مرزا اسداللہ بیگ خان، جنہیں دنیا “مرزا غالبؔ” کے نام سے جانتی ہے، 27 دسمبر 1797 کو آگرہ (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک مغل خاندان سے تھا جو اصل میں ترک نژاد تھا۔ ان کے والد، عبد اللہ بیگ، چھوٹی عمر میں ہی وفات پا گئے، اور غالب صرف 5 سال کے تھے جب یتیمی نے ان کا دامن پکڑ لیا۔ بعد میں ان کی پرورش ان کے چچا نصر اللہ بیگ نے کی، لیکن وہ بھی جلد وفات پا گئے۔ یوں زندگی کے ابتدائی دنوں سے ہی غالب نے محرومی اور تنہائی کو قریب سے دیکھا۔
تعلیم اور بچپن کا دور
غالب نے باضابطہ تعلیم زیادہ حاصل نہیں کی، مگر علم و ادب کا ذوق فطری طور پر ان میں موجود تھا۔ عربی، فارسی، منطق اور فلسفہ انہوں نے خود مطالعہ کے ذریعے سیکھا۔ بچپن میں ہی شعر کہنا شروع کیا اور محض 11 برس کی عمر میں ان کے اشعار لوگوں کی زبان پر آنے لگے۔
ان کے بچپن کا دور مالی تنگی اور جذباتی تنہائی سے بھرا ہوا تھا۔ اسی لیے ان کی شاعری میں ایک اداس مگر فکری گہرائی نمایاں نظر آتی ہے۔
شاعری کا آغاز
غالب نے ابتدا میں فارسی میں شاعری کی اور بعد میں اردو کو بھی اپنا ذریعہ اظہار بنایا۔ ان کے اشعار میں فلسفہ، درد، عشق، اور طنز کا ایک ایسا امتزاج ملتا ہے جو ان سے پہلے کسی شاعر میں نہیں تھا۔ ایک جگہ وہ خود کہتے ہیں:
“آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں، غالب صریرِ خامہ نوائے سروش ہے۔” ان کے دیوان میں تقریباً 1800 اردو اشعار اور 5000 سے زائد فارسی اشعار موجود ہیں۔ اردو شاعری میں ان کا مجموعہ “دیوانِ غالب” اور فارسی میں “کلیاتِ غالب” سب سے معروف ہیں۔
مرزا غالب کا مزاج اور شخصیت
غالب کی طبیعت نہایت شوخ، خوددار، اور ذہانت سے بھرپور تھی۔ وہ علم و فن میں بلند مقام رکھتے تھے، مگر روزمرہ زندگی میں مزاح اور چبھتے طنز کے ذریعے بات کرتے۔ ان کے دوست کہتے تھے کہ غالب کا غصہ بھی نرالا تھا — اگر کسی سے ناراض ہوتے تو اس کی بات میں ہی ایسا طنز بھرتے کہ سننے والا ہنس بھی دے اور شرمندہ بھی ہو جائے۔
طنز و مزاح کے 10 مشہور واقعاتطنز و مزاح کے 10 مشہور واقعات
ایک بار کسی نے غالب سے پوچھا، “مرزا! شراب چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟” غالب نے مسکرا کر کہا: “صاحب، اب تو پینے کے لیے شراب نہیں، یادیں پینے کے لیے گلاس چاہیے!”
ایک دن کسی نے کہا: “مرزا! آپ کا کلام سمجھ نہیں آتا۔” غالب بولے: “صاحب، کلام سمجھنے کے لیے دماغ چاہیے، صرف کان نہیں!”
دہلی میں ایک فقیر نے ان سے پیسے مانگے۔ غالب نے کہا: “بھائی، ہم خود سوالی ہیں — فرق صرف یہ ہے کہ تم اونچی آواز میں مانگتے ہو، ہم خاموشی سے!”
ایک محفل میں کسی نے ان کی تعریف کی تو کہنے لگے: “میں شاعر نہیں، آفتاب ہوں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ لوگ سورج کو بھی چراغ سمجھ لیتے ہیں!”
کسی نے کہا، “مرزا، آپ کے دشمن بہت ہیں۔” غالب بولے: “شکر ہے! اگر سب دوست ہوتے تو میری قدر کون کرتا؟”
جب حکومت نے ان کی پنشن روک دی تو غالب نے خط لکھا: “اگر ہم گناہگار ہیں تو سزا دنیاوی کیوں؟ اگر بےقصور ہیں تو رزق بند کیوں؟”
کسی نے ان کے بارے میں کہا کہ وہ لاپرواہ آدمی ہیں۔ غالب نے فوراً کہا: “صاحب، لاپرواہ نہیں، دنیا کی فکر سے آزاد ہوں!”
ایک روز کسی شاگرد نے کہا: “مرزا صاحب! آپ کا شعر سمجھنے میں عمر گزر گئی۔” غالب ہنس کر بولے: “پھر بھی جوان ہو، کیونکہ سمجھ ابھی باقی ہے!”
ایک بار کسی نے کہا: “مرزا! آپ کی شاعری میں دکھ زیادہ ہیں، خوشی کم۔” انہوں نے جواب دیا: “میری شاعری خوشیوں کے نصیب میں لکھی ہی نہیں گئی!”
مرزا صاحب سے کسی نے پوچھا: “آپ کبھی سنجیدہ بھی ہوتے ہیں؟” غالب نے کہا: “ہاں، جب آئینہ دیکھتا ہوں اور یاد آتا ہے کہ دنیا کتنی سنجیدگی سے فریب کھا رہی ہے!”
شہرت اور تراجم
مرزا غالب کی شاعری کا ترجمہ دنیا کی 30 سے زائد زبانوں میں ہو چکا ہے، جن میں انگلش، ہندی، فارسی، بنگالی، فرانسیسی، جرمن، روسی، اور عربی شامل ہیں۔ ہندوستان، پاکستان، ایران، ترکی، مصر، فرانس، انگلینڈ اور امریکہ میں ان کی شاعری پر تحقیقی کام آج بھی جاری ہے۔ ان کے کلام کی سب سے زیادہ پذیرائی جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ہوئی۔
زندگی کے آخری ایام
غالب کی زندگی کے آخری دن غربت، تنہائی اور بیماری میں گزرے۔ 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد دہلی اجڑ گئی، دوست بچھڑ گئے، دربار ٹوٹ گیا، اور ادب کی وہ محفلیں ختم ہو گئیں جن میں وہ ستارے کی طرح چمکتے تھے۔ ان کی بیوی امرا بیگم ان سے پہلے وفات پا چکی تھیں۔ بڑھاپے میں وہ زیادہ تر گھر تک محدود ہو گئے۔ 15 فروری 1869 کو، دہلی میں، مرزا غالب اس فانی دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ ان کا مزار نظام الدین اولیاء کے قریب ہے، جہاں آج بھی ادب کے عاشق سلام پیش کرنے آتے ہیں۔
نتیجہ
مرزا غالب صرف شاعر نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہیں — ایک ایسا دور جو درد، طنز، محبت، اور فلسفہ سب کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔ ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے، کیونکہ وہ انسان کے اندر چھپی ہوئی اداسی، شوخی، اور عقل کی گہرائی کو چھوتی ہے۔
“ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے، بہت نکلے میرے ارماں، لیکن پھر بھی کم نکلے۔”