لیوسفر پارٹ 2
حسن سے عشق کی فطرت کو ملتی ہے تحریک
اس سے سرسبز ہوئے میری امیدوں کے نہال
سرمگین آنکھیں، صراحی دار گردن، گلابی ہونٹ، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے گلابی نرم گال اور پھر گالوں پر ہونٹوں کے قریب بنتے خوبصورت ڈیمپل اور گردن پر پیدا ہوتی نمی کی چمک اور گردن کو سینے سے جوڑتی بیوٹی بون کا ڈیمپل اور پھر اس سب پر زمل کا خوبصورت سراپا جس کی ڈوریں اس کی گردن کی پشت پر بندھی تھی اور برہنہ کندھوں کے گرد بندھی ڈوریوں نے اسے سہارا دئے رکھا تھا
ہزار کوششوں کے بعد بھی وہ اپنے ہونٹوں کو مسکرانے سے نہیں روک پا رہی تھی زمل پر حسن کی دیوی اس قدر مہربان ہوئی تھی کہ اسے خود بھی اس پر یقین نہیں آ رہا تھا (Lucifer)اس کے لمبے گھنے بال اس کی کمر کی حدوں کو چھو رہے تھے اس نے آئینے میں سر سے پاؤں تک خود پر نگاہ ڈالی اور پھر پورئے اعتماد کیساتھ آئینے کے سامنے گھومتے ہوئے اپنے بدن کے خدوخال کا معائنہ کرنے لگی___فاسیر اتنی مہربانیاں کر کے بھی آج تم ہارنے والے ہو__وہ فخریہ انداز میں سر اٹھا کر آئینے میں خود سے مخاطب ہوئی تھی وہ آج سردار کو پانے کے لئے ہر حد تک جانے کا ارادہ کر چکی تھی آج کے دن کے لئے فاسیر سے ملنے کے بعد اسے کئی دن تک انتظار کرنا پڑا تھا اس نے دوپٹے سے گردن پر بنے نشان کو چھپایا اور پھر ایک بڑی سی چادر برہنہ کندھوں پر ڈالے یونیورسٹی کی طرف چل نکلی آج سب ہی وہاں ڈگریاں لینے پہنچے ہوئے تھ
ے یونیورسٹی میں ہر کوئی کن آکھیوں سے زمل کو ہی دیکھ رہا تھا جو لڑکی کبھی پریزینٹیشن سے گھبرا جاتی تھی وہ آج سب سے اگلی قطار میں بیٹھی پراعتماد نظر آ رہی تھی تہروبا میں کیسی لگ رہی ہوں___اس نے بیٹھے بیٹھے یوں ہی پوچھ لیا تھا__بہت عجیب!!! تہروبا بے دلی سے بولی تھی ہر کوئی تمہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہا ہے__کیا تم بھی___ہاں کیونکہ اتنے سالوں میں میں نے پہلی بار تمہارئے چہرئے پر معصومیت غائب دیکھی ہے تم ایک شاطر عورت لگ رہی ہو
تہروبا کے دئیے ہوئے موبائل میں موجود چند مسیجز نے زمل کو اس قدر چونکہ دیا تھا کہ وہ تہروبا پر شک کرنے کے لئے مجبور ہو چکی تھی
کب تک مجھے معصومیت کا لبادہ اوڑھے اس کا انتظار کرنا تھا تہروبا تم دیکھ نہیں رہی کہ اس کے گرد ہمیشہ کی طرح اب بھی شاطر عورتیں ہی گھوم رہی ہیں___تم نہیں سمجھو گی زمل میں نے بہت مشکل سے تمہارا امیج سردار کی نظر میں ایک سیدھی سادی معصوم اور نیچرل لڑکی کا بنایا تھا اور تم آج یہ عریاں لباس پہنے دو کلو میک اپ تھونپے یہاں آ گئی ہو___سیدھی اور شریف لڑکی چاہئیے کیسے ہوتی ہے تہروبا اور تم ہی تو کہتی تھی کہ وہ حسن پرست طبیعت رکھتا ہے_
_زمل نے تہروبا کے طنزیہ جملوں پر بھی تحمل سے جواب دیا تھا وہ تہروبا پر بلکل عیاں نہیں ہونے دینا چاہتی تھی کہ اسے تہروبا پر کچھ شک ہو رہا ہے___حسن پرست ہے تو کیا تم اس طرح اس کے سامنے جاؤ گی___کیا مجھے نہیں جانا چاہئیے___وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی__میں کچھ نہیں کہہ سکتی جو تمہیں ٹھیک لگتا ہے وہ کرو__تہروبا نے اپنا رخ پھیر لیا تھا اس کے لئے ابھی تک یقین کرنا مشکل تھا کہ یہ وہی زمل ہے جس کو وہ عرصے سے بیوقوف بنا رہی تھی
کیا میں بہت بری لگ رہی ہوں تہروبا؟زمل کے سوال پر وہ بغیر کچھ کہے اپنی نشست چھوڑ کر چلی گئی تہروبا کا یہ رویہ اس کے شک کو مزید بڑھاوا دئے رہا تھا___اگر میں تم سے کچھ پوچھوں تو کیا میں امید کر سکتی ہوں کہ تم جھوٹ نہیں بولو گے وہ سردار کو سب سے ٹاپ فلور پر لے آئی تھی اس کے لئے سردار سے زیادہ الجھن تہروبا بن چکی تھی جس کے موبائل میں اس نے چند مسجیز پڑھ لئے تھے جو غلطی سے تہروبا ڈیلیٹ کرنا بھول گئی تھی
تمہارا میری دوست کیساتھ کیا چکر ہے؟زمل نے سردار کے جواب کا انتظار کئے بغیر اپنا سوال اس کے سامنے رکھ دیا تھا چکر واٹ یو مین بائے چکر___وہ بلکل انجان بن گیا تھا___ڈونٹ بی اوور سمارٹ مسٹر__زمل معنی خیز انداز میں اسے انگلی دیکھاتے ہوئے مخاطب تھی___میرئے پاس وہ سب مسیجز ہیں____تم غصے میں اور بھی معصوم لگتی ہو زمل___معصومیت تو میرئے چہرئے سے ہی غائب ہے ناں سردار___اتنا بکواس جھوٹ کس نے بولا زمل___تم بات بدلنے کی کوشش مت کرو سردار مجھے میرئے سوال کا جواب چاہئیے وہ بھی ابھی___ہر گزرتا لمحہ اس کے غصے کو بڑھاوا دئے رہا تھا اس کے گال غصے سے سرخ ہونے لگے تھے___کیا جواب چاہئیے تمہیں بتاؤ___وہ سنجیدگی سے مخاطب ہوا تھا زمل سے اس لہجے کی اسے بلکل بھی توقع نہیں تھی___اس دھوکے کا جواب جو تم اور تہروبا مجھے مل کر دئے رہے ہو___زمل نے آواز اونچی کرتے ہوئے اس کے گریبان کو پکڑ لیا تھا
یہ کیا بدتمیزی ہے تمہاری ہمت کیسے ہوئی سردار کے گریبان تک پہنچنے کی___سردار نے زمل کے ہاتھوں کو جھٹک کر پیچھے کر دیا تھا___تم کب سے اتنی ہمت رکھنے لگی کہ تمہارئے ہاتھ اس گریبان تک پہنچے___تم میرئے مجرم ہو سردار میرئے مجرم!!! تم اچھے سے جانتے تھے کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں اس کے بعد بھی تم نے مجھے دھوکہ دیا___سردار اپنے گریبان کی طرف بڑھتے زمل کے ہاتھوں کو ایک بار پھر جھٹک دیا تھا____دھوکہ میں نے نہیں تم نے دیا بلکہ تم سب نے ایک دوسرئے کو دیا اور الزام مجھے دئے رہی ہو تم سب کی سب مکار اور دھوکے باز ہو___زمل سلطان سب کچھ ہو سکتی ہے مگر دھوکے باز نہیں___سردار کے سخت لہجے نے اس کی آنکھیں نم کر دی تھی___واٹ ایور مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ تم اپنے دعوی میں سچی ہو یا تمہاری دوست___سردار کے سخت الفاظ زمل کو چھلنی کر رہے تھے کئی کوششوں کے بعد بھی وہ ضبط قائم رکھنے میں ناکام رہی تھی اس کے آنسو اس کی گالوں سے بہتے ہوئے جا رہے تھے وہ بلکل ساکن کھڑی تھی سردار کی باتوں نے تہروبا کی حقیقت اس پر عیاں کر دی تھی
پلیز یہ رونا دھونا بند کرو کوئی یہاں آ رہا ہے اور میں بلکل نہیں چاہتا کہ کوئی ہمیں اس حال میں دیکھ کر کوئی نیا سیکنڈل بنائے___سردار کی بات کا اس پر رتی برابر بھی اثر نہیں ہوا تھا اب تک اس کی آنکھوں سے آنسو اسی رفتار سے بہہ رہے تھے__میں تمہیں کچھ کہہ رہا ہوں زمل یہ رونا دھونا تم بعد میں بھی کر سکتی ہو___کسی کے سیڑھیاں چڑھنے کی آواز نے سردار کو مزید پریشان کر دیا تھا___آئی سیڈ سٹاپ دس زمل دیکھنے والے کیا سمجھیں گے کہ___پلیز سٹاپ اٹ___سردار کی آخری وارننگ کا بھی زمل پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا سردار نے جلدی سے جیب سے ٹشو نکالا اور اس کا رخ سیڑھیوں سے مخالف سمت کو موڑ کر اس کے چہرئے سے آنسو صاف کرنے لگا___تم یہ ڈرامہ بعد میں بھی کر سکتی ہو کیا عذاب بنایا ہوا ہے___وہ دانت پیستے ہوئے بناوٹی مسکراہٹ کیساتھ بولا دو چار لڑکیوں کے اوپر پہنچ جانے کی وجہ سے اسے مجبوری میں یہ سب کرنا پڑ رہا ہے تھا___سمائل پلیز زمل__زمل کی آنکھوں سے دوبارہ نکلتے آنسوؤں نے اسے مزید غصہ دلا دیا تھا مگر اس کے پاس اب دوسرا کوئی چارہ بھی نہیں تھا___اوہ گاڈ کیا مصیبت ہے یہ لڑکی ہم ایک ڈیل کرتے ہیں تم فی الحال میری عزت کا کباڑہ مت کرو میں بھی تمہیں کوئی فیور دئے دوں گا___کیا سب ٹھیک ہے سردار___ہاں سب ٹھیک ہے بس یونہی ہم___سردار نے مکمل ضبط کرتے ہوئے اس دوسری لڑکی کو مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی وہ کسی بھی طرح یہاں سے نکلنا چاہتا تھا کیونکہ اس چھوٹی سی بات کا بتبگڑ بنتے دیر نہیں لگنی تھی وہ اسے لے کر سیڑھیوں تک پہنچ گیا تھا___زیادہ چالاک مت بنو اپنی ڈیل پوری کرو ورنہ ابھی آدھا راستہ باقی ہے___زمل نے سردار کو کلر ٹھیک کرنے سے روک دیا تھا___کیا چاہتی ہو تم؟ سردار؟___سردار سوالیہ نظروں سے اس کے چہرئے کی طرف مخاطب ہوا جہاں ایک معنی خیز خاموشی تھی___نہیں مجھے سردار نہیں چاہئیے___زمل نے توقع کے بلکل الٹ جواب دیا تھا___تم وہ سب مجھے بتاؤ گے جو تہروبا اور تمہارئے درمیان ہے___یہ کیا ہے زمل___وہ منہ لٹکائے بولا اسے بلکل اس چیز کی امید نہیں تھی___اور یہ بھی کہ تم تہروبا کے سامنے مجھے اپنی گاڑی میں لے کر جاو گے___زمل کے اصرار پر سردار نے فوری حامی بھر لی تھی
وہ غصے کی آگ میں جلتی ہوئی سردار کا ہاتھ تھامے جیسے ہی نیچے پہنچی ہر کسی کی نظریں اسی پر مرکوز تھی وہ مغرورانہ انداز میں تہروبا کے سامنے جانا چاہتی تھی مگر تہروبا کے سامنے پہنچنے تک اس کی آنکھیں اٹھانے کی ہمت ہی ختم ہو گئی تھی جس لڑکی پر وہ ہمیشہ خود سے بھی زیادہ اعتماد کرتی تھی اس نے ہی اس کے اعتبار کو چھلنی کیا تھا وہ چاہتے ہوئے بھی تہروبا سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی گاڑی تک پہنچتے ہوئے اس کا ضبط ختم ہو گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
کیا مصیبت ہے یار
وہ کب سے سڑک پر فضول گاڑی گھما رہا تھا کہ کب زمل کا رونا ختم ہو مگر بے سود
اس سب کی سزا تم مجھے کیوں دئے رہی ہو
اس نے اپنا لہجہ سخت کرتے ہوئے گاڑی سنسان سڑک پر روک دی تھی
تم جانتے ہو کہ میں تمہیں پسند کرتی ہوں
روتے ہوئے وہ اور بھی خوبصورت نظر آ رہی تھی
یہ کیا بکواس ہے یہ محبت و حبت کچھ نہیں ہوتا ہم دوست تھے اور دوست….
مجھے نہیں بننا تمہاری دوست___زمل نے سردار کو ٹوک دیا تھا
تم آخر یہ بات کیوں نہیں سمجھتے اور تم___وہ آنسو صاف کرتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑ چکی تھی
کیا میں___وہ تجسس سے گھورتی آنکھوں میں دیکھنے لگا
کیا سمجھتے ہو خود کو؟
بہت ہنڈسم ہو؟
بہت خوبصورت ہو؟
کسی کے بھی جذبات سے کھیل سکتے ہو کوئی کچھ نہیں کہے گا؟
کسی کو بھی دھوکہ دئے سکتے ہو؟
بہت مزہ آتا ہے ناں تمہیں لڑکیوں میں رہنے کا
ہر کسی سے ایکسپٹنس لینے کا
میں زمل سلطان تمہیں ریجیکٹ کرتی ہوں تمہیں بھی اور تمہاری دوستی کو بھی
سمجھے تم
زمل نے ایک ہی سانس میں اپنے دل کی ساری بھڑاس نکال دی تھی وہ گاڑی سے نکل کر سڑک کے کنارئے تیز تیز چلتی جا رہی تھی اس نے گاڑی کے دروازئے میں پھنسے دوپٹے کو نکالنا بھی گورا نہیں کیا تھا تیز قدموں کے اٹھنے کی ترتیب کو سردار نے زمل کا ہاتھ کھینچ کر بے ترتیب کر دیا تھا چند مزاحمتی قدموں کے بعد وہ اس کی بانہوں میں منجمد کھڑی جکڑی ہوئی تھی وہ آنکھیں پھیلائے سردار کی طرف دیکھنے لگی
تمہیں پتہ بھی ہے کہ کس طرف بھاگتی جا رہی ہو یہ راستہ
یہ راستہ بھاڑ جاتا ہو تم نے مجھے کیوں چھوا___وہ بن پانی کے مچھلی کی مانند اس کی بانہوں کے حصار میں پھڑ پھڑانے لگی
یہ سب شروع کس نے کیا تھا
وہ معنی خیز انداز میں اسے دیکھنے لگا
چھوڑو مجھے___وہ زور سے چلائی___میں ویسی لڑکی نہیں ہوں جن کی تمہیں عادت ہے تم یوں مجھے نہیں چھو سکتے
یہ تمہیں پہلے سوچنا چاہئیے تھا لڑکی جب تم یہ حرکت کر رہی تھی_____وہ اس کے غصے سے پک چکا تھا اس نے بھی زمل کے گریبان کو پکڑ لیا تھا
چھوڑو مجھے___وہ سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھنے لگی تھی
تم چاہو تو میرئے کندھوں کو پکڑ سکتی ہو
سردار مجھے چھوڑو___زمل نے سردار کی آفر کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بات پر زور دیا تھا
اتنی خوبصورت چیز چھوڑنا بیوقوفی ہو گی
میرئے ساتھ فلرٹ مت کرو اور میرا گریبان چھوڑو ورنہ میں
ورنہ کیا
میں وہ لڑکی نہیں ہوں سردار
میں بھی وہ لڑکا نہیں ہوں زمل
تم وہی ہو فلرٹی انسان
ہاں میں فلرٹی ہوں مگر اس وقت میں بلکل بھی فلرٹ کے موڈ میں نہیں ہوں
تم میرا گریبان چھوڑ رہے ہو یا نہیں
بلکل نہیں اگر چھڑوا سکتی ہو تو چھڑوا لو تمہارئے پاس دو آپشنز ہیں یا تو تم اپنی قمیض ہی اتار لو یا پھر شور مچاؤ کہ کوئی یہاں آ جائے میرئے خیال سے پہلے والی آپشن آسان ہے
یو ناؤ واٹ تم اس روپ میں بلکل بھی نہیں جچ رہے سردار___زمل بے بس ہو چکی تھی
اس پوزیشن میں بھی تمہیں میری پرسنیلٹی کی فکر ہو رہی ہے زمل سوچو میں ایسی لڑکی کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں جو میرئے لئے اتنی فکر مند ہو
مجھے تمہاری کوئی فکر نہیں ہے سمجھے بس تم اس روپ میں چھچوڑئے لگ رہے ہو اگر تم ایسے ہی رہے تو مجھے اپنے انتخاب پر ہمیشہ افسوس رہے گا
چھچھوڑا تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے میں نے کوئی تانکا جانکی کی ہو
ایسا سوچنا بھی مت سردار
کیا کرؤں سوچ پر کسی کا کنٹرول تھوڑی ہوتا ہے___سردار نے آنکھیں اٹھا کر کچھ دیکھنے کی ناکام سی کوشش کی اور پھر اگلے ہی لمحے اسے گھما کر اس کی پشت کو اپنی طرف کیا اور اپنی بانہوں میں جکڑ لیا
اب مجھ سے کیا چاہتے ہو تم چھچوڑئے انسان
میں وہی سننا چاہتا ہوں جو تم تہروبا کو سناتی تھی
وہ سب تمہارئے لئے نہیں تھا وہ کوئی اور سردار تھا
جب تم کسی مرد کی انا کو ٹھیس پہنچا کر بھاگنے کی کوشش کرو گی تو وہ بھاگنے تھوڑی دئے گا
ام یوں کہو ناں میرئے انکار نے تمہاری پرسنلٹی کا چارم ختم کر دیا
میرئے اندر اب بھی اتنا ہی چارم ہے محترمہ کیا اس پرسنیلٹی میں سردار کے لئے خود کو تمہارئے اتنا قریب لے آنا ممکن تھا
یہ سب تم باقی____
باقی کچھ نہیں ہے زمل اگر ہوتا تو تم کبھی میری بانہوں کے حصار میں اتنا پرسکون کھڑی نہ ہوتی___سردار نے زمل کی بات کو ٹوکا تھا
میں بلکل پرسکون نہیں ہوں___زمل نے بناوٹی غصے سے ایک مکا سردار کے جسم پر مارا تھا
اس سے زیادہ سکون تمہیں تب ملے گا جب تم اپنا رخ پھیر کر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اظہار محبت کرو گی اور میں اس کے جواب میں تمہیں سینے سے لگا لوں گا
ایسا کچھ نہیں ہو گا سمجھے تم
ایسا ہی ہو گا اور میں دیکھتا ہوں کہ تم مجھے کیسے روکو گی____سردار نے جھٹکے سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا اور پھر اپنے دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر ٹکائے اسے اپنی طرف مائل کرنے لگا
کیا یہ سب ہونا ضروری ہے
بلکل نہیں زمل میں تمہارئے نظریات سے واقف ہوں محبت جسموں کی محتاج نہیں ہوتی مگر سکون من پسند شخص کی بانہوں میں ہی ملتا ہے
تمہیں سکون چاہئیے یا زمل___وہ سوالیہ نظروں سے اس کے چہرئے کی طرف دیکھنے لگی وہ ہر صورت سردار کو اپنے بدن سے دور کرنا چاہتی تھی
مجھے وہ سکون چاہئیے جو زمل کے ساتھ میسر ہو___سردار نے اس کے گرد حصار بنا کر اسے تھوڑا قریب کیا اور پھر اس کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے اس کیساتھ لیپٹ گیا زمل بھی زیادہ دیر تک خود کو نہیں روک پائی تھی
محبت جسم کے چھوٹے سے حجرے کے
کسی گوشے میں رہتی ہے
یہاں روزن نہیں کوئی
کہیں سے روشنی کی اک کرن اندر نہیں آتی
بہت گہرا اندھیرا ہے
تصور اور خیالوں کی گزر گاہوں پہ پہرا ہے
محبت ایک لا حاصل سفر کا ساتواں پردہ ہے
جس میں اک سمندر اس کی طغیانی خموشی کا بسیرا ہے
سمندر شانت ہوتا ہے تو پستانوں سے لہریں یوں لپٹتی ہیں
کہ جیسے گھن گرج کے بعد سرشاری کا لمحہ ہو
اسی لمحے میں وقفے میں
محبت بے کراں ہوتی ہے جیتی ہے
محبت گنگناتی اور بکھرتی ہے
محبت جاوداں ہوتی مہکتی ہے
کئی گھنٹوں سے وہ خیالوں کی دنیا میں جھومتی ناچتی گنگاتی تتلیوں کی مانند اڑتی پھر رہی تھی ایک ایسے باغ میں جس میں رنگے برنگے پھولوں سے لدئے ریشم کے بستر رکھے ہوئے تھے سردار ہی اس کے تمام خوابوں اور خیالوں کا محور تھا
وہ اپنے بدن پر سردار کے ہاتھوں کی گرفت کو محسوس کر رہی تھی ایک بے چین کر دینے والی گرفت کا احساس اس کی محسورکن سانسوں کی مہک اور اس کے وجود کا رعب اسے کروٹیں بدلنے پر مجبور کر رہا تھا کچھ دیر یونہی کروٹیں بدلنے کے بعد وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے برہنہ بازوں پر نظر دوڑانے لگی وہ اپنے جسم کے ہر اس حصے پر نظر ڈال رہی تھی جہاں سردار نے اسے چھوا تھا وہ اپنے بدن پر بنے اس کے پوروں کے نقوش کو چن لینا چاہتی تھی کہ اچانک کسی خیال نے اسے ساکن کر دیا
فاسیر!!!
گردن پر بنے نشان نے زمل کی توجہ اس طرف مبذول کروا دی تھی جو اس کے وہم و گمان سے بھی غائب تھا اس کے دل میں پیدا ہونے والی خوف کی لہر نے اسے اپنا نیم برہنہ بدن ڈھکنے پر مجبور کر دیا تھا
فاسیر
فاسیر
اس نے پھیلی آنکھوں اور زرد چہرئے کیساتھ زیر لب اسے پکارا تھا___کیا وہ اپنی ہار تسلیم کر کے جا چکا ہے یا اسے اس سب سے اب کوئی فرق نہیں پڑتا___دروازئے کو پڑنے والے زوردار دھکے نے زمل کو خود ساختہ سوالوں سے باہر نکالا تھا
اس چیز کی کمی رہ گئی تھی زمل___وجیہہ اسے آئینے کے سامنے نیم برہنہ دیکھ کر بھڑک گئی تھی___تم میں اگر تھوڑی سی شرم بھی باقی ہو تو تمہیں ڈوب کر مر جانا چاہئیے___وہ تیزی سے کمرئے میں داخل ہوئی اور زمل کے ہاتھ سے موبائل چھین کر دیکھنے لگی یہ وہی موبائل تھا جو تہروبا نے چوری چھپے اسے دیا تھا___صبع لڑکے والے آ رہے ہیں تمہاری شادی ہی تمہاری اس حوس کا واحد حل ہے___تہروبا کی چال کام کر گئی تھی وجیہہ اس کو کوستی ہوئی وہاں سے چلی گئی زمل کو ابھی تک سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اچانک سے یہ سب کیا ہوا تھا اس نے ساری رات جاگ کر گزاری تھی صبع ہوتے ہی وہ تہروبا کے کمرئے کی طرف چلی گئی____تم اتنی صبع یہاں___زمل کو دیکھتے ہی اس کے چہرئے کا رنگ زرد ہو گیا تھا
کیوں مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا کیا؟زمل نے آخری حد تک اپنا لہجہ نارمل رکھنے کی کوشش کی تھی وہ تہروبا کی چالاکیاں جان گئی تھی___میرا وہ مطلب نہیں تھا زمل___اس کا انداز بلکل روایتی سا تھا اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ زمل اس کے متعلق سب جان چکی ہے___دراصل مجھے کل سے بہت عجیب فیلنگز آ رہی ہیں شہزادی مجھے تمہیں وہ تنہا چھوڑ کر نہیں جانا چاہئیے تھا___تہروبا کی حقیقت جاننے کے بعد اس کی صفائی زمل پر بلکل بے اثر تھی___مجھے چھوڑو سردار سے کوئی بات بنی؟وہ سوالیہ انداز میں زمل کے چہرئے کی جانب متوجہ ہوئی جو بلکل خاموش تھا___کچھ بولو بھی شہزادی
وہ مجھ میں انٹرسٹڈ نہیں ہے___زمل نے اس کے اصرار پر زبان کو حرکت دیتے ہوئے پہلی بات ہی ایسی کر دی تھی کہ تہروبا کا دل باغ باغ ہو گیا___یہ تو وہی پرانی بات ہے شہزادی کل کیا ہوا___جب وہ مجھ میں انٹرسٹڈ ہی نہیں ہے تو کیا ہونا تھا___کتنا کمینہ اور گھمنڈی ہے وہ آخر اسے اور چاہئیے ہی کیا اسی لئے میں تمہیں منع کر رہی تھی کہ اس کے سامنے اپنی نمائش مت کرو___ہاں تم صحیح تھی مجھے ایسے شخص کے سامنے اپنی نمائش نہیں کرنی چاہئیے تھی جو میری دوست میں انٹرسٹڈ ہے___زمل کی بات سن کر وہ ایک دم چونک گئی تھی____وہ تم میں انٹرسٹڈ ہے__یہ یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ بکواس ہے___میں صحیح کہہ رہی ہوں تہروبا میں نے اس کی آنکھوں میں تمہارئے لئے وہ سب دیکھا ہے جو میں اپنے لئے چاہتی تھی___زمل تم کیسی باتیں کر رہی ہو اگر اس نے تمہیں ایسا کہا ہے تو یہ اس کی کوئی چال ہو گی___محبت میں چالیں نہیں چلی جاتی وہ واقعی ہی تم میں انٹرسٹ رکھتا ہے____مگر مجھے ایسے شخص میں کوئی انٹرسٹ نہیں جو تمہارئے جذبات کی قدر نہ کرتا ہو____انٹرسٹ…..زمل نے کھینچ کر لمبا کیا جب تم اس کیساتھ رہو گی تو خود ہی بن جائے گا___کیا بات کر رہی ہو تم شہزادی میں بھلا کیوں اس کیساتھ رہوں گی میں کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتی میں خود اس سے بات کروں گی___اب تمہیں ہی اس کیساتھ باتیں کرنی ہیں تہروبا___تمہیں صبع صبع ہو کیا گیا ہے زمل میں تمہاری دوست ہوں اور تم……میں ابھی اسے کال کر کے اس کا دماغ سیٹ کرتی ہوں____وہ جلدی سے نمبر ڈائل کرنے لگی تھی کہ زمل نے اس سے موبائل چھین لیا___نہیں کرو گی تم اسے کال___مگر کیوں زمل___میں چاہتی ہوں کہ تم دونوں خوش رہو___کتنی فکر ہے تمہیں اس کی خوشی کی اور خود تم؟؟اپنا سوچا کبھی___اتنا کچھ سوچا تو ہوا ہے تم نے میرئے لئے کہ کس طرح اپنے ہی دئیے موبائل کی خبر وجیہہ کو دینی اور___کیا مطلب بھابھی کو اس موبائل کی خبر بھی لگ گئی___ڈونٹ بی کلیور لائک نینا شاہ___زمل نے اپنا انداز کچھ بدلا تھا جس پر تہروبا کے اوسان خطا ہو گئے اسے پہلے ہی لگ رہا تھا کہ زمل کو شاید شک ہو رہا ہے___کلیور…..واٹ یو مین بائے کلیور___چالاک بننا بری چیز نہیں ہے مگر اپنے مفاد کے لئے کسی خالص رشتے میں چالاکیاں کرنا اور مکر و فریب کھیلنا بہت گھٹیا حرکت ہے تہروبا___ویٹ ویٹ ویٹ! تم یہ کیا کہہ رہی ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کون نینا؟کسی ناول کا فرضی کریکٹر جو تمہارئے جتنا ہی جھوٹا اور دھوکے باز تھا تمہیں سردار چاہئیے تھا ناں تو ویسے مجھے بتا دیتی میں تمہارئے راستے سے ہٹ جاتی کم از کم یوں میری بھابھی کے سامنے میرا کردار تو گندہ نہ کرتی____کیا بکواس کر رہی ہو تم زمل___تہروبا نے بھی اپنا لہجہ سخت کیا تھا__وہی جو تم نے میرا ساتھ کیا تمہاری تمام چالاکیاں میں جان گئی ہوں تہروبا____تمہیں کوئی غلط فہمی ہو رہی ہے یہ سب بکواس سردار نے کی ہو گی___تمہیں لگتا ہے کہ میں پندرہ سال پرانی دوستی صرف ایک غلط فہمی کی وجہ سے ختم کر رہی ہوں لائک سریسلی!!!میرئے پاس جو خفیہ فون تھا اس کی خبر میرئے اور تمہارئے علاوہ کس کو تھی جو وہ وجیہہ تک پہنچی
تم ہوش میں تو ہو زمل کیا میں جا کر بتاؤں گی کہ میں نے زمل کو موبائل دیا ہے____اچھا کیا تم نے مجھے وہ موبائل دیا کم از کم اس میں موجود مسجیز دیکھ کر مجھے تمہاری حقیقت تو پتہ چلی___زمل نے یک دم تہروبا کو لاجواب کر دیا تھا___کتنی گری ہوئی حرکت کی تم نے……..سردار تو کبھی میرا تھا بھی نہیں میں صرف اسے پسند ہی کرتی تھی ناں اگر وہ تمہیں بھی پسند تھا تو مجھے گندہ کیوں کیا تم نے___دل پر کسی کا زور نہیں چلتا زمل میرئے پاس دوسرا راستہ نہیں تھا___تہروبا جان گئی تھی کہ اب مزید جھوٹ کسی کام نہیں آئے گا___تم جیسی دھوکہ باز لڑکی کے لئے راستے بنانا کوئی مشکل نہیں ہوتا___میں نے تمہیں کوئی دھوکہ نہیں دیا سمجھی تم میں پہلے دن سے جانتی تھی کہ سردار کبھی تمہیں نہیں اپنائے گا اور میں بھی سردار کو پسند کرتی ہوں یہ بتا کر میں تمہارا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی____تم سمجھتی کیا ہو خود کو کیا تم مجھ سے زیادہ حسین و جمیل ہو جو وہ مجھے دھتکار کر تمہیں اپنائے گا___وہ غصیلے انداز میں اسے دیکھنے لگی_____زمل میں تمہیں یہ بات کبھی نہیں سمجھا سکتی بس تم ویسی نہیں ہو جیسی لڑکی وہ چاہتا ہے___اچھا یہ تو سمجھا سکتی ہو کہ جو گندگی تم نے میرئے کردار کیساتھ جوڑی ہے کیا اتنی پرانی دوستی کا اور اتنے احسانات کا یہی صلہ بنتا تھا___اب تم اپنے احسانات جتانا چاہتی ہو زمل___نہیں یہ احساس دلانا چاہتی ہوں کہ جس بے گناہ کا وکیل ہی بک جائے اس پر کیا بیتتی ہے___خدا کی قسم اگر تم ایک بار بھی مجھ سے سردار کا مطالبہ کرتی تو میں تمہارئے راستے سے کوسوں دور چلی جاتی مگر اب میں تم پر اور تمہاری پندرہ سالہ دوستی پر لعنت بھیجتی ہوں____ایسا مت کہو زمل تم میری دوست___زمل نے تہروبا کا جملہ کاٹتے ہوئے اسے ایک تھپڑ رسید کیا تھا___شٹ یور ماوتھ یہ تھپڑ اس لئے نہیں کہ تم نے مجھے دھوکہ دیا بلکہ اس لئے کہ تم نے مجھے اپنی دوست کہا____تم نے مجھ ہر ہاتھ اٹھایا زمل تمہیں اس کا بدلہ ضرور دینا ہو گا____تم سے جو ہو سکتا ہے کر لو تہروبا بی بی میں بھی دیکھتی ہوں کہ تم سردار تک کیسے پہنچتی ہو___تمہیں تمہارا سفر مبارک زمل شہزادی میں اپنی منزل پر ہی ہوں اور تم سے پہلے ہوں___آئی ویل سی یو___زمل اس کے کمرئے سے نکل گئی تھی
ایک مصروف سے دن کی سلجھی ہوئی شام وہ چھت کے ٹاپ فلور سے ٹانگیں لٹکائے بیٹھی مسلسل سگریٹ پھونک رہی تھی وجیہہ بلیک میلنگ میں آ کر نوشہ سے ساری پابندیاں ہٹا چکی تھی__نیچے مہندی کی رسم شروع ہونے والی ہے کیا تم اس میں شامل نہیں ہونا چاہو گی__نوشہ نے وجہیہ کی آواز کو بلکل ان سنا کر کے کوئی ریسپانس نہیں دیا تھا__کیا تم خودکشی کرنے والی ہو نوشہ؟میں تمہاری طرح بزدل نہیں ہوں وجیہہ آنٹی___ٹونٹ مارنے میں تو تم اپنی ماں سے بھی دو ہاتھ آگے ہو___وہ اس کے قریب ہو کر بیٹھ گئی تھی___تمہیں اس عورت کے علاوہ مجھ سے منسلک کرنے کو کوئی اور نہیں ملتا؟جب میں سارا دھیان اس پر مرکوز رکھوں گی تو تب ہی تمہاری باتوں کی سچائی جان پاؤں گی____سچائی…….وہ لفظ لمبا کھنچتے ہوئے زور سے ہنسنے لگی آنٹی میں جان گئی ہوں کہ یہ تمہارئے بس کی بات نہیں ورنہ شوہر کی بیوفائی تو عورت سونگھ کر بھانپ لیتی ہے___میں کوشش کر رہی ہوں اسی لئے تو میں نے تہروبا کو روک رکھا ہے ورنہ وہ تو زمل سے ہونے والی لڑائی کے بعد یہاں سے جانے والی تھی___جس سے تم امید لگائے بیٹھی ہو وہ لڑکی بہت مفاد پرست ہے اسے صرف سردار تک پہنچنے کا راستہ چاہئیے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایک لڑکے نے تمہارئے خاندان کی سب لڑکیوں کو پاگل کیسے بنایا ہوا ہے___شاید وہ ایک پرفیکٹ مرد ہے اور دوسرا یہ ان سب کی عمر کا تقاضہ ہے حیا تہروبا اور زمل تینوں ہم عمر ہی ہیں اور اس عمر میں اکثر ایسا ہی ہوتا ہے___اب تو تم بھی اچھے سے جان گئی ہو کہ تہروبا نے اسے دھوکہ دیا ہے پھر بھی تم زمل کی زبردستی شادی کروا رہی ہو؟__ان تینوں میں سے کسی دو کو تو آخر سردار کی جان چھوڑنی ہی ہے اور تم اچھے سے جانتی ہو کہ میں ایسا کیوں چاہتی ہوں___ہاں اس رات کی وجہ سے جب حیا____نوشہ نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا___خیر اس سب میں زمل کا کوئی قصور نہیں تھا آنٹی____عورت کا جسم صرف ایک مرد کے لئے بنا ہوتا ہے نوشہ___میں ایسا نہیں سوچتی عورت کا کردار روپ جسم شخصیت سب کچھ اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ اسے جس انداز میں چاہے ڈھال لے___تمہاری باتوں سے اندازہ ہو رہا ہے کہ کافی تجربہ رکھتی ہو___یہاں کون ہے جو تجربہ نہیں رکھتی شریف وہی ہے جس کو کبھی موقع نہیں ملا اور مجھے یہ بتانے بلکل بھی کوئی جھجک نہیں کہ میرا ماضی مردوں سے بھرا ہوا تھا___یقینی طور پر اب تم اس سب پر شرمندہ ہو گی___بلکل نہیں وہ ایک فیز تھا جو گزر گیا بٹ آئی مس ون پرسن شاید وہ کوئی جادوگر تھا یا کوئی مداری___وجیہہ حیرانگی سے اس کے چہرئے کی طرف دیکھتی رہ گئی کیا اتنے ہی مرد تھے جو اب تمہیں اچھے سے یاد نہیں___اسی کا نام تو نشہ ہے آنٹی ایسا سرور جو آپ کو تمام پریشانیوں سے آزاد کر دئے___اس نے سگریٹ کا کش لے کر دھواں وجیہہ کی طرف پھینکا تھا___ویسے تمہیں مزئے کی بات بتاؤں وہ لڑکا تمہاری بیٹی کیساتھ صرف گیم کھیل رہا ہے اور تمہاری خوش فہم بیٹی ہے کہ اسے صبر ہی نہیں آ رہا___واٹ یو مین بائے دس کم از کم اپنے الفاظ کا چناؤ تو ٹھیک رکھا کرو___میں ننگے الفاظ ہی بولتی ہوں اور ویسے بھی اگر تمہیں میرئے الفاظ تہروبا اور زمل کے لئے اچھے لگتے ہیں تو حیا کے لئے بھی لگنے چاہئے____نوشہ نے اسے ایک دم خاموش کروا دیا تھا___اگر تمہیں ننگے الفاظ نہیں سننے تو اتنی سی بات سمجھ لو کہ حیا کو سردار،تہروبا اور اس نئی لڑکی سے تھوڑا دور رکھو___جب سے تم نے میرئے دماغ میں وہ سب شکوک و شبہات ڈالے ہیں مجھے حیا کو میکال کیساتھ اکیلے چھوڑنا بھی خطرناک لگ رہا ہے اور تہروبا صرف تب تک یہاں ہے جب تک وہ میکال کے خلاف کچھ ثبوت مجھے نہیں ڈھونڈ دیتی___چلو تمہاری مشکل میں آسان کر دیتی ہوں اس شرط پر کہ تم رادیہ سے بدلہ ضرور لو گی__نوشہ کی آفر سن کر وہ تجسس سے اس کی طرف دیکھنے لگی__میں تمہیں تمہارئے شوہر کی رنگ رلیاں منانے کی ایک ویڈیو دئے سکتی ہوں___اور وہ ویڈیو کب کی ہے___کافی پرانی ہے بٹ اگر تم پھڈا ڈالنا چاہو تو اس ایک ویڈیو پر بھی ڈال سکتی ہو___اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو میں ان سب سے ضرور بدلہ لوں گی___تمہاری بزدلی دیکھ کر بلکل نہیں لگتا کہ تم ایسا کر پاؤ گی خیر تمہارئے لئے ایک موقع اور سہی___چلو نیچے ابھی تک سب آ گئے ہوں گے____مجھے نہیں جانا ان بناوٹی لوگوں میں ویسے بھی زمل نے مجھے کبھی کچھ ایسا نہیں کہا کہ جو میں اس کی بربادی کا جشن مناؤں___اس کی شادی ہے نوشہ___میں جانتی ہوں کہ تم زبردستی اس سے جان چھڑانے والی ہو___سب نے ایک نہ ایک دن شادی کر کے جانا ہی تو ہے___کاش ایسا نہ ہونا ہوتا___یہ بے تکی سی بات ہے نوشہ___نظریات خیالات بے تکے نہیں ہوتے وجیہہ میڈیم ویسے بھی وہاں تمہاری دوست رادیہ بھی ہو گی اور میں بلکل اس کے سامنے نہیں آنا چاہتی
پرستان کے موسم کی پرسکونیت پر لیوسفر کے خوف کے ایسے سایہ چھائے تھے کہ ہر طرف خزاں کا زور تھا ہر روز کئی جن لیوسفر کے ہاتھوں مرتے جا رہے تھے___تم نے اتنے جنات سے شادی کر کے بہت بڑی غلطی کی ملکہ ان سب کی نظریں لیوسفر سے لڑنے کی بجائے تم پر ہیں___تم بھی اسی لسٹ میں شامل ہو فاسیر__ڈیفنی کے چہرئے پر سے اداسی بلکل عیاں تھی فاسیر نے باپ کے ہاتھوں مجبور ہو کر ڈیفنی سے شادی کر لی تھی اب وہ بھی ان سو جنوں میں شامل تھا جو ملکہ کو پانے کے لئے لیوسفر سے لڑنے کے لئے تیار تھے___تم اچھے سے جانتی ہو ڈیفنی تمہاری اس لامتنہائی خوبصورتی کا میں کبھی اسیر نہیں ہوا___ہاں شاید اس لئے کہ تم ایک ناکارہ اور بزدل جن ہو___ڈیفنی نے فاسیر کو ٹونٹ مارا تھا آخر وہ اتنے دن انسانی دنیا میں گزارنے کے بعد بھی لیوسفر کو اس کے مقصد سے نہیں روک پایا تھا___پتہ نہیں کیوں تمہارا باپ تمہیں اس ریس میں دوڑانا چاہتا ہے فاسیر__وہ صرف اس عہد کو نبھانے کی کوشش کر رہا ہے جو اس نے تمہاری حفاظت کے لئے تمہارئے باپ سے کیا تھا___ہاں وہ ناکام سا عہد___آخر تم لیوسفر کو قبول کیوں نہیں کر لیتی وہ تمہیں بے حد چاہے گا___پرستان کی قسم میں بھی تمہیں بے حد چاہوں گی اگر تم لیوسفر کو قتل کر دو___تم مجھے اپنی طرف مائل کرنا چاہتی ہو کیا___مجھے لیوسفر کی موت سے غرض ہے کسی اور سے نہیں___ڈیفنی نے اپنے ارادئے ظاہر کئے تھے___تم جانتی ہو کہ لیوسفر بہت طاقتور ہے اور ہر روز اس کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے___مجھے اس کی طاقت کی پرواہ نہیں مت بھولو کہ میں بھی ہر روز خوبصورت ہو رہی ہوں فاسیر عورت کی خوبصورتی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے___بکواس ہے یہ سب پرستان کی تمام خوبصورت پریاں اب لیوسفر کی قید میں ہیں اور یہ سب تمہاری ضد کی وجہ سے ہو رہا ہے تم اپنی انا میں پرستان کو برباد کر رہی ہو ملکہ___نالائق جن تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تم اپنی ناکامیوں کا ملبہ مجھ پر ڈالو___میں نالائق نہیں ہوں اور تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تم____تم نالائق ہی ہو___اور تم بزدل ملکہ جو اپنے ہی شوہروں کو مار رہی ہے___فاسیر کا اشارہ اس طاقتور جن کی طرف تھا جس کی لاش آج صبع ہی ملکہ کے محل سے ملی تھی___فاسیر جو کوئی بھی ملکہ کے جسم تک پہنچنے کی کوشش کرئے گا وہ اس لاکٹ کی وجہ سے اپنی جان سے جائے گا___وہ تمہارئے کام کا جن تھا مگر تم نے___میں نے کچھ نہیں کیا فاسیر یہ اس لاکٹ کی طاقت ہے کہ اس کے ہوتے کوئی ملکہ کے جسم کو چھو نہیں سکتا___تمہیں اس کے مرنے کا اس قدر افسوس کیوں ہو رہا ہے یا تم بھی وہی سوچ رہے ہو جو وہ کرنا چاہ رہا تھا___میں یہ سوچ رہا ہوں کہ تم لیوسفر کی دشمنی میں کتنی خودغرض ہو گئی ہو ایک طرف پریاں لیوسفر کی قید میں جا رہی ہیں اور دوسری طرف جن مرتے جا رہے ہیں___میں جانتی ہو کہ تم سوچ رہے ہو کہ میں تمہارئے اور اپنے درمیان میں سے اس لاکٹ کو ہٹا دوں___ہاں کیونکہ میں کسی ایسی ملکہ کے لئے اپنی جان نہیں دینا چاہتا جو میرئے مرنے کے بعد کسی اور کی ہو چکی ہو گی___اس کا مطلب کہ تم بھی میرئے بدن کے متلاشی ہو فاسیر____بدن کا متلاشی نہیں وگرنہ مجھے مجبور ہو کر یہاں آنا نہ پڑتا میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم میرئے اور اپنے درمیان میں سے یہ لاکٹ ہٹا کر میری دلہن بنو تاکہ لیوسفر جان لے کہ میں ہی اس کا اکلوتا اور اصل دشمن ہوں جو اس کی راہ میں رکاوٹ ہے تاکہ ہم دونوں کا آمنا سامنا ہو اور یوں کم از کم جن قتل ہونے اور پریاں قید ہونے سے تو بچ جائیں گی___فاسیر تم ایک منٹ بھی لیوسفر کے سامنے نہیں ٹک پاؤ گے___چلو ایسا ہی سہی کم از کم مجھے اس سب سے آزادی تو ملے گی___فاسیر مایوسی سے بولا تھا وہ ناچاہتے ہوئے بھی باپ کی طرف سے مجبور کئے جانے پر یہاں موجود تھا اور اب بھی اس کا باپ ہی اسے مجبور کر رہا تھا کہ وہ ڈیفنی کے بستر تک پہنچ کر پرستان کا اگلہ راجہ ہونے کا اعلان کرئے___اچھا ٹھیک ہے اگر تم باقی مانندہ جنات کو ہرا کر اپنی طاقت کا ثبوت دو تو میں اس کے لئے تیار ہوں کہ میرئے اور تمہارئے درمیان لاکٹ سمیت تمام پردئے ہٹ جائیں
نوشہ کی طرف سے دیکھائی ویڈیو نے وجیہہ کے صبر کے پیمانے کو لبریز کر دیا تھا وہ اسی رات مہندی کا رسمی سا فنکشن چھوڑ کر ہاسٹل سے گھر کی طرف روانہ ہو گئی تھی اس کے لئے صرف اب تہروبا پر اکتفا کرنا کافی نہیں تھا ویڈیو نے نوشہ کی باتوں کو سچ ثابت کر دیا تھا مگر اسے اب اور بھی بہت سی سچائیاں جاننی تھی اس لئے وہ خود حقیقت کی تلاش اس سب کی گہرائی تک پہنچنا چاہتی تھی گھر میں داخل ہوتے ہی وہ میکال کو ڈھونڈتے سوئمنگ پول تک آ گئی تھی وہ جان گئی تھی کہ یہ بہترین مواقع ہے کہ اس سے سچ اگلوایا جا سکے وہ سوئمنگ پول میں اس کے بلکل پاس پہنچ گئی تھی__تم آج یہاں خیریت ہے___میں بہت دنوں سے آنے والی تھی بس ٹائم ہی نہیں نکل رہا تھا___ٹائم کبھی نہیں نکلتا خود کوشش کرنا ہوتی ہے__وہ معنی خیز انداز میں وجیہہ کو دیکھنے لگا جو اس کی گردن میں بانہوں کو ڈال چکی تھی___بس آج میں نے کر لی کوشش مسٹر میکال سلطان___وجیہہ نے اپنے لہجے کو نرم کرتے ہوئے اپنی آواز مدہم کی تھی وہ جانتی تھی کہ میکال کو کس طرح ایموشنلی کمزور کر کے اس کے حواس پر سوار ہوا جا سکتا ہے___تمہیں کم از کم اپنے زیورات تو اتار لینے چاہئیے تھے محترمہ__اچھا اتنی فکر ہے تو پھر آپ خود اتار دیں وہ اگلے ہی لمحے رخ بدلتے ہوئے اپنی پشت اس کی طرف موڑ چکی تھی__میکال تھوڑا زیر لب مسکرایا اور پھر اس کی گردن پر بندھی اس کی قبا کی ڈوریاں کھولنے لگا___میں نے ان زیورات کو کھولنے کا کہا تھا مسٹر___میں جانتا ہوں کہ اگر صرف زیورات ہی اتارنے ہوتے تو تم خود اتار لیتی___وہ اس کی بازؤں پر سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی گردن تک لایا اور پھر اس کی گردن کے قریب اپنے ہونٹ لے جا کر اسے سونگھنے لگا
ہر ڈھلتا دن تمہاری خوشبو کو محسورکن بناتا جا رہا ہے وجیہہ___وہ اب تک اس کے گلے کو چاک کر چکا تھا___اچھا یہ بات ہے تو پھر ایک دن تم یقینی طور پر اس خوشبو کے سامنے ڈھیر ہو جاؤ گے__وہ اس کی گرم سانسوں کے احساس کو محسوس کر رہی تھی جو اس کی گردن سے اس کی کمر تک پھیل رہی تھی___ہاں ہو سکتا ہے کہ میکال سلطان کی موت کا باعث تمہارا خوبصورت بدن بنے__وجیہہ نے پانی میں ہی میکال کے ہاتھوں کی حرارت کو محسوس کرتے ہوئے اپنی پشت کو اس کیساتھ جوڑ لیا تھا وہ میکال کے ہونٹوں کے لمس اپنی گردن اور کمر پر لے رہی تھی___کیوں ناں میں آج ہی تمہاری جان لے لو مسٹر میکال__ہاں تم لے سکتی ہو__وہ اپنے رخ اس کی طرف موڑتے ہوئے اس کے شڈول کندھوں کا سہارا لئے کھڑی تھی اس نے اگلے ہی لمحے ایک ہینڈ کیف نکالا اور میکال کے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کی طرف لے جا کر انہیں بند کر دیا___گبھراؤ نہیں میں آج تمہاری جان نہیں لوں گی___وہ نشیلی آنکھوں سے اس کے قریب جا کر اپنے ہونٹ اس کی گردن پر ثبت کر چکی تھی__یہ تم کیا کرنے کی کوشش کر رہی ہو___وہی جو تمہیں کرنا چاہئیے تھا___وجیہہ یہ سارا منظر پہلے ہی ویڈیو میں دیکھ چکی تھی وہ گردن سے اس کے سینے تک پہنچ کر روکی تھی___ان سب لڑکیوں کے بارئے میں کچھ پتہ چلا میکال؟وہ اس کے سینے پر بوس و کنار ہوتے پوچھ رہی تھی___شاید ہم کبھی ان تک نہیں پہنچ پائیں گے__جہاں اتنی لڑکیاں غائب ہوئی ہیں کیا ہم وہاں خود سے ایک دو لڑکیاں غائب کر سکتے ہیں__واٹ یو مین__وہ حیرانگی سے اس کی طرف متوجہ ہوا تھا وجیہہ مسلسل اس کے جسم پر اپنے ہاتھوں کو پھیر رہی تھی___یورپ میں انسانی اعضا کی ایک بھاری قیمت مل جاتی ہے میکال اتنی بھاری قیمت کہ پیسہ ہماری سات نسلوں کے کھانے سے بھی ختم نہ ہو___اس حالت میں اس طرح کے مذاق بلکل بھی اچھے نہیں لگتے وجیہہ___میں جانتی ہوں جسم کی حرارت اور لمس کا لطف تب تک برقرار رہتا ہے جب تک دونوں سنجیدہ ہوں__تو تم اپنی سنجیدگی___میں ان معاملات میں بلا کی سنیجدہ ہوں میکال__وہ اپنے دونوں ہاتھوں کا غلاف اس کے چہرئے کے گرد بناتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنے کندھوں پر ثبت کر چکی تھی
اگر تم چاہو تو میں رادیہ کو بھی اس کام کے لئے راضی کر سکتی ہوں وہ اس سب میں ہماری مدد کر سکتی ہے___وجیہہ کسی طرح اس سے سچ اگلونا چاہتی تھی __تم پاگل ہو گئی ہو شاید وجیہہ__وہ میکال تو تھا نہیں جو اس کی چال میں پھنس جاتا وہ لیوسفر تھا جو اپنی جناتی قوت سے اس کے دل کی بات اس کے قریب آتے ہی جان گیا تھا وہ چاہتا تو ابھی اس کی گردن مرؤڑ سکتا تھا مگر اسے حیا کو پانے تک صبر کا دامن تھامے رکھنا تھا___یہ پاگل پن نہیں سمجھداری ہے بہتی گنگا میں ہمیں بھی ہاتھ دھو لینے چاہئیے لڑکیاں تو پہلے ہی غائب ہو رہی ہیں___یہ صرف سننے کی حد تک اچھا لگتا ہے ایسا خیال بھی اپنے دل میں مت لانا___ایک پل کے لئے سوچو تو ہمارئے ہاسٹل میں ہزاروں لڑکیاں ہیں جن میں سینکڑوں لڑکیاں جوان اور خوبصورت ہیں تمہیں اندازہ بھی ہے کہ ایک اٹھارہ انیس سال کی لڑکی کے گرم خون کی قیمت کیا ہو گی؟سب بکواس ہے وجیہہ مجھے صرف اس خون کی حرارت کا پتہ ہے جو تمہاری رگوں میں گردش کر رہا ہے___کتنی حرارت ہے اس میں___اتنی حرارت کے جو مردہ جسموں میں زندگی لوٹا دئے ____میکال نے اس کی آفر کو بلکل ریجکٹ کر دیا تھا مگر وہ کب پیچھے ہٹنے والی تھی وہ ایک اور کوشش کرنے کے لئے دوبارہ لیپٹ گئی
مین گیٹ سے اندر داخل ہوتی گاڑی کی لائٹ جیسے ہی کھڑکی پر پڑی اسی وقت زمل کی آنکھیں بھی چمک پڑی تھی یہ روشنی اس کے بے چین دل کے لئے کچھ راحت کا سامان تھی کیونکہ اس کی آخری امید سردار ہی تھا جو اب اس شادی کو رکوا سکتا تھا وجیہہ کے یہاں نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کسی طرح سردار کو بلایا لیا تھا صبع وجیہہ اس کا زبردستی نکاح کروانے والی تھی اور اسے آج رات ہی کچھ کرنا تھا___مجھے لگتا ہے تمہاری بھابھی شاید پاگل وگال ہو گئی ہے جو اس طرح کی حرکتیں کر رہی ہے___زمل نے سردار کے اندر آتے ہی دروازہ بند کرنے لگ گئی تھی وہ جانتی تھی کہ سردار کو اپنے کمرئے تک لانا خاصا خطرناک ہو سکتا ہے اس کے باوجود اس نے یہ رسک لیا تھا اس کے پاس اب کوئی دوسرا راستہ تھا بھی نہیں___اسے شروع دن سے مجھ سے کوئی مسئلہ ہے شاید اس کو میری یہ شکل پسند نہیں ہے___وہ دروازئے بند کر کے ٹیک لگائے کھڑی تھی___یہ معصومیت سے بھرپور چہرہ بھلا کس کو پسند نہیں ہو گی زمل___وہ دروازئے پر ہاتھ رکھتے ہوئے زمل کے قریب آ گیا تھا___کیا ہم دونوں نکاح کر سکتے ہیں؟زمل نے اپنے چہرئے پر رنگیتی سردار کی انگلی کو بلکل اگنور کر دیا تھا___ہاں کیوں نہیں زمل مگر___تم جانتے ہو کہ یہ وقت اگر مگر کا بلکل نہیں ہے صبع میرا نکاح ہے___چلو پھر میرئے ساتھ بھاگ چلو___وہ زیر لب مسکراتے ہوئے مخاطب ہوا تھا___ میں نے ہمیشہ تمہارئے چہرئے پر مسکراہٹ رہنے کی دعائیں کی ہیں سردار مگر واللہ مجھے اس وقت تمہارئے ہونٹوں پر یہ مسکراہٹ چب رہی ہے___وہ سردار کی چھوٹی ہو چکی آنکھوں کو غور سے دیکھ رہی تھی میں بہت بے چین ہو رہی ہوں سردار___تمہیں کہا تو ہے ہم بھاگ چلتے ہیں___نہیں سردار میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں تمہیں سب کے سامنے ہی مجھے قبول کرنا ہو گا___تم اچھے سے جانتی ہو کہ اگر ہماری شادی کی بھنک بھی تہروبا تک گئی تو وہ اس سارئے مشن کو ناکام بنا دئے گی اور میں اس کامیابی کے اتنا قریب آ کر اس کو گنوانا نہیں چاہتا___اور میں تمہارئے قریب آ کر تمہیں کھو نہیں سکتی
اس کا سنجیدہ لہجہ زمل کی امیدیں توڑ رہا تھا مگر پھر بھی وہ آخری حد تک کوشش کر رہی تھی__تمہیں ذرا بھی اندازہ ہے کہ یہاں تک پہنچنے کے لئے میں نے کتنا کچھ کیا ہے___کاش کبھی تم بھی جان پاتے کہ میں نے تمہیں کیسے حاصل کیا___دنیا میں فقط انتظار ایسی چیز ہے زمل جو انسان کو بوڑھا کر سکتی ہے___ہاں تم صحیح کہہ رہے ہو سردار انتظار انسان کو بوڑھا کر دیتا ہے کیا تمہیں میری آواز سے میرئے بڑھاپے کا احساس نہیں ہو رہا؟یہ ایک لاحاصل گفتگو ہے زمل تمہارئے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ تم یہاں سے بھاگ نکلو___اس کے تندو تیز لہجے نے زمل کو لمحے بھر کے لئے خاموش کروا دیا تھا وہ غور سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی تھی کاش میں کبھی تمہیں پانے کے لئے ہر حد سے نہ گزرتی تمہارئے لاحاصل ہونے کا احساس اس سب سے کئی گنا زیادہ خوبصورت تھا زمل نے دل ہی دل میں اپنے ساتھ سردار کو بھی کوس دیا تھا__ٹھیک ہے میں بھاگنے کے لئے تیار ہوں مگر یہاں سے جانے سے پہلے تمہیں نکاح کرنا ہو گا___واٹ یو مین بائے دس کیا تمہیں مجھ پر اتنا بھی اعتبار نہیں ہے زمل___اگر اعتبار نہ ہوتا تو تم یوں میرئے کمرئے تک نہ پہنچ پاتے سردار___تو پھر یہ عجیب و غریب___اس میں کچھ عجیب نہیں ہے سردار میں ہرگز نہیں چاہتی کہ ہم بغیر نکاح کے ایک دوسرئے کے ساتھ ایک منٹ بھی گزاریں اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تم اس بات کو بلکل نہیں سمجھ پاؤ گے___اس کے دماغ میں فاسیر کا خیال پہلے سے ہی گھوم رہا تھا___تو وہ سب کیا تھا جب تم مجھے پانے کے لئے میرئے ساتھ لیپٹ رہی تھی___اس کے الفاظ تیر کی طرح اسے لگے تھے زمل جانتی تھی کہ اس دن وہ کچھ بہک گئی تھی__شاید تمہیں کوئی خوش فہمی ہو گئی ہو گی میرا ایسا کوئی ارداہ نہیں تھا___خوش فہمی وہ بھی مجھے___وہ طنزیہ انداز میں اس کی طرف دیکھنے لگا___کیا تمہارئے میرئے ساتھ لیپٹ جانا محض ایک خوش فہم خیال تھا___ہاں شاید___مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ کس طرح تم نے وہ اوچھی حرکت کی تھی زمل اور اب تم پھر مجھے نیچا دیکھا رہی ہو___میں نے ایسا کب کہا سردار میں تو صرف یہ چاہتی ہوں کہ تم اس محبت میں جسم کو____محبت کا پیمانہ جسم ہی ہوا کرتے ہیں زمل یہ فتور اپنے دماغ سے نکال دو کہ اس کے بغیر محبت ممکن ہے
اسے احساس ہو رہا تھا کہ ظاہری خوبصورتی پا کر سردار تک پہنچنے کا اس کا فیصلہ کتنا غلط تھا مگر شاید اب بہت دیر ہو چکی تھی___ممکن ہے سردار!!!میں ممکن کر دیکھاؤں گی کہ تم سب غلط تھے___سردار بھی جانتا تھا کہ زمل نے اتنا میک اور اسی کے لئے کیا تھا اور اب یوں اس کا اس سب کو صرف ایک خوش فہمی کہنا اسے اپنی تذلیل لگ رہی تھی___کان کھول کر میری بات سن لو اگر میں یہاں ہوں تو صرف تمہارئے جسم کی وجہ سے میں تم سے محبت کروں گا تو صرف تمہارئے جسم کی وجہ سے اگر میں تم سے شادی کروں گا تو صرف تمہارئے جسم کی وجہ سے___میں لعنت بھیجتی ہوں اپنے جسم پر سردار جو تمہیں میری طرف مائل کر رہا ہے اور تم میری محبت کو سمجھ نہیں پا رہے___مائل….سردار نے طنزیہ انداز میں لفظ کھینچا تم مجھے بار بار ایسا کیوں محسوس کروا رہی ہو کہ جیسے میں تمہارئے پیچھے مرتا پھر رہا ہوں اور تمہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں___وہ اپنے لہجے کو غصیلہ کر چکا تھا___تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہے ناں ٹھیک ہے میں ابھی شادی کرنے کو تیار ہوں مگر تمہیں اس سے پہلے میرئے ساتھ سونا ہو گا___وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا معنی خیز انداز میں مخاطب ہوا تھا
سردار کا مطالبہ سن کر وہ ششد رہ گئی تھی اس کی خواہش نے زمل پر لمحے بھر کے لئے سکتہ طاری کر دیا تھا تم ایسا کیسے سوچ سکتے ہو سردار___کم آن یار مجھے اب وہی مشرقی لڑکی ہونے والی لائنیں نہیں سننی تم بھی ایسا ہی سوچتی ہو گی___ہاں کہہ دو کہ میں ایک فاحشہ ہوں زمل نے طنزیہ انداز میں کہا میں نے تمہیں اتنی رسائی دی کہ تم اپنی بانہوں کا حصار میرئے گرد بنا لو شاید یہی میرئے فاحشہ ہونے کی دلیل ہے____میں جانتا ہوں زمل کہ لڑکیاں کبھی اپنے الفاظ کو زحمت نہیں دیتی ان کا بدن ان کے لئے زبان کا کام کرتا ہے___افسوس کتنا کم تولا تم نے مجھے___ایک سلجھی ہوئی لڑکی اچانک سے اپنا جسم ایکسپوز کرنا شروع کر دئے تو اس کا کیا مطلب لیا جائے؟ہو سکتا ہے کہ میرئے دل میں کبھی ایسی خواہش پیدا ہی نہ ہوتی مگر تم نے میرئے گریبان تک پہنچ کر بدلے میں مجھے اپنے جسم تک پہنچنے کی رسائی دی___ہمم میرا ایکسپوزر تو صرف ایک بہانہ ہے حقیقت یہ ہے کہ تم گریبان پکڑنے کا بدلہ میرا گریبان پھاڑ کر لینا چاہتے ہو کیونکہ تم خود پسندی کے پہاڑ پر بیٹھے ہوئے ایک خود پسند شخص ہو جس کی کل کائنات صرف اپنی تعریف اور اپنی شخصیت ہے___چلو یونہی سمجھ لو زمل اور ویسے بھی اس سب کے بعد ہم شادی کرنے ہی والے ہیں تو تمہیں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئیے___واللہ اگر تم اس خواہش کا اظہار بغیر کسی وجہ کے کرتے تو میں دس بار بھی تیار ہو جاتی مگر تمہیں حاصل کرنے کے بدلے تمہیں اپنے بستر تک رسائی دینا تو بہت دور میں تمہیں خود کو چھونے بھی نہیں دوں گی___سردار اس کی پھیلی ہوئی آنکھوں میں دیکھتا رہ گیا تھا___تمہارئے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے زمل___راستوں کی پراوہ ہوتی تو میں کبھی یہاں تک نہ پہنچتی لمحے بھر کے لئے کمرئے میں خاموشی چھا گئی تھی سردار نے اپنا ہاتھ بڑھا کر زمل کے کندھے پر ٹکایا تھا
جانتے ہو سردار لڑکیاں کبھی محبت نہیں کرتی سردار انہیں تو ہمیشہ چاہے جانے کا شوق ہوتا ہے یہ صرف چاہت کی بھوکی ہوتی ہیں جہاں سے بھی انہیں چاہے جانے کی راہ نظر آئے یہ جوبن پر بہتی ندی کی مانند اسی طرف بہہ جاتی ہیں صرف کسی کی محبوبہ بننے کے لئے!!!اگر کبھی ان کے دل میں محبت کی رمک پیدا بھی ہو جائے تو یہ کبھی اظہار نہیں کرتی ہمیشہ پہلیاں ڈالتی ہیں مگر میں نے کبھی تمہیں کسی پہلی میں نہیں الجھایا کبھی چاہے جانے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا بلکہ روایات کے الٹ چلی اور تمہاری محبوبہ بننے کی بجائے عاشق بننے تک اکتفا کیا میں جانتی ہوں کہ یہاں محبت کو جسم سے جوڑنے کی روایت ہے مجھے یہ روایت توڑنی تھی مگر میں ناکام رہی سردار تم نے مجھے غلط ثابت کر دیا یوں میرئے کندھے کو سہلانے سے اور میری گردن کو چھونے سے تمہارئے ہاتھ کی حرکت مجھ میں وہ حرارت پیدا نہیں کر پائے گی کہ جس میں پگھلتی ہوئی میں اپنا آپ تم کو سونپ دوں___
سردار نے زمل کا روہانسی لہجہ دیکھتے ہوئے فوری اپنا ہاتھ ہٹا لیا تھا___اچھا تم یہ سب چاہتے ہو ناں ٹھیک ہے میں تیار ہوں مگر یادرکھنا اس کے بعد زمل سلطان کبھی تمہاری بیوی نہیں بنے گی اور تمہارا زمل کی تذلیل کر کے اپنی خود پسندی کی تسلی کا خواب ادھورا ہی رہے گا___یہ کیا عجیب لاجک ہے؟وہ حیرانگی سے اس کی طرف دیکھنے لگا تھا____عجیب تو یہ ہے کہ ایک خود پسند شخص کو کسی عام سی لڑکی کا جسم اس قدر پسند آ چکا ہے کہ اس کی نظریں خود پر مرکوز ہونے کی بجائے مسلسل لڑکی کے بدن کا جائزہ لے رہی ہیں اور اس کی انگلیاں اس سے بغاوت کر کے لڑکی کے بدن پر رنگیتی ہوئی بھیک مانگ رہی ہیں___کیا بکواس ہے یہ…..تم نے خود مجھے یہاں بلایا اور ایک دفعہ پھر مجھے یہ جتانے کی کوشش کر رہی ہو کہ__تم جا سکتے ہو سردار تمہیں تمہاری خودپسندی مبارک___زمل نے اسے جلدی سے ٹوک دیا
رات کے پچھلے پہر اس کی آنکھ کھلی گھڑی پر صبع کے تین بج رہے تھے اور یہ وجہیہ کے لئے بہترین وقت تھا کہ وہ اپنا بقیہ کام کرتی وہ جلدی سے سٹور روم کی طرف گئی جہاں کالج کے اضافی سامان میں کچھ خفیہ کیمرئے پڑئے ہوئے تھے وہ ساری رات ان کے متعلق ہی سوچتی رہی تھی
اس نے جلدی سے چند خفیہ کیمرئے اور وائس ریکارڈنگ ڈیوائس گھر کی مختلف جگہوں پر لگانے کا فیصلہ کیا اس نے سب سے پہلے اپنے بستر کا انتخاب کیا اور نہایت ہی مہارت سے ایک وائس ریکارڈنگ ڈیوائس کو اپنے بیڈ پر نصب کر دیا تاکہ وہ اپنی غیرموجودگی میں میکال پر مکمل نظر رکھ سکے اس کا اگلہ منصوبہ واش روم میں کیمرہ نصب کرنے کا تھا وہ روم سے منسلک واش روم میں گئی اور کیمرہ لگانے کے لئے مناسب جگہ ڈھونڈنے لگی وہ میکال کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنا چاہتی تھی اس نے دیوار کی اوپری سائیڈ پر بٹن نما کیمرہ لگانے کے لئے جگہ بنائی اور پھر وہاں کیمرہ نصب کرنے لگی کہ اچانک پہلے سے وہاں موجود ایک کیمرہ اس کے ہاتھ میں آ گیا اس کی سانس ایک دم اٹک گئی تھی اس نے کیمرہ ڈٹکٹیو ڈیوائس کے سامنے رکھ کر چیک کیا تو رزلٹ اس کی سوچ کے عین مطابق تھا اس کے واش روم میں پہلے سے ایک خفیہ کیمرہ موجود تھا وہ ایک دم حواس باختہ ہو گئی تھی اسکی ٹانگیں کانپنے لگی تھی جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو وہ وہاں بیٹھی خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتے رنگ برنگی سوچوں کے حصار میں گم تھی__
یہ کیمرہ جس نے بھی نصب کیا تھا یقینی طور پر اسے بھی میکال پر شک ہو گا یا پھر میکال خود!!!نہیں وہ واش روم میں کیمرہ نصب کر کے کس کی جاسوسی کرئے گا___وجیہہ نے خود کو نارمل کرنے کے لئے لمبے لمبے سانس لیے اور پھر مزید کیمروں کو ڈھونڈنے کے لئے کیمرہ ڈٹیکٹیو ڈیوائس سے کیمروں کو ڈھونڈنے لگی یہ ریمورٹ جیسی ڈیوائس کیمرہ سنس کرتے ہی سگنل دیتی تھی اسے اپنے بیڈ روم سے بھی ایک خفیہ کیمرہ مل گیا تھا وہ چیخ کر میکال کو جگانا چاہتی تھی تاکہ اس سے پوچھ سکے کہ کیمرہ کس نے نصب کیا ہے کون خفیہ طور پر ان کی حرکات و سکنات کو دیکھ رہا ہے مگر اس نے جیسے تیسے خود پر اور اپنے حواس پر کنٹرول رکھا اس کے بیڈ روم کے علاوہ کسی جگہ کوئی کیمرہ نصب نہیں تھا وہ پسینے میں بھیگ چکی تھی اس خفیہ شخص کا پتہ لگانا اس کے لئے اب اور بھی ضروری ہو گیا تھا کیونکہ اس کے کمرئے کی ایک ایک لمحے کی ویڈیوز اس کے پاس موجود تھی وہ کتنی دیر بے بس بیٹھی سوچتی رہی تھی___جس شخص نے یہ کیمرئے نصب کئے ہیں کیمرئے بند ہونے کی صورت میں وہ دوبارہ ان کو چیک کرنے ضرور آئے گا___یہ سوچتے ہی وجیہہ نے انہی جگہوں پر کیمرئے نصب کرنا شروع کر دئیے وہ جلدی سے کام نمٹا کر کالج کی طرف نکل گئی جہاں اسے آج ایک اور ضروری کام نمٹانا تھا
وہ معمول کے مطابق آپریشن تھیٹر میں اپنا کام نمٹانے کے بعد اپنے آفس کی طرف بڑھ رہی تھی کہ اچانک اس کے فون پر ہونے والی بیل نے اسے چونکا دیا___سردار اس وقت میں تمہارئے ہی فون کا انتظار کر رہی تھی کہو کیا مدد چاہئیے؟وہ فون اٹھاتے ہی بے تکلفی سے مخاطب ہوئی تھی
زمل نے بھاگنے سے انکار کر دیا ہے رادیہ__
کیا مطلب؟وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے__
مجھے نہیں پتہ کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے___
میری اطلاع کے مطابق تو وہ تم پر جان نچھاوڑ کرتی تھی___
کیا تم اس کی شادی رکوا نہیں سکتی؟
آج صبع اس کا نکاح ہے اب چند گھنٹے پہلے میں کچھ نہیں کر سکتی___
میں بھی تو اتنا کچھ کر رہی رہا ہوں تمہارئے لئے___
جانتی ہوں سردار بٹ وجیہہ اپنے ارادئے میں بہت پکی ہے تمہاری اس فیورٹ تہروبا نے اس کے کان ہی اتنے بھر دئیے ہیں کہ اب وہ کسی کی کوئی بات نہیں سنے گی___
تمہیں اب کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی پڑئے گا رادیہ__
کہیں عشق وشق کا چکر تو نہیں چل رہا تمہاری طرف بھی___
ایسا کچھ نہیں ہے مجھے بس زمل چاہئیے تو چاہئیے اور ویسے بھی تم اچھے سے جانتی ہو کہ زمل کے میرئے پاس ہونا تمہارئے لئے کتنا ضروری ہے__
اس وقت ہمارئے لئے سب سے ضروری نوشہ ہے جس پر تم ذرا بھی دھیان نہیں دئے رہے کان کو الٹے ہاتھ سے پکڑنے کی بجائے سیدھا پکڑو___
تمہیں فقط اپنے کام سے غرض ہونی چاہئیے رادیہ میرئے کام کرنے کے طریقے سے نہیں___
میں صرف اتنا کہہ رہی ہوں کہ نوشہ کو زمل یا تہروبا کی مدد سے قابو کرنے کی بجائے ڈاریکٹ اس پر ہی اپنا جال پھینکو__
میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں ہر کام تمہاری مرضی سے نہیں کر سکتا تمہیں اپنی بیٹی سے فقط وہ سب ڈیٹا نکلوانا ہے ناں نکل جائے گا بٹ اس سب کھیل کے چکر میں مجھے کم از کم اپنا بھی کچھ سوچنا ہے___
سوچو جی بھر کر سوچو سردار مگر دل سے نہیں دماغ سے___
واٹ یو مین رادیہ اب تم مجھے مت سمجھاؤ کہ مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں اس سارئے معاملے میں میں فری آف کاسٹ تمہاری مدد کر رہا ہوں صرف اس لئے کہ تم اپنے ماضی پر شرمندہ ہو اور اب اس سب کو ختم کرنا چاہتی ہو اور اب جب مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے تو تم___
سمجھنے کی کوشش کرو سردار میں اچانک سے ایسی کیا پٹی پڑھاؤں کہ وجیہہ شادی روک دئے؟
تم چاہو تو میکال کی مدد بھی لے سکتی ہو جو ان سب برئے کارناموں میں تمہارا پاٹنر رہا ہے__
سردار سردار میں تمہیں کیسے سمجھاؤں اگر میکال میرئے ہاتھ میں ہوتا تو میں تمہاری مدد لیتی ہی کیوں؟تم جانتے ہو کچھ عرصے سے اس کا رویہ بہت بدل گیا ہے وہ تو ایسے ری ایکٹ کرتا ہے جیسے مجھے جانتا بھی نہ ہو__
مطلب اب میں یہ سمجھوں کہ تم کچھ نہیں کرنے والی؟__
اس کا صرف نکاح ہونے والا ہے ہو لینے دو کوئی قیامت نہیں ٹوٹے گی اور ویسے بھی جتنا اس کے بارئے میں سن رکھا ہے مجھے لگتا ہے وہ خود ہی اس شادی کو روکنے کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرئے گی__
وہ کچھ نہیں کرئے گی رادیہ__
عشق لڑکیوں سے بہت کچھ کروا لیتا ہے مسٹر تھوڑا صبر رکھو زمل تہروبا حیا نوشہ سب کچھ تمہارا ہی تو ہے___
جسٹ شٹ یور بلڈی ماوتھ___سردار نے غصے سے فون پٹخہ تھا اسے زمل کا وہ انداز اور لہجہ اب تک چب رہا تھا جب اس نے اسے اپنے کمرئے سے نکل جانے کا کہا تھا اسے ہر صورت زمل سے بدلہ چاہئیے تھا
نکاح کی مصروفیات کے باوجود وجیہہ کا دھیان اپنے گھر میں لگے کیمروں کی طرف ہی مرکوز تھا وہ بار بار انہی کو چیک کر رہی تھی__نوشہ کیا تم زمل کے تیار ہونے میں اس کی مدد کر سکتی ہو؟وجیہہ کے چہرئے سے اس کی پریشانی عیاں تھی___مجھے ایسا کوئی تجربہ نہیں ہے___بات صرف تیار کرنے کی نہیں ہے دراصل اس کیساتھ ابھی کوئی لڑکی نہیں ہے___میری زمل سے کبھی خاص بات تک نہیں ہوئی میرئے جانے سے وہ بلکل بھی کمفرٹیبل نہیں ہو گی آپ حیا کو کیوں نہیں بھیج دیتی__حیا اور تہروبا کسی کام کی وجہ سے یہاں سے جا چکی ہیں اس لئے ہی تو تمہاری مدد مانگ رہی ہوں_
وجیہہ مزید سسپنس برداشت نہیں کر پا رہی تھی اس لئے اس نے حیا اور تہروبا کو بھی گھر بھیج دیا تاکہ ان دونوں میں سے اگر کوئی کیمرئے نصب کرنے والا ہو تو وہ جلدازجلد سامنے آ جائے آخر بیڈروم میں کیمرہ نصب کرنے کا کام کسی گھر کے فرد کا ہی ہو سکتا تھا____اچانک کونسا ایسا کام تھا کہ وہ شادی کی تقریب ہی چھوڑ کر چلی گئی؟__سمجھ لو وہی کام جو تم نے مجھے کرنے کو کہا تھا___وجیہہ اس کے سوالیہ انداز کو دیکھ کر اس کے ذہن میں جنم لینے والے سوال سمجھ گئی تھی مگر فی الحال وہ اسے کچھ سمجھانے کی پوزیشن میں بلکل نہیں تھی___کب تک ہو گا وہ کام؟___انشااللہ بہت جلد___وجیہہ نے اسے زمل کے پاس بھیج دیا تھا اور خود دوسرئے کام دیکھنے لگی اس کی توجہ اب بھی اسی طرف مرکوز تھی
ویسے تمہیں مہندی تو لگوا ہی لینی چاہئیے تھی ناکام بغاوت کا سوگ کب تک مناؤ گی__نوشہ زمل کے ہاتھوں کو پکڑ کر دیکھ رہی تھی اگرچہ وہ زمل کی کوئی خاص دوست نہیں تھی مگر پھر بھی عادت سے مجبور وہ ٹونٹ مارنے سے نہیں رک پائی تھی___معاف کرنا زمل میں تھوڑی عجیب لڑکی ہوں تم بہت زیادہ عجیب بھی کہہ سکتی ہو
میں نے اگر کوئی بغاوت کرنی ہوتی تو اس وقت یہاں نہ ہوتی___زمل کی آواز کانپتے ہوئے نکلی تھی وہ ساری رات کسی مسیحا کے انتظار میں سو نہیں پائی تھی مگر کوئی اس کی مدد کو نہیں پہنچا تھا__میں خود ایک باغی ہوں اس لئے تمہاری آنکھوں میں موجود بغاوت تم چاہ کر بھی مجھ سے نہیں چھپا سکتی تمہاری پھیلی ہوئی آنکھیں بتا رہی ہیں کہ پچھلی رات کتنی اذیت ناک تھی___زمل نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا تھا___آخر کیوں نہیں مانا وہ___کون___زیادہ بنو مت زمل میں نے رات اس لڑکے کو تمہارئے کمرئے میں داخل ہوتے اور نکلتے دیکھ لیا تھا__تمہیں کوئی وہم ہو گیا ہے شاید___میں تہروبا نہیں ہوں زمل___میرئے لئے اب ہر لڑکی تہروبا ہی ہے میں کسی پر اعتبار کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی___ہم ہمیشہ غلط لوگوں پر اعتبار کر کے سب کو غلط کہہ دیتے ہیں زمل خیر مجھے تمہارئے ساتھ ہمدردی ہے اور میں جانتی تھی کہ وہ کبھی تمہارئے لئے سٹینڈ نہیں لے گا__وہ زمل کے بے بس چہرئے کو غور سے دیکھ رہی تھی__یہاں کوئی کسی کے لیے کبھی سٹینڈ نہیں لیتا مصیبت پڑتے ہی سب اپنی اپنی راہ لیتے ہیں
یار پتہ نہیں زمل ہمیں یہ باتیں ہمیشہ دھوکے کھا کر ہی کیوں سمجھ آتی ہیں میری شدید خواہش ہے کہ میں کوئی ایسی لڑکی دیکھوں جس نے اپنے تجربات کی بجائے دوسروں کو دیکھ کر ہی کچھ سیکھا ہو___شاید اس معاملے میں ہم بہت بے اعتباری مخلوق ہیں جو ٹھوکر کھائے انسان سے کچھ سیکھنے کی بجائے خود ٹھوکر کھا کر سیکھتے ہیں___خیر مجھے خوشی ہے کہ تم بھی کچھ نہ کچھ تو جان گئی ہو اس دنیا کی حقیقت مگر تھوڑا افسوس بھی کہ اسے کم از کم تھوڑا سٹینڈ تو لینا چاہئیے تھا___ہاں تم افسوس کر سکتی ہو کیونکہ یہ بہت آسان ہے___کیوں تم مجھ سے کچھ اور کروانا چاہتی ہو کیا___میری زندگی تو جہنم بن ہی رہی ہے میں کیوں تم سے کچھ کروا کر تمہاری زندگی اجیرن کروں؟
کیا کہنا چاہتی ہو تم زمل؟
زمل نے اسے کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا
وہ بے چینی سے اپنے کمرئے میں ٹہل رہی تھی نوشہ کو وہاں سے گئے کافی دیر ہو گئی تھی مگر ابھی تک اس کی کوئی خبر نہیں تھی اسے اب بھی انتظار تھا کہ شاید فاسیر آ جائے اور اس کے بچنے کی کوئی راہ نکالے کیونکہ جو کارنامہ وہ نوشہ کیساتھ مل کر کر رہی تھی اس کے بعد وجیہہ اس کو بلکل زندہ نہیں چھوڑنے والی تھی اسے اپنے مستقبل کی کوئی راہ نظر نہیں آ رہی تھی اچانک کمرئے کا دروازہ کھولا اور ایک دراز قد نوجوان کمرئے میں داخل ہوا اسے دیکھتے ہی وہ تھوڑی ہڑبڑا گئی تھی___کیوں آئے ہو تم یہاں___وہ دروازئے کے سامنے سے ہٹ گئی تھی__تم میری بیوی ہو زمل__جو بھی ہے….وہ ہڑبڑائی تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی___زمل جانتی تھی کہ جو لڑکا پہلے ہی وجیہہ کا چمچہ ہے اس لڑکے کیساتھ اس کا مستقبل کیا ہو گا___غلط فہمی کیسی غلط فہمی زمل__میں زمل نہیں ہوں
وہ نظریں چراتے ہوئے مخاطب ہوئی تھی___میں تمہاری شکل سے اچھی طرح واقف ہوں وجیہہ بھابھی نے تمہاری بہت سی تصویریں مجھے دیکھائی ہوئی ہیں اور یہ بھی بتایا ہوا کہ تم ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر کچھ وجوہات کی وجہ سے___پلیز یہاں سے جاؤ میں نہیں جانتی تم کون ہو__زمل نے اسے ٹوک دیا تھا___ابھی کچھ ہی دیر پہلے تو ہمارا نکاح ہوا تھا جب تم گھنگھٹ اوڑھے وہاں بیٹھی تھی اور اب___تم کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا پلیز یہاں سے جاؤ ورنہ میں شور مچا دوں گی___دیکھو میں سمجھ سکتا ہوں کہ تمہاری حالت کیا ہے میں تمہارئے ساتھ کچھ بھی زور زبردستی نہیں کروں گا تم جب تک چاہو یہاں رک سکتی ہو میں نے خود ہی رخصتی سے منع کر دیا ہے جب تک تم کمفرٹیبل نہیں ہو جاتی___تم تم بس جاؤ یہاں سے__وہ اپنے رخ مخالف سمت میں موڑ چکی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر نوشہ نے کیا کھچڑی بنائی ہے___اچھا ٹھیک ہے اتنی بے رخی اختیار مت کرو میں چلا جاتا ہوں میں تو صرف تمہیں نکاح کی مبارکباد دینے آیا تھا___وہ رخ بدل کر کھڑی زمل کو دیکھ رہا تھا جو مسلسل خاموش رہتے ہوئے کچھ سوچنے کی کوشش کر رہی تھی___میں اب جاؤں کیا_
اس نے ناچاہتے ہوئے بھی دوبارہ پوچھا___ہاں جاؤ پلیز___مبارکباد تو قبول کر لو زمل پلیز___مت کہو مجھے زمل زمل تم نہیں جانتے کہ تمہیں اس کی کتنی بڑی سزا ملے گی___سزا…..اس نے جملہ کھینچا کیا وہ سزا تم ہی دو گی____نہیں میرئے پاس ایک شیطانی جن ہے وہ دئے گا تمہیں سزا___زمل نے اسے ڈرانے کی پوری کوشش کی تھی زمل کے اس انداز پر وہ بمشکل اپنی ہنسی روک پایا تھا تم بچپن میں عینک والا جن ڈرامہ تو نہیں دیکھتی رہی کیا___تمہیں یہ سب مذاق لگ رہا ہے آؤ مجھے چھو کر تو دیکھو دیکھنا کیسے تمہاری بتی گل ہوتی___وہ سنجیدہ انداز اپنائے ہوئی تھی___یہ بات ہے تو میں بھی دیکھتا ہوں کہ کونسا جن مجھے میری بیوی کے پاس جانے سے روکتا ہے__وہ آگے بڑھتے ہوئے زمل کے قریب آ گیا اور اس کو بازؤ سے پکڑ لیا___چھوڑو مجھے وہ مزاحمت کرتی ہوئی پیچھے ہٹ گئی میں تمہاری بیوی نہیں ہوں سمجھے تم اب اگر تم نے مجھے دوبارہ ہاتھ بھی لگایا ناں تو وہ سچ میں تمہاری بینڈ بجا دئے گا___وہ چاہتی تھی کہ وہ اسے چھوئے اور فاسیر اسے بچانے کے لئے آئے___بینڈ تو تمہاری میں بجا دوں گا اگر اب تم نے میری بیوی ہونے سے انکار کیا___اس بار اس نے اس کے گرد بانہوں کا ایک حصار بنا لیا تھا___پیچھے ہٹو ورنہ___ورنہ کیا؟
میں اور میرا جن تمہیں سبق سکھائیں گے___فی الحال تو ایسا کرنے کا میں سوچ رہا ہوں__وہ اپنا لہجہ دھیمہ کر چکا تھا___ایسا سوچنا بھی مت اگر سوچا بھی ہے تو کرنا مت خیر تم سے ہو گا بھی نہیں تم مجھے ہاتھ تو لگاؤ ذرا پھر دیکھنا تمہاری___وجیہہ نے بتایا تھا کہ تم ابھی شادی پر راضی نہیں ہو بٹ مجھے تو لگتا ہے کہ تم کوئی سائکو کیس ہو___زمل نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے کی طرف دھکیلا___چلو ہٹو پیچھے منہ اٹھا کر اندر آ گئے____تم سمجھتی کیا ہو خود کو تمہیں میری بات سمجھ نہیں آ رہی کہ تم میری بیوی ہو____نہیں ہوں میں___وہ اسے مزید غصہ دلانے کے لئے منہ چڑھا رہی تھی
تاکہ اس کی کوئی حرکت فاسیر کو لانے کا سبب بنے____نہ میں پاگل ہوں زمل جس نے تمہاری پچاس تصویروں کو دیکھا ہوا ہے اور نہ ہی تمہاری بھابھی وجیہہ جس نے مجھے تمہارئے کمرئے کی راہ بتائی___وہ اس کئ طرف بڑھتے ہوئے اسے کندھوں سے دبوچ چکا تھا اس کے چہرئے کو اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ سچ میں گبھرا گئی تھی کیونکہ اس کے متعدد بار چھونے کے باوجود وہ نہیں آیا تھا___وہ اپنے ہونٹ اس کی گردن کے قریب لے گیا اور وہاں بنے نشان پر چسپاں کرنے لگا کہ وہ ایک دم پیچھے ہٹ گئی اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ آگے بڑھتا اچانک دروازہ کھلا____مسٹر عاشر چوہدری آپ وہاں کیا کر رہے ہیں آپ کی دلہن تو یہاں ہے___وہ حیرانگی سے دروازئے میں کھڑی نوشہ کی طرف دیکھنے لگا جو خود کو اس کی دلہن بتا رہی تھی
مجھے تو اس لڑکی کی تصویر دیکھائی گئی تھی___وہ ہکا بکا رہ گیا تھا___شاید بھابھی سے غلط تصویر سینڈ ہو گئی ہو میں ہی زمل سلطان ہوں___دھوکہ یہ دھوکہ ہے اور عاشر چوہدری کبھی اپنے ساتھ دھوکہ نہیں ہونے دئے گا___جاؤ تم یہاں سے لڑکی تمہارا سامان نیچے پڑا ہے یہ میرا شوہر ہے میں اسے خود ہی سنبھال لوں گی___نہیں اپنی جگہ سے ہلنا بھی مت تم___وہ گرجتی آواز سے زمل کو ساکن کر چکا تھا___دیکھو یہ انگوٹھی یہ تم نے ہی پہنائی تھی ناں نکاح کے وقت___نوشہ نے اپنے ہاتھ کو آگے بڑھا دیا تھا اس کی انگلی میں انگوٹھی دیکھ کر عاشر کیساتھ زمل کی آنکھیں بھی پھٹی رہ گئی تھی اب زمل کو سمجھ آیا تھا کہ نوشہ نے کیا گیم کھیل دی تھی وہ زمل کی جگہ خود گھونگھٹ اوڑھ کر بیٹھ گئی تھی___یہ نہیں ہو سکتا جب تصویر اس لڑکی کی دیکھائی گئی تھی تو پھر شادی تم سے کیوں؟___او گاڈ میں تمہیں کیسے سمجھاؤں اگر تمہیں یقین نہیں آ رہا تو چلو ہم بھابھی کے پاس چلتے ہیں___نوشہ اس کے اور زمل کے درمیان آ گئی تھی یہ میری کزن ہے تم خوامخاہ میں اس بچاری کا خون جلا رہے ہو___جاؤ تم سب تمہارا انتظار کر رہے ہوں گے__نوشہ نے زمل کو نکلنے کا اشارہ کیا اور وہ ڈرتے ڈراتے وہاں سے نکل گئی___تم دولہا بنے کافی اچھے لگ رہے تھے غصے میں تو بلکل اچھے نہیں لگتے___نوشہ عاشر کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی
زمل تیز قدموں سے بھاگتی ہوئی دروازئے تک پہنچی جہاں ایک گاڑی پہلے سے اس کے انتظار میں تیار کھڑی تھی___زمل بی بی آپ نے کہاں جانا ہے مجھے تو وجیہہ میڈیم نے نوشہ کیساتھ جانے کا کہا ہے___نوشہ نہیں جا رہی اسے کچھ کام ہے مجھے جانا ہے تم جلدی سے گاڑی چلاؤ___مجھے پہلے میڈیم سے پوچھنا___میں نے کہا گاڑی چلاؤ اتنا ٹائم نہیں ہے__زمل کے سخت لہجے سے وہ دبک گیا اور گاڑی سٹارٹ کر دی___کس طرف جانا ہے بی بی__تم یہاں سے نکالو بتاتی ہوں___زمل کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ آخر کہاں جا رہی ہے اسے صرف اس زبردستی کی شادی سے اپنی جان چھڑانی تھی اسکے پاس کچھ سامان کے علاوہ کچھ نہیں تھا نہ ہی کوئی پیسہ اور نہ ہی کوئی منزل!!!وہ جانتی تھی کہ میکال بھی اس کی کوئی خاص مدد نہیں کر سکتا تھا اس نے گاڑی گھر کی طرف موڑنے کا اشارہ کیا اور گاڑی کچھ ہی دیر میں گھر کے دروازئے تک پہنچ گئی زمل جلدی سے گاڑی سے اترئی اور بھاگتی ہوئی سیدھا اپنے کمرئے میں گئی جہاں سے ضرورت کی چند چیزیں اٹھانے کے بعد وہ میکال اور وجیہہ کے کمرئے میں گئی اور وہاں رکھی الماریوں میں کچھ ڈھونڈنے لگی کچھ محنت کے بعد وہ فائنلی کچھ پیسے ڈھونڈنے میں کامیاب رہی تھی
وہ وہاں سے نکل کر واپس جانے لگی کہ اچانک اس کی سماعت نے ایک ایسی آواز سنی کہ جس کے بعد اس کے قدم وہی ثبت ہو کر رہ گئے____سردار تمہاری چاہت سب کچھ چھوڑ آیا ہے حیا___یہ آواز حیا کے کمرئے سے آ رہی تھی___نہیں یہ سردار نہیں ہو سکتا__زمل نے اپنے دل کو دلاسہ دینے کی ناکام کوشش کی تھی یہ سردار ہی کی آواز تھی جس آواز کو وہ سالوں سے سنتی آئی تھی بھلا وہ اس آواز سے کیسے دھوکہ کھا سکتی تھی اس نے ناچاہتے ہوئے بھی حیا کے کمرئے کا دروازہ آہستگی سے کھول دیا سامنے والا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی حیا سردار کی بانہوں میں الجھی اس کیساتھ لیپٹ رہی تھی اور سردار بوس و کنار میں مصروف تھا ہلکا سا دروازہ کھلنے کا احساس سردار کو ہو گیا تھا مگر وہ اسے اگنور کرتے ہوئے حیا کو چومنے میں مصروف تھا جو اس کی بانہوں میں اس کے لمس کی تپش محسوس کرتے کرتے نیم مدہوش ہو چکی تھی اسے دوروازہ بند ہونے کا احساس ہوا تھا سردار نے اس کی قبائیں اس کی بانہوں سے چاک کرنا شروع کی اور پھر ان پر اپنے ہونٹوں کا لمس دیتے ہوئے کندھے تک آیا اور کندھے سے گردن تک چاک کرنے لگے ہر چیز سے بے نیاز حیا ہر لمحہ بہکتی جا رہی تھی اس کے جسم میں ایک فشار برپا تھا جس کی تپش اس کے ہر پور سے محسوس ہو رہی تھی وہ اسے بستر پر گرا چکا تھا اچانک کمرئے کا دروازہ دوبارہ کھلا اور زمل پوری رفتار سے اندر آئی اور آتے ہی اس نے ایک زوردار تمانچہ سردار کے منہ پر دئے مارا تھا زمل نے سردار کو تھپڑ مارنے میں اپنی پوری جان لگا دی تھی
بدذات کمینے لعنت ہے تم پر اور تمہاری شکل پر___وہ باہری دروازئے سے صرف سردار کو تھپڑ مارنے واپس آئی تھی زمل کا یہ انداز حیا کو بھی ہوش میں لے آیا تھا___تمہیں بھی منہ مارنے کو یہی کم ذات ملا تھا کمینی___اس نے حیا کو بستر سے کھنچنے کی کوشش کی کہ سردار کا ہاتھ اسے روکنے کے لئے بڑھا جس پر زمل نے ایک اور زوردار چماٹا سردار کے منہ پر دئے مارا تھا___تھوکتی ہوں میں تمہاری شکل پر کمینے انسان___اس سے پہلے کے زمل اپنی اس بات پر عمل کرتی سردار کے ایک زوردار تھپڑ اسے رسید کیا تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ زمل کے چودہ تبک روشن ہو گئے اور وہ کمرئے کی دیوار کیساتھ جا لگی اس سے پہلے کہ زمل کے حواس بحال ہوتے سردار نے اس کی طرف ہاتھ کا اشارہ کیا جس سے زمل کی گردن اس کے ہاتھ میں آ گئی وہ کیسے دیوار سے اس کے ہاتھ کے شنکجے میں پہنچی تھی
یہ اسے بھی سمجھ نہیں آیا تھا اس نے زمل کو گردن سے بلند کرنا شروع کیا اس کے پاؤں تلے سے زمین کھسکتی چلی گئی وہ پانی سے نکالی مچھلی کی مانند تڑپنے لگی تھی اس کو نظر آتی سردار کی شکل مسلسل روپ بدلتی جا رہی تھی تم تھوکو گئ میری شکل پر___ایک خوفناک آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی___مجھے معاف کر دو مجھے چھوڑو___اس کے گلے میں آواز اٹک گئی تھی اس نے بمشکل اپنا جملہ مکمل کیا تھا___تم نے میرا سارا پلان خراب کر دیا تمہیں کبھی نہیں معاف کروں گا___کو کو کونسا کونسا پلان کون ہو تم___لیوسفر__وہ خوفناک انداز میں ہنستے ہوئے اپنا نام بتا رہا تھا اس نے زمل کو اٹھا کر زور سے ایک طرف پٹخہ اور وہ گرتے ہی بہوش ہو گئی حیا یہ منظر دیکھنے سے پہلے ہی بہوش تھی وہ غصے سے ہانپنے لگا وہ لمبے انتطار کے بعد سردار کا روپ دھارئے حیا تک پہنچا تھا
کئی گھنٹے بہوش رہنے کے بعد اس نے جب آنکھ کھولی تو خود کو ایک غار کے اندر زمین پر لیٹے پایا وہ حیرانگی سے اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھ رہی تھی وہ ایک نئے لباس کیساتھ ایک نئی جگہ پر موجود تھی زمل کی آنکھوں میں وہ خوفناک شکل اب بھی آ رہی تھی جس نے لمحے بھر میں کئی شکلیں تبدیل کر لی تھی وہ اپنے نیلے ہو چکے ہاتھوں کو حرکت دئے کر ان میں بحالی خون کی کوشش کر رہی تھی اسے بلکل سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہاں ہے زندہ ہے یا مر چکی ہے___زندہ ہو تم لڑکی___ایک رعب دار آواز اسے سنائی دی اور وہ آواز کی سمت میں دیکھنے لگی جہاں سے ایک نوجوان ہاتھ میں آگ لئے اندر داخل ہوا تھا___کون ہو تم___یہ چہرہ وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر وہ تھوڑا چونک گئی تھی___وہی جس سے تم نے اتنا کچھ پا کر بھی اسے دھوکہ دیا یہ سوچے بغیر کہ اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے___وہ ایک دم سہم گئی تھی ___میں نے کسی کو دھوکہ نہیں دیا پلیز تم جو بھی ہو مجھے جانے دو___وہ غار میں آگ جلا چکا تھا کیا واقعی ہی تم نے مجھے کوئی دھوکہ نہیں دیا لڑکی
وہ زمل کے قریب آ گیا جو زمین پر اپنی ٹانگیں سمیٹے ڈری سہمی بیٹھی ہوئی تھی اس نے زمل کے چہرئے کو اوپر کرنے کی کوشش کی تھی جو خوف اور ڈر سے زرد ہو چکا تھا____اسے اتنا قریب دیکھ کر وہ زبان بھی نہیں ہلا پائی تھی___تمہیں اتنا حسن دیا تھا اور تم نے کیا کیا زمل؟نمائش__وہ معنی خیز انداز میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا____خود کی نمائش کرنے لگی تھی دیکھاؤ مجھے کیا چیز ہے تمہارئے جسم میں؟زمل مزید سہم گئی تھی___تم فاسیر نہیں ہو سکتے کون ہو تم___وہ زمین پر ہی پیچھے کی طرف سڑکنے لگی تھی__اسے جب پتہ چلے گا تو وہ تم سے بدلہ لے گا___کیوں کیا لگتی ہو تم اس کی___محبوبہ میں اس کی محبوبہ ہوں___زمل نے اسے ڈرانے کی ناکام کوشش کی تھی اس کے ایک اشارئے پر زمل کا بدن ٹانگوں سے کھچتا ہوا اس کے نیچے آ گیا تھا___اچھی خوش فہمی ہے تمہاری زمل!!! تم محبوبہ نہیں میری زر خرید غلام ہو___وہ زمل کی آنکھوں میں دیکھنے لگا تھا___تمہیں خریدنے کی ایک بھاری قیمت میں نے اور میرئے لوگوں نے ادا کی ہےسمجھی تم____کیسی قیمت؟وہ ڈرتے ہوئے مخاطب ہوئی تھی___جس شیطان کو میں ڈھونڈنے کے لئے آیا تھا وہ تمہارئے ہی گرد موجود تھا اگر تب تم مجھے اپنے جسم میں اترنے دیتی تو آج پرستان اور کوہ قاف دونوں سکون میں ہوتے___تم جو بھی ہو پلیز مجھے چھوڑ دو مجھے تمہاری باتیں بلکل سمجھ نہیں آ رہی___وہ رونے لگ گئی تھی___فاسیر نے اپنا ہاتھ اس کے زرد چہرئے پر پھیرا اور پھر گردن تک لا کر وہاں بنے نشان پر دباؤ ڈالنے لگا جس سے فاسیر کی پرانی شکل لمحے بھر کے لئے اس کے سامنے آئی اور زمل کو یقین ہو گیا کہ یہ فاسیر ہی ہے جو ایک نئی شکل میں اس کے سامنے ہے____فاسیر فاسیر میں نے تمہیں بہت یاد کیا تھا تمہیں بہت بلانے کی کوشش کی تھی___تب جب تمہارئے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا زمل___ہاں کیونکہ مجھے یقین تھا کہ تم میری مدد کرو گے___میں کیوں تمہاری مدد کروں گا زمل____تم پہلے بھی میری مدد کرتے تھے___میں نے کبھی تمہاری مدد نہیں کی یہ حسن یہ خوداعتمادی یہ سب وہ قیمت تھی جس کے عوض میں نے تمہیں خریدا تم محبت کی شرط میں بری طرح ہار چکی ہو زمل___ہاں تم ٹھیک تھے فاسیر___میں غلط تھا مجھے تم پر اعتبار کر کے اتنا وقت ضائع نہیں کرنا تھا___فاسیر تھوڑا سخت لہجے میں بولا___وہ شیطان تمہارا بھائی تھا___کون شیطان___وہی جس نے تمہیں مارنے کی کوشش کی____وہ سردار تھا فاسیر___تم کچھ نہیں جانتی زمل اس لئے اپنا منہ بند رکھو اور اب سے تم میری لونڈی ہو سمجھی تم____میں وہی کروں گی جو تم کہو گے فاسیر مگر مجھے یہاں بہت ڈر لگ رہا ہے مجھے گھر جانا ہے____وہ شیطان تمہیں پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا ہے اگر میں وقت پر پہنچ کر تم دونوں کو نہ بچاتا تو اب تک تم دونوں اس کا شکار ہو چکی ہوتی اس لئے یہاں سے نکلنے کے متعلق کبھی سوچنا بھی مت____فاسیر نے حکمیہ انداز میں اپنا جملہ کہا وہ ابھی تک اپنے بازؤں کے بل پر اس کے اوپر جھکا ہوا تھا وہ زمل کو غصیلے انداز میں گھورتے ہوئے اس کے اوپر سے ہٹا___کیا وہ شیطان یہاں نہیں آئے گا؟___یہ پرستان میں موجود ایک خفیہ جگہ ہے تم یہاں محفوظ ہو____کیا تم بھی اپنا روپ بدل کر مجھے ڈراو گے___زمل نے معصومانہ انداز میں سوال پوچھا تھا
غلام لفظ سمجھتی ہو تم زمل؟وہ طنزیہ انداز میں مخاطب ہوا تھا مجھے سے اپنے لئے کسی اچھائی کی امید مت رکھنا میرا جو دل چاہے گا میں وہی کروں گا پہلے ہی تمہاری وجہ سے میرا بہت نقصان ہو چکا ہے___میں ایک عام سی لڑکی تمہیں کیا نقصان پہنچا سکتی ہوں فاسیر___تم عام نہیں تھی مگر تم نے خود کو عام کیا خیر ملکہ محل میں آنے والی ہے مجھے ابھی یہاں سے جانا ہو گا____اس غار میں کونسی ملکہ ہو گی فاسیر؟جنوں کی ملکہ؟___نہیں پرستان کی ملکہ ڈیفنی___مجھے بھی پریوں کو دیکھنا ہے اور ان کی ملکہ کو بھی___بکواس بند کرو یہاں سے باہر قدم بھی رکھا تو جل کر بھسم ہو جاؤ گی___فاسیر نے اسے دھمکایا اور اگلے ہی لمحے وہاں سے غائب ہو کر ڈیفنی کے محل پہنچا اسے ملکہ ڈیفنی اپنے محل کے داخلی دروازئے سے اندر آتی ہوئی نظر آئی تھی___میں نے سنا ہے کہ تم کوئی انسانی لڑکی یہاں لائے ہو فاسیر___ہاں وہی لڑکی جو لیوسفر کا اگلہ شکار تھی
_تو کہاں ہے وہ انسانی لڑکی جو اس شیطان جن کو اپنا آپ سونپنے کے لئے تیار تھی___ڈیفنی کے اصرار پر فاسیر نے ایک ہی لمحے میں حیا کو حاضر کر دیا تھا جو ڈر و خوف سے مسلسل کانپ رہی تھی اس کے لئے یہ سب اتنا حیران کن تھا کہ وہ صدمے میں چلی گئی تھی___ڈیفنی آگے بڑھتے ہوئے حیا کے قریب آئی اور سر سے پاؤں تک اس کو دیکھنے لگی حیا نظریں جھکائے اس کے سامنے کھڑی کانپ رہی تھی___انجلینا تم اس لڑکی کو لے جاؤ اور اسے ڈھنگ کا لباس پہناؤ___ڈیفنی کے حکم پر اس کی خاص ملازمہ انجلینا حیا کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ فاسیر نے اسے رکنے کا اشارہ کیا___جب تک تم باقی سب جنوں سے اپنا تعلق ختم نہیں کرتی اور ان سب کا یہاں آنا جانا ختم نہیں ہوتا تب تک یہ لڑکی میرئے پاس رہے گی___فاسیر اس لڑکی کے لئے سب سے محفوظ جگہ ملکہ کے محل کے سوا کونسی ہو سکتی ہے آخر اس کے محفوظ رہنے سے ہی ملکہ محفوظ ہے____مجھے ایسا نہیں لگتا کہ تمہارا محل محفوظ ہو گا ڈیفنی کیونکہ یہاں موجود آدھی سے زیادہ پریاں تو لیوسفر کی قید میں جا چکی ہیں تو کیا گارنٹی ہے کہ ایسی لڑکی جس کی تلاش لیوسفر کو سب سے زیادہ ہے وہ یہاں محفوظ رہے گی___فاسیر نے ڈیفنی کو سوچنے پر مجبور کیا تھا____اگر تم اس لڑکی کو یہاں رکھنا چاہتی ہو تو تمام جنات سے تعلق ختم کر دو تاکہ کوئی بھی یہاں نہ آئے___مجھے کیوں ایسا محسوس ہو رہا ہے
کہ تم ملکہ کے اکلوتے راجہ بننے کے لئے یہ سب کر رہے ہو فاسیر___میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں ڈیفنی کہ تمہارئے ساتھ میرا رشتہ صرف مجبوری کا ہے اپنے باپ کے سامنے مجبور ہوں جس نے تمہاری حفاظت کے لئے میری تم سے زبردستی شادی کروائی ورنہ میں کبھی___ڈیفنی تمہاری محتاج نہیں ہے فاسیر تم جانا چاہو تو جا سکتے ہو یہ لڑکی میرئے محل میں ہی رہے گی____اگر مسئلہ صرف اس انسانی لڑکی کا ہی ہے تو کیوں ناں ہم اس کو مار دیں تاکہ لیوسفر کبھی اس کو ہمارئے خلاف استعمال ہی نہ کر سکے___انجلینا کی رائے نے ایک دم سب کو چونکا دیا تھا___پہلے ہی ڈیفنی کی وجہ سے بے شمار جن اور انسان لیوسفر کے ہاتھوں مارئے جا چکے ہیں اب ایک اور خون کرنے کی اجازت میں بلکل نہیں دوں گا____فکر مت کرو فاسیر ہم اس لڑکی کو زندہ رکھیں گے اور اپنی پوری حفاظت میں رکھیں گے ملکہ کے اشارئے پر انجلینا اسے اندر لے کر جا چکی تھی
پچھلے کئی گھنٹوں سے وہ لیپ ٹاپ پر سر کھپا رہا تھا مگر اس کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوئی تھی وجیہہ کے گھر میں لگے کیمرئے مسلسل آف ہی نظر آ رہے تھے تمہیں میں نے کہا تھا سردار کہ تہروبا پر زیادہ اعتبار مت کرنا مگر تم نے___ڈاکٹر تم اس کی فکر مت کرو تحروبا مجھے دھوکہ نہیں دئے گی___سردار لیپ ٹاپ میں سر کھپائے بیٹھا تھا وہ کیمرئے اس نے بہت محنت سے نصب کروائے تھے___آخر کیوں نہیں دئے سکتی جو اپنی دوست کو___کم آن رادیہ سردار نے اسے جھٹ سے ٹوکا___لڑکیاں سردار کو دھوکہ نہیں دئے سکتی وہ خود اعتمادی کے پہاڑ پر بیٹھا بول رہا تھا___تم لڑکیوں کو نہیں جانتے سردار یہ وفا کریں تو ان سے بڑھ کر وفادار کوئی نہیں ہوتا اور اگر بے وفائی پر اتر آئیں تو ہر حد سے گزر جاتی ہیں___جیسے تم گزر گئی تھی رادیہ___وہ اس کے چہرئے کی طرف متوجہ ہوا__میں تمہاری فری آف کاسٹ مدد کر تو رہا ہوں اور تم نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ تم یہ سب چھوڑ دو گی مگر مجھے یہ تو پتہ چلے کہ یہ سب شروع کیسے ہوا تھا___سردار کے سوال پر رادیہ نے ایک لمبا سانس لیا تھا میکال سے میری ملاقات تب ہوئی تھی سردار جب وہ خون میں لت پت ایک کم سن بچی کو میرئے کلینک میں لایا تھا میکال نے اس لڑکی کا ریپ کیا تھا اس نے ایک بھاری رقم کے عوض مجھے اس لڑکی کا علاج کرنے کے لئے مجبور کیا
اور میں نے پیسوں کی لالچ میں آ کر اس بچی کے جسم سے وہ حصہ نکال دیا جس کی بدولت ایک عورت ماں بنتی ہے کیونکہ وہ حصہ بری طرح متاثر ہوا تھا میکال نے اس بچی کے جسم کے اس حصے کو ضائع کرنے کی بجائے اپنے پاس محفوظ کر لیا اور پھر کچھ عرصے بعد فروخت کر دیا اس سے اسے اتنے پیسے ملے کہ جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے پھر کچھ عرصے بعد وہ ایک اور بچی کو لے آیا اس بار اس نے پہلی بار سے ڈبل رقم دی اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا اور پیسوں کی حوس اور لالچ میں میں بھی اس کی پارٹنر بن گئی میں نے بہت سی لڑکیوں کے جسمانی اعضا نکال کر دئیے اس کام کے لئے مجھے اکثر کئی کئی دن گھر سے دور رہنا پڑتا تھا جس وجہ سے اکثر میرا شوہر ذیشان مجھ سے لڑنے لگا کیونکہ میں نوشہ اور اس کے لئے بلکل ٹائم نہیں نکال پا رہی تھی اسے مجھ پر شک ہونے لگا تو میں نے اپنی ایک اور مجبور دوست وجیہہ کی شادی میکال سے کروا دی وجیہہ کے کالج نے تو میکال کے بزنس میں مزید اضافہ کر دیا تھا وہ وہاں سے لڑکیاں غائب کرتا ان کا ریپ کرتا اور پھر ہم اس کے اعضا نکال کر فروخت کر دیتے
یہ وہ وقت تھا جب میں اس سب سے پیچھے ہٹنا چاہتی تھی کیونکہ مجھے گھر سے بہت پریشر آ رہا تھا میکال کو شک تھا کہ اگر میں پیچھے ہٹ گئی تو اس کا بھانڈہ پھوڑ سکتی ہوں دوسرا اس کے لئے نئی سرجیکل ڈاکٹر ڈھونڈنا بھی مشکل تھا چنانچہ اس نے میرئے ساتھ ایک گیم کھیلی اور ہمارئے اس سارئے کام کی ویڈیوز میری بیٹی اور خاوند تک پہنچا دی تاکہ اس سے پہلے کہ میں میکال کو چھوڑ کر ان کے پاس جاؤں وہ خود ہی مجھے چھوڑ جائیں اور پھر وہی ہوا میرا شوہر مجھے چھوڑ گیا اور بیٹی بغاوت پر اتر آئی میں نے شہر بھی بدل لیا مگر نوشہ کے دماغ کی سوئی وہاں ہی اٹکی رہ گئی تھی اس نے وہ سب ڈیٹا چھپا لیا تھا جو میکال نے اس تک پہنچایا تھا میں مزید کچھ عرصہ میکال کیساتھ کام کرتی رہی
مگر پھر اچانک اس کا رویہ میرئے ساتھ حیران کن حد تک تبدیل ہو گیا جب میں نے آخری بار اس سے ایک نئی لڑکی کا مطالبہ کیا تو اس نے مجھے زوردار تھپڑ مار دیا جس کے بعد سے ہمارا رابطہ کم سے کم ہوتا گیا مجھے لگا شاید وجیہہ کے اس کی زندگی میں آنے اور اس کی بیٹی کے جوان ہونے سے میکال یہ سب چھوڑ چکا ہے مگر میں غلط تھی لڑکیاں پھر بھی وہاں سے غائب ہو رہی تھی شاید اس نے کوئی نئی پارٹنر ڈھونڈ لی تھی میں کچھ حد تک مطمئن ہوئی کہ چلو کم از کم دیر سے ہی صحیح میری جان تو چھوٹ گئی مگر تب تک میری اپنی بیٹی میری جانی دشمن بن چکی تھی
مجھے لگا تھا میکال نے شاید وجیہہ کو بھی اپنے اس غلیظ کام میں لگا لیا ہے مگر جب وہ لڑکیوں کی گمشدگی پر مجھے فکر مند نظر آئی تو مجھے لگا یہ اس سب سے لاعلم ہے اس لئے میں نے نوشہ کو اسی کالج بھیج دیا کہ شاید یہ میری بیٹی کو راہ راست پر لا سکے دوسرا وہاں رہ کر نوشہ کو میکال کی حقیقت بھی پتہ چل جانی تھی تو شاید وہ مجھے معاف کرنے کی پوزیشن میں آ جائے مگر مجھے صبع پتہ چلا کہ نوشہ نے زمل کو گھر سے بھاگنے میں مدد کی ہے وجیہہ مجھے بہت کوس رہی تھی کیونکہ زمل اپنے ساتھ حیا کو بھی اغوا کر کے لے گئی ہے___اگر مجھے یقین نہ ہوتا کہ تم واقعی ہی یہ سب چھوڑنا چاہتی ہو تو میں کبھی تمہاری مدد نہیں کرتا__اور اگر مجھے بھی یہ اعتماد نہ ہوتا کہ تم لڑکیوں کی کمزوری ہو تو میں بھی کبھی تم سے مدد نہ مانگتی تمہیں میری باتوں کا اس بات سے ہی یقین کر لینا چاہئیے کہ میں ایک ماں ہو کر خود تمہیں اپنی بیٹی کے پیچھے لگا رہی ہوں ورنہ اپنی بیٹی تو ایک جسم فروش وحشیہ کو بھی عزیز ہوتی ہے
مجھے نہیں لگتا کہ اس کام کے لئے مجھے تمہاری بیٹی کیساتھ کوئی ذاتی تعلق بنانا چاہئیے کیونکہ حالات نے اسے باغی بنا دیا ہے اونچی دیواروں اور سخت پہروں میں رہنے والی لڑکیاں ہمیشہ آسان شکار ہوتی ہیں ڈاکٹر کیونکہ وہ حالات کی گرمی سردی اور جذبات کے گورکھ دھندئے سے انجان ہوتی ہیں تمہیں کیا لگتا ہے کہ تمہاری بیٹی اتنا آسان شکار ہے کہ وہ سردار کی چند اداؤں کی اسیر ہو کر سب کچھ مجھے سونپ دئے گی؟سردار سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا نوشہ کو چاروں طرف سے گھیرنا ہو گا اور یہ کام تحروبا اور حیا اچھے سے کر رہی تھی مگر اب حیا کا اچانک زمل کیساتھ جانا سمجھ سے باہر ہے___تمہیں زمل کو قابو میں رکھنا چاہئیے تھا سردار___زمل ہاہاہاہا وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا ڈاکٹر مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی اعتراض نہیں کہ میں ایک خود پسند لڑکا ہوں اور اس معاملے میں تھوڑا متکبر بھی!!!
اگر کوئی غلطی سے بھی میری انا کا ٹھیس پہنچانے کی کوشش کرئے تو میں بلکل برداشت نہیں کرتا وہ بے شک کوئی بھی ہو___وہ ایک سیدھی سادی سی لڑکی تمہاری انا کو کیا ٹھیس پہنچا سکتی تھی تم نے خواہ مخواہ___امہم ڈاکٹر رادیہ تم صرف آپریشن کرنا جانتی ہو اس سے زیادہ کچھ نہیں__سردار نے جھٹ سے رادیہ کو ٹوک دیا تھا___سردار کو کبھی لڑکیوں کی کمی نہیں رہی اب اگر کوئی لڑکی میرئے گریبان تک پہنچے گی تو مجھے تب تک سکون نہیں آئے گا جب تک میں اس کا گریبان چاق نہ کر دوں محبت وحبت زمل کا مسئلہ ہو گا میرا مسئلہ انا ہے جس کو اس کے انکار سے ٹھیس پہنچی خیر چھوڑو اسے،ہمیں نوشہ کے گرد کوئی اور جال بننا ہو گا جو اس سے وہ سارا ڈیٹا نکلوا سکے___پہلے ان کیمروں کا کچھ کرنا ہو گا یہ تو بلکل ہی کام کرنا چھوڑ گئے ہیں انہی کی مدد سے تو ہم میکال کو ٹریس کر سکتے ہیں کہ اب وہ کہاں لڑکیاں لے جا رہا ہے_
میرئے خیال سے کیمروں کی طرف جانا تھوڑا رسکی ہو سکتا ہے ڈاکٹر کیونکہ ان سب کے ایک ساتھ بند ہو جانے کی کوئی تو وجہ ہو گی اور ویسے بھی آج تک ان کیمروں سے ہمیں کچھ خاص انفارمشین مل ہی نہیں سکی___کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ وجیہہ یا میکال کو ان کیمروں کا پتہ لگ گیا ہے___وہ چونک گئی تھی__میں ایسا کچھ بھی برداشت کرنے کی پوزیشن میں بلکل نہیں ہوں سردار____آخر اس ساری گیم میں کوئی تو ہے جو ہماری ہر چال کے خلاف ایک نئی چال چل رہا ہے___سردار نے سوچتے ہوئے جملہ لمبا کھینچا تھا___خیر جو بھی ہے تم ابھی تحروبا کے سامنے مت آنا وہ نہیں جانتی کہ تم بھی اس گیم کا حصہ ہو___سردار نے اسے تنبیہ کی تھی___تم وجیہہ کیساتھ رابطے میں رہو وہ زمل کی کوئی نہ کوئی خبر ضرور نکالے گی میں تحروبا سے رابطہ کرتا ہوں
وہ اپنے کمرئے میں پریشانی و کرب میں مسلسل ٹہل رہا تھا جب سے اسے خبر ملی تھی کہ زمل بھاگ گئی ہے تب سے اسے ایک منٹ کے لئے بھی سکون نہیں ملا تھا عاشر چوہدری کو تم جانتی نہیں ہو زمل ایک بار تم میرئے سامنے آؤ تو___وہ غصے میں دانت پیستے ہوئے کمرئے سے نکل کر نوشہ کے کمرئے کی طرف گیا اور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے لگا___کہاں ہے زمل___نوشہ کو دروازئے پر دیکھ کر عاشر نے اپنا پہلے والا سوال ہی دوبارہ دہرایا__تم سب کو میں کتنی بار بتا چکی ہوں کہ میرا کام اسے اس کالج سے نکالنے تک کا تھا میں نہیں جانتی کہ وہ کہاں ہے___یہ بکواس میں کئی بار سن چکا ہوں نوشہ اور میں یہ سب مزید برداشت نہیں کروں گا___یار کیا بار بار بے تکا سا رعب جھاڑنے آ جاتے ہو اسے کوئی اور پسند تھا وہ چلی گئی میرا کیا قصور ہے اس میں____اوہ مائی گاڈ تمہیں تو اپنا قصور ہی نہیں پتہ___عاشر نے بناوٹی مسکراہٹ کیساتھ لمبا سانس لیا___تم نے میری بیوی کو بھاگیا ہے اور اپنا قصور پوچھ رہی ہو___وہ تمہاری بیوی نہیں تھی سمجھے تم تمہارئے ساتھ وہاں میں بیٹھی ہوئی تھی___نوشہ کی بات سنتے ہی اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک کاغذ نکالا یہ دیکھو نکاح نامے پر کیا لکھا ہے عاشر چوہدری اور زمل سلطان___نام سے کچھ نہیں ہوتا مسٹر عاشر نکاح اسی کے ساتھ ہوتا ہے جو قبول ہے قبول ہے کہہ رہی ہو___اچھا تو تمہارئے کہنے کا مطلب ہے کہ تم میری بیوی ہو___ہاں یہی تو میں سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں مسٹر عاشر__وہ بناوٹی سا منہ بناتے ہوئے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی تھی__کیا ثبوت ہے تمہارئے پاس کہ تم میری بیوی ہو__وہ معنی خیز انداز میں اس کے دروازئے پر کھڑا تھا
جب میں مان رہی ہوں تو اور کیا ثبوت چاہئیے___اسے زیر لب مسکراتے دیکھ کر وہ اور بھی سٹپٹہ گیا تھا اس نے جیب سے پسٹل نکال کر اس کی کن پٹی پر رکھ دیا جس سے نوشہ کے اوسان خطا ہو گئے__تمہیں یہ سب مذاق لگ رہا ہے کیا؟کہاں ہے زمل__میرا یقین کرو میں نہیں جانتی__وہ تھوڑی بکھلا گئی تھی___میرا بھی یقین کرو کہ اگر زمل نہ ملی تو میری عزت کا جنازہ نکل جائے گا کیونکہ اس کی پکچر میں پورئے خاندان میں دیکھا چکا ہوں عاشر نے لہجہ مزید سخت اور تھوڑا سرد کر لیا تھا تمہاری وجہ سے میری عزت داؤ پر لگی ہے نوشہ___تم چاہو تو مجھے طلاق دئے دو میں نے صرف اسکی اتنی مدد کی تھی کہ وہ یہاں سے بھاگ سکے کیونکہ تم اسے بلکل پسند نہیں تھے__نوشہ نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ دی تھی__کیا میں تمہیں پسند تھا؟__تم چاہو تو مجھے چھوڑ دو__نوشہ نے پھر اپنی بات دہرائی___چھوڑ دوں؟واٹ آ جوک بڑا شوق تھا تمہیں اس کی مدد کرنے کا اور اسے تمہاری مدد لینے کا____وہ اس کے چہرئے کو غور سے دیکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے لگا وہ ڈرتے ہوئے الٹے قدم پیچھے ہٹ گئی تھی____زمل سلطان سے میرا نکاح ہوا اور تم نے قبول ہے قبول ہے کہا مطلب تم دونوں میری بیویاں ہو___وہ پسٹل ہاتھ میں گھوماتا ہوا اس کے تعاقب میں اندر تک آ گیا___تمہیں زمل چاہئیے ناں جیسے ہی مجھے کوئی سراغ ملا میں تمہیں ضرور بتاؤں گی اب یہاں سے جاؤ____ایسے کیسے جاؤں بیوی ہو تم میری__ہاں تم کہہ سکتے ہو مگر ابھی ہماری رخصتی نہیں ہو___تم نے میری بیوی کو بھگا دیا اور اب رخصتی کا بہانہ بنا رہی ہو___اس کا سخت لہجہ اب تک برقرار تھا
اسے سر سے پاؤں تک ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ اس کی طرف مائل ہوا تھا جس کا مقصد اسے صرف ذہنی اذیت دینا تھا___دیکھو یہاں سے جاؤ تمہارئے لئے یہی بہتر ہو گا__عاشر کو اونچا لہجہ بلکل پسند نہیں ہے نوشہ___عاشر نے اسے خاموش کروا دیا تھا___قبول کیا ہے ناں تم نے مجھے چلو یہ دوپٹہ ہٹاؤ___وہ پسٹل سے اشارہ کرتے ہوئے مخاطب ہوا___میں نے دوستی کے ناطے صرف اس کی مدد کی تھی کیونکہ میں نہیں چاہتی___ششش میں نے تم سے تفصیل نہیں پوچھی وہ اسے خاموش کروانے کے لئے پسٹل اس کے ہونٹوں پر رکھ چکا تھا جتبا کہا ہے اتنا کرو___نوشہ کو اس سب کی امید بلکل نہ تھی وہ تو سمجھی تھی کہ وجیہہ نے کسی لفنگے کیساتھ زمل کی شادی کروانی ہے جس کو وہ آسانی سے سنبھال لے گی مگر یہاں گیم بلکل الٹ تھی اس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کا پالا عاشر چوہدری سے پڑئے گا جو خود میں ایک غنڈہ ہے وہ مسلسل عاشر کو گھور رہی تھی کیونکہ اب وہ اس کی حدوں کو پھلانگ رہا تھا____تمہیں میری بات سمجھ نہیں آ رہی کیا___عاشر اس کی آنکھوں میں گھورتے ہوئے چلایا اور پھر اگلے ہی لمحے اس نے پسٹل لوڈ کر کے اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا دیا__نوشہ اس سے وہ پسٹل چھین کر اس پر واپس تاننا چاہتی تھی مگر اب وہ بلکل بے بس کھڑی تھی اس نے ناچاہتے ہوئے بھی اپنے گلے سے دوپٹہ ہٹا دیا تھا_
غصہ آرہا ہے ناں نوشہ___عاشر اس کی غصے سے لال اور بے بسی سے نم ہو چکی آنکھوں میں دیکھنے لگا__آنکھوں میں بغاوت اور چہرئے پر بے بسی یہی تو میں چاہتا ہوں کہ تمہیں تکلیف ہو اس نے آگے کی طرف بڑھنے کے لئے قدم اٹھایا ہی تھا کہ نوشہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے وہی روکنے کی کوشش کی___بس بہت ہو گیا میں تمہاری کچھ نہیں لگتی اب تم جا سکتے ہو____عاشر نے ایک نظر اپنے سینے پر رکھے ہاتھ کو دیکھا اور پھر اگلے ہی لمحے پسٹل کی نالی کو نوشہ کے سینے پر رکھ دیا___تم اپنی مرضی سے عاشر کی زندگی میں آئی تھی مگر جاؤ گی تب جب عاشر تمہیں اجازت دئے گا سمجھی تم____وہ اس کی مزاحمت توڑتا ہوا آگے کی طرف بڑھا تھا عاشر اس کی گردن پر اپنے پسٹل کی نالی کو پھیرنے لگا وہ اس کے اتنا قریب آ گیا تھا کہ اس کی سانسوں کو محسوس کر سکے عاشر نے ایک ہاتھ گردن کے قریب دیوار پر رکھا اور دوسرئے ہاتھ سے پسٹل کو اس کی گردن سے لگا کر گردن کو ہوا میں بلند کیا___سگریٹ پیتی ہو تم___وہ اس کی لال ہو چکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا___چلو اچھا ہے ہونٹوں کیساتھ سگریٹ کا مزہ مفت میں یو ناؤ بائے ون گٹ ون فری
You know Buy one get one free
وہ زیر لب طنزیہ سا مسکرایا یو آر آلسو ان بائے ون گٹ ون کیس
You are also in Buy one get one case
نوشہ نے غصے سے اس کے پسٹل کو جھٹک کر پیچھے کیا اور اسے اپنے سے پیچھے ہٹانے لگی وہ اپنا جسم دیوار کیساتھ لگا کر پورئے زور سے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی____نو نو مزاحمت نہیں نوشہ اس نے اس کی گردن پر پسٹل تان دیا تھا___گن اور زن دونوں ہی بہت دھوکے باز ہوا کرتی ہیں جو دیکھتی تو ایک دم قابل اعتبار ہیں مگر اچانک سے دھوکہ دئے جاتی ہیں____وہ ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد حمائل کرتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا__تمہارئے ہونٹوں میں جذب سگریٹ کے دھوائیں کی خوشبو تمہاری ان باغی آنکھوں سے زیادہ محسورکن ہے___یہ بندوق ہٹاؤ تو میں بتاؤں کہ میں کتنی محسورکن ہوں نوشہ غصے سے دانت پیس رہی تھی___اچھی کوشش تھی لڑکی عاشر نے اپنی گرفت کو تنگ کرتے ہوئے اسے تھوڑا اوپر اٹھا لیا تھا جیسے ہی اس کا چہرہ اس کے برابر پہنچا عاشر نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر ثبت کر دئیے وہ اپنے کام میں پوری لگن سے مشغول تھا کہ اس کی گرفت کو کمزور ہوتا دیکھ کر وہ ایک دم اس کی گرفت سے نکل کر پیچھے ہٹ گئی___تم مجھے بلکل نہیں جانتے عاشر__وہ دیوار کیساتھ لگی اسے گھور رہی تھی___مجھے تمہیں جاننے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے نوشہ میں تب تک تمہاری جان نہیں چھوڑنے والا جب تک تم زمل کا پتہ نہیں بتا دیتی___وہ بات مکمل کرتے ہوئے ایک بات پھر اس کی طرف بڑھا تھا جس کی آنکھوں سے اب آنسو نکلنے لگے تھے عاشر نے اس کے دونوں کندھوں کو پکڑا اور اس ہونٹ اس کے قریب لے گیا نوشہ نے چہرہ ایک طرف کو کر لیا جس سے اس کی بل کھائی ہوئی گردن عاشر کے سامنے آ گئی اور وہ اس پر ہونٹ لگاتے ہوئے نیچے سے اوپر کی طرف حرکت کرنے لگا اس نے اس کی بل کھائی ہوئی گردن کو اپنے ہونٹوں میں دبا کر کاٹا اور پھر پیچھے ہٹ گیا ابھی کے لئے کافی ہے میں پھر آؤں گا اور تب تک تمہیں تکلیف دیتا رہوں گا جب تک تم اس کا پتہ نہیں بتا دیتی
وجیہہ کے لئے ہر گزرتا لمحہ کسی عذاب مسلسل کی مانند گزر رہا تھا تحروبا سے لے کر سردار تک ہر کوئی زمل اور حیا سے لاعلم تھا وہ جانتی تھی کہ ملا کی دوڑ مسجد تک کے مترداف زمل کی دوڑ تحروبا تک ہی تو تھی مگر اس بار تحروبا کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ زمل کہاں ہو سکتی ہے؟نوشہ سے کچھ پتہ چلا؟وہ دروازئے سے اندر آتے عاشر کو دیکھ کر مخاطب ہوئی تھی جس کے چہرئے سے غصے کے آثار نمایاں تھے___جس طرح تم ڈھونڈ رہی ہو اس طرح تمہیں کبھی تمہاری بیٹی نہیں ملے گی مجھے تو لگتا ہے کہ یہ تمہاری ہی کوئی پلاننگ ہے___اگر صرف زمل غائب ہوتی تو تم کہہ سکتے تھے عاشر مگر مت بھولو کہ وہ اپنے ساتھ میری بیٹی کو بھی لے گئی ہے____آخر کہاں لے گئی ہے وہ ان دونوں کو زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا میرئے لوگوں نے اس شہر کا چپہ چپہ چھان مارا ہے مگر ان کا کوئی سراغ نہیں ملا___مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کہاں جا سکتی ہے اس کا کوئی ایسا دوست بھی نہیں تھا جو اسے___مگر مجھے سب سمجھ آ رہا ہے
میڈیم___عاشر نے سخت لہجے میں اس کو ٹوک دیا تھا___لمبے عرصے سے لڑکیاں کالج سے غائب ہو رہی ہیں بلکہ تم غائب کر رہی ہو___میں نے کسی کو غائب نہیں کیا اور کیا میں اپنے ہی بیٹی کو غائب کروں گی؟وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی___اس سارئے معاملے میں تمہاری خاموشی اور تمہارئے کھسم کی لاتعلقی بتاتی ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے ورنہ لڑکیوں کے غائب ہونے کی خبر یوں چھپائی نہ جاتی___زمل اس کی بہن ہے اور حیا میری بیٹی___صرف حیا ہی نہیں اس کالج میں سب کو تم اپنی بیٹی بنا کر ہی لاتی ہو اور پھر وہ اچانک غائب ہو جاتی ہیں اور میڈیم اس خبر کو کالج کی چار دیواری میں ہی دفن کر دیتی ہے____پلیز مجھے ابھی ان چکروں میں نہیں الجھنا تم بھی وہ ریکارڈنگز دیکھ چکے ہو جس میں زمل میری الماری سے پیسے نکال کے بھاگ رہی تھی جاؤ اسے ڈھونڈو نوشہ کو کچھ تو پتہ ہو گا ہی کہ اس نے زمل کو کہاں بھیجا تھا___جس طرح تم نوشہ کو منوانا چاہ رہی ہو اس طرح وہ کبھی نہیں مانے گی اس کو دوسرئے طریقے سے ہی منوانا پڑئے گا___تم سے جو ہو سکتا ہے وہ کرو جان سے مار دو اسے!!!زمل کا پتہ وہی بتا سکتی ہے___زمل کو تو میں پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا مگر تم دونوں میاں بیوی کی چالاکیاں بھی اب زیادہ دیر تک نہیں چھپنے والی___وہ پورئے اعتماد سے دعوی کر رہا تھا کیونکہ اس کے لوگ شہر کا چپہ چپہ چھانتے پھر رہے تھے___عاشر کی باتوں نے اسے میکال پر شک کرنے پر مجبور کیا تھا مگر اس کا اظہار وہ کسی صورت عاشر کے سامنے نہیں کرنا چاہتی تھی
یہاں جو بھی ہے وہ سب تمہارئے سامنے آ جائے گا عاشر مگر یہ وقت ان کاموں میں ضائع کرنے کا نہیں ہے میں بھی یہاں ہوں اور میکال بھی اور تم بھی مگر جو یہاں سے لاپتہ ہیں ان کو اگر نہیں ڈھونڈا گیا تو شاید بہت دیر ہو جائے___وجیہہ نے کسی طرح عاشر کو مطمئن کر کے بھیج دیا تھا کچھ دیر کے لئے اسے لگا تھا کہ عاشر کو سب کچھ بتا دیا جائے مگر ایک انتہائی قدم لینے سے پہلے وہ خود اچھے سے تسلی کرنا چاہتی تھی اس نے جلدی سے لیپ ٹاپ نکالا اور میکال کی ریکاڈنگز دیکھنے لگی وہ غور سے اس کی ایک ایک حرکت دیکھ رہی تھی اسے سکرین پر میکال اپنے بستر پر بیٹھا کافی پرسکون نظر آ رہا تھا بہن اور بیٹی کے لاپتہ ہونے کے بعد بھی چہرئے پر اس قدر پرسکونیت اسی طرف اشارہ ہے کہ یہ ان کو متعلق ضرور جانتا ہے کہ وہ کہاں ہیں___وجیہہ کے دل میں ابھی یہ خیال گردش کر ہی رہا تھا کہ میکال اپنا بستر چھوڑ کر کیمرئے کی طرف بڑھنے لگا اس کا ہر قدم وجیہہ کے دل کی دھڑکن بڑھا رہا تھا میکال نے کیمرہ ہاتھ میں لیا اور اس میں دیکھتے ہوئے مخاطب ہوا____کیا سوچ رہی ہو وجیہہ کہ میں اتنا پرسکون کیوں ہوں___میکال نے اس کے دل کی بات اس کے منہ پر دئے ماری تھی میکال کی اس حرکت نے وجیہہ کے پاؤں تلے سے زمین نکال دی تھی اس نے ایک دم گھبرا کر لیپ ٹاپ بند کر دیا
مگر وہ لیپ ٹاپ دوبارہ کھل گیا تھا____ڈر گئی کیا وجیہہ__وہ اس انداز سے مخاطب تھا جیسے وہ وجیہہ کی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہا ہو میرئے چہرئے کی اطمنانیت پر مت جاؤ مجھے حیا چاہئیے اور وہ لڑکی بھی جو اس بزدل جن کو چھپائے بیٹھی تھی___میکال کی آواز خوفناک حد تک بدل کر وحشت ناک ہو چکی تھی وجیہہ کے لئے یہ سب ناقابل یقین تھا وہ حواس باختہ آنکھیں پھاڑتے ہوئے فقط لیپ ٹاپ کی سکرین کو گھور رہی تھی کہ اچانک میکال نے اپنا ہاتھ کیمرئے میں گھسا کر لیپ ٹاپ کی سکرین کو پھاڑتے ہوئے نکالا اور وجیہہ کو گردن سے کھنچتے ہوئے لیپ ٹاپ کی سکرین میں سے گزارتے ہوئے کمرئے میں موجود بستر پر پٹخا وہ بے اختیار چیخی اٹھی تھی خوف سے اس کا جگر پھٹنے والا تھا یہ سب کسی ڈراونے خواب کی مانند اچانک سے ہوا تھا اس نے کئی فٹ دور سے ہی ہاتھ کو جنبش دئے کر وجیہہ کے بالوں کو جکڑ لیا تھا___تم حیا کو دوبارہ پیدا کرو گی ایک نئے روپ میں____وہ اس کے بال مڑورتے ہوئے دھاڑا تھا__بہت شوق ہے تمہیں اپنے شوہر کے کالے کرتوت دیکھنے کا مگر افسوس کہ تم اسے بھی نہیں دیکھ پاؤ گی____ک ک ک____تمہارئے گلے سے اگر ایک آواز بھی نکلی تو زبان ضبط کر لوں گا تمہاری___میکال نے اسے بالوں سے جھٹکتے ہوئے چھوڑا تھا اچانک کمرئے کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکی اندر داخل ہوئی جس کو دیکھتے ہی وجیہہ نے پہچان لیا تھا یہ وہی لڑکی تھی جو چند دن پہلے ہاسٹل میں آ کر حیا کی دوست بن گئی تھی اس کے پاس میکال کے لئے کوئی پیغام تھا اسے وجیہہ کو دیکھ کر کوئی حیرانی نہیں ہوئی تھی جبکہ خوف اور ڈر سے کانپنتی وجیہہ حیرانگی کے ایک اور سمندر میں گر گئی تھی__لیوسفر وہ جن فاسیر ان دونوں لڑکیوں کو ڈیفینی کے محل میں لے گیا ہے___ملکہ ڈیفنی__میکال نے حقارت سے اس کا نام لیا تھا__یہ سب اس عورت کی وجہ سے ہوا ہے اس کو اس کی سزا ضرور ملے گی__وہ میکال کا روپ اپنائے خوفناک آواز میں بول رہا تھا___فاسیر یہاں ہو سکتا ہے اس کی خبر کسی کو نہیں تھی لیوسفر___میں جانتا ہوں کہ وہ زمل کے پاس تھا اگر یہ زمل کیساتھ ایسی حرکت نہ کرتی تو زمل کیساتھ فاسیر بھی کبھی یہاں تک نہیں پہنچتا___فاسیر جیسا کمزور جن لیوسفر کے چنگل سے دو لڑکیاں کیسے لے گیا___وہ بزدل جن چھپ کر خاموش بیٹھا رہا تھا جیسے ہی میں ان دونوں کو بہوشی کی حالت میں چھوڑ کر گیا اس نے اپنا کام کر دکھایا مگر شاید وہ لیوسفر کی طاقت سے انجان ہے اگر لیوسفر ڈیفنی کی خاص ملازمہ کو اٹھا سکتا ہے تو اس محل سے حیا اور اس کمینی لڑکی کو اٹھانا کونسا مشکل کام ہے___اس کا اشارہ اسی پری کی طرف تھا جو لڑکی کا روپ دھارئے یہاں حیا کی دوست کے روپ میں ابھی اس کے سامنے کھڑی تھی وہ دو قدم بڑھتا ہوا اس لڑکی کی طرف آیا تھا____تم ہزار بار اس زمل سے مل چکی تھی کیا تمہیں ایک بار بھی فاسیر کے ہونے کا احساس نہیں ہوا___وہ ڈانٹنے کے انداز میں پوچھ رہا تھا___لیوسفر پرستان کی پریاں کوہ قاف کے جنات کے سامنے بہت کمزور ہوتی ہیں___تم سب کی کمزوریاں لیوسفر اچھی طرح دور کرئے گا
غار کے کنارئے سے سورج کی ہلکی سی روشنی کیساتھ رنگ برنگے پھولوں کے مہکنے کی خوشبو اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی اسے وہاں کئی خوبصورت تتلیاں نظر آئی جو غار کے دروازئے پر گھوم رہی تھی وہ تجسس کے مارئے ان کی طرف بڑھی اور ناچاہتے ہوئے بھی غار کے دروازئے تک پہنچ کر تتلیوں کو پکڑنے لگی وہ دو دن میں پہلی بار غار کے باہری دروازئے تک آئی تھی اس کے لئے مزید وہاں اکیلے بیٹھنا ناممکن ہو گیا تھا اب تک وہ یہاں لائے جانے کا مقصد جان چکی تھی وہ اور اسکی فیملی اتنی دیر ایک جن کیساتھ رہے یہ سوچ ہی زمل کو کپکپا دیتی تھی غار سے اندر آتی خوشبودار ٹھنڈی ہواؤں نے زمل کو ایک دم تروتازہ کر دیا تھا وہ وہی بیٹھی پرستان کا منظر دیکھ رہی تھی یہ نظارہ اس کی سوچ سے کئی گناہ زیادہ حسین تھا اچانک اسے تتلیوں کے ایک غول نے اپنی طرف متوجہ کیا جو چند خوبصورت پریوں کے حصار میں ایک ترتیب سے اڑ رہی تھی زمل نے انہیں پکارنے کی ایک ناکام سی کوشش کی اور پھر دوبارہ ان میں مگن ہو گئی آسمان میں اڑتی خوبصورت پریوں کو دیکھنا کسی خوبصورت خواب کی مانند تھا وہ اونچی غار کے دروازئے پر زمین پر الٹ لیٹی نیچے پرستان میں اڑتی پریاں دیکھنے میں مگن تھی کہ اچانک اسے اپنی پشت پر کسی کے ہونے کا احساس ہوا وہ اسے محض اپنا خیال سمجھ کر اگنور کر چکی تھی پرستان سے اونچی غار کے کنارئے الٹا لیٹے اس کے لئے چھوٹے پتھر پھنکنا زیادہ پرکشش تھا
وہ اپنے خیالوں میں مگن ان تتلیوں کو حسرت سے دیکھ رہی تھی اسکے لمبے گھنے بال ہوا کی دوش پہ اڑتے ہوئے اسی منظر کا حصہ لگ رہے تھے… خوبصورت سے لباس میں جس میں اسکے جسم کی ساری باریکیاں نظر آرہی ہو وہ لاپرواہ سی تھی جبکہ دو آنکھیں زمل کو بہت ہی شوق اور طلب سے دیکھ رہی تھی پہلی بار ایک انسانی مخلوق کی خوشبو نے پرستان کا بسیرا کیا تھا جس سے ہر کوئی اسکی طرف متوجہ ہوتا… وہ دبے پاوں بلکل زمل کی پشت پہ پہنچ چکا تَھا اور اسکی اڑتی سیاہ بالوں کی خوشبو اپنے اندر اتار رہا تھا کہ اچانک وہ چونک گئی کسی کی بھاری سانسوں کی آواز سے…کککون ہے وہ گھبراتی ہوئی فورا پلٹی جس سے اسکے بال عوج جن کے نتھوں سے ٹکرا گئے… زمل گھبرائی سی خود کو اس جن کے نیچے دیکھ رہی تھی جو اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے کھانے کو تیار تھا…ویسے تو پرستان میں حسن کی کمی نہیں لیکن مجھے پتہ نہیں تھا انسانی مخلوق بھی ہمارے ٹکر کی ہوسکتی ہے
وہ تھوڑا اور زمل کے اوپر آگیا جس سے وہ بلکل زمین پر لیٹ چکی تھی اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس جن کو دیکھ رہی تھی اور تمہاری خوشبو بھی اپنی مثال آپ ہے ایسی خوشبو جیسے مشک و عنبر کی ہو وہ اسے سونگھتے ہوئے بولا اور اپنا چہرہ زمل کے بلکل قریب کرچکا تھا …زمل کو اپنا گلہ خشک محسوس ہونے لگا اسکے دل میں ایک ہی خیال تھا فاسیر…. عوج اپنی انگلی کی گالوں پہ پھیرنے لگا اتنی نرمی سے جیسے کوئی روئی ہو… اگر تم مجھے اپنی پیاس بجھانے دو تو تمہاری ہر خواہش پوری کردونگا پیاری لڑکی اب اسکی أنگلی زمل کے ہونٹوں پہ آچکی تھی… وہ بولنا چاہ رہی تھی مگر اسکی زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی… زمل کی آنکھیں بے بسی سے نم ہونے لگی کہ عوج بولا.. ہنہ رو مت تم پری بننا چاہتی ہو نا پرستان کی بس ایک بار میری خواہش پوری کردو پھر تم یہاں کی سب سے حسین پری ہوگی کہتے ساتھ ہی اپنے جسم کا سارا بوجھ زمل پہ ڈال کے عوج نے اپنے ہونٹ زمل کے ہونٹوں پہ رکھے زمل کو فاسیر کے خیال نے اچانک ایسی طاقت دی کہ اس نے پورے زور سے عوج کو دھکا دیا… دور دور ہٹو وہ زور زور سے ہانپ کے بولی ..میرے پاس آنے کی کوشش بھی مت کرنا. .عوج خونخوار نظروں سے زمل کو گھورنے لگا…. تم نے مجِھے دھکا دیا ایک معمولی انسانی لڑکی تمہارا مجھ سے کیا مقابلہ وہ جھپٹنے کے انداز میں زمل کو دبوچنے لگا… چھوڑو مجھے فاسیر فاسیر بچاو مجھے پلیز زمل زور زور سے چلاتی عوج سے خود کو چھڑانے لگی …تو تم ہی ہو جسے فاسیر لایا ہے یہانتکہ وہ معنی خیزی سے زمل کو دیکھ کے بولا جبکہ زمل زور زور سے ہاں میں سر ہلانے لگی تاکہ وہ اسکے ساتھ کچھ اور نہ کردے…
تو تمہیں فاسیر کے پاس ہونا چاہیے نا وہ ہنس کے بولا.. نہیں مجھے فاسیر نے ہی یہاں رکھا ہوا ہے چلو میں تمہیں فاسیر کی اصل جگہ پہ لے جاتا ہوں وہ زمل کی نازک سی کلائی کو دبوچ کے بولا. ..نہیں میں تمہارے ساتھ کہین نہیں جاونگی چھوڑو مجھے وہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگی تو تم ایسے نہیں مانوگی… زمل کو دیوار سے لگانے کے بعد عوج نے اپنے ہونٹ فاسیر لے دیے نشان پہ رکھے ….آہ کیا خوشبو ہے تمہاری وہ مسلسل زمل کی گردن کو چوسنے لگا سسسس مت کرو پلیز وہ تمہیں چھوڑے گا نہیں… جبکہ دوسری طرف ڈیفنی کے محل میں بیٹھا فاسیر مسلسل بےچینی محسوس کرنے لگا وہ ملکہ کے اجازت کے بغیر جا بھی نہیں سکتا تھا حبکہ وہاں پرستان کی حفاظت کی بات ہورہی تھی…. اتنا کافی ہے اب لڑکی چلو میرے ساتھ وہ نشیلے لہجے میں بولا جیسے اب یہاں رکی تو نقصان تمہارا ہی ہوگا لیکن تم مجھے لے کے کہاں جاوگے… ڈیفنی کے محل…. کیا سچ ؟؟ ایک پل کے لیے اپنا خوف بھول کے زمل خوشی سے بولی اور یہی اسکی غلطی تھی ہاں تمہیں دیکھنا ہے کیا ؟؟ ہاں مجھے ڈیفنی کو دیکھنے کا بہت شوق ہے لیکن فاسیر کا ڈر بھی ہے وہ اداسی سے بولی… چلو ڈیفنی کے ہوتے ہوئے فاسیر تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا وہ اسکا ہاتھ پکڑ کے ڈیفنی کے محل تک لایا…
شہزادی دن بہ دن لیوسفر کے جوابی حملوں سے محل کے گرد حصار کم ہوتا جارہا ہے ایسے میں ہم کیسے اپنی جانوں کی حفاظت کرسکتے ہیں اب تک اتنی پریاں اور جن لیوسفر کے ہاتھوں مرچکے اور کتنا نقصان ہوگا وہاں کا سب سے بزرگ جن بولا سب کے برداشت کی حد ختم ہورہی تھی اب… شہزادی کو لگتا ہے صرف اپنی جان پیاری ہے پرستان والوں کی نہیں فاسیر طنزیہ لہجے میں بولا… ڈیفنی پریشان سی بیٹھی ان سب کی باتیں سن رہی تھی کہ تبھی سب کو ایک نسوانی آواز سنائی دی.. واو یہ تو بہت ہی شاندار محل ہے وہ ڈیفنی کے محل کو ستائیش سے دیکھ کے بولی سب چونک کے زمل کی طرف متوجہ ہوچکے تھے… فاسیر شاک سے اور پھر شدید غصے سے زمل کو دیکھنے لگا … ہیلو ایوری ون وہ ہاتھ ہلا کے بولی اوہ میرا مطلب میں زمل وہ کنفیوز ہوکے بولی.. یہ سب کیا ہے عوج ؟؟ خاموشی میں ڈیفنی کی غصے بھری آواز آئی… شہزادی میں آپکو یہی بتانے آیا تھا فاسیر جس انسانی لڑکی کو قید کرکے لایا ہے اسے اب تک ہم سے کیوں چھپا رکھا تھا اور وہ بھی اسکی مرضی کے بغیر قید ہے ..یہ صرف اپنا فائدہ چاہتا ہے انسانی مخلوق سے تعلق بناکے خود کو طاقتور کرنا اور آپ سے بھی شادی اسلیے ہی کی تھی کہ پرستان پہ قابض ہوسکے…. اسکے ارادے شروع دن سے سہی نہیں تھے نہیں تو ایک کم سن جن ایسا کبھی نہ کرتا.. عوج اپنی بات پہ زور دے کے بولا..
جبکہ زمل کے لیے یہ بات شاک سے کم نہیں تھی کہ ڈیفنی فاسیر کی بیوی ہے تو وہ سب جو یہ میرے قریب آنا چاہ رہا تھا او مائی گاڈ وہ حیرت اور اداسی سے فاسیر کو دیکھنے لگی.. بہت اچھے فاسیر داد دینی پڑیگی تم تو لیوسفر سے بھی زیادہ گھٹیا اور چالباز نکلے اس لئے تم نے اس لڑکی کو چھپا کر رکھا تھا ڈیفنی انتہائی طیش اور غصے سے بولی اسے خود ہی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ہورہاہے… میں کسی کو بھی اپنے کام کی صفائی نہیں دونگا شہزادی اور آپ بھی اچھے سے جانتی ہیں ان سب شادیوں کا مقصد___طنزیہ لہجے میں کہتے وہ ڈیفنی کو بہت کچھ باور کرارہا تھا … وہ ایک طرح سے ڈیفنی کو زلیل کرچکا تھا …اور زمل کے قریب گیا… یہ لڑکی میرے ساتھ آئی تھی اسے میں نے بچایا تھا اور اسکی زندگی اب میرے دان ہے یہ کسی اور کا مسئلہ نہیں وہ وارن کرتی أنکھوں سے عوج کو دیکھ کے بولا اسکے لہجے اور أنکھوں کی سرد پن سے اسے اپنی موت صاف نظر آرہی تھی جس نے بھی اس لڑکی کو چھونے کی کوشش کی وہ اپنی جان سے جائیگا اور ضرور جائیگا ..زمل کا ہاتھ تھامے وہ جانے لگا لیکن زمل کو اپنی جگہ سے ہلتے نہ دیکھ فاسیر اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگا… تمہیں چلنا چاہیے اب یہاں سے نہیں تو ادھر ہی جم جاوگی زندگی بھر… زمل گھبرا کر فورا اسکے ساتھ چل پڑی..
مجھے اکیلاچھوڑ دو دفع ہوجاو سب کے سب یہاں سے ڈیفنی انتہائی طیش سے چلائی.. اسکی ہمت کیسے ہوئی ایک کل کی آئی انسانی لڑکی کو مجھ پہ اہمیت دے بھری محفل میں وہ کیا جتانا چاہ رہا تھا محل کی ایک ایک چیز کو اپنے غصے کا شکار کرتی ڈیفنی پاگل ہوچکی تھی اسکی خوبصورتی اور گھمنڈ کا وہم جیسے ٹوٹ گیا ہو
چھوڑو مجھے فاسیر کیا بدتمیزی ہے جنگلی جن میرے ہاتھ تؤڑ دو گے زمل چیختی ہوئی بولی اس جن کے ہاتھ کتنے بھاری ہیں اف وہ دل میں اسے گالیوں سے نوازتی سوچنے لگی جبکہ فاسیر اسے اسی غار کی زمین پہ پٹخ چکا تھا …تمہیں منع کیا تھا نا میں نے کہ باہر مت نکلنا فاسیر اسکی طرف قدم بڑھا کے بولا جبکہ زمل خوف سے تھوک نگلتے پیچھے پیچھے ہونے لگی.. دیکھو فاسیر تمہیں اتنا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے مجھے پتہ نہیں تھا یہ سب ہوگا بور ہورہی تھی تو تتلیاں دیکھنے لگی مجھے کیا معلوم تھا اس جن کئ نیت خراب ہوگی بلکہ تم سب مرد ایک ہی جیسے ہو چاہے جن ہو کہ انسان .. فاسیر سرد نظروں سے اسکی فضول گوئی سننےلگا زمل زمین سے اٹھ کے اسکے پاس آئی یہ دیکھو اس نے کیا کیا ہے میرا کوئی قصور نہیں وہ اپنے گردن پہ بنے صبح والی سرخ نشان کو دیکھانے لگی… فاسیر نے غصے سے زمل کو کمر سے دبوچ کے اوپر اٹھایا اور اپنے ہونٹ اسکی ہونٹوں پہ رکھے… زمل اس افتاد کے لیے تیار نہیں تھی گھبراہٹ کے مارے فاسیر کو مضبوطی سے تھام لیا اسکی أنکھیں خود بخود بند ہونے لگی جبکہ اسے یاد آیا ڈیفنی تو فاسیر کی بیوی ہے وہ فاسیر کو زور سے پیچھے ہٹاچکی تھی سرخ چہرے سے لمبی لمبی سانسیں لیتی وہ فاسیر کو دیکھنے لگی … ایسے کیا دیکھ رہی ہو وہ آبرو اچکا کے بولا…
تمہیں شرم آنی چاہیے فاسیر زمل نم لہجے میں بولی ڈیفنی کے شوہر ہوکے مجھ سے کیسے تعلق بنا سکتے ہو تم___تم بھی دھوکے باز ہو باقی سب کی طرح وہ اسکے سینے پہ مکا مار کے بولی آنسو تیزی سے بہنے لگ جبکہ فاسیر سانس کھینچ کے رہ گیا یہ لڑکی بہت جلد اسے پاگل کرنیوالی تھی.. وہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے زمل مت بھولو تمہاری زندگی بچائی تھی میں نے اور تم میری غلام ہو میں تمہارے ساتھ کچھ بھی کرسکتا ہوں اور روک نہیں سکتی تم وہ انگوٹھے سے اسکے گلابی ہونٹوں کو مسل کے بولا… سییی زمل اپنا چہرہ پھیر چکی تھی___اب تمہیں دوسرے غار میں جانا ہوگا نہیں تو بہت جلد لیوسفر یہاں پہنچ کر تمہاراخون پی جائیگا… ٹھیک ہے میں جاونگی وہ اسکی بانہوں میں کسمسا کر بولی لیکن میری ایک شرط ہے اگر تم مجھے اپنے فائدے کے لیے لائے ہو تو میری بھی ایک بات ماننی ہوگی …
بولو فضول لڑکی وہ اکتا کے بولا… مجھے پری بنادو پھر کسی بھی غار میں لے جانا خوشی سے جاونگی… ہاہاہاہاہاہا فاسیر زمل کی بات سن کے زور سے قہقہہ لگانے لگا اچھا مزاق ہے بے وقوف انسانی لڑکی.. تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں پری بناوں آخر ایسا ہے بھی کیا تم میں ؟؟ ایک بناوٹی حسن جو کہ میری ہی محتاج ہے نہیں تو جیسی تم تھی تمہارا محبوب سردار تمہیں دیکھنا تک گوارا نہیں کرتا تھا.. اور ڈیفنی کو دیکھو ذرا اور محل کی باقی پریوں کو ایک سے ایک حسین اور ذہین ہیں تم میں ایسا کیا ہے جو تم جیسی بے وقوف ضدی اور خودسر لڑکی کو پری بناوں میں….
تم نے کبھی میری بات نہیں مانی ہمیشہ من مانی کرکے میرا نقصان کیا اور اب تمہیں اس سے بھی بڑی سزا ملے گی تم خود چاہتی ہو کہ کوئی تمہارے قریب آئے ایک ترسی ہوئی انسانی مخلوق ہو تم اور کچھ نہیں…. . فاسیر نہایت غصے سے اپنی بھڑاس نکال چکا تھا…..ذلت کے احساس سے زمل کا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا اگر میں تمہیں اتنی ہی فضول لگتی ہوں اور اتنے ہی تم مجھ سے تنگ ہو تو خود غرض مطلبی گھمنڈی جن چھوڑ دو مجھے لیوسفر کے لیے وہ روتے ہوئے بولی ___وہ اسکی بانہوں سے نکلی__ جاو اور اپنی بیوی ڈیفنی کو خوش کرو سمجھے وہ انگلی اٹھا کے بولی… ہاں سمجھ گیا لیکن شاید تم نے مجھے سمجھنے میں دیر کردی____فاسیر نے زمل کو پھر سے اپنی اوور کھینچا اور اسکی سانسوں کو اپنے لبوں میں قید کرنے لگا زمل اسے مکے مارتی مسلسل مزاحمت سے خود کو چھڑانے لگی اب فاسیر کے ہاتھ زمل کے دل کے پاس تھ___ اسکے دل کے پاس اپنی انگلی کا زور دیتے زمل کو ساکت کرگیا تھا زمل کی آنکھیں بند ہونے لگی جبکہ فاسیر کی سانسوں کی خوشبو اور ہونٹوں کے رس سے اسے لگا جیسے اسکے سارے زخموں پہ مرہم پڑ رہا ہو اسکے دل کی ڈھرکن فاسیر کے انگلی کی حرکت سے بلکل خوشگوار ہوگئی تھی جیسے کوئی شکوہ نہ ہو بس سکون نشہ راحت خود کو ایڑیوں کے بل اونچا کرتے
سسکتی ہوئی سرخ چہرے سے فاسیر کی گردن میں ہاتھ ڈال کے اسکے ہونٹوں کو اتنی ہی شدت سے چومنے لگی فاسیر کو ہوش سے بیگانہ زمل کو اپنی بانہوں میں لیے اسے محسوس کررہا تھا بہت قریب سے پہلی بار فاسیر دلچسپی سے اسکے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھنے لگا یہانتکہ دونوں کی سانسیں اکھڑنے لگی تو انکے ہونٹ الگ ہوئے زمل کے ماتھے سے ماتھا ٹکائے دونوں ہی اپنی نت ترتیب سانسوں کو کنٹرول کررہے تھے.. چلو اب جانے کا وقت ہے ___سنو فضول لڑکی آئندہ اگر تم نے ایسی کوئی غلطی کی تو اس سے بھی بڑی سزا ملے گی سمجھی میں یہاں تمہارا نوکر بن کے نہیں بیٹھ سکتا پہرےداری کو اب کہ فاسیر کا لہجہ بدل چکا تَھا جیسے کچَھ ہوا ہی نہ ہو
زمل کا دل ایک بار پھر بوجھل ہوچکا تھا جبکہ چہرہ بےعزتی کے احساس سے سرخ___میں صرف ایک بوجھ ہوں اسکے لیے اور کچھ نہیں___وہ دکھی سا ہو کر سوچنے لگی
فاسیر نے اپنے سفید گھوڑے ایلیس کو بلایا… جو ہنہناتا ہوا ہوا کے دوش پہ فاسیر کی طرف آیا بہت ہی چمکدار خوبصورت گھوڑا___ وہ اب تک اداس تھی شاید فاسیر بھی اسکو سردار کی طرح استعمال کررہا ہے صرف اسکی جان بچانے کی وجہ سے اس سے اچھا وہ عوج جن کی بات مان لیتی اور اب تک پری بن جاتی_______ اب بھی دیر نہین ہوئی میں واپس عوج جن کے پاس چلی جاونگی… فاسیر ایلیس پہ چڑھنے کے بعد زمل کی طرف ہاتھ بڑھا چکا تھا زمل اسکا ہاتھ تھامتی اسکی پشت سے چپک گئی وہ سوچ چکی تھی اسے کیا کرنا ہے …اگر اس بار تم نے کوئی فضول حرکت کی تو تمہیں بخشوں گا نہیں یاد رکھنا زمل وہ وارن کرنیوالے لہجے میں اسے دھمکی دئے رہا تھا جبکہ اسکی سوچ اسکا بہت بڑا نقصان کرنیوالی تھی ایلیس کو اڑاتے فاسیر کا سارا دھیان آگے کی طرف تھا یہی موقع تھا کہ زمل نے اپنے ہاتھ فاسیر کے پشت سے ہٹائے اور اسکے کان کے پاس سرگوشی کی میں تمہیں اور تنگ نہیں کرونگی فاسیر جاو ڈیفنی کے ساتھ خوش رہو افسردہ لہجے میں کہتی وہ فورا ہی گھوڑے سے چھلانگ لگا چکی تھی جبکہ فاسیر اسکی اچانک آواز پہ شاک میں چلا گیا
چھت پہ بیٹھی وہ مسلسل ایک غیر مرئی نقطے کو گھور رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی اب آگے کیا ہوگا زمل کے معاملے میں الجھتے وہ خود ہی بری طرح پھس چکی تھی.____ اب مجھے اس غنڈے کے ساتھ لائف گزارنی ہوگی اف گاڈ اتنا فضول ٹائم نہیں ہے میرے پاس یہاں سے جلد ہی بھاگنا ہوگا وہ سر درد سے ابھی سگریٹ جلا چکی تھی کہ عاشر کے قدم سنائی دئیے____ ہیلو فراڈی گرل وہ آنکھ ونک کرکے بولا __ چھچھورا نوشہ دل میں ہی اسے نئے لقب سے نوازتی دیکھنے لگی اور پھر سے سگریٹ پینے میں مگن ہوگئی اسے جیسے کچھ دیر کے لیے ریلیکس مل گیا ہو مگر عاشر سے اسکا سکون کیسے برداشت ہو سکتا تھا جو اسے بے سکون کرچکی تھی اس کو دھوکہ دے کر ___ ابھی وہ دوسرا کش لیتی کہ سگریٹ اسکے لبوں سے چھینا جا چکا تھا اس نے آنکھیں کھول کے دیکھا تو عاشر اسکے سگریٹ کو اپنے منہ میں دبائے مزے سے نوشہ کا تپا چہرہ دیکھ رہا تھا
تم مجھے سکون سے کیوں نہیں رہنے دیتے شادی ہی کرنی تھی نا ہوگئی اب زمل سے نہیں ہوئی تو میں کیا کروں ؟؟ وہ خود ہی تمہیں ریجیکٹ کرگئی ویسے بھی وہ کسی اور کو پسند کرتی تھی ڈیم اٹ وہ زور سے اپنا ہاتھ زمین پہ مار کے بولی __ واو امپریسیو تقریر مجھے بہت اچھا لگا انسان کا جھوٹ پکڑا جائے تو وہ ایسی ہی بونگی کہانیاں سنانے لگتا ہے آئی نو _____ دیکھو عاشر اس سب سے میرا کوئی تعلق نہیں میں نے بس اسکی مدد کی تھی وہ پہلے ہی اچھی زندگی نہیں گزار رہی تھی مجھے اس پہ ترس آگیا تھا بس میری غلطی ہے___وہ اس کے چہرئے کی طرف متوجہ ہوئی__آئی ایم سوری اب پلیز مجھے جانے دو مجھے بہت ضروری کام ہیں وہ اسکی منت کرنے لگی __ تو اس سب میں میرا کیا قصور تھا نوشہ میڈم کل کو تم کسی بھی ناخوش جوڑے کے شادی والے دن ایسے ہی دلہن کی جگہ خود دلہن بن کر اسکی زندگی بچاو گی وہ طنزیہ لہجے میں بولا ____ تم سمجھ نہیں رہے ہمارے آس پاس اس سے بھی خطرناک چیزیں ہوتی ہیں پیار محبت کی ایک طرفہ شادی انسان کو زندگی بھر کا بے سکونی دیتی ہے وہ آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی __ مجھے بھی درد ہوتا ہے تکلیف پریشانی بےسکونی سب میں بھی محسوس کرتی ہوں نوشہ نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا____ہر کوئی خود غرض ہے تم نہیں سمجھ سکتے لوگ بہت ظالم ہوتے ہیں پیار محبت کے بغیر زندگی گزارنا بہت مشکل ہے آنسو ٹپ ٹپ اسکی سرخ نین کٹوروں سے گرنے لگے عاشر کو لگا اس سے زیادہ خوبصورت منظر نہیں ہوگا
وہ ایک پل کے لئے کھو گیا اسکی آنکھوں میں جلتی سگریٹ اسکی انگلیوں کو جلانے لگی تھی کہ نوشہ نے اپنے ہاتھوں سے سگریٹ کو دور پھینک دیا وہ عاشر پر ایک اور وار کر چکی تھی عاشر چونک کر اسے دیکھنے لگا اسے اس لڑکی کی باتوں نے کسی گہری سوچ میں ڈال دیا تھا جیسے اسکی ذہنی حالت ٹھیک نہ ہو یا اس کیساتھ کچھ غلط ہوا ہو ___ ادھر آو اس نے ہاتھ بڑھا کے نوشہ کو اپنے قریب بلایا____ نہیں وہ خوفزدہ ہوکے پیچھے ہٹ گئی___نوشہ ایک ایک قدم سوچ سمجھ کر اٹھا رہی تھی__عاشر اٹھ کر اسکے پاس گیا اور اسے اپنے بازووں کے حصار میں لیتے ہوئے اپنے قریب کیا___ مجھے تم سے کوئی مطلب نہیں ہے میرے سارے مطلب زمل سے ہیں وہ عین میری شادی والے دن میرے انا کو ٹھیس پہنچا کر گئی ہے شاید تمہیں اندازہ نہیں کہ میں کیسا فیل کررہا ہوں ___سمجھ رہی ہو ناں___وہ اس کے چہرئے پر متوجہ تھا وہ نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلانے لگی __ گڈ گرل اگر تم مجھ سے وعدہ کرو کہ ہم اسے مل کے ڈھونڈیں گے تو سب ٹھیک ہوگا میں تمہیں آزاد کردونگا____اچھا میں زمل کو ڈھونڈے میں تمہاری مدد کرونگی مگر یقین کرو وہ کہاں ہے اس کے متعلق میں کچھ نہیں جانتی______عاشر نے معنی خیز انداز میں نوشہ کی طرف دیکھتے ہوئے اسکی طرف سگریٹ بڑھایا __ نوشہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی تھی___ میں آج بھی کہتا ہوں اس سگریٹ کا دھواں تمہارے ہونٹوں میں جا کے ہی محسور کن ہوتا ہے ___ دونوں ہنستے ہوئے سگریٹ پینے لگے تھے
ایک اندھیری اور سنسان غار کے کونے پر وہ ڈری سہمی سی بیٹھی ہوئی تھی وجیہہ کو یہاں آئے کافی ٹائم گزر چکا تھا مگر وہ ابھی تک صدمے کی حالت میں تھی وہ خوفناک چہرہ کسی فلمی سین کی طرح اس کے دماغ میں نقش ہو چکا تھا اس دیوہیکل جن کے سامنے وہ بلکل کسی کھلونے کی مانند تھی لیوسفر نے اپنی جسامت کو اتبا پھیلا لیا تھا کہ وجیہہ کا پورا جسم اس کی انگلی کے برابر بھی نہیں تھا وہ اسی خوف اور صدمے کے باعث اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہل پائی تھی اچانک غار میں پھیلنے والی تیز روشنی نے اس کو صدمے سے نکالتے ہوئے اس کی توجہ حاصل کی تھی وجہیہ اس تیز روشنی سے نمودار ہوتی خوبصورت لڑکی کو دیکھتی رہ گئی تھی جو دمدار لہنگا پہنے اس کی طرف بڑھتی آ رہی تھی
جو ہونا تھا ہو چکا تمہیں اب ڈرنے کی ضرورت نہیں بلکہ خود کو اگلے مراحل کے لئے تیار کرنے کی ضرورت ہے____وہ نرم سی آواز اور خوش مزاج لہجے میں وجیہہ سے مخاطب ہوئی تھی___تم ک کون ہو___وجیہہ کی غائب آواز اچانک سے واپس آئی گئی تھی___کیا میں مر چکی ہوں____نہیں وجہیہ تم زندہ ہو اور لیوسفر کی قید میں ہو___لیوسفر ک کون لیوسفر____وہی جس کے ساتھ تم ایک لمبے عرصے تک ایک ہی کمرئے میں رہی____وجیہہ جھٹ سے لہنگے میں ڈھکے اس کے قدموں کی طرف لپکی____مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ تم کیا کہہ رہی ہو پلیز مجھے یہاں سے نکالو میں یہاں دم گھٹنے سے مر جاؤں گی_____یہاں سے تمہیں کوئی نہیں نکال سکتا وجیہہ تم کوہ قاف کے طاقتور جن لیوسفر کی قید میں ہو وہی لیوسفر جس نے تمہارئے شوہر میکال کو مار کر اس کا روپ دھار لیا تھا___اس لڑکی کے چونکا دینے والے انکشاف نے وجیہہ پر سکتہ طاری کر دیا تھا____میکال مر چکا ہے کیا___وہ روہانسی ہو کر چیخی تھی___بہت پہلے وجیہہ تم جس شخص کیساتھ تھی وہ میکال کے روپ میں لیوسفر جن تھا____
لیوسفر جن میکال کے روپ میں___اس نے ششد لہجے میں فقرہ دہرایا____صرف لیوسفر ہی نہیں میں بھی وہاں ہی تھی حیا کی دوست کے روپ میں ___تم جو بھی ہو مجھے پتہ ہے تم مجھے یہاں سے نکال سکتی ہو پلیز میں تمہاری ہر بات مانو گی تم مجھے یہاں نکال دو پلیز تمہیں خدا کا واسطہ ہے____میرئے لباس پر مت جاؤ وجیہہ میں پرستان کی ملکہ کی خاص ملازمہ ہوں میں تو کیا کوئی جن،چڑیل یا کوئی بھی دوسری مخلوق تمہیں یہاں سے نہیں نکاک سکتی صرف تم ہی نہیں میں بھی اس کی قید میں ہوں بلکہ پرستان کی بہت سی خوبصورت پریاں سالوں سے اس کی قید میں ہیں____پری کے انکشافات نے وجیہہ کو مزید الجھا دیا تھا___ہم میں سے کوئی بھی اگر یہاں سے نکلنے کا سوچے گا بھی تو لیوسفر اس کو بھسم کر دئے گا____پری نے وجیہہ کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا تھا جو کچھ دیر پہلے ہی اس کے دل میں پیدا ہوئی تھی____کیا چاہتا ہے
وہ لیوسفر____ملکہ ڈیفنی وہ جتنی خوبصورت ہے لیوسفر کے لئے اس کو پانا اتنا ہی مشکل تھا مگر یہ مشکلات زیادہ دیر تک ڈیفنی کو لیوسفر سے دور نہیں رکھ پائیں گی____مگر میں ملکہ کو نہیں جانتی پھر مجھے کیوں____وہ پرستان کی ملکہ ہے وجیہہ اور تم زمین زاد !!! تم بھلا اسے کیسے جان سکتی ہو؟؟وہ وجیہہ کے سوالیہ چہرئے کی طرف دیکھنے لگی____تو پھر تم سب نے مجھے دھوکہ کیوں دیا؟____تم بس اتنا سمجھ لو کہ ڈیفنی تک پہنچنے کے لئے لیوسفر کو دو ماں بیٹیاں چاہیے تھی جن کیساتھ وہ رنگ رلیاں منا سکتا اور بدقسمتی سے تم اور حیا ان دو میں سے ایک ہو جن کا انتخاب لیوسفر نے کیا تھا____حیا کو بھی تم لوگوں نے ہی غائب کیا ہو گا پھر____نہیں وہ کارنامہ تو تمہاری نند زمل کا تھا____زمل!!!وجیہہ نے زور سے اس کا نام لیا____ہاں جب لیوسفر سردار کے روپ میں حیا کیساتھ رنگ رلیاں منانے لگا تھا تب زمل اور فاسیر جن نے سارا پلان خراب کر دیا____رنگ رلیاں،فاسیر یہ سب کیا ہے
____تم ایک بری ماں ثابت ہوئی ہو جس کو اپنی بیٹی کے علاوہ ہر لڑکی پر نظر رکھنے کی فکر تھی خیر میں یہاں صرف اس لئے آئی تھی کہ تمہیں بتا سکوں کہ لیوسفر چاہتا ہے کہ تم ایک نئی بیٹی پیدا کرو اس کے لئے تمہیں ذہنی طور پر تیار رہنا ہو گا_____نئی بیٹی مگر کیوں__کیونکہ حیا اب اس کے کسی کام کی نہیں رہی اس لئے وہ چاہتا ہے کہ تمہارئے پیٹ میں پنپنے والے نطفے کی جان کو حیا کے جسم میں ڈال کر اسے ایک نیا کردار دئے تاکہ وہ سب بھول کر لیوسفر کے مقصد کو پورا کر سکے_____نہیں یہ نہیں ہو سکتا اسے شرم آنی چاہئیے ایک ماں اور پھر اسی کی بیٹی کیساتھ رشتہ بنانا یہ بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے___یہ گناہ و ثواب صرف تمہاری دنیا تک محدود ہیں یہاں ایسا کوئی تصور نہیں اور ویسے بھی دو دو بہنوں کیساتھ جائز اور ناجائز تعلقات تو تمہاری دنیا میں بھی عام ہیں____مگر ماں بیٹی کے رشتے میں نہیں تم لوگ یہ کیسے سوچ سکتے ہو کہ ایک ماں بیٹی ایک ہی مرد____وجیہہ تم اوور ری ایکٹ کر رہی ہو یہ صرف ایک پردہ ہے جو قدرت نے زمین پر ڈال رکھا ہے جس دن ہٹے گا اس دن پتہ چلے گا کہ تم زمین زاد ماموں بھانجی خالہ بیٹی بہن اور پتہ نہیں کن کن مقدس رشتوں کو پامال کر رہے ہو_____وہ معنی خیز انداز میں مخاطب تھی ___خیر رشتوں کا یہ جھول صرف تمہاری دنیا تک محدود ہے یہاں نر و مادہ کے سوا کوئی رشتہ موجود نہیں
مگر میں اس دنیا سے ہوں جہاں____اگر مگر چھوڑو وجیہہ تم انسانی مخلوقات سے دور جنات کی دنیا میں ہو اس لئے تم پر وہی قوانین لاگو ہوں گے جو یہاں پر ہیں یہاں کوئی بھی مقدس نہیں ہے اس لئے کسی کی توہین بھی نہیں ہوتی اور گناہ !!!گناہ کا تو تصور بھی یہاں نہیں ہے یا تو اچھائی ہے یا پھر بہت زیادہ اچھائی ____اچھائی ہمم اس سب میں کیا اچھا ہے جو ہمارئے ساتھ ہو رہا ہے___وجیہہ کا لہجہ طنزیہ سا تھا___اچھا وہی ہوتا ہے جو ہمیں اچھا لگے لیوسفر کو ڈیفنی تک پہنچنے کے لئے یہ راستہ بہتر لگا تو اس کے لئے یہی اچھائی ہے اور پریوں کو لیوسفر سے بچنے کے لئے جو راستہ اچھا لگے گا ان کے لئے وہی اچھائی ہو گی مانو تو دو اچھائیوں کے درمیان آگے نکلنے کی دوڑ ہے جو جیت گیا وہ اچھا ہو گا اور جو ہار گیا وہ بہت اچھا کہلائے گا___کیا تم لوگ واقعی ہی ایسا سوچتے ہو___وجیہہ کے لئے یہ نظریات بہت حیران کن تھے___ہمارئے سوچنے یا نا سوچنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیوسفر ایسا ہی سوچتا ہے خیر تمہیں سٹریس نہیں لینا چاہئیے کیونکہ تمہیں مستقبل قریب میں ایک بیٹی کو جنم دینا ہے اور اس کی پرورش اس انداز میں کرنی ہے کہ وہ لیوسفر کو خوشی خوشی قبول کرئے____بچی کہاں سے آئے گی یہاں؟کیا وہ کوئی جادو کرئے گا جس سے بچی پیدا ہو گی___نہیں وجیہہ وہ تمہارئے شوہر میکال سلطان کو دوبارہ زندہ کرنے والا ہے اس کے لئے اسے اس کے خاندان کے کسی فرد کا خون چاہئیے ہو گا اور وہ اسے زمل سلطان سے مل جائے گا سمجھ لو زمل سلطان کی موت میکال سلطان پیدا کرئے گی اور میکال سلطان اور تم مل کر ایک بچی پیدا کرو گے جس کا نطفہ تمہارئے پیٹ میں سے نکال کر حیا کے جسم میں ڈال دیا جائے گا اور یوں ایک نئی حیا کا جنم ہو گا جو لیوسفر کا مقصد پورا کرئے گی____کیا تم میری کوئی مدد نہیں کرو گی پری تم تو بہت نرم مزاج ہوا کرتی ہو___میں چاہتے ہوئے بھی اپنی مدد خود نہیں کر سکتی کیونکہ میرئے پر لیوسفر کے پاس ہیں اور وہ اسی وقت مجھے مل سکتے ہیں جب میں اس کا ہر حکم مانو گی خیر تم آرام کرو کیونکہ جب تک تم ایک بیٹی پیدا نہیں کرتی تب تک لیوسفر تمہیں لازمی زندہ اور محفوظ رکھے گا
فاسیر پرستان میں جب ہر جگہ زمل کو تلاش کرنے لگا مگر وہ اسے کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی ___ کہاں چلی گئی تم پاگل لڑکی میں تمہیں محسوس کرسکتا ہوں لیکن میری آنکھوں سے اوجھل ہو تم __ بس ایک اور جگہ ہے جہاں سے مجھے وہ مل سکتی ہے کاش وہ وہی ہو شاید میرا شک سہی نکلے گا__ وہ گھوڑے کو ہوا کی دوش پہ ڈوراتا پھر سے ڈیفنی کے محل تک پہنچا جہاں ڈیفنی اب بھی غصے سے بھری بیٹھی فاسیر کا رویہ اور اس انسانی لڑکی کو سوچ رہی تھی ___ مجھے یہاں سے تلاشی شروع کرنی ہوگی ابھی فاسیر آگے بڑھا ہی تھا کہ عوج نے اسکا راستہ روک لیا __ ایک منٹ کہاں دندناتے ہوئے جارہے ہو لگتا ہے محل کے قانون بھول گئے ہو فاسیر____ کس کی اجازت سے شہزادی کے محل میں آئے تم جب کہ یہاں سے سب کو جانے کے لیے کہا گیا تھا ؟؟ عوج غضبناک لہجے میں بولا تھا___مجھے یہاں آنے کے لیے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں میرے معاملات سے دور رہو ابھی تو پرانا حساب بھی چکانا ہے تم نے___فاسیر آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے عوج کو دھکیل چکا تھا___ تم میرے ساتھ یہ سب نہیں کرسکتے میں بھی شہزادی کا شوہر ہوں تمہیں اسکی سزا مل سکتی ہے بھولو مت فاسیر___اور جو تم نے کیا اسکا کیا ؟؟
___فاسیر کے سوال پر عوج نے ہکلاتے ہوئے ایک نظر ڈیفنی کو دیکھا جو تب سے خاموش کھڑی سب دیکھ رہی تھی___وہ محض ایک عام انسانی لڑکی ہے جسکا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کوئی بھی جن اس کو چھو لے عوج کی چہرئے پر مکروہ ہنسی آئی تھی__ تمہاری بھول ہے عوج وہ ڈیفنی ہرگز نہیں ہے جسکو تم چھو لو___فاسیر نے طنزیہ سا جملہ کہا___تم اپنی اوقات سے باہر آ رہے فاسیر__عوج اس کی طرف لپکا تھا کہ فاسیر نے غصے میں عوج کو گدی سے پکڑ لیا___چھوڑو مجھے فاسیر تم پاگل ہوگئے ہو فاسیر مزید عوج کی گردن اونچی کرتا اسے ہوا میں لٹکا چکا تھا__بولو زمل کہاں ہے ؟؟ اپنی جان پیاری ہے تو ابھی بتادو___مجِھے نہیں معلوم فاسیر چھوڑو عوج زور زور سے اپنے پاوں ہلانے لگا تھا فاسیر اپنی پوری طاقت آج دیکھا رہا تھا__ بہت اچھے جو کل تک لیوسفر کے خلاف اکھٹے ہوگئے تھے آج وہی ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن چکے ہیں صرف ایک انسانی لڑکی کے لئے___ ڈیفنی تالی بجاتی طنزیہ انداز میں خاموشی توڑتے ہوئے ان کی طرف بڑھی___چھوڑو اسے فاسیر اور نکل جاو میرے محل سے___ ڈیفنی غصے کی شدت سے چیخ اٹھی تھی اسے فاسیر کی سب نااہلیاں یاد آئی تھی__ مجھے کسی سے غرض نہیں ملکہ!!!زمل گم چکی ہے اور میں اسے ڈھونڈے آیا ہوں____ وہ اپنی بے چینی پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا اسے زمل کی خوشبو یہاں تک لائی تھی___جہاں تک مجھے معلوم ہے تم نےاس لڑکی کو خفیہ رکھا تھا پتہ نہیں کیوں____ڈیفنی سپاٹ لہجے میں بولی___کوہ قاف کے اصولوں کے مطابق تو تمہیں اسے ماردینا چاہیے تھا کیونکہ انسانی مخلوق کا یہاں ہونا خطرناک ہو سکتا ہے میں سمجھ نہیں پا رہی کہ تم اسے کیوں لائے تم اس محل کے وفادار ہو یا اس کے؟؟
___ڈیفنی چبھتے لہجے میں مخاطب ہوئی تھی___وہ لڑکی میری غلام ہے ہو سکتا وہ میرئے کسی کام آئے اس لئے اسکا میرا پاس ہونا ضروری ہے___فاسیر نے اپنا لہجہ نرم کیا تھا___تمہارا لہجہ اور تمہارا اوتاولاپن کوئی اور ہی کہانی سنارہے مجھے فاسیر ____ڈیفنی معنی خیز انداز میں بولی تھی___تم ملکہ کے شوہر ہو ہو تمہیں بلکل زیب نہیں دیتا کہ ایک عام انسانی مخلوق کے پیچھے اتنے پاگل ہوتے پھیرو___مجھے محل کی تلاشی لینی ہے___فاسیر نے ڈیفنی کی بات کو مکمل اگنور کرتے ہوئے اپنی بات رکھ دی تھی____مجھے اب پتہ لگ رہا ہے تم انسانی دنیا میں لیوسفر کو ڈھونے میں کیوں ناکام رہے تھے میں ایک دور کی عاشق میں بھی رہ چکی ہوں فاسیر___مجھے محل کی تلاشی لینی ہے ملکہ___فاسیر نے ایک بار پھر اس کی باتوں کا جواب دینے کی بجائے اپنی بات دہرائی تھی___میری نظریں تمہارے دل میں اٹھتے طوفان کی بغاوت کو اچھے سے محسوس کر رہی ہیں___وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے معنی خیز انداز میں بولی___جاؤ تم تلاشی لے لو اور اپنی تسلی کر لو___فاسیر لمحہ بھر ڈیفنی کو گھورنے کے بعد محل کے اندر گھس گیا تھا محل کے ایک ایک کمرے کی تلاشی لینے کے بعد ایک ہی کمرہ بچتا تھا ڈھرکتے دل کے ساتھ جیسے ہی فاسیر نے دروازہ کھولا سامنے ہی سفید چمکدار لباس میں ڈری سہمی سی حیا بیٹھی تھی اسکی حالت سے لگ رہا تھا کہ اسے کسی چیز نے خوفزدہ کیا ہے وہ کچھ دیر تک اسے دیکھتا رہا اور پھر وہاں سے چپ چاپ نکل گیا
آفس روم میں بیٹھا سردار زمل کے بعد اچانک سے وجیہہ اور میکال سلطان کی گمشدگی کے بارے میں سوچ رہا تھا جو بھی ہو رہا تھا کچھ تو ایسا تھا جو اسکی نظروں سے چھپا ہوا تھا یہ گیم دن بہ دن اسکو الجھاتی جارہی تھی شاید ہی کوئی ایسا کیس ہو جس نے سردار کو اتنا پریشان کیا ہو یہ کیس سردار کے لئےاس لئے بھی اہم تھا کیونکہ وہ ان سب کی زندگی کا حصہ پہلے سے تھا اس لئے یہ کیس تو اسے چند دنوں میں سلجھا لینا چاہئیے تھا مگر ہر دن ایک نیا انکشاف اس کو مزید پیچیدہ کر رہا تھا
اس کیس میں زمل کا ہونا اس کے لئے اس کیس کو مزید اہم بنا گیا تھا وہ ایک خفیہ ایجنٹ ہونے کیساتھ شروع سے ہی ایک خود پسند شخص تھا___ مجھے جلد ہی سارے ثبوت ڈھونڈے ہونگے بہت کم وقت رہ گیا وہ گہری سوچ میں تھا کہ باہر سے آواز آئی __ سردار کہاں ہو تم ؟؟ رادیہ پیچ کلر کے ٹائیٹ ڈریس میں ہائی ہیل پہنے اس وقت کسی آفت سے کم نہیں لگ رہی تھی ٹک ٹک کرتی ہائی ہیل سے وہ سردار کے روم میں داخل ہوئی __ ایک تو اس عورت کو بکواس کرنے سے سوا کچھ نہیں آتا اٹھ کے چلی آتی ہے___وہ اکتائے لہجے میں بڑبڑاتا رادیہ کی طرف متوجہ ہوا جو دروازے کے پاس کھڑی اسکے آفر کا ویٹ کررہی تھی کہ وہ کب اسے بیٹھنے کو بولے گا __ اب جب پوچھے بنا میرے آفس میں آ ہی گئی ہو تو آکر بیٹھ بھی جاو____ ہاہاہا سردار تمہارا یہی اٹیٹیوڈ بہت پسند ہے مجھے کبھی کبھی تمہارے ایسے جوکس سے میرا موڈ فریش ہوتا ہے وہ اسکی ٹیبل پہ جھک کے بولی___کیا تم اپنی چیپ حرکتوں کو سائیڈ پہ کرکے مدعہ کی بات کروگی ؟؟ وہ خشمگین نظروں سے اسے گھورنے لگا__ _اوکے باس وہ دونوں ہاتھ اٹھا کے دلکش انداز میں مخاطب ہوئی___
سردار میں واقعی پریشان ہوں میری پروفیشنل لائف شدید خطرئے میں ہے پلیز جلدی نوشہ سے وہ ثبوت نکلواو ایک لڑکی سے ثبوت نہیں نکلوا پا رہے تم ؟؟ وہ ایک لڑکی بھی تو تم جیسی ڈھیٹ عورت کی ہی بیٹی ہے ناں رادیہ اب خون کا کچھ تو اثر ہوگا___او پلیز تم مجھے اپنی ناکامی کا الزام نہیں دے سکتے وہ اکتا کے چئیر سے ٹیک لگا چکی تھی___اور پتہ نہیں وجیہہ کدھر ہے میکال تو اب میرے فون کالز بھی نہیں اٹھاتا مجھے اس سارے جھنجھٹ میں پھسا کے وہ خود کو بچالے گا تو یہ اسکی بھول ہے___ اوہ تمہارے اس سستے عاشق میکال سلطان سے یاد آیا ایک نیوز ہے تمہارے لیے___کیسی خبر ؟؟ وہ چونک کے بولی _میکال سلطان اور اسکی بیوی وجیہہ دونوں ہی زمل کی طرح ًغائب ہوچکے ہیں ان دونوں کو ڈھونڈے کی بہت کوشش کی لیکن کوئی سراغ ہاتھ نہیں لگا راتوں رات ہی وہ دونوں لاپتہ تھے___او مائی گاڈ تمہیں پہلے ہی مجھے یہ بتانا چاہیے تھا یہی اچھا موقع ہے کہ ہم اس گھر کی تلاشی لے سکیں ہم سے جوڑی ساری کہانیوں کے راز اسی گھر میں تو دفن ہیں وہ کھوئے ہویے لہجے میں بولی تھی___تو چلو پھر ہمیں مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے__ ہاں چلو کار کی چابی اٹھاتے وہ دونوں عجلت میں آفس سے نکلے _ کار میں بیٹھتے ساتھ ہی سردار نے مسیج پہ تہروبا کو حالات سے آگاہ کیا کہ ضرورت پڑنے پر وہ بھی ادھر پہنچ جائے
نوشہ ٹیرس پہ کھڑی کل رات عاشر کے رویے کے متعلق سوچ رہی تھی کہ اسے مین گیٹ کے پاس ایک کار رکتی نظر آئی یہ عاشر کی کار تو ہے نہیں پھر کون ہوسکتا ہے وہ تجسس سے دیکھنے لگی کہ رادیہ کو کار سے اترتے دیکھا نوشہ فورا پیچھے ہٹ گئی او مائی گاڈ یہ شاطر عورت وجیہہ اور میکال کی غیر موجودگی میں ضرور یہاں کچھ ڈھونڈنے آئی ہوگی مجھے وہ سب چھپانا ہوگا نوشہ گھبراہٹ کے مارے فورا وجیہہ کے روم میں گئی اور تیزی سے الماریوں کی تلاشی لینے لگی اس کے ماتھے پر پسینہ آ رہا تھا اس بار اسکی ماں اکیلی نہیں بلکہ سردار کے ساتھ آئی تھی عاشر بھی گھر پہ نہیں تھا جس سے وہ ہیلپ مانگتی اس نے عاشر کی وجہ سے وہ سارئے ثبوت اپنے کمرئے سے نکال کر وجیہہ کے کمرئے میں چھپا دئیے تھے آج پھر وہ کئی سال پہلے کی طرح بے بس ہو گئی تھی جب رادیہ نے اسکے باپ کو بے بس کردیا تھا اور وہ سوائے تماشہ دیکھنے کے کچھ نہیں کرپائی تھی آج بھی کوئی بھی اسکی مدد کو نہیں آنے والا تھا ___سردار اور رادیہ تیزی سے وجیہہ کے روم کی طرف آئے جہاں پہلے سے کھٹ پٹ کی آوازیں آرہی تھی _
_سردار ایک دم چوکنا ہوتے روم کے قریب گیا اور زوردار لات سے دروازہ کھل گیا نوشہ گھبراہٹ کے مارے اپنے ہاتھ چھپانے لگی جس میں رادیہ کے بربادی کے ثبوت تھے__رادیہ نوشہ کو دیکھ کر ایک دم ششد ہو گئی تھی اسکے خیال میں نوشہ کو اب یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا__ نوشہ میری جان میری بیٹی تم یہاں کیا کررہی ہو رادیہ پیار بھرے انداز میں نوشہ کو گلے لگانے کے لئے آگے بڑھی__ دور ہٹو رادیہ تمہارے ناٹک ختم نہیں ہوتے نوشہ منہ بگاڑتے ہوئے بولی__ _ رادیہ انتہائی غصے سے نوشہ کو گھورتی سردار کی موجودگی کا احساس دلانے لگی _
اوہ یہ کون آگیا پھر سے تمہارے نیا ساتھی میکال سے دل بھر گیا کیا تمہارا ویسے اپنا ہی لیول ہے تھکتی نہیں ہو آنکھ ونک کرکے نوشہ رادیہ کو تپانے لگی _ دیکھو نوشہ ڈارلنگ تم غلط سمجھ رہی ہو یہ سردار ہے زمل کا یونی فیلو اسے زمل کو ڈھونڈا تھا____او پلیز رادیہ اپنی یہ رام کہانیاں کسی اور کو سنانا اچھے جانتی ہوں میں تمہیں___وہ أنکھیں گھما کے بولی رادیہ کو باتوں میں الجھاتے نوشہ وہ ثبوت واپس ڈرا میں رکھ چکی تھی _ نوشہ تم میری بیٹی ہو دیکھو میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں جیسی ہی سہی تمہاری ماں ہو کیا تم اپنی ہی ماں کو برباد کروگی رادیہ روتی آنکھوں سے بولی پلیز نوشہ وہ ثبوت مجھے دے دو میں یہ سب چھوڑ کے ایک اچھی لائف اسٹارٹ کرنا چاہتی ہوں ہاں تم بھی تو یہی چاہتی تھی سب ٹھیک ہوجائے ___ کتنی خود غرض ہو تم رادیہ ؟؟ میرے باپ کو برباد کرکے میرا بچپن چھین کے اب تم چاہتی ہو نیو اسٹارٹ لو ؟؟ میرے باپ کا کیا قصور تھا رادیہ___ نوشہ چلا کے بولی تم ایک گھٹیا عورت ہو جسکو صرف قیمت لگانی آتی ہے آئی ہیٹ یو میں مر بھی جاوں تب بھی تمہیں وہ ثبوت نہیں ملیں گے سمجھی تم!!!میں جب تک تمہیں سزا نہ دلواوں چین سے نہیں رہونگی میں وہ انگلی اٹھا کے رادیہ کو باور کرانے لگی کہ وہ ایسا ہی کریگی _ سردار زیر لب مسکرایا اسے یہ لڑکی کافی دلچسپ لگی جو ایک کرمینیل عورت کے سامنے ڈٹ کے کھڑی تھی _
میرے باپ کے بعد میکال سے تمہارا دل بھرا نہیں تو اب تم اس سردار کے ساتھ اپنی راتیں رنگیں کرنے لگی ہو رادیہ اور کتنا گرو گی تم اور بات کرتی ہو سدھرنے کی ؟؟ ابھی نوشہ بول رہی تھی کہ ایک زوردار تھپڑ اسکے گال پہ پڑا _ وہ حیرت سے رادیہ کو دیکھنے لگی جس نے اس پہ انگلی تک نہیں اٹھائی تھی اب وہ کچھ اوربولتی کہ رادیہ نے اسکے دوسرے گال پہ بھی تھپڑ جڑدیا _ ایک دم چپ ہوجاو کب سے تمہیں صفائی دے رہی ہوں اپنی لیکن تم ڈھیٹ ہو نکلو یہاں سے رادیہ طیش سے دروازے کی طرف اشارہ کرکے بولی___نوشہ اسے گھورتے ہوئے روم سے نکلنے لگی __ تف ہے تم پہ سردار مجھے آج دل سے خوشی ہورہی ہے زمل تم جیسے نیچ اور ہوس پرست انسان کے چنگل سے بچ گئی نوشہ زمین پہ تھوکتے ہوئے چلی گئی تھی__اسکی ہمت کیسے ہوئی مجھے ایسے بولنےکی غصے سے سردار سٹپٹانے لگا___ سردار میں کہتی ہوں اسکا قصہ ختم کرو ایک ہی گولی کی بات ہے بس___رادیہ کچھ سوچ کے بولی تھی شاید یہی ایک راستہ اس کے پاس بچا تھا___ تم پاگل ہوگئی ہو کیا ؟؟ اسکو گولی ماردینگے تو کیا ہم بچ جائینگے پاگل عورت ؟ سردار سوالیہ نظروں سے بولا وہ ہر صورت نوشہ سے ثبوت حاصل کرنا چاہتا تھا__ ہاں ایک راستہ ہے اسے اپنے ساتھ لے چلتے ہیں اسکو چھوڑنا بھی خطرہ ہے
سردار نے کچھ سوچنے کے بعد ایک مشورہ دیا تھا___ ہاں یہ ٹھیک کہا تم نے _ میں تب تک وہ چیزیں ڈھونڈتی ہوں___رادیہ چیکینگ کرنے لگی تھی سردار روم سے باہر نکلا تو سامنے ہی تہروبا شاک میں کھڑی تھی جو کمرئے میں موجود ان دونوں کی باتیں سن چکی تھی___اب تمہیں کیا ہوا وہ غصے سے بولا___تم پاگل ہوگئے ہو اس بدچلن عورت کی بیٹی کو اپنے ساتھ لے جاوگے اسکی کیا گارنٹی ہے اگر تمہیں نقصان پہنچادیا تو ؟ تہروبا میں کوئی دودھ پیتا بچہ ہوں کیا جو اپنی حفاظت نہ کرسکوں آکر میری مدد کرو اسے روم سے بھی نکالنا ہے اب _ تہروبا جلدی سے سردار کے راستے میں آئی سردار پلیز ایک بار پھر سوچو ماردو اسے اور یہ بات یہی ختم کرو یا پھر میں ماردیتی ہوں اسے__ _ تہروبا فضول باتیں مت کرو کیا پاگل پن ہے سردار غصے سے اسے پرے دھکیل کے نوشہ کے روم کی کھڑکی کے پاس گیا جو قسمت سے کھلی ہی تھی _ احتیاط سے کھڑکی کھولتے بنا آواز کیے وہ روم میں داخل ہوا ساتھ ہی تہروبا بھی اسکے پیچھے آئی _ نوشہ دروازے کے ساتھ چپک کے بیٹھی کسی گہری سوچ میں گم تھی کہ سردار کے اشارے پہ تہروبا نے نوشہ کے قریب جاکر اسے بالوں سے پکڑتے ہوئے کھڑا کیا _ نوشہ اچانک اس حملے پہ چیختی ہوئی خود کو تہروبا سے چھڑانے لگی
مگر ناکام!!! وہ مزاہمت کرنے لگی سردار جلدی سے اسکے قریب جاتے اسکی مخصوص رگ کو دبایا جسکی وجہ سے نوشہ سردار کے بانہوں میں جھول گئی _ تہروبا نے انتہائی نفرت سے یہ منظر دیکھا اور صبر کے گھونٹ پی گئی اسوقت کچھ بھی الٹا کرنا مطلب سردار کے غصے کو ہوا دینا تھا _ وہ دونوں فورا ہی نوشہ کو وہاں سے لے کر نکل چکے تھے _ دوسری طرف رادیہ کافی محنت کے بعد وہ ثبوت حاصل کرچکی تھی او گاڈ تھینکس مل ہی گئے تبھی کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھول کے عاشر اندر آیا وہ حیرت بھری نظروں سے اس عورت کو دیکھنے لگا جو اپنی ڈریسنگ سے نہایت ہی چیپ لگ رہی تھی _ کون ہو تم ؟؟ وہ انتہائی غصے سےبولتا رادیہ پہ پسٹل تان چکا تھا _دیکھو یہ پسٹل نیچے کرو میں تمہیں بتاتی ہوں پوری بات رادیہ گھبرا کے بولی _میں تو میکال سر کے لیے کام کرتی ہوں یو نو رادیہ اپنا گہرا گلہ مزید نیچے کرتی بولی اور چلتے چلتے عاشر کے قریب آئی ___وہ کسی بھی طرح اب یہاں سے بس نکلنا چاہتی تھی ___عاشر آبرو اچکا کے اپنے سے آدھی عمر کی اس عورت کی حرکتیں دیکھنے لگا _ یو آر سو ہینڈسم یہ عمر ہاتھوں میں پسٹل پکڑنے کی تو نہیں ہے ___رادیہ اپنا ہاتھ عاشر کے سینے پہ پھیر کر بولی جس پہ وہ رادیہ کو انتہائی ناگواری سے دھکہ دے کر دور کرچکا تھا _ اپنی حد میں رہو یہاں کیا کررہی تھی تم میری بیوی کدھر ہے جلدی بولو نہیں تو میں بہت ہی سر پھرا بندہ ہوں اپنے پسٹل کی ساری گولیاں تمہاری کھوپڑی میں اتارتے بلکل نہیں سوچوں گا وہ زہریلے لہجے میں بولا _ میں پانچ تک گنووں گا سوچ لو _ ون ٹو اوکے تبھی رادیہ کا فون بجنے لگا سردار کالنگ دیکھ وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے کبھی عاشر کو کبھی فون کو دیکھنے لگی___اٹھاو کال اور سپیکرر پہ ڈالو عاشر غصے سے بولا__رادیہ نے بیچارگی سے کال اٹینڈ کرلی سپیکر سے سردار کی آواز ابھری__ہیلو کدھر ہو رادیہ ہم تمہاری بیٹی نوشہ کو لے کر نکل چکے ہیں تم بھی جلدی پہنچو
میں یہی ہوں سردار نکلتی ہوں تھوڑی دیر تک
وہ کال کاٹ چکی تھی
اسکا مطلب وہ فراڈی لڑکی بھاگ چکی ہے عاشر دل میں سوچنے لگا _دیکھو اب مجھے جانے دو میں صرف یہ فائلز اور یو ایس بی لینے آئی تھی
لیکن تم یہاں سے اب کچھ نہیں لے جاسکتی اور تھینک گاڈ کہ تمہاری سچائی اپنی آنکھوں سے دیکھ لی جس لڑکی کی ماں اتنی بدچلن ہوسکتی ہے ایسی گھٹیا کو لڑکی کی مجھے اب کوئی ضرورت نہیں جس جہنم میں وہ گئی ہے اب اسے اپنے پاس ہی رکھنا بوڑھیا تف ہے تم جیسی عورت پر عاشر رادیہ پہ چیختے ہوئے بولا اب دفع ہوجاو یہاں سے___وہ جان چکا تھا کہ یہ عورت جو ابھی واحیات بنی ہوئی ہے اس کی ساس ہے
اف پتہ نہیں میری ماں اور اسکے سستے عاشق کا یہ ڈرامہ کب تک چلے گا نوشہ اکتا کے بڑبڑائی وہ کرسی پر بندھی ہوئی تھی سردار جو کب سے نوشہ کی بڑبڑاہٹ سن رہا تھا اٹھ کے اسکے پاس طرف آیا دیکھو نوشہ ایسے چپ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں اس سے اچھا ہم آپس میں ڈیل کرلیں __وہ اس کے چہرئے کا جائزہ لینے لگا تھا___ مجھے تمہاری بکواس سننے میں ذرا دلچسپی نہیں ہے سردار___وہ آنکھیں پھیلائے ہوئے بولی__ تو اچھا ہوگا اگر تم چپ رہو میری ماں کے آنے تک__وہ اس انداز میں بولتی سردار کو سخت زہر لگی تھی _ شٹ اپ جب میں بولوں تو میری بات مت کاٹنا سمجھی تم ____وہ انگلی اٹھا کے تنبیہ کرنے کے انداز میں مخاطب تھا__اگر تم نے مجھ سے ڈیل کی تو میں تمہاری عاشر سے جان چھڑوادوں گا اور تمہاری ماں سے بھی___ اوہ سچی…… نوشہ زور زور سے قہقہہ لگانے لگی کم آن سردار تم نے مجھے کیا ٹافی کھانے والی دس سال کی بچی سمجھا ہوا ہے __سردار غصے سے اپنا ماتھا مسلتے گھور کے نوشہ کو دیکھنے لگا جو اسے غصہ دلارہی تھی __نوشہ میں چاہتا ہوں تم اس کیس سے بچ جاو رادیہ پھسی تو وہ تمہیں بھی ضرور پھسائے گی___سردار کا انداز ہمدردانہ تھا کافی سمجھدار ہو تم مجھ پہ یقین کرو فائدے میں رہو گی جو کچھ بھی رادیہ کے کیس میں ہے وہ سب مجھے بتادو یہ بہت ضروری ہے__میں تمہیں کیوں بتاوں سردار ؟؟ وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگی
میری ماں کے عاشق ہوکر اسی کے خلاف ثبوت ڈھونڈ رہے ہو وہ استہزائیہ انداز میں بولی _ دیکھو نوشہ سردار کرسی سے بندھی نوشہ کی طرف جھک کر بولا تم بھی اپنے باپ کے قاتلہ کو سزا دلوانا چاہتی ہو نا وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا نوشہ کو ٹریپ کرنے کی کوشش کرنے لگا__اور عاشر جیسے شخص سے بھی تو چھٹکارا چاہتی ہو تمہاری ساری خواہشیں میں ہی پوری کرسکتا ہوں اور کوئی چوائس نہیں ہے تمہارے پاس __ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا کہ نوشہ نے اپنی ایک ٹانگ کی حرکت سے سردار کو زوردار لات ماری دور ہٹو فلرٹی دھوکے باز جھوٹے انسان __مجھے تمہاری کسی بات کا بھی یقین نہیں ہے وہ ثبوت کبھی تم لوگوں کو نہیں ملیں گے اور نہ ہی تم مجھ سے کچھ اگلوا سکتے ہو__نوشہ سردار کو اپنی ماں کیساتھ دیکھ چکی تھی اس لئے سردار کو اسے خود پر یقین دلانے میں مشکل ہو رہی تھی سردار نوشہ کے بالوں کو جکڑتے ہوئے اسے گھورنے لگا____ میں تم سے کچھ بھی اگلوا سکتا ہون لڑکی بہت فائدہ اٹھالیا میری نرمی کا مگر شاید تم اس نرمی کے قابل ہی نہیں ہو __أہ چھوڑو میرے بالوں کو جنگلی انسان نوشہ چلا کے سردار کو دور کرنے لگی__اب میری بات سنو تمہیں کیا تمہاری عزت بھی پیاری نہیں ہے ویسے بھی اچھی خاصی ہو تم وہ معنی خیزی سے نوشہ کے بلیو جالی دار کپڑوں میں چھپے وجود کو دیکھ کر بولا بلکل رادیہ کی طرح اور تمہاری ماں نے تو ویسے بھی مجھے کہا ہوا ہے کہ تم بہت ڈھیٹ ہو اگر منہ نہ کھولو تو تمہارا ریپ کردوں__وہ ہونٹ ایک طرف کو لمبے کرتے ہوئے مسکرا دیا
یقین جانو تمہیں ذرا مزہ نہیں آئیگا لیکن مجھے ہی ڈبل فائدہ ہوگا وہ انگلی سے نوشہ کے گلابی لبوں کو مسلتے ہوئے بولا جسکا سینہ سردار کی باتوں سے زور زور سے اوپر نیچے ہورہا تھا ایک دم نوشہ کے چہرے کی رنگت سردار کی بات سن کر اڑگئی تھی___آگئے نا اپنی اوقات پہ تمہارا تو ویسے بھی پسندیدہ کام ہے عورتوں کے تلوے چاٹنا__سردار غصے میں نوشہ کے چہرے پہ جھکنے لگا اب میں تمہیں بتاونگا کہ میں کیسے تلوئے چاٹتا ہوں__تہروبا جو ابھی کمرے میں آئی تھی سردار کو نوشہ کے اتنے قریب دیکھ کر ایک دم آگ بگولہ ہو گئی سردار ہٹو پیچھے ہوش میں تو ہو تم___تحروبا کی آواز سردار کو پیچھے ہٹا چکی تھی وہ ہوش میں آتے ہی سرخ چہرے سے نوشہ کو گھورنے لگا __تہروبا مسلسل خونخوار نظروں سے نوشہ کو گھور رہی تھی__سردار پلیز بیٹھ جاو تھوڑی دیر کب تک ایسے ہی خود کو تھکاوگے___وہ سردار کا ہاتھ پکڑے صوفے پہ بیٹھا چکی تھی __ادھر لاو میں تمہارے سر کا مساج کردیتی ہوں __اس کی ضرورت نہیں تہروبا__وہ لمبے سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا
تمہیں پرسکون رہنا چاہئیے سردار___وہ اسے کمرئے کی بالکونی میں لے آئی تھی وہ کسی صورت ان دونوں کو قریب نہیں دیکھ سکتی تھی__کسی کیفے میں چلتے ہیں تمہارا موڈ ٹھیک ہو جائے گا__سردار کے انکار کے باوجود تحروبا نے اسے آفر دہرا دی تھی بہکے ہوئے لہجے میں سردار کے عنابی لبوں کو دیکھتی تہروبا بےچین نظر آ رہی تھی_
ابھی وقت نہیں ہے ان چیزوں کا اور نہ ہی موڈ ہے___سردار نے مختصر سا جواب دیا___ ہششش سردار کی ہونٹوں پہ انگلی رکھتے اس نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ دیا___تم کب تک ان سب کی وجہ سے مجھے اگنور کرتے رہوگے سردار تمہاری محبت میں یہ دوری اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتی__فی الحال میرئے پاس تمہاری طرف آنے کا موقع نہیں ہے___کیا تمہارا انٹرسٹ ختم ہو گیا ہے___ ایسی بات نہیں ہے تحروبا یہ بس تمہارے وہم ہیں____ تو پھر نوشہ کے اتنے قریب کیا کررہے تھے تم سردار ؟؟ وہ آبرو اچکا کے بولی پہلے زمل اور اب رادیہ اور اسکی بیٹی جبکہ تم اچھے سے جانتے ہو مجھے شراکت پسند نہیں ہے اور تمہارئے معاملے میں تو بلکل نہیں___وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا خود کی تعریف سننا تو اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا___کیا کرو گی تم____ جو بھی میری محبت کے راستے میں آئیگا وہ رسوا ہوگا سردار__امم مجھے لگتا ہے تم کچھ زیادہ ہی جزباتی ہورہی ہو اور ویسے بھی حسین چیزیں خود ہی نمایاں ہوجائیں تو میں کیا کرسکتا ہوں تمہیں پتہ ہے حسن جس چیز میں بھی چھپ جائے انسان کو بہکا ہی دیتا ہے اب اگر کوئی سردار کو دیکھ کر بہک جائے تو__ میرئے ہوتے کون بہکنے کی غلطی کرئے گا سردار____طلب انسان سے کچھ بھی کروا لیتی ہے___وہ مغرورانہ انداز میں مخاطب ہوا__آہاں تمہاری یہی عاشق مزاجی پسند ہے مجھے سردار لیکن حیرت کی بات ہے کہ حسن کا سراپا تمہارے سامنے ہو اور تم اسے نظر انداز کرتے ہو وہ اسکے گال پہ انگلی پھیرنے لگی اف ایک تمہاری یہ خوشبو حواس سلب کردیتی ہے تہروبا سردار کے قریب ہوتے اس کا کالر پکڑ چکی تھی اس نے خود کو اس کے اتنا قریب کیا کہ اس کی سانسیں سونگھ سکے___اٹس ٹو مچ __ہاں اٹس ٹو مچ مائی بے بی__وہ سردار کے ہونٹوں کی طرف لپکی اور انہیں دبوچنے کی کوشش کرنے لگی___مجھے مت روکو__وہ سردار کو مزاحمت سے باز رکھنا چاہتی تھی__سٹاپ اٹ یار وہ اسے ایک طرف دھکیل کر وہاں سے نکل گیا
سردار خود کو تھوڑا نارمل کرنے کے بعد نوشہ کے پاس آخری کوشش کرنے کے لئے گیا___نوشہ میں آخری بار کہہ رہا ہوں بتاو وہ ثبوت کدھر ہیں اور کیا جانتی ہو تم رادیہ کے بارے میں ؟؟ اس بار سردار تحمل سے بول رہا تھا__سردار وہ ثبوت میرے پاس ہی ہیں___اسے ابھی بھی سردار کا وہ انداز یاد تھا جو کچھ دیر پہلے اس نے دیکھا اس لئے اس کو تپانے کے لئے وہ مسکراتے ہوئے اقرار کر چکی تھی___جھوٹ بول رہی ہو تم وہ ثبوت تمہارے پاس ہوتے تو تم اتنی پرسکون ہوکر نہ بیٹھی ہوتی وہ کریمینل ماں کی کریمینل بیٹی ہی ہو ناں تم اور دماغ بھی اسی حساب سے چلاتی ہو ماننا پڑیگا___وہ بغیر کچھ بولے طنزیہ سا مسکرا دی___اسکو کھانا مت دینا جب تک بھوک سے مر کے سب کچھ اگل نہ دے___
وہ غصے سے تن فتن کرتا باہر نکل گیا__کمینی عورت تم دونوں ماں بیٹی ایک ہی جیسی ہو زمل کے ہونے والے شوہر کو چھین کے تمہین سکون نہیں ملا اب سردار کو ورغلا رہی تھی__تہروبا غصے سے نوشہ پہ جھپٹ پڑی اسی کھینچا تانی میں موقع کا فائدہ اٹھا کر نوشہ اپنے ہاتھ کھول لئے اور تہروبا کو دھکا دے کر گرانے کے بعد بعد نوشہ فورا کمرے سے بھاگ نکلی اسے روکنے کی تمام کوششوں میں تحروبا ناکام رہی تھی کچھ ہی دیر میں سردار واپس اس طرف آیا وہ سوچ چکا تھا کہ کسی بھی طرح نوشہ کو اعتماد میں لینا پڑیگا جو کہ بہت ہی مشکل کام ثابت ہونے والا تھا, یہی سوچ کر وہ کمرے کی طرف بڑھ ہئ رہا تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا دیکھ اسکی چھٹی حس نے کچھ برا ہونے کا سگنل دے دیا وہ فوری کمرے کی طرف دوڑتے ہوئے وہاں پہنچا تو نوشہ غائب تھی__تہروبا یہ کیا ہوا ہے وہ بھکلا کر جلدی سے تہروبا کی طرف بڑھا بولو کیا ہوا ہے ؟؟ سردار وہ نوشہ___ تہروبا گھبرائی ہوئی تھی نوشہ بھاگ گئی سردار _کیا کہا تم نے ؟؟ وہ ڈھار کر بولا کیسے بھاگی وہ تمہیں خیال رکھنے کو بولا تھا ناں سردار غصے میں تحروبا کا گلا دباتے ہوئے چیخا__ بولو تم سے ایک لڑکی سمبھالنے کو بولا تھا اور تم نے سب خراب کردیا تم ایسا کیسے کر سکتی ہو__وہ اسے دھکیل کر رخ بدل چکا تھا میری محنت ضائع کردی تم نے___وہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کچھ سوچنے لگا__میری بات تو سنو___تحروبا نے اس کو کندھے سے اپنی طرف بلانی کی کوشش کی کہ سردار نے ایک زوردار چماٹا اسے رسید کیا اور تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہاں سے نکل گیا
وہ بے سود زمین پر بہوش پڑی ہوئی تھی اس کے چہرئے کا رنگ زرد اور ہونٹ خشک تھے اسے جب سے یہاں لایا گیا تھا وہ تب سے بہوش ہی پڑی ہوئی تھی اس کے بدن میں ہوتی ہلکی سی جنبش وجیہہ کو اس کے قریب کھینچ لائی تھی زمل زمل زمل وجہیہ اس کو ہوش میں لانے کے لئے پکارنے لگی دو دن میں اس کے جسم نے یہ پہلی حرکت کی تھی وجیہہ نے پاس رکھی پانی کی بوتل اس پر انڈھیل دی زمل ہوش میں آؤ___وجیہہ نے اسے جھنجھوڑا تھا___ہم بہت بڑی مشکل میں ہیں تمہارئے پاس جو جادوائی جن ہے اس کو بلاؤ ورنہ یہ تمہیں مار دیں گے___وجیہہ زمل کے ہوش میں آنے کا انتظار کئے بغیر تیزی سے بولتی گئی یہ دیکھے بغیر کہ اس کی گود میں لیٹی زمل آنکھیں کھولتے ہی حیرانگی کے ایک اور دریا میں ڈوب چکی تھی__بھابھی آپ یہاں___وہ ایک دم چونک گئی تھی زمل جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور وجیہہ کو غور سے دیکھنے لگی___
حیا کہاں ہیں زمل___زمل وجیہہ کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے لگی اسے لمحے بھر کے لئے لگا جیسے وہ واپس انسانی دنیا میں پہنچ گئی ہو____زمل حیا کہاں ہے اور وہ جن جو تم دونوں کو یہاں لایا تھا؟کہاں کون لایا تھا میں کہاں ہوں___لیوسفر کی قید میں زمل تمہارئے لاپتہ ہونے کے بعد لیوسفر مجھے بھی یہاں لے آیا ہے وہ اب تمہیں مارنے والا ہے___وجیہہ کانپتی آواز میں تیز تیز بولتی جا رہی تھی___لیوسفر!زمل نے لفظ لمبا کھینچا اور پھر دماغ پر زور دیتے ہوئے سوچنے لگی کہ وہ یہاں کیسے پہنچی اس کا زرد چہرہ لیوسفر کا نام سنتے اور بھی زرد ہو گیا تھا وہ پہلے سے جانتی تھی کہ لیوسفر اس کی جان کا دشمن تھا مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ یہاں پہنچ جائے گی وہ گھوڑئے سے چھلانگ لگاتے ہی وہ نیچے گہرائی دیکھ کر بہوش ہو گئی تھی اور پھر اس کے بدن کی خوشبو لیوسفر کو اس کے پاس کھینچ لائی تھی وجیہہ کے انکشافات نے تو گویا اس کی جان ہی نکال دی تھی___تم یہاں سے بھاگ جاؤ زمل ورنہ وہ تمہیں مارنے والا ہے……زمل زمل کہاں گم ہو تم___وجیہہ کی آواز اسے خیالی دنیا سے واپس لائی تھی وہ مجھے ضرور مارئے گا اور اس تھپڑ کا بدلہ لے گا___تمہارئے پاس جو جن ہے تم اس کو اپنی مدد کے لئے بلاؤ وہ ہمیں یہاں سے نکال دئے گا___میں فاسیر کو دھوکہ دئے آئی ہوں بھابھی وہ اب میری مدد کرنے نہیں آئے گا___زمل روہانسی ہوئی تھی وہ ایک بار نہیں کئی بار فاسیر کو دھوکہ دئے چکی تھی مگر آج پہلی بار جب اس کی جان پر بنی تھی تو اسے اپنی ان حرکتوں پر افسوس ہو رہا تھا____دھوکہ کیسا دھوکہ؟___مجھے لگا تھا شاید وہ مجھے پیار کرتا ہو گا اس لئے مجھے یہاں لایا ہے مگر وہ اس ملکہ کا شوہر ہے جس کے لئے لیوسفر سب کچھ کر رہا ہے اس لئے میں اسے چھوڑ کر عوج کے پاس جانے کے لئے کودی تھی اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجھے پری بنا دئے گا اب عوج اور فاسیر میں سے شاید کوئی بھی میری مدد کو نہیں آئے گا
عوج یہ عوج کون ہے___وہ بھی ملکہ کے محل میں رہتا ہے جب مجھے فاسیر نے چھپایا تھا تو وہ مجھے وہاں ملا تھا کنواری انسانی لڑکی ہر جن کی کمزوری ہوتی ہے___اور تمہیں یہ لگا ہو گا کہ وہ بھی تمہیں پسند کرنے لگا ہے اس لئے تم نے فاسیر کو…..وہ جملہ ادھورا چھوڑ چکی تھی___او مائی گاڈ تم لڑکیاں پتہ نہیں اتنی خوش فہم کیوں ہوتی ہو اگر وہ ملکہ کے محل میں ہے تو وہ بھی ملکہ کا شوہر ہو گا میں نے سنا ہے کہ ملکہ نے لیوسفر کا مقابلہ کرنے کے لئے بہت سی شادیاں کی ہیں___ہو سکتا ہے عوج ملکہ کا خادم ہو___وہ اداس لہجے میں بولی اس کی سانسیں ڈر و خوف سے پھولی ہوئی تھی
ان سانسوں کو بے ترتیب کرنے کے لئے ان دونوں کا ڈر وہاں اچانک سے پہنچ آیا تھا لمبے ناخن اولجھے ہوئے لمبے بال، لمبے لمبے ہاتھ پاؤں اور انسان نما بدن پر خوفناک چہرہ اس چہرئے پر وحشت و آگ برساتی آنکھیں!لیوسفر کو آتا دیکھ کر دونوں کا روم روم کانپ اٹھا تھا انسانی دنیا میں وہ ہر بار ایک نئے روپ میں ان کے سامنے آیا تھا اور وہ ہر بار اس کو پہچاننے میں ناکام رہی تھی مگر اس بار اس کی آنکھوں کی وحشت اور غرور ہی بتا رہا تھا کہ یہ لیوسفر کے سوا کون ہو سکتا تھا ہر قدم پر اس کی جسامت بڑھتی جا رہی تھی ان کے قریب آنے تک وہ اتنا لمبا اور چوڑا ہو چکا تھا کہ جیسے کوئی پہاڑ ہو اس نے ایک زوردار پھونک سے وجیہہ کو ایک کونے سے دوسرئے کونے میں پھینک دیا تھا اور پھر زمل تنہا اس کے سامنے تھی جو زمین پر ہاتھ ٹکائے بیٹھی پشت کے سہارئے رینگتی بالشت بالشت پیچھے ہٹ رہی تھی اس کے چہرئے کا زرد پن اور ہونٹوں کی خشکی واضح بتا رہی تھی کہ اسے اپنی موت نظر آ رہی ہے لیوسفر نے اس کو دو انگلیوں کی مدد سے اٹھا کر اپنی ہتھیلی پر رکھا زمل کی سانسیں اکھڑنے لگی تھی وہ شاید ڈر و خوف سے ہی اپنی جان دینے والی تھی اس کی آنکھوں میں سفیدی آنے لگی تھی اچانک لیوسفر کی ایک پھونک نے اسے ہواؤں میں اڑا دیا اور وہ اندھیرئے میں ڈوبے جنگلات اور پہاڑوں کے اوپر سے اڑتی ہوئی کئی کلومیٹر دور اندھیرئے جنگلوں میں جا گری کئی ٹہنیوں سے اٹکنے کے بعد اس کا لباس کئی جگہ سے پھٹا چکا تھا اور بدن سے خون رسنے لگا تھا
اس کے لمبے بالوں میں درختوں کے پتے اٹکے ہوئے تھے اور اس کا چہرہ زرد آلود تھا اس نے وہاں سے بھاگنے کی بلکل بھی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ اس کے پرانے تجربات بتا رہے تھے کہ ایسا سوچنا بھی فضول ہے وہ وہی ڈری سہمی بیٹھی اس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی خوف سے بدن میں پیدا ہوتی کپکپاہٹ ہر لمحہ تیز ہو رہی تھی اچانک کسی چٹان کی مانند لیوسفر کا ایک قدم آسمان سے نیچے آیا تھا جس نے کئی درختوں کو پتوں کی مانند مسل دیا تھا اور پھر اگلہ قدم اس کے بعد پھر اگلہ قدم! ہر قدم پر زمل ناچاہتے ہوئے بھی زمین پر رنگیتی پیچھے ہٹ رہی تھی اس کا خوف اسے پیچھے دھکیل رہا تھا
حالانکہ یہ سب فضول تھا اس کی آنکھوں کا پانی ہونٹوں کی طرح بلکل خشک ہو چکا تھا وہ چیخنے چلانے تک سے محروم تھی ہر قدم اس کی طرف بڑھتا لیوسفر اپنی جسامت چھوٹی کرتا جا رہا تھا یہاں تک کہ زمل تک پہنچتے ہوئے وہ کسی کھلونے کی مانند بلکل چھوٹا ہو گیا تھا زمل کے پاؤں پر چڑھنے کے لئے بھی اسے چھلانگ لگانی پڑئی تھی زمل نے اپنی ٹانگیں زور سے جوڑ لی اور وہ ان پر اچھلتا کودتا اوپر کی طرف بڑھنے لگا زمل پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ پہاڑ جیسی جسامت کسی تین انچ کے کھلونے کا روپ لے چکی تھی وہ جیسے جیسے اوپر آ رہا تھا زمل زمین پر ویسے ویسے لیٹتی جا رہی تھی وہ اچھلتا اس کی رانوں تک پہنچا اور وہاں سے دوڑتا ہوا اس کے پیٹ پر چڑھا اور سینے سے ہوتا ہوا گردن تک آیا اور پھر کسی کیڑئے کی مانند اس کی گردن پر رینگتے ہوئے
اس کے چہرئے پر آیا اور اس کی آنکھوں میں موت کا جھلکتا خوف دیکھنے لگا زمل کا کانپتا جسم اسے کسی جھلولے کی مانند محسوس ہو رہا تھا وہ بھاگتا ہوا اس کے ماتھے پر چڑھا وہ آنکھیں اٹھا کر اپنے ماتھے پر اس کو دیکھنے لگی لیوسفر نے اس کے ناک کی سیدھ پر ایک زوردار پھونک ماری جس نے زمل کے سامنے موجود سارا منظر بدل دیا تھا سناٹے سے بھرپور کالی رات کے جنگلوں میں زوردار آندھی چلنے لگی تھی جس نے کئی درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا تھا وہ کود کر اس کی گردن پر آیا اور آہستہ آہستہ اس کی گردن کی نسوں کو کاٹنے لگا جہاں سے رستہ خون اس کی گردن سے بہنے لگا تھا اس کاٹنے کی شدت اسے موت جیسی تکلیف دئے رہی تھی وہ مرتی کیا نہ کرتی اس نے گردن پر ایک ہاتھ مار کر اس کو ایک طرف پھینک دیا تھا
وہ کئی میٹر تک بل کھاتا ہوا گیا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا سامنے چلتی آندھی اب طوفان کی مانند زمل کی طرف بڑھ رہی تھی وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہر لمحہ اپنی طرف آتے طوفان کے آگے بھاگنے لگی وہ انجان راستوں پر کسی مددگار کی امید لئے مسلسل بھاگتی جا رہی تھی راستے میں اسے کئی انسانی لڑکیوں کی لاشیں اور ہڈیاں نظر آئی کئی کٹے پھٹے بدن اس کے پاؤں تلے کچلتے جا رہے تھے اس کا اپنا بدن کئی جگہوں سے زخمی ہو چکا تھا___تیز بھاگو زمل اور تیز تاکہ تمہارئے خون میں اتنی گرمی پیدا ہو جائے جتنی مجھے چاہئیے____بھاگتے ہوئے اس آواز نے اسے ایک زوردار جھٹکا دیا اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے کندھے پر بیٹھا ہے وہ وہی ایک دم ساکت ہو گئی جس بلا سے وہ بھاگ رہی تھی وہی تو اس کے کندھے پر بیٹھا تھا خوف اور ڈر کے باعث وہ چہرہ پھیرکراس کو دیکھنے کی ہمت بھی نہیں کر پا رہی تھی وہ پرندہ اڑ کر سامنے درخت پر جا بیٹھا تھا___بھاگو لڑکی ذرا تیز بھاگو___
ہر چیز کو تباہ کرتا طوفان اس کے سر پر پہنچ آیا اس کی ٹانگیں مزید چلنے سے انکاری تھی مگر موت کا خوف اسے بھاگنے پر مجبور کر رہا تھا کٹے پھٹے لباس میں نیم برہنہ وہ بھاگنے لگی اس کے قدم خون سے لبریز ہو چکے تھے اسے اپنے سامنے ایک طرف روشنی نظر آئی شاید یہ کوئی باہر نکلنے کا راستہ ہو یہ سوچتے ہی وہ اس سمت میں بھاگ نکلی ہر قدم پر وہ روشنی تیز اور ہوا خوشبودار ہوتی جا رہی تھی اسے زندگی کی ایک رمق نظر آئی زندہ بچنے کی ایک امید بندھی جس نے اس کی بے حال ٹانگوں میں ایک نئی جان پیدا کر دی تھی وہ پوری رفتار سے اندھیرئے جنگل میں پھیلی روشنی کی طرف بڑھنے لگی کہ اچانک اسے ایک ٹھوکر لگی اور وہ منہ کے بل گرتی چلی گئی
اس کا چہرہ زخمی ہونے کیساتھ گرد آلود بھی ہو چکا تھا وہ روشنی کے بہت قریب پہنچ گئی تھی اس نے آنکھیں ملتے ہوئے زمین سے سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو لمبی دم والے خوبصورت چمکتے دمکتے لہنگے میں ملبوس ملکہ ڈیفنی اس کے سامنے کھڑی تھی___انسانی لڑکی___وہ معنی خیز انداز میں اسے دیکھنے لگی مسلسل بھاگنے سے زمل کو سانس چڑھی ہوئی تھی اور اس کا گلہ اتنا خشک تھا کہ آواز نکلنا مشکل ہو رہی تھی ملکہ نے زمل کو پانی دیا اور اپنی طرف بڑھتے طوفان سے بچانے کے لئے زمل کو اپنے پیچھے کر لیا وہ طوفان ملکہ کے قریب آ کر تھم گیا تھا ہر طرف مکمل خاموشی چھا گئی تھی ملکہ کے پہلو میں چھپی زمل نے ایک آنکھ نکال کر باہر دیکھا تو وہاں مکمل سناٹا تھا___کیا ہوا تمہیں لڑکی؟___وہ لی لی لیوسفر___وہ ہکلاتے ہوئے بولی___اوہ لیوسفر تمہارئے پیچھے___ملکہ نے اس کا جملہ خود مکمل کر دیا تھا اور پھر اسے بازو سے پکڑ کر اپنے پہلو میں سے نکال کر سامنے کیا اور ایک ہلکا سا دھکا دیا وہ دو قدم پیچھے ہٹتی ایک وجود سے ٹکرائی___لیوسفر برا نہیں ہے زمل___ملکہ کے جملہ مکمل کرنے تک وہ وجود اسے اپنی بانہوں میں جکڑ چکا تھا وہ اس کی پکڑ سے ہی پہچان گئی تھی کہ یہ لیوسفر ہی ہے وہ دونوں اس کو گھسیٹتے ہوئے ایک درخت کے نیچے لے گئے جہاں پہلے سے ایک انسانی لاش پڑی ہوئی تھی___فاسیر کو بلاؤ شاید وہ تمہاری مدد کو پہنچے__ڈیفنی کے طنزیہ جملے پر لیوسفر بھی ہنس دیا تھا ڈیفنی نے زمل کو لاش کے بلکل اوپر کھڑا کر دیا یہ وہی جگہ تھی جہاں لیوسفر نے میکال کا قتل کیا تھا لیوسفر نے اپنا جادو شروع کیا وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح پھدک رہی تھی___افسوس تم نے اس دن لیوسفر اور حیا کے درمیان آ کر اپنی موت کو آواز دی تھی__ڈیفنی زیر لب مسکراتے ہوئے بولی___ملکہ تم بھی اس کیساتھ ملی ہوئی تھی حقیقت جاننے کے بعد فاسیر تمہیں چھوڑئے گا نہیں___وہ مزاحمتی انداز میں دانت پیستے ہوئے مخاطب ہوئی تھی___شطرنج کی بساط پر جیتتا وہی ہے جس کو رانی کی طاقت کا اندازہ ہو جسے ہی رانی کھیل سے باہر ویسے ہی بادشاہ ختم__ڈیفنی طنزیہ انداز میں مسکرائی__تمہارئے ختم ہونے کا غم ہی فاسیر کو ختم کر دئے گا ڈیفنی کے جملہ مکمل کرتے ہی لیوسفر نے ایک تیز دھار چھرا نکالا اور اس کے بدن کو مفلوج کرتے ہوئے زمل کی گردن پر ایک وار کیا خون کا فوارہ گردن سے نکل کر نیچے رکھی میکال کی لاش پر گرا اور بہتہ ہوا اس کے سینے میں اتر گیا اس کیساتھ ہی ملکہ نے پرواز بھری اور پرستان کی طرف اڑ گئی زمل کا جسم کچھ ہی دیر میں بے جان ہو کر ایک طرف گر گیا تھا اور پھر میکال سلطان کی لاش میں جان آ گئی
جسم سے بہتے خون کا ایک ایک قطرہ زمل سے لمحہ با لمحہ زندگی چھین رہا تھا وہ زمین پر بے جان پڑی تھی آخری نظر جب لیوسفر نے اس پر ڈالی تو اس کے چہرئے سے خوف کے تمام بادل چھٹ گئے تھے وہ کٹے پھٹے لباس میں نیم برہنہ بے سود پڑی تھی زمل کے خون نے میکال کی لاش میں جان ڈال دی تھی لیوسفر میکال کو لے کر ان جنگلوں سے دور اڑ آیا تھا___تم یہی سوچ رہے ہو کہ میں نے اتنے عرصے بعد تمہیں کیوں زندہ کیا؟___لیوسفر ایک خوبصورت نوجوان کا روپ دھارئے میکال سلطان کے سامنے بیٹھا اس کے کمزور جسم کو دیکھ رہا تھا جو اتنا کمزور تھا کہ اسے چلنے میں بھی مشکل ہو رہی تھی___میں چاہتا ہوں کہ تم پھر سے ایک انسانی نطفہ مجھے دو مگر اس بار وہ تمہاری بیوی کے جسم سے ہونا چاہئیے___میری بیوی وجیہہ___وہ لڑکھراتی زبان سے مخاطب ہو___ہاں وجیہہ فکر نہیں کرو وہ ابھی بھی زندہ ہے اور جوان ہے____کہاں ہے
وہ___جہاں تم چاہو گے وہاں وہ تمہارئے پہلو میں ہو گی تمہیں ابدی سکون دینے کے لئے___ابدی سکون__میکال نے اسی کے لفظ کو دہرایا___تم نے مجھے دھوکہ دیا تھا لیوسفر اس بار بھی تم مجھے استعمال کر کے پھینک دو گے___کوئی بھی مخلوق انسان کو استعمال نہیں کر سکتی یہاں تک کہ انسان خود استعمال ہونے کے لئے اپنا پیش نہ کر دئے___میں نے تمہارئے لئے کتنی ہی لڑکیوں کو___میرئے لئے نہیں میکال اپنے لئے تم نے وہ سب اپنے لئے کیا تھا تاکہ تمہیں شیطانی طاقتیں مل جائیں___لیوسفر نے میکال کو ٹوک دیا تھا___تم موقع پرست اور مفاد پرست جن ہو لیوسفر___موقع پرست___وہ معنی خیز انداز میں ہنسا___تمہیں یاد ہے کہ تم اپنی ہی بہن زمل کا خون کر کے ایمر کو دینے والے تھے کہ وہ اس سے طاقت پاتا اور بدلے میں تمہاری خواہشات پوری کرتا___لیوسفر نے اسے ماضی یاد کروایا تھا____ہاں کیونکہ تم سے مجھے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا اس لئے میں نے راجہ ایمر سے ڈیل کی زمل کے خون سے وہ اتنا طاقتور ہو جاتا کہ تمہارا مقابلہ کر سکتا مگر اس سے پہلے ہی تم نے راجہ ایمر اور مجھے قتل کر دیا____تو تمہیں اندازہ ہو جانا چاہئیے میکال کہ تم لیوسفر کے سامنے کچھ بھی نہیں ہو___ضرورت ہوں!مجھے اندازہ ہو رہا ہے کہ میں لیوسفر کی ضرورت ہوں اس لئے ہی تو اس نے مجھے دوبارہ زندہ کیا____راجہ ایمر کے مرنے کے بعد مجھے اس کے جادو کے اثر کو بھی ختم کرنا ہے تاکہ میں کوہ قاف کے تمام جنات کو مار کر ان کی بیگمات اور پرستان کی تمام پریوں پر قبضہ کر سکوں اس کے لئے مجھے تمہاری بیوی کے بدن سے ایک انسانی نطفہ چاہئیے___مجھے اس سے کیا ملے گا لیوسفر___تمہارا یہ کمزور بدن پھر سے جوان ہو گا کیا یہ کم ہے کہ تم ایک نئی زندگی جینے والے ہو___تم صرف مجھے استعمال کرنا چاہتے ہو لیوسفر___اچھا تو تم کیا چاہتے ہو___وہ ساری شیطانی طاقتیں جو میری تسکین کر سکیں____میکال کی بات سنتے ہی لیوسفر نے لمحے بھر کے لئے آنکھیں بند کر کے ایک زوردار پھونک ماری تھی جس سے میکال کے کمزور بدن میں طاقت آ گئی___جیسے جیسے تم میرا مقصد پورا کرتے جاؤ گے ویسے ویسے تمہاری شیطانی طاقتوں میں اضافہ ہوتا جائے گا___یہ بات ہے تو مجھے وجیہہ کیساتھ انسانی دنیا میں بھیج دو میں تمہارا مقصد ضرور پورا کروں گا لیوسفر____میکال کی خواہش پر لیوسفر نے ایک ہی جھٹکے میں اسے وجیہہ کیساتھ انسانی دنیا میں پھینک دیا تھا
ہر گزرتا لمحہ کسی عذاب مسلسل کی مانند اسے تکلیف دئے رہا تھا اس ڈیٹا میں چھپی رادیہ کی حقیقت وہ دیکھ چکا تھا وہ ویڈیوز ایک عذاب کی مانند اس پر نازل ہوئی تھی جو اسے بے چین کر چکی تھی پہلے اس کی بیوی زمل کا گھر سے بھاگ کر لاپتہ ہو جانا اس کے لئے شرمندگی کا باعث بنا ہوا تھا کہ ذلت کا دوسرا پہاڑ رادیہ کی ویڈیوز کی صورت میں اس پر ٹوٹا___
نوشہ کی ماں کا کردار اتنا گھٹیا ہے تو بیٹی بھی ویسی ہی ہو گی اگر ویسی نہ بھی ہو تب بھی وہ معاشرئے کا سامنا کس منہ سے کرئے گا کہ وہ ایک ایسی عورت کی بیٹی کا شوہر ہے جو اتنا گند پھیلا چکی ہے___وہ دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگا__وہ کونسی منحوس گھڑی تھی جب اس نے وجیہہ کی باتوں میں آ کر شادی کی حامی بھر لی تھی___اگر یہ خبر باہر نکلی تو میں کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہوں گا عاشر چوہدری تمہارئے لئے مرنے کا مقام ہے___وہ زیر لب بڑبڑایا اور پھر پسٹل اٹھا کر وہاں سے روانہ ہو گیا وہ ان دونوں ماں بیٹی کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ کر چکا تھا وہ پاگلوں کی طرح سڑکوں پر گاڑی دوڑا رہا تھا کہ خود مر جائے یا ان دونوں کو مار دئے کچھ دیر بعد اس نے گاڑی سڑک کنارئے کھڑی کی اور خود کو پرسکون کرنے کے لئے گاڑی سے نکل کر سگریٹ پینے لگا وہ لمبے لمبے کش لے رہا تھا کہ سڑک کے ایک طرف سے نوشہ بھاگتی ہوئی اس تک پہنچی___عاشر جلدی گاڑی چلاؤ___وہ اس کے قریب آنے تک جملہ مکمل کر چکی تھی اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھی اس کی حالت دیکھ کر ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ کسی سے بھاگ رہی ہے___عاشر جلدی کرو وہ یہاں آ جائے گا___عاشر کو خاموش دیکھ کر نوشہ نے دوبارہ اپنی بات پر زور دیا___عاشر میں تمہیں کچھ___ابھی جملہ ادھورا ہی تھا کہ ایک زور دار چماٹا اس کے گال کو لال کر گیا___بدذات عورت___وہ عاشر کے اس انداز پر بلکل ہکا بکا رہ گئی تھی___تمہاری اور تمہاری ماں کی حقیقت میں جان گیا ہوں نوشہ___وہ اس کو گردن سے دبوچتے ہوئے گاڑی کیساتھ لگا چکا تھا___میری بات سنو تم___کچھ نہیں سننا مجھے__عاشر نے غصے سے اسے ٹوکا___تم بازاری عورتوں نے کیا سمجھا ہوا تھا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں چلے گا___گردن پر دباؤ بڑھنے کی وجہ سے وہ کھنسانے لگی تھی___عاشر چوہدری کوئی چلتا پھرتا عام لڑکا نہیں ہے جس کو تم اور تمہاری ماں پاگل بنا سکتی ہو_
__تم جو سوچ رہے ہو وہ بلکل غلط ہے میری___وہ مشکل سے اتنا کہہ پائی تھی کہ عاشر نے پورئے زور سے اس کا گلا دبا کر اس کی آواز کو بند کر دیا___عاشر چوہدری نام ہے میرا اور چوہدری کبھی عزت پر سمجھوتا نہیں کرتے بازاری عورت____مجھے تب ہی تمہاری حقیقت کو سمجھ جانا چاہئیے تھا جب تم زمل کو بھگا کر اس کی جگہ خود آ گئی تھی کہ ایک نارمل لڑکی یہ حرکت نہیں کر سکتی تم نے عاشر کو دھوکا دئے کر بہت بڑی غلطی کی ہے بازارو عورت اور اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی عاشر نے اپنا پسٹل نکال کر اس پر تان دیا اس سے پہلے کہ وہ گولی چلاتا ایک گولی نے اس کی ٹانگ کو نشانے پر لیا اور وہ اچانک سے ایک طرف لڑھک گیا یہ سردار اور تحروبا تھا جو نوشہ کا پیچھا کرتے یہاں پہنچے تھے کہ نوشہ کو مرتا دیکھ کر سردار نے گولی چلا دی کیونکہ نوشہ کا زندہ رہنا اس کے لئے بہت ضروری تھا گردن پر گرفت کمزور ہوتی دیکھ کر نوشہ بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گئی عاشر نے وہی لیٹے جوابی حملہ کر دیا تھا وہ بلکل نہیں جانتا تھا کہ اس پر حملہ کرنے والا کون تھا مگر جو بھی تھا اب اسے عاشر کے غصے کا سامنا کرنا تھا سردار اپنی ٹریننگ تکنیک کو اپناتے ہوئے عاشر کے جوابی حملے سے پوری طرح بچ گیا تھا___وہ مر جائے گا سردار بس کرو__تحروبا چلائی گولیوں کی آواز سے وہ ایک دم گھبرا گئی تھی___میں صرف نوشہ کو یہاں سے زندہ نکالنا چاہتا ہوں___یہ اس کا کھسم ہے یہ اسے کیوں مارئے گا سردار تم پاگل ہو گئے ہو___مجھے نہیں پتہ مگر جس طرح اس نے اس پر پسٹل تانا تھا وہ اسے مارنے والا تھا___وہ دانت پیستے ہوئے چلایا جیسے تحروبا کو خاموش رہنے کی تلقین کر رہا ہو نوشہ گاڑی لے کر وہاں سے نکل گئی تھی جبکہ عاشر کی گولیاں اب تک سردار کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی سردار نے کمال مہارت سے ایک اور نشانہ لیا جو سیدھا عاشر کے بازو کو چھوتا ہوا اس کے سینے میں لگا سردار کو وہاں سے نکلنے کے لئے یہ نشانہ لگانا ضروری ہو گیا تھا ورنہ وہ کسی صورت عاشر کو مارنے کے حق میں نہیں تھا عاشر بے سود ایک طرف کو گر گیا اچانک نوشہ گاڑی کو واپس موڑ لائی اور عاشر کو کھینچ کر اس میں ڈالا اور سیدھا ہسپتال کی طرف چلی گئی
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے تمہیں اسے مارنا نہیں چاہئیے تھا پتہ نہیں اب کیا ہو گا___تحروبا پولیس کیس کا سوچ کر ہی کانپ رہی تھی___جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے اس کے متعلق زیادہ مت سوچو تمہیں کسی طرح گھر سے اب وہ سارئے ثبوت لانے ہوں گے یہ آخری موقع ہے___سردار نے گاڑی گھر کے سامنے روکتے ہوئے اسے تلقین کی تھی اس کا کانپتا بدن تحروبا کی نازک حالت بتانے کو کافی تھا__ڈونٹ وری یار ہم کام ہوتے ہی اس شہر سے نکل جائیں گے___کہاں جائیں گے___جہاں بھی___سردار کے پاس اس کہاں کا کوئی جواب نہیں تھا اسے تو ان ثبوتوں کی حد تک تحروبا سے مطلب تھا___کیا وہاں ہم شادی کریں گے؟سردار اس سوال پر اس کو نظریں بھر کر دیکھنے لگا اور پھر ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اسے اتر جانے کا اشارہ کیا تحروبا گاڑی سے اترتے ہی گھر کے اندر بھاگ گئی تھی رادیہ نے ان کو بتا دیا تھا کہ وہ ثبوتوں کے کتنا قریب سے ہو کر آئی تھی اس لئے اسے آج ان کو ڈھونڈنے میں زیادہ وقت نہیں لگنا تھا وہ جلدی سے اس کمرئے میں گئی اور کانپتے ہاتھوں کیساتھ چیزیں اتھل پتھل کرنے لگی کچھ ہی دیر میں وہ ہارڈ ڈسک اس کے سامنے تھی جس کی وہ ہمیشہ سے متلاشی تھی اس نے ہارڈ ڈسک کو ہاتھ میں پکڑ کر ایک لمبا سانس لیا کہ اچانک اسے اپنے پیچھے ایک آہٹ محسوس ہوئی اس نے یک دم پلٹ کر دیکھا تو اس کے اوسان خطا ہو گئے دروازئے کیساتھ ٹیک لگائے میکال سلطان کھڑا اسے معنی خیز انداز میں دیکھ رہا تھا___م م میکال بھائی__وہ ایک دم ہکلا گئی__بھائی آپ کہاں تھے اتنے دنوں سے بھابھی بھی غائب تھی اور زمل بھی__اس نے ہارڈ ڈسک چھپاتے ہوئے خود کو نارمل رکھنے کی آخری حد تک کوشش کی تھی___کیا ڈھونڈ رہی تھی تم___کچھ نہیں میں وہ بس___کیا بس___کچھ سامان ڈھونڈ رہی تھی اس کمرئے سے!!!آپ کب آئے___میکال اس کی تمام باتوں کو اگنور کرتے ہوئے فقت معنی خیز انداز میں مسکرا دیا تھا اس نے سر سے پاؤں تک اس پر نظر دوڑائی اور پھر چلتا ہوا اس کے قریب آیا وہ میکال کا یہ روپ دیکھ کر ایک دم گھبرا گئی تھی___ہارڈ ڈسک کس کو دینے جا رہی تھی تم___وہ آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا اس نے لیوسفر سے ملی شیطانی طاقتوں کو استعمال کرتے ہوئے ہارڈ ڈسک دیکھ کر ہی ساری سٹوری پتہ چلا لی تھی_
وہ وہ اس میں…اس میں تصاویریں ہیں وہ اس میں یونیورسٹی فنکشن کی کچھ ویڈیوز ہیں وہ چاہئیے تھی مجھے___وہ ایک دم ہکلائی ہوئی تھی اس کے الفاظ اس کیساتھ چھوڑ چکے تھے___یونیورسٹی ویڈیوز….میکال نے لمبا کھینچا اور پھر اس کے بالوں کو اس کے چہرئے سے ہٹانے لگا اس کے چہرئے کا رنگ فک ہو چکا تھا___میں اور رادیہ تو کبھی تمہاری یونیورسٹی گئے ہی نہیں تھے تحروبا___میکال نے اسے ایک دم لاجواب کر دیا تھا___میں سمجھی نہیں ک ک کیا مطلب اس سب کا___چھوڑو تم نہیں سمجھو گی___میکال نے اس کے ہاتھ سے ہارڈ ڈسک پکڑ لی___جاؤ وہ سامنے سے شراب لے کر آؤ تمہارئے جھوٹ___میں میں ابھی لاتی ہوں___وہ کانپتے جسم اور تیز قدموں کیساتھ شراب کی طرف بڑھی وہ جانتی تھی کہ میکال ہمیشہ سے شدید ٹینشن کی حالت میں چند گھونٹ شراب لیتا ہے اس نے جلدی سے گلاس میں شراب انڈھیلی اور اس میں نشہ آور گولی پھینک دی وہ ڈر کے باوجود آج آخری حد تک جانا چاہتی تھی وہ شراب لے کر واپس آئی تو میکال کمرئے کی بالکونی میں پہنچ چکا تھا جہاں سے باہر کا ایک خوبصورت نظارہ نظر آتا تھا___یہ لو ہارڈ ڈسک اور اس کو توڑ دو__میکال نے شراب پکڑتے ہوئے تحروبا کو حکم دیا___
اس میں میرا ڈیٹا ہے___آئی سیڈ بریک ایٹ___وہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے چلایا___وہ ایک دم گھبرائی اسے ہکا بکا دیکھ رہی تھی___تمہیں ثبوت چاہئیے ناں لڑکی___اس نے گلاس ہونٹوں کو لگایا___ تم خود سب سے بڑا ثبوت ہو تحروبا جب تم فقط آٹھ سال کی تھی یا شاید دس سال! تو تم ہی وہ پہلی لڑکی تھی جس کے تنگ لباس میں جکڑئے بدن نے مجھے اپنی طرف مائل کیا تھا
اور پھر وہ سب اتنا آگے بڑھا کہ مجھے تمہارا آپریشن کروا کر وہ زخمی حصے الگ کرنے پڑئے شاید تم بھول گئی ہو کہ جب تمہارا نازک بدن میرئے بستر پر تڑپ رہا تھا تمہاری وہ اکھڑتی سانسیں اور چیخ و پکار تمہارئے بدن کی نازکی میں گم ہو گئی تھی افسوس کہ اس کے بعد تم اس بدن کو ہمیشہ زمل کی آڑ میں چھپاتی رہی ہو___مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہو بھائی___وہ تحروبا کی بات سن کر زور سے ہنسا تھا اور ہنستے ہوئے اس نے اس ہارڈ ڈسک کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کر دیا___اس کو بہوش کر کے ہارڈ ڈسک لے جانے کا خواب ہارڈ ڈسک کے ٹکڑوں کی مانند ٹوٹ چکا تھا وہ میکال کو اپنی طرف آتا دیکھ کر ایک دم روہانسی ہو گئی تھی___کم آن تحروبا اب میں اتنا بھی بھولا نہیں ہوں کہ اس بات پر یقین کر لوں کہ ایک طرف تم مجھے ڈرگ دو اور دوسری طرف تمہیں کچھ یاد نہ ہو___میکال نے گلاس میں بچی شراب تحروبا کے چہرئے ہر پھینکی تھی جو اس کی آنکھوں کو بگھو کر اس کی گالوں سے ہوتی ہوئی گردن پر بہنے لگی وہ اس کی گردن کی طرف بڑھنے لگا تھا کہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے تحروبا نے اسے روک دیا___کیا کر رہے ہو میں تمہاری بہن جیسی ہوں___بہن ہاہاہاہا تم صرف اس کی آڑ لیتی رہی ہو ورنہ تم بھی جانتی ہو کہ میں نے بچپن سے اب تک تم پر کیوں اتنا پیسہ انوسٹ کیا تھا___
وہ اس کی کلائی کو مڑورتے ہوئے دونوں اجسام کے درمیان سے باہر کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے لگا___ویسے بھی تم بھلکڑ ہو سب بھول جاتی ہو معصومہ___بھول ہے تمہاری میکال کہ میں وہ سب بھول گئی ہوں___تحروبا کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو اس نے اسے ایک جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیل دیا___مجھے وہ تکلیف آج بھی یاد ہے مسٹر میکال سلطان جب تم نے مجھے اپنی حیوانیت کا نشانہ بنایا تھا یہ تمہاری بھول ہو گی کہ میں وہ سب بھول جاؤں گی یا تمہیں معاف کر دوں گی___اس کے باوجود تم جوان ہوتے بدن کو میرئے سامنے مٹکاتی میرئے ہی گھر میں میرئے پیسے پر پلتی رہی___جتنی آگ تمہاری حوس میں ہے اس سے زیادہ آگ میرئے بدن میں بدلہ لینے کی ہے میکال سلطان___وہ غصیلی انداز میں بولتی اپنا چہرہ لال کر چکی تھی___کیا تم نے نہیں جانتے کہ میں نے کس طرح تمہاری پوری فیملی برباد کر دی ہے تمہاری بہن زمل سے اس کی محبت کو چھینا اور اسے پھر گھر سے بھاگنے پر مجبور کیا اور تمہاری بیٹی سے وہ سب کروایا جو تمہارئے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اور اب وہ دونوں پتہ نہیں کہاں ہیںتحروبا کی بات سن کر وہ زور سے ہنسا تھا___مگر اب بھی میں رکنے والی نہیں ہوں یہ ہارڈ ڈسک ٹوٹ گئی تو کیا ہوا تمہارئے خلاف تمام ثبوت میں پہلے ہی تمہاری پارٹنر رادیہ سے لے چکی ہوں یہ ہارڈ ڈسک حاصل کرنے کا مقصد تو صرف تمہارئے ساتھ اس واحیات ڈاکٹر کو بھی انجام تک پہنچانا تھا____افسوس تم ایسا کچھ نہیں کر پاؤ گی اور آج تمہارئے اس خوبرو بدن کو بچانے کے لئے تمہارئے پاس نہ زمل کی آڑ ہے اور نہ حیا کی___وہ دو قدم اس کی طرف بڑھا تھا___خبردار اگر تم ایک قدم بھی آگے آئے__وہ گلاس کو توڑ کر نوکدار حصہ ہاتھ میں لے چکی تھی___میں دس سال کی تحروبا نہیں ہوں جو اب کی بار مزاحمت نہ کر پائے___میں بھی وہ میکال سلطان نہیں ہوں جس کے ہاتھ سے تم ہر بار اس کی بہن بننے کا ڈرامہ کر کے نکل جاتی تھی___ایک قدم بھی آگے بڑھے تو تمہیں قتل کرنے میں مجھے وقت نہیں لگے گا___تحروبا اس کی شیطانی طاقتوں سے انجان اسے ایک عام شخص سمجھتے ہوئے وارننگ دئے رہی تھی جس کو وہ اپنی شیطانی ہنسی میں اڑا چکا تھا اس کے ایک اشارہ پر ہی تحروبا کے ہاتھ میں پکڑا ہوا گلاس چکنا چور ہو کر نیچے گر گیا اور وہ مسکراتا ہوا اس پر ٹوٹ پڑا گلاس کو پگھل کر نیچے گرتا دیکھ کر وہ ایک دم ششد رہ گئی تھی
میکال نے اس کو سینے سے دھکیلتے ہوئے دیوار کیساتھ ثبت کیا اور اگلے ہی لمحے اس کے دونوں بازؤں کو شیطانی طاقتوں کی مدد سے دیوار میں باندھ دیا اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی میکال اس کے لباس کو سینے سے چیرتا ہوا دو حصوں میں تقسیم کر چکا تھا اس کی تمام مزاحمتیں دس سال پہلے کی طرح آج پھر ناکام ہو گئی تھی___تمہیں اس کا حساب ضرور دینا ہو گا میکال___وہ خود کو مفلوج پا کر مایوسی سے چلائی تھی___ڈارلنگ ڈونٹ بریک مائی ٹرسٹ___اس نے اس کے چہرئے پر انگلی رکھی اور پھر آہستگی سے حرکت دیتا ہونٹوں کے قریب لایا اور اس کے نیچلے ہونٹ کو دو انگلیوں میں دبوچ کر آگے کھینچا___تمہارا بدن بتا رہا ہے کہ عورت پر کی جانے والی انوسٹمنٹ سب سے منافع بخش بزنس ہوتا ہے___وہ اس کے ہونٹ کو دبوچتے ہوئے پوری گرمجوشی سے چوسنے لگا تھا
آج اسے روکنے والا کوئی نہیں تھا جس بدن کے لئے وہ سالوں ترسا تھا آج اس کی شیطانی طاقت نے اسے میکال کے سامنے پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دیا تھا کبھی گردن پر،کبھی سینے پر، کبھی کندھوں پر کبھی بستر پر وہ کئی گھنٹے اسے خوار کرتا رہا
ان کی حالت خطرئے سے باہر ہے مگر شاید اب وہ دوبارہ چل نہ سکیں آپ چاہے تو ان سے مل سکتی ہیں__ڈاکٹر کی اجازت ملتے ہی وہ ہسپتال میں عاشر کے کمرئے میں پہنچ گئی تھی جو اب دوائیوں کی وجہ سے آرام کر رہا تھا اس کے چہرئے کا بدلہ ہوا رنگ اس کے جسم میں ہونے والی کمزوری کو ظاہر کر رہا تھا وہ کچھ دیر تک یونہی خاموش کھڑی اس کو دیکھتی رہی یہ سب نوشہ کی وجہ سے ہی ہوا تھا اور اس کا احساس اسے اب ہو رہا تھا کافی دیر ہمت جمع کرنے کے بعد وہ اس کے بستر کے قریب گئی اور اس کے ہاتھوں پر لگی سوئیوں کو ٹھیک کرنے لگی حالانکہ وہ پہلے سے ٹھیک تھی نوشہ نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس کے بدن کا ٹمپریچر چیک کیا جو اصل میں اسے کرنا بھی نہیں آتا تھا وہ محض بات شروع کرنے کا بہانہ ڈھونڈ رہی تھی___ایم سوری عاشر یہ سب میری وجہ سے ہوا تم صحیح تھے میں نے خواہ مخاہ میں تمہاری زندگی برباد کی مجھے ہمیشہ اس بات کا افسوس رہے گا___میں ایک وحشیہ عورت کی بیٹی ہوں اور تم تو کیا اس معاشرئے کا کوئی مرد بھی میری ماں کی حقیقت جاننے کے بعد مجھے نہیں اپنائے گا کیونکہ بیٹیاں ماں کا عکس ہوتی ہیں___وہ روہانسی ہوئی تھی___میرا تم سے ملنا صرف ایک حادثہ تھا مجھے زمل کی مدد کرنی تھی کیونکہ جو کچھ بھی ہو رہا تھا اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں نے اس دن کے بعد خود کو ہمیشہ تم سے چھپایا جب بھی تم نے میرئے قریب آنے کی کوشش کی میں بلکل ایک انجان لڑکی بن گئی میں نے اپنی شخصیت پر ایک معصومانہ غلاف اوڑھ لیا تھا صرف اس لئے کہ شاید تم مجھ میں دلچسپی لینے لگو لیکن حقیقت میں نوشہ ایک آوارہ لڑکی کا نام ہے جس کو دنیا کا ایکسپوزر عام لڑکیوں سے زیادہ ہے اور یقینی طور پر کوئی بھی غیرت مند مرد ایک عیاش ماں کی آوارہ لڑکی کو کیوں اپنائے گا مجھے نہیں پتہ کہ تم یہ باتیں سن پا رہے ہو یا نہیں مگر میں اپنا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہوں آج تم میری وجہ سے چلنے سے محروم ہو میرا قصور ہے کہ میں نے تمہیں استعمال کرنا چاہا کیونکہ مجھے تمہاری ضرورت تھی اس ڈائن سے لڑنے کے لئے جس نے اپنی عیاشیوں کے لئے میرئے باپ کیساتھ میری زندگی بھی برباد کی مگر میں کبھی تمہاری توجہ نہ پا سکی تمہاری دلچسپیوں کا محور ہمیشہ سے زمل تھی اور مجھے اس بات کا کوئی افسوس نہیں کیونکہ تم کبھی میرئے تھے ہی نہیں میں زبردستی تمہاری زندگی میں گھسی تھی مگر توجہ و دلچسپی زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی____
یہ ساری باتیں اس فائل میں بھی درج ہیں جو میں تمہارئے پاس رکھ کر جا رہی ہوں اور آخر میں طلاق کے کاغذات بھی جو تمہاری طرف سے میں نے خود بنوا کر سائن کر دئیے ہیں صرف تمہارئے دستخط کی ضرورت ہے ہو سکتا ہے کہ کسی اور جگہ بھی تمہیں میرئے سائن کی ضرورت پڑئے اس لئے ایک صاف کاغذ پر دستخظ کر کے جا رہی ہوں ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا___نوشہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے فائل رکھی اور واپس مڑنے لگی کہ عاشر نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ہاتھ کو تھام لیا اس غیرمتوقع حرکت نے نوشہ کو ایک دم منجمد کر دیا تھا وہ بے یقینی کی حالت میں عاشر کی طرف متوجہ ہوئی جو کچھ کہنے کے لئے اسے اپنے قریب ہونے کا اشارہ کر رہا تھا جب میں مرنے والا تھا تب تم مجھے تنہا نہیں چھوڑ کر گئی تو اب جب مجھے تمہاری ضرورت ہے تب تم جانا چاہتی ہو___وہ اسے اپنے قریب ہوتا دیکھ کر مخاطب ہوا تھا
عاشر آئی ایم سوری یہ سب نوشہ ہچکیوں سے رونے لگی __ ہششش مرا نہیں ہوں زندہ ہوں میں __ اتنا کیوں رو رہی ہو فراڈی گرل _ اب تم کیا مجھے طعنہ دیتے رہوگے کہ میں نے دھوکہ دیا وہ برا منا کے بولی _فکر نہیں کرو یہ نوبت آئے گی ہی نہیں میں جارہی ہوں تمہاری زندگی سے آور تکلیف نہیں دینا چاہتی تمہیں _ تمہیں کس نے کہا کہ اپنے گناہوں کی سزا بھگتے بغیر جاووگی یہاں سے عاشر سنجیدہ نظروں سے نوشہ کو دیکھنے لگا _ پلیز مجھ میں اور ہمت نہیں ہے جانے دو میں معافی مانگ تو رہی ہوں __لیکن میں عمر بھر میری محبت میں قید ہونے کی سزا دیتاہوں تمہیں وہ نوشہ کی حیرت بھری أنکھیں دیکھ کے مسکرایا _تمہیں تو زمل چاہیے اسی سے پیار کرتے ہو تم __ کون زمل یار میری تو یادداشت چلی گئی ہے أہ میرا سر نوشہ __ کتنے ڈرامے باز ہو تم نوشہ کھکھلا کے ہنستی بولی _کیا ہم سب کچھ بھول کے نئی شروعات نہیں کرسکتے نوشہ کیا ہماری اپنی پیار کی کہانی نہیں ہوسکتی جہاں کسی پہچان کی کسی اچھائی برائی کی جگہ نہ ہو بس ہم ہوں اور ہماری یادیں ہوں _ بولو نا نوشہ _ اممم نہیں میں ایک غنڈے کے قید میں رہ رہ کے تھک گئی ہوں چلو چھوڑو میرا ہاتھ مجھے دیر ہورہی اب جانا ہے مجھے وہ
مصنوعی غصہ دکھا کر بولی _ اسکی شرارت سمجھتے عاشر بولا ادھر آو تم ذرا نوشہ ہلکے سے جھٹکے سے وہ کٹی دال کی طرح عاشر کے سینے پہ گری _ اب تم مجھے چھوڑ کے کہاں نہیں جاسکتی سمجھی _ کیوں وہ أنکھیں پھیلا کے بولی _ کیونکہ اب میں تمہیں بھی بیمار کردونگا معنی خیزی سے کہتے اس سے پہلے کہ نوشہ کچھ سمجھتی اسکے لب عاشر کے لبوں میں قید ہوچکے تھے __ عاشر کی بڑھتی جسارتوں سے گھبرا کر نوشہ اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑتی ہلکان ہورہی تھی _ اپنی مرضی سے اسے آزاد کرتے عاشر اسکے چہرے پہ حیا کے رنگ دیکھ کر کھکھلا اٹھا _ اب لگ رہی ہو خالص مشرقی بیوی _ ہم سب بھول چکے ہیں اب سے ٹھیک ہے ؟؟ نہ تم کسی رادیہ کو جانتی ہو نہ ہی میں کسی زمل کو جانتا ہوں _ بس اتنا یاد ہونا چاہیے نوشہ میری زندگی ہے ایک مضبوط کردار کی لڑکی چاہے وہ آوارہ ہی کیوں نہ ہو _ اور مجھے اتنا یاد ہے کہ عاشر میرا پیار ہے کیونکہ اس نے تب میرا تھاما جب میں زندگی سے ناامید ہوچکی تھی وہ اسکے سینے پہ سر رکھ کر سکون سے آنکھیں موند گئی
ایک بڑئے سے ڈراونے محل میں لمبے ناخنوں والی چڑیلوں کے جھرمٹ میں فخریہ انداز میں چلتی سارسہ رانی اس کمرئے تک پہنچی تھی جہاں کچھ ہی دیر پہلے ایک خوبصورت جوان سالہ انسانی لڑکی کو لایا گیا تھا___یہ مخلوق تمہیں کہاں سے ملی___اس نے پاؤں کی ٹھوکر سے اس کا چہرہ اپنی طرف کیا وہ چہرئے پر ہلکی زردی لئے بہوش پڑی تھی__یہ قیمتی تحفہ میں انسانی دنیا سے خاص سارسہ رانی کے لئے لایا ہوں___جن نے چاپلوسی کی حدیں پار کرتے ہوئے جھوٹ بول دیا تھا حالانکہ یہ انسانی لڑکی اسے جنگل سے ملی تھی___خوبصورت بہت خوبصورت یہ انسانی لڑکی شاہ جنات کو بہت پسند آئے گی___سارسہ نے خوش ہوتے ہوئے اس جن کو بیش قیمتی ہار دیا تھا جو اس کی طاقتوں میں اضافے کا موجب تھا___لگتا ہے تم نے اس کیساتھ کافی ہاتھ پائی کی ہے__وہ اپنے لمبے ہونٹ کھینچ کر مسکرانے کے انداز میں مخاطب ہوئی تھی اس لڑکی کے پھٹے کپڑئے اور زخموں سے ہی اس کی حالت کا اندازہ ہو رہا تھا___نہیں رانی سارسہ میری کیا جرت جو میں سارسہ رانی کے تحفے کو سخت ہاتھ بھی لگاؤ یہ حالت تو صرف لڑکی کے گھبرانے کی وجہ ہوئی ہے رانی___اس انسانی لڑکی کے زخموں کی مرہم پٹی کرو اور اسے کوہ قاف کے پانیوں میں غسل دو یہ تحفہ شاہ جنات کو بہت پسند آئے گا___سارسہ کے حکم پر چڑیلوں نے انسانی لڑکی کو ناخنوں پر اٹھا کر اس کو تیار کرنے کے لئے لے گئے
حبس زدہ چھوٹے سے سٹور روم میں زمین پہ پڑے دو زخمی وجود مختلف سوچوں میں گم اپنی موت کے انتظار میں بے آواز آنسووں سے رو رہی تھے__کاش میں رادیہ کی بات کبھی نہ مانتی تو آج اس دلدل میں نہ پھسی ہوتی اس آدمی سے میں نے ہمیشہ محبت کی اپنی وفاداری نبھائی پھر بھی اس نے ایسا کیا اور رادیہ کو میں بہنوں سے بڑھ کے مانتی تھی دوستی کے نام پہ اس نے ایسے وار کیا ہے مجھ پہ کہ اب جینے کی خواہش نہیں رہی دشمن سے زیادہ دوست کے دھوکے کو سہنا مشکل ہے وجیہہ افسردہ لہجے میں مخاطب ہوئی تھی___قدموں کی آہٹ سے وجیہہ اور تہروبا خوف سے سفید پڑتے چہرے کے ساتھ دیوار سے لگ چکی تھیں میکال سلطان ایک بار پھر انکو درد دینے آرہا تھا دروازہ کھلتے ہی تیز آنکھوں کو چندھیانے والی تیز روشنی سے دونوں نے اپنے چہرے چھپالیے__ہیلو مائی بیوٹیز امید کرتا ہوں تم ایک دوسرے کی کمپنی انجوائے کررہی ہوگی ___میکال بھوندی سی ہنسی ہنس دیا___کچھ تو خدا کا خوف کرو میکال تم اپنے آپ کو کیا سمجھ رہے ہو__وجیہہ غصے اور بےبسی سے چیخی__ شٹ اپ بوڑھیا اپنی آواز نیچی رکھو میکال سلطان کو اونچی آواز پسند نہیں__تمہیں تو لیوسفر کے کہنے پہ منہ لگایا ہے نہیں تو تہروبا کے نوخیز جسم نے میرے ہوش و حواس چھین لیے تھے___وہ تہروبا کو گھورتے ہوئے خباثت سے بولا__گھٹیا نیچ آدمی کیا کمی تھی تمہیں کہ تم نے یہ سب کیا اپنے لالچ میں اپنی سگی بہن تک کو بھی برباد کردیا تم نے__وجیہہ میکال پر غراتی اسکو پیچھے دھکیل چکی تھی تبھی میکال نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے جادو کے بل پہ وجیہہ کو ہوا میں معلق کیا ساتھ ہی اسکے بالوں کو نوچتے اسے زمین پر پٹخ دیا__أہ میکال کچھ تو رحم کھاو میکال تہروبا خوف سے نفی میں سر ہلاتی اس شیطان سے کہیں دور جانا چاہتی تھی یا اللہ مجھے بچالے اس شیطان سے میں اپنے ہر گناہ کی تلافی کرونگی پلیز وہ شدت سے دل میں روتی گڑگڑانے لگی
فکر مت کرو وجیہہ میکال پیروں کے بل وجیہہ کے پاس بیٹھ گیا تھا تم لیوسفر کے جادو سے جہاں اتنی جوان اور حسین ہوچکی ہو کہ اتنا سا درد تو سہہ ہی سکتی ہو وجیہہ اپنے لب بھینچ کر درد کو برداشت کرتی رہی وہ کسی طرح میکال کو شک نہیں ہونے دینا چاہتی تھی___میں نے اپنی بہن کو برباد نہیں کیا بلکہ اس نے بہن ہونے کا پورا حق ادا کیا اب وہ دوسری دنیا میں سکون سے ہوگی وہ وہ أسمان کی طرف اشارہ کرکے بولا_ کککا کیا مطلب ہے تمہارا اس دوران پہلی بار تحروبا گھٹی سی آواز میں بولی بتاو تم نے ماردیا ہے کیا زمل کو__میکال اپنا رخ تحروبا کی طرف پھیرتے ہوئے متوجہ ہوا__ اسکی زندگی کے بدلے ہی تو میں زندہ ہوا ہوں جان اسکے خون کے قطروں سے میکال سلطان کی رگوں میں زندگی واپس آئی ہے ویسے بھی وہ تم جیسی دوست پاکر بہت ہی بے چین تھی___اس کا لہجہ خاصا طنزیہ تھا__ ویسے تو میں جس چیز کو ایک بار منہ لگالوں پھر اسے چھونا بھی گوارا نہیں کرتا لیکن تم میں ایسی بات ہے کہ میرا بار بار تمہارے اس نوخیز بدن کو نوچ کھانے کا دل چاہتا ہے چلو اٹھو وجیہہ مائی ڈئیر وائف مجھے ابھی تم پہ ہی دھیان دینا ہے ایک پیارے سے بچے کے لیے جو تمہارئے پاس لیوسفر کی امانت ہوگا جیسے ہی تم اسے پیدا کروگی ویسے ہی میں اسے لیوسفر کے حوالے کرونگا اور میری طاقتوں میں اور اضافہ ہوگا__ نہیں تم ایسا نہیں کرسکتے میکال مجھ پہ ترس کھاو میں پہلے ہی حیا کی جدائی برداشت نہیں کرپارہی__وجیہہ میکال کے پاوں پڑتے ہوئے بولی وہ تمہاری بھی بیٹی تھی
میکال کیا تم میں ذرا احساس نہیں بچا__پیچھے ہٹو ہاگل عورت یہ جزباتی تقریر میرے سامنے مت کرنا ہر کوئی اپنا مفاد سوچتا ہے تم اپنی جتنی پیاری چیز دان کروگی اتنا ہی فائدہ ملے گا__میں نے تم سے ہمیشہ محبت کی لیکن تم نے اپنی لالچ اور غرض میں میری زندگی تباہ کردی آخر میرا کیا قصور تھا میکال___ تمہارا اتنا ہی قصور ہے وجیہہ کہ تم حد سے زیادہ بھولی نکلی انسان کی گہرائیوں میں ایسا بہت کچھ ہوسکتا ہے جسے بات چیت یا چند لمحے گزارنے سے نہیں نکالا جاسکتا اور تم سمجھی چند لمحوں کے ہیار میں تم مجھے جان جاوگی ؟؟ تم بھی ہر روایتی عورت کی طرح اپنا سارا دھیان اپنی نند پہ رکھنے والی تھی اس نقصان کی ذمہ دار تم خود ہو___مجھ سے باقی ساری آزادیاں چھین لو، بس صرف اتنی آزادی دو کہ میں اپنے ضمیر کی آواز کو سن کر، کسی دباؤ کے بغیر، جان سکوں، سوچ سکوں، سمجھ سکوں مجھے ماردو میکال__تحروبا روہانسی ہوئی تھی__اتنی جلدی تھک گئی اپنے کرموں کے بوجھ سے تحروبا وہ اس پر طنز کرتا مسکراتا وہاں سے نکل گیا___سنا تم نے وجیہہ اس نے زمل کو ماردیا میری اس دوست کو جسکے ساتھ میں نے سب سے برا کیا وہ معصوم تھی اور میں اسے دھوکہ دیتی رہی جس کھیل سے اسکا کوئی تعلق ہی نہیں تھا اس کھیل میں اس سے بدلہ لیتی رہی آج مجھے اسی کی سزا مل رہی___تہروبا گھٹنوں میں منہ دیتی شدت سے روئی ہم اپنے رویوں سے کبھی کسی کو اتنا توڑدیتے ہیں کہ بھول جاتے ہیں ایک نہ ایک دن ہمارے ساتھ بھی برا ہوسکتا ہے
اب رونے کا فائدہ نہیں کیونکہ رونا ہمارئے مقدر کا حصہ ہے اب یہ شیطان ہمیں کَبھی نہیں چھوڑے گا اور نہ ہی ہم نے اتنا کچھ اچھا کیا ہے کہ کوئی مسیحا ہی مدد کو آجائے___وہ مایوس ہو چکی تھی___انسان نے سوچا کہ وہ فطرت کو سمجھا سکتا ہے اور اس پر قابو پا سکتا ہے اور اپنا انجام بھول جاتا ہے عنقریب میکال سلطان بھی اس غلط فہمی سے نکل آئیگا
وہ معمول کے مطابق پرستان کی سیر کرتی اور پرستان کے باسیوں کے حوصلے لیوسفر کے مقابلے میں بلند کرتی پرستان سے دور ڈراونے جنگلوں میں آ پہنچی تھی ڈیفینی کا پرستان کی خوبصورت وادیوں سے اڑ کر ان خوفناک جنگلات میں آنا بہت کم مگر ہمیشہ سے معنی خیز ہی رہا تھا جب بھی اس نے اپنی خوبصورتی کی رونق کو ڈھلتے پایا وہ اسی وقت لیوسفر کے پاس پہنچ گئی تاکہ اپنے بدن کو نئی رونقیں دئے سکے اس کے مہکتے بدن کو نئی خوشبو مل سکے جو ہر لمحے اہلیان پرستان کو ڈیفنی کا اسیر کر کر سکے___تو تم تک خبر پہنچ گئی ملکہ___لیوسفر اس کی خوشبو سونگھتے ہوئے اسی جگہ پہنچ آیا تھا وہ ڈیفینی کے چہرئے کی رونق سے ہی اس کے آنے کا مقصد سمجھ چکا تھا آج کے دن کے لئے اس نے ایک لمبا انتظار کیا تھا ____ملکہ کسی بھی بات سے بے خبر کیسے رہ سکتی ہے لیوسفر اور وہ بھی تب جب ملکہ نے اس کے لئے لمبا انتظار کیا ہوا___وہ بڑھتی ہوئی اس کے قریب پہنچ کر اپنی بانہوں کا حصار اس کی گردن کے گرد بنا چکی تھی لیوسفر کو اتنی طاقت چاہئیے تھی
کہ وہ پرستان اور کوہ قاف کی تمام پریوں اور چڑیلوں پر ہاتھ صاف کر سکے اور ڈیفینی کو ہمیشہ جوان اور خوبصورت رہنا تھا تاکہ وہ ہمیشہ پرستان کی ملکہ بن کر رہ سکے دونوں کی انہی مجبوریوں نے دونوں کو ایک دوسرئے کے قریب رکھا تھا ورنہ پرستان کی ایک نازک سی پری ایک خطرناک جن کے قریب کہاں رہ سکتی تھی لیوسفر ملکہ کی خواہش پر پرستان کی سینکڑوں خوبصورت پریوں کو داغدار کر چکا تھا تاکہ وہ ملکہ بننے کی دوڑ سے ہی باہر ہو جائیں اور ڈیفینی دھوکے سے کوہ قاف کے تمام طاقتوار جن لیوسفر سے قتل کروا چکی تھی___پرستان اور کوہ قاف کے سامنے ڈیفنی کی مظلومیت ہی اصل میں وہ چال تھی جس کی پلاننگ اس نے پرستان سے دور گھنے جنگلات میں لیوسفر کے جادوائی بستر پر لیٹے ہوئی کی تھی ڈیفنی نے مظلومیت اوڑھ کر کوہ قاف کے طاقتور ترین جنات سے نکاح کیا تھا اور پھر باری باری ان سب کو لیوسفر کے ہاتھوں دھوکے سے قتل کروا دیا تھا___ملکہ تم اس انتظار کی پوری قیمت وصول کر چکی ہو یہ ناقابل تسخیر خوبصورتی شاید ہی دوبارہ کسی کا مقدر ہو___
لیوسفر نے اس کی نیلی گہری آنکھوں میں دیکھا تھا___خوبصورتی کیساتھ اگر طاقت کا امتزاج نہ ہو تو ایسی خوبصورتی نوچ لی جاتی ہے اس لئے مجھے اپنی خوبصورتی کیساتھ ہمیشہ تمہاری طاقت کی بھی فکر رہی ہے___میں نے تو جب بھی تمہیں نوچا تب ہی تمہاری خوبصورتی کو ایک نئی جلا بخشی ڈیفنی___تو کہاں ہے وہ نطفہ جو تم نے میکال سے حاصل کیا___ڈیفنی نے معنی خیز انداز میں مدعے کی بات کی تھی اسے خبر پہنچ گئی تھی کہ میکال وہ نطفہ وجیہہ کے بدن سے نکال کر لیوسفر کے سپرد کر چکا ہے___اب زیادہ انتظار نہیں تمہیں نطفے کی جگہ ایک نئی حیا ہی دیکھنے کو ملے گی کیونکہ وہ جادوائی عمل شروع ہو چکا ہے___تو کب تم میرئے محل سے اس حیا کو لینے آؤ گے___کچھ ہی دیر تک__وہ معنی خیز انداز میں خوفناک ہنسی ہنسنے لگا___میں نے ہمیشہ اس لمحے کا شدت سے انتظار کیا کہ جب تم ایمر کا حصار توڑتے ہوئے تمام طاقتیں حاصل کر لو گے___ایمر کا جادوائی حصار تو میرئے سامنے ایک لمحہ بھی نہیں ٹک سکتا حیا کو پانے کا مقصد تو اس جادوائی عمل کو پورا کرنا ہے جو مجھے ناقابل تسخیر طاقت دئے گا جس کے بعد کسی کے لئے بھی میرئے مقابلے میں آنا ناممکن ہو جائے گا____وہ معنی خیز انداز میں مسکرانے لگا___کاش وہ گھٹیا سی انسانی لڑکی تب تمہارئے اور حیا کے درمیان نہ آتی
شاید اس کی موت اسے زبردستی ہمارئے درمیان کھینچ لائی تھی ملکہ___فاسیر کے لئے اس کے جذبات دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی موت بہت ضروری ہے ورنہ وہ باغی جن ذرا سا شک ہونے کی صورت میں پتہ نہیں کیا کرتا خیر تمہیں اسے مارنے سے پہلے اس کے بدن پر بھی اپنی چھاپ چھوڑنی چاہئیے تھی تاکہ فاسیر اسی کلنک سے ہی مر جاتا کہ لیوسفر اس انسانی لڑکی کے بدن کیساتھ بھی کھیل چکا ہے___فی الحال تو میرا ارادہ تمہارئے بدن پر اپنی چھاپ چھوڑنے کا ہے تاکہ تم واپس پرستان جا کر پھر سے ڈرامہ کر سکو کہ لیوسفر میرئے بدن سے پیاس بجھانے کی خاطر پرستان پر ظلم کر رہا ہے___لیوسفر نے ہنستے ہوئے ایک ٹونٹ کیا اور اس کے ایک اشارئے پر ہی ایک خوبصورت جادوائی بستر نمودار ہوا
ڈیفنی کا چمکتا دمکتا لباس اس کے بدن سے الگ ہوتا چلا گیا تھا بلاشبہ وہ پرستان کی خوبصورت ترین پری تھی مگر ہمیشہ کی خوبصورتی اور جوانی کا لالچ ملکئ ہونے کے باوجود اسے ایک بدصورت اور خوفناک جن کے سامنے خود کو پیش کرنے پر مجبور کر چکا تھا ناپسندیگی کے باوجود وہ یہ سب کئی بار کر چکی تھی___اور ویسے بھی ان سب کی نظروں میں تمہیں پانے کے لیے میں نے کیا کچھ نہیں کیا ڈیفنی تمہارا یہ خوبصورت سراپا آج میرے دسترس میں ہے جیسے چاہوں تمہیں چھو سکتا ہوں ___واحد سرخ باریک سے شاہی لباس میں جسکا ایک ہی ٹکڑا اسکی رانوں کو مشکل سے ڈھک رہا تھا نرم نرمگوشت سے بھری رانیں سفید بےداغ جسم سینے پہ اثھتے بھاری ابھار اور ساتھ ہی اسکا مول جو چمک دمک سے کسی کو بھی تسخیر کرسکے لمبے گھنے بالوں نے کمر سے نیچلے حصے کو ڈھک کر ایک اور توجہ طلب نظارہ پیش کیا تھا بڑی بڑی نیلی أنکھوں پر پلکوں کا کالا شگن اور تراشے خراشے ہونٹوں کی نازکی _یہ بھی میری ہی مہربانی ہے لیوسفر __اسکے بولتے ہی وہ ہوش میں آچکا تھا اتنے قریب سے اسکے مکمل حسن کو دیکھتے لیوسفر برداشت کی آخری حدوں کو چھورہا تھا وہ حسن کی ملکہ تھی جو خود کو پیش کر کے اپنے بدن کو ایسا رخ دیتی تھی کہ لیوسفر بھی فدا ہوئے بغیر نہ رہ سکے ڈیفنی اپنے برہنہ ٹانگ کو مزید برہنہ کرتی ریشمی بستر پہ نیم دراز ہوئی جس سے اسکے جسم کے نشیب و فراز اور بھی نمایاں ہونے لگے لیوسفر اپنے خون میں شہوت کی گردش تیز اور تیز محسوس کررہا تھا__آج کی رات دو جسموں کی ملاپ کی رات ہے وہ ڈیفنی کی نشیلی آنکھوں میں دیکھتا ہوا آہستہ آہستہ بستر کے قریب آیا اس کے بے پردہ ہوتے بدن کی روشنی گھنے جنگل میں بھی چار سو پھیلنے لگی تھی__ڈیفنی اک ادا سے اٹھتی گھٹنوں کے بل لیوسفر کے قریب آتی اپنے ہاتھ اسکے برہنہ جسم پر پھیرنے لگی__
اسکے نرم جادوئی ہاتھوں کے لمس گرمی میں دھک رہے لیوسفر کے لیے کسی ٹھنڈی پھوار کا کام کررہے تھے__وہ پرسکون ہوتا أنکھیں بند کرگیا ساتھ ہی اسکی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا کیا اچھا ہو کہ میں تمہارا خون پی جاوں ڈیفنی سنجیدہ لہجے میں آنکھوں میں خمار لیے لیوسفر کو دیکھنے لگی__پی جاو اس گرم خون کو ٹھنڈک بھی تو چاہیے وہ سرگوشی کرتے بولی تھی ڈیفنی اسکے گردن پہ جھک گئی لیوسفر ڈیفنی کے نرم ہونٹوں کے لمس کو مزید سہہ نہ پایا تو ڈیفنی کو ریشمی بستر پہ دھکیل دیا اسکے جسم سے واحد کپڑا ہٹنے سے وہ مکمل برہنہ حالت میں گری ہوئی تیز تیز سانسوں کو قابو کرنے لگی تھی لیوسفر تیزی سے ڈیفنی کے جسم پہ آتے اسکے ہونٹوں کو دبوچ چکا تھا وہ اپنے نرم ملائم ہاتھوں کو اسکے سینے پہ رکھتی اسے رام کرنا چاہ رہی تھی مگر ساتھ ہی لیوسفر ڈیفنی کے دونوں ہاتھوں کو قابو کرگیا__ سسسس سس آہ تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے لیوسفر مجھے اور مت تڑپاو ڈیفنی بےچینی سے اپنے جسم کو اوپر کی طرف دھکیلنے لگی _ تم وہ حسین احساس ہو جسکے ہجر میں کوقاف کے ایک ایک جن جلتا رہا ایک ہاتھ سے ڈیفنی کی ٹانگیں کھولتے لیوسفر نے سرگوشی کی _ اب تم پر اپنی ایسی چھاپ چھوڑونگا جو دنیا کے کسی جادو سے بھی مٹ نہ سکے ڈیفنی___اسسسس آہ مجھ میں اپنۓ جسم کی خوشبو شامل کردو وہ سسک کر بولی لیوسفر ایک ہی جھٹکے سے ڈیفنی کے جسم پر قابض ہو چکا تھا
تم وہ دو گولیاں عاشر کی بجائے اگر نوشہ کو مار دیتے تو سارا قصہ ہی ختم ہوتا___رادیہ اپنے کلینک میں بیٹھی سردار پر چلائی تھی___پتہ نہیں تم لڑکیوں کے معاملے میں اتنے عجیب کیوں ہو___اب اس میں ایسا کیا تھا رادیہ جو تم مجھ پر اچانک سے چیخنے لگی ہو___نہ تو تم کسی لڑکی کو اپناتے ہو اور نہ کسی کو چھوڑتے ہو تمہاری اسی کمپلیکس نیچر کی وجہ سے ہم اتنا خوار ہو رہے ہیں حالانکہ تم چاہتے تو کسی بھی ایک لڑکی سے یہ سارئے کام کروا سکتے تھے___مجھے پتہ ہے کہ تم تحروبا کی وجہ سے اپ سیٹ ہو اس کا یہ بدلہ ہوا رویہ تھوڑا عجیب ضرور ہے مگر مجھے اتنا خود پر اعتماد ہے
کہ وہ واپس سردار کے پاس ہی آئے گی___سردار نے رادیہ کی پریشانی بھانپتے ہوئے اسے تسلی دی تھی کافی دن گزر گئے تھے جب سے میکال واپس آیا تھا ان کا تحروبا سے رابطہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا وہ دونوں اس بات سے انجان تھے کہ ثبوت چرانے گئی تحروبا وہاں ایک نئی مشکل میں پھنس گئی تھی___اگر وہ واپس آئے گی تو کیا تم اس سے شادی کرو گئے؟___اتنا تو تمہیں مجھے جان ہی لینا چاہئیے کہ اگر میں نے تحروبا کو اپنانا ہوتا تو اب تک اپنا چکا ہوتا___شاید تمہارئے اسی روئیے کی وجہ سے وہ تم سے بدظن ہو چکی ہے سردار___لڑکیاں سردار سے کبھی بدظن نہیں ہو سکتی رادیہ___مگر یہ سب جب کسی کام کی ہی نہیں تو فضول ہے___وہ اپنی کرسی چھوڑ کر کھڑکی سے باہر کے منظر دیکھنے لگی___تم جانتی ہو رادیہ کہ کسی بھی لڑکی کے انتخاب کا مطلب سردار کی شخصیت کا خاتمہ ہے___تمہیں آخر ایک دن سب کو چھوڑ کر کسی ایک کا انتخاب تو کرنا ہی ہے
تب تمہاری سو کالڈ پرسنیلٹی کہاں جائے گی اور ویسے بھی وہ تب کہاں تھی جب زمل نے تمہیں چھوڑ دیا تھا___زمل کی کیا مجال کہ وہ مجھے چھوڑتی میں نے اسے چھوڑا تھا رادیہ___رادیہ کی بات اسے ایک دم چھپ گئی تھی___چھوڑا تھا مطلب…..وہ رخ پھیرتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوئی___کیا کبھی وہ تمہارئے دل میں بھی تھی___اگر وہ اس دن میری بات مان جاتی تو شاید ایسا ہوتا___اس کے سامنے دوبارہ وہ منظر آیا تھا جب زمل نے اس کی بات سے انکار کیا تھا___تم اچھے سے جانتے ہو وہ ایسی لڑکی بلکل نہیں تھی جو تمہارئے سامنے اپنا لباس اتارتی
رادیہ نے زمل کے متعلق اپنی رائے دی تھی___واللہ میرا کوئی ارداہ نہیں تھا کہ میں اس کیساتھ ایسی کوئی حرکت کرتا مجھے فقط اس کا غرور توڑنا تھا وہ فقط یہ سب کرنے کی حامی ہی بھر لیتی تو کافی ہوتا___مگر افسوس اس نے حامی بھرنے کی جگہ تمہیں چھوڑنا بہتر سمجھا___پھر وہی بات رادیہ یادرکھو کہ یہ سب صرف مہرئے ہیں جو بوقت ضرورت کام آتے ہیں اور پھر استعمال کے بعد ان کو واپس ڈبیا میں بند کر دیا جاتا ہے___مگر ابھی تم خود اقرار کر چکے ہو کہ زمل تمہارئے دل میں تھی___وہ بیوقوف لڑکی تھی رادیہ جس نے اپنی انا کو ترجیح دی اور ویسے یہ اچھا ہی ہوا کہ وہ راستے سے ہٹ گئی_
خود کو تسلی دینے کو یہ خیال اچھا ہے حقیقت میں تو تمہارئے دل میں ابھی بھی اس کے جانے اور تمہیں ٹھکرانے کا کلنک ہے سردار___وہ اس کے چہرئے پر نظریں جمائے کھڑی تھی___ان باتوں سے تم فقط اپنی انا کی تسکین کر سکتے ہو حقیقت تو یہ ہے کہ زمل سے لے کر نوشہ تک ہر لڑکی خشک ریت کی طرح تمہارئے ہاتھوں سے پھسل چکی ہے اب تو تحروبا نے بھی رابطہ ختم کر دیا ہے اور تم صرف ہاتھ ملتے رہ گئے ہو____وہ رابطہ ختم نہیں کر سکتی وہاں ضرور کچھ ایسا ہے جس کی وجہ سے یہ سب ہوا جب سے وہ میکال اور وجیہہ واپس آئے ہیں تب سے وہاں بہت عجیب چیزیں ہونے لگی ہیں___لوہے جیسی مضبوط دھات پر بھی توجہ نہ دی جائے تو اسے زنگ لگ جاتا ہے لڑکیاں تو پھر بہت نرم ہوا کرتی ہیں تم ایک حد تک ہی کسی لڑکی کی محبت سے فائدہ اٹھا سکتے ہو یا کسی لڑکی کے جذبات سے کھیل سکتے ہو لڑکی کیسی بھی ہو ایک مقررہ وقت تک ہی وہ تمہیں اپنا خلوص،پیار،یقین،اعتماد اور محبت دئے گی اگر اس ٹائم پریڈ میں تم نے اس کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے اسے اپنا لیا تو وہ ساری زندگی تمہیں اپنی محبتوں اور چاہتوں سے آبیار کرئے گی اور اگر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو اس کے لئے تمہاری حیثیت دو کوڑی کی بھی نہیں رہے گی تمہیں کسی بھی لڑکی کے صبر کی برداشت سے پہلے پہلے اسے اپنانا سیکھنا ہو گا وگرنہ باری باری ہر لڑکی اسی طرح تمہارئے ہاتھ سے پھسلتی چلی جائے گی
اس سے پہلے کہ سردار اس کی تیز دھار باتوں کا جواب دیتا آفس کے دروازئے پر دستک ہوئی اور وہ دونوں اس طرف متوجہ ہوئے آفس کے دروازئے پر موجود شخص نے رادیہ کو ایک دم چونکا دیا تھا اس شخص کو دیکھتے ہی رادیہ کے طوطے اڑ گئے تھے___وجیہہ کی طبیعت خراب ہے اسے چیک کرنا ہے ڈاکٹر__میکال سلطان رعب دار انداز میں مخاطب ہوا تھا یہ ایک عرصے بعد میکال سلطان کی رادیہ کیساتھ پہلی ملاقات تھی مگر حقیقت سے انجان رادیہ کئی بار مل چکی تھی___اس کی طبیعت خراب ہے ڈاکٹر__رادیہ کو ہکا بکا دیکھ کر میکال نے اپنی بات دہرائی___ک ک کیا ہوا اسے کہاں ہے وہ___رادیہ نے ہکلاتے ہوئے جواب دیا تھا اس کے چہرئے سے اس کی گھبراہٹ واضح تھی___اسے آپریشن تھیٹر میں منتقل کر دیا ہے ڈاکٹر___میں ابھی آتی ہوں تم جاؤ___اس کی حالت نازک ہے تمہیں ابھی چلنا ہو گا
میکال نے اپنی بات پر زور دیا جس پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کیساتھ دوسرئے کمرئے میں چلی گئی جہاں اسٹیچر پر پہلے سے وجیہہ بہوش پڑی ہوئی تھی جس کو وہ زبردستی یہاں لے آیا تھا___اس کا پیٹ چاک کرو مجھے وہ بچہ چاہئیے جو اس کے پیٹ میں پنپ رہا ہے___میکال نے رادیہ کو حکم دیتے ہوئے فضول کے چیک اپ سے منع کر دیا تھا___کیا کیا مطلب تم اپنی ہی بیوی___جتنا تمہیں کہا ہے تم اتنا ہی کرو رادیہ___دیکھو میری بات سنو میکال یہ سب مجھ سے نہیں ہو گا وجیہہ میری دوست ہے اور میں یہ سب چھوڑ چکی ہوں___رادیہ جانتی تھی کہ سردار اس کی سب باتیں سن رہا ہو گا اور ویسے بھی یہ ثبوت حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا کہ وہ سب کچھ میکال کے منہ سے اگلو لیتی اور سردار اس سب کو ریکارڈ کر لیتا___جتنا کہا جائے اتنا ہی کرو تم___وہ غصیلہ انداز میں چلایا___دیکھو تم میرئے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ورنہ میں___میں کر سکتا ہوں
رادیہ___میکال نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے سرد لہجے میں کہا___یہ سب غلط ہے اور میں اس سب میں مزید تمہارا ساتھ نہیں دئے سکتی میکال یہ تمہاری بیوی ہے اور تم اس کیساتھ یہ کر رہے ہو___وہ میکال سلطان کی شیطانی طاقتوں سے ناواقف مسلسل تیز تیز بولتی جا رہی تھی کہ اچانک ایک زور دار چماٹا میکال کی طرف سے اس کے منہ پر لگا___مجھے تمہاری بکواس بلکل نہیں سننی اب اگر تم نے کوئی بکواس کی تو اس آپریشن تھیٹر کے سارئے اوزار میں تمہارئے جسم سے آر پار کر دوں گا___وہ غصیلہ اندانے میں اسے دھمکی دیتا ہوا ایک تیز دھار بلیڈ اس کے سامنے کر چکا تھا___مگر تم ایسا کیسے کر سکتے ہو میکال___ویسے ہی جیسے پہلے کرتا تھا___مجھ سے یہ نہیں ہو گا___ہو گا اور تم ہی کرو گی جیسے پہلے کئی لڑکیوں ساتھ کر چکی ہو ویسے ہی اس کیساتھ بھی!وجیہہ کوئی انوکھی مخلوق نہیں ہے یہ بھی ان تمام لڑکیوں جیسی ہے جن کے پیٹ تم چاک کر چکی ہو____تم سمجھتے کیوں نہیں ہو میکالُ میں یہ سب نہیں کرتی___تم سمجھتی کیوں نہیں ہو ڈاکٹر کہ میں تمہیں مارتے ہوئے بلکل نہیں سوچوں گا___اس نے ایک اور چماٹا جڑ دیا اور پھر بلیڈ کا ایک وار اس کی گردن پر کرتے ہوئے اسے زخمی کر دیا___جلدی کرو اس سے پہلے کہ میں ان سب بلیڈز کو تمہارئے جسم میں پرو دوں___رادیہ اس کی دھمکی سے ڈرتے ہوئے نا چاہتے ہوئے بھی وجیہہ کا آپریشن کرنے لگی اگلے چند گھنٹوں میں وہ اس کے پیٹ کو چاک کرتے ہوئے وہ انسانی نطفہ نکال چکی تھی جو ماں اور باپ کے باہمی ملاپ کے بعد ایک نئی زندگی کی جانب گامزن تھا
رادیہ کھڑکی سے باہر جھانکتے میکال کی طرف بڑھی اور بائیو میڈیکل کور میں بند کر کے اس ننھی جان کو میکال کے سپرد کر دیا___تم یہ اچھا نہیں کر رہے میکال جو ظلم تم نے اپنی بیوی پر کیا ہے اس کا اندازہ بھی ہے کیا؟رادیہ نے کمال مہارت سے جملہ بول کر ریکارڈ کروا دیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ سردار اس سب کی ویڈیو بنا رہا ہے__اچھا تو جو تم پہلے کرتی تھی وہ___وہ میں صرف تمہارئے ہاتھوں مجبور تھی اس سب میں میرا کوئی قصور نہیں تھا___مجبور___میکال لفظ کھینچتا ہوا اس کے قریب گیا اور اس کی ٹھوڑی کو ہوا میں بلند کرنے لگا___میں تمہاری ساری مجبوریاں جان چکا ہوں رادیہ تم کیا سمجھتی ہو کہ مجھے تمہاری چالاکیاں سمجھ نہیں آتی___دور ہٹو مجھ سے سمجھے تم میں مزید تمہارا لحاظ نہیں کروں گی
رادیہ نے اسے پیچھے دھکیلا جس پر وہ جانوروں کی طرح اس پر ٹوٹ پڑا چند ہی لمحوں میں وہ اس کا لباس چاک کر چکا تھا اس کی تمام مزاحمتیں کسی کام نہیں آ رہی تھی میکال سلطان نے اسے اٹھا کر آپریشن بیڈ پر پٹخا___تم میرئے خلاف ثبوت اکھٹا کرنا چاہتی ہو ناں رادیہ لو آج میں تمہارا پیٹ چاک کر کے تمہیں بطور ثبوت چھوڑ کر جاؤں گا___دو تین زوردار مکے کھانے کے بعد وہ بلکل بے حال پڑی تھی اس کی ناک سے خون بہنے لگا تھا___میکال سلطان کیساتھ تو گیم کھیل کر خود بچ جانا چاہتی ہے حالانکہ اس سارئے کھیل میں تم مجھ سے اپنا پورا حصہ وصول کرتی رہی ہو آج تمہیں میکال سلطان کو دھوکہ دینے کی سزا ضرور ملے گی__میکال نے تیز دھار چاقو رادیہ کے جسم پر رکھا کہ اتنے میں دروازہ کھولا
اور سردار نے ایک سیدھا فائر میکال کی طرف کیا جو اس کے جسم کو چھوتا ہوا گزر گیا سردار ان دونوں کے خلاف ثبوت اکھٹے کرنے ہی یہاں آیا تھا آج اسے وہ ان دونوں کی ویڈیوز کی صورت میں مل گئے تھے ثبوت مل جانے کے باوجود وہ ان کو مارنے کی بجائے قانون کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا کیونکہ ایک خفیہ آفیسر ہونے کے ناطے یہی اس کا فرض تھا___تم دونوں میں سے کسی نے کوئی بھی حرکت کی تو میں گولی مار دوں گا اس ہسپتال کے چاروں طرف سے پولیس نے گھیر لیا ہے اس لئے بہتر ہے کہ تم دونوں خود کو میرئے حوالے کر دو___رادیہ پھٹی آنکھوں سے سردار کو دیکھتی رہ گئی تھی___یو آر انڈر آریسٹ____وہ پسٹل تانے ہوئے میکال کی طرف بڑھا جو معنی خیز انداز میں اسے دیکھ رہا تھا___تم مجھے گرفتار کرو گے لڑکے میکال سلطان کو___وہ زور سے ہنسا
تم نے تھوڑی سی بھی حرکت کی تو یاد رکھنا اب کی بار گولی تمہارئے سینے میں اتاروں گا____چلو میں رادیہ کو کاٹنے لگا ہوں اگر تم یہ منظر نہیں دیکھ سکتے تو باہر دفعہ ہو جاؤ__وہ اس کے پسٹل کو بلکل اگنور کر چکا تھا وہ اسے بول رہا تھا جیسے اسے انجام کا کوئی ڈر ہی نہ ہو___تم اپنی جگہ سے ذرا بھی ہلے تو انجام بہت برا ہو گا میکال___سردار کی اس دھمکی نے بھی اس پر کوئی اثر نہیں کیا تھا اس نے بے حال پڑی رادیہ پر بلیڈ سے پہلا وار کیا___رک جاؤ مجھے مجبور مت کرو کہ مجھے تمہیں گولی مارنی پڑئے___سردار کی یہ دھمکی بھی ضائع گئی جب اگلہ بلیڈ رادیہ کو لگا وہ زور سے چلائی ٹھیک اسی وقت سردار نے ایک گولی چلائی جو میکال کے قریب آ کر اس کی آنکھوں کے اشارئے سے اپنی سمت بدل گئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے میکال نے سردار کو وہی پتھر کی طرح منجمد کر دیا یہ منظر دیکھتے ہی رادیہ چیخنے لگی مگر اس کی چیخوں کو سننے والا وہاں کوئی نہیں تھا میکال نے ایک ایک کر کے اس کے جسم کے تمام اعضا کاٹ کر اسے قتل کر دیا اور پھر وہ بائیو کور میں محفوظ زندگی کو لے کر وہاں سے چھو منتر ہو گیا
انسانی لڑکی کی حالت اب کافی بہتر تھی جادوئی علاج سے اسکا حلیہ پہلے سے بہتر ہو چکا تھا مگر جسم کے زخم بھرنے کو ابھی وقت چاہیے تھا وہ مندمل سے آنکھیں کھولے چاروں طرف دیکھنے لگی آخری وقت تک اسے یہی یاد تھا کہ وہ مرچکی ہے وہ حیرت سے اس خوبصورت خوابگاہ کو دیکھنے لگی جسکے ملائم بستر پہ وہ شاہی لباس میں موجود تھی اسی وقت سارسہ رانی کے حکم سے ایک چڑیل اس کو تیار کرنے آئی اٹھ گئی تم انسانی لڑکی پہلے سے کافی بہتر لگ رہی ہو اب چلو تمہیں تیار کرنے کا وقت آیا ہے سارسہ رانی کو زیادہ انتظار کی عادت نہیں وہ اسے بازو سے کھینچ کے لیجانے لگی __
کککون سارسہ کہاں لے کر جارہی ہو تم مجھے __ مجھے چھوڑدو میں نے کچھ نہیں کہا مممجھے مت مارنا پلیز میں پھر مرنا نہیں چاہتی خوف سے اترے ہوئے چہِہرے سے وہ گڑگڑانے لگی ___ بیوقوف لڑکی تمہیں مارنے کیلیے نہیں تیار کرنے کے لیے لے کرجارہے ہیں اب اپنا منہ بند رکھو ___ سفید موتیوں سے سجے لباس میں جسکی کلیاں چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی ساتھ ہی مناسب زیورات اور آرائیش سے اس کو تیار کیا گیا وہ اس لباس میں بےحد جچ رہی تھی وہ سر جھکائے سارسہ رانی کی منتظر تھی __ ہنہ اچھی تیاری ہے بس شاہ جنات اس سے خوش ہوجائیں تو گھاٹے کا سودا نہیں__سارسہ رانی اپنی خادمہ کی طرف معنی خیزی سے دیکھ کر بولی تمہیں اسکا انعام ضرور ملے گا ___ کچھ ہی دیر میں شاہ جنات نے محل میں داخل ہوتے غیر معمولی تیاری محسوس کی__ آئیے شاہ جنات مجھے بےصبری سے آپکا ہی انتظار تھا سارسہ رانی شاہ جنات کے قریب گئی__ آپکے لیے آج ایک خاص تحفہ لائی ہوں کافی وقت ہوگیا تھا آپکو کوئی تحفہ دیے __
ایسا بھی کیا ہے سارسہ رانی جس سے آپ کے چہرے پہ انوکھی ہی مسکراہٹ ہے شاہ جنات آبرو اچکا کے بولا __ لے آو اسکو سارسہ رانی نے چند دیو ہیکل جنوں کو حکم دیا __ ڈری سہمی سی لڑکی حیرت سے سارسہ رانی شاہ جنات اور آس پاس کے جن اور پریوں کو دیکھنے لگی اس طرح کا محل وہ پہلے بھی دیکھ چکی تھی__ شاہ جنات نے غور سے زمل کو دیکھا کون ہے یہ لڑکی سارسہ وہ کڑک لہجے میں بولا ___ یہ ایک انسانی لڑکی ہے جسکو میں آپکے لیے لائی ہوں سارسہ رانی فخر سے بتانے لگی میرا تحفہ کیسا لگا آپکو __ایک انسانی لڑکی یہاں؟مگر کیوں___آپ کو ہمیشہ سے انسانی لڑکیوں کی چاہت رہی ہے شاہ جنات____پہلے ہی میں ڈیفنی کے باپ کو دیا وعدہ پورا نہیں کرپایا اسکو لیوسفر سے بچا نہ سکا اگر اس انسانی لڑکی کو بھی نقصان پہنچادیا تو میں اپنی رعایا کو کیا منہ دیکھاؤں گا__بوڑھے ہو چکے شاہ جنات نے ایک نظر صرف لڑکی پر ڈالی تھی___
یہ اچھا موقع ہے سب کے دلوں میں جگہ بنانے کا شاہ جنات لڑکی کے معصوم چہرے کو دیکھ کر سوچتا ہوا زمل کے قریب آیا وہ بےبسی سے آنے والے وقت کے لیے خود کو سمبھالنے لگی اس نے زور سے اپنی آنکھوں کو میچ لیا تبھی شاہ جنات نے اپنا ہاتھ اس کے سر پہ رکھ دیا مجھے یہ لڑکی منظور ہے سارسہ یہ ہماری بیٹی ہوگی آج سے __ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ یہ لڑکی کبھی ہماری بیٹی نہیں ہوسکتی ایک عام لڑکی کو میں کبھی اپنی بیٹی نہیں بناونگی___سارسہ رانی طیش سے چلائی __ جہاں تک میرا خیال ہے ہمارے اردگرد سب جن بستے ہیں ان میں ایک انسانی لڑکی عام نہیں ہوسکتی یہ آج سے ہماری بیٹی ہے اور میں اسکو نام دونگا شاہ جنات کی بیٹی شہزادی فاریہ اس محل کی شہزادی___شاہ جنات شاد چہرئے سے بولا___التمش یہ آج سے تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم یہاں کے کچھ جادوئی تدبیریں ہماری بیٹی کو سیکھاو تاکہ وہ اپنی حفاظت کرسکے __ مگر شاہ جنات آپ ایک بار پھر _بس سارسہ یہ میرا آخری فیصلہ ہے
محل میں رہتے ہوئے فاریہ کو کافی وقت ہوچکا تھا وہ یہاں کے ماحول اور لوگوں میں کافی حد تک گھل مل گئی تھی کھانے کے میز پہ بیٹھتے شاہ جنات فاریہ سے مخاطب ہوا___ اب جبکہ تم ہمارے خاندان کا حصہ بن چکی ہو تو میں اپنی رعایا کے سامنے تمہارا تعارف کرانا چاہتی ہوں کیا تم اس بات پہ راضی ہو ؟؟ جی بلکل مجھے خوشی ہوگی آپکے علاوہ میرا کوئی نہیں اور میں خود کو خوش نصیب تصور کرتی ہوں جب سے آپ نے مجھے اپنی بیٹی کا مقام دیا ہے بابا ___
سارسہ جلتی آنکھوں سے یہ منظر دیکھنے لگی اسکی کیا ضرورت ہے شاہ جنات میرا مطلب ہے کہ ایسے آپکے دشمن چوکنے ہوجائینگے__ میں چاہتا ہی یہی ہوں میرے دشمنوں کو اس بات کا پتہ لگے کہ شاہ جنات کی بھی اب ایک نسل ہے وہ مسکرا کر بولے شاہ جنات کے حکم پر ہر طرف کوقاف کو قمقموں خوشبودار پھولوں اور روشنیوں سے سجایا گیا طرح طرح کی انواع اقسام کی لذیذ کھانے خوبصورت شاہی ملبوسات اور رنگ برنگی تتلیوں کا رش خاص ترین کنیزوں اور چڑیلوں کا موسیقی کی دھاپ پر رقص کا انتظام گویا کہ جنت کا نظارہ ہو ایسی بڑی دعوت کا انتظام شاہ جنات کے محل سے پہلی بار کیا گیا تھا سیاہ لمبے بالوں کا مانگ نکالے سر پر ہیروں سے سجا تاج ہلکے گلابی رنگ کے جالی دار فراک جس پر کوقاف کے اعلی موتیوں کا کام تھا کانوں میں چمکتے چھوٹے سے آویزے ہلکے براون أنکھوں پر کالی لمبی پلکوں کا سایہ اور اسکی چمکدار رنگت فاریہ اس حلیے میں کسی جنتی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی __ آپ بہت حسین لگ رہی ہیں شہزادی لگتا ہے میلے میں کوئی نہ کوئی آپ پر اپنا دل ہار ہی بیٹھے گا __ہمارا دل جب کسی کی یاد میں ڈھرک رہا ہو اور اس پر اختیار بھی نہ ہو تو پوری دنیا کے ہجوم کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی وہ ایک نظر ہی خاص لگتی ہے جن نظروں پہ ہم فدا ہوں ہماری روح ہمارے جسم اور ہمارے دل کو جس نے اپنا یرغمال بنایا ہو وہ دور دور تک اس میلے کا باسی نہیں __خیر چلو کافی دیر کردی ہم نے __
پریوں کے جھرمٹ میں فاریہ شاہ جنات اور سارسہ رانی کے ساتھ آتی سب کے توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی سب شاہ جنات کی اس بیٹی پر حیران تھے جو اچانک ان کے درمیان آئی تھی کئی لوگ خوش تو کئی لوگ حسد کے مارے جلن کا شکار تھے ہر کوئی بڑھ چڑھ کر فاریہ کو دیکھنے آرہا تھا__ ہر کسی کی زبان پر شاہ جنات کی بیٹی کا ذکر تھا__اس محل میں موجود ہی ایک شخص اس لڑکی پیٹھ پر چمکتے مول کو دیکھنے لگا اس کا دل زوروں سے ڈھرک رہا تھا جیسے وہ اسے جانتا ہو اس شخص نے فاریہ کو پکارنے کی کوشش کی مگر جنات کا ہجوم اس کی آواز کو وہی دبائے بیٹھا تھا اس تھکے ہار شخص نے آخر اپنے اندر موجود تمام طاقت کو جمع کر کے زوردار آواز دی جو ہجوم کو چیرتے ہوئے اسٹیج پر بیٹھی شاہ جنات کی بیٹی فاریہ شہزادی تک پہنچ گئی وہ شخص زمل سلطان شہزادی کے نام سے پکارا تھا یہ نام سنتے ہی وہ حیرانگی سے پلٹی کیونکہ یہاں یہ نام ایک شخص ہی جان سکتا تھا اور وہ تھا فاسیر جو اب اس کے سامنے کھڑا تھا زمل کی تلاش میں تھک ہار چکے فاسیر کی جان میں واپس جان آئی تھی
زمل اپنا لباس دونوں ہاتھوں سے تھامتی بھرے مجمعے سے فاسیر کی طرف بھاگی __ فاسیر تتم اس نے حیرت بے یقینی اور خوشی سے آنکھوں میں آنسو لیے فاسیر کو دیکھا __ مجھے لگا اب میں تمہیں کبھی نہیں دیکھ پاونگی لیکن تم آگئے میرے لیے___وہ خوشی نہال ہوتے ہوئے بولی تھی ایک دم فاسیر نے زمل کوخود گلے سے لگایا زمل کو فاسیر سے ایسے والہانہ پن کی امید نہیں تھی وہ حیرانگی سے اسکے سینے سے لگی___زمل شہزادی مجھے تمہاری خوشبو یہاں تک کھینچ لائی میری سماعتیں نہ جانے کب سے پرستان کا راستہ دیکھ رہی تھی ہر دن کے ساتھ مجھے لگتا تھا تم میرے اور قریب ہوتی جارہی ہو مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ تم کوہ قاف میں بھی ہو سکتی ہو اس نے اپنے عنابی لب زمل کے کانوں کے پاس کیے
تمہیں مجھے ایسے چھوڑ کر نہیں آنا چاہیے تھا تمہیں کہا بھی تھا کہ اس بار کوئی بے وقوفی مت کرنا اسکی لبوں کی لو اور سرد لہجے کو محسوس کرتے زمل خوف سے آنکھیں بڑی کیے اسے دیکھنے لگی ممجھے لگتا ہے ہم بھرے مجمعے میں کھڑے ہیں تم ذرا دور ہٹو جن کہیں کے__فاسیر نے زمل کو مزید گھورا__ایسے مت گھورو تمہاری وجہ سے ہی وہ سب ہوا اور مجھے لیوسفر سے بچانے بھی نہیں آئے تم اور اب اتنی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کونسا پیار کرتے ہو تم مجھ سے___وہ بھیگے لہجے میں بولی تھی لیوسفر کے نام پہ فاسیر ایک دم چونک پڑا تھا وہ الجھ کر رہ گیا __ کتنا فضول بولتی ہو تم شہزادی __تمہیں پتہ ہے اتنی دیر تک دو ہی لوگ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں ایک خطرناک دشمن اور دوسرے محبت کرنے والے__تمہیں کیا نظر آرہا ہے میری أنکھوں میں _ ککچھ نہیں وہ آنکھیں چرا چکی تھی__ مجِھے تو محبت ہی محبت نظر آرہی ہے زمل
ادھر پورے مجمعے میں چہ مگوئیاں ہونے لگی شاہ جنات کی بیٹی کا فاسیر جن سے کیا تعلق ہو سکتا تھا ہر کوئی تجسس بھری نظروں سے سامنے کا منظر دیکھتے سارسہ رانی طنزیہ انداز میں شاہ جنات سے مخاطب ہوئی کہا تھا ناں میں نے یہ لڑکی اس قابل نہیں کہ ہماری بیٹی ہوسکے بھرے محفل میں ہماری عزت دو کوڑی کی کردی___شاہ جنات نے طیش میں آ کر زمل اور فاسیر کے قریب آتے ہی زمل کو بازوو سے پکڑ کے فاسیر کی بانہوں سے نکال لیا__بند کرو یہ تماشہ کیا چل رہا ہے یہ وہ غصے دھاڑا___تمہاری ہمت کیسے ہوئی یوں بھرے محفل میں شاہ جنات کی بیٹی کو چھونے کی__شاہ جنات یہ آپکی بیٹی نہیں زمل سلطان ہے زمل سلطان ایک انسانی لڑکی !!! وہی جس کو میں اپنے ساتھ لایا تھا__ مجِھے تمہاری کوئی بکواس نہیں سننی فاسیر اور شاید کسی نے تمہیں بتایا نہیں اسلیے ایسی بہکی باتیں کررہے ہو یہ شہزادی فاریہ ہے میری اور سارسہ رانی کی بیٹی__کون شہزادی فاریہ فاسیر نے الجھی نظروں سے زمل کو دیکھا آپ کو کوئئ غلط فہمی ہوئی ہے یہ زمل ہے کوئی فاریہ نہیں فاسیر ضبط سے بولا __ تم میری دعوت.میں خلل ڈال رہے ہو فاسیر _ شاہ جنات زمل کو اپنے قریب کرتے بولا یہ شہزادی فاریہ کوہ قاف کی شہزادی ہے اسکا تم سے کوئی تعلق نہیں اب تم جاسکتے ہو __ آپکو اگر مجھ پر یقین نہیں تو پوچھیں اس سے کون ہے یہ اور کیا تعلق ہے میرا اس لڑکی کیساتھ____
شاہ جنات سوالیہ نظروں سے زمل کو دیکھنے لگا آخر کو جانتا تو وہ بھی تھا کہ یہ ایک انسانی لڑکی ہی ہے تبھی سارسہ رانی نے زمل کو بازو دبوچا___بولو لڑکی تم اسے جانتی ہو کیا___ ہاں میں جانتی ہوں مجھے فاسیر ہی لایا تھا یہاں لیوسفر سے میری حفاظت کرنے وہ میری جان لینا چاہتا ہے___زمل نے ایک ہی سانس میں ڈیفنی اور لیوسفر کی ساری داستان سنا دی تھی جسے سن کر فاسیر سمیت شاہ جنات اور سارسہ رانی آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگے __ نہیں تم جھوٹ بول رہی ہو ڈیفنی ایسا کچھ نہیں کرسکتی خود کو ہماری نظروں میں اچھا دیکھانے کے لئے تم ڈیفنی پر الزام لگارہی ہو یا پھر تمہیں حسد اور جلن نے یہ کہنے پہ مجبور کردیا سارسہ رانی غصے سے غرائی __ میرا یقین کریں ایسا ہی ہے ڈیفنی سب کچھ ختم کرنا چاہتی ہے اسے اس پرستان پر قبضہ چاہیے __ شاہ جنات میں تو کہتی ہوں اتنے بڑے الزام پر ابھی اسی وقت اسکا کام تمام کردیں یہ ڈیفنی کے متعلق ایسا کیسے بول سکتی ہے __
کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یاد رکھیے گا یہ پرستان سازشوں کا گھر ہے زمل کوایک موقع ملنا چاہیے خود کو ثابت کرے فاسیر بے چینی سے بولا تھا اسے پہلے ہی ڈیفنی پر شک تھا زمل کے انکشافات نے اسے مزید بے چین کر دیا__بس فاسیر تم اسکی جان بخشی نہیں کرا سکتے__سارسہ رانی نے بپھر کر تنبیہہ کی __رک جاو سارسہ شاہ جنات کی آواز گونبجی ہم تمہیں ایک موقع دیتے ہیں خود کو ثابت کرو اور اگر تمہاری کہی ایک بات بھی غلط نکلی تو اپنے خوفناک انجام کے لیے تیار رہنا اپنے ہاتھوں سے تمہاری جان لونگا__.اس لڑکی کو میرئے ساتھ جانے دیں تاکہ میں اس کی بتائی باتوں کو سچ ثابت کر دوں اس ڈیفنی پر تو مجھے پہلے دن سے ہی شک تھا
شاہ جنات کے محل سے نکلتے ہی وہ دونوں گھوڑئے پر سوار ہو کر اپنے اگلے سفر کی طرف نکل پڑئے تھے___کیا اب تک حیا محل میں ہی ہو گی فاسیر؟زمل نے فکرمندانہ لہجے میں پوچھا لیوسفر اور ڈیفنی کے میل کی وجہ سے وہ حیا کے معاملے میں فکرمند تھی کیونکہ وہ جانتی تھی لیوسفر حیا کیساتھ کیا سلوک کرنے والا ہے___تم بھی سوچتے ہو گئے فاسیر کہ زمل نے تمہیں کس نئی مصیبت میں مبتلا کیا ہوا ہے___اسے خاموش دیکھ کر زمل نے بات بڑھائی___محبوب کی مشکلات کو اپنی مشکل سمجھنا ہی رمز محبت ہے اور یہاں تو ساری مصیبت ہی ہماری طرف سے شروع ہوئی___اس نے اپنے اگلی جانب گھوڑئے پر بیٹھی زمل کو محبت سے دیکھا تھا___شاید ہمارا ملنا ہی وہ حادثہ تھا فاسیر___ہر مشکل کے بعد آسانی ہے زمل اور میں وہ خوش قسمت ہوں کہ جس کی مشکلات کا اجر مشکلات ختم ہونے سے پہلے ہی مل گیا میری تمام مشکلات کا اجر تم ہو زمل___اور شاید میری تمام محرومیوں کا مدوا تم اور تمہاری صورت___گھوڑا ڈیفینی کے محل تک پہنچ کر رک گیا وہ دونوں محل میں داخل ہوتے اندر تک چلے آئے تھے___ملکہ ڈیفنی پرستان کی سیر پر نکلی ہوئی ہیں فاسیر تم اس لڑکی کیساتھ کہاں گھستے آ رہے ہو___انجلینا نے محل کے اندر دونوں کو روک لیا تھا__مت کہو اس ڈائن کو ملکہ وہ اس قابل نہیں کہ اسے ملکہ کہا جائے___فاسیر غصے سے چلایا تھا___
زبان سنبھالو فاسیر اگر تم ملکہ کے نکاح میں نہ ہوتے تو مجھے اس گستاخی پر تمہیں سزا دینا پڑنی تھی___انجلینا کے اس انداز پر زمل نے ڈرتے ہوئے فاسیر کو تھام لیا تھا___ہمیں تو پہلے ہی یقین تھا فاسیر کہ یہ انسانی لڑکی تمہارا دماغ ضرور خراب کرئے گی___انجلینا نے طنز کیا تھا__تمہیں یاد بھی ہے کہ تم نے ملکہ سے نکاح اس کی حفاظت کے لئے کیا تھا___میرئے خیال سے ملکہ سے زیادہ حفاظت کی ضرورت اس پرستان کو ہے تم سب کو ملکہ کے شر سے بچنا چاہئیے___اب اگر تم نے ڈیفنی کے متعلق کچھ بھی کہا تو میں بھول جاؤں گا کہ تم بھی ہماری برادری سے ہو فاسیر___ملکہ کی توہین سن کر عوج غصے سے فاسیر کو وارننگ دینے لگا___چاپلوس جن یہ ڈیفینی ڈائن ایک دن تمہیں بھی مار دئے گی___
مگر اس سے پہلے میں اس انسانی لڑکی کو مار دوں گا جو یہاں فساد کروا رہی ہے___عوج غصے سے زمل کی طرف لپکا تھا اپنی طرف آتے عوج کو دیکھ کر وہ فاسیر کے پیچھے ہو گئی تھی___تم اس سے دور رہو تو اچھا ہو گا عوج___عوج پر فاسیر کی وارننگ کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا اس سے پہلے کے عوج کا ہاتھ زمل تک پہنچتا فاسیر نے اپنی جادوائی تلوار سے اس کا بازو کاٹ دیا___فاسیر تم ہوش میں تو ہے پرستان کے محل میں خون خرابہ کرنے کی اجازت بلکل نہیں ہے تمہیں اس کی سزا ضرور ملے گی___انجلینا غصے سے لال ہو گئی تھی___اچھا تو جو خون خرابہ ڈیفنی اس محل میں کر چکی ہے اس کا کیا؟؟فاسیر سوالیہ انداز میں مخاطب ہوتا انجلینا کے بلکل قریب چلا گیا تھا___تم اپنی حدود سے آگے بڑھ رہے ہو فاسیر___حدود کا تعین بہت پہلے کر لیا جاتا تو بہتر تھا مگر اب بہت دیر ہو گئی ہے___وہ اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا___آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو فاسیر___یہی کہ تمہارئے بھائی ایمر کا قتل ملکہ ڈیفنی کے خود کیا تھا___
فاسیر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے چونکا دینے والا انکشاف کیا___کیا ایک انسانی لڑکی کے پیچھے تم اتنا گر سکتے ہو فاسیر___وہ اپنا لہجہ سرد کر چکی تھی___تمہیں شرم کرنی چاہئیے____ہاں مگر وہ شرم ہم سب کو کرنی چاہئیے جو ڈیفنی کے ہاتھوں بیوقوف بنے کیونکہ وہ خود لیوسفر کیساتھ ملی ہوئی ہے___بکواس بکواس بکواس یہ سب بکواس ہے ہزاروں پریوں پر ظلم کرنے والے اور سینکڑوں جنات کے قاتل لیوسفر کیساتھ ملکہ کیسے مل سکتی ہے یہ سارا فتور اس لڑکی نے تمہارئے دماغ میں بھرا ہے فاسیر اور تم اس پر بہت پچھتاؤ گے___وہ زمل کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے بولی___یہ فتور نہیں سچائی ہے اور زمل اس سب کا ثبوت ہے کیونکہ یہ اس کا وہ روپ دیکھ چکی ہے جب وہ اسے مار کر جنگل میں پھینک گئے تھے
ایک ایسی لڑکی جو ایک دوسری دنیا سے آئی ہوئی ہے جس کا اس پرستان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں اس کے کہنے پر تم؟؟؟فاسیر تمہارئے باپ نے ملکہ کے باپ سے وعدہ کیا تھا اور تم_____وہ سوالیہ انداز میں فاسیر کو دیکھنے لگی__انجلینا تم صرف ایک بار میری بات کا یقین کرو تمہارئے بھائی ایمر کیساتھ ہزاروں پریوں پر ظلم کی ذمہ دار بھی ڈیفینی ہی ہے____تمہیں لگتا ہے کہ تمہاری اس بات کا یقین میں کروں گی؟وہ بھی اس عام انسانی لڑکی کے کہنے پر___یہ اب عام انسانی لڑکی نہیں ہے یہ شاہ جنات کی اکلوتی بیٹی فاریہ ہے تم زمل کو عام لڑکی سمجھ سکتی ہو مگر فاریہ کو نہیں کیونکہ فاریہ کی ہر بات شاہ جنات کی بات ہے___فاسیر کے اشارئے پر زمل نے گلے میں پہنا شاہ جنات کا مخصوص لاکٹ انجلینا کو دیکھایا تھا____
یہ کیسے ہو سکتا ہے فاسیر ایک عام انسانی لڑکی___کچھ بھی ہو سکتا ہے انجلینا کچھ بھی____مگر ملکہ ایسا کیوں کرئے گی___اپنی خوبصورتی کو برقرار رکھنے اور ہمیشہ جوان رہنے کے لئے تاکہ وہ ہمیشہ پرستان کی ملکہ رہے کیا تم نے نہیں دیکھا کہ پرستان کی تمام خوبصورت پریاں اب لیوسفر کی قید میں ہیں اور ڈیفینی ہر گزرتے دن خوبصورت ہو رہی ہے___تم جانتے بھی ہو کہ اگر یہ بات جھوٹ نکلی تو اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے___اس وقت اس انجام سے ڈرنے کی ضرورت ہے جو ڈیفنی کرنے جا رہی ہے وہ انسانی لڑکی کہاں ہے جو میں نے یہاں ملکہ کے حوالے کی تھی___آج صبح وہ باہر نکلی تھی پھر غائب ہو گئی___انجلینا ہکلاتے ہوئے بولی___کیا تم نے کبھی سوچا کہ آخر تم کیوں غائب نہیں ہوتی ؟؟کیونکہ ڈیفنی کو تم سے کوئی خطرہ نہیں ہے یہاں سے وہی شخص غائب ہوتا یا مرتا ہے جس سے ڈیفنی کو کچھ خطرہ ہو ذرا سوچو جو لیوسفر یہاں سے پریاں اٹھا سکتا ہے وہ ڈیفنی کو کیوں نہیں لے جاتا___فاسیر مجھے ڈر لگ رہا ہے___حیا کی گمشدگی کی خبر سن کر وہ بے چین ہو گئی تھی___ہمیں حیا کو ڈھونڈنے جانا چاہئیے
نہیں اگر ہم حیا کو ڈھونڈنے نکلیں گے تو بہت دیر ہو جائے گی اس لئے کچھ ایسا کرنا ہو گا کہ ملکہ ہمیں ڈھونڈتے خود یہاں آ جائے___وہ گہری سوچ میں مبتلا ہوا تھا___انجلینا کیا تم ہماری مدد کرو گی___پتہ نہیں فاسیر مجھ سے یہ ہو پائے گا یا نہیں تمہاری باتوں سے میرا سر چکرانے لگا ہے___تمہیں صرف پرستان میں یہ خبر پھیلانی ہے کہ پرستان کی ملکہ ڈیفینی لیوسفر کے ہاتھوں ماری گئی ہے اس لئے اب نئی ملکہ پرستان کی رانی بنے گی یہ خبر سنتے ہی ڈیفنی غصے سے محل میں ضرور واپس آئے گی___مگر وہ نئی رانی کون ہو گی؟انجلینا کے سوال نے اسے سوچنے پر مجبور کیا تھا___شاہ جنات کی بیٹی فاریہ ہاں فاریہ ہی بنے گی پرستان کی رانی___مگر یہ انسانی لڑکی پرستان کی ملکہ کیسے بن سکتی ہے___فی الحال ہمارا مقصد ڈیفنی کے محل میں واپس لانا ہے تم اسے ملکہ کی خاص نوکرانیوں کے سپرد کرو وہ اسے ملکہ کی طرح تیار کر دیں گی___مگر فاسیر میں کیسے بن سکتی ہوں مجھے تو اس کی طرح چلنا بھی نہیں آتا وہ تو ہواؤں کا سفر کرتی ہے نہیں نہیں میں نہیں کر پاؤں گی___انجلینا کیا تمہیں کچھ سنائی دئے رہا___فاسیر زمل کے سامنے انجان بننے کا ناٹک کرنے لگا___بلکل نہیں فاسیر___جاؤ پھر فاریہ کو لے جاؤ___فاسیر کے ایک اشارئے پر انجلینا اسے لے گئی تھی دوسری طرف انجلینا کے ایک اشارئے پر خبر پرستان میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی
ڈری سہمی سی حیا شدت سے وجیہہ اور میکال کو یاد کررہی تھی جو اسے بھول ہی چکے تھے ویسے تو مام کو میری بہت فکر رہتی تھی اب مجھے بچانے کیوں نہیں آتی یہاں سے اور ڈیڈ کو بھی پرواہ نہیں کوئی اپنی بیٹی کو کیسے بھول سکتا ہے وہ اداسی سے کھڑکی کے اس پار دیکھ کر سوچ میں پڑگئی کہیں انکو یہ تو نہیں لگ رہا کہ میں مرگئی ہوں ___ چھوٹی لڑکی کیا کررہی ہو وہاں تم اپنے پیچھے سے آتے آواز کے ساتھ حیا مڑی تو ڈیفنی شیطانی مسکراہٹ سے کھڑی تھی __ ککچھ نہیں میں تو بس ایسے ہی __ اب تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے آج تمہاری آزادی کا دن ہے اور تمہارے نئے جنم کا بھی __ کیا مطلب اس بات کا وہ نہ سمجھتے ہوئے الجھی __ چلو میرے ساتھ ابھی پھر تمہیں پتہ چل گیا کیا مطلب ہے میرا __
نہیں مجھے یہاں فاسیر لایا تھا اور اسی کے ساتھ جاونگی میں تم مجھے ایسے نہیں لے جاسکتی کہیں بھی حیا خوف زدہ ہوکر بولی __ خاموش رہو پاگل لڑکی فاسیر تو تمہیں یہان لاکر بھول ہی گیا ہے اب تک اسے یاد بھی نہیں ہوگا کہ حیا بھی ہے تو اچھا ہوگا چپ چاپ میری بات مان لو ڈیفنی غرا کر بولتی حیا کو بازو سے کھینچ کر لے جانے لگی ___ میں نہیں جاونگی کوئی مدد کرو میری فاسیر مدد کرو میری _ حیا کے شور مچانے سے ڈیفنی گھبرا چکی تھی کسی کو بھی بھنک پڑنے سے اسکا کام خراب ہوسکتا تھا
اپنی پوری طاقت سے آگ کا ایک گولہ پھیکنے پر زمین پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تبھی ڈیفنی حیا کو اس گڈے میں دھکا دیتی خود بھی نیچے اتر گئی اور واپس اس جگہ کو اسکی اصلی حالت میں لے آئی __ حیا حیرت سے اس جگہ کو دیکھنے لگی جہاں مختلف اعضا اور جادو کی نہ جانے کونسی چیزیں شامل تھی اب اسکے ساتھ کیا ہونے والا تھا سوچ کر ہی اس پر کپکپی چھاگئی __ بڑا سا دیو ہیکل سایہ پیٹھ موڑے بولا تو آخر کار تم اسکو لے ہی آئی ڈیفنی ہمارے منزل کی آخری کڑی __ تم نے بولا تو لانا ہی تھا لیوسفر اتنے سالوں کا انتظار ہے ہمارا اور بس چند لمحوں کا کھیل اسکے بعد سب ہمارے قبضے میں اس دن کا مجھے کب سے انتظار تھا __ سہی کہا تم نے ان انسانوں پہ کافی محنت کی ہے ہم نے اب اسکو چکانے کا وقت آگیا ہے _ شیطان میکال کی پیاری سی معصوم بیٹی حیا وہ استہزائیہ ہنسی ہنستا حیا کے قریب آیا
مجھے چھوڑدو میرا کوئی قصور نہیں تمہارا جو بگاڑا زمل اور فاسیر کا قصور تھا میں تم سے بھیک مانگتی ہوں جانے دو حیا ہاتھ جوڑتی سسکتے ہوئے بولی __ جانے دونگا حیا لیکن اس سے پہلے یہ آخری داو کھیلنے دو جو کام وہاں ادھورا تھا اسے آج مکمل کرینگے __ ہاتھ کے اشارے سے ایک جادوئی چھڑی لاتے وہ منتر پڑھنے لگا جسکی گونج سے حیا اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ گئی وہ پاگل ہونے والی تھی یہ سب اسکے لیے نیا تھا __مجھے کیا ہورہا ہے
یہ لٹھے کی مانند سفید چہرے سے اپنا گردن دباتی وہ سانس لینے کی کوشش کرنے لگی جو آہستہ آہستہ اسکی جسم سے خارج ہورہا تھا دیکھتے ہی دیکھتے حیا کا وجود بے جان ہو کر ایک طرف لڑھک گیا ایک سفید نور جیسی روشنی لیوسفر کی طرف آئی جسے وہ فورا شیشی میں قید کرگیا آہاں یہ ہوگیا __ اب اس نئی ننھی جان کی زندگی کو جادو سے وہ حیا کے جسم میں منتقل کرنے لگا __ بس ڈیفنی اب ہمیں کوئی نہیں روک سکتا دیکھو یہ سب کیسے ہورہا ہے وہ خوشی سے نہال لہجے میں بولا __ حیا کے وجود میں جنبش ہوئی وہ ایک نئی جان بن چکی تھی بلکل ہر احساس سے عاری جیسے کوئی کٹھ پتلی ہو
لیوسفر شیطانی چال چلتا حیا کے قریب آیا اور اسے بازو سے اٹھاتے اپنے قریب کیا __ اب وقت آگیا ہے جب تمہارا یہ نوخیز جسم میرے آگ کے شعلوں سے اس پرستان پر دہشت پھیلا دے اسے بستر پر پھینکنے کے بعد لیوسفر اسکے نرم و گرم برہنہ وجود کو گھورنے لگا جو کسی گلاب کی مانند سرخ و سفید تھا __ ہاتھ کی انگلی کو نرم پنڈلی پہ پھیرتے آہستہ آہستہ وہ ہاتھ ا
حیا کی ٹانگوں کی نرمائی میں گردش کرنے لگے __ تم وہ گلاب ہو جسکے کانٹے بھی چبھ جائیں تو درد کے ساتھ لذت کا احساس اس پر حاوی ہوجائے اور تمہیں چھونے والا کئی بار اس وجود کو مسل کر بھی باز نہ آئے لیوسفر کئی عرصے بعد ایک انسانی جسم کی مہک اور خون کا ذائقہ محسوس کرنے والا تھا پوری طرح حیا پر حاوی ہوتے وہ اپنے منزل کی طرف بڑھ رہا کہ ایک دم ایک آواز کے ساتھ وہ پیچھے مڑا تو ڈیفنی اپنی جگہ سے غائب ہوچکی تھی جبکہ لیوسفر کے حواس اڑ چکے تھے
زمل سفید رنگ کے لمبے دم دار ریشمی لہنگے میں ملبوس،لمبے سیاہ بالوں کو کھولے سر پر خاص ہیرئے جوہرات سے بنا تاج پہنے پورئے جلال کے ساتھ سینکڑوں پریوں کے حصار میں ملکہ پرستان کے تخت کی طرف بڑھ رہی تھی اس کا مخملی بدن پرستان کے خاص پھولوں میں غسل کے بعد مہک اٹھا تھا اس کے چہرئے پر شرم سے پیدا ہوتی ہلکی سی لالکی اس کے حسن میں مزید اضافہ کر رہی تھی اس کے چہرئے کی یہ رنگت تب سے بدلی بدلی تھی
جب پرستان کی خوبصورت پریوں نے اسے خوشبوؤں سے بھرئے تالاب میں اتارا تھا جہاں اس کے برہنہ بدن کیساتھ لگتے کئی پھول اپنی خوشبو اس کے بدن میں جذب کرتے گئے تھے وہ ہزاروں رنگ برنگے پھولوں کی مہک اپنے سینے میں جذب کئے ہوئے تھی محل میں نئی رانی کو دیکھنے آئی ہزاروں پریوں میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ پرستان کی اگلی ملکہ ایک انسانی لڑکی زمل ہے سب کے نزدیک نئی ملکہ شاہ جنات کی اکلوتی بیٹی تھی جس کو شاہ جنات نے ہمیشہ سے چھپا کر رکھا تھا اس لئے پرستان کی ہر پری پر لازم تھا کہ وہ سب باری باری اپنی خوبصورتی کا کچھ حصہ رانی فاریہ کو دیں تاکہ ایک دفعہ پھر پرستان کی رانی کے حسن کے چرچے زبان زد عام ہوں چونکہ ملکہ کی خوبصورتی پرستان کی خوبصورتی کی عکاس تھی
محل میں موجود فاسیر اور انجلینا کے دل کی دھڑکن زمل کے تخت کی طرف بڑھتے ہر قدم کیساتھ تیز ہو رہی تھی اگرچہ انجلینا نے زمل کی حفاظت کے لئے ملکہ ڈیفنی کا مخصوص لاکٹ بھی زمل کو پہنا دیا تھا مگر یہ کتنا کارگر تھا یہ انجلینا کو خود بھی نہیں پتہ تھا جیسے ہی زمل نے اپنا پہلا قدم تخت پر رکھا ویسے ہی بجلی کی سی رفتار سے ڈیفینی محل میں پہنچ گئی جس کو دیکھتے ہی محل میں موجود ہر شخص کے طوطے اڑ گئے تھے وہ سب تو ملکہ کے مرنے کی خبر سن کر نئی ملکہ کو دیکھنے آئے تھے مگر یہاں تو کچھ اور ہی چل رہا تھا
ڈیفنی نے لمحے بھر کے لئے سارئے منظر کو دیکھا تھا اور پھر زمل کو زندہ دیکھ کر ایک دم ششد رہ گئی___تمہاری اتنی ہمت کہ تم پرستان کی ملکہ کے تخت پر اپنا منحوس قدم رکھو___وہ غصے سے لال ہو رہی تھی ملکہ کے تخت پر کسی اور کے قدم لگنے کی خبر اسے فوری وہاں ہو گئی تھی یہ دوسری بار ہوا تھا کہ جب حیا اور لیوسفر کے درمیان زمل آ گئی تھی___دو ٹکے کی انسانی لڑکی دھوکے باز تمہیں پرستان کے معصوم لوگوں کو دھوکہ دیتے ہوئے شرم نہیں آئی___
شرم تو تمہیں آنی چاہئیے ڈیفنی بلکہ شرم لفظ تو بہت چھوٹا ہے جو دھوکہ تم نے پرستان کیساتھ کیا ہے تمہیں تو ڈوب مرنا چاہئیے___دھوکہ فریب اور منافقت یہ زمین زاد صرف انہی حرکتوں سے جانے جاتے ہیں مگر افسوس تو تم پر ہے فاسیر جو ایک انسانی لڑکی کے چکر میں اس طرح پھنسے ہو کہ اپنی زندگی کے تمام اصول ہی بھول چکے ہو___ڈیفنی محل میں موجود پریوں کے سامنے کوئی ایسی حرکت نہیں کرنا چاہتی تھی جس سے اس کی حرکتیں سب کے سامنے عیاں ہوتی___یہ سب الفاظ تمہارئے منہ سے بلکل نہیں اچھے لگتے ڈیفنی میں تمہاری حقیقت جان چکا ہوں تم تو پرستان کی ملکہ کہلانے کے قابل بھی نہیں ہو بلکہ تمہیں تو پرستان کا حصہ سمجھنا بھی پرستان کی توہین ہے تم نے پرستان کی معصومیت پر اپنی مکاریت کا ایسا داغ لگایا ہے کہ جس کی حقیقت جاننے کے بعد طول و عرض کی مخلوقات پرستان کی پریوں کو معصوم سمجھنا چھوڑ دیں گے اور یہ پرستان پر سب سے بڑا ظلم ہو گا جس کی ذمہ دار صرف تم ہو ڈیفنی صرف تم___
فاسیر کے جملے پورئے محل میں گونج اٹھے تھے وہ چاہتا تھا کہ یہ غصے میں خود کوئی ایسی حرکت کرئے جس سے پرستان کے باسیوں کو اس کی حقیقت پتہ چل سکے___یہی مکاریت اور منافقت صدیوں سے انسانوں کا وطیرہ رہی ہے کون نہیں جانتا کہ حضرت انسان کے خمیر میں دھوکہ بغض گہرائی تک سرایت کر چکا ہے یہ لوگ تو کبھی ایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بہن بھائیوں سے مخلص نہیں ہوئے اور تم ان کی وجہ سے پرستان جیسے اونچے اقداری معاشرئے کی ملکہ پر الزام لگا رہے ہو تم صرف پرستان ہی نہیں کوہ فاف کے مجرم ہو فاسیر__وہ اپنی چرب زبانی سے زمل پر نفسیاتی دباؤ ڈال رہی تھی کہ وہ اپنی زبان کھول نہ سکے اگر کھولے بھی تو کوئی اس کی بات کا یقین نہ کر پائے___بس کرو ڈیفنی میں تمہاری حقیقت اچھے سے جان چکا ہوں اور یہ لوگ بھی جان جائیں گے جو کچھ تم نے زمل کیساتھ کیا تم شاید بھول گئی تھی کہ اس کا انجام بھی ہو گا یہ انسانی دنیا نہیں جہاں طاقتور جرم کر کے بھی بچ جاتے ہیں یہ پریوں اور جنات کی دنیا ہے جہاں خدا کو ظالم کے خلاف موسی نہیں بھیجنا پڑتا
بلکہ یہاں کے لوگ ہی فرعون کے خلاف اٹھ کھڑئے ہوتے ہیں___تم ایک انسانی لڑکی کی باتوں میں آ کر اتنی بڑی بڑی باتیں کر رہے ہو فاسیر کیا تم نہیں جانتے کہ اس پوری کائنات میں فساد کی ابتدا ایک انسانی عورت سے ہوئی اور تو اور آدم کی تو پہلی نسل ہی اس فتنے کے ہاتھوں برباد ہو گئی تھی اور تم اسی فتنہ پرست مخلوق کے عشق میں مبتلا ہو کر پرستان کا سکون برباد کرنا چاہتے ہو کیا تم نہیں جانتے تھے کہ ملکہ کے تخت پر بیٹھنے کا حق ملکہ کے علاوہ کسی کو نہیں مگر پھر بھی تم نے اس فتنہ پرور لڑکی کو یہاں تک پہنچا دیا کہ وہ اتنی جسارت کر سکے یہ کسی شاہ جنات کی کوئی بیٹی نہیں ہے فاسیر تم نے پرستان کے لوگوں سے جھوٹ بولا حقیقت تو یہ ہے کہ تم اس انسانی لڑکی کے عشق میں مبتلا ہو یہی وجہ تھی کہ تم انسانی دنیا میں لیوسفر کو ڈھونڈنے میں ناکام رہے بجائے کہ تم اپنی غلطی پر شرمندہ ہوتے تم الٹا اس کو یہاں لا کر صرف اپنی تسکین کے لئے یہاں کا سکون برباد کر رہے ہو___وہ محل میں چلتی ہوئی تخت تک پہنچ آئی تھی___ذرا ان معصوم پریوں کے چہرئے دیکھو ان کی آنکھوں کو پڑھو جن میں تم سے وابستہ کئی امیدیں جڑی ہوئی تھی کہ تم لیوسفر کے مقابلے میں ان کی مدد کرو گے روزانہ ان میں سے کئی معصوم چہرئے غائب ہو جاتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کی امید ابھی تک قائم ہے اور تم بجائے اس شیطان کا مقابلہ کرنے کے اس فسادن کو لا رہے ہو تمہیں لگتا ہے کہ پرستان کے لوگ اس فسادن انسانی لڑکی کو اپنی ملکہ تسلیم کریں گے کیونکہ نہ تو یہ کسی جن کی بیوی ہے،نہ اس کے اندر پرواز کی صلاحیت ہے اور نہ ہی یہ اتنی خوبصورت کہ اسے پرستان جیسی خوبصورت وادی کی ملکہ کہا جا سکے____
زمل اپنی توہین بلکل خاموشی سے سن رہی تھی ایک عام سی انسانی لڑکی کسی صورت بھی حسن میں ایک پری سے بڑھ کر کیسے ہو سکتی تھی___تمہاری مکاریت اور چالبازی دیکھ کر مجھے یقین ہو چکا ہے ڈیفینی کہ دھوکہ فریب چالبازی کسی ایک مخلوق کا وطیرہ نہیں انسان بھی جب اپنا جھوٹ بے نقاب ہوتا دیکھتے ہیں تو وہ بھی بجائے شرمندہ ہونے کے سچ کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ سچ اور جھوٹ اتنا مبہم ہو جائے کہ کسی کے لئے سچ جان پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے اور تم بھی ٹھیک وہی کام کر رہی ہو ڈیفنی!!! بجائے کہ تم اپنے کئے پر شرمندہ ہوتی تم نے الٹا فاریہ کو مشکوک بنانا شروع کر دیا تاکہ اس کی بتائی سچائی کی کوئی اہمیت ہی نہ رہے___اچھا کیا ہے وہ سچائی جو یہ فاریہ بتانا چاہتی ہے فاسیر___وہ آنکھیں گھوماتے طنزیہ انداز میں مخاطب ہوئی تھی___یہی کہ تم لیوسفر کیساتھ ملی ہوئی ہو ڈیفینی___آہ ہا یہ کمنخت عشق کیا کیا کرواتا ہے___ڈیفنی نے لمبا سانس لیا__خدارا تم اس لڑکی کو لے کر ہماری اس پرسکون وادی سے چلے جاؤ ہم لوگ پہلے ہی بہت مشکلات میں ہیں__جھوٹ مت بولو ڈیفنی تم لیوسفر کے ہر جرم کی پارٹنر ہو___افسوس جس نے لیوسفر کے ہاتھوں اپنا شوہر کھویا تم اس پر ہی یہ الزام لگا رہے ہو___یہ الزام نہیں حقیقت ہے ڈیفینی تم اس کیساتھ ملی ہوئی ہو اور تم نے اس کیساتھ مل کر مجھے مارا تھا___زمل روہانسی ہو کر مخاطب ہوئی تھی___اچھا تو پھر تم بچ کیسے گئی فسادی عورت کیا کبھی کسی نے سنا کہ لیوسفر کا شکار کبھی بچا ہو___
تم لوگوں نے تو مجھے مار ہی دیا تھا ڈیفنی مگر شاید تمہیں ننگا کرنے کے لئے قدرت نے مجھے ایک اور زندگی دی___توہین آمیز الفاظ سنتے ہی ڈیفنی نے ایک تمانچہ زمل کو دئے مارا تھا تم شاید کسی خمار میں مبتلا ہو فسادن عورت دوبارہ اس طرح کے الفاظ اگر ملکہ کے لئے استعمال کئے تو تمہاری زبان نوچ لوں گی___ڈیفنی غصے میں لال ہو چکی تھی تم سب اس فسادن کے گرد کیوں کھڑی ہو کسی انسانی لڑکی کی تعظیم پریوں کی توہین ہے دور ہٹو اس سے___اس نے پریوں کو زمل سے دور ہٹنے کا اشارہ کیا اور پھر زمل کو جان سے مارنے کے لئے لپکی کہ انجلینا نے اسے روک لیا
تم بھی میرئے اور اس کے درمیان سے ہٹ جاؤ انجلینا میں اس فسادن لڑکی کا اس پرستان سے صفایا کرنے والی ہوں___کتنی معصوم پریوں کی جان لو گی ملکہ اگر تم سچی ہو تو وہ دوسری لڑکی کہاں ہے جس کو فاسیر نے تمہارئے سپرد کیا تھا؟کیوں پرستان کی خوبصورت پریاں ہی لیوسفر کا نشانہ بنی آخر کیوں تمام طاقتوار جن باری باری ایک ایک کر کے تمہارئے محل میں ہی مارئے گئے__انجلینا اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے مخاطب ہوئی تھی وہ فاسیر اور زمل سے تمام ثبوت دیکھ چکی تھی اس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ہی تو فاسیر مطمئن کھڑا تماشہ دیکھ رہا تھا___کیا مطلب تمہارا انجلینا؟___یہی کہ یہ انسانی لڑکی ٹھیک کہہ رہی ہے___تم بھی یعنی کہ اب تم بھی اپنی ملکہ کی جگہ اس انسانی لڑکی پر اعتبار کرو گی___ڈیفنی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی___تم شاید بھول رہی ہو کہ تم میرئے سب سے قریب تھی___اور ملکہ شاید تم بھول رہی ہو کہ ایمر میرا بھائی تھا جس کو تم نے قتل کروایا___اس انسانی لڑکی نے تمہارئے دماغ میں بھی فتور بھر دیا ہے انجلینا تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو___صحیح کہا تم نے کوئی بھی ایسا سوچ نہیں سکتا لیکن تم سچ میں اتنی ہی گھٹیا نکلی ہو___
انجلینا نے ایک تھپڑ ڈیفینی کو دئے مارا__تم رانی کہلانے کے لائق ہی نہیں ہو تم اس پرستان پر ایک بدنما داغ ہو___انجلینا اس کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ ڈیفنی نے اپنی جادوائی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے ہاتھ کے ایک اشارئے سے اس کئی فٹ دور پٹخہ تھا اور پھر اگلہ حملہ زمل پر کرنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا مگر تب تک فاسیر ایک جادوائی حصار زمل کے گرد بنا چکا تھا انجلینا ہوا میں اڑتی ہوئی پھر ڈیفنی کی طرف بڑھی مگر اس بار پھر ڈیفنی نے اسے ایک جھٹکے سے روندتے ہوئے زمین پر مارا تھا اور پھر اگلے وار سے اس کے پروں کو آگ لگا دی___بس کرو ڈیفنی تمہارا بھیانک روپ سب دیکھ چکے ہیں اب اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو پھر تمہیں فاسیر کے مقابلے کے لئے تیار رہنا ہو گا___فاسیر جانتا تھا کہ پرستان کی کوئی پری بھی ڈیفنی کا مقابلہ نہیں کر پائے گی اس لئے اب وہ خود اس کے سامنے تھے فاسیر نے اپنے ایک ہی جادوائی وار سے ڈیفنی کو مفلوج کر دیا تھا وہ جانتا تھا کہ جب ڈیفنی بے بس ہو گی تو وہ لیوسفر کو ضرور بلائے گی اور توقع کے عین مطابق بے بس ڈیفنی کی مدد کو لیوسفر فوری وہاں پہنچ آیا تھا جس کے آتے ہی محل کا سارا نظام اتھل پتھل ہو گیا وہ ایک ہی اشارئے سے اس محل کو جنگل میں تبدیل کر چکا تھا
آؤ لیوسفر شیطان آؤ میں تمہارئے انتظار میں ہی تھا___فاسیر نے پراعتماد انداز میں اسے دھمکی دی___آج میں تم سے زمل کے جسم سے بہنے والے خون کے ایک ایک قطرئے کا بدلہ لوں گا___تم بدلہ لو گے مجھ سے بزدل فاسیر ہاہاہاہاہاہا لیوسفر کی خوفناک ہنسی چار سو گونجنے لگی تھی___ہاں میں لوں گا بدلہ شیطان جن میں لوں گا بدلہ آؤ میرا مقابلہ کرو لیوسفر___فاسیر نے جادوائی وار کیا جو بے ضرر سے ہو کر شیطان جن کو چھوئے بغیر نکل گیا اب کی بار فاسیر نے تلوار نکالئ اور لیوسفر کی گردن اڑانے لگا کہ ایک ہی جھٹکے میں لیوسفر ایک چھوٹے سے پرندئے میں تبدیل ہو کر اڑنے لگا وہ اڑتا ہوا روہانسی کھڑی زمل کے کندھے پر جا بیٹھا جس کے لئے اگرچہ یہ سب نیا نہیں تھا مگر پھر بھی وہ ڈری سہمی کھڑی تھی ڈر اور خوف سے اس کی گردن پر ہلکا ہلکا پسینہ آ چکا تھا___ماننا پڑئے گا فاسیر تمہارا انتخاب برا نہیں اس کنوارئ کلی کی گردن پر پیدا ہونے والی نمی کی خوشبو کسی بھی طرح ڈیفنی سے کم نہیں کاش اس کا یہ روپ میں پہلے دیکھ پاتا___وہ للچاتی ہوئی آواز میں مخاطب تھا__خیر اس خوبصورت تحفے کے لئے شکریہ فاسیر___پرندئے نما لیوسفر کی جانب فاسیر نے اگلہ جادوائی وار کیا مگر وہ زمل کے کندھے سے اڑتا ہوا دیکھتے ہی دیکھتے ہوا میں ایک چیونٹی بن کر فاسیر پر حملہ آور ہوا وہ چیونٹی فاسیر کے ماتھے پر کاٹتی ہوئی اس کے کندھے تک آئی اور پھر اپنا روپ بدلتے ہوئے پہاڑ کی مانند اس کے اوپر گرا اگلے ہی لمحے فاسیر زمین پر ڈھیر تھا لیوسفر نے ہوا میں اڑان بھری اور زمین پر ڈھیر فاسیر کے اوپر گرا پہلے سے ڈھیر فاسیر اور بھی زخمی ہو چکا تھا اگلے ہی لمحے لیوسفر نے جست لگائی اور فاسیر اور زمل کو لے کو ہواؤں میں غائب ہو گیا
عاشر دیکھیں بارش ہورہی چلیں تھوڑا بھیگ آتے ہیں نوشہ نے شرارتی لہجے میں آنکھیں مٹکا کر کہا تھا__کیا فائدہ جب پھر بیمار ہی ہونا ہےا اس سے تو اچھا میں تمہیں اپنے پیار کی بارش میں بھگودوں کیا خیال ہے؟____عاشر کا انداز شرارتی تھا وہ اس حادثے کے بعد چلنے سے قاصر ہو گیا تھا__ جی نہیں میں بارش میں ہی نہانے جاونگی ___ نوشہ یار ضد مت کرو اب میں یہ کام پورا کرلوں دو دن کی چھٹی نے آفس کا بیڑا غرق کردیا ہے ___
کالے رنگ کے کلیوں والا گھٹنوں سے اونچا فراک چوڑی دار پاجامہ جو اسکی گوری پنڈلیوں سے اوپر جارہا تھا فراک کے اگلے پچھلے گہرے گلے اور ساتھ اسکی بیوٹی بون جو بارش کے قطروں کو خود میں جذب کررہی تھی عاشر کے پیار اور توجہ نے جیسے اسکو نکھار دیا ہو بڑی سے آنکھوں پہ گھنے پلکوں کا سایہ اور گلابی ہونٹوں کو کبھی بند کرتی کبھی کھولتی نوشہ بارش میں بھیگنے لگی اسکا لباس اسکے جسم گورے جسم سے چپک کر اسکی رعنائیوں کو واضح کررہا تھا جبکہ وہ اس سب سے لاپرواہ بارش کے قطروں کے ساتھ ناچتی گاتی گھوم رہی تھی___ کام کرتے کرتے عاشر کے ہاتھ گلاس وال سے باہر کا منظر دیکھتے رک گئے تھے شاید ہی اتنا مکمل حسین منظر اس نے پہلے کبھی دیکھا ہو وہ لڑکی جو اسوقت خود سے بھی بے پرواہ لگ رہی تھی وہ اسکی بیوی تھی اور شاید اب محبت بھی ___ عاشر آو نا یار بہت مزہ آرہا ہے کچھ نہیں ہوتا __ وہ ضبط سے رخ موڑ کے اپنا وہیل چئیر بیڈ روم کی طرف لے گیا ___وہ اس کئ محرومی کو دیکھتے ہوئے فوری اندر آ گئی تھی سوری میں پھر نہیں جاونگی بارش میں ___ اب منہ تو مت پھلاو وہ عاشر کے گھٹنوں سے لگ کر لاڈ سے بولی__عاشر نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا___
تم میرے لیے اس وقت سراپا امتحان ہو میں صبر نہیں کر پارہا نوشہ __ممگر عاشر تم___ہششش تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں بس__ گیلے بالوں کو ہٹاتے نوشہ کے فراک کی زپ کو کھول کر وہ اسکی کمر کو خود میں بھینچ کر اسکی گیلی لبوں پر اپنے لب رکھ کر خود کو سیراب کرنے لگا جبکہ کھڑکی کے اس پار دو آنکھیں اس منظر کو دیکھ کر سلگ چکی تھی___ نوشہ عاشر کے کالر کو دبوچتی اسکا ساتھ دینے لگی تبھی بیڈ روم کا دروازہ کھول کر وہ شیطان اندر آیا جو لیوسفر کی خواہش پوری کر کے اس سے مزید طاقتیں پا چکا تھا___نوشہ اور عاشر اسے دیکھتے ہی ہوش میں آ گئے وہ بےخیالی میں جیسے ہی عاشر کی گود سے نکلی اسکا ان زپ فراک زمین بوس ہوگیا___ اف مجھے پتہ ہوتا یہاں آکر ایسا خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملے گا تو میں اپنے باقی کام چھوڑ کر پہلے تمہارے پاس ہی چلا آتا نوشہ جلدی سے خود کو سمیٹنے لگی تھی __
میکال انکل آپ یہاں نوشہ ہکلاتے ہوئے مخاطب ہوئی اسے یہاں دیکھتے ہی اسے خطرہ محسوس ہوا تھا__آپ بےشک نوشہ کے انکل ہیں لیکن اسطرح کسی کے بیڈ روم میں آنے سے پہلے آپ کو سوچنا چاہیے انکل کم از کم اپنی عمر کا ہی لحاظ رکھ لیتے__عاشر کے لہجے سے اس کی ناگواری عیاں تھی __ ہاہاہاہاہا سو سویٹ عاشر مجھے تمہاری باتیں سن کے اب شرمندگی ہورہی ہے تم ٹھیک کہہ رہے ہو تو کیا اب میں جاکر پھر سے نوک کرلوں؟___ آپکو یہاں کیا کام ہے ؟؟ نوشہ کو اس شخص کے لہجے اور أنکھوں میں صاف شیطانیت نظر آرہی تھی جبکہ عاشر کو بھی خطرے کی گھنٹی محسوس ہوئی __ تمہاری یہی سمجھداری مجھے پسند ہے نوشہ تم فوری کام کی بات پہ آتی ہو میں یہاں تمہارے لیے ہی آیا ہوں وہ کیا ہے ناں رادیہ تمہیں بہت یاد کررہی تھی تو سوچا لینے آجاوں تم تو بس ضد پکڑ کے بیٹھ گئی ہو___میکال نوشہ کے اردگرد چکر کاٹنے لگا__ مجھے اس سے نہیں ملنا نہ ہی کوئی رابطہ رکھنا ہے اور نہ ہی آپ سے اب آپ چلے جائیں یہی مناسب ہوگا___وہ اب تک انجان تھی کہ یہ شخص اس کی ماں کا کیا حشر کر چکا ہے نوشہ اب تم بچی تو نہیں رہی ناں__میکال نے اچانک نوشہ کو بانہوں میں دبوچ لیا__ چھوڑو مجھے دور ہٹو نوشہ نے مزاحمت کرتے ہوئے ایک تھپڑ جڑ دیا تھا___ میری بیوی سے دور ہٹ کمینے انسان شرم نہیں آتی تجھے عاشر میکال پر دھاڑا__ کم آن نوشہ اس معذور آدمی سے تم کیا حاصل کرو گی میرا دل تمہارئے لئے مچل رہا ہے اور اپنا دل ہلکا کیے بغیر میکال سلطان یہاں سے کہیں جانے والا نہیں__میکال نے شیطانی انداز میں ان کو دھمکی دی
عاشر عاشر وہ لاشعوری طور پر اس کو مدد کے لئے پکاری __ یہ لنگڑا تمہیں بچائے گا کیا ؟؟ میکال استہزائیہ انداز میں بولا چلو ہم اسکو بھی اپنا سین دکھاتے ہیں دیکھوں تو کیسے بچاتا ہے تمہیں __ چھوڑ اسکو کمینے__ عاشر وہیل چئیر سے اٹھتے ہی ڈھرام سے نیچے گرگیا __ جب سے تمہیں دیکھا ہے میں بھی بہت تکلیف میں ہوں تم بس میری فکر کرو نوشہ وہ نوشہ کو بازو سے دبوچتے بیڈ پر دھکیل کر اس پر حاوی ہوگیا __ نوشہ کی گردن کو بےتحاشا چومتے میکال اسکی جسم سے واحد کپڑہ اتار کر وہ اس پر ٹوٹ پڑا __ نوشہ کا صبر اب جواب دینے لگا تھا جیسے ہی میکال کے ہونٹ اسکے ہونٹوں کے قریب أئے پوری قوت سے وہ اسکے گال پر ایک اور تھپڑ جڑ گئی خبردار جو اور کچھ کیا تو لعنت ہو تم پر انسان نہیں حیوان ہو تم میکال سلطان وہ زور سے اسکو دھکا دیتی فورا بیڈ سے اترگئی میرے قریب بھی مت أنا جان لے لونگی سمجھے تم__میرا شوہر ہی بے بس ہے میں نہیں !!! میں اسکی عزت پر آنچ بھی نہیں أنے دونگی وہ میکال کی شیطانی طاقتوں سے ناواقف اس سے بچنے کا طریقہ سوچ ہی رہی تھی کہ میکال کا زوردار قہقہہ کمرے میں گونجا __ ہاہاہاہاہا ہاہاہہا تم مطلب تم چھٹانک بھر کی لڑکی میرا مقابلہ کروگی میکال سلطان کا ؟؟ہاتھ کے اشارے سے ہی نوشہ کے بال میکال اپنے ہاتھوں میں دبؤچ کر اسکا چہرہ اپنے برابر لے آیا
تم نے ابھی جو طمانچہ میرے منہ پر مارا اسکا حساب دینا پڑیگا تمہارے کھسم کے سامنے ہی تمہاری عزت سے کھلیو گا نوشہ __ عاشر بے بسی سے نم آنکھوں سے یہ منظر دیکھ کر مرنے کی خواہش کررہا تھا کاش وہ اتنا بے بس نہ ہوتا دوسری طرف میکال پھر سے نوشہ کو زبردستی لیٹانے لگا شرم کرو تو اسکے سامنے یہ بے غیرتی مت کرو میں معافی مانگتی ہوں اس تھپڑ کے لیے لیکن پلیز یہاں نہیں میری اتنی سی بات مان لو __چلو ٹھیک ہے اگر تم یہی چاہتی ہو کہ ہم اپنے یہ لمحات کسی تنہائی میں گزاریں تو مجھے اعتراض نہیں ویسے بھی اب مجھ سے زیادہ رہا نہیں جارہا وہ نوشہ کو کھنچتا ہوا باہر آگیا تھا __ میں تمہیں اپنے باپ جیسا سمجھتی ہوں تم میرئے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہو میں تمہاری بیٹی جیسی ہوں کیا تم میں ذرا انسانیت نہیں بچی اب بھی چھوڑدو مجھے تم بچھتاوگے میکال___نوشہ گڑگڑا کر بولی تھی مگر اس کی ان باتوں کیا اثر ہونے والا تھا
ہوش میں آتے ہی سوجے پپٹوں کو کھولتے گھپ اندھیرے میں دیکھنے لگی اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا اور جسم تو جیسے درد سے شل ہوکر بے جان ہی ہو __ یہ میرے ہاتھ اف اس شیطان نے میرے ہاتھ بھی باندھ دیے اب میں کبھی نہیں بچ سکتی نوشہ سسک کے سوچنے لگی عاشر کس حال میں ہوگا __ وہ یہی سب سوچ رہی تھی کہ دو ہاتھ اسے اپنی کمر پہ رینگتے ہوئے محسوس ہوئے ناچاہتے ہوئے بھی نوشہ کے منہ سے چیخ نکل گئی __
کون ہے یہاں _ میکال یہ تم ہو نا گھٹیا انسان __ مجھے تم جیسی لڑکیاں بہت پسند ہیں چھٹی حس کافی تیز ہے تمہاری __ کمرے کو روشنی سے نہال کرتے میکال مزے سے نوشہ کو دیکھنے لگا جو اسوقت کسی آفت سے کم نہیں لگ رہی تھی رسیوں کی مدد سے اسکے دونوں ہاتھ اوپر کی طرف باندھتے وہ بےبس تھی __ کیا دلکش نظارا ہے آہ ویسے تو تمہارے اس حسین جسم پر کافی پہلے سے میری نظریں تھی لیکن رادیہ کی وجہ سے مجبور تھا میں __ نوشہ کے نزدیک آتے وہ اسکے بال دبوچ کر بولا تم بہت خوبصورت ہو تحروبا سے بھی زیادہ کہتے ساتھ اسکے گلابی ہونٹوں کو دبوچ لیا ___ میکال نوشہ کے ہونٹوں کو چومتے چومتے اسے مکمل برہنہ کرگیا وہ مسلسل مزاحمت سے ہل کر خود کو بچانا چاہ رہی تھی تبھی میکال کا ہاتھ اٹھا اور اسکے چہرے پر نشان چھوڑ گیا __ ایک دم چپ مجھے اپنے کام میں دخل اندازی نہیں چاییے نوشہ کے جسم کو بانہوں میں بھرتے ساتھ ہی ایک بار پھر میکال اس پر حاوی ہوگیا
تمہیں کچھ نہیں ہو گا فاسیر تم یوں ہمت نہیں ہار سکتے___ویران جنگل میں وہ فاسیر کا سر گود میں رکھے اس کی ہمت بندھا رہی تھی جو زخموں سے چور تھا لیوسفر طاقت میں اپنی مثال آپ تھا اس سے ٹکڑانے کا مطلب صرف موت تھی اور یہ بات فاسیر جانتا تھا مگر پھر بھی اس نے جان کی بازی لگا دی تھی
___مجھ میں جب تک جان ہے میں لیوسفر کے سامنا کرتا رہوں گا اور تمہیں ہر حال میں اس سے محفوظ رکھوں گا___زخموں سے چور بدن نے فاسیر کا لہجہ بھی بدل دیا تھا وہ مشکل سے جملہ مکمل کر پا رہا تھا اس کی یہ حالت زمل کو مزید روہانسی کر گئی تھی___میں ایک بار اپنی محبت کھو چکی ہوں فاسیر بار بار نہیں کھو سکتی___اگر میں زندہ رہا تو تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں تمہاری محبت تک ضرور پہنچاؤ گے وہ سردار تمہیں ضرور ملے گا زمل جس کے لئے تم اتنی تڑپی ہو____نہیں چاہئیے مجھے وہ سردار___فاسیر کی باتوں سے چھلنی ہوتے کلیجے کا درس زمل کے لہجے سے عیاں تھا___مجھے اس سے نفرت ہے فاسیر شدید نفرت___تم اس سے کبھی نفرت نہیں کر سکتی زمل مجھے وہ رات آج بھی یاد ہے جب تم نے اپنی جان پر کھیل کر اس کی جان بچائی جب تم نے اس کی زندگی کی خاطر خود کو میرئے حوالے کیا تھا
___میں وہ سب بھول گئی ہوں فاسیر___مگر میں نہیں بھول پایا زمل اتنی جنونیت شاید ہی کسی میں ہو تمہاری جنونیت دیکھ کر ہی میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں تمہیں سردار تک ضرور پہنچاؤ گا مگر افسوس میں خود سے کئے اس وعدئے کو آج تک پورا نہیں کر پایا مگر تم فکر مت کرو یہ وعدہ ضرور وفا ہو گا___مجھے نہیں کرنا یہ وعدہ وفا فاسیر میری جنونیت اپنی موت آپ مر گئی ہے کیونکہ میں جان گئی ہوں انسانی دنیا میں محبت کا کوئی وجود نہیں___کسی کا محبت سے اعتبار اٹھ جانا کتنا دردناک ہوتا ہو گا اس کا اندازہ شاید مجھے کبھی نہ ہو کاش میں تمہیں ان مشکلات میں نہ الجھاتا___فاسیر لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے مخاطب ہوا تھا___شاید ہماری قسمت میں یہ سب ہونا بہت پہلے لکھا جا چکا تھا فاسیر ورنہ جن حوس زدہ خواہشات کا اظہار سردار نے اس رات کیا وہ یہ سب پہلے بھی کر سکتا تھا جب تمہارا سایہ بھی میری زندگی سے بہت دور تھا اور شاید تب میں اس سب پر راضی ہو جاتی تمہارا میری زندگی میں آنا فقط ایک حادثہ ہی نہیں بلکہ قدرت کی پوری منصوبہ بندی تھی جو شاید میری جنونیت اتارنے کر مجھے دنیا کی حقیقت دیکھانے کے لئے کی گئی___اگر تم واقعی میں محبت کے غلاف میں لیپٹی بدنوں کی چاہت کو جان گئی ہو تو میری جان لے لو اس سے تمہیں اتنی جادوائی طاقت تو مل ہی جائے گی کہ تم اس شیطان سے دور اپنی دنیا میں چلی جاؤ گی___میری دنیا تم ہو فاسیر جس نے مجھے حقیقت سے روشناس کروایا تم نے مجھے محبت کی حقیقت جاننے کا ہر موقع دیا ورنہ عدم اعتمادی سے لے کر سانولی رنگت تک میں ہر چیز کے بدلے اپنا آپ اسے سونپتی اور سونپتی ہی چلی جاتی پتہ نہیں ہم دونوں کب تک زندہ ہیں مگر میں اپنا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہوں شاید میں تمہیں اتنی جنونیت کبھی نہ دیکھا پاؤں جو تم دیکھ چکے ہو فاسیر مگر یقین کرو میرئے سردار تم ہو اور میں تم سے ہی محبت کرتی ہوں___یہ دنیا تمہارئے لئے نہیں ہے زمل__مجھے نہیں پتہ کہ وہ کب ہمیں مار دئے مگر جب تک ہوں یہاں ہی ہو___وہ زخمی فاسیر سے لیپٹ گئی تھی
کہ اچانک اسے اپنی کمر پر بندھی لہنگے کی ڈوریاں کھلتی ہوئی محسوس ہوئی وہ گبھرا کر پیچھے پلٹی تو سردار کے روپ میں لیوسفر کھڑا تھا جس کو دیکھتے ہی وہ پہنچان گئی وہ گبھرا کر پیچھے ہٹ گئی__دور ہٹو مجھ سے شیطان___میں تو صرف یہ دیکھنا چاہ رہا تھا کہ تمہیں پسینہ کہاں کہاں آتا ہے زمل___وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے مخاطب ہوا___تم جس روپ میں بھی آؤ لیوسفر میں تمہیں ہر روپ میں پہچان لوں گی___ہاہاہاہاہا میرا ہر روپ تمہاری آسانی کے لئے ہے زمل کم از کم تم سردار کے روپ میں مجھے اپنا جسم نوچتے دیکھ کر انجوائے کرو گی___میں تمہاری زبان نوچ لوں گا شیطان اگر تم نے___چپ کرو بزدل جن__کیوسفر نے اسے پنجرئے میں قید کر دیا تھا___خوبصورت عورت پر پہلا حق طاقتوار کا ہوتا ہے سچ پوچھو تو حسن طاقت کی جاگیر ہوتا ہے اور طاقت حسن کو مزید نکھار دیتی ہے تم نے دیکھا نہیں فاسیر کہ کس طرح میں نے ڈیفنی کے بدن کو نئی رونقوں اور جہتوں سے بھر دیا ہے اسی طرح میں اس انسانی لڑکی کے بدن کو بھی خوبصورت کرنے والا ہوں___لیوسفر نے اس کے لہنگے کو کمر سے چاک کر دیا تھا___رک جاؤ شیطان میں تمہیں جان سے مار دوں گی___زمل نے ناچاہتے ہوئے بھی مزاحمتی دھمکی دی حالانکہ وہ جانتی تھی کہ یہ سب بے معنی ہے___یقین کرو تمہاری گردن کا پسینہ میری کمزوری بنتا جا رہا ہے میں نے اتنی دیر انسانی دنیا میں گزاری مگر عورت کے اس ذائقے سے محروم رہا مگر اب تمام محرومیاں میں دور کر لوں گا___وہ خود کو سنبھالتے ہوئے لیوسفر کی آنکھوں میں دیکھنے لگی__مت بھولو لیوسفر کہ میری گردن میں ملکہ ڈیفنی کا خاص جادو والا لاکٹ ہے جس کے ہوتے مجھے کوئی نہیں چھو سکتا___اس نے حیران کن طور پر لیوسفر کو تھپڑ جڑ دیا تھا زمل کا یہ انداز پنجرئے میں بند فاسیر کے لئے حیران کن تھا___لیوسفر زمل کی اس حرکت پر زور سے ہنستا ہوا اس کے قریب ہوا اور پھر اگلے ہی لمحے اس نے اس کے گلے میں موجود لاکٹ کو اتار پھینکا___زمل میں نے تمہارئے اس لاکٹ کے خمار کو بھی دور کر دیا یہ تو دوسرئے جنوں کو خود سے دور رکھنے کے لئے ڈیفنی کی ایک چال تھی
___وہ دوبارہ زور سے ہنسا___اب تو ڈر سے تمہارئے بدن پر نمی پیدا ہو گی ناں زمل___وہ لاکٹ کے سہارئے ہی تو اب تک پر امید بیٹھی تھی اس کی آخری امید وہ لاکٹ تھا جو انجلینا نے اسے دیا تھا مگر وہ فقت ایک دھوکہ نکلا___فاسیر کیا تم اس کچی کلی کے خوبصورت بدن کی رینائیوں کو دیکھنا چاہو گے مجھے یقین ہے کہ تم نے طاقت ہونے کے باوجود بھی اس کی قبائیں کبھی نہیں کھولی ہوں گی لیوسفر نے مسکراتے ہوئے اس کے لمبی دم والے لہنگے کو آگ لگا دی تھی جو رفتا رفتا اس کے بدن کو عیاں کرتی ہوئی اس کی طرف بڑھنے لگی لیوسفر اپنا روپ بدلتے ہوئے خوفناک شکل اختیار کر چکا تھا تم کتنی ہی بار میرئے راستے میں رکاوٹ بن چکی ہو زمل اب اگر اس آگ سے بچنا چاہتی ہو تو بھاگو اتنا تیز کہ تمہارئے بدن کے ایک ایک پور سے نمی نمودار ہو اور پھر میں اس بزدل جن کے سامنے تمہارئے بدن کی نمی سے خود کو سیراب کروں___وہ ش?
تم کر سکتی ہو زمل میں نے دیکھا ہے تمہیں اس کے چہرئے پر مارتے ہوئے___وہ سب اس لاکٹ کی وجہ سے تھا فاسیر اب تک میری ہمت اسی کی وجہ سے بندھی ہوئی تھی___تم سمجھو زمل کہ وہ لاکٹ اب بھی تمہاری گردن میں ہے اور اس کی ساری طاقتیں تمہارئے پاس___میں ایک کمزور انسان ہوں جو کسی جن کے سامنے ایک لمحہ نہیں ٹک سکتی میں اپنے جسم کے بدلے تمہاری زندگی کی بھیک مانگوں گی فاسیر___انسان کمزور نہیں ہوتے زمل بلکہ انسان تو قدرت کا بہترین شہکار ہے اگر تم نے خود کو اسے سونپ دیا تو حیا کو کون بچائے گا تم کر سکتی ہو زمل___وہ اسے اعتماد دینے کی کوشش کر رہا تھا___اب اٹھ بھی جاؤ انسانی لڑکی تمہارئے بدن کی نمی کم ہو گئی تو تمہیں پھر محنت کرنا پڑئے گی___لیوسفر کی خوفناک آواز نے ان دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا___ڈیفنی مجھے بہت سی خوبصورت پریوں کے جسموں کی سیر کروا چکی ہے آج میں ڈیفنی کو ایک ایسی انسانی لڑکی کے بدن کے بارئے میں بتاؤں گا کہ جس کا بدن پرستان کے پانیوں کی خوشبو جذب کر چکا ہے ___وہ زمین سے اٹھی اور لیوسفر کی آنکھوں میں گھورنے لگی اس کی سانسیں تیز تھی___اگر تم نے ایک قدم بھی میری طرف بڑھایا تو میں تمہارئے سینے سے کلیجہ نکال کر چبا جاؤں گی لیوسفر__لیوسفر اس کی اس گیڈر بھکی کو ہوا میں اڑاتا ہوا اب کی بار اپنے اصلی روپ میں اس کے برہنہ بدن پر ٹوٹ پڑا تھا لیوسفر کی ناک زمل کے پسینے کو سونگھتی گردن کے گرد آئی تھی اور پھر اس پسینے کی خوشبو میں بہکتی گردن سے سینے تک!!!وہ اس کے مخملی بدن کی نمی کو اپنے ہونٹوں میں جذب کرتا اس کے پور پور کو چوستا جا رہا تھا اس کی بانہوں کی گرفت میں مزاحمت کرتی زمل ہر لمحے خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی اس نے زمل کو زمین سے بلند کر کے اس کی رانوں پر آئی نمی کو جذب کیا اور وہاں سے کمر تک گیا اس کی شیطانی زبان زمل کی ریڑھ کی ہڈی کو اپنی گرفت میں کرتی ہوئی خشک کر چکی تھی وہ ہر لمحہ اس نشے میں بہک رہا تھا کمر سے کندھوں تک اور پھر سینے کے ابھاروں کے گرد ہوتا ہوا وہ اسے جادوائی بستر پر پٹخ چکا تھا اب کی بار جب وہ اس پر حاوی ہونے آیا
تو اس کی کمر پر موجود ایک نرم ہڈی زمل کے ہاتھ میں آ گئی تھی غصے سے بھری زمل نے پورئے زور سے اپنے ناخنوں کو اس نرم ہڈی میں دھنسا دیا یہ لیوسفر کے جسم پر موجود واحد نرم حصہ تھا جس کے اندر لیوسفر کی ساری طاقت جمع تھی جیسے جیسے زمل کے تیز ناخن اس ہڈی میں دھنستے جا رہے تھے ویسے ویسے لیوسفر کی جام نکل رہی تھی مگر وہ اس کے بدن میں اس قدر مگن تھا کہ جب تک اسے احساس ہوا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی زمل آنکھیں زور سے بند کئے چلاتی ہوئی فقط اپنے ناخن دھنساتے جا رہی تھی کہ اچانک ایک زوردار چیخ لیوسفر کے گلے سے نکلی اور ایک تیز روشنی کا اخراج زور دار دھماکے سے ہوئے آنکھیں کو چندھا دینے والی یہ روشنی فاسیر کو بھی لمحے بھر کے لئے اندھا کر چکی تھی کچھ دیر بعد جب اس کی نظر واپس آئی تو اس نے زمل کے ناخنوں سے بہتہ خون اور لیوسفر کو ڈھیر دیکھا وہ یہ منظر دیکھ کر ایک ناقابل یقین کیفیت میں بہوش ہو گیا تھا
جیسے ہی لیوسفر کی جان نکلی ٹھیک اسی وقت نوشہ کے بدن کو مفلوج کئے اس پر حاوی ہونے کی کوشش کرتے میکال سلطان کی تمام شیطانی طاقتیں دم توڑ گئی تھی مفلوج شدہ بدن میں زندگی کی رمک واپس آنے پر نوشہ کے ڈر و خوف کم ہوا اس نے اپنے اندر موجود تمام ہمت کو جمع کرتے ہوئے نوکدار شیشہ میکال کی گردن میں موجود سانس کی نالی کے آرپار کر دیا تھا طاقت کے نشے میں چور شیطان لیوسفر ایک عام انسانی لڑکی زمل اور میکال سلطان نوشہ کے ہاتھوں قتل ہو کر ابدی نیند سو گئے ڈیفنی کی حقیقت عیاں ہونے اور اس کے زمل اور فاسیر کیساتھ روئیے کی خبر جیسے ہی شاہ جنات تک پہنچی وہ ہزاروں جنوں کیساتھ ڈیفنی کے محل پر حملہ آور ہوا اور ہر چیز کو تباہ کرتا ہوا ڈیفنی کو اپنا قیدی بنا کر لے گیا لیوسفر کی موت ہزاروں پریوں کی آزادی کا موجب بنی جو مہینوں سے لیوسفر کی قید میں تھی شاہ جنات کے غصے اور آگ کا سامنا کرتا
پرستان پوری طرح تباہ و برباد ہو چکا تھا جس کی خوشبوؤں رونقوں اور ہریالی کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے ملکہ کی ضرورت تھی ایک ایسی ملکہ جو اپنی خوبصورتی کی بجائے پرستان کی خوبصورتی پر توجہ دئے جس کو خوبصورت نازک پریوں کی خوبصورتی سے جلن نہ ہو اور جو نرم دل اور نرم مزاج ہو کچھ ہی عرصے بعد پرستان نے اپنی نئی ملکہ کا انتخاب کر لیا تھا بچپن سے اپنی کتابوں کے پنوں پر اپنا نام شہزادی لکھنے والی ایک انسانی لڑکی زمل سلطان شہزادی اب سچ میں شہزادی تھی جس کی سچائی اور لیوسفر سے لڑائی میں جیت کو دیکھتے ہوئے شاہ جنات نے نہ صرف اسے اپنی بیٹی بنا کر کوہ قاف کی شہزادی بنایا بلکہ فاسیر سے شادی کروا کر پرستان کی ملکہ کا درجہ بھی دیا لیوسفر کی قید سے آزاد ہونے والی سینکڑوں پریوں نے اپنا حسن نئی ملکہ کو تحفے میں پیش کر دیا تھا وہ سپر پاورز کیساتھ خوبصورت ترین ملکہ بن گئی تھی جس کے گرد سینکڑوں پریوں کا جھرمٹ ہوتا تھا
پرستان کی ایک خوشگوار صبح محل کی چھت پر کھڑی ملکہ پرستان کی رعنائیوں سے لطف اٹھا رہی تھی سورج کی کرنیں اپنی ابتدا پر تھی اور ہلکی ہلکی چلتی ٹھنڈی ہوا سے اس کی اڑتی زلفیں اس کی گردن کو چار سو سے برہنہ کر رہی تھی اس کے بدن کی مہک کئی تتلیوں کو اپنی طرف کھینچ لائی تھی یہ پرستان کی ایک عام صبح تھی جب ملکہ مشرق سے نکلتے سورج کی ٹھنڈی کرنوں کی تپش سے بدن سیکنے نرم بستر کو چھوڑ کر چھت پر پہنچ آئی تھی
تمہارا حسن کسی مصور کی تصویر کی مانند کتنا مکمل ہے اور میرا وجود تمہارئے بغیر کتنا نامکمل___فاسیر نے اس کی پتلی کمر کے گرد اپنی بانہوں کا حصار بناتے ہوئے خود کو اس کیساتھ چپکا لیا تھا_____یہ چھپ کے آنے والی عادت گئی نہیں مسٹر جن___وہ مصنوعی سا غصہ دیکھا رہی تھی___نہیں میری جان میرا اچانک سے تمہیں لیپٹنا اور ہر بار اس اچانک والی حرکت کے باوجود تمہارا مجھے محسوس کر لینا مجھے اطمنان دیتا ہے کہ اپنی بیوی سی میری محبت خالص ہے____کوئی خالص ولص نہیں مسٹر فاسیر تم خالصتأ حسن پرست ہو____زمل نے اپنا چہرہ کندھے پر رکھے فاسیر کے چہرئے کی طرف کیا اور اسے بناوٹی سا غصہ دیکھانے لگی وہ اپنے بدن پر اس کے ہاتھوں کی حرکت کو محسوس کرتے ہوئے کانپ سی گئی تھی___ہاں صحیح کہا تم نے میں حسن پرست ہوں زمل___فاسیر نے سرگوشی کی___اور حسن تمہاری میراث ہے یہ تتلوں کے جھنڈ تمہارئے بدن سے خوبصورتی پاتے ہیں تمہارئے بدن کی مہک پھولوں کو مہکاتی ہے اور تمہارا وجود پرستان کے سکون کا موجب ہے تو میں بھلا کیوں ناں تمہارئے حسن کی پرستش کروں____وہ اپنی گرم سانسوں کی پھوہاڑ اس کی گردن پر مارتے ہوئے اسے بے بس کر چکا تھا___فاسیر تم بھی انسانوں کی طرح باتیں بنانے لگے ہو___ہاں میں تمہیں ہر روپ میں چاہنا چاہتا ہوں ہر روپ کو تم سے روشناس کروانا چاہتا ہوں__
_وہ اس کے کان کی لو پر اپنی زبان کا ہلکا ہلکا لمس دئے رہا تھا____انسان قدرت کا بہترین شہکار ہے زمل اور عورت اس بہترین شہکار کی سب سے بہترین شکل جو اپنے اندر خلوص اور محبت کے ایسے جذبات سموئے ہوئے ہے کہ صرف انسان ہی نہیں جنات بھی اس کے عاشق ہو جائیں____اس کے ہاتھوں کے لمس سے بے بس ہو چکی زمل اپنا رخ اس کی طرف پھیر کر اس سے لیپٹ گئی دونوں کے ہونٹوں کے ملنے کی گرمجوشی بادلوں کو گویا اچانک سے کھینچ لائی تھی جو پانی کی بوندوں کی ہلکی پھوہاڑ ان پر برسانے لگے تتلوں کا ایک جھنڈ ان کے گرد غلاف بنائے کھڑا ان کو محبت کرتے دیکھتا رہا
زمل اور فاسیر کے یہ قربت کے لمحے ہر طرف سکون سے بھرپور ایک خوشگوار احساس چھوڑ گئے تھے شاہ جنات کے حملے نے نہ صرف ڈیفنی کو اپنا قیدی بنایا تھا بلکہ حیا کو بھی بچا لیا تھا جو لیوسفر کا نشانہ بنتے بنتے رہ گئی تھی جب وہ واپس انسانی دنیا میں پہنچی تو اسے اپنی ماں تک کا نام یاد نہیں تھا جو میکال کے ہاتھوں مر چکی تھی تحروبا اور سردار کی شادی حادثاتی طور پر ہو گئی تھی عاشر اپنی ٹانگوں پر واپس چلنے لگا تھا تحروبا کی سردار کیساتھ اور عاشر کی نوشہ کے ساتھ دنیا کے مختلف کونوں میں ایک خوشگوار زندگی کا ایک حسین سفر شروع ہو چکا تھا وہ اپنا ماضی کسی ڈروانے خواب کی طرح بھول چکے تھے ان کی زندگی میں یہ خوشگوار تبدیلیں کیسے آئی اس سب کے متعلق وہ کچھ بھی نہیں جانتے تھے شاید کسی تیسری طاقت نے اس سب میں اپنا کردار ادا کیا تھا
شاید وہ زمل تھی
مگر وہ اپنے سب دشمنوں کو اتنا خوش کیوں کرتی؟
پتہ نہیں
شاید عورت کا اصل کام حسد اور بغض کی بجائے خوشیاں بانٹا ہی ہے اور یہی ایک شہزادی اور ملکہ کو زیب دیتا ہے
(ختم شد)


