ولید کامران۔ کتھک

ولید کامران۔ کتھک

تحریر: خالد دانش کتھک میں تتکار اور چکر کا مایہ ناز رقاص۔۔ کتھک کے کسی جید گرو نے کہا تھا کہ۔۔ کتھا کہے سو کتھک کہارے۔۔یعنی کہانی کہنے والا کتھک
آتش ہائے شوق

آتش ہائے شوق

وفا شعار عورت مینارہ محبت کیوں ہےکیونکہ۔۔وہ اپنی ہی راکھ میں آرزؤں کا محل تیار کرتی ہےاس کے سچے جذبوں میں اس قدر استقامت ہوتی ہےکہ۔۔حوادث زمانہ اس کے جنت
عشقیہ آلاپ

عشقیہ آلاپ

خالد دانش کس قدر دلکش منظر تھا جب میری روح پر تمھاری محبت نازل ہو رہی تھیاورمیں وجدانی کیفیت میں ستاروں کو سمندر میں گرتے دیکھ کر عجب کیف سے
میری حاکمہ سنو

میری حاکمہ سنو

خالددانش عشقپہاڑوں سے ہوتا ہوا جنگلوںصحراوںسمندریاورزمینی فاصلوں کو نہیں گردانتا عشق تو بس اپنے محبوب کی بارگاہ میں سجدہ ریز رہنا ہی پسند کرتا ہے۔۔ اور۔۔یہ دل تمھیں نہ چاہے۔۔
آواز

آواز

خالددانش وہ جو جنگلوں میں گونجے تو جنگلوں کو گلستاں کر دے۔۔سوکھی ہوئی شاخ کو اپنی نازک انگلیوں کا لمس بخشے تو ہرا کر دے۔۔ سنو۔۔روح کے درد عبث شل
عشق نامہ

عشق نامہ

خالد دانش پیکر تراشی گرچہ میرا منصب نہیںمیں تو بس اپنے قلبی احساسات و کیفیات کی تصویر کشی کرنے کا مکلف ہوںآج میں اک حور شمائل سے اپنی اٹوٹ محبت
پریمکا اور آنکھیں

پریمکا اور آنکھیں

خالددانش میں روشنائی کی دوات میں ڈوبا ہوا پریمی جب ہزاروں میل کی مسافت پر تشریف فرما اپنی پریمکا کی آنکھوں کی بارگاہ میں ممتاز حضوری کا شرف حاصل کرتا
عشقیہ اظہار

عشقیہ اظہار

مرشد تم گواہ رہنا۔۔اک روز قلبی صداقتیں اور سچی پکار بر آئے گیاور تماپنے دل کے مخملی پردوں کے پیچھے چھپے عشقیہ اظہار میں عار محسوس نہیں کرو گی۔۔عالم ارواح
وہ پیکر جمال تم ہو

وہ پیکر جمال تم ہو

ایک مرد جب کسی عورت کا عشق اوڑھ لے تو پھر کشا ہوتا ہے میری زندگی ، میری جاناں سنو۔۔ عشقیہ اظہار کو ارتکاب جرم سمجھنے والوں کے گوش گزار