Posted inشاعری International کہانیوں کا اختتام آ جائے گا کہانیوں کا اختتام آ جائے گاایک دن آپ کا بھی نام آ جائے گا ضبط ٹوٹے گا جب تحیر کاایک خوف کا مقام آ جائے گا معلوم ہے تم رازوں February 21, 2024
Posted inشاعری تم میری غزلوں کو کیوں سننا چاہتے ہو تم میری غزلوں کو کیوں سننا چاہتے ہواتنا دکھ خود کو کیوں دینا چاہتے ہو کیا سن پاوگے لفظوں کو میرےمجھ میں آخر کیوں اترنا چاہتے ہو بس ریت ہی February 21, 2024
Posted inشاعری میری اداسی پر مت جانا دوستو میری اداسی پر مت جانا دوستومیں بس کردار نبھا رہا ہوں میں کئی رشتوں میں ڈوبا شخصجانے کون سی سزا پا رہا ہوں میں بغیر محبت کے انسان مکمل نہیں February 21, 2024
Posted inشاعری سوچتا ہوں اس میں کیا رکھا ہے سوچتا ہوں اس میں کیا رکھا ہےغرور و تکبر اور پتھر کا دل رکھا ہے وہ کیا جانے کسی کے جذبات کوجس نے دنیا کو پاگل بنا رکھا ہے ٹھکرائے February 21, 2024
Posted inشاعری سب کی سب سجا رکھی ہیں سب کی سب سجا رکھی ہیںوہ ادائیں جو تم نے دکھا رکھی ہیں اب رستے کی طرح لگتیں ہیں مجھےوہ راتیں جو ہم نے گزار رکھی ہیں ایک سایہ تک February 21, 2024
Posted inشاعری آندھیوں کے تیور بیٹھ گئے آندھیوں کے تیور بیٹھ گئےچراغ خود کو بجھا کر بیٹھ گئے اس نے رسمنا" کہا کہ ٹھہرو زرہاور ہم مسکراتے بیٹھ گئے کچھ پیڑوں پہ لکھا تھا نام تیراچند پرندے February 21, 2024
Posted inشاعری عمر کٹ گئی تمہارا ہجر منا تے عمر کٹ گئی تمہارا ہجر منا تےتازہ لہو سے دیپ جلاتے تمہارے بعد زمانے میں پیچھے گئےگھڑی سے گھڑی ملاتے عمر سے عمر ملاتے مجھ سے کہا تھا کہ وہ February 21, 2024
Posted inشاعری رات باقی ہے دن سمٹ رہے ہیں مجھے میں اور رات باقی ہےچلے آؤ اب کہ محبت میں ابھی مات باقی ہے کئی پیڑ جھڑ گئے بہار کی انتظار میںسبھی پھول مرجھا گئے February 21, 2024
Posted inشاعری نظروں کا زہر سلامت رہے تیری نظروں کا زہرمجھ میں تریاق بن کے رہتا ہے ایک گاؤں کاسادہ سا غریب شخصایک حسن کی شہزادی پہ مرتا ہے ہاں ہاں معلوم ہے وہ مجھے February 21, 2024
Posted inInternational تحریریں نرگسی وفا۔۔ وفا جن کی رگوں میں گردش کرتی ہے گویا وہ شہنشاہ وفا ابوالفضل عباس علمدار کے معتبر قبیلے سے بالواسطہ یا بلواسطہ جڑے ہیں۔ وفا شعار نفوس کی مثال جگنو February 20, 2024