جنات کا غلام

جنات کا غلام

part 4

میں نے ٹاہلی والی سرکار کی طرف دیکھا تو انہوں نے اپنے والدکی قبر پر رکھے آب خورے کو پکڑا۔ اس میں دو گھونٹ پانی تھا۔ انہوں نے کچھ پڑھا اور پھر پانی پر دم کرکے مجھے دیا اور کہا: جاﺅ…. اور اسے کہو یہ پانی پی لے…. ابھی اس کا باﺅلا پن نہیں گیا۔ وہ عذاب سہہ رہی ہے۔ اسی لئے جب اس نے پانی میں ہاتھ ڈالا ہو گا تو اس کی جان نکلنے لگی ہو گی….“۔

میں خاموشی سے اس کے پاس چلا گیا۔ وہ نلکے کے پاس لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔ مجھے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں بے بسی اور بے کسی کا احساس نمایاں نظر آنے لگا۔

”یہ پانی پی لو…. سرکار نے دیا ہے….“ اس نے لرزتے ہاتھوں سے آب خورہ پکڑنے کی کوشش کی تو میں نے اندازہ لگایا کہ اپنے مرتعش ہاتھوں سے پانی نہیں پی سکے گی۔ مجھے اس سے ابھی بھی خوف محسوس ہو رہا تھا۔ اس سے بدبو دار اور جلے ہوئے گوشت کی سرانڈ آ رہی تھی۔ ایسا ناقابل برداشت تعفن جیسے شہروں میں سڑکوں کے کنارے رکھے فلتھ ڈپوﺅں سے آتا ہے۔ مگر…. میں نے اپنے ایمان کو بچانے کے لئے یا پھر جذبہ انسانیت کے تحت اس کو اپنے ہاتھوں سے پانی پلانا چاہا تو اس کے جبڑے کسی لقوہ زدہ انسان کی طرح بے حس ہو گئے اور پانی بوند بوند نیچے گرنے لگا۔ یہ دیکھ کر میں نے اس کو زمین پر لٹا دیا اور اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر ایک ہاتھ سے جبڑے پکڑ کر منہ کھولا تو کسی مرتے ہوئے کتے کی طرح اس کے گلے سے غرغراہٹ پیدا ہونے لگی۔ بدبو سے میری سانسیں بند ہونے لگیں مگر میں نے اللہ کا نام لے کر اس کے حلق میں پانی ٹپکا دیا۔

اللہ کا کرم ہوا۔ جونہی دم شدہ پانی اس کے اندر گیا اس کی غرغراہٹ بند ہو گئی اور حالت سنبھلنے لگی۔ میں اسے چھوڑ کر واپس ٹاہلی والی سرکار کے پاس چلا گیا۔ مجھے یقین تھا کہ اب اس کی حالت سنبھل جائے گی اور میں اس کی کہانی سننے میں کامیاب ہو جاﺅں گا۔

”سرکار…. میرے لئے کیا حکم ہے….“ میں نے واپس پہنچ کر ان سے دریافت کیا۔ وہ سر جھکائے کچھ سوچ رہے تھے۔ میری آواز سن کر سر اٹھایا اور کہنے لگا” میں نے ذرقان شاہ یعنی تمہارے بابا جی کو بلایا ہے۔ وہ آنے والے ہیں۔ تو ادھر بیٹھ جا۔ ان سے ہمارے گہرے مراسم ہیں۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ ریاض شاہ کی اس کمینی حرکت میں اس کے ساتھ ہیں…. اور ان کے کیا ارادے ہیں….“

میں ان کے پاس بیٹھ گیا تو وہ بولے” آج یہ حاضری خاصی سخت ہو گی۔ میرے بچے یہ جنات بے شک عبادت گزار ہوں…. مگر دن کے وقت ان کو حاضر کرنا گویا ان کی تمام خصلتوں کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ تم اس حصار میں بیٹھ جاﺅ۔ تمہیں آیت الکرسی آتی ہے….“ وہ مجھ سے دریافت کرنے لگے تو میں نے اثبات میں سر ہلایا….” ٹھیک ہے جب تک ذرقان شاہ نہیں آتا۔ تم گیارہ مرتبہ درود ابراہیمی پڑھو اور پھر آیت الکرسی پڑھو۔ اس کے بعد اللہ تبارک تعالیٰ کے اسمائے نامی یا حفیظ بحق یا سلام پڑھو اور اس کے بعد گیارہ مرتبہ تعوذ شریف پڑھنے کے بعد گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھ کراپنے سینے پر پھونک مار لو…. یہ ردسحر اور مخلوق مخفی سے حفاظت کے لئے بہترین وظیفہ ہے….“ ٹاہلی والی سرکار نے مجھے اس وظیفہ کو بالحاظ تعداد پڑھنے کا طریقہ سکھایا اور پھر وہ خود بھی زیرلب کچھ پڑھنے لگے۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے ٹاہلی والی سرکار آج کسی بہت بڑی جنگ کی تیاری کرکے بیٹھے ہیں۔ میں نے وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا۔ نہایت ارتکاز اور خلوص کے ساتھ…. اپنے قلب و نظر کے زاویے درست کرکے پڑھنے لگا…. میں نے جب وظیفہ پڑھ لیا تو اسی لمحہ ٹاہلی والی سرکار نے آنکھیں کھول کر مشرق کی طرف رخ کرکے کچھ ایسی زبان میں الفاظ ادا کئے جو میرے لئے قطعی اجنبی تھی…. ان کے الفاظ کی بازگشت قبرستان میں دور دور تک پہنچی ہی تھی کہ یکایک پورا قبرستان گہرے سایے میں ڈھک گیا اور آسمان سے بہت ہی تیز قسم کا بگولا قبرستان میں اترنے لگا۔

بگولا میرے حصار کے گرد چکر لگانے لگا تھا۔ اگر میں نے وظائف نہ پڑھے ہوتے تو یقیناً اس بگولے کی لپیٹ میں آ جاتا۔ بگولے کی شدت سے اندازہ ہوتا تھا کہ اگر یہ کسی گاﺅں کے اوپر آیا ہوتا تو گھروں کی دیواریں گرا دیتا اور ان کی چھتیں اڑا دیتا۔ لیکن یہ ٹاہلی والی سرکار کی کرامت ہی تھی کہ غیض و غضب کے طوفان کی شدت لئے ہوا یہ بگولا کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ہاں…. البتہ یہ ضرور ہوا…. ہم سے دس بیس گز دور بیری کا ایک خستہ حال درخت بگولے کی تیز اور طوفانی ہواﺅں کی تاب نہ لا سکا اور جڑ سے اکھڑ گیا۔ میں نے سوچا۔ اگر میں اس حصار سے باہر ہوتا تو زمیں میرے قدموں سے نکل جاتی۔ ٹاہلی والی سرکار کی بات سچ ثابت ہوئی تھی۔ میں تو حیرت سے پاش پاش ہو رہا تھا کہ بابا جی پہلے بھی تو حویلی میں حاضری دیتے تھے مگر ان کی آمد اتنی طوفانی اور قہر و غضب سے نہیں بھری ہوتی تھی۔ صبح اور دوپہر کے وقت بھی میں ان کی انسانی اور جناتی روپ میں حاضریوں سے مستفید ہو چکا تھا مگر نہ جانے آج ان کی حاضری میں کیا حکمت تھی کیسا راز تھا، کیسی ناراضگی تھی….

پانچ دس منٹ لگ گئے ہوں گے بگولے کو اعتدال پر آتے آتے…. بگولا اب فضا میں بکھر گیا تھا…. ہر طرح بظاہر سکون آ گیا تھا۔ درختوں کی شاخیں جن پر لرزہ طاری تھا اب ناموس وجود کے خوف سے ساکت ہو چکے تھے۔ میرے سامنے کوئی بھی شے ظاہر نہیں ہوئی تھی…. صرف ہوا اور فضا میرے اور ٹاہلی والی سرکار کے درمیان حائل تھے۔ کسی نادیدہ وجود کا احساس بھی نہیں ہو رہا تھا۔ البتہ فضا میں قدرے گرمی اور حبس کا احساس بھر گیا تھا۔ کچھ دیر ہی بعد مجھے فضا میں بھاری بھاری سانسیں لینے کی آواز سنائی دینے لگی اور اسکے ساتھ ہی ٹاہلی والی سرکار بولی۔

”ذرقان شاہ۔ ہم نے تمہارا اتارا دیکھ لیا۔ سجنوں کے پاس اس طرح آتے ہو….“

”اپنے مطلب کی بات کرو بابا….“ بابا جی خشک لہجے میں بولے۔ ٹاہلی والی سرکار خفیف انداز میں مسکرائی۔ ”ذرقان شاہ۔ ہم اپنے سجنوں کا لحاظ کرتے ہیں۔ یہی تم اور ہم میں فرق ہے۔ تم جنات کو وضعداری رکھ رکھاﺅ اور حسن سلوک نہیں آتا۔ افسوس کہ تم ہم سے ان اخلاقی اصولوں کی تربیت لیکر بھی اجڈ کے اجڈ ہی رہے۔ تم نے علوم حاصل کئے مگر یہ علم تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ افسوس ذرقان شاہ۔ خدائے لم یزل نے تم جنات پر یہ احسان کیا کہ تمہیں تمہارے جد امجد ابلیس کی صف میں کھڑا نہیں کیا۔ اسکے گناہ کی سزا تمہیں نہیں دی۔ مگر تم جنات اپنی فطرت سے باز نہیں آتے۔ علم کا تکبر تمہیں بھی تنگ کرتا….“

”بابا…. فلسفہ نہ سناﺅ…. میں جاننا چاہتا ہوں کہ مجھے اس وقت کیوں بلایا ہے تم نے…. شاید تم نہیں جانتے کہ یہ پہر جب سورج سوا نیزے پر ہوتا ہے۔ جب بیابانوں اور صحراﺅں میں سنسانی پھیلی ہوتی ہے، قبرستانوں میں مردے بھی آرام کر رہے ہوتے ہیں، ہم جنات اپنے اس وقت خاص میں آدم زاد حاکمین کی مجلس میں نہیں آتے۔ تم نے اس وقت طلب کر کے مجھے بہت رنج پہنچایا ہے….“

”میں جانتا ہوں ذرقان شاہ…. مگر تمہارے رنج کی فکر کر کے ہم اس انسانی مسئلہ کو نظرانداز نہیں کر سکتے تھے…. دیکھو ادھر…. یہ نوجوان کتنا دکھی اور رنجیدہ ہے۔ تم نے اس کے محسنوں کے گھر میں ڈاکہ ڈالا ہے۔ ان کی عزت خاک میں ملا دی…. کیا ایسے میں تمہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ تم اپنے راحت کدوں میں سکون کی نیند کے مزلے لے رہے ہو….“

”اچھا تو تم نے مجھے اس بدبخت کی خاطر تکلیف دی ہے۔“

بابا جی تلخی سے بولے۔ ”اگر تم نے اسے یہاں محفوظ نہ کیا ہوتا تو میں اسکی کھال ادھیڑ دیتا…. یہ لڑکا اپنی اوقات سے باہر نکل گیا ہے۔ ہم نے اسے عزت دی۔ اسے علوم کے رازوں سے آگاہ کیا…. مگر یہ ہمیں تنگ کرنے پر اتر آیا ہے….“

”ذرقان شاہ…. تمہاری عقل کو غضب کی چادر نے ڈھانپ رکھا ہے۔ یہ لو…. پانی پیو۔ پھر آرام سے بات کریں گے….“

”تم بات کرو…. مجھے واپس جانا ہے….“ بابا جی نے ٹاہلی والی سرکار کو سخت لہجے میں مخاطب کیا۔ ”تمہیں یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ تم اس کی خاطر ہم کو ناراض کرتے….“

”۔۔۔۔تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے ذرقان شاہ…. میں آرام اور ٹھنڈے حوصلے سے تم سے بات کر رہا ہوں مگر تمہارا لہجہ بتا رہا ہے کہ تم اپنی حیثیت سے بڑھ چڑھ کر عزت حاصل کرنا چاہتے ہو۔ کان کھول کر سن لو ذرقان شاہ…. تم نے ایک معصوم لڑکی کو بے عزت کرنے میں اپنے عامل کا ساتھ دیا ہے۔ لعنت ہے تمہاری علمیت اور بزرگی پر…. کیا بزرگوں کی تعلیمات نے تمہیں یہی سکھایا ہے۔ تم میں اور ایک جاہل جن میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ ان جنات اور تم میں کیسی تمیز کی جا سکتی ہے جو آدم زاد عورتوں کو تنگ کرتے ہیں…. تم نے اپنے آپ کو ان جنات میں سے ممتاز بنانے کی خاطر صدیوں تک علوم حاصل کئے…. محض اس لئے کہ تم ایک عامل کے ہاتھ جب لگ جاﺅ تو کتے کی طرح دم ہلاتے رہو….“ ٹاہلی والی سرکار جلالی انداز میں کھڑے ہو کر اس ماورائی وجود سے مخاطب تھے جو ہوا کے پردوں میں ملفوف تھا۔

”بابا….“ تم کہنا کیا چاہتے ہو…. یہ کہ ریاض شاہ زلیخا کو اپنے ساتھ کیوں لے گیا ہے۔ تم بھول گئے بابا کہ یہاں اسی جگہ…. یہ بھی وہاں موجود تھا یہ بھی گواہ ہے۔ تم نے خود اسے بھی یہی کہا تھا کہ زلیخا ریاض شاہ کی امانت ہے…. بھول گئے کیا۔ اس نے مجھ سے اجازت طلب کی تھی۔ کیونکہ زلیخا کے وارث ہم ہیں۔ وہ ہمارے بزرگوں کی دعاﺅں سے پیدا ہوئی تھی۔ کیا تم بھول گئے ہو کہ روحانی اولاد پر کس کس کا حق ہوتا ہے…. ہاں…. یہ وعدہ ہے ہمارا…. زلیخا کی عصمت پر آنچ بھی نہیں آنے دوں گا۔ ریاض شاہ آج اس سے نکاح کرے گا۔ اگر ہو سکے تو تم بھی آ جانا…. تمہیں ہماری طرف سے دعوت ہے….“

”ذرقان شاہ میں تمہیں یہ ظلم نہیں کرنے دوں گا…. میں یہ شادی ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔ میں نے جو کہا تھا وہ بھی درست تھا۔ لیکن اب یہ معاملہ بگڑ چکا ہے۔ میں چاہتا تھا کہ تم لوگ زلیخا کے گھر والوں کی رضامندی سے باعزت طریقے سے شادی کرو…. مگر ریاض شاہ نے اپنی نفسانی خواہشات کے ہاتھوں مغلوب ہو کر اسے گھر سے بھگا یا….“

”بابا…. ہم اسے بھگا کر نہیں لے گئے…. اسکی رضامندی سے لیکر گئے ہیں….“ بابا جی اس بار نرمی سے بولے۔

”ہمارے معاشرے میں اسے گھر سے بھگانا ہی کہتے ہیں۔ ریاض شاہ نے ایک شیطانی سوچ کے تحت یہ قدم اٹھایا ہے جو شریعت کی رو سے ناجائز ہے…. تم لوگوں نے خوف و ہراس پھیلا کر اپنی سفلی خواہشات کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور اس نے یہ سب تمہارے بل بوتے پر کیا ہے ذرقان شاہ…. تم جانتے ہو اگر یہ معاملہ اوپر چلا گیا تو بزرگوں کی پھٹکار تم پر پڑے گی۔ میں تمہاری شکایت کروں گا ذرقان شاہ۔۔۔۔ تو تمہیں عقل آ جائے گی…. تم نے ایک ہوس پرست شخص سے مغلوب ہو کر اسکی مدد کیوں کی….“

میرا خیال تھا کہ بابا جی بھڑک اٹھیں گے…. مگر اب کی بار وہ خاموش ہو گئے تھے۔ ان کی بھاری سانسیں اب بوجھل ہو گئی تھیں۔ پھر جب وہ بولے تو اسی غیر مانوس زبان میں…. جو ریاض شاہ بابا جی آپس میں بات چیت کے دوران استعمال کرتے تھے۔ ٹاہلی والی سرکار بھی ان سے اسی زبان میں گفتگو کرنے لگے تھے۔ ان کے لہجوں سے لگتا تھا کہ آپس میں بحث کر رہے ہیں۔ یونہی خاصی دیر گذر گئی…. بالآخر ٹاہلی والی سرکار اپنی مادری زبان میں بولے۔ ”ٹھیک ہے میں اسے سمجھا دوں گا۔ مگر اب معاملہ کسی سطح پر خراب نہیں ہونا چاہئے۔ اپنے شکوک تم بھی رفع کرو…. اور شاہد میاں کے لئے اپنے دل میں محبت پیدا کرو…. یہ سمجھدار نوجوان ہے۔ تمہیں تنگ نہیں کرے گا….“

”ٹھیک ہے۔ اچھا تو اب اجازت…. خدا حافظ….“ بابا جی نے اجازت لی اور چلے گئے۔ ٹاہلی والی سرکار نے مجھے مخاطب کیا۔ ”شاہد میاں…. اب تم حویلی چلے جاﺅ…. لیکن ٹھہرو…. تم شام کو جانا۔ ابھی کچھ دیر ادھر ہی رہو۔ میں نے ذرقان شاہ کو سمجھا دیا ہے۔ اسکے کچھ تقاضے تھے۔ میں نے وعدہ کیا ہے کہ انہیں پورا کر دوں گا…. میرے بچے…. اصل بات یہ ہے کہ جنات میں کچھ ایسے گروہ ہیں جو ہم جیسے ملنگوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ درباروں اور مزاروں پر بسیرا کرتے ہیں۔ ذرقان شاہ ہمارے ملک کے سبھی درباروں پر حاضری دیتا ہے…. اس پر کچھ پابندیاں لگ گئی تھیں۔ ہم نے وعدہ کیا ہے کہ ہم اس کی سفارش کر کے اسکی حاضریوں کو مقبول بنانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ریاض شاہ زلیخا کو آج رات ہی واپس لے آئے گا…. تم ان کے گھر والوں کو سمجھا دینا اور انہیں یہ یقین دلا دینا کہ زلیخا باعصمت ہے۔ تم ان لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم کرا دو…. ریاض شاہ اور تمہارے بابا جی کو ابھی اس علاقہ میں تین ہفتے مزید رہنا ہے۔ مناسب ہوا تو تمہیں بتا دوں گا کہ اسکی کیا مجبوریاں ہیں…. بہرحال تم اپنے دل کو اب آلودہ نہ کرنا…. اور حالات کو سمجھ کر چلتے رہنا…. اب مجھے کچھ دنوں کے لئے یہاں سے جانا ہے۔ اللہ تمہاری اور حویلی والوں کی حفاظت فرمائے…. فقیر کی دعا ہے کہ تم لوگوں پر کسی قسم کی شیطانی آفت نہ آئے…. (آمین)….“ ٹاہلی والی سرکار نے میرے قریب آ کر میرے سینے پر پھونک ماری اور مجھے سمجھایا۔

”غصہ نہ کیا کرو…….. غصہ جو ہے ناں…. بصیرت کو کھا جاتا ہے۔ اگر تمہاری بصیرت روشن رہے گی تو پراسرار جہانوں اور مخلوقات کو نہایت قریب سے دیکھ سکو گے۔“

”انشاءاللہ…. میں کوشش کروں گا۔“ میں نے خلوص دل سے کہا

اس دوران وہ عورت نہا دھو کر آ گئی تھی۔ اسکے چہرے سے برسوں کی غلاظت دور ہو گئی تھی۔ سر پر چادر اوڑھ لی تھی اور خود کو اس چادر میں لپیٹ رکھا تھا۔

”بابا…. میں آ گئی….“

ٹاہلی والی سرکار نے اسکی طرف دیکھا اور اشارہ کر کے اپنے پاس بلایا اور پھر اسے نیچے بیٹھنے کے لئے کہا۔ وہ سر جھکا کر دوزانو ہو کر بیٹھ گئی۔ ٹاہلی والی سرکار نے ایک ہاتھ اسکے سر پر رکھا اور آیات مبارکہ کی تلاوت کرنے لگے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے انہوں نے الحمد شریف کم از کم چالیس بار پڑھی ہو گی۔ وہ ہر بار ایک آیت پر زور دے کر پڑھتے تھے۔ جس کا مفہوم یہ تھا کہ ”اے اللہ مجھے صراط مستقیم پر چلانا….“ اعوذ بااللہ من الشیطن الرجیم بھی متعدد بار پڑھی تھی۔ آدھ پون گھنٹہ تک وہ اسکے سر کے اوپر دست مبارک رکھ کر آیات پڑھتے رہے۔ آخر میں انہوں نے مجھ سے آب خورے میں پانی منگوایا اور اس پر کچھ پڑھنے کے بعد پھونک ماری اور پانی دم کر کے اس عورت کو دیا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس عورت کی ہچکیاں بندھی ہوئی تھیں۔ آنکھیں بند تھیں مگر پیوٹوں سے آنسوﺅں کا سیلاب ابل ابل کر باہر آرہا تھا۔ اس نے ہچکیوں میں ہی پانی پیا…. اور روتے ہوئے بولی۔ ”بابا…. برسوں بعد سکون ملا ہے مجھے…. …. میں برسوں بھٹکتی رہی ہوں۔ میں اپنے خالق سے دور ہو گئی تھی بابا…. اور میں نے ایک شیطان کو اپنا معبود بنا لیا تھا…. ہائے میں کتنی بدقسمت تھی بابا…. بڑی ہی نامراد تھی میں…. میں سوچا کرتی تھی کہ اگر میں کالا علم سیکھ لوں گی تو بڑی واہ واہ ہو گی میری۔ دنیا مجھ سے ڈرا کرے گی بابا…. میں دنیا کو اپنی شیطانی حرکتوں سے ڈراتی رہوں گی…. اور میں ڈراتی بھی رہی…. معصوم لوگوں کو گمراہ کرتی رہی بابا…. میں بہت گناہگار ہوں۔ میں نے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کا خون پیا ہے۔ میں تو معافی کے لائق بھی نہیں رہی بابا…. بابا…. میری سفارش کر دو…. مجھے سکون دے دو بابا…. مجھے واپس بلا لو…. مجھے میری دنیا لا دو بابا…. میں….“ وہ بلک بلک کر روتی رہی تھی۔” ایسے لگ رہا ہے بابا۔ جیسے دل اور دماغ سے منوں بوجھ اتر گیا ہے۔ یہ کلمہ جو بابا تم نے سنایا ہے۔ بخدا…. اگر میں اسکو پکڑ لیتی۔ اپنے رب کو پہچان لیتی اور اسکے حضور روتی بلکتی رہتی، عبادتوں کے نذرانے دیتی…. اسے مناتی اسکے آگے جھکتی بابا…. تو مجھے ان ہزاروں سجدوں سے نجات مل جاتی جو میں نے کالا علم سیکھنے کے لئے کئے ہیں …. میں بہت گناہگار ہوں بابا…. مجھے اب خود سے گھن آ رہی ہے۔ ہر منظر میرے سامنے کھل رہا ہے۔ وہ زبیدہ…. ہاں۔ اس پاک باز اور شریف عورت زبیدہ کا چہرہ میرے سامنے آ رہا ہے۔ فلم سی چل رہی ہے بابا…. یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ….“ اس عورت کی آنکھیں کسی خوف سے یکدم کھل گئیں اور دیدے پھاڑ پھاڑ کر وہ ٹاہلی والی سرکار کی طرف دیکھنے لگی۔ ”بابا…. زبیدہ…. آ گئی….“ وہ خوف سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ ”ہاں آ جا…. زبیدہ آ جا…. میں ہی تیری مجرم ہوں۔ میں ہی تیری قاتل ہوں۔ میں نے ہی تیرے بچے کھائے ہیں میری بہن آ…. اور میرا کلیجہ نکال کر کھا لے تو…. دیکھ آج تمہاری منداں بی بی خود یہ بتا رہی ہے۔ لے…. میرا…. نہیں تو اپنا جوتا اتار کر میرے سر پر مار….“ وہ ادھر ادھر دیکھ کر ہذیان بکنے لگی تھی۔ غالباً اس کا نام منداں بی بی تھا۔ خوف اور ذہنی انتشار سے اسکی آنکھیں پھٹ گئی تھیں اور سر سے چادر بھی سرک گئی تھی۔

”ہوش میں آ میری بچی….“ بابا ٹاہلی والی سرکار نے دوبارہ اسکے سر پر دست شفقت رکھا اور اسکے سر پر پھونک مار کر بولے ”سب ٹھیک ہو جائے گا….“

”بابا…. اسے کہو ناں مجھے جوتے مارے۔ میرا کلیجہ نکال دے بابا…. میں بہت بری عورت ہوں بابا….“ منداں زار و قطار روتی جا رہی تھی…. ”بابا…. میں اکبر علی کے پیار کی ٹھکرائی ہوئی عورت تھی۔ اس سے سچا عشق کرتی تھی بابا…. مگر وہ مجھے نہیں چاہتا تھا…. میں دیوانگی کی حدیں پار کر گئی تھی اور اسکو حاصل کرنے کے لئے مجھے کوئی ہوش نہیں رہا تھا۔ ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی میں…. اچھی بھلی شکل و صورت تھی میری…. زمین جائیداد…. سب کچھ تھا۔ مگر اکبر کو میری پروا نہیں تھی۔ میرا پھوپھی زاد تھا وہ…. بڑا ہی شریف اور نمازی…. میری دیوانگی دیکھ کر وہ مجھے سمجھاتا تھا۔ کہتا تھا ”منداں۔ شریفوں کی بیٹیاں آوارہ نہیں پھرتیں۔ اپنے گھر میں رہتی ہیں…. مگر تو دیواریں پھاند کر باہر نکل جاتی ہے۔ تمہیں کوئی شرم و حیا نہیں ہے۔ میں تجھ سے شادی نہیں کر سکتا….“

میں کہتی ”اکبرے۔ اللہ سوہنے کی قسم۔ اگر تو نہ ملا تو میں زہر کھا لوں گی۔“

بابا…. وہ تو نہ ملا…. اور نہ ہی میں نے زہر کھایا۔ ہاں میں زہریلی ہو گئی۔ پھوپھی نے اکبر کی شادی دور پار کے گاﺅں میں کر دی۔ زبیدہ جب بیاہ کر اسکے گھر آئی تو میں اسے دیکھنے گئی۔ بڑی پیاری لڑکی تھی زبیدہ…. حوروں جیسا تقدس۔ آنکھوں میں حیا…. وہ عورت کی حقیقی تصویر تھی…. میں گھر واپس آئی، بناﺅ سنگھار کر کے شیشے میں دیکھتی رہی…. مجھے احساس ہوا کہ میں تو زبیدہ سے زیادہ حسیں ہوں۔ اس سے زیادہ حیادار ہوں۔ میں سولہ سنگھار کر کے اکبرے کے گھر چلی گئی…. وہ سمجھ گیا کہ میں کیوں آئی ہوں۔ اس نے مجھے بہت برا بھلا کہا اور کہا ”منداں تو چڑیل ہے۔ چلی جا یہاں سے۔ تیری نحوست سے آج کی رات کی پاکیزگی ختم نہیں کرنا چاہتا…. دفع ہو جا…. چڑیل کہیں کی….“

میں چڑیل تو نہیں تھی بابا…. ایک عورت تھی…. اکبرے کی دھتکار اور پھر اس حور پری کے تقدس نے مجھے چڑیل بنا دیا…. میرے گاﺅں میں ایک سوامی آیا کرتا تھا۔ شکل و صورت سے ملنگ تھا۔ ایک روز میں جب گھر میں اکیلی تھی اس نے صدا لگائی۔ ”بھوکے کو کھلا،اپنے من کی پا۔۔“

میں باہر دوڑی گئی…. اور اسے بلا کر کہا۔ ”بابا۔ گھی شکر والی روٹی دوں گی۔ چاٹی کی ٹھنڈی لسی اور اگر کہے تو دودھ کا بڑا پیالہ بھی تری نذر کر دوں گی۔ اگر کہے گا تو…. یہ سونے کی چوڑیاں بھی تجھے دے دوں گی…. مگر سچ سچ بتا میرے من کی مراد پوری ہو جائے گی….“ اس نے میری دیوانگی دیکھی تو مسکرا دیا۔

کہنے لگا ”پہلے پیٹ پوجا پھر کام دوجا….“

میں نے اسے پیٹ بھر کر کھانا کھلایا۔ پھر بولا۔ ”اب کہو…. کیا مسئلہ ہے….“ میں تو اسے محض ملنگ ہی سمجھی تھی۔ میں نے جب اپنی دکھ لیلٰی سنائی تو بولا….

”انتقام والوں کا کوئی دین دھرم نہیں ہوتا…. ترے انتقام کی آگ میں بجھا دوں گا….“

میں نے پوچھا ”تو کون ہے؟“

بولا۔ ”سادھو…. سوامی…. ادھر…. مندر کے پجاری پنڈت کا سیوکار…. کسی روز مندر میں آ جا…. ترے سارے دکھ دور ہو جائیں گے….“ اس نے مجھے شہر میں مندر کا پتہ دیا…. اور میں اگلے روز شہر چلی گئی۔ سوامی نے مجھے پنڈت سے ملایا۔ کالے سانڈ جیسا پنڈت…. شیطان کا باپ تھا وہ…. میں نے وہاں دیکھا…. بہت سی عورتیں وہاں جمع تھیں۔ کہنے لگا

”یہ سب اپنی اپنی اچھا کے لئے آتی ہیں….“

میں نہ سمجھی…. اس نے مجھے سمجھایا ”اگر تو چاہتی ہے کہ ہر کوئی تری بات مانے تو ایک بات مانو….“

”تمہاری ہر بات مانوں گی میں….“ نہ جانے اس وقت کون سا جذبہ تھا کہ میں بے خوفی سے کہہ گئی…. اور پھر میں نے اسکی ہر بات مان لی۔ اس نے مجھے ایک سفوف دیا اور کہا۔ ”یہ مسان ہے۔ اپنی پھوپھی کو کھلا دے۔ اسکو چیچک نکل آئے گی۔ پھر تمہیں ہماری شکتی پر اعتبار آ جائے گا….“

بابا میں اندھی ہو گئی تھی میں نے پھوپھی کو مسان کھلا دیا تو وہ اسی روز چیچک میں مبتلا ہو گئی۔ میں بڑی خوش تھی۔ اکبرے کی دوڑیں لگ گئیں۔ دربار، مزار، ہسپتال…. کچھ بھی تو نہ چھوڑا تھا اس نے۔ ہر جگہ وہ گیا کہ اسکی ماں کو صحت مل جائے مگر اسے آرام نہ آیا…. اور وہ مر گئی…. میں پنڈت کے پاس جانے لگی۔ اور اسکی داسی بن گئی۔ اس نے مجھے کالا علم سکھانا شروع کر دیا۔ پھوپھی مر گئی تو ان دنوں زبیدہ امید سے تھی…. میں نے اس کو تعویذ پلا دیا…. اور امیدیں ختم ہو گئیں۔ اکبرا۔۔۔۔۔ اور پریشان ہوا۔۔۔۔۔ تو مجھے بڑی خوشی ملی تھی بابا…. میں نے اس روز سات شیطانوں کا بھوجن تیار کر کے پنڈت کے ساتھ مل کر رقص ابلیس کیا تھا…. بابا۔ تمہیں کیا بتاﺅں…. شیطان کے آلہ کار کی شیطانیت دیکھ کر تو شیطان بھی پناہ مانگتا ہے۔ میں پنڈت کی سب سے زیادہ ہونہار داسی بن گئی…. میرا کیا ہوا عمل ایسا ٹانکا لگا کر بندھا ہوتا تھا کہ کسی سے نہ نکلتا تھا۔ میں قبرستانوں میں جاتی اور قبروں کے درمیان بیٹھ کر عمل کرتی…. میں نے زبیدہ اور اکبر کو سسک سسک کر مارا…. وہ جب بھی امید سے ہوتی میں اسکو خراب کر دیتی…. اور پھر وہ بانجھ ہو گئی…. گاﺅں میں میری مشہوری ہو گئی تھی کہ میں ملنگنی ہو گئی ہوں۔ لوگوں کو یہی معلوم تھا کہ اکبرے کے عشق نے مجھے ملنگنی بنا دیا ہے۔ مجھے پنڈت کی طرف سے بھی یہی ہدایت تھی کہ میں ملنگنی بن کر رہوں۔ میں نے بہروپ بدل لیا تھا۔ میرا انتقام پورا ہو رہا تھا…. میں جہاں خوشیاں دیکھتی دکھوں کی کھیتیاں پیدا کرتی…. اچھے بھلے گھروں کو برباد کر دیا…. کسی کے چولہے میں تعویذ دبا دیتی…. کسی کے گھر خون کے چھینٹے پھنکوا دیتی…. اور کسی کنواری لڑکی کے کپڑے کتر ڈالتی۔ میں نے کالا عمل کر کے گاﺅں کے گاﺅں برباد کر دئیے بابا…. پھر ایک روز اکبرا روتا ہوا میرے در پر آ گیا۔ میرے پاﺅں پڑ گیا۔ معافیاں مانگنے لگا۔ کہنے لگا ”میں نے ترا دل دکھایا تھا منداں…. مجھے معاف کر دے…. اللہ بھی مجھے معاف کر دے گا….“

میں اندر ہی اندر قہقہے لگانے لگی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ میں اسکے اللہ سے کتنی دور ہو گئی ہوں۔ اور اللہ کیوں میری وجہ سے اس سے ناراض ہوتا…. بابا…. اس وقت میں اپنی فتح کے نشہ میں چور چور ہو گئی…. مگر دن رات کی تپسیا نے مجھے اتنا پکا کر دیا تھا اور یہ سکھا دیا کہ مجھے کسی پر کھلنا نہیں ہے…. سو میں اس سے بے نیاز ہو گئی…. وہ مجھے اپنے گھر لے گیا…. زبیدہ چارپائی پر پڑی تھی۔ اسکا رنگ روپ سب ختم ہو گیا تھا …. اکبرا کہنے لگا۔ ”منداں…. سنا ہے اللہ تری سنتا ہے تو…. میری زبیدہ کے لئے دعا کر…. یہ ٹھیک ہو جائے اور اللہ اسکی گود ہری کر دے….“ میں نے اسکی طرف دیکھا…. اور سوچا…. واہ اکبرے…. تو بھی میرے بہروپ میں آ گیا۔ میں تیری گود اجاڑنے والی…. تری گود کیسے ہری ہونے دوں گی….“

اکبرے نے اس رات مجھے اپنے گھر ٹھہرایا اور میری منتیں کرتا رہا…. میں نے ایک منصوبہ بنایا اور اپنے کالے عمل کی کاٹ کرنے لگی۔ زبیدہ کے گرد سحری تاریں اور دھاگے کاٹنے لگی۔ اسکی بندھنوں کی گرہیں کھولتی رہی رات بھر…. اور پھر چند روز بعد پورے گاﺅں میں مشہور ہو گیا۔ ”ملنگنی منداں کی دعا سے زبیدہ صحت یاب ہو گئی۔ اسکی گود ہری ہو گئی….“ لیکن وہ سب میرے انتقام سے غافل تھے۔اکبرے کی بیوی کا آخری مہینہ چل رہا تھا کہ اسے برے برے خواب آنے گے۔ راتوں کو اٹھ کر چیختی چلاتی ،چارپائی سے نیچے اتر جاتی اور چادر دوپٹہ اتار کر پھینک دیتی۔ پھر صحن میں آ کر آسمان کی طرف رخ کر کے خاموش ہو کر اسکی تاریک بلندیوں کو دیکھتی رہتی۔ یہ سیاہ راتوں کے دن تھے۔ اکبر بڑا پریشان ہو گیا کہ زبیدہ کو کیا ہو گیا ہے۔ ایک آدھ روز بعد جب یہی واقعہ دوبارہ ہوا تو وہ میرے پاس بھاگا بھاگا آیا۔ میں قبرستان میں ہی تھی۔ اپنی کٹیا سے باہر پکی قبر کے پاس۔۔۔۔۔ اس کا ہی انتظار کر رہی تھی۔ مجھے یقین تھا وہ آئے گا۔ وہ آیا۔ بھاگتا ہوا‘ ہانپتا ہوا…. روتا ہوا‘ بلکتا ہوا…. میرے پاس پہنچا تو قبر کے سرہانے گر گیا۔

”بی بی….“ عقیدت کا مارا اب مجھے منداں کی بجائے بی بی کہتا تھا۔ ”بی بی میں مر گیا۔ لٹ گیا…. چل میرے ساتھ…. زبیدہ کی حالت بڑی خراب ہے….“

میں آنکھوں میں دئیے جلائے بیٹھی تھی۔ پتلیوں پر دئیے کی لو ایک بھڑکتے ہوئے شعلے کی مانند جل رہی تھی اس شعلے کی آخری نوک پر میرا دل ٹھہرا رہا تھا۔ دھیرے دھیرے سے سلگ رہا تھا۔ پگھلتا جا رہا تھا۔ میرا دل موم نہیں تھا۔ فولاد تھا فولاد…. جو پگھل کر میرے پورے بدن میں پھیل رہا تھا۔ میں اسکی طرف تکتی رہی۔ میری آنکھوں سے بلند ہوتی ہوئی حسد کینے اور انتقام کی آگ اسے دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

”بی بی…. سنتی ہے کیا۔میری زبیدہ مر جائے گی…. میرا بچہ مر جائے گا….“

”مر جانے دو اسے….“ میں جب بولی تو قبرستان کے سناٹے میں ایک اسکی ہچکیاں تھیں اور ایک میرا جذبات سے خالی لہجہ گونج رہا تھا۔

”کک…. کیا کہتی ہو…. منداں….“ آنسو اسکی پلکوں پر ٹھہر گئے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ ”تو کہتی ہے زبیدہ مر جائے…. میرا بچہ مر جائے….“

”ہاں…. وہ مر جائے گی اکبرے۔ اس نے تجھے برباد کر دیا۔ نصیبوں جلی تری ماں کو کھا گئی…. ترے بچے کھا گئی…. اور آج پھر….“میں اسے بد گماں کرنے لگی۔

”نہیں…. نہیں ایسا نہیں ہو سکتا….“ اکبر چلایا۔ ”میری زبیدہ بڑے بختوں والی تھی۔ دیکھا نہیں…. اس کا چہرہ۔ معصوم اور پاکیزہ عورت ہے….“

”…. وہ بڑی پاکیزہ اور معصوم ہے…. اور میں بدمعاش تھی‘ آوارہ تھی‘ گندی اور بدصورت عورت تھی اکبرے…. تو نے…. تو نے…. میری موت کا جشن منایا…. تو نے میری روح مار دی۔ میرا سب کچھ برباد کر دیا…. اس وقت تجھے رحم نہیں آیا تھا مجھ پر….“

”تت تو…. کیا کہہ رہی ہے منداں….“ وہ بے یقینی کے عالم میں میری طرف دیکھ رہا تھا۔

”وہ ہی کہہ رہی ہوں اکبرے…. جو میرے ساتھ تو نے کیا…. میں بھی گری تھی ترے قدموں میں…. مگر تو نے مجھے دھتکار دیا۔ جب تو میرے قدموں میں گرا تو میں نے تجھے اٹھا لیا۔ یہی ایک عشق کی ماری عورت اور حالات کے ستائے ہوئے مرد کا حال ہوتا ہے اکبرے…. آج تو اس عورت کے پاس آیا ہے جو اب تجھے کچھ نہیں دے سکتی…. تری نفرت نے مجھے یہاں تک پہنچایا ہے اکبرے۔ میں ترے عشق میں فنا ہو گئی۔ دنیا کہتی ہے منداں اکبرے کے عشق میں ملنگنی ہو گئی…. مگر تو نہیں جانتا۔ لوگوں کے دلوں میں میرے لئے رحم تھا مگر تو نے مجھے کبھی اپنے گھر نہیں رکنے دیا تھا اکبرے…. جا چلا جا…. اب میں ترے لئے کچھ نہیں کر سکتی….“

میری باتیں سن کر وہ پریشان ہو گیا۔ بولا۔ ”بی بی…. میں جانتا ہوں میں نے تری قدر نہیں کی تھی…. لیکن یہ تو دنیا میں ہوتا رہتا ہے۔ کوئی کسی کو پسند کرتا ہے تو اسکا مطلب تھوڑی ہے کہ وہ اسے حاصل بھی ہوجائے….“

”یہی بات تو اب کے سوچ…. جو تو چاہتا ہے ضروری نہیں ہے کہ تو وہ پا بھی لے….“ میں چراغ پا ہو کر بولی اور غصے سے کھڑی ہو گئی…. میرے کرتے کے گھنگھرو چھنکنے لگے۔ دور کہیں ناقوس بجنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے آج کی رات سادھو کو بلایا تھا۔ ناقوس کی آواز اس بات کی غمازی تھی کہ میں نے اس سے جو منگوایا تھا وہ لے کر آ رہا تھا…. میں نے بڑا بھرپور اہتمام کیا ہوا تھا۔ آج کی رات…. ایک طرف زبیدہ کا جنازہ اٹھتا اور دوسری طرف اکبرا سدا میرا داس بن کر قبروں کی مجاوری کرتا…. آج کی رات…. کہ جب ابھی وہ اپنے ہوش میں تھا۔ میں اپنی نفرت کا ابال اس پر ظاہر کر رہی تھی۔ اس رات اسے سب کچھ کہہ جانا چاہتی تھی۔

”اکبرے۔ تم مرد…. بڑے کمینے ہوتے ہو۔ تم عشق کرتے ہو تو ہر صورت میں اپنے محبوب کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ اپنے ماں باپ کو مجبور کر کے اپنے ساتھ ملا لیتے ہو۔ محبوب کو گھر سے بھی نکال لاتے ہو۔ عورت ٹھکرائے تو ہزاروں جتن کر کے اس تک پہنچ جاتے ہو…. یہ سماج بھی تمہارا ساتھ دیتا ہے۔ ایک کمزور عورت کو کمزور بنا کر اسے حاصل کر لیتے ہو…. مگر جب کوئی عورت عشق میں فنا ہوتی ہے تو اسکو جوتے مارتے ہو۔ اسے بے غیرت کہتے ہو۔ تم…. تم کیا جانو…. یہ عشق کیا ہوتا ہے اکبرے۔ تم تو عورت کو صرف ایک جنس کے طور پر خریدنے والے بیوپاری ہو۔

”تم تم…. اتنی نفرت کرنے لگی ہو منداں….“ اکبرا بمشکل بولا۔

”نفرت…. یہ تو بڑا چھوٹا لفظ ہے اکبرے۔ میں تو اب اس سماج کے سارے مردوں سے نفرت کرتی ہوں۔ میں نے اپنے اندر کی عورت کو مار دیا ہے…. میں تو اب بھڑکتی ہوئی آگ ہوں۔ نفرت اور تکبر نے مجھے مدہوش کر دیا ہے…. یہ سب تری وجہ سے ہوا ہے اور تو چاہتا ہے میں تجھے سکھ شانتی دوں….“

”تو کیا چاہتی ہے….“ اکبرا گھبرا کر بولا ”تو کیا کرنا چاہتی ہے….“

”میں کیا کرنا چاہتی ہوں ….ہا ہا“ میں قہقہے برسانے لگی۔ مجھ پر دیوانگی طاری تھی۔” میں نے تجھے کہا ناں…. میں آگ ہوں۔ تجھے اور تری خوشیوں کو جلا کر راکھ کر دوں گی…. تجھ میں ہمت ہے تو آ اور مجھے بجھا دے…. اس آگ کو ٹھنڈا کر دے۔ مگر اب نہیں ہو سکتا…. ترے پاس علم کی وہ طاقت نہیں ہے جو منداں ملنگنی کو جلا سکے….“

”منداں…. دیکھ تو ایسا کچھ نہیں کرے گی۔ بہت ہو گیا…. اب تو میرے پاس رہے گی۔ چل میرے گھر۔ میں نے تجھ سے معافیاں مانگ لی تھیں اور تو نے معاف کر دیا تھا….“

”چل…. دفع ہو جا کتے….“ میں چلائی۔ ”تو مجھے اسوقت گھر لیکر جانے کے لئے آیا ہے جب یہ قبرستان میرا گھر بن چکا ہے۔ میری بارات کب کی یہاں آ چکی ہے۔ میں نے ان مردوں سے شادی رچا لی ہے اکبرے…. میں زندہ تھوڑی ہوں اب…. جا دفع ہو جا…. میری نظروں سے…. میں تری شکل نہیں دیکھنا چاہتی…. اب ایک منٹ بھی تو یہاں رکا تو میں تجھے مار ڈالوں گی…. یہاں…. کسی قبر میں تجھے گاڑ دوں گی….“

وہ ایسا گھبرایا کہ بھاگ اٹھا…. اس نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا ہو گا…. سادھو ناقوس بجاتا ہوا قبرستان میں آ گیا۔ اس نے بھی اکبرے کو بدحواس ہو کر بھاگتے دیکھا تھا۔

”کیا ہوا تھا اسے….“ سادھو نے پوچھا۔ ”کہیں اس نے ترے چمتکار تو نہیں دیکھ لئے۔“

”نہیں…. آج اس نے منداں ملنگنی کے اندر کی عورت کو دیکھ لیا ہے…. اس عورت کو جو مر گئی تھی“…. میں نے سادھو سے کہا۔ ”چھوڑ…. تو لے آیا ہے میری چیزیں…. اور ہاں پنڈت جی نے کچھ بولا ہے….“

”ہاں مہاراج نے کہا ہے کہ منداں سے کہنا کہ جو بھی کام کرے احتیاط سے کرے۔ بہت سے اللہ والے بستیوں اور قبرستانوں میں ڈیرے ڈال رہے ہیں۔ اس لئے تو…. کبھی ایسی حرکت نہ کرنا کہ سب کچھ ظاہر ہو جائے…. وہ کہتے ہیں کہ اپنا حلیہ بھی تبدیل کر لے تو…. اور آج کے بعد تو کسی پر اپنے اندر کی مری ہوئی عورت کو ظاہر نہیں کرے گی…. دیکھ منداں…. جو مر گیا وہ مردہ ہو گیا۔ وہ ہمارے کس کام کا….“

”کیا بولتا ہے تو سادھو….“ میں نے اسے کہا تھا…. بابا ۔۔۔۔۔۔ہاں میں نے اسے کہا تھا کہ ”سادھو…. تو جانتا ہے جب کوئی مرتا ہے‘ تو اس کا مردہ ہمارے کام آتا ہے۔ ہم اس پر عمل پھونکتے ہیں۔ اسکی ہڈیوں کا چورہ اکٹھا کرتے اور اس پر عمل کر کے جیتے جاگتے انسانوں کے اندر موت اتارتے رہتے ہیں…. بابا۔ میں اپنے کام میں بڑی پکی ہو گئی تھی۔ اگر عورت ہٹ دھرم ہو اور انتقام لینے پر اتر آئے…. تو وہ کبھی ٹھہرتی نہیں ہے۔ وہ آگے ہی آگے بڑھتی ہے…. بابا تو جانتا ہے۔ اس دنیا کو مردوں نے نہیں عورتوں نے فتح کیا ہے۔ ہر فاتح عورت کے سامنے مفتوح ہوتا ہے بابا…. تو جانتا ہے۔ فقیر ہو یا شہنشاہ…. جب عورت اسکا امتحان لیتی ہے تو وہ فیل ہو جاتا ہے۔ پس میں نے سادھو سے کہا تھا۔ کہ تو بھول جا…. منداں کے جال کوئی نہیں توڑ سکتا…. میںنے اسے کہا تھا…. کہ میں نے لوگوں کی آنکھیں بند کر دی ہیں۔ وہ میرے چمتکار دیکھ کر اندھے ہو گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں میں اللہ والی ہوں۔ وہ نہیں جان سکتے کہ میں درحقیقت شیطان کی داسی ہوں…. سادھو میری باتیں سن کر بڑا خوش ہوا تھا…. کہتا تھا…. منداں…. تو بڑے کام کی ہے۔ پنڈت مہاراج ترے سے بڑے خوش ہیں۔ تو ہمارے دھرم کی رکھشا کر رہی ہے۔ گھر گھر…. میں شیطان کے استھان بنا رہی ہے.

وہ نہ جانے کیا کچھ کہتا رہا…. میں تو اپنے دھرم میں مگن تھی۔ جس کا صرف ایک ایمان تھا…. انتقام‘ انتقام۔ انتقام…. اس رات سادھو…. سات مردوں کی راکھ لے کر آیا تھا۔ اونٹ کے کولہے کی ہڈی پر جاپ منتر لکھے تھے…. اور ایک جانور کی چربی…. بابا میں اسکا نام نہیں لے سکتی…. اسکی چربی سے دیا جلانا تھا…. بڑا مکروہ عمل تھا…. مجھے چالیس الوﺅں کے خون سے اشنان کرنا تھا…. یہ بڑا مکروہ اور سخت کالا عمل تھا…. جو زبیدہ اسکے بچے کی موت…. اور پھر اکبرے کی بربادی کے عوض مجھے کرنا تھا۔ میں نے اس رات…. وہ عمل کیا…. خود سے بے نیاز ہو کر…. تن من سے آزاد ہو کر…. بے حجاب ہو کر…. بابا…. یہ حجاب اور شرم و پردہ کالا علم کرنے والوں کے ہاں نہیں ہوتا…. وہ کہتے ہیں اگر روح بے پردہ ہے تو یہ بدن بھی بے پردہ ہونا چاہئے…. اسی لئے تو بابا…. بابا…. وہ لوگ جو کالا علم کرتے ہیں…. عورتوں کو بے پردہ اور بے شرم کر دیتے ہیں جو ان کے آستانے پر آتی ہیں…. ان غرض مند اور اندھی عقیدت کے گندے نالوں میں غوطے کھانے والی عورتوں کے جسموں پر کالے تعویذ لکھتے ہیں۔ بابا…. یہ کالی دنیا بڑی ہی بے شرم ہے۔ میں نے اس رات عمل کیا…. اور طے کر لیا کہ اکبرا بھی زندہ نہیں رہنا چاہئے…. میں نے اس پر خود کو کھول دیا تھا اور اب وہ دوسرے لوگوں کو میرے بارے بتا سکتا تھا…. پس …. صبح سویرے مجھے معلوم ہو گیا کہ زبیدہ رات بھر تڑپتی رہی ہے مگر اسکے بچے کو گاﺅں کی دائی نے بچا لیا…. اسکا بچہ زندہ رہ گیا تھا…. اکبرا تو نیم بے ہوش تھا۔ اس پر دیوانگی طاری ہو گئی تھی۔ میں اسکے گھر گئی…. اور میں نے اکبرے کو وہ پانی پلا دیا جس میں سات مردوں کی راکھ ملائی تھی…. وہ ہوش میں آ گیا مگر اب اسکی دنیا بدل گئی تھی۔ آنکھیں تاثرات اور جذبات سے خالی ہو گئی تھیں…. میں نے سوچا…. ٹھیک رہے گا یہ دیوانگی میں…. یہ جیتا جاگتا میرا انتقام ہو گا۔ اسے دیکھوں گی تو مجھے شانتی ملے گی۔ میں نے اسکے بچے کو دیکھا۔ گول مٹول چاندکا ٹکڑا….

”اللہ نے کاکا دیا ہے منداں ملنگنی…. یہ سب تری دعاﺅں سے ہوا ہے…. زبیدہ بے چاری رات بھر تڑپ تڑپ کر مر گئی…. اکبرا تو اسے دیکھ کر پاگل سا ہو گیا۔“ دائی مجھے بتا رہی تھی….“ میں نے زبیدہ کی چیخیں سنیں تو بھاگتی ہوئی آ گئی۔ اس کھلے آسمان کے نیچے وہ تڑپ تڑپ کر مر گئی…. یہ رات بڑی خوفناک تھی…. میں اللہ رسول کی مالا جپتی رہی…. اور اس کالی کملی والی سرکار نے مجھے ہمت دی اور میں نے زبیدہ کے بچے کو بچا لیا…. تو جانتی ہے منداں سرکار…. میرے پاس بزرگوں کا دیا ہوا ایک تعویذ ہے۔ جو ماں بچے کو لاکھ بلاﺅں سے بچاتی ہے۔ افسوس مجھے اس وقت خیال آیا جب زبیدہ مر گئی…. ورنہ میں اسکے گلے میں وہ تعویذ ڈال دیتی تو وہ منحوس رات میں یوں تڑپ تڑپ کر نہ مرتی۔ میں نے تعویذ منگوایا اور بچے کے گلے میں ڈال دیا…. یہ جب پیدا ہوا تو بہت زیادہ رو رہا تھا…. لیکن اب خاموش ہے…. دیکھ تو۔ کتنا پیارا ہے بچہ…. ہائے بابا….“ ملنگنی منداں…. کربناک انداز میں چلائی تھی۔“ بابا…. میرے اندر نفرت کا لاوا ابل پڑا تھا۔ میں نے بچے کو زندہ دیکھا تو مجھے آگ لگ گئی….“

دائی نے دیکھا تو وہ میرے اندرونی کرب کو کچھ اور ہی سمجھی تھی۔ کہنے لگی۔

”ملنگنی…. اب تو ہی اسکی وارث ہے۔ یہ تیرا بھتیجا ہے۔ لے اسے سنبھال….“

وہ سمجھی تھی زبیدہ کی موت نے مجھے غم زدہ کر دیا ہے اور رنج و ملول سے جذباتی ہو گئی ہوں…. اس نے بچہ میری گود میں دے دیا…. میں نے جونہی بچے کو ہاتھ لگایا وہ بلکنے لگا…. بہت تڑپ تڑپ کر رویا…. میں تو سمجھتی تھی وہ کیا رو رہا ہے۔ اسکی زباں ہوتی تو وہ کہتا کہ مجھے اس کتیا سے بچاﺅ…. یہ میری پھوپھی نہیں ڈائن ہے…. دائی نے بچہ میرے ہاتھ سے لے لیا تو وہ خاموش ہو گیا…. مجھے اب دائی پر بھی غصہ تھا۔ اس نے برکت والا تعویذ اسکے گلے میں ڈال رکھا تھا۔ اس نے بچے کو میرے قہر سے بچایا تھا۔ میں رات بھر وہاں رہی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ بچے کے گلے سے تعویذ اتار دوں۔ لیکن میں کامیاب نہ ہو سکی۔ کوئی طاقت اسکی حفاظت کر رہی تھی۔ مجھے بڑا غصہ بھی آ رہا تھا اور خطرہ بھی محسوس ہو رہا تھا۔ سادھو کی بات درست ہوتی نظر آ رہی تھی کہ اللہ کے سچے بندے‘ ان بستیوں کی طرف آ رہے ہیں۔ اللہ ان بچوں اور لوگوں کو شیطان سے بچا رہا ہے۔ میں اللہ سے تو نہیں لڑ سکتی تھی۔ مجھے اللہ سے شکوہ بھی تھا۔ لیکن آج میں جان گئی ہوں…. اسنے انسان مختار بنایا ہے۔ اسکی قسمت کو اسکی محنت اور دعاﺅں سے بدلتی ہے…. لیکن میں تو صرف دنیاوی طاقت کے لئے اللہ سے غافل ہو گئی تھی۔ بابا….میں نے ایک کافر کے کہنے پر جتنی محنت کر کے کالا علم حاصل کیا…. اگر اس سے کم محنت کر کے اپنے اللہ سے لو لگاتی تو میں یوں نہ بھونکتی پھرتی….“

”تو پھر اس بچے کا کیا بنا….“ میں نے ایک طویل توقف کے بعد ملنگنی سے سوال کیا…. اس نے پرآشوب نظروں سے میری طرف دیکھا….

”وہ بچہ زندہ ہے۔ نہ جانے کس کی دعا سے…. میں نے ہزاروں عمل کئے…. لیکن اس بچے کا ایک بال بھی بیکا نہ کر سکی۔ ہاں میں نے…. اس دائی کو بھی مار ڈالا…. اب وہ بچہ ایک سال کا ہو گیا ہے…. زبیدہ کی ماں اسے لے گئی ہے…. اکبرا سارا سارا دن قبرستان کے باہر خارش زدہ کتے کی طرح چلتا پھرتا اور گرتا پڑتا نظر آتا ہے…. اسے دیکھتی تھی تو ٹھنڈک ملتی تھی میرے کو…. اور جب اسکے بچے کا سوچتی…. ہاں کیا نام تھا اس کا…. محمد علی…. بابا…. تم ہی بتاﺅ…. ایک بچہ جس کا یہ نام ہو…. اس پر جادو کا وار کیسے چل سکتا ہے۔ اس نام میں بڑی روحانی قوت جمع ہے بابا…. بچے کو ہلاک کرنے کے لئے ہی میں اس قبرستان میں آئی تھی…. اور پکڑی گئی…. بابا سرکار کی پکڑ بڑی سخت نکلی اور پھر میں نے بھید پا لیا…. کہ سچائی میں کتنی طاقت ہے۔ سچائی ہر طرح کی بناوٹ سے پاک ہے۔ اس میں کوئی کمزوری نہیں ہے….“

”اب تم کیا کرو گی….“ میں نے اس سے دریافت کیا….

”جو بابا سرکار کہیں گے….“ اس نے ٹاہلی والی سرکار کی طرف دیکھا….تو وہ خاموش ہو کر دور خلاﺅں میں کچھ کھو جتے ہوئے نظر آئے….خاصی دیر خاموشی رہی….پھر بولے۔

”تو واپس اپنی بستی میں چلی جا….اسی بھیس میں….مگر اب تو پاکیزہ رہے گی۔ اس سادھو اور پنڈت کے شیطانی اعمال کو ختم کرنا ترے ذمہ ہے….پھر میرے اللہ اور سوہنے کالی کملی والے نے چاہا تو تجھے پھر سے فیض ملے گا….مگر یہ فیض۔۔۔۔ چشمہ نور ہدایت سے حاصل ہو گا….یہ لے….اور اب اسے اپنے اوپر اورڑھ لے۔پہلے تو صرف داسی تھی…. ملنگنی اب ہو گئی ہے ۔“ٹاہلی والی سرکار نے اپنی سیاہ چادر اتار کر اسے اوڑھا دی۔

”تو اکبرے کو بھی معاف کر دے اور اس سے بھی معافی مانگ لگے…. اللہ معاف کرنے والوں کا دوست ہے ۔۔۔بیشک یا ولی یا ممیت بحق یا عزیز ۔۔وہی ذات کریم شرم و گناہ کی لاج رکھتی ہے“….ٹاہلی والی سرکار نے اسے اپنی خلعت سے نوازا اور پھر….وہ چلی گئی….میں شام ہونے تک وہیں ٹھہرا رہا….خاموش،اسرار قدرت پر غور کرتا ہوا۔ نہ جانے کن جہانوں کی تلاش ہو گئی تھی مجھے…. ٹاہلی والی سرکار نے بھی مجھ سے کوئی کلام نہیں کیا۔شام کی اذان کی ہلکی سی آواز آرہی تھی…. ٹاہلی والی سرکار نے اذان سنی تو کچھ دیر بعد بولے۔”تو نماز پڑھتا ہے“۔

میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔”باقاعدہ نہیں پڑھتا….“

”باقاعدہ پڑھا کر….اور تہجد بھی پڑھا کر…. یہ جو وظائف تجھے بتائے ہیں ۔اگر تو تہجد کے وقت پڑھا کرے تو تری کائنات ہی بدل جائے گی۔پھر تجھے معلوم ہو گا کہ سچائی کیا ہے ۔علم کی صداقت اور طاقت کا کیا عالم ہے….اللہ والے اس پہر سجدے سے سر نہیں اٹھاتے۔ جو لطف رات کے اس پہر آتا ہے….شاید دن بھر میں وہ میسر نہیں آتا….“

”جی سرکار….ایک وقت تھا۔ جب میںآٹھ نمازیں باقاعدگی سے پڑھتا تھا۔ تہجد،اشراق ،نماز توابین….کوئی نفلی نماز بھی نہیں چھوڑتا تھا۔ ان دنوں میں غرض مند تھا۔….میں میٹرک کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا….اور اپنے آپ کو ہار کر اللہ کے سپرد کر دیا تھا….دن رات عبادت کرتا تھا…. لیکن جب نے میں میٹرک میں فرسٹ ڈویژن لی، سکول میں ٹاپ کیا….تو پھر عبادتیں ختم ہو گئیں….میں نے سوچا یہ تو سب میری محنت کا نتیجہ تھا…. لیکن اب سوچتا ہوں کہ یہ تو فیض الٰہی تھا۔اس نے مجھے اپنی عطا سے میرے علم کو مہمیز دی اور دنیاوی تعلیم میں مجھے درجات عطا کئے….ہم بڑے کمینے لوگ ہیں۔جب مشکل پڑتی ہے تو اسکے سامنے جھکتے ہیں۔کاش میرے جیسے بدبخت سکھ میں بھی اسکے سامنے ہی جھکا کریں….اور اس مغالطے میں نہ رہا کریں کہ یہ سب تو میں نے اپنی محنت سے پایا……..“

”بچے….محنت سے سب کچھ ملتا تو آج سارے مزدور دولت مند ہو جاتے ۔رازق تو اللہ کی ذات ہے۔وہ جب تک خود عطا نہ کرے انسان کی محنت اور لیاقت کو پھل نہیں لگتا۔“

”بابا…. کیا بات ہے ہمارا رب کافروں پر کچھ زیادہ ہی مہربان نہیں ہے….“ میں اپنی زبان پر رکا ہوا ایک سوال کئے بغیر نہ رہ سکا۔

”تو بڑا حجتی ہے شاہد…. قرآن پاک پڑھے گا تو تجھے سمجھ آجائے گا….اللہ فرماتے ہیں ۔وہ سارے جہانوں کا خالق ہے ۔اللہ اسکو بھی دیتا ہے جو اسکی عبادت نہیں کرتا….جو کافر ہے اسے بھی ملتا ہے شداد اور فرعون کو بھی اس نے دیا….اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔اسے بہت سے اختیارات دئیے ہیں۔اس لئے تو وہ اللہ کا خلیفہ کہلاتا ہے….انسان تو روح اللہ کا ایک پر تو ہے جسے اس ذات نے بنایا اسے بہت سی چیزوں پر مختار بھی تو بنایا ہے۔اس نے اپنے قواعد سے انسانوںکو آگاہ کر دیا ہے ۔جس طرح ایک مشین بنائی جاتی ہے تو کار خانے والے اس مشین کے منفی و مثبت استعمالات و اثرات کا ایک پرچہ بھی ساتھ دیتے ہیں۔جس طرح ہر کام کو انجام دینے کے قواعد ہیں اسی طرح یہ کائنات بھی ایک قاعدے کی پابند ہے۔ ہر مخلوق اپنے اپنے قاعدے اور نظام میں چل رہی ہے ۔تو یہ انسان خود کو اس قاعدے قانون سے خود کو ماورا کیوں سمجھتا ہے؟ قواعد یعنی اس خاکی مشین کے افعال کے ضوابط یہ بتاتے ہیں کہ اسے مسیحائی کا ساتھ دینا ہے،اللہ کی راہ پر چلنا ہے،مخلوق خدا کے حقوق ادا کرنے ہیں۔اسکا کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا….مساوات اور عدل سے کام لینا ہے….رزاق اس ذات الٰہی کو ہی تسلیم کرنا ہے۔ہاں….رزق کے لئے وسیلہ تو یہ انسان ہی بنتے ہیں….اس طرح تو یہ جانور….یہ زمین….یہ ہوا….سب ہمارے وسیلے ہیں۔ زندگی ،بھوک،دولت، ثروت ،اولاد…. سب کچھ اسی نظام کے قواعد میں دستیاب ہے۔ اس لئے….کبھی تو نے اللہ والوں سے یہ سنا ہے ۔کہ تم کافر ہو اس لئے تمہارے لئے دعا نہیں کروں گا ….اللہ کا نظام یہ نہیں کہتا اور نہ ہی تعصب کا شکار ہے۔ وہ ذات کریم سارے جہانوں کی خالق ہے اور اس نے سب کو عطا کرنا ہے۔ ہاں جو شیطان کی تعلیمات پر چلتے ہیں وہ اللہ کی عطا اور امانت میں خیانت کرتے ہیں….“ٹاہلی والی سرکار کی گفتگو نے میرے دل و دماغ میں اٹھنے والے سوالوں کا رخ موڑ دیا….اور مجھے بہت کچھ سمجھا دیا تھا….کہنے لگے۔”اگر تو کچھ پانا چاہتا ہے تو خاموش ہو جا….حجت کرنا چھوڑ دے۔ صرف دیکھتا جا۔ایک روز کیمیا گر بن جائے گا….اپنی آنکھیں بند کرلے….مگر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا….اس کے سوا کسی کے سامنے نہ جھکنا‘۔۔۔لیکن اس کے دوستوں کی تعظیم سے بھی غافل نہ رہنا“ میں جب واپس حویلی آنے کے لئے اٹھا تو وہ کہنے لگے۔”ریاض شاہ حویلی واپس آچکا ہے….اب تو معاملات کو احسن طریقے سے چلنے دو گے….تمہارے بابا جی بھی آئیں گے…. تم کوئی حجت نہ کرنا ….صرف دیکھتے جاﺅ….میں نے انہیں سمجھا دیا ہے….“۔

میں واپس حویلی پہنچا تو واقعی ریاض شاہ زلیخا کو لیکر واپس آچکا تھا ۔زلیخا کی حالت معمول پر تھی۔ میں نے محسوس کیا۔اسکے چہرے پر کسی قسم کی ندامت نہیں تھی۔ میں نے چاچا جی اور چاچی کو سمجھا دیا تھا….اور ان سے عہد لیا تھا کہ فی الحال وہ ریاض شاہ کے ساتھ کسی فساد میں نہ پڑیں۔ریاض شاہ مجھ سے بڑی بے تکلفی سے ملا تھا۔ ایسا لگا جیسے ہمارا برسوں کا یارانہ ہے…. میں نے زلیخا کے بارے میں اس سے کوئی گفتگو نہ کی تھی۔

عشاءکا وقت ہو چکا تھا۔میں نے نماز ادا کی…. اور واپس ریاض شاہ کے پاس کے پاس چلا گیا۔ وہ مراقبہ کی حالت میں چادر بچھا کر بیٹھا ہوا تھا….مجھے بابا جی سرکار کی حاضری کا انتظار تھا….ریاض شاہ نے مجھے دیکھا تو کہنے لگا….”بابا جی سرکار نے تجھے بلایا ہے….“

”کہاں ہیں وہ ….“میں نے پوچھا۔

”تم….گاﺅں کے چوراہے پر چلے جاﺅ….وہ تمہیں ادھر ہی ملیں گے….“

”میں وہاں کیوں جاﺅں….“ میں نے گھبرا کر پوچھا۔

”میں نہیں جانتا….انہوں نے ہی بلایا ہے۔کہتے ہیں شاہد میاں جب تک خود مجھے لیکر حویلی نہیں آئیں گے میں حاضری نہیں دوں گا….“ریاض شاہ کے لبوں پر عجیب سی استہزائیہ مسکراہٹ تھی۔میرے دل میں آیا کہ نہ جانے اب یہ کونسا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں….مجھے وہاں نہیں جانا چاہئے….لیکن پھر مجھے ٹاہلی والی سرکار کی باتیں یاد آگئیں….اور جب رات کے گیارہ بارہ بجے ہوں گے۔میں گاﺅں کے چوراہے پر چلا گیا….

٭٭

ہر سو اندھیرے کا راج اور سناٹا تھا۔ یوں لگتا جیسے آج رات کے دھڑکتے دل کو کسی نے اپنی مٹھی میں لے لیا تھا۔ جھینگروں کا شور تھا نہ کتوں کے بھونکنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ چوکیدار بھی ایک بار ”جاگتے رہو“ کی صدا بلند کر کے طویل خاموشی اختیار کر گیا تھا۔ سیاہ رات میں ایسی سنسانی اور لرزہ طاری کر دینے والی سرد مہر خاموشی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ میں راستوں کو ٹٹولتا ہوا چوراہے تک پہنچ گیا تھا۔ میں نے چاہا تھا کہ لالٹین اپنے ساتھ رکھ لوں…. مگر ریاض شاہ نے منع کر دیا تھا۔ اس نے کہا تھا۔

”رات کی سیاہی تمہارے راستوں کو روشن کر دے گی۔“ میں حیران تھا کہ کبھی اندھیرا بھی روشنی بن سکتا ہے۔ شاید میرے اضطراب کو محسوس کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔ ”تم نے کبھی غور کیا ہے اندھے انسانوں کے لئے دن اور رات ایک جیسی ہے۔ تم یہ احساس قائم کر کے آج اس سیاہ رات میں اپنی اس منزل کی طرف قدم بڑھاتے چلے جاﺅ جو پھر تمہیں روشنی کا محتاج نہیں بنائے گی۔“

میں دل سے ریاض شاہ کی کسی روحانی کرامت کا معترف نہیں رہا تھا۔ میں نے چپ کی چادر اوڑھ لی تھی اب خاموش رہ کر مجھے ان لوگوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا عہد کر چکا تھا۔ میں ٹھوکریں کھاتا ہوا چوراہے تک پہنچا تھا۔ میرے لئے یہ اندھیرے روشنی ثابت نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی چوراہے تک پہنچنے کے لئے مجھ پر کسی کرامت کا ظہور ہوا تھا۔ چوراہے میں کھڑا ہو کر گرد و پیش کا جائزہ لینے لگا تھا۔ مجھے اپنے سوا کسی وجود کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ میری نظر تھک کر واپس اپنے مدار میں آ گئی۔ روشنی کی ایک کرن بھی آسمان کے کسی پہلو سے دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ یونہی مجھے دس بیس منٹ گذر گئے…. اور پھر مجھے محسوس ہونے لگا کہ مجھ جیسا بے وقوف انسان شاید ہی اس دنیا میں ہو گا جس نے آنکھیں بند کر کے اس سیاہ اور ظلمی رات میں یہاں آنے کا فیصلہ کیا تھا…. مجھے لگا جیسے کسی نے میری نظربندی کر کے مجھے یہاں بھیج دیا تھا…. بابا جی کا سواگت کرنے کے لئے…. مگر بابا جی کا نام و نشاں تک دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ مجھے اب خوف محسوس ہو رہا تھا۔ میرا وہم بھرے ہوئے گٹر کی طرح شعور کے کناروں سے ابلنے لگا تھا…. میں گھبرا گیا اور پسینے پسینے ہو گیا۔ میں درود ابراہیمی پڑھنے لگا۔ اسکے سوا میرا کوئی محافظ نہیں تھا۔ کوئی سہارا نہ تھا کہ میں اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جاﺅں۔ میں اپنا اسم اعظم پڑھنے لگا اور پھر چند منٹ بعد واپس حویلی کی طرف چل دیا۔ ابھی میں کچھ دور ہی گیا ہوں گا کہ مجھے…. گاﺅں کے اندر سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ اور پھر مجھے احساس ہوا کہ آسمان سے سیاہی کی چادر سے کرنیں پھوٹنے لگی ہیں۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آخری راتوں کے چاند کے مکھڑے سے سیاہ بادلوں کا ایک غول پیچھے ہٹ رہا تھا۔ مجھے لگا جیسے منظر بدل رہا تھا۔

”چل دئیے کیا….“ مجھے اپنے عقب سے غازی کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی۔

”غازی تم….“ میں نے پلٹ کر دیکھا…. وہ سفید لباس میں ملبوس میرے بہت قریب کھڑا تھا۔ اس کے پاس سے ”اگر“ اور کافور کی ملی جلی مہک آ رہی تھی۔

”ہاں…. بھیا میں…. یہ لو۔ آج تمہارے لئے آئس کریم لیکر آیا ہوں۔ یہ لو کھا لو….“ اس نے ایک مشہور زمانہ برانڈ آئس کریم کا بڑا کپ مجھے تھمایا…. میں اس وقت غازی کا روکھا رویہ بھی بھول گیا تھا جب اس نے ریاض شاہ کی وجہ سے بیگانگی اختیار کی تھی۔ میں نے آئس کریم پکڑ لی…. یہ چاکلیٹ تھی۔

”غازی…. یار میں چاکلیٹ نہیں کھاتا….“

”واہ…. کوئی بات نہیں…. یہ مجھے دے دو…. میں آپ کے لئے مینگو فلیور لے آتا ہوں۔“ اس نے آئس کریم واپس لی اور ایک سٹک منہ میں ڈال کر غائب ہو گیا….

”غازی سنو تو….“

”وہ جا چکا ہے….“ غازی کے جاتے ہی بابا جی کی آواز سنائی دی۔ میں نے اس سمت دیکھا وہ میرے عقب میں کھڑے تھے۔

”تم سے بہت پیار کرتا ہے غازی….“ بابا جی سفید احرام جیسا لباس پہنے ہوئے تھے۔ پاﺅں میں نیلے رنگ کی چپل تھی۔ دراز قامت، سڈول، دہکتا ہوا بدن…. چہرے پر وہی سفید گھنی داڑھی…. موٹی موٹی آنکھیں ابرو بھی سفید تھے۔ پلکیں بھاری۔ بولے تو لہجے میں ایسا جمال اور دبدبہ تھا جو سمندر کے سینے میں دھڑکتی اور رواں موجوں میں تلاطم برپا کر دیتا ہے۔ انہوں نے ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا تھا…. اور میں نے اپنا بازو ان کی کمر کے گرد حمائل کر دیا۔ گویا ان سے لپٹ جانا چاہتا تھا…. اس وقت میں سب کچھ بھول گیا تھا۔ کئی دنوں کی کدورتیں، رنجشیں، شکوک سب کچھ ہی تو بھول گیا تھا۔ ان کا وجود میرے احساس کو یقین میں بدل رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔ آج پہلی بار ایسا ہوا تھا…. بابا جی گاﺅں کے چوراہے میں میرے پاس تنہا کھڑے تھے۔ ریاض شاہ بھی وہاں نہیں تھا۔ ایک طاقت…. میرے بدن کو چھو رہی تھی۔ میں بے ساختہ سسکیاں لینے لگا۔ بابا جی نے میرے سر پر دست شفقت رکھا۔ بولے

”میرے بچے…. تم جن راستوں پر چل رہے ہو، قسمت والے ہی اس بھیدوں سے بھری منزلوں کے راہی ہوتے ہیں۔ تم پر بہت کچھ آشکار ہو رہا ہے۔ یہ بات ایسے ہی ہے۔ جیسے مہینوں کے بھوکے انسان کو ایک دم لذیذ کھانے دے دئیے جائیں تو وہ جانوروں کی طرح کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ آنتیں جو بھوک سے سکڑ رہی ہوتی ہیں ایکا ایکی اتنا زیادہ کھانا برداشت نہیں کر سکتیں…. میرے دوست…. یہ سلوک اور تصوف کی راہیں بھی ایسی ہیں۔ جن لوگوں نے کبھی ایسے حالات نہ دیکھے ہوں اس مخلوق خدا کو نہ دیکھا ہو جو دنیا میں محض ایک فرضی اور پراسرار مخلوق سمجھی جاتی ہے، جب وہ اسکی زندگی میں شامل ہوتی ہے تو اسے سمجھنا ، دیکھنا اور ہضم کرنابڑا مشکل ہوتا ہے۔ اور پھر…. اس مخلوق کا رویہ بھی تو عجیب تر ہوتا ہے۔ اب تم اپنے آپ کو ہی دیکھو…. کبھی تم ہمیں شیطان کے آلہ کار سمجھتے ہو اور کبھی بہت بڑا پارسا بزرگ…. دراصل ابھی تک روحانیت کے پہاڑ کی اس ہموار چوٹی پر پہنچنے سے پہلے پتھریلے، کانٹوں اور سانپوں سے بھری پگڈنڈیوں پر چل رہے ہو۔ تم اس کوہ پیما کی طرح ہو جو پہلی بار پہاڑ پر چڑھنا شروع کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے اسکی چوٹی بہت قریب اور اسے فتح کرنا آسان ہے۔ وہ ہر پگڈنڈی عبور کرنے کے بعد محسوس کرتا ہے کہ اب چوٹی تک پہنچنے کا راستہ ہموار ہو گا…. مگر راستے کے پتھر کانٹے اور زہریلے کیڑے اسکے اور چوٹی کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں…. اگر تو اسکے ارادے پختہ ہوں…. یقین ثابت ہو تو…. وہ آہستہ آہستہ دم لیتا ہوا…. الجھتا ہوا، لڑتا ہوا، صبر و استقامت کے ساتھ سلوک کی پگڈنڈیاں چڑھتا رہتا ہے اور بالآخر روحانیت کی اس چوٹی پر پہنچ جاتا ہے….“

میں بابا جی کے سینے کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ ان کی باتیں ان کے بدن کی حرارت جیسی تھیں۔ ایسی ٹھنڈک اور راحت آمیز آغوش اس ماں جیسی تھی جو بچے کو اس سے جدا نہیں ہونے دیتی….

”بابا جی….“ میں بولا تو میرا لہجہ بڑے مان سے بھرا ہوا تھا….

”بابا جی…. کیا پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر روحانی خلعت مل جاتی ہے۔“

”آہ…. میرے بچے….“ انہوں نے مجھے اپنے سے جدا کیا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگے…. ”چلو…. ہمیں حویلی لے چلو…. راستے میں ہی باتیں ہوں گی….“ میں نے ایک بازو ان کی کمر کے گرد لپیٹا اور انہیں اپنے ساتھ لیکر حویلی کی طرف چل دیا…. چند قدم چلنے کے بعد بابا جی بولے ۔

”پہاڑ کی وہ چوٹی…. جسے روحانیت کی چوٹی سمجھتے ہیں…. وہ سات آسمانوں سے اوپر جلوہ افروز شہنشاہ کائنات، خالق الملائکہ، خالق الاجنا اور خالق الانسان…. تک پہنچ جائیں گے۔ اسکی قربت، اسکے احساس کو چھو لیں گے، اس کی تجلیوں سے خیرہ ہوں گے…. اور وہ بڑی رغبت سے ہماری طرف متوجہ ہو جائے گا…. یہ بلندیاں جو بہت ہی مصائب و آلام جھیلنے کے بعد حاصل ہوتی ہیں….انکی ہر منزل کے اپنے قواعد ہوتے ہیں…. تم نے دیکھا پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کے لئے بہت سی تکالیف اٹھانا پڑتی ہیںلیکن پھر اس چوٹی سے آگے کا سفر شروع ہوتا ہے…. شہہ رگ کے مکیں سے سرگوشیاں کرنے کا یقین پختہ ہوتا ہے…. اس منزل کی اپنی راہیں اور پگڈنڈیاں شروع ہوتی ہیں۔ ہم نیچے کھڑے ہو کر جب دیکھتے ہیں…. تو پہاڑ کی چوٹی بادلوں اور آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دیتی ہے…. لیکن جب ہم اس چوٹی پر پہنچتے ہیں تو احساس ہوتا ہے ہماری منزل تو اب اس سے آگے ہے۔ کچھ لوگ اس چوٹی پر ٹھہر جاتے ہیں…. وہ زمین سے بلند ہو جاتے ہیں۔ انہیں پہاڑوں، گلزاروں اور آبشاروں کے درمیان بسنے والے بہت چھوٹے کیڑوں جیسے نظر آنے لگتے ہیں۔ ان کی نظریں وسعتوں کو ماپنے لگتی ہیں…. اے میرے دوست میرے ہمدم…. یہ روحانی درجات پر ٹھہرے بزرگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو پہاڑ کو سر کر کے اسکی چوٹی پر ٹھہر جاتے اور دوبارہ سے خود کو نئے سفر کے لئے تیار کرنے لگتے ہیں۔

”بابا جی…. یہ اپنے ریاض شاہ صاحب…. کس مقام پر کھڑے ہیں….“ میں پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔

”اس نے تو ابھی پہاڑ کی پہلی پگڈنڈی کو عبورکیا ہے ابھی اسکا نفس اسکو لتاڑ دیتا ہے….“ بابا جی دھیرے سے بولے

”….تم نے دیکھا…. ابھی تو اس نے علوم کی سیڑھی پر قدم رکھا ہے اور اسکے پاس طاقتیں آ گئی ہیں…. ابھی اسے بہت سی مشقتیں جھیلنی ہیں اسے خود کو مارنا ہوگا….وہ ایک جگہ ٹھہر گیا ہے ،اسنے اس مقام کو منزل جان لیا ہے،وہ ابھی گمراہی کے نشان پر رک گیا ہے۔ پھر کہیں وہ آگے بڑھنے کے قابل ہو گا…. میں تمہیں ایک بات کہہ دوں۔ روحانی علوم کی سربلندی کا یہ عالم ہے کہ جو بھی اس پہاڑ پر قدم رکھتا ہے وہ زمین پر بسنے والوں سے بلند ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے اس مقام کے مطابق ہر طرح کی مخفی مخلوق سے بھی کام لے لیتا ہے….“

”آہ….“ میرے سینے سے سرد آہ نکلی….“ انسان واقعی عظیم تر مخلوق ہے مگر…. اسے اپنے اس مقام کا صحیح ادراک نہیں ہے….“

”تم نے صحیح سمجھا…. کاش انسان خود کو پہچان لے…. تو اسے زمین پر چلنے اور فضاﺅں میں اڑنے کے لئے کسی دوسری شے کی احتیاج نہ رہے۔ وہ اپنے علم کے بل بوتے پر مسافتیں طے کر سکتا ہے، وقت کو مٹھی میں تھام سکتا ہے۔ جہاں چاہے خود کو متشکل کر سکتا ہے۔ تم نے بزرگوں کی کرامات سنی ہوں گی۔ تم نے ڈھیروں ایسے واقعات سنے ہوں گے کہ ایک انسان جو آپ کو ابھی یہاں ملا ہے آپ جہاز پر بیٹھ کر جب بہت دور چلے جاتے ہیں تو وہ شخص وہاں بھی نظر آتا ہے۔“ اس دوران غازی بھی آ گیا۔ اس نے مجھے آئس کریم دے دی۔ کچھ دیر بعد جب حویلی میں پہنچے تو دروازہ پر ریاض شاہ کھڑا تھا…. اس نے بھی آگے بڑھ کر بابا جی کو سہارا دیا اور عقیدت و احترام کے ساتھ مہمان خانے میں لے گیا۔

اس رات ہم نے حویلی کے کسی دوسرے فرد کو اس محفل میں نہیں بلایا تھا…. بابا جی مجھے روحانی اسرار و رموز سمجھاتے رہے۔ غازی کے ساتھ باتیں ہوتی رہیں…. سحری کے قریب بابا جی چلے گئے تھے…. مگر جاتے جاتے…. وہ مجھے دو تحفے دیکر گئے…. آب زم زم اور سنہری تاروں والی ٹوپی…. وقت رخصت انہوں نے غلام محمد کو بھی بلا لیا تھا…. خوش الحان نعت گو جن تھا۔ حافظ قرآن تھا۔ نہایت دلسوز انداز میں نعت رسول مقبول پڑھتا اور جذب و کیف سے تلاوت آیات کرتا تو ماحول بندھ جاتا تھا…. اس نے ایک نعت پڑھی تھی جس کے بول آج بھی مجھے یاد ہیں۔ یہ نعت میں برسوں سے پڑھ رہا ہوں۔ مجھے پوری یاد نہیں ہے۔ پنجابی میں یہ نعتیہ کلام کس نے تحریر کیا تھا…. آج تک مجھے کوئی نہیں بتا سکا۔ نعت رسولٰ کے یہ اشعار آج بھی پڑھتا ہوں تو پورے بدن میں عجیب سی سنسنی پھیل جاتی ہے۔ ویرانوں، بیابانوں، قبرستانوں اور رات کے اکلاپے میں جب مجھے بابا جی کی یاد شدت سے آتی ہے تو اس نعت رسولٰکا یہ شعر میرے لبوں پر آ جاتا ہے۔ اور میں فضاﺅں میں اس وجود کے احساس کو چھونے کی کوشش کرتا ہوں جس نے مجھے کئی روز تک اپنے پاس رکھا….

کعبے دا غلاف کالا، دوروں لہرائے نیں

منگوں نیں دعا، مولا سب نوں بلائے نیں

یعنی…. کعبے کا کالا غلاف دور سے لہراتا ہوا نظر آتا ہے۔ اے سکھیو۔ دعا کرو کہ اللہ ہم سب کو وہاں بلائے۔ میں غلام محمد کے ساتھ مل کر یہ نعت پڑھتا تھا…. مگر آج جب وقت بہت تیزی سے گذر چکا ہے، اور میں دانستہ طور پر بہت کچھ بھلا چکا ہوں…. مجھے یہ نعت بھول چکی ہے…. مگر اسکا یہ پہلا شعر کبھی نہیں بھول سکا…

اس سے اگلی شام بھی میرے لئے بڑی مصروف اور عجیب تر تھی۔ شام کو ہی شاہ صاحب نے مجھے کہہ دیا تھا کہ آج وہ مجھے اپنے ساتھ سمبڑیال لیکر جائیں گے…. یہ قصبہ وزیرآباد سیالکوٹ روڈ پر ہے۔ نہر کے کنارے آباد اس قصبہ کو چند ماہ پہلے ہی تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہاں سکھ اور ہندو رہتے تھے۔ یہاں سیالکوٹ کا ڈرائی پورٹ بھی ہے جو لب نہر ہے۔ شاہ صاحب نے بتایا کہ انہیں ایک ستم گزیدہ گھرانے کی مدد کرنی ہے۔ اس گھر میں آنے والی ہر بہو پر جن عاشق ہو جاتا تھا۔ جس سے گھبرا کر اس گھر کے نوجوان قصبہ چھوڑ جاتے تھے۔ اب وہاں صرف چھوٹا بیٹا، ایک بیٹی، ان کی والدہ اور والد رہ رہے تھے۔ چھوٹی بہو کو بھی دورے پڑتے تھے…. لیکن انکا بیٹا عمران اپنے عقیدے پر سختی سے کاربند تھا…. وہ کہتا تھا کہ ہمارے گھر میں جن بھوت کا سایہ نہیں ہے۔ یہ صرف وہم پرستی ہے۔ گھر کا سربراہ سنیارا تھا۔ پیسے کی کمی نہیں تھی۔ خوشحالی تھی…. ہم ان کے گھر مغرب کے وقت ہی پہنچ گئے تھے۔ پرشکوہ عمارت تھی۔ لیکن ایک صدی پرانی۔ گھر میں انجیر کا پچاس سال پرانا درخت تھا۔ اس کے سامنے لان تھا جس میں گھاس اور پودے تھے…. لان سے آگے رہائشی کمرے تھے…. گھر میں ایک شیفرڈ نسل کا کتا تھا۔ بہت خوفناک شکل تھی اس کی۔

سنیارے کا نام بھٹی فرض کر لیتے ہیں۔ اصل نام لکھنے کی ہمیں اجازت نہیں ہے۔ سنیارے بھٹی نے ہمارے لئے بہت ہی پرتکلف کھانا تیار کیا تھا۔ ہیڈ مرالہ کی تازہ مچھلی پکوائی تھی…. عشاءپڑھنے تک ہم گھر والوں کے ساتھ بات چیت کرتے رہے۔ سنیارا بھٹی بار بار شاہ صاحب اور مجھ سے بابا جی کے متعلق باتیں کرتا رہا ۔ وہ بڑا مشتاق تھا۔ اسے وہم بھی تھا کہ کہیں اسے بیوقوف تو نہیں بنایا جا رہا۔ عشاءکے بعد شاہ صاحب نے گھر کے سبھی افراد کو بڑے کمرے میں بلا لیا اور دروازہ بند کر کے لائٹ بجھا دی…. انہوں نے محفل کے آداب سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔ سب نے درود ابراہیمی شروع کر دیا۔ شاہ صاحب بجلی کے سوئچ بورڈ کے پاس کھڑے تھے۔ وہ زیر لب غیر مانوس زبان میں کچھ پڑھنے لگے اور ساتھ ساتھ بجلی کو آن آف کرتے رہے۔ چند منٹ بعد وہ وہاں سے ہٹ گئے…. کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا اور ساتھ ہی ”اسلام علیکم“ کی بھاری بھرکم آواز آئی…. بابا جی اپنی اصلی شکل میں آ گئے تھے…. یہ بجلی کا بار بار بجھانا اور وظائف پڑھ کر انہیں طلب کرنا دراصل انہیں اصلی جناتی شکل میں ہی متشکل کرنے کا باعث تھا…. گھر کے سبھی افراد نے فوراً وعلیکم اسلام کہہ کر ان کا استقبال کیا۔ بابا جی کی آمد سے سنیارے بھٹی کی سانسیں جوش سے تیز ہو گئی تھیں۔ بابا جی کی آمد کے ساتھ ہی شیفرڈ کتے نے بھونکنا شروع کر دیا تھا….

”اسے تو دفع کرنا تھا…. ریاض شاہ….“ بابا کی گھمبیر آواز سنائی دی….

”اوہ…. مجھے یاد نہیں آیا….“ ریاض شاہ جلدی سے بولے ”عمران….“ انہوں نے سنیارے بھٹی کے بیٹے کو مخاطب کیا….“ کتے کو کسی دوسرے گھر میں چھوڑ آﺅ….“ عمران کمرے سے باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ کتا دردناک آواز میں چیخنے لگا….

”ٹھہرو…. تم اب باہر نہ جانا….“ غازی کی چہکتی آواز سنائی دی…. ”میں نے اسے سلا دیا ہے….“

”سلا دیا…. مار دیا…. کیا…. میرا کتا تو بہت قیمتی تھا….“ عمران کہنے لگا۔

”تم سے زیادہ قیمتی نہیں تھا وہ….“ غازی اس کے پاس پہنچ کر بولا…. اور پھر اس نے اسے چٹکی کاٹ کھائی تھی کہ عمران بلبلانے لگا۔

”کک…. کون ہو تم…. یہ کیا کرتے ہو…. پیچھے ہٹو ناں….“ وہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔

”غازی ادھر آرام سے بیٹھو….“ بابا جی نے اسے ڈانٹ کر کہا تو وہ میرے پاس آ گیا…. اور میرے کان میں سرگوشی کر کے بولا۔

”بھیا…. یہاں تو پورا قبیلہ آباد ہے…. سارے ہندو ہیں…. برسوں سے ان کی پکھی یہاں آباد ہے…. ان میں چڑیلیں بھی ہیں“۔

چڑیلیں جنات اور شیاطین (بھوت) کے درمیان میں ایک بگڑی ہوئی شیطانی مخلوق ہے۔ جس طرح گھوڑے اور گدھے کے مابین…. ایک مخلوق خچر کہلاتی ہے۔ اسی طرح جنات اور بھوتوں کے درمیان مونث النسل مخلوق چڑیل کہلاتی ہے۔ یہ کافر ہوتی ہیں…. ان کا کام انسانوں کو گمراہ کرنا اور انہیں گندگی پر مائل رکھنا ہوتا ہے۔

”کام بہت بھاری ہے….“ بابا جی نے سب کا حال احوال جاننے کے بعد کہا…. اور پھر شاہ صاحب کے ساتھ اسی غیر مانوس آواز میں بولنے لگے…. بات مکمل کرنے کے بعد شاہ صاحب میرے پاس آئے اور ایک کند سی چھری میرے ہاتھ میں پکڑا دی اور کہا۔ ”ہوشیار رہنا…. آنکھیں نہ کھولنا…. بابا جی چڑیلوں کو پکڑنے لگے ہیں….“ ابھی انہوں نے یہ کہا ہی تھا کہ کمرے میں جیسے بھونچال سا آ گیا تھا…. ایک عورت کی دہشت ناک آوازیں آنے لگیں…. باریک اور بہت ہی تیز آواز تھی یہ….

”اوئی میں مر گئی…. ہائے میں مر گئی….“ وہ روتے روتے چلانے لگی…. ”بابا اس کو باز کرو…. مجھے چٹکیاں کاٹ رہا ہے….“ میں نے جان بوجھ کر آنکھیں کھول دی تھیں۔ اندھیرے میرے لئے روشنی بن گئے تھے اور رات کی سیاہی میں چھپے وجود مجھ پر بے نقاب ہو گئے تھے…. چڑیل ایک بہت بڑی پرچھائیں کی طرح پورے کمرے میں بھاگ رہی تھی۔ گھر کے سبھی افراد کے پیچھے سفید لبادہاوڑھے جنات کھڑے تھے جو پرچھائیں نما چڑیلوں سے انہیں محفوظ کئے ہوئے تھے۔ غازی اسکے پیچھے بھاگ کر اسے چٹکیاں کاٹ رہا تھا…. اور پھر اس نے اسے پکڑ کر دروازے کے پاس کھڑا کر دیا تھا….

”آپ جانتے ہیں میری پکھی بڑی طاقت والی ہے۔ اگر تم نے ان انسانوں کی وجہ سے تنگ کیا تو ہم اس گھر کو جلا کر راکھ کر دیں گے….“

”بکواس بند کرتی ہے کہ نہیں….“ غازی نے ایک زوردار تھپڑ اسکے منہ پر مارا تو وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی تھی۔

”جو سرکار نے پوچھا ہے اس کا جواب دو….“

”ہم ستر سال سے یہاں آباد ہیں…. انجیر کے پودے پر ہماری پوری ”پکھی“ (خاندان) آباد ہے….“

”ان بھلے انسانوں کو تنگ کیوں کرتی ہو….“ بابا جی نے درشت انداز میں پوچھا۔

پہلے تو اس نے ایک بار پھر جواب دینے سے گریز کیا لیکن جب غازی نے اسکی گردن ناپی تو وہ بولی۔ ”ہماری ان سے کوئی دشمنی نہیں ہے…. لیکن اس سنیارے کا باپ جب اس کوٹھی میں آباد ہوا تو اس نے ہمارے استھان پائمال کر دئیے تھے۔ اس کا باپ تہجد گزار تھا۔ بڑی عبادت کرتا تھا۔ ہم اسکو تنگ نہ کر سکیں۔ اسکے مرنے کے بعد اس موئے بھٹی کی اولاد کو ہم نے نشانہ بنایا…. اسے کہو یہ گھر چھوڑ کر چلا جائے…. ہمیں سکھ سے رہنے دے….“

”مم…. میں کیسے گھر چھوڑ کر جا سکتا ہوں…. یہ کوٹھی…. بڑی مہنگی ہے….“ سنیارا بھٹی چڑیل کی بات سن کر کانپتی ہوئی آواز میں بولا۔ ”بابا جی…. آپ انہیں نکال دیں یہاں سے….“

چڑیل یہ سن کر بولی…. ”تم ہماری قیمت ادا نہیں کر سکتے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے….“

”جانا تو تمہیں پڑے گا….“ بابا جی سخت انداز میں بولے اور پھر غیر مانوس زبان میں شاہ صاحب کے ساتھ باتیں کرنے لگے…. غازی نے چڑیل کا منہ بند کر رکھا تھا….

”بھٹی صاحب…. انہیں مارنا اتنا آسان نہیں ہے اور انہیں یہاں سے رخصت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو اسکی قیمت ادا کر دی جائے….“

”کتنی رقم چاہئے….“ سنیارا بھٹی بولا….”میرے بس میں ہوئی تو دے دوں گا….“

”پچاس تولے سونا مانگتے ہیں یہ….“ ریاض شاہ بولے….

”پپ…. پچاس…. تولے…. جناب میں اتنا سونا کہاں سے لاﺅں۔ پانچ دس تولے…. تو دے سکتا ہوں میں…. اور پھر سونا انکے کس کام کا“

”نہیں…. سونا تو پچاس تولے ہی دینا ہو گا…. اور ابھی…. انہیں ادا کر کے رخصت کرنا ہو گا…. انہیں مہلت نہیں دے سکتے….“ ریاض شاہ نے کہا…. تو سنیارا بھٹی بوکھلا گیا

”یہ ممکن نہیں ہے…. میں کیسے….“

”ارے چپ کرو جی….“ اسکی بیوی تڑخ کر بولی۔ ”کیا یہ سونا ہمارے سونے جیسے بچوں سے زیادہ قیمتی ہے….“ ابھی اس نے یہ کہا ہی تھا کہ دوسرے کمرے سے کسی بچے کے رونے کی آواز آنے لگی۔ یہ سنتے ہی سنیارے کی بہو چلائی۔ اسکا بچہ دوسرے کمرے میں تھا۔ بابا جی سمجھ گئے کہ کیا ہونے والا ہے۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ دوسرے کمرے میں جاﺅ اور بچہ اٹھا کر لے آﺅ….

±ٍمیرے لئے ایک کمرے سے دوسرے کمر ے تک جانا کوئی بہت لمبی مسافت نہیں تھی ۔ لیکن جب کارگہ فطرت کی ایک ایسی سچائی آپ کے سامنے کھڑی ہو جسے جھٹلانا ناممکن ہو آپ کے لئے پل صراط بن جاتی ہے ‘انگار وادی بن جاتی ہے ‘خارزار بن جاتی ہے ۔ اندر بچہ بلک رہا تھا….ادھر اس کی ماں تڑپ رہی تھی ….اسے خدشہ تھا کہ یہ بلائیں اسکے بچے کو نہ مار ڈالیں۔مجھے حکم ہوچکا تھا کہ میںاندر جاﺅں اوربچے کو اٹھا کر لاﺅں ….بظاہر معمولی سی بات تھی …. کمرے کا دروازہ چار قدموںپر تھا ….میںجب اسکے دروازے تک پہنچا تو غازی کے ہاتھوں میںماہی بے آب کی طرح مچلتی پرچھائیں نے چنگاڑ ماری اور مچھلی کی طرح اس کے ہاتھوں سے نکل گئی ….۔

لمحے ساکت ہوگئے ‘کمرہ خوف کے سمند ر میںڈوب گیا۔صرف اس ایک لحظہ میںانسانوں کے دل دھڑکتے سنائی دینے لگے ….پر چھائیں مجھ پر جھپٹی تھی ….اوراس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب بابا جی سرکار اس سے بھی زیادہ تیزی کےساتھ میرے اور اسکے درمیان دیوار بن گئے تھے اور پھر انہوںنے الٹے ہاتھ کاایسا تھپڑ اسکے منہ پر مارا کہ وہ بلبلاتی اور اچھلتی ہوئی اسی کو نے میں دوبارہ مقید ہوکر رہ گئی جہاںغازی کھڑا تھا….۔ میر ا پورا بدن جھرجھری لیکر رہ گیا ۔ دماغ میںعجیب سنساہٹ تیرنے لگی ۔ باجی نے میرے کاندھوں پر اپنا روئی کے گالوں جیسا ہاتھ رکھا تو میرے اعصاب پر طاری لرزے کی چادر سرک گئی ….۔

”جاﺅ بچے کو اٹھالاﺅ ….“بابا جی نے شفقت بھرے لہجے میں کہا ۔

دوسرا کمرہ گھپ اندھیرے میںڈوباہوا تھا….۔ کچھ سجائی نہ دیا تو میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو معاً مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر دائیں جانب شعلہ سا بلند ہوا اور کسی نادیدہ ہاتھ نے موم بتی روشن کردی ….۔ادھر ایک تخت پوش بچھا ہواتھا۔ جس پر کوئی شخص سفید چادر لیئے دو زانو ہوکر بیٹھا ہوا تھا ۔اس کے سامنے ہی ایک بڑی سی گٹھڑی رکھی ہوئی تھی جس میں خاصی اچھل کود ہورہی تھی ۔ وہ شخص تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی شے اٹھاتا اورگٹھڑی پر مارنے لگتا تو اس کے اندر مچلنے والی چیزوںکی تیز سیٹی جیسی چیخیں سنائی دینے لگتیں۔ بچہ بستر پر لیٹا ہواٹانگیں مار مار کر رو رہاتھا ۔میںنے جلدی سے اسے اٹھایا اور واپس کمرے میں پہنچاتو میری سانس پھول گئی۔ مجھے یوںلگا میں بہت دور سے بھاگ کر آیا ہوں ۔

”بھیا ڈر گئے ….“ غازی نے کہا میرے ہانپتے کانپتے اور دھڑکتے دل کی چاپ سنی تو مجھ سے اٹکھیلیاں کرنے لگا

”یار….میںنے کبھی یہ کام نہیںکیا۔ ڈر تو لگنا ہی تھا….“ میںنے پھولی ہوئی سانسوںکے درمیان جواب دیا ۔

”کمال ہے …. آپ تو بہت کچھ دیکھ چکے ہیں۔ ٹاہلی والی سرکار کے پاس بھی تو کالی داس کے چیلوں کی ٹھکائی ہوئی تھی …. وہاں بھی انہیں بوریوں میںبندکیا گیا تھا ….۔ یادہے ادھر جب کتا بھونکنے لگا تھا تو پکھی کی چڑیلوں نے اودھم مچادی تھی ۔ اس لیے انہیںپکڑ کر باندھنا پڑا ۔ اندر غلام محمد اور ہمارے دوسرے ساتھی جنات ان پر پہرہ دے رہے تھے ۔ ویسے بھیاآپ کو ڈرنا نہیںچاہیے تھا ۔ آپ کے پاس وظائف کاخزانہ اور ہاتھ میں چھری تھی ۔ آپ پھر بھی گھبراگئے ….“ غازی میرامذاق اڑانے لگا۔

”یار میںکوئی عامل کامل تو ہوں نہیں ….“میںنے کہا ” ہر آدمی اپنے کام میںہی اچھا لگتا ہے ۔ ابھی میرے لئے یہ تجربات حیرت ناک اور ہولناک ہیں د ل آہستہ آہستہ مضبوط ہوگا….“

ہم دونوں کو یوںباتیںکرتے دیکھ کر اہل خانہ کے دلوں سے خوف اترنا شروع ہوگیا۔ سنیارا بھٹی تو بابا جی کی شخصیت اوران کی قوت سے اسقدر متاثر ہوگیاتھا کہ اب وہ انہیں اسی تولے سونا دینے پر بھی تیار ہوگیا تھا۔ کہنے لگا ۔

”سرکار …. میںآپ کو اسی تولے سونا دے دیتاہوں لیکن اس بات کی ضمانت کیاہے کہ میرے بچے ان شیطانوںسے محفوظ رہیںگے ….“

”کیاہمارا یہاںموجود ہونا اس بات کی ضمانت نہیںہے …. “ باباجی سرکار نے کہا ”ہمارا یہ بیٹا تمھارے پاس ہے ۔ جب تمھیں کبھی ایسی شکایت ہو اسے کہہ دینا ….“ انہوںنے ریاض شاہ کی طرف اشارہ کیا ۔مجھے اس سودے بازی سے بڑی کھد بد ہورہی تھی کہ باباجی نے بھٹی سنیارے کے گھر سے چڑیلوں کی پکھی ختم کرنے کےلئے یہ سودابازی کیوںکی ہے ۔ وہ اتنا سونا لیکر کیاکریںگے ۔مجھے یہ سب بڑامعیوب لگ رہا تھا ۔ چونکہ اب مجھے کسی بھی قسم کی صحبت سے منع کیاگیا تھا اس لیے میںان سے دریافت تو نہ کرسکا مگر میرے اندر کا حجتی اس تشویش میں ضرور مبتلا رہا کہ آخر انہوںنے سنیارے سے اسقدر سوناطلب کیوں کیاہے ؟

”سنیارے پتر ….“جب معاملات طے ہو چکے تو بابا جی ایک طویل توقف کے بعد اس سے مخاطب ہوئے ” تو دل سے راضی ہے ناں ….”

سنیارے بھٹی نے جواب دینے میںتامل سے کام لیا اور پھر جب بولا تو لگا جیسے اس کی شہ ر گ پر کسی نے چھری رکھ کر اسے بلوایا ہو۔” جی…. جان ہے تو جہان ہے ….“

” اپنی جان تو سبھی کوپیار ہوتی ہے ۔تو نے سچ کہا ہے ۔“ بابا جی ہنس کر بولے ” یہ گندی مخلوق ہم نے پکڑ ی ہے اس کی بھی جان ہے ….ہم مسلمانوں کو ہرایک جان کا حساب دینا ہے ۔ہم اگر کسی کو قتل کردیںگے تو اس کی کوئی معقول وجہ ہمارے پیش نظر ہوگی۔ بے وجہ قتل کرنا اللہ کے ہاں ناپسندیدہ عمل ہوتا ہے ۔ کسی کافر کو بھی بے وجہ قتل کرنا حتیٰ کہ کیڑے مکوڑوں جانوروں کاقتال بے وجہ کرنا ایک مسلمان کے تقویٰ اور ایمان کا امتحان بن جاتاہے۔البتہ موذی جنس اور اللہ کے شریک کا قتل واجب ہوجاتا ہے جب وہ آپ کی جان لینے پر تل جائے یا وہ اللہ کی ربو بیت کو ٹھکرا دے۔…. لیکن یہ معاملہ بھی بہت حساس ہے اس پر بات فی الحال مو¿خر کرتے ہیں۔ میںتمھیں ان چڑیلوںکے قتل کے حوالے سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ انہیں ماردینا ہمارے لئے مشکل کام نہیںہے ۔ہم جہاد سمجھتے ہوئے ان کا قتل کر دیںگے …. ۔اور یہ ہم کرتے رہتے ہیں ۔ مشرک جنات اورگہرے دھوئیں کی شیطانی مخلوق کے خلاف جہاد اس وقت سے جاری ہے۔جب یہ تمھاری دنیا ….اوراس زمین پر انسان آباد نہیں کیا گیاتھا ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ شیطانی اعظم یعنی ابلیس جیسے تمام جنات سے مختلف مخلوق سمجھتے ہو۔ درحقیقت ایک جن ہی تھا اس کی اطاعت خداوندی بے مثال تھی ۔ اس نے نہ جانے کتنے زمانوںتک کافر جنات کے خلاف جہاد کیا اور اپنی عبادت و ریاضت کے درجات طے کرتاہواسلطان الملائکہ بن گیا تھا ۔ یعنی فرشتوں کو بھی درس و ہدایت کے درس دیتا تھا ۔لیکن جب وہ تکبر کے غضب میںمبتلا ہواوراس نے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو وہ شیطان ملعون کہلایا …. ۔یہ چڑیلیںبھوت جنات سے قدرے مختلف مخلوق ہیںجو صرف دین ابلیس پر عمل پیرا ہیں۔ تم مسلمان اپنی عبادات اوراللہ تعالیٰ کی عطا سے اس مخلوق پر بھاری ہو اور اس حجاب قدرت اور نظام مخلوقات کی وجہ سے ان سے محفوظ رہتے ہوجو اس مخلوق کو تو نظر آتا ہے تمھیںنہیں۔ہاںتم ریاضت عبادت کے بل بوتے پر دیکھ لو تو دیکھ لو…. اس کے علاوہ یہ مخلوق تمھیں اپنااحساس دلائے تو تمھیںپہلے گماں اور پھر یقین ہوتا ہے کہ تمھارے آ س پاس تمھاری زندگیوں میںاس مخلوق کادخل ہے ۔ تم براہ راست متاثر ہوئے تھے۔ جبکہ یہ گھر جہاںکبھی ہندوﺅں کا مرگھٹ تھااس آبادی میںسکھوں اور ہندوﺅںکی افراط رہی ہے ‘یہ یہاں کے قیامتی ہیں۔ یہ یہاں کے قابض ہیں۔ اولاً تو انہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے تھا۔ یہ حکم خداوندی ہے ۔ اس مخلوق کو انسانی بستیوں میںقیام کی اجازت نہیںہے ۔ لیکن جوجنات و بھوت چڑیلیں اپنے پرکھوںکی روایات اوراپنے خاندانوں کی عصبیت کا شکار ہوتے ہیں وہ اپنی جگہیں بڑی مشکل سے چھوڑآتے ہیں ۔ سیانے لوگ جب نیاگھر بناتے ہیںتو اسکی بنیاد رکھتے ہوئے نذر نیاز کرتے اور آیت الکریمہ پڑھاتے ہیں ۔ جس گھر کی بنیاد اعوذ بااللہ اور بسم اللہ پڑھ کر رکھ دی جائے اس مقام پر ٹھہری مخلوق نار کو چلے جانے کاحکم ہوتا ہے ۔ اگر وہاں مسلمان جنات مقیم ہوں تو وہ اطاعت خداوندی کے سامنے سرجھکا دیتے ہیں اورشیطانی مخلوق بھی وہاںنہیں ٹھہرتی کیونکہ آیات قران کے اثرات ان کے اجسام کو وہاں ٹھہرنے نہیں دیتے ۔تم نے دیکھاہوگا انسانوںمیںسے ایسے کافر انسان بھی گھروں میںآباد ہونے سے پہلے اور بعدمیںوہاںایسی رسومات اداکرتے ہیںجو بظاہر انکی مذہبی روایات کا اظہار ہوتی ہیںمگر ان کامقصد اس مقام پر مقیم ناری مخلوق کو رخصت کرنا ہوتا ہے ۔ انکے کلمات شیطانی ہوتے ہیں۔ ابلیس کاعلم شیطانی علم کہلاتا ہے جو کافروں کے ہاںمروج ہے ۔اس کی سب سے بدترین مثال ہندوﺅں کی ہے ….جب یہ لوگ گھروں میںآباد ہوتے ہیںتو یہ ایسی جڑی بوٹیاںجلاتے ہیںجن کے اندر قدرت نے ایسے اثرات رکھے ہیں کہ یہ مخلوق دوطرح سے وہاںسے رخصت ہوتی ہے …. اول تو وہ مخلوق ان جڑی بوٹیوں کے جلنے سے پیدا ہونے والی مہک کو برداشت نہیںکرسکتی دوئم یہ کہ …. اس مخلوق میںایسے بھی خناس ہوتے ہیں جو اس مہک کو اپنے لئے نعمت سمجھتے ہیںاور وہاں سے چلے جاتے ہیں۔تمھیں سمجھانے کے لیے مجھے یہ وضاحت اس لیے کرنی پڑ رہی ہے کہ تو سوچ رہا ہے کہ ہم نے اسی تولے سونا کیوں مانگا …. ان شریر اجسام نے تو تمھاری جان بھی طلب کی تھی ۔ کہتی تھیں کہ ہم کو سنیارے بھٹی کا خون پلا دیںہم یہاںسے چلی جائیںگی۔ اب تم کہو کیامیںان کی یہ بات مان لیتا ۔ میںنے کہا کہ میںا ن کو قتل کردیتا ۔ لیکن یہ ہمارے اوراس مخلوق کے درمیان لڑائی کا آغاز ہوتا۔ ہم مسلمان اجناءکافر اجناءاور شیطانی مخلو ق میں حق و باطل کی لڑائی ہوتی ہے تو ہ تمھیں نظر نہیں آتی ۔ ہم دنیا پر ظاہر نہیںہوتے ۔ اگر ہم اس حجاب فطرت کی خلاف ورزی کریںگے تو انسانی بستیاں تباہ ہوجائیںگے ۔ گھر بنیادوں سے اور چھتوںسے اڑ جائیںگے ۔ ہر سو تمھیںمٹی اور ہوا کے بگولے نظر آئیں گے ۔ تو اس کا اثر کیاہوگا ۔ یہ کہ انسان دہشت زدہ ہوجائیں گے اور پھر اس پر ہماری پکڑ ہوگی۔ میرے بچے ۔ ہم اس پکڑ سے ڈرتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ نار جہنم کیاہے ہاں…. ہم تم سے تعاون کرتے ہوئے ‘انہیں یہاں سے ہجرت کر جانے پر آمادہ کریںگے ۔ اس کے لئے ہمیں انہیں قیمت چکانی ہوگی۔ ہمیںبہت سارے ان جانوروں کی قربانی بھی کرنی ہوگی جو تمھیں اور ہمیں پسند نہیںہیں…. ہم اس اہتمام کا بھی خطرہ مول لے نہیں سکتے …. ہم یہ سونا انہیںدیںگے یا پھر ان مظلوم غلاموں کو یہ سونا دیںگے جو اسکے بدلے میںانہیںایسی غذائیں مہیا کر دیںگے جو انہیں پسند ہیں۔ ہم اپنے ہاتھوں کو غلیظ نہیںکریں گے ۔ اور ہاں …. ہمارے ہوتے ہوئے ۔ اگر ان میں سے کسی نے کسی انسان کو جانی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو رب ذوالجلال کی قسم ہم انہیںقتل کردیںگے …. اور یہ ہم نے ان سے کہہ دیاہے۔ اس مخلوق کو راضی کرکے ‘وعدہ لے کر انسانی بستیوںسے بھیج دیناتمھاری اپنی روایات میںبھی ملتا ہے ۔

اس روزمیں نے محسوس کیا کہ بابا جی سرکار بہت کھل کر بول رہے تھے ۔ ان کی عمر رفتہ کے راز اور مخلوق نار کی پر اسرار روایات سے بھی آگاہی ہورہی تھی۔ گویا بابا جی سرکار پر وجد طاری تھا ۔ میںنے اس مرحلہ پر غفلت اختیار نہ کی اوراپنی معلومات اجناءکے لیے سوال داغ دیا ۔ میرایہ سوال بہتے پانیوں میںایک دم سے تلاطم برپا کردینے کے مترادف تھا۔ لیکن اب مجھے یہ یقین ہو چکا تھا کہ بابا جی سرکار مجھ سے ناراض نہیںہوں گے ۔

”سرکار یہ مخلوق ابلیس جو اس گھر کے سکون کو غارت کررہی تھی۔ محض اسی وجہ سے ان سے دشمنی لے رہی تھی کہ انہوںنے ان کی بستی پر قبضہ کرلیا تھا ۔ سرکار یہ گھر تو بہت چھوٹا ہے ۔ انکی بستی اس گھر کے اندر کیسے سما سکتی ہے ۔ “

میری بات سن کر سنیارے بھٹی کے منہ سے ”ہوں“نکل گیا۔ جس کا مطلب تھاکہ وہ ابھی تک شک و شبہ میںمبتلا تھا اور گویا اس کا ”ہوں “ کہنے کا مطلب تھاکہ یہ ہوا ناں سوال ….

بابا جی نے قدرے خاموشی کے بعد میرے سوال کا جواب دیا ۔ اسی دوران ان کی بھرائی ہوئی سانسوںسے محسوس ہورہا تھاکہ وہ کمرے میں چہل قدمی کررہے ہیں۔ کہنے لگے ” تمھیں نہیںمعلوم …. کہ یہ مخلوق مخقی …. کی اصل جسامت کیاہے اوران کے معمولات کیاہیں۔ اگر میں تمھیں یہ کہوں کہ انجیر کے اس درخت کی ایک شاخ پر ہزاروں جنات اورابلیسی مخلوق قیام کرلیتی ہے تو تم ہنس دو گے ۔ لیکن یہ حقیقت ہے میر ے بچے جسے تمھاری سائنس بھی تسلیم کرتی ہے ذرا غور سے سنو…. اگر تم ایک چھوٹاسا قطرہ خورد بین کے نیچے رکھ کر دیکھو گے تو اس میں تمھیںہزاروں جراثیم نظر آئیں گے ۔ ان جراثیموں کی تعدادتمھیںاس وقت معلوم ہوگی جب تم انہیں دیکھنے کے لئے خورد بین کاسہارا لو گے ۔ میںحیران ہوں تم انسانوںنے اپنی اس ایجاد سے یہ نظریہ کیوںنہیںتسلیم کرلیا کہ ہوا میں یہ مخفی مخلوق ان جراثیموں کی طرح ہوسکتی ہے جو نظر نہیںآتے اور ہرانسان انکا شکار بھی نہیںہوتا ۔ لیکن جب کوئی انسان کسی ایسے جراثیم کا شکار ہوتاہے جو جان لیوا ہو ‘ کسی بیماری کو پھیلانے کاموجب بنتا ہو تو تم اس مخصوص بیماری سے نجات کے لئے معالج سے رابطہ کرتے ہوں ‘ادویات استعمال کرتے ہو ‘عمل جراحی سے گزرتے ہو …. پس یہ جان لو …. کہ یہ شیطانی مخلوق ان جراثیم سے زیادہ مہلک ہے جو تمھارے خون میں گردش کرتے رہتے ہیں ۔ ایک انسان کے اندر اسقدر جراثیم ہوتے ہیںکہ تم ان کاشمار نہ کر سکوگے ۔ ان جراثیم کا باہر کے جراثیموں کے ساتھ جب ملاپ ہوتاہے تو اندر شرارے پھوٹتے ہیں ۔ مگر یہ تمھیں معلوم نہیںہوتا…. مگر جب طبیعت خراب ہوتی ہے ٹیسٹ کراتے ہو‘علاج شروع توتب معلوم ہوتا ہے کہ بیماری کیا تھی اوراس کا علاج کیسے کیاگیا ۔

میںچونکہ خود اجناءکی دنیا میں ایک طبیب بھی ہوں ۔ اس لیے میںطب کی رو سے یہ سمجھا رہا ہوں تاکہ تمھیں معلوم ہوسکے ۔ تم جانتے ہو کہ یرقان کے مریض مرگی کوکی دوا دیکر ٹھیک نہیںکیا جاتا۔ غور کرو تو تمھیں معلوم ہوجائے گا ۔ کہ یہ علاج معالجے دراصل نظام قدرت کو سمجھنے کے اشارے ہیں۔ بالکل اس طرح ہمار ی مخلوق کے معاملات کو بھی سمجھا جا سکتاہے “

مگر سرکار جب چڑیلوںکی یہ پکھی انجیر کے اس درخت کی ایک شاخ پر آزادی سے رہ سکتی ہے تو پھر اسے کیاتکلیف ہے ۔اس گھر کے افراد کو کیوں تنگ کرتی ہے ۔“

” شاہد پتر…. افسوس کہ میںاس وقت سے تم لوگوں کو یہی بات سمجھا رہا ہوں جو تم سمجھ نہیںپائے ۔ کہ یہ مخلوق شیطان کی پیروکار ہے ۔کیاتم نہیں سمجھتے کہ شیطان کون ہے اور وہ کیا کام انجام دے رہاہے ۔میرے بچے ۔یہ ناری مخلوق عصبیت اور انتقام سے بھری ہوئی ہے جب تک یہ شرارت نہیںکرے گی اسے سکون نہیںملے گا ۔اس کے علاوہ ایک اوربات بھی ہے ۔ یہ جو سنیارہ بھٹی ہے ناں …. جوانی میںبڑا دل پھینک قسم کا نوجوان تھا …. کیوںبھٹی ۔ کیامیں غلط کہہ رہا ہوں“ باباجی نے بڑے خوشگوار انداز میں پوچھا تو سنیارہ بھٹی اپنے بچوں کی موجودگی میں شرم سے دوہرا ہوگیا۔

”اورکیاجی …. یہ تو اب بھی باز نہیںآتے ….“ سنیارے بھٹی کی بیوی نے اس کی خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جواب دیا ۔ تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی ۔

” بڑی خوشبو لگاتا پھرتا تھا یہ …. اکثر دو پہر کے وقت انجیر کے درخت کے نیچے چار پائی بچھا کر اس پر لیٹ جاتا اور ریڈیو پر گانے سنتا رہتاتھا ۔ عین جب سورج دھرتی پر نیزے کی طرح کھڑا ہوتا ہے یہ ناری مخلوق اپنے جوبن پر ہوتی ہے ۔ دوپہر اورزوال کا وقت ان کی مستیوںاورمصروفیات کاوقت ہوتاہے ۔ کیوں بھٹی ….تمھیں آدھی دھوپ اورآدھی چھاﺅں میںسونے کاشوق نہیں تھاکیا….۔

”جج جی سرکار …. ‘ ‘ وہ شرما کر بولا “ ….مگر آپ کو کیسے معلوم ہے …. “

”انجیر کے نیچے یہ چارپائی ایسے بچھاتاتھا کہ آدھی دھوپ میںاور آدھی انجیر کی گھنی اور ٹھنڈی چھاﺅںمیںہوتی تھی ۔ اس کاآدھاجسم دھوپ کی تمازت کا لطف اٹھاتااور آدھا ٹھنڈی چھاﺅںکے لطیف احساس سے بھر جاتا ۔ خوشبو یہ جاندار لگاتا تھا ۔ …. اس کایہ بنناسنورنا انجیر پر آباداس مخلوق کی عورتوںکو بڑالبھاتاتھا۔ وہ اسکی چارپائی کے گرد چکر لگاتی پھرتیں ‘ جب دھوپ بڑھ جاتی اورہوا جھلسنے لگتی ہے تو تم نے کبھی اس ہوا کا شور سنا ہے …. یہ گرم اور جھلسی ہوئی ہواتمھیں صحراﺅںاور بیابانوںمیںمحسوس ہوگی ۔اس کااپنا وجوداور آلاپ ہے اس مخلوق پر جب مستی طاری ہوتی ہے تو یہ گاتی ناچتی پھرتی ہے ۔ گرم اورجھلسی ہواﺅں کا یہ شور در حقیقت وہ گانے اورنوحے ہیں جو یہ مخلوق گاتی ہے ۔لیکن تم اس تیش آلود ہوا کی زبان نہیںسمجھ سکتے ۔ سنیارے بھٹی کی یہ ادا ان ناری عورتوں کو بہت پسند تھی اس لیے وہ اس کی قربت کی بھی خواہش مندتھیں ….یہ بے چارہ نہ جان سکا تھا کہ اسے انجیر کے اس درخت کے نیچے جس لطف کااحساس ہوتاہے اور نیند کے بعد جس خواب اور خمار سے بیدار ہوتاہے درحقیقت وہ کیسے پیدا ہوا ۔ یہ تو بس اس خماراور خواب کارسیا تھا …. اگر بھٹی اجازت دے تو میںاسے یہ کہانی بھی سنوا سکتا ہوں ۔ اسے ان چڑیلوں کی زبانی جو اس کی طلب میںرہتی تھی…….. بابا جی نے کہا تو سنیارہ بھٹی جلدی سے بولا …. “ کیا فرق پڑتا ہے ۔انہیں کہیںناں مجھے سنادیں….“

”اس بھری محفل میں۔ سننا پسند کرو گے …. شرم کرو بھٹی ۔ بوڑھے ہوگئے ہو مگر تمھارے اندرکی ہوس نہیں گئی ….اپنے بچوں کے سامنے کہتے ہو کہ مجھے یہ کہانی سناﺅ “ اس کی بیوی ا س پر برس پڑی تو اس کا بیٹا بولا “ اماںجی کیاکرتی ہیں۔چھوڑیں ا ن باتوں کو ۔

”وہ تو میں اس لیے کہہ رہاتھا کہ یہ تجربہ ذرا مختلف ہے ۔ مجھے تو آج تک احساس نہیںہوسکا کہ کسی دوسری مخلوق کی عورت بھی مجھ میںدلچسپی لیتی ہے ۔اس لیے ذرا .

”فضول باتیں نہ کریں ….ورنہ میںسارے کرتوت سنا دوںگی …. “ اس کی بیوی کو آج جیسے موقع مل گیا تھا ۔ غازی او رشاہ صاحب میرے پاس کھڑے تھے اور ہم تینوں ان کی باتیں سن کر لوٹ پوٹ ہورہے تھے ۔

” سرکار ۔۔اگر اجازت دیںتو میںبھٹی صاحب کو دوسرے کمرے میںلے جاکر داستان عشق سنوا دوں.غازی سے نہ رہا گیا

” ہاں ہاں …. آﺅ….دوسرے کمرے میںچلتے ہیں “ سنیارہ بھٹی اس کے باوجود اپنے اشتیاق کو نہ روک سکا ۔ غازی باباجی کی اجازت سے اسے دوسرے کمرے میںلے گیا …. کچھ دیر بعد جب وہ واپس آئے تو سنیارہ بھٹی خاموش ہوگیاتھا۔ غازی نے کہااس سے رخصت ہونے کے بعد مجھے اس کی داستان عشق سنائی تو مجھ پر اس مخلوق کی شیطانی حرکات کاایسا پہلووا ردہوا جسے ہمارے ہاں عام سا تصور کیاجاتا ہے مگر اس میںکئی شیطانی گرہیں لگی ہوتی ہیں ۔ غازی اور سنیارہ بھٹی کی عدم موجودگی میں بابا جی سرکار نے تاسف بھرے انداز میںایک جملہ کہاتھا جو مجھے کبھی نہیںبھول سکتا ….انہوںنے کہا تھا ۔ ” اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم کی امت کو بہترین امت کادرجہ دیااوراس پر قرآن پاک جیسی کتاب نازل فرمائی …. رشد و ہدایت کے ایسے اسباق دئیے کہ اگر یہ مسلمان سوتے ’جاگتے گھر سے نکلتے ‘ گھر کے اندر آنے ‘ کھانے پینے گویا اپنے معمولات کے دوران آداب قدرت اور ذکر الٰہی کرتے ر ہیںتو یہ بدکار مخلوق ان پراثر نہیںکرسکتی ۔ “

”بے شک….“ میںنے کہا ہم لوگ اسلامی آداب اور طرز حیات کو بھول گئے ہیں۔ اسی لیے تو یہ مخلوق ہماری زندگیوں میںمداخلت کرتی ہے ۔“

”شاہد میاں ….یادرکھنا ! جو نوجوان شیر مادر کا لحاظ کرتا ہے وہ سار ی عمر ایسی حرکت نہیںکرے گا جو اسے ہوس اور غفلت پر آمادہ کرے….لیکن افسوس تمھاری دنیا میںآج کل کے نوجوان شیر مادر کی حرمت سے آگاہ نہیںرہے …. انہیںپاکیزگی کاخیال نہیںرہتا ۔ ذہنی و جسمانی اعتبار سے غلاظت زدہ ہیںان کی یہی حالت اس شیطانی مخلوق کو محبوب ہے ۔ کاش یہ نوجوان جان لیں کہ شیطان نے اپنی اولاد کو انسانوں پر کس کس طرحسے مامور کیا ہوا ہے ….کاش کہ یہ انسان جان لیں…. اے کاش ….بابا جی سرکار تاسف بھر ے لہجے میں کمرے میںگھوم رہے تھے ….میںنے کہا

” سرکار ارشاد …. مجھے بتا دیجئے ۔ میںجانناچاہتاہوںکہ کہ ابلیس کی اولاد ہمارے کن کن معاملات پر مامور ہے …. “

شیطان انسانوں پر کس کس طرح سے سواری ڈالتا ہے اگر انسان اس کا ادراک کرتے تو وہ بشریت کے تقاضے پورے کر سکتا ہے۔ بابا جی کہنے لگے ”ہم جنات انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ ہم انسانوں سے کیوں ڈرتے ہیں؟“

مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا سوال کروں۔ محض یہ کہا ”جی“

”اس کی بنیادی وجہ انسان کا اشرف المخلوقات کے درجہ پر فائز ہونا ہے“

”مگر کیا …. آپ ہر انسان سے ڈرتے ہیں“ اس بار میں سوال کرنے سے نہ گھبرایا۔

”دراصل انسان نے خود اپنی فضیلت کھو دی ہے۔ اس لئے اب جنات ہر انسان سے نہیں ڈرتے۔ جنات علم و فضل میں یکتا انسانوں سے ہی ڈرتے ہیں“

بابا جی منطق کی ایک بات سمجھاتے ہوئے کہنے لگے ”شیطان بدی کا گماشتہ ہے۔ انسان کو نفس کا غلام بنا کر اس نے انسانوں کو علمی فضیلت کے درجات سے گرا دیا ہے۔ جب سے انسان نے احکامات الہٰی کو چھوڑ کر گمراہی کے راستے اور فسق و فجور کی عادات کا انتخاب کیا ہے وہ کمزور ہو گیا ہے اور یہی بشری کمزوری جنات کو ان پر غالب ہونے میں مدد دیتی ہے“

بابا جی کے ساتھ اس روز خوب نشست رہی۔ انہوں نے سنیارے بھٹی کے گھر سے چڑیلوں کی پکھی اٹھا دی تھی۔ 80 تولے سونا لینے کے باوجود ان کا تقاضا تھا کہ وہ کچھ عرصہ بعد دوبارہ اس جگہ پر آ جائیں گی۔ بابا جی نے ان کی یہ بات نہیں مانی۔ ساری رات شور شرابہ رہا۔ بالاخر چڑیلیں اس گھر سے رخصت ہو گئیں مگر جاتے جاتے انہوں نے انجیر کے درخت کی سب سے موٹی اور پھلدار شاخ کو توڑ دیا۔ فجر کا وقت ہو گیا تھا۔ ہم نے نماز پڑھی۔ نماز کے بعد بابا جی کے جنات نے محفل سماع کا اہتمام کیا۔ ریاض شاہ نے بابا جی کی اجازت سے کمرے میں زیرو بلب روشن کر دیا تھا اور سب کو آنکھیں کھولنے کی اجازت بھی دے دی۔ بابا جی ایک کونے میں بڑے صوفے پر بیٹھے تھے۔ ان کے گرد جنات کا ایک گروہ کھڑا تھا۔ سبھی نے سفید احرام جیسا لباس پہنا ہوا تھا۔ سروں پر سفید براق پگڑ تھے جو پیشانی سے آگے تک جھکے ہوئے تھے۔ سنیارا بھٹی اور اس کا بیٹا یہ منظر دیکھ کر عش عش کر اٹھے۔ محفل سماع اپنے جوبن پر تھی کہ غازی کی آواز سنائی دی

”سرکار میں تحفے لے آﺅں“

”آ جاﺅ غازی“ باباجی نے اسے اجازت دی۔

ہماری نظروں کے سامنے غازی انسانی شکل میں نمودار ہوا۔ اس نے ہاتھوں میں ایک بڑا تھال اٹھا رکھا تھا جس میں آب زم زم کی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں۔ سرخ پتھروں والی تسبیح اور سنہرے تاروں والی دو ٹوپیاں بھی ساتھ رکھی تھیں۔

”بیٹا …. ان سب میں مبارک تحفے تقسیم کر دو“ باباجی نے ریاض شاہ کو اشارہ کیا تو اس نے آب زم زم گھر کے افراد میں تقسیم کر دیا۔

”بھٹی …. یہ ایک ٹوپی تمہارے لئے ہے“ انہوں نے تھال میں سے ٹوپی اٹھائی تو سنیارا بھٹی تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔ اس نے عقیدت و احترام سے بابا جی کا ہاتھ چوم لیا۔ بابا جی کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری۔ سنیارے بھٹی نے اپنا سر ان کے سامنے جھکا دیا۔ بابا جی نے ٹوپی اس کے سر پر اوڑھا دی اور کہا ”بھٹی اپنی آنکھ اور دل کی حیا کا خیال رکھنا۔“ہمارے اس بیٹے کوکبھی ناراض نہ کرنا۔یہ ہے تو ہم ہیں۔“انہوں نے ریاض شاہ کی طرف اشارہ کیا۔

”ضرور رکھوں گا جی۔ میری توبہ۔ اب میری آنکھ کبھی میلی نہیں ہو گی“

”یہ تسبیح تمہاری بیوی کے لئے“ باباجی نے سنیارے بھٹی کی بیوی کو بلا کر تسبیح دی اور اس کے سر پر شفقت بھرا پیار دے کر کہا! تو ہماری بیٹی ہے۔ ہمارا یہ تحفہ تمہیں ہماری یاد دلاتا رہے گا۔ بیٹی! میری ایک بات یاد رکھنا۔ اللہ کا ذکر سب سے افضل ہے۔ اللہ کے حبیب پر درود و سلام بھیجتی رہا کرو۔ سورة الکوثر بکثرت پڑھا کرو۔ اللہ تمہارے مسائل دور فرمائے۔ آمین“ باباجی نے اسے نصیحت فرمائی تو وہ عقیدت و احترام کے ساتھ الٹے قدموں چلتی ہوئی واپس اپنی نشست پر چلی گئی۔

”یہ ٹوپی ہمارے بیٹے کے لئے ہے“ باباجی نے تبسم ریز نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا ”یہ لو …. یہ تم پہن لو“

”مم میرے لئے“ میں نے چونک کر پوچھا

”کیوں ہم تمہیں تحفہ نہیں دے سکتے“ بابا جی ہنس دئیے۔ میں بھی جھکتا‘ آداب خاطر ملحوظ رکھتا ہوا ان کے پاس گیا۔ ان کا ہاتھ چوما۔ باباجی نے ٹوپی میرے سر پر پہنا کر کہا ”کتنی جچتی ہے تمہارے سر پر۔ سرخ داڑھی‘ سفید چہرہ‘ شفاف آنکھیں‘ میرے بچے …. یہ ٹوپی تمہارے سر پر پہنائی ہے تو لگتا ہے تو اس سرزمین کے باشندے نہیں ہو۔ ایرانی النسل لگتے ہو“

مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی کہ بابا جی کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ میں نے ریاض شاہ کی طرف دیکھا تو وہ تبسم ریز انداز میں کہنے لگا ”بابا جی کی بات مشکل لگتی ہے سمجھ نہیں آ رہی۔ سرکار کے کہنے کا مطلب ہے اس ٹوپی کی لاج رکھنا۔ یہ تمہارے سر پر دستار فضیلت کے مترادف ہے۔ اس کو ہر وقت سر پر رکھنا تمہارے سر پر خوب جچتی ہے“

”انشاءاللہ…. میں اسے سر سے نہیں اتاروں گا“

اس اثنا میں غازی کی چہکار سنائی دی

”انگور کھاﺅ گے بھیا“

”انگور …. اور اس موسم میں“ میں نے ہنستے ہوئے کہا

”اگر کہو تو حاضر کروں“

”اگر مل جائیں تو ضرور کھاﺅں گا“ میں نے جواباً کہا

میرے منہ سے یہ نکلنے کی دیر تھی کہ غازی نے ایک دوسرا بڑا تھال ہمارے سامنے کر دیا۔ انگور کے بھاری رس بھرے اور تروتازہ خوشے دیکھ کر میں ہی کیا سنیارے بھٹی کے اہل خانہ بھی حیران رہ گئے۔ ہم سب نے مل کر انگور کھائے۔ انتہائی شیریں اور لذیذ انگور اور پھر بے موسمی پھل۔ میں نے غازی سے پوچھا

”کہاں سے لائے ہو“

”یمن سے لے کر آیا ہوں“ وہ ہنستے ہوئے بولا …. کچھ اور چاہئے ہو تو لے آﺅں“

”ہاں …. مجھے ایک عقیق یمنی لا دو“

غازی نے میری فرمائش سنی تو ہنسنے لگا ”میں نے سوچا تھا کوئی بڑی فرمائش کرو گے خیر یہ لو“ غازی نے پلک جھپکنے میں عقیق یمنی انگشتری میں سجا ہوا پیش کر دیا۔ ”لو پہن کر دیکھ لو“

میں نے انگشتری دائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں پہنی تو بالکل فٹ آ گئی۔ ایسے لگا جیسے یہ میرے لئے ہی بنائی گئی تھی۔ میں انگوٹھی اور عقیق کو بار بار دیکھنے لگا

”بہت بہت شکریہ“ میں نے غازی کا شکریہ ادا کیا تو وہ ہاتھ نچا کر بولا ”بس خالی اور سوکھا شکریہ نہیں چلے گا“

اس کی بات سن کر سنیارے بھٹی کی بیوی بولی

”ہاں بھئی اس کو خالی تو نہیں ٹرخانا چاہئے“

”کیا چاہئے تمہیں“ میں نے غازی سے کہا تو وہ میرے کان کے قریب منہ کرکے کہنے لگا ”میں نے فلم دیکھنی ہے“

میری ہنسی چھوٹ گئی۔ ”غازی تم فلم دیکھو گے“

”آہستہ بولو بھیا …. بابا جی سرکار نے سن لیا تو ماریں گے۔“ غازی منمنا کر بولا ”کون سی فلم دیکھنی ہے“ میں نے پوچھا

”جو مرضی دکھا دو“ اس نے کہا

”یہ ناہنجار باز نہیں آئے گا“ بابا جی ہماری سرگوشیوں کی زبان سمجھ کر بولے ”ایسے ہی تمہارا دماغ چاٹ رہا ہے بڑا حرام خور ہے۔ فلم کے بہانے تمہیں کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا“

”سرکار …. میں“ غازی کچھ کہنے لگا تھا کہ باباجی نے اسے ڈانٹ دیا …. وہ منہ بنا کر پیچھے ہٹ گیا۔

”اچھا بچو اب ہمارے رخصت ہونے کا وقت ہو گیا ہے“ بابا جی نے اجازت طلب کی اور ریاض شاہ سے اپنی مخصوص زبان میں کچھ کہنے لگے۔ ریاض شاہ نے جلدی سے زیرو کا بلب بند کر دیا اندھیرا ہوتے ہی بابا جی کی آواز سنائی دی ”اللہ حافظ میرے بچو“

ہم سب نے کہا ”اللہ حافظ“ چند ثانئے تک اندھیرا رہا۔ پھر ریاض شاہ نے ٹیوب لائٹ روشن کر دی اور زیرلب کچھ پڑھتے ہوئے کمرے کے کونے کونے میں پھونکیں مارنے لگا۔ وہ دوسرے کمرے میں بھی گیا اور چند منٹ بعد واپس آ کر کہنے لگا

”صبح جب دکانیں کھل جائیں تو سب سے پہلے مجھے یہ چیزیں منگوا دیں۔ آپ کے گھر کی غلاظت صاف کرنی ہے“ اس نے سفید چٹ سنیارے بھٹی کی طرف بڑھائی۔

”گھر تو ہمارا صاف ہے شاہ صاحب“ وہ بولا

”میں اس صفائی کی بات نہیں کر رہا۔ ان بدروحوں نے ایک عرصہ تک اس گھر میں ڈیرے ڈالے رکھے تھے۔ ان کی گندگی کو یہاں سے صاف کرنا ہے اس لئے کنیر کے پھول‘ دیسی گھی‘ لوبان‘ جائپھل‘ گوگل‘ مصری …….. اور سونے چاندے کا دو تولے کا تعویذ اور زعفران چاہئے۔ جب تک تعویذ اور نقش بنا کر گھر میں دھونی نہیں دیں گے ان کے سحری اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے“

”یہ سامان کتنے کا ہو گا“ سنیارے بھٹی نے پوچھا ”اور یہ کنیر کے پھول کہاں سے ملیں گے۔ چھوٹا سا قصبہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا یہ سارا سامان یہاں سے مل جائے گا“

”پندرہ بیس ہزار کا سامان ہو گا۔ آپ خود نہیں لا سکتے تو پیسے مجھے دے دیں۔ میں غازی سے کہہ کر منگوا لوں گا“ ریاض شاہ نے کہا۔ ”میں اب کچھ دیر آرام کروں گا۔ دوپہر تک یہ سامان آ گیا تو میں دھونی اور عمل کرکے چلا جاﺅں گا۔ دوبارہ میرا آنا مشکل ہو گا“

میں نے محسوس کیا کہ باباجی کے رخصت ہوتے ہی ریاض شاہ کا لہجہ خاصا روکھا ہو گیا تھا۔ سنیارا بھٹی اپنے بیٹے اور بیوی کا منہ تکنے لگا۔ وہ شش و پنج میں مبتلا ہو گیا تھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے۔ پہلے باباجی کے کہنے پر اس نے 80 تولے سونا دیا۔ لاکھوں روپے ہوا برد ہو گئے تھے اور اب یہ بیس ہزار کا سامان منگوا رہے ہیں

”مجھے بستر دے دیں۔ مجھے اب آرام کرنا ہے۔ پیسوں کا بندوبست ہو جائے تو مجھے بتا دیجئے گا“ ریاض شاہ کا چہرہ تھکان سے بھرا ہو تھا۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں اور لہجہ بھرا گیا تھا۔ لگتا تھا اسے فوری آرام مہیا نہ کیا گیا تو اس کی حالت بگڑ جائے گی۔

سنیارے بھٹی کی بیوی نے انہیں ساتھ والے کمرے میں نیا بستر بچھا کر دیا۔ ریاض شاہ نے مجھے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ خود بستر پر دراز ہو گیا اور مجھے کہنے لگا ”یار…. میرے سر پر ذرا مالش کر دو“ میں اس کی کیفیت سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے تھیلے سے تیل کی شیشی نکالی ۔میں اس کے گھنے اور گھنگریالے بالوں میں تیل انڈیل کر مالش کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد ہی وہ سو گیا۔ مجھے ابھی تک نیند نہیں آ رہی تھی۔ میں دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ سنیارا بھٹی اپنا سر تھام کر بیٹھا ہوا تھا۔

”مجھے بتاﺅ میں کیا کروں۔ میں تو برباد ہو جاﺅں گا“

”اللہ کا شکر کرو جی…. آپ پیسہ خرچ کرکے برباد نہیں ہو رہے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان کا صدقہ اتار رہے ہو“ اس کی بیوی اسے سمجھا رہی تھی

”تیرا تو دماغ خراب ہو گیا ہے۔ تو مجھے برباد کرکے سکون لے گی۔ تو جانتی ہے 80 تولے سونا کتنے کا تھا اور اب یہ بیس ہزار۔ میں تو کہتا ہوں یہ سارا ڈھونگ تھا۔ باباجی اللہ کے نیک بزرگ جن ہیں تو انہوں نے اتنا زیادہ پیسہ کیوں خرچ کرا دیا۔ اللہ والے ایسا نہیں کرتے بھلی مانس تو نہیں سمجھ سکتی“

”توبہ توبہ کریں جی …. لگتا ہے آپ پر ابھی تک ان چڑیلوں کا نشہ طاری ہے۔ ایسی گمراہوں جیسی باتیں کر رہے ہیں۔ توبہ کریں۔ بابا جی کی شان میں گستاخی نہ کریں۔ انہوں نے جو کیا حق سچ کے ساتھ کیا۔ انہوں نے سونا چاندی لے کر کیا کرنا تھا“

”میں کب کہتا ہوں انہوں نے سونا لیا ہو گا۔ مجھے یقین ہے یہ سارا سونا اور رقم ریاض شاہ“ سنیارے بھٹی کے منہ پر دل کی بات آنے لگی تو اس کی بیوی نے جلدی سے اس کا منہ بند کر دیا۔

”خدا کے لئے ایسی بات نہ کریں۔ شاہ صاحب نے سنا تو ناراض ہوں گے۔ آپ کو یاد ہے باباجی سرکار نے کہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان رابطہ ریاض شاہ کی وجہ سے ہے۔ وہ اسے اپنا بیٹا کہتے ہیں۔ تم نے دیکھا نہیں رات بھر کتنی خوفناک چڑیلیں اور جنات ہمارے سامنے آتے جاتے رہے ہیں۔ اگر شاہ صاحب ناراض ہو گئے تو یہ ساری چیزیں واپس آ جائیں گی اور پھر …. اللہ نہ کرے۔ بس آپ جلدی سے بندوبست کر دیں“

سنیارا بھٹی زچ ہو گیا تھا۔ مجھے دیکھا تو خاموش ہو گیا۔ میں نے اسے تجویز دی ”بھٹی صاحب سونے چاندی کا تعوید تو آپ خود بنا سکتے ہیں۔ باقی جتنی رقم ہے وہ ریاض شاہ کو دے دیں وہ خود بندوبست کر لیں گے“ اس نے مجھے تو کچھ نہ کہا …. دوپہر تک اس نے سونے چاندی کا تعویذ بنا دیا تھا اور باقی رقم جو تقریباً دس ہزار بنتی تھی اس نے مجھے دینے کی کوشش کی اور کہا ”یہ شاہ صاحب کو دے دینا“

میں نے ہاتھ پیچھے کر لیا ”آپ خود انہیں دیں …. میں ایسے پیسوں کو ہاتھ نہیں لگا سکتا“

”آپ ان کے ساتھی نہیں ہیں“

”میں بابا جی کا مرید ہوں“ میں نے مختصر جواب دیا۔ انہوں نے میرے متعلق جاننے کی کوشش کی مگر میں نے اپنے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا۔

دوپہر کے وقت شاہ صاحب بیدار ہو گئے۔ سنیارے نے انہیں دس ہزار اور سونے چاندی کا تعویذ دے دیا۔ شاہ صاحب نے اسی وقت غازی کو طلب کیا اور اسے پیسے دے کر کہا کہ وہ عملیاتی اشیا لا دے۔ غازی دس منٹ بعد واپس آ گیا اور سارا سامان تھما کر چلا گیا۔ شاہ صاحب نے تمام اشیا کو ایک خاص ترتیب سے رکھا۔ سونے چاندی کے تعویذ پر عبارت لکھی اور دیسی گھی کا چراغ جلا کر ساری اشیا نہ جانے کس کس طریقے سے سلگاتے رہے۔ لوبان‘ جائپھل اور خوشبودار اشیا کی دھونی پورے گھر میں نہایت مسکن اور سحرانگیز مہک پھیل گئی۔

دھونی ختم ہو چکی تو ریاض شاہ نے کاغذ پر عجیب سے رسم الخط میں کچھ لکھا اور ان کے کمرے کے دروازے کی چوگھاٹ کے اوپر کیل کی مدد سے انہیں ٹھونک دیا۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد ریاض شاہ نے ان سے اجازت لی اور ہم لوگ واپس ملکوال کی طرف چل دئیے ۔ راستے میں میں نے ان سے وہی سوال پوچھ لیا جو سنیارے بھٹی کے خدشات کی صورت میں سامنے آیا تھا۔”کیا یہ سارا خرچہ کرانا ضروری تھا اب“

”بہت ضروری تھا۔ میں ایک عامل ہوں۔ تم اچھی طرح سمجھتے ہو“

”اتنے مہنگے تعویذ دھاگے کیوں کرتے ہیں“ میں نے پوچھا

”جادو ٹونہ اور جنات کے سحری اثرات کو ختم کرنے کے لئے یہ عمل کرنا ضروری ہوتا ہے …. بعض اوقات تو اس سے بھی مہنگے عمل کرنے پڑتے ہیں۔ اگر میں تمہیں یہ بتا دوں تو تم زیادہ پریشان ہو جاﺅ گے۔ میں تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں۔ آج سے تیس پنتیس سال پہلے کی بات ہے۔ میرے بڑے بھائی صاحب نے یہ کیس کیا تھا۔ تم سنو گے تو کبھی یقین نہیں کرو گے“ اس وقت نہر کی پٹری پر اتر گئے تھے۔ وہاں سے ہم نے تانگہ لے لیا تھا اور گاﺅں کی طرف جا رہے تھے۔ کچھ فاصلے پر مکھن سائیں کا ڈیرہ تھا۔ میری ساری توجہ اس واقعہ کو سننے کے لئے مرکوز تھی۔ ریاض شاہ کہنے لگا ”میں نے بتایا ہے کہ آج سے تیس پنتیس سال پہلے پسرور شہر میں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ پسرور میں ایک گوالے کے گھر پر جنات نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس کے سارے جانور انسانوں کے ہاتھ سے پانی پینے سے گریز کرنے لگے تھے۔ کیا تم اس بات پر یقین کر سکتے ہو کہ کوئی جانور اپنے کھروں سے پانی کے نلکے کی ہتھی چلا کر پانی نکالنے لگ جائے“

”ناقابل یقین بات ہے“ میں نے کہا

”لیکن یہ حقیقت ہے۔ اس گھر کے سارے جانور نلکا خود چلا کر پانی نکالتے اور پیتے تھے۔ ان لوگوں نے دنیا بھر کے عاملوں اور پیروں سے رابطہ کیا تھا مگر کوئی بھی اس گھر سے جنات کو نہیں نکال سکا تھا۔ وہ لوگ میرے بھائی تک پہنچے اور باباجی سرکار کے ساتھ پسرور چلے گئے۔ باباجی نے اس گھر کے جانوروں پر مسلط جنات کو مار مار کر بھگا دیا تھا اور آخر میں شیر کی کھال‘ کستوری اور زعفران کی مدد سے ایک تعویذ بنا کر اس گھر میں گاڑ دیا تھا۔ اس زمانے میں شیر کی کھال اور کستوری حاصل کرنا بہت مہنگا سودا تھا لیکن بابا جی سرکار کی ہدایت پر یہ سارا سامان حاصل کر لیا گیا اور پھر جب یہ عمل کرکے تعویذ بنایا گیا تو اس گھر پر پھر کبھی جنات نازل نہیں ہوئے“میرے لئے یہ واقعہ بہت بھاری تھا اور اسے ہضم کرنا ناممکن تھا۔ لیکن میں نے اب حجت کرنا چھوڑ دی تھی اس لئے یہ سوچ کر تسلیم کر لیا کہ اگر میرے سامنے جنات اور بدروحوں کا ظہور ہو رہا ہے تو ایسا انہونا واقعہ بھی اس سرزمین پر رونما ہوا ہو گا کیونکہ جنات سے کچھ بھید نہیں ہے۔ ممکن ہے پسرور شہر کے رہنے والے پرانے لوگوں کو اس واقعہ کا علم ہو کہ وہی بہتر جانتے ہیں کہ ان کے شہر میں جب یہ شہر ایک بڑے قصبہ کی شکل میں تھا وہاں کے کسی شخص کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہو۔

ہم جب مکھن سائیں کے ڈیرے کے پاس سے گزر رہے تھے کہ کوچوان نے تانگہ روک لیا اور پھر تیزی سے نیچے اتر کر وہ نہر کی پٹری کے پاس رکھے ایک بڑے سے مٹکے کے پاس گیا۔ مٹکے کے منہ پر مٹی سے لیپ کیا ہوا تھا اور چونے سے اس کے اوپر لکھا ہوا تھا ”نذرانہ سرکار مکھن سائیں آستانہ“ کوچوان نے مٹکے کے منہ میں کئے گئے ایک چھوٹے سے سوراخ میں دو روپے ڈالے اور کانوں کی لوﺅں کو چھوتا ہوا منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا تانگے پر آ

ریاض شاہ اچھو خاں ڈکیت کے پاس پہنچا ۔ وہ الٹے منہ زمین سے چمٹ گیا تھا اس نے جوتی کی نوک اس کی ٹھوڑی پر رکھ کر اسے سیدھا کیا۔

”اٹھ دکھا مجھے اپنی طاقت“ ریاض شاہ کا لہجہ بھرا ہوا تھا ایسے لگتا تھا جیسے وہ خود نہیں کوئی اس کے اندر بول رہا ہے۔ ادھر برگد کے درخت پر جیسے قیامت مچی ہوئی تھی۔ اس کی شاخوں سے بہت سارے سانپ‘ تعویذ‘ ہڈیاں‘ رنگ برنگے کپڑے اور نہ جانے کیا کیا فضولیات نیچے گرنے لگی تھیں۔

اچھو خاں کی آنکھوں میں جوالہ انگڑائیاں لینے لگا تھا ۔ وہ جھٹ سے اٹھا اور سینہ ٹھونک کر ریاض شاہ کے سامنے کھڑا ہو گیا وہ انتہائی سرعت کے ساتھ ریاض شاہ کو ٹکر مارنے لئے بڑھا۔ کسی بپھرے ہوئے سانڈ کی ٹکر پہاڑ کو بھی ہلا کر رکھ دیتی ہے ،مگر ریاض شاہ کے اندر چٹانوں سے زیادہ ثابت قدمی آ گئی تھی۔ اچھو خاں کی ٹکر کھانے کے باوجود اس کے بدن کو ہلکا سا بھی جھٹکا نہیں لگا تھا بلکہ اس ضرب شدید کے ردعمل میں اچھو خاں پیچھے الٹ گیا ۔جب اٹھا تو اپنے سر کو دونوں ہاتھ سے تھام رکھا تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے اس کے سر کے اندر کی دنیا میں زلزلہ آ گیا ہے۔ وہ سر کو بار بار جھٹک کر اپنے ہوش واپس لانے لگا۔ ریاض شاہ کے چہرے پر عجیب سی سرشاری اور طاغوتیت تھی۔ اچھو خاں دوبارہ اپنے حواس میں آیا ایک بار پھر وہ دھاڑتا ہوا ریاض شاہ کی طرف بڑھا اور اپنی پوری قوت صرف کرکے اس کے پیٹ میں ٹکر ماری مگر اس بار بھی اس کے ساتھ وہی ہوا جو اس سے قبل ہوا تھا ۔ لیکن اس کی جرات دیکھ کر میں عش عش کر اٹھا۔ وہ تیسری بار اٹھا اور ریاض شاہ کو ٹکر مارنے ہی لگا تھا کہ ایک زوردار آواز نے اس کے دوڑتے قدموں میں بھاری زنجیر ڈال دی اور وہ کسی بت کی طرح اپنے قدموں پر منجمد ہو گیا۔

”رک جاﺅ اچھو“ مکھن سائیں قبر کا تختہ پیچھے دھکیل کر باہر آ گیا تھا۔ مر جائے گا تو اچھو لیکن اس پہاڑ کا ایک پتھر بھی نہ توڑ پائے گا“ مکھن سائیں کے چہرے پر مسکان تھی۔ اس نے اپنے دونوں بازو فضا میں بلند کئے اور حق یا علی …. حق اللہ …. یا پیر دستگیر …. حق اللہ“ کے نعرے بلند کرکے اس نے برگد کے درخت کی طرف نظر اٹھائیں تو برگد کی جھومتی شاخیں آہستہ آہستہ ساکت ہو گئیں اور طوفان یوں تھم گیا جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ یہ مکھن سائیں کی کرامت تھی یا شعبدہ …. یا پھر …. برگد پر طوفان برپا کرنے والوں سے کوئی تعلق ۔۔۔۔۔۔کہ تلاطم یکدم کافور ہو گیا اور برگد کی شاخیں آہستہ آہستہ جھومنے لگیں اور ان سے ٹھنڈی ہوائیں آنے لگیں۔ مکھن سائیں نے لمبا سا کالے رنگ کا چولا پہنا ہوا تھا۔ ہاتھوں میں عقیق کے دانوں کی تسبیح تھی۔ ایک ایک دانا نیچے گراتا ہوا وہ اچھو خاں ملنگ کی طرف بڑھا اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا

”اوئے اچھو ۔ میں نے کتنی بار کہا ہے کہ اپنے اندر کے ڈاکو کو مار ڈال۔ ہر ایک کے ساتھ الجھا نہ کر۔ آج تو نے میرے مہمان کو اپنی بدمعاشی دکھانی شروع کر دی تھی“

”سرکار …. اس نے۔۔۔۔۔۔“

”زبان بند کر اچھو۔ میں سب سن رہا تھا۔ تو نے اس معصوم لڑکی کو مار کر ہمارے شاہ صاحب کو ناراض کر دیا تھا“ مکھن سائیں اس کو سرزنش کرنے لگا تو نہ جانے مجھے کیوں لگا مکھن سائیں ڈرامہ کر رہا ہے۔ مکھن سائیں ریاض شاہ کی طرف بازو پھیلا کر بڑھا اور دونوں نے معانقہ کیا۔

”معاف کرنا شاہ جی …. ان کم عقلوں کو بندوں کی پہچان نہیں ہے“ مکھن سائیں نے کہا

”آپ انہیں لگام ڈال کر رکھیں ناں سائیں۔ ان کی حرکتوں سے آپ کو ہی نقصان پہنچے گا“ ریاض شاہ کے چہرے پر اب سکوت تھا۔

”آئیں اندر چلتے ہیں“ مکھن سائیں نے ریاض شاہ کا ہاتھ تھام کر اپنے حجرہ میں چلنے کے لئے کہا۔ یہ سن کر مکھن سائیں بولا ”شاہ جی یہ بچہ ہے۔ بڑوں کی باتوں میں اسے کیا مزہ آئے گا۔ میرے ملنگ اس کی ٹہل سیوا کریں گے۔ آپ اندر چلیں بہت سی باتیں کرنی ہیں آپ سے“

ریاض شاہ نے میری طرف دیکھا تو میں خود ہی بول پڑا ”ٹھیک ہے شاہ جی میں ادھر ہی بیٹھتا ہوں آپ ہو آئیں“

”سمجھدار بچہ ہے“ مکھن سائیں نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنے ملنگوں کو میری خدمت کی ہدایت کرکے اندر جانے لگا تو وہ بوڑھی عورت بول پڑی ”سرکار …. میرے لئے کیا حکم ہے“

مکھن سائیں نے غصہ بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور کہا ”مائی اسے گھر لے جاﺅ اگلی جمعرات کو آنا“

”مگر سرکار …. یہ تو باﺅلی ہو گئی ہے۔ گھر کیسے لے جاﺅں“ عورت گھگھیائی ”کوئی تعویذ دے دیں سرکار“

”اچھا ۔ اچھا“ مکھن سائیں ناگواری سے بولا ”اوئے بھولے قلندر اس کو تعویذ بنا دے“ یہ کہہ کر وہ اندر چلا گیا۔ بھولا قلندر ایک مجہول سا بوڑھا تھا وہ برگد کے نیچے آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ برگد کے تنے میں ایک بڑی سی کھوہ تھی اس کے اندر چراغ رکھے تھے۔ کھوہ کی دیواروں پر کالے رنگ کے چیتھڑہ نما کپڑے اور دھاگے لٹکے ہوئے تھے۔ اس نے ایک دھاگا کھینچ کر اتارا۔ کچھ پڑھتے ہوئے اس نے دھاگے میں سات گرہیں لگائیں اور دھاگا بوڑھی عورت کو دے کر کہا ”اس کے پاﺅں میں سائیں سرکار کی سنگلی ڈال دے اب یہ کہیں نہیں بھاگے گی“

عورت نے نہایت ادب اور تمیز کے ساتھ دھاگا لیا اور اپنی بیٹی کے پاﺅں سے باندھ دیا۔ اس کی بیٹی ابھی تک بے حس پڑی تھی۔ ”جا …. اب چلی جا“

”سرکار کے مہمان کے لئے شربت لے کر آﺅ“ بھولے قلندر نے ایک ملنگ سے کہا تو میں بول پڑا

”شکریہ جناب مجھے پیاس نہیں ہے“ میں جانتا تھا کہ ان کا شربت کس قسم کا ہو گا۔

”ناں جی …. یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ سرکار ناراض ہوں گے جی شربت تو آپ کو پینا ہی ہو گا“

”محترم میں روزے سے ہوں۔ میں نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے لہٰذا میں یہ شربت پینے سے معذور ہوں“ میں نے اس موقع پر جھوٹ بول کر اپنی جان چھڑانی چاہی کیونکہ میں جانتا تھا کہ ان لوگوں کا مخصوص شربت بھنگ کے علاوہ دوسرا نہیں ہو سکتا۔ یہ کہہ کر میں جلدی سے عورت کی طرف بڑھا وہ اپنی بچی کو ہوش میں لا رہی تھی۔

”ماں جی …. اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے ماریں“ میں نے کہا تو اس کا شوہر پانی لے آیا ۔ چھینٹے مارنے سے لڑکی کو ہوش آ گیا تو وہ خالی خالی نظروں سے اردگرد دیکھنے لگے۔ پھر مجھ پر نظر پڑی تو گھبرا گئی اور اپنی ماں کے ساتھ لپٹ گئی۔

”ماں مجھے گھر لے چلو“ لڑکی خوف زدہ نظروں سے اچھو خاں ملنگ کو دیکھنے لگی جو اس سے چند قدم اور کھڑا اسے گھور رہا تھا۔

”چل میری بچی گھر چلتے ہیں“ عورت نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور اس کے سر پر چادر دے کر اس کی خستہ حالی کو چھپا کر چلنے لگی

”ماں جی آپ نے کہاں جانا ہے“ میں نے دیکھا کہ ہمارے تانگے کے سوا کوئی اور سواری وہاں نہیں تھی۔ اسے نہر کی پٹری تک پیدل جانا تھا

اس نے اپنے گاﺅں کا نام بتایا۔”آپ کیسے جاﺅ گی“ میں نے دریافت کیا۔

”پتر اپنے پیروں پر چل کر ہی جانا ہے“

”ٹھہرئیے۔ میں آپ کو نہر تک چھوڑ آتا ہوں“ میں نے کوچوان کو آواز دے کر بلایا تو وہ عورت مسکینوں کی طرح بولی۔”رہنے دے پتر ہم چلے جائیں گے“

”ماں جی آپ کی بیٹی کی حالت ایسی نہیں ہے کہ یہ چل سکے اور پھر آپ دونوں اسے اٹھا کر بھی تو نہیں جا سکتے“

”چلے ہی جائیں گے سائیں کی دعا سے …. دیکھ لو …. میرے سائیں کے ایک تعوید نے اس کو گھر واپس جانے پر آمادہ کر دیا ہے ورنہ یہ باﺅلی تو گھر جانے کا نام نہیں لیتی تھی“ مجھے ماں بیٹی کی ذات میں دلچسپی پیدا ہو چکی تھی۔ میں ان کی کہانی سننا چاہتا تھا کہ وہ کون ہیں اور مکھن سائیں سے ان کی یہ عقیدت …. اور لڑکی کی یہ بیماری کیسے پیدا ہوئی۔ میں نے انہیں تانگے پر بٹھایا تو بھولا قلندر دوڑتا ہوا میرے پاس آ گیا

”آپ کہاں جا رہے ہیں“

”میں انہیں نہر تک چھوڑنے جا رہا ہوں“ میں نے کہا

”ناں جی آپ یہ نہیں کر سکتے۔ سرکار کے مہمان ہیں وہ ناراض ہوں گے“

”میں ابھی آ جاتا ہوں“ یہ کہہ کر میں نے کوچوان سے چلنے کے لئے کہا ۔بھولا قلندر مجھے روکتا ہی رہ گیا مگر میں نے اس کی ایک نہ سنی

”ماں جی …. آپ کی بیٹی کو کیا ہوا ہے۔ کیا یہ بچپن سے ہی ایسی ہے“ میں نے راستے میں ان سے پوچھا

“ناں میرے پتر …. یہ اچھی بھلی تھی۔ ایک سال پہلے جب میں سیالکوٹ شائیں بادشائیں کے مزار پر سلام کرنے گئی تھی تو واپسی پر اس کی حالت خراب ہو گئی تھی۔ میں سمجھی کہ بیمار ہے۔ دوا دارو بہت کیا ، مگر میری بچی کی حالت نہیں سنبھلی۔ چھ سات مہینے گزر گئے۔ اس کے سر کے سارے بال اتر گئے اور سارے بدن کا ماس پولا ہو گیا۔ میری تو ایک ہی اولاد ہے میری اس میں جان ہے۔ دسویں میں پڑھتی تھی۔ سرخ سپید رنگ تھا اس کا نہ جانے میری بچی کو کس کی نظر لگ گئی۔ دو مہینے پہلے۔ مکھن سائیں کا ایک ملنگ خیرات مانگنے آیا تو میں نے اسے روٹی دی اور کہا کہ سائیں بابا دعا کرو میری بچی ٹھیک ہو جائے۔ اس نے بچی کو دیکھا تو کہا کہ اس پر طاقتور قسم کا جن آیا ہوا ہے تم اسے مکھن سائیں کے پاس لے جاﺅ۔ میں دوسرے دن چارپائی پر ڈال کر اپنی بچی کو مکھن سائیں کے پاس لے آئی۔ اللہ سوہنے کا کرم ہوا۔ سائیں کی دعا سے میری بچی سنبھلنے لگی اور ایک مہینے میں اس کے سر کے بال اور بدن کا گوشت واپس آنے لگا۔ میری بچی نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا صرف مٹی کھاتی تھی لیکن اب یہ روٹی بھی کھا لیتی ہے اللہ بھلا کرے سائیں بہت اچھے ….“

یہ سن کر وہ لڑکی اچانک چیخ پڑی ”ماں …. سائیں اچھا انسان نہیں ہے وہ گندہ ہے گندہ“

”ناں …. ناں پتر …. ایسے نہیں کہتے“ اس کی ماں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا

”بی بی اللہ کے قہر کو آواز نہ دو سائیں بہت اچھے انسان ہیں“ کوچوان بولے بغیر نہ رہ سکا۔

”تمہارا سائیں ہے کیا۔ خدا غارت کرے تم اندھے لوگوں کو۔ تمہاری آنکھیں شیطان نے پھوڑ ڈالی ہیں اس لئے تمہیں نظر نہیں آتا“

”استغفراللہ“ میرے لبوں سے نکلا میں لڑکی کو دیکھنے لگا

”توبہ توبہ …. بی بی“ کوچوان ہڑبڑا گیا اور اس نے تانگہ روک لیا۔

”بی بی …. نیچے اترو میں مکھن سائیں کے نافرمانوں کو اپنے تانگے میں نہیں بٹھا سکتا“

”نافرمان …. ہونہہ۔ تم اللہ کے نافرمان اگر تمہاری کوئی بیٹی بہن ہے۔ جوان اور کنوری ہے تو اس کا جن اتروانے کے لئے تعویذ دھاگے کے لئے یہاں لے آتا …. اور پھر مجھے بتانا کہ تمہارا مکھن سائیں کیسا ہے۔ اس کے بھوکے ملنگ کیسے ہیں۔ اللہ تم لوگوں کو غارت کرے۔ بے غیرت قسم کے لوگ ہو تم۔ پاگل کہہ کر میری باتوں کو رد کر دیتے ہو۔ لیکن تم خود پاگل ہو۔ تمہیں کچھ سمجھ نہیں آتی۔ تم عقیدتوں کے سراب میں بھٹکتے پھرتے ہو۔ تم شیطان اور جنات کے غلام ہو۔ ایسے بدعقلوں کو تو مکھن سائیں فرشتہ ہی نظر آئیں گے۔ اللہ کی مار ہو تم لوگوں پر“ یہ کہہ کر وہ لڑکی تانگے سے نیچے اتر گئی۔ اس نے ماں اور باپ کو نیچے اتار لیا۔ میں نے تانگے والے کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ ایسا خفا اور شرمندہ ہوا کہ تانگہ لے کر نہر کی طرف چلا گیا۔

”تم ٹھیک کہتی ہو“ میں نے لڑکی سے کہا ”کیا نام ہے تمہارا“

”بلقیس“ وہ بولی ”ماں مکھن سائیں کا کلمہ پڑھتی ہے۔ میں کہتی ہوں ماں تم شیطان کے بہکاوے میں آ گئی ہو اس کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں“

”مکھن سائیں نے کیا کہا ہے تمہیں“ میں نے کہا ”اس کے تعویذ اور دعاﺅں سے تمہارے جن اتر گئے ہیں اور تم صحت یاب ہو گئی ہو“

”گند کو گند نے ہی صاف کیا ہے لیکن اب وہ میری پاکیزگی کو اپنی غلاظت کے جوہڑ میں ڈبو دینا چاہتا ہے“ بلقیس کے اندر جیسے لاوا ابل رہا تھا۔ اس کی ماں نے اسے خاموش کرانے کی بڑی کوشش کی مگر اس نے ایک نہ سنی اور بولتی چلی گئی۔۔۔۔۔….

اس نے ماں کو سختی سے ڈانٹ دیا اور چیخ چیخ کر کہنے لگی۔

”ماں …. مکھن سائیں کہتا ہے بلقیس تو میری ملنگنی بن جا اور اب میرے پاس ہی رہا کر۔ تو بھی یہی چاہتی ہے۔۔۔۔ بابو“ وہ میری طرف رخ موڑ کر کہنے لگی ”یہ میری ماں ہے اس نے مجھے جنم دیا ہے۔ اپنے دودھ کا واسطہ دے کر کہتی ہے مکھن سائیں کو ناراض نہیں کرنا۔ اس کی بددعا …….. برباد کر دیتی ہے۔ آپ خود انصاف کریں کیا مجھے ماں کی بات مان لینی چاہئے“ بلقیس ماں اور باپ کے سامنے مجھے مکھن سائیں کی ہوس بھری اصلیت کی کہانی سناتی چلی گئی …. اور میں عقیدتوں کا مارا شرم سے زمین میں گڑھ گیا۔ اس کے باپ کا سر جھک گیا۔ مگر ماں کا چہرہ شرمندگی سے خالی تھا۔ الٹا اسے کہنے لگی ”بلقیس تو نہیں ترے اندر جن بول رہا ہے۔ لگتا ہے ابھی نکلا نہیں ہے۔ وہ تجھے گمراہ کر رہا ہے۔ مکھن سائیں پر الزام لگا رہی ہے تو۔ وہ ایسا کر ہی نہیں سکتے“

”ماں …. میری بھولی ماں“ بلقیس اس کے دونوں شانے پکڑ کر اس کی نظروں میں دیکھتے ہوئے سسک سسک کر کہنے لگی ”تجھے میں کیسے سمجھاﺅں۔ تو نہیں جانتی تو اپنی بیٹی کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے“ پھر وہ انپے باپ کی طرف دیکھنے لگی اور اس کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی۔ ”ابا میں مر جاﺅں گی لیکن اس آستانے پر نہیں آﺅں گی۔ اس ظالم نے مجھے چیلوں کی طرح نوچ ڈالا ہے۔ میں شور کرتی رہی۔ مگر ماں کہتی ہے وہ میرے جن اتار رہا تھا۔ ابا خدا کے لئے مجھے یہاں سے دور لے جاﺅ“

بلقیس کے دکھ سے میرا کلیجہ چھلنی ہو گیا۔ میں سوچنے لگا کہ ہماری بعض عورتیں کتنی معصوم اور بے وقوف ہوتی ہیں جو عقیدتوں کی مٹی اپنے تن من پر لیپ کر یہ سمجھنے لگتی ہیں وہ گناہ کی آلائشوں سے پاک ہو گئی ہیں۔ یہ نہیں سمجھتیں کہ یہ مٹی غلاظت کے ڈھیر سے اٹھائی گئی ہے۔ توہمات کی ماری ہوئی ان عورتوں نے پورے سماج کو اپنے اللہ اور اس کے رسول سے دور کر دیا ہے۔ اے کاش یہ سمجھ لیں کہ ایسی جگہوں پر خدا کی تعلیمات نہیں پائی جاتیں جہاں اللہ اور اس کے رسول کی ہدایات کے مطابق زندگی نہیں ملتی …. اللہ نے کالے پیلے دھاگوں اور کپڑوں کی دھجیوں میں گرہیں لگا کر جنتر منتر کرکے مسائل حل کرنے کی سختی سے ممانعت کی ہوئی ہے۔ دھاگوں کی گرہوں میں خدا کا کلام نہیں باندھا جاتا۔ میرے اللہ کا کلام تو وہ ہے جو زباں سے ادا ہو اور کسی محتاجی اور وسیلے کے بغیر بندے کے دل میں اتر جائے۔ آسمانوں پر پہنچ جائے۔ میرے اللہ کے کلام میں تو وہ طاقت اور اثر ہے جو بدی کی مخلوق کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ بھنگ چرس اور ہوس بھرے لبوں سے یہ مقدس الفاظ نہیں نکلتے۔ وہ تو ان کالے پیلے دھاگوں میں معصوم اور احمق لوگوں کے ایمان کو پروتے ہیں۔ میں انہیں کیا سمجھاﺅں کہ میرے اللہ اور میرے رسول اور اس کے حقیقی صالحین و اولیا کی تعلیمات کیا ہیں۔

بلقیس ایک سمجھدار لڑکی تھی۔ میں نے اس کی ماں کو سمجھایا اور اسے نصیر کے گاﺅں کا پتہ دے کر سمجھایا کہ وہ آج شام کو اسے لے کر وہاں آ جائے۔ میں نے طے کیا تھا کہ اپنی موجودگی میں ریاض شاہ سے کہہ کر اس کا علاج کرا دوں گا۔ میں بلقیس اور اس کے ماں باپ کو نہر کی پٹڑی پر چھوڑ کر واپس آستانے پر آ گیا۔ بھولے قلندر نے کینہ توز نظروں سے دیکھا اور منہ پھیر لیا۔ اگر میں مکھن سائیں کا مہمان نہ ہوتا تو یقیناً وہ میرے ساتھ بدسلوکی کرتا۔ اس کا انداز بتا رہا تھا کہ میں نے ایک معصوم ہرنی کو ان درندوں کے ہاتھوں سے نکل جانے کا موقع دے دیا تھا۔

دس پندرہ منٹ بعد ریاض شاہ اور مکھن سائیں حجرے سے باہر نکلے تو دونوں کے چہرے خوشی کی تمازت سے روشن تھے لیکن جونہی مکھن سائیں نے مجھے دیکھا اس کے ہونٹ کھچ گئے۔

”اچھا سائیں …. اب ہم چلتے ہیں۔ کل میں آپ کا انتظار کروں گا“

”اللہ سائیں خیر کرے …. میں آﺅں گا“ مکھن سائیں نے بھاری بھرکم ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا۔ ”بالکے میں اچھو کو سمجھاتا رہتا ہوں کہ اب تو جس دنیا کا بندہ بن چکا ہے اس میں پورے کا پورا داخل ہو جا لیکن یہ پاگل سمجھتا ہی نہیں۔ اس کے اندر کا انسان اسے ابھارتا رہتا ہے۔ بچے میری بات سمجھ رہا ہے ناں …. جب مرید مرشد کے دائرے میں آ جاتا ہے اور اس کا رنگ اپنے اوپر چڑھا لیتا ہے تو اپنے مرشد کی آنکھ‘ کان اور زبان بن جاتا ہے۔ اس کا دل اپنا نہیں رہتا۔ مرشد کے دل کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ یہ فقیری لائن تو کیا سمجھے۔ تجھے تو نئی نئی کہانیوں کی تلاش رہتی ہے۔ لیکن یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ تو ابھی ان نزاکتوں کو نہیں سمجھتا“

”سائیں …. شاہد میاں بڑا سمجھدار لڑکا ہے“ ریاض شاہ نے صورتحال سمجھتے ہوئے کہا ”آپ جب اس کے ساتھ بیٹھیں گے تو غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔ اچھا اب ہم چلتے ہیں“ یہ کہہ کر ریاض شاہ نے کوچوان کو تلاش کرنا شروع کیا تو میں نے کہا ”وہ چلا گیا ہے“

”کیوں چلا گیا“ ریاض شاہ نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا تو میں سمجھ گیا کہ انہیں سارے معاملے کی خبر نہیں ہے۔

مکھن سائیں کے لبوں پر مسکراہٹ تیرنے لگی ”یہی بات تو میں اسے سمجھا رہا تھا شاہ صاحب اس بیچارے کو تو پھر جانا ہی تھا“

”چلو پھر پیدل چلتے ہیں“ ریاض شاہ نے قدرے ناگواری سے کہا۔

”شاہ صاحب یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ کو بڑی عزت کے ساتھ ہم روانہ کریں گے“

مکھن سائیں نے اچھو خاں ملنگ کو آواز دی۔ ”ذرا تانگہ گھوڑا جوت لے بھئی۔ شاہ صاحب کو ان کے گاﺅں تک چھوڑ کے آنا ہے“

میں حیران ہو کر دیکھنے لگا کہ اس پورے آستانے میں تانگہ گھوڑا تو کہیں بھی نظر نہیں آ رہا تھا پھر مکھن سائیں ہم سے مذاق کیوں کر رہا تھا۔ لیکن ہماری حیرت اس وقت دور ہو گئی جب اچھو خاں حجرے کے عقب میں گیا تو گھوڑے کے ہنہنانے کی آوازیں آنے لگیں۔ پانچ منٹ بعد وہ تانگہ لے آیا۔ گھوڑا اعلیٰ نسل کا تھا۔ اس کا قدر کاٹھ بھی غیر معمولی تھا۔ رنگ سفید تھا لیکن اس کی رانوں پر کالے رنگ کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ آنکھیں صاف اور گہری کالی۔ اسے دیکھ کر احساس ہوتا تھا یہ گھوڑا کسی نواب یا مہاراجے کا ہو گا اس کی ٹہل سیوا اور ستھرائی صرف کسی بڑے اصطبل میں ہی ہو سکتی تھی۔

”اچھا شاہ صاحب آپ بیٹھیں۔ یہ تانگہ آپ لے جائیں اللہ کا نام لے کر واپسی کے لئے اس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دیجئے گا۔ یہ خود واپس آ جائے گا“

میں نے مکھن سائیں کو دیکھا اور کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ وہ بول اٹھا ”جو شے مکھن سائیں کی ہو جاتی ہے وہ اپنا راستہ نہیں بھولتی۔ وہ واپس آستانے پر آ جاتی ہے“

”آﺅ بھئی …. آج مکھن سائیں کی سواری کا مزہ لیتے ہیں“ ریاض شاہ خاصا پرجوش نظر آ رہا تھا۔ وہ آگے اور میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا تو مکھن سائیں گھوڑے کے پاس آیا اور اس کے ماتھے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا

”میرے بچے میرے مہمانوں کو ان کے گاﺅں تک چھوڑ آ اور اچھے بچوں کی طرح واپس آ جانا۔ جا میرے بچے“ یہ کہہ کر اس نے گھوڑے کے چہرے پر پھونک ماری تو گھوڑے نے نتھنے پھیلائے اور تانگے کو لے کر چل دیا۔ شاہ صاحب نے اس کی راسیں پکڑی ہوئی تھیں

”شاہ صاحب یہ تو عجوبہ ہے“ میں نے کہا

”مکھن سائیں خود بھی تو عجوبہ ہے“ شاہ صاحب نے قہقہہ لگایا ”لیکن یہ تو بتاﺅ تانگے والا کیوں چلا گیا تھا“

میں نے ساری بات سنا دی اور یہ بھی کہا کہ آج رات وہ لڑکی ماں باپ کے ساتھ ہمارے پاس حویلی میں آئے گی۔

”تو نے مجھ سے تو پوچھ لیا ہوتا“

”شاہ صاحب آپ نے جس طرح اس کو اچھو ملنگ کی زیادتی سے بچایا ہے میں نے اس مان کے ساتھ اس کو حویلی بلایا ہے۔ وہ لڑکی بڑی اچھی ہے اور اچھے برے میں تمیز کرنا جانتی ہے“

”شاہد میاں …. تم ٹھیک کہتے ہو۔ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں اچھے برے کی تمیز کرنے کی نعمت سے سرفراز کیا ہے۔ لیکن یار تم فی الحال ہر ایک سے الجھنے کی کوشش نہ کیا کرو ۔تمہارا ادراک اور فہم درست ہے۔ مکھن سائیں کے بارے میں اچھی طرح جان چکا ہوں۔ یہ شخص سفلی علوم میں اس قدر ماہر ہے کہ خدا پناہ۔ بڑا خود غرض بندہ ہے۔ اس نے تو بابا جی پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ جنات کا ایک پورا قبیلہ اس کا مطیع ہے۔ چلے کاٹ کاٹ کر اس نے خود کو کندن بنا لیا ہے۔ یہ بندہ چالیس گھنٹے تک اپنا سانس روک اور چالیس روز تک بغیر کچھ کھائے پئے زندہ رہ سکتا ہے“

”آپ اسے کیسے جانتے ہیں“ میں نے پوچھا

”میں نے بڑے بھائی سے اس کا نام سن رکھا تھا“ ریاض شاہ کہنے لگا

”ہم لاہور کے اصل مکین نہیں ہیں۔ ہم پہلے ادھر ڈسکہ میں رہتے تھے۔ باباجی میری والدہ کے پاس تھے۔ برسوں پہلے ہم لاہور منتقل ہو گئے لیکن ڈسکہ اور سیالکوٹ آنا جانا لگا رہتا تھا۔ بڑے بھائی ڈسکہ نہر کے پاس سے گزرنے والی نہر کے کنارے چلے کاٹتے تھے۔ مکھن سائیں کے ساتھ وہاں ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ پھر جب میں ادھر ملکوال آیا تو بابا جی کی حاضریاں لگنے لگیں۔ ٹاہلی والی سرکار سے ملاقاتیں ہونے لگیں تو مکھن سائیں کو علم ہو گیا“ ریاض شاہ کی بات سن کر معاً مجھے مکھن سائیں سے اپنی پہلی ملاقات کا منظر یاد آ گیا ۔ جس روز میں دو رتی افیون لینے کے لئے لالو قصائی کے ساتھ نہر کی پٹری سے گزر رہا تھا تو مکھن سائیں سے ملاقات ہو گئی تھی۔ اس نے بڑے خفیف اور معنی خیز انداز میں لالو سے کہا تھا کہ یہ ہمارے مہمانوں کا خدمت گار ہے۔ اس لئے ہم اسے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ آج مجھے یاد آ رہا تھا کہ مکھن سائیں کو علوم کی طاقت کے ذریعے یہ بات معلوم تھی کہ میں کس کے لئے افیون لے کر جا رہا تھا۔ میں نے ریاض شاہ کو اس سے پہلی ملاقات کا ماجرہ سنایا تو وہ ہنسنے لگا ”یہ تو بہت معمولی بات تھی“

”کیسے“

”وہ ایسے کہ اس روز غازی تمہارے ساتھ ساتھ تھا۔ مکھن سائیں نے اسے دیکھ لیا تھا اور ان کی آپس میں گفتگو بھی ہوئی تھی۔ یہ غازی ہی تھا جو تمہیں پولیس کی دستبرد سے محفوظ رکھتا رہا۔ مکھن سائیں نے غازی کے ذریعے باباجی کو سلام پہنچایا اور ملاقات کا پیغام بھی دیا تھا“

”مکھن سائیں نے بابا جی کو قابو کرنے کے لئے کیا حرکت کی تھی“ مجھے اشتیاق ہوا تو میں نے یہ بات پوچھ لی۔

”ہاں“ ریاض شاہ اس وقت جوشیلے انداز میں بول رہا تھا۔ ”مکھن سائیں خود کو بہت زیادہ طاقتور انسان بنانا چاہتا ہے۔ تم نے دیکھ لیا ایک گھوڑا اس کے اشارے پر اس کے مہمانوں کو ان کے گاﺅں چھوڑ کر واپس اس کے پاس پہنچ جاتا ہے تو یہ ملنگ ٹائپ لوگ کیا شئے ہیں۔ اس نے اچھو خاں ڈکیت کو بے بس کر دیا ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا غازی نے جب بابا جی اور مجھ کو اس کا پیغام دیا تو بابا جی نے پہلے تو یہ کہا کہ وہ اس سے نہیں ملنا چاہتے۔ لیکن جن دنوں ہمیں حویلی کی چڑیلوں کو رخصت کرنے اور کالی داس کے خلاف جنگ کا سامنا تھا تو بابا جی نے مصلحت کے تحت مکھن سائیں سے ملاقات کی تھی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اس پورے علاقے کی جناتی مخلوق اپنے علاقے میں ان کی دخل اندازی پر سیخ پا ہو۔ لہٰذا وہ جب اس سے ملنے گئے تو مکھن سائیں قبر میں چلہ کاٹ رہا تھا۔ اس کے جنات نے بابا جی کی خدمت کی۔ بابا جی قبر میں محو چلہ مکھن سائیں کے پاس گئے تو اس نے بابا جی کی آﺅ بھگت کی اور انہیں کہنے لگا کہ وہ اس پاس کیوں نہیں آ جاتے۔ مکھن سائیں کو بابا جی سرکار کی طاقت اور بزرگی کا صحیح طریقے سے ادراک نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ اگر وہ اس کا ساتھ دیں تو وہ پوری دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دے گا۔ اس نے بابا جی کو اپنے موکل جنات کے پورے قبیلہ سے ملوایا تھا۔ بابا جی سرکار نے جب مکھن سائیں کو اپنے بارے میں بتایا کہ وہ کس درجہ اور حیثیت کے مالک ہیں تو مکھن سائیں کی باچھیں کھل گئیں۔ ہوس اور غرض سے رال ٹپکنے لگی اور آنکھیں انتقام کے شعلوں سے بھر گئیں۔ وہ بابا جی کے ذریعے خود کو ایک بہت بڑا روحانی بزرگ بنانا چاہتا تھا۔ میں نے کہا ناں کہ وہ خود غرض اور سفلی علوم کا ایسا بندہ ہے۔ بابا جی نے اسے کہا کہ وہ اس کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ گندے گھناﺅنے اور غیر شرعی کام چھوڑ دے۔ لیکن وہ اس پر آمادہ نہ ہوا۔ بابا جی جب واپس آنے لگے تو وہ کہنے لگا۔

”زرقان شاہ …. میں تمہیں وہ کچھ دے سکتا ہوں جس کی تم طلب کرو گے۔ میرے ایک اشارے پر یہاں سب کچھ حاضر ہو گا۔ میں تمہیں اپنی آفر ٹھکرا کر واپس نہیں جانے دوں گا“

”شاہد میاں“ ریاض شاہ کہنے لگا ”یہی وہ آگ ہے جو کسی عامل اور اللہ کے حقیقی ولی اور باشرع پیر کامل میں فرق پیدا کرتی ہے۔ سفلی عملیات کرنے والے کی طبیعت میں نفرت‘ حسد‘ تکبر کی آگ بھڑکتی رہتی ہے لیکن اللہ کے بندوں کے دلوں پر محبت اور انکساری کی بارش برستی ہے۔ مکھن سائیں کی بات سن کر بابا جی نے اسے ڈانٹ دیا تھا۔ اس پر وہ کھول اٹھا اور بدتمیزی سے پیش آیا۔ کہنے لگا۔ ”ذرقان شاہ میں تمہیں واپس نہیں جانے دوں گا تم بھی میرے برگد پر مقیم جنات کی طرح میرے مرید اور قیدی بن کر رہو گے“

بابا جی طیش میں آ گئے اور اٹھ پڑے۔ مکھن سائیں نے آناً فاناً عملیات کی آگ بھڑکا کر انہیں قبر میں ہی روکنے کی کوشش کی تو بابا جی سرکار نے اسے اس کی آگ سمیت قبر سے باہر پھینک دیا مکھن سائیں حیرت پاش نظروں سے باباجی سرکار کو دیکھنے لگا۔ اسی وقت اس کے موکل جنات میں سے ایک بزرگ جن نے مکھن سائیں کو بابا جی سرکار کے درجات سے آگاہ کیا اور مشورہ دیا کہ وہ ان کے ساتھ ایسے پیش نہ آئے۔ مکھن سائیں صرف خودغرض ہی نہیں گھاگ بھی ہے۔ وہ جان گیا کہ اس نے غلط وقت میں غلط حرکت کی ہے۔ اس نے باباجی سے معافی مانگ لی۔ جانتے ہو آج جب مکھن سائیں مجھے حجرے میں لے کر گیا تھا تو اس نے کیا فرمائش کی تھی“

”جی …. کیا کہا تھا اس نے“ میں نے پوچھا

”کہنے لگا کہ اگر میں اس کے ساتھ مل جاﺅں تو وہ یہاں ایک بڑی روحانی سلطنت قائم کرے گا۔ میں نے اسے کہا کہ میں تو خود شہنشاہ ہوں تمہارے زیر سایہ کیسے آ سکتا ہوں۔ باباجی بھی اس لمحے ہمارے پاس تھے۔ اس نے بڑی آفرز دی ہیں ہمیں لیکن بابا جی نے اسے سختی سے منع کر دیا ہے کہ وہ تماشا نہ لگائے۔ روحانیت جیسے مقدس لفظ کی حرمت خراب نہ کرے ورنہ لوگوں کا اللہ کے نیک بندوں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ مکھن سائیں شیطان کا آلہ کار ہے لیکن وہ کہتا ہے کہ شیطان اس کا مطیع ہے۔ اللہ معاف کرے شاہد میاں۔ ہم بہت گناہ گار لوگ ہیں۔ خود میری اپنی یہ حالت ہے لیکن میں خود یہ جرات نہیں کر سکتا۔ مکھن سائیں گمراہ ہے اور گمراہی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ تم میرے بارے بہت بدگماں رہتے ہو لیکن میرے اور مکھن سائیں میں زمیں آسماں کا فرق ہے۔ میں تو صرف ایک زلیخا کی طلب تک محدود ہوں۔ مکھن یہ مکھن سائیں ہزاروں معصوم لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چکا ہے۔ جن زادیوں سے خدمت کراتا ہے۔ اس کی خادماﺅں میں ایسی ایسی خوبصورت جن زادیاں ہیں جنہیں دیکھ کر غازی کا ایمان بھی خراب ہو گیا تھا۔ بابا جی نے غازی کو بڑے جوتے مارے۔ اس نے تمہیں ہ کہانی نہیں سنائی تھی اب ملے تو پوچھنا مکھن سائیں کی ایک خادمہ مہ وش نے اسے کیا کہا تھا اور وہ اسے پیچھے کیوں پڑی تھی“ یہ کہہ کر ریاض شاہ ہنسنے لگا۔ اس وقت ہم پٹری سے اتر کر ملکوال کی طرف جا رہے تھے۔ ریاض شاہ نے گھوڑے کی راس کھینچ کر اسے صحیح سمت میں ڈال دیا تھا۔ نہر کی پٹری سے اتر کر ہم ہرے بھرے کھیتوں کے درمیان سے گزر رہے تھے۔ ریاض شاہ اور میں انہماک سے باتیں کرتے کرتے ملکوال پہنچ گئے۔ گھوڑے کا رخ واپس پٹری کی طرف موڑ دیا۔ گاﺅں کے کچھ لوگ ہمیں دیکھ رہے تھے۔ گھوڑے کو کوچوان کے بغیر تانگہ لے کر جاتے دیکھ کر وہ حیران ہو گئے۔ لیکن ہم نے ان کی حیرانی دور نہیں کی۔ حویلی پہنچ کر ہم نے کھانا کھایا اور آرام کرنے کے لئے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ میرے ذہن پر گذشتہ رات اور آج کی فلم چلنے لگی۔ مجھے اب اپنے اگلے پرچے کی فکر ہو رہی تھی۔ میں نے ڈیٹ شیٹ دیکھی تو سر پکڑ کر رہ گیا۔ کل میرا پرچہ تھا اور میں نے کتابوں پر نظر بھی نہ ڈالی تھی۔ میں نے پریشان ہونے کی بجائے خود کو حوصلہ دیا اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جاگا تو ذہن خاصا فریش ہو چکا تھا۔ میں نے کتاب کھولی اور پڑھنے لگا۔ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک مانوس سی مہک میرے چاروں طرف پھیلنے لگی۔ کتاب کا ورق ورق اس مہک سے بھیگ گیا اور اس میں ایک سوگوار سے چہرے کا عکس نمایاں ہونے لگا۔ خوشبو کے پیرہن میں وہ چہرہ میرے سامنے آ گیا۔ اس کے ہاتھوں میں دودھ کا گلاس تھا

کہاں تھے تم؟ میرے سامنے زلیخا کھڑی تھی سر پر سفید چادر لئے، حوروں جیسا تقدس تھا اس کے چہرے پرلیکن آنکھیں سوز و ہجر کے آنسوﺅں میں سوگواری کا غم اٹھائے نظر آ رہی تھی لہجہ گھمبیر۔

آﺅ دیکھو

یہ لو …. پی لو …. اماں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی کہہ رہی تھیں میرے پتر کا پیپر ہے اسے دے آﺅ، زلیخا میرے سامنے موڑھے پر بیٹھ گئی۔ کہاں تھے تم؟ زلیخا نے تکلف پاش لہجے میں کہا، آپ سے تم کا رشتہ استوار کرکے وہ کہہ رہی تھی اگر یوں خدمات بن کر آوارہ گردی کرتے رہو گے تو امتحان میں پاس کیسے ہو گے ؟؟

میں نے پاس ہو کر کیا لینا ہے؟ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے میں کہیں کھو گیا اور ہزار احتیاط کے باوجود میرے منہ سے نکل گیا، میں تو جس امتحان میں ڈال دیا گیا ہوں اس کا نتیجہ میرے حق میں کبھی نہیں نکلے گا، میں نے بہت کچھ کھو دیا ہےزلیخا۔ خوشیاں میری دسترس سے بہت دور ہو گئی ہیں، میرا حلق آنسوﺅں سے تر ہو گیا، آنکھیں تو کب سے خشک ہو گئی تھیں۔ میں نے آنسوﺅں کو آنکھوں سے بہنے کی اجازت نہیں دی۔زلیخا نے نظریں نیچی کر لیں او ر بے بسی سے انگلیاں مروڑنے لگی پھر اٹھ پڑی، آنکھوں سے دو آنسو ٹپک پڑے۔

بیٹھو ناں چھپانے کے باوجود میں اپنے گلوگیر لہجے کو نارمل نہ رکھ سکا۔اس نے چادر کے پلو سے آنکھیں صاف کیں اور ٹھہرے ٹھہرے انداز میں سانسیں بھر کر پلٹی ”چلتی ہوں میں“ اس نے کہا ،صرف تم ہی نہیں میں بھی امتحان میں مبتلا ہوں۔ ایک ایسے امتحان میں جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا …. ہمیں اب اپنے اپنے وعدوں کا پاس رکھنا ہے، ہمارے اختیار میں کچھ نہیں رہا، ہماری سانسوں پر کسی اور کا اختیار ہے، یہ کہہ کر وہ جلدی سے باہر نکل گئی اور میں کتاب کے ورقوں میں اپنا چہرہ چھپا کر ہچکیاں بھر بھر کر رونے لگا .۔۔ میں روتا رہا بہت رویا …. کہ ایک گداز نہایت مہرباں اور خلیق ہاتھ میرے کندھے پر محسوس ہوا، میں نے پلٹ کر دیکھا، آنسوﺅں کی دھند کے پار ٹاہلی والی سرکار کا چہرہ دھندلا دھندلا نظر آ رہا تھا۔

”نہیں میرے بچے ایسا بالکل نہیں کرنا یہ عشق کی آگ تجھے بھڑکا رہی ہے، اگرچہ عشق حقیقی عشق مجازی تک لے جاتا ہے مگر میرے بچے تو وعدہ کر چکا ہے تو صرف ایک عشق کی راہ کا مسافر ہے ،تو امتحانوں میں سرخرو ہو گا، تجھے آرزوئے زلیخا نصیب ہو گی مگر اس طرح نہیں“ میں بے تابی سے محروم ایک بچے کی طرح بلکتا ہوا اٹھا اور ٹاہلی والی سرکار کے سینے سے لگ کر اپنے سینے میں اٹھنے والے طوفان کو مات دینے کی کوشش کی مگر آنسوﺅں کی دھند کے اس پار جاتے ہی ٹاہلی والی سرکار کا وجود عنقا ہو گیا۔ بابا …. سرکار ۔۔۔میں چاروں طرف دیکھنے لگا۔ کاندھے پر ان کے ہاتھوں کا لمس میری آنکھوں کے سامنے ان کا شفیق چہرہ ،سماعتوں میں ان کے الفاظ اور کمرے میں ان کے وجود کی مخصوص مہک کا احساس اس قدر قوی تھا کہ میں انہیں غائب پا کر بھی انہیں اپنے آس پاس پا رہا تھا۔

میں نصاب کی کتاب ایک طرف رکھ کر ہجر وصل کی کتاب کو چپکے چپکے پڑھ رہا تھا، میری ہچکیاں فضا میں پھیل چکی تھیں اور آنسو اوس بن کر مجھے ہی بھگو رہے تھے۔ ٹاہلی والی سرکار کا احساس بھی مجھے اس بھیگے ہوئے ماحول میں شدت سے ہو رہا تھا۔ وہ ہولے ہولے نرمے نرمے مجھے سمجھا کر جا بھی چکے تھے مگر میں ابھی تک کہیں کھویا ہوا تھا۔ یہ عشق اور وہم بھی کیا چیز ہوتے ہیں، اگر دل میں بس جائیں یا عقل میں پھنس جائیں انہیں نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگرچہ مجھے واضح طو ر پر یہ سمجھایا جا چکا تھا کہ مجھے زلیخا کا خیال چھوڑ دینا ہو گا اور اسے بھول کر مجھے زبان بند رکھ کر اپنے ماحول میں جینا ہے لیکن یہ میرے لئے بڑا مشکل ہو رہا تھا۔ میں بے بس پرندے کی طرح کمرے میں چکر کاٹنے لگا۔ بہت چاہا بڑی کوشش کی کہ زلیخا کا چہرہ‘ اس کا خیال اور اس کی باتیں میرے ذہن سے نکل جائیں لیکن کوئی چارہ نہیں تھا۔

بالاخر میں کمرے سے نکل کر باغیچے میں چلا گیا۔ میں اپنی سوچوں کو ذہن کے کواڑوں سے باہر پھینکنے سے تو رہا۔ ایک ہی راستہ تھا خود کو دوسرے ماحول میں مصروف کرکے میں زلیخا کی یادوں سے فرار حاصل کر سکتا تھا لیکن یہ بھی دل کو سمجھانے کے لئے طفل تسلی ہی تھی۔ باغیچے میں کھڑا تھا کہ نظریں بے اختیار زلیخا کے کمرے کی طرف اٹھ گئیں۔ وہ اس وقت چھجے میں کھڑی تھی اور خلاﺅں میں کچھ تلاش کر رہی تھی۔ میں نظریں چرا کر ایک پودے کے پیچھے چلا گیا، چند ثانئے بعد میرا دل مچلنے لگا اور میں پودے کے پتے ہٹا کر شاخوں کی اوٹ سے زلیخا کو دیکھنے لگا کہ معاً کسی نے دھیرے سے میرے کاندھے پر دستک دی

”کک …. کون“ میں ہڑبڑا کر پلٹا تو ملک صاحب کھڑے تھے۔پتر یہاں کیا کر رہے ہو ؟ وہ باغیچے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھنے لگے۔۔

بس …. وہ چاچا جی ،میں بوکھلا کر بولا وہ ناں …. میرا دل گھبرا رہا تھا اس لئے یہاں چلا آیا، وہ کیا ہے ناں …. مجھے پودوں سے بڑا پیار ہے دل گھبراتا ہے تو ان کے پاس آ جاتا ہوں بڑا سکون ملتا ہے۔مگر پتر ابھی تو ادھر حبس ہے اس وقت پودوں کے نیچے نہیں بیٹھنا چاہئے“

میں کیا کہتا کہ میرے اندر تو اس سے بھی زیادہ حبس ہے، میرے بولنے سے پہلے ہی بولے”پتر کچھ دنوں کے لئے میں اسلام آباد جا رہا ہوں، ادھر میں بری امام بھی جاﺅں گا تم کبھی گئے ہو بری امام ؟؟؟ہاں …. گیا ہوں، کئی سال پہلے گیا تھا، میں نے کہا۔

وہ منہ میرے قریب لا کر سرگوشی کے انداز میں بولے ”ادھر اسلام آباد میں میرا ایک پرانا دوست ہے اسے روحانیت اور تصوف سے عشق ہے، وظائف کرتا رہتا ہے، بڑا نیک آدمی ہے۔ اس کے مرشد بری امام کی پہاڑیوں میں رہتے ہیں تم نے بری امام کی پہاڑیوں میں اس غار کو دیکھا ہے جہاں بری امام سرکار عبادت و ریاضت کرتے تھے؟؟؟

نہیں …. میں نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا۔ کیا اس غار میں کوئی ہے؟؟میں نے دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے پوچھا

سنا ہے، میں نے دیکھا نہیں، کہتے ہیں بڑی چھوٹی اور تنگ سی غار ہے اس میں ایک انسان کیڑوں کی طرح رینگ کر اندر داخل ہو سکتا ہے۔ لوگ اس غار کو دیکھنے جاتے ہیں، میرے دوست شیخ امجد کے مرشد اس غار میں ریاضت کرتے رہے ہیں۔آپ کیوں جا رہے ہیں؟میں نے پوچھا۔۔۔

میں کیوں جا رہا ہوں؟ وہ آہ بھر کر بولے، ان کے چہرے پر دکھوں کی گھٹائیں چھا گئیں۔ زلیخا کے چھجے کی طرف نظریں اٹھا کر کہنے لگے ”تم نے دیکھا ہے میری زلیخا کو کیا ہو گیا ہے؟؟ دیکھو میرے بچے، میں تمہیں اپنے بہت قریب سمجھتا ہوں اس لئے کسی سے اس بات کا ذکر نہیں کر رہا، صرف تمہیں بتا رہا ہوں میں شیخ امجد کے مرشد سے مل کر تمہارے اس ریاض شاہ اور بابا جی کے بارے میں بہت سی باتیں کرنا چاہتا ہوں ممکن ہے وہ ہماری کچھ مدد کر دیں۔۔۔لیکن چاچا۔۔۔میں کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ وہ بولے۔

نہیں پتر تیرے سوا میں کسی اور کو اس مقصد میں شریک نہیں کرنا چاہتا۔نہیں میں تو یہ کہہ رہا تھا اگر ریاض شاہ اور بابا جی کو معلوم پڑ گیا تو کیا ہو گا؟ میں نے خدشہ ظاہر کیا، میں ٹاہلی والی سرکار سے یہ وعدہ کر چکا تھا کہ اب ریاض شاہ کے خلاف کچھ نہیں کریں گے۔ اس لئے تو زلیخا واپس آ گئی تھی۔ اس وقت میں نے بات کو چھپانا مناسب نہیں سمجھا اور ملک صاحب کو ٹاہلی والی سرکار سے ملاقات اور ان سے کئے ہوئے وعدے کے بارے بتا دیا۔ میری بات سن کر وہ خاموش ہو گئے۔لیکن پتر جی“ وہ کہتے کہتے رک گئے۔ چند ثانئے بعد بولے

تو نے وعدہ کیا تو میں اس کی لاج رکھوں گا لیکن میں اپنے خاندان کو تباہ و برباد ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ ریاض شاہ نے میرے گھر کا تنکا تنکا اپنا غلام بنا لیا ہے۔ ایک صرف میں ہوں اور ایک تو، باقی سب کی عقلوں پر تو پردہ پڑ چکا ہے“ میں انہیں کیا بتاتا کہ میری عقل تو کب سے ماری جا چکی ہے۔ جس دشت کی سیاحی کو میں نکلا تھا اس میں تو دور دور تک کسی صحیح سمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ انسان مجنوں کی طرح بھاگتا پھرتا رہتا ہے اور منزل کا کوئی سُراغ نہیں ملتا۔ اس راہ میں عقل محو حیرت رہتی ہے، اس کے کرنے کا کوئی کام نہیں ہوتا، عقل تو ایک ضعف زدہ بوڑھے کے جسم جیسی ہوتی ہے جو کانپتی اور ہانپتی رہتی ہے کیونکہ …. کیونکہ …. وہ جو کچھ دیکھتا ہے ایک انہونی‘ غیر حقیقی بات سامنے آتی ہے ،عقل سے ماورا …. وہ اسرار کے پردوں میں لپٹی اس مخلوق اور اس دنیا کی وسعتوں کو پرکھنے اور ماپنے سے عاجز آ جاتی ہے۔ اس راہ میں عقل دو کوڑی کی نہیں رہتی۔

ٹھیک ہے …. میں آپ کو نہیں روکوں گا میرے پیپر ختم ہونے والے ہیں میں اب گھر واپس چلا جاﺅں گا۔

جب تک میں واپس نہ آ جاﺅں تو کہیں نہیں جائے گا، ملک صاحب نے کہا

دن ڈھل رہا تھا، میں اور ملک صاحب خاصی دیر تک باغیچے میں ہی باتیں کرتے رہے۔ زلیخا چھجے سے ہٹ چکی تھی۔ شام ہونے کو تھی جب میں کمرے میں واپس آیا اور مردہ ہاتھوں سے کتاب اٹھا کر پڑھنے لگا۔ مغرب کی اذان ہوئی تو میں نے کتاب چھوڑی نماز پڑھی اور دوبارہ پڑھنے میں مصروف ہو گیا۔ آدھ گھنٹہ بھی نہ گزرا ہو گا نوکر نے آ کر بتایا کہ ایک بوڑھی عورت اور مرد اپنی بیٹی کے ساتھ شاہ صاحب کے پاس آئے ہیں اور مجھے بلا رہے ہیں، میں سمجھ گیا بلقیس آئی ہو گی۔ میں جلدی سے شاہ صاحب کے کمرے میں پہنچا، وہ میرا ہی انتظار کر رہے تھے۔ بلقیس کی حالت خاصی بگڑی ہوئی تھی، بال اڑے ہوئے تھے اور چہرہ کسی اپاہج بوڑھے کی طرح عجیب سے انداز میں بگڑا ہوا تھا، مجھے دیکھتے ہی چلائی۔

یہی ہے…. یہی ہے، میں اسے مار ڈالوں گی، بلقیس کسی آفت زدہ گدھ کی طرح مجھ پر جھپٹی

رک جاﺅ …. اس لکیر کو پار کیا تو ماری جاﺅ گی، ریاض شاہ نے گرجدار آواز میں میرے اور بلقیس کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی۔

بلقیس چلائی ، بڑا دیکھا ہے میں نے تری لکیروں کو، یہ کہہ کر وہ لکیر پار کر گئی اور اس کا بال بھی بیکا نہیں ہوا۔ اس وقت تک میں صورتحال کا اندازہ نہیں لگا سکا تھا ۔مجھے سمجھ بھی نہیں آ رہی تھی کہ بلقیس کو اچانک کیا ہوا ہے، اس نے مجھے یوں پکڑ لیا تھا جیسے چیل جھپٹا مار کر چوزے کو اٹھاتی ہے۔ اس نے اتنے زور سے مجھے اٹھا کر فرش پر پٹخا تھا کہ میرے لبوں سے کربناک چیخ نکل گئی اور لگا جیسے بدن کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔ اس سے پہلے کہ شاہ صاحب اس کو پکڑتے وہ میرے سینے پر سوار ہو گئی اور میرے چہرے پر دونوں ہاتھوں کے ناخن میخوں کی طرح گاڑھ کر ہذیانی انداز میں چلائی

میں اپنی پیاس ترے خون سے بجھاﺅں گی، ترا سرخ سرخ خون پیوں گی ،نیچے گرنے سے میرا سر گھوم رہا تھا، چہرے میں اس کے ناخن اترتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ اس میں اتنی قوت آ گئی تھی کہ مجھے لگا میں منوں ٹن وزنی پتھر کے نیچے دب گیا ہوں، یہ سب کچھ لمحوں میں ہو گیا تھا، اس وقت مجھے احساس ہوا کہ بلقیس کے اندر کوئی طاغوتی قوت داخل ہو چکی ہے۔ میرے چہرے سے خون پھوٹنے لگا تھا۔ اس نے ناخنوں پر لگے خون کو چاٹ لیا اور استہزائی انداز میں قہقہے لگانے لگی۔ بڑا میٹھا ہے ترا خون، مزہ آ گیا، مزہ آ گیا وہ سر لہرا لہرا کر قہقہے لگانے لگی۔ مجھے یہ چند لمحے صدیوں پر بھاری لگے، میں نے چلانا چاہا مگر میری آواز حلق میں ہی دب کر رہ گئی، وہ میرے چہرے پر ناخن مار مار کر خون نکالتی اور انگلیاں چاٹنے لگتی۔ مجھے لگا جیسے ریاض شاہ مجھے یونہی تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ بلقیس کے اندر طاغوتی قوت اس سے بھاری تھی جو اس کی کھینچی ہوئی لکیر پار کر گئی تھی۔ میں سخت اذیت میں تھا اور ماہی بے آب کی طرح مچلنے لگا، کوئی بھی تو آگے نہ بڑھ رہا تھا

بڑا مزہ آ رہا ہے، واہ بڑا مزہ آ رہا ہے“ بلقیس کا جنون بڑھتا جا رہا تھا اور میرے ذہن پر اب اندھیرا چھانے لگا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے دم نکلنے کو اب کچھ ہی سمے رہ گیا تھا، میرے ذہن سے ہر کسی کا تصور مٹتا جا رہا تھا کہ یکایک دروازہ کھلا اور ایک مانوس چیختی چلاتی آواز میرے تصور کو زندہ کرتی ہوئی رگ و پے میں داخل ہو گئی۔

شاہد …. یہ زلیخا تھی، یہ آواز میرے بہت قریب سے آ رہی تھی۔ اس کے ساتھ بلقیس نے زور سے چیخ ماری تھی اور الٹ کر پیچھے گر گئی تھی، میرے سینے سے بوجھ اترا تو سکون کی ایک لہر سی محسوس ہوئی لیکن میرا سارا چہرہ جلنے لگا تھا جگہ جگہ سے خون رس رہا تھا لیکن میں جلد ہوش میں آ گیا۔

میں نے دیکھا زلیخا کے ہاتھ میں بڑا سا ڈنڈا تھا۔ وہ بلقیس کے سر پر کھڑی تھی اس نے زور سے ڈنڈا بلقیس کی ٹانگوں پر مارا وہ بلبلانے لگی، خون پئے گئی تو اس کا ؟؟؟ے پی …. اب اپنا خون چاٹ لے، بلقیس کے سر سے خون نکل کر اس کے چہرے پر بہہ رہا تھا۔ بلقیس کی ماں اور اس کے باپ نے آگے بڑھ کر زلیخا کو روکنا چاہا تو وہ دھاڑی ”ڈائن اس کا خون پی رہی تھی تو تب تم آگے نہیں بڑھے۔ اب بڑی تکلیف ہو رہی ہے، پیچھے ہٹ جاﺅ تم۔زلیخا …. بس کرو یہ مر جائے گی“ اس لمحہ ریاض شاہ نے زلیخا کے ہاتھ سے ڈنڈا چھین لیا۔ زلیخا نے قہر بھری نظروں سے اسے دیکھا اور پھر مرے پاس بیٹھ گئی۔ اپنے دوپٹے کے پلو سے میرا چہرہ صاف کرنے لگی، اس کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں لیکن میرے چہرے سے خون بہتا دیکھ اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔اٹھو کمرے میں چلو میں دوا لگاتی ہوں۔ اس کے لہجے میں اتنا پیار اور جذباتیت تھی کہ میں کسی سحرزدہ انسان کی طرح اس کے ایک اشارے پر اٹھا۔ اس نے میرا بازو تھام رکھا تھا، سامنے سے ملک صاحب آ رہے تھے اپنے والد کو آتا دیکھ کر زلیخا ایک لمحے کے لئے جھجکی لیکن اس نے میرا بازو نہیں چھوڑا۔کیا ہوا ہے اسے؟؟ملک صاحب نے میرے چہرے کو خون میں لتھڑا ہوا دیکھا تو پریشان ہو گئے، میں نے ہانپتے ہوئے انہیں صورتحال بتائی۔

اوہ میرے اللہ …. میری حویلی تو اب آسیب زدہ لوگوں کا مقبرہ بن جائے گی، ملک صاحب لاچارگی اور غصے کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ بولے ”بیٹی تو اسے دوا لگا دے میں دیکھتا ہوں اندر کیا ہو رہا ہے۔نہیں آپ نہیں جائیں گے،میں نے انہیں روک دیا۔ بس یہ اتفاقاً ہوا ہے۔ اس لمحے میرے دل سے آواز اٹھی۔ یہ اتفاق بھی بڑا حسین اور مہربان ہے، چلو اچھا ہوا۔ زلیخا میرے اندر کے گھاﺅ سے رستے خون کو تو صاف نہیں کر سکی، میرے آنسوﺅں کو نہیں پونچھ سکی۔ اس بہانے آج اس کی محبتیں اور چاہتیں کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔ مسیحائی ہاتھوں سے وہ میرے زخموں کو صاف کر رہی ہے، اچھا ہی ہوا ناں …. عشق کے مارے ایک گرفتہ حال دل کو ایسے مسیحا لمحے بہت اچھے لگتے ہیں، سو مجھے بھی یہ اتفاقیہ حادثہ بہت بھلا محسوس ہوا۔ زلیخا نے میرے چہرے پر دوا لگائی اور بولی ،اب تم آرام کرو اس کا لہجہ ایک تندرست اور باہوش لڑکی سے متعارف کرا رہا تھا۔

زلیخا …. تم اچانک کمرے میں کیسے آ گئی اور یہ سب؟؟ْمیں نہیں جانتی …. نہ جانے میں کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ تمہاری چیخ سنی تو مجھے لگا جیسے …. جیسے،وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔جیسے …. جیسےمیں خوشگوار انداز لئے اس سے مخاطب ہوا ،کہو ناں جیسے …. کیا ہوا؟؟کک …. کچھ …. نہیں“ وہ شرما گئی، اس کا شرمانا مجھے بہت اچھا لگا، اس کے گداز‘ ریشمی مخروطی ہاتھوں پر خون لگا ہوا تھا، مجھے بڑا بھلا لگا۔میں نے کہا ”زلیخا تمہارے ہاتھوں پر مہندی لگی ہے؟؟اس نے چونک کر ہاتھ دیکھے ،نہیں تو۔

یہ کیا ہے؟؟؟میں نے اشارہ کیا۔یہ …. خون کے دھبے ہیں، اس نے فوراً روئی پکڑی اور صاف کرنے لگی،

رہنے دو …. رہنے دو …. زلیخا …. میں ترے ہاتھوں میں مہندی نہیں رچا سکا میرے خون کے یہ قطرے سمجھ لو مہندی کا رنگ لئے ہیں۔ مہندی بھی تو ارمانوں کے خون سے رنگین ہوتی ہے، میرا لہجہ بھرا گیا۔ ایک بار پھر میں زلیخا کے سامنے خود کو بکھرتا ہوا محسوس کرنے لگا۔ اس نے روئی پھینک دی اور اپنے ہاتھ میرے سامنے پھیلا دئیے،لگا دو مہندی ، میں کب چاہتی ہوں تم اپنے خون سے میری مانگ اور سیندور کھینچو ، زلیخا کی آنکھیں آنسوﺅں سے بھر گئیں۔زلیخا …. میری زلیخا، میں نے بے قرار ہو کر اس کے ہاتھ پکڑ لئے۔ معاً عقب سے چاچی کی آواز آئی۔زلیخا …. زلیخا …. کیا ہوا میرے پتر کو، چاچی ہانپتی ہوئی میرے پاس آ گئیں، میرا چہرہ ہاتھوں میں لے کر بولیں ماں صدقے زیادہ خون تو نہیں نکلا؟؟؟؟نہیں …. زلیخا نے دوا لگا دی ہے، اب بہت سکون ہے، میں نے کن اکھیوں سے زلیخا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ”زلیخا تو ڈاکٹرانی لگتی ہے مجھے“ میری بات سن کر وہ شرما گئی۔ہاں پتر …. اس کے ہاتھوں میں جادو ہے جادو ، میرے اورتیرے چاچا جی کے سر میں جب بھی درد ہوا ہے اس نے جب بھی دبایا درد منٹوں میں غائب ہو گیا۔

”لیکن ماں …. میرا درد میرے ہاتھوں سے دور نہیں ہوتا“ زلیخا مسکراتے ہوئے بولی۔ کئی دنوں بعد اس کو یوں ہنستے ہوئے دیکھا تھا

”کچھ لوگ صرف فیض دینے کے لئے پیدا ہوتے ہیں“ میں نے کہا تو چاچی جھٹ سے بولیں

”جیسے پتر موچی کی اپنی جوتی ٹوٹی رہتی ہے۔ یہ تو ایسے ہی ہوتا ہے۔ اب تم اپنے شاہ صاحب کو دیکھ لو دوسروں کو نیکی کا پرچار …. خود خرکار …. بس یہ نصیب کی بات ہے جو دوسروں کا دکھ بانٹتے رہتے ہیں‘ جن کے ہاتھ دوسروں کے لئے اٹھے رہتے ہیں‘ وہ خود اپنے دکھوں کو ختم نہیں کر سکتے اور نہ اپنی خالی جھولی بھر سکتے ہیں۔ یہ تو داتا کی دین ہے۔ وہ چاہے تو بانٹنے والے ہاتھوں کو بھی سکھ چھاﺅں دے نہ دے تو نہ دے۔ اس سے کیا گلہ“

”ماں …. میری سوہنی ماں“ زلیخا نے ماں کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔ مدتوں بعد مجھے بہت سی چیزیں اچھی لگنے لگی ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے میں آزاد تتلی ہوں۔ ساری دنیا میرے اندر بس گئی ہے۔ مجھے بہت بھلا لگنے لگا ہے ماں …. نہ جانے کیسے۔ اچانک صرف ایک آدھ دن میں۔ اس لئے اب میرے سامنے ایسی کوئی بات نہ کرنا کہ میں پھر مایوسیوں اور دکھوں کے کنویں میں گر جاﺅں“

”ماں صدقے واری …. کنویں میں گریں ترے دشمن۔ تو خوش رہے گی تو یہ سارا گھر خوش رہے گا میری بچی۔ تجھے خوش دیکھ کر میں دوبارہ جی پڑی ہوں“ چاچی اس کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہہ رہی تھی ”شاہد پتر …. میں نے تجھ سے ایک بات کرنی ہے …. لیکن نہ جانے وہ بات کرتے ہوئے میرے ہونٹ کیوں بند ہو جاتے ہیں۔ دل تو بہت کرتا ہے لیکن کچھ سمجھ نہیں آتی کیسے کہوں“ وہ زلیخا کا سر اپنے کندھے کے ساتھ تھپتپھانے لگی۔ چاچی کی بات سن کر نہ جانے میرے دل میں میٹھا میٹھا سا درد کیوں جاگنے لگا تھا۔ نہ جانے کیوں۔ لہجے بھی تو من کی باتیں ہوا میں اچھال دیتے ہیں۔

”ماں“ وہ شوخ سی ہو کر کہنے لگی ”میں تو کہتی ہوں آج جو کہنا ہے کہہ دے۔ کل ہو نہ ہو۔ آج تو ہے ناں۔ اس لئے میرے سامنے ہی کہہ ڈال“۔

”ہائے میری بچی“ چاچی کو اس کی اداﺅں پر پیار آ رہا تھا۔ ممتا کی ماری نے نہ جانے کتنے برسوں تک بیٹی کے سوگوار چہرے کو دیکھا تھا۔ آج خوشی اور ترنگ دیکھ کر وہ بار بار اس پر واری جا رہی تھی۔

”ترے سامنے تو نہ کہوں گی“ چاچی کہنے لگی ”تو جا …. پھر کہوں گی“

”ماں“ وہ مصنوعی خفگی بھرے لہجے میں اس کو آنکھیں دکھانے لگی۔ ”ایسی کون سی بات ہے جو مجھے نہیں بتانا چاہتی“

”جا ناں …. چل تو…. تجھے بھی بتا دوں گی۔ ویسے تو بنتی بڑی بھولی ہے جتنی ہے میں جانتی ہوں۔ تو اچھی طرح جانتی ہے میں کیا کہنا چاہتی ہوں“

”ہیں …. ماں …. کیا کہا …. میں جانتی ہوں“ وہ مچل اٹھی۔ نٹ کھٹ انداز لئے بولی

”اچھا وہ کون سی بات ہو سکتی ہے جو میں جانتی ہوں لیکن سمجھ نہیں پا رہی۔ لیکن ماں تو سمجھتی ہے کہ میں سب جانتی ہوں لیکن وہ بات ہے کیا …. ہائے میرے ربا …. یہ کیسی پہیلی ہے“

”اچھا تو اندر جا“

”میں تو نہ جاﺅں“ زلیخا ماں کے بازو سے لپٹ گئی

”میرے سامنے کرو بات“

”دیکھا ہے شاہد پتر …. اب میں تیرے ساتھ اس کے سامنے اس کی بات کیسے کروں۔ اسے تو شرم نہیں آ رہی ،سنتے ہوئے، لیکن مجھے تو لاج ہے ناں …. بھلا کوئی ماں بیٹی کے سامنے ایسی بات کہہ سکتی ہے۔“ چاچی نے نہ کہتے ہوئے بھی وہ بات کہہ دی جو وہ کہنا چاہ رہی تھی۔ اس کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ تھی۔ مجھے شرم آ گئی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ زلیخا نے ایک بار تو چونک کر میری طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں ہزاروں شمعیں جل اٹھی تھیں۔ وہ نظریں اپنی ہتھیلیوں پر مرکوز کرکے دھیرے دھیرے سے مسکرانے لگی۔ ساری بات سمجھ جانے کے باوجود میں نے جان بوجھ کر بدھو بن کر کہا۔

”چاچی …. کیسی بات کرنی ہے آپ نے …. میں سمجھا نہیں“ میں نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی

”ہیں کیا تم سمجھے نہیں ابھی“ چاچی نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ زلیخا کے ماتھے پر بل پڑ گئے

”نہیں“ میں نے کہا

”تو نہیں سمجھا تو نہ سمجھ ۔میں تو سمجھی تھی تم بہت کچھ سمجھ چکے ہو گے لیکن مجھے کیا معلوم تھا نرے بدھو ہو“ چاچی کے لہجے میں شوخی برقرار تھی۔”اب یہ بات میں تمہاری والدہ کو سمجھاﺅں گی“

”کک کیا …. خدا کے لئے ایسا نہیں کرنا۔ امی کو پتہ چل گیا کہ حویلی میں میرے ساتھ کیا ہوا ہے تو وہ جوتے مار مار کر کھال اتار دیں گی“ میں جلدی سے بولا

”اچھا ہے۔ میں کہوں گی چار جوتے ہمارے نام کے بھی لگا دیں چاچی“ زلیخا بولی ”شاید کھال تو نہ اترے کم از کم دماغ تو ٹھکانے آ جائے گا“ اس کی بات سن کر میں ہنس دیا

”چاچی …. بہتر ہے آپ امی سے مل کر بات کر لیں“ میں نے شرماتے ہوئے کہا اور اٹھ پڑا ”لیکن چاچی …. یہ لڑکی بڑی خونخوار ہے۔ ڈنڈا ہاتھ میں پکڑے تو سر کھول کر رکھ دیتی ہے۔ مم …. میں تو ناحق مارا جاﺅں گا“ یہ کہہ کر میں جلدی سے باہر نکل گیا۔ عقب میں زلیخا اور چاچی کے ہنسنے کی آوازیں آتی رہیں

میں کمرے میں پہنچا اور بستر پر دراز ہو گیا۔ میرے ذہن پر چاچی کی باتوں سے بہت خوبصورت تصور پھیلتا جا رہا تھا۔ ”کاش ایسا ہو جائے“ میں خوشگوار تصورات کو حقیقت میں بدلنے کی دعا کرنے لگا۔ لیکن پھر کیا ہوا کہ دعا کرتے کرتے میرے دل میں ایک وہم جڑ پکڑ گیا ”زلیخا تمہاری نہیں ہو سکتی۔ وہ تم جیسے انسانوں کے قابل نہیں ہے اس پر کسی اور کا حق ہے تمہیں اس کے حق سے دستبردار ہونا ہو گا“

”نہیں …. میرے مولا …. یہ سب کیا ہے۔ میرے مولا مجھے اس فریب سے نکال دے۔ زلیخا میرے قابل ہے۔ اس کو مجھ سے چھیننے کے لئے یہ سارا ڈرامہ کیا جا رہا ہے“

بابا جی‘ ٹاہلی والی سرکار کے ساتھ عہد و پیماں اور باتیں ایک ایک کرکے میرے سامنے آنے لگیں۔ سبھی نے مجھے باور کرایا تھا کہ زلیخا صرف اور صرف ریاض شاہ کی ہو سکتی ہے۔ وہ بابا جی کی امانت ہے‘ بابا جی نے اسے بیٹی بنایا ہے۔ وہ کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔ یہ باتیں یاد آنے سے میری وحشت بڑھنے لگی۔ میرا پورا بدن پسینے میں بھیگ گیا۔ میں اٹھ کر ٹہلنے لگا۔ اس دوران دروازہ کھٹکا۔

”کون“ میں نے بے اختیار ہو کر پوچھا

”میں ہوں بلقیس“

”بلقیس …. یا الہٰی …. یہ پھر آ گئی“ میرا سر گھومنے لگا اور کچھ وقت پہلے کا منظر میرے ذہن میں تازہ ہو گیا۔ اس کا بگڑا ہوا چہرہ‘ ہاتھ میرے خون میں بھیگے ہوئے…. اب وہ میرے کمرے میں آنا چاہتی تھی۔ میرے ہاتھ پاﺅں پھول گئے۔

میں نے دروازہ کھولنے میں تردد سے کام لیا۔

”شاہد صاحب۔ خدا کے لئے دروازہ کھولیں“ بلقیس روہانسی ہو کر بولی

”اب کیا لینے آئی ہو“ میں بے اختیار ہو کر اپنی گردن اور چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میرے زخموں سے ابھی تک ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ بلقیس کی آواز سن کر تو سارے زخم تازہ ہو گئے ”شاہ صاحب کہاں ہیں“ میں نے دروازے کھولے بغیر پوچھا

”اپنے کمرے میں ہیں …. آپ دروازہ کھولیں۔ میں اب بالکل ٹھیک ہوں“

”اگر ٹھیک ہو گئی ہو تو اپنے گھر چلی جاﺅ“ میں نہ جانے دروازہ کھولنے سے کیوں کترا رہا تھا

”وہ تو میں جا ہی رہی ہوں۔ لیکن آپ سے ملے بغیر نہیں جاﺅں گی۔ میں آپ سے معافی مانگنے آئی ہوں“ اس کی آواز میں لرزش صاف محسوس ہو رہی تھی

”جاﺅ جاﺅ میں نے معاف کر دیا“ میں نے کہا تو وہ پھر بھی دروازہ کھلوانے پر بضد رہی

”یا اللہ“ میں بڑبڑایا ”کہیں یہ لڑکی جھوٹ تو نہیں بول رہی۔ میں نے دروازہ کھول دیا تو یہ پھر مجھ پر جھپٹ پڑے گی“ میں سوچنے لگا لیکن پھر ایک قوت میرے اندر بیدار ہوئی شاید کسی نے مجھے کچھ یاد دلایا تھا۔ میں نے اپنی حفاظت کے لئے وظیفہ پڑھ کر خود پر پھونک ماری اور دروازہ کھول دیا۔

بلقیس کی حالت اب معمول پر آ چکی تھی لیکن چہرہ ابھی تک زرد تھا۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے تھے۔

”میں نے آپ کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔ مجھے معاف کر دیں۔ یہ سب انجانے میں ہوا ہے“ اس کی آنکھیں آنسوﺅں سے بھر گئیں

”انجانے میں“ مجھے غصہ آ گیا ”میرا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے تو نے اور کہتی ہو انجانے میں ہوا ہے۔ اللہ کی پناہ۔ میرا خون مزے لے کر چاٹتی رہی ہو۔ اب کہتی ہو انجانے میں ہوا۔ تم انجانے میں مجھے بوٹی بوٹی کرکے ہڑپ کر جاتی اورپھر میری ہڈیوں پر بیٹھ کر آنسو بہا بہا کے معافیاں مانگ کر خود کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرتی“ میں بولتا ہی چلا گیا۔ وہ روتی رہی۔ ہاتھ جوڑ کر‘ رو رو کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن میرے دماغ کی ”فرکی“ گھوم چکی تھی۔ میں نے اس کی ایک نہ سنی۔ خود مجھے اپنی حالت کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ شکر ہے اس وقت کسی نے میری آواز نہیں سنی تھی۔ ورنہ ایک اور تماشا لگ جاتا۔ میں نے بلقیس کو سخت الفاظ میں واپس جانے کے لئے کہا لیکن وہ مجھ سے زیادہ ضدی تھی۔ روتی ہوئی فرش پر بیٹھ گئی۔

”جب تک معاف نہیں کریں گے نہیں جاﺅں گی۔ ادھر یہیں بھوکی پیاسی مر جاﺅں گی“

”بی بی …. مرنا ہے تو باہر جا کر مرو میرے سر چڑھ کر کیوں مرنا چاہتی ہو“

خاصی دیر گزر گئی۔ میرا غصہ بھی اترنے لگا اور میں پھر ہانپتا ہوا چارپائی پر بیٹھ گیا۔ دماغ ٹھنڈا ہونے پر احساس ہوا کہ میں نے بلقیس کو بہت کچھ کہہ دیا ہے۔ وہ فرش پر گھٹنوں میں سر دئیے سسکیاں بھر رہی تھی۔ مجھے اپنے آپ سے ندامت محسوس ہونے لگی۔

”بلقیس“ میں خجالت آمیز لہجے میں بولا ”معاف کرنا مجھے پتہ ہی نہیں چلا …. تمہیں کیا کچھ کہہ گیا ہوں“

اس نے نظریں اٹھائیں ۔ آنکھیں متورم ہو رہی تھیں لیکن اس کا چہرہ پھر بھی کھل اٹھا۔

”آپ نے مجھے معاف کر دیا“

”بھئی …. اب معافی کیسی حساب برابر ہو گیا۔ اب تو میں بھی معافی کا طلب گار ہوں“ میں پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ مسکرایا ”مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا خیر یہ بتاﺅ کہ مجھے دیکھتے ہی تمہیں غصہ کیوں چڑھ گیا تھا“

”مجھے غصہ تو نہیں آیا تھا۔ میں تو اس کے قبضے میں تھی“ وہ کہنے لگی

”کس کے“ میں نے پوچھا

”وہی جو مجھے برباد کر رہا ہے“ وہ نفرت آمیز لہجے میں بولی ”یہ مکھن شاہ کی چھوڑی ہوئی جن زادی ہے۔ جو مجھے اکساتی رہتی ہے۔ کہتی ہے میں مکھن شاہ کی ملنگنی بن جاﺅں۔ پہلے مجھ پر ایک جن آتا تھا۔ مکھن شاہ نے اسے اتار دیا لیکن مکھن لگا کر اس نے جن زادی کو مجھ پر سوار کر دیا“

”لیکن اس کی میرے ساتھ کیا دشمنی ہے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ باﺅلی کیوں ہو گئی تھی“

”میرا خیال ہے آپ ہمیں مکھن شاہ کے آستانے سے لے جا کر یہاں لے آئے تھے۔ اس نے یہ حملہ حسد کی وجہ سے کرایا“

”اوہ …. میں سمجھ گیا …. سمجھ گیا“ میں پرخیال انداز میں سوچنے لگا۔

”اس کا مطلب ہے مکھن شاہ نے مجھے اپنی ہٹ لسٹ پر رکھ لیا ہے۔ خیر کوئی بات نہیں۔ میں اسے اینٹ کا جواب پتھر سے دوں گا“ میرے اندر کوئی انتہائی جوش کے عالم میں عہد کر رہا تھا۔ ”مکھن شاہ …. اگر تم اپنی سفلی طاقتوں کے گھمنڈ میں مبتلا ہو تو میرے ساتھ میرا اللہ ہے۔ دیکھتا ہوں تم اب مجھ پر کیسے حملہ کرتے ہو“

”اب طبیعت کیسی ہے“ میں نے پوچھا

”بہتر ہوں …. شاہ صاحب نے مجھے تعویذ دیا ہے۔ کہتے ہیں اب کچھ نہیں ہو گا۔ انہوں نے تین دن بعد دوبارہ آنے کے لئے کہا ہے“

”اللہ خیر کرے گا انشاءاللہ تم جلد ٹھیک ہو جاﺅ گی۔ میں نے اسے تسلی دی‘ اب تم جاﺅ“

”جاﺅں“ نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگی۔

”ہاں …. اب جاﺅ“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ”اور اب اچھے بچوں کی طرح گھر میں رہنا ہے اور خوب پڑھنا ہے۔ شاہ صاحب نے تعویذ دیا ہے تو تم جلد ٹھیک ہو جاﺅ گی“

”اچھا …. میں چلتی ہوں“ اس کا لہجہ نہ جانے کیوں اداس ہو گیا۔ نظریں میرے چہرے پر مرکوز کئے وہ الٹے قدموں دروازے کی طرف بڑھنے لگی

”ارے یہ کیا …. سیدھی رخ ہو کر جاﺅ ناں“ میں نے ہنستے ہوئے کہا

”میں جاتی ہوں“ اس کا لہجہ بدستور اداس تھا

”کیا بات ہے لگتا ہے تمہاری طبیعت ابھی ٹھیک نہیں ہوئی“ میں نے پوچھا

”ٹھیک تو ہوں …. مگر“ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی

”آﺅ میں چھوڑ آﺅں“ میں نے اسے ساتھ لیا اور باہر والے کمرے میں لے آیا

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *