زوناش

زوناش

دسمبر کی سرد رات تھی۔ بڑی سخت سردی پڑ رہی تھی۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ برفیلی ہوا چل رہی تھی۔ رات کے بجے ہی شہر کی سڑکیں خالی ہو گئی تھیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں جا کر گرم بستروں میں دبک گئے تھے۔ ریستورانوں اور ہوٹلوں میں کچھ لوگ شیشوں والے بند دروازوں کے پیچھے بیٹھے گرم گرم کافی اور چائے پی رہے تھے۔ اس وقت شہر سے باہر سرکاری مردہ خانے میں موت کی خاموشی طاری تھی۔ مردہ خانے کے کولڈ سٹوریج میں تین مردوں کی لاوارث لاشیں سٹریچروں پر پڑی پوسٹ مارٹم کا انتظار کر رہی تھیں۔ یہ لاشیں سڑک کے حادثوں میں ہلاک ہونے والے آدمیوں کی تھیں جن کے لواحقین کے لیے اخبار کے ذریعے لاش کی تصویروں کے ساتھ اطلاع شائع کرا دی گئی تھی کہ ایک ہفتے کے اندر اندر لاشوں کو شناخت کر کے لے جائیں۔ ابھی تک ان لاشوں کو لینے کوئی نہیں آیا تھا۔

اس مردہ خانے سے تھوڑے فاصلے پر شہر کے سول ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں دو نوجوان ڈاکٹر راؤنڈ لگا رہے تھے۔ ان ڈاکٹروں نے اسی سال سرجری میں ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا تھا اور اب سول ہسپتال میں ہاؤس جاب کر رہے تھے۔ وہ رات کی ڈیوٹی پر تھے۔ ان میں سے ایک سرجن ڈاکٹر کا نام پرویز تھا اور دوسرے سرجن ڈاکٹر کا نام دارا تھا۔ دونوں آپس میں گہرے دوست تھے۔ دونوں سرجن ڈاکٹر اپنے وارڈ کے مریضوں کو دیکھنے کے بعد سٹاف نرس کی طرف متوجہ ہوئے۔ ڈاکٹر پرویز نے سٹاف نرس سے کہا۔ “سسٹر! آج بڑی سردی ہے ، ہم ہسپتال کی کینٹین میں تھوڑی دیر کے لئے چائے پینے جا رہے ہیں۔ کوئی ایمر جنسی ہوئی تو ہمیں بلوا لینا۔”

یہ کہہ کر وہ ہسپتال کی کینٹین میں آگئے۔ کینٹین میں دو تین نوجوان ڈاکٹر لمبے سفید کوٹ پہنے چائے وغیرہ پی رہے تھے۔ ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا کونے والی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر پرویز نے لڑکے سے چائے لانے کو کہا اور پھر ڈاکٹر دارا سے کہنے لگا۔ ”میں نے تمہارے سامنے جو تجویز رکھی تھی میرا خیال ہے تم نے اس پر غور نہیں کیا۔”

ڈاکٹر دارا کچھ دیر تک اپنے دوست ڈاکٹر پرویز کے چہرے کو تکتا رہا۔ پھر بولا۔ ۔ پرویز!! مجھے تمہاری تجویز سے ڈر آتا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”اس میں ڈرنے کی کون سی بات ہے؟ بھئی ہم سرجن ہیں۔ ہم بغیر کسی ڈر خوف کے ایسا کر سکتے ہیں۔”

ڈاکٹر دارا نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “پھر بھی مجھے ایسا تجربہ کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔”

تم کس چیز سے ڈرتے ہو؟” ڈاکٹر پرویز نے پوچھا۔

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ” فرض کر لو کہ ہمارا تجربہ ناکام ہو جاتا ہے تو کیا ہمیں لاشوں کی بے حرمتی کرنے کا گناہ نہیں ملے گا؟”

ڈاکٹر پرویز نے ہنس کر کہا۔ “یار دار!! تم کیسی دقیانوسی باتیں کرتے ہو۔ بھائی ہم میڈیکل سائنس کے آدمی ہیں۔ انسان کی ایک ایک رگ ایک ایک عضو سے ہم اس طرح واقف ہیں جیسے انسان کو ہم نے ہی بنایا ہو۔”

ڈاکٹر دارا نے پرویز کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ”ایسی کفر کی باتیں منہ سے نہ نکالو۔ انسان کو خدا نے بنایا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “اچھا بھائی میں مان لیتا ہوں کہ انسان کو خدا نے ہی بنایا ہے، لیکن ذرا سوچو کہ اگر ہمارا تجربہ کامیاب ہو گیا تو ہمیں کس قدر شہرت ملے گی۔ ساری دنیا میں ہمارا نام گونج اٹھے گا ڈاکٹر ہم پر کتابیں لکھیں گے۔ ریسرچ کریں گے اور ہمارے مجسمے بنا کر بڑے بڑے ہسپتالوں میں رکھیں گے۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ہمارا نام چھپے گا اور ہمیں نوبل پرائز سے نوازا جائے گا۔ ہمارے نام کے آگے لکھا جائے گا کہ یہ وہ ڈاکٹر ہیں جنہوں نے ایک نیا انسان بنایا تھا۔”

ڈاکٹر دارا بولا۔ اس سے تمہیں کیا حاصل ہو گا؟ یہ کام خلاف قدرت ، خدا کے خلاف بغاوت ہو گی۔”

پرویز بولا۔ “بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے خدا خوش ہو گا کہ ہم نے اس کے کام کو آگے بڑھایا ہے۔ ذرا سوچو، دنیا میں شاید ہی کوئی انسان سر سے پاؤں تک خوبصورت اور مکمل ہو۔ اگر کسی کا چہرہ خوبصورت ہے تو سر چھوٹا ہے یا ناک بھدی ہے بال سنہری ہیں تو قد چھوٹا ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو دماغ کمزور ہے۔ ہم ایک مثالی انسان بنائیں گے جس کے بال سنہری ہوں گے، آنکھیں نیلی ہوں گی، بازو اور ٹانگیں طاقتور ہوں گی۔ قد اونچا لمبا ہو گا دماغ اعلیٰ ہو گا۔ وہ ہر لحاظ سے مکمل اور طاقتور انسان ہو گا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ہمارا تابعدار ہو گا ، غلام ہو گا۔ ہم اسے جو کہیں گے وہ کرے گا۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “مگر یہ کیسے ممکن ہو گا؟” ڈاکٹر پرویز کہنے لگا۔ ”ہم ایسا کر سکتے ہیں، ہم نے سرجری میں ڈاکٹری کا امتحان ل پاس کیا ہے۔ ہم سب سے لائق ڈاکٹرز ہیں۔ گذشتہ ماہ ہم نے کئی انسانوں کے کٹے ہوئے بازو ٹانگیں اور ہاتھ پاؤں سرجری کے ذریعے کامیابی کے ساتھ جوڑے ہیں۔ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔”

ڈاکٹر دارا نے پوچھا۔ “لیکن یہ انسانی اعضاء کہاں سے لاؤ گے ؟ کیا تم نیلی آنکھیں، سنہرے بال خوبصورت ہاتھ پاؤں خود بناؤ گے ؟”

ڈاکٹر پرویز بولا” ہرگز نہیں، ابھی میڈیکل سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی کہ وہ آنکھیں بال اور دماغ تیار کرسکے، ہم کیلکولیٹر اور کمپیوٹر بناسکتے ہیں پر ایسا دماغ نہیں بنا سکتے جیسا کہ قدرت نے انسان کا بنایا ہے”

“تو پھر یہ نیلی آنکھیں یہ سنہرے بال اور ہاتھ پاؤں ہم کہاں سے پیدا کروگے؟” ڈاکٹر دارا نے سوال کیا

اسکے جواب میں ڈاکٹر پرویز نے کہا” یہ سب ہم قبرستان سے لائیں گے۔”

اچانک باہر بجلی کڑکی ، بادل زور سے گرجا اور بارش شروع ہو گئی اور تیز ہوا سے کینٹین کی کھڑکی کا پٹ تراخ سے کھل گیا۔ ڈاکٹر پرویز نے جلدی سے اٹھ کر کے سب کھڑکی بند کی اور اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گیا اور بولا۔ ” قبرستان انسانی اعضاء کی مارکیٹ ہے۔ وہاں سے ہمیں ہر قسم کے انسانی اعضاء مل سکتے ہیں۔ ذرا خیال کرو ، قبرستان میں کتنی خوبصورت نیلی آنکھیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ کیسے کیسے پروفیسروں، شاعروں اور سائنس دانوں کے دماغ مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں۔ ہم یہ کریں گے کہ قبرستان کے گورکن کو اپنے ساتھ ملالیں گے اور وہ روپے پیسے کے لالچ میں یہ کام آسانی سے کر دیا کرے گا۔ ہم اسے کہیں گے کہ وہ صرف اتنا کرے کہ اگر کوئی ایسا مردہ دفن ہونے کے لیے لایا جائے کہ جس کی آنکھیں نیلی ہوں تو ہمیں خبر کر دے۔ ہم رات کو جا کر اس مردے کی آنکھیں نکال کر لے آئیں گے۔ پھر اگر کسی مردے کی ٹانگیں اور بازو باڈی بلڈروں والے مضبوط اور لمبے قد کے ہوں تو ہمیں اطلاع کر دے۔ ہم اس مردے کے بازو اور ٹانگیں کاٹ کر لے آئیں گے۔ اسی طرح اگر کسی مردے کا ناک بڑا خوبصورت اور یونانیوں کی طرح ستواں ہو تو ہم اس مردے کا ناک کاٹ کر لے آئیں گے۔ ہاتھ پاؤں خوبصورت اور چوڑے ہیں تو ہم وہ کاٹ کر لے آئیں گے۔ اگر کسی مردے کا سر گول اور بڑا ہے تو ہم اس کا سر کاٹ کر لے آئیں گے۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ”اور دماغ کہاں سے لاؤ گے ؟ تمہیں یہ کیسے پتہ چلے گا یہ مردہ بڑا عقلمند تھا؟”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ”اس کا حل بھی میں نے سوچ رکھا ہے۔ تمہیں یاد ہے جب ہم لندن میں تھے تو ایک بار لندن کا سائنسی عجائب گھر دیکھنے گئے تھے ؟”

”ہاں یاد ہے۔ ” ڈاکٹر دارا نے کہا۔

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ”اور تمہیں یہ بھی یاد ہوگا کہ لندن کے اس سائنسی نوادرات کے عجائب گھر میں شیشے کے مرتبان میں سپرٹ ڈال کر دو دماغ رکھے گئے تھے۔ ایک دماغ دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا تھا اور دوسرا دماغ انگلستان کے سب سے بڑے قاتل اور جرائم پیشہ بد معاش کا تھا جس نے اپنے ہاتھ سے ڈیڑھ دو سو آدمیوں اور عورتوں کا خون کیا تھا اور آخر میں پھانسی کی سزا پائی تھی۔”

”ہاں! مجھے یاد ہے۔ دونوں دماغ عجائب گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھے ہوئے تھے۔ ” ڈاکٹر دارا نے کہا۔

ڈاکٹر پرویز چائے بنا رہا تھا۔ کہنے لگا۔ “ہم وہاں سے دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا دماغ چرا کر لے آئیں گے اور اپنے بنائے ہوئے انسان کے سر میں وہ دماغ فٹ کر دیں گے۔ ہم انسانی اعضاء کے آپریشن اور رگوں کو جوڑنے کے ماہر ہیں۔ ہم بڑی آسانی سے ایسا کر سکیں گے۔ ذرا غور کرو جب وہ انسان زندہ ہو جائے گا تو وہ دنیا کا مکمل ترین انسان ہو گا۔ ہر ملک کے لوگ اسے دیکھنے آئیں گے۔ دنیا کے اخباروں میں اس کی اور ہماری تصویریں چھپیں گی اور نیچے لکھا ہوگا کہ یہ وہ مصنوعی انسان ہے جو ڈاکٹر دارا اور ڈاکٹر پرویز نے اپنی لیبارٹری میں بنایا ہے۔”

ڈاکٹر دارا پر ڈاکٹر پرویز کی باتوں کا اثر ہونا شروع ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کہہ رہا ہوتا۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو سوائے اس کے ہم کیا کر سکیں گے کہ کلینک کھول کر پریکٹس شروع کر دیں گے اور وہ بھی اگر قسمت اچھی ہوئی تو پریکٹس چلے گی ورنہ کلینک میں بیٹھے مکھیاں مارتے رہیں گے، اگر ڈاکٹر بن گئے تو زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ نوکری کرتے رہیں گے۔ بوڑھے ہوکر ریٹائر ہو جائیں گے اور پھر گمنامی کی حالت میں مرجائیں گے۔ نہیں یہ زندگی نہیں، میں ایسا نہیں کروں گا۔ میں کوئی نیا تجربہ کرنا چاہتا ہوں جو میڈیکل سائنس اور سرجری کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دے، ہم اتنے دولت مند جائیں گے کہ جس کا تم ابھی تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس انٹر نیشنل پاسپورٹ ہو گا۔ دنیا کے ہر چھوٹے بڑے ملک کے ویزے لگے ہوں گے۔ ہر ملک نےہمیں اپنے ملک کی شہریت دے رکھی ہوگی۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “ٹھیک ہے تم نیا اور مثالی انسان بنا لو گے مگر وہ تو مردہ ہوگا۔ تم اس میں داخل کرنے کے لیے روح کہاں سے لاؤ گے ؟”.

ڈاکٹر پرویز کہنے لگا۔ ” روح ایک قسم کی توانائی یعنی انرجی بھی ہے۔ جس طرح ہم توانائی کو مادے میں تبدیل کر سکتے ہیں، اسی طرح ہم مادے کو توانائی میں بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ آکسیجن گیس ایک توانائی ہے۔ وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتی مگر ہم چاہیں ہیں مگر ہم چاہیں تو اسے لیکویڈ یعنی محلول میں تبدیل کر سکتے ہیں اور یہ لیکویڈ یعنی گا ڑھا مادہ محلول ہے ، ہم پانی کو برف میں اور برف کو پانی میں تبدیل کرتے ہی رہتے ہیں۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “یہ تو ٹھیک ہے بھائی لیکن جو انسان تم مردوں کے اعضاء جوڑ جوڑ کر بناؤ گے وہ تو مردہ ہو گا۔ اس میں روح کی توانائی کیسے اور کہاں سے داخل کرو گے؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”ہم اس انسانی لاش کو آسمانی بجلی کے جھٹکے دیں گے، آسمانی بجلی میں غضب کی توانائی ہوتی ہے۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ آسمانی بجلی کے جھٹکوں سے ہماری بنائی ہوئی انسانی لاش زندہ ہو کر اُٹھ کھڑی ہوگی ۔ “

ڈاکٹر دارا نے ہنس کر کہا۔ ”یار ، جب ہم لاش پر آسمانی بجلی گرائیں گے تو لاش تو جل کر بھسم ہو جائے گی۔ جانتے ہو آسمانی بجلی میں ایک کروڑ وولٹ کی طاقت ہوتی ہے”

ڈاکٹر پرویز نے کہا” تم مجھے اتنا بھی بیوقوف نا سمجھو، کہ مجھے معلوم ہی نہیں کہ آسمانی بجلی جہاں گرتی ہے وہاں کی ہر شے کو خاک سیاہ کردیتی ہے، ہم انسانی لاش پر براہ راست آسمانی بجلی نہیں گرائیں گے “

ڈاکٹر دارا نے مشکوک انداز میں پوچھا۔ ”تو پھر کیا کریں گے؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”ہم انسانی لاش کو ایک تختے پر لٹا کر اسے زنجیروں میں جکڑ کر شہر سے باہر جو پرانے قلعے کا آسیبی کھنڈر ہے اور جہاں آسیب کے خوف کی وجہ سے کوئی انسان نہیں جاتا، ہم اس کی چھت پر لاش کو رکھ دیں گے۔ پھر لاش کے جسم کے ساتھ موصل تانبے کا تار لپیٹ کر اس کا ایک سرا قلعے کے منارے کے اوپر ایریل کی طرح لگا دیں گے اور دوسرا سرا نیچے لے جا کر قلعے کی کھائی میں زمین کے اندر دبا دیں گے۔ چنانچہ جب آسمان پر بادلوں میں بجلی چمکے گی ، کڑکے گی اور تانبے کے موصل سرے پر گرے گی تو بجلی کو راستہ مل جائے گا اور وہ ایک کروڑ وولٹیج کی بجلی ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں تانبے کی تار کے ذریعے لاش کے سارے جسم میں گزر کر تانبے کی تار میں سے گزرتی ہوئی نیچے زمین میں دھنس جائے گی۔ لاش کو ایک کروڑ وولٹیج کا جھٹکا لگے گا اور مجھے سو فیصد یقین ہے کہ لاش میں اتنی توانائی پیدا ہو جائے گی کہ وہ زندہ ہو جائے گی اور اس کے دماغ کے ساتھ اس کے جسم کے سارے اعضاء ساری رگیں کام کرنا شروع کر دیں گی اور دل دھڑکنے لگے گا اور لاش کی رگوں اور دل میں مرنے کے بعد جو خون جم جاتا ہے وہ پھر سے خون بن کر رگوں میں دل کی دھڑکن کے ساتھ گردش کرنا شروع کر دے گا۔”

ڈاکٹر دارا بولا۔ ” اس سے ہمیں کیا حاصل ہو گا؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”یہ اس وقت سوچیں گے جب لاش زندہ ہو جائے گی کہ ہمیں کیا فائدہ ہوگا۔ یہ ذہن میں رکھو کہ میڈیکل سائنس کی دنیا میں یہ کتنا بڑا انقلاب ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سائنس دان اس پر مزید تجربے کریں اور آہستہ آہستہ انسان موت پر قابو پالے۔”

ڈاکٹر دارا نے پرویز کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ ” یہ کفر ہے اللہ تعالی کے کام میں بے جا دخل اندازی ہے۔ خدا اسے ہرگز پسند نہیں کرتا۔”

ڈاکٹر پرویز جس کے دماغ کے ایک حصے میں شیطان گھس کر بیٹھ گیا تھا بولا “یار ٹیک اٹ ایزی۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسان موت پر قابو نہ بھی پا سکے پھر بھی ہمارے تجربے سے میڈیکل سائنس آسمانی بجلی سے انسان کی ہزاروں بیماریوں کا علاج دریافت کر سکے گی اور اس سے انسانیت کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ میں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ اس میں بنی نوع انسان کی بھلائی ہے اور جس میں انسانوں کی بھلائی ہو اس کام سے خدا کبھی ناراض نہیں ہو تا ۔”

انسان جب ایک بار شیطان کو اپنے دماغ میں داخل ہونے کی اجازت دے دے تو پھر شیطان اسے طرح طرح کی دلیلیں دے کر برائی کے کام پر آمادہ کر ہی لیتا ہے اور انسان کو ورغلا لیتا ہے۔ ڈاکٹر پرویز نے اپنے دماغ میں شیطان کو داخل ہونے کی اجازت دے دی تھی۔ چنانچہ اب شیطان اس کے برے کام کو بھی اچھا کام دکھلا رہا تھا۔ اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ شیطان کے بہکاوے میں کبھی نہ آئے اور اپنے آپ کو اس کے شیطانی بہکاووں سے دور رکھے۔

ڈاکٹر پرویز نے سادہ دل ڈاکٹر دارا کو بھی طرح طرح کی شیطانی دلیلیں دے کے اپنے ساتھ ملالیا اور وہ اس کی مدد کرنے پر تیار ہو گیا۔ ڈاکٹر پرویز کی نیت انسان کی بھلائی کی نہیں تھی بلکہ اپنی بھلائی کی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ جب لاش کے جسم ب سے ایک کروڑ وولٹ کی آسمانی بجلی گزر جائے گی تو زندہ ہونے کے بعد لاش میں طاقت آجائے گی کہ اس پر نہ تو گولی کا اثر ہو گا نہ تلوار اس کے جسم پر زخم لگا سکے گی۔ پھر لاش بلٹ پروف ہو جائے گی اور اس کا جسم فولاد سے بھی زیادہ مضبوط ہوجائے گا۔ یہ لاش اس کے کنٹرول میں ہوگی اور صرف اس کا حکم مانے گی۔ اور وہ لاش سے جو چاہے گا کام کروا سکے گا۔ وہ جس بینک میں چاہے لاش کی مدد سے ڈاکا ڈلوا کر لاکھوں کروڑوں روپے حاصل کر سکے گا۔ لاش پر پولیس کی فائرنگ کا بھی کوئی اثر نہیں ہوگا ، اگر پولیس لاش کو لوہے کی زنجیروں میں بھی جکڑے گی تو لاش زنجیریں توڑ کر فرار ہو جائے گی۔ ڈاکٹر پرویز زندہ لاش کو شہر سے دور کسی ویران جنگل میں ایسی جگہ زمین کے اندر یا کسی پہاڑی ٹیلے کے غار میں چھپا کر رکھے گا کہ جہاں سے کسی کو پتہ ہی نہیں چل سکے گا۔ اس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ وہ اس زندہ لاش کو اپنے ساتھ لے کر یورپ کے کسی ملک میں جائے گا جہاں وہ لاش کی مدد سے بینکوں میں ڈاکے ڈلوا کر اربوں روپے کی دولت کما کر باقی زندگی عیش و آرام میں بسر کرے۔ اسی وقت ہسپتال کی کینٹین کے باہر بجلی زور سے کڑکی اور بادل دیر تک گرجتے رہے۔

ڈاکٹر پرویز نے ڈاکٹر دارا سے کہا۔ ” اس وقت سول ہسپتال کے مردہ خانے میں کچھ لاوارث لاشیں بھی پڑی ہیں۔ ہم ان کا بھی معائنہ کریں گے اور اگر شیطان لاشوں کا کوئی عضو ہمارے مطلب کا ہوا تو ہم اسے بھی کاٹ کر لے آئیں گے۔ ان انسانی اعضاء کو محفوظ رکھنے کے لئے میں نے شہر سے باہر ویران آسیبی قلعے کا ایک تہہ خانہ دیکھ لیا ہے۔ ہم وہاں سپرٹ کے بڑے بڑے شیشے کے مرتبان لا کر رکھ دیں گے جن میں وہ اعضاء رکھ دیا کریں گے جو ہم لاشوں میں سے کاٹ کر لایا کریں گے۔”

ڈاکٹر دارا نے پوچھا۔ ” اس سلسلے میں تم نے شہر کے قبرستان کے گورکن سے بات کی ہے کہ نہیں؟”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ”میں کل اس سے مل رہا ہوں۔ تم اس کی فکر نہ کرو۔ روپے کے لالچ میں گورکن ہمارے ساتھ شامل ہو جائے گا۔ آؤ اب چلتے ہیں، وارڈ میں ہماری ضرورت ہو گی۔”

دونوں ڈاکٹر کینٹین سے نکل کر ہسپتال کے سرجیکل وارڈ کی طرف چل پڑے۔ رات کے بارہ بجے ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہوئے تو پرویز نے کہا۔ ”میرا خیال ہے۔ ہم اسی وقت کیوں نہ مردہ خانے میں چل کر لاوارث لاشوں کا معائنہ کرلیں۔ ہو سکتا ہے کسی لاش کا کوئی عضو طاقتور ہو اور وہ ہمارے انسان یعنی سپر مین بنانے میں ہمارے کام آسکے۔”

اچھا خیال ہے۔“ ڈاکٹر دارا نے کہا۔

سادہ دل اور کمزور قوت ارادی کے مالک ڈاکٹر دارا کو عیار اور پیسے کے لالچی ڈاکٹر پرویز نے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔ سادہ دل اور کمزور قوت ارادی والا آدمی گھاٹے میں رہتا ہے۔ آدمی کو سادہ دل ضرور ہونا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے مضبوط قوت ارادی والا بھی ہونا چاہئے تاکہ شیطان اسے ورغلا نہ سکے لیکن ڈاکٹر دارا ایسا آدمی نہیں تھا چنانچہ اس کی سادہ دلی اس کے کسی کام نہیں آئی۔۔

اس وقت بارش تھم چکی تھی مگر رات بڑی سرد تھی۔ دونوں ڈاکٹر کار میں بیٹھ کر سول ہسپتال سے مردہ خانے پہنچ گئے۔ چوکیدار انہیں جانتا تھا کہ یہ ڈاکٹر لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔ چنانچہ اس نے مردہ خانے کا دروازہ کھول دیا مردہ خانے میں باہر کے مقابلے میں زیادہ ٹھنڈ تھی اور لاشوں پر لگائی گئی دوائیوں سے سخت ناگوار بو پھیلی ہوئی تھی۔ مگر ان ڈاکٹروں کو یہ بو بالکل ناگوار محسوس نہیں ہورہی تھی۔ کولڈ سٹوریج میں جاکر انہوں نے سٹریچر پر پڑی ہوئی لاشوں کا معائنہ کیا ، کولڈ سٹوریج میں سردی بہت زیادہ تھی مگر ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا کو اس کی عادت تھی۔ انہیں پوسٹ مارٹم کے وقت کولڈ سٹوریج میں کافی دیر تک رہنا پڑتا تھا۔ تھی۔ یہ سب لاشیں مَردوں کی تھیں۔ تین لاشیں جوان آدمیوں کی تھیں۔ لاشوں کا معا ئنہ کرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ صرف دو لاشیں ایسی ہیں جن کے ناک ذرا اوپر اٹھے ہوئے ہیں اور رومن ناک کی طرح لمبی ہیں۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “یہ ناک ہمارے نئے آدمی یعنی سپر مین کے لیے صحیح رہیں گے۔”

تو کیا تم اپنے آدمی کو دو ناک لگاؤ گے ؟” دارا نے پوچھا۔

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ” ایک ناک پورے کا پورا ایسے ہی رہے گا لیکن دوسرے ناک کا اگلا حصہ کاٹ کر سپرمین کے ناک کے پچھلے حصے کو لگانا پڑے گا تاکہ ہمارے بنائے ہوئے آدمی یعنی سپر مین کی ناک عام انسانوں سے تھوڑی زیادہ لمبی ہو۔” ۔ چنانچہ ڈاکٹر پرویز نے دونوں لاشوں کے ناک کاٹ کر پلاسٹک کے تھیلے میں ڈالے۔ پلاسٹک کے تھیلے میں الکوحل انڈیل کر تھیلے کو آدھا بھر دیا اور اسے ایک یخ بستہ شیلف کے خانے میں رکھ دیا۔

” یہاں سے ہم اسے اٹھا کر اپنی قلعے والی لیبارٹری میں لے جائیں گے۔”

وہ مردہ خانے سے باہر نکل آئے۔ چوکیدار نے دروازہ بند کر کے مردہ خانے کو تالا لگا دیا۔ دونوں ڈاکٹر کار میں سوار ہو کر چل دیئے۔

ڈاکٹر پرویز نے دارا کو اس کے مکان کے باہر اتار دیا اور کہا۔ ” یاد رکھنا۔ کل تیسرے پہر ہمیں قبرستان چل کر گورکن سے ملنا ہے۔”

” مجھے یاد ہے۔ میں تمہارے پاس ہسپتال پہنچ جاؤں گا۔” دارا یہ کہہ کر اپنے مکان میں داخل ہو گیا اور ڈاکٹر پرویز نے کار کو بارش میں بھیگی ہوئی سنسان سڑک پر آگے بڑھا دیا۔ دوسرے روز دونوں ڈاکٹر شہر کے سب سے بڑے قبرستان میں آگئے۔ گاڑی انہوں نے قبرستان کے گیٹ کے قریب ایک شکستہ دیوار کے پاس کھڑی کی اور قبرستان میں داخل ہو گئے۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ ہوا نہیں چل رہی تھی لیکن سردی بہت شدید تھی۔ یہ قبرستان شہر کا سب سے پرانا اور تاریخی قبرستان تھا اور دریا کے کنارے شہر سے باہر واقع تھا۔ دونوں ڈاکٹر ٹوٹی پھوٹی قبروں کے درمیان سے ہو کر گورکن کی کوٹھڑی کی طرف جا رہے تھے۔ قبروں کی حالت بڑی خستہ ہو رہی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ ان قبروں میں دفن کی گئی میتوں کو ان کے لواحقین فراموش کر چکے ہیں۔ کہیں کہیں کسی تازہ بنی ہوئی قبر پر گلاب کے پھولوں کی ڈھیر ساری پنکھڑیاں نظر آ رہی تھیں۔ باقی اکثر قبریں بارش سخت دھوپ میں کالی پڑچکی تھیں۔ اکثر کے کتبے ٹیڑھے ہو گئے تھے۔

قبر کے گورکن کی کوٹھڑی کا آدھا کواڑ کھلا تھا مگر کوٹھڑی اندر سے خالی تھی۔ پرویز گورکن کو جانتا تھا۔ اس نے اس کا نام لے کر آواز دی۔ اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو وہ کوٹھڑی میں داخل ہو گیا۔ کوٹھڑی خالی پڑی تھی۔ ڈاکٹر پرویز کو اپنے پیچھے کسی آدمی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے جلدی سے پلٹ کر دیکھا۔ یہ سفید آنکھوں والا ادھیڑ عمر گورکن تھا۔ اس نے ڈاکٹر پرویز کو سلام کر کے کہا۔ کیا کوئی لاوارث مردہ دفن کرنا ہے ڈاکٹر صاحب!؟؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”دفن نہیں کرنا بلکہ دفن شدہ مردے کو قبر سے باہر نکالنا ہے”

۔گور کن بولا۔ ”میں کچھ سمجھا نہیں ڈاکٹر صاحب۔”

ڈاکٹر پرویز نے دارا کو باہر ہی ایک طرف کھڑا کیا تھا۔ پرویز نے اپنے اوور کوٹ کی جیب سے سو سو روپے کی دو گڈیاں نکال کر گورکن کے سامنے پرانی چارپائی پر رکھ دیں اور کہا۔ ” مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ سمجھ لو کہ یہ سارے نوٹ تمہارے ہیں۔ انہیں اٹھالو۔”

گورکن نے سارے نوٹ اٹھا لئے اور پوچھا۔ “کام کیا کرنا ہو گا؟”

ڈاکٹر پرویز نے گورکن کو ساری بات سمجھا دی اور کہا۔ ”بس تمہارا کام یہ ہے که قبرستان میں جب بھی کسی طاقتور ، صحت مند اور اونچے لمبے چوڑے نوجوان کی میت آئے تم مجھے اطلاع کر دو۔ ہم قبرستان میں رات کے وقت آئیں گے اور اس لاش کا کوئی عضو پسند آگیا تو اسے کاٹ کر لے جائیں گے۔” گورکن نے محض تجس دور کرنے کے لیے پوچھا۔ ”ڈاکٹر صاحب! آپ مردے کے ٹکڑوں کو کیا کریں گے؟”

ڈاکٹر پرویز نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا ”بس یوں سمجھ لو کہ ہم انسانی اعضاء پر ایک نئی ریسرچ کر رہے ہیں

اس کے آگے ڈاکٹر پرویز نے کوئی بات نہ کی۔ گورکن کہنے لگا۔ ”آپ فکر نہ کریں۔ اس قسم کا کوئی بھی مردہ آیا تو میں آپ کو اطلاع کر دوں گا۔”

ڈاکٹر پرویز نے دارا کو بتا دیا کہ گورکن کے ساتھ معاملہ طے ہو گیا ہے۔ ”چلواب ذرا اپنی لیبارٹری کا ایک چکر لگا آئیں۔”

ڈاکٹر پرویز نے اپنی خفیہ لیبارٹری شہر سے دور واقع آسیبی قلعے کے اندر ایک تہہ خانے میں بنائی ہوئی تھی۔ اس قلعے کے کھنڈر کو اس نے اس لئے منتخب کیا تھا کہ یہ قلعہ آسیبی مشہور تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس قلعے میں شاہی جلاد کا بھوت رہتا ہے جو کسی زمانے میں بادشاہ کے حکم پر بادشاہ کے مخالفوں کو اذیتیں دے دے کر ہلاک کیا کرتا تھا۔ اب اس جلاد کو اس کے ظلم اور اس کے گناہوں کی یہ سزا ملی تھی کہ اس کی بدروح قلعے کے کھنڈروں میں بھٹکتی رہتی تھی۔ لوگوں میں مشہور تھا کہ آدھی رات کے وقت اس قلعے میں سے جلاد کی بدروح کے رونے کی آواز آتی ہے۔ اگرچہ آج تک کسی نے اس بدروح کو دیکھا نہیں تھا مگر لوگ اس قلعے کی طرف آتے ہوئے ڈرتے تھے۔ ڈاکٹر پرویز میڈیکل سائنس کا آدمی تھا۔ بدروحوں اور بھوتوں پر اس کا اعتقاد نہیں تھا۔ وہ ان بھوتوں سے بالکل نہیں ڈرتا تھا اور اس نے رات کو کبھی اس جلاد کی بدروح کے رونے کی آواز بھی نہیں سنی تھی۔ لیبارٹری ایک تہہ خانے میں بنائی گئی تھی۔ یہاں لاشوں کو چیرنے پھاڑنے کا سارا سامان موجود تھا۔ الکوحل اور سپرٹ سے بھرے ہوئے چار شیشے کے بڑے مرتبان الماری میں رکھے ہوئے تھے۔ دل کی دھڑکن نوٹ کرنے والی مشین کے علاوہ پھیپھڑوں کو ہوا دینے والی مشین بھی تھی۔ تہہ خانے کے وسط میں ایک بڑا سٹریچر بھی پڑا تھا۔ جس کے ساتھ چمڑے کی بیلٹ اور زنجیریں بندھی تھیں، تاکہ جب ان کا بنایا ہوا انسان بالکل مکمل ہو جائے تو وہ اس کو سٹریچر پر اچھی طرح سے باندھ دیں کیونکہ کچھ پتہ نہیں تھا کہ سپر مین کی لاش آسمانی بجلی کے جھٹکے سے واقعی ذندہ ہو جاتی ہے تو وہ اُٹھ کر کہیں تباہی نہ پھیلا دے۔ لاش زندہ ہو کر کچھ بھی کر سکتی تھی۔ اس سٹرکچر کے نیچے لوہے کا بڑا راڈ لگا تھا جو بجلی کا بٹن دبانے سے سٹریچر کو لے کر اوپر اٹھ جاتا تھا۔ یہ سب کچھ ڈاکٹر پرویز نے اپنے پیسے خرچ کر کے بنوایا تھا۔ کیونکہ اسے پورا یقین تھا کہ اگر وہ مصنوعی انسان بنانے میں کامیاب ہو گیا تو وہ اس کی مدد سے شہر کے بینکوں کی ساری دولت اپنے قبضے میں کر سکے گا اور پھر اس مصنوعی انسان کو اپنے کنٹرول میں کر کے یورپ کے کسی ملک میں لے جائے گا اور وہاں کے بینکوں کی ‘ دولت سمیٹ کر مصنوعی انسان کو مار ڈالے گا اور باقی ساری زندگی پیرس یا سوئٹرر لینڈ میں عیش و آرام کی زندگی بسر کرے گا۔

ڈاکٹر پرویز مردہ خانے سے دو لاوارث لاشوں کے ناک کاٹ کر پلاسٹک کے لفافے میں ڈال کر ساتھ ہی لایا تھا۔ اس نے دونوں ناک الکوحل سے بھرے ہوئے ایک مرتبان میں ڈال دیئے اور ڈاکٹر دارا سے کہا۔ ”اب دیکھتے ہیں قبرستان کا گور کن ہمیں کسی صحت مند طاقتور نوجوان مردے کی کیا خوشخبری سناتا ہے۔”

ڈاکٹر دارا دل میں کچھ ڈر رہا تھا۔ کہنے لگا۔ “یار پرویز! مجھے لگتا ہے کہ ہم کوئی گناہ کر رہے ہیں۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”بھائی یہ کوئی گناہ نہیں ہے۔ ہم تو مردہ انسانوں کے اعضاء پر ریسرچ کر رہے ہیں اور یقین کرو اس ریسرچ سے بنی نوع انسان کو بے پناہ فائدہ پہنچے گا۔”

کمزور قوتِ ارادی والے ڈاکٹر دارا نے ایک بار پھر ڈاکٹر پرویز کے شیطانی عزائم کے آگے سرجھکا دیا۔

ایک دن گورکن ہسپتال میں آکر ڈاکٹر پرویز سے ملا اور کہنے لگا۔ ”ایک اونچے لمبے پہلوان قسم کے نوجوان کی لاش میں نے ابھی تھوڑی دیر پہلے دفن کی ہے۔ آپ رات کے بارہ بجے قبرستان میں آجائیں ، ایک قبر کھود کر لاش دکھا دوں گا۔ مردے کا کوئی عضو کاٹنا ہو تو کاٹ کر لے جانا۔”

اتنا کہ کر گورکن چلاگیا پرویز نے یہ خبر فوراً دارا کو سنادی اور کہا۔ ”آج رات قبرستان چلنے کے لیے تیار رہنا۔”

رات کے ٹھیک بارہ بجے دونوں ڈاکٹر دوست کار میں بیٹھ کر قبرستان کی طرف چل پڑے۔ سخت سرد رات تھی۔ دھند پھیلی ہوئی تھی۔ دس قدم کے فاصلے پر دھند میں کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ ڈاکٹر پرویز بڑی آہستہ آہستہ کار چلا رہا تھا۔ قبرستان پہنچ کر انہوں نے کار قبرستان کی ٹوٹی ہوئی دیوار کے ساتھ کھڑی کر دی اور قبروں میں سے گزرتے ہوئے گورکن کی کوٹھڑی کی طرف بڑھے۔ قبرستان میں بھی ہلکی دھند پھیلی ہوئی تھی اور شکستہ قبروں پر اوس ٹپک رہی تھی۔ گورکن ان دونوں ڈاکٹروں کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے بیلچہ لیا اور ڈاکٹروں کو لے کر تازہ بنی ہوئی قبر پر آگیا۔ قبر کی مٹی ابھی تک گیلی تھی اور اس پر پڑے ہوئے پھول ابھی تازہ تھے۔

ڈاکٹر پرویز نے قبر کو غور سے دیکھا اور گورکن سے کہا۔ ”یہی قبر ہے؟”

گورکن بولا۔ بالکل یہی قبر ہے۔ میں نے خود نوجوان کی لاش کو صبح دفن کیاهے”

پرویز نے گورکن سے کہا کہ وہ قبر کو کھودنا شروع کر دے۔ قبر کی مٹی تازہ اور نرم تھی۔ دس بارہ منٹ میں قبر گورکن نے کھود ڈالی اور کہنے لگا۔ ” نیچے قبر میں اتر کر لاش کا معائنہ کرلیں اور میت کا جو عضو آپ کو پسند ہو وہ کاٹ کر لے جائیں۔”

گورکن اپنی عاقبت سے بے خبر ایک بہت بڑا گناہ کر رہا تھا مگر وہ روپوں کے لالچ میں آگیا تھا اور اپنی عاقبت خراب کر رہا تھا۔ ڈاکٹر پرویز ایک بڑے لفافے میں آپریشن میں کام آنے والی آری اور چھری ساتھ لایا تھا۔

اس نے دارا سے کہا۔ “تم قبر کے باہر ہی رہو میں نیچے اتر کر لاش کو دیکھتا ہوں۔”

ایک طاقتور ٹارچ ڈاکٹر پرویز کے ہاتھ میں تھی۔ وہ قبر میں اتر گیا اور لاش پر ٹارچ کی روشنی ڈالی۔ لاش ابھی تک تازہ تھی۔ یہ ایک خوش شکل نوجوان کی میت تھی جس کا جسم ورزشی تھا۔ لگتا تھا کہ نوجوان کو ورزش یا پہلوانی کا بڑا شوق تھا۔ مردے کا کفن ابھی میلا نہیں ہوا تھا، کہیں کہیں مٹی ضرور لگی تھی۔ قبر میں مشک کافور اور گلاب کے عرق کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے کفن ہٹا کر ایک ڈاکٹر کی نگاہ سے مردے کے جسم کو دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ مردے کی پنڈلیاں بڑی لمبی ، مضبوط اور موٹی تھیں۔ اس نے تھیلے میں سے ہڈیاں کاٹنے والی آری نکالی اور مردے کی دونوں پنڈلیاں گھٹنوں سے ذرا اوپر تک کاٹ ڈالیں۔ پھر ان پنڈلیوں کو تھیلے میں ڈالا اور قبر سے باہر نکل آیا۔ دارا قبر کے باہر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا۔ “کوئی کام کی چیز ملی؟”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ لاش کی پنڈلیاں بڑی طاقتور تھیں، میں نے دونوں پنڈلیاں کاٹ کر رکھ لی ہیں۔”

گور کن بھی قبر کے سرہانے بیٹھا تھا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ ڈاکٹر پرویز نے اسے دو سو روپے نکال کر دیئے اور کہا۔ “ہم نے مردے کی دونوں پنڈلیاں کاٹ لی ہیں۔ اب کوئی صحت مند اور طاقتور میت آئے تو ہمیں اطلاع کر دینا۔”

گور کن بولا۔ اطلاع کر دوں گا’ فکر نہ کریں۔”

چلو دارا یہاں سے نکل چلیں۔” ڈاکٹر پرویز نے تھیلا اٹھاتے ہوئے کہا اور دونوں دوست قبرستان کے گیٹ کی طرف چل پڑے۔ ان کے جاتے ہی گورکن نے بیلچے سے جلدی جلدی قبر پر ساری مٹی ڈال دی اور اوپر قبر کا نشان بنا کر گلاب کے پھول جو اس نے اکٹھے کر کے ایک ۔ طرف رکھ لئے تھے دوبارہ قبر پر ڈال دیئے اور اگر بتیاں لگا دیں۔

ڈاکٹر پرویز اور دارا قبرستان سے نکلتے ہی تیز تیز قدموں سے اپنی کار کی طرف بڑھے۔ چاروں طرف دھند پھیلی ہوئی تھی، اوس گر رہی تھی۔ بڑی سخت سرد رات تھی۔ دونوں کار میں بیٹھ کر وہاں سے چل پڑے۔ ڈاکٹر پرویز کہنے لگا۔ “میں مردے کی دونوں پنڈلیوں کو ابھی لیبارٹری میں لے جا کر الکوحل کے مرتبان میں رکھ دیتا ہے۔ تا کہ پنڈلیاں خراب نہ ہو جائیں۔ سڑک پر بھی دھند تھی جس کی وجہ سے وہ کار زیادہ تیز نہیں چلا سکتے تھے۔ شہر سے باہر نکل کر وہ آسیبی قلعے کی طرف جانے والی سڑک پر آئے ہی تھے کہ ایک طرف سے تین پولیس کانسٹیبل نکل کر سڑک کے درمیان کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کار کو رکنے کا اشارہ کیا۔ دارا بولا۔ ” انہوں نے کار کی تلاشی لی تو مردے کی ٹانگیں مل جائیں گی اور ہم پکڑے جائیں گے۔”

ڈاکٹر پرویز نے دارا کو سختی سے کہا۔ ” تم مجھے بھی اپنے ساتھ مرواؤ گے۔ بس تم چپ چاپ بیٹھے رہو۔ کوئی بات نہ کرنا۔”

ڈاکٹر پرویز نے پولیس کے سپاہیوں کے قریب کار کھڑی کر دی۔ ان میں ایک پولیس انسپکٹر بھی تھا۔ اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔ اس نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کرنے کا اشارہ کیا۔ ڈاکٹر پرویز نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کر دیا۔ پولیس انسپکڑ نے جھک کر دونوں ڈاکٹروں کو غور سے دیکھا اور پوچھا۔ “اتنی رات گئے آپ کہاں سے آ رہے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”ہم ڈاکٹر ہیں اور ایک مریض کو دیکھنے کریم پورہ کی کالونی جا رہے ہیں۔” ڈاکٹر پرویز نے جیب سے بٹوہ نکال کر اس میں سے اپنا شناختی اور میڈیکل کارڈ نکال کر پولیس انسپکٹر کے حوالے کر دیا اور کہا۔ ” یہ میرا میڈیکل شناختی کارڈ ہے۔ میرا نام ڈاکٹر پرویز ہے اور میرے ساتھ سرجن ڈاکٹر دارا بیٹھا ہے۔”

پولیس انسپکٹر نے ٹارچ کی روشنی میں ڈاکٹر پرویز کا شناختی کارڈ غور سے دیکھا۔ کارڈ پر ڈاکٹر پرویز کی فوٹو بھی لگی ہوئی تھی۔ اس نے ایک نظر ڈاکٹر پرویز کو دیکھا۔ پھر شناختی کارڈ پر لگی اس کی فوٹو کو دیکھا اور شناختی کارڈ ڈاکٹر پرویز کو واپس کرتے ہوئے معذرت کے ساتھ کہا۔ ڈاکٹر صاحب! شہر میں جرائم بہت ہو رہے ہیں۔ ہمیں آپ لوگوں کی حفاظت کے واسطے یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو تکلیف دی اس کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔ آپ جا سکتے اور ڈاکٹر پرویز نے گاڑی آگے بڑھا دی۔

وہ اسی قلعے کی طرف جا رہے تھے۔ سرد رات کی تاریکی اور دھند میں اوپر کو اٹھا ہوا قلعے کا کھنڈر ایک بہت بڑے ڈراؤنے بھوت کی طرح لگ رہا تھا۔ وہ گاڑی کو لے کر قلعے کے اندر داخل ہو گئے۔ تہہ خانے کی لیبارٹری میں آتے ہی ڈاکٹر پرویز نے مردے کی دونوں لمبی اور مضبوط پنڈلیاں الکوحل کے بڑے مرتبان میں ڈال کر محفوظ کر دیں۔ ڈاکٹر دارا نے پہلی دفعہ مردے کی پنڈلیاں دیکھی تھیں۔ کہنے لگا۔ “یہ لاش تو واقعی کسی سات فٹ قد کے پہلوان ٹائپ آدمی کی پنڈلیاں ہیں۔” ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں پہلے ہی مرحلے میں بیک وقت اپنی پسند کی دو پنڈلیاں مل گئی ہیں۔ سمجھ لو کہ ہمارا مصنوعی انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا ہے۔”ڈاکٹر پرویز نے ہلکا سا قہقہ لگایا۔ اس کا قہقہہ ڈاکٹر دارا کو کھوکھلا سا لگا۔ اس نے پرویز سے کہا۔ ”ہم نے انسانی میت کی بے حرمتی کی ہے۔ ہمیں اس کا گناہ ملے گا۔”

ڈاکٹر پرویز کو کچھ غصہ آگیا۔ اس وقت اسے خیال آیا کہ اس نے اپنے اس قدر اہم مشن میں ڈاکٹر دارا کو شامل کر کے بڑی غلطی کی ہے مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ ڈاکٹر دارا مشن شروع ہونے کے بعد اتنا بزدل نکلے گا۔ اس نے ڈاکٹر دارا کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ “ننھے منے بچے ! تم اب بالغ ہو اور سرجن ڈاکٹر ہو۔ تمہارے منہ سے اس قسم کی دقیانوسی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔”

ڈاکٹر دارا کہنے لگا۔ ”یہ دقیانوسی باتیں نہیں ہیں۔ میں نے حقیقت بیان کی ہے”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ “اچھا تو گناہ ملے گا’ مجھے ہی ملے گا۔ تمہیں تو کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہ سکیم میری ہے اور میں نے ہی لاش کی پنڈلیاں کاٹی ہیں۔ ذرا سوچو ہمارے پاس اناٹومی ڈیپارٹمنٹ میں جو لاوارث لاشیں آتی ہیں اور جن کی ہم ڈاکٹر چیر پھاڑ کرتے ہیں تو کیا اس وقت ہمیں گناہ نہیں ہوتا؟ خبردار آئندہ سے اس قسم کی باتیں میں تمہارے منہ سے میں سننا چاہتا۔ تم خلائی شٹل اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے زمانے میں رہ رہے ہو۔”

ڈاکٹر دارا خاموش ہو گیا۔ اس نے آگے سے کوئی بات نہ کی۔ پھر اس نے موضوع بدلتے ہوئے ڈاکٹر پرویز سے کہا۔ ”جب ایک کروڑ وولٹ کی آسمانی بجلی اس لاش کے جسم میں سے گزر جائے گی اور لاش واقعی زندہ ہو جائے گی تو کیا اس کےاندر کرنٹ پیدا نہیں ہو گا؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”میں اس بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ ہو سکتا ہے لاش کے اندر کرنٹ آ جائے؟ ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو۔ بہرحال یہ تجربے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔”

اس وقت تک ان ڈاکٹروں کے پاس ایک اونچے لمبے مردے کی مضبوط اور لمبی پنڈلی اور دو لاوارث لاشوں کے کاٹے ہوئے دو ناک لیبارٹری کے مرتبانوں میں جمع ہو چکے تھے۔ ان دو ناکوں کو جوڑ کر انہوں نے لاش کا ایک ناک بنانا تھا۔ دوسری جانب گورکن کو کافی پیسے مل چکے تھے اور ہر بار لاش میں سے کوئی عضو کاٹنے کے بعد ڈاکٹر پرویز گورکن کو مزید روپے دے دیتا تھا۔ گورکن لالچ میں آکر دفنائی جانے والی لاشوں پر نگاہ رکھتا تھا۔ ایک دن گورکن نے ڈاکٹر پرویز کو فون کر کے بتایا کہ آج صبح صبح ایک باڈی بلڈر کی لاش آئی ہے۔ مجھے تو کوئی پہلوان لگتا ہے۔ اتنی اونچی لمبی مضبوط لاش میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”میں آج رات قبرستان آرہا ہوں۔”

چنانچہ اسی رات ڈاکٹر پرویز اکیلا ہی گاڑی لے کر قبرستان کی طرف چل پڑا۔ گورکن اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ ڈاکٹر پرویز کو نئی بنی ہوئی قبر کے پاس لے گیا۔ قبر کی مٹی ابھی نرم اور گیلی تھی۔ اس پر پھول بھی ابھی تک ترو تازہ تھے۔ گورکن کو ڈاکٹر پرویز نے سو روپے کا نوٹ دیا اور کہا ” قبر کو کھودو اور مردہ باہر نکالو۔”

رات خاموش اور سرد تھی۔ قبرستان میں دھند پھیلی ہوئی تھی۔ گورکن نے قبر کے پاؤں کی جانب سے بیلچہ چلانا شروع کر دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں قبر میں بڑا سا گول سوراخ بن گیا۔ گورکن نے نیچے اتر کر سوراخ میں سے مردے کی ٹانگیں پکڑ کر اسے دو تین جھٹکے دے کر باہر نکال لیا۔ ڈاکٹر پرویز نے مردے کو اوپر لانے میں مدد کی۔ ڈاکٹر نے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ لاش واقعی کسی باڈی بلڈر اور کسرتی بدن والے آدمی کی تھی۔ اس کے بازو خاص طور پر کسی بن مانس کے بازوؤں کی طرح بہت لمبے اور موٹے تھے۔ ڈاکٹر پرویز نے لاش کے دونوں بازو کاٹ کر اپنے تھیلے میں ڈالے اور گورکن سے کہا۔ ”لاش کو قبر میں بند کر دو۔ مجھے جس چیز کی ضرورت تھی وہ میں نے کاٹ لی ہے۔”

گورکن نے لاش کو قبر میں ڈال کر اوپر مٹی ڈالنا شروع کر دی۔ ڈاکٹر پرویز لاش کے لمبے اور مضبوط بازوؤں کو لے کر قبرستان سے باہر آگیا۔ گاڑی میں بیٹھا اور اپنی پرانے قلعے والی لیبارٹری کی طرف روانہ ہو گیا۔ لیبارٹری میں جاتے ہی اس نے مردے کے دونوں کٹے ہوئے بازو الکوحل اور سپرٹ کے مرتبانوں میں رکھ دیئے۔ لیبارٹری میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ کھڑکی میں سے سرد ہوا اندر آ رہی تھی۔ ڈاکٹر نے لیبارٹری کی بتی بجھائی اور قلعے کی سیڑھیاں اتر کر قلعے کے کھنڈر کے دروازے کی طرف بڑھا۔ دروازے کے باہر بوسیدہ دیوار کے ساتھ اس کی کار کھڑی تھی۔ جیسے ہی وہ دروازے سے باہر نکلا تو اچانک اسے ایک آدمی کا ہیولا سا نظر آیا جس کی دونوں ایک ٹانگیں غائب تھیں اور جو بیساکھیوں کے سہارے کھڑا تھا۔ اس کے ایک جانب دوسرا انسانی ہیولا نمودار ہو گیا جس کے دونوں بازو غائب تھے۔ ڈاکٹر پرویز سائنس کا آدمی تھا۔ اسے بھوت پریت پر کوئی اعتقاد نہیں تھا۔ اس نے ان ہیولوں کو اپنا وہم سمجھا اور کار کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا۔ کار سٹارٹ کی اور قلعے کی اترائی اترنے لگا۔ جب اس کی گاڑی قلعے کی ڈھلوانی سڑک سے اتر کر شہر کی طرف جانے والی سڑک پر آئی تو اچانک سامنے سے وہی انسانی ہیولے نمودار ہوئے۔ ڈاکٹر نے ان کو اپنا وہم سمجھا اور گاڑی بالکل نہ روکی۔ جیسے گاڑی انسانی ہیولوں کے پاس آئی تینوں ہیولے چیخ مارتے ہوئے گاڑی سے ٹکرا کر غائب ہوگئے

ڈاکٹر پرویز کا سارا جسم کانپ اٹھا۔ اگر یہ اس کا وہم تھا تو یہ انسانی چیخوں کی آواز کہاں سے آئی تھی۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ لیکن ان انسانی ہیولوں کو اس نے پہچان لیا تھا۔ یہ ان مردہ لاشوں کے ہیولے تھے جن کی ڈاکٹر نے لاشیں قبر سے نکال کر ناک، بازو اور ٹانگیں کاٹی تھیں۔ مگر یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ان لاشوں کے ہیولے اس کی گاڑی سے ٹکرا کر چیخیں ماریں اور ان کی چیخوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ ڈاکٹر پرویز نے اس کو اپنی نفسیات کا کرشمہ سمجھا اور ہنس دیا۔ دوسرے دن وہ ڈاکٹر دارا کو لے کر لیبارٹری میں آیا اور اسے مردے کے جسم سے الگ کئے ہوئے بازو دکھائے۔

ڈاکٹر دارا بھی اتنے مضبوط اور لمبے بازو دیکھ کر بولا۔ “اتنے لمبے بازو تو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ یہ تو کسی بن مانس کے بازو لگتے ہیں۔”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ معلوم ہوتا ہے قدرت اس سائنسی تجربے میں ہماری مدد کر رہی ہے۔ ہمیں اپنی مرضی کے انسانی اعضاء ملنا شروع ہو گئے ہیں۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “تم قدرت کو بیچ میں نہ ہی لاؤ تو اچھا ہے کیونکہ ہم قدرت کے خلاف عمل کر رہے ہیں۔ ہم جو انسان بنا رہے ہیں، وہ غیر قدرتی ہوگا۔ اہم تو ایک طرح سے قدرت کو چیلنج کر رہے ہیں۔”

ڈاکٹر پرویز نے دارا کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے کہا۔ ”دارا! کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ تمہیں میڈیکل لائن میں نہیں آنا چاہئے تھا۔ تمہیں تو بچوں کے سکول میں ٹیچر ہونا چاہئے تھا۔”

ڈاکٹر دارا نے کوئی جواب نہ دیا۔ دو دن بعد گورکن خود ڈاکٹر پرویز سے ملنے ہسپتال آیا اور کہنے لگا۔ “جناب ایک لاش میں نے دوپہر کو دفن کی ہے اس کا سینہ اتنا چوڑا ہے کہ کہ آپ دیکھیں گے تو حیران رہ جائیں گے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ جس شخص کی یہ لاش ہے وہ ساری عمر سینہ چوڑا کرنے کی ورزش کرتا رہا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “میں آج رات پہنچ رہا ہوں۔”

اور ڈاکٹر نے گورکن کو اس کا سو روپیہ اسی وقت ادا کر دیا۔ یہ اس رقم سے الگ تھا جو اس نے گورکن کو یکمشت دی تھی۔ رات کو پرویز نے دارا کو ساتھ لیا اور دونوں ڈاکٹر قبرستان میں آگئے۔ گورکن اپنی جھونپڑی میں لالٹین جلائے رضائی میں دبک کر بیٹھا ہوا تھا۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”آجاؤ اور ہمیں نئی لاش دکھاؤ۔”

گورکن نے ایک ہاتھ میں بیلچہ اور دوسرے ہاتھ میں لالٹین پکڑ لی اور تازہ قبر پر آگیا۔ لالٹین اس نے ایک طرف رکھ دی اور قبر کھودنی شروع کر دی۔ تھوڑی دیر بعد وہ مردے کو قبر میں سے باہر نکال لایا اور اس کا کفن ہٹا کر دونوں ڈاکٹروں کو اس کا پیٹ اور سینہ دکھایا۔ واقعی یہ بڑا صحت مند اور چوڑا سینہ تھا۔ ڈاکٹر پرویز کو ایسے ہی سینے کی تلاش تھی۔ وہ بڑا خوش ہوا۔ اس نے گورکن کو مزید ایک سو روپیہ انعام دیا اور لاش کی گردن ٹانگیں اور بازو الگ کر کے اس کا پیٹ سے لے کر سینہ نکال کر تھیلے میں ڈالا اور تیز تیز چل کر دارا کے ساتھ گاڑی میں آکر اور بیٹھ گیا اور سیدھا قلعے کے کھنڈر والی اپنی لیبارٹری میں آگیا اور مردے کے سینے کو بھی بڑے مرتبان میں الکوحل میں ڈبو کر محفوظ کر دیا۔

اب ڈاکٹر پرویز کو کسی لاش کے سر کی تلاش تھی۔ ایسا سرجو عام لوگوں کے سر سے بڑا ہو۔ اس نے دوسرے ہی دن صبح کے وقت قبرستان جا کر گورکن سے کہا ‘”مجھے اب کسی لاش کا بہت بڑا سر چاہئے۔ تم دیکھتے رہنا اگر کوئی ایسی لاش دفنانے کے لئے لائی جائے جس کا سر عام مردوں سے کافی بڑا ہو تو مجھے فوراً اطلاع کرنا ۔”

گورکن نے کہا۔ ” آپ بے فکر رہیں، جیسے ہی کوئی ایسا مردہ آیا، میں اسی وقت آپ کو خبر کر دوں گا۔”

دو تین دن گزر گئے ڈاکٹر پرویز ہسپتال میں اپنی ڈیوٹی پر تھا جب گورکن کا فون آگیا۔

اس نے کہا۔ “ڈاکٹر صاحب ! ایک لاش میں نے آج دفن کی ہے”!.. آج رات کو آجائیں۔”

ڈاکٹر پرویز خوشی سے اچھل پڑا۔ اس نے دارا کو ساتھ لیا اور رات کا اندھیرا ہوتے ہی قبرستان کی طرف روانہ ہو گیا۔ حسب معمول گورکن ان کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ دونوں ڈاکٹروں کو ایک تازہ قبر کے پاس لے گیا اور قبر کھود کر لاش باہر نکال لی ر اس کا سر دکھایا۔ ڈاکٹر پرویز مردے کا سر دیکھ کر حیران بھی ہوا اور خوش بھی ہوا۔ اس نے اتنا بڑا سر پہلے نہیں دیکھا تھا۔ اسی وقت انہوں نے مردے کا سرکاٹ ڈالا۔ اسکی آنکھیں بھی کافی بڑی بڑی تھیں مگر ناک چھوٹی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے دارا سے کہا۔ ”اس کی آنکھیں بھی مجھے پسند ہیں اور میرے معیار پر پوری اترتی ہیں مگر ناک چھوٹی ہے۔ اسے ہم کاٹ دیتے ہیں۔ اس کی جگہ ہم وہ دو ناک جوڑ کر لگائیں جو ہم نے مردہ خانے میں لاوارث لاشوں کے کاٹے تھے ۔ ” ڈاکٹر پرویز نے آپریشن کرنے والے چاقو سے مردے کی ناک کاٹ کر پھینک دی اور کٹے ہوئے سر کو تھیلے میں ڈال کر اٹھا لیا اور گورکن سے کہا۔ ”اب ہمیں کسی اور عضو کی ضرورت نہیں رہی۔ اگر ضرورت پڑی تو تمہیں خبر کر دیں گے۔”

یہ کہ کر دونوں ڈاکٹر پرانے آسیبی قلعے کی لیبارٹری میں آگئے۔ لیبارٹری میں آ کے انہوں نے مردے کے کٹے ہوئے سر کو ایک بار پھر بجلی کی روشنی میں دیکھا۔ اس کے سر کے بال بھی بڑے گنجان اور گھنگھریالے تھے۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔

” ہماری بنائی ہوئی لاش خوبصورت بھی ہو گی۔”

ڈاکٹر دارا کے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ کٹے ہیں نئے سر کو ڈاکٹر پرویز نے ایک مرتبان میں ڈال کر الماری میں رکھ دیا اور ڈاکٹر دارا سے کہنے لگا۔ “دارا !! اب ہمیں صرف ایک دماغ کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا دماغ جو انسانوں کے دماغ سے اعلیٰ اور برتر ہو۔”

ڈاکٹر دارا کہنے لگا۔ “جیسا کہ ہم نےپہلے بھی اس پر غور کیا تھا۔ لندن کے میڈیکل سائنسز کے عجائب گھر میں اس وقت دو دماغ نمائش کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ ایک دماغ دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا ہے اور دوسرا دماغ سب سے بڑے قاتل کا ہے جس نے سینکڑوں انسانوں کو اذیتیں دے دے کر ہلاک کیا اور آخر پکڑا گیا اور اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ حکومت نے اس کی لاش کا دماغ نکال عجائب گھر میں محفوظ کر لیا۔ ہمیں لندن جا کر عجائب گھر میں جو دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا دماغ ہے، وہ وہاں سے چرا کر لے آنا چاہئے۔”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ”میں نے بھی یہی فیصلہ کیا ہوا ہے۔ ہم اپنے بنائے ہوئے انسان کے سر میں دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا دماغ پلانٹ کریں گے۔ غور کرو ہمارا بنایا ہوا انسان دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کے دماغ کے ساتھ انسانیت کی بھلائی کے لیے کیا کچھ ایجاد نہیں کرے گا۔ خدا کی قسم ہمارا انسان میڈیکل سائنس کی دنیا میں ایک صحت مند انقلاب برپا کر دے گا۔ بس اب ہمیں لندن جانے کی تیاریاں شروع کر دینی چاہئیں۔”

ڈاکٹر دارا بھی اب اس بات کا قائل ہو گیا تھا کہ ان کا بنایا ہوا انسان اگر بنی نوع انسان کی خدمت کرے گا تو یہ ایک اچھا اور نیک کام ہو گا اور خدا ان سے ناراض نہیں ہو گا بلکہ خوش ہو گا۔ چنانچہ وہ پرویز کے ساتھ لندن جانے کے لیے ہو گیا۔

دونوں ڈاکٹر کئی بار پہلے بھی لندن جا چکے تھے۔ ڈاکٹر پرویز کا ایک انکل لندن میں ریڈی میڈ کپڑوں کا کاروبار کرتا تھا۔ اس نے شہر سے باہر ایک کاؤنٹی میں اپنا چھوٹا سا مکان چھٹیاں گزارنے کے لیے تیار کیا تھا جس کو وہ سمر ہاؤس کہتا تھا۔

پاسپورٹ دونوں ڈاکٹروں کے پاس موجود تھے۔ دونوں ڈاکٹر تھے ، انہیں لندن کا ویزہ حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہ ہوئی۔ چنانچہ ایک دن دونوں ڈاکٹر لندن روانہ ہوگئے

لندن روانہ ہونے سے پہلے ڈاکٹر پرویز نے اپنے انکل کو فون کر دیا تھا۔

وہ ایئر پورٹ پر انہیں لینے کے لیے موجود تھا۔ ایئر پورٹ سے وہ انکل کے شہر والے فلیٹ میں چلے گئے۔

انکل نے کہا۔ ”ارے بھئی یہ بیٹھے بیٹھے اچانک تمہارا لندن کا پروگرام کیسے بن گیا؟”

ڈاکٹر دارا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”یہ پرویز ہی سے پوچھیں۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”انکل جی! بات اصل میں یہ ہے کہ ہم ہسپتال میں رات بھر ہاؤس جاب کرتے تھک گئے تھے۔ سوچا ایک ہفتہ کہیں کھلی فضا میں گزاریں، بس ہم آپ کے پاس آگئے کیونکہ آپ کے سوا جی لگ ہی نہیں سکتا تھا۔”

انکل بولا۔ ”چلو اچھا کیا۔ اب یہاں آرام سے رہو۔ ایسا کرو کہ تم میرے سمر ہاؤس میں چلے جاؤ۔ وہاں میرا ایک ملازم بھی ہے۔ وہ تمہارا خیال رکھے گا۔ سمر ہاؤس تم نے دیکھا ہوا ہی ہے۔ وہاں تمہاری خوب تفریح ہوگی۔ کھلی فضا، تازہ ہوا اور صحت افزا مقام ہے۔”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ”سچ پوچھئے تو میں بھی سمر ہاؤس میں ہی رہنا چاہتا ہوں۔”

دوسرے روز ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا دونوں دوست انکل کے سمر ہاؤس میں جو لندن کے مضافات میں ہی تھا پہنچ گئے۔ وہاں تک زیر زمین ریل گاڑی دس منٹ میں پہنچا دیتی تھی۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد دونوں ڈاکٹر دوست لندن کے میڈیکل کے عجائب گھر میں پہنچ گئے۔ یہ کافی بڑا عجائب گھر تھا۔ میڈیکل سائنس سے تعلق رکھنے والا دنیا کا ہر عجوبہ وہاں پر موجود تھا۔ ایک کمرے میں وہ شے بھی رکھی تھی جس کی انہیں تلاش تھی اور جس کو چرانے کے لئے دونوں دوست لندن آئےتھے۔ یہ دو دماغ تھے۔ ایک دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کا دماغ اور دوسرا دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ ۔ ہر ایک دماغ شیشے کے مرتبان میں الکوحل ڈال کر محفوظ کر کے رکھا ہوا تھا۔ مرتبان کے باہر جس کا دماغ تھا اس کے نام اور اس کے کارنامے لکھے ہوئے تھے۔ دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کے دماغ والے مرتبان کے باہر لکھا ہوا تھا کہ یہ وہ سائنس دان ہے جس نے کائنات کے نئے نئے ستاروں کا سراغ لگایا اور جس نے پہلی بار انسان کے دل کا آپریشن کر کے وہاں نیا دل لگایا۔ دنیا کے سب سے بڑے قاتل کے دماغ والے مرتبان کے باہر لکھا تھا کہ یہ اس آدمی کا دماغ ہے جس کی سنگدلی اور سفاکی کا آج تک کوئی ثانی پیدا نہیں ہوا۔ اس شخص نے ایک لاکھ سے زیادہ آدمیوں کا قتل عام کیا اور یہ جس انسان کو قتل کرتا اس کا دل نکال کر بھون کر کھا جاتا تھا۔

ڈاکٹر پرویز نے قاتل کے دماغ والے مرتبان کو دیکھ کر کہا۔ ”خدا اس آدمی کے دماغ سے ہمارے انسان کو محفوظ رکھے۔ ہم تو اپنے بنائے ہوئے انسان کی کھوپڑی میں دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کا دماغ لگائیں گے۔ اب سوچنا یہ ہے کہ دماغ یہاں سے کیسے چرایا جائے۔”

عجائب گھر میں سیکیورٹی گارڈز اتنے زیادہ نہیں تھے۔ کیونکہ یہ کوئی ایسا عجائب گھر نہیں تھا کہ جہاں دنیا کے قیمتی ہیرے جواہرات اور نوادرات رکھے ہوئے ہوں۔ پھر بھی اس کمرے کے باہر ایک گارڈ پہرے پر موجود تھا جس کمرے میں دونوں دماغ رکھے ہوئے تھے۔ باقی جگہوں پر بھی کہیں کہیں ایک ایک گارڈ چل پھر رہا تھا۔ ڈاکص پرویز نے کہا۔ ڈاکٹر دارا! کم بخت اس گارڈ کو بھی اسی کمرے کے باہر کھڑا ہونا تھا۔

دارا کہنے لگا۔ ”اس کمرے میں وہ سامنے ایک کھڑکی بھی ہے۔” .

دونوں ڈاکٹر کھڑکی کے پاس چلے گئے اور باہر دیکھنے لگے۔ لندن اور یورپ شہر کے مکانوں میں ہمارے بعض مکانوں کی طرح کھڑکیوں پر لوہے کی سلاخیں نہیں لگی ہوتیں۔ صرف کھڑکی کو اندر سے بند کردیا جاتا ہے۔ اگر چٹخنی کھول دو تو آدمی آسانی کے ساتھ کھڑکی کے اندر باہر آ جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر پرویز کے دماغ پر شیطان نے قبضہ کر لیا تھا چنانچہ اسے شیطان برائی کے واسطے بڑی ترکیبیں سجھا دیتا تھا۔

اس نے دارا سے کہا۔ “اگر ہم یہاں رات کے وقت آئیں اور اندر سے کھڑکی کی چٹخنی کھول دیں تو ہم باہر سے کھڑکی کے ذریعے اس کمرے میں آکر دماغ والا مرتبان اٹھا لے جاسکتے ہیں۔

دارا کہنے لگا۔ لیکن رات کو جب عجائب گھر بند ہونے لگتا ہے تو گارڈ خود کھڑکی بند کر کے اندر سے چٹخنی لگاتا ہو گا۔ اس کے سامنے ہم کھڑکی کی چٹخنی کیسے کھول سکیں گے؟”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ” تم مجھ سے بحث مت کرو۔ جو میں سوچتا ہوں، تم نہیں سوچ سکتے۔ آج رات تم میرے ساتھ یہاں آؤ گے۔”

اس وقت دوپہر کا وقت تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے ایک جگہ لکھا ہوا پڑھ لیا تھا کہ عجائب گھر رات کے نو بجے بند ہو جاتا ہے۔ باقی کا دن انہوں نے لندن شہر کی سیرو سیاحت کرنے میں گزار دیا اور رات کے پورے آٹھ بجے عجائب گھر کے اس کمرے میں آگئے جہاں دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان اور دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ رکھا ہوا تھا۔ ڈاکٹر پرویز اپنے ساتھ ایک نوٹ بک بھی لایا تھا۔ اس نے گارڈ سے کہا۔ ”ہم ڈاکٹر ہیں اور انڈیا سے آئے ہیں۔ ہم خاص طور پر دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہمیں یہاں کچھ دیر ٹھہر کر دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کے دماغ کے بارے میں بعض معلومات نوٹ کرنی ہیں۔ ہمیں اجازت دے دو کہ ہم مرتبان کے قریب جا کر اس کو دیکھ سکیں۔”

گارڈ نے کہا۔ ”ٹھیک ہے تم ایسا کر سکتے ہو۔”

گارڈ بے چارے کو کیا پتہ تھا کہ یہ ڈاکٹر دماغ چرانے آیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا سائنس دان کے دماغ والے مرتبان کے پاس جاکر کھڑے ہو گئے اور جھک جھک کر یونہی دماغ کو دیکھنے اور نوٹ بک میں کچھ پوائنٹ نوٹ کرنے لگے۔ وہ دیر تک دماغ کا مشاہدہ کرتے اور نوٹ بک پر لکھتے رہے۔ یہاں تک کہ عجائب گھر بند کرنے کا وقت آگیا۔ گارڈ نے ان کے قریب آکر انگریزی میں کہا۔ ” عجائب گھر کو بند کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ” نو پرابلم۔ تم بند کرو۔ ہم اتنی دیر تک تھوڑا اور کام کرلیں گے۔”

کمرے کی کھڑکی کے باہر باغ تھا جس میں گھنی جھاڑیاں تھیں۔ گارڈ نے آگے بڑھ کر کھڑکی بند کر دی اور کھڑکی کی چٹخنی لگا دی۔ اس کے بعد وہ دوسری جانب کی کھڑکیاں بند کرنے کے لیے اس کمرے سے باہر نکل گیا۔ گارڈ کے باہر نکلتے ہی ڈاکٹر پرویز دوڑ کر بند کھڑکی کے پاس گیا اور اس نے اس کی چٹخنی آہستہ سے کھول دی۔ کھڑکی بند ہی رہی مگر اس کی چٹخنی نیچے کر دی گئی تھی۔ اب باہر سے کوئی بھی کھڑکی کھول کر اندر آ سکتا تھا۔ یہ کام کر کے پرویز دوڑ کر دماغ والے مرتبان کے پاس آگیا اور یوں ہی دماغ کو دیکھ کر نوٹ بک پر کچھ پوائنٹ نوٹ کرنے لگا۔ اتنے میں گارڈ دوسری جانب کی کھڑکیاں بند کر کے چٹخنیاں لگا کر واپس آگیا اور کمرے کے دروازے میں کھڑا ہو کر اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی پر نگاہ ڈال کر بولا۔ ”سر! ٹائم ہو گیا ہے۔ پلیز باقی کام کل کر لیجئے گا۔ “

ڈاکٹر پرویز نے تو اپنا کام لیا تھا۔ وہ جلدی سے دارا کو لے کر گارڈ کے پاس آکر اس کا شکریہ ادا کرنے لگا اور دروازے کے باہر اس وقت تک گارڈ کا شکریہ ادا کرتا رہا جب تک گارڈ نے کمرے کا دروازہ بند کر کے تالا نہیں لگا دیا۔ ڈاکٹر پرویز یہ تسلی کرنا چاہتا تھا کہ کہیں گارڈ نے دوبارہ کھڑکی کے پاس جا کر چٹخنی چیک تو نہیں کی؟ اس نے ایسا نہیں کیا تھا۔ ڈاکٹر پرویز مطمئن ہو کر وہاں سے دارا کے ساتھ چل پڑا۔

ذرا آگے جا کر ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “پرویز’ تم نے سکیم تو بڑی اچھی لڑائی ہے۔”

پرویز بولا۔” اب ہم آج ہی رات کو دو بجے کے قریب آکر کھڑکی کے ذریعے کمرے میں داخل ہوں گے اور دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا دماغ چرا کر رفو چکر ہو جائیں گے۔”

عجائب گھر سے وہ سیدھا مارکیٹ میں گئے۔ ایک سٹور سے انہوں نے برانڈی کی پوری بڑی بوتل خریدی جس میں الکوحل 75 فیصد ہوتی ہے اور اپنے ٹھکانے پر واپس آگئے۔

پلاسٹک کا ایک مضبوط اور موٹا تھیلا ڈاکٹر نے پہلے ہی سے خرید کر رکھ لیا تھا۔ رات کو دو بجے کا وقت انہوں نے اس لئے رکھا تھا کہ اس وقت گارڈ اور چوکیداروں کو بھی نیند آنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ بات بھی شیطان نے ڈاکٹر پرویز کے کان میں ڈالی تھی۔ رات کے ایک بجے دونوں سمر ہاؤس سے اپنے انکل کی گاڑی لے کر نکل پڑے۔ اس روز دن کو ہی سیر و سیاحت کے بہانے ڈاکٹر پرویز نے انکل کی دوسری گاڑی منگوا کر اپنے پاس رکھ لی ہوئی تھی۔ راستوں کا ڈاکٹر پرویز کو بخوبی علم تھا۔ انہوں نے پلاسٹک کے لفافے میں برانڈی کی پوری بوتل انڈیل کر لفافے کو اچھی طرح سے بند کر کے اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ اس لفافے میں انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا دماغ ڈال کر لانا تھا تا کہ الکوحل میں وہ خراب نہ ہو۔ دن کے وقت وہ موقع دیکھ بھال گئے تھے۔ انہوں نے گاڑی عجائب گھر کے عقبی گیٹ کے پاس کھڑی کر دی۔ یہاں سے انہوں نے صرف ایک باغیچہ عبور کرنا تھا۔ باغیچے کے دوسرے کنارے پر اس کمرے کی پچھلی کھڑکی لگتی تھی جس کمرے میں دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کا دماغ رکھا ہوا تھا اور جس کی کھڑکی کی چٹخنی وہ اندر سے اتار آئے تھے۔ رات بڑی سرد تھی۔ أوس گر رہی تھی۔ چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ کوئی آدمی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ پہریدار عجائب گھر کے مین گیٹ کی طرف تھا۔ اس گیٹ پر کوئی پہریدار نہیں تھا۔ گیٹ بند تھا اور کافی اونچا تھا۔ گیٹ کے دونوں جانب عجائب گھر کی دیوار تھی۔ جس پر جنگلی بیلیں چڑھی ہوئی تھیں۔

ڈاکٹر پرویز نے ڈاکٹر دارا سے کہا۔ ” تم گاڑی میں ہی بیٹھ کر میرا انتظار کرو۔”

وہ الکوحل سے بھرا ہوا تھیلا لے کر عجائب گھر کی دیوار کی طرف بڑھا۔ وہ جھاڑیوں کو پکڑ کر پانچ چھ فٹ اونچی دیوار پر چڑھ کر دوسری طرف باغیچے میں کود گیا۔ دیوار کے ساتھ اندھیرا تھا۔ وہ اندھیرے میں دبے پاؤں چلتا کمرے کی کھڑکی کے نیچے آگیا۔ کچھ دیر وہ وہاں خاموش بیٹھا رہا۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ ارد گرد کوئی آواز نہیں ہے اور کوئی پہرے دار بھی نہیں ہے تو آہستہ سے اُٹھ کر اُس نے ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کھول دی۔ کھڑکی بڑے آرام سے کھل گئی۔ وہ اوپر چڑھ کر کھڑکی کے اندر چلا گیا۔ کمرے میں بتی جل رہی تھی۔ بتی کی روشنی میں اس نے وہ کاؤنٹر دیکھا جس پر دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان اور دنیا کے سب سے بڑے قاتل کے دماغوں والے مرتبان ساتھ ساتھ رکھے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر پرویز پھونک پھونک کر قدم رکھتا کاؤنٹر کی طرف بڑھا جیسے ہی وہ کاؤنٹر کے قریب آیا اور اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ بجلی چلی گئی اور کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا۔ ڈاکٹر پرویز نے اس سے پہلے کبھی اس قسم کا کام نہیں کیا تھا۔ وہ گھبرا گیا اور گھبراہٹ میں اس نے ہاتھ بڑھا کر دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان والا مرتبان اٹھانا چاہا تو وہ اس کے ہاتھ سے ٹکرایا۔ کاؤنٹر ہلا اور دونوں مرتبان نیچے قالین پر گر پڑے۔ ڈاکٹر پرویز نے جلدی ہے ہاتھ بڑھا کر اپنے آگے گرا ہوا مرتبان اٹھا لیا اور اس میں ہاتھ ڈال کر اس میں سے دماغ نکال کر اپنے لفافے میں ڈالا اور دوڑ کر کھڑکی سے باہر کود گیا۔ اسے ڈر تھا کہ شاید اسی کمرے کی بجلی فیل ہوئی ہے اور کوئی نہ کوئی بجلی ٹھیک کرنے والا ضرور اندر آجا ئے گا

وہ باغیچے کی دیوار کے ساتھ اندھیرے میں دوڑتا ہوا اس جگہ پہنچا جہاں سے وہ دیوار پر سے کودا تھا۔ اچک کر اس نے دیوار کی بیل کو پکڑا اور دیوار پر چڑھ کر جلدی سے دوسری طرف چھلانگ لگا دی اور دوڑتا ہوا گاڑی کے پاس آکر بولا ” نکل چلو۔”

ڈاکٹر دارا سٹیئرنگ پر ہاتھ رکھے پہلے سے تیار بیٹھا تھا۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور فرسٹ گیئر میں گاڑی ڈال کر تیزی سے وہاں سے نکل کر سڑک پر آگئے۔ سڑک پر آکر اس نے گیئر بدلا اور پوری رفتار سے سنسان سڑک پر گاڑی دوڑنے لگی۔ ڈاکٹر پرویز گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا۔

دارا نے پوچھا۔ “کام ہو گیا تھا؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”بالکل ہو گیا ہے۔”

دارا نے کہا۔ ” یہ بجلی کیوں بند ہو گئی تھی؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ میرا خیال ہے بجلی فیل ہو گئی ہوگی۔ لیکن میں اندھیرا ہونے سے پہلے مرتبان تک پہنچ چکا تھا۔ دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کے دماغ والا مرتبان نیچے گر پڑا تھا مگر میں نے اسی وقت مرتبان میں ہاتھ ڈال کر دماغ نکالا اور اسے اپنے تھیلے میں بند کر کے وہاں سے بھاگ اٹھا۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ شکر ہے کام تو ہو گیا۔”

اس نے گردن ایک لمحے کے لیے پیچھے کر کے کہا۔ ” مجھے تھیلا دکھاؤ۔” تھیلا سفید پلاسٹک کا تھا جس میں برانڈی کی الکوحل میں ڈوبا ہوا دماغ پڑا تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے تھیلا آگے کر کے دارا کو دکھایا۔ وہ خاموش ہو کر بولا۔ ” پرویز! اس وقت کسی کو کیا معلوم کہ اس گاڑی میں جو دو آدمی بیٹھے ہوئے ہیں ان کے پاس دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا دماغ ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”دوست! ہم بڑے خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس اس دنیا کی سب سے قیمتی چیز ہے اور ہمارا بنایا ہوا انسان اس اعتبار سے دنیا کا خوش قسمت ترین انسان ہو گا کہ اس کی کھوپڑی میں دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے لائق سائنس دان کا دماغ ہوگا۔ تم دیکھ لینا ہمارا انسان سائنس کی دنیا میں ایسی ایسی حیرت انگیز ایجادات کرے گا کہ جو بنی نوع انسان کو ترقی کے سب سے بلند زینے پر پہنچا دیں گی۔ ہو سکتا ہے انسان بیماریوں پر قابو پانے کے بعد موت پر بھی قابو پالے۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “کفر مت بولو۔ موت برحق ہے اور ہر شخص کے مرنے کا ایک وقت مقرر ہے۔ موت ہر شخص کو ایک نہ ایک دن ضرور آتی ہے۔”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ”بھائی تم سے بحث کرنا بیکار ہے۔ ٹھیک ہے تم جو کچھ کہتے ہو وہ بھی ٹھیک ہے۔”

سمر ہاؤس پہنچ کر انہوں نے گاڑی کو گیراج میں کھڑا کیا اور دماغ والا تھیلا لے کر اوپر کمرے میں آگئے۔ بتی روشن کر کے انہوں نے تھیلے میں پڑے ہوئے دماغ کو دیکھا۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “دارا! دیکھو۔ یہ عام انسانوں کے دماغ سے بڑے سائز کا دماغ ہے۔”

وہ ڈاکٹر تھے۔ انہوں نے کئی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا تھا اور ہر عمر کے لوگوں کے دماغ دیکھے تھے۔ دارا بھی دماغ کو غور سے دیکھ رہا تھا کہنے لگا۔ “تم ٹھیک کہتے ہو۔ اس دماغ کا سائز بڑا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “کیوں نہ ہو۔ آخر یہ دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کا دماغ ہے۔”

ایک مرتبان انہوں نے پہلے سے لا کر الماری میں رکھا ہوا تھا۔ یہ مرتبان الکوحل اور سپرٹ سے بھرا ہوا تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے بڑی احتیاط کے ساتھ تھیلے میں سے دماغ نکال کر مرتبان میں ڈال کر مرتبان کو اوپر سے بند کر دیا۔ اس کے بعد الماری بند کر کے چابی لگائی اور لمبا سانس لے کر بولا۔

“ڈاکٹر دارا ! سمجھ لو کہ ہم نے اپنے بنائے ہوئے انسان کو مکمل کر لیا ہے۔ بس اب اس میں روح پھونکی باقی ہے”

دارا نے کہا۔ ” یہ مت کہو۔ روح بہت اعلیٰ اور ارفع چیز ہے۔ ہم اس میں روح نہیں پھونک سکتے۔ تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ ہم اپنے بنائے ہوئے نقلی آدمی میں مادے کی توانائی داخل کریں گے جس کی طاقت سے مردہ لاش زندہ ہو کر چلنے لگے گی اور کچھ معلوم نہیں کہ وہ بولے گی بھی یا نہیں بولے گی۔ اور اگر بولے تو کچھ سوچ بھی سکے گی یا نہیں۔ کیونکہ وہ ایک ادھورا انسان ہو گا۔”

ڈاکٹر پرویز نے اوور کوٹ اتار کر پلنگ پر رکھتے ہوئے کہا۔ ”بھائی! میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب اس موضوع پر تم سے کوئی بحث مباحثہ نہیں کروں گا۔ تم جو کہتے ہو بس میں اسے تسلیم کرتا ہوں۔ چلو اب سو جاؤ’ چار بجنے والے ہیں۔ مجھے سخت نیند آرہی ہے۔”

تھوڑی دیر بعد دونوں ڈاکٹر اپنے اپنے بستروں پر گہری نیند سو رہے تھے۔ دوسرے دن ڈاکٹر پرویز نے لندن سے واپسی کی دو سیٹیں برٹش ایئرویز میں بک کروا لیں۔

انکل نے کہا۔ ” ارے بھئی کچھ روز تو اور ٹھہر جاتے۔”

پرویز نے کہا۔ ” انکل! ہماری تفریح ہو گئی ہے۔ دراصل پیچھے ہسپتال میں بھی ہماری ضرورت ہے۔ ہم وہاں سے زیادہ دیر غیر حاضر نہیں رہ سکتے۔”

ڈاکٹر پرویز نے دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کے دماغ کو مرتبان سے نکال کر دوبارہ پلاسٹک کے تھیلے میں برانڈی ڈال کر بند کر لیا تھا۔ اس تھیلے کو اس نے اپنے سوٹ کیس میں ہلکی پھلکی قمیضوں کے نیچے بڑی احتیاط سے رکھ دیا۔ وہ دماغ کے تھیلے کو ہاتھ میں پکڑ کر نہیں لے جانا چاہتے تھے۔ اس طرح کسٹم والے پوچھ سکتے تھے کہ یہ کس کا دماغ ہے اور اسے تم کہاں لے جا رہے ہو۔ یہ بھی ممکن تھا کہ اس وقت تک اخباروں میں یہ خبر بھی چھپ جائے کہ میڈیکل عجائب گھر سے دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کا دماغ چوری ہو گیا ہے۔ پتہ نہیں کیا بات تھی اور کس مصلحت کے تحت میڈیکل عجائب گھر کی انتظامیہ نے ابھی تک دماغ چوری ہو جانے کی خبر اخباروں میں نہیں چھپوائی تھی ورنہ اس قسم کی خبر لندن کے اخباروں میں بڑھ چڑھ کر چھاپی جاتی ہے۔

ڈاکٹر دارا اور ڈاکٹر پرویز ٹھیک وقت پر لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پر پہنچ گئے۔ جب انہوں نے بتایا کہ ہم دونوں سرجن ڈاکٹر ہیں اور اپنے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ دکھائے تو ان کے سامان کی زیادہ چھان بین نہ کی گئی۔ صرف ایکسرے مشین کے اندر سے ان کے سامان کو گزارا گیا اور تھیلے میں پڑا ہوا دماغ ایکسرے میں بالکل دکھائی نہ دیا۔ یوں وہ بڑی آسانی سے کسٹم والوں سے نکل گئے۔ آگے ان کے لیے کوئی مشکل نہ تھی۔ وہ جہاز میں سوار ہو گئے۔ ٹھیک وقت پر جہاز نے اڑان بھری اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔

پاکستان پہنچنے کے بعد انہوں نے دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کے دماغ کو بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی لیبارٹری میں الکوحل اور سپرٹ والے مرتبان میں ڈبو کر رکھ دیا۔

ڈاکٹر پرویز نے دارا سے کہا۔ ”دوست! یہ ایک بہت بڑا مرحلہ تھا جو طے ہو گیا۔ کیا یہاں پاکستان میں کوئی یقین کر سکتا ہے کہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے اور نوبل انعام یافتہ سائنس دان کا دماغ ہمارے قبضے میں ہے؟

ڈاکٹر دارا بولا۔ ”کسی کو یقین نہیں آئے گا۔”

ڈاکٹر پرویز نے بڑے غرور سے گردن تان کر کہا۔ ” اور تمہارے دوست ڈاکٹر پرویز نے یہ کام کر دکھایا ہے۔ خدا کی قسم ایک بار میرے بنائے ہوئے انسان کو اٹھ کر چلنے پھرنے دو ہم دونوں کو نوبل انعام نہ ملا تو میرا نام بدل دینا۔”

ڈاکٹر دارا کو اس خیال سے ایک جھرجھری سی آگئی کہ ایک روز اسے نوبل انعام ملے گا اور دنیا کے تمام اخباروں اور ٹیلی ویژن سٹیشنوں سے اس کی تصویر اور خبر نشر ہوگی۔

دونوں ڈاکٹروں کے زیر تکمیل انسان کے سارے اعضاء سوائے رانوں کے مکمل ہو چکے تھے۔ پیٹ کا تھوڑا سا نچلا حصہ اور رانیں ان کی سب سے اہم ضرورت تھی۔ ایسی رانیں جو بہت مضبوط ہوں۔ اس نے ایک بار پھر قبرستان کے گورکن سے رابطہ قائم کیا اور اسے اپنی ضرورت سے آگاہ کیا۔

گورکن نے کہا۔ جیسے ہی کسی پہلوان یا طاقتور آدمی کی لاش آئی میں خبر کر دوں گا۔”

کچھ دنوں کے بعد گورکن نے ٹیلی فون پر اطلاع دی کہ آپ کی مطلوبہ چیز مجھے مل گئی ہے، آکر لے جائیں۔

ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا فوراً قبرستان پہنچ گئے۔ گور کن انہیں رات کے اندھیرے میں ایک تازہ تازہ قبر پر لے گیا۔ کہنے لگا۔ ”اس قبر کے اندر شہر کا سب سے طاقتور پہلوان دفن ہے۔ اس کی رانیں بہت چوڑی اور لمبی ہیں۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” قبر کھول کر دکھاؤ۔” گورکن نے قبر کھول دی اور مردے کو باہر نکالا۔ ڈاکٹر پرویز نے دیکھا کہ واقعی مردے کی دونوں رانیں بہت طاقتور موٹی اور عام سائز سے بڑی تھیں۔ ڈاکٹر پرویز کو یہی چاہئے تھیں۔ اس نے گورکن کو اس کی رقم دی اور دونوں رانیں کپڑے میں لپیٹ کر آسیبی قلعے والی لیبارٹری میں لا کر سپرٹ کے بڑے مرتبان میں ڈالیں اور سنبھال کر رکھ لیں۔

اب لاش کے تمام اعضاء مکمل ہو گئے تھے اور الگ الگ مرتبانوں میں پڑے تھے۔

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ”سب کام ہو گیا ہے۔ اب آپریشن شروع کرو۔”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ” آج رات کو آپریشن شروع کر دیں گے۔”

وہ رات موسم سرما کی سب سے زیادہ سرد رات تھی۔ آسیبی قلعے میں ڈاکٹر پرویز کی لیبارٹری میں آپریشن کے تمام آلات سٹریچر کے پاس چھوٹی میز پر رکھ دیئے گئے تھے۔ دونوں ڈاکٹر سفید کوٹ پہنے، آپریشن کے لیے تیار تھے۔ زیر تکمیل لاش کے تمام اعضاء کے مرتبان وغیرہ سٹریچر کے قریب ایک میز پر رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کام شروع کر دیا۔ زیر تکمیل لاش کے تمام اعضاء ایک ایک کر کے مرتبانوں سے نکال کر سٹریچر پر صحیح طریقے سے اپنی اپنی جگہ پر رکھ دیئے گئے تو دونوں ڈاکٹر یہ دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑے کہ یہ ایک سات ساڑھے سات فٹ لمبے انسان کی لاش تھی جس کا جسم انتہائی چوڑا چکا اور صحت مند تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ڈاکٹردارا ! ذرا غور کرو ہمارا بنایا ہوا انسان جب زندہ ہو کر چلنے پھرنے لگے گا تو یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہو گا۔ خدا کی قسم دنیا بھر کے سائنسدان اور ڈاکٹر حیران رہ جائیں گے۔”

ڈاکٹر دارا لاش کے کٹے ہوئے اعضاء جو ساتھ ساتھ اپنی اپنی جگہ پر ہے ہوئے تھے، دیکھ کر خوف سے لرز گیا۔ اس کے دل میں طرح طرح کے خیال لگے کہ خدا جانے یہ انسان زندہ ہو کر کیا کرے گا۔ اچھے کام کرے گا یا دنیا میں تباہی مچادے گا۔

ڈاکٹر پرویز نے دارا سے کہا۔ “چلو دوست آپریشن شروع کرو ۔ ” ڈاکٹر دارا ایک دم سنبھل گیا۔ کہنے لگا۔ “پرویز! ایک بار پھر سوچ لو۔ ہمارا تجربہ الٹا تو نہیں پڑ جائے گا؟”

کیسے الٹا پڑ جائے گا؟” ڈاکٹر پرویز نے پوچھا۔ ”میرا مطلب ہے…. ” ڈاکٹر دارا کہنے لگا۔ “میرا مطلب ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ ہمارا بنایا ہوا انسان ہمارے ہاتھ سے نکل کر غلط راستے پر چل پڑے”؟

ڈاکٹر پرویز نے دارا کو غصے کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا۔ ”دارا! تم بہت کمزور دل کے ڈاکٹر ہو۔ تمہیں اس لائن میں نہیں آنا چاہئے تھا۔ ایک سرجن کا دل مضبوط ہوتا ہے۔ اس قسم کے فضول خیالات کو ذہن سے نکال دو اور اپنا کام شروع کر دو۔”

انہوں نے بجلی کی تیز روشنی میں لاش کے کٹے ہوئے اعضاء کی وریدیں اور ہڈیاں آپریشن اور خاص سلوشن کی مدد سے جوڑنی شروع کر دیں ۔۔۔دیر تک وہ آپریشن کرتے رہے مگر لاش کے بازو ہی جوڑ سکے۔ ڈاکٹر دارا کو اتنی سردی میں بھی پسینہ آ گیا تھا۔ کہنے لگا۔ ” پرویز! بس دوست! اب باقی کا کام کل کریں گے میں بہت تھک گیا ہوں۔”

ڈاکٹر پرویز بھی تھک گیا تھا۔ کہنے لگا۔ “اگر تم یہی چاہتے ہو تو چلو کل صحیح”

انہوں نے لاش کے اوپر ترپال ڈال دی۔ لیبارٹری کے سنک میں جا کر پانی سے منہ ہاتھ دھوئے۔ آپریشن کا لباس اتار کر اپنے کپڑے پہنے، لیبارٹری کو بند کیااور گاڑی میں سوار ہو کر آسیبی قلعے سے نکلے اور اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے ۔

دوسرے دن شام ہوتے ہی انہوں نے آپریشن شروع کر دیا۔ ساری رات وہ آپریشن کر کے لاش کے اعضاء جوڑتے رہے۔ کام اتنا لمبا اور تھکا دینے والا تھا کہ اس روز بھی کام مکمل نہ ہو سکا۔ ایک ایک رگ کو جوڑ کر ٹانکے لگانے پڑ رہے تھے۔ تلی کا آپریشن پانچ دن تک جاری رہا۔ چھٹی رات کو لاش کے سارے اعضاء جوڑ لئے گئے۔ اب صرف کھوپڑی کے اندر دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کا دماغ فٹ کرنا تھا۔ یہ کام بڑا نازک اور باریک تھا مگر دونوں ڈاکٹر بڑے لائق سرجن تھے۔ اس کے باوجود لاش کے دماغ کو کھوپڑی کے اندر پلانٹ کرتے انہیں دو دن اور دو راتیں لگ گئیں۔ آخر یہ کام بھی مکمل ہو گیا اور ڈاکٹر پرویز نے لاش کی کھوپڑی سر کی جگہ ٹوپی کی طرح رکھ کر جوڑ پر آری کی مدد سے سوراخ کر کے چھوٹے چھوٹے ٹانکے لگا دیئے۔

اس وقت لاش مکمل طور پر تیار ہو چکی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے لاش کی طرف دیکھا اور گردن فخر سے بلند کر کے بولا۔ ”میں نے وہ کام کیا ہے ڈاکٹر دارا جو آج تک کسی ڈاکٹر نے نہیں کیا۔”

ڈاکٹر دارا کے چہرے پر خوف کے اثرات تھے۔ وہ دل میں ڈر رہا تھا کہ خدا جانے زندہ ہو کر لاش کا طرز عمل کیا ہو گا؟ وہ ڈاکٹر پرویز کے کنٹرول سے کہیں باہر تو نہیں تو ہو جائے گی؟ ڈاکٹر پرویز نے لاش کی کمر میں ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ گردن کے جانب ایک چھوٹا سا آلہ فٹ کر دیا تھا جس میں باہر سے ریموٹ کنٹرول کے سگنل پکڑنے کی طاقت تھی۔ اس آلے میں کوئی بیٹری وغیرہ نہیں تھی بلکہ اسے خون کی گرمی کی وجہ سے کام کرتے رہنا تھا۔ اس آلے کا ریموٹ کنٹرول سے رابطہ تھا جو ڈاکٹر پرویز کے پاس تھا۔ اس ریموٹ کوڈاکٹر پرویز نے لاش کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا تھا۔ ایسا ہی چھوٹا سا آلہ ڈاکٹر پرویز نے لاش کے دماغ میں فٹ کر دیا تھا۔ یہ آلہ ایک چھوٹے سے بٹن کی شکل کا تھا۔ اس آلے کی مدد سے ڈاکٹر نے لاش کے دماغ میں اپنی مرضی کی بات اور اپنی مرضی کے خیالات داخل کر کے اسے اپنی مرضی کے مطابق کام لینا تھا۔ جس وقت ڈاکٹر پرویز لاش کے دماغ سے چھوٹا سا بٹن نما آلہ فٹ کر رہا تھا، اس وقت ڈاکٹر دارا نے اسے کہا۔ “اگر لاش بجلی کی توانائی سے زندہ ہو گئی تو ممکن ہے، اس کا دماغ اپنی مرضی کے مطابق کام کرنا شروع کر دے اور تمہارے ریموٹ کے کنٹرول سے باہر ہو جائے۔ “

ڈاکٹر پرویز نے جواب میں کسی قدر تشویش کے ساتھ کہا۔ ” تم نے صحیح خدشے کا اظہار کیا ہے مگر یہ دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کا دماغ ہے۔ یہ اچھا کرے گا اور اس کے دماغ میں اچھا خیال ہی آئے گا۔ کیا معلوم یہ ہمارے لئے کوئی نئی چیز ایجاد کرے یا کوئی ایسا فارمولا تیار کر دے جس کی مدد سے انسان کئی سال تک زندہ رہ سکے۔ ایسی صورت میں ہمیں اس لاش کو کنٹرول کرنے کا ضرورت نہیں ہو گی۔ پھر تو یہ لاش انسانوں کے ایک ہمدرد اور نیک دل سائنسدان کی لاش ہوگی جو انسان کی بھلائی اور میڈیکل سائنس کی ترقی کے لیے نئی نئی دریافت کرے گی۔”

”اور اگر ایسا نہ ہوا؟ ڈاکٹر دارا نے شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ڈاکٹر پرویز بولا۔ ایسا ہونا ممکن نہیں کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے دان کے دماغ میں کوئی بُرا یا انسان کے خلاف کوئی خیال آہی نہیں سکتا اور اگر ایسا ہوا تو ہم اسے ریموٹ کے ساتھ اپنے کنٹرول میں کر لیں گے اور یوں یہ ہمارے کنٹرول میں ہوگی۔ ہمارے اشاروں پر چلے گی۔”

زندہ لاش کے تمام آپریشن پورے ہو گئے۔ لاش بالکل تیار ہو گئی۔ ان میں آسمانی بجلی کی توانائی داخل کرنی باقی تھی۔ دونوں ڈاکٹر لاش کے سٹریچر کو چھت پر لے گئے اور چھت کے عین وسط میں سٹریچر رکھ کر لاش کو لوہے کیزنجیروں، چمڑے کے پٹوں اور بیلٹوں سے سٹریچر کے ساتھ باندھ دیا۔

یہ انہوں نے اس لئے کیا کہ لاش میں سے جب آسمانی بجلی گزرے گی تو اس میں زبردست توانائی ہوگی اور اسے زبر دست جھٹکا لگے گا اور اس جھٹکے سے لاش اچھل کر سٹریچر سےنیچے نہ گر پڑے۔ سب سے آخر میں انہوں نے لاش کے جسم کے ساتھ تانبے کا تار لپیٹ کر تار کا سرا لاش کے سر کے اوپر ایریل انٹینا کی طرح لگا دیا تاکہ بجلی اس پر گرے تو تانبے کے انٹینا سے گزر کر لاش کے جسم سے لپٹی ہوئی تار میں سے گزرتی ہوئی چھت میں دھنس جائے۔ تانبے کی تار کا آخری سرا قلعے کی مضبوط اور موٹی چھت کا فرش کھود کر اس کے اندر دھنسا دیا گیا تھا۔

اب انہیں آسمانی بجلی کا انتظار تھا کہ کب بادل آتے ہیں اور زور زور سے گرجتے ہیں، بجلی رہ رہ کر چمکتی ہے، کڑکتی ہے اور لاش پر گرتی ہے۔ اس کام سے فارغ ہو کر دونوں ڈاکٹر چھت سے اتر کر لیبارٹری میں آئے۔ آپریشن کے تمام آلات صاف کر کے الماری میں رکھے اور زینہ اتر کر آسیبی قلعے کے باہر آگئے۔ ڈاکٹر پرویز نے آسمان پر چمکتے ستاروں کی طرف دیکھ کر کہا۔ ”خدا کرے کہ آسمان پر بادل گھر کر چھا جائیں اور بارش کا طوفان شروع ہو جائے۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ” ابھی تو آسمان پر کسی طوفان باد و باراں کے آثار نہیں”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” آج کی موسمی پیش گوئی میں ٹیلی ویژن پر کہا گیا ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں بارش کی توقع ہے۔”

دونوں گاڑی میں بیٹھ کر اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے۔ قلعے پر ایک ڈراؤنی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ قلعے کی چھت پر نقلی انسان کی جگہ جگہ سے سلی ہوئی لاش بےحس و حرکت زنجیروں اور چمڑے کی پیٹیوں میں لپٹی پڑی تھی۔ لاش کے ماتھے پر کھوپڑی کو جوڑ کر جو ٹانکے لگائے گئے تھے اول طور پر دکھائی دے رہے تھے۔ لاش کی آنکھیں آدھی کھلی ہوئی تھیں اور کسی مردے کی آنکھیں لگتی تھیں۔ یہ عجیب وغریب لاش تھی جس کا کوئی عضو اس کا اپنا نہیں تھا۔ سر کسی کا تھا، سر کے اندر دماغ کسی اور کا تھا۔ ٹانگیں کسی دوسرے مردے کی تھیں، سینہ کسی اور مردے کا تھا، بازو کسی اور مردے کا آنکھیں کسی اور لاش کی تھیں، ناک بھی کسی دوسرے مردے کی تھی بلکہ لاشوں کے چہرے سے کاٹ کر انہیں جوڑ کر ایک ناک بنا کر آپریشن کے ذریعے لگائی گئی تھی۔ دماغ کے اندر بٹن کے سائز کا آلہ لگا ہوا تھا جس کے ذریعے ڈاکٹر نے اس لاش کے ذہن میں اپنا خیال ڈالنا تھا اور اپنی مرضی کے مطابق اس سے کام لینا تھا

کمر میں ریڑھ کی ہڈی میں بھی ایک چھوٹا سا ٹرانسمیٹر فٹ تھا جس کے ذریعے لاش کو ڈاکٹر نے اپنی مرضی کے مطابق چلانا تھا۔ لاش کا چہرہ ساکت تھا۔ اس پر موت کی زردی طاری تھی۔ آدھی کھلی ہوئی آنکھیں جیسے دور کسی ڈراؤنی شے کو گھور رہی ہوں۔

چھت پر کوئی نہیں تھا۔ رات کے اندھیرے اور خاموشی میں آسیبی قلعے کی چھت خالی پڑی تھی۔ اچانک چھت کے زینے میں سے ایک انسانی ہیولا نمودار ہوا اس کی دونوں ٹانگیں کئی ہوئی تھیں۔ وہ بیساکھیوں کے سہارے آہستہ آہستہ لاش کے سٹریچر کے پاس آیا اور پتھرائی ہوئی آنکھوں سے لاش کی ٹانگیں دیکھنے لگا ، یہ اس مردے کا ہیولا تھا جس کی ٹانگیں ڈاکٹر پرویز نے کاٹ کر لاش کو لگا دی تھیں ۔ مردے کا ہیولا شاید اپنی ٹانگیں دیکھنے آیا تھا۔ ہیولے نے ایک بیساکھی اوپر اٹھا کر لاش کی دونوں ٹانگوں کے ساتھ باری باری لگائی۔ پھر اس ہیولے کے منہ سے ایک کا طویل ڈراؤنی چیخ کی آواز نکلی اور ہیولا غائب ہو گیا۔ اس کے بعد چھت پر ایک اور انسانی ہیولا نمودار ہوا جس کے دونوں بازو غائب تھے وہ اپنی ٹانگوں پر آہستہ آہستہ چلتا لاش کے سٹریچر کے پاس آیا۔ اس ہیولے نے جھک کر لاش کے ساتھ لگے اپنے بازوؤں کو غور سے دیکھا۔ ایک لمبی آہ بھری اور لاش کے گرد ایک چکر لگا کر غائب ہو گیا۔ اسی طرح اس مردے کا ہیولا نمودار ہوا جس کی آنکھیں ڈاکٹر پرویز نے لاش کو لگائی تھیں۔ یہ ہیولا اندھا اور لاٹھی کے سہارے چل رہا تھا۔ اس ہیولے نے ہاتھ لاش کی آنکھوں پر لگایا اور ایک فلک شگاف چیخ مار کر غائب ہو گیا۔

اسی طرح جن جن مردوں کے عضو کاٹ کر ڈاکٹر پرویز نے لاش کے ساتھ کے جوڑے تھے ان کے ہیولے باری باری چھت پر نمودار ہوئے اور لاش کے گرد ایک چکر لگا کر غائب ہو گئے۔ لیکن جس کا دماغ لاش کی کھوپڑی میں لگایا گیا تھا اس کا ہیولا نہیں آیا تھا۔۔۔

دوسرے دن آسمان پر بادل چھانا شروع ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر پرویز اور دارا صبح صبح آسیبی قلعے میں اپنی بنائی ہوئی لاش کا معائنہ کرنے آئے۔ لاش اسی طرح بے حس و حرکت پڑی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے بادلوں کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھا اور کہا۔

”ڈاکٹر دارا! شاید بارش تیز اور موسلادھار ہو۔ اگر بجلی بار بار کڑکی اور چمکی تو مجھے یقین ہے کہ لاش پر ضرور گرے گی۔ کیونکہ اس کے سر کے اوپر اٹھی ہوئی تانبے کی تار بجلی کے ذرات کو اپنی طرف ضرور کھینچے گی۔”

وہ دیر تک چھت پر رہ کر لاش کا معائنہ کرتے رہے۔ ڈاکٹر دارا کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ وہ لاش کی نیم وا مردہ آنکھوں پر نظر ڈالے۔ اسے ان آنکھوں سے بڑا خوف محسوس ہو رہا تھا۔ اسے یوں لگا جیسے یہ آنکھیں کسی جلاد کی آنکھیں ہیں۔ یہ آنکھیں کسی بڑے سائنسدان کی آنکھیں نہیں لگ رہی تھیں۔ ڈاکٹر پرویز کہنے لگا۔ “اگر طوفان بڑھ گیا تو ہم رات کو بھی آسیبی قلعے کا ایک چکر لگانے آئیں گے ممکنہے لاش پہ بجلی گرے اور یہ زندہ ہو جائے۔”

ڈاکٹر دارا کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ لاش آسمانی بجلی کے گرنے سے لاش کے زندہ ھو جائے گی لیکن وہ اپنے اس شک کا ڈاکٹر پرویز کے سامنے اظہار نہیں کر رہا تھا، کچھ دیر آسیبی قلعے کی چھت پر لاش کے پاس رکنے کے بعد دونوں ڈاکٹر واپس چلے گئے۔ دوپہر تک بارش نہیں ہوئی تھی، بادل ضرور چھائے ہوئے تھے، ہوا بھی تیز چل رہی تھی مگر نہ بادل گرج رہے تھے، نہ بجلی چمک رہی تھی اور نہ بارش ہو رہی تھی۔ ڈاکٹر دارا نے پرویز سے کہا۔ ”میرا خیال ہے یہ بادل بغیر برسے گزر جائیں گے۔”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ” محکمہ موسمیات والوں نے پیش گوئی کی تھی کہ آج طوفان باد و باراں آئے گا۔”

دارا نے کہا۔ ”اس محکمے والوں کی پیش گوئیاں اکثر غلط ثابت ہوتی ہیں۔ اور کچھ ایسا ہی ہوا۔ شام کے وقت بادل چھٹنا شروع ہو گئے اور آسمان پر تارے نکل آئے لیکن رات کے دس بجے کے بعد اچانک ہوا چلنے لگی

آسمان پر گہرے کالے بادل چھا گئے اور بجلی بار بار چمکنے لگی اور بادل بھی گرجنے لگے

ڈاکٹر دارا نے ڈاکٹر پرویز کو فون کیا اور کہا کہ طوفان باد و باراں آگیا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ”موسم کی پیش گوئی درست نکلی ہے اور یہ بڑا زبردست باراں کا طوفان ہے۔ ہمیں اسی وقت قلعے کی چھت پر پہنچ جانا چاہئے۔ مجھے لگتا ہے بجلی جس طرح کڑک رہی ہے اور چمک رہی ہے، یہ لاش پر ضرور گرے گی تمہاری طرف گاڑی لے کر آرہا ہوں۔ تم تیار ہو جاؤ۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ”میں تیار ہوں بس تم آجاؤ۔”

لیکن ڈاکٹر پرویز کو عین اسی وقت ہسپتال سے فون کال آگئی کہ ایک ایمرجنسی کیس آیا ہے۔ آپ فوراً ہسپتال آجائیں۔ ڈاکٹر پرویز کو ہسپتال جانا پڑ گیا۔ ڈاکٹر دارا کو فون کر دیا کہ میں ہسپتال جا رہا ہوں، تم گھر پر ہی رہنا میں سیدھا تمہارے پاس آجاؤں گا، پھر قلعے میں چلے جائیں گے۔ لیکن ہسپتال میں پرویز کو دو گھنٹے لگ گئے۔ اس دوران طوفان باد و باراں آگیا۔ تیز ہوا چلنے لگی، ساتھ موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ بجلی رہ رہ کر چمکنے لگی۔ بادلوں کی گرج سے سارا شہر گونجنے لگا۔ ڈاکٹر پرویز نے فون پر ڈاکٹر دارا سے کہا۔ ” بڑے زوردار طوفان ہے۔ ذرا طوفان کم ہو تو میں تمہاری طرف آجاؤں گا تم گھر پر ہی رہنا۔” لیکن طوفان کم نہ ہوا۔ بجلی اس طرح کڑک کڑک کر چمکتی جیسے کہیں نہ کہیں گری ہو۔ یہ طوفان دو گھنٹے تک جاری رہا۔ اس کے بعد طوفان تھم گیا۔ بارش بھی رک گئی اور بجلی بھی چمکنا بند ہو گئی۔ اس وقت رات کا ایک بج چکا تھا۔ ڈاکٹر دارا نے پرویز کو ہسپتال میں فون کیا اور کہا۔ ”میرا خیال ہے ہم قلعے پر جانا صبح تک ملتوی کر دیتے ہیں۔ بڑا زبردست طوفان تھا۔ سڑکوں پر کئی درخت اکھڑ کر گر پڑے ہوں گے۔ راستے بند ہو گئے ہوں گے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا ” نہیں۔ ہمیں اسی وقت قلعے پر پہنچنا چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ لاش پر بجلی ضرور گری ہوگی اور لاش زندہ ہو گئی ہوگی۔ میں تمہاری طرف آرہا ہوں۔”

اور ڈاکٹر پرویز گاڑی لے کر سیدھا ڈاکٹر دارا کے ہوسٹل میں پہنچ گیا۔ سڑکوں پر جگہ جگہ درخت گرے ہوئے تھے، پانی بھی کھڑا تھا مگر ڈاکٹر پرویز کسی نہ کسی طرح ڈاکٹر دارا کے ہوسٹل پہنچ گیا۔

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ” دوست! اس وقت قلعے کی طرف جانا مناسب نہیں۔ رات کافی گزر گئی ہے اور سارے رستے درختوں نے بلاک کردیے ہوں گے اور پانی بھی سڑکوں پر کھڑا ہو گا۔” لیکن ڈاکٹر پرویز نہ مانا۔ کہنے لگا۔ “مجھے یقین ہے لاش زندہ ہو گئی ہوگی۔ میں اپنے تجربے کی کامیابی دیکھنا چاہتا ہوں۔ بس تم میرے ساتھ آ جاؤ۔ ہم کسی دوسری طرف سے ہو کر قلعے تک پہنچ جائیں گے۔”

ڈاکٹر دارا انکار نہ کر سکا اور وہ گاڑی میں سوار ہو کر قلعے کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس وقت تک بارش تھم چکی تھی۔ آسمان پر سے بادل غائب ہو گئے تھے مگر سرد ہوا چل رہی تھی اور سردی بہت زیادہ پڑ رہی تھی۔ دونوں ڈاکٹر دوست گاڑی میں بیٹھ کر آسیبی قلعے کی طرف چلے تو سڑکوں پر پانی کھڑا تھا اور کئی جگہوں پر درخت گرے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر پرویز گاڑی چلا رہا تھا۔ وہ شہر کی بڑی سڑک سے نکل کر تنگ سڑکوں پر سے ہوتا ہوا آسیبی قلعے کی طرف چل پڑا۔ دونوں ڈاکٹر دوستوں کو ہم اسی جگہ چھوڑتے ہیں اور آپ کو یہ بتاتے ہیں کہ جس وقت شہر پر طوفان باد و باراں نازل ہوا تھا اور بجلی رہ رہ کر کڑک رہی تھی عین اس وقت قلعے کی چھت پر لاش کے ساتھ کیا گزری؟ ساڑھے سات فٹ انتہائی طاقتور نقلی انسان کی جگہ جگہ سے جوڑی ہوئی لاش قلعے کی چھت پر ساکت پڑی تھی کہ آسمان پر بادل گرجنا شروع ہو گئے۔ ساتھ ساتھ بجلی بھی کڑکنے اور چمکنے لگی۔ قیامت کا طوفان شروع ہو گیا۔ بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ گھپ اندھیرے میں بجلی زور سے کڑک کر چمکتی تو نقلی انسان کی لاش روشنی میں ایک دو سیکنڈ کے لیے چمک اٹھتی اور پھر اندھیرے میں گم ہو جاتی۔ آسمانی بجلی دو تین بار جیسے نقلی انسان کی لاش پر گرتے گرتے رہ گئی۔ آخر ایک بار قیامت کا دھماکہ ہوا اور آسمانی بجلی نقلی انسان کی لاش پر گری۔ اگر لاش کے سر کے اوپر تانبے کی تار کا ایریل نہ اوپر کو اٹھا ہوا ہوتا تو بجلی نے لاش پر گرتے ہی اسے چھت سمیت بھسم کر ڈالنا تھا لیکن تانبے کے تار نے بس لاش کو بھسم ہونے سے بچا لیا۔ آسمانی بجلی جیسے ہی لاش پر گری اسے تانبے کے تار میں گزر جانے کو راستہ مل گیا۔ چنانچہ کروڑوں وولٹ طاقت کی آسمانی بجلی لاش کے اوپر گرتے ہی تانبے کی ان تار میں سے گزر کر لاش کے جسم کے گرد لپٹی ہوئی تانبے کی تار میں سے آنا فانا نکلے کر چھت کے اندر غائب ہو گئی۔ اتنے زیادہ وولٹیج کے ساتھ بجلی لاش کے جسم میں سے ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں سے گزری تو لاش کو ایک جھٹکا لگا اور لاش کی آنکھیں جو نیم وا تھیں پوری کھل گئیں اور لاش کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی۔ لاش کے اندر قیامت کی توانائی آگئی تھی اور لاش زندہ ہو گئی تھی۔ مگر وہ پوری طرح زندہ نہیں ہوئی تھی، آدھی زندہ ہوئی تھی۔ وہ اس طرح کہ وہ دیکھ سکتی تھی مگر بول نہیں سکتی تھی۔ لاش کے حلق سے آہستہ آہستہ غرانے کی آواز نکلنے لگی۔ لاش نے اپنے بازو کو ذرا سی جنبش دی تو اس کے بازو کے ساتھ بندھی ہوئی لوہے کی موٹی زنجیر تڑاخ سے ٹوٹ گئی۔ لاش کے بازو کو جس چمڑے کے پٹے کے ساتھ سٹریچر کے اورساتھ باندھا ہوا تھا وہ پٹہ بھی ٹوٹ گیا۔ لاش نے اسی طرح دوسرے بازو کو جنبش دی، دوسرے بازو کا پٹہ اور آہنی زنجیر بھی ٹوٹ گئی۔ پھر لاش نے ایک ٹانگ کو جنبش دی اور اس کی ٹانگ کی زنجیر بھی تڑاخ سے ٹوٹ گئی۔ اسی طرح لاش نے دوسری ٹانگ کو جنبش دی اور دوسری ٹانگ کی زنجیر بھی ٹوٹ گئی۔ آپریشن کے بعد ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا نے لاش کے جسم کے گرد کپڑے کی پرانی پٹیاں لپیٹی تھیں کیونکہ لاش کے سائز کے ان کے پاس کپڑے نہیں تھے۔ صرف لاش کے ہاتھ پاؤں گردن اور سر پٹیوں کے بغیر تھے۔ لاش سٹریچر پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔ لاش کے حلق سے غرانے کی ہلکی ہلکی آواز نکل رہی تھی۔ لاش بالکل سامنے دیکھ رہی تھی۔ اس کی گردن اکڑی ہوئی تھی۔ گردن آسانی سے دائیں بائیں نہیں ہل سکتی تھی۔ اس لئے زندہ لاش والے نقلی انسان کو گردن ہلانے کے لیے پورے جسم کو دوسری طرف چلانا پڑتا تھا۔ لاش سٹریچر پر سے نیچے اتر آئی۔ لاش نے اپنے آپ کو ذرا سا سر جھکا کر غور سے دیکھا اور پھر بن مانس کی طرح اپنے سینے پر زور سے تین ہاتھ مارے اور آسمان کی طرف منہ کر کے غرانے لگی۔ یہاں سے ہم اس نقلی انسان کی زندہ لاش کو زندہ مردہ نہیں، زندہ لاش نہیں بلکہ مردہ انسان کہہ کر پکاریں

مردہ انسان نے گردن دائیں طرف گھمانی چاہی مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔ اسے گردن دائیں طرف گھمانے کے لیے اپنے پورے جسم کو دائیں طرف گھمانا پڑا۔ لاش چھت پر اسی طرح کبھی دائیں اور کبھی بائیں طرف جھکتی چلنے لگی جیسے کوئی ڈولتے ہوئے سمندری جہاز کے عرشے پر چلتا ہے یا جیسے کوئی خواب کی دنیا میں چلتا ہے۔ لاش کو سامنے زینہ نظر آیا۔ وہ زینے کے پاس جا کر ایک سیکنڈ کے لیے رکی اور زینہ اترنے لگی۔ قلعے کی دوسری منزل کا زینہ اترنے کے بعد لاش قلعے کے شکستہ دروازے کی طرف بڑھی۔ اچانک ایک طرف سے کالے رنگ کی بلی سامنے آگئی۔ بلی نے ایک مردہ انسان کو چلتے ہوئے دیکھی تو خوف سے بلی کے بال کھڑے ہو گئے، اس نے مردہ انسان پر چھلانگ لگا دی اور اس کا منہ نوچنے ہی لگی تھی کہ مردہ انسان نے بلی کو اپنے ہاتھوں میں دبوچ کر بلی کے دو ٹکڑے کر دیئے اور بلی کے دو ٹکڑے وہیں پھینک کر قلعے کے دروازے سے نکل کر رات کے سرد ویران اندھیرے میں گم ہو گئی۔

اب ہم واپس ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا کی طرف چلتے ہیں۔ دونوں ڈاکٹروں کی گاڑی قلعے کے درواز نے پر پہنچ چکی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے گاڑی ایک طرف دیوار کےساتھ کھڑی کی اور قلعے کے زینے کی طرف بڑھے۔ ڈاکٹر پرویز کے ہاتھ میں ٹارچ تھی جس کی روشنی میں وہ راستہ دیکھ رہا تھا۔ اچانک ڈاکٹر پرویز ٹھٹک گیا۔ اس کی ٹارچ کی روشنی زمین پر ایک جگہ پڑتے ہوئے رک گئی تھی۔

ڈاکٹر پرویز نے اپنے ساتھی ڈاکٹر سے کہا۔ “دارا! یہ دیکھو۔ یہ کس جانور کی لاش ہے؟”

ڈاکٹر دارا نے جھک کر زمین پر وہ جگہ دیکھی جس پر ٹارچ کی روشنی پڑ رہہ تھی۔ اس نے اس چیز کو پہچان لیا۔ خوف سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، دارا نے ڈاکٹر پرویز سے کہا۔ ”ڈاکٹر یہ بلی کے آدھے جسم کا ٹکڑا ہے۔” اب ڈاکٹر پرویز نے بھی جھک کر دیکھا۔ یہ بلی کا نچلا آدھا دھڑ تھا۔ ڈاکٹر نے فوراً دوسری طرف ٹارچ کی روشنی ڈالی۔ اسے دوسری طرف تین چار قدموں کے فاصلے پر بلی کا اوپر والا حصہ بھی مل گیا۔ بلی کا سر زمین پر زور سے لگنے سے پاش پاش ہو چکا تھا۔

ڈاکٹر پرویز کے منہ سے بے اختیار گھبرائی ہوئی آواز میں نکلا۔ کوئی خوفناک بات ہو گئی ہے۔ اوپر آؤ۔”

دونوں دوڑ کر زینہ چڑھ کر قلعے کی چھت پر آئے اور ڈاکٹر پرویز نے سٹریچر پر روشنی ڈالی تو سٹریچر خالی پڑا تھا۔ لاش کو چمڑے کے جس پٹے اور زنجیروں سے باندھا گیا تھا وہ ٹوٹی ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا کے چہرے خوفزدہ ہو گئے۔ دارا سے پرویز بولا۔ ڈاکٹر دارا !لاش زندہ ہو کر زنجیریں توڑ کر فرار ہو گئی ہے۔”

ڈاکٹر دارا بولا۔ “یا اللہ خیر! اب کیا ہو گا؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” میں اسے ریموٹ کے ذریعے واپس بلاتا ہوں۔“

ڈاکٹر پرویز نے اوور کوٹ کی جیب میں سے جلدی سے ریموٹ کنٹرول نکالا اور اس کے ایک بٹن کو دبایا۔ ریموٹ کنٹرول پر سرخ روشنی نہ ہوئی۔ ڈاکٹر نے دوسرے اور پھر تیسرے بٹن کو دبایا لیکن کسی بٹن کے دبانے پر بھی ریموٹ پر سرخ روشنی کا ننھا سا نقطہ نہ چمکا۔ اس نے مایوسی کے عالم میں کہا۔ “دارا ! لاش آؤٹ آف کنٹرول ہو گئی ہے۔”

”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“ ڈاکٹر دارا نے پوچھا۔ ”ہم نے تو لاش کی کمر اور دماغ میں دو کمپیوٹر آلے نصب کئے تھے۔”

ڈاکٹر پرویز بار بار ریموٹ کنٹرول کے بٹن دبا رہا تھا مگر ریموٹ کا ننھا سا نقطہ بجھے کا بجھا ہوا ہی تھا۔ اس نے سر پکڑ لیا۔ ڈاکٹر دار!! معلوم ہوتا ہے آسمانی بجلی ضرورت سے زیادہ لاش کے جسم میں بھر گئی ہے جس کی وجہ سے اس کی کمر اور دماغ میں لگائے ہوئے کمپیوٹر کے دونوں آلات کے فیوز اُڑ گئے ہیں۔”

”میرے خدا! یہ تو بہت برا ہوا اب کیا ہو گا؟ لاش میں تو بے انتہا طاقت آگئی ہوگی”۔ ڈاکٹر دارا نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” بلی کے جسم کے دونوں ٹکڑوں سے ظاہر ہو گیا ہے کہ آسمانی بجلی لاش کے جسم میں بے پناہ طاقت سرایت کر گئی ہے۔ اس نے ہاتھ کے ہلکے سے جھٹکے سے بلی کے درمیان سے دو ٹکڑے کر دیے ہیں۔”

اب کیا کریں۔ خدا کے لیے کسی طریقے سے لاش کو کنٹرول میں کرو نہیں تو خدا جانے یہ شہر میں کتنی تباہی مچا دے گی۔ وہ تو انسانوں کو ہلاک کرنا شروع کر دے” دارا بولا

ڈاکٹر پرویز فکر مند آواز میں بولا۔ “میرا خیال ہے لاش ایسا نہیں کرے گی۔ اس کا دماغ اسے کنٹرول کر رہا ہے۔ دماغ نے ہی اسے کہا تھا کہ اس بلی کے دو ٹکڑے کر دو۔ مگر مجھے یقین ہے کہ انسانوں کے معاملے میں لاش کا دماغ اسے قسم کا ہلاکت خیز حکم نہیں دے گا کیونکہ لاش کے سر میں دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا دماغ لگایا گیا ہے جو ایک عقلمند اور نیک انسان تھا۔ لاش پر ضرور بلی نے حملہ کیا ہو گا جس سے گھبرا کر لاش نے اس کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ انسانوں کا ساتھ لاش ایسا نہیں کرے گی۔”

دارا بولا۔ لیکن ڈاکٹر لاش کو کنٹرول کرنا از حد ضروری ہے۔ خدا کے لیے اسے قابو میں کرنے کا کوئی طریقہ سوچو۔”

ڈاکٹر پرویز کہنے لگا۔ سوائے اس کے اور کوئی طریقہ نہیں کہ لاش جہاں کہیں نظر آئے اس پر ٹرانکو لائزر گن سے فائر کر کے اس کو بے ہوش کر دیا جائے۔ پھر اسے اٹھا کر لیبارٹری میں لائیں اور یہاں اس کی کمر اور دماغ کے کمپیوٹر چپس فیوز کی نئی تار پلانٹ کر دیں۔ صرف اسی صورت میں لاش دوبارہ ہمارے کنٹرول پر آسکتی ہے۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ لیکن ہم لاش کو کہاں تلاش کریں گے وہ تو خدا جانے اس وقت تک کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہوگی۔ طوفان کو تھمے کافی دیر ہو گئی ہے۔”

ڈاکٹر پرویز کہنے لگا۔ “آؤ لاش کو تلاش کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے وہ قلعے کے آس پاس کہیں مل جائے۔ ابھی رات کا کافی اندھیرا باقی ہے۔”

دونوں ڈاکٹر آسیبی قلعے سے نکل کر کار میں بیٹھے اور قلعے کے قریب جو سڑک دریا کی طرف جاتی تھی اس پر روانہ ہو گئے۔ وہ کار آہستہ چلا رہے تھے اور کار کی دونوں جانب ٹارچ کی روشنی ڈال کر دیکھتے بھی جا رہے تھے۔ کار کی بتیاں روشن تھیں مگر اس کی روشنی میں سڑک دور تک خالی پڑی تھی۔ وہ صبح ہونے تک مفرور لاش کو قلعے کے ارد گرد کی سڑکوں پر تلاش کرتے رہے لیکن لاش انہیں کہیں نہ ملی۔ تھک ہار کر ڈاکٹر پرویز نے ایک جگہ کار روک لی اور کہنے لگا۔

” ڈاکٹر دارا اب سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں کہ ہم یا تو دن کی روشنی میں لاش کو تلاش کریں اور یا پھر لاش اگر کوئی واردات کرتی ہے تو اس کی واردات کا انتظار کریں۔ کیونکہ اگر لاش نے کسی انسان یا کسی جانور کو ہلاک کیا تو یہ خبر کسی نہ کسی طرح شہر میں پھیل جائے گی۔ پھر ہم جائے واردات پر پہنچ کر لاش کا سراغ لگانے کی کوشش

کریں گے۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔” لیکن قلعے کے قریب قریب بارش کی وجہ سے کیچڑ ہو گیا ہوا ہے۔ دن کی روشنی میں ہم یہاں آکر لاش کے قدموں کے نشان دیکھ سکتے ہیں”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” یہ ٹھیک ہے۔ ہم صبح ہونے کے بعد آئیں گے۔”

دونوں واپس آگئے۔ ڈاکٹر دارا کو ہوسٹل میں چھوڑ کر ڈاکٹر پرویز اپنے مکان پر آگیا۔ لاش کے فرار ہونے کی وجہ سے اس کی نیند اڑ چکی تھی۔ بہرحال وہ بستر پر لحاف کے اندر گھس گیا اور اسے نیند آگئی۔ ایک گھنٹہ سویا ہو گا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ اس کی آواز نے اسے جگا دیا۔ اس نے ریسیور اٹھا کر پوچھا۔ ”کون بول رہا ہے”

دوسری طرف سے آواز آئی۔ ” پرویز تم بول رہے ہو ؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”ہاں بھائی میں ڈاکٹر پرویز بول رہا ہوں۔”

دوسری طرف سے آواز آئی۔ ”ارے میں تمہارا انکل لندن سے بول رہا ہوں”

ڈاکٹر پرویز اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ” السلام علیکم انکل کیا حال ہے آپ کا؟” دوسری طرف سے انکل نے کہا۔ ” بھائی میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔ یہ بتاؤ کہ تمہاری چچی کہاں ہیں۔ میں نے دو بار گھر پر فون کیا وہاں سے کسی نے ریسیور نہیں اٹھایا کیا یہ لوگ کہیں گئے ہوئے ہیں؟؟؟

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”انکل، چچی اور ہماری ساری فیملی ایک شادی پر کراچی گئے ہوئے ہیں۔ کوئی پیغام ہو تو مجھے دے دیں، میں انہیں پہنچا دوں گا۔”

دوسری طرف سے انکل نے کہا۔ ”بھائی صرف خیر خیریت ہی دریافت کرنی تھی۔ وہ آئیں تو انہیں کہنا کہ اتنی دیر نہ لگایا کریں اور کم از کم مہینے میں ایک بار ہی اپنی خیریت کا فون کر دیا کریں اور اپنی چچی سے کہنا کہ وہ آتے ہی مجھے فون کریں۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”میں یہ پیغام چچی جان کو پہنچا دوں گا۔“ دوسری طرف سے انکل کی آواز آئی۔ ” تم سناؤ ہسپتال میں ہاؤس جاب ہو رہا ہے”

”ہاں انکل یہ جاب تو کرنی ہی پڑتی ہے۔” دوسری طرف سے انکل نے کہا۔ “ارے بھائی تمہیں ایک دلچسپ خبر سنا تھی۔”

وہ کیا انکل ؟” ڈاکٹر پرویز نے دلچسپی سے پوچھا۔ دوسری جانب سے انکل نے کہا۔ ”یہاں لندن کے اخباروں میں تمہارے جانے کے بعد ایک بڑی دلچسپ خبر چھپی ہے۔ تم چونکہ ڈاکٹر ہو اس لئے تمہیں سنا رہا ہوں۔ تم نے لندن کا میڈیکل عجائب گھر تو ضرور دیکھا ہو گا۔”

ہاں انکل اس دفعہ دیکھ کر آیا تھا۔ ” ڈاکٹر پرویز نے جواب دیا۔ دوسری طرف سے انکل نے کہا۔ ” تمہیں یاد ہوگا کہ لندن کے اس میڈیکل عجائب گھر میں دو دماغ رکھے ہوئے تھے۔”

ڈاکٹر پرویز ایک دم چونک اٹھا کہ خدا جانے انکل آگے کیا سنانے والا ہے۔

اس نے کہا۔ ”ہاں انکل مجھے معلوم ہے۔ ان میں سے ایک دماغ دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کا ہے اور دوسرا دنیا کے سب سے بڑے جرائم پیشہ قاتل کا ہے۔”

انکل نے کہا۔ ”بالکل بالکل تم نے بالکل ٹھیک کہا۔ ہوا یہ ہے کہ ان دماغوں میں سے دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ کوئی چور چوری کرکے لے گیا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز کو جیسے ایک دم بجلی کا کرنٹ لگا۔ وہ بستر میں اپنی جگہ سن ہو کر رہ کر گیا۔ اس کا انکل ٹیلی فون پر کہہ رہا تھا۔ اس خبر کو ٹیلی ویژن پر بھی نشر کیا گیا۔

لوگوں نے بڑی دلچسپی سے سنا۔ اس پر انگریزی اخباروں نے مزاحیہ کالم بھی لکھے

ہیں۔ یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آتی کہ چور کو دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ چرانے کی کیا ضرورت تھی؟ اچھا میاں اب میں فون بند کرتا ہوں۔ تمہاری چچی

کراچی سے واپس آئے تو اسے کہنا مجھے فون کر لے۔”

” ٹھیک ہے انکل!” یہ تین لفظ ڈاکٹر پرویز نے ایسے بولے جیسے وہ خواب میں بول رہا ہوں۔ دہشت کے مارے اس کا حلق خشک ہو کر کڑوا ہو گیا تھا۔ یہ ایک بڑا ہولناک انکشاف ہوا تھا کہ ڈاکٹر پرویز نے اپنے بنائے ہوئے انسان کی کھوپڑی میں دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ فٹ کر دیا تھا۔ جسے وہ دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا دماغ سمجھ رہا تھا وہ اصل میں دنیا کے سب سے بڑے جرائم پیشہ قاتل کا دماغ تھا۔ اب اسے یاد آگیا کہ جب وہ دونوں دماغوں کے مرتبان کی طرف بڑھا تھا

تو بجلی چلی گئی تھی جس کی وجہ ہے اس کا ہاتھ دونوں مرتبانوں سے ٹکرا گیا تھا اور

مرتبان نیچے قالین پر گر پڑے تھے ، جلدی اور گھبراہٹ میں اس نے دنیا کے سب سے بڑے سائنسدان کا دماغ اٹھانے کی بجائے اس نے دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ اٹھا کر تھیلے میں ڈال لیا تھا۔ یہ سوچ کر ڈاکٹر پرویز کا دل بیٹھنے لگا کہ اس نے لاش کے سر میں دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ فٹ کر دیا ہے اور لاش زندہ ہو کر فرار ہو گئی ہے اور اب خدا جانے وہ شہر میں کس کس کو قتل کرتی پھرےگی، اس نے اسی وقت ڈاکٹر دارا کو فون کیا اور کہا۔ “ڈاکٹر دا را! ہم سے ایک بہت

بڑا جرم سرزد ہو گیا ہے۔”

ڈاکٹر دارا نے پوچھا۔ ”میں تمہاری بات نہیں سمجھا، تم کس جرم کی بات کر رہے ہو ؟

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “تمہیں یاد ہے ہم دونوں لندن کے میڈیکل عجائب گھر میں دنیا کے سب سے بڑی سائنس دان کا دماغ اٹھانے گئے تھے ؟” ۔

”ہاں یاد ہے۔” ڈاکٹر دارا کی آواز آئی

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”اور تمہیں یہ بھی یاد ہے کہ میں نے تمہیں بتایا تھا جب میں دماغوں کے مرتبان والے کاؤنٹر کی طرف بڑھا تھا تو اچانک بجلی فیل ہوگئی تھی اور میں اندھیرے میں کاؤنٹر سے ٹکرا گیا تھا اور کاؤنٹر پر رکھے ہوئے دماغوں کے مرتبان نیچے گر پڑے تھے اور میں نے گھبرا کر اپنی طرف سے ہاتھ بڑھا کر ایک دماغ اٹھا کر تھیلے میں ڈال لیا تھا؟”

ہاں تم نے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد مجھے بتایا تھا۔ ” ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ” آخر بات کیا ہے؟”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ”بتاتا ہوں، ابھی بتاتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ وہ دماغ جو میں نے قالین پر سے اٹھا کر تھیلے میں ڈالا تھا، وہ دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کا دماغ نہیں تھا۔ سائنس دان کا دماغ وہیں رہ گیا تھا اور میں غلطی سے اندھیرے میں دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ اٹھا کر لے آیا تھا۔”

ڈاکٹر دارا کی آواز آئی۔ ” یہ سب کچھ تجھے کیسے معلوم ہوا ہے؟ ” ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے مجھے لندن سے انکل کا فون آیا تھا وہ چچی جان کا پوچھ رہے تھے۔ پھر انہوں نے اپنی طرف سے اسے بڑی مزیدار خبر سمجھ کر مجھے بتایا کہ لندن کے اخباروں میں ایک خبر چھپی ہے اور ٹیلی ویژن کے چینلوں پر بھی نشر ہوئی ہے کہ کسی نے لندن کے میڈیکل عجائب گھر میں سے دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ چرا لیا ہے اور پولیس چور کی تلاش میں ہے۔”

ڈاکٹر دارا نے سہمی ہوئی آواز میں کہا۔ ” اس کا مطلب ہے کہ ہم نے لاش کی کھوپڑی میں دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ لگا دیا ہے؟”

بالکل ہم نے یہی کیا ہے۔ ” ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ڈاکٹر دارا کے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔ ” او مائی گاڈ۔ اب کیا ہوگا ؟؟ لاش ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہے”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ” تم ہوسٹل میں ہی رہنا۔ میں سخت پریشان ہوں اس خبر نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میں تمہاری طرف آرہا ہوں۔”

اور ڈاکٹر پرویز نے ٹیلی فون بند کر دیا۔ ڈاکٹر پرویز نے جلدی جلدی منہ ہاتھ دھویا۔ کپڑے بدلے اور گاڑی لے کر سیدھا ڈاکٹر دارا کے پاس اس کے ہوسٹل پہنچ گیا۔ دارا بر آمدے میں بے چینی میں ٹہلتے ہوئے پرویز کا انتظار کر رہا تھا۔ جیسے ہی اس نے پرویز کو آتے دیکھا اس کی طرف بڑھا اور تشویش کے ساتھ بولا۔ پرویز! یہ ہم نے کیا کر دیا ہے؟”

کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ بس غلطی جو ہونی تھی ہو گئی”۔ ڈاکٹر پرویز نے کہا

اور دارا کے ساتھ اس کے کمرے میں آگیا۔ ڈاکٹر دارا نے کرسی پر بے دلی سے بیٹھتے ہوئے کہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قدرت نے ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا دی ہے۔ اب یہ لاش دنیا کے سب سے بڑے قاتل کے دماغ کے اشارے پر جس جس کو ہلاک کرے گی اس کا گناہ ہمیں ملے گا اور اس کا حساب کتاب بھی حشر کے دن ہمیں دینا پڑے گا۔”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ “یار ان باتوں کا اس وقت ذکر نہ کرو۔ میرے ساتھ آؤ کسی طرح لاش کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔”

دارا نے کہا۔ ”کیا تم نے بے ہوش کرنے والی ٹرانکو لائزر گن ہسپتال سے لے لی ہے؟”

“مجھے یاد نہیں رہا۔ چلو پہلے ہسپتال چل کر یہ گن لیتے ہیں۔”

دونوں ہوسٹل سے نکل کر سیدھے ہسپتال پہنچے۔ ہسپتال کے ساتھ ہی میڈیکل کالج کی لیبارٹری تھی۔ وہاں جا کر انہوں نے ایک بےہوشی کی دوائی والا انجکشن اور اس کو فائر کرنے والی پستول اٹھا کر جیب میں رکھ لی۔ اس پستول سے فائر کر کے چڑیا گھر کے جانوروں کے جسم میں انجکشن والی گولی پیوست کر دی جاتی ہے۔ گولی ربڑ کی ہوتی ہے اس کے آگے انجکشن کی سرنج لگی ہوئی ہوتی ہے۔ انجکشن کی سرنج جیسے ہی شیر یا کسی دوسرے درندے کے جسم میں داخل ہوتی ہے، بے ہوشی کی دوائی درندے کے جسم میں سرایت کر جاتی ہے اور درندہ ایک دو سیکنڈ کے بعد بے ہوش ہوکر گر پڑتا ہے اور پھر درندے کے ساتھ جو علاج معالجہ کرنا ہوتا ہے شروع کردیا جاتا ہے۔ اس انجکشن کی بے ہوشی کا اثر آدھے گھنٹے سے دس گھنٹے تک رہتا ۔ ڈاکٹر پرویز نے کالج کی لیبارٹری سے ایسا انجکشن لیا تھا جس کی بے ہوشی کی دوائی کا اثر کسی درندے یا کسی بھی انسان کے جسم میں داخل ہونے کے بعد دس گھنٹے تک رہتا ہے وہ سیدھا قلعے کے دروازے پر جا کر رکے۔ گاڑی سے باہر نکل کر وہ زمین پر لاش کے ننگے پاؤں کے نشان دیکھنے لگے۔ قلعے کے گیٹ کے سامنے کافی اجالا کا تھا۔ دن کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اس روشنی میں انہیں ایک جگہ کسی انسان پر ننگے پاؤں کے نشان نظر آئے۔ یہ کافی اونچے لمبے آدمی کے پاؤں کے نشان لگتے تھے کافی بڑا پاؤں تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” یہی لاش کے پاؤں کے نشان ہیں۔”

“خدا کے لیے دیکھو یہ لاش کس طرف کو گئی ہے؟” ڈاکٹر دارا نے اتنا کہا اور ڈاکٹر پرویز کے ساتھ لاش کے پاؤں کے نشانوں سے کام لیتے آہستہ آہستہ اس طرف چل پڑا جس طرف لاش کے پاؤں کے نشان جارہے تھے۔ رات کی بارش کے باعث کچی زمین پر کیچڑ تھا جہاں لاش کے پاؤں کے نشان صاف نظر آ رہے تھے۔ لیکن کچھ دور آگے جا کر جہاں پکی سڑک شروع ہوتی تھی۔ وہاں لاش کے پاؤں کے نشان غائب ہو گئے۔ صرف چند قدموں تک پاؤں کے نشان ایک طرف جاتے نظر آئے اس کے بعد سڑک پر کوئی نشان نہیں تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “لاش کے پاؤں کا رخ مشرق کی طرف ہے۔ وہ یقینا دریا کی طرف گئی ہے۔ چلو دریا کی طرف جا کر دیکھتے ہیں۔”

واپس جا کر وہ گاڑی میں بیٹھے اور سڑک پر آکر گاڑی کا رخ دریا کی طرف کر دیا۔ دن کی روشنی خوب پھیلی ہوئی تھی۔ سڑک پر زیادہ ٹریفک نہیں تھی۔ کسی وقت پیچھے سے یا آگے سے کوئی گاڑی یا سکوٹر وغیرہ آکر گزر جاتا تھا۔ دائیں بائیں کھیت تھے جن میں فصل کی اونچی تھی۔ سات فٹی لاش اگر کھیتوں میں بیٹھی ہوتی تو انہیں نظر آسکتی تھی مگر کھیتوں میں کہیں لاش دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ آگے دریا کا کنارا آگیا، یہاں ایک پل بھی تھا جس پر ٹریفک جا رہی تھی۔ ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا جس سڑک پر سے آئے تھے وہ قلعے کی طرف جاتی تھی اور ذیلی سڑک تھی۔ جبکہ دریا کے پل والی سڑک شہر کی طرف سے آتی تھی اور دوسری طرف شہر کی نئی کالونیوں اور ریلوے سٹیشن کی طرف چلی گئی تھی۔ یہاں پل پر کافی ٹریفک تھی۔۔

انہوں نے کار پل کے قریب ایک طرف کر کے کھڑی کر دی اور تیز نظروں سے دریا کے پل، پل کے نیچے کے بڑے بڑے ستونوں اور دریا کے کنارے پر سیر کرتے لوگوں کو تکنے لگے۔ ان میں بھی لاش کوئی نہیں تھی۔

ڈاکٹر پرویز کہنے لگا۔ ” مجھے ڈر ہے کہ لاش نے کسی جگہ قتل کی کوئی واردات نہ کر دی ہو۔ وہ دنیا کے سے بڑے جرائم پیشہ قاتل کے دماغ والی لاش ہے۔ اس کا دماغ اس سے جو چاہے کروا سکتا ہے۔”

ڈاکٹر دارا بھی لاش کی گمشدگی کی وجہ سے بہت پریشان تھا اور دل میں بار بار اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا کہنے لگا۔ تو پھر کیا کیا جائے؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “میں نے آج کے اخبار بھی دیکھے ہیں کہ کسی میں زندہ لاش کی واردات کی کوئی خبر نہ چھپی ہو مگر کسی اخبار میں ایسی کوئی خبر نہیں تھی۔”

ڈاکٹر دارا کہنے لگا۔ “میں نے تمہیں پہلے دن ہی منع کیا تھا کہ ایسا کام نہ کرو جس سے خدا ناراض ہو جائے مگر تم نے میری نہیں سنی۔ اب ہم پھنس گئے ہیں۔ اب پتا نہیں زندہ لاش کیا کرتی ہے۔ ہم یہی کر سکتے ہیں کہ احمقوں کی طرح زندہ لاش کو شہر میں تلاش کرتے پھریں۔”

ڈاکٹر پرویز نے جھنجھلا کر کہا۔ “یار تم مجھے نصیحتیں مت کیا کرو۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے۔ اب ہمیں ہر حالت میں زندہ لاش کو تلاش کر کے اسے کسی طرح آسیبی قلعے میں لے جانا ہے۔ جہاں اس کا آپریشن کر کے اسکے اندر پلانٹ کئے ہوئے آلات کو درست کرنا ہے تاکہ لاش ہمارے کنٹرول میں آجائے۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “خدا کا خوف کرو۔ میں ایک بار پھر تمہیں کہوں گا کہ جیسے ہی لاش کہیں نظر آئے اسے وہیں ختم کر دو۔ اس کی گردن اتار کر پھینک دو ہماری بھی جان چھوٹے اور بنی نوع انسان کا بھی بھلا ہوگا۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک بار لاش ہمار کنٹرول میں آگئی تو ہم اس سے بنی نوع انسان کی بھلائی کے کام لیں گے۔ وہ ہمار اشاروں پر چلے گی اور کسی کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔”

ڈاکٹر پرویز کی یہ سب زبانی باتیں تھیں۔ اس کے دل میں کچھ اور تھا۔ وہ لاش کو کنٹرول میں کر کے اس سے اپنے دشمنوں کو قتل کروانا چاہتا تھا اور بینکوں پر اس کی مدد سے ڈاکے ڈلوا کر کروڑ پتی بننا چاہتا تھا مگر قدرت کچھ اور ہی سوچ رہی تھی

تین دن تک دونوں ڈاکٹر شہر میں لاش کو تلاش کرتے رہے۔ انہوں نے شہر اور شہر کے باہر ہر جگہ لاش کو تلاش کیا مگر کسی جگہ لاش کا کوئی سراغ نہ ملا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے لاش کو زمین کھا گئی ہے لیکن لاش اسی شہر میں تھی ایک ایسی جگہ چھپی ہوئی تھی جہاں ڈاکٹر پرویز اور دارا کا خیال بھی نہیں جا سکتا یہ وہی آسیبی قلعہ تھا جہاں ان ڈاکٹروں نے لاش کے اعضاء جوڑ کر اس میں آسمانی بجلی کی رو دوڑائی تھی۔ ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا کو خیال نہیں آیا تھا کہ وہ آسیبی قلعے میں جاکر لاش کو تلاش کریں۔ زندہ لاش آسیبی قلعے کے ویران تہہ خانے میں جو گہرا گڑھا تھا اس میں بیٹھی تھی اور بالکل سامنے دیکھ رہی تھی۔ لاش سوچ نہیں سکتی تھی۔ اس کی یاداشت بھی بہت معمولی سا کام کر رہی تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ کون ہے اس کو مختلف لاشوں کے جسموں کے ٹکڑے جوڑ کر بنایا گیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں اس نے کچھ انسانوں کی دھندلی دھندلی شکلیں دیکھی تھیں جو اس کی نظروں کے سامنے آکر ساکت ہو گئی تھیں۔ ان میں اس مردے کا ہیولا تھا جس کی ناک اس لاش کو لگائی گئی تھیں۔ اس مردے کا ہیولا بھی تھا جس کا سرکاٹ کر اسے لگایا گیا تھا۔ اسی طرح اس مردے کا ہیولا بھی تھا جس کے بازو کاٹ کر اسے لگائے گئے تھے۔ یہ غیر انسانی ہیولے زندہ لاش کو خوفزدہ کر رہے تھے۔ اس کے دل کی حرکت چیک کرنا چاہتے تھے مگر لاش پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ ہیولے کون نہیں اور اس کے سامنے کیوں بار بار آکر اسے ڈرا رہے ہیں۔ دو تین بار زندہ لاش کو غصہ بھی آیا اور اس کے حلق سے غراہٹ کی خوفناک سی آواز نکلی جس کے بعد مردوں کے ہیولے غائب ہو گئے۔ زندہ لاش بالکل پتھر کی طرح ساکت پڑی تھی۔ اسے نہ بھوک کا احساس تھا نہ اسے پیاس لگ رہی تھی، نہ اسے سردی لگتی تھی اور نہ گرمی کا احساس بس وہ ایک زندہ پتھر کی طرح تھی اور بے جان ساکت آنکھوں سے بالکل سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک سانپ کہیں سے نکل کر آگیا۔ اس نے لاش کو ڈس دیا۔ لاش نے سانپ کو دیکھا۔ لاش غرائی اور دوسرے لمحے لاش نے سانپ کو پکڑ کر اس کے کئی ٹکڑے کر دیئے۔ کسی طرف سے پھر ایک بلی نکل کے آگئی۔ بلی نے گڑھے میں جھانک کر دیکھا۔ جیسے ہی بلی کی نگاہ زندہ لاش پر پڑی وہ چیخ کر وہاں سے بھاگ گئی۔ لاش نے منہ اٹھا کر بھی بلی کو نہ دیکھا۔ دو دن اور تین راتیں لاش آسیبی قلعے کے تہہ خانے والے گڑھے میں مورتی کی طرح پڑی رہی۔ چوتھے روز رات کے وقت اچانک لاش نے خرخراہٹ والا سانس لیا اور گڑھے سے باہر نکل آئی۔ لاش کے سارے جسم پر ہسپتال کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں جو مٹی لگنے سے میلی ہو رہی تھیں۔ لاش تہ خانے میں سے نکل کر قلعے کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ سیڑھیاں چڑھ کر وہ چھت پر آگئی۔ چھت پر بڑی سردی پڑ رہی تھی مگر لاش کو سردی کا ذرا سا بھی احساس نہیں ہورہا تھا۔ لاش آہستہ آہستہ کسی روبوٹ کی طرح چلتی چھت کے وسط میں اس سٹریچر کے پاس آکر کھڑی ہو گئی جس پر اسے باندھ کر اس کے جسم سے آسمانی بجلی گزاری گئی تھی۔ لاش ایک دو منٹ ٹکٹکی باندھے سٹریچر کو مسلسل دیکھتی رہی، کسی وقت اس کے حلق سے غراہٹ کی آواز نکلنے لگتی تھی۔ پھر اچانک لاش زور سے غرائی اور اس نے سٹریچر کو دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھا لیا۔ لاش میں اس قدر طاقت تھی کہ اسٹریچر جسے چھت کے فرش کے ساتھ لوہے کے موٹے موٹے کلمپ لگا کر جوڑا گیا تھا ایک جھٹکے سے لوہے کے کلمپ ٹوٹ کر دور جا پڑے۔ لاش نے سٹریچر کو دونوں ہاتھوں سے سرسے اوپر اٹھا لیا اور آہستہ آہستہ آہستہ چل کر چھت کے کنارے پر آگئی۔ پھر زور سے سٹریچر کو دوسری طرف گہری کھائی میں پھینک دیا۔ اس کے بعد لاش دو منٹ تک جھک کر گہری کھائی میں دیکھتی رہی۔ پھر غراتی ہوئی چھت سے نیچے اتر آئی۔ سرد رات بڑی تاریک تھی، اوس گر رہی تھی۔ سارا شہر سردی میں ٹھٹھر رہا تھا۔ سڑکیں، گلیاں اور بازار سنسان تھے۔ لوگ لحافوں میں دبک کر گہری نیند کے مزے لے رہے تھے۔ زندہ لاش آسیبی قلعے سے باہر نکل آئی اور دریا کی طرف چل پڑی۔ وہ درختوں کے نیچے نیچے چلی جارہی تھی۔ سڑک دور تک خالی پڑی تھی۔ سردی کی وجہ سے اس وقت کوئی گاڑی یا سکوٹر وغیرہ بھی نہیں گزر رہا تھا۔ لاش چلتے چلتے جہاں سڑک موڑ مڑتی تھی وہاں پہنچی تو اچانک نیچے سے کسی نے آواز دی۔ “کون ہو تم؟”

یہ پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل تھا جو دریا کے پل پر سے اتر کر اس طرف اسے دیکھنے آگیا تھا۔ اس کی موت اسے دریا کے پل سے کھینچ کر اس طرف لے آئی تھی۔

جیسے ہی کانسٹیبل نے لاش کو آواز دی۔ لاش نے مڑ کر دیکھا اور درختوں کے اندھیرے میں سے نکل کر کانسٹیبل کے سامنے آگئی۔ کانسٹیبل نے اپنے سامنے ایک سات فٹ کے آدمی کو دیکھا جس کے سارے جسم پر ہسپتال کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں ، پہلے تو وہ ڈر گیا، پھر اس نے سوچا کہ شاید کوئی مریض ہے جو ہسپتال سے اٹھ کر آگیا ہے۔ رات کے نیم اندھیرے میں اسے لاش دھندلی سی نظر آرہی ھی۔ اس کے ہاتھ میں ڈانگ تھی۔ کانسٹیبل نے بڑے رعب سے پوچھا۔ “کیوں اوئے تو کون ہے اور یہاں کیا کر رہا ہے؟”

لاش بالکل بے حس و حرکت کھڑی کانسٹیبل کو گھورتی رہی۔ کانسٹیبل نے ڈانگ سے لاش کو ہلایا۔ “اوئے تو بولتا کیوں نہیں؟”

اچانک لاش کے حلق سے غراہٹ کی آواز نکلی اور اس نے کانسٹیبل کی ڈانگ پکڑ کر دونوں ہاتھوں سے اس کے چار ٹکڑے کر دیئے اور کانسٹیبل کو ایک ہاتھ سےگردن سے پکڑ کر اوپر کو اچھالا اور اتنی زور سے زمین پر الٹا کر کے پٹخا کہ کانسٹیبل کا دماغ کھوپڑی میں سے نکل کر سڑک پر بکھر گیا۔ لاش آہستہ سے گھومی اور دریا کے پل کی طرف چل پڑی۔ اس وقت دریا کہ پل پر دو سپاہی کھڑے سگریٹ پی رہے تھے اور باتیں کر رہے تھے۔ ایک سپاہی ۔ کہا۔ ”ہیڈ کانسٹیبل صاحب اس طرف گئے تھے ، ابھی تک واپس نہیں آئے، چلو چل کر دیکھتے ہیں۔”

دوسرے سپاہی نے کہا۔ “سردی بہت ہے۔ ابھی آجائیں گے، یہیں کھڑے رہو۔”

پھر اس نے کہا۔ ”وہ آگئے ہیڈ کانسٹیب صاحب!”

اندھیرے میں اس نے جس انسانی سائے کو اپنی طرف آتے دیکھ کر یہ جملہ کہا تھا وہ ہیڈ کانسٹیبل نہیں تھا بلکہ زندہ لاش تھی۔ جب لاش قریب آئی تو دونوں سپاہی ذرا چونکے۔

پہلے سپاہی نے کہا۔ ”یہ تو ہیڈ کانسٹیبل صاحب نہیں ہیں ، یہ کون ہے؟

دوسرے سپاہی نے کہا۔ ”اونچالمبا آدمی ہے۔ مجھے تو کوئی ڈاکو لگتا ہے۔”

لاش ان کی طرف برابر بڑھ رہی تھی۔ لاش کو ان سپاہیوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ جب وہ ان کے قریب سے ہو کر گزرنے لگئی تو ایک سپاہی نے کہا “کون ہے تو اوئے کہاں سے آ رہا ہے؟”

تب لاش چلتے چلتے رک گئی۔ اس نے پورے جسم کو موڑ کر سپاہیوں کی طرف منہ کر لیا اور سپاہیوں کو گھورنے لگی ، سپاہی کچھ ڈر بھی گئے تھے کہ یہ کیا بلا ہے جس کے سارے جسم پر پٹیاں ہی پٹیاں لپٹی ہوئی ہیں مگر آخر پولیس والے تھے رعب دار آواز میں ایک سپاہی نے لاش کو گالی دے کر کہا۔ ”اوئے تو بولتا کیوں نہیں”؟

اس کے ساتھ لاش کو اپنے بید کے ڈنڈے سے دھکا دیا۔ لاش پر دھکے کا کیا اثر ہو سکتا تھا لیکن لاش کا دماغ پھر گیا۔ اس کے حلق سے غراہٹ کی آواز بلند ہوئی اس نے دونوں ہاتھوں سے دونوں سپاہیوں کی گردنیں پکڑ کر دبائیں اور انہیں زمین سے تین چار فٹ اوپر اٹھا لیا۔ سپاہیوں کی گردنیں جیسے لوہے کے شکنجے میں آگئی تھیں۔ ان کا دم گھٹنے لگا۔ انہوں نے ہاتھوں سے لاش کے ہاتھ کو ہٹا کر اس کے شکنجے سے نکلنے کی بہت کوشش کی مگر لاش کے ہاتھوں کے شکنجے اور سخت ہوتے گئے یہاں تک کہ دونوں سپاہیوں کی آنکھوں کے ڈیلے باہر آگئے اور وہ تڑپنے لگے۔ لاش نے دونوں سپاہیوں کو زور سے اوپر اچھالا اور پھر انہیں طاقت سے سر کے رخ سڑک پر پٹخ دیا۔ دونوں سپاہیوں کی کھوپڑیاں کھل گئیں اور دماغ باہر نکل کر بکھر گئے۔

لاش نے سپاہیوں کی لاشوں کو وہیں چھوڑا اور دریا کی طرف چل پڑی اور آہستہ آہستہ دریا کے ساتھ ساتھ چلتی اندھیرے میں گم ہو گئی۔ دوسرے دن شہر کے سارے اخباروں میں یہ المناک خبر چھپی کے دریا کے پل کے قریب دو سپاہیوں اور ایک ہیڈ کانسٹیبل کی لاشیں ملی ہیں جنہیں بڑی بے دردی نے قتل کیا گیا ہے۔ تینوں لاشوں کے فوٹو بھی اخباروں میں خبر کے ساتھ ہی چھپے تھے اور لکھا تھا کہ زمین پر قاتل کے ننگے پیروں کے نشان پولیس کو ملے ہیں اور قاتل کی تلاش پورے زور و شور سے جاری ہے۔ ڈاکٹر پرویز اور دارا نے بھی یہ خبر پڑھی۔ خبر کے آخر میں لکھا تھا کہ قاتل کے پاؤں کے جو نشان ملے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قاتل ننگے پاؤں تھا اور اس کے پاؤں کم از کم ایک فٹ لمبے اور دس انچ

چوڑے ہیں۔

ڈاکٹر پرویز نے اخبار رکھتے ہوئے کہا۔ دارا! یہ ہماری زنده لاش کے سوا کسی اور کے پاؤں کے نشان نہیں ہوسکتے”

دارا کے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔ ”میرے خدا! دنیا کے سب سے بڑے قاتل کے دماغ والی لاش نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ اب کیا ہو گا؟”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ” تم بیکار کی باتیں بہت کرتے ہیں۔ چلو چل کر موقع واردات کا معائنہ کرتے ہیں لاش کے پاؤں کے نشانوں سے کم از کم یہ تو معلوم ہو جائے گا کہ لاش کس طرف گئی ہے۔”

دونوں گاڑی میں بیٹھ کر دریا کے کنارے آگئے۔ وہاں پولیس کا پہرہ لگا تھا اورجہاں سے لاشیں ملی تھیں اور جہاں قاتل یعنی لاش کے پاؤں کے نشان پائے گئے تھے پولیس اس طرف کسی آدمی کو جانے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔

ڈاکٹر پرویز نےسپاہیوں کو اپنا ڈاکٹروں والا شناختی کارڈ دکھایا اور کہا۔ ”ہمارا تعلق پوسٹ مارٹم سے ہے اور ہم اپنے طور پر لاش کے پیروں کے نشان دیکھنا چاہتے ہیں کہ اتنے لمبے پاؤں کسی انسان کے نہیں ہو سکتے۔ ممکن ہے یہ کوئی درندہ ہو۔”

دو سپاہیوں نے اپنی نگرانی میں ڈاکٹروں کو قاتل یعنی زندہ لاش کے پاؤں کے نشان دکھائے جو کچی زمین پر بڑے واضح طور پر نظر آ رہے تھے۔ پرویز اور دارا نے فوراً پہچان لیا کہ یہ ان کی بنائی ہوئی زندہ لاش کے ہی نشان ہو سکتے ہیں۔ دونوں لاش کے پاؤں کے نشان دیکھتے آگے چل پڑے۔ پاؤں کے نشان دریا کے کنارے کے ساتھ ساتھ دور تک چلے گئے تھے۔ پھر اچانک لاش کے پاؤں کے نشان غائب ہو گئے۔ انہوں نے ادھر ادھر نشانوں کو کافی تلاش کیا مگر وہ کہیں نہ ملے۔ پرویز کہنے لگا۔ ” میرا خیال ہے یہاں سے لاش نے دریا میں چھلانگ لگا دی ہو گی۔”

دارا بولا۔ ”اچھا ہے وہ دریا میں ڈوب گئی ہو۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “لاش کی کھوپڑی میں دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ ہے۔ وہ اتنی بے وقوف نہیں ہو سکتی کہ دریا میں ڈوب کر مر جائے۔”

ڈاکٹر دارا کہنے لگا۔ ” لیکن اسے تیرنا کہاں آتا ہو گا؟ تیرنا نہیں آتا ہو گا تو وہ دریا میں ضرور ڈوب گئی ہوگی۔”

پرویز بولا۔ ”میرا نہیں خیال کہ لاش ڈوب گئی ہوگی۔ وہ ضرور تیر کر دریا کے دوسری طرف چلی گئی ہوگی۔ چلو دریا کے دوسرے کنارے پر چل کر دیکھتے ہیں۔“

دونوں واپس پل پر آگئے۔ وہاں ان کی گاڑی کھڑی تھی۔ وہ گاڑی میں بیٹھ گئے اور دریا کا پل پار کر کے دریا کے دوسرے کنارے پر اس جگہ آگئے جہاں ان کے اندازے کے مطابق لاش نے تیر کر دریا پار کیا ہو گا۔ یہاں کنارے پر کہیں جھاڑیاں تھیں اور کہیں کچی زمین تھی۔ زمین پر لاش کے پاؤں کے نشان نہیں تھے۔ انہوں نے کافی دور تک دیکھا مگر لاش کے پاؤں کے نشان کہیں نہ ملے۔ مایوس ہو کر دونوں ڈاکٹر واپس ہسپتال آگئے۔

اب ہم زندہ لاش کی طرف آتے ہیں۔

رات کے اندھیرے میں ایک ہیڈ کانسٹیبل اور دو سپاہیوں کو ہلاک کرنے کے بعد زندہ لاش دریا کے کنارے کنارے چل پڑی تھی۔ وہ کافی دور تک چلتی گئی۔ وہاں پہنچ کر جہاں سے لاش کے پاؤں کے نشان گم ہو گئے تھے لاش کو دریا میں ایک چھوٹی سی کشتی نظر آئی جو رسی کے ساتھ ایک جھاڑی سے بندھی ہوئی تھی۔ لاش کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اس نے رسی کو توڑا اور کشتی میں بیٹھ گئی۔ کشتی دریا کے رخ پر اپنے آپ بہنے لگی۔ لاش بالکل ساکت ہو کر کشتی میں بیٹھی تھی۔ کشتی کنارے کے ساتھ ساتھ جا رہی تھی۔ ایک جگہ دریا میں ایک کٹا ہوا درخت گرا تھا۔ کشتی اس کے ساتھ لگ کر رک گئی۔ لاش کشتی سے نکل کر کنارے پر آگئی اور کھیتوں کے درمیان شہر کی طرف چلنے لگی۔ چلتے چلتے وہ ایک ویران میدان میں پہنچ گئی۔ یہاں کھڑے ہو کر اس نے منہ اونچا کیا اور جیسے کچھ سونگھنے کی کوشش کرنے لگی۔ یہ زندہ لاش کی ایک نئی حرکت تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی کی بو لینے کی کوشش کررہی ہے۔ پھر وہ بائیں طرف کو ہو کر چل پڑی ۔ لاش اب تیز تیز چل رہی تھی۔ سرد رات تاریک تھی اور کہیں کوئی انسان نظر نہیں آ رہا تھا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے لاش نے جس کی بو لینی تھی اس کی بو سونگھ لی ہے۔ لاش میدان کے کنارے پہنچی تو اچانک ایک آوارہ کتا زور زور سے بھونکتا ہوا لاش کی طرف بڑھا۔ لاش چلتے چلتے رک گئی۔ لاش نے اپنے سارے جسم کو موڑ کر کتے کو دیکھا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے لاش کو اندھیرے میں بھی نظر آ رہا ہے۔ کتے نے اچھل کر لاش کی پنڈلی کو منہ میں دبوچ لیا۔ لاش نے جھک کر کتے کو گردن سے پکڑ کر اٹھا لیا۔ تھوڑی دیر بعد کتے کا جسم دو ٹکڑے ہو کر زمین پر پڑا تھا۔

لاش پھر آگے چل پڑی۔ آگے ایک بڑی سڑک آگئی۔ یہ سڑک خالی پڑی تھی۔ اس وقت رات کے دو بج رہے تھے۔ لاش سڑک پار کر کے دوسری طرف کھیتوں میں آگئی۔ وہ اسی طرح تیز تیز چل رہی تھی۔ کھیت ختم ہوئے تو سامنے ایک کچی سڑک تھی اور سڑک کی دوسری طرف وہی قبرستان تھا جہاں سے ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا نے مردوں کے جسم کے ٹکڑے اکٹھے کئے تھے اور انہیں جوڑ کر لاش تیار کی تھی۔ لاش کا جسم اسی قبرستان کے مردوں کے جسموں کو کاٹ کر تیار کیا گیا تھا۔ لاش خاموشی سے قبرستان میں داخل ہو گئی۔

قبرستان پر موت کی خاموشی طاری تھی۔ گھاس اور جھاڑیاں شبنم میں بھیگی ہوئی تھیں۔ سخت کہرا پڑ رہا تھا۔ لاش قبروں کے قریب سے ہو کر آگے ہی آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ پھر لاش ان تمام قبروں پر تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے رکی جن قبروں کے مردوں کے جسموں کے ٹکڑے لاش کے جسم پر لگائے گئے تھے۔ اس کے بعد لاش قبروں کے درمیان بنی ہوئی کچی کوٹھڑی کی طرف بڑھی۔ یہ قبرستان کے گورکن کی کوٹھڑی تھی۔ گورکن گرم لحاف کے اندر دبکا گہری نیند کے مزے لے رہا تھا۔ لاش کوٹھڑی کے دروازے کے پاس آکر رک گئی۔ دروازہ بند تھا۔ لاش نے ایک لمحے کے لیے بند دروازے کو غور سے دیکھا اور پھر زور سے دروازے کو لات ماری۔ دروازہ اکھڑ کر اندر کو جاگرا۔ گورکن ہڑبڑا کر لحاف پھینک کر اٹھ بیٹھا کہ یہ کیا بھونچال آگیا ہے۔ گورکن نے لالٹین جلانی چاہی لیکن زندہ لاش نے اسے اتنی مہلت نہ دی۔ دوسرے لمحے گورکن کی گردن زندہ لاش کے ہاتھ کے شکنجے میں تھی اور گورکن اس کے ہاتھ میں زمین سے تین فٹ بلند ہو کر مردہ چوہے کی طرح لٹک رہا تھا۔ زندہ لاش نے گورکن کو دو تین جھٹکے دے کر زمین پر پھینک دیا۔ گورکن مرگیا تھا۔ زندہ لاش نے پاؤں گورکن کی کھوپڑی پر رکھ کر دبایا تو پھچ کی آواز کے ساتھ گورکن کی کھوپڑی بھی پچک گئی۔

اس کام سے فارغ ہو کر لاش قبرستان کی قبروں میں ادھر ادھر بھوت کی طرح چلتی پھرتی رہی پھر اسے قبرستان کے دوسرے کنارے پر ایک پرانی قبر کے اندر بہت بڑا شگاف نظر آگیا۔ زندہ لاش قبر کے شگاف میں گھس کر لیٹ گئی۔ کیا لاش سو رہی تھی؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لاش کی آنکھیں اسی طرح نیم وا تھیں جیسے زندہ ہونے سے پہلے تھیں مگر لاش بے حس و حرکت لیٹی ہوئی تھی۔ دوسرے دن شہر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ شہر کے سب سے بڑے قبرستان کے پرانے گورکن کو رات کسی نے بے دردی سے قتل کر دیا ہے۔ گورکن کی کوٹھڑی کا دروازہ ٹوٹا ہوا تھا اور گورکن کی لاش بہت بری حالت میں مسخ شده فرش پر پڑی تھی۔ خبر کے ساتھ گورکن کی تصویر بھی چھپی تھی۔ اس خبر نے ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا کو اور پریشان کر دیا۔ دارا نے خبر پڑھنے کے فوراً بعد پرویز کو فون کیا اور کہا۔ “خدا کے لیے کچھ کرو پرویز! اس لاش نے شہر میں لوگوں کا بے دردی سے قتل عام شروع کر دیا ہے۔ اب ہماری خیر نہیں ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے دارا کو جھٹک دیا۔ ”ہماری خیر کیوں نہیں ہے؟ ہمیں کون پکڑ سکتا ہے، یہاں کسی کو کیسے پتہ چلے گا کہ یہ لاش ہماری بنائی ہوئی ہے جو لوگوں کو قتل کرتے پھر رہی ہے۔ ہمارے خلاف ایک ہی آدمی گواہی دے سکتا تھا اور وہ قبرستان کا گور کن تھا اور اب وہ بھی زندہ نہیں رہا۔ کیا لاش اپنی زبان سے پولیس کو بتائے گی کہ وہ مجھے فلاں فلاں ڈاکٹروں نے بنایا ہے۔ لاش کی کوئی زبان نہیں ہے۔”

ڈاکٹر دارا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ “تم ٹھیک کہتے ہو، شہر میں ہمارا ایک ہی گواہ تھا جو قتل ہو گیا ہے۔ لیکن تم بھول گئے ہو کہ لاش کا جسم زندہ ہوکر پوری طرح سے کام کر رہا ہے۔ اس کا دماغ بھی کام کرنے لگا ہے۔ اسے یاد تھا کہ فلاں قبرستان میں فلاں گورکن نے مردوں کے مختلف اعضاء ڈاکٹروں کو مہیا کر کے میرے جسم کو بنایا ہے۔ لاش کی کھوپڑی میں دنیا کے سب سے بڑے جس قاتل کا دماغ فٹ کیا گیا ہے وہ انگریز تھا۔ کوئی پتہ نہیں کہ لاش کب انگریزی میں بات کرنا شروع کر دے اور جس روز اس نے انگریزی میں بات کرنی شروع کر دی سمجھ لو کہ پا پھانسی کا پھندا ہمارے لئے تیار کر دیا جائے گا۔”

ڈاکٹر پرویز نے دارا کو جھڑک کر خاموش کرا دیا اور کہا۔ ” اس فضول بک بک کو چھوڑو اور ہسپتال آ جاؤ۔ میں قبرستان جا کر معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ یہ قتل لاش ہی نے کیا ہے یا کسی اور نے؟”

دارا کہنے لگا۔ ” پہلے تین قتل کرنے کے بعد لاش نے تینوں کے سرتوڑ کر دماغ باہر بکھیر دیئے تھے۔ گورکن کا بھی سر تصویر میں پچکا ہوا ہے اور اس کا دماغ باہر کو نکلا ہوا ہے۔ یہ کام ہماری بنائی ہوئی لاش کے سوا اور کسی کا نہیں ہو سکتا۔”

ڈاکٹر پرویز نے غصے میں کہا۔ ” یار تم میرے پاس ہسپتال میں آتے ہو کہ میں خود ہی قبرستان چلا جاؤں؟”

دارا نے کہا۔ ” آ رہا ہوں آ رہا ہوں۔”

اور فون بند کر دیا۔ فون بند کر کے اس نے اپنا سر پکڑ لیا۔ پھر ہاتھ جوڑ آسمان کی طرف دیکھ کر بولا۔ “یا خدا! مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا ہے، مجھے معاف کر دینا۔ یہ سب کچھ ڈاکٹر پرویز کی وجہ سے ہوا ہے۔ میں لاش بنانے پر بالکل تیار نہ تھا، بس ڈاکٹر پرویز کے بہکاوے میں آگیا اور اس کے ساتھ اس گناہ میں شریک ہوگیا۔ یا اللہ پاک ! مجھے معاف کر دے، مجھے معاف کر دے۔”

ڈاکٹر دارا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر وہ جلدی سے اٹھا۔ کپڑے بدلے اور گاڑی نکال کر سیدھا ڈاکٹر پرویز کے پاس ہسپتال پہنچ گیا۔ وہ اس کا ہی انتظار کر رہا ڈاکٹر دارا کو دیکھ کر وہ جلدی سے گاڑی میں آکر بیٹھ گیا اور بولا۔ گاڑی قبرستان طرف لے چلو۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ”اس وقت ضرور وہاں پولیس موجود ہوگی۔ ہمیں پولیس کی نگاہوں میں نہیں آنا چاہئے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”خاموش رہو اور جو میں کہتا ہوں ویسے کرو۔ قبرستان چلو”

اور ڈاکٹر دارا نے گاڑی قبرستان کو جانے والی سڑک پر ڈال دی۔ قبرستان میں پولیس آئی ہوئی تھی۔ ایک سب انسپکٹر پولیس کا اور ایک کرائم برانچ کا آدمی تھا۔ سب انسپکٹر ڈاکٹر پرویز کا واقف تھا۔ اس نے ڈاکٹر کو دیکھا تو کہنے لگا۔ ”ڈاکٹر صاحب آپ صبح ہی صبح قبرستان میں کیسے آگئے ؟؟

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”میں اپنی والدہ کی قبر پر فاتحہ پڑھنے آیا تھا۔ گورکن کے قتل کی خبر میں نے پڑھ لی تھی، آپ کو دیکھ کر ادھر آگیا کہ معلوم کروں یہ قصہ کیا ہے؟

سب انسپکٹر بولا۔ ” ابھی تک تو یہی خیال ہے کہ یہ پرانی دشمنی کا چکر ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”اس بے چارے گورکن کی کس سے دشمنی ہو سکتی ہے”؟

سب انسپکٹر بولا۔ ڈاکٹر صاحب! آج کل کچھ پتہ نہیں چلتا کہ دوست کون ہے اور دشمن کون ہے۔ ویسے ہم تفتیش کر رہے ہیں۔”

ڈاکٹر پرویز نے پھر پوچھا۔ ” قاتل کا کوئی سراغ وغیرہ ملا ہے کہ نہیں؟”.

سب انسپکڑ نے کہا۔ ” قاتل کے پاؤں کے نشان ملے ہیں۔ جو قبروں پر کچھ دور جا کر غائب ہو گئے ہیں کیونکہ آگے گھاس اگی ہوئی ہے۔ عجیب بات ہے قاتل کے پاؤں ننگے اور ایک فٹ لمبے تھے۔ یہ وہی قاتل ہے جو دریا کے پل پر پہلے بھی تین قتل کر چکا ہے۔ وہاں بھی قاتل کے پاؤں ننگے تھے اور یہی نشان تھے۔”

ڈاکٹر پرویز کو ثبوت مل گیا کہ گورکن کا قتل بھی ان کی بنائی ہوئی لاش نے کیا ہے۔ ڈاکٹر پرویز یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ اگر قبروں کے ارد گرد زندہ لاش کے پاؤں کے نشان موجود ہیں تو وہ ضرور قبرستان میں ہی کسی جگہ چھپی ہوئی ہوگی۔ اس نے سب انسپکڑ سے کہا۔ “قاتل کے پاؤں کے نشان کس طرف جاتے ہیں۔ میں بھی ذرا دیکھنا چاہتا ہوں۔”

سب انسپکٹر اس کا دوست تھا۔ وہ ڈاکٹر پرویز کے ساتھ ہو گیا اور اسے زندہ لاش کے پیروں کے نشان دکھاتا اس جگہ پر آ گیا جہاں قاتل کے پاؤں کے نشان غائب ہو گئے تھے۔ آگے جھاڑیاں اور گھاس ہی گھاس تھی جو قبروں کے درمیان اگی ہوا تھی اور قبرستان کے دوسرے کنارے تک چلی گئی تھی۔ سب انسپکٹر نے کہا۔ یہاں سے لگتا ہے کہ قاتل کسی سکوٹر وغیرہ پر سوار ہو کر بھاگ گیا ہے۔ ہو سکتا ہے اسکا ساتھی یہاں سکوٹر لیے کھڑا ہو ۔ یہاں دیکھیں۔ یہاں تھوڑا سا ڈیزل بھی گرا ہوا ہے۔

ڈاکٹر پرویز اور دارا نے جھک کر دیکھا۔ وہاں موبل آئل کے تیل کا دھبہ گھاس پر لگا ہوا تھا۔ خدا جانے کل کسی وقت کوئی سکوٹر والا اپنے کسی عزیز کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے آیا ہوگا۔ اس نے یہاں سکوٹر کھڑا کیا ہوگا اور سکوٹر کے انجن سے تیل نکل کر تھوڑا سا گھاس پر گر گیا تھا۔ ڈاکٹر پرویز سب انسپکٹر سے سلام دعا کرکے وہاں سے چل دیا۔ ذرا آگے جا کر اس نے دارا سے کہا۔ “لاش قبرستان میں کس طرف سے باہر نکلی ہوگی؟۔ اس کے پاؤں کے نشان ایک دم کیسے غائب ہو گئے؟”

دارا بولا۔ ایک دم اس لئے غائب ہو گئے کہ آگے گھاس اور جھاڑیاں تھیں۔ گھاس اور جھاڑیوں پر پاؤں کے نشان نہیں پڑتے۔ ممکن ہے وہ قبرستان کے دوسری طرف نکل گئی ہو۔”

چلو قبرستان کے دوسری طرف چل کر دیکھتے ہیں۔”

وہ قبروں کے درمیان سے گزرتے قبرستان کے دوسرے دروازے سے باہر کچی زمین کو دیکھنے لگے۔ یہاں دوسرے آدمیوں کے جوتوں کے بہت سے نشانات تھے۔ ان میں زندہ لاش کے ننگے پاؤں کے نشان کہیں نہیں تھے۔

دارا نے کہا۔ “پرویز بھائی ! یہاں ہمیں لاش کہیں نہیں ملے گی۔ ہم فضول اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔”

سخت نا امیدی کے عالم میں دونوں واپس چل دیئے۔ زندہ لاش سارا دن قبرستان کی قبر کے شگاف میں چھپی رہی۔ دن کی روشنی میں باہر نہ نکلی۔ اس کا دنیا کے سب سے بڑے قاتل والا دماغ تھوڑا تھوڑا کام کرنے لگ گیا تھا۔ اس دماغ نے زندہ لاش کے مزاج کو ضرور قاتل بنا دیا تھا مگر اسے ماضی سارے کا سارا یاد نہیں تھا۔ دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا اصل وطن انگلینڈ تھا جہاں اس نے ایک لڑکی مارگریٹ سے محبت کی تھی۔ وہ اس وقت تک قاتل نہیں بنا تھا مگر بہت غریب تھا۔ لڑکی کے ماں باپ بہت امیر تھے۔ قاتل کا نام والڈروف تھا۔ والڈروف گلیوں میں اور شہر کے چوکوں میں اخبار بیچ کر اپنی روزی کماتا تھا ، مارگریٹ اس کی رشتے دار لڑکی تھی مگر بڑے امیر ماں باپ کی بیٹی تھی۔ مارگریٹ بھی والڈروف سے محبت کرتی تھی مگر اپنے ماں باپ کی مرضی کے خلاف والڈروف سے شادی نہیں کر سکتی تھی۔

ایک روز دنیا کا یہ سب سے بڑا قاتل شادی کا پیغام لے کر مارگریٹ کے امیر باپ کے کارخانے میں گیا اور اس کے باپ سے کہا کہ میں مارگریٹ سے محبت کرتا کر اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ مارگریٹ کے مغرور باپ نے والڈروف کی بے عزتی کی اور کہا۔ ” تمہیں میری لڑکی سے شادی کرنے کا خیال کیسے آیا؟ تم اخبار بیچنے والے گھٹیا آدمی ہو۔ میں شہر کا سب سے بڑا رئیس ہوں۔ میری بیٹی کے لیے تو شاہی خاندان سے رشتہ آیا ہے۔ تم بھکاری ہو، نکل جاؤ میرے کارخانے سے”

اور مارگریٹ کے باپ نے والڈروف کو دھکے مار کر نکال دیا

پھر بس وہیں سے والڈ روف کا دماغ چکر کھا گیا۔ مارگریٹ کی محبت میں اپنی بے عزتی کی وجہ سے وہ دنیا کا سب سے بڑا قاتل بن گیا۔ اس نے سب سے پہلے تو مارگریٹ کے باپ کو قتل کیا۔ اس کے بعد اس کے دوسرے دولت مند رشتے داروں کو ایک ایک کر کے موت کے گھاٹ اتارا۔ اس کے بعد دوسرے امیر لوگوں کو چن چن کر قتل کرنا شروع کر دیا۔ پولیس اس کی تلاش میں سرگرداں تھی مگر والڈروف ہاتھ نہیں آتا تھا۔ اس نے انگلستان چھوڑدیااور فرانس چلا گیا۔ فرانس میں اس نے دولت مند لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ مگر پھر فرانس سے نکل کر وہ یورپ کے دوسرے شہروں میں چلا گیا اور قتل کا سلسلہ جاری رکھا، اس نے لاکھوں امیر آدمیوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ آخر پکڑا گیا اور اسے پھانسی ہو گئی۔ موت کے بعد حکومت نے اس کا دماغ نکال کر دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان کے دماغ کے ساتھ میڈیکل سائنس کے عجائب گھر میں رکھوادیا

جو کہ غلطی سے ڈاکٹر پرویز چرا کر لے گیا اور اس نے اس دماغ کو سب سے بڑے سائنسدان کا دماغ سمجھ کر اپنی بنائی ہوئی لاش کی کھوپڑی میں لگا دیا تھا۔۔

زندہ لاش کو تھوڑا تھوڑا اپنا ماضی یاد آجاتا تھا اور پھر بھول جاتا تھا۔ ایک بار زندہ لاش کی آنکھوں کے سامنے مارگریٹ کی شکل بھی آئی ، اسے دیکھ کر کچھ یاد ضرور آیا مگر اسے یہ نہ معلوم ہو سکا کہ یہ اسکی صورت ہے جس کی محبت میں ناکامی نے اسے دنیا کا سب سے بڑا قاتل بنادیا، زندہ لاش اپنے خیالات کی الجھنوں میں الجھی دن بھر قبرستان کے اندر رہی۔ آخر جب قبرستان میں رات کا اندھیرا چھا گیا تو وہ باہر نکل آئی قبرستان سے نکل کر ایک طرف چلنا شروع کر دیا۔ پھرایک باغ میں درختوں کے نیچے بیٹھ گئی۔ سرد رات میں باغ سنسان پڑا تھا۔ اتنی سردی ،سردیوں کے موسم نہیں پڑی تھی۔ دو دن تک بارش ہونے کی نتیجے میں سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا تھا۔ رات کے گیارہ بجے تک زندہ لاش باغ کے ویران گوشے میں رہی۔ پھر وہ اٹھ کر ایک سنسان سڑک پر چل پڑی۔ باغ کے آگے کھیت تھے اور پھر بے آباد میدان شروع ہو جاتا تھا جہاں ہندوؤں کے زمانے کی ایک پرانی اور اجاڑ حویلی کا کھنڈر تھا۔ اس کھنڈر میں کبھی شمشان بھومی ہوا کرتی تھی ، جہاں راجہ کے خاندان کے مردہ لوگوں کو جلاکر ان کی راکھ دریائے گنگا میں جا کر بہا دی جاتی تھی۔ زندہ لاش نے دور سے یہ حویلی دیکھی تو اس طرف چلنے لگی۔ حویلی کے کھنڈر کے پاس آکر لاش رک گئی اور اس کے آسیبی گیٹ کو تکنے لگی جس پر ویرانی تھی اور رات کے سرد اندھیرے میں اسے دیکھ کر ہی خوف محسوس ہوتا تھا لیکن لاش کے دماغ میں ڈر خوف نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ حویلی کے ڈیوڑھی سے حویلی کے دالان میں آگئی۔ دالان میں ایک اینٹوں کا چبوترا تھا۔اس چبوترے پر آج سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے راجہ رنجیت سنگھ کے خاندان کے مردوں کو جلایا جاتا تھا۔ چبوترا خالی اور ویران پڑا تھا۔ چبوترے کے تینوں جانب چھوٹی چھوٹی کوٹھڑیاں بنی ہوئی تھیں۔ ان کوٹھڑیوں میں مردہ جلانے والوں کا خاندان رہا کرتا تھا مگر اب وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ کوٹھڑیوں کی چھت بیٹھ گئی تھی، بعض کے دروازے زمین میں دھنس گئے تھے۔ تین کو ٹھڑیاں باقی رہ گئی تھیں جن کے لکڑی کے دروازے لوگ اکھاڑ کر لے گئے تھے، حویلی کو راجہ رانی کی حویلی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ اس حویلی کے پاس خوف کے مارے دن کے وقت بھی کوئی نہیں آتا تھا، حویلی کی برجی میں ایک الو رہتا تھا جو آدھی رات کو بول بول کر ماحول کو اور ڈراؤنا بنادیتا تھا۔ زندہ لاش راجہ رانی کی حویلی کی ایک کوٹھڑی میں جا کر زمین پر ایک طرف منہ کر کے بیٹھ گئی۔ اس کی نیم وا اور ادھ کھلی آنکھیں اندھیرے میں دالان والے چبوترے پر جمی ہوئی تھیں۔ زندہ لاش جلدی جلدی اپنی آنکھیں ادھر ادھر نہیں پھیر سکتی تھی۔ جس جگہ اس کی نگاہ ایک بار تک جاتی تھی کئی سیکنڈ بلکہ منٹ تک اسی جگہ ٹکی رہتی تھی۔ اس وقت بھی زندہ لاش کی ادھ کھلی ہوئی نیم مردہ آنکھیں چبوترے کو تک رہی تھیں جو ستاروں کی پھیکی روشنی میں دھندلا دھندلا سا نظر آرہا تھا، رات خاموشی سے گزرتی جا رہی تھی۔ کسی طرف سے کوئی آواز نہیں آرہی ۔ حویلی کی برجی والا الو بولنا شروع ہو گیا۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آوازیں نکالتا۔ زندہ لاش کو اس کی آواز سے الجھن سی ہونے لگی۔وہ حویلی کی چھت پر اس جگہ پر آگئی جہاں ایک کونے میں چھوٹی سی برجی کے اندر الو نے گھونسلہ بنا رکھا تھا۔ وہ الو کے گھونسلے کی طرف بڑھی۔ الو اسے دیکھ لیتا ہے۔ اس نے ایک عجیب سے انسانی ہیولے کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھا زندہ لاش نے الو کے گھونسلے کو برجی میں سے نکال کر چھت پر بکھیر دیا ۔ غصے میں غراہٹ کی آوازیں نکالتی واپس کوٹھڑی میں آکر بیٹھ گئی۔

الو بڑا دانا جانور ہوتا ہے۔ اس نے دیکھا کہ ایک انسانی ہیولے نے گھونسلا اجاڑ دیا ہے تو وہ خاموش ہو گیا۔ الو کی خاموشی نے ماحول کو اور پراسرار بنا دیا۔ زندہ لاش کی نظریں ایک بار پھر اسی چبوترے پر جم گئیں جس میں مردے جلائے جاتے تھے۔ اچانک زندہ لاش کو کسی عورت کی چیخ سنائی دی۔ چیخ کی آواز اس زینے کی طرف سے آئی تھی جو حویلی کی چھٹی منزل کی کوٹھڑیوں کو جاتا تھا۔ عورت بڑے دردناک لہجے میں چیخ رہی تھی۔

“مجھے چتا پر نہ چڑھاؤ۔ مجھے آگ نہ لگاؤ۔ میں مردہ نہیں ہوں۔ مجھے نہ جلاؤ”

زندہ لاش نے دوسری تیسری بار عورت کی چیخ کی آواز پر آنکھیں موڑ کر زینے کی طرف دیکھا۔ وہاں تین آدمی نمودار ہوئے جنہوں نے پرانے زمانے کے درباریوں والا لباس پہن رکھا تھا۔ ان میں سے ایک کا سر منڈا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں جلتی ہوئی مشعل تھی۔ عورت چیخ رہی تھی، چلا رہی تھی۔

“میں زندہ ہوں۔ مجھے چتا پر نہ جلاؤ۔ میں تمہارے پاؤں پڑتی ہوں۔”

مگر تینوں آدمی اس عورت کو کھینچتے ہوئے چبوترے کی طرف لا رہے تھے۔ پھر انہوں نے عورت کو پکڑ کر باندھا اور چبوترے پر لٹا دیا۔ دونوں آدمی پیچھے ہٹ گئے۔ جس آدمی کے ہاتھ میں مشعل تھی وہ عورت کی طرف بڑھا اور اس کی ساڑھی کو آگ لگانے ہی لگا تھا کہ زندہ لاش کے حلق سے غراہٹ نما چیخ نکل گئی۔ یہ چیخ اتنی ڈراؤنی تھی کہ اس آدمی کے ہاتھ سے مشعل گر پڑی۔ زندہ لاش کوٹھڑی میں سے نکل کر چبوترے پر گئی اور دو آدمیوں کو گردن سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا لیکن عجیب بات ہوئی۔ جیسے ہی زندہ لاش نے آدمیوں کو گردنوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔ دونوں آدمی کے ہاتھوں میں نظر آتے آتے غائب ہو گئے۔ زندہ لاش حیرانگی کی نگاہوں سے اپنے ہاتھوں کو تکتی رہ گئی۔ اس نے دیکھا کہ تیسرا آدمی بھی غائب ہو گیا تھا۔ چبوترے پر بندھی ہوئی عورت زندہ لاش کو پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ یہ ایک خوبصورت نوجوان لڑکی تھی اور کوئی راجکماری لگتی تھی۔ عورت زندہ لاش کو دیکھتے دیکھتے مسکرا دی۔ زندہ لاش کے حلق سے ایسی غراہٹ کی آوازیں نکلنے لگیں جیسے وہ اس عورت سے کہہ رہی ہو کہ تم کون ہو، یہ لوگ کون تھے ؟ زندہ لاش نے عورت کی رسیاں کھول دیں۔

عورت نے کہا۔ “میں راجکماری ہوں میرا نام پریم لتا ہے۔”

زندہ لاش اس عورت کی طرف عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔ زندہ لاش کی آنکھوں میں پہلی بار ایک چمک سی آگئی تھی جیسے اسے کچھ یاد آ رہا ہو۔ جیسے اسکی آنکھوں میں اس عورت نے مہر و محبت کی شمع رو شن کردی ہو کیونکہ عورت زندہ لاش سے بالکل نہیں ڈری تھی۔ عورت نے زندہ لاش کی طرف ہاتھ بڑھایا جیسے کہہ رہی ہو، مجھے اٹھاؤ۔

زندہ لاش نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھا کر بٹھا دیا۔ راجکماری پریم لتا اٹھ کھڑی ہوئی اور لاش کے بالکل قریب آکر مسکرائی اور پھر مسکراتے مسکراتے ہنستے ہنستے غائب ہو گئی۔

زندہ لاش حیرانی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ پھر لاش تھوڑا سا غرائی اور واپس کو ٹھڑی میں آکر بیٹھ گئی۔ لاش ساری رات وہاں بیٹھی رہی۔ دن نکل آیا اور شام ہو گئی۔ پھر رات آگئی اور زندہ لاش کوٹھڑی میں ہی پتھر کی مورتی بنی بیٹھی رہی اور چبوترے کو ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہی۔ شاید وہ غیر شعوری طور پر خوبصورت را جکماری پریم لتا کے پھر سے ظاہر ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ رات بھی گزرگئی اور لاش نے صرف اتنا کیا کہ اٹھ کر چبوترے کے گرد دو چار چکر لگائے اور واپس کوٹھڑی میں آکر بیٹھ گئی۔ دوسرا دن بھی طلوع ہو گیا۔

دوسری طرف ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا لاش کو شہر کے کونے کونے میں تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ لاش کو تلاش کرتے کرتے وہ شہر کے باہر راجہ رانی کی حویلی کے پاس بھی آگئے۔ یہاں زمین کلر زدہ تھی۔ اچانک ڈاکٹر دارا کو زمین پر لاش کے ننگے پاؤں کے نشان نظر آگئے۔ اس نے چونک کر وہ نشان ڈاکٹر پرویز کو دکھائے ۔

ڈاکٹر پرویز خوش ہو کر بولا۔ ” یہ زندہ لاش کے پاؤں کے ہی نشان ہیں۔ وہ ضرور حویلی میں موجود ہے۔ پاؤں کے نشان حویلی کی طرف جا رہے ہیں۔”

ڈاکٹر پرویز نے بے ہوش کرنے والا پستول جیب سے نکال کر اپنے ہاتھ تھام لیا۔ پستول کے آگے انجکشن کی سرنج لگی ہوئی تھی جس میں بے ہوش کرنے والی اتنی دوائی بھری ہوئی تھی کہ لاش ایک دن تک بے ہوش ہو سکتی تھی۔ ڈاکٹر بڑی احتیاط سے قدم اٹھاتے حویلی کی طرف بڑھے۔ حویلی کے گیٹ پر آکر پرویز نے دارا کو اشارہ کیا کہ دوسری طرف سے حویلی میں داخل ہو۔ دارا دوسری طرف دبے قدم اٹھاتا چلا گیا۔ ڈاکٹر پرویز آہستہ آہستہ حویلی کی ڈیوڑھی میں داخل ہوگیا. اگرچہ وہ دن کا وقت تھا مگر یہ حویلی سنسان علاقے میں تھی جہاں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ دارا دوسری طرف سے آکر حویلی کے دالان میں آگیا، جہاں شمشان کا چبوترہ تھا۔ اچانک ڈاکٹر پرویز کو لاش کی پٹیوں پر جو دوائی انہوں نے لگائی ہوئی تھی، اس کی بو محسوس ہوئی۔ وہ جلدی سے بیٹھ گیا اور اس نے دارا کو بھی اشارہ کیا کہ بیٹھ جائے۔ دارا نے بھی دوائی کی خاص بو محسوس کر لی تھی۔ اس نے ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا کہ زندہ لاش اس کو ٹھڑی میں ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر پرویز نے کوٹھڑی کے دروازے کی طرف دیکھا۔ زندہ لاش دروازے سے ذرا پیچھے ہٹ کر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ اسے دکھائی نہ دی۔ اتنے میں دارا چبوترے کی چار فٹ اونچی دیوار کے ساتھ لگ کر زمین پر بیٹھ گیا تھا اور آہستہ آہستہ آگے سرک رہا تھا۔ اس نے چبوترے کے کونے پر جا کر کوٹھڑی کے اندر نگاہ ڈالی تو اسے زندہ لاش کونے میں بیٹھی ہوئی نظر آگئی۔ اس نے پیچھے مڑ کر ڈاکٹر پرویز کو اشارہ کیا کہ لاش کوٹھڑی میں موجود ہے۔ ڈاکٹر پرویز نے ٹرانکولائزر پستول پر اپنی گرفت مضبوط کر لی لیکن وہ ایسی کوئی حرکت گھبراہٹ میں نہیں کرنا چاہتا تھا کہ جس کی وجہ سے لاش کو ان کی موجودگی کا علم ہو جائے۔ لاش خبردار ہو کر کچھ بھی کر سکتی تھی۔ وہ اتنی طاقتور تھی کہ ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا اس کے آگے چوہوں کے برابر تھے۔ ادھر زندہ لاش کو بھی اس کے دماغ کی کسی حس نے بتا دیا تھا کہ حویلی میں کوئی آدمی موجود ہے۔ شاید لاش کے دماغ نے ان نظر نہ آنے والی حرارت کی لہروں کو محسوس کر لیا تھا جو ہر انسان کے جسم سے زندہ حالت میں ہر وقت نکلتی رہتی ہیں اور اس وقت ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا کے جسموں سے بھی نکل رہی تھیں۔ زندہ لاش کسی کی موجودگی کو محسوس کر کے غرائی۔ اس غراہٹ کو ڈاکٹر پرویز اور دارا نے سنا تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ سمجھ گئے کہ یہ زندہ لاش کی ہی آواز ہے۔ اچانک لاش کوٹھڑی میں سے باہر نکل آئی۔ سات فٹ اونچے پٹیوں میں لیٹے ہوئے انسان کو اچانک اپنے سامنے دیکھ کر ڈاکٹر پرویز کے ایک بار تو اوسان خطا ہو گئے۔ زندہ لاش نے بھی اسے دیکھ لیا تھا اور اس کے حلق سے ڈراؤنی آوازیں نکلنے لگی تھیں۔ زندہ لاش کے جسم سے لپٹی ہوئی پٹیاں میلی کچیلی ہو رہی تھیں۔ چند ایک پٹیاں لاش کے بازوؤں کے نیچے لٹک رہی تھیں۔ یہ واقعی بڑی ڈراؤنی اور دہشت ناک زندہ لاش تھی۔ اس وقت ڈاکٹر پرویز کو خیال آیا کہ یہ اس نے کیا بنا دیا ہے۔

اچانک دارا نے چیخ کر کہا۔ “پرویز! فائر کرو۔ کیا سوچ رہے ہو؟ یہ شخص ہمیں مار ڈالے گا۔” ڈاکٹر پرویز اچانک چونک پڑا۔ دارا کی آواز سن کر زندہ لاش نے چیخ ماری اور اس کی طرف بڑھی لیکن اس دوران ڈاکٹر پرویز گنفائر کر چکا تھا اور اس میں سے نکلا ہوا سرنج لاش کی گردن میں پیوست ہو گیا اور سرنج کے اندر جو بے ہوشی کی دوائی تھی وہ ساری کی ساری لاش کے جسم میں داخل ہو چکی تھی۔ لاش کھڑے کھڑے لڑکھڑائی اور پھر کٹے ہوئے درخت کی طرف دھم سے زمین پر گر پڑی۔ پرویز اور دارا دوڑ کر لاش کے پاس گئے۔ پرویز نے لاش کی گردن سے سرنج نکالا اور دارا سے کہا۔ ” اس کو لیبارٹری میں کیسے لے جائیں گے ؟”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ”ہماری گاڑی میں اتنی لمبی چوڑی لاش نہیں آئے گی۔ میں ہسپتال جا کر ایمولینس ویگن لے آتا ہوں۔”

”ہاں۔“ ڈاکٹر پرویز بولا۔ ” یہ ٹھیک ہے۔ ایمبولینس کی ویگن میں ہم لاش کو آسانی سے رکھ سکیں گے مگر ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔ تمہیں زیادہ دیر نہیں لگانی چاہئے۔”

ڈاکٹر دارا بولا۔ ”میں ابھی گیا اور ابھی آیا۔ تم یہاں دھیان سے بیٹھنا۔ کہیں اس زندہ لاش کو ہوش نہ آجائے۔”

پرویز نے کہا۔ “نہیں نہیں۔ کم از کم بارہ گھنٹے سے پہلے اس کو ہوش نہیں آئے گا۔ تم فوراً جا کر ایمبولینس لے آؤ۔”

دارا گاڑی لے کر تیزی سے ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا۔ ڈاکٹر پرویز کے سامنے حویلی کے دالان میں اس کا بنایا ہوا انسان زمین پر بے

ہوش پڑا تھا۔ وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ یہ بے حد ڈراؤنا انسان تھا۔ اس کی کھوپڑی کے لمبے لمبے ٹانکے ماتھے پر صاف نظر آ رہے تھے۔ اس کی آنکھیں ویسے ہی ادھ کھلی تھیں جیسے پہلے تھیں۔ یہ آنکھیں کسی مردے کی آنکھیں لگتی تھیں۔ لاش کے جسم کی سفید پٹیاں میلی ہو گئی تھیں۔ ڈاکٹر پرویز نے لٹکتی ہوئی پیٹیوں کو دوبارہ لاش کے بازو پر کس کر باندھ دیا۔ لاش بالکل بےہوش پڑی تھی۔ ڈاکٹر پرویز سوچنے لگا کہ اب جبکہ وہ اس لاش کو اپنی لیبارٹری میں لے جا رہا ہے تو کیوں نہ اس کی کھوپڑی میں دنیا کے سب سے بڑے جرائم پیشہ قاتل کا دماغ جو اس لگایا ہے اسے نکال کر اس کی جگہ کسی عام مردے کا دماغ لگا دیا جائے تاکہ لاش آئندہ کسی کو اپنی مرضی سے قتل نہ کرتی پھرے لیکن اسے خیال آگیا کہ اگر اس کا لگایا ہوا دوسرا دماغ کسی شریف آدمی کا ہوا تو ہو سکتا ہے لاش اس کا کہا نہ مانے اور اس کے حکم پر ڈاکہ نہ ڈالے، چوری نہ کرے اور اس کے اشارے پر اس کے کسی بھی دشمن کو قتل نہ کرے۔ اب ڈاکٹر پرویز پورا شیطان بن چکا تھا اور وہ اس لاش کی مدد سے اپنے پرانے دشمنوں کو قتل کر کے ان سے انتقام لینا چاہتا تھا اور امیر لوگوں کی تجوریاں لوٹ کر ان کی دولت پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، پھر وہ ممکن ہے ایسا نہ کر سکے۔ اس نے سوچا کہ نہیں نہیں ، مجھے لاش کا دماغ نہیں بدلنا چاہئے۔ بس اسے اپنے کنٹرول میں کر لینا چاہئے۔ جب لاش ایک بار اس کے کنٹرول میں آجائے گی تو اس کا ریموٹ کنٹرول اس کے اپنے ہاتھ میں ہو گا۔ پھر لاش اس کے اشاروں پر چلے گی اور اس کے حکم کے بغیر کسی کو قتل نہ کر سکے گی۔

ڈاکٹر پرویز کے شیطانی دماغ نے وہیں فیصلہ کر لیا کہ وہ لاش کا دماغ نہیں بدلے گا اور دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ ہی اس کے سر کے اندر رہنے دے گا بس لاش کی ریڑھ اور گردن کی ہڈیوں کے اندر لگے ہوئے چپ کے فیوز دوبارہ ٹھیک کر دے گا تاکہ وہ ریموٹ کے سگنل وصول کر سکے اور لاش اس کے کنٹرول میں آجائے۔ اچانک اسے ویگن کے انجن کی آواز ز سنائی دی

ڈاکٹر دارا ہسپتال سے ایمبولینس کی ویگن لے کر پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے لاش کو بڑی دقت کے ساتھ اٹھا کر ایسولینس میں ڈالا۔ ایمبولینس کا دروازہ بند کر کے باہر سے تالا لگا دیا گیا اور وہ ایمبولینس سٹارٹ کر کے آسیبی قلعے والی لیبارٹری کی طرف روانہ ہو گئے اور ایمبولینس قلعے کے اندر تک لے گئے۔ وہاں سے لاش کو بڑی مشکل سے اٹھا کر لیبارٹری میں لے آئے۔ ڈاکٹر پرویز نے لاش کی نبض دیکھی۔ لاش کا دل آہستہ آہستہ دھڑک رہا تھا۔ اس کا بنایا ہوا انسان زندہ تھا۔

دارا نے کہا۔ “اس کو بے ہوشی کا ایک اور انجکشن لگا دو کہیں آپریشن کے دوران اسے ہوش نہ آ جائے۔”

ڈاکٹر پرویز نے فوراً لاش کو ایک ڈبل ڈوز والا انجکشن لگا دیا اور سب سے پہلے لاش کی گردن کا چھوٹا سا آپریشن کر کے اس کی گردن کی ہڈی کے ساتھ انگوٹھے سے بھی چھوٹے سائز کا کمپیوٹر آلہ لگا تھا، اسے چمٹی سے پکڑ کر باہر نکال لیا۔ غور سے اس کو چیک کیا۔ آلے کی دو تاروں کے ٹانکے فیوز ہو گئے تھے۔ انہوں نے فوراً وہاں نئے ٹانکے لگائے اور چپس کو دوبارہ لاش کی گردن میں فٹ کر کے زخم لمبے لمبے ٹانکے لگا کر سی دیا۔ اس کے بعد زندہ لاش کی کمر کا آپریشن کیا گیا اور ریڑھ کی ہڈی میں سے مائیکرو چپس نکال کر اسے بھی پھر سے اچھی طرح مرمت کر کے دوبارہ فٹ کر دیا گیا اور زخم پر ٹانکے لگا دیئے۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” یہ کام تو ہو گیا۔ اب دونوں مائیکرو چپس کو ٹیسٹ کرنے کا مرحلہ باقی ہے اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب لاش کو ہوش آجائے گا۔”

دارا نے کہا۔ ”لاش کو زنجیروں میں جکڑنے کی تو ضرورت نہیں؟”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ ”اس کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر مائیکرو چپس نے کام نہ کہ تو لاش ویسے بھی زنجیریں توڑ ڈالے گی۔ بس یہی ہے کہ جب اسے ہوش آئے تو ہمیں کچھ فاصلے پر رہ کر مائیکرو چپس جو چیک کرنا ہوگا۔”

اچانک ڈاکٹر پرویز کو ایک خیال آگیا۔ کہنے لگا۔ “میرا خیال ہے جب تک لاش کو ہوش نہیں آتا اس کی پٹیاں اتار کر اسے عام انسانوں والا لباس پہنا دینا چاہئے تاکہ جب ہم اسے کنٹرول میں لا کر اپنی مرضی کے مطابق اس سے انسانی معاشرے کی بھلائی کا کام لیں تو یہ نارمل انسان دکھائی دے۔”

ڈاکٹر دارا نے جس کو ڈاکٹر پرویز کی نیت پر شک تھا پوچھا۔ ” مثلاً تم اس سے انسانی معاشرے کی بھلائی کا کیا کام لو گے ؟”

ڈاکٹر پرویز کہنے لگا۔ ” مثلاً ہم اس کی مدد سے دہشت گردوں کو ختم کریں گے۔ جرائم پیشہ افراد اور منشیات کے سمگلروں کو گرفتار کرائیں گے اور بھی اس طرح کے انسانی بھلائی کے کام لیں گے۔”

ڈاکٹر دارا نے کوئی جواب نہ دیا۔ اسے معلوم تھا کہ پرویز اپنے بنائے ہوئے انسان کو کنٹرول کر کے اس سے دو ایک کام منہ رکھنے کو بھلائی کے لیے لے گا اور باقی اس کی مدد سے لوگوں کی تجوریوں اور بینکوں میں ڈاکے ڈلوائے گا اور اپنے دشمنوں کو قتل کروائے گا۔ ڈاکٹر پرویز بولا۔ ”مگر اسے کون سا لباس پہنایا جائے؟ کوٹ پتلون اس کے سائز کے سلوانے پڑیں گے۔؟

دارا نے کہا۔ ”ابھی تو اسے دھوتی کرتا ہی کسی نہ کسی طرح پہنا دیتے ہیں۔ بعد میں ناپ لے کر سوٹ بھی سلوا دیں گے۔”

یہ ٹھیک رہے گا۔ یہاں سے کوئی سفید چادر پکڑو۔” دارا لیبارٹری کی الماری میں سے سفید چادر نکال کر لے آیا۔ انہوں نے جلدی جلدی زندہ لاش کے جسم پر لپٹی ہوئی ساری پٹیاں قینچی سے کاٹ کر اتار دیں۔ سفید چادر دھوتی کی طرح اس کی کمر پر کس کر باندھ دی۔ لیبارٹری میں ہی ایک آپریشن کرنے والا لمبا سبز کرتا نکال کر لاش کو پہنا دیا۔ اب وہ لاش کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگے۔

شام کے وقت لاش کے ایک ہاتھ نے ایک ہلکی جنبش کی اور اس کے حلق سے غراہٹ کی ہلکی سی آواز نکلی۔ ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا جلدی سے لیبارٹری کے دروازے میں جا کر کھڑے ہو گئے۔ ریموٹ کنٹرول ڈاکٹر پرویز کے ہاتھ میں تھا۔ ریموٹ کنٹرول پر چھوٹے چھوٹے چھ سات بٹن تھے۔ ایک بٹن کو دبا کر لاش سے کہا کہ اٹھ کر کھڑی ہو جا۔ دوسرے بٹن سے لاش کو ایک طرف چل پڑنے کے سگنل دیئے جاتے تھے۔ ایک بٹن کو دبانے سے لاش کے ذہن میں یہ خیال ڈالا جاتا تھا کہ وہ فلاں کام کرے۔ ایک اور بٹن دبانے سے لاش کو واپس چلے جانے کا حکم دیا جاتا تھا۔ ایک سرخ بٹن کو دبانے سے لاش سے کہا جاتا تھا کہ وہ سو جائے۔ دونوں ڈاکٹر بے چینی سے لاش کو دیکھ رہے تھے جو ڈاکٹروں والا لمبا سبز کرتہ پہنے اور دھوتی باندھے سٹریچر پر لیٹی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر دارا نے آہستہ سے کہا۔ پرویز! اسے سگنل دو کہ اٹھ کر کھڑا ہو جائے۔”

پرویز نے سرگوشی میں کہا۔ “نہیں نہیں۔ پہلے اسے پوری طرح ہوش میں آجانے دو۔ نیم بے ہوشی کی حالت میں سگنل کا اثر نہیں ہو گا۔”

لاش آہستہ آہستہ ہوش میں آ رہی تھی۔ جیسے ہی لاش کو پوری طرح ہوش آیا ڈاکٹر پرویز نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ریموٹ کنٹرول کا ایک بٹن دبا دیا۔ پہلے تو لاش بے حس و حرکت پڑی رہی اور اس کے حلق سے غرانے کی آوازیں نکلتی رہیں لیکن جب ڈاکٹر پرویز نے دوسری مرتبہ بٹن دبایا تو لاش کو ایک جھٹکا لگا اور وہ اٹھ کر اپنے پاؤں پر پورے قد سے کھڑی ہو گئی۔ سرجن ڈاکٹروں والے سبز چغے اور سفید دھوتی میں لاش کوئی دیو ہیکل سرجن ڈاکٹر لگ رہی تھی۔

دارا نے خوشی سے تقریباً چیختے ہوئے کہا۔ “پرویز!! اسے پھر لٹا دو۔ یہ ہماری طرف دیکھ رہی ہے۔”

1لیبارٹری کی دیوار میں اوپر چھت کے قریب لمبے شگاف کی طرح کے روشن دان میں سے دن کی روشنی اندر آ رہی تھی اور بڑا بلب بھی روشن تھا۔ لاش بالکل سیدھی کھڑی نیم وا سفید سفید سنگ دل آنکھوں سے ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا کی طرف دیکھ رہی تھی۔ پرویز نے کہا۔ ” یہ میرے کنٹرول میں ہے شور نہ مچاؤ۔”

پرویز نے ریموٹ کنٹرول کا ایک اور بٹن دبایا۔ لاش بو جھل قدم اٹھاتی دیوار کے ساتھ لگی الماری کی طرف چلنے لگی۔

ڈاکٹر پرویز نے ایک اور بٹن دباتے ہوئے لاش سے کہا۔ “الماری کھول کر اس کے پہلے خانے میں سے ایک بوتل اٹھا کر کھڑے ہو جاؤ۔” لاش الماری کے پاس جا کر رک گئی۔ پھر اس نے ایک ہاتھ بڑھا کا الماری کھولی اور پہلے خانے میں سے ایک بوتل اٹھا کر الماری کے پاس ان کی طرف منہ کر کے کھڑی ہو گئی۔ ڈاکٹر پرویز نے مسرت سے بھرپور آواز میں نعرہ لگایا۔ “ہم نے ایک پورا آدمی بنا دیا ہے۔ ہم نے بہت بڑا کارنامہ کیا ہے ڈاکٹر دارا!! خدا کی قسم اس دفعہ نوبل پرائز ہم دونوں کو ہی ملے گا۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “تو کیا تم اس نقلی انسان کا کھلم کھلا مظاہرہ کرو گے؟”

پرویز بولا۔ ” ابھی ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ابھی ہم اس کو ٹریننگ دیں گے۔ جب یہ مشق میں پکا ہو جائے گا تو پھر اسے مارکیٹ میں لے آئیں گے۔”

ڈاکٹر دارا خوب جانتا تھا کہ پرویز جھوٹ بول رہا ہے۔ وہ اس نقلی انسان اور زندہ لاش سے مجرمانہ کام لینا چاہتا ہے۔ وہ اسے کھلم کھلا مارکیٹ میں کبھی نہیں لا سکتا نہ دوسرے سائنس دانوں کے آگے اس زندہ لاش کا مظاہرہ کروا سکتا تھا۔ ہاں جب وہ اس زندہ لاش کی مدد سے اپنے تمام دشمنوں کو ٹھکانے لگا چکے اور بڑے بڑے بینکوں میں اس کی مدد سے ڈاکے ڈلوا کر کروڑوں روپے جمع کر لے گا تو پھر شاید وہ زندہ لاش کو مارکیٹ میں لے آئے گا۔

زندہ لاش بوتل ہاتھ میں لئے الماری کے پاس بالکل روبوٹ کی طرح ساکت کھڑی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے دارا سے کہا۔ “آؤ اپنی تخلیق کو قریب سے دیکھتے ہیں۔”

ڈاکٹر دارا ڈر رہا تھا۔ اسے اندیشہ تھا کہ قریب جانے سے زندہ لاش ان کی گردنیں نہ مروڑ ڈالے۔ لیکن لاش نے ایسا نا کیا۔۔ لاش ڈاکٹر پرویز کے کنٹرول میں آ گئی تھی۔ وہ لاش کے بالکل سامنے جا کر کھڑے ہو گئے۔ ڈاکٹر دارا کی لاش کو دیکھنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔ لاش کی آنکھوں میں ایک عجیب قسم کی دہشت تھی جس کو دیکھ کر ہی آدمی کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے۔ ڈاکٹر پرویز نے بے دھڑک ہو کر لاش کے ہاتھ کو آہستہ سے پکڑ لیا۔ لاش نے آگے سے ہی کوئی حرکت نہ کی۔

پرویز بولا۔ “دا را! یہ شخص پوری طرح میرے قابو میں ہے۔ اب یہ وہی کرے گا جو میں اسے کہوں گا۔ وہی سوچے گا جو میں اسے کہوں گا۔ ذرا ٹھہرو!! میں تمہیں ابھی تجربہ کر کے دکھاتا ہوں۔”

ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول کا ایک سبز بٹن دباتے ہوئے لاش سے کہا۔ لیبارٹری کے دروازے کے پاس جا کر دیکھو کہ باہر کوئی آدمی ہماری باتیں تو نہیں سن رہا ؟”

کر کےدروازے لاش حرکت میں آگئی۔ آرام آرام سے قدم اٹھاتی لیبارٹری کے دروازے تک گئی اور رک گئی۔ پھر گردن باہر نکال کر پہلے دائیں جانب پھر بائیں جانب دیکھا۔ وہیں سے واپس پلٹ کر اپنی پہلے والی جگہ پر آکر کھڑی ہو گئی اور اپنے بڑے سر کو نفی کے انداز میں دائیں بائیں ہلایا جیسے کہہ رہی ہو کہ باہر کوئی نہیں ہے۔ ڈاکٹر پرویز کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ وہ کرسی کھینچ کر سٹریچر کے قریب گیا۔

اس نے دارا کو بھی اپنے پاس بٹھا لیا اور کہنے لگا۔ ” کون کہہ سکتا ہے کہ میں نے ایک جیتے جاگتے سوچنے والے انسان کو ایجاد نہیں کیا۔ ابھی تک یورپ امریکہ کے سائنس دانوں نے اتنی زبردست ترقی کے باوجود صرف سٹیل کا روبوٹ انسان ہی تخلیق کیا ہے، مگر میں نے زندہ انسان تخلیق کر کے دکھا دیا ہے، خدا کی قسم اب میں مختلف مردہ آدمیوں کی بیکار لاشوں کے ٹکڑے جوڑ کر جتنے چاہے انسان بنا سکتا ہوں۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “یہ کفر کی باتیں ہیں پرویز! اللہ کے آگے تو بہ کرو اور اب بھی تمہیں یہی مشورہ دوں گا اپنی اس زندہ تخلیق کو ضائع کر دو۔ مار ڈالو اسے، نہیں تو ہم کسی ایسے عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے کہ لوگ ہمارے جسم کے اعضاء کاٹ کاٹ کر چیلوں اور کوؤں کو کھلائیں گے۔”

ڈاکٹر پرویز نے تلخ لہجے میں کہا۔ ” تم مجھ سے حسد کرتے ہو دار!! اس لئے تم میری زندہ تخلیق کی مخالفت کر رہے ہو۔ تم نہیں چاہتے کہ دنیا مجھے سائنس کی دنیا کا بادشاہ کہہ کر پکارے۔”

دارا نے بھی غصے میں کہا۔ ” میں لعنت بھیجتا ہوں تمہاری اس مشرکانہ تخلیق پر، میں تو اس دن کو کوس رہا ہوں جب میں تمہاری اس مجرمانہ سوچ میں تمہارے ساتھ شامل ہوا۔ پرویز! میں تمہیں ایک بار پھر بلکہ آخری بار خبردار کرتا ہوں کہ تم خدا کے عذاب کو للکار رہے ہو۔ ابھی اسی وقت اس زندہ لاش کے ٹکڑے کر کے ان ککڑوں کو بڑے احترام کے ساتھ زمین میں دفن کر دو اور گڑگڑا کر خدا سے اپنے گناہ کی معافی مانگو۔ میں بھی تمہارے ساتھ خدا سے معافی مانگوں گا۔ بلکہ میں تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ سے رحم کا طلبگار ہوں۔”

ڈاکٹر پرویز بڑا عیار اور جہاندیدہ انسان تھا۔ بجائے اس کے کہ وہ طیش میں آکر لاش کو حکم دیتا کہ اس آدمی کی گردن مروڑ دے۔ اس نے ڈاکٹر دارا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ”میرے پیارے دوست! مجھے ایک بار شہر بلکہ ملک کے تمام سمگلر اور دہشت گردوں کو اپنے بنائے ہوئے انسان کی مدد سے پولیس کے حوالے کروا لینے دو، میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد میں اپنی اس تخلیق کو اپنے ہاتھوں ضائع کر دوں گا اور اس کی لاش کے ٹکڑے بڑے احترام کے ساتھ قبر میں دفن کردوں گا۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “کاش تم ایسا کر سکو۔ مجھے تمہارے ارادے نیک نہیں لگتے”

ڈاکٹر پرویز نے دارا کا کندھا دباتے ہوئے کہا۔ “یار تم تو ویسے ہی مجھ پر شک کرنے لگے ہو۔ یقین کرو میں اپنے بنائے ہوئے انسان سے کوئی ناجائز کام نہیں لوںگا، میں تو چاہتا ہوں کہ ہمیں نوبل پرائز ملے۔ سائنس کی تاریخ میں ہمارا نام عزت واحترام سے لیا جائے۔ پھر بھلا میں اپنی تخلیق سے کوئی برائی کا کام کیسے لے سکتا ہوں اچھا اب خاموش ہو کر بیٹھے رہو۔ میں تمہیں اپنی تخلیق سے ایک اور کام لے کے دکھاتا ہوں لیکن اس سے پہلے ہمیں اس زندہ لاش کا کوئی نام رکھنا پڑے گا۔ سوچ کے بتاؤ ہم اس کا کیا نام رکھیں؟”

ڈاکٹر دارائے بادل نخواستہ کہا۔ ” اس کا نام رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟”

پرویز کہنے لگا۔ ”میں چاہتا ہوں کہ میں اس کو اس کا نام لے کر مخاطب کروں، تاکہ میری اس حیرت انگیز تخلیق کو معلوم ہو کہ اس کا ایک نام بھی ہے۔ کیا نام رکھیں اس کا؟”

ڈاکٹر پرویز سوچنے لگا پھر بولا۔ ” زوناش.. کیسا رہے گا یہ نام ؟ میں نے کالج کے زمانے میں یہ نام ایک اردو کے ناول میں پڑھا تھا۔ مصنف نے کسی حبشی غلام کا نام رکھا تھا۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “جو چاہے نام رکھ لو۔ اس سے کیا فرق پڑے گا؟”

پرویز بولا۔ “اوکے! تو پھر یہی نام ٹھیک ہے۔ بس آج سے ہماری تخلیق کی ہوئی اس زندہ لاش کا نام زوناش ہو گا۔” ڈاکٹر پرویز نے زندہ لاش کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

“دا را! خدا کی قسم لا ش کے چہرے کے تاثرات دیکھو۔ صاف لگتا ہے کہ یہ ہماری باتیں سن رہا ہے او اس نے یہ بھی سن لیا ہے کہ ہم نے اس کا نام زوناش رکھ دیا ہے۔ ٹھہرو میں تمہیں اس کا تجربہ کر کے دکھاتا ہوں۔”

ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول کا وہ سرخ بٹن دبایا جس کے سگنل سیدھا لاش کے دماغ میں جاتے تھے۔ اس نے لاش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ” زوناش !کیا تم ہماری باتیں سن رہے ہو؟ اگر سن رہے ہو تو اپنا سر آہستہ سے اوپر نیچے ہلاؤ”

ڈاکٹر دارا یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ زندہ لاش نے آہستہ سے اپنا سر اوپر نیچے ہلا دیا۔ اس نے کہا۔ ”میرے خدا! یہ زندہ لاش تو ہماری ساری باتیں سن رہی ہے”

ڈاکٹر پرویز نے ڈاکٹر دارا کا ہاتھ پکڑ کر چوم لیا اور بے اختیار ہو کر بولا۔ “دارا ! دوست! ہم دنیا کے سب سے بڑے سائنس دان ہیں، سب سے بڑے سرجن ہیں۔ ہم نے وہ کام کر دکھایا ہے جسے آج تک بڑے سے بڑا فزیشن بڑے سے بڑا سائنس دان نہیں کر سکا۔”

ڈاکٹر پرویز نے لاش سے کہا۔ ” زوناش ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہم نے تمہارا نام زوناش رکھا ہے؟”

زندہ لاش نے اوپر سے نیچے سر ہلایا اور اس کے حلق سے ہلکی سی غراہٹ نکلی ۔ ڈاکٹر پرویز خوشی سے اچھل پڑا۔ ڈاکٹر پرویز کہنے لگا۔ ”دار! ہم نے واقعی میڈیکل سائنس کی دنیا میں تہلکہ مچادیا ۔ ہماری تخلیق کے سامنے نوبل پرائز کوئی حیثیت نہیں رکھتا”

دارا بولا۔ ” پرویز! تم اس وقت شاید بھول گئے ہو کہ اس زندہ لاش کو ہم نے دنیا کے سب سے بڑے قاتل اور جرائم پیشہ آدمی کا دماغ لگایا ہے۔ تم ایک ایسے شخص سے یہ کیسے توقع رکھ سکتے ہو کہ وہ ملک کے قاتلوں اور جرائم پیشہ لوگوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کرے گا جس نے ہزاروں انسانوں کو قتل کیا ہے اور جس کا ذہن سوچتا ہی جرائم کے متعلق ہے”

ڈاکٹر پرویز نے انگریزی میں کہا۔ ”خدا کے لیے اس نقلی انسان کے آگے ایسی باتیں نہ کرو۔ وہ سب کچھ سن رہا ہے اور سمجھ رہا ہے۔ اس کے دماغ نے لگتا ہے آہستہ آہستہ کام کرنا شروع کر دیا ہے؟”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ”اس کا مطلب ہے کہ اس نے ہماری ساری باتیں جو ہم غصے میں ایک دوسرے سے کر رہے تھے سن لی ہیں۔ اس نے یہ بھی سن لیا ہم اس سے ملک کے سمگلروں اور دہشت گردوں کو پکڑوانا چاہتے ہیں۔”

ضرور یہ بھی سن لیا ہو گا۔” پرویز نے کہا۔

دارا بولا۔ ” تم انگریزی میں بات کر کے یہ سمجھ رہے ہو کہ یہ ہماری بات نہیں سمجھ سکے گا۔ تم بھول گئے ہو کہ اس کی کھوپڑی میں جس قاتل کا دماغ کام کر رہا ہے وہ انگریز تھا چنانچہ لازمی بات ہے کہ یہ انگریزی سمجھ رہا ہو گا۔”

پرویز نے کہا۔ “تو پھر آج کے بعد ہم اس کے سامنے پنجابی زبان میں بات کیا کریں گے، یہ پنجابی تو بالکل بھی نہیں سمجھ سکے گا۔” دارا نے کہا۔ اگر یہ ہماری اردو کی باتیں سمجھ گیا تھا تو کچھ بعید نہیں کہ یہ پنجابی بھی سمجھنے لگا ہو۔ میں تو حیران ہوں کہ ہم نے اس سے اردو میں جو باتیں کیں ان کو یہ کیسے سمجھ گیا؟”

ڈاکٹر پرویز سوچ میں پڑ گیا، پھر بولا۔ ”میرا خیال ہے اس زندہ لاش کے دماغ کا کوئی حصہ کھل گیا ہے اور ظاہر ہے آسمانی بجلی کے جھٹکے سے کھل گیا ہو گا جس حصے میں ہر زبان سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زوناش دنیا کی ہر زبان سمجھ سکتا ہے۔ کوئی پتہ نہیں یہ کسی روز دنیا کی ہر زبان بولنے لگ جائے۔

ڈاکٹر دارا نے کہا۔” ایسا ہو سکتا ہے۔

پرویز ! اگر تم واقعی اس تخلیق سے معاشرے کی بھلائی کے کام لو گے تو ہماری تخلیق دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہوگا اور رہتی دنیا تک لوگ ہمارا نام عزت سے لیا کریں اور شاید خدا بھی ہمارا یہ گناہ معاف کر دے۔”

ڈاکٹر پرویز بولا۔ “دوست! تم تو خوامخواہ میری نیت پر شک کرنے لگے ہو۔ میں تمہیں کیسے سمجھاؤں کہ اس زندہ لاش زوناش سے معاشرے کی بھلائی کے سوا اور کوئی کام نہیں لوں گا۔ اب مجھے زوناش کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بوتل دوبارہ الماری میں رکھوا لینے دو۔ بے چارا کب سے ہاتھ میں بوتل لئے کھڑا ہے۔” ڈاکٹر پرویز نے زندہ لاشن زوناش سے کہا۔ ” زوناش! یہ بوتل واپس الماری میں رکھ

کر الماری بند کر دو اور سٹریچر پر جا کر لیٹ جاؤ۔”

زندہ لاش زوناش نے بوتل الماری کے خانے میں رکھ کر الماری بند کی ، آہستہ آہستہ چل کر سٹریچر تک گیا۔ پھر اس کے اوپر چڑھ کر بالکل سیدھا لیٹ گیا۔

ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول کا ایک اور بٹن دبا کر زندہ لاش سے کہا” اب تم گہری نیند سو جاؤ اور جب تک میں نہ اٹھاؤں سوئے رہو۔”

دونوں ڈاکٹر یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ زندہ لاش نے پرویز کا حکم سن کر آنکھیں بند کر لیں۔ حالانکہ اس سے پہلے زندہ لاش نے کبھی آنکھیں بند نہیں کی تھیں۔ اس کی آنکھیں ہر وقت نیم وا رہتی تھیں۔ دونوں ڈاکٹروں نے زندہ لاش کو غور سے دیکھا۔ ڈاکٹر پرویز نے لاش کے دل کی دھڑکن چیک کی۔ کہنے لگا۔ دل کی دھڑکن بہت سست ہو گئی ہے۔ یہ شخص زوناش سو گیا ہے۔”

دونوں ڈاکٹر سٹریچر کے قریب کرسیوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”اب ہمیں اس زندہ لاش زوناش کے سامنے بہت سوچ سمجھ کر بات کرنی ہوگی۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ شخص دنیا کی ہر زبان سمجھنے لگا ہے اور اس کے دماغ نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔”

ڈاکٹر دارا کہنے لگا۔ “اگر اس کے دماغ نے کام کرنا شروع کر دیا ہے تو اسے یہ بھی معلوم ہو گیا ہوگا کہ میں دنیا کا سب سے بڑا قاتل اور جرائم پیشہ آدمی ہوں، بہت ممکن ہے کہ اس کا دماغ نیکی کی بجائے برائی کے راستے پر چل پڑے۔ عین ممکن ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “اگر یہ برائی کے راستے پر چلنے کو سوچتا ہے تو سوچتا رہے۔ اس کے دماغ کو تو میں کنٹرول کر رہا ہوں۔ ریموٹ کنٹرول تو ہمارے پاس ہو گا اور یہ ہماری اجازت کے بغیر کوئی اچھا یا برا کام نہیں کر سکے گا،”

” لیکن اگر خدانخواستہ پہلے کی طرح کسی وجہ سے اس کے جسم میں پلانٹ کئے گئے مائیکرو چپس نے کام کرنا چھوڑ دیا تو پھر کیا ہو گا۔ آخر مائیکرو چپس بھی پرزے ہیں اور مشین کسی وقت بھی کام کرنا بند کر سکتی ہے۔”

ڈاکٹر دارا کے اس خدشے کے جواب میں پرویز نے کہا۔ “اگر خدانخواستہ ایسا وقت آگیا تو ہمارے پاس ٹرانکولائزر گن تو موجود ہی ہے۔ ہم بے ہوشی کا انجیکشن اس پر فائر کر کے اسے فوراً بے ہوش کر دیں گے اور مائیکروچپس دوبارہ لگا دیں گے اس کی مرمت کر دیں گے۔ اول تو اب ایسا نہیں ہوگا۔ کیونکہ اب ہمیں زوناش کے جسم کو آسمانی بجلی کا جھٹکا لگانے کی ضرورت نہیں ہے اور جب تک اس زندہ لاش کو ایک کروڑ وولٹ کی طاقت کی بجلی کا جھٹکا نہیں لگے گا اس کے جسم کے اندر لگائے گئے چپس خراب نہیں ہوں گے، اس لئے اس طرف سے ہمیں مطمئن ہو جانا چاہئے “

زندہ لاش کے جسم میں سے ایک کروڑ وولٹ کی آسمانی بجلی گزارنے کے بعد اس کے جسم میں رد عمل کے طور پر ایک اور تبدیلی واقع ہونی شروع ہو گئی تھی جس کا ابھی تک دونوں ڈاکٹروں میں سے کسی کو علم نہیں تھا۔ زندہ لاش کا جسم کئی آدمیوں کے اعضاء جوڑ کر تیار کیا گیا تھا اور ان مردہ آدمیوں میں سے ہر شخص کا مزاج اور اس کے جسم کے ذرات کی ساخت مختلف تھی۔ چنانچہ آسمانی بجلی کا شدید جھٹکا لگنے کے بعد زندہ لاش کے جسم کے ذرات نے منفی طاقت پکڑ لی تھی اور بجلی کے شدید جھٹکے کے بعد ان ذرات میں کچھ ایسا کیمیکل رد عمل ہوا تھا کہ زندہ لاش کے خلیوں اور ذرات نے غائب ہونا شروع کر دیا تھا۔ زندہ لاش کو بجلی کا جھٹکا لگے ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔ اس ایک ہفتے کے بعد اس کے جسم کے ذرات غائب ہونے لگے تھے۔ سب سے پہلے اس کیمیاوی ردعمل کا اثر زندہ لاش کے جسم کے پرانے اعضاء پر ہوا اور زندہ لاش کا ایک گردہ غائب ہو گیا۔ غائب ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ زندہ لاش کے جسم میں نہیں رہا تھا بلکہ ایسا ہوا تھا کہ گردہ نظر آنا بند ہو گیا تھا مگر وہ اپنی جگہ پر جسم کے اندر باقاعدہ کام کر رہا تھا۔ اس کے بعد دوسرا گردہ غائب ہو گیا۔ جس وقت ڈاکٹر پرویز اور دارا نے زندہ لاش زوناش کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اپنے قابو میں کیا تھا اس وقت تک زندہ لاش کے جسم کے دونوں گردے اور دل غائب ہوکر برابر کام کر رہے تھے۔ دل برابر دھڑک رہا تھا مگر یہ اعضاء نظر آنا بند ہو گئے تھے۔

ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر دارا کو زندہ لاش کے جسم کے اندر کی اس حیرت انگیز تبدیلی کا بالکل علم نہیں تھا۔ علم ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ اگر وہ زندہ لاش کے سینے کو کھول کر دیکھتے تو انہیں معلوم ہوتا نا کہ اس کا تو دل غائب ہے۔ دونوں ڈاکٹر کچھ دیر لیبارٹری میں زندہ لاش کے سٹریچر کے قریب بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ پھر وہ ہسپتال چلے گئے۔ جانے سے پہلے ڈاکٹر پرویز نے اچھی طرح سے لاش کو چیک بھی کر لیا ، بٹن دبائے بغیر لاش کو آواز بھی دی اور کہا بھی کہ اٹھو اب بیدار ہو جاؤ مگر چونکہ اس نے ریموٹ کا بٹن نہیں دبایا تھا اس لئے لاش کے دماغ کو کوئی سگنل نہ ملا اور لاش یعنی زوناش سوتا رہا۔

دونوں ڈاکٹر جس وقت لیبارٹری کے تہہ خانے سے نکلتے تھے تو آہنی دروازے پر تالا لگا کر جاتے تھے۔ ویسے بھی اس آسیبی قلعے کے کھنڈر میں کبھی کوئی انسان نہیں آیا تھا۔ صرف ڈاکٹر پرویز اور دارا ہی کبھی کبھی آجاتے تھے۔ ان کے بارے لوگوں کو بھی پتہ تھا اور انہوں نے بھی مشہور کر رکھا تھا کہ وہ قلعے کی چھت پر آسمان میں نمودار ہونے والے نئے ستاروں پر ریسرچ کر رہے ہیں۔ اپنے اس جھوٹ کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے قلعے کی چھت پر ایک بڑی دور بین بھی لگا رکھی تھی، ڈاکٹر دارا کو اس کے ہوسٹل میں چھوڑ کر ڈاکٹر پرویز اپنے ہسپتال کی جانب چل پڑا۔ راستے میں وہ یہی سوچ رہا تھا کہ یہ شخص دارا اس کے عزائم کے راستے میں کہیں رکاوٹ ثابت نہ ہو اور وہ پرویز کو زندہ لاش کی مدد سے کروڑ پتی تاجروں کی تجوریاں خالی کرواتے اور بینک میں ڈاکہ ڈلواتے دیکھ کر کہیں اس کے خلاف ہوجائے اور پولیس کو اطلاع نہ دے دے۔ پرویز نے سوچ رکھا تھا کہ اگر ایسا کوئی مرحلہ آگیا تو وہ زندہ لاش کی مدد سے ڈاکٹر دارا کو بھی ٹھکانے لگا دے گا۔ ڈاکٹر کے دل و دماغ پر شیطانی طاقتوں نے قبضہ کر رکھا تھا اور وہ اس قسم کی بدی کی باتیں ہی سوچ سکتا تھا۔ دوسری جانب آسیبی قلعے کی لیبارٹری میں سٹریچر پر زندہ لاش جس کا نام ڈاکٹروں نے اتفاق رائے سے زوناش رکھ دیا تھا، گہری نیند سو رہی تھی اور اس کے جسم کے ذرات نے پہلے سے سات گنا تیز رفتاری سے غائب ہونا شروع کر دیا تھا۔ رات کے بارہ بجے تک زندہ لاش کے جسم کے اندر تمام اعضائے رئیسہ نظر آنا بند ہو گئے تھے۔ ہر عضو اپنی جگہ پر باقاعدہ کام کر رہا تھا مگر وہ غائب ہو گیا تھا اور بالکل نظر نہیں آتا تھا۔ آدھی رات کے بعد زندہ لاش زوناش کے غائب ہونے کا کیمیاوی عمل اس کے جسم کے باہر بھی شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے اس کے بائیں طرف والے پاؤں کی دو انگلیاں غائب ہو گئیں۔ اس کے بعد دوسرے پاؤں کی دو انگلیاں غائب ہو گئیں۔ ایک گھنٹے بعد دونوں پاؤں کی دسوں کی دسوں انگلیاں غائب ہو گئیں۔ پھر اس کے ہاتھ کی انگلیوں کی باری آئی اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں غائب ہو گئیں۔ صبح ہونے تک زندہ لاش زوناش کی ایک ٹانگ اور ایک پورا بازو غائب ہو چکا تھا۔ ابھی پوری طرح سے رات کی روشنی نہیں پھیلی تھی کہ دونوں ڈاکٹر زوناش کو دیکھنے لیبارٹری میں آگئے۔ سب سے پہلے ڈاکٹر دارا لاش کے قریب آیا۔ وہ یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ لاش کی بائیں ٹانگ اور ایک پورا بازو غائب تھا۔ اس نے گھبرا کر ڈاکٹر پرویز کو آواز دی۔ “پرویز! جلدی سے ادھر آنا ۔ “

ڈاکٹر پرویز ڈاکٹر دارا کی طرف آیا۔ “کیا بات ہے؟”

ذرا دیکھو تو، زندہ لاش زوناش کا ایک بازو اور ایک ٹانگ غائب ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے دیکھا تو وہ بھی ایک لمحے کے لئے جیسے سکتے میں آگیا۔ ”یہ کیسے ہو گیا؟”

اس نے لاش کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو بولا۔ ”دارا! زوناش کا بازو اور ٹانگ اپنی جگہ پر موجود ہے مگر وہ دکھائی نہیں دے رہا۔”

یہ کیسے ہو گیا؟” ڈاکٹر دارا نے آگے بڑھ کر لاش کا جو بازو اور ٹانگ غائب تھی۔ وہاں جسم کو ٹٹولا تو واقعی زندہ لاش کا بازو اور ٹانگ موجود تھی مگر صرف نظروں سے اوجھل ہو گئی تھی۔

” ڈاکٹر دار!!” پرویز نے فکرمند ہو کر کہا۔ ”یہ آسمانی بجلی کے جھٹکے کا کیمیاوی رد عمل ہے۔” پھر اس نے دوسری ٹانگ کے پاؤں کو دیکھا تو اس کی بھی ساری انگلیاں غائب تھیں۔

“میرے خدا!الاش تو آہستہ آہستہ غائب ہو رہی ہے۔”

لاش جس سٹریچر پر پڑی تھی اس کو پہیے لگے ہوئے تھے۔ وہ لاش کے سٹریچر کو چلاتے ہوئے دوسری دیوار کے ساتھ لگی ہوئی سکریننگ مشین کے نیچے لے گئے۔ انہوں نے مشین آن کر دی اور یہ دیکھ کر ڈاکٹر پرویز اور دارا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا که زندہ لاش کے جسم کے اندر نہ گردہ تھا نہ دل تھا نہ جگر تھا، کچھ بھی نہیں تھا۔ جسم کا اندر کا حصہ سارے کا سارا خالی تھا۔

” آسمانی بجلی نے جسم کے ٹشوز پر کیمیاوی اثر کیا ہے۔ ” ڈاکٹر پرویز بولا ۔ ” یہ عمل لاش کے جسم میں رات کو ہمارے جانے کے بعد شروع ہوا ہے اور صبح تک لاش کا ایک چوتھائی حصہ غائب ہو گیا ہے۔ یہ ایک دو گھنٹے بعد ساری کی ساری غائب ہیں ہو جائے گی۔”

سکریننگ میں وہ مائیکرو چپس بھی نظر نہیں آ رہے تھے جو ڈاکٹر پرویز نے لاش کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ پیوست کئے تھے۔

ڈاکٹر دارا بولا۔ “ہمارے لگائے ہوئے مائیکرو چپس بھی غائب ہیں۔ مگر وہ اپنی جگہ پر ضرور موجود ہوں گے ، جس طرح دل جگر پھیپھڑے اپنی جگہ پر موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں مگر ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ “

دارا نے کہا۔ ”اینٹی سکریننگ لینز لگا کر دیکھو۔ ابھی پتہ چل جائے گا۔”

ڈاکٹر پرویز نے فورا سکریننگ مشین کے کیمرے کے آگے اینٹی سکریننگ لینز لگا کر لاش کو دیکھا تو اس کے جسم کے اندر دل جگر گردے پھیپھڑے اور باہر دو ٹانگیں اور انگلیاں دکھائی دینے لگیں۔ لینز آنکھوں کے آگے سے ہٹائے تو لاش کا باز اور ٹانگیں غائب تھیں۔ دوبارہ لینز لگایا تو انہیں گردن اور ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ پلانٹ کئے ہوئے دونوں مائیکرو چپس بھی نظر آگئے۔ ڈاکٹر پرویز نے اطمینان کا سانس لیا اور بولا” شکر ہے ہماری محنت ضائع نہیں ہوئی اور لاش کا غائب ہونا ہمارے حق میں اچھا ہی ہوا ہے۔ ذرا سوچو کہ اگر لاش نظر آ رہی ہوتی تو وہ جس وقت سمگلروں اور دہشت گردوں کو پکڑتی تو وہ لوگ اس پر فائرنگ کر سکتے تھے۔ چھری چاقو مار کے زندہ لاش کے جسم کو کاٹ سکتے تھے مگر اب وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔ اب لاش لوگوں کو نظر ہی نہیں آئے گی تو وہ کس پر حملہ کریں گے۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ”ہاں! یہ تو بڑی اچھی بات ہوئی ہے ایک طرح سے، لیکن ابھی تک لاش پوری طرح غائب نہیں ہوئی۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”مگر تھوڑی دیر بعد غائب ہو جائے گی۔ اس کے غائب ہونے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “مگر لاش کا ہمیں نظر آتے رہنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ لاش ہماری خواہش اور ہماری مرضی کے مطابق کام کر رہی ہے”

“اس کی ایک ترکیب ہو سکتی ہے کہ ہم اینٹی سکریننگ لینز والی ایک عینک تیار کر لیں۔ یہ عینک لگانے سے ہم غائب ہو چکی لاش کو دیکھ سکیں گے۔” ڈاکٹر پرویز بولا

“یہ بڑی اچھی ترکیب ہے۔ ” دارا نے کہا۔

“مگر میرا خیال ہے کہ ابھی ہمیں لاش کو جگانا نہیں چاہئے۔ کہیں لاش پر اپنا ایک بازو اور ایک ٹانگ غائب دیکھ کر خطرناک ری ایکشن نہ ہو۔”

ڈاکٹر پرویز کے اس خیال پر دارا نے کہا۔ ”خطرناک ری ایکشن ہو گا بھی تو زوناش کیا کر سکے گی؟ وہ تو ہمارے کنٹرول میں ہوگی۔”

“ہاں یہ تو ہے۔ ” ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”تو ٹھیک ہے، میں لاش کو جگانے لگا ہوں”

اس نے ریموٹ نکال کر اس کا بٹن آن کرتے ہوئے کہا۔ ” زوناش! بیدار ہوجاؤ”

اور اس کے ساتھ ہی لاش نے آنکھیں کھول دیں اور ڈیلے ذرار گھمائے۔ ڈاکٹر پرویز کہنے لگا۔ “دار!! میں دیکھ رہا ہوں کہ لاش میں نئی نئی چیز ڈیویلپ ہو رہی ہیں۔ ایک تو اس کے خلیوں نے غائب ہونا شروع کر دیا ہے! دوسرے لاش نے اپنے ڈیلے بھی تھوڑے گھمائے ہیں ورنہ پہلے وہ آنکھوں کو کھلا رکھتی تھی اور اس کی آنکھوں کے ڈیلے پتھر کی طرح ساکت رہتے تھے۔”

“ہاں۔” ڈاکٹر دارا نے جواب دیا۔ “لاش کا دماغ بھی آہستہ آہستہ کام کرنے لگا ہے۔ ہو سکتا ہے دو چار دنوں میں لاش کی آواز بھی بیدار ہو جائے اور وہ بولنا شروع کر دے۔”

“ایسا ہو سکتا ہے۔ ” ڈاکٹر پرویز نے کہا۔

زندہ لاش زوناش بیدار ہو چکی تھی۔ اس کی نظر ابھی تک اپنی غائب ٹانگ اور غائب شده بازو پر نہیں پڑی تھی کیونکہ زندہ لاش لیٹی ہوئی تھی۔

ڈاکٹر پرویز ۔ کہا۔ “زوناش! اٹھ کر بیٹھ جاؤ۔”

ساتھ ہی ریموٹ کا ایک اور بٹن دبادیا۔ لاش اٹھ کر سٹریچر پر بیٹھ گئی۔ اس کے ساتھ ہی لاش نے آنکھوں کے ڈیلے ذرا نیچے گھما کر اپنے دونوں بازوؤں ٹانگوں کو غور سے دیکھا۔ اس کا ایک بازو اور ایک ٹانگ غائب ہو چکی تھی مگر لاش پر اس کا کوئی خاص رد عمل نہ ہوا۔ لاش ویسے ہی ساکت کی ساکت سٹریچر پر بیٹھی رہی۔

ڈاکٹر پرویز بولا۔ لاش پر اس تبدیلی کا کوئی اثر نہیں ہوا ڈاکٹر دارا ۔ “

دارا نے کہا۔ ”ہو سکتا ہے کچھ دیر بعد اس کا اثر ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے اسے بازو اور ٹانگ دکھائی دے رہی ہو۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے، میرا خیال ہے کہ لاش کو کچھ دیر سٹریچر پر لٹائے رکھنا چاہئے تاکہ اس کے اندر جو کیمیاوی عمل ہو رہا ہے وہ ختم ہو جائے۔”

ڈاکٹر پرویز نے لاش کو کہا۔ ” زوناش! سٹریچر پر لیٹ جاؤ اور گہری نیند سو جاؤ۔”

زندہ لاش سٹریچر پر لیٹ گئی اور اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ گہری نیند سورہی تھی اور اس کے حلق سے ہلکے ہلکے خراٹوں کی آواز آنے لگی تھی۔

دارا نے کہا۔ “یہ بھی ایک نئی چیز لاش میں نمودار ہوئی ہے۔ لاش پہلے خراٹے نہیں لیتی تھی۔”

“ہاں میں یہ ساری تبدیلیاں نوٹ کرتا جا رہا ہوں۔” ڈاکٹر پرویز نے کہا اور جیب سے ایک چھوٹی نوٹ بک نکال کر اس میں لاش نے جسم میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو شارٹ ہینڈ لکھائی میں نوٹ کرتا رہا تا کہ بعد میں لاش پر ریسرچ کرنے اور اس پر تحقیقاتی مقالہ لکھنے میں یہ نوٹس کام آسکیں۔ وہ لاش کے قریب ہی کرسیاں ڈال کر بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ لاش کو دیکھ لیتے تھے۔ لاش بڑے ہلکے ہلکے خراٹے لے رہی تھی ،جسے بلی خر خر کر رہی ہو۔

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ” اس کا مطلب ہے کہ ہم لاش کے پوری طرح غائب ہو جانے کے بعد اس سے معاشرے کی بھلائی کے کام لینے شروع کریں گے۔ کیا خیال ہے؟”

ڈاکٹر پرویز بھی یہی سوچ رہا تھا مگر اصل میں اس نے لاش سے بھلائی کے دوچار کام ہی لینے تھے۔ باقی سب برائی کے کام ہی لینے تھے یا کبھی کبھار ایک دو کام بھلائی کے لاش سے کروا لینے تھے اور اس کے بعد ڈاکٹر دارا کو بتائے بغیر لاش کی مدد سے اپنے دشمن قتل کروانے تھے اور ارب پتی امیر لوگوں کے گھروں سے مال نکلوانا تھا بلکہ لاش کو غائب ہوتا دیکھ کر ڈاکٹر پرویز نے اپنے بدی کے پروگرام میں تبدیلی کر لی تھی اور فیصلہ کیا تھا کہ لاش سے لوگوں کے گھروں میں ڈاکہ ڈلوانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اس کی مدد سے بنکوں کے لاکر تڑوائے گا اور یوں لوگوں کے قیمتی ہیرے جواہرات اور سونے کے زیورات لاکروں میں سے اڑا لے گا اور بنک سے کرنسی نوٹ بھی لوٹے گا۔ اس کے عزائم خطرناک تھے اور ڈاکٹر پرویز اپنے خطرناک عزائم پر بڑی جلدی عمل کرنا چاہتا تھا۔

ڈاکٹر دارا نے مشورہ دیا کہ جتنی دیر میں لاش نے غائب ہونا ہے اتنی دیر میر ہم اینٹی سکریننگ لینز کی دو عینکیں بازار سے بنوا کر لے آتے ہیں۔ ڈاکٹر پرویز کور مشورہ پسند آیا۔ انہیں اس عینک کی ضرورت بھی تھی۔ سکرینگ مشین کے 3-4 سکرینگ لینز کے شیشے الماری میں فالتو پڑے تھے۔ ان میں سے دو شیشے نکال لئے جس سے دو عینکوں کے لینز نکل سکتے تھے۔ لینز جیب میں ڈال کر پرویز نے دارا کو ساتھ لیا اور گاڑی میں بیٹھ کر شہر کی ایک مشہور عینکوں کی دکان پر آگیا۔ یہاں کے آنکھوں کا ڈاکٹر ان کا دوست تھا۔ پرویز نے اسے لینز جیب سے نکال کر دیئے اور کہا ” ڈاکٹر! ہمیں دو اینٹی سکریننگ عینکوں کی ضرورت ہے۔ ابھی تیار کر دو، یہ ایمرجنسی ہے”

ڈاکٹر کو اینٹی سکریننگ عینکیں تیار کرنے میں دو گھنٹے لگ گئے۔ وہ عینکیں لے کر واپس آسیبی قلعے کی لیبارٹری میں آگئے۔ لیبارٹری میں داخل ہوتے ہی انہوں نے دیکھا کہ سٹریچر پر لاش غائب تھی۔ ڈاکٹر دا را وہیں رک گیا۔ سرگوشی میں بولا۔ “یہیں رک کر عینک لگا کر دیکھتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ لاش اٹھ کر ہم پر حملہ کر دے۔”

ڈاکٹر پرویز نے سرگوشی میں کہا۔ ” ریموٹ کنٹرول میرے پاس ہے۔ لاش کیسے اٹھ سکتی ہے۔ وہ سٹریچر پر ہی ہے مگر غائب ہو چکی ہے۔”

دونوں نے جلدی سے عینکیں لگالیں۔ انہوں نے دیکھا کہ واقعی لاش سٹریچر پر لیٹی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے عینک اتار کر دیکھا تو لاش غائب تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے دارا کا ہاتھ پکڑ کر بڑے جوش کے ساتھ دبایا اور بولا۔ ”دار! یہ ہماری ایک فتح ہے۔ خدا کی قسم ہم نے میڈیکل سائنس کی تاریخ میں ایک زبردست انقلاب کر دیا ہے۔”

انہوں نے عینکیں لگالیں۔ ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ ہاتھ میں لے کر اس کا بٹن دبایا اور کہا۔ ” زوناش اٹھ کر الماری کے پاس جاؤ اور الماری کھول کر اس میں سے سرخ رنگ کی شیشی نکال کر مجھے پکڑاؤ۔”

لاش سگنل ملتے ہی سٹریچر سے اٹھی اور آہستہ آہستہ چل کر الماری کے پاس گئی۔ الماری کھولی۔ اس میں سے ادھر ادھر تلاش کر کے سرخ رنگ کے محلول والی شیشی نکالی اور قدم قدم چل کر ڈاکٹر پرویز کے پاس آئی اور اسے شیشی پکڑا کر وہیں چپ چاپ کھڑی ہو گئی۔ ڈاکٹر پرویز نے دوسرا بٹن دبا کر کہا۔ ” زوناش! واپس سٹریچر پر جا کر بیٹھ جاؤ”

زندہ لاش اسی طرح قدم قدم چل کر سٹریچر کے پاس گئی اور پھر اس کے اوپر آرام سے بیٹھ گئی۔ ڈاکٹر پرویز نے پنجابی زبان میں ڈاکٹر دارا سے کہا۔ لاش پوری طرح سے ہمارے کنٹرول میں ہے۔”

پنجابی میں وہ اس لئے بولنے لگا تھا کہ اگر لاش کو کسی کیمیاوی رد عمل کے بعد اپنی انگریزی زبان یاد آگئی ہو تو وہ پنجابی نہیں سمجھ سکتی تھی۔ انہوں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ زندہ لاش اردو زبان اچھی طرح سے سمجھ لیتی ہے۔ وہ اس کو اردو میں ہی حکم دے رہے تھے اور زندہ لاش ان کے احکامات پر عمل کر رہی تھی۔ ڈاکٹر دارا نے پنجابی میں ڈاکٹر پرویز سے کہا۔ لاش کو پنجابی زبان میں کوئی آرڈر دو۔ ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ لاش پنجابی سمجھ سکتی ہے یا نہیں۔”

یہ بڑا اچھا آئیڈیا تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے ٹھیٹھ پنجابی زبان میں زندہ لاش سے کہا۔ زوناش ! سٹریچر سے اتر کر الماری کے پاس جاؤ۔”

مگر لاش سٹریچر پر ہی بیٹھی رہی۔ اس پر سگنل کا کوئی اثر نہ ہوا۔

دارا نے کہا۔

“اب انگریزی زبان میں کوئی آرڈر دو۔”

ڈاکٹر پرویز نے انگریزی زبان میں وہی جملہ دہرایا۔ ” زوناش! اسٹریچر سے اتر کر الماری کے پاس جاؤ۔”

لاش میں حرکت پیدا ہوئی اور وہ سٹریچر سے اتر کر الماری کی طرف بڑھی۔ دارا نے چونک کر پنجابی میں کہا۔ “لاش کے دماغ نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے دماغ کا وہ حصہ کھل گیا ہے جہاں دنیا کے سب سے بڑے.

انگریز قاتل کی اپنی مادری انگریزی زبان فیڈ کی ہوئی تھی۔”

ڈاکٹر پرویز بھی سوچنے لگا کہ اسے اب لاش کے آگے انگریزی میں بات کرتے ہوئے احتیاط برتنی ہوگی کیونکہ لاش انگریزی زبان سمجھنے لگی ہے۔

دارا نے کہا۔” اگر اس زندہ لاش کا دماغ اسی طرح کام کرتا رہا تو یہ ایک دن بولنا بھی شروع کر دے گی ،اور کوئی پتہ نہیں اس کے دماغ کے کون کون سے حصے بیدار ہو جائیں اور یہ دنیا کی ساری زبانیں سمجھنے اور بولنے لگے اور اس کو زمین کے اندر چھپے ہوئے خزانے بھی نظر آنے لگیں۔”

ڈاکٹر پرویز چونک پڑا۔ یہ ایک نئی بات دارا نے اسے سمجھا دی تھی۔ اگر لاش میں یہ ساری صلاحیتیں پیدا ہو گئی تو وہ دنیا کا سب سے امیر ترین شخص بن جائے گا۔ وہ یورپ جا کر تیل کے بڑے بڑے تاجروں کو بتا سکے گا کہ اس جگہ زمین کے اندر پیڑول موجود ہے اور یوں ان سے منہ مانگا کمیشن وصول کرے گا۔ اسے لاش کی مدد سے بینکوں میں ڈاکے ڈلوانے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب لاش میں زمین کے اندر دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی۔

پرویز نے کہا۔ ”اگر زوناش میں زمین کے اندر خزانے دیکھنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی تو ہم اپنے وطن پاکستان میں اس کی مدد سے پٹرول تلاش کر سکیں گے اور جگہ جگہ زمین کی کھدائی پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کی بجائے عین اس جگہ سے کھدائی شروع کروائیں گے جہاں زمین کے نیچے تیل موجود ہو گا اور یوں ہم اپنے ملک کو مالا مال اور خوش حال بنا دیں گے۔” حالانکہ ڈاکٹر پرویز کی یہ نیت نہیں تھی۔ اس نے یہی سوچا ہوا تھا کہ جیسے ہی زندہ لاش میں زمین کے چھپے ہوئے خزانے معلوم کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی وہ اسے لے کر امریکہ کی ریاست ٹیکساس چلا جائے گا جہاں تیل کے بڑے بڑے تاجر رہتے ہیں اور ان سے منہ مانگا کمیشن وصول کر کے انہیں لاش کی مدد سے بتا دے گا کہ تیل زمین میں کسی جگہ پر ہے۔ یہ سارا کام زندہ لاش کرے گی مگر وہ یہ ظاہر ے گا کہ وہ خود زمین کو دیکھ کر معلوم کر لیتا ہے کہ زمین میں کس جگہ تیل ہے۔لاش تو غائب ہو گی اور کسی کو نظر ہی نہیں آرہی ہوگی۔ یوں زندہ لاش زوناش کا غائب ہونا ڈاکٹر پرویز کے لیے کھل جا سم سم کا خزانہ کھول دینے کے برابر تھا۔ مگر ابھی لاش صرف انگریزی ، اردو زبان سمجھ سکتی تھی اور غائب ہو چکی تھی۔

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ” اب اس لاش کو اسی لیبارٹری میں بند کر دیتے ہیں اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں بلکہ اس شہر میں بدمعاشوں، منشیات فروشوں اور سمگلروں کے اڈے کہاں کہاں ہیں اور لاش کی مدد سے انہیں قانون کے حوالے کرتے ہیں۔”

ڈاکٹر پرویز کو معاشرے کی بھلائی کے کاموں سے ذرہ برابر دلچسپی نہیں تھی۔ وہ لاش کی مدد سے کسی بینک میں ڈاکہ ڈلوانا چاہتا تھا لیکن دارا کی وجہ سے وہ ابھی یہ سب نہیں کر سکتا تھا اور ایسا کرنا مناسب بھی نہیں تھا۔ اس نے سوچا کہ ابھی ڈاکٹر دارا کے ساتھ مل کر شہر کے بد معاشوں اور منشیات فروشوں کو پکڑواتے ہیں۔ اس کے بعد میں اپنا کام بھی لاش کی مدد سے کروانا شروع کر دوں گا اور ڈاکٹر دارا کو بالکل نہیں بتاؤنگا کہ میں لاش کی مدد سے بینکوں کی دولت سمیٹ رہا ہوں۔

پرویز نے دارا سے کہا۔ “منشیات ات فروشوں کو پکڑوانے کے لیے ضروری ہے کہ لاش کو پہلے ان کے اڈ ے پتا ہوں “

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ”ابھی ہمیں خود نہیں پتہ کہ ان سمگلروں کے اڈے کہاں ہیں زندہ لاش کو کہاں سے بتائیں گے؟ پہلے ہم خود معلوم کرتے ہیں پھر لاش کو لے چلیں گے۔ یہ تو غائب ہو گی، کسی کو نظر نہیں آسکے گی۔ ہم اسے اڈوں کے قریب لے جا کر چھوڑ دیں گے۔ یہ انہیں پکڑ کر لے آئے گی۔”

“یہ ٹھیک ہے۔ تو کل سے یہی کام شروع کرتے ہیں۔” پرویز بولا

انہوں نے زندہ لاش کو حکم دیا کہ وہ سٹریچر پر گہری نیند سو جائے۔

اچانک ڈاکٹر دارا کو خیال آیا کہ زندہ لاش کچھ کھاتی پیتی نہیں ہے یہ زیادہ دیر کیسے زندہ رہے گی؟

اس نے پرویز سے بات کی تو وہ مسکرا دیا۔ کہنے لگا۔ ” تم ڈاکٹر ہو کر اس قسم کی باتیں کرتے ہو۔ تمہیں معلوم نہیں کہ اس زندہ لاش کے پیٹ میں نہ انتڑیاں ہیں نا ہی کوئی معدہ ہے۔ صرف سرد خون کی ہلکی سی مقدار ہے جو دل کی معمولی دھڑکن اس کے جسم میں گردش کر رہی ہے۔ اس کے جسم کے ٹشوز کے بیکٹیریا اسے خوراک مہیا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایک قسم کا روبوٹ ہے۔ اگر اس کے دل نے کبھی دھڑکنا بند بھی کر دیا یا اس کو گولیاں بھی لگیں تو لاش پر کوئی اثر نہیں ہوگا لاش کا دماغ اور ہاتھ پاؤں پھر بھی کام کرتے رہیں گے۔ اصل میں یہ لاش آسمانی بجلی کی توانائی سے زندہ ہے۔ اسی توانائی نے اس کے اندر حیرت انگیز طاقت پیدا کردی ہے اور یہ توانائی اس کے اندر ایک ہزار سال تک اسے زندہ رکھنے کے لئیے کافی ہے

ڈاکٹر دارا کا حیرت کے مارے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ سر کو ہلاتے ہوئے بولا۔ “پرویز! یہ ہم نے کیا عفریت بنا ڈالا ہے۔ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔”

ڈاکٹر پرویز نے قہقہہ لگا کر کہا۔ “ایسا وقت آیا تو ہم بڑی آسانی سے اسے ضائع کر سکتے ہیں۔ اس کا گر بھی مجھے آتا ہے۔”

لاش نے ڈاکٹر پرویز کا حکم سن لیا تھا۔ اس کے دماغ میں ریموٹ کے سگنلز پہنچ چکے تھے۔ لاش سٹریچر پر لیٹ گئی اور دوسرے ہی لمحے وہ گہری نیند سورہی تھی اور اس کے حلق سے ہلکے ہلکے خراٹوں کی آواز آرہی تھی۔

دونوں ڈاکٹروں نے لیبارٹری کا آہنی دروازہ بند کر کے کمپیوٹرائزڈ تالا لگایا اور وہاں سے سیدھا ہسپتال اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے۔

دوسرے روز ہی اخبار میں خبر چھپی کہ پولیس نے شہر کے چار بد نام اور منشیات کے سمگلروں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے ایک بیوہ عورت کی بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے کے بعد اسے قتل کردیا تھا۔ پولیس نے عین موقع پر انہیں گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا ہے۔ اخبار نے آخر میں لکھا تھا کہ یہ بڑے نامی گرامی اور بڑے بااثر ہیں اور کروڑوں روپے کے مالک ہیں۔ خیال یہی ہے کہ عدالت میں پیش ہونے کے فوراً بعد ان کی ضمانت ہو جائے گی اور یہ لوگ صاف بچ جائیں گے، اور کیس آہستہ آہستہ لمبا کر دیا جائے گا اور ایک دن اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ اس خبر کو سب سے پہلے دارا نے پڑھا۔ اس نے یہ خبر ڈاکٹر پرویز کو بھی پڑھائی اور کہا۔ ”لاش کو آزمانے اور معاشرے کو گندے عناصر سے پاک کرنے کا یہ سنہری موقع ہے۔ یہ چاروں جرائم پیشہ بدمعاش اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں شہر کے بڑے تھانے کی حوالات میں بند ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ بچ جائیں گے اور ایک بار پھر معاشرے میں گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے شہر بھر میں دندناتے پھریں گے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ان کو زندہ لاش کی مدد سے حوالات کے اندر ہی ختم کرا دیں تاکہ معاشرے سے ان چار بد معاشوں کی گندگی صاف ہو اور انہیں اپنے گھناؤنے جرم کی سزا بھی مل جائے۔”

ڈاکٹر پرویز کو اس قسم کی باتوں سے کوئی زیادہ دلچسپی نہیں تھی لیکن اس نےلاش کی مدد سے اپنے دشمن بھی قتل کروانے تھے، اس لئے وہ لاش کو آزمانا چاہتا تھا یہ لاش کی کارکردگی کو آزمانے کا بڑا اچھا موقع تھا۔ اس نے کہا۔ “ٹھیک ہے، شام کا اندھیرا ہوتے ہیلاش کو اپنے ساتھ شہر کے صدر تھانے کی حوالات دکھا دیتے ہیں اور مجرموں کی نشان دہی بھی کرا دیتے ہیں۔”

چاروں مجرموں کی اخباروں میں تصویر چھپی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر پرویز اور دارا ان شکلیں پہچان سکتے تھے۔

جب شام گہری ہو گئی تو وہ گاڑی لے کر آسیبی قلعے کی طرف چلے گئے۔ نام لیںارٹری میں جا کر دیکھا۔ بتی جل رہی تھی اور لاش سٹریچر پر نظر نہیں آ رہی تھی۔ دونوں نے مخصوص عینکیں آنکھوں پر لگالیں۔ اب انہیں لاش نظر آنے لگی تھی۔ لاش سٹریچر پر گہری نیند سو رہی تھی۔ پرویز نے ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر لاش کو حکم دیا۔ ” زوناش ! اٹھ کر ہمارے پیچھے پیچھے چلو۔”

زندہ لاش ایک جھٹکے سے اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ پھر سٹریچر سے اتر کر ڈاکٹر پرویز اور ڈاکٹر وارا کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ لاش کو صرف دونوں ڈاکٹر ہی دیکھ سکتے تھے ، انہوں نے خاص عینکیں لگارکھی تھیں۔ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پرویز نے لاش کو لیبارٹری کے باہر کھڑے ہونے کا حکم دیا اور لیبارٹری کو تالا لگانے لگا۔ اس کے بعد لاش کو اپنے پیچھے پیچھے چلاتے ہوئے قلعے کے باہر لے آئے۔ باہر ان کی گاڑی کھڑی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کا بٹن دبا کر لاش کو حکم دیا کہ وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ جائے۔ لاش گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ دونوں ڈاکٹر گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھ گئے اور گاڑی قلعے کی پرانی سڑک سے اتر کر شہر کے صدر پولیس سٹیشن کی طرف چل پڑی۔ اگر باہر سے کوئی گاڑی کو دیکھتا تو اسے گاڑی میں صرف دو آدمی بیٹھے ہوئے نظر آتے کیونکہ پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی لاش غیبی حالت میں تھی۔ وہ سوائے ڈاکٹر دارا اور ڈاکٹر پرویز کے اور کسی کو نظر نہیں آسکتی تھی۔ وہ لاش کو شہر کے صدر پولیس سٹیشن لے گئے۔ گاڑی تھانے کے احاطے میں داخل کر کے ایک طرف کھڑی کی اور ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر لاش کو آہستہ سے کہا۔ “جب تک ہم واپس نہ آئیں گاڑی میں بیٹھے رہو۔”

گاڑی کو لاک کر کے وہ برآمدے کی سیڑھیاں چڑھ کر ایس ایچ او کے کمرے میں آ گئے۔ وہاں ایک ہیڈ کانسٹیبل بیٹھا تھا۔ ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “ہم روزنامہ “انقلاب” اخبار کے دفتر سے آئے ہیں۔ ہمیں یہ پوچھتا ہے کہ ایک عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور اس کے قتل کے جو ملزم پولیس نے گرفتار کئے ہیں وہ حوالات میں ہی ہیں یا انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔”

ہیڈ کانسٹیبل نے بیزاری سے کہا۔ ” حوالات میں ہی ہیں، کیوں کیا بات ہے؟ آپ لوگ ان کی کوئی سفارش لائے ہیں؟”

ڈاکٹر دارا بولا۔ ” جی نہیں! بلکہ ہم تو بہت خوش ہیں کہ ایسے سماج دشمن عناصر کو پولیس نے پکڑا ہوا ہے۔ کیا ہم انہیں دیکھ سکتے ہیں ایک نظر؟”

اس نے سامنے دروازے کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ”دیکھ لیں وہ سامنے سلاخوں کے پیچھے بیٹھے ہیں۔”

ایس ایچ او کے آفس کے بالکل سامنے حوالات تھی۔ دارا اور پرویز اٹھ کر وہاں تک گئے۔ چاروں کے چاروں ملزم حوالات کے اندر سلاخوں کے پیچھے بیٹھے تھے سگریٹ پیتے ہوئے ایک دوسرے سے ہنس ہنس کر مذاق کر رہے تھے۔ انہیں کوئی فکر نہیں تھی، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ وہ بہت جلد بلکہ صبح تک حوالات سے باہر آجائیں گے اور دوبارہ جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔ چاروں ہٹے کٹے تھے

انہیں ایک نظر دیکھنے کے بعد دونوں ڈاکٹر گاڑی میں آکر بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول کے بٹن کو دباتے ہوئے لاش سے کہا۔ ” زوناش ! وہ سامنے تھانے کا حوالات ہے اس حوالات میں چار آدمی بیٹھے سگریٹ پی رہے ہیں۔ ان چاروں کی گردنیں اتار ڈالو۔ اس کے بعد گاڑی میں اس جگہ آکر بیٹھ جانا ۔ جاؤ۔”

ڈاکٹر پرویز کا خیال تھا کہ اسے گاڑی کا دروازہ کھول کر لاش کو باہر جانے کے راستہ دینا پڑے گا لیکن دنیا کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ بڑی تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کر رہا تھا۔ لاش نے خود ہی ہاتھ بڑھا کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور نکل گئی۔ ڈاکٹر نے گاڑی کا دروازہ کھلا ہی رہنے دیا۔ وہاں رکنے کا ایک بہانہ بنانے کے لیے ڈاکٹر پرویز نے گاڑی کا بونٹ اوپر اٹھایا اور یونہی اندر ہاتھ ڈال کر یہ ظاہر کرنے لگا جیسے ان کی گاڑی خراب ہو گئی ہے۔

مگر وہ بونٹ کی اوٹ سے لاش کو برابر تھانے کی طرف جاتا دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر عینک اتار کر اس کے شیشے صاف کرنے لگا۔ اس وقت اسے لاش بالکل نظر نہ آئی، اس نے جلدی سے عینک لگائی۔ گاڑی کے اندر بیٹھا ہوا ڈاکٹر دارا بھی آنکھوں پر عینک چڑھائے لاش کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بولا

“جس کام کی غرض سے ہم نے زوناش کو بھیجا ہے، تمہارے خیال میں وہ یہ کام کر دے گی؟”

کیوں نہیں کرے گی ؟” ڈاکٹر پرویز نے کہا۔

دارا کہنے لگا۔ “ہم تھانے کے باہر نہ چلے جائیں؟ یہاں ابھی بڑا شور شرابا خون خرابا ہونے والا ہے۔”

پرویز نے اسے ذرا سا ڈانٹ کر کہا۔ ” تم ڈرتے ہو تو باہر چلے جاؤ۔ میں تو یہیں رہوں گا۔ اسی واسطے میں یہ بہانہ بنا رہا ہوں کہ گاڑی خراب ہو گئی ہے۔”

دونوں ڈاکٹر چوری چوری نظروں سے لاش کو دیکھ رہے تھے۔ لاش برآمدے کی سیڑھیاں چڑھ کر حوالات کی طرف بڑھی۔ زوناش کی کھوپڑی کے اندر چونک کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ پلانٹ کیا ہوا تھا اور اس نے کام بھی کرنا شرد مکند دیا تھا۔ اس لئے لاش بڑی خوشی خوشی چار آدمیوں کو قتل کرنے جارہی تھی۔ ڈاکٹر دارا نے تشویش کے ساتھ کہا۔ ”یار! یہ حوالات کی سلاخوں کے پیچھے کیسے جائے گی؟”

پرویز نے کہا ”وہ غائب ہے۔ صرف ہمیں نظر آ رہی ہے۔ وہ سلاخوں میں سے گزر جائے گی۔”

اور ایسا ہی ہوا۔ لاش ان دونوں ڈاکٹروں کے دیکھتے ہی دیکھتے حوالات میں سے گزر گئی۔ حوالات میں بتی جل رہی تھی اور اس کی روشنی میں بد معاش قاتل بیٹھے ہوئے صاف نظر آ رہے تھے۔ ان کے دیکھتے ہی دیکھتے لاش نے حوالات میں جاتے ہی ایک قاتل کو گردن سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور اس کی گردن دور جھٹکے سے اس کے جسم سے الگ کر کے پھینک دی۔ حوالات میں ہڑبونگ مچ گئی دوسرے قاتلوں نے شور مچا دیا اور حوالات میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ انہیں لاش نظر نہیں آرہی تھی مگران کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ دیکھتے دیکھتے ان کےساتھی کو کس نے اوپر اٹھایا اور اس کی گردن الگ کر دی ہے۔ اتنے میں لاش نے دوسرے اور پھر تیسرے قاتل کی گردن جسم سے الگ کر دی۔ چوتھا قاتل سلاخوں پر زور سے ہاتھ مارنے لگا۔ مجھے باہر نکالو مجھے باہر نکالو۔”

کانسٹیبل اور دوسرے سپاہی حوالات کی طرف دوڑے۔ حوالات کے فرش پر خون ہی خون تھا۔ تینوں قاتلوں کے کٹے ہوئے سر فرش پر ایک طرف پڑے تھے ان کی گردنوں سے خون کے فوارے اچھل رہے تھے۔ ایک سپاہی جلدی جلدی حوالات کا تالا کھولنے لگا۔ مگر اس دوران لاش نے چوتھے قاتل کو بھی پکڑ لیا تھا اور پولیس والوں کے دیکھتے دیکھتے چوتھا قاتل اپنے آپ زمین سے چار فٹ اوپر کو اٹھا اور اسکا سر تن سے جدا ہو کر زور سے سامنے والی دیوار سے ٹکرا کر فرش پر لڑھکا اور نیچے گر کر تڑپنے لگا۔ ہیڈ کانسٹیبل اور تینوں سپاہیوں کو سکتہ ہو گیا۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے چاروں لاشوں اور چاروں کٹے ہوئے سروں کو تک رہے تھے۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ کون کر رہا ہے اور کیسے ہو گیا ہے؟ اپنے کام سے فارغ ہو کر لاش ڈاکٹروں والے سبز لمبے اوور کوٹ اور سفید دھوتی میں ملبوس حوالات سے باہر نکل کر برآمدے کی سیڑھیاں اتر کر قدم قدم چلتی کار کی طرف بڑھی۔ دونوں ڈاکٹر حیرانی کے ساتھ لاش کے ہاتھوں چاروں جرائم پیشہ بد معاشوں کو قتل ہوتے دیکھ رہے تھے۔ ڈاکٹر پرویز نے جلدی سےکار کا بونٹ گرا دیا۔ لاش گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ تھانے میں ایک ہنگامہ خیز صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ سپاہی خوف زدہ ہو کر ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔ ڈاکٹر پرویز نے گاڑی سٹارٹ کر کے احاطے سے باہر نکال لی۔ ڈاکٹر دارا خوش ہوکر بولا۔ ” قدرت کی طرف سے ان بد معاشوں کو ایک غریب بیوہ کی بچی سے زیادتی کی پوری سزا مل گئی ہے۔”

ڈاکٹر پرویز بھی بہت خوش تھا۔ وہ اس لئے نہیں خوش تھا کہ قتل اور اجتماعی زیادتی کے مجرم کیفر کردار کو پہنچے تھے، بلکہ وہ اس لئے خوش تھا کہ اس کے بنائے ہوئے نقلی آدمی نے اس کے حکم کی باقاعدہ تعمیل کی تھی ،اس کا تجربہ کامیاب رہا دنیا کے سب سے بڑے قاتل کی لاش اپنے طور پر خوش تھی۔ وہ اس لئے خوش تھی کہ انسانوں کو ایک مدت کے بعد قتل کرنے کا اس کا نشہ پورا ہو گیا تھا۔

وہ لاش کو وہاں سے سیدھا آسیبی قلعے میں لے گئے اور لیبارٹری میں لے جا کر بند کر دیا۔ پرویز نے ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر لاش کو حکم دیا سٹریچر پر لیٹ کر سو جائے۔ لاش سٹریچر پر لیٹ گئی اور فوراً ہی سو گئی اور اس کے حلق سے خراٹوں کی ہلکی ہلکی خرخر سنائی دینے لگی۔ دونوں ڈاکٹر بھی لیبارٹری سے واپس اپنی گاڑی میں آکر بیٹھ گئے اور شہر کی طرف چل پڑے۔ راستے میں وہ باتیں بھی کرتے جا رہے تھے۔

ڈاکٹر دارا کہہ رہا تھا۔ ” آج ہم نے نیکی کا بڑا اہم کام کیا اور اپنے ملک کے معاشرے کو چار گندے عناصر سے پاک کر دیا ہے۔ اسی طرح دوسرے بد معاشوں اور غنڈوں کا بھی صفایا کر دیں گے۔”

ڈاکٹر پرویز نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔ ” تم بالکل ٹھیک کہ رہے ہو۔ ہم انشاء اللہ ایسا ہی کریں گے۔”

لیکن اس کا دماغ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ڈاکٹر پرویز کے دماغ اور دل پر شیطانی طاقتوں نے قبضہ کر رکھا تھا بلکہ ڈاکٹر پرویز نے حرص و ہوس اور دنیاوی دولت کے لالچ میں آکر اپنا آپ خود شیطانی طاقتوں کے حوالے کر رکھا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کسی روز اسے لاش کے ذریعے اپنے پرانے دشمن کو قتل کروا دینا چاہئے۔ ہسپتال کا ایک سینئر ڈاکٹر اس کے خلاف تھا، ڈاکٹر پرویز یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ اس کا دشمن ہو گیا ہے۔ حالانکہ سینئر ڈاکٹر ، ڈاکٹر پرویز کی غیرذمہ دارانہ حرکتوں اور ہسپتال کی نرسوں وغیرہ سے محبت کی بڑھانے کے خلاف تھا۔ سینئر ڈاکٹر نے ڈاکٹر پرویز کو کئی بار کہا تھا کہ ڈاکٹری ایک معزز پیشہ ہے اسے اپنے کردار کو اعلیٰ اور ڈاکٹری کے پیشے کے لائق بنانا چاہئے۔ اس نے ڈاکٹر پرویز کو کئی بار سمجھایا تھا مگر ڈاکٹر پرویز پر بری عادتوں کی وجہ سے کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ ڈاکٹر پرویز نے ہسپتال کے خاص فنڈ سے کچھ رویے غبن بھی کر لئے تھے سینئر ڈاکٹر نے ڈاکٹر پرویز کے خلاف دیانتداری سے پوری رپورٹ لے کر سیکرٹری ہیلتھ کو بھجوا دی تھی اور ڈاکٹر پرویز کے خلاف انکوائری ہو رہی رتھی ۔ چنانچہ جب ڈاکٹر پرویز نے اپنی بنائی ہوئی لاش کی کارکردگی دیکھی اور لاش نے اس کے دیکھتے دیکھتے چاروں غنڈوں کو قتل کر دیا اور لاش کسی کو نظر بھی نہیں آ رہی تھیی تو ڈاکٹر پرویز نے اسی وقت فیصلہ کر لیا کہ وہ سب سے پہلے اپنے دشمن سینئر ڈاکٹر کی لاش کو ہاتھوں قتل کروائے گا۔

ڈاکٹر دارا گاڑی میں ڈاکٹر پرویز کے ساتھ بیٹھا لاش کے ذریعے معاشرے کی بھلائی اور گندے عناصر سے معاشرے کو صاف کرانے کے بارے میں سوچ رہا تھا ڈاکٹر پرویز سوچ رہا تھا کہ وہ کس روز اور کس وقت لاش کو خفیہ طور پر سینئر ڈاکٹر کر کے پاس بھیج کر اسے قتل کروائے۔ وہ یہ کام ڈاکٹر دارا سے چھپ کر کرنا چاہتا تھا اس خیال سے کہ ڈاکٹر دارا کو علم نہ ہو۔ اس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ وہ لاش کے زریعے سینئر ڈاکٹر کا سر تن سے جدا نہیں کرائے گا کیونکہ اس طرح ڈاکٹر کو پتہ چل جائے گا کہ یہ زوناش کا ہی کام ہے بلکہ وہ لاش کے ذریعے سینئر ڈاکٹر کو ہسپتال کی سب سے اوپر والی منزل کی چھت سے نیچے پھنکوا دے گا تاکہ ہر کسی کو یہی شک پڑے کہ ڈاکٹر چھت پر ٹہل رہا ہو گا کہ اس کا پاؤں پھسل گیا۔ وہ توازن برقرار نہ رکھ سکا اور نیچے گر پڑا۔ غیبی لاش کو تو کوئی دیکھے گا نہیں۔ سب کو یقین آجائے گا کہ سینئر ڈاکٹر اپنی غلطی سے نیچے گر پڑا تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے ہسپتال پہنچتے پہنچتے اپنے ذہن میں لاش کے ہاتھوں سینئر ڈاکٹر کو قتل کرنے کا مذموم منصوبہ بالکل پکا کر لیا۔ دارا کو اس نے ہوسٹل اتار دیا اور خود ہسپتال آگیا۔ وہ اپنا زیادہ وقت ہسپتال میں مریضوں کی سرسری دیکھ بھال اور ہسپتال کے مردہ خانے میں لاوارث لاشوں کی چیر پھاڑ کرتے گزار تا تھا اس کے مجرمانہ ذہنیت کے مالک دماغ کو لاشوں کی چیر پھاڑ سے خوشی ملتی تھی۔ اس کے علاوہ اس کا ایک نرس سے معاشقہ بھی چل رہا تھا۔ اس نرس کو ڈاکٹر پرویز نے شادی کا جھانسہ دے رکھا تھا اور اس سے عیاشی کرتا تھا۔ اس نرس کے علاوہ ڈاکٹر پرویز کا شہر کی ایک طوائف سے بھی عشق چل رہا تھا مگر وہ طوائف کے پاس کبھی کبھار جاتا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کے ماں باپ انتقال کر چکے تھے اور گھر میں اپنے چچا کے ساتھ رہنے کو اس کا بالکل جی نہیں چاہتا تھا۔ بس رات کو سونے کے واسطے گھر چلا جاتا، اس نے سوچ رکھا تھا کہ عنقریب کالج کے ہوسٹل میں کمرہ لے کر رہنے لگوں گا ، اگلے دن ڈاکٹر دارا اسے ہسپتال میں ملا اور کہنے لگا۔ ”اخبار میں جرائم کی خبریں آج بھی چھپی ہیں مگر مجرم جرم کر کے روپوش ہو جاتے ہیں۔ میں کسی ایسی خبر کی تلاش میں ہوں کہ مجرم جرم کرنے کے بعد پکڑا جائے اور ہم اسے عدالتوں کےچکر میں پڑنے سے پہلے ہی کیفر کردار تک پہنچا دیں۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”ہمیں اس معاملے میں اتنی بے صبری سے کام نہیں لیا چاہیے۔ ذرا سنبھل سنبھل کر قدم اٹھانا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نیکی برباد ہو جائے اور گناہ لازم ہو جائے۔ آج کے اخباروں میں صدر تھانے میں چار مجرموں کے پراسرار قتل کی پوری خبر چھپی ہے۔ ساتھ تصویریں بھی ہیں۔ سی آئی ڈی الرٹ ہو گئی ہے کیونکہ قاتل کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ مگر ایک تشویش ناک جملہ خبر کے آخر میں اخبار میں چھپا ہے۔ شاید اس پر تمہاری نظر نہیں پڑی۔ خبر کے آخر میں لکھا ہے کہ تھانے کے احاطے میں کسی انسان کے ننگے پیروں کے نشان پولیس کو ملے ہیں جو کافی بڑے پاؤں کے ہیں۔ پولیس یہ سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اتنے لمبے پاؤں کس آدمی کے ہو سکتے ہیں۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ” پولیس اس کا سراغ کبھی بھی نہیں لگا سکتی۔ ویسے احتیاط کے طور پر ہمیں زوناش کی لاش کے پاؤں میں پلین یعنی صاف تلے کے جوتے پہنا دینے چاہئیں۔” ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “اس کے سائز کے جوتے کہاں سے ملیں گے؟؟۔ اس کا ناپ لے کر کسی موچی کے پاس جوتے بنوانے گئے تو خطرہ ہے کہیں بات باہر نہ نکل جائے، کیونکہ یہ بات شہر میں عام پھیل گئی ہے کہ جس پراسرار قاتل نے حوالات میں ملزموں کو قتل کیا ہے اس کے پاؤں عام آدمی کے سائز سے بڑے لمبے تھے۔“

دارا کہنے لگا۔ “پھر لاش کے جوتے نہیں بنواتے مگر آگے سے ہمیں احتیاط کرنی ہوگی۔ ایسی کوئی بھی واردات کرنے ہم لاش کو جہاں بھیجیں وہاں پر اس کے پاؤں کے نشان ہمیں مٹا دینے ہوں گے۔”

ڈاکٹر پرویز نے سانس لیتے ہوئے کہا۔ ”ہاں بھائی ایسا ہی کریں گے لیکن ہمیں کچھ دیر خاموش رہنا چاہئے۔ کم از کم دو مہینے لاش سے کوئی واردات نہیں کروانی ہے۔ اگر ہم اپنی کسی غفلت کی وجہ سے پکڑے گئے تو ہوسکتا ہے ہم پر ملزموں کو قتل کروانے کا مقدمہ بن جائے۔”

ڈاکٹر دارا بھی اندر سے کچھ ڈر گیا کہ واقعی کہیں نیکی کرتے کرتے ان پر کوئی مصیبت نہ آن پڑے اور کچھ نہیں تو ان کا ڈاکٹری کا لائسنس تو ضرور منسوخ ہو جائے گا

دوسری طرف ڈاکٹر پرویز نے اپنے دشمن سینئر ڈاکٹر کو قتل کروانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ سینئر ڈاکٹر اپنے ہسپتال والے آفس میں دن کے دس بجے آتا تھا اور بارہ بجے تک بیٹھتا تھا۔ اس کے بعد شام کو چار بجے آتا تھا اور وارڈ کا راؤنڈ لگانے کے بعد چھ بجے دوبارہ آفس میں آجاتا تھا اور آٹھ بجے تک بیٹھتا تھا۔۔

ڈاکٹر پرویز نے رات کو سات اور آٹھ بجے کے درمیان سینئر ڈاکٹر کو قتل کروانے کا منصوبہ بنایا۔ وہ یہ کام بہت جلدی کرنا چاہتا تھا۔ اس کی وجہ صرف سینئر ڈاکٹر سے پرویز کی دشمنی اور اس کے خلاف کی جانے والی انکوائری تھی۔ سینئر ڈاکٹر نے انکوائری بورڈ میں پندرہ دن کے بعد ڈاکٹر پرویز کے خلاف گواہی دینی تھی، اگر فیصلہ ڈاکٹر پرویز کے خلاف ہوتا ہے تو اس کا اثر ڈاکٹر پرویز کے کیریئر پر پڑ سکتا تھا۔ چنانچہ ڈاکٹر پرویز یہ کام جتنی جلدی ہوسکے کر ڈالنا چاہتا تھا۔ دوسرے دن وہ ڈاکٹر دارا کے ساتھ شام کے وقت قلعے کی لیبارٹری میں گیا۔زوناش کی لاش اسی طرح سٹریچر پر گہری نیند سو رہی تھی۔ دونوں ڈاکٹروں نے لاش کی نبض چیک کی۔ لاش کا دل اپنی مخصوص رفتار سے آہستہ آہستہ دھڑک رہا تھا۔ اور وہ گہری نیند سوئی ہوئی تھی۔ کچھ دیر تک دونوں ڈاکٹر لاش کے پاس رہے پھر ہسپتال واپس آگئے۔ پرویز نے دارا سے کہا۔ ”میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں لاش کو کم از کم تین چار دنوں کے لئے اکیلے ہی چھوڑ دینا چاہئے۔ میرا خیال ہے نیند کا لاش پر صحت مند اثر پڑے گا۔ ویسے بھی ہمیں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ “

“ٹھیک ہے۔” ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ”ہم تین دن قلعے میں نہیں جائیں گے۔”

لیکن ڈاکٹر پرویز کے ذہن میں تو کوئی دوسرا پروگرام تھا۔ وہ دوسرے دن شام ہوتے ہی آسیبی قلعے میں پہنچ گیا۔ آج اس نے اپنے دشمن سینئر ڈاکٹر کو قتل کروانے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ اس نے دارا سے کہا کہ وہ ایک جاننے والے کی سفارش کے سلسلے میں دوسرے ہسپتال میں جا رہا ہے۔وہاں اسے رات ہو جائے گی اور گاڑی میں بیٹھ کر سیدھا آسیبی قلعے کی طرف چل پڑا۔ گاڑی قلعے کے احاطے میں کھڑی کر کے وہ سیدھا لیبارٹری کے تہہ خانے میں آگیا، احتیاط کے طور پر وہ ریموٹ کنٹرول ہمیشہ اپنے پاس ہی رکھتا تھا۔ اس نے لیبارٹری دروازہ کھول کر دیکھا۔ بتی جل رہی تھی اور اس کی روشنی میں زوناش کی لاش سٹریچر پر اسے نظر نہیں آرہی تھی۔ وہ لیبارٹری میں داخل ہونے سے پہلے مخصوص لینز والی عینک آنکھوں پر لگانی بھول گیا تھا۔ اس نے جلدی سے جیب میں سے عینک نکال کر لگائی اور اس کے بعد سٹریچر پر نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ زوناش کی لاش سٹریچر پر پڑی تھی، وہ اس کے قریب آگیا۔ لاش ہلکے ہلکے خراٹے لے رہی تھی۔

اس وقت شام کے پانچ بجنے والے تھے۔ سردیوں کے موسم میں پانچ بجے ہی اندھیرا ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر پرویز لاش کو ساتھ لے کر چھ اور سات کے درمیان ہسپتال پہنچ جانا چاہتا تھا ، دارا ہوسٹل میں تھا۔ اس کا آج ناغہ تھا ، اسے آج ہسپتال نہیں آتا تھا۔

ڈاکٹر پرویز نے ریموٹ کنٹرول ہاتھ میں لے کر اس کا بٹن دبایا اور لاش سے کہا۔ ” زوناش! جاگو اور اٹھ کر بیٹھ جاؤ۔”

زوناش کی لاش ایک جھٹکے سے جاگ پڑی اور اٹھ کر سٹریچر پر بیٹھ گئی۔

پرویز نے کہا۔ “میں جو تمہیں کہوں اسے غور سے سنو۔ سٹریچر سے اٹھ کر میرے پیچھے پیچھے آؤ اور میرے ساتھ باہر گاڑی میں آکر بیٹھ جاؤ۔”

ڈاکٹر یہ تجربہ بھی کرنا چاہتا تھا کہ لاش لمبے لمبے فقرے سمجھتی ہے کہ نہیں۔ وہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے ساتھ اسے حکم نہیں دینا چاہتا تھا۔ زوناش کا ذہن آہستہ آہستہ بیدار ہوتا جا رہا تھا۔ اس نے ڈاکٹر کا پورا فقرہ سن لیا تھا اور اسے سمجھ بھی لیا تھا۔ لاشن سٹریچر پر سے اٹھی اور ڈاکٹر پرویز کے پیچھے چل پڑی۔ ڈاکٹر اسے لے کر اور لیبارٹری کو تالا لگا کر تہہ خانے سے نکل کر آسیبی قلعے سے باہر آگیا۔ احاطے میں اس کی گاڑی کھڑی تھی۔ اس نے لاش کو دوسری بار بالکل حکم نہ دیا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ لاش نے اس کے پورے جملے کو ذہن نشین کر لیا ہے کہ نہیں۔ اس نے گاڑی کے پاس جا کر پچھلا دروازہ کھول دیا۔ یہ دیکھ کر وہ بڑا خوش ہوا کہ لاش گاڑی کی پچھلی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی۔

ڈاکٹر پرویز ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔ ڈاکٹر پرویز ا نے عینک لگا رکھی تھی۔ اس عینک کے شیشے معمولی سے سبزی مائل تھے، رات دیکھنے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی تھی اور سب کچھ واضح طور پر نظر آتا تھا۔ چنانچہ جب وہ لاش کے ساتھ ہوتا تھا تو یہ عینک آنکھوں پر لگائے رکھتا تھا تاکہ وہ لاش کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکے۔ اس نے سامنے لگے ہوئے آئینے میں سے پچھلی سیٹ یٹ پر دیکھا۔ پچھلی سیٹ پر اسے لاش خاموش بیٹھی نظر آ رہی تھی۔ اس نے یونہی عینک تھوڑی دیر کے لیے اتار کر دیکھا تو لاش سیٹ پر دکھائی نہ دی۔ اس نے عینک کے دوبارہ لگالی لاش پھر نظر آنے لگی۔ ڈاکٹر مطمئن ہو گیا۔ ہسپتال پہنچنے کے بعد اس نے گاڑی ہسپتال کے ہیڈ آفس کے باہر کھڑی کی اور لاش سے مخاطب ہو کر کہا۔ “زوناش! تم خاموشی سے میرے پیچھے پیچھے آؤ گے۔ جہاں میں تمہیں کھڑا ہونے کو کہوں گا وہاں تم کھڑے ہو جاؤ گے، جب تک میں تمہیں یہ نا۔کہوں کہ آجاؤ ، تم وہیں کھڑے رہو گے۔ کیا تم میری باتیں سن رہے ہو ؟”

لاش کے حلق سے عجیب سی کمزور آواز نکلی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے لاش نے یہ کہنے کی کوشش کی ہو کہ میں سن رہا ہوں۔ ڈاکٹر نے محسوس کیا کہ لاش کا جسم آہستہ آہستہ ترقی کر رہا ہے اور اس کی نشونما ہو رہی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ کچھ روز بعد لاش باتیں بھی کرنی شروع کر دے۔

ڈاکٹر نے گاڑی سے باہر نکل کر دروازہ بند کر دیا۔ اس نے جان بوجھ کر گاڑی ایسی جگہ کھڑی کی تھی جہاں اندھیرا تھا۔ یہ اس نے اس لئے کیا تھی کہ جب لاش پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر باہر نکلے تو کوئی اسے دیکھ کر حیران نہ ہو کہ اس گاڑی کی پچھلی سیٹ کا دروازہ اپنے آپ کھل کر کیسے بند ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر کے باہر نکلنے کے بعد زوناش کی لاش بھی اپنے آپ دروازہ کھول کر گاڑی سے باہر نکل آئی۔ ڈاکٹر پرویز ہسپتال کے ہیڈ آفس کی طرف چل پڑا۔ لاش اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔ ڈاکٹر پرویز اپنے دشمن سینئر ڈاکٹر کے کمرے کے باہر جا رک گیا۔ اس کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ وہ لاش کو سینئر ڈاکٹر کا چہرہ دکھانے کے لیے لایا تھا۔ برآمدے میں اس وقت کوئی نہیں تھا۔

آفس کے بند دروازے کے پاس ڈاکٹر رک گیا، لاش بھی رک گئی ۔ ڈاکٹر نے لاش کے قریب آکر آہستہ سے کہا۔ “اس کمرے میں ایک آدمی کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، اس کو غور سے دیکھ لینا۔ جب میں کمرے میں داخل ہو جاؤں تو تم کمرے کے اندر آکر دروازے کے پاس ہی کھڑے ہو جانا۔”

یہ کہہ کر ڈاکٹر پرویز نے دروازے کی گھنٹی کا بٹن دبا دیا۔ اندر اس کا سینئر ڈاکٹر کام کر رہا تھا۔ اس کی آواز آئی۔ “یس اندر آجاؤ۔”

ڈاکٹر پرویز دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی زوناش لاش بھی کمرے میں داخل ہو گئی اور دروازے کے ساتھ ہی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی۔ اگرچہ یہ دونوں ڈاکٹر ایک دوسرے کو ناپسند کرتے تھے مگر دوسرے کو ہمیشہ بظاہر بڑے اخلاق اور خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ ڈاکٹر پرویز نے اپنے شمن کو سلام کیا۔ سینئر ڈاکٹر نے بھی مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا۔ سینئر ڈاکٹر نے ڈاکٹر پرویز کی عینک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ ”ڈاکٹر پرویز! یہ تم نے عینک کب سے لگانی شروع کر دی ہے ؟

پرویز عینک اتار کر رومال سے صاف کرتے ہوئے بولا۔ ” زیرو نمبر کی ہے۔ آئی سائٹ چیک کروائی تھی، ڈاکٹر رمضان نے کہا زیرو نمبر کسی وقت لگا لیا کرو۔”

اس دوران ڈاکٹر پرویز نے پیچھے گردن موڑ کر دروازے کو دیکھا چونکہ اس نے عینک اتاری ہوئی تھی اس لئے دروازے کے پاس دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی زوناش کی لاش اسے نظر نہ آئی۔ اس نے عینک لگائی اور لاش دوبارہ نظر آنے لگی۔ سینئر ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “دروازے کی طرف کیا دیکھ رہے ہو ڈاکٹر؟ فکر نه کرو دروازہ اپنے آپ بند ہو جاتا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” آج بڑی سردی ہے۔ سوچا کہیں دروازہ کھلا نہ رہ گیا ہو “

سینئر ڈاکٹر نے پوچھا۔ “کہو، کیسے آنا ہوا؟ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟”

ڈاکٹر پرویز نے دل میں کہا۔ خدمت تو میں تمہاری آج کرنے والا ہوں۔ لیکن اوپر سے کہا۔ ” میں کسی خاص کام سے نہیں آیا۔ بس اوپر اپنے وارڈ میں جا رہا تھا کہ آپ کے آفس پر نظر پڑی سوچا سلام کرتا جاؤں۔”

سینئر ڈاکٹر بولا۔ ”آپ نے بڑی مہربانی فرمائی، اس وقت میں ذرا مصروف ہوں۔ سالانہ رپورٹ تیار کر رہا ہوں۔ معافی چاہتا ہوں، آپ کو زیادہ وقت نہیں دے سکوں گا۔”

ڈاکٹر پرویز نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا “میں بھی چلتا ہوں، پھر کسی وقت حاضر ہوں گا۔ خدا حافظ۔”

“اللہ حافظ ” اور سینئر ڈاکٹر اپنے کام میں مصروف ہو گیا

ڈاکٹر پرویز اٹھ کر دروازے کے پاس آیا۔ زوناش کی لاش دروازے کے باہر کھڑی تھی۔ وہ سینئر ڈاکٹر کو گھور رہی تھی۔ ڈاکٹر پرویز نے لاش کے قریب سے گزرتے ہوئے آہستہ سے کہا۔ ” زوناش! میرے پیچھے آجاؤ۔”

لاش ڈاکٹر کے ساتھ ہی کمرے سے باہر آگئی۔ سخت سرد شام تھی۔ برآمدہ بالکل خالی تھا، آس پاس کوئی آدمی نہیں تھا۔ ڈاکٹر پرویز لاش کو ساتھ لے کر گاڑی میں آکر بیٹھ گیا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے لاش سے کہا۔ ” زوناش ! غور سے سنو ! یہ جو آدمی اندر دفتر میں بیٹھا ہوا ہے، اس کے کمرے میں جا کر پہلے اس کی گردن دبا کر اسے بے ہوش کرو پھر اسے اٹھا کر بلڈنگ کی سیڑھیوں پر چڑھ کر اوپر چھت پر جاؤ اور اسے چھت پر سے زور سے گھما کر نیچے پھینک دو اور فوراً میرے پاس واپس آ جاؤ۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں کیا تم سمجھ گئے ہو ؟”

لاش کے حلق سے ایک عجیب آواز نکلی۔ جیسے لاش کہہ رہی ہو ” ہاں، میں سمجھ گیا ہوں۔”

لاش دروازہ کھول کر دوبارہ سینئر ڈاکٹر کے کمرے کی طرف بڑھی۔ وہاں اندھیرا تھا۔ سردی کی وجہ سے ابھی تک ادھر سے کوئی انسان نہیں گزرا تھا۔ کسی نے ڈاکٹر پرویز کو گاڑی میں بیٹھا ہوا نہیں دیکھا تھا۔ لاش سینئر ڈاکٹر کے کمرے کا درواز کھول کر کمرے میں گھس گئی۔ کمرے میں سے ایسی آواز آئی جیسے سینئر ڈاکٹر نے کسی کو مدد کے لیے پکارا ہو مگر اس کی آواز دب گئی۔ دوسرے لمحے زوناش کی لاش کمرے میں سے باہر آگئی۔ اس نے بے ہوش سینئر ڈاکٹر کو کاندھے پر ڈال رکھا تھا۔ کمرے کے ساتھ ہی اوپر جانے والا زینہ تھا۔ لاش زینے میں غائب ہو گئی۔ چمد لمحوں کے بعد پرویز نے ایسی آواز سنی جیسے بلڈنگ کی دوسری طرف کسی نے اوپر سے آٹے کی بوری نیچے پھینک دی ہو۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔ اتنے میں لاش بڑے اطمینان سے زینے میں نمودار ہوئی اور قدم قدم چلتی گاڑی میں آکر بیٹھ گئی۔ ڈاکٹر پرویز نے گاڑی آگے بڑھائی اور اسے نکال کر باہر سڑک پر لے آیا۔

سڑک پر آتے ہی اس نے گاڑی کی رفتار تیز کر دی۔ اس کا رخ آسیبی قلعے کی طرف تھا۔ ریموٹ کنٹرول اس نے اپنی جیب میں رکھ لیا تھا۔ قلعے میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے زوناش کی لاش کو لیبارٹری کے سٹریچر پر بٹھایا اور ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر لاش سے کہا۔ “سٹریچر پر لیٹ کر گہری نیند سو جاؤ۔”

لاش سٹریچر پر فوراً لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر کے گہری نیند سو گئی۔ جب ڈاکٹر نے دیکھا کہ لاش واقعی سو گئی ہے اور ہلکے ہلکے خراٹے لے رہی ہے تو لیبارٹری کوتالا لگا کر گاڑی میں بیٹھا اور ہسپتال کی طرف چل پڑا۔ جب وہ ہسپتال میں پہنچا تو وہاں ایک ہجوم جمع تھا۔ ڈاکٹر دارا ایک طرف کھڑا ہسپتال کی ہیڈ نرس کو کچھ کہہ رہا تھا ڈاکٹر پرویز نے جاتے ہی پوچھا۔ “کیا ہوا؟ یہاں اتنا ہجوم کیوں ہے؟”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ ” تمہیں نہیں معلوم؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”میں دوسرے ہسپتال گیا ہوا تھا، ابھی آیا ہوں۔ خیر توہے؟؟”

ہیڈ نرس نے کہا۔ “سینئر ڈاکٹر صاحب کا چھت سے گر کر انتقال ہو گیا ہے۔”

“او مائی گاڈ ا مگر یہ کیسے ہوا؟” پرویز نے پوچھا۔

ڈاکٹر دارا بولا۔ “کچھ نہیں پتہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔ میں حیران ہوں کہ اتنی سردی میں ڈاکٹر صاحب کو چھت پر جانے کی کیا ضرورت تھی؟”

ہیڈ نرس نے کہا۔ “لگتا ہے ڈاکٹر صاحب چھت پر ٹہل رہے تھے اندھیرے میں دیکھ نہ سکے اور ان کا پاؤں پھسلا اور نیچے گر پڑے۔”

“یہ تو بہت برا ہوا۔” پرویز نے جھوٹ موٹ غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ لاش کہاں ہے ؟”

دارا بولا۔ ” سرد خانے میں پڑی ہے۔ آؤ میرے ساتھ ۔”

سینئر ڈاکٹر کی لاش مردہ خانے کے ساتھ والے سرد خانے میں سٹریچر پر پڑی تھی وہاں پولیس کے دو سپاہی بیٹھے تھے ہسپتال کے تین سینئر ڈاکٹر بھی وہاں تھے۔ ڈاکٹر پرویز نے کپڑا ہٹا کر لاش کو دیکھا۔ سینئر ڈاکٹر کی کھوپڑی کھل چکی تھی۔ منہ سوجا ہوا تھا اور آدھے چہرے پر خون جما ہوا تھا۔ ڈاکٹر ڈاکٹر پرویز نے اپنا چہرہ انتہائی غمگین بنایا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے اپنی آنکھ میں آنسو لاتے ہوئے بولا۔ “ہم ایک انتہائی قیمتی شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔”

ڈاکٹر دارا نے گہری نگاہ سے ڈاکٹر پرویز کو دیکھا اور اسے ساتھ لے کر سرد خانے سے باہر آکر سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔ وہاں سینئر ڈاکٹر کے کچھ رشتے دار بھی جمع تھےاور تھانیدار سے باتیں کر رہے تھے۔ ڈاکٹر دارا اور پرویز بالکل اکیلے تھے۔

دارا نے کہا۔ ” پر ویز! سچ سچ بتانا۔ یہ سب کچھ تم نے زوناش کی لاش سے تو نہیں کروایا ؟

ڈاکٹر پرویز نے دارا کی طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور غصے کو دباتے ہوئے کہا۔ “تمہیں ایسی بات کہتے ہوئے شرم آنی چاہئے تھی۔ تم مجھے اتنا گھٹیا سمجھتے ہو کہ میں ایسی ذلیل حرکت کروں گا۔ مجھے بہت افسوس ہے کہ تمہیں میرے بارے میں ایسا خیال آیا۔”

اور ڈاکٹر پرویز غصے میں اٹھ کر اوپر اپنے وارڈ کی طرف چل دیا۔ ڈاکٹر پرویز اندر سے خوش تھا کہ کسی کو اس پر یا اس کی لاش پر ذرا بھی شک تک نہیں ہوا اور اس نے اپنے راستے سے اپنے سب سے بڑے دشمن کو ہٹادیا ۔۔

دوسرے دن اخباروں میں سینئر ڈاکٹر کی موت کی خبر چھپی تھی۔ کیونکہ اس قتل کا کوئی ثبوت نہیں تھا اس لئے پولیس نے یہی خیال ظاہر کیا کہ موت اتفاقی ہےچھت پر سے ڈاکٹر صاحب کا پاؤں پھسل گیا تھا اور وہ نیچے گر پڑے۔

دو دن تک ڈاکٹر پرویز نے دارا سے بات نہ کی۔ وہ اس پر یہ ظاہر کرنا چاہتاتھا کہ اس نے پرویز پر بہتان لگایا ہے۔ ڈاکٹر دارا کمزور کردار کا آدمی تھا، ڈاکٹر پرویز کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ اندر سے اسے یقین تھا کہ یہ کام ڈاکٹر پرویز کے علاوہ اور کسی کا نہیں ہے لیکن اس نے اپنی زبان بند رکھی اور تیسرے دن ڈاکٹر پرویز ڈاکٹر سےکہا۔

”بھائی مجھے معاف کر دو۔ میں نے یونہی وہ بات کہہ دی تھی۔ مجھے یقین ہے ڈاکٹر کی موت اتفاقیہ ہوئی ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے تھوڑا دارا کو جھاڑا پھر اس سے صلح کر لی۔ وہ بھی اسے نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے رازداں تھے اور دونوں کے کہنے پر زوناش کی لاش نےچند روز پہلے تھانہ صدر کی حوالات میں چار آدمیوں کو قتل کیا تھا۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”چلو قلعے میں چل کر زوناش کی لاش کی خبر لیتے ہیں۔ میں کئی دن سے لاش کے پاس نہیں گیا۔”

وہ قلعے کی تہہ خانے والی لیبارٹری میں پہنچ گئے۔ زوناش کی لاش اسی طرح سٹریچر پر سو رہی تھی۔ ڈاکٹر دارا نے لاش کی نبض وغیرہ چیک کی اور بولا۔ ”میرا خیال ہے ہمیں کچھ عرصے کے لیے لاش سے کوئی کام نہیں لینا چاہئے۔ شہر میں اوپر تلے پانچ قتل ہو گئے ہیں۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”چار تو ہماری لاش نے قتل کئے، وہ بدمعاش اور مجرم ۔ یہ پانچواں قتل کون سا ہے؟”

دارا بولا۔ ”چلو قتل نہ سہی لیکن سینئر ڈاکٹر کی موت کی واردات تو ہو گئی ہے، بھائی سچ تو یہ ہے کہ مجھے کچھ ڈر لگنے لگا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے دل میں سوچا کہ یہ کمزور دل ڈاکٹر دارا کہیں اپنے ساتھ اسے بھی ما مروادے۔ اس کا کچھ کرنا پڑے گا۔

اس نے کہا۔ ” اس قسم کی باتیں کرو گے تو اپنے ساتھ مجھے بھی لے ڈوبو گے۔ اگر بعد میں پچھتانا تھا تو میرے ساتھ اس پروجیکٹ میں شامل کیوں ہوئے تھے۔ اس وقت تو بڑھ چڑھ کر کہہ رہے تھے کہ شہر کے غنڈہ عناصر سارے سمگلر، سارے بد معاش ختم کر دیں گے۔”

ڈاکٹر دارا بولا۔ ”سوچا تو میں نے یہی تھا مگر اب سچ پوچھو تو دل میں ایک خوف

بیٹھ گیا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “تو پھر ایسا کرو کچھ دن کی چھٹی لے کر کراچی ہوا بدلی کے لیے چلے جاؤ۔”

دارا بولا۔ ”میرا خیال ہے تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ مجھے ایسا ہی کرنا چاہئے”

ڈاکٹر پرویز خود بھی یہی چاہتا تھا کہ یہ بزدل شخص اس کے راستے سے ہٹ جائے تاکہ وہ جلدی جلدی زوناش کی لاش کی مدد سے اپنے دو چار دشمنوں کو ٹھکانے لگا دے۔ ڈاکٹر دارا نے ایسا ہی کیا۔ دوسرے دن اس نے ہسپتال سے سلوک ہفتے کی چھٹی لی اور کراچی اپنے بڑے بھائی کے ہاں چلا گیا۔ اب ڈاکٹر پرویز کے لئے اپنے دشمنوں سے نمٹنے کے لیے میدان صاف تھا۔ اس کا دشمن نمبر دو سیٹھ کریم تھا۔ سیٹھ کریم شہر کا امیرکبیر صنعت کار تھا۔ اس کے پلاسٹک کے کھلونوں کے کارخانے تھے اور شہر کے فیشن ایبل علاقے میں اپنے بنگلے میں رہتا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کی اس سے دشمنی اس وجہ سے تھی کہ شہر کی جس فیشن ایبل پرائیویٹ طوائف مشهور ماڈل گرل سلومی سے وہ محبت کرتا تھا، سیٹھ کریم نے اسے اپنی دولت کے ذریعے اپنے قبضے میں کر رکھا تھا اور سلومی نے ڈاکٹر پرویز سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا ، اسے جب تک سیٹھ کریم نے دولت کی جھلک نہیں دکھائی تھی ، سلومی ڈاکٹر پرویز سے بڑی اچھی طرح ملا کرتی تھی۔ اس کی محبت کا دم بھرتی تھی اور اس کے ساتھ گرمیوں میں سوات اور کوہ مری بھی جاکر رہا کرتی تھی، لیکن سیٹھ کریم نے اسے اپنی دولت کے سنہری جال میں پھنسا لیا تھا۔ وہ اس پر بے پناہ دولت لٹاتا تھا اور سلومی نے پرویز سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا۔ آخری بار ڈاکٹر پرویز ایک شام کو سلومی کی کوٹھی پر گیا اور اس سے محبت کا اظہار کیا تو وہ کہنے لگی۔ ” پرویز بہتر یہ ہے کہ اب تم مجھ سے نا ملا کرو۔”

ڈاکٹر پرویز نے پوچھا۔ “کیوں سلومی؟ ایسی کون سی غلطی ہو گئی ہے مجھ سے”؟

سلومی نے کھلے الفاظ میں کہا۔ ” اس لئے کہ سیٹھ کریم نے مجھے تم سے ملنے سے منع کیا ہے اور سیٹھ کریم کی بات میں ٹال نہیں سکتی کیوں کہ وہ مجھ پر بے پناہ دولت خرچ کرتا ہے۔ اسنے مجھے گاڑی خرید کر دی ہے اور اب میرے لئے وہ مری میں ایک بنگلہ بنوا رہا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز کو بڑا دکھ ہوا تھا۔ اس نے کہا۔ “آخر تم بھی دولت کی پجاری نکلی، ٹھیک ہے اگر تم یہی چاہتی ہو تو میں تم سے نہیں ملا کروں گا لیکن میں تمہاری محبت کو اپنے دل سے نہیں نکال سکوں گا۔ یہ میرے اختیار میں نہیں “

۔ سلوی نے کوئی پروا نہ کی اور ڈرائنگ روم میں پرویز کو اکیلا چھوڑ کر دوسرے کمرے میں جا کر سیٹھ کریم کے ساتھ فون پر ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگی۔ ڈاکٹر پرویز جل بھن کر سلومی کی کوٹھی سے واپس آگیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب پرویز اور ڈاکٹر دارا کے دل میں زوناش کی لاش تیار کرنے کا خیال نہیں آیا تھا۔

اب جبکہ ڈاکٹر پرویز کے پاس اس کے حکم کی تعمیل کرنے والی زوناش کی لاش موجود تھی تو اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ سیٹھ کریم کو ٹھکانے لگا کر سلومی سے اپنی محبت کی ناکامی کا بدلہ لے گا۔

اسے معلوم تھا کہ سیٹھ کریم ہفتے کی رات سلومی کی کوٹھی میں آکر بسر کرتا تھا اس رات شراب کی بوتل کھل جاتی ہے اور دونوں رات بھر داد عیش دیتے تھے اور سلومی کی سوتیلی ماں یا اس کی نائیکہ دوسرے کمرے میں شراب پی کر بے ہوش پڑی سو رہی ہوتی ہے۔ سلومی کا ایک ہی نوکر تھا جو رات کے دس بجے سیٹھ جی کے آنے پر وہاں سے چلا جاتا تھا۔ یہ سیٹھ کریم کا حکم تھا کہ جس رات وہ آئے اس رات کوٹھی میں کوئی نوکر چاکر نہیں ہونا چاہئے۔ سیٹھ کریم کو ٹھکانے لگانے سے پہلے زوناش کی لاش کو سیٹھ کریم کا چہرہ دکھانا ضروری تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے بہت دماغ لڑایا مگر کوئی مناسب سکیم اس کے دماغ میں نہ آئی۔ آخر اس نے یہی فیصلہ کیا کہ جب سیٹھ کریم سلومی کی کوٹھی پر داد عیش دے رہا ہو ، وہ زوناش کی لاش کو ساتھ ے کر وہاں پہنچ جائے اور سیٹھ کریم کے ساتھ بدکار اور بے وفا سلومی کا بھی کام تمام کردے۔ دونوں کا قصہ پاک ہو جائے گا اور کسی کو اس پر شک بھی نہیں پڑے گا۔

وہ لاش کو لے کر سیٹھ کریم کے آفس چہرہ شناسی کے لیے گیا تو دفتر کے لوگ ڈاکٹر پرویز کو وہاں دیکھ لیں گے اور بعد میں پولیس کو ضرور بیان دیں گے.. کہ دو دن پہلے ایک ڈاکٹر سیٹھ صاحب سے ملنے آئے تھے اور ڈاکٹر پرویز کو یہ گوارا نہیں تھا کہ اخباروں میں سیٹھ کریم کے قتل کے سلسلے میں اس کا نام آئے سلومی کی کوٹھی میں لاش دونوں کو بڑے آرام سے موت کی نیند سلادے گی اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔ کوئی ڈاکٹر پرویز کو وہاں دیکھ بھی نہیں سکے گا۔ ویسے بھی ڈاکٹر پرویز صرف ایک بار ہی سلومی کی کوٹھی پر گیا تھا اور اس روز گھر پر اس کی سوتیلی ماں بھی نہیں تھی۔ وہ سلومی سے اکثر گلبرگ یا ڈیفنس کے ہوٹلوں میں ہی ملاقات کرتا تھا۔

اب وہ ہفتے کی رات کا انتظار کرنے لگا۔ دو دن بعد ہفتے کی رات آگئی۔ ڈاکٹر پرویز نے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ سیٹھ کریم سلومی کی کوٹھی پر موجود ہے یا نہیں، سلومی کو رات کے دس بجے فون کیا۔ اس نے فون اٹھایا تو ڈاکٹر پرویز نے کہا ۔ “سلومی بول رہی ہو ؟”

سلومی نے کہا۔ “کیا بات ہے؟ میں نے تمہیں پہچان لیا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “سلومی! میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں، مجھے پانچ منٹ دے دو۔ میں تمہارے پاس پانچ منٹ ٹھہروں گا اور تم سے اپنے دل کی کچھ آخری باتیں کہہ کر چپ چاپ واپس چلا جاؤں گا۔” سلومی نے کہا۔ “سوری ڈاکٹر! اس وقت سیٹھ صاحب آئے ہوئے ہیں، کل تم سے بات کروں گی۔” سلومی نے فون بند کر دیا۔ ڈاکٹر نے جو معلوم کرنا تھا وہ اسے معلوم ہوگیا تھا۔ سیٹھ کریم سلومی کی کوٹھی پر موجود تھا۔ وہ اسی وقت گاڑی لے کر سیدھا قلعے میں گیا۔ لیبارٹری میں زوناش کی لاش گہری نیند سو رہی تھی۔ پرویز نے عینک لگا رکھی تھی۔ اس نے عینک اتار کر دیکھا تو لاش غائب تھی اور نظر نہیں آرہی تھی، ڈاکٹر پرویز ہمیشہ لاش کے پاس جاکر تصدیق کر لیتا تھا کہ لاش غائب ہے یا نہیں۔ اسے خدشہ تھا کہ کسی اندرونی کیمیاوی عمل سے لاش دوبارہ نظر آنا شروع ہو جائے

اس نے ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر لاش سے کہا۔ ”زوناش! بیدار ہوجاؤ”

اور لاش ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ڈاکٹر نے دوسرا بٹن دبا کر کہا۔ “اب سٹریچر پر سے اتر کر میرے پیچھے پیچھے آجاؤ۔”

لاش نے ایسا ہی کیا۔ ڈاکٹر پرویز لاش کو لے کر گاڑی میں آکر بیٹھ گیا۔ لاش معمول کے مطابق پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی۔ ڈاکٹر پرویز کی گاڑی سلومی کی کوٹھی کی طرف جارہی تھی۔ وہاں پہنچتے پہنچتے رات کے پونے گیارہ بج گئے۔ سرد رات دھند میں لپٹی ہوئی تھی۔ کوٹھی کا گیٹ آدھا کھلا تھا۔ اندر پورچ میں سیٹھ کریم اور سلومی کی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ڈاکٹر پرویز نے خاموشی سے اپنی گاڑی کوٹھی کے باہر ہی کھڑی کردی۔

اس نے زوناش کی طرف منہ کر کے کہا۔ ” زوناش! میری آواز سن رہے ہو ؟”

زوماش کی مردہ آنکھیں آدھی کھلی تھیں۔ اس کے حلق سے وہی آواز نکلی . جیسے بولنا چاہتا ہوں کہ میں سن رہا ہوں۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ میں تمہیں ابھی کوٹھی کے کمرے میں لے کر جاؤں گا۔ وہاں ایک لڑکی اور ایک ادھیٹر عمر آدمی ہو گا۔ تمہیں ان دونوں کی گردنیں مروڑ کر ان کے سرتن سے جدا کر دینے ہیں۔۔ تم سمجھ گئے ؟”

زوناش کی لاش کے حلق سے ایک بار پھر وہی ہلکی سی آواز نکلی۔ جیسے کہہ رہا ہو میں سمجھ گیا ہوں۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ”میرے پیچھے پیچھے آجاؤ اور جہاں میں رک جاؤں وہاں کھڑے ہو جانا۔ جب میں کہوں انہیں پکڑ لو تو تمہیں فوراً لڑکی اور آدمی کو پکڑ کے ان کے سرتن سے جدا کر دینے ہیں۔ آ جاؤ۔”

ڈاکٹر پرویز لاش کو لے کر سلومی کی کوٹھی میں داخل ہو گیا۔ اسے معلوم تھا کہ سلومی کے بیڈ روم کا دروازہ عقب کی جانب باغ میں کھلتا ہے ،بیڈ روم کا دروازہ اندر سے لاک تھا۔ ڈاکٹر پرویز رک گیا۔ لاش بھی اس کے پیچھے رک گئی۔ ڈاکٹر پرویز نے عینک اتار کر لاش کو احتیاطاً دیکھا لاش غائب تھی۔ اس نے دوبارہ عینک لگالی اور جیب سے باریک پین نکالی اور دروازے کے تالے کے سوراخ میں ڈال کر اسے دو تین بار گھمایا۔ کٹک کی ہلکی سی آواز سے تالا کھل گیا۔ بند دروازے کے اندر سے گانے کی آواز آرہی تھی۔ ڈاکٹر پرویز دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ لاش اس کے پیچھے پیچھے تھی۔ بیڈ روم لاش میں روشنی ہو رہی تھی اور سلومی سیٹھ کریم کے پہلو میں صوفے پر بیٹھی تھی۔ دونوں نے اچانک ڈاکٹر پرویز کو اندر داخل ہوتے دیکھا تو آگ بگولا ہو گئے۔ سلومی فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور بولی۔ “تمہیں رات کے وقت ہمارے کمرے میں آنے کی جرات کیسے ہوئی ؟”

ڈاکٹر پرویز نے لاش سے کہا۔ “زوناش! انہیں پکڑ لو۔“

سلومی اور سیٹھ کریم زوناش کی لاش کو نہیں دیکھ رہے تھے۔ ان کے سامنے لاش غائب تھی۔ سیٹھ کریم نے ڈاکٹر پرویز کو گالی دے کر کہا۔ ” میں ابھی پولیس بلاکر تمہیں حوالات میں پہنچاتا ہوں۔”

مگر اب دیر ہو چکی تھی۔ لاش نے سب سے پہلے سیٹھ کریم کو ہی پکڑا۔ اسکو گردن سے دبوچ کر اوپر اٹھایا اور اس کی گردن مروڑ کر سر تن سے جدا کرکے پھینک دیا۔ سلومی سکتے میں آگئی۔ وہ کچھ نہ سمجھ سکی کہ اپنے آپ سیٹھ کر گردن کیسے الگ ہو گئی ہے۔ دوسرے لمحے لاش نے سلومی کا سر بھی اس طرح جدا کر کے پھینک دیا۔ شور سن کر سلومی کی سوتیلی ماں یعنی اس کی نائیکہ آگئی۔ اس نے ڈاکٹر پرویز کو دیکھا۔ پھر دو سر کٹی لاشیں دیکھیں تو چیخ مار کر باہر بھاگنے لگی تھی کہ ڈاکٹر پرویز نے زوناش کی لاش کو ریموٹ کا بٹن دبا کر حکم دیا زوناش! اس عورت کا بھی سرکاٹ ڈالو۔”

لاش دو قدم بھر کر اس تک پہنچ گئی اور اسے باہر جاتے ہوئے پکڑلیا اور اس کی بھی گردن مروڑ کر سر تن سے جدا کر دیا۔ اس عورت کو ڈاکٹر پرویز قتل نہیں کروانا چاہتا تھا مگر وہ مجبور ہو گیا۔ کیونکہ اس عورت نے ڈاکٹر پرویز کو موقع واردات پر دیکھ لیا تھا اور وہ اس قتل کی عینی گواہ بن گئی تھی۔

اس کام سے فارغ ہونے کے فوراً بعد ڈاکٹر نے لاش کو حکم دیا۔ ”جلدی سے آکر گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔” لاش اسی لمحے ڈاکٹر پرویز کے پیچھے پیچھے بیڈ روم سے باہر آگئی اور ڈاکٹر پرویز اسے لے کر کوٹھی سے باہر آگیا۔ وہاں سناٹا اور ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ کوئی انسان نظر نہیں آتا تھا۔ کسی نے ڈاکٹر کو کو ٹھی میں جاتے اور باہر آتے نہیں دیکھا تھا۔ لاش رکی پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ تو ڈاکٹر پرویز نے فوراً گاڑی سٹارٹ کی اور جتنی جلدی اس علاقے سے نکل سکتا تھا لاش کو ساتھ لے کر وہاں سے نکل گیا۔ رات کے سوا بارہ بج رہے تھے جب وہ زوناش کی لاش کو لے کر قلعے کی لیبارٹری میں داخل ہوا۔ زوناش کے کپڑوں پر خون کے چھینٹوں کے دھبے تھے۔ ڈاکٹر پرویز نے فوراً لاش کو دوسرا سبز اوور کوٹ پہنایا۔ نئی سفید چادر کی دھوتی باندھی اور خون والے کپڑوں کو آگ جلا کر راکھ کر دیا۔

اگلے روز کے اخباروں میں ماڈل گرل سلومی، سیٹھ کریم اور سلومی کی سوتیلی ماں کے قتل کی خبر شہ سرخیوں اور تصویروں کے ساتھ چھپی۔ رپورٹر نے لکھا کہ تینوں کے سر دھڑ سے جدا تھے اور یہ اسی قاتل کا کام لگتا ہے جس نے گذشتہ ماہ تھانہ صدر کی حوالات میں چار حوالاتیوں کو قتل کیا تھا کیونکہ ان کے سر دھڑ سے جدا کر دیئے گئے تھے۔

دو تین دن تک اخباروں میں اس تہرے قتل کی خبر چھپتی رہی اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ خبر اخباروں سے غائب ہو گئی کیونکہ موقع واردات کا کوئی عینی گواہ نہیں تھا۔ ڈاکٹر پرویز نے سلومی سے اپنی محبت کی توہین کا بدلہ لے لیا تھا۔ یہی لوگ اس کے دشمن تھے جنہیں اس نے ٹھکانے لگا دیا تھا اور اس کا شیطانی ذہن مطمئن ہو تا گیا تھا۔ اب اس نے زوناش کی لاش کے ذریعے دولت حاصل کرنے کی ترکیبوں پر غور کرنا شروع کر دیا۔ وہ شروع میں زیادہ دولت پر ہاتھ ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ نمونے کے طور پر لاش کے ذریعے تھوڑی بہت دولت حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے انداذہ ہو سکے کہ اس میدان میں لاش کیا کچھ اور کتنا کچھ کر سکتی ہے۔ سب سے پہلے اسے ایک پرائیویٹ بینک کا خیال آیا جہاں اس کا اپنا اکاؤنٹ بھی تھا اور وہ وہاں جاتا رہتا تھا۔ یہ بنک شہر کے فیشن ایبل علاقے میں تھا۔ یہ ایک بڑے پرائیویٹ بینک کی چھوٹی سی شاخ تھی۔ ڈاکٹر کو معلوم تھا کہ خزانچی کہاں بیٹھتا ہے اور جب وہ کیش دے رہا ہوتا ہے تو نوٹوں سے بھرا ہوا صندوق کھلا ہوتا ہے۔ ایک دن ڈاکٹر پرویز لیبارٹری میں آیا اور زوناش کی لاش کو ریموٹ کے ذریعے گہری نیند سے جا کر اس کے دماغ میں کچھ باتیں فیڈ کرنے کے خیال سے اسے کہنے لگا۔ ” زوناش! میری آواز سن رہے ہو ؟ “

زوناش کی لاش کے حلق سے وہی مخصوص آواز نکلی جس کا مطلب تھا کہ ہاں میں سن رہا ہوں۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” میں تمہیں اپنے ساتھ ایک بینک میں لے جا رہا ہوں وہاں ایک آدمی جنگلے کے پیچھے ایک صندوق کے پاس بیٹھا نوٹ گن رہا ہو گا۔ صندوق کھلا ہوگا۔ اس میں کاغذ کے نوٹوں کی گڈیاں ہوں گی۔ میں تمہیں ایک تھیلا دونگا، تمہیں جنگلے کے پیچھے جا کر صندوق میں سے دس بارہ گڈیاں اٹھا کر تھیلے میں ڈال کر وہاں سے واپس آ جانا ہو گا۔ تم صرف وہاں ایک منٹ لگاؤ گے۔ اس سے زیادہ وقت نہیں لگاؤ گے اور تھیلے میں گڈیاں بھر کر بینک کے باہر خاموشی سے جاکر گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاؤ گے۔ میں تھوڑی دیر بعد تمہارے پاس آؤں گا۔ تم کے گاڑی میں ہی بیٹھے رہو گے۔ تم میری بات سمجھ گئے ہو ؟”

لاش نے حلق سے آواز نکال کر کہا کہ ہاں میں سمجھ گیا ہوں۔

ڈاکٹر پرویز نے پہلی بار محسوس کیا کہ زوناش کی لاش نے انگریزی میں کچھ کہا تھا۔ اس کی سمجھ میں YES یعنی ہاں ہی آیا۔ وہ خوش ہوا کہ اس کا بنایا ہوا انسان ذہنی طور پر ترقی کر رہا کیونکہ اس نے انگریزی کا پہلا لفظ بولا تھا جو یقیناً YES میں ہی تھا۔ ڈاکٹر نے عینک لگا رکھی تھی جس میں اسے زوناش کی لاش صاف نظر آ رہی تھی۔ اس نے سے عینک اتار کر دیکھا۔ لاش غائب تھی۔ اسے اطمینان ہو گیا۔ اس نے آنکھوں پر دوبارہ سے عینک لگا لی۔ اب اس نے لاش کو تھیلا ہاتھ میں لئے قدم قدم بینک کے دروازے کی طرف جاتے دیکھا۔ جیسے ہی لاش بینک کے دروازے میں داخل ہوئی وہ بھی گاڑی سے نکل کر بینک کے اندر آگیا۔ بینک میں رش بالکل نہیں تھا۔ چند ایک آدمی تھے۔ اور دو آدمی خزانچی والی کھڑکی کے پاس کھڑے تھے۔ لاش ایک طرف سے بینک کے اندر اس طرف چلی گئی جہاں بینک کا سٹاف کام کر رہا تھا۔ وہاں ایک گارڈ بندوق لئے کھڑا تھا، مگر اسے لاش اندر جاتی نظر نہ آئی۔ ڈاکٹر نے جیب سے پانچ سو روپے کا نوٹ نکالا اور خزانچی کی کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا۔ زوناش کی لاش اس کی نگاہوں میں تھی۔ لاش جنگلے کے اندر داخل ہو کر بڑے غور سے سٹاف کا جائزہ لے رہی تھی۔ ڈاکٹر کا ایک ہاتھ جیب میں تھا اور اس کے ہاتھ میں ریموٹ کنٹرول تھا۔ جو دو آدمی کھڑکی کے آگے پہلے کھڑے تھے وہ اپنی رقم لے کر پیچھے ہٹ گئے تو ڈاکٹر پرویز نے کھڑکی کے جنگلے میں سے خزانچی کی طرف دیکھ کر کہا۔ ”سر! پانچ سو روپے کا چینج چاہئے۔”

اور نوٹ خزانچی کے حوالے کر دیا۔ اس دوران لاش خزانچی کی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔ خزانچی کے دائیں جانب ذرا پیچھے کر کے لوہے کا ایک صندوق نوٹوں کی گڈیوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کا ڈھکن کھلا ہوا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کو خزانچی نے پانچ سو روپے کے نوٹ دیئے تو وہ نوٹ لے کر ذرا پرے ہٹ کر کھڑا ہو گیا اور بظاہر نوٹوں کو غور سے دیکھنے اور گننے لگا، لیکن اصل میں اس کی نظریں زوناش پر تھیں۔ ڈاکٹر نے ایک ہاتھ جیب میں ڈال کر ریموٹ کنٹرول کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تاکہ اگر ضرورت پڑے تو وہ لاش کو کوئی حکم دے سکے اور کنٹرول کر سکے۔

زوناش کی لاش کے دماغ نے کافی کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس وقت تک وہ اردو سمجھنے لگی تھی اور انگریزی تو اس لاش کی اپنی مادری زبان تھی۔ یہی وجہ تھی کہ لاش نے اپنی زبان سے انگریزی کا لفظ YES بولا تھا۔ ڈاکٹر پرویز یہ دیکھ کر بڑا خوش ہوا کہ زوناش کی لاش بڑی عقلمندی سے کام کر رہی تھی۔ اس نے نوٹوں کے صندوق میں ہاتھ ڈال کر نوٹوں کی چھ سات گڈیاں اٹھائیں اور اپنے تھیلے میں ڈال دیں۔ ڈاکٹر پرویز نے نوٹ جیب میں ڈال کر آنکھوں پر سے عینک اتاری اور دیوار پر لکھی ہوئی ہدایات پڑھنے لگا

کے بارے میں کچھ ضروری ہدایات لکھیں تھیں کہ قطار بنائیں، کاؤنٹر چھوڑنے سے پہلے اپنی رقم چیک کرلیں، وغیرہ وغیره ..

دیکھنے کو تو ڈاکٹر پرویز ہدایات کا بورڈ پڑھ رہا تھا لیکن حقیقت میں اس کی نظریں خزانچی کے پیچھے لگی تھیں جہاں لاش اب اسے نظر نہیں آرہی تھی لیکن اس کے دیکھتے دیکھتے صندوق میں لگی ہوئی چھ سات گڈیاں غائب ہو گئیں۔ نوٹوں کی گڈیاں ڈاکٹر کو نظر آرہی تھیں مگر جیسے ہی وہ زوناش کی لاش کے ہاتھ میں آئیں اس کے ساتھ وہ غائب ہو گئیں۔

ڈاکٹر نے جلدی سے عینک آنکھوں پر لگالی۔ اسے لاش نظر آنے لگی۔ لاش اس وقت تھیلے میں نوٹوں کی گڈیاں ڈال رہی تھی۔ جب تھیلا آدھا بھر گیا تو لاش اسے لے کر واپس چل پڑی۔ خزانچی کی اس طرف پشت تھی، وہ صندوق سے نوٹوں کی گڈیاں غائب ہوتے نہیں دیکھ سکا تھا۔ ڈاکٹر نے سوچا کہ یہ بھی بڑا اچھا ہوا ورنہ خزانچی شور مچا سکتا تھا کہ صندوق میں سے نوٹوں کی گڈیاں غائب ہو گئی ہیں۔ ڈاکٹر پرویز نے دیکھا کہ زوناش کی لاش بینک کے سٹاف والے جنگلے میں سے مسلح گارڈ کے قریب سے گزر کر باہر آگئی۔ وہ تیز تیز قدموں سے بینک سے نکل کر گاڑی کی طرف بڑھا اور دروازہ کھول کر گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔ عینک میں سے اسے زوناش کی لاش قدم قدم چلتی اپنی طرف آتی نظر آرہی تھی۔ لاش نے قریب آ کر خود ہی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور اندر جاکر بیٹھ گئی۔ لاش نے پوری ذمے داری سے عام زندہ انسانوں کی طرح گاڑی میں بیٹھنے کے بعد دروازہ بند کر لیا تھا۔ لاش کا دماغ تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ ڈاکٹر نے انجن سٹارٹ کر کے ایک نظر بینک پر ڈالی، وہاں خاموشی تھی۔ ابھی تک صندوق میں سے نوٹوں کے غائب ہونے کا کسی کو علم نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر پرویز گاڑی کو تیزی سے نکال کر لے گیا اور بڑی سڑک پر آتے ہی اس نے گاڑی کا رخ آسیبی قلعے کی طرف پھیر دیا۔ آدھ گھنٹے بعد وہ شہر سے باہر آسیبی قلعے پہنچ گیا تھا۔ گاڑی پرانے قلعے کے اندر ایک طرف کھڑی کر کے اس نے زوناش کی لاش کو

ریموٹ کنٹرول کا بٹن دبا کر کہا۔ ” زوناش ! میرے پیچھے پیچھے لیبارٹری میں آجاؤ۔

لاش گاڑی سے باہر آکر ڈاکٹر کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ لیبارٹری میں آنے کے بعد ڈاکٹر نے لاش سے کہا۔ ” تھیلا میز پر رکھ کر سٹریچر پر لیٹ کر گہری نیند سو جاؤ۔”

لاش نے ایسا ہی کیا۔ اس نے نوٹوں سے آدھا بھرا ہوا تھیلا میز پر رکھا اور خود اسٹریچر پر بالکل سیدھی مردوں کی طرح لیٹ گئی۔ دوسرے لمحے اس کے خراٹوں کی ہلکی ہلکی آواز آرہی تھی۔ ڈاکٹر نے بجلی کی روشنی میں عینک اتار کر ایک نظر سٹریچر پہ ڈالی۔ لاش اب نظر نہیں آرہی تھی، لاش غائب تھی اگرچہ وہ سٹریچر پر موجود تھی۔ اس نے نوٹوں کی گڈیاں میز پر الٹ دیں اور ان کو گنے لگا۔ یہ ہزار ہزار اور پانچ پانچ سو کے نوٹوں کی پندرہ گڈیاں تھیں۔ اس نے جیب سے نوٹ بک اور بال پوائنٹ نکال لیا تھا اور لوہے کی کرسی پر بیٹھ کر نوٹوں کو شمار کر کے لکھتا جا رہا تھا۔ کافی دیر بعد جب اس نے سارے نوٹوں کا ٹوٹل نکالا تو وہ چودہ لاکھ پچھتر ہزار روپے تھے۔ ڈاکٹر پرویز نے اتنے نوٹ زندگی میں کبھی نہیں کمائے تھے۔ اب وہ اس ساری دولت کا اکیلا مالک تھا۔ اس نے نوٹوں کی گڈیوں کو دوبارہ تھیلے میں ڈال کر تھیلے کو بند کیا اور لیبارٹری کی الماری کے پیچھے دیوار کے ایک خفیہ خانے میں بند کر کے تالا لگا دیا اور الماری آگے کر دی۔ اس خفیہ جگہ کا سوائے ڈاکٹر پرویز کے کسی کوعلم نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر دارا کو بھی علم نہیں تھا۔ اس نے لیبارٹری سے نکل کر آہنی دروازہ بند کر کے تالا لگایا اور تہہ خانے سے نکل کر آسیبی قلعے کے احاطے میں آکر گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر کے اپنے ہوسٹل کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس نے اب ہسپتال میں سٹاف کے ہوسٹل میں ہی ایک کمرہ لے لیا تھا اور وہیں رہنے لگا۔

ساری رات وہ سوچتا رہا کہ ان چودہ لاکھ روپوں کو وہ کیسے خرچ کرے گا ڈاکٹر پرویز بڑا گہرا آدمی تھا۔ چودہ لاکھ روپے اچانک مل جانے سے اسے خوشی ضرور ہوئی تھی مگر اس کے ناپاک عزائم بہت بلند تھے

وہ لاش کی مدد سے دنیا کا سب ساتھ بڑا دولت مند انسان بننا چاہتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ کیلی فورنیا یا فرانس کے کسی جزیرے میں اس کا اپنا خوبصورت جدید ترین بنگلہ ہو۔ اسے دنیا کی ہر آسائش میسر ہو ، وہ عیش و آرام سے اپنی زندگی گزارے۔ یہ چودہ لاکھ روپے ایک معمولی سی رقم تھی اور ایک نمونہ تھا اس ڈرامے کا جواب شروع ہونے والا تھا۔

ڈاکٹر پرویز نے چودہ لاکھ پچھتر ہزار روپے لیبارٹری کی خفیہ جگہ پر ہی رہنے دئیے ، ان کو دوبارہ ہاتھ تک نہ لگایا۔ دوسرے تیسرے دن اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر چھپی کہ فلاں بینک کے خزانچی کو غبن کے جرم میں پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

اسے تو پولیس نے گرفتار کرنا ہی تھا کیونکہ رقم نوٹوں سے بھرے ہوئے صندوق میں سے غائب ہوئی تھی اور صندوق اس وقت خزانچی کی تحویل میں تھا۔ اتنی بڑی رقم غائب ہوئی تھی اور خزانچی ثابت نہیں کر سکا تھا کہ رقم ڈا کو لے گئے ہیں کیونکہ بینک میں ڈا کہ بھی نہیں پڑا تھا۔ وہاں کوئی ڈاکو نہیں آیا تھا بینک میں بالکل امن و امان تھا اور رقم غائب ہو گئی تھی۔ ظاہر ہے شک خزانچی پر ہی پڑنا تھا۔ ایک شریف اور سفید پوش انسان ڈاکٹر پرویز کی وجہ سے زندگی کے سب سے بڑے عذاب میں مبتلا ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر پرویز کو اس کی ذرہ بھر بھی پروا نہیں تھی۔ وہ کسی شیطانی صفات کا حامل آدمی تھا۔ مگر کسی دوسرے کے ساتھکئے ہوئے ظلم کا بدلہ ایسے بد کار انسان کو مل کر رہتا ہے۔ خدا کے ہاں دیر ہو سکتی ہے مگر اندھیر نہیں ہے۔

ڈاکٹر پرویز نے اب یورپ اور امریکہ میں جا کر اپنی بنائی ہوئی تخلیق یعنی زوناش کی لاش کو آزمانے کا پروگرام بنانا شروع کر دیا۔ پاکستان کا میدان اس کی کارگزاریوں کے لئے اسے بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔ پاسپورٹ اس کے پاس موجود تھا۔ اس کے ذہن نے لندن جا کر اپنا مذموم کاروبار شروع کرنے کے بارے میں سکیم بنانی شروع کر دی۔ لندن میں اس کا ایک چچا پہلے ہی رہتا تھا مگر وہ اس کےپاس نہیں جانا چاہتا تھا۔ وہ کسی رشتے دار کو اپنے کاروبار میں شریک نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے ساتھی اور قریبی دوست ڈاکٹر دارا کوبھی اپنے پروگرام کے بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا۔ اندر ہی اندر آہستہ آہستہ اس نے اس منصوبے پر غور و فکر کرنا شروع کر دیا تھا۔

اس دوران ڈاکٹر دارا کراچی سے واپس آگیا۔ اس نے آتے ہی زوناش کے بارے میں پوچھا۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” زوناش کی لاش بالکل ٹھیک ہے۔ دوسرے، تیسرے دن میں لیبارٹری جا کر اسے دیکھ آتا ہوں، سٹریچر پر بے ہوش پڑی ہے۔”

ڈاکٹر پرویز نے لاش سے جو بینک میں ڈاکہ ڈلوایا تھا اس کے بارے میں دارا کر کچھ نہ بتایا۔

ڈاکٹر دارا کہنے لگا۔ “پرویز ! میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ “ضرور کہو۔ تم کیا کہنا چاہتے ہو ؟”

دارا کہنے لگا۔ “میری مانو اور ہم اس لاش کو ضائع کر دیتے ہیں۔”

وہ کس لئے ؟” پرویز نے پوچھا۔

دارا نے کہا۔ ”وہ اس لئے کہ ہم نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے۔ ہم پر ضرور ایک نہ ایک دن خدا کا عذاب نازل ہو گا۔ مجھے خدا کے عذاب سے ڈر لگتا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز ابھی دارا کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ اگر یہ ناراض ہو گیا تو خود ہی کسی روز لیبارٹری میں جا کر لاش کو ضائع کر دے گا۔ وہ ڈاکٹر تھا ایسا کر سکتا تھا۔

اس نے دارا سے کہا۔ “یار تم خوامخواہ گھبرا رہے ہو! ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا۔ ہم نے لاش سے ابھی تک کوئی سماج دشمن کام نہیں لیا۔ ہم نے اس سے معاشرے کے چار بدنام ترین اور بد ترین سمگلروں اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔ ہم نے لاش سے کسی بے گناہ کو قتل نہیں کروایا۔”

ڈاکٹر دارا نے کہا۔ “شاید تم ٹھیک ہی کہتے ہو۔ لیکن بھائی مجھے ایسے لگتا ہے ۔ کہ ایک دن اپنی بنائی ہوئی تخلیق کے ہاتھوں ہم کسی بہت بڑی مصیبت میں پھنس جائیں گے۔ اگر ہم اسے ضائع کر دیتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ ہمارا کیا نقصان ہوتا ہے؟”

بے چارے شریف انسان دارا کو کیا خبر تھی کہ زوناش کی لاش کو ضائع کر دینے سے اسکا کتنا بڑا نقصان ہوجائے گا

پرویز بولا “اتنی محنت او اتنی ریسرچ کے بعد ہم نے ایک انوکھی چیز ایجاد کی ہے۔ ایک مردہ انسان کو زندہ کیا ہے۔ ہم اسے ضائع کر دیں؟ میں تو اس کا اعلان کرنے والا ہوں تاکہ ہماری بنائی ہوئی تخلیق کی وجہ سے ہمارا نام نوبل پرائز کے امیدواروں میں شامل ہو سکے۔ چلو ایسا کرتے ہیں کہ ہم زوناش کی لاش کو لے کر کچھ دنوں کے لیے لندن چلتے ہیں۔ ہماری سیر بھی ہو جائے گی اور ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ انگلستان کی فضا کا زوناش کی لاش پر کیا اثر پڑتا ہے۔ کیونکہ آخر اس لاش کو ایک ایسے آدمی کا دماغ لگایا گیا ہے جو انگلستان کا رہنے والا تھا۔”

دارا نے کہا۔ ” اور تم یہ بھول گئے ہو کہ وہ آدمی دنیا کا سب سے زیادہ سنگدل قاتل تھا۔”

“اس کا زوناش کی زندہ لاش پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کیونکہ میں نے محسوس کیا ہے کہ زوناش کے دماغ پر زندہ لاش کے خون کے اپنے پیدا کردہ خلیوں نے اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے اور اس کے دماغ سے قاتلانہ خیالات کے خلئے غائب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔” پرویز بولا

لیکن لندن ہم لاش کو لے جا کر کیا کریں گے؟”

دارا نے پوچھا

اصل میں ڈاکٹر پرویز لندن جا کر یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ لاش پر انگلستان کی سرد فضا کا کیا اثر ہوتا ہے کیونکہ لاش کا دماغ انگلستان کے سب سے بڑے قاتل کا دماغ تھا اور اس نے دارا کو جھوٹ کہا تھا کہ اس کے دماغ میں سے قاتلانہ اثرات کے خلئے غائب ہورہے ہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ زوناش کی لاش کے قاتلانہ اور مجرمانہ رجحانات بڑی تیزی سے ابھر کر سامنے آرہے تھے اور ہر قتل پر لاش کو ایک لذت سی محسوس ہوتی تھی۔ زوناش کی لاش کے یہ مجرمانہ رجحانات ڈاکٹر پرویز کی مجرمانہ ذہنیت کے عین مطابق تھے۔ وہ لاش کو اسی لائن پر چلانا چاہتا تھا ، اسے اس بات کا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ ایک دن لاش اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی یا اس کے کنٹرول سے باہر ہوجائے گی۔ کیونکہ اس نے لاش کی کمر اور گردن میں جو کمپیوٹرائزڈ مائیکرو چپس فٹ کئے ہوئے تھے وہ اتنے طاقتور تھے کہ اُن کے ہوتے ہوئے لاش کا ڈاکٹر پرویز کے کنٹرول سے نکل جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا تھا اور لاش کو کنٹرول کرنے والا ریموٹ پرویز کے پاس ہی تھا۔

ڈاکٹر دارا کہنے لگا۔ “میں لندن نہیں جا سکتا، یہاں میری ہاؤس جاب کا حرج ہو گا۔ تم لاش کو لے کر جانا چاہتے ہو تو بے شک چلے جاؤ۔ وہاں تمہارے چچا کا ریسٹ ہاؤس تو موجود ہی ہے۔ وہاں تو ایک بیسمنٹ( تہہ خانہ) بھی ہے، تم لاش کو وہاں رکھ سکتے ہو اور لاش پر جو تجربہ کرنا چاہتے ہو یا اس پر انگلستان کے سرد موسم دارا کے اثرات دیکھنا چاہتے ہو تو یہ بھی کر کے دیکھ لینا بلکہ اگر ہو سکے تو لاش کو یورپ کے کسی عجائب گھر کو دے آنا۔ یہ یورپ کی مصیبت یورپ میں ہی واپس چلی جائے تو اچھا ہے۔”

ڈاکٹر پرویز خود بھی یہی چاہتا تھا کہ دارا اس کے ساتھ نہ جائے اور وہ اکیلا ہی لاش کو لے کر جائے۔ مگر وہ خود دارا کو نہیں روکنا چاہتا تھا کہ خوامخواہ اس کے دل میں شک نہ پڑے کہ پتہ نہیں ڈاکٹر پرویز لاش سے انگلستان جا کر کیا کام لینا چاہتا تھا ، اب جبکہ خود ہی دارا نے کہہ دیا کہ وہ اس کے ساتھ لندن نہیں جائے گا تو پرویز نے کہا۔

“جیسے تمہاری مرضی۔ ویسے تو میں چاہتا تھا کہ تم بھی میرے ساتھ چلتے ۔”

“نہیں بھائی میرا جانا بہت مشکل ہے، تم بے شک چلے جاؤ۔ تمہاری اگلے مہینے سے چھٹیاں بھی شروع ہو رہی ہیں۔ تمہارے پاس پورے گیارہ مہینے خالی ہیں۔ اس کے بعد تمہارا اگلا سمسٹر شروع ہو گا۔ تم جا سکتے ہو مگر اس بات کا خیال رکھنا کہ راسے میں کسی کو پتہ نہ چلے کہ تم ایک ایسی لاش کو ساتھ لے کر جا رہے ہو جو غائب ہے مگر اس زندہ ہے۔” ڈاکٹر دارا نے کہا

ڈاکٹ پرویز بولا۔ ” اس کی تم فکر نا کرو، اگر میں گیا تو لاش کو پوری ذمے داری اور احتیاط کے ساتھ لے کر جاؤں گا۔”

” میں تو کہتا ہوں تم لاش کو لے کے کچھ مہینوں کے لئے چلے ہی جاؤ۔” حقیقت میں ڈاکٹر دارا چاہتا تھا کہ زندہ لاش کی مصیبت پاکستان سے چلی ہی جائے تو بہتر ہے۔

اسی لئے وہ پرویز کو لندن بھیجنے کے لئے اصرار کر رہا تھا۔

پرویز نےکہا ” اچھا بھائی تم کہتے ہو تو میں زوناش کو ساتھ لے کر چلا جاتا ہوں۔ لیکن تم ے بعد لیبارٹری کی دیکھ بھال کرتے رہنا کیونکہ آخر مجھے لاش کو لے کر اسی جگہ واپس آنا ہے”

میں تو کہتا ہوں کہ تم ضرور واپس آجاؤ مگر لاش کو ساتھ نہ لانا۔” دارا نے کہا۔ ”

ڈاکٹر پرویز ہنس پڑا۔ ”اچھا! اس بارے میں بھی میں ضرور غور کروں گا۔”

ڈاکٹر پرویز نے لندن جانے کا پروگرام بنا لیا۔ ہسپتال میں اس نے کہہ دیا کہ وہ اپنی چھٹیاں لندن میں گزارنا چاہتا ہے۔ پاسپورٹ اس کے پاس موجود تھا بس اس پر ویزا لگوانا تھا۔ اپنے اثر رسوخ سے کام لیتے ہوئے اس نے لندن کا ویزا لگوالیا۔ اب اسے زرمبادلہ کی ضرورت تھی۔ ایک خاص رقم کے علاوہ وہ اپنے ساتھ فالتو پاؤنڈ نہیں لے جا سکتا تھا لیکن لندن میں اسے پیسے کی ضرورت تھی۔ وہ لاش کو ساتھ لے کر پیرس بھی جانا چاہتا تھا کہ وہاں کے موسم کے اثرات کا بھی اسے انداذہ ہو جائے اور وہ اس بات کا بھی جائزہ لے سکے کہ دنیا کا سب سے بڑا دولت مند بننے کے سلسلے میں وہاں لاش سے کیا کیا کام لیے جا سکتے ہیں۔ اس نے بلیک مارکیٹ میں وہاں ایک واقف کار کی وساطت سے بات چیت شروع کر دی۔ ایک پارٹی بڑی قابل لگی، اس کا ایجنٹ ڈاکٹر پرویز کا دوست بھی تھا اور دور کا رشتے دار بھی تھا۔ ڈاکٹر نے اس سے بات کی تو اس نے کہا۔ “آپ کو کتنے پونڈ چاہئیں؟”

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” مجھے کم از کم دس لاکھ پاکستانی روپے کے عوض برٹش کرنسی چائیں۔ کیا آپ اس کا کوئی انتظام کر سکتے ہیں ؟”

اس آدمی نے کہا۔ ” یہ ہمارے لیے معمولی رقم ہے۔ ہم آپ کو ایک کروڑ روپے کے عوض زرمبادلہ بھی دلا سکتے ہیں۔ آپ یہاں دس لاکھ روپے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیں۔ میں آپ کو ایک خط لکھ کر دے دوں گا۔ وہ خط لندن ہمارے آفس کے آدمی کو جا کر دکھا دینا۔ وہ تمہیں دس لاکھ روپے کا برٹش کرنسی میں زرمبادلہ ادا کر دے گا۔ ہمارا کاروبار بڑا صاف اور ایمانداری سے ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ کے دل میں کوئی شک و شبہ ہے تو آپ بے شک روپے اپنے پاس رکھیں اور کسی اور سے جا کر بات کر لیں۔” ڈاکٹر پرویز نے اس آدمی کے کاروبار کے بارے میں سن رکھا تھا کہ

کاروبار کو پوری دیانت داری سے چلاتے ہیں اور آج تک کبھی کسی کو ان سے شکایت پیدا نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر پرویز نے کہا۔ ” بھائی آپ میرے رشتے دار بھی ہیں اور ہم دوست بھی ہیں، میں آپ پر کیسے شک کر سکتا ہوں۔ میں کل آپ کو دس لاکھ کے روپے لا کر دے دوں گا۔ آپ خود ہی اسے اکاؤنٹ میں جمع کرا لیجئے گا۔”

اس کے دوسرے ہی دن ڈاکٹر پرویز سیدھا اپنے قلعے والی لیبارٹری میں گیا، اس نے عینک لگا کر سٹریچر کی طرف دیکھا۔ لاش اسی طرح سٹریچر پر گہری نیند سو رہی تھی ” اس نے قریب جا کر زوناش کی لاش کو غور سے دیکھا۔ اس پر وقت کا اور نہ کھانے پینے کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ لاش فضا کی آکسیجن سے ہی اپنے جسم کو زندہ رکھنے کے لیے پوری توانائی حاصل کر رہی تھی۔ یہ بھی میڈیکل سائنس کی دنیا میں بہت بڑا انقلاب تھا۔

پرویز نے عینک اتار کر جیب میں رکھ لی۔ دیوار والی الماری کو ذرا سا ہٹا کر دیوار کے خفیہ خانے کا تالا کھول کر نوٹوں کا تھیلا نکال کر میز پر رکھا اور روپے کی گڈیاں اخبار کے کاغذ میں لپیٹ کر رومال میں باندھیں۔ باقی رقم والا تھیلا اسی طرح خفیہ خانے میں جا کر رکھ دیا اور تالا لگا کر الماری کو واپس دیوار کے ساتھ لگادیا۔ عینک لگا کر لاش کو دیکھا عینک اتار کر جیب میں ڈالی اور لیبارٹری سے باہر نکل کر آہنی دروازے کو تالا لگا دیا اور گاڑی میں آکر بیٹھ گیا۔۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *