رات باقی ہے

رات باقی ہے

دن سمٹ رہے ہیں مجھے میں اور رات باقی ہےچلے آؤ اب کہ محبت میں ابھی مات باقی ہے کئی پیڑ جھڑ گئے بہار کی انتظار میںسبھی پھول مرجھا گئے
نظروں کا زہر

نظروں کا زہر

سلامت رہے تیری نظروں کا زہرمجھ میں تریاق بن کے رہتا ہے ایک گاؤں کاسادہ سا غریب شخصایک حسن کی شہزادی پہ مرتا ہے ہاں ہاں معلوم ہے وہ مجھے

میں سب آزمائشیں پار کرنے چلا تھا

میں سب آزمائشیں پار کرنے چلا تھامیں تجھ سے پیار کرنے چلا تھا وقت کی آندھی نے بجھایا ہے چراغ میراورنہ جنگل تو میں پار کرنے چلا تھا چلا تھا
سال کو گرہ لگ چکی

سال کو گرہ لگ چکی

سال کو گرہ لگ چکیایک موم بتی اور بجھ چکی سب دوستوں نے کہا مبارک ہوعمر میری گھٹ چکی بالوں میں سفید چاندی اتر آئینو عمری گزر چکی اب غلطیاں
میری غزلوں کا سبب

میری غزلوں کا سبب

معلوم ہے لوگ پوچھیں گے میری غزلوں کا سببمیں نے کی تھی ایک محبت شاعری چھپانے کے لیے معلوم تھا تیرے سبھی واعدے جھوٹے تھےمیں خود کو گرا بیٹھا تیری
بدقسمتی سے یہاں ہوں میں

بدقسمتی سے یہاں ہوں میں

بدقسمتی سے یہاں ہوں میںنہ تم ہوں نہ تم سا ہوں میں دل پھوٹ کے روتا ہے مگر آنسو نہیں نکلتےکیا خون جگر بتا باقی کتنا رہ گیا ہوں میں
لوگوں کے ستائے ہوئے لوگ

لوگوں کے ستائے ہوئے لوگ

لوگوں کے ستائے ہوئے لوگمجھ جیسےخاک میں ملائے لوگ گم نام ہو جاتے ہیںکوئی اندھیری شام ہو جاتے ہیں میں دنیا کو جیت کر آیا ہوا سکندرپھر نظروں سے گرایا
بدگمانی کھا رہی ہے

بدگمانی کھا رہی ہے

بدگمانی کھا رہی ہے مجھے دھیرے دھیرےایک شام سہانی جا رہی ہے دھیرے دھیرے چہرے پہ سلوٹیں میری سنجیدگی کی نشانی ہیںیہ جوانی جا رہی ہے دھیرے دھیرے مستقبل سمجھتا