پلمبر

قسط نمبر: 4  یہ سن کر رفیق نے کہا مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا اگر اس نے نہیں کیا تو پھر کس نے کیا۔۔۔؟؟ یہ سن کر پلمبر نے

پلمبر

پارٹ: 3 اگلی صبح جب رفیق جاگا تو اس نے سب سے پہلے باہر جا کر دیکھا تو باہر درختوں کا نام و نشاں نہیں تھا پھر رفیق جلدی سے

پلمبر

2:پارٹ روشن پانی پینے کے بعد تیزی سے لمبے لمبے سانس لے رہا تھا جبکہ اس دوران پلمبر سمت سب لوگ روشن کی طرف حیرت انگیز نظروں سے دیکھ رہے

پلمبر

پارٹ: 1گجرانوالہ کے ایک کچے علاقے کی بات ہے جو کہ کھوتا پلی کے نام سے مشہور ہے وہاں( رفیق عرف پھیکہ پہلوان) نامی ایک شخص رہا کرتا تھا جو

ظالم بیوی

انابیہ خان( حال ))" بس یہی کھانا مل سکتا ہے ، کھانا ہے تو کھاو ، نہیں تو بھاڑ میں جاوّ ، ویسے آج کل تمھارے نخرے کچھ زیادہ نہیں

بددعا

انابیہ خان ( حال ))" میں آج تمھیں دل سے بددعا دیتی ہوں ، تم کبھی سکون کی نیند نہیں سو سکو گے ، جس طرح تم نے مجھے برباد

پچھتاوّا

انابیہ خان "ماں میں تھک گیا ہوں آپکی روز کی دوائیاں لاتے لاتے ، میرے پاس قارون کا خزانہ نہیں ہے ، جو آپ پر لٹاتا رہوں ، آخر میں

بنت حوا

انابیہ خان "میں کہاں سے لاوّں اور پیسے ، جو بھی تھے آپ کے حوالے کر دیے ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ عاجزی سے بولی تھی ۔۔۔"مجھے کچھ نہیں سننا مجھے 80

ظالم سسرال

ازقلم انابیہ خان" نورین کہاں مر گئی ہو تم ، سات بج چکے ہیں ، ابھی تک تم نے ناشتہ بھی نہیں بنایا ، تم جانتی بھی ہو ، میں