بلونت سنگھ
ماجھا کے علاقے میں بھیکن ایک چھوٹا سا غیر معروف گاؤں تھا ۔ مشکل سے سو گھر ہوں گے ۔ زیادہ تر سکھوں کی آبادی تھی۔ یہاں کی ایک بات تھی ۔ وہ یہ کہ بعض اوقات یہاں کوئی غیر معمولی طور پر حسین لڑکی وجود میں آتی جس کے ساتھ کسی نوجوان مرد کے عشق کی داستان اس قدر پر رومان ہوتی کہ سی پنوں ، سوسنی مہینوال اور ہیر رانجھے کے قصے بھی مات ہو جاتے تھے اور اب کے قرعہ گور نام کور کے نام پر پڑا تھا ۔
گر نام کے حسن نے آس پاس کی بستیوں کے نوجوانوں میں ایک ہلچل سی مچادی تھی ۔ وہ ایک گڑیا کے مانند تھی ۔
چینی کی مورت چلتی تو اس سبک رفتاری کے ساتھ کے نقش قدم معدوم ، سرمگیں اور بدمست آنکھیں ایسے گناہ کی دعوت دیتی تھیں جس سے بہتر ثواب کا تصور ذہن میں نہ آتا تھا لیکن ابھی وہ معصوم تھی شباب کی آمد آمد تھی اور وہ ایک بے فکر اور پر شباب دوشیزہ کی طرح پر زور حسن ابھی اس طرح محسوس کرتی تھی جیسے خاموش اور پر سکون سے میں کہیں دور سے شہنائی کی اڑتی ہوئی آواز سنائی دے جائے ۔ ابھی وہ مردوں کے اشاروں کنایوں کا مطلب نہیں سمجھتی تھی ۔
وہ اپنی مسکراہٹ ہر کسی کو پیش کر دیتی ۔ وہ سب سے ہنس کر بات کر لیتی ۔ ابھی اس میں پندار حسن پیدا نہیں ہوا تھا اس لئے جو شخص اس سے بات کر لیتا وہ یہی سمجھتا کہ گر نام اس سے محبت کرتی ہے ۔
ایک مرتبہ شنگارا سنگھ نے علانیہ نو جوانوں کے جھرمٹ میں کھڑے ہو کر کہ دیا تھا کہ وہ گرنام کو بھگا لے جائے گا ۔ اسی وقت دلیپ سنگھ وہاں سے گزرا تو دوسروں نے ان کو سمجھایا کہ دیکھو دلیپ سنگھ بھی گر نام کے عاشقوں میں شمار ہوتا ہے ۔ اس نے سن پایا تو حالات خطرناک صورت اختیار کر سکتے ہیں ۔ اس پر شنگارا سنگھ نے
زبر دست قہقہہ لگایا۔ اس پر دلیپ کی آنکھوں میں خون اتر آیا اس نے خشمگین نظروں سے شنگارے کی طرف دیکھا اور کڑک کر بولا تو نے بکرا کیوں بلایا ہے؟”شنگارے نے تہہ بند کس لیا اور خم ٹھونک کر مقابلے پر آکھڑا ہوا ۔
دلیپ کی ہمیں قہر برسا رہی تھیں ۔ قریب تھا کہ دونوں جوان با ہم گتھ جائیں مگر سب نے بیچ بچاؤ کرا دیا ۔ آخر کہاں تک ۔ ایک دن خونی پل پر دونوں کا مقابلہ ہوگیا ۔ دلیپ کا ٹخنہ اتر گیا اور دیپ کی لاٹھی کی ایک ہی ضرب سے شنگارے کا جبڑا ٹوٹ گیا ۔ جان تو بچ گئی مگر صورت بگڑ گئی ۔ اس دن سے سب کے کان کھڑے ہو گئے اور اب دلیپ کے جیتے جی گر نام کا دعوے دار پیدا ہونا ناممکن تھا۔رات بھیگ چکی تھی ۔ چاند جو بن پر تھا گاؤں پر ایک پر اسرار خاموشی طاری تھی ۔ کبھی کبھی کتوں کے بھونکنے کی آواز بھی آجاتی یا اس وقت رہٹ کی چرخی کے پاس ایک جنگلی بلا بیٹھا دم ہلا رہا تھا اور نہایت انہماک کے ساتھ میاؤں میاؤں کر رہا تھا ۔
یہ رہٹ کوڑے کے ڈھیر کے پاس گاؤں کے باہر کی طرف تھا ۔ ساتھ ہی پیپل کا ایک بہت بڑا اور گھنا درخت جس پر ایک جھولا پڑا تھا کیونکہ بیلوں کو ہانکنے والا کوئی تھا نہیں جی چاہتا چل دیتے جی چاہتا ٹھہر جاتے ۔ اس وقت خاموشی سے کھڑے سینگ ہلا رہے تھے اتنے میں سانڈنی سوار ایک سکھ مرد پیپل کے نیچے آکر رکا۔ اس نے سانڈنی کو نیچے بٹھانا چاہا۔ سانڈ نی بلبلا کر چلی پھر دھپ سے بیٹھ گئی ۔ پنجاب کے دیہات میں چھ فٹ اونچا نو جوان ہوتا کوئی خلاف معمول بات نہیں تھی مگر اس مرد کے کاندھے غیر معمولی طور پر چوڑے تھے ۔ ہاتھوں اور چہرے کی رگیں بھری ہوئی، آنکھیں سرخ انگارہ ناک جیسے عقاب کی چونچ رنگ سیاہ چوڑے اور مضبوط جبڑے ایسے دکھائی پڑتا تھا جیسے گردن میں سے تراش کر بنایا گیا ہو ۔ جوڑے پر رنگ برنگ کی جالی جس میں سے تین بڑے بڑے پھندے نکل کر اس کی سیاہ داڑھی کے پاس لٹک رہے تھے ۔ کانوں میں بڑے بڑے مندرے، کالے رنگ کی چھوٹی سی پگڑی کے دو تین بل سر پر ، بدن پر لانبا کرتا اور مونگیا رنگ کا دھاری دار تہبند اس کی ایڑیوں تک لکھتا ہوا گریبان کا تسمہ کھلا ہوا اور اس کے سینے پر کے گھنے بال نمایاں اور پھر اس کے ہاتھ میں ایک تیز اور چمکدار چھوی ، ایک تیز و خم دار ہتھیار جو لاٹھی کے سرے پر چڑھا لیا جاتا ہے۔آتے ہی اس نے بیلوں کو دھتکارا اور وہ چلنے لگے ۔ اس نے جوتے اتارے
تہبند اوپر اٹھایا اور اپنے موٹے کڑے ہنی کڑا جو سکھ کلائی میں پہنے رہتے ہیں پیچھے ہٹایا، پانی کی جھال کی طرف بڑھا پہلے اس نے منہ ہاتھ دھویا ، زور سے کھانسا پھر پانی پینے لگا۔ جب وہ پگڑی کے عملے سے نہ پوچھنے گا تو ایک نوجوان دوشیزہ کو دیکھ کر ٹھیک
گیا۔ لڑکی نے پانی بھرنے کیلئے گھڑا جھال کے نیچے کیا ۔ اس کی گوری کلائی پر کچ کی کالی کالی
چوڑیاں ایک چھن کی آواز کے ساتھ یک جا ہو گئیں ۔ گلابی رنگ کی شلوار ، چھینٹ کا گھٹنوں
تک کا کرتا سر پر دھانی رنگ کی ہلکی پھلکی اوڑھنی ۔ کانوں میں چھوٹی چھوٹی بالیاں ، جب اس نے اپنا نازک ہونٹ دانتوں تلے دبایا ، گھڑا ایک جھٹکے کے ساتھ اٹھا کر کولہے پر رکھا تو اس کی کمر میں ایک دل نشین خم سا پیدا ہو کر رہ گیا ۔
مرد نے پہلے ایک پاؤں اولو ( جہاں پانی گرتا ہے) سے باہر نکالا اور اسے جھٹک کر جوتا پہن لیا تو وہ اپنی چھوٹی ہاتھ میں لیتے ہوئی اروڑی پر کھڑا ہو گیا جہاں ایک سفید مرغی کے بہت سے پر پڑے تھے ۔ پاس ہی کسی کے گھر کی کچی دیوار تھی ۔ جس پر اہلے رکھے ہوئے تھے ۔ جب لڑکی دیوار کے قریب سے گزرنے لگی
تو مرد نے چھوٹی سے ایک اپلا نیچے گرا دیا جو لڑکی کے پاؤں کے پاس جا کر گرا ۔ اسی وقت اجنبی مرد نے اس کے پاؤں دیکھے۔ جیسے سفید سفید کبوتر ، تلوؤں کی ہلکی گلابی رنگت ایسے معلوم ہوتی تھی جیسے وہ پاؤں ابھی ابھی گلاب کی کلیاں روند کر چلے آرہے ہوں ۔ لڑکی نے اپنی لانبی پلکیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
شاید اس نے اسے محض ایک راہ گیر سمجھا تھا مگر اس کی ڈراؤنی صورت دیکھ کر اس کی بڑی بڑی سرمگیں آنکھوں میں خوف کا سایہ دکھائی دینے لگا ۔ مرد نے بھاری بھر کم اور کرخت آواز میں پوچھا ۔ تو کون ہے؟“
لڑکی کی نظریں مرد کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی شخص نے اسے اس قدر بے مروتی سے مخاطب کیا تھا۔ اس کے سرخ سرخ نازک ہونٹ پھڑ کنے لگے جیسے کسی نے لال مرچیں اس پر چھڑک دی ہوں مگر مرد غیر معمولی طور پر بھیانک تھا۔ مرد نے اسی لہجے میں اپنا سوال دہرایا تو کون ہے؟“
لڑکی سمجھ نہ سکی کہ اس بات کا کیا جواب دے؟ اس نے اپنی حنائی انگلی اٹھا کر شارہ کرتے ہوئے جواب دیا ” میں وہاں اس گھر میں رہتی ہوں ۔
مرد نے پھٹی ہوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ اپنے چوڑے شانوں کو
رکت دے کر بولا ۔ تیرا نام کیا ہے؟ تو وہاں کس کے ساتھ رہتی ہے؟“
مجبوت دے رہی تھیں کہ گھر کی عورتیں کاہل یا آرام طلب ہر گز نہیں ہیں ۔ گھر کے سب افراد بیاہ والے کھر گئے ہوئے تھے ، چار کے سوا۔۔۔۔
بھینس جگالی کر رہی تھی۔ بھں اور کھلی کی بو چہار جانب پھیلی ہوئی تھی ۔ رسی پر میلے کچیلے کپڑے لٹک رہے تھے ۔۔ ایک طرف خراس ، دوسری طرف تنور اور اس کے پاس ہی دیوار سے لگا ہوا چھکڑے کا پہیہ یہ بڑے بڑے اپلے کونے میں کپاس کی چھڑیاں چولہے کے پاس جھوٹے بر تنوں کا انبار ایک کمرے سے سفید سفید چمکتے ہوئے برتن دکھائی دے رہے تھے ساتھ ہی تا گے میں پروئے ہوئے شلغم کے قتلے سوکھنے کیلئے لٹک رہے تھے۔
صحن سے گزر کر بوڑھا باپو اجنبی کو دروازے کے باہر چھپر کے نیچے لے گیا۔۔ تھوڑی سی جگہ کے تینوں طرف ایک کچی دیوار اٹھادی گئی تھی ۔ سوکھے ہوئے اہلے جو جلانے کے کام آسکتے تھے اسی جگہ رکھے جاتے تھے۔ یہاں ایک چار پائی ڈال دی گئی ۔ چار خانوں والا ایک کھیں اور اجنبی کے دل کی طرح سخت ایک عدد تکیہ اس پر رکھ دیا گیا۔ گر نام نے کپاس کی چھڑیوں کا ایک گٹھا تنور میں پھینکا اور خود آٹا گوندھنے
گئی ۔۔۔ جس وقت وہ تنور میں روٹیاں لگانے لگی تو اس کی اوڑھنی سر سے کھسک گئی ۔ اس کی لاپنی چوٹی کے رنگ برنگے پھند نے اس کی پنڈلیوں تک لٹک رہے تھے ۔ دہکتے ہوئے تنور کی روشنی اس کے حسین چہرے پر پڑ رہی تھی اور اجنبی چپکے چپکے اس کو دیکھ رہا تھا ۔ شلغم کی ترکاری ایک کٹورے میں شکر گھی ڈیلیوں کا اچار ، دو بڑی بڑی پیاز کی گٹھلیاں اور آٹھ چوڑی چوڑی روٹیاں تھال میں رکھ کر گر نام اسے دینے آئی ۔ جب اجنبی نے اونچے سر میں تین چارڈ کاریں لیں اور بڑے زور شور کے ساتھ منہ میں انگلی پھیر کر کلی کی تو گر نام کو معلوم ہو گیا کہ وہ کھانا ختم
وہ برتن اٹھانے لگی تو اس نے دیکھا کہ اجنبی کپڑے اتار رہا ہے۔ جب اس نے تہبندا تارا اور اسے جھاڑ کر تکیے کے قریب رکھنے لگا تو سونے کا ایک کنٹھا نیچے گر پڑا۔ گر نام ٹھٹک کر واپس جانے لگی تو اجنبی نے آہستہ سے پوچھا ”گر نام ! بس جا رہی ہو کیا؟“ گر نام حسب معمول اپنے دل فریب طفلانہ انداز سے مسکرائی اور اوڑھنی سنبھالتی
ہوئی آگے جھک کر آہستہ سے بولی ” سب لوگ سو جائیں تو میں آؤں گی ۔
اجنبی دور کھیتوں کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ شریف اور بول کے پیڑ سیاہ دیوؤں کی طرح خاموش کھڑے تھے لنڈ منڈ بیریوں کے گھونسلے لٹک رہے تھے ۔ ایسے سنسان وقت میں تاروں بھرے آسمان تلے کبھی دور افتادہ رہٹ سے کسی نوجوان کے مسرت انگیز گانے کی ہلکی
ہلکی آواز آرہی تھی ۔
باگے وچ کیلا ای۔
نکل کے مل بالو۔
ساڈا او نچھنے دا ویلا ای“
نکل کے مل بالو
اتنے میں گر نام دبے پاؤں شلوار کے پانچے اٹھائے ،نچلا ہونٹ دانتوں تلے رہائے ۔ چپکے چپکے قدم نا پتی ہوئی آئی۔
تھوڑی دیر بعد دونوں میں گھل مل کر باتیں ہونے لگیں ۔ اجنبی نے بہت سے سونے کے زیورات اور موتیوں کے ہار نکالے ۔ قریب تھا کہ گر نام کے منہ سے حیرت اور مسرت کے مارے ایک چیخ نکل جاتی مگر اجنبی نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے
کا اشارہ کیا ۔۔۔۔ گر نام بہت دیر تک مینا کی طرح چہکتی رہی ۔۔۔ نا
ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی مگر اس کا دھیان زیورات کی طرف تھا ۔ آخر اس نے اپنی باتوں سے آپ ہی اکتا کر ایک گہری سانس لی اور تکان کی آواز میں بولی ” کیوں تم یہ زیورات کہاں سے لائے ہو ؟ میرے خیال میں تم جیب کترے تو نہیں ہو ۔ مجھے جیب کتروں ، چوروں اور ڈاکوؤں سے سخت نفرت ہے ۔ وہ جھٹ سے گلا دبا کر آدمی کو مار ڈالتے ہیں یہ کہہ کر گر نام اپنی موٹی آنکھوں سے خلا میں گھورنے لگی جیسے بیچ بیچ کا کوئی قاتل اس کا گلا داہنے
آرہا ہے۔ مت گھراؤ تم بھی کہی ہوں میں باتیں کرتی ہوں بھلا رہے ہوتے ہوئے بچوں تمہیں کس بات کا خطرہ ۔ اٹھو یہاں میرے پاس چار پائی پر بیٹھ جاؤ۔“
گر نام اٹھ کر اس کے پاس بیٹھ گئی ۔ اس نے اجنبی کے چوڑے شانوں کا جائزہ لیا اور پھر گویا تہ دل سے مطمئن ہو کر کہنے لگی تم کتنے اچھے ہو ۔ یہ زیورات تو تم اپنی بیوی کیلئے
لائے ہو گے نا؟”
“ہاں”
گر نام نے اپنی تھیلی پر رخسار رکھتے ہوئے بڑے اشتیاق سے پوچھا ۔ تمہاری
بیوی کیسی ہے ؟”
مگر میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی ۔ ۔”
اچھا تو ہونے والی بیوی کیلئے لائے ہو ۔۔۔؟“
اجنبی نے اپنی داڑھی کے کھردرے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ” ابھی تو مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میری بیوی کون بنے گی ؟ بنے گی بھی یا نہیں؟“
گر نام نے اپنی دونوں ہتھیلیوں پر تھوڑی رکھ کر اپنی آنکھیں جلد جلد جھپکاتے ہوئے ناک ذرا سیکٹر کر بھولے پن سے کہا ہاں تم کالے ہو ۔ ذرا ۔ اجنبی کے سینے میں جیسے کسی نے گھونسا مار دیا ہو مگر گر نام نہایت سنجیدگی سے کسی گہری سوچ میں ڈوب چکی تھی ۔ ۔ شاید وہ
اجنبی کیلئے بیوی حاصل کرنے کی ترکیب سوچ رہی تھی ۔ یہ زیور تم لے لو ؟ ۔ “
گر نام نے چونک کر اجنبی کی طرف دیکھا پھر تم اپنی بیوی کو کیا دو گے؟“
اجنبی کو کوئی جواب نہ سوجھا لڑکھڑاتی زبان سے بولا ۔ پھر میں تم سے لے لوں گا۔” گر نام کی آنکھیں چمکنے لگیں ۔ اس کی باچھیں کھل گئیں ۔ تالی بجا کر بولی ” میں انہیں اپلوں میں چھپا دوں گی کبھی کبھی رات کو اچھے زیورات پہن کر کھیتوں میں جایا کروں گی۔
کچھ دیر سکوت کے بعد اجنبی نے کہا ” تم بھی تو مجھے کچھ دو؟“
گر نام نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا ” میرے پاس گیا ہے؟“
کچھ بھی ہو۔“
گر نام چہرے سے ہاتھ ہٹا کر کچھ دیر تک سوچتی رہی ۔ پھر اس نے اپنے گلے سے کوڑیوں اور خربوزوں کے رنگ برنگ کے بیجوں کا ہار اتار کر اجنبی کی طرف بڑھا دیا۔ وہ اپنا یہ حقیر تحفہ دیکھ کر جھینپ سی گئی اور اس کے رخسار دمکنے لگے۔ تھوری دیر بعد گر نام نے ایک انگشتری اٹھا کر کہا یہ میری انگلی میں پہنا دو دیکھوں کیسی لگتی ہے۔“
اجنبی نے اپنے کالے کالے میلے کچیلے لمبے چوڑے ہاتھوں میں گر نام کا کنول سا
ہاتھ لیا گر نام نظریں جھکائے بچوں کی کی سادگی اور انہماک کے ساتھ انگوٹھی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی زلفوں نے اس کے رخساروں کا ایک بڑا حصہ ڈھانپ رکھا تھا ۔ اجنبی وارفتگی کے تھا۔
ا عالم میں اس کے خوب صورت سیپیوں جیسے پوٹوں پر نظریں گاڑے ہوئے تھا۔ جب وہ اس کی انگلی میں انگوٹھی پہنانے لگا تو اس کی اپنی انگلیاں لرزنے لگیں اور ایسا محسوس ہونے لگا جیسے اس کی چار چار انگل چوڑی کلائیوں کی کل طاقت کشید کی جارہی ہو ۔ گر نام چونگی اور سہی ہوئی ہرنی کی طرح اٹھ کھڑی ہوئی ”اماں کھانس رہی ہے اب میں جاتی ہوں
اجنبی اپنے خواب سے چونکا۔ گر نام نے آگے جھک کر نقرئی آواز میں پوچھا جاؤں کیا ؟“اجنبی کی اجازت لے کر وہ زیورات کی پوٹلی بغل میں دبائے حجٹ اندر چلی گئی ۔ علی الصباح گاؤں کے مویشی رات بھر کی گرمی سے گھبرا کر جوہر میں گھسپڑے۔
اجنبی جانے کیلئے تیار بیٹھا تھا ۔ گر نام نے اسے ایک باسی روٹی پر مکھن اور چھالی کا دیا اور جب اجنبی کپڑے جان کر تیار ہوا تو گر نام رونے لگی ۔ اجنبی نے آہستہ سے کہاروتی کیوں ہو؟تم مجھے بہت اچھے لگتے ہو تم مت جاؤ”اجنبی نہیں پڑا میں پھر آؤں گا ۔باپو کو آتے دیکھ کر اس نے آنسو پونچھ ڈالے ۔ باپو اجنبی کو رخصت کرنے کیلئے کچھ دور تک اس کے ساتھ گیا ۔
اس نے اجنبی سے پوچھا ” کیا میں اپنے معزز مہمان کا نام پوچھ سکتا ہوں ۔ہاں اجنبی نے اپنی تیز نظریں اس کے چہرے پر گاڑ کر جواب دیا ۔ پھر اس نے اپنی دھوپ میں چپکنے والی چھوٹی کی طرف فخریہ انداز سے دیکھتے ہوئے مزید کہا ” اور تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے
کہ اگر میرے نام کا ذکر اپنے یا بیگانے کسی سے کیا تو تمہارے اور تمہارے خاندان کے سب افراد کے خون سے مجھے ہاتھ رنگنے پڑیں گے۔”اجنبی سانڈنی پر سوار ہو گیا اور مہار کو جھٹکا دے کر اپنی بھاری آوز میں بولا آج رات جگا ڈا کو تمہارا مہمان تھا۔جگا ڈا کو ۔ اصل نام سردار جگت سنگھ ورک و خوف ناک شخص تھا جس کا نام سن کر
بڑے بہادروں کے چھکے چھوٹ جاتے تھے۔ قتل غارت گری ظلم لوٹ مار اس کے ہر روز کے مشاغل تھے ۔ لڑکپن اور شباب خون کی ہولی کھیلنے ہی میں گزر گیا ۔ بہت سی زمین کا مالک تھا بڑوں بڑوں پر ہاتھ صاف کرتا تھا ۔
غریب خوش تھے ۔ اس کے خلاف گواہی دینے کا کوئی شخص حوصلہ نہیں کر سکتا تھا ۔ اب تمہیں برس سے اوپر میں تھا۔ موت کے ساتھ کھیلتا ہوا سو جاتا اور ہوجاتا اور موت کا مذاق اڑاتا ہوا جاگ اٹھتا ۔ محبت ، حسن ، شفقت، نیکی وغیرہ کا اس کے نزدیک کچھ بھی ہم متعین نہیں تھا۔ دور دور تک اس کی دھوم تھی ۔ علاقہ بھی اس سے تھراتا تھا۔ اس کا دل پتھر مفہوم اس سو اور، باز و آهن غصه قیامت رہن شعلہ وہ قہر تھا۔لوگوں نے اس کے نام پر کئی گانے بنا لئے تھے ۔ نو جوان جھوم جھوم کر انہیں گایا کرتے تھے ۔ ایک واقعے کا ذکر یوں ہوتا ہے؟
پکے پل تے لڑائیاں ہوئیاں پکے پل تے پکے پل تے لڑائیاں ہوئیاں تے چھویاں دے کل ٹٹ گئے جگیا۔یا پھر لائل پور میں اس نے ایک زبر دست ڈا کا مارا تھا اور بیچ کر واپس بھی آگی اتھا اس کا ذکر یوں ہوتا ہے۔جگا ماریا لائل پور ڈا کا جگا ماریا جگا مار یا لائل پور ڈا کاتے تاراں کھڑک گیا آپے۔اس کی طویل تاریک اور ہیبت ناک شب حیات میں ایک تارا طلوع ہوا جس نے اس کی نظریں خیرہ کر دیں اور وہ تارا تھی گر نام گر نام بیچاری نادان چھوکری ۔۔۔۔اسے عشق و محبت کا پتہ نہ تھا ۔ اسے لوگ کنکھیوں سے دیکھتے ۔ وہ نہیں دیتی ۔ اس کا جذبہ پندار حسن و شباب کسی نے بھی صحیح طور پر متحرک کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ ابھی اسے اتنا ہوش ہی نہ تھا
کہ دیدہ و دانستہ شکار کھیلے ، بسملوں کا تڑپتا دیکھے اور اس لذت سے محظوظ ہو جو میا دوں کے لئے مخصوص ہے ۔ وہ بھولی بھالی سادہ رو چھو کری یہ جانتی ہی نہیں تھی کہ وہ شاہین جسے زخمی کرنے کیلئے پنجاب کے شہر ور نوجوانوں کی کمانیں ٹوٹ چکی تھیں
اور جس پر جو بھی تیر پھینکا جاتا تھا دہ اسے چھو کر اور کند ہو کر زمین پر گر پڑتا تھا وہی شاہین اس کے غلط انداز تیر کا شکار ہو کر نیم بسمل اس کے پیروں کے پاس پڑا تھا اور وہ تیر قدرت نے اس کی پلکوں میں پنہاں کر کے رکھ چھوڑا تھا۔ رات کی تاریکیوں میں جگا ان کے ہاں آتا اور سپیدہ سحر نمودار ہونے سے پہلے ہی رخصت ہو جاتا۔ اس نے اپنے آپ کو ایک متمول زمین دار ظاہر کیا۔ باپو کے سوا گھر کے
سب افراد اسے دھرم سنگھ کے نام سے جانتے تھے ۔ گر نام کی کشش اسے کھینچ لاتی تھی ۔ اس کے دل میں ایک خلش سی رہتی تھی کہ وہ اس فرشتے کو اپنانے سے پہلے خود کو یونکر اس کے قابل بنائے ۔
اس نے کبھی بھی اس سے محبت جتانے کی کوشش نہیں کی ۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ کیونکر اس کا آغاز کرے ۔
وہ سوچتا تھا کہ نا معلوم اس کے اظہار محبت کرنے پر گر نام کیا رویہ اختیار کرے۔ وہ اس کے پاس بیٹھی چہکتی رہتی تھی اور وہ مبہوت سا بیٹھا سنا کرتا کبھی کبھی اسے خود سے نفرت ہونے لگتی تھی۔
صورت تو پہلے ہی اس کی مکر وہ ھی مگر اس کی سیرت پر تو شیطان منہ منه دامن میں چھپاتا تھا ۔ گر نام تھی کہ اس نے کبھی اس سے اظہار نفرت نہیں کیا تھا ۔ وہ نہایت تھا ۔ مہر محبت کے ساتھ اس سے پیش آتی تھی ۔ اگر وہ اسے اپنے قریب بیٹھنے کیلئے کہتا تو اس کے قریب ہی بیٹھ جاتی۔
اگرچہ آج تک اس نے اسے چھونے کی جرات نہ کیتھی میر نام کی فرشتہ سیرتی اس کے دل میں دھڑ کا پیدا کر دیتی تھی ۔
اس کا ملکوتی جمال اس کا سرنگوں کر دیتا تھا۔ تھی۔ صرف اس کے دل کی بے چینی اور ضمیر کی علامت بڑھ گئی ۔ یہاں تک کہ لوگوں نے نہایت حیرت سے سنا کہ جگانے ڈا کا زنی ترک کر دی ہے ۔۔۔۔ و
ڈیڑھ برس کا عرصہ آنکھ جھپکتے گزر گیا۔ جگا صبح و شام پاٹھ کرتا۔ غریبوں کو کھلاتا پلاتا ۔ دان کرتا ۔ گردوارے میں جا کر سیوا کرتا ، ہر کسی کے ساتھ نرمی اور حلیمی سے گفتگو کرتا ۔ اس نے باپو کی منت کی کہ گر نام کور کی شادی اس کے ساتھ کر دی جائے ۔ اس
نے ڈاکا زنی ترک کر دی اور جو کچھ اس نے لوٹا وہ سب بڑی توند والوں کا تھا غریبوں کی کمائی کا ایک پیسہ اس کے پاس نہیں تھا۔
وہ اپنی بہت سی زمین اور روپیہ انہیں دینے کو تیار تھا اور باپو کو ده ہمیشہ بزرگ سمجھ کر ان کی عزت کرے گا لیکن گر نام کو یہ نہ معلوم ہونے پائے کہ جگا ڈا کو تھا اور نہ ہی اسے فی الحال اس بات کا علم ہونے پائے کہ اس کی شادی کس سے ہونے والی ہے کیونکہ اسے یقین تھا کہ وہ اسے چاہتی تھی
اور جب وہ اپنے پریتم کو یک بیک اپنا خاوند دیکھے گی تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی
نیک با پونے سب کچھ منظور کر لیا۔
جگا ٹھیکن سے چودہ کوس پرے رہتا تھا ۔ اس کی آمد ورفت کی خبر کسی کو کانوں کان نہ ہوتی تھی ۔ لوگوں نے اس اجنبی کو کبھی کبھار ان کے گھر سے نکلتے دیکھا تھا مگر کسی نے کوئی خاص توجہ نہ دی کیونکہ اول تو وہ آتا کبھی کبھار تھا۔ دوسرے وہ راتوں رات واپس بھی چلا
وہ ہمیشہ اپنی بڑھی ہوئی مصروفیتوں کا بہانہ کر دیتا ۔ جگا کو دنیا جانتی تھی مگر اسے کوئی نہیں پہچانتا تھا۔ جگا کو شادی کی منظوری مل ہی چکی تھی ۔ اب وہ چاہتا تھا کہ گر نام کی زبان سے بھی اس عشق کا اقرار کر والے خواہ اسے یہ نہ بتائے کہ اس کا ہونے والا خاوند وہی تھا۔ایک دن غروب آفتاب کے بعد وہ پھیکن میں داخل ہوا ۔
گھر جا کر معلوم ہوا کہ گر نام ساتھ والے گاؤں میں جو لاہوں کو سوت دینے گئی ہوئی تھی ۔ جگانے آئینے میں اپنی صورت دیکھی۔
پھر اس نے سب کی نظریں بچا کر چراغ میں سے سرسوں کا تیلی تھیلی پر الٹ دیا اور اپنی گھنی اور کھردرے بالوں والی گرد آلود داڑھی پر خوب اچھی طرح مل لیا ۔ پھر وہ مونچھوں کو بل دیتا ہوا گھر سے باہر نکلا
اور آہستہ آہستہ ٹہلتا ہوا پانچ چھ فرلانگ تک چلا گیا ۔ ہر طرف دھندی چھائی ہوئی تھی ۔ چاند کی ملکی روشنی میں وہ ایک بھوت کی مانند دکھائی پڑتا تھا ۔ دور سے ایک صورت دکھائی دی ۔ اسے غور سے ٹکٹکی باندھ کر دیکھا ۔
کوئی عورت تھی اور یقیناًا تھی بھی گر نام ۔ جگا اصیل مرغ کی طرح تن کر کھڑا ہو گیا گر نام قریب آتے ہی مسکرا دی لیکن مسکراہٹ میں کچھ عنایت جھلکتی تھی ۔ سر پر ایک بھاری گٹھڑی تھی ۔” میری تو گردن ٹوٹ گئی ۔۔
۔۔اس گٹھڑی میں کیا پھر لائی ہو ۔ یہ کہتے ہوئے جگانے ایک ہاتھ سے من بھر کا بوجھ اس کے سر سے یوں اٹھالیا جیسے کوئی دو سال کے بچے کو ٹانگ پکڑ کر اٹھا دے۔
اپلے اور کیا ہوتا گر نام نے اپنی پتلی سی ناک سیکٹر کر کہا ” آرہی تھی رستے میں اپلے چننے لگی ۔ یہاں تک کہ شام ہوگئی دونوں کھیت کی مینڈھ پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔
آج جگانے گر نام کی طرف دیکھا تو اس کے دل میں عجیب عجیب خیالات پیدا ہونے لگے ۔ وہ اپنی ہونے والی بیوی کی طرف بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹیوں اور ساگ کا تصور اسے بے چین کئے دیتا تھا۔ کبھی تو اس کے دل میں آتی کہ سارا بھید کھول دے اور کبھی سوچتا ہر گز نہ بتائے ۔
آخر اس سے رہا نہ گیا کیونکہ گر نام کچھ افسردہ کی ہو رہی تھی۔گر نام یہ کہتے کہتے رال اس کی داڑھی پر ٹپک پڑی ۔ اس نے اسے آستین سے پونچھا
پھر بولا جمہیں ایک خوشخبری سنانا چاہتا ہوں گر نام نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ وہ اپنے پاؤں کے انگوٹھے سے زمین کریدنے میں مصروف تھی اور گہری سوچ میں تھی ۔ اگر چہ وہ
پہلے کی شوخ اور الہڑ نہیں رہی تھی مگر جگا کو کچھ الجھن سی ہونے لگی ۔ اس نے اس کا شانہ ہلا کر ” کیوں گر نام کسی سوچ میں ہو؟”پوچھا گر نام پہلے تو چونگی ۔ پھر اس نے دھیرے سے کہا “میں بہت پریشان ہوں۔
میں بہت دنوں سے چاہتی تھی کہ تمہیں سب حال سناؤں لیکن ۔۔۔۔۔۔کیا لیکن؟۔۔۔۔۔۔۔”شرم آتی تھی
گر نام نے جھینپ کر جواب دیا۔جگا کچھ کچھ تاڑ گیا ۔ مونچھ کے نیچے مسکرایا ” ارے مجھ سے شرم کیسی؟ “گر نام چپ رہی ۔ جگا کھسک کر اس کے قریب ہو گیا ۔ اس کے بار بار اصرار کرنے پر گر نام نے بتایا۔
وہ میری شادی کرنا چاہتے ہیں ۔“تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ شادی تو سبھی کی ہوتی ہے ۔گر نام کی آنکھوں میں آنسو آگئے بھرائی ہوئی آواز میں بولی ” وہ کسی روپے پیسے والے شخص سے میری شادی کرنا چاہتے ہیں جسے میں نے دیکھا بھی نہیں مگر میں کسی اور ہے۔۔۔
یہ کہہ کر وہ رو پڑی۔جگے نے اپنا اوپر کی طرف اٹھا ہوا شملہ چھو کر دیکھا کہ وہ نیچے تو نہیں جھک گیا پھر اس نے سینہ پھلا کر کہا نہیں گر نام نہیں جسے تم چاہوگی
اس سے تمہاری شادی ہوگی ۔ میں باپو کو گی۔ تالو خود سمجھاؤں گا۔ ہاں تو مگر وہ کون ہے ؟ “جگے کی آنکھیں مارے خوشی کے چمک رہی تھیں ۔
گر نام نے اس کے سینے پر سر رکھ دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔ آج اسے اس کے چوڑے شانے اور صندوق جیسا سینہ چھو کر یک گونہ تسکین حاصل ہو رہی تھی ۔ جگا گھبرا گیا ۔ اس نے اسے چپکارا اور دلاسا دیا اور پھر اس شخص کا نام پوچھا۔
گر نام نے کچھ کہنا چاہا پھر رک گئی اور زور زور سے رونے لگی ۔ جگے نے تسلی دی تو وہ بولی تم ضرور میری مدد کرو گے ۔
میں ان سب کے ہاتھوں سخت بیزار ہوں۔ تم بہت اچھے آدمی ہو۔ اس کا نام جگے کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔اس کا نام ہے دلیپ ۔۔۔۔ دلیپ سنگھ ۔“ جگے کو سانپ نے ڈس لیا ۔ اس کا چہرہ یکا یک بھیانک ہو گیا ۔
جگے کی مونچھیں لیکنے لگیں۔ اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے ۔ جسم کے رونگٹے کانوں کی طرح کھڑے ہوئے ۔ آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں ۔
گردن کی رگیں پھول گئیں ۔ گر نام نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا ” گھر جاؤں۔”اس نے بھاری آواز میں کہا۔تم فورا واپس چلی جاؤ اس نے کرخت لہجے میں گرج کر کہا۔گر نام چُپ چاپ حیرت کے ساتھ اٹھی اور گٹھڑی سر پر رکھ کر گھر کی طرف چل دی ۔ جگا اسی طرح کھڑا ہوا تھا ۔ اس کا چہرہ لحظ بہ لحظ بھیانک ہوتا جارہا تھا ۔
عقاب کی چونچ نما ناک سرخ ہوگئی ۔ آنکھیں خون آلود ہو کر رہ گئیں اور چہرے سے بربریت ٹپکنے لگی ۔ معا ” اس نے خنجر نکالا اور اسے مضبوطی سے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔
دانت پیستے ہوئے آہستہ سے بولا ” دلیپ سنگھ ؟ موت کا فرشتہ دلیپ سنگھ کے سر پر منڈلانے لگا۔خونی پل علاقے بھر میں مشہور تھا ۔ یہ پل ایک چھوٹی سی نہر پر واقع تھا ۔ نہر کے دونوں کناروں پر شیشم کے بہت ہی گھنے پیڑ تھے ۔ وہاں نہ تو سورج کی دھوپ پہنچ سکتی تھی نہ چاند کی چاندنی ۔
پل بڑے بڑے اور بھدے پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے نیچے صرف ایک کوٹھری تھی اور پانی دو حصوں میں تقسیم ہو کر بہتا تھا۔رات کے وقت یہ دو بڑے بڑے منہ ایسے دکھائی پڑتے تھے جیسے دومنہ والا کوئی دیو انسانوں کو ہڑپ کرنے کیلئے منہ کھولے بیٹھا ہو یا جیسے کسی مردے کی دو بڑی بڑی آنکھیں جن کی پتلیاں کوے نوچ کر کھا گئے ہوں ۔ پاس ہی ایک قبرستان تھا اور کچھ فاصلے پر مر گھٹ رات کے وقت کوئی شخص ادھر سے گزرنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اس پل پر اتنے قتل ہو چکے تھ
ے کہ اس کا نام ہی خونی پل رکھ دیا گیا تھا ۔ نوجوان لڑکیاں اور بچے تو دن کے وقت بھی اکیلے ادہر نہ آتے تھے۔ مشہور تھا کہ وہاں ایک سر کٹا سید رہتا ہے۔
کبھی کبھی اس کا سر تو پل کے نیچے دل دوز چیخیں مارا کرتا اور خودسر کے بغیر نہایت اطمینان کے ساتھ قبرستان میں ہلا کرتا۔نصف رات گزر چکی تھی ۔ دلیپ سنگھ شہر سے واپس آ رہا تھا ۔ چھوٹے سے گدھے دو بوریوں میں سامان تھا ۔ وہ سنار کا کام بھی کرتا تھا اور پنساری کی دکان تھی۔ اس کی اپنی کردہ گل قندر خوب بکتی تھی ۔ وہ نو جوان تھا ۔ خوش رد و خوش وضع میں ابھی بھیگ رہی تھیں ۔
گالوں اور تھوڑی پر چھوٹے چھوٹے بال جیسے زعفران آنکھیں شربت سے لبریز کٹورے سر پر اس وقت لکھی باندھے ہوئے تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا شملہ بچے کی جانب لاتا ہوا اور دوسرا اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا۔
الفوز و خوب بجاتا تھا ۔ جب رانجھا ہیر کی شادی کے بعد اس کے ہاں بھیک مانگنے کیلئے جاتا ہے، یہ واقعہ وارث شاہ کی ہیر سے بڑی درد ناک لے میں گایا کرتا تھا بلکہ اس میں تو دور دور تک اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا۔دلیپ طاقتور اور دلیر نو جو ان تھا مگر خونی پل کا نظارہ اور پھر اس کے ساتھ وابستہ خونی روایات وہ جگہ اور بھی بھیا تک بنادیتی تھیں ۔
رات کی تاریکی میں شیشم کے گھنے درختوں کے تلے نہر کے سسک سسک کر بہنے والے پانی کی آواز سن کر اس کے دل کو کوفت کی ہونے لگتی ۔ اس نے ذرا بلند آواز میں چھتی گانا شروع کر دیا ۔ تاریکی اور خاموشی میں اپنی آواز سے اسے تسکین ہوئی ۔ اس کا گدھا پل سے پار ہو چکا تھا ۔ وہ عین پل کے درمیان میں تھا ۔ دل میں شاداں تھا کہ کسی شے کی چھن محسوس ہوئی جیسے کوئی گرتہ پکڑے پیچھے کی طرف کھینچ رہا ہو۔ اس نے گھوم کر دیکھا ۔
ایک دیو ہیکل مرد پل کی دیوار کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ اس نے اپنی چھوی بیچنے سے اس کی قمیض میں اڑا دی تھی اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔
” تم کون ہو؟ دلیپ نے پوچھا۔اد ہر آ ۔ بھاری اور تحکمانہ آواز آئی۔دلیپ اس کی طرف بڑھا یکا یک اس نے اجنبی کو پہچان لیا بولا ” مجھے ایسا معلوم پڑتا ہے کہ میں نے تمہیں کہیں دیکھا ضرور ہے ۔ کیا تم وہی شخص نہیں ہو جس نے تین سال پہلے چند اشخاس سے لڑتے وقت میرا ساتھ دیا تھا ۔ ہاں شاید وہ ننکانہ صاحب کا میلہ تھا۔ تبھی کا واقعہ ہے اور تم نے دو آدمی جان سے بھی مار ڈالے تھے؟“
”بے شک میں وہی ہوں لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ تیرا نام دلیپ سنگھ ہے۔ میں تجھے ایک اجنبی اور نو عمر چھو کر سمجھ کر تیرا مددگار بنا تھا اور قتل تو میں نے بہت کئے ہیں ۔ اسی پل پر گیارہ آدمی قتل کر چکا ہوں اور آج مجھے بارہواں قتل کرنا ہے ۔
“جمینی ہے۔ تم تو میرے محسن ہو ۔دلیپ کو اس کے اجڑ پن پر تعجب ہوا ۔ بولا ۔ میں نہیں جانتا تمہاری مجھ سے کیاتو گر نام سے محبت کرتا ہے جو صرف میری ہے ۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تو
نے شنگار اسنگھ کو اسی پل پر سخت زخمی کیا تھا ۔ آج تیرا میرا فیصلہ ہوگا ؟ ” یہ کہہ کر اجنبی نے چھوی ہاتھ سے رکھ دی اور اس کی طرف بڑھا۔اور میں چاہتا ہوں کہ تو ایک مرد کی طرح میرے مقابل آجائے ۔“ دلیپ پس و پیش کر رہا تھا۔ اس نے کہا میں اپنے حسن سے لڑنا پسندنہیں کرتا ۔ اجنبی نے جواب میں گرج کر جواب دیا تو بزدل ہے ۔ یہ عورتوں کی طرح گئے میں ریشمی رومال لپیٹ کر ھونا اور بات ہے اورکسی مرد کے ساتھ دست پچھاڑانا اوربات ہے۔
اگر واقعی اپنے باپ ہی کے ختم سے ہے تو میرے سامنے آیا ،
یہ کہ کر اس نے اس کےمنہ پر تھوکا۔دلیپ کو غیرت آگئی۔ وہ شیر کی طرح بھر گیا۔ اس نے وہ ڈنڈا اس کے منہ پر دے مارا جو گدھا ہانکنے کیلئے ہاتھ میں لئے ہوئے تھا لیکن اجنبی نے وار روکنے کی کوشش نہیں کی ولیپ نے دوسری ضرب اس کے کان پر رسید کی ۔ ڈنڈا ٹوٹ گیا ۔ اس کی پیشانی اور کان سے خون بہنے لگا۔
دلیپ جوش میں تھا۔ اس نے پوری قوت کے ساتھ ایک مکا اس کے منہ پر رسید کیا جس سے اس کا جبڑا اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور منہ بگڑ گیا مگر اجنبی نہایت سکون کے ساتھ کھڑا رہا۔ اس وقت اس کی پیشانی سے خون بہہ بہہ کر اس کی داڑھی تر کر رہا تھا۔ ایک کان کا اوپر والا حصہ ٹوٹ کر لٹک رہا تھا اور اس میں سے خون کی دھار چھوٹ رہی تھی ۔
منہ ٹیڑھا ہو جانے کی وجہ سے اس کی صورت اور بھی بھیانک ہو رہی تھی مگر وہ حیرت انگیز طور پر مطمئن تھا۔ پھر اس نے دلیپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی گہری اور بھاری آواز میں کہا اس طرح نہیں دلیپ ۔ تم ابھی محض بچے ہو لیکن جگا کوئی طفلانہ حرکت نہیں کرنا چاہتا یہ کہ کر اس نے ایک گھونسا اپنے منہ پر دیا اور اس کا جبڑا عین اصل جگہ آگیا ۔ دلیپ جگے کا نام سن کر خوف زدہ ہو گیا ۔ اجنبی اپنی چھوٹی پکڑ کر بولا۔ ”تیرے پاس چھوی ہے؟ ۔ ۔‘ ولیپ نے جو ابتلوار ہے؟”دیا۔ نہیں ۔و نہیں ۔صفا جنگ ؟ “
مگر لاٹھی تو ہے ۔ وہ تیرے گدھے کی پیٹھ پر بوری میں ٹھنسی ہوئی ۔شاہکار افسانےدلیپ تعجب کے مارے چپ چاپ کھڑا تھا۔
اجنبی نے پکار کر کہا ” لاٹھی لے آ میں نے سنا ہے کہ تو علاقے بھر میں سب سے زیادہ تیز دوڑنے والا جوان ہے لیکن میں امید کرتا ہوں کہ تیری غیرت تجھے ایک بزدل کی موت ہرگز نہیں مرنے دے گی ۔
میں نے سلام میری مجھےدلیپ بہادر تھا مگر اس قسم کے شخص سے آج تک اس کا پالا نہیں پڑا تھا ۔ جگے نے چھوی اتار کر علیحدہ رکھ دی اور صرف لاٹھی اٹھالی اور وہ دونوں ایک دوسرے کو لکارتے ہوئے کولا میدان میں کود پڑے ۔ ان کی للکار کی آواز سن کر پرندے گھونسلوں میں پھڑ پھڑانے لگے۔ گیدڑوں نے ہوا ہوا ہو کا شور بلند کیا ۔
چاروں طرف گرد ہی گرد نظر آنے لگی ۔لاٹھی سے لاٹھی بج رہی تھی ۔ دلیپ ہلکا پھلکا چست ، چالاک، نو آموز اور نوجوان چھو کر بجلی کی طرح بے چین جوڑ جوڑ میں پارہ ، جگا بھاری بھر کم ، قومی ہیکل کہنہ مشق دیو ، موٹا ہونے کے باوجود اب بھی جس وقت سرک لگاتا تھا تو ایسا معلوم پڑتا جیسے سطح آب پر ٹھیکری پھیلتی ہوئی چلی جارہی ہو ۔
دلیپ نے داؤ لگا کر پہلا وار کیا ۔ جگا اسے خالی دے کر چلایادلیپ نے پھر وار کیا جگا اسے بچا کر گر جا دو ۔ “دلیپ نے تیسر ا وار کیا جگانے اسے بھی روکا اور کڑ کا ” تین “ کڑکا یہ کہہ کر وہ آگے کی طرف لپکا او رکہا۔ سنبھل بے چھو کرے اب جگا وارکرتا ہے۔“پینے کی وجہ سے دلیپ کے ہاتھ سے لاٹھی چھوٹ گئی ۔
وہ فوراً چھرا لے کر جھپٹا۔جگے نے ایک لات اس کے پیٹ میں رسید کی اور وہ لڑکھڑاتا ہوا پل کی دیوار سے ٹکرا کر گر پڑا۔ اب جگے کے لبوں پر خونیں مسکراہٹ پیدا ہوئی ۔ اس نے ایک وحشی بھیڑیے کے مانند حلق سے ایک خوفناک آواز نکالی ۔ پھر دونوں ایڑیاں اٹھا کر آگے کی طرف اچک کر اس نے بھر پور وار کیا دلیپ نے چھر اسفنجالا اور چیتے کے مانند تڑپ کر ہوا میں جست کر گیا مگر کہنہ مشق ستار کا وار اپنا کام کرگیا۔
شاید یہی صورت میں یہ دار اس کا سرتوڑ دیتا اور لاٹھی اس کے سینے پہلی تک پہنچ جاتی مگر اب بھی لاٹھی کافی زور کے ساتھ سر پر پڑی ۔ سر پھٹ گیا اور وہ تڑپ کر بارہ نگے کے مانند نہر کے کنارے پر جا گرا کچھ دیر تک تڑپتا رہا پھر سرد پڑ گیا۔
گرم گرم خون بہ بہ کر نہر میں ملنے لگا۔ نہر کے پانی کی کل کل کی آواز ایسی معلوم پڑتی تھی جیسے خونی پل قہقہے لگا رہا ہو۔ قبرتان میں بوسیدہ قبروں کے روزنوں سے ہو ا سکیاں لیتی ہوئی چل رہی تھی۔
زرد چاند بدلی سے نکل آیا مگر اس کی شعاعیں شیشم کے گھنے پتوں میں الجھ کر رہ گئیں۔جگے نے نہایت اطمینان کے ساتھ اپنی خون آلود پیشانی صاف کی ۔ منہ ہاتھ دھویا کان پر پگڑی پھاڑ کر پٹی باندھی ۔
دلیپ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دل کی حرکت سننے کی کوشش کی ۔ پھر اس نے چھوی اٹھائی اور دلیپ کو پیٹھ پر لاد کر کھیتوں کی طرف چل دیا۔اس واقعے کے پچیس دن بعد دیہات میں شام ہوتے ہی خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ خصوصاً سردیوں یا ما سردیوں میں تو لوگ اپنے گھروں میں گھس کر بیٹھتے ہیں ۔ گر نام کے ہاں سبھی لوگ اپنے اپنے کاموں سے فراغت پا کر بڑے کمرے میں بیہ بیٹھے تھے ۔
عورتیں چرخا کات رہی تھیں ۔ بڑے بوڑھے باتوں میں مشغول تھے اور بچے شرارتوں میں مصروف تھے۔ اتنے میں جگا اندر داخل ہوا۔شاید ڈیڑھ برس بعد آج پھر اس کے مضبوط ہاتھ میں چھوٹی چمک رہی تھی۔
سب نے اسے دیکھ کر اظہار مسرت کیا ۔ گر نام حیرت سے اس کی جانب دیکھنے لگی ۔ بے بے نےاسے بیٹھنے کیلئے کہا مگر اس نے بتایا کہ اس کی ڈاچی سانڈ نی باہر کھڑی ہے اور اسے جلدی واپس نے اس جانا ہے ۔ چند لمحوں کیلئے اس نے سکوت کیا پھر نہایت مختصر اور فیصلہ کن انداز میں کہنا شروع کیا میں آپ لوگوں سے صرف اتنی بات کہنے کیلئے آیا ہوں کہ آپ گر نام کی شادی جس شخص سے کرنا چاہتے ہیں وہ ہرگز ہر گز نہیں ہوسکتی مگر اس کی شادی اس شخص سے ہوگی جس سے میںچاہوں گا۔سب لوگ حیران تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ گر نام کا ہونے والا خاوند وہ خود ہے چکر چونکہ انہیں یہ راز پوشیدہ رکھنے کی سخت تاکید کی گئی تھی اس لئے وہ خاموش رہے۔ ” اور وہ شخص یہ ہے ۔
یہ کہہ کر اس نے دروازے کی طرف دیکھا ۔ اور دلیپ اندر داخل والے ہر شخص پر حیرت زار خاموشی طاری ہوگئی۔ گر نام نہ معلوم کسی دنیا میں پہنچ گئی ۔ تھا۔ اسے شرما جانا چاہیے تھا مگر وہ اٹھ کر اس کے قریب آگئی۔جگے نے دلیپ کے کان میں کچھ کہا اگر گر نام کو مجھ سے محبت ہوتی تو تم آج
زندہ نہ آتے دلیپ ، تم مرد ہو میں نے اچھی طرح تمہیں آزما کر دیکھ لیا ہے میں چاہتا تو تمہیں قتل کر دیتا مگر مردوں سے مجھے محبت ہے ۔ اب جبکہ تمہاری گر نام تمہارے سپر د کر رہا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم میرا راز ظاہر نہیں کرو گے ۔
“باپو اصل قصہ بھانپ گیا ۔ لیکن سب کو زیادہ تعجب اس بات پر تھا کہ دلیپ زندہ کیوں کر ہو گیا مشہور ہو گیا تھا کہ دلیپ کو ڈاکوؤں نے خونی پل پر قتل کر دیا تھا ۔ دلیپ نے قصہ گھڑ کر سنا دیا کہ خونی پل پر ڈاکوؤں نے اسے گھیر لیا تھا اس لڑائی میں سخت زخمی ہوا تھا اور قریب تھا کہ ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہو جاتا کہ سردار دھرم سنگھ وہاں پہنچ گئے اور وہ اس قدر تندہی سے لڑا کہ ڈاکوؤں کے چھکے چھوٹ گئے اور انہیں بھاگتے ہی بنی ۔ پھر وہ اسے اپنے گھرلے گئے اور تیمارداری کرتے رہے ۔۔۔جگے کی مونچھوں کے نیچے اس ۔ ایک تلخ مسکراہٹ پیدا ہوئی ۔ گر نام کیآنکھوں میں آنسو آگئے ۔ وہ مسحور ہو کر آگے بڑھی ۔
اس نے جگے کا بھرا ہاتھ اپنے کنول جیسے ہاتھوں میں لے لیا ۔ پہلے اس نے جگے کے بلند سینے اور اس کے غیر معمولی طور پر چوڑے شانوں کا جائزہ لیا
پھر گویا مطمئن ہو کر بھرائی ہوئی آواز میں بولی ” تم کتنے اچھے ہو تم یہیںہمارے پاس رہا کرو ۔ “قریب تھا کہ جگا چیخیں مار مار کر رو پڑے مگر جلدی سے پگڑی کے شملے میں منہچھپا کر بگولے کی طرح دروازے سے نکل گیا ۔ شادی ہوگئی ۔ کچھ عرصے بعد رات کے وقت گر نام باپو کے ساتھ گھر سے باہر کریلے کی بیل کے پاس کھڑی تھی معا دور سے غبار اٹھا ۔ کچھ باہر سانڈنی سوار بھی مودار ہوئے۔ ان کی بھی سجائی سانڈنیاں مردانہ اور دیوپیکر صورتیں چمکتی ہوئی چھوہاں عجب منظر پیش کر رہی تھیں ۔ ان کا سالار تو غیر معمولی طور پر چوڑا چکلا شخص تھا۔
گر نام سے اکھٹے ہی چلائی ۔ باہر وہ کون لوگ ہیں۔ یہ سب سے آگے والا شخص تو دھرم سنکھ دکھائیلگا لیا ۔ پھر بھول کے درختوں کے جھنڈ میں غائب ہوتے ہوئے سانڈنی سواروں کی طرف خواب ناک نظروں سے دیکھتے ہوئے بڑبڑایا ” آج جگا ڈاکو ڈاکہ ڈالنے کیلئے جا رہا ہے۔


