جنات کا غلام

جنات کا غلام

Last part 6

میرے اندر طمانیت کے لڈو پھوٹنے لگے تھے خدشہ بہرحال تھا کہ اگر شاہ صاحب کو معلوم ہو گیا تو کیا ہو گا۔ لیکن جب ملک صاحب اٹل فیصلہ کر چکے تھے تو مجھے اپنی جاں سے گزر کر اپنی جاں تک پہنچنے کا حق حاصل ہو گیا تھا۔ بہت سے جذبات میرے خوف کو اپنے پیروں تلے روند کر آگے ہی آگے بڑھ گئے تھے۔ ہم نے کسی کو نہیں بتایا ہم کہاں جا رہے ہیں۔ زلیخا ہمارے ساتھ تھی‘ ہم کار میں بیٹھے اور کوٹلی بہرام سے ہوتے ہوئے حضرت جی کی مسجد میں پہنچ گئے۔ نماز ظہر ان کی امامت میں ادا کی۔ نماز کے بعد ایک جمِ غفیر ان کی زیارت اور دعاؤں سے فیض یاب ہونے کے لئے امڈ آیا۔ ہم بہت پیچھے بیٹھے تھے۔ زلیخا کو ہم نے کار میں بٹھا دیا تھا۔ حضرت جی نے خواتین کو اپنے حجرے کی طرف بٹھا رکھا تھا۔ میں زلیخا کو اندر لے آیا اور اسے بھی حجرے میں بٹھا دیا۔ مجھے بے قراری تھی کہ جلد از جلد حضرت جی سے ملاقات ہو۔ اس لئے میں بار بار اس امید پر کھڑا ہو جاتا تاکہ ان کی نظر مجھ پر پڑے تو ممکن ہے صبح کی شناسائی کام آ جائے اور وہ مجھے بلا لیں۔ لیکن نماز عصر تک ہماری باری نہ آئی۔ ملک صاحب بار بار پہلو بدلتے رہے۔ عصر کی اذان کے ساتھ ہی لوگ وضو کرنے کے لئے اٹھے تو میں نے موقع غنیمت جانا اور فوراً حضرت جی کے پاس پہنچ کر ان کے دست مبارک کو تھام لیا۔ میں جذبات سے مغلوب ہو رہا تھا۔ حضرت جی نے مجھے دیکھا تو ایسے بولے جیسے مجھے جانتے ہی نہ ہوں ’’نماز پڑھ لو بھئی ۔۔۔ پھر ملاقات کریں گے‘‘

عصر کی نماز پڑھنے کے بعد میں اور ملک صاحب حضرت جی کے پاس پہنچے تو انہیں دیکھتے ہی ملک صاحب کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔

’’صبر کرو میرے بیٹے ۔۔۔ اللہ اپنے بندوں کو امتحان میں مبتلا کرتا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بندے کو سزا دے کر خوش ہو رہا ہے۔ بس تمہاری استقامت اور تمہارے ایمان کو آزمانا مقصود ہوتا ہے۔ اگر تو شاکر نکلا تو شکر سے مالامال ہو جائے گا اور اگر بہک گیا تو گر گیا‘‘ حضرت جی ملک صاحب کے ہاتھ پر اپنا دست مبارک رکھ کر بولتے رہے۔ ’’لاؤ کہاں ہے ہماری بیٹی‘‘ ۔حضرت جی نے ہمارے دلوں کی زبان سمجھتے ہوئے پوچھا۔

میں اٹھنے لگا تو حضرت جی خود اٹھ پڑے اور حجرے کی طرف کھلنے والے دروازے کی طرف رخ کرکے بیٹھ گئے۔ ’’زلیخا بیٹی‘‘ ملک صاحب نے اسے آواز دی تو وہ چادر میں لپٹی معصوم سی گڑیا حضرت جی کے پاس آ گئی۔

حضرت جی کی محفل ایک سادہ پوش صاحب شریعت کی مجلس تھی۔ نہ اگربتی جل رہی تھی‘ لوبان‘ عطر اور کافور کی مہک سے محروم اس فضا میں صرف انسانوں کی سانسیں گھلی ہوئی تھیں۔

زلیخا چادر میں لپٹی حضرت جی کے سامنے آئی۔ حضرت جی نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر نظریں حیا سے نیچے کرکے زیرِ لب کچھ پڑھنے لگے۔

’’زلیخا بیٹی دل پر بوجھ سا محسوس کرو تو مجھے خبردار کر دینا‘‘

اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ہلکی سی آواز میں بولی ’’جی‘‘

حضرت جی دوبارہ پڑھائی کرنے لگے۔ پانچ منٹ تک مسلسل پڑھتے رہنے کے بعد انہوں نے نظریں اٹھائیں اور زلیخا کی پیشانی اور دائیں بائیں کاندھے پر پھونک مار کر باآواز بلند پڑھنے لگے ’’یا شافی بحق یا حفیظ علی کلِ شئی قدیر‘‘ وہ مسلسل اس وظیفہ کی گردان کرتے رہے۔ اس لمحہ مجھے احساس ہوا زلیخا کے چہرے پر کھنچاؤ کے تاثرات ابھر رہے اور لب پھڑک رہے ہیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہے لیکن کسی طاقت نے اس کے ہونٹ پکڑ رکھے ہیں۔ اس کی یہ کیفیت دیکھ کر میرا دل ہانپنے لگا۔ حضرت جی آنکھیں بند کئے پڑھائی کرتے جا رہے تھے ان کی پیشانی بھی شکنوں سے آلودہ ہو رہی تھی۔ میں نے چاہا کہ حضرت جی کو زلیخا کی کیفیت سے آگاہ کر دوں۔ اس کے دل پر پڑنے والا دباؤ مجھے اپنے قلب پر محسوس ہو رہا تھا۔ میں آگے بڑھ کر حضرت جی سے کہنے ہی لگا تھا کہ حضرت جی نے آنکھیں بند کئے ہوئے ہی دست مبارک بلند کرکے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کر دیا۔ اس کا مطلب تھا ان کی روشن خیالی اردگرد کے ماحول سے باخبر تھی۔

ادھر زلیخا کی حالت بگڑتی چلی جا رہی تھی۔ اس کے لب کسی مرئی طاقت نے اس قدر مضبوطی سے سی دئیے تھے کہ اس کے اندر ہونے والی جنگ سینے سے چہرے تک پھیل گئی تھی۔ دونوں جبڑے بار بار پھیل رہے تھے۔ آنکھیں دباؤ سے ابل پڑنے کو تھیں حتیٰ کہ اس کے گوندھے ہوئے سیاہ گیسو بھی بکھرنے لگے تھے۔ اس کی حالت دیکھ کر اس کے پاس بیٹھی عورتیں ڈر کر پیچھے ہٹ گئیں بلکہ ایک آدھ تو حجرے سے بھاگ بھی گئی تھیں۔ زلیخا نے دونوں ہاتھوں سے اپنے جبڑوں کو تھام لیا تھا۔ لگتا تھا جیسے اس کے اندر طوفان برپا کرنے والی قوت اس کے جبڑوں کا قیدخانہ توڑ کر باہر نکل جانا چاہتی ہے۔ میں ہی نہیں ملک صاحب بھی اس کی یہ حالت دیکھ کر لرز اٹھے تھے۔ اس کی حالت دیکھ کر وہ غبارہ یاد آ رہا تھا جس میں حد سے زیادہ ہوا بھر دی جائے تو وہ پھٹ جاتا ہے۔ زلیخا کے چہرے کو دیکھ کر یہی لگتا تھا کہیں اندرونی دباؤ اس کے پرخچے نہ اڑا دے۔ اس کے چہرے کے خدوخال بگڑتے چلے جا رہے تھے اور ادھر حضرت جی مسلسل پڑھتے جا رہے تھے۔ پھر اس کے بعد وہ ہوا جس کا آج بھی تصور کرتا ہوں تو پاؤں تک مجھ پر کپکپاہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ بدن کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسا دلخراش اور خوفناک منظر میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔

زلیخا کی قوت برداشت جواب دے گئی تھی یا اس کے اندر شورش برپا کرنے والی طاقت کا غضب آخری حد کو چھو چکا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ پھیلا کر ایک دم کھڑی ہو گئی اور اس کا بدن ایکا ایکی پھیلنے لگا۔ اس لمحہ حضرت جی پورے جاہ و جلال کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے زور سے اپنا دایاں ہاتھ زلیخا کے سر پر مارا اور اس کے سلے ہوئے لب اندرونی طوفان کے ریلے نے ایسے توڑ دئیے جیسے کسی ڈیم کے بند پانی کے دباؤ کی وجہ سے ایک دم کھول دئیے جائیں تو پانی پوری رفتار سے بہہ نکلتا ہے۔ زلیخا نے زوردار غرغراہٹ کے ساتھ خون بھری قے کی جو دور دور تک پھیل گئی۔ حضرت جی کے کپڑے خونی قے سے آلودہ ہو گئے۔ اس لمحہ انہوں نے قادر بخش کو آواز دے کر پانی لانے کے لئے کہا تھا۔ وہ بھاگتا ہوا گیا لمحوں میں ایک کٹورے میں پانی بھر لایا۔

زلیخا قے کرکے پیچھے کو گر گئی تھی‘ بری طرح ہانپ رہی تھی۔ پورا ماحول اس کی قے کے تعفن سے آلودہ ہو گیا تھا۔ سیاہی مائل قے کے کچھ چھینٹے مجھ پر بھی پڑے تھے۔ یہ دیکھ کر بہت سے سائل بھاگ گئے تھے۔

حضرت جی نے پانی لے کر اس پر دم کیا اور زلیخا چہرے کو اس پانی سے دھو دیا۔ ان کے چہرے پر اب اطمینان نظر آ رہا تھا۔ ’’شکر ہے اس ذات کریم کا جو انسان کو خناس کے سحر سے پاک کرنے میں ہماری مدد فرماتی ہے‘‘ حضرت جی نے چلو بھر پانی اپنے چہرے پر ڈالا اور اپنے سائلوں کی طرف دیکھ کر بولے ’’کیا ممکن ہے آپ لوگ آج چلے جائیں ۔

حضرت جی کے معتقد بڑے فرمانبردار تھے سب واپس چلے گئے۔ اب میرے اور ملک صاحب کے سوا کوئی اور سائل نہیں تھا۔

’’شاہد میاں‘‘ حضرت جی مجھ سے مخاطب ہوئے ’’میں غسل کرکے آتا ہوں‘ زلیخا بیٹی کچھ دیر بعد ہوش میں آ جائے گی‘‘ پھر وہ قادر بخش کی طرف رخ کرکے بولے ’’قادر بخش صفائی کر دینا‘‘

ملک صاحب بے ہوش زلیخا کے پاس بیٹھ گئے۔ ان کی آنکھیں تشکر بھرے آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں۔ بیٹی کا سر گود میں رکھ کر وہ ممتا بھرے انداز میں اس کے بکھرے بال سنوار رہے تھے ’’میرے مولا میری سختیاں معاف کر دے‘‘ وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر بار بار اللہ میاں جی سے دعا کر رہے تھے۔

میں نے قادر بخش کے ساتھ مل کر مسجد کے ہال کو پانی سے صاف کیا۔ طاق میں ایک گلاس رکھا ہوا تھا جس میں آٹا ڈال کر اس میں اگربتیاں لگائی ہوئی تھیں۔ فضا میں ابھی تک قے کی ناگوار بو رچی ہوئی تھی۔ میں نے اگربتیاں جلا دیں۔ تھوڑی دیر بعد ہی خوشگوار مہک پھیلنے سے بدبو ختم ہو گئی۔

حضرت جی غسل کرکے آ گئے تھے مگر ابھی تک زلیخا ہوش میں نہیں آئی تھی۔ حضرت جی نے اس کی نبض چیک کی اور اطمینان بھرے انداز میں سر ہلا کر بولے ’’اللہ کا شکر ہے بیٹی کی حالت سنبھل رہی ہے‘‘ وہ شفقت پدرانہ کے ساتھ زلیخا کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے بیدار کرنے لگے ’’اٹھو میری بہادر بیٹی دیکھو تمہارے والد محترم غمزدہ کھڑے ہیں۔ اٹھو اور انہیں خوشخبری سنا دو کہ اب تاریک راتوں کا سفر ختم ہو چکا ہے۔ کہہ دو کہ اب تمہارے من میں نور کی پاکیزہ کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ اٹھو میری پاک دامن بیٹی اٹھو۔ تم کتنے ہی پہروں میں جلی ہو لیکن میرے رب ذوالجلال کی رحمت نے اب تمہیں اپنی پناہ دی ہے‘‘ حضرت جی کے الفاظ ہیرے موتیوں جیسے تھے تو جذبات جنت کی پرسکون فضاؤں جیسے تھے۔ یہ ان کے الفاظ کی تاثیر کی کرامت تھی کہ زلیخا آنکھیں کھولنے لگی اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے چادر سے سر ڈھانپ لیا اور حضرت جی کی طرف عقیدت و احترام سے دیکھنے لگی۔ اس کے چہرے پر اطمینان نور کی طرح برس رہا تھا۔ آنکھوں میں زندگی بیدار ہو گئی تھی۔

’’حضرت جی دل کو بڑا ہی سکون مل رہا ہے‘‘

’’بیٹی اللہ تمہارے قرار کو ہمیشہ برقرار رکھے۔ اب تو سکون ہی محسوس کرتی رہے گی ، لیکن میری بیٹی نماز باقاعدگی سے پڑھتی رہنا۔ میں تمہیں ایک سورۃ مبارکہ کا تحفہ دوں گا۔ اس کو پڑھتے رہنا اللہ اس کے ذاکر کو کبھی غیر مطمئن نہیں ہونے دیتا‘‘

حضرت جی نے زلیخا کے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ’’سورہ الرحمن فجر کی نماز کے بعد باقاعدگی سے پڑھنا اور اس عاصی کے لئے دعائے خیر کرنا۔ میرے مولا کریم کی صفات اس کی عنایات اور انسانوں کی ناشکریوں کا ذکر تمہیں اس سورہ مبارکہ میں ملے گا۔ اللہ کے نیک بندے فرماتے ہیں کہ سورہ الرحمن کے ذاکر کو اطمینان قلب نصیب ہوتا اور اس کے نصیب کے مقفل دریچے کھل جاتے ہیں۔ جہاں تقدیر کا لکھا بے بسی کا نوحہ پڑھتا ہے وہاں ایک ذاکر کو اللہ تعالیٰ اپنی عطا سے نوازتا ہے اور بے شک اللہ کی عطا مقدر کی پابندیوں سے افضل ہے‘‘

’’سبحان اللہ‘‘ میرے دل سے نکلا۔ حضرت جی نے طائرانہ انداز میں میری طرف دیکھا اور پھر ملک صاحب سے مخاطب ہوئے ’’کوشش کریں کہ ہماری بیٹی کی شادی جلد از جلد ہو جائے‘‘

زلیخا شادی کا ذکر سن کر شرما گئی لیکن ایک انجانا سا خوف دوبارہ اس کے چہرے پر منحوس پرچھائیاں ڈالنے لگا۔ میرے دل میں بھی میٹھا سااحساس تقویت پانے لگا یہ سراب سے نکل کر حقیقتوں کو پانے کا جذبہ تھا۔

’’دعا کریں اچھا سا رشتہ مل جائے تو میں اپنی بیٹی کے ہاتھ فوراً پیلے کر دوں‘‘ ملک صاحب نے کہا اور پھر کرب ناگہانی سے ان کی جبیں آلودہ ہو گئی ۔ وہ ریاض شاہ کا معاملہ حضرت جی کے ساتھ ڈسکس کرنے لگے۔

’’ملک صاحب آپ اپنے ایمان کی پوری قوت کے ساتھ ڈٹ جائیں انشاء اللہ وہ آپ کے راستے میں نہیں آئے گا۔ میں نے اس کی ہوس اور شیطانی کو ختم کر دیا ہے۔ اسے فوراً اپنے گھر سے نکال دیں جو بندہ شریعت کا پابند نہیں وہ اللہ کا دوست یعنی پیر اور ولی نہیں ہو سکتا‘‘

’’لیکن کچھ بزرگ کہتے ہیں کہ ریاض شاہ کے پاس روحانی قوتیں ہیں‘‘ میں نے کہا

’’روحانی قوتیں حاصل کر لینا ایک الگ بحث ہے لیکن جو مسلمان ایک بزرگ کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی علوم سے استفادہ کرتا اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ پہنچا ہوا بزرگ ہے مگر نماز اور دیگر شرعی احکامات کو ملحوظ نہیں رکھتا وہ کامل پیر اور ولی نہیں ہو سکتا۔ شاہد میاں ایک بات ذہن میں رکھ لو۔ نماز افضل ترین عبادت ہے۔ اس کی چھوٹ نہیں ہے۔ میرے آقا سرکار دوجہاںؐ سے بڑھ کر متقی پرہیزگار کون ہے۔ آپؐ کے ایک اشارہ پر چاند دو ٹکڑے ہو سکتا ہے‘ اللہ پاک اپنے محبوب کالی کمبلیؐ والے کی کسی بات کو رد نہیں کر سکتا لیکن سرکار دوجہاںؐ اللہ کے حضور سجدے میں رہتے اور اپنے اللہ کے شکرگزار بنے رہے۔ خلفائے اسلام اور صحابہ کرامؓ کی کوئی ایسی مثال بتا دو مجھے کہ انہوں نے کبھی نماز اور دیگر شرعی احکامات سے غفلت برتی۔ اللہ کے بندے، یہ سارے اعلیٰ و افضل انسان روحانیت کے درجہ افضل پر فائز تھے بلکہ میرے جیسے خاکسار تو کسی صحابی رسولؐ کے قدموں کی خاک بھی نہیں ہیں۔ جب ایسے اعلیٰ و ارفع مسلمانوں نے شریعت کا دامن نہیں چھوڑا تو ہم کون ہوتے ہیں یہ دعوے کرنے والے۔ کسی کامل ولی کی داستان حیات پڑھ لو۔ اللہ کی عبادت اور شریعت کے پابند تھے وہ۔ اس لئے تم اپنے دل کو سمجھا لو کہ ریاض شاہ ایک کامل انسان نہیں ہے۔ وہ ہوس کا غلام ہے۔ جنات کا غلام ہے۔ جو لوگ ریاض شاہ کو نیک و بدکار کے درمیانی درجات سے نوازتے ہیں ان کے اپنے مسائل ہوں گے۔ لیکن میں نے جو دیکھا اور سنا ہے اس کے مطابق تو اس کو ایک پراگندہ خیال اور سفلی قوتوں کا ماہر سمجھتا ہوں ۔ایک مسلمان کی شان یہ نہیں کہ ایسے جھوٹے خداؤں کے سامنے جھک جائے۔‘‘

ملک صاحب پر حضرت جی کی باتوں کا گہرا اثر ہوا۔ وہ بولے ’’میں اسے جوتے مار کر نکال دوں گا حضرت جی ۔۔۔میں تو پہلے دن سے اس سے بدگمان ہوں لیکن میرے بچوں اور بیوی کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہیں‘‘

’’خیر جوتے مار کر نہ نکالئے۔ امن و سکون سے جان چھڑوا لیں۔ میں نے جو تجویز پیش کی ہے اس پر عمل ضرور کریں۔ زلیخا کی شادی فی الفور کر دیں اور ہاں‘‘ حضرت جی کچھ کہتے کہتے رک گئے اور قادر بخش کو بلا کر پوچھنے لگے ’’اس روز جو کپتان صاحب کی والدہ آئی تھیں کیا نام تھا ان کا‘‘

قادر بخش کا حافظہ بلا کا تھا اس نے نام اور اس خاتون کا شجرہ نصب بھی منٹوں میں بتا دیا۔ قادر بخش تم ایڈریس ملک صاحب کو لکھ کر دے دو۔ ملک صاحب یہ خاندانی اور بہت نیک لوگ ہیں۔ مدتوں سے انہیں جانتا ہوں۔ وہ اپنے بیٹے کی شادی کے لئے زلیخا جیسی بیٹی کی تلاش میں ہیں اور انہوں نے یہ ذمہ داری مجھ پر چھوڑ رکھی تھی۔ کہتی تھیں سرمد بیٹے کا رشتہ میرے ہاتھوں سے ہی ہو گا۔ یہ ان کی محبت ہے کہ مجھ پر اعتماد کرتی ہیں آپ خود ان سے ملئے میرا حوالہ دیں ،اللہ نے چاہا تو بہتری ہی ہو گی۔‘‘

حضرت جی کی بات سن کر میرا دل اضمحلال سے بیٹھ گیا۔

’’حضرت جی آپ نے یہ کیا کر دیا‘‘ میرا دل ڈوبنے لگا کیا زلیخا اب بھی مجھے نہیں ملے گی۔ زلیخا نے حضرت جی کی بات سننے کے بعد ایک ثانئے کے لئے میری طرف دیکھا تھا۔ میری تو دنیا ہی لٹ گئی تھی میں کیسا بدنصیب تھا جسے گوہر محبت نصیب نہیں ہو رہا تھا۔

حضرت جی کے التفاقات سمیٹ کر ہم واپس آنے لگے تومیرا حال شکست خوردہ سپاہی جیسا تھا‘ پاؤں من من کے ہو رہے تھے اور من میں ہول اٹھ رہے تھے۔ ایک بار تو بے اختیار ہو کے میں نے حضرت جی کے ہاتھ پکڑ لئے تھے۔ دل نے بہت چاہا کہ ان سے کہوں ’’دلوں کے حال آپ جان لیتے ہیں تو حضرت جی میری حالت پر رحم کیوں نہیں کھاتے‘‘ لیکن دل اپنی زبان نہ کھول سکا۔ مسجد سے نکلنے سے پہلے حضرت جی نے میرے کاندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھا اور ہلکا سا تھپتھپا کر کہا ’’حوصلہ کرو اللہ بہتر کرے گا‘‘

میری آنکھیں غم سے سلگ رہی تھیں۔ لیکن اب میں نے اپنے جذبات پر قابو پا لیا تھا ۔یہی شرافت کا تقاضا بھی تھا۔میں نے صرف اثبات میں سر ہلا کر حضرت جی کے اشارے کو سمجھنے کی تصدیق کر دی۔

’’شاہد میاں ۔۔۔ زلیخا کو سخت قسم کے جادو سے اسیر بنایا گیا تھا۔ اپنے بابا جی سے کہنا جس زبان سے اللہ رسولؐ کا نام لیتے ہیں اس کو شیطانی اعمال کے لئے استعمال نہ کریں اور اگر اب بھی تمہارا ریاض شاہ باز نہ آیا تو رب ذوالجلال کی قسم میں اسے کہیں کا نہ چھوڑوں گا‘‘

میں نے انہیں یقین دلایا کہ ایسا ہی کہوں گا۔

رات گئے ہم ملکوال پہنچے۔ راستے بھر ہم تینوں نے کوئی بات نہیں کی تھی۔ حویلی پہنچ کر میں سیدھا اپنے کمرے میں جا کر بستر پر گر گیا اور تکیہ اپنے منہ پر رکھ کر حزن و ملال کی برکھا میں نہانے لگا۔ ساری رات میں نے یونہی گزار دی۔ مجھے نہیں معلوم اس رات حویلی میں کیا کچھ ہوا ہو گا۔ شکستگی اور رنج نے مجھے اندر سے اس قدر بے خوف اور لاتعلق کر دیا تھا کہ بے حسی کے سوتے میرے اندر دھڑا دھڑ پھوٹنے لگے۔ نماز فجر کے وقت چاچی نے آ کر مجھے بیدار کیا تھا۔ اس کا رنگ اترا ہوا تھا۔

’’پتر تو ادھر پڑا ہے اور ادھر قیامت مچی ہوئی ہے‘‘

’’کیا ہوا ہے چاچی‘‘ میں بے تاثر جذبات سے انہیں دیکھنے لگا

’’شاہ صاحب آگ کا گولا بنے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں ساری حویلی کو جلا کر راکھ کر دوں گا۔ بابا جی بھی ناراض ہیں۔ وہ جا رہے ہیں۔ ملک صاحب نے کہا ہے کہ انہیں نہ روکنا لیکن پتر جی اگر وہ ناراض ہو کر چلے گئے تو اچھا نہیں ہو گا‘‘

’’چاچی میں کیا کر سکتا ہوں۔ اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو انہیں جانے دیں۔ ملک صاحب جو کہتے ہیں اس پر عمل کریں‘‘ میرے دل میں بے حسی کا یہ عالم برپا تھا کہ مجھے حویلی سے اٹھتے ہوئے شعلوں کا منظر اچھا لگ رہا تھا۔ جب میرا نشیمن الفت ہی جل گیا تو مجھے اس کے دروبام سے کیا رغبت تھی۔ خود غرضی نے اکسایا کہ آج حویلی والوں کو جلنے دو۔ انہیں مرنے دو۔ شاہ صاحب کے راستے میں کھڑے نہیں ہونا۔ جو ہوتا ہے آج ہو جانے دو۔ تم اپنے لب سی لو اور دیکھو تماشا۔ زلیخا مجھے نہیں ملے گی تو کسی کو نہیں ملے گی۔ خود غرضی کی یہ جنگ میرے اعصاب پر بری طرح سوار ہو گئی تھی اور اس وقت میں بھول گیا کہ میں بھی تو ہوس کا غلام بن گیا ہوں۔ مجھ میں اور ریاض شاہ میں کیا فرق رہ گیا ہے۔ لیکن یہ سوچ میرے ذہن میں ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں آئی لیکن جب پشیمانی کا ریلہ اٹھا اس وقت تک پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا تھا۔ نشیمن اجڑ گیا تھا اور صدائے یاراں نہ جانے کہاں کھو گئی تھی۔

میں چاچی کے ساتھ شاہ صاحب کے حضور پیش ہوا تو وہ دیکھتے ہی نفرت سے بولے ’’یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔ تم زلیخا کو چاہتے تھے اس لئے تم نے نفرت کا یہ بیج بویا ہے‘‘

یہ سن کر چاچی حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگی ’’ہیں اس کا کیا قصور ہے شاہ صاحب‘‘

’’اس نے پٹی پڑھائی ہے ملک صاحب کو۔ اس نے بڑا ظلم کیا ہے۔ حضرت جی کے پاس یہی لے کر گیا تھا انہیں‘‘

’’ہاں ہاں میں ہی لے کر گیا تھا‘‘ جذبات کے سیل رواں میں بہتے ہوئے میں نے کہا ’’کیا برا کیا ہے میں نے ۔تم جیسے انسان کو نہیں بلکہ انسان کے روپ میں ایک شیطان کو پکڑنے کے لئے ہمارے پاس کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا۔ تم نے روحانیت اور نیکی کی آڑ میں ہم لوگوں کے ایمان کو بیچ ڈالا۔ ہمیں بیچوں بیچ چوراہے میں ننگا کرکے مارا ہے۔ تم ایک بے غیرت انسان ہو ریاض شاہ۔ ہم نے حویلی کی عزت بچانے کے لئے اللہ کے ایک سچے اور کامل بزرگ سے مدد لی ہے اور سچائی سامنے آ گئی ہے۔ تم نے زلیخا پر جادو کیا اور اس کی سوچوں پر اپنے پہرے بٹھا دئیے۔ بتاؤ کیا میں غلط کہہ رہا ہوں۔ تمہیں جس نے حضرت جی کے بارے میں بتایا ہے ان سے یہ بھی پوچھ لینا تھا کہ زلیخا نے خون کی جو قے کی ہے وہ کس کا دیا ہوا زہر تھا‘‘ میں بولتا ہی چلا گیا ’’کہاں ہیں بابا جی بلاؤ انہیں۔ میں انہیں اللہ کی عدالت میں کھینچ کر رہوں گا۔ ہم تم لوگوں کو نیک اور اسلامی سمجھتے رہے لیکن تم نے ہمیں گمراہ کیا۔ تم کہتے تھے کہ بابا جی اور ان کے بزرگ صحابی رسولؐ تھے۔ اللہ مارے تم جیسے انسان کو ریاض شاہ۔ تم نے ان بزرگوں کو بھی بیچ ڈالا، اللہ تمہیں نہیں چھوڑے گا۔ کان کھول کر سن لو تمہارا یہ معاملہ یہاں کے بزرگوں کے علم میں آ چکا ہے۔ تم جناتی قوتوں کو انسانی معاملات کے لئے استعمال کر رہے ہو۔ تم نے جنات کو بھی اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ تم نے اللہ کے بنائے ہوئے اصولوں کو توڑا ہے ریاض شاہ اللہ تمہیں نہیں چھوڑے گا‘‘

میری باتیں سن کر ریاض شاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

’’میں جھوٹا مکار اور شیطان ہوں اگر یہی ہے تو پھر اس کا نتیجہ تم جلد بھگت لو گے‘‘

’’ریاض شاہ۔ بہتری اسی میں ہے کہ خاموشی سے چلے جاؤ۔ تمہاری عزت اسی میں ہے۔ ہم نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ تمہارے ہر قہر کا سامنا کر لیں گے لیکن تمہیں بھی اس قابل نہیں چھوڑیں گے کہ آئندہ کسی عزت دار اور معصوم گھرانے کو تباہ کر دو‘‘

میں نے ریاض شاہ کو حضرت جی کا پیغام سنایا تو وہ سیخ پا ہو کر بولا ’’میں اس بڈھے کو دیکھ لوں گا‘‘ وہ نتھنے پھیلا کر اپنے اندر کے سفلی انسان کی بھڑاس نکالتا رہا۔ اپنا سامان جلدی سے سمیٹا اور سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی حویلی سے رخصت ہو گیا۔ لیکن جاتے جاتے اس کے جنات دو عبرتناک نشانیاں حویلی والوں کو دے گئے۔جنات نے حویلی کے سارے پودے جڑوں سے اکھیڑ دئیے اور کئی کمروں کے شہتیر گرا دئیے۔ حویلی کے مکینوں نے بڑی مشکل سے جان بچائی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ میری باتیں اسے برانگیختہ کر دیں گی اور یہی ہوا۔ ملک صاحب کے سارے جانور بھی ہلاک ہو گئے تھے چند لمحوں میں حویلی کھنڈر بن کر رہ گئی تھی۔

دوپہر تک ہم سہمے رہے کہ نہ جانے اب کیا ہو۔ اللہ کا شکر تھا کہ کسی کو کوئی جسمانی تکلیف نہیں پہنچی تھی ملک صاحب اور میں اسی دوپہر کو کپتان کے گھر گئے۔ اس کی والدہ حضرت جی کے بھیجے ہوئے رشتے پر اس قدر نہال ہو گئی تھی کہ بیان خوشی سے باہر ہے۔ وہ کہنے لگی ’’میرے بیٹے کو چند روز پر محاذ پر جانا ہے۔ میں تو چاہوں گی اس کا نکاح اور رخصتی ابھی ہو جائے‘‘ میں نے شاید ہی زندگی میں کسی کی شادی اس قدر تیزی سے ہوتے دیکھی ہو گی ملک صاحب نے مصلحت کے تحت حویلی کی خستہ حالی کو نظرانداز کر دیا اور دو روز میں ہی حضرت جی کی موجودگی میں زلیخا پیا گھر سدھار گئی۔

میں نے زلیخا کی ڈولی کو کاندھا دے کر رخصت کیا تھا۔ میں اپنے جذبات کو بیان نہیں کر سکتا۔ منتقم مزاجی اور بے حسی نے مجھے دونوں میں عام سا انسان بنا دیا تھا۔ جس شام زلیخا کی ڈولی اٹھی میں اپنا جنازہ اٹھا کر قبرستان چلا گیا۔ اپنے ارمانوں کو بے گور و کفن دفن کرنے کے لئے۔ اچھا بھلا لباس زیب تن کیا ہوا تھا میں نے۔ میں نے اسے ہی بہترین کفن سمجھا۔ خوشبو لگا رکھی تھی‘ سوچا یہ کافور سے بہتر ہو گی۔ بیری اور کیکر کے درختوں کے بیچوں بیچ خود کو خود کو گھسیٹتا ہوا میں قبرستان میں اس جگہ پر جا کر ڈھیر ہو گیا جہاں ٹاہلی والی سرکار بیٹھا کرتی تھیں۔ میں ان کے والد کی قبر کے سرہانے جا کر گر گیا۔ ’’بابا مجھے معاف کر دینا۔ میں اپنے اندر کے انسان کو نہیں مار سکا‘‘

’’تم نے ایک عشق کرکے دیکھ لیا۔ اب اس ذات سے عشق کرکے بھی دیکھ لے‘‘ مجھے اپنے اندر کسی نے گویا ایک نشتر چبھو کر تڑپا دیا تھا ’’تجھ سے کہا تھا یہ ترے نصیب میں نہیں ہے تو پھر کیوں اس آگ میں جلتا رہا‘‘ مجھے لگا میرے آس پاس کوئی کھڑا ہے اور مجھے طنز کر رہا ہے۔ میری حالت پر ہنس رہا ہے۔

میں دکھ کی چتا میں جل رہا تھا۔ نہ جانے یہ کیسی اگن تھی جو بجھنے کو نہیں آ رہی تھی۔ ہزاروں آوازیں میرے تعاقب میں تھیں۔ بابا جی‘ غازی اور ان کے جنات کے عکس قہقہے لگاتے میرے آگے پیچھے سے گزر رہے تھے اور میں ٹاہلی والی سرکار کے والد گرامی کی قبر پر ٹکریں مار مار کرکسی معجزہ ،کرامت کا منتظر تھا۔

’’او خدایا تو کہاں ہے۔ میری حالت پر رحم فرما۔ مجھے اس آگ سے نجات دلا دے‘‘ میں جانتا تھا اس ذات اعلیٰ و برتر کے سوا میرا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ لیکن اللہ میاں جی نے مجھ پر رحم نہیں کھایا۔ میں نے ساری رات غموں کے بوجھ تلے دب کر گزار دی۔ میرے اندر پیدا ہونے والی بے حسی نے مجھے سجدہ میں نہیں گرنے دیا۔ میں تو بزرگوں کی تعلیمات کو بھی بھول گیا تھا۔

میں آج اس رات کے بارے میں سوچتا ہوں تو اپنی اس حالت پر مجھے ترس بھی آتا ہے اور حیرانی بھی۔ مجھے یاد ہے اس کے بعد میں کبھی کسی بھی قبرستان میں نہیں ٹھہرا۔ اگر کوئی عزیز وغیرہ فوت بھی ہو گیا اور اسے دفنانے کے لئے قبرستان جانا بھی پڑا تو میں زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ ہی ٹھہرا ہوں گا۔ کیونکہ قبرستان داخل ہوتے ہی میں یادوں کی برسات میں بھیگنے لگتا ہوں۔ مجھ پر وحشت اور خوف طاری ہو جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے مردے قبروں سے نکل کر مجھ پر جھپٹنے لگتے ہیں۔ اللہ گواہ ہے میں وہم و خیال کا شکار ہونے والا انسان نہیں ہوں۔ ایک انسان جن حالات سے گزرتا ہے اس کے درد کی کیفیات کوئی دوسرا کیونکر لگا سکتا ہے۔ اس رات میں قبرستان میں یوں پڑا رہا تھا جیسے میں بھی مردہ ہوں۔ یہ اتفاق ہی تھا یا اللہ نے میری حفاظت کی خاطر مجھے اس خوفناک ویرانے میں مجھے تنگ کرنے کے لئے کسی شے کو میری طرف نہیں آنے دیا تھا۔ بہرحال صبح ہوئی ،دوپہر ہونے کو آ گئی، میں بے ہوش پڑا رہا۔ مکھیاں اور کیڑے میرے اوپر رینگتے اور اڑتے رہے۔ کوئی بارہ بجے کی بات ہے۔ گاؤں کے کسی شخص نے مجھے اس حالت میں دیکھا تو بھاگتا ہوا ملک صاحب کے پاس گیا۔ اس وقت وہ زلیخا کے پاس شہر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ اور نصیر بھاگتے ہوئے میرے پاس آئے۔ مجھے ہوش میں لانے کی کوشش کرتے رہے لیکن میں ہوش میں نہیں آیا تو دونوں مجھے تانگے میں لاد کر حویلی لے آئے۔ وہ زلیخا کا مکلاوا لینے جانا بھول گئے اور مجھے ہوش میں لانے کی تدابیر کرتے رہے۔ وہ کس قدر پریشان تھے اس کا اندازہ تو مجھے ہوش میں آنے کے بعد ہوا۔ انہوں نے جس اپنائیت کا ثبوت دیا تھا اور میری خاطر اپنے خون کے رشتوں کو بھول گئے تھے اس کی مثال نہیں ملتی۔ مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا تھا کہ چاچی نے انہیں یہ بتا دیا تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور چاچی نے ہماری شادی کا عندیہ بھی ظاہر کر دیا تھا لیکن حالات اس قدر تیزی سے بدل گئے تھے کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ مل سکا تھا۔ ملک صاحب چاچی پر بہت زیادہ برسے تھے بلکہ انہوں نے رنج و ملال کے ساتھ کہا تھا۔

’’اوئے کم عقلی عورت‘ اگر تو نے یہ بات مجھے پہلے ہی بتا دی ہوتی تو میں حضرت جی کے پاؤں پکڑ کر ان سے پوچھ لیتا کہ اپنے شاہد پتر کے ساتھ زلیخا کی شادی کیوں نہ کر دوں۔ مجھے اس سے زیادہ پیارا کون ہو سکتا تھا‘‘

ملک صاحب نے نصیر اور چاچی کو دوسرے عزیزوں کے ساتھ زلیخا کے ہاں بھجوا دیا تھا۔ اگر انہیں زیادہ دیر ہو جاتی تو ولیمہ برباد ہو جاتا اور وہ لوگ پریشان ہو جاتے۔ ملک صاحب نے ایک رقعہ لکھ کر نصیر کے حوالے کر دیا تھا کہ وہ حضرت جی کو جا کر دے آئے۔

یہ حضرت جی کی دعاؤں کا ہی اثر تھا کہ جب عصر کی اذان ہو رہی تھی مجھے ہوش آ گیا۔ یہ بڑی عجیب نیند تھی جو میں نے بے ہوشی میں لی تھی۔ اس قدر گہری نیند کہ کسی خواب نے میرے ذہن کے کواڑوں کو چھوا بھی نہیں تھا۔ ہوش میں آتے ہی میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔ یوں لگا جیسے میں گہری نیند سے تروتازہ ہو کر بیدار ہوا تھا۔ ملک صاحب ماتھا چومنے لگے اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر رقت بھرے انداز میں پوچھنے لگے

’’تو نے یہ کیوں کیا‘‘

میں نے ایک نظر انہیں دیکھا اور نظریں جھکا لیں

’’پتر ۔۔۔ پہلے تو میں سمجھا تھا ریاض شاہ نے تجھ پر کوئی وار کر دیا ہے۔ تیری چاچی نے جب مجھے بتایا کہ تو اور زلیخا ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے تو میں سمجھ گیا۔ پتر میں نے زمانہ دیکھا ہے میں جان گیا کہ رات کی سیاہی میں جنات سے لڑنے والا میرا بچہ یہ دکھ نہیں سہہ سکا۔ سچ سچ بتا میں غلط تو نہیں کہہ رہا‘‘

ملک صاحب نے ایک باپ اور عزیز ترین دوست سے بھی بڑھ کر مجھے جس محبت سے مالا مال کیا تھا یہ شاید ہی کوئی کر سکے۔ میرے دل میں غبار سا اٹھا اور پھر آنکھیں موسلا دھار برسنے لگیں۔ ملک صاحب نے مجھے اپنے سینے میں چھپا لیا۔

’’پتر تو جانتا ہے اب کچھ نہیں ہو سکتا‘‘

میں بہت رویا۔ اتنا رویا کہ میرے دل کی آلودگی آنسوؤں نے دھو ڈالی اور دل پر پڑی غلاظتیں بہہ نکلیں۔ میرا اعتماد واپس آنے لگا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ بہت برا ہو گا اگر میں ملک صاحب کے سامنے یہ اعتراف کر لوں کہ زلیخا کی شادی کے رنج نے مجھے اس حال تک پہنچایا ہے۔ میں نے جھوٹ بولنے کا فیصلہ کیا اور کہا

’’چاچا جی آپ جو سوچ رہے ہیں ایسا بالکل نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا ہے میں نے زلیخا کو خود ڈولی میں بٹھا کر رخصت کیا ہے۔ مجھے اس کا رنج نہیں بلکہ بہت زیادہ خوشی ہو رہی ہے۔ میں بھلا اس کی خوشیوں پر دکھی کیوں ہوں گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے شاید ریاض شاہ نے مجھ پر طاغوتی حملہ کرکے میری سدھ بدھ غائب کر دی تھی‘ مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں قبرستان کیسے گیا تھا‘‘ میں ملک صاحب کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گیا کہ مجھے زلیخا کی وجہ سے کسی قسم کا رنج نہیں ہوا۔

’’یہ بات ہے تو پتر تو نے میرے دل سے منوں بوجھ اتار دیا ہے۔ چل اٹھ، میرے ساتھ چل ۔شام کے وقت تری چاچی اور نصیر زلیخا کو لے کر واپس آ جائیں گے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کر لیں‘‘

لیکن اب مجھ میں مزید برداشت نہیں رہی تھی۔ میں زلیخا کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں نے بہانہ تراشا’’چاچا جی میرا کل پرچہ ہے اور مجھے تیاری کرنی ہے۔ میں آج گھر جانا چاہتا ہوں تاکہ تیاری ہو سکے‘‘

’’دل تو نہیں چاہتا لیکن پتر یہ کام بھی ضروری ہے‘‘ ملک صاحب نے توقف کے بعد مجھے جانے کی اجازت دے دی۔ میں نے جلدی سے سامان سمیٹا اور ملکوال سے چل دیا۔

نہر کی پٹری عبور کرکے جب سڑک پر پہنچا تو سامنے سے ملنگوں کی ایک ٹولی بھی ادھر کو آ رہی تھی۔ فضا ان کے گھنگھرؤں سے گونج رہی تھی۔ ان کے ہاتھوں میں موٹے موٹے ڈنڈے تھے جن پر سیاہ اور سرخ رنگ کے چیتھڑے اور چھوٹے چھوٹے گھنگھرو بھی بندھے تھے۔ وہ سڑک پر پہنچے تو ایک قطار میں سیالکوٹ کی طرف رخ کرکے چلنے لگے۔ اس وقت مجھے ان کی حالت دیکھ کر رشک آنے لگا اور میں سوچنے لگا کہ میں تو ان دیوانوں کو گناہ کی فصل سمجھتا تھا۔ چرس‘ بھنگ کے نشہ میں دھت اللہ ہو‘ اللہ ہو کرتے رہنے والے یہ ملنگ اپنے مرشد کے حکم پر چلتے چلے جاتے ہیں۔ نہ دنیا کا دکھ‘ نہ کوئی خواہش‘ اپنی دنیا میں ہی مست‘ ہم سے تو یہ بھلے۔ ان کے کاندھوں پر کسی زلیخا کا دکھ نہیں ہے۔ صرف اپنے عقیدے کا بوجھ اٹھائے ہوئے رہتے ہیں۔ مجھے یاد آیا بابا تیلے شاہ نے بھی تو یہ کہا تھا کہ اللہ کے سائیں یہ بندے پیدل چلتے رہتے ہیں۔ وہ فاصلہ ناپ کر نہیں چلتے۔ ان کے قلب و نظر صرف ایک منزل پر پہنچنے کی لگن میں سرشار ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا کہ ان کے ننگے پیروں تلے کتنے کانٹے‘ پتھر آتے ہیں۔ بس وہ مست حال چلتے رہتے ہیں نفس کومارنے کے لیے اس سے بڑا کوئی اورطریقہ نہیں ہے۔خود کو تھکا کر بدن کی پور پور کو نڈھال کر کے مرشد کی خانقاہ پرپہنچنے کا سواد ہی اپنا ہے ۔جب مرشد کا اپنے مرید کی تھکاوٹ اتارتا ہے ۔اسکی بھلی نظر سے اسکے بکھرے وجود میں طاقت آجاتی ہے۔۔ پس میں نے بھی فیصلہ کر لیا یا تو اب اس دنیا میں رہوں گا ،یا اس دنیا میں۔ درمیان میں نہیں لٹکا رہوں گا۔ آزاد رہوں گا۔ یہ بھی آزاد ہیں اور اس دنیا کے باشندے بھی آزاد ہیں لیکن اس کا فیصلہ کرنے سے پہلے میں نے اس ذائقہ سے آشنا ہونے کی کوشش کی اور تانگے سے اتر کر سڑک پر کھڑا ہو گیا۔سیالکوٹ جانے والی بس آ چکی تھی لیکن ایک سوچ نے اس پر سوار ہونے سے روک دیا۔ میں ملنگوں کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ کچھ دیر چلنے کے بعد احساس ہوا یہ چلنا کیسا چلنا ہے۔ میں نے جوتے اتار کر بیگ میں ڈال دئیے۔ اندھیرا پھیل چکا تھا۔ میں سڑک کے کنارے کنارے چلنے لگا تو میری چیخیں نکلنے لگیں۔ پاؤں تلے چھوٹا سا کنکر بھی آتا تو میں اچھل پڑتا۔ ’’میں کس عذاب میں پڑ گیا ہوں‘‘ دل میں خیال آیا اور جوتا پہننے کی کوشش کی لیکن اب میں جوتا بھی نہیں پہن سکتا تھا۔ میرے پاؤں کے تلوں سے خون رسنے لگا تھا۔ جوتی پہننے سے پاؤں دکھنے لگے۔ میں سڑک کے کنارے ایک بوسیدہ سنگ میل پر بیٹھ گیا۔ ملنگ مجھ سے ایک کوس دور نکل چکے تھے۔ میں ادھر ہی ڈھ گیا۔ سوچنے لگا کہ کیا کروں۔ کشمکش میں مبتلا ہو گیا اور بالاخر میں نے شکست تسلیم کر لی۔ میرے لیے سلوک کی منزلوں کا سفر بہت تھکا دینے والا تھا۔میں ہار گیا جیسے تیسے کرکے میں نے جوتے پہن لئے اور بس آنے کا انتظار کرنے لگا۔

میں گھر پہنچا تو بہت تھک چکا تھا جاتے ہی بستر پر گر کر سو گیا۔ فجر کے قریب مجھے احساس ہوا جیسے کوئی مجھے آہستہ آہستہ دبے ہوئے لہجے میں آوازیں دے رہا ہے۔ میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھا

’’کون ہے‘‘ میں نے بھی آہستہ سے پوچھا

’’بھیا میں ۔۔۔ غازی‘‘

میں ہڑبڑا اٹھا ’’کہاں ہے تو‘‘

میں چارپائی سے نیچے اتر کر ارد گرد دیکھنے لگا

’’تمہارے پاس کھڑا ہوں بھیا۔ لیکن اب میں تمہیں دکھائی نہیں دے سکتا‘‘

غازی کی آوازیں میں ارتعاش تھا

’’کیوں ۔۔۔ تم دکھائی کیوں نہیں دے سکتے اب کیا ہوا ہے‘‘ اس کی آواز سن کر میں تو جیسے اپنی ساری تکلیفیں بھول گیا تھا

’’بس بھیا وہ ایک رشتہ جو ہمارے تمہارے درمیان وسیلہ تھا اب ختم ہو گیا ہے۔ اس لئے تمہیں دکھائی نہیں دے سکتا‘‘ وہ باقاعدہ ہچکیاں بھر بھر کر رونے لگا

’’غازی بس کر یار ۔۔۔ مجھے صاف صاف بتاؤ بات کیا ہے‘‘ اگر وہ ظاہری حالت میں میرے پاس ہوتا تو میں اس کو اپنے ساتھ لپٹا کر دلاسا دیتا لیکن وہ تو ہوا میں تھا ۔ہوا کو ہاتھ کیسے لگاتا۔

’’بھیا اپنے شاہ صاحب جو ناراض ہو گئے ہیں اور وہ زلیخا بھی تو ہم سے دور چلی گئی ہے‘‘

’’دیکھ غازی ادھر آ ۔۔۔ میرے پاس بیٹھ جا‘‘

’’تمہارے پاس ہی تو بیٹھا ہوا ہوں بھیا‘‘

اس کی آواز سے اندازہ لگایاکہ وہ میرے دائیں جانب بیٹھا تھا۔ میں نے اندازے سے ہوا میں چھپے اس کے وجود کو چھونے کی کوشش کی تو وہ لجا شرما کر بولا ’’کیا کرتے ہو بھیا گدگدی تو نہ کرو‘‘

’’تمہیں محسوس ہوتا ہے کچھ‘‘ میں نے اشتیاق کے بارے پوچھا’’لیکن حیرت ہے میرے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں لگا‘‘

کھی کھی وہ ہنسنے لگا ’’لگے گا کیسے ہاتھ‘ میں تو ہوا میں ہوں ہوا کا کوئی ٹھوس جسم تو ہوتا نہیں ہے‘‘

’’اگر ٹھوس جسم نہیں ہے تو پھر تمہیں کیوں گدگدی ہونے لگی تھی‘‘

وہ دوبارہ کھی کھی کرکے ہنسنے لگا

’’بھیا تم نے ہاتھ ہی ایسے انداز میں مارا تھا جیسے کوئی اندھا ہاتھوں سے فضا میں کچھ ٹٹولنے لگتا ہے۔ تمہیں محسوس نہیں ہوا تو کیا ہوا لیکن تمہارے ہاتھوں نے ہوا کے وجود میں تو ارتعاش پھیلا دیا تھا جیسے پانی میں ہاتھ ڈالو تو بھیگ جاتا ہے لیکن جب پانی میں ہاتھ مارو تو پانی کو محسوس ہوتا ہے اور وہ دور دور تک پھیل جاتا ہے‘‘

’’غازی تم تو فلاسفر بن گئے‘‘

’’دکھ انسان کو فلاسفر بنا دیتا ہے بھیا جیسے کہ تمہیں‘‘

’’میری بات چھوڑو۔ اگر تمہاری بات مان لوں کہ پانی میں ہاتھ ہلانے سے ارتعاش پیدا ہوتا ہے لہریں ابھرنے لگتی ہیں گویا پانی میں گدگدی ہو جاتی ہے لیکن ہاتھ تو گیلا ہو جاتا ہے ناں۔ پھر میرا ہاتھ ہوا میں چھپے تمہارے وجود سے غیر محسوس طریقے سے چھو گیا ہے تو میرے ہاتھوں کو کیوں نہیں محسوس ہوا۔ دیکھو تو میرے ہاتھ نہ گیلے ہیں نہ کسی قسم کی ٹھنڈک اور گرمی کا احساس ہوا ہے۔ اوپر سے تم کہہ رہے ہو میں نے تمہیں چھوا ہے‘‘

’’شاید میں تمہیں سمجھا نہ پاؤں بھیا لیکن یہ حقیقت ہے۔ اس کا ایک ثبوت تم دیکھ سکتے ہو۔ اپنی انگوٹھی کو دیکھو اس کا رنگ بدل گیا ہے‘‘

’’کک کیا مطلب‘‘ میں نے غازی کی دی ہوئی انگوٹھی دیکھی تو واقعی اس کا رنگ سیاہ پڑ گیا تھا

’’اب تم پوچھو گے کہ یہ کیسے ہوا؟‘‘

’’ہاں پوچھوں گا تو ضرور‘‘

’’بھیا یہ جو مقدس جواہرات ہوتے ہیں ان کی رکھوالی ہم کرتے ہیں۔ ہم جن پہاڑوں کی غاروں میں اور گہرے پتھروں میں رہتے ہیں ان کے نیچے یہ پتھر مقناطیسی اور طاغوتی عمل سے تیار ہوتے رہتے ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت ہے ۔ایک خاص درجہ حرارت انہیں چاہئے ہوتا ہے۔ ہماری دنیا میں ان پتھروں کی بڑی قدر کی جاتی ہے کیونکہ ہم ان کے پراسرار اعمال و اثرات سے آگاہ ہوتے ہیں۔ آپ کی دنیا میں جب ان پتھروں کی تجارت ہوتی ہے تو ان کے رنگ مختلف ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے پاس یہ سب سیاہی مائل ہوتے ہیں۔ البتہ ان کے خواص سے ہم آگاہ ہوتے ہیں جونہی تم نے مجھے چھوا یہ پتھر میرے وجود سے چھوا اور اپنا رنگ بدل گیا‘‘

’’اللہ‘‘ حیرت سے میرے منہ سے نکل گیا ’’کیا میں اس کو ایک شناخت سمجھ لوں‘‘

’’کیسی شناخت‘‘

’’یہ کہ جب کوئی نگینہ اپنا رنگ بدل ڈالے یعنی سیاہ ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی جن اس کے ساتھ چھوا ہے۔ میرا مطلب ہے ایسا ہو سکتا ہے‘‘

’’ہاں بالکل ہو سکتا ہے اگر نہ یقین آئے تو یہ دیکھ لو‘‘ ذرا ہتھیلی پھیلاؤ۔ غازی نے عقیق یمنی کے بہت سارے نگینے میری ہتھیلی پ رکھ دئیے۔نہایت چمکدار نگینہ تھے۔

اب ذراان می سے ایک میری طرف گھماؤ‘‘

میں نے ایک نگینہ پکڑ کر اندازے سے اس جگہ لے جا کر گھمایا جہاں غازی کے بیٹھنے کی امید تھی۔ ’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ پیچھے کر لو میری آنکھ نہ پھوڑ ڈالنا‘‘ غازی ہنستے ہوئے کہنے لگا

غازی کی بات درست تھی۔ عقیق یمنی ایک دم سیاہ ہو گیا ۔ایسے لگا میرے ہاتھ میں قیمتی پتھر نہیں بلکہ کوئلے کا ٹکڑا ہے۔‘‘یہ سب تمہارے ہیں۔پاس رکھ لو ۔میری طرف سے تحفہ سمجھو۔ ان کے تالے میں تم سے ایک قیمتی تحفہ لوں گا۔ اب میری بات سنو۔‘‘

’’کہو‘‘

’’اس بات پر غور کرو گے تو تمہیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہم جنات انسانوں کو چمٹتے کیوں ہیں۔ تمہارے ذہن میں ایسے سوالات تو آتے ہوں گے ناں‘‘

’’ہاں سوچتا تو ہوں میں ہی نہیں ہر انسان یہ سوچتا ہے‘‘

’’جس طرح ایک انسان چلتے پھرتے لاکھوں حشرات الارض کو اپنے پاؤں تلے روند کر ان کا قتل عام کرتا رہتا ہے۔ یہ سب غیر ارادی خلل ہے۔ حشرات الارض کے پاس شعور نہیں ہے لیکن ہمارے پاس تو شعور ہے جس طرح انسانوں کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کی وجہ سے کتنے دیدہ و نادیدہ حشرات مارے گئے اسی طرح انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے کسی فعل سے جنات کے بچے‘ بوڑھے مارے جاتے ہیں اور کتنوں کو گزند پہنچتی ہے‘‘

’’اس میں انسانوں کا کیا قصور ہے۔ یہ تو ون وے ٹریفک ہے اگر تم کو یہ شکایت ہے تو پہلے سے اعلان کر دیا کرو کہ بھئی بچ کر۔ ادھر ہم کھڑے ہیں‘‘

’’ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔ ہماری تعلیمات میں یہ بات شامل ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ انسان ہمیں نہیں دیکھ سکتے لہٰذا ہم خود اپنے آپ کو بچاتے ہیں حالانکہ ہم انسانی بستیوں‘ بازاروں‘ دفاتر حتیٰ کہ ہر جگہ جہاں انسان پائے جاتے ہیں ہم ان کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ ہماری مخلوق انسانوں سے زیادہ ہے۔ اگر کبھی اللہ کے حکم سے جنات کو ظاہر ہونے کی اجازت مل جائے تو تم یہ منظر دیکھ ہی نہ سکو گے۔ یوں سمجھ لو جس طرح شہد کی مکھیاں چھتے کو چھپا لیتی ہیں بالکل یہی حال تمہاری دنیا کا ہو جائے۔ پہاڑ‘ آبشار‘ گہرائیاں‘ سمندر‘ زمین‘ صحرا میں کوئی ایسی جگہ نہ بچے۔ اس گہما گہمی میں ہمارا قتل عام ہوتا ہے۔ تمہیں معلوم ہے کہ جنات نوکدار لوہے کی اشیا سے ڈرتے ہیں۔ اس لئے کہ اگر انہیں ذرا سی بھی نوک چبھ جائے تو ان کی حالت وہی ہوتی ہے جو غبارے میں کانٹا چبھونے سے ہوتی ہے۔ جنات معذور ہو جاتے ہیں عمر بھر اڑ نہیں سکتے۔ تم لوگ جب ہوائی فائرنگ کرتے ہو‘ دنگا فساد میں بندوقیں اور چھریاں استعمال کرتے ہو تو ہماری بستیوں میں اعلان ہونے لگتے ہیں کہ اس علاقے میں نہیں جانا۔ ہمیں نقصان پہنچتا ہے۔ نئے زمانے کی جنگوں کی وجہ سے ہم شہروں سے نکل کر سمندروں میں پناہ لیتے ہیں۔ پہاڑوں کی بنیادوں میں اتر جاتے ہیں فضا میں پھیلے بارود سے ہماری حالت خراب ہو جاتی ہے کیونکہ سانس اور ہوا پر ہماری زندگیوں کا بھی انحصار ہے۔ ہم بھی اپنے طور پر انسانوں جیسے ہیں لیکن کامل انسان نہیں ہیں‘‘ غازی ایک لمحہ کے لئے رکا اور سانس لے کر دوبارہ بولنے لگا ’’اب سنو تمہاری بستیوں میں جب عورتیں بناؤ سنگھار کرکے نکلتی ہیں تو ان کے درشن کرتے ہیں۔ ہمارے آوارہ مزاج جنات ایسی عورتوں پر تسلط جماتے اور انہیں گمراہ کرتے ہیں۔ بعضوں پر اس قدر غالب آ جاتے ہیں کہ بے چاریاں کوئی زلیخا اور کوئی بلقیس جیسی حالت سے دوچار ہو جاتی ہے۔ بچوں اور بڑوں سے جب جنات کو گزند پہنچتی ہے تو وہ بدلے میں انہیں تنگ کرتے ہیں لیکن متقی‘ پرہیزگار اور اللہ کا ذکر کرتے رہنے والے مسلمانوں کے علاوہ وہ لوگ جو طاقتور قسم کے عمل کرتے ہیں جنات اور ایسی شیطان مخلوق ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ بحیثیت مسلمان میں اس عقیدے پر یقین رکھتا ہوں کہ اللہ کا ذاکر بندہ کبھی بھی جنات کی طرف سے پہنچائی جانے والی گزند کا شکار نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کے ذاکر بندے کے گرد ایک روحانی دائرہ قائم ہو جاتا ہے۔ جنات اور شیطانی مخلوق اس دائرے کے اردگرد تو منڈلاتی رہتی ہے اسے توڑ کر اندر نہیں داخل ہوتی۔ اولیا کرام کے گرد تو ہزاروں دائرے ہوتے ہیں اورو ہی روحانی دائرے ایک انسان کو اللہ کی قربت کی لذت سے دوچار کرتے ہیں‘‘

غازی کافی دیر تک مجھے اسرار قدرت سمجھاتا رہا۔ میرے ذہن میں بہت سارے سوالات سر ابھانے لگے تھے

’’غازی ۔۔۔ ذکر سے کیا مراد ہے تمہاری‘‘

’’ بھیا قرآن پاک پڑھو۔ یہ افضل ترین ذکر ہے۔ درود ابراہیمی ؐپڑھتے رہا کرو۔ اللہ تبارک تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ کا ذکر کرتے رہنے سے انسان کی روحانی قوتیں بیدار ہو جاتی ہیں‘‘

’’دیکھو ناں قرآن پاک کی آیات تو انسان چلتے پھرتے پڑھ سکتا ہے اور۔۔۔‘‘

’’میں سمجھ گیا آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں‘‘ غازی میری بات کاٹ کر کہنے لگا ’’آپ یہی کہنا چاہتے ہیں کہ روزمرہ معاملات نبھاتے ہوئے قرآن پاک پاس نہیں رکھا جا سکتا اور پھر اس کے لئے ہر وقت باوضو رہنا چاہئے۔ ایسے میں یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کچھ وظائف مخصوص کر لیں اور چلتے پھرتے فارغ اوقات میں پڑھتے رہیں۔ بھیا اللہ وحدہ لاشریک کی قسم جو بندہ وظائف پڑھتا ہے وہ اس رمز سے آشنا ہو جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات بناتے ہوئے اسے عطا کی تھی انسان اگر اس رمز کو پا لے تو وہ افضل ترین ہو جاتا ہے‘‘

’’غازی ۔۔۔ میرے بھائی یہی باتیں تو جاننے کے لئے میں مارا مارا پھرتا رہا ہوں۔ کیا تم مجھے کچھ وظائف بتا سکتے ہو اور تم یہ جو کہہ رہے تھے کہ اللہ کے اسمائے مبارکہ کا ذکر کرنے سے روحانی قوتیں بیدار ہو جاتی ہیں یہ ذکر کیسے کیا جا سکتا ہے‘‘

’’بھیا تمہیں ٹاہلی والی سرکار اور بابا جی نے کچھ وظائف بتائے تھے غالباً تم وہ بھول گئے ہو‘‘

’’ہاں‘‘ میں اس کی بات سن کر چونک پڑا ’’ہاں شاید بہک گیا ہوں ناں‘‘

’’اللہ کی قسم ۔۔۔ اگر تم یہ وظائف پڑھتے رہے تو آلام و مصائب سے کبھی شکست نہیں کھاؤ گے جسے پڑھنے کی ہدایت دو گے اس کی کشتی بھی پار لگ جائے گی لیکن بھیا تم انسان بڑے ہی ناشکرے اور لاپرواہ ہوتے ہو۔ سمندر میں رہ کر بھی پیاسے رہتے ہو۔ تمہیں نہیں معلوم کہ تمہیں ان بزرگوں نے کیسا خزانہ دے دیا ہے اور آج میں تمہیں اسمائے الہٰی کے ذکر کے آداب اور اسم اعظم نکالنے کا طریقہ سکھاتا ہوں‘‘

’’غازی ۔۔۔ خدا کی قسم اب میرے سامنے آ جاؤ میں تمہارا منہ چوم لوں خدا کی قسم جلدی کرو مجھے یہ کام سکھا دو‘‘میں بے قراری سے بولا۔

’’بھیا اسے کام نہیں سمجھو یہ افضل ترین سلیقہ ہے‘‘ غازی نے مجھے سمجھایا اور پھر مجھے وہ کلمات سکھائے جنہیں پڑھنے سے ایک انسان جنات کی شرانگیزی سے محفوظ رہتا ہے اس نے مشفق معلم بن کر اسم اعظم بنانے کا سلیقہ بھی سکھایا۔

****

میں غازی کی باتوں کے سحر میں اتنا کھو گیا تھا کہ یہ غور ہی نہ کر سکا کہ غازی مجھ سے ملنے کیوں آیا ہے۔ وہ مجھے نظر نہیں آ رہا تھا لیکن اس کی باتیں سنائی دے رہی تھیں۔ یہ بہت دنوں بعد خیال آیا کہ ریاض شاہ اور بابا جی تو مجھ سے ناراض تھے ان حالات میں غازی میرے پاس کیونکر آ سکتا تھا۔ ہاں اس کا یہ جواز ٹھیک تھا کہ جن بزرگوں کے وسیلہ اور قوت کی بنا پر وہ جناتی روپ سے انسانی روپ میں متشکل ہو کر ہمیں اپنے دیدار سے حیران کرتے تھے وہ وسیلہ کمزور ہو گیا تھا۔ کیا غازی کو مجھ سے حقیقی محبت ہو گئی تھی؟ اور وہ اس بھائی چارے سے مجبور ہو کر مجھ سے ملنے آ گیا تھا۔ یہ تو خلاف فطرت بات تھی۔ اصولاً تو مجھے غازی سے یہ باتیں پوچھ لینی چاہئیں تھیں لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ ایک عام انسان جب کسی حیرت میں گم ہوتا ہے خوشی مرگ سے دوچار ہوتا ہے کوئی ان ہونی ہوتی ہے تو اس کے سارے سوالات پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ وہ حیرت اور خوشی کے سمندر میں غوطے کھانے لگتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا۔ ہزاروں رنج اور گھاؤ تھے جو ریاض شاہ کی وجہ سے میرا نصیب ٹھہرے تھے۔ غازی کے آنے پرمجھے بھڑک جانا چاہئے تھا لیکن اس کی آواز سنتے ہی جیسے میں سب کچھ بھول گیا تھا۔ غازی میرے پاس کم و بیش دو گھنٹے رہا تھا۔ اسم اعظم کے بعض ایسے زود اثر کلمات اور اسمائے الحسنیٰ سے کسی بھی انسان کے لئے اسم اعظم بنانے کے طریقے سکھانے کے باوجود وہ مجھے بہت سی گہری باتیں بتاتا رہا تھا۔ میں تو علوم کی دنیا کا حریص شخص تھا۔ جہاں سے علم ملتا اٹھا لیتا۔ شاید اس حرص کی وجہ سے میں غازی کی غیر متوقع حاضری سے گھبرا کر اپنے رنج و الم بھول گیا تھا۔

’’بھیا‘‘ غازی نے علوم قدرت کے رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا تھا

’’درود پاکؐ ہماری غذا ہے۔ کوئی بھی مسلمان جن اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ محبوب خدا آقائے دوجہاںؐ پرقدسی ہمہ وقت درود و سلام بھیجتے ہیں تو یہ آتشی مخلوق بھی درود و سلام میں مستغرق رہتی ہے۔ تم مسلمان تو فرقوں کے بٹواروں میں پڑے ہوئے ہو۔ میں اس پر کچھ نہیں کہوں گا اور نہ ہی تمہیں لعنت ملامت کروں گا کیونکہ ہم جنات بھی اسی تقسیم کا شکار ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بہت سے مسلک اور قبائل ہیں۔ ہمارے ہاں بھی وہابی‘ شیعہ‘ سنی جنات ہیں۔ لیکن اللہ رب العزت کا ہم پر احسان ہے کہ جنات اس معاملے میں درود پاکؐ پڑھتے رہتے ہیں اگر وہ درود شریف نہ پڑھیں گے تو ان کی عقلوں پر غضب‘ حیوانیت اور شیطانیت غالب آ جاتی ہے‘‘

’’غازی ۔۔۔ ٹھہرو ایک سیکنڈ کے لئے۔ پلیز مجھے یہ بتاؤ کہ تم جنات ہم مسلمانوں پر افسوس کرتے رہتے ہو اور یہ کہتے ہو کہ تم فرقوں میں بٹ گئے ہو۔ لیکن اگر تم سلامتی کا راز سمجھتے ہو اور فرقوں کی تقسیم کو غلط کہتے ہو تو پھر تم بھی فرقوں میں تقسیم ہو تم اپنے اختلافات ختم کیوں نہیں کر سکے‘‘۔۔۔۔۔۔غازی ٹھنڈی اور گہری آہ بھری۔ فضا میں بہت سے بھنور بن گئے۔

’’اب اگر میں تمہیں ایک سچ بتاؤں گا تو تم یقین نہیں کرو گے‘‘

’’اگر سچ معقول ہوا تو یقین کر لوں گا‘ تم بیان کرو‘‘

’’یہ راز ہستی ہے بھیا‘‘ غازی غالباً کسی تکلیف دہ احساس کے ساتھ میرے پاس سے اٹھا۔ اس کی آواز مجھے قدرے اور اپنے سامنے سے سنائی دے رہی تھی۔ وہ کمرے میں بے قراری سے ٹہل رہا تھا۔ ’’بھیا یہ اصول فطرت ہے۔ فطرت کا لکھا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ یہ حقیقت ہے۔ جیسے ہم آگ سے تخلیق ہوئے اور تم مٹی کا خمیر ہو بالکل ایسے ہی یہ حقیقت بھی تسلیم کر لینی چاہئے کہ تم انسان ہم سے افضل ترین مخلوق ہو۔ ہم جنات قہر و غضب میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس لئے ہمارے ذہنوں میں عقل کی بھٹی گرم رہتی ہے۔ ہمارے اباؤ و اجداد نے شرعی علوم کی تربیت انسانوں سے حاصل کی ہے۔ ہم محتاج ہوتے ہیں۔ اب ہمارے اجنا اباء اجداد نے جس مسلک کے بزرگ سے تعلیم پائی اس کا عقیدہ اور مسلک اپنے معلم کی تربیت کے زیر اثر آ گیا۔ پھر ہم جہاں جہاں عالم اجناء سے تعلیم حاصل کرنے گئے ہمارے ہاں بھی قبائلی اور فرقہ وار جماعتیں تشکیل پاتی چلی گئیں۔ اس لئے تو میں کہتا ہوں تم انسانوں نے ہم جنات کو بھی تقسیم کر دیا ہے۔ ہم تو پہلے ہی بگڑی ہوئی مخلوق خدا ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی ہمیں شرانگیزی پر اکساتا ہے تو ہم جلد گمراہ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اندر شعور اور لاشعور کی وہ تقسیم نہیں ہے جو تم انسانوں میں ہے۔ بھیا ہمارے اندر کوئی دوسرا جن بسیرا نہیں کئے ہوتا۔ یہ صرف انسان ہی ہوتے ہیں جن کے اندر کئی کئی انسان زندہ ہوتے ہیں۔ اسے تم عقل و فہم ادراک وہم و خیال نہ جانے کس کس نام سے پکارتے ہو۔ انسانوں کی روح میں جو بالیدگی اور طاقت ہوتی ہے جنات کے اندر نہیں ہے۔ عقل و فہم کی قوت بہت کمزور ہوتی ہے اسی لئے تو ان میں انتقام جیسے منفی روئیے زیادہ ہوتے ہیں۔ بھیا میری ایک بات یاد رکھنا‘ جن جتنا بھی عبادت گزار ہو‘ اگر تم اس سے غلط کام لو گے تو وہ تمہاری اس حرکت کو کبھی نہیں بھولے گا۔ تمہارے ہاں بہت سے عامل کامل لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے تسخیرات جنات کے علوم سیکھے مگر جنات کے ہاتھوں ہی مارے گئے۔ اس لئے کہ شریف اور پارسا جنات ہرگز گوارہ نہیں کرتے کہ ان سے غلط کام لئے جائیں ہاں صرف انہیں مجبور کرکے کام لئے جاتے ہیں جیسا کہ ۔۔۔۔۔۔ ‘‘غازی ایک دم رک گیا۔

’’جیسا کہ ۔۔۔کیا کہنا چاہتے ہو‘‘ میں نے استفسار کرکے پوچھا

’’جیسا کہ ہم ۔۔۔ بابا جی سرکار اور ریاض شاہ ہیں‘‘ غازی آہستگی سے بولا تو اس کے انداز میں نفرت گھلی ہوئی تھی۔ لیکن اس سے آگے وہ کچھ نہ بول سکا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا۔ بابا جی جیسے پرہیزگار جنات ایک عامل کی سفاکانہ اور ہوسناک خواہشوں کی غلامی کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

’’بھیا میرے جانے کا وقت ہو رہا ہے پھر شاید برسوں ہماری ملاقات نہ ہو سکے۔ تمہیں یاد ہو گا کہ میں نے کہا تھا تمہیں ایک تحفہ دوں گا۔ سو میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ میں نے تمہیں اسم اعظم کا علم سکھا دیا ہے۔ اگر تم چاہو گے کہ تمہیں اس پر قدرت حاصل ہو جائے تو اللہ کے کلام کو باترجمہ پڑھنا اور غور و فکر کرنا۔ میرے اللہ نے چاہا تو تمہیں اسم اعظم کی افادیت کا یقین آ جائے گا اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہزاروں چلے کرنے سے افضل یہ چند الفاظ درحقیقت اپنے اندر کتنی قوتیں رکھتے ہیں‘‘

’’غازی میں کس زبان سے تمہارا شکریہ ادا کروں لیکن میرے عزیز دوست میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔ مجھے کوئی ایسا طریقہ بتا دو کہ تم سے ملاقات ہو جایا کرے‘‘

’’اس کے تو دو ہی طریقے ہیں‘‘ غازی نے صاف صاف بتا دیا ’’ایک تو یہ کہ میں ازخود تم سے ملنے آ جایا کروں۔ دوسرا یہ کہ تم کچھ وظائف پر دسترس حاصل کر لو۔ اس کے لئے تمہیں ریاضت کی ضرورت ہو گی اور یہ ریاضت تمہیں کسی باعمل عالم سے حاصل کرنی ہو گی‘‘

’’عالم سے یا عامل سے‘‘ میں نے وضاحت کے لئے پوچھا

’’عالم سے ۔۔۔ لیکن یہ عالم وہ صاحب بصیرت ہونا چاہئے جو اجناء کے علوم پر دسترس رکھتا ہو۔ عامل کی تو بات ہی نہ کرو۔ ہاں اگر نورانی علوم کا عامل مل جائے تو اس سے یہ علم حاصل کر سکتے ہو‘‘

’’اس کے بعد تمہیں کیسے ملوں گا۔ کیا اجناء کی تسخیر کا علم حاصل کرنے کے بعد ہی تم سے ملاقات ہو سکتی ہے‘‘

’’میں نے دو صورتیں تو بتا دی ہیں وظائف اور چلے وغیرہ حاصل کرکے تم اجنا کو طلب کر سکتے ہو۔ میں تمہیں اپنی نشانیاں اور خاندان کی تفصیل بتا کر جاؤں گا۔ زندگی میں کبھی یہ علوم حاصل کر سکے تو تم مجھے حاضر کرنے کی قدرت حاصل کر لو گے‘‘

’’لیکن غازی ۔۔۔ ابھی تو تم نے مجھے اسم اعظم کے علم کو حاصل کرنے کا ہنر سکھایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ میں نے اس علم پر دسترس حاصل کر لی تو چلے وغیرہ کے بغیر بھی بہت زیادہ طاقت حاصل کر لوں گا۔ کیا میں تمہیں اسم اعظم کے زور پر نہیں بلا سکتا‘‘

’’بالکل بلا سکتے ہو۔ اسی لئے تو میں نے کہا تھا کہ قرآن پاک پڑھنا اور غور کرنا ۔میں تمہیں ہرگز ہرگز شارٹ کٹ نہیں بتاؤں گا کہ کون سی آیات مبارکہ پڑھو گے تو ہماری شہ رگ تمہارے ہاتھوں میں ہو گی۔ خدائے لم یزل کی قسم قرآن پاک سے افضل ترین کتاب دنیا میں ہے ہی نہیں۔ سارے جہانوں کی زندگیاں اور ان کے نظام ہائے کار کا علم قرآن پاک کا محتاج ہے اور اس میں حکمت پوشیدہ ہے۔ یہ غور و فکر سے حاصل ہو گا۔ یاد رکھو یہ بات تمہاری بھلائی کے لئے کہہ رہا ہوں۔ اگر چند آیات بتا دیں تو تم بھی ان ناشکرے لوگوں میں شامل ہو جاؤ گے جنہوں نے نعوذبااللہ قرآن پاک کی آیات کو عملیات کے لئے مخصوص کیا ہوا ہے۔ قرآن پاک کی ہر آیت میں شفا اور حکمت ہے اور یہی تمہاری روح کو جاوداں بنائے گی۔ روح کا رشتہ قرآن پاک کے علوم سے وابستہ ہے۔ بس تم یہ سمجھ لو کہ ایک صحیح العقیدہ مسلمان کو مکمل قرآن پاک پڑھنا چاہئے۔ غور و فکر کرکے اور اسلامی علوم سے استفادہ کرکے‘ بزرگوں سے رہنمائی بھی لے کر اپنے لئے شفا طلب کرے۔ عملیات اور وظائف پراکتفا نہ کرے۔ کبھی بزرگوں نے اجازت دی تو میں تمہیں وہ مناظر دکھاؤں گا کہ ہمارے مسلمان اور حفاظ اجنا کس عقیدت اور سرشاری کے ساتھ قرآن پاک پڑھتے ہیں۔ تم نے غلام محمد کی قرات اور نعت تو سنی ہو گی‘‘

’’ہاں یاد آیا۔ مجھے تو اس کے بول بھی یاد ہیں‘‘ میں نے کہا اور پوچھا ’’غازی میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جنات جو نعتیں گیت اور کلمات ادا کرتے ہیں اگر انہیں دہرایا جائے تو وہ حاضر ہو جاتے ہیں‘‘

’’ہاں ایسا بھی ہوتا ہے لیکن یہ صرف مخصوص حالات میں ہوتا ہے‘‘

’’تو میں ۔۔۔ اگر تمہاری آواز کی نقل کر لوں یعنی یہ ہنر مجھ میں ہے اور اگر وہی نعت رسول مقبولؐ پڑھوں جو غلام محمد پڑھتے تھے تو کیا تم لوگ حاضر ہو جاؤ گے‘‘

’’یہ ظلم نہ کرنا ۔۔۔ ہرگز تمہیں اجازت نہیں دوں گا‘‘ غازی تیز لہجے میں بولا ’’بابا جی ریاض شاہ سے اس وجہ سے بھی نالاں ہیں کہ اس نے تم لوگوں کے سامنے اجناء کی محافل سجا دی ہیں۔ اگر کوئی انسان ایک ایسی جگہ پر جا کر جہاں ذاکر جنات بسیرا کئے ہوں وہاں جنات کے نعت خوانوں کی نعتیں پڑھے گا تو شدید ترین ’’اثر‘‘ میں آ جائے گا اور نقل‘‘‘ ہرگز یہ کام نہ کرنا‘‘ غازی نے مجھے بار بار تنبہیہ کی کہ یہ کام بالکل نہ کروں اور خاص طور پر شغل کے طور پر اسے نہ اپناؤں میں نے اس کی ہدایت پر عمل کرنے کا وعدہ کر لیا لیکن میں اس وعدے پر کبھی کاربند نہ رہ سکا۔ بعض اوقات رات کی تنہائیوں میں، مزاروں پر جا کر، دوستوں کی محافل میں اجناء کی پڑھی ہوئی نعت رسول مقبولؐ پڑھتا اور نقل اتارتا تو میرا پورا بدن سن ہو جایا کرتا رونگٹے کھڑے ہو جاتے‘ پورے بدن میں آگ سی پھیل جایا کرتی۔ یہ میں محض اس لئے کرتا کہ یار دوستوں کو اجناء کی مخلوق کا یقین دلا دوں۔ لیکن وہ میری اس بات کو نہیں سمجھ سکتے تھے سوائے ایک بار۔ میرے ایک کولیگ نے ایک بار خاص طور پر مجھ سے یہ استدعا کی تھی کہ میں انہیں اجناء کی آواز اور لہجہ سنا دوں۔ وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مجھے اپنے گھر لے گئے تھے۔ دراصل وہ پی ٹی وی کے لئے ایک ڈرامہ تیار کر رہے تھے جس میں وہ جنات کے بارے بھی کہانیاں دے رہے تھے۔ میں نے پہلے تو کوشش کی کہ ان سے جان چھوٹ جائے لیکن ان کی مجبوری کے پیش نظر میں نے انہیں ’’بابا جی‘‘ کے لہجے میں بول کر دکھایا تو اللہ ہی جانتا ہے میری حالت کیا ہو گئی تھی۔ وہ کولیگ اپنے ساتھیوں سمیت کمرے سے باہر بھاگ گئے تھے اور میں عقل و خرد سے بیگانہ ہو گیا۔ گویا اپنی جگہ پر پتھر کا ہو گیا تھا۔ میری آواز درودیوار کو چیرتی ہوئی دور دور تک پھیل گئی تھی اس کی باز گشت ایک پہر تک مجھے سنائی دیتی رہی تھی۔ پھر ایک روز داتا دربار پر مجھے ایک بزرگ ملے۔ ان سے سلام و دعا ہوئی اور میں نے اپنے ماضی کا ذکر کرکے انہیں اپنی اس تکلیف سے آگاہ کیا۔تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا تھا کہ آئندہ یہ حرکت نہ کرنا۔ انہوں نے مجھ پر یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر تم وظائف نہ پڑھ رہے ہوتے تو یہ ’’وزن‘‘ کبھی نہ اٹھا پاتے۔ اللہ نے تم پر عنایات کی ہیں کہ اس حساس ترین معاملے میں بداحتیاطی کے باوجود محفوظ رہے ہو

غازی سے اپنی آخری ملاقات کا ذکر

کرتے ہوئے بہت سی باتیں یاد آ رہی ہیں۔ ان کا بتدریج ذکر کروں گا۔ تاہم اپنی اس غیر سنجیدگی اور بے احتیاطی کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا تھا جس طرح کہ واقعی اگر ایک عام اور غریب انسان کے پاس ہیرے جواہرات آ جائیں تو وہ ان کی قدر و قیمت کا اندازہ کئے بغیر انہیں بیچنے نکل پڑتا ہے اور اپنی بے احتیاطی اور کم علمی کی وجہ سے لٹ جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا! میں زعم اور تکبر میں مبتلا ہو گیا حالانکہ اس وقت میں ریاضت اور انکساری سے کام لیتا تو اسرار قدرت کے خزانے سے اپنی جھولی بھر لیتا۔ لیکن میں ایک مادہ پرست شخص بن گیا۔ ان علوم سے اپنی دنیا کو سنوارنے کا کام لینے لگ پڑا جس کی وجہ سے میں روحانیت کا وہ احساس اپنے اندر پیدا نہ کر سکا جو میری روح کو بالیدگی بخش سکتا تھا۔

غازی کی تعلیمات نے مجھے جس احساس سے دوچار کیا تھا اس کا نتیجہ پہلے پہلے تو یہ نکلا کہ میں راتوں کو اٹھ کر اسم اعظم بناتا اور اس کا ذکر کرتا رہتا۔ ان دنوں میں امتحانات سے فارغ ہو چکا تھا۔یہ میرا فارغ البالی کا سال تھا۔ ذہن پر تفکرات بھی تھے بابا جی کی قربت پانے کی جستجو بھی تھی۔ میں اپنے لئے اسم اعظم بنا کر اس کا ذکر تو کرتا رہتا تھا لیکن سچ یہ ہے کہ مجھے اندر سے اطمینان نہیں ہوتا تھا۔ میں باباتیلے شاہ اور ٹاہلی والی سرکار سے ملنے کیلئے ان تمام مقامات پر گیا جہاں ان سے ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ ایک سچے عامل کی تلاش میں بھی بھٹکتا رہا۔ انہی دنوں حضرت جی کا وصال ہو گیا ۔ان سے ملنے کی تمناہی رہی۔ ملکوال جانا چھوٹ گیا۔ زلیخا کے شوہر کی پوسٹنگ کوئٹہ ہو گئی تھی اس سے پھر ملنا نصیب نہ ہوا۔ صحافت کا نشہ بہرحال ابھی تک قائم تھا۔ میں سیالکوٹ شہر روزانہ جایا کرتا تھا ۔ میں نے وہاں ایک ہاسٹل میں رہائش رکھ لی۔ یہ ہاسٹل سیالکوٹ کے سول ہسپتال کے قریب تھا اس کے پیچھے سے ایک گندہ نالہ گزرتا تھا اور اس کے پاس ہی ایک قبرستان تھا۔ جس ہاسٹل میں مقیم تھا اس سے ملحقہ پوسٹ مارٹم کا شعبہ تھا اس سے چند گز کے فاصلہ پر دو سینما تھے اور آگے سیالکوٹ صدر اور کینٹ کا علاقہ شروع ہو جاتا تھا۔ اب تو برسوں ہو گئے اس طرف نہیں گیا۔ لیکن اس وقت پوسٹ مارٹم کے شعبہ کے پاس سے جو سڑک گزرتی تھی اس پر ریلوے پل تعمیر ہو گیا ہے۔ یہ پل جناح اسٹیڈیم کے پاس نیچے اترتا تھا۔ سنا ہے اب اس علاقے میں خاصی ترقی ہو چکی ہے لیکن سولہ برس پہلے کا ذکر کر رہا ہوں۔ ان دنوں میں ذہنی افتراق میں مبتلا تھا اور آہستہ آہستہ مجھ میں لابالی پن بھی آ گیا تھا۔

صحافت میں مصروف ہونے کی وجہ سے دن رات تقریبات میں شمولیت رہتی ۔گویا ایک طرح سے ٹہکا جمانے کے شوق نے مجھ سے میری روحانی تعلیمات چھیننی شروع کر دی تھیں۔میں بہت سے اسباق بھول گیا۔ نماز میں باقاعدگی ختم ہو گی ،نماز تہجد تو بالکل ہی چھوٹ کر رہ گئی۔ پینے پلانے کا دور شروع ہوگیا تھا،جوانی کے قیمتی ہونے کا احساس ہونے لگا ۔دن بھر کی مصروفیات کے باعث رات جب ہاسٹل آتا تو آتے ہی بستر پر گر کر ایسا سویا پڑا رہتا کہ صبح دس گیارہ بجے ہی آنکھ کھلتی تھی ۔خود فراموشی کا دور تھا یایہ قدرت کیطرف سے مصلحت کہ میری بصیرت اندھی ہو گئی ۔ دنیا داری رنگ و بو کی محفلیں اور روپے پیسے کی لذت نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ میں اس خزانے کو بھول گیا تھا جس کی ایک کنجی قدرت نے مجھے تھما دی تھی۔

یہ ایک سال بعد کا ذکر ہے۔

مجھے اطلاع ملی کہ سیالکوٹ کے ایک عامل کو پولیس نے ہسپتال کے پیچھے واقعہ گندے نالے والے قبرستان سے گرفتار کیا ہے اورایک بری شخصیت کے کہنے پر اسے چھوڑ دیا گیا ہے۔ عام صحافیوں کیلئے شاید یہ خبر دل کشی نہیں رکھتی تھی لیکن نہ جانے مجھے کیوں اس خبر میں دلچسپی ہو گئی۔ یہ قبرستان میرے قریب تھا۔ میں نے اطلاع ملتے ہی اس قبرستان میں جانے کا فیصلہ کیا۔ ہسپتال کی پچھلی آبادی سے گزر کر میں وہاں پہنچا تو پورا قبرستان اجڑے ہوئے دیار کی عکاسی کررہا تھا۔ کیکر کے درخت سوکھے پڑے تھے حتی کہ کئی قبریں گڑھوں میں تبدیل ہو چکی تھیں اور ان سے مردوں کی ہڈیاں جھانک رہی تھیں ۔کتے بلیاں اور چوہے ان گڑھوں میں گھس کر خوراک حاصل کر تے اور وہیں بسیرا کرتے تھے۔

میں قبرستان کے گورکن کو تلاش کرنے لگا۔ وہ ایک خستہ حال چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔ پچاس ساٹھ کے درمیان اس کی عمر تھی۔ بڑے بڑے گھنے سیاہ اور تیل میں چپڑے بال۔ بدن ٹھوس‘ آنکھیں سیاہ اور گہری۔ اس کی شکل دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ گورکن ہے۔ ناجانے مجھے کیوں لگا کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہے۔ وہ گھاک اور سفاک قسم کا انسان لگتا تھا۔ میں نے اسے اپنا تعارف کرایا تو مجھے سرسے پاؤں تک دیکھنے لگا۔ میں نے مدع بیان کیا اور اس سے پوچھا کہ جو عامل پکڑا گیا تھا وہ کیا حرکت کر رہا تھا۔ گورکن نے پہلے تو اس واقعہ سے ہی اپنی لاعلمی ظاہر کر دی اور بہانہ بنایا کہ ان دنوں وہ یہاں نہیں تھا ۔اس نے مجھے کھڑے کھڑے فارغ کر دیا تھا۔ واپس آنے ہی لگا تھا کہ چند قدم چلنے کے بعد مجھے کچھ یاد آیا اور میں نے کہا’’ بابا۔ نہ جانے کیا بات ہے لگتا ہے تمہیں کہیں دیکھا ہے۔‘‘

’’دیکھا ہوگا یقیناً دیکھا ہوگا، لیکن کہاں۔۔۔ یہ تو مجھے بھی لگتا ہے۔‘‘ اس کے چہرے پر استہزائیہ مسکان تھی۔

’’تمہارا نام کیا ہے بابا۔۔۔‘‘ میں نے نہایت تمیز سے دریافت کیا تو وہ سخت انداز میں بولا’’ جاؤ اپنا کام کرو۔۔۔ میرا نام پوچھ کر کیا کروں گے‘‘۔ یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پرناگوار اورقہر سے بھرے تاثرات نمایاں ہو گئے تھے۔ ’’بابا۔۔۔‘‘ میں نے اس کے انداز کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا ’’میں ایک صحافی ہوں یہ مت سمجھنا کہ ڈر جاؤں گا۔ میں اوپر والوں سے بات کرکے تمہاری پیشی کرا دوں گا تو۔۔ بھلا نام بتانے میں کیا حرج ہے۔‘‘

’’اوپر والے۔ کون اوپر والے۔ کیا تیرے اوپر والے میرے اوپر والے سے زیادہ بڑے ہیں۔‘‘

’’نہیں۔ اوپر والا زیادہ تگڑا ہے‘‘ میں نے دوستانہ انداز میں ہنس کر کہا تو گورکن کو شاید میرا یہ انداز اچھا لگا اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے اور بولا۔ ’’پتر مجھے موتی ملنگ کہتے ہیں۔میں ہی یہاں کاگورکن ہوں۔۔۔‘‘

’’موتی ملنگ۔۔۔‘‘ میرے ذہن میں جیسے بلب روشن ہو گئے۔

’’تم کہیں مکھن سائیں کے دربار کے ملنگ تو نہیں ہو۔۔۔‘‘

’’توآخر پہچان لیاناں تم نے۔۔۔‘‘ موتی ملنگ بے رحمانہ انداز میں مسکرایا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا برگد کے ایک بوڑھے درخت کے پاس جا ٹھہرا‘ درخت کے نیچے اس نے تھوڑے سے قطعہ زمین کو صاف کیا ہوا تھا اور درخت میں ایک کھوہ بناکر اس میں دیا رکھا تھا۔ کھوہ دیا جلتے رہنے سے سیاہ ہو چکی تھی اس کے گرد سینکڑوں رنگدار کپڑوں کی ’’ٹاکیاں‘‘بندھی تھیں۔ زمین کے گرد اس نے اینٹوں کے ساتھ دائرہ سا بنایا ہوا تھا۔ یہ مکھن سائیں کے آستانے کا ہی ایک انداز تھا جوموتی ملنگ نے قبرستان میں اپنی ریاضت کیلئے بنایا ہوا تھا۔

***

اس نے مجھے اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ میں پاس پہنچا تو اس نے کھوہ میں ہاتھ ڈال کر کسی پرندے کے پر، پیروں کی ہڈیاں اور ایک قلم نکال کر اپنے سامنے رکھ لیا۔ اس نے قلم کی نوک بائیں کلائی پر رکھی اور مجھے عجیب سی تمسخرانہ نظروں سے دیکھنے لگا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا حرکت کرے گا۔ لیکن جب اس نے قلم کی نوک سے کلائی چھید کر اپنا خون نکالا تو میرے ذہن میں دھماکے ہونے لگے۔ یہ عمل ریاض شاہ نے میرے ساتھ بھی کیا تھا۔ زلیخا کو سحری قوتوں سے آزاد کرانے کے لئے اس نے میرا خون حاصل کر کے عملیاتی کلمات لکھے تھے۔

موتی ملنگ نے قلم کو ایک طرف رکھا اور پرندے کا پر خون میں ڈبو کر اسے ہڈیوں پر یوں پھیرنے لگا جیسے کسی دیوار پر چونا لگانے کے لئے برش پھیرا جاتا ہے۔ میں خاموشی سے اور گہری نظروں کے ساتھ اس کو دیکھنے لگا۔ وہ اپنے زخم سے بیگانہ ہو کر یہ عمل کر رہا تھا۔ ہڈیوں پر خون کی تہہ لگانے کے بعد وہ استہزائیہ انداز میں میری طرف دیکھنے لگا اور پھر نہایت متکبرانہ انداز میں بولا۔

’’یہ پولیس مکھن سائیں کے ملنگوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ سائیں سرکار کے جوتوں میں بیٹھنے والے افسر بھلا ہمارے لوگوں کو ہاتھ تو لگا کر دیکھیں‘‘۔

میں نہیں سمجھا کہ وہ مجھے کیا سمجھانا چاہتا تھا لہٰذا میں نے کہا۔ ’’سائیں یہ کیا کر رہے ہو۔‘‘

’’حیرت ہے بھئی۔ ابھی تک تمہیں یہ معلوم نہیں پڑا میں کیا کر رہا ہوں۔ مولا خوش رکھے۔ میں عمل باندھ رہا ہوں۔‘‘

’’تم تو گورکن ہو۔ تمہارا عملیات سے کیا کام‘‘۔ میں نے معصومانہ انداز میں کہا تو وہ فلک شگاف قہقہہ لگانے کے بعد بولا۔

’’لو جی۔ یہ بھی کیا خوب کہی ہے۔ بھلے مانسو مکھن سائیں کے ملنگ گورکن بن کر زندگی نہیں گزارتے۔ ہم تو قبرستانوں کے شہنشاہ ہوتے ہیں۔‘‘ یہ کہنے کے بعد اس نے مجھے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر مجھے خاموش ہو جانے کا اشارہ کیا اور خود چوکنا ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ وہ اپنی سماعت میں ان دیکھے وجود کی سرسراہت محسوس کرنے لگا تھا۔ میں نے غور کیا۔ مجھے نالے سے پار گاڑیوں کے شور کے سوا کچھ سنائی نہ دیا لیکن وہ نہایت ارتکاز کے ساتھ یوں کسی انجانے قدموں کی چاپ سن رہا تھا جنہیں میں نہیں محسوس کر پا رہا تھا۔ چند ثانیے بعد ہی مجھے برگد کے اوپر تھوڑی سی ہلچل محسوس ہوئی۔ موتی ملنگ نے اوپر کی جانب دیکھا اور پھر ایک دم اس نے جھولی پھیلا دی۔ اچانک ایک سرخ رنگ کا دوپٹہ اس کی گود میں آ گرا۔ کسی نے اسے نہایت سلیقے سے تہہ کیا ہوا تھا اور اس پر سیاہ رنگ کے دھاگے باندھے ہوئے تھے۔

موتی ملنگ نے خون آلود ہڈیاں دوپٹے کے اندر اسکی تہوں میں چھپا دیں اور دوپٹہ برگد کی کھوہ میں رکھ دیا۔ پھر زیرلب کچھ بڑبڑانے کے بعد اس نے کھوہ کے گرد حصار باندھا اور اٹھ پڑا۔

’’آؤ جی۔۔۔ اندر حجرے میں چلتے ہیں۔‘‘

وہ جسے حجرہ کہہ رہا تھا لکڑیوں اور کچے گارے سے بنی ایک جھگی تھی۔ باہر سے اسکی حالت بہت خراب تھی لیکن اندر داخل ہونے پر اس کی حقیقت سامنے آتی تھی۔ ایک طرف کدال، بیلچہ اور کھرپہ رکھا تھا۔ پاس ہی کچا گھڑا تھا جس میں پانی بھرا ہوا تھا۔ اس کے پاس بھنگ گھوٹنے کے لئے بڑا سا ’’کونڈا ڈنڈا‘‘ اور بھنگ کا سامان تھا۔ ایک طرف جہازی سائز کی چارپائی تھی۔ نیچے بوسیدہ سا قالین بچھا ہوا تھا۔مردوں کی ہڈیاں، کافور اور مختلف قسم کی خوشبویات حجرے میں پھیلی ہوئی تھیں۔

موتی ملنگ کے ماتھے پر اب پسینے کے قطرے نظر آ رہے تھے۔ وہ چارپائی پر یوں بیٹھا جیسے دن بھر کی مشقت سے ہارا ہوا شخص بے سدھ ہو کر گر پڑتا ہے۔

’’امرت کا پیالہ پلا دے کاکا۔‘‘ اس نے بھنگ کے کونڈے کی طرف اشارہ کیا۔ یہ تو میں جانتا ہی تھا کہ یہ ملنگ لوگ بھنگ میں چاروں مغز ملا کر اسے امرت کے نام سے پکارتے ہیں۔ وہ سادہ پانی کی بجائے یہی امرت پیتے ہیں۔ اس کے بغیر ان کے جسم بے جان ہو جاتے ہیں۔ میں نے پیالہ بھر کر اسے دیا تو ایک ہی سانس میں سارا پیالہ پی گیا۔

’’تم بھی پیؤ‘‘۔ اس نے پیالہ میری طرف بڑھایا۔

’’نہیں شکریہ۔ میں اس نعمت سے محروم ہوں۔‘‘ میں نے پیالہ کونڈے کے پاس رکھ دیا۔

’’پی لے کاکا۔ ترے سارے غم دور ہو جائیں گے۔‘‘

’’سرکار۔ آپ اور پی لیں‘‘۔ میں نے پیالہ بھر کر ۔ میرے دماغ میں عجیب سی چمک پیدا ہو گئی تھی۔ میں نے سوچا اسے بھنگ پلا کر اس سے بہت سی باتیں معلوم کی جا سکتی ہیں۔ شراب اور بھنگ پینے والے کی ذہنی رو بھٹک جاتی ہے۔ اس نے دوسرا، تیسرا اور پھر چوتھا پیالہ میرے ہاتھوں سے پی لیا۔ جب میں پانچواں پیالہ اسے پلانے لگا تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔

’’دیکھ ترے ہاتھوں سے چار پیالے پی لئے ہیں۔ اب ایک تو پئے گا۔‘‘

میں نے کلائی چھڑوانے کی کوشش کرنے لگا تو وہ ایک دم جلالی انداز میں بولا۔ ’’اب اگر تو نے میری بات نہ مانی تو مار کر اس قبرستان میں دفن کر دوں گا۔‘‘

میں جس مقصد کی خاطر اس سے ملا تھا اگر بھنگ نہ پیتا تو وہ ناراض ہو جاتا اور میرا مقصد فوت ہو جاتا۔ میں نے اس کے ہاتھوں سے پیالہ لیا اور قدرے ناگواری کے ساتھ پینے لگا لیکن پہلا ہی گھونٹ پینے کے بعد اسکے ذائقہ نے مجھے اطمینان کے ساتھ امرت پینے پر مجبور کر دیا۔ یہ ذائقہ میرے لئے نیا نہیں تھا۔ میں جب آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا ان دنوں مجھ پر پہلوانی کرنے کا جنون طاری ہو گیا تھا۔ میرے علاقے میں بہت سے نامی گرامی پہلوان رہتے تھے۔ گونگا پہلوان رستم ہند کا پوتا میرا کلاس فیلو تھا۔ میرے کچھ دوست بھی اس ورزش سے مستفیض ہو چکے تھے۔ پہلوانی کے دوران ریاضت کے بعد بادام، خشخاش اور مغزیات کے ساتھ کونڈے میں گھوٹ کر جو سردائی بنائی جاتی تھی موتی ملنگ کے امرت کا ذائقہ بالکل ایسا تھا۔ نہایت ٹھنڈا، شیریں۔

’’سواد آیا‘‘۔ موتی ملنگ نے میرا ہاتھ دباتے ہوئے پوچھا۔

’’جی بہت آیا۔‘‘ میں نے پیالہ ایک طرف رکھ دیا تو اس نے مجھے بھی چارپائی پر بٹھانے کے لئے کہا۔

بھنگ پینے کا اثر یہ ہوا کہ موتی ملنگ میرے ساتھ کھل کر باتیں کرنے لگا۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ نے پرندے کے پیروں کی ہڈیاں اپنے خون میں بھگونے کے بعد دوپٹے میں کیوں چھپا دیں۔ میرا ذہن ابھی تک الجھا ہوا ہے‘‘۔

موتی ملنگ نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور سرگوشی کے انداز میں بولا: ’’یہ بات تمہارے لئے بڑی عجیب ہو گی۔ حیرت سے مر جاؤ گے تم۔ اس لئے نہ ہی پوچھو تو اچھا ہے‘‘۔ لیکن میں بچوں کی طرح مچل کر اس کی خوشامد کرنے لگا تو وہ بولا۔’’ کاکے۔ یہ ایک ادھورا عمل تھا جسے میں نے پورا کرنا ہے۔ اگلی جمعرات کو نوچندی ہو گی اور میں اس رات اس عمل کو پورا کر دوں گا۔ پھر تمہارے ریاض شاہ کی مصیبت ٹل جائے گی‘‘۔

’’کک۔۔۔ کیا۔۔۔ ریاض شاہ کا نام سنتے ہی میں اچھل پڑا۔‘‘ تم کیا کہہ رہے ہو۔

’’کاکے۔۔۔ میں نے کہا تھا کہ تم پریشان ہو جاؤ گے۔ اب ایک اور بات سنو گے تو تمہاری پریشانی اور بڑھ جائے گی لیکن پہلے مجھے ایک پیالہ اور پلاؤ۔‘‘ موتی ملنگ کی آنکھیں خمار کے بوجھ سے کھینچی چلی جا رہی تھیں اور وہ ترنگ میں آ رہا تھا۔ میں چارپائی سے اٹھا تو مجھے احساس ہوا میرا پورا بدن آسمان پر اڑتے بادلوں کی طرح ہلکا پھلکا ہو گیا ہے۔ یہ بھنگ کا اثر تھا۔ موتی ملنگ کو ایک اور پیالہ پلانے کے بعد اس کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔

’’تم میرے پاس آئے تھے کہ تم جان سکو وہ عامل کون تھا جسے پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اور وہ کیا کرنا چاہتا تھا۔۔۔ ہیں۔ یہی پوچھنا چاہتے تھے ناں تم۔‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’وہ عامل۔ تمہارا ریاض شاہ تھا۔‘‘

’’کک کیا‘‘ میں ہکلا کر رہ گیا۔

’’یہ سچ ہے کاکے‘‘۔ موتی ملنگ زور دیکر بولا۔ ’’مکھن سائیں نے اپنے اثر و رسوخ کے زور پر اسے پولیس سے چھڑوا لیا تھا‘‘۔

’’وہ کیا کرنے آیا تھا یہاں‘‘۔ میں نے پوچھا۔

’’آہا۔ ہوس کی آگ مارا ہوا تھا۔ بڑا زخمی تھا۔ وہ کیا نام تھا اس لڑکی کا‘‘۔

’’زلیخا۔‘‘ میرے منہ سے نکلا۔

’’ہاں زلیخا اور ایک وہ تھی۔ ہاں بلقیس۔‘‘ وہ دونوں لڑکیوں کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ مکھن سائیں نے اسے سمجھا دیا تھا کہ اب وہ زلیخا کی پرچھائیں کی طرف بھی نہ دیکھے۔ کیونکہ اس کی نگرانی بزرگ کر رہے ہیں۔ پھر وہ بلقیس کے پیچھے پڑ گیا۔ مکھن سائیں نے اس کی یاری میں اسکے حقوق اسکو دے دیئے تھے۔ بڑی باغی ہرنی تھی وہ۔ یہ دوپٹہ جو ادھر میں نے کھوہ میں دبایا ہے یہ بلقیس کا تھا۔

’’وہ کیوں۔‘‘

’’وہ اس لئے کہ بلقیس کسی اور سے پیار کرتی تھی۔ ریاض شاہ نے عملیات کے زور پر اس کے دل کو جیتنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ لڑکی اس کو حاصل نہیں ہو سکی۔ اسی لئے وہ ایک عمل کرنے کے لئے یہاں آیا تھا اور مخبری ہونے پر پکڑا گیا۔ وہ پکڑا نہ جاتا لیکن اس روز میں یہاں نہیں تھا۔‘‘

’’لیکن موتی بادشاہ ریاض شاہ کو اس طرح ایک عمل کرنے کے لئے قبرستان کیوں آنا پڑا۔ اس کی روحانی قوتیں تو بہت زیادہ تھیں۔ بابا جی اور غازی سمیت بہت سے جنات اس کا پانی بھرتے تھے۔‘‘

’’کہتے تو ٹھیک ہو۔ مگرریاض شاہ سے بابا جی روٹھ گئے تھے۔ وہ پہلے بھی کالا علم کرتا تھا لیکن بعد ازاں اس نے نوری علم سیکھ لیا تھا اور اسی کے زور پر بابا جی اس کے پاس آ جاتے تھے لیکن اس کی حرام زدگیاں بابا جی کو گوارہ نہیں تھیں۔ وہ اس کی ماں اور بھائی کی لاج رکھتے تھے۔ پچھلے سال زلیخا کی شادی ہو گئی تو ریاض شاہ مکھن سائیں کے آستانے پر چلہ کرنے گیا تھا۔ اس نے زلیخا اس کے والدین اور تمہیں مارنے کے لئے مکھن سائیں کے ساتھ مل کر چلہ کاٹا تھا لیکن وہ تمہارے حضرت جی کی روحانی قوتوں نے ان سب کو بچا لیا۔ ریاض شاہ اپنی ناکامی پر تلملا اٹھا اور اس نے بلقیس کو حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ بلقیس کے والدین کو ریاض شاہ کی حقیقت معلوم ہو گئی تھی۔ وہ اس طرح کہ ایک روز وہ ملکوال گئے تو ملک صاحب نے انہیں ریاض شاہ کی اصلیت بتا دی تھی۔ ریاض شاہ مکھن سائیں کے آستانے سے بلقیس کے گھر میں منتقل ہو گیا تھا۔ وہ بے چارے اس سے ڈرتے تھے لیکن بلقیس بڑے پکے ارادے والی تھی۔ اس کے باوجود اس کی ہوس کا شکار ہو گئی۔ ریاض شاہ نے اس کے التفات کو اپنی طرف پورے کا پورا موڑنے کے لئے یہ چلہ کیا تھا۔ دراصل اب ریاض شاہ کسی قسم کی حکم عدولی نہیں چاہتا۔ اپنی خواہش کے مطابق سارے کام کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سارا سارا دن قبرستانوں، گندے نالوں اور ایسے مقامات پر بیٹھ کر کالا علم کے لئے چلے کاٹتا ہے۔

’’استغفراللہ۔ لاحول ولا قوۃ‘‘۔ میں زیرلب بڑبڑایا۔ ’’کیا میں اسے مل سکتا ہوں۔‘‘

’’کاکے۔ اگر حوصلہ ہے تو مل لو۔ لیکن میرا مشورہ ہے کہ اسے نہ ہی ملو تو اچھا ہے۔ ورنہ وہ تمہیں اپنے غضب کی آگ میں جلا ڈالے گا۔‘‘ تمہیں دیکھتے ہی اس کے زخم ہرے ہو جائیں گے۔ موتی ملنگ اب مجھ پر مہربان ہو چکا تھا اور مجھے ریاض شاہ سمیت اپنی دنیا کے کرتوتوں سے آگاہ کرتا چلا جا رہا تھا۔

موتی ملنگ کے منہ سے بلقیس کا نام سن کر میرے بدن میں سوئیاں سی چبھنے لگی تھیں۔ وہ لڑکی مجھ سے پیار کرنے لگی تھی۔ لیکن میں عشق کی منزل کا راہی نہیں تھا۔ اسے اس کی دیوانگی اور نادانی اور اپنے لئے اس کے دل میں احترام کو اندھی عقیدت سمجھتا تھا۔ میں نے اس پر احسان کیا تھا لیکن بدلے میں وہ مجھ سے متاثر ہو کر مجھ سے روح کا رشتہ قائم کرنا چاہتی تھی۔ اسی لئے میں اس سے دور ہو گیا تھا لیکن اب ریاض شاہ کے ہاتھوں اس کی پائمالی کی داستان سن کر میرے رونگٹھے کھڑے ہو گئے تھے۔ غم و غصہ نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ میں خود کو قصوروار سمجھنے لگا کہ بلقیس جیسی شرم و حیا والی لڑکی کو ایک کتے سے بدتر انسان کے ستم کا نشانہ بننے کے لئے تنہا کیوں چھوڑ دیا۔

مجھے یقین تھا کہ موتی ملنگ اپنے مرشد کے دوست کے خلاف میری مدد نہیں کرے گا۔ لہٰذا میں نے ریاض شاہ سے نپٹنے کے لئے کسی دوسرے طریقے پر غور شروع کیا۔ لیکن میں جو بھی سوچتا میرا ذہن اس طریقے کو اختیار کرنے سے گریز کرتا۔

میں موتی ملنگ سے معلومات لے کر واپس آ گیا تھا۔ کالج میں طلبا سیاست اور صحافت کی وجہ سے میرے بہت سے سیاسی ورکروں اور پولیس والوں سے رابطے تھے۔ میں نے چند خاص دوستوں سے مشورہ کیا کہ ریاض شاہ کے خلاف کس طرح سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ اگر بلقیس اور اس کے والدین پولیس میں رپورٹ درج کرا دیں تو اس پر سخت ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔ ہم اس معاملے کو اخبارات میں اچھال کر اس کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔ یہی امید لیکر میں بلقیس سے ملنے چلا گیا تھا۔ لیکن اس کے گھر کے دروازے پر تالہ پڑا ہوا تھا۔ ہمسایوں سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ چند روز پہلے اپنا سامان لے کر کہاں گئے ہیں یہ کسی کو علم نہیں ہے۔ ہمسایوں کو ریاض شاہ کا حلیہ بتا کر اس کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ وہ شخص بھی انکے ساتھ ہی چلا گیا ہے۔

ریاض شاہ آناً فاناً سیالکوٹ سے غائب ہو گیا تھا۔ نہ جانے وہ بلقیس اور اس کے والدین کو کہاں لے گیا تھا۔ میں مکھن سائیں کے پاس نہیں جا سکتا تھا لہٰذا میں نے موتی ملنگ سے دوستی گانٹھ کر اس سے ریاض شاہ کا پتہ کرانے کی کوشش کی تو اس نے صرف دو باتیں بتائیں کہ ریاض شاہ گوجرانوالہ اور ایمن آباد کے درمیان ایک کالی گھاٹ نامی خفیہ جگہ پر چلہ کرنے گیا تھا۔ یہ جگہ سفلی علوم کرنے والوں کے لئے جنت کا درجہ رکھتی تھی۔ کالے عملیات کرنے والوں نے اس جگہ کا خفیہ کوڈ نیم کالی گھاٹ رکھا ہوا تھا۔ اسے تلاش کرنا بڑا مشکل تھا۔ دوسری بات اس نے یہ بتائی کہ ریاض شاہ لاہور چلا گیا ہے۔ وہ اس کے گھر کا پتہ نہیں دے سکا تھا۔

بلقیس کی بربادی اور ریاض شاہ کی سفاکی نے میرے دل و دماغ میں تلاطم برپا کر دیا تھا۔ لاچارگی اور غصہ کی ملی جلی کیفیات نے مجھے مہینوں اپنے کمرے میں بند رہنے پر مجبور کر دیا۔ کبھی کبھار میں بابا تیلے شاہ بیری والی سرکار حتیٰ کہ پیر کاکے شاہ کے دربار پر بھی گیا لیکن ایک عام زائر کی طرح واپس آ جاتا تھا۔ سارے سلسلے بند ہو گئے تھے۔

میں نے بی اے کا امتحان اچھے نمبر لیکر پاس کر لیا تھا۔ میں مزید پڑھنا چاہتا تھا۔ والد محترم نے اپنے تعلقات استعمال کر کے مجھے نائب تحصیلدار بھرتی کرانے کی کوشش کی لیکن میں نے اب فیصلہ کر لیا تھا کہ سوائے صحافت کے میں کسی دوسرے شعبے میں نہیں جاؤں گا۔ سیالکوٹ سے باہر نکلنے کے لئے میرے پاس اب یہی راستہ تھا کہ میں وکالت میں داخلہ لے کر لاہور آ جاؤں۔ پس میں نے تدبیر کی اور لاہور آ گیا۔ جس روز میں نے داتا کی نگری میں قدم رکھا میری آرزوؤں کے گلشن آباد ہوتے نظر آنے لگے۔ میرے عزیز رشتہ دار لاہور میں رہتے تھے۔ لیکن میں جس مقصد کی خاطر لاہور آیا تھا اس کیلئے میں ان کے ہاں نہیں رہ سکتا تھا۔ یتیم خانہ میں ان دنوں حمایت اسلام لاء کالج کی کافی شہرت تھی۔ میں نے وہاں داخلہ لے لیا۔ انہی دنوں فیملی میگزین کا آغاز ہو چکا تھا۔ چونکہ تحریر و تصنیف سے وابستگی تھی لہٰذا میں فیچر نگار کے طور پر فیملی میگزین کے لئے فیچر لکھنے لگا۔ اس دوران میں نے لاہور کے تمام عاملوں، مزاروں اور ایسے مقامات کی خاک چھان ماری جہاں جہاں عامل حضرات کے ملنے کی توقع ہوتی۔ میں لوگوں کو ریاض شاہ کا حلیہ بتاتا رہا لیکن کوئی بھی اس شخص کو نہیں جانتا تھا۔ اس تلاش بسیار میں میری حالت دگرگوں ہو گئی۔ بھوک اور افلاس سے نڈھال ہو گیا۔ داتا دربار پر جا کر لنگر سے پیٹ بھرتا، چوبرجی چوک کے لان میں رات گزارتا، رہنے کے ٹھکانے بھی چھن گئے تھے۔ بے کسی اور نامرادی کے باوجود میں نے دل نہیں چھوڑا۔ راتوں کو سٹریٹ لائٹس کی روشنی میں پڑھتا۔ اکثر رات گئے داتا دربار چلا جاتا اور صاحب مراد کے پاس بیٹھ کر قرآن پاک پڑھتا رہتا۔ میرے کان ہر وقت بابا تیلے شاہ کی آواز سننے کے لئے بے چین رہتے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اگر اب مجھے ملے تو یہیں کہیں ملیں گے۔ داتا دربار کے اندر بہت سے سفید باریش اور نورانی چہروں والے بزرگوں کو غور سے دیکھتا رہتا کہ نہ جانے ان میں سے کوئی ایک میرے مطلوبہ بزرگ ہوں۔ اسی طرح ایک سال گزر گیا۔ پھر ایک روز میرے بہنوئی لاہور آئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ریاض شاہ کے بڑے بھائی سید اقبال حسین شاہ لاہور میں فلاں جگہ رہتے تھے۔ تم ان سے کیوں نہیں ملے۔ امید کے ہزاروں چراغ روشن ہو گئے اور میں اگلے ہی روز سید اقبال حسین شاہ کی تلاش میں نکل پڑا لیکن وہ اس جگہ سے کہیں دور جا چکے تھے۔ مجھ پر مایوسی کا شدید دورہ پڑا۔ کئی روز تک میری حالت بھی خراب رہی۔ لیکن پھر مجھے فیملی میگزین کے مستقل رکن بننے کا موقع مل گیا تو میرے دن رات صحافتی ذمہ داریوں میں غرق ہو گئے اور وقت تیزی سے گزرتا چلا گیا لیکن اب میرا دل بازاری عاملوں سے شدید ترین نفرت کرنے لگا تھا۔ میں ان لوگوں کے گھناؤنے کرتوتوں سے آگاہ تھا لہٰذا میں نے کئی بار ایسے ایسے مضامین اور فیچر لکھے جس سے ان کی اصلیت سامنے آ جاتی تھی اور پولیس ان عاملوں کے پیچھے پڑ جاتی۔ حتیٰ کہ اعلیٰ سطح پر بھی ان کے خلاف کارروائیاں ہوتیں۔ انہی دنوں ایک معروف عامل سے میری ملاقات ہو گئی۔ میں نے سید اقبال حسین اور ریاض شاہ کو تلاش کرنے کے لئے ان سے مدد مانگی۔ 1999ء میں بالآخر ہم سید اقبال حسین کا گھر تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ میں اپنے ایک دوست ظفر سجاد کے ساتھ ان کے گھر گیا۔ تو وہ غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے ملے۔ تعارف ہوا۔ تو بولے۔

’’خدائے لم یزل کی قسم۔ کوئی مجھے اس بے غیرت کا پتہ دے میں اس کو سونے میں تول دوں۔ اس نے ہمارا ایمان خراب کر دیا ہے۔ میں اس کو ختم کر ڈالوں گا۔ اس نے میرے نام پر میرے عقیدت مندوں کو لوٹا ہے‘‘۔ سید اقبال حسین ایک حلیم الطبع اور شریف النفس انسان تھے۔ کہنے لگے۔ ’’اس کی وجہ سے ہم برباد ہو گئے ہیں‘‘۔

ان دنوں وہ شدید ترین بحران کا شکار تھے۔ گویا وہ سخت ترین سزاؤں سے گزر رہے تھے۔ ان کا ایک بیٹا جو ریاض شاہ کے ساتھ رہنے لگا تھا۔ ناگہانی آگ لگنے سے جھلس گیا تھا اور دوسرا بیٹا خطرناک حادثے کے بعد شالیمار ہسپتال میں پڑا تھا۔ سید اقبال شاہ نے کہا۔ ’’میرے بھائی۔ جنات کی غلامی کا طوق گلے سے اتارنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ نیک و بد جنات سے جب جان چھڑانی ہو تو یہ سزائیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے انہیں گلے سے لگا لیا۔ میں ان کے بیٹے کی تیمارداری کے لئے شالیمار ہسپتال چلا جاتا۔ ان سے پھر میرا مستقل رابطہ رہنے لگا لیکن میں نے ایک بات صاف محسوس کی تھی کہ وہ مجھ سے کھل کر باتیں کرنے اور ملاقات سے گریزاں ہونے لگے تھے۔ انہوں نے جواہرات کا کاروبار بھی شروع کر دیا تھا چند مہینے بعد ان کے دونوں بیٹے صحت یاب ہونے لگے تھے تو وہ پھر کاروبار پر نکلنے لگے۔ موچی گیٹ کے باغ میں وہ جواہرات لیکر جاتے اور نگینے بیچنے لگے۔ ایک روز میں ان کے گھر گیا تو وہ قدرے خوش دکھائی دے رہے تھے۔ میرے سامنے جواہرات کا صندوق کھول کر کہنے لگی۔ ’’بھائی۔ اس میں سے اپنی پسند کا نگینہ اٹھا لو۔‘‘ ان کے پیار بھرے انداز سے میں متاثر ہوا۔ میں نے کہا۔ ’’نگینہ تو میں لے لوں گا لیکن اس کے پیسے دوں گا۔‘‘

’’ارے آپ سے پیسے لینے ہیں۔ بالکل نہیں۔ فی الحال مجھے حکم ہوا ہے کہ تمہیں تمہاری مرضی کا نگینہ دے دوں‘‘۔ ان کے چہرے پر اس روز بڑا سکون نظر آیا۔

میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا اور مجھے لگا جیسے ہزاروں آنسو میرے حلق میں آ ٹھہرے ہیں اور ایک میٹھا گداز احساس نمو پانے لگا ہے۔ ’’شاہ صاحب۔ کس نے آپ سے کہا ہے نگینہ دینے کو بابا جی نے ۔اگر انہوں نے کہا ہے تو مجھے بابا جی سے ملا دیں‘‘۔ یہ کہتے ہوئے میری آواز بھرا گئی اور آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ’’برسوں بیت گئے ان کے ہجر میں۔ بہت کچھ لٹ گیا ہے میرا۔ میں ان سے ملنے کی تمنائیں لیکر یہاں آیا تھا‘‘۔

’’شاہد‘‘۔ ان کے چہرے پر ایک دم اکتاہٹ اور سختی پیدا ہو گئی‘‘! بابا جی کو بھول جاؤ۔ اگر تم پر ان کی اصلیت کھل گئی تو تم تڑپ تڑپ کر مر جاؤ گے‘‘۔ میرے آنسو پلکوں میں ٹھہر گئے اور میں شاہ صاحب کی طرف حیرت آمیز مگر ملتجی نظروں سے دیکھنے لگا۔

’’سنو۔ اگر سن سکتے ہو تو سنو۔ جنہیں تم بابا جی کے برگزیدہ جنات کہتے ہو، سمجھتے ہو۔ وہ جن نہیں تھے‘‘۔

’’کک۔۔۔ کیا۔ شاہ صاحب۔ آپ کیا فرما رہے ہیں۔ وہ جنات نہیں تھے تو کیا تھے‘‘۔ شاہ صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری اور کمرے کے روشندان کی طرف دیکھنے لگے اور جب وہ بولے تو میری سماعت پر ہزاروں ٹن جلتا ہوا بارود گرنے لگا۔

میری حالت بہت بری ہو گئی تھی۔ میں سرتاپا پسینے میں بھیگ گیا۔ رعشہ سے پورا بدن کانپنے لگا تھا۔ میرا دل چاہتا تھا فرش پھٹ جائے اور میں اس میں پورے کا پورا غرق ہو جاؤں۔ کوئی میرے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دے۔ نہ میں سن سکوں‘ نہ دیکھ سکوں نہ سوچ سکوں۔

’’کک کیا ۔۔۔ یہ سچ ہے شاہ صاحب‘‘ میرے گھٹنوں سے جان نکلنے لگی اور میں بید کی کرسی پر گر گیا۔

’’یہ سچ میرے بھائی ۔بابا جی ۔۔۔ جنہیں تم بہت بڑی ہستی سمجھ رہے تھے وہ شیطان تھا۔ ابلیس کی پرچھائیں تھا وہ‘‘ ان کے چہرے پر سختی آنکھوں میں الجھن اور لہجے میں ناراضگی صاف محسوس ہو رہی تھی۔

’’انہیں بھول جاؤ تم ۔۔۔ ان کا ذکر بھی مت کیا کرو ورنہ ایک روز پچھتاؤ گے‘‘

’’شاہ صاحب‘‘ میں نقاہت زدہ لہجے میں بولا ’’اب کس پچھتاوے کا غم کروں۔ پہلے میں اس بات کو تو برداشت کر لوں۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آ رہا‘‘ میرا کلیجہ پھٹنے کو تھا۔ دل بری طرح دھڑک رہا تھا سانسیں تیز ہو گئیں اور میں نے پوری قوت مجتمع کرکے شاہ صاحب کے ہاتھ پکڑ لئے ’’خدا کے لئے کہہ دیجئے یہ جھوٹ ہے‘‘

’’صبر میرے بھائی صبر۔ میں تم سے کیوں جھوٹ بولوں گا ۔۔۔ ریاض شاہ کے پاس جو بابا جی تھے وہ شیطان تھا اور یہی حقیقت ہے‘‘

اس بار میں نے ان کے چہرے پر عجیب سی چمک دیکھی تھی جو لمحہ بھر میں معدوم ہو گئی۔ میرے ذہن میں سوچ کی چنگاری بھڑکی۔

’’آپ نے فرمایا کہ ریاض شاہ کے پاس جو باباجی تھے وہ شیطان تھا‘ یہی فرمایا ہے ناں‘‘

’’ہاں ۔۔۔ میرا مطلب یہی ہے‘‘ وہ بولے ’’تمہارے لئے ٹھنڈا پانی منگواتا ہوں‘‘

’’جی شکریہ مجھے پیاس نہیں ہے۔ اگر آپ میری فکر ختم کر دیں تو میری برسوں کی پیاس بجھ جائے گی‘‘ میں نے کہا ’’آپ کی بات سے لگتا ہے کہ آپ کے پاس جو بابا جی تھے یہ وہ نہیں تھے‘‘

’’ہاں میں یہی کہنا چاہتا تھا۔ تم ایک زیرک نوجوان ہو جلد سمجھ گئے‘‘ ان کے لبوں پر مسکان ابھری۔

’’تو پھر یہ سب کیا ہے‘‘ میں نے الجھے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔

’’میں بتاتا ہوں۔ تم نے میری بہت خدمت کی ہے اور پھر ایک ایسے وقت میں جب ساری دنیا نے مجھے چھوڑ دیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا تم میرے پاس آ گئے اور میرے غموں میں شریک ہو گئے۔ اس لئے میرا فرض بنتا ہے کہ میں تمہاری جستجو اور منزل کا راستہ واضح کر دوں۔ تمہاری گتھی سلجھا دوں لیکن پہلے پانی پی لو‘‘ یہ کہہ کر وہ اندر چلے گئے اور میں سامنے رکھے نگینوں سے بھرے صندوقچے کو دیکھنے لگا۔ مجھے غازی کی باتیں یاد آنے لگیں۔ اس نے کہا تھا کہ جنات نگینوں کے خزانے کے محافظ ہوتے ہیں تو کیا یہ سارے نگینے جنات نے انہیں دئیے ہیں۔ ایسے آبدار اور شفاف نگینے میں نے پہلے نہیں دیکھے تھے۔ شاہ صاحب شربت کے دو گلاس لے کر آ گئے۔ سامنے ترپائی پر رکھے اور ایک گلاس اٹھا کر کچھ پڑھنے لگے۔ پھر شربت پر پھونک مار کر مجھے پینے کے لئے دے دیا۔ میں نے لمحہ بھر کے لئے ہچکچاہٹ سے کام لیا تو وہ بولے ۔

’’میاں اس وقت تم جس جگہ بیٹھے ہوئے ہو یہ اس کا تقاضا ہے کہ تمہیں پانی دم کرکے دوں۔ ویسے بھی جب تم اس کمرے میں داخل ہوتے ہو اور جانے لگتے ہو تو میں تم پر دم کر دیتا ہوں تاکہ کسی جن کی شرانگیزی کا شکار نہ ہو جاؤ‘‘

شاہ صاحب کی بات سن کر میں غیر محسوس انداز میں پورے کمرے کا جائزہ لینے لگا لیکن یہ کمرہ تو اجڑے دیار کی ترجمانی کر رہا تھا۔ صوفوں پر گرد جمی تھی۔ روشندان پر مکڑی کے جالے تنے تھے۔ لگتا تھا برسوں سے کسی نے صفائی نہیں کی حالانکہ یہ ان کی بیٹھک تھی۔

’’اصل قصہ یہ ہے میاں ۔میرا بھائی کالا علم کرنے والوں کے اس قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے جو آدھا تیتر اور آدھ بٹیر کہلاتے ہیں۔ اس نے نوری علم بھی سیکھا ہے اور کالا علم بھی۔ میاں سچ تو یہ ہے ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں لیکن نوری اور کالے علوم کے مابین کچھ ایسے علوم بھی ہیں جو دونوں کو آپس میں ملا کر بنائے جاتے ہیں۔ عالمین حضرات نعوذباللہ قرآن پاک کی مقدس آیات کے ساتھ ایسے ایسے عمل باندھ دینے میں شیطانی قوت حاصل کر لیتے ہیں کہ اس پر جتنی بھی لعنت بھیجی جائے کم ہے۔ تقسیم برصغیر کے بعد ہمارے ہاں بہت سے مسلمان عاملوں نے ہندوؤں سے یہ عمل سیکھے اور تجربات کرکے دونوں علوم کو آپس میں مکس کر دیا۔ ان دونوں علوم کے درمیان لٹکے ہوئے یہ عامل ہوس کے غلام بن کر رہ جاتے ہیں۔ روپیہ‘ پیسہ‘ شہرت‘ قہر و غضب اور صنف مخالف کے ساتھ ان کی رغبت ایک مجبوری بن جاتی ہے۔ میرا بھائی بھی ان میں سے ایک ہے۔ اللہ معاف کرے۔ میں نے تو اس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا اور نہ ہی میری والدہ محترمہ نے کبھی کسی سفلی علم کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ بابا جی سرکار میری عبادت گزار والدہ پر مہربان تھے اور ان کی وفات کے بعد باباجی سرکار میرے پاس آنے لگے۔ والدہ نے اور بابا جی نے مجھے روحانی علوم سکھائے تھے۔ میں چونکہ روپے پیسے کے لئے یہ کام نہیں کرتا تھا لیکن میرے بھائی سے یہ برداشت نہیں ہوتا تھا وہ کہتا تھا کہ ہم جنات کی خدمت کرتے رہتے ہیں یا پھر دکھی انسانیت کے لئے اپنے آپ کو دکھوں میں مبتلا رکھتے ہیں۔ ہم ان کے ذریعے پیسہ کیوں نہ کمائیں۔ سو وہ بھٹک گیا اور اس نے کالا جادو کرنے والے ہندو اور مسلمان عاملوں کے زیر سایہ چلے کاٹنے شروع کر دئیے۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ اسے اس گندی راہ سے بچا لوں لیکن وہ اتنا گھاگ اور شیطان ہو گیا تھا کہ اس نے مجھ پر بھی ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا ۔ مجھے جنات بزرگوں کی عزت کا خیال تھا لہٰذا میں نے بابا جی کو آزاد کر دیا۔ وہ میرے قیدی نہیں تھے بلکہ مہربان تھے۔ مجھے ان کی وجہ سے بے پناہ عزت اور شہرت ملی تھی۔ میں نے یہ بات ریاض شاہ کو نہیں بتائی تھی لیکن بدقسمتی سے میرے بیٹے کو یہ معلوم ہو گیا کہ میں نے بابا جی کو آزاد کر دیا ہے۔ اب وہ اپنی مرضی سے آتے یا پھر میں اگر کسی مجبوری کے عالم میں انہیں یاد کرتا تو وہ آ جاتے تھے۔ میرے بیٹے نے اپنے چچا یعنی ریاض شاہ کو یہ خبر دے دی تھی کہ بابا جی اب ہمارے پاس نہیں رہے۔ اسے اگر کسی کا خوف ہوتا تھا تو وہ بابا جی کا تھا۔ وہ نہ رہے تو وہ باغی اور مادرپدر آزاد ہو گیا۔ مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے میرے گھر کے اندر بہت سی خندقیں کھود رکھی ہیں۔ یعنی اس نے میرے بچوں کو بھی گمراہ کر لیا ہے۔ خیر۔ جب مجھے معلوم ہوا تو اس وقت تک میرا بڑا بیٹا گمراہ ہو چکا تھا اور ریاض شاہ اسے اپنے ساتھ لے کر ان علاقوں میں چلا گیا جہاں میرے معتقد رہتے تھے۔ میں نے ان سے کبھی ایک پیسہ بھی نہیں لیا تھا لیکن ریاض شاہ نے بابا جی کے شعبدے دکھا کر لوگوں کا مال اور عزتیں لوٹنا شروع کر دیں‘‘

’’بابا جی کے شعبدے سے کیا مراد ہے؟‘‘ میں نے سوال کیا

’’بتاتا ہوں میاں۔۔۔ ریاض شاہ نے عملیات کے زور پر جنات قابو کر لئے تھے اور پھر انہیں بابا جی کا سوانگ بھرنے کے لئے کہہ دیا تھا۔ ان میں سے کچھ جنات مسلمان تھے جس طرح مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مذہب سے دور ہوتے اور کافروں سے بدتر حرکتیں کرتے ہیں اسی طرح جنات میں بھی صرف نام کے مسلمان ہوتے ہیں۔ ریاض شاہ نے خود کو روحانی بزرگ کے روپ میں ہر جگہ خود کو پیش کیا۔ وہ کسی مرید کے گھر بسیرا کر لیتا اور پھر وہاں گند پھیلانا شروع کر دیتا‘‘

’’لیکن شاہ صاحب پھر بابا جی شیطان تو نہ ہوئے‘‘

’’وہ اصل بابا جی نہیں تھے۔ میرے بابا جی تو نسلاً مسلمان ہیں اور ان کے بزرگ اور معلم صحابہ کرامؓ کی صحبت میں رہتے رہے ہیں اور۔۔۔‘‘

’’ہاں ہاں۔ بابا جی کے بزرگوں سے بھی میں ملا ہوں۔ وہ بھی یہی کہتے تھے۔ میں نے اپنے ان ہاتھوں سے ان کی خدمت کی ہے۔ انہیں ہاتھوں سے محسوس کیا ہے اور ان نظروں سے دیکھا ہے۔ میں نے ریاض شاہ کے عملیات بھی دیکھے ہیں اور‘‘۔۔۔میں نے شاہ صاحب کی بات کاٹتے ہوئے بے صبری سے اپنی داستان سنا دی کہ کس طرح برسوں پہلے میں باباجی‘ ریاض شاہ اور ملنگوں اور اللہ کے برگزیدہ بندوں سے ملتا رہا ہوں۔ ’’مگر شاہ صاحب میرا ذہن ابھی تک اس بات کو تسلیم نہیں کر رہا کہ اگر وہ گندے جنات تھے تو ان پاکیزہ محفلوں کو کیا کہوں۔ درود و سلام کا ذکر‘ تلاوت قرآن پاک‘ نعتیہ محافل‘ بابا جی کا ریاض شاہ کی سفلی حرکات پر ناراض ہونا۔ یہ سب کیسے ہو سکتا ہے۔ میں کیسے مان لوں اور کیا میں یہ مان لوں کہ نعوذ باللہ مقدس اور قرآنی اعمال کا شیطان پر اثر نہیں ہوتا۔ اگر وہ بابا جی شیطان کی پرچھائیں تھے تو پھر ان کی ایمانی صفات کے بارے میں کیا کہیں گے۔ استغفراللہ۔ میرا کلیجہ پھٹ جائے گا شاہ صاحب اس بات کو واضح کر دیں اور پھر مجھے یہ بھی بتائیں کہ بقول آپ کے بابا جی اپنی مرضی سے آپ کے پاس آ سکتے ہیں اور مجبوری کے عالم میں آپ انہیں بلا بھی سکتے ہیں تو پھر ۔۔۔ جب آپ کا بھائی ہر طرف گند پھیلا رہا تھا‘ اس نے قیامت برپا کی ہوئی تھی آپ نے اصلی بابا جی سے مدد کیوں نہ مانگی۔ کیا یہ مجبوری نہیں بن سکتی۔ انصاف اور ظلم کا جواب دینا چاہئے تھا آپ کو۔ معاف کیجئے شاہ صاحب آپ کی باتیں میرا ایمان خراب کر دیں گی۔ میں اصل راستے سے بھٹک جاؤں گا۔ للہ کچھ واضح کریں‘‘

’’میاں‘‘ وہ میری بات سن کر گہری اداسیوں کی چادر میں سو گئے۔

’’تم سچ کہتے ہو۔ تمہارے سوالوں کے جواب دینے لگا تو کتابیں بھر جائیں گی لیکن شاید میری وضاحت مکمل نہ ہو سکے۔ یہ بات ذہن میں رکھ لو کہ جب کوئی مسلمان بھٹک سکتا ہے تو وہ شرک کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔وہ صرف شیطان کا غلام ہوتا ہے۔ میں صرف تمہیں ایک بات بتا سکتا ہوں اگر تم اسے سمجھ گئے تو جان لو گے کہ یہ اشرف المخلوقات حضرت انسان کیا کچھ کر سکتا ہے۔ اللہ کے بندے۔ اگر یہ انسان علم کی معراج کو چھو لے تو زمین کا سینہ اس کی انگلی کے اشارے سے چاک ہو جاتا ہے۔ یہ دنیا اندھیروں میں ڈوب سکتی ہے۔ آسماں تھرا اٹھتا ہے لیکن اللہ کا وہ کابل بندہ کبھی ایسا فعل نہیں کرتا۔ اللہ اپنے بندے کی کوئی بات رد نہیں کرتا۔ اب اس کامل بندے سے کم تر بندوں کے علم کی انتہا یہ ہے کہ وہ جنات کی بستیاں اور شہر اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ اگر وہ کم تر بندہ یہاں سے دل میں پکارے تو لاکھوں میل دور بیٹھا اس کا غلام یا دوست جن پلک جھپکنے میں اس کے پاس آ جاتا ہے۔ یہ ہے علم کی صداقت اور اس کی معراج ہے۔

اب سنو۔ شیطان یعنی ابلیس کوئی عام شے نہیں۔ اس نے سارے علوم سیکھے ہیں اور ان کے زعم میں مبتلا ہو کر متکبر ہو گیا۔ ابلیس بھی جنات میں سے تھا۔ شیطان الگ سے مخلوق نہیں تھی بلکہ ابلیس سے جنم لینے والی اور اس کے نقش قدم پر چلنے والی جناتی مخلوق شیطان بن گئی۔ یعنی شرپسند‘ فسادی اور اللہ کی تعلیمات کو جھٹلانے اور انسانوں کو گمراہ کرنے والی مخلوق۔ جنات اور شیاطین بھی عملیات کے ماہر ہیں۔ ابلیس نے شیاطین کو کالا علم سکھایا۔ جنات کو انبیا‘ صالحین‘ اولیا اور علمائے کرام نے قرآن پاک کی تعلیمات دی اور وہ خود قرآن کے معلم بن گئے۔ بہت سے مسلمان جنات کے پاس بھی اسی طرح روحانی اور سفلی علوم ہیں جس طرح کہ ایک انسان کے پاس ہو سکتے ہیں۔ اب رہا یہ سوال کہ ریاض شاہ کے بابا جی روحانی محافل کا انعقاد کرتے تھے تو اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ وہ جنات بھی مسلمان تھے لیکن وہ مذہب سے غافل تھے اور مذہب کے نام پر یعنی نیکی کی آڑ میں لوگوں کو گمراہ کرتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال اور دلیل یہ ہے کہ اگر وہ اصلی باباجی ہوتے تو وہ زلیخا اور بلقیس کو برباد نہ کرتے۔ ان کے ہوتے ہوئے ریاض شاہ کو افیون منگوانے کی ضرورت نہ پڑتی اور نہ ہی وہ تمہارے خون سے عملیات باندھتا۔ وہ نیکی اوربدی کے ڈرامے کرتے تھے تاکہ تم لوگوں کو متاثر کرسکیں۔ یاد رکھنا کوئی بھی سچا روحانی عامل کبھی ناپاک نہیں ہوگا اورخلاف شریعت کام نہیں کریگا۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تمہارے حضرت جی نے جب زلیخا بیٹی کا علاج کیا تو ریاض شاہ اور باباجی کا سارا علم جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ اگر وہ اصلی بابا جی ہوتے تو وہ حضرت جی کی قدم بوسی کرتے۔ میرے بابا جی گندے اور گھناؤنے علم نہیں کرتے‘ ملنگوں کے روپ میں درباروں میں ظاہر نہیں ہوتے۔البتہ وہ مزاروں پر پردے میں رہ کر خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ تو شرارتی اور کم علم جنات کی نسل ہے جو اپنے اسلاف کی نافرمانی کرتی ہے۔ میاں ۔۔۔ جنات اور انسانوں کے کئی معاملات میں قدر مشترک ہے۔ جیسے کہ ہمارے ہاں ضعیف العقیدہ مسلمان انسان کم علم اور جاہل مسلمان ۔انہیں دیکھو کہ وہ اپنی مذہبی رسومات کیسے ادا کرتے ہیں‘ مذہب پر کتنے کاربند رہتے ہیں۔ پا کی ناپاکی کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ یہی حال جنات کا بھی ہے۔ ہم بڑے خوش قسمت مسلمان ہیں شاہد میاں ۔۔۔ لاکھ گناہ کرکے بھی معافی مانگیں تو سوہنا رب ہمیں معاف کر دیتا ہے بشرطیکہ ہم گناہ کے نتائج سے پوری طرح آگاہ نہ ہوں۔ انسانوں پر اللہ تعالیٰ کی نظر کرم ہے کیونکہ یہ اس ذات مصور کی کامل تخلیق ہے۔ شرپسند جنات کو ان کے گناہوں پر معافی ملنا بہت مشکل ہے۔ انہیں معافی مانگنے کے لئے بہت مشقت کرنی پڑتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جنات اور شیاطین نے آگ سے جنم لیا۔ اسی لئے ان کے ضمیر میں شر فساد اور ظلمت کا تناسب زیادہ ہے۔ شیاطین کو تو معافی ملے گی ہی نہیں جنات کو مل سکتی ہے لیکن یہ سب اللہ اور ان کے بیچ کا معاملہ ہے۔ جو جنات انسانی بستیوں میں آ کر شرارتیں کرتے ہیں ان کا سخت محاسبہ ہوتا ہے۔ میری بات یاد رکھنا۔ ریاض شاہ اور انکے بابا جی کا بھی یہی حال ہو گا۔ البتہ وہ غازی ۔۔۔ قدرے معصوم ہے۔ ابھی نابالغ ہے۔ مجھے یقین ہے اگر وہ ان کے دائرہ سحر سے نکل گیا تو نیک جنات کی صف میں شامل ہو جائے گا۔ میری باتوں سے کچھ سمجھ آیا ہے‘‘

میں شاہ صاحب کی باتیں غور سے سن رہا تھا لیکن ذہن پر یادوں کی یورش ہو رہی تھی۔ بابا جی اور غازی کا چہرہ کسی طرح ذہن کی سکرین سے غائب نہیں ہو رہا تھا۔ آخر میں نے کہا

’’شاہ صاحب میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن مجھے یہ بتائیں کہ غازی نے مجھے اسم اعظم کا علم کیوں سکھایا۔ ٹھیک ہے وہ مسلمان جن تھا لیکن جب وہ گمراہ گروہ میں شامل تھا تو اس نے مجھ پر عنایت کیوں کی‘‘

’’میں نے تمہیں کہا ہے کہ جنات عملیات کا علم رکھتے ہیں۔ غازی ان دنوں علوم سیکھ رہا ہو گا۔ اسے تم اچھے لگے ہو گے بلکہ یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے کہ اس نے تمہیں یہ علم سکھا دیا۔ یہ بالکل وہی بات ہے کہ ایک بار ابلیس نے اللہ کے ایک پیغمبر کو ایک آیت مبارکہ پڑھنے کے لئے دی تھی کہ جب بھی اس کو پڑھیں گے شیطان کے سحر سے آزاد ہو جائیں گے۔ یہ گمراہ جنات کی روایت میں بھی شامل ہے۔ میں نے بابا جی کے ساتھ مل کر ہزاروں ایسے کیس حل کئے ہیں۔ کئی عامل جنات سے علم حاصل کرکے انہیں معاف کرتا تھا۔ اگر غازی نے تمہیں یہ علم سکھایا ہے تو سمجھو اس نے تمہیں ایک تحفہ دیا ہے لیکن شاہد میاں ۔۔۔ یاد رکھنا ۔۔۔ جنات اپنی خدمت‘ احسان اور تحفہ کبھی نہیں بھولتے اگر انہیں کوئی دکھ پہنچائے گا تو وہ اس انسان کی نسلوں سے بھی حساب چکتا کرتا رہے گا۔ اسی لئے تو میں کہتا ہوں جنات کی دوستی پہاڑوں سے زیادہ وزنی ہوتی ہے۔ ایک نیک اور پرہیزگار عامل ہی کسی اصیل جن کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے‘‘

’’اب ایک اور سوال شاہ صاحب‘‘ میں نے مودبانہ انداز میں کہا

’’کہو‘‘

’’اصلی بابا جی کے ساتھ آپ نے ریاض شاہ کا معاملہ ڈسکس نہیں کیا‘‘

’’کیا ہے دراصل میں اس میں میری بھی بہت کوتاہیاں ہیں۔ میں بابا جی کو آزاد کرنے کے بعد ایسی عبادات میں مصروف ہو گیا جو مجھے جنات اور شیاطین کے شر سے مستقبل میں محفوظ رکھ سکتی تھیں۔ کوئی روحانی عامل بھی جب جنات کی دوستی سے دستبردار ہوتا ہے تو اس کو سخت امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس وقت وہ ساری شیطانی قوتیں اس کو نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتی ہیں جن سے تمام عمر وہ لڑتا رہا ہوتا ہے۔ پس میں کئی سال تک اس محاسبے کے عمل سے گزرتا رہا ہوں۔ لیکن پھر بھی مجھے اپنے اعمال کا حساب دینا پڑتا ہے۔ دیکھ لو۔ میرے بچے اور یہ گھر کس حال میں ہے حالانکہ میں ایک صالح جن اور اس کے خاندان سے رابطہ رکھتا تھا مگر مجھے خراج دینا پڑا ہے‘‘

’’بابا جی آپ کے پاس آتے ہیں؟‘‘

’’ہاں جب میرا دل اداسی سے بھر جاتا ہے اور کسی سخت مشکل میں مبتلا ہوں تو بلاتا ہوں لیکن اب ان سے خدمت نہیں لیتا اس لئے محنت مزدوری کرتا ہوں‘‘

’’بابا جی سے آخری ملاقات کب ہوئی!‘‘

’’آج رات کو‘‘ شاہ صاحب کے لبوں پر آسودہ سی مسکان ابھری۔ انہوں نے ہی کہا تھا کہ شاہد میاں کو ایک خوبصورت نگینے کا تحفہ دے دینا‘‘

’’کیا یہ بابا جی نے کہا ہے لیکن وہ مجھے کیسے جانتے ہیں۔ میرا مطلب ہے میں تو آپ والے بابا جی سے نہیں ملا‘‘

سید اقبال شاہ میری بات سن کر ہنس دئیے ’’شاہد میاں اب اتنے زیادہ سوال نہ کرو تو اچھا ہے۔ جس روز تم مجھ سے ملنے آئے تھے میں اس روز سارا کچھ سمجھ گیا تھا اور میں نے بابا جی کے سامنے تمہارے حالات رکھ دئیے تھے۔ وہ خود بھی ریاض شاہ کے اعمال سے رنجیدہ تھے‘‘

’’شاہ صاحب‘‘ میں بے تاب ہو کر بولا ’’خدارا کیا ایک بار ایسا ہو سکتا ہے کہ میں اصلی بابا جی سے مل لوں تاکہ میرے سارے زخم دھل جائیں‘‘

’’دیکھو میاں یہ تو ان سے پوچھنا پڑے گا اگر اجازت مل گئی تو تمہیں میں بلواؤں گا۔ اب مجھے اجازت دو مجھے کہیں کام سے جانا ہے ۔اپنا نگینہ لے لو‘‘

میں نے جگمگاتے جواہرات میں سے ایک انگشتری اٹھائی جس میں نیلم کا پتھربڑا تھا۔شاہ صاحب نے اپنے ہاتھوں سے انگوٹھی میرے دائیں ہاتھ کی تیسری انگلی پر چڑھائی اور میرے ماتھے پر کچھ پڑھ کر پھونک ماری۔ اور پھر جیب سے ایک کاغذ نکال کر میرے سامنے کر دیا جس پر لکھا تھا

’’شاہد میاں کو نیلم کا پتھر پسند آئے گا اسے دے دینا‘‘

’’یہ ۔۔۔ کیا ہے‘‘ میں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا ‘‘

’’بس ۔۔۔ میں یہی تمہیں دکھانا چاہتا تھا۔ ایک تحفہ تمہیں غازی نے دیا تھا۔ وہ پتھر اگر سنبھال کر رکھے ہیں تو انہیں تقسیم کر دینا۔ مگر ان کا صدقہ ضرور اتار دینا اور کوئی مسئلہ ہے تو بتا دو‘‘

ان دنوں میری پریشانیوں میں ایک اہم پریشانی گھر کی تھی۔ میں اپنا گھر تعمیر کرنا چاہتا تھا۔ میں نے جھٹ سے کہا ’’شاہ صاحب میرے پاس پلاٹ تو ہے مگر مکان تعمیر نہیں ہو رہا‘‘

شاہ صاحب چند لمحے خاموش رہے اور خلاؤں میں گھورنے لگے۔ ان کے لبوں کے ارتعاش سے معلوم ہو رہا تھا کچھ پڑھ رہے ہیں پھر بولے ’’انشاء اللہ دو ماہ بعد تمہارے گھر کی تعمیر شروع ہو جائے گی اللہ وسیلہ پیدا کرے گا لیکن اب میری ایک خواہش ہے‘‘

’’جی حکم‘‘ میں سرتاپا عقیدت کے ساتھ بولا

’’جب تک اب میں نہ بلاؤں میرے پاس نہ آنا‘‘ وہ کمزور سی آواز میں بولے

’’لیکن شاہ صاحب میں پھر سے ادھورا ہو جاؤں گا آپ کے بغیر ۔۔۔۔۔۔‘‘

’’میاں اب تمہیں اس عہد کی پابندی کرنی ہو گی۔ عہد توڑا تو اپنے اوپر سات جنات سے محروم ہو جاؤ گے‘‘

’’جج جی ۔۔۔ کیا فرمایا آپ نے‘‘

’’ہاں ۔۔۔ میں سچ کہہ رہا ہوں تم اسم اعظم اور بزرگوں سے حاصل کردہ وظائف کا ذکر کرتے رہتے ہو‘ اللہ تعالیٰ اپنے ذاکر بندوں پر اپنی مخفی مخلوق کو مامور کر دیتا ہے۔ ادھر دیکھو تمہیں یہ نظر نہیں آئیں گے۔ یہ سخت خفا ہیں کہ تم یہاں کیوں آئے۔ یہ دروازے سے باہر کھڑے ہیں۔ یہ تمہیں تنگ نہیں کریں گے۔ بس تمہیں ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کی عبادت اور ذکر الہٰی سے کبھی غافل نہ ہونا۔ ایک روز تم بہت کچھ حاصل کر لو گے۔ اللہ نے تمہیں کسی خاص خدمت کے لئے منتخب کیا ہے تو اس اعزاز کی عزت رکھنا۔ سمجھداری اور حوصلے کے ساتھ اس صبر آزما دور سے گزر جانا۔ ہر معاملہ اللہ کا ذکر کرکے اس کے سپرد کر دینا تمہاری مشکلات دور ہو جائیں گی‘‘

’’انشاء اللہ ۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں آپ کے حکم کی تعمیل ہو گی‘‘ میں نے پورے خلوص کے ساتھ وعدہ کیا اور اٹھنے سے پہلے ایک سوال کرنا ضروری سمجھا ’’شاہ صاحب بابا جی اور بزرگوں نے مجھے جو وظائف دئیے تھے کیا میں انہیں کسی کو دے سکتا ہوں‘‘

’’تمہارے پاس کون کون سے وظائف ہیں‘‘ انہوں نے سوال کیا تو میں نے جتنے وظائف یاد تھے انہیں سنا دئیے۔ کچھ دیر تک وہ خاموش رہے اور بولے ’’اس پر تمہیں فی الحال کچھ نہیں بتا سکتا۔ میں بابا جی سے دریافت کرکے ان کی صحت معلوم کروں گا البتہ ٹاہلی والی سرکار اور بابا تیلے شاہ کے وظائف کی اجازت تمہیں انہیں سے لینی ہو گی۔ البتہ اسم اعظم کی اجازت ہے۔ ویسے میں تمہیں اور مختصر سے اسم اعظم بتا دیتا ہوں۔ لوگوں کی بھلائی کے لئے پڑھنے کے لئے دے سکتے ہو۔ لیکن یہ وظیفہ نہیں ذکر کے طور پر پڑھنے کی ہدایت کرنا۔ ذکر اور وظیفہ میں فرق ہے‘‘ شاہ صاحب نے مجھے وظیفے اور ذکر کی نزاکتوں اور افادیت سے آگاہ کیا اور پھر مجھے چند اسمائے اعظم بتائے۔ جن کی اجازت عام بھی دی۔ یہ میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں اور ملتجی ہوں کہ وہ ذکر الہٰی کے بعد میری مغفرت اور سختیاں دور کرنے کے لئے بھی دعا کریں کیونکہ جب سے میں نے اس داستان کو رقم کرنا شروع کیا ہے مختلف مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے مجھے۔ بلکہ جان جاتے جاتے بچی ہے۔ جس روز میں نے یہ داستان رقم کرنے کے لئے قلم اٹھایا سید اقبال شاہ کی عنایت کردہ انگشتری غائب ہو گئی۔ یہ میں عرض کر دوں کہ ان کی دعا سے حیرت انگیز طور پر دوسرے ماہ ہی میرے گھر کی تعمیر شروع ہو گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیا جہاں کی نعمتوں سے سرفراز کیا لیکن سید اقبال شاہ صاحب کی طرف سے ابھی تک باقاعدہ ملاقاتوں کا وقت نہیں آیا۔ کچھ ماہ پہلے ان سے ایک بڑے سرکاری آفیسر کے گھر ملاقات ہو گئی تھی۔انہیں دیکھ کر میرے تو جیسے خزاں رسیدہ دل پر بہار آگئی تھی ۔ انہوں نے باقاعدہ بلانے کا وعدہ کرلیا ہے ،دیکھئے اب کب اصلی باباجی اور غازی سے ملاقاتیں کب شروع ہوتی ہیں۔۔۔۔اور ان کے کون سے بھید سامنے آتے ہیں۔۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ جونہی یہ ملاقاتیں شروع ہوں گی میں اپنے تمام رابطہ میں رہنے والے پرستاروں کو بتادوں گا۔۔ البتہ۔میں ابھی بھی داتا دربار بابا تیلے سے ملاقات کی تمنا لے کر جاتا ہوں۔ دعا کریں یہ ملاپ بھی پھر سے ہو۔ سید اقبال شاہ صاحب کے دئیے ہوئے ان اسمائے اعظم کا ذکر شب و روز کریں خاص طور پر نماز تہجد کے بعد۔ اس کی افادیت بڑھ جائے گی۔

-1 یا معطی یا منعم یا نافع یا حنان یا منان بحق یا سلام علی کل شئی قدیر۔

اپنے ہر طرح کے جائز معاملات کے لئے اس اسم اعظم کا ذاکر کبھی مایوس نہیں ہو گا۔ رزق میں کشادگی‘ حسب خواہش نوکری اور کاروبار کے تحفظ اور وسعت کے لئے اس اسم اعظم کا ذکر پاکیزگی کے ساتھ نماز تہجد کے بعد کرتے رہنے سے مقاصد پورے ہوں گے۔

یا رحیم یا باعثُ بحق یا رزاق واللہ خیرالرازقین

(تمام شدہ)

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *