سایۂ محبت

سایۂ محبت

کیا محبت مرنے کے بعد بھی زندہ رہ سکتی ہے؟ کیا کسی روح سے محبت زندہ انسان کو تباہ کر سکتی ہے؟
وہ رات عام راتوں جیسی نہیں تھی۔ ہوا میں بوجھل پن تھا، جیسے کسی پرانے راز نے سانس روک رکھی ہو۔ چاند آدھا چھپا ہوا تھا، بالکل انامیکا کے دل کی طرح۔ پرانی حویلی کے سامنے کھڑی انامیکا نے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا۔

سڑک سنسان تھی۔ دل نے کہا واپس چلو، مگر قدم آگے بڑھ گئے۔ جیسے ہی اس نے زنگ آلود دروازے کو چھوا، دروازہ خود بخود چرچراتا ہوا کھل گیا۔ انامیکا چونک گئی۔ اندر اندھیرا تھا، مگر عجیب بات یہ تھی کہ اس اندھیرے میں بھی راستہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔
اچانک پیچھے سے آواز آئی، “آپ آ گئیں…” وہ مڑی۔ آکاش سامنے کھڑا تھا—خاموش، سنجیدہ، اور آنکھوں میں ایسا سکوت جیسے اس نے زندگی کم اور موت زیادہ دیکھی ہو۔ اس نے کہا، “آپ یہاں اکیلی نہیں آتیں… یہ جگہ لوگوں کو بدل دیتی ہے…” انامیکا نے نظریں چرا لیں، دل تیز دھڑکنے لگا۔

“شاید…” وہ آہستہ بولی، “مجھے بدلنا ہی تھا…” آکاش نے ایک لمحہ اسے دیکھا پھر کہا، “پھر اندر آ جاؤ… اب دروازہ بند ہو چکا ہے…” انامیکا نے مڑ کر دیکھا، دروازہ واقعی بند تھا۔ یہ محبت کی ابتدا تھی یا تباہی کی؟ وہ نہیں جانتی تھی۔
حویلی کے اندر قدم رکھتے ہی وقت جیسے رک گیا۔ آکاش آگے چل رہا تھا اور انامیکا اس کے پیچھے۔ ہر قدم کے ساتھ ہوا ٹھنڈی ہوتی جا رہی تھی۔ “یہاں کوئی اور بھی رہتا ہے؟” انامیکا نے پوچھا۔ آکاش رکا۔ “رہتا تھا…” اس نے مختصر جواب دیا۔ یہ جواب سوال سے زیادہ خوفناک تھا۔

ایک کمرے کے سامنے رک کر آکاش نے دروازہ کھولا۔ کمرہ پرانا تھا مگر صاف۔ دیوار پر ایک بڑا سا آئینہ لگا تھا۔ جیسے ہی انامیکا آئینے کے سامنے پہنچی، اس نے ایک سایہ دیکھا، بالکل اپنے پیچھے۔ وہ تیزی سے مڑی۔ “یہاں کوئی تھا!” کمرہ خالی تھا۔ آکاش کی آنکھوں میں پریشانی ابھر آئی۔

“یہ آئینے… سچ دکھاتے ہیں۔ ہر سچ دیکھنے کے قابل نہیں ہوتا…” انامیکا کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ “اگر یہاں کچھ غلط ہے تو مجھے جانا چاہیے…” وہ بولی۔ آکاش ایک قدم آگے بڑھا۔ “اب بہت دیر ہو چکی ہے… یہ جگہ تمہیں نشان زد کر چکی ہے…”
اچانک آئینہ زور سے کانپا اور اس بار سایہ صاف دکھائی دیا—ایک عورت، کھلے بال اور پاگل سی ہنسی۔ انامیکا چیخ پڑی۔

چیخ کے ساتھ ہی تمام شمعیں بجھ گئیں۔ اندھیرے میں صرف ہنسی گونج رہی تھی۔ “آخر تم آ ہی گئی…” آواز عورت کی تھی مگر اس میں انسانیت نہیں تھی۔ آکاش نے انامیکا کو پیچھے کر دیا۔ “روحا…” اس کے ہونٹوں سے نام نکلا۔ اندھیرے سے وہ سامنے آئی—سفید لباس، پیلا چہرہ اور آنکھوں میں حسد۔ “کیا تم نے مجھے یاد کیا تھا، آکاش؟ یا یہ نئی محبت کافی تھی؟” انامیکا کانپ گئی۔ “یہ کون ہے؟” آکاش نے نظریں جھکا لیں۔

“میری پہلی محبت… جو مر گئی تھی…” روحا ہنس پڑی۔ “مر گئی؟ نہیں آکاش… میں ادھوری چھوڑ دی گئی تھی…” وہ انامیکا کے قریب آئی۔ “تم نے وہ لے لیا جو میرا تھا…” انامیکا نے آکاش کا ہاتھ پکڑ لیا۔ “میں نے کچھ نہیں لیا… میں تو صرف محبت کر رہی ہوں…

” یہ جملہ روحا کے لیے آگ بن گیا۔ “یہ جگہ محبت نہیں… قربانی مانگتی ہے!”
دیواروں پر خون جیسے نشان ابھر آئے۔ روحا کی آواز گونجی، “تین لوگ نہیں رہ سکتے… ایک کو جانا ہوگا…” آکاش نے مضبوطی سے کہا، “اگر کسی کو جانا ہے تو میں جاؤں گا…” یہ پہلا لمحہ تھا جب محبت خوف کے سامنے کھڑی ہوئی۔ حویلی کی فضا بوجھل ہو چکی تھی۔ روحا کی آنکھوں میں پاگل پن بڑھتا جا رہا تھا۔ “کتنا اچھا وعدہ ہے… مگر فیصلہ تم نہیں کرو گے…” دیواروں پر لکیریں گہری ہوتی گئیں۔ انامیکا کا سر چکرانے لگا۔ “آکاش…” اس نے کمزور آواز میں کہا، “مجھے یہاں سے لے چلو…” آکاش نے اسے تھام لیا۔ “میں ہوں نا… میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا…” روحا چیخی،

“جھوٹ! تم نے مجھے بھی یہی کہا تھا!”
اچانک انامیکا زمین پر گر پڑی۔ اس کا جسم ٹھنڈا ہونے لگا۔ آکاش گھبرا گیا۔ “یہ کیا کر رہی ہو؟!” روحا کی آواز گونجی، “اب فیصلہ قریب ہے… یا وہ جائے گی… یا تم دونوں…” آکاش نے انامیکا کو مضبوطی سے تھام لیا۔ “میں اپنی غلطی دوبارہ نہیں کروں گا… اگر قربانی چاہیے تو مجھے لے لو…” روحا ایک لمحے کو خاموش ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں فتح چمکی۔ “ٹھیک ہے، آکاش… مگر انجام تم سوچ بھی نہیں سکتے…” حویلی لرز اٹھی۔ یہ صرف آغاز تھا۔
حویلی کی دیواریں کراہ رہی تھیں۔

لکڑی کی چھت سے گرد جھڑ رہی تھی جیسے وقت خود بکھر رہا ہو۔ انامیکا نیم بے ہوش تھی۔ آکاش نے اسے بانہوں میں تھام رکھا تھا۔ اس کے ماتھے پر پسینہ تھا، آنکھوں میں خوف اور دل میں پچھتاوا۔ “یہ سب میری وجہ سے ہے…” وہ خود سے بولا۔ روحا آہستہ آہستہ ان کے گرد گھوم رہی تھی۔ “تم نے وعدہ کیا تھا آکاش…” اس کی آواز میں زہر تھا۔ “میں مجبور تھا…” آکاش نے کہا۔ “محبت میں مجبوری نہیں ہوتی…” روحا ہنسی۔ اس نے ہاتھ اٹھایا، چیخ گونجی، انامیکا کے جسم سے سرد لہر نکلی۔ “بس کرو!” آکاش چیخا۔ “قربانی قبول ہے… مگر شرط پر…” روحا بولی۔

“یہ رات پوری کرو گے… میرے ساتھ…” چراغ خود بخود جل اٹھے۔ یہ رات ماضی کا حساب مانگ رہی تھی۔
رات کے پچھلے پہر حویلی میں عجیب خاموشی تھی۔ انامیکا کی آنکھیں کھلیں۔ سامنے آکاش بیٹھا تھا، ٹوٹا ہوا، خاموش۔ “آکاش…” اس کی آواز اندھیرے میں چراغ بن گئی۔ “میں نے خواب دیکھا… ایک لڑکی رو رہی تھی… وہ بری نہیں تھی…” آکاش کا رنگ اڑ گیا۔

“روحا…” دیوار پر سایہ ابھرا۔ “تم نے اسے بھی سچ دکھا دیا…” انامیکا نے کہا، “اگر تم واقعی محبت کرتی تھیں تو نفرت کیوں بن گئیں؟” روحا چیخی، “کیونکہ مجھے ادھورا چھوڑ دیا گیا!” آکاش بولا، “میں نے خود کو سزا دی…

” یہ پہلا موقع تھا جب روحا خاموش ہوئی۔
تہہ خانے کا دروازہ کھلا۔ “یہ آخری جگہ ہے…” روحا بولی۔ سیڑھیاں اندھیرے میں ڈوبی تھیں۔ قربانی کا نشان بیچوں بیچ تھا۔ “ایک جائے گا… یا محبت… یا پچھتاوا…” آکاش آگے بڑھا۔ انامیکا چیخ پڑی۔ روحا کے آنسو گرے۔ “یہ قربانی جان کی نہیں… انا کی ہے…” حویلی کانپ اٹھی۔
تہہ خانے میں عجیب روشنی پھیلنے لگی۔ “یہ حویلی محبت سے بنی تھی…” روحا نے کہا۔ “خواب ادھورے رہ جائیں تو قبریں بن جاتے ہیں…” آکاش بولا، “میں تمہیں بچا نہیں سکا…

” انامیکا نے کہا، “چھوڑنے کا حوصلہ بھی محبت ہے…” نشان مدھم ہونے لگے۔ “معافی بھی محبت کی ایک شکل ہے…” آکاش نے کہا۔ حویلی نے گہری سانس لی۔
صبح کی پہلی کرن صحن میں اتری۔ فضا عام تھی، پرندوں کی آواز تھی۔ “سب ختم ہو گیا؟” انامیکا نے پوچھا۔

“نہیں… آزاد ہو گیا ہے…” آکاش نے کہا۔ اس نے دروازے بند کیے، تالے سے نہیں، سکون سے۔ انامیکا نے اس کا ہاتھ تھاما۔ “محبت کو قید نہیں کیا جا سکتا… نہ زندگی میں نہ موت میں…” وہ چل پڑے۔ پیچھے حویلی خاموش کھڑی تھی—نہ ڈراؤنی، نہ زندہ، بس ایک یاد۔
کچھ محبتیں مل کر نہیں، چھوڑ کر پوری ہوتی ہیں۔ اور کچھ کہانیاں خوف سے شروع ہو کر سکون پر ختم ہوتی ہیں۔

1 Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *