اداس

اداس

نہ کچھ بنا کے ہوئے اور نہ کچھ گنوا کے ہوئے اُداس جب بھی ہوئے تیرے پاس آ کے ہوئے شہزاد سلیم
مسلسل سفر ہے

مسلسل سفر ہے

~غالب برہان وانی قیام ہے کسی شعلہ بدن کی بانہوں میںاور اُس کے بعد مسلسل سفر ہے میرے لئے عجیب دربدری کا شکار ہوں وانیکوئی بھی در ہے کہیں اور
ترکِ محبت

ترکِ محبت

~غالب برہان وانی بھلے ہی جسم کو زخموں سے بھر دیا جائےارادہ ترکِ محبت کا کیوں کیا جائے شریکِ جرم نہیں ہوں مگر یہ ڈر ہے مجھےکہ ہمنوائی میں مجھ
چہرہ آفتاب

چہرہ آفتاب

~غالب برہان وانی وہ خوش جمال نہ ہو چہرہ آفتاب نہ ہومگر کسی میں اسے دیکھنے کی تاب نہ ہو اگرچہ اُس کا ارادہ ہو کامیابی کامگر وہ اپنے ارادے
شب بیداریوں کی خیر ہو

شب بیداریوں کی خیر ہو

محمد اورنگزیب تشنہ لب ساری شب،وجہِ, شب بیداریوں کی خیر ہوکیا کہا؟بد دعا؟؟ارے نہیں!خدا آباد و سلامت رکھے انہیں،یعنی آستیں کے پالوں کی خیر ہو
سر پہ ماضی کی گٹھڑی اٹھائے

سر پہ ماضی کی گٹھڑی اٹھائے

شاعر : محمد اورنگزیب سر پہ ماضی کی گٹھڑی اٹھائےآنکھوں میں ہجر کا منظر چھپائےمحبت فقط سود ہے اور کچھ بھی نہیںاور اس قرض کے سوا گزارہ بھی نہیںاسکی سیاہ