part 2
’’یا خدا ! یہ بلی ہے یا کوئی جن بھوت، بند گاڑی میں گھس آتی ہے ، سادھو اس سے باتیں کرتا ہے کھڑکی کا مضبوط شیشہ اس سے ٹکرا کر ٹوٹ جاتا ہے‘‘ یہ سب کیا ہے؟ ‘‘
میں نے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ اچانک مجھے کسی گاری کا ہارن سنائی دیا۔ میری گاڑی سڑک کے درمیان میں رکی ہوئی تھی اس لئے پیچھے سے آنے والی گاری کا ڈرائیور ہارن دے رہا تھا۔میں نے جلدی سے گاڑی کو آگے بڑھایا اور چل پڑا۔ بچوں کو سکول سے گھر چھوڑا اور دوپہر کاکہنا کھا کر میں دوبارہ بینک چلا گیا۔ دن گزرتے رہے اس کے بعد نہ تو مجھے سادھو ملا نہ ملنگ بابا نہ ہی کوئی عجیب و غریب واقعہ ہوا جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ میں پچھلی باتیں بھول گیا۔ ہاں اکثر و بیشتر میرے ارد گرد کسی کی موجودگی کا احساس اور گلاب کی خوشبو ضرور محسوس ہوا کرتی۔
یک دن میں حسب معمول بینک جا رہا تھا۔ سڑک کے عین درمیان ایک برقع پوش لڑکی بوڑھی عورت کا ہاتھ پکڑ کر اٹھا رہی تھی۔ وہ شاید سڑک پار کرتے ہوئے گر گئی تھی۔ گاڑی کو آتے دیکھ کر لڑکی گھبرا گئی اس نے جلدی سے بوڑھی عورت کو بغلوں میں ہاتھ دے کر اٹھانے کی کوشش شروع کر دی۔ میں نے بریک لگائی اور گاڑی روک نیچے اتر آیا۔ لڑکی اب میری طرف دیکھ رہی تھی۔
’’کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں ، کیا ہوا اماں جی کو؟‘‘ میں نے قریب جا کر پوچھا۔ جھیل سی گہری آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔
’’اماں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے چکراکر گر پڑی ہیں‘‘ حسین آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ میں نے نیچے جھک کر دیکھا بوڑھی عورت کی آنکھیں بند تھیں اور سانس رک رک کر آرہا تھا شاید اسے کسی قسم کا دورہ پڑا تھا۔
’’اگر آپ کہیں تو میں ان کو ہسپتال پہنچا دوں؟‘‘ اس نے تشکر بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔
’’آپ ہمیں گھر تک پہنچا دیں تو آپ کی بڑی مہربانی ہوگی ان کی دوائی گھر میں پڑی ہے وہ کھائیں گی تو ٹھیک ہو جائیں گی دراصل ان کو مرگی کا مرض لاحق ہے کسی وقت بھی دورہ پڑ جاتا ہے۔ دوائی کھا لیں تو تھوڑی دیر میں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔‘‘
’’آپ کا گھر کہاں ہے؟‘‘ میں نے گھڑی دیکھی ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔
’’ستائیس چک میں‘‘ وہ بھی کھڑی ہوگئی خاصی دراز قد تھی۔
’’دیکھئے خاتون! میں حال ہی میں اس شہر میں آیا ہوں ابھی تک یہاں کے علاقوں سے واقف نہیں ہوں۔ براہ کرم آپ بتائیں کہ آپ کا گھر یہاں سے کتنی دور ہے۔
زیادہ دور نہیں کوئی دو تین میل کے فاصلے پر ہے ہمارا گھر‘‘ ھے بتایا کہ کہیں میں انکار نہ کر دوں۔ میں آگے بڑھ کر بوڑھی عورت کو اٹھانے لگا وہ بھی میری مدد کر رہی تھی۔ اچانک اس کا نقاب سرک گیا۔ میری نظر اس کے چہرے پر پڑی تو میں دنگ رہ گیا۔ وہ قدرت کی صنائی کا ایک بہترین شاہکارتھی۔ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں، گلابی دمکتا ہوا رنگ جیسے میدے میں گلاب گھول دیئے گئے ہوں۔ میں نے اتنا مکمل حسن آج تک نہ دیکھا تھا۔ چمپا بھی کچھ کم حسین نہ تھی۔ اور یہ تو میں آپ کو بتا ہی چکا ہوں کہ میری بیوی صائمہ خود بھی لاکھوں میں ایک ہے لیکن اس لڑکی کے حسن کا تو کچھ حساب ہی نہ تھا۔ میں نے بمشکل نظروں کو اس کے چہرے سے ہٹایا اور بوڑھی عورت کو اسکی مدد سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا۔
اس نے دوبارہ نقاب چہرے پر نہ لگایا تھا گلاب کی ادھ کھلی کلی جیسے ہونٹ عمر اسکی بمشکل سترہ اٹھارہ سال ہوگی۔
’’راستہ بتاتی جائیے گا۔ یہاں کے راستے میرے لئے اجنبی ہیں‘‘ میں نے بمشکل اس کے چہرے سے نظر ہٹائی۔
’’راستے اجنبی ہو سکتے ہیں لوگ نہیں‘‘ وہ براہ راست میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔ میں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔ نظریں ملیں، افسوں خیز آنکھوں نے مجھے جکڑ لیا۔
’’گاڑی دائیں طرف موڑ لیجئے‘‘ میری محویت پر بڑی ہی دل آویز مسکراہٹ اس کے گلابی ہونٹوں پر مچل گئی۔
’’آں۔۔۔‘‘ جیسے میں نیند سے جاگ گیا۔ ’’آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟‘‘
’’آپ کے علاوہ اورکون ہے میرا ۔۔۔میرا مطلب ہے یہاں ‘‘ حسین آنکھو میں شرارت تھی۔حسن نے مجھے ہر بات سے بے پرواہ کردیا تھا۔ اس کے بتائے ہوئے راستے پر گاڑی چلاتا رہا۔ کوئی آدھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ہم ایک گاؤں میں داخل ہوگئے۔ عام روایتی قسم کا گاؤں تھا۔ کچے مکانات، مٹی سے بھری گلیاں ، کھیت، لیکن عجیب بات یہ تھی دن کا وقت ہونے کے باوجودمجھے گاؤں میں ایک بھی متنفس دکھائی نہ دیا۔ انسان تو کجا جانور بھی نہیں۔ ہر طرف سنسانی کا راج تھا۔
’’بس گاڑی روک دیجئے وہ رہا میرا غریب خانہ‘‘ وہ بڑی شستہ اردو میں بات کر رہی تھی۔ میں نے دیکھا وہ ایک جھونپڑا نما مکان تھا۔‘‘ سچ کہتے ہیں حسن کسی کی میراث نہیں ہوتا‘‘ کون کہہ سکتا تھا کہ اس جھونپڑی میں اتنی حسین لڑکی رہتی ہوگی۔ میں گاڑی روک کر نیچے اترا تاکہ اس بوڑھی عورت کو اتارنے میں اسکی مدد کر سکوں۔ وہ بے ہوش تھی یا گہری نیند میں یہ اندازہ میں نہ کر سکا۔ پچھلا دروازہ کھولا تو وہ لڑکی بھی جلدی سے آگئی۔ ہم دونوں نے مل کر بڑی مشکل سے اسے گاڑی سے نکالا۔ اس دوران وہ بار بار اپنا گداز بدن میرے جسم کے ساتھ لگاتی رہی۔ میرے بدن میں جیسے بجلیاں سی دوڑ رہی تھیں۔ اس کے وجود کی مدھر مہک میری مشام جاں کو معطر کیے دے رہی تھی۔ بوڑھی عورت کافی بھاری جسم کی مالک تھی ۔تھوڑی سی مشقت نے لڑکی کے گلابی چہرے کو لال سرخ کر دیاتھا۔ قندہاری انار جیسے گال دہک اٹھے۔ ہم دونوں نے کسی نہ کسی طرح عورت کو اندر پہنچایا۔ دیہاتی طرزپرکچی مٹی سے بنا ہوا گھر تھا۔ کھلا سا صحن، کچے کمرے۔۔۔ایک طرف لکڑی کے بنے سٹینڈ پر گھڑے پڑے تھے۔ میری مدد سے اماں کو کمرے میں بستر پر لٹاکر وہ جلدی سے باہر نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد پانی سے بھرا کٹورہ لیے اندر آئی۔ اس نے برقعہ اتار دیا تھا جسم کے نیشب و فراز ایسے تھے کہ نظر پڑکر پلٹنا بھول جائے۔ جوانی جیسے اس پر ٹوٹ کر برسی تھی۔ میری نظروں کی تپش نے اس کا چہرہ گلنار کر دیا۔
’’ارے۔۔۔آپ تو ابھی تک کھڑے ہیں شاید ہمارا گھر اس قابل نہیں کہ آپ جیسا بڑا آدمی بیٹھ سکے۔‘‘ اس نے پانی کا کٹورہ مجھے پکڑایا اورایک بار پھر باہر چلی گئی۔ میں کمرے کا جائزلینے کے بعد بوڑھی عورت کی طرف متوجہ ہوا۔ وہ ابھی تک اسی حالت میں تھی۔ اس لڑکی نے کہاتھا کہ گھرجاکر اسے دوا دے لیکن یہاں پہنچ کر جیسے وہ اسے بھول ہی گئی تھی’’شاید دوالینے گئی ہو‘‘ میرے دل میں خیال آیا۔ میں ابھی اٹھنے کا ارادہ کرہی رہا تھاکہ وہ بادصبا کی جھونکے کی طرح کمرے میں داخل ہوئی
اسکے آنے سے جیسے نیم تاریک کمرہ روشن ہوگیا اس کے ہاتھ میں شیشے کا ایک گلاس تھا جس میں سرخ رنگ کی کوئی سیال شے بھری ہوئی تھی۔
’’یہ لیجئے جناب مجھے یقین ہے اس سے زیادہ لذیذ شربت آپ نے ساری زندگی نہ پیا‘‘ ہوگا اس نے بڑی اپنایت کے گلاس میری طرف بڑھایا۔
’’آپ تو زہر بھی پلائیں تو وہ بھی لذیذ ہی لگے گا‘‘ پہلا گھونٹ لیتے ہوئے نہ جانے کیسے یہ الفاظ میرے منہ سے نکل گئے۔
’’ہارے رام۔۔۔!آپ بڑے وہ ہیں‘‘ بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا۔
’’آچھومجھے بڑے زور کا پھندا لگا۔ گلاس میرے ہاتھ سے چھوٹنے سے سارا شربت کپڑوں پرگر گیا۔ میں نے بمشکل سانس لے کر اس کی طرف دیکھا۔ بس یہ دیکھنا ہی غضب ڈھا گیا۔ جیسے ہی ہماری نظریں ملیں منظر میری آنکھوں کے سامنے سے دھندلا گیا۔ میں اس کی جھیل سی آنکھوں میں ڈوب گیا۔ وہ چلتی ہوئی میرے پاس آگئی تھی۔ نازک بدن سے اٹھتی مدہرمہک نے مجھے بے خود کردیا۔ بس اتنا یاد ہے کہ لڑکی میرے قریب آئی اور اس نے خودکومیرے اوپر گرا دیا۔ اس کے بعد کا منظر۔۔۔جیسے کوئی خواب دیکھ رہا تھا۔ جب دوبارہ میری آنکھ کھلی تو سامنے بیٹھے ہوئے شخص پر نظر پڑتے ہی میں بری طرح اچھل پڑا۔ اس بار بھی کوئی اور نہیں۔۔۔وہی مکروہ صورت سادھو تھا۔۔۔سادھو امر کمار۔
بڑے کروفر سے میرے سامنے والی چارپائی پر نیم دراز، وہ گہری نظروں سے میری طرف دیکھا رہا تھا۔ مجھے یہاں لانے والی لڑکی اسکے پہلو میں دراز تھی۔ جیسے ہی میری نظر اپنے جسم پر پڑی حیرت سے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ میں مکمل بے لباس تھی۔ ستر پوشی کے لئے میری نظریں اپنے کپڑوں کو تلاش کر رہی تھیں پر وہ مجھے کہیں نظر نہ آئے۔
’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔‘‘ کمرے میں سادھو کاخوفناک قہہقہ گونج اٹھا۔
’’کیا ڈھونڈ رہا ہے بالک؟‘‘ اسنے میری بے بسی کا مذاق اڑیا۔ میں نے خودکوکبھی اتنا بے عزت محسوس نہ کیا تھا۔ کچھ نہ پا کر میں نے اپنے ہاتھوں سے ہی ستر پوشی کرنے کی کوششکی تویہ خوفناک حقیقت پر مجھ پر کھلی میرا جسم بے حس ہوچکا ہے۔ زبان اورپلکوں کے علاوہ کوئی عضو حرکت کرنے کے قابل نہ رہا تھا۔ شرمندگی سے میرا چہرہ سرخ ہوگیا
’’میرے سامنے کیسی لجا(شرم)؟‘‘ کچھ دیر وہ مضحکہ خیز نظروں سے میری طرف دیکھتا رہا پھر زہریلے لہجے میں بولا۔’’جب توکتا بنا، اس کو کومل نار کے شریر (جسم) کو بھنبھوڑ رہا تھا تب تجھے لاج نہ آئی اس سمے تجھے اپنے شریر کے ننگے پن کی کوئی کھبر نہ تھی؟‘‘ اس کے الفاظ میرے کانوں میں تیزاب کی صورت قطرہ قطرہ گرتے رہے۔ بوڑھی عورتغائب تھی اس کی جگہ سادھو اورلڑکی نے لے لی تھی۔
’’تونے میری داسی کا بلات کار(عصمت دری)کیا ہے ۔۔۔مہاراج امر کمار کی داسی کے شریر سنگ کھلواڑ کرکے تو نے گھور پاپ (بہت بڑا گناہ) کیا ہے جس کی سجا (سزا) تجھے اوش ملے گی ‘‘ یکدم اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔ وہ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا پھر آہستہ آہستہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔
’[تجھے اپنی دھرم پتنی سنگ ادھیک پریم (بہت پیار) ہے یہی کہا تھا نا تونے اس دن۔۔۔کہاں گیا تیرا وہ پریم؟ تو تو بڑا بلوان بنتا تھا۔ یاد ہے نا تجھے۔۔۔تو نے کہا تھا؟ یدی(اگر) میں دوبارہ تیرے آڑے آیا تو مجھے شما(معاف) نہیں کرے گا‘‘ وہ براہ راست میری آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ ’’اب دیکھ توکیسے میرے سامنے لاچار پڑا ہے۔ اس دن مادھو پور کے تھانے میں نہ جانے کیسے تو میرے ہاتھ سے نکل گیا تھا؟ پرنتو آج کوئی چمتکار دکھانے میں سپھل نہ ہو پائے گا‘‘
میں چپ چاپ اس کی ہر زہ سرائی سنتا رہا۔ مجھے سب سے زیادہ فکر اپنی ستر پوشی کی تھی۔
’’بولتا کیوں نہیں۔۔۔؟ آج کہاں گیا تیرا وہ تیکھا پن؟ تجھ میں تو آج اتنی شکتی بھی نہیں کہ تو اپنا شریر ہی ڈھک سکے۔چلا تھا مہاراجامرکمار کونشٹ(تباہ)کرنے ہونہہ۔۔۔مورکھ‘‘ وہ الفاظ کا زہر کافی دیر تک میرے کانوں میں انڈیلتا رہا۔
میں بے بسی کی تصویر بنا، برہنہ اس کے سامنے پڑا تھا۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔ آج مجھے شدت سے شریف کے والد صاحب کی نصیحت یاد آئی ’’غیر محرم عورت سے دور رہنا‘‘ نہ جانے شربت میں ایسا کیا تھا کہ میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ ان جانے میں جو کچھ میں اس کے ساتھ کر بیٹھا تھا اس کا پچھتاوا ہی میرے لئے کیا کم تھا کہ یہ بدبخت سادھو مجھے مزید شرمسار کیے جا رہا تھا۔یقیناًیہ کوئی آبرو باختہ لڑکی تھی جسے سادھو نے اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا تھا۔ لیکن با با جی نے تو کہا تھا جب تک تعویز میرے گلے میں ہوگا کوئی خبیث شے میرے اوپر حاوی نہ ہو سکے گی۔ اس نے جیسے میری سوچ پڑھ لی تھی۔
’’تیرے گرو کا کڑا(حصار) جو اس نے تیرے شریر کے گرد کھینچا تھا اسی سمے ٹوٹ گیا جب تو نے اس ناری کے ہاتھوں جل پی کر اس سنگ اپنے شریر کا سمبندھ جوڑا تھا۔‘‘ کچھ دیر وہ میری آنکھوں میں دیکھتا رہا۔’’یہ نہیں پوچھے گا وہ کیا شے تھی جو اس کومل نار نے تجھے پلائی؟‘‘
تجسس تو مجھے بھی تھا کہ وہ کیا چیز تھی جسے پینے کے بعد میں مدہوش ہو کر قعر مذلت کی انتہا گہرائیوں جا اترا تھا۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’وہ مدھ(شراب) تھا۔۔۔ہاں شکنتلا نے تجھے مدھ پلایا تھا جو تجھے اتنا بھایا کہ تو اسے پی گیا۔ ‘‘ اس کے مکروہ ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ ابھری جس میں فتح کا نشہ تھا۔ مجھے بڑے زور کی ابکائی آئی۔ ’’اب تیرا گرو تیرے واسطے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔تو کیوں میرے اشاروں پر ناچے گا۔ تو نے ایک ہندو ناری کا بلات کار کیا ہے۔۔۔بستی والے تیری ارتھی (جنازہ) اٹھانے کے کارن بیاکل(بے چین) ہو رہے ہیں۔ یدی تو نے میری بات نہ مانی تو میں تجھے ان کے حوالے کردوں گا پھر وہ جانیں اور تو ‘‘ اس کے لہجے سے سچائی کا اندازہ لگایاجا سکتا تھا۔
’’تو مجھ سے کیا چاہتا ہے؟‘‘ میں نے مفاہمت کا انداز اپناتے ہوئے پوچھا۔ وقتی طور پر اس کی ہاں میں ہاں ملانے سے میرا مسئلہ حل ہو سکتا تھا اس لئے میں نے مفاہمتی انداز اپنایا تھا۔ اس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔
’’اب کی ہے تو نے بدھی مانو(عقلمندوں) جیسے بات۔۔۔تو اپنی دھرم پتنی کو طلاق دے دے‘‘ اس کے الفاظ میرے کانوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح پڑے۔
’’بند کر اپنی بکواس حرامزادے۔۔۔! یہ تو مر کر بھی نہیں ہو سکتا۔۔۔‘‘ غصے سے میرے بدن میں آگ لگ گئی۔
’’ہوگا۔۔۔اوش ہوگا یدی۔۔۔تو اسے نہیں چھوڑے گا تو وہ تجھے چھوڑ کر چلی جائے گی۔ میں نے اپنا ایک چیلا بھیج دیا ہے تھوڑے ہی سمے میں وہ تیری پتنی کو لے کر آتا ہوگا۔۔۔‘‘ الفاظ تھے یا بم جو میرے سرپر پھٹا ۔ وہ بولتے بولتے بری طرح چونک گیا۔ یک بیک اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس نے ہاتھ سے شکنتلا کو پرے ہٹایا اور چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میں پوری جان سے لرز گیا۔
’’کہیں اس کا کارندہ صائمہ کو لے کر تو نہیں آگیا؟‘‘ اس سوچ نے مجھے دہلا دیا۔’’اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو۔۔۔؟ اس سے آگے میں کچھ نہ سوچ سکا۔
دل میں فوراً خیال آیا کہ اس وقت اس سے جان چھڑانے کے لیے کہہ دیتا ہوں ٹھیک ہے میں اس کی بات مان لوں گا لیکن مجھے ایک دن سوچنے کے لیے دے دے۔میں نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ میرے کانوں میں سادھو کی آواز آئی۔
’’آہا۔۔۔ دیوی جی آئی ہیں، پدھارئیے دیوی جی!پدھارئیے۔۔۔میرے دھن بھاگ۔ آج تو چیونٹی کے گھر نارائین آئے ہیں۔‘‘ اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔جس چارپائی پر میں بے حس پڑا تھا۔ دروازہ بالکل اس کے سامنے تھا۔
سادھو بند دروازے پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔ مجھے اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی’’یہ ضرور صائمہ ہوگئی‘‘ اس بدبخت کی طاقت کے کئی کرشمے تو میں دیکھ ہی چکا تھا۔ اسکے لئے کوئی مشکل نہ تھاکہ وہ اپنے جادو کے زور سے صائمہ کو یہاں بلوا لے۔ مجھے شدت سے موت کی خواہش ہوئی
اچانک دروازہ کھلا میں نے شرم سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔‘‘ کاش زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔‘‘ دل میں شدت سے یہ خواہش اُبھری۔ اس حال میں کس طرح اپنی باوفا بیوی کا سامنا کر سکتا تھا؟ جب کچھ دیر گزر گئی اور خاموشی چھائی رہی تو میں نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں اور حیران رہ گیا۔ دروازے کے بیچوں بیچ وہی بلی کھڑی تھی جس نے سادھو کو زمین چاٹنے پرمجبور کر دیا تھا۔ بلی کو دیکھ کر مجھے کچھ آس بندھی۔
مجھے غنیمت لگا۔ میرا جسم ابھی تک شل تھا میں نے ہاتھ ہلانا چاہا لیکن بہت زور لگانے کے بعد بھی اسے حرکت دینے کے قابل نہ ہو سکا۔ بے بسی کے احساس سے میرا دل ابھر آیا۔ میں نے آنسوبھری آنکھوں سے بلی کی طرف دیکھا۔ اس کے جسم کے سارے بال کھڑے تھے۔ وہ یک ٹک سادھو کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ سادھو بھی سب سے بے نیاز بلکی طرف متوجہ تھا۔ مجھے یہاں لانے والی لڑکی اب اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہ بھی حیرت بھری نظروں سے بلی کو دیکھ رہی تھی۔ اچانک بلی کی آنکھوں سے سرخ روشنی کی شعاع نکلی اور سیدھی سادھوکے چہرے پر پڑی۔ بنگلے کے لان میں اس نے مجھ پر بھی روشنی کی شعاع ڈالی تھی پر وہ دودھیا روشنی تھی۔ سادھو کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری۔
’’دیوی! کیوں اپنا اور میرا سمے برباد کرے ہے اب تیرا کوئی وار مجھ پر چلنے والانہیں۔ اس دن تو میں بے کھبری میں مار کھا بیٹھا تھا۔آج تو کسی چمتکار میں سپھل نہ ہو پائے گی۔‘‘ یکدم بلی کی آنکھوں سے روشنی نکلنا بند ہوگئی۔ اسنے چہرہ گھما کر سادھو کے پہلو میں دراز لڑکی کی طرف دیکھا۔ اس بار اس کی آنکھوں سے نکلنے والی سرخ شعاع شکنتلا پر پڑی۔ شعاع کا اس کے جسم پر پڑنا تھا کہ ایک شعلہ سا لپکا اور شکنتلا کے جسم نے آگ پکڑلی۔اس کی کربناک چیخ کمرے میں گونج اٹھی۔ وہ تڑپ کر چارپائی سے نیچے گر گئی۔ آنا فانا آگ نے اسے پوری طرح گھیر لیا تھا اور وہ بری طرح تڑپ رہی تھی اس کی چیخیں دل دہلا رہی تھیں۔ کمرے میں گوشت کے جلنے کی چراند پھیل گئی۔ میں حیرت سے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا۔ سادھو کی غضب ناک دھاڑ سے کمرہ گونج اٹھا۔
’’دیوی! مجھے مجبور نہ کر کہ میں تجھے شراپ دوں۔ میں نے کالی ماتا کو وچن دیا ہے تجھے اس کے چرنوں میں پہنچاؤں گا۔ مجھے اپنا وچن توڑنے پر مجبور نہ کر۔‘‘ اس کی آنکھوں میں شعلوں کا رقص جاری ہوگیا ۔ا س نے ایک نظر جلتی ہوئی لڑکی پر ڈالی جہاں ایک جلا ہوا ڈھانچہ ساکت پڑا تھا۔ اس کی روح پرواز کر چکی تھی۔ سادھو اسے ایک نظر دیکھ کر بلی سے مخاطب ہوا۔
’’تو نے اپنے پریمی کے کارکن میری داسی کوپرلوک بھیج دیا۔ اب میں تیرے اس پریمی کو نرکھ میں بھیجوں گا۔ یوں بھی تجھے شوبھا(زیب) نہیں دیتا کہ تو ایک ملیچھ مسلے سنگ سمبندھ جوڑے‘‘ وہ جز بز ہوتے ہوئے بولا۔ بلی نے چہرہ گھما کر میری طرف دیکھا۔ یکایک اس کے چہرے پر شرمندگی کے تاثرات ابھر آئے۔ میں آپ کوپہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں نے یہ واحد بلی دیکھی تھی جو باقاعدہ انسانوں کی طرح اپنے جذبات کا اظہار کرنے پر قادرتھی۔ ا سکی آنکھوں سے دودھیا روشنی کی ایک شعاع نکل کر میرے جسم پر پڑی اس کے ساتھ ہی میری کھوئی ہوئی طاقت بحال ہوگئی۔ میں نے ہاتھ کو حرکت دینے کی کوشش کی اور یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ میں ہاتھ ہلا سکتا تھا۔
بجلی کی سی تیزی سے میں اپنے لباس پر جھپٹا اور سب سے پہلے اپنی ستر پوشی کی۔ بلی پھر سادھو کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہے تھے۔ سادھو جیسے کشمکش میں تھا اسے فیصلہ کرنے میں شاید کسی دشواری کا سامنا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔
’دیوی۔۔۔! میں نے اپنی داسی کی مرتیو بھول سکتا ہوں۔ داسیوں کا جیون ہوتاہی کیول اسی کارن ہے کہ وہ مہاپُرشو پر بلیدان ہو جائیں بھگوان انہیں جیون دان ہی اسی کارن کرتا ہے۔ یدی اب بھی تو کالی ماتا کی آگیا کا پالن کرتے ہوئے میرے چرنوں میں آجا تو میں سب کچھ بھول جاؤں گا۔‘‘ بلی آہستہ سے غرائی جیسے اس نے سادھو کی بات کا جواب دیا ہو۔ سادھو کا چہرہ پھر غضبناک ہوگیا۔ اس کے بھدے ہونٹ متحرک ہوگئے۔ بلی کے منہ سے عجیب سی آواز نکلی یکدم دروازہ پوری طرح کھل گیا اور کالی سیاہ بلیوں کا ایک غول اندر آگیا۔ کمرے میں ہر طرف بلیاں ہی بلیاں نظر آنے لگیں۔ سب ساھو امر کمار کو گھور رہی تھیں۔
’’دیوی۔۔۔! مجھے مجبور نہ کر۔۔۔کیا میں تجھے بتاؤ تو اس سمے کس کے سامنے کھڑی ہے؟‘‘ سادھو کے ہونٹوں سے غراہٹ نکلی۔ وہ چوکنا سا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے چھت کی طرف منہ کرکے کچھ پڑھا اور اپنے جسم پر پھونک لیا۔ اس کے بعد وہ آنکھیں بند کرکے کھڑا ہوگیا۔ کمرے میں سکوت چھایا ہوا تھا۔ اچانک سادھو نے آنکھیں کھول کر بلی کی طرف دیکھا پھر کسی نادیدہ ہستی کو مخاطب کیا۔
’’گرو جی! میں نے تیری آگیا کا پالن کرتے ہوئے اس پاپن کو کھبر دار کر دیا پرنتو یہ اس ملیچھ مسلے سنگ اپنا من لگائے بیٹھی ہے۔ یدی تیری آگیا ہو تو میں اس پاپن کو تھوڑی سی شکشا (سبق) دے دوں؟‘‘ وہ کسی نادیدہ استاد سے مخاطب تھا۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد چھت کی طرف منہ کرکے بولا۔ ’’دھن باد گرو جی! تو نے اپنے چیلے کا مان رکھ لیا۔ دھن ہو گرو جی ! دھن ہو۔‘‘ اس نے ایک بار پھر بلی کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھیں لال انگارہ ہوگئیں۔ کچھ دیر وہ بلی کی طرف دیکھتا رہا پھر میری جانب مڑا۔۔۔اور اپنے ہاتھ کا رخ میری طرف کر دیا جس میں سے آگ کا ایک شعلہ نمودار ہو کرمیری طرف بڑھا۔ میں بری طرح بدحواس ہوگیا۔ اچانک ایک بلی نے چھلانگ لگائی اور شعلے کی زد میں آکر ایک پل میں راکھ بن کر زمین پر گر گئی۔ اگر وہ شعلہ میرے بدن سے ٹکراتا تو میرا بھی یہی حال ہوتا۔ اس سوچ نے مجھے لرزا دیا۔
بلی کو جلتے دیکھ کر سادھو کی آنکھوں میں قہر اُتر آیا۔ اس نے ایک بار پھر اپنا دایاں ہاتھ میری طرف کر دیا۔ اچانک اس کے ناخن لمبے ہونے لگے۔ ان کی شکل برف توڑنے والے سوئے جیسے ہوگئی تھی۔ ناخن تیزی سے میری طرف بڑھ رہے تھے موت کو سر پر منڈلاتے دیکھ کر میں بری طرح بداحوس ہوگیا۔ سادھو مجھے سزا دینے کے چکر میں بلی کو فراموش کر بیٹھا اور یہی غلطی اس کے لیے جان لیو ثابت ہوئی۔ اچانک سفید بلی زور سے غرائی اور اس نے سادھو پر چھلانگ لگا دی۔ سادھو نے جلدی سے اپنے ہاتھ کا رخ اس کی طرف کر دیا لیکن اسے دیر ہو چکی تھی۔ بلی اس کے نرخرے پر جھپٹی اگلے ہی لمحے اس نے سادھو کا نرخرہ ادھیڑ دیا۔ وہ کسی ذبح ہوتے بکرے کی طرح ڈکرایا اور زمین پر گر گیا۔ بلی اس کے نرخرے سے چمٹ گئی تھی۔سادھو بری طرح ہوا میں ہاتھ چلا رہا تھا لیکن بلی نے تھوڑی ہی دیر میں اس کا نرخرہ ادھیڑ کر رکھ دیا۔ وہ دھڑام سے زمین پر آرہا۔ چانک ساری بلیوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ وہ سب سادھو کو نوچ رہی تھیں۔ بلیاں اس کے جسم سے اس طرح چمٹی ہوئی تھیں جیسے چیونٹیاں گوشت کی بوٹی سے چمٹ جاتی ہیں۔
دو منٹ میں انہوں نے سادھو کے جسم کا سارا گوشت چٹ کر لیا اور اب خون آلود ہونٹوں کو سرخ زبان نکال کر چاٹ رہی تھیں۔ سادھو کا بے گوشت ڈھانچہ زمین پر پڑا تھا۔
مجھ سے یہ خوفناک منظر دیکھا نہ گیا اور میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ گلاب کی خوشبو کا تیز جھونکا میری ناک سے ٹکرایا اور میں ہوش و حواس کی دنیا سے دور چلا گیا۔ نہ جانے کتنا عرصہ بے ہوش رہا۔ پھر میرے کانوں میں مختلف قسم کی مدہم مدہم آوازیں آنے لگیں۔ کوئی رو رہا تھا۔ کوئی باتیں کر رہا تھا۔ میں آہستہ آہستہ لاشعور سے شعور کی طرف محو سفر رہا ۔ آوازیں اب واضح ہونے لگیں تھیں۔ میری آنکھوں کے سامنے دودھیا رنگ کی روشنی پھیلنے لگی ۔اندھیرا چھٹنا شروع ہوگیا۔ آنکھیں کھولنے کی کوشش کی پلکیں جیسے ایک دوسرے سے جڑ گئی تھیں۔ بمشکل آنکھیں کھولنے پر قادر ہوا۔ مجھے کسی کا دھندلا سا چہرہ نظر آیا۔ کوئی لڑکی تھی جس نے سفید لباس پہنا ہوا تھا۔ مزید کوشش کرنے پر میری آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔ میرے اوپر کوئی جھکا ہوا تھا۔ نسوانی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔
’’ڈاکٹر صاحب! مریض کو ہوش آرہا ہے۔‘‘ پھر تیز تیز قدموں کی آواز سنائی دی۔ اب میری آنکھوں کے سامنے کسی مرد کا چہرہ ابھر آیا۔
میرا شعور مکمل طور پرجاگ گیا تھا
’’کیسی طبیعت ہے جوان! ‘‘ میرے کانوں میں ایک مہربان سی آواز آئی۔
’’ٹھیک ہوں‘‘ میرے منہ سے بمشکل آواز نکلی۔ آہستہ سے میں نے چہرہ گھما کر دیکھا ایک جانا پہچانا سا چہرہ دکھائی دیا۔ میں نے یادداشت پر زور دیا اور پہچان گیا ۔وہ میرا دوست عمران تھا۔ سسکیوں کی آواز اب بھی آرہی تھی۔ میں نے آواز کی سمت چہرہ گھمایا۔ سفید چادر میں لپٹی وہ کوئی اور نہیں صائمہ تھی۔ میں نے جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی بڑے زور کا شکر آیا اور میں کراہ کر دوبارہ بیڈ پر گر گیا۔
’’آرام سے لیٹے رہو۔ ابھی اٹھنے کی ضرورت نہیں‘‘ میرے کانوں میں وہی شفیق آواز پڑی۔
’’صائمہ‘‘ میرے منہ سے کمزور سی آواز نکلی۔ وہ لپک کر میرے پاس آگئی۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
’’خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے فاروق! آپ کو ہوش آگیا‘‘ اس نے روتے ہوئے میرا ہاتھ تھام لیا۔
’’مجھے کیا ہوا ہے؟‘‘ نقاہت کے مارے بولنا دشوار محسوس ہو رہا تھا۔
’’تم بالکل ٹھیک ہو جوان! بس معمولی سا بخار ہوگیا تھا‘‘ ڈاکٹر نے دوبارہ مجھے تسلی دی۔ میں نے سفید اوورآل اور گلے میں لٹکے سٹیتھسکوپ سے اسے پہچانا۔
اچانک میری یاداشت نے کام کرنا شروع کر دیا۔ واقعات ایک تسلسل کے ساتھ میری آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگے۔ اس وقت کا تصور کرکے میں کانپ گیا۔
’’سادھو کا ڈھانچا یہاں سے ہٹا دو پلیز‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔
’’فاروق ! ڈاکٹر صاحب نے آپ کو بولنے سے منع کیا ہے۔ پلیز خاموشی سے لیٹے رہیں۔‘‘ صائمہ نے پیار سے میرے ماتھے پر آئے پسینے کو اپنی چادر کے پلو سے صاف کیا۔
’’لیکن صائمہ! میں کہاں ہوں مجھے یہاں کون لایا؟ میں تویہاں سے بہت دور ایک بستی میں تھا‘‘ میں نے ادھر ادھر دیکھا۔’’یہ تو ہسپتال کا کمرہ لگتا ہے۔‘‘
’’آپ کو بہت تیز بخار تھا اس لئے میں آپ کو یہاں لے آئی تھی اب آپ کی طبیعت بالکل ٹھیک کل انشاء اللہ ہم گھر چلے جائیں گے۔‘‘ اس نے مجھے تسلی دی۔
’’خان بھائی! فکر کی کوئی بات نہیں آپ کو معمولی بخار ہوگیا تھا‘‘ عمران نے میرے پاس آکر کہا۔
’’گاؤں سے مجھے یہاں تم لائے تھے؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔ یہ بات میری سمجھ سے بالاتر تھی کہ اچانک بستی سے میں یہاں کیسے پہنچ گیا؟‘‘
’’ہاں خان بھائی! میں ہی آپ کو یہاں لایا تھا لیکن بستی سے نہیں بینک کے باہر آپ گاڑی میں بے ہوش پڑے تھے‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔ اچانک مجھے اپنے بازو میں چبھن کا احساس ہوا ۔نرس مجھے انجکشن لگا رہی تھی۔ ایک بار پھر میری پلکیں بوجھل ہونے لگیں تھوڑی دیر بعد میں غافل ہوگیا۔ جب دوبارہ میری آنکھ کھلی تو دن کے اجالے نے کمرے کو روشن کر رکھا تھا۔ میں نے گردن گھما کر دیکھا صائمہ کرسی پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھی جیسے ہی اسکی نظر مجھ پر پڑی وہ تیر کی طرح میرے پاس آئی۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ اس نے پہلے تو کچھ پڑھ کر میرے اوپر پھونکا پھر پوچھا۔’’فاروق ! اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہوں لیکن تم مجھے یہ بتاؤ مجھے کیا ہوا تھا؟‘‘ میں نے اسکاہاتھ پکڑ کر پوچھا۔
’’آپ کو بخار ہو گیا تھا۔‘‘ اس نے پیار سے میرے ہاتھ کو سہلایا۔
’’لیکن تم مجھے ہاسپٹل میں کیوں لے آئیں۔ بخار تو ہو ہی جاتاہے کہیں تم مجھ سے جھوٹ تونہیں بول رہیں؟‘‘
’’نہیں فاروق! میں نے پہلے کبھی آپ سے جھوٹ بولا ہے؟‘‘ وہ روہانسی ہوگئی’’آپ اس وقت ملتان کے نشتر ہاسپٹل میں ہیں‘‘ صائمہ نے آہستہ سے کہا۔
’’صائمہ یہاں میرے پاس بیٹھو‘‘ میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیا۔
’’سچ سچ بتاؤ مجھے کیا ہوا تھا؟ کون مجھے یہاں لایا تھا اور کہاں سے؟‘‘ مجھے اندیشہ تھا کہیں یہ لوگ مجھے اس گاؤں سے تو نہیں لائے جہاں پر میں نے اس لڑکی کے ساتھ۔۔۔اس کے آگے مجھ سے کچھ سوچا نہ گیا حالانکہ عمران نے بتایا تھا کہ وہ مجھے بینک کے باہر سے بے ہوشی کی حالت میں لایا تھا۔ لیکن مجھے شبہ تھا شاید وہ اصل بات چھپا گیا ہے۔
’’آپ کو آج پورے چار دن بعد ہوش آیا ہے ڈاکٹرز تو آپ کی طرف سے بالکل مایوس ہو چکے تھے۔ ہاسپٹل کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر جمیل قریشی صاحب، انگل بیگ کے دوست ہیں۔ انہوں نے بڑی توجہ سے آپ کا علاج کیا‘‘ اطمینان بھرا سانس میرے سینے سے خارج ہوگیا۔
’’فاروق ! اچانک آپ کو کیا ہوگیا تھا۔ عمران بھائی بت رہے تھے وہ کسی کام سے بینک سے باہرنکلے تو آپ گاڑی میں سیٹ پر لیٹے ہوئے تھے۔ اس نے آپ کو پکارا جواب نہ ملنے پر اس نے دروازہ کھول کر آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو پتا چلا آپ بخارمیں پھنک رہے ہیں۔ وہ آپ کو سیدھا ہسپتال لے گئے اور نازش کو فون پر ساری صورتحال بتائی۔ جب مجھے پتا چلا تو ہم دونوں ہسپتال آگئیں۔ آپ کا بخار دم بدم بڑھتا جا رہا تھا شام تک ڈاکٹرز بھی گھبرا گئے انہوں نے آپ کو نشتر ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا چنانچہ آپ کو یہاں لایا گیا آج پانچویں دن آپ کا بخاراترا ہے۔‘‘ صائمہ نے مجھے تفصیل بتائی۔
’’بچے کہاں ہیں؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’میں نے کل انہیں پروفیسر انکل کے ساتھ بھیج دیا تھا مومنہ بہت تنگ کر رہی تھی۔ ‘‘صائمہ نے بتایا۔میں نے ایک بار پھر آنکھیں موند لیں۔
’’پریشانی میں مجھے پوچھنا یاد ہی نہ رہا لیکن آپ کہاں چلے گئے تھے؟‘‘ صائمہ نے پوچھا۔
’’مم ۔۔۔میں کہیں ضروری کام سے گیا ہوا تھا وہاں میری طبیعت خراب ہوگئی۔ بمشکل بینک تک گاڑی ڈرائیو کرتا آیا اس کے بعد مجھے ہوش نہ رہا۔‘‘ میں نے فوراً کہانی گھڑ دی۔
یہ سن کر مجھے بڑا اطمینان ہوا تھا کہ صائمہ کو کسی بات کا پتا نہیں چلا۔ شام تک میری طبعیت مزید سنبھل گئی تو ڈاکٹر نے جانے کی اجازت دے دی اور ہم واپس اپنے شہر آگئے۔
صائمہ نے انکل بیگ اور عمران وغیرہ کو فون کر دیا تھا اسلیے جب ہم پہنچے تو سب بنگلے پر موجود تھے۔ بچے میرے ساتھ لپٹ گئے۔ڈرائیونگ صائمہ کی تھی کیونکہ مجھ میں اتنی سکتنہ تھی۔ رات کو صائمہ تو تھکن کی وجہ سے جلد سوگئی جبکہ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ گزرے واقعات بار بار میری آنکھوں کے سامنے گردش کر رہے تھے۔ میں خیالات کو اپنے ذہن سے جھٹکتا تھا لیکن تھوڑی دیر بعد پھر کوئی نہ کوئی خیال میرے ذہن کو جکڑ لیتا ۔ کیا واقعی وہ ایک بلی تھی؟ اس برے وقت میں وہ میرے لئے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئی تھی۔ کیا ایک معمولی سے جانور کے لئے ممکن ہے کہ وہ اتنے طاقتور سادھو کو منٹوں میں ادھیڑ کر رکھ دے؟ سادھو کی جادوئی طاقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔ اس بدبخت نے مجھے اتنا بے بس کر دیا تھا کہ میں اپنے جسم کوہلانے سے معذور ہوگیا تھا۔
واقعی وہ ایک بلی ہے یا۔۔۔؟ میں جتنا سوچتا اتناہی الجھتا گیا آخر کار تنگ آکر میں خواب آوار دوا کی ایک خوراک لی جس سے مجھے نیند آگئی۔ رات کا جانے کونسا پہر تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ حالانکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ہم سونے لگے تھے تو صائمہ نے لائٹ بجھا کر زیرو پاور کا نیلا بلب جلا دیا تھا۔ صائمہ دوسری طرف کروٹ بدلے سو رہی تھی اسکی ہموار سانسوں کی آواز کمرے کی خاموشی میں آرہی تھی۔ سردی بڑھ گئی تھی میں نے اپنے پیروں کے گرد کمبل کواچھی طرح لپیٹ لیا۔ ابھی میں آنکھیں بند کرنے ہی لگا تھا مجھے اندھیرے میں دو نقطے چمکتے نظر آئے۔ ان سے دودھیا روشنی نکل کر میرے چہرے پر پڑنے لگی۔ میں چونک گیا۔ میرے کانوں میں ’’میاؤں‘‘ کی ہلکی سی آواز آئی۔
بے اختیار میں نے سائیڈ لیمپ جلا دیا۔ کمرے میں ہر طرف روشنی پھیل گئی۔میری نظر سامنے پڑی تو میں دنگ رہ گیا۔ وہی بلی جس نے مجھے سادھو کے چنگل سے بچایا تھا بیٹھی تھی۔ وہ یک ٹک میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں بیڈ سے اتر کر اس کی طرف بڑھا۔ بہرحال وہ میری محسنہ تھی۔ اگر اس نازک وقت میں وہ میری مدد نہ کرتی تو ۔۔۔؟ بے اختیار مجھے جھرجھری آگئی۔
جیسے ہی میں بلی کی طرف بڑھا۔ وہ بدک کر مجھ سے کچھ فاصلے پر پہنچ گئی۔ میں دوبارہ اس کی طرف بڑھا تو اس نے پھر وہی حرکت کی۔ وہ برابر میری طرف دیکھ رہی تھی اسکے چہرے کے تاثرات سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ میرے پاس آنا چاہتی ہے لیکن کسی وجہ سے مجبور ہے۔
’’کیا بات مجھ سے ناراض ہو؟‘‘ نہ جانے کیسے میرے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے۔ پھر خود ہی مجھے اپنی بات ہر ہنسی آگئی۔ میں تو اس کے ساتھ ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ میری بات سمجھ رہی ہو۔ لیکن سادھو بھی تو اس کے ساتھ ہم کلام رہا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھ کر دوبارہ کہا
’’ادھر آؤ میرے پاس‘‘ اس کے چہرے پر بے بسی کے تاثرات مزید واضح ہوگئے۔ اس نے ہلکے سے میاؤں کیا اور کمرے کے کونے تک چلی گئی۔ میں ایک بار پھر اس کی طرف بڑھا۔ وہ بے چین ہونے لگی۔ میں اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے منہ اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ کچھ دیر تک وہ میری طرف دیکھتی رہی پھر مضمحل ہو کر اٹھی اور کھڑکی کی چوکھٹ پر چڑھ گئی۔ ایک بار پھر اس نے میری طرف مڑ کر دیکھا پھر باقاعدہ پنجے سے پردہ ہٹا کر اس کے پیچھے چلی گئی۔ میں جلدی سے آگے بڑھا اور پردہ ہٹا کر دیکھا لیکن وہاں تو ایک چیونٹی بھی نہ تھی۔
میں نے چاروں طرف نظر دوڑائیں لیکن بلی کہیں بھی نہ تھی
میں نے چاروں طرف نظر دوڑائیں لیکن بلی کہیں بھی نہ تھی۔
’’شاید کھڑکی کھلی رہ گئی ہے‘‘ یہ سوچ کر میں نے کھڑکی کھولنا چاہی پر وہ بند تھی چٹخنی لگی ہوئی تھی۔ میں نے ہلکی آواز سے ایک دوبارہ’’مانو‘‘ کرکے پکارا کہ شاید ہو بیڈ یا ٹیبل کے یچے ہو اور باہر آجائے لیکن بے سود۔ میں دوبارہ بیڈ پر لیٹ گیا تھوری دیر بعد مجھے نیند آگئی۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا۔ گھر کے لان میں بیٹھا ہوں شام کا وقت ہے کہ اچانک گیٹ سے ایک نہایت حسین عورت داخل ہو کر مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہو جاتی ہے۔ میں حیرت سے اسے دیکھتا ہوں وہ اس قدر حسین ہوتی ہے کہ میں گنگ اسے دیکھتا رہتا ہوں میرے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ وہ چلتی ہوئی مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر پہنچ جاتی ہے اس کے ہاتھ میں ایک سفید رنگ کا کاغز ہے جسے وہ میری طرف بڑھاتی ہے اس پر کچھ لکھا ہوتا ہے۔ میں تحریر پر نظر دوڑاتا ہوں
’’میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی میرے سجنا!‘‘
بس یہی چند الفاظ اس پر لکھے ہوتے ہیں۔ تحریر پڑھ کر میں نظر اوپر اٹھاتا ہوں تو وہاں کوئی بھی نہیں ہوتا۔ اچانک تیز ہوا کا جھونکا آتا ہے اور کاغذ کو میرے ہاتھوں سے اڑا کر لے جاتا ہے میری آنکھ کھل گئی۔ سامنے کارپٹ پر صائمہ نماز پڑھ رہی تھی۔ میں نے گھڑی کی طرف دیکھا رات کے تین بجے تھے صائمہ تہجد پڑھ رہی تھی۔ میں کروٹ بدل کر دوبارہ سو گیا۔
دوسرے دن میری طبیعت پوری طرح سنبھل گئی۔ میں نے بینک جانا شروع کر دیا۔ زندگی ایک بار پھر معمول پر آگئی۔ کچھ دن مزید گزر گئے کوئی خلاف توقع بات نہ ہوئی تو میں بھی سب کچھ بھلا کر مطمئن ہو گیا۔ ایک ہفتہ واقعی سکون سے گزر گیا کوئی ایسی بات نہ ہوئی جو پریشانی کا باعث بنتی۔ شاید سادھو کی موت کے بعد سارے مسئلے ہی حل ہو گئے تھے۔ اس دوران آتے جاتے ملنگ بھی کہیں نظر نہ آیا۔
ایک دن میں شریف کے والد صاحب کی خدمت میں حاضری دینے گیا انہیں سارے حالات بتائے۔ ان سے مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا میں نے بھی زیادہ پرواہ نہ کی اور گھر آگیا۔ کھانا کھانے کے بعد صائمہ اور بچے تو سو گئے جبکہ میں بینک سے لائی فائلز دیکھنے لگا۔ بیماری کی وجہ سے کافی سارا کام پینڈنگ تھا جس کی وجہ سے میں اکچر فائلز گھر لے آتا اور دیر تک کام کیا کرتا۔ جب تھکن محسوس ہوئی تو میں نے ایک زور دار انگڑائی لی اور سونے کے لئے دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ رات کو مجھے واہی خواب دوبارہ دکھائی دیا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس بار وہ عورت مجھ سے کم فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی۔ صبح اٹھ کر مجھے یاد آیا تو میں نے سر جھٹک دیا۔ میں خوابوں پر یقین کرنے والا نہ تھا۔ وقت کا دریا اپنے مخصوص انداز میں بہتا ہرا۔ ہم چھٹی والے دن کبھی پروفیسر بیگ کے کبھی عمران کے گھر چلے جاتے۔ کبھی ہمارے گھر پر محفل جمتی انکل بہت بذلہ سنج واقع ہوئے تھے۔ اس پر عمران۔۔۔بات کم کرتا لطیفے زیادہ سناتا تھا۔ اس دوران محرم الحرام کی چھٹیاں ہوئی توہم تین دن لاہور گزار کر آئے۔ خوب گھومے پھرے انجوائے کیا۔ واپس آئے کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ میری ساس اور چھوٹی سالی ناعمہ آگئیں۔ صائمہ اور ناعمہ کی شادی ایک ہی دن ہوئی تھی۔ اس کا شوہر اسسٹنٹ کمشنر اور ان دنوں وہ رحیم یار خان میں تعینات تھا ۔ صائمہ کے برعکس ناعمہ بہت شوخ تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہر وقت شرارت ناچتی رہتی۔ ابھی تک ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تھی۔ میرے بچوں کے ساتھ اس کا بہت پیار تھا۔ بچے بھی اس کے دیوانے تھے۔ ایک دن ہم سب رات کے کھانے کے بعد بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ ناعمہ کہنے لگی۔
’’بھائی جان! آپ کے گھر میں جنات تو نہیں؟‘‘
’’جہاں تم موجود ہو وہاں جنات کی مجال ہے کہ وہ آسکیں؟ یوں بھی جنات چڑیلوں سے ڈرتے ہیں‘‘ میری بات پر سب ہنس پڑے۔ جس پر اس نے گھور کر سب کو دیکھا اور کہنے لگی۔
’’آج صبح میں اوپر والے بیڈ روم میں بیٹھی ناول پڑ رہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ میں نے سوچا باجی آئی ہوں گی مڑ کر دیکھا تو دروازہ کھلا ہوا تھا لیکن کوئی موجود نہ تھا۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے ہوا سے کھل گیا ہو
میں پھر ناول کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اچانک زور دار آواز سے دروازہ بند ہوگیا۔ اس کے بعد ایسے آواز آئی جیسے کوئی دروازے کے سامنے ٹہل رہا ہو۔ مجھے ڈر لگا میں جلدی سے نیچے آگئی۔‘‘
میری ساس صائمہ کو کوئی بات سنانے لگیں تو موضوع بدل گیا۔ یوں بھی وہ ناعمہ کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھیں وہ سارے گھر میں جھوٹی مشہور تھی بات آئی گئی ہوگئی۔ یہ لوگ دو دن مزید رہ کر واپس چلے گئے۔ ایک دن میں حسب معمول میں بینک میں اپنے کام میں مصروف تھا کہ صائمہ کا فون آیا۔
’’فاروق ! میرا ڈائمنڈ کا سیٹ آپ نے کہیں رکھ دیا ہے؟‘‘
’’نہیں۔۔۔میں نے تو دیکھا ہی نہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں صبح سے ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔الماری میں نہیں ہے۔‘‘ صائمہ کی پریشانی سے بھرپور آواز آئی۔
’’اچھی طرح دیکھ لو کہیں رکھ کر بھول گئی ہوگی۔‘‘
’’میں نے ہر جگہ اچھی طرح دیکھ لیا ہے‘‘ وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
’’ایک بار پھر دیکھ لو یہیں کہیں ہوگا۔‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔
’’اچھا ایک بار پھر دیکھ لیتی ہوں۔‘‘ کہہ کر اس نے فون بند کردیا۔
شام کو میں گھر آیا تو صائمہ پریشان بیٹھی تھی’’نہیں ملا‘‘ اس نے میری طرف دیکھا۔
’’کیا نہیں ملا؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ میں نے دن کو بتایا نہیں تھا کہ میرا ڈائمنڈ کا سیٹ نہیں مل رہا۔‘‘ یہ سیٹ میں نے اسے منہ دکھائی کے طور پر دیا تھا اور اسے جان سے زیادہ عزیز تھا ’’لیکن وہ کہاں جا سکتا ہے؟‘‘ میں سیٹ کے لئے فکر مند نہ تھا لیکن صائمہ کی پریشانی مجھے کسی طور گوارا نہ تھی۔
’’فاروق! کہیں۔۔۔‘‘ صائمہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ کچھ کہتے ہوئے جھجک رہی تھی۔
’’کیا کہہ رہی تھیں تم؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔
’’ایسا ہو تو نہیں سکتا لل۔۔۔لیکن‘‘ پھر وہ خاموش ہوگئی۔
’’کیا بات ہے صائمہ! تم کیا کہنا چاہ رہی ہو؟‘‘
’’کہیں ناعمہ نے تو نہیں لیا‘‘ آخر کار وہ دل کی بات زبان پر لے آئی۔
’’بری بات ہے صائمہ! یوں کسی پر الزام نہیں لگاتے جب تک اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا جائے‘‘ میں نے اسے سرزنش کی وہ رونے لگی۔
’’بچے کہاں ہیں؟‘‘ میں نے اس کا خیال ہٹانے کی خاطر سوال کیا۔
’’کارٹون دیکھ رہے ہیں۔‘‘ اس نے شوں شوں کرتے بتایا تبھی میں سوچ رہا تھا کہ وہ گاڑی کی آواز سن کر بھی باہر نہ نکلے تھے۔ میں نے صائمہ کو اپنے ساتھ لگا لیا۔
’’کیوں رو رہی ہو۔ مل جائے گا کہیں رکھ کر بھول گئی ہوگی ہو بھی تم بھلکڑ۔ کافی دیر سے شوہر صاحب آئے آئے ہوئے ہیں
اچانک دروازہ کھلا میں نے شرم سے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔‘‘ کاش زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔‘‘ دل میں شدت سے یہ خواہش اُبھری۔ اس حال میں کس طرح اپنی باوفا بیوی کا سامنا کر سکتا تھا؟ جب کچھ دیر گزر گئی اور خاموشی چھائی رہی تو میں نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھولیں اور حیران رہ گیا۔ دروازے کے بیچوں بیچ وہی بلی کھڑی تھی جس نے سادھو کو زمین چاٹنے پرمجبور کر دیا تھا۔ بلی کو دیکھ کر مجھے کچھ آس بندھی۔
مجھے غنیمت لگا۔ میرا جسم ابھی تک شل تھا میں نے ہاتھ ہلانا چاہا لیکن بہت زور لگانے کے بعد بھی اسے حرکت دینے کے قابل نہ ہو سکا۔ بے بسی کے احساس سے میرا دل ابھر آیا۔ میں نے آنسوبھری آنکھوں سے بلی کی طرف دیکھا۔ اس کے جسم کے سارے بال کھڑے تھے۔ وہ یک ٹک سادھو کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔ سادھو بھی سب سے بے نیاز بلکی طرف متوجہ تھا۔ مجھے یہاں لانے والی لڑکی اب اٹھ کر بیٹھ گئی۔ وہ بھی حیرت بھری نظروں سے بلی کو دیکھ رہی تھی۔ اچانک بلی کی آنکھوں سے سرخ روشنی کی شعاع نکلی اور سیدھی سادھوکے چہرے پر پڑی۔ بنگلے کے لان میں اس نے مجھ پر بھی روشنی کی شعاع ڈالی تھی پر وہ دودھیا روشنی تھی۔ سادھو کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری۔
’’دیوی! کیوں اپنا اور میرا سمے برباد کرے ہے اب تیرا کوئی وار مجھ پر چلنے والانہیں۔ اس دن تو میں بے کھبری میں مار کھا بیٹھا تھا۔آج تو کسی چمتکار میں سپھل نہ ہو پائے گی۔‘‘ یکدم بلی کی آنکھوں سے روشنی نکلنا بند ہوگئی۔ اسنے چہرہ گھما کر سادھو کے پہلو میں دراز لڑکی کی طرف دیکھا۔ اس بار اس کی آنکھوں سے نکلنے والی سرخ شعاع شکنتلا پر پڑی۔ شعاع کا اس کے جسم پر پڑنا تھا کہ ایک شعلہ سا لپکا اور شکنتلا کے جسم نے آگ پکڑلی۔اس کی کربناک چیخ کمرے میں گونج اٹھی۔ وہ تڑپ کر چارپائی سے نیچے گر گئی۔ آنا فانا آگ نے اسے پوری طرح گھیر لیا تھا اور وہ بری طرح تڑپ رہی تھی اس کی چیخیں دل دہلا رہی تھیں۔ کمرے میں گوشت کے جلنے کی چراند پھیل گئی۔ میں حیرت سے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا تھا۔ سادھو کی غضب ناک دھاڑ سے کمرہ گونج اٹھا۔
’’دیوی! مجھے مجبور نہ کر کہ میں تجھے شراپ دوں۔ میں نے کالی ماتا کو وچن دیا ہے تجھے اس کے چرنوں میں پہنچاؤں گا۔ مجھے اپنا وچن توڑنے پر مجبور نہ کر۔‘‘ اس کی آنکھوں میں شعلوں کا رقص جاری ہوگیا ۔ا س نے ایک نظر جلتی ہوئی لڑکی پر ڈالی جہاں ایک جلا ہوا ڈھانچہ ساکت پڑا تھا۔ اس کی روح پرواز کر چکی تھی۔ سادھو اسے ایک نظر دیکھ کر بلی سے مخاطب ہوا۔
’’تو نے اپنے پریمی کے کارکن میری داسی کوپرلوک بھیج دیا۔ اب میں تیرے اس پریمی کو نرکھ میں بھیجوں گا۔ یوں بھی تجھے شوبھا(زیب) نہیں دیتا کہ تو ایک ملیچھ مسلے سنگ سمبندھ جوڑے‘‘ وہ جز بز ہوتے ہوئے بولا۔ بلی نے چہرہ گھما کر میری طرف دیکھا۔ یکایک اس کے چہرے پر شرمندگی کے تاثرات ابھر آئے۔ میں آپ کوپہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں نے یہ واحد بلی دیکھی تھی جو باقاعدہ انسانوں کی طرح اپنے جذبات کا اظہار کرنے پر قادرتھی۔ ا سکی آنکھوں سے دودھیا روشنی کی ایک شعاع نکل کر میرے جسم پر پڑی اس کے ساتھ ہی میری کھوئی ہوئی طاقت بحال ہوگئی۔ میں نے ہاتھ کو حرکت دینے کی کوشش کی اور یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ میں ہاتھ ہلا سکتا تھا۔
بجلی کی سی تیزی سے میں اپنے لباس پر جھپٹا اور سب سے پہلے اپنی ستر پوشی کی۔ بلی پھر سادھو کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہے تھے۔ سادھو جیسے کشمکش میں تھا اسے فیصلہ کرنے میں شاید کسی دشواری کا سامنا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔
’دیوی۔۔۔! میں نے اپنی داسی کی مرتیو بھول سکتا ہوں۔ داسیوں کا جیون ہوتاہی کیول اسی کارن ہے کہ وہ مہاپُرشو پر بلیدان ہو جائیں بھگوان انہیں جیون دان ہی اسی کارن کرتا ہے۔ یدی اب بھی تو کالی ماتا کی آگیا کا پالن کرتے ہوئے میرے چرنوں میں آجا تو میں سب کچھ بھول جاؤں گا۔‘‘ بلی آہستہ سے غرائی جیسے اس نے سادھو کی بات کا جواب دیا ہو۔ سادھو کا چہرہ پھر غضبناک ہوگیا۔ اس کے بھدے ہونٹ متحرک ہوگئے۔ بلی کے منہ سے عجیب سی آواز نکلی یکدم دروازہ پوری طرح کھل گیا اور کالی سیاہ بلیوں کا ایک غول اندر آگیا۔ کمرے میں ہر طرف بلیاں ہی بلیاں نظر آنے لگیں۔ سب ساھو امر کمار کو گھور رہی تھیں۔
’’دیوی۔۔۔! مجھے مجبور نہ کر۔۔۔کیا میں تجھے بتاؤ تو اس سمے کس کے سامنے کھڑی ہے؟‘‘ سادھو کے ہونٹوں سے غراہٹ نکلی۔ وہ چوکنا سا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے چھت کی طرف منہ کرکے کچھ پڑھا اور اپنے جسم پر پھونک لیا۔ اس کے بعد وہ آنکھیں بند کرکے کھڑا ہوگیا۔ کمرے میں سکوت چھایا ہوا تھا۔ اچانک سادھو نے آنکھیں کھول کر بلی کی طرف دیکھا پھر کسی نادیدہ ہستی کو مخاطب کیا۔
’’گرو جی! میں نے تیری آگیا کا پالن کرتے ہوئے اس پاپن کو کھبر دار کر دیا پرنتو یہ اس ملیچھ مسلے سنگ اپنا من لگائے بیٹھی ہے۔ یدی تیری آگیا ہو تو میں اس پاپن کو تھوڑی سی شکشا (سبق) دے دوں؟‘‘ وہ کسی نادیدہ استاد سے مخاطب تھا۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد چھت کی طرف منہ کرکے بولا۔ ’’دھن باد گرو جی! تو نے اپنے چیلے کا مان رکھ لیا۔ دھن ہو گرو جی ! دھن ہو۔‘‘ اس نے ایک بار پھر بلی کی طرف دیکھا اور اس کی آنکھیں لال انگارہ ہوگئیں۔ کچھ دیر وہ بلی کی طرف دیکھتا رہا پھر میری جانب مڑا۔۔۔اور اپنے ہاتھ کا رخ میری طرف کر دیا جس میں سے آگ کا ایک شعلہ نمودار ہو کرمیری طرف بڑھا۔ میں بری طرح بدحواس ہوگیا۔ اچانک ایک بلی نے چھلانگ لگائی اور شعلے کی زد میں آکر ایک پل میں راکھ بن کر زمین پر گر گئی۔ اگر وہ شعلہ میرے بدن سے ٹکراتا تو میرا بھی یہی حال ہوتا۔ اس سوچ نے مجھے لرزا دیا۔
بلی کو جلتے دیکھ کر سادھو کی آنکھوں میں قہر اُتر آیا۔ اس نے ایک بار پھر اپنا دایاں ہاتھ میری طرف کر دیا۔ اچانک اس کے ناخن لمبے ہونے لگے۔ ان کی شکل برف توڑنے والے سوئے جیسے ہوگئی تھی۔ ناخن تیزی سے میری طرف بڑھ رہے تھے موت کو سر پر منڈلاتے دیکھ کر میں بری طرح بداحوس ہوگیا۔ سادھو مجھے سزا دینے کے چکر میں بلی کو فراموش کر بیٹھا اور یہی غلطی اس کے لیے جان لیو ثابت ہوئی۔ اچانک سفید بلی زور سے غرائی اور اس نے سادھو پر چھلانگ لگا دی۔ سادھو نے جلدی سے اپنے ہاتھ کا رخ اس کی طرف کر دیا لیکن اسے دیر ہو چکی تھی۔ بلی اس کے نرخرے پر جھپٹی اگلے ہی لمحے اس نے سادھو کا نرخرہ ادھیڑ دیا۔ وہ کسی ذبح ہوتے بکرے کی طرح ڈکرایا اور زمین پر گر گیا۔ بلی اس کے نرخرے سے چمٹ گئی تھی۔سادھو بری طرح ہوا میں ہاتھ چلا رہا تھا لیکن بلی نے تھوڑی ہی دیر میں اس کا نرخرہ ادھیڑ کر رکھ دیا۔ وہ دھڑام سے زمین پر آرہا۔ چانک ساری بلیوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ وہ سب سادھو کو نوچ رہی تھیں۔ بلیاں اس کے جسم سے اس طرح چمٹی ہوئی تھیں جیسے چیونٹیاں گوشت کی بوٹی سے چمٹ جاتی ہیں۔
دو منٹ میں انہوں نے سادھو کے جسم کا سارا گوشت چٹ کر لیا اور اب خون آلود ہونٹوں کو سرخ زبان نکال کر چاٹ رہی تھیں۔ سادھو کا بے گوشت ڈھانچہ زمین پر پڑا تھا۔
مجھ سے یہ خوفناک منظر دیکھا نہ گیا اور میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ گلاب کی خوشبو کا تیز جھونکا میری ناک سے ٹکرایا اور میں ہوش و حواس کی دنیا سے دور چلا گیا۔ نہ جانے کتنا عرصہ بے ہوش رہا۔ پھر میرے کانوں میں مختلف قسم کی مدہم مدہم آوازیں آنے لگیں۔ کوئی رو رہا تھا۔ کوئی باتیں کر رہا تھا۔ میں آہستہ آہستہ لاشعور سے شعور کی طرف محو سفر رہا ۔ آوازیں اب واضح ہونے لگیں تھیں۔ میری آنکھوں کے سامنے دودھیا رنگ کی روشنی پھیلنے لگی ۔اندھیرا چھٹنا شروع ہوگیا۔ آنکھیں کھولنے کی کوشش کی پلکیں جیسے ایک دوسرے سے جڑ گئی تھیں۔ بمشکل آنکھیں کھولنے پر قادر ہوا۔ مجھے کسی کا دھندلا سا چہرہ نظر آیا۔ کوئی لڑکی تھی جس نے سفید لباس پہنا ہوا تھا۔ مزید کوشش کرنے پر میری آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔ میرے اوپر کوئی جھکا ہوا تھا۔ نسوانی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔
’’ڈاکٹر صاحب! مریض کو ہوش آرہا ہے۔‘‘ پھر تیز تیز قدموں کی آواز سنائی دی۔ اب میری آنکھوں کے سامنے کسی مرد کا چہرہ ابھر آیا۔
میرا شعور مکمل طور پرجاگ گیا تھا
’’کیسی طبیعت ہے جوان! ‘‘ میرے کانوں میں ایک مہربان سی آواز آئی۔
’’ٹھیک ہوں‘‘ میرے منہ سے بمشکل آواز نکلی۔ آہستہ سے میں نے چہرہ گھما کر دیکھا ایک جانا پہچانا سا چہرہ دکھائی دیا۔ میں نے یادداشت پر زور دیا اور پہچان گیا ۔وہ میرا دوست عمران تھا۔ سسکیوں کی آواز اب بھی آرہی تھی۔ میں نے آواز کی سمت چہرہ گھمایا۔ سفید چادر میں لپٹی وہ کوئی اور نہیں صائمہ تھی۔ میں نے جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی بڑے زور کا شکر آیا اور میں کراہ کر دوبارہ بیڈ پر گر گیا۔
’’آرام سے لیٹے رہو۔ ابھی اٹھنے کی ضرورت نہیں‘‘ میرے کانوں میں وہی شفیق آواز پڑی۔
’’صائمہ‘‘ میرے منہ سے کمزور سی آواز نکلی۔ وہ لپک کر میرے پاس آگئی۔ اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
’’خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے فاروق! آپ کو ہوش آگیا‘‘ اس نے روتے ہوئے میرا ہاتھ تھام لیا۔
’’مجھے کیا ہوا ہے؟‘‘ نقاہت کے مارے بولنا دشوار محسوس ہو رہا تھا۔
’’تم بالکل ٹھیک ہو جوان! بس معمولی سا بخار ہوگیا تھا‘‘ ڈاکٹر نے دوبارہ مجھے تسلی دی۔ میں نے سفید اوورآل اور گلے میں لٹکے سٹیتھسکوپ سے اسے پہچانا۔
اچانک میری یاداشت نے کام کرنا شروع کر دیا۔ واقعات ایک تسلسل کے ساتھ میری آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگے۔ اس وقت کا تصور کرکے میں کانپ گیا۔
’’سادھو کا ڈھانچا یہاں سے ہٹا دو پلیز‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔
’’فاروق ! ڈاکٹر صاحب نے آپ کو بولنے سے منع کیا ہے۔ پلیز خاموشی سے لیٹے رہیں۔‘‘ صائمہ نے پیار سے میرے ماتھے پر آئے پسینے کو اپنی چادر کے پلو سے صاف کیا۔
’’لیکن صائمہ! میں کہاں ہوں مجھے یہاں کون لایا؟ میں تویہاں سے بہت دور ایک بستی میں تھا‘‘ میں نے ادھر ادھر دیکھا۔’’یہ تو ہسپتال کا کمرہ لگتا ہے۔‘‘
’’آپ کو بہت تیز بخار تھا اس لئے میں آپ کو یہاں لے آئی تھی اب آپ کی طبیعت بالکل ٹھیک کل انشاء اللہ ہم گھر چلے جائیں گے۔‘‘ اس نے مجھے تسلی دی۔
’’خان بھائی! فکر کی کوئی بات نہیں آپ کو معمولی بخار ہوگیا تھا‘‘ عمران نے میرے پاس آکر کہا۔
’’گاؤں سے مجھے یہاں تم لائے تھے؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔ یہ بات میری سمجھ سے بالاتر تھی کہ اچانک بستی سے میں یہاں کیسے پہنچ گیا؟‘‘
’’ہاں خان بھائی! میں ہی آپ کو یہاں لایا تھا لیکن بستی سے نہیں بینک کے باہر آپ گاڑی میں بے ہوش پڑے تھے‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔ اچانک مجھے اپنے بازو میں چبھن کا احساس ہوا ۔نرس مجھے انجکشن لگا رہی تھی۔ ایک بار پھر میری پلکیں بوجھل ہونے لگیں تھوڑی دیر بعد میں غافل ہوگیا۔ جب دوبارہ میری آنکھ کھلی تو دن کے اجالے نے کمرے کو روشن کر رکھا تھا۔ میں نے گردن گھما کر دیکھا صائمہ کرسی پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھی جیسے ہی اسکی نظر مجھ پر پڑی وہ تیر کی طرح میرے پاس آئی۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ اس نے پہلے تو کچھ پڑھ کر میرے اوپر پھونکا پھر پوچھا۔’’فاروق ! اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘
’’ٹھیک ہوں لیکن تم مجھے یہ بتاؤ مجھے کیا ہوا تھا؟‘‘ میں نے اسکاہاتھ پکڑ کر پوچھا۔
’’آپ کو بخار ہو گیا تھا۔‘‘ اس نے پیار سے میرے ہاتھ کو سہلایا۔
’’لیکن تم مجھے ہاسپٹل میں کیوں لے آئیں۔ بخار تو ہو ہی جاتاہے کہیں تم مجھ سے جھوٹ تونہیں بول رہیں؟‘‘
’’نہیں فاروق! میں نے پہلے کبھی آپ سے جھوٹ بولا ہے؟‘‘ وہ روہانسی ہوگئی’’آپ اس وقت ملتان کے نشتر ہاسپٹل میں ہیں‘‘ صائمہ نے آہستہ سے کہا۔
’’صائمہ یہاں میرے پاس بیٹھو‘‘ میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پاس بٹھا لیا۔
’’سچ سچ بتاؤ مجھے کیا ہوا تھا؟ کون مجھے یہاں لایا تھا اور کہاں سے؟‘‘ مجھے اندیشہ تھا کہیں یہ لوگ مجھے اس گاؤں سے تو نہیں لائے جہاں پر میں نے اس لڑکی کے ساتھ۔۔۔اس کے آگے مجھ سے کچھ سوچا نہ گیا حالانکہ عمران نے بتایا تھا کہ وہ مجھے بینک کے باہر سے بے ہوشی کی حالت میں لایا تھا۔ لیکن مجھے شبہ تھا شاید وہ اصل بات چھپا گیا ہے۔
’’آپ کو آج پورے چار دن بعد ہوش آیا ہے ڈاکٹرز تو آپ کی طرف سے بالکل مایوس ہو چکے تھے۔ ہاسپٹل کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر جمیل قریشی صاحب، انگل بیگ کے دوست ہیں۔ انہوں نے بڑی توجہ سے آپ کا علاج کیا‘‘ اطمینان بھرا سانس میرے سینے سے خارج ہوگیا۔
’’فاروق ! اچانک آپ کو کیا ہوگیا تھا۔ عمران بھائی بت رہے تھے وہ کسی کام سے بینک سے باہرنکلے تو آپ گاڑی میں سیٹ پر لیٹے ہوئے تھے۔ اس نے آپ کو پکارا جواب نہ ملنے پر اس نے دروازہ کھول کر آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو پتا چلا آپ بخارمیں پھنک رہے ہیں۔ وہ آپ کو سیدھا ہسپتال لے گئے اور نازش کو فون پر ساری صورتحال بتائی۔ جب مجھے پتا چلا تو ہم دونوں ہسپتال آگئیں۔ آپ کا بخار دم بدم بڑھتا جا رہا تھا شام تک ڈاکٹرز بھی گھبرا گئے انہوں نے آپ کو نشتر ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا چنانچہ آپ کو یہاں لایا گیا آج پانچویں دن آپ کا بخاراترا ہے۔‘‘ صائمہ نے مجھے تفصیل بتائی۔
’’بچے کہاں ہیں؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’میں نے کل انہیں پروفیسر انکل کے ساتھ بھیج دیا تھا مومنہ بہت تنگ کر رہی تھی۔ ‘‘صائمہ نے بتایا۔میں نے ایک بار پھر آنکھیں موند لیں۔
’’پریشانی میں مجھے پوچھنا یاد ہی نہ رہا لیکن آپ کہاں چلے گئے تھے؟‘‘ صائمہ نے پوچھا۔
’’مم ۔۔۔میں کہیں ضروری کام سے گیا ہوا تھا وہاں میری طبیعت خراب ہوگئی۔ بمشکل بینک تک گاڑی ڈرائیو کرتا آیا اس کے بعد مجھے ہوش نہ رہا۔‘‘ میں نے فوراً کہانی گھڑ دی۔
یہ سن کر مجھے بڑا اطمینان ہوا تھا کہ صائمہ کو کسی بات کا پتا نہیں چلا۔ شام تک میری طبعیت مزید سنبھل گئی تو ڈاکٹر نے جانے کی اجازت دے دی اور ہم واپس اپنے شہر آگئے۔
صائمہ نے انکل بیگ اور عمران وغیرہ کو فون کر دیا تھا اسلیے جب ہم پہنچے تو سب بنگلے پر موجود تھے۔ بچے میرے ساتھ لپٹ گئے۔ڈرائیونگ صائمہ کی تھی کیونکہ مجھ میں اتنی سکتنہ تھی۔ رات کو صائمہ تو تھکن کی وجہ سے جلد سوگئی جبکہ نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ گزرے واقعات بار بار میری آنکھوں کے سامنے گردش کر رہے تھے۔ میں خیالات کو اپنے ذہن سے جھٹکتا تھا لیکن تھوڑی دیر بعد پھر کوئی نہ کوئی خیال میرے ذہن کو جکڑ لیتا ۔ کیا واقعی وہ ایک بلی تھی؟ اس برے وقت میں وہ میرے لئے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئی تھی۔ کیا ایک معمولی سے جانور کے لئے ممکن ہے کہ وہ اتنے طاقتور سادھو کو منٹوں میں ادھیڑ کر رکھ دے؟ سادھو کی جادوئی طاقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔ اس بدبخت نے مجھے اتنا بے بس کر دیا تھا کہ میں اپنے جسم کوہلانے سے معذور ہوگیا تھا۔
واقعی وہ ایک بلی ہے یا۔۔۔؟ میں جتنا سوچتا اتناہی الجھتا گیا آخر کار تنگ آکر میں خواب آوار دوا کی ایک خوراک لی جس سے مجھے نیند آگئی۔ رات کا جانے کونسا پہر تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ حالانکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ہم سونے لگے تھے تو صائمہ نے لائٹ بجھا کر زیرو پاور کا نیلا بلب جلا دیا تھا۔ صائمہ دوسری طرف کروٹ بدلے سو رہی تھی اسکی ہموار سانسوں کی آواز کمرے کی خاموشی میں آرہی تھی۔ سردی بڑھ گئی تھی میں نے اپنے پیروں کے گرد کمبل کواچھی طرح لپیٹ لیا۔ ابھی میں آنکھیں بند کرنے ہی لگا تھا مجھے اندھیرے میں دو نقطے چمکتے نظر آئے۔ ان سے دودھیا روشنی نکل کر میرے چہرے پر پڑنے لگی۔ میں چونک گیا۔ میرے کانوں میں ’’میاؤں‘‘ کی ہلکی سی آواز آئی۔
بے اختیار میں نے سائیڈ لیمپ جلا دیا۔ کمرے میں ہر طرف روشنی پھیل گئی۔میری نظر سامنے پڑی تو میں دنگ رہ گیا۔ وہی بلی جس نے مجھے سادھو کے چنگل سے بچایا تھا بیٹھی تھی۔ وہ یک ٹک میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں بیڈ سے اتر کر اس کی طرف بڑھا۔ بہرحال وہ میری محسنہ تھی۔ اگر اس نازک وقت میں وہ میری مدد نہ کرتی تو ۔۔۔؟ بے اختیار مجھے جھرجھری آگئی۔
جیسے ہی میں بلی کی طرف بڑھا۔ وہ بدک کر مجھ سے کچھ فاصلے پر پہنچ گئی۔ میں دوبارہ اس کی طرف بڑھا تو اس نے پھر وہی حرکت کی۔ وہ برابر میری طرف دیکھ رہی تھی اسکے چہرے کے تاثرات سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ میرے پاس آنا چاہتی ہے لیکن کسی وجہ سے مجبور ہے۔
’’کیا بات مجھ سے ناراض ہو؟‘‘ نہ جانے کیسے میرے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے۔ پھر خود ہی مجھے اپنی بات ہر ہنسی آگئی۔ میں تو اس کے ساتھ ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ میری بات سمجھ رہی ہو۔ لیکن سادھو بھی تو اس کے ساتھ ہم کلام رہا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھ کر دوبارہ کہا
’’ادھر آؤ میرے پاس‘‘ اس کے چہرے پر بے بسی کے تاثرات مزید واضح ہوگئے۔ اس نے ہلکے سے میاؤں کیا اور کمرے کے کونے تک چلی گئی۔ میں ایک بار پھر اس کی طرف بڑھا۔ وہ بے چین ہونے لگی۔ میں اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے منہ اٹھا کر میری طرف دیکھا۔ یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ کچھ دیر تک وہ میری طرف دیکھتی رہی پھر مضمحل ہو کر اٹھی اور کھڑکی کی چوکھٹ پر چڑھ گئی۔ ایک بار پھر اس نے میری طرف مڑ کر دیکھا پھر باقاعدہ پنجے سے پردہ ہٹا کر اس کے پیچھے چلی گئی۔ میں جلدی سے آگے بڑھا اور پردہ ہٹا کر دیکھا لیکن وہاں تو ایک چیونٹی بھی نہ تھی۔
میں نے چاروں طرف نظر دوڑائیں لیکن بلی کہیں بھی نہ تھی
میں نے چاروں طرف نظر دوڑائیں لیکن بلی کہیں بھی نہ تھی۔
’’شاید کھڑکی کھلی رہ گئی ہے‘‘ یہ سوچ کر میں نے کھڑکی کھولنا چاہی پر وہ بند تھی چٹخنی لگی ہوئی تھی۔ میں نے ہلکی آواز سے ایک دوبارہ’’مانو‘‘ کرکے پکارا کہ شاید ہو بیڈ یا ٹیبل کے یچے ہو اور باہر آجائے لیکن بے سود۔ میں دوبارہ بیڈ پر لیٹ گیا تھوری دیر بعد مجھے نیند آگئی۔ رات کو میں نے خواب میں دیکھا۔ گھر کے لان میں بیٹھا ہوں شام کا وقت ہے کہ اچانک گیٹ سے ایک نہایت حسین عورت داخل ہو کر مجھ سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہو جاتی ہے۔ میں حیرت سے اسے دیکھتا ہوں وہ اس قدر حسین ہوتی ہے کہ میں گنگ اسے دیکھتا رہتا ہوں میرے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔ وہ چلتی ہوئی مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر پہنچ جاتی ہے اس کے ہاتھ میں ایک سفید رنگ کا کاغز ہے جسے وہ میری طرف بڑھاتی ہے اس پر کچھ لکھا ہوتا ہے۔ میں تحریر پر نظر دوڑاتا ہوں
’’میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی میرے سجنا!‘‘
بس یہی چند الفاظ اس پر لکھے ہوتے ہیں۔ تحریر پڑھ کر میں نظر اوپر اٹھاتا ہوں تو وہاں کوئی بھی نہیں ہوتا۔ اچانک تیز ہوا کا جھونکا آتا ہے اور کاغذ کو میرے ہاتھوں سے اڑا کر لے جاتا ہے میری آنکھ کھل گئی۔ سامنے کارپٹ پر صائمہ نماز پڑھ رہی تھی۔ میں نے گھڑی کی طرف دیکھا رات کے تین بجے تھے صائمہ تہجد پڑھ رہی تھی۔ میں کروٹ بدل کر دوبارہ سو گیا۔
دوسرے دن میری طبیعت پوری طرح سنبھل گئی۔ میں نے بینک جانا شروع کر دیا۔ زندگی ایک بار پھر معمول پر آگئی۔ کچھ دن مزید گزر گئے کوئی خلاف توقع بات نہ ہوئی تو میں بھی سب کچھ بھلا کر مطمئن ہو گیا۔ ایک ہفتہ واقعی سکون سے گزر گیا کوئی ایسی بات نہ ہوئی جو پریشانی کا باعث بنتی۔ شاید سادھو کی موت کے بعد سارے مسئلے ہی حل ہو گئے تھے۔ اس دوران آتے جاتے ملنگ بھی کہیں نظر نہ آیا۔
ایک دن میں شریف کے والد صاحب کی خدمت میں حاضری دینے گیا انہیں سارے حالات بتائے۔ ان سے مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا میں نے بھی زیادہ پرواہ نہ کی اور گھر آگیا۔ کھانا کھانے کے بعد صائمہ اور بچے تو سو گئے جبکہ میں بینک سے لائی فائلز دیکھنے لگا۔ بیماری کی وجہ سے کافی سارا کام پینڈنگ تھا جس کی وجہ سے میں اکچر فائلز گھر لے آتا اور دیر تک کام کیا کرتا۔ جب تھکن محسوس ہوئی تو میں نے ایک زور دار انگڑائی لی اور سونے کے لئے دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ رات کو مجھے واہی خواب دوبارہ دکھائی دیا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس بار وہ عورت مجھ سے کم فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی۔ صبح اٹھ کر مجھے یاد آیا تو میں نے سر جھٹک دیا۔ میں خوابوں پر یقین کرنے والا نہ تھا۔ وقت کا دریا اپنے مخصوص انداز میں بہتا ہرا۔ ہم چھٹی والے دن کبھی پروفیسر بیگ کے کبھی عمران کے گھر چلے جاتے۔ کبھی ہمارے گھر پر محفل جمتی انکل بہت بذلہ سنج واقع ہوئے تھے۔ اس پر عمران۔۔۔بات کم کرتا لطیفے زیادہ سناتا تھا۔ اس دوران محرم الحرام کی چھٹیاں ہوئی توہم تین دن لاہور گزار کر آئے۔ خوب گھومے پھرے انجوائے کیا۔ واپس آئے کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ میری ساس اور چھوٹی سالی ناعمہ آگئیں۔ صائمہ اور ناعمہ کی شادی ایک ہی دن ہوئی تھی۔ اس کا شوہر اسسٹنٹ کمشنر اور ان دنوں وہ رحیم یار خان میں تعینات تھا ۔ صائمہ کے برعکس ناعمہ بہت شوخ تھی۔ اس کی آنکھوں میں ہر وقت شرارت ناچتی رہتی۔ ابھی تک ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تھی۔ میرے بچوں کے ساتھ اس کا بہت پیار تھا۔ بچے بھی اس کے دیوانے تھے۔ ایک دن ہم سب رات کے کھانے کے بعد بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ ناعمہ کہنے لگی۔
’’بھائی جان! آپ کے گھر میں جنات تو نہیں؟‘‘
’’جہاں تم موجود ہو وہاں جنات کی مجال ہے کہ وہ آسکیں؟ یوں بھی جنات چڑیلوں سے ڈرتے ہیں‘‘ میری بات پر سب ہنس پڑے۔ جس پر اس نے گھور کر سب کو دیکھا اور کہنے لگی۔
’’آج صبح میں اوپر والے بیڈ روم میں بیٹھی ناول پڑ رہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ میں نے سوچا باجی آئی ہوں گی مڑ کر دیکھا تو دروازہ کھلا ہوا تھا لیکن کوئی موجود نہ تھا۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے ہوا سے کھل گیا ہو
میں پھر ناول کی طرف متوجہ ہوگئی۔ اچانک زور دار آواز سے دروازہ بند ہوگیا۔ اس کے بعد ایسے آواز آئی جیسے کوئی دروازے کے سامنے ٹہل رہا ہو۔ مجھے ڈر لگا میں جلدی سے نیچے آگئی۔‘‘
میری ساس صائمہ کو کوئی بات سنانے لگیں تو موضوع بدل گیا۔ یوں بھی وہ ناعمہ کی بات پر یقین کرنے کو تیار نہ تھیں وہ سارے گھر میں جھوٹی مشہور تھی بات آئی گئی ہوگئی۔ یہ لوگ دو دن مزید رہ کر واپس چلے گئے۔ ایک دن میں حسب معمول میں بینک میں اپنے کام میں مصروف تھا کہ صائمہ کا فون آیا۔
’’فاروق ! میرا ڈائمنڈ کا سیٹ آپ نے کہیں رکھ دیا ہے؟‘‘
’’نہیں۔۔۔میں نے تو دیکھا ہی نہیں۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں صبح سے ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔الماری میں نہیں ہے۔‘‘ صائمہ کی پریشانی سے بھرپور آواز آئی۔
’’اچھی طرح دیکھ لو کہیں رکھ کر بھول گئی ہوگی۔‘‘
’’میں نے ہر جگہ اچھی طرح دیکھ لیا ہے‘‘ وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
’’ایک بار پھر دیکھ لو یہیں کہیں ہوگا۔‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔
’’اچھا ایک بار پھر دیکھ لیتی ہوں۔‘‘ کہہ کر اس نے فون بند کردیا۔
شام کو میں گھر آیا تو صائمہ پریشان بیٹھی تھی’’نہیں ملا‘‘ اس نے میری طرف دیکھا۔
’’کیا نہیں ملا؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ میں نے دن کو بتایا نہیں تھا کہ میرا ڈائمنڈ کا سیٹ نہیں مل رہا۔‘‘ یہ سیٹ میں نے اسے منہ دکھائی کے طور پر دیا تھا اور اسے جان سے زیادہ عزیز تھا ’’لیکن وہ کہاں جا سکتا ہے؟‘‘ میں سیٹ کے لئے فکر مند نہ تھا لیکن صائمہ کی پریشانی مجھے کسی طور گوارا نہ تھی۔
’’فاروق! کہیں۔۔۔‘‘ صائمہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔‘‘ میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ کچھ کہتے ہوئے جھجک رہی تھی۔
’’کیا کہہ رہی تھیں تم؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔
’’ایسا ہو تو نہیں سکتا لل۔۔۔لیکن‘‘ پھر وہ خاموش ہوگئی۔
’’کیا بات ہے صائمہ! تم کیا کہنا چاہ رہی ہو؟‘‘
’’کہیں ناعمہ نے تو نہیں لیا‘‘ آخر کار وہ دل کی بات زبان پر لے آئی۔
’’بری بات ہے صائمہ! یوں کسی پر الزام نہیں لگاتے جب تک اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا جائے‘‘ میں نے اسے سرزنش کی وہ رونے لگی۔
’’بچے کہاں ہیں؟‘‘ میں نے اس کا خیال ہٹانے کی خاطر سوال کیا۔
’’کارٹون دیکھ رہے ہیں۔‘‘ اس نے شوں شوں کرتے بتایا تبھی میں سوچ رہا تھا کہ وہ گاڑی کی آواز سن کر بھی باہر نہ نکلے تھے۔ میں نے صائمہ کو اپنے ساتھ لگا لیا۔
’’کیوں رو رہی ہو۔ مل جائے گا کہیں رکھ کر بھول گئی ہوگی ہو بھی تم بھلکڑ۔ کافی دیر سے شوہر صاحب آئے آئے ہوئے ہیں
میرا تجسس بڑھ گیا۔ میں جلد از جلد اس کے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتا تھا۔
’’ورشوں بعد میرے من کو شانتی ملی ہے۔۔۔میرا موہن مجھے پھر مل گیا ہے‘‘ وہ اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی۔ میں نے ایک بار پھر صائمہ کی طرف دیکھا جو ابھی تک بے خبر سو رہی تھی۔ میرے دل میں خیال آیا کہیں اس نے صائمہ کے ساتھ کچھ کر تو نہیں دیا۔
’’چنتا نہ کرو پریمی! تمری پتنی کو کچھ نہں ہوا یہ سب میرے جاتے ہی کھد جاگ جائے گی۔ اس نے جو کچھ کیا ہے من کرتا ہے اس کے کرموں کے کارن ایسا شراپ دوں کہ یہ جیون بھر یاد رکھے پرنتو تمرا دھیان آجاتا ہے۔‘‘ اس کے لہجے کی سختی سے میں کانپ گیا۔ ’’سنو موہن! یدی اس نے ہمرے بیچ آنے کی اوشکتا کی تو میں اسے ایک پل میں نرکھ میں پہنچا دوں گی‘‘ اس کی قہر بار آواز آئی۔
’’اس نے ایسا کیا کیا ہے جو تمہیں اس پر اتنا غصہ آرہا ہے؟‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔
’’یہ سارا دن پوجا پاٹ(عبادت) میں جتی رہتی ہے اورہر رینا سونے سے پہلے نہ جانے کیاجاپ کرتی ہے جس کے کارن مجھے یا تو یہاں سے جانا پڑتا ہے یا کشٹ بھوگنا پڑتا ہے ۔یدی اس نے ایسا کرنا نہ چھوڑا تو میں اسے نرکھ میں جھونک دوں گی‘‘ قہر بار لہجے میں کہا گیا۔
میں اس کی بات سمجھ گیا تھا صائمہ کی عادت تھی روزانہ رات کو سونے سے پہلے وہ 41بار آیۃ الکرسی پڑھ کر سارے گھر میں پھونک دیا کرتی۔ اس بار جب وہ لاہور گئی تو یہ وظفیہ اس کی پھوپھو نے اسے بتایا تھا ان کا کہنا تھا اگر روزانہ یہ وظیفہ پڑھا جائے تو گھر میں جنات اور جادو کا اثر باطل ہو جاتا ہے اس دن سے صائمہ نے اسے معمول بنا لیاتھا جب وہ مخصوص ایام میں ہوتی تو مجھے پڑھنے کے لیے کہہ دیا کرتی ورنہ تو اس کا معمول تھا۔
’’نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔یہ اسیا کچھ نہیں کرے گی تم میرا یقین کرو‘‘ کہیں یہ صائمہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے اس لیے میں نے جلدی سے کہا۔
’’یدی اس نے ہمرے بیچ آنے کا وچارکیا تو ۔۔۔‘‘ اس کی ادھوری بات میں دھمکی پوشیدہ تھی۔
’’تو کیا۔۔۔؟‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔
’’اس کی مرتیو تم اپنے ان سندرنینوں سے کھد دیکھ لو گے‘‘ اس کے منہ سے پھنکار سی نکلی۔ اس وقت اپنی بیوی بچوں کوبچانے کے لیے اس سے کوئی بھی وعدہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں بس ایک بار اس کے چنگل سے نکلنا ضروری تھا۔ آواز پھر سنائی دی۔
’’موہن ! یدی تم نے میرے ساتھ کوئی چھل کپٹ (دھوکہ فریب) کرنے کی اوشکتا کی تو ان میں سے ایک بھی جیوت نہ رہے گا‘‘ اس کا اشارہ صائمہ اور بچوں کی طرف تھا۔ کمبخت دل کی بات بھی جان لیتی تھی۔
’’ٹھیک ہے ۔۔۔میں تمہارے ساتھ کوئی دھوکہ فریب نہ کروں گالیکن تمہیں بھی ایک وعدہ میرے ساتھ کرنا ہوگا‘‘ میں نے کہا
’’کہو میرے من مندر کے دیوتا! یہ داسی تمہں وچن دیتی ہے تمرا کہا میرے لئے بھگوان کے کہے سمان ہوگا۔‘‘فوراً جواب آیا۔
’’تم صائمہ اور بچوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گی‘‘ میں اس پوزیشن میں تو نہ تھاکہ اسے سے کوئی بات منوا سکوں لیکن اسکی اب تک کی گفتگو سے میں یہ سمجھا تھا کہ وہ میری محبت کا دم بھرتی ہے۔
’’نشچنت(بے فکر) رہو جب تک تمری اور(طرف) سے کوئی چھل نہ ہوا میں وچن دیتی ہوں ان کو کچھ نہ ہوگا۔ پرنتو تم بھی مجھے وچن دو کہ تم میرے سنگ وشواس گھات(اعتماد کو دھوکہ) نہ کرو گے۔ یدی ایسا نہ ہوا تو پھر میرا کوئی دوش نہ ہوا۔ تم سن رہے ہونا موہن؟‘‘ اس نے کہا۔
’’تم جیسا کہو گی ویسا ہی کروں گا۔‘‘ میں نے اسے اطمینان دلایا۔
’’تم کہتے ہو تو مان لیتی ہون پرنتو منش پر سے میرا واشواس اٹھ چکا ہے۔ وہ پاپی بھی تو ایک منش تھا جس نے میرا پریمی، میرا موہن مجھ سے چھین لیا۔ پرنتو اس بار میں ایسا نہ ہونے دوں گی‘‘
‘‘ اس کے لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی۔
’’یہ تو واقعی بڑے دکھ کی بات ہے کہ تمہارے خاوند کو کسی نے مار دیا؟‘‘ میں نے بڑی اپنایت سے کہا۔ دراصل میں اس کا اعتماد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اگر مقابلہ کسی انسان سے ہوتا تو میں اسے مزا چکھا دیتا لیکن میرا واسطہ تو ایک ان دیکھی مخلوق سے پڑا تھا جس کا میں کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ اس لئے اس وقت میں نے اس سے ہمدردی جتائی اور اسکی ہاں میں ہاں ملانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے یقین دلایا تھا کہ میں اس سے کوئی دھوکہ نہ کروں گا۔ مجھے یقین تھا کہ اس مشکل سے نکلنے کی کوئی سبیل انشاء اللہ نکل ہی آئے گی۔ کمرہ گلاب کی خوشبو سے مہکا ہوا تھا۔
’’موہن!‘‘ آواز نے اپنی سوچوں کے بھنور سے نکلتے ہوئے کہا’’کیا بات ہے؟‘‘
’’ایک وچن مجھے اور دو‘‘ رادھا نے کہا۔
’’وہ کیا۔۔۔؟‘‘ میں تمہاری بات نہیں سمجھا‘‘
’’تمہیں یاد ہوگا جب تمری پتنی تمرے پاس آتی تھی تو اسکے ہاتھ میں گلاب کا پھول ہوتا تھا۔‘‘
مجھے وہ راتیں یاد آگئیں جب صائمہ میرے کمرے میں آتی تھی تو اس کے ہاتھ میں گلاب کا تازہ پھول ہوتا۔ دوسرے دن جب میں اس سے پوچھتا تو وہ اس ۔ ۔ ۔ نکاری ہوتی کہ وہ رات کو میرے پاس آئی تھی۔ اس کے بعد وہ سارے واقعات پیش آنے لگے جن کی وجہ میں شدید بیمار ہو کر ہسپتال جا پہنچا تھا۔
’’کیول شریر تمری پتنی کا ہوتا تھا پرنتو وہ میں تھی‘‘اس انکشاف پر میں رہ گیا۔ میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ قربت کے ان لمحات میں صائمہ کے انداز میں جس طرح کی بے باکی اور وارفتگی ہوا کرتی وہ اس فطرت کی نہ تھی۔ مجھے تعجب تو تھا لیکن یہ سوچ کر وہ مجھے بہت چاہتی ہے میں نے کوئی خیال نہ کیا تھا۔ جنہیں میں صائمہ کی ادائیں سمجھتا رہا تھا وہ یہ کمبخت تھی یہ جان کر مجھے بڑا عجیب لگا۔
’’ورشوں بعد میرے بیاکل شریر کو شانتی مل تھی پرنتو اس کلٹانے سارے کیے دھرے پر پانی پھیر دیا‘‘ اس کے لہجے میں صائمہ کے لئے نفرت تھی۔
’’کیا صائمہ جانتی ہے کہ اسکے بجائے تم میرے بستر پر آتی تھیں؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں میرے دیوتا! اسے کچھ کھبر نہیں پرنتو جو جاپ وہ ہر رینا کرتی ہے اس کا رن مجھ بہت کشٹ بھوگنا پڑتا ہے‘‘ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی ہلکی ہلکی بوندا باندی اب بھی جاری تھی۔ میں اور میری معصوم بیٹی آمنے سامنے بیٹھے تھے اس کے جسم پر ماورائی مخلوق قابض تھی۔ میرے دل میں طرح طرح کے خدشات جنم لے رہے تھے کہیں میری معصوم بیٹی کو نقصان نہ پہنچ جائے؟ وہ میری کیفیت بھانپ گئی۔
’’موہن! میں نے تم سے کہا ہے نا جب تک تم میری آگیا کا پالن کرتے رہو گے انہیں کچھ نہ ہوگا تمہیں میرے وچن پرشواس کرنا چاہئے‘‘ اس نے مجھے اطمینان دلایا۔
’’ٹھیک ہے‘‘ میں نے ایک آہ بھری۔ اس کے علاوہ میں کہہ بھی کیا سکتا تھا۔
’’ایک بات اور جان لینا تمرے واسطے بہت جروری (ضروری) ہے‘‘ آواز آئی۔ میں نے سوالیہ نظروں سے مومنہ کی طرف دیکھا ’’سادھو امر کمار ایک مہان سادھو تھا۔ اس نے اپنا سارا جیون کالی ماتا کی تپسیا اور بھگتی (عبادت اور خدمت) میں بتا دیا تھا۔ کیول تمرے کارن اسے پرلوک بھیج دیا گیا۔ جب تک تم میری شرن (پناہ) میں ہو اس کا گرو تمہیں کچھ بھی نہ کہہ سکے گا پرنتو، وہ تم پر کرودھ(غصہ) ہے اور سمے کا انتجار(انتظار ) کر رہا ہے جب تم میری شرن سے باہر آؤ وہ تم سے اپنے چیلے کی مرتیو کا بدلہ لے۔ اس لئے بھی تمرا یہاں رہنا جروری ہے
میری بات سمجھ رہے ہو نا‘‘ اس نے کہا۔
میں نے اثبات میں ہلاتے ہوئے پوچھا’’لیکن میں کب تک گھر میں بند ہو کر بیٹھا رہوں گا۔۔۔مجھے باہر تو جانا ہی پڑے گا۔‘‘
’’تم سے کس نے کہا ہے گھر میں بندی(قیدی) بن کے بیٹھے رہو۔ باہر جاؤ کام کاج کرو بس میری یہ بنتی (التجا) مان لو اپنی پتنی سے کہو وہ جاپ بند کر دے جس کے کارن مجھے یہاں سے جانا پڑتا ہے۔‘‘
’’لیکن میں اس سے کیسے کہہ سکتا ہوں کیا تم خود ایسا کچھ نہیں کر سکتیں؟‘‘ میں نے کسی خیال کے تحت پوچھا۔
’’میں کیا کر سکتی ہوں اور کیا نہیں؟ یہ تمہیں آنے والا سمے ہی بتائے گا۔ کیول اتنا جان لو کہ سادھو امر کمار کاگرو بھی تمہیں میرے ہوتے ہوئے کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
کہیں یہ اپنے مطلب کے لئے تو مجھے نہیں ڈرا رہی۔ ہوسکتا ہے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے یہ چاہتی ہو کہ صائمہ آیۃ الکرسی کا ورد نہ کیا کرے میرے دل میں خیال آیا۔
’’تمہیں میرا وشواش کرنا چاہئے موہن! یدی مجھے تم سے پریم نہ ہوتا تو میں سادھو امر کمار کے شراپ سے تمری رکھشا کیوں کرتی؟‘‘ اس کی آواز دوبارہ آئی۔ میں جو سوچتا وہ جان جاتی۔
’’میں تمہیں مطلب نہیں سمجھا تم کیا کہنا چاہتی ہو؟‘‘ میں بری طرح الجھ گیا۔
’’پریتم! وہ میں ہی تھی جس نے تمری سہائتا کی تھی جب سادھو امر کمار نے تمہیں گھیر لیا تھا ‘‘ اس نے کہا۔
’’کک۔۔۔کیا مطلب؟ میری مدد توایک بلی نے کی تھی‘‘ میں نے حیرت سے کہا۔
’’بہت بھولے ہو سجنا!‘‘ اسکی مدھر ہنسی پر جلترنگ کا گمان ہوتا تھا ’’اس کی آواز اتنی خوبصورت ہے تو یہ خود کیسی ہوگی؟‘‘ ایک خیال میرے ذہن میں آیا۔
’’بہت بیاکل ہو رہے ہو میرے درشن کرنے کو‘‘ اس کی شوخی سے بھرپور آواز ابھری۔ میں خجل ہوگیا۔۔۔کمبخت ہر بات بھی جان لیتی تھی۔
’رادھا! ایک بات تو بتاؤ‘‘ میں نے سوچا جتنا ہو سکے اس کا اعتماد حاصل کر لوں۔
’’پوچھو میرے پران(روح) ! جو کچھ بھی تمرے من میں ہے پوچھ لو میں تمرے ہر پرشن کا اترا وش دوں گی۔‘‘ اس نے کہا۔
’’سادھو امر کمار کیوں میرے پیچھے پڑا ہوا تھا وہ مجھ سے کیا چاہتا تھا؟ میں تو اسے جانتا تک نہیں۔‘‘
’’امر کمار تمرے نہیں میرے پیچھے تھا، مجھے پراسچت کرنا اس کے جیون کی سب سے بڑی اچھا تھی۔ کیول اسی کی کیوں؟ جانے کتنے سادھو سنت، پنڈت، پجاری میرے کارن جوگ لیے دھونی رمائے بیٹھے ہیں۔ مورکھ اپنا جیون نشٹ کر رہے ہیں مجھ پر کسی کا ادھیکار ہونا کوئی بالکوں کا کھیل نہیں ہے نا؟ یہ تو میرا من تم پر آگیا ہے سنجا! نہیں تو رادھا کی اور (طرف) بری نجر سے دیکھنے والا دھرتی سے پرلوک سدھار جاتا ہے۔ جس سمے میں نے پہلی بار تمہیں دیکھا تھا اسی سمے جان لیا تھا میرا موہن دوجا جنم لے کر مجھ سے ملنے اس سنسار میں آگیا ہے ۔۔۔موہن! میں بھی تمری سنتان سے پریم کرتی ہوں، یدی تمری پتنی یہ جاپ جو اسے اس کی موسی نے بتایا ہے ارمبھ نہ کرتی تو میں اسی طرح ہررینا تمرے پاس آکر من کو شانت کر لیتی۔ میرا وشواس کرو میں تم سے ادھیک پریم کرتی ہوں یدی کوئی تمہیں بری نجر سے دیکھے۔ مجھ سے سہن نہیں ہوتا۔ اسی کارن اس پاپی سادھو کو میں نے اس سنسار سے ہی بھیج دیا۔‘‘
’’میں تمہاری بات سمجھا نہیں کھل کر بتاؤ تم کیا کہہ رہی ہو‘‘ میرا خوف بالکل ہی ختم ہوگیا تھا۔
’’اس بلی کے شریر میں تمری یہ داسی ہی تھی‘‘ اس کے انکشاف پر میں دنگ رہ گیا۔
’’لل۔۔۔لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘ میں نے بے یقینی سے کہا۔
’’کیوں۔۔۔؟ جب میں تمری پتری کے شریر میں رہ کر تم سے بات کر سکتی ہوں تو بلی کے شریر میں رہ کر تمری رکھشا(حفاظت) کیوں نہیں کر سکتی؟‘‘ اس نے مجھے بڑے رسان سے سمجھایا۔
بات تو اس کی ٹھیک تھی۔ مومنہ کے جسم پر قبضہ کرکے مجھ سے بات کرنا ممکن اگر تھا تو بلی کے جسم میں داخل ہونا کوئی مشکل بات نہ تھی۔
’’بالکل ٹھیک سمجھے اب تو تمہیں میری بات کا وشواس آگیا ہوگا کہ میں تم سے کتنا پریم کرتی ہوں؟ کیول تمرے کارن میں نے کالی ماتا کے ایک سیوک کی بلی چڑھا دی۔ ایک سادھو توکیا سارے جگ کے سادھو سنت میرے ہوتے تمہیں کچھ نہ کہہ پائیں گے۔‘‘ اس کے لہجے میں ایک عزم تھا۔
’’کیا تم ایک روح ہو؟‘‘ میں نے بے یقینی سے پوچھا۔
’’کس بات کی چنتا تمہیں بیاکل کر رہی ہے؟ سمے آنے پر سب کچھ جان جاؤ گے۔ پریتم!‘‘
’’لیکن سادھو تمیں کیوں حاصل کرنا چاہتا تھا؟ اور میں اس سلسلے میں اس کی کیا مدد کر سکتا تھا؟ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘ اس بار میں نے کھل کر پوچھا۔
’’سادھو مجھے مار کر مہا شکتی مان بننا چاہتا تھا۔ جو منش مجھے اپنے بندی بنانے میں سپھل(کامیاب) ہو جائے وہ اس دھرتی کا سب سے مہاپرش(بڑا آدمی) بن جائے گا۔ اس کی شکتی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا۔ دیوتا بھی اس کہا نہ ٹال سکیں گے۔‘‘ اس نے مجھے سمجھایا۔
’’یہ سب فضول باتیں ہیں میں ان پر یقین نہیں کرتا۔‘‘ میں چڑ گیا۔
’’دھیرج پرتیم! دھیرج۔۔۔کچھ سمے اور بیت جانے دو پھر سب کچھ تمری بدھی میں آجائے گا۔‘‘ اس نے بڑے یقین سے کہا۔
’’میں نے اس وقت اس سے الجھنا مناسب نہ سمجھا، اچھا یہ بتاؤ، سدھو مجھ سے کیا چاہتا تھا؟‘‘
’’یدی تم اس کی اچھا کے انوسار اپنی پتنی کو چھوڑ دیتے تو مجھے تمرے پاس آنے کے کارن کوئی اور راہ ڈھونڈنا پڑتی اور وہ پاپی یہی چاہتا تھا۔ جب میں تمرے شریر سنگ سنمبدھ جوڑتی وہ کسی طرح تمرے شریر کو بندی بنا کر مجھے پراپت کر لیتا‘‘ اس نے مجھے سمجھایا۔
’’لیکن یہ کام وہ میری بیوی کے ذریعے سے کیوں نہیں کر سکتا؟‘‘ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔
’’پتی، پتنی جب ایک دو جے کے
پاس آتے ہیں تو یہ پنے (ثواب) کا کام ہے۔ پرنتو جب تم کسی اور ناری کے شریک سنگ سمبندھ جوڑتے تو وہ تمہیں بندی بنانے میں مکت ہو جاتا پھر مجھے پراپت کرنا اس کے لئے کٹھن نہ تھا۔ میں جو کچھ تمہیں بتا سکتی تھی۔ بتا دیا۔ تم اپنی پتنی سے کہہ کر یہ جاپ بند کرو اور پھر تمرے پاس آنے میں مجھے کوئی روک نہ ہوگی۔‘‘ اس نے ایک بار پھر اپنا مطالبہ دہرایا۔
’’لیکن میں یہ سب کیسے کر سکتاہوں میں صائمہ کو اس بات پر کس طرح راضی کروں؟‘‘ میں نے اپی مجبوری ظاہرکی۔
’’یہ تم جانو۔۔۔یدی تم چاہتے ہو تمری پتنی کو کوئی کشٹ نہ ہو تو تمہیں یہ سب کرنا ہوگا۔ یہ اس کارن بھی جروری ہے کہ میں تمری رکھشا کر سکوں‘‘ ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ اچانک احد اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ لال سرخ ہو رہا تھا۔ وہ اپنی سرخ انگارہ آنکھوں سے مومنہ کو گھورنے لگا۔ جب وہ بولا تو میں پوری جان سے لرز گیا اس کے منہ سے کسی مردکی گرجدار آواز نکلی۔
’’بدکار عورت ! تونے پھر وہی کام شروع کر دیئے۔‘‘ آواز کی گھن گرج سے مجھے اپنے کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔ میں نے مومنہ کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں مجھے خوف نظر آیا۔ اچانک مومنہ کا جسم لہرایا اور وہ دوبارہ لیٹ کر سو گئی۔ اسکے دونوں ہاتھ گال کے نیچے تھے۔ وہ اسی طرح سویا کرتی۔ میں نے گھبرا کر احد کی طرف دیکھا اس کا چہرہ پر سکون ہوگیا تھا۔ اس بار وہ بولا تو اسکی آواز میں وہ گھن گرج نہ تھی۔
’’بھاگ گئی بزدل۔۔۔مجھے اس کا کوئی بندوبست کرنا پڑے گا‘‘ اس کی بڑبڑاہٹ ابھری۔ جیسے وہ خود سے ہمکلام ہو۔ اس کے بعد وہ بھی لیٹ کردوبارہ سو گیا۔میں پاگلوں کی طرح اپنے دونوں بچوں کی طرف دیکھ رہا تھا جو یوں آرام سے سو رہے تھے جیسے روزانہ سوتے ہیں اب کمرے میں گلاب کی خوشبو کا نام و نشان نہ تھا۔ ہر سو خاموشی طاری تھی۔ بارش رک چکی تھی۔ کبھی کبھی بجلی چمک جاتی۔ مجھے شبہ ساہونے لگاکہیں میں نے خواب تو نہیں دیکھا۔ تھوڑی دیر پہلے جو کچھ کمرے میں ہوا تھا وہ اتنا ہی ناقابل یقین تھا کہ آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود شعور اسے ماننے سے انکاری تھا۔ ابھی میں حیران و پریشان بیٹھا تھا کہ صائمہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔ پہلے تو وہ خالی خالی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی رہی پھر اسکی آنکھوں میں شعور کی چمک ابھری اور وہ متوحش ہوگئی۔ اس نے میرے طرف دیکھا اورکہنے لگی۔
’’فاروق! وہ سب کیا تھا کہیں میں نے کوئی ڈراؤنا خواب تو نہیں دیکھا؟ وہ منحوس عورت کون تھی جس کی صرف آواز سنائی دے رہی تھی وہ۔۔۔وہ ۔۔۔میرے بچوں کو مارنے کی باتیں کر رہی تھی‘‘
’’کچھ نہں ہوگا صائمہ! حوصلہ کرو انشاء اللہ تعالیٰ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ انسان کو ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ ‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔
’’فاروق! صبح ہوتے ہی ہم یہاں سے چلے جائیں گے ہم نے یہاں نہیں رہنا۔ اس مکان میں ضرور کوئی ایسی چیز ہے جو لوگوں کو پریشان کرتی ہے۔‘‘
’’ہاں ہاں ضرور صبح ہوتے ہی ہم یہ گھر چھوڑ دیں گے تم فکر نہ کرو اور آرام سے سو جاؤ۔‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔
’’ان حالات میں کیسے نیند آسکتی ہے؟ مجھے تو اس بات پر بڑی حیرت ہے کہ میں کیسے سو گئی؟‘‘ اب میں اسے کیا بتاتا کہ وہ سوئی نہ تھی اسے سلا دیا گیا تھا۔
’’فاروق! صبح ہونے والی ہے بس نماز پڑھ کر یہاں سے چلتے ہیں‘‘ اس نے کلاک کی طرف دیکھا جس پر پانچ بج رہے تھے۔
’’ٹھیک ہے نماز پڑھ کر اس مسئلے پر کچھ سوچتے ہیں‘‘ میں نے کہا۔اس نے باتھ روم میں جا کر وضو کیا اور جائے نمازبچھا کر نماز پڑھنے لگی۔
میں نے بھی ا پنے رب کے حضور سجدہ کی اور دعاکی ’’یا اللہ تو ہی قادر کریم ہے سب کی حفاظت کرنے والا۔ اے اللہ رب العزت ! توہی میری اور میرے بیوی بچوں کی حفاطت کرنا۔ آمین‘‘ دعا مانگ کر مجھے بہت سکون ملا۔ صائمہ نماز سے فارغ ہو کر قرآن پاک پڑھ رہی تھی۔ میں وہیں جائے نماز پر لیٹ گیا۔ ساری رات پریشانی سے جاگتا رہا تھا تھوڑی ہی دیر میں نیند آگئی۔
نہ جانے میں کتنی دیر سویا تھا کہ کسی نے مجھے جھنجھوڑ کر جگا دیا۔ میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔
’’میں تو ڈر ہی گئی تھی اتنی گہری نیند تو آپ کبھی نہیں سوئے‘‘ صائمہ میرے اوپر جھکی پریشانی سے کہہ رہی تھی۔ میں نے کئی بار آپ کو آواز دی لیکن آپ تو جیسے بے ہوشی کی نیند سو رہے تھے‘‘ اس کے چہرے سے پریشانی ظاہر ہو رہی تھی۔
’’دراصل رات بھر جاگتا رہا ہوں نا اس لئے گہری نیند آگئی تھی‘‘ میں نے اٹھ کر آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔
’’بچوں کو بھوک لگی ہے میرے ساتھ کچن میں چلیں ان کے لئے ناشتہ بنانا ہے۔‘‘ کل رات کے واقعے سے صائمہ خوفزدہ ہوگئی تھی۔ میں نے منہ پر پانی کے دو چار چھٹے مارے اور اس کے ساتھ کچن کی طرف چل پڑا
صائمہ ناشتہ بناتی رہی اور میں اس کی مدد کرتا رہا۔ کل رات اس غیر مرئی مخلوق کو تو میں نے کہہ دیا تھا کہ میں اس کا حکم مانوں گا لیکن میں نے اس گھر کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کر لیا تھا۔
’’صائمہ! ناشتہ کرکے ضروری چیزیں لے لو ۔تم لوگوں کو عمران کے چھوڑ کر میں ٹکٹس لینے اور چھٹی کی درخواست دینے کے بعد آتا ہوں ہم آج ہی لاہور چلے جائیں گے۔‘‘
’’میں تو صبح سویرے ہی یہاں سے نکلنا چاہتی تھی لیکن آپ کی نیند کی وجہ سے انتظار کرتی رہی۔‘‘
اچانک بیڈ روم سے مومنہ کی دلخراش چیخ سنائی دی۔
ہم دونوں تیزی سے بھاگتے ہوئے بیڈ روم میں آئے تو دیکھا۔ مومنہ، احد کے ساتھ چپکی بری طرح رو رہی تھی۔ اور احد خوفزدہ نظروں سے باتھ روم کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی ہم دونوں اندر داخل ہوئے وہ بھی رونے لگا۔ دونوں بچے بری طرح سہمے ہوئے تھے۔ صائمہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر مومنہ کو اٹھا لیا احد بھاگتا اور ہوا میری ٹانگوں سے لپٹ گیا۔ میں نے نیچے بیٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگالیا۔ اسکا ننھا سا دل تیزی سے تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ صائمہ نے مومنہ کو اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا جواب بھی ہچکیاں لے رہی تھی۔ میں نے احد کو تسلی دیتے ہوئے پوچھا۔
’’کیا ہوا مومنہ کیوں رو رہی ہے؟‘‘ اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔
’’بابا! ہم کھیل رہے تھے کہ ایک عورت جس کا منہ جلا ہوا تھا وہ مومنہ کو پکڑنے لگی تھی۔ بابا اس کے دانت ٹوٹے ہوئے تھے اور آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا‘‘ اس نے جھرجھری سی لی۔
’’پھر وہ کہاں گئی؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بابا۔۔۔! وہ۔۔۔باتھ روم میں چلی گئی ہے‘‘ اس نے خوفزدہ نظروں سے باتھ روم کی طرف دیکھا۔
میں نے اس کا ہاتھ چھوڑا اور باتھ روم میں جھانک کر دیکھا وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ میں نے واپس آکر کہا
’’وہاں توکوئی بھی نہی ہے‘‘ مومنہ ماں کے کندھے سے لگی سسکیاں لے رہی تھی۔ اس کی ٹھوڑی صائمہ کے کندھے کو چھو رہی تھی۔ اچانک اس نے آنکھیں گھما کر میری طرف دیکھا۔ اف میرے خدا۔۔۔آج برسوں بعد بھی مجھے وہ منظر یاد آتا ہے تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس کی آنکھیں یکدم بھینس کی آنکھوں جتنی ہوگئیں اور منہ سے دو نوکیلے دانت باہر نکل آئے۔ اس کا معصوم چہرہ بے حد ڈراؤنا ہوگیا۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی میں نے بمشکل اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر صائمہ کی طرف دیکھا۔ وہ مومنہ کی حالت سے بے خبر گہری سوچ میں گم تھی۔ جب دوبارہ میری نظر مومنہ کے چہرے پر پڑی تو اسکا چہرہ پہلے کی طرح بالکل ٹھیک تھا۔ اچانک میرے نتھنوں سے گلاب کی خوشبو ٹکرائی۔ اس کے بعد رادھا کی آوا زکمرے سے گونجی۔
’’اب کیا وچارہیں پریتم! کیا کوئی اور چمتکار دیکھنا چاہتے ہو؟ میں نے تم سے کہا تھا نا میرے سنگ وشواش گھات نہ کرنا۔ تم نے مجھے وچن دیا تھا میری آگیا کا پالن کرو گے، پرنتو دن چڑھتے ہی بھول گئے تم نے کیسے سمجھ لیا رادھا تمہیں پا کر کھو دے گی؟ موہن ! تم نے میرے پریم کا گلط (غلط) وچارکیا۔ میں نے تمہیں کہا نہیں تھا۔۔۔؟ یدی تم یہاں سے جانے کا وچار بھی من میں لائے تو تمری یہ سندر پتنی اور سنتان جیوت نہ رہیں گے؟ کیا تم چلے جاؤ گے اپنی رادھا کو چھوڑ کر؟ پرنتو میں اس بات ایسا نہیں ہونے دوں گی۔ ورشوں بعد تو میری منو کا منا (خواہش) پوری ہوئی۔ بولو موہن!کیا اپنی رادھا کو چھوڑ جاؤ گے؟‘‘ وہ بار بار ایک ہی بات کی تکرار کیے جا رہی تھی۔ اسکی آواز میں بلا کا درد امڈ آیا تھا۔ صائمہ کے چہرے پر وحشت چھا گئی تھی۔ وہ یک ٹک میری طرف دیکھ رہی تھی میں نے گھبرا کر بچوں کی طرف دیکھا وہ بالکل چپ کھڑے تھے۔ میں حیران تھا کہ انہوں نے رادھا کی آواز سن کرکسی ردعمل کا اظہار کیوں نہ کیا تھا۔ مومنہ تو خیر چھوٹی تھی لیکن احد بہت سمجھ دار تھا۔
’میری آواز کیول تم اور تمری پتنی ہی سن رہے ہو میرے میت!‘‘ رادھا کی آواز نے میری الجھن دور کر دی۔ میں نے دیکھا رادھا کا مجھے میت کہنا صائمہ کو بہت برا لگا۔ باوجود خوفزدہ ہونے کے اس کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات بخوبی پڑھے جا سکتے تھے۔ اچانک اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ جب وہ بولی تو میں حیران رہ گیا۔
’’تم جو کوئی بھی لیکن ہو بہت بے شرم۔۔۔تمہارے اندر ذرا سی بھی حیا نہیں ہے۔ خبردار اگر میرے شوہر کو دوبارہ تم نے اس قسم کے بے ہودہ القابات سے پکارا تو میں تمہارا حشر کر دوں گی‘‘ وہ کسی زخمی شیرنی کی طرح غرائی۔ احد نے حیرت سے صائمہ کی طرف دیکھا۔ وہ حیران تھا کہ ماما کس کو ڈانٹ رہی تھی۔
’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا‘‘ کمرہ رادھا کے قہقہے سے گونج اٹھا۔
’’سنا تم نے موہن! تمری پتنی کیا کہہ رہی ہے؟‘‘ اس نے مجھے مخاطب کیا۔
’’بند کرو اپنی بکواس۔۔۔تم جیسی بدکردار بے حیا۔۔۔ہر مذہب اور نسل میں موجود ہوتی ہیں۔ تم کیا سمجھتی ہو ہم تم سے ڈر جائیں گے؟ یاد رکھو شیطان کتنا ہی طاقتور ہو جائے اللہ تعالیٰ کے کلام کے آگے وہ بے بس ہے اگر تم اپنی خیریت چاہتی ہو تو اسی وقت یہ جگہ چھوڑ کر چلی جاؤ نہیں تو جل کر رکھ ہو جاؤ گی۔‘‘ صائمہ کسی شیرنی کی طرح گرج رہی تھی۔ میں اس کی جرات پر حیران رہ گیا۔
’’کلنکنی! تجھے بتانا بہت جروری ہوگیا کہ اس سمے تو کس شکتی کے سامنے کھڑی ہے؟‘‘ رادھا کی قہر و غضب میں ڈوبی ہوئی آواز سنائی دی۔ میں نے صائمہ کی طرف دیکھا اس کا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا۔ کچھ دیر کمرے میں خاموشی چھائی رہی پھر رادھا کی آواز آئی۔
’موہن! اس بار تو میں تمرے کارن اس مورکھ کو شما کر رہی ہوں پرنتویہاں سے جانے کا وچار کیا توپھر میں اس پاپن کو بتاؤں گی کہ رادھا کیا ہے اور کتنی شکتی مان ہے؟ میں جا رہی ہوں پرنتو یہ نہ سمجھنا میں تم سے بے کھبر ہوں‘‘ اس کے بعدکمرے میں خاموشی چھا گئی۔ آہستہ آہستہ گلاب کی خوشبو مدھم ہوتی جا رہی تھی۔ میں نے صائمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے اسے پرسکون رہنے کا اشارہ کیا۔
’’چلو آج کچن میں ناشتہ کرتے ہیں‘‘ صائمہ میرا اشارہ سمجھ گئی تھی۔ بچوں کی موجودگی کی وجہ سے وہ تیزی سے نارمل ہوگئی تھی۔
’’ہاں بچو! آج کچن میں بیٹھ کر ناشتہ کرتے ہیں‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔ احد خان نے میری طرف دیکھ کر آہستہ سے پوچھا۔
’’بابا ! ماما کس کو ڈانٹ رہی تھیں؟ وہ بڑے بڑے دانتوں والی عورت کون تھی؟‘‘
میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا’’وہ کوئی فقیرنی تھی اسنے جب دیکھا کہ میں اور آپ کی ماما کچن میں ہیں تو وہ آپ کو ڈرانے آگئی‘‘ مجھے اور توکچھ نہ سوجھا بس چھوٹی سی کہانی گھڑ کر اسے مطمئن کر دیا۔ ناشتہ کرنے کے بعد ہم دوبارہ بیڈ روم میں آگئے بچے کھیل میں مصروف ہوگئے۔
’’آج تو تم نے کمال کر دیا بھئی! مجھے تم سے اتنی دلیری کی توقع نہ تھی‘‘ میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا مدھم سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر آگئی۔
’’کس قدر ڈھٹائی سے وہ میرے سامنے ہی آپ کو بے ہودہ طریقے سے بلا رہی تھی مجھ سے یہ برداشت نہ ہو سکا‘‘
’’تمہارا یہ روپ مجھے بہت بھلا لگا۔ مجھے فخر ہے کہ میری بیوی میرے لئے کسی بھی شیطانی قوت سے ٹکرا سکتی ہے۔‘‘
میری اس تعریف سے اسکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا’’میرا سب کچھ تو آپ ہی ہیں۔ یہ تو میں مرکربھی برداشت نہیں کر سکتی کہ میرے علاوہ کوئی آپ سے اس طرح بات کرے۔‘‘
اس مصیبت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے ہم کافی دیر مختلف تراکیب سوچتے رہے۔ اچانک میرے ذہن میں کوندا سا لپکا۔ کیوں نا میں شریف کے والد محترم کی خدمت میں حاضری دوں۔ مجھے یقین تھا وہ اس مشکل کا کوئی حل ضروری بتائیں گے۔ اس سے پہلے میں نے صائمہ کو کسی بات کی بھنک نہ پڑنے دی تھا۔ میں نے سوچا پہلے میں ان سے ملاقات کر لوں پھر صائمہ کو بتاؤں گا۔ میرا پروگرام تھا اسے اور بچوں کو عمران کے گھر چھوڑ کر میں شریف کے ساتھ اس کے والد صاحب سے ملنے چلا جاؤں گا۔ سر سے جیسے بوجھ اتر گیا۔ میں نے صائمہ سے کہا۔
’’تم بچوں کو تیار کر لو میں بینک جاتے ہوئے تمہیں عمران کے گھر ڈراپ کر دوں گا‘‘ اس نے سر ہلایا لیکن بچوں کی موجودگی میں مزید کوئی سوال نہ کیا اور انہیں تیار کرنے چلی گئی۔ اس نے احد کو کپڑے بدلنے کے لئے کہا اور خود مومنہ کے ساتھ لان میں چلی گئی۔
میں ابھی فون کرنے کے ارادے سے اٹھنے ہی والا تھا کہ مومنہ کے چیخنے کی آواز آئی وہ بری طرح چلا رہی تھی۔ اس کے فورا بعد صائمہ کی ہذیانی آواز سنائی دی وہ مجھے بلا رہی تھی۔
’’ہائے اللہ۔۔۔فاروق ادھر آئیں یہ دیکھیں مومنہ کو کیا ہوگیا؟‘‘ میں جلدی سے باہر بھاگا ۔ دیکھا تو صائمہ نے مومنہ کو گود میں اٹھایا ہوا ہے اس کے منہ سے جھاگ نکل رہے ہیں اور ہاتھ پیر بری طرح مڑے ہوئے ہیں۔ میں نے اسے گودمیں لے لیا۔ صائمہ رونے لگی۔
’’فاروق یہ دیکھیں اسے کیا ہوگیا ہے؟‘‘ میں نے اسے اندر لا کر بیڈ پر لیٹا دیا۔ اچانک مومنہ نے آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھ گئی اس کے منہ سے قہقہہ نکلا لیکن آواز رادھا کی تھی۔
’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا‘‘
صائمہ نے روتے ہوئے قرآنی آیات کا ورد شروع کر دیا۔ مومنہ نے اپنی سرخ انگارہ آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’اب کیا وچار ہیں میرے بارے میں؟‘‘ اس کے حلق سے رادھا کی آواز نکلی’’تو تو بڑی بلوان ہے۔ کیول اتنی سی بات سے گھبرا گئی؟ مجھے بھسم کرنے چلی تھی اب کیا ہوا؟ کدھر گیا تیرا وہ تیکھا پن؟ اگر تجھ میں جراسی بھی شکتی ہے تومجھے اپنی پتری کے شریر سے باہر نکال۔۔۔میں بھی تو دیکھوں تو
کتنی شکتی مان ہے۔۔۔؟ سن مورکھ! میں موہن کے کارن اب بھی تجھے شما کر سکتی ہوں کیول تجھے اتناکرنا ہوگا جو جاپ تو ہر رینا کرتی ہے اسے بند کر دے‘‘ رادھا کا مطالبہ کھل کر سامنے آگیا۔ صائمہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے میری جانب دیکھا چونکہ رادھا زیادہ تر ہندی بولتی تھی اس لے جاپ وغیرہ کے الفاظ نہ سمجھ سکی تھی۔
’’رادھا کا مطلب ہے آیۃالکرسی کا جو وظیفہ جوتم ہر رات سونے سے قبل کرتی ہو وہ بند کر دو‘‘ میں نے وضاحت کی۔
کیوں۔۔۔وظیفے سے اسے کیا تکلیف ہے؟‘‘ صائمہ کی آنکھوں میں الجھن تھی۔ میں نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے مومنہ کے ذریعے رادھا سے کہا۔
’’رادھا! تم جیسا کہو گی ہم ویسے ہی کریں گے۔ تمنے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ صائمہ اور بچوں کی کوئی نقصان نہ پہنچاؤ گی لیکن پہلے دن ہی اپنا وعدہ توڑ دیا۔‘‘
’’وچن تو تم نے بھی مجھے دیا تھا پریتم! پرنتو اجالا پھیلتے ہی یہاں سے جانے کا وچار کر بیٹھے۔۔۔کیا مجھے جانکاری نہیں کہ تم اپنے متر کے گھر اس سمسیا کے سمادھان(مشکل کا حل) کے کارن جا رہے ہو‘‘
صائمہ نے حیرت سے میری طرف دیکھا کہ کس وقت یہ وعدے وعید ہوئے وہ بولنے ہی لگی تھی کہ میں نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
رات جب رادھا نے مومنہ کے ذریعے مجھ سے باتیں کی تھیں میں شُکر ادا کر رہا تھا کہ صائمہ سوئی ہوئی ہے۔ میرا خیال تھا کہ اگر صائمہ اسے اس حال میں دیکھ لیتی تو خوف سے مر جاتی لیکن جب رادھا نے محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر مجھے پریتم سجنا اور پریم جیسے القابات سے پکارا تو صداکی ڈرنے والی صائمہ بھپر گئی۔ اس نے رادھا کو کھری کھری سنا دی تھیں جس کے نتیجے میں وہ بد بخت مومنہ کے جسم پر قبضہ کر بیٹھی۔
’’رادھا! تم صائمہ کی باتوں کا برا نہ مانو جب کوئی عورت اپنے شوہر اور بچوں کو تکلیف میں دیکھتی ہے تو اسے غصہ تو آتا ہی ہے‘‘ میں نے بڑے رسان سے اسے سمجھایا۔
’’تم کہتے ہو تو میں اس مورکھ کو شما کیے دیتی ہوں پرنتو۔۔۔اسے کہہ دو، یدی اس نے مری آگیا کا پالن نہ کیا تو یہ کھد دیکھ لے گئی رادھا کیا کر سکتی ہے؟‘‘ کچھ دیر کے بعد مومنہ کے جسم نے بل کھایا اور آرام سے لیٹ گئی اچھا ہوا احد کمرے میں نہ تھا ورنہ مومنہ کے منہ سے ایسی باتیں سنتا تو نہ جانے اس معصوم پر کیا گزرتی؟
’’یہ منحوس کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔کونسے وعدے آپ نے اس کے ساتھ کیے ۔۔۔کب؟‘‘ اس کی آنکھوں میں شک کے کنول تیرنے لگے۔
’’تم مجھ پر شک کر رہی ہو؟‘‘ میں نے ناگواری سے کہا۔ اس نے حیرت سے مجھے دیکھا پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مجھے اپنے لہجے کی سختی کا اندازہ ہوگیا۔ دراصل رات سے اب تک پیش آنے والے خوفناک واقعات کے تسلسل سے میرے اعصاب جواب دے گئے تھے۔ ’’آئی ایم سوری صائمہ! میں بھی تمہاری طرح سخت پریشان ہوں کسی بات کی سمجھ نہیں آتی۔‘‘ میں نے اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔ اس نے بھیگی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور بنا کچھ کہہ باہر چلی گئی۔ اسی وقت فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے ریسیور اٹھا یا دوسری طرف عمران تھا۔
’’خان بھائی! شریف کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے‘‘ اس کی آواز کسی بم دھماکے کی طرح میری کانوں سے ٹکرائی۔ ‘‘ رات کو عشاء کی نماز کے بعد جنازہ یہ‘‘ وہ بتا رہا تھا۔
’انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا ’’کب ہوا ان کا انتقال؟‘‘
’’ابھی تھوڑی دیر پہلے شریف کا فون آیا تھا کہہ رہا تھا آپ کی اطلاع کر دوں‘‘ اس کہا۔
’’اچھا میں بچوں کولے کر تمہارے گھر جا رہا ہوں ان کو وہاں چھوڑ کر ہم دونوں شریف کے گھر چلے جائیں گے۔‘‘ میں نے عمران کو پروگرام بتایا۔
’’ٹھیک ہے خان بھائی! میں بھی تھوڑی دیر بعد گھر پہنچ جاؤں گی‘‘ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ کمرے میں آکر میں نے صائمہ کو بتایا۔
’’میرے ایک ماتحت کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے عشاء کے وقت ان کی نماز جنازہ ہے تم تیار ہو جاؤ ہم عمران کے گھر چلتے ہیں تمہیں وہاں چھوڑ کر میں جنازے پر چلا جاؤں گا رات ہم عمران کے گھر ٹھہریں گے پھر اس مشکل سے نکلنے کا کوئی حل سوچتے ہیں‘‘ میں نے اسے سمجھایا۔ اس نے سر ہلایا اور بچوں کو تیار کرنے چلی گئی۔ جنازے سے ہم لوگ گیارہ بجے کے قریب واپس آسکے۔ وہ رات ہم نے عمران کے گھر گزاری۔ شریف کے والد صاحب کے وفات کے بعد یہ دروازہ بھی بند ہوگیا تھا۔ صائمہ اور بچے سو چکے تھے۔ میں بھی بیڈ پر لیٹ گیا پر نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی سوچنے سے اور تو کچھ حاصل نہ ہوا ہاں سرکا درد بڑھ گیا۔ نہ جانے کس پہر مجھے نیند آئی۔ رات بھر مجھے ڈراؤنے خواب دکھائی دیتے رہے۔ بار بار آنکھ کھل جاتی خیر کسی نہ کسی طرح رات گزر گئی۔صائمہ اور بچوں کو میں نے عمران کے گھر ہی رہنے دیا۔ شریف کے والد کی وفات کے بعد ایک ہی شخص تھا جو میری الجھن کو حل کر سکتا تھا اور وہ تھا ملنگ۔ میں اسے تلاش کرکے اس مسلے پر اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ لیکن سوموار کا دن ہونے کی وجہ سے بینک میں اتنی مصروفیت رہی کہ مجھے ایک منٹ کا ٹائم نہ مل سکا۔ شام کو ہم واپس آنے لگے تو عمران نے کہا۔
’’خان بھائی آپ چلیں ایک چھوٹا سا کام ہے میں وہ کرکے آتا ہوں‘‘ میں واپس چل پڑا۔ گھر پہنچا تو نازش کو دروازے سے باہر کھڑے پایا۔ ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر وہ لپک کرآئیں۔ کسی انجانے خدشے سے میرا دل دھڑک اٹھا۔ میں نے گاڑی روک کر جلدی سے دروازہ کھولا اور باہرنکل کر پوچھا
’’خیرت ہے بھابی! باہر کیوں کھڑی ہیں؟‘‘
’’فاروق بھائی! مومنہ پتانہیں کہاں چلی گئی ہے؟‘‘ الفاظ نہیں بم تھا جو میرے سر پٹھا۔
’’ک۔۔۔ک۔۔۔کیا کہہ رہی ہیں آپ، کیا مطلب؟‘‘ میرے منہ سے بے ربط جملے نکلے۔
’’تھوڑی دیر پہلے سب بچے لان میں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے کافی دیر تک جب مومنہ نہ ملی تو شاہ جہان نے مجھے بتایا اس کے بعد سے ہم نے اسے سارے گھر میں تلاش کیا لیکن وہ کہیں بھی نہیں ہے‘‘ اتنا کہہ کر بھابی رونے لگیں۔ میں بھاگتا ہوا اندر گیا صائمہ برآمدے میں کھڑی رو رہی تھی۔ سب بچے ان کے پاس خاموش کھڑے تھے۔ مجھے دیکھ کر صائمہ لپک کر میرے پائی آئی۔
’’حوصلہ رکھو صائمہ! یہیں کہیں ہوگی وہ کہاں جا سکتی ہے؟‘‘ میں نے اسے تسلی دی ۔ایک بار پھر ہم سب نے اس کی تلاش شروع کر دی۔ صائمہ کا رو رو کر برا حال تھا۔ وہ نڈھال سی کرسی پر گر گئی۔
’’عمران کہاں ہیں، فاروق بھائی! ‘‘ نازش نے پوچھا۔
’’اسے بازار سے کچھ چیزیں خریدنا تھوڑی دیر میں آجائے گا۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’اچھا وہ درزی کے پاس میرے کپڑے لینے گئے ہوں گے آپ ایسا کریں ان کو بلا بلائیں‘‘ انہوں نے مجھے ایڈریس بتاتے ہوئے کہا۔ میں جلدی سے گاڑی میں بیٹھا اور آندھی طوفان کی طرح بھگاتا ہوا بازار کی جانب چل پڑا۔ ابھی میں بازار سے کچھ دورہی تھا کہ مجھے اپنے پیچھے پولیس موبائل کا سائرن سنائی دیا میں چونکہ خطرناک حد تک تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کر رہا تھااس لئے شادی ٹریفک سارجنٹ نے مجھے چیک کرکے گاڑی پیچھے لگا دی تھی۔ میں نے رفتار سست کر دی پولیس موبائل تیزی سے میرے برابر آئی اور اگلی سیٹ پر بیٹھے پولیس والے نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا۔ میں نے گاڑی ایک طرف کرکے روک لی۔
میں چاہتا تھا اسے سمجھاؤں کہ میں کس مشکل میں ہوں اور تیز رفتاری کے لئے معذرت بھی کروں لیکن میرے نیچے اترنے سے پہلے موبائل سے چارپانچ پولیس والے اترے جنہوں نے ہاتھ میں خود کار رائفلیں پکڑی ہوئی تھیں۔ سب میری گاڑی کے گرد گھیرا ڈال کر کھڑے ہوگئے ۔میں ابھی سنھبل بھی نہ پایا تھا کہ ایک کرخت صورت تھانیدار نیچے اترا اور میری گاڑی کے پاس آکر غرایا۔
’’فاروق خان تمہاراہی نام ہے‘‘
’’جی ہاں۔۔۔بات دراصل یہ ہے آفیسر۔۔۔‘‘
’’بات کے بچے نیچے اتر۔۔۔‘‘اس نے میری بات کاٹ کرایک نہایت فحش گالی دی۔ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
’’دیکھو آفیسر۔۔۔!‘‘ ابھی الفاظ میرے منہ میں ہی تھے کہ اس نے گرج کر اپنے سپاہیوں کو حکم دیا۔
’’اس حرامزادے کو نیچے اتار کر گاڑی میں بٹھاؤ‘‘ ایک سپاہی نے جلدی سے میری گاڑی کا دروازہ کھولا اور مجھے کالر سے پکڑ لیا۔
’’میری بات سنو تم یہ ٹھیک نہیں کر رہے۔‘‘ میں نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔
اچانک میرے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا۔ آنکھوں کے آگے تارے ناچ گئے۔ اس کے بعد تو مجھے پر گھونسوں اور لاتوں کی بارش ہوگئی۔ میری کنپٹی پر کسی کا زوردار ہاتھ پڑا اور میں زمین بوس ہوگیا۔ گرتے ہی جیسے میرے سر پر پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ یہ کسی سپاہی کے بوٹ کی ٹھوکر تھی جو میرے سر پر پڑی تھی۔ سپاہیوں نے مجھے ڈنڈا ڈولی کرکے موبائل میں پھینک دیا۔ ابھی میں سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ گاڑی چل پڑی۔ چار سپاہی سیٹوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور میں ان کے قدموں میں پڑا تھا۔ سر کی چوٹ نے میرے حواس معطل کر دیئے تھے۔ بائیں آنکھ میں بری طرح سوزش کے ساتھ درد ہو رہا تھا۔ جسم کے ایک حصے سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ ان بدبختوں نے مجھے بری طرح مارا تھا۔ میں گٹھڑی بنا ان کے قدموں میں گاڑی کے فرش پر پڑا تھا۔ سپاہی مجھ سے بے نیاز ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کر رہے تھے۔ وہ بات کم کرتے اور گالیاں زیادہ بکتے۔ شاید پولیس کے محکمے میں رہ کر ان کی زبان اس قدر گندی ہو چکی تھی۔ ایک سپاہی دوسروں کو کوئی واقعہ سنا رہا تھا۔ اس نے ایک محبت کرنے والے جوڑے کو کسی پارک سے پکڑا تھا۔ وہ مزے لے لے کر ان کو بتا رہا تھا کہ اس نے لڑکی کے ساتھ کیا کیا تھا اور کتنے پیسے لے کر انہیں چھوڑا تھا۔ کچھ دیر کے بعد موبائل تھانے کی عمارت میں داخل ہوگئی۔ گاڑی کے رکتے ہی تھانیدار نے سپاہیوں کو حکم دیا۔
’’اسے سپیشل حوالات میں بند کر دو میں رات کو اس کے ساتھ ۔۔۔کروں گا۔‘‘ اس نے نہایت فحش بات کی۔
’’بچو جی! خود ہی اترو گے یا تمہارے لئے پالکی لے کر آئیں۔‘‘ ایک سپاہی نے ہنس کر طنز کیا۔ میں جلدی سے نیچے اتر آیا وہ مجھے لے کر ایک طرف چل پڑا۔ سامنے ایک قطار میں چند کمرے بنے ہوئے تھے اس نے ایک کمرے کا تالا کھولا اور مجھے دھکیل کر دروازہ باہر سے بند کردیا۔ پہلے بھی میرا سابقہ ان حالات سے پڑ چکا تھا۔ جب سادھو کے چیلے تھانیدار نے مجھے چمپا کے جھوٹے اغوا کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔ اس دن رادھا نے بلی کے روپ میں مجھے ان کے چنگل سے نہ صرف رہائی دلائی تھی بلکہ سادھو کے چیلوں کو عبرتناک سزا بھی دی تھی۔ میں نے سپاہی کے جانے کے بعد کمرے کا جائزہ لیا۔ نہایت کم روشنی کا ایک بلب اپنی مدقوق روشنی پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ فرش پر پرانی سی چٹائی بچھی تھی کمرے میں دیوار کے ساتھ کوئی کمبل اوڑھے لیٹا تھا۔ مجھ سا کوئی بد نصیب ہوگا۔ میں نے سوچا۔ میرے جسم پر ایک ہلکا سا سوئیٹرتھا۔ سردی اور خوف سے میرا جسم کانپ رہا تھا ’’ نہ جانے یہ درندے میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟‘‘ رادھا بھی مجھ سے ناراض تھی۔ میں نے اس کے بقول اسے دھوکہ دیا تھا لیکن کیا واقعی یہ دھوکہ تھا؟ کیا میں اس کا مطالبہ مان کر اس کی ہوس پوری کرتا رہتا؟ اس کا مطالبہ تھا صائمہ جو وظیفہ رات کو کرتی ہے وہ بند کر دے تاکہ وہ پہلے کی طرح صائمہ کے جسم میں سما کر میرا قرب حاصل کرسکے۔ میں کوئی زیادہ مذہبی آدمی تو نہیں ہوں لیکن اتنا جانتا ہوں یہ کام غلط ہے۔ گزشتہ بار تو رادھا نے میری مدد کرکے مجھے چھٹکارا دلایا تھا اب کیا ہوگا؟‘‘ یہ سوال بار بار میرے ذہن میں ڈنک ما رہا تھا۔
’’کہیں یہ سب رادھا کا کیا دھرا تو نہیں؟‘‘ اچانک میرے ذہن میں خیال آیا۔ اچانک ہر طرف تاریکی چھا گئی شاید لائٹ چلی گئی تھی
اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے رہا تھا۔ جسم پر لگی چوٹیں ٹھنڈی ہو کر مزید اذیت دینے لگی تھیں۔ نہ جانے میری معصوم بیٹی کس حال میں ہوگی؟ مجھے یقین تھا کہ یہ سب کیا دھرا رادھا کا ہے اس نے اپنی پراسرار قوتوں سے کام لے کر یہ سب کچھ اس لئے کیا ہوگا تاکہ میں ڈر کر اس کا مطالبہ پورا کر دوں۔ اپنی بیٹی کے بارے میں سوچ کر میرا دل بھر آیا۔ آنسو میری آنکھوں سے بہنے لگے۔بے بسی کا عالم تھا ۔ صائمہ کس کرب سے گزر رہی ہوگی؟ اس بے چاری کو کیا خبر کہ ایک اور افتاد اس پر آپڑی ہے ’’یا اللہ میرے گھر کی حفاظت کرنا میری ننھی معصوم بیٹی کو ہر مصیبت سے بچانا‘‘ بے اختیار میرے دل سے دعا نکلی۔
میں کھسک کر دیوار کے سہارے بیٹھ گیا۔ تاریکی میں ایک بار پھر میں نے اپنے واحد اجنبی ساتھی کو دیکھنے کی کوشش کی۔ مجھے دو دہکتے ہوئے سرخ انگارے دکھائی دیے۔ میں آنکھیں پھاڑے ابھی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ کیا چیز ہے ؟ انگارے بلند ہونا شروع ہوگئے۔ وہ تقریباً انسانی قد کے برابر بلندی پر جا کر ٹھہر گئے۔ پھر انہوں نے آہستہ آہستہ میرے طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ میں گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔ کمرے کی مہیب خاموشی میں ایسی آواز آنا شروع ہوگئی جیسے کوئی درندہ سانس لے رہاہو۔ انگارے مجھ سے دو فٹ کے فاصلے پر بالکل میرے متوازی ہوا میں جمے ہوئے تھے۔ میں بغیر پلک جھپکائے ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ درندے کے ہانپنے کی آواز مجھے بالکل اپنے قریب سنائی دے رہی تھی۔ جس کمرے میں مجھے لایا گیا تھا اس کا دروازہ عام حوالات کے سلاخوں والے دروازے کے برعکس لوہے کی ٹھوس چادر کا بنا ہوا تھا۔ میں نے آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے دروازے کی طرح کھسکنا شروع کر دیا۔ حالانکہ یہ ایک بے فائدہ حرکت تھی دروازے کو میرے اندر داخل ہوتے ہی باہر سے بند کر کے تالا لگا دیا گیا تھا۔
اچانک مجھے اپنے سامنے غراہٹ سنائی دی خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ جب مجھے لایا گیا تھا تو میں نے خود روشنی میں سارے کمرے کا جائزہ لیا تھا سوائے ایک شخص کے جو دیوار کے ساتھ کمبل اوڑھے لیٹا ہوا تھا اور کوئی کمرے میں نہ تھا۔ درندہ تو کجا کوئی چھوٹا سا بلی کا بچہ بھی موجودہ نہ تھا۔ اچانک یہ درندہ کہاں سے آگیا؟ میرے ہاتھ نے دروازے کو چھوا۔ ذرا اور آگے کھسک کر میں نے دروازے کے کنڈے کو پکڑ کر کھولنے کی کوشش کی لیکن دروازہ باہر سے بند تھا۔ دہکتے ہوئے انگارے میرے سامنے تھے۔ سانسوں کی آواز بھاری ہوتی جا رہی تھی جیسے کوئی درندہ ہانپ رہا ہو۔ اچانک کمرے میں تیز روشنی پھیل گئی۔ روشنی کا مخرج وہ بلب قطعی نہ تھا بلکہ یہ پتا ہی نہ چل رہا تھا کہ وہ کس طرف سے آرہی ہے؟ کافی دیر تاریکی میں رہنے کی وجہ سے میری آنکھیں چندھیا کر رہ گئیں۔ تھوڑی دیر بعد جب میری آنکھیں روشنی سے ہم آہنگ ہوئیں تو دیکھا میرے بالکل سامنے ایک طویل القامت بوڑھا کھڑا ہے۔ میں نے فوراً گردن گھما کر اس جگہ کو دیکھا جہاں تھوڑی دیر پہلے کوئی کمبل اوڑھے لیٹا ہوا تھا۔ کمبل ایک طرف پڑا تھا۔ وہ لال سرخ انگارے اس بوڑھے کی آنکھیں تھیں۔ روشنی کی وجہ سے اس کی آنکھوں کی وہ چمک مدھم ضرور ہوئی تھی لیکن اب بھی وہ دہکتے ہوئے انگاروں جیسی تھیں۔ میں نے اس کا جائزہ لیا قد مجھ سے بھی نکلتا ہوا یعنی کہ ساڑھے چھ فٹ کے قریب۔ وہ بالکل بانس کی طرح تھا۔ سر اور داڑھی مونچھوں کے سفید روئی کے گالوں جیسے بال بے تحاشہ بڑھتے ہوئے تھے۔ یوں کہنا چاہئے بالوں نے تقریباً اس کے چہرے کو چھپا رکھا تھا۔ اس کی لمبی داڑھی پیٹ تک پہنچتی تھی۔ ننگ دھڑنگ جسم پر صرف ایک لنگوٹی تھی۔ مجموعی طور وہ ایک طویل القامت ڈھانچے کی طرح تھا۔ ہڈیوں پر صرف کھال منڈھی ہوئی تھی۔ اگر اس کے جسم پر کھال نہ ہوتی تو پہلی نظر میں وہ ڈھانچہ ہی لگتا۔ دوسری عجیب بات اس کی رنگت تھی۔ بالکل پیلی زرد جیسے اس کے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا گیا ہو۔ وہ ساکت کھڑا اپنی سرخ انگارہ آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔
’’جانتا ہے میں کون ہوں؟‘‘ وجود کے برعکس اس کی آواز بہت بھاری اور گرج دار تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔
’کک۔۔۔کو۔۔۔کون ہو تم‘‘ خوف سے میری آواز کانپ گئی۔
’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا‘‘ کمرہ اس کے خوفناک قہقہے سے گونج اٹھا۔
’’کہاں ہے تمری وہ پریمیکا ؟ بلا اسے ۔۔۔آج وہ تجھے میرے شراپ سے بچائے تو جانوں۔‘‘
میں اس کی بات کا مطلب بالکل نہ سمجھ نہ سکا تھا۔ ایک انسان سے اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں نے خود کو سرزنش کی۔ میرے اندر کچھ ہمت پیدا ہوئی۔ اس بار میں نے کسی قدر بلند آواز میں کہا ’’میں پوچھ رہا ہوں تم کون ہو اورکیا کہہ رہے ہو؟‘‘
’’پاپی! مجھے کیول تیری پریمیکا کا انتجار ہے ۔۔۔جانتا ہوں وہ تیری رکھشا کرنے جرور آئیگی۔‘‘
’’کیا بکواس کر رہے ہو؟ میں پوچھتا ہوں کون ہو تم؟‘‘ اس بار میں نے دبنگ لہجے میں کہا۔
’’تو نے میرے چیلے کی ہتھیا کی ہے پاپی! میں تجھے ایسا شراپ دوں گا کہ سنسار میں سب تجھ پر تھوکیں گے‘‘ وہ گرجا۔ اس کی آنکھوں میں آگ کے الاؤ روشن ہوگئے۔ اچانک میرے دماغ میں جیسے بجلی کا جھما کا ہوا۔ وہ یقیناً اس منحوس سادھو کا گرو تھا جیسے میرے سامنے ادھار اور اس کی ساتھیوں بلیوں نے نوچ نوچ کر کھا لیا تھا۔
’’کس وچار میں گم ہے؟ تو نے میرے چیلے کی ہتھیا کرکے گھور پاپ کیا؟ اس دن تو تیری پریمیکا تجھے چھڑا کر لے گئی تھی پرنتو آج دیکھتا ہوں وہ کیسے تیری سہائتا کرتی ہے؟ اس سمے تو میرے سامنے بندی بنا کھڑا ہے‘‘ اس نے میرا مضحکہ اڑایا۔
’’اچھا۔۔۔تو سادھو امر کمار کا استاد ہے؟ ہاں تیرے چیلے نے بھی ایک دن اسی طرح پولیس کی مٹھی گرم کرکے مجھے گرفتار کروایا تھا۔ آج تو نے بھی وہی حرکت کی ہے؟ اگر تجھ میں اتنی ہمت تھی تو میرے ساتھ مقابلہ کرتا یہ زنخوں کی طرح پولیس کا سہارا لے کر کسی کو گرفتار کروانا اور خوش ہونا تو ہیجڑوں کا کام ہوتا ہے ‘‘ اس کی بات سن کر میرے اندر آگ بھر گئی۔ اس نازک وقت میں اس نے یہ کمینگی کی تھی جب میں اپنی بیٹی کی گمشدگی کے لئے سخت پریشان تھا۔ میرے منہ میں جو آیا میں نے کہہ دیا۔ وہ اطمینان سے میری لاف زنی سنتا رہا۔ آنکھوں میں تمسخر لیے وہ میرے سامنے تن کر کھڑا تھا۔
’’یہ تو تجھے آج میں بتاؤں گا ہیجڑا کون ہے میں۔۔۔یا تو؟ کیول اتنا انتجار کر جب تک ریری پریمیکا نہیں آجاتی۔ اسے آواج(آواز) دے۔ مجھے پورا وشواس ہے وہ تجھے کشٹ میں دیکھ کر جرور آئے گی‘‘ نہ جانے وہ کس کے بارے میں کہہ رہا تھا؟ میری چہرے پر الجھن دیکھ کر اس نے وضاحت کی۔
’’میں تیری پریمیکا رادھا کی بات کر رہا ہوں۔ آج تو کھد دیکھے گا میں اس حرام کی جنی سنگ کیا کرتا ہوں۔ اس نے ایک مہا پرش کی ہتھیا کی ہے یہ کوئی معمولی بات نہ ہے۔ سادھو امر کمار میرا بہت اچھا سیوک تھا۔ میں اس کی مرتیو کو بھول نہیں سکتا۔ اس کی ہتھیا کا بدلہ میں تم اور تمہاری پریمیکا سے اوش لوں گا‘‘ غیض و غضب کے عالم میں اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔
’’اگر تو اتنا ہی طاقتور ہے تو اس طرح مجھے پولیس سے گرفتار کروا کر کیوں لایا ہے مجھے خود ہی سزا کیوں نہ دے دی؟‘‘ میں نے اس کا تمسخر اڑایا۔ میرا ڈر خوف سب ختم ہو چکا تھا۔ پہلی نظر میں اسے میں نہ جانے کیا سمجھا تھا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ سادھو امر کمار کا گرو ہے تو میرا خوف غصے میں بدل گیا۔
’’اس بات کو چھوڑ میں نے کیا کیا ہے اور کیا نہیں، کیا؟ تو کیول یہ چنتا کر۔ میں تیرے ساتھ آج کیا کرنے والا ہوں؟‘‘ اس نے میری بات سن کر بڑے اطمینان سے کہا۔
’’اگر تو انصاف کی بات سننا چاہتا ہے تو سن، تیرے چیلے کو میں نے نہیں رادھا نے مارا ہے۔ میں تو اسے جانتا بھی نہ تھا وہ خود ہی میرے پیچھے پڑا تھا۔ میں نے کئی بار اسے سمجھایا لیکن وہ ہر بار میرے ساتھ زیادتی کرتا رہا اور ۔۔۔‘‘
’’بند کر اپنا بھاشن۔۔۔‘‘ وہ غضبناک ہوگیا‘‘ اس کی دھاڑ سے مجھے کانوں کے پردے پھٹتے محسوس ہوئے۔
’’اس سے پہلے کہ میں تجھے جلا کر بھسم کر دوں اپنی گندی جیب روک لے۔ سادھو امر کمار کیول کالی ماتاکی آگیا کا پالن کرنے کے کارن تیرے پاس
’’میں ان سب باتوں کو فضول بکواس سمجھتا ہوں تم لوگ سیدھے سادھے لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے الٹے سیدھے کرتب دکھا کر بے وقوف بناتے ہو۔ مذہب کی آڑ لے کر لوٹتے ہو لوگوں کو ۔۔۔تمہارا وہ خبیث چیلا بھی اسی لئے کتے کی موت مر گیا اور تمہارا حال بھی ایسا ہی ہوگا۔‘‘
میں بھی بھپر گیا۔ اس کی دہکتی آنکھوں سے جیسے شعلے نکلنے لگے۔ کچھ دیر وہ میری طرفہ شعلہ بار نظروں سے دیکھتا رہا پھر سرد آواز میں بولا۔
’’تجھے ابھی پتا چل جائے گا کہ تو اس سمے کس شکتی کے سامنے کھڑا ہے؟‘‘ یہ کہہ کر اس نے اپنے سینے سے ایک بال توڑ کر میری طرف پھینک دیا۔ بال تیر کی طرح میری طرف آیا اور میرے جسم کے گرد کسی مضبوط رسے کی طرح لپٹ گیا۔
یہ سب کچھ اتنی سُرعت سے ہوا کہ مجھے سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا۔ بال اتنا لمبا ہوگیا تھا کہ میرے پورے جسم کے گرد لپٹ گیا۔ حتیٰ کہ میرے چہرے کے گرد بھی اس کے بل پڑ چکے تھے۔ کمزور سا وہ بال رسے کی طرح مضبوط تھا۔ میں کھڑے کھڑے زمین پر گر گیا۔ سر زمین پر بڑے زور سے ٹکرایا اور میری آنکھوں کے گرد تارے ناچ گئے۔ میں چت زمین پرپڑا تھا۔ سادھو نے آگے بڑھ کر اپنا ننگا پاؤں میرے سینے پر رکھ دیا۔
یوں لگا جیسے کسی نے میرے سینے پر منوں وزنی پتھر رکھ دیا ہو۔ بے اختیار میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔ سینے کی ہڈیاں ٹوٹتی محسوس ہوئیں۔ دم بدم میری سانس بند ہوتی جا رہی تھی۔آنکھوں کے گرد اندھیرا اچھا گیا۔ قریب تھا کہ میرا دم نکل جاتا۔ مجھے سادھو کی آواز دور سے آتی سنائی دی۔
’’پدھارئیے دیوی جی! بڑی دیری کر دی آنے میں۔۔۔دیکھ میں نے تیرے پریمی کی کیا دشا(حالت) بنا دی ہے؟ یہ مورکھ کالی داس کی شکتی بارے گلط وچار کر بیٹھا تھا‘‘ اس کے فوراً بعد مجھے رادھا کی آواز سنائی دی۔
’’مہاپرشوں کو منش سنگ ایسا کرنا شو بھا نہیں دیتا مہاراج! تمری یدھ(جنگ) میرے سنگ ہے اس نردوش کو کس کارن کشٹ دے رہے ہو؟‘‘ میرا ذہن معطل ہو چلا تھا کہ اچانک میرے سینے پر سے بوجھ ہٹ گیا۔ سانس بحال ہوتے ہی میری آنکھوں کے سامنے دم بدم گہرا ہوتا اندھیرا چھٹنے لگا۔
’’نردوش۔۔۔یہ تو کیا کہہ رہی ہے؟ اس پاپی نے میرے چیلے کی ہتھیا کر دی اور تو اسے نردوش کہہ رہی ہے؟‘‘ کالی داس کی حیرت میں ڈوبی آواز آئی۔
’’مہاراج! اس نے تمہیں بتایا تو ہے کہ امر کمار کی ہتھیا میں نے کی ہے اور تم تو کھد اتنے شکتی مان ہو تم سے کون سی بات چھپی ہے؟‘‘ میرے سر کی طرف سے رادھا کی ٹھہری ہوئی آواز ہوئی۔ میں نے سر گھما کر اس کی طرف دیکھنے کی کوشش کی تب مجھ پر حقیقت کھلی کی میں اپنے جسم کو حرکت دینے کے قابل نہیں ہوں۔ سادھو امر کمار نے بھی میرے جسم کو یونہی بے حس و حرکت کر دیا تھا۔ میں سن سکتا تھا دیکھ سکتا تھا اس کے علاوہ میرا جسم کچھ کرنے کے قابل نہ تھا۔
’’دیکھ دیوی! میں جانتا ہوں تو ہمرے دھرم کی ایک مہان ناری ہے پرنتو تجھے شوبھا نہیں دیتا کہ تو ایک مسلے کے کارن مہاپرشوں کے آڑے آئے۔ میں اب بھی تجھے شما کر سکتا ہوں۔ یدی تو کھد میرے چرنوں میں آجا۔ رہی بات اس مسلے کی۔۔۔تو اس حرام کے جنے کی تو اب میں کالی کے چرنو میں بلی چڑھاؤں گا۔ کالی کتنی پرسن (خوش) ہوگی اس کی زت سے اشنان(خون سے غسل) کرکے ’’کالی داس کے مکروہ ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ وہ چونکہ بالکل میرے سر پر کھڑا تھا اس لئے میں اسے دیکھ سکتا تھا۔ جبکہ رادھا کی آواز میرے سر کی طرف سے آرہی تھی۔ آواز تو اس کی ہماری خوابگاہ میں بھی سنائی دی تھی لیکن وہ نظروں سے اوجھل تھی پرکالی داس میرے سر کے اوپر دیکھ کر بات کر رہا تھا۔ رادھا اس کو نظر آرہی تھی ۔۔۔؟ میں یہ بات نہ جان سکا۔
’’میں جانتی ہوں ورشوں تو نے بھگتی کرکے کالی کے ہردے(سینے) میں استھان(جگہ) بنا لیا ہے پرنتو۔۔۔اس سنسار میں کیول کالی ماتا کی شکتی تو نہیں ہے۔ دیوی دیوتاؤں کے اور بھگت بھی تو بستے ہیں اس سنار میں۔۔۔تو جانتا ہے پہلے بھی ایک بار میرا موہن مجھ سے دور کر دیا گیا تھا ‘‘ رادھا نے اسے بڑے رسان سے سمجھانے کی کوشش کی۔
’’دیوی! تو جانتی ہے جس نے تجھ سے تیرا پریمی چھینا وہ پاپی بھی ایک مسلا تھا۔۔۔پھربھی تو اس مسلے کی سہائتا کرنے پر تیار ہے۔ کیا تجھے شو بھا دیتا ہے کہ تو دوجے دھرم کے منش سنگ اپنے شریر کا سمبندھ جوڑے؟ یہ گھور پاپ ہے دیوی‘‘ کالی داس کے لہجے میں ہمارے مذہب کے لئے نفرت بھری ہوئی تھی۔
’’مہاراج! تم اس بات کوجانے دو۔ میں کیا کر رہی ہوں اور مجھے کیا شو بھا دیتا ہے؟ میں اس سمے تم سے اپدیش (نصیحت) سننے نہیں آئی۔ اس کو چھوڑ کر مجھ پر اپکار(احسان) کر دو‘‘ رادھا نے ایک بار پھر کالی داس کو سمجھایا۔ میں سخت اذیت میں تھا۔ سارا جسم سن ہو چکا تھا۔ زخموں سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ میں اس بات پر حیران تھا کہ رادھا نے سدھو امر کمار کو تو ایک پل میں ادھیڑ کر رکھ دیا تھا لیکن کالی داس کی وہ نصیحتیں کر رہی
تھی۔ میرا دل چاہ رہا تھا وہ اس بدبخت کالی داس کا بھی وہی حشر کرے۔
’’دیوی! تو جانتی ہے میں اپنے من میں تجھے پراپت کرنے کی ٹھانے بیٹھا ہوں۔ کچھ ہی سمے بعد تو میرے چرنوں میں ہوگی۔ رہی اس مسلے کی بات تومیں تجھ سے کہہ چکا ہوں کہ میں کالی ماتا کو اس کی بھینٹ دے کر اس سے بنتی کروں گا کہ وہ امر کمار کی آتما کو کسی دوجے منش کے شریر میں ڈال کر مجھے دان کر دے۔ تو نہیں جانتی امر کمار میرا کھاص(خاص) سیوک تھا۔ کالی ماتا نے مجھے وچن دیا تھا کہ وہ تجھے میرے چیلے امر کمار کو دان کرے گی۔۔۔‘‘ اس نے ایک نفرت بھری نظر مجھ پر ڈالی۔ ’’دیوی ! اب بھی سمے ہے تو اس مسلے کو چھوڑ کر میرے چرنوں میں آجا۔ میں کالی سے تیرے لئے شما مانگ لوں گا۔ مجھے وشواس ہے کالی اپنے اس سیوک کا کہنا نہیں ٹالے گی‘‘ وہ اپنی بات پر اڑا رہا۔
’’پاپ اور پن کی باتیں چھوڑو کالی داس! کس نے پاپ کیا اور کس نے پنے؟ یہ بات دیوتا جانتے ہیں۔ تو نے اس نرودوش کی کومل پتری سنگ انیائے کیا ہے اس نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟‘‘
رادھا کی بات سن کر مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ میں اب تک یہ سمجھ رہا تھا کہ مومنہ کی گمشدگی میں رادھا ملوث ہے لیکن اب مجھے پتا چلا کہ اس لعنتی ڈھانچے نے میری معصوم بیٹی کو اغوا کیا ہے۔ میرے جسم میں آگ بھر گئی۔ اگر میں بندھا ہوا نہ ہوتا تو اس بوڑھے کی گردن دبا دیتا۔ میں نے کسمسانے کی کوشش کی لیکن بال برابر بھی جسم کو حرکت نہ دے سکا۔
’’دیوی! مجھے مجبور نہ کرکہ میں تجھے بتاؤں تو اس سمے کس کے سامنے کھڑی ہے؟‘‘ کالی داس غضب ناک آواز میں دھاڑا۔
’کالی داس! میں تجھ سے بنتی کرتی ہوں کہ تو میرے موہن کو شما کر دے۔ اسے جانے دے میری تجھ سے کوئی یدھ نہیں‘‘ رادھا نے اس بار بھی اسے متانت سے سمجھایا۔
’’دیوی! ایک مسلے سے سمبندھ جوڑتے تجھے لاج نہیں آتی۔ تو تو اپنا دھرم نشٹ کرنے پر تلی بیٹھی ہے پرنتو میں تجھے ایسا نہیں کرنے دوں گا۔ اس مسلے کا بلیدان تو کالی کے چرنوں میں اوش ہوگا‘‘ کالی داس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
’’کالی داس تو نے اب تک کتنی مسلمان ناریوں کا بلات کار کیا ہے تجھے اس سمے لاج آئی تھی؟‘‘
رادھا کی تلخ آواز میرے کانوں میں پڑی۔ ان دونوں کی بحث میں میں وقتی طور پر اپنی تکلیف بھول گیا تھا۔
’’پاپن! تو کالی داس کو اپدیش دینے چلی ہے۔ یدی مجھے کالی ماتا کو دیے وچن کا دھیان نہ ہوتا تو اس ملیچھ سنگ تجھے بھی بھسم کر دیتا ‘‘ کالی داس کسی زخمی درندے کی طرح دھاڑا۔
’’کالی داس! تیرا۔۔۔انت(انجام) تیرے چیلے سے بھی برا ہوگا‘‘ رادھا کی سرد آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔
’’موہن اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ‘‘ اب رادھا مجھ سے مخاطب تھی۔ میں سوچ رہا تھا اسے کیسے بتاؤں کہ اس خبیث نے مجھے کسی شیطانی قوت سے باندھ کر بے دست و پا کر رکھا ہے۔
’’پریمی! میں کہہ رہی ہوں ادھر آجاؤ میرے پاس‘‘ رادھا نے اس بار بڑے پیار سے مجھے کہا۔ میں نے اپنے جسم کو حرکت دینے کی کوشش کی لیکن نتیجہ حسب
’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا‘‘ کمرہ کالی داس کے گرجدار قہقہے سے گونج اٹھا۔‘‘ کیا تو نے مجھے امر کمار سمجھ رکھا ہے دیوی؟‘‘ اس تمسخر سے بھرپور آواز آئی۔
اچانک میرے جسم پر دودھیا روشنی کا ہالہ پڑا۔ اس کے ساتھ ہی میرا جسم جکڑ بندیوں سے آزاد ہوگیا۔ میں اپنے شل جسم کو حرکت دے کر اٹھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ کالی داس نے غصے سے اپنا ہاتھ میری طرف کرکے جھٹک دیا۔ میں جو کوشش کرکے اٹھ بیٹھنے میں کامیاب ہوچکا تھا ایک بار پھر زمین پر گر پڑا۔
’’کالی داس میں تجھے ایک اوسر(موقع) دیتی ہوں اب بھی باز آجا نہیں تو۔۔۔تو جیون بھکشا مانگے گا اور میں تجھے شما نہ کروں گی‘‘ رادھا کی دھاڑ کمرے میں گونجی۔
’’پاپن! تو کالی داس کے آڑے آرہی ہے۔ ماتاکی سوگندیدی مجھے اپنے وچن کا دھیان نہ ہوتا تو میں تجھے ابھی نرکھ میں پہنچا دیتا۔‘‘ کالی داس جواباً غرایا۔
اچانک مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے جسم پر ٹھنڈے پانی کی پھوار پڑی ہو۔ اس کے ساتھ میرا جسم جکڑ بندیوں سے آزاد ہوگیا۔ اس بار میں نے بھی پھرتی دکھائی اور کھڑا ہوگیا۔ اٹھتے ہی میں نے مڑ کر پیچھے کی طرف دیکھا۔۔۔ نظر اٹھی تو جھکنا بھول گئی۔
میرے بالکل پیچھے ایک نہایت حسین عورت سارھی باندھے کھڑی تھی۔ وہ اس قدر حسین تھی کہ الفاظ اس کے حسن کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ چمپا اور شکنتلا تو اس کی کنیزیں بننے کے قابل بھی نہ تھیں۔ وہ حسن ایک شاہکار تھی میں نے اپنی زندگی میں اس قدر حسین عورت نہ دیکھی تھی۔ مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر مدہر مسکراہٹ اس کے نرم و نازک ہونٹوں پر چھا گئی۔ موتیوں جیسے دانت گلاب کی نرم و نازک پنکھڑیوں سے جھانکنے لگے۔ بڑی بڑی جھیل سی گہری آنکھیں جن میں پیار کا سمندر ہلکورے لے رہا تھا ’’میرے میت! میں تم سے شما چاہتی ہوں مجھے آنے میں تھوڑی دیری ہوئی۔ اس پاپی نے تمری کومل پتری کو بندی بنا لیا تھا جس کی رکھشا اس کے پلید بیر(شیطان کے پیرو کار جنات) کر رہے تھے۔ یدی میں اسے اپنے سنگ لانے میں سپھل نہ ہو سکی پرنتو ایسا پر بند کر آئی ہوں کہ یہ پاپی اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ پائے گا‘‘ اس کی جھرنوں جیسی آواز میں معذرت تھی۔ میں جو اس کے حسن کو دیکھ کر گنگ کھڑا تھا۔ اس کی آواز مجھے حقیقت کی دنیا میں کھینچ لائی۔ مومنہ کی بات سن کر میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
’’دھیرج پریتم! اس پاپی کا سروناش کرکے میں تمری پتری کو تمرے پاس کھد لاؤں گی‘‘ اس نے میرے چہرے پر غصہ دیکھ کر مجھے تسلی دی۔ اس کے بعد وہ کالی داس سے مخاطب ہوئی۔
’’کالی داس! اب بھی سمے ہے واپس اپنے استھان پر لوٹ جا۔ تجھے یہ شو بھا نہیں دیتا کہ اپنے مورکھ چیلے کے کارکن کسی کسی کو کشٹ دے۔ وہ دوشی تھا جو کچھ اس نے کیا اس کا بدلہ اسے مل گیا۔ مجھے بھی کالی ماتا کا دھیان ہے میں نہیں چاہتی میرے ہاتھوں ایک اور ہتھیا ہو‘‘ رادھا نے ایک بار پھر کالی داس کو سمجھایا۔
’’رادھا! اس حرام زادے نے میری معصوم بیٹی کو اغوا کیا۔ مجھ پر تشدد کرایا اور تم اسے جانے کی اجازت دے رہی ہو؟‘‘ میں نے تلخ لہجے میں رادھا کو مخاطب کیا۔
’’جانتی ہوں پریتم! پرنتو کسی مہاپرش سنگ یدھ اچھی نہیں اسی کارن میں اسے جانے کی آگیا دے رہی ہوں‘‘ رادھا نے ملائمت سے مجھے سمجھایا۔ وہ باد صبا کے جھونکے کی طرح چلتی میرے قریب آگئی تھی میرے اردگرد گلاب کی مہک چھا گئی۔ میں نے کالی داسکی طرف نفرت سے دیکھا وہ اپنے ہونٹ کاٹ رہا تھا۔ جیسے کسی الجھن کا شکار ہو۔
’’دیوی ! میں بھی کھدکے اور تیرے بیچ یدھ نہیں چاہتا، پرنتو تجھے اس ملیچھ کو لے جانے کی آگیا نہیں دے سکتا۔اس نے میرے چیلے کی ہتھیا کرکے گھور پاپ کیا ہے۔ میں نے کالی ماتا کو وچن دیا ہے اس دھشٹ کی بلی میں اس کے پوتر(پاک) چرنوں پراوش چڑھاؤں گا‘‘ وہ جیسے کسی فیصلے پر پہنچ کر بولا۔
’’کالی داس مجھے مجبور نہ کر۔ ایسا نہ ہو میں اپنا وچن بھول کر تجھے کوئی شراپ دے بیٹھوں۔ اتنا ہی بہت ہے کہ میں تجھے جانے کی آگیا دے رہی ہوں ورنہ جو کچھ تو نے میرے پریمی سنگ کیا ہے وہ بھولنے والی بات نہ ہے‘‘ رادھا نے اسے گھورا۔ کالی داس نے جواب دینے کے بجائے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے بھدے ہونٹ متحرک ہوگئے۔
کالی داس ! مورکھتا(حماقت) نہ کر۔۔۔بند کر دے اپنا یہ کھلواڑ نہیں تو۔۔۔؟‘‘ رادھا گرجی۔
کالی داس آنکھیں بند کیے اپنی پڑھائی میں مصروف رہا۔ رادھا کی حسین آنکھوں سے الجھن کا اظہار ہو رہا تھا۔ میرا ہاتھ ابھی تک اس کے کومل ہاتھوں میں تھا۔ اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے دودھیا روشنی کی دھار نکل کر میرے جسم پر پڑی۔ مجھے ایک بار پھر محسوس ہوا جیسے کسی نے معطر پانی کی باریک پھورا میرے جسم پر ڈال دی ہو.
مصنف ۔طارق خان
اچانک مجھے اپنے جسم میں ایک انوکھی طاقت کا احساس ہوا۔ اس کے ساتھ ہی پولیس تشدد کے باعث آئے زخم میرے جسم سے یوں ختم ہوگئے جیسے کبھی لگے ہی نہ تھے۔
”ایک جگہ جم کر کھڑے رہنا پرتیم!“ رادھا نے مجھے بڑے پیار سے ہدایت کی۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ رادھا نے اپنی جھیل سی آنکھیں بند کرلیں۔ اچانک اس کے منہ سے عجیب آواز نکلی۔ کمرے کا دروازہ کھلا اور لا تعداد بلیاں کمرے میں گھس آئیں۔ ہر طرف بلیاں ہی بلیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ سب رادھا کے اشارے کی منتظر اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
”کالی داس! اب بھی سمے ہے اپنا جاب بند کرکے یہاں سے چلا جا نہیں تو بھوانی کی سوگند ایک پل میں تیرا یہ شریر میری سکھیوں کا بھوجن بن جائے گا “ رادھا کی سرد آواز کمرے میں گونجی۔
کالی داس نے آنکھیں کھول کر چاروں طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں شیطانی قوتوں کا رقص جاری تھا۔ آہستہ آہستہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی لکیر گہری ہوگئی۔ ایک نظر بلیوں کی طرف دیکھ کر وہ بولا۔
”تو اس سمے امر کمار کے گرو کے سامنے کھڑی ہے مورکھ! تو نے کالی داس کی شکتی کا گلط و چار کیا۔ تیری سکھیاں تو کیول تیر امن پرسن کرنے آگئی ہیں۔ یہ جانتی ہیں کہ کالی داس کس شکتی کا نام ہے؟ ان سے کہہ یہ اپنا کریہ آرمبھ (کام شروع) کریں “ کالی داس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔
رادھا نے بلیوں کو اشارہ کیا میرا خیال تھا بلیاں اس منحوس کے بدن کو نوچ کر کھا جائیں گی۔ لیکن یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی بلیاں اپنی جگہ یوں ساکت تھیں جیسے زندہ نہیں پتھر کی ہوں۔ اچانک رادھا کی آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس نے ایک نظر کالی داس پر ڈال کر اپنا خوبصورت ہاتھ ہوا میں بلند کیا اور بلیوں کی طرف کرکے جھٹک دیا۔ اس کا حسین چہرہ غیض و غضب کا نمونہ بنا ہوا تھا۔ اس عالم میں بھی وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔ اچانک بلیوں کی جسم میں حرکت ہوئی اور سب کی سب کالی داس پر جھپٹیں۔کمرے میں کالی داس کی دھاڑ گونجی۔
”جے کالی ماتا….!“ یہ کہہ کر وہ اکڑوں زمین پر بیٹھ گیا۔ بلیاں اس کے چاروں طرف پھیل چکی تھیں۔ وہ آگے بڑھنا چاہتی تھی لیکن جیسے کسی نادید دیوار نے ان کا راستہ روک رکھا تھا۔ کالی داس اطمینان سے انہیں دیکھنے لگا۔
”یدی تو اب بھی مجھ سے شما مانگ لے اور مجھے وچن دے کر تو پھر کبھی اس ملیچھ مسلے سنگ سمبندھ نہ رکھے گی تو میں تجھے شما کو کر سکتا ہوں سمے بیت گیا تو پھر تو دیا کی بھکشا مانگے گی تو نہ ملے گی“ کالی داس نے میری طرف حقارت سے دیکھتے ہوئے بڑے غرور سے رادھا کو مخاطب کیا۔ رادھا کے اطمینان میں کوئی فرق نہ آیا۔
مورکھ! مجھے کیول دیوتاﺅں کادھیان ہے نہیں تو اک پل میں میں تجھے نرکھ میں بھیج سیکتی ہوں۔ میری سگھیاں بھی اسی کارن تجھے اور سردے رہی تھیں۔ سمے ابھی گیا نہیں کالی داس ! یدی تو میرے پریتم سے شما مانگ لے اور یہ وچن بھی دے کر پھر کبھی تو ہمرے بیچ نہ آئے گا تو مجھے وشواش ہے میرا ساجن تجھ پر دیا کھا کر تجھے جیون بھکشا دان کر دے گا“ رادھا نے اسی انداز میں جواب دیا۔
”تو اس پلید کے کارن کالی داس کے آڑے آئے گی۔ تو مجھے اس ملیچھ مسلے سے شما مانگنے کو کہہ رہی ہے“ کالی داس غضبناک ہوگیا۔ اس کے منہ سے کف اڑنے لگا۔
”بھگوان جانتاہے میں نے تجھے سمجھانے میں کوئی کمی نہ کی کالی داس! پونتو تو مورکھ ہے تیرے سر میں بدھی نہیں ماٹی بھری ہے۔ اب دیکھ میری سکتی تو نہیں جانتا رادھا کس شے کا نام ہے “ رادھا کا لہجہ برف سے زیادہ سر تھا۔ یکایک اس کی آنکھوں میں آگ کے الاﺅ بھڑک اٹھے۔ اس نے اپنے حسین جسم کو ایک بل دیا دونوں ہاتھ جوڑ کر آنکھیں بند کرلیں۔ چاروں طرف تیز سرخ روشنی پھیل گئی۔ کمرہ دہکتے تنور کا منظر پیش کرنے لگا۔ چھت سے آگ کا ایک گولا سیدھا اس جگہ گرا جہاں کالی داس کھڑا تھا۔ اچانک کالی داس جست لگا کر ایک طرف ہٹ گیا۔ بلیاں یک دم غائب ہوگئیں۔ آگ کے گولے نے ایک بار پھر کالی داس پر حملہ کیا۔ اس بار بھی کالی داس اچھل کر اس کے زد میں آنے سے بچ گیا۔ گولا بار بار اس پر حملہ کرتا اور کالی داس چھلانگ لگا کر اس سے بچ جاتا۔ اس نے کئی بار کوشش کی کہ وہ ایک جگہ ٹک کر کوئی جاپ کر سکے لیکن گولے نے اسے موقع نہ دیا۔ وہ بھاگتے ہوئے کچھ پڑھ رہا تھا اس کے موٹے موٹے ہونٹ مسلسل ہل رہے تھے۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں سے خوف جھانکنے لگا۔ اب صورت حال یہ تھی کہ آگ کا دہکتا ہوا گولا کالی داس کے پیچھے تھا اور وہ اس سے بچنے کے لیے کمرے میں چاروں طرف دوڑ رہا تھا۔ گولے نے اس ایک جگہ ٹکنے نہ دیا۔ اس کی حالت مضحکہ خیز ہو چکی تھی۔ وہ اپنے سب جنتر منتر بھول کر جان بچانے میں لگا ہوا تھا۔ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ رادھا کے نقرئی قہقہے سے کمرے میں جلترنگ سا بج اٹھا۔ اس کا حسین چہرہ جوش سے سرخ ہو کر قیامت ڈھانے لگا۔ بھاگتے بھاگتے جب کالی داس میرے پاس سے گزرنے لگا تو میں نے اس کے آگ پاﺅں اڑا دیا۔ وہ اپنے زور میں دھڑام سے زمین پر جا پڑا۔ آگ کا گولہ اس پر جھپٹا قریب تھا کہ وہ اسے جلا کر راکھ کر دیتا کالی داس خوف سے چلایا۔
”بھگوان کے نام پر مجھے شما کر دے رادھا! میں وچن دیتا ہوں پھر کبھی تیری راہ میں نہ آﺅں گا۔ دیوی! مجھ ابھاگی (بدنصیب) پر دیا (رحم) کر“ اس کا زرد رنگ مزید گہرا ہوگیا۔ وہ قریب آتے گولے کو یوں دیکھ رہا جیسے موت کو دیکھ رہا۔ آنکھیں خوف سے پھٹی ہوئی تھیں۔ رادھا نے اپنے نازک ترین ہاتھ کا رخ گولے کی طرف کر دیا۔ وہ شاید گولے کو اس پر گرانا چاہتی تھی۔
”رادھا! اس حرامزدے کو نہ مارنا۔“ میں اضطراری طور پر چلایا ”اگر یہ مر گیا تو میری معصوم بیٹی کون واپس لائے گا؟“ رادھا جو اپنا ہاتھ جھٹکنے والی تھی میری بات سن کر رک گئی۔ اس کا غضبناک چہرہ آہستہ آہستہ معمول پر آنے لگا۔
”کالی داس! میرے موہن کے کارن آج تو بچ گیا۔ اس کی پتری کو ابھی اسی سمے چھوڑ دے“ رادھا نے اسے حکم دیا۔
دیوی! میں تیری ہر آگیا کا پالن کروں گا کیول ایک بار مجھے شما کر دے میں وچن دیتاہوں پھر کبھی تیرے پریمی کو کچھ نہ کہوں گا۔“ وہ منتوں پر اتر آیا۔ اس کا غرور تکبر سب خاک میں مل گیا تھا۔ مجھے ایک گونا فخر محسوس ہوا۔ رادھا نازک ہونٹوں پر ایک ملکوتی مسکراہٹ لیے مجھے دیکھ رہی تھی۔ پھر اس نے کالی داس کو حکم دیا۔
”اپنے بیروں کو آگیا دے وہ اسی سمے موہن کی پتری کو اس کے گھر پہنچ دیں۔ یدی تو نے دیری کی تو پھر تو کھوب جانتا کہ میں….“ اس نے اپنی بات ادھوری چھوڑ دی۔ آگ کا گولہ ابھی تک کالی داس کے سر پر معلق تھا۔ اس نے خوف زدہ نظروں سے گولے کو دیکھا پھر بڑی لجاجت سے بولا۔
”دیوی جی! اپنے سیوک سے کہہ میرے بیروں کو اندر آنے کی آگیا دے تاکہ میں ان سے کہہ سکوں“ اس کی قابل رحم حالت دیکھ کر رادھا کے منہ سے مدھر ہنسی نکل گئی۔ اس نے گولے کی طرف دیکھا وہ گھومتا ہوا چھت کے پاس جا کر ٹھہر گیا کالی داس اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اس کے ہونٹ ایک بار پھر ہلنے لگے۔ رادھا چوکنے انداز میں اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کوئی بعید نہ تھا وہ خبیث پھر کوئی حرکت کر بیٹھتا۔ رادھا نے گولے کی طرف دیکھ کراجنبی زبان میں کچھ کہا۔ وہ گھومتا ہوا دروازے کے پاس جا کر ہوا میں ٹھہر گیا۔ تھوڑی دیر بعد کالی داس نے آنکھیں کھول دیں۔
”دیوی جی! تیری آگیا کا پالن ہوگیا ہے اب مجھے جانے دے“ رادھا نے میری طرف دیکھا اس کی نظریں مجھ سے وال کر رہی تھیں، کالی داس ہاتھ جوڑے رادھا کے حکم کا منتظر تھا۔ کچھ دیر بعد وہ بولی۔
ضرور پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی کااجلاس آج ہوگا،سعودی عرب سے ادھار تیل کی سہولت یکم جولائی سے شروع ہوجائے گی
”تو میرے پریتم موہن کا اپرادھی ہے….یدی وہ تجھ پر دیا کرے تو تجھے جیون بھکشا مل سکتی ہے“ ایک میٹھی نظر مجھ پر ڈال کر وہ بولی ”پریتم! میرا یہ سیوک اس سمے تمری ہر آگیا کا پالن کرے گا “ رادھا کا اشکارہ گولے کی طرف تھا ”یدی تم آگیا دو تو یہ ایک پل میں اس دھشٹ کر جلا کر بھسم کر دے“ پراسرار طاقتوں کی مالک رادھا میرے حکم کی منتظر تھی۔ خوشی سے میرا دل سرشارہوگیا۔
”جو کچھ اس ملعون نے میرے ساتھ کیا ہے اگر میں اسے بھول بھی جاﺅں تب بھی یہ موت کی سزا کا مستحق ہے اگر اس کا جھگڑا میرا ساتھ تھا بھی تو میری معصوم بیٹی کا اس میں کوئی قصور نہ تھا۔ اس بدبخت نے جو حرکت اس ننھی سی جان کے ساتھ کی ہے کیا یہ اس کے بعد کسی معافی یا رحم کا مستحق ہے؟“ میں نے نفرت سے کالی داس کو گھورتے ہوئے سوال کیا۔
”میں تجھ سے بھی شما مانگتا ہوں، مجھ پر دیا کر….میں وچن دیتا ہوں کبھی تجھے کچھ نہ کہوں گا۔“ وہ گھگیانے لگا۔ نہجانے مجھے کیوں اس پر ترس آگیا۔
”ٹھیک ہے رادھا! اس کو اس بار معاف کر دو، اگر آئندہ اس نے ایسی حرکت کی تو اسے ضرور سزا ملنی چاہئے۔“ اس وقت تو میں نے کہہ دیا تھا لیکن اسے معاف کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔ جو کچھ اس کمینے نے بعد میں میرے ساتھ کیا۔ اس شیطان صفت مردود کی وجہ سے میں کن مشکلات و مصائب میں گرفتار ہوا؟ یہ آگے چل کر آپ کو معلوم ہوگا۔
”کالی داس! تجھے یہ بھکشا میرے پریمی کے کارن ملی ہے یاد رکھنا یدی تو نے پھر کبھی ہم دونوں کے بیچ آنے کی اوشکتا کی یا میرے موہن کی اور بری نجر سے دیکھا تو اس دھرتی پر تجھے میرے شراپ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ تو جانتا ہے رادھا جو کہے وہ اوش پورا کرتی ہے ….جاچلا جا کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنے وچن سے پھر جاﺅں۔“ رادھا نے بڑی حقارت سے کہا۔
”دیوی جی! تیرا اور تیرے پریمی کا یہ اپکار میں جیون بھر نہ بھول پاﺅں گا۔ دھن باد دیوی جی….دھن باد“وہ رادھا کے آگے جھک گیا۔ اس کے بعد رادھا نے آگ کے گولے کو جو ابھی تک دروازے کے پاس ہوا میں معلق تھا اشارہ کیا وہ آنا فانا غائب ہوگیا۔ اس نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا بند دروازہ خود بخود کھل گیا۔ کالی داس یوں بھاگا جیسے جہنم کی بلائیں اس کے پیچھے ہوں۔ اس کے جانے کے بعد رادھا نے اپنایت بھری نظروں سے مجھے دیکھا۔ اس کی حسین آنکھوں میں شکوہ تھا۔ میں نے اس پر شک کیا تھا جس کی وجہ سے میں اس سے شرمندہ تھا۔ دوسری بار اس نے مشکل سے بچایا تھا مومنہ کو اس مکروہ پنڈت سے چھڑانا اس کا سب سے بڑا احسان تھا میری آنکھوں میں شرمندگی کے تاثرات دیکھ کر وہ بولی۔
”مجھ پاپن کو ایسے نہ دیکھو موہن! تم نے اپنے من میں جو وچارکیا اس میں تمرا کوئی دوش نہیں جو کچھ آج سویرے میں نے تمری پتنی سنگ کیا تھا اس کے بعد تمرا یہ وچارکرنا کہ میں تمری بالیکا کو کشٹ دے سکتی ہوں کوئی ایسا برا بھی نہ تھا۔“ میں اس کی اعلیٰ ظرفی کا معترف ہوگیا۔
”نہیں رادھا! کچھ بھی ہو میں تم سے شرمندہ ہوں کہ میں نے تمہارے بارے میں ایسا سوچا۔“ میں نے بڑی سچائی سے اسے اپنی دلی کیفیت سے آگاہ کیا۔ اس نے کچھ نہ کہا مسکرا کر میرا ہاتھ دبادیا۔ اس کی ہر ادا میں میرے لیے محبت تھی۔ مجھے گھر جانے کی جلدی تھی۔ معلوم تھا صائمہ شدت سے میرا انتظار کررہی ہوگی۔
”جانتی ہوں موہن ! تم اس سمے کس کارن بیاکل ہو۔ میں جیادہ سمے تمہیں یہان نہیں روکوں گی۔ پرنتو تھوڑا کشٹ تو اس پاپی کو بھی بھوگنا چاہئے جس نے کالی داس کے کہے پر میرے پریتم سنگ انیائے کیا ہے۔“
اس کے لہجے میں میرے لیے پیار ہی پیار تھا۔ جھیل سی گہری آنکھوں میں خمار چھایا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے بالکل اس انداز سے تالی بجائی جیسے پہلے زمانے میں شہزادیاں اپنی کسی کنیزکو طلب کرنے کے لیے بچایا کرتی تھیں۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ دروازے سے وہی شیطان صورت تھانیدار داخل ہوا جو مجھے گرفتار کرکے تھانے لایا تھا۔ کمرے میں داخل ہونے کے بعد وہ ہاتھ باندھ کر ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ اس کا انداز اس شخص جیسا تھا جسے مسمرائز کر دیا گیا ہو۔ وہایک طرف کھڑا خالی خالی نظروں سے دیوار کو تک رہا تھا۔ میں نے حیرت سے رادھا کی طرف دیکھا جو بڑی دلچسپی سے تھانیدار کو دیکھ رہی تھی۔ پھر اس کے کومل ہونٹوں نے حرکت کی وہ زیر لب کچھ پڑھنے لگی۔ اچانک تھانیدار چونک گیا اور حیرت سے چاروں طرف دیکھنے لگا۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھوں میں غصے کی کیفیت ابھری پھر جیسے ہی اس کی نظر رادھا پر پڑی وہ نظریں ہٹانا بھول گیا۔ اس کے ہونٹ سیٹی بجانے کے انداز میں سکڑ گئے۔ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے وہ بڑے اسٹائل سے رادھا کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں ہوس ناچ رہی تھی۔ مجھے نظر انداز کرتا وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا رادھا کی طرف بڑھا۔ اس کے بالکل قریب پہنچ کر وہ رک گیا۔ مکروہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نمودار ہوگئی۔
”کون ہو تم ،یہاں کیسے آئی ہو؟“ ویسے ہو بڑی جاندار چیز….مجھے تو کسی نے بتایا ہی نہیں میرے علاقے میں اس قدر حسین لڑکی رہتی ہے۔ تمہیں تو میرے گھر پر ہونا چاہئے“ اس نے کھل کر اپنے مکروہ ارادے کا اظہار کیا۔ تھانے کو وہ چونکہ
اپنی ملکیت سمجھتا تھا اسلئے بڑی دیدہ دلیری سے بکواس کیے جا رہا تھا۔
”پرنام صاحب….!“ رادھا نے کسی کنیز کی طرح دونوں ہاتھ جوڑ کر اسے ہندوانہ انداز میں سلام کیا۔
”تمہاری آوازتو تم سے بھی زیادہ خوبصورت ہے“ اس کے منہ سے جیسے رال بہنے لگی۔
”مہاراج! کیا میں پوچھ سکتی ہوں اس منش کو کس کارن بندی بنایا گیا ہے؟“ رادھا نے بڑی لجاجت سے پوچھا۔ تھانیدار اس کی بات تو نہ سمجھا ہاں اتنا جان گیا کہ وہ میرے بارے میں بات کر رہی ہے۔
”اچھا تو تم اس کے پیچھے آئی ہو۔ لیکن یہ تو مسلمان ہے جبکہ تم ہندو دکھائی دیتی ہو“ تھانے دار نے اس کے ماتھے پر لگے تلک اور حسین سراپے کو پر ہوس نظروں سے دیکھا۔ مجھے ہنسی آرہی تھی میں جانتا تھا رادھا اسکا کیا حشر کرنے والی ہے۔“ اس حرامزادے نے تمہارے مذہب کی ایک لڑکی کی عزت خراب کرکے اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالا۔ لیکن تمہارا یہ کیا لگتا ہے؟“ تھانے دار نے جواب دے کر سوال کیا۔
”یہ سب تمہیں کس نے بتایا مہاراج؟“ رادھا نے اس کا سوال یکسر نظر انداز کرتے ہوئے بڑی ملائمت سے پوچھا۔ تھانے دار کے تیور بدل گئے۔
”تم اس بات کو چھوڑو، اسے تو میں اب پھانسی پر چڑھوا کر ہی دم لوں گا۔ تم ایسا کرو میرے ساتھ میرے کمرے میں چلو تمہارے جیسی حسین لڑکی کی جگہ یہ نہیں میرا دل ہے“ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ رادھا کی طرف بڑھایا۔ میرا خیال تھا ابھی رادھا اسکی جسارت کا جواب دے گی لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا بلکہ مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
”مہاراج! میں نے ایک پرشن پوچھا تھا“ تھانے دار کی سمجھ میں شاید اس کی بات نہ آئی کیونکہ رادھا زیادہ تر ہندی کے الفاظ بولتی تھی۔ میں بھی اس کی بات اس لئے سمجھ لیتا تھا مجھے مختلف زبانیں سیکھنے کا شوق ہے میں ہندی بول تو نہیں سکتاہاں بخوبی سمجھ لیتا ہوں۔
”میں پوچھ رہی ہوں اس کو کیوں قید کیا گیا ہے؟“ اس بار رادھا نے کسی قدر آسان انداز میں اپنے سوال کو دہرایا۔
”تمہیں اس سے کیا لگاﺅ ہے؟“ اس بار تھانے دار نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
”مجھے تو معلوم پڑا تھا کسی نے تمہیں ایک لاکھ روپے دیئے ہیں اسے بندی بنانے کے کارن“ اس بار رادھا کا لہجہ سرد تھا۔ ایک بار پھر وہ تھانے دار کا سوال گول کر گئی تھی۔
”ارے چھوڑو اس حرامی کو….کیوں اتنی خوبصورت رات برباد کر رہی ہو؟ آﺅ میرے ساتھ میں تمہیں ایک نئے جہاں کی سیر کرواﺅں گا“ تھانے دارنے جواب دینے کے بجائے اسے اپنی طرف کھینچا۔
رادھا نے سرد نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ مضبوطبی سے پکڑ لیا۔ اچانک اس کا خوبصورت مومی ہاتھ سرخ ہونے لگا۔ تھانے دار کے منہ سے فلک شگاف چیخ نکلی۔ رادھا کا سفید مومی ہاتھ جلتے ہوئے انگارے میں تبدیل ہو چکا تھا۔ تھانے دار اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کے لیے یہ ممکن نہ رہا تھا۔ کمرے میں گوشت جلنے کی چراند پھیل گئی۔ وہ کسی ذبح ہوتے بکرے کی طرح ڈکرانے لگا۔ وہ بار بار ہاتھ کو کو جھٹکے دے کر چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔ کرب و اذیت سے اس کا چہرہ سیاہ پڑ گیا۔ آہستہ آہستہ آگ نے اس کا ہاتھ جلانا شروع کر دیا۔ آگ تیزی سے اس کے ہاتھ کو جلا کر آگے بڑھ رہی تھی۔ رادھا نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ اب تھانے دار پاگل کتے کی طرح کمرے میں دوڑ رہا تھا۔ وہ بار بار ہاتھ جھٹک کر آگ بجھانے کی کوشش کرتا۔ کچھ ہی دیر میں آگ نے اس کے سارے جسم کو گھیر لیا تھا وہ زمین پر گر کر لوٹنیاں لگانے لگا۔ بالآخر اس کی ہمت جواب دے گئی۔ فلک شگاف چیخیں کراہوں میں تبدیل ہوگئیں۔ یہ سب کچھ چند لمحوں میں ہوگیا تھا۔ رادھا اطمینان سے کھڑی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کاہاتھ دوبارہ اپنی اصل شکل میں آگیا تھا۔ گوشت جلنے کی چراند سے سانس لینا دوبھر تھا میں نے اپنی ناک چٹکی میں دبالی۔ رادھا نے میری طرف دیکھا اور میرے قریب آکر پیار سے میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے ہٹا دیا۔ اب بدبو کا نام و شنان نہ تھا بلکہ کمرے میں گلاب کی مسحور کن مہک پھیلی ہوئی تھی ۔ مجھے یاد آیا پہلی بار تھانے دار اور اس کے چیلوں کی موت جلنے سے ہوئی تھی اور کمرہ ان کے گندے گوشت کے جلنے کی بدبو سے بھر گیا تھا تو اچانک میرے نتھنوں سے گلاب کی خوشگوار مہک کا جھونکا ٹکرایا تھا پھر میں ہوش و حواس کی دنیا سے دور چلا گیا تھا۔ اس وقت میں شدید حیرت سے دوچار تھا کہ کس نادیدہ محسن نے مجھے ان درندوں کے چنگل سے رہائی دلوائی ہے؟ لیکن اس بار صورت حال مختلف تھی۔ وہ پیکر رعنائی اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ میرے قریب موجود تھی۔ تھانے دار کا جلا ہوا ڈھانچہ عبرت کا نشان بنا زمین پر پڑا تھا۔ اباس میں سے ہلکا ہلکا دھواں اٹھ رہا تھا۔ اس کی بدروح جسم کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ جب وہ چیخ رہا تھا تو میں ڈر گیا کہ تھانے کا عملہ اس کی چیخیں سن کر آجائے گا لیکن انسان تو کیا کسی کی آواز بھی سنائی نہ دی تھی۔ یہ بھی شاید رادھا کے کی قوت کا کرشمہ تھا۔ پوری عمارت پر خاموشی چھائی ہوئی تھی جیسے یہاں ہمارے علاوہ کوئی ذی روح موجود نہ ہو۔
رادھا نے بغیر کچھ کہے میرا ہاتھ پکڑا اور کمرے سے باہر نکل آئی۔ گلاب کی خوشبو برابر میرے آس پاس موجود تھی۔ باہر آکر میں اس نے اطمینان بھرا سانس لیا۔ سامنے ہی میری گاڑی کھڑی تھی۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ رادھا نے کالی داس سے کہا تھا۔
”اک پل میں تیرا یہ شریر میری سکھیوں کا بھوجن بن جائے گا“ جس کا مطلب تھا رادھاکی سہلیاں جو بلیوں کی روپ میں تھیں انسانی گوشت ان کی غذا تھی۔ سادھو امر کمار کا گوشت بھی وہ ایک پل میں چٹ کر گئی تھیں۔ ہونا تو یہ چائے تھا کہ رادھا بلیوں کو بلاتی اور انہیں تھانے دارگوشت کھانے کی اجازت دیتی بلکہ تھانے دار کے گوشت سے ان کی دعوت کرتی لیکن اس کی بجائے اس نے تھانے دارکو راکھ کر دیا تھا۔ یہ بات میری سمجھ میں نہ آئی تھی۔
”کس وچار میں گم ہے میرا پریمی!؟“ اس نے پیار سے میری طرف دیکھا۔ میں نے اسے بتا دیا میں کیا سوچ رہاہوں؟“
تمرا وچارٹھیک ہے پرنتو میں اس طرح تمرے واسطے کٹھنائیاں بڑھ سکتی ہیں“ اس نے پیار سے میرا ہاتھ تھام لیا۔
”لیکن جب تھانے دار کا جلا ہوا جسم ملے گا تو پھر بھی میری لئے مشکل پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ بھرے بازار سے یہ مجھے گرفتار کرکے لایا تھا“ میں نے خدشہ ظاہر کیا۔ بڑی دلآویز مسکراہٹ اس کے نرم لبوں پرپھیل گئی۔
”چمپا تو یاد ہوگی تمہیں؟ وہ سندرنا جو تمہیں بہلا کر مادھو پور لے گئی تھی۔“
میرا دوران خون تیز ہوگیا۔ مجھے وہ رات یاد آگئی جو میں تھانے میں گزاری تھی۔
”میں اس حرامزادی کو کیسے بھول سکتا ہوں“ میں نے تیز لہجے میں کہا۔
”کل اس کوٹھے کی دشا(کمرے کی حالت) یہ نہ ہوگی پرتیم!“ اس نے اسی کمرے کی طرف اشارہ کیا جس میں تھانے ارکا جلا ہوا ڈھانچہ پڑا تھا۔“ یہ راکھ کا ڈھیر ہوگا جس میں سے اگنی سے بھسم دو شریر ملیں گے۔ ایک اس حرام کے جنے تھانے دار کا دوجا ایک کومل نارکا….جس کا سبھ نام چمپا تھا۔ دونوں سنسار سے چھپا کر یہاں ملن کر رہے تھے کہ کسی کارن کوٹھا بھسم ہوگیا۔“ میں اس کی ذہانت کا قائل ہوگیا۔
”تم تو بلا کی ذہین ہو“ میں نے تعریفی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
”جب کسی سے پریم ہو جائے تو اس کی رکھشا کرنے کے کارن ایسا پربند کرنا پڑتا ہے۔“ حسین آنکھوں میں خمار چھا گیا۔
”رادھا! جو احسان تم نے مجھ پر کیا ہے شکریہ اس کے لئے بہت چھوٹا لفظ ہے پھر بھی میں تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اگر تم میری مدد نہ کرتیں تو نہ جانے یہ لعنتی کالی داس میری معصوم بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کرتا؟ اور یہ راشی تھانے دار تو مجھے پوری طرح پھنسانے پر تلا ہوا تھا اس مشکل گھڑی….“ اس نے اپنا نرم و نازک ہاتھ میرے ہونٹوں پر رکھ دیا۔
”پرتیم! تمری یہ باتیں سمجھے دکھی کر رہی ہیں تمرا مجھ ابھاگن کتنا ادھیکار ہے تم نہیں جانتے۔ میں نے جو کیا وہ تو کچھ بھی نہیں یدی کبھی ایسا اوسر آیا جس میں رادھا کو جیون دان کرنا پڑے تو رادھا اس سے بھی منہ نہ موڑے گی“ اس نے بڑے جذب کے عالم میں کہا۔ اس کے لہجے میں سچائی کا انداز ہو رہا تھا۔ حسین آنکھیں میری جانب اٹھ گئیں۔ لانبی خمدار پلکوں پر موتی لرز رہے تھے۔ جب وہ بولی تو اس کے لہجے سے حسرت ٹپک رہی تھی۔
”تم سے دورہونے کو من تو نہیں کرتا پرنتو….جانتی ہوں تو اپنے گھر جانے کے کارن بیاکل(بے چین) ہو رہے ہو“ ہم چلتے ہوئے گاڑی کے قریب پہنچے تو وہ بالکل میرے قریب آگئی۔ اسکی معطر سانسیں میرے چہرے کو چھو رہی تھی۔ اس مہک کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ مسحور کن مہک میرے حواسوں پر چھا گئی۔ اس کا قرب مجھے مدہوش کر رہا تھا۔
”پریم! میں نے ایک بنتی کی تھی اور تم نے مجھے وچن دیا تھا کہ تم اسے سوپکار کرو گے۔ پرنتو تم نے وہ گھر ہی چھوڑ دیا۔ جہاں میں رہتی ہوں۔ تمرے بن اس میں اب میرا من نہیں لگتا۔ میں بنتی کرتی ہوں پرتیم! واپس آجاﺅ۔“ حسین جھلیںپانیوں سے بھرنے لگیں۔
”لل….لیکن“ میں نے کہنا چاہا تو اسنے ایک بار پھر اپنے کومل ہاتھ میرے ہونٹ بند کر دیے۔
”کچھ نہ کہو میرے میت! میں جانتی ہوں تمرے من میں کا وچارہے؟ کیول اتنا یاد رکھو رادھا تم بن رہ نہیں پائے گی“
رات کی تاریکی اور تھانے کی حدودمیں بڑے اطمینان سے اپنی محبت کا اظہار کررہی تھی۔ مجھے رادھا کی طاقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ اس نے جس طرح کالی داس کو زمین چاٹنے پر مجبور کر دیا تھا اور جو حشر اس نے تھانے دارکا کیا تھا اسے دیکھ کرمیرے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔
”تمرے وچار ٹھیک ہیں سجنا….! کالی داس کوئی معمولی منش نہیں۔ اس نے سارا جیون کالی ماتاکی بھگتی میں بتایا ہے۔ وہ مہان شکتیوں کا مالک ہے۔ پرنتو اسنے تمہیں بیاکل کرکے گھور پاپ کیا تھا۔ یدی تم اسے شما نہ کرتے تو میں اس پاپی کو اس کے چیلے کے پاس بھیج دیتی۔ میں تمرے کارن سب سے یدھ کر سکتی ہوں پرنتو ایک پل کی دوری بھی مجھ ابھاگن سے سہن(برداشت) نہیں ہوتی۔ میرے اندر تم سے دور رہنے کی شکتی نہیں۔ تمرے بن تمری یہ داسی مٹی کی مورت ہے۔
۔ کیول ایک شریر ہے میری آتما تو تم ہو“ وہ اپنی محبت کا رس دھیرے دھیرے میرے کانوں میں گھولتی رہی۔ مجھے گھر جانے کی جلدی تھی لیکن نہ جانے اس کی قربت میں ایسی کیا بات تھی۔ میں سب کچھ بھول کر اس کے پاس کھڑا اسکی پیار بھری باتیں سن
وہ میرے اتنے قریب تھی کہ اس کی معطر سانسیں میری سانسوں کو مہکا رہی تھیں۔ میرا خیال تھا وہ اس تنہائی کا فائدہ ضرور اٹھائے گی لیکن وہ اس سے آگے نہ بڑھی بلکہ مجھ سے تھوڑے فاصلے پر کھڑی ہوکر کہنے لگی۔
’’میرے من مندر کے دیوتا! یدی تم آج کی رینا(رات) اپنی داسی سے دور اپنے متر کے گھر ہی ٹھہرے رہے تو کھد کو روک نہ پاؤں گی۔ میں اس سمے ایک ایسی گھاٹی میں کھڑی ہوں جہاں سے نہ آگے جا پاتی ہوں نہ پیچھے یدی تم اپنی پتنی کی اچھا کے انوساروہیں رہے تو پھر۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہوگئی۔
’’پھر کیا۔۔۔؟‘‘ میں نے بے چینی سے پوچھا۔
’’پھر مجھے تمری پتنی کا کوئی اپائے کرنا پڑے گا کوئی ایسا پربند کرنا پڑے گا کہ ہمرا ملن ہو سکے‘‘ آخر کار اس نے کہہ دیا۔ میں اس کی بات سن کر لرز گیا۔
’’نن۔۔۔نہیں رادھا تم ایسا کچھ نہ کرو۔ میں وعدہ کرتا ہوں کل میں واپسی اسی گھر میں آجاؤں گا۔ مجھے آج رات کی مہلت دے دو۔‘‘ میں نے کسی قدر لجاجت سے کہا۔
’’ٹھیک ہے موہن! پرنتو تم واپس نہ آئے تو پھر مجھے دوش نہ دینا‘‘ یہ کہہ کر اس نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔
’’جاؤ اپنے گھر جانتی ہوں اس سمے تم اپنی پتری سے ملنے ے کارن بیاکل ہو کل میں تمرا انتجار کروں گی۔‘‘
’’رادھا میری ایک اور درخواست مان لو‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’مجھ سے بنتی نہ کرو مجھے آگیا دو۔۔۔داسی تمری ہر آگیا کا پالن کرے گی کیول مجھے اپنے سے دور نہ کرنا۔‘‘ وہ بڑے پیار سے بولی۔
’’تم مجھ سے بات کرنے کا کوئی اور طریقہ اختیار کرلو میں اپنی معصوم بیٹی کو اذیت میں نہیں دیکھ سکتا
بس یا کوئی کچھ اور بھی کہنا ہے۔‘‘ وہ مسکرائی۔
’’بس میری اتنی بات مان لو‘‘ میں نے اس کا نرم ونازک ہاتھ تھام لیا۔
’’ٹھیک ہے یدی تمرامن اس بات سے پرسن ہے تو میں ایسا ہی کروں گی میرے میت! تم سے ملنے کا میں کوئی اور اپائے ڈھونڈ لوں گی۔ جاؤ پریمی! کوئی تمری راہ تک رہا ہے‘‘ وہ حسرت سے بولی۔
میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے میں نے ہاتھ ہلایا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اس میں میرے ارادے کا کوئی دخل نہ تھا اس کی وجہ یقیناً وہ احسان تھا جو رادھا نے مجھ پر کیا تھا۔ میں تیز رفتاری سے گاڑی چلاتا ہوا گھر پہنچا تو رات کے بارہ بج رہے تھے تقریبا پانچ بجے میں گھر سے نکلا تھا۔ ان چھ سات گھنٹوں میں مجھ پر جو بیتی تھی وہ الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے اس کا کرب تو وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جن کا سابقہ اس قسم کے حالات سے پڑا ہو۔ میں نے عمران کے گھر پہنچ کر ہارن دیا دروازہ فوراً ہی کھل گیا۔ عمران لپک کر میرے پاس آیا۔
’’خان بھائی! آپ کہاں چلے گئے تھے۔۔۔؟‘‘
’’مومنہ کہاں ہے؟‘‘ میں نے اس کی بات کاٹ کر پوچھا۔
’’وہ تو تھوڑی دیر بعد مل گئی تھی۔ شاید کھیلتے کھیلتے باہر نکل گئی تھی بری طرح گھبرائی اور سہمی ہوئی تھی۔ ہم نے اس سے کچھ نہ پوچھا اب سو رہی ہے۔‘‘ عمران نے مجھے تفصیل سے بتایا۔ مجھے یقین تھا کہ مومنہ گھر پہنچ چکی ہوگی لیکن پھر بھی اپنی تسلی کی خاطر میں نے پوچھا تھا۔ عمران نے گیٹ کھول دیا۔ میں گاڑی اندر لے گیا سامنے برآمدے میں نازش کھڑی تھی۔ میں گاڑی سے اتر کر آیا تو انہوں نے بھی وہی سوال کیا۔
’’فاروق بھائی! آپ کہاں چلے گئے تھے؟ ہم بہت پریشان تھے۔ عمران سارے شہر میں آپ کو تلاش کرتے رہے۔ مومنہ تو تھوڑی دیر بعد آگئی تھی۔ شاید کھیلتے کھیلتے باہر نکل گئی تھی۔ ‘‘ نازش نے ایک ہی سانس میں سوال کرنے کے ساتھ مجھے تفصیل بتائی۔
بھابھی! میں مومنہ کی تلاش کرتے ہوئے راستہ بھول کر نہ جانے کہا نکل گیا تھا۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا پھر پوچھا۔’’صائمہ کہاں ہے؟‘‘
’’بھابی اندر کمرے میں بچوں کے پاس ہیں‘‘ عمران نے بتایا، اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا جیسے وہ میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوا لیکن موقع کی نزاکت کا احساس کرکے اس نے کچھ نہ پوچھا تھا۔ میں جلدی سے اندر آیا۔ صائمہ قرآن پاک پڑھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کی سرخی بتا رہی تھی کہ وہ روتی رہی ہے ’’جس شخص کی بیوی اتنی نیک اور پرہیز گار ہو اسے کوئی شیطانی قوت پریشان نہیں کر سکتی‘‘ میرے دل میں خیال آیا۔ صائمہ کی جگہ کوئی عام عورت ہوتی تو رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتی لیکن اس اللہ کی بندی نے قرآن پاک اٹھا کر اللہ کا ذکر کرنا شروع کر دیا تھا۔ میں اپنی سوچوں میں گم اسے دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی اس نے قرآن پاک کو بوسہ دیا اور اسے الماری میں رکھ کر میری طرف بڑھی۔ اس کی حسین آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔
’’آ۔۔۔آپ کہاں چلے گئے تھے؟ فاروق! پریشانی سے میرا برا حال تھا۔‘‘ وہ میرے سینے سے لگ کر بولی میں نے اسے اپنی بانہوں کے حصار میں قید کرتے ہوئے اس کی حسین آنکھوں کو چوم لیا۔
’’میری جان! میں تو خود پریشان تھا مومنہ کی تلاش میں نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتا رہا۔‘‘
’’غلطی میری تھی بچے تو ادھر ادھر نکل ہی جاتے ہیں۔ میں خواہ مخواہ خود بھی پریشان ہوئی اور آپ کو بھی کیا۔‘‘ اس کے لہجے میں ندامت تھی۔
’’نہیں صائمہ! اولاد کی ذرا سی پریشانی انسان کو پاگل کر دیتی ہے۔‘‘
نازش بھابی نے کھانے کو پوچھا تو ہم باہر آگئے۔ کھانے کے بعد ہم اپنے کمرے میں آگئے بچے جلدی ہی سو گئے۔ صائمہ خاموشی سی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔ میں جانتا تھا وہ پریشان ہے لیکن میرے پاس اس کو تسلی دینے کے لیے الفاظ نہ تھے۔ کافی دیر اسی طرح گزر گئی۔ میں نے آہستہ کروٹ لے کر صائمہ کو دیکھا اس کی آنکھیں بند تھیں سانسوں کی رفتار بتا رہی تھی وہ سو چکی ہے۔ میں نے آنکھیں موند لیں ابھی غنودگی طاری ہوئی ہی تھی کہ مجھے رادھا کی سرگوشی سنائی دی۔
’’موہں۔۔۔‘‘
میں بری طرح چونک گیا پہلے تو اسے اپنا وہم سمجھا لیکن اسی وقت آواز پھر آئی۔
’’موہن! کیا تم کچھ پل کے لیے باہر آسکتے ہو؟‘‘
’’رادھا! تم کہاں ہو نظر کیوں نہیں آرہیں؟‘‘ میں نے چاروں طرف دیکھ کر آہستہ آواز میں پوچھا۔
’’تم باہر آجاؤ میں تمہیں نجر آجاؤں گی۔‘‘ اس کی مدھر آواز آئی۔ میں آہستہ سے بیڈ سے اترا باہر نکلنے سے پہلے ایک بار پھر صائمہ کی طرف دیکھا وہ بے خبر سو رہی تھی۔ پھر دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ مجھے یہ خطرہ بھی تھا کہیں صائمہ کی آنکھ نہ کھل جائے۔ میں نے احتیاطاً سگریٹ کا پیکٹ ساتھ لے لیا تھا۔ صائمہ میری اس عادت سے واقف تھی رات کو اگر مجھے نیند نہ آئے تو میں سگریٹ پینے باہر چلا جاتا ہوں۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ میں نے کاریڈور سے گزرتے ہوئے عمران اور نازش کے بیڈ روم کی طرف دیکھا ان کا دروازہ بند تھا۔ میں دبے پاؤں چلتا ہوا ان کے کمرے کے سامنے سے گزر گیا۔ آہستہ سے آہٹ پیدا کیے بغیر میں نے دروازہ کھولا اور باہر نکل آیا۔ میں نے گرم شال اوڑھ رکھی تھی اس کے باوجود سردی ہڈیوں میں گھسی جا رہی تھی۔ لان میں آکر میں نے چاروں طرف دیکھا۔ چاندنی رات تھی ہر چند کہ جاڑے کی چاندنی کو کوئی نہیں دیکھتا لیکن اس کا اپنا حسن ہوتا ہے۔ ہر طرف جیسے نور برس رہا تھا۔
پریتم۔۔۔!‘‘ میرے پیچھے بالکل کان کے پاس سرگوشی سنائی دی۔ میں بری طرح اچھل پڑا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا پھر نظریں ہٹانا بھول گیا۔ چاند کی روشنی میں چاند سے زیادہ حسین رادھا میرے پیچھے کھڑی تھی۔ سرخ رنگ کی ساڑھی میں اس کا حسن آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ وجود سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو چاروں طرف بکھر رہی تھی۔ وہ بے خود ہو کر میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھ۔ ہم دونوں ہر بات سے بے نیاز ایک دوسرے کی آنکھوں میں ڈوب گئے۔ بقول رادھا کے اسے مجھ سے عشق تھا لیکن اس کا سامنا ہوتے ہی نہ جانے مجھے کیا ہو جاتا تھا؟ سحر طاری تھا مجھ پر۔ اس کا فسوں پوری طرح مجھ پر چل چکا تھا۔ دیوانہ بنانے میں اگر اس کی پراسرار قوتوں کا دخل تھا تو اس کا حسن اسے دو آتشہ کر دیا کرتا۔ میری حالت اس نوجوان لڑکے سے مختلف نہ تھی جسے پہلی پہلی بار عشق ہوا ہو۔ ’’من کرتا ہے تمرے ہر دے میں سما جاؤں پرنتو۔۔۔‘‘ اس کے لہجے میں حسرت بول رہی تھی۔ میں اس کی بات کا مطلب سمجھ رہا تھا کہ وہ کیا چاہتی ہے؟ اس لئے میں نے بات کا رخ فوری طور پر بدل دیا۔
’’کیا تمہیں یاد ہے رادھا؟! تم نے میرے ساتھ ایک وعدہ کیا تھا‘‘
’’تمہیں دیکھ کر تو میں سب کچھ بھول جاتی ہوں ساجن! یدی رادھا نے تمہیں کوئی وچن دیا تھا تو وہ اپنے وچن کا پالن اوش کرے گی‘‘ اس کی آواز خمار سے بوجھل تھی۔
’’تم نے کہا تھا اپنی زندگی کی کہانی مجھے سناؤ گی۔ تمہارے خاوند موہن کو کس نے اور کیوں مار دیا تھا؟ اس کے علاوہ میں یہ بھی جاننا چاہتا ہوں کہ تم کون ہو؟ کیا تم میری یہ الجھن دور کر سکتی ہو؟‘‘
’’ہاں مجھے یاد ہے میں نے کہا تھا پرنتو یہ بھی تو کہا تھا سمے آنے پر‘‘ اس نے کہا۔
’’اور وہ وقت کب آئے گا؟‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔
بہت جلد آنے والا ہے وہ سمے‘‘ اس کی آنکھوں میں جیسے خواب اتر آئے۔’’تم اس بات کی چنتا چھوڑو میں سب تمہیں بتا دوں گی ۔پرنتو اس سمے تو میں اپنے پاپی من کو شانت کرنے آئی ہوں‘‘ چاندنی میں نہایا اس کا مرمریں بدن وہ کسی اور ہی دنیا کی مخلوق نظر آرہی تھی اس کی معطر سانسیں میرے ہوش و حواس چھین رہی تھیں۔ مجھے کسی شاعر کا شعر یاد آیا جو غالباً ایسے ہی موقع کے لئے کہا گیا تھا۔
’’گلاب لب، غزال آنکھیں ابرو
ہوش و حواس چھن گئے ہوئے جب روبرو‘‘
اس کے قیامت خیز حسن، پراسرار قوتوں اور احسانات۔۔۔سب نے مل کر میرا جھکاؤ اس کی طرف کر دیا تھا۔ اسے دیکھ کر میں سب کچھ بھول گیا تھا۔ حتیٰ کہ اب مجھے سردی بھی محسوس نہ ہو رہی تھی۔
’’پرتیم۔۔۔!‘‘اس نے دھیرے سے مجھے پکارا۔
’’ہوں‘‘ اب مین ان القابات کا عادی ہو چلا تھا۔ وہ مجھے اکثر اسی طرح پکاراکرتی ہے۔
’’تم نے بھی ایک وچن مجھے دیا تھا یاد ہے یا۔۔۔بھول گئے؟‘‘
’’مجھے نہ صرف یاد ہے بلکہ اپنا وعدہ پورا کرنے کے لئے میں کل دوبارہ اسی مکان میں رہنے کے لے جا رہا ہوں۔‘‘ میں نے اسے خوش کرنے کی خاطر کہا۔’’دھن واد موہن! تم نے میرا مان رکھ لیا۔ پرنتو میں اس وچن کے بارے میں کہہ رہی ہوں جو تم نے مجھ سے کیا تھا کہ تم اپنی پتنی سے کہو گے وہ جو جاپ وہ کرتی اسے کھتم کر دے‘‘ آخر وہ لمحہ آہی گیا جس سے میں بچنا چاہ رہا تھا۔
’’رادھا! سب کچھ ایک دم تو نہیں ہو جاتا۔ آج ایک بات پوری ہوئی ہے کل یہ بھی ہو جائے گی‘‘ میں نے بڑے آرام سے اسے سمجھایا۔
’’چاہے تمری داسی کے پران ہی نکل جائیں‘‘ اسکی حسرت و یاس میں ڈوبی آواز آئی۔
’’تمہیں مجھ پر بھروسہ کرنا چاہئے رادھا! میں بھی تم سے ملنے کے لیے بے قرار ہوں۔‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا مجھے خود پر اختیار ہی کب رہا تھا؟
’’جانتی ہوں تم کیول میرا من پرسن کرنے کے کارن کہہ رہ ہو پرنتو میرے لیے یہی بہت ہے کہ تمہیں میرا اتنا دھیان ہے‘‘ اس بار اسکی آواز میں اطمینان تھا۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے ضد نہیں کی ورنہ وہ یہ بھی کہہ سکتی تھی ابھی یہ کام ہونا چاہئے تومیں کچھ بھی نہ کر سکتا۔
’’موہن۔۔۔!‘‘ اس نے مجھے خیالوں میں ڈوبا پا کر پکارا۔ میں نیا س کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’اپنی پتنی سے کہہ دو میں اس کی اور سے اتنی بے کھبر نہیں ہوں جتنا وہ وچار کر ریہ ہے۔ جانتی ہوں وہ تمہیں مجھ سے دور کرنے کے کارن کیا کر رہی ہے؟ پرنتو میں ہر بار اسے شما کر دیتی ہوں اسے کہہ دینا یدی اس نے چھل کپٹ سے کام لیا تو رادھا سب کچھ کھتم کر دے گی‘‘ اس کی آواز سرد ہوگئی۔ میرے ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر گزرتی چلی گئی۔ حیرت مجھے اس بات پر تھی کہ صائمہ ایسا کیا کر رہی ہے؟ کیونکہ اس کے بعد رادھا کو سلسلے میں کوئی بات نہ ہوئی تھی۔
’’رادھا! کیا تم مجھے نہیں بتاؤ گی کہ صائمہ نے کیا کیا ہے؟‘‘
سمے آنے پر سب معلوم ہو جائے گا۔‘‘ اس نے گول مول سا جواب دیا۔ پھر کہنے لگی’’یہ جو پاپی کالی داس ہے نا۔۔۔کالی ماتا کا بہت بڑا بھگت ہے اس نے سارا جیون کالی کی بھگتی میں بتایا ہے۔ کالی اس کا کہا نہیں ٹال سکتی۔ پرنتو میں نے اسے کس طرح دھرتی چاٹنے پر لگا دیا تھا۔ سنسار میں کالی داس جیسے مہاپرش کم ہی ہوں گے۔ لاکھوں بیر(جنات کی وہ قسم جو شیطان کے پیروکار اور جادوگروں کے حکم کی پابند ہوتی ہے) اس کی آگیا کا پالن کرنے ہر پل تیار رہتے ہیں۔ اورمیری سکھیوں خو تم نے دیکھا ہی ہے وہ میری آگیا کاپالن کرتے ہوئے کسی بھی منش کا ماس کھا جاتی ہیں شکتی میں وہ کسی سے کم نہیں پرنتو تم نے دیکھا۔۔۔کالی داس نے کس طرح ان کوبے بس کردیا تھا؟‘‘ اس نے بڑے طریقے سے مجھے اپنی طاقت کے بارے میں بتا کر اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اگر صائمہ اس کے خلاف کچھ کرنے کی سوچ رہی ہے تو میں اسے اس بات سے باز رکھ سکوں۔
’’جانتا ہوں رادھا۔۔۔! سب کچھ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں اسی وجہ سے تومیں تمہارے بارے میں سب کچھ جاننے کے لیے بے قرار ہوں۔ ‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔ مجھے ڈر تھا کہیں وہ اپنی ضد پر اڑ نہ جائے ۔
’’بہت تھوڑا سمے رہ گیا ہے پھر میں تمرے ہر پرشن کا اتر اوش دوں گی۔ اسی کارن تو کہہ رہی ہوں اپنی پتنی سے کہو وہ جاب چھوڑ دے نہیں تو کالی داس کسی بھی سمے تمری سنتان یا پتنی پر وار کر سکتا ہے۔ یدی تمری پتنی جاپ بند کر دے تو میں اسی استھان پر رہ کر تمری رکھشا کر سکتی ہوں میرے ہوتے وہ یا اس کے پلید بیر وہاں نہیں آسکتے جہاں تم رہتے ہو۔‘‘ اس نے تفصیل سے بتا کر مجھے فکر مند کر دیا۔
کالی داس کمینہ شخص تھا جس طرح رادھا نے اسے ذلیل کرکے بھگایا تھا وہ کسی بھی وقت اپنی ذلت کا بدلہ صائمہ اور بچوں کو نقصان پہنچا کر لے سکتا تھا۔میرے چہرے فکر تر دو دیکھ کر رادھا سبک خرامی سے چلتی میرے پاس آگئی۔ پھر اپنے کومل ہاتھوں میں میرا چہرہ تھام کر بولی’’میرے پریتم! تم چنتا کیوں کرتے ہو؟ میرے ہوتے وہ پاپی تمہیں کچھ نہ کہہ سکتا۔۔۔تم اپنی رادھا پر وشواس رکھو۔‘‘
’’کیا تم اس کے بغیر کوئی ایسا بندوبست نہیں کر سکتیں کہ کالی داس مجھے اور میری بیوی بچوں کوکوئی نقصان نہ پہنچا سکے؟‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔
’’ابھی بہت ساری باتیں تمری بدھی میں نہیں آئیں گی ساجن! دیکھو سمے کتنا سندر ہے۔ چند رما اپنی سندرتا چاروں اور بکھیر رہا ایسے میں میرے سنگ پریم کی باتیں کرو پریتم!‘‘ وہ اپنے پیار کا رس میرے کانوں میں گھولتی رہی۔ میں نے ہنس کراسے چھیڑا۔
’’تھانے دار بیچارہ بھی تو تمہارے ساتھ پیار کی باتیں کرناچ اہتا تھا تم نے اسے موقع ہی نہیں دیا کیسے بے چین ہو رہا تھا؟‘‘ اس کی نقرئی ہنسی نے فضا میں جلترنگ بکھیر دیا۔
’’پرتیم! ایک وہی کیا سارا سنسار رادھا کارن بیاکل ہے پرنتو رادھا تمری داسی بن گئی ہے اسے تمرے بن کچھ نجر ہی نہ آوے۔‘‘ وہ اٹھلا کر بولی۔ رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔
’’پریتم!‘‘
’’ہوں‘‘
’’چندرما کتنا سندر ہے؟ پرنتو تم سے جیادہ نہیں‘‘ اس پر نشہ چھانے لگا۔
بس میری اتنی زیادہ تعریف نہ کرو میں جانتا ہوں میں کیا ہوں؟‘‘ میں خجل ہوگیا۔
’’تم اپنی سندرتا سے بے کھبر ہومیرے پران(میری روح) یہ تو کیول میں جانتی ہوں تم کیا ہو؟‘‘ اس نے پیار سے میرا ہاتھ تھام لیا۔ نرم و نازک ہاتھ حدت سے تپ رہا تھا
میرے جسم میں جیسے بجلیاں دوڑنے لگیں۔ بے اختیار میں اس کی طرف کھنچتا چلا گیا۔ میں آج بھی اپنی اسی حالت پر حیران ہوں کسی سحر زدہ معمول کی طرح میں اس کی طرف بڑھا تھا۔ اس کی سانسیں بوجھل ہو چکی تھیں۔ قریب تھا میں اسے اپنی بانہوں میں بھر لیتا۔ وہ جیسے خواب سے جاگ گئی۔ پھر بدک کر مجھ سے کچھ فاصلے پر چلی گئی۔
’’ابھی نہیں پریتم!‘‘ وہ جیسے ہانپ رہی تھی۔ چاندنی میں اس کا چہرہ شدت جذبات سے دہک رہا تھا۔ میں بھی اس کیفیت سے باہر نکل آیا۔ مجھے خود سے شرم آرہی تھی۔ نہ جانے مجھے کیا ہو جاتا تھا ہر مرتبہ میں توبہ کرتا لیکن جب بھی کوئی ایسا موقعہ آتا میں پھسل جاتا تھا۔ اس میں میری اپنی کوتاہی کا دخل تھا یا میں حالات کا شکار ہوگیا تھا۔۔۔یہ بات میں آج تک نہیں سمجھ سکا۔ بات ہو رہی تھی اس رات کی جب چاند اپنے پورے جوبن پر تھا۔ ہرسو چاندنی کا فسوں بکھرا ہوا تھا۔ ایسے میں رادھا کا حسن جہاں سوز مجھے بے خود کیے جا رہا تھا۔ ہم دونوں اس قدر قریب تھے کہ ایک دوسرے کی دل کی دھڑکنیں صاف سنائی دے رہی تھیں مجھے یہ خدشہ بھی تھا کہیں صائمہ جاگ نہ جائے ۔ رادھا میری دل کی بات جان گئی۔
پریتم! من کرتا ہے ساری رینا تمرے چرنوں میں بتا دوں۔ پرنتو مجھے تمری مجبوریوں کا دھیان ہے۔ آہ۔۔۔میرا من کھد میرے بس میں نہیں‘‘ اس کی آواز بھیگنے لگی۔
’’میں جانتا ہوں رادھا! تم میرے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ لیکن میری بھی کچھ مجبوریاں ہیں۔ میں ایک شادی شدہ شخص ہوں مجھے ہر طرف دھیان رکھنا پڑتاہے۔‘‘ میں نے اپنی مجبوری ظاہر کی۔
’’میں تم سے سہمت(متفق) ہوں سجنا! پرنتو میں کھد پر اختیار کھو بیٹھی ہوں‘‘ اس نے اپنی نازک انگلیوں کی پوروں سے حسین آنکھوں سے نکلتے آنسو صاف کر لیے۔’’جانتی ہوں پرتیم۔۔۔! کل تمرا انتجار اسی استھان پر کروں گی۔‘‘ اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر ہلکے سے دبایا۔’’جاؤ میرے من مندر کے دیوتا! تمری داسی آج کی رینا اور بیاکلتا میں بتا لے گی‘‘ میں نے ایک نظر اسے دیکھا اور اندر کی طرف چل پڑا۔
برآمدے میں پہنچ کر میں نے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ آہستہ سے دروازہ بند کیا اور دبے پاؤں چلتااپنی خوابگاہ میں آگیا۔ صائمہ بدستور محو خواب تھی۔ میں آرام سے اس کے پہلو میں لیٹ گیا۔ ضمیر مجھے ملامت کر رہا تھا لیکن میں بھی مجبور تھا۔ اگر حالات یہ رخ اختیار نہ کرتے تو میں کبھی بھی اپنی باوفا بیوی کو دھوکہ نہ دیتا۔ ہو سکتا ہے آپ مجھ سے اتفاق نہ کریں لیکن اس وقت واقعی میں مجبوریوں کی دلدل میں دھنسا ہوا تھا۔ دوسرے دن ہم گھر واپس آگئے۔ میں بینک چلا گیا۔ دو تین مرتبہ میں نے صائمہ کو فون کرکے خیر خیریت پوچھی۔ اس نے بتایا سب ٹھیک ہے۔ شام کو میں نے آکر کہا۔
عمران جلد ہی کوئی دوسرا مکان تلاش کر دے گا بس ایک دو دن کی بات ہے میں سوچ رہا ہوں تم کچھ دن کے لیے لاہور چلی جاؤ اتنے میں کوئی اچھا سا مکان دیکھتا ہوں جب مل جائے تو فون کر دوں گا۔‘‘ اس کا جواب مجھے حیران کر گیا۔
’’فاروق! اتنا اچھا بنگلہ چھوڑ کرکہیں جانا مشکل ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ اللہ نگہبان ہے وہی ہماری حفاظت کرے گا۔ اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ بدبخت جو بھی ہے وہاں نہیں آجائے گی۔‘‘
میں اس کے اطمینان اور دلیل پر حیران ہوگیا۔
’’لیکن صائمہ ! کل توتم۔۔۔‘‘
اب ایسی بھی کیا بزدلی؟ ہم مسلمان ہیں اور اللہ پرکامل یقین ہے ہمیں‘‘ اس نے میری بات کاٹکرکہا۔
’’ادھر دیکھو میری طرف ‘‘ اسنے چہرہ میری طرف گھمایا۔
’’تمہارے اطمینان کی وجہ میری سمجھ سے باہر ہے کہاں تو تم ایک پل اس گھر میں گزارنے پر تیار نہ تھیں اور اب ۔۔۔تم کوئی بات مجھ سے چھپا تو نہیں رہیں؟‘‘
میرے کانوں میں رادھا کے الفاظ گونجے’’میں تمری پتنی کی اور سے اتنی بے کھبر نہیں جتنا وہ سمجھ رہی ہے‘‘ کچھ دیر صائمہ میری طرف دیکھتی رہی پھر گہری سانس لے کر بولی۔
’’فاروق! دراصل پھوپھو نے مجھے منع کیا تھا کہ یہ بات کسی سے نہیں کہنا اس لیے ۔۔۔ورنہ آپ جانتے ہیں میں ہربات آپ سے شیئر کرتی ہوں۔ آپ پھوپھو جمیلہ کو تو جاتنے ہیں ہماری شادی میں آپ کی ملاقات ان سے ہوئی تھی۔۔۔‘‘
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’حافظ قرآن اور عالمہ ہیں۔آج میں نے بھابی کے گھر سے انہیں فون کرکے ساری صورتحال بتائی تو وہ کہنے لگیں میں فی الحال اسی گھر میں رہوں تاکہ وہ پتا چلا سکیں اصل معاملہ کیا ہے؟ ان کا خیال ہے شاید یہ کوئی خبیث جن زادی ہے۔ کہہ رہی تھیں وہ رات کو ایک وظفیہ پڑھیں گی تو معاملہ انشاء اللہ حل ہو جائے گا۔‘‘ صائمہ نے بتایا۔
اچھا تو محترمہ کے اطمینان کی اصل وجہ یہ ہے‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔ وہ ہنس دی۔ اس کے بعد اس موضوع پر مزید کوئی بات نہ ہوئی۔ رات کو کھانا کھا کر ہم لیٹ گئے۔ صائمہ ان دنوں جنابت کی حالت میں تھی اس نے مجھے تاکید کی تھی میں رات کو آیۃ الکرسی پڑھ کر سارے گھر پر پھونک دوں لیکن میں نے ایسا نہ کیا بلکہ صائمہ سے کہہ دیا کہ اب روزانہ میں خود یہ وظیفہ کر لیا کروں گا۔ ایسا میں نے اس لیے کیا تھاکہ صائمہ کو وظیفہ کرنے سے منہ نہیں کر سکتا تھا اور رادھا کا اصرار تھا کہ میں اسے روکوں۔ نہ جائے مانند نہ پائے رفتن کے بمصداق آخر یہی حل مجھے نکالنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ رادھا کے کہنے پر میں نے وہ تعویز بھی گلے سے اتار دیا تھا جو مجھے شریف کے مرحوم والد محترم نے دیا۔ میرا دل دھڑک رہا تھا۔
مجھے پتا تھا رادھا آج رات مجھ سے ملنے ضرور آئے گی اور ہوا بھی یہی۔ ایک وہی رات کیا۔۔۔؟ اس کے بعد تو وہ ہر رات مجھ سے ملنے آنے لگی۔ مسلسل رت جگے سے میری آنکھوں کی گرد ہلکے پڑ گئے۔ وہ صبح کے چار بجے واپس جاتی۔ نیند کی کمی سے میری طبیعت خراب رہنے لگی۔ صبح کے قریب میں سوتا توبمشکل آٹھ بجے جاگتا۔ کچھ دن تو صائمہ نے توجہ نہ دی لیکن کب تک؟ ایک دن جب ہم ناشتہ کر رہے تھے اس نے میرے چہرے کو غور سے دیکھا۔
’’فاروق! آپ کی صحت خراب رہنے لگی ہے دیکھیں رنگ کس طرح زرد ہو رہا ہے؟ آنکھوں سے ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ رات بھر جاگتے ہوں‘‘ میں جو اونگھتے ہوئے ناشتہ کر رہا تھا چونک کر سیدھا ہوگیا۔ وہ فکر مندی سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔
’’نیند تو بالکل ٹھیک آتی ہے بس ذرا دیر سے آتی ہے۔‘‘ میں نے اس سے نظریں چرائیں۔
آئینے میں اپنا چہرہ تو دیکھیں کتنا کمزور لگ رہا ہے؟‘‘ اس کی آنکھوں میں فکر کے سائے گہرے ہوگئے۔’’فاروق!‘‘ اس نے آہستہ سے مجھے پکارا۔
’’ہوں‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھا۔
’’آپ کسی بات پر مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں؟‘‘ میں بری طرح چونک اٹھا۔ اس کی سوالیہ نظریں میرے چہرے پر ٹکی تھیں۔
’’میری جاں! میں تم سے ناراض ہوسکتاہوں بھلا!‘‘ میں نے پیار سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔’’کیا تمہیں میری کسی بات سے ایسا محسوس ہوا ہے؟‘‘
’’آ۔۔۔آپ۔۔۔مجھے اپنے پاس بلاتے ہی نہیں اب تو‘‘ بالآخر اس نے جھجکتے ہوئے دل کی بات کہہ دی ’’کل رات تومجھے یقین تھا کہ آپ۔۔۔‘‘ اتنا کہہ کر اس نے شرما کر چہرہ جھکا لیا۔ وہ سچ کہہ رہی تھی۔ راتیں تو رادھا کی حسین سنگت میں بیت رہی تھیں اس لیے کافی دن سے میں نے صائمہ کو اپنے پاس نہ بلایا تھا۔
’’ارے۔۔۔آج سورج کس طرف سے نکلا تھا؟کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا؟‘‘ میں نے شوخ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ وہ شرم سے گلابی ہوگئی۔
’’اگر محترمہ کو مجھ سے یہ شکوہ ہے تو ابھی اسی وقت غلام حاضر ہے‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’بڑے خراب ہیں آپ‘‘ اسے بے طرح شرم آرہی تھی’’میں نے تو اس لئے پوچھا تھا کہ آپ اتنے دن تک کبھی مجھ سے دور نہیں رہے۔‘‘
’’تم دنوں کی بات کرتی ہو میں توایک پل بھی تمہارے بنا نہیں رہ سکتا۔‘‘ اس بات میں جھوٹ نہ تھا اگر صائمہ کو مجھ سے عشق ہے تو میں بھی اس کی محبت میں دیوانہ۔۔۔رادھا سے ملنا میری مجبوری تھا۔ اس کا حسن قیامت خیز سہی لیکن وہ کسی صورت صائمہ کی جگہ نہ لے سکتی تھی۔ رادھا بھی اس بات سے باخبر تھی۔ اس نے کئی بار مجھے اس بات کا احساس دلایا تھا کہ جتنی محبت وہ مجھ سے کرتی ہے اس کا عشر عشیر بھی میں اس سے نہیں کرتا۔
’’کہاں کھو گئے‘‘ اس نے میرے آنکھوں کے آگے ہاتھ نچایا۔
ہوں۔۔۔‘‘ میں چونک گیا۔
’’فاروق! اگر کبھی انسان ہونے کے ناطے مجھ سے کوئی غلطی ہو جائے تو پلیز مجھے جو چاہے سزا دے دیجئے لیکن کبھی مجھ سے ناراض مت ہوئیے گا‘‘ اس نے بھیگی آنکھوں سے مجھے دیکھا۔
’’میری جان !میں تم سے ناراض ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ کیا تمہیں میرے کسی انداز سے ایسا محسوس ہوا ہے؟‘‘ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
’’میں اکثر دیکھتی ہوں آپ کھوئے کھوئے سے رہتے ہیں میں سمجھی شاید آپ مجھ سے ناراض ہوں۔‘‘ وہ میرے شانے سے سر ٹکا کر بولی۔ اس کے ملائم گیسو میرے شانے پر بکھر گئے۔ ان میں انگلیاں پھیرتے ہوئے میں نے کہا۔
’’جانم! ایسا کبھی سوچنا بھی نہیں اگر عشق کا وجود دنیا میں ہے تو سمجھ لو مجھے تم سے عشق ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’میں جانتی ہوں آپ کے دل میں میرے علاوہ کوئی نہیں‘‘ اسے مجھ پر خود سے زیادہ بھروسہ تھا۔
میں عجیب و غریب حالات کا شکار ہوگیا تھا۔ ایک طرف رادھا تھی جو میرے عشق میں کچھ بھی کرنے کے لیے ہر دم تیار تھی۔ اگرمیں اسے یہ کہتا کہ وہ رات کو مجھ سے ملنے کیلیے نہ آیا کرے تو ہو سکتا تھا وہ ہتھے سے ہی اکھڑ جاتی۔
مجھے زیادہ خوف اس بات کا تھا وہ صائمہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔ اکثر وہ اس بات کا اظہار کرتی کہ صرف میری خاطر وہ صائمہ کو برداشت کرتی ہے۔ رادھا کی طاقت کا مجھے انداز تھا۔ لیکن اس طرح کب تک چلتا؟ اس مسئلے پر رادھا سے بات کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ رات کا کھانا کھانے اور بچوں کے سونے کے بعد میں نے صائمہ کا شکوہ دورکرنے کی خاطر اسے اپنے پاس بلایا تو وہ کہنے لگی۔
’’فاروق! پلیز آج کی رات صبر کرلیں‘‘ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’صبح تم خود ہی شکایت کر رہی تھی اب انکار‘‘ مجھے الجھن ہوئی۔
’’دراصل آج میں نے پھوپھو جمیلہ کو فون کرکے ساری صورتحال بتائی تو انہوں نے مجھے وظیفہ پڑھنے کے لئے بتایا ہے میں آج رات اسے کرنے کا ارادہ کیے بیٹھی ہوں۔ اگر آپ کہتے ہیں تومیں کل رات کر لوں گی۔‘‘ اس نے میرا موڈ دیکھ کر جلدی سے کہا۔
’’یہ بات ہے محترمہ! توہم آپ کے وظیفے میں مخل نہیں ہونا چاہتے۔۔۔آج کی رات آپ کی جدائی برداشت کر لیں گے‘‘ میں نے اس کی ٹھوڑی کو چھو کر کہا۔
بہت بہت شکریہ جناب عالی‘‘ اس نے بھی شوخی سے جواب دیا۔ میں سونے کے لیٹا تو صائمہ جائے نماز بچھا کر اپنا وظیفہ شروع کر چکی تھی۔ کچھ دیر میں اس کے پاکیزہ چہرے کو دیکھتا رہا پھر آنکھیں بند کرلیں۔ مجھے گمان ہی نہ تھا کہ صائمہ رات بھر وظیفہ کرے گی۔ رات کو حسب معمول میری آنکھ رادھا کی آواز سے کھلی۔ لائٹ ابھی تک جل رہی تھی۔ صائمہ کو مصروف دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی۔ میں نے کلاک پر نظر ڈالی رات کے دو بج رہے تھے۔
’’موہن فوراً باہر آؤ‘‘ میرے کان میں رادھا کی آواز پڑی لیکن آج اس کی آواز میں حلاوت کے بجائے تلخی تھی۔ میں نے بے بسی سے صائمہ کی طرف دیکھا وہ آنکھیں بند کیے ذکر میں مصروف تھی۔
’’کیا تم نے سنا نہں میں کہا کہہ رہی ہوں؟‘‘ رادھا کی تلخی سے بھرپور آواز دوبارہ آئی۔ عجیب مصیبت تھی اگر میں رادھا کی بات کا جواب دیتا تو صائمہ سن لیتی۔
’’رادھا! صائمہ جاگ رہی ہے میں باہر کیسے آسکتا ہوں؟‘‘ میں نے صائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے دبی دبی آواز میں کہا۔
’’کیا تم چاہتے ہو میں اپنا وچن توڑ دوں؟‘‘ رادھا کی پھنکار میرے کانوں میں گونجی۔ صورت حال بڑی عجیب ہوگئی تھی اگرمیں باہر جاتا تو صائمہ دیکھ لیتی۔ چوری کھلنے کا وقت آگیاتھا۔
ٹھیک ہے موہن! اب مجھے کوئی دوش نہ دینا۔ میں نے تمرے پریم کے کارن اس کلٹا کو بڑی چھوٹ دی۔ پرنتو۔۔۔اس نے کھد کے لئے کٹھن راہ چنی ہے۔ میں جا رہی ہوں۔ اس بات کو اوش اپنے دھیان میں رکھنا رادھا کو کشٹ دینا تمری پتنی کو مہنگا پڑے گا ‘‘ رادھا کی قہر بار آواز آنا بند ہوگئی۔
’’سنو رادھا!‘‘ میں نے منہ کے آگے ہاتھ رکھ کر سرگوشی کی۔’’آج کی رات مجھے معاف کر دو صبح ہوتے ہی میں کوئی ایسی راہ نکال لوں گا کہ آئندہ ایسی صورت حال پیدا نہ ہو‘‘میں نے منت بھرے لہجے میں کہا۔ کوئی جواب نہ پا کر میں نے دوبارہ اسے پکارا ’’رادھا۔۔۔صرف آج کی رات صبر کر لوکل میں تم سے ضرور ملوں گا‘‘ کسی قسم کا جواب نہ آیا۔ شاید وہ ناراض ہو کر چلی گئی تھی۔ ہزاروں خدشات نے جم لینا شروع کر دیا۔ ایک بار پھر میں نے صائمہ کی طرف دیکھا وہ ہر طرف سے بے نیاز اپنے وظیفے میں مگن تھی۔ مجھے اس پر ترس بھی آیا کہ وہ اپنے گھر کو بچانے کے لیے کس قدر محنت کر رہی ہے۔ نیند مجھ سے کوشوں دور چلی گئی تھی مجھ پر وحشت طاری ہونے لگی۔ رادھا کی قوت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔ اس کے احسانات اپنی جگہ لیکن میں صائمہ کو بھی غلط نہیں کہہ سکتا تھا۔ ہو سکتاہے رادھا مجھ سے بہت پیار کرتی ہو لیکن صائمہ راہ راست پرتھی۔ جبکہ وہ بھٹکی ہوئی روح یا جو کچھ بھی تھی ہوس کی بچارن تھی۔ میں نے سر جھٹک کران پریشان کن خیالات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہا۔ سگریٹ کی طلب شدت سے محسوس ہوئی۔
دھت تیرے کی‘‘ میں نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔ اگرمیں سگریٹ پینے کے بہانے باہر چلا جاتا توصائمہ کو کوئی اعتراض نہ ہو سکتا تھا ہر چند کہ صائمہ نے باہر جانے پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہ لگائی تھی لیکن میں اسکے جاگنے کی وجہ سے ایسا نہ کرنا چاہتاتھا۔
’’یہ خیال مجھے پہلے کیوں نہ آیا‘‘ میں نے جھنجھلا کر سوچا آہستہ سے دراز کھول کر سگریٹ کاپیکٹ اورلائٹر نکال کرمیں دبے قدموں دروازے کے پاس پہنچا۔ ایک نظر صائمہ پر ڈالی وہ آنکھیں بند کیے اپنے ورد میں مصروف تھے۔ حتی الامکان میں نے بے آواز طریقے سے دروازہ کھولا اور باہر نکل آیا۔ ڈرائنگ روم سے گرم شال اٹھا کر کندھوں پر ڈالی اورکاریڈور کادروازہ کھول کر لان میں آگیا۔ سردی نے مجھے کپکپانے پر مجبور کردیا۔
میں نے سگریٹ سلگایا اور چاروں طرف اس امید پر دیکھنے لگا شاید رادھا اس جگہ موجود ہو جہاں ہم روزانہ رات کو ملا کرتے تھے۔ ہر سو خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ جب میں رادھا سے ملنے کے لیے باہر آتا تو لان کی لائٹ اس خطرے کے پیش بجھا دیتا اگر صائمہ کی آنکھ کھل جائے اور مجھے بستر پر ناپا کر وہ باہر نکلے تو رادھا اسے دکھائی نہ دے۔ یہ تو بہت بعد میں مجھے معلوم ہوا اگر رادھا کی خواہش ہوتی تو وہ نظر آتی ورنہ نگاہوں سے اوجھل رہنا اسکے لئے مشکل نہیں تھا۔ لیکن اس وقت میں اس بات سے بے خبر تھا۔ میں اپنی سوچوں میں غلطاں سخت سردی میں لان میں کھڑا تھا۔
جب سگریٹ نے میری انگلیوں کو جلایا تو میں چونک اٹھا۔میں نے سگریٹ کا صرف ایک کش لیا تھا اس کے بعد مجھے خیال ہی نہ رہا کہ جلتا ہوا سگریٹ میرے ہاتھ میں ہے۔ میں نے جلدی سے اسے زمین پر پھینک کر جوتے سے مسل دیا اور نیا سگریٹ اس آس پر سلگا لیا شاید رادھا واپس آجائے۔ میں اس وقت تک اس کی ناراضگی کا متحمل نہ ہو سکتا تھا جب تک صائمہ اپنا وظیفہ مکمل نہ کر لیتی۔ سگریٹ کا طویل کش لے کر میں نے ایک بار پھر اس گوشے کی طرف دیکھا جہاں ہم روزانہ راز و نیاز میں مصروف رہا کرتے۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ سگریٹ ختم کرکے میں اندر آگیا۔ صائمہ حسب معمول اسی حالت میں بیٹھی کچھ پڑھ رہی تھی۔ تسبیح کے دانوں پر اس کی مخروطی انگلیاں تیزی سے حرکت کر رہی تھیں۔ میں نے بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں۔ نہ جانے اب رادھا کیا کرے؟ میں اس بات سے بہت خوفزدہ تھا کہ وہ کہیں صائمہ یا بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے۔
نہ جانے کب مجھے نیند آئی اور سو گیا۔ رات بھر مجھے پریشان کن خواب دکھائی دیتے رہے۔ صبح صائمہ نے مجھے جگایا تو اس کی غزالی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ میں نے اسے سونے کا مشورہ دیا تو اسنے کہا میرے دفتر اور بچوں کے سکول جانے کے بعد وہ نیند پوری کر لے گی۔ میں نے کہا بھی اگر وہ چاہے تو میں عمران سے کہہ کر نازش کو بلوا دیتا ہوں لیکن اس نے نرمی سے انکار کر دیا۔
’’فاروق ! اللہ تعالیٰ سے بڑا نگہبان کوئی نہیں ہے وہی میری حفاظت کرے گا۔‘‘ اس کے چہرے پر اطمینان دیکھ کر مجھے بھی حوصلہ ہوا۔
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو ، واقعی اللہ تعالیٰ سے بڑا کوئی نہیں وہ قادر کریم ہماری حفاظت کرے گا‘‘ دوپہر کے قریب میرا دل چاہا میں صائمہ کو فون کرکے خیریت پوچھوں لیکن یہ سوچ کر اس کی نیند خراب ہوگی میں دل پر جبر کیے بیٹھا رہ۔ دو بجے میں بچوں کو سکول سے پک کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ چوک پر سرخ بتی دیکھ کر میں نے گاڑی روک لی۔ اچانک میرے برابر نئی چمکتی دھمکتی مرسیڈیز آکر رکی۔ اچھی گاڑیاں ہمیشہ سے میری کمزور رہی ہیں۔ میں نے تعریفی نظروں سے گاڑی کی طرف دیکھا۔ پچھلی سیٹ پر نظر پڑی تو اس طرح اچھلا جیسے میرا پاؤں بجلی کے ننگے تار پر پڑ گیا ہو۔ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر کالی داس بڑے کروفر سے بیٹھا مجھے گھور رہا تھا۔مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر اس کے ہونٹ سکڑ گئے۔ اس کی آنکھوں میں میرے لئے نفرت و حقارت تھی ۔اشارہ سبز ہوا تو اس کی گاڑی آگے بڑھ گئی۔ میں نے بھی اپنی گاڑی آگے بڑھائی۔’’یہ کمبخت اتنی بڑی گاڑی میں بیٹھا کیا کررہا تھا۔ ہو سکتا ہے اس کا کوئی ارادتمند امیر آدمی ہو‘‘ میرے دل میں خیال آیا۔جس طرح ہمارے ہاں پیروں اور عاملوں پر لوگ اندھا اعتماد کرتے ہیں اسی طرح ہندو بھی اپنے پنڈتوں بچاریوں پر اعتقاد کے معاملے میں ہم سے پیچھے نہیں ہیں۔
بچوں کو سکول سے لے کر میں گھر پہنچا تو صائمہ کھانا تیار کرے ہم لوگوں کو انتظار کر رہی تھی۔ اس کے حسین چہرے پر گہرا اطمینان تھا۔ ابھی تک اس نے اپنے وظیفے کے بارے میں مجھے کچھ نہ بتایا تھا میں نے بھی اس خیال سے نہ پوچھا ۔ اگر مناسب ہوگا تو خود بتا دے گی۔
کھانا کھا کر میں دوبارہ بینک روانہ ہوگیا۔ شام تک کام کرکے میں کافی تھک گیا۔ کرسی کی پشت پر سر ٹکا کر میں نے آنکھیں موند لیں۔ گزشتہ رات رادھا کی دھمکی نے مجھے پریشان کر دیا تھا۔ دوسری رات بھی میں نے پریشانی کے عالم میں کاٹی۔ صائمہ بے خبر سو رہی تھی۔ میں دیر تک جاگ کر رادھا کی آواز کا منتظر رہا۔ رات کے جانے کس پہر مجھے نیند آئی۔
دوسری پھر تیسری رات بھی رادھا نہ آئی۔ مسلسل ایک ہفتے تک میں اس کا منتظر رہا۔ ’’ہو سکتا ہے صائمہ کے وظیفے نے اسے اس قابل نہ رکھا ہو کہ وہ مجھ سے مل سکے اسی لئے وہ اس رات اتنی خفا ہو رہی تھی‘‘ میں یہ سوچ کر مطمئن ہوگیا۔
اتوار کا دن تھا بچوں کے اصرار پر انہیں باہر گھمانے لے گیا۔ شہر کے نواح میں نہر کے کنارے ایک بہت خوبصورت پارک بنا ہوا تھا۔ ہم وہاں چلے گئے۔ صائمہ نے بڑی سی چادر سے خود کو اچھی طرح ڈھانپ رکھا تھا۔ باہر جاتے ہوئے یا تو وہ برقع پہنتی یا اتنی بڑی چادر اوڑھ لیتی جس سے جسم اچھی طرح ڈھک جائے۔ سیاہ کالی چادر میں اس کا گلابی رنگ کندن کی طرح دمک رہا تھا۔ چادرکو اس نے ناک پر اچھی طرح جما رکھا تھا اس طرح صرف اس کی سیاہ بھوری سے آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ سردیوں کی دھوپ ڈھلنا شروع ہوگئی تھی۔ پارک میں زیادہ رش نہ تھا۔ وہاں موجود دو تین فیملیز واپس جانے کی تیاری کر رہی تھیں۔ ہم کچھ تاخیر سے پہنچے تھے۔ بچے پارک میں آتے ہی کھیل کود میں مصروف ہوگئے۔ میں اور صائمہ ایک بنچ پر بیٹھ گئے۔ وہ گھر سے چپس، پکوڑے اور دیگر اشیائے خوردونوش بنا کر لائی تھی۔ ایک فلاسک میں چائے تھی۔ بچے کھانے کے ساتھ ساتھ کھیل بھی رہے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد پارک میں ہمارے علاوہ کوئی متنفس نہ رہا۔
ہم ابھی جانے کا سوچ ہی رہے تھے کہ ایک گاڑی پارک میں داخل ہوئی اور اس میں سے پانچ نوجوان اترے۔ حلیے سے وہ اوباش دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا جیسے ہی ان کی نظر صائمہ پر پڑی جو چائے پینے کی وجہ سے چادر چہرے سے ہٹائے بیٹھی تھی۔ وہ معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے سیدھے اسی حصے میں آکر بیٹھ گئے جہاں ہم لوگ ایک بینچ پر بیٹھے تھے۔ ہم سے تھوڑے فاصلے پر انہوں نے ایک چادر گھاس پر بچھائی اور بیٹھ گے۔ مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن یہ ایک پبلک پلیس تھی ہم کسی کو اٹھا تو نہیں سکتے تھے۔ لیکن سارا پارک چھوڑ کر انہوں نے جان بوجھ کر ہمارے نزدیک ڈیرے لگائے تھے۔ وہ بار بار صائمہ کی طرف دیکھتے اور ذومعنی فقرے کستے تھے۔ صائمہ کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ابھر آئے۔
’’فاروق! واپس چلیں‘‘ اس نے چادر کو اچھی طرح چہرے کے گرد لپیٹ کر کہا۔ میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ وہ شاید ہمارا ارادہ بھانپ چکے تھے۔ ایک لڑکے نے بیگ سے شراب کی بوتل نکالی اور منہ سے لگا کر غٹاغٹ کئی گھونٹ بھر لئے۔ جیسے ہی ہم جانے کے لئے اٹھے وہی لڑکا سیدھا ہمارے طرف آیا اس کے ہاتھ سگریٹ تھا۔
آپ کے پاس ماچس ہوگی؟‘‘ اس نے ہوس بھری نظروں سے صائمہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔’’میرا چہرہ غصے سے تپ گیا۔ صائمہ میری کیفیت بھانپ چکی تھی۔ وہ جلدی سے اٹھ کر ایک طرف کھڑی ہوگئی۔
’’نہیں‘‘ میں نے قہر آلود نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور بنچ سے کھڑا ہوگیا۔
’’ماچس نہیں ہے تو کیا ہوا! اس حسینہ کے آنچ دیتے حسن سے سگریٹ سلگا لو‘‘ گروپ میں بیٹھے لڑکوں میں سے ایک نے بلند آواز سے کہا ۔ اس کی بات سن کر باقیوں نے قہقہہ لگایا ۔ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔
’لیٹس گو فاروق!‘‘ صائمہ نے کہا۔
’’واہ۔۔۔انگریزی بولتی ہے ، لگتی بھی شکل سے میم ہے‘‘ باقی لڑکے بھی اٹھ کر ہمارے نزدیک پہنچ گئے۔ انہوں نے ہمارے گرد دائرہ بنا لیا تھا۔ سب چھٹے ہوئے بدمعاش تھے۔ میرے اندر مزید ضبط کرنے کا یارانہ رہا۔
’’تم لوگوں کو تمیز نہیں کسی شریف آدمی سے بات کرنے کی، دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ۔۔۔‘‘ میں غصے میں گرجا۔ دل تو چاہ رہا تھا ان کی گردنیں توڑ دوں لیکن صائمہ کی موجودگی میں میں کسی قسم کا ہنگامہ نہ کرنا چاہتا تھا۔
’’ورنہ۔۔۔؟‘‘ ان میں سے ایک نے طنزیہ مسکراہٹ ہونٹوں پر لا کر پوچھا۔
’’ورنہ یہ میم ہمیں تحفے میں دے دے گا۔‘‘دوسرے نے لقمہ دیا۔ اس کی بات پر سب نے قہقہہ لگایا۔ وہ حلق پھاڑ کر ہنس رہے تھے ۔ صائمہ نے جلدی سے آکر مجھے بازو سے پکڑ لیا۔
’’چھوڑیں فاروق! ان بے غیرتوں کے منہ کیا لگنا جنہیں مان بہن کی عزت کا ہی احساس نہیں‘‘ وہ دھیمے لہجے میں بولی۔ بچے ہمارے پاس آکر حیرت سے ان آدمیوں کو دیکھ رہے تھے۔
’’جاتی کہاں ہو میم صاحب! آج تک تو ایسا ہوا نہیں کہ چوہدری نواز گھمن کو کوئی لڑکی پسند آجائے اور وہ اسے خوش کیے بغیر چلی جائے‘‘ جس لڑکے نے ماچس مانگی تھی اس نے صائمہ کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔ وہی ان کا سرغنہ لگ رہا تھا۔ میں نے زور دار مکا اس کے چہرے پر جڑ دیا۔ وہ الٹ کر پیچھے جا گرا۔ میرے بدن آگ بھر گئی تھی۔ پوری قوت سے پڑے گھونسے نے اس کے سامنے والے دانت اکھاڑ دیے اور اس کے منہ سے خون جاری ہوگیا۔ باقی لڑکوں نے حیرت سے دیکھا۔ ان کے گمان میں بھی نہ تھا کہ میں اس قدر جرات کا مظاہرہ کروں گا۔ صائمہ حراساں سی ایک طرف کھڑی ہوگئی۔ گھونسا کھا کر گرنے والے نے اپنے ہاتھ سے خون صاف کرتے ہوئے ڈب سے ریوالور نکال کر مجھ پر تان لیا۔ صائمہ بچوں کو لے کر ذرا دور چلی گئی تھی۔ وہ چاروں طرف دیکھ رہی تھی تاکہ کوئی نظر آئے تو اسے مدد کے لئے پکارے۔ میں کوئی بزدل نہ تھا۔ کالج لائف میں میں نے باقاعدہ مارشل آرٹس کی تربیت حاصل کی تھی۔ میں اس فن میں بلیک بیلٹ تھا۔ ان چاروں سے نپٹنا اگرچہ آسان نہ تھا پھر بھی میں پیٹھ نہ دکھا سکتا تھا۔ انہوں نے میری غیرت کو للکارا تھا۔ جس نے خود کو چوہدری نواز کہا تھا وہ قہر آلود نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ دم بدم اس کی انگلی ٹرائگر پر سخت ہورہی تھی۔
میں چوکنے انداز میں ریوالور بدست کو دیکھ رہا تھا۔
’’اس لڑکی کو اٹھا کر میری گاڑی میں ڈالو میں اس حرامی کو ابھی قبر میں اتار کر آتا ہوں‘‘ اس نے مجھ پر نظر رکھتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہا۔
’’خدا کے لیے ہمیں جانے دو میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتی ہوں۔ ہم نے تم لوگوں کا کیا بگاڑا ہے؟‘‘ صائمہ نے نوجوان کو اپنی طرف سے بڑھتے دیکھا تو ہذیانی انداز میں چلائی۔ بچے ماں کی ٹانگوں سے چپکے رہ رہے تھے۔ مجھے موت کا خوف نہیں تھا لیکن اس کے بعد جو کچھ صائمہ کے ساتھ ہوتا مجھے اس کا خوب اندازہ تھا۔ میں اس تاک میں تھا کہ اس کی نظر ہٹے اور میں اس کے ہاتھ سے ریوالور چھین کر اس پر خالی کر دوں۔ میری رگوں میں خون کے بجائے آگ دوڑ رہی تھی۔ قریب تھا کہ دوسرا حرامی صائمہ کا ہاتھ پکڑنا اچانک میرے نتھنوں سے گلاب کی مہک ٹکرائی پھر فوراً رادھا کی سرگوشی ابھری۔
’’موہن! چنتا نہ کرو، دیکھو میں ابھی ان حرام کے جنوں سنگ کیا کرتی ہوں؟‘‘
جیسے کسی کو مفت اقلیم کی دولت مل جائے۔ میرا سینہ گز بھر چوڑا ہوگیا۔
’’حرامزادے اگر تو نے اپنی بہن کو ہاتھ بھی لگایا تو میں تمہارا خون کر دوں گا۔‘‘ میں نے گرج کر اس سے کہا جو صائمہ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ وہ ٹھٹھک کر رک گیا۔
ضرور پڑھیں: دینی مدارس کوتنگ کرنے کاسلسلہ بندکیاجائے ،مدارس کی حفاظت کرتے رہیں گے:مولانافضل الرحمن
’’ابے بزدل۔۔۔تیری ماں کا یہ خصم کیا کر سکتا ہے؟ اسے تو میں ابھی لمبا لٹا دیتا ہوں تو چھوکری کو اٹھا‘‘ پستول بردار دھاڑا۔
رادھا کے آنے سے میرا حوصلہ بہت بڑھ گیا تھا۔ میں نے ریوالور والے پر ہاتھ ڈال دیا۔ وہ بھی چوکنا کھڑا تھا۔ جلدی سے پیچھے ہٹ کر ٹرائگر دبا دیا۔ اس نے بے دریغ مجھ پر گولی چلا دی تھی۔ پستول سے ٹھس کی آواز نکلی، اس نے پھر ٹرائگر دبایا اس بار بھی ایسی آواز نکلی جیسے گولی نال میں پھنس گئی ہو۔ وہ جنون میں ریوالور کی لبلبی دباتا چلا گیا۔ نتیجہ حسب سابق رہا۔ جھنجھلاہٹ میں اس نے پستول مجھ پر کھینچ مارا۔ جسے میں نے کیچ کرلیا۔ اس کے دوست آنکھیں پھارے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے ایک نظر صائمہ کی طرف دیکھا۔ ا سکا چہرہ خوف سے سفید پڑ چکا تھا۔
’’اگر تیرے دل میں اور حسرت ہے تو وہ بھی نکال لے حرام کے نطفے! پھر میں تجھے بتاتاہوں کہ تو نے کسے للکارا ہے؟ ‘‘ میں نے دبنگ لہجے میں کہا۔ شام کا اندھیرا دم بدم گہرا ہو رہا تھا۔ وہ ابھی تک حیران تھا کہ فائرکرنے کے باوجود گولی کیوں نہیں چلی؟ چاروں اب بھی ہمیں گھیرے کھڑے تھے لیکن ان میں وہ دم خم نہ رہا تھا۔ کچھ دیر بعد انہیں ہوش آیا تو ان میں سے ایک نے پنڈلی سے بندھا خنجر نکال لیا۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ وہ خنجر پکڑے محتاط قدموں سے میری طرف بڑھ رہا تھا۔
’’موہن! اسے خنجر سے اپنے شریر پر وار کرنے دینا میں تمہیں ایک چمتکار دکھاتی ہوں؟‘‘ رادھا کی سرگوشی ایک بار پھر میرے کان میں ابھری۔ میں چونک گیا۔’’کہیں رادھا مجھے دھوکہ نہ دے دے
مجھ پرواشواس رکھو میرے میت!‘‘ اس کی شاکی آواز میرے کان کے بالکل قریب سے آئی۔ اتنے میں خنجر بدست میرے قریب آچکا تھا۔
وہ چوکنے انداز میں خنجر تولتا مجھ پر وار کرنے کے لئے تیار تھا۔ بجلی سی چمکی اور خنجر میرے سینے ٹکرا گیا۔ صائمہ کی کربناک چیخ نے فضا کا سینہ چیر دیا۔ ایک لمحے کے لیے تو میں بھی کانپ اٹھا۔ یوں لگا جیسے ابھی خنجر میرے سینے میں اتر جائے گا۔ لیکن دوسرا لمحہ سب کو حیر ت کے سمندر میں غوطہ زن کر گیا۔ وہ آنکھیں پھاڑے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ خنجرمیرے سینے سے ٹکرا کر دو ٹکڑے ہوگیا تھا۔ ان سب کے چہروں سے خوف جھلکنے لگا۔ وہ آہستہ قدموں سے پیچھے ہٹ رہے تھے۔
’’کہاں جاتے ہو اپنے باپ کو قبر میں نہ اتارو گے؟‘‘ میں نے زہر خند سے کہا’’پستول اٹھا کر ہوا میں ایک دو فائر کر دو‘‘ رادھا نے مجھے ہدایت دی۔ میں نے اسکے کہے پر حرف بحرف عمل کیا۔ علاقہ گولیوں کی گونج سے لرز گیا۔ پانچ فائر کرکے میں نے پستول کا رخ چوہدری نواز کی طرف کر دیا۔ اسکی ٹانگیں لرزنے لگیں۔
’’مم۔۔۔مجھ۔۔۔مجھے معاف کر دو میرے باپ!‘‘ اس کی گھگھیاتی آواز بمشکل نکلی۔ اس کے ساتھیوں نے اچانک دوڑ لگا دی۔ ہر بدمعاش دراصل اندر سے بزدل ہوتا ہے۔ جب انہوں نے موت اپنے سر پر منڈلاتی دیکھی تو فرار ہونا مناسب سمجھا۔ چوہدری نواز بھی بھاگنے کی فکر میں تھا لیکن پستول کی نال اس کے سینے کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ بمشکل چند گز بھاگے ہوں گے کہ اوندھے منہ جاگرے۔ کچھ دیر پڑے رہے اسکے بعد سب آکر میرے قدموں میں گر پڑے۔
ہمیں معاف کر دو استاد! ہم آئندہ بھول کر بھی تمہاری طرف نہ دیکھیں گے۔‘‘ وہ سب کو رس میں گڑگڑائے۔
’’موہن! اپنی پتنی کو لے کر ترنت یہاں سے چلے جاؤ باقی کام میں کھد کرلوں گی‘‘ رادھانے دوسری ہدایت دی۔ میں نے ایک نظر صائمہ کی طرف دیکھا وہ آنکھیں پھاڑے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ جوکچھ ہوا وہ اسے حیرت زردہ کرنے کے لیے کافی تھا۔ میں نے مومنہ کو گود میں اٹھا کر حیران پریشان کھڑی صائمہ کو چلنے کا اشارہ کیا اور گاڑی کی طرف قدم بڑھائے ۔ صائمہ نے جلدی سے احد کا ہاتھ پکڑ کر میری تقلید کی۔ وہ چاروں زمین پریوں ساکت بیٹھے تھے جیسے زندہ انسان نہں پتھر کے مجسمے ہوں۔
میں نے گاڑی سٹارٹ کی اورجلدی سے پارک سے نکل آیا۔ گھر آکر بھی کافی دیر تک صائمہ اور بچے اپ سیٹ رہے۔ دونوں بچوں نے مجھ سے متعدد سوالات کیے تھے۔ مثلاً وہ کون لوگ تھے؟ اور کیوں آپ کو مارنا چاہتے تھے؟ میں نے انہیں سمجھایا وہ اچھے لوگ نہیں تھے اور ہم سے پیسے لوٹنا چاہتے تھے۔
’’شیطان کی بات مان رہے تھے؟‘‘ احد نے معصومیت سے پوچھا۔
’’ہاں بیٹا وہ شیطان کی بات مان رہے تھے۔‘‘ میں نے اسے مطمئن کرنے کے لیے کہا ورنہ نہ جانے کتنے سوالات اورکرتا۔ سب تفریح غارت ہوگئی تھی۔ بچوں کے سونے کے بعد صائمہ کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ میرے سینے لگ کر بلک پڑی۔ میں نے پیار سے اسے تھپکا۔
’’حوصلہ کرو میری جان! کیا ہوا؟ اتنی سی بات سے گھبرا گئیں۔‘‘
’’فاروق اگر خدانخواستہ آپ کو کچھ ہو جاتا تو میں بھی زندہ نہ رہتی‘‘ اس نے جھرجھری لی۔ وہ کافی دیر روتی رہی اور میں اسے تھپک کر دلاسا دیتا رہا۔
’’ایک بات کی سمجھ نہیں آئی فاروق!‘‘ کافی دیر رو لینے کے بعد جب اس کے دل کا غبار ہلکا ہوا تو اس نے میری طرف دیکھ کر پوچھا۔
اس مردود نے جب آپ پر فائر کیا تھا تو پستول نے کام نہ کیالیکن جب آپ نے فائر کیے وہ بالکل ٹھیک کام کر رہا تھا ‘‘ اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔’’میں شش و پنج میں مبتلا ہوگیا۔ رادھا کے بارے میں اسے بتانا چاہئے یا نہیں؟ رادھا کے احسانات مجھ پر بڑھتے جا رہے تھے۔ میں سمجھ رہا تھا وہ مجھ سے ناراض ہے کیونکہ اس نے کافی دنوں سے مجھ سے کوئی رابطہ نہ کیا تھا۔ صائمہ کی سوالیہ نظریں میرے چہرے پر مرکوز تھیں ’’آپ نے بتایا نہیں فاروق! یہ سب کیا تھا؟ پستول نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ خنجر آپ کے سینے سے ٹکرا کر دو ٹکڑے ہوگئے۔ میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا۔‘‘
’’ابھی تم نے خود ہی تو کہا تھا اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے صدقے ہمیں محفوظ رکھا‘‘ میں نے پہلو بچانا چاہا۔
’’وہ تو ٹھیک ہے لیکن بظاہر کوئی وسیلہ تو ہوتا ہے نا۔۔۔شاید آپ بتانا نہیں چاہتے‘‘ اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے شکوہ کیا۔
’’یہ کارنامہ رادھا نے انجام دیا‘‘ بالآخر میں نے کہہ دیا۔ایک لمحہ کے لیے تو وہ سمجھ ہی نہ سکی پھر اسکی آنکھوں میں عجیب سے تاثرات ابھر آئے۔ وہ اس بات کو بخوبی سمجھ رہی تھی کہ رادھا نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے لیکن عورت ہونے کے ناطے اسے قطعاً گوارا نہ تھا اس کی ہم جنس(خواہ اس کا تعلق کسی اور مخلوق سے ہی کیوں نہ ہو) ہم دونوں کے درمیان آئے۔ وہ کافی دیر خاموشی سے چھت کو تکتی رہی۔
’’میں اسی لئے تمہیں نہ بتانا چاہتا تھا کہ تمہارا دل برا ہوگا‘‘ میں نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
’’یہ بات نہیں فاروق! بہرحال اس نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے اگر وہ موقع پر نہ پہنچتی تو نہ جانے وہ کمینے ۔۔۔ہمارا کیا حشر کرتے؟‘‘ اس کے چہرے پر ایک بارپھر خوف کی پرچھائیاں رقص کرنے لگیں۔
صائمہ تم نے مجھے اپنے وظیفے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا؟‘‘ محض اس کا دھیان بٹانے کے لئے میں نے موضوع تبدیل کیا۔
’’دراصل پھوپھو نے منع کیا تھا کہ وظیفے کے بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں کرنا۔ اس کے علاوہ ابھی تک مجھے کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں ملا جس سے میں سمجھ سکوں کہ مجھے کامیابی ملی ہے یا نہیں‘‘ اس نے تفصیل سے بتایا۔
’’اچھا یہ بات ہے تو پھر ٹھیک ہے پھوپھو بہتر سمجھتی ہیں ہر بات کو‘‘ میں نے کہا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا۔
’’فاروق کیا رادھا آپ کے پاس آتی رہتی ہے؟‘‘ اس کے لہجے میں اندیشے لپک رہے تھے۔
’’کک۔۔۔کیا مطلب؟‘‘ میں بری طرح گڑ بڑا گیا۔ اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنا سوال دہرایا۔ میری سمجھ میں نہ آرہا تھا اسے کیا جواب دوں؟ مجھے معلوم تھا اصل بات جان لینے سے اس کی دل آزاری ہوگی۔ وہ مر کر بھی یہ گوارا نہ کر سکتی تھی کہ میرے اور اس کے درمیان کسی اور کا تصور بھی آئے۔ مجھے خاموش دیکھ کر اس نے ایک آہ بھری اور خاموشی سے چت لیٹ کر چھت کو گھورنے لگی۔ میں نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔ کاجل بھری آنکھوں سے نکلنے والے آنسو سفید تکیے کو سیاہ کر رہے تھے۔ میں نے تڑپ کر اسے سینے سے لگا لیا۔ وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔ آنسوؤں نے میرا سینہ بھگو دیا۔ میں نے کچھ دیر اسے رونے دیا۔ اس طرح اس کے دل کا غبار ہلکا ہوگیا۔
’’آئی۔ایم سوری فاروق‘‘ غمزدہ مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر تھی۔ وہ میری طرف بھیگی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
صائمہ! تم ایک پڑھی لکھی اور باشعور عورت ہو۔ نہ آج تک میں نے کبھی تم سے جھوٹ بولا ہے نہ آئندہ کبھی ایسا ہوگا۔ اگر میں تم سے کوئی بات وقتی طور پر چھپا لیتا ہوں تو اس کا مقصد فقط یہ ہوتا ہے کہ تمہاری دل آزاری نہ ہو‘‘ آخر کار میں نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ سب کچھ صائمہ کو بتا کر فیصلہ اس پر چھوڑ دوں ‘‘ صائمہ!۔۔۔مومنہ کی بازیابی بھی رادھا کی رہین منت ہے ‘‘ اس نے حیرت سے میر طرف دیکھا۔
’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘
’’میں شروع سے سارے حالات تمہیں بتاتا ہوں‘‘ یہ کہہ کر میں نے آج تک پیش آنے والے سب واقعات اسے بتا دیئے صرف چمپا اور شکنتلا والی بات گول کر گیا۔ وہ حیرت سے آنکھیں کھولے سن رہی تھی۔ بیچ بیچ میں کوئی بات اسے سمجھ نہ آتی تو سوال کر لیتی۔ جب اسے معلوم ہوا کہ مومنہ کی بازیابی بھی رادھا کی رہین منت ہے تو اس کے چہرے پر عجیب سے تاثرات چھا گئے۔ رادھا نے جو کچھ اب تک ہم لوگوں کے لیے کیا تھا وہ کچھ کم نہ تھا اس نے ایسے ایسے مواقع پر میری مدد کی تھی جب میں ہر طرف سے مصیبتوں میں گھر چکا تھا۔
’’اتنا سب کچھ ہوتا رہا اور آپ نے مجھے بے خبر رکھا‘‘ شکوہ اس کے ہونٹوں پر آگیا۔
’’یہ بات نہیں میری جان ! تم پریشان نہ ہو اس لئے میں نے تمہیں کچھ نہ بتایا۔ ‘‘ میں نے آہستہ سے کہا
’’کیا آپ مجھے خود سے جدا سمجھتے ہیں؟‘‘ برسات اس کی آنکھوں سے پھر جاری ہونے کو تھی کہ میں نے اسے خود سے لپٹاتے ہوئے اس کی آنکھوں کو چوم لیا۔
تم تو میری روح ہو۔۔۔ایسا کبھی بھول کر بھی نہ سوچنا کہ میں تمہارے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچوں گا۔‘‘
’’فاروق کیا رادھا آپ سے ملتی ہے؟‘‘ اس کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
’’ہاں۔۔۔‘‘ بمشکل یہ لفظ میرے منہ سے نکلا۔
’’وہ کیا چاہتی ہے؟‘‘ اس کی بیزار آواز آئی۔
’’وہ چاہتی ہے تم یہ وظائف بند کر دو۔‘‘ میں نے اسے رادھا کا مطالبہ بتا دیا۔
’’تاکہ وہ کھل کر اپنی ہوس پوری کر سکے‘‘ صائمہ کے لہجے میں رادھا کے لئے نفرت ہی نفرت تھی۔
ضرور پڑھیں: ’’یقین ہے کہ اب وہ ورلڈ کپ جیت کر ہی وطن واپس لوٹیں گے‘‘ قومی ٹیم کے منیجر کا افغانستان کیخلاف میدان میں اترنے سے قبل اعلان، امید دلادی
’’تم کیوں اپنی جان ہلکان کرتی ہو۔ پھوپھو کا بتایا ہوا وظیفہ کیا تو ہے انشاء اللہ اس کا خاطر خواہ نتیجہ ضرور نکلے گا۔ اس کے بعد ہمیں ان سب مصیبتوں سے چھٹکارا مل جائے گا اور ہم دوبارہ اپنی جنت میں واپس چلے جائیں گے۔‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔
ایک آہ بھر کو وہ خاموش ہوگئی۔ ہم دونوں چپ چاپ لیٹے ہوئے تھے۔ کسی کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہ تھا۔ میں ڈر رہا تھا کہ صائمہ کو نیند نہ آئی تو کیا ہوگا۔ میرا اندازہ تھا کہ رادھا آج رات ضرور آئے گی۔
’’جانم! تم سو جاؤ۔۔۔بے کار میں سوچ سوچ کر پریشان ہوتی رہو گی۔ قسمت کا لکھا پورا ہو کر رہتا ہے۔‘‘ میں نے اس کی گھنی زلفوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
’’فاروق میں آپ کے بغیر زندہ نہیں رہ پاؤں گی۔‘‘ وہ ایک بار پھر سسکنے لگی۔
کیا میں رہ پاؤں گا؟‘‘ میری آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ میں کسی صورت صائمہ کو دکھی نہ دیکھ سکتا تھا۔ آگے کنواں تھا تو پیچھے کھائی۔ اگر میں رادھا کو ناراض کرتا تو ہم سب کے لیے خطرہ تھا۔ اگر رادھا کی خوشنودی کے لئے اسے خود سے ملنے کی اجازت دیتا تو صائمہ یہ مر کر بھی گوارا نہ کر سکتی تھی۔
’’یا اللہ میں کیا کروں‘‘ میں نے اپنے دکھتے سر کو دونوں ہاتھوں سے دبا لیا۔ رات کے بارہ بج رہے تھے ۔ رادھا کے آنے کا تقریبا یہی وقت ہوا کرتاہے ۔ میں نے کنکھیوں سے صائمہ کی طرف دیکھا وہ ہنوز جاگ رہی تھی۔
’’فاروق! رادھا آپ کو نظر آتی ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’میری جان! کیوں بے کار کی باتوں میں اتنے حسین پل گنوا رہی ہو۔ جب تم میرے پاس ہوتی ہو تو صرف اپنی باتیں کیا کرو۔ اپنے حسن کی باتیں۔۔۔پیار کی باتیں‘‘ میں نے اس کی نرم و ملائم گیسوؤں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔
’’کچھ بھی ہو اسے ہر حال میں ہمارا پیچھا چھوڑنا ہوگا۔‘‘ صائمہ نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے عزم کا اظہار ہو رہا تھا۔
’’انشا اللہ ضرور ایسا ہوگا۔‘‘ میں نے بھی صدق دل سے کہا۔
’’آپ میرا ساتھ دیں تو میں دنیا کی ہر طاقت سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتی ہوں‘‘ اس نے میرے سینے پر اپنا سر رکھ دیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ سو گئی۔ میں رادھا کے انتظار میں جاگتا رہا۔ آنکھیں بوجھل ہوتیں تو سر جھٹک کر نیند کو بھگانے کی کوشش کرتا۔ لیکن کب تک؟ آخر کار نیند مجھ پر حاوی ہوگئی۔
صبح میری آنکھ کھلی تو بچے ناشتہ کرکے سکول کے لیے تیار کھڑے تھے۔ میں نے جلدی سے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور گاڑی کی چابی لے کر باہر آگیا۔
“
’’آپ بچوں کو سکول چھوڑ آئیں میں جب تک ناشتہ تیار کرتی ہوں‘‘ صائمہ نے مسکرا کر میری طرف دیکھا
’’ٹھیک ہے سرکار! جو آپ کا حکم سیدھا سادہ بندہ ہوں‘‘ میں نے مسکین سی صورت بنائی۔
’’بالکل جلیبی کی طرح سیدھے‘‘ وہ ہنسی۔
مجھے حیرت اس بات پرتھی کہ رادھا مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئی؟ اگر وہ مجھ سے ناراض ہوتی تو میری مدد نہ کرتی۔ اس کا نہ آنا میری سمجھ سے باہر تھا۔
کیا وہ مجھ سے مایوس ہو کر مجھے چھوڑ چکی ہے؟‘‘ لاشعوری طور پر میں اس کا عادی ہو چکا تھا۔ کافی دیر تک اس دھیڑ بن میں مصروف رہا پھر سر جھٹک کر خیالات سے چھٹکارا حاصل کیا اور بچوں کو سکول چھوڑ کر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ راستے میں ایک سٹال پر رک کر میں نے اخبار خریدا اور یونہی کھڑے کھڑے سرخیوں پر نظر ڈالی۔ فرنٹ پیج پر نظر پڑتے ہی میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ خبر بڑی واضح تصاویر کے ساتھ موجود تھی۔ واقعے کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا تھا۔ اور کیوں نہ کیا جاتا مرنے والا یہاں کے معروف زمیندار اور ایم این اے کا اکلوتا بیٹا تھا۔ خبر کچھ یوں تھی۔
معروف سیاسی و سماجی شخصیت اور قومی اسمبلی کے ممبر فیاض گھمن کا اکلوتا بیٹا نواز گھمن 5 دوستوں سمیت پراسرار طور پر قتل۔
’’(کرائم رپورٹر) معروف زمیندار اور قومی اسمبلی کے ممبر چوہدری فیاض گھمن کا اکلوتا بیٹا چوہدری نواز گھمن کل شام اپنے چار دوستوں کے ساتھ دریا کے کنارے واقع پارک میں پکنک منانے گیا۔ جہاں اسے اس کے دوستوں سمیت بیدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان کے علاوہ پارک کے ایک مالی کی لاش بھی اس حالت میں ملی ہے کہ اس کا نرخرہ ادھڑا ہوا تھا۔ لاشوں کے چہرے اور جسم پر جا بجا نوکیلے پنجوں کے نشانات ملے ہیں۔ واردات میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مقتولین کے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی نہ تھا۔ ان کے جسم جا بجا گوشت سے محروم تھے جیسے کسی درندے نے ان چاروں کو بے دردی سے ادھیڑ کر ان کے جسم کا سارا خون پی لیا ہو۔ جب اس سلسلے میں ماہرین جنگلی حیات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا اس علاقے میں خون آشام درندوں کا وجود ہی نہیں ہے۔ مقتولین کے ادھڑے ہوئے جسم پارک کے ایک گوشے میں پڑے ملے۔ لاشوں کو سب سے پہلے پارک کے چوکیدار نے دریافت کیا جو اپنی شبینہ ڈیوٹی پر تھا۔ لاشیں دیکھ کر وہ حواس باختہ ہوگیا اور زور زور سے چیخنے لگا۔ پارک انتظامی نے جب اس کی چیخیں سنیں اور وہاں پہنچے تو واردات کے بارے میں معلوم ہوا۔ پولیس سرگرمی سے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارک کی کچی زمین پر جانوروں کے پنجوں کے واضح نشانات بھی ملے ہیں جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ کھوجی ماہرین کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں جو اس بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہر میں ہر طرف خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔ نامعلوم مدت کے لئے پارک بند کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی درندے کو دیکھتے تو فوراً مندرجہ ذیل نمبروں پر اطلاع دے۔‘‘
’’چچ۔۔۔چچ۔۔۔چچ کس نے اتنی بے دردی سے ان گریبوں(غریبوں) کی ہتھیا کر دی ہے؟‘‘ میرے کان کے پاس رادھا کی آواز آئی۔ میں بری طرف اچھل پڑا ۔ پہلی بار رادھا کی آواز مجھے کسی پبلک پلیس پر سنائی دی تھی۔ میں نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا میرے ساتھ کچھ اور لوگ بھی اخبار کے سٹال پر کھڑے اس خبر کو پڑھ رہے تھے۔ دو تین افراد میرے ہاتھ میں موجود اخبار پر نظریں گاڑھے بالکل میرے ساتھ جڑ کرکھڑے تھے۔۔
’’پریتم! میری آواج تمرے بن کوئی نہیں سن سکتا۔‘‘ رادھا کی آواز دوبارہ آئی میں نے اخبار تہہ کرکرکے بغل میں دبایا اور گاڑی میں آکر بیٹھ گیا۔
’’لیکن اس دن تو تمہاری آواز صائمہ نے بھی سنی تھی‘‘ میں نے اسے یاد دلایا۔
’’پرنتو تمرے سپتر اور سپتری میری آواج نہ سن پائے تھے‘‘ اس نے دلیل دی۔
’’کیوں چنتا کرتے ہو جب میں کہہ رہی ہوں میر اچھا کے بنا کوئی میری آواج سن سکتا ہے اور نہ مجھے دیکھ پاتا ہے تو تمہیں میری بات پر وشواس کرنا چاہئے‘‘ اس نے مجھے سمجھایا۔
’’اچھا چھوڑو۔۔۔یہ بتاؤ اس مالی کو کیوں مارا گیا جبکہ وہ بے قصور تھا‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔
نردوش۔۔۔؟ وہ پاپی تو سب سے جیادہ نردئی تھا۔ وہی تو تھا جو ان پاپیوں کو وہاں مدھ(شراب) پینے اور ناریوں سنگ بلات کار کرنے کا اوسر دیتا تھا۔ تم نہیں جانتے وہ کتنا پلید تھا۔ پرنتو اس کی مرتیو کا کارن یہ نہیں اس نے تمہیں ان پاپیوں سنگ جھگڑا کرتے دیکھ لیا تھا۔ یدی وہ جیوت رہتا تو ساری بات پولیس کو بتا دیتا پھر جانتے ہو کیا ہوتا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
اس کی بات سن کر میں لرز گیا۔ میرے فرشتوں کو بھی خبر نہ تھی کہ کوئی ہمیں جھگڑا کرتے دیکھ رہا ہے۔ کیونکہ اس وقت سارا پارک خالی تھا۔ میرے سینے سے طمانیت بھری سانس خارج ہوئی۔
’’میں تمہارا بہت شکر گزار ہوں کہ تم نے اس برے وقت میں میری مدد کی۔ اگر تم نہ آتیں تو نہ جانے وہ بے غیرت ہمارا کیا حشر کرتے؟‘‘ میں نے رادھا کا شکریہ ادا کیا۔
’’کیسی گیروں(غیروں) جیسی باتیں کرنے لگے ہو موہن!‘‘ جب وہ سنجیدہ ہوتی تو مجھے موہن کہہ کر مخاطب کرتی۔’’کوئی میرے موہن کو کشٹ دے اور میں اسے نرکھ میں نہ پہنچاؤں‘‘ اس کی آواز میں اپنائیت تھی۔
’’اسی لئے تو میں تمہارا شکریہ ادا کر رہا ہوں‘‘ میں نے گاڑی سٹارٹ کرکے روانہ ہوا اور وہاں سے ذرا دور ایک ویران سی جگہ پر اسے روک دیا۔
’’رادھا۔۔۔!‘‘ میں نے اسے آواز دی۔
ہوں۔۔۔!‘‘
’’تم مجھ سے ناراض ہو؟‘‘ میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
’’نہیں پریتم! یہ وچار تمرے من میں کیسے آیا؟‘‘ اس کی حیرت میں ڈوبی آواز آئی۔
’’کیا تم میرا انتجار کرتے ہو؟‘‘ اس کی آواز میں بے یقینی کے ساتھ خوشی کا تاثر بھی تھا۔
’’تم کئی راتوں سے نہیں آئیں تو میں نے سوچا کہیں تم مجھ سے ناراض نہ ہو‘‘ میں نے کہا۔
’’ہائے رام میں کتنی بھاگیہ شالی ہوں تم میری راہ تکتے ہو۔ مجھے تو وشواس ہی نہیں ہو رہا۔‘‘ اس کی خوشی سے بھرپور آواز آئی۔’’پریتم ! تم نہیں جانتے تمری اس بات سے میری بیاکل آتما کو کتنی شانتی مل ہے۔ ہے بھگوان۔۔۔! یہ میں کیا سن رہی ہوں۔‘‘ اس پر جیسے شادی مرگ کی کیفیت طاری تھی۔
’’اس میں اتنا حیران ہونے کی کیا بات ہے‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔ گاڑی میں اس کی ٹھنڈی آہ بھرنے کی آواز آئی۔
’’کیا بات ہے کیوں آہیں بھر رہی ہو؟‘‘
’’جب سے تمہیں دیکھا ہے میں روج بھگوان سے پرارتھنا کرتی ہوں وہ مجھے بھی منش بنا دے تاکہ میں تم سے مل سکوں ہر پل تمرے سنگ رہ سکوں جتنا سمے تم سے دور بتاتی ہوں جانو نرکھ میں ہوتی ہوں‘‘ اس نے اپنا دل کھول کر میرے سامنے رکھ دیا۔ میں حیران ہو رہا تھا کہ مجھ میں ایسی کیا بات ہے جو یہ نادیدہ مخلوق جس کے بار میں میں ابھی کچھ بھی نہ جانتا تھا مجھے اتنا چاہنے لگی ہے۔ یہی بات میرے ہونٹوں پر آگئی۔
’’رادھا۔۔۔!‘‘ میں نے اسے پکارا۔
’’پریم! کہو میں سن رہی ہوں‘‘ اس ی چاہت میں ڈوبی آواز میرے کان کے بالکل پاس ابھری۔
’’تم نے ایسا کیا دیکھا ہے جو مجھ سے اتنی محبت کرنے لگی ہو؟ اب سے کچھ عرصہ پہلے تو تم مجھے جانتی ہی نہ تھیں‘‘
’’بتا دوں۔۔۔؟‘‘ اس کی آواز میں شوخی تھی۔
’’اگر نہیں بتاؤ گی تو میرے دل میں خلش رہے گی۔‘‘ میں نے کہا۔
’’تم میرے موہن کا دوجا جنم ہو۔ میرا موہن تم جیسا سندر تھا مجھے اس سے ادھیک پریم تھا پرنتو۔۔۔میں نے تمہیں بتایا تھا نا تمرے دھرم کے ایک پاپی نے اسے بھسم کر دیا تھا۔ میرا جیون اس کے بنا ایسا تھا جیسے بنا آتما کے شریر۔ جب میں نے تمہیں دیکھا تو مجھے وشواس ہی نہ آیا۔ پہلا وچار جو میرے من میں آیا وہ یہ تھا بھگوان نے میری پرارتھنا سویکار کرکے میرے موہن کو ایک بار پھر سنسار میں بھیج دیا ہے۔ میں ہر پل بھگوان سے ایک ہی پرارتھنا کرتی تھی میرا موہن مجھے لوٹا دے۔ اسی کارن مجھے یوں لگا جیسے موہن واپس آگیا ہے۔ تم سارے کے سارے موہن جیسے ہو۔ اسی جیسے سندر تمرے نین ، تمرا شریر۔۔۔سب کچھ ویسا ہے جیسا میرا موہن تھا۔ ‘‘ اس کی آواز بھر آئی۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولی۔ ’’میری سکھیاں تو تم نے دیکھیں ہیں
’’وہ بلیاں جنہوں نے سادھو امر کمار کا گوشت کھایا تھا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہاں وہی۔۔۔ساری نٹ کھٹ ہیں۔ ہر رینا وہ منشوں کو ستانے کے کارن کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہیں۔ وہ رینا تمہیں یاد ہوگی جب تم لاری میں جا رہے تھے۔ میری ایک سکھی جو بہت سندر ہیلا ری جلانے والے منش کی راہ میں کھڑی ہوگئی۔ اسے یوں لگا جیسے ایک کنیا لاری سے ٹکر کھا گئی ہے۔ وہ مورکھ بہت ڈر گیا اور لاری کو روک دیا۔ سارے منش لاری سے نیچے آگئے تم بھی۔۔۔‘‘
مجھے یاد آیا جب میں ملتان جا رہا تھا اور راستے میں ڈارئیور نے یکدم بریک لگا دی تھی۔ اس کا کہنا تھا ایک لڑکی سڑک کے بچوں بیچ کھڑی تھی جو بس کے نیچے آگئی۔
’’ہاں مجھے یاد ہے پھر کیا ہوا۔۔۔؟‘‘
’’تم بھی لاری سے نیچے اتر آئے تھے۔ میں اس سمے وہیں تھیں۔ میں نے جب تمہیں دیکھا مجھے وشواس ہی نہ آیا۔ میں تمرے پاس آئی اور تمہں دیکھتے ہی من میں دھیان آیا میرا موہن اس سنسار میں پھر سے آگیا ہے۔ تمرے بارے جانکاری کے کارن میں ہرپل تمرے سنگ رہنے لگی۔ پرنتو جب معلوم پڑا تم میرے موہن نہیں ہو۔۔۔میں نراش ہوگئی۔ من چاہا تمری ہتھیا کردوں یا آتم ہتھیا(خودکشی) کرلوں۔ پرنتو جب تمری سنتان کو دیکھا تو وہ مجھے بڑے بھلے لگے۔۔۔جیسے انہوں نے میری کوکھ سے جنم لیا ہو۔ میرے من نے کہا۔۔۔رادھا! جانے کتنے ورشوں بعد تمری آشا پوری ہوئی ہے یہ موہن نہ سہی موہن جیسا توہے اس کے بعد میں نے اپنے من میں ٹھان لی تھی یہاں میرے سنگ رہو گے۔ کیول اتنی سی بات ہے ۔ میں تمہیں اس استھان پر لے آئی پریم ! تم کھد یہاں نہیں آئے۔ میں تمہیں یہاں لائی ہوں۔ کیول مجھے اتنا کرنا پڑا کہ میں تمرے بڑے گرو(افسر) کے من میں یہ ڈال دیا کہ تمہیں یہاں بھیج دے۔ اس نے میری آگیا کا پالن کرتے ہوئے تمہیں اس استھان پر بھیج دیا۔ میں نے من میں ٹھان لی اب میں تمرے سنگ رہوں گی پرنتو میری سکھیاں میرے بنا نہ رہ پائیں انہوں نے کہا رادھا! تمرے بن ہمرا من نہیں لگتا تم۔۔۔اپنے پریمی کو یہاں لے آؤ۔ اسی کارن میں تمہیں یہاں لے آئی۔ نہیں تو اس سے پہلے جتنے منش بھی یہاں بسنے آئے میں نے ان کو ٹکنے نے دیا۔ جس نے میری اچھا کے انوسار اس استھان کو نہ چھوڑا اسے سنسار چھوڑنا پڑا۔ میں تم سے پریم کرتی رہی۔ یدی تمرا بوڑھا منتر اور تمری پتنی تمہیں مجھ سے دور نہ کرتے تو میں اسی طرح تمری پوجا کرتی رہتی۔ پرنتو جب ان پاپیوں نے تمہیں مجھ سے دور کرنا چاہا تو میں۔۔۔‘‘
اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ میں حیرت سے منہ کھولے اس کی باتیں سن رہا تھا۔
’’تو وہ سب کچھ تمہارا کیا دھرا تھا۔‘‘
’’ہاں پرتیم! میں ہی تمہیں یہاں لائی ہوں۔ میں تمرے بن رہنے کا وچار بھی من میں نہیں لا سکتی۔‘‘آج وہ اپنے بارے میں بتا رہی تھی۔ یہ ایک اچھا موقع تھا اس کے بارے میں جان لینے کا اس لئے میں نے فوراً پوچھا۔
’’رادھا تم نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دو گی تمہیں یاد ہے نا؟‘‘
ہاں میرے میت! سب یاد ہے پرنتو ابھی اس سے جیادہ(زیادہ) میں نہیں بتا سکتی۔ پھر تمہیں کاہے کی چنتا ہے؟ ردھا جو کچھ بھی ہے تمری داسی ہے کیا یہ کم ہے؟‘‘ اس نے اس بار بھی میرے سوال کا جواب نہ دیا بلکہ بڑے خوبصورت انداز میں بات کو ٹال گئی۔
’’اچھی بات ہے میں اس وقت کا انتظار کروں گی جب تم خود ہی سب کچھ بتا دو‘‘ گہری سانس لے کر میں نے کہا۔
’’اوہو۔۔۔اتنے نراش کس کارن ہو رہے ہو؟ بس تھوڑا سمے رہ گیا جب تمہیں میرے بارے مٰن سب جانکاری ہو جائے گی۔ پرنتو تمہیں وچن دینا ہوگا تم میرے بارے جان لینے پر بھی مجھ سے پریم کرتے رہو گے۔‘‘ اس کی شوخ آواز آئی۔
’’تمہارے دل می یہ خوش فہمی کس نے ڈالی ہے کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں‘‘ میں نے اسے چھیڑا۔
’’اچھا جی۔۔۔یہ بات ہے تو کس کارن میرا انتجار کرتے ہو‘‘ وہ بھی شوخی سے بولی۔
’’تم سے ڈر بھی تو لگتا ہے تمیہں غصہ آجائے اور میں غریب مفت میں مارا جاؤں۔‘‘ آج اسے چھیڑنے میں مزہ آرہا تھا۔
’’سجنا!۔۔۔یدی تم تھوڑی دیر اور گھر نہ گئے تو تمری پتنی اوش تمہیں مار دے گی۔‘‘ آج رادھا حد سے زیادہ شوخی ہو رہی تھی۔
’’اوہ۔۔۔میرے خدا تمہارے ساتھ باتوں میں میں اس قدر محو ہوگیا کہ مجھے اس بات کا خیال ہی نہ رہا۔‘‘ میں نے جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ رادھا کا قہقہہ گونج اٹھا۔ نہجانے اس کے حسن کا کرشمہ تھا یا پراسرارقوتوں کا میں آہستہ آہستہ اس کی طرف کھنچتا چلا جا رہا تھا۔ مجھے اس بات کی خوشی بھی تھی کہ اس قدر طاقتور رادھا میرے ایک اشارے پر کچھ کرنے کو تیار ہے اور اس بات نے میرے دماغ میں فتور بھر دیا تھا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان سیدھے راستے سے بھٹک جاتا ہے۔
شروع شروع میں گناہ بہت چھوٹا دکھائی دیتا ہے بالکل ایک بیج کی طرح اگر کوئی چاہے تو اسے دانتوں تلے دبا کر کچل دے لیکن رفتہ رفتہ یہی بیج تناور درخت بن جاتا ہے تو اسے کاٹنا کس قدر دشوار ہوتا ہے؟ گناہ بھی دل کی سر زمین میں ایک بیج کی طرح گرتا ہے پھر غرور ، تکبر اور جھوٹ کی نمو پا کر تناور درخت بن جاتا ہے کیکر کے درخت کی طرح جس کے کانٹے ہو سو بکھر کر لوگوں کو پریشان کرتے ہیں۔ اس کی چھاؤں میں بھی کوئی بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔ ہاں تو میں بات کر رہا تھا جب میں گھر پہنچا تو صائمہ متفکر بیٹھی تھی مجھے دیکھتے ہی اس نے سوال کیا۔
’’اتنی دیر کہاں لگا دی فاروق! میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے آرہے تھے۔‘‘ مجھے خفت تو محسوس ہوئی لیکن میں نے جھٹ کہا۔
’’گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا تھا‘‘ اگر میں یہ وضاحت نہ بھی کرتا تو کوئی بات نہ تھی لیکن میرے دل میں چور تھا۔ میں نے اخبار سیٹ سے اٹھا کر صائمہ کو دیا۔
’’جلدی سے آجائیں بڑے زور کی بھوک لگی ہے‘‘ وہ اخبار تھام کر بولی۔
’’اخبار کھول کر دیکھ لو ساری بھوک اڑ جائے گی۔‘‘
’’ایسا کیا ہے اخبار میں؟‘‘ اس نے اخبار کھولتے ہوئے پوچھا۔ پھر پہلے صفحے پر نظر پڑتے ہی اس کا رنگ فق ہوگیا۔ اخبار اس کے ہاتھوں سے گر گیا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ مجھے گمان بھی نہ تھا کہ صائمہ اس خبر کا اتنا اثر لے گی خبر پر نظر پڑتے ہی خود میری حالت بھی بری ہوگئی تھی لیکن میں نے خود کو سنبھال لیا تھا۔ صائمہ چونکہ گھریلو عورت تھی اس لئے وہ بری طرح گھبرا گئی تھی۔
’’ارے جانم! اس قدر پریشان ہونے کی کیا بات ہے؟ تم خبر تو پڑھو‘‘ میں نے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے تسلی دی۔ پھر اخبار اٹھا کر وہیں کھڑے کھڑے ساری خبر اسے سنا دی۔ وہ حیرت سے منہ کھولے سن رہی تھی۔
’’یہ سب کیا ہے؟ فاروق!‘‘ اس کی گھٹی گھٹی آواز آئی۔
’’سب کچھ رادھا نے ہماری خاطر کیا ہے‘‘ میرے لہجے میں شاید کوئی ایسی بات تھی جس نے صائمہ کو چونکا دیا۔
’’لیکن آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ رادھا نے کیا ہے؟ کیا وہ رات کو پھر آئی تھی؟‘‘ا س کی جھیل سی آنکھوں میں شک کے کنول تیرنے لگے۔
’’نہیں جان! رات کو میرے فرشتوں کو بھی اس خبر کے بارے میں معلوم نہ تھا۔ واپس آتے ہوئے یونہی میں نے اخبار خرید لیا۔ جیسے ہی اس خبر پرمیری نظر پڑی میں بھی تمہاری طرح بدحواس ہوگیا تھا۔ مجھے تو معلوم ہی نہ تھا کہ وہ بد بخت اس قدر اثر رسوخ والے باپ کی گندی اولاد ہوگا۔ جب میں نے اخبار میں اس کے باپ کے بارے میں پڑھا تو معلوم ہوا ہم سے کس قدر بڑی مصیبت میں گرفتار ہو سکتے تھے۔
’’میں پوچھ رہی تھی آپ کو کسیے معلوم ہوا یہ سب کچھ رادھا نے کیا ہے؟‘‘ اس کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
’ہو سکتا ہے واقعی پارک میں کوئی درندہ آگیا ہو جس نے ان بدبختوں کو یہ سزا دی ہو‘‘ وہ شاید رادھا کی مدد کو تسلیم کرنے پر تیار نہ تھی۔
’’ہو تو سکتا ہے تمہاری بات میں وزن ہے ‘‘ میں نے پہلو بچایا۔
’’فاروق ! ادھر دیکھیں میری طرف‘‘ اس کی شاکی نظریں میری طرف اٹھی ہوئی تھیں۔
’’میرے چہرے کے تاثرات سے اسے نہ جانے کیا شک ہوگیا تھا؟
’’کیا بات ہے صائمہ؟ تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ میرے لہجے میں نہ جانے کیوں سختی در آئی۔ لاشعوری طور پر مجھے صائمہ کا یہ انداز برا لگا تھا۔ اس کی آنکھوں میں شدید حیرت اتر آئی۔ آہستہ آہستہ حسین آنکھیں بھیگنے لگیں۔ وہ جلدی سے منہ پھیر کر اندر جانے لگی۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔ میں نے لپک کر اسے پکڑ لیا اور اپنی طرف گھما کر دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی جاری تھی۔
’’بس اتنے سے مذاق پر ناراض ہوگئیں؟‘‘ میں نے اس کی پلکوں پر لرزتے موتی اپنے ہونٹوں سے چن لیے۔ وہ میرے سینے میں منہ چھپا کر سسکنے لگی۔
’’فاروق! مجھے لگ رہا ہے جیسے آپ مجھ سے دور ہوتے جا رہے ہیں؟‘‘ میں نے پورے زور سے اسے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا۔
’’یہ کیسے سوچ لیا تم نے؟ کیا تمہیں میری محبت پر صرف اتنا ہی یقین ہے؟‘‘
’’یقین تو اپنی ذات سے بھی زیادہ ہے لیکن نہ جانے کیوں میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے آرہے ہیں نہ جانے کیا ہونے والا ہے‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔
’’کچھ نہی ہوگا میری جان! بے کار کی باتوں سے خودکو پریشان نہ کیا کرو۔‘‘ میری دلاسے سے اسے کچھ تسلی ہوئی۔
’’فاروق! میں نے کچھ دن قبل ایک بہت برا خواب دیکھا تھا‘‘ اس کے لہجے میں اندیشے بول رہے تھے۔
’’انسان پریشان ہو تو اسے اس قسم کے الٹے سیدھے خواب دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے حیرت ہے اتنی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود تم اس قسم کے توہمات پر یقین رکھتی ہو۔‘‘
’’میں سب کچھ برداشت کر سکتی ہوں لیکن۔۔۔‘‘ اس کے ہونٹوں پر مغموم سی مسکراہٹ آگئی۔
’’لیکن کیا؟‘‘ میں نے اس کی زلفوں سے کھیلتے ہوئے پوچھا۔
’’آپ کی ذرا سی بے التفاتی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی‘‘ وہ میرے سینے پر اپنا چہرہ رگڑتے ہوئے بولی۔میں اسے اپنے ساتھ لگائے لاؤنج میں آگیا۔
’’محترمہ آپ کو توبڑی سخت بھوک لگ رہی تھی‘‘ میں نے اسے چھیڑا۔
’’وہ تو اب بھی لگ رہی ہے‘‘ وہ خفیف سی ہو کر بولی۔ ناشتہ کرتے ہوئے وہ نہ جانے کن سوچوں میں کھوئی رہی۔ میں بار بار اس کے حسین چہرے کو دیکھتا۔ میری نظروں کو اپنے چہرے پر محسوس کرکے وہ زبردستی کی مسکراہٹ ہونٹوں پر لے آتی لیکن تھوڑی دیر بعدپھر سوچوں میں گم ہو جاتی۔ میں جو صائمہ کے ماتھے پر فکر کی ایک لکیر دیکھ کر پریشان ہو جاتا آج نہ جانے کیوں مجھے اس کے انداز سے الجھن ہو رہی تھی۔ ناشتہ کرکے میں بینک روانہ ہوگیا۔ رخصت کرتے ہوئے بھی اس کے انداز میں وہ گرم جوشی نہ تھی۔ جو ہر صبح ہوتی۔ میرا ذہن رادھا میں اٹکا ہوا تھا۔ اس لئے میں نے بھی پرواہ نہ کی۔ نہ جانے مجھے کیا ہوگیاتھا؟ بار بار رادھا کا خیال میں ذہن میں ابھر آتا۔ کام کرتے ہوئے بھی میرے ذہن میں بار بار رادھا کے فقرے گونجتے رہے۔ اس کی شوخ باتوں کو یاد کرکے میرے ہونٹ مسکرا اٹھے۔
’’پریتم! ‘‘ میرے کان کے بالکل پاس رادھا کی پیار بھری سرگوشی ابھری۔ دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ لاشعوری طور پر میں اس کا انتظار کر رہا تھا
’’ہوں‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’مجھے یاد کر رہے تھے نا؟‘‘ اس کی شوخ آواز آئی۔
’’تم سے کس نے کہا؟‘‘ میں انجان بن گیا۔
’’تمرے من نے مجھ سے کہا ہے‘‘ اس کی آواز میں چاشنی تھی۔
’کیا بتایا ہے میرے دل نے؟‘‘ میری حالت اس وقت کسی ٹین ایجر لڑکے جیسی تھی جسے پہلی پہلی بار عشق ہوا ہو۔
’’تمرا من۔۔۔میرا میت بن گیا ہے اور تمہیں کھبر ہی نہیں میرے دیوتا!‘‘ رادھا کے پیار بھرے بول میرے دل کی پیاسی زمین پر بارش کی پھوار کی طرح پڑے۔
’’اس کا مطلب ہے تم چور ہو۔۔۔ تم نے میرا دل چرالیا ہے‘‘ مجھے اس سے باتیں کرکے مزا آرہا تھا۔
’’پریتم۔۔۔!‘‘
ہوں۔۔۔‘‘ میں ان القابات کا عادی ہو چکا تھا۔
’’کب تک۔۔۔‘‘ اچانک خاموشی چھا گئی اس کی بات ادھوری رہ گئی تھی۔ میں اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا۔ کہ دروازہ کھلا اور عمران اندر آگیا۔ پہلے دن سے میں نے اسے کہہ دیا تھا کہ وہ بلا اجازت میرے کیبن میں آجایا کرتے لیکن آج اس کا یوں آنا مجھے برا لگا۔ میں نے چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔
’’خان بھائی! خودبخود مسکرائے چلے جا رہے ہیں، کیا ہمیں اپنی خوشی میں شامل نہیں کریں گے؟‘‘ اس نے شاید شیشے سے اندر کا منظر دیکھ لیا تھا اسکی سیٹ بالکل میرے سامنے تھی۔
’’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں!‘‘ میں زبردستی مسکرایا۔
’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔‘‘ وہ گنگنایا۔’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں‘‘ دل تو چاہ رہا تھا اسے باہر بھیج دوں پر لحاظ مانع تھا۔ کچھ دیر وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا پھر میری بے توجہی محسوس کرکے باہر چلا گیا۔ جاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں حیرت تھی اورکیوں نہ ہوتی ہم تھوڑے ہی عرصے میں بہت بے تکلف ہوگئے تھے ہمارے درمیان ماتحت افسر والا رویہ نہیں بلکہ دوستوں والی گہری بے تکلفی تھی تبھی میری ذرا سی بے توجہی کو اس نے محسوس کر لیا تھا۔ لیکن اس وقت مجھے ان باتوں کی پرواہ کب تھی؟‘‘
’’پریم۔۔۔!‘‘
عمران کے جاتے ہی میرے کانوں میں رادھا کی آواز آئی۔ وہ مجھے اکثر پریم پکارنے لگی پکارنے لگی تھی۔
’’کیا تم اس وقت سے یہیں تھیں؟ میں سمجھا عمران کے آنے سے تم شاید جا چکی ہو‘‘ میں نے کہا۔
’’میں تو ہر پل تمرے پاس ہوتی ہوں کیول جس سمے تم اپنی پتنی کے پاس ہوتے ہو میں تمسے دورچلی جاتی ہوں۔‘‘ اسکی آواز میں حسرت تھی۔
’’کیوں؟ اس وقت کیوں دور چلی جاتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’مجھ سے تم دونوں کا ملن دیکھا نہیں جاتا پرتیم! مجھے اپنے من پر اختیار نہیں رہتا ڈرتی ہوں کہیں اپنا وچن توڑ نہ بیٹھوں‘‘
’’اچھا تو تمہیں صائمہ سے جلن ہوتی ہے۔‘‘ مجھے ہنسی آگئی۔
’’میں تم سے جھوٹ نہیں بولوں گی پریم! من کرتا ہے میں اور تم ایک شریر بن جائیں ہمرے بیچ کوئی نہ ہو۔۔۔موہن ! وہ سمے کب آئے گا جب میں ہمرے بیچ کوئی نہ ہوگا؟‘‘ اسکی آواز میں درد ہی درد تھا۔ میرا دل اس کی بات سے دکھی ہوگیا۔
’’رادھا تم خود ہی تو کہتی ہو وہ وقت جلد آنے والا ہے‘‘ میں نے اسے یاد دلایا۔
’’پرنتو اب تو اک پل کی دوری بھی سہن(برداشت) نہیں ہوتی میرے من مندر کے دیوتا!‘‘
’’ایک بات کہوں رادھا‘‘ میں نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
’’موہن ایسا کیوں کہتے ہو؟ کوئی بات کہنے سے پہلے تم آگیا کیوں مانگتے ہو؟ جو تمرے من میں ہو ترنت پوچھ لیا کرو۔ ‘‘ وہ بڑی اپنائیت سے بولی۔
’’ڈر بھی تولگتا ہے تم سے۔۔۔کہیں تمہیں غصہ نہ آجائے۔‘‘ میں نے اسے سچی بات بتائی۔
’’میرے میت! جب تم رادھا سے وشواس گھات نہ کرو گے میں تم سے ناراج نہ ہوں گی۔ یہ رادھا کا وچن ہے‘‘ اس نے بڑے پیار سے کہا۔
’’تم مجھے دیوتا وغیرہ نہ کہا کرو۔ مجھے بہت برا لگتا ہے۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’اس لئے کہ میں دیوی دیوتاؤں کے وجود پر یقین نہیں رکھتا۔‘‘ میں نے صاف گوئی سے کہا۔ کمرے میں گہرا سکوت چھا گیا۔
’’بس ناراض ہوگئیں!‘‘
’’یہ بات نہیں موہن! یدی تمہیں میرا یہ کہنا اچھا نہیں لگتا تو میں نہیں کہوں گی پرنتو یہ بات کرکے تم نے مجھے دکھ دیا ہے تم دیوتاؤں کو نہیں مانتے‘‘ تھوڑی دیر بعد اس کی سنجیدگی سے بھرپور آواز آئی۔
’’میں تم سے مذہب کی بحث نہیں چاہتا لیکن جو چیز مجھے اچھی نہ لگے میں اس کے بارے میں صاف کہہ دیتا ہوں کوئی بات دل میں نہیں رکھتا‘‘ میں بھی اپنی بات پر قائم رہا۔
’’اچھا چھوڑو اتنا اچھا سمے ہے اور ہم کیا بات لے کر بیٹھ گئے‘‘ اسنے مفاہت سے کہا۔
’’جو حکم‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
’’اسی طرح ہنستے رہا کرو موہن! جب تم ہنستے ہو تو پتا ہے کتنے سندر دکھتے ہو؟‘‘
’’کتنا۔۔۔؟‘‘ میں نے مزاحیہ انداز میں پوچھا۔
’’دھرتی۔۔۔نیل گگن۔۔۔تاروں سے بھی جیادہ سندر‘‘ اس کا ایک ایک لفظ چاہت میں ڈوبا ہوا تھا۔ میرا دل خوشی سے سرشار ہوگیا۔
’من تو نہیں کرتا پرنتو اس سمے میرا جیادہ دیر یہاں رکنااچھا نہیں ، میں جا رہی ہوں میرے میت!‘‘
’’پھر کب آؤ گی؟‘‘ میں نے جلدی سے پوچھا۔
’’جب تم کہو‘‘
’’اگر کسی وقت مجھے تمہاری ضرورت ہو تو میں کیسے تمہیں بلا سکتا ہوں؟‘‘
’’جب بھ تم اپنے من میں میرا وچار کرو گے میں تمرے چرنوں میں آجاؤں گی۔‘‘ اس کے بعد خامویش چھا گئی۔
میں کافی دیر بیٹھا اسکے بارے میں سوچتا رہا۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا تھا جبکہ دل کمبخت اس کا راگ الاپ رہا تھا۔ کاش میں اس وقت ان باتوں سے بچتا تو مجھے وہ دن نہ دیکھنا پڑتے جن کی وجہ سے میں موت سے بدتر حالات کا شکار ہوا۔
رادھا کے جانے کے بعد مجھے عمران کے ساتھ اپنے رویے کا احساس ہوا۔ میں نے چپراسی کو بلا کر اسے کہا عمران کومیرے پاس بھیجے۔ تھوڑی دیر میں عمران اندر آیا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی طاری تھی۔
’’ہوسکتا ہے تم مجھ سے ناراض ہو لیکن بیماری نے مجھے کچھ چڑا چڑا بنا دیا ہے۔‘‘ میں نے معذرت آمیز لہجے میں کہا۔ میری اتنی سی بات سے اس کے چہرے پر روشنی پھیل گئی۔
’’خان بھائی! میں تو سوچ رہا تھا نہ جانے مجھ سے کونسی غلطی ہوگئی جس کی وجہ سے آپ مجھ سے ناراض ہیں۔ اگر انجانے میں کوئی بھول کر بیٹھا ہوں تو آپ جو چاہے سزا دیں لیکن خدارا مجھ سے ناراض نہ ہوں‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
’’ارے۔۔۔ارے یہ کیا۔۔۔؟ اتنی سی بات پر تم رونے لگے‘‘ مجھے دلی طور پر افسوس ہو رہا تھا کہ میرے رویے نے اس شریف آدمی کا دل دکھایا۔
’پیار کو ترسا ہوا ایک تنہا انسان ہوں۔ والدین بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔ چاچا۔ چاچی نے پالا ۔ بھائی بہن بھی کوئی نہیں آپ ملے تو سمجھا میرا بھی کوئی اس دنیا میں ہے‘‘آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانے کے لیے اس نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی پھر وہ بولا۔’’میں معذرت چاہتاہوں نہ جانے کیوں دل بھر آیا۔‘‘
’’معافی نہیں ملے گی تمہارے اس قصور کی سزا یہ ہے کہ تم لوگ آج رات کا کھانا ہمارے گھر کھاؤ گے‘‘ میں نے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی طاری کر لی۔
’’خان صاحب! کیوں پٹوانے کا ارادہ ہے ،نازش کا حکم ہے آج آپ لوگوں کو جیسے چاہے گھر لے کر آؤں میں تھوڑی دیر قبل یہی بات کہنے آیا تھا لیکن آپ۔۔۔خیر چھوڑیں اگر آپ اس لاچار بے یارو مددگار فقیر پر تقصیر کو بیوی کے ظلم و ستم سے بچانا چاہتے ہیں تو براہ کرم ٹھیک آٹھ بجے میرے غریب خانے پر تشریف لے آئیں ورنہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔‘‘ اس کی وہ شوخی لوٹ آئی تھی جو اس کی فطرت کا حصہ تھی۔
’’ٹھیک ہے مابدولت تمہارے غریب خانے کو رونق ضرور بخشیں گے‘‘ میں نے کسی بادشاہ کے انداز میں کہا۔ وہ کونسا کم تھا۔ جھک کر کورنش بجا لایا۔ میرے دل پر چھایا ہوا غبار ہلکا ہوگیا تھا۔ آج صبح میرا رویہ صائمہ کے ساتھ بھی کچھ اچھا نہ تھا۔ میں جانتا تھا وہ میرے جانے کے بعد خوب روئی ہوگی۔ وہ ایسی ہی تھی میری ذرا سی بات اس کا دل دکھا دیتی تھی۔ میں نے اسی وقت گھر فون کیا۔ گھنٹی بجتی رہی میں حیران تھا کہ صائمہ فون ریسیو کیوں نہیں کر رہی؟ طرح طرح کے اندیشے میرے دل کو گھیر رہے تھے۔ کیا دیر بعد ریسور اٹھایا گیا۔
’’ہیلو‘‘ میں نے دوسری طرف آواز آنے سے پہلے کہا۔
’’جی فرمائیے‘‘ صائمہ کی خفا خفا سی آواز میرے کان میں پڑی۔
’’کیا آپ مسز فاروق بات کر رہی ہیں؟‘‘ میں نے شوخی سے پوچھا۔
’’آپ کو کس سے بات کرنا ہے؟‘‘ صائمہ کا رویہ ویسا ہی رہا۔
’’اس گھر میں ایک بہت پیاری سی خاتون رہتی ہیں سارے جہاں میں ان جیسا حسن اس بندہ نا چیز نے کہیں نہیں دیکھا۔ جب سے انہیں دیکھا ہے دل قابو میں نہیں‘‘
’’بڑے خراب ہیں اور زمانے بھر کے چالاک بھی‘‘ صائمہ کی مدھر ہنسی سنائی دی۔
’’تعریف کا شکریہ خاتون کیا آپ اس بندہ ناچیز کے ساتھ کچھ دیر پیار محبت کی باتیں کر سکتی ہیں؟‘‘
’’ہمارے پاس فضول باتوں کے لئے وقت نہیں ہے کسی اور نمبر پر ٹرائی کیجیے؟‘‘
’’ٹھیک ہے متحرمہ جو حکم‘‘ میں نے ایک مصنوعی آہ بھر کر کہا۔
’’وہ بات کیجئے جس کے لیے فون کیا تھا‘‘ وہ بولی۔
’’حال دل سننانے کے لیے کیا تھا فون،آپ نے کر دیا اس غریب کے دل کا خون‘‘میں نے مزاخیہ انداز سے کہا۔
’’بڑی شاعری ہو رہی ہے کوئی حسینہ تو سامنے نہیں بیٹھی؟‘‘ صائمہ کی مسکراتی آواز آئی۔
’’حسینہ تو ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہتی ہے پر ہے اس کے سینے میں دل کی بجائے پتھر ‘‘ میں نے آہیں بھرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔
’’یہ پتھر آپ کے پیار کی آنچ سے ایک پل میں پگھل سکتا ہے لیکن جناب کے پاس غریب بندی کے لیے وقت ہی نہیں ہے‘‘ شکوہ اس کے ہونٹوں پر آہی گیا۔
’’تھوڑی دیر بعد مابدولت آپ کی ساری شکایات دور کرنے آرہے ہیں‘‘ مزید کچھ دیر ہنسی مذاق کرنے کے بعد میں نے فون رکھ دیا۔
’’اگر اجازت ہو تو میں بحکم، گھر سرکار المعروف ہوم گورنمٹ، چھٹی کرکے امور خان داری انجام دینے چلا جاؤں‘‘ عمران نے اندر آکر کہا۔۔
’یار! تم کوئی آسان زبان نہیں بول سکتے؟‘‘ میں نے اسے گھورا۔
’’جان کی امان پاؤں تو کچھ عرض کروں؟‘‘ وہ مستی کے موڈ میں تھا۔ میرے رویے نے اس کا دل صاف کر دیا تھا۔
’’جاؤ بچو جی! تمہیں معطل کیا جاتا ہے کل صبح تک‘‘ میں نے اسی کے انداز سے کہا۔ وہ ہنستا ہوا چلا تھا۔
اسے گئے ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ محمد شریف نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔
’’آؤ آؤ محمد شریف‘‘ میں اس کے احترام میں کھڑا ہوگیا۔ وہ اپنے والد صاحب کی وفات کی وجہ سے چھٹیوں پر تھا۔ جب وہ اندر آیا تو اس کے چہرے پر مخصوص شفیق مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔ اس نے کچھ کہے کے لیے ہونٹ کھولے پھر یکدم بری طرح چونک گیا۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی۔ اب وہ لمبے لمبے سانس لے کر کچھ سونگھ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں یک بیک سرخ ہوگئیں۔اس چانک تغیر کی وجہ سے میں پریشان ہوگیا۔ کچھ دیر وہ اسی انداز میں کھڑا رہا۔ دم بدم اس کا چہرہ سرخ ہوتا جا رہا تھا۔ پھر اس نے آنکھیں بند کر لیں اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ چہرے پر جلال چھا گیا۔ میں ششدر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی حالت میری سمجھ سے باہر تھی دروازہ کھلا ہوا تھا جسے نے بند کردیا اور اس کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کی حالت میں کوئی فرق نہ آیا تھا۔ وہ سرخ چہرہ لئے آنکھیں بند کئے ساکت کھڑا تھا۔ میں کچھ کہنے والا تھا کہ اس نے آنکھیں کھول دیں۔ اس کی آنکھوں میں جیسے آگ کے الاؤ روشن تھے۔
’’یہ بدبخت ایسے باز نہیں آئے گی؟‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’تم نے مجھ سے کچھ کہا؟‘‘ میں نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا۔ اس نے ایک جھرجھری سی لی۔
’’آں۔۔۔‘‘ وہ جیسے نیند سے جاگا۔ آہستہ آہستہ اس کا چہرہ نارمل ہوگیا۔ لیکن سنجیدگی برقرار رہی۔ چند لمحے وہ خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھتا رہا۔
’’میں معذرت چاہتا ہوں جناب‘‘ کچھ دیر بعد اس کی آواز آئی۔
’’کیا بات ہے محمد شریف تم کچھ پریشان ہو؟‘‘ میں نے اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی بیٹھ گیا۔
’میں اس لئے حاضر ہوا تھا کہ کل سے میں ڈیوٹی پر آنا چاہتا ہوں‘‘ پھر وضاحت کی’’دراصل ابھی میری تین چھٹیاں باقی ہیں۔‘‘
’’محمد شریف ایسی کیا عجلت ہے تم کچھ دن آرام کر لو میں نے کہا
‘‘جناب یہ چھٹیاں بھی میں نے والد محترم کے حکم کے مطابق کی تھیں۔ اب بھی انہیں کے حکم سے واپس آرہا ہوں۔ ‘‘ اس کی بات میری سمجھ میں بالکل نہیں آئی۔
’’تم کیا کہہ رہے ہو محمد شریف، میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا‘‘
’’محترم والد صاحب میرے مرشد بھی تھے۔ اپنے وصال سے چند روز پہلے انہوں نے مجھے ہدایت دی تھی میرے وصال کے بعد تم گیارہ روز اپنے دفتر سے چھٹی کرکے یہ وظیفہ جو میں تمہیں بتا رہاہوں کرنا۔ میں نے ان کے حکم پر عمل کیا۔ کل رات حالت خواب میں مجھے حکم ہوا میں دو روز کے بعد دفتر جانا شروع کر دوں اور آج آپ کو اس بات کی اطلاع دوں بزرگوں کے حکم میں چونکہ حکمت ہوتی ہے اس لئے میں بلا چوں و چراں یہاں چلا آیا۔ لیکن یہاں آکر۔۔۔‘‘ وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر خاموش ہوگیا۔
’’کس نے حکم دیا تھا اوریہاں آکر کیا؟‘‘ میں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’میں انشاء اللہ کل سے حاضر ہو جاؤں گا‘‘ اس نے میرا سوال نظر انداز کرکے جانے کی اجازت چاہی۔ میں اس کی بات سے الجھ کر رہ گیا۔ وہ سلام کرکے چلا گیا کچھ دیر میں اس کے رویے کے بارے میں سوچتا رہا پھر سر جھٹک کر گھر جانے کی تیاری کرنے لگا۔ شام کو حسب وعدہ ہم عمران کے گھر گئے اور رات دیر تک وہیں رہے۔ دوسرے دن میں بینک جانے کے لیے روانہ ہونے لگا تو صائمہ نے ایک گلاس میں کچھ پانی مجھے دیتے ہوئے کہا ’’یہ پی لیں‘‘
’’مسز خان! آپ کے حسن کا جادو ہی کافی ہے اور کسی قسم کا جادو کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ میں نے اس کے ہاتھ سے گلاس لے کر پانی کا گھونٹ حلق میں اتارتے ہوئے ہنس کر کہا۔
’’جادو کرتی ہوگی وہ آپ کی ’’کچھ لگتی‘‘ میں تو آپ کی حفاظت کی خاطر پانی پر قرآن پاک پڑھ کر دم کرتی ہوں‘‘ اس نے کچھ لگتی پر خاصا زور دے کر کہا۔ آج وہ بڑے اچھے موڈ میں تھی۔ بینک پہنچ کر میں اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ عمران بینک کے کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ میں لاشوری طور پر رادھا کا منتظر رہا۔ رات میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ رادھا کی حوصلہ افزائی نہ کروں گا۔ لیکن صبح ہوتے ہی میں سب کچھ بھول گیا۔ دوپہر تک رادھا کی آواز نہ سنائی دی تو میں بے چین ہوگیا۔ میں شدت سے اس کا منتظر تھا۔ خود اپنی حالت میری سمجھ سے باہر تھی۔سہ پہر کے قریب میں نے بے قرار ہو کر اسے پکارا۔ بقول اس کے جب اسے یاد کروں گا وہ آجائے گی۔ صبح سے اب تک میں کئی بار اسے یاد کر چکا تھا۔ بالآخر اسے آواز دی لیکن کمرے میں سکوت چھایا رہا۔
رادھا! تم کہاں ہو؟‘‘ میں نے دوبارہ نیچی آواز میں اسے پکارا۔ تیسری بار میں نے اس بات کا خیال رکھتے ہوئے کہ میری آواز باہر نہ جائے ذرا بلند آواز سے پکارا۔ اس بار بھی اس کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔
اب میں واقعی پریشان ہوگیا ’’رادھا کیوں نہیں آئی؟‘‘ اس نے کہا تھا میں جب بھی اپنے دل میں اس کا خیال لاؤں گا وہ چلی آئے گی لیکن اب تو میں نے اسے کئی بار پکارا تھا پھر بھی وہ نہ جانے کہاں تھی؟ میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے آرہے تھے۔ اسی ادھیڑ بن میں شام ہوگئی۔ میں گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
’’موہن!‘‘ گاڑی میں رادھا کی آواز گونجی۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ لیکن میں نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔
’’پریم ! کیا اپنی داسی سے ناراج ہو؟‘‘ اس کی چاہت سے بھرپور آواز دوبارہ آئی۔
’’سارا دن میں تمہارا انتظار کرتا رہا تمہیں کئی بار میں نے آوا زبھی دی تم نے تو کہا تھا کہ میں جب بھی اپنے دل میں تمہارا خیال لاؤں گا تم آجاؤ گی‘‘ میرے لہجے کی خفگی کو اس نے فوراً محسوس کر لیا۔
’’میں مجبور تھی پریتم!‘‘ وہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولی۔
’’کیا مجبوری تھی؟‘‘ میں حیران رہ گیا۔
’’میرے آنے کی راہ بند کر دی گئی تھی‘‘ کچھ دیر بعد اس کی آواز آئی۔
’’میں سمجھا نہیں‘‘ میں نے حیرت سے کہا
’’کس نے تمہارا راستہ بند کر دیا تھا؟‘‘ تم اس قدر طاقتور ہو پھر بھی کوئی طاقت روک سکتی ہے تمہیں؟‘‘ میں اس کی بات سن کر حیران رہ گیا۔
’’تمرے دفتر میں کام کرنے والے ایک منش نے میری راہ پر پہرے بٹھا دیئے تھے‘‘ اس نے کچھ جھجکھتے ہوئے بتایا۔
’’کس نے ؟‘‘ میں نے غصے سے پوچھا۔
’’اس کا نام شریف ہے وہ مورکھ نہیں جانتا وہ کس شکتی کے آڑے آرہا ہے۔ تھوڑے سمے کو وہ سپھل (کامیاب) ہوگیا پرنتو میں جلد ہی اس کا کوئی اپائے ڈھونڈ لوں گی۔ تم نشچنت رہو میرے میت! سنسار کی کوئی شکتی رادھا سے اس کا پریمی نہیں چھین سکتی‘‘ اس کے لہجے میں چٹانوں جیسی سختی تھی۔ مجھے شریف کا وہ رویہ یاد آیا، جب وہ میرے کیبن میں داخل ہوا تھا تو اس کی حالت غیر ہوگئی تھی۔
’’اچھا تو یہ بات ہے ۔۔۔لیکن تم نے کالی داس جیسے شیطانی طاقتوں کے مالک کو ایک منٹ میں زیر کر لیا تھا‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔
’’موہن تم کس کارن بیاکل ہو رہے ہو؟ میں اس کا کوئی اپائے ڈھونڈ لوں گی‘‘ اس نے میری بات کا جواب دینے کے بجائے مجھے تسلی دی۔
’’تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ کیا شریف کالی داس سے زیادہ طاقتور ہے؟‘‘
’’یہ بات نہیں موہن!شکتیاں اس سمے تک ایک دوجے سے یدھ نہیں کرتیں جب تک انہیں ان کے بڑوں سے آگیا نہ مل جائے تم ان باتوں کو نہیں سمجھ سکو گے۔ پریم! چنتا نہ کرو میں رات کو تم سے ملنے آوش آؤں گی‘‘ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔
میں اس کی عجیب و غریب منطق کو بالکل نہ سمجھ سکا تھا۔ گھر پہنچ کر میں سب کچھ بھول گیا۔ یوں بھی صائمہ کے سامنے میں محتاط ہوگیا تھا۔ رات دیر تک جاگ کر میں اس کا انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہ آئی بالآخر میں سو گیا۔ دوسرے دن بھی یہی ہوا میں سارا دن منتظر رہا لیکن وہ نہ آئی۔ جب میں گھر جانے کے لیے روانہ ہوا تو راستے میں اس سے چند باتیں ہوئیں میرے پوچھنے پر وہ رات کو نہ آنے کی کوئی خاص وجہ بیان نہ کر سکی۔ میں اس کی باتوں سے کافی الجھ گیا تھا۔ کچھ دن اسی طرح ہوتا رہا۔ ایک دن جب رادھا اور میں گاڑی میں محو گفتگو تھے رادھا نے کہا
’’موہن! میری ایک بنتی ہے
’’کیا ؟‘ میں نے پوچھا۔
’’تم اس منش کو کہیں اور بھیج دو۔‘‘
کس آدمی کی بات کر رہی ہو؟‘‘ میں نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا۔
’’جس کا نام شریف ہے‘‘ اس نے نفرت سے کہا۔
’’کیوں؟‘‘ جانتے بوجھتے میں نے پوچھا۔
’’وہ مورکھ مجھ سے یدھ کرنے پر تلا بیٹھا ہے پرنتو وہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ میں چاہوں تو ایک پل میں اسے نرکھ میں بھیج دوں پرنتو میں نہیں چاہتی تمرے واسطے کٹھنایاں پیدا ہوں۔‘‘ وہ جز بز ہو کر بولی۔
’’لیکن رادھا! اس کا تبادلہ کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔‘‘
’’یدی تم آگیا دو تو میں کچھ کروں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تمہاری ہر بات ایک پہیلی ہوتی ہے اس بات میں میری اجازت کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ میں چڑ گیا۔
’’تم ان باتوں کو نہ سمجھ پاؤ گے پریتم! کیول تم آگیا دے دو‘‘ اس نے اصرار کیا۔
’’اس کے لئے مجھے اس کے لئے کیا کرنا ہوگا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’سمے آنے پر میں تمہیں بتا دوں گی کیا کرنا ہے ابھی مجھے وچن دو جیسا میں کہوں تم ویسا ہی کرو گے‘‘ اس نے اصرار کیا میں اس کی کسی بات کو نہ سمجھ پایا تھا لیکن اس کا دل رکھنے کی خاطر میں نے کہہ دیا۔
’’ٹھیک ہے تم جیسا کہو گی میں ویسا ہی کروں گا۔‘‘
’’دھن واد۔۔۔ میرے میت! دھن واد‘‘ اس کی خوشی سے بھرپور آواز آئی۔
’’ایک بات تو بتاؤ‘‘ میں نے گاڑی کی رفتار آہستہ کرتے ہوئے پوچھا۔ گھر پہنچنے سے پہلے میں چند باتوں کی وضاحت چاہتا ہوں۔
’’پوچھو! اس کی سانسیں میرے کان سے ٹکرا رہی تھیں۔ میرے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ وہ میرے بہت قریب تھی۔
’’یہ کالی داس کون ہے؟ پہلے سادھو امر کمار پھر اس کا استاد، اس علاقے میں اتنے سارے ہندو کہاں سے آگئے۔ جبکہ میری معلومات کے مطابق یہاں ہندو بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ بھی غریب سپیرے‘‘ بہت دنوں سے یہ بات مجھے الجھا رہی تھی۔
’’کالی داس کوئی معمولی منش نہیں اس نے سارا جیون کالی ماتا کی بھگتی میں بتا د دیا ہے اسی کارن کالی ماتا نیا سے کچھ شکتیاں دان کر رکھی ہیں وہ دھشٹ اک پل میں ہجارو(ہزاروں) کوس کا فاصلہ طے کر لیتا ہے لاکھوں بیر اس کی آگیا کا پالن کرنے کے کارن انتجار میں رہتے ہیں پرنتو آج تمہیں کالی داس کہاں سے یاد آگیا؟‘‘ اس نے تفصیل بتا کر پوچھا۔
’’کچھ دن قبل وہ ایک قیمتی گاڑی میں جا رہا تھا ٹریفک سگنل پر ہماری گاڑیاں رکیں تو وہ میری طرف بڑے معنی خیز انداز سے دیکھ رہا تھا‘‘ میں نے اسے بتایا۔
’پریم! تمہیں کس بات کی چنتا ہے؟ میرے ہوتے ہوئے کالی داس توکیا سارے سنسار کے پنڈت پجاری ملکر بھی تمہیں کشٹ نہیں دے سکتے‘‘ اس نے حسب معمول مجھے تسلی دی۔
’’پریشانی کی بات نہیں میں تو یونہی پوچھ رہا تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا ایک طرف تو تم یہ بات کہتی ہو دوسری طرف تم شریف کی وجہ سے پریشان ہو یہ معاملہ میری سمجھ سے تو بالا تر ہے‘‘ میں بری طرح الجھ گیا تھا۔
’’موہن! اس سمے میں شاید تمہیں سمجھا نہ پاؤں کیول تم اتنا جان لو کچھ شکتیاں ایسی ہوتی ہیں جن سے یدھ کرنے سے پہلے کچھ پربند کرنا پڑتا ہے تھوڑے ہی سمے میں اس کا اپائے بھی ہو جائے گا۔‘‘
’’تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں پر مجھے اس بات کی واقعی سمجھ نہیں آئی‘‘ میں نے بات ختم کی۔
’’تمرا گھر آگیا ہے پرتیم رات کو تمرے درشن کرنے اوش آؤں گی‘‘ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ گھر پہنچا تو صائمہ نے حسب معمول مسکراتے ہوئے میرا استقبال کیا لیکن آج اس کی مسکراہٹ بڑی اداس سی تھی۔آنکھیں سرخ تھیں جیسے وہ روتی رہی ہو۔ میں پریشان ہوگیا۔
’’کیا بات ہے صائمہ! تم کچھ پریشان سی ہو‘‘
’’آپ فریش ہو جائیں میں کھانا لگاتی ہوں‘‘ اس نے بریف کیس میرے ہاتھ سے لے لیا۔ بچوں کی موجودگی میں وہ شاید بتانا نہ چاہتی تھی۔ میں نے بھی زیادہ اصرار نہ کیا۔ کچھ دیر بچوں کے ساتھ کھیلتا رہا۔
کھانا کھانے اور بچوں کے سونے کے بعد وہ میرے پاس آگئی۔
’’فاروق! آج مما کا فون آیا تھا‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ اس کے چہرے سے کسی الجھن کااظہار ہو رہا تھا۔ میں نے بغیر بولے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’وہ ہمیں کچھ دنوں کے لیے بلا رہی ہیں۔‘‘
’’کیوں خیریت ہے؟‘‘ میں چونک گیا۔
’’شرجیل اور ناعمہ میں جھگڑا ہوگیا ہے ناعمہ۔۔۔مما کے گھر آگئی ہے‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔
’’صائمہ! میاں بیوی میں جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں اور ۔۔۔‘‘
’’یہ بات نہیں‘‘ وہ میری بات کاٹ کربولی’’شرجیل ناعمہ کو طلاق دینا چاہتا hہے ’’کیا۔۔۔؟‘‘ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔
’’کیا کہہ رہی ہو؟ ‘‘میں نے حیرت سے پوچھا اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’اگر ناعمہ کے ہاں کوئی بچہ ہو جاتا تو شاید وہ۔۔۔‘‘ اس کی آواز بھراگئی۔
’’آخر کوئی بات تو ہوگی؟‘‘
’’کوئی عورت شرجیل کے پیچھے پڑ گئی ہے پہلے تو وہ کہتا تھا میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں بڑی مشکل سے ناعمہ رضا مند ہوئی تھی کہ اس عورت نے شرط لگا دی پہلی بیوی کو طلاق دو گے تو میں تم سے شادی کروں گی‘‘ وہ کوئی اچھی عورت نہیں ہے۔۔۔طوائفوں کے خاندان سے تعلق ہے اس کا‘‘ آج صائمہ مجھے حیران کیے جا رہی تھی۔ شرجیل سے میری چند بار ملاقات ہوئی تھی وہ ایک سلجھا ہوا بردبار انسان تھا۔
’’شرجیل کوکیا سوجھی یہ؟‘‘ میں حیران رہ گیا۔
’’مماکہہ رہی تھیں اس عورت نے شرجیل پر جادو کروا دیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس کے پیچھے پاگل ہو رہا ہے‘‘
’’یہ تو واقعی پریشانی کی بات ہے، کیا شرجیل کو معلوم ہے وہ پیشہ ور عورت ہے؟‘‘
’’اس نے خود ناعمہ کو بتایا تھا دراصل یہ عورت کسی کیس کے سلسلے میں شرجیل سے ملنے آتی تھی شرجیل نے اسکی مدد کی ۔ انہی ملاقاتوں میں نہ جانے اس نے ایسا کیا کر دیا کہ شرجیل اس کے پیچھے دیوانہ ہوگیا‘‘ صائمہ نے تفصیل بتائی۔
’’مما چاہتی ہیں ہم کچھ دنوں کے لیے آجائیں ایک تو ناعمہ کوکچھ تسلی ہو جائے گی دوسرے شرجیل کو سمجھائیں کہ وہ اس حماقت سے باز رہے۔ میں چاہتی تھی آپ شرجیل کو سمجھائیں وہ آپ کی بڑی عزت کرتا ہے آپ کی بات نہیں ٹالے گا۔‘‘
’’ایسے معاملات میں انسان کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے وہ کسی کی بات نہیں مانتا۔بہرحال میں فون پر اس سے بات کروں گا اگر مجھے کوئی مثبت جواب ملا تو چلے چلیں گے‘‘ میں نے اس کی تسلی کی خاطر کہا۔
اچھا‘‘ وہ بہت مایوس تھی۔ اسکے چہرے پر اداسی مجھ سے دیکھی نہ جا رہی تھی۔
’’میری جان! تم فکر نہ کرو انشاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘ میں نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔
’’پتہ نہیں شرجیل کو کیا ہوگیا ہے وہ تو ناعمہ پرجان چھڑکتا تھا‘‘صائمہ نے روتے ہوئے بتایا۔
’’یہ عورت کا چکر ہی براہوتا ہے۔ اس میں بڑے بڑے پھسل جاتے ہیں بہرحال تم فکرنہ کرو جوکچھ ہم سے ہو سکا ضرورکریں گے۔‘‘ میری تسلی سے وہ کچھ مطمئن ہو کر سوگئی۔ تھوڑی دیر بعد مجھے بھی نیند آگئی۔
نہ جانے رات کا کونسا پہر تھامیری آنکھ کھل گئی۔
’’پرتیم!‘‘ رادھا کی سرگوشی سنائی دی۔
’’تھوڑی دیر کے لیے باہر آجاؤ۔ دروجے سے باہر‘‘ اس نے عجیب بات کہی۔
’’دروازے سے باہر کیوں۔۔۔لان میں کیوں نہیں؟‘‘ میں نے ایک نظر صائمہ کی طرف دیکھ کردبی آواز میں پوچھا۔
’’باہر آؤ پھر بتاتی ہوں‘‘ اس کی آواز میں بچپنی تھی۔
’’اچھا آرہاہوں‘‘ میں نے سگریٹ کا پیکٹ دروازے سے نکالا اور دبے پاؤں خوابگاہ سے نکل آیا۔ باہر نکلنے سے پہلے میں نے اوور کوٹ پہن لیا۔ جونہی میں لان میں آیا سردی کی لہر نے مجھے کپکپانے پرمجبور کر دیا۔ گیٹ کھول کرمیں باہر نکل آیا۔ ہر طرف خاموشی اور تاریکی کی چادر پھیلی ہوئی تھی۔
’’رادھا۔۔۔‘‘ میں نے باہر آکر پکارا۔ میرا خیال تھاوہ ابھی جواب دے گی لیکن خاموشی چھائی رہی۔ کچھ دیر انتظار کرکے میں نے دوبارہ اسے پکارا۔ اس بار بھی جواب نہ دارد۔
میں حیران تھا مجھ باہر بلا کر وہ کہاں چلی گئی۔یخ بستہ ہواجسم کے آر پار ہو رہی تھی میں نے سگریٹ سلگایا اور گہرے کش لینے لگا اس سے سردی کا احساس کچھ کم ہوگیا۔ ہر شے دھند میں لپٹی ہوئی تھی۔
’’رادھا۔۔۔‘‘ میں نے اس بار ذرا بلند آواز سے پکارا۔ سڑک کے کنارے لگے درختوں سے پانی کے قطرے ٹپکنے کی آواز کے سوا کچھ نہ تھا۔ سگریٹ کو ہونٹوں میں دبا کر میں نے دونوں ہاتھ کوٹ کی جیبوں میں ٹھونس لیے۔ ایسا توکچھ بہ ہوا تھا کہ رادھا مجھے بلا کر چلی گئی ہو۔ دور سے کسی کے قدموں نے چاپ سنائی دینے لگی۔میں نے چونک کر دیکھا دھند کے باعث کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا لیکن قدموں کی چاپ واضح ہوتی جا رہی تھی۔ میں گیٹ کی آڑ میں ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد کسی شخص کا دھندلا سا ہیولا نظر اایا۔ وہ سیدھا میرے گھر کی طرف چلا آرہا تھا۔ میں مزید ہٹ کربالکل گیٹ کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ اورجھری سے باہر جھانکنے لگا۔
آنے والا بالکل میرے گیٹ کے پاس آگیا۔ کچھ جانا پہچانا سا حلیہ تھا۔ آتے ہوئے چونکہ میں نے گیرج کی لائٹ آف کر دی تھی ۔ وہ کچھ اور قریب آیا تو اسے پہچان کر میں ششدر رہ گیا وہ کوئی اور نہیں محمد شریف تھا۔
اگر میں نے گیٹ کو بھیڑ نہ دیا ہوتا تو وہ مجھے دیکھ لیتا۔ اس کے ہاتھ میں کشکول نما برتن تھاجس سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ ہوا کا رخ اندر کی طرف ہونے کی وجہ سے میرے نتھنوں میں لوبان کی خوشبو اور دھواں آیا۔ میں ڈر رہا تھا کہ کہیں وہ گیٹ کھول کر اندر نہ آجائے۔ حیرت مجھے اس بات پر تھی کہ آدھی رات کے وقت محمد شریف میرے گھر کے باہر کیا کر رہا ہے؟
میں مسلسل جھری سے جھانک رہا تھا اس نے آہستہ آہستہ آواز میں کچھ پڑھنا شروع کر دیا الفاظ تو سمجھ نہ آرہے تھے لیکن محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ قرآنی آیات کا ورد کر رہا ہے۔ پڑھنے کے ساتھ وہ بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی گیٹ کے مختلف حصوں پر پھیرتا جا رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے ہاتھ میں پکڑے برتن سے کسی شے کی چٹکی بھری اور ہتھیلی پر رکھ کر اسے پھونک سے گیٹ کی طرف اڑایا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ مٹی نما کسی شے کی چھوٹی سی چٹکی نے گیٹ کے آس پاس سارے علاقے کو اس طرح لپیٹ میں لے لیا جیسے گہرا گردو غبار چھا گیا ہو۔ اس کے ساتھ ہی لوبان کی خوشبو تیز ہوگئی۔ گرد غبار تیزی سے بڑھ رہا تھا تھوڑی دیر گیراج لان سے ہوتا ہوا برآمدے اور کمروں کی طرف بڑھنے لگا۔ میں گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا اور آہستہ آہستہ قدموں سے چلتا ہوا برآمدے میں آگیا۔
ہر طرف اس قدر غبار چھایا ہوا تھا کہ برآمدے کے بلب کی روشنی بالکل مدہم ہوگئی۔ میں جلدی سے دروازہ کھول کر کاریڈور میں آگیا اور جھری سے جھانک کر دیکھا محمد شریف گیراج میں آچکا تھا۔ اگر میں وہیں کھڑا رہتا تو وہ یقیناًمجھے دیکھ لیتا۔ وہ مسلسل کچھ پڑھ رہا تھا۔ اس کی مدہم آواز میرے کانوں میں پہنچ رہی تھی۔ لان کے درمیان میں پہنچ کر وہ بیٹھ گیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ شریف کے گرد غبار قطعاً نہ تھا۔ اس کے گرد ایک ہالہ سا بناہوا تھا جیسے چاند کے گرد روشن ہالہ ہوتا ہے۔
اتنی شدید شردی کے باوجود اس نے صرف ایک چادر احرام کے طرز پر باندھ رکھی تھی۔ وہ لان کی بھگی ہوئی گھاس پر بڑے اطمینان سے آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ برتن اس نے اپنے آگے زمین پر رکھ دیا تھا جس سے اب ہلکا ہلکا دھواں اٹھ رہا تھا۔ مکان کے سامنے والا سارا حصہ دھواں نما غبار میں ڈوبا ہوا تھا۔ لوبان کی خوشبو اس قدر تیز ہوگئی تھی کہ سانس لینا دوبھر ہو رہا تھا۔ میں دروازے کی جھری سے آنکھ لگائے بغور اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے بڑے انہماک سے پڑھ رہا تھا۔ روشنی آسمان کی طرف آتی محسوس ہو رہی تھی لیکن اندر ہونے کی وجہ سے اس کا مخرج دیکھنے سے قاصر تھا۔ کھڑے کھڑے میری ٹانگیں شل ہونے لگیں لیکن تجسس مجھے وہاں رکنے پر مجبور کیے جا رہا تھا۔
شام تک میں اس کے آنے سے بالکل ہی مایوس ہو چکا تھا۔ اب میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے تھے۔ ہو سکتا ہے اسکا جاپ مکمل نہ ہوا ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کمبخت کالی داس نے اس کوئی نقصان پہنچا دیا ہو۔ لیکن اتنا تو مجھے یقین تھا کہ وہ کالی داس کے بس کی نہیں ہے۔ اچانک میرے دماغ میں جیسے جھماکا سا ہوا۔ کہیں محمد شریف کے حصار کی وجہ سے وہ نہ آپائی ہو۔ یہ سوچ کرمیرا دماغ گرم ہوگیا۔ میں نے اسی وقت محمد شریف کو بلوایا ۔ وہ جلدی سے اندر آگیا۔
’’محمد شریف کیا تم نے میرے دفتر کے حصار ختم کر دیا تھا؟‘‘ میں نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
’’جی جناب! میں نے آپ کے حکم کے مطابق کل رات ہی یہ کام کر دیا تھا‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔
’’او ر گھر کا؟‘‘
’’جی ہاں لیکن اسے مکمل طور پر ختم ہونے کے لیے دو دن لگیں گے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ٹھیک ہے تم جاؤ‘‘ میرا لہجہ بالکل سپاٹ تھا۔ اس نے افسردگی سے میری طرف دیکھا اور بنا کچھ کہے سلام کرکے واپس مڑ گیا۔ نہ جانے مجھے کیا ہوگیاتھا۔ میں رادھا کی انتظار میں بالکل ہی بچہ بن گیا تھا۔ فکر دم بدم بڑھتی جا رہی تھی۔ سہہ پہر تک میں تقریباً مایوس ہو چکا تھا۔ میں نے چابیاں اٹھائیں اور باہر نکل آیا۔ راستے میں بھی میں رادھا کے بارے میں ہی سوچتا رہا۔ اس حالت میں میرا دل گھرجانے کو بھی نہ چاہا۔ میں نے یونہی بلا ارادہ گاڑی ایک سڑک پر ڈال دی جو شہر سے باہر جا رہی تھی۔ آہستہ رفتار سے گاڑی چلائے جا رہا تھا۔ شام ہونے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ میں بینک ٹائم ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے ہی نکل آیا تھا۔ اچانک گاری نے جھٹکے لینے شروع کر دیئے۔ اور ایک دوجھٹکوں کے بعد اس کا انجن بند ہوگیا۔ اتنی دیر میں میں اسے سڑک کے کنارے لانے میں کامیاب ہوگیا۔ تھا۔’مصیبت در مصیبت‘‘ میں جھنجھلا گیا۔ پٹرول گیج پر نظر ڈالی تو ٹینکی تقریباً فل تھی۔ نیچے اتر کر بونٹ کھول کر دیکھا بظاہر کسی قسم کی خرابی نظر نہ آرہی تھی۔ لیکن میں کوئی میکنک تو نہ تھا کہ پہلی نظر میں نقص ڈھونڈ لیتا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ جس جگہ میں موجود تھا وہ تقریباً سنسان تھی دراصل خیالات میں ڈوب کر کافی دور نکل آیا تھا۔ اب شام کا دھندلکا پھیلنا شروع ہو چکا تھا۔ پرندے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ سڑک پر بسیں اور کاریں زناٹے سے گزر رہی تھیںَ میں اس آس میں ہر کار والے کو ہاتھ دیتا کہ وہ رک جائے لیکن جس قسم کے حالات کا شکار ہمارا ملک رہتا ہے اس کے پیش نظر کوئی کسی کی مدد کرکے خود کو مشکلات میں نہیں پھنسانا چاہتا۔ یوں بھی شام کا وقت تھا کوئی گاڑی والا رسک نہ لینا چاہتا تھا۔
میں نے ایک بار پھر چاروں طرف نظر دوڑائی۔ سڑک کے کنارے کھیت تھے۔ کچھ فاصلے پر مجھے کسی گاؤں کے آثار نظر آرہے تھے۔ وہ جگہ یہاں سے زیادہ دور نہ تھی۔ بمشکل بیس منٹ میں پیدل انسان وہاں پہنچ سکتا تھا لیکن گاڑی کس کے آسرے پر چھوڑتا؟ ابھی میں کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے دور کھیتوں میں ایک آدمی سڑک کی طرف آتا نظر آیا۔ میں رک کر اس کا انتظار کرنے لگا۔ میں نے برابر اس پر نظر رکھی ہوئی تھی کہیں وہ کسی دوسری طرف نہ چلا جائے۔ شام کا اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ آدمی سڑک کے قریب پہنچ گیا میں نے آگے بڑھ کر اسے آواز دی۔ اس نے مڑ کر میری طرف دیکھا پھر آہستہ قدموں سے میری طرف آنے لگا۔
’اسلام علیکم‘‘ میں نے اس کے قریب آنے پر سلام کرتے ہوئے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ اس نے میرے سلام کا جواب دیا نہ ہی میرے بڑے ہوئے ہاتھ کی طرف دیکھا۔ وہ یک ٹک میری طرف دیکھ رہا تھا۔ شکل اور حلیے سے وہ ایک مکمل دیہاتی دکھائی دے رہا تھا۔
’’بھائی! میری گاڑی خراب ہوگئی ہے اور میں اس علاقے میں اجنبی ہوں اگر قریب کہیں ورکشاپ ہو تو مجھے بتا دو۔‘‘ میں نے اس کی بے اعتنائی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے اپنی مشکل سے آگاہ کیا۔
’’ادھر گاؤں میں ایک مکینک ہے تو سہی لیکن تمہیں خود وہاں جا کر اسے بتانا پڑے گا۔ کیونکہ میری اس کے ساتھ بول چال نہیں ہے ہاں میں تمہیں وہاں تک لے جا سکتا ہوں‘‘ اس بار وہ ملائمت سے بولا۔ وہ یہاں کی مقامی زبان سرائیکی بول رہا تھا جسے اب میں کافی حد تک سمجھنے لگا تھا۔
’’ٹھیک ہے۔۔۔لیکن گاڑی یہاں کس پر چھوڑ کر جاؤں‘‘ میں نے مجبوری بتائی۔
’’کیوں موٹر کو تالہ نہیں لگتا کیا؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔
’’تالہ تو لگتا ہے ۔۔۔اچھا ٹھیک ہے ‘‘ میں نے گاڑی لاک کرتے ہوئے کہا۔
’’تمہاری مہربانی کہ تم میری مدد کر رہے ہو۔‘‘ اس نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ مڑ کر گاؤں کی طرف روانہ ہوگیا۔ میں اسکے پیچھے چل پڑا۔ مجھے یہ فکر بھی تھی کہ صائمہ میرے گھر نہ پہنچنے سے پریشان ہوگی۔ دیکھنے میں تو وہ گاؤں نزدیک لگتا تھا لیکن ہمیں تقریباً آدھ گھنٹہ چلنا پڑا تب ہم گاؤں میں داخل ہوسکے۔ رات کا اندھیرا مکمل طور پراپنے پر پھیلا چکا تھا۔ گاؤں کی گلیاں کچی تھیں جیسا کہ عموماً ہوتی ہیں۔ مجھے شکنتلا کا گاؤں یاد آگیا۔ وہ بھی اس طرح کا ایک گاؤں تھا وہاں بھی میں نے کسی متنفس کو نہ دیکھا تھا یہاں بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا تھا۔ فرق صرف دن اور رات کا تھا یوں بھی دیہاتوں میں رات سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے۔ ’’کوئی چائے خانہ یا دکان تو کھلی ہونی چاہئے تھی‘‘ میں نے سوچا۔ لیکن مجھے مزید سوچنے کا موقع نہ ملا۔ دیہاتی ایک مکان کے پاس رک گیا۔
’’یہ ہے اس کا گھر ، دروازہ کھٹکھٹاؤ کوئی باہر آئے تو کہنا مستری سے ملنا ہے۔ ‘‘ اتنا کہہ کر چلتا بنا۔ میں نے دروازے پر دستک دی۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے آواز آئی’’کون ہے؟‘‘
’’بھائی صاحب ! ذرا باہر آئیے‘‘ میں نے اونچی آواز سے کہا۔
’’اندرآجاؤ‘‘ اندر سے آواز آئی
میں جھجھکتے ہوئے اندر داخل ہوگیا۔ میرا خیال تھا یہ کوئی ورکشاپ ہوگی۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہوا میں نے خود کو ایک کچے صحن میں پایا۔ سامنے ایک چھپر نما کمرہ بنا ہوا تھا جس میں مدہم روشنی کا بلب جل رہا تھا۔ چھپر کا باقاعدہ دروازہ تھا جو کھلا ہوا تھا۔ ’’کوئی ہے؟‘‘ میں نے صحن میں کھڑے ہو کر پکارا۔
’’اندر آجاؤ‘‘ آواز دوبارہ آئی۔ وہ شخص اردو میں بات کر رہا تھا۔ میں اس بار بلا جھجھک اندر داخل ہوگیا۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہوا میرے پیچھے کھٹاک سے لکڑی کا دروازہ بند ہوگیا۔ میں بجلی کی سی تیزی سے مڑا لیکن اسی وقت کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔
میری ساری حسیات جاگ گئی تھیں۔ میں نے چوکنے انداز سے اندھیرے میں چاروں طرف دیکھنے کی کوشش کی۔ میں پھرکسی مصیبت میں پھنس چکا تھا’’کون ہو تم‘‘ سامنے آؤ‘‘ میں نے سخت لہجے میں کہا۔
’’ہا ۔۔۔ہاہا۔۔۔‘‘ کمرہ خوفناک قہقہے سے گونج اٹھا۔ قہقہے کی آواز چاروں طرف سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔
’’کیوں بالک!؟ کیسے ایک چوہے کی طرح تو میرے چرنوں میں آپڑا ہے۔‘‘ کمرے میں کالی داس کی مکروہ آواز گونجی ساتھ ہی کمرہ روشن ہوگیا۔ وہ منحوس ڈھانچہ بالکل میرے سامنے کھڑا مجھے مضحکہ خیز نظروں سے گھور رہا تھا۔
’’تم۔۔۔‘‘ اسے اپنے سامنے دیکھ کر میرے غصے کی انتہا نہ رہی۔
’’تم اتنی جلدی اپنی اوقات بھول گئے کالی داس!‘‘میں نے اسے قہر بار نظروں سے گھورا ’’واقعی تم کسی ہیجڑے کی اولاد ہو جو اتنے بزدلانہ طریقے سے مجھے ہر بار اپنے پاس بلوا لیتے ہو‘‘ میں غصے سے سلگ اٹھا۔
’’ابھی تیری یہ لپ لپ کرتی جیب(زبان) بند ہو جائے گی‘‘ وہ زہر خند سے بولا
اس کے اورمیرے درمیان کوئی زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے منہ پر تھپڑ مارنا چاہا لیکن مجھ پر انکشاف ہو اکہ میں ایک انچ بھی حرکت کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ اس خبیث نے پہلے کی طرح مجھے بے حس و حرکت کر دیا تھا۔ میں زمین پر کھڑا تھا لیکن کسی نادیدہ جکڑ بندی میں۔ میں نے زور لگا کر اس بندھن کو توڑنا چاہا لیکن بے سود۔ میں اپنے جسم پر اختیار کھو چکا تھا ۔
’’زنخے! مجھے اپنی گندی شیطانی قوت سے آزاد کرکے دیکھ میں تیرا کیا حشر کرتا ہوں؟ اس دن تو نے میری اور رادھا کی منت کرکے معافی مانگی تھی لیکن اتنی جلدی بھول گیا۔ اس بار تو ناک بھی زمین سے رگڑے گا تو معافی نہیں ملے گی‘‘ میں کسی طرح اسے باتوں میں لگا کر موقع حاصل کرنا چاہتا تھا مجھے یقین تھا کہ ابھی رادھا آجائے گی اور اس ملعون کو اس بار میں اپنے ہاتھوں سے قبرمیں اتاروں گا۔
’اس سمے کیول رادھا ہی نہیں کچھ اور شکتیاں بھی تیری سہائتا کر رہی تھیں جس کارن کالی داس بے بس ہوگیا تھا۔ پرنتو اس بارمجھے تیرے پاس وہ شکتیاں نجر نہیں آرہیں۔ میں تو اسی شبھ گھڑی کے انتجارمیں تھا مورکھ۔۔۔کب مجھے اوسر ملے اورمیں تیرا کریہ کرم کروں‘‘ کالی داس نے نفرت سے میری طرف دیکھا۔
’’بلا اپنی پریمیکا کو۔۔۔کہاں ہے وہ؟ اسے آواج دے کہ وہ آکر تجھے میرے کشٹ سے بچائے‘‘ وہ گرجا۔
’’ابھی آکر تیری وہ ماں تجھے خود جہنم میں پہنچائے گی ہیجڑے! ‘‘ میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
’’آج وہ حرام کی جنی تجھے میرے کشٹ سے بچانے نہ آپائے گی۔ میں نے پہلے ہی اس کا پربند کرلیا ہے۔ رہی تیری یہ بات کہ یدی میں تجھے چھوڑ دوں تب بھی تو میرا کچھ نہ کر پائے گا اپرادھی !کیول میں نے اس کارن تجھے باندھ دیا کہ تو ایک ملیچھ مسلا ہے اور میں نہیں چاہتا تیرے پلید ہاتھ میرا شریر چھوئیں‘‘ اسنے بڑی حقارت سے کہا۔
میں نے ایک بار پھر خودکو اس نادیدہ جکڑن سے آزاد کرانے کی کوشش کی لیکن اس شیطان نے نہ جانے کیا کیا تھا کہ میرے لئے حرکت کرنا ناممکن نہ رہاتھا۔ وہ چلتا ہوا اطمینان سے کمرے میں بچھی واحد چارپائی پربیٹھ گیا۔
’’مورکھ! کالی داسسے یدھ کرنے چلا تھا‘‘ وہ بڑبڑایا پھر اس کے ہونٹ ہلنے لگے وہ کچھ پڑھ رہا تھا۔ میں شدت سے رادھا کا منتظر تھا۔ کالی داس کی اس بات کو میں قعطاً سمجھ نہ پایا تھا ،وہ کن طاقتوں کی بات کررہا تھا جو اس دن میری مدد کر رہی تھی جب رادھا نے آگ کے گولے کو اسکے پیچھے لگا دیا تھا اور وہ اپنی زندگی کے لئے گڑ گڑا رہا تھا۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی کہہ رہا تھا کہ اس نے آج رادھا کا کوئی بندوبست کرلیا ہے۔ کیا وہ سچ کہہ رہا تھا کیا رادھا واقعی میری مددکرنے کے لیے نہیں آپائے گی؟ اگر ایسا ہوا تو یہ بات واقعی میرے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی تھی۔ کالی داس آنکھیں بند کیے کچھ پڑھنے میں مصروف تھا۔ یکدم اس نے آنکھیں کھول دیں۔ جو دہکتے سرخ انگاروں میں تبدیل ہو چکی تھیں۔ اچانک اسنے میری طرف تھوک دیا۔ تھوک کا میرے جسم پر پڑنا تھا کہ مجھے یوں لگا ہوا جیسے میرے جسم پر کسی نے تیزاب پھینک دیا ہو۔ تھوک میرے پیٹ پر پڑا اور کپڑوں کو جلاتا ہوا جسم کو بھی جلا گیا۔ میرے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔ یوں لگا جیسے کسی نے میری ناف کے پاس انگارہ رکھ دیا ہو جو آہستہ آہستہ میرے جسم کے اندر داخل ہو رہا ہے۔ میں بری طرح کسمسایا لیکن کسی نادیدہ قوت نے میرے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے تھے۔ اس کا ناپاک تھوک میرے جسم پر گر کر مجھے بے پناہ اذیت دے رہا تھا۔ میرے منہ سے مسلسل چیخیں نکل رہی تھیں۔ میری تکلیف کا اندازہ وہی شخص لگا سکتا ہے جس کے پیٹ میں کبھی گولی لگی ہو۔ تھوک تھا یا برما جومیرے پیٹ میں سوراخ کرتا جا رہا تھا۔ اذیت سے میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔تکلیف برداشت سے باہر تھی میری آنتیں تک جل رہی تھیں۔ پھر تکلیف کی شدت سے میرے ہوش و حواس ساتھ چھوڑ گئے۔
آخری احساس جو مجھے ہوا وہ یہ تھا کہ میں زمین پر گر پڑا تھا نہ جانے کتنی دیر میں بے ہوش رہا پھر دردکی ایک تیز لہر مجھے ہوش کی دنیا میں واپس لے آئی۔ میرے سر میں ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ پیٹ کی تکلیف الگ مارے ڈال رہی تھی۔ میں نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھا وہ منحوس ڈھانچہ میرے سامنے بیٹھا مجھے مضحکہ خیز نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
’’چچ۔۔۔چچ۔۔۔چچ، تیری پریمیکا تو نہ آئی مسلے! اب کیا وچار ہے؟‘‘ اس نے مضحکہ اڑایا۔’’وہ ابھاگن آبھی کیسے سکتی ہے؟ وہ تو خود اس سمے۔۔۔‘‘ بات ادھوری چھوڑ کر اس نے معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھا۔’’آج معلوم پڑے گا بلوان کون ہے؟ میں نے تجھے کہا تھا نا، میں تیرا بلیدان کالی ماتا کے پوتر چرنوں میں کروں گا اور کالی کو تیری رت(خون) سے اشنان کراؤں گا۔ کالی داس جوایک بار کہہ دے وہ پتھر پر ریکھا (لکیر) ہوتی ہے۔‘‘ میں بے بسی کی تصویر بنا اس کی بکواس سننے پرمجبور تھا۔
بولتا کیوں نہیں‘ آج تیری جیب کہاں چلی گئی پلید مسلے!‘‘ وہ گرجا۔
’’باوجود تکلیف کے میرے منہ سے نکلا۔
’’نامرد۔۔۔! اگر تجھ میں ذرا سی غیرت بھی ہے تو مجھے اپنے جادو سے آزاد کر پھر دیکھ میں تیرے اس منحوس ڈھانچے کو کیسے زمین میں اتارتا ہوں‘‘
’’رسی جل گئی بل نہ گیا‘‘ اس کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ چھا گئی۔ ‘‘ یدی تیرے متر تو بہت شکتی مان ہیں ان کے کیوں نہیں بلاتا؟‘‘ وہ برابر اپنی بکواس کرتا رہا۔ نہ جانے کس کو بار بار میرا دوست کہہ رہا تھا۔ اچانک میرے ذہن میں بجلی سی چمکی۔ وہ یقیناً محمد شریف اور اس بزرگ جن کے بارے میں کہہ رہا تھا۔ محمد شریف نے میرے سلسلے میں ان سے مدد کی درخواست کی تھی اس کے ساتھ ہی مجھے محمد شریف کے وہ الفاظ یاد آئے جو اس نے کہے تھے کہ میرے دشمن موقع کی تاک میں ہیں اس لیے مجھے حصار ختم نہیں کروانا چاہئے۔ میں نے خود اپنے لیے یہ گڑھا کھودا تھا اب کس سے شکایت کرتا؟ رادھا کی محبت میں اندھا ہو کر میں نے اس نیک انسان کی نیت پربھی شک کیا تھا۔ میرے سینے سے ایک ٹھنڈی آہ نکل گئی۔
’’اوہو۔۔۔بہت نراش ہو رہا ہے ۔۔۔کیا ہوا؟ دیکھ کیسے بندی بنا میرے چرنوں میں پڑا ہے؟ تجھ میں تو اتنی شکتی بھی نہیں ہے اپنے شریر کو اپنی اچھا کے انوسار ہلا سکے‘‘ وہ مسلسل میرا مزاق اڑاتا رہا۔
تکلیف کی شدت سے میرے منہ سے کراہیں نکل رہی تھیں۔ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ میں کتنی دیر بے ہوش رہا۔ ایک منٹ ایک گھنٹہ یا ایک رات۔ کمرے میں روشنی تھی لیکن اس کا مخرج نظر نہ آرہا تھا۔ ہر چیز ویسے ہی تھی سوائے اس کے کہ میں اب کھڑا ہونے کے بجائے زمین پر پڑا تھا اور میرا دشمن وہ جہنمی ڈھانچہ میرے سامنے چارپائی پر بڑے کروفرسے نیم دراز تھا۔ اذیت میری برداشت سے باہر ہو چکی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میرے منہ سے کراہیں نکل رہی تھیں۔
’بس بہت ہو چکا۔۔۔اب تیرا انتم سمے(آخری وقت)آگیا ہے یدی کوئی آشا تیرے من میں کلبلا رہی ہے توبتامیں تجھے جیون بھکشا کے سوا سب کچھ دان کر سکتا ہوں‘ وہ بڑے غرور سے بولا۔
میں کیا جواب دیتا، بے بسی سے پڑا رہا۔ وہ کچھ دیر میری طرف دیکھتا رہا پھر اٹھ کر میرے پاس آگیا۔ میرے سر پرکھڑے ہو کر اسنے ایک بار پھر کچھ پڑھنا شروع کر دیا تھا۔ میرا سانس گھٹنے لگا۔ کوئی نادیدہ ہاتھ میرا گلا دبا رہے تھے۔ بظاہر وہ مجھ سے گز بھر کے فاصلے پر تھا لیکن اپنے جادوکے زور سے وہ کچھ کر رہا تھا۔ میری آنکھوں کے گرد اندھیرا چھانے لگا۔ شاید میرا آخری وقت آگیا تھا۔ آنکھوں کے سامنے بچوں اور صائمہ کے چہرے گھومنے لگے۔ بے بسی کے احساس سے میرا دل ڈوبنے لگا۔
اچانک دروازہ ایک دھماکے سے کھلا۔ کالی داس جو آنکھیں بند کئے کچھ پڑھ رہ تھا اچھل پڑا۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ میں چونکہ دروازے کے سامنے زمین پر پڑا تھا اس لیے گردن گھمائے بغیر دروازے کو دیکھ سکتا تھا جس کے بیچوں بیچ ملنگ کھڑا تھا۔ وہی ملنگ جس نے کل مجھے بس کے خوفناک حادثے سے بچایا تھا۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ملنگ کے چہرے پر جلال چھایا ہوا تھا۔ وہ لال انگارہ قہر نظروں سے کالی داس کو گھور رہا تھا۔ مجھے کالی داس کے چہرے پر خوف نظر آیا۔ ملنگ کے لب ہلے اور کمرے میں اس کی پاٹ دار آواز گونجی۔
’’شیطان مردود! تیرا حوصلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ تو ہمارے علاقے میں آکر ایسی جرات کرے‘‘ کالی داس کی حالت میں واضح تبدیلی آئی تھی۔ اب وہ بری طرح بد حواس نظر آرہا تھا۔ اس کے ہونٹ ساکت ہو چکے تھے۔ وہ کسی ایسے چوہے کی مانند جسے بلی نے کونے میں گھیر لیا ہو بے بس نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہا تھا۔ ملنگ نے میری طرف دیکھا پھر اس کی نظر جیسے ہی میرے پیٹ پر پڑی اسکے ہونٹ سکڑ گئے۔ وہ جلدی سے آگے بڑھا اور میرے قریب آگیا۔ میری شرٹ ہٹا کر غور سے میرے پیٹ پر پڑے زحم کو دیکھا پھر دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر تھوک ڈال کر میرے پیٹ پر مل دیا۔ جیسے کسی نے میرے زخم پر مرچیں چھڑک دی ہوں۔ میرے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔ کالی داس نے جب ملنگ کو میری طرف متوجہ دیکھا تو ایک زقند بھری اور کمرے سے باہر نکل گیا۔ ملنگ بجلی کی سی تیزی سے مڑا لیکن کالی داس اس پر سبقت لے گیا تھا۔ ملنگ بھی ہوا کے بگولے کی مانند اس کے پیچھے لپکا۔ میں کمرے میں تنہا رہ گیا۔ تکلیف اب بھی محسوس ہو رہی تھی لیکن اس میں کمی آگئی تھی۔ اچانک مجھے محسوس ہوا جیسے میرا جسم جکڑن سے آزاد ہوگیا میں جسم کو حرکت دے سکتا ہوں۔ میں فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا۔ سب سے پہلے میں نے اپنے پیٹ پر نظر ڈالی۔ شرٹ میں کافی بڑا سوراخ بن چکا تھا۔ میں نے جلدی سے شرٹ ہٹا کر دیکھا میرے پیٹ پر ناف کے قریب بڑا سا چھالا بنا ہوا تھا۔ جیسے جلنے سے بنتا ہے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے اسے ہاتھ لگایا وہ پھٹ گیا۔ ایک بار پھر تکلیف نے مجھے کراہنے پر مجبور کر دیا۔ میں ہمت کرکے اٹھ بیٹھا۔ کمرے میں وہی مدہم بلب روشن تھا جو میں نے اندر آتے وقت دیکھا تھا۔
کالی داس اور ملنگ دونوں غائب ہو چکے تھے۔ ہر سو سکوت مرگ چھایا ہوا تھا۔ میں لڑکھڑاتا ہوا پہلے کمرے، پھر اس منحوس گھر سے باہر آگیا۔ اب سڑک تک جانے کا مسئلہ تھا۔ مجھے زبردست نقاہت محسوس ہو رہی تھی۔ بہرطور یہ فاصلہ تو طے کرنا ہی تھا۔ میں کسی نہ کسی طرح گرتا پڑتا سڑک تک پہنچ گیا۔ اس کام میں کافی وقت لگ گیا۔ اس حالت میں جبکہ میری گاڑی بھی خراب ہو چکی ہے میں کیسے گھر جاؤں گا؟ یہ سوال بار بار میرے ذہن میں گونج رہا تھا۔ میں نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور شکر ادا کیا کہ گاڑی کی چابی موجود تھی۔ دروازہ کھول کر میں نے خود کو سیٹ پر گرا دیا۔ کچھ دیر گہری گہری سانسیں لینے کے بعد میں نے چابی کو اگنیشن سوئچ میں لگا کر کوشش کی گاڑی فوراً سٹارٹ ہوگئی۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ نظر گاڑی میں لگی گھڑی پر پڑی تو میں بری طرح چونک گیا۔ رات کے دو بج رہے تھے۔ میں نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ زخم کے مقام پر درد اب بھی ہو رہا تھا لیکن اس کی شدت میں کمی واقع ہوگئی تھی۔ جیسے ہی میں نے گھر پہنچ کر ہارن بجایا۔ صائمہ نے فوراً گیٹ کھول دیا شاید وہ برآمدے میں ہی کھڑی تھی۔ میں گاڑی پورچ میں روک نیچے اترا اتنے میں وہ گیٹ بند کرکے بھاگ کر میری پاس آچکی تھی۔ میں پیٹ ہر ہاتھ رکھ کر نیچے اترا میری حالت دیکھ کر وہ ہذیانی انداز میں چلائی۔
’’فاروق! کیا ہوا آ۔۔۔آ۔۔۔آپ کی حالت تو کافی خراب ہے۔‘‘ اس نے میرے سراپا پر نظر ڈالی۔
’’کچھ نہیں ایک معمولی سا حادثہ ہوگیا تھا‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’یا اللہ خیر‘‘ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا
’’آپ بتاتے کیوں نہیں کیا حادثہ ہوا؟‘‘ اس نے مجھے سہارا دیا۔
میں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں کوئی سریس زخم نہیں لگا۔‘‘ میں اس کے سہارے چلتا ہوا اندر آگیا۔ اس کے بعد اس نے کوئی سوال نہ کیا۔ بیڈ روم میں پہنچ کر میں بیڈ پر بیٹھ گیا۔ اس نے جلدی سے میرے جوتے اتار دیے۔
’’آپ آرام سے لیٹ جائیں‘‘ اس نے پیار سے کہا۔ جیسے ہی اس کی نظر میرے چہرے پر پڑی اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔
’ہائے اللہ ! آپ کے ماتھے پر بہت بڑا زخم لگا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کچھ نہیں ہوا۔‘‘ اس کی نرگسی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر بھاگ کر لاؤنج سے ڈریسنگ کا سامان لے آئی۔ اس دوران میں شرٹ اتار کر لیٹ چکا تھا۔ میرے جسم سے ٹیسیں اٹھ رہی تھی۔ گرنے کی وجہ سے ماتھے پر شدید چوٹ آئی تھی۔ اس وقت تو پیٹ کی تکلیف اتنی شدید تھی کہ کسی اور طرف دھیان ہی نہ گیا تھا۔ صائمہ نے جلدی سے زخم صاف کرکے دوا لگائی اور ڈریسنگ کر دی۔ پھر میرے پیٹ پر نظر پڑی تو حیران رہ گئی۔ ’’اس نے اٹھ کر بڑی لائٹ جلائی اور غور سے دیکھنے لگی۔
’’فاروق! آپ بتاتے کیوں نہیں؟‘‘ کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔
’’اس زخم پر بھی دوا لگا دو پھر بتاتا ہوں‘‘ میرا ذہن مسلسل اس سوچ میں مصروف تھا کہ صائمہ کو کیا بتاؤں۔ میں اسے اصل بات نہ بتانا چاہتا تھا خومخواہ وہ پریشان ہوتی۔
میں جس قسم کے حالات میں گھر چکا تھا اس میں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ صائمہ خاموشی سے زخم پر کوئی مرہم لگا رہی تھی۔ وہ بار بار میرے چہرے کی طرف دیکھتی کہ مجھے تکلیف تو نہیں ہو رہی۔
’اب ایک کپ چائے پلا دو تو بڑی مہربانی ہوگی‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مجھے مسکراتے دیکھ کر اس نے بھیگی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔
’’نہیں پہلے آپ بتائیں یہ کیا ہوا؟‘‘
’راستے میں گاڑی بند ہوگئی۔ میں نے دیکھا تو بیٹری کی چارجنگ میں کوئی گڑ بڑ تھی۔ اترکر چیک کیا تو اسی میں پانی کی ایک بوند بھی نہ تھی۔ گاڑی وہی کھڑی کرکے میں نے کچھ دور ایک دوکان سے تیزاب خریدا تاکہ بیٹری میں ڈال سکوں۔ بوتل کھولتے ہوئے وہ میرے اوپر گر گیا۔ تیزی سے پیچھے ہٹا تو پاؤں رپٹ گیا اور میں سڑک کے کنارے موجود گڑھے میں گر گیا۔ نیچے شاید کوئی پتھر پڑا تھا میرا سر اس پر جا لگا جس کی وجہ سے میں بے ہوش ہوگیا۔کتنی دیر بے ہوش رہا یہ تو مجھے معلوم نہ ہو سکا لیکن اندازہ ہے کہ چار پانچ گھنٹے تو گزر گئے ہوں گے۔‘‘ میں نے کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے اسے ایک کہانی سنا دی۔
’ارے تین بج رہے ہیں‘‘ میں نے حیران ہونے کی اداکاری کی۔وہ حیرت سے منہ کھولے میری بات سن رہی تھی۔
’’خدا کا شکر ہے اس نے آپ کی حفاظت کی ‘‘ اس نے اوپر دیکھتے ہوئے شکر ادا کیا۔لیکن کیا وہ جگہ اتنی ہی سنسان تھی کہ کوئی بھی نہ تھا اور کس قسم کا گڑھا تھا جو سڑک کے کنارے بنا ہو اتھا۔
’خدا برباد کرے حکمرانوں کو سب کچھ خود کھا جاتے ہیں ملک پر تو کچھ لگاتے ہی نہیں‘‘ وہ عورتوں کے مخصوص انداز میں انتظامیہ کو کوسنے لگی۔
میں نے شکر کیا کہ اس نے میری بے سروپا کہانی پر یقین کر لای تھا۔ دراصل مجھے بخیریت دیکھ کر اس نے اور کچھ نہ سوچا۔
’’میں چائے اور درد سے آرام کے لیے دوا لاتی ہوں‘‘ یہ کہہ کر وہ جلدی سے کچن کی طرف چلی گئی۔ میرا ذہن ایک بار پھر گزرے واقعہ کی طرف چلا گیا۔ بد بخت کالی داس بہت کمینہ خصلت ثابت ہوا تھا۔ اس نے مجھ سے اور رادھا سے معافی مانگ کر جان بچالی تھی لیکن بدبخت موقع کی تاک میں تھا۔ رادھا کیوں نہیں آئی؟ میرے ذہن میں بار بار ایک ہی سوال چکرا رہا تھا۔ اگر آج ملنگ میری مدد نہ کرتا تو شاید کالی داس اپنے دل کی تمام حرستیں نکال کر دم لیتا۔
’’کہیں کالی داس نے رادھا کو۔۔۔‘‘ میرے ذہن میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے۔
’نہیں۔۔۔نہیں کالی داس بے شک کسی طرح اسے وقتی طور پر روکنے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن اب ایسا بھی نہ تھا کہ وہ رادھا کو نقصان پہنچا سکتا۔
’’یہ سب کچھ اسی رادھا کی وجہ سے ہی تو ہو رہا ہے‘‘ میرے اندر سے آواز آئی۔ وہ میرے پیچھے پڑی تھی اور کالی داس جیسے مردود اسے حاصل کرنے کے لیے میرے جا رہے تھے۔ میرا دل رادھا کی طرف سے بدگمان ہو چکا تھا۔ جس طرح آج وہ کسی وجہ سے نہ پہنچ سکی تھی اسی طرح مصیبت کے کسی بھی گھڑی میں اسکا غائب ہونا ممکن تھا۔
’یہ لیں دوا۔۔۔چائے کے ساتھ کھا لیں انشاء اللہ آرام آجائے گا۔‘‘ صائمہ کی آواز نے مجھے چونکا دیا۔ دوا کھانے کے بعد میں نے گرما گرم چائے کی پیالی پی جس سے مجھے کافی افاقہ محسوس ہوا۔ ہلنے جلنے کی صورت میں پیٹ کا زخم تکلیف دینے لگتا۔ صائمہ میرے پاس بیٹھی میری ٹانگیں دباتی رہی۔ وفاکی اس پتلی نے اطاعت گزاربیوی ہونے کا حق ہر لمحہ ادا کیا تھا۔ میں اس کا مجرم تھا اس کی وفاؤں کا جواب بے وفائی سے دے رہا تھا شاید اسی لئے میں ہر وقت مشکلات میں گھرا رہتا۔
چوٹ کی وجہ سے مجھے وقتی طورپر بخار ہوگیا تھا اس لیے ایک دن کی چھٹی لینا پڑی۔ دوسرے دن بینک جا کر میں نے سب سے پہلے محمد شریف کو بلوایا اور اسے اپنے اس دن کے رویے کی معذرت چاہی۔
’جناب عالی! کیوں شرمندہ کرتے ہیں‘‘ وہ خجل ہوگیا۔ میرے ذہن سے بوجھ ہٹ گیا۔ بچوں کو سکول سے لانے کے بعد میں نے باقی وقت گھر پر گزارا۔ صائمہ میرا ہر طرح خیال رکھ رہی تھی۔ رادھا ابھی تک نہ آئی تھی۔ اب مجھے اس کی کچھ خاص پرواہ نہ رہی تھی۔ میں اپنی دنیا میں مست ہوگیا۔ ایک ہفتہ گزر گیا۔ صائمہ اب بالکل مطمئن ہوچکی تھی۔ اس دوران رادھا کا ذکر تک ہمارے درمیان نہ ہوا۔ دوسرے دن اتوار تھا میں اور صائمہ رات دیر تک جاگ کر باتیں کرتے رہے پھر سو گئے۔ رات کا جانے کونسا پہر تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔
’’پریم‘‘ میرے کانوں میں رادھا کی مدہم سرگوشی ابھری۔ میں بری طرح چونک گیا۔
’پریم!یہ میں ہوں تمری رادھا‘‘ اس بار اس کی واضح آواز میرے کانوں میں آئی۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ میں تو سمجھ رہا تھا اس خوبصورت بلا سے میری جان چھوٹ گئی ہے لیکن وہ ایک بار پھر آگئی تھی۔
’’موہن!‘‘ اس بار کی سنجیدہ آواز آئی۔
’’کیا تم میری بات نہیں سن رہے؟‘‘
’’سن رہا ہوں‘‘ میں نے بے اعتنائی سے جواب دیا۔’کیا تم تھوڑے سمے کے لئے باہر آسکتے ہو؟‘‘ اس نے التجا آمیز لہجے میں کہا۔
’’میں نے ایک نظر صائمہ کی طرف دیکھا وہ بے خبر سو رہی تھی۔ اس کے گھنے ملائم بال تکیے پر بکھرے ہوئے تھے۔
’’جانتی ہوں مجھ ابھاگن سے ناراج ہو پرنتو اس میں میرا کوئی دوش نہیں۔‘‘
’’ہاں سارا قصور تو میرا ہے‘‘ میں نے جل کر کہا۔
’’کیا تم اپنی داسی کو کچھ کہنے کا اوسرنہیں دو گے؟‘‘وہ مسلسل معافی مانگتی رہی۔
’’اک پل باہر آجاؤ یدی اسکیک بعد بھی تم ناراج رہے تو میں چلی جاؤں گی، میری اتنی سی بنتی مان لو پریم!‘‘ اسکی سسکی نما سرگوشی سنائی دی۔
’’میں آہستہ سے اٹھا دراز سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور گرم چادر اوڑھ کر باہر نکل آیا۔ آخری تاریخوں کا چاند اپنی زرد روشنی پھیلانے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔ آہستہ سے کوریڈور کا دروازہ بند کرکے برآمدے میں آگیا۔ لان میں کوئی نہ تھا۔ میں نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں وہ مجھے کہیں نظر نہ آئی۔ ایک بار پہلے بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ جب رادھا نے مجھے باہر بلایا تھا لیکن اس کی بجائے محمد شریف موجود تھا۔ میں آہستہ سے چلتا ہوا لان میں آگیا۔ ماحول سردی سے ٹھٹھرا ہوا تھا۔
’’رادھا‘‘ باہر آکرمیں نے پکارا۔
’پریم‘‘ میرے بالکل پیچھے رادھا کی خمار آلود آواز آئی۔ میں نے تیزی سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔وہ سراپا ناز میری آنکھوں کے سامنے تھی۔ سبز رنگ کی ساڑھی میں اس کا کندن بدن دمک رہاتھا۔ ماتھے پر لگی تلک کسی ہیرے کی طرح چمک رہی تھی۔ بڑی بڑی غزالی آنکھوں میں سارے جہان کا خمار بھرا ہوا تھا۔ آنکھیں کیا تھیں شراب خانے تھے۔ میری نظر اٹھی تو جھکنا بھول گئی۔ وہ سب عہدو پیمان جو میں نے خود سے کیے تھے اسکے حسن کے سیلاب کے آگے خس و خاشاک کی طرح بہہ گئے۔ اس کے وجود سے اٹھتی بھینی بھینی مہک مجھے دیوانہ بنا رہی تھی۔ آج وہ پوری طرح مسلح ہو کر آئی تھی۔
ادھر حال یہ تھا کہ جنگ سے پہلے میرے دل نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ میں بے خود سا اسے دیکھا تھا۔
’’پریتم! وہ لپک کرآگے بڑھی اور مجھ سے لپٹ گئی۔ ایک خواب کی سی کیفیت تھی میری۔ اسکا نرم و نازک وجود مجھ میں سمائے جا رہا تھا۔ اسکی خود سپردگی نے مجھے زیادہ دیر ٹھہرنے نہ دیا۔ میری بانہوں کا گھیرا خود بخود اس کے گرد تنگ ہوتا گیا۔ اسکا بدن کسی بھٹی کی طرح تپ رہا تھا۔ سانسوں میں جیسے بھونچال آیا ہوا تھا۔ وہ خود کو میرے اندر جذب کرنا چاہتی تھی۔ نہ جانے اس کے حسن میں ایسی کیا بات تھی کہ میں سب کچھ بھول گیا۔
’پریم۔۔۔‘‘ میرے کان کے پاس اس کی خمار میں ڈوبی سرگوشی ابھری۔
’’رادھا۔۔۔‘‘ میری آواز بھی بوجھل ہو چکی تھی۔
’’پریم!۔۔۔پریم! میرے میت! کتنا تڑپی ہوں میں تم سے دور رہ کر ‘‘ وہ میرے چہرے سے اپنا نرم و ملائم چہرہ رگڑتے ہوئے بولی۔ اس کی معطر سانسیں میرے وجود کو مہکائے دے رہی تھی۔ اچانک ہر سو گھپ اندھیرا چھا گیا۔ میں بری طرح چونک گیا۔
’’نہ پریتم! یہ میں نے کیا ہے‘‘ اس نے مجھے بھینچ لیا۔
’کیوں؟‘‘ میں جانتے بھی بھی انجان بن گیا۔
’’جب دو پریمیوں کا ملن ہوتا ہے تو دھرتی کی ہر شے سب کچھ بھول کر انہیں دیکھنے لگتی ہے اورمیں نہیں چاہتی کہ میرے سندر پریمی کو کوئی دوجا دیکھے‘‘ اس نے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے وہیں نرم نرم گھاس پر بٹھاتے ہوئے کہا۔ اب سردی کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ ہم شبنم سے بھیگی گھاس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہ بیٹھی ہوئی تھی اور میں اس کی ریشمی گودمیں سر رکھے دراز تھا۔
’رادھا تم توکہتی تھیں ہمارا جسمانی ملاپ ابھی ممکن نہیں پھر آج۔۔۔کیا وہ پابندی ختم ہوگئی؟‘‘ میں نے اسکی زلفوں کی مہک اپنے اندر اتاری۔
’’چھوڑو یہ باتیں دیکھو سمے کتنا سندر ہے۔۔۔چندر ما میری گود میں ہے‘‘ وہ میرے اوپر جھک آئی۔ اس کی سانسوں کی گرمی مجھے پگھلا رہی تھی۔ دم بدم اس اسکا چہرہ میرے چہرے کے قریب آرہا تھا۔ قریب۔۔۔قریب۔۔۔اور قریب حتیٰ کہ ہمارے وجود ایک ہوگئے۔ اس کے انداز میں جو وارفتگی تھی اسے شاید میں زندگی بھر نہ بھلا سکونَ کہاں تک اس کی بے تابیوں کی داستان رقم کروں؟ نہ قلم میں تاب ہے نہ میرے اندر اتنی صلاحیت کہ میں اس چاندنی رات کی داستان بیان کر سکوں۔۔۔جب ہم دونوں ہوش کی دنیا میں واپس آئے تو مجھے سب کچھ بڑا حسین نظر آرہا تھا۔ صبح کے قریب جب میں دبے پاؤں واپس بیڈ روم میں داخل ہوا تو صائمہ حسب معمول محو خواب تھی۔ اسکے چہرے پر نظر پڑتے ہی خود بخود جھک گئی۔ بستر پر گرا تو میری آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔
صبح صائمہ کے کئی بار جگانے سے میری آنکھ کھلی۔میری نظر اس کے چہرے پر پڑی جو کسی نو شگفتہ پھول کی طرح پاکیزہ لگ رہا تھا۔
رات کا خمار ابھی تک میری آنکھوں میں چھایا ہوا تھا۔ رادھا نے مجھے کچھ پوچھنے۔۔۔جاننے یا گلے شکوے کرنے کا موقع ہی نہ دیاتھا۔ میں اس سے اتنے دن کی غیر حاضری کے بارے میں معلوم کرنا چاہتا تھا۔ بینک پہنچنے کے بعد جیسے ہی میں نے اپنے کیبن کا دروازہ کھولا میرا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ میری کرسی پر وہ فتنہ گر جلوہ افروز تھی۔ جی ہاں رادھا۔۔۔ ساڑھی میں اسکا نکھرا نکھرا شباب قیامت ڈھا رہا تھا۔ دن کی روشنی میں وہ اور زیادہ حسین نظر آرہی تھی۔ اس کے حسن کے بارے میں کیا کہوں وہ تو پرستان سے آئی کوئی پری تھی۔ ہونٹوں پر ملکوتی مسکراہٹ لیے وہ خمار آلود نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ میں نے جلدی سے پیچھے مڑ کر سٹاف کی طرف دیکھا سب اپنے کام میں منہمک تھے۔’
’سجنا! تم بھول گئے میں نے کہاتھا تمرے بن مجھے کوئی دیکھ سکتا ہے نہ میری آواج سن سکتا ہے۔‘‘ رادھا کی مدھر آواز میرے کان میں پڑی۔ میں نے دروازہ بند کر دیا اور بے تابی سے اسکی طرف بڑھا میں چاہتا تھا اسے اپنی بانہوں میں بھرلوںَ اسکی مدھر ہنسی کمرے میں جلترنگ بجاگئی۔
’’پریم! یہ ٹھیک ہے میں کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔۔۔یدی تم نے مجھے ہر دے(سینے) سے لگایا توباہر بیٹھے منش کیا وچارکریں گے کہ تم کسے اپنی بانہوں میں بھینچے کھڑے ہو؟‘‘
مجھے اپنی بے خود پر ہنسی آگئی۔ وہ آہستہ سے کرسی سے اٹھی اور باد صبا کی جھونکنے کی طرح میرے پاس آگئی۔
’’برا جیئے مہاراج!‘‘ اسنے کسی کنیز کی طرح جھک کر مجھے کرسی پر بیٹھنے کو کہنا۔
’’شکریہ‘‘ میں نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا۔ مجھے حیرت ہو رہی تھی۔ وہ میرے سامنے کھڑی تھی لیکن کسی اور کو نظر نہ آرہی تھ۔ میں بار بار کنکھیوں سے باہر کی جانب دیکھ رہا تھا۔
’’میری بات پروشواس نہیں ہے ساجن!؟‘‘ اس نے میرے پاس کھڑے ہو کر پوچھا۔
’یقین تو ہے لیکن دیکھو نا کتنا عجیب لگ رہا ہے تم موجود ہو لیکن میرے علاوہ کوئی اور تمہیں دیکھ نہیں سکتا‘‘ میں حیران تھا’’تم بھی بیٹھو نا‘‘ میں نے سامنے والی کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے بیٹھنے کوکہا۔
’’داسیاں اپنے دیوتا کے چرنوں میں بھلی لگتی ہیں‘‘ وہ ایک جذب کے عالم میں بولی۔ آج مجھے اتنا ہوش نہ تھا کہ دیوتا کہنے پر اسے سر زنش کرتا۔ اس پر رات مجھے اس کی شدتوں کا اچھی طرح اندازہ ہو چکا تھا۔ وہ مجھے بے حد چاہتی تھی۔
’’میرا من کتنا شانت ہے آج۔۔۔تم وچاربھی نہیں کر سکتے۔‘‘
’’کیوں‘‘ میں نے اسکی طرف دیکھا۔
ضرور پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس آج ہوگا
’’تمنے وہ کڑا کھتم کروا کر جوا پکارمجھ پر کیا میں اس کے لئے تمہیں دھن وادکہتی ہوں‘‘ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا۔ مجھے اچانک یاد آیا کہ رات وہ میرے جسم سے لپٹ گئی تھی۔ میں نے پوچھا بھی تھا یہ سب کیسے ممکن ہوا۔۔۔لیکن اسکی بے تابیوں کے آگے سب کچھ گم ہوگیا تھا۔
’’ہائیں۔۔۔؟‘‘میں نے حیرت سے کہا۔
’’میں نے توکوئی کڑا ختم نہیں کروایا لیکن یہ سب کچھ کیسے ہوگیا؟‘‘ میں خود بھی حیران رہ گیا تھا۔ وہ معنی خیز نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔
’’تمنے نہیں کروایا تو پھر کیسے کھتم ہوگیا؟‘‘
یں نے توصرف محمد شریف سے کہہ کرگھر اور دفترکا حصار ختم کروایا تھا‘‘ میں نے پر خیال انداز سے کہا۔
’’کسی نے بھی کیا بھلا کیا‘‘ وہ شوخی سے بولی۔
’’کہیں تم نے خود تو یہ سب کچھ۔۔۔‘‘ میں نے اسے ٹٹولنے والی نظروں سے دیکھا۔ اسکی مدہر ہنسی کمرے میں جلترنگ بجا گئی۔
’’ہاں تمہیں تو اپنے کام سے مطلب ہے چاہے میں مر ہی نہ جاتا‘‘ آخر گلہ میرے ہونٹوں پر آہی گیا۔
’بھگوان نہ کرے‘‘ اس نے جلدی سے میرے ہونٹوں پر اپنا نازک ہاتھ رکھ دیا۔’’موہن! یہ تم نے کیا کہہ دیا؟‘‘ اسنے دکھ بھری آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔
’’تمہیں پتاہے تمہارے جانے کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا؟‘‘ اس دن کی اذیت یاد آتے ہی میرا لہجہ تلخ ہوگیا۔
’’کیا۔۔۔؟‘‘ اس کی سوالیہ نظریں مجھ پر ٹکی تھیں۔ میں اسے کالی داس اور ملنگ کے بارے میں بتانے لگا۔ ابھی میں نے بات شروع کی ہی تھی کہ اس نے مجھے روک لیا۔
’’بس کرو موہن!‘‘ اس کی منہ سے غراہٹ نکلی۔ آنکھوں میں آگ کے الاؤ بھڑک اٹھے۔
ا
’’کالی نے داس اپنی مرتیو کا پربند کھود گیا ہے‘‘ اس کا لہجہ اس قدر سرد تھا کہ میرا جسم کپکپاگیا۔ اسکا حسین چہرہ آگ کی طرح تپ گیا تھا۔
’’کالی داس! اب تجھے میرے شراپ سے دیوتا بھی نہ بچائیں گے‘‘ اتناکہہ کر وہ لمحوں میں میرے سامنے سے غائب ہوگئی۔
’’رادھا۔۔۔!‘‘ میں نے جلدی سے پکارا۔ لیکن کمرے کا سکوت بتا رہا تھا وہ جا چکی ہے۔ مجھے افسوس سا ہوا کہ میں نے اس وقت کیوں کالی داس کا ذکر چھیڑ دیا تھا۔ لیکن جوکچھ اس مردودنے میرے ساتھ کیا تھا میں اسے کسی طور بھول نہیں سکتا تھا۔ میری شدید ترین خواہش تھی کہ میں اس حرامزادے کو کتے کی موت ماروں۔ اگر اس دن ملنگ میری مدد نہ کرتا تو آج میں زمین کے اوپرہونے کے بجائے اندر ہوتا۔
کچھ دیر بعد وہ یکدم ظاہر ہوگئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ وہ یوں میرے سامنے ظاہر ہوئی تھی۔ اس کے حسین چہرے پر غصے اور جھنجھلاہٹ کے تاثرات تھے۔
’’وہ اپرادھی! منڈل میں چلا گیا ہے‘‘ وہ غصے سے پیچ و تاب کھاتے ہوئے بولی۔
’’کہاں چلا گیاہے؟‘‘ میں کچھ نہ سمجھا۔
’’منڈل میں‘‘ اس کا چہرہ آگ کی طرح تپ رہا تھا۔
’’منڈل کیا ہوتا ہے؟‘‘
’’وہ پاپی ! جانتاتھاکہ اسے رادھاکے شراپ سے اب کوئی نہیں بچا سکتا اسی کارن وہ ایک دائرہ کھینچ کر اس میں بیٹھ گیا ہے جس میں اسے شرن (پناہ) مل گئی ہے‘‘ اس نے تفصیل سے بتایا۔
’’تم چنتانہ کرو موہن! وہ کب تک وہاں بیٹھا رہے گا جیسے ہی باہر آیا میں اس کا بلیدان تمرے چرنوں میں کروں گا‘‘۔
پھر کچھ سوچ کر بولی’’موہن !کیا تم مجھے وہ استھان دکھا سکتے ہو جہاں وہ پاپی تمہیں لے کر گیاتھا؟‘‘
’’میں یہاں کے راستوں سے اتنا واقف نہیں ہوں لیکن تمہیں وہاں تک لے جا سکتا ہوں جہاں میری گاڑی خراب ہوئی تھی یا کی گئی تھی‘‘ میرے خیال میں گاڑی کے خراب ہونے میں کالی داس کاہ اتھ تھا۔
’تمراوچار گلط نہیں موہن! سب کچھ اسی دھشٹ نے کیا تھا‘‘ اس کا غصہ کسی طور پر کم ہونے میں نہ آرہا تھا۔
’’چھوڑو رادھا!ً جب وہ لعنتی باہر آئے گا تو دیکھ لیں گے‘‘ میں نے بے پرواہی سے کہا۔
’’نہیں موہن! اس کا اپرادھ کچھ کم نہیں ہے ہو سکتا ہے اس استھان پرجا کر میں اسے باہر لانے میں سپھل ہوجاؤں۔‘‘ رادھا نے اصرار کیا۔
’’اچھا ٹھیک ہے‘‘ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ ابھی بچوں کو سکول سے لانے میں کافی وقت ہے ہم جلدی سے وہاں ہو آتے ہیں‘‘ میں نے گاڑی کی چابیاں اٹھاتے ہوئے کہا۔ میں باہرجانے لگا تو وہ بھی میرے ساتھ چل پڑی ۔
’’تم اسی طرح جاؤ گی؟‘‘
’’پھر کس طرح جاؤں؟‘‘ وہ حیران رہ گئی۔
میرا مطلب۔۔۔اچھا ٹھیک ہے‘‘ اچانک مجھے یاد آیا کہ وہ کسی اور کو تو نظر ہی نہیں آتی میں بار بار یہ بات بھول جاتا تھا بات تھی بھی ناقابل یقین۔ ہم دونوں کیبن سے باہر آئے۔ میں نے عمران کو کچھ ہدایات دیں ار اس کے ساتھ باہر آگیا۔
گاڑی میں بیٹھ کرمیں نے دوسری سائیڈ کا دروازہ اس کے لئے کھولنا چاہا تویہ دیکھ کر حیران رہ گیا وہ میرے ساتھ والی سیٹ پر براجمان ہے۔ میری آنکھوں میں حیرت دیکھ کر وہ ہنس پڑی۔
’کچھ سمے میں تم اس کے عادی ہوجاؤ گے۔‘‘
’’ہاں ٹھیک کہتی ہو تم‘‘ میں نے گاڑی سٹارٹ کرکے آگے بڑھائی۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے میری نظر اس کے چہرے پر پڑی وہ وارفتگی سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ ہر وقت اس کی آنکھوں میں میرے لیے پیار کا دریا موجزن نظر آتا تھا۔
’کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘ میں نے مسکرا کر پوچھا۔
’’دیکھ رہی ہوں تم کتنے سندر ہو؟‘‘ اس خمار آلود نظریں مجھ پر ٹکی تھیں۔
’ایسے ہی مجھے بناتی رہتی ہو‘‘ میں نے کہا۔
’’اپنے اپنے وچار کی بات ہے‘‘ وہ مسکرائی۔
’اگر تمہارے بارے میں میں ایسا کہوں کہ تم کتنی خوبصورت ہو تو اور بات ہے جبکہ خود کو تو میں روز آئینے میں دیکھتا ہوں۔‘‘
’میرے نینوں میں کھد کو دیکھو تو جان پڑے تم کیا ہو؟‘‘ حسین آنکھیں خمار آلود ہوگئیں۔
تعریف سننا انسان کی کمزوری ہے اور یہی کمزوری اسے تباہی کے دہانے پر لے آتی ہے۔ ہم اسی طرح باتیں کرتے اس جگہ پر پہنچ گئے جہاں میری گاڑی خراب کی گئی تھی۔ یہ جگہ بھی مجھے اس لئے یاد رہ گئی تھی کہ جب مدد کی تلاش میں چاروں طرف دیکھ رہا تھا تو میری نظر ایک خستہ حال ٹوٹے ہوئے بورڈ پر پڑی تھی جو کسی فلور مل کا تھا۔ نام تو شاید مٹ چکا تھا ہاں ’’فلور ملز‘‘ کے الفاظ صاف پڑھے جا سکتے تھے۔ میں نے گاڑی اسی جگہ روک کر بائیں جانب دیکھا تووہاں دور دور تک کھیت تھے۔ جس گاؤں میں مجھے دھوکے سے لے جایا گیا تھا اس کا وجود ہی نہ تھا۔ میں نے ایک بار پھر اردگرد دیکھا بالکل وہی جگہ تھی۔
’کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ رادھا نے مجھے دائیں بائیں دیکھتے پا کر پوچھا۔
’’وہاں۔۔۔سامنے ایک گاؤں تھا جہاں مجھے لے جایا گیا تھا‘‘ میں نے اسے اشارے سے بتایا۔
’لیکن اب تو کہیں نظر نہیں آرہا۔‘‘
’’ہوں۔۔۔یہ بات ہے‘‘ رادھا نے پر خیال انداز میں کہا۔
’’کچھ مجھے بھی تو بتاؤ ۔۔۔کیا بات ہے؟‘‘
’’واپس چلو موہن‘‘رادھا نے جواب دینے کے بجائے کہا ہم واپس چل پڑے۔
’رادھا! میں تم سے کچھ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘ واپسی پر میں نے کہا۔
’’کیا؟‘‘ اس کی سوالیہ نظریں مجھ پر ٹکی تھیںَ
’تم اتنے دن کہاں غائب رہیں جبکہ تم نے کہا تھا تمہارا جاپ دو دن میں ختم ہو جائے گا اسکے علاوہ وہ حصار جو میرے گرد قائم تھا وہ کیسے ختم ہوا؟ تم نے کہا تھا جب ہمارا جسمانی ملاپ ممکن ہوگا تب تم اپنے بارے میں سب کچھ بتاؤں گی۔‘‘ میں نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر دیئے۔
’’اتنے سارے پرشن‘‘ وہ ہنس پڑی۔
’میرے ذہن میں الجھن رہتی ہے جب تک ان سوالوں کے جواب نہ مل جائیں گے میں بے چین رہوں گا۔‘‘ میں نے وضاحت کی۔
’’ٹھیک ہے موہن ایک دن اور رک جاؤ پھر میں سب بتا دوں گی پرنتو تمہیں اپنا وچن یاد ہے نا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’کونسا وعدہ؟‘‘
’’یہی کہ اس ساری جانکاری کے بعد بھی تم مجھ سے پریم کرتے رہو گے‘‘ اسے نہ جانے کیا خدشہ تھا؟
’ہاں یاد ہے ۔۔۔تم فکر نہ کرو ایسی کوئی بات نہ ہوگی‘‘ میں نے اسے اطمینان دلایا۔
’’اتنا یاد رکھنا موہن! تمری یہ داسی تمرے بن کچھ نہیں ۔یدی تمنے میرے من سے کھلواڑ کیا تو ۔۔۔پھر‘‘ اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ میں نے دیکھا اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔
’اگر تمہیں مجھ پریقین نہیں تو میں اصرار نہیں کرتا۔ ‘‘ میں نے ناراضگی سے کہا۔
’’ایسی بات نہیں موہن ! جانے میرا من کیوں بیاکل رہتا ہے‘‘ حسن افسردہ ہوگیا۔
اچھا ییہ تو بتا دوکہ تم اس دن میری مدد کرنے کیوں نہیں پہنچی تھیں؟‘‘
’’جب کوئی منڈل میں بیٹھ جاتا ہے پھر اس سمے تک باہر نہیں آسکتا جب تک وہ جس کارن منڈل میں بیٹھا ہے اسے پور نہ کرلے‘‘ اس نے بتایا۔
’لیکن تم تو صرف دو دن کے جاپ کے لیے بیٹھی تھیں‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہاں وچار تو میرا بھی یہی تھا کیول دو دن لگیں گے اس جاپ میں پونتو۔۔۔سمے کچھ جیادہ ہی لگ گیا۔ اسی کارن وہ دھشٹ تمہیں کشٹ دینے میں سپھل ہوگیا تھا‘‘ اسے پھر کالی داس پرغصہ آگیا۔ ہم سکول کی عمارت کے قریب پہنچ چکے تھے۔
’اچھا موہن کل ملیں گے‘‘ اس نے میری طرف دیکھا۔
’’کیوں آج رات نہیں آؤ گی؟‘‘ نہ جانے کیسے میرے منہ سے نکل گیا۔
من تو بہت کرتا ہے پرنتو آج نہیں‘‘ اس کے چہرے سے الجھن ظاہر ہو رہی تھی۔ یکدم میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ میں بچوں کو لے کر گھر آگیا۔ کھانے کھا کر جب میں بینک جانے لگا تو صائمہ نے پھر شرجیل اور ناعمہ کا ذکر چھیڑ دیا۔
’’آج پھر مما کا فون آیا تھا۔‘‘ اس نے کہا۔’اوہو میں تو بھول ہی گیا تھا‘‘ میں نے تاسف سے کہا۔
’’آنٹی بھی کیا سوچتی ہوں گی ایک کام کہہ دیا وہ بھی ان سے نہ ہو سکا۔‘‘
’یہ بات نہیں میں نے مما کو فون کرکے کہہ دیا تھا کہ آجکل بینک میں مصروفیت بہت ہے ہم چند دن کے بعدآئیں گے۔‘‘ صائمہ نے بتایا۔
’’ٹھیک ہے کل چلیں گے‘‘ صائمہ خوش ہوگئی۔ بینک واپس پہنچ کر میں نے رادھا کو پکارا۔ دوسرے لمحے وہ میری آنکھوں کے سامنے تھی۔
’’کس کارن بیاکل ہے میرا ساجن!؟‘‘ اس کے ہونٹوں پر بڑی دلآویز مسکراہٹ تھی۔
’’کل ہم کراچی جا رہے ہیں شرجیل کا معاملہ سلجھانے۔ کیا تم اس سلسلے میں میری مدد کر سکتی ہو؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کیوں نہیں پریم! میری بڑی آشا ہے میں تمری سیوا کروں‘‘ اس کے لہجے میں اپنایت تھی۔
’’شکریہ، لیکن یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوگا؟‘‘ میں نے کہا۔
’’یہ سب تم مجھ پر چھوڑ دو، یاد ہے میں نے کہا تھا وہ ناری تمرے متر کی چیلی ہے؟‘‘ رادھا نے مجھے یاد دلایا۔
’’کہا تو تھا لیکن اس دن بات ادھوری رہ گئی تھی۔ تم میرے کس دوست کی بات کر رہی ہو؟‘‘ میں نے وضاحت چاہی۔
’’وہ کلٹا! کالی داس کی چیلی ہے۔‘‘ رادھا نے انکشاف کیا۔
’’کیا۔۔۔؟ لیکن وہ کالی داس کو کیسے جانتی ہے؟‘‘ مجھے حیرت ہوئی۔
’’موہن ! ہو ناز۔۔۔ادھیک سندر ہے تم دیکھو گے تو دیکھتے رہ جاؤ گے۔ اس کی ایک سکھی کالی داس کی چیلی ہے اسی نے اس کا ملن کالی داس سے کروایا تھا۔ کالی داس سندر کنیاؤں کو پرسن کرتا ہے۔ اس نے تھوڑے بہت جنتر منتر اسے بھی سکھا دیے ہیں جن کے کارن وہ جسے چاہے اپنے بس میں کر لیتی ہے۔ ناعمہ کاپتی بھی اس کا شکار ہے پرنتو اس بار وہ اپنے چلتر میں سپھل نہ ہو پائے گی‘‘ رادھا نے تفصیل بتائی۔
’’پھر تو بڑا مزا آئے گا جب وہ ناکام ہوگی تم بھی چلو گی نا ہمارے ساتھ؟‘‘ میں نے کسی خیال کے تحت پوچھا۔
’’میں تو ہر پل تمرے سنگ ہوتی ہوں میرے میت!‘‘ اس نے بڑی لگاوٹ سے کہا۔
’’دیکھنا کہیں اس بار بھی تمہیں کوئی کام نہ یاد آجائے اور میں غریب ناکام ہو کر شرمندہ ہو جاؤں‘‘ میں نے اسے چھیڑا۔
’’اب ایسا نہیں ہوگا موہن! اس سمے بھی میں کسی کارن نہ آئی تھی اور دوجے میں جان گئی تھی تمرا وہ متر پہنچ جائے گا یدی ایسا نہ ہوتا تو میں منڈل توڑ کر بھی تمرے پاس پہنچ جاتی۔‘‘ اس نے کہا۔
’’میں تو یونہی مذاق کر رہا تھا‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔ اس سے باتیں کرتے ہوئے وقت کا پتا ہی نہ چلتا تھا۔ گھر آکر میں نے صائمہ کو بتایا کل صبح آٹھ بجے کی فلائٹ ہے۔‘‘
’’میں مما کو فون کرکے بتاتی ہوں‘‘ وہ خوش خوش باہر نکل گئی۔ جب بچوں کو معلوم ہوا وہ نانوکے گھر جا رہے ہیں تو ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ یوں تو میری داستان عجیب و غریب واقعات سے بھری پڑی ہے ان سب کو بیان کرنے کے لئے ہزاروں صفحات بھی کم ہیں لیکن اس واقعے کا تعلق چونکہ کالی داس کے ساتھ ہے اور کچھ یہ دلچسپ بھی ہے اس لئے میں اسے بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ دوسرے دن دس بجے کے قریب ہم کراچی پہنچ گئے۔ ائیرپرٹ پر ڈرائیور موجود تھا آدھ گھنٹے کی ڈرائیور کے بعد ہم صائمہ کے میکے میں تھے۔ آنٹی ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔ صائمہ نے بتایا تھا کہ ناعمہ کی حالت کافی خراب ہے۔ وہ اس بات کا دل کا روگ بنا بیٹھی ہے۔ میں تو فوراً ناعمہ سے ملنا چاہتا تھا لیکن ساس صاحبہ نے ناشتہ تیار کروا رکھا تھا پیٹ پوجا کے بعد میں نے ناعمہ کے بارے میں پوچھا تو پتا چلا وہ اپنے کمرے میں ہے۔ میں تھوڑی دیر کے لئے باہر آگیا۔ رادھا کے ساتھ اس مسئلے پر بات کرنا تھی۔
’’رادھا‘‘ ایک سنسان سڑک پر آکر میں نے اسے پکارا۔
’’میں تمرے پاس ہی ہوں پریتم!‘‘ اس کی مدھر آواز میرے کانوں میں آئی۔
’’کیا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
اس ناری سپنا نے ناعمہ پر کالی داس سے کچھ جنتر منتر کرو کر اسکی ہتھیا کا پربند کر رکھا ہے۔ یدی تم کچھ سمے اور نہ آتے تو ہو سکتا تھا ناعمہ اس سنسار میں نہ رہتی‘‘ میں بری طرح چونک گیا۔
’’اور یہ سب تم مجھے اب بتا رہی ہو‘‘ میں نے تیز لہجے میں کہا۔
’’موہن ! مجھے اس بات کی جانکاری ابھی ملی ہے‘‘ اس نے صفائی پیش کی۔
’’اچھا ٹھیک ہے اب کیا کیا جائے؟‘‘
’’تم چنتا نہ کرو دیکھو میں کیا کرتی ہوں؟ ہاں تمہیں ایک بات اور بتاتی ہوں۔ تمری ساسو ماں(ساس) نے ایک پیر بھی گھر میں بٹھا رکھا ہے۔ آج کل وہ اسکے چرن دھو دھو کر پی رہی ہے۔ اس دھشٹ نے تمری ساسو ماں کو وچن دیا ہے وہ تھوڑے ہی دنوں میں سب ٹھیک کر لے گا‘‘ رادھا نے مجھے ایک دلچسپ بات بتائی۔
’’کیا وہ کچھ علم جانتا ہے؟‘‘ مجھے تجسس ہوا۔
’’بس دو چار جنتر منتر کسی سے سیکھ لیے ہیں اسی سے لوگوں کی بدھی نشٹ(عقل خراب) کرتا رہتا ہے۔ بہت پاپی ہے اس کی نجر تمری سالی پر ہے وہ اس کا بلات کار کرنا چاہتا ہے‘‘ رادھا کی بات سن کر میرے خون میں ابال آگیا۔
’’کہاں ہے وہ کمینہ؟‘‘ میں نے غصے میں پوچھا۔
’’اسی گھر میں ایک کوٹھا پکڑ کر دھونی رمائے بیٹھا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے جیسے تم کہتی ہو میں ویسے ہی کروں گا لیکن میرے پاس ہی رہنا مجھے ان کاموں کا بالکل بھی تجربہ نہیں ہے۔‘‘ میں نے کہا۔
’نشچنٹ رہو میں ہر پل تمرے سنگ رہوں گی جیس کہتی جاؤں کرتے جانا پھر دیکھنا میں کیسا چمتکار دکھاتی ہوں‘‘ رادھا نے ہنس کر کہا۔ اب اس کام میں میری دلچسپی بڑھ گئی تھی۔
’’رادھا! میں صائمہ کو کیا بتاؤ گا؟‘‘ اچانک خیال کے تحت میں نے پوچھا۔
’’کہہ دینا تم نے اپنے متر کے پتا سے کچھ نہ کچھ سیکھ لیا ہے‘‘ رادھا نے مجھے مشورہ دیا۔
’’ہاں یہ بہتر ہے‘‘ میں مطمئن ہو کر گھر میں داخل ہوگیا۔ ڈرائنگ روم میں صائمہ اپنی ماں کے ساتھ سر جوڑے بیٹھی تھی۔ بچے کھانا کھا کر سو گئے تھے۔
’’ناعمہ اس سمے اس پیر کے پاس اس کے کوٹھے میں بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘ رادھا نے میرے کان میں سرگوشی کی۔
’’ناعمہ کہاں ہے؟‘‘میں نے بیٹھے ہوئے صائمہ سے پوچھا۔
’’وہ۔۔۔وہ ۔۔۔نہا رہی ہے‘‘ آنٹی نے بمشکل بہانہ گھڑا۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا۔
’’آنٹی! بینک میں میرے ایک ماتحت ہیں محمد شریف ۔ ان کے والد محترم صاحب کرامت بزرگ تھے۔ مجھ پر خاص شفقت فرمایا کرتے۔ اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے کمال مہربانی سے مجھے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔ جو عورت شرجیل کو رجھائے بیٹھی ہے میں اس کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہوں وہ ایک فاحشہ ہے۔ سپنا نام ہے اس کا۔ اس نے ناعمہ پر کالا جادو کروا رکھا ہے اگر اسکا باقاعدہ اور فوری علاج نہ کیا گیا تو خدانخواستہ اس کی جان کو خطرہ ہے‘‘ آنٹی کے لئے تو میری باتیں تعجب خیز ہونا ہی تھیں لیکن صائمہ بھی حیرت سے منہ کھولے میری بات سن رہی تھی۔
’’میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس وقت ناعمہ اس جھوٹے پیر کے کمرے میں ہے وہ ایک فراڈ شخص ہے۔ سپنا نے شرجیل کو بھی جادو کے زور سے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔‘‘
’’فا۔۔۔فاروق! آپ نے تو مجھے کبھی بتایا ہی نہیں کہ آپ اتنا کچھ جاتنے ہیں‘‘ صائمہ کی آواز میں شکوہ بھی تھا اور خوشی بھی۔
’’آنٹی ! آپ فکر نہ کریں اب میں آگیا ہوں نا سب کچھ انشاء اللہ ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ میں نے انہیں تسلی دی۔
’’اللہ تمہاری زبان مبارک کرے نہ جانے میرے گھر کی خوشیوں کو کس کی نظر کھا گئی۔‘‘ انہوں نے آنسو پونچھے۔
’’آپ دعا کریں اور دیکھیں کیا ہوتا ہے۔۔۔؟‘‘ میں ذرا اس ڈبے پیر کی خبر لے لوں‘‘ میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’فاروق ! میں بھی آؤں؟‘‘ صائمہ نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔ میں ابھی انکار کرنے ہی والا تھا کہ رادھا نے مجھے صائمہ کو ساتھ لے جانے کا مشورہ دیا۔
’’ٹھیک ہے آجاؤ۔‘‘ میں نے کہا۔ پھر آنٹی سے پوچھا جاوید(صائمہ کا بھائی) کہاں ہے؟‘‘
’’اپنے کمرے میں ، وہ بے چارہ بھی سخت پریشان ہے‘‘ انہوں نے بتایا۔
’’اسے بھی بلا لیں‘‘ میں نے کہا۔ صائمہ جلدی سے جا کر اسے بلا لائی
ہم تینوں چلتے ہوئے اس کمرے کے دروازے تک آپہنچے جہاں وہ جھوٹا پیر ٹھہرا ہوا تھا۔ صائمہ نے آنٹی کو بچوں کے پاس ٹھہرنے کے لیے کہہ دیا تھا۔ صائمہ بالکل میرے پاس تھی ورنہ میں رادھا سے اندر کی پوزیشن پوچھنا چاہتا تھا۔ میں سوچ ہی رہا تھا کہ رادھا کی آواز آئی۔
پریم! در وجہ بند ہے پہلے مجھے کھول لینے دو اندر جو کچھ ہو رہا ہے اسے تم کھد دیکھو تو بہتر ہے‘‘ وہ میرے دل کی بات جان گئی تھی۔ میں نے دروازے کو ہاتھ لگایا وہ اندر سے بند تھا۔ صائمہ کا ماتھا بھی ٹھنکا۔
’’میں نے یونہی رعب ڈالنے کے لئے منہ ہی منہ میں پڑھا اور دروازے کی طرف پھونک دیا پھر دروازے کو دھکا دیا ،وہ کھل گیا۔ سب کچھ صائمہ کے لیے نہایت حیران کن تھا۔ میں نے رادھا کی ہدایت کے مطابق اپنی اداکاری جاری رکھی۔ زور دار آواز سے دروازہ کھول کر میں اندر داخل ہوگیا۔ صائمہ اور جاوید بھی میرے پیچھے تھے۔ کمرے میں تقریباً اندھیرا تھا۔ بڑی مسحور کن خوشبویات پھیلی ہوئی تھی۔ وہ پیر فرطوت اس وقت ناعمہ پر جھکا ہوا تھا۔ جو بیڈ پر آنکھیں بندکیے لیٹی ہوئی تھی۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ بری طرح اچھلا۔ اس کے گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی اس کی خلوت میں مداخلت کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ دوسرے اس نے دروازے کو اندر سے چٹخنی لگا کر بند کر رکھا تھا۔ صائمہ نے جلدی سے لائٹ جلا دی جس کا بٹن دروازے کے ساتھ ہی تھا۔ کمرے میں تیز روشنی پھیل گئی۔ میرے سامنے ہی وہ لعنتی کھڑا تھا۔ اس کا حلیہ روایتی عاملوں اور پیروں جیسا تھا۔ لمبا سا سبز رنگ کا چوغہ اس نے پہن رکھا تھا۔ بڑے بڑے بال پشت پر بکھرے ہوئے تھے۔ وہ کسی سانڈ کی طرح پلا ہوا تھا۔ داڑھی بے تحاشہ بڑھی ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں کسی جانور کی لمبی سی ہڈی تھی جسے وہ غالباً ناعمہ کے جسم پر پھیر رہا تھا۔ وہ تیزی سے مڑا ہم سب کو دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا لیکن شیطان صفت آدمی تھا فوراً ہی اپنے تاثرات چھپا کر گرجا۔
’کس کی اجازت سے تم لوگ اندر داخل ہوئے ہو۔۔۔میں نے کہا نہیں تھا کہ جب تک میں نہ بلاؤں کوئی اندر نہ آئے؟‘‘ اس کے منہ سے کف اڑانے لگا۔ سب کے چہرے پر نظر ڈال اس کی آنکھیں مجھ پر ٹک گئیں۔ جاوید کو تو وہ جانتا ہوگا کیونکہ بقول رادھا کے وہ کئی دن سے یہاں ڈیرے لگائے بیٹھا تھا۔ میں اور صائمہ اس کے لئے اجنبی تھے۔ اس کی لال انگارہ آنکھیں مجھ پر ٹکی تھیں۔
کون ہے تو‘‘ اس نے گرج کو پوچھا۔
’’یا حضرات ! مم۔۔۔میں ۔۔۔جاوید کا بہنوئی ہوں۔‘‘ میں نے یوں ظاہر کیا جیسے میں اس سے بری طرح خوفزدہ ہوگیا ہوں۔
’’لیکن یہاں کیوں آیا ہے مردود! کیا تو نہیں جانتا کہ اس بچی پر سخت جادو ہوا ہے اور ہم اس کا اتارا کر رہے ہیں تو نے جرأت کیسے کی ہماری اجازت کے بغیر اندر داخل ہونے کی‘‘ وہ غضبناک ہو کر دھاڑا۔
صائمہ حیرت سے میری طرف دیکھ رہی تھی کہ کہاں تو میں اس کی مما کے سامنے اسے جھوٹا اور فریبی پیر کہہ رہا تھا اور اب خوف سے میرا برا حال تھا۔ لیکن میں بالکل رادھا کی ہدایت کے مطابق عمل کر رہا تھا۔
’اگر نہیں گیا تو پھر آپ کیا کریں گے جناب؟‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
’’کیا تم نہیں چاہتے کہ تمہاری بہن کا علاج ہو؟‘‘ وہ جاوید کی طرف مڑا۔
’میں۔۔۔کیا‘‘ وہ بے چارہ بری طرح گڑ بڑا گیا تھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کیا اور اپنی نظریں پیر پر جما دیں۔
’’اچھا اب میں سمجھا۔۔۔تو بھی دشمنوں سے ملا ہوا ہے ٹھہر۔۔۔ابھی بتاتاہوں‘‘ اس نے آنکھیں بند کرکے کچھ بدبدانا شروع کر دیا۔ پھر بڑی بڑی مکاری سے بھری آنکھیں کھول کر بولا۔
’’اب سمجھا۔۔۔تو ہے وہ آستین کا سانپ۔۔۔جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے۔‘‘
’’یہ اس بچی کے شوہر سے ملا ہوا ہے۔ اس پرجادو کروانے میں اس کا ہاتھ بھی ہے‘‘ پیر نے بڑے پر جلال لہجے میں انکشاف کیا۔ اسکا مخاطب جاوید تھا۔
صائمہ جو منہ کھولے یہ سب کچھ سن رہی تھی۔ اسکا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔
’’بکواس بند کرالو کے پٹھے!‘‘ اچانک وہ گرجی۔ مجھ پر الزام تو وہ کسی صورت برداشت نہ کر سکتی تھی۔
فاروق توناعمہ کو اپنی چھوٹی بہن سمجھتے ہیں مجھے تو جعلی پیر لگتا ہے۔ اگر تو کوئی اللہ والا ہوتا تو اس طرح جھوٹی بکواس نہ کرتا۔‘‘ اس نے ادب آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے پیر کو لتاڑ کر رکھ دیا۔
پیر کی آنکھیں لال انگارہ ہوگئیں‘‘ اس نے قہر آلودہ نظر صائمہ پر ڈالی۔
’تو جانتی ہے کس کے سامنے زبان درازی کر رہی ہے؟ کیوں اپنی عاقبت خراب کرتی ہے۔ بے وقوف اس بدکار نے تجھ پر بھی جادو کروا رکھا ہے جس کی وجہ سے تیری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اگر عیبوں کو پردہ پوشی کا حکم نہ ہوتا تو میں ابھی اس لعین کے کالے کرتوت تجھے دکھا دیتا ‘‘ وہ منہ سے کف اڑتا ہوا غصے میں گرج رہا تھا۔
’’کرتوت تو تیرے گندے ہیں۔۔۔کیا اسلام میں یہ جائز ہے کہ کسی نوجوان غیرمحرم لڑکی کو بند کمرے میں رکھ کر جادو کا علاج کیا جائے یہ تو کس قسم کا علاج کر رہا ہے؟‘‘ صائمہ میرے بارے میں اس کی بکواس سن کر ہتھے سے ہی اکھڑ گئی تھی۔ میں خاموش کھڑا ان دونوں کی بحث سن رہا تھا کیونکہ رادھا خاموش تھی۔تو مجھے بدکار کہہ ہی رہی۔۔۔؟ تجھ پر خدا کا عذاب نازل ہوگا‘‘ وہ مزید غضبناک ہوگیا۔
’’ٹھہر میں تیری گز پھر کی زبان ابھی بند کرتا ہوں‘‘ اس کے مکروہ ہونٹ تیزی سے ہلنے لگے۔
’اب خاموش رہنا مناسب نہیں موہن! آگے بڑھ کر ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دو‘‘ رادھا نے مجھے ہدایت دی۔ وہ آنکھیں بند کیے کچھ پڑھ رہا تھا اس کے گمان میں بھی نہ تھا کہ اس کے ساتھ یہ سلوک بھی ہو سکتا ہے۔ میں جلدی سے آگے بڑھا اور پوری قوت سے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دیا۔ وہ تیورا کر پیچھے کی طرف جاگرا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر کھڑا ہوتا میں نے گرج کر کہا۔
’’بہت سن لی تیری بکواس۔۔۔تو کس گندی نالی کا کیڑا ہے۔ میں ابھی تجھے بتاتا ہوں‘‘ وہ بل کھا کر کھڑا ہوگیا۔ اس کا چہرہ غصے سے سیاہ پڑ گیا تھا۔ قد اسکا تقریبا میرے برابر تھا میرے برابر تھا لیکن وہ خواب پلا ہوا تھا۔ اس نے وہ ہڈی جو ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی میری طرف کی۔
’اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھا کر منہ ہلانا شروع کر دو‘‘ رادھا کی دوسری ہدایت آئی۔ میں نے حرف بحرف عمل کیا۔ ہڈی یک بیک رسی میں تبدیل ہو کر اس کے دونوں ہاتھوں کے ساتھ یوں لپٹ گئی جیسے کسی نے اس کے ہاتھ باندھ دیے ہوں۔ اس کے چہرے پر اذیت کے آثار چھا گئے۔ رسی اس کے ہاتھوں کے گرد خود بخود کسی جا رہی تھی پہلے تو وہ اس کا توڑ کرنے کی فکر میں رہا لیکن اس نے دیکھ لیا کہ یہ ممکن نہیں تو وہ بری طرح بوکھلا گیا۔ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔
’’اب کیا خیال ہے آپ کا اپنے بارے میں جناب عالی‘‘ میں نے طنزیہ انداز میں کہا۔
’تت۔۔۔تو ٹھیک نہیں کر رہا۔ اب بھی باز آجاؤ مجھے خدا کا خوف ہے ورنہ ابھی تجھے بتاتا کہ اللہ والوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کیا سزا ہوتی ہے‘‘ اس نے اپنی خودی بلند رکھنے کی کوشش کی۔
’’موہن! اپنے ہاتھ کا رخ اس کے پیروں کی طرف کرکے جھٹک دو‘‘رادھا نے کہا۔ میں نے اس بار بھی اس کی بات پر عمل کیا۔ ہوا میں ایک رسی نمودار ہوئی اور اس کے پیروں سے لپٹ گئی۔ اس کے ہاتھ پاؤں بندھ چکے تھے۔ پیر چھڑانے کے لئے زور لگانے پر وہ دھڑام سے نیچے آن گرا۔ اس کا سر زور سے سائیڈ ٹیبل کے کنارے سے ٹکرایا اور خون کا ایک فوارا سا اُبل پڑا۔’’ہائے میں مر گیا‘‘ وہ اذیت سے چیخا۔ اچانک رادھا اپنی جگہ سے آگے بڑھی اور اس موٹے پیر کو گردن سے پکڑ کر ہوا میں معلق کر دیا۔ اس کا ہاتھ دراز ہوگیا تھا۔ پیر کو ہوا میں معلق دیکھ کر صائمہ اور جاوید آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ نازک بدن رادھا نے اسے ایک ہاتھ میں لٹکا رکھا تھا۔ وہ ہوا میں لٹکا ہاتھ پاؤں مارنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ چیخ رہا تھا۔
’تمہیں خدا کا واسطہ مجھے چھوڑ دو میں وعدہ کرتا ہوں آئندہ کسی کو دھوکہ نہیں دوں گا۔ مہربانی کرو میرے اوپر ترس کھاؤ میں بوڑھا آدمی ہوں مر جاؤں گا خدا کے لئے مجھے چھوڑ دو‘‘ اس کی چیخیں کمرے میں گونج رہی تھیں۔ گھر کے نوکر اس کی چخیں سن کر کمرے کے دروازے پر اکٹھے ہوگئے تھے جب انہوں نے یہ منظر دیکھا تو چیختے ہوئے بھاگ گئے۔
پیر کی گردن کے گرد رادھا کے ہاتھ کا حلقہ تنگ ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھیں باہرکو ابل آئی تھیں۔ میں شش و پنج میں پڑ گیا تھا۔ مجھے خطرہ تھا تھوڑی دیر اور وہ موٹا لعین اسی حالت میں لٹکا رہا تو مر جائے گا اور یہ بات صائمہ کے گھر والوں کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی تھی۔ میں نے رادھا کی طرف دیکھ کر اسے اشارہ کیا کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ رادھا نے اپنی گرفت ڈھیلی کی تو وہ سانڈ دھڑام سے زمین پر گر گیا۔ گلا دبنے کی وجہ سے وہ بری طرح کھانس رہا تھا۔ دونوں ہاتھ گلے پر رکھے وہ اوندھے منہ زمین پر پڑا تھا۔
’’موہن! اس نے تمری ساسو ماں سے دو لاکھ روپیہ بٹور رکھا ہے۔‘‘ رادھا نے انکشاف کیا۔
’’حرامزادے! اب بتا کون جس تھالی میں کھاتا ہے اسی میں چھید کرتا ہے؟ ان شریف لوگوں سے دو لاکھ لے کر تیرا گندہ نفس نہیں بھرا تھا جو اس معصوم لڑکی کی عزت کے درپے ہو رہا تھا‘‘ میں نے گرج کر کہا
’’مم۔۔۔مجھ ۔۔۔مجھے معاف کر دو استاد جی! آئندہ میں کبھی بھول کر بھی ادھر نہیں آؤں گا مجھے معاف کر دو تمہیں اللہ دعا واسطہ‘‘ وہ باقاعدہ منتوں پر اتر آیا۔
جب تو شیطان بنا اس کی عزت خراب کرنے چلا تھا اس وقت تجھے خدا یاد نہ آیا اب مجھے اللہ کے واسطے دے رہا ہے۔ تجھے معاف کرنا تو انسانیت کے ساتھ ظلم کرنے کے مترادف ہے نہیں ۔۔۔تجھے تیرے کیے کی سزا ضرور ملے گی‘‘ میں نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔
اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
رادھا میرا اشارہ سمجھ گئی تھی کہ میں کیا چاہتاہوں۔ اس نے اپنا نازک ہاتھ پیر کی طرف کرکے جھٹک دیا۔ اچانک اسکے منہ سے جھاگ نکلنے لگا ہاتھ پاؤں اینٹھ گئے جسم پھڑکنے لگا۔ تکلیف سے اس کے منہ سے کراہیں نکل رہی تھیں۔
’فاروق! بس کریں۔۔۔اسے چھوڑ دیں کہیں یہ بد بخت مرہی نہ جائے‘‘ نرم دل صائمہ نے جب اس بدکار کی یہ حالت دیکھی تو اسے ترس آگیا ۔ اس کا سانس اکھڑنے لگا تھا۔ میں نے رادھا کی طرف دیکھا۔ اس نے دوبارہ اپنا ہاتھ اسکی طرف کرکے جھٹک دیا۔ تکلیف و اذیت سے بگڑتا اس منحوس کا چہرہ تیزی سے بحال ہونے لگا۔ وہ آہستہ سے اٹھ کر بیٹھا گیا۔ اب وہ ملتجی نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ اگرکوئی جاوید سے یہ کہتاکہ کل قیامت آجائے گی تو شاید وہ اتناحیران نہ ہوتا جتنا وہ اس وقت نظر آرہا تھا۔ بات تھی بھی حیران کن۔
’’اب کیا خیال تیرا۔۔۔اپنے بارے میں؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ اس نے جلدی سے میرے آگے ہاتھ جوڑ دیئے۔
’’استاد! مجھے معاف کر دو۔ میں آج سے ان کاموں سے توبہ کرتا ہوں آئندہ کسی کو دھوکہ نہیں دوں گا۔ محنت مزدوری کرکے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالوں گا۔‘‘ وہ ایک منٹ میں سیدھا ہوگیا تھا۔
’اسی وجہ سے تیری جان بخشی ہوئی ہے کہ تیرے معصوم بچے ہیں ورنہ دل تو یہ چاہتا ہے کہ تجھے قبر میں اتار دوں۔‘‘ میں نے نفرت سے کہا
’’کھڑا ہو جا اور ابھی جا کر وہ رقم لیکر آجو تو نے ان شریف لوگوں سے ہتھیائی ہے۔‘‘
’’بہت بہتر جناب! میں ایک گھنٹے میں واپس آتا ہوں۔‘‘ وہ جلدی سے کھڑا ہوگیا۔
’’سن۔۔۔اگر اس بار تونے دھوکہ دیا تو پھر روئے زمین پرتجھے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ بھی ظالموں کا ساتھ نہیں دیتا سن لیا؟‘‘ میں نے کڑک کرکہا۔
’ج۔۔۔جج۔۔۔جی ہاں ابھی لاتا ہوں رقم۔ آپ بالکل فکرنہ کریں میں اب دھوکہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘ وہ بری طرح خوفزدہ ہوگیا تھا۔
’’اب دفع ہو جا‘‘ میں نے حقارت سے کہا۔ وہ یوں کمرے سے بھاگا جیسے ایک لمحے کی تاخیر بھی ہوئی تو میں اپنا فیصلہ بدل دوں گا۔
’’پانی منگوا کر اسے ناعمہ پرچھڑک دو یہ ہوش میں آجائے گی‘‘ رادھا نے کہا۔ میں نے جاوید کو پانی لانے کے لئے کہا۔ اس کے جاتے ہی صائمہ میرے ساتھ لپٹ گئی۔
’’فاروق ! میں سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ آپ نے اتنا کچھ سیکھ لیا ہوگا‘‘ وہ خوشی سے بھرپور لہجے میں بولی۔
’’میں نے یہ سب کچھ تم سے اس لئے پوشیدہ رکھا تھا کہ میرے استاد صاحب کاحکم تھا‘‘ میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
جاوید کے قدموں کی چاپ سنائی دی تو وہ فوراً مجھ سے دور ہوگئی۔ میں نے پانی کا گلاس لے کر اس پر پھونک ماری اور ناعمہ پرچھڑک دیا۔ وہ یکدم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور آنکھیں پھاڑے چاروں طرف دیکھنے لگی۔ پھر جیسے ہی اس کے نظر مجھ پر پڑی اسنے پاس پڑا دوپٹہ اٹھا کر اوڑھ لیا۔
’’مم۔۔۔میں کہاں ہوں مجھے کیا ہوگیاتھا؟‘‘اس کی آواز میں نقاہت تھی وہ بری طرح سہمی ہوئی تھی۔
’’کچھ نہیں میرے جان! تم بالکل ٹھیک ہو جاؤ گی‘‘ صائمہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
’’ناعمہ کے کمرے میں جانا ہے۔۔۔‘‘ میں نے جاوید سے کہا ’’ناعمہ تم بھی آجاؤ‘‘ اس بار میرا مخاطب ناعمہ تھی۔ سب کچھ میں رادھا کی ہدایت کے مطابق کر رہا تھا۔ تھوری دیر بعد ہم اس کمرے میں تھے جو ناعمہ کے لئے مخصوص تھا وہ جب بھی میکے آتی یہیں ٹھہرتی۔
’’پریم!۔۔۔ناعمہ کے بسترکے پاس کھڑے ہو جاؤ۔ اور باقی لوگوں کو ایک طرف بیٹھنے کے لیے کہہ دو‘‘
’ناعمہ کو اس صوفے پر بٹھا دو اور تم لوگ سامنے دوسرے صوفے پر بیٹھ جاؤ‘‘ اس سب نے میری ہدایت پرعمل کیا۔ میں بیڈ کے پاس کھڑا ہوگیا اب میں رادھا کے اگلی ہدایت کا منتظر تھا۔ اس سارے وقت میں وہ دوسروں کی نظروں سے اوجھل میرے ساتھ کھڑی رہی تھی۔ رادھا نے آگے بڑھ کر بیڈ کی چادر ہٹائی پھر میٹرس کو ایک کونے سے پکڑ کر بیڈ سے نیچے پھینک دیا۔ یہ سب کچھ بخود ہورہا تھاکیونکہ رادھا تو نظروں سے اوجھل تھی۔ میٹریس کے نیچے لکڑی کاپھٹا تھا اس کے اوپر چار کیلیں(میخیں) دو تعویز اور ایک گیندے کا خشک پھول پڑا تھا۔ رادھا نے سب چیزوں کو اٹھایا اور میرے ہاتھ پر رکھ دیا۔ تینوں بہن بھائی حیرت سے منہ کھولے سب کچھ دیکھ رہے تھے جو خودبخود ہو رہا تھا۔ یہ سب چیزیں ہوا میں تیرتی ہوئی میرے ہاتھ پرآکر ٹک گئیں۔
’’ایک پیالی میں دودھ منگوا کریہ سب کچھ اسمیں ڈال دو‘‘ رادھا نے کہا۔ میں نے جاویدکوپیالی میں دودھ لانے کے لئے کہا۔ دودھ آنے کے بعد میں نے وہ ساری چیزیں اس میں ڈال دیں ۔پیالی میں سے ایسی آواز ابھری جس طرح کوئی گرم تپتی ہوئی چیز دودھ میں ڈال دی جائے۔ ساتھ ہی دھواں بھی نکلا۔ ادھر ناعمہ بیٹھے بیٹھے لہرائی اور صوفے پر گر گئی۔ سب کے ساتھ میں بھی چونک گیا۔
’چنتا نہ کرو پریم! یہ ابھی ہوش میں آجائے گی۔‘‘
صائمہ اور جاوید جلدی سے اسکی طرف لپکے میں نے انہیں اشارے سے روک دیا۔ اور ایسے ہی اپناہاتھ ناعمہ کی طرف کرکے جھٹک دیا۔
’’پکے پنڈت بنتے جا رہے ہو‘‘ رادھا کی مدہر ہنسی میرے کان میں پڑی۔ مجھے بڑے زورکی ہنسی آئی جسے میں نے ہونٹوں میں دبالیا۔ ایک دو منٹ کے بعدناعمہ نے آنکھیں کھول کر دیکھا پھر جلدی سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
اس کے چہرے پر بشاشت تھی۔ صائمہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔’’چند ! اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘
’’باجی ایسا لگ رہا جیسے میرے سر پرمنوں بوجھ تھا جویکدم اتر گیا۔ اب میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی ہوں۔‘‘اس نے مسکراکرکہا۔
’’انشاء اللہ میری گڑیا بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔‘‘ صائمہ نے اسے تسلی دی۔
لل۔۔۔لیکن باجی یہ سب کیا تھا؟ میں تو پیر صاحب کے پاس تھی انہوں نے مجھے کہا تھا لیٹ کر آنکھیں بند کرلوں میں نے انکی ہدایت کے مطابق عمل کیا تھاپھر مجھے کوئی ہوش نہ رہا تھا۔ یہ میرے بیڈ کے میٹریس کے نیچے سے کیا نکلا تھا؟‘‘
’’یہ سب اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے۔ تم اپنے بھائی جان کا شکریہ ادا کرو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی کلام سے تمہارا علاج کیا۔ کسی نے تمہارے اوپر کالاجادو کروا رکھاتھا‘‘ صائمہ نے میرے پاس آکرآہستہ سے پوچھا۔
’ابھی تو صرف ناعمہ پرسے جاود ختم ہواہے لیکن شرجیل کا باقی ہے اسے بھی جادو کے زورسے ناعمہ سے جداکیا گیا۔ انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ میں نے اسے تسلی دی۔
’’چلو اٹھو نہا کر فریش ہوجاؤ یہ تم نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے۔ انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا‘‘ صائمہ نے پیار سے ناعمہ کوڈانٹا۔ ہم سب ڈرائنگ روم میں آبیٹھے۔ صائمہ نے ملازمہ کو چائے بنانے کو کہا۔جس کانام گوری تھا۔ اس ملازمہ کا ذکر میں بطور خاص کروں گا۔ عمر اس کی بمشکل بیس سال ہوگی۔ لانبا قد، سانولا رنگ اس پرغضب کے تیکھے نقوش۔ بڑی بری بھنور اسی آنکھیں، گھنے سیاہ بال جو گھٹنوں سے نیچے آتے تھے۔ جوانی اس پرٹوٹ کر آئی تھی۔ اسکا تعلق خانہ بدوشوں کے قبیلے سے تھا۔ اس علاقے کے پیچھے ایک بہت بڑا میدان ہے ایک بار اس کے قبیلے والے یہاں آکر ٹھہرے۔ یہ بھیک مانگنے آئی۔ ناعمہ نے اس کودیکھا تو پوچھا میرے گھرنوکری کرو گی۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔ جب اسکے گھر والوں کو بلا کر بات کی گئی تو وہ کسی طور راضی نہ ہوئے۔ ادھر ناعمہ نے ضد پکڑ لی تھی کہ میں اسے اپنے پاس رکھوں گی۔ اس وقت گوری کی عمر تیرہ چودہ سال تھی۔ سسر نے بھاری رقم اور ڈرا دھمکا کر اسے اس کے والدین سے لے لیا تھا۔ شکل و صورت سے وہ کسی طور ان کی اولاد نہ لگتی تھی۔ شاید خانہ بدوشوں نے اسے کہیں سے اغوا کیا تھا۔ بہرحال وہ کسی گندے خون کی پیداوار تھی۔ آجکل سپنا کی آلہ کار بنی ہوئی تھی۔ شرجیل پر بری طرح عاشق تھی لیکن ناعمہ کے خوف سے اپنے جذبات دل میں چھپائے رکھتی۔ سپنا نے اسے حیلہ دے رکھاتھا کہ اگر تم میری مدد کرو تو جب شرجیل مجھ سے شادی کرلے گا تو تم بے شک اس سے پیار محبت کرتی رہنا۔ سپنا چونکہ خود طوائف زادی تھی اس لئے اسے اس قسم کی بے غیرتی کی توقع کی جا سکتی تھی۔ گوری جب چائے لے کر آئی تومیں نے محسوس کیا وہ بار بار کنکھیوں سے میری طرف دیکھتی۔ کبھی شامی کباب کبھی کوئی اور ڈش میرے سامنے رکھ کر بڑی ادا سے کہتی۔
صاحب جی ! یہ کباب کھائیں میں نے بنائے ہیں بڑے لذیذ ہیں‘‘ اس گھر میں آکر اس نے رنگ روپ بھی خوب نکال لیا تھا۔ صائمہ نے بھی اسکی حرکت نوٹ کرلی تھی اسکی صبیح پیشانی پر شکنیں نمودار ہوگئیں۔
’’ٹھیک ہے گوری! تم جاؤ جا کرکھانے کا انتظام کرو۔‘‘ وہ منہ بناتی چلی گئی ۔ناعمہ کے بستر کے نیچے تعویز اور دیگر عملیات کی چیزیں بھی اسی نے لاکر رکھی تھیں اوریہ سب کچھ سپنا کی ہدایت کے مطابق کیا گیا تھا۔
سپنا اسے اکثر کوئی نہ کوئی تعویز دے دیتی کہ اسے ناعمہ کے کھانے میں ملا دو اوریہ اسکے کہنے پرحرف بحرف عمل کرتی۔ ساری تفصیل رادھا سے معلوم ہوئی تھی۔ چائے سے فارغ ہو کر میں نے صائمہ سے کہا ’’مجھے شرجیل کے سلسلے میں کچھ پڑھائی کرناہے تم بچوں کو سنبھالنا میں تھوڑی دیر کے بعد آتاہوں۔‘‘ یہ کہہ کر میں باہر آگیا۔ میں ایک نظر شرجیل کا گھر دیکھنا چاہتا تھا۔ رادھا کے بقول وہاں ایک دلچسپ معرکہ ہونا تھا۔
کیا وچار ہیں مہاراج!‘‘ رادھا نے شوخی سے پکارا۔
’’جو آپ کی آگیا ہو؟‘‘ میں نے ہنس کر اسی انداز سے جواب دیا۔ اس کی مدہر ہنسی میرے کانوں میں جلترنگ بجا گئی۔
’’اپنے گھر پر بات آئی ہے تو کتنے بیاکل ہو رہے ہو؟ اور داسی کا کوئی دھیان ہی نہیں ہے‘‘ وہ اٹھلا کر بولی۔ اس وقت وہ نظروں سے اوجھل تھی ۔میں اس کی ادائیں اس کی آواز کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے محسوس کر رہا تھا۔ شام کا وقت تھا۔ ہوا خوشگوار تھی۔ اس علاقے میں ناریل کی درختوں کی بہتات تھی۔ سڑک کے دو رویہ ہر کوٹھی کے سامنے ناریل کے درخت تھے۔
’’سپنا کو دیکھو گے؟‘‘ اچانک رادھا کی آوازآئی۔
’’کہاں ہے؟‘‘ میں چونک کر پوچھا۔
’وہ اس وقت اپنے پریمی کے گھر میں اسے پریم کی شکشا دے رہی ہے‘‘ رادھا شوخ آواز آئی۔
’’تم نے کہا تھا کہ ہمیں سپنا کے ذریعے اس حرامی کالی داس تک پہنچنا ہے یاد ہے نا تمہیں؟ ‘‘ میں نے اسے یاد دلایا۔
’’میری اچھا تو یہی ہے کہ ایک بار وہ دھشٹ منڈل سے باہر نکل آئے اور میں تمرے چرنوں میں اس پاپی کا بلیدان کروں‘‘ رادھا دانت پیس کر بولی۔
’’اور اس کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔‘‘
’’ابھی تو میں کچھ نہیں کہہ سکتی دیکھو کیا ہوتا ہے؟‘‘ رادھا خود بھی الجھی ہوئی تھی۔
’’اب کیا ارادہ ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’تم سب کو لے کر شرجیل کے گھر پہنچو میں جب تک کچھ پربند کرتی ہوں۔ اور ہاں اس گوری کو اوش لانا۔‘‘
’’کیوں اس کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ میں نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔
’’یہ تمہیں میں سمے آنے پر بتاؤں گی۔‘‘ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ میں گھر واپس آگیا اور صائمہ کو ایک طرف بلا کر ساری صورتحال بتائی۔ وہ متفکر ہوگئی۔
’’اب کیا ہوگا فاروق!؟ اس جیسی بدکار عورتوں کے تعلقات تو بدمعاش قسم کے لوگوں سے ہوتے ہیں کہیں۔۔۔آپ کو نقصان نہ پہنچ جائے؟‘‘ اس کے ماتھے پر فکر سے لکیریں کھچی ہوئی تھیں۔
’کیا اب بھی تمہیں میرا اعتبار نہیں؟‘‘ میں نے شاکی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
’’ایسی بات نہیں فاروق! یہ سب نہ بھی ہوتا تو مجھے آپ پر اپنی جان سے بھی زیادہ اعتبار ہے بس یونہی میرا دل ڈر رہا ہے۔‘‘
’رادھا کو گالیاں دیتے ہوئے تو تمہیں ڈر نہیں لگا تھا‘‘ میں نے اسے چھیڑا’’اور بیچارے پیر صاحب کو تو تم نے ایسا لتاڑا کہ بس‘‘ میں نے ہنس کر کہا۔
’’فاروق! مجھ سے یہ قطعاً برداشت نہیں ہوتا کہ کوئی آپ کو کچھ کہے پتا نہیں مجھے کیا ہو جاتا ہے؟‘‘ اس نے ایسی شکل بنا کر کہا کہ میری ہنسی چھوٹ گئی ’’لیکن آپ کے ساتھ تو میں گھر چل کر نبٹوں گی ۔آپ نے مجھے کچھ بھی نہ بتایا اور اتنا کچھ سیکھ لیا‘‘ اس کی مصنوعی خفگی کو میں اچھی طرح سمجھتا تھا۔ آج وہ بہت خوش تھی کہنے لگی ’’فاروق! جب جاوید نے مما کو سب کچھ بتایا تو ان کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا‘‘ ہم لان میں کھڑے باتیں کر رہے تھے۔
’بھائی جان وہی پیر ہے آپ کو بلا رہا ہے‘‘ تھوڑی دیر بعد جاوید نے آکر بتایا۔ میں جلدی سے گیا تو وہ ہاتھ میں ایک شاپر پکڑے کھڑا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے باقاعدہ جھک کر سلام کیا۔ مجھے ہنسی تو بہت آئی لیکن میں نے ہونٹوں میں دبا لیا۔ اس نے شاپر میری طرف بڑھایا۔
’’جناب! گن لیں پورے ہیں‘‘ پھر اسنے جھولے کی جیب میں ہاتھ ڈل کر نوٹوں کی ایک گڈی نکال کر میری طرف بڑھائی۔ ’’جناب! یہ میری طرف سے ادنیٰ سانذرانہ ہے‘‘ اس کے چہرے پر حد درجہ تا بعداری تھی


