Posted inInternational تحریریں آواز خالددانش وہ جو جنگلوں میں گونجے تو جنگلوں کو گلستاں کر دے۔۔سوکھی ہوئی شاخ کو اپنی نازک انگلیوں کا لمس بخشے تو ہرا کر دے۔۔ سنو۔۔روح کے درد عبث شل October 13, 2024
Posted inInternational تحریریں عشق نامہ خالد دانش پیکر تراشی گرچہ میرا منصب نہیںمیں تو بس اپنے قلبی احساسات و کیفیات کی تصویر کشی کرنے کا مکلف ہوںآج میں اک حور شمائل سے اپنی اٹوٹ محبت October 13, 2024
Posted inInternational تحریریں پریمکا اور آنکھیں خالددانش میں روشنائی کی دوات میں ڈوبا ہوا پریمی جب ہزاروں میل کی مسافت پر تشریف فرما اپنی پریمکا کی آنکھوں کی بارگاہ میں ممتاز حضوری کا شرف حاصل کرتا October 13, 2024
Posted inInternational شاعری تعلق میں آدھا تیرے پاس آیا ہوں آدھا وہیں رہ گیا ہوں میں ایسا تعلق ہوں جو بنتے بنتے کہیں رہ گیا ہوں شہزاد سلیم October 13, 2024
Posted inشاعری International تری اک نظر کے سوا میں آ رہا ہوں تری سمت اور کچھ بھی نہیںامید تجھ سے مجھے تیری اک نظر کے سوا مری اِن آنکھوں نے کیا کچھ نہیں ہے دیکھا مگرنہیں ہے دیدنی October 13, 2024
Posted inInternational شاعری وہم کے سائے دل پہ عبدلمنیب وہم کے سائے دل پہ چھائے ہوئے ہیںخواب سب جیسے دھندلائے ہوئے ہیں ہر اک قدم پر ہے بے یقینی کا عالمراستے خود سے گھبرائے ہوئے ہیں حقیقتوں کا October 13, 2024
Posted inInternational شاعری افق پہ دھندلا سا چاند عبدلمنیب حالات کے افق پہ دھندلا سا چھایا ہےہر سمت بے یقینی کا موسم دکھایا ہے چپ چاپ ہیں فضائیں، خاموش ہے جہاں بھیاندیشوں نے دلوں پہ پہرا بٹھایا ہے October 13, 2024
Posted inشاعری International خوشبو نے انگڑائی لی ہے عبدلمنیب بدلا ہے موسم، خوشبو نے انگڑائی لی ہے ہوا نے پھر سے دل میں اک لہر چلا لی ہے بادل سے بھیگے خواب، آنکھوں میں سمائے ہیں بارش کی October 13, 2024
Posted inشاعری International سخن میں خوشبو عبدلمنیب سخن میں خوشبو، جذبوں کی بات ہوتی ہے یہ دل کی حالت کی کچھ خاص بات ہوتی ہے کبھی غموں کا سفر، کبھی خوشی کا نش ہر ایک لفظ October 13, 2024
Posted inInternational شاعری سرد راتوں میں چُپ کے جیسی چادر ہے غزل: سرد راتوں میں چُپ کے جیسی چادر ہےخاموشی میں عجب سی اِک لَہر ہے چاندنی برف کی چمک جیسی ہےدل میں بھی جیسے کچھ کہانی گہر ہے ہاتھ سُونے October 13, 2024