آتش ہجر میں مجھے لا ڈالا گیا

آتش ہجر میں مجھے لا ڈالا گیا

آتش ہجر میں مجھے لا ڈالا گیاکوزہ گر کی مرضی سے ڈھالا گیا جنگ میں لا ڈالا سپاہی کی مانندپھر سایہ شمشیر مجھے سے نکالا گیا وقت الفت تو ساتھ
یا رب تیرا ساتھ ہے

یا رب تیرا ساتھ ہے

یا رب تیرا ساتھ ہے اور کچھ بھی نہیں ہےمجھ میں تو بس خاک ہے اور کچھ بھی نہیں ہر کٹھن پہاڑ آزمائش پار کر لیتا ہوںیہ تیرا مجھ پہ
وہ رستہ بدل گیا ہے

وہ رستہ بدل گیا ہے

وہ رستہ بدل گیا ہےہر حد سے گزر گیا ہے اب تنہا کھڑا ہوں اس موڑ پرجانے کس راہ سے گزر گیا ہے دل بے چین رہتا ہے میرا اکثرمیرا
وہ اگر کر گیا وفا تم سے

وہ اگر کر گیا وفا تم سے

وہ اگر کر گیا وفا تم سےتو ساری عمر جتلائے گا جفا منظور ہے مجھے اس کیخفا ہو کر وہ شخص رولائے گا وہ میری رگوں میں بس کے لہو
نظروں میں آگیا ہوں

نظروں میں آگیا ہوں

نظروں میں آگیا ہوںدیکھو میں لفظوں میں آگیا کوئی ضرب نہیں لگی مجھ پرپھر بھی ٹکڑوں میں آگیا ہوں آج پھر سے یاد آئی ہے تیریمیں جیسے گزرے وقتوں میں
مجھ شاخ بریدہ سے

مجھ شاخ بریدہ سے

مجھ شاخ بریدہ سے رہے رابطہ کیسا رکھنا نہ ذرا آس تُو اب سائے کی مجھ سے خالددانش
تمغۂ عشق۔۔

تمغۂ عشق۔۔

الحب هو النوم مع الرأس في حضن الموت ، وهذه الميدالية لا تلبس على صدر الجبناء. یعنی۔۔عشق موت کی آغوش میں سر رکھ کر سو جانا ہے یہ تمغہ بزدلوں
صحرا کی ریت سے بچ کے رہنا

صحرا کی ریت سے بچ کے رہنا

صحرا کی ریت سے بچ کے رہنا بھٹکا دیتی ہےدنیا جتنی بھی ہمدرد ہو ایک دن رولا دیتی ہے صبح سے پہلے آنے کا وعدہ نہیں کر سکتادن ڈھلتے ہی