موت دا قیدی

موت دا قیدی

او ٹریا تاں اوں دی یاد کوںایویں سینے لائیمجیویں چھیکڑی رات اپڑاں کوںکوئی موت دا قیدیول ول سینے لیندئے شہزاد سلیم
اداسی

اداسی

کوئی ہے مسئلہ درپیش ورنہاداسی بے سبب ہوتی نہیں ہے شہزاد سلیم
گزر گئی

گزر گئی

مجھ کو تو کچھ خبر نہیں کیسے گزر گئیاپنی گزرنی ایسے تھی ویسے گزر گئی قربت سے دھیرے دھیرے بڑھی آگ کی تپشپھر یوں ہوا کہ وہ رگ و پے
شاعری

شاعری

ساجن پھول گلاب میں ، ساجن ہر ہر جا ارپن کر دوں جیونی ، ہر مورے گھر آ کوی ؛ خالددانش کتاب۔۔اے خدائے حسن و عشق۔۔سے ایک دوہا
مجھ کو درکار

مجھ کو درکار

مجھ کو درکار ترا اذن تکلّم ہی نہیں لوحِ دیوار پہ لکّھا ہے مِرا گریہ، پڑھ ! خالد دانش
ع۔۔ش۔۔ق

ع۔۔ش۔۔ق

عشق دا عین عبادت ورگاعشق دا عین عابد کرداماس نئیں چھڈراعشق دا قاف قلم کرے سرعشق دے شین دیاں شاناں اچیاںعشق علیعشق ولیعشق سخی اے حیدر ورگاعشق عباس دے وانگ
عشق کا بخار

عشق کا بخار

بادشاہت کی طلب مر گئیبادشاہت کی طلب مر گئیاب بس فقیری میں ہی قرار ہے تم کہتے تھے نا آؤں گا ملنےدیکھ مجھے آج بھی تیرا انتظار ہے شب و
عشق

عشق

عشق موتیعشق ہیراعشق پاکیزہ قطرہ آبعشق ظالمعشق کتاب حیاتعشق بولتی آنکھیںعشق عاقلعشق باطلعشق جام شرابعشق شبنمعشق شمیمعشق فانیعشق جادوعشق لازمعشق ملزومعشق تمھاری حاضر جواب آنکھیں… عشق دنیا سے عاریعشق دریاعشق

میں یونہی تو بیزار نہیں ہوں

میں تیرا غم خوار بھی تو نہیں ہوں میں تیرے دریچے سے خالی لوٹامیں تیرا رازدار بھی تو نہیں ہوں صحرا ساز ہوائیں چلیں تھی جنگل میںمیں ندی کے پاس
کیا دام دو گے

کیا دام دو گے

کیا دام دو گے میری ہمت کےمحبت مجھے خرید سکتی تھی محبت بھی ہو تو خالص محبت ہوتیری محبت مجھے چھوڑ سکتی تھی میں تو ہوا ہوں چھو نہ پاؤ