زندگی میں بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں ۔جو ہوتے تو ہیں لیکن اپنے وجود کا احساس نہیں دلاتے ۔چپ چاپ اپ کی زندگی سے چلے جاتے ہیں ۔دوران روزگار سفر کی طوالت کو طے کرنے کے لیے ایک عدد ٹیکسی ملی ڈرائیور پہ غور و فکر نہ کیا بس سفر جا رہی ہو ساری ہو گیا ۔ایک سال گزرا دو سال گزر رہے گزرتے گزرتے نو سال گزر گئے ۔پتہ بھی نہ چلا دن رات میں رات دن میں تبدیل ہوتے گئے ۔خیر گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئی ۔سوتے سوتے امی نے اٹھایا اور بتایا کہ تمہارا ڈرائیور فوت ہو گیا سوچ کے گھوڑے دوڑے لیکن دل کہ کسی کواڑ پر عمران بھائی کے نام کی دستک نہ ہوئی ۔جب ان کا نام ایا تو دل بہت اداس ہوا فلیش بیک چلا تو مجھے یاد ایا ہمیشہ سکول جاتے ہوئے گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ بھاگنا پڑتا تھا ۔ہمیشہ میں انہیں کہتی ہوں رونگ ٹرن لے لیں ۔لیکن وہ نہایت سادگی سے کہتے میم غلط کام کرنے کا دل نہیں کرتا کیا کر وں۔یہ الفاظ کسی بہت بڑے شخص کے نہیں تھے لیکن الفاظ تھے بہت بڑے ۔سگرٹ نہایت ورافتگی سے پیتے تھے ۔لیکن نو سالہ سفر میں میں نے کبھی انہیں سگرٹ کا ایک کش گاڑی میں لگاتے ہوئے نہ دیکھا ۔بات سگریٹ کی اس کش کی نہیں تھی بات اس تعظیم کی تھی جو ہمارے معاشرتی رویے میں عورتوں کو دی جاتی ہے ۔خیر ایک دن میرا سامنا ان کی بیگم سے ہوا ۔اچھی خاصی پڑھی لکھی اور پیاری سی لڑکی تھی ۔عورتوں والی خصلت وارد ہوئی ہے دلی ناچار نے سوچا ان کی شادی عمران بھائی سے کیسے ہو گئی ۔خیر جب بات چیت ہوئی تو ان سے پتہ چلا ان کے والدین کا انتقال ہو گیا تھا ان کے چچا ان کو کسی درس میں چھوڑ گئے تھے ۔جس درس کی متولی عمران بھائی کی بہن تھی اس لڑکی کو سہارے کی ضرورت تھی اور اس کو سہارا دینے کا سہرا عمران بھائی نے اپنے سر پہ باندھا ۔اس لڑکی سے میں نے اس کی تعلیم پوچھی تو اس نے مجھے بتایا کہ میں ایف اے پاس ہوں ۔لیکن اس کے چہرے کی اسودگی بتا رہی تھی کہ وہ بہت خوش ہے ۔اولاد جیسی نعمت سے محروم تھے اسی لیے بچوں کا حد سے زیادہ خیال رکھتے تھے ۔اس جرم کی پاداش بھی کہیں بار انہیں ملی ۔خیر دھوپ ہو چھاؤں ہو بادل ہو بارش ہو کسی بوتل کی جن کی طرح پورے وقت پر میرے گھر کے سامنے ہوتے ۔اسکول جاتے ہوئے اپنی عادت سے مجبور میں کسی بھی پیدل سوار کو اپنی گاڑی میں بٹھا لیتی ۔یہ عادت پتہ نہیں انہوں نے مجھ سے سیکھی یا میں نے ان سے سیکھی راہ چلتے ہوئے مسافر کو روک کر اپنی گاڑی میں بٹھا لیتے تھے۔تو ان ساری باتوں سے میں نے یہ سیکھا ہر عام سے شخص میں کوئی نہ کوئی خاص بات ضرور ہوتی ہے ۔کردار کی سربلندی کے لیے تعلیم یافتہ یا شہرت یافتہ ہونا ضروری نہیں ہے با ضمیر ہونا ضروری ہے احکام خداوندی تو یہ تھا کہ اپنے نفس کو سلا دیا جائے بنی نو انسان نے اپنی ضمیر کو ہی سلا دیا ۔ ان کی اس دنیا سے خاموشی سے چلے جانے کی خبر نے کئی دن تک میرے دل کو خاموش رکھا لیکن دنیا کی چکا چوند انسان کی انکھوں کو خیرہ کیے ہی رکھتی ہے ۔ان کو یاد کرنے کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے اج بھی میں کوئی سفید fx دیکھتی ہوں تو عمران بھائی یاد ا جاتے ہیں ۔اللہ پاک ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ۔اس تحریر کو پڑھنے کے بعد اپ سب سے بھی التماس فاتحہ ہے ۔بس نام رہے صرف اللہ کا جو ظاہر بھی اور باطن بھی حاضر بھی اور نائب بھی ۔
Notifications
Clear all
Education
1
Posts
1
Users
0
Reactions
61
Views
Oct 21, 2024 6:21 pm
