سارس پری

سارس پری

ایک بوڑھا آدمی تھا۔ ایک اس کی بوڑھی بیوی تھی۔ آل نہ اولاد۔ بوڑھا بڑھیا شہر سے دور سب سے الگ تھلگ رہتے تھے۔بوڑھا محنت مزدوری کے لیے صبح منہ
تلسمی بلی

تلسمی بلی

پورانے وقت کی بات ہے کہ ایک سلطنت میں بہت ہی خوش حال بادشاہ اور ملکہ رہا کرتے تھے۔ ان کی ایک چھوٹی سی بیٹی للی تھی۔ ایک دن ملکہ
برف کی ملکہ

برف کی ملکہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دو بہت ہی پکے دوست تھے ایک کا نام اقصیٰ اور دوسرے کا نام علی تھا وہ ایک دوسرے کے پڑوسی تھے اور دونوں
مکار پری

مکار پری

پورے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی- عمر پورے تین سال کے بعد جنگ کے میدان سے لوٹ کر صحیح سلامت واپس آ گیا تھا- اس کے ساتھ
با کمال طوطا

با کمال طوطا

نعمان اور عثمان دونوں دوست اسکول سے نکلے تو نعمان اپنے والد کے ساتھ گھر چلا گیا، جب کہ عثمان اکیلا ہی گھر کی طرف چل دیا۔ ابھی کچھ دور
نیک دل پڑوسن

نیک دل پڑوسن

جمیلہ بھی بستی کے دوسرے غریب لوگوں کی طرح ایک تین کمرے والے کوارٹر میں رہتی تھی- جب اس کا شوہر زندہ تھا تو اس نے یہ کوارٹر خریدا تھا-
مور اور گیدڑ

مور اور گیدڑ

ایک مور تھا اور ایک تھا گیدڑ، دونوں میں بہت محبت تھی۔ایک روز دونوں نے طے کیا کہ چل کر بیر کھائیں گے۔ وہ دونوں مل کر ایک باغ میں
سنہری مچھلی

سنہری مچھلی

ایک نوجوان غریب مچھیرا ہوا کرتا تھا۔ بہت نیک سیرت اور خوب صورت۔ والدین بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے اور اسے اس کے رشتے داروں نے پالا تھا۔