چیختی خاموشی

چیختی خاموشی

مطلع:چیختی خاموشی بھی اک پیغام دیتی ہےسناٹے کی دیوار کو الزام دیتی ہے اشعار:آنکھوں میں چھپا لیتی ہے طوفان کی شدتلب بند مگر ہر صدا انجام دیتی ہے خاموش لبوں
پہلا سورج

پہلا سورج

عبدالمنیب ہر انسان کے دل میںایک پہلا سورج چھپا ہوتا ہے—وہی جو بچپن کے آسمان پرپہلی بار اُگا تھا۔ یہ سورجمٹی کی خوشبو میں کِھلتے ہوئے کھیل،بارش میں بھیگتے ہوئے
گونجتے سناٹے

گونجتے سناٹے

مطلع:گونجتے سناٹوں میں یہ دل صدا دیتا ہےزخم پرانا پھر سے کوئی نقشہ دیتا ہے اشعار:خواب بجھانے والوں کی محفل خاموش رہیپھر بھی سکوتِ شب میں کوئی شعلہ دیتا ہے
لوح عشق

لوح عشق

یوں تو بہت سے القابات سے نوازا گیا مجھ کومگر اپنا آخری نام تو میں نے حُسین رکھا ہےیوں تو سبھی حرف اس کے لوح عشق ہیں مجھکومگر تیرے آخری
مجھ کو گر میں مل جاتا

مجھ کو گر میں مل جاتا

مجھ کو گر میں مل جاتاانکھیں ہنستی دل کھل جاتا خوابوں کے نگر میں، کچھ روشنی ملتیاندھیروں میں جلتا، وہ دیا بن جاتا یہ دل کی بےقراری، کب تھمے گی