سرد راتوں میں چھت پہ ٹہلتا ہوں

سرد راتوں میں چھت پہ ٹہلتا ہوںچاند سے اکثر تمہاری باتیں کہتا ہوں میں شب آگ کے حصار میں بیٹھتا ہوںغزل ایک سہانی کہتا ہوں میری غزل کا عنوان تم
بساط دل و جان کے لالے ہیں

بساط دل و جان کے لالے ہیں

بساط دل و جان کے لالے ہیںیہ جو تیری آنکھوں کے گرد سیاہ حالے ہیں سنبھال کے رکھو یہ کام آئیں گے تمہارےوہ تمام اوزار وہ جو دل کے آلے
ضرب جمال یار ہو

ضرب جمال یار ہو

ضرب جمال یار ہوتقدس بھی نا پامال ہو میں جو دیکھو شب بھر کی مسافتیںتو آنکھوں میں تیرے سوال ہوں صحراؤں سے وابستگی رہتی ہے میریتپتی چھاؤں کا حسن کمال
آس کا بندھن ٹوٹا تھا

آس کا بندھن ٹوٹا تھا

آس کا بندھن ٹوٹا تھامیں کب تم سے روٹھا تھا؟ تم کو جلدی تھی جانے کیسورج بھی کب ڈوبا تھا بادہ نشیں تھی آنکھیں اس کیمیں تو بس ان میں
اندیشہ بدن تھا سو وہم نکلا

اندیشہ بدن تھا سو وہم نکلا

اندیشہ بدن تھا سو وہم نکلاعظیم سورج چمکتا گریہن نکلا میں دھڑکتا تھا ہمیشہ اس کے نام پراک آگ کا ٹکڑا میرا پیرہن نکلا وقت رخصت مجھے مارڈالتا تھامیرے دل
ہجر کی چوٹ

ہجر کی چوٹ

ہجر کی چوٹ لگ چکیایک باغ مجھ میں اجڑ گیاایک کلی مجھ میں کھلی تھیاک پھول مجھ سے بچھڑ گیا شجر تھا میرے اطراف میںاک شاخ وصل کی ٹوٹ گئیاک
خط تیرے نام

خط تیرے نام

سوچتا ہوں کوئی خط تیرے نام لکھا جائےتیرا نام میرے نام سے لکھا جائے عشک تیرے بہیں اور آنکھ میری ہوکوئی کام تیرا میرے کام سے لکھا جائے تو تھک