کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ قلم کی نوک دل کی کواڑ پہ دستک دیتی ہے ۔اور یہ دستک دیارے دل کو کھولتی ہے ۔ناشکری ایک بہت بڑا عارضہ ہے ۔اور شکر اللہ کی بہت بڑی نعمت ۔مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ میرے الفاظ میں کوئی ربط نہیں ہے ۔لیکن ربط تو کیفیات میں بھی نہیں ہوتا بعض اوقات کیفیت سکھ کی ٹھنڈی چھاؤں لی اتی ہے ۔اور بعض اوقات دکھ کی چادر اوڑھے بال بکھیرے دل کی دروازوں سے ٹکراتی پھرتی ۔خیر موضوع سخن یہ تھا اج قدم کچھ ایسی پکڈنڈیوں کی جانب اٹھے جہاں کی دنیا ہم سے یکسر مختلف وہاں جا کر محسوس ہوا زندگی بڑی مشکل ہے دال روٹی کا دیار دل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔جسم بھوکا ہو تو دوسرے کی روح نوچنے کا بھی دل چاہتا ہے ۔وہ ایسی دنیا جہاں کھانے کو سالن نہیں پنکھے کی ٹھنڈی ہوا نہیں ۔کڑی دھوپ وہ مٹی جو ہم سب کا انتظار کر رہی ہے ۔جس مٹی میں مل کے ہم سب نے مٹی ہو جانا ہے ۔ وہاں جا کے مجھے محسوس ہوا وہ لوگ جو دوسروں کے گھروں کے لیے اینٹیں بناتے ہیں ان کے اپنے گھر میں ویسی ایک اینٹ بھی نہیں ۔دو دن سے پڑھتی ہوئی گرمی کی شدت جو میرے دل کو بڑا پریشان کر رہی تھی اس دھوپ کی حدت سے سکون میں اگئی اس دھوپ میں محنت کش ہاتھ دوسروں کے لیے اینٹیں بنا رہے تھے ۔ماؤں کا اٹھتا ہوا ہر قدم جو اپنے بچوں کے لیے ٹھنڈا اور صاف پانی لینے کے لیے میل سفر کرتی تھی مجھے اپنے دل پہ پڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔میرے دل کے اندر سے بڑی زور کی اواز ائی اللہ پاک تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے دو وقت کا کھانا اور رزق معاش اور اور سر پر چھت موجود ہے ۔وہاں پر موجود زندگی کے اتنے رنگ تھے جتنا ایک گولے گنڈے کے اندر ہوتے ہیں ۔میری سوچ کے پر جبرائیل کی پرواز سے اگے نہیں جاتے مجھے نہیں محسوس ہوتا کہ میں ان لوگوں کے لیے کیا کر سکتی ہوں ۔لیکن یہ محسوس ضرور ہوا کہ وہ اللہ 70 ماؤں جتنا پیار کرنے والا وہ اس میں بھی کوئی راز پنہا کیے ہوئے ہیں ۔شاید یہ ہم جیسے لوگوں کی ازمائش ہے کہ ہم ان ہاتھوں کی حدت کو کیسے کم کر سکتے ہیں ۔اتنی پریشانی مالی تنگی کے باوجود ایک عجیب قسم کا سکون تھا پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے تھا ۔شاید ان لوگوں کو نہ بڑے گھر کا لالچ تھا نہ کوئی تنگی نہ کوئی ترشی بس پیٹ بھر کے کھانے کی خواہش تھی ۔اس ساری گفتگو کا مقصد صرف اتنا تھا شکر کی ارزے کو اپنے اندر برقرار رکھیں ۔اگر کسی غم یا پریشانی کا شکار ہوں تو اپنے سے نیچے کسی محنت کش کے ہاتھ دیکھیں ۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر بجا لائیں رب بڑا مہربان رحمان رحیم کریم اور غفور ہے ۔70ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے کبھی اپنے بندے کو پریشانی میں تنہا نہیں چھوڑتا ۔اسانیاں بانٹیے اسانیاں بانٹنے کا شرف تقسیم کیجئے خوش رہیے اور خوش رہنے دیجیے ۔
❤️💞
Welcome on extreme writes
V nice
