میری اداسی پر مت جانا دوستو

میری اداسی پر مت جانا دوستو

میری اداسی پر مت جانا دوستومیں بس کردار نبھا رہا ہوں میں کئی رشتوں میں ڈوبا شخصجانے کون سی سزا پا رہا ہوں میں بغیر محبت کے انسان مکمل نہیں
سوچتا ہوں اس میں کیا رکھا ہے

سوچتا ہوں اس میں کیا رکھا ہے

سوچتا ہوں اس میں کیا رکھا ہےغرور و تکبر اور پتھر کا دل رکھا ہے وہ کیا جانے کسی کے جذبات کوجس نے دنیا کو پاگل بنا رکھا ہے ٹھکرائے
سب کی سب سجا رکھی ہیں

سب کی سب سجا رکھی ہیں

سب کی سب سجا رکھی ہیںوہ ادائیں جو تم نے دکھا رکھی ہیں اب رستے کی طرح لگتیں ہیں مجھےوہ راتیں جو ہم نے گزار رکھی ہیں ایک سایہ تک
آندھیوں کے تیور بیٹھ گئے

آندھیوں کے تیور بیٹھ گئے

آندھیوں کے تیور بیٹھ گئےچراغ خود کو بجھا کر بیٹھ گئے اس نے رسمنا" کہا کہ ٹھہرو زرہاور ہم مسکراتے بیٹھ گئے کچھ پیڑوں پہ لکھا تھا نام تیراچند پرندے
عمر کٹ گئی تمہارا ہجر منا تے

عمر کٹ گئی تمہارا ہجر منا تے

عمر کٹ گئی تمہارا ہجر منا تےتازہ لہو سے دیپ جلاتے تمہارے بعد زمانے میں پیچھے گئےگھڑی سے گھڑی ملاتے عمر سے عمر ملاتے مجھ سے کہا تھا کہ وہ
رات باقی ہے

رات باقی ہے

دن سمٹ رہے ہیں مجھے میں اور رات باقی ہےچلے آؤ اب کہ محبت میں ابھی مات باقی ہے کئی پیڑ جھڑ گئے بہار کی انتظار میںسبھی پھول مرجھا گئے
نظروں کا زہر

نظروں کا زہر

سلامت رہے تیری نظروں کا زہرمجھ میں تریاق بن کے رہتا ہے ایک گاؤں کاسادہ سا غریب شخصایک حسن کی شہزادی پہ مرتا ہے ہاں ہاں معلوم ہے وہ مجھے
نرگسی وفا۔۔

نرگسی وفا۔۔

وفا جن کی رگوں میں گردش کرتی ہے گویا وہ شہنشاہ وفا ابوالفضل عباس علمدار کے معتبر قبیلے سے بالواسطہ یا بلواسطہ جڑے ہیں۔ وفا شعار نفوس کی مثال جگنو