اعتراف گناه

اعتراف گناه

دھرم پال پانڈے مقدس باپ اپنی زندگی میں پہلی بار میں آپ کے حضور ایک گناہ کے اعتراف کی خاطر حاضر ہوئی ہوں۔ میں اس لئے نہیں آئی ہوں کہ
ظالم بیوی

ظالم بیوی

انابیہ خان( حال ))" بس یہی کھانا مل سکتا ہے ، کھانا ہے تو کھاو ، نہیں تو بھاڑ میں جاوّ ، ویسے آج کل تمھارے نخرے کچھ زیادہ نہیں
بددعا

بددعا

انابیہ خان ( حال ))" میں آج تمھیں دل سے بددعا دیتی ہوں ، تم کبھی سکون کی نیند نہیں سو سکو گے ، جس طرح تم نے مجھے برباد
پچھتاوّا

پچھتاوّا

انابیہ خان "ماں میں تھک گیا ہوں آپکی روز کی دوائیاں لاتے لاتے ، میرے پاس قارون کا خزانہ نہیں ہے ، جو آپ پر لٹاتا رہوں ، آخر میں
بنت حوا

بنت حوا

انابیہ خان "میں کہاں سے لاوّں اور پیسے ، جو بھی تھے آپ کے حوالے کر دیے ہیں " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ عاجزی سے بولی تھی ۔۔۔"مجھے کچھ نہیں سننا مجھے 80
ظالم سسرال

ظالم سسرال

ازقلم انابیہ خان" نورین کہاں مر گئی ہو تم ، سات بج چکے ہیں ، ابھی تک تم نے ناشتہ بھی نہیں بنایا ، تم جانتی بھی ہو ، میں

تقویٰ

بقلم انابیہ خان " بس میں نے کہہ دیا ہے ، اس بار میں پنک رنگ کا بکرا لے کے رہوں گی "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" تم پاگل تو نہیں ہو گئی ہو