پیسوں کی گٹھڑی اس نے اپنی سیٹ کے نیچے رکھ لی تھی۔ اس نے اپنے رشتے دار کو فون کر دیا تھا کہ وہ کل دن کے وقت رقم لے کر آئیگا، وہ سیدھا اس کے آفس میں پہنچا۔ ان لوگوں نے محض دکھاونے کے لئے امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار شروع کر رکھا تھا مگر
یوں تو بادشاہ سلامت بہت اچھے اور نیک تھے مگر ان کا وزیر ان کی ایک بات سے بہت پریشان تھا اور دل ہی دل میں کڑھتا رہتا تھا۔ بادشاہ سلامت اپنی رعایا سے بہت محبّت کرتے تھے اور انہوں نے ان کی خدمات کے لیے اپنے خزانوں کا منہ کھول رکھے تھے۔ ملک میں
کافی عرصے پہلے ایک ملک پر بہت خوبصورت بادشاہ کی حکومت تھی ۔اس بادشاہ کا نام ”مائیڈس“تھا۔اس بادشاہ کے پاس بے حساب سونا تھا جس سے وہ شہروں کے شہر خرید سکتا تھا۔وہ اپنے سونے کو جان سے بھی زیادہ چاہتا تھا۔ کسی کو بھی نہیں پتا تھا کہ اس کے پاس اتنا سونا کہاں
لیوسفر پارٹ 2 حسن سے عشق کی فطرت کو ملتی ہے تحریک اس سے سرسبز ہوئے میری امیدوں کے نہال سرمگین آنکھیں، صراحی دار گردن، گلابی ہونٹ، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے گلابی نرم گال اور پھر گالوں پر ہونٹوں کے قریب بنتے خوبصورت ڈیمپل اور گردن پر پیدا ہوتی نمی کی چمک اور گردن کو
Part 1 ابنِ آدم رات کی تاریکی میں وہ مسلسل بل کھاتی ہوئی پہاڑ سے نیچے گہرئی کھائی کی طرف گرتی جا رہی تھی پہاڑ پر بنی مضبوط چٹانوں کی وجہ سے اس کا سر کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا ہزار کوشش کے باوجود وہ خود کو اس کھائی میں جانے سے روکنے میں
کسی ملک کا ایک بہت نیک دل بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ وہ عوام سے محبت کرتا تھا اور پورے ملک کے عوام اس سے محبت کیا کرتے تھے۔ اس کے گھر دو شہزادے تو ضرور تھے لیکن اسے ایک بیٹی کی بہت تمنا تھی لیکن کافی عمر گزر جانے کے باوجود بھی اس کی یہ
ایس ایچ انصاری کیا محبت مرنے کے بعد بھی زندہ رہ سکتی ہے؟ کیا کسی روح سے محبت زندہ انسان کو تباہ کر سکتی ہے؟وہ رات عام راتوں جیسی نہیں تھی۔ ہوا میں بوجھل پن تھا، جیسے کسی پرانے راز نے سانس روک رکھی ہو۔ چاند آدھا چھپا ہوا تھا، بالکل انامیکا کے دل کی
عمران سیریز ابوبکر یہ جنوری کے آخری دنوں میں سے ایک سرد دن تھا سردی فل شباب پر تھی سردی ہونے کے باعث سڑکیں سر شام ہی سنسان ہو جاتی تھیں رات کی تقریباً دو ڈھای بج رہے تھے سارے اپنے لحافوں میں دبکے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے سڑکوں پر کبھی کوئ
از مختار احمد راجْو ایک لکڑ ہارا تھا۔ اس کی عمر اٹھارہ انیس سال کی تھی۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ ایک گاؤں میں رہتا تھا۔ وہ روز جنگل سے لکڑیاں کاٹتا اور انھیں فروخت کر کے ان سے ملنے والی رقم اپنی ماں کو لا کر دے دیتا جس سے وہ گھر کا خرچ
*روشی* اسے بہت دیر سے دیکھ رہی تھی! وہ سر شام ہی ہوٹل میں داخل ہوا تھا اور اب سات بج رہے تھے۔ سمندر سے آنے والی ہوائیں کچھ بوجھل سی ہو گئی تھیں۔ جب وہ ہوٹل میں داخل ہوا تو روشی کی میز کے علاوہ اور ساری میزیں خالی پڑی تھیں۔ لیکن اب ہوٹل
رائیٹر.. عبدالرب بھٹی تیمور کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا ، اچھی نوکری ، اچھا گھر اور نیک سیرت و وفا شعار بیوی جس کی اچھی اور بہترین تربیت کا عکس ان کے تینوں بچوں میں صاف جھلکتا تھا ۔ بڑی بیٹی فائز تھی جو بی اے کر چکی تھی اور آج کل
Part 3 ’میں تمہاری گندی کمائی میں سے ایک پیسہ لینا حرام سمجھتاہوں‘‘ میں نے نفرت سے کہا۔ اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ پھر وہ لجاجت سے بولا۔ ’’جناب ! ایک گزارش ہے اگر آپ مان لیں؟‘‘’جلدی بک‘‘ مجھے حقیقتاً اس شخص سے نفرت ہوگئی تھی۔ ’’اگر آپ مجھے اپنا شاگرد بنا لیں
part 2 ’’یا خدا ! یہ بلی ہے یا کوئی جن بھوت، بند گاڑی میں گھس آتی ہے ، سادھو اس سے باتیں کرتا ہے کھڑکی کا مضبوط شیشہ اس سے ٹکرا کر ٹوٹ جاتا ہے‘‘ یہ سب کیا ہے؟ ‘‘ میں نے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ اچانک مجھے کسی گاری کا
Part 1 میں کئی دن سے محسوس کر رہا تھا کوئی نادیدہ وجود ہے جوہر وقت میرے آس پاس رہتا ہے خاص کر تنہائی میں۔ چلتے ہوئے لگتا کوئی میرے ساتھ چل رہا ہے۔ اکثر میرے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ، مڑ کر دیکھتا تو کوئی نہ ہوتا۔ گھر سے باہر یہ احساس
Last part 6 میرے اندر طمانیت کے لڈو پھوٹنے لگے تھے خدشہ بہرحال تھا کہ اگر شاہ صاحب کو معلوم ہو گیا تو کیا ہو گا۔ لیکن جب ملک صاحب اٹل فیصلہ کر چکے تھے تو مجھے اپنی جاں سے گزر کر اپنی جاں تک پہنچنے کا حق حاصل ہو گیا تھا۔ بہت سے جذبات
part 5 اس کے ماں باپ بھی اس کی حرکت پر مجھ سے معافیاں مانگنے لگے۔ میں نے کہا ’’اس بے چاری کا کیا قصور تھا۔ شکر کریں یہ جلدی قابو میں آ گئی۔ ورنہ نہ جانے یہ میرے ساتھ کیا سلوک کرتی‘‘ میں نے خوشگوار لہجے میں کہا اور پھر انہیں حویلی کے باہر
part 4 میں نے ٹاہلی والی سرکار کی طرف دیکھا تو انہوں نے اپنے والدکی قبر پر رکھے آب خورے کو پکڑا۔ اس میں دو گھونٹ پانی تھا۔ انہوں نے کچھ پڑھا اور پھر پانی پر دم کرکے مجھے دیا اور کہا: جاﺅ…. اور اسے کہو یہ پانی پی لے…. ابھی اس کا باﺅلا پن
part 3 گاﺅں کے چوکیدار کو اللہ نے بڑی خصوصیات سے نوازا ہوتا ہے۔ اس کی حسیات بڑی تیز ہوتی ہیں۔ رات کو اس کے ساتھ گاﺅں کے کتے ہی نہیں چوکیداری کر رہے ہوتے بلکہ مرغیاں بکریاں اور دوسرے جانور بھی اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ جب بھی گاﺅں پر کوئی افتاد نازل ہوتی
part 2 میری کن پٹیاں لہو کی گرمی سے سلگنے لگی تھیں۔ رضیہ کچھ بتانے سے گریزاں تھی اور میری لاڈلی بیٹی زلیخا میرے سینے میں منہ چھپائے روتے چلی جا رہی تھی۔ میں نے قہر بھری نظروں کے ساتھ پیر ریاض شاہ کی طرف دیکھا ، اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا
part 1 صرف دو رتی افیون حاصل کرنے کے لئے اس قدر خوار ہونا پڑے گا، یہ میں بھی نہیں تھااور اب مجھے اس عذاب سے جان چھڑانے اور فرار کا کوئی رستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔اس تپتی دوپہر میں نہر کنارے موٹر سائیکل دوڑاتے ہوئے میں سوچ رہا تھا ، یہ لالو قصائی
بلونت سنگھ ماجھا کے علاقے میں بھیکن ایک چھوٹا سا غیر معروف گاؤں تھا ۔ مشکل سے سو گھر ہوں گے ۔ زیادہ تر سکھوں کی آبادی تھی۔ یہاں کی ایک بات تھی ۔ وہ یہ کہ بعض اوقات یہاں کوئی غیر معمولی طور پر حسین لڑکی وجود میں آتی جس کے ساتھ کسی نوجوان
وجیہہ سحر Last part رات کے گیارہ بج رہے تھے مگر عمارہ اپنا لیپ ٹاپ گود میں رکھے google سرچ میں مصروف تھی۔ وہ اس شہر کے اسامہ نام کے اشخاص کے ایڈریسز اور فون نمبرز پر سرچ کر رہی تھی۔ اس نے ان ناموں کی spread sheet پر ایڈریسز اور فون نمبرز کے ساتھ
پارٹ 3 ظفر نے مہک کی لاش کی طرف بغور دیکھا ’’مگر دونوں کا ایک ہی طریقے سے مرنا پھر ان کے چہرے دیکھو، اندازہ ہو رہا ہے کہ ان کی موت بھیانک ترین طریقے سے ہوئی ہے۔‘‘ انسپکٹر نے ظفر کی بات کاٹ دی۔ ’’وہ تو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چل جائے گا
part 2 آگ میں ابھرنے والے چہرے جیسے آگ ہی کا حصہ تھے۔ ان کے نقوش بھڑکتی آگ کے ساتھ بڑھتے اور سکڑتے۔ خیام، وشاء ، فواد اور حوریہ بخوبی جانتے تھے کہ اب انہیں کیا کرنا ہے۔ وشاء نے شیشے کا جار اپنے ہاتھ پر رکھا جس میں ایک خوبصورت تتلی کا Stuffed تھا۔
part 1 ایک خنّاس کی پر اسرار کہانی وجیہہ سحر گریجوایٹ پوسٹڈ کلاسز کے فائنل ائیر کے اسٹودنٹس کے ٹرِپ کی بس بھرپور ہلے گلے کے ساتھ موٹر وے پر دوڑ رہی تھی۔ چیک پوسٹ پر تھوڑی دیر رکنے کے بعد بس مری کے روٹ کی طرف روانہ ہوگئی۔ اسٹوڈنٹس نے بھرپور انداز میں نعرے
اسلام و علیکم سردار ازلان۔۔۔۔ایک جن نے آ کر سردار ازلان کو سلام کیا ۔۔ وعلیکم سلام یاقوت کیا خبر ہے۔۔۔؟؟ ازلان نے خوش دلی سے پوچھا۔۔۔۔اس وقت وہ اپنے کمرے میں ارام کر رہا تھا جب ایک جن اجازت لے کر اندر داخل ہوا جو اس کا وفادار ملازم تھا سردار کابوت نے شادی
جمال میرا دوست جو گزشتہ سال سے میرا ساتھی تھا وہ شہر اپنے کسی دوست کے ساتھ گھومنے گیا ہوا تھا۔اس لئے جاتے ہوئے مجھے بھی چلنے کی دعوت دی مگر میں نے اپنی طبعیت میں گرانی محسوس کرکے اس کا ساتھ دینے سے انکار کردیا اور آکر اپنے بستر پر لیٹ گیا اور لیٹے
وجیہہ اقبال بنارس کی رات تھی۔ گنگا کے کنارے واقع مانیکا رنیکا شمشان گھاٹ پر ہر وقت کی طرح دھواں اٹھ رہا تھا۔ درجنوں چتائیں جل رہی تھیں، آگ کی لپٹیں آسمان کو چھو رہی تھیں اور فضا جلے ہوئے گوشت کی بدبو سے بوجھل تھی۔ جلتی لکڑیوں کی چٹخ اور شعلوں کی لپک میں
دھرم پال پانڈے مقدس باپ اپنی زندگی میں پہلی بار میں آپ کے حضور ایک گناہ کے اعتراف کی خاطر حاضر ہوئی ہوں۔ میں اس لئے نہیں آئی ہوں کہ عام عیسائیوں کی طرح گناہ کا اقبال م کر کے خدائے پاک سے آپ کی معرفت معانی کی التجا کروں۔ میں تو آپ سے صرف
رام لعل مشرقی اتر پردیش کے ایک چھوٹے ریلوے اسٹیشن اکبر پور پر آدھی رات کی گاڑی سے اترنے والے یوں تو کچھ مسافر اور بھی تھے لیکن ویٹنگ روم میں رات گزارنے والے ہم ہی دو تھے۔ باہر موسلا دھار بارش شروع ہو گئی تھی اور اسی کے ساتھ بجلی کی روشنی بھی چلی