آخر

دل کی دیوار گرا دی آخرتوُ نے اوقات دکھا دی آخر دیکھ اب کمرہِ دل سے میں نےتیری تصویر ہٹا دی آخر شہزاد سلیم

موت دا قیدی

او ٹریا تاں اوں دی یاد کوںایویں سینے لائیمجیویں چھیکڑی رات اپڑاں کوںکوئی موت دا قیدیول ول سینے لیندئے شہزاد سلیم

اداسی

کوئی ہے مسئلہ درپیش ورنہاداسی بے سبب ہوتی نہیں ہے شہزاد سلیم

گزر گئی

مجھ کو تو کچھ خبر نہیں کیسے گزر گئیاپنی گزرنی ایسے تھی ویسے گزر گئی قربت سے دھیرے دھیرے بڑھی آگ کی تپشپھر یوں ہوا کہ وہ رگ و پے

شاعری

ساجن پھول گلاب میں ، ساجن ہر ہر جا ارپن کر دوں جیونی ، ہر مورے گھر آ کوی ؛ خالددانش کتاب۔۔اے خدائے حسن و عشق۔۔سے ایک دوہا

مجھ کو درکار

مجھ کو درکار ترا اذن تکلّم ہی نہیں لوحِ دیوار پہ لکّھا ہے مِرا گریہ، پڑھ ! خالد دانش

ابابیل۔۔

سچی عاشقہعین اس معصوم ابابیل کی مثل ہوتی ہےجو اپنی واحد و یکتا محبت کو اپنی نازک چونچ سے حلق میں اتار کر رگوں میں دوڑتا دیکھتی ہے تو۔۔عورت ہونے

تضاد

وہ عشاق کے قبیلے کا سلطانجس کی پاکیزہ محبت سطح افق پر نور سے کنداں تھیوہ اپنے جذبات کا دیپ لہو سے روشن کرتا رہاسفید کاغذ پر خوشبو سے محبت

ع۔۔ش۔۔ق

عشق دا عین عبادت ورگاعشق دا عین عابد کرداماس نئیں چھڈراعشق دا قاف قلم کرے سرعشق دے شین دیاں شاناں اچیاںعشق علیعشق ولیعشق سخی اے حیدر ورگاعشق عباس دے وانگ

پلمبر

Last part پارٹ نمبر: 5   تحریر دیمی ولف ( dimy wolf ) دراصل جب عظیم یہ معاملہ لے کر میرے پاس آیا تھا تو میرے مرید نے اسے بٹھائے رکھا