ویب ڈیسک | دسمبر 2025
اٹلی کے شمالی علاقے لومبارڈی میں واقع اسٹیلیوو نیشنل پارک (Stelvio National Park) میں ماہرینِ ارضیات اور آثارِ قدیمہ نے ایک ایسی دریافت کی ہے جس نے سائنسی دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ الپس کے بلند و بالا پہاڑوں میں، دو ہزار میٹر سے زائد بلندی پر ایک تقریباً عمودی چٹان پر ہزاروں ڈائنو سارز کے قدموں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ نشانات زمین کی تاریخ کے ٹرائیاسک دور سے تعلق رکھتے ہیں، جو تقریباً 210 ملین سال قبل کا زمانہ تھا۔ اس دریافت کو اب دنیا کے قدیم اور امیر ترین ڈائنو سار فٹ پرنٹ مقامات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
دریافت کہاں ہوئی؟
یہ قدموں کے نشانات شمالی اٹلی میں بوریو (Bormio) کے قریب واقع ویلے دی فریئلے (Valle di Fraele) نامی بلند گلیشیئر وادی میں پائے گئے ہیں۔ یہ علاقہ نہ صرف قدرتی حسن کے باعث مشہور ہے بلکہ 2026 کے سرمائی اولمپکس کے چند مقابلوں کے لیے منتخب مقامات میں بھی شامل ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نشانات تقریباً پانچ کلومیٹر کے وسیع رقبے میں پھیلے ہوئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ علاقہ کبھی ڈائنو سارز کی باقاعدہ نقل و حرکت کا مرکز رہا ہوگا۔
قدموں کے نشانات کی خصوصیات
ماہرین کے مطابق ان فوسل قدموں میں:
بعض قدموں کی چوڑائی 40 سینٹی میٹر تک ہے
پنجوں اور ناخنوں کے نشانات واضح طور پر محفوظ ہیں
نشانات ایک ہی سمت میں چلنے والے متعدد جانوروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں
یہ تمام شواہد اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ ڈائنو سارز اکیلے نہیں بلکہ جھنڈ کی صورت میں حرکت کرتے تھے، اور اس وقت زمین کی سطح نرم تھی جس نے ان نشانات کو محفوظ کر لیا۔
کون سے ڈائنو سارز تھے؟

میلان کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے تعلق رکھنے والے معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ کریستیانو دال ساسو کے مطابق، یہ قدموں کے نشانات ممکنہ طور پر لمبی گردن والے سبزی خور ڈائنو سارز نے چھوڑے تھے جنہیں پلیٹیوسارس (Plateosaurus) کہا جاتا ہے۔
پلیٹیوسارس کو ٹرائیاسک دور کے نمایاں ڈائنو سارز میں شمار کیا جاتا ہے اور یہی جانور بعد میں آنے والے دیوہیکل ڈائنو سارز کا ابتدائی ارتقائی مرحلہ سمجھے جاتے ہیں۔
کریستیانو دال ساسو کا کہنا تھا:
“اپنے 35 سالہ پیشہ ورانہ کیریئر میں میں نے اس پیمانے اور اس قدر محفوظ ڈائنو سار فٹ پرنٹس کم ہی دیکھے ہیں۔”
سائنسی اہمیت کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق ڈائنو سارز کے قدموں کے نشانات، ہڈیوں کے فوسلز سے مختلف اور بعض اوقات زیادہ قیمتی معلومات فراہم کرتے ہیں، کیونکہ:
یہ جانوروں کی حرکت، رفتار اور سمت ظاہر کرتے ہیں
ان کے سماجی رویّے (اکیلے یا گروہ میں چلنا) کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں
اس دور کے ماحولیاتی حالات اور زمین کی ساخت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
یہ دریافت سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ ابتدائی ڈائنو سارز کس طرح زمین پر پھیلتے گئے اور انہوں نے مختلف جغرافیائی علاقوں میں کیسے زندگی گزاری۔
وقت کے منجمد قدم
یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ جہاں آج برف پوش پہاڑ، سیاح اور اولمپکس کی تیاریاں نظر آتی ہیں، وہاں کبھی سرسبز میدان تھے جن پر دیو ہیکل ڈائنو سارز آہستہ آہستہ چلتے تھے۔ لاکھوں سال گزرنے کے باوجود ان کے قدم آج بھی چٹانوں پر محفوظ ہیں، جیسے وقت نے انہیں وہیں روک لیا ہو۔
یہ دریافت نہ صرف سائنس کے لیے بلکہ انسان کے لیے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ زمین اپنے اندر ایسی کہانیاں سمیٹے ہوئے ہے جو ابھی مکمل طور پر سامنے آنا باقی

