مطلع:چیختی خاموشی بھی اک پیغام دیتی ہےسناٹے کی دیوار کو الزام دیتی ہے اشعار:آنکھوں میں چھپا لیتی ہے طوفان کی شدتلب بند مگر ہر صدا انجام دیتی ہے خاموش لبوں
عبدالمنیب ہر انسان کے دل میںایک پہلا سورج چھپا ہوتا ہے—وہی جو بچپن کے آسمان پرپہلی بار اُگا تھا۔ یہ سورجمٹی کی خوشبو میں کِھلتے ہوئے کھیل،بارش میں بھیگتے ہوئے
مطلع:گونجتے سناٹوں میں یہ دل صدا دیتا ہےزخم پرانا پھر سے کوئی نقشہ دیتا ہے اشعار:خواب بجھانے والوں کی محفل خاموش رہیپھر بھی سکوتِ شب میں کوئی شعلہ دیتا ہے