ہم صبح سے ڈرنے والے ہیں

ہم صبح سے ڈرنے والے ہیں

ہم صبح سے ڈرنے والے ہیں کیا واقعتہ" بچھڑنے والے ہیں رات سے پہلے سو جاتے ہیں ہم خوابوں میں مرنے والے ہیں کوئی بھی تو مکان نہیں ہے پھر
یاد ائیں گے

یاد ائیں گے

ہمارے ساتھ بیتے لمحے کبھی تو یاد ائیں گےکلیوں کی مہک میں جب مہکو گے تو ہم یاد ائیں گے ہماری زندگیوں میں مقام نقطہ بدل جائے گاتم نکھر جاؤ
میری اداسی پر مت جانا دوستو

میری اداسی پر مت جانا دوستو

میری اداسی پر مت جانا دوستومیں بس کردار نبھا رہا ہوں میں کئی رشتوں میں ڈوبا شخصجانے کون سی سزا پا رہا ہوں میں بغیر محبت کے انسان مکمل نہیں
سوچتا ہوں اس میں کیا رکھا ہے

سوچتا ہوں اس میں کیا رکھا ہے

سوچتا ہوں اس میں کیا رکھا ہےغرور و تکبر اور پتھر کا دل رکھا ہے وہ کیا جانے کسی کے جذبات کوجس نے دنیا کو پاگل بنا رکھا ہے ٹھکرائے
سب کی سب سجا رکھی ہیں

سب کی سب سجا رکھی ہیں

سب کی سب سجا رکھی ہیںوہ ادائیں جو تم نے دکھا رکھی ہیں اب رستے کی طرح لگتیں ہیں مجھےوہ راتیں جو ہم نے گزار رکھی ہیں ایک سایہ تک
آندھیوں کے تیور بیٹھ گئے

آندھیوں کے تیور بیٹھ گئے

آندھیوں کے تیور بیٹھ گئےچراغ خود کو بجھا کر بیٹھ گئے اس نے رسمنا" کہا کہ ٹھہرو زرہاور ہم مسکراتے بیٹھ گئے کچھ پیڑوں پہ لکھا تھا نام تیراچند پرندے
عمر کٹ گئی تمہارا ہجر منا تے

عمر کٹ گئی تمہارا ہجر منا تے

عمر کٹ گئی تمہارا ہجر منا تےتازہ لہو سے دیپ جلاتے تمہارے بعد زمانے میں پیچھے گئےگھڑی سے گھڑی ملاتے عمر سے عمر ملاتے مجھ سے کہا تھا کہ وہ