کے سب کے ساتھ آبیٹھی۔ ظفر نے اپنی بات دوبارہ شروع کی۔

’’آپ سب اس مشن کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔‘‘

’’ہم سب ذہنی طور پر تیار ہیں اس لیے یہاں موجود ہیں مگر اسامہ ہمیں تفصیل سے بتائے کہ اس کے پاس کیا پلان ہے۔‘‘ ساحل نے کہا۔ عارفین نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔

اسامہ نے اپنے بیگ سے ایک چارٹ نکالا اور اسے میز پر پھیلا دیا۔

اس نے اپنا پلان بتانے سے پہلے سب کی طرف ایک نظر دیکھا۔

’’اتنے خطرناک مشن کے لیے آپ مجھ پر بھروسا کر کے میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گئے ہیں میں آپ کا مشکور ہوں، مگر ایک بات اپنے بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں بھی یہ سب اسی نیک نیتی سے کر رہا ہوں جس نیک نیتی سے آپ کر رہے ہیں۔ میں بھی آپ کی طرح انسانیت کی خدمت کرنا چاہتا ہوں اس مشن میں آپ مجھ سے میرے بارے میں بار بار سوال نہیں کریں گے۔ آپ سب کے ذہن میں الجھے ہوئے سوالوں کا جواب پہلے ہی دے دیتا ہوں کہ جس طرح آپ کو میں نے اس مشن کے لیے آمادہ کیا ہے۔ اسی طرح مجھے بھی کسی نے اس مشن کے لیے آمادہ کیا ہے میں آپ کو اس کا نام نہیں بتا سکتا اور پلیز آپ لوگ پوچھئے گا بھی نہیں۔‘‘

ظفر نے اسامہ کے کندھے پر تھپکی دی۔

’’ہم تمہاری بات سمجھ رہے ہیں تم مطمئن رہو۔‘‘

ظفر کی بات سن کے اسامہ اپنے پوائنٹ کی طرف آیا اس نے چارٹ کو پھیلایا۔

’’ہمیں درخت کی جڑیں کاٹنی ہوں گی شاخیں خود بخود مُرجھا جائیں گی۔‘‘

’’کیا مطلب۔۔۔‘‘ ساحل نے کہا۔

’’یہ زرغام کی رہائش گاہ ہے۔ ہمارا پہلا ٹارگٹ یہی ہے ہمیں اس شیطان کو سب سے پہلے ختم کرنا ہے۔‘‘ اسامہ نے چارٹ پر کھینچے ہوئے نقشے میں ایک پوائنٹ پر انگشت رکھتے ہوئے کہا۔

’’اس نے یقیناًاپنی کوٹھی کے آس پاس باڈی گارڈز رکھے ہوں گے؟‘‘ عارفین نے پوچھا۔

اسامہ نے مسکراتے ہوئے عارفین کی طرف دیکھا۔

’’اس کی کوٹھی کے آس پاس باڈی گارڈز ضرور ہوں گے مگر انسان نہیں آسیب اور شیاطین ہوں گے۔ انہیں ہم ہتھیاروں سے نہیں ماریں گے ان کو بھگانے کے طریقے ہیں میرے پاس۔ زرغام روحانی طاقتیں بھلے رکھتا ہو۔ ہے تو گوشت پوست کا انسان، اسلحہ تو اس کے لیے استعمال ہوگا۔ زرغام کو ہمیں ہر حال میں طلوع آفتاب کے بعد اور غروب آفتاب سے پہلے کسی بھی وقت مارنا ہے۔‘‘

’’طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب کے بعد ہم زرغام کو کیوں نہیں مار سکتے۔‘‘ ساحل نے پوچھا۔

’’اسکی وجہ میں آپ کو تفصیل سے بتا دوں گا فی الحال ہمیں یہ ذہن نشین کرنا ہے کہ ان دو اوقات میں ہمیں زرغام کو نہیں مارنا۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’فرض کرلیں کہ ہم زرغام کو قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ہمارا اگلا قدم کیا ہوگا۔‘‘

عمارہ نے اسامہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

اسامہ نے بلا تامل جواب دیا۔

’’ہمیں تاخیر کیے بغیر مری کے لیے روانہ ہونا ہوگا۔‘‘

’’مری۔۔۔مری میں کہاں جائیں گے؟‘‘ ظفر نے پوچھا۔

’’اسی جگہ پر جہاں چار اسٹوڈنٹس نے کھائی میں چھلانگ لگائی تھی اسی مقام پر جانا ہے جہاں سے یہ بھیانک عمل شروع ہوا تھا۔ باقی کا پلان زرغام کی موت کے بعد سمجھا دوں گا۔‘‘

اسامہ کی بات سن کر ظفر نے عمارہ کی طرف دیکھا۔

’’مری کے حساب سے تم لوگوں نے جو جو چیز اپنے ساتھ رکھنی ہے وہ دیکھ لو۔ میں بازار سے لا دیتا ہوں جو کچھ بھی چاہئے۔‘‘

ظفر کی بات سن کر اسامہ نے فوراً کہا

’’ہم صبح دس بجے سے پہلے نہیں نکلیں گے آپ سب نے اپنے گھر کا چکر لگانا ہو تو آپ چلے جانا کوئی چیز لینی ہو تو لے آنا۔‘‘

’’ٹھیک ہے ہم سب صبح صبح اپنے گھروں سے کچھ گرم کپڑے اور ضرورت کی اور چیزیں لے لیں گے۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

اسامہ نے نقشہ سمیٹ کر اپنے بیگ میں ڈالا اور ایک رائفل اور تین پسٹل بیگ سے نکال کر میز پر رکھی۔ اس نے دو پسٹلز ساحل اور عارفین کو دی اور ایک پسٹل اس نے عمارہ کی طرف بڑھائی۔

عمارہ نے کندھے اچکاتے ہوئے اپنے ہاتھ پیچھے سکیڑ لیے۔

’’میں اسے استعمال کرنا نہیں جانتی۔‘‘

اسامہ نے عمارہ کا ہاتھ پکڑا اور اس کے ہاتھ میں پسٹل تھما دی۔

’’میں سکھا دوں گا۔۔۔‘‘

عمارہ نے پسٹل اپنے بیگ میں ڈال لی۔

اس نے پسٹل بیگ میں رکھ لیا لیکن یہ بات کہنے سے نہ رکی ’’تمہارے کہنے پر رکھ رہی ہوں تم ہمارے چیف ہو اس لیے تمہاری ہر بات ماننی پڑے گی ورنہ ہم سائیکاٹرسٹ کسی کے گھر گُھس کے اس پر حملہ نہیں کرتے، آنکھوں کے دریچوں سے اس کے ذہن میں گُھس جاتے ہیں اور اسے اسی کی سوچوں سے کبھی کبھی گھائل اور کبھی تندرست کر دیتے ہیں۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

ظفر ایک چمڑے کا براؤن کلر کا بیگ لے کر اسامہ کے قریب بیٹھ گیا۔

’’یہ رکھ لو میں نے بھی اسلحہ کا بندوبست کیا تھا اس میں کچھ پسٹلز ہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کر لینا۔‘‘

اسامہ نے ظفر کے ہاتھ سے وہ بیگ لیا اور بولا۔

’’ہم جانتے ہیں جو جنگ ہم لڑنے جا رہے ہیں وہ اسلحے کی جنگ نہیں ہے۔ اس جنگ میں ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارا ایمان ہے۔ خدا پر یقین کہ وہ رب ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

’’مشن کسی بھی قسم کا ہو اسلحہ پاس ہونا چاہئے۔‘‘ ظفر نے اسامہ کے شانے پر تھپکی دی تو اسامہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

’’یہی سوچ کے تو اسلحہ رکھا ہے میں نے کچھ قرآنی آیات کی فوٹو کاپی بھی کروائی ہیں۔ یہ آیات پڑھنے سے آپ ہمزاد کے حملے سے بچ سکتے ہیں۔ میرے پاس ان آیات کی آٹھ کاپیاں ہیں، چار ہم رکھ لیتے ہیں باقی چار آپ رکھ لیں ہو سکے تو ان کی مزید کاپیاں کروا کے فواد، خیام اور حوریہ کے والدیں کو دے دیں اور جتنے لوگوں میں بانٹ سکتے ہیں بانٹ دیں۔‘‘ یہ کہہ کر اسامہ نے چار کاپیاں ظفر کو دیں اور باقی چار آپس میں بانٹ لیں۔

رات کے نو بج رہے تھے ساجد بے بس زرغام کی خدمت میں مصروف تھا وہ کچھ نہیں کر پایا تھا اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ بے بسی کی یہ اذیت اسے اکثر سہنی پڑتی تھی۔ زرغام نے ساجد سے دو شیشے کی پیالیاں لانے کو کہا۔

ساجد کچن سے شیشے کی دو پیالیاں لے آیا۔ زرغام کے ہاتھ میں دو شیشے کی چھوٹی چھوٹی بوتلیں تھیں جن کے ڈھکن بھی شیشے کے تھے۔ زرغام نے ساجد سے پیالیاں لیں اور لیونگ روم کی میز پر رکھ دیں اس نے چھوٹی شیشے کی بوتلیں بھی میز پر رکھ دیں۔ اس نے صوفے سے ایک سیاہ کپڑا اٹھایا اور سانپوں کے پنجرے کے اوپر ڈال دیا پھر اس نے اپنے دونوں ہاتھ پنجرے کے اوپر رکھ دیئے اور ہونٹوں کے تیز جنبش کے ساتھ کوئی خاص عمل پڑھنے لگا اس نے آنکھیں بند کر لیں اور ارد گرد کے ماحول سے بے خبر ہوگیا۔

ساجد خاموشی سے کھڑا یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا ویسے اسے زرغام کے کالے جادو کے عملیات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر اسے وہاں کھڑا رہنے کی تاکید تھی۔

تھوڑی دیر کے بعد زرغام نے سیاہ کپڑا پنجرے سے ہٹا دیا۔ سانپوں کا جوڑا جوں کا توں ہی تھا۔ ساجد کو ان میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی مگر جب زرغام نے پنجرہ کھولا تو ساجد خوف سے پیچھے جا کھڑا ہوا۔

زرغام نے پنجرے میں ہاتھ ڈال کر اس کوبرا سانپ کو اُٹھا لیا۔

’’ص۔۔۔ص۔۔۔صاحب۔۔۔یہ سانپ آپ کو ڈس نہیں رہا؟‘‘ ساجد کے حلق سے کانپتی آواز نکلی۔

زرغام نے ہنستے ہوئے اس سانپ کو اپنے چہرے کے قریب کرلیا۔

’’میرا عمل ان پر چل چکا ہے اب یہ مجھے نہیں ڈس سکتے۔‘‘

سانپ بے چین تھا۔ پھنکار رہا تھا مگر زرغام کو ڈس نہیں رہا تھا۔ اس نے زرغام کے بازوؤں کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ زرغام نے سانپ کو سر کے حصے سے پکڑتے ہوئے زور سے دبایا۔ اس کا منہ کھل گیا زرغام نے اس کے لمبے نوکیلے دانتوں کو شیشے کی پیالی پر لگا دیا جس سے اس کے دانتوں کے قریب زہر کی تھیلیاں دب گئیں اور زہر قطرہ قطرہ پیالی میں ٹپکنے لگا۔اس طرح زرغام نے ناگن کا بھی زہر دوسری پیالی میں نکال لیا۔

ساجد یہ سب کچھ مبہوت نظروں سے دیکھ رہا تھا زرغام نے سانپوں کو پنجرے میں بند کر دیا اور پیالیوں میں نکالا ہوا زہر بہت احتیاط س چھوٹی چھوٹی بوتلوں میں ڈال دیا۔

زرغام نے وہ بوتلیں اٹھائیں اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا، اس نے سائیڈ ٹیبل سے وارڈ روب کی چابی نکالی اور وہ بوتلیں وارڈ روب میں رکھ کے اسے لاک کر دیا۔ کمرے سے باہر نکل کے اس نے ساجد سے کہا

’’کچن سے ٹوکا لے آؤ۔‘‘

یہ کہنے کے بعد اس نے پنجرا اٹھایا اور باہر لان میں لے گیا۔ اس نے پنجرا لان میں رکھا اور لان کی ساری لائٹس آن کر دیں۔

ساجد ٹوکا لے کر زرغام کی طرف بڑھا۔ زرغام نے پنجرے سے ایک سانپ باہر نکالا اور پھرتی سے پنجرے کا دروازہ بند کر دیا۔ اس نے سانپ کو گھاس پر رکھنا چاہا مگر سانپ اس کے بازوؤں میں بل ہی کھاتا رہا۔ زرغام نے سانپ کو گھاس کی طرف کرتے ہوئے اس کے سر پر اپنا پاؤں رکھ لیا اور پھر بڑی تیزی سے ٹوکے سے اس کا سر اس کے جسم سے علیحدہ کر دیا۔

اس کے بازوؤں پر لپٹا ہوا سانپ کا جسم گھاس پر گر کر تڑپنے لگا۔ اسی طرح سے اس نے ناگن کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔

’’میرے کمرے میں دو جار پڑے ہیں وہ لے آؤ۔‘‘ زرغام نے ساجد سے کہا۔

ساجد اندر سے دو جار لے آیا۔ زرغام نے شیشے کے ایک جار میں سانپوں کے سر رکھے اور ایک جار میں دھڑ۔ وہ دونوں جار اٹھا کے کھڑا ہوگیا۔

’’اس جگہ کی صفائی کر دو۔‘‘ اس نے ساجد سے کہا جو ایک ہی جگہ پرسہما ہوا کھڑا تھا۔

اس نے ڈرتے ڈرتے زرغام سے پوچھا

’’آپ ان کا کیا کریں گے؟‘‘

زرغام نے تضحیک آمیز انداز میں ساجد کی طرف دیکھا

’’بوڑھے ہوگئے ہو ابھی تک تمہیں یہ نہیں پتا چلا کہ کوبرا کا سر اچھی خاصی رقم میں فروخت ہوتا ہے اور اس کی کھال کالے جادو کے تعویذوں میں استعمال ہوتی ہے۔‘‘

یہ سب سن کر ساجد کے دل سے زرغام کے لیے ایک بار پھر بددعا نکلی۔ وہ جہاں کھڑا تھا وہیں جیسے جامد ہوگیا۔

’’اب یہ کھڑے کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو ادھر کی صفائی کرو۔‘‘ زرغام نے ساجد سے کہا اور پھر جار لے کر اندر چلا گیا۔

عمارہ اپنی والدہ رابعہ کے پاس بیٹھ گئی۔’’سوئی نہیں آپ۔۔۔‘‘

’’مجھے نیند کیسے آ سکتی ہے۔‘‘ رابعہ نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔

’’ایسے کیوں کہہ رہی ہیں۔‘‘ عمارہ ماں کے بال سہلانے لگی۔

رابعہ پلنگ سے پشت لگا کے بیٹھ گئی’’جس کی بیٹی موت کا کھیل کھیلنے جا رہی ہو اس ماں کو نیند کیسے آسکتی ہے۔‘‘

عمارہ نے ماں کے شانے پر اپنا سر ٹکا لیا۔

’’مما! آپ کی بیٹی محاذ پر جا رہی ہے۔ ہم خدا کے بندوں کی حفاظت کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔انسان اور شیطان کی اس جنگ میں اگر آپ کی بیٹی قربان بھی ہوگئی تو شہید کہلائے گی۔‘‘

رابعہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

’’تمہاری بوڑھی ماں کا تمہارے سوا اور ہے ہی کون۔۔۔‘‘

عمارہ ماں کے آنسو پونچھنے لگی

’’اگر ایسی بات ہے تو بس آپ ہمارے لیے دعا کریں کہ ہم یہ جنگ جیت کے آپ کے پاس زندہ سلامت واپس لوٹیں۔ خدا پہ بھروسا کرکے ہمیں دعا دے کر بھجیں۔‘‘

عمارہ ماں کے ساتھ ہی لیٹ گئی۔ صبح فجر کی اذان کے وقت ظفر نے سب کوجگا دیا۔ عمارہ اور رابعہ نے بھی فجر کی نماز پڑھی اور ظفر اسامہ اور عارفین مسجد چلے گئے۔ صبح کی ٹھنڈی ٹھنڈی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ رات کا اندھیرا دھیرے دھیرے دن کے اجالے میں بدل رہا تھا مگر پرندوں کی چہچہاٹ نے صبح ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ نماز کے بعد رابعہ اور عمارہ باہر لان میں آکے بیٹھ گئیں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد عارفین اسامہ اور ظفر بھی آگئے۔

عارفین اور ظفر رابعہ کے ساتھ بیٹھ گئے عمارہ گُلچیں کے پودے کے قریب کھڑی کسی سوچ میں گم تھی کہ اسامہ نے اسے چونکا دیا۔

’’آپ کیا سوچ رہی ہیں ڈاکٹر صاحبہ۔۔۔’‘‘ عمارہ نے مسکراتے ہوئے اسامہ کی طرف دیکھا۔

’’ایسے ہی یہ دماغ سوچوں کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتا ہے۔‘‘

اسامہ نے فوراً اپنی بھنویں اچکائیں۔

’’ایک بات تو بتائیں کہ آپ لوگوں کو ٹھیک کرتی ہیں یا پاگل۔‘‘

’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘ عمارہ نے غصے سے اسامہ کی طرف دیکھا۔

’’میرا مطلب ہے کہ جب آپ کا اپنا یہ حال ہے تو آپ مریضوں کو اپنی سوچوں پر قابو رکھنا کیسے سکھاتی ہوں گی۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’جی نہیں میں لوگوں کا بہت اچھے طریقے سے علاج کرتی ہوں جہاں تک میری سوچ کا تعلق ہے تو جینئیس ایسے ہی ہوتے ہیں۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

اسامہ نے عمارہ کی طر ف تمسخرانہ انداز میں دیکھا

’’آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ آپ جینئس ہیں۔‘‘

’’کوئی شک۔۔۔‘‘ عمارہ نے پر اعتماد لہجے میں کہا۔

اسامہ نے اپنی پینٹ کی جیب سے پسٹل نکالی اور عمارہ کے ہاتھ میں تھما دی۔

’’اچھا یہ بات ہے تو پھر یہ پسٹل چلا کے دکھاؤ۔‘‘

عمارہ گھبرا سی گئی۔

’’ذہین ہونے کا مطلب یہ تو نہیں ہے نا کہ اسلحہ بھی استعمال کرنا آتا ہے۔‘‘

’’مگر کچھ بھی سیکھنے کے لیے ذہین ہونا تو ضروری ہے نا‘‘ یہ کہہ کر اسامہ نے عمارہ کے ہاتھ سے پسٹل لے لی اور بارہ فٹ کے فاصلے پر ایک انار کے درخت پر اسنے اپنا ٹارگٹ سیٹ کیا اور عمارہ کی آنکھوں کے سامنے پسٹل کو سیو کرتے ہوئے اس نے عمارہ کو سمجھایا۔

’’یہ ہم نے اپنا ٹارگٹ سیٹ کیا اور یہ ٹریگر دبا دیا۔‘‘ اسامہ نے بڑی مہارت سے ایک انار اڑا دیا ۔

’’یہ لو ٹارگٹ سیٹ کر دیا ‘‘ اسامہ نے پسٹل ایک بار پھر عمارہ کے ہاتھ میں تھما دی۔ عمارہ نے ڈرتے ڈرتے اپنے دائیں ہاتھ میں تھامی ہوئی پسٹل کا رخ انار کے درخت کی طرف کیا۔ اس نے ٹریگر پر انگلی رکھی پوری کوشش کے باوجود اس سے ٹریگر نہیں دبا۔ اس نے اپنا دوسرا ہاتھ بھی پسٹل پر رکھا اور دوسرے ہاتھ کی انگلی بھی ٹریگر پر رکھ لی مگر اس سے ٹریگر نہیں دبایا گیا۔

اسامہ، عمارہ کی پشت کی جانب کھڑا ہوگیا اس نے اپنا دایاں ہاتھ عمارہ کے ہاتھوں پر رکھتے ہوئے اپنی انگلی سے اس کی انگلی پر خفیف سا دباؤ دیا ٹریگر دب گیا اور گولی جا کے انار کے درخت پر لگی۔ اپنے ہی کیے ہوئے فائر سے عمارہ کانپ کے رہ گئی۔

عمارہ کی یہ حالت دیکھ کر سامنے بیٹھے ہوئے سب لوگ ہنسنے لگ گئے۔ عمارہ نے منہ بسور کر اسامہ کی طرف دیکھا اور پسٹل اس کے ہاتھ میں تھما دی۔

’’خیر ہے شروع شروع میں ایسا ہوتا ہے‘‘ اسامہ نے اپنی ہنسی روکتے ہوئے کہا۔

عمارہ، رابعہ کے ساتھ جا کے بیٹھ گئی۔ ظفر اور عارفین بھی وہیں بیٹھے تھے۔ باہر گیٹ پر بیل ہوئی۔ ظفر نے تعجب سے گیٹ کی طرف دیکھا۔

’’اس وقت کون آسکتا ہے۔‘‘ ظفر اٹھ کر گیٹ کی طرف بڑھا۔

ظفر نے دروازہ کھولا تو وہ ہکا بکا رہ گیا خیام، حوریہ اور فواد کے والدین ماہین اور زبیر، رخسانہ اور توقیر ، ایمن اور وقار احمد سب ان کے در پر کھڑے تھے۔

’’آجائیں ۔‘‘ ظفر نے ان سب سے کہا۔ سب اندر آئے تو عمارہ اور ساحل بھی ان کا خلوص دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ اتنی صبح وہ سب ان سے ملنے آئے ہیں۔ ظفر نے ساحل سے کہہ کر ان کیلیے باہر ہی کرسیاں رکھ دیں۔

ظفر نے عمارہ سے سب کے لیے ناشتے کا بندوبست کرنے کو کہا تو رخسانہ اور ماہین نے کھڑے ہو کر عمارہ کو روک دیا۔ رخسانہ نے عمارہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

’’تم بس ادھر بیٹھو ہمارے پاس ہم تھوڑی دیر کے لیے آئے ہیں تم سب سے ملنا چاہتے تھے۔ ہم زیادہ دیر ٹھہرنا نہیں چاہتے اس لیے ناشتے وغیرہ کے جھنجٹ میں نہ پڑو۔‘‘

عمارہ ، رخسانہ اور ماہین کے پاس بیٹھ گئی۔ ماہین نے عمارہ کے شانے پر بانہیں حائل کر لیں۔

’’جس مقصد کے لیے جا رہے ہو خدا تم سب کو کامیاب کرے۔‘‘

رخسانہ سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس نے اپنی بھیگی ہوئی آنکھوں سے عمارہ کی طرف دیکھا۔

’’ہم نے تو جو کھونا تھا کھو دیا۔ تمہاری اس کوشش سے نہ جانے کتنے گھر برباد ہونے سے بچ جائیں گے۔‘‘

عمارہ نے رخسانہ کے شانے پر ہاتھ رکھا۔

’’ان شاء اللہ ہم کامیاب ہی لوٹیں گے۔‘‘

ظفر نے ان سب کو اسامہ سے ملوایا۔ سب نے اس مشن کے لیے اسامہ کی حوصلہ افزائی کی۔ زبیر اور وقار نے ظفر اور اسامہ کو مشن سے متعلق ضروری باتیں سمجھائیں۔

وہ لوگ تھوڑی دیر ہی بیٹھے جب جانے لگے تو زبیر نے ظفر سے ایک بار پھر پوچھا۔

’’اگر ہم کوئی مدد کر سکیں تو ہمیں ضرور بتانا ورنہ چار لوگوں کی ٹیم تم نے خود بنائی ہے ہم تو ہر طرح سے حاضر ہیں۔‘‘

اسامہ، زبیر کی طرف بڑھا، ماہین بھی زبیر کے ساتھ کھڑی تھی۔ اس نے گہری نظر سے ماہین کی طرف دیکھا

’’آپ دونوں دعا کیجئے گا اپنے بیٹے خیام کے لیے بھی۔۔۔شیطان ہمزاد سے اس جنگ میں خیام بھی لڑ رہا ہے۔ وہ بھی زرغام کا دشمن ہے۔‘‘

ماہین کی نگاہوں میں ممتا کے جذبات ابھر آئے۔

’’میرے دل کو یقین ہے کہ لوگوں کے خون چوسنے والے شیطانوں میں میرا بیٹا نہیں ہے۔ اس کی نیک روح لوگوں کو شیطان ہمزاد سے بچانے کی کوشش میں گامزن ہے مگر میں تو اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو چکی ہوں۔‘‘ ماہین اپنے آنسو روک نہ سکی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

اسامہ نے ان کا ہاتھ تھام لیا

’’میں بھی آپ کے بیٹے جیسا ہوں، آپ مجھے خیام سمجھ لیں۔‘‘

ماہین نے شفقت سے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا۔

’’جیتے رہو۔۔۔خداد تمہاری حفاظت کرے۔‘‘ زبیر نے بھی اسامہ کے سر پہ ہاتھ پھیرا۔

’’اب ہم چلتے ہیں تم لوگوں کے پاس بھی وقت تھوڑا ہے۔‘‘ وقار احمد نے ظفر سے کہا پھر وہ سب چلے گئے۔

ساجد کی رات انگاروں پر کٹی تھی۔ فجر کی نماز کے بعد ہی وہ بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ اس کادماغ اسے بار بار زرغام کے خلاف بغاوت پر اکسا رہا تھا۔ بچوں کی سکول وین کی روانگی میں ابھی کافی وقت تھا۔ وہ اس وقت کوٹھی میں تھا کیونکہ اس وقت زرغام واک کے لیے نکلتا تھا۔

اچانک اسے زہر کی بوتلوں کا خیال آیا پھر اس کا ذہن منصوبہ گھڑنے لگا۔ اس وقت زرغام گھر پر نہیں تھا۔ اسے یہ علم تھا کہ زرغام زہر کی بوتلیں لے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔

وہ برق رفتاری سے زرغام کے کمرے میں داخل ہوا اس نے الماری دیکھی تو وہ لاک تھی۔ اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی پھر اسے خیال آیا کہ شاید چابی سائیڈ ٹیبلز میں ہو۔ اس نے پھرتی سے سائیڈ ٹیبلز دیکھنا شروع کیے۔ بیڈ کے بائیں طرف پڑے ہوئے سائیڈ ٹیبلز میں سے اسے چابی نہیں ملی۔ اس نے وال کلاک کی طرف دیکھا ساڑھے چھ بج رہے تھے، یہ وقت زرغام کی واپسی کا تھا۔

ساجد کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔ پیشانی سے پسینہ آرہا تھا۔ اس نے ہمت کرکے دوسرے سائیڈ ٹیبلز میں چابی تلاش کی۔ اس نے اطمینان کا لمبا سانس کھینچا اسے چابی مل گئی۔

اس نے الماری کھولی تو زہر کی چھوٹی چھوٹی بوتلیں سامنے ہی پڑی تھیں۔ اس نے ایک بوتل اٹھائی اور اپنے کرتے کی جیب میں ڈال لی پھر اس نے جلدی سے الماری بند کر دی اور چابی اسی جگہ رکھ دی جہاں سے لی تھی۔ اس نے کچن کے کیبنٹ سے چائے کی کیتلی نکالی اور وہ چھوٹی سی شیشی اس میں رکھ کے کیبنٹ میں سنبھال لی۔

وہ کچن سے باہر نکلا ہی تھا کہ زرغام داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔

’’ساجد! میری بیڈ ٹی تیار کرو۔‘‘

زرغام نے اپنے جوگرز کے تسمے کھولتے ہوئے کہا پھر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ساجد نے زرغام کے لیے چائے بنائی اور پھر چائے لے کر اس کے کمرے میں گیا۔

ساجد کمرے میں داخل ہوا تو زرغام آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ آئینہ خاصا بڑا تھا۔ وہ اپنے آپ کو سرتاپا دیکھ سکتا تھا۔

’’صاحب چائے۔۔۔‘‘ ساجد نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔

زرغام شیشے کے سامنے سیدھا کھڑا تھا وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ جیسے اسے ساجد کی آواز ہی نہ آرہی ہو۔

اچانک ساجد کی آنکھوں نے ایک بھیانک منظر دیکھا جس سے اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ کپ کے پرچ سے ٹکرانے کی ٹک ٹک کی آواز اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ ظاہر کر رہی تھی۔

زرغام آئینے کے سامنے خاموش کھڑا تھا اور آئینے میں اس کا عکس بول رہا تھا۔

’’بچوں کی سکول وین والا معاملہ رہنے دو اور اپنی جان کی فکر کرو۔ وہ لوگ تمہیں مارنے آرہے ہیں۔‘‘

ؔ ؔ ’’کون لوگ تم کس کی بات کر رہے ہو۔۔۔‘‘ زرغام نے پوچھا۔

زرغام کے عکس سے ایک بار پھر آواز ابھری۔ ’’عمارہ ، اسامہ، ساحل اور عارفین۔۔۔‘‘

زرغام کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا

’’ان چاروں کی اتنی ہمت کہ زرغام کو ختم کرنے کا سوچیں۔۔۔وہ میری کالی طاقتوں کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں، چلو اب تو کھیل اور بھی دلچسپ ہوگیا ہے۔ تم ایسا کرو کہ حوریہ، فواد اور وشاء سے کہو کہ بچوں کی سکول وین والا معاملہ رہنے دیں۔ وہ ہم پھر کبھی کر لیں گے، آج میرے حریفوں کو میری شیطانی طاقتوں کی تھوڑی جھلک دکھاؤ۔۔۔‘‘

’’ٹھیک ہے‘‘ عکس میں سے آواز ابھری اور پھر سب کچھ نارمل ہوگیا۔

زرغام نے غصیلی نظروں سے ساجد کی طرف دیکھا

’’تم کیوں اس طرح کانپ رہے ہو اور اس طرح کھڑے ہو کر میری باتیں کیوں سنتے ہو۔ جاؤ دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔‘‘ زرغام نے اس کے ہاتھ سے چائے کی پیالی لیتے ہوئے کہا۔

ساجد بری طرح ڈر چکا تھا۔ وہ تیز قدموں سے کمرے سے نکلا اور کچن میں جا کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔

’’عکس کس طرح باتیں کر سکتا ہے میں کہیں پاگل تو نہیں ہوگیا ہوں۔۔۔‘‘ ساجد اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگا۔

وہ جانتا تھا کہ اب زرغام اپنا خاص عمل کرے گا وہ جلدی اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلے گا اس لیے وہ تھوڑی دیر کے لیے اپنے کوارٹر میں چلا گیا۔ اس نے جاء نماز بچھائی اور دو نفل ادا کیے پھر اپنے پروردگار کے آگے ہاتھ پھیلائے

’’میں جو کرنے جا رہا ہوں میرے رب مجھے اس کے لیے حوصلہ عطا فرما اس ڈر کو میرے اندر سے نکال دے جو مجھے ایک شیطان کی خدمت کرنے کے لیے مجبور کر رہا ہے مجھے مومن کی وہ طاقت دے جو خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔‘‘

ساحل، عارفین اور عمارہ اپنے گھر سے کچھ اور ضرورت کا سامان بھی لے آئے تھے۔ مشن پر روانگی کے لیے ان کی تیاری مکمل تھی۔ مشن کے لیے انہوں نے ظفر کی گاڑی پراڈو کا انتخاب کیا تھا۔ جو سنگلاخ پہاڑی علاقوں کے لیے موزوں تھی۔

سب نے اپنے اپنے بیگ جیپ میں رکھے۔ ظفر نے جوس اور بوتلوں کے ڈالے بھی گاڑی میں رکھوا دیئے ظفر اور رابعہ گیٹ کے پاس ہی کھڑے تھے۔ وہ سب ان سے ملے عمارہ نے ماں کو لگے لگا کے بہت دیر چھوڑا ہی نہیں۔

ظفر اور رابعہ نے انہیں خدا کے سہارے روانہ کر دیا۔ عارفین ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر ساحل بیٹھا تھا، اسامہ اور عمارہ پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔

’’آپ کا ایک ہاتھ نہیں پھر بھی آپ اتنی مہارت سے گاڑی کیسے چلا لیتے ہیں۔‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

اسامہ نے مسکراتے ہوئے عمارہ کی طرف دیکھا

’’ہر چیز کے لیے پریکٹس ضروری ہے۔ ویسے بھی کسی بھی چیز کی کمی کو اپنی کمزوری نہیں بنانا چاہئے مجھے صرف لوگ احساس دلاتے ہیں کہ میرا ایک ہاتھ نہیں ہے ورنہ مجھے نہیں پتہ چلتا کہ میرا ایک ہاتھ نہیں ہے۔‘‘

عمارہ شرمندہ سی ہو گئی کہ شاید اس نے بھی اسامہ کو اس کی کمزوری کا احساس دلایا ہے۔ عارفین پیچھے دیکھتے ہوئے اسامہ سے مخاطب ہوا۔

’’آپ کے سمجھانے کے مطابق جہاں زرغام کا گھر ہے وہ شہر سے باہر جنگل کا علاقہ ہے۔‘‘

’’اس طرح کے لوگ ایسی ہی جگہ اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں تقریبا دو گھنٹے کا سفر ہے۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

عارفین نے ایک بار پھر پلٹ کر اسامہ کی طرف دیکھا

’’اسامہ بھائی آپ کو زرغام کے گھر کا کیسے پتہ چلا۔‘‘

اسامہ نے عارفین کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا وہ خاموش رہا مگر ساحل اس کی جگہ بولا۔

’’اسامہ بھائی نے کہا ہے کہ ہم سب ان سے کوئی سوال نہ کریں وہ وقت آنے پر ہمیں سب کچھ سمجھا دیں گے اس لیے تم بھی کوئی سوال مت کرو۔‘‘

اسامہ تھوڑا آگے ہوگیا اس نے ڈرائیونگ سیٹ پر ہاتھ رکھا

’’مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم مجھ سے تکلف میں رہو میں تم سب کا دوست ہوں اور آپ لوگوں کی بے تکلفی سے مجھے اپنے اور آپ کے بیچ اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔‘‘

’’میں سمجھ رہا ہوں۔ آپ مطمئن رہیں۔‘‘ عارفین نے کہا۔

’’مِس اریبہ اور پروفیسر حسنان ہمیں اس جگہ کے بارے میں کافی انفارمیشن دے سکتے تھے یہاں ہمارے ساتھ بھی آسکتے تھے۔ سب کچھ ان دونوں کی آنکھوں کے سامنے ہوا کس طرح ان چار اسٹوڈنٹس نے کھائی میں چھلانگ لگائی۔‘‘ ساحل نے عارفین کو بتایا۔

’’تو ان دونوں سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟‘‘ عارفین نے پوچھا۔

’’کوئی فائدہ نہیں ہے مِس اریبہ کی شادی ہوگئی ہے وہ خود بھی اس معاملے میں پڑنا نہیں چاہتی اور پروفیسر حسنان بیرون ملک ہیں۔‘‘ ساحل نے بتایا

اسامہ جو ان دونوں کی گفتگو سن رہا تھا وہ ساحل سے مخاطب ہوا

’’تم اطمینان رکھو میں اس جگہ کے بارے میں اور اس حادثے کے بارے میں تفصیل سے جانتا ہوں۔‘‘

عمارہ نے تعجب بھرے انداز میں اپنے سر کو جھٹکا

’’حیرت ہوتی ہے یہ سوچ کے کہ کس طرح ان چاروں نے کھائی میں چھلانگ لگا دی۔ اتنی ہمت ان میں کہاں سے آئی۔‘‘

اسامہ نے عمارہ کی طرف دیکھا

’’آپ تو سائیکاٹرسٹ ہیں اس بات کو بخوبی سمجھتی ہیں کہ جب انسان سائیکو ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس میں غم اور خوشی کا امتیاز ختم ہوتا ہے اور جب انسان کالے جادو کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس میں حرام اور حلال کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔ نفسیاتی مسئلے میں یہ بات تو بہت Common ہے کہ ایسے مریض خود کو تکلیف دے کر تسکین محسوس کرتے ہیں۔‘‘

عمارہ نے اپنی آنکھیں جھکاتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’ہاں۔۔۔آپ شاید ٹھیک کہہ رہے ہیں اس سارے مسئلے کی تحقیقات کے دوران ہمیں جو جو اشیاء ان چاروں کے کمروں سے ملیں ان سے یہی پتہ چلتا تھا کہ وہ چاروں نفسیاتی الجھنوں کا شکار بھی تھے اور ڈرگز جیسی زہر کا بھی استعمال کرتے تھے۔ بے راہ روی کا اس قدر شکار ہو گئے تھے کہ کالے جادو جیسے کفر کی طرف مائل کر دینے والے سفلی علم کی طرف راغب ہوگئے تھے۔ ان کے نفسیاتی مسائل اتنے پیچیدہ نہیں تھے کہ حل نہ کیے جا سکیں مگر یا تو انہیں کوئی نہیں سمجھ سکا یا وہ کسی کو نہیں سمجھ سکے۔‘‘

ساحل نے تاسف بھرے انداز میں سر کو جھٹکا۔

’’بہت بڑا سانحہ تھا ان والدین کے لیے جن کے لیے وہ چاروں واحد سہارا تھے۔ ان کے تو آنسو نہیں تھمتے اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہوتا تو صبر بھی آجاتا مگر ان کی بے چینی نے تو ان سب کو بُری طرح گھائل کر دیا ہے۔‘‘

تقریباً ایک گھنٹے کا سفر گزر گیا۔ ان کی گاڑی ابھی شہر سے باہر نہیں نکلی تھی تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد ان کی جیپ ایک گھنے ویران جنگل سے گزر رہی تھی۔

’’تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد یونیک ٹاؤن کا علاقہ شروع ہو جائے گا۔ جہاں زرغام کی رہائش گاہ ہے۔ سال کے چھ ماہ وہ مری میں اپنے فلیٹ میں گزارتا ہے۔ یونیک ٹاؤن تک جانے والا یہ راستہ ایسے ہی خوفناک جنگل پر مشتمل ہے۔ جنگلی جانور تو ہوسکتے ہیں مگر انسانی آبادی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

ساحل نے تعجب بھرے انداز میں پوچھا

’’اسامہ بھائی! لوگ یونیک ٹاؤن میں کیسے رہتے ہوں گے وہاں کیا شہری سہولتیں ہوں گی۔‘‘

اسامہ نے نفی میں سر ہلایا۔

’’یونیک ٹاؤن تو ٹھیک طرح سے آباد ہی نہیں ہوا چند گھر ہیں جن کے مقیم زیادہ تر دوسرے شہروں یا ملکوں میں آباد ہیں ادھر تھوڑے وقت کے لیے آتے ہیں۔‘‘

وہ سب گپ شپیوں میں مصروف تھے کہ جیپ اچانک سے رک گئی۔

عارفین نے بار بار سٹارٹ کی مگر جیپ جیسے جام ہو گئی۔ سڑک کے دونوں طرف گھنا جنگل تھا۔ آبادی کے دور دور تک کوئی آثار نہیں تھے کہ کسی کو مدد کے لیے بلا سکیں۔

اسامہ اور عارفین گاڑی سے اترے اور بونٹ کھول کر چیک کرنے لگ گئے۔ بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا مگر گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی۔

ساحل اور عمارہ بھی جیپ سے اتر کر ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ ساحل نے بھی چیک کیا مگر جیپ کا نقص سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔

ساحل نے بونٹ پر زور سے ہاتھ مارا۔

’’اسے بھی ادھر جنگل میں خراب ہونا تھا۔“

اسامہ گاڑی سے اترا اور عارفین سے مخاطب ہوا

’’آؤ میرے ساتھ ذرا آگے جا کے دیکھتے ہیں شاید اس مشکل سے نکلنے کی کوئی صورت نظر آجائے۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ساحل کی طرف دیکھا۔ ’’تم اور عمارہ یہیں رکو۔‘‘

اسامہ یہ کہہ کر عارفین کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔

کافی دیر بعد اسامہ اور عارفین مایوس ہو کے واپس لوٹ رہے تھے۔ ان کا اتنی دور جانا بے سود ثابت ہوا۔ انہیں بھی فکر تھا کہ ساحل اور عمارہ اکیلے پریشان ہو رہے ہوں گے اس لیے وہ تیز تیز قدم چل رہے تھے۔

’’ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا ہمیں خاصا وقت لگ گیا اور فائدہ بھی کوئی نہیں ہوا۔‘‘ عارفین نے کہا۔

’’مجھے اندازہ تھا کہ دور دور تک جنگل ہی جنگل ہے ہمیں مدد کے لیے کوئی نہیں ملے گا پھر بھی دل کی تسلی کے لیے نکل پڑے۔‘‘ اسامہ نے دوڑنا شروع کر دیا۔ عارفین بھی اس کے ساتھ ساتھ بھاگنے لگا۔

ساحل اور عمارہ چپ سادھے ایک جگہ پر کھڑے تھے خفیف سے خفیف آواز بھی ان کی سماعت سے ٹکرا رہی تھی۔

اچانک سے درختوں کے جھنڈ تیزی سے ہلنے لگے تھے جبکہ موسم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔


دونوں کی نظر ایک ساتھ جھومتے ہوئے درختوں پر پڑی ۔ایک سفید ساہیولا ان درختوں کے درمیان جیسے تیر رہا تھا۔ ان کی نظر اس ہیولے پر ہی مرکوز ہوگئی۔ وہ ہیولا تیزی سے حرکت کرنے لگا ایک درخت سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے تک جا کے پھرنظروں سے اوجھل ہو جاتا اور پھر کسی درخت میں دکھائی دیتا۔ دونوں کی آنکھیں ہیولے کے ساتھ ساتھ بھٹکنے لگیں اور ساتھ ساتھ دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہونے لگیں۔

رفتہ رفتہ وہ ہیولا زمین کی طرف بڑھنے لگا پھر ان دونوں کے بالکل سامنے آکر زمین میں جیسے جذب ہوگیا۔عمارہ اور ساحل کی سانسیں گلے میں اٹکی ہوئی تھیں۔ ساحل نے عمارہ کا ہاتھ پکڑا”یہاں ںسے نکلتے ہیں۔“

ان دونوں نے ابھی قدم ہی اٹھائے تھے جو کہ ایک دم اس جگہ سے جہاں سے ہیولا جذب ہوا تھا سانپوں کے گھچے نکلنے لگے۔ عمارہ کے حلق سے چیخ نکلی اور ان دونوں نے قدم پیچھے کی طرف سکیڑ لیے۔

سانپ زمین سے مسلسل نکل رہے تھے اور ان دونوں کے گرد دائرے کی صورت میں پھیلتے جا رہے تھے۔دونوں بوکھلائے اپنے اردگرد دیکھنے لگے سانپوں نے ان کے گرد ایک دائرہ سا کھینچ دیا تھا ان کے ارگرد سانپ ہی سانپ تھے۔

دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا او ر لمبے لمبے سانس لینے لگے خوف نے جیسے ان کے ذہنوں کو جکڑ لیا اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔

ساحل نے اپنی پینٹ کی جیب سے پسٹل نکالی اس نے اس کا میگزین سیٹ کیا تو عمارہ نے ان کے بازوﺅں پر ہاتھ رکھا۔ ”یہ کیا کر رہے ہو تم جانتے ہو نا کہ یہ سب جادوئی عمل سے ہو رہا ہے۔ ان پر پسٹل چلانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔“

”تو کیا چپ چپ موت کو گلے لگا لیں تم بھی اپنی پسٹل نکالو ان پر فائر کرتے ہیں۔ جلدی کرو۔….“ ساحل کے کہنے پر عمارہ نے بھی اپنی پسٹل نکال لی دونوں نے ایک ساتھ سانپوں کے اوپر فائر کیے انہوں نے ہاتھ روکے بغیر پانچ چھ فائر کئے۔ گولیاں سانپوں کے جسموں پر لگیں مگر ان کو خراش تک نہ آئی وہ جوں کی توں ان دونوں کی طرف رینگتے رہے۔

فائر کرنے سے سارے سانپوں کا رخ ان دونوں کی طرف ہوگیا وہ تیزی سے ان دنوں کی طرف بڑھنے لگے۔ ان دونوں کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے۔ اب انہیں اپنی موت صاف نظر آرہی تھی دھیرے دھیرے سانپ ان کے پیروں کے قریب آگئے۔

خوف کی ان سرسراہٹوں میں قرآن پاک کی آیات پڑھنے کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔ آواز ان کی بائیں جانب سے آرہی تھی۔ انہوں نے اپنے بائیں جانب دیکھا تو اسامہ اور عارفین کھڑے تھے۔ اسامہ قرآن کی آیات بلند آواز میں پڑھ رہا تھا۔

جس طرح وہ سانپ زمین سے نکلے تھے اسی طرح آہستہ آہستہ غائب ہونے لگے۔ساحل اور عمارہ نے اطمینان کا سانس کھینچا۔ چند ہی ساعتوں میں وہ سارے سانپ غائب ہوگئے۔

ساحل اور عمارہ ان دونوں کی طرف بڑھنے لگے تو اسامہ نے انہیں ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا۔ وہ ابھی تک آیت پڑھ رہا تھا۔ آیت مکمل ہوئی تو وہ دونوں خود ساحل کے قریب آگئے۔

”میں نے تم سب سے کہا تھا نہ کہ یہ آیات جو میں نے دی تھیں اپنے پاس رکھیں۔“

عمارہ نے اپنے سر کو جھٹکا دیا۔”بالکل ذہن سے نکل گیا، خوف نے تو جیسے ہماری عقل کو ہی ماﺅف کر دیا۔“

اسامہ، عمارہ کے قریب آیا اور اس کے چہرے کی طرف گہری نظر ڈالی۔”وہ خوف تو میں تم دونوں کے چہروں پر پڑھ رہا ہوں۔خوف کو خود پر اس طرح حاوی کرو گے تو ان بدروحوں کا مقابلہ کیسے کرو گے ویسے یہ سب کیسے ہوا….؟“

ساحل نے اسامہ کو ساری بات تفصیل سے بتائی۔ اسامہ نے ساحل کی بات سن کر اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ ”اس کا مطلب ہے کہ زرغام کو ہمارے ارادے کی خبر ہوگئی ہے۔ اس نے ہمارے لیے جال بننا شروع کر دیا ہے لیکن ہم بھی سر پر کفن باندھ کے نکلے ہیں۔“

”سانپ تو غائب ہوگئے مگر وہ ماووارئی مخلوق تو ہمارے آس پاس موجود ہے جو یہ سب کر رہی ہے۔ “ ساحل نے کہا۔

”تو ہم کیا اس جنگل میں بھٹکتے رہیں گے۔“ عمارہ نے پوچھا۔

”نہیں….ہمیں اپنی منزل تک پہنچنا ہے کوئی نہ کوئی صورت نکل آئے گی اور اگر نہ نکلی تو ہمیں پیدل چلنا ہوگا فی الحال تو یہ پتہ لگانا ہے کہ یہ ماورائی مخلو ق ہے کون سی جو ہمارا راستہ روک رہی ہے۔“ اسامہ نے کہا۔

کچھ دیر تک وہ چاروں اردگرد کے ماحول کا جائزہ لیتے رہے پھر عارفین نے چڑ کر کہا”یہ کوئی عقلمندی نہیں ہے ہم اس طرح بیٹھ کر کسی نا گہانی آفت کا انتظار کریں۔ ہمیں اپنا کام جاری رکھنا چاہئے۔ آﺅ مل کر گاڑی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں….“

”ساحل بھی چڑ کر بولا”تمہیں معلوم ہے نا ہم اس وقت کسی شیطانی طاقت کی زد میں ہیں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔“ وہ جیسے اپنی فرسٹریشن ایک دوسرے پر نکالنے لگے تھے۔

اسامہ ان دونوں کے درمیان میں کھڑا ہوگیا”تم آپس میں بحث کیوں کر رہے ہو۔ تم دونوں گاڑی چیک کرو۔ میں اور عمارہ اطراف پر نظر رکھتے ہیں۔“

ساحل اور عارفین دونوں مل کر گاڑی ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

”کوئی نقص سمجھ میں آئے تو ٹھیک کریں، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ عارفین بونٹ بند کرکے ساحل کے پاس آیا”تم گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کرو ہم مل کر دھکا لگاتے ہیں۔“

اس نے عمارہ اور اسامہ کو اشارے سے بلایا۔ پھر ان تینوں نے مل کر دھکا لگایا۔ تھوڑا سا دھکیلنے کے بعد گاڑی سٹارٹ ہوگئی۔ تینوں نے خوشی سے نعرہ لگایا ”ہُرے“ مگر تھوڑی دور جا کے گاڑی پھر رک گئی۔ ان تینوں نے ایک بار پھر دھکا لگایا مگر اس بار کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ گاڑی سٹارٹ نہیں ہوئی۔”شٹ“ عارفین نے اسٹیرنگ پر زور سے ہاتھ مارا۔

ساحل گاڑی سے باہر نکلا اور سر پکڑ کے کھڑا ہوگیا۔”گاڑی کے بغیر کیسے ہم زرغام کے گھر تک پہنچ سکتے ہیں۔“

اسامہ، ساحل کے قریب آیا۔”میرا خیال ہے کہ گاڑی کو ادھر ہی چھوڑ دیتے ہیں اور اپنا سامان نکال کر پیدل ہی چلتے ہیں۔ مین سڑک تک پہنچ کر شاید کوئی سواری مل جائے۔“

”ضرورت کی چیزیں لے لیتے ہیں باقی سامان گاڑی میں پڑا ہے۔“ عمارہ نے ساحل کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی رائے لی۔

ساحل نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر اس نے اور عارفین نے گاڑی سے اپنا بیگ لیا اور اس میں اپنی ضرورت کا سامان چیک کرنے لگے ۔ اسامہ نے بھی پھرتی سے اپنا بیگ نکالا وہ بھی اپنا سامان چیک کرنے لگا۔

عمارہ نے بھی اپنا ہینڈ بیگ کندھے سے لٹکا لیا۔ اسامہ ، عارفین اور ساحل نے اپنی اپنی کمروں سے اپنے بیگ باندھ لیے۔

اسامہ نے گاڑی لاک کی اور وہ سب وہاں سے پیدل نکل گئے۔

زرغام اپنے خاص عمل سے فارغ ہونے کے بعد ساجد کو پکارتا ہوا لیونگ روم میں آیا۔ ساجد باہر لان میں بیٹھاہوا تھا۔ اس نے زرغام کی آواز سنی تو وہ دوڑتا ہوا اندر گیا۔ زرغام صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ زرغام کے قریب عاجزی سے کھڑا ہوگیا۔”صاحب! ناشتہ بنا دوں آپ کے لیے؟“

زرغام نے ہاتھ سے نفی کا اشارہ کیا۔”نہیں آج ناشتے کے لیے من نہیں ہے تم ایسا کرو کہ اورنج جوس لے آﺅ میں اپنے بیڈ روم میں جا رہا ہوں۔“

”جی بہتر….“ ساجد سر جھکائے کچن کی طرف چل پڑا۔

زرغام اپنے بیڈ سے پشت لگا کے بیٹھ گیا اس کا شیطانی ذہن کچھ پلان کر رہا تھا۔ غصے سے اس کے دماغ کی رگیں پھیل رہی تھیں۔”انسانوں کو میں جب چاہوں اپنی شیطانی طاقتوں سے مسل سکتا ہوں مگر یہ ہمزاد(خیام) میری شیطانی طاقتوں کو للکار سکتا ہے۔ ایک ہمزاد کا اعلان جنگ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔

زرغام کا دماغ انہی سوچوں میں غرقوب تھا۔ ادھر ساجد کا ذہن اسے ایک شیطان سے بغاوت پر اکسار رہا تھا وہ کچن میں بے چینی سے ادھر ادھر پھر رہا تھا۔وہ بہت گھبرایا ہوا تھا اس کے ہاتھ پاﺅں کانپ رہے تھے مگر آج اس کے ایمان کی طاقت اسے ایک خناس کی غلامی سے روک رہی تھی۔اس کا ذہن اسے ایک خطرناک عمل کے لیے مجبور کر رہا تھا مگر اس میں ہمت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔

اسامہ، عمارہ، ساحل اور عارفین گاڑی سے تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ انہیں ایک بار پھر وہی سفید سائے دکھائی دیئے جو ان کے قریب آکر غائب ہوگئے۔ ایک بار پھر ان کے دل تیزی سے دھڑکنے لگے مگر وہ رکے نہیں آگے بڑھتے رہے۔ جونہی وہ چند قدم آگے بڑھے ،وہ سفید سائے پھر نمودار ہوگئے او ر ان چاروں کے گرد دائرے کی شکل میں گھومنے لگے۔ ہوا میں معلق اسی غیبی مخلوق نے ان چاروں کے گرد جیسے شیطانی طاقتوں کا دائرہ کھینچ دیا۔ ان کے قدم اپنی جگہ گڑھ گئے۔

وہ چاروں گھبرائے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ان کے دماغ بھی جیسے کسی پراسرار قوت نے جکڑ لیے وہ کچھ پڑھنا چاہتے تھے مگر انہیں کچھ یاد نہیں آرہا تھا۔وہ تین سفید سائے آہستہ آہستہ زمین کی طرف بڑھنے لگے اور پھر وشاء حوریہ اور فواد کے روپ میں تبدیل ہوگئے۔

اس بار ان کے روپ مختلف تھے۔ ان کے جسموں پر کفن تھا۔ چہرے زندگی کے نور سے عاری تھے وہ بالکل اس طرح تھے جیسے اپنی اپنی قبروں سے اٹھ آئے ہوں ان کے چہرے کی جلد سفیدی مائل تھی ہونٹ سلیٹی اور آنکھیں سیاہ حلقوں میں دھنسی ہوئی تھیں۔

ان چاروں نے ایک نظر ان کی طرف دیکھا اور اس کے بعد وہ نظریں اوپر نہ اٹھا سکے۔ فواد کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔’’ہمیں غور سے دیکھ لو اس روپ میں اس لیے تمہارے سامنے آئے ہیں کہ کچھ دیر بعد تمہارا بھی یہی حال ہوگا تمہاری موت یقینی ہے مگر تم لوگوں کو تنگ کرنے میں مزا آرہا تھا مگراب بس۔۔۔تم اپنی زندگیوں کو خیر باد کہہ دو۔‘‘

وشاء اور حوریہ کے بدہیت چہروں پہ شیطانی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔ وہ تینوں اوپر کی طرف اڑے اور فواد نے انگلی سے ان کی طرف اشارہ کیا ان کے گرد دائرے کی شکل میں آگ بھڑک اٹھی۔

ان چاروں نے اس دائرے سے نکلنے کی کوشش کی مگر ان کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے تھے۔ وہ تینوں شیطان ہمزاد فضامیں معلق ان چاروں کی بے بسی پر مسکرا رہے تھے۔

ساجد زرغام کے لیے گلاس میں اورنج جوس ڈال کے کھڑا تھا۔ وہ کیبنٹ کے قریب کھڑا گہری سوچ میں گم تھا۔ اس کا ذہن اسے جس کام کے لیے مجبور کر رہا تھا اس کے لیے وہ خود میں حوصلہ پیدا نہیں کر پا رہا تھا۔ دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو رہے تھے۔

زرغام اپنی گرج دار آوا ز میں چلایا’’ساجد۔۔۔‘‘ ساجد نے مزید کچھ اور نہ سوچا اس نے کیبنٹ سے زہر کی شیشی نکالی اور چار قطرے اس زہر کے اورنج جوس میں ملا دیئے۔ اس نے چمچ سے ایک دفعہ اسے مکس کیا اور پھر اورنج جوس لے کر زرغام کے کمرے میں چلا گیا۔

زرغام کپڑے تبدیل کر چکا تھا وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنی شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا۔ اس نے ساجد سے گلاس لیا اور سٹول پر بیٹھ کر جوس پینے لگا۔

جوس پیتے ہوئے اسے کسی قسم کا براذرائقہ محسوس نہیں ہوا مگر تھوڑی ہی دیر میں زہر نے اثر کرنا شروع کر دیا۔ زرغام کا گلا چرنے لگا وہ اپنا گلا تھام کر اکٹھا سا ہوگیا۔ زہر آہستہ آہستہ اس کی رگوں میں پھیل گیا جس سے اس کے پیٹ میں ایسا درد اٹھا کہ وہ مچھلی کی طرح تڑپتا ہوا سٹول سے نیچے گر گیا۔۔۔اس نے اپنی دہکتی ہوئی سرخ آنکھوں سے ساجد کی طرف دیکھا۔

ساجد سر جھکائے کھڑا تھا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ مارے تکلیف کے زرغام کی زبان گنگ ہوگئی تھی۔ مگر اس کی آنکھیں ساجد سے سوال کر رہی تھیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔

زہر بہت تیز تھا۔ تھوڑی دیر میں ہی وہ زرغام کے سارے خون میں پھیل گیا۔ زرغام کا چہرہ سیاہ ہوگیا ۔منہ سے جھاگ نکلنے لگی اور پھر وہ ساجد کی آنکھوں کے سامنے ہی تڑپ تڑپ کے مر گیا۔

ساجد اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اچانک ہی کمرے کی چیزیں ادھر ادھر گرنے کی آوازیں ساجد کی سماعت سے ٹکرائیں تو اس نے حیرت سے اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے۔

اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں اس کی آنکھوں کے سامنے زرغام کھڑا تھا۔ ساجد نے فوراً زمین کی طرف دیکھا ۔زرغام کی لاش جوں کی توں پڑی تھی۔ سامنے کھڑا ہوا بھی زرغام ہی تھا مگر اس کا جسم باطنی اورغیر مرئی تھا اور زندگی سے بھرپور زرغام کی طرح ہشاش بشاش تھا۔

ساجد کے پورے جسم سے کپکپی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ قاتل بن کر اپنے ہی مقتول کے سامنے کھڑا تھا۔ موت سے پہلے ہی زندگی ان کے ہاتھوں سے چھوٹنے لگی تھی۔

زرغام کے ا س باطنی وجود کی آنکھوں میں وہی غصہ تھا جو موت سے کچھ دیر پہلے زرغام کی آنکھوں میں تھا۔ اس نے ساجد کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا تو ساجد کا جسم روئی کے گولے کی طرح ہوا میں اڑنے لگا وہ اسکے جسم کو چھت تک لے گیا اور پھر اس نے اپنے ہاتھ کو زور سے جھٹکا دیا۔ اس نے ساجد کو چھت سے زمین پر پٹخ دیا۔

کمرے کی زمین ساجد کے لہو میں رنگ گئی۔ وہ بوڑھا کمزور شخص ایک ہی جھٹکے میں لقمہ اجل ہوگیا ۔وہ ہوائی جسم جو انتہائی طیش میں تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے کی طرف بڑھا اور اسے چکنا چور کرکے غائب ہوگیا۔

اسامہ، عمارہ ، ساحل اور عارفین بری طرح آگ کی لپیٹ میں آچکے تھے۔ اب ان کے جسموں کا آگ سے فاصلہ معمولی رہ گیا تھا۔ حوریہ اور وشاء کی اذیتوں پر ہنس رہے تھے۔ایک ہی ساعت میں نہ جانے ایسا کیا ہوا وہ تینوں غائب ہوگئے اور آگ بھی خود بخود بجھ گئی۔ ان چاروں نے تشکر آمیز نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھا۔

’’اس اچانک تبدیلی کا کچھ بھی مطلب ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنی گاڑی بھی چیک کرنی چاہئے۔‘‘اسامہ نے کہا۔

’’مشکل ہے کہ گاڑی سٹارٹ ہو مگر تم تسلی کر لو۔‘‘ ساحل نے بے دلی سے کہا۔

اسامہ بڑے یقین کے ساتھ گاڑی کی طرف بھاگا گاڑی کے قریب پہنچ کر اس نے گاڑی میں چابی لگائی۔ گاڑی پہلے سلف سے ہی سٹارٹ ہوگئی۔

’’ہرے۔۔۔‘‘ اس نے خوشی سے نعرہ لگایا۔

ان تینوں نے گاڑی کی آواز سنی تو وہ بھی دوڑتے ہوئے گاڑی کے قریب آگئے۔

’’جلدی سے بیٹھو ! یہاں سے نکلتے ہیں۔۔۔‘‘

اسامہ نے ٹھیک طرح سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے کہا۔ عمارہ کا سر گاڑی کے دروازے سے ٹکرایا تو غصے سے بولی’’آہستہ چلاؤ۔۔۔کیا کر رہے ہو۔‘‘

’’تم سنبھل کر بیٹھو جتنا جلدی ہو سکے ہمیں اس علاقے سے نکلنا چاہئے۔‘‘

پندرہ بیس منٹ کے بعدہی وہ مین روڈ پر آگئے۔ اسامہ تیز سپیڈ سے گاڑی دوڑاتا رہا۔

تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد وہ زرغام کے گھر تک پہنچ گئے یہ ویران اور سنسان علاقہ تھا۔ انہیں اکا دکا گھر ہی نظر آئے جو ایک دوسرے سے کافی فاصلہ پر تھے۔ تاحد نظر خالی زمینیں ہی زمینیں تھیں جن میں سر کنڈے اور گندم کی فصل کھڑی تھی۔شیشے اور میٹل سے بنے سلور کلر کے گیٹ کی طرف اسامہ نے اشارہ کیا۔’’وہ سامنے زرغام کی کوٹھی ہے۔‘‘

’’مگر ہم اندر کیسے داخل کیسے ہوں گے؟‘‘ عمارہ اسامہ کے قریب کھڑی ہوگئی۔

’’اندر جانے کے بارے میں سوچتے ہیں پہلے تم تینوں اپنی تیاری مکمل کرو اپنے بیگ پہن لو اور اپنی پسٹل لوڈ کر لو۔۔۔پھر بتاتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اسامہ نے اپنی پسٹل بھی لوڈ کی اور ان تینوں نے بھی اپنی پسٹلز لوڈ کر لی۔

ساحل اپنا بیگ سیٹ کرتے ہوئے اسامہ کی طرف بڑھا۔’’یہ جو کوٹھی کے ساتھ چھوٹا سا فلیٹ ہیے۔۔۔‘‘

’’یہ زرغام کے ملازم ساجد کا فلیٹ ہے۔‘‘ اسامہ نے بتایا۔

’’کوئی یہاں سے ایک دم باہر آگیا اور اس نے ہمیں دیکھ لیا تو ۔۔۔‘‘ ساحل نے ایک بار پھر اس فلیٹ کی طرف اشارہ کیا۔

’’جو ہوگا دیکھا جائے گا فی الحال ہمیں کوٹھی میں داخل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘

عارفین نے اسامہ کی جگہ جواب دیا۔ اسامہ نے چاروں طرف نظر دوڑائی اور پھر ان تینوں کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ وہ چاروں ایک گھر کی دیوار کی اوٹ میں کھڑے ہوگئے۔

اسامہ نے سرگوشی کے انداز میں بولتے ہوئے زرغام کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔’’سامنے اوپری منزل میں دو کمرے ہیں جن میں سے ایک اس کا بیڈ روم ہے اور دوسراوہ خاص کمرہ جہاں وہ عمل و گیان کرتا ہے ہمیں کسی بھی طرح دونوں میں سے کسی بھی کمرے میں داخل ہونا ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے‘‘ یہ کہہ کر ساحل نے عمارہ اور عارفین کو سمجھایا’’بہت احتیاط سے ہمیں اوپری منزل میں داخل ہونا ہے۔‘‘

اسامہ نے اپنے بیگ سے رسی نکالی جس کے ساتھ کانٹا لگا ہوا تھا۔

وہ چاروں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ہوئے زرغام کی کوٹھی کے بیک سائیڈ کی طرف بڑھے اسامہ نے بالکونی کی گرل کی طرف کانٹا اچھالا۔ پہلی ہی بار میں کانٹا گرل کے ساتھ اٹک گیا۔

اسامہ کو تو اس طرح کے کاموں کی خاص ٹریننگ تھی مگر ساحل اور عارفین نے بھنویں اچکاتے ہوئے اوپر کی طرف دیکھا اور پھر عارفین نے لب تر کرتے ہوئے پوچھا’’گرل تو پکی ہے نا۔۔۔‘‘

ساحل نے بیوقوفانہ انداز میں جواب دیا’’مجھ سے کیا پوچھتے ہو میں نے تھوڑی بنائی ہے۔‘‘

اسامہ نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ پہلے میں جاتا ہوں پھر تم لوگوں کو بلا لوں گا۔‘‘

یہ کہہ کر اسامہ کسی بندر کی طرح تیزی سے رسی سے لٹکتا ہو گرل تک پہنچ گیا۔

گرل کے بالکل ساتھ ہی اس خاص کمرے کی کھڑکی تھی جہاں زرغام اپنا خاص عمل کرتا تھا۔ اس نے کھڑکی سے اندر جھانکا تو پردہ پیچھے ہٹا ہوا تھا جس کی وجہ سے کمرے کا ماحول صاف دکھائی دے رہا تھا۔

کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ اس نے اطراف میں بھی نظر دوڑائی آس پاس کوئی نہیں تھا۔ اس نے بالکونی سے نیچے جھانکتے ہوئے ان سب کو اوپر آنے کا اشارہ کیا اور خود اس جگہ کے قریب بیٹھ گیا جہاں کانٹا اٹکا ہوا تھا۔ ساحل اور عارفین تو آرام سے رسی سے اوپر آگئے مگر عمارہ کو یہ سب بہت مشکل لگ رہا تھا۔

اسامہ نے اسے اشارے سے سمجھایا کہ اگر کانٹا پھسل گیا تو وہ رسی تھام لے گا اس لیے وہ ہمت کرے۔

جب اس نے خود کو تنہا پایا تو ہمت کرکے رسی سے اوپر چڑھنے کی کوشش کرنے لگی بالآخر وہ بھی بالکونی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی۔ ساحل نے کمرے کی ونڈو سے اندر جھانکا۔ ’’شیشے کی ونڈو کے اندر جالی بھی نہیں لگی ۔ پیچ کھول کر آسانی سے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔‘‘

اسامہ نے نفی میں سر ہلایا’’کمرے میں کوئی نہیں ہے تو دروازہ باہر سے لاک ہوگا۔‘‘

’’لاک کھول لیں گے یار۔۔۔‘‘ عارفین نے لاپروائی سے کندھے اچکائے۔

’’اگر نہ کھول سکے تو ۔۔۔تم میرے پیچھے آؤ۔۔۔‘‘ اسامہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا دوسرے کمرے کی کھڑکی تک پہنچ گیا۔

اس نے ان تینوں کو ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ تینوں بھی آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اسامہ کے قریب آگئے۔

یہ ونڈو بھی شیشے کی تھی اور بغیر جالی کے تھی۔ اسامہ اور ساحل نے اندر جھانکا تو ساحل نے سر گوشی کے انداز میں کہا’’کمرے میں باہر سے روشنی آرہی ہے شاید دروازہ کھلا ہے مگر کوئی دکھائی نہیں دے رہا۔‘‘

’’ہاں مجھے بھی یہی لگتا ہے میرا خیال ہے کہ ونڈو کے پیچ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں‘‘ یہ کہہ کر اسامہ نے عمارہ کی طرف دیکھا۔’’تم ادھر ونڈو کے قریب کھڑے ہو کے اندر نظر رکھو میں اور ساحل ونڈو کے پیچ کھولتے ہیں۔‘‘

عمارہ ونڈو کے قریب پیچھے کی طرف ہو کے کھڑی ہوگئی۔ عارفین بالکونی کے قریب کھڑا نیچے کے حالات پر نظر رکھ رہا تھا۔

ساحل اور اسامہ نے بہت مہارت سے ونڈو کے پیچ کھول لیے۔عمارہ نے مسکراتے ہوئے اسامہ کی طرف دیکھا’’بہت خوب۔۔۔فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کہیں ڈاکے تو نہیں ڈالتے رہے۔‘‘

اسامہ نے عمارہ کی طرف گھور کر دیکھا اور پھر اندر نظر ڈالتے ہوئے شیشہ احتیاط سے اتار کر ایک طرف رکھ دیا۔ وہ چاروں باری باری کمرے میں داخل ہوگئے۔ زمین پر دو لاشیں پڑی تھیں ایک زرغام کی تھی جسے دیکھ کر صاف پتہ چل رہا تھا کہ اسے یا تو سانپ نے ڈس لیا ہے یا زہر دے دیا گیا ہے اور دوسری لاش کسی بوڑھے کی تھی جو خون میں لت پت تھا۔

اسامہ اور ساحل لاشوں کے قریب بیٹھ گئے۔

’’یہ کون ہے‘‘ عمارہ نے سوالیہ نظروں سے اسامہ کی طرف دیکھا اورپھر خود بھی ساجد کی لاش کے قریب بیٹھ گئی۔

’’یہ ساجد ہے زرغام کا وفادار ملازم۔۔۔‘‘

’’کیا بات ہے کچھ ہمیں بھی تو بتاؤ۔۔۔؟‘‘ عمارہ اسامہ کے قریب آگئی۔

اسامہ نے عمارہ کی طرف دیکھا’’تم جانتی ہو کہ کسی نے ساجد کو چھت کی طرف لے جا کے زمین پر پٹکا ہے اور مارنے والا اس قدر طاقتور تھا کہ جب اس نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا تو اس کے سینے کی ہڈیاں چکنا چور ہوگئیں۔‘‘

’’مارنے والا کون ہو سکتا ہے۔‘‘ عارفین بھی تعجب خیز انداز میں آگے بڑھا۔

’’زرغام کا ہمزاد جو جاتے ہوئے ا پنا غصہ اس آئینے پر نکال گیا۔‘‘

تینوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا’’کیا۔۔۔؟ زرغام کا ہمزاد یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔‘‘ عمارہ نے بوکھلائے ہوئے کہا۔

اسامہ نے ان تینوں کی طرف دیکھا۔’’فی الحال یہاں سے نکلو اس سے پہلے کہ کوئی آجائے میں رستے میں تمہیں سب کچھ بتا دوں گا۔‘‘

وہ تینوں جس طرح اوپر چڑھے تھے اسی طرح سے باری باری نیچے اتر گئے۔ اور وہ چاروں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکل گئے۔

’’آگے کیا پلان ہے‘‘ ساحل نے پوچھا۔

’’ہم اب مری کے لیے روانہ ہوں گے اب یہ جو کچھ ہوا ہے امید ہے کہ سفر میں یہ بدروحیں ہمیں تنگ نہیں کریں گی فی الحال تو زرغام کی موت نے ان کا طلسم توڑ دیا ہے۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ ہمزاد ہمارا تعاقب نہیں کریں گے۔‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ہمزاد اس جگہ پہنچ گئے ہوں گے جو ان کا اصل مسکن ہے۔‘‘ اسامہ کی اس ادھوری سی بات پر عمارہ نے پوچھا۔

اٹل

’’کہاں۔۔۔کون سی جگہ۔۔۔‘‘

’’مری میں جہاں ہم جا رہے ہیں۔‘‘ اسامہ نے پر یقین لہجے میں کہا۔

’’مری میں ۔۔۔مگر کہاں؟‘‘ عارفین نے پوچھا۔ اسامہ نے ہاتھ سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔’’ہم مری پہنچ جائیں گے کسی اچھے سے ہوٹل میں کمرے لے لیں گے پھر ساری پلاننگ کریں گے۔‘‘

تھکا دینے والے سفر کے بعد وہ اسلام آباد پہنچ گئے۔

سفر کے دوران ہی سب نے اپنے اپنے گھر والوں سے بات چیت کر لی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں کو تسلی دے دی تھی۔

تقریباً دو گھنٹے کے بعد وہ مری کے قریبی چھوٹے چھوٹے علاقوں سے گزر رہے تھے۔

عارفین نے چھتر پارک کا بورڈ پڑھا تو اس نے اسامہ سے پوچھا’’مری کا کتنا فاصلہ رہ گیا ہے۔‘‘

’’یوں سمجھ لو کہ ہم مری پہنچ گئے ہیں۔ یہاں سے مری کا بس تھوڑا سا ہی فاصلہ ہے۔‘‘ اسامہ نے جواب دیا۔

ساحل جو ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ اس کا دھیان سامنے کی طرف ہی تھا۔ اس نے اسامہ کی طرف دیکھا جو اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔ ’’میری معلوما ت کے مطابق یونیورسٹی کی بس میں جو حادثہ ہو اتھا وہ پٹروکس کے علاقے میں ہوا تھا جو چھتر پارک سے تھوڑے سے فاصلے پر ہے۔‘‘

’’ہاں ۔۔۔ہم پٹروکس میں ہی ٹھہریں گے۔‘‘ اسامہ نے جواب دیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد پیٹروکس کا بورڈ دکھائی دینے گا۔

ُپٹروکس کا علاقہ شروع ہوتے ہی اسامہ سڑک کے دونوں اطراف دیکھنے لگا۔

’’تم کیا ڈھونڈ رہے ہو؟‘‘عمارہ نے پوچھا۔

’’دیکھ رہا ہوں کہ کوئی ہوٹل یا فلیٹ نظر آجائے۔‘‘

’’ہوٹلز کے لیے یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ ساحل نے کہا۔

’’بات اچھے یا برے کی نہیں ہے۔ہمیں اس جگہ کام ہے یہیں ٹھہر جائیں تو کافی آسانی ہو جائے گی۔‘‘

’’اسامہ! ادھر فلیٹس ہیں‘‘ عمارہ نے اپنی کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے کہا۔ اسامہ نے بھی اس طرف نظر دوڑائی۔’’ہاں فلیٹس تو ٹھیک لگ رہے ہیں پتہ کرتے ہیں۔‘‘

ساحل نے مناسب سی جگہ پر گاڑی پارک کی۔

’’تم لوگ گاڑی میں ہی رہو میں پتہ کرکے آتا ہوں۔‘‘ اسامہ نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔

تھوڑی دیر کے بعد اسامہ گاڑی کی طرف آیا۔

’’سامان نکال لو ایک فلیٹ مل گیا ہے۔‘‘ ان سب نے گاڑی سے اپنا سامان نکالا اور فلیٹ کی طرف بڑھے۔

اسامہ کے ہاتھ میں فلیٹ کی چابی تھی۔ اس نے فلیٹ کا دروازہ کھولا اور سب اندر داخل ہوگئے۔

انہوں نے کمرے کے ایک طرف سامان رکھا اور تھکاوٹ سے قالین پر ہی ڈھیرہوگئے۔اسامہ پورے فلیٹ کا جائزہ لے کر آیا۔’’یہ چھوٹا سا فلیٹ دو کمروں ، ایک باتھ اور ایک کچن پر مشتمل ہے۔ ایک کمرے میں ہم تینوں ٹھہر جائیں گے اور ایک کمرہ عمارہ کو دے دیں گے۔ُ ُ یہ کہہ کر اسامہ بھی ان کے ساتھ قالین پر بیٹھ گیا۔ عارفین اور ساحل نے صوفے کی گدیاں اٹھائیں اور اپنے سر کے نیچے رکھ کے قالین پر لیٹ گیا۔

تھکاوٹ کے باعث کب ان سب کی آنکھ لگ گئی انہیں پتہ بھی نہ چلا۔ سارا سامان بھی کمرے میں بے ترتیب گرا پڑا تھا۔ سب گہری نیند سوئے ہوئے تھے۔ بیل کی آواز سے عمارہ کی آنکھ کھلی تو اس نے بے خوابی کی حالت میں ادھر ادھر دیکھا کارنر ٹیبل پر ریڈ کلر کاPTCL سیٹ پڑا تھا جس کی بیل بج رہی تھی۔

وہ ڈھیلی ڈھیلی چال سے چلتی ہوئی فون تک پہنچی اس نے فون رسیو کیا۔ ریسپشن سے منیجر بات کر رہا تھا ’’میڈم آپ نے کچھ کھانے کا آرڈر دینا ہو یا چائے منگوانی ہو تو بتا دیں۔‘‘ عمارہ نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا شام کے پانچ بج رہے تھے۔

’’آپ ایسا کریں کہ مینو بھیج دیں میں آرڈر دے دوں گی۔‘‘

’’ٹھیک ہے میڈم!‘‘ منیجر نے کہا۔

کچھ دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔

’’آجائیں‘‘ عمارہ نے جوس کے ڈبے اٹھاتے ہوئے کہا۔

ویٹر اندر داخل ہوا اس نے Menue Card عمارہ کی طرف بڑھایا۔ عمارہ نے جوس کے ڈبے ٹیبل پر رکھے اور اس سے کارڈ لے کر پڑھنے لگی۔

’’دو ڈشز۔۔۔‘‘

’’دو ٹرے ایگ فرائیڈ رائس، چھ کباب،سلاد اور رائتہ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ نے کارڈ ویٹر کو دے دیا۔

ویٹر کے جانے کے بعد عمارہ نے جوس کے ڈبے اٹھائے اور فریج میں رکھ دیئے۔

سارا سامان سیٹ کرنے کے بعد عمارہ اسامہ کے پاس آئی اس نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کے ہلایا۔’’اسامہ۔۔۔‘‘

اس نے معمولی سی جھرجھری لی اور پھر سو گیا۔ عمارہ نے اسے زور سے جھٹکا دیا۔’’اٹھو بھئی کیا ہوگیا ہے۔‘‘

اس باراس کی آنکھیں کھل گئیں۔’’کیا ہوگیا ہے کیوں اتنا ظلم ڈھا رہی ہو۔‘‘

’’پانچ بج رہے ہیں۔‘‘ عمارہ کی زوردار آواز پر اسامہ اٹھ کے بیٹھ گیا۔

’’اتنا وقت ہوگیا ہے۔‘‘

’’اب تم ان دونوں کو بھی اٹھاؤ میں نے کھانے کا آرڈر دے دیا ہے۔ تم سب اٹھ کے فریش ہو جاؤ۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ اٹھ گئی۔ اسامہ نے ساحل اور عارفین کو بھی اٹھایا اور وہ تینوں ہاتھ منہ دھو کے فریش ہوگئے تھوڑی دیر کے بعد ویٹر کھانا لے کر آگیا عمارہ نے اس کے ساتھ مل کر ٹیبل پر کھانا لگایا۔

کھانے کے ساتھ ویٹر نے کولڈ ڈرنکس بھی رکھ دی۔

’’میڈیم کسی اور چیز کی ضرورت ہوئی تو فون پر بتا دیجئے گا۔‘‘ یہ کہہ کر ویٹر چلا گیا۔سب جلدی سے آکر کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ اور کھانا کھانے لگے۔ کھانا ختم کرنے کے بعد اسامہ نے ویٹر کو بلایا کہ برتن لے جائے اور ساتھ چائے کا آرڈر بھی دے دیا۔

ویٹر ٹرالی لے کر آیا تو عمارہ نے برتن سمیٹ کر ٹرالی میں رکھ دیئے۔ ویٹر نے ٹیبل صاف کیا اور پھر برتن لے گیا۔

عمارہ نے تینوں کو چائے سرو کی۔ عمارہ نے اسامہ کی طرف دیکھا۔ ’’ہم پٹروکس کے علاقے میں ٹھہرے ہیں۔ مری تو اس سے کافی دور ہے۔‘‘

’’نہیں۔۔۔مری اس سے زیادہ دور نہیں بس چند کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ ‘‘ اسامہ نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔

’’تمہاری انفارمیشن کے مطابق ان چاروں نے پٹروکس کے علاقے میں پہاڑ سے چھلانگ لگائی تھی۔ ان پر خطر پہاڑوں میں ہم ان کا سراغ کیسے لگائیں گے ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ کالا جادو کرنے کے لیے انہوں نے کس جگہ کا انتخاب کیا ہوگا۔‘‘

’’میں سب جانتا ہوں۔۔۔‘‘ اسامہ نے پر اعتماد لہجے میں کہا۔

آخر عمارہ سوال کیے بغیر نہ رہ سکی’’تم اتنا سب کیسے جانتے ہو۔۔۔‘‘

عمارہ کے سوال پر اسامہ تپ گیا۔ وہ جھٹکے سے اٹھا تو چائے کا کپ الٹ گیا۔ گرم چائے اس کے ہاتھ پر گر گئی۔ عمارہ جلدی سے ٹشو لے کر اس کا ہاتھ صاف کرنے لگی تو اس نے ہاتھ پیچھے سیکڑ لیا۔

اس نے عمارہ کو شانوں سے پکڑا اور اپنی دہکتی آنکھیں اس کے چہرے پر گاڑ دیں۔’’میں تو تمہیں اس سے بھی زیادہ حیران کرنے والا ہوںَ میں تو یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ سب کتنی بار روئے تھے اور کتنی بار ہنسے تھے۔ جب زندگی ان سے دامن چھڑا رہی تھی تو وہ کتنا تڑپے تھے۔ ان کی آخری چیخیں تک میری سماعت میں گونج رہی ہیں۔‘‘ اسامہ کی آنکھوں کا کلر بدل چکا تھا۔ اس کی آنکھیں نیلی ہوگئی تھیں۔ عمارہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس نے پلکیں جھپکائے بغیر پوچھا۔

’’تم ہو کون؟‘‘

اسامہ خاموشی سے عمارہ کی طرف دیکھتا رہا پھر اس نے اس کے شانوں سے ہاتھ ہٹا لیے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔

عمارہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسامہ کو اندازہ ہی نہ ہوا تھا کہ اس نے کتنی سختی سے عمارہ کو شانوں سے پکڑا تھا۔ ساحل اور عارفین عمارہ کے قریب بیٹھ گئے۔

’’تم جانتی ہو کہ اسامہ نے مشن پر آنے سے پہلے ہی یہ بات ہم سب سے کہی تھی کہ اس سے کوئی سوال نہ کیا جائے‘‘ ساحل نے عمارہ سے کہا تو عارفین نے منہ بسورتے ہوئے ساحل کی طرف دیکھا۔

’’چھوڑو یار! تم اس کی حمایت مت کرو لڑکیوں سے بات کرنے کا کوئی طریقہ ہوتا ہے۔ اسے عمارہ سے اس انداز میں بات نہیں کرنی چاہئے تھی۔‘‘

’’پلیز تم لوگ آپس میں بحث مت کرو۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ اپنی جگہ سے اٹھی اور باہر بالکونی میں جا کے کھڑی ہوگئی۔

اسامہ نے کھڑکی سے باہر جھانکا، عمارہ بالکونی میں کھڑی تھی۔ وہ کمرے سے باہر بالکونی میں چلا گیا ۔ عمارہ گرل کے پاس کھڑی تھی جس کے ساتھ ساتھ خوبصورت سی باڑ لگی تھی۔ اسامہ اس کے قریب کھڑا ہوگیا۔

اسامہ کو قریب دیکھ کر عمارہ وہاں سے جانے لگی تو اسامہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔’’سوری۔۔۔‘‘

’’آگے سے ہٹ جاؤ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔‘‘ عمارہ غصہ سے بولی۔’’مگر مجھے تو بات کرنی ہے۔۔۔۔‘‘

’’مجھے تمہاری بات نہیں سننی۔۔۔‘‘ عمارہ جھٹکے سے پاؤں رکھتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔ اسامہ بالکونی میں کھڑا رہا۔

فلیٹ کے باہر چھوٹا سا لان تھا۔ ا سنے دیکھا کہ عمارہ لان میں ٹہل رہی ہے۔ اسامہ بھی اس کے پیچھے پیچھے لان کی طرف چل پڑا۔ عمارہ نے اسے آتے ہوئے دیکھا تو منہ بنا کر بینچ پر بیٹھ گئی۔

اسامہ بھی عمارہ کی طرح سنجیدہ ہوگیا۔ ’’تم نے مجھے معاف نہیں کرنا تو نا کرو مگر میں نے کبھی بھی عورت کو مرد سے کم تر نہیں سمجھا۔ انسان اپنی خصوصیات کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے چاہے مرد ہو یا عورت۔۔۔‘‘

اسی دوران میں ساحل بھی ان کے پاس آگیا۔ عمارہ اپنی جگہ سے اٹھ کر جانے لگی تو اسامہ نے اسے ایک بار پھر پکارا’’پلیز عمارہ ! میں سوری کہہ رہا ہوں نا۔۔۔‘‘

اس بار ساحل نے عمارہ کا راستہ روک دیا۔’’عمارہ! ہم یہاں لڑنے کیلئے نہیں آئے۔ ایک خاص مشن پورا کرنے آئے ہیں ایسا مشن جس میں ہم نے زندگی کا جوا کھلینا ہے۔ ہم میں سے کون لقمہ اجل ہو جائے یہ ہم نہیں جانتے۔‘‘

عمارہ نے اسامہ کی طرف دیکھا جو بینچ پر بیٹھا ہوا تھا۔’’ٹھیک ہے ایک شرط پر معاف کروں گی کہ تم اس طرح کسی کے سوال پوچھنے پر بھڑکو گے نہیں‘‘

تھوڑی دیر کے بعد عمارہ وہاں سے چلی گئی ۔ ساحل اسامہ کے قریب آیا’’ کیا پروگرام ہے۔‘‘

’’ہمارا خیال ہے کہ ہمیں نکلنا چاہئے پہلے ہی ہمارا بہت سا وقت برباد ہوگیا ہے۔ اسامہ نے کہا اور پھر وہ دونوں اندر فلیٹ میں چلے گئے۔ وہ دونوں کمرے میں داخل ہوئے تو عارفین اور عمارہ اپنے اپنے بیگ میں کچھ چیزیں رکھ رہے تھے۔

اسامہ نے ان دونوں کی طرف دیکھا’’اچھی بات ہے تیاری کر لو۔ ہم بس دس پندرہ منٹ کے بعد نکلتے ہیں۔ ‘‘

سب نے اسامہ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پیکنگ کی۔تقریبا پندرہ منٹ کے بعد وہ سب وہاں سے نکل گئے۔ چند کلو میٹر کے بعد ہی دیوہیل پہاڑ دکھائی دینے لگے۔ جس کے ساتھ ہی گہری خطرناک کھائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھوڑا سا آگے جانے کے بعد اسامہ نے ساحل سے گاڑی روکنے کو کہا۔

ساحل نے سڑک سے اترتے ہوئے ایک گھنے درخت کے قریب کچی جگہ پر گاڑی پارک کی۔ وہ سب گاڑی سے باہر نکل آئے۔

اسامہ درخت کے قریب کھڑا ہوگیا’’یہی وہ جگہ ہے جہاں ان چا ر لڑکے لڑکیوں نے کالج کی بس سے چھلانگ لگائی تھی۔‘‘

’’یہ تو بہت گہری اور خطرناک کھائیاں ہیں۔ ان سب نے کس طرح چھلانگ لگادی ۔ اس طرح چھلانگ لگانے کے بعد کسی کے زندہ رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘

’’وہ چاروں زندہ رہے اور انہوں نے ایک کھنڈر نما ریسٹ ہاؤس میں پناہ لیا اور ناپاک سفلی عمل بھی کیے۔‘‘

’’مگر کیسے؟ یہاں نیچے تو کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا‘‘ ساحل نے حیرت میں ڈوبے ہوئے لہجے میں پوچھا۔

اسامہ نے انگلی سے نیچے کھائی کی طرف اشارہ کیا’’تم وہ پہاڑ نہیں دیکھ رہے اور ساتھ یہ لمبے لمبے چیڑ کے درخت، بے شک انہوں نے چھلانگ مار کے زندگی اور موت کا جوا کھیلا تھا مگر تقدیر نے ان کا ساتھ دیا اور وہ لقمہ اجل نہیں ہوئے۔ وہ کسی پہاڑ پراٹک گئے ہوں گے یا کسی درخت سے لٹک گئے ہوں گے لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ چاروں پہاڑوں کی غاروں کے ذریعے اس ریسٹ ہاؤس تک پہنچے۔‘‘

عارفین نے خوف سے کندھے اچکائے۔ ’’ہمیں بھی کیا ان غاروں کے ذریعے ریسٹ ہاؤس تک پہنچنا ہوگا۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ہم ان غاروں کے ذریعے ہی اس پراسرار ریسٹ ہاؤس تک پہنچیں گے لیکن ہم ان چاروں کی طرح یہاں سے چھلانگ نہیں ماریں گے تھوڑا سا آگے جاکے نیچے جانے کا پیدال راستہ ہے۔‘‘

’’چلو پھر گاڑی میں بیٹھتے ہیں آگے جاکے رکتے ہیں۔ ‘‘ ساحل نے کہا اور پھر وہ چاروں گاڑی میں بیٹھ گئے۔

تھوڑا آگے جا کے ساحل نے گاڑی روکی اور چاروں اپنا اپنا بیگ پہن کے نیچے اتر گئے۔

اسامہ پہاڑ کے ٹوٹے ہوئے نوکیلے حصوں کی طرف بڑھا تو اس نے بلند آواز میں کہا’’ہاں یہاں ایک سرنگ ہے۔‘‘

عمارہ اور عارفین اسامہ کے ساتھ ساحل کی طرف بڑھے۔اسامہ نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’ہاں یہی وہ غار ہے۔‘‘

اسامہ سب سے پہلے غار میں داخل ہوا پھر تینوں اس کے پیچھے پیچھے غار میں داخل ہوگئے۔

غار کھلی اور کشادہ تھی جس کی وجہ سے وہ سارے بآسانی آگے بڑھاتے جا رہے تھے۔ وہ جوں جوں آگے بڑھتے جا رہے تھے غار میں تاریکی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ ٹارچوں کی روشنی میں آگے بڑھ رہے تھے۔ غار کی تاریکی کے ساتھ ان کا خوف بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ ہر قدم پر وہم ہوتا کہ کوئی خطرناک جانور ان کے سامنے آجائے گا۔

تقریباً آدھا گھنٹہ وہ اس سرنگ نما غار میں چلتے رہے چھوٹے چھوٹے زہریلے جانور راستے میں دکھائی دیتے رہے مگر کسی خطرناک جانور کا سامنا نہیں ہوا۔ غار میں تھوڑی تھوڑی سی روشنی دکھائی دی۔

’’لگتا ہے کہ یہ غار باہر کھل رہی ہے۔ دیکھو آہستہ آہستہ روشنی پھیل رہی ہے۔‘‘

وہ سرنگ نما غار ایک بڑے سے کھلے حصے میں جا کے ختم ہوگئی۔ ساحل سب سے آگے تھا اس کا دھیان اسامہ کی طرف تھا۔

’’اسامہ! مغرب کا وقت ہوگیا ہے۔ وہ ریسٹ ہاؤس اور کتنی دور ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد تو اندھیرا ہو جائے گا۔‘‘ عمارہ نے اسامہ سے کہا۔

’’سمجھو کہ ہم پہنچ گئے اسی پہاڑ کے پیچھے وہ ریسٹ ہاؤس ہے۔ وہاں پہنچنے میں ہمیں دیر نہیں لگے گی۔‘‘ یہ کہہ کر اسامہ اس پہاڑ کے ساتھ ساتھ موڑ کاٹتے راستے کی طرف چل پڑا۔ وہ تینوں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ تھوڑا سا چلنے کے بعد ہی انہیں وہ کھنڈر نما ریسٹ ہاؤس دکھائی دینے لگا۔ اس جگہ کے قریب پہنچے تو سب ساکت ہوگئے۔

’’واؤ۔۔۔Amazing یہ جگہ تو کسی عجوبے سے کم نہیں۔‘‘ عمارہ نے مبہوت نظروں سے اس جگہ کو دیکھا۔

عارفین ریسٹ ہاؤس کے دروازے کے طرف بڑھا۔ اس نے دروازے کو دھکا دیا مگر دروازہ نہیں کھلا جیسے کوئی بڑا سا پتھر دروازے کے آگے پڑا ہو جبکہ دروازے کے آگے کوئی چیز نہیں تھی۔ اسامہ اور عمارہ بھی ان دونوں کے قریب کھڑے تھے۔

اسامہ نے انہیں دروازے سے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا۔ وہ دونوں پیچھے ہٹ گئے۔ اسامہ نے دروازے پر اپنا ہاتھ رکھا اس کے صرف چھونے سے ہی دروازہ چٹاخ سے دو حصوں میں کھل گیا۔

’’یہ کیسے۔۔۔؟‘‘ ابھی الفاظ عارفین کے منہ میں ہی تھے کہ ساحل نے اپنی انگلی لہراتے ہوئے اشارہ کیا’’سوال نہیں۔‘‘

وہ سب اندر داخل ہو گئے دروازہ چٹاخ سے خود بخود بند ہوگیا۔ عمارہ نے حیرت سے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر چل پڑی۔

عمارہ ساحل کے ساتھ آگے بڑھی۔ کمروں میں بہت اندھیرا تھا۔ وہ ٹارچوں کی مدد سے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ انہوں نے ریسٹ ہاؤس کے سارے کمرے دیکھے۔ کمروں میں پڑا فرنیچر گل سڑ گیا تھا۔ سینکڑوں سالوں سے جیسے کوئی اس ریسٹ ہاؤس میں نہیں آیا۔

’’یہ ریسٹ ہاؤس تین کمروں ، ایک کچن اور ایک باتھ پر مشتمل ہے۔‘‘ عمارہ نے ساحل سے کہا وہ چاروں اس ریسٹ ہاؤس کے مختلف حصوں میں بکھر گئے۔

ساحل اور عمارہ ایک کمرے میں داخل ہوئے جو غالبا بیڈ روم تھا۔ جس کے فرش پر مٹی کی اتنی موٹی تہہ تھی کہ اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ اس مٹی کی تہہ کے نیچے کس طرح کا فرش ہوگا۔ ہر کمرے میں داخل ہوتے ہوئے پورے جسم سے خوف کی سنسنی سی دوڑ جاتی تھی کہ جن ہمزاد کو وہ ڈھونڈنے آئے ہیں نہ جانے وہ کب اور کس روپ میں ان کے سامنے آجائیں

وہ سب ہال نما کمرے میں آ گئے۔ عمارہ آتش دان کے قریب کھڑی ہوگئی۔

’’یہاں سے تھوڑی سی جگہ صاف کر لیتے ہیں۔‘‘ عمارہ اور ساحل دونوں مل کر وہاں سے فرش صاف کرنے لگے اور اسامہ اور عارفین آتش دان میں لکڑیاں جوڑ کر آگ جلانے کی کوشش کرنے لگے۔

کچھ ٹوٹی ہوئی کرسیوں کے ٹکڑے گرے ہوئے تھے۔ عارفین نے وہ ٹکڑے بھی آتش دان میں جوڑ دیے۔ اسامہ نے لائٹر سے آگ لگا دی۔

آتش دان میں آگ بھڑک اٹھی۔ جس سے نہ صرف ان کو حرارت ملی بلکہ کمرے میں سرخی مائل سی روشنی بھی پھیل گئی تھوڑا سا حصہ صاف کرنے کے بعد وہ چاروں سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے آتش دان کے قریب بیٹھ گئے۔

عمارہ نے اپنی کمر سے بیگ اتارا اور اس میں سے پانی کی بوتل نکالی۔ عارفین نے اپنے کندھے سکیڑتے ہوئے عمارہ کی طرف دیکھا۔

’’ہمیں سردی لگ رہی ہے اور تمہیں پیاس لگی ہوئی ہے۔‘‘

’’حلق خشک ہو رہا ہے۔‘‘ عمارہ نے پانی کا ایک گھونٹ لیا اور پھر بوتل کا ڈھکن بند کر دیا۔ ساحل عمارہ کے قریب ہو کے بیٹھ گیا۔

رات بہت ہو گئی تھی پورا ریسٹ ہاؤس گمبھیر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس پُر سکون خاموشی میں بھیانک راز پنہاں تھے۔ ہوا بھی جیسے اس سازش میں شامل ہوگئی تھی اور گھنے درختوں کے جھنڈ بھی جن میں کچھ تھا اور اس کے پتوں میں معمولی لرزش تک نہ تھی۔ دھیرے دھیرے شیطانی قوتیں جیسے اس ریسٹ ہاؤس کو اپنی لپیٹ میں لے رہیں تھیں۔

عمارہ نے اپنے بیگ سے ایک پلاسٹک کا ڈبہ نکالا۔ اس نے ڈبہ کھولا تو اس میں چھ شوارمے رول تھے۔ اس نے وہ رول اپنے تینوں ساتھیوں کو دیئے۔

’’ہم نے تو کھانے کا کچھ اور سامان رکھا تھا یہ شوارمے کہاں سے آگئے۔‘‘ ساحل نے شوارما لیتے ہوئے کہا۔

عمارہ بھی اپنا شوارما لے کر آلتی پالتی مار کے بیٹھ گئی

’’میں نے یہ ہوٹل سے لے لیے تھے میرا خیال تھا یہ کھانے کی کمی پوری کر دے گا۔‘‘

اسامہ نے اس کا لقمہ لیا

’’ہوں ،ویری ٹیسٹی یہ اچھا کیا تم نے۔۔۔‘‘

چاروں مزے لے لے کر شوارما کھانے لگے دائرے میں بیٹھنے کے بعد انہیں عجیب سا اطمینان تھا۔ اسامہ نے مسکراتے ہوئے عمارہ کی طرف دیکھا۔

’’ویسے تمہارے ساتھ ہونے سے یہ فائدہ تو ہے کہ ڈھنگ سے کچھ کھانے کو مل جاتا ہے۔ ایک بات تو بتاؤ۔۔۔‘‘

’’کیا۔۔۔‘‘ عمارہ نے لاپرواہی سے کہا۔

اسامہ اس کے تھوڑا قریب ہو کے بیٹھ گیا

’’تم اب تو مجھ سے ناراض نہیں۔‘‘

عمارہ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے شوارما کھاتے ہوئے ترچھی نظروں سے اسامہ کی طرف دیکھا۔

’’میں یہ نہیں کہوں گی کہ تم سے ناراض نہیں ہوں کیونکہ تم نے اپنی حرکتوں سے باز نہیں آنا اور پھر دوبارہ ایسی ویسی بات کہنی ہے۔‘‘

اسامہ نے اپنا شوارما تھامے ہوئے ہاتھ کی طرف دیکھا۔

’’میرا دوسرا ہاتھ نہیں ہے ورنہ میں کان ضرور پکڑتا۔‘‘

عمارہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔ اس نے اپنائیت سے اسامہ کی طرف دیکھا

’’تھوڑے پیچیدہ ہو مگر انسان اچھے ہو۔۔۔‘‘

اسامہ نے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولیں۔’’شکریہ۔۔۔‘‘

کھانے سے فارغ ہوکے وہ چاروں کچھ نہ کچھ پڑھنے لگے کوئی سورہ یٰسین تو کوئی چاروں قل۔ انہیں مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے رب کا سہارا ہی تھا۔

عمارہ، ساحل اور عارفین کی آنکھ لگ گئی۔ اسامہ نے ایک نظر ان تینوں پر ڈالی جو گہری نیند سو گئے تھے۔ اس نے ایک گہری سانس بھری اور اردگرد نظر دوڑائی۔ اس کی پوری کوشش تھی کہ وہ جاگتا رہے وہ تھوڑی دیر ہی اس کوشش میں کامیاب رہا بالآخر اس کا تھکا ہوا جسم ہار گیا اور وہ دھڑام سے زمین پر گر کر سو گیا۔

طلوع آفتاب کی من چلی شعایں جب ان کیساتھ اٹھکیلیاں کرنے لگیں تو عمارہ کی آنکھ کھل گئی۔ باقی تینوں گہری نیند سو رہے تھے۔ اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے دھیرے دھیرے چاروں طرف نظر دوڑائی اس کی آنکھیں عجیب نظارہ دیکھ رہی تھیں۔ سب کچھ بدل چکا تھا رات و رات کسی نے اس کمرے کو چمکا دیا تھا۔

اسے یوں لگ رہا تھا کہ وہ ماضی میں پہنچ گئی ہے۔

جب یہ ریسٹ ہاؤس نیا نیا تعمیر ہوا ہو۔ اس نے ساحل کو جھنجوڑا ’’ساحل اٹھو۔۔۔‘‘

اس کی آواز سے ساحل کے ساتھ عارفین اور اسامہ بھی اٹھ گئے۔ اس سے پہلے کہ عمارہ انہیں کچھ بتاتی ان کی حالت بھی عمارہ جیسی ہوگئی وہ بھی مبہوت نظروں سے کمرے کی چیزیں تکتے ہی رہ گئے۔

’’ریسٹ ہاؤس کا باقی حصہ دیکھتے ہیں‘‘ ساحل نے کہا۔

وہ چاروں ریسٹ ہاؤس کے مختلف کمروں میں بکھر گئے ہر کمرے کا نقشہ بدلا ہوا تھا۔ فرشوں سے لے کر ڈیکوریشن پیس تک ہر چیز چمک رہی تھی۔ صحن کا نظارہ تو بہت خوبصورت تھا۔ پتھریلی زمین والی خالی کیاریوں میں خوبصورت پودے لگے ہوئے تھے جن کے اردگرد بہت نفاست سے باڑ لگائی گئی تھی۔ ان کیاریوں میں گلاب کے پودے زیادہ تھے جن پر سرخ گلابی اور سفید گلاب کے پھول کھلے ہوئے تھے۔

وہ چاروں صحن میں کھڑے تھے۔ اس خوبصورتی سے مسرور ہونے کے بجائے وہ خوفزدہ تھے۔ ساحل الٹے قدموں سے پیچھے ہٹنے لگا۔

’’کوئی ایک رات میں یہ سب کیسے کر سکتا ہے۔ مجھے تو یوں لگ رہا ہے جیسے سینکڑوں سال پہلے فوت ہونے والے لوگ بھی ہمیں یہاں چلتے پھرتے دکھائی دیں گے۔‘‘

عمارہ کمرے میں داخل ہونے کے بعد کچن میں داخل ہوئی۔ عمارہ خوفناک انداز میں چیخی تو وہ تینوں کچن کی طرف بھاگے۔

وہ کچن میں پہنچے تو عمارہ نے سامنے دیوار کی طرف اشارہ کیا۔ تازے چپچپاتے خون سے دیوار پر لکھا تھا

’’طلسماتی اور سنسناتی دنیامیں خوش آمدید۔‘‘

دیوار کے قریب ہی میز پر گرم گرم ناشتہ سجا ہوا تھا۔

وہ سب جیسے سُن ہو گئے۔ سہمی سہمی نظروں سے ان چاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا

’’یہ سب کیا ہے اسامہ۔۔۔‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

اسامہ نے بلند آواز میں کہا

’’یہ ہمزاد کی موجودگی کا اعلان ہے مگر ہم وہ سب نہیں کریں گے جو فواد اور اس کے دوستوں نے کیا۔ ہم اعلان جنگ کریں گے۔‘‘ یہ کہہ کر اسامہ نے اپنے بیگ سے خنجر نکالا اور عمارہ کی طرف بڑھایا۔

’’یہ خنجر پکڑو اور میرے بازو پر کٹ لگاؤ۔۔۔‘‘

عمارہ نے خنجر نہیں پکڑا ’’یہ مجھ سے نہیں ہوگا۔‘‘

اسامہ ساحل کی طرف بڑھا ’’تم کٹ لگاؤ۔۔۔‘‘

ساحل نے نفی کے انداز میں سر ہلایا تو اسامہ بھڑک کے بولا ’’جو میں کہتا ہوں کرو۔۔۔‘‘

ساحل نے اس کے بازو پر کٹ لگا دیا۔

اس کے زخم سے خون رسنے لگا۔ اس نے ایک میز پر خون کے قطرے گرائے اور پھر اس نے اپنی انگلی اپنے خون پر رکھی اور دیوار پر کندہ پُراسرار تحریر کا جواب لکھنے لگا۔

اس نے بھی خون سے لکھا

’’طلسماتی اور سنسناتی دنیا سے سبکدوش ہونے کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘

عارفین ، اسامہ اور ساحل تینوں پتھر کے بت کی طرح کھڑے تھے ان کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئی تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ وہ اپنی موت کو للکار چکے ہیں۔ وہ چاروں اعلان جنگ کر چکے تھے۔

جس کا نتیجہ بھیانک ترین ہو سکتا تھا۔ اسامہ عمارہ کے قریب کھڑا ہوگیا۔ ان کی کوشش تھی کہ وہ ایک دوسرے سے دور نہ ہوں۔ اچانک پہاڑوں میں زلزلے کی بھیانک گونج کے ساتھ کچن کی ہر چیز لرزنے لگی۔ ٹیبل کے ہلنے کی وجہ سے میز پر رکھے برتن ٹک ٹک کی آواز کے ساتھ ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔

اسامہ کی آنکھوں کے سامنے ایک ہی ساعت میں عمارہ ، ساحل اور عارفین اپنی جگہ سے غائب ہوگئے ایک لمحے لیے لیے اسامہ کو ایسا لگا جیسے کسی نے اس کی روح کھینچ لی ہو۔ وہ حواس باختہ ہوگیا۔ اس نے بازو پھیلائے اور اوپر کی طرف دیکھتے ہوئے چلایا۔

’’اس طرح چھپ کے وار مت کرو ہمارے سامنے آؤ۔‘‘

اسامہ نے ابھی یہ کہا ہی تھا کہ عمارہ کی دلسوز چیخیں اس کی سماعت سے ٹکرائیں۔ وہ کچن سے باہر نکلا اور آواز کی سمت پاگلوں کی طرح دوڑنے لگا۔ آواز کا تعین کرتے کرتے اسامہ ریسٹ ہاؤس کے بر آمدے تک پہنچ گیا داخلی دروازے کے دونوں حصے کھلے ہوئے تھے چیخوں کی آوازیں ریسٹ ہاؤس کے باہر سے آرہی تھیں۔ وہ ایک لمحے کے لیے اپنے ذہن کی نہیں سن رہا تھا۔ بس دوڑتا جا رہا تھا۔

وہ پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ گیا۔ چیخوں کی بازگشت اس طرح گونج رہی تھی کہ اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا تھا کہ وہ آوازیں کہاں سے آرہی ہیں۔ وہ پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا پھر نیچے کی طرف دیکھا جہاں گہری کھائیاں تھیں۔ اسی دوران اس کی نظر پہاڑ کے ایک کونے سے ابھرتے ہوئے درخت پر پڑی وہ سر تا پا کانپ کے رہ گیا۔ عمارہ درخت کی شاخ کو دونوں ہاتھوں سے تھامے لٹکی ہوئی تھی نیچے گہری کھائیاں تھیں اور اس کے ہاتھوں کی گرفت کسی بھی وقت ڈھیلی ہو سکتی تھی۔

’’عمارہ حوصلہ رکھو میں آرہا ہوں۔‘‘

یہ کہہ کر اسامہ نے اپنے بیگ سے بیلٹ اور رسی نکالی اس نے اپنی کمر پر بیلٹ پہنی جس کے ساتھ اس نے رسی کا ہک اٹکایا۔ رسی کا دوسرا حصہ اس نے بڑے سے پتھر پر باندھ دیا اور دھیرے دھیرے پہاڑ کی چوٹی سے اترتا ہوا عمارہ کی طرف بڑھنے لگا۔ اس نے عمارہ کے قریب پہنچ کر اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

’’عمارہ میرا ہاتھ پکڑ لو تو تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ ہمت کرو۔‘‘

روتی ہوئی عمارہ کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل گئے اس کے لبوں پہ تضحیک آمیز مسکراہٹ بکھر گئی اس نے اپنے دونوں ہاتھ چھوڑ دیئے۔

اسامہ چلایا ’’عمارہ۔۔۔‘‘

عمارہ کا چہرہ بھیانک ہوگیا اور وہ کسی چڑیل کی طرح چنگھاڑتی ہوئی ہوا میں اڑتی ہوئی دوسرے پہاڑ پر جا بیٹھی اور پھر غائب ہوگئی۔ اسامہ پہاڑ پر جوگرز لگاتے ہوئے بمشکل اوپر چڑھا۔ کسی نے اس کی سماعت میں سرگوشی کی

’’تم جانتے ہو کہ ہمزاد اسی طرح تنگ کرتے ہیں پھر بھی تم ان کے دھوکے میں آ گئے۔‘‘

اسامہ نے جبیں پیمائی کرتے ہوئے خودکلامی کی

’’پتہ نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا۔۔۔‘‘

پھر وہ وقت ضائع کئے بغیر ریسٹ ہاؤس میں واپس چلا گیا۔ وہ اونچی اونچی آواز میں اپنے دوستوں کو پکارنے لگا

’’عمارہ، ساحل، عارفین۔۔۔‘‘

بدلے میں اسے کوئی جواب نہ ملا۔

وہ دھیرے دھیرے قدم رکھتا ہوا صحن میں چلتا رہا اور ساتھ ساتھ دعا پڑھتا رہا۔ اس کا پاؤں لکڑی کی کسی چیز سے ٹکرایا۔ اس نے نیچے دیکھا تو لکڑی کا ایک تختہ سا تھا۔ اسامہ اس تختے کے قریب بیٹھ گیا۔ تختے کا آدھا حصہ ابھرا ہوا تھا۔ اس نے ابھرے ہوئے حصے کو دائیں طرف دکھیلا تو با آسانی فرش کے نیچے کسی فریم میں داخل ہوگیا۔ ایک لکڑی کی سیڑھی اندر جاتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ اسامہ نے اندر جھانک کہ دیکھا غالباً یہ تہہ خانہ تھا۔وہ زیادہ سوچے بغیر اس لکڑی کی سیڑھی سے تہہ خانے میں اتر گیا۔ گھٹی گھٹی سی آوازیں اسامہ کی سماعت سے ٹکرائیں تو وہ بوکھلا گیا۔ وہ ٹارچ کی روشنی میں ان آوازوں کی سمت میں بڑھنے لگا۔ اس کا دل دہل رہا تھا۔ اس کے قدم اسے ان آوازوں تک لے گئے۔

گھٹی گھٹی بے بس آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں مگر اسے کوئی نظر نہیں آرہا تھا کسی نے اس کے پاؤں پر زور سے اپنا پاؤں مارا تو اس نے میز کے نیچے دیکھا۔ تو عمارہ میز کے ساتھ بندھی گھٹے گھٹے سانس لے رہی تھی۔ عارفین اور ساحل بھی میز کے ساتھ بندھے ہوئے تھے ان کی حالت بھی عمارہ جیسی تھی۔

اس نے عمارہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا

’’خود کو سنبھالو عمارہ! میں آگیا ہوں۔‘‘

اس نے پہلے عمارہ کو کھولا اور پھر دونوں کو۔ ان کی یہ حالت دم کشی کی وجہ سے تھی۔

اسامہ نے ان تینوں کو تہہ خانے سے باہر نکالا۔ تہہ خانے سے باہر نکلتے ہی وہ لمبے لمبے سانس لینے لگے۔ اسامہ نے پانی کی بوتل نکالی تو تینوں نے پانی سے منع کر دیا۔ وہ آکسیجن کی کمی کے باعث نڈھال ہوگئے تھے ۔۔۔صحن میں آنے کے بعد ان کی طبیعت میں کافی بہتری آگئی تھی۔ اسامہ ان کے پاس بیٹھ گیا۔

عمارہ نے تھکی تھکی آنکھوں سے اسامہ کی طرف دیکھا

’’تم کچھ دیر اور تہہ خانے میں نہ آتے تو اپنے دوستوں کی لاشیں تمہیں ملتیں۔‘‘

اسامہ نے عمارہ کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا

’’ایسا کبھی نہ ہو۔۔۔‘‘

پھر وہ عمارہ کے پاس سے اٹھ کر ساحل اور عارفین کے پاس بیٹھ گیا

’’اب بہتر محسوس کر رہے ہو؟‘‘

ساحل نے لمبا سانس کھینچا

’’ہاں۔۔۔اب کافی بہتر ہوں۔‘‘

اسامہ نے عارفین کے بال سہلائے ’’اور تم۔‘‘

عارفین نے اثبات میں سر ہلایا۔’’ٹھیک ہوں۔‘‘

عمارہ کافی نڈھال لگ رہی تھی۔

’’مجھے تھوڑی دیر کے لیے ریسٹ ہاؤس سے باہر لے جاؤ۔‘‘

عمارہ نے اسامہ سے کہا تو اسامہ اس کے قریب بیٹھ گیا

’’ابھی تم ٹھیک طرح سے چل نہیں سکتی تھوڑی دیر کے بعد چلتے ہیں۔‘‘

عمارہ نے اپنائیت سے اسامہ کی طرف دیکھا ’’پلیز۔۔۔‘‘

اسامہ کھڑا ہوگیا۔ اس نے عمارہ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔ عمارہ اس کا ہاتھ تھام کر کھڑی تو ہوگئی مگر چلتے ہوئے اس کے قدم لڑکھڑانے لگے۔

اسامہ نے سہارا دیا اور ساحل کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا ’’میں تم لوگوں کو بھی ابھی لے جاتا ہوں۔‘‘

ساحل اور عارفین دونوں کھڑے ہوگئے ’’آپ عمارہ کو لے کر جائیں ہم دونوں چل سکتے ہیں ہم خود آجائیں گے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ دونوں بھی اسامہ کے ساتھ چلنے لگے۔

کچھ دور جا کر اسامہ اور عمارہ گھاس پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنے اردگرد دیکھا تو اس خوشگوار قدرتی ماحول سے ایک عجیب سی تسکین کا احساس ہوا۔ ان کے آس پاس اخروٹ اور چیڑ کے گھنے درخت تھے۔ زمین پر کچھ خود رو جھاڑیاں تھیں جن پر جامنی رنگ کے خوبصورت پھول اس قدر زیادہ تھے کہ اس نے پوری زمین کو ہی جامنی رنگ میں رنگ دیا تھا۔

اسی دوران عارفین کی آواز عمارہ کی سماعت سے ٹکرائی

’’واؤ۔۔۔کتنی خوبصورت تتلیاں ہیں۔ یہ تو خود رو جھاڑیوں کے پھولوں پر بھی اس طرح بیٹھی ہیں جیسے گلاب پر بیٹھی ہوں۔‘‘

اسامہ اور عمارہ نے ایک ساتھ ان پھولوں کی طرف دیکھا۔

دلفریب رنگوں کے پروں والی خوبصورت تتلیاں جامنی پھولوں پر منڈلا رہی تھیں۔ دھیرے دھیرے تتلیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اسامہ برقی سرعت سے اٹھا اس نے بیگ سے ایک چاک اور چھوٹی سی کتاب نکالی۔

’’جلدی سے دائرہ کھینچو۔‘‘ اس نے عمارہ کو چاک دیتے ہؤے کہا اور خود کتاب سے اونچی آواز میں خاص آیات پڑھنے لگا۔

وہ آیتیں پڑھتا رہا اور عمارہ دائرہ کھینچتی رہی۔ دائرہ مکمل ہوگیا تو اسامہ نے پڑھنا چھوڑ دیا۔

وہ سب دائرے میں ایک دوسرے کے قریب ہو کے بیٹھ گئے اسامہ نے ایک نظر سب کو دیکھا

’’ہم اس دائرے میں محفوظ ہیں جو بھی دائرے سے نکلا وہ ہمزاد کا شکار بن جائے گا۔‘‘

’’لیکن مجھے تو آس پاس ایسا کچھ نظر نہیں آرہا۔‘‘ عارفین نے حیرت سے اردگرد دیکھا تو اسامہ نے اپنے لبوں پر انگشت رکھ کے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اسی انگلی سے تتلیوں کی طرف اشارہ کیا۔

اسامہ سمیت ان تینوں کی نظریں ان تتلیوں کی طرف مرکوز ہوگئی۔ تتلیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی کہ جامنی پھول بالکل چھپ گئے۔

ان تتلیوں میں سے ایک تتلی نکل کر ہوا میں ادھر ادھر اڑنے لگی پھر وہ چیڑ کے درخت کے پاس جا کے جیسے ہوا میں معلق ہوگئی۔ اس کے پروں کی حرکت رک گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ تتلی وشاء کے سراپا وجود میں تبدیل ہوگئی۔ وشاء کا لباس اسی طرح کا تھا جس طرح کے رنگ اس تتلی کے پروں میں تھے۔ وہ اس ملٹی کلر کے گاؤن میں بہت خوبصورت دکھائی دے رہی تھی مگر اس کی خوبصورت آنکھوں میں بغاوت تھی۔ چہرے پر کھچاؤ تھا۔ پیشانی پر شکنیں تھیں۔

وہ دائرے کے گرد بے چینی سے ٹہلنے لگی اور پھر اخروٹ کے درخت کے قریب کھڑی ہوگئی۔ وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی جیسے اس کے اندر کوئی الاؤ سلگ رہا ہو۔ وہ شرابور نگاہوں سے ان چاروں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ چند سکینڈز کے بعد اس کے قریب سفید ہیولا نمودار ہوا جو حوریہ کے وجود میں ڈھل گیا۔

دائرے میں ان چاروں نے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام لیے اور متوحش نظروں سے ان خوبصورت بلاؤں کو دیکھنے لگے جو ان چاروں کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔

حوریہ نے سفید فراک پہن رکھا تھا۔ اس کے لمبے بال بے جان اور خشک تھے۔ چہرے میں زندگی کی رمق نہیں تھی جلد خشک۔۔۔آنکھیں سرد اور پتھرائی ہوئی گویا کہ وہ کسی مردے جیسی ہی تھی۔

اچانک کسی عورت کے رونے اور سسکیاں لینے کی آواز سنائی دینے لگی غالباً یہ آوازیں اس پہاڑ کے پیچھے سے آرہی تھی جس کے خوبصورت سبزے سے بھرے دامن میں وہ سب کھڑے تھے۔

آواز قریب تر ہوتی جا رہی تھی۔ دلسوز آواز کسی ادھیڑ عمر عورت کی لگ رہی تھی جو اس قدر بے حال تھی کہ جیسے اس میں رونے کی سکت بھی نہ رہی ہو۔

اسامہ اور اس کے ساتھی ایک دوسرے کی طرف تذبذب سی کیفیت میں دیکھ رہے تھے۔ یہ درد میں ڈوبی آواز ان کے دل دہلا رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد پہاڑ کے پیچھے سے ایک نوجوان نکلا جس نے پینٹ شرٹ کے ساتھ لانگ کوٹ پہنا ہو اتھا لانگ کوٹ کے ساتھ جڑی ہوئی ٹوپی اس نے سر پر ڈال رکھی تھی جس نے اس کا چہرہ اس طرح ڈھانپا ہوا تھا کہ اس کی آدھی ناک اور ہونٹ نظر آرہے تھے۔ اس نے وہی لباس زیب تن کیا ہوا تھا جو زرغام نے مرتے وقت پہنا ہوا تھا۔

پھر جو نظارہ ان کی آنکھوں نے دیکھا ان چاروں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ جوان عمارہ کی والدہ رابعہ کو بازوؤں میں پکڑے پتھروں پر گھسیٹتا ہوا ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ رابعہ نیم بیہوشی کی حالت میں سسکیاں لے رہی تھی۔ اس کے جسم سے جگہ جگہ خون رس رہا تھا۔

عمارہ چیختی چلاتی دائرے سے باہر بھاگنے لگی تو اسامہ نے اسے اپنے مضبوط بازو میں جکڑ لیا

’’پاگل ہوگئی ہو یہ سب نظر کا دھوکہ ہے وہ شخص زرغام ہے اور وہ سب مل کر ڈرامہ رچا رہے ہیں ہمیں دائرے سے باہر نکالنے کے لیے۔۔۔‘‘ عمارہ اسامہ کے بازو پر مکے مارنے لگی۔

’’تم مجھے چھوڑ دو۔۔۔میں کچھ نہیں جانتی مجھے اپنی ماں کے پاس جانا ہے۔ میری ماں موت کے دہانے کھڑی ہے اور تم مجھے روک رہے ہو۔‘‘

’’ہوش سے کام لو۔۔۔‘‘ اسامہ نے عمارہ پر اپنی گرفت اور مضبوط کر لی۔

ساحل اور عارفین بھی یہ منظر دیکھ کر تڑپ اٹھے تھے ساحل نے طیش بھری نظروں سے اسامہ کی طرف دیکھا۔

’’پاگل عمارہ نہیں بلکہ تم ہوگئے ہو وہ لوگ آنٹی کو جان سے مار دیں گے اور یہ ہولناک منظر ہم یہاں کھڑے کھڑے نہیں دیکھ سکتے۔‘‘

’’اگر تم لوگوں کو میری بات پر یقین نہیں ہے تو میں دائرے سے باہر نکلوں گا۔ تم تینوں ادھر ہی رہو گئے دائرے میں‘‘ اسامہ نے ساحل کو سمجھایا۔

عمارہ اسامہ کی گرفت میں اونچی اونچی آواز میں رو رہی تھی مگر وہ خود کو اس کی گرفت سے چھڑا نہ پا رہی تھی۔

وہ پراسرار نوجوان رابعہ کو گھسیٹتا حوریہ اور وشاء کے قریب لے آیا۔

رابعہ درد سے کراہ رہی تھی اور وہ دونوں اس کے درد سے لطف اندوز ہو رہی تھیں ان کے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ بکھرئی ہوئی تھی۔

’’مضبوط اعصاب کی مالک ہے جو ابھی تک زندہ ہے ورنہ جس بیدردی سے تم اسے گھسیٹتے ہوئے لا رہے ہو۔۔۔اسے تو ابھی تک مر جانا چاہئے تھا۔۔۔حوریہ نے اپنی سرد آنکھوں سے رابعہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر اس کے قریب بیٹھ گئی۔

اس نے اپنا ہاتھ رابعہ کی گردن کی طرف بڑھایا ور پھر پیچھے کھینچ لیا

’’نہیں اسے اتنی آسان موت نہیں دینی چاہئے ہمیں تو لاش ٹکڑوں میں چاہئیے۔‘‘

پُراسرار نوجوان خفیف سا مسکرایا اور اس نے سامنے پہاڑ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا۔ چند ہی ساعتوں میں پہاڑ کے پیچھے سے بہت سے کتوں کے بھوکنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں اور پھر تھوڑی ہی دیر میں بھیڑیا نما خوفناک کتے پہاڑ سے نیچے اترنے لگے۔ وہ تعداد میں سات تھے۔

وہ بھونکتے ہوئے حملے کے انداز میں آگے بڑھ رہے تھے۔ عمارہ نے دیکھا کہ وہ خونخوار کتے اس کی ماں کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اس نے اپنا پاؤں زور سے اسامہ کی ٹانگ پر مارا اسامہ نے ایک جھٹکا لیا مگر اس نے عمارہ کو نہیں چھوڑا۔

وشاء، حوریہ اور وہ نوجوان مسلسل مسکرا رہے تھے۔ وہ رابعہ کی موت کا تماشا دیکھنے کے لیے بے چین بھی تھے۔

کتے رابعہ کے قریب آچکے تھے۔ رابعہ خونخوار کتوں کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کے اپنے زخمی وجود کو گھسیٹتی ہوئی خود کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی اس کے جسم سے خون رس کر زمین کو رنگ رہا تھا۔

خود کو اسامہ کی گرفت سے چھڑانے کی جب سب کوششیں ناکام ہوگئیں تو عمارہ نے اس کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔

اسامہ نے اپنا ہاتھ جھٹکا تو وہ اس کی گرفت سے نکل گئی۔

’’عمارہ۔۔۔‘‘ اسامہ نے اسے روکنا چاہا مگر وہ دائرے سے باہر نکل گئی۔

اسامہ بھی اسکے پیچھے دائرے سے باہر آگیا۔ عمارہ اپنی زخمی ماں کی طرف لپکی مگر جونہی اس نے اپنی ماں کو چھوا وہ سیاہ دھویں میں تبدیل ہو کے فواد کا روپ دھار گئی۔

عمارہ نے پتھرائی آنکھوں سے شکاری کتوں کی طرف دیکھا تو وہ کتے ہوائی وجود کی طرح غائب ہوگئے عمارہ چیخ کر اسامہ کے شانے سے جا لگی۔

پُراسرار نوجوان نے اپنے سر سے ٹوپی پیچھے کی اور خود کو بے نقاب کر دیا۔ وہ زرغام ہی تھا۔ ساحل اور عارفین بھی دائرے سے باہر آچکے تھے اور دائرہ بھی مٹ چکا تھا۔

اسامہ اور عمارہ آگے کھڑے تھے اور ساحل اور عارفین ان کے پیچھے کھڑے تھے۔ ساحل اور عارفین کو یقین ہوگیا تھا کہ اب وہ زندہ نہیں بچیں گے مگر پھر بھی ان کے حوصلے پختہ تھے۔ موت کو اس قدر قریب پا کے بھی ان کے چہروں پر ڈر کے تاثرات نہیں تھے کیونکہ وہ ذہنی طور پر اس چیز کے لیے تیار تھے

زرغام مسکراتا ہوا ان کے قریب آیا۔

’’تم چاروں ہم سے مقابلہ کرنے آئے تھے تم چاروں کو تو ہم چیونٹیوں کی طرح مسل سکتے ہیں لیکن تم چاروں سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ ایک سودا کر لو ہم تم چاروں کی جان بخش دیں گے۔ تم خیام کو ہمارے حوالے کر دو۔‘‘

’’ہم خیام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔‘‘ اسامہ اور عمارہ نے جواب دیا۔

زرغام نے زور دار قہقہہ لگایا۔

’’تم چاروں مجھے بیوقوف سمجھتے ہو۔ تم چاروں کو یہاں تک لانے والا کون ہے؟ تم چاروں ہم تک کیسے پہنچ گئے؟‘‘

’’اس ریسٹ ہاؤس میں کالے جادو کا عمل کیسے ہوا؟ یہ سب بتانے والا خیام ہے۔‘‘ یہ کہہ کر زرغام اسامہ کے قریب آیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ طیش میں جھٹکے سے پیچھے ہٹا۔

’’اس وقت وہ اس کے وجود میں نہیں ہے‘‘ پھر ادھر ادھر دیکھ کر چلانے لگا

’’خیام! ہمارے سامنے آؤ۔۔۔‘‘

اسامہ نے بہت ہوشیاری سے اپنے بیگ سے ایک کپڑے کی پوٹلی نکال لی۔ جس میں ایک کافور کی ڈلی کے ساتھ چکنی مٹی کے چار چھوٹے چھوٹے گولے تھے جن پر خاص عمل کیا گیا تھا اور ان پر زرغام، وشاء ، حوریہ اور فواد کے ناموں کے ہندسے کندہ تھے۔

جس پہاڑ کے دامن میں وہ سب کھڑے تھے۔ اس کے قریب ہی ایک چھوٹی سی آبشار بہہ رہی تھی جو نیچے گرکے چشمے کی صورت اختیار کر رہی تھی۔

اس نے احتیاط سے وہ پوٹلی عمارہ کے ہاتھ میں تھما دی اور سرگوشی کے انداز میں کہا

’’اسے چشمے کی طرف اچھال دو۔‘‘

عمارہ نے فورا وہ پوٹلی چشمے کی طرف اچھال دی۔ جونہی وہ پوٹلی پانی میں گری وہ سارے ہمزاد غائب ہوگئے۔

اسامہ نے عمارہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے عارفین اور ساحل کی طرف دیکھا۔’’نکلو یہاں سے۔۔۔‘‘

ساحل اور عارفین اسامہ کے پیچھے بھاگنے لگے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اسامہ کہاں جا رہا ہے۔ وہ پہاڑوں کے کٹاؤ دار حصوں پر قدم رکھتے ہوئے پہاڑوں کے نشیب و فراز سے گزر رہے تھے۔

اسامہ اور عمارہ کوئی بات کیے بغیر بس بھاگ رہے تھے کہاں جانا چاہتے تھے ساحل اور عارفین کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ ساحل نے اسامہ کو پکارا۔

’’کہاں بھاگے جا رہے ہو۔ اگر زرغام پھر ہمارے سامنے آگیا۔۔۔تو ہمیں کوئی قریبی جگہ دیکھ کے چھپ جانا چاہئےء۔‘‘ اسامہ نے بھاگتے بھاگتے ہی اونچی آواز میں کہا

’’قریبی نہیں محفوظ جگہ پر۔۔۔جو اب قریب ہی ہے۔‘‘ کافی نیچے اترنے کے بعد اسامہ ایک پہاڑ کے قریب کھڑا تھا۔ اس پہاڑ میں ایک غار دکھائی دے رہی تھی۔

’’میرا خیال ہے کہ یہی جگہ مناسب ہے۔‘‘ اسامہ نے ساحل سے کہا اور پھر سب نے اپنی اپنی ٹارچیں آن کر لیں اور اس غار میں داخل ہوگئے۔ غار کافی گہری اور کھلی تھی وہ سب مناسب سی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے۔

’’ہم کس طرح چین سے بیٹھ سکتے ہیں وہ بد روحیں کسی بھی وقت ہمارے سامنے آسکتی ہیں۔‘‘ عمارہ نے گھبراہٹ میں کہا۔

اسامہ نے اپنا ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا

’’اطمینان رکھو۔۔۔جب تک وہ مٹی گولے پانی میں گھل نہیں جاتے وہ ہمزاد ہمارے سامنے نہیں آسکتے ہم ان کی گرفت سے آزاد ہیں مگر ہمیں اس دوران اپنے بچاؤ کا اگلا بندوبست کرنا ہوگا کیونکہ مٹی کو گھلنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔‘‘ ساحل اور عارفین اسامہ کے قریب ہوگئے

’’ہمیں بتاؤ کیا کرنا ہے۔۔۔۔‘‘

’’فی الحال تم کچھ لکڑیاں جمع کر کے آگے لگاؤ۔ میں کہیں سے چکنی مٹی ڈھونڈتا ہوں ہمیں مٹی کی گولیاں اور بنانی ہوں گی۔‘‘

اسامہ کی بات سن کے عمارہ نے کہا

’’میں تمہارے ساتھ چکنی مٹی ڈھونڈتی ہوں۔‘‘

ساحل اور عارفین غار سے باہر جا کر لکڑیاں اکٹھی کرنے لگے۔ اسامہ اور عمارہ فوری اٹھ کے چکنی مٹی ڈھونڈنے لگے۔ وہ دونوں غار سے باہر چلے گئے۔ انہیں جلد ہی چکنی مٹی مل گئی۔

وہ چکنی مٹی لے کر غار میں آگئے۔ اسامہ نے ایک بڑا سا چپٹا پتھر لیا اور اس کے اوپر مٹی رکھ دی۔ عمارہ نے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی اور اسامہ کے ہاتھ میں تھما دی۔ اسامہ نے مٹی میں پانی ڈال کر مٹی کو گوندھنا شروع کردیا۔ جب مٹی تھوڑی سی گندھ گئی تو اسنے کوئی خاص عمل پڑھنا شروع کر دیا۔ وہ عمل پڑھتا جاتا اور گوندھی ہوئی مٹی میں پھونک مار کے اسے پھر گوندھنا شروع کر دیتا اس نے تین دفعہ مٹی کو گوندھا اور تین بار عمل پڑھ کر اس پر پھونک ماری اور پھر اسنے اس مٹی کی چھوٹی چھوٹی سی بارہ گیندیں سی بنا لیں۔

عمارہ حیرت سے اسامہ کی طرف دیکھ رہی تھی کہ ایک ریٹائرڈ میجر یہ سب کیسے جانتا ہے۔ ساحل اور عارفین نے لکڑکیاں اکٹھی کرکے آگ لگا دی۔

اسامہ نے مٹی کی وہ گولیاں آگ میں جھونک دیں اور ایک لکڑ کی کی چھڑی سے انہیں الٹ پلٹ کرنے لگا۔

سردی بھی بہت شدید تھی۔ وہ سارے آگ کے گرد بیٹھ گئے۔

’’اسامہ ! اب ہمیں آگے کیا کرنا ہے۔۔۔‘‘ ساحل نے پوچھا۔

’’اب آگے ہمیں جو کرنا ہے یہ حالات پر منحصر ہے۔ ہمیں خود کو بھی بچانا ہے اور انہیں بھی ختم کرنا ہے۔‘‘ عمارہ اور عارفین بھی اسامہ کی بات توجہ سے سن رہے تھے۔ عمارہ نے فوراً کہا۔

’’اسامہ ! ہم صرف مرنے کے لیے ان کے سامنے نہیں جا سکتے۔ ہمارے پاس کوئی پلان ہونا چاہئے۔‘‘

’’میں ایسا اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میری معلومات بس یہیں تک تھی میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں حالات بتائیں گے کہ ہمیں آگے کیا کرنا ہے۔ ہمارا پلان ہے ایسے ہی تو ہم اتنی بڑی جنگ لڑنے کے لیے نہیں آئے۔‘‘ اسامہ نے معنی خیز انداز میں جواب دیا۔

’’کیا پلان ہے ہمیں ابھی بتا دو نہ جانے دوبارہ ہم اس طرح مل کر بیٹھ سکیں یا نہ بیٹھ سکیں۔‘‘ساحل نے پوچھا۔

اسامہ نے انہیں تھوڑا قریب ہونے کے لیے کہا اور پھر انہیں اپنا پلان بتانے لگا۔

’ہمیں وقت ضائع کیے بغیر ریسٹ ہاؤس جانا چاہئے۔۔۔‘‘ ساحل نے کہا۔

’’ہاں۔۔۔ہم نے اپنے بچاؤ کا بندوبست کر لیا ہے اب ہمیں چلنا چاہئے۔۔۔۔‘‘ اسامہ نے کپڑے کی پوٹلی اپنے بیگ میں رکھتے ہوئے کہا اور پھر عمارہ اور عارفین بھی کھڑے ہوگئے۔

عمارہ اپنا بیگ اٹھا کے اسامہ کی طرف بڑھی’’تمہیں اپنے بیگ سے پوٹلی نکالنے میں دقت ہوتی ہے تم یہ پوٹلی مجھے دے دو میں اپنے بیگ میں رکھ لیتی ہوں۔‘‘

’’ہاں یہ بھی ٹھیک ہے‘‘ اسامہ نے پوٹلی عمارہ کے بیگ میں ڈال دی۔ اور اس کے شانے پہ دھیرے سے ہاتھ رکھا۔

’’بہت احتیاط کی ضرورت ہے ہم اسو قت ان کے ٹارگٹ پر ہیں۔ کوئی بھی غفلت نہیں ہونی چاہئے۔‘‘

عمارہ نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر گویا ہوئی’’میرے خیال میں ہمیں سب سے پہلے اس جگہ سے تلاش شروع کرنی چاہئے جہاں ہمیں زرغام نے قید کیا تھا اس تہہ خانہ کا دروازہ کھلا رہے گا تو آکسیجن کا مسئلہ نہیں ہوگا۔‘‘

عمارہ کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی عارفین بے تکان بولا

’’اور اگر کسی تہہ خانے کا دروازہ بند کر دیا تو وہ تہہ خانہ ہماری مشترکہ قبر بن جائے گا۔‘‘

ساحل تپ کر بولا

’’کبھی تو منہ سے اچھی بات نکال دیا کر‘‘ پھر وہ اسامہ سے مخاطب ہوا۔

’’میرا خیال ہے کہ عمارہ ٹھیک کہہ رہی ہے وہ جگہ بالکل کسی لیب جیسی ہے ۔ہو سکتا ہے ہمیں وہاں سے کچھ مل جائے۔ میں تہہ خانے کے دروازے کے پاس ہی بیٹھوں گا جونہی خطرہ محسوس کروں گا آپ لوگوں کو آگاہ کر دوں گا۔‘‘

’’ٹھیک ہے پھر پہلے ادھر ہی جاتے ہیں‘‘ اسامہ نے کہا اور وہ سب وہاں سے نکل کر ریسٹ ہاؤس کی طرف بڑھے۔ وہ ریسٹ ہاؤس سے زیادہ فاصلے پر نہ تھے اس لیے جلدی ہی ریسٹ ہاؤس پہنچ گئے۔

ریسٹ ہاؤس میں داخل ہوتے ہی عجیب طرح کی دہشت ان کی رگوں میں سرائیت کر گئی تھی کیونکہ اب انہیں ایک پل کا بھروسا بھی نہ تھا کہ کب ہمزاد ان پر حملہ کر دیں۔

وہ ہال نما کمرے سے گزرتے ہوئے صحن کی طرف بڑھے وہ تیز تیز قدموں سے تہہ خانے کے دروازے کے قریب آئے۔ تہہ خانہ کا دروازہ بند تھا۔

ساحل نے آگے بڑھ کر تہہ خانہ کے دروازے کے کلپ کو دائیں طرف دھکیلا تو وہ وہ دروازہ کھل کر سرکتا ہوا ایک فریم میں داخل ہوگیا۔

ساحل دروازے کے قریب ہی بیٹھا رہا اور اسامہ، عمارہ اور عارفین سیڑھیوں کے زینے سے نیچے اتر گئے۔

نیچے وہی گھٹن اور بدبو دار ماحول تھا۔ مگر ان کی مجبوری تھی۔ وہ خود پر قابو رکھتے ہوئے سارے ٹیبلز کے درازوں کی تلاشی لینے لگے۔ یہاں بہت گندگی اور غلاظت تھی انہوں نے اپنے ناک پر رومال رکھے ہوئے تھے۔

یہ جگہ بالکل کسی پراسرار لیبارٹری جیسی تھی۔ لمبے لمبے ٹیبلز پر بڑے بڑے اسٹینڈ تھے۔ جن میں شیشے کے چھوٹے اور بڑے دونوں طرح کے جار پڑے تھے۔ان جاروں میں چھوٹے چھوٹے اسٹفڈ تھے اور کئی جانوروں کے جسم کے نازک حصے لیکوڈ میں بھگو کررکھے گئے تھے۔سیہہ، الو اور سانپ کے جسم کے مختلف حصے کاٹ کر زمین پر ایسے ہی پھینکے ہوئے تھے جیسے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔ وہ تینوں تہہ خانہ کے مختلف حصوں میں بکھر گئے۔

عارفین ٹیبلز کی چیزیں چیک کر رہا تھا اور اسامہ تہہ خانہ کی دوسری چیزوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ عمارہ کو ایک کتابوں کی الماری نظر آرہی تھی اور وہ اس میں وہ خاص کتاب ڈھونڈ رہی تھی جس سے انہیں کچھ مدد مل سکے۔

’’عمارہ جلدی کرو۔ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

اسے کوئی خاص چیز نظر نہیں آرہی تھی پھر اچانک اسکی توجہ تہہ خانہ کی ایک دیوار پر مرکوز ہوگئی۔ وہاں اسے کچھ چمکتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ اس کے قریب گیا تو وہ کوئی لاک تھا جسے کسی خاص نمبر سے گھمایا جا سکتا تھا۔

اسے یقین ہوگیا کہ اسے گھمانے سے یہ دیوار کسی دروازے کی طرح کھل جاتی ہوگی وہ مختلف نمبروں سے وہ لاک گھمانے لگا۔

عمارہ کواپنے مطلوبہ موضوع کے مطابق چار کتابیں مل گئیں۔ وہ یکے بعد دیگرے ان کتابوں کی فہرست پڑھنے لگی اسے تین کتابوں سے ایسا کچھ نہیں ملا جو ان کے کام آسکے۔ ایک آخری کتاب ’’تسخیر ہمزاد‘‘ اب اس کے ہاتھ میں تھی۔

اس نے اس کتاب کی فہرست پڑھی۔ کافی لمبی فہرست پڑھنے کے بعد ایک ٹوپک پر اس کی نگلی رک گئی اور وہ ٹوپک تھا ’’ہمزاد کو برباد کرنے کا عمل‘‘ اس نے صفحہ نمبر پڑھا اور وہ صفحہ ڈھونڈنے لگی۔ اسے جلد ہی صفحہ مل گیا پھر وہ پڑھنے لگی۔ اسامہ نے عمارہ کو پکارا

’’جلدی کرو۔۔۔عمارہ اور پھر اس نے عارفین سے پوچھا

’’تمہیں کچھ ملا۔‘‘

’’نہیں مجھے تو کچھ نہیں ملا۔ تم اس دیوار کے ساتھ کیا کر رہے تھے۔‘‘ عارفین نے پوچھا۔

اسامہ نے تذبذب سی کیفیت میں سر کو ہلایا

’’مجھے اس دیوار میں ایک لاک نظر آیا ہے مگر نمبر نہ معلوم ہونے کی وجہ سے کافی کوشش کے باوجود وہ لاک نہیں کھلا۔‘‘

’’یقیناً اس دیوار کے پیچھے کوئی بڑا راز چھپا ہے۔ میں بھی کوشش کرتاہوں۔‘‘ یہ کہہ کر عارفین اسامہ کے ساتھ اس دیوار کی طرف بڑھا تو ساتھ ہی ساحل اونچی آواز میں چلایا‘‘ جلدی تم سب باہر آجاؤ۔ مجھے عجیب طرح کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔‘‘

یہ سنتے ہی عمارہ نے کتاب اپنے بیگ میں ڈالی اور سیڑھیوں کی طرف دوڑی اسامہ اور عارفین بھی سیڑھی کے قریب آگئے۔ وہ تینوں سیڑھی چڑھتے ہوئے تہہ خانے سے باہر آگئے۔ ساحل نے تہہ خانے کا دروازہ پہلے کی طرح بند کر دیا۔

وہ چاروں اخروٹ کے درخت کے پیچھے چھپ گئے۔ یہ آواز بہت عجیب تھی جیسے کوئی لڑکی سسک سسک کے رو رہی تھی۔

عمارہ نے اسامہ کی طرف دیکھا اور ہمدردانہ لہجہ میں بولی

’’لگتا ہے کوئی لڑکی بہت اذیت میں ہے۔‘‘

’’یہ زرغام کی کوئی چال ہو سکتی ہے۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

آواز پہلے سے زیادہ اونچی ہوگئی اس بار وہ درد سے چیخ رہی تھی۔

’’ہم بغیر سوچے سمجھے اس کے قریب نہیں جائیں گے مگر دیکھنے میں کیاحرج ہے۔‘‘ ساحل نے کہا

’’ٹھیک ہے پھر ہم سب ایک ساتھ ہی جائیں گے۔‘‘ اسامہ نے کہا اور پھر وہ سب ایک ساتھ اس آواز کی سمت کی جانب بڑھنے لگے۔ وہ سب ہال نما کمرے میں داخل ہوئے۔ آواز بائیں جانب کے کمرے(بیڈ روم) سے آرہی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے قدم رکھتے ہوئے بیڈ روم کے دروازے کے قریب آگئے۔

اسامہ نے انہیں وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور خود آگے بڑھ کر بیڈ روم کا دروازہ کھولا سب کے دل دہل کر رہ گئے۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

وہ لڑکی کمرے کے ایک کونے میں لوہے کی زنجیروں میں جکڑی بے بسی کی حالت میں سسک رہی تھی وہ وینا تھی۔ اس کی کلائیوں اور پیروں سے

(جہاں جہاں زنجیریں تھیں) خون رس رہا تھا۔

ایک لمحے کے لیے تو عارفین کی حالت ایسی ہوگئی جیسے اس میں زندگی کی رمق نہ رہی ہو۔ وہ دیوانہ وار اس لڑکی کی طرف دوڑا تو ساحل اور عمارہ نے اسے پکڑ لیا۔

’’کیا کر رہے ہو عارفین! تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح عمارہ کی ماں کی موت کا ڈرامہ انہوں نے ہمارے سامنے پیش کیا۔ ہم نے طے کیا تھا نہ کہ ہم سوچے سمجھے بغیر آگے نہیں بڑھیں گے۔‘‘ اسامہ عارفین کو سمجھانے کی کوشش کررہا تھا مگر عارفین کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اس نے اسامہ کی طرف دیکھا۔

’’ایسا منظر دیکھنے کے بعد سوچنے سمجھنے کی صلاحیت معدوم ہو جاتی ہے۔‘‘

’’آپ لوگ ادھر ہی رہیں مگر پلیز مجھے جانے دیں۔‘‘ ساحل نے اس کے بازوؤں کو زور سے جھٹکا دیا۔

’’خود بھی مرو گے اور ہمیں بھی مرواؤ گے۔‘‘

وینا نے اپنی بھیگی آنکھوں سے عارفین کی طرف دیکھا اور پر امید انداز میں مسکرائی۔

’’عارفین تم آگئے ہو۔۔۔دیکھو فواد نے میرا کیا حال کیا ہے۔ اگر تم اب بھی نہ آتے تو تمہیں میری لاش ملتی۔‘‘

عارفین جذبات کی رو میں بہتا ہوا اپنے دماغ کے احکامات سے غافل ہوگیا اس نے عمارہ اور ساحل سے خود کو چھڑایا اور بھاگ کر وینا کے پاس چلا گیا۔

’’عارفین اسے چھونا مت‘‘ اسامہ چلایا مگر وہ کسی کی کب سن رہا تھا وہ تو اپنے دل کا غلام تھا اس نے اس کا ہاتھ تھاما۔ اسے یوں لگا جیسے کسی نے برف پر ہاتھ رکھ دیا ہو اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ہی ساعت میں وہ لڑکی حوریہ کا روپ دھار گئی۔ ساتھ ہی وہ زنجیریں بھی غائب ہوگئیں۔ حوریہ کا روپ ہوائی تھا اسلیے عارفین کا ہاتھ خالی تھا۔

اسامہ ، ساحل اور عمارہ بھی عارفین کے قریب آگئے تھے۔ حوریہ سفید چولہ پہنے اپنے بھیانک روپ میں ان کے سامنے کھڑی تھی۔

اس کے سلیٹی مائل چہرے پر جیسے فخر سا آگیا اس نے استہزائیہ انداز میں ان چاروں کو دیکھا

’’تم کمزور جسموں والے، محبت کے نام پر تم ہر دفعہ پھنس جاتے ہو نا وہی تم انسانوں کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اس جذبے کو دل سے نکال پھینکو تو تم میں کئی وجدانی قوتیں جاگ جائیں گی۔‘‘

اسامہ نے اونچی آواز میں کہا

’’ہم شیطان نہیں ہیں جو تمہاری طرح زندگی کا قاعدہ الٹا پڑھیں۔ ہم تو اس جذبے کے لیے جیتے ہیں اور اس کے لیے مر جاتے ہیں۔‘‘

’’اچھا ابھی تو اپنے ایک دوست کی موت کا نظارہ دیکھو۔’’ حوریہ نے یہ کہہ کر اپنے ایک انچ لمبے ناخنوں والے ہاتھ سے عارفین کی طرف اشارہ کیا۔ عارفین کو دھچکا سا لگا اور اس کے قدم زمین سے اوپر اٹھ گئے۔ حوریہ نے اپنے ہاتھ کو تھوڑا بلند کیا تو عارفین اوپر اڑتا ہوا چھت کے قریب پہنچ گیا۔ عمارہ کی چیخیں نکل گئیں۔ حوریہ نے اپنے ہاتھ کی حرکت کو وہیں روک لیا اور عارفین ہوا میں معلق چیخنے لگا۔

اسامہ کی آنکھوں کی پتلیاں نیلی ہو گئیں۔ اس کے چہرے کے تاثرات بھی بدل گئے اور اس کی آواز بھی تبدیل ہو گئی۔ اس کے جسم میں چھپی ماورائی طاقت سامنے آگئی۔ وہ گرجدار آواز میں چلایا

’’حوریہ ! عارفین کو چھوڑ دو ورنہ میں تمہیں جلا کر راکھ کر دوں گا۔‘‘

حوریہ کے چہرے پر ایک بار پھر شیطانی مسکراہٹ بکھر گئی۔

’’اوہ خیام۔۔۔تو تم اس کے جسم میں چھپے ہو۔ تمہارا دوست تو اب نہیں بچ سکتا اگر اس کو چھوڑتی ہوں تو بھی اس نے مرنا ہی ہے۔‘‘ اسامہ نے عارفین کی طرف دیکھا جس کی زندگی واقعی موت کے دہانے پر تھی۔

اسامہ کے جسم سے ایک شعاع نکلی جو عارفین کی طرف بڑھی اس کے بعد عارفین کا جسم آہستہ آہستہ نیچے اترنے لگا۔

حوریہ کو نظر آرہا تھا کہ عارفین کو خیام ہی بچا رہا ہے جو اسامہ کے جسم میں اب موجود نہیں ہے۔ حوریہ نے فوراً اسامہ کی طرف ہاتھ سے دھکے کا اشارہ کیا تو اسامہ کا وجود اچھل کر دیوار سے بجا اور پھر حوریہ نے اسے زمین پر پٹخ دیا۔ اسامہ کے حلق سے کرب آمیز چیخیں نکلیں۔

عمارہ نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اسامہ کے جسم کی ہڈیاں بری طرح چٹخ گئی تھیں مگر عارفین کے جسم پر خراش تک نہ آئی تھی۔ روشنی کی پراسرار شعاع حوریہ کی طرف بڑھی اور خیام کے روپ میں تبدیل ہوگئی۔

ساحل اور عارفین نے مل کر اسامہ کو اٹھایا۔ عمارہ نے اسامہ کا بیگ اٹھایا اور وہ سب کمرے سے باہر نکل گئے۔

ساحل اور عارفین نے اسامہ کو صحن میں لٹایا۔ عمارہ نے برقی سرعت سے اپنے بیگ سے مٹی کے پیڑوں کی پوٹلی نکالی اور اکیلی ہی بھاگتی ہوئی ریسٹ ہاؤس سے باہر چلی گئی۔ اس نے بہت پھرتی سے پوٹلی کو آبشار کی طرف اچھال دیا۔ جونہی پوٹلی پانی میں گری۔ عمارہ نے سکھ کا لمبا سانس کھینچا اور پھر واپس دوڑتی اسامہ کے پاس آگئی۔

’’اب ہم خطرے سے باہر ہیں وہ پوٹلی پھینک آئی ہوں۔‘‘

اسامہ نے عمارہ کا ہاتھ تھاما اور تھکے تھکے لہجے میں بولا

’’بس یہ ہمارے پاس آخری موقع ہے۔‘‘ عمارہ نے مسکراتے ہوئے اسامہ کے بالوں کو سہلایا۔

’’فکر نہ کرو مجھے وہ عمل مل گیا ہے جس سے ہمزاد کو برباد کیا جا سکتا ہے۔ بس یہ پتہ چل جائے کہ ان چار ہمزاد کی قبریں کہاں ہیں۔‘‘

’’جو۔۔۔جو نیچے دیوار پہ لاک ہے یعنی تہہ خانہ میں مجھے یقین ہے ان کی قبریں اس دیوار کے پیچھے ہوں گے۔‘‘ اسامہ بمشکل بولا۔

’’یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ قبریں ریسٹ ہاؤس سے باہر ہوں اور ہم یونہی لاک کھولنے کے چکر میں اپنا وقت برباد کر لیں۔‘‘ عارفین نے اپنی رائے دی۔

’’پہلے تہہ خانے میں ڈھونڈ لیتے ہیں پھر باہر دیکھیں گے۔۔۔شاید یہ ہماری آخری کوشش ہو۔۔۔اگر کامیاب ہو گئے تو ہمزاد ختم ہو جائیں گے اور ہم اگر ناکام ہوگئے تو ہم۔۔۔‘‘ عمارہ نے افسردگی سے کہا۔

ساحل بھی بہت پریشان اور اداس تھا۔ اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔ اس نے عمارہ کی طرف دیکھا اور انتہائی شکستہ لہجے میں بولا۔

’’پتہ نہیں مرنے سے پہلے بھی اپنوں کی آواز سننا نصیب ہوگی یا نہیں۔ ہم جب سے یہاں آئے ہیں موبائل میں سگنل ہی نہیں ہیں۔ وہ سم بھی ڈال کے دیکھی ہے جو یہاں چلتی ہے پھر بھی سگنل نہیں ہیں۔‘‘

ساحل نے جیسے سب کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا یہ ان سب کا مسئلہ تھا۔

تھوڑی دیر کے بعد وہ تہہ خانے کے دروازے کی طرف بڑھے۔ عمارہ نے تہہ خانے کا دروازہ کھولا پھر وہ ساحل سے مخاطب ہوئی

’’تم اور عارفین اسامہ کو لے کر نیچے اترو۔ میں بعد میں آتی ہوں۔‘‘

ساحل اور عارفین اسامہ کو لے کر آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترنے لگے۔ وہ سیڑھیاں اتر گئے تو عمارہ بھی نیچے اتر آئی۔

وہ سب اس پراسرار دیوار کی طرف بڑھے جہاں لاک لگا ہوا تھا۔ انہوں نے اسامہ کو زمین پر بٹھا دیا۔

’’تہہ خانے کے دروازے کے پاس کسی کو رکنا چاہئے تھا‘‘ ساحل نے عمارہ سے کہا۔

عمارہ نے قدرے اطمینان سے کہا

’’تھوڑی دیر تک ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے کچھ دیر کے بعد عارفین کو بھیج دیں گے ابھی لاک کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘ عمارہ لاک کے چھلے کو گھما گھما کے مختلف نمبر ملا ملا کے لاک کھولنے کی کوشش کرتی رہی مگر اس سے لاک نہیں کھلا۔ وہ ناکام ہوگئی تو عارفین اور ساحل کوشش کرنے لگے۔

اسامہ بے چینی سے بار بار تہہ خانے کے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا پھر اسے خیام کا خیال آیا تو اس نے آنکھیں بند کرکے خیام کو یاد کیا اور اس کے ساتھ خیال خوانی کی

’’خیام! ہماری مدد کرو۔‘‘

پھر اس نے آنکھیں کھول دیں۔ ساحل اور عارفین بھی نمبر گھما گھما کے لاک کھولنے کی کوشش کر رہے تھے۔

’’یار! یہ ہمارے بس کا کام نہیں ہے۔ ہم اسی چکر میں لگے رہیں گے اور موت ہمیں ایک بار پھر اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔‘‘ عارفین نے جیسے ہار مان لی۔

’’نہیں یار! تھوڑی دیر اور کوشش کر لیتے ہیں۔۔۔‘‘ ساحل نے کہا۔

اسی دوران لاک کے گرد روشنی کے چھوٹے چھوٹے سے ستارے ٹمٹمانے لگے۔ساحل کے ہاتھ جہاں تھے وہیں رک گئے۔ لاک خودبخود گھومنے لگا اور لاک کے نمبر خود بخود ملنے لگے اور پھر ٹک کی آواز کے ساتھ لاک کھل گیا اور دیوار خودبخود بائیں طرف کو تھوڑی سی سرک گئی۔

اتنا راستہ کھل گیا کہ ایک شخص بآسانی گزر سکتا تھا وہی روشنی کے ٹمٹماتے ستارے اسامہ کو اپنے جسم پر چمکتے محسوس ہوئے پھر خیام کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی

’’میں تمہارے جسم میں موجود نہیں ہوں مگر تمہارے آس پاس ہی رہوں گا تمہارا پانچواں ساتھی بن کر۔۔۔‘‘

عمارہ کی خوشی سے بھرپور آواز اسامہ کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’اسامہ ہمیں راستہ مل گیا ہے۔‘‘ ساحل اور عارفین اسامہ کی طرف بڑھے کہ اسے سہارا دے کر اٹھائیں۔

’’تم لوگ مجھے یہیں پڑا رہنے دو۔ میری وجہ سے اپنا وقت برباد مت کرو۔‘‘ اسامہ نے مایوسی سے اپنا سر جھکاتے ہوئے کہا۔ عمارہ نے ساحل اور عارفین کو اسامہ سے پیچھے ہٹنے کا اشارہ کیا۔

’’تم دونوں اندر جاؤ میں اسامہ کو لاتی ہوں۔‘‘ عمارہ کا اظہار وفا جیسے اسامہ کی طاقت بن گیا وہ عمارہ کے ساتھ دھیرے دھیرے قدم رکھتا ہوا دیوار سے اندار داخل ہوگیا۔

اسامہ اور عمارہ اس پُراسرار جگہ میں داخل ہوئے تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ انہوں نے ساحل اور عارفین کی طرف دیکھا جو حیران ساکت و جامد کھڑے تھے۔ یہ پانچ قبروں کا چھوٹا سا قبرستان تھا کچی مٹی کی چار قبریں ایک ہی ترتیب میں تھیں اور ایک قبر ان سے تھوڑے فاصلے پر تھی ۔

******************************************************************************************************************************************************************************************************************

قبروں پر لکڑی کے کتبے لگے تھے جن پہ ان کے نام لکھے تھے۔ فواد، خیام، حوریہ اور وشاء اور ایک طرف الگ قبر تھی جس کے کتبے پر زرغام کا نام کنندہ تھا۔ یہ نام پڑھ کے ان کے دل ایسے ہو گئے جیسے کسی نے اپنی مٹھی میں بھینچ کر رکھ دیئے ہوں۔

عمارہ بے خود ہو کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔

اسامہ نے عمارہ کے شانے پر ہاتھ رکھا

’’خود کو سنبھالو عمارہ! یہ وقت جذباتی ہونے کا نہیں ہے کچھ کرنے کا ہے۔۔۔‘‘

عمارہ رندھی ہوئی آواز میں بولی

’’مجھے تو انسانیت کی تذلیل پر رونا آرہا ہے۔ زرغام کو اتنا بھی رحم نہ آیا کہ ان کے والدین کو ان کی میتیں ہی دے دے۔ ان کی میتوں پر رو کر انہیں صبر آجاتا۔‘‘

’’عمارہ! تم قدرت کا انصاف نہیں دیکھ رہی۔ ان کی قبروں کے ساتھ زرغام کی قبر بھی ہے۔ اس نے لوگوں سے جینے کا حق چھینا تو رب نے اس سے جینے کا حق چھین لیا۔‘‘ اسامہ نے عمارہ کو سمجھایا۔ اور پھر دیوار سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا اسے سخت تکلیف ہو رہی تھی۔

عمارہ نے کتاب کا وہ خاص صفحہ نکالا جس میں وہ عمل تھا پھر وہ اسامہ سے مخاطب ہوئی۔

’’تم نے بتایا تھا نہ کہ زرغام نے فواد، حوریہ، وشاء اور خیام کی میتوں پر خاص عمل کر کے ان کے ہمزاد تسخیر کیے تھے تو اس کتاب کے مطابق شیطان ہمزاد کو برباد کرنے کا عمل بھی ان لوگوں کی میتوں پر کیا جاتا ہے۔ ہمیں ان چاروں میتوں پر چراغ جلانے ہوں گے۔ دو میتوں کے قریب کھڑے ہو کے اسامہ یہ عمل پڑھے گا اور دو میتوں کے پاس کھڑی ہو کے میں عمل پڑھوں گی اور ساحل اور عارفین اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں گے۔‘‘

پھر عمارہ نے اسامہ کو سارا عمل یاد کرایا ۔یہ کچھ قرآنی آیات تھیں جو بھٹکی ہوئی روحوں کو ان کے اصل مقام تک پہنچانے کے لیے تھیں اور اس شیطان ہمزاد کے خاتمے کے لیے جسے عامل کالے جادو کے ذریعے تسخیر کرتے ہیں۔ بے شک کالے جادو کا توڑ قرآنی آیات سے ہی کیا جاتا ہے۔

اسامہ کی ٹانگوں میں تکلیف زیادہ تھی اس لیے وہ ایک سٹک کی مدد سے کھڑا تھا۔ ساحل اور عارفین دور کھڑے تھے۔ تہہ خانے کا یہ حصہ کسی غار جیسا تھا۔ تہہ خانے کا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے روشنی نے یہ حصہ بھی روشن کر دیا تھا ورنہ یہاں ایسی کوئی جگہ نہیں تھی جس سے باہر کی روشنی اندر آسکے۔ اس حصے کی زمین بالکل کچی تھی یہاں پانچ قبروں کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔

پورا ماحول سراسمیگی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ساحل اور عارفین کے دل و دماغ کو ایک عجیب سی دہشت نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ ان کے من میں عجیب اوہام کھٹک رہے تھے۔ قبرستان کا خوفناک سناٹا جیسے اموات کی روداد سنا رہا تھا۔

ساحل اور عارفین کو ہر چیز طلسماتی دکھائی دے رہی تھی ان کی نظر قبروں پر پڑتی تو انہیں یوں لگتا جیسے قبریں بل کھا رہی ہیں مگر وہ اپنے ذہن کو جھٹک کے آیات پڑھنے لگتے۔ اسی طرح کھڑے کھڑے ساحل کو تہہ خانے کے دروازے کا خیال آیا۔

’’تم ادھر ہی رکو میں ابھی آتا ہوں۔‘‘ ساحل نے عارفین سے کہا اور پھر تہہ خانے کی سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔

وہ سیڑھی چڑھنے لگا تو اسے ایک دم خیال آیا کہ اس دروازے کو اکھاڑ پھینکے۔ یہ سوچ کر وہ سیڑھی چڑھنے کے بجائے تہہ خانے میں کچھ ڈھونڈنے لگا اسے کلہاڑی نظر آئی اس نے جلدی سے وہ کلہاڑی اٹھائی اور سیڑھی چڑھتا ہوا تہہ خانے کے دروازے کی طرف بڑھا۔

وہ تہہ خانے سے باہر ریسٹ ہاؤس کے صحن میں آگیا۔ اس نے کلہاڑی سے تہہ خانے کے دروازے کو اکھاڑ پھینکا اور واپس نیچے تہہ خانے میں آ گیا۔

وہ عارفین کے پاس آیا تو عارفین نے پوچھا

’’کہاں گئے تھے؟‘‘

’’میں نے تہہ خانے کے دروازے کی ٹینشن ہی ختم کر دی ہے دروازہ ہی توڑ دیا ہے۔‘‘ ساحل نے بتایا۔

’’یہ تو تم نے اچھا کیا‘‘ عارفین نے کہا۔

عمارہ اور اسامہ نے کچھ آیات پڑھنے کے بعد چار دیے زمین پر رکھے اور ان سب دیوں میں زیتون کا تیل ڈالا اور ان سب دیوں کو چاروں قبروں کے اوپر رکھا۔

عمارہ نے ان چاروں قبروں کو روشن کیا اور پھر اسامہ سے مخاطب ہوئی۔

’’اب ہم نے عمل نمبر 2 پڑھنا ہے۔ اس عمل میں آیات رکے بغیر مسلسل پڑھنی ہیں ۔ درمیان میں نہ تو کسی سے بات کرنی ہے اور نہ ہی اس عمل کو درمیان میں چھوڑنا ہے ورنہ نہ صرف یہ عمل ناکام ہو گا بلکہ بے اثر ہو جائے گا ہم اسے دوبارہ نہیں پڑھ سکتے۔‘‘

اسامہ نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں نے عمل پڑھنا شروع کر دیا۔

دونوں کی نظر عمل کے دوران دیے پر مرکوز تھی۔ ساحل اور عارفین ، اسامہ اور عمارہ پر بھی نظر رکھ رہے تھے اور اردگرد کے ماحول پر بھی۔

اسامہ یکسوئی کے ساتھ عمل پڑھنے میں مصروف تھا کہ اچانک دیا اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوگیا اور قبر کی مٹی دھول اڑاتی خودبخود پیچھے ہٹنے لگی، یہاں تک کہ قبر کا تختہ دکھائی دینے لگا اسامہ کی آنکھیں باہر کو ابل پڑیں پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا۔

اسے عمارہ کی بات یاد تھی وہ عمل مسلسل پڑھتا رہا مگر اس کے پاؤں اپنی جگہ سے اکھڑ رہے تھے۔ تھرتھراہٹ کی ایک لہر پورے وجود میں دوڑ گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ قبر کا تختہ کسی دھماکے کی طرح پھٹا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں بکھر گئے۔

یہ فواد کی قبر تھی۔ اتنا وقت گزرنے کے بعد جو مردے کی حالت ہوتی ہے وہ اسامہ کے سامنے تھی۔ کیڑوں نے اس کے جسم کا گوشت نوچ نوچ کے کھا لیا تھا اور وہاں اس کا اب صرف ڈھانچہ تھا جس کی کھوپڑی میں آنکھوں کے بڑے بڑے سوراخوں میں ابھی بھی کیڑوں نے اپنا مسکن بنایا ہوا تھا۔

اسامہ کو ابکائی بھی آرہی تھی اور دہشت سے پورے وجود پر کپکپی سی طاری ہو گئی تھی خاص طور پر ٹھوڑی کانپنے سے اس کے دانت بجنے لگے تھے جس کی وجہ سے اسے عمل پڑھنے میں دشواری ہو رہی تھی۔

اس نے عمارہ کی طرف دیکھا جو انتہائی محو ہو کے عمل پڑھنے میں مصروف تھی اس کے چہرے پر کسی طرح کے خوف کے تاثرات نہیں تھے۔ اس نے دوبارہ قبر کی طرف اپنی نظریں مرکوز کر دیں۔ وہ ایک فوجی تھا اس لیے خوف اس کے ارادوں کو کمزور نہ کر سکا اور مسلسل عمل پڑھتا رہا یہاں تک کہ وہ قبر جس طرح کھلی تھی اسی طرح خودبخود بند بھی ہو گئی۔

اسامہ سمجھ گیا کہ وہ جو کچھ دیکھ رہا تھا وہ صرف اسے ہی دکھائی دے رہا تھا۔ شاید یہ سب کچھ ہمزاد ان کا عمل ناکام بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ اس عمل کے دوران وہ دونوں نہ تو بات کر سکتے تھے اور نہ ہی اپنی جگہ چھوڑ سکتے تھے لیکن اسامہ جان چکا تھا کہ ہمزاد ان تک پہنچ چکے ہیں۔

ساحل نے ایک نظر اسامہ اور عمارہ کی طرف دیکھا اور پھر عارفین سے مخاطب ہوا

’’دعا کرو کہ اسامہ اور عمارہ اس عمل میں کامیاب ہو جائیں۔‘‘

’’ہاں۔۔۔اگر وہ دونوں اس عمل میں کامیاب ہوگئے تو ان ہمزاد سے ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے چھٹکارا مل جائے گا۔ بس وہ مٹی کی گولیاں پوری طرح گھلی نہ ہوں کاش ہمیں تھوڑا سا وقت اور مل جائے۔‘‘ عارفین نے ابھی یہ کہا ہی تھا کہ حوریہ کی دلفریب مسحور کن آواز ان دونوں کی سماعت سے ٹکرائی۔

وہ اپنی سحر انگیز آواز میں کوئی گیت گا رہی تھی اس کی آواز کے طلسم نے ان کے دلوں میں ہلچل سی مچا دی۔ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت معدوم ہو گئی وہ دیوانوں کی طرح اس آواز کی سمت کی طرف چلنے لگے۔

اسامہ اور عمارہ کو یہ آواز نہیں سنائی دی تھی۔ اسامہ اور عمارہ نے انہیں اس طرح بدحواس تہہ خانے کی دیوار کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تو وہ دونوں پریشان ہوگئے مگر وہ نہ تو ان سے پوچھ سکتے تھے کہ کہاں جا رہے ہیں اور نہ ہی انہیں جانے سے روک سکتے تھے۔ انہوں نے انہیں اللہ کے سہارے چھوڑ دیا اور یہ سوچ کر اپنا دھیان عمل کی طرف مرکوز کرنے لگے کہ اگر عمل کامیابی سے پورا ہو گیا تو ان دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا مگر وہ دونوں نہیں جانتے تھے کہ ساحل اور عارفین تو موت کی صدا کی طرف ہی بھاگے ہیں۔

وہ دونوں اس خوبصورت آواز کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ریسٹ ہاؤس سے باہر نکل پڑے۔ آواز کی مقناطیسیت انہیں اپنی طرف کھینچتی ہوئی ایک خوبصورت باغ میں لے آئی۔

ایک گھنے درخت کے قریب حوریہ خوبصورت لباس میں ستار تھامے بیٹھی تھی۔ حسن و زیبائش سے وہ کسی پری جیسی دکھائی د ےرہی تھی۔ وہ گھاس پر بیٹھی تھی۔ اس کا فیروزی جالی کا فراک دائرے کی شکل میں گھاس پر پھیلا ہوا تھا۔ وہ اپنی خم دار لمبی انگلیوں سے ستار کی تاروں کو چھیڑتی اور اپنی مسحور کن آواز کے جادوئی سر ہوا میں بکھیر دیتی۔

پہلے وہ وقفہ کے ساتھ تھوڑا تھوڑا گا رہی تھی مگر اب وہ بغیر رکے مسلسل گا رہی تھی۔ اب عارفین اور ساحل کو اس کی آواز چبھنے لگی تھی اور دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہو گئی تھیں مگر ان پر کچھ ایسا سحر طاری تھا کہ وہ وہاں سے جانے پر آمادہ نہ تھے۔

آہستہ آہستہ وہ آواز اتنی تیز ہوگئی کہ ساحل اور عارفین کی دماغ کی رگیں پھٹنے لگیں۔ کانوں کے پردے چیرنے لگے۔ دل ڈوبنے لگا۔ وہ دونوں اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کے گھٹنوں کے بل بیٹھ کے چیخنے لگے

’’خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ۔۔۔‘‘

حوریہ اٹھ کے اپنے گانے کے ساتھ ساتھ جھومنے لگی۔

ساحل اور عارفین زمین پر گر کے مچھلی کی طرح تڑپنے لگے ہاتھ ان کے کانوں پر ہی تھے۔ ان کی دماغ کی رگیں باہر کی طرف ابھر گئی تھیں۔ وہ درد سے چلا رہے تھے۔

حوریہ گھومتے گھومتے اپنے خوبصورت روپ سے اپنے اصل روپ میں آگئی۔ وہی مُردوں جیسی سفیدی مائل سرد جلد، مردہ آنکھیں، پپڑی جمے سیاہ ہونٹ، کفن جیسے سفید چولے میں وہ بدمست جھونکے کی طرح ادھر ادھر اڑ رہی تھی۔ وہ دشمن کے شکار کے مزے سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔

اس دوران روشنی کی ایک شعاع حوریہ کی طرف بڑھی اور پھر خیام کا روپ دھار گئی۔ خیام کے ہاتھ میں ایک بڑا سا آئینہ تھا جو تقریبا چار فٹ لمبا اور دو فٹ چوڑا تھا۔

خیام کو دیکھ کر حوریہ کے لبوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ بکھر گئی۔ اسے یقین تھا کہ خیام اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اسے اب شکار کا زیادہ مزا آرہا تھا کہ خیام کے سامنے اس کے دوستوں کے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی اور ان کے کانوں اور ناک سے لہو بہے گا۔

وہ اپنے خاص انداز میں گاتی ہوئی ہوا میں ادھر ادھر اڑ رہی تھی۔

خیام بھی ہوا میں اڑتا ہوا ایک پہاڑ کے قریب کسی خاص جگہ پر کھڑا ہوگیا۔ وہ جانتا تھا کہ حوریہ اس کے پیچھے ضرور آئے گی۔ وہ اسی باغ میں ہی کھڑا تھا جہاں ساحل اور عارفین زمین پر گرے پڑے تڑپ رہے تھے۔ حوریہ بھی مسکراتی ہوئی خیام کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ سورج پوری آب و تاب کے ساتھ دمک رہا تھا۔ دھوپ بہت تیز تھی۔

جس جگہ خیام اور حوریہ کھڑے تھے سورج ان کے بالکل سامنے تھا۔

حوریہ کو اپنی شیطانی قوتوں پر بہت بھروسا تھا وہ ساحل اور عارفین کے ساتھ خیام کو بھی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

خیام نے اپنے ہاتھوں میں اٹھایا ہوا آئینہ حوریہ کے سامنے کیا تو حوریہ کا عکس اس آئینے پر روشنی کے ایک ڈاٹ کی صورت میں نمودار ہوا۔ خیام ایک روحانی جسم تھا اس لیے اس کے ہاتھ آئینے کو چھو نہیں رہے تھے آئینہ اس کے ہاتھوں میں گویا معلق تھا مگر اس کی روحانی قوتوں کے باعث وہ آئینہ خیام کی گرفت میں ہی تھا۔

خیام نے اپنے ہاتھوں کو تھوڑا ترچھا کیا تو آئینہ اس طرح ترچھا ہوگیا کہ روشنی کے اس ڈاٹ سے سورج کی شعاعیں ٹکرائیں۔ آئینے سے تیز روشنی نکل کر حوریہ سے ٹکرائی۔ حوریہ کا گیت چیخوں میں بدل گیا اور وہ اپنی جگہ سے غائب ہوگئی۔ آئینہ بھی کرچی کرچی ہو کے ہوا میں بکھر گیا۔

خیام نے ساحل اور عارفین کی طرف دیکھا وہ اب سکون میں آچکے تھے مگر نڈھال لیٹے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ ہمت کرکے اٹھ کے بیٹھ گئے۔ انہوں نے تشکر آمیز نگاہوں سے خیام کی طرف دیکھا۔ حوریہ تو غائب ہوگئی تھی مگر خیام کو خطرے کی سرسراہٹیں محسوس ہورہی تھیں۔ آس پاس درختوں کے جھنڈ تیزی سے ہلے تھے جیسے کوئی چیز تیزی سے ان میں سے گزری ہے۔

فضا میں عجیب طرح غرغراہٹوں کی آوازیں بھی گونجنے لگی تھیں۔ پھر اچانک خیام کو تین ہیولے دکھائی دیئے جو زرغام، فواد اور وشاء کا روپ دھار گئے۔

وہ تینوں جیسے چلتے پھرتے مُردے تھے مگر ان کے جسم ہوائی تھے۔ تینوں انتہائی طیش میں تھے۔ غصہ اور انتقام الاؤ بن کر ان کی آنکھوں میں سلگ رہا تھا۔

زرغام نے دہکتی آنکھوں سے خیام کی طرف دیکھا

’’تم حوریہ کو تھوڑی دیر کے لیے غائب تو کر سکتے ہو مگر اسے مار نہیں سکتے کیونکہ روح کی موت کبھی نہیں ہوتی۔۔۔مگر جن مادی وجود والے انسانوں کو تم بچانے کی کوشش کر رہے ہو۔۔۔وہ ہم سے نہیں بچ سکتے۔۔۔ہاں ایک صورت ہو سکتی ہے کہ تم خود کو ہمارے حوالے کر دو۔ میرے تابع ہو جاؤ۔ میں نہ صرف ان چاروں کی جان بخش دوں گا بلکہ انہیں ان کے گھروں تک پہنچا دوں گا۔‘‘

خیام نے ہنستے ہوئے زرغام کی بات کا جواب دیا۔

’’جن لوگوں کو تم بچانے کی بات کر رہے ہو وہ موت سے نہیں ڈرتے۔۔۔وہ تمہیں ختم کرنے کے لیے سر پر کفن باندھ کر آئے ہیں۔۔۔تمہاری بات ٹھیک ہے روح کی موت نہیں ہو سکتی مگر شیطان ہمزاد کو تباہ کیا جا سکتا ہے جو دنیا میں بھی انسان کو بہکاتا ہے اور مرنے کے بعد اگر تمہارے جیسے خناس کے قابو میں آجائے تو بھی تباہی کا باعث بنتا ہے۔۔۔پروردگار اگر چاہے تو ایک ساعت میں ہی شیطان کو ختم کر سکتا ہے مگر وہ شیطان کو ہمارے ایمان پرکھنے کے لیے زندہ رکھتا ہے۔‘‘

’’ہمیں کوئی ختم نہیں کرسکتا۔۔۔‘‘ فواد نے قہقہہ لگایا۔

’’اسامہ اور عمارہ قرآن پاک کی جو آیات پڑھ رہے ہیں۔۔۔تم سب اس سے برباد ہونے والے ہو کیونکہ ان کا عمل پورا ہونے والا ہے اور اس عمل کے دوران تم انہیں ختم نہیں کر سکتے۔‘‘

خیام کی اس بات پر زرغام پھر ہنسا

’’ہم انہیں ختم نہیں کر سکتے مگر انہیں ڈرا کر اس عمل سے روک سکتے ہیں۔ ان کا حال دیکھو ان کے پورے جسم پر سانپ رینگ رہے ہیں۔‘‘

اس جال میں ان کی موت یقینی ہے۔ دہشت کے مارے ان کا عمل ٹوٹ جائے گا۔ جونہی ان کا عمل ٹوٹا یہ سانپ انہیں ڈس لیں گے۔‘‘

ساحل اور عارفین یہ سنتے ہی ریسٹ ہاؤس کی طرف بھاگے۔۔۔وہ اپنے نڈھال جسم کو گھسیٹتے ہوئے لمبے لمبے قدم رکھ رہے تھے۔

وہ تہہ خانےنے میں داخل ہوئے تو ان کی چیخیں نکل گئیں عمارہ اور اسامہ کے جسموں پر سینکڑوں سانپ اس طرح رینگ رہے تھے کہ ان کے جسموں کے حصے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔

ساحل اور عارفین دیوانہ وار ان کی طرف لپکے کہ سانپوں کو ان کے جسموں سے نوچ نوچ کر پھینک دیں، چاہے ان کی جان ہی چلی جائے ۔ ابھی وہ عمارہ اور اسامہ کے قریب بھی نہ گئے تھے کہ خیام کی آواز ان کی سماعت سے ٹکرائی۔

”ان سانپوں کو چھونا مت ورنہ اسامہ اور عمارہ کا عمل ٹوٹ جائے گا اور یہ سانپ انہیں ڈس لیں گے۔ اسامہ اور عمارہ کا زندہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ابھی تک کامیابی سے عمل پڑھ رہے ہیں۔“

وہ دونوں جہاں کھڑے تھے وہاں رک گئے ۔انہوں نے خیام کی طرف دیکھا جو ان کے سامنے کھڑا تھا۔ مگر چند سکینڈ میں ہی ساحل اور عارفین اپنی جگہ سے غائب ہو گئے۔ ایک پل ضائع کیے بغیر خیام بھی غائب ہوگیا۔ ساحل اور عارفین باہر اسی جگہ پہنچ گئے جہاں زرغام ، حوریہ ، وشاء اور فواد کھڑے تھے۔ خیام بھی وہاں ظاہر ہوگیا۔

زرغام نے غصے سے بھری نگاہوں سے خیام کی طرف دیکھا

”تم میری طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔“

یہ کہہ کر زرغام نے ساحل اور عارفین کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا اور پھر اپنے ہاتھ کو آسمان کی طرف جھٹکا۔عارفین اور ساحل روئی کے پتلوں کی طرح ہوا میں معلق ہوگئے پھر زرغام نے مشرق کی طرف اپنے ہاتھ کو دھکیلا۔

خیام ان کی مدد کرنے کے لیے ان کی طرف اڑا تو وشاء نے تیزی سے کچھ پڑھا جس سے ہوا میں خیام کے سامنے دو فٹ چوڑا اور تین فٹ لمبا آئینہ آگیا۔ وشاء نے اس کے ساتھ وہی طریقہ استعمال کیا جو اس نے حوریہ کے ساتھ کیا تھا۔

خیام کا عکس ایک ڈاٹ کی شکل میں آئینے پر ابھرا۔ وشاء نے اپنے ہاتھوں کی حرکت سے آئینے کو اس طرح ترچھا کیا کہ سورج کی شعاع اس ڈاٹ سے ملی جس کے ساتھ خیام کی چیخیں فضا میں گونجیں اور پھر وہ غائب ہوگیا۔ اس عمل سے وہ کچھ دیر کے لیے خود کو ظاہر کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوگیا۔

ساحل اور عارفین مشرق کی سمت اس طرح اڑ رہے تھے جیسے کوئی ہوائی طاقت انہیں اڑا رہی ہو۔ وہ دونوں اس آبشار کے قریب تھے جو نیچے چھوٹے چھوٹے چشمے بناتی ہوئی نہر میں گر رہی تھی۔ زرغام نے اپنے ہاتھ کو زور سے جھٹکا تو وہ دونوں برفیلے پانی کی اس نہر میں جا گرے۔ انہیں تیراکی بھی نہیں آتی تھی۔ برفیلے پانی نے ان کی رگوں میں بہتا لہو جیسے منجمد کر دیا۔

وہ چیختے چلاتے بار بار اوپر آتے

”بچاﺅ….بچاﺅ….“ مگر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔

اب وہ اپنی موت کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ان کی جلد سرد اور سفید ہو گئی تھی۔ رفتہ رفتہ ان کی چیخیں بھی دبنے لگی تھیں۔ وہ بے چینی سے ہاتھ پاﺅں چلاتے ہوئے اردگرد دیکھ رہے تھے کہ شاید خیام انہیں بچانے کے لیے آئے مگر زندگی کی ڈور کے ساتھ ساتھ امید بھی چھوٹتی جا رہی تھی۔

عارفین کی سانسیں ڈوب رہی تھیں….ساحل کی اپنی حالت ٹھیک نہیں تھی پھر بھی وہ عارفین کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ان کے دانت بج رہے تھے جسم پر کپکپی طاری تھی ساحل بمشکل چلایا

”اسامہ….عمارہ“مگر بے سود کیونکہ ان کی آواز تہہ خانے تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔

اسامہ اور عمارہ کا عمل مکمل ہوگیا جس کے ساتھ ہی ان کے جسموں پر لپٹے سانپ بھی غائب ہوگئے۔ چاروں قبروں پر جلے ہوئے چراغ بجھ گئے۔ اسامہ اور عمارہ نے خوشی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ عمارہ خوشی سے چلائی۔ ”اسامہ! ہمارا عمل کامیاب ہوگیا ہے شیطان ہمزاد ختم ہو گئے ہیں بغیر ہوا کے چراغوں کا بجھنا اسی بات کی علامت ہے۔“

ادھر عارفین کے ساتھ ساتھ اب ساحل کی سانسیں ڈوبنے لگی تھیں….اب وہ خود کو ڈوبنے سے بچا نہیں ںسکتے تھے۔ ان کے بازو اور ٹانگیں برفیلے پانی سے بے جان ہو رہی تھیں۔

اچانک درخت کا موٹا تنا ساحل کو خود کے قریب گرتا ہوا محسوس ہوا۔ زندگی کی امید نے ان کے بے جان جسموں میں جان بھر دی۔ ساحل نے ہاتھ بڑھا کر اس تنے کو پکڑ لیا۔ وہ دونوں اس تنے کی مدد سے جھیل سے باہر آگئے۔

ان کی حالت بہت خراب تھی وہ بے سود زمین پر گر گئے اور کانپنے لگے

”تنے کا اس طرح ہم پر جھک جانا بالکل جادوئی عمل تھا مگر یہ کس نے کیا“ ابھی یہ ساحل سوچ ہی رہا تھا کہ اسے اسی درخت کے قریب ایک روشنی سی دکھائی دی جو رفتہ رفتہ اس کے قریب آنے لگی اور پھر وشاء کا روپ دھار گئی۔

پہلے تو ساحل اور عارفین خوفزدہ ہوگئے کیونکہ ان کے جسموں میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اپنا دفاع کر سکیں۔

مگر اس بار وشاء کا روپ بہت مختلف تھا۔ وہ سفید لباس میں تھی اس کا سفید دوپٹہ ہوا میں لہرا رہا تھا اس کے چہرے پر وہی معصومیت وہی خوبصورتی تھی جو زندگی سے بھرپور وشاء میں تھی۔

ساحل کا دل اسی طرح دھڑکا جیسے اس کی اپنی وشاء اس کے سامنے ہو مگر اس نے اپنے سر کو جھٹکا دیا کہ وہ ایک بار پھر ہمزاد کے دھوکے میں نہ آجائے۔

وشاء کا ہوائی نورانی جسم اس کے بالکل قریب آ گیا….وہ اس کے پاس بیٹھ گئی اس کی آنکھیں احساس وفا سے جھلملا رہی تھیں۔ لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔

ساحل اس سے پیچھے نہیں ہٹ رہا تھا نہ جانے دل کیوں کہہ رہا تھا کہ اگر یہ فریب ہے تو اس فریب میں مبتلا ہو جاﺅں….

وشاءنے دھیرے سے کہا

”تمہیں نئی زندگی مبارک ہو….تم سب نے مل کر موت کو شکست دے دی ہے۔“

ساحل کے دل نے کہا کہ زندگی کی نوید سنانے والی وشاء ہی ہو سکتی ہے۔ اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

”وشاء….تم میری وشاء ہو….“

وشاء مسکرائی مگر اس کی آنکھوں میں ساحل کے لیے گلہ تھا

”بس تم سے ایک بات کہنے آئی ہوں۔ اگر کوئی آپ کی زندگی میں سچی محبت لے کر آئے تو اسے کبھی نہ ٹھکراﺅ۔…. محبت پر پیسہ اور آسائشوں کو ترجیح مت دو….اگر آپ کسی کو محبت کے بدلے میں محبت دیں گے تو رب آپ کو نعمتوں سے سرشار کر دے گا۔

کوئی اپنے رب سے امید تو باندھ کے دیکھے وہ کسی کو مایوس نہیں کرتا۔“

یہ کہہ کر وشاء کھڑی ہو گئی اور ہوا میں معلق ہو کے ساحل سے پیچھے ہٹنے لگی۔

”وشاء رکو….میری بات تو سنو….“ ساحل ہوا میں ہاتھ اکڑائے اسے پکارتا رہا۔ وشاءپیچھے ہٹتی ہوئی ایک بار پھر روشنی میں تبدیل ہو گئی اور پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد ساحل اور عارفین کو پانچ روشنی کی شعاعیں آسمان کی طرف بڑھتی ہوئی دکھائی دیں۔

’’اوہ میرے خدایا۔۔۔ان کی تو حالت تو بہت خراب ہے۔‘‘ عمارہ نے ساحل اور عارفین کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا جن کے جسموں پر کپکپی طاری تھی۔ گیلے کپڑوں کے باعث ان کا جسم مزید ٹھنڈا پڑ رہا تھا۔ ہونٹ نیلے ہوگئے تھے۔

’’انہیں کسی طرح ریسٹ ہاؤس تک لے جانا ہوگا ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔‘‘

عمارہ نے اسامہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ جو خود بمشکل چل کر یہاں تک آیا تھا۔ اس کی کمر اور ٹانگ میں تکلیف تھی۔

’’تم اکیلی انہیں کس طرح لے جاؤ گی۔۔۔میں ادھر ہی آگ جلا دیتا ہوں۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’ع۔۔۔ع۔۔۔عمارہ بس تھوڑا سا سہارا دے دے ہم خود چل کر جا سکتے ہیں۔‘‘ اس نے سہارا دے کر ساحل کو کھڑا کیا اور پھر ساحل عمارہ کا سہارا لیتے ہوئے آہستہ آہستہ چل کر ریسٹ ہاؤس تک چلا گیا۔ اسے ریسٹ ہاؤس کے کمرے میں بٹھا کے عمارہ نے ایک گرم کمبل اسے اوڑھا دیا اور پھر عارفین کو لانے کے لیے دوبارہ دوڑتی ہوئی ریسٹ ہاؤس سے باہر بھاگی۔

اسامہ عارفین کے پاس بیٹھا اس کے ہاتھ مل رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں عمارہ وہاں تک پہنچ گئی۔۔۔وہ بہت تیز بھاگ کر آئی تھی۔۔۔اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ اس نے عارفین کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور پھر عارفین بھی ساحل کی طرح عمارہ کا سہارا لے کرآہستہ آہستہ ریسٹ ہاؤس تک پہنچ گیا۔ اسامہ بھی لنگڑا کر چلتا ہوا ان کے ساتھ ساتھ ریسٹ ہاؤس تک آگیا۔

عمارہ نے ان دونوں کو ہال نما بڑے کمرے میں آتش دان کے قریب بٹھایا۔

اسامہ نے جلدی سے آتش دان میں آگ لگا دی۔ ریسٹ ہاؤس اب اپنی پرانی حالت میں تھا۔۔۔کھنڈر نما۔۔۔دھول و مٹی سے اٹا ہوا۔

آگ ٹھیک طرح سے لگ گئی تو اسامہ نے عمارہ سے کہا

’’جلدی سے ان کے گرم کپڑے نکالو۔‘‘

عمارہ نے بیگ سے ان دونوں کے گرم کپڑے اور جرسیاں نکالیں۔ اس نے دو پینٹ شرٹس اور دو جرسیاں اسامہ کو دیں اور خود کمرے سے باہر صحن میں چلی گئی۔ اسامہ نے ساحل اور عارفین کو کپڑے دیئے

’’ادھر آگ کے قریب اپنے کپڑے بدل لو۔‘‘

ان دنوں نے اپنے کپڑے بدل لیے اسامہ نے ان کے گیلے کپڑے کرسیوں پر پھیلا دیئے۔ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد ان دونوں کو کافی سکون ملا تھا۔ وہ ٹھٹھرتے ہوئے آگے کے قریب بیٹھ گئے۔

’’عمارہ۔۔۔‘‘ اسامہ نے عمارہ کو آواز دی۔ عمارہ اندر آئی تو اسامہ نے اس سے تولیہ مانگا۔

عمارہ نے اسامہ کو تولیہ پکڑایا۔ اسامہ نے تولیہ لیا اور ساحل اور عارفین کے بال خشک کرنے لگا۔ عمارہ بھی ان دونوں کے قریب بیٹھ گئی

’’اب کچھ بہتر محسوس کر رہے ہو۔۔۔‘‘

عمارہ نے ساحل اور عارفین سے پوچھا۔۔۔دونوں نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’حیرت کی بات ہے تم دونوں جھیل سے باہر نکلے کیسے۔ تمہیں تو تیراکی نہیں آتی۔‘‘

عمارہ نے ساحل سے پوچھا تو ساحل کی جگہ اسامہ بولا

’’یہ سوال جواب کا وقت نہیں ہے۔ اس وقت ان سے کچھ مت پوچھا۔ کسی طرح سے ان دونوں کے لیے چائے بن جائے تو ان دونوں کو کافی سکون ملے گا۔‘‘

’’میرے پاس چائے کا سارا سامان ہے مگر پکاؤں گی کیسے؟‘‘ عمارہ نے کہا۔

’’ساس پین تو ہے نا؟‘‘ اسامہ نے پوچھا۔

’’ہاں۔۔۔‘‘ عمارہ نے جواب دیا۔

’’تم ایسا کرو کہ صحن میں کچھ اینٹیں رکھو۔ میں یہاں سے لکڑیاں لے آتا ہوں۔‘‘ اسامہ کی بات سنتے ہی عمارہ صحن میں چلی گئی اس نے اینٹوں کا چولہا بنایا اور ساس پین میں دودھ اور پانی ملا کر ایک طرف رکھ دیا۔

اتنی دیر میں اسامہ لکڑیاں لے آیا اور لکڑیوں میں آگ بھڑکا دی۔

عمارہ نے چائے بنائی اور ٹرے میں کپ رکھ کے ساحل اور عارفین کے پاس چلی گئی۔ اسامہ بھی اس کے پیچھے پیچھے ساحل اور عارفین کے پاس آگیا۔

اسامہ نے ان دونوں کو چائے دی اور خود بھی ان کے قریب بیٹھ گیا۔ عمارہ بھی اپنا کپ لے کر ان کے پاس بیٹھ گئی۔

’’ساحل! تم اور عارفین بہت بہادر ہو ۔تمہاری ہمت کی وجہ سے ہم اپنا عمل مکمل کر پائے۔ ہم نے ان شیطان ہمزاد کا خاتمہ کر دیا ہے اب ہم اپنے گھر والوں کو یہ خوشخبری سنائیں گے۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

مگر ساحل کی آنکھیں آنسوؤں سے جھلملا رہی تھیں۔

’’ان لوگوں کو یہ بھی بتا دینا کہ ہم خیام، فواد۔۔۔وشاء اور حوریہ کی قبریں بھی دیکھ کر آئے ہیں۔‘‘

اسامہ نے ساحل کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔ ساحل اس کے کندھے سے سر لگا کے رونے لگا۔ ساحل کو اس طرح دیکھ کر سب اداس ہو گئے۔

ؔ ’’اگر ان دونوں کی حالت ٹھیک ہوتی تو ہم ابھی سفر پرروانہ ہو جاتے مگر ان دونوں کی حالت ابھی ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

’’یہ دونوں پہلے سے بہتر ہیں اور ویسے بھی گاڑی میں سردی نہیں لگتی۔ ایک دو گھنٹہ پہلے آرام کرتے ہیں پھر گھر کے لیے روانہ ہوں گے۔ تم تیاری مکمل کر لو۔‘‘ اسامہ نے کہا۔

’’تھوڑی بہت چیزیں پیک کرنی ہیں اس میں اتنا وقت نہیں لگے گا مجھے تو تم تینوں کی فکر ہے۔۔۔تم تینوں فٹ نہیں ہو۔‘‘ عمارہ نے بڑی سی شال اوڑھتے ہوئے کہا۔

’’ہم ٹھیک ہیں۔۔۔تم ہماری فکر نہ کرو۔‘‘ اسامہ نے عمارہ کو ایک بار پھر تسلی دی۔

اسامہ نے آتش دان کے سامنے ایک گدا بچھا دیا اور ایک کمبل کو موڑ کر اس کا تکیہ سا بنا دیا اور پھر ساحل سے کہا

’’تم اور عارفین لیٹ جاؤ۔‘‘

’’ہم ٹھیک بیٹھے ہیں۔‘‘ ساحل نے جواب دیا۔

’’ہم نے سفر کرنا ہے ، تم دونوں آرام کر لو۔‘‘ اسامہ نے پھر زور دیا۔

ساحل اور عارفین گدے پر لیٹ گئے۔ اسامہ نے ان پر کمبل ڈال دیا اور پھر وہ عمارہ کے قریب آیا

’’تم میرے ساتھ آؤ۔۔۔ایک ضروری کام کرنا ہے۔‘‘

’’اب ایسا کون سا کام ہے۔۔۔؟‘‘ عمارہ نے حیرت سے پوچھا۔

’’باہر صحن میں آؤ۔۔۔میں سمجھاتا ہوں۔ ‘‘ اسامہ نے کہا۔

عمارہ اس کے ساتھ باہر صحن میں چلی گئی۔

’’اب بتاؤ۔۔۔ کون سا کام ہے۔۔۔‘‘ عمارہ نے پوچھا۔

’’ہم نے شیطانوں کو تو ختم کردیا ہے۔ ۔۔۔میں چاہتا ہوں کہ اس غلاظت کو بھی جلا ڈالیں جنہیں زرغام کالے جادو میں استعمال کرتا تھا۔‘‘

اسامہ نے تہہ خانے کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ہاں۔۔۔تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔ہمیں وہ سب ناپاک چیزیں جلا دینی چاہئیں تاکہ کوئی اور اس شیطانی علم کی طرف مائل نہ ہو۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ تہہ خانے کے دروازے کی طرف بڑھی جو ٹوٹ کر ایک طرف گرا ہوا تھا۔ وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر گئی۔

اسامہ بھی آہستہ آہستہ سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ اس نے اور عمارہ نے ساری غلاظت اکٹھی کر کے ایک بوری میں ڈالی۔ عمارہ نے کالے جادو کی کتابیں بھی اس بوری میں ڈال دیں۔ اسامہ خود مشکل سے چل رہا تھا اس لیے عمارہ اس بوری کو اٹھا کر سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ اسامہ ابھی تہہ خانے میں ہی تھا تو عمارہ صحن میں بوری رکھ کے واپس بھی آگئی۔ اسامہ اور عمارہ نے وشاء ، حوریہ ، فواد اور خیام کی قبروں کے قریب کھڑے ہو کر سورۃ فاتحہ پڑھی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی اور پھر واپس اوپر صحن میں آگئے۔

اسامہ نے غلاظت سے بھری اس بوری کو آگ لگا دی۔ عمارہ پیکنگ کرنے لگی۔ جب روانگی کی ساری تیاری مکمل ہو گئی تو اسامہ نے ساحل اور عارفین کو جگایا۔ وہ دونوں بھی تیار ہوگئے۔ جب سامان اٹھا کر سب ریسٹ ہاؤس سے باہر جانے لگے تو ساحل نے عمارہ سے کہا

’’ایک بار وشاء کی قبر دیکھ لوں۔‘‘

عمارہ نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر اسامہ سے کہا

’’تم دونوں ادھر ہی ٹھہرو۔۔۔ہم ابھی آتے ہیں۔‘‘

ساحل اور عارفین اب خود سے چل سکتے تھے۔ اب انہیں سہارے کی ضرورت نہیں تھی۔ ساحل اور عمارہ تہہ خانے کی سیڑھیاں اتر کر اس چھوٹے سے قبرستان میں گئے۔

ساحل وشاء کی قبر کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔وہ ایک بار پھر جذبات کی رو میں بہنے لگا۔۔۔اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ وہ گلوگیر آواز میں بولا ’’مجھے معاف کر دو وشاء۔‘‘

عمارہ نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔

’’وشاء کے لیے سورہ فاتحہ پڑھو اور اس کی مغفرت کی دعا مانگو۔۔۔ اس طرح آنسو بہانے سے روحوں کو اذیت ہوتی ہے۔‘‘

ساحل نے سورہ فاتحہ پڑھی اور وشاء کے ساتھ ساتھ حوریہ ، فواد اور خیام کے لیے بھی دعا مانگی۔ وہ دونوں اوپر ریسٹ ہاؤس کے صحن میں آئے اور پھر سارے اس ریسٹ ہاؤس سے باہر نکل گئے۔

گاڑی تک پہنچنے کا مسئلہ بھی ان کے لیے کافی کٹھن تھا۔ انہیں پہاڑوں کے دشوار گزار غاروں سے گزر کر گاڑی تک پہنچنا تھا۔ انہوں نے ہمت کی اور اس دشوار گزار راستے سے گزر کر گاڑی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

اسامہ تو وہیں زمین پر سر بسجود ہوگیا اور اپنے رب کا شکر ادا کیا کہ وہ اپنے مِشن میں کامیاب ہوئے اور اب صحیح سلامت گھر واپس لوٹ رہے ہیں۔ ساحل ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور عمارہ اس کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھ گئی اسامہ اور عارفین پیچھے بیٹھ گئے۔

وہ شام کے پانچ بجے وہاں سے روانہ ہوئے۔ تقریبا آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد ہی ان کے موبائلز کی سروس بحال ہوگئی۔اسامہ ساحل اور عارفین نے اپنے اپنے گھر والوں کو فون کیا اور انہیں اپنی کامیابی اور خیریت کی اطلاع دی۔ گھر والوں سے بات کر کے انہیں ایک عجیب سا سکون ملا۔ انہیں محسوس ہوا کہ جذبات سے بھرپور زندگی ہاتھوں میں خوشیوں کے گلاب اٹھائے ان کی منتظر ہے۔

ان کی گاڑی پہاڑوں پر بل کھاتے سانپ جیسی سڑک پر لہائی کی طرف دوڑ رہی تھی۔ بادل جیسے بار بار گاڑی کے آگے آکر چھیڑ خانی کر جاتے تھے۔

عمارہ نے اپنی والدہ رابعہ کا نمبر ملایا تو بیل جانے لگی۔ عمارہ کے دل کی دھرکن تیز ہو رہی تھی کہ وہ کب اپنی ماں کی آواز سنتی ہے۔ رابعہ واش روم میں تھی اس لیے اس نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔

عمارہ نے دوبارہ کوشش کی مگر ماں سے بات نہ ہو سکی پھر اس نے ظفر کا نمبر ملایا۔

’’ہیلو عمارہ۔۔۔کہاں ہو تم لوگ۔۔۔خیریت سے تو ہو۔ ہم تو تم سب کے موبائلز پر فون کرتے رہے مگر رابطہ ہی نہیں ہوا اور نہ تم میں سے کسی نے فون کیا۔‘‘

’’انکل ہم سب خیریت سے ہیں۔ ہمارے موبائلز پر سگنل ہی نہیں تھے۔ ہم تو ایک دوسرے سے بھی رابطہ نہیں کر سکتے تھے۔ امی تو ٹھیک ہیں نا۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ٹھیک ہیں۔ مگر تمہاری وجہ سے بہت پریشان ہیں۔‘‘ ظفر نے کہا۔

’’میں جو خوشی کی خبر سنانے والی ہوں۔ اس سے آپ سب کی پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔‘‘ عمارہ نے خوشی بھرے لہجے میں کیا۔

’’تو پھر سناؤ عمارہ۔۔۔‘‘ ظفر نے بے چینی سے کہا۔

’’ہم اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ہیں اب صحیح سلامت گھر لوٹ رہے ہیں۔‘‘ عمارہ اتنی خوش تھی کہ اس کی آواز فون سے باہر آرہی تھی۔

تھوڑی دیر کے لیے ظفر کی طرف خاموشی چھا گئی۔ خوشی کے احساس سے اس کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ وہ گلوگیر لہجے میں بولا

’’اپنوں کی جدائی کے غم نے تو مجھے مار ہی ڈالا تھا۔۔۔یہ خبر سن کر میں پھر سے جی اٹھا ہوں۔‘‘

’’انکل آپ خیا م، فواد اور حوریہ کے گھر والوں کو بھی بتا دیں۔‘‘ عمارہ نے کہا۔

’’عمارہ میں سب کو بتا دوں گا۔ تم سب نے میرے گھر آنا ہے۔ میں، خیام، فواد اور حوریہ کے گھر والوں کو ساحل اور عارفین کے گھر والوں کو اپنے گھر ہی بلا لوں گا۔ اسامہ کی والدہ تو اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ گجرات رہتی ہیں۔۔۔ان کے لیے آنا مشکل ہوگا اس لیے انہیں نہیں کہوں گا۔ تم لوگ آجاؤ تو ہم خود کسی دن شکریہ ادا کرنے ان کے گھر جائیں گے۔۔۔ہماری اس کامیابی کا کریڈٹ تو اسامہ کو ہی جاتا ہے۔ تم سب خیریت سے پہنچ جاؤ ہم سب کی دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ ظفر نے کہا۔

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اسامہ ہمارا ہیرو ہے لیکن مزے کی بات بتاؤں کہ یہ دو اناڑی فوجی ساحل اور عارفین بھی اس جنگ میں بہت بہادری سے لڑے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر عمارہ ہنسنے لگی۔

’’اللہ تم لوگوں کو اپنے امان میں رکھے۔۔۔‘‘ میں پہلے رابعہ کو یہ خبر سناتاہوں۔‘‘ یہ کہہ کر ظفر نے فون بند کر دیا۔

عمارہ، اسامہ، ساحل اور عارفین ظفر کے گھر پہنچے تو سب نے مل کر ان کا استقبال کیا۔

اسی مہینے کی چوبیس تاریخ کو عارفین اور وینا کی شادی طے کر دی گئی۔

عارفین اور وینا کی شادی کی تقریب میں سب شامل ہوئے اور سبھی بہت خوش تھے۔ ساحل بھی اب کافی حد تک سنبھل گیا تھا۔ اسی تقریب میں اسامہ اور عمارہ بھی ایک دوسرے کو منگنی کی انگوٹھی پہنا کر ایک نئے رشتے میں بندھ گئے

End

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *