لاہور

حُسنِ لاہور کی قسم مرے دوست تُجھ کو بُھولیں تو کافروں میں ہوں شہزاد سلیم
تعلق

تعلق

میں آدھا تیرے پاس آیا ہوں آدھا وہیں رہ گیا ہوں میں ایسا تعلق ہوں جو بنتے بنتے کہیں رہ گیا ہوں شہزاد سلیم
تری اک نظر کے سوا

تری اک نظر کے سوا

میں آ رہا ہوں تری سمت اور کچھ بھی نہیںامید تجھ سے مجھے تیری اک نظر کے سوا مری اِن آنکھوں نے کیا کچھ نہیں ہے دیکھا مگرنہیں ہے دیدنی
وہم کے سائے دل پہ

وہم کے سائے دل پہ

عبدلمنیب وہم کے سائے دل پہ چھائے ہوئے ہیںخواب سب جیسے دھندلائے ہوئے ہیں ہر اک قدم پر ہے بے یقینی کا عالمراستے خود سے گھبرائے ہوئے ہیں حقیقتوں کا
افق پہ دھندلا سا چاند

افق پہ دھندلا سا چاند

عبدلمنیب حالات کے افق پہ دھندلا سا چھایا ہےہر سمت بے یقینی کا موسم دکھایا ہے چپ چاپ ہیں فضائیں، خاموش ہے جہاں بھیاندیشوں نے دلوں پہ پہرا بٹھایا ہے
خوشبو نے انگڑائی لی ہے

خوشبو نے انگڑائی لی ہے

عبدلمنیب بدلا ہے موسم، خوشبو نے انگڑائی لی ہے ہوا نے پھر سے دل میں اک لہر چلا لی ہے بادل سے بھیگے خواب، آنکھوں میں سمائے ہیں بارش کی
سخن میں خوشبو

سخن میں خوشبو

عبدلمنیب سخن میں خوشبو، جذبوں کی بات ہوتی ہے یہ دل کی حالت کی کچھ خاص بات ہوتی ہے کبھی غموں کا سفر، کبھی خوشی کا نش ہر ایک لفظ
محبت اک خواب سی

محبت اک خواب سی

عبدلمنیب محبت ایک خواب سی، جو دل میں جاگتی ہے خوابوں کی طرح یہ، دھیرے دھیرے بانٹتی ہے اک پل کی خوشبو ہے، جو ہردم مہکتی ہے دل کی گلیوں