Lucifer by Ibn-e-Adam  ایک سحر انگیز کہانی

Lucifer by Ibn-e-Adam ایک سحر انگیز کہانی

Part 1

رات کی تاریکی میں وہ مسلسل بل کھاتی ہوئی پہاڑ سے نیچے گہرئی کھائی کی طرف گرتی جا رہی تھی پہاڑ پر بنی مضبوط چٹانوں کی وجہ سے اس کا سر کئی جگہ سے پھٹ چکا تھا ہزار کوشش کے باوجود وہ خود کو اس کھائی میں جانے سے روکنے میں ناکام ہو رہی تھی (Lucifer)وہ جانتی تھی کہ اس کھائی میں گرنے کا مطلب موت ہے صرف موت…….اس سے پہلے کہ وہ کھائی میں گرتی ایک زوردار آواز اسکی سماعت سے ٹکڑائی

زمل زمل اٹھ جاؤ اب

تحروبا نے اسے جھنجھوڑ کر خواب سے بیدار کر دیا تھا اٹھ جاؤ اب اور کتنا لیٹ کرنا ہے تم نے تحروبا نے اسے پھر سے جھجھوڑتے ہوئے بیدار کیا تھا سب تیار ہو چکے ہیں تحروبا زمل کے چہرئے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر اپنی بات کی تشریح کرنے لگ گئی تھی

زمل نے ایک نظر موبائل سکرین کو دیکھا جہاں صبع کے چھ بج رہے تھے اور تحروبا کی کسی بات کا جواب دئیے بغیر واپس آنکھیں بند کر لی

موبائل کے ٹائم پر مت جاؤ بہن یہ تم اپنے باپ کے گھر نہیں لیٹی ہوئی جہاں تم 9 بجے تک سو سکتی ہو

اگر زمل شہزادی تم نیند کی خمارگی میں بھول رہی ہو تو میں تمہیں یاد کروا دیتی ہوں کہ ہم اس وقت اپنے اپنے گھر سے 18 گھنٹے کی مسافت پر برف سے ڈھکے دو خوبصورت پہاڑوں کے درمیان سے گزرتی ہوئی ایک سندر سی جھیل کے کنارئے کمپنگ کئے ہوئے ہیں ہم جب یہاں پہنچے تھے تو شام ہوچکی تھی اس لئے ہمیں یہاں ہی رکنا پڑا

تہروبا چہرئے پر بناوٹی غصہ لائے آنکھیں پھیلائے زمل کو گھورتے ہوئے تیز تیز بولتی جا رہی تھی

زمل نے تہروبا کی اس لمبی لائن کو اگنور کیا اور کمپ کے تمبو کی زیپ کھول کر باہر جھانکنے لگی جہاں واقعی ہی سب لوگ صبع سویرئے ہی کمپوں سے نکل کر جانے کی تیاریوں میں مصروف تھے

یہاں رکنے کا آئیڈیا کس منحوس کا تھا زمل دانت پیستے ہوئے واپس لیٹ گئی تھی کل شام کے تمام واقعات ہی اسے بھول چکے تھے

اس منحوس کا…..تہروبا نے بے تکلفی سے زمل ہی کی طرف اشارہ کر دیا تھا…..اور اس منحوس کا جو سالار قافلہ بنا ہوا ہے

شٹ اپ………

زمل نے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے شٹ اپ کال دی اور پھر کل رات کے متعلق سوچنے لگی یونیورسٹی کا سیشن اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا وہ اپنے کلاس کے گروپ کیساتھ تین دن کے ٹور پر یہاں آئی تھی آج دوسرا دن تھا اور آج ان سب کو پہاڑ کراس کرتے ہوئے نیچے ویلی تک جانا تھا ہوٹل میں قیام کرنے کی بجائے جھیل کنارئے کمپنگ کرنے کا آئیڈیا کس کا تھا

ہوٹل کی بجائے جھیل کنارئے کمپنگ کرنے کا آئیڈیا سب کے لئے ایک نیا تجربہ تھا اس لئے سب جلدی سے راضی بھی ہو گئے تھے ان سب کے برعکس زمل تو اس ٹور پر آنے کے لئے تیار تک نہ تھی کیونکہ اتنے لوگوں میں وہ کبھی کمفرٹیبل نہیں ہو پاتی تھی وہ چپ چاپ سی الگ تھلگ رہنے والی لڑکی تھی ایسا نہیں تھا کہ اسے لوگوں میں گھلنا ملنا پسند نہیں تھا بس اس نے کچھ وہم پال رکھے تھے جو ہمیشہ آڑئے آجاتے تھے ہمیشہ کی طرح اس بات بھی اس کی بچپن کی دوست تہروبا جو بچپن سے لے کر یونیورسٹی تک اس کیساتھ تھی وہ زمل کو یہاں بھی کھینچ لائی تھی

مجھے لگتا ہے شہزادی صاحبہ تمہارئے ویلی تک جانے کا کوئی ارداہ نہیں ہے میں تو چلی تم یہاں سکون سے اپنی نیند پوری کرو شہزادی زمل

وہ طنزیہ سے انداز میں جملہ کھینچتے ہوئے بیگ اٹھائے باہر نکل گئی

زمل نے باہر جھانک کر دیکھا تو ماسوائے اس کے سب ہی تیار ہو چکے تھے وہ جانتی تھی کہ یہاں اس کے انتظار میں کوئی بھی نہیں روکے گا اس لئے وہ مزید وقت ضائع کئے بغیر کمپ سے نکل آئی جھیل کنارئے کچھ دوست لکڑیوں کی آگ پر چائے پکانے میں مصروف تھے اور کچھ لوگ فوٹوگرافی کر رہے تھے وہ ان سب سے نظریں چرائے خاموشی سے جھیل کنارئے چلتے ہوئے آگے کی طرف بڑھتی چلی گئی شہزادی جلدی آنا….تہروبا کی آواز سنی ان سنی کرتے ہوئے وہ چلتی گئی اس کا نام زمل تھا البتہ وہ میٹرک تک ہر کتاب کے پہلے صفحے پر اپنا نام زمل شہزادی لکھتی آئی تھی کیونکہ تب تک اسے لگتا تھا کہ وہ پرستان کی شہزادی ہے مگر جیسے جیسے وہ زندگی میں آگے بڑھتی گئی اسے احساس ہوتا گیا کہ شہزادیاں گوری چیٹی پراعتماد اور غالب شخصیت کی مالک ہوا کرتی ہیں اس لئے اس کے گندمی ہلکے سانولے رنگ اور شخصیت کیساتھ شہزادی لفظ صرف ایک مذاق ہے اس لئے وہ خود کو شہزادی کہنا اور لکھنا چھوڑ چکی تھی مگر تہروبا اب بھی کبھی کبھار اس کو چڑانے کے لئے اسے شہزادی بول دیا کرتی تھی

شام ہوتے ہی وہ تمام لوگ ویلی سے واپس اپنے کیمپوں میں لوٹ چکے تھے جھیل کے کنارئے جلتی ہوئی لکڑیوں کے گرد بیٹھے وہ سب بیتے ہوئے لمحوں کو یاد کر رہے تھے ہر کوئی یادوں کے گلدستے میں اپنا حصہ ڈالنے میں مصروف تھا ان سب سے ہٹ کر زمل کچھ فاصلے پر خاموش بیٹھی گہری سوچ میں مبتلا تھی وہ گزری ہوئی رات کے متعلق سوچ رہی تھی جب وہ سب سے نظریں چرائے کمپوں سے دور جھیل میں نہانے چلی گئی تھی یہ محض حسن اتفاق تھا کہ جس خیالی دنیا کے متعلق وہ بچپن میں کہانیاں سنتی آئی تھی وہی سب منظر یہاں تھا پہاڑوں سے اترتے قدرتی چشمے کا پانی اپنے اندر خاص خصوصیت رکھتا ہے جو کئی بیماریوں کی شفا اور ظاہری خوبصورتی کا خزانہ اپنے اندر سموئے ہوتا ہے وہاں نہاتے ہوئے اس کے ساتھ کچھ عجیب ہوا تھا مگر وہ عجیب چیز کیا تھی یہ ابھی تک وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی

جب سب گروپ فوٹوز بنا رہے تھے تب تم نے سردار کیساتھ فوٹوز کیوں نہیں بنوائی موبائل کی سکرین پر مگن تہروبا سارئے دن کی فوٹو گرافی دیکھتے ہوئے اچانک رک کر اس سے سوال پوچھنے لگی تھی سردار ان کی ہی کلاس کا ایک خوبصورت جوان تھا وہ نام کا ہی نہیں کام کا بھی سردار ہی تھا ایک غالب شخصیت کا مالک جو اپنی بات منوانا اور کرنا جانتا تھا ہمیشہ سب اس کی ہاں میں ہی ہاں ملاتے تھے اور اس کے پیچھے پیچھے ہی چلتے تھے غالب شخصیت ہمیشہ لڑکیوں میں مقبول رہتی ہے اس لئے سردار بھی کلاس کی لڑکیوں میں کافی مقبول تھا ہر وقت لڑکیوں کا جھرمٹ اس کے گرد رہتا تھا

تہروبا زمل کے دل میں سردار کے لئے چھپے ہوئے جذبات اچھے سے جانتی تھی اور یہ بھی کہ زمل کبھی اس سب کا اظہار سردار سے نہیں کر پائے گی

زمل کہاں مگن ہو تہروبا نے اسے جھنجوڑ کر اپنی طرف متوجہ کیا کم از کم آج تمہیں خاموش نہیں رہنا چاہئیے جب سب تصویریں بنوا رہے تھے تب تم بھی…….

مجھے اس کیساتھ پکچر بنوانے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے وہ سنجیدہ لہجے میں انکاری ہو گئی تھی تمہیں پورا انٹرسٹ ہے بٹ تم میں ہمت نہیں ہے کہ تم اس سے بات کر سکو

تم بھول رہی ہو کہ ہم دونوں آپس میں بات کرتے رہے ہیں تہروبا مگر وہ مجھے ایک دوست کی حد تک ہی رکھنا چاہتا ہے اور ویسے بھی جس کے گرد اتنی ماڈرن لڑکیاں گھومتی ہوں وہ مجھ میں بھلا کیسے انٹرسٹ دیکھائے گا

ان سو کالڈ ماڈرنز کے لئے جگہ تم نے خود خالی کی ہے زمل اگر تم یوں دور دور رہو گی تو کوئی اور خالی جگہ دیکھ کر قریب قریب تو جائے گا ناں

مجھے خود کو کسی دوسرئے پر مسلط کرنا اچھا نہیں لگتا تہروبا اور یہ بات تم بھی اچھے سے جانتی ہو

تم بھی سو کالڈ گھسہ پیٹہ فلاپ ڈرامہ کر رہی ہو ایک طرف تو تم خود اس سے بات نہیں کر پاتی کیونکہ تمہیں لگتا ہے کہ وہ تمہیں ریجیکٹ کر دئے گا اور دوسری طرف تمہیں اس کیساتھ دوسری لڑکیوں کا بات کرنا بھی پسند نہیں

ہاں تو کیا ضروری ہے کہ میں…….

میری بھولی شہزادی میری اماں کہا کرتی ہیں کہ جہاں شہد ہو وہاں مکھیاں تو ہوں گی ہی مکھیاں مارنے کی بجائے شہد کو محفوظ کرو

تو میں کیا کروں وہ سوالیہ انداز میں تہروبا کو دیکھنے لگی تھی

اظہار شہزادی اظہار تہروبا آنکھ مارتے ہوئے مسکرائی میں تو کہتی ہوں کہ آج رات اس کو چونکا دئے جب سب مکھیاں میرا مطلب یہ لڑکیاں سو جائیں تو اس کے کمپ میں جا کر اظہار محبت کر ڈال

تم پاگل وگل تو نہیں ہو گئی لڑکی

پاگل تو وہ ہو جائے گا تم میں اتنی ہمت دیکھ کر……اس سے زیادہ رومنٹک موسم اور جگہ کیا ہو سکتی ہے شہزادی

اپنی یہ شہزادی شہزادی والی بکواس بند نہیں کر سکتی تم___وہ چڑتے ہوئے اسے گھورنے لگی تھی

آنکھیں مت دیکھایا کرو مجھے شہزادی___وہ شہزادی لفظ کھینچتے ہوئے زمل کو بھی اپنے ساتھ کھینچ لائی تھی جہاں پہلے سے سب بیٹھے اپنی باتوں میں مگن تھے

زمل تم بھی کوئی بات کرو کیا یہاں بھی الگ تھلگ ہی رہو گی___سردار نے فوری اسے اپنے پاس جگہ دی تھی جہاں وہ شرماتے ہوئے دھڑکتے دل کیساتھ بیٹھ گئی تھی وہ ہمیشہ سے اپنے دل میں اس کے لئے جذبات رکھتی تھی مگر انکار کے ڈر سے کبھی اظہار نہیں کر پائی تھی اس کے دل میں اپنے رنگ و روپ کو لے کر ایک ایسا احساس کمتری بیٹھ ہوا تھا جو ہمیشہ ہر کام میں رکاوٹ بن جاتا تھا وہ کھل کر کسی کے سامنے بول نہیں پاتی تھی اپنا موقف بیان نہیں کر پاتی تھی بس ہر کسی کی ہاں میں ہاں ملا دیا کرتی تھی اسے ہمیشہ سے یہی لگتا تھا کہ اپنا موقف دینے کے چکر میں وہ کچھ غلط بول بیٹھے گی جس سے سب اس کا مذاق اڑانے لگے جائیں گے یہی خوف اب بھی اس کے چہرئے سے جھلک رہا تھا جب وہ سردار کے پاس دونوں ہاتھ آگ کی طرف کئے خاموش بیٹھی تھی

میری تو شادی کی ڈیٹ فکس ہے یہاں سے جاتے ہی بس اس کی تیاریاں شروع ہو جائیں گی

میں تو امریکہ جانے کی تیاری کر رہی ہوں

میں اپنا بزنس شروع کروں گی

مجھے تو بس آزاد رہنا ہے مزید جھنجھٹ مجھ سے نہیں پالیں جائیں گے

مجھے بزنس کا شوق ہے اور میں یہ ضرور کروں گی____سردار کے سوال پر ہر کوئی اپنا فیوچر پلان بتا رہا تھا اور اب زمل کا نمبر تھا جس کا دل زور سے دھڑکنے لگا کہ وہ کیا پلان بتائے کیونکہ اس کے پاس کوئی فیوچر پلان ہے ہی نہیں تھا

زمل تم یہاں سے واپسی پر کیا کرنے والی ہو___سردار اس کے خاموش چہرئے کی طرف مخاطب ہوا

یہ تمہارئے ساتھ ہی رہے گی سردار___زمل کو خاموش دیکھ کر تہروبا جھٹ سے بول دی تھی میرا مطلب یہ اپنے بھائی اور بھابھی کے ویلفئیر کالج کو جوائن کرئے گی اور اس کیساتھ ہی تو تمہارئے ڈیڈ نیا پراجیکٹ لگا رہے ہیں___تہروبا نے جلدی سے صورتحال کو سنبھال لیا تھا ایک لمحے کے لئے اس کا جواب سن کر زمل کیساتھ سردار بھی چونک گیا تھا مگر تہروبا میں یہی ایک ٹیلنٹ تو کوٹ کوٹ کر بھرا تھا کہ اسے موقعے کی مناسبت سے بات بنانی آ جاتی تھی

اس کا مطلب زمل اپنے کیرئیر فلاحی کام سے شروع کرئے گی اور نہیں تو کیا زمل کونسا اپنے بھائی سے کم ہے جو نیک کام میں دیر کرئے

اور تہروبا__وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا اس میں پوچھنے والی بات کیا ہے بھئی تہروبا تو وہاں ہی ہو گی جہاں زمل ہو گی کیوں زمل…..

ہاں ہم دونوں نے وئلیفیر کالج جوائن کرنا ہے___سب کے سامنے زمل نے بھی حامی بھر لی تھی حالانکہ اس سے پہلے دونوں میں اس متعلق کوئی بات نہیں ہوئی تھی

میری کچھ جاننے والی لڑکیاں ہیں اگر تم وئلیفیر کالج میں ہو گی تو میں ان کو وہاں ہی بھیج دیتی ہوں تم ہو گی تو زیادہ اچھے سے ان کا خیال بھی رکھ پاو گی

ہاں کیوں نہیں تم ضرور بھیجنا ہم دونوں مل کر ان کا خیال رکھیں گی تہروبا نے جھٹ سے جواب دیا تھا

کچھ دیر یونہی باتیں کرتے سب اپنے اپنے کمپوں میں لوٹ گئے تھے آج آخری رات ہے پھر یہ موقع کبھی نہیں آئے گا زمل تمہیں اس سے اپنے دل کی بات کہہ دینی چاہئیے تہروبا نے اسے ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کمپ میں واپس آنے کے بعد وہ کچھ دیر تک تہروبا کا لیکچر سنتی رہی اور پھر اپنے اندر موجود تمام ہمت کو جمع کر کے اپنے کمپ سے نکلتے ہوئے اس کے کمپ کی طرف چل دی اس نے اندر جھانک کر دیکھا تو ایک دم سناٹا تھا سردار کا کمپ بلکل خالی تھا وہ اس وقت کہاں جا سکتا ہے کسی اور کمپ میں؟؟ وہ خود سے مخاطب ہوئی پتہ نہیں اس کی زندگی میں کون ہو گی کون نہیں مجھے یوں اس کے کمپ تک نہیں آنا چاہئیے تھا اس نے لمحے بھر کے لئے خود کو کوسا اور وہاں سے دور ہٹ گئی جتنی دور یہاں سے اس کا اپنا کیمپ تھا اس سے کچھ زیادہ قدم چل کر وہ دوبارہ ڈھلون سے نیچے اتر کر آبشار میں نہا سکتی تھی اس سے بہترین موقع کیا ہو سکتا تھا کہ وہ چپ چاپ بغیر کسی کو خبر کئے پہاڑوں سے اترتی آبشار کے آب حسن میں نہا لیتی جو اس کے خیال میں اس کے اپنے حسن میں اضافہ کر سکتا تھا وہ دبے قدموں کیساتھ مخالف سمت میں ڈھلون کی طرف بڑھتی چلی گئی

وہ ڈھلون سے اتر کر درختوں کی اوٹ کے پیچھے گئی ڈھلون سے گرتے پانی کی آواز تیز میوزک کی طرح مسلسل بجتی جا رہی تھی یہ وہی جگہ تھی جہاں وہ ایک رات پہلے بھی نظریں چھپائے آ گئی تھی اس نے ایک نظر چاروں طرف دوڑائی چاند کی روشنی اتنی زیادہ بھی نہیں تھی کہ دور تک دیکھا جا سکتا اور یہی وہ چاہتی تھی کہ کوئی اس طرف آئے بھی تو اس کی نظر اس تک نہ پہنچ پائے اس نے پتھر پر بیٹھ کر حسن کے بہتے دریا کی دھار کے نیچے ابھی سر کیا ہی تھا کہ اس کے بدن کو ایک زوردار جھٹکا لگا اور وہ پیچھے کو گری کسی نے اس کے بدن کو پورا زور سے جھٹک دیا تھا اس کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی جس کی آواز گرتے ہوئے پانی کے شور میں دفن ہو کر رہ گئی تھی

ابھی اس کے حواس بحال نہیں ہوئے تھے کہ اسے ہوا میں معلق ایک نوجوان نظر آئے جو بغیر سہارئے کے ہوا میں لٹک رہا تھا کسی نے اس پر تشدد کر کے اس کی یہ حالت کی تھی زمل کو اپنا بدن بھی جھکڑا ہوا محسوس ہونے لگا وہ مسلسل چیخیں مارنے لگی مگر بے سود___وہاں کوئی تھا ہی نہیں جو اس کی آواز سنتا اور نہ ہی کسی کو علم تھا کہ وہ کہاں ہے وہ ٹانگوں میں سر دبائے چیخ رہی تھی کہ اچانک اسے اپنے بدن سے کوئی چیز الگ ہوتی محسوس ہوئی اسے اپنا جسم کچھ ہلکا محسوس ہوا چیخوں کی شدت سے اس کا گلہ بیٹھ چکا تھا اس نے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی کہ اچانک وہ لٹکتا ہوا بدن اس کے سامنے نیچے آ گرا اس نے اس کے چہرئے پر نظر ڈالی تو وہ سردار تھا وہی سردار جس کے کیمپ میں وہ اظہار محبت کرنے جا رہی تھی اس کا لباس پھٹ چکا تھا اور اس کے بدن سے جگہ جگہ سے خون بہہ رہا تھا زمل سردار کی یہ حالت دیکھ کر وہی بے ہوش ہو گئی تھی

صبع کے 3 بج گئے تھے وہ آج کا آخری آپریشن مکمل کر کے اپنے دفتر کی طرف آئی تھی دفتر میں پہنچ کر اسے ایک دم جھٹکا سا لگا کیسی ہو رادیہ__مہمان نے میزبان کو حیران دیکھ کر خود ہی پوچھ لیا تھا ڈاکٹر رادیہ پرائیویٹ ہسپتال میں بطور سرجن نائٹ ڈیوٹی سرانجام دئے رہی تھی ایک عرصے بعد اپنے شوہر کو اپنے آفس میں دیکھ کر اسے جھٹکا سا لگا تھا کیونکہ ان دونوں کی آخری ملاقات بہت خراب رہی تھی دو سال پہلے وہ دونوں جب آخری بار ملے تھے تو اپنی بچی کی سپردگی کو لے کر آپس میں بہت لڑئے تھے

مجھے اچانک سے دیکھ کر چونک گئی ناں___وہ معصومانہ انداز میں مخاطب ہوا__میں مانتا ہوں کہ مجھے یہاں اچانک سے بغیر بتائے نہیں آنا چاہئیے تھا مگر احساس شرمندگی نے مجھے بے بس کر دیا تھا میں تم سے اور اپنی بیٹی سے مزید دور نہیں رہ سکتا____بات کرتے ہوئے اس کی نم ہوتی آنکھیں دیکھ کر رادیہ کا دل پسج گیا تھا آخر وہ سالوں تک ایک ساتھ رہے تھے جو بھی ہوا بہت غلط ہوا رادیہ مجھے معاف کر دو میں نے تم دونوں کیساتھ بہت غلط کیا تھا____وہ کچھ دیر تک یونہی کھڑا اس کی منتیں کر رہا تھا یہ وہی ڈاکٹر رادیہ تھی جس کو وہ دوسال پہلے چھوڑ کر چلا گیا تھا آج اسی رادیہ کے سامنے وہ نظریں جھکائے ہاتھ باندھے اپنے کرموں کی معافی مانگ رہا تھا

یوں اچانک آپ___رادیہ نے حیرانگی سے جملہ کھینچا____کیا سب کچھ ٹھیک ہے ناں

سب ٹھیک ہے میری جان میری زندگی میں ہر چیز موجود ہے سوائے تمہارئے____یقین کرو جب میں نے سب پا لیا تو مجھے احساس ہوا کہ تمہارئے بغیر سب ادھورا ہے____ذیشان نے رادیہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنی ہتھلی میں دبا لیا تھا___میرا یقین کرو میں سب ٹھیک کر دوں گا مجھے بس ایک موقع دو

کیسا موقع___

اپنی زندگی مکمل کرنے کا موقع کیونکہ وہ تمہارئے اور ہماری بچی کے بغیر ادھوری ہے___شاید آپ بہت دیر ہو گئی ہے ذیشان بچی بڑی ہو رہی ہے میں اس کے سامنے____مجھے ایک موقع دو میں اس کیساتھ تمہاری سب شکایات بھی دور کر دوں گا تم دونوں کی زندگی کو حسین سے حسین تر کر دوں گا اتنا ہی حسین جتنا حسین بنانے کے وعدئے میں شادئ سے پہلے تمہارئے ساتھ کر چکا تھا____رادیہ لمحے بھر کے لئے خاموش کھڑی ہی اسے دیکھتی رہی تھی وہ دو قدم آگے بڑھا اس نے رادیہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس کا رخ اپنی طرف پھیرا_____میں وہی ذیشان ہو جس بن تم ادھورئ تھی حقیقت میں میں ادھورا ہو گیا تھا کیونکہ تمہارا وجود کسی نعمت سے کم نہیں افسوس میں دو سال اس نعمت سے دور بھاگتا رہا____وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دلبرانہ انداز میں مخاطب ہوا تھا ڈاکٹر رادیہ اگلے ہی لمحے اس سے لیپٹ گئی تھی اسے اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کا شوہر اس کی زندگی میں واپس آ چکا ہے

وہ اس کو سینے سے لگائے الٹے قدم چلاتا دروازئے تک لے گیا اس نے لائٹ آف کر کے دروازہ لاک کیا آئی کانٹ بلیو کہ آپ واپس آ گئے ہیں نم آنکھوں کیساتھ اس سے ہونٹوں سے ابھی یہی نکل پایا تھا کہ ذیشان نے اس کے ہونٹوں کو دبوچ لیا وہ دونوں دو سال بعد ایک دوسرئے کے قریب آئے تھے

آئی لو یو مائی سویٹ ہارٹ___وہ ہونٹوں سے گردن تک آیا تھا اور شائستگی سے اس کی گردن پرسانسوں کی پوھاڑدینے لگا ڈاکٹر نے اسے اپنی بانہوں میں دبوچ لیا تھا اور اس کے لمس کو اپنے جسم پر محسوس کرتے ہوئے مدہوش ہوتی جا رہی تھی ذیشان گھوم کر اس کی پشت پر آیا

اس نے رادیہ کی گردن پر آہستگی سے ہونٹ رکھے وہ جذبات میں مچلتی ہوئی اس کے دانت گردن میں دھنسنے کی تکلیف بھی برداشت کر گئی تھی آ ہ ہ آ ہ ہ ک ک کون ہو تم___درد کے احساس سے جب وہ کڑاہتے ہوئے ہوش میں آئی تو اسے اس اجنبی کا احساس ہوا جو ذیشان کا روپ دھار کر آیا تھا مگر اس احساس کے ہونے تک بہت دیر ہو چکی تھی

ک ک کون ہو تم__وہ چیختے ہوئے پکاری اسے اپنا جسم مفلوج محسوس ہوا تھا

لیوسفر

ایک خوفناک آواز اس کی سماعت سے ٹکڑائی اور وہ زمین سے دو فٹ بلند ہو کر واپس زمین پر گری

رات گہری ہو چکی تھی ان سب کو ٹور سے واپس آئے کئی گھنٹے ہو چکے تھے مگر زمل اب تک کانپ رہی تھی وہ ناچاہتے ہوئے بھی ڈری سہمی اپنے کمرئے میں تنہا بیٹھی ہوئی تھی اسے اب تک سمجھ نہیں آیا تھا کہ اس کیساتھ یہ سب کیا ہوا ہے وہ سارئے واقعات اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چل رہے تھے ڈر اور خوف کی وحشت سے اس کے آنسو تک سوکھ چکے تھے اس کی آنکھیں سفید اور چہرئے کا رنگ فق ہو چکا تھا وہ اس رات کے متعلق کسی کو کچھ بتانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی بتاتی بھی تو کیا بتاتی یہ کہ وہ رات کے پچھلے پہر سردار کے کیمپ میں گئی وہ بھی تب جب وہ وہاں تنہا تھا یا یہ کہ سردار کو وہاں نہ پا کر وہ ڈھلون سے اترتے ہوئے نیچے نہانے چلی گئی پھر کون یقین کرتا کہ زمل اور ایک نامحرم لڑکا اتفاق سے رات کے آخری پہر سب سے نظریں چرائے اپنے کیمپ چھوڑ کر ندی کنارئے مل رہے تھے یہ واقعی ہی ایک اتفاق تھا!!!

زمل کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سردار اسے وہاں مل جائے گا وہ تو محض ندی کے میں نہانے گئی تھی جس کا پانی اس کی نظر میں آب حسن تھا مگر زمل جیسی لڑکی کے لئے اس سچ کو سچ ثابت کرنا ناممکن تھا اور ویسے بھی اس کی بات پر یقین کرتا کون؟؟اس کی بھابھی جس سے اس کی کبھی بنی ہی نہیں تھی یا اس کا بھائی جو اس بات کی بھنک لگنے پر ہی اسے مار دیتا یا اس کی کلاس فیلوز جو ہمیشہ باتوں باتوں میں اسے طعنے دیا کرتی تھی کہ میسنی کوئی بڑا ہاتھ مارئے گی لے دئے کر تہروبا ہی اس کے پاس بچی تھی مگر زمل اس حالت میں بھی نہیں تھی کہ تہروبا کو یقین دلا پاتی کہ یہ سب محض اتفاق تھا اگر وہ بالفرض اس بات پر یقین کر بھی لیتی تب بھی اسے زندگی بھر زمل کو ٹرول کرنے کے لئے ایک اور بات مل جاتی یہ تو اس رات کا صرف ایک پہلو تھا یہاں تک تو صرف اسے اپنے کردار کی صفائیاں دینی تھی مگر اس رات کا دوسرا پہلو اس سے کئی گنا زیادہ خطرناک تھا اس کی خبر منظر پر آنے کے بعد زمل کے لئے زندگی عذاب بن سکتی تھی کسی دوسرئے شخص کو اس بات کا یقین دلانا تو بہت دور خود زمل کو بھی اس بات پر مکمل یقین نہیں تھا کہ اس کیساتھ واقعی ہی یہ ہوا ہے

گھڑی کے پہلے آلارم نے ہی میکال کی آنکھ کھول دی تھی ایک بنکر ہونے کی وجہ سے وہ ہمیشہ سے وقت کا پابند رہا تھا یہی پابندی وقت ڈھلتی عمر میں بھی میکال سلطان کو نوجوان رکھے ہوئی تھی وہ اپنی زندگی کی چالیس سے زائد بہاریں دیکھنے کے باوجود آج بھی کسی 25 سال کے نوجوان کی طرح فٹ نظر آتا تھا البتہ اس کی گھنی دھاڑی کے چند بال زور سفید ہو چکے تھے جن کو وہ ڈھلتی عمر کے اثر کی بجائے بطور فیشن دیکھانے کا ہنر اچھے سے جانتا تھا آلام بجنے کے ٹھیک 30 منٹ کے دوران وہ گھر سے نکلنے کے لئے تیار ہو چکا تھا میکال نے معمول کے مطابق معمولی سا ناشتہ کیا اور اپنے کمرئے کے بلکل سامنے بنے روم کی طرف چل دیا

یہ اس کا روٹین ورک تھا وہ روزانہ آفس جانے سے پہلے حیا کے روم تک ضرور جاتا تھا اس نے روٹین کے مطابق اپنی بیٹی حیا کو دیکھا جو ابھی تک سو رہی تھی اور پھر گاڑی نکال کر منزل کی طرف بڑھنے لگا اسے آج آفس جانے کی بجائے ویلفئیر کالج جانا تھا جو اس کی بیوی وجیہہ سلطان چلاتی تھی اس کالج میں شہر بھر کی یتیم و لاوراث بچیاں تعلیم حاصل کرتی تھی کالج ہاسٹل سمیت ضروریات زندگی کی تمام سہولتوں سے آراستہ تھا میکال سلطان وجیہہ سلطان کا دوسرا شوہر تھا پہلے شوہر سے علیحدگی کے بعد وجیہہ سلطان اور اس کی بیٹی حیا ایک عرصے تک کسمپرسی کی زندگی گزارتی رہی تھی وہ ان تمام حالات سے واقف تھی

جو ایک بے سہارا خاتون کو اس معاشرئے میں دیکھنے پڑتے تھے اس لئے ہی تو دوسری شادی کے حق مہر میں وجیہہ نے میکال سے ویلفئیر کالج کی ڈیمانڈ رکھ دی تھی تاکہ وہ باقی خواتین کو ان مشکل حالات سے بچا سکے جن کا سامنا وہ اور اس کی بیٹی کر چکی تھی وہ چھوٹا سا ادارہ ترقی کر کے اب ایک بڑی عمارت بن چکا تھا جس میں سینکڑوں لڑکیاں اور خواتین موجود تھی

وہ چند ہی لمحوں میں گاڑی کالج تک لے آیا تھا جہاں سے اس کی بیوی پہلے سے تیار کھڑی تھی

میں رات دیر تک آپ کا انتظار کرتی رہی تھی مگر____مجھے افسوس رہے گا کہ میں نے زندگی کی ایک اور رات ضائع کر دی__میکال ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ وجیہہ کو ٹوک چکا تھا___کیوں جس بزنس میٹنگ کے لئے گئے تھے وہ کنفرم نہیں ہوئی___وہ تو ہو گئی تھی سویٹ ہارٹ البتہ جو رات میں نے تمہارئے بغیر گزاری مجھے اس کے گزر جانے کا افسوس ہو رہا ہے___اس طرح تو جناب کو اپنی آدھی زندگی کو افسوس ہونا چاہئیے____وجیہہ مسکرا دی تھی____ہاں مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ مجھے اتنی لمبی زندگی تمہارئے بغیر گزارنے کا ہمیشہ افسوس رہے گا

وہ مسکراتے ہوئے وجہیہ کی طرف متوجہ ہوا تھا جس پر وہ شرماتے ہوئے اپنا رخ پھیر چکی تھی___یو ناؤ آئی ایم ان لو ود یو____یہ بات تو آپ ہمیشہ کہتے ہیں مسٹر میکال___وہ شرمانا چھوڑ کر مغرورانہ انداز میں میکال کو دیکھنے لگی تھی___ہاں کیونکہ جب تم ہر ٹینشن سے بے نیاز ہو کر یوں مغرورانہ انداز میں میری طرف متوجہ ہوتی ہو تو مجھے یہ کائنات کی ہر چیز بہکی بہکی لگتی ہے____مگر حقیقت میں آپ بہک رہے ہیں___وجیہہ اپنا ہاتھ اس کے لبوں کی طرف بڑھا چکی تھی___کیوں مجھے بہکنا نہیں چاہئیے کیا___میکال نے اس کے ہاتھ پر بوسہ دیا تھا___بلکہ نہیں مسٹر میکال آپ پوری احتیاط سے گاڑی ڈرائیو کریں____وہ تھوڑا سا لہجہ تبدیل کرتے ہوئے اپنا ہاتھ واپس کھینچ چکی تھی____اف ف ف ماہ جبین تمہاری یہ____ڈونٹ بی فلرٹی یہ بلکل سوٹ نہیں کر رہا___وجیہہ بناوٹی غصے سے آنکھیں دیکھاتی ہوئی بولی تھی

اس دوران ان کی گاڑی منزل پر پہنچ چکی تھی اور وہ دونوں گاڑی سے اتر کر سیدھا ہسپتال کے وارڈ میں گھس گئے ہسپتال میں داخل ہوتے ہی دونوں نے اپنا رویہ بدل لیا تھا وہ دونوں اب شوہر بیوی سے زیادہ ایک پروفیشنل ٹیم کا روپ دھار چکے تھے ڈاکٹر رادیہ تھنکس گاڈ کہ تم ٹھیک ہو یہ سب کیسے ہوا تھا___وجیہہ وارڈ میں داخل ہوتے فکر مندانہ انداز میں مخاطب ہوئی تھی وہ دونوں ہم عمر تھی اور بچپن سے ساتھ ہی رہی تھی بچپن کی دوستی کے علاوہ ایک اور مماثلت ان میں یکجا تھی وہ دونوں اپنے پہلے خاوند کو چھوڑ چکی تھی___مجھے کچھ یاد نہیں وجیہہ میں لوگوں کو فرضی کہانیاں بتا بتا کر اکتا چکی ہوں مگر حقیقت میں مجھے کل رات کے متعلق کچھ یاد نہیں____میرئے خیال سے تمہیں کچھ دن آرام کرنا چاہئیے یہ شاید کام کا سٹریس ہے

_مجھے اپنی بیٹی کی بہت فکر ہو رہی ہے وجیہہ____رادیہ فکر مندی سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی تھی____تم ڈاکٹر ہو کر اوور تھنکنگ کا شکار ہو رہی ہو تمہیں آرام کرنا چاہئیے____رادیہ کے چہرئے سے خوف ابھی بھی جھلک رہا تھا اسے صرف اتنا یاد تھا کہ وہ آپریشن کے بعد اپنے آفس کی طرف آ رہی تھی اور پھر جب اسے ہوش آئی تو وہ سٹریچر پر موجود تھی اور اس کا جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا اور دل تیزی سے دھڑکتا جا رہا تھا___ہو سکتا ہے کہ تم نے آخری بار جس مریض کا آپریٹ کیا ہو اس کی حالت دیکھ کر تم پر کوئی اثر ہوا ہو____میکال نے کچھ سوچتے ہوئے خاموشی توڑی تھی_____

وہ بہت معمولی سا آپریٹ تھا ایسے آپریشنز تو کالج یونیورسٹیز میں عام کروائے جاتے ہیں_____کیا ہم اس مریض سے مل سکتے ہیں____ہاں شاید وہ ابھی یہاں ہی ہو سردار نام تھا شاید اس کا____یہ وہی لڑکا تو نہیں جو اپنی زمل کیساتھ ٹریپ پر تھا اور وہاں ڈھلون سے نیچے گر گیا تھا____وجیہہ سوالیہ نظروں سے میکال کو دیکھنے لگی____اگر یہ وہی ہے پھر تو ہمیں یقینی طور پر اس سے ملنا چاہئیے آخر اپنی زمل کا کلاس فیلو بھی تو ہے____میکال کے اسرار پر وجیہہ بھی اس کیساتھ چل دی تھی سردار نیم بہوشی کی حالت میں سویا ہوا تھا اس کے جسم پر کافی پٹیاں بندھی ہوئی تھی اس کے بستر کے گرد پھولوں کا بازار سے لگا ہوا تھا جو تیمارداروں کی طرف سے لائے ہوئے تھے____آپ فکر مند نہ ہوں مریض کی حالت اب خطرئے سے باہر ہے___وہ نرس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے مسلسل اسے دیکھتے رہے تھے

سنیں میں سوچ رہی تھی کیوں ناں ہم رادیہ کی بیٹی کو اپنے ساتھ کالج لے جائیں___وجیہہ نے میکال کے قریب چہرہ لا کر سرگوشی کی تھی___مجھے وہ اپنی بیٹی کے لیے بہت فکر مند نظر آ رہی تھی____مجھے نہیں لگتا وہ ایسا کرئے گی وہ اپنی بیٹی کے لئے بہت فکر مند ہے____مجھے اس کے چہرئے اور آنکھوں سے محسوس ہوا ہے کہ جیسے وہ یہ چاہتی ہے ہو کہ ہم اس کی بیٹی کو اپنے پاس لے جائیں اور اس طرح ہم اپنی لاڈلی حیا کو بھی کالج لا سکتے ہیں اس کا بھی دل لگ جائے گا____تم شاید بھول رہی ہو کہ کالج سے دو لڑکیاں لاپتہ ہیں___میکال وجیہہ کے مشورئے کو رد کرتے ہوئے وہاں سے چل دیا تھا اگرچہ ابھی تک یہ معاملہ دبا ہوا تھا مگر وہ جانتا تھا کہ جیسے ہی یہ خبر منظر عام پر آئے گی تو ہر طرف ایک بھونچال مچ جائے گا جو کالج کی رئپوٹیشن کیساتھ میکال کا کیرئر بھی ختم کر دئے گا____میکال ہمیں کم از کم اسے ایک آفر تو کرنی چاہئیے تاکہ اس کے دل میں کوئی بات نہ رہے____ہاں اگر تم اسے دو لاپتہ بچیوں کی تفصیل بتا کر یہ آفر کرنے کا سوچ رہی ہو تو میں تمہیں اس کی اجازت دئے سکتا ہوں___وہ معنی خیز انداز میں وجیہہ کی طرف دیکھنے لگا تھا جس کے پاس میکال کی اس شرط کا کوئی جواب نہیں تھا_

تمہیں یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ خبر باہر آنے پر لاوارث بچیوں کے کئی وارث پیدا ہو جائیں گے اور یہ بھی کہ وقتی طور پر رادیہ سے بے رخی تمہاری اور اسکی دوستی ہمیشہ قائم رکھے گی البتہ جب رادیہ کو یہ پتہ چلے گا کہ تم اس کی بچی کو وہاں لے گئی ہو جہاں سے بچیاں لاپتہ ہو رہی ہیں تو اس کا نتیجہ تم مجھ سے بہتر جانتی ہو____میکال نے اپنا لہجہ تھوڑا سخت کیا تھا وہ اسے غصیلے انداز میں دیکھتے ہوئے وہاں سے چل دیا تھا جبکہ وجیہہ اپنی ہی جگہ پر بت سی بن کر رہ گئی تھی میکال کا رویہ اپنی ازدوجی زندگی میں وجیہہ کے لئے جتنا نرم،پرخلوص اور لونگ تھا اتنا ہی سخت رویہ وہ اپنے نجی معاملات میں اپنائے رکھتا تھا

میری اور میری بچی کی اتنی فکر کرنے کا بہت شکریہ مگر تمہیں میری وجہ سے اپنے شوہر کیساتھ بحث نہیں کرنی چاہئیے اور میں یہی چاہتی ہوں کہ میری بیٹی میرئے ساتھ ہی رہے

شام ڈھل چکی تھی وجیہہ اداس سی بیٹھی ڈاکٹر رادیہ کے مسیج موبائل سکرین پر پڑھ رہی تھی اس کا موڈ میکال کی وجہ سے پہلے ہی خراب تھا اوپر سے رادیہ کے ان مسیجز نے مزید جلتی پر تیل کا کام کیا تھا یعنی کہ ڈاکٹر رادیہ کو وجیہہ اور میکال کی آپسی چپقلش کی بھنک لگ گئی تھی تب ہی تو اس نے وجیہہ کو سمجھانے کے لئے مسیج کیا تھا وہ اپنی آفس کی کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھی اپنا غصہ کام کرنے اور خود کو نارمل کرنے کی کوشش کررہی تھی

وہ دونوں وہاں سے واپسی پر سیدھا کالج ہی چلے گئے تھے جب سے دو لڑکیاں لاپتہ تھی تب سے وہ رات بھی کالج میں ہی رہتے تھے موڈ خرابی کی وجہ سے وہ رات کے کھانے اور پھر سٹاف میٹنگ تک کے لئے نہیں گئی تھی_____مجھے بہت بھوک لگی ہے اب بغیر کوئی ناٹک کئے میرئے ساتھ کھانا شروع کرو___میکال کھانے کی پلیٹ لئے آفس میں پہنچ چکا تھا_____فی الحال میرا کھانے کا بلکل موڈ نہیں ہو رہا____مجھے پتہ ہے تمہارئے موڈ آج صبع والی بات کی وجہ سے خراب ہے___وہ کھانے کی پلیٹ اس کے سامنے رکھتے ہوئے اس کے چہرئے کی طرف دیکھنے لگا_____محبت برقرار رکھنے کے لئے کبھی کبھار انسان کو حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے سخت رویہ اپنانا ہی پڑتا ہے وجیہہ____وہ نرم لہجے میں اس سے مخاطب تھا___اور یہاں معاملہ صرف رشتے بچانے کا ہی نہیں بلکہ تمہارا کیرئیر بچانے کا بھی تھا____

اس بار اس نے ایک نوالہ توڑ کر وجیہہ کی طرف بڑھا دیا تھا بات اگرچہ اتنی بڑی نہیں تھی مگر میکال نے وجیہہ کو رکھا ہی اتنی نزاکت سے تھا کہ اسے میکال کی چھوٹی چھوٹی بات بھی بہت بڑی محسوس ہوتی تھی میکال نے کنوارئے ہوتے ہوئے ایک طلاق یافتہ عورت کو ناصرف قبول کیا تھا بلکہ اس عورت کی ایک جوان سالہ بچی کو بھی اپنا لیا تھا وہ کتنی دیر تک نوالہ اس کے ہونٹوں کے قریب کئے اس کو دیکھتا رہا آخر اس کے ہونٹ اس نوالے کو لینے کے لئے کھل گئے تھے

میں جانتا ہوں کہ تم نے اس ادارئے کو یہاں تک لانے میں بہت محنت کی ہے اور یہ بھی کہ تم اپنی دوست اور اس کی بیٹی کے لئے بہت فکر مند ہو مگر ہم ابھی یہاں اور رسک نہیں لے سکتے ہمیں ابھی اس ادارئے کو ہر طرح کی میڈیا کوریج سے دور رکھنا ہے کسی سے کوئی فنڈ رئزنگ نہیں کرنی اور نہ ہی کچھ ایسا کرنے ہے جس سے اس کی کوئی خبر عوام تک جائے جب تک ان دو لڑکیوں کا کچھ پتہ نہیں چل جاتا تب تک یوں سمجھو جیسے کوئی ادارہ موجود ہی نہیں____وہ اسے نوالے دیتا ہوا مسلسل سمجھا رہا تھا___یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ لڑکیاں کسی لڑکے ساتھ____ہاں ہو سکتا ہے مگر اس سب میں بھی قصور وار ہم ہی نکلیں گے اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ ابھی رادیہ کی بیٹی یہاں نہ ہی شفٹ ہو____مگر حیا

حیا کی فکر مت کرو وہ گھر میں محفوظ ہے میں آج پھر گھر ہی رہوں گا_____میکال نے کھانا ختم کیا اور ایک ہاتھ میں جام پکڑ کر سگریٹ سلگھاتے ہوئے کھڑکی کے قریب چلا گیا اور وہاں سے تمام بلڈنگ کا معائنہ کرنے لگا کھانے کے بعد شراب پینا اس کا معمول نہیں تھا ایسا وہ صرف شدید ٹینشن کی حالت میں ہی کرتا تھا اور وجیہہ بھی یہ بات اچھے سے سمجھتی تھی___ایم سوری_

وہ میکال سلطان کے پیچھے کھڑی مختصر سا جملہ بولی تھی سابقہ زندگی کے تھپڑوں نے اسے کافی کچھ سیکھا دیا تھا اس لئے وہ اب معاملات سلجھانے میں کبھی دیر نہیں کیا کرتی تھی وہ چھتیس سال کی ہونے کے باوجود اپنی عمر سے 6 7 سال چھوٹی نظر آتی تھی یہ میکال کی اس محبت کا ہی کمال تھا جو پچھلے چار سال سے وہ اس سے کر رہا تھا___ہاں ٹھیک ہے کوئی بات نہیں___اس نے بغیر دیکھے مختصر سا ہی جواب دیا___آئی سیڈ ایم سوری___وہ اس کے سامنے آتے ہوئے اس سے جام کا گلاس پکڑ چکی تھی____اس کی ضرورت نہیں تھی____تو کیا اس کی ضرورت ہے____وجیہہ نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے میکال سے سگریٹ لینے کی کوشش کی جو ناکام رہی____یہ بہت خطرناک ہوتی ہے مسٹر میکال____کیا تم سے بھی زیادہ____آئی ایم ان سیریس موڈ___آئی ایم آلسو___سگریٹ انسان کے لئے کتنی خطرناک ہوتی ہے کوئی آئیڈیا بھی ہے اور پھر ٹینشن کی حالت میں سگریٹ پینا___کچھ زیادہ ہی فکر نہیں ہو رہی___ہاں اور ہونی بھی چاہئیے

اس دفعہ وجیہہ نے اس کے ہونٹوں سے سگریٹ چھین لی تھی اس کا ہاتھ سگریٹ کو لے کر جیسے ہی پیچھا ہٹا وہ میکال کی گرفت میں آ چکا تھا____اس نے اپنے ہونٹوں کو اس کے ہاتھ کے قریب کر کے وہاں سے سگریٹ پکڑ لی اور پھر ایک ہی جھٹکے سے وجیہہ کو گھما کر اس کی پشت اپنی طرف موڑتے ہوئے اسے اپنی گرفت میں لے لیا____تمہیں میری فکر کرتے ہوئے اپنے دماغ پر زور نہیں دینا چاہئیے محترمہ____وہ اس کے کان کے گرد دھواں چھوڑتے ہوئے سرگوشی کر رہا تھا____آپ ٹینشن میں تھے شاید____تمہیں بانہوں میں لینے کے بعد بھلا کونسی ٹینشن یاد رہ سکتی ہے____یو آر گوئنگ ٹو رونگ وئز____وجیہہ نے مسکراتے ہوئے سرگوشی کی____آئی لو دی رونگ وائز انفیکٹ آل وائز آئی وانا لیو ود یو آن رونگ وائز____ڈیٹس ناٹ فئیر میکال___ایوری وئے آف لو از فئیر ود یو____میکال نے اپنی زبان کا ہلکا سا لمس اس کی کان کی لو پر چھوڑا اور پھر اس کے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں میں دبوچ لیا اور آہستگی سے کاٹتے ہوئے اس کے بدن پر اپنی گرفت کو کمزور کر دیا وہ اگلے ہی لمحے واپس اس کی طرف اپنا رخ پھیر چکی تھی

جنگل میں سناٹا چھایا ہوا تھا اس سناٹے میں پتوں کے پھڑپھڑانے کی آواز کا ہلکا سا شور پیدا ہو رہا تھا وہ خود کو چھڑانے کی پوری کوشش کر رہی تھی اس کے ہاتھ پاؤں چہرہ سب کچھ بندھا ہوا تھا لڑکی کی خود کو چھڑانے کی سب کوشش ناکام ہو چکی تھی وہ دو دن سے اپنی قتل شدہ دوست کیساتھ اسی جنگل میں قید تھی اچانک سے ایک چنگاڑی کی چمک اس لڑکی کی آنکھ نے دیکھی جس کو دیکھتے ہی اس کی سانس بند ہونے لگی اور دل ڈوبنے لگا وہ جان چکی تھی وہ آنے والا ہے جو کل رات اس کی ایک دوست کو مار چکا تھا اگلے ہی لمحے لڑکی کے جسم پر بندھی تمام رسیاں ٹوٹ کر گر گئی اور وہ آزاد ہو گئی اس نے زور سے چیخ مارنا چاہی مگر ڈر کی وجہ سے وہ چیخ گلے میں ہی اٹک گئی تھی اس نے تیز قدموں سے بھاگنا شروع کیا وہ رات کے اندھیرئے میں جنگل میں موجود کئی درختوں پتھروں سے ٹکراتی ہوئی ایک نامعلوم راستے پر بھاگتی جا رہی تھی راستہ کی سختی کا اثر کچھ ہی لمحوں میں اسے اپنے جسم پر محسوس ہونے لگا تھا اس کے بدن کے کئی حصوں سے خون رسنے لگا وہ بھاگتی ہوئی ایک جگہ گڑی اور وہی مفلوج ہو گئی____

مجھے چھوڑ دو لیوسفر میں تمہاری ہر بات مانو گی ل ی ی____وہ اٹکتے ہوئے جملہ مکمل کر پائی تھی کہ اچانک کسی طاقت نے اسے زمین سے اٹھا کر سیدھا کھڑا کر دیا اسے اپنے سامنے آگ اگلتی آنکھوں والا شخص نظر آ رہا تھا یہی لیوسفر تھا جو اس لڑکی کو اس کی دوست کیساتھ یہاں اٹھا لایا تھا____نہیں پلیز نہیں____اس نے اس کی بات ان سنی کرتے ہوئے ایک اشارہ کیا اور لڑکی کے بدن پر موجود تمام کپڑئے ہوا میں اڑ گئے____خوف اور ڈر سے لڑکی کی آواز نکلنا تک بند ہو گئی تھی

وہ چاہتے ہوئے بھی قدموں کی مٹی نہیں چھوڑ پا رہی تھی کہ اچانک اشارئے سے لیوسفر نے لڑکی کو اپنی طرف کھینچ لیا اور اپنا چہرہ اس کے بدن کے قریب لے گیا وہ سینے گردن تک اس کے بدن کو سونگھتا ہوا آیا تھا اور پھر گردن سے کندھے تک وہ اپنی ناک آہستہ سے لے گیا بے بس لڑکی مفلوج جسم کیساتھ صرف آنکھوں سے رحم کی بھیک ہی مانگ سکتی تھی جو لیوسفر کے پاس بلکل نہیں تھی اس کی ناک اس کی بیوٹی بون پر جا کر روکی اور اس نے وہاں ہی اپنے ہونٹ دھنسا کر لڑکی کے جسم کو خون کے آخری قطرئے تک نچوڑ ڈالا____یہ لیوسفر کا دو دن میں دوسرا شکار تھا اس کے لئے اس نے ایک لمبا انتظار کیا تھا جسم میں خون ختم ہوتے ہی لڑکی کا جسم دھڑم سے نیچے گرا اور لیوسفر اس بدن کو جانوروں کے لئے چھوڑ کر وہاں سے نکل گیا

خدا خدا کر کے رات کا اندھیرا ختم ہو رہا تھا کھڑکی کے باہر ہلکا ہلکا اجالا دیکھ کر اس کے جسم میں گویا زندگی لوٹ آئی تھی یہ صبع صادق کا وقت تھا وہ وقت جب کئی بیماریوں میں مبتلا مریض بھی ساری رات درد سے کراہنے کے بعد کچھ پل سکون کی نیند سو جاتے ہیں مگر زمل کی آنکھیں اس وقت بھی نیند سے کوسوں دور تھی وہ ساری رات زبردستی آنکھیں بند کئے بستر میں سکڑئے ہوئے لیٹی رہی تھی اس واقعہ کو گزرئے دو دن ہو چکے تھے مگر وہ سب ابھی تک اس کے اعصاب پر سوار تھا وہ ساری رات جاگ کر گزارتی تھی اور سارا دن خود کو کمرئے تک ہی محدود رکھتی تھی پچھلی رات تو وہ سارئے منظر اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلتے رہے تھے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ سب کیسے شروع ہوا تھا اور سردار وہاں کیسے پہنچا تھا اسے جو پہلا منظر نظر آ رہا تھا وہ درخت سے لٹکتی سردار کی لاش تھی جو اس کے قریب آ گری اور جیسے دیکھتے ہی وہ زور سے چیخنے لگی تھی اور پھر دوسرا منظر جب وہ ہوش میں آنے کے بعد ایک انجان،ایک دھندلی سی شخصیت سے سردار کی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی

وہ نہیں جانتی تھی کہ کس طاقت نے اسے اس کام کے لئے اکسایا تھا کہ وہ سردار کی زندگی کی بھیک مانگے اور اس نے ایسا کیوں کیا تھا اور اس شخصیت نے سردار کو واپس زندگی کیوں دی تھی

اس منظر سے پہلے اور بعد میں جو بھی ہوا وہ سب وہ بھول چکی تھی کسی ڈراونے خواب کی مانند بہت سے مبہم خیالات اور سوالات اس کے دل میں خودبخود جنم لے رہے تھے جن کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا شاید اس رات وہ بھی مر چکی ہوتی اور سردار بھی مر چکا ہوتا مگر دونوں کی سانسیں ابھی تک چل رہی تھی اور یہی خوفناک پہلو اس کے راتوں کی نیند اڑا چکا تھا وہ رات کو جھیل پر جانے کو لے کر ماسوائے خود کو کوسنے کے کچھ نہیں کر سکتی تھی

کئی کروٹیں بدلنے کے بعد اس نے بستر چھوڑا اور پیاس نہ ہونے کے باوجود پانی پینے لگی___نیند نہ آنے سے میری آنکھوں کا کیا حشر ہوا ہو گا یہ سوچتے ہی اس نے آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور اپنے چہرئے کو آئینے میں دیکھنے کے لئے کمرئے کے کونے میں لگے شیشے کی طرف بڑھی جیسے ہی اس نے اپنا چہرہ آئینے کے سامنے کیا اس میں دراڑئیں آئی اور وہ ایک لمحے میں چکنا چور ہو گیا اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ میں پکڑئے شیشے کے گلاس کی بھی یہی حالت ہو گئی تھی ابھی وہ اسی جھٹکے میں تھی کہ کسی نے اسے اٹھا کر چھت سے مارا اور پھر چھت پھٹی اور وہ ہوا میں اڑتی ہوئی کسی جنگل میں جا گری یہ سب ایک سیکنڈ کے آدھے حصے میں ہو گیا تھا

جنگل میں ہو کا عالم تھا ہر طرف گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا زمل کو اپنے قلب کی حرکت بند ہوتی محسوس ہوئی اچانک ایک رسی نے اس کے پاؤں کو جکڑ لیا اور اسے ایک اندھیری غار کی طرف کھنچنے لگی زمل کی مزاحمتیں کسی کام نہیں آ رہی تھی وہ کھنچتی چلی گئی غار کے اندر ایک گہری کھائی تھی اس نے خود کو گرنے سے بچانے کے لئے زمین پر گرئے پتوں اور زمین سے نکلی ہوئی گھاس کو پکڑا لیا مگر بے سود وہ اندھیری کھائی میں گرتی چلی گئی اور دھڑم سے کھائی کی گہرائیوں میں گری جب تک اس کے حواس بحال ہوئے وہ واپس اپنے بستر پر پڑی تھی کچھ سوکھے پتے اور گھاس اب بھی اس کی مٹھی میں بند تھی

اس سب میں چند لمحے ہی لگے تھے اس کی مٹھی میں سوکھے پتے اور زمین سے اکھاڑی گئی گھاس کی چند شاخیں نہ ہوتی تو وہ اسے ضرور کوئی ڈراونا خواب سمجھ لیتی مگر اس کی ہاتھ میں موجود پتے، زمین پر آئینے کے چکنا چور ہوئے ٹکڑئے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ یہ سب محظ ایک خواب نہیں تھا کوئی تو تھا جو اسے مارنے کی بجائے صرف ڈرانے پر اکتفا کر رہا تھا زمل کا بدن ساکن ہو چکا تھا ڈر اور خوف نے اس کی آنکھیں اتنی خشک کر دی تھی کہ اب ان سے چاہتے ہوئے بھی کوئی آنسو نہیں نکل پا رہا تھا اس کی ہتھلیاں سفید ہونے لگی تھی اور بدن سے تپش نکلنے لگی تھی وہ آگ میں تپتے بدن کیساتھ ساکن وہاں لیٹی رہی اس کی پلکیں بھاری ہوتی گئی اور بھاری ہوتے ہوتے بند ہو گئی جس نے اس کو دو راتوں سے جگائے رکھا تھا اس نے اس پر نیند کی چادر اوڑھ دی تھی

آنکھیں کھل گئی تمہاری میڈیم___وجیہہ ترش لہجے میں زمل سے مخاطب ہوئی تھی وجیہہ کی طرف دروازئے پر دی جانے والی زوردار دستک نے زمل کو اٹھنے پر مجبور کر دیا تھا__تمہیں پتہ تھا کہ حیا گھر میں اکیلی ہے اس کے باوجود تم دو دن سے اپنے کمرئے میں بند ہو____زمل کو سنے بغیر اس نے اپنی بات آگے بڑھا دی تھی

میں میں بس نکلنے____رات ہو چکی ہے زمل اور ابھی تک تم سو کر نہیں اٹھی اس کے بعد کب نکلنا تھا تم نے____زمل نے موبائل کی سکرین پر ٹائم دیکھا تو واقعی ہی شام کے 6 بج رہے تھے وہ وہ وہ___آئی کانٹ بلیو کہ تم اتنی غیر ذمہ دار بھی ہو سکتی ہو_____ایم سوری بھابھی___واٹ سوری حیا کو میں صرف اس لئے یہاں چھوڑ گئی تھی کہ تم اس کا خیال رکھو گی مگر تم تو اپنے کمرئے سے ہی نہیں نکلی____وجیہہ ہاتھ باندھے کھڑی اس کے جواب کی منتظر تھی مگر اس کے پاس اس سب کا کوئی جواب نہیں تھا___یہ کیا عجیب رویہ ہے زمل کم از کم تم مجھے فون کر کے بتا دیتی____ایم سوری____تمہیں اپنے مستقبل کے متعلق کچھ سوچ لینا چاہئیے کہ تم آخر کرنا کیا چاہتی ہو کیا ساری رات موبائل استعمال کرنا اور پھر سارا دن سونا یہی تمہارا مقصد ہے

____نہ نہیں وہ میری طبیعت____کیا ہوا طبیعت کو____وجیہہ نے اس کے بدن کو چھوا تو وہ بخار سے تپ رہا تھا_____جب تک اپنی روٹین نہیں بدلو گی طبیعت خراب ہی رہے گی مگر شاید یہ تم بدلنا ہی نہیں چاہتی____میں ڈرائیور کو بول دیتی ہوں وہ تمہیں ہسپتال لے جائے گا مجھے کالج کے لئے جانا ہے___اور حیا____تم اس کی فکر نہ کرو جو تمہیں ویسے بھی نہیں ہے میں اس کے لئے کچھ اور سوچ لیتی ہوں اور بہتر ہو گا کہ تم بھی اپنے لئے ساری رات موبائل چلانے اور سارا دن سونے کے علاوہ کچھ اور سوچ لو____وجیہہ اپنی نند کو کڑوی کیسلئ باتیں سناتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اب اس میں زمل کا بھی کتنا قصور تھا ایک تو وجیہہ اپنی بیٹی کے لئے کچھ زیادہ ہی کئیرنگ تھی اور دوسرا حیا خود بھی کونسا چھوٹی بچی تھی سترہ سال کی تو ہونے والی تھی یعنی زمل سے کوئی 6 7 سال چھوٹی تو زمل اس کا خیال کیا رکھ سکتی تھی اور تیسرا زمل کی اپنی زندگی میں اتنا کچھ چل رہا تھا کہ وہ حیا یا کسی اور کو کیا ٹائم دیتی جس کو خود سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسکے ساتھ چل کیا رہا ہے وہ کسی اور کا کیا خیال رکھ سکتی تھی اس سب پر وہ خوداعتمادی کی کمی جو زمل کو اپنی بات کھل کر بولنے تک نہیں دیتی تھی اس سب کے نتیجے میں وہ ناچاہتے ہوئے بھی سب غلطیاں قبول کرتے ہوئے صرف معافی مانگ سکتی تھی جو وہ ہمیشہ سے کرتی آئی تھی

واہ زمل شہزادی واہ اس کو بولتے ہیں محبت بلکہ سچی والی محبت_____تہروبا نے آنکھ مارتے ہوئے زمل کو تنگ کرنے کی کوشش کی تھی زمل ہسپتال آتے ہوئے تہروبا کو بھی اپنے ساتھ لے آئی تھی____ادھر محبوب کے ہسپتال پہنچنے کی خبر ملی ادھر شہزادی صاحبہ خود بیمار ہو گئی کیا بات ہے یار____یہ ڈاکٹر بھابھی کی دوست ہے ایک ایک بات ان تک پہنچائے گی اپنی بکواس پر قابو رکھو____وہ دانت پیستے ہوئے تہروبا کو گھورنے لگی تھی____اب تو خبر پکی پہنچے گی شہزادی کیونکہ تیرا شہزادہ بھی تو ادھر ہی ہے____کیا وہ اسی ہسپتال میں ہے____کیا وہ اسی ہسپتال میں ہے تہروبا نے منہ بناتے ہوئے اسی کا جملہ دہرایا دیا تھا تمہیں جیسے پتہ ہی نہ ہو کہ وہ کہاں ہے___مجھے سچ میں نہیں پتہ تھا تہروبا___زمل شہزادی تم سے صرف اظہار ہی نہیں ہو پاتا ورنہ اندر سے تو تم بھی پوری آہو ہو_____شٹ اپ تہروبا____او ہیلو باجی یہ شٹ اپ وٹ اپ ان کو بولا کرو جن کے سامنے تمہیں بولنے کی ہمت نہیں ہوتی ان کا غصہ یہاں مجھ پر نہ نکالو____تہروبا ذومعنی انداز میں بولی تھی اس نے پہلے ہی بھانپ لیا تھا

کہ آج پھر وجیہہ نے اسے کچھ کہا ہو گا تہروبا صرف اس کی دوست ہی نہیں بلکہ ایک طرح سے ان کی فیملی کا حصہ ہی تھی اس کی اپنی فیملی کی معاشی حالت اتنی اچھی نہیں تھی کہ وہ تہروبا کی سٹڈیز کو افورڈ کر سکتے تو انسانیت کے ناطے یا اپنے ویلفئیر کالج کے ناطے یا زمل کو کمپنی دینے کی خاطر تہروبا کی تعلیم وغیرہ کے تمام اخراجات زمل کا بھائی میکال سلطان ہی دیا کرتا تھا کیونکہ میکال کسی حد تک زمل کو سمجھتا تھا کہ وہ کسی بھی نئی جگہ پر آسانی سے سیٹ نہیں ہو پاتی اور یہ بھی کہ تہروبا کے ہوتے ہوئے زمل کئی پریشانیوں سے بچ جائے گی شاید اس لئے اس نے تعلیم کے بہانے زمل کو تہروبا کیساتھ جوڑئے رکھا تھا

تہروبا زمل کا چیک اپ کروانے کے بعد جان بوجھ کر اسی کمرئے کی طرف لے کر جا رہی تھی جہاں پہلے سے سردار موجود تھا____ہم کسی اور کمرئے میں____چپ کر زمل بی بی مجھے بیمار عاشق کو بیمار محبوب کے پاس لے جانے دئے____تہروبا بات کو سمجھو ناں میں اس کے سامنے نہیں جا پاؤں گی_____اس رات تو بڑی جلدی بھاگ گئی تھی اکیلہ تھا وہ اس لئے کیا____اکیلہ وکیلہ تو نہیں تھا ویسے___زمل نے جملہ کھینچا درجن بھر لومڑیاں تھی تو سہی اس کے پاس____جب تم گئی تھی تب تو اکیلہ ہی تھا ناں____تہروبا کی بات سنتے ہی زمل کے دماغ میں دوبارہ اس رات کا منظر آ گیا تھا____

وہ وہاں نہیں تھا تہروبا____ہاں وہاں نہیں تھا تب ہی تو یہاں ہے____خیر آج تمہارئے پاس دل کی بات کہنے کا بلکل صحیح موقعہ ہے____کہہ ہی نہ دوں میں____شہزادی کہہ دئے اس سے پہلے کہ کوئی اور تمہاری جگہ لے لے_____اگر جگہ میرئ ہی ہو گی تو کوئی اور کبھی بھی نہیں لے سکتئ____وہ دونوں کمرئے کے دروازئے تک پہنچ کر لمحے بھر کے لئے روکی اور پھر اندر داخل ہو گئی زمل نے ایک نظر سردار کو دیکھ کر نظریں پھیر لی تھی اسے اس کی شکل سے وہ سب یاد آ رہا تھا جو وہ کسی اور کو بتا بھی نہیں سکتی تھی کسی اور کو بتانا تو دور وہ خود کو بھی اس سب کو یاد کرنے سے روکے ہوئی تھی____واٹ آ سرپرائز سردار تم بھی یہاں ہو___تہروبا نے بناوٹی انداز میں انجان بننے کی کوشش کی_____تم لوگ یہاں کیا سب ٹھیک ہے____زمل دیکھا کیا حسن اتفاق ہے ہم راستے میں یہی بات کر رہے تھے کہ ہمیں سردار کی عیادت کے لئے جانا چاہئیے اور تم ہمیں یہاں ہی مل گئے

تہروبا نے سردار کے بلکل عقب میں پڑئے سٹریچر پر زمل کو لیٹا دیا تھا جہاں نرس اسے ڈریپ لگانے لگی تھی_____زمل کی طبیعت بھی وہاں سے آ کر خراب ہوئی کیا____سردار وہاں کا تو بس بہانہ تھا اس کی طبیعت تو پہلے سے خراب تھی____اوہ زمل تمہیں یہاں سے علاج کروا کر وہاں جانا چاہئیے تھا ناں____چلو یہ وہاں علاج کروانے ہی تو گئی تھی مگر ہوا ہی نہیں____تہروبا کو زمل کی طرف دیکھ کر بے اختیار ہنسی آ رہی تھی مگر اس نے آخری درجہ تک اس کو کنٹرول کیا____کیا مطلب وہاں کون سا ایسا ہسپتال تھا____سردار اب ہر بیماری کا علاج ہسپتال میں تھوڑی ہوتا ہے کچھ بیماریوں کا علاج صرف نیچر میں ہوتا ہے____تہروبا نے ذومعنی انداز میں بات مکمل کی تھی جس کی سمجھ سردار کو بلکل نہیں لگی تھی البتہ زمل اس کی بات کا حرف حرف سمجھ رہی تھی

ہاں نیچر کو قریب سے دیکھنا اعصابی تھکاوٹ اور بہت سی اعصابی بیماریاں دور کر دیتا ہے____ضروری نہیں سردار کہ یہ بس اعصابی بیماریاں دور کرئے دل کے مریض بھی نیچرل کے قریب رہ کر سکون پا سکتے ہیں__تہروبا جملہ مکمل کرتے ہوئے زمل کی طرف دیکھنے لگی تھی____کیا مطلب زمل کو دل کا کوئی مسئلہ ہے___وہ حیرانگی سے مخاطب ہوا یا تو وہ تہروبا کی بات کا مطلب سمجھنے سے قاصر تھا یا پھر وہ اس کا مطلب سمجھنا ہی نہیں چاہ رہا تھا____ہاں اس کا دل بہت کمزور ہے سردار خیر تم دونوں مریض یہاں آرام کرو میں ڈاکٹر سے مل کر آتی ہوں____وہ جان بوجھ کر دونوں کو تنہا چھوڑ کر چلی گئی تھی حالانکہ زمل کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ اسے سردار کے پاس اکیلی چھوڑ جائے وہ آنکھیں بند کر کے لیٹی اپنا دھیان بٹانے کی کوشش میں جھٹ گئی تھی

پتہ نہیں مجھے یہ بات تم سے پوچھنی چاہئیے یا نہیں تم اتنی خاموش طبیعت کیوں ہو___اس نے موبائل استعمال کرتے کرتے یونہی پوچھ لیا تھا حالانکہ زمل کو اتنی سی بات کی بھی اس سے امید نہیں تھی اس کے بستر کے گرد لڑکیوں کے ناموں سے پڑئے تازہ پھولوں کے گلدستوں کا ایک ڈھیر تھا پتہ نہیں کتنی ہی لڑکیوں نے اسے گیٹ ویل سون کیساتھ پھول بھیج دئیے تھے سردار کے مخاطب کرنے پر بھی وہ نہیں بول پائی تھی اس کی نظر ان پھولوں تک جا کر رک گئی تھی اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ سردار سے نظر ملا پائے حالانکہ یہ سردار وہی شخص تھا جس کی جان بچانے کے لئے اس نے ایک انجانی مصیبت کو اپنے ساتھ چموڑ لیا تھا اسے اب بھی اس سے ایک انجانہ خوف تھا وہ دل ہی دل میں سردار کے ایک سوال کے درجنوں جواب دئے چکی تھی مگر ان میں سے کوئی بات بھی اس کی زبان تک نہیں پہنچی تھی___تم شاید اپنی بیماری کی وجہ سے پریشان ہو رہی ہو فکر نہ کرو تم جلدی ٹھیک ہو جاؤ گی___سردار اس کے خاموش چہرئے کی طرف دیکھ کر مخاطب ہوا تھا_

زمل اس بستر پر لیٹ کر انسان کو ہمیشہ پازٹیو سوچنا چاہئیے___اس بار زمل نے اس کے چہرئے کی طرف دیکھا تھا اور دیکھتے ہی اس کے بدن میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی تھی سردار اس سے مسلسل باتیں کر رہا تھا مگر اسے اس کےخالی ہلتے چہرئے کے سوا کچھ بھی سنائی نہیں دئے رہا تھا زمل اور ہی خیالات میں گم تھی عجیب و غریب خیالات نے اس کے دماغ کو جکڑ لیا تھا اچانک اس نے دیکھا کہ سردار اپنا بستر چھوڑ کر چند پھول پکڑئے اس کے قریب کھڑا ہے زمل نے جیسے ہی پھول پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا اسے سردار کا چہرہ بدلتا ہوا دیکھائی دیا اس کے دانت نکل آئے تھے اور چہرئے کے نقوش خوفناک حد تک تبدیل ہو گئے تھے زمل کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی___کیا کیا ہوا___تہروبا اس کی چیخ سن کر اندر آ گئی تھی سردار زمل کے قریب کھڑا تھا اور زمل خوفناک حد تک ڈری ہوئی تھی سردار حیران کن نظروں سے ایک نظر تہروبا اور ایک نظر زمل کو دیکھ رہا تھا جیسے اس کو کچھ سمجھ نہ آ رہا ہو کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے

تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا زمل تمہاری بھابھی بلکل ٹھیک کہتی ہیں تم خود اپنے لئے ہی ایک مسئلہ ہو____وہ ہسپتال سے واپسی پر اکیلی کمرئے میں بیٹھی تھی اور تہروبا کی باتیں اس کے کانوں میں گونج رہی تھی ہسپتال سے واپسی پر زمل کو تہروبا سے بہت کچھ سننے کو ملا تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ جب سردار اس کے پاس کھڑا اسے پھول پکڑا رہا تھا تو وہ ڈر کیوں گئی تھی کس نے اسے کیوں ڈرایا تھا یہ بات وہ تہروبا کو سمجھا نہیں پائی تھی زمل کی اس حرکت پر آج تہروبا نے بھی اسے وہی سب باتیں سنا دی تھی جو اسے ہر دوسرا شخص سنایا کرتا تھا وہ خود کو ہی کوس رہی تھی کہ جب اتنی دیر بعد اس سے اس کی محبت نے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے یہ حرکت کر دی اور اس پر تہروبا کا اسے تنہا چھوڑ دینا اسے اور بھی غمگین کر رہا تھا

کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو مجھ سے___زمل زور سے چیخی تھی__کیوں میری زندگی کو جہنم بنا رہے ہو ان حرکتوں سے اچھا ہے کہ تم مجھے مار ہی دو___بزدل شخص مجھے مار دو مگر میرا مزید صبر مت آزماؤ مجھ سے میرئے آخری سہارا مت چھینو مگر تمہیں اس سب سے کیا فرق پڑئے گا تم تو ہمیشہ چھپ کر مجھے ڈراتے رہو گے اور ہر کسی کو مجھ سے دور کرتے رہو گے آخر کون ہو تم کیوں نہیں میری جان چھوڑ دیتے___وہ روتے ہوئے چیخ رہی تھی ابھی اس کا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ اچانک اس کے کمرئے میں تھوڑی ہلچل ہوئی اور ایک دھواں نمودار ہوا___زمل سلطان شہزادی___ایک رعب دار آواز نے اسے چونکا دیا تھا___کون ہو تم اور میرا نام____میں فقط تمہارا نام ہی نہیں سب کچھ جانتا ہوں___ک کون ہو تم___اس سوال کو چھوڑو تمہیں جاننا ہے ناں کہ میں نے تمہیں سردار سے دور کیوں کیا تھا وہ اس لئے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم ہر شر سے دور رہو

تم کون ہو اور میرئے خیر و شر کا فیصلہ کرنے کا اختیار تمہیں کس نے دیا

میں وہی ہوں جس نے اس رات تمہاری خواہش پر سردار کی جان لٹا دی تھی

کس رات…….

اسی رات جب تم جھیل میں نہانے کے لئے اترئی تھی اور تم نے وہاں سردار کی لاش کو ہوا میں جھولتے ہوئے دیکھا تھا اور پھر تمہیں یہ احساس ہوا تھا کہ اس قتل کا الزام تم پر لگے گا

میرئے دل میں اس قتل کی سزا کا خوف نہیں تھا میں سردار کو اس حالت میں دیکھ نہیں پائی تھی____زمل کو اچانک سے سب یاد آنے لگا تھا___اس رات تم نے سردار کی زندگی کے بدلے خود کو میرئے سپرد کر دیا تھا اور اب تمہیں

تم ہو کون___

جو بھی ہوں انسان نہیں ہوں

کون ہو پھر

حیوان

یہ غلط ہے تم نے جان بوجھ کر

کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں تھا زمل تم نے خود اس چیز کو تسلیم کیا تھا

یہ جھوٹ ہے تم طاقتور ہوتے ہوئے مجھ کمزور کیساتھ ڈیل کیوں کرو گے تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے تنگ نہیں کرو گے مگر___

تمہیں صرف اپنے مطلب کی باتیں یاد ہیں زمل تم یہ جان بوجھ کر بھولنے کی کوشش کر رہی ہو کہ سردار نے وہاں آ کرکتنی بڑی غلطی کی تھی اور میں نے تمہاری وجہ سے اسے معاف کر دیا تھا

مجھے کچھ ایسا یاد نہیں آ رہا میرا یقین کرو

ہاں میں نے تمہیں سب کچھ بھلا دیا تھا اور اب تم اس رات کے متعلق صرف اتنا ہی یاد کر پاؤ گی جتنا میں چاہوں گا ویسے جتنی نارمل تم اب مجھ سے بات کر رہی ہو اس سے تمہیں اندازہ ہو جانا چاہئیے کہ تمہارا دماغ میری آواز سے واقف ہے اور وہ جانتا ہے کہ میں کون ہوں

وہ جانتا ہو گا مگر میں نہیں جانتی تم کون ہو آخر تم میرئے سامنے کیوں نہیں آ جاتے

میرا نام فاسیر ہے اور میں کوہ قاف کی وادی عبقر سے زمین کے اس حصے پر آیا تھا جہاں پرستان کی پریاں رات کو غسل کرنے اترا کرتی ہیں مجھے ایک ایسی لڑکی کی تلاش تھی جس کو کبھی کسی مرد نے نہ چھوا ہو تاکہ وہ کوہ قاف سے لایا گیا مخصوص امرت خوش دلی سے پی کر مجھے اس دنیا میں آنے کا موقع دئے اور تم ویسی ہی لڑکی تھی اور سردار کی جان بجشی کے بدلے تم نے وہ مخصوص امرت خوش اسلوبی سے پی لیا تھا

نہیں یہ جھوٹ ہے میں نے

یہی سچ ہے___اس نے زمل کو ٹوکا__ فاسیر کسی کو وہ امرت زبردستی پلاتا تو خود فنا ہو جاتا میرا ابھی تک زندہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ تم نے اس امرت کو خوش اسلوبی سے پی لیا تھا اور اب میں یہ چاہتا ہوں کہ پہلے تم جیسے پاکدامن تھی ویسے ہی رہو تاکہ میں اس دنیا میں آنے کا مقصد پورا کر سکوں

نہیں یہ نہیں ہو سکتا___ایسا ہی ہوا ہے اور ایسے ہی ہو گا___فاسیر نے اسے ہوا میں بلند کر کے واپس نیچے پٹخ دیا تھا___میں پھر تمہیں یہ سب بھلا دوں گا اور اگر تم اس سب کے متعلق کسی کو بتانے کی نیت سے اسے یاد کرنے کی کوشش کرو گی تو تمہارئے ساتھ وہی ہو گا جو آج صبع ہوا تھا_____وہ سہم کر بیٹھ گئی تھی اسے دوبارہ اچانک سے ڈر لگنے لگا تھا یہ فاسیر کی خاص طاقت تھی کہ وہ جب چاہے زمل کے دل سے تمام خوف ختم کر سکتا تھا اور جب چاہے اس کے دل میں خوف ہی خوف بھر سکتا تھا____میں تمہیں زیادہ تنگ نہیں کرنا چاہتا اور تم بھی مجھے تنگ مت کرنا مردوں سے اور آئینے سے دور رہنا اور اس سب کے متعلق سوچنے سے گریز کرنا اب پھر تم سب بھولنے والی ہو سوائے چند باتوں کے____زمل کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور اچانک سے اس پر زوردار نیند طاری ہو گئی

مادیت پرست دنیا سے دور حسین پہاڑوں اور گھنے جنگلات کے وسط میں بنی وادی پرستان میں صبع کا آغاز ایک ڈروانی خبر سے ہوا تھا وادی پرستان کی حفاظت پر موجود دو جن گارڈ مردہ پائے گئے تھے ہر دوسرئے دن حفاظتی دستے کے کسی پہرئے دار کی موت وادی کے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رہی تھی رنگ برنگے پھولوں سے لدی وادی میں پریاں ڈری سہمی بیٹھی ہوئی تھی جب سے کوہ قاف کے شریر جن نے پرستان پر حملہ کر کے پرستان کے راجہ کو اپنا قیدی بنایا تھا تب سے پرستان کی رونقیں مانند پڑ چکی تھی ہر کسی کو اپنی زندگی کا خوف لاحق تھا کیونکہ ہر دوسرئے دن وہ شریر جن لیوسفر کسی معصوم پری کو اپنی قید میں لے رہا تھا حفاظتی دستے کے دو پہرئے داروں کی موت نے جہاں ایک طرف دو پریوں سے ان کے شوہر چھین لئے تھے وہی دوسری طرف وادی پرستان کے دفاع کو بھی کمزور کر دیا تھا اس خبر نے پرستان کی ملکہ ڈیفنی کو بھی ہلا دیا تھا جو چند ماہ پہلے ہی شہزادہ ایمر کی دلہن بن کر پرستان کی ملکہ بنی تھی پرستان اور اس کے قریب آباد کوہ قاف کے رائج قوانین کے مطابق پرستان کی سب سے خوبصورت پری کو اختیار ہوتا تھا کہ وہ کوہ قاف کے کسی بھی نیک جن کی دلہن بن کر پرستان کی ملکہ بن سکتی تھی پرستان کی ملکہ ہی پرستان پر حکومت کرتی تھی شہزادہ فقط ملکہ اور پرستان کی حفاظت پر مامور ہوتا تھا ڈیفنی نے روایات کے عین مطابق ایمر کا انتخاب کیا تھا وہ بچپن سے ہی ایمر کی محبت میں مبتلا تھی کوہ قاف کے راجہ نے ڈیفنی کے اس انتخاب کو مسترد کیا تھا کیونکہ اس کی نظر میں ملکہ ڈیفنی کو شہزادہ ایمر کی بجائے لیوسفر کی دلہن بننا چاہئیے تھا کیونکہ لیوسفر شہزادہ ایمر سے زیادہ طاقتور تھا مگر ڈیفنی کو لیوسفر کبھی ایک نظر بھایا ہی نہیں تھا ڈیفنی نے سب کی مرضی کے خلاف جا کر ایمر کا انتخاب کیا تھا اسے یقین تھا کہ ایمر جب اس کے عقد میں آئے گا تو اس کی طاقت میں بھی اضافہ ہو چکا ہو گا مگر شادی کے چند دن بعد ہی لیوسفر نے پرستان پر حملہ کر کے ہر دلعزیز شہزادہ ایمر کو قتل کر دیا تھا مگر شہزادہ ایمر اور ملکہ ڈیفنی کے ایک ہونے سے ایمر کو جو طاقت ملی تھی اس طاقت نے پرستان کے گرد ایک حصار بنا دیا تھا جس وجہ سے لیوسفر پرستان میں داخل نہ ہو سکا

شہزادہ ایمر لیوسفر کے ہاتھوں قتل ہو چکا تھا اس بات کی خبر کسی کو کانوں کانوں تک نہ تھی سب کو یہی لگتا تھا کہ شہزادہ ایمر لیوسفر کی قید میں ہے اور ایک دن واپس آ کر ان سب کو بچا لے گا ملکہ ڈیفنی نے یہ بات اپنی خاص کنیز انجلینا کے علاوہ سب سے چھپا رکھی تھی کیونکہ ڈیفنی اپنے شوہر ایمر کے بعد سب سے زیادہ اپنی کنیز خاص انجلینا کے قریب تھی ملکہ کے پاس محل میں ہزاروں کنیزیں موجود تھی مگر وہ انجلینا پر خود سے بھی زیادہ اعتماد کرتی تھی

ملکہ کے دربار پہنچنے تک تمام رعایا وہاں پہنچ چکی تھی جو مدد طلب آنکھوں سے ملکہ کی طرف دیکھ رہی تھی____تم لوگ خوامخاہ میں پریشان ہو رہے ہو ان دونوں کی موت ایک قدرتی عمل تھا اس میں اس شریر جن کا کوئی کردار نہیں اس لئے ڈرنے کی کوئی بات نہیں____ڈیفنی خوبصورت لباس جو ملکہ کے لئے خاص تھا پہنے ہوئے اپنے تخت پر بیٹھی اپنی پریشان رعایا کو حوصلہ دئے رہی تھی___جیسے ہی ہم پرستان سے باہر کسی کام کے لئے نکلتے ہیں وہ شریر جن ہمیں اپنا قیدی بنا لیتا ہے اب تو ہمیں فضا میں اڑنے سے بھی ڈر لگنے لگا ہے___رعایا میں سے ایک پری نے اپنا مسئلہ ملکہ کو بتایا جو کہ اس کی کچھ دوستوں کیساتھ پیش آ چکا تھا___ایسا کچھ نہیں ہے پیاری وہ شریر جن پرستان کی کسی پری کو چھو بھی نہیں سکتا وہ ہمیں ڈرانے کے لئے صرف افواہیں پھیلاتا ہے تاکہ ہم اس سے ڈر جائیں اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے تم لوگ ڈرو نہیں میں نے کوہ قاف کے راجہ سے بات کی ہے وہ ہمیں مزید گارڈ فراہم کریں گے___ملکہ کے جواب نے گویا سب کو مطمئن کر دیا تھا____حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا ملکہ ڈیفنی جانتی تھی کہ کوہ قاف کے پرانے راجہ کی فیملی کے سوا وہاں ڈیفنی کے لئے کوئی حمایت نہیں تھی شہزادہ ایمر کی فیملی بھی اب ڈیفنی کی حمایت سے پیچھے ہٹ گئی تھی ملکہ کے تمام دعوئے صرف معصوم پریوں کو پرسکون رکھنے کے لئے تھے____میں دیکھ رہی ہوں کہ پرستان کافی سنسان سنسان لگنے لگا ہے ہر طرف لٹکے ہوئے چہرئے ہیں___وہ بلند آواز میں مخاطب ہوئی تھی____یہی تو وہ چاہتا ہے کہ پرستان ڈرا سہما سنسان جنگل بن جائے اور ہم نے اسے ویسا ہی بنا دیا____پریوں نے گھروں سے نکل کر آسمان کا چکر لگانا اور باغوں میں کھیلنا چھوڑ دیا ہے ملکہ___انجلینا کی آواز سن کر ملکہ کے چہرئے پر تھوڑی مسکراہٹ آئی تھی___تو پھر کون ہے جو آج اپنی ملکہ کیساتھ آسمان میں اڑتے ہوئے پرستان کا چکر لگائے گا

وہ ریشم سے بنے نرم لباس میں ملبوس جیسے ہی آسمان کی طرف لپکی تو اس کے سفید رنگ کے لمبے لہنگے نے گویا سورج کو ڈھک لیا ہو اس کے لمبے سیاہ بال آسمان پر کالی گھٹاؤں کا منظر پیش کرنے لگے اس کے بدن کی خوشبو سے فضا معطر ہو گئی تھی اس کے استقبال کو رنگ برنگی تتلیاں اور خوبصورت پرندئے گھونسلوں سے نکل آئے تھے پھول کھل کھلا اٹھے تھے خوشی کے شادیانے بجنے لگے تھے پرستان پر چھائے خزاں کے سائے چھٹنے لگے تھے اپنی ہزاروں کنیزوں کیساتھ وہ جہاں سے گزرتی وہاں بہار آ جاتی ملکہ کو یوں محل سے باہر عام لوگوں کیساتھ دیکھ کر ہر کوئی خوش تھا باغوں کی رونق بحال ہو گئی تھی وہ ان کی ملکہ تھی ان سب کی ملکہ تتلیوں کی،پھولوں کی،پرندوں کی پریوں کی الغرض وہ پرستان میں آباد ہر چیز کئ ملکہ تھی

وہ پرستان کا چکر لگاتے ہوئے واپس اپنے محل کی بالکونی میں پہنچ گئی بہت دنوں بعد پرستان کی رونقیں بحال ہوئی تھی یہ سب ملکہ ڈیفنی کے حسن کا کمال تھا وہ پریوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی مگر یہ مسکراہٹ صرف فرضی تھی اس کے دل میں اب بھی لیوسفر کا خوف موجود تھا وہ جانتی تھی کہ پرستان زیادہ دیر تک لیوسفر کے سامنے نہیں ٹک پائے گا جیسے ہی لیوسفر کسی انسانی لڑکی کو مار کر اس کے خون سے جادو کرئے گا ویسے ہی پرستان کی حفاظت پر مامور ایک جن پہردار مارا جائے گا جیسے ہی لیوسفر کسی کنواری انسانی لڑکی کیساتھ کوئی جسمانی تعلق بنائے گا ویسے ہی پرستان کی ایک پری اس کی قید میں چلی جائے گی مگر ملکہ کو اصل خطرہ لیوسفر کے اس خطرناک عمل سے تھا جس کے بعد پرستان کے گرد موجود شہزادہ ایمر کا پھیلا ہوا حفاظتی حصار ختم ہو جانا تھا ایسا ہونے کی صورت میں لیوسفر کو ملکہ کے محل تک پہنچنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی تھی

وہ اپنے گھنے لمبے بالوں کو بناتی ہوئی مسلسل الجھن کا شکار تھی اسے جلد سے جلد تیار ہو کر گھر سے کالج میں ہونے والی پارٹی کے لئے نکلنا تھا کچھ دن صدمے میں گزارنے کے بعد اس نے فاسیر کیساتھ خود کو ھوڑا بہت ایڈجسٹ کر لیا تھا مگر اب بھی کئی بار فاسیر کا اس کے ساتھ ہونا اس کے لئے کوئی مسئلہ کھڑا کر ہی دیتا تھا____فاسیر اس نے آہستگی سے اسے پکارا__فاسیر شریر جن___وہ دانت پیستے ہوئے چلائی تھی____کیا میں بال بنانے کے لئے آئینہ دیکھ سکتی ہوں___زمل معصومانہ انداز میں مخاطب ہوئی تھی____تم بار بار یہ بات کیوں بھول جاتی ہو___فاسیر کا لہجہ تھوڑا سخت تھا____تم لڑکی نہیں ہو فاسیر اس لئے تمہیں میرئے مسئلے بلکل سمجھ نہیں آئیں گے____بلکہ تمہیں فاسیر کہنا ہی نہیں چاہئیے تم شیطان ہو

وہ بے تکلفی سے جملہ بول چکی تھی____اچھا تم ناراض تو نہیں ہو گئے ناں____فاسیر کو خاموش دیکھ کر وہ تھوڑی فکر مند ہوئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ فاسیر کی ناراضگی اس پر کتنی بھاری پڑ سکتی ہے فاسیر کیساتھ گزرئے چند دنوں میں اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ فاسیر کو اس کی ضرورت ہے اس لئے وہ جانتی تھی کہ فاسیر اسے نقصان نہیں پہنچائے گا اور فاسیر نے بھی اس کے دل سے اپنا خوف کسی حد تک نکال دیا تھا مگر پھر بھی خوف کم ہو یا زیادہ خوف تو آخر خوف ہوتا ہے اور ویسے بھی فاسیر کو دوبارہ زمل جیسی لڑکی ڈھونڈنے میں برسوں لگ سکتے تھے ایسی لڑکی جو سب جانتے ہوئے بھی ایک جن کو اپنے ساتھ چموڑ لے بھلا کہاں مل سکتی تھی ایک اتفاق یا حادثہ ہی صحیح زمل نے سردار کی خاطر اس غیر انسانی مخلوق کو خود تک دسترس دئے ہی دی تھی____میں تمہارئے بال بنا سکتا ہوں___فاسیر نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے زمل کو اس کے مسئلے کا حل بتایا تھا____میں پارٹی میں مذاق نہیں بننا چاہتی فاسیر___اپنی زبان میرئے سامنے کم اور دوسروں کے سامنے زیادہ چلایا کرو___اس نے اسے اگنور کرتے ہوئے جادو سے اس کے بالوں کو بنا دیا تھا____آ ہ ہ شیطان میں چڑیل نہیں ہوں جس کے بال تم اتنی زور سے____تم مجھے بار بار شیطان کیوں کہتی ہو___کیونکہ تم حیوان ہو اور شیطان بھی حیوان ہے بلکہ تم ہی شیطان ہو لیوسفر ہو___اس کے بالوں کی وجہ سے ابھی بھی سر میں درد تھا___کیا میں تمہیں لیوسفر بلا سکتی ہوں فاسیر__جواب میں مسلسل خاموشی سے وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ یہاں سے جا چکا ہے اس نے اندازئے سے ہی خود کو تھوڑا بہت تیار کیا تھا اور پھر بھائی میکال سلطان کیساتھ گاڑی میں بیٹھ کر کالج کی طرف چل دی

آج کالج میں اس کا پہلا دن تھا اور زمل کے پہلے ہی دن کالج کی سالانہ تقریب تھی جس میں یقینی طور پر سردار نے بھی شرکت کرنی تھی کیونکہ اس کے والد صاحب کالج کے بہت بڑئے ڈونر تھے جب زمل کالج پہنچی تو تب تک تہروبا بھی وہاں پہنچ گئی تھی کیونکہ جب زمل نے جوائن کر لیا تھا تو تہروبا کیسے پیچھے رہ سکتی تھی ویسے اصل میں آئیڈیا یہ تہروبا کا ہی تھا زمل نے تو فقط تہروبا کی ہاں میں ہاں ملائی تھی___لگتا ہے آج سردار صاحب بھی پورئے ارادئے سے یہاں آئے ہیں__تہروبا کی نظر دور سے ہی سردار تک گئی تھی جو خوبصورت سا پینٹ کوٹ پہنے اسٹیج پر بیٹھا تھا

زمل نے ایک نظر سردار کو دیکھنے کے بعد اپنی نظریں ہٹا لی تھی کیونکہ اسے فاسیر کے کہنے کے مطابق مردوں سے دور رہنا تھا___تہروبا میرئے بال ٹھیک بنے ہیں ناں____زمل نے اس کا دھیان بٹانے کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی___زمل کیا سردار نے تمہیں کچھ کہا ہے____نہیں تو___تو پھر یہ کیا رویہ ہے میں نوٹ کر رہی ہوں تم اسے اگنور کر رہی ہو____کیا اسے اگنور نہیں کیا جا سکتا؟___زمل کیا بات چھپا رہی ہو مجھ سے___تہروبا زمل کا یہ رویہ سمجھنے سے بلکل قاصر تھی کہ آخر یہ کیوں ایسا کر رہی ہے____کوئی اور پسند آ گیا ہے تمہیں___وہ معنی خیز انداز سے زمل کی طرف متوجہ ہوئی تھی زمل نے خاموش رہنے کے سوا اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا____اتر گیا ناں محبت کا بھوت یہ سب باتیں جب تمہیں میں سمجھاتی تھی تب تمہیں ان کی سمجھ نہیں آتی تھی پورا سیشن تم نے اسے کن آکھیوں سے دیکھا ہے اور اب جب وہ تم میں تھوڑا انٹرسٹ دیکھا رہا ہے تو تم_____تہروبا نے جملہ کھینچا____مجھے سمجھ نہیں آ رہی آخر اب تم کیا چاہتی ہو_

تمہیں کیسے پتہ کہ وہ مجھ میں انٹرسٹ دیکھا رہا ہے_____تم نے پہلے کبھی اسے اس کالج میں آتے سنا تھا کیا___وہ سوالیہ انداز میں مخاطب ہوئی تھی___میں نے اسے بتایا تھا کہ تم یہاں آ رہی ہو____تہروبا کی بات نے زمل کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا مگر سوائے سوچنے کے ہو بھی کیا سکتا تھا____چلو اسٹیج پر چلتے ہیں___نہیں میں وہاں نہیں جانا چاہتی___مت جانا اس کے پاس چڑیل مگر اسٹیج پر تمہیں بھابھی وجیہہ نے جانے کو کہا ہے جاؤ اور اسٹیج پر بیٹھے مہمانوں کو کمپنی دو____کیا کیا مطلب____وہ تھوڑا سٹپٹئی__میں کمپنی دوں گی___اگر تم وجیہہ میڈیم کی صلوتیں نہیں سننا چاہتی تو یہ سب تمہیں کرنا ہی پڑئے گا___یار میں کیا کسی کو کمپنی دوں گی میں تو کسی کو جانتی تک نہیں ہوں___یہ کالج تمہارئے بھائی کا ہے کم از کم تمہارئے نام کیساتھ وائس پرنسپل تو لگے گا ہی تو میرا نہیں خیال کہ وائس پرنسپل کو کالج کے ڈونرز کو کمپنی دینے کے لئے کسی خاص جان پہچان کی ضرورت ہونی چاہیے___تہروبا کسی بھی طرح زمل کو اسٹیج تک پہنچانا چاہتی تھی جہاں پہلے سے سردار موجود تھا کیونکہ وہ زمل کو جانتی تھی کہ جب کسی بھی کام کا مناسب وقت گزر جاتا ہے تو وہ بعد میں تہروبا کا ہی سر کھاتی ہے پچھلی بار ہسپتال والے واقعے کے بعد بھی زمل نے گھر جا کر خوف کو کوستے ہوئے تہروبا کا سر بھی کھپایا تھا___

میں تو نہیں جا رہی کسی اسٹیج پر___ٹھیک ہے میں میڈیم وجیہہ کو بول دیتی ہوں___اچھا روکو___زمل نے تہروبا کو موبائل پر کچھ ٹائپ کرتے دیکھ کر روک دیا تھا تہروبا صرف کچھ ٹائپ کرنے کا ڈرامہ کر رہی تھی___تم بھی میرئے ساتھ چلو ناں ___بہن آپ جو بھی ہیں اپنا کام خود کریں میں تو آپ کو جانتی تک نہیں___وہ بناوٹی سا منہ بنا کر صاف انکار کر چکی تھی____تہروبا یہ کیا ڈرامہ ہے___آپ کی طبیعت ٹھیک ہے بہن____زمل نے اس کو کچھ دیر یونہی گھورا اور اسٹیج کی طرف اکیلی چلی گئی زمل کو پہلے ایسا کوئی تجربہ نہیں تھا وہ تو کلاس کی کسی نئی لڑکی سے بات کرنے تک سے کتراتی تھی وہ بھلا اسٹیج پر بیٹھے انجان لوگوں کو کیا کمپنی دیتی یہ تو فقط بھابھی کی صلواتوں کا خوف تھا جو اسے اسٹیج تک کھینچ لایا

اسٹیج تک پہنچتے اس کے پسینے چھوٹ گئے تھے نجانے اسے کیوں ایسا لگ رہا تھا کہ حال میں موجود ہر شخص سب کام چھوڑ کر فقط اس کو ہی دیکھ رہا ہے کہاں سے شروع کروں اس طرف سے کرنا چاہئیے….مگر یہ تو کوئی انکل ہیں اس طرف سے کرتی ہوں آنٹی سے___وہ خود سے درجنوں سوال کرتی اسٹیج پر ہی گھومتی جا رہی تھی آخر وہ ایک درمیانی سی عمر کی آنٹی کے قریب گئی بسم اللہ الرحمن الرحیم اسلام و علیکم_____کیا__بارعب خاتون کو سوالیہ نظروں سے اپنی طرف گھورتے دیکھ کر اسے احساس ہوا تھا کہ اس کی سلام اس کے اپنے گلے تک ہی رہ گئی تھی__س س اسلام و علیکم___وعلیکم اسلام جی فرمائیں____بس ٹھس زمل بی بی ٹھس ہو گئی اسے اب یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس خاتون کو کیا جواب دئے___س س سوری آنٹی ایم سوری___یہی کمپنی تھی جو زمل اسٹیج والوں کو دئے سکتی تھی کسی کو سوری کسی کو سلام وہ سردار تک پہنچتے پہنچتے رونے والی ہو گئی تھی جب اس نے سردار کے چہرئے کی طرف دیکھا تب تک اس کی آنکھیں نم ہو چکی تھی

سردار نے جب زمل کے معصوم چہرئے کی طرف دیکھا تو اس کے چہرئے پر ایک مسکراہٹ پیدا ہوئی یہ پہلا مسکراتا چہرہ تھا جو زمل نے اسٹیج پر دیکھا وگرنہ اس سے پہلے ہر کوئی اسے عجیب نظروں سے ہی دیکھ رہا تھا اس مسکراتے چہرئے نے اس کی جان میں کچھ جان ڈال دی تھی زمل نے سردار سے بات کرنے کے لئے اپنی نگاہوں کو نیچے کیا تھا کہ اچانک ایک زنانہ آواز اس کی سماعت سے ٹکڑائی یہ حیا تھی جو ہنستے مسکراتے چہرئے اور کھلے بالوں کیساتھ جینز پہنے سردار کیساتھ محو گفتگو تھی حیا رشتے میں تو زمل کی بھتیجی تھی مگر دونوں کی عمروں میں کچھ زیادہ فرق تھا نہیں اس لئے حیا نے ہمیشہ زمل کو پھپو کی بجائے آپی کہہ کر ہی مخاطب کیا تھا جہاں ایک طرف زمل میں خود اعتمادی کی شدید کمی تھی وہی دوسری طرف حیا خود اعتمادی کی پوری دکان تھی اس کی اسی خود اعتمادی کی خاصیت کی وجہ سے وجیہہ نے حیا کو اسٹیج پر بھیجا تھا بائے دی وائے یو لوکنگ سو ہنڈسم مسٹر سردار___سردار نے ایک مسکراہٹ کیساتھ اس کا شکریہ ادا کیا تھا اسے خود بھی یہ سمجھ نہیں آئی تھی کہ اس کے اور زمل کے درمیان یہ کہاں سے ٹپک پڑی تھی

آپی یہ آپ کے کلاس فیلو ہیں ناں تو میرا انٹروڈکشن تو کروائیں چلیں چھوڑیں میں خود ہی کر لیتی ہوں آئی ایم حیا سلطان دی فیوچر پریذڈینٹ آف سلطان فاونڈیشن____وہ مسکراتے ہوئے سردار کو اپنا انٹرویوڈکشن دئے رہی تھی جبکہ زمل خاموشی سے فقط اس کا چہرہ دیکھتے رہ گئی تھی__گریٹ تھینکگ___تھنک یو مسٹر سردار کھانا کھانے کے بعد آپ میرئے ساتھ چلئیے گا میں آپ کو ہماری نئی بلڈنگ وزٹ کراوں گی___وائے ناٹ___سردار نے فوری حامی بھر لی تھی___آپی تو ہماری بلکل کچھ بھی نہیں بولتی___ہاں یہ بہت چپ چاپ اور سیریس خاتون ہیں___حالانکہ اس عمر میں انسان کو اتنا سیریس ہونا نہیں چاہئیے___حیا نے ہنستے ہوئے یونہی یہ لائن بول دی تھی جو زمل کے ایک تیر کی مانند جا لگی وہ اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے اسٹیج سے نیچے بھاگ گئی

پتہ چلا زمل شہزادی اس کو کہتے ہیں انٹروڈکشن___زمل کی باتیں سن کر تہروبا کا خود پر کنٹرول رکھنا مشکل ہو رہا تھا وہ بس اس کی شکل دیکھ کر ہنستی جا رہی تھی___ویسے آپس کی بات ہے زمل اس لڑکی کو تمہاری نہیں بلکہ تمہیں اس لڑکی کی ضرورت ہے___مجھے تم میں سے کسی کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی تم___اب اس میں میرا کیا قصور ہے جانو اب اگر تم دونوں کے کباب کو سینکھ پہنچنے سے پہلے تمہاری بھتیجی اس میں ہڈی بن گئی ہے تو اسے میں نے تھوڑی بھیجا تھا وہاں___مجھے وہاں جانا ہی نہیں چاہئیے تھا کم از کم لاعلم رہ کر اتنا خون تو نہ جلتا میرا____باقی خون رات میں اکیلی بیٹھ کر جلا لینا ابھی فیوچر پریذڈنٹ کھانا ٹھوس رہی ہو گی تم ابھی جاؤ اور سردار سے آج اظہار کر ہی دو یا تو ہاں ہو جائے گی یا پھر یہ قصہ ہی ختم ہو جائے گا ورنہ کھانے کے بعد تو پریذڈنٹ صاحبہ بلڈنگ کے وزٹ پر لے کر جا ہی رہی ہیں____مجھے نہیں کرنا کوئی اظہار وظہار دفع کرو اسے____اچھا چلو اگر تم نہیں کرنا چاہتی تو کیا میں کر لوں اپنی بات___ہاں کر لو___ویری فنی شہزادی مجھے تیرئے اس سردار میں کوئی انٹرسٹ نہیں اب شرم کھا لو اور چلی جاؤ___اب جاؤ بھی____تہروبا نے اپنی بات پر زور دیا تھا کچھ دیر تہروبا نے اسے یونہی صلوتیں سنائی اور پھر اس کو لے کر سردار کے ٹیبل پر پہنچ گئی جو کھانے سے فارغ بیٹھا تھا وہ سردار کیساتھ رسمی سی گفتگو کر کے بہانہ کر کے وہاں سے چلی گئی اس کا مقصد تو صرف زمل کو سردار کے قریب بیٹھنا تھا____وہ ایکچولی مجھے تم سے اس دن کے لئے معافی مانگنی تھی___زمل ہمت کرتے ہوئے سردار سے مخاطب ہوئی تھی___میری وجہ سے آپ کو بہت ایمبریس محسوس ہو ہوا گا___نہیں کوئی بات نہیں زمل البتہ میں بھی اس وقت ڈر گیا تھا کہ یہ اچانک____ہاں اچانک سے میری طبیعت خراب ہو گئی تھی___اب تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ناں___ہاں اب میں ٹھیک ہوں___تو نیکسٹ کیا پلان ہیں یہاں ہی کرئیر بنانا ہے؟___ہاں یہاں ہی بھائی بھابھی کیساتھ___بہت اچھا کام کر رہے ہو تم لوگ___ہاں یہ چھوٹا سا سکول اب پورا کالج بن گیا ہے___ہاں میں دیکھ رہا تھا بہت بڑی بلڈنگ ہے___آئیں میں دیکھاتی ہوں

وہ دونوں وہاں سے چلتے ہوئے نئی بلڈنگ کی طرف چلے گئے جو ابھی بلکل نئی تیار ہونے کی وجہ سے ایک دم سنسان تھی یہ نئی بلڈنگ ہاسٹل کی تھی اس لئے اس کو باقی کالج سے الگ کر کے بنایا گیا تھا وہ دونوں اس بلڈنگ میں داخل ہوئے اور ہالز کو دیکھنے لگے__کافی انوسٹمنٹ کی ہے بہت بڑا دل ہے تمہارئے بھائی کا___ہاں ہم سب بہت بڑا دل رکھتے ہیں___اور کمزور بھی__سردار نے ہنستے ہوئے زمل کو آنکھ مارئ تھی___محبت کی وجہ سے دل اکثر کمزور ہو جایا کرتے ہیں کیونکہ انہیں ہر وقت کسی کے کھو جانے کا خوف لاحق رہتا ہے___زمل سردار کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے خاصی نارمل لگ رہی تھی شاید وہاں تنہا ہونے کی وجہ سے اسے یقین تھا کہ یہاں اس کو جج کرنے والے کوئی نہیں ہے____واہ زمل مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ تم اتنی اچھی اور شائستہ فلسفانہ باتیں بھی کر لیتی ہو___مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا سردار کہ میں آپ سے کبھی اتنی دیر تک گفتگو کر سکتی ہوں___اندازہ ان دیکھی انجان چیزوں کے متعلق لگایا جاتا ہے زمل مگر ہم تو چار سال تک ایک ہی کلاس میں رہے ہیں

سردار ہم رہے تو ضرور ہیں مگر شاید___وہ بات کرتے کرتے رک گئی تھی اس کی نظر ایک سنسان کمرئے میں گئی جہاں لڑکیوں کے کچھ کپڑئے پڑئے ہوئے تھے دیکھنے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ان کو ہاتھا پائی کے دوران پھاڑ کر الگ کیا گیا ہے ان کپڑوں کو دیکھ کر اسے لمحے بھر کے لئے جھٹکا سا لگا تھا کسی نے یہاں لا کر لڑکیوں کیساتھ زبردستی کی تھی مگر سردار کیساتھ ہونے کی وجہ سے اس نے خود پر قابو رکھا وہ کالج کے ڈونر کے سامنے کالج کی ریپوٹیشن خراب نہیں کرنا چاہتی تھی وہ دونوں اس کمرئے کو چھوڑ کر آگے کی طرف چلتے جا رہے تھے مگر زمل کا دھیان اب تک اسی کمرئے میں تھا____زمل کبھی تم بھی آو ناں ہمارئے پراجیکٹ پر بلکل پاس ہی ہے تاکہ ہمیں بھی مہمان نوازی کا موقع مل سکے___سردار نے اسے ایک طرح سے دعوت دی تھی اس سے پہلے کہ زمل اس کو کوئی جواب دئے پاتی اس کے دل میں کسی انجان چیز کا خوف پیدا ہوا اتنا شدید خوف کے اسے پسینے آنے لگے اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا___زمل زمل کہاں گم ہو___سردار نے اسے دوبارہ مخاطب کیا مگر وہ سردار کو اگنور کرتے ہوئے وہاں سے تیز تیز باہر کو جانے لگی___زمل کیا ہوا زمل زمل واٹ از دس مگر بے سود وہ سردار کو مکمل اگنور کرتے ہوئے وہاں سے تیز قدموں کیساتھ بھاگ نکلی تھی

کلب کی چمکتی دمکتی لائٹیں بار بار اس کے چہرئے پر پر پڑ رہی تھی وہ ٹیبل پر بازوں کے سہارئے اپنا چہرہ سیٹ کئے ہوئے مسلسل ٹیبل کی مخالف سمت میں بیٹھے شخص کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی___تم واقعی میں ہی ایک جادوگر ہو پہلی بار مجھے یہ سب مذاق لگا تھا___نوشہ کی آواز سے جھلک رہا تھا کہ اس نے کوئی نشہ آور چیز نگلی ہے نوشہ ڈاکٹر رادیہ کی اکلوتی مگر بگڑی ہوئی بیٹی تھی وہ شروع سے ایسی نہیں تھی ماں باپ کی علیحدگی نے اس کے دماغ پر گہرا اثر ڈالا تھا ایک وقت تھا جب وہ خود کو کمرئے میں رکھتی تھی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ ماں باپ میں علیحدگی کی وجہ اس کی ماں ڈاکٹر رادیہ کا ڈاکٹر ہونا ہے اسے لگتا تھا کہ رادیہ نے اس کے باپ کیساتھ بہت ناانصافیاں کی ہوئی ہیں رادیہ کے لئے اس طرح کے بہت سے منفی خیالات اس کے ذہن میں ہر وقت گھومتے رہتے تھے پھر رادیہ نے اس کی سب دوستوں کو اس سے دور کر دیا کیونکہ اس طرح کی باتیں وہی نوشہ کے دماغ میں ٹھونستی تھی

ہر تبدیل ہونے کی وجہ سے نوشہ اپنی دوستوں سے تو دور ہو گئی مگر اپنی اماں کے لئے بغاوت اب بھی اس کے دماغ میں موجود تھی اسی بغاوت کی وجہ سے وہ رادیہ سے زیادہ بات بھی نہیں کرتی تھی رادیہ نے اپنی بیٹی کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ہزار جتن کر لئے تھے مگر بے سود!!!بے تحاشہ دولت،آزادی اور ماں سے نفرت کا نتیجہ نوشہ کی بے راہ روی کی صورت میں نکلا اور وہ سترہ سال کی چھوٹی عمر میں ہی چوری چھپے آئس کا نشہ کرنے لگی تھی اب بھی وہ آئس کے نشے میں دھت اپنے ایک نئے دوست کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی

جو جادو سے ایسی آئس بناتا تھا کہ جس کا نشہ نوشہ کو ہر چیز بھلا دیتا تھا___یہ ایک خاص جادو ہے جو آئس کو اس قدر محسورکن کر دیتا ہے___تم مجھے بھی یہ جادو سیکھاؤ ناں___تم سے نہیں ہو پائے گا نوشہ اس کو سیکھنے میں مجھے برسوں لگے ہیں سالوں کی محنت کے بعد یہ جادو قدرت نے میری انگلیوں میں گھول دیا ہے___لیوسفر ایک لمبے بالوں والے جنگلی لڑکے کا روپ دھارئے نوشہ کے سامنے بیٹھا تھا کیونکہ رادیہ کے بعد نوشہ ہی اس کا اگلہ شکار تھی لیوسفر کو اپنے مقصد کی کامیابی کے لئے دو عورتوں اور پھر ان دونوں کی کنواری بیٹیوں کا خون چاہئیے تھا مگر اس سے پہلے لیوسفر کو بغیر کوئی جادو استعمال کئے اور بغیر زور و زبردستی کئے ان چاروں کیساتھ جسمانی تعلق بنانا تھا تاکہ وہ ان کے جسم میں پہلے اپنا اثر چھوڑ سکے اور یہ کام وہ اس پہلے رادیہ کے شوہر ذیشان کا روپ دھار کر رادیہ کیساتھ کر چکا تھا

ہاں تمہاری انگلیوں میں بہت نشہ ہے جادوگر میں نے آج سے پہلے کبھی اس قدر حسین و لذیز آئس کا مزہ نہیں لیا تھا____تم نے کبھی آئس لی ہی نہیں تھی وہ تو محض کوئی خشک پاوڈر ہو گا ورنہ آئس تو دماغ کو اس دنیا سے دور جنت میں پہنچا دیتی ہے جہاں انسان ہر دنیاوی ٹینشن سے آزاد ہو کر ایک پرسکون زندگی کے چند لمحات کا مزہ لیتا ہے___اور وہ لمحہ اتنا پرسکون اور پرکیف ہوتا ہے کہ اس ہر لمحے پر دنیا کے تمام سکون قربان کر دئیے جائیں اس ایک لمحے کا سکون تمام دنیاوی نعمتوں کا نعم البدل____نوشہ نے لیوسفر کی بات کو خود مکمل کیا تھا___آئس کا اتنا سرور صرف وہی پا سکتے ہیں نوشہ جو اس کی قدر جانتے ہوں___اور اس کی قدر وہی جانتے ہیں جادوگر جنہوں نے اس دنیا کی حقیقت کو جان لیا ہو

نوشہ نے ایک بار پھر لیوسفر کی ادھوری بات کو مکمل کیا تھا___تو کیا حقیقت جانی تم نے____یہی کہ یہاں تمام رشتے ناطے صرف دھوکا اور دکھاوا ہیں___انسان دھوکے اور چالاکی کا ہی دوسرا نام ہے نوشہ___ہاں انسانی فطرت___تمہیں کس انسان کی فطرت___میری ماں__نوشہ نے اس کی بات ٹوکتے ہوئے خود سے اس کا جواب دئے دیا تھا حالانکہ لیوسفر اس کی زندگی کو اس سے بھی بہتر جانتا تھا مگر پھر بھی اس نے اسے کرید دیا تھا___کاش میں کوئی آدم خور چڑیل ہوتی تو اس عورت کو____تم چڑیل اور میں جن____وہ زور سے ہنس دیا تھا___تم جادوگر ہو تو___مگر لیوسفر نہیں____تم لیوسفر بن کر کیا کرتے جادوگر___ڈیفنی اور اس کے محل پر قبضہ__وہ خاصا سنجیدہ ہو چکا تھا اسے پتہ تھا کہ نوشہ نشے میں دھت ہے____ڈیفنی کا محل ہاہاہاہا__نوشہ ہنس دی تھی__میں ڈیفنی کو ہی کھا جاتی لیوسفر __تم کھاؤ گی ڈیفنی کو__اس کا لہجہ غصیلہ ہوا تھا___ہاں بلڈی ڈیفنی کو میں اپنی ماں تصور کر کے کھا جاتی___سنو تو جادوگر___اس نے لیوسفر کو جاتے دیکھ کر اسے ایک آواز دی جو وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے وہاں سے چلا گیا

کچھ دیر وہ وہاں اکیلی بیٹھی رہی تھی اور پھر وہاں سے نکل کر جنگل کی طرف نکل گئی جہاں چند دن پہلے اسے وہ جادوگر ملا تھا اسے اس کی طلب یہاں کھینچ لائی تھی اس کی انگلیوں کے نشے کی اسے گویا لت لگ گئی تھی

تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئیے تھا نوشہ یہ خطرناک علاقہ ہے___ہم خیال لوگوں کو ایک دوسرئے سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا جادوگر____انسان کو ہمیشہ انسان سے خطرہ رہتا ہے نوشہ___مگر ہم دونوں انسان نہیں ہیں ہم دونوں شیطان ہیں___لیوسفر زور سے ہنس دیا تھا___میں اور رادیہ دونوں ایک مخلوق نہیں ہو سکتے جادوگر___ڈاکٹر رادیہ___نہیں جادوگر وہ ڈاکٹر رادیہ نہیں ڈاکو رادیہ ہے جس نے ہمیشہ میرئے باپ کے حق پر ڈاکا مارا ہمیشہ اس کی تذلیل کی کیونکہ وہ ایک ڈاکٹر نہیں تھا اور اس عورت سے کم کماتا تھا آخر اس نے اسے اتنے ذلیل کیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے ہمیں چھوڑ گیا…….

تمہاری فیملی کہاں ہے جادوگر دور بہت دور___تمہاری ماں بھی ایسی ہی تھی____لیوسفر اس بار خاموش رہا تھا___تم چپ کیوں ہو___اندھیرا ہو رہا ہے یہاں سے واپس چلی جاو___وہ ایک طرف کو جانے لگا___مجھے کہیں نہیں جانا جادوگر وہ اس کا راستہ روک چکی تھی میرا یقین کرو……وہ سرد لہجے میں آنکھیں پھیلائے سامنے کھڑئے شخص کو دیکھنے لگی تھی…..اگر اب بھی میں یہاں نہ آتی تو اس ہجر کی آگ میں جل کر راکھ ہو چکی ہوتی اس کی آنکھوں کی نمی اس کے بدن کا عکس پیش کر رہی تھی اس نے اپنی گرم سانسوں کا احساس اس شخصیت کی گردن پر چھوڑا جس سے لیپٹنے کی چاہ اسے یہاں تک لے آئی تھی جس کی انگلیوں کا نشہ اسے پاگل کر رہا تھا پہلی بار وہ ناچاہتے ہوئے بھی کسی کے اتنا قریب کھڑی تھی کہ اپنی ہی سانسیں اسے کسی وجود سے ٹکڑا کر واپس پلٹتی محسوس ہو رہی تھی

تم بہت خوبصورت مگر معصوم ہو وہ معنی خیز انداز میں اس کے بدن پر نگاہ ڈالتے ہوئے مخاطب ہوا تھا اس کی نظر اس کی گردن سے پھسلتی ہوئی نیچے گئی اس کے بدن کی ہلکی ہلکی پھرپھراہٹ سے ہی اس نے بھانپ لیا کہ وہ پہلی بار کسی جنس مخالف کے قریب کھڑی ہے وہ اس وجود کے گرد گھومتے ہوئے اس کے پیچھے آ گیا اس نے جیب سے ایک مخصوص رومال نکالا اور اس کی آنکھوں پر باندھتے ہوئے اس کو الٹی چال چلاتے ہوئے درخت تک لے گیا تم یہی سوچ رہی ہو کہ میں نے تمہاری آنکھوں کو کیوں بند کیا وہ اس کے دل کی بات اس کی زبان پر آنے سے پہلے ہی سامنے لے آیا تھا میں نہیں چاہتا کہ تم میرا یہ روپ دیکھو

میں تمہارا ہر روپ دیکھنا چاہتی ہوں اور محسوس کرنا چاہتی ہوں کہ……..شش….اس نے اسے ٹوکا…..تم میرا کوئی روپ نہیں دیکھ پاؤ گی میں تمہاری نظروں سے اوجھل ہوں جاؤں گا مگر میرئے لمس کا احساس تمہیں ہمیشہ اپنی گردن پر محسوس ہو گا اس نے لڑکی کے جسم پر پر ہاتھ رکھ کر اوپر کو کھینچا اور وہ ہوا میں بلند ہو گئی ہر چیز سے بے نیاز وہ مدہوش ہو کر اس کے سینے سے اپنی کمر لگائے کھڑی تھی اس بات سے لاعلم کے کسی طاقت نے اس کے بدن کو بغیر سہارئے کے ہوا میں بلند کئے رکھا ہے اس نے اپنے ہونٹ اس کی گردن پر جمائے اور ایک ہی لمحے میں گویا اس لڑکی کی جان نکال دی جنگل میں اندھیرا چھا چکا تھا لیوسفر ایک اور مقصد پانے کے قریب تھا نشے میں دھت نوشہ اسے اپنا آپ پیش کر چکی تھی

وہ ایک تتلی کا روپ دھارئے پرستان سے کوہ قاف تک پہنچی تھی اسے کوہ قاف کے راجہ شاہ جنات سے ملنا تھا جو اپنے محل سے باہر گیا ہوا تھا ڈیفنی کے شاہ جنات کے محل پہنچنے کی خبر کانوں کان کسی کو نہ ہوئی تھی محل کے گارڈز تک اس بات سے بے خبر تھے کہ ڈیفنی محل کے اندر پہنچ چکی ہے وہ اپنے آنے کی خبر سے ہر کسی کو بے خبر رکھنا چاہتی تھی ڈیفنی کو اس کی جاسوس پریوں نے بتا رکھا تھا کہ شاہ جنات کی بیوی سارسہ رانی تتلیوں کی بہت شوقین ہے اور اس نے بہت خوبصورت تتلیاں پال رکھی ہیں اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ تتلی بن کر یہاں آ گئی تھی

اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تمہیں تتلی بننے کا اتنا شوق ہے تو میں تمہیں کب کی تتلی بنا کر اپنے پاس رکھ لیتی ڈیفنی____سارسہ ہنستے ہوئے مخاطب ہوئی تھی____سارسہ رانی تم لوگوں کو پرستان کے باسیوں کو بھی جینے کا حق دینا ہو گا اور اس شریر لیوسفر کو باز رکھنا ہو گا____ہاہاہاہا ڈیفنی اس شریر جن کو صرف تم قابو کر سکتی ہو اپنے اس حسن سے جس کے چرچے کوہ قاف کی ہر گلی میں زبان زد عام ہیں___وہ ڈیفنی کے چہرئے پر اپنا ناخن آہستگی سے پھیرتے ہوئے بولی تھی____اس سب میں میرا کوئی قصور نہیں___قصور ہمیشہ پریوں کا ہی ہوتا ہے ڈیفنی ایک خوبصورت پری بھلا کس کی خواہش نہیں ہو گی____اگر یہی سب کوئی تمہارئے ساتھ کرئے شاہ جنات کو مار کر تو تمہیں کیسے لگا گا سارسہ رانی_____دیوانے کا خواب ہاہاہاہاہاہاہاہا کس مخلوق میں ہمت ہے کہ وہ شاہ جنات کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے

کوئی بھی طاقتور دیو___ہاہاہاہاہا شاہ جنات نے دیو کی وادی پر حال میں ہی قبضہ کیا ہے ڈیفنی کسی دیو میں اب اتنی طاقت باقی نہیں رہی کہ وہ شاہ جنات کا سامنا کر سکے____لیوسفر جو پہلے ہی شاہ جنات کا حکم ماننے سے انکاری ہے وہ___ہاہاہاہاہاہاہاہا تم بہت شاطر ہو ڈیفنی___میں شاطر نہیں ہوں بتا رہی ہوں اگر لیوسفر میرئے شوہر کو مار کر مجھ تک پہنچ سکتا ہے تو یہی کام وہ تمہارئے ساتھ بھی کر سکتا ہے سارسہ رانی تو بہتر ہے کہ ہم مل کر لیوسفر کا مقابلہ کریں____اگر تم تتلی بن کر ہمیشہ میرئے پاس رہنے کی حامی بھر لو تو میں ضرور لیوسفر کا مقابلہ کروں گی اور پھر شاہ جنات بھی تو اپنے محل میں تمہیں دیکھ کر خوش ہو جائیں گے____ڈیفنی کو پانے کی خواہش ہمیشہ جنات کے دل میں ہی مدفن رہ جائے گی سارسہ رانی____ہاہاہاہاہاہاہاہا وہ خوفناک انداز میں ہنسی آخر میں تمہاری باتیں سن ہی کیوں رہی ہوں___اس نے غصے سے اپنی انگلیوں کو گھما کر ایک جادوائی پنجرہ ڈیفنی کی طرف پھینکا جو ڈیفنی کے پاس جا کر ٹوٹ گیا____ڈیفنی نے ایک جادوائی لاکٹ پہن رکھا تھا جس کے ہوتے کوئی بھی جادو ڈیفنی پر اثر نہیں کر سکتا تھا یہ جادوائی لاکٹ شہزادہ ایمر کی پردادی کا تھا جو ایمر کے دادا نے اپنی بیوی کو جنات سے بچانے کے لئے دیا تھا___محل میں ناکام جادو کا سگنل شاہ جنات تک لمحے بھر میں پہنچ گیا اور وہ پلک جھپکتے محل میں پہنچ گیا تھا

آپ نے خوامخاہ اتنی تکلیف کی میں تو صرف اپنی مہمان کو جادو سیکھا رہی تھی___سارسہ رانی نے جھٹ سے اپنا روپ بدل لیا تھا وہ جانتی تھی کہ بوڑھے ہو چکے شاہ جنات کو اپنی جوان بیوی سارسہ چڑیل کی ایسی حرکتیں بلکل پسند نہیں تھی___شاہ جنات نے حیران کن نظروں سے ڈیفنی کو ایک نظر دیکھا تھا جیسے وہ حیرانگی کا اظہار کر رہا ہو___تم یہاں پھر مدد مانگنے آئی ہو ڈیفنی____جی شاہ جنات مجھے میرئے پرستان کی حفاظت کے لئے جن گارڈز چاہئیے___ڈیفنی تم جانتی ہو کہ میں ایک جن کے خلاف تمہاری مدد نہیں کر سکتا ورنہ کوہ قاف کے جن ہی میرئے خلاف ہو جائیں گے___کوہ قاف کے جنات اور شاہ جنات کو سمجھنا چاہئیے کہ ان کی وادی کا ایک شریر جن پرستان کی معصوم پریوں کو تنگ کرتا ہے____ایمر کی موت کے بعد تمہیں لیوسفر سے شادی کر لینی چاہئیے ڈیفنی___میں ایک ایسے شخص سے شادی نہیں کر سکتی جو میرئے شوہر کا قاتل ہو___تمہیں ایمر سے شادی کرنی ہی نہیں چاہئیے تھی ڈیفنی وہ ایک کمزور اور غیر مقبول جن تھا____مگر وہ میرئے دل میں بہت مقبول تھا شاہ جنات اور مجھے آپ کی باتوں سے لگتا ہے کہ آپ بھی اس سب کھیل میں شامل ہیں____یہ الزام تم کیسے دئے سکتی ہو ڈیفنی جبکہ میں نے تمہاری اور ایمر کی شادی میں تم دونوں کے ماں باپ کو تمہاری حفاظت کی یقین دہانی کروائی تھی____پھر آپ اس سب میں کیوں ناکام رہے___کیونکہ ڈیفنی تم نے بہت سے ایسے کام کئے تھے جو اس معاہدئے کی خلاف ورزی تھی اس کے بعد بھی میں نے کئی جن پرستان کی حفاظت کے لئے وقف کئے اور تم یہ الزام____وہ افسوس ناک لہجے میں ڈیفنی سے مخاطب تھا___مجھے آپ کی نیت پر شک نہیں شاہ جنات کیونکہ آپ میرئے باپ کی جگہ پر ہیں مگر آپ ہی کے محل میں بہت سی پریوں کو تتلیاں بنا کر قید کیا گیا ہے____سارسہ میں یہ کیا سن رہا ہوں___وہ سوالیہ نظروں سے سارسہ کو دیکھنے لگا تھا

شاہ جنات ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ چالاک لومڑی جھوٹ بول رہی ہے آپ کو اس چالاک پری کی باتوں میں نہیں آنا چاہئیے____سارسہ رانی تمہیں پریوں کو قید کر کے ملتا ہی کیا ہے___جھوٹ مت بولو ڈیفنی اگر تم شاہ جنات کے محل میں نہ ہوتی تو شاہ جنات تمہیں ضرور اس جھوٹ کی سزا دیتے___وہ اپنے شوہر کے ساتھ لیپٹتے ہوئے مخاطب ہوئی تھی____ڈیفنی میں تمہیں چند جن دئے سکتا ہوں وہ بھی صرف اس بار کیونکہ میں اپنے معصوم جنات کو لیوسفر کے ہاتھوں نہیں مروانا چاہتا___لیوسفر آپ کا بھی تو دشمن ہے شاہ جنات آخر اس نے اس وادی سے بھی تو بغاوت کی ہے___ہم اپنے مجرم کو خود سزا دئے لیں گے مگر اپنے کسی باغی کے خلاف کسی پری کی مدد نہیں کر سکتے لیوسفر سے لوگ جتنا بھی ناراض ہوں مگر اس کے باوجود وہ تمہاری اور اسکی جنگ میں یا تو خاموش رہیں گے یا لیوسفر کے حامی___چھوڑیں ناں آپ بھی___سارسہ نے شاہ جنات کو ٹوکا___ڈیفنی ہمارئے ساتھ کھانا کھاو گی____بہت شکریہ سارسہ رانی___ڈیفنی نے دوبارہ روپ بدلا اور وہاں سے نکل گئی

سنسان جنگل کے بیچو بیچ بنی ایک چھوٹی سی گزرگاہ پر وہ ڈری سہمی سی بیٹھی ہوئی تھی بادل کے گرجنے اور بجلی کے چمکنے کیساتھ ہونے والی تیز بارش نے اس کے ڈر اور خوف میں کئی گنا اضافہ کر دیا تھا اس کے کپڑوں پر لگی تازہ گیلی مٹی اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ اس سنسان راستے پر بھاگنے کی وجہ سے کئی بار پھسل کر زمین پر گری تھی وہ مزاحمت کرنے کی بجائے اب ساکن ہو کر زمین پر بیٹھی تھی کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ بھاگنے کا کوئی فائدہ نہیں وہ تمام واقعات جو وہ بھول چکی تھی کسی فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے چلنے لگے تھے اس رات سے لے کر اب تک ہر لمحہ اسے یاد آ رہا تھا وہ خوف اور بارش سے کپکپانے لگی تھی بہت شوق ہے تمہیں مردوں کے قریب جانے کا____ایک خوفناک آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی زمل نے اس سے زیادہ خوفناک آواز پہلے کبھی نہیں سنی تھی وہ جانتی تھی کہ اسے اس کے کمرئے سے اٹھا کر یہاں تک کون لایا ہے____ن ن نہیں نہیں____نہیں آج تمہارا یہ نشہ بھی اتر جائے گا___اس کے سامنے اچانک سے ایک شخص نمودار ہوا تھا جس نے آتے ہی ہاتھ کے اشارئے سے زمل کو ہوا میں معلق کر دیا تھا____فاسیر ت تم ایسا نہیں کر سکتے ہ ہ ہم د د دوست دوست ہیں___وہ ہکلاتے ہوئے جملہ مکمل کر پائی تھی___جس طرح تم انسان فطرت سے مجبور ہوتے ہو ویسے ہی میں بھی فطرت سے مجبور ہوں میری فطرت میں کسی انسان سے دوستی شامل نہیں____تمہیں یاد ہے کہ میں نے تمہیں پہلی رات کیا کہا تھا کہ میں فقط اسی صورت اس سردار کو زندہ کروں گا اگر تم میری ہر بات مانو گی____میں میں ہر بات مانتی ہوں مانو گی فاسیر ر ر پ پلیز مجھے معاف کر دو___یہ صرف تمہارا خوف ہے ورنہ جس طرح تم اس کے پاس آنے پر___فاسیر نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے___بکواس بند کرو اپنی فضول لڑکی____وہ ایک ہی لمحے میں جادو سے کھینچ کر اسے اپنے قریب کر چکا تھا زمل اس کے بلکل قریب آ گئی تھی___کنواری انسانی لڑکیاں ہمیشہ سے جنات کی پسندیدہ معشوقہ رہی ہیں زمل____فاسیر نے اپنا لہجہ اس بار نرم کیا تھا وہ زمل کے جسم کے گرد اپنی بانہوں کا حصار بنا کر اسے مزید قریب لے آیا تھا____میں بھی اس رات تم پر عاشق ہو سکتا تھا جب تم برہنہ ہو کر نہا رہی تھی مگر مجھے ایک کنواری لڑکی جس کو کبھی کسی مرد نے نہ چھوا ہو اپنے خاص مقصد کے لئے چاہئیے تھی اور میں نے اپنی جناتی حوس پر اپنے مقصد کو ترجیح دی کیونکہ مجھے وہ زیادہ عزیز تھا___مگر جب تم خود ہی یہ سب چاہتی ہو تو پھر آخر میں کیوں نہیں کیوں ناں میں ہی تمہیں اپنی حوس کا نشانہ بنا لوں___وہ اس کے کان کے گرد سرگوشی کرتا ہوا اس کی گردن تک گیا تھا___ن نہیں نہیں فاسیر___فکر نہ کرو زمل میں انسانی روپ میں ہی یہ سب کرنے والا ہوں

نہیں نہیں تم ایسا نہیں کر سکتے___وہ خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی___تمہیں مردوں سے دور رہنے والی لڑکی چاہئیے تھی اور میں میں وہی ہوں ت تم نے خود کہا تھا کہ مجھے تمہاری ضرورت ہے تم یہ سب____جب تم خود اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو تو میں کیا کر سکتا ہوں زمل___فاسیر نے خوف سے پھیلی ہوئی اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا جو بلکل خشک تھی____نہیں تمہیں غلط فہمی____مجھے غلط فہمی نہیں ہوئی زمل سلطان شہزادی___فاسیر نے زمل کو ٹوکا___کوئی بھی عورت ایک محدود وقت سے زیادہ خود کو مرد سے دور نہیں رکھ سکتی یہ انسانی مخلوق کی فطرت ہے____فاسیر نے اس کی گردن پر اپنی زبان لگائی جیسے وہ اس کے بدن کا ذائقہ چکھ رہا ہو___اور میں اب ایک مرد کے روپ میں ہوں اور تمہاری خواہش کی تکمیل کے بعد میں ہمیشہ کے لئے تمہیں چھوڑ جاؤں گا کیونکہ تب تم میرئے کسی کام کی نہیں رہو گی

میرا یقین کرو فاسیر میری ایسی کوئی خواہش نہیں میں میں صرف سردار سے پیار کرتی ہوں____پیار ہاہاہاہاہا پیار!!! انسانوں کے درمیان نامحرم رشتوں میں جسم کے بغیر کسی پیار کا کوئی تصور نہیں یہ صرف ایک دوسرئے کے بدن تک رسائی کا ایک بہانہ ہے ____نہیں فاسیر تم تم غلط ہو پیار اور حوس دونوں الگ ہیں تم نے صرف مردوں کو اپنے جسم سے دور رکھنے کا کہا تھا پیار تو جسم کا محتاج نہیں ہوتا___وہ اب بھی مسلسل خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی فاسیر نے اپنا ایک ہاتھ اس کے کندھا پر رکھ کر مسلا تھا___آج کے بعد تم کسی اور مرد کے قابل نہیں رہو گی زمل____نہیں فاسیر پلیز نہیں وہ رونے لگی تھی____فاسیر کی گرم سانسیں اس سے ٹکڑا رہی تھی اور بارش کا تیز پانی اس کے بالوں سے بہنے لگا تھا___تمہارئے گھنے سیاہ بال مجھے تمہاری طرف مائل کر رہے ہیں____زمل مفلوج ہو چکی تھی وہ اس کے مفلوج بدن کو گھما چکا تھا اس نے اپنی انگلی اس کی کمر پر پھیرتے ہوئے اس کے لباس کو قینچی کی مانند کاٹ دیا تھا____نہیں فاسیر ایسا مت کرو فاسیر تمہیں خدا کا واسطہ ہے رک جاؤ___میں ایسا ہی کروں گا زمل کیونکہ تم____مجھے صرف ایک موقع دو میں میں ویسی ہی بنوں گی جیسا تم تم چاہتے ہو مگر پلیز پلیز___تم ویسا کبھی نہیں بن سکتی زمل___میں بنوں گی میں میں اس سے دور رہوں گی بلکہ سب سب سے دور رہوں گی___ہاہاہاہا یہ صرف خوف ہے جو ہوش میں آتے ہی ختم ہو جائے گا زمل____نہیں نہیں ہو گا تم تم مجھے جو مرضی سزا دئے لینا مگر_

امہم زمل تم بار بار بھول جاتی ہو کہ اگر میں تمہارئے ساتھ کوئی زبردستی کروں گا تو تم میرئے کسی کام کی نہیں رہو گی اس لئے موقع دینا فضول ہے کیونکہ میں ڈرا دھمکا کر تمہیں اپنے مقصد میں استعمال نہیں کر سکتا اور ڈر اور خوف کے بغیر تم اپنی فطرت سے باز نہیں آ سکتی____اس کی انگلی گردن سے کمر تک آ کر رک گئی تھی وہ اس کی قیمض ایک سیدھی رائن میں چاک کر کے اس کا رخ اپنی طرف پھیر چکا تھا____میرا یقین کرو فاسیر میں ویسا ہی کروں گی جیسا تم___وہ روتے ہوئے بول رہی تھی__مگر پلیز مجھے داغدار مت کرو پلیز___یہ صرف خوف ہے زمل صرف خوف وگرنہ تمہارئے دل میں جو ہے وہ میں سب جانتا ہوں___میرا یقین کرو میں سچ کہہ رہی ہوں__بکواس بند کرو___اس نے اپنا لہجہ غصیلہ کیا اور پھر غصے سے اسے ایک طرف پھینک دیا____مجھے نفرت ہے اس جھوٹ اور دھوکے سے____فاسیر جلدی سے اس کی طرف لپکا وہ ایک طرف زمین پر گری ہوئی تھی اور اس کے بدن سے اس کی قمیض غائب تھی___یہ جھوٹ نہیں سچ ہے میں اس سے پیار کرتی ہوں صرف پیار مجھے اس کے جسم کی کوئی چاہت نہیں اگر اس سب کے بعد بھی تم یہ سب کرنا چاہتے ہو تو کر گزرو شاید میں اسی قابل ہوں اور میرئے ساتھ یہی ہونا چاہئیے___اور وہ سردار____زمل معنی خیز انداز میں اس سے مخاطب ہوا تھا____میں نہیں جانتی کہ اس کے دل میں میرئے لئے کیا ہے میں صرف اس کا ساتھ چاہتی ہوں____مگر پھر تم اسی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو جاؤ گی___فاسیر اس کے اوپر آ چکا تھا

ایسا کبھی نہیں ہو گا فاسیر کیونکہ مجھے خود پر اور اپنی محبت پر یقین ہے____اگر ایسا ہو گیا تو____اگر کبھی میں نے اس کو اپنا بدن چھونے بھی دیا تو پھر زمل کا بدن تمہاری جاگیر ہو گا تم جو چاہو_____مجھے خوشی ہو رہی ہے کیونکہ ایسا ہی ہو گا اور پھر تم بخوشی اپنا بدن مجھے سونپ دو گی آج سے تم پر کوئی پابندی اور خوف نہیں اب ہم تب ہی ملیں گے جب وہ تمہارئے بدن تک پہنچا_______وہ ایک جھٹکے سے اپنے بستر پر پہنچ گئ تھی اس کا جسم اب بھی گیلا اور کپڑوں پر تازہ گیلی مٹی چسپاں

تم دونوں مجھے یہاں رکھنے کی غلطی مت کرنا میں بہت بری لڑکی ہوں___نوشہ پراعتماد انداز میں میکال اور وجیہہ سے مخاطب تھی وہ پچھلی ساری رات گھر سے باہر تھی اور اسے وہ سب بھول چکا تھا جو لیوسفر نے اس کیساتھ کیا تھا____تم جانتی ہو تمہاری ماما تمہاری وجہ سے کتنی پریشان ہیں____ہاں وہ بہت زیادہ پریشان ہیں اور میں اسے مزید پریشان کروں گی___وجہیہ کی آنکھیں حیرانگی سے تھوڑی پھیل گئی تھی____وہ ماما ہیں تمہاری نوشہ___اس نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا تھا نوشہ کا رویہ اسے خاصہ عجیب لگ رہا تھا___انفارمیشن کا شکریہ آنٹی___دیکھو بیٹا تمہاری ماما تمہیں یہاں رکھنا چاہتی ہیں تاکہ تم کچھ سدھر جاؤ____میکال نے نوشہ کو سمجھانے کی کوشش کی تھی حالانکہ وہ اس حق میں بلکل نہیں تھا کہ نوشہ اس کے کالج میں رکے____اگر آپ دونوں کو لگتا ہے کہ آپ دونوں مجھے اس جیل میں سدھار سکتے ہو تو کوشش کر لوں اگر باقی لڑکیاں بھی خراب ہو گئی تو مجھے مت کہیے گا___ہاہاہاہا دھمکی__میکال کے چہرئے پر رسمی سی ہنسی آئی___کیا کرو گی تم

شاید اس جھوٹی عورت رادیہ نے نہیں بتایا ہو گا کہ میں آئس لیتی ہوں اور_____اور بتاو کیا کرتی ہو____میکال معنی خیز انداز میں اس کی طرف دیکھنے لگا تھا___وہ سب جو ایک خراب لڑکی کو کرنا چاہئیے____ٹھیک ہے ہمیں اس سب سے مسئلہ نہیں ہو گا مگر تمہیں اب یہاں ہی رہنا ہو گا____وہ دونوں کمرہ بند کر کے باہر نکل گئے تھے___پتہ نہیں تم کیوں نہیں اپنی دوست کو منع کرتی کہ وہ اپنی بیٹی کو یہاں سے لے جائے___میکال آپ سمجھتے کیوں نہیں میں کیسے اس کو انکار کروں آخر اس بچاری کا کوئی آگے پیچھے ہے بھی تو نہیں____وجیہہ یہ لڑکی یہاں بہت مسئلہ کرئے گی تم نے اس کا ایٹیٹوڈ دیکھا؟____اگر اس کی جگہ ہماری بیٹی ہوتی تو کیا تب بھی آپ اس کو اس طرح رکھنے سے انکار کرتے____ہماری بیٹی حیا کبھی اس اسٹیج تک پہنچتی ہی نہ کہ اسے ایسی حرکتیں کرنی پڑتی____اگر بالفرض پہنچ جاتی تو تب…….تب بھی تو ہم اس کو ٹھیک ہی کرتے ناں بجائے کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے نوشہ بھی تو کیسی کی بیٹی ہے ہمیں ایک موقع دینا تو چاہئیے ہو سکتا ہے وہ____وجیہہ یو ناؤ واٹ میں تمہیں مزید نہیں سمجھا سکتا اگر تمہیں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کا اتنا ہی شوق ہے تو مار لو مگر تمہیں اس کالج کے متعلق ہر چیز رادیہ کو بتانی ہو گی___میکال وجیہہ کو ٹوکتے ہوئے حکمیہ انداز میں مخاطب ہوا تھا____مگر میکال وہ___اگر مگر کچھ نہیں وجیہہ تمہیں یہ ہر صورت کرنا ہو گا

میکال کے بارہا زور دینے پر وجیہہ کو ہار ماننا پڑی تھی وہ ڈاکٹر رادیہ کو کالج سے غائب ہوتی لڑکیوں کے متعلق سب بتا چکی تھی___اللہ رحم کرئے یہ بہت خوفناک ہے وجیہہ___رادیہ اس کی بات سن کر پریشان ہو گئی تھی___مگر میرئے پاس کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے وجیہہ یہ سنٹر ہی میری آخری امید ہے___مجھے کوئی مسئلہ نہیں رادیہ مگر مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آخر تم سے اس کی تربیت میں کیا غلطی ہوئی ہے جو یہ نشے کی لت تک پہنچ گئی___اکثر انسان کو اپنی خطاؤں کی سزا دنیا میں ہی مل جاتی ہے یہی میرئے ساتھ ہو رہا ہے وگرنہ میں نے اس کی اچھی تربیت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی____وجیہہ رادیہ کو سنتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی___اس کو ذیشان کے متعلق سب پتہ چل گیا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ مجھ سے شدید نفرت کرنے لگی ہے___او مائی گاڈ وہ سب اس کو کیسے پتہ چلا___پتہ نہیں کس نے وہ سب باتیں اس کے دماغ میں بھر دی ہیں کہ اس کے باپ سے علیحدگی کی وجہ میں ہوں___کیا اسے وہ سب بھی پتہ چل گیا___وجیہہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی____ہاں شاید___وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد نظریں جھکا کر بولی تھی اس کے اقرار نے وجیہہ پر حیرانگی کا ایک پہاڑ توڑ دیا تھا____وقتی طور پر چھپ جانے والی غلطیاں کبھی نہ کبھی پہاڑ بن کر سامنے آ جاتی ہیں___تم فکر نہ کرو رادیہ میں پوری کوشش کروں گی کہ وہ واپس نارمل زندگی کی طرف لوٹ آئے___وجیہہ نے اسے دلاسہ دیا تھا

زمل میکال کیساتھ گاڑی میں کالج پہنچی تھی اس کے چہرئے پر آج کافی رونق تھی فاسیر نے اس پر لگائی تمام پابندیاں ختم کر کے اس کو اس شرط پر چھوڑ دیا تھا کہ وہ انسانی محبت کو سچا ثابت کر دیکھائے گی فاسیر جاتے ہوئے اس کو بہت سی خود اعتمادی اور بولنے کی صلاحیت بھی دئے گیا تھا تاکہ وہ اسے خود کی بات سچ کر دیکھانے کا پورا موقع دئے___سب ٹھیک ہے ناں شہزادی___تہروبا حیران کن نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی وہ وجیہہ کیساتھ ابھی آفس سے باہر آئی تھی____ویلکم میڈیم آپ یہاں تشریف لے آئی___شکریہ بھابھی___اس کا مسکراتے ہوئے جواب وجیہہ کو بلکل ناگوار گزرا تھا

انسان کو اپنے آپ کچھ شرم کر لینی چاہئیے کیوں تہروبا میں نے صحیح کہا ناں___جی جی میم___یار تم کیوں نہیں اسے سمجھاتی کہ یہ تھوڑا ایکٹیو ہو جائے____میں سمجھاتی ہوں میم بس یہ تھوڑی سست ہے ___تھوڑی سست واقعی ہی تہروبا____وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی_____اگر اس کی یہی حالت رہی تو یہ پوری زندگی اپنے کمرئے تک ہی محدود رہ جائے گی اور یہ دور ایسی عورت کے لیے بلکل نہیں ہے جو صرف اپنے کمرئے تک محدود ہو_

خاموش اور اکیلے رہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مجھے کچھ اور نہیں آتا اور ویسے بھی میرا یہ میعار نہیں کہ میں ہر کسی کو منہ لگاتی پھیروں_____اس نے حیران کن طور پر وجیہہ کو جواب دیا تھا جس کے سامنے اس کی زبان لاک ہو جاتی تھی___زبان چلانے سے زیادہ دماغ چلانے پر توجہ دو ویسے بھی مجھے بکواس کرتی زبانیں ذرا اچھی نہیں لگتی___مجھے بھی____جسٹ شٹ یور ماوتھ____تہروبا تم حیا کیساتھ نوشہ پاس جاؤ اور اسکی کئیر کرو میڈیم کا دماغ آج کچھ خراب چل رہا ہے____وہ آنکھیں پھاڑ کر وجیہہ کو گھورتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھی____تہروبا کچھ دیر وہی خاموش کھڑی زمل کو دیکھتی رہی تھی___زمل تمہیں کیا ہو گیا تھا___وہ حیرانگی سے مخاطب ہوئی____کیوں میں نے کچھ غلط کہا تہروبا____غلط نہیں بہت غلط تم ہوش میں تو ہو____ہاں میں ہوش میں ہوں___تمہیں ڈر____مجھ سے زیادہ ڈر تو تمہیں لگ رہا ہے تہروبا____تم میں کوئی بھوت ووت تو نہیں آ گیا زمل___بھوت ووت آیا تھا اب تو چلا گیا___تم واقعی ہی مجھے بہکی ہوئی لگ رہی ہو زمل___چھوڑو آؤ ہم اس نئی بلڈنگ میں چلتے ہیں___نہیں وجیہہ بھابھی___چھوڑو یار وجیہہ کو____تمہیں ہوا کیا ہے زمل اتنی باتیں کب سے آئے گئی تجھے____خاموشی سے میرئے ساتھ چلتی رہو___وہاں سردار تو نہیں ہے___نہیں سردار کو وہاں بھلا کیوں بلانا خود جائیں گے اس کے پاس_

تم خود جاو گی زمل___کیوں میں نہیں جا سکتی کیا____اب مجھے واقعی ہی لگ رہا ہے کہ تم ہوش میں نہیں ہو اچھا وہ سردار کا نمبر مانگ رہی تھی_____کون وہ حیا؟____ہاں وہی تمہاری بھانجی____ہاہاہا دئے دیتی ناں تم____کیا واقعی؟_____ہاں دئے دو ناں اسے بھی تو اپنی کوشش کر لینی چاہئیے پھر ہی تو حقیقی طاقت کا پتہ چلے گا____کیسی طاقت___محبت کی طاقت____بہن رک جاؤ تم کیا بول رہی اور کدھر جا رہی ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا_____تمہیں سمجھ آئے گا بھی نہیں تہروبا_____کل تک تم اس کے لئے اتنی ٹینشن میں تھی اور آج خود بول رہی ہو کہ میں اس کا نمبر حیا کو دئے دوں___

ہاں تو__وہ آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے تہروبا سے مخاطب ہوئی تھی جس طرح فاسیر نے اسے اپنی محبت آزمانے کے لئے مکمل آزادی دئے دی تھی اسی طرح وہ بھی اپنی محبت کو ہر لحاظ سے آزمانا چاہتی تھی_____وہ دونوں چلتے ہوئے ایک کمرئے تک جا کر روکی تھی یہ وہی کمرہ تھا جہاں زمل نے پہلے لڑکیوں کے کپڑئے دیکھے تھے مگر وہاں اب ایسا کچھ نہیں تھا____یہاں اسی جگہ پر کچھ لڑکیوں کے کپڑئے تھے اور مجھے لگتا ہے یہ وہی لڑکیاں ہیں جو کالج سے غائب ہیں__یہ کیا اول فول بک رہی ہو تمہیں لگتا ہے کہ ان غائب شدہ لڑکیوں کے ساتھ اس جگہ کچھ ہوا ہے___مجھے لگتا نہیں یقین ہے تہروبا___چلو یہاں سے چلیں ہمیں ان سنسان بلڈنگز میں نہیں رکنا چاہئیے____نہیں یہاں ضرور کوئی اور سراغ بھی ہو گا وہ تہروبا کے منع کرنے کے باوجود ایک کے بعد دوسرئے کمرئے میں گھستی چلی جا رہی تھی کہ اچانک ایک زوردار مردانہ آواز اسے سنائی دی____زمل !!! زمل تم یہاں کیا کر رہی ہو___میکال سلطان کا لہجہ کافی سخت تھا____تم سب کو منع کیا تھا ناں کہ یہاں کچھ غلط ہو رہا ہے اس طرف مت آو اس کے بعد بھی____وہ وہ بھائی میں نے یہاں____کچھ نہیں دیکھا تم نے یہاں…….تم اس کالج کی بدنامی کراواو گی کیا____چلو یہاں سے_____مگر بھائی میری بات تو سن____میں نے کہا یہاں سے نکلو جلدی____وہ لاپتہ لڑکیاں____میں نے کچھ کہا ہے تم دونوں کو______میکال سلطان نے غصیلے انداز میں ان کی بات سنے بغیر ان کو وہاں سے بھیج دیا تھا____ہاں شکر ہے وجیہہ تم نے ان کو کیمرئے سے دیکھ لیا تھا ورنہ____میکال سلطان نے فون پر وجیہہ کا شکریہ ادا کیا تھا جو کنٹرول روم سے سب دیکھ رہی تھی

تمہیں تو اس وقت اپنی دوست کے پاس ہونا چاہئیے تھا____سردار نے لیپ ٹاپ کی سکرین سے ایک نظر ہٹا کر اپنے آفس میں کھڑی تہروبا پر ڈالی تھی جو شام ڈھلنے کے بعد توقع کے الٹ یہاں کھڑی تھی____کیوں کیا ضروری ہے کہ میں ہر وقت اس کیساتھ بندھی رہوں___دراصل مجھے وہ لوگ بہت عزیز ہوتے ہیں جن کے دل میں میرئے لئے محبت ہو___وہ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوئے ہی مخاطب تھا____یہ عزیز پن صرف زمل کی حد تک ہے

یا کوئی اور بھی اس لسٹ میں شامل ہو سکتا ہے___وہ چلتے ہوئے اس کے ٹیبل تک پہنچی تھی جہاں اس نے اپنا پرس رکھا اور سردار کی کرسی تک پہنچی____تمہاری ان حرکتوں کا____واٹ ڈو یو مین بائے حرکتوں____تہروبا نے سردار کو فوری ٹوک دیا تھا وہ اس کے کندھے پر ہاتھ کا سہارا لئے کرسی کے بازو پر براجمان ہو چکی تھی___اٹس لو بے بی___تہروبا کی اس حرکت کو دیکھ کر سردار کے چہرئے پر بے ساختہ مسکراہٹ پیدا ہوئی تھی___اچھا تمہارئے اس لوو کا اندازہ زمل کو ہو جائے تو____تو کیا…..تہروبا نے جملہ کھینچا___جس طرح وہ تمہیں پسند کرتی ہے اسی طرح میں بھی کرتی ہوں بس وہ کہہ نہیں پاتی اور میں کہہ دیتی ہوں____مجھے بلکل نہیں لگتا کہ وہ مجھے پسند کرتی ہو گی تم نے خوامخاہ ہی ایک شوشہ چھوڑ رکھا ہے____سردار یہ بات تو تم بھی اچھے سے جانتے ہو کہ کلاس کی شاید ہر لڑکی ہی تمہیں پسند کرتی ہو گی____اگر ایسا تھا تو اب تک اسے کہہ دینا چاہئیے تھا____وہ لمبی سانس لے کر بولا تھا_____تو کیا سردار صاحب اس کے اقرار کے انتظار میں بیٹھے ہیں___وہ بناوٹی غصہ چہرئے پر لا چکی تھی____سردار کسی کا انتظار کیوں کرئے گا پگھلی____

تو پھر اسکا اتنا ذکر کیوں___تمہاری دوست جو ہے اس لئے____میری تو اتنی ساری دوستیاں ہیں تو کیا سب کے متعلق یوں ہی سوچتے رہو گے سردار___تہروبا نے اپنے ہاتھ سے بچگانہ انداز میں اس کی گالوں کو کھینچا تھا زمل کی طرح تہروبا بھی سردار کے عشق میں مبتلا تھی مگر یہ بات اس نے کبھی زمل پر ظاہر نہیں ہونے دی تھی کیونکہ اس سے پہلے کہ تہروبا سردار کے متعلق زمل کو بتاتی زمل خود اپنے جذبات تہروبا کو بتا چکی تھی اور تہروبا سے ہی مدد مانگ چکی تھی زمل کے خاندان کے درجنوں احسانات کے نیچے دبی تہروبا کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ اس تعلق کو ہر کسی سے چھپا کر رکھے___فلرٹ کرنا بند کرو کچھ کام کی بات کرو___کام کی بات کچھ خاص نہیں ہے سردار وجیہہ نے نوشہ کو میرئے سپرد کیا ہوا ہے____تو نوشہ سے تم کچھ___فی الحال وہ کچھ بھی بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہے سردار مجھے اس سے سچ اگلونے میں کچھ وقت تو لگے گا___کتنا وقت لگے گا تہروبا___وہ معنی خیز انداز میں تہروبا کو دیکھنے لگا تھا جو قریب قریب اس کی گود میں ہی بیٹھ چکی تھی____اتنا ہی وقت سردار جتنا ہماری شادی کو درکار ہے____آئی ایم ان سیریس موڈ تہروبا___سردار نے لہجہ کچھ سخت کیا تھا وہ ہر حال میں اپنے مشن میں کامیابی چاہتا تھا اور اسی مشن کی مجبوری میں اسے تہروبا کو اپنے قریب کرنا پڑا تھا____موڈ کو زیادہ سیریس نہیں رکھتے میری جان____وہ بہکانے کے انداز میں بولی تھی____مجھے جلد سے جلد____شش شش تہروبا نے سردار کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا

تہروبا سردار کو پانے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے مسڑ یہ تو پھر بہت چھوٹا سا کام ہے___تہروبا نے خود کو اس کے چہرئے کے قریب کر کے سرگوشی کی تھی____ہٹو یہاں سے آفس میں کوئی آ جائے گا____آنے دو میں ڈرتی ورتی نہیں ہوں کسی سے___مجھے سمجھ نہیں آتی زمل کے سامنے یہ بے خوفی کہاں چلی جاتی ہے____زمل سے مجھے کوئی خوف نہیں سردار وہ فقط میری اچھی دوست ہے_____تو یہ نبھا رہی ہو اچھی دوستی تم____اگر وہ بھی تمہیں پسند کرتی ہے تو اس سب میں میرا کیا قصور ہے سردار اس کے علاوہ بھی درجن بھر لڑکیاں پسند کرتی ہوں گی__یہ بات ہے تو تم اسے سچ بتا کیوں نہیں دیتی کہ جس سے وہ مدد کی امید لگائے بیٹھی ہے وہ خود____سردار نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا تھا___میں اس معصوم سی لڑکی کا دل نہیں توڑ سکتی ویسے بھی وہ میری بچپن کی دوست ہے میں چاہتی ہوں کہ بس وہ خود ہی ناامید ہو کر پیچھے ہٹ جائے____اگر وہ واقعی ہی محبت کرتی ہوئی تو وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی تہروبا____میں ہوں ناں سردار میں ہٹا دوں گی جہاں میں اتنی لڑکیاں ہٹا سکتی ہوں وہاں زمل کیوں نہیں بس تم اپنے اس وعدئے پر قائم رہنا____تہروبا نے معنی خیز انداز میں سردار کو اس کا وعدہ یاد دلایا تھا کہ مشن مکمل ہونے پر سردار تہروبا کو اپنا لے گا____میں اپنی زبان پر قائم ہوں تہروبا___خدا تمہیں اسی زبان پر قائم رکھے سردار____وہ اپنا چہرہ اس کے قریب کر چکی تھی اتنا قریب کہ اس کی سانسوں کو محسوس کر سکے

تہروبا نے اپنے ہاتھ سے اس کے کوٹ کو اتارنے کی کوشش کی____تم مجھے اس سے نہیں روک سکتے سردار___تہروبا نے سردار کی ہلکی سی مزاحمت کو کچل کر اس کا کوٹ کھول کر اس کے سینے پر اپنا سر رکھا لیا تھا____آئی لو یو سردار___جواب دو ناں___میں کیا جواب دوں___لو یو ٹو بولو___جب ایسا کچھ ہو گا تو ضرور بولوں گا___پتہ نہیں کب ایسا ہو گا___شاید کبھی بھی نہیں بیکاذ مجھے کبھی محبت پر اعتبار ہوا ہی نہیں___محبت سچی ہو تو اعتبار آ ہی جاتا ہے سردار___شاید ایسا ہوتا ہو___سردار نے تہروبا کے اصرار پر اس کے گرد بانہوں کا حصار بناتے ہوئے اسے دبوچ لیا تھا____تمہیں ایک مزئے کی بات بتاؤں سردار___اب وہ کیا ہے____زمل یہاں آنا چاہتی ہے___یہاں میرئے آفس میں___ہاں تم سے ملنے___وہ زمل ہے تہروبا نہیں جو اتنی ہمت رکھے کہ باہر سٹاف کے ہوتے ہوئے میرئے آفس میں آ کر مجھ سے ہی رومانس کی کوشش کرئے____رومانس___تہروبا لفظ کھینچتے ہوئے زور سے ہنسی___کونسا رومانس وہ آفس تک آ جائے یہی بہت ہے___تم بھی ناں کتنا مذاق بناتی ہو اسکا___مذاق نہیں بناتی اسے تمہیں ملنے کا کھل کا موقع دیتی ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ کبھی اظہار محبت نہیں کر پائے گی اور تم کبھی ایسی حرکت کرو گے نہیں اور یوں وہ بھی خوش کہ میں نے اس کی مدد کی اور میں بھی خوش___تہروبا نے ہنستے ہوئے ایک آنکھ ماری تھی وہ ہمیشہ سے زمل کے لئے چانس اس لئے بناتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ زمل سے ایسا کچھ ہو گا ہی نہیں اور کچھ ٹائم بعد وہ خود ہی سردار سے پیچھے ہٹ جائے گی

ایک ماں اور پھر اس کی ہی جوان بیٹی ایک ہی مرد کے بستر کی زینت کیسے بن سکتی ہیں___ڈیفینی پرستان کے ایک باغ میں انجلینا کیساتھ تنہا بیٹھی تھی اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ لیوسفر اتنی جلدی اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا___صرف ایک ماں بیٹی ہی نہیں ملکہ ایک اور عورت اسے سب سونپ چکی ہے اب فقط اس کی بیٹی اور پھر یہ پرستان اجڑ جائے گا____انجلینا ہمیں کچھ کرنا ہو گا کیونکہ اب وہ جادوائی حصار ختم ہوتا جا رہا ہے اور لیوسفر کسی بھی وقت یہاں پہنچ جائے گا___ڈیفنی فکر مندانہ انداز میں مخاطب تھی____شہزادہ ایمر کا جادوائی حصار کمزور ہوتا جا رہا تھا لیوسفر نے پہلے ڈاکٹر رادیہ اور پھر اس کی بیٹی کے جسم میں ان کی رضامندی سے اپنا اثر چھوڑ کر ان کی بیوٹی بون سے خاص رس چوس کر اس سے جادوائی عمل کیا تھا

جس نے شہزادہ ایمر کے حصار کو کمزور کر دیا اتنا کمزور کہ اب لیوسفر پرستان کے اندر داخل ہو سکتا تھا مگر ابھی بھی اسے ملکہ کے محل تک پہنچنے کے لئے ایک اور ماں بیٹی چاہئیے تھی___وہ دونوں واحد محفوظ جگہ ملکہ کے محل کی طرف چلی گئی تھی___چھوڑو چھوڑو شیطان___لیوسفر کی گرفت میں پھنسی پری تڑپنے لگی یہ ملکہ ڈیفنی کی خاص ملازمہ تھی جس کا کام صرف ملکہ کو غسل دینا تھا لیوسفر نے اسے پرستان میں بہتی ندی کے کنارئے سے اٹھا لیا تھا_____گھنے جنگل کی ایک خوفناک غار میں لیوسفر نے اسے پھینکا تھا جہاں خوفناک خاموشی میں صرف لکڑیوں کے جلنے کی آواز سنائی دئے رہی تھی____مجھے جانے دو میں نے کچھ نہیں کیا___پری کی اپنی آواز ہی غار میں گونجی تھی وہ اپنی جادوائی چھڑی سے جادو کرنے کی کوشش کرنے لگی مگر اس کے تمام جادو لیوسفر کے سامنے بہت کمزور تھے____مجھے جانے دو میں نے کچھ نہیں کیا__ہر کوشش میں ناکامی کے بعد اس نے دوبارہ التجا کی تھی___تم نے آج ملکہ کو غسل نہیں دیا کیا___لیوسفر کی خوفناک آواز اس کی سماعت سے ٹکڑائی وہ غار کے ایک کونے سے برآمد ہو تھا___دیا دیا تھا___یہی تمہارا قصور ہے ملکہ کی خوشبو اب بھی تمہارئے ہاتھوں میں موجود ہو گی____وہ اس کی طرف بڑھتا آیا تھا___نہیں نہیں لیوسفر___اس نے پری کو اٹھا کر غار کی دیوار سے لگایا وہ مسلسل چیخ رہی تھی اگر تم نے مجھے زیادہ تنگ کیا تو میں تمہارئے یہ پر جلا سکتا ہوں اس لئے آواز بند رکھو___لیوسفر نے اس کے پروں کو ایک کونے سے پکڑا کر مروڑا تھا جس سے پری کی ایک چیخ نکلی__

ویسے بھی یہاں تمہاری چیخیں سننے والا کوئی نہیں ہے___پری اس کی دہشت زدہ آنکھیں دیکھ کر مزید سہم گئی تھی وہ اب اس کے بلکل قریب کھڑا تھا لیوسفر نے اس کے ہاتھوں کو دبوچ کر اپنی ناک کے قریب کیا تھا____ہممم ڈیفنی ہمم____وہ اس کے ہاتھوں سے ملکہ کی مہکتی مہک سونگھنے لگا____تم صرف ملکہ کو غسل دیتی ہو یا راجہ کو بھی_____صرف ملکہ ڈیفنی کو___وہ ڈرتے ہوئے بولی تھی____چلو آج سے تم راجہ کو بھی غسل دو گی___وہ ایک دم سے پیچھے ہٹا اور اگلے ہی لمحے جادو سے غار میں ایک پتھر کا باتھ ٹپ بن گیا جو پانی سے بھرا ہوا تھا____ہر ملکہ کی ایک خاص ملازمہ ہوتی ہے جو صرف ملکہ کو ہی غسل دیتی ہے اس کے لئے کسی اور مرد تو کیا عورت کو چھونا بھی حرام ہوتا ہے اگر میں نے کسی اور کے جسم کو اپنا ہاتھ مس کیا تو ملکہ مجھے اپنے محل سے نکال دئے گی____یہ تمہارئے اگلے راجہ کا حکم ہے____میں میں نہیں____اس سے پہلے کہ یہ آگ تمہارئے پروں کو جلا کر راکھ کر ڈالے اور تم لمحوں بھر میں اپنے خوبصورت پروں سے محروم ہو جاؤ___وہ جملہ مکمل کئے بغیر غصے میں دھاڑتا ہوا پانی میں بیٹھ چکا تھا

معصوم پری ابھی وہاں ہی کھڑی تھی کہ آگ اس کے دونوں پروں کی طرف بڑھنے لگی وہ آگ کی گرمائش پروں کو محسوس ہونے تک وہاں ہی کھڑی رہی تھی ملکہ نے اس کا انتخاب ہزاروں پریوں میں سے کیا تھا وہ خوبرو ملکہ کی خاص کنیز تھی جس پر اسے ہمیشہ سے فخر تھا مگر لیوسفر کے بدن کو چھوتے ہی وہ اس اعزاز سے محروم رہ جانی تھی آگ کی تپش نے اسے لیوسفر کے ٹپ تک آنے پر مجبور کر دیا تھا___لیوسفر کو پریوں کی کمی نہیں تمہارئے قبیلے سینکڑوں پریاں میری قید میں موجود ہیں مگر مجھے ملکہ کی خاص خادمہ سے غسل چاہئیے تاکہ ملکہ جان لے کہ اب وہ لیوسفر کی پہنچ سے زیادہ دور نہیں___

وہ نرم لہجے میں مخاطب ہوا تھا___پری نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد جادو کی مدد سے اپنا لباس تبدیل کیا تھا وہ غسل والا لباس زیب تن کر چکی تھی اس کے پر اس کے جسم سے غائب تھے وہ سفید لباس میں ملبوس تھی جس میں اس کے دونوں کندھے بازوں تک برہنہ تھے____ملکہ تو اس لباس میں اور بھی خوبصورت دیکھتی ہو گی___لیوسفر اس سہمی پری کی طرف دیکھ کر تھوڑا سا مسکرایا تھا جو نظریں جھکائے کھڑی تھی____ہائے ملکہ تیرئے عشق میں لیوسفر کو کسی کسی پریاں مسلنی پڑی___وہ معنی خیز انداز میں مسکرایا اور پری اس پر پانی بہانے لگی اس کا جسم خوف و ڈر سے کانپ رہا تھا پرستان کے خوبصورت باغات سے توڑی گئی رنگ برنگی جڑی بوٹیاں اور درجنوں قسم کے پھولوں اور پھلوں کا رس وہاں حاضر تھا جس سے ڈیفنی کو غسل دیا جاتا تھا پری نے کانپتے ہوئے اس کے شڈول کندھوں پر ہاتھ رکھ کر پھیرا تھا وہ گلاب،جولیٹ روز اور سفرون کروکس کے نایاب پھولوں کو اس کے بدن پر مسل رہی تھی جو اس کے سخت جسم سے لگتے ہی ٹوٹتے جا رہے تھے____ڈیفنی کے بدن پر بھی کیا یہی پھول مسلے جاتے ہیں____ملکہ کو جولیٹ روز کے پھولوں سے بھرئے ٹب میں بٹھا کر پرستان کے سب سے نایاب پھول وائٹ کسٹل سے غسل_____کہاں ہے وائٹ کسٹل___وہ غصے سے دھاڑا تھا____وہ وہ پھول تب ہی نکلتا ہے جب ملکہ اپنا لباس ہٹائے___وہ سہمی سی آواز میں بولی تھی___مجھے ملکہ کے بدن کے متعلق بتاؤ___یہ یہ باتیں میں کسی دوسری پری کو بھی نہیں بتا سکتی ورنہ ملکہ مجھے_____مجھے پرستان کے قانون و ضابطے مت پڑھاؤ___لیوسفر نے اس کو بالوں سے پکڑا کر نوچا جس سے وہ چیخ اٹھی___لیوسفر اپنا ضابطے خود بناتا ہےسمجھی تم____درد کی شدت سے پری کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے___میں کچھ پوچھ رہا ہوں___لیوسفر نے اپنی بات پر زور دیا____

اس کا بدن بہت ریشم سے بھی زیادہ نرم ہے اتنا نرم و نازک کہ پھول مسلنے سے اس پر خراشیں آ جائیں اور اتنا خوبصورت کے اس کی گردن سے منعکس ہو کر واپس آنے والی روشنی سے پھول کھل کھلا اٹھیں وہ قبائیں ہٹائے تو پرستان میں بہار ہو وہ بال لہرائے تو کالی گھٹائیں آسمان پر چھا جائیں اور اس کے بالوں سے بہتا ہوا پانی اگر جنگلوں پر پینکھا جائے تو یہ سنسان خزاں زدہ جنگل پھولوں سے کھل کھلا اٹھے جن کی خوشبو میلوں دور سے محسوس کی جا سکے____ڈیفینی لیوسفر اس کا نام زیر لب پکارتے ہوئے مسکرایا تھا

پری کے نازک ہاتھ اس کے بدن پر پھولوں کو مسئل رہے تھے اور وہ پانی اس کے سر سے بہا رہی تھی لیوسفر نے اس کے کندھے پر اپنی ایک انگلی آہستگی سے پھیری تھی مگر وہ آہستگی اس کے نرم گوشت کو چیرتی ہوئی چلی گئی تھی___آ ہ آ ہ وہ درد کی شدت سے کڑاہی____لیوسفر کا ہاتھ اس کی گردن تک گیا___ڈیفنی کے متعلق اور بتاؤ___ملکہ بہت خوبصورت ہے___جانتا ہوں اور کچھ بتاؤ___اس نے اس کی گردن کو اپنی گرفت میں لے کر اس پانی میں کھینچ لیا تھا___اور بتاؤ___وہ ڈری سہمی بیٹھی کانپ رہی تھی___ملکہ کو اپنے بدن میں سب سے خوبصورت کیا لگتا ہے____

وہ مسلسل خوف سے کانپ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ اس سے پہلے والی پریوں کو وہ کس طرح نوچ چکا تھا____کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے___وہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے اس کو گردن سے کھینچ کر اپنے چہرئے کے قریب لے آیا تھا جہاں وہ پری اس کی خوفناک آنکھوں کو دیکھ سکتی تھی اس کا سارا بدن کانپنے کیساتھ لالکی چھوڑ رہا تھا___م مم مول اس کو اپنا مول پسند ہے___کہاں ہے وہ____اس کے سینے پر____لیوسفر نے اس کی قبا کو پھاڑ دیا تھا___کہاں پر ہے وہ___وہ روتے ہوئے انکار میں سر ہلا رہی تھی اس بات سے لاعلم کہ آخر لیوسفر اس کیساتھ کرنا کیا چاہتا ہے وہ بس انکار کر رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ داغدار ہونے کہ بعد وہ کبھی پرستان نہیں لوٹ پائے گی___لیوسفر نے اپنی خوفناک آنکھوں سے اس کو گھورا___کہاں ہے وہ مول___یہاں اس جگہ___اس نے ڈرتے ہوئے اپنے سینے پر بیوٹی بون کے پاس ایک جگہ کی نشاندہی کی تھی وہ اس کے بلکل قریب بیٹھی تھی جہاں اسے اس کی سانسیں تک محسوس ہو رہی تھی لیوسفر نے زیر لب ملکہ کا نام دہرایا تھا اور پھر اگلے ہی لمحے اس کے بدن کو سونگھنے لگا وہ خون چوسنے کے لئے من پسند جگہ کی تلاش کر رہا تھا اس نے بالوں کو پیچھے سے کھینچ کر اس کی گردن کو ہوا میں بلند کیا اور پھر اپنی ناک اس کی گردن سے نیچے تک لایا اسے بیوٹی بون کے تھوڑا پاس اپنی من پسند جگہ مل چکی تھی

جہاں سے اسے ایک محسورکن خوشبو آ رہی تھی اس نے پری کے گرد اپنی گرفت کو مضبوط کر کے اسے اپنے بدن کیساتھ لگا لیا اور پھر اپنے دانت اس کے جسم میں دھنسانے کے لئے اپنے ہونٹ اس کے نرم و نازک بدن پر چسپاں کر دئیے وہ اس سے پہلے لاتعداد پریوں کو خون چوس چکا تھا گویا اسے اس خون کا ایک نشہ تھا پری نے ہاتھ مارتے ہوئے غلطی سے اس کی کمر پر موجود ایک خفیہ ہڈی پر دباؤ ڈالا اور اگلے ہی لمحے اس کی گرفت سے نکل گئی یہ سب اس نے غیراردادی طور پر کیا تھا وہ خود نہیں جانتی تھی کہ یہ ہوا کیا ہے اس نے لیوسفر کی اس ہڈی پر دباؤ ڈالا تھا جس میں اس کی جان تھی اس پر دباؤ اسے لمحے بھر کے لئے مکمل بے بس کر دیتا تھا لیوسفر نے آگ اگلتی آنکھوں سے پری کو دیکھا جو ڈر سے کانپ رہی تھی اور پھر اگلے ہی لمحے اس کے پروں کو آگ لگا دی وہ چیخنے لگی تھی مگر لمحے بھر میں لیوسفر نے اس کے پروں کو جلا کر راکھ کر دیا تھا

وہ مسلسل چیختی جا رہی تھی اور آگ اس کے بدن کی طرف بڑھ رہی تھی___مجھے معاف کر دو میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا مجھے چھوڑ دو وہ روتے ہوئے صدا کر رہی تھی جس کا کوئی اثر لیوسفر پر نہیں ہو رہا تھا___میں ڈیفنی تک پہنچنے میں تمہاری مدد کروں گی اور وہ سب جو تم کہو___ڈیفنی کا سنتے ہی اس نے ایک زور دار سانس لی اور آگ بجھا دی آگ بجھنے کے باوجود وہ شدت درد سے کڑاہتی رہی اس کے دونوں پر جل گئے تھے اور کمر جھلس گئی تھی اور لباس جل چکا تھا وہ پانی سے اٹھا اور چلتے ہوئے اس کے قریب آیا لیوسفر نے اسے زمین سے اٹھا اوپر ہوا میں بلند کیا اور ایک طرف پھینکا____

تم تو اب اڑ بھی نہیں سکتی___لیوسفر ادھر ادھر پھنک رہا تھا جس سے وہ زخمی ہوتی جا رہی تھی____کیا مدد کر سکتی ہو تم میری___مجھے تم نے پرستان لائق چھوڑا ہی نہیں اب مدد کا کیا فائدہ پرستان کے لوگ کبھی مجھے پرستان نہیں جانے دیں گے____ہاہاہاہاہا جب لیوسفر پرستان کا راجہ ہو گا تو پھر تمہیں پرستان داخلہ ضرور ملے گا___لیوسفر نے اس کے بدن کو اپنے ہاتھ کے لمس سے ٹھیک کر دیا تھا اس کے زخم ٹھیک ہو گئے تھے___اب بولو تمہیں اس غار میں قید ہونا ہے یا تم کوئی مدد کرو گی____بدلے میں تم مجھے میرئے پر لوٹا دو گے ناں___وہ کچھ دیر رونے کے بعد تھوڑی نارمل ہوئی تھی وہ جانتی تھی کہ لیوسفر اس کے پر اسے واپس دئے سکتا ہے_____ہاں تمہیں میں پرستان کے سب سے خوبصورت پر دوں گا بلکہ ملکہ کے پر تمہیں دئے دوں گا تاکہ ملکہ اڑ نہ سکے___کیا واقعی میں ملکہ کے پر___تمہارا دماغ خراب ہو رہا ہے کیا___وہ دوبارہ غصیلہ ہوا___ملکہ کی ہر چیز پر لیوسفر کا حق ہے اگر تم ملکہ تک پہنچنے میں میری مدد کرو تو میں تمہیں خوبصورت پر دوں گا___مگر میں بغیر پروں کے پرستان نہیں جا سکتی وہاں مجھے داخل نہیں ہونے دیا جائے گا___مگر تم انسانی دنیا میں تو جا سکتی ہو ناں____نہیں مجھے اس دوزخ میں نہیں جانا___مجھے مت بتاؤ کہ مجھے تمہیں کہاں استعمال کرنا ہے___لیوسفر کی آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہوئی تھی

بوند بوند میں گم سا ہے

یہ ساون بھی تو تم سے ہے

وہ بھاگتی ہوئی گانا گنگھناتے ہوئے ہال کے دروازئے تک آئی تھی جہاں پہلے سے تہروبا حیا کیساتھ کھڑی باہر کے منظر سے لطف اندواز ہو رہی تھی تیز آندھی کیساتھ آنے والی کالی گھٹاؤں نے سورج کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا___کن ہواوں میں ہو شہزادی___تہروبا حیرانگی سے زمل کو دیکھ کر مخاطب ہوئی تھی جو چہرئے سے ہی بدلی بدلی نظر آ رہی تھی___ان ہواؤں میں جو اوپر اوپر ہیں __وہ مسکراتے ہوئے اچھلی تھی____ویری فنی شہزادی___

تہروبا نے منہ بسوڑتے ہوئے کہا___بارش آنے والی ہے نہائیں کیا___تم نہاؤ گی یہاں___کیوں بھئی میں نہیں نہا سکتی یہاں سب لڑکیاں ہی تو ہیں___تہروبا کے لئے زمل کی باتوں پر یقین کرنے واقعی ہی مشکل ہو رہا تھا جو لڑکی کل تک چند نظروں کے سامنے پیدل چلنے سے کتراتی تھی وہ بھلا بارش میں سب کے سامنے کیسے نہا سکتی تھی____حیا تمہاری آپی کے سر میں کچھ لگا تھا کیا___وہ شرارتی انداز میں سوالیہ نظروں سے حیا کی طرف دیکھنے لگی____ہٹ کمینی___زمل نے اسے خود ہی ٹوک دیا تھا تمہاری اس نئی دوست کا کیا بنا___زمل کا اشارہ نوشہ کی طرف تھا جس کی کونسلنگ تہروبا اور حیا کے ذمے تھی اور یہی تہروبا چاہتی تھی کہ نوشہ اس کے قریب رہے تاکہ وہ اس سے سردار کا کام خاموشی سے نکلوا سکے سردار نوشہ سے وہ سب سچ اگلونا چاہتا تھا تاکہ اس سب کی مدد سے وہ اس کی ماں کی حقیقت کھول سکے ___وہ نوشہ کو لینے کے لئے اس کے کمرئے میں پہنچ گئی تھی تاکہ اسے بھی سب سے گھل مل جانے کا موقع ملے وہ نوشہ کو باہر لے آئی تھی وہ جب سے یہاں آئی تھی خاموش خاموش ہی رہی تھی

حیا اس کے تھوڑا قریب تھی یا شاید وہ قریب ہی صرف حیا کے رہنا چاہتی تھی

تیز ہوا میں اڑتے بادلوں کی مانند وہ سب گراونڈ میں ہی گھوم رہی تھی ہر کوئی خود کو ایک غلاف میں چھپائے ایک بناوٹی کردار جی رہا تھا نوشہ کو حیا میں صرف اتنی ہی دلچسپی تھی کہ وہ اپنے یہاں قید کرنے کی سزا کا بدلہ وجیہہ کی بیٹی سے لینا چاہتی تھی اچانک ایک گاڑی مین گیٹ سے اندر کی طرف آئی گاڑی کو پہچاننے میں کسی نے بھی کوئی دیر نہیں لگائی تھی یہ سردار کی گاڑی تھی جو یہاں زمل،تہروبا یا حیا کے لئے نہیں بلکہ صرف نوشہ کے لیے آیا تھا اور اس کا اگر کوئی مقصد تھا تو صرف نوشہ سے ڈاکٹر رادیہ کے متعلق سب سچ اگلونا کیونکہ رادیہ نے اپنے شوہر اور سردار کے بزنس ایڈوائزر کو ٹارچر کر کے پاگل کر دیا تھا

زمل بھی موسم انجوائے کرئے گی___وہ مسکراتے ہوئے گاڑی سے نکلا تھا وہ جانتا تھا کہ زمل کے دل میں اس کے لئے کیا ہے مگر اسے زمل کے اس جذبے سے کوئی فرق پڑتا ہی نہیں تھا کیونکہ اسے محبت پر کبھی یقین تھا ہی نہیں بہت سی لڑکیاں پہلے ہی اس کی زندگی میں آ کر جا چکی تھی اس کے لئے زمل کا یہ رویہ نارمل تھا____ہاں میں میں بھی____وہ بھاگتے ہوئے گاڑی کے پاس تو آ گئی تھی مگر سردار کے سامنے آتے ہی اس کی خود اعتمادی شاید کہیں اٹک گئی تھی___واہ یہ تو کوئی معجزہ ہی ہے ورنہ جس زمل کو میں جانتا تھا وہ تو بہت شرمیلی سی چپ چاپ اور اکیلی رہنے والی لڑکی تھی____

سردار نے ادھر ادھر دیکھ کر اندازہ لگا لیا تھا کہ زمل آج ان سب کیساتھ تھی وہ مسکراتے ہوئے بولتا جا رہا تھا مگر زمل اس کی باتوں سے بے نیاز آنکھیں بند کئے کھڑی کسی اور ہی دنیا میں کھو گئی تھی___فاسیر تم میرئے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے___وہ کسی اور ہی دنیا میں گم ہاتھ باندھے فاسیر سے التجا کر رہی تھی___تم نے خود اعتمادی کی جو طاقت مجھے دی تھی اب وہ مجھے سے مت چھینو اب ہی تو مجھے اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے____تم اپنے ساتھ بہت غلط کر رہی ہو زمل یہ محبت و حبت سب فضول ہے___میں ثابت کروں گی فاسیر کہ تم غلط تھے مجھے صرف ایک موقع دو___میں انسانوں کے دل و دماغ پڑھ لیتا ہوں زمل___تم دل و دماغ پڑھ سکتے ہو فاسیر مگر معجزات نہیں یہ محبت ہی تھی جو موسی کو طور تک لے گئی___تم اس مادیت پرست دنیا سے انجان ہو___محبت دلوں پر الہام کی مانند نازل ہوتی ہے فاسیر یہ کبھی اپنا تن من دھن عقل شعور دیکھنے کی اجازت نہیں دیتی محبت وہ ساتویں حس ہے کہ جو جس دل پر اترتی ہے اسے وسعت دئے دیتی ہے اتنی وسعت کہ دنیا کی تمام چالاکیاں اس میں سما جائیں

زمل زمل……سردار کی آواز اسے واپس یہاں کھینچ لائی تھی اسے بلکل یاد نہیں تھا کہ وہ کتنی دیر سردار سے بے نیاز ہو کر عشق کی وادی میں فاسیر سے محو گفتگو رہی تھی

تم ٹھیک ہو ناں زمل___وہ فکر مندانہ انداز میں مخاطب ہوا تھا___کہاں گم ہو گئی تھی___میں کیوں گم ہوں گی بھلا___زمل نے مسکراتے ہوئے کچھ فاصلے پر کھڑی تہروبا کو دیکھا تھا اس کی خوداعتمادی واپس آ گئی تھی وہ عاجز نظروں سے اس کا شکریہ ادا کر رہی تھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ تہروبا ہی سردار کو ملوانے کے لئے یہاں لائی تھی___پھراندر کی طرف چلیں زمل___کیوں خراب موسم سے ڈر لگ رہا ہے___زمل کی بات سن کر وہ بے اختیار ہنس دیا تھا یہ بات تم کہہ رہی ہو زمل جو خراب موسم کی خبر سن کر ہی یونیورسٹی سے چھٹی کر لیتی تھی___میں کبھی خراب موسم کی وجہ سے چھٹی نہیں کرتی تھی وہ لمحہ بھر خاموش رہنے کے بعد بولی تھی اس کے دماغ میں فوری وہ خراب موسم کی چھٹیاں گھومنے لگی تھی جب وہ صرف اس وجہ سے چھٹی کر لیتی تھی کہ وہ خراب موسم میں سردار کو باقیوں کیساتھ گھومتا نہیں دیکھ سکتی تھی___

تو پھر چھٹی کی وجہ کیا ہوتی تھی زمل___کچھ باتیں بتائی نہیں جا سکتی صرف سمجھائی جا سکتی ہیں___کیا بات ہے وہ حیرانگی سے زمل کے چہرئے کی طرف متوجہ ہوا__چلیں سمجھا ہی دیں محترمہ___دراصل وہ سمجھائی بھی نہیں جا سکتی بس دوسروں کو خود سمجھ جانی چاہئیے___کیا فلسفہ ہے زمل___وہ زیر لب مسکرا دیا تھا___کونسی ایسی باتیں ہیں جو ہنس ہنس کر کی جا رہی ہیں__حیا نے فوری انٹری دی تھی وہ بھلا کتنی دیر خود کو اگنور ہوتا دیکھ سکتی تھی___بہت سی باتیں ہو سکتی ہیں حیا___سردار نے شرارتی انداز میں حیا کو جواب دیا تھا___فاسیر ایک تم اس سے میری جان چھڑوا دو ناں تو اس سے بڑا احسان کیا ہو گا___وہ رخ بدلتے ہوئے دل میں حیا کو کوس رہی تھی___پھر بھی ہمیں بھی تو پتہ چلے___بیٹا بہت سی باتیں عمر کیساتھ پتہ چلتی ہیں ابھی تم چھوٹی ہو___زمل نے تمام غصے پر قابو پا کر تحمل کا آخری درجے تک مظاہرہ کیا تھا___ایکسکیوز می آئی ایم ناٹ یور بیٹا___سویٹی آپ کی ماما آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں گی___ویری فنی آپی ماما نے ہی مجھے بھیجا ہے___اوہ اوکے تو آپ ماما کو بتا دیں کہ سردار صاحب نئی بلڈنگ دیکھنے جا رہے ہیں واپسی پر ان سے ضرور مل کر جائیں گے___حیا ہکی بکی زمل کی طرف دیکھتی رہ گئی تھی جو سردار کیساتھ ایک طرف کو چل دی___بچی ہے یار تمہیں اس کیساتھ ایسا رویہ نہیں رکھنا چاہئیے___سردار بچی ہے تب ہی تو اسے منع کر رہی تھی___خوامخاہ میں اس کا دل توڑا___دل اتنی جلدی نہیں ٹوٹتے سردار جب دل ٹوٹتا ہے ناں تو انسان کی ٹانگیں اس کے بدن کا بوجھ برداشت کرنے سے عاجز آ جاتی ہیں___مجھے لگتا ہے کہ مجھے تم سے ٹیوشن لینی چاہئیے___

مذاق اچھا کر لیتے ہو سردار____کیوں کچھ غلط کہا میں نے___وہ دونوں چلتے ہوئے باقیوں سے دور نکل آئے تھے جہاں اب ہوا کیساتھ ہلکی ہلکی بارش بھی شروع ہو گئی تھی___میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ عاشق کبھی استاد نہیں ہوتا عاشق ہمیشہ محبوب کا شاگرد ہوتا ہے جو لمحہ لمحہ محبوب سے سیکھتا ہے کہ اسے کس انداز میں چاہا جائے___مگر ہم نہ تو عاشق ہیں اور نہ معشوق___سردار نے آسمان پر نگاہ ڈالتے ہوئے بے تکلفی سے جملہ کہا تھا جس نے زمل کو لمحے بھر کے لئے خاموش کروا دیا تھا___تم بارش اور تیز آندھی میں کیوں گھوم رہی ہو تمہیں تو ڈر لگتا تھا ناں___سردار نے موضوع بدلنے کی پوری کوشش کی تھی وہ زمل کی باتوں کے مطلب اچھے سے سمجھ رہا تھا بس اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ وہی زمل ہے جس کی زبان سردار کے سامنے گلے میں ہی اٹک جایا کرتی تھی___مجھے ڈر لگتا تھا مگر اب نہیں___کیوں اب ایسا کیا ہوا___میں نے تیز ہواؤں میں چلنا اور بارش میں بھیگنا سیکھ لیا ہے سردار___وہ چلتے چلتے رک گیا تھا اس نے اپنا رخ زمل کی طرف پھیرا جو بارش میں بھیگ رہی تھی اس نے ہاتھ میں پکڑی چھری کو کھینچ کر چھتری بنایا اور زمل کے اوپر کر دی__اب یہ مت کہنا کہ عاشق ہمیشہ محبوب سے سیکھا کرتے ہیں___سب جانتے ہو تم سردار صرف سمجھتے نہیں_

کیا سمجھانا چاہتی ہو تم___سردار ابھی تک بارش میں بھیگ رہا تھا چھتری اتنی چھوٹی تھی کہ صرف ایک بندہ ہی اس کی اوٹ لے سکے وہ سردار کو اپنے پاس بلکل نہیں لا سکتی تھی اور نہ ہی سردار کی طرف سے اس پر کی گئی چھتری سے نکل سکتی تھی____کیا سمجھانا چاہتی ہو زمل___سردار نے اسے خاموش دیکھ کر دوبارہ اپنی بات کو دہرایا تھا زمل نے اپنے جسم سے دوپٹہ ہٹایا اور پھر پچھے موجود درخت کا سہارا لیتے ہوئے اپنے دونوں بازو ہوا میں بلند کر کے ایک چھتری بنا دی تھی___یہی کہ تم میرئے محبوب ہو اور میں تمہاری عاشق___اتنی ہمت اس میں کہاں سے آئی تھی یہ وہ بھی نہیں جانتی تھی سردار نے ہمیشہ زمل کو دوپٹے میں لیپٹے ہی دیکھا تھا اور یہ ہوا بھی پہلی بار تھا جب زمل کے بدن سے دوپٹہ الگ ہوا تھا سردار یہ منظر غور سے دیکھتا رہا بارش کے قطرئے اس کے سر سے بہتے ہوئے گردن تک اور پھر گردن سے پھسلتے ہوئے جسم کا رخ کر رہے تھے اس کا لباس گیلا ہو کر اس کے بدن سے چپک چکا تھا___تم تھک جاؤ گی ہم ایک ہی چھتری میں رہ سکتے ہیں__سردار نے اپنی نظریں پھیر لی تھی__ایک ہی چھتری تو کیا محبت کرتے جسم ایک ہی لباس میں بھی رہ سکتے ہیں___تم جھلی ہو مجھے اس محبت پر کبھی اعتبار نہیں ہوا زمل___تمہیں کس نے کہا تم اعتبار کرو_

وہ مسلسل اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی جو سردار مسلسل چرا رہا تھا___تم فقط اس محبت کو شرف قبولیت دو___سردار نے ہاتھ بڑھا کر زمل کے ہاتھ سے دوپٹہ پکڑنا چاہا جو وہ ہاتھ دیکھ کر پہلے ہی چھوڑ چکی تھی وہ خود ہی اس چھتری کے نیچے پہنچ گیا تھا زمل پاؤں کھسکاتی ہوئی تھوڑا سا پیچھے ہٹی___مجھ سے ڈر رہی ہو___اگر ڈرتی ہوتی تو کبھی اپنے بدن سے یہ حجاب نہ ہٹاتی___سردار نے اب زمل کے بدن سے نگائیں ہٹا لی تھی___زمل تم بہت اچھی لڑکی ہو تمہیں یہ سب____میں جانتی ہوں کہ میں خوبصورت نہیں ہوں بہت زیادہ گوری نہیں ہوں مگر میری مجبوری سمجھو سردار___محبت کوئی مجبوری نہیں ہوتی زمل____مگر مجبور کر دیتی ہے سردار___میرئے خیال سے ہمیں یہاں سے چلنا چاہئے___نہیں روکو سردار میں تمہیں نہیں جانے دوں گی___کیا تم مجھے روک سکتی ہو___اس نے نگاہیں بھر کر زمل کو دیکھا تھا

زمل نے خاموشی سے انکار میں سر ہلا دیا اور سردار تیز بارش میں اسے وہی چھوڑ کر چلا گیا اور وہ چاہتی ہوئی بھی اسے روک نہ پتم اتنے دن دنیا میں گزارنے کے بعد بھی اس لڑکی کو وہاں سے ہٹا نہیں پائی___لیوسفر آگ اگلتی آنکھوں سے پری پر چڑھ دوڑا تھا جو کئی دن حیا کیساتھ رہنے کے باوجود مشن میں ناکام رہی تھی___میں نے پ پوری کوشش کی تھی لیوسفر مگر اس کی ماں اسے خود سے دور رکھنے پر کسی صورت راضی نہیں کالج سے لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت ڈری ہوئی ہے___کیا تم سے بھی زیادہ ڈری ہوئی تھی وہ___ن نہیں نہیں___تو پھر تم کیوں ناکام رہی___میں میں جادو سے اس کو مفلوج کر سکتی ہوں____کیا یہ مجھے کرنا نہیں آتا___لیوسفر نے اس کے بالوں کو نوچ لیا تھا ایک کام بھی تم ڈھنگ سے نہیں کر سکی___اس کی ماں نے اس کے گرد وہ سب لڑکیاں چموڑی ہوئی ہیں جو تمہارئے ہر روپ کو پہچان جائیں گی___پری روتے ہوئے اپنی صفائیاں دئے رہی تھی میں نے بہت کوشش کی مگر کوئی موقعہ ایسا نہیں تھا کہ جب تم اپنا کام آسانی سے کر سکتے____لیوسفر نے اس کی بات سنتے ہی اسے زور سے دھکا دیا تھا میں تمہیں لمحہ لمحہ دیکھ رہا تھا تم نے بہت سے موقع ضائع کئے ہیں_

تم اس کے باپ کے روپ میں وہاں ہو لیوسفر میں تمہاری اس لڑکی تک پہنچنے میں کیسے مدد کروں جو تمہاری بیٹی بھی ہے___محرم و نامحرم کے تصورات صرف انسانی دنیا تک محدود ہیں کوہ قاف کے باسی ان قوانین سے آزاد ہوتے ہیں___مگر اس کے باوجود بھی کوئی جن اپنی بیٹی کیساتھ____وہ روتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑ چکی تھی___میں اس کا باپ نہیں ہوں حیا کا اصل باپ مر چکا ہے اور میکال سلطان کی موت بھی بہت عرصہ پہلے ہو چکی تھی___مگر وہ تو تمہیں ہی اپنا باپ سمجھتی ہے___مجھے مت سمجھاؤ یہ سب انسان مجھ سے بڑئے شیطان ہیں میکال سلطان پہلے لڑکیوں سے جنسی زیادتی کرتا تھا اور پھر رادیہ کے ساتھ مل کر ان لڑکیوں کے پیٹ سے وہ بچے نکال کر بیچا کرتا تھا جن کی عمریں ابھی ماں کے پیٹ میں 4 4 ماہ ہی ہوا کرتی تھی اور یہ وجیہہ سلطان بے وقوف ترین عورت جس کو آج تک یہی نہ پتہ چلا کہ رادیہ نے وجیہہ کی دوسری شادی جان بوجھ کر میکال سے کروائی تاکہ وہ اس کی مدد سے اپنا مکروہ کاروبار چلاتی رہے میکال شیطانی طاقتوں کے حصول کے لئے چلہ کاٹتے ہوئے مجھ تک پہنچا تھا اور پھر مجھے ڈیفنی تک پہنچنے کے لئے میکال کو مارنا پڑا ورنہ وہ ایک دن اپنی بیٹی ساتھ بھی یہی کرتا جو وہ درجنوں لڑکیوں کیساتھ کر چکا تھا مجھے ڈیفنی کے محل تک پہنچنے کے لئے وہ لڑکی چاہئیے ہر صورت میں اور ہر حال میں یا تو تم یہ کرو گی یا پھر ہمیشہ کی قید تمہارا مقدر بنے گی___لیوسفر نے زور دیتے ہوئے بات مکمل کی تھی اس نے اگلے ہی لمحے اسے دھکیل کر واپس دنیا میں پھینک دیا تھا جہاں وہ انسانی روپ میں حیا کو ٹریپ کرنے کے لئے دوبارہ اسی کالج پہنچ گئی تھی جہاں لیوسفر پہلے سے میکال کے روپ میں موجود تھا

شام ہونے تک بارش رک چکی تھی کچھ دیر پہلے تک چلنے والی تیز آندھی کا سلسلہ اب ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا میں تبدیل ہو چکا تھا ہر کوئی موسم کو انجوائے کرنے میں مگن تھا مگر تہروبا موسم کی اس رومانیت کو پس پشت ڈال کر سیدھی زمل کے پاس پہنچ گئی تھی اسے یقین تھا کہ زمل اس سے کوئی بات نہیں چھپائے گی یہی یقین اسے یہاں کھینچ لایا تھا آخر اسے اپنے خدشات بھی تو دور کرنے تھے___زمل مجھے واقعی میں سمجھ نہیں آتی کہ یہ کونسا جادوائی تعویز ہے جس نے تمہیں اتنا بدل دیا ہے___اب تم رہ گئی تھی مجھے باتیں سنانے والی کیا بدلی ہوں میں___وہ سوالیہ نظروں سے تہروبا کو دیکھنے لگی

کیا تم سب کو میرا پراعتماد نظر آنا اچھا نہیں لگا___اب ایسی بھی بات نہیں ہے شہزادی میں تو تمہیں بچپن سے سمجھا رہی تھی مگر تمہیں تو سمجھ ہی نہیں آتی تھی اب پتہ نہیں اچانک سے کس تعویز نے اثر کیا____خاک سمجھاتی تھی تم آدھا وقت تو مجھے تم سے شہزادی والے طنز ہی سننے کو ملتے تھے___وہ بناوٹی غصہ چہرئے پر لائی تھی___ارئے زمل بی بی تم میری شہزادی ہی تو ہو میں تو سوچ رہی ہوں اب مجھے تمہارا نام بدل کر شہزادی زمل سردار رکھ دینا چاہئیے___تہروبا آنکھ مارتے ہوئے زمل کو دیکھ کر مسکرائی تھی جس کے چہرئے پر ایک شرمیلی مسکراہٹ آئی تھی تہروبا تو آئی ہی اسی مقصد کو تھی کہ زمل سے اس کی ملاقات کا احوال جان سکے تاکہ اس کو بھی کچھ تسلی تو ملے___اگر تم لفظ شہزادی لگائے بغیر صرف زمل سردار تک اکتفا کرو تو یہ زیادہ خوبصورت لگے

اچھا جی__تہروبا نے طنزیہ انداز اپنایا____یہ اس تعویز کا اثر صرف ہمارئے سامنے ہی ہوتا ہے یا سردار کے سامنے بھی یہ زبان حرکت کرتی ہے____کیا نہیں کرنی چاہئیے____بہت عرصہ پہلے کرنی چاہئیے تھی شہزادی صاحبہ اب شاید دیر ہو چکی ہو____کیسی دیر___زمل فکرمندانہ لہجے میں مخاطب ہوئی___کچھ نہیں تم ایسے ہی دل چھوٹا کرو گی___بتاؤ تو___چھوڑو زمل میں نے تو بس ایسے ہی___تم میری دوست ہو یا سردار کی طرفدار جو اس کی باتیں مجھ سے چھپا رہی ہو___پہلے تم بتاؤ کہ کل کیا بات ہوئی___کچھ خاص نہیں بس___خاص نہیں مطلب میں چھوٹی بچی ہوں جیسے درخت کے پاس کھڑا پریمی جوڑا نظر نہیں آ رہا تھا____تہروبا نے فاتحانہ انداز اپنا کر یہ جتانے کی کوشش کی جیسے وہ سب دیکھ چکی ہو___کتنا چیپ لفظ ہے پریمی جوڑا___عاشقوں کی جوڑی کیسا رہے گا زمل___تہروبا بے اختیار ہنسنے لگی تھی___عاشقوں کی جوڑی تو کبھی ہوتی ہی نہیں ہے تہروبا ہمیشہ ایک عاشق ایک محبوب___زمل نے رخ پھیر لیا تھا___واہ کیا کہنے ہماری عاشقہ زمل شہزادی کے یہ باتیں اچانک سے تمہیں کس نے پڑھا دی ہیں زمل____یہ باتیں مجھ بچپن سے آتی ہیں بس میرئے پاس اپنے جذبات احساسات بیان کرنے کے لئے زبان نہیں تھی یہ زبان ہی کسی نے عطا کی ہے___کون ہے وہ جادوگر….سردار تو نہیں___امہم اب سردار کی توہین مت کرو____اس جادوگر کو فی الحال گولی مارو اور مجھے صاف صاف بتاؤ کہ اس جادوائی زبان سے اظہار ہوا پایا یا نہیں_

اظہار محبت زبان سے تھوڑی ہوتا ہے اس کی گواہی تو آنکھیں دیتی ہیں_____کسی ایک بات کا سیدھا جواب مجھے مل سکتا ہے یا میں یہ سمجھوں کہ ہماری دوستی میں یہ نئی ملنے والی زبان حائل ہو چکی ہے___تہروبا ایک دم بے بس تھی اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ جانتی تھی کہ زمل نے ضرور اظہار کیا ہو گا وہ سردار کا جواب سننے کو بے تاب ہو رہی تھی____اف اللہ اچھا پوچھو بابا تمہیں کیا پوچھنا ہے چسکوری____ہاں اب میں چسکوری ہو گئی ہو ناں وہ دن بھول گئی جب___اچھا چپ کرو اب___زمل نے تہروبا کو ٹوکا___وہ کہہ رہا تھا کہ تم تو بارش سے ڈر کر چھٹی کر لیتی تھی اور آج____یہ سب باتیں چھوڑو زمل کیا تم نے اس سے اظہار محبت کیا___تہروبا اس کے بازوؤں کو پکڑ کر زور دیتے ہوئے بولی___ہاں___زمل کے منہ سے اقرار سنتے ہی تہروبا کی گرفت اس کے بازؤں پر کمزور ہو گئی___تو اس نے کیا کہا___اس نے کوئی جواب دیا ہی نہیں بلکہ بات کو گھما دیا___دیکھا میرا شک صحیح تھا تم نے بہت دیر کر دی___کیسی دیر___ہو سکتا اس کی زندگی میں کوئی اور لڑکی آ گئی ہو____نہیں تہروبا ایسا نہیں ہے___تم کیسے اتنے یقین سے کہہ سکتی ہو___وہ میرئے اتنا قریب کھڑا تھا کہ میں اس کی سانسوں کو محسوس کر سکتی تھی محبت کرنے والوں کی چھٹی حس بہت مضبوط ہوتی ہے وہ محبوب کی سانسوں اور چہرئے کے تاثرات سے اس کے دل کی باتیں جان لیتے ہیں___تمہیں اس کے اتنا قریب نہیں جانا چاہئیے تھا___مجھے اپنی محبت پر یقین تھا تو ہی میں اس کے اتنا قریب کھڑی ہوئی تھی___مرد کی نیت بدلتے دیر نہیں لگتی زمل___یہاں ہر کسی کو محبت اور حوس میں فرق نظر کیوں نہیں آتا___محبت کرتا کون ہے یہاں شہزادی___زمل کرتی ہے___اس نے فخریہ انداز میں بتایا تھا___اگر تم میری جگہ ہوتی تہروبا تو کیا تم اتنا قریب کھڑی نہ ہوتی___زمل نے اسے خاموش دیکھ کر سوال کیا تھا___”میں تمہاری جگہ ہوتی” تہروبا زمل کا جملہ دہراتے ہوئے ہنس دی بہن تمہارا سردار تمہیں ہی مبارک ہو کیونکہ مجھے ایسے چونچلے بلکل نہیں آتے___تم کیا جانو لطف محبت__مجھے جاننے کا شوق بھی نہیں ہے شہزادی ایک طرف تم اور دوسری طرف تمہاری بھتیجی_____بچاری حیا کن کاموں میں لگی ہوئی___بچاری سچاری نہیں ہے خیال کرنا سردار کو ہی نہ لے اڑئے___تم کس لئے ہو تہروبا کیا تم اب اتنا بھی نہیں کر سکتی___زمل معصومیت سے تہروبا کی طرف دیکھنے لگی___نمبر تو بڑئے رعب سے اسے دیا تھا جیسے پتہ نہیں سردار تمہارئے پنجرئے میں قید ہو___محبوب کو قید تھوڑی کرتے ہیں اسے تو پرواز کرنے کو پورا موقع دیتے ہیں___تو پھر اب تمہیں حیا جیسے شکاریوں سے ڈر کیوں لگ رہا ہے___ڈر حیا سے تھوڑی ہے اس کی ماں سے ہے جو بیٹی کی خواہش کو بیٹی سے زیادہ عزیز رکھتی ہے___ان دونوں کو تو میں سنبھال ہی لوں گی زمل اگر کوئی اور سردار کو لے اڑا تو___وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

محبوب کو کبھی قید نہیں کیا جاتا وہ تو ایک آزاد پرندہ ہوتا ہے___اف اللہ یہ عاشق مزاج لڑکی___تہروبا نے بناوٹی سا منہ بنایا وہ چند ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہاں سے نکل گئی تھی اس کا دل پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا وہ ایک کمرئے کے سامنے جا کر روکی تھی____ایم سوری زمل مگر میں مجبور ہوں اور ویسے بھی پیار اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے___وہ خود سے مخاطب تھی اس نے دل ہی دل میں زمل کی بربادی کا فیصلہ کر لیا تھا وہ دروازہ نوک کرتی ہوئی کمرئے میں چلی گئی___میم وہ مجھے ایک بات کرنی تھی___وہ رسمی سلام دعا کے بعد وجیہہ سے مخاطب ہوئی تھی___کرو بیٹا__وجیہہ نے رسمی سا جواب دیا تھا عمومی طور پر تہروبا وجیہہ کو زمل کی صفائیاں ہی دینے آتی تھی کیونکہ وجیہہ اکثر اپنی چرب زبانی سے زمل کو بے عزت کر دیتی تھی اس لئے اس بار بھی وجیہہ نے اس کی بات کو خاص توجہ سے سننے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی___ایکچولی میں بھائی میکال سے بات کرنا چاہتی تھی مگر مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ میں ان سے یہ بات کر سکوں___ایسی کیا بات ہے تہروبا___وہ زمل…..آپ بس زمل کی جلد سے جلد شادی کروا دیں____کیا سب ٹھیک تو ہے ناں___پہلے آپ وعدہ کریں کہ اس بات میں میرا نام نہیں آنا چاہئیے___تہروبا سب ٹھیک تو ہے ناں تم ایسے کیوں کہہ رہی ہو___میم میں بچپن سے زمل کیساتھ رہی ہوں میکال بھائی نے مجھے زمل ہی کی طرح پیار دیا یوں سمجھیں کہ میں میکال کی دوسری بہن ہوں___یہ سب میں جانتی ہوں ابھی کوئی سسپنس کریٹ نہ کرو___وہ زمل کا سردار کیساتھ کوئی چکر چل رہا ہے___کیا کیا مطلب___میم آپ سمجھنے کی کوشش کریں کہ میں کیا کہہ رہی ہوں مجھ سے یہ سب ایکسپلین نہیں ہو گا___کھل کر بات کرو تہروبا___وہ دونوں چھپ چھپ کر ملتے ہیں___کیا بکواس ہے یہ_

میں نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ____کب سے چل رہا ہے یہ سب___پتہ نہیں مجھے تو تب پتہ چلا جب ٹور پر یہ رات اس کے ساتھ تھی____اوہ مائی گاڈ__تمہیں تب بتانا چاہئیے تھا___میم وہ میں اسے سمجھاتی رہی تھی مگر____تمہیں پتہ بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو تہروبا___وجیہہ کو ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ بات تہروبا کر رہی ہے___جی میم وہ وہ میں نے کہنا تھا کہ آپ کسی طرح میکال بھائی سے بات کر کے ان دونوں کی شادی کروا دیں تو اچھا ہو گا وہ اسے پسند کرتی ہے_____اف میرئے خدایا یہ لڑکی تو اپنے ساتھ میرا بھی بیڑہ غرق کرئے گی اور اس کالج کی ناک بھی کٹوائے گی___اسی لئے تو میں نے بتا دیا کہ کل کو کوئی بات بنے اس سے اچھا ہے آپ خود ہی ان دونوں کی شادی کی بات چلائیں____تم پاگل ہو کیا تہروبا سردار کی فیملی کبھی اس کے لئے مانے گی اور الٹا وہ ناراض ہوں گے اور ہم ایک انوسٹر سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے___آپ کوشش تو کریں میم کیا پتہ بات بن ہی جائے اگر وہ یونہی ملتے رہے تو باقی لڑکیوں پر بھی اثر پڑئے گا____تہروبا جانتی تھی کہ وجیہہ کبھی سردار اور زمل کے رشتے کے لئے نہیں مانے گی اس لئے ہی تو اس نے یہ نئی چال چلی تھی___میں اپنا اور اس کالج کا نام خراب نہیں کر سکتی___بات کو سمجھیں ناں میم وہ پیار کرتی ہے___بھاڑ میں گیا اس کا پیار___وجیہہ نے تھوڑا غصہ دیکھا کر تہروبا کو خاموش کروا دیا تھا___اس کی عاشق معشوقی تو میں نکالتی ہوں___اس نے غصے میں اپنی سیٹ چھوڑی اور کمرئے سے نکل گئی میم میرا نام مت لیجیے گا پلیز تہروبا کی آواز اس کی سماعت سے ٹکڑائی تھی دہ غصے سے زمل کے کمرئے میں گئی جہاں زمل پہلے سے کانوں میں ہینڈفری گھسائے ڈرسنگ کے سامنے کھڑی تھی___کچھ زیادہ ہی جوانی نہیں چڑھ گئی تمہیں__وہ کمرئے میں گھستے ہی چلائی تھی میں نے تو پہلے دن ہی تمہاری آنکھوں میں بغاوت بھانپ لی تھی میسنی___جب تک زمل کو سمجھ آتی تب تک وجیہہ زمل سے موبائل چھین چکی تھی___کیا ہوا ہے بھابھی___کچھ بھی تو نہیں ہوا میسنی لڑکی__اس نے بناوٹی سا منہ بنایا کیا کچھ ہونا باقی ہے____میرا موبائل دیں___زمل نے موبائل واپس لینے کی کوشش کی تھی کہ اسی اثنا میں ایک زور دار تھپڑ نے اسے جھٹکا دیا____خبردار جو آج کے بعد تم موبائل کے پاس بھی گئی تو تم پر جو عشق کے بھوت سوار ہیں ناں یہ دو دن میں اتار دوں گی میں___زمل حیرانگی سے وجیہہ کا منہ تکتے رہ گئی تھی اسے ابھی تک سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ آخر ہوا کیا ہے وہ وجیہہ کے جانے تک صدمے کی حالت میں چپ چاپ کھڑی رہی تھی

پرستان کے گرد حفاظتی حصار کے کمزور ہونے کے بعد پرستان ایک دم سونا ہو گیا تھا ہر طرف خوف و ڈر پھیلا ہوا تھا ڈیفنی کے محل میں اس کے باپ کے چند بوڑھے دوست جن ایک دعوت پر آئے تھے___ملکہ آج پھر کئی پریوں نے لیوسفر کے خوف کی وجہ سے جنات سے شادیاں کر لی ہیں___ڈیفنی اپنے کمرئے میں ابھی تیار ہو رہی تھی کہ انجلینا کی آواز اسے سنائی دی جو کافی پریشان نظر آ رہی تھی ڈیفنی اس کی بات پر توجہ نہیں دینا چاہتی تھی کیا کھانا ٹیبل پر لگ چکا ہے___ملکہ اگر یہی صورتحال رہی تو پرستان میں جنات کی اجارہ داری بن جائے گی___میں کسی کو شادی سے نہیں روک سکتی انجلینا___ملکہ بہت سی پریوں کو لگتا ہے کہ ملکہ کی وجہ سے ان سب کی جان کو خطرہ ہے ملکہ کو لیوسفر سے____پریاں میری کہانی سے واقف نہیں مگر تم تو ہو انجلینا___ہر کسی کو اپنی اپنی جان کی فکر پڑی ہے ملکہ اس لئے ہی وہ پرستان کی روایات کے خلاف جنات سے شادیاں کر رہی ہیں جس سے کم از کم وہ لیوسفر سے تو بچ سکیں___تم بھی کوئی مناسب سا جن دیکھ کر شادی کر لو انجلینا___ملکہ میرا وہ مطلب نہیں تھا میں نے تو ہر صورت ملکہ کیساتھ رہنے کی قسم کھائی ہے___یہ قسم پرستان کی ہر پری نے کھائی ہے کہ وہ ہر صورت ملکہ کیساتھ رہیں گی مگر اب؟ڈیفنی سوالیہ نظروں سے انجلینا کو دیکھنے لگی تھی__اگر یہاں کسی کے دماغ میں یہ بات ہے کہ ڈیفنی کبھی لیوسفر کو قبول کرئے گی تو یہ ناممکن ہے___ڈیفنی کا لہجہ تھوڑا سخت تھا انجلینا بھی کسی حد تک یہی چاہتی تھی کہ ملکہ لیوسفر سے شادی کر لے جس سے کم از کم پرستان تباہی سے تو بچ جائے ڈیفنی غصیلے انداز میں باہر کھانے کے ٹیبل پر چلی گئی تھی جہاں بوڑھے جن اسی کے انتظار میں بیٹھے تھے وہ سفید لباس میں موجود رنگ برنگے کھانوں سے سجے ٹیبل پر براجمان ہوئی تھی ٹیبل پر رنگ برنگے پھل اور شربت اور شاہی کھانے موجود تھے جن کو خاص طور پر تیار کیا گیا تھا____تم سب لوگ میری اور ایمر کی شادی میں شریک ہوئے تھے اور وہاں تم سب نے میری حفاظت کی ذمہ داری لی تھی___ملکہ حفاظت کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ ہم اپنی جان کی بازی لگا دیں گے___ایک بوڑھے جن نے اپنی صفائی پیش کی تھی__اگر یہی سب کوئی تمہاری بیٹیوں ساتھ کرئے تو کیا تب بھی تم لوگ یہی کہتے؟؟ ملکہ ہم سے جو ہو پا رہا ہے وہ ہم کر رہے ہیں___مگر اس پرستان کو اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا___میں نے تو فاسیر کو انسانی دنیا میں لیوسفر کے تعاقب کے لیے بھیجا ہوا ہے اور ہم اس سے زیادہ کیا کر سکتے ہیں ملکہ___فاسیر کا بوڑھا جن باپ بھی اپنی صفائی دیتے ہوئے بولا تھا جس نے فاسیر کو لیوسفر کا پیچھا کرنے زبردستی بھیجا ہوا تھا____فاسیر کے وہاں ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو رہا ہے___ملکہ نے لہجہ سخت کیا تھا____تو کیا ملکہ تم نے یہاں کوہ قاف کے سب بوڑھے جنوں کو ذلیل کرنے کے لئے بلایا ہے___آخری نشست سے ایک جن کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا___ہم نے تمہیں اور تمہارئے محروم باپ کو تب بھی کہا تھا کہ ایمر ایک کمزور جن ہے اور پرستان کو ایک طاقتور جن کی ضرورت ہے مگر تم نے تب بھی ہماری کوئی بات نہ سنی اور اب پھر ہمیں اپنے محل میں بلا کر ذلیل کر رہی ہو___تم کوہ قاف کی ملکہ نہیں ہو جو ہم تمہاری ڈانٹ ڈپٹ سنیں___باری باری سب اپنا حصہ ڈال رہے تھے کہ ملکہ نے زوردار آواز سے سب کو خاموش کروایا___میں چاہتی ہوں کہ تم سب میرئے اور اپنے درمیان موجود رشتے کو ختم کر دو اور پھر ہم ایک نئے رشتے کی شروعات کریں___ہم کسی بدتمیز ملکہ کی ذمہ داری نہیں لے سکتے___بدتمیز ملکہ کو بہن بیٹی نہ صحیح بیوی تو بنا سکتے ہو___ملکہ نے جھٹ سے بوڑھے جن کو جواب دیا تھا وہ سب حیرانگی سے ملکہ کے چہرئے کی طرف دیکھنے لگے تھے کیا مطلب تم کیا کہنا چاہتی ہو___یہی کہ کل تک میں تمہارئے دوست کی بیٹی تھی اور تم سب کو ایک بوجھ نظر آ رہی تھی تم لوگ دوست مر چکا ہے اس لئے میں اپنے باپ کی نسبت سے نہیں بلکہ ایک عام پری کی حیثیت سے تم سب سے رشتہ بنانا چاہتی ہوں تم میں سے جو بھی پرستان کی حفاظت اور ملکہ کی حفاظت کی ذمہ داری لے گا ملکہ ڈیفنی اس سے شادی کرنے کے لئے تیار ہے_____ہاہاہاہاہاہاہا ایک جن خوفناک طریقے سے ہنسا تھا کتنی چالاک ہو تم ملکہ ڈیفنی تم کوہ قاف کے جنوں کو آپس میں ہی لڑوانا چاہتی ہو___میں ایسا نہیں چاہتی تم میں سے جو بھی طاقتور ہے وہ سامنے آئے اپنی طاقت دیکھائے اور پھر اس محل کا راجہ بن جائے___ملکہ تمہاری خوبصورتی کا اسیر کون نہیں ہے اور پھر کون ہو گا جو اپنی قسمت نہیں آزمائے گا اسی کھنچا تانی میں کوہ قاف کے جن آپس میں ہی لڑتے رہ جائیں گے___ایمر بھی تو ایک جن تھا اور لیوسفر بھی ایک جن اور یہ آپسی لڑائی کا خیال تب کیوں نہیں آیا جب لیوسفر نے ایمر کو قتل کیا تھا___تمہیں جلد بازی میں فیصلے نہیں کرنے چاہیے___فاسیر کے باپ نے ملکہ کو مشورہ دیا تھا جس کی شدید خواہش تھی کہ ملکہ فاسیر سے ہی شادی کرئے__میں فیصلہ کر چکی ہوں تم میں سے کوئی بھی خود یا اپنے کسی بھائی بیٹے کو پرستان کا راجہ بنانا چاہے تو ملکہ اس کے لئے تیار ہے_

ملکہ کی آفر سنتے ہی کچھ بوڑھے جنوں نے فوری حامی بھر لی تھی ملکہ کے حسن کے چرچے تو پہلے ہی ہر طرف تھے ملکہ کی آفر نے گویا بوڑھے جنوں کو بھی جوان کر دیا تھا ان کے ہونٹوں سے رال ٹپکنے لگی تھی___میں چاہتی ہوں کہ کوہ قاف کے ایک سو طاقتور جنات لیوسفر سے لڑیں اور ان میں سے جو بھی لیوسفر کو مارئے گا وہی ہو گا پرستان کا اگلہ راجہ____اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ تم اس شخص سے شادی کرو گی جو لیوسفر کو مار دئے گا ہم سب جانتے ہیں تم ایک چالاک ملکہ ہو جس کی ضد نے پرستان کو اس نہج تک پہنچایا____تم لوگ کیا گارنٹی چاہتے ہو___تمہیں ان سب طاقتور جنات سے نکاح کرنا ہو گا جو لیوسفر سے لڑیں گے___تم لوگ ہوش میں تو ہو میں ایک ہی وقت میں سو جنوں کی بیوی کیسے بن سکتی ہوں تمہیں یہ کرنا ہو گا ملکہ اس کے بغیر ہم رسک نہیں لے سکتے بھلا ہمیں کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو ہم اپنے بھائی بیٹے بغیر کسی گارنٹی کے لیوسفر سے لڑوا دیں___ایک اور جن بوڑھے جن کی حمایت میں بول پڑا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب نے ہاں میں ہاں ملا دی تھی__ٹھیک ہے میں ان سب سے نکاح کے لئے تیار ہوں مگر ان میں سے کوئی جن بھی تب تک اس محل میں نہیں آئے گا جب تک کہ وہ لیوسفر کو مار نہیں دیتا___ملکہ نے کچھ دیر سوچنے کے بعد دل پر پتھر رکھتے ہوئے حامی بھر لی تھی جس نے پاس ہی کھڑی انجلینا کو چونکا دیا تھا کچھ جنات کھانا ختم کر کے اور کچھ درمیان میں ہی چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے سب میں گویا ایک ریس لگ گئی تھی ان سب کے جانے کے بعد بھی ایک بوڑھا جن وہی بیٹھا رہا تھا___یہ سب بہت خطرناک ہے ملکہ تمہیں جلد بازی نہیں کرنی چاہئیے___یہ جلد بازی نہیں ہے آپ چاہیں تو فاسیر کو انسانی دنیا سے واپس بلا کر اس ریس میں لگا دیں کیونکہ مجھے وہاں اس کے ہونے یا نہ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں___ملکہ ٹیبل چھوڑ کر کمرئے کی طرف چلی گئی تھی___ملکہ ملکہ یہ آپ نے کیا کر دیا ایک سو جنات کی دلہن بننا بہت خطرناک ہو سکتا ہے___تم جانتی ہو انجلینا اس لاکٹ کے ہوتے ہوئے کوئی مجھے میری مرضی کے بغیر چھو بھی نہیں سکتا___ملکہ کا اشارہ گلے میں لٹکتے ہار کی طرف تھا جو اس کی حفاظت کے لئے ایمر نے اسے گفٹ کیا تھا___مگر یہ ہار کسی ایسے شخص پر کوئی اثر نہیں کرئے گا جو ملکہ کے نکاح میں ہو___تمہیں یہ بات کس نے کہی کیا تم نے خود تجربہ کیا___نہیں شاید ایسا ہو___تمہیں کچھ مثبت سوچنا چاہئیے کہ شاید ایسا کچھ نہ ہو___ملکہ یہ بہت خطرناک ہے__انجلینا مجھے اس کی پرواہ نہیں___وہ اپنے فیصلے پر پکی ہو چکی تھی

تمہاری دوست تو بڑئے کام کی بندی ہے حیا___تہروبا نے ایک نظر حیا کو سر سے پاؤں تک دیکھا جو کسی دلہن کی طرح تیار ہوئی تھی___کیسی لگ رہی ہوں میں___وہ بہت پرجوش نظر آ رہی تھی کالج میں داخل ہوئی اس نئی لڑکی نے چند ہی دنوں میں حیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا___بہت خوبصورت حیا مجھے عام طور پر کسی کا میک اپ پسند نہیں آتا مگر اس لڑکی نے تو واقعی ہی کمال کر دیا ہے___اس کی اماں میک اپ آرٹسٹ تھی اور ابا بھی کاسمٹکیس کا ہی کام کرتے تھے اور اسے بھی بچپن سے ہی میک اپ کا شوق ہے یہ پارلر میں کام بھی کر چکی ہے_

حیا نے جلدی سے اس کا تعارف پیش کیا تھا___بلکل کسی ماڈل کی طرح تیار کیا ہے یہ تو میک اپ آرٹسٹ بن سکتی ہے___یہ بچاری گھر سے کسی لڑکے کیساتھ بھاگی تھی اس نے اسے دھوکہ دیا اور یہ دھکے کھاتے ہوئے یہاں پہنچ آئی___بہت برا ہوا خیر ہمارئے لئے اچھا یہ ہے کہ اب ہمیں پارلر جانے کی ضرورت نہیں پڑئے گی___ہمیں نہیں صرف مجھے___حیا نے اسے ٹوک دیا تھا___اب تم ایسے آنکھیں پھیرو گی حیا__ہاں جی بلکل___بلکل ولکل کچھ نہیں کل مجھے ایک جگہ جانا ہے تو تم مجھے اسی سے تیار کروانے والی ہو___کہاں جانا ہے__حیا نے معنی خیز انداز میں جملہ کھینچا__یار سردار کیساتھ کچھ کام ہے مجھے تم بھی میرئے ساتھ چلنا___کون کون جا رہا ہے__صرف میں اور اگر تم جانا چاہو تو تمہاری مرضی___ہاں کیوں نہیں میں ضرور جاؤں گی___یہ سب چھوڑو نوشہ نے کچھ زبان کھولی__نہیں کچھ خاص نہیں وہ ایک دم چپ رہتی ہے سارا دن اسے مجھے گھورنے کے سوا کوئی کام نہیں___کیوں وہ تمہیں کیوں گھورتی رہتی ہے___پتہ نہیں یار بس سارا دن مجھے ہی کن آکھیوں سے دیکھتی ہے میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس نے ویسی کوئی بات نہیں کی___پاگل لڑکی پہلے اس کیساتھ دوستی تو لگاؤ پھر ہی وہ کچھ بتائے گی___مجھے اس کی آنکھوں سے ڈر لگتا ہے___کچھ نہیں ہے اس کی آنکھوں کو صرف نشہ کرنے سے تھوڑی گہری سی کو گئی ہیں___نشہ کرنے سے اسے کیا ملتا ہو گا آپی___میں نے سنا ہے ان کو سکون ملتا ہے حیا_____کیسا سکون___یہ تو اب وہی بتا سکتی ہے___میں کوشش کروں گی___کوشش نہیں حیا تمہیں ہر صورت اس سے دوستی لگا کر اپنا کام نکلوانا ہے___تہروبا نے اسے سردار سے ملوانے کا لالچ دئے کر اپنا کام کے لئے راضی کر لیا تھا وہ سردار کو حیا کی پسند بنا کر زمل کو راستے سے ہٹانے کی پلاننگ پر تھی جیسے ہی زمل نے راستے سے ہٹنا تھا ویسے ہی تہروبا نے حیا کو بھی ہٹا دینا تھا یوں اسے اس کو مقصد بھی حاصل ہونا تھا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹنی تھی وہ ہر کام پلاننگ سے کر رہی تھی اس بات سے انجان کے اس کے اردگرد موجود کوئی اور بھی اپنی پلاننگ کر رہا تھا

ابھی تک سوئے ہوئے ہیں آج آفس جانے کا کوئی موڈ نہیں ہے کیا___صبع ہوتے ہی وجیہہ سورج نکلنے تک کالج سے گھر پہنچ گئی تھی میکال کی جانب سے کوئی جواب نہ ملنے پر اس نے کمبل کو کھینچ کر چہرئے سے ہٹا دیا تھا جس سے کھڑکی سے اندر آتی دھوپ سیدھا میکال کے چہرئے پر پڑنے لگی___تم اتنی صبع واپس آ گئی__وہ آنکھیں ملتے ہوئے بیدار ہوا تھا___مجھے ایک بے چینی نے ساری رات تنگ کئے رکھا اس لئے میں ایک منٹ بھی نہیں سو پائی___ایسی کیا بے چینی تھی___وہ متوجہ ہوتے ہوئے بستر پر اٹھ بیٹھا تھا جس پر وجیہہ نے میکال کا نرم لہجہ دیکھتے ہوئے زمل کے متعلق تمام کہانی میکال کو بتا دی__اوہ مائی گاڈ یہ تو بہت غلط ہے___میکال نے معمولی سا ردعمل دیا تھا آخر وہ کونسا اصل میں میکال سلطان تھا جس کا خون اپنی بہن کی بات سن کر فوری کھول جاتا یہ تو لیوسفر تھا جو میکاک سلطان کے وجود کو زندہ رکھے ہوئے تھا اس کے اعصاب پر تو حیا سوار تھی جس کے ذریعے وہ ڈیفنی کو پانا چاہتا تھا___ تم حیا کو نہیں لے کر آئی___نہیں وہ اپنی دوست کیساتھ مصروف تھی

تمہیں اسے گھر رکھنا چاہئیے وہاں ہر رنگ کی لڑکیاں ہوتی ہیں___آپ اس کی بلکل فکر نہ کریں میکال حیا بہت سمجھدار لڑکی ہے آپ زمل پر کچھ سختی کریں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی___ہاں میں اس سے بات کروں گا__آپ ہمیشہ اس کی باتوں کو ہلکا کیوں لیتے ہیں اگر کوئی بات نکلی تو سب سے پہلے آپ کی عزت کا کباڑہ ہو گا___ہاں تم صحیح کہہ رہی ہو کوئی لڑکا دیکھ کر اس کی شادی کروا دو___میں کہاں سے لڑکا ڈھونڈو آپ آخر کیوں نہیں سمجھتے ____کول ڈاؤن وجیہہ__میکال نے اسے کھیبچ کر اپنی گود میں بیٹھا لیا تھا___سب ٹھیک ہو جائے گا تم فکر نہیں کرو___اس نے وجیہہ کو دلاسہ دیا اس کا ایک ہاتھ اس کی کمر پر تھا___بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہو تم___ہاں بہت تھک گئی ہوں میں___آرام کرو کچھ دن کالج جانا چھوڑ دو_

نہیں کالج جانا بہت ضروری ہے____ ضروری تو اور بھی بہت کچھ ہے وجیہہ میکال مسکرا کر بولا… امم جیسے کی ___ جیسے کی ابھی ہمیں ایک رومینٹک سا ٹائم ساتھ گزارنے کی ضرورت ہے جس سے تمہاری ساری تھکن اتر جائے وہ آنکھ ونک کرکے بولا __ میکال آپکو تو موقع چاہیے وہ گھور کے بولتی میکال کی گود سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ میکال نے جھٹکے سے وجیہہ کو پوری طرح اپنے گود میں کھینچ لیا __دونوں کی تیز سانسیں ایک دوسرے کے چہرے سے ٹکرا رہی تھی __ وجیہہ سرخ چہرے سے میکال کی طرف دیکھنے لگی __ ہر کام کا ایک وقت ہے میکال سلطان وہ اسکو کالر سے پکڑ کے بولی __ تمہارے جیسی حسین بیوی جسکی گود میں بیٹھی ہو اسے تو بے وقت کی سوجھے گی نا مسسز __ کہتے ساتھ میکال اپنے ہونٹ وجیہہ کے ہونٹوں پہ رکھ چکا تھا…. کمرے کی معنی خیز خاموشی اور وجیہہ کے جسم کی خوشبو میکال کو بری طرح مائل کررہی تھی ___ میکال وجیہہ کو اب گود میں اٹھائے بیڈ کی طرف جارہا تھا اور وجیہہ نے اپنے بازوو کی گرفت مضَبوط کردی جیسے گرنے کا ڈر ہو… ڈر کیوں رہی ہو تم جتنی بھی تھک جاو میکال سلطان تمہیں کبھی گرنے نہیں دیگا وہ وجیہہ کے چہرے پہ پھونک مار کے بولا وہ مسکرا کے اپنا سر میکال کے کندھے پہ رکھ چکی تھی

میرئ سب چیزیں تمہاری ہی تو ہیں زمل بس تم اس بار خیال رکھنا اور اسے اس ڈائن بھابھی کی نظروں سے کوسوں دور رکھنا تہروبا نے رازداری سے ایک اور موبائل زمل کے سپرد کر دیا تھا تاکہ وہ زمل کو رتی بھر بھی اپنی چالاکی کا احساس نہ ہونے دئے آج جب وہ اس کے کمرئے تک پہنچی تو اسے اس کی حالت دیکھ کر واقعی میں ہی ترس آ گیا تھا اگر تہروبا کا دل بھی سردار پر عاشق نہ ہوا ہوتا تو وہ کبھی بھی زمل کو دھوکہ نہ دیتی تہروبا کی تمام چالاکیاں صرف زمل کو سردار سے دور رکھنے تک تھی ورنہ زمل اسے جان سے بھی بڑھ کر عزیز تھی اس لئے ہی تو اسے اپنی دوستی بچانے اور محبت پانے کے لئے اتنے پاپڑ بلنے پڑ رہے تھے___کیا اس نے مجھے آنے کی دعوت نہیں دی___

پتہ نہیں زمل شاید اس نے تمہارئے فون پر کوئی مسیج چھوڑا ہو اور اسکا جواب وجیہہ نے دئے دیا ہو تہروبا نفاست سے اپنا جھوٹ جاری رکھے ہوئے تھی تم جانتی ہو زمل وہاں کس قسم کی پارٹیز ہوتی ہیں ہم جیسی سادہ سی لڑکیاں کسی کونے کدرئے میں ہی بیٹھیں گی___حالانکہ تہروبا خود تین گھنٹے لگا کر اس نئی لڑکی سے تیار ہوئی تھی اس کا مقصد صرف زمل کو ڈی گریڈ کرنا تھا کہ جب میں اتنا تیار اور اپ ٹو ڈیٹ ہو کر بھی ایک کونے میں بیٹھوں گی تو تم جیسی لڑکی جس کا کل میک اپ ہی ایک سرمہ ہوتا ہے وہ وہاں کیا کرئے گی___اب حیا کو ہی دیکھ لو کتنی اپ ڈیٹ بندی ہے اور اس کی نئی دوست نے تو اسے ایک دم ماڈل بنا دیا ہے اور ایک تم ہو کہ آج بھی ویسی ہی ہو جیسی پانچ سال پہلے تھی___کیا سجنا سنوارنا ہی سب کچھ ہوتا ہے تہروبا___ہاں آجکل مردوں کے دلوں کو یہی چیز بھاتی ہے وہ کہتے ہیں ناں جو دیکھتا ہے وہ بکتا ہے____میرا سردار ایسا بلکل نہیں ہے تہروبا___سب مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں زمل اس لئے تو اس نے تمہاری جگہ حیا کو دعوت دی___میں نہیں مانتی اس نے ضرور میرئے موبائل پر کوئی مسیج چھوڑا ہو گا___وہ دو دن پہلے ہی تو اس کے سامنے اظہار محبت کر کے آئی تھی

شاید تم نے اس سے اظہار محبت کر کے اسے خود سے دور کر لیا ہے زمل___یہ کیا بکواس ہوئی___یہ مرد ذات بڑی کتی ہوتی ہے زمل یہ چسکے تو ہر عورت سے لے لیتی ہے مگر اپناتے ہوئے ہر لڑکی میں سے ہزار خامیاں نکال دیتے ہیں شاید تمہیں اپنی طرف متوجہ ہوتا دیکھ کر اس نے بھی یہی سوچا ہو اور جب تم ایک حد سے آگے جانے لگی تو اس نے بھی___وہ جان بوجھ کر جملہ نامکمل چھوڑ چکی تھی___کیا اس نے تم سے کوئی ذکر کیا؟کوئی خامی نکالی مجھ میں؟__اگر ایسا ہوا بھی تو وہ مجھے تھوڑی بتائے گا میں تمہاری بچپن کی دوست ہوں اور وہ یہ بات جانتا ہے___تہروبا نے زور دیتے ہوئے اپنی بات کو اس طرح پیش کیا تھا جیسے واقعی میں ہی سردار نے زمل کو مسترد کر دیا ہو حقیقت میں سردار کو کسی لڑکی میں کوئی دلچسپی تھی ہی نہیں ہر وقت لڑکیوں کے جھرمٹ نے اس کا دل لڑکیوں سے اچاٹ کر رکھا تھا یہ تو تہروبا ہی تھی جو مسلسل کوشش میں تھی کہ وہ کسی طرح سردار کے دل میں جگہ بنا لے۔

من پسند شخص کا ایک جملہ ہی انسان کو پراعتمادی کے پہاڑ سے عدم اعتمادی کی گہرائیوں میں پھینک دیتا ہے جس شخص کا ایک جملہ اعتماد بخشتا ہوا اسی شخص کے جملوں میں اتنا زہر بھی ہوتا ہے کہ وہ لمحے بھر میں انسان کو ذہنی مریض کر دئے اس بات کا ادراک تہروبا کو اچھے سے تھا اسی لئے ہی تو اس نے کمال مہارت سے اپنی من چاہی بات زمل کے دل و دماغ میں اتار دی تھی کہ سردار زمل کو اپنے قابل سمجھتا ہی نہیں اس لئے ہی تو اس نے اس کے پرپوزل پر کوئی ردعمل دینے کی بجائے اسے اپنی پارٹی میں بلانا مناسب ہی نہیں سمجھا

دوپہر سے شام ہو چکی تھی شام بھی اب تاریکی میں ڈوبنے لگی تھی مگر وہ ایک لمحے کے لئے بھی تہروبا کی سردار سے منسوب باتوں کے چنگل سے نہیں نکل پائی تھی اس نے ہر چیز سے بے نیاز ہو کر کمرئے میں ہی خود کو محدود کیا ہوا تھا وہ کسی سے بولنے کا ڈھنگ سیکھ سکتی تھی کوئی اسے خوداعتمادی دئے سکتا تھا کوئی ایسے خود کو بہتر انداز میں پیش کرنے کا ہنر سیکھا سکتا تھا مگر کوئی اس کے چہرئے کے خدوخال نہیں بدل سکتا تھا مصنوعی چیزیں اس کی جلد کو وقتی طور پر تو ڈھانپ سکتی تھی مگر سانولیت کا داغ ہمیشہ کے لئے تو نہیں نکال سکتی تھی مرد ہر عورت سے صرف چسکے لیتے ہیں مگر وقت انتخاب بہت سے نقص نکال دیتے ہیں تہروبا کی یہ بات بار بار اس کے دماغ میں گونج رہی تھی وہ مجھ سے یوں چسکے نہیں لے سکتے میں اس کی وقت گزاری نہیں تھی میں اس سے محبت کرتی ہوں تہروبا کو اس کی باتیں سمجھ ہی نہیں آئی ہوں گی وہ مجھے چھپائے رکھنا چاہتا ہو گا اس لئے تو اس نے مجھے نہیں بلایا مگر حیا!!!زمل کے حسن و ظن کی تمام بلندیاں اس ایک نام پر ختم ہو گئی تھی وہ میری جگہ اسے ترجیح کیسے دئے سکتا ہے نہیں ایسا نہیں ہو سکتا اس کے بدن میں عجیب سی پھرتی پیدا ہوئی وہ جلدی سے آئینے کے سامنے پہنچی

فاسیر فاسیر فاسیر………..

کہاں ہو تم

فاسیر….

وہ اسے مسلسل پکار رہی تھی اس کے بدن میں کھلبلی سی مچ گئی تھی وہ صرف ظاہری نمود و نمائش کے اپنی محبت میں رکاوٹ بننے کو کب برداشت کر سکتی تھی

فاسیر

وہ زور سے چلائی تھی اس کی آنکھوں میں نمی پیدا ہوئی تھی وہ جانتی تھی کہ فاسیر کے علاوہ کوئی اس کی مدد نہیں کر سکتا وہ اسی کو سوچ رہی تھی مگر فاسیر کیوں مدد کرئے گا محبت میں شکل و صورت رنگ نسل تو معنی ہی نہیں رکھتے تو پھر یہ خواہش کیوں! کیا محبت حسن اور جسم کی محتاج ہے زمل___وہ خود سے ہی مخاطب تھی___ہاں زمل تمہاری دنیا میں لوگ صرف مادیت سے ہی محبت کرتے ہیں___فاسیر کا نرم لہجہ اس کی سماعت سے ٹکرایا وہ زمل کے دل میں چلتی کشمکش کو سمجھ گیا تھا اس لئے ہی تو اس نے زمل کے دل کی بات کو بھانپ لیا تھا

تم غلط ہو فاسیر اور یہ تمہارئے خیالات بھی

اگر میں غلط ہوتا تو تمہارئ آنکھیں نم نہ ہوتی زمل

مجھے صرف اپنی محبت ثابت کرنی ہے فاسیر سردار کی نہیں اور آنکھوں کی یہ نمی میری ذات کے لئے نہیں ہے

ہاں یہ آنکھیں نم ہیں کہ وہ تمہاری محبت سمجھ نہیں پا رہا___فاسیر طنزیہ انداز میب ہنس دیا تھا

نہیں شاید میں ہی سمجھا نہیں پا رہی فاسیر

میرئے پاس وقت کم ہے زمل میں جانتا ہوں کہ نتیجہ کیا نکلے گا اس لئے کھیل کو یہی ختم کرو مجھے پرستان لوٹنا ہے

تم ہار رہے ہو تو بھاگ رہے ہو

اگر میں ہارا ہوتا تو تم سردار کے پاس ہوتی نہ کہ یوں میرئے سامنے

تم کب سمجھو گے فاسیر کہ محبت جسموں کی محتاج نہیں ہوتی محبت کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ محبوب تمہاری مرضی پر چلے محبت تو یہ ہے کہ تم اس کی مرضی پر چلو

اور اس کی مرضی…..فاسیر نے جملہ کھینچا….اور اس کی مرضی یہ ہے کہ وہ صرف تمہارئے جسم کو حاصل کرئے

یہ اس کی مرضی ہو سکتی ہے فاسیر یا تمہارا فتور کیونکہ سچی محبتوں کے گرد خدا ایک غلاف بنا دیتا ہے

انسانوں کی اسی ضد سے مجھے نفرت ہے میں جانتا ہو کہ تمہیں خوبصورتی کیوں چاہئیے

یاد کرو تم نے محبت ثابت کرنے کے لئے میری ہر مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا فاسیر

میں تمہیں اتنا حسن دئے سکتا ہوں کہ پریاں تم سے حسد کریں مگر اس سے پہلے تمہیں اقرار کرنا ہو گا کہ یہ محبت و حبت سب فضول ہے

یہ فضول نہیں ہے فاسیر اور میں یہ ثابت کروں گی

مجھے پرستان جانا ہے میرئے پاس اس فضول چیز کا کا انتظار کرنے کا وقت نہیں رہا بہتر ہے کہ تم میری بات مان لو اور بدلے میں آزاد ہو جاؤ

میں تمہاری غلام نہیں ہوں فاسیر

تمہارا جسم میری مرضی کے بغیر جنبش بھی نہیں کر سکتا اور تم کہہ رہی ہو کہ تم میری غلام نہیں ہو

فاسیر نے لہجہ سخت اور خوفناک کیا تھا

بہتر ہے کہ تم اپنا جسم مجھے سونپ دو تاکہ میں ہمیشہ کے لئے چلا جاؤں اور پھر تم جو مرضی کرنا مجھے اس کی پرواہ نہیں

اس کا مطلب تم بھی حوس پرست ہو اور تم یہ کھیل صرف اس غرض سے کھیل رہے تھے کہ مجھے ہرا کر میرئے جسم تک پہنچ پاؤ

ہاہاہاہاہا تمہاری دنیا میں مرد و عورت یہی کھیل کھیلتے ہیں زمل

تم کیسے انسانوں کو الزام دئے سکتے ہو تم تو خود حوس کے پجاری ہو

تمہارا بدن میری مجبوری ہے زمل میں جس مقصد کے لئے آیا تھا وہ ابھی تک نامکمل ہے اور مجھے واپس جانا پڑ رہا ہے اگر میں اس سب کے بغیر گیا تو میری طاقت کم ہو جائے گی

یہ صرف بہانہ ہے فاسیر

بہانہ وہ ہے جو سردار کر رہا ہے وہ تمہیں دھتکار رہا ہے اور تب تک دھتکارتا رہے گا جب تک تم خود کو اس کے سامنے پیش نہیں کر دیتی

جھوٹ بول رہے ہو تم بلکہ ڈر رہے ہو تم کیونکے تمہیں اندازہ ہو چکا ہے کہ جس طرح تم نے خوداعتمادی دی اسی طرح اگر تم کچھ ظاہری حسن بھی دو گے تو ہار جاؤ گے اور زمل جیت جائے گی

میرا یقین کرو زمل تم یہ سب پا کر بھی ہار جاؤ گی

تم ہار چکے ہو اسی لئے تو اب پیچھے ہٹ رہے ہو

فضول لڑکی بحث کو بڑھاوا مت دو میرئے پاس تمہیں دینے کو کچھ نہیں ہے اب تمہاری باری ہے___وہ اس کی طرف بڑھنے لگا فاسیر کے اٹھتے قدم دیکھ کر وہ الٹے پاؤں پیچھے کو ہٹنے لگی تھی

نہیں فاسیر تم زبردستی نہیں کر سکتے اور یہ تم نے خود کہا تھا

مجھے کچھ زبردستی چاہئیے ہوتا تو اتنا انتظار کیوں کرتا تمہیں وعدئے کے مطابق مجھے خود کو سونپنا ہو گا کیونکہ تم ہارنے والی ہو

ہارئی تو نہیں ہوں ناں فاسیر اور اگر تمہیں میری ہار کا اتنا ہی یقین ہے تو ڈر کیوں رہے ہو دئے دو ناں مجھے حسن

شش شش بکواس بند کرو انسانی لڑکی

فاسیر نے اسے دیوار پر آ لیا تھا وہ اپنا چہرہ اس کے جسم کے قریب لے گیا

بزدل شیطان…….

کیا کہا بزدل___تم جو کچھ بھی ہو میری وجہ سے ہو ورنہ صرف میرئے قریب ہونے کا خوف ہی تمہیں مار ڈالے

فاسیر انسانی شکل میں اس کے اتنا قریب تھا کہ دونوں کی سانسیں آپس میں ٹکڑانے لگی

چھوڑو مجھے بزدل___اس کی مزاحمت کو ایک ہی لمحے میں فاسیر نے کچل دیا وہ اسے مکمل مفلوج کر چکا تھا اس کے دل سے بےخوفی نکل گئی تھی اس کی خوداعتمادی دم توڑ چکی تھی اس نے لمحے بھر میں ہی زمل سے سب واپس لے لیا تھا

کون ہے بزدل کچھ یاد آیا زمل___وہ اس کے قریب آہستگی سے سرگوشی کر رہا تھا زمل کے دل کی دھڑکن خوف سے اتنی تیز ہو گئی تھی کہ جیسے ابھی پھٹ کر باہر آ جائے گی___میں نے تمہیں ہر وہ چیز دی جو تمہارئے پاس نہیں تھی مگر اس کے باوجود تم ناکام رہی اس لئے اب کھیل ختم

میں ناکام نہیں ہوئی فاسیر___وہ ہکلاتے ہوئے مشکل سے فقرہ مکمل کر پائی تھی

خاموش رہو اور خود کو مجھے سونپ دو کیونکہ میں کوئی زبردستی نہیں چاہتا___وہ خوفناک آواز میں دھاڑا تھا اس کا صبر لبریز ہو رہا تھا زمل اس کے اتنا قریب کھڑی تھی کہ اس کی ایک ایک سانس اسے محسوس ہو رہی تھی مگر وہ مجبور تھا کیونکہ تھوڑی سی بھی زبردستی اس ساری محنت پر پانی پھیر سکتی تھی وہ لیوسفر کو ڈھونڈنے میں ناکام رہا تھا مگر اب زمل کا انکار یا فاسیر کی زبردستی اس کے جادو پر الٹا اثر کر سکتی تھی وہ زمل کو راضی کرنے کے لئے صرف ڈرا سکتا تھا اور یہ بات زمل بھی جانتی تھی تب ہی تو وہ اپنی ضد پر اب تک ڈٹی ہوئی تھی

سردار تو پاگل ہے سانولی لڑکیاں جذبات کی بہت خوبصورت ہوتی ہیں___وہ اس کی گردن کے قریب اپنی ناک لے گیا تھا___کاش تم مردوں سے دور نہ رہی ہوتی تو آج یہ سب نہ ہوتا__وہ گردن سے چہرئے تک آ کر رک گیا تھا اس نے دیوار پر رکھے دونوں ہاتھوں کو اس کے چہرئے کے مزید قریب کر دیا فاسیر نے زمل کی آنکھوں میں دیکھا جو رحم کی بھیک مانگتے ہوئے نم ہو چکی تھی حالانکہ وہ جانتی تھی کہ فاسیر اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا صرف فاسیر کے قریب ہونے کا خوف ہی اس کی زبان چھین چکا تھا زمل کی آنکھوں کی نمی چمک رہی تھی وہ بے بس آنکھوں سے فاسیر کے چہرئے کو دیکھ رہی تھی

فاسیر نے آنکھیں چھوٹی کی اور پھر دونوں کے جسموں کو ایک جھٹکا لگا اور لمحے بھر میں ان کے اردگرد موجود سارا منظر تبدیل ہو گیا فاسیر زمل کو اسی جھیل پر لے آیا تھا جہاں وہ دونوں پہلی بار ملے تھے تمہیں اپنی محبت پانے کے لئے حسن چاہئیے تھا ناں آج تمہیں وہ بھی دئے رہا ہوں تاکہ تمہارئے دل میں یہ افسوس نہ رہے کہ اگر تم خوبصورت ہوتی تو محبت پا لیتی__وہ اب تک زمل کے اتنا ہی قریب کھڑا تھا___یہ وہی جھیل ہے جہاں پرستان کی پریاں نہایا کرتی ہیں اور تم بھی یہاں نہانے آئی تھی___فاسیر اس کی سوالیہ نظروں سے ہی اس کے دل میں اٹھتے سوال سمجھ گیا تھا___اس کے بعد بھی اگر تم ناکام رہی تو تمہیں اپنا بدن چیلوں کوؤں کا کھانا بنانے کے لئے تیار رکھنا ہو گا___اس نے دھمکی دیتے ہوئے اسے وارننگ دی تھی زمل کی بے بس آنکھوں اور معصومیت نے فاسیر کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ اسے ایک موقع اور دئے___یہاں کوئی آدم زاد نہیں نہا سکتا اس لئے مجھے تمہارئے نہانے تک یہاں ہی رکنا ہے تاکہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچے___فاسیر نے دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے اس کے دل میں اٹھنے والے سوال کو زبان پر آنے سے پہلے ہی ختم کر دیا تھا

تم جانتے ہو میں ایسی لڑکی نہیں ہوں کہ جو کسی کے سامنے

یہ تمہارئے گھر کا واش روم نہیں ہے جہاں کھڑی تم نخرئے کر رہی ہو یہاں کسی بھی وقت کوئی غیرانسانی مخلوق آ سکتی ہے تمہیں جلدی کرنی ہو گی

مگر میں تمہارئے سامنے____وہ اب تک رونے والی شکل بنائے ہوئے تھی

اب یہ مت کہہ دینا کہ میں جادو سے تمہاری یہ جھجک بھی ختم کروں یا جھیل کا پانی تم پر گرا دوں تمہیں خود ہی جھیل میں اترنا پڑئے گا لڑکی

وہ ساکن چپ چاپ کھڑی رہی تھی خوشی اور غم کے ملے جلے تاثرات کے آنسو اس کی گالوں سے بہتے ہوئے نیچے جا رہے تھے اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ فاسیر اسے اس کی محبت پانے کا ایک اور موقع دئے رہا ہے مگر اس کے لئے مسئلہ صرف اس بات پر یقین کرنا ہی نہیں بلکہ یہ بھی تھا کہ اب وہ بہتی ہوئی جھیل میں کیسے اترئے اس مشکل کو وہ زبان پر لانے سے اس لئے بھی کترا رہی تھی کہ فاسیر غصے میں اس سے ایک بار پھر سب واپس ہی نہ چھین لے

جلدی جاؤ زمل___فاسیر کے غصیلے لہجے نے زمل کے لئے اور مشکل کھڑی کر دی تھی وہ دل میں اسے کوسنا چاہتی تھی مگر اس بھی گبھرا رہی تھی کیونکہ اسے علم تھا کہ فاسیر اس کے دل میں پیدا ہوتے خیالات بھی جان لیتا ہے اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے جھیل کی جانب قدم بڑھانے شروع کئے ایک پتھر سے دوسرا پتھر پھر تیسرا پتھر پھر ایک قدم پانی میں اور پھر اگلہ قدم اور پھر اگلہ قدم وہ قدم بقدم چلتی آب حسن کی جھیل میں اترتی جا رہی تھی جھیل کا پانی اس کے گھٹنوں تک گہرا تھا مگر اسے ابھی مزید گہرائی میں جانا تھا جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہی تھی پانی کا شور اس کے ڈر میں مزید اضافہ کر رہا تھا اس نے ڈرتے ہوئے پیچھے مڑ کر فاسیر کو دیکھا اور اگلے ہی لمحے اس کا پاؤں پھسل گیا آہ بچاؤ بچاؤ__وہ بے اختیار چیخی جس کا اثر فاسیر پر بلکل نہیں ہوا تھا وہ جانتا تھا کہ پانی گہرا بلکل نہیں ہے

اف میرئے خدایا کسی مصیبت میں ہی ڈالنا تھا تو مصیبت ہی کوئی آسان دئے دیتا اس کو تو بندہ دل میں بھی کوسنے سے رہا___وہ غصیلی نظروں سے فاسیر کو گھورنے لگی جو اس کی مدد کو بلکل نہیں آ رہا تھا اس وقت اسے سب سے زیادہ خوف جھیل کے پانی سے آ رہا تھا جس کی گہرائی کا اندازہ لگانا اس کے لئے ناممکن تھا اس نے جلدی میں وہاں ہی خود پر پانی ڈالنا شروع کر دیا تاکہ اسے آگے جانا ہی نہ پڑئے وہ اپنے ہاتھوں سے پانی جلدی جلدی اپنے سر پر ڈالتی جا رہی تھی چند ہی لمحوں میں وہ نہا چکی تھی وہ جھیل سے نکلنے کے لئے واپس پلٹی

کتنی ڈھیٹ ہو تم لڑکی

فاسیر کو اس کی اس حرکت پر غصہ آیا تھا اس نے ایک ہی نگاہ سے اسے کنارئے سے جھیل کے بلکل درمیان میں پھینک دیا وہ گردن تک پانی میں ڈوب گئی تھی

تم تم جانتے ہو فاسیر کہ مجھے ڈر لگتا ہے تم جان بوجھ کر ایسا کر رہے ہو مجھے نکالو___وہ زور سے چلائی___بزدل جن میں ڈوب جاؤں گی__خود کو ڈوبتا دیکھ کر وہ رونے لگ گئی تھی___بیوقوف لڑکی تمہیں نہانا بھی نہیں آتا فاسیر بھی پانی میں اتر آیا تھا

دیکھو یہ تم غلط کر رہے ہو ہمارئے درمیان ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی میرئے قریب آنے کی بجائے مجھے باہر نکالو

فاسیر اس کے قریب پہنچ آیا تھا مجھے باہر نکالو پلیز میں ڈوب جاؤں گی

کیا تمہیں خوبصورت نہیں بننا

مجھے بدصورت رہنے دو کم از کم زندہ تو ہوں گی ناں

ابھی تو تمہیں مزید گہرائی میں جانا ہے

نہیں نہیں بس

اگر تم ایسے ہی باہر جاؤ گی تو کسی غیر انسانی مخلوق کا شکار بنو گی تمہیں گہرائی میں جانا پڑئے گا جہاں پریاں نہاتی ہیں

کیا سارئے جن اور غیر انسانی مخلوقات میرئے لئے ہی بنی ہیں___وہ روتے ہوئے مخاطب ہوئی تھی جھیل کا پانی اس کی گردن سے اوپر اس کے ہونٹوں تک آنے لگا تھا

ہاں کیونکہ تم جیسی لڑکیاں بہت نایاب ہو چکی ہیں اس نے اس کی کمر کے گرد بازو گھما کر اسے اپنے قریب کیا اور اس کے بالوں کو کھولنے لگا

کیا کیا کرنے لگے ہو تم

تمہیں نہانا بھی نہیں آتا لڑکی وہی بتانے لگا ہوں___فاسیر نے اس کے بالوں کو کھول دیا تھا اور پھر اس کی گردن پر لگی اس کی قمیض کی گرہ کھولنے لگا

یہ کیا بدتمیزی ہے فاسیر

تم مجھے یوں چھو نہیں سکتے

چھوڑو مجھے

پلیز چھوڑو

فاسیر جیسے ہی پیچھے ہٹا وہ دوبارہ ڈوبنے لگی

مجھے باہر نکالو پلیز فاسیر

مجھے باہر نکالو

پلیز پلیز

وہ فاسیر کو سنے بغیر اپنی ہی بات پر زور دیتی جا رہی تھی فاسیر نے ایک انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ کر اس کی زبان کو مفلوج کر دیا تھا اب وہ چاہتے ہوئے بھی بھول نہیں پا رہی تھی اس نے اس کی گردن پر لگی گرہ کو کھولا اور پھر اس کے بدن سے ایک جھٹکے میں لباس کو الگ کر دیا اس کی زبان بلکل مفلوج تھی وہ ایک قدم فاسیر سے پیچھے ہٹتی تو اسے پانی کے خوف سے دو قدم آگے آنا پڑتا فاسیر نے اسے مخصوص لباس زیب تن کر دیا تھا جو اس کے جسم کو سینے تک ہی ڈھک رہا تھا وہ آنکھیں زور سے بند کئے ہوئے دل میں صرف اس منظر کے ختم ہونے کی دعا کر رہی تھی اس کے لئے اطمننان صرف یہ تھا کہ اس کا بدن پانی میں ڈوبا ہوا تھا اور دوسرا اس کے قریب کوئی مرد نہیں بلکہ ایک جن تھا اس کی تمام دعاؤں کے برعکس فاسیر نے اس کے برہنہ کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے نیچے ڈبو دیا اور پھر وہ جھیل کی گہرائیوں میں اترتی چلی گئی گوری چیٹی سفید دودھ کی مانند کئی پریاں وہاں نہا رہی تھی وہ حیرات زدہ نظروں سے ان سب کو دیکھ رہی تھی کئی پریوں کے غولوں میں سے گزرتے ہوئے ایک لمبا غوطہ لگا کر وہ واپس زمین پر پہنچی تھی اس کے جسم سے پانی بہتا ہوا جھیل میں جا رہا تھا اس نے اپنے برہنہ کندھوں کو چھپانے کی بلکل بھی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ سب فضول ہے وہ غصیلی آنکھوں سے فقط فاسیر کو گھور رہی تھی

امید کرتا ہوں کہ تم اب مجھے غلط ثابت کر دو گی

تم پہلے ہی غلط ہو ……….

تمہاری اس حرکت کی مجھے بلکل امید نہیں تھی دھوکے باز

مجھے فی الحال جانا ہے یہ سب بیٹھ کر سوچتی رہنا

نہیں تم نہیں جاؤ گے فاسیر

فاسیر نے پھونک مار کر اسے پیچھے پھینک دیا تمہاری صرف جان بخشی ہے تمہیں سر پر چڑھنے کو نہیں بولا

وہ غصیلے انداز میں اسے دیکھنے لگا

یہ آخری موقع ہے سمجھی تم اگر تم ناکام ہوئی تو مجھے کوہ قاف سے آنے میں وقت نہیں لگے گا

وہ وہ میں کہہ رہی تھی کہ اگر مجھے تمہاری مدد کی ضرورت پڑی تو میں کیسے تمہیں بلاؤں گی

تمہیں مزید کسی مدد کی ضرورت نہیں پڑئے گی

اگر میں جیت گئی تو تو تمہیں کیسے بتاؤں گی

مجھے پتہ چل جائے گا

میں تمہارا ری ایکشن خود دیکھنا چاہتی ہوں

اس کی ضرورت نہیں پڑئے گی

دیکھو تم مجھے ڈی گریڈ مت کرو میں جانتی ہوں تم ہارنے کے خوف سے کوہ قاف جا رہے ہو

کیا بکواس کر رہی ہو

حقیقت بتا رہی ہوں تم اسی خوف سے جا رہے ہو___زمل کو احساس تھا کہ فاسیر کے جانے کے بعد کوئی اس کی مدد کو نہیں ہو گا اس لئے وہ کسی طرح سردار سے شادی تک فاسیر کو کوہ قاف واپس نہیں جانے دینا چاہتی تھی

اچھا یہ بات ہے تو تمہاری گردن پر ایک کاٹنے کا نشان ہے تم جب بھی اس نشان پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کرو گی مجھے اپنے پاس پاؤ گی

وہ جلدی سے نشان ڈھونڈنے لگی تھی فاسیر نے اسے اپنی طرف کھینچ کر اپنے ہونٹ اس کی گردن پر چسپا دئیے تھے یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ زمل کو کچھ سمجھ نہیں آئی تھی اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی مگر تب تک دیر ہو گئی تھی فاسیر نے اس کی گردن پر کاٹتے ہوئے اسے بہوش کر دیا تھا

رات کے دس بج چکے تھے اب تک وجیہہ کئی بار نمبر ڈائل کر چکی تھی مگر حیا اور تہروبا کا نمبر ابھی تک بند جا رہا تھا اس نے شام تک پارٹی سے واپس آنے کے وعدئے پر حیا کو تہروبا کیساتھ سردار کے گھر پارٹی پر بھیجا تھا مگر اب تو رات بھی گہری ہو گئی تھی وہ بے چینی سے آفس میں ٹہل رہی تھی___اب تک ان کو آ جانا چاہئیے تھا اب تو پارٹی ختم ہو گئی ہو گی___وجیہہ کے چہرئے سے ہی اس کی پریشانی جھلک رہی تھی وہ کئی بار زمل کے کمرئے تک بھی گئی تھی مگر وہ اپنی ہی بیٹی کے ابھی تک گھر واپس نہ آنے کی ٹینشن بھلا زمل کو کیسے بتا سکتی تھی آج صبع ہی تو اس نے زمل کے متعلق اپنے شوہر کے کان بھرئے تھے___وہ دونوں آج رات واپس نہیں آنے والی ان کا انتظار کرنا فضول ہے

نوشہ نے وجیہہ کے چہرئے سے اس کی پریشانی کو بھانپ لیا تھا وہ کب سے اس کو کبھی آفس میں جاتے اور کبھی حیا کے کمرئے کا چکر لگاتے دیکھ چکی تھی وجہیہ اس کی آواز سن کر ایک دم چونک گئی تھی

میں کسی کا انتظار نہیں کر رہی تم تکے مارنے کی بجائے اپنے کمرئے میں جاؤ

وجیہہ نے اسے ڈانٹ دیا تھا وہ چپ چاپ اپنے کمرئے میں چلی گئی وجیہہ نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے پانی کا گلاس لیا جو عورت بے سہارا لڑکیوں کی تعلیم و تربیت کے نام پر کالج چلا رہی تھی اس کی اپنی بیٹی آدھی رات ہونے تک گھر نہیں پہنچی یہ خبر اس کا امیج کتنا خراب کر سکتی تھی یہ سوچ ہی وجیہہ کے پسینے چھڑانے کو کافی تھی تمہیں کس نے کہا وہ آج رات واپس نہیں آئیں گی

وجیہہ بغیر کسی کوخبر کئے نوشہ کے کمرئے میں چلی گئی تھی اب اس سے مزید انتظار بلکل نہیں ہو رہا تھا

دیکھو تم کسی سے اس بات کا ذکر بلکل نہیں کرو گی نوشہ کہ حیا رات دیر سے واپس آئی تھی

دیر سے مطلب کہ تم امید لگائے بیٹھی ہو آنٹی

پلیز آواز تھوڑی مدہم رکھو کوئی بھی سن سکتا ہے___وجیہہ نوشہ کے سامنے بلکل بے بس نظر آ رہی تھی

دیکھو تمہارئے پاس تہروبا کا کوئی نمبر ہے تو

میرئے پاس کوئی نمبر نہیں ہے

نوشہ نے جھٹ سے ٹوکا تھا

تو تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ وہ دونوں آج واپس نہیں آئیں گی

تم اس کی ماں ہو آنٹی اور تمہیں اس کے بارئے میں اتنا بھی نہیں پتہ کیا

تم کہنا کیا چاہتی ہو نوشہ

حیا سردار کو ملنے گئی ہے

ملنے گئی ہے مطلب یہ تم کیسی لینگوئج استعمال کر رہی ہو

کچھ غلط بول دیا کیا میں نے

نوشہ نے اس کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا تھا

تم کسی سے اس بارئے میں کوئی بات نہیں کرو گی نوشہ___وجہیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا___تم میری بات سمجھ رہی ہو ناں یہ میری اور اس کی عزت کا معاملہ ہے بلکہ یہ پورئے کالج کی عزت کا معاملہ ہے

عزت____نوشہ نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے جملہ کھینچا___اب مجھ سے کسی نے پوچھ لیا کہ تمہاری روم میٹ اتنا تیار ہو کر کہاں گئی تھی تو مجھے تو بتانا پڑئے گا ناں

یہ تم جان بوجھ کر بات کو بڑھا رہی ہو پارٹیز میں ہر کوئی تیار ہو کر ہی جاتا ہے

مگر فل باڈی پالش تو کوئی کوئی ہی کرواتا ہے ناں میم

دیکھو تم ابھی بچی ہو بلکل میری بیٹی کی طرح تمہیں ان باتوں کی حساسیت کا نہیں پتہ

میں بچی ہوں چھوٹی کاکی نہیں اور نہ ہی حیا اتنی چھوٹی بچی ہے کہ خیر چھوڑیں آپ

یہ سب اس تہروبا اور زمل کا کیا ہوا ہے مجھے پہلے ہی شک تھا کہ زمل مجھ سے کوئی بدلہ ضرور لے گی

تم خوامخاہ اس پر شک کر رہی ہو حیا خود ہی بہت ٹیلنٹڈ ہے میم

نوشہ کے طنز وجیہہ کو مزید پریشان کر رہے تھے

اگر تم چاہتی ہو کہ میں اس بات کو راز رکھوں تو تمہیں میری مدد کرنی ہو گی___نوشہ نے موقع غنیمت جانا تھا

کیسی مدد

کیا مجھے تم پر اعتبار کر لینا چاہئیے میم وجیہہ___نوشہ نے اپنا انداز بدلا تھا

ہاں تم کر سکتی ہو اور تمہیں کرنا بھی چاہئیے

مجھے حیا اور سردار کے متعلق سب کچھ پتہ ہے اور تم یہ بھی جانتی ہو کہ وہ میری روم میٹ بھی ہے تو میرئے پاس سب ثبوت ہیں باقی وہ آج رات کہاں کیا کر رہی ہو گی یہ سب میں تفصیل سے بتاتے ہوئے بلکل اچھی نہیں لگوں گی___نوشہ نے موقع غنیمت جانتے ہوئے پوری مہارت سے حیا کے متعلق ایک وہم اور بدنامی کا ایک خوف وجیہہ کے دل میں ڈال دیا تھا حالانکہ یہ سب جھوٹ تھا

میرئے صبر کا امتحان مت لو نوشہ__وہ ایک دم رونے والی شکل بنا چکی تھی___تم مجھ پر اعتبار کر سکتی ہو

تمہیں میری ماں کو مارنا ہو گا___نوشہ نے معنی خیز انداز میں اپنی بات رکھ دی تھی

تم ہوش میں تو ہو وہ تمہاری ماں ہے

وہ ایک ڈائن ہے

مجھے پتہ ہے کہ تمہاری اس کیساتھ نہیں بنتی مگر وہ تمہاری ماں تو ہے ناں

کیا تمہیں یہ پتہ ہے کہ میری اس کیساتھ کیوں نہیں بنتی___نوشہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی

ہاں میں جانتی ہوں کہ اس سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں مگر تمہیں اس معاف کر دینا چاہیے

کچھ غلطیاں___کیا تم اس سب کو کچھ غلطیاں کہتی ہو

ہر انسان کبھی نہ کبھی سے غلطی ہو جاتی ہے نوشہ

وہ عورت انسان کہلانے کے قابل ہی نہیں ہے اور اگر تم اسے قابل معافی سمجھتی ہو تو تم بھی انسان نہیں حیوان ہو

ایک آفییر ہی تو تھا تمہاری ماں کا…..تمہیں اسے معاف کر دینا چاہئیے وہ اس پر شرمندہ ہے

آفییر___نوشہ نے لفظ کھینچ کر لمبا کیا اور پھر معنی خیز نظروں سے وجیہہ کی طرف دیکھنے لگی__تم واقعی ہی اتنی بھولی ہو یا صرف میرئے سامنے بن رہی ہو اور تمہیں پتہ بھی ہے کہ وہ آفییر کس کیساتھ تھا؟

میری ماں کا آفییر میکال سلطان کے ساتھ تھا وہی میکال سلطان جس کی تم بیوی ہو وجیہہ اس عورت نے ناصرف میرئے باپ کیساتھ دھوکہ کیا بلکہ تمہیں بھی دھوکے میں رکھا

نوشہ کے چونکا دینے والے انکشاف نے وجیہہ سلطان پر بجلی گرا دی تھی___کیا بکواس کر رہی ہو تم

اس نے کمال مہارت سے دوست ہونے کے ناطے تمہاری شادی میکال سے کروائی تاکہ وہ اپنا مکروہ دھندا چلا سکے___کونسا دھندا؟__معصوم زندگیاں فروخت کرنے کا دھندا جس میں تمہارا شوہر میکال بھی شامل ہے____جسٹ شٹ اپ شٹ یور ماوتھ___وجیہہ غصے سے چلائی

آواز اونچی کرنے سے بہت سے راز فاش ہو سکتے ہیں میرئے پاس سب ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح وہ دونوں یہ سارا گھٹیا کام کرتے ہیں

کہاں ہیں وہ ثبوت

ثبوت میں تب تک کسی کو نہیں دئے سکتی جب تک مجھے خود اس پر اعتماد نہ ہو جائے

مجھے تم پر رتی برابر بھی یقین نہیں آ رہا نوشہ____تمہارئے یقین نہ کرنے سے حقیقت بدل نہیں سکتی رادیہ نے پیسوں کی خاطر یہ سارا دھندا کیا اور پھر تمہیں استعمال کیا تاکہ لڑکیاں ڈھونڈنے میں آسانی رہے

اس کا مطلب کہ جتنی بھی لڑکیاں غائب ہوئی وہ سب رادیہ کے پاس ہیں

وجیہہ ایک مشکل سے دوسری میں الجھ گئی تھی

ہاں مگر کچھ عرصے سے میکال یہ سب لڑکیاں کسی اور جگہ پہنچا رہا ہے اور اس جگہ کا مجھے کچھ علم نہیں ہے

کسی اور جگہ مگر کیوں___وجیہہ کا تجسس الجھن اور گبھراہٹ بڑھتی جا رہی تھی

تم اگر اپنا دماغ درست جگہ استعمال کرو تو شاید تمہیں پتہ چل پائے کہ وہ خفیہ جگہ کونسی ہے جس کے متعلق میری ماں کو بھی کچھ پتہ نہیں شاید ان دونوں کی آپس میں بن نہیں پا رہی یا شاید میرئے سامنے شریف ہونے کا ناٹک کرنے کی وجہ سے انہوں نے اپنی جگہ تبدیل کر لی ہے

کیا وہ جانتی ہے کہ تمہیں سب پتہ ہے؟

شاید نہیں ورنہ وہ خود مجھے مار دیتی مگر شاید میرا دل بہلانے کی خاطر وہ میرئے باپ کو ڈھونڈ رہی ہے تاکہ مجھے اس پر کچھ شک نہ ہو

اگر تم سچ کہہ رہی ہو تو میں وہی کروں گی جو تم چاہو گی کیونکہ اگر یہ واقعی ہی سچ ہے تو یہاں کوئی بھی محفوظ نہیں____وجیہہ نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے نوشہ کا ساتھ دینے کی حامی بھر لی تھی اس کا دل ابھی تک نوشہ کی بات پر یقین نہیں کر رہا تھا وہ اس کے سامنے اپنی گبھراہٹ پر قابو پانے کی تمام کوششوں میں ناکام رہی تھی حیا کی فکر ایک طرف اور نوشہ کے انکشاف دوسری طرف اسے طرح طرح کے خیالات ستانے لگے تھے

میکال وہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی

وجیہہ نے جلدی سے فون ملا لیا تھا

وہ وہ حیا شام سے پارٹی پر گئی ہوئی ہے ابھی تک نہیں لوٹی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے

کس پارٹی میں؟

وہ جو ہمارئے کالج کے ڈونر سردار ہیں ان کے گھر___

شاید پارٹی لمبی ہو گئی ہو وجیہہ صبع تک انتظار کر لو____

کیا مطلب پارٹی لمبی ہو گئی ہو___میکال کے جواب نے وجیہہ کے شک کو مزید تقویت دی تھی

تم کیسے باپ اور کیسے بھائی ہو جو تم اپنی بہن بیٹی کی کسی بھی بات کو اتنا نارمل لیتے ہو

یہ تم کس ٹون میں بات کر رہی ہو وجیہہ___

کس ٹون میں مجھے بات کرنی چاہئیے جوان بچی رات گھر سے باہر ہے اس کا نمبر بھی بند ہے اور تم اپنی پازٹیویٹی لے کر بیٹھے ہو___

کیا میں نے اسے پارٹی میں بھیجا تھا وجیہہ__

مگر تم یوں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کیسے بیٹھ سکتے ہو__

تم خوامخاہ میں اتنی انرجی ضائع کر رہی ہو سردار برا لڑکا نہیں ہے__

بات لڑکے کے کردار کی نہیں ہو رہی مسئلہ ہماری عزت کا ہے___

بے فکر ہو جاؤ وجیہہ تھوڑا پروفیشنل سوچو حیا جتنا سردار کے قریب رہے گی سردار اور اس کا باپ اتنی ہی ڈونیشن کالج کو دیں گے اور ویسے بھی جوان لڑکی رات کہاں تھی معاشرہ اس طرح کے سوالات صرف مڈل کلاس لوگوں سے کرتا ہے ہائی سوسائٹی کو اس طرح کی چیزوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا

بھاڑ میں گیا یہ کالج اور بھاڑ میں گئے تم مسٹر میکال سلطان_____وجیہہ نے غصے سے فون بند کر دیا میکال کے رویے سے اس کا شک مزید مضبوط ہو گیا تھا

نوشہ شاید ٹھیک کہہ رہی ہے ان سب نے مجھے دھوکہ دیا ہے مگر مجھے یہ جانتے نہیں___اس کا خود پر کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا ایک ساتھ دو مصیبتیں اس پر آ پہنچی تھی مگر اصل انکشاف تو ابھی اس پر ہونا باقی تھا کہ میکال سلطان تو مر چکا ہے اور وجیہہ جس کو اپنا شوہر میکال سمجھ رہی ہے وہ میکال کے روپ میں لیوسفر ہے جو حیا کو سردار کی محبت میں پھنسا کر خود سردار کا روپ دھاڑئے حیا کو پانے کی منصوبہ بندی کر چکا تھا تاکہ اس کا جادوائی شیطانی عمل پورا ہو

تم دونوں کو ساری رات وہاں گزارتے ہوئے رتی برابر بھی شرم نہیں آئی___وجیہہ نے صبع صادق کے وقت دونوں کی کالج واپسی پر تھپڑوں سے ان کا استقبال کیا تھا

میم وہ ہمارئ گاڑی خراب ہو گئی تھی___گاڑی خراب ہوئی تھی تہروبا تم دونوں کی ٹانگیں تو نہیں ٹوٹ گئی تھی یا تمہارا جسم مفلوج ہو چکا تھا جو تم کال نہیں کر سکی___وجیہہ نے غصیلے انداز میں تہروبا کو جھاڑ پلا دی تھی جو صرف اس پلاننگ سے حیا کے ساتھ رات وہاں روکی تھی کہ وجیہہ زمل کو راستے سے ہٹا کر سردار کیساتھ حیا کی شادی کی بات چلائے جس کا جواب سردار نے حیا کی عمر خود سے کم ہونے کی وجہ سے ہر صورت انکار میں دینا تھا یوں حیا اور زمل دونوں تہروبا کے راستے سے ہٹ جاتی اور تہروبا نوشہ سے اس کی ماں کے تمام ثبوت سردار کو دئے کر اس سے شادی رچا لیتی مگر اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہاں اس کی پلاننگ بلکل الٹ ہو چکی ہے

مجھے تم سے بلکل یہ امید نہیں تھی تہروبا کہ تم ایسی حرکت کرو گی یہ سب تم نے اپنی منحوس دوست زمل کے کہنے پر ہی کیا ہو گا___وجیہہ حیا کو کچھ ڈانٹ ڈپٹ کے بعد بھیج چکی تھی مگر اب تہروبا کو اعتماد میں لینا بھی ضروری تھا

میم یقین کریں آپ غلط سمجھ رہی ہیں زمل کو تو اس سب کا پتہ بھی نہیں ہے وہ تو الٹا مجھ سے لڑئے گی کیونکہ وہ خود سردار کیساتھ___تہروبا نے جملہ نامکمل چھوڑ دیا تھا

اس کی عاشق معشوقی تو میں نکالوں گی وہ جو سردار کے خواب دیکھ رہی ہے وہ کبھی پورئے نہیں ہوں گے___آپ ہر وقت اس پر غصہ ہوتی رہتی ہیں آپ اس بچاری کی شادی ہی کر دیں___تہروبا نے معصومیت سے سوچا سمجھا جملہ بولا تھا

کیا سردار کو اس میں کوئی دلچسپی ہے___آپ سردار کی دلچسپی کو چھوڑیں زمل کی خوشی کو دیکھیں___ایسے تھوڑی ہوتا ہے تہروبا___ٹھیک ہے آپ کی مرضی آپ چاہئیں زمل کی کریں یا حیا کی کریں میں کیا کہہ سکتی ہوں دونوں آپ کی بیٹیاں ہی تو ہیں رات جو بھی ہوا تم یہ بات اپنے تک رکھنا تم جانتی ہو کہ___آپ فکر نہ کریں میم میں بھی آپ کی بیٹی ہی ہوں میں نے یہ تو کیا اور بھی بہت سے راز رکھے ہوئے ہیں

ہاں جو بھی ہے خیر تم کب سے میکال کو جانتی ہو____بچپن سے ہی میم وہ بہت اچھے اور نفیس انسان ہیں بلکہ فرشتہ ہیں وہ فرشتہ جنہوں نے نہ صرف مجھ کو اپنی بہن زمل سمجھا بلکہ اور بھی بہت سی لڑکیوں کی مدد کی

کیا تم ان سب لڑکیوں سے مجھے ملوا سکتی ہو___ہاں مگر اچانک سے ایسے___ہاں بس ویسے ہی مجھے ان سے ملنا ہے_ٹھیک ہے میں ملوا دوں گی میم بس آپ زمل کے متعلق کچھ سوچیں وہ بچاری خوامخاہ میں پھنس جاتی ہے شاید شادی ہو جائے تو کچھ بہتر ہو جائے

رنگ و نور میں نہائی،خوبصورت پھولوں سے سجی اور دل لبھانے والی خوشبو سے مہکتی تقریب اپنے عروج پر تھی ہزاروں پریاں لاکھوں تتلیاں اور بے شمار پھول اور سینکڑوں جنات غرض تقریب میں موجود سب کی نظریں محل کے دروازئے کی طرف تھی جہاں سے پرستان کی ملکہ ڈیفنی دلہن بنائے آ رہی تھی ملکہ کی کنیزیں اس کے ناز و نخرئے اٹھاتی ہوئی اس کے ساتھ چل رہی تھی کچھ عرصہ پہلے بھی ملکہ اسی طرح دلہن بن کر آئی تھی فرق صرف یہی تھا کہ تب ملکہ کی شادی ایمر سی تھی اور اب ایمر کی جگہ کوہ قاف کے سو خطرناک اور طاقتور جنات تھے جن کو صرف ملکہ کی خوبصورتی سے محبت تھی ڈیفنی نے دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ لیا تھا وہ جانتی تھی کہ اگر وہ کامیاب بھی ہوئ

تب بھی اسے کوئی ایمر جیسا راجہ نہیں ملے گا بلکہ اب کی بار اس کا راجہ کوئی حوس پرست حسن پرست جن ہونے والا تھا جو ملکہ کے جسم تک پہنچنے کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لیوسفر سے مقابلے کے لئے آیا تھا پرستان کی روایات کے مطابق نکاح کی تقریب شروع ہوئی اور ڈیفنی کا نکاح سو طاقتور جنات سے ہونا شروع ہو گیا ان سب کے منہ سے ڈیفنی کے لئے پانی ٹپکنے لگا تھا مگر وہ خود اداس تھی اس کی خوبصورتی ہی اس کی دشمن ثابت ہوئی تھی

اگر میں پرستان کی ملکہ نہ ہوتی تو کیا تب بھی تم مجھ سے اتنا ہی پیار کرتے ایمر___ڈیفنی خیالات کی اس دنیا میں گم ہو گئی تھی جہاں سے یہ سب شروع ہوا تھا رات کے پچھلے پہر جب چاند کی روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی تب وہ دونوں سب سے چھپ کر ایک پہاڑ کی اوٹ لئے ایک دوسرئے میں گم تھے

میں تم سے اس لئے پیار نہیں کرتا کہ تم پرستان کی ملکہ بننے والی ہو بلکہ اس لئے کہ تم میرئے دل کی ملکہ ہو___ایمر نے اپنا سر اس کی گود میں رکھ دیا تھا ڈیفنی کی گود میں سر رکھے اس کے چہرئے کو تکتے رہنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا وہ اپنی خوبصورتی کا کوئی ثانی نہیں رکھتی تھی اس کی زندگی کا ہر گزرتا سال اسے مزید خوبصورت کرتا گیا تھا اتنا خوبصورت کہ ایک عام سی پری چند سالوں میں پرستان کی ملکہ بننے کے قابل ہو گئی تھی____ایمر اتنے غور سے کیا دیکھ رہے ہو___

میں تمہارئے چہرئے کے نقوش حفظ کر رہا ہوں کیونکہ آج اس جھیل کا پانی ان تمام نقوش کو مٹا دئے گا اور ایک نئی ڈیفنی میرئے روبرو آئے گی جو اتنی خوبصورت ہو چکی ہو گی کہ ہر کوئی اسے پرستان کی ملکہ تسلیم کر لے گا مگر میں تب بھی تمہارئے اس چہرئے کو ہی دیکھانا چاہوں گا___کیوں تم نہیں چاہتے کہ میں اس جھیل میں اتروں____ڈیفنی نے انسانی دنیا میں موجود جھیل کی طرف اشارہ کیا تھا جس میں پرستان کی سب سے خوبصورت پری ملکہ بننے سے پہلے غسل کرتی تھی___میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم ہمیشہ یوں ہے مجھے میسر رہو___میں ہر جنم میں تمہاری ہی ہوں ایمر صدیوں سے کوہ قاف کے جنات پرستان کی پریوں کے عاشق رہے ہیں شاید ہی کسی اور پری کی قسمت میں ایسا عاشق مزاج جن آیا ہو___مجھے لگتا ہے کہ ان دونوں وادیوں میں موجود اس صدیوں پرانے رشتے کی وجہ صرف تم ہو ڈیفنی تمہارا وجود پرستان کی خوبصورتی کا موجب ہے ایسی خوبصورتی جس نے سب کو اسیر کئے رکھا ہے_

پریاں کہتی ہیں ایمر بہت کمزور جن ہے مگر میں کہتی ہوں کہ وہ بہت مضبوط عاشق ہے___ہاں میں بہت کمزور ہوں اور تمہاری خوبصورتی میری کمزوری ہے ڈیفنی___اس نے اس کی گود میں لیٹے ہوئے اپنے ہاتھ کی انگلی کو ڈیفنی کے چہرئے پر پھیرا تھا

اس کی انگلی ڈیفنی کی گالوں سے ہوتی ہوئی اس کی گردن تک آئی تھی اور گردن سے بیوٹی بون تک وہ اپنی انگلی کو اپنے ہونٹوں میں دبا لیتا اور پھر دوبارہ اس کے چہرئے پر اپنی گیلی انگلی کو حرکت دیتا کبھی اس کے ہونٹوں کے قریب لے جاتا اور کبھی اس کی گردن پر گول گول گھماتا ڈیفنی بھی اس کی انگلی کی حرکتوں پر بے بس ہو رہی تھی ایمر نے اپنی ہاتھ کی گرم پشت کو ڈیفنی کی نازک گردن پر رکھا اور گردن کی نمی کو اپنے ہاتھ کی گرمائش میں جذب کر لیا اور پھر گردن کو نیچے کھینچ کر اپنے چہرئے کے قریب لے آیا___چھوڑو مجھے__اس نے کچھ مزاحمت کی…..کوئی دیکھ لے گا تو___کسی کے دیکھنے کے ڈر سے میں اس خوبصورت چیز پر اپنی گرفت کمزور نہیں کر سکتا وہ اسے کھینچ کر اتنا قریب لے آیا تھا کہ اپنی سانسیں کی پھوہاڑ اس کے چہرئے پر مار سکے___ایمر ر ر ر ___اس نے مدہوش ہوتے ہوئے ایمر کا نام لمبا کھینچا تھا___نہیں کرو ناں ایک رات کی ہی تو بات ہے_

میں تمہارئے بغیر گزرنے والا ایک لمحہ بھی زندگی کی گنتی میں شامل نہیں کرتا اور تم ایک رات کی بات کر رہی ہو___چھوڑو مجھے وہ مزاحمت کرتے ہوئے اس کی گرفت سے نکل آئی تھی___کب تک یہ ستم کرو گی ڈیفنی___تب تک جب تک تمہاری اس تڑپ کی گرمائش میرئے بدن کو سرور دیتی رہے گی___اس نے ندی کی طرف جاتے ہوئے نہانے کے لئے اپنی قبا ہٹائی اور خود کے جسم کو اپنے ہی بالوں میں چھپا لیا

ڈیفنی سنو تو

ڈیفنی میری جان

ڈیفنی…..

وہ اسے بے بس لیٹا مسلسل پکار رہا تھا وہ پکار ہی سکتا تھا کیونکہ جھیل میں صرف ڈیفنی نے ہی غسل کرنا تھا

ڈیفنی رک جاؤ

کچھ دیر جھیل کے کنارئے

اور مجھے دیکھنے دو

اپنے جسم کی تمام تراشیں

وہ اس کی تمام پکاروں سے بے نیاز جھیل میں اتر رہی تھی

جب تم بے دھیانی کا لباس اوڑھ کر بے رخی اختیار کرتی ہو

اور میری ہر پکار کی صدا سے بے نیاز ہو کر اپنے حسن و جمال کے غرور میں مست رہتی ہو

تو تب میں تمہیں اپنی سانسوں میں تلاش کرتا ہوں

جہاں تمہارا ہر حسین خیال و قرب مجھے تیرئے قرب کا وہ لمس مہیا کرتا ہے

جس کا لطف شاید تمہارئ آغوش میں بھی نہ ہو

وہ سب سے بے نیاز ہو کر اس کے جسم میں ڈوبا ہوا تھا وہ سب سے چھپ کر یہاں اسے ملنے آیا تھا تاکہ وہ اپنی محبت کو دیکھ سکے مگر وہی کسی درخت پر بیٹھا اس کا دشمن بھی اس کے بدن کے نظارئے کر رہا تھا

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *