Posted inInternational شاعری مسلسل سفر ہے ~غالب برہان وانی قیام ہے کسی شعلہ بدن کی بانہوں میںاور اُس کے بعد مسلسل سفر ہے میرے لئے عجیب دربدری کا شکار ہوں وانیکوئی بھی در ہے کہیں اور October 11, 2024
Posted inInternational شاعری مجھے کوئی خوشی نہیں ہوتی تھی ~غالب برہان وانی ہونے کو تو ہوتا تھا لیکن کچھ خاص نہیں ہوتا تھا مجھےترے بعد کسی کے مرنے کا بھی احساس نہیں ہوتا تھا مجھے کچھ کہنے سے پہلے October 11, 2024
Posted inشاعری International ترکِ محبت ~غالب برہان وانی بھلے ہی جسم کو زخموں سے بھر دیا جائےارادہ ترکِ محبت کا کیوں کیا جائے شریکِ جرم نہیں ہوں مگر یہ ڈر ہے مجھےکہ ہمنوائی میں مجھ October 11, 2024
Posted inInternational شاعری ورنہ کیا کیا نہیں کہ تم سے کہیں غالب برہان وانی ورنہ کیا کیا نہیں کہ تم سے کہیںوہ ہمارا نہیں کہ تم سے کہیں یہ بھی اچھا نہیں کہ چپ بیٹھیںیہ بھی اچھا نہیں کہ تم سے October 11, 2024
Posted inشاعری International چہرہ آفتاب ~غالب برہان وانی وہ خوش جمال نہ ہو چہرہ آفتاب نہ ہومگر کسی میں اسے دیکھنے کی تاب نہ ہو اگرچہ اُس کا ارادہ ہو کامیابی کامگر وہ اپنے ارادے October 11, 2024
Posted inشاعری International شب بیداریوں کی خیر ہو محمد اورنگزیب تشنہ لب ساری شب،وجہِ, شب بیداریوں کی خیر ہوکیا کہا؟بد دعا؟؟ارے نہیں!خدا آباد و سلامت رکھے انہیں،یعنی آستیں کے پالوں کی خیر ہو October 11, 2024
Posted inInternational تحریریں صورت گری مصنف : خالد دانش اک پاکیزہ چہرہ بہت پہلے کبھی اپنے تخیل میں تراش چکا تھا جسے ضبط تحریر میں لانے کے لیے کسی صحیفے کا منتظر تھا آج صبح October 5, 2024
Posted inInternational تحریریں اکھیاں مصنف : خالد دانش سنو زندگیہو تم بختاورسمجھ لینا ڈوبا ہوں۔۔میں ڈوبوں گاان کجراری آنکھوں میںگلابی آنکھوں میںشرابی آنکھوں میںپھرجام شراب پیوں۔۔۔ایساممکن نہیںتوہین ہے ان شراب آنکھوں کیکس طرح گوارا October 5, 2024
Posted inتحریریں International خط۔ شگفتہ پھولوں سے حسیں،نور کی پاکیزہ کرن اور اک گل خنداں ہو تم۔۔ گلہائے عقیدت: تمھاری گہری باحیا آنکھوں میں رب کائنات کا سچا نور دکھائی دیتا ہے جو اس October 5, 2024
Posted inInternational تحریریں بارش نثر پارہ مصنف : خالد دانش کسی عورت سے موسم بہار کی لذت آمیز بارش جیسی محبت کر کے دیکھو جس میں پاکیزگی اور کبریائی پنہاں ہو یقین کرو ! October 5, 2024